Home » 2019 » November » 05 (page 3)

Daily Archives: November 5, 2019

حالات حاضرہ پر ایک نظر

عمران خان کی حکومت قائم ہوئے ابھی ڈیڑھ سال بھی نہیں ہوا کہ سیاسی مخالفین نے اسے جھٹکے دینے شروع کردئیے ہیں ۔ اس عمل کی بڑی وجہ مہنگائی اور وزراء کا اپنے منصب کی مطابقت میں نہ تو کام کرنا یعنی ڈیلیور کرنا اور نہ ہی ذمے دارانہ رویہ ہے ۔ معاشی پالیسیوں کی بات تو الگ رہی ہر گھر میں اخراجات بے قابو ہونے کی باتیں ہیں ۔ آمدنی محدود لگی بندھی تنخواہ دار فکسڈ رقم وصول کرتا ہے اورہر ماہ اخراجات آمدنی سے زیادہ ہوجانے پر کفِ افسوس ملتا رہتا ہے ۔ پٹرول کی قیمت بڑھ جانے سے اشیائے خوردونوش کی ہر چیز متاثر ہوتی ہے ۔ آپ خود ہی غورفرمائیں چند ماہ کے عرصے میں پٹرولیم کی قیمتوں میں کس قدر تیزی دیکھنے کو ملی ۔ آمدنی اگر ہر ماہ پچاس ہزار روپے ہے تو اخراجات ستر ہزار سے بھی تجاوز کرچکے ہوتے ہیں لگژری نہیں سادہ زندگی اور خواہشات اور حسرتوں پر آنسو بہاکر سو جانا مجبوری بن چکی ہے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر گھر غربت کی لکیر کے قریب قریب آتے محسوس ہورہا ہے ۔ اس بات میں کوئی شک، شبہ نہیں کہ پچھلی حکومتوں نے ملک کو ماما جی کا باڑہ سمجھا اور بے دریغ ملکی دولت کو نت نئے حربوں سے غیر ممالک منتقل کیا ملک غریب ہوتا گیا اور مٹھی بھر افراد طاقت اقتدار کے سہارے امیر سے امیر ترین بنتے چلے گئے ۔ اس کیفیت کو کسی نے شعر میں کیا خوب صورتی سے بیان کیا ہے ’’ بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی + کسے وکیل کریں کس سے منفی چاہیں ۔ عوام بے بس لُٹ پھُٹ کر بھی ان بین الاقوامی لٹیروں کاکچھ نہیں بگاڑ سکی ۔ ایک حکومت ختم ہوئی تودوسری عنان حکومت سنبھال کر پھر ڈکیتی میں مشغول ہو جاتی عوام کو سبز باغ دکھا کر نیم بیہوشی ایسی طاری کردیتے کہ جب تک وہ ہوش میں آتے انکا سب کچھ لٹ چکا ہوتا سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا ہوا کے مصداق عوام ملک کی معاشی حالت قرضے اور ناکام منصوبوں کے اخراجات برداشت کرتے کرتے مجذوبی کی کیفیت میں داخل ہوگئی ہے ایک مقام پر حیرت کے اندر گم سم منجمد اور جامد ۔ حیران پریشان اس لئے بھی کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ بھی مقروض بوڑھا جوان بچہ اور ہر پاگل بھی مقروض یہ کیسا ملک بن گیا کہ جہاں معیشت ڈوبتی رہتی ہے اور اقتدار میں لوگ پھلتے پھولتے رہتے ہیں خلاءوں سے ایک آواز ابھری سراپا سامنے آیا تو لوگوں کی خوشی کی حد نہ رہی انہوں نے شکر کیا کہ ایسا شخص سیاسی اُفق پر ابھرا ہے جسکا دامن کرپشن کے کیچڑ سے داغدار نہیں ۔ وہ ملک سے باہر رہ کر دولت اکٹھی کرتا ہے اور اسے پاکستان میں لاکر سماجی کاموں میں صرف کررہا ہے صحت اور تعلیم اسکی ترجیحات ہیں ۔ لیکن تعجب اس بات پر ہوا کہ وہی تجربہ کار بنجار ے جن کی سرشت میں وفا نہیں انہوں نے اپنی ان سیاسی پارٹیوں کو چھوڑکر قسمت آزمانے کیلئے پی ٹی آئی کو جوائن کرلیا ۔ معمول کے مطابق قسمت نے یاوری دکھائی اور وہ پروانوں کی طرح عمران خان کے گرد جمع ہوگئے ۔ سب اچھا ہے کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا سماعتوں میں داد و تحسین کی آوازیں سنائی دینے لگیں پی ٹی آئی کی اکثریت مقصد سے کھسکنے لگی نتیجہ یہ نکلا کہ عام آدمی جسے آئی ایم ایف ورلڈ بینک کی کسی پالیسی کی سمجھ نہیں اس نے ڈیڑھ سال کے عرصے میں مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آکر زبان کھولنا شروع کردی سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈر ایسے مواقع اورحالات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اورجلتی پر تیل کاکام ان کا کھیل بن جاتا ہے ۔ یہی کچھ تقریباً اب ہوا اگرچہ مولانا فضل الرحمن اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے لیکن انہوں نے گاڑی میں ڈینٹ ضرورڈال دیا ہے ۔ ٹیلی ویژن پر حکومتی اراکین چاہے کچھ بھی کہتے رہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مولانا صاحب اچھی خاصی تعداد میں لوگوں کو سڑوں پر لے آئے ہیں اور اسلام آباد آمد پر بھی واضح تعداد ان کے ساتھ ہے ۔ اللہ نہ کرے کہ حادثات ہوں جمہوریت کی بساط لپیٹ جائے موجودہ حالات قطعی طورپر اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ فوج اندرونی اور بیرونی محاذوں کیلئے توجہ تقسیم کرے ۔ بھارتی ابلیسیت ہر روز دیکھنے کو مل رہی ہے مقبوضہ وادی کو دو حصوں میں تقسیم کردینا اور اسکی آئینی حیثیت کو بدلنے کی مذموم کوشش مودی کے فلسفے کی جھلکیاں ہیں یو این او کی قراردادوں اور دنیا کے کشمیر پر خیالات کو اس نے یکدم فراموش کردیا وہ اپنی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں ہے ۔ کرفیو مقبوضہ کشمیر میں اب تک ختم نہیں ہوا ۔ زندگی کی گاڑی وہاں برباد ہوچکی ہے ۔ ہر گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے ۔ کھانے پینے اور طبی سہولتیں ختم ہیں ۔ سکول کالج اور یونیورسٹیاں بند ہیں ، مساجد میں جانے کی اجازت نہیں ان حالات میں کشمیری بہن بھائیوں کے کس طرح دن گزرتے ہوں گے ۔ ایک لمحہ کیلئے آپ سب کچھ اپنے آپ پر طاری کرکے دیکھیں پھر سمجھ آجائے گی کہ نہتے کشمیری حق خودارادیت کیلئے کس طرح بھیک مانگ رہے ہیں لیکن ہندوستان ڈیٹھ بے حس ظالم جابر ڈریکولین حربوں سے کشمیریوں پر ظلم، ستم جاری رکھے ہوئے ہے ایسے وقت میں جب کہ حکومت پاکستان اندرونی اوربیرونی طورپر کشمیر کاز کیلئے بھرپور انداز میں کام کرنے کے نہ صرف مزید منصوبے بنارہی ہے بلکہ عملی طورپر مصروف بھی ہے تو حکومت گراءوجیسے نعرے اور جلسے جلوس بے وقت کی راگنی معلوم ہوتے ہیں ۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اور خصوصاً ان کے سربراہان کو اس حقیقت کا علم ہوناچاہیے کہ دھرنوں جلسے جلوسوں سے جہاں عام آدمی کی زندگی متاثر ہوتی ہے وہاں ڈیلی ویجز دہاڑی دار کے دن مزید تنگدستی کی جانب رخ اختیار کرلیتے ہیں ۔ قومی اسمبلی کا پلیٹ فارم کیوں استعمال نہیں ہوتا حکومت اورا پوزیشن کے اراکین وہاں موجودہوتے ہیں ان کو عوامی مسائل پر بات چیت کے بعد لاءحہ عمل بنانا چاہیے ۔ حکومت کو اسمبلی میں مجبور کیا جاسکتا ہے کہ ان تمام پالیسیوں پر نظرثانی کرے جو عوامی سہولتوں کے برعکس ہوں یا انکی معاشی حالت مزید پریشان کرنے والی ہوں سیاسی جماعتیں اسمبلی میں بات چیت کرنے کی بجائے سڑکوں کارخ کیوں کرلیتے ہیں ۔ ان کے غیر حقیقت پسندانہ اقدامات سے قومی دولت بے مصرف خرچ ہوتی ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کو مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ اور دھرنے پر اٹھنے والے ا خراجات کی تفصیل بتائے یہ ناگہانی اخراجات کہاں سے پورے ہوں گے ۔ قومی خزانے کی حالت تو پہلے ہی بہت کمزور ہے ۔ اب اگرخدانخواستہ وقت سے پہلے انتخابات ہوتے ہیں تو اس کے انتظامات پر کتنا خرچ ہوگا کچھ اندازہ ہے ۔ پیسہ کہاں سے آئے گا ۔ سرحدوں پر فوج چوکس ہے دشمن کو منہ توڑ جواب دے رہی ہے ان پر روزانہ اٹھنے والے اخراجات کا اندازہ بھی ہے گولہ بارودکے بغیرتو جنگ نہیں لڑی جاتی فضائی حدود کی حفاظت کرنے کےلئے کس قدر پیسے چاہیں کچھ معلوم ہے یہ سب اخراجات کے باوجود ملک کی معاشی حالت کمزور ہے پورے کررہا ہے یہ عوام کاپیسہ ہے حکومت اور کہاں سے لائے گی عوام سے لیکر عوام ہی پر خرچ کرے گی لیکن ہم ٹیکس دیتے ہیں اورنہ ہی اصل آمدنی کو ظاہر کرتے ہیں مشیرانکم ٹیکس کس لئے ہیں وہ مالی آنکھ مچولی کھیلنے کے ماہر ہوتے ہیں ان کی خدمات بڑے بڑے سرمایہ دار حاصل کرکے دولت پر ٹیکس دینابچاتے ہیں حکومت اپنے فراءض اورذمے داریاں اسی وقت پورا کرسکتی ہے جب عوام بھی اپنی ذمے داریاں پوری کریں ۔ ہمارے حالات ہی ایسے رہے ہیں کہ ہم سوالی بن کر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دروازوں پردستک دیتے ہیں کہ ہمارے کاسہ گدائی میں حسب توفیق امداد ڈالیں اور وہ امداد تو دیتے ہیں لیکن اپنی شرائط پر ، لہٰذا سوالی اورسخی کا کیامقابلہ اور کیا جوڑ ۔ ان کی شرائط ماننا ہی پڑتی ہیں ۔ قرض بھی اتارنا ہوتا ہے اور معیشت کی بحالی میں مزیدمستعدبھی ہونا ہے ۔ دھرنوں جلسے جلوسوں کی اس وقت گنجائش نہیں سیاستدانوں کو ملک کومزیدمقروض نہ کریں مصائب میں اضافہ نہ کریں بلکہ تعاون سے مشکلات کوکم سے کم کرنے کی کوشش کریں ۔ حکومت وقت کو سختی کرنے کی بجائے افہام وتفہیم کاراستہ اپنائے رکھناچاہیے ۔ سیاسی افق پر جوگھٹائیں اس وقت چھائی ہوئی ہیں ان کے چھٹنے کابندوبست ہوجائے ، کسی قسم کا کوئی نقصان نہ ہو ۔ حکومت اپنی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے وزیراعظم کو اپنی کابینہ کے اراکین کو بھی شفل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مقابلہ کرنے کی خواہش معاون سے محروم کردیتی ہے ۔ معاونین میں اضافے کی ضرورت ہے ایک شوپربات اشارتاً جو سمجھ آئی ہے جوحسب حال ہے ’’ستم جور ہے یعنی غضب ہے، میرے قاتل کارب میرابھی رب ہے‘‘ موجودہ حالات میں زبان وبیان کی قوت سے مزیدنازک مرحلے پرپہنچ بھی سکتے ہیں اوربہتری کی طرف بھی جاسکتے ہیں ۔ وزیراعظم کی گلگت میں کی گئی تقریرکوسنجیدہ حلقوں میں پسندنہیں کیاگیا ۔ پنجاب کے وزیراطلاعات نے بھی غیرمحتاط بیان دیا جس سے مزیدکشیدگی نے فضا بنائی ۔ کنٹینر والی سیاست اور بیانات اب بہت پیچھے رہ گئے ۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو حالات کی نزاکت سمجھنا چاہیے مولانافضل الرحمان نے جس انداز سے اپنی قوت کی جھلکیاں دکھائی ہیں اورنپے تلے بیانات دیئے ہیں اس سے اس کی سیاسی بصیرت اوربرداشت واضح ہیں ۔ وہ اس وقت اس پوزیشن میں ہے کہ لاقانونیت پھیلا دے یانظم ،ضبط سے جو اس وقت قائم ہے مقاصد حاصل کرلے حکومت کوچاہیے کہ سیاسی جماعتوں سے رابطے اورمشاورت کو یقینی بنائے اورگفت وشنید کے ذریعے پرامن طریقے سے سیاسی کشیدگی پرقابو پائے ۔ حقیقتاً موجودہ حکومت کی واضح اکثریت نہیں چندووٹوں سے وہ برسراقتدار ہے ابھی تک ان سے واضح قانون سازی نہیں ہوسکی آرڈیننسزکے ذریعے کام چل رہا ہے انہیں چاہیے ورکنگ ریلیشنز قائم کرتے ہوئے اپوزیشن کو ساتھ لیکرچلیں تاکہ ملک میں سیاسی انتشارموجودنہ ہونے پائے ابھی تو تقریباً ڈیڑھ سال گزرا ہے ساڑھے تین سال باقی ہیں بڑی منزلوں کے مسافرچھوٹادل نہیں رکھتے اپنی ٹیم کے ممبرزکوشائستگی رواداری اخلاقیات کواپنانے کی تلقین کریں اپنے لب ولہجے میں وقارشائستگی اورمتانت کومدنظررکھے غرور اورتکبراللہ کریم کوناپسندہے مغرور وہ ہوتا ہے جو لاعلم ہو ۔ حقیقت نہ جانتا ہو حکومت کے پاس تو بے شمارذراءع ہیں لمحہ لمحہ باختر ہوتے ہیں لہٰذا وقت کی نبض پرہاتھ رکھنا اس وقت بہت ضروری ہے تاکہ مولانافضل الرحمان بھی عزت سے رخصت ہوجائیں اور حالات بھی بے قابونہ ہوں ۔ معاملات کوحل کرنے میں اخلاص کے ساتھ باہمی احترام بھی ضروری ہے اعتبار اور اعتمادکی فضاء قائم کرکے الجھے ہوئے معاملات سلجھائے جاسکتے ہیں ۔

کشمیر کی صورتحال کے پیش نظر مولانا احتجاج ختم کر دیں

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمنٰ نے ’’آزادی مارچ‘‘ کو غیر اعلانیہ طور میں ’’دھرنا‘‘ میں تبدیل کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کی تین دن کی مہلت دینے کا اعلان کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کا سمندر اتنی طاقت رکھتا ہے کہ وزیر اعظم کو وزیر اعظم کے گھر سے گرفتار کرکے لے آئے ۔ ہم اداروں کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے ۔ اپنے اداروں کا استحکام، انہیں طاقتور اور غیرجانبدار دیکھنا چاہتے ہیں ۔ مولانا نے اداروں کی جو بات کی ہے وہ بڑی خطرناک ہے ۔ اسی بات پر ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ سڑکوں پرآکر الزام تراشی سے مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ جمہوری مسائل جمہوری طریقے پرہی حل ہونے چاہئیں ۔ مولانا فضل الرحمان سینئر سیاستدان ہیں تو ان سے یہ پوچھا جائے کہ وہ کس کی بات کررہے ہیں ۔ ان کا اشارہ الیکشن کمیشن،عدالتوں یا فوج کی طرف ہے;238; اگر انہوں نے فوج کی بات کی ہے تو اپوزیشن کے سمجھنے کی بات ہے کہ فوج غیرجانبدار ادارہ ہے ۔ ہم آئین اور قانون کی عمل داری پر یقین رکھتے ہیں ۔ فوج کی سپورٹ ایک جمہوری منتخب حکومت کے ساتھ ہوتی ہے ۔ کسی ایک جماعت کیلئے نہیں ۔ اگر الیکشن کی شفافیت سے متعلق شکایت ہے تو تحفظات متعلقہ ادارے کے پاس لے کر جائیں ۔ فوج نے الیکشن میں آئینی اور قانونی ذمہ داری پوری کی ۔ ہ میں جمہوری روایات اور طریقوں کے مطابق چلنا چاہیے ۔ پاکستان نے گزشتہ20سال بہت مشکل وقت گزارا ہے ۔ بہادر قبائل اور عوام نے گزشتہ دو دہائیاں مشکل میں گزاریں ۔ کے پی کے عوام کو اب فلاح و بہبود کی ضرورت ہے کہ انہوں نے بھی دہشت گردی کا بڑی ہمت سے مقابلہ کیا ۔ اس وقت جب کشمیر کا مسئلہ اپنے عروج پر ہے ۔ کشمیری دو ماہ سے زائد عرصہ سے پابند سلاسل ہیں تو پاکستان ہی ان کی واحد امید ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے بڑی بہادری اور جوانمردی سے دنیا کے سامنے کشمیر کا مسئلہ پیش کیا اور مودی کی اصل بھیانک صورت بھی دنیاکو دکھا دی ۔ اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل سے لے کر مختلف ممالک کے پارلیمنٹ اور عوام تک کشمیریوں کا مقدمہ نہ صرف بہتر انداز میں پہنچایا بلکہ ان کی ہمدردیاں بھی حاصل کیں ۔ دوسری طرف دنیا بھر میں بھارت اور مودی سرکار کی رسوائی بھی ہوئی ۔ ان حالات میں اپوزیشن کا مارچ نہ صرف پاکستان بلکہ کشمیریوں کی پوزیشن کو بھی کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔ مولانافضل الرحمن کو آزادی مارچ سے کچھ نہیں ملے گا لیکن وہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے میں ضرورکامیاب ہوئے ہیں ۔ پاکستان میں موجود مودی لابی ملک کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی سازش کر رہی ہے ۔ مولانا کے آزادی مارچ کا مقصد کرپٹ مافیا اور منی لانڈررز کو تحفظ فراہم کرنا ہے ۔ پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ فضل الرحمن ملک کو بلیک لسٹ کرنے کیلئے کوشاں ہیں ۔ آزادی مارچ کرنے والے قوم میں تفریق پیدا کرکے ترقی کے سفر کو روکنا چاہتے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے مولانا فضل الرحمن اوراپوزیشن کے آزادی مارچ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت اور بھارتی میڈیا فضل الرحمن کے مارچ سے خوش ہے ۔ بھارتی میڈیا فضل الرحمن کو ایسے دکھا رہا ہے جیسے ان کا شہری ہو ۔ جے یو آئی کہتی ہے کہ اسلام آباد یہودیوں سے قبضہ لینے آئے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ کس سے آزادی لینے آئے ہیں ۔ فضل الرحمن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو سازش کی کیا ضرورت ہے ۔ ایسے اسلام آباد آئے ہیں جیسے ہندوستان آزاد کرانے آئے ہیں ۔ مذہب کو ووٹ کے لیے استعمال کرنے سے ملک کو نقصان ہوتا ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت پاکستان کے موجودہ حالات سے بہت خوش ہے ۔ ابھی تک ہماری کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت مودی سرکار دنیا بھر میں ذلیل ہو رہی تھی مگر اب ہمارے ہی کچھ لوگ اپنی ہی حکومت کے خلاف مارچ نکال رہے ہیں ۔ یہ پاکستان کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کو بھی کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔ کشمیر پر اپنی گرفت مضبوط کر کے بھارت سب سے پہلے گلگت بلتستان پر حملہ کرنے کا ارادہ بنائے بیٹھا ہے ۔ اس وقت ہ میں مشرقی سرحد پر بے حد توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح افغانستان میں بیٹھا بھارت مغربی سرحد سے بھی کوئی شرارت کر سکتا ہے ۔ لہٰذا ہ میں حالات کو دیکھتے ہوئے بھارت کو کسی بھی شرارت کا موقع نہیں دینا چاہیے ۔ ابھی دو روز قبل ہی وزارت داخلہ نے ایک سازش کا سراغ لگایا ہے جس میں بھارتی دہشت گردوں کی جانب سے مولانافضل الرحمان پر دہشت گردحملے کی منصوبہ بندی کا انکشاف ہوا ہے ۔ دہشت گرد حملے کے لیے بارود سے بھری گاڑی استعمال کرسکتے ہیں ۔ سلامتی کی ذمہ دار ایجنسیوں کے مطابق بھارت، افغانستان کی خفیہ ایجنسیاں را اور این ڈی ایس اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کےلئے مولانا کو نشانہ بناسکتی ہیں ۔ اس مقصد کےلئے انہوں نے باقاعدہ دہشت گرد تیار کیے ہیں ۔ اسی لئے وزارت داخلہ نے 25 اکتوبر کو الرٹ جاری کیا تھا کہ دہشت گردتنظی میں آزادی مارچ کو نشانہ بناسکتی ہیں ۔ دشمن ایجنسیوں نے مولانا فضل الرحمان اور دیگر قائدین کو نشانہ بنانے کے لیے ایک لاکھ ڈالر دہشت گردوں میں تقسیم کیے ۔ امید ہے کہ سلام آباد کی انتظامیہ کے طے شدہ معاہدہ کے تحت آزادی مارچ اور جلسے کے شرکاء مکمل پرامن رہیں گے ۔ نجی اور سرکاری املاک کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچائیں گے ۔ قانون ہاتھ میں نہیں لیں گے اور کسی قسم کا خلفشار پیدا کرنے سے گریز کرینگے ۔ مولانا سے اپیل ہے کہ وہ ایسے وقت میں جب پاکستان اور کشمیر ایک مشکل حالات سے گزر رہے ہیں ، اپنے دھرنے، جلسے کو ختم کر دیں ۔ ایسا نہ ہو کہ دشمنوں کو ہم پر وار کرنے کا موقع مل جائے ۔

ٹک ٹاک میں اب دیگر ایپس سے براہ راست ویڈیوز پوسٹ کرنا ممکن

ٹک ٹاک دنیا بھر میں بہت تیزی سے مقبول ہونے والی ایپ ہے جس کی وجہ اس میں ویڈیوز کو بنانا، شیئر اور محفوظ کرنا بہت آسان ہے۔

دیگر کمپنیوں کے برعکس ٹک ٹاک میں صارفین کو مقبول ویڈیوز کو ڈاﺅن لوڈ کرنے کی سہولت دی جاتی ہے اور انہیں دیگر میسجنگ سروسز اور سوشل میڈیا پر آسانی سے شیئر کیا جاسکتا ہے۔

اس عمل کو مزید آسان بنانے اور ویڈیوز کو زیادہ بہتر بنانے کے لیے اب کمپنی نے کریٹیرز کے لیے نئے ٹولز متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جن کی بدولت ان کی پسندیدہ ایڈیٹنگ ایپس پر تیار ویڈیوز ٹک ٹاک اپ لوڈ کرنا ممکن ہوجائے گا۔

ٹک ٹاک ایکسپورٹ فیچر کمپنی کے نئے سافٹ وئیر ڈویلپمنٹ کٹ کا حصہ ہے اور میں 7 کانٹینٹ کریشین ایپس صارفین کے لیے موجود ہوں گی۔

ان میں اڈوب کو پریمیئر رش کے ذریعے شامل کیا گیا، انیمیشن ایپ پلاٹ ورس، اے آئی ایپ، فیوس ڈاٹ اٹ اور پروفیشنل ویڈیو ایپ فل مک پرو شامل ہیں۔

اس کے علاوہ گیمنگ کیپچر ایپ میڈل، میمینٹوز جی آئی ایف میکنگ ٹولز اور امیج ایڈیٹر پکس آرٹ بھی شامل ہیں۔

کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹک ٹاک کی نئی سافٹ وئیر ڈویلپمنٹ کٹ میں تھرڈ پارٹی ایپس کی موجودگی سے صارفین اپنی ویڈیوز کے لیے بہتر ٹولز استعمال کرسکیں گے، ہم یہ دیکھنے کے لیے پرجوش ہیں کہ کریٹیرز کس طرح ان نئے فیچرز کو استعمال کرتے ہیں۔

اس ایپ کے صارفین کی تعداد 80 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور اس کی مقبولیت نے پوری دنیا کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔

موٹاپے اور توند سے نجات میں مدد دینے والی عادت

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ بیشتر دبلے پتلے افراد اپنا کھانا مکمل کرنے میں کتنا وقت لیتے ہیں؟

درحقیقت ایسے افراد عام طور پر دسترخوان سے سب سے آخر میں اٹھنے والے ہوتے ہیں اور اس کی وجہ کھانے کو آہستگی سے اور اچھی طرح چبا کر کھانا ہے۔

آج کل بیشتر افراد بہت تیزی سے کھاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں بہت زیادہ کیلوریز اس بات کا احساس ہونے سے پہلے جزوبدن بنالیتے ہیں کہ انہوں نے زیادہ کھالیا ہے۔

درحقیقت کھانے کے آغاز کے بعد 20 منٹ بعد ماغ کو پیٹ بھرنے کے سگنل ملتے ہیں اور آہستگی سے کھانے کے نتیجے میں دماغ کو پیٹ بھرنے کا سگنل ملتا ہے تو کم کیلوریز ہی جسم کا حصہ بنتی ہیں۔

نارتھ امریکن ایسوسی ایشن فار دی اسٹڈی آف اوبیسٹی کے اجلاس میں پیش ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ موٹاپے کے شکار افراد اگر کھانے کی رفتار سست کرلیں تو کم کیلوریز جسم کا حصہ بنتی ہیں۔

اسی طرح جاپان میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ آپ کے کھانے کی رفتار جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنے یا بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران ایک ہزار سے زائد بالغ افراد کی غذائی عادات کا جائزہ 5 سال تک لیا گیا، جن کو ان کے کھانے کی رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے 3 گروپس میں تقسیم کیا گیا۔

ان افراد میں کوئی بھی کولیسٹرول، بلڈ پریشر یا بلڈ شوگر سمیت موٹاپے کا شکار نہیں تھا۔

5 سال تک جائزہ لینے کے بعد نتائج سے معلوم ہوا کہ ان میں سے 84 افراد میٹابولک سینڈروم (بلڈ پریشر، بلڈ شوگر اور بلڈ کولیسٹرول وغیرہ کا مجموعہ) کا شکار ہوگئے اور محققین کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ ان کا بہت تیزی سے کھانا تھا۔

محققین نے بتایا کہ غذا کو بہت تیزی سے نگلنے والے افراد میں میٹابولک سینڈروم کا امکان نارمل اور سست روی سے کھانے والوں کے مقابلے میں 89 فیصد زیادہ ہوتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں آہستگی سے کھانے والے محض 2.3 فیصد افراد میں مختلف امراض کی تشخیص ہوئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ بہت تیزی سے کھانا نہ صرف میٹابولک سینڈروم کا خطرہ بڑھاتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں توند نکلنے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔

درحقیقت بہتی تیزی سے غذا نکلنے کے نتیجے میں جسم کو یہ سگنل دینے کا موقع ہی نہیں ملتا کہ پیٹ پھر چکا ہے اور اب رک جانا چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ بہت زیادہ کھالیتے ہیں۔

ایسے افراد میں بلڈ گلوکوز بہت تیزی سے اوپر کی جانب جاتا ہے جس سے انسولین کی مزاحمت کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

آہستگی سے کھانا نہ صرف کم کھانے میں مدد دیتا ہے بلکہ کھانے کا ذائقہ بھی بڑھا دیتا ہے اور بہتر ہے کہ ٹی وی اور دیگر دھیان بٹانے والی چیزوں کو بند کرکے صرف کھانے پر توجہ دیں۔

مگر یہ بھی درست ہے کہ آہستگی سے کھانا اور چھوٹے نوالے چبانا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر جب آپ بہت مصروف ہوں، مگر آپ رفتار کو سست کرنے کا طریقہ ڈھونڈ سکتے ہیں خاص طور پر جب آپ معمول کے وقت کھارہے ہوں۔

مصروفیات کے دوران کھانے کے لیے وقفے کا شیڈول بنائیں، 15 منٹ سکون، ری چارج اور ری فیول کے لیے نکالیں، یہ چھوٹے وقفے تناﺅ سے نجات میں بھی مدد دیں گے۔

اگر پھر بھی کھانے کی رفتار پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوئے، تو دیگر طریقے آزمائیں، جیسے میز سے کچھ دور بیٹھیں، کھانے کی کچھ مقدار چولپے پر چھوڑ دیں اور پانی کا ایک بڑا گلاس پی لیں۔

رابی پیر زادہ نے شوبز سے کنارہ کشی کا اعلان کردیا

کراچی: گلوکارہ رابی پیرزادہ نے اپنی نازیبا اورغیراخلاقی ویڈیوز لیک ہونے کے بعد شوبز سے کنارہ کشی اختیارکرلی۔

گلوکارہ رابی پیرزادہ دوسروں پرتنقید کرنے کے باعث خبروں کی زینت بنتی رہتی ہیں لیکن گزشتہ ہفتے گلوکارہ کی نازیبا اور غیر اخلاقی ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں  جس کے بعد وہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بھی بن گئی تھیں۔

رابی پیرزادہ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ان کے موقف کا مداحوں کی جانب سے انتظار کیا جارہا تھا ۔ گلوکارہ نے ٹوئٹر کے ذریعے کہا تھا کہ جوبندہ دنیا میں کسی بندے کی پردہ پوشی کرے گا اللہ عزوجل قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔

اب گلوکارہ نے ٹوئٹرپرہی شوبزسے کنارہ کشی اختیارکرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ “میں رابی پیرذادہ شوبزسے کنارہ کشی اختیارکرتی ہوں ۔ اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کومعاف کرے اورمیرے حق میں لوگوں کا دل نرم کرے.”

رابی پیرزادہ نے اپنی ٹوئٹ کے آخرمیں قرانی آیت بھی لکھی کہ عزت اور ذلت دینے والا صرف اللہ ہی ہے۔

 

تجارتی خسارے میں 4 ماہ کے دوران 33 فیصد کمی

کراچی: حکومتی اقدامات کے باعث رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران ملک کے تجارتی خسارے میں 33.5 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مال پہلے 4 ماہ (جولائی تا اکتوبر 2019) کے دوران ملک کی برآمدات گزشتہ مالی سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں 3.6 فیصد اضافے کے ساتھ 7.53 ارب ڈالر رہی جب کہ اسی دوران درآمدات کی مالیت 19.3 فیصد کمی سے 15.30 ارب ڈالر رہی۔

جولائی تا اکتوبر 2019 کے دوران گزشتہ مالی سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں تجارتی خسارے میں 3.9 ارب ڈالر کی کمی ہوئی، تجارتی خسارے میں 33 فیصد کمی دیکھی گئی۔

مہوش حیات کی آوازمیں ’آج جانے کی ضد نہ کرو‘ کے مداح دیوانے ہوگئے

لاہور: اداکارہ وگلوکارہ مہوش حیات کی آواز میں مشہورغزل ’آج جانے کی ضد نہ کرو‘ کے مداح دیوانے ہوگئے۔

پاکستانی اداکارہ وگلوکارہ مہوش حیات قومی اعزاز ’تمغہ امتیاز‘ حاصل کرنے کے بعد مسلسل خبروں میں بہت زیادہ جگہ بنانے لگی ہیں۔ اداکارہ کبھی اپنی فلموں میں کامیابی کے باعث خبروں کی زینت بنتی ہیں تو کبھی خود پرہونے والی تنقید پرجواب دینے میں آگے سے آگے رہتی ہیں۔

گزشتہ روزانہوں نے ٹوئٹرپرایک ویڈیوشیئرکی جو رواں سال فروری کی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ لاہورمیں 10 ہزارلوگوں کے سامنے اس لائیو کانسرٹ کے دوران بہت مزہ آیا تھا، اوریہ کانسرٹ ان کے لیے بہترین تجربہ بھی رہا تھا۔

گوگل میپس وہ فیچر اب دستیاب جس کا صارفین کو شدت سے انتظار تھا

گوگل نے تمام اینڈرائیڈ صارفین کے لیے اپنی مقبول ترین سروس میپس میں انکوگنیٹو موڈ استعمال کرنے کی سہولت فراہم کردی ہے۔

رواں سال مئی میں گوگل کی سالانہ ڈویلپر کانفرنس میں اس فیچر کو متعارف کرانے کا وعدہ کیا گیا تھا جبکہ اکتوبر کے شروع میں پرائیویسی کے حوالے سے متعدد فیچرز کا اعلان کیا جن میں گوگل میپس میں انکوگنیٹو موڈ بھی شامل تھا، جو صارفین کو اس ایپ میں اپنی سرگرمیاں گوگل اکاﺅنٹ میں محفوظ ہونے سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔

اور اب یہ فیچر آخرکار تمام اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے۔

گوگل نے گزشتہ دنوں ایک سپورٹ پیج پر اس بات کا اعلان کیا کہ میپ انکوگنیٹو موڈ اب اینڈرائیڈ پر دستیاب ہے اور صارفین اسے کسی بھی وقت اپلیکشن اوپن کرکے دائیں جانب اوپر موجود اپنی پروفائل تصویر پر کلک کرکے استعمال کرسکتے ہیں۔

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

ایسا ہونے کے بعد صارف کا گوگل اکاﺅنٹ میپس پر سرچنگ کے دوران غائب ہوجائے گا جس سے سرچ ہسٹری یا سینڈ نوٹیفکیشن گوگل ڈیٹا میں محفوظ نہیں ہوں گے، اسی طرح لوکیشن ہسٹری یا شیئر لوکیشن ڈیٹا وغیرہ بھی اپ ڈیٹ نہیں ہوں گے جبکہ پرسنلائز میپس کے لیے ذاتی ڈیٹا بھی استعمال نہیں ہوگا۔

تاہم انکوگنیٹو موڈ پر میپس کو استعمال کرنے پر چند فیچرز جیسے کمیوٹ، فار یو، لوکیشن ہسٹری (لوکیشن ہسٹری صرف میپس نہیں بلکہ پوری ڈیوائس کے لیے رک جائے گی)، لوکیشن شیئرنگ، نوٹیفکیشنز اور میسجز، سرچ ہسٹری، سرچ کمپلیٹشن سجیشن، ادر میپس، گوگل اسسٹنٹ مائیکروفون نیوی گیشن، گوگل میپس کنٹری بیوشنز اور یور پلیسز وغیرہ استعمال نہیں ہوسکیں گے۔

گوگل کے مطابق یہ انکوگنیٹو موڈ اینڈرائیڈ پر ہر ایک کے لیے دستیاب ہے، تاہم اگر آپ کی ڈیوائس میں نظر نہیں آرہا ہے تو آئندہ چند دن میں اپ ڈیٹ ہوجائے گا۔

آئی او ایس ڈیوائسز کے لیے یہ فیچر آئندہ چند ہفتوں یا مہینوں میں متعارف کرایا جائے گا۔

خیال رہے کہ انکوگنیٹو موڈ کو کروم کے بعد گزشتہ سال یوٹیوب میں بھی متعارف کرایا گیا تھا۔

ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر میں یہ فیچر پہلے ہی کروم کی بدولت دستیاب ہے اور جب کروم میں انکوگنیٹو موڈ پر براﺅز کرتے ہیں تو پرائیویسی سیٹنگ کا اطلاق خودکار طور پر میپس پر ہوجاتا ہے۔

Google Analytics Alternative