Home » 2019 » November » 06

Daily Archives: November 6, 2019

حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے موقف پر قائم؛ ڈیڈ لاک بدستور برقرار

اسلام آباد: آزادی مارچ اور دھرنے کے معاملے پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور بے نتیجہ ختم ہوگیا اور ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

اسلام آباد میں جے یو آئی کے رہنما اکرم حان درانی کے گھر پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو دیے گئے مطالبات پر بات چیت کی گئی تاہم گزشتہ روز کی طرح آج بھی ملاقات بے نتیجہ ختم ہوگئی اور کسی معاملے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔

رہبر کمیٹی

مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے کہا کہ کل بھی پرویزخٹک اپنےوفد کے ساتھ آئے تھے، ہم الیکشن میں فوج کا عمل دخل ختم کرنے سمیت دیگر مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں، جبکہ حکومت درمیانی راستہ نکالنےکی کوشش کررہی ہے۔

پرویز خٹک

حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا کہ کچھ چیزوں پر اتفاق ہوا ہے کچھ پر ڈیڈ لاک برقرار ہے، جب ہمارے درمیان معاہدہ ہوگا تو سب کچھ واضح ہوجائے گا ، فی الحال اس حوالے سے بتانا بہتر نہیں۔ کوشش ہے کہ ڈیڈلاک دور ہوجائے۔

پرویز خٹک نے کہا کہ حکومت کوشش کررہی ہے درمیانی راستہ نکلے، ایسا راستہ ہو کہ انکی بھی عزت ہو اور ہماری بھی، ہم اپنے موقف پر بالکل ڈٹے ہوئے ہیں اور دوسری طرف اپوزیشن کی 9 جماعتیں بھی اپنے چاروں مطالبات پر قائم ہیں۔

اندرونی کہانی

ذرائع کے مطابق ارکان حکومتی کمیٹی نے بتایا ہے کہ مذاکرات کے دوران وزیراعظم حکومتی ترجمانوں کو سخت بیانات دینے سے روکیں گے۔ حکومت نے انتخابی دھاندلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی فعال کرنے پر اظہار رضامندی کرتے ہوئے پیشکش کی کہ اپوزیشن جو حلقے چاہے وہ کھلوانے کے لیے تیار ہیں اور پارلیمانی کمیٹی مکمل بااختیار ہوگی، اپوزیشن چاہے تو الیکشن کمیشن کی فعالیت سے متعلق سپریم کورٹ سے رہنمائی بھی لی جاسکتی ہے۔

حکومتی کمیٹی نے الیکشن میں فوج کا عمل دخل ختم کرنے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں فوج کی تعیناتی کا مقصد سیکیورٹی مسائل ہیں، بعض حلقوں میں بااثر لوگ مخالف امیدوار کو اٹھا لے جاتے ہیں۔

حکومت نے آئین کی اسلامی دفعات کے تحفظ کی مکمل یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت اور ناموس رسالت قوانین میں تبدیلی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کفر کے فتوے لگانا یا مذہبی منافرت پھیلانے کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی۔

رہبر کمیٹی نے حکومتی تجاویز پر مشاورت کے لیے مزید وقت مانگتے ہوئے کہا کہ ہماری قیادت کا واضح موقف ہے کہ مسائل کا حل نئے انتخابات ہیں۔ حکومتی کمیٹی نے وزیراعظم کے استعفے اور نئے الیکشن کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت ہی نہ رہی تو کون یہ مسائل حل کرے گا؟۔

آج اجلاس میں حکومتی کمیٹی کی سربراہی پرویز خٹک جبکہ رہبر کمیٹی کی قیادت اکرم حان درانی نے کی۔ حکومتی کمیٹی میں اسد قیصر، پرویز الہی، شفقت محمود، نورالحق قادری اور اسد عمر جب کہ رہبر کمیٹی میں احسن اقبال ،امیر مقام ،میاں افتخار حسین شامل تھے، اجلاس میں فرحت اللہ بابر ،سید نیئر حسین بخاری اور طاہر بزنجوبھی شریک ہوئے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومتی کمیٹی نے اپوزیشن سے ملاقات کی تھی جس میں حزب اختلاف کی جانب سے حکومت کو مطالبات پیش کیے گئے تھے۔ پرویز خٹک نے آج وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور انہیں اپوزیشن کے مطالبات سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن سنجیدہ مذاکرات چاہتی ہے تو مثبت جواب دیا جائے، استعفے کے علاوہ تمام جائز مطالبات ماننے کو تیار ہیں۔

فوج کے بغیر انتخابات نہیں ہوسکتے، وزیر داخلہ

اسلام آباد: وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ فوج کے بغیر انتخابات نہیں ہوسکتے جب کہ وزیراعظم سے استعفیٰ مانگنا بھی درست نہیں۔

وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ مسترد شدہ ووٹ کا یہ پتا نہیں چلتا کہ وہ کس امیدوار کے ہیں، کسی الیکشن کا ریکارڈ دیکھ لیں مسترد شدہ ووٹ زیادہ ہوتے ہیں، ملک میں فوج کے بغیر انتخابات نہیں ہوسکتے جب کہ وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ بھی مناسب نہیں، دھرنے کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پیچھے چلا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے مقابلے میں دھرنے کو بہتر طریقے سے ڈیل کیا اور کہیں بھی دھرنے کے شرکاء پر طاقت کا استعمال نہیں کیا گیا، دھرنے کے بیشتر شرکا کو معلوم ہی نہیں ان کا مقصد کیا ہے؟ امید ہے دھرنا احسن طریقے سے ختم ہوجائے گا۔

اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ درآمد کم اور بر آمد زیادہ ہونے کی وجہ سے روپے کی قدرکم ہوتی ہے اور ملک بھی تب ہی غریب ہوتا ہے، ایک سال میں اس حکومت نے جتنی ترقی کی ہے کسی حکومت نے نہیں کی، اگر حکومت نے ڈیلیور کیا تو اگلے پانچ سال بھی ہم ہی ہوں گے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مریم نواز اور صفدر کا نام ای سی ایل میں نیب نے ڈالا ہے حکومت نے نہیں، عدالت نے ضمانت دینے سے پہلے نیب سے پوچھا تھا کہ یہ نام نیب نے ای سی ایل میں ڈالے ہیں؟ نواز شریف کے علاج و معالجے کے لیے بیرون ملک جانا ضروری ہوا تو راستہ نکل آئے گا، دعا ہے اللہ تعالیٰ نواز شریف کو صحت عطا فرمائے۔

مولانا نے مختلف مکاتب فکر کے مزہبی رہنماؤں کو اکٹھا کر لیا، سردار خان نیازی

اسلام آباد: (عائشہ مسعود) روز نیوز کے سربراہ اور چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان سردار خان نیازی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا مختلف مکاتب فکر کے مذہبی رہنماؤں کو ایک جگہ اکٹھا کر لینا غیر معمولی بات ہے

وفاقی دارالحکومت میں مولا نا فضل الرحمان کے دھر نے کو ایک ہفتہ مکمل ہونے کو ہے، اس دھرنے کی خاص بات یہ ہے کہ مولانا کی اپنی جماعت دیو بندی ہے لیکن ان کے ساتھ بریلوی اور اہل حدیث بھی کھڑے ہیں، اس لئے بڑا اہم سوال یہ سامنے آیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کو یکجا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

ایس کے نیازی نے اسی اکٹھ کے بارے میں اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام مکاتب فکر کے علاوہ قوم پرست بھی مولانا کے ساتھ ہیں لہذا اس دھرنے کے بعد مولانا قومی لیڈر بن کر سیاست کر رہے ہیں اور اس ساری صورتحال میں ایس کے نیازی نے اپنے انکشافات میں یہ بھی کہا کہ مولانا کے انداز سیاست نے اپوزیشن کو اپنی اپنی حیثیت برقرار رکھنے میں مشکل صورتحال سے بھی دو چار کر دیا ہے۔

ایس کے نیازی نے دراصل سیاست کی موجودہ صورتحال پر وہ تجزیہ دیا ہے جس کی ابھی کسی صحافی نے نشاندہی نہیں کی اور یہ تجزیہ ملک کے مستقبل کی سیاست کے بارے میں پیش گوئی کررہا ہے۔

سیاسی مافیا اپنے مفاد اور کرپشن کا تحفظ چاہتا ہے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سیاسی مافیا صرف اپنے مفاد اور کرپشن کا تحفظ چاہتا ہے اگر یہ لوگ انتخابی اصلاحات میں سنجیدہ ہے تو ہم مل کر کام کریں گے۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پارٹی ترجمانوں کا اجلاس ہوا، اجلاس میں سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاشی اصلاحات مشکل مرحلہ ہے لیکن ناممکن نہیں، گزشتہ سال خسارہ 13 ارب ڈالر تھا اس سال 7 ارب ڈالر تک لایا گیا، حکومتی ترجمان ٹی وی پر سیاسی بحث کے بجائے حکومتی کامیابیوں سے عوام کو آگاہ کریں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پہلے دن کہا تھا اصلاحات کے خلاف ہر شعبے کا مافیا سڑکوں پر نکلےگا، سیاسی مافیا صرف اپنے مفاد اور کرپشن کا تحفظ چاہتا ہے ان کو معلوم ہے حکومت کامیاب ہوئی تو ان کی سیاست ختم ہو جائے گی، اگر اپوزیشن انتخابی اصلاحات میں سنجیدہ ہے تو ہم مل کر کام کریں گے۔

نواز شریف سروسز اسپتال سے ڈسچارج

لاہور: سابق وزیراعظم نوازشریف کو ان کے کہنے پر سروسز اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے تاہم مریم نواز کی روبکار جاری نہ ہونے پر نواز شریف نے اسپتال میں ہی رکنے کا فیصلہ کیا۔

نواز شریف کو ان کے کہنے پر سروسز اسپتال سے چھٹی دے دی گئی، جس کے بعد انہیں شریف میڈیکل کمپلیکس منتقل کرنے کی تیاریاں جارتھیں اور انہیں لینے کے لئے  شریف میڈیکل کمپلیکس کی ایمبولینس بھی پہنچ گئی تھی تاہم مریم نواز کی روبکار جاری نہ ہونے پر نواز شریف نے سروسز اسپتال میں ہی رکنے کا فیصلہ کیا۔

نواز شریف نے شریف میڈیکل سٹی کی ایمبولینس سے اپنا سامان نکلوا کر ایمبولینس خالی واپس بھیج دی جب کہ سابق وزیراعظم کی والدہ بھی سروسز اسپتال سے روانہ ہوگئیں، ذرائع  شریف فیملی کے مطابق  نواز شریف کو کل 12 بجے سروسز ہسپتال سے شفٹ کیا جائے گا۔

میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر محمود ایاز نواز شریف کے کمرے میں موجود ہیں، ڈاکٹر محمود ایاز  کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی تین بیماریوں پلیٹ لیٹس، دل کا علاج اور خون کی شریانیں بلاک ہونے کا علاج کررہے ہیں۔ نوازشریف کی محدود چہل قدمی اور ورزش سمیت کھانے پینے کے حوالے سے بھی اجازت دے دی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمود ایاز کے مطابق دوران علاج دل کا اٹیک ہوا تھا، نواشریف کا بلڈ پریشر کنٹرول ہے جب کہ شوگرکنٹرول کررہے ہیں، کچھ ٹیسٹ جنیٹک ہیں جو ابھی کرنے ہیں اوریہ ٹیسٹ بیرون ملک سے ہی ہوں گے، خون کی شریانیں جو بند ہیں اس حوالے سے ٹیسٹ بھی تجویز کئے ہیں تاہم جب تک نوازشریف چاہیں گے ان کا علاج سروسزمیں ہوگا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسپتال ذرائع کے مطابق نواز شریف کی بیماری کی تشخیص 14 روز گزرنے کے باوجود بھی نہ ہوسکی تھی جس کے بعد میڈیکل بورڈ نے نوازشریف کوبیرون ملک بھیجنے کا مشورہ دیا تھا۔

استعفے کے علاوہ تمام جائز مطالبات ماننے کو تیار ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ استعفے کے علاوہ تمام جائز مطالبات ماننے کو تیار ہیں۔

وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی، اس موقع پر پرویزخٹک اور چوہدری پرویز الٰہی نے اپوزیشن کے مطالبات سے متعلق وزیراعظم کو بریفنگ دی۔اجلاس کے دوران آزادی مارچ سے متعلق حکومتی حکمت عملی طے کی گئی۔

ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ حکومتی کمیٹی مکمل طور پر بااختیار ہے، اپوزیشن سنجیدہ مذاکرات چاہتی ہے تو مثبت جواب دیا جائے، استعفے کے علاوہ تمام جائز مطالبات ماننے کو تیار ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں حکومتی کمیٹی آج رہبر کمیٹی سے ملاقات کرے گی۔

واضح رہے کہ آزادی مارچ کے ہر مرحلے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں، مذاکرات ہی کے نتیجے میں مارچ کے شرکا کے لیے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن میں جگہ مختص کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ گزشتہ روز بھی حکومتی کمیٹی نے رہبرکمیٹی سے ملاقات کی تھی دوسری جانب چوہدری برادران نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کرکے معاملہ حل کرانے کی کوششیں کی تھیں۔

بیرونی قرضوں کی واپسی کے تمام ریکارڈ توڑیں گے، حماد اظہر

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کا کہنا ہے کہ ہم بیرونی قرضوں کی واپسی کے تمام ریکارڈ توڑیں گے۔

اسلام آبادمیں پریس کانفرنس کے دوران حماد اظہر نے کہا کہ گردشی قرضے 450 ارب سے بڑھ کر 1200 ارب روپے ہوگئے تھے، قرضوں کی وجہ سے توانائی کا پورا نظام مفلوج ہوگیا تھا،تحریک انصاف نے گزشتہ سال 10 ارب ڈالر کا غیر ملکی قرضہ اتارا، ہم بیرونی قرضوں کی واپسی کے تمام ریکارڈ توڑیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پہلے 13ماہ میں مہنگائی ساڑھے21 فیصد جب کہ ن لیگ کی حکومت میں 8.3 فیصد تھی، تسلیم کرتے ہیں کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا، ایسا اس لیے ہوا کہ پچھلی حکومت کرنٹ اکاؤنٹ خسارا بہت زیادہ چھوڑ کرگئی، گزشتہ سال کرنٹ اکاوَنٹ خسارے میں 32 فیصد کمی آئی، رواں سال کرنٹ اکاوَنٹ خسارے میں 65 فیصد کمی آئی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کے باعث آئندہ مہینوں میں مہنگائی میں کمی ہوگی۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ بیرونی سرمایہ کاری میں 137 فیصد اضافہ ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ ہورہا ہے، تین ماہ میں اسٹاک ایکسچینج میں 5500 پوائنٹس کا اضافہ ہوا،سرکاری محکموں میں اصلاحات کی جارہی ہیں مگر کسی کو فارغ نہیں کیا جارہا۔

کارکے تنازع کے حوالے سے حماد اظہر نے کہا کہ کار کے کیس میں پاکستان کو بڑی کامیابی ملی ہے، کمپنی نے 200 ارب روپے معاف کیے، پاکستان اور ترکی کے وزرائے اعظم نے اس تنازع کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

کس قانون کے تحت وزیرستان میں لوگوں کی آمد و رفت کا اندراج ہوتا ہے؟ جسٹس قاضی فائز

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ کس قانون کے تحت وزیرستان میں لوگوں کی آمد و رفت کا اندراج ہوتا ہے، ایک ہی ملک میں انٹری اور ایگزٹ کا کیا تصور۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ملزم شیرزمان کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد شیر زمان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔

وکیل نے بتایا کہ ملزم شیرزمان پر ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک جهگڑے کے دوران ایک شخص کو گولیاں مارکرزخمی کرنے کا الزام ہے، لیکن زخمی کو جوگولیاں لگیں ان کے نکلنے کا کوئی نشان نہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں گولیاں نہیں لگیں، گولیاں جسم کے اندر بهی ہو سکتی ہیں۔

وکیل نے کہا کہ ملزم جائے وقوعہ پر موجود نہ تھا بلکہ جنوبی وزیرستان میں تھا، جنوبی وزیرستان میں جو کوئی جاتا ہے اس کی انٹری اور ایگزٹ درج ہوتی ہے، ملزم کی انٹری درج ہے ایگزٹ درج نہیں ہوئی۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کس قانون کے تحت ساؤتھ وزیرستان میں لوگوں کی انٹری اور ایگزٹ درج ہوتی ہے؟ ایک ہی ملک میں انٹری اور ایگزٹ کا کیا تصور ہے، ہم ابهی اس کو غیر قانونی ڈکلیئر کر دے دیتے ہیں۔

وکیل نے کہا کہ ہم تو نہیں پوچھ سکتے کس قانون کے تحت انٹر اور ایگزٹ ہوتی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ آپ درخواست دائر کریں ہم اس کو دیکھ لیں گے۔

Google Analytics Alternative