Home » Author Archives: Admin

Author Archives: Admin

نواز شریف نے عدلیہ مخالف تحریک چلائی تو ان کے خلاف نکلوں گا، عمران خان

اوکاڑہ: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف نے عدلیہ کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے، ان سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے کبھی زندگی میں کوئی تحریک چلائی ہے؟

پنجاب کے شہر اوکاڑہ میں پی ٹی آئی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے گزشتہ روز کہا ہے کہ وہ پاکستان کی عدلیہ کے خلاف تحریک چلائیں گے، میں نواز شریف سے سوال کرتا ہوں کہ انہوں نے کبھی زندگی میں کوئی تحریک چلائی ہے؟ کیا ن لیگ نے اس وقت تحریک چلائی جب پرویز مشرف نے نواز شریف کو قید کردیا تھا؟ نواز شریف معاہدہ کرکے باہر چلے گئے لیکن تحریک چلائی کسی نے؟

عمران خان نے ن لیگی رہنماؤں پر تنقید کی کہ اس طرح کے لوگ تحریک نہیں چلاسکتے، نواز شریف اپنے اور میرے مقدمے کا موازنہ نہیں کریں، میں کبھی حکومت میں نہیں رہا جب کہ کرپشن حکومت میں رہ کر کی جاتی ہے؟  خیبر پختون خوا میں آکر میری کرپشن پوچھی جائے اگر کرپشن نکلی تو سیاست چھوڑ دوں گا۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کوئٹہ میں چرچ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم نے جدوجہد اس لیے کی کہ پاکستان میں  اقلیتوں کو بھی انصاف ملے گا، ان کا بنایا ہوا پاکستان ہندوستان سے بہت بہتر ہے کیوںکہ سب جانتے ہیں کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ کیا کچھ ہورہا ہے، ہم سب کو عہد کرنا ہوگا کہ اقلیتوں کو برابر کا شہری بنائیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں ن لیگ کی حکومت ہے؟ آپ تحریک کس کے خلاف چلائیں گے؟ آپ تحریک چلائیں سب سے پہلے کسان آپ کی تحریک کا ٹماٹروں کے ساتھ استقبال کریں گے، ن لیگ عدلیہ کے خلاف نکلی تو میں ن لیگ کے خلاف نکلوں گا، اگرنواز شریف سمجھتے ہیں کہ عوام ان کے ساتھ ہے تو الیکشن کیوں نہیں کرالیتے؟

چیئرمین تحریک انصاف نے الزام عائد کیا کہ شہباز شریف بھی کم نہیں، انہوں نے کوئٹہ جا کر نوٹوں کے عوض ججز کو خریدنے کی کوشش کی، نواز شریف جسٹس قیوم کی طرح کے ججز چاہتے ہیں، اگر آج عدلیہ نواز شریف کو بحال کردے تو ن لیگ آج اسی عدلیہ کی تعریف شروع کردے گی، سوا ارب روپے جو منی لانڈرنگ کے ذریعے تین سال پہلے باہر گئے ہم اس کی وصولی کے لیے بھی جدوجہد کریں گے، حدیبیہ پیپر ملز کیس میں نئی چیزیں سامنے آئی ہیں، مزید شواہد لے کر نیب کے پاس جاؤں گا۔

قبل ازیں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عمران خان کے حق میں آنے والا فیصلہ مخالفین کو ہضم نہیں ہورہا، محمود اچکزئی کا فاٹا کو متنازع علاقہ قرار دینا ٹھیک نہیں۔

دوسری جانب عمران خان کے خطاب پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ بد زبانی نہیں کرنا چاہتے لیکن عمران خان جھوٹ بولیں گے تومنہ توڑ جواب دیں گے، ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کرکےعمران کس کا کام کر رہے ہیں؟ عمران شعبدہ بازی اور گمراہ کن پروپیگنڈے پر بےشرمی کی حد تک یقین رکھتے ہیں۔

سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جہانگیر ترین کا مال کھایا اور اسے ہی قربانی کا بکرا بنادیا، عمران خان نے خود جوئے اوربال ٹمپرنگ کا اعتراف کیا، وہ ڈیرہ غازی خان جیل میں 5 دن نہیں کاٹ سکے جب کہ نواز شریف نے استقلال سے مشرف دورمیں 17 ماہ جیل کاٹی، نوازشریف نے عالمی طاقتوں کا دباؤ مسترد کرکے ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کیا وہ کسی دھمکی، دباؤ اور مالی پیشکش کو خاطرمیں نہیں لائے

وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ٹھیک کہا ہے کہ گیدڑ تحریک نہیں چلاسکتے کیوں کہ نواز شریف شیر کی طرح بہادر اور عمران گیدڑ کی طرح بزدل ہیں، عمران خان کوئی تحریک چلانے کے قابل نہیں، عدلیہ بحالی تحریک میں عمران خطرے کے خوف سے اسلام آباد میں چھپے رہے جب کہ نوازشریف نے سنگین سیکیورٹی الرٹ کے باوجود عدلیہ بحالی تحریک کی قیادت کی، ہم عدلیہ کا بے حد احترام کرتے ہیں لیکن قانون کے منافی فیصلوں پرتنقید ہوگی۔

نیب نے چوہدری برادران سے انتخابی اخراجات کی تفصیلات مانگ لیں

 لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ (ق) کے چوہدری برادران سے انتخابی اخراجات کی تفصیلات مانگ لیں۔

نیب کی جانب سے سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین اور سابق نائب وزیراعظم چوہدری پرویز الہی کے مبینہ غیر قانونی اثاثوں کی تحقیقات جاری ہیں۔  نیب نے چوہدری برادران سے الیکشن مہم میں ہونے والے اخراجات کا بھی ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا کہ اب تک جتنے الیکشنز میں حصہ لیا ان کی انتخابی مہم پر خرچ کردہ رقم کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

نیب نے چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہی کو انتخابی رقم کے ذرائع و وسائل سے بھی آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب لاہور نے الیکشن کمیشن سے بھی چوہدری برادران کے انتخابی اخراجات کی تفصیلات طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن سے یہ تفصیلات دو ہفتے میں فراہم کرنے کا کہا جائے گا۔

نیب ذرائع کے مطابق چوہدری برادران اور الیکشن کمیشن کی جانب سے موصول تفصیلات کا آزاد ذرائع سے موازنہ کیا جائے گا، ملزمان کی جانب سے غلط جواب جمع کرانے پر انہیں پانچ برس تک سزا بھی ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ نیب آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں چوہدری برادران کے خلاف 2 ارب 42 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثوں کی چھان بین کر رہا ہے۔

عمران نےٹھیک کہا گیدڑ تحریک نہیں چلا سکتے، سعد رفیق

لاہور: وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ نے ٹھیک کہا ہے کہ گیدڑ تحریک نہیں چلا سکتے، نواز شریف شیر کی طرح بہادر جبکہ عمران خان گیدڑ کی طرح بزدل ہیں ۔

نواز شریف شیر کی طرح بہادر اور عمران گیدڑ کی طرح بزدل شخص ھے۔

عمران نے ٹھیک کہا گیدڑ تحریک نہیں چلا سکتے اسی لیے وہ کوٸ تحریک چلانے کے قابل نہیں ھیں

اوکاڑہ میں عمران خان کے خطاب کے بعد سعد رفیق کا ٹوئٹرپر جاری پیغا م میں کہنا تھا کہ نواز شریف نے استقلال سے مشرف دور میں 17 ماہ جیل کاٹی جبکہ عمران خان ڈیرہ غازی خان میں 5دن تک جیل نہیں کاٹ سکے۔
سعد رفیق کا مزید کہنا تھا کہ عدلیہ کا بے حد احترام کرتے ہیں لیکن قانون کے منافی فیصلوں پر تنقید ہوگی اور بلا جواز الزامات کا جواب دیا جائے گا۔ بد زبانی نہیں کرنا چاہتے مگر جھوٹ بولو گے تو منہ توڑ جواب دیں گے۔عمران نے خود جوئے اور بال ٹمپرنگ کا اعتراف کیا ، ملک کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کی سازش کر کے عمران کس کا کام کر رھے ہیں ؟؟

عدلیہ کا بے حد احترام کرتے ھیں لیکن قانون کے منافی فیصلوں پر تنقید ھو گی۔

بلا جواز الزامات کا جواب دیا جاۓ گا۔

وزیر ریلوے کا مزید کہنا تھا کہ میاں نواز شریف نے سنگین سیکیورٹی الرٹ کے باوجودعدلیہ بحالی تحریک کی قیادت کی جبکہ عمران خطرے کے خوف سے اسلام آباد میں چھپا رہا۔نواز شریف کِسی دھمکی دباواور مالی پیشکش کو خاطر میں نہیں لائے اور انہوں نے عالمی طاقتوں کا شدید دباو مسترد کر کے ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کیا۔

میاں نواز شریف نے سنگین سیکیورٹی الرٹ کے باوجودعدلیہ بحالی تحریک کی قیادت کی ۔

عمران خطرے کے خوف سے اسلام آباد میں چھُپا رہا۔

ایک اور ٹوئٹ میں وزیر ریلوے نے کہا کہ عمران نے جہانگیر ترین کا کھایا اور انہیں ہی قربانی کا بکرا بنا دیا۔عمران شعبدہ بازی اور گمراہ ک±ن پروپیگنڈا پر بے شرمی کی حد تک یقین رکھتے ھیں۔ دوسروں کو گالیاں دینے والا خود سر سے پاو¿ں تک گالی ھے۔

زرین خان شاہد آفریدی کیلئے دل کی بات زبان پر لے آئیں

لاہور: ٹی 10 میں پختون ٹیم کو پروموٹ کرنے والی بالی ووڈ کی معروف اداکارہ زرین خان قومی ٹیم کے سٹار آل راونڈر شاہد خان آفریدی سے متعلق دل کی بات زبان پر لے آئیں ، انہوں نے کہا کہ کرکٹ کا تو پتہ نہیں لیکن آفریدی بہت پسند ہیں۔
نجی چینل سے گفتگو میں زرین کہنا تھا کہ نے کہا ہے کہ کھیل کو سیاست سے دور رکھنا چائیے، پاکستان اور بھارت کے عوام ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔شاہد آفریدی سے متعلق خوبرہ بالی ووڈ اداکارہ کا کہنا تھا کہ کرکٹ کا تو پتہ نہیں لیکن آفریدی بہت پسند ہیں۔ انہوں نے پختون ہونے پر فخر کا بھی اظہار کیا۔

ترکی کا مشرقی بیت المقدس میں سفارت خانہ کھولنے کا اعلان

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ کھولنے کا اعلان کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر نے مشرقی بیت المقدس میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان جسٹس اینڈ ڈویپلمنٹ پارٹی کے جلسے سے خطاب میں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی او آئی سے کے اجلاس میں مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کی روشنی میں جلد ہی مشرقی بیت المقدس میں سفارتخانہ کھولے گا۔

انہوں نے کہا کہ اللہ کے حکم سے جلد ہی مشرقی بیت المقدس میں سفارتخانہ کھولیں گے۔

واضح رہے کہ ترکی نے امریکی صدر کے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور سفارتخانہ منتقل کرنے کے فیصلے کی سخت مذمت کی تھی اور او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا تھا۔

یاد رہے کہ رواں ماہ 6 دسمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی دباؤ مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرلیں گے اور اپنے خطاب میں انہوں نے اپنے اس وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا، ‘آج میں اپنا وعدہ پورا کررہا ہوں’۔

جس کے بعد فلسطین اور مشرقی وسطیٰ سمیت دیگر ممالک میں بھی اس فیصلے کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

کرینہ کپور خان نے موٹاپا دور رکھنے کا نسخہ بتا دیا

جسمانی وزن میں کمی لانا راتوں رات ممکن نہیں ہوتا مگر فلمی ستارے عام طور پر یہ کمال دکھاتے رہتے ہیں۔

کبھی عامر خان اپنا جسمانی وزن بہت زیادہ بڑھا کر اسے کم کردیتے ہیں تو کبھی کوئی اور اسٹار ایسا کمال دکھاتا ہے۔

ان میں سے ایک نام کرینہ کپور خان کا بھی ہے جنھوں نے اپنے بیٹے تیمور علی خان کی پیدائش (20 دسمبر 2016) کے بعد خود کو جسمانی طور پر بدل کر دکھایا اور وہ بھی بہت کم وقت میں، جس کے دوران انہوں نے 20 کلو تک وزن کم کیا۔

مگر انہوں نے ایسا کمال کیسے کیا؟ یہ خود انہوں نے بتایا۔

گھی کھانا

رواں سال جولائی میں فیس بک لائیو چیٹ کے دوران معروف سلیبرٹی نیوٹریشن رجوتا دیواکر کے ساتھ کرینہ نے گھی کے استعمال کو جسمانی وزن کے لیے فائدہ مند قرار دیا۔ انہوں نے گھی کا استعمال حمل سے پہلے، دوران اور بعد میں جاری رکھا اور ان کے مطابق یہ نہ صرف بچے کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ جسمانی وزن میں کمی میں مدد بھی دیتا ہے۔ گھی جراثیم، جوڑوں کیلئے بہتر، جلد کی جگمگاہٹ اور جسمانی وزن میں کمی کے لیے اچھی چربی سے بھرپور ہوتا ہے۔

ورزش کو معمول بنانا

سوشل میڈیا سائٹس جیسے انسٹاگرام ایسی تصاویر سے بھرا ہوا ہے جس میں کرینہ کپور جم کا رخ کررہی ہوتی ہیں،کرینہ کے مطابق اگر ورزش کو معمول بنالیا جائے تو اضافی جسمانی وزن سے نجات کوئی مسئلہ نہیں ہوتا کیونکہ یہ عادت میٹابولزم کو متحرک رکھتی ہے۔

ڈائیٹنگ سے گریز

کرینہ کپور نے چیٹ کے دوران یہ بھی بتایا کہ وہ راتوں رات وزن کم نہیں کرنا چاہتی تھیں، انہوں نے اپنے وزن کو معمول پر لانے کے لیے ایک سال کا عرصہ لیا اور ان کا کہنا تھا کہ ڈائیٹنگ سے عارضی طور پر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں مگر اس سے صحت ہمیشہ کے لیے متاثر ہوتی ہے۔

معمولات پر بندھے رہنا

کرینہ کپور کے مطابق جسمانی وزن میں کمی کے لیے طے کردہ طریقہ کار پر جمے رہنا ہی بہتر ہوتا ہے، اگر ایسا نہ ہو تو جسمانی وزن میں کمی لانا ممکن نہیں ہوتا۔

جنک فوڈ سے دوری

کرینہ کپور وقت پر کھانا کھانے کی وکالت کرتی ہیں اور جنک فوڈ کی سخت مخالف ہیں، ان کے مطابق کھانے کے کوئی وقت نہ ہونا صحت کے لیے نقصان دہ غذاﺅں کی خواہش بڑھاتا ہے جس سے جسمانی وزن میں کمی کا خواب پورا نہیں ہوپاتا، اپنے طے کردہ کھانوں تک محدود رہنا، بروقت کھانا اور جنک فوڈ سے دوری موٹاپے سے نجات کی کنجی ہے۔

اسلامی فوجی اتحادکے ایجنڈے میں القدس سرفہرست ہوناچاہیے، سراج الحق

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے فلسطین اور کشمیر کے معاملات کو حل کرنے کے لیے مسلم امہ کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی فوجی اتحاد کو ایک ایجنڈہ دینا چاہیے جس میں القدس سرفہرست ہو۔

کراچی میں جماعت اسلامی کے القدس ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ مسلم امہ اتحاد کے ذریعے ہی طاقت ور ہوسکتی ہے اور اب مسلمانوں کو کشمیراورفلسطین کے لیے اٹھ کھڑا ہونا پڑے گا۔

امریکا کی جانب سے بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکا کو اپنا فیصلہ واپس لینا ہوگا اور حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک امریکا کے سفیروں کو نکال دیں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ آج کراچی میں لاکھوں کے جلسہ عام نے پیغام دیا ہے کہ ہم بھی القدس کےساتھ ہیں اور کشمیر اورالقدس کے لیے ایک ہونا چاہیے۔

جماعت اسلامی کے امیر نے اپنے خطاب میں تجویز دی کہ اسلامی فوجی اتحاد کوایک ایجنڈا دینا چاہیے جس میں القدس سرفہرست ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی رہنمائی میں تشکیل دیا گیا اسلامی فوجی اتحاد 40 اسلامی ممالک پر مشتمل ہے جس کا مقصد رکن ممالک کو انسداد دہشت گردی میں تعاون فراہم کرنا ہے۔

پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کو اسلامی فوجی اتحاد کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ عالم اسلام متحد نہیں بلکہ دست و گریباں ہے، امت مسلمہ کو سازش کے تحت تقسیم کیا جارہا ہے، امت کومسلکی اور رنگ و نسل پرتقسیم کرناسازش ہے۔

مسلمان حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عالم اسلام کے حکمران سورہے ہیں لیکن قوم جاگ رہی ہے اور جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے القدس اسرائیل کا دارالحکومت نہیں بن سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ کبھی ہم روہنگیا اورکبھی مسئلہ کشمیر پراحتجاج کررہے ہیں لیکن متحد ہوکر تمام سازشوں کو توڑنا ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی نے ملکی سیاست پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 2018 میں پاکستان میں اسلامی انقلاب آئے گا۔

انھوں نے کوئٹہ میں چرچ پرحملے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کا ذمہ دار بھارت کو قرار دے دیا۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف بھارت، اسرائیل اور امریکا کا ٹرائیکا بن چکا ہے۔

عدلیہ کیخلاف صف آراء ۔۔۔سیاستدانوں کو چیف جسٹس کاانتباہ

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے لاہور میں منعقدہ سیمینار میں عدلیہ کیخلاف صف آرا سیاستدانو ں اور دوسر ے متعلقین کو انتباہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم نے آئین اور جمہوریت کے تحفظ کی قسم کھا رکھی ہے۔ججز آئین، قانون اور ضمیر کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ کوئی پیدا نہیں ہوا جو ہم پر دباؤ ڈالے یا فیصلوں کیلئے پلاننگ کرے۔ اگر کسی کا دباؤ چلتا ہوتا تو حدیبیہ کیس کا فیصلہ اس طرح نہ آتا جو آیا۔ فیصلوں پر تبصرے کرنے والوں کو حقیقت کا علم نہیں ہوتا۔ ہم نے جتنے بھی فیصلے کئے وہ آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔یقین دلاتا ہوں کہ ہم آئین کا تحفظ کریں گے۔ ہمارے نظام میں تاخیر سب سے بڑی خرابی ضرورہے۔انہوں نے حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ کے فیصلوں پر ہونے والے تبصروں کے تناظر میں کہا کہ آپ کے خلاف بھی فیصلہ آ جائے تو عدلیہ کو گالیاں نہ دیں۔عدلیہ کو جمہوریت اور جمہوری اداروں کی اہمیت کا ادراک ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوریت ہے تو آئین ہے اور آئین ہے تو ریاست ہے۔ قسم کھا سکتا ہوں کہ عدالت پر اندورونی اور بیرونی کوئی دباؤ نہیں۔ جوڈیشری ریاست کا وہ بزرگ ہے جو رجوع کرنے پر آئین اور قانون کے تحت فیصلے کرتا ہے۔ عدالتیں کسی پلاننگ کا حصہ نہیں۔ عدلیہ کی نیت پر شک نہ کریں۔ پلان کہاں سے آ گئے؟ عدلیہ میں ججز کیلئے اپنے منصب سے بڑی اور کوئی عزت نہیں۔18ویں ترمیم کیس میں میں نے پارلیمنٹ کی برتری مانی۔ریاست کے سارے کام جمہوریت کے ساتھ جڑے ہیں۔ وکلا ادارے کو مضبوط کرنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ کل کے فیصلے میں ایک تکنیکی غلطی تھی جس کو ہم نے ٹھیک کیا۔ جج آزاد ہیں۔ عدلیہ میں کوئی تقسیم نہیں۔ ہر جج اپنے ذہن اور قانون کے مطابق فیصلہ دینے میں آزاد ہے۔ سیاسی کچرے سے سپریم کورٹ کی لانڈری کی جان چھوٹے تو باقی عام آدمی کے مقدمے بھی دیکھیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وکیل سائلین سے بہت زیادہ فیس وصول کرتے ہیں۔آج ہی وکلا آدھی فیس لینے کا اعلان کر کے اپنے سائلین کیلئے لوٹ سیل لگا دیں۔ کیا یہ وکالت ہے کہ کیس بنتا ہی نہ ہو اور فیس کیلئے کیس کا مشورہ دیا جائے۔ انصاف کی فراہمی کیلئے وکلا پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہم شاید وہ معیاری انصاف نہیں دے پارہے جو سائلین کا حق ہے۔ جج کی ڈیوٹی ہے قوم کی محبت کا قرض ادا کرے، جج کا دیکھیں کتنا استحصال ہورہا ہے، ججز کو چیمبرز میں جا کر گالیاں دینا کہاں کا شیوہ ہے، یہ کہاں کے پڑھے لکھے لوگوں کا کردار ہے۔ ایک خاتون سول جج کو چیمبر میں جاکر گالیاں دینا کہاں کا شیوہ ہے۔ میں عدلیہ اور وکلا کا بڑا بھائی ہونے کے ناطے کہہ رہا ہوں۔دونوں کو عزت دینا ہو گی۔ مجھے سینئر ججز اور وکلا سے اس معاملے کو حل کرنے کیلئے تعاون چاہیے۔ ججز کیلئے اچھا ٹریننگ پروگرام ہونا چاہیے، جوڈیشل اکیڈمی کو ایکٹیویٹ کرنا چاہیے، مجھے احساس ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں کچھ تعیناتیاں مشکوک ہیں۔ جہاں تک قابلیت کا تعلق ہے تو جج کا باکردار ہونا سب سے زیادہ ضروری ہے، دوسرا قانون کا علم اور تیسرا اس کا کنڈکٹ ہے۔میں نے ہر چیف جسٹس کو کہا ہے کہ اپنے ساتھیوں کی رائے کے بعد اعلی عدلیہ میں تعیناتیاں کریں۔ میری مخالفت بھی ہوگی۔ ہمارے بہت سارے فیصلوں میں تضاد بھی ہوگا۔ یہ بار اور ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کو ریویو کریں۔ ہم اگر کہیں غلط ہیں تو ان کی اصلاح ہمارا فرض ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ججوں پر دباؤ ڈال کر فیصلے کرانے والا پیدا نہیں ہوا، عدلیہ کا وقار شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ آئین اور جمہوریت کے تحفظ کی قسم کھا رکھی ہے۔ ہمارے نظام میں تاخیر سب سے بڑی خرابی ہے۔ ہم نے پارلیمنٹ کی سپر میسی اور حدود قیود کو تسلیم کیا ہے۔ بارز اور عدلیہ دونوں کو ظرف اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ میں بابانگ دہل کہتا ہوں کہ کوئی غلط تعیناتی کروں گا اور نہ ہونے دوں گا۔چیف جسٹس نے بجافرمایا ہے عدلیہ کوتنقید کانشانہ بنانے کی روایت درست نہیں ہے اور یہ روایت اب ختم ہوجانی چاہیے عدلیہ تنقید کی زد میں دکھائی دے رہی ہے خاص کرپانامہ کیس کے فیصلے کے بعد اس پر جس طرح تنقید کی جارہی ہے اور ججز پر تضحیک اڑانے کا رجحان دکھائی دے رہا ہے وہ درست نہیں ہے۔عدلیہ جو فیصلہ صادر کرتی ہے وہ آئین اور قانون کی روشنی میں ہوا کرتا ہے ا س کو حرف تنقید بنانا کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے ۔سپریم کورٹ نے جو فیصلے کئے ہیں وہ آئین اورقانون کے تناظرمیں کئے ہیں آزاد عدلیہ کے آزادانہ اورمنصفانہ فیصلے قانون کی حکمرانی کامنہ بولتاثبوت ہیں۔
کوہاٹ میں ترقیاتی منصوبوں کاافتتاح
وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے کوہاٹ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ (ن) لیگ واحد جماعت ہے جو صرف باتیں نہیں کام بھی کرتی ہے اسی کارکردگی کی بنیاد پر انتخابات میں جائیں گے۔ مسلم لیگ(ن)خدمت کی سیاست کرتی ہے الزام کی نہیں اور نواز شریف نے جو بھی وعدے کیے وہ پورے کیے ہیں 20 سال میں وہ کام نہیں ہوئے جو 4 سال میں کیے مسلم لیگ(ن)کی حکومت نے ملک میں انتشار کا مقابلہ کیا۔ وزیر اعظم نے حکومتی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے اپنے موجودہ دورِ اقتدار میں جتنے منصوبے لگے ہیں اتنے منصوبے 2000 سے 2013 تک نہیں لگائے گئے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں پاکستان میں جتنی ترقی ہوئی ہے اتنی پاکستان میں کبھی نہیں ہوئی۔انہوں نے سوال کیا کہ ملک میں گزشتہ 17 سالوں میں 2000 سے 2008 تک فوجی آمر کی حکومت رہی اس کے پاس وسائل بھی موجود تھے تاہم ملک میں ترقیاتی منصوبے نہیں لگائے گئے اس کے علاوہ 5 سال تک پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت رہی اور تب بھی پاکستان میں نمایاں ترقیاتی کام نہیں ہوئے۔ مسلم لیگ(ن)کے جلسوں سے کبھی کسی کو گالی نہیں دی گئی اور نہ ہی کبھی کسی کی برائی کی گئی۔ آج ملک میں فاٹا اور خیبر پی کے انضمام کے حوالے سے بڑے بڑے جلسوں میں بات کی جاتی ہے لیکن اس معاملے کو سب سے پہلے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ہی اٹھایا تھا اور اسے مسلم لیگ (ن)کی ہی حکومت پایہ تکمیل تک پہنچائے گی۔ اس نظام کو ختم کر کے فاٹا کو پاکستان میں ضم کر دے گی۔ آج ملک کی سکیورٹی صورتحال بہت بہتر ہے، پورا پاکستان محفوظ ہے۔حکومت اس وقت بڑی تعداد میں منصوبوں کا افتتاح کر رہی ہے جو چھوٹے نہیں بلکہ بڑے منصوبے ہیں۔ 15 جولائی 2018 کو الیکشن میں فیصلہ عوام کریں گے۔ 20 سال میں وہ کام نہیں ہوئے جو چار سال میں کیے۔ وزیر اعظم عباسی نے اپنے دورہ کوہاٹ کے موقع پر 128کلومیٹر طویل سرائے گھمبیلا، کوہاٹ سیکشن اور 73کلومیٹرپنڈی گھیپ کوہاٹ سڑک کو دو رویہ کرنے کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا۔128کلومیٹر طوالت والے سرائے گھمبیلا، کوہاٹ سیکشن پر لاگت کا تخمینہ 22ارب روپے جبکہ 73کلومیٹرپنڈی گھیپ کوہاٹ سڑک کو دو رویہ کرنے کے منصوبے کی کی لاگت 10ارب روپے ہے اور یہ منصوبے دوسال میں مکمل ہوں گے۔ وزیر اعظم نے دورے کے دوران 98کروڑ روپے کی لاگت سے کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی کے وویمن کیمپس کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ لوگو ں کو ریلیف فراہم کرے اورایسے اقدامات کرے جو ملکی ترقی اورخوشحالی کیلئے ممدومعاون ثابت ہوں۔

Google Analytics Alternative