Home » 2019 » November » 03 (page 4)

Daily Archives: November 3, 2019

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

میں اگر چند سال بلوچستان میں نہ گزارتا تو شاید آج بھی ہراسکینڈل کو سچ جان کر ہمدردیاں دہشت گردوں کی جھولیوں میں ڈال رہا ہوتا ۔ لیکن چونکہ خوش قسمتی سے مجھے بلوچستان میں رہ کر ہر مکتبہ فکر کے لوگوں سے ملنے ، ان کے حالات ِ زندگی دیکھنے ، سمجھنے اور ان پر غور کرنے کے مواقع میسر ہوئے اور پھر خاص طور پر تعلیمی اداروں اور محکمہ صحت پر کام کرنے کا موقع ملا ۔ ان میں سے دیہاتوں اور تحصیل سطح کے سکولوں کے بعد بڑی بڑی جامعات کے ایک سے زیادہ مرتبہ دورے کرنے کے مواقع بھی ملے ۔ اس لئے ان کے متعلق بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے ۔ کوءٹہ شہر میں بیوٹمز یونیورسٹی ، سردار بہادر خان وویمن یو نیورسٹی ، یونیورسٹی لاء کالج اور یونیورسٹی آف بلوچستان میں کافی دفعہ جانے کا موقع ملا ۔ یہ یونیورسٹیاں ہر دور میں دہشت گردوں کے نشانے پر رہی ہیں ۔ بیوٹمز یونیورسٹی اللہ کے خصوصی فضل و کرم سے محفوظ رہی ۔ یونیورسٹی لاء کالج کے پرنسپل امان اللہ اچکزئی کو دن دیہاڑے ان کو ان کی کار میں گولیوں سے بھون دیا گیا ۔ حالانکہ وہ انتہائی شریف النفس شخص تھے ۔ وویمن یونیورسٹی کے اندر مین چوک میں لڑکیوں کے گروہ میں بم دھماکہ کیا گیا ۔ جس سے درجنوں لڑکیاں شہید اور زخمی ہو گئیں ۔ اس وقت دہشت گردوں کا مقصد صرف ان لڑکیوں کو شہید یا زخمی کرنا نہیں تھا بلکہ ان کا مقصد خواتین اور ان کے لواحقین کے دلوں میں دہشت گردی کا ڈر اور خوف و ہراس پیدا کر کے انہیں تعلیم سے روکنا تھا ۔ لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی میں طالبات کی تعداد کم ہونے کی بجائے کئی گنا زیادہ ہو گئی ۔ اسی طرح بلکہ اس سے کہیں بڑی سازش کر کے زیادہ خوفناک دہشت گردی کی واردات یونیورسٹی آف بلوچستان میں کی گئی اور پھر ہمارے غیر ذمہ دار میڈیا نے اس پر پٹرول چھڑک کر وہ آگ لگائی کہ ہر شخص کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی ۔ واردات وویمن یونیورسٹی اور بلوچستان یونیورسٹی کی ایک جیسی تھی ۔ دونوں وارداتوں کا ماسٹر مائینڈ ایک ہی گروپ محسوس ہوتا ہے ۔ کیونکہ دونوں وارداتیں کرنے والے کامقصد ایک ہی ہے کہ کسی بھی طریقے سے بچوں کو اعلیٰ تعلیم سے دور رکھا جائے اور خاص کر خواتین تو جامعات میں داخلے کا سوچیں بھی نہیں ۔ بلوچستان یونیورسٹی میں خفیہ کیمروں کے استعمال اور خاص طور پر واش رومز میں خفیہ کیمرے پکڑے جانے پر صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں تھر تھلی مچ گئی اور لوگوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی ۔ کیونکہ اس میں بلوچوں اور پختونوں کی جان پر نہیں بلکہ ان کی غیرت پر حملہ کیا گیا ۔ خفیہ کیمروں کی جھوٹی خبر یا جھوٹے پروپیگنڈے نے اتنی تیزی سے پورے بلوچستان میں گردش کیا جس سے معلوم ہوا کہ جیسے پوری تیاری اور پورے منصوبے کے تحت ایک ہی دہشت گردی کے دونوں دھماکے اکٹھے ہوئے کیونکہ ادھر افواہ پھیلی اور ادھر بغیر تحقیق کے سوشل میڈیا پر نادان اور غیر ذمہ دار اینکروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ۔ یہ حقیقت ہے کہ کچھ دیر کے لئے وہ تمام والدین جن کی بچیاں یونیورسٹی میں پڑھتی یا پڑھاتی ہیں وہ فکر مند ضرور ہوئے ہونگے لیکن میں ذاتی طور پر اس یونیورسٹی کا کئی دفعہ دورہ کر چکا ہوں اور اس کے سخت ترین نظم و ضبط سے اچھی طرح باخبر ہوں ۔ خاص طور پر آرمی کے ادارے ایف سی کی موجودگی میں ایسی کسی بھی حرکت کا سوچنا بھی شاید گناہ کے زمرے میں آتا ہو ۔ کیونکہ ایک تو ان لوگوں کی وہاں مستقل ڈیوٹی نہیں ہوتی، ہردو چار ماہ کے بعد عملہ تبدیل ہوتا رہتا ہے ۔ دوسرا وہ کسی کو ایسی حرکت کرنے بھی نہیں دیتے ۔ وہ ہر وقت چوکنا رہتے ہیں اور ایسی حرکتوں اور نقل وحمل سے آگاہ رہتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود چونکہ معاملے کی حقیقت پوری طرح سامنے نہیں آئی اس لئے حتمی رائے نہیں دے سکتا ۔ اس گمراہ کن خبر کے ساتھ طلباء کے ایک گروپ نے یہ مطالبہ شروع کر دیا کہ ایف سی کو یونیورسٹی سے ہٹایا جائے اور یونینز کو بحال کیا جائے ۔ اس مطالبے کے حق میں صرف 10;47;12 لڑکے بینر لگا کے بیٹھے ہوئے دکھائے بھی گئے ۔ 15000کی تعداد میں دس بارہ بچوں کی یہ حرکت کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ ان کے دونوں مطالبات غلط اور نہ مانے جانے والے ہیں ۔ ایک تو اگر وہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں تو انہیں ایف سی کے جوان چبھتے کیوں ہیں اِن کا اُن سے واسطہ کیا ہے;238; جبکہ وہ انہی کی جانوں کی حفاظت کے لئے ہر وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ دوسرا یونینز کی بحالی کے ساتھ ہی یونیورسٹی میں قتل وغارت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا ۔ اس یونیورسٹی میں بلوچ گروپ، ہزارہ گروپ اور پشتون گروپ کے علاوہ غیر بلوچستانی گروپ بہت مضبوط ہیں اور ان میں بعض دہشت گردتنظیموں کے طالبعلم بھی ہیں ۔ جس دن یونینز کو بحال کیا گیا اس دن حالات انتظامیہ کے کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے ۔ میرے ذاتی تجربے اور تجزیے کے مطابق یہ دونوں مطالبات تعلیم دشمن ایجنڈے پر کام کرنے والے لوگوں کے ہیں ۔ اس یونیورسٹی میں ایف سی کی موجودگی باعثِ رحمت ہے ۔ طلباء و طالبات بے فکر ہو کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ آخر میں سابق وائس چانسلر پوفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کے متعلق لکھنا چاہتا ہوں ۔ وہ گزشتہ 6سال سے اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے ۔ وہ ہر گروپ اور ہر گروہ کی سرگرمیوں سے پوری طرح آگاہ ہیں ۔ پھر ان کابلوچستان انتظامیہ ، ایف سی اور تمام سیکیورٹی ایجنسیوں سے مکمل رابطہ رہتا ہے ۔ وہ حالات کو سمجھنے اور کنٹرول کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں ۔ بدقسمتی سے کیمرہ اسکینڈل میں بھی انہیں شامل کرنے کی سازش کی گئی ۔ انہوں نے نہایت عقلمندی، جراَت او ربہادری سے ایف آئی اے کی مکمل تفتیش تک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تاکہ ایف آئی اے غیر جانبداری سے معاملے کی تہہ تک پہنچ سکے ۔ کل کوءٹہ سے شاءع ہونے والے ایک قومی اخبار میں یہ خبر شاءع ہوئی (یونیورسٹی کے واش رومز میں کیمرے نصب کرنے کی رپورٹس غلط اور بے بنیاد ہیں ’’ایف آئی اے‘‘)اگر یہ خبر حقیقت پر مبنی ہے تو پھر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کو فوری طور پر اپنے عہدے پر بحال کر دینا چاہیئے ۔ تعلیم دشمن اور امن دشمن لوگوں کے پروپیگنڈے کے اثر کو زائل کرنے کے لئے میڈیا پر خبریں شاءع کی جائیں تاکہ طالبات اور ان کے لواحقین کا خوف دور ہو سکے ۔ خاص طور پر ان طالبات کے تحفظات کا خیال رکھا جائے جنہوں نے آنے والے سالوں میں اس یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہے ۔ اگرکیمرہ اسکینڈل کے جرم میں کوئی بندہ شریک ہے تو اس کو سخت ترین سزا دی جائے ۔ ان لوگوں کا بھی محا سبہ کیاجائے جنہوں نے یہ گھناوَنی سازش تیار کی ہے ۔ بم سے اڑانے والی خبر سے یہ بڑی اوربُری خبر تھی ۔ ہمارے پڑوسی غیر مسلم ازلی دشمن نے اس خبر پر ہمارا کس قدر مذاق اڑایا، کتنی بے عزتی کی گئی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ لیکن اس بے عزتی اور سازش کا اثر زائل کرنے کے لئے وائس چانسلر کو بحال کر کے یونیورسٹی کو پہلے کی طرح اپنی سمت پر رواں دواں کر دینا چاہیئے ۔ پاکستان کی مایہ ناز تفتیشی ادارہ ’’ایف آئی اے‘‘ سر توڑ کو شش کر کے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ لیکن اس معاملے میں مزید تیزی کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان خصوصاً بلوچستان کے عوام پریشان ہیں اور ہندوستان کا میڈیا اس معاملے پر بہت سخت کیچڑاچھال رہا ہے ۔ اس معاملے میں دیر نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ جتنی دیر کی توپھر یہی ہوگا ۔ ’’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘‘ ۔

ایڑی میں اکثر درد رہتا ہے تو اس کی وجہ جان لیں

کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے پیر اور ٹخنے 26 ہڈیوں اور 33 جوڑوں سے بنتے ہیں ؟ جن میں ایڑی پیر کی سب سے بڑی ہڈی ہے۔

اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ایڑی fghfghمیں درد یا تکلیف پیروں کا سب سے عام مسئلہ ہے۔

عام طور پر یہ درد ایڑی کے اندر یا اس کے پیچھے ہوتا ہے جہاں پنڈلی سے ایڑی تک آنے والا طاقتور پٹھا ایڑی کی ہڈی سے جڑتا ہے، کئی بار یہ درد ایڑی کے سائیڈ میں بھی محسوس ہوتا ہے۔

اگر یہ درد ایڑی کے اندر ہو تو اسے plantar fasciitis کہا جاتا ہے جو ایڑی میں درد کی سب سے عام وجہ ہے جبکہ ایڑی کے پیچھے درد کو Achilles tendinitis کہا جاتا ہے۔

اکثر اوقات یہ درد کسی چوٹ کا تنیجہ نہیں ہوتا جو شروع میں زیادہ نہیں ہوتا مگر اس کی شدت بڑھ جاتی ہے اور کئی بار ہلنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔

عام طور پر یہ درد بغیر علاج کے ہی ختم ہوجاتا ہے مگر کئی بار یہ برقرار رہتا ہے اور دائمی بھی بن جاتا ہے۔

ایڑی کے درد کی عام وجوہات

ایڑی کے نیچے ہونے والا درد عام طور پر بہت زیادہ دباﺅ کا نتیجہ ہوتا ہے جس سے پاﺅں کی جھلی کی بافتوں کو نقصان پہنچتا ہے اور درد اور اکڑن کی شکایت ہوتی ہے۔

ایڑی کے پیچھے ہونے والا درد پنڈلی سے ایڑی تک آنے والے پٹھے کو پہنچنے والی چوٹ کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

اسی طرح موچ بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے کسی قسم کا فریکچر، جوڑوں میں پانی بھرجانے، جوڑوں کے امراض یا ہڈیوں کی کوئی بیماری ھبی اس کی وجہ ہوسکتے ہیں۔

اس سے بچنا کیسے ممکن؟

ویسے تو ایڑی میں درد کی مکمل روک تھام تو ممکن نہیں مگر کچھ آسان نکات سے چوٹ اور درد سے بچنے کی کوشش ضرور کرسکتے ہیں جو درج ذیل ہیں:

مناسب فٹنگ والے جوٹوں کا استعمال جو پیروں کو سپورٹ فراہم کریں

جسمانی سرگرمی کے لیے درست جوتوں کا انتخاب

ورزش سے قبل مسلز کو اسکریچ کریں

جسمانی سرگرمیوں کے دوران رفتار

صحت بخش غذا

تھکاوٹ یا مسل میں تکلیف پر آرام

صحت مند جسمانی وزن کو برقرار رکھنے کی کوشش

تکلیف کو دور کیسے کریں؟

اگر ایڑی میں درد ہے تو کچھ طریقوں سے آپ اسے کم کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں، جو درج ذیل ہیں:

جتنا ہوسکے آرام کریں

روزانہ 2 بار 10 سے 15 منٹ کے لیے برف سے ٹکور کریں

عام درد کش ادویات کا استعمال

ایسے جوتے پہنیں جو زیادہ ٹائٹ نہ ہوں

ایڑی کو زمین پر رکھنے کی بجائے اوپر اٹھا کر رکھیں

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر آپ کو اکثر ایڑی میں تکلیف ہوتی ہے تو ممکنہ طور پر سب سے پہلے تو گھریلو نسخوں کو ہی آزمائیں گے جیسے آرام، تاہم اگر یہ درد 2 سے 3 ہفتوں میں بہتر نہیں ہوتا تو ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہیے۔

کچھ علامات میں ڈاکٹر سے فوری رجوع کرنا چاہیے جو کہ درج ذیل ہیں :

شدید درد

اچانک درد ہونا

ایڑی میں سرخی نظر آنا

ایڑی سوج جانا

درد کے باعث چلنے سے قاصر ہوجانا

ایڑی کے درد سے کیا پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں؟

ایڑی کے درد چلنے پھرنے سے معذور کرسکتا ہے اور روزمرہ کی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔ چلنے کا انداز متاثر ہوسکتا ہے، اگر ایسا ہو تو جسمانی توازن بگڑ سکتا ہے اور گرنے کا خطرہ بڑھتا ہے، جبکہ انجری کا خطرہ بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔

میچ کے دوران نامناسب زبان استعمال کرنے پر جنید خان کو جرمانہ

کوئٹہ: قائداعظم ٹرافی میں خیبر پختونخوا کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر جنید خان پر میچ فیس کا 40 فی صد جرمانہ عائد کردیا گیا۔

بگٹی اسٹیڈیم کوئٹہ میں قائداعظم ٹرافی میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے درمیان میچ کھیلا گیا۔ میچ کے دوران جنید خان پر نامناسب زبان استعمال کرنے کا الزام تھا، جنید خان کو پی سی بی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لیول 1 جرم کا مرتکب پایا گیا۔ آن فیلڈ امپائرز شمیم انصاری اور غفار کاظمی نے جنید خان کو آرٹیکل 2.6 کی خلاف ورزی کرنے پر چارج کیا۔ جنید خان کی جانب سے اعتراف جرم کرنے پر میچ ریفری محمد اسلم نے جرمانے کی سزا سنائی۔

دوسری جانب سلو اوور ریٹ کے باعث سنٹرل پنجاب کرکٹ ٹیم پر جرمانہ عائد کردیا گیا۔ قوانین کے مطابق سنٹرل پنجاب کرکٹ ٹیم پر 40 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ سنٹرل پنجاب کرکٹ ٹیم نے قائداعظم ٹرافی کے پانچویں راؤنڈ میں سندھ کے خلاف میچ میں مقررہ وقت سے 4 اوورز کم کیے۔ میچ ریفری ندیم ارشد نے سنٹرل پنجاب کرکٹ ٹیم پر جرمانہ عائد کیا۔

جاپان میں لکڑی کے اجزا سے کاروں کی تیاری

کیوٹو: اگرچہ دنیا بھر میں کاریں بنانے والے ادارے ایک عرصے سے گاڑیوں کے بیرونی ڈھانچے کو لکڑی یا اس کے اجزا سے بنانے پر غور کررہے ہیں لیکن اس میں کامیابی نہیں مل رہی تھی۔ اب جاپان کی ایک کمپنی نے لکڑی کے گودے سیلولیوز کے نینو فائبر (ریشوں) سے گاڑی کا مضبوط اور دیرپا اسٹرکچر بنانے کا اعلان کیا ہے۔

جاپانی کمپنی کا خیال ہے کہ لکڑی کے گودے میں پایا جانے والے اجزا سیلولیوز سے نینو تار بنائے جائیں تو ان سے بنی ہوئی کاریں پانچ گنا ہلکی پھلکی اور فولاد سے بنی گاڑیوں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ مضبوط ہوسکتی ہیں۔ سیلولیوز نینو فائبر (سی این ایف) سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بھی کم ہوتا ہے کیونکہ اول ان کی تیاری میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کم خارج ہوتی ہے اور گاڑیوں کا وزن کم ہونے سے ایندھن بھی کم خرچ ہوتا ہے۔

سی این ایف کی تیاری میں خاص درخت کی لکڑی کو کاٹا جاتا ہے اور اس کا گودا نکال کر اسے بعض کیمیکل میں ڈبویا جاتا ہے تاکہ لِگنن اور ہیمی سیلیولوزختم ہوجائیں، اس سے ٹھوس، مضبوط لیکن کم وزن مٹیریل ہاتھ آتا ہے۔

اب کیوٹو یونیورسٹی نے ایک کارساز کمپنی کے تعاون سے سپرکار کا ڈیزائن بنایا ہے۔ اس میں سی این ایف کی پٹیوں کو خاص زاویوں پر موڑ کر اس سے دروازے اور چھت وغیرہ بنانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ اس عمل میں گاڑی کا وزن روایتی طریقے کے مقابلے میں 10 فیصد کم ہوا اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بھی کم ہوسکتا ہے۔

لیکن اگلا مرحلہ اس سے مشکل ہے جس میں کار کے یہ خاص حصے کئی مراحل سے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں تاکہ سڑک پر ان کی افادیت کا اندازہ لگایا جاسکے، اب تک کے نتائج بہت حوصلہ افزا ہیں۔ اس کے بعد ٹویوٹا سمیت کئی کمپنیوں نے کیوٹو یونیورسٹی کے سائنس دانوں سے رابطہ کیا۔

مالی میں چیک پوسٹ پر حملے میں 53 فوجی ہلاک

بماکو: افریقی ملک مالی میں فوجی اڈے پر حملے میں 53 فوجی اور ایک عام شہری ہلاک ہوگیا۔

مالی کے وزیر اطلاعات یحیی سنگارے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے شمال مشرقی علاقے میناکا میں نائیجر کی سرحد کے قریب دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا۔ نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے فوجی اڈے پر دھاوا بول کر 53 فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور لاشوں و زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ حکام کے مطابق صورت حال قابو میں آگئی ہے اور ہلاک شدگان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت نازک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

مالی کی حکومت نے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

2012 میں مالی میں القاعدہ نے وسیع و عریض علاقے پر قبضہ کرلیا تھا جس کے بعد فرانس کی فوج نے اس کے خلاف آپریشن کرکے بہت سے عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا۔

مالی میں ’جی 5 ساحل فورس‘ کے نام سے 5 ممالک کی افواج بھی القاعدہ اور داعش سمیت دیگر مسلح تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے تعینات ہیں۔ ان ممالک میں برکینا فاسو، چاڈ، مالی، موریطانیہ اور نائیجر شامل ہیں۔

ورلڈ بینک نے سندھ کے 1.93 بلین ڈالرز کے منصوبے منظور کرلیے

کراچی: ورلڈ بینک نے سندھ کے 1.93 بلین ڈالرز کے منصوبے منظور کرلیے۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ورلڈ بینک کے صدر ڈیوڈ ملپاس کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں 2.77 بلین ڈالرز کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا اور 1.93 بلین ڈالرزکے نئے منصوبوں کی منظوری حاصل کی جن میں گڈو، سکھر بیراجوں کی بحالی اورکراچی واٹر بورڈکی ری ویمپنگ شامل ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ سکھر بیراج ملک کا نہایت ایک اہم بیراجوں میں سے ایک ہے اور اسے دیہی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے اسی طرح گڈو بیراج بھی صوبے کی زرعی معیشت کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ سکھر پر ایک نئے بیراج کی تعمیر کی تجویز ہے مگر یہ مالی لحاظ سے ایک بہت بڑا منصوبہ ہوگا۔ لہٰذا صوبائی حکومت نے سکھر اور گڈو بیراج کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے۔

ورلڈ بینک نے دونوں بیراجوں کی بحالی کے لیے 328 ملین روپے کی فنانسنگ پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ سندھ حکومت نے ورلڈ بینک سے 2016 میں کراچی ڈائیگنوسٹک اسٹڈی کرانے کی درخواست کی تھی اس منصوبے سے واٹر اینڈ سینیٹیشن، اربن ٹرانسپورٹ سسٹم، لوکل گورنمنٹ گورننس میں سرمایہ کاری اور اصلاحات لانے میں مدد ملے گی۔

‘آن لائن بدسلوکی95 فیصد خواتین صحافیوں کے کام پر اثر انداز ہوتی ہے’

اسلام آباد: پاکستان کی 95 فیصد خواتین صحافیوں کا کہنا ہے کہ آن لائن بدسلوکی ان کے پیشہ وارانہ کام کو متاثر کرتی ہے۔

میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی (ایم ایم ایف ڈی) کی جانب سے خواتین صحافیوں کے خلاف آن لائن بدسلوکی پر مرتب کردہ’ہوسٹائل بائٹس‘ نامی رپورٹ صحافیوں کے خلاف امتیاز کے خاتمے کے عالمی دن پر جاری کی گئی۔

مذکورہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 77 فیصد خواتین صحافی آن لائن بدسلوکی سے نمٹنے کے لیے خود سے سینسر شپ کا استعمال کرتی ہیں۔

ایم ایم ایف ڈی کی رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ صحافیوں کے خلاف بدسلوکی کے معاملے میں زیادہ تر توجہ جسمانی تشدد کو دی جاتی ہے لیکن آن لائن معاملات بھی سنگین ہوسکتے ہیں، بالخصوص خواتین صحافیوں کے خلاف، جنہیں دھمکانے والوں یا ان پلیٹ فارم کو ناقابلِ برداشت بنانے والوں کی سرزنش بھی نہیں ہوتی۔

خواتین صحافیوں کو جس قسم کی آن لائن بد سلوکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسے سنجیدہ ہی نہیں لیا جاتا لیکن اس کے ان پر گہرے اثرات پڑتے ہیں۔

تحقیق کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ 110 میں سے 105 خواتین صحافیوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ آن لائن بدسلوکی ان کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوئی۔

اس کے ساتھ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ہر 10 میں 3 خواتین صحافیوں کو بلیک میل اور ان خلاف تشدد پر اکسانے جیسے سنگین آن لائن جرائم کا سامنا ہوا۔

تحقیق میں شامل صحافیوں نے جب اپنے خلاف آن لائن بدسلوکی کو رپورٹ کیا تو اس کے جواب میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ملنے والا ردِ عمل انہیں مطمئن نہیں کرسکا۔

اس کے علاوہ وہ ان واقعات کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس رپورٹ کرنے میں بھی ہچکچاہٹ کا شکار نظر آئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے ادارے جس طرح آن لائن تشدد کے خلاف کارروائی کرتے ہیں اس طریقہ کار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

Google Analytics Alternative