Home » 2019 » November » 03 (page 3)

Daily Archives: November 3, 2019

ایووکاڈو کھانا کس حد تک فائدہ مند؟

سیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ روزانہ ایک سیب کھانے سے ڈاکٹر کو دور رکھا جاسکتا ہے مگر ایک ایووکاڈو (ناشپاتی کی ایک قسم) کو روز کھانا بھی مختلف امراض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

یہ مزیدار پھل فائبر، پوٹاشیم اور دیگر اہم اجزاء سے بھرپور ہے ساتھ ساتھ کم کیلوریز کے ساتھ جسم کو مختلف اینٹی آکسائیڈنٹس بھی فراہم کرتا ہے۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ افراد جو ذیابطیس کا شکار ہیں یا پھر موٹاپے سے پریشان ہیں ان کے لیے بھی ایووکاڈو کھانا کتنا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے؟

مولیکیولر نیوٹریشن اینڈ فوڈ ریسرچ نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایووکاڈو میں ایک ایسا کمپاؤنڈ موجود ہے جو ذیابطیس کی جانب لے جانے والے نظام کی روک تھام کرتا ہے۔

یہ کمپاؤنڈ خون میں جذب ہوجاتا ہے، جس کے باعث گردے، جگر یا پٹھوں پر اس کا کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔

موٹاپے کے شکار افراد میں زیادہ تر ٹائپ ٹو ذیابطیس کی بیماری دیکھی جاتی ہے اور بڑھے ہوئی انسولین لیول کے لیے ایووکاڈو مفید ثابت ہوتا ہے۔

یہ تحقیق چوہوں پر کی گئی جنہیں لگاتار 8 ہفتوں تک ایووکاڈو کھلائے گئے جس کے بعد دیکھا گیا کہ ان میں انسولین لیول کے ساتھ ساتھ وزن میں کمی بھی سامنے آئی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جو لوگ ایووکاڈو کو روزانہ کھاتے ہیں ان کے موٹے ہونے کا امکان 35 فیصد کم ہوتا ہے۔ امریکا کی لوزیانے اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ایووکاڈو فائبر اور وٹامن سی کے حصول کے لیے بہترین ذریعہ ہے، جو جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

پاک آسٹریلیا پہلا ٹی 20، بارش سے رنگ میں بھنگ پڑنے کا خدشہ

سڈنی: پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بارش کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کا خدشہ موجود ہے۔

سری لنکا کیخلاف سیریز میں کلین سوئپ کے بعد ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں عالمی نمبر ون ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو ہٹادیا گیا تھا،کمان نو آموز بابر اعظم کے ہاتھوں میں دی جاچکی، احمد شہزاد اور عمراکمل کا تجربہ ناکام ہوا، شعیب ملک اور محمد حفیظ کو ایک بار پھر نظر انداز کردیا گیا، سرفراز احمد کا خلا وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان پر کررہے ہیں، اب نئے کپتان اور نئے کمبی نیشن کیساتھ پاکستان کو سخت جان کینگروز کا چیلنج درپیش ہے۔

اگرچہ گرین شرٹس نے کرکٹ آسٹریلیا الیون کیخلاف وارم اپ میچ میں بہترکارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقامی کنڈیشنز سے ہم آہنگی کی نوید سنائی ہے لیکن اتوار کو پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بچوں سے نہیں مضبوط آسٹریلوی ٹیم کا سامنا ہوگا، پاکستان کی ممکنہ الیون میں وارم اپ میچ کے کھلاڑیوں کو برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔

بابر اعظم، فخرزمان، حارث سہیل تینوں فارم بحال کرچکے،محمد رضوان ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کے بعد پر اعتماد ہیں، آصف علی وارم اپ میچ میں کھاتہ نہیں کھول سکے لیکن ان کو برقرار رکھا جا سکتا ہے، افتخار احمد ، عماد وسیم، شاداب خان بیٹ اور بال دونوں سے ٹیم کے کام آسکتے ہیں،تینوں آل راؤنڈرز کا کردار اہم ہوگا، محمد عامر، وہاب ریاض اور محمد عرفان اپنے تجربے کی بدولت کینگروز کیلیے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔

دوسری جانب ڈیوڈ وارنر اور اسٹیو اسمتھ کی واپسی کے بعد میزبان اسکواڈ خاصا متوازن ہوچکا ہے،جارح مزاج گلین میکسویل نفسیاتی مسائل کی وجہ سے اچانک رخصت پر چلے گئے لیکن ڈی آرسی شارٹ ان کا خلا پرکرنے کیلیے موجود ہوں گے،کپتان ایرون فنچ بھی پر اعتماد آغاز فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،مچل اسٹارک، پیٹ کمنز، کین رچرڈسن اور بلی اسٹین لیک پر مشتمل پیس بیٹری کیساتھ ایڈم زمپا جیسے کارآمد اسپنرز کی خدمات بھی میسر ہیں۔

وارم اپ میچ کے بعد جمعہ کو پاکستانی کرکٹرز نے آرام کو ترجیح دی،شام کو شاہد آفریدی فا?نڈیشن کی تقریب میں بھی شریک ہوئیہفتے کوبھرپور پریکٹس سیشن ہوگا،مہمان کھلاڑی بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں اپنی صلاحیتیں نکھارنے کیلیے سرگرم رہیں گے۔ ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلیے ٹرافی کی تقریب رونمائی اور کپتانوں کی پریس کانفرنس بھی ہوگی۔

دوسری طرف موسم کی حوالے سے کوئی اچھی اطلاعات نہیں ہیں،سڈنی میں سہ پہر اور شام کو بارش کا 90فیصد امکان ظاہر کیا گیا ہے،طوفانی ہوائیں بھی چل سکتی ہیں، درجہ حرارت کم سے کم 19اور زیادہ سے زیادہ 29رہے گا۔

یاد رہے کہ 20باہمی ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں پاکستان کا پلڑا بھاری رہا ہے،گرین شرٹس نے 12میں کامیابی حاصل کی، 7میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، ایک میچ ٹائی ہوا،آسٹریلیا میں دونوں ٹیمیں صرف ایک بار مقابل ہوئی ہیں،کینگروز نے سخت مقابلے کے بعد صرف 2رنز سے فتح حاصل کی تھی، 127کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے مہمان ٹیم 9وکٹ پر 125رنز بناسکی تھی۔

’اسپائیڈرمین‘ سیریز کی پہلی اینیمیٹڈ فلم کا سیکوئل بنانے کا اعلان

شہرت یافتہ سائنس فکشن سپر ہیرو فلم سیریز ’اسپائیڈر مین‘ کے یوں تو متعدد سیکوئل اور سیریز بن چکی ہیں، تاہم گزشتہ برس اس سیریز کی پہلی اینیمیٹڈ فلم ریلیز کی گئی تھی۔

’اسپائیڈر مین‘ سیریز کی گزشتہ برس ریلیز کی گئی پہلی اینیمیٹڈ فلم ’اسپائیڈر مین: ان ٹو دی اسپائیڈر ورس‘ نے جہاں ریکارڈ کمائی کی تھی، وہیں فلم آسکر ایوارڈ جیتنے میں بھی کامیاب گئی تھی۔

’اسپائیڈر مین: ان ٹو دی اسپائیڈر ورس‘ کو اینمیٹڈ فلم کی کیٹیگری میں آسکر ایوارڈ دیا گیا تھا اور فلم نے دنیا بھر سے 45 ارب روپے سے زائد کی کمائی کی تھی۔

یہ خیال تو پہلے ہی کیا جا رہا تھا کہ اس کا سیکوئل بنایا جائے گا، تاہم اب کمپنی نے اس کی تصدیق بھی کردی۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق فلم پروڈکشن ہاؤس ’سونی‘ اور ’ماررول‘ نے ’اسپائیڈر مین: ان ٹو دی اسپائیڈر ورس‘ کا سیکوئل بنانے کی تصدیق کردی۔

اینیمیٹڈ فلم کی کہانی پر سائنس فکشن فلم کی طرح رکھی گئی تھی—اسکرین شاٹ
اینیمیٹڈ فلم کی کہانی پر سائنس فکشن فلم کی طرح رکھی گئی تھی—اسکرین شاٹ

رپورٹ کے مطابق ’اسپائیڈر مین: ان ٹو دی اسپائیڈر ورس‘ کا سیکوئل 2022 میں ریلیز کیا جائے گا اور سیکوئل فلم کو بھی فل لارڈ اور کرسٹوفر ملر پروڈیوس کریں گے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ سیکوئل فلم کی ہدایت کاری کون دے گا، تاہم 2018 میں ریلیز ہونے والی فلم کی ہدایت کاری پیٹر ریمزے، رودنی روتھمین اورباب پرسیچیٹی نے دی تھی۔

’اسپائیڈر مین‘ سیریز کی اس پہلی اینیمیٹڈ فلم کی کہانی بھی سائنس فکشن سپر ہیرو فلم جیسی رکھی گئی تھی، جس میں پیٹر پارکر نامی بچے کو مختلف صلاحیتوں کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔

پیٹر پارکر نامی بچے نے ہی اسپائیڈر مین کا کردار ادا کیا تھا جو کسی مکڑی کی طرح بلند و بالا عمارتوں پر سیکنڈوں کے اندر چڑھ جاتا ہے۔

فلم میں مختلف صلاحیتوں کے مالک بچے کو متعدد برائیوں اور خراب لوگوں کے ساتھ لڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

اب اسی فلم کا سیکوئل بھی بنایا جائے گا، جس کی کہانی ممکنہ طور پر وہیں سے شروع کی جائے گی جہاں پر پہلی فلم کی کہانی ختم ہوئی تھی۔

تمباکو نوشی چہرے کو جوانی میں ہی بڑھاپے کا شکار بنائے، تحقیق

سانس میں بو سے لے کر انگلیوں پر نشانات تک، تمباکو نوشی صحت کے علاوہ شخصیت پر بھی متعدد منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

اور اب سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو نوشی آپ کے چہرے کو جوانی میں ہی بوڑھا بھی کرسکتی ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

برسٹل یونیورسٹٰ کی تحقیق میں یوکے بائیو بینک کے 2 گروپس کو دیکھا گیا جس میں ایک گروپ میں شامل ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد نے کبھی تمباکو نوشی نہیں کی تھی جبکہ ڈیڑھ لاکھ کا دوسرا گروپ ایسے لوگوں پر مشتمل تھا جو سابق یا اب بھی سیگریٹ پینے کے عادی تھے۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے 18 ہزار عادات کو سرچ کیا اور ان کا موازنہ ان دونوں گروپس کے ساتھ کیا۔

نتائج سے انکشاف ہوا کہ جو لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں یا کرتے رہے ہیں، ان کے چہرے کی عمر بہت تیزی سے بڑھتی ہے اور وہ قبل از وقت ہی بوڑھا محسوس ہونے لگتا ہے جبکہ اس عادت سے پھیپھڑوں کے افعال خراب ہوتے ہیں اور جلد کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم نے ایسا طریقہ کار تجویز کیا ہے جو کہ بہت زیادہ تمباکو نوشی کے اثرات کو جاننے میں مدد دیتا ہے، ہزاروں عادات کو دیکھنے کے بعد یہ دریافت کیا گیا کہ یہ عادت کس طرح اثرات مرتب کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پھپھڑوں کی صحت جیسے متعدد منفی اثرات تو پہلے ہی تمباکو نوشی کے نتیجے میں جسم پر مرتب ہوتے ہیں اور اب ہم نے بہت زیادہ تمباکو نوشی اور چہرے پر بڑحاپے کے درماین تعلق کو دریافت کیا ہے۔

اس سے قبل 2017 میں امریکا کے مایو کلینک کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ تمباکو نوشی کی عادت چہرے پر جھریاں بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ سیگریٹ میں موجود نکوٹین خون کی شریانوں کو سکیڑتی ہے جس کے باعث جلد میں دوران خون کی شرح کم ہوجاتی ہے۔

تحقیق کے مطابق ایسا ہونے پر آکیسجن اور اہم غذائیت جلد کو نہیں پہنچ پاتی جو کہ صحت مند نظر آنے کے لیے ضروری ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ سیگریٹ میں موجود متعدد کیمیکلز براہ راست کولیگن اور Elastin نامی پروٹینز کو نقصان پہنچاتے ہیں جو کہ جلد کے اسٹرکچر کو سپورٹ کرتے ہیں۔

اسی طرح سیگریٹ نوشی کے دوران چہرے کے اعضائ کو بار بار ایک عمل کرنا پڑتا ہے جیسے ہونٹوں کو سکیڑنا وغیرہ، تو ایسا کرنے پر جھریوں کی رفتار کو پر لگ جاتے ہیں۔

محققین نے مشورہ دیا کہ مختلف جان لیوا امراض کے ساتھ ساتھ قبل از وقت بڑھاپے سے بچنے کے لیے تمباکو نوشی کی عادت کو ترک کردینا ہی بہتر ہے۔

بھارت کی بے بس اقلیتیں

خلاف ہرزہ سرائی کی مہم مزید تیز کر دی ہے اور اس کے جنرل سیکرٹری پروین تو گاڈیہ نے مسلمانوں کی ایک قدیمی درسگاہ دارلعلوم دیوبند اور تبلیغی جماعت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ۔ بابری مسجد کی شہادت کے موقع پر اور اس کے بعد بھی بھارت کے طول و عرض میں مسلمانوں کے خلاف فسادات کی آگ بھڑکانے میں یہ تنظیم ہمیشہ آگے رہی ہے ۔ اس تنظیم نے ہندووَں پرزور دیا ہے کہ وہ اسلامی دہشت گردوں کے مقابلے میں بہتر بم بنا کر ان کے ذریعے بھارت میں قائم منی پاکستانوں میں تباہی پھیلائیں ۔ دیہی علاقوں میں 60 فیصد سے زائد مسلمان ایسے ہیں جن کے پاس اپنی زمین نہیں ہے جبکہ صرف ایک فیصد مسلمانوں کے پاس ہینڈ پمپ سیٹ ہے ۔ صرف3 فیصد مسلمانوں کو سبسڈی والی بجلی دی جاتی ہے ۔ صرف 2;46;1 فیصد مسلمانوں کے پاس ٹریکٹر ہے اور 0;46;3 فیصد مسلمان گروپ ہاوَسنگ سکیم کے ممبر بن پاتے ہیں ۔ تیس فیصد مسلمانوں کو سرکاری طور پر پندرہ فیصد تسلیم کیا جاتا ہے تاکہ اس تناسب سے انہیں سرکاری ملازمتیں نہ دینا پڑیں ۔ ممبئی بم دھماکوں کے بعد مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بہ تھی مگر جب امریکہ نے نائن الیون کے بعد مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیاتو بھارت بھی شیر ہوگیا اور اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگا ۔ بم دھماکوں کا سارا الزام مسلمانوں پر تھوپ دیا گیا ۔ سینکڑوں مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا ۔ مساجد، مدارس اور دینی مراکز بند کرانے کے احکامات جاری ہوگئے ۔ حد یہ کہ جو ان احکامات کی پابندی نہیں کرے گا اس کو قتل اور اس کی لڑکیوں اور بیوی کو اونچی ذات کے ہندووَں کی عیاشی کےلئے رکھ لیا جائے گا ۔ کچھ عرصہ قبل بھارتی حکمرانوں نے اعلان کیا کہ 25 کروڑ مسلمان اگر بھارت میں رہناچاہتے ہیں تو انہیں ’’وندے ماترم‘‘کا گیت گانا ہوگا ورنہ وہ اپنا بوریا بستر یہاں سے گول کریں اور بھارت چھوڑ دیں ۔ حکمرانوں کی اس دھمکی سے بھارتی سیکولر ازم کا پردہ چاک ہوگیا ہے ۔ ہندو پیدا ہی مکارانہ ذہنیت کے ساتھ ہوتا ہے ۔ بھارت میں مسلمانوں پر روز بروز ظلم و ستم بڑھتا جا رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ خود کو زیادہ غیر محفوظ تصور کرنے لگے ۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ جس ملک میں اقلیتوں سے یہ سلوک روا رکھا جائے کہ ان سے جینے کا حق بھی چھین لیا جائے ۔ سیاسی لیڈر گھٹنوں گھٹنوں رشوت اور جرائم کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہوں ، فوج ملک کی حفاظت کرنے کی بجائے چوروں ، سمگلروں اور ملک دشمن عناصر سے ملی بھگت میں مصروف ہو تو ایسے ملک کو کیا کہا جائے گا;238; کیایہ سیکولر ملک ہے ;238;مسائل میں گھرے ہوئے بھارت کو کسی صورت بھی ایک کامیاب ریاست قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ یہ صرف بھارتی میڈیا اور فلموں کا کمال ہے کہ بھارت کا میک اپ شدہ چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ۔ اصل بھارت کیا ہے ٗ بھارت کے رہنے والے مسلمان اور دیگر اقلیتیں بخوبی جانتی ہیں ۔ بھارت میں نہ مسلمانوں کی جان و مال محفوظ ہے ،نہ عیسائیوں کی اور سب سے بڑھ کر کم ذات کے ہندو مرد وخواتین بھی اونچی ذات کے ہندووَں کے تشدد اور درندگی کا نشانہ بنتے ہیں ۔

حکومت نے پہلی سہ ماہی میں 2 ارب ڈالر کے غیرملکی قرضے حاصل کرلیے

اسلام آباد:  حکومت نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تقریباً 2ارب ڈالر کے غیرملکی قرضے حاصل کرلیے جو گزشتہ سال کی نسبت دگنا ہیں لیکن اندازوں سے کم ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2019-20کی پہلی سہ ماہی میںجولائی تاستمبر1.93ارب ڈالر کے غیرملکی قرضے لیے گئے، اس کے علاوہ برطانیہ، امریکا اور جاپان  سے150ملین ڈالر کی غیرملکی گرانٹ بھی لی گئی۔ برطانیہ نے سب سے زیادہ94ملین ڈالر گرانٹ دی ہے۔

وفاقی حکومت کیلیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اورقرضوں کی ادائیگی کے اہداف سے نمٹنا بڑا چیلنج ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ1.54بلین ڈالر  رہنے کا امکان ہے جو گزشتہ مالی سال کی نسبت64فیصد کم ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کمی کی جانب گامزن ہے۔

کائنات میں سب سے چھوٹا بلکہ کمزور بلیک ہول دریافت

اوہایو: کائنات کے دور دراز علاقے سے ایک گرما گرم خبر آئی ہے کہ اب تک ہماری معلومات کے تحت سب سے چھوٹا بلیک ہول دریافت ہوا ہے جس سے خود بلیک ہول کی تشکیل کے مروجہ نظریات پر نظرثانی کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

اس بلیک ہول کی قطر صرف 20 کلومیٹر ہے اور یہ ایک بہت بڑے ستارے کے گرد گھوم رہا ہے لیکن اسے ہڑپ کرنے یا اس کا مادہ چرانے سے قاصر ہے۔ 83 دنوں میں یہ بلیک ہول اپنا ایک چکر پورا کرلیتا ہے اور اندازہ ہے کہ یہ زمین سے 10 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

اس عجیب و غریب بلیک ہول کی دریافت کا سہرا اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ٹوڈ تھامپسن اور ان کے ساتھیوں کے سر جاتا ہے۔ یہ اپنے ساتھی ستارے سے کوئی گیس یا مادہ چوری بھی نہیں کررہا ۔ ماہرین نے بڑے ستارے کی ڈگمگاہٹ سے بلیک ہول دریافت کیا ہے۔ عین اسی طریقے سے ماہرین نظامِ شمسی سے باہر سیارے دریافت کرتے ہیں۔

تاہم اس کے سب سے چھوٹے بلیک ہول ہونے کی مزید تصدیق ہونا باقی ہے۔ اس کی کمیت ہمارے سورج سے صرف ساڑھے تین گنا زائد ہے جو اس کے چھوٹے ترین بلیک ہول ہونے کا سب سے مضبوط ثبوت ہے۔

اگر کوئی نیوٹران ستارہ یا بلیک ہول ہمارے سورج سے دوگنا سے پانچ گنا تک کی جسامت کا ہو تو ماہرین اسے ’کمیتی وقفہ‘ یا ماس گیپ قرار دیتے ہیں۔ نیوٹران ستارے ہوں یا بلیک ہول ہوں دونو ہی بہت بڑے ستاروں کے پھٹنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان پر تحقیق کرکے ہم بتاسکتے ہیں کہ بہت بڑے اور ضخیم ستارے کیسے وجود میں آتے ہیں اور ان میں سے کونسے ستارے پھٹ کر سپرنووا بن سکتے ہیں۔

اسی بنیاد پر ٹوڈ تھامپسن کہتے ہیں کہ شاید ہم اس طرح کے چھوٹے بلیک ہول کی ایک نئی قسم دریافت کرنے جارہے ہیں اور ان کی درست انداز میں درجہ بندی کی ضرورت ہے۔ اسی بنیاد پر چھوٹے بلیک ہول اور نیوٹران ستاروں پر تحقیق کی مزید ضرورت سامنے آئی ہے۔

رابی پیرزادہ کا نازیبا ویڈیوز کیخلاف ایف آئی اے سے رابطہ

لاہور: گلوکارہ رابی پیرزادہ نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اپنی نازیبا ویڈیوز کے خلاف ایف آئی کے سائبر کرائم ونگ سے رابطہ کرلیا۔

گزشتہ روز رابی پیرزادہ کی نازیبا اور غیر اخلاقی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھیں جس کے باعث رابی پیرزادہ دیکھتے ہی دیکھتے ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئیں۔

سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے ویڈیوز لیک ہونے کے باعث انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جب کہ بہت سے لوگ ان کی حمایت میں آگے آئے ۔ رابی پیرزادہ نے اپنی لیک ہونےو الی ویڈیوز کے خلاف فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی(ایف آئی اے)کے سائبر کرائم ونگ میں درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کی جائیں کہ ان کی ویڈیوز کس نے لیک کیں۔

رابی پیرزادہ نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے موبائل فون میں کچھ خرابی آنے کے باعث اسے ٹھیک کرنے کے لیے دیا تھا اور کسی نے ان کے موبائل فون سے ان کی ویڈیوز اورتصاویر چرا کر انہیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیا۔ رابی نے ایف اے سے ان کی ویڈیوز کو سوشل میڈیا سے ہٹانے کی بھی درخواست کی ہے۔

Google Analytics Alternative