Home » Author Archives: Admin (page 10)

Author Archives: Admin

کیلاش ۔ ۔ ۔ !

اللہ رب العزت نے وطن عزےز پاکستان کو انتہائی خوبصورت تخلیق کیا ہے ۔ جہاں بلند و بالا پہاڑ ہیں تو وہاں سرسبز مےدان بھی ہیں ۔ جہاں رےت کے صحرا ہیں ،وہاں آب وتاب سے بہتے درےا بھی ہیں ۔ پاکستان میں چار موسم ہیں ۔ وطن عزےز میں ہرقسم کی سبزےاں ، فصلیں اورپھل پیدا ہوتے ہیں ۔ ےہ ملک معدنےات اور دےگر قدرتی دولت سے مالامال ہے ۔ پاکستان میں مختلف ثقافتیں اور تہذیبیں موجود ہیں ۔ وطن عزےز میں مختلف زبانےں بولی جاتی ہیں ۔ پاکستان ہر لحاظ سے اےک خوبصورت ملک ہے ۔ ےہ سےاحت کےلئے اہم اور زرخےزملک ہے ۔ ہ میں نہ صرف خود اپنے ملک کے مختلف حصوں کی سےر وسےاحت کرنی چاہیے بلکہ ہ میں غےرملکےوں کو بھی پاکستان میں سےاحت کےلئے راغب کرنے کےلئے کردار ادا کرنا چاہیے ۔ سےاحت کے ذرےعے زرمبادلہ کماےاجاسکتا ہے ۔ خاکسارپاکستان فےڈرےشن آف کالمسٹ اور ڈےسکور پاکستان کے تعاون سے اےڈےشنل سےکرٹری پنجاب طےب فرےد، چےئرمین فلم سنسر بورڈ کمیٹی شعےب بن زاہد، اسسٹنٹ کمشنر میر پوراےس بےگ ، میجر نعمان سمےت مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد کے ہمراہ کیلاش گےا ۔ کیلاش کے طلسماتی مقامات ، حسےن وادےاں اور منفرد کلچر قابل دےد ہےں ۔ کیلاش چترال سے 35 کلومےٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ کیلاش دراصل تےن وادےوں بمبورےت ، رامبور اور برےر کا مجموعہ ہے ۔ کیلاش کی نماےاں خصوصےت ان کی ہزاروں سال پرانی تہذےب و ثقافت ہے ۔ کیلاشیوں کے بارے میں مختلف رواےات ہیں ۔ اےک رواےت کے مطابق327قبل مسےح کو جب ےونان کا سکندر اعظم اس وادی سے گذرا تھا تو ان کے کچھ لوگ ےہاں کسی وجہ سے رک گئے تھے ۔ کیلاشی انہی کی اولاد ہےں جبکہ اےک اور رواےت ہے کہ آرےائےوں کے کچھ قافلے ےہاں رک گئے تھے اور ےہی پر آباد ہوگئے ۔ چونکہ ان کا بعد میں کسی اور تہذےب کے لوگوں کے ساتھ رابطہ اور ملاپ نہ رہا ،اس لئے ان کے کلچر پر کسی کا اثر نہ ہوا ۔ کیلاشیوں کی تعداد اب تقرےباً چار ہزار ہے ۔ کیلاشی خواتےن سےاہ لباس زےب تن کرتی ہیں اور گلے میں موتےوں کے ہار پہنتی ہیں ۔ کوڑےوں ، سےپیوں اور موتےوں سے بناےا گےاکپڑے کا حصہ سر پر اوڑھاجاتا ہے ۔ مرد اونی ٹوپی پہنتے ہیں جس پر کسی پرندے کا پر ہوتا ہے ۔ کیلاشےوں کا عقےدہ ہے کہ اگر انھوں نے اپنے لباس ےا عقائد میں تبدےلی کی تو ان پر دےوتا کا عذاب نازل ہوگا ۔ ےہ سال میں تےن مےلے مناتے ہیں ۔ (الف) چلم چاشت ےا جوشی:ےہ مئی کے وسط میں مناتے ہیں ۔ ےہ میلہ تےن دن تک جاری رہتا ہے ۔ اس مےلے میں دودھ پنےر وغےرہ تقسےم کرتے ہیں اور کھےتوں میں جاتے ہیں ۔ اےک دوسرے کے گھروں میں ملنے کےلئے جاتے ہیں ۔ کیلاشی لڑکیاں پھول چنتی ہیں اور اےک دوسرے کو تحفے میں دےتی ہیں ۔ خواتےن اور لڑکیاں ڈھول کی تھاپ پر مخصوص رقص کرتی ہیں ۔ لڑکے اور لڑکیاں اےک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ۔ (ب)اچل:ےہ جولائی کے وسط میں گندم اور جو کی کٹائی کی خوشی میں مناتے ہیں ۔ اس میں بھی دےگر مےلوں کی طرح رقص کی محفلیں سجاتے ہیں اور ضےافتوں کا اہتما م کیا جاتا ہے ۔ (ج)چاءو ماءوس:ےہ دسمبر کے آخر میں مناےا جاتاہے اوےہ میلہ اےک ہفتے تک جاری رہتا ہے ۔ ےہ ان کا سب سے بڑا میلہ ہوتا ہے ۔ اس مےلے میں نئے سال کی آمد کی خوشی کا اظہار ہوتا ہے ۔ کیلاش کے لوگ سورج اور چاند گرہن کو دےوتا کا عذاب سمجھتے ہیں اور اس عذاب کو ٹالنے کےلئے بکروں کی قربانی کرتے ہیں ۔ کیلاشےوں کی عبادت گاہ ملوش میں خواتےن کا داخلہ ممنوع ہے ۔ کیلاش کے لوگ موت پر غم نہیں کرتے بلکہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں ۔ انکے عقےدے کے مطابق جس طرح پیدائش خوشی کا موقع ہے اور اسی طرح موت بھی خوشی کا موقع ہے ۔ ےہ لوگ لاش کو کمیونٹی سنٹر میں اےک ےا دو دن کے لئے رکھتے ہیں اوراس کے گرد رقص کرتے ہیں ۔ اس موقع پر مہمانوں کےلئے بکرے اور بےل وغےرہ ذبح کرتے ہیں اور شراب کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ۔ ان کا عقےدہ ہے کہ مرنے والے کو خوشی سے روانہ کرناچاہیے ۔ کچھ عرصے پہلے تک مردے کو لکڑی کے تابوت میں قبرستان میں کھلے آسمان تلے رکھتے تھے اور تابوت میں مردے کی اشےاء بھی ساتھ رکھتے تھے لیکن اب مردوں کو دفن کرتے ہیں ۔ فوتےگی کی طرح ان کی خوشی بےاہ کے تقرےبات بھی دلچسپ ہیں ۔ میلوں میں لڑکیاں رقص کرتی ہیں تو لڑکے ان کو پسند کرتے ہیں ۔ دونوں کی رضا مندی سے لڑکا لڑکی کو بھگاےاجا سکتا ہے ۔ لڑکی کو بھگانے کے بعد وہاں کے بزرگ ان کے پاس جاتے ہیں اور اس سے درےافت کرتے ہیں ۔ اگر وہ خوشی سے لڑکے کے ساتھ بھاگی ہو تو شادی کے دےگر رسومات ادا کرتے ہیں اور زبردستی کی صورت میں لڑکی کو واپس کیا جاتا ہے ۔ شادی کی تقرےبات میں پرتکلف کھانوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں لڑکی والے خصوصی طور پر شرکت کرتے ہیں ۔ شادی کے چوتھے دن لڑکی کے ماموں کو اےک بےل اور بندوق بطور تحفہ دےتے ہیں اور دونوں خاندانوں کے درمےان تحاءف کا تبادلہ کیا جاتا ہے ۔ رضا مندی سے شادی شدہ خاتون کو بھی بھگاےا جاسکتا ہے اور اس صورت میں اسکے سابق شوہر کو اعتراض کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا ہے ۔ اس طرح بچوں کی پےدائش پر بھی منفرد تقرےبات کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ پہلے بچے کی پیدائش پر ناناکے گھر میں دعوتِ طعام کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن اس کے اخراجات ددھےال ادا کرتے ہیں اورلڑکی کے ہر رشتہ دار کودو، دو ہزار روپے دےتے ہیں ۔ ےہ رسم اس وقت تک چلتی ہے جب تک مخالف جنس کا بچہ پیدا نہ ہو ۔ مثلاً اگر مسلسل لڑکے ےا لڑکیاں پیدا ہوں تو ےہ رسم جاری رہتی ہے ۔ قارئےن کرام !کیلاش کا میلہ دلچسپ اور منفرد تھا جس کو دےکھنے کےلئے نہ صرف پاکستانی سےاح بڑی تعداد میں موجود تھے بلکہ تقرےباً دو ہزار کے قرےب غےر ملکی سےاح بھی آئے ہوئے تھے ۔ پاکستان فےڈرےشن کالمسٹ کے صدر ملک سلمان اور ڈسکور پاکستان کے سی ای او ڈاکٹر قےصر رفےق پاکستان میں سےاحت کے فروغ کےلئے کوشاں ہیں ۔ بلاشبہ پاکستان بہت خوبصورت ہے اورےہ سےاحت کےلئے بہت پرکشش ملک ہے ۔

پاکستان پر قرضوں کا مجموعی حجم 35.1 ٹریلین روپے ہوگیا

اسلام آباد:  پاکستان پر قرضوں کا مجموعی حجم مارچ کے اختتام پر 35.1 ٹریلین روپے یعنی معیشت کے 91.2 فصد تک پہنچ گیا ہے۔

قرضوں کا بڑھتا ہوا جال حکومت کیلیے پالیسی آپشنز کو محدود کرتا جارہا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اسٹیٹ  بینک کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ  جولائی تا مارچ ملک   پر قرضوں کا مجموعی حجم  5.2 ٹریلین روپے بڑھ گیا۔

مرکزی بینک کے اعدادوشمار کے مطابق مقامی، غیرملکی اور  پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کے قرضوں میں  اضافہ ہوا۔ حکومت نے 28.6 ٹریلین روپے کا براہ راست قرض لیا جب کہ بقیہ قرضوں کے لیے بھی وفاقی حکومت، وزارت خزانہ کی دی گئی ضمانتوں اور مرکزی بینک کے کردار کی وجہ سے ذمے دار ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے خسارے میں چلنے والے اداروں کی بحالی کا وعدہ کیا تھا۔

مارچ کے اختتام تک پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کا مجموعی خسارہ  1.9 ٹریلین روپے ہوچکا تھا۔ 9  ماہ کے دوران خسارے میں 4141.2 ٹریلین روپے یا 28.5فیصد کا اضافہ  ہوا۔

مرکزی بینک کے مطابق مارچ کے اختتام پر ملک پر بیرونی قرضوں کا حجم 105.8 بلین ڈالر تھا۔ 9 ماہ کے دوران  بیرونی قرض میں 10.6 بلین ڈالر کا اضافہ ہوا۔ پاکستان کا مجموعی قرض اب جی ڈی پی کے 91.2فیصد تک پہنچ چکا ہے۔

اپنے ہیلی کاپٹر کو پاکستانی سمجھ کر مار گرانے پر بھارتی فضائیہ کے افسر کیخلاف کارروائی

نئی دلی: بھارتی وزارت دفاع نے غلطی سے اپنے ہی Mi-17  ہیلی کاپٹر کو میزائل سے تباہ کرنے والے انڈین ایئر فورس کے آفیسر کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت نے 27 فروری کو سری نگر میں تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کے ذمہ دار کیخلاف مجرمانہ غفلت برتنے پر محکمانہ تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے، یہ کارروائی فوجداری قوانین کے تحت کی جائے گی۔ اس سلسلے میں ممکنہ آئینی اقدامات اور قوانین پر غور کیا جا رہا ہے۔

کورٹ آف انکوائری کی انویسٹی گیشن کی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ سری نگر میں تباہ ہونے والا Mi-17   ہیلی کاپٹر غلطی سے انڈین ایئر فورس کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کی زد میں آگیا تھا جس پر  ایئر آفیسر کمانڈنگ سری نگر ایئر بیس کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

اب جب کہ انکوائری مکمل ہونے والی ہے اور یہ واضح ہوچکا ہے کہ ہیلی کاپٹر کو دشمن طیارہ سمجھ کر غلطی سے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار پانچوں اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ بھارتی وزارت دفاع نے غفلت برتنے والے انڈین ایئر فورس کے آفیسر کیخلاف تادیبی کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ 27 فروری کو پاک فضائیہ نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے دو بھارتی طیاروں کو مار گرایا تھا جب کہ ایک بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

نیب کا بائیکاٹ نہیں کریں گے اسے تھکائیں گے، آصف زرداری

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف زرداری نے کہا ہے کہ ہم نیب کا بائیکاٹ نہیں کریں گے بلکہ اسے تھکائیں گے. 

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ 80 سال کے بوڑھوں کو عدالت میں لایا جارہا ہے، ہتھکڑیاں لگائی جاتی ہیں اورجیلوں میں بھیجا جاتا ہے۔ لوگوں کو ہتھکڑیاں بھی لگاوٴ، جیلوں میں بھی ڈالو اور پھر کہتے ہیں معیشت بھی چلاوٴ۔ قانون کہتا ہے کہ جرم ثابت ہونے تک ملزم عدالت کا پسندیدہ بچہ ہوتا ہے، ابھی تو مجرم کوئی نہیں، ابھی تو کسی کے خلاف جرم ثابت ہی نہیں ہوا، ابھی تو یہ سوچ ہی رہے ہیں۔

چیئرمین نیب کے انٹرویو کے حوالے سے آصف زرداری نے کہا کہ چیئرمین نیب کو انٹرویو دینے کا حق نہیں، ان کا عہدہ انہیں انٹرویو دینے کی اجازت نہیں دیتا، اگر انہوں نےانٹرویو دیا ہے تو قانونی کارروائی کریں گے۔

صحافی نے سوال کیا کہ 9 ماہ میں اپوزیشن کا اتحاد مضبوط نہیں ہوا کیا اب ایسا ہوگا ، جس پر آصف زرداری نے کہا کہ 9 ماہ میں ہم نے ایسا سوچا ہی نہیں تھا۔

مریم نواز کی جانب سے وزیر اعظم کو جعلی قرار دیئے جانے کے بیان سے متعلق سوال پر سابق صدر مملکت نے کہا کہ میں نے تو شروع سے ہی کہا یہ سلیکٹڈ وزیر اعظم ہے۔

صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ نیب کیسز میں شرکت سے بائیکاٹ پر غور کر رہے ہیں؟ جس پر آصف زرداری نے کہا کہ ہم نیب کا بائیکاٹ نہیں کریں گے بلکہ نیب کو تھکائیں گے، بائیکاٹ کریں گے تونیب کہے گا کہ ہماری عزت نہیں کررہے اور قانون کا احترام نہیں کیا جا رہا۔

آصف زرداری نے کہا کہ معاشی صورتحال خراب ہورہی ہے، ڈالر 160 پر چلا گیا ہے، میری نظر میں دوبارہ الیکشن واحد آپشن ہیں، دھرنا دیا تو کنٹینر ہم اپنے لائیں گے، میری نظر میں یہ نئی جنریشن کا دور ہے بلاول، اسفند یار ولی کا بیٹا اور نواز شریف کی بیٹی ہی قیادت کریں گے ،سب سینئر سیاست دان پیچھے بیٹھ کر آرام کریں گے۔

فردوس عاشق اعوان کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنانے پر آصف زرادری نے کہا کہ جو طوطے میرے خلاف بولتے ہیں اللہ ان کا بھلا کرے، بولنے پر ٹیکس نہیں لگا۔

نواز شریف سے ملاقات کے حوالے سے آصف زرداری نے کہا کہ میں نے ان کا نمبر مانگا ہی نہیں، ان کی طبعیت خراب ہے ضروری ہوا تو ملاقات ہوجائے گی۔

اس سے قبل ادھر اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے جعلی اکاؤنٹس کیس پر سماعت کی، سماعت کے دوران آصف زرداری اور فریال تالپور کو ریفرنس کی نقول فراہم نہ کی جاسکیں۔ جس پر عدالت نے کارروائی 30 مئی تک ملتوی کر دی۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اور کیس میں آصف زرداری کی عبوری ضمانت منظور کرلی ہے، اس سے قبل ان کی 7 مقدمات میں ضمانت ہوچکی ہے۔

انسانی جسم میں سفر کرنے والی ’اڑن وھیل‘ تیار

ہانگ کانگ: ہانگ کانگ کے سائنس دانوں نے ایسی روبوٹ وھیل تیار کی ہے جو انسانی جسم میں اپنی صورت بدل کر آگے بڑھتی ہے اور اس سے کئی اقسام کے کام لیے جاسکتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم کام جسم کے مطلوبہ مقام تک دوا کی درست مقدار کی رسائی بھی ہے۔

دنیا بھر میں چھوٹے روبوٹس پر کام جاری ہے اور انہیں بڑے پیمانے پر طبی مقاصد کے لیے تیار کیا جارہا ہے تاہم اب ڈارٹماؤتھ کالج اور یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے ماہرین نے بہت ہی چھوٹا تھری ڈی روبوٹ بنایا ہے جو کام کے دوران اپنے پر سیکڑتا اور پھیلاتا ہے۔ اس پر وھیل کی طرح لگے بازو پھیلتے اور سکڑتے ہیں اور اور دم جیسا ایک ابھار بھی ہے جو اسے جسم میں تیرنے میں مدد دیتا ہے۔

سائنس دانوں نے روبوٹ کو پہلے تھری ڈی پرنٹر پر چھاپا اور اس کی دم پر دل کے خلیات (سیلز) کی ایک پرت چڑھائی جبکہ روبوٹ وہیل کے پروں پر روشنی سے حساس ہائیڈروجل لگائے گئے۔ جب یہ خلیات ایک دم دھڑکتے ہیں تو روبوٹ کی دم اوپر اور نیچے ہوتی ہے جبکہ اس کے پر نما بازو روبوٹ کو آگے دھکیلنے کی قوت دیتے ہیں اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک وہ تاریک ماحول میں رہتا ہے۔

اگر پروں پر لگے جیل کو پر زیریں سرخ (نیئر انفراریڈ) روشنی ڈالی جائے تو وہ اپنی ساخت بدل لیتے ہیں نیچے کی جانب مڑ جاتے ہیں۔ اس طرح روبوٹ سست پڑجاتا ہے اور اب روبوٹ کے ذریعے مطلوبہ جگہ پر دوا ڈالی جاسکتی ہے۔

ڈارٹماؤتھ کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر زی چین نے بتایا کہ ’اس دوران دل کے خلیات اپنا کام کرتے رہتے ہیں لیکن جب بازو یا پروں کا بریک لگتا ہے تو ان کی قوت بھی زائل ہوجاتی ہے اوریہ سب کچھ ایمرجنسی بریک کی طرح ہوتا ہے‘ ۔

تجربہ گاہی ٹیسٹ میں اس روبوٹ پر دوا رکھ کر اسے کینسر کے پھوڑوں تک کامیابی سے پہنچایا گیا۔ اگلے مرحلے میں روبوٹ کے بازوؤں کو مزید بہتر بنانے پر کام کیا جائے گا تاکہ اسے مزید قابلِ عمل بنایا جاسکے۔

اسلام آباد میں 10 سالہ بچی فرشتہ زیادتی کے بعد قتل

 اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں درندہ صفت مجرموں نے معصوم فرشتہ کوزیادتی کے بعد قتل کردیا۔

اسلام آباد میں درندہ صفت مجرموں نے معصوم فرشتہ کوجنسی زیادتی کے بعد قتل کردیا۔ بچی فرشتہ کا تعلق خیبرپختونخواہ کے قبائلی ضلع مہمند سے ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 15 مئی کوچک شہزاد سے لاپتہ بچی کوقتل کرکے جنگل میں پھینکا گیا، فرشتہ کی لاش کو جنگل سے بر آمد کیا گیا،  پوسٹ مارٹم کر لیا گیا جب کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے 2 ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جن کی سربراہی ڈی آئی جی کریں گے۔

وزیرداخلہ اعجازشاہ نے بچی فرشتہ کے ساتھ زیادتی اورقتل کیس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی اور سخت ایکشن لینے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔  وزیرداخلہ نے آئی جی اسلام آباد سے تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

آئی جی نے مقدمہ تاخیر سے درج کرنے پر ایس ایچ او شہزاد ٹاؤن کو معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف محکمانہ انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ ننھی فرشتہ کے لواحقین نے لاش ترامڑی چوک پر رکھ کر وفاقی پولیس کی بے حسی کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا۔

والد نے پولیس کو ننھی فرشتہ کے قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچی لاپتہ ہونے کے بعد تین دن تک تھانے کے چکر لگاتے رہے لیکن ایف آئی آر نہ کاٹی گئی اور کئی دفعہ تھانے کے گیٹ پرکھڑے سنتری نے جھڑک کر واپس بھجوادیا۔

لواحقین نے بتایا کہ ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاوٴن نے لڑکی کے گھر سے بھاگنے کا الزام لگا کر رپورٹ درج کرنے سے انکار کیا، جس دن ایف آئی آر درج ہوئی اس سے دوسرے دن ہی بچی کی لاش بھی مل گئی، ایس ایچ او بروقت ایف آر درج کرکے کارروائی کرتا تو شاید بچی قتل نہ ہوتی۔

موٹرسائیکلوں کیلئے کم معیار کا پیٹرول متعارف کروانے پر غور

اسلام آباد: حکومت ملک بھر میں موٹر سائیکلوں کے لیے کم معیاری پیٹرول متعارف کروانے سے متعلق تجاویز پر غور کررہی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے موٹرسائیکل مالکان کو کم قیمت پر ایندھن فراہم کیا جاسکے۔

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر کو موٹر سائیکلوں کے لیے 80-82 رون پیٹرول متعارف کروانے کے لیے تجاویز اور عملی معاملات کا جائزہ لینے کی ہدایت جاری کی۔

اس حوالے سے یہ رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ یہ تجاویز آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے عہدیدار کی جانب سے پیش کی گئیں۔

پاکستان 2 سال قبل عالمی ایندھن کے معیار پر پورا اترتے ہوئے 87 رون سے 92 رون پیٹرول پر منتقل ہوا تھا اور کم از کم 3 دہائیوں سے غیر معیاری 82 رون پیٹرول کا استعمال ترک کرچکا ہے۔

ریسرچ اوکٹین نمبر(رون ) ایندھن کے معیار کا پیمانہ ہے اور عام طور پر زیادہ رون والا ایندھن ہی صاف اور بہتر معیار کا مانا جاتا ہے۔

وزارت پیٹرولیم کے عہدیدار نے بتایا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں کم معیاری ایندھن کی مخالفت کررہی ہیں کیونکہ انہیں ملک بھر میں علیحدہ اسٹوریج اور سپلائی چین کے علاوہ تمام ریٹیل مراکز پر اضافی سرمایہ کاری بھی کرنی ہوگی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم مذکورہ معاملہ آج (منگل کو) زیرِ غور لائیں گے۔

ندیم بابر جو اس حوالے سے مختلف اجلاس منعقد کرچکے ہیں، انہوں نے اور پیٹرولیم ڈویژن کے ترجمان نے رابطہ کرنے پر کوئی جواب نہیں دیا جبکہ دلچپسپ بات یہ ہے کہ اوگرا اور آٹوموبائل انڈسٹری بھی اس اقدام سے پیچھے ہٹ گئی ہیں۔

اوگر کے ترجمان نے کہا کہ مصنوعات کی خصوصیات میں تبدیلی کرنا ریگولیٹر کا مینڈیٹ نہیں، انہوں نے مزید کہا کہ پروڈکٹ کی خصوصیات کی منظوری دینا پیٹرولیم ڈویژن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

ڈاکٹر عبداللہ ملک جو لندن کی نیو کاسٹل یونیورسٹی میں سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں انہوں نے ڈان کو بتایا کہ وہ قومی مفاد سے متعلق تشہیر نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت توانائی کو اس معاملے میں غور کرنا چاہیے جس سے سالانہ ایک ارب ڈالر کے درآمدی بوجھ میں کمی کی جاسکتی ہے۔

ڈاکٹر عبداللہ ملک نے کہا کہ لوگوں نے درآمدی اشیا استعمال کرنے کی عادت بنالی ہے ورنہ گاڑیوں میں استعمال ہونے والے رون ایندھن کو موٹر سائیکل میں استعمال کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ 80-82 رون پیٹرول حکومت کی جانب سے ایک نوٹس کے اجرا کے بعد متعارف کروایا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر عبداللہ ملک نے مزید کہا کہ نئی مصنوعات کی تجویز دینا اوگرا کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں لیکن عہدیدار نے قومی مفاد میں یہ تجویز دی۔

ان کا کہنا تھا کہ 35 سے 40 فیصد پیٹرول موٹرسائیکل میں استعمال ہوتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ یہ سچ نہیں ہے کہ مارکیٹ میں مصنوعات کی زیادہ تعداد مسائل پیدا کرسکتی ہے۔

ڈاکٹر عبداللہ ملک نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین میں پیٹرول کے 7 معیار ہیں۔

مزید برآں موٹر سائیکلوں کے لیے 80 سے 82 رون پیٹرول کی تجویز دینے کا مطلب یہ نہیں کہ یہ کم معیاری ہوگا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ درحقیقت یہ یورو- ٹو پیٹرول سے بہتر ہوگا کیونکہ اس میں کوئی کیمیکل یا اضافی اجزا شامل نہیں ہوں گے۔

تاہم، ٹرک، بسیں، گاڑیاں، موٹرسائیکل اور ٹریکٹر بنانے والی کمپنیوں اور اسمبلرز کی نمائندہ تنظیم پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی اے ایم اے)، نے اس تجویز کی سخت مخالفت کی ہے۔

ایسوسی ایشن نے کہاکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ اکثر مقامی ریفائنریز کے پاس جدید سہولیات نہیں اور ہم زیادہ رون ایندھن تیار نہیں کرسکتے جس کے لیے انہیں ایندھن میں اضافی جزو کے طور پر درآمد کیا جانے والا رون خریدنا پڑنا تھا۔

اگر کم معیاری ایندھن متعارف کروایا جائے تو ان اضافی اجزا کے درآمدی اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔

پی اے ایم اے نے کہا کہ ‘ یہ پالیسی اقدام بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے کے طویل المدتی قومی ہدف سے پیچھے ہٹنے کے برابر ہوگا۔

راء کی دہشت گردی جاری

وطن عزیز کے انٹیلی جنس اداروں نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں مصروف را کا نیٹ ورک پکڑ لیا ہے ۔ یاد رہے کہ را کی گلگت میں انتشار اور دہشتگردی پھیلانے کی طویل منصوبہ بندی ناکام بنا دی گئی ہے ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ را ، گلگت میں بلورستان نیشنل فرنٹ حمید نامی گروپ کی سرپرستی کر رہا تھا، تفتیش میں انکشاف ہوا کہ بلورستان نیشنل فرنٹ حمید گروپ گلگت بلتستان کی ذیلی قوم پرست تنظیم ہے، را نیٹ ورک کا مشن گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو ورغلانہ تھا، جی بی کی یونیورسٹیوں میں پاکستان دشمن پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا اور عبدالحمیدخان نامی بھارتی مہرے کے پاس عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کا مشن سونپا گیا تھا ۔ واضح رہے کہ آپریشن کے دوران بی این ایف کے 14 متحرک کارکن حراست میں لیے گئے ۔ چیئرمین بلورستان نیشنل اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن نام نہاد بلورستان ٹائمزشاءع کرتا تھا، جس میں پاک مخالف پراپیگنڈہ کیا جاتا تھا ۔ قومی سلامتہ کے اداروں کی کوشش سے عبد الحمید نے 8 فروری 2019 کو غیر مشروط سرنڈر کیا جبکہ 29 مارچ کو شیرنادرشاہی بھی پکڑا گیا ۔ گزشتہ 72 برسوں میں پاکستان اور بھارت کے آپسی تعلقات کیسے رہے ہیں یہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ۔ ہر کوئی بخوبی جانتا ہے کہ ان تعلقات کو ’’اتار چڑھاءو‘‘ کا نام دینا بھی مشکل ہے کیونکہ زیادہ تر ان دونوں ممالک میں تعلقات کشیدہ ہی رہے ہیں ۔ اگرچہ اس ضمن میں مختلف اوقات میں بہتری کی کوششیں متعدد بار ہوتی رہیں مگر

نتیجہ نہ نکلا تھکے سب پیامی

یہاں آتے آتے، وہاں جاتے جاتے

یوں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ مارچ 1977 میں جب مرار جی ڈیسائی نے بھارتی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تو اس کے بعد کے 27 ماہ کو ہی پاک بھارت باہمی تعلقات کا نسبتاً بہتر عرصہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بے جا نہ ہو گا کہ اسی دوران پاکستان کی جانب سے مرار جی ڈیسائی کو وطن عزیز کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’’نشان پاکستان‘‘ دیا گیا تھا ۔ یہ بات بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ موصوف واحد شخصیت ہیں جنھیں پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’’نشان پاکستان‘‘ اور ’’بھارت رتن‘‘ حاصل ہوئے ۔ یاد رہے کہ مرار جی ڈیسائی نے اپنے منتخب ہونے کے فوراً بعد ’’راء‘‘ کے بجٹ میں تقریباً نصف حد تک کٹوتی کر دی تھی ۔ اس کی وجہ انھوں نے بیان کی کہ راء جنوبی ایشیاء میں امن کے قیام میں رکاوٹ ہے اور اس کے طرز عمل کی وجہ سے بھارت کے تعلقات خطے کے ممالک سے بہتر نہیں ہو رہے ۔ بہرکیف اس وقت بھارت میں لوک سبھا چناءو کا ساتواں اور آخری مرحلہ بھی گزشتہ روز مکمل ہو چکا ہے، آخری مرحلہ میں 59 نشستوں کیلئے ووٹنگ کی گئی ۔ اب 23 مئی کو نتاءج کا اعلان ہو گا ۔ راقم کی رائے میں بھلے ہی ;667480; کو فتح حاصل ہو یا پھر کانگرس اور تھرڈ فرنٹ کو حکومت کا موقع ملے، مگر پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے امکانات خاصے مدہم ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بھارت کے اندر صوبائی انتخابات کا عمل وقفوں سے پورے 5 سال جاری رہتا ہے، ہر چند ماہ بعد کسی بھارتی صوبے میں انتخابات کا بگل بجنے لگتا ہے ۔ اسی وجہ سے ;667480; اور کانگرس نے اپنے ملک (بھارت) میں چناءو جیتنے کا یہ آسان ’’نسخہ کیمیا‘‘ ڈھونڈ نکالا ہے کہ بھارت کے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان کو ہندوستانی داخلی سیاست کا محور بنائے رکھا جائے ۔ یوں بھارت کے حقیقی مسائل حل کئے بغیر ہی انھیں اپنے مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں اور خطے میں مستقل طور پر ایک تناءو کا ماحول برقرار رہتا ہے ۔ پچھلے پانچ سالوں میں تو مودی نے اقتدار سنبھالنے کے روز اول سے ہی گویا طے کر لیا تھا کہ ہندوستان کے اقتصادی مسائل چونکہ انتہائی زیادہ ہیں اس لئے اس ضمن میں کوئی بڑی پیش رفت ان (مودی) کےلئے تقریباً ناممکن ہے، لہٰذا عیاری پر مبنی سفارت کاری کے ذریعے دنیا بھر میں یہ تاثر دیا جائے کہ پاکستان ہی علاقے میں تمام تر مسائل کا ذمہ دار ہے ۔ اپنے اسی ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر مودی نے وزیراعظم منتخب ہونے کے چند گھنٹوں میں ہی پہلا حکم انڈین انٹیلی جنس بیورو کے سابق چیف اجیت ڈووال کو بھارتی قومی سلامتی کا مشیر مقرر کرنے کا جاری کیا اور پھر یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا گیا جو تاحال پوری شد و مد سے چل رہا ہے ۔ کسے معلوم نہیں کہ اجیت ڈووال ہی وہ شخصیت ہیں ، جنھوں نے ’’افینسیو ڈیفنس‘‘ کی اپنی نام نہاد تھیوری پر عمل پیرا ہونے کا فخریہ طور پر اعلان کیا اور اپنے قول و فعل سے اس پر عمل کر کے دکھانے کی بھی ہر ممکن سعی کی ۔ اس ضمن میں آنجہانی بھارتی وزیر دفاع منوہر پریارکر نے بھی ایک سے زائد مرتبہ ’’کانٹے سے کانٹا ‘‘ نکالنے کی اپنی پالیسی کا اظہار کیا ۔ اس سے موصوف کی مراد یہ تھی کہ پاکستان کے اندر دہشتگردی کو منظم ڈھنگ سے فروغ دیا جائے گا ۔ علاوہ ازیں بھارتی وزیر مملکت برائے اطلاعات راجیے وردن اور سابق انڈین آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ اعتراف اور انکشاف کر چکے ہیں کہ پاکستان کو اندر سے ہی نقصان پہچانے کی ہر ممکن سعی کی جائے گی ۔ پچھلے چند سالوں میں جس طرح سے راء اور این ڈی ایس کے ذریعے سی پیک ، پولیو اور سابقہ فاٹا کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں ، یہ بھارت کی اسی مکروہ روش کا تسلسل ہے ۔ خطے کے بعض دیگر ممالک بھی وقتا فوقتاً بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طرح سے اس ضمن میں اپنا حصہ ڈالتے چلے آ رہے ہیں ۔ اس حوالے سے داعش کا نام بھی جس طرح سامنے آ رہا ہے، وہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ساری قوتیں مل کر وطن عزیز کے خلاف ’’سہولت کار‘‘ کا کردار ادا کر رہی ہیں اور یوں یہ بھارتی رعشہ دوانیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہیں ۔ حالانکہ کسے معلوم نہیں کہ پاکستان کی تمام تر حکومتیں کہہ چکی ہیں کہ پاکستان بھارت کے ساتھ ‘‘ کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ پر کسی بھی سطح کے مذاکرات‘‘ شروع کرنے پر ہمہ وقت تیارہے ۔ مگر چونکہ دہلی کا حکمران ٹولہ اس حوالے سے سنجیدہ نہیں لہذا یہ سلسلہ شروع ہونے کے بعد دہلی کی جانب سے کسی نہ کسی بہانے سے توڑ دیا جاتا ہے اور معاملات پھر جمود کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ایسے میں بھارت میں ہونے والے حالیہ انتخابی نتاءج سے بھی خطے میں کسی بڑی پیش رفت کی توقع غالباً عبث ہی ہو گی ۔ ایسے میں مذاکرات کی کوشش کو اگرچہ جاری رکھا جائے مگر اس حوالے سے کسی مثبت نتیجے کی امید نہ رکھی جائے ۔ دوسری جانب پاکستان کے معاشی مسائل پر تمام تر توجہ مرکوز کی جائے ۔ اسی کے ساتھ ساتھ بھارتی دیرینہ روش کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے قومی سلامتی کے تقاضوں کی جانب سے کسی قسم کی غفلت اور تساہل ہر گز نہ برتا جائے اور اس بھارتی ففتھ جنریشن وارفیئر کا خاطر خواہ جواب دیا جائے ۔

Google Analytics Alternative