Home » 2019 » November » 07

Daily Archives: November 7, 2019

سیاسی دھرنے میں فوج کا کوئی کردارنہیں، ترجمان پاک فوج

راولپنڈی: ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ دھرناسیاسی ایکٹویٹی ہےاس میں فوج کو کوئی کردارنہیں۔ 

پاک فوج  کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ دھرنا سیاسی ایکٹویٹی ہے اس میں فوج کا کوئی کردارنہیں، ہم جن کاموں میں مصروف ہیں وہ کام ہمیں اجازت نہیں دیتا ہم سیاسی ایکٹویٹی میں شامل ہوں، فوج بطور ادارہ کسی بھی سرگرمی میں ملوث نہیں۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ میں جب بھی بولتا ہوں اداروں کیلئے بولتا ہوں اپنی ذات کیلئے نہیں بولتا، جو بھی بیان دیتا ہوں ادارے کی ترجمان کی حیثیت سے دیتا ہوں، 2014 کے دھرنے میں پاک فوج نے حکومت کا ساتھ دیا تھا، لیکن انتخابات میں فوج کا کوئی کردار نہیں، چیف الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کی تعیناتی میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہوتا، فوج کی خواہش نہیں ہوتی کہ الیکشن میں کوئی کردار ادا کریں۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاک فوج کشمیر کی 70 سالہ جنگ اور 20 سال سے سیکیورٹی کے کاموں میں مصروف ہے اور قربانیاں دے رہی ہے وہ دیگر کاموں پر توجہ نہیں دیتی، حکومت اور فوج نے کشمیر کےمعاملے پر کبھی سمجھوتہ کیا ہے اور نہ کرے گی۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بھارت سے آنے والے سکھ یاتری صرف کرتارپور تک محدود رہیں گے، کرتار پور بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے یکطرفہ راستہ ہے، کرتار پور میں ملکی سیکیورٹی یا خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، سکھ یاتریوں کی پاکستان میں انٹری قانون کےمطابق ہوگی۔

پرویزالہیٰ کی فضل الرحمان سے ملاقات میں پیشرفت، معاہدہ تشکیل دیئے جانے کا امکان

اسلام آباد: اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جس کے بعد حکومت اور رہبر کمیٹی کی تجاویز کی روشنی میں ایک معاہدہ تشکیل دیے جانے کا امکان ہے۔

بدھ کی شام اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ نے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق چوہدری برادران کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقاتوں میں حکومت اور رہبر کمیٹی کی تجاویز کی روشنی میں ایک معاہدہ تشکیل دیے جانے پر گفتگو ہوئی۔

حکومت کی جانب سے معاہدے میں مولانا فضل الرحمان کو اعلیٰ سطح کی ٹھوس ضمانت دینے کی پیشکش کی گئی ہے جس کا مولانا فضل الرحمان کی جانب سے مثبت جواب دیا گیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی لیکن امید ہے کہ چوہدری برادران مولانا فضل الرحمان کو قائل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

آصف علی زرداری کا علاج ذاتی خرچ پر مرضی کے ڈاکٹروں سے کرانے کی درخواست

راولپنڈی: پاکستان پیپلز پارٹی نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار سابق صدر آصف علی زرداری کا علاج ذاتی خرچ پر مرضی کے ڈاکٹروں سے کرانے کے لیے اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ سے تحریری درخواست کردی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے راولپنڈی اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو تحریری درخواست دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری شدید بیمار ہیں، سرکاری میڈیکل بورڈ کے مطابق سابق صدر کو بروقت طبی امداد نہ ملی تو ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے، میڈیکل بورڈ کی ہدایت پر آصف علی زرداری کو پمز اسپتال میں رکھا گیا ہے جب کہ آصف علی زرداری اپنے ذاتی خرچ پر اپنی مرضی کے ڈاکٹروں سے علاج کرانا چاہتے ہیں، اس سے قبل بھی نیب کے کچھ قیدیوں کو ذاتی خرچ پر مرضی کے ڈاکٹروں سے علاج کرانے کی اجازت دی گی ہے۔

پیپلز پارٹی نے درخواست میں سابق صدر کے علاج کے لیے 5 ڈاکٹروں کے نام بھی بھیجے ہیں، جن میں ڈاکٹر عاصم حسین، ڈاکٹر رشید جمعہ، ڈاکٹر سلما مدھا، ماہر امراض قلب میجر جنرل ظفر اور ڈاکٹر توقیر شامل ہیں۔

موجودہ حکمرانوں کو ایک دن بھی برداشت نہیں کرسکتے، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کوایک دن بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ 

آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میرےلیے تکلیف دہ مرحلہ تھا جب کارکن بارش میں بھیگ رہے تھے۔ بارش میں کارکنوں کی استقامت کوسلام پیش کرتاہوں، یہ بارش حکمرانوں کے لیے بھی ایک پیغام تھا کہ یہ اجتماع تماش بینوں کا اجتماع نہیں، آنے والے امتحانوں کو بھی اسی استقامت سے عبورکریں گے۔ موجودہ حکمرانوں کوایک دن بھی برداشت نہیں کرسکتے، ناکام حکومت کوگرانے کے لیے ہم یہ مشقت برداشت کررہے ہیں۔ ہم اسی طرح ڈٹے رہے تو یقیناً اپنے مقاصد  میں کامیاب ہوں گے، 12 ربیع الاول کو اس اجتماع کو سیرت طیبہ کانفرنس میں تبدیل کریں گے۔

پاکستان سابق سوویت یونین سے بڑا ملک نہیں

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ نااہل حکمران ایک سال میں 3 بجٹ پیش کرکے محصولات کاہدف حاصل نہیں کرسکے، اگر ایک اور بجٹ ان نااہلوں نے پیش کیا تو پاکستان معاشی طور پر بیٹھ جائے گا، پاکستان سابق سوویت یونین کے مقابلے میں بڑا ملک نہیں، جہاد افغانستان میں سوویت یونین اقتصادی ناکامی کی وجہ سے ٹوٹ گیا۔

یوم اقبال اور رنجیت سنگھ

سربراہ جے ہو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ 9 نومبر کو شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا یوم پیدائش ہے، اسی روز ہم کرتارپور کوریڈور کا افتتاح کررہے ہیں، حج پر اخراجات 5 لاکھ روپے کردیئے گئے اور سکھوں کے لئے پاکستان میں انٹری مفت ہوگی۔ کیا ہم آئندہ یہ دن اقبال ڈے کی بجائے رنجیت سنگھ اور بابا نانک کے دن کے طور پر تو نہیں منائیں گے۔

وزارت خارجہ خاموش کیوں ہے؟

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ افغانستان میں سفارتی عملے کے ساتھ ناروا سلوک پر وزارت خارجہ خاموش ہے، کس طرح لوگ باہر جاکر ملک کی خدمت کریں گے؟

نوکریوں کا وعدہ کیوں کیاگیا؟

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کہا گیا کہ لوگ حکومت سے نوکری کی آس نہ لگائیں، 400 اداروں کو ختم کرنے کی بات کی گئی، اس سے ہزاروں لوگ بےروزگار ہوں گے، کیا ایک کروڑ نوکریاں دینے کا جھوٹا وعدہ کیوں کیا گیا؟ 50لاکھ گھر بنانے کی بات کرکے 50 لاکھ گرادیئے گئے۔

 

 

چوہدری پرویز الٰہی کو مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کا مکمل اختیار مل گیا

اسلام آباد: حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کو مولانا فضل الرحمان سے بات چیت کا مکمل اختیار دے دیا۔

اسلام آباد میں آزادی مارچ کے خاتمے کے لیے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ جس میں مولانا فضل الرحمان اور رہبر کمیٹی سے ہونے والے مذاکرات پر مشاورت ہوئی۔ مذاکراتی کمیٹی نے پرویز الہی کو فضل الرحمان سے بات چیت کا مکمل اختیار دے دیا۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے اجلاس سے قبل  مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری پرویز الہٰی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ پہنچے جہاں آزادی مارچ کے خاتمے سے متعلق معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پرویز الہیٰ نے کہا کہ مثبت پیش رفت ہورہی ہے اور اس وقت کئی چیزیں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، اس سلسلے میں تھوڑا صبر اور محنت کی ضرورت ہے، ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ مثبت طریقے سے معاملے منطقی انجام کو پہنچے۔

واضح رہے کہ چوہدری برادران مسلسل وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان رابطہ کاری میں مصروف ہیں۔

پنجاب حکومت کے فیصلے تک نواز شریف کی سزامعطل رہے گی، اسلام آبادہائی کورٹ

اسلام آباد: ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ضمانت سے متعلق تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت کے فیصلے تک نواز شریف کی سزامعطل رہے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پرضمانت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔ 22 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے تحریر کیا ہے۔ فیصلے میں نوازشریف کی طبی بنیادوں پرضمانت منظور کرنے کی وجوہات بیان کی گئیں ہیں جب کہ اس میں اسپیشل میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کو بھی تفصیلی فیصلے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ قانون کی حکمرانی کے لیے تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ضروری ہے، اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنا ریاست کے ہر ادارے پر لازم ہے، نوازشریف کی بیماری جیسے کیسز عدالتوں میں نہیں آنے چاہیئں، صوبائی حکومت خود سے کسی بھی قیدی کی سزا معطل کرنے کا اختیار رکھتی ہے، آرٹیکل 401 کے تحت حکومت کو سزا معطل کرنے کا اختیار ہے، صوبائی حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے ہزاروں بیمار قیدی بے یار و مددگار پڑے رہتے ہیں۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں شدید بیمار قیدیوں کو ریلیف فراہم کریں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نواز شریف کو دل اور پلیٹ لیٹس کے علاج کے لیے دوسرے اسپتال جانا پڑرہا ہے، پنجاب حکومت جب تک فیصلہ نہیں دےگی تو ان سزامعطل رہے گی، پنجاب حکومت اگر نواز شریف سے تعاون نہ کرے تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتےہیں۔

جے یو آئی (ف) کا وزیراعظم کے استعفی تک آزادی مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ

اسلام آباد: جے یو آئی (ف) نے وزیراعظم کے استعفی تک آزادی مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جمیعت علمائے اسلام (ف) کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان کے استعفی تک آزادی مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، رہنما جے یو آئی (ف) مولاناعبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ فیصلہ کیا ہے وزیراعظم کے استعفی تک آزادی مارچ اور تحریک جاری رہے گی۔

علاوہ ازیں بارش کے باعث دھرنے کے شرکا کو ہونے والی مشکلات پر جے یو آئی (ف) نے وزیراعظم کے تعاون کی پیشکش کو بھی مسترد کردیا ہے، رہنما جے یو آئی (ف) مولاناعبدالغفور حیدری نے کہا کہ وزیراعظم اپنے تعاون کو جیب میں رکھیں ہم نے اپنا انتظام کیا ہوا ہے، ہمارے جیالے اپنا انتظام کرکے آئے ہیں، بارش اللہ کی رحمت ہے یہ حکمران زحمت ہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ رات اسلام آباد میں بارش کے بعد دھرنے میں شامل شرکاء کی مشکلات میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے کو دھرنے کے مقام پر جانے کی ہدایت کی تھی۔

جے یو آئی ف کے رہنما سینیٹر عبدالغفور حیدری نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کے دوران کہا کہ 25 جولائی 2018 کو انتخابات کا ڈھونگ رچایا گیا، جعلی انتخابات کرکے عمران خان کو وزیراعظم بنایا گیا، عمران خان کو جعلی انتخابات کے ذریعے قوم پر مسلط کیا گیا ہے، اپوزیشن کا متفقہ موقف ہے کہ ملکی تاریخ میں ایسی بدترین دھاندلی کبھی نہیں ہوئی۔

مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ حکومت کو آئینہ دکھاتا ہوں تو حکومتی اراکین کو برا لگتا ہے، پی ٹی آئی کے دھرنے میں ڈھول باجے لائے گئے جب کہ آزادی مارچ کے 11 دنوں میں ایک گملہ نہیں ٹوٹا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں مڈٹرم الیکشن ہوتے رہے ہیں اور ملک میں ڈیڑھ سال بعد مڈ ٹرم الیکشن کی تاریخ بھی موجود ہے۔

بھارت کا جنگی جنون، 3500 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل کے تجربے کی تیاریاں

نئی دلی: بھارت آئندہ جمعے کو 3500 کلومیٹر دور تک مار کرنے والے جوہری میزائل کا تجربہ کرے گا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنگی جنون میں مبتلا بھارت اب آبدوز کے ساتھ حملہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر تیزی سے کام کر رہا ہے اور اس حوالے سے پانی کے اندر آبدوز سے فائر کئے جانے والے دو میزائلوں میں سے ایک  کے فور جوہری میزائل کا تجربہ کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق میزائل تجربہ آندھرا پردیش کے ساحل کے قریب پانی کے اندر موجود پلیٹ فارم کی مدد سے کیا جائے گا، اور اس حوالے سے انتباہی نوٹس یعنی  نوٹم (نوٹس ٹو ایئرمین) اور سمندری انتباہ جاری کیا  جاچکا ہے۔ کے فور میزائل 3500 کلومیٹر دور تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے ساتھ ایٹمی وار ہیڈس بھی لے جا سکتا ہے۔ اس طرح اسے بین البراعظمی ایٹمی میزائل قرار دیا جاسکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت  اس کے علاوہ 700 کلومیٹر سے زیادہ کی اسٹرائیک رینج کے ساتھ ایک اور میزائل بی او 5 پر بھی کام کررہا ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں اگنی 3 اور براہموس میزائلوں کے تجربے کا بھی منصوبہ بنا رکھا ہے۔

Google Analytics Alternative