Home » 2019 » November » 05

Daily Archives: November 5, 2019

شفقت چیمہ بیٹے کے حادثے کی جھوٹی خبر سے پریشان

کراچی: معروف اداکار شفقت چیمہ سوشل میڈیا پر بیٹے کے حادثے کی جھوٹی خبروں سے پریشان ہوگئے اور انہوں ںے کارروائی کے لیے ایف آئی اے سے رابطہ کر لیا۔

معروف فلم اسٹار اور ولن کے کرداروں کو نہایت عمدگی سے ادا کرنے والے شفقت چیمہ سوشل میڈیا پر پھیلی افواہوں سے پریشان ہوگئے ہیں۔ فیس بک پر ان کا جعلی اکاؤنٹ بنا کر بہت سے فنکاروں اور لوگوں کو بے وقوف بنایا جارہا ہے جس پر شفقت چیمہ نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور میں درخواست دے دی جس پر ایف آئی اے نے کارروائی کا آغاز کر دیا۔

شفقت چیمہ کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مجھ سے حسد رکھنے والے عناصر بیٹے کے حادثے سے متعلق افواہیں پھیلا رہے ہیں اور جب سوشل میڈیا پر غلط خبریں چلیں تو لوگ میرے گھر پر پہنچ گئے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کے بتانے پر بیٹے سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا فون بند جا رہا تھا جس پر میرے پیروں تلے زمین  نکل گئی تاہم جب رابطہ ہوا تو دلی سکون پہنچا، لوگ سنی سنائی اور جھوٹی خبروں کو سوشل میڈیا پر ہرگز نہ پھیلائیں۔

شفقت چیمہ نے ایف آئی اے کو بتایا کہ اُن کے نام سے جعلی اکاؤنٹ بھی بنایا گیا ہے جبکہ ان کا فیس بک اور ٹویٹر پر کوئی اکاؤنٹ نہیں، انہوں نے ایف آئی اے سے فوری کارروائی کرتے ہوئے ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آزادی مارچ، تحمل اور برداشت کا مظاہرہ ضروری ہے

آزادی مارچ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا ایک اعتبار سے وہ درست ہیں کیونکہ انہوں نے کہاکہ سیاست میں حکمت کی ضرورت ہے اور حکمت کے بغیر سیاست کرنا مشکل کام ہے اور یہ کام جذبات سے عاری ہوکر کرنا پڑتا ہے،ساتھ ہی انہوں نے ڈی چوک نہ جانے کا بھی عندیہ دیدیا ہے جوکہ خوش آئند ہے ۔ ادھر دوسری جانب وزیراعظم نے کہا ہے کہ میں این آر او کسی صورت میں نہیں دوں گا این آراو دینے کا مطلب غداری کے مترادف ہے ۔ اس میں ہم وزیراعظم سے بالکل اتفاق کرتے ہیں جب تک اس ملک سے کرپشن اور لوٹ مار کا کلچر ختم نہیں ہوگا اس وقت تک ہم ترقی نہیں کرسکتے ۔ کرپٹ شخصیات کا تعلق چاہے اقتدار سے ہو یا اپوزیشن سے انہیں ہر صورت قرار واقعی سزا ملنی چاہیے ۔ آزادی مارچ کو اب دھرنے میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے اس سلسلے میں کپتان کو چاہیے کہ وہ اپنی ٹیم کو بھی ہدایت کریں کہ وہ زبان بندی رکھیں کیونکہ اس زبان کی چاشنی سے سارے معاملات خراب ہوسکتے ہیں ۔ بیانات بازیوں سے آزادی مارچ کے شرکاء آگے کی جانب بڑھ سکتے ہیں لہذا حکمت عملی یہی ہونی چاہیے کہ معاملات ادھر ہی بیٹھ کر حل ہوں ۔ حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیاہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ این آر او دینے کا مطلب ملک سے غداری ہوگا ،یہ لوگ میرے منہ سے صرف تین الفاظ سننا چاہتے ہیں ، وزیراعظم نے ایک بار پھر صاف صاف کہہ دیا، نو این آر او، نو کمپرومائز‘جب تک ان کا احتساب نہیں ہوتا اس وقت تک ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا ۔ نام لئے بغیر اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ میں ان کو کبھی این آر او نہیں دوں گا ۔ اُدھرجمعیت علمائے اسلام(ف) کی مرکزی شوریٰ کا 6گھنٹے طویل اجلاس ہواجس میں آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت مکمل کی گئی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کشمیرہائی وے پرآزادی مارچ کے شرکاء کاقیام جاری رہیگا اور وزیر اعظم کو دی گئی ڈیڈلائن میں ایک دن کی توسیع کی جائے گی ۔ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے ناکامی کے ساتھ واپس جانے کا آپشن مسترد کردیا، اجلاس میں حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن کے بعد اگلی حکمت عملی پر حتمی مشاورت اور پلان بی پر بھی غور کیا گیا ۔ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے پلان بی پر غور کیا جس کے مطابق اسلام آباد لاک ڈاءون، ملک گیر پہیہ جام اور ملک گیر شٹر ڈاءون شامل ہے ۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں سے پسپائی نہیں بلکہ پیش رفت کریں گے اور پورے ملک کو اجتماع گاہ بنائیں گے، جوش نہیں ہوش مندی سے کام لینا ہوگا، کسی ٹریبونل، الیکشن کمیشن یا عدالت نہیں جائیں گے، مسئلہ ایک شخص کے استعفے کا نہیں قوم کے ووٹ کا ہے، عوام کو ووٹ کاحق دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ، جنگ جاری رہے گی، حکمرانوں کو جانا ہوگا، بیچارہ الیکشن کمیشن ہم سے زیادہ بے بس ہے،5سال میں تحریک انصاف فارن فنڈنگ کا فیصلہ نہیں ہوا ،دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا نہ رولز بن سکے، یہاں سے جائیں گے تو پیشرفت کیساتھ جائیں گے، ڈی چوک تنگ جگہ ہے، یہاں تو کھلی جگہ بھی کم پڑ گئی ہے ،آزادی مارچ کے شرکاء کا جوش بڑھتا جارہا ہے ،غیر قانونی اقدام نہیں کرینگے ۔ عوام مطمئن نہیں ہیں کہ پاکستان میں آئین کی حیثیت کیا ہے، لہٰذا تمام اداروں کو بیٹھ کر یہ طے کرنا ہوگا کہ آئین محترم اور سپریم ہے اسکی بنیاد پر اس ملک کا نظام چلے گا اور یہ عہد و پیمان کرنا پڑے گا تاکہ پاکستان کی عملداری اور اس کے تحت ہم اپنے وطن عزیز کے نظام کو چلا سکیں ۔

افغانستان کے ناظم

الامور کی دفتر خارجہ طلبی

پاکستان نے ہمیشہ خطے کے معاملات کو باہمی مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا ہے اور ساتھ ہی اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی پڑوسی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور پڑوسی ممالک کو بھی یہ چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہ ہونے دیں ۔ خصوصی طورپر افغانستان کی صورتحال پر پاکستان کا کردار انتہائی کلیدی رہا ہے ۔ حتیٰ کہ ٹرمپ تک نے اپنی افواج کو افغانستان سے نکالنے کیلئے پاکستان کی مدد طلب کی ہے ۔ نیز طالبان سے مذاکرات کے سلسلے میں بھی پاکستان اہم کردارادا کررہا ہے ایسی صورت میں افغانستان کی سرزمین پر پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کرنا انتہائی غیر سفارتکاری کا کردار ہے ۔ افغانستان کو چاہیے کہ وہ وہاں پر موجود عملے کو تحفظ فراہم کرے ۔ افغان حکام کی جانب سے پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کیا جارہا ہے، ہراساں کرنے کا سلسلہ گزشتہ روز سے شروع ہوا ہے، اس سلسلے میں افغان وزارت خارجہ اپنی خفیہ ایجنسی کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے ۔ افغان خفیہ ایجنسی کے اہلکار سفارتکاروں کی گاڑیاں روک کرغلط زبان استعمال کرتے ہیں ،تمام سفارتکاروں کو نقل وحرکت کے دوران روکا جاتا ہے اور ہراساں کرنے کا سلسلہ گھر سے لیکر سفارتخانے اور واپسی کے راستے میں کیا جارہا ہے ۔ پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے کابل میں اپنے عملے کی سیکیورٹی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی عملے کو حراساں کرنے اور راستوں میں رکاوٹیں ڈالنے کی تحقیقات کرائی جائیں اور اس معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ پاکستان سے بھی شیئر کی جائے ۔ پاکستانی عملے کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے ان کو تحفظ فراہم کرنا افغان حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

بھارتی چیرہ دستیاں

روکنا ازحد ضروری

بھارت کی چیرہ دستیاں کسی طرح رکنے میں نہیں آرہی پہلے اس نے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو تقسیم کرکے براہ راست دہلی کے زیر سایہ کردیا اب اس نے مقبوضہ و جموں کشمیر کو نقشے میں اپنا حصہ قرار دیتے ہوئے آزاد کشمیر کو متنازع قرار دیا ہے ۔ بھارتی اس انتہاپسندانہ اقدام کو پاکستان نے قطعی طورپر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بھارت کی بھونڈی کوشش سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے ، عیار بھارت کی ایک اور مکاری مقبوضہ جموں کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار

دے کر عیاں ہوگئی ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت ایسی حرکتوں سے دنیا کو کسی صورت بھی بیوقوف نہیں بنا سکتا جوحقیقت ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ ایسی کوششیں خطے کے امن و امان کو تہہ وبالا ہی کرسکتی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ وادی پر بھارت نے ظالمانہ اور غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے ۔ لاکھوں دہشت گرد فوج کے ذریعے کشمیریوں کی آزادی کوسلب کررکھا ہے ۔ جوکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے ۔ بین الاقوامی برادری بھارت کی حرکات کو اچھی طرح دیکھ رہی ہے اس کو چاہیے کہ مودی سرکار کو ان اقدامات سے روکے اس سے پہلے کہ پورا خطہ جنگ کی آگ میں جھونک دیا جائے اور اس کا نقصان پوری دنیا کو پہنچے گا کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں ان کے مابین جنگ کے بعد حالات انتہائی ہولناک ہوں گے اس کیلئے ضروری ہے کہ بھارت کے جو دہشت گردانہ اقدام ہیں ان کے آگے رکاوٹ کھڑی کی جائے ورنہ تمام تر حالات کی ذمہ داری بین الاقوامی برادری پر ہوگی ۔ پاکستان ہر ممکن اقدامات کررہا ہے کہ خطے کے حالات پرامن رہیں اور بھارت سے بھی تعلقات بہتر رہیں لیکن بھارت نے ہمیشہ یہاں سے فرار ہی حاصل کیا ۔ کرتارپور راہداری کے حوالے سے پاکستان نے جوکچھ کیا وہ بھی ایک امن کا قیام ہے ۔ راہداری پر پاک بھارت زیرو پوائنٹ پر پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا ہے ۔ سکھ برادری نے اس کا خیر مقدم کیا ہے بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ کھلے دل کا مظاہرہ کرے ۔ آئے دن ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ سے اجتناب کیا جائے ۔ اس کو بھی چاہیے کہ وہ بھی امن کی جانب قدم بڑھائے ۔

ناجائز حکمرانوں کو جانا ہوگا اس سے کم پر بات نہیں ہوگی،مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ناجائز حکمرانوں کو جانا ہوگا اس سے کم پر بات نہیں ہوگی جب کہ سیاسی جماعتوں نے جے یو آئی کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرادی ہے اور کہا ہے کہ جے یو آئی کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

دھرنے کے پانچویں روز شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جس استقامت اور عزم کے ساتھ شرکا دھرنا دیے بیٹھے ہیں میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں، ہم اپنے مقصد کے حصول کے قریب پہنچ گئے ہیں، آج آل پارٹیز کانفرنس ہوئی جس میں سب نے دھرنے کے شرکا کو خراج تحسین پیش کیا، سیاسی جماعتوں نے یقین دلایا ہے کہ ہم جے یو آئی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور قدم قدم کا ان ساتھ دیں گے، حزب اختلاف کے تمام قائدین نے متفقہ طور پر کہا ہے کہ اس دھرنے کے خاتمے کا فیصلہ بھی ہم سب مل کر کریں گے جس کے بعد اب یہ بات دم توڑ گئی ہے کہ کون سی جماعت آپ کے ساتھ ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ سال 2014ء کے دھرنے میں تمام جماعتیں ایک طرف تھیں اور عمران خان ایک طرف تھا جب کہ آج بھی تمام جماعتیں ایک طرف اور عمران خان ایک طرف تنہا ہے، وہ حکومت میں ہو یا حزب اختلاف میں تنہا ہی رہتا ہے جس سے ثابت ہوا کہ وہ یہاں کسی کا نمائندہ نہیں بیرونی نمائندہ ہے، معاملہ سلیکٹڈ سے آگے نکل گیا ہے عمران خان سلیکٹڈ نہیں رجیکٹڈ ہے۔

فضل الرحمان نے کہا کہ ہم پاکستان کو عالمی برادری کے سامنے پاکستان کو محترم، مضبوط اور تنہائی سے دور دیکھنا چاہتے ہیں، آج ہم تنہا ہیں اور ہم نے ہرطرف محاذ کھول رکھے ہیں اس لیے کہ حکومت اپنے پڑوسی ممالک کو اعتماد میں نہیں لے سکی، عمران خان کی سوچ تھی کہ مودی میرے لیے رحمت کا باعث بنے گا، اسے امید تھی کہ بھارتی الیکشن میں مودی جیتے گا تو مسئلہ کشمیر حل ہوگا، یہ اسی سودے بازی کا نتیجہ تھا کہ آج کشمیر کے ساتھ جو ہوا، کشمیری باشندوں کو پیغام دیتا ہوں کہ جے یو آئی آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔

مولانا نے کہا کہ آج کے نوجوان کی آواز اس بے روزگار نوجوان اور پریشان تاجر کی آواز ہے جو اپنے مستقبل سے مایوس ہوچکا ہے، ہم مسلسل زوال کی طرف جارہے ہیں، 70 سال میں جتنے قرضے لیے گئے وہ ایک طرف اور گزشتہ ایک سال میں جو قرضے لیے گئے وہ ایک طرف ہیں، ہم مکمل طور پر آئی ایم ایف کے شکنجے میں ہیں، عالمی ادارے ملک کو دیوالیہ قرار دینے کے قریب ہیں، جتنا وقت اس حکومت کو دیا گیا اتنا پاکستان کو زوال کی طرف گامزن کرنا ہوگا۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی نے شرط عائد کرکے مذاکرات کی بات کی جو کہ عجیب بات ہے، متاثرہ اور مدعی ہم ہیں شرط عائد کرنے کا حق ہمارا ہے ان کا نہیں، تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم ملکی نظام اور آئین کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں اور آئین کی عمل داری چاہتے ہیں، مذہبی جماعتوں نے شدت پسندی کو رد کیا ہے، آج اتنا بڑا مجمع اس بات کا ثبوت ہے کہ جے یو آئی چاروں صوبوں کے لوگوں کو جمع کرکے ایک قوم بنانا چاہتی ہے، شرکا نے جس پرامن اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے میں ان سے آئندہ بھی اسی کی توقع کرتا ہوں۔

جمعیت علما اسلام کے سربراہ نے کہا کہ ہم ان حکمرانوں کو جانا ہوگا اس سے کم پر بات نہیں ہوگی، ہم تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں جب کہ ہائی کورٹ نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا ہے، ناجائز حکمرانوں کے ہوتے ہوئے مثبت مذاکرات نہیں ہوسکتے کیوں کہ ہم پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے حق رکھتے ہیں کہ ہمارے اضطراب اور مسائل کو دور کیا جائے، ناجائز حکمران جتنا جلد جائے گا اضطراب دور ہوجائے گا، اپوزیشن متحدہ ہے فیصلہ اسے ہی کرنا ہے کہ یہاں کب تک بیٹھنا ہے یا جانا ہے۔

آل پارٹیز کانفرنس 

اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ اور دھرنے کا آج پانچواں روز ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر جے یو آئی کی آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں حکومت کے خلاف آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا اور اسمبلیوں سے استعفوں کے آپشن پر بھی مشاورت ہوئی۔

بلاول اور شہباز کی عدم شرکت

اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف کے بجائے ان کی سیاسی جماعتوں کے وفود شریک ہوئے۔ (ن) لیگ کے وفد کی قیادت ایاز صادق نے کی، پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، نیئر بخاری اور فرحت اللہ بابر، اے این پی کی طرف سے زاہد خان ، قومی وطن پارٹی کے آفتاب شیرپاؤ اور دیگر سیاسی رہنما اے پی سی میں شریک ہوئے۔

پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ

آل پارٹیز کانفرنس میں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی عدم شرکت پر مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا حکومت کے خلاف احتجاج صرف جے یو آئی کا فیصلہ تھا؟ آپ لوگ ناجائز حکومت سے نجات چاہتے ہیں یا ان کے اقتدار کو طول دینا چاہتے ہیں؟ اگر مشترکہ فیصلہ کرنا ہے تو ہماری جماعت اسمبلیوں سے استعفوں کے لیے بھی تیار ہے۔

استعفے میرے پاس پڑے ہیں

مولانا فضل الرحمان  نے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ عوام کی حکمرانی کے لیے ٹھوس اور جامع حکمت عملی بنائیں، موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ سب اپنے مفادات کو عوامی مشکلات پر ترجیح نہ دیں، سیاسی جماعتیں اسٹینڈ لیں، جے یو آئی ہراول دستہ ہوگی، عوامی بالادستی چاہتے ہیں تو فیصلے کا یہی وقت ہے، میری جماعت کے ارکان کے استعفے میرے پاس پڑے ہیں۔

اپوزیشن کا دھرنا اور احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ

اجلاس میں شریک جے یو آئی قیادت اور اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج اور دھرنا جاری رہے گا تاہم اپوزیشن جماعتوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کا آپشن اس صورت میں بھی کھلا رہے گا۔

قربانیوں کے ثمرات کسی مذموم مقصد کے لیے رائیگاں نہیں ہونے دیں گے، آرمی چیف

راولپنڈی: پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ قوم، قومی اداروں اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں کے ثمرات کو کسی بھی مذموم مقصد کے لیے رائیگاں نہیں ہونے دیں گے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس ہوئی، اجلاس میں ملکی و خطے کی سیکیورٹی صورت حال، داخلی سلامتی، مشرقی سرحد، جیو اسٹریٹجک حالات،  ایل او سی اور مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا، اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تمام خطرات کے خلاف ملک کا دفاع کریں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بہتر امن واستحکام کی صورتحال قوم، قومی اداروں اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں کی مرہونِ منت ہے اور ان قربانیوں کے ثمرات کو کسی بھی مذموم مقصد کے لیے رائیگاں نہیں ہونے دیں گے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اہم قومی معاملات پر تمام اسٹیک ہولڈرز کی مسلسل ہم آہنگی دشمن قوتوں کو شکست دینے کے لئے انتہائی ضروری ہے، پاک فوج  ملکی اداروں کی مدد کے لیے آئین اور قانون کے تحت تمام تفویض کردہ فرائض انجام دیتی رہے گی، افواج پاکستان مشرقی سرحد اور ایل او سی سمیت ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

کارکے رینٹل پاور پلانٹ کیس؛1 ارب 20 کروڑ ڈالر کا جرمانہ معاف ہوگیا، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کارکے رینٹل پاور پلانٹ تنازع حل ہو گیا ہے اور ہماری حکومت نے پاکستان پر ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا جرمانہ بچالیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے کارکے (کارکے رینٹل پاور پلانٹ کیس) تنازع حل کرلیا ہے یہ سب ترک صدر رجب طیب اردوان کی مدد سے ممکن ہوا،  تنازع حل ہونے سے پاکستان پر ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا جرمانہ معاف ہوا۔

ویراعظم نے حکومتی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کارکے تنازع حل کرنے میں حکومتی ٹیم کا بہترین کردار رہا جس کی بدولت انٹرنیشنل سینٹرفارسیٹلمنٹ اینڈ انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس کی جانب سے عائد کیا گیا ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر کا جرمانہ بچا لیا گیا۔

مریم نواز کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

لاہور: ہائی کورٹ نے چوہدری شوگر مل منی لانڈرنگ کیس میں مریم نواز کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے چوہدری شوگر مل منی لانڈرنگ کیس میں  فریقین کا موقف سننے کے بعد 31 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے آج سنایا گیا۔

عدالت نے درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے مریم نواز کو ایک ایک کروڑ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے مریم نواز کے خاتون ہونے کی استدعا پر ضمانت منظور کرنے سے اتفاق کیا۔

عدالت کی مریم نواز کو ڈپٹی رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کو پاسپورٹ جمع کرانے کی بھی ہدایت کردی، پاسپورٹ جمع نہ کرانے کی صورت میں 7 کروڑ روپے زرضمانت جمع کرانا ہو گا۔

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ یہ سچ ہے کہ معاشرے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹس پھیلی ہوئی ہے اور اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے، نیب کی جانب سے مریم نواز کے فرار ہونے خدشہ ظاہر کیا گیا، مریم نواز نہ تو کبھی مفرور ہوئی ہیں اور نہ انہوں نے قانون کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا کی ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت قانونی نکات کو مدنظر رکھتے اپنی آنکھیں نہیں موند سکتی، عدالت ثبوتوں کے معاملے میں ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتی، مریم نواز کے اکاؤنٹ سے نکلوائے گئے 7 کروڑ روپے کے الزام میں استغاثہ کے موقف کو تقویت نہیں ملتی، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 3 کے تحت ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی جرم ہو چکا ہے، یہ دفعہ یہ معاملہ مزید چھان بین کا متقاضی ہے، ٹرائل کورٹ 2 متوازی قوانین کے اطلاق کے بارے فیصلہ کرے گی۔
عدالت عالیہ کے جاری کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ کا مدعا نہیں تھا کہ یہ رقم غیر قانونی طور پر آئی، پراسکیوشن کی جانب سے نصیر عبداللہ لوتھا کا پیش کیا گیا بیان وزارت خارجہ سے تصدیق شدہ نہیں تھا، جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو قلمبند کروائے گئے نصیر عبداللہ لوتھا کے بیان کے دوران ملزم کا موقف نہیں جانا گیا،چوہدری شوگر ملز میں دیگر غیر ملکیوں کے بیانات تاحال ریکارڈ نہیں کئے گئے۔

عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالت کے احاطے میں موجود (ن) لیگی کارکنوں کی جانب سے بھرپور خوشی کا اظہار کیا گیا۔

واضح رہے کہ 8 اگست کو مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کے بعد واپس جارہی تھیں۔ مریم نواز نے 24 اکتوبر کو اپنے والد نواز شریف کی تیمارداری کے لیے ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔

میڈیکل بورڈ کا نوازشریف کو بیرون ملک بھیجنے کا مشورہ

لاہور: اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف کے جینیٹک ٹیسٹنگ ضروری ہیں لیکن یہ سہولت پاکستان میں میسر نہیں۔

اسپتال ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیماری کی تشخیص کے لئے جینیٹک ٹیسٹنگ کی ضروت پڑے گی اور اسی ٹیسٹ سے ہی نوازشریف کے پلیٹ لیٹس میں ہونے والی کمی کے پیچھے وجوہات کا پتہ لگایا جا سکتا ہے، تاہم پاکستان میں جینیٹک ٹیسٹنگ کی سہولت میسر ہی نہیں۔

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی بیماری کی تشخیص 14 روز گزرنے کے باوجود بھی نہیں ہو سکی ہے، انہیں دل، گردے اور بلڈ پریشر کا مرض بھی لاحق ہے اور ان کی یہی کی مختلف بیماریاں بھی پپچدگیوں کا باعث ہیں۔ اسپتال ذرائع نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم کا پلیٹ لیٹس کاونٹ فی الحال چالیس ہزار ہے اور اس پلیٹ لیٹس کاؤنٹ کے ساتھ نوازشریف بیرون ملک سفر کر سکتے ہیں۔

میڈیکل بورڈ کی جانب سے گزشتہ روز بھی نواز شریف کا تفصیلی معائنہ کیا گیا تھا اوران کا نہار منہ اور کھانے کے بعد شوگر لیول بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے کنٹرول کرنے کیلئے طبی سہولت فراہم کی جارہی تھی، جب کہ  نوازشریف کو پلیٹ لیٹس 50 ہزار سے تجاوز نہ کرنے کے باعث خون کے کلاٹ ختم کرنے والی دوائی کلوپیڈوگرل کو بھی روک دیا گیا ہے

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف ادویات کے استعمال کی وجہ سے نوازشریف کے  پلیٹ لیٹس کم اور زیادہ ہو رہے ہیں کیونکہ ایک ہی وقت میں ایک سے زائد بیماریوں کی ادویہ احتیاط کے ساتھ دی جارہی ہیں۔

ریاست کو کسی صورت کمزور نہیں پڑنے دیں گے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ریاست کو کسی صورت کمزور نہیں پڑنے دیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر بابر اعوان نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی جس میں ملک کی سیاسی صورت حالسمیت آئینی اور قانون امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران نے کہا کہ ریاست پہلے اور سیاست بعد میں آتی ہے، ریاست کو کسی صورت کمزور نہیں پڑنے دیں گے، قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، سب پر یکساں قانون کا اطلاق ہوگا، پاکستان کا استحکام اداروں سے وابستہ ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معیشت کے استحکام کے لیے کی جانے والی کوششیں رنگ لا رہی ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 32 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے، تجارتی خسارے میں کمی اور برآمدات میں اضافہ خوش آئند ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر سے آنے والے سکھ زائرین کو خوش آمدید کہنے کو تیار ہیں،  کرتار پور راہداری بین المذاہب ہم آہنگی کی بہترین مثال ہوگا۔

اس موقع پر بابر اعوان نے کہا کہ مولانا کے دھرنے کی اصل وجہ معیشت میں بہتری ہے، دھرنا اعلی عدلیہ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہے، انہیں دھرنے کے لئے نہیں صرف مارچ کے لئے مشروط اجازت تھی۔

Google Analytics Alternative