Home » Author Archives: Admin

Author Archives: Admin

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:

21مارچ تا21اپریلآج کا دن آپ کے لیے بہت اچھا ثابت ہو سکتا ہے آپ کے وہ تمام کام جو کافی عرصہ سے رکے ہوئے تھے آج پایہ تکمیل تک پہنچ سکتے ہیں۔دیرینہ آرزو پوری ہونے کے امکان روشن ہیں ۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

صدقہ و خیرات کرتے رہنا آپ کے لیے کافی بہتر ہے آج کل حالات بالکل بھی آپ کے لیے ساز گار نہ ہے اچھے بھلے دوست بھی مخالفت پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔

جوزا:
21مئی تا21جون

مایوسی کے اندھیرے اجالوں کی دیرینہ چادر تلے دم توڑ سکتے ہیں ہمت و استقلال کی بنیادوں پر خود کو ابھارنے کی کوشش کیجیے کامیابی ہوسکتی ہے۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

حتیٰ الامکان شریک حیات سے تعاون کیجیے سیروتفریح کے مواقع میسر آ سکتے ہیں دیرینہ آرزو پوری ہونے کے امکان روشن ہیں ،محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

آج کے دن اگر آپ ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو یقینا آپ اپنی زندگی کا بہترین دن ضائع کر جائیں گے لہٰذا کچھ نہ کچھ کرتے رہے تاکہ بعد میں پچھتانا نہ پڑے۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

مایوسی کے خود ساختہ خول سے باہر آکر دیکھیں ایک نئی دنیا آپ کی منتظر ہے عشق و محبت کے معاملات میں مایوسی کا سامنا ہو سکتاہے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

بزرگان روحانی سے خصوصی فیض حاصل ہو سکتا ہے بہتر ہے کہ آپ اپنے خیالات کی اصلاح کرواتے رہے تاکہ دنیا کے ساتھ عاقبت بھی سنور سکیں۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

آپ نے ہمارے گزشتہ دیے ہوئے مشوروں کو نہیں مانا اب نتیجہ آپ کے سامنے ہیں لہٰذا ہر معاملے میں جذباتیت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ٹھنڈے دل و دماغ سے ہر فیصلہ کیجیے۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

اپنا گھریلو بجٹ بناتے وقت شریک حیات کی آمدنی کو مدنظر رکھ لیجیے تاکہ بعد میں کسی مشکل یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔احتیاط کی اشد ضرورت ہے۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

عشق و محبت کے میدان میں گھوڑے بھگانے کا کوئی فائدہ حاصل نہ ہو سکے گا لہٰذا خود کو ان چکروں سے دور ہی رکھیں تو بہتر ہے۔محتاط رہنے کی سخت ضرورت ہے۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

آج کا دن ہر لحاظ سے آپ کے لیے بہتر ثابت ہو سکتا ہے آپ کے وہ تمام کام جو کافی دیر سے رکے ہوئے تھے پورے ہو سکتے ہیں اور آپ ذہنی طور پر کافی فریش محسوس کریں گے۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ آپ جو چاہتے ہیں وہ ہو نہیں پاتا اس کے باوجود ہم یہی کہیں گے کہ آپ صبروتحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں بلکہ صحیح وقت کا انتظار کریں۔

چائے کے 3 کپ روزانہ فالج کا خطرہ کم کریں

اگر تو آپ چائے یا کافی پینا پسند کرتے ہیں تو اچھی بات یہ ہے کہ یہ عادت دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی اور فالج کا خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

میلبورن کے الفریڈ ہاسپٹل کی تحقیق میں بتایا گیا کہ چائے یا کافی میں موجود کیفین مرکزی اعصابی نظام کو حرکت میں لاکر ایڈی نوسین نامی کیمیکل کے اثرات کو بلاک کرتا ہے جو کہ atrial fibrillation یا اطاقی فائبرلیشن کا باعث بنتا ہے۔

اطاقی فائبرلیشن دل کی دھڑکن کا سب سے عام مرض ہے جس میں دل بہت تیزی سے دھڑکتا ہے اور علاج نہ کرایا جائے تو فالج بھی ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ کیفین سے دل کی دھڑکن کے مسائل پیدا ہوتے ہیں ، تاہم کافی اور چائے وغیرہ اس سے بچاﺅ میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں جس کی وجہ ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس اور ایڈی نوسین کو بلاک کرنے کی خصوصیت ہے۔

اس حوالے سے روزانہ 3 کپ ان مشروبات کا استعمال فائدہ مند ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 2 لاکھ سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ کیفین والے مشروبات کے استعمال سے دل کی دھڑکن کے مسائل کا خطرہ 13 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران ایسے 103 افراد کا جائزہ بھی لیا گیا جو ہارٹ اٹیک کا شکار ہوچکے تھے اور انہیں روزانہ 353 ملی گرام کیفین استعمال کرایا گیا تو دل کی دھڑکن میں بہتری آئی۔

تاہم تحقیق کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ چائے یا کافی کا بہت زیادہ استعمال ایسے عارضے کا خطرہ بڑھاتا ہے جس میں دل کے نچلے چیمبرز میں دھڑکن بہت تیز ہوجاتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل جے اے سی سی: کلینکل Electrophysiology میں شائع ہوئے۔

میری کردار کشی کی گھناؤنی مہم جاری ہے، سعد رفیق

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ میری کردار کشی کی افسوسناک اور گھناؤنی مہم جاری ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ پہلے آشیانہ اسکیم سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، پھر ایک ہاؤسنگ اسکیم کا مالک بنا دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میری اور میرے بھائی کی 40 کنال ملکیتی جگہ کا ڈھول پیٹا گیا جو ہمارے اثاثاجاتی گوشواروں میں پہلے سے موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ریلوے میں کرپشن کے الزام کا سامنا ہے لیکن جھوٹے الزامات تراشنے والے اللہ کے قہر سے ڈریں۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ ریلوے کے لیے نیک نیتی سے کام کیا، سوچا تھا اس کا کچھ خیال رکھا جائے گا لیکن میری سوچ غلط تھی، ملک کے لیے کام کرنے کا صلہ الزامات اور سزائیں ہی ٹھہرا۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے میں کرپشن اور اقرباء پروری کے آگے بند باندھا لیکن اب اس کی سزا کاٹ رہا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ کاش! ایسا الزام لگنے سے پہلے مر جاتا، آج پھر شدید دلی تکلیف ہوٸی ہے۔

سعد رفیق نے کہا کہ جعلی ذرائع سے بننے والی خبروں کو بنیاد بنا کر بدنام کرنا کہاں کا انصاف ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ الزامات کی تحقیق کرنے والے قوم کو یہ بھی بتائیں کہ الزام لگانے والے کون ہیں؟

انہوں نے کہا کہ ہر کام قانون کے مطابق اور ریلوے کے وسیع تر مفاد میں کیا، سخت تحفظات کے باوجود نیب سے بھرپور تعاون کیا جائے گا اور ہر سوال کا جواب دیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خاموش رہوں تو کہا جاتا ہے کہ کچھ غلط کیا ہے تبھی نہیں بولتے اور بولوں تو کہتے ہیں کہ گستاخ محاذ آرائی کرتے ہیں۔

عمران خان کی چوہدری نثار کو تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ چوہدری نثار عمران جیسے دغا باز کے جھانسے میں آنے والے نہیں ہیں۔

سعد رفیق نے کہا کہ عمران خان کا بیان کہ ان کے جلسوں کی وجہ سے عدالت کو نواز شریف کے خلاف کیس سننا پڑا کھلی توہین عدالت ہے، کیا کوٸی انوکھے لاڈلے سے جواب طلبی کرے گا؟

وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان کے بنانیے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آج تک کسی طاقتور کا احتساب نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ بے ضمیر، بے وفا اور ابن الوقت لوگوں کے گٹھ جوڑ کا دوسرا نام پی ٹی آٸی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کوسنے اور طعنے دینے والے عمران اور زرداری خاموش شراکت دار بن چکے ہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی برطانوی ہم منصب کے استقبالیے میں شرکت

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی برطانوی ہم منصب تھریسامے کی جانب سے دیے گئے استقبالیے میں شرکت کی۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دولت مشترکہ کے دیگر سربراہان حکومت و مملکت کے ہمراہ جمعرات کو برطانوی وزیراعظم تھریسامے کی جانب سے سینٹ جیمز محل میں دیئے جانے والے استقبالیے میں شرکت کی۔

اس موقع پر دولت مشترکہ کی سیکریٹری جنرل پیٹریشیا اسکاٹ لینڈ بھی برطانوی وزیراعظم کے ہمراہ موجود تھیں۔

استقبالیہ تقریب کے بعد تمام رہنما ایگزیکٹو سیشنز کے لیے لنکاسٹر ہاؤس پہنچے جہاں 25ویں دولت مشترکہ سربراہ اجلاس کا موضوع ”ایک ساتھ مشترکہ مستقبل کی جانب“ ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اجلاس میں ایگزیکٹو سیشنز اور ریٹریٹس میں بھی شریک ہو رہے ہیں۔

لنکاسٹر ہاؤس میں ہونے والے ایگزیکٹو سیشنز میں دولت مشترکہ ممالک کے بہتر مستقبل پر بات ہو گی۔

وزیراعظم کی اجلاس میں شرکت پاکستان میں دستیاب مواقع اجاگر کرنے میں مدد دے گی اور پاکستان کو ابھرتی ہوئی منڈی کے طور پر دنیا کے سامنے لانے میں مددگار ہو گی۔

‘شاہ رخ خان نے میری زندگی تباہ کردی!’

بالی وڈ کنگ شاہ رخ خان اداکاری کے تو بے تاج بادشاہ ہیں ہی، لیکن وہ لاکھوں لوگوں کے دلوں میں بھی بستے ہیں اور لوگ ان کی اداکاری، ڈائیلاگز اور جذبات کے اظہار کو عام زندگی میں بھی نقل کرتے نظر آتے ہیں۔

بنگال سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون بھی شاہ رخ کی اتنی ہی بڑی فین تھیں کہ انہوں نے شاہ رخ خان کے اسٹائل میں اپنے دوست کو شادی کی پیشکش کر ڈالی، لیکن ساتھ ہی اس بات کا بھی برملا اظہار کیا کہ شاہ رخ خان کی وجہ سے ان کی زندگی تباہ ہوگئی۔

دونوں کچھ متضاد باتیں لگ رہی ہیں ناں! چلیں آئیے پس منظر کی طرف چلتے ہیں۔

حال ہی میں ہیومنز آف بمبئے نامی انسٹاگرام پیج پر ایک بنگالی خاتون کی پوسٹ شائع ہوئی، جس میں انہوں نے لکھا:

‘شاہ رخ خان نے میری زندگی تباہ کردی!’

خاتون نے لکھا، ‘جب میں بچی تھی، تب سے ہی میں نے ایک بہترین اور شاندار شخص کی جانب سے شادی کے پروپوزل کا خواب دیکھا، پس منظر میں وائلن کی موسیقی بج رہی ہو، وہ آہستہ آہستہ میری طرف چل کر آئے، ہوا کے زور سے میرے بال ادھر ادھر بکھر رہے ہوں، وہ گھٹنوں کے بل بیٹھے اور میرے ہاتھ میں اپنے نام کی انگوٹھی پہنا دے’۔

‘لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا بلکہ حقیقت میں مجھے اپنے والدین کو ایک پنجابی لڑکے سے شادی کے لیے رضامند کرنا پڑا، ہم 3 سال سے دوست تھے اور اس عرصے میں زیادہ تر وقت ہمیں اپنے والدین کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں لگا۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ ہمیں یقین ہوگیا کہ ہماری شادی ہونے والی ہے، لہذا اس نے مجھے فلمی انداز میں پروپوز کرکے ‘سرپرائز’ دینے کی کوشش ہی نہیں کی’۔

خاتون کے مطابق، ‘میری زندگی میں کبھی ایسا کوئی فلمی لمحہ نہیں آیا، لہذا اپنے دوست کی سالگرہ پر میں نے معاملات اپنے ہاتھوں میں لیے، ایک سرپرائز برتھ ڈے پارٹی کا اہتمام کیا اور جیسے ہی وہ ریسٹورنٹ میں داخل ہوا، میں نے ڈی جے کو ‘میری می’ گانا چلانے کی ہدایت کی اور پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے کہا: اشیش اگروال، میں اپنی پوری زندگی تمہارے ساتھ ہنستے، روتے اور لڑتے ہوئے گزارنا چاہتی ہوں، کیا تم مجھ سے شادی کرو گے؟’

‘اس نے میری طرف دیکھااور کہا، ‘امید ہے ہمارے بچے اس طرح فلمی نہیں ہوں گے۔’

‘اور اس طرح میں نے خود اپنے لیے وہ لمحات حاصل کیے، جن کا میں انتظار کرتی تھی، خواتین کیوں ہمیشہ کسی لڑکے کی جانب سے پروپوز کیے جانے کا انتظار کرتی ہیں؟ یہ نیا دور ہے، اگر آپ کو کوئی پسند ہے تو آپ کو خود اسے انگوٹھی پیش کردینی چاہیے’۔

اب ان خاتون نے تو یہ پوسٹ کردی، لیکن اس پر آنے والے تبصروں میں لوگ یہ سوال کرتے نظر آرہے ہیں کہ آخر اس میں شاہ رخ خان کا کیا قصور تھا؟

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شاہ رخ نے ان کی زندگی تباہ نہیں کی، بلکہ انہوں نے تو یہ بتایا کہ زندگی کو کس طرح جیا جاسکتا ہے اور خوبصورت بنایا جاسکتا ہے۔

اب یہ تو ہر انسان پر منحصر ہے کہ وہ زندگی کو کس انداز میں جیتا ہے، لیکن مذکورہ بنگالی خاتون نے بہت سے لوگوں کو ایک نئی راہ ضرور دکھا دی ہے۔

نیب کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت

adaria

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے پی اے سی کو ان کیمرہ بریفنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کی ڈوریاں ہلانے والا آج تک کوئی پیدا نہیں ہوا اگر ڈوریاں ہلیں تو بریف کیس اٹھا کر گھر چلا جاؤں گا۔نوازشریف کو ملک سے باہر جانے کیلئے روکنا میرا کام نہیں ہے، احتساب عدالت بہتر بتا سکتی ہے کہ کیا کرنا ہے کیا نہیں۔ الیکشن ہونے یا نہ ہونے کا تعلق بھی احتساب سے نہیں ہے۔ علی جہانگیر صدیقی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے اقدامات کئے ہیں لیکن عدالت نے روک دیا ہے قوم نیب پر مکمل اعتماد رکھے۔ پبلک اکانٹ کمیٹی نے نیب کی کارکردگی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور نیب حکام کی تعریف اور حوصلہ افرائی کرتے ہوئے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ نیب کے اختیارات کسی پر مسلط کئے جا رہے ہیں یا نیب خاص طور پر کسی کے خلاف انتقامی کارروائی کررہا ہے۔ پاکستان میں کرپشن کی بات اب حجم سے باہر نکل چکی ہے حجم کی بات اس وقت ہوتی ہے جہاں پر حجم کم ہو ۔ نیب نے تو امریکہ کیلئے نامزد سفیر علی جہانگیر صدیقی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے اقدامات کئے ہیں لیکن عدالت نے روک دیا ہے تو ہم کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔ نیب میں زیر التوا کیسز کو جلد سمیٹ رہے ہیں اور اس میں کافی کامیابی بھی مل رہی ہے پوری قوم نیب پر اعتماد رکھے قوم کے اعتمادکو نقصان نہیں پہنچنے دینگے۔ وزیر داخلہ اتنے بااختیار نہیں ہیں کہ وہ لوگوں کو دوسرے ملک کے حوالے کریں یہ کام بااختیار لوگوں کا ہے۔ نوازشریف کے علاوہ جن لوگوں کے بھی پانامہ میں نام آئے ان کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں۔برطانیہ سے نیب کو مطلوب افراد کی واپسی کے لئے کارروائی جاری ہے قوم دیکھے گی ان لوگوں کو پاکستان واپس لایا جائے گا۔ ریڈنوٹسز جاری کر چکے ہیں، پبلک اکانٹس کمیٹی کو نیب کی کارکردگی سے آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا پاکستانیوں کو دوسرے ملکوں کے حوالے کرنے کے حوالے سے پاکستان کے بااختیار لوگوں سے پوچھا جائے۔ پاکستان کا کوئی وزیر داخلہ اتنا بااختیار نہیں ہوتا جو کہ اتنی بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو غیرملکوں کے حوالے کر سکے۔ بلاامتیاز کرپٹ افراد کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ملک میں کرپشن کے خاتمے کیلئے کچھ لوگوں کیخلاف کارروائی شروع ہو چکی ہے، نیب کی کارروائی شواہد کی روشنی میں کی جا رہی ہے، ایسی تمام باتیں بے بنیاد ہیں کہ نیب کسی کے خلاف انتقامی کارروائی کر رہا ہے۔کرپشن کی بنیاد پر کچھ لوگوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جا چکا ہے، کچھ کو معطل کیا گیا، کچھ برطرف ہوئے ہیں اور چند افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، اس تمام عمل میں کچھ وقت لگے گا لیکن قانون کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔نیب کی کوشش ہے زیرالتوا کیسز کا جلدازجلد فیصلہ سنائے۔ نیب نے اس کیلئے 10 ماہ کا وقت مقرر کیا ہے تاہم کچھ کیسز ایسے بھی ہیں جن میں اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ نیب کے تمام کیسز کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ جن لوگوں کیخلاف انکوائری شروع ہو چکی مزید بھی ہونگی۔ جب شیشے کے گھر میں ہوں تو پھر پتھر تو آئیں گے۔ نیب چیئرمین نے بجا فرمایا ہے کرپٹ لوگوں کیخلاف بلا امتیاز احتساب وقت کی ضرورت ہے جب تک کڑا سے کڑا احتساب نہیں ہوگا، ملک سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہو پائے گا، کرپشن کے ناسور نے ترقی کے راستے کو متاثر کررکھا ہے، اداروں سے کرپشن کی تطہیر ضروری ہے، کرپٹ لوگ انتخابات سے پہلے بھی جوابدہ ہیں اور بعد میں بھی یہ درست ہے، چیئرمین نیب نے جس عزم کا اعادہ کیا ہے وہ عوام کے امنگوں کا ترجمان ہے۔ نیب کے جملہ کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے تاکہ کرپشن کے مرتکب عناصر اپنے کیے کی سزا بھگت سکیں۔

خورشید شاہ کی سچی بات میں ایس کے نیازی کیساتھ گفتگو
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما و اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی خورشید شاہ نے روز نیوز کے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں ایس کے نیازی کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ میری زندگی سیاست میں گزر گئی ہے،ایسے ڈراؤنے حالات میں نے پہلے نہیں دیکھے،لوگ پیش گوئیاں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں،میں نے زندگی میں جمہوریت کیلئے بہت کچھ کھویا اور پایا ہے،جمہوریت لفظ چھوٹا ہے مگر اس کے معنی بہت بڑے ہیں،جمہوریت میں اظہاررائے اور اداروں کی آزادی بھی آتی ہے،ملک کو ترقی کی راہ پرلے کر چلنا ہے تو اس کا راستہ جمہوریت ہے،ہمیشہ کوشش کی ہے کہ جمہوریت کو رول ماڈل بنائے،ہماری حکومت میں بہت سے مسائل تھے مگر ہم آگے بڑھتے رہے،ہر شخص کی عزت مجھ سے زیادہ ہے،ہر شخص کی عزت کرتا ہوں،موجودہ حالات کے ذمہ دار نواز شریف ہیں،نیازی صاحب!آپ بڑے میڈیا ہاؤس کے مالک ہیں،نیازی صاحب!آپ کے اخبارات بھی ہیں،کالم بھی لکھتے ہیں،نیازی صاحب!آپ کو کن باتوں کا علم نہیں ہوگا،الیکشن ہورہے ہیں اور الیکشن اپنے وقت پر ہونے چاہئیں،ہم اس لیے سوچتے ہیں شاید ایک دن سورج طلوع ہو جائے ،66سال بعد حکومت نے مدت پوری کرکے اقتدار منتقل کیا،عدالت کے پیچھے پارلیمنٹ کی بہت بڑی طاقت کھڑی ہے،پہلی بار اپوزیشن نے مثبت سیاست کی،پیپلز پارٹی گالم گلوچ کی نہیں،ایشو کی سیاست کرتی ہے،نگران و زیراعظم کے لئے فیصلہ نہیں ہوا،نام فائنل نہیں ہوا،نگران وزیراعظم کے نام کا فیصلہ15مئی تک ہو جائے گا،نہیں چاہتے ہیں کسی شریف آدمی کا نام لیکر اسے سوالات میں ڈالیں،نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاق نہ ہوا تو معاملہ الیکشن کمیشن جائیگا،وزیراعظم شاہد خاقان عباسی،نواز شریف کا فالو اپ ہے،چیف جسٹس پاکستان بہت محنت کررہے ہیں،نیت پر شک نہیں،چیف جسٹس کوجوکرسی پر ملی ہے وہاں بیٹھ کربھی کام کرسکتے ہیں،چیف جسٹس جو دوریکرتے ہیں وہ مسئلہ سیاست میں آجاتا ہے،چیف جسٹس اپنی کرسی پر بیٹھ کر بھی وزیراعظم کو بلا سکتے ہیں،کچھ غلط ہو تو چیف جسٹس وزرا کو بھی اپنے پاس بلا سکتے ہیں،2،2حکومتیں چل رہی ہیں،اس سے ادارے کمزور ہوتے ہیں،فوج کو بیچ میں نہیں لانا چاہیے،انہیں نارمل لینا چاہیے،آئین و قانون موجودہے ،فوج اپنی حدود میں رہتی ہے،جیے بھٹو کا نعرہ جمہوریت کا نعرہ ہے،عوامی حق ہے،لوگوں کو دیکھنا چاہیے کہ سیاستدان کیا کیا قربانی دیتا ہے ،میرا ایمان ہے جمہوریت اور پارلیمنٹ ملکی سلامتی کی ضمانت ہے ،پارلیمنٹ نے آئین دیا،لوگوں کو چلنے کیلئے کتاب دی،بھٹو اکیلا کیا کرتا،لوگوں نے ووٹ کے ذریعے اسے طاقت دی،اداروں اور وزیراعظم کے پیچھے پارلیمنٹ ہے،پیپلز پارٹی انتخابات میں کسی سے اتحاد نہیں کرے گی۔ خورشید شاہ کی باتیں دوررس کی حامل ہیں، چیف جسٹس کے اقدامات لائق تحسین ہیں، قانون کے تناظر میں ان کے فیصلے اور عوامی حقوق کے آئینہ دار ہیں، انصاف کی فراہمی میں ان کا کردار تاریخ کے سنہری حروف میں لکھا جائیگا۔خورشید شاہ کاکہنااپنی جگہ بجاہے نگران وزیراعظم کے انتخاب میں سیاسی تدبرکی ضرورت ہے۔ حکومت اوراپوزیشن اتفاق رائے سے نام فائنل کرلیں۔

چوہدری نثار کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دیتا ہوں، عمران خان

لاہور: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما چوہدری نثار علی خان کو پی ٹی آئی میں شمولیت کی دعوت دینا چاہتا ہوں۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ چوہدری نثار علی خان سے میری پرانی دوستی ہے، میں انہیں نواز شریف کی بیٹی کی ماتحتی میں کام نہ کرنے کے لیے جرات کا مظاہرہ کرنے پر اپنی پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دوں گا، مریم نواز کی اس کے سوا کوئی حیثیت نہیں کہ وہ نوازشریف کی بیٹی ہے، چوہدری نثار علی خان نے غیرت مندانہ اقدام کیا اور اسی بنیاد پر انہیں پی ٹی آئی میں شمولیت کی دعوت دینا چاہتا ہوں۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلا ہے اور میں دوسری پارٹیوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ بکنے والے ارکان اسمبلی کے نام سامنے لائیں ،ہم نےضمیر بیچنے والے اپنے ارکان کو شوکاز نوٹس جاری کردیے ہیں اگر یہ ارکان ہمیں مطمئن نہ کرسکے تو نیب سے ان کے خلاف ایکشن لینے کا کہیں گے۔ چیرمین پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ مجھے ایک سینیٹر کو منتخب کرانے کیلیے 45 کروڑ روپے کی آفر ہوئی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں کتنا پیسہ چلتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اب طاقتور اور پسے ہوئے طبقات کے لئے دو نہیں بلکہ ایک ہی قانون چلے گا جب کہ امیر اورغریب کے لئے بھی دو نہیں ایک ہی پاکستان ہوگا۔ نگراں حکومت کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا مک مکا ہے ایسے میں شفاف الیکشن کیسے ہوں گے، نگراں سیٹ اپ کا مقصد صاف وشفاف الیکشن کرانا ہے اگر اس بار دھاندلی سے پاک الیکشن کرانا چاہتے ہیں تو نگراں حکومت کے لیے اچھے افراد کو ترجیح دی جائے۔

ہیواوے کا رنگ بدلنے والا آنر 10 اسمارٹ فون متعارف

ہیواوے کی ذیلی کمپنی آنر نے اپنا نیا فلیگ شپ فون متعارف کرادیا ہے جس میں آئی فون ایکس جیسا نوچ اور ڈوئل رئیر کیمرہ سیٹ اپ دیا گیا ہے۔

آنر 10 کے نام سے متعارف کرایا گیا یہ فون قیمت کے لحاظ سے درمیانے درجے کا لگتا ہے تاہم فیچرز کے لحاظ سے کسی بڑی کمپنی کے فلیگ شپ فون سے کم نہیں۔

چین میں ایک ایونٹ کے دوران اس نئے فون کو متعارف کرایا گیا جس کے 2 اسٹوریج آپشن صارفین کے لیے دستیاب ہوں گے۔

ایک ورژن سکس جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج جبکہ دوسرا سکس جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج کے ساتھ ہوگا۔

اس فون میں کمپنی نے ایک دلچسپ چیز اس کی باڈی میں رنگوں کے بدلنے کا ایفیکٹ دینا ہے، ویسے یہ فینٹوم بلیو اور میراج پرپل رنگوں میں دستیاب ہوگا۔

5.84 انچ کے ایل سی ڈی ایف ایچ ڈی پلس ڈپسلے میں 1080x 2280 پکسلز دیئے گئے ہیں۔

فوٹو بشکریہ آنر
فوٹو بشکریہ آنر

اس کے بیک پر ایک 24 میگا پکسل جبکہ دوسرا 16 میگا پکسل کیمرہ ہے تاہم یہ ہیواوے پی 20 کی طرح لائیسا برانڈڈ نہیں۔

فرنٹ پر 24 میگا پکسل کیمرہ موجود ہے اور اسے کمپنی نے اے آئی کیمرہ قرار دیا ہے، یعنی اس لحاظ سے یہ پی 20 اور پی 20 پرو جیسا ہے۔

فون میں کمپنی نے اپنا کیرین 970 پراسیسر دیا ہے جبکہ 3400 ایم اے ایچ بیٹری اور اینڈرائیڈ اوریو 8.1 آپریٹنگ سسٹم کو ہیواوے کے اپنے ای ایم یو آئی 8.1 کے امتزاج سے ساتھ دیا گیا ہے۔

یہ فون 27 اپریل سے چین میں 2599 یوآن (48 ہزار پاکستانی روپے کے قریب) سے 2999 یوآن (55 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت کیا جائے گا، دیگر ممالک میں اسے متعارف کرانے کے حوالے سے کمپنی نے فی الحال کوئی اعلان نہیں کیا۔

Google Analytics Alternative