Home » 2019 » November » 04

Daily Archives: November 4, 2019

آزادی مارچ، تحمل اور برداشت کا مظاہرہ ضروری ہے

آزادی مارچ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا ایک اعتبار سے وہ درست ہیں کیونکہ انہوں نے کہاکہ سیاست میں حکمت کی ضرورت ہے اور حکمت کے بغیر سیاست کرنا مشکل کام ہے اور یہ کام جذبات سے عاری ہوکر کرنا پڑتا ہے،ساتھ ہی انہوں نے ڈی چوک نہ جانے کا بھی عندیہ دیدیا ہے جوکہ خوش آئند ہے ۔ ادھر دوسری جانب وزیراعظم نے کہا ہے کہ میں این آر او کسی صورت میں نہیں دوں گا این آراو دینے کا مطلب غداری کے مترادف ہے ۔ اس میں ہم وزیراعظم سے بالکل اتفاق کرتے ہیں جب تک اس ملک سے کرپشن اور لوٹ مار کا کلچر ختم نہیں ہوگا اس وقت تک ہم ترقی نہیں کرسکتے ۔ کرپٹ شخصیات کا تعلق چاہے اقتدار سے ہو یا اپوزیشن سے انہیں ہر صورت قرار واقعی سزا ملنی چاہیے ۔ آزادی مارچ کو اب دھرنے میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے اس سلسلے میں کپتان کو چاہیے کہ وہ اپنی ٹیم کو بھی ہدایت کریں کہ وہ زبان بندی رکھیں کیونکہ اس زبان کی چاشنی سے سارے معاملات خراب ہوسکتے ہیں ۔ بیانات بازیوں سے آزادی مارچ کے شرکاء آگے کی جانب بڑھ سکتے ہیں لہذا حکمت عملی یہی ہونی چاہیے کہ معاملات ادھر ہی بیٹھ کر حل ہوں ۔ حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیاہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ این آر او دینے کا مطلب ملک سے غداری ہوگا ،یہ لوگ میرے منہ سے صرف تین الفاظ سننا چاہتے ہیں ، وزیراعظم نے ایک بار پھر صاف صاف کہہ دیا، نو این آر او، نو کمپرومائز‘جب تک ان کا احتساب نہیں ہوتا اس وقت تک ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا ۔ نام لئے بغیر اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ میں ان کو کبھی این آر او نہیں دوں گا ۔ اُدھرجمعیت علمائے اسلام(ف) کی مرکزی شوریٰ کا 6گھنٹے طویل اجلاس ہواجس میں آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت مکمل کی گئی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کشمیرہائی وے پرآزادی مارچ کے شرکاء کاقیام جاری رہیگا اور وزیر اعظم کو دی گئی ڈیڈلائن میں ایک دن کی توسیع کی جائے گی ۔ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے ناکامی کے ساتھ واپس جانے کا آپشن مسترد کردیا، اجلاس میں حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن کے بعد اگلی حکمت عملی پر حتمی مشاورت اور پلان بی پر بھی غور کیا گیا ۔ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے پلان بی پر غور کیا جس کے مطابق اسلام آباد لاک ڈاءون، ملک گیر پہیہ جام اور ملک گیر شٹر ڈاءون شامل ہے ۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں سے پسپائی نہیں بلکہ پیش رفت کریں گے اور پورے ملک کو اجتماع گاہ بنائیں گے، جوش نہیں ہوش مندی سے کام لینا ہوگا، کسی ٹریبونل، الیکشن کمیشن یا عدالت نہیں جائیں گے، مسئلہ ایک شخص کے استعفے کا نہیں قوم کے ووٹ کا ہے، عوام کو ووٹ کاحق دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ، جنگ جاری رہے گی، حکمرانوں کو جانا ہوگا، بیچارہ الیکشن کمیشن ہم سے زیادہ بے بس ہے،5سال میں تحریک انصاف فارن فنڈنگ کا فیصلہ نہیں ہوا ،دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا نہ رولز بن سکے، یہاں سے جائیں گے تو پیشرفت کیساتھ جائیں گے، ڈی چوک تنگ جگہ ہے، یہاں تو کھلی جگہ بھی کم پڑ گئی ہے ،آزادی مارچ کے شرکاء کا جوش بڑھتا جارہا ہے ،غیر قانونی اقدام نہیں کرینگے ۔ عوام مطمئن نہیں ہیں کہ پاکستان میں آئین کی حیثیت کیا ہے، لہٰذا تمام اداروں کو بیٹھ کر یہ طے کرنا ہوگا کہ آئین محترم اور سپریم ہے اسکی بنیاد پر اس ملک کا نظام چلے گا اور یہ عہد و پیمان کرنا پڑے گا تاکہ پاکستان کی عملداری اور اس کے تحت ہم اپنے وطن عزیز کے نظام کو چلا سکیں ۔

افغانستان کے ناظم

الامور کی دفتر خارجہ طلبی

پاکستان نے ہمیشہ خطے کے معاملات کو باہمی مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا ہے اور ساتھ ہی اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی پڑوسی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور پڑوسی ممالک کو بھی یہ چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہ ہونے دیں ۔ خصوصی طورپر افغانستان کی صورتحال پر پاکستان کا کردار انتہائی کلیدی رہا ہے ۔ حتیٰ کہ ٹرمپ تک نے اپنی افواج کو افغانستان سے نکالنے کیلئے پاکستان کی مدد طلب کی ہے ۔ نیز طالبان سے مذاکرات کے سلسلے میں بھی پاکستان اہم کردارادا کررہا ہے ایسی صورت میں افغانستان کی سرزمین پر پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کرنا انتہائی غیر سفارتکاری کا کردار ہے ۔ افغانستان کو چاہیے کہ وہ وہاں پر موجود عملے کو تحفظ فراہم کرے ۔ افغان حکام کی جانب سے پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کیا جارہا ہے، ہراساں کرنے کا سلسلہ گزشتہ روز سے شروع ہوا ہے، اس سلسلے میں افغان وزارت خارجہ اپنی خفیہ ایجنسی کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے ۔ افغان خفیہ ایجنسی کے اہلکار سفارتکاروں کی گاڑیاں روک کرغلط زبان استعمال کرتے ہیں ،تمام سفارتکاروں کو نقل وحرکت کے دوران روکا جاتا ہے اور ہراساں کرنے کا سلسلہ گھر سے لیکر سفارتخانے اور واپسی کے راستے میں کیا جارہا ہے ۔ پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے کابل میں اپنے عملے کی سیکیورٹی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی عملے کو حراساں کرنے اور راستوں میں رکاوٹیں ڈالنے کی تحقیقات کرائی جائیں اور اس معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ پاکستان سے بھی شیئر کی جائے ۔ پاکستانی عملے کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے ان کو تحفظ فراہم کرنا افغان حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

بھارتی چیرہ دستیاں

روکنا ازحد ضروری

بھارت کی چیرہ دستیاں کسی طرح رکنے میں نہیں آرہی پہلے اس نے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو تقسیم کرکے براہ راست دہلی کے زیر سایہ کردیا اب اس نے مقبوضہ و جموں کشمیر کو نقشے میں اپنا حصہ قرار دیتے ہوئے آزاد کشمیر کو متنازع قرار دیا ہے ۔ بھارتی اس انتہاپسندانہ اقدام کو پاکستان نے قطعی طورپر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بھارت کی بھونڈی کوشش سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے ، عیار بھارت کی ایک اور مکاری مقبوضہ جموں کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار

دے کر عیاں ہوگئی ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت ایسی حرکتوں سے دنیا کو کسی صورت بھی بیوقوف نہیں بنا سکتا جوحقیقت ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ ایسی کوششیں خطے کے امن و امان کو تہہ وبالا ہی کرسکتی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ وادی پر بھارت نے ظالمانہ اور غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے ۔ لاکھوں دہشت گرد فوج کے ذریعے کشمیریوں کی آزادی کوسلب کررکھا ہے ۔ جوکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے ۔ بین الاقوامی برادری بھارت کی حرکات کو اچھی طرح دیکھ رہی ہے اس کو چاہیے کہ مودی سرکار کو ان اقدامات سے روکے اس سے پہلے کہ پورا خطہ جنگ کی آگ میں جھونک دیا جائے اور اس کا نقصان پوری دنیا کو پہنچے گا کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں ان کے مابین جنگ کے بعد حالات انتہائی ہولناک ہوں گے اس کیلئے ضروری ہے کہ بھارت کے جو دہشت گردانہ اقدام ہیں ان کے آگے رکاوٹ کھڑی کی جائے ورنہ تمام تر حالات کی ذمہ داری بین الاقوامی برادری پر ہوگی ۔ پاکستان ہر ممکن اقدامات کررہا ہے کہ خطے کے حالات پرامن رہیں اور بھارت سے بھی تعلقات بہتر رہیں لیکن بھارت نے ہمیشہ یہاں سے فرار ہی حاصل کیا ۔ کرتارپور راہداری کے حوالے سے پاکستان نے جوکچھ کیا وہ بھی ایک امن کا قیام ہے ۔ راہداری پر پاک بھارت زیرو پوائنٹ پر پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا ہے ۔ سکھ برادری نے اس کا خیر مقدم کیا ہے بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ کھلے دل کا مظاہرہ کرے ۔ آئے دن ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ سے اجتناب کیا جائے ۔ اس کو بھی چاہیے کہ وہ بھی امن کی جانب قدم بڑھائے ۔

پیچھے نہیں ہٹیں گے آگے بڑھ کر سخت حملہ کریں گے، مولانا فضل الرحمن

اسلام: جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم شریعت کی رو سے باطل کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں اور پیچھے ہٹ جانے کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے اور آگے بڑھ کر سخت حملہ کریں گے۔

آزادی مارچ دھرنے کے چوتھے روز شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم یہاں آئے ہیں تو پیش رفت کرکے ہی جائیں گے، پورے پاکستان کو اجتماع گاہ بنا کر دکھائیں گے یہ سیلاب اب تھمے گا نہیں اور آگے ہی بڑھے گا، آج اسلام آباد بند ہے اب پورا پاکستان بند کرکے دکھائیں گے۔

اس اجتماع سے اسرائیلی اور قادیانی لابی کو پریشانی ہے

انہوں نے کہا کہ ڈی چوک تو تنگ جگہ ہے جبکہ یہ جگہ کشادہ ہے لیکن یہ جگہ بھی ہم پر تنگ کردی گئی ہے، اس اجتماع سے اسرائیل اور قادیانی لابی کو پریشانی ہے، موجودہ حکومت کی وجہ سے اس خطے میں اسرائیل کا اثر و رسوخ بڑھ جائے گا کیوں کہ اسرائیل کی سرمایہ کاری پر اس اجتماع نے پانی پھیر دیا ہے، یہاں کے حکمراں بیرونی دباؤ پر آئین پاکستان کی اسلامی دفعات میں تحریف پر آمادہ ہوجاتے ہیں لیکن اب اس اجتماع کے بعد آئندہ کسی کی جرأت نہیں ہوگی کہ اسلامی دفعات میں ردوبدل کی کوشش کرے۔

الیکشن کمیشن سے کیسے رجوع کریں؟ وہ تو خود بے بس ہے

انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کے معاملے پر الیکشن کمیشن سے رجوع کریں، یہاں تو ہرالیکشن میں مداخلت کرکے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے جاتے ہیں، الیکشن کمیشن بے بس نہ ہوتا تو آج یہاں اتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع نہیں ہوتے، پانچ برس گزر گئے پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا اب تک فیصلہ نہیں ہوا تو دھاندلی کے معاملے کا فیصلہ کیسے آجائے گا؟

عوام کے ووٹ کو عزت دینی ہوگی 

انہوں نے کہا کہ دراصل جمہوری ادارے بے معنی ہوکر رہ گئے ہیں، اداروں کو طے کرنا ہوگا کہ آئین کی بالادستی اور اس کی عمل داری قائم رہے، اب فیصلے عوام اور ان کا ووٹ کرے گا، عوام کے ووٹ کو عزت دینی ہوگی عوام جو فیصلہ کریں گے ہمیں اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔

مدارس کے خلاف سازش کرنے والے خود ختم ہوجائیں گے

مدراس کے نصاب میں تبدیلی کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سازش کے تحت مدارس کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا، سازش کرنے والے خود ختم ہوجائیں گے، مدارس میں مفت تعلیم اور رہائش دی جاتی ہے جب کہ ایلیٹ کلاس کے تعلیمی نظام میں لوگ لاکھوں روپے خرچ کررہے ہیں آخر وہاں تبدیلی کی بات کیوں نہیں کی جاتی؟

یہ اتنا آسان نہیں کہ لوگ یہاں آگئے اور چلے جائیں

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ یہ اتنا آسان نہیں کہ لوگ یہاں آگئے اور اتنی آسانی سے واپس چلے جائیں، اس اجتماع میں متعدد سیاسی جماعتوں کے کارکنان، تاجر، کسان، مزدور اور دیگر شعبہ جات کے لوگ موجود ہیں جو امید لے کر آئے ہیں ہم انہیں مایوس نہیں کریں گے، سوشل میڈیا کے لب و لہجے پر نہیں جائیں اپنی قیادت پر اعتماد کریں، قیادت جو فیصلہ کرے گی وہی فیصلہ آپ کو مستقبل میں آگے لے کر جائے گا۔

ہم نے مذہبی نوجوان کو قابو میں رکھ کر ملک کےخلاف سازش ناکام بنائی

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ یہ واحد جماعت ہے جس نے مذہبی نوجوانوں کو اعتدال کا اور سیاسی راستہ دکھایا، ان کی تربیت کی، نائن الیون کے بعد میں نے اپنے نوجوانوں کو قابو میں رکھ کر امریکا کی سازش کو ناکام بنایا اور انہیں اعتدال کا راستہ دکھا کر پاکستان اور آئین سے وابستہ کرکے اسلحے اور بغاوت سے دور رکھا، یہ صلاحیت ہم رکھتے ہیں تم ہمیں راستے نہیں دکھاؤ۔

غیرملکی میڈیا اجتماع کے منظم ہونے کا اعتراف کررہا ہے

انہوں نے کہا کہ امریکا اور مغربی ممالک کی پالیسی یہ تھی کہ انہیں اشتعال دلا کر ریاست کے خلاف کھڑا کیا جائے جو حالات ایران، افغانستان، شام، یمن میں پیدا ہوئے اور سعودی عرب میں پیدا کیے جارہے ہیں ایسا کرنے کی پاکستان میں کوشش کی گئی لیکن یہاں ہم نے ایسا نہیں ہونے دیا گیا، حتی کہ اتنا بڑا اجتماع ہوا لیکن ہم پرامن رہے، چار دن سے دیکھ رہا ہوں غیرملکی میڈیا اعتراف کررہا ہے کہ ایسا منظم اجتماع نہیں دیکھا۔

ڈی چوک پر جو جنسی آلودگی پھیلائی گئی اس سے سر شرم سے جھک گئی

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ڈی چوک خرافات کی جگہ ہے، جو جنسی آلودگی ڈی چوک پر پھیلائی گئی اس سے پوری قوم کے سر شرم سے جھک گئے، تم نشے میں دھت کو پاکستان کی قیادت کرنے چلے ہو جب کہ ہم تم سے بہتر قائد اور سیاست کرنے والے ہیں، کوشش کررہا ہوں کہ کل آل پارٹیز کانفرنس ہوسکے تاکہ معاملات میں بگاڑ پیدا نہ ہو۔

جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیداوار ہمیں نہ بتائیں کہ سیاست کیا ہوتی ہے

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ہم نے دھرنے کو مہینوں تک جاری رکھنے کی بات نہیں کی ہم جب تک چاہیں جاری رکھیں، آپ کون ہیں ہمارے فیصلے کرنے والے، ہمارے فیصلے ہم خود کریں گے، ہم ابھی سے نہیں ہیں ہماری تاریخ کئی سوسال پرانی ہے جو پاکستان بننے سے پہلے سے ہے، جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیداوار اور سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے ہمیں بتائیں گے کہ سیاست کیا ہوتی ہے؟

وزیر اعظم ہاؤس جانے کا فیصلہ کرلیں کسی کا باپ نہیں روک سکتا

جمعیت علما اسلام کے قائد نے کہا کہ عمران خان سن لو! یہ سیلاب بڑھتا جائے گا حتی کہ تمہیں اقتدار سے باہر پھینک دے گا، وزیر اعظم ہاؤس میں گھس کر عمران خان کو گرفتار کرنے کے معاملے پر میرے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بات گئی، اگر یہ سیلاب وزیر اعظم ہاؤس بڑھنے کا فیصلہ کرلے تو کسی کا باپ بھی اسے نہیں روک سکتا لیکن ہم بغاوت نہیں کرنا چاہتے، اسی لیے جو بھی بولو سوچ سمجھ کر بولو کیوں کہ ہم بغاوت سے آگے نکل آئے ہیں اور ہم نے اپنی جان ہتھیلیوں پر رکھ لی ہے۔

پیچھے ہٹ جانے کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں

فضل الرحمن نے دھرنے کے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ لوگوں کو ایک ماہ کا کہوں تو وہ چھ ماہ دھرنا دینے کی بات کریں گے مجھے دھرنے والوں کے خلوص پر کوئی شک نہیں، لیکن ہم حکمت عملی پہلے اور جذبات کو بعد میں رکھتے ہیں جیسا کہ سنت رسولؐ ہے لیکن یہ بھی طے ہے کہ  ہم شریعت کی رو سے باطل کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں اور پیچھے ہٹ جانے کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں، یہ تو پلان اے ہے ابھی ہمارا پلان سی اور ڈی بھی موجود ہے۔

اپوزیشن کو این آر او دینے کا مطلب ملک سے غداری ہوگا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن میرے منہ سے 3 الفاظ این آر او سننا چاہتی ہے تاہم ان کو این آر او دینے کا مطلب ملک سے غداری ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اپوزیشن میرے منہ سے تین الفاظ سننا چاہتے ہیں اور وہ این آر او ہے تاہم میں ان کو کبھی این آر او نہیں دوں گا، ان کو این آر او دینے کا مطلب ملک سے غداری ہوگا، جب تک ان کو زمہ دار نہ ٹھہرایا جائے ملک ترقی کی راہ پرنہیں آسکتا۔

 

جے یو آئی کا حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع اور آل پارٹیز بلانے کا فیصلہ

اسلام آباد: اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے مولانا فضل الرحمان کی حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن کا آج آخری روز ہے تاہم جے یو آئی نے ڈیڈ لائن میں ایک دن کی توسیع اور کسی بھی حتمی اقدام کے لیے آل پارٹیز بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے شرکا چوتھے روز بھی موجود ہیں۔ مارچ میں شریک جے یو آئی (ف) کے کارکنوں کا جوش و ولولہ تاحال جوان ہے۔ نمازِ فجر کے بعد سے آزادی مارچ کے شرکاء مختلف سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔

ایک جانب کارکنوں کی بڑی تعداد نے اپنی مدد آپ کے تحت پنڈال کی صفائی کی تو دوسری جانب کارکن کھیل تماشوں میں بھی مصروف رہے۔ کہیں کارکن فٹبال کھیلتے دیکھے گئے تو کہیں چادر کی مدد سے اپنے ساتھی کو فضا میں اچھالتے نظر آئے۔

دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں پارٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جو چھ گھنٹے تک جاری رہا جس میں مرکزی شوریٰ ارکان اور صوبوں کے امیر شریک ہوئے۔ اجلاس میں حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن کے بعد اگلی حکمت عملی پر حتمی مشاورت کی گئی، اجلاس کے فیصلوں کا اعلان مولانا فضل الرحمان پنڈال میں کریں گے۔

دھرنے میں توسیع، آل پارٹیز بلانے کے فیصلے

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم کو استعفی کے لیے دی گئی ڈیڈی لائن میں ایک دن کی توسیع اور بعد کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

اتحادی جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت

جے یو آئی کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس پیر کی دوپہر ایک بجے مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر منعقد ہوگی جس میں اپوزیشن سمیت حکومتی اتحادی جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

پولیس و رینجرز کا فلیگ مارچ

اسلام آباد میں امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور رینجرز کی جانب سے فلیگ مارچ کیا گیا۔ اس حوالے سے ترجمان اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، پولیس ہائی الرٹ اور افسران و جوانوں کا مورال بلند ہے، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، مختلف مقامات پرپولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے، کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

مولانا فضل الرحمان کا پلان بی سامنے آگیا

اسلام آباد: مولانا فضل الرحمان کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی ہیں اور جے یو آئی کے امیر نے آزادی مارچ کے پلان بی پر غور شروع کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت پارٹی کا طویل مشاورتی اجلاس ہوا جس میں  وزیراعظم کو مستعفی ہونے کے لیے دی گئی 2 روزہ مہلت کے بعد آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوران اجلاس مولانا فضل الرحمان نے سینیٹر طلحہ محمود اور کامران مرتضی کو طلب کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے پلان بی پر غور شروع کردیا جس کے مطابق اسلام آباد لاک ڈاون، ملک گیر پہیہ جام اور ملک گیر شٹر ڈاون شامل ہے جب کہ مولانا فضل الرحمان نے ناکامی کے ساتھ واپس جانے کا آپشن مسترد کردیا ہے۔ اجلاس میں  ڈی چوک جانے اور چند روز بعد واپسی کا آپشن بھی زیر غورآیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں کشمیر ہائی وے پر دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جے یو آئی اراکین کی جانب سے کسی بھی نوعیت کے حتمی فیصلے کا اختیار مولانا فضل الرحمان کو دیدیا گیا ہے۔

سینیٹر طلحہ محمود کی جانب سے دیگر سیاسی جماعتوں، تاجروں اور سماجی تنطیموں سے رابطوں پر بریفنگ دی گئی جب کہ کامران مرتضی نے قانونی و آئینی نکات سے آگاہ کیا۔

اجلاس میں کارکنوں میں پائے جانے والے جذبات سے متعلق بھی امور پر غور کیا گیا، گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر پارٹی رہنماوں نے دھرنے کے شرکاء میں وقت گزرا تھا اور دھرنے میں پائے جانے والے کارکنوں کے جذبات پر صوبائی امراء کو تفصیل سے آگاہ کیا تھا۔

مبارک ہو ! آپ نے میلہ لوٹ لیا، چوہدری شجاعت کی مولانا فضل الرحمان سے گفتگو

اسلام آباد: حکمراں جماعت کی اتحادی مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمان  سے آزادی مارچ کا معاملہ افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنے کی درخواست کی ہے۔

چوہدری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور آزادی مارچ کے حوالے سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ  آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ نے میلہ لوٹ لیا ہے۔

چوہدری شجاعت نے کہا کہ  اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نے آپ کو اپنا لیڈر تسلیم کر لیا ہے لیکن آپ کی بات سے فوج کے خلاف جو تاثر گیا وہ غلط ہے اسے مٹانے کی کوشش کریں۔

چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ شہباز شریف کا دھرنے میں کوئی کردار نہیں ان کی حیثیت تو ”جمعہ جنج نال“ والی ہے،  شہبازشریف تو حادثاتی اور واقعاتی طورپر اپوزیشن لیڈر بن گئے اب اصل اپوزیشن لیڈر تو مولانا فضل الرحمان ہیں جنہوں نے دونوں بڑی جماعتوں کو اپنے پیچھے لگالیا ہے۔

(ق) لیگ کے صدر نے مولانا فضل الرحمان سے کہا کہ آپ مفاہمت سے معاملات حل کرنے کی کوشش کریں اور آپ اس کی اہلیت رکھتے ہیں، آپ مفتی محمود کے بیٹے ہیں جو سیاسی شعور رکھتے تھے اور ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اور افہام و تفہیم سے معاملات کے حل پر یقین رکھتے تھے۔

پیپلز پارٹی دھرنے میں شریک نہیں ہوگی، بلاول بھٹو زرداری

بہاولپور: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پہلے دن سے ہمارا موقف ہے دھرنے میں شریک نہیں ہوں گے۔

بہاولپور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ حکومت ہر محاذ پر فیل ہو رہی ہے، عوام کہہ رہے ہیں ناکام حکومت کا بوجھ ہم کیوں اٹھائیں اور فضل الرحمان نے نہیں کہا کہ وہ خود وزیراعظم ہاؤس جا کرانہیں گھسیٹیں گے بلکہ مولانا نے کہا لوگوں کے یہ جذبات ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پہلے دن سے ہمارا موقف ہے کہ دھرنے میں شریک نہیں ہوں گے البتہ کورکمیٹی نے کہا تو پیپلزپارٹی بھی دھرنے میں حصہ لے گی۔

سانحہ تیزگام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ یہ بہت بڑا حادثہ ہے، عمران خان حادثات پر استعفوں کی بات کیا کرتے تھے، امید ہے وزیراعظم اپنے وعدے کو پورا کریں گے اور شیخ رشید کے دور میں ریلوے میں سب سے زیادہ حادثے ہوئے، وزیر ریلوے کو فی الفور استعفیٰ دینا چاہیے جب کہ حادثے کی تحقیقات ہونی چاہیں، امید ہے حکومت متاثرین کے مطالبات کو پورا کرے گی۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کشمیر پر تاریخی حملہ ہوا ہے، عوام سمجھ رہے ہیں کشمیر پر سودا ہو گیا ہے، حکومت کو اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے، حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی پر غور کرنا چاہیے، وزیراعظم کشمیریوں کے وکیل کا دعوی کرتے ہیں اور کرتار پور راہداری بھی کھول رہے ہیں۔ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

ٹرک میں چھپ کر فرانس میں داخل ہونے والے 30 پاکستانی گرفتار

پیرس: فرانسیسی پولیس نے ٹرک میں چھپ کر ملک میں داخل ہونے والے 30 پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ٹرک میں چھپ کر ملک میں داخل ہونے والے 30 پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے، فرانسیسی دفتر استغاثہ کے مطابق اٹلی سے جنوبی فرانس کے قصبے لا ٹوربی میں ایک ٹول پلازا پر معمول کی چیکنگ کی جا رہی تھی کہ اس دوران اٹلی سے فرانس میں داخل ہونے والے ایک ٹرک کو روکا گیا اور تلاشی لینے پر پچھلے حصے میں چھپے ہوئے 30 پاکستانی پناہ گزین ملے۔

تمام پاکستانی پناہ گزینوں کو حراست میں لے کر اطالوی پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے جہاں مزید تفتیش کی جارہی ہے جب کہ ٹرک کا ڈرائیور بھی پاکستانی ہے۔

Google Analytics Alternative