Home » Author Archives: Admin (page 10)

Author Archives: Admin

ابھی گراں بسانہیں

تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان انتخابات میں بھاری کامیابی کے بعد رواں ہفتے ملک کے 21ویں وزیراعظم کا حلف اٹھانے جا رہے ہیں۔گزشتہ ہفتے انہیں پارٹی نے ایک بڑے پارلیمانی اجلاس میں وزیراعظم کے لیے نامزد کیا تھا۔عمران خان کو اس منصب تک پہنچنے کے لیے ایک طویل جدوجہد سے گزرنا پڑا۔خصوصاً مسلم لیگ نون کے پانچ سالہ عرصہ اقتدار میں انہوں نے ایک حقیقی اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کر کے عوام میں خود کو متبادل لیڈر کے طور پر منوایا جبکہ قبل ازیں گزشتہ کئی عشروں سے مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان میچ پڑتا اور ان کی قیادتیں باری باری اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہوتی رہتی تھیں۔حالیہ الیکشن کے دوران ان دونوں جماعتوں کو تحریک انصاف کے ہاتھوں ناک آوٹ ہونا پڑا۔پنجاب جو نون لیگ کا قلعہ تصور کیا جاتا ہے یہاں سے بھی تحریک انصاف نے اسے کافی ڈینٹ ڈالا ہے اور تخت لاہور شریف فیملی کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ خود کو ناقابل شکست تصور کرنے والی نون لیگ کو اپنا وجود برقرار رکھنے لیے اپنی حریف جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا ہاتھ تھامنا پڑا ہے۔اگرچہ ان دونوں کا جماعتوں کا عوام کو بیوقوف بناتے ہوئے سیاسی مفاد کی خاطر ایک بار پھر مل بیٹھنا نئی بات نہیں لیکن ایک عام آدمی سوچتا ہے کہ آخر کب تک ان دونوں جماعتوں کی قیادتیں ایک دوسرے کا تھوکا چاٹتے رہیں گی۔عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی کامیابی بہت سووں پربھاری پڑی ہوئی ہے۔اس وقت کی اپوزیشن کی صفوں میں تو صف ماتم بچھی ہی ہے ان کے like- minded دانشور بھی ’بے کلی‘ سے دوچار ہیں اور دور کی کوڑیاں لانے میں جت گئے ہیں۔مثلاً تواتر کے ساتھ یہ کہا جانے لگا ہے کہ عمران خان کا آرمی کے ساتھ فوری ٹکراؤ تو شاید ممکن نہیں تاہم ایک سال کے اندر ٹکراؤ ہو جائے گا۔اسے کہتے ہیں گاؤں بسا نہیں اور اُچکے پہلے نکل پڑے۔ابھی عمران خان کی حکومت بنی نہیں اور بد نیتی پر مبنی بھاشن،قیاس آرائیوں اور بدگمانیوں کا سودا بیچنے والوں نے اپنا جمعہ بازار سجا دیا ہے۔ایسے تجزیے سرا سر بدنیتی پر مبنی اور اس پروپیگنڈے کا حصہ ہیں جو حالیہ انتخابات کی ساکھ کو متنازعہ بنانے کیلئے بین الاقومی سطح پر کیا جا رہا ہے۔اوائل اگست میں جس روز محترم سہیل وڑائچ یہ پیش گوئی کر رہے تھے کہ عمران حکومت اور آرمی میں ایک سال کے اندر ٹکراؤ ہو جائے گا اس سے اگلے روز واشنگٹن ڈی سی میں ایسی ہی بدگمانی کا اظہار ایک مجلس مذاکرہ میں کیا جا رہا تھا کہ عمران خان نے چھوٹی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں سے مل کر جو اتحاد بنایا ہے وہ ایک کمزور حکومت ثابت ہوگا تاہم ایک کمزور حکومت مقتدر قوتوں کے مفاد میں ہے ۔پاکستان کے طاقتور حلقے 2013 جیسے مضبوط وزیر اعظم کے حق میں نہیں ہیں۔اس مذاکرے کا اہتمام امریکی تھینک ٹینک ہڈسن انسٹی ٹیوٹ نے کیا تھا ۔اس کے مقررین میں دیگر کے علاوہ سابق سفیر حسین حقانی بھی شامل تھے۔جس تقریب میں حسین حقانی جیسے مقرر موجود ہوں اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں رہتی کہ وہاں کیا زہر اگلا گیا ہو گا۔کہا گیا کہ جس طریقے سے عمران خان نے مقتدر قوتوں کیساتھ مل کر اقتدار حاصل کیا ہے اس سے انہوں نے خود کو بھی اس نظام کا حصہ بنا لیا ہے جسکے خلاف نوجوان طبقے نے ان کا ساتھ دیا ہے۔کہا گیا کہ1970میں عوامی مینڈیٹ انتخابات کے بعد چرایا گیا تھا جبکہ اس بار مینڈیٹ انتخابات سے پہلے ہی چرا لیا گیا۔پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اس طرح کی سیاسی انجنیئرنگ ایوب خان کے زمانے سے کرتی آ رہی ہے۔ الیکشن سے پہلے نوازشریف کی نااہلی اور پھر جیل، الیکٹیبلز کو ایک پارٹی میں شامل ہونے کے لیے مبینہ دبا، میڈیا پر پابندیاں اور شدت پسند گروہوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی چھوٹ جیسے عوامل انتخابات سے پہلے دھاندلی کا حصہ تھے۔ایسے پروپیگنڈے کا مقصد اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ بیرونی طاقتیں اپنے مہروں کو بچانا چاہتی ہیں۔وہ چاہتی ہیں کہ عمران خان حکومت اپنے قدم جمانے سے قبل جلد سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہو کر رخصت ہو جائے اور وہ اپنے مہرے واپس اقتدار میں لے آئیں۔ جہاں تک انتخابات کی شفافیت کا تعلق ہے تو اس حوالے سے عالمی مبصرین کی رائے بالکل مثبت رہی۔دولت مشترکہ، یورپی یونین اور فافن کے مبصرین نے عام انتخابات2018کو شفاف قرار دیا۔ دولت مشترکہ گروپ کے چیف مبصرعبدالسلام ابوبکر نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ عام انتخابات کے دوران ہمارے مشاہدے کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی موجودگی میں انتخابی عمل متاثر نہیں ہوا،بلکہ لوگوں نے زیادہ آزادنہ طریقے سے ووٹ دیا۔ یہ ایک نسبتاً چھوٹا مگر نامور بین الاقوامی مبصرین پر مشتمل دولتِ مشترکہ کے رکن ممالک کا گروپ تھا۔ اس میں14ارکان تھے جن میں نائیجیریا کے سابق سربراہِ مملکت جنرل عبدالسلامی ابوبکر بھی شامل تھے۔اس گروپ کے دیگرارکان میں سابق ہندوستانی چیف الیکشن کمشنر، سری لنکن الیکشن کمیشن کے رکن، ملائیشین ہیومن رائٹس کمیشن کے کمشنر، نیوزی لینڈ کے ایک سابق وزیر، برطانیہ کے ایک جج، ماریشیئن الیکشن کمیشن کے ایک رکن، آسٹریلیا کے ایک سینیٹر اور بنگلہ دیش، جنوبی افریقا، فجی، کینیا اور نائیجیریا کی سول سوسائیٹی کے نمایاں ارکان شامل تھے۔اس مبصر گروپ نے 2018 کے انتخابات کو پاکستان کی جمہوری تاریخ میں سنگ میل قرار دیا۔ کامن ویلتھ آبزرورگروپ نے اس بات کو خاص طور پر نوٹ کیا کہ حالیہ الیکشن کے لیئے قوائدو ضوابط میں گزشتہ انتخابات کی نسبت الیکشن کمیشن کو زیادہ بااختیار بنایا گیا تھا۔گروپ کے سربراہ نے لوگوں کے بڑھ چڑھ کر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستانی ووٹرز ، الیکشن کمیشن ، پولنگ سٹاف، سیاسی جماعتوں اور ان کے امیدواروں ، پولنگ ایجنٹس، اور عام انتخابات کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے اپنے اپنے کردار کو بخوبی نبھانے کے عمل کو سراہتے ہیں۔اسی طرح یورپی یونین کے مبصر مشن نے بھی اطمینان کا اظہار کیا جبکہ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک فافن نے رپورٹ دی کہ ، نتائج کے اعلان میں تاخیرکے علاوہ کوئی قابل ذکر واقعہ سامنے نہیں آیا،کسی سیاسی جماعت نے انتخابی عمل کے دوران سیکیورٹی فورسز کے کام کے طریقہ پرسوالات نہیں اٹھائے۔ مبصرین کی رائے ہے کہ انتخابی عمل کے دوران سیکیورٹی فورسسز کی موجودگی اور کام پر کسی نے سوال نہیں اٹھائے اور نہ کسی نے دھاندلی کی شکایت کی مگر شکست کے بعد رونا دھونا اور آرمی کو مورد الزام ٹھہرانا بودا پن ظاہر کرتا ہے۔شکست خوردہ جماعتوں کا واویلا ہے کہ تاریخی دھاندلی ہوئی ہے مگر ہمارا خیال ہے کہ اس بار دھاندلی ہونے نہیں دی گئی۔اس بار عوام نے جس کو ووٹ ڈالا اسی کے کھاتے میں گِنا گیا جبکہ ماضی میں’’میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے‘‘کے مصداق ووٹ کسی اور کا ہوتا تھا

مشینری کی درآمد میں کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

اسلام آباد: ملک کی مختلف ڈرائی پورٹس سے پرانی اور استعمال شدہ مشینری کے ہزاروں کی تعداد میں کنٹینرز کی کلیئرنس میں کروڑوں روپے کی ڈیوٹی اور ٹیکس چوری کا انکشاف ہوا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے معاملے کی چھان بین کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سینئر افسر نے گزشتہ روز ’’ایکسپریس‘‘ کو بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ڈرائی پورٹس پر پرانی اور استعمال شدہ مشینری کی درآمد کے کنٹینرز کی کلئیرنس پر وصول ہونے والی ڈیوٹی و ٹیکسوں کی چھان بین کی ہدایات فیصل آباد ڈرائی پورٹ پر استعمال شُدہ مشینری کی درآمد پر کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری کا معاملہ سامنے آنے پر جاری کی گئی ہیں۔

مذکورہ افسر نے بتایا کہ ملک بھر میں قائم تمام ڈرائی پورٹس کے ریکارڈ کی چھان بین کی جائے گی اور اس معاملے کی بھی تحقیقات ہوں گی کہ مس ڈیکلریشن کی مد میں ڈیوٹی و ٹیکسوں کے حوالے سے کتنا نقصان پہنچایا گیا ہے اور ذمے داروں کے خلاف کارروائی کرنے کے ساتھ ساتھ چوری شُدہ ڈیوٹی و ٹیکسوں کے واجبات بھی جرمانوں کے ساتھ ریکور کیے جائیں گے۔

افسر نے بتایا کہ اس معاملے کا نوٹس وفاقی ٹیکس محتسب نے بھی لے رکھا ہے اور وفاقی ٹیکس محتسب نے بھی اس بارے میں ایف بی آر سے رپورٹ طلب کررکھی ہے۔ مذکورہ افسر نے بتایا کہ ایف بی آر نے اس کیس کے حوالے سے اپ ڈیٹڈ ریکارڈ طلب کیا ہے جس کی بنیاد پر رپورٹ تیار کرکے وفاقی ٹیکس محتسب کو بھی پیش کی جائے گی لیکن ایف بی آر نے اپنے طور پر نہ صرف اس کیس میں بلکہ اس کی بنیاد پر ملک کے دیگر ڈرائی پورٹس پر بھی پُرانی و استعمال شُدہ مشینری کے درآمدی کنٹیبرز کی کلیئرنس اور اس سے حاصل ہونے والے ڈیوٹی و ٹیکسوں کے معاملے کی چھان بین کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

اس حوالے سے ’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر کو موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق فیصل آباد ڈرائی پورٹ پر سال 2011 سے 2013 کے دوران پرانی و استعمال شدہ مشینری کے ایک ہزار 188 کنٹینرز کی کلیئرنس میں 93کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد کی ڈیوٹی و ٹیکس چوری کا انکشاف ہوا ہے اور یہ انکشاف فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے فیصل آباد ڈرائی پورٹس پر درآمدی اشیا کی کلیئرنس میں ڈیوٹی و ٹیکس چوری کے معاملات کا جائزہ لینے کیلیے قائم کردہ انکوائری کمیٹی کی جانب سے کیا گیا۔

کمیٹی کی جانب سے انکشاف کیا گیا کہ فیصل آباد ڈرائی پورٹ پر مذکورہ عرصے کے دوران پُرانی و استعمال شُدہ مشینری کے ایک ہزار ایک سو 88 کنٹینرز کی کلیئرنس پر فی کنٹینر 7 لاکھ 85 ہزار295روپے ڈیوٹی و ٹیکس چوری کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کنٹینرز پر ڈیوٹی و ٹیکسوں کی جو مالیت بنتی تھی وہ وصول نہیں کی گئی بلکہ ملی بھگت سے بہت کم ڈیوٹی و ٹیکس وصول کیا گیا ہے جس سے قومی خزانے و ڈیوٹی و ٹیکسوں کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔

 

کتے اور بلی کے لعاب میں موجود ہلاکت خیز بیکٹیریا

واشنگٹن: کتے اور بلی کے لعاب میں موجود ’کیپنو سائیٹو فیگا‘ نایاب لیکن ہلاکت خیز بیکٹیریا ہے جو گزشتہ ماہ امریکا میں دو افراد کی جان لے چکا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ ماہ 58 سالہ امریکی شخص شیرون لارسن اپنے پالتو کتے کے کاٹنے کی وجہ سے انتقال کرگئے تھے۔ اسی طرح 48 سالہ خاتون کو پالتو بلی نے ہاتھ پر کاٹ لیا تھا اور چند دنوں بعد وہ بھی چل بسیں۔

دونوں افراد کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ موت کی وجہ غیر معمولی اور منفرد ہے۔ دونوں کے خون میں Capnocytophaga  نامی بیکٹیریا موجود تھا جو اب دنیا میں نایاب ہے اور عمومی طور پر کتے اور بلی کے لعاب میں پایا جاتا ہے۔

قبل ازیں خیال کیا جاتا تھا کہ کتے اور بلی میں پایا جانا والا یہ بیکٹیریا Capnocytophaga   انسان کو بیمار اور لاغر تو کرسکتا ہے لیکن یہ ہلاکت خیز نہیں تاہم امریکا میں دو افراد کی موت نے سابق نظریات کو غلط ثابت کردیا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ Capnocytophaga  کمزور قوت مدافعت والے افراد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا تھا لیکن دو صحت مند افراد کی موت پر ماہرین طب کو اس حوالے سے مزید تحقیق کرنا ہوگی۔

محمد حفیظ کی ’’غیر اعلانیہ دھمکیوں‘‘ پر حکام آگ بگولہ

کراچی: محمد حفیظ کی’’ غیراعلانیہ دھمکیوں‘‘ نے پی سی بی حکام کو آگ بگولہ کر دیا۔

محمد حفیظ کی حالیہ ’’ غیراعلانیہ دھمکیوں‘‘ نے پی سی بی حکام کو ناراض کر دیا ہے، آل رائونڈر نے سینٹرل کنٹریکٹ میں اے سے بی کیٹیگری پر تنزلی کے بعد گوکہ کوئی باقاعدہ بیان تو نہیں دیا، البتہ ان کے ’’قریبی ذرائع‘‘ سے یہ خبریں آئی تھیں کہ وہ سخت ناخوش اور ریٹائرمنٹ پر غور کر رہے ہیں۔

چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے میڈیا سے بات چیت میں واضح کر دیا کہ وہ کسی کی بلیک میلنگ میں آ کر سینٹرل کنٹریکٹ میں تبدیلی نہیں کرینگے، ان کے انداز کو دیکھ کر حفیظ بیک فٹ پر چلے گئے اور ٹویٹ سے معاملات ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔

ذرائع نے بتایا کہ امام الحق اور فخر زمان کے ساتھ ایشیا کپ میں ریزرو اوپنر کی ضرورت تو پڑیگی مگر حفیظ سے حکام ناراض ہیں، اگر معاملات سیٹ نہ ہوئے تو انھیں گھر بیٹھنا پڑے گا، البتہ اگر وضاحت نے بورڈ کو مطمئن کر دیا تو وہ یو اے ای جانیوالے طیارے میں سوار ہو جائینگے، اس صورت میں بھی یہ بات یقینی نہیں ہو گی کہ وہ پلیئنگ الیون کا حصہ بن سکیں۔ واضح رہے کہ زمبابوے سے سیریز کے پانچوں ون ڈے میچز کے دوران انھیں میدان میں نہیں اتارا گیا تھا۔

دوسری جانب ایشیا کپ کیلیے قومی اسکواڈ میں عماد وسیم کی واپسی تقریباً یقینی ہے، وہ پی ایس ایل کے دوران انجری کے سبب کافی عرصے انٹرنیشنل کرکٹ سے دور رہے ، البتہ اب مکمل فٹ ہو کر کیریبیئن پریمیئر لیگ میں جمیکا تالاواز کی نمائندگی کر رہے ہیں، ایک زمانے میں وہ مکی آرتھر کی آنکھوں کا تارا تھے مگر بعد میں رویے اور کمٹمنٹ کی کمی نے کوچ کو بدظن کر دیا، اب انھیں ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

عماد نے آخری بار گذشتہ برس اکتوبر میں سری لنکا سے سیریز کے دوران گرین شرٹ زیب تن کی تھی، ان کیلیے ممکنہ طور پر محمد نواز کو جگہ خالی کرنا پڑے گی، وہ زمبابوے کیخلاف صرف ایک ون ڈے کھیل سکے جس میں 2 وکٹیں حاصل کی تھیں،ٹور کے دوران ہی کوچ نے انھیں خبردار کر دیا تھا کہ عماد وسیم فٹ ہو چکے لہذا وہ ٹیم سے باہر ہو سکتے ہیں۔ کمزورحریف کیخلاف بھی2 میچز میں 41 کی اوسط سے صرف ایک وکٹ لینے والے لیگ اسپنر یاسر شاہ ایشیا کپ کیلیے اسکواڈ میں جگہ برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔

دوسری جانب کوچ مکی آرتھر نے تربیتی کیمپ سے قبل 28 اگست سے قومی کرکٹرز کو 4روز کیلیے ایبٹ آباد یا کسی دوسرے پُرفضا مقام لے جانے کی تجویز دی ہے،کیریبیئن لیگ اور انگلش کرکٹ میں مصروف قومی کرکٹرز کو 27 اگست تک وطن واپسی کی ہدایت کر دی گئی ہے، وہ ایک ساتھ وقت گذار کر ایشیا کپ و دیگر اہم ایونٹس سے قبل تازہ دم ہوسکیں گے، وقت کی کمی کے سبب فوجی طرز کی ٹریننگ ممکن نہیں البتہ پلیئرز فٹنس بہتر بنانے کیلیے پہاڑ پر چڑھنے، ایکسرسائز و دیگر سرگرمیاں جاری رکھیں گے،ان کے فٹنس ٹیسٹ پہلے ہی لیے جا چکے ہونگے۔

کوچ کا خیال ہے کہ زیادہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے بغیر ساتھ وقت گذار کر کھلاڑی تروتازہ ہو جائیں گے،واپسی کے بعد ممکنہ طور پر3 ستمبر سے لاہور میں چند روز کے تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا جائیگا، مصروف ترین سیزن سے قبل کھلاڑیوں کو تحریک دلانے کیلیے کسی غیرملکی ماہر نفسیات کیساتھ سیشن کا بھی امکان ہے، ٹیم مینجمنٹ کا خیال ہے کہ اس طرح کے لیکچر سے پلیئرز کا اپنی صلاحیتوں پر اعتماد مزید پختہ ہو جاتا اور انھیں کھیل میں مزید نکھار لانے میں مدد ملتی ہے۔

واضح رہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کو آئندہ ماہ یو اے ای میں ایشیا کپ کھیلنا ہے، ایونٹ میں روایتی حریف بھارت کیساتھ بھی مقابلے ہونگے، اکتوبر اور نومبر میں اماراتی سرزمین پر ہی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے سیریز بھی شیڈول ہے، دسمبر سے فروری تک ٹیم کو جنوبی افریقہ کا مشکل دورہ کرنا ہوگا۔

سورج کی تحقیق کے لیے ناسا کی خلائی گاڑی تاخیر سے روانہ

یہ انسانی فطرت ہے کہ جس چیز کے بارے میں اسے تجسس ہوتا ہے وہ اس چیز کا قریبی معائنہ کرنے کی جستجو رکھتا ہے، جیسے 17 ویں صدی میں آئزک نیوٹن کے سائنسی قوانین کی وجہ سے ہمیں آج یہ بات معلوم ہے کہ اگر کسی بھی چیز کو ایک مخصوص رفتار سے خلاء میں بھیجا جائے تو وہ زمین کے گرد چکر لگاتی ہے۔

اس نظریے نے سائنسدانوں کے دماغ میں ہلچل مچا دی تھی جس کے پیش نظر 20 ویں صدی میں روس نے سب سے پہلا انسان زمین کے گرد بھیجا اور پھر امریکا نے خلاباز چاند پر بھیجے۔

سیارہ مریخ پر بھی انسانوں کو بھیجنے کی باتیں تو ہور ہی ہیں لیکن رواں مہینے کے آغاز سے ہی یہ خبر سب کی توجہ کا مرکز بنی کہ انسان نے ‘سورج’ پر اپنی کمان تان لی۔

اور اب دنیا کے ان تمام افراد کا انتظار ختم ہوا اور امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے “پارکر سولر پروب” نامی خلائی تحقیقی گاڑی سورج کی جانب بھیج دی گئی ہے۔

اس خلائی مشن کو ناسا کی جانب سے 11 اگست کو بھیجا جانا تھا، تاہم تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے اسے آج تاخیر سے بھیجا گیا۔

ناسا کے مطابق خلائی راکٹ پارکر سولرپروب سورج کی تحقیق کے لیے خلا میں بھیج دیا گیا ہے اور اسے فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے بھیجا گیا۔

ناسا حکام نے بتایا کہ سورج کی تحقیق کے لیے بنائے گئے راکٹ پر 1.5 ارب ڈالر لاگت آئی، جس کی رفتار سورج کے قریب 4 لاکھ 30 ہزار میل فی گھنٹہ ہوگی۔

خلائی گاڑی کو بھیجے جانے سے کچھ گھنٹے قبل خرابی کی نشاندہی ہوئی تھی—فوٹو: ناسا
خلائی گاڑی کو بھیجے جانے سے کچھ گھنٹے قبل خرابی کی نشاندہی ہوئی تھی—فوٹو: ناسا

اس مشن کو امریکی ریاست فلوریڈا کے کیپ کیناورل ایئرفورس اسٹیشن بھیجا گیا۔

سائنسدان تقریبا 2 دہایوں سے سورج کا زمین سے بھی معائنہ کررہے ہیں جبکہ اسی مقصد کے لیے زمین کے گرد بھی سیٹلائٹس بھیجی گئی ہیں لیکن اب سورج کو ذرا اور قریب سے دیکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پارکر سولر پروب کا نام سائنسدان “اوگینی پارکر” کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہوں نے سورج کے مقناطیسی میدان کے بارے میں اور سورج کی سطح سے پیدا ہونے والے چارجز کی ہوائیں، جنہیں شمسی ہوائیں بھی کہا جاتا ہے، کے بارے میں بہت سے نظریات پیش کیے جو تحقیق سے درست ثابت ہوئے ہیں۔

یہ پہلی دفعہ ہے کہ کسی خلائی مشن کا نام حیات سائنسدان کے نام پر رکھا گیا ہو اس وقت پارکر کی عمر 91 برس ہے۔

پارکر سولر پروب کو سورج کے قریب بھیجنے کا مقصد شمسی ہواؤں کی مزید تحقیق اور سورج کی مقناطیسی صلاحیت کو بغور سمجھنا ہے۔

پارکر سولر پروب مشن 6 سال اور 321 دنوں پر محیط ہے اور اس خلائی گاڑی کو خلاء میں بھیجنے کے لیے ڈیلٹا 4 ہیوی راکٹ استعمال کیا گیا، اس قدر طاقتور راکٹ سے اسے لانچ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اس خلائی گاڑی کی رفتار تیز ہو اور یہ جلد سے جلد سورج کہ گرد چکر لگائے۔

یہ خلائی گاڑی سورج کے گرد لمبوترے مدار میں چکر لگائے گی اور یہ اس لیے رکھا گیا تاکہ شروع میں خلائی گاڑی کم وقت کے لیے سورج کے انتہائی قریب جائے گی جس سے اس میں موجود آلات کو نقصان کم ہوگا، مگر آہستہ آہستہ یہ خلائی گاڑی اپنا مدار چھوٹا کرے گی جس کے بعد اس خلائی گاڑی کو کسی ستارے کے انتہائی قریب بھیجے جانے والی انسانی مشین کا اعزاز حاصل ہو جائے گا۔

ان 7 سالوں میں یہ خلائی گاڑی زمین کے پاس سے تقریبا 3 سے 4 مرتبہ گزرے گی، اس کے علاوہ یہ خلائی گاڑی نظام شمسی کے دوسرے سیارے ‘زہرہ’ کے پاس سے 7 مرتبہ گزرے گی، جب یہ خلائی گاڑی سورج سے قریب ترین فاصلے پر ہوگی تو اس کا سورج سے فاصلہ 60 لاکھ کلو میٹر ہوگا! اس قدر کم فاصلے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے نظام شمسی میں سورج سے قریب ترین سیارے (عطارد) کا فاصلہ بھی 450 لاکھ کلو میٹر ہے جبکہ زمین کا سورج سے فاصلہ 15 کروڑ کلو میٹر ہے۔

عام عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ خلائی گاڑی سورج کی جانب بھیجنا صرف اور صرف ڈرامہ ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ خلائی گاڑی سورج کی شدید تابکار ہواؤں میں جل کر خاک ہوجائے گی لیکن ناسا کہ انجنیئروں نے اس خلائی گاڑی کا نقشہ اور اس میں استعمال شدہ چیزیں کچھ اس طرح سے بنائی ہیں کہ یہی خلائی گاڑی تقریبا 1500 ڈگری سینٹی گریڈ تک کا درجہ حرارت برداشت کر سکتی ہے۔

اس کے علاوہ اس خلائی گاڑی میں کولنگ سسٹم بھی نصب کیا گیا ہے جو اس کے آلات کو زمینی درجہ حرارت تک رکھیں گا، اس قدر زیادہ درجہ حرارت آج تک کسی خلائی گاڑی نے برداشت نہیں کیا جتنا یہ خلائی پروب کرے گی، مگر اس خلائی گاڑی میں ایسی کیا بات ہے جو اسے باقیوں سے منفرد بناتی ہے؟

رپورٹس کے مطابق اس گاڑی کی منفرد چیز اس کے سامنے لگی 11 سینٹی میٹر موٹی کاربن کی شیلڈ ہے جس کے پیچھے چھپ کر اس خلائی گاڑی کے تمام آلات محفوظ رہنے کے ساتھ ساتھ زمین کی طرف ڈیٹا بھیجتے رہیں گے۔

اس شیلڈ کی سامنے کی سطح چمکدار ہے جو کہ سورج سے آنے والی گرمی کو آئینے کی طرح منعکس کر دے گی جس سے خلائی گاڑی گرمائش سے کسی حد تک بچی رہے گی، اس کے علاوہ اس گاڑی پر سولر پینل بھی نصب ہیں جن سے پیدا ہونے والی بجلی اس پر موجود آلات کو چلائیں گے۔

اکثر لوگ اس پر بھی سوال کرتے ہیں کہ خلائی گاڑی کو ایک ہی چکر میں سورج کے قریب بھیجبے کی بجائے سائنسدان اس خلائی گاڑی کو آہستہ آہستہ سورج کے قریب کیوں بھیج رہے ہیں؟ تو اس کا جواب انتہائی عام فہم ہے کہ اگر ہماری زمین جو کہ اس وقت سورج کے گرد تقریبا 29 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گردش کر رہی ہے کی یہ گردشی رفتار کم ہو جائے تو اس کا مدار چھوٹا ہونے لگے گا اور ایک وقت آئے گا کہ یہ سورج میں جاگرے گی۔

اس لیے اگر پارکر سولر پروب کو سورج سے 60 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر گردش کرنے کے لیے تقریبا 200,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچنا ہوگا جو کہ دنیا کا کوئی بھی راکٹ پیدا نہیں کر سکتا، لہذا اس خلائی گاڑی کو “گریویٹیشنل اسسٹ” یا کششی مدد لینا تھی۔

گاڑی 2025 تک اپنا مشن مکمل کرے گی—فوٹو: ناسا
گاڑی 2025 تک اپنا مشن مکمل کرے گی—فوٹو: ناسا

گریویٹیشنل اسسٹ ایک ایسا عمل ہے جس میں سیاروں کی کشش ثقل کی مدد سے خلائی گاڑیاں اپنی رفتار بڑھاتی ہیں، خلائی گاڑیوں کی رفتار تیز کرنے کے لیے اس عمل کا استعمال بہت زیادہ کیا جاتا ہے۔

ناسا کی طرف سے بھیجی گئی 2 وایجر خلائی گاڑیاں، نیو ہورائیزن کی خلائی گاڑی اور دوسری خلائی گاڑیوں نے بھی اسی عمل سے اپنی رفتار بڑھائی ہے اور یہ تینوں خلائی گاڑیاں آج نظام شمسی سے باہر جا چکی ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ اگر کسی چیز کو اونچائی سے زمین پر پھینکا جائے تو وہ جیسے جیسے نیچے آتی ہے اس کی رفتار کشش ثقل کی وجہ سے بڑھنے لگتی ہے اور در حقیقت خلاء میں زمین کے گرد چکر لگاتی سیٹیلائٹس بھی زمین کی طرف گر رہی ہیں لیکن وہ زمین کی طرف سیدھ میں نہیں گر رہی بلکہ ایک زاویے پر موجود ہیں جس وجہ سے جب وہ اپنی منزل تک پہنچتی ہیں تو زمین اپنی گولائی کی وجہ سے نیچے موجود نہیں رہتی اور اسی طرح سیٹلائٹ زمین کے گرد چکر لگاتی رہتی ہیں۔

اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے پارکر سولر پروب خلاء میں پہنچنے کے بعد پہلے زمین اور پھر سیارہ زہرہ کی کششی مدد سے اپنی رفتار بڑھائے گی اور آہستہ آہستہ سورج کے گرد مدار چھوٹا کرتی جائے گی۔

سورج کے قریب پہنچنے کے بعد اس کے آلات ڈیٹا لینا شروع کریں گے اور زمین تک ریڈیائی سگنلز کے ذریعے ڈیٹا پہنچایا جائے گا، اس خلائی گاڑی کا زمین سے اتنا فاصلہ ہوگا کہ اس کے سگنلز کو زمین تک پہنچنے کے لئے تقریبا 8 منٹ کا وقت درکار ہوگا۔

یہ خلائی گاڑی سورج کے گرد کل 24 چکر لگائے گی اور اس کے بعد 25 جون 2025 کو اس مشن کا اختتام ہوگا، ناسا کی روایت رہی ہے کہ خلائی گاڑی کو اسی فلکی جسم میں ضم کردیا جاتا ہے جس کی تحقیق کے لے اسے بھیجا جاتا ہے۔

جیسے کسینی خلائی گاڑی کو سیارے زحل کی تحقیق کے لیے بھیجا گیا تھا اور بعد میں اسی سیارے میں گرا کر اسے تباہ کر دیا گیا، اسی طرح مشن کے اختتام پر پارکر سولر پروب کو بھی سورج میں گرا کر ختم کردیا جائے گا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ اس خلائی گاڑی میں وہ چپ بھی نصب ہے جس میں دنیا کے لوگوں کے نام شامل ہیں اور خلائی گاڑی کے ساتھ یہ چپ بھی سورج میں ضم ہوجائے گی۔

تلواریں نیام میں رکھیں…!!

azam_azim

جس طرح تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اِسی طرح دنیا کے ہر جمہوری عمل کو آگے بڑھانے اور چلانے کیلئے سب کو ساتھ لے کرچلنا ہوتاہے اور جمہوریت میں تو بہت کچھ ہوتا ہے ،یہ تو کچھ بھی نہیں ہے، ابھی تو بہت کچھ برداشت کرنا ہوگا ، ابھی تو خان نے اپنوں کو اتنا ہی کہا ہے کہ یہ وقت بے سوچے سمجھے بولنے اور کسی خوش فہمی میں آن کر بے وقت کی راگنی چھیڑنے کا نہیں ہے۔ ابھی توسب کی سُنیں اور برداشت کریں ، اِس لئے کہ یہی وقت ہے، حکومت بنا نے اور کرنے کا اور منزلیں پانے کاہے، جب حقیقی معنوں میں تلواریں نیام میں رکھیں گے ،توسب کو ساتھ لے کر بہت کچھ حاصل کر لیں گے ۔یہ ٹھیک ہے کہنے والے نے یہ کہہ تو دیاہے۔ مگر کہنے والے نے یہ نہیں بتایا ہے کہ آخر کب تک تلواریں نیام میں رکھیں ؟ اِس سوال کا بہت سادہ اور آسان جواب یہی ہے کہ فی الحال ، جیسا حکم مِلا ہے،اِس پر سختی سے عمل عمل بس عمل کرناہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے خان کی ٹیم کے ہر فرد کو اگلے آنے والے ہر سیکنڈ کے بعدسے لے کرحکومت بنا نے اور اِس کی دائمی پانچ سالہ مدت پوری کرنے اور خان کے اگلے کسی اشارے یا حکم تک اِسی پر عمل کرنا ہے ، اِسی میں سب کی بھلا ئی ہے ورنہ ؟ پہلے والوں اور اِن میں کوئی فرق نہیں رہے گا؛ آج خان کا وقت کی نزاکت کو بھانتے ہوئے ، اِتنا کہہ دینا ہی اپنوں اور اپنے اتحادیوں کیلئے کا فی ہے کہ اگر پاکستان اور عوام کو مسائل ، بحرانوں اور پریشانیوں سے نجات دلا کر آگے لے جانا ہے تو ہم سب کو ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہوئے اپنی تلواروں کو نیام میں لازمی رکھنا ہوگا ۔ ایسا اِس لئے بھی کرنا ضروری ہے کہ خان صاحب سمجھتے ہیں۔ آج پاکستان کو آگے بڑھانے کیلئے صبروبرداشت اور عفوودرگزر سے اچھا کو ئی عمل کارآمد نہیں ہو سکتا ہے، لہٰذا اَب ہمیں اِس سے ایک انچ بھی آگے جا نے اور اپنی مرضی چلانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگرپھربھی کو ئی اِس سے تجاوز کرے گا؛تو دوسروں کی ناراض گی اور اپنی بے قدری کا خود ذمہ دار ہوگا۔اَب ایسا بھی بھلا کیا تھا ؟کہ فردوس شمیم نقوی لب کشا ہوئے اور ایسے ہوئے کہ اپنوں کو ہی ناراض کر گئے ، اگر یہ برداشت کرلیتے تو کیا ہوجاتا؟، اِنہیں یہ سب کچھ نہیں کہنا چاہئے تھا جیسا کہ یہ اپنے نومولود کراچی کے اتحادیوں سے متعلق کہہ گئے ہیں،اِس موقع پر راقم کا خیال یہ ہے کہ اگر ابھی سے عمران خان کے فردوس نقوی شمیم جیسے ساتھیوں نے خودکو نہ سنبھالا تو ممکن ہے کہ خان کے ایسے نا سمجھ ساتھی جلد ہی عمران خان کی حکومت کو مشکلات سے دوچار کرنے میں دیر نہیں لگا ئیں گے اور وقت گزرنے کے ساتھ خان کی حکومت بھی اندرونی طور پر کھوکھلی ہوتی جا ئے گی اور پھر عمران خان کی اکلوتی حکومت میں بھی کئی چوہدری نثار علی خان، پرویز رشید جیسے اور بہت سے حکومت کو نقصان پہنچا نے والے پیدا ہوجا ئیں گے۔بہر کیف ،پی ٹی آئی کے ہاتھ اقتدار کی مسند آنے والی ہے جس کیلئے صدرمملکت ممنون حسین نے قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس پیر 13اگست کو طلب کرلیاہے ، نومنتخب ارکان حلف اُٹھا ئیں گے ، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب بھی اِسی رو ز ہوگا ؛ جب کہ 18 اگست کو مملکت پاکستان نے نئے نامزد وزیراعظم محترم المقام عزت مآب عمران خان بطور وزیراعظم اپنا حلف اُٹھا ئیں گے ، منسٹر انکلیو میں رہیں گے ، جس کے ساتھ ہی نو منتخب وزیراعظم عمران خان اپنے سب کو ساتھ لے کر چلنے والے عزم کو لئے مُلک اور عوام کی تقدیر بدلنے کیلئے پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے ، مُلک کوقرضوں سے نجات دلانے اور غیر مستحکم مُلکی معاشی و اقتصادی ڈھانچے کواستحکام بخش بنانے کیلئے اقدامات اور احکامات صادر فرمانے کی شروعات کردیں گے ۔ جبکہ مُلکی ترقی اور خوشحالی کے حوالے سے پچھلے دنوں پہلے ہی پاکستان تحریک اِنصاف نے اپنے سو دن کے ترجیحی پروگرام میں کراچی کو ایک سو دن میں تبدیل کرنے کیلئے اِنقلابی اقدامات اُٹھانے کا فیصلہ کر لیاہے یہ فیصلہ بنی گلہ میں چیئرمین عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے تحریک انصاف سندھ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا گیا اجلاس میں بالخصوص سندھ کی صورتِ حال پر کھل کر بات چیت بھی کی گئی جبکہ اندر سے باہر آنے والی کچھ باتوں سے معلوم ہوا ہے کہ اِس دوران عمران خان نے پی ٹی آئی کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی کے بیان پرناراضگی کا اظہار کیا اور آئندہ محتاط رہنے کی ہدایت بھی کردی ہے ۔ جیسا کہ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فردوس شمیم نقوی کاکہناتھاکہ’’ پارٹی چیئرمین نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اِس وقت ہمارے نزدیک حکومت بنانا اور کرنا سب سے اہم ہے، تلواریں نیام میں رکھیں ،‘‘ صاف ظاہر ہے کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ اِن کے ساتھی تلوار نمااپنی زبانیں بند رکھیں تو اچھاہے ورنہ ؟کسی غرور اور تکبر کی وجہ سے اِن کے نئے پرانے پارٹی کے عہدے داروں اور کارکنان کی قینچی کی طرح کترنے والی زبانیں بنابنایاسارا کام اور اِن کی حکومت کتر کر رکھ دیں گی سو آج کے بعد پی ٹی آئی کے تمام ساتھیوں پر لاز م ہے کہ سب اپنی تلوار کی طرح زخم لگا نے والی اپنی زبانیں بند ہی رکھیں تو بہت اچھا ہوگا تاہم جب فردوس شمیم نقوی سے خبر نویسوں نے یہ سوال کیا کہ ایم کیو ایم سے اتحاد مجبوری ہے یا نہیں؟ اِس کا جواب فردوس شمیم نقوی نے کچھ یوں دیا کہ عمران خان نے خاموش رہنے کا کہا ہے اِس لئے خاموش رہوں گا ؛ جبکہ خبر کے مطابق یہاں یہ امرقابلِ ستا ئش ہے کہ فردوس شمیم نقوی نے میڈیا سے بات چیت میں بتایاکہ عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک کراچی میں ترقی نہیں ہوگی پاکستان میں نہیں ہوگی، اِسی لئے عمران خان نے لوکل باڈیز کو مضبوط کرنے کیلئے اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں ہمارا مقابلہ پیپلز پارٹی سے ہے ؛عمران نے سندھ کو بدلنے اور اِس کی بہتری کیلئے مکمل تیاری کرلی ہے اور آئندہ دورسندھ میں پی ٹی آئی کا ہوگا‘‘۔اِس سے انکار نہیں ہے کہ ابتدا ئی دِنوں سے ہی عمران خان کی حکومت کو کئی معاشی بحرانوں کے مدوجزاور بہت سے کٹھن چیلنجز کا سامناکرنا پڑے گا ۔جو عمران خان اور اِن کی کابینہ کیلئے بڑا امتحان ہوگا ،اَب دیکھنا یہ ہے کہ نئے پاکستان کی تبدیلی اور مُلک کو مدینہ جیسی ریاست بنا نے کا عزم رکھنے والے عمران خان اِس امتحان میں کتنے نمبروں سے کامیاب ہوتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ اِن میں چیلنجز سے نمٹنے یا امتحانات میں اچھے نمبروں سے کامیاب ہونے کی صلاحیت نہیں ہے یہ باصلاحیت ہیں مگر دیر سویر تو ہوجائے گی۔ بس سب کو اچھے نتائج کیلئے انتظار کرناہوگا ؛اِس لئے کہ عمران خان کو چیلنجزسے نبرد آزما ہونے کیلئے لازمی طور پر کئی کڑوی گولیاں نگلنے جیسے فیصلے بھی کرنے ہوں گے،آج جس کیلئے عمران خان اور قوم کو قربانیاں دینے کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا۔

*****

جنوبی وزیرستان میں ملیریا اور لیشمینیا نے وبائی شکل اختیار کرلی

ٹانک: جنوبی وزیرستان میں مچھروں کی پیداوار میں خطرناک حد تک اضافے کی وجہ سے لیشمینیا اور ملیریا نے وبائی شکل اختیار کرلی ہے اور ایک ماہ کے دوران 100 کے قریب افراد ان بیماریوں سے متاثر ہوچکے ہیں۔

مقامی عمائدین کے مطابق لدھا،کانی گرم اور بدر سمیت دیگر علاقوں میں اسپرے نہ ہونے کی وجہ سے مچھروں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

علاقہ مکینوں کے مطابق ایک ماہ کے دوران 100 کے قریب افراد لیشمینیا اور ملیریا کی وجہ سے بیمار ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے محکمہ صحت کے انچارج ڈاکٹر ولی کا کہنا ہے کہ لیشمینیا بیماری ایک ریگستانی مچھر سینڈفلائی (Sandfly) کے کاٹنے سے لگتی ہے۔

واضح رہے کہ لیشمینیا بیماری پیدا کرنے والے مچھر کے کاٹنے سے جسم پر دانے بن جاتے ہیں۔ یہ مچھر کھڑے پانی میں پرورش پاتا ہے اور صبح اور شام کے وقت حملہ آور ہوتا ہے۔

ماہرین صحت لیشمینیا کے علاج کے لیے آگاہی سینٹرز کے قیام اور اسپرے کروانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، جس کے ذریعے اس مہلک مرض پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

بھارتی کرکٹر نوجوت سدھو نے عمران خان کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے

بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے۔

سابق بھارتی کرکٹر اور سیاست دان نوجوت سنگھ سدھو نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ایک سیٹ سے کامیابی کا سفر شروع کرنے والا آج پاکستان کا وزیراعظم بن گیا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کی زبان سے نکلنے والے ہر لفظ پر بھروسہ ہے اور وہ جو بولتے ہیں کر گزرتے ہیں۔

تحریک انصاف نے سابق بھارتی کرکٹرز نوجوت سنگھ سدھو، کپیل دیو اور سنیل گواسکر کو عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

نوجوت سنگھ سدھو نے عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت پر آمادگی ظاہر کردی ہے اور تقریب میں شریک ہونے جلد پاکستان آئیں گے۔

سابق بلے باز کی عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت پر آمادگی نے بھارتی میڈیا کو سیخ پا کردیا ہے۔

یاد رہے کہ سنیل گواسکر نے عمران خان کی بطور وزیر اعظم تقریب حلف برداری میں شرکت ست معذرت کی ہے جب کہ بالی وڈ اداکار عامر خان پہلے ہی تقریب میں شرکت سے انکار کرچکے ہیں۔

عمران خان ممکنہ طور پر 18 اگست کو پاکستان کے اگلے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔

Google Analytics Alternative