Home » Author Archives: Admin (page 10)

Author Archives: Admin

ہر کام ﷲپر چھوڑ دیا جائے

امیر اسے کہا جاتا ہے جس کے پاس اپنی ضرورت سے زیادہ دولت ہو ۔ عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ امیر شخص کے پاس سب کچھ ہوتا ہے ۔ وہ پیسے سے ہر چیز خرید سکتا ہے ۔ ساری زندگی آرام اور سکون سے گزار سکتا ہے ۔ عزت سے دنیا سے جا سکتا ہے ۔ جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ امیر بھی مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے ۔ امیر کی بھی صحت خراب ہو سکتی ہے ۔ امیر بھی پل بھر میں غریب ہو سکتا ہے ۔ دولت اور عہدے ہمیشہ انسان کا ساتھ نہیں دیتے ۔ 1923 کو دنیا کے نو امیر ترین لوگ امریکہ کے شہر شکاگو کے مشہور واٹر بیچ ہوٹل میں اکٹھے ہوئے ۔ ان نو امیر ترین لوگوں کی دولت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ان کی دولت اس وقت امریکہ کی حکومتی دولت سے کئی زیادہ تھی ۔ ان نو شخصیات کے پاس دولت کے انبار تھے پہاڑ تھے ۔ ہر چیز خرید سکتے تھے ۔ ان نو امیر ترین شخصیات کے کیا بزنس تھے ۔ ان کی تفصیل کچھ یوں ہے ۔ ان نو امیر ترین لوگوں میں ایک دنیا کی سب سے بڑی سٹیل کمپنی کا صدر تھا ، دوسرا دنیا کی سب سے بڑی یو ٹیلیٹی کمپنی کا صدر تھا ۔ تیسرا دنیا کی سب سے بڑی گیس کمپنی کا صدر تھا ۔ چھوتا نیو یارک سٹاک ایکسچینج کا صدر تھا ، پانچواں بنک آف انٹر نیشنل سیٹلمنٹ کا صدر تھا ۔ چھٹا دنیا کا سب سے بڑا ویٹ سپکیو لیٹر کا مالک تھا ، ساتواں دنیا کا سب سے بڑا بیئر آن وال سٹریٹ َ کا مالک تھا، آٹھواں ورلڈ گریٹ اکنا می کا سربراہ تھا ، نواں ہر ڈنگ کیپنٹ کا صدرتھا ۔ اس وقت ان سب کا شمار دنیا کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا تھا ۔ یہ سب کے سب اب اس دنیا سے کوچ کر چکے ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ اگر کسی کے پاس دولت کے انبار ہوں ، پہاڑ ہوں مگر وہ پھر بھی موت کو آنے سے روک نہیں سکتا ۔ موت اٹل ہے ۔ ہر ایک نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔ لیکن موت کا وقت مقرر ہے ۔ اس لئے موت زندگی کی حفاظت کرتی ہے ۔ وہ اپنے وقت مقرر پر اور جگہ پر آ پہنچتی ہے ۔ موت یہ نہیں دیکھتی کہ کوئی غریب ہے یا امیر ،بادشاہ ہے یا فقیر ۔ اگر اس کا وقت آ پہنچا ہے تو وہ اسے وہ اپنے ساتھ لے جاتی ہے ۔ ہاں ہر ایک کےلئے اس کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے ۔ ہم روز لوگوں کو اس دنیا سے کوچ کرتے دیکھتے ہیں مگر پھر بھی موت کو بھول جاتے ہیں ۔ جو موت کو بھول جاتے ہیں ۔ وہ پھر ہر کام کر گزرتے ہیں جو کہ انسان کے کرنے کے نہیں ہوتے ۔ موت کو یاد رکھنے والے جج ،والدین کبھی بھی نا انصافی پر مبنی فیصلے نہیں کرتے ۔ خوش قسمت ہیں وہ انسان جنہیں موت یاد رہتی ہے ۔ موت کو یاد رکھنے والے گناہوں سے بچے رہتے ہیں دولت ہر وقت ساتھ نہیں رہتی ۔ وہ آتی ہے اور چلی جاتی ہے ۔ عروج و زوال زندگی کا حصہ ہیں ۔ سب عارضی ہیں ۔ بات ہو رہی تھی دنیا کے ان نو امیر ترین لوگوں کی 25سال گزرنے کے بعد ان کے حالات کیسے تھے ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ نو کے نو امیر ترین لوگ اب فوت ہو چکے ہیں ۔ دنیا سے کس حالت میں رخصت ہوئے ۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے ۔ جو شخص سٹیل کمپنی کا صدر تھا اس کا نام چارلس سواپ تھا ۔ یہ مرنے سے پانچ سال قبل بنک کرپٹ ہو کر مرا ۔ جو گیس کمپنی کا مالک مسٹر ہارورڈ ہبسن تھا وہ پاگل ہو کر مرا ۔ تیسرا ، ارتھر کیو ٹن کوڑی کوڑی کا محتاج ہو کر مرا ۔ چھوتا، جیل میں مرا ۔ پانچواں جیل ہوا لیکن مرنے سے قبل اسے گھر جانے دیا گیا ہے پھر اس کی موت گھر پر ہوئی ۔ ساتواں ایور کرگر نے خود کشی کر نے سے موت واقع ہوئی ۔ آٹھواں لیو فراسر کی موت بھی خود کشی کرنے سے ہوئی ۔ نواں سیمیل انسیول مرتے وقت کوڑی کوڑی کا محتاج ہو کر مرا ۔ ان کو دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ ایک نظام انسانوں کا بنایا ہوا ہے اور ایک نظام قدرت کا بنا ہواہے ۔ ہوتا ویسا ہی ہے ۔ جیسا قدرت کے نظام میں ہوتا ہے ۔ دولت کوئی بری چیز نہیں لیکن اسے سب کچھ ہی سمجھنا برا ہے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ پیسہ انسان کی ضروت ہے ۔ اگر پیسہ ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو وہ بھی اچھا نہیں کیونکہ وہ اکثربے سکونی کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے ۔ جس سے فیملی لاءف ، عزیزو اقارب میں فاصلے بڑھ جاتے ہیں ، ڈسٹربنس پیدا ہوتی ہے ۔ رشتے کمزور ہو جاتے ہیں ۔ اگر کہا جائے کہ ایسی دولت سے شیطان سے قربت ہو جاتی ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ شیطان کی دوستی پھر وہ گل کھلاتی ہے جسے سنبھالنا اور سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ بعض لوگ دولت کے ہوتے ہوئے اس کو اپنے پر نہیں لگاتے ۔ آجکل جو دنیا کا دوسرے نمبر پر امیر ترین شخص ہے وہ امریکن ہے ۔ اس کا اب بھی اپنا گھر نہیں ہے اپنی گاڑی نہیں ہے ۔ اپنا ذاتی ملازم نہیں ہے ۔ مگر یہ اپنی دولت کا زیادہ حصہ دنیا کی یونیورسٹیوں کے طالب علموں میں سکالر شپ فراہم کرتا ہے ۔ ویلفیئر کے کاموں میں خرچ کرتا ہے ۔ اتنی دولت کے ہوتے ہوئے اپنی کار اپنا ڈرائیور نہ رکھنا ، کرائے کے فلیٹ میں رہنا بات سمجھ میں نہیں آ تی کہ یہ شخص امیر ہوتے ہوئے اپنی ذات پر پیسہ کیوں خرچ نہیں کرتا ۔ کیا اسے اس کی ساددگی کہا جائے یا کنجوسی کہا جائے ۔ دولت اکٹھی کرنے کا پہلا مقصد اپنی ضرویات زندگی اپنا رہن سہن ، ٹھیک کر نا ہوتا ہے ۔ بہترین سواری بہترین گھر اور کام کاج کےلئے نوکر چاکر رکھنا ہوتا ہے ۔ اگر دولت کے ہوتے ہوئے بھی یہ چیزیں میسر نہیں ۔ وہ سیر سپاٹے نہیں کرتا ۔ کھا نے پینے کا شوق نہیں رکھتا ۔ سواری اچھی نہیں رکھتا اچھے کپڑے نہیں پہنتا تو پھر کیا ایسے شخص کو بد قسمت سمجھا جائے یا قناعت پسند ۔ اسی طرح کچھ ایسے لوگ بھی دکھائی دیتے ہیں ۔ جنہیں پیسوں کی کمی نہیں ۔ بچے بھی کماءو ہوتے ہیں ۔ کوئی ذمہ داریاں نہیں رکھتے ۔ صحت بھی ٹھیک نہیں ،پہنا ہوا لباس گیلا ہوتا ہے ۔ پھر بھی پیسے کے پیچھے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں ۔ دنیا ساری میں تجربات کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان کو روز آٹھ گھنٹے کام کرنا چائیے یعنی ہفتے میں چالیس گھنٹے کام ۔ باقی دو دن آرام ۔ ریٹائرمنٹ کی عمر 62 ۔ 65سال رکھی گئی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ فارمولا صرف سرکاری ملازمین اور گوروں کےلئے ہے جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ یہ سب پر لاگو ہے ۔ امریکہ میں بزنس مین اخبار اشتہار دیتے ہیں کہ ریٹائر ہو رہا ہوں لہٰذا اب رننگ بزنس میرا برائے فروخت ہے ۔ جبکہ ہم اپنا بزنس پہلے تو اس بنا پر فروخت ہی نہیں کرتے کہ ریٹائرہونے جا رہے ہیں ۔ یہ اپنا بزنس بچوں کو سونپ دیتے ہیں خواہ وہ بزنس بچوں کو پسند ہو یا نہ ہو ۔ لیکن ترقی یافتہ ممالک میں ایسا نہیں ہے ۔ باپ اپنی زندگی گزارتا ہے بیٹا اپنی زندگی گزارنے کا رستہ خود تلاش کرتا ہے ۔ جبکہ ہم قبر کی حد تک اس پر عمل کرتے ہیں لیکن زندگی بھر باپ ہی بچوں کی ذمہ داریاں نبھا تارہتا ہے ۔ انہیں پڑھاتا ہے ، نوکری بزنس کراتا ۔ جبکہ امریکی باپ اٹھارہ سال تک بچے کی ذمہ داری اٹھاتا ہے ۔ اس کے بعد اپنا اور اپنی لاءف پاٹنر کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔ وہ اپنا بزنس سیل کر کے اس کا آدھا حصہ اپنے باقی دنوں کےلئے رکھ چھوڑتا ہے ۔ باقی کا حصہ اپنی سیرو سیاحت پر خرچ کرتا ہے ۔ پھر واپس آکر سوساءٹی میں ویلفیئر کے کاموں میں حصہ لیتا ہے ۔ یوں زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے ۔ جبکہ ہم بچوں کا مسقبل بنانے کےلئے ساری عمر رشوت کا بازار گرم رکھتے ہیں ۔ کیا یہ اچھا نہیں کہ اپنی جائز کمائی سے بچوں کو اچھی تعلیم دی جائے ۔ انہیں تہذیب سکھائی جائے ۔ ہلال حرام میں فرق بتایا جائے ۔ بچوں کو اپنے پاءوں پر کھڑا ہونے دیا جائے ۔ بچوں میں دولت کا انبار لگانے کی خواہش پر حوصلہ افزائی نہ کی جائے ۔ اپنی زندگی میں آرام و سکون پیدا کیا جائے ۔ ٹھہراءو لایا جائے ۔ دولت کا انبار لگانے سے باز آیا جائے ۔ کسی کا حق نہ مارا جائے تانکہ جب آخری منزل پر پہنچ جاءو تو فرشتے پوچھیں بول تیرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ۔ پھر کہنے کو اس وقت آپ کے پاس کچھ نہ ہو ۔ لہٰذا ہر کام ا;203; پرچھوڑ دیا جائے ۔

فلم ‘جوکر’ نے نئی تاریخ رقم کردی

اکتوبر میں ریلیز ہونے والی ڈی سی کامکس کی فلم ‘جوکر’ نے دنیا بھر میں ایک ارب ڈالرز (ایک کھرب 55 ارب پاکستانی روپے سے زائد) کما کر نئی تاریخ رقم کردی کیونکہ یہ پہلی آر ریٹیڈ فلم ہے جس نے یہ سنگ میل عبور کیا۔

آر ریٹیڈ ایسی فلموں کو کہا جاتا ہے جن میں تشدد یا بالغوں کا مواد زیادہ ہوتا ہے اور امریکا میں آر ریٹڈ فلموں کو 17 سال سے کم عمر افراد والدین یا بالغ سرپرست کے بغیر نہیں دیکھ سکتے۔

آسان الفاظ میں آر ریٹڈ فلمیں ایسی ہیں جو بنیادی طور پر بالغ افراد کے لیے مخصوص سمجھی جاسکتی ہیں۔

ہولی وڈ اسٹوڈیو وارنر برادرز نے معروف سپرہیرو بیٹ مین کے روایتی حریف جوکر کی زندگی پر مبنی اس فلم کو اکتوبر میں ریلیز کیا تھا اور اب اس نے لگ بھگ ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں ایک ارب ڈالرز کمالیے ہیں، جبکہ ابھی تک اسے چین میں ریلیز بھی نہیں کیا گیا، جہاں یہ اگلے سال ریلیز کیے جانے کا امکان ہے۔

جواکوائین فیونکس نے جوکر کا مرکزی ادا کیا ہے جو ایک ذہنی طور پر بیمار تنہا شخص ہیں جو تشدد کے ذریعے شہرت حاصل کرتا ہے اور ناقدین نے اسے سراہا بھی تھا مگر امریکا میں اس فلم کی ریلیز کے موقع پر خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس سے لوگوں میں تشدد کے رجحان میں اضافہ ہوسکتا ہے اور پرتشدد واقعات پیش آسکتے ہیں۔

جوکر سے قبل سب سے زیادہ بزنس کرنے والی آر ریٹڈ فلم ڈیڈپول 2 (2018 ) تھی جس نے 78 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ کمائے تھے جبکہ اس کے بعد ڈیڈپول تھی جس نے 78 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز کمائے۔

جوکر کی تیاری میں 6 کروڑ ڈالرز خرچ ہوئے تھے جبکہ دیگر اخراجات الگ تھے اور فوربس کی رپورٹ کے مطابق اب ایک ارب ڈالرز کمانے کے بعد یہ اب تک سب سے زیادہ منافع بخش کامک بک فلم بھی بن گئی ہے جس نے اپنے بجٹ سے لگ بھگ 16 گنا زیادہ کمالیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جوکر بنیادی طورپر ایک ڈراما فلم ہے جس میں اسپیشل ایفیکٹس اور ایکشن کی بجائے کرداروں پر زیادہ توجہ دی گئی ہے اور ایکشن سیکونس بہت کم ہیں۔

اے پی فوٹو
اے پی فوٹو

جوکر رواں سال سب سے زیادہ کمانے والی 7 ویں بڑی فلم بھی بن گئی ہے، جس سے آگے 6 فلمیں ایوینجرز : اینڈ گیم، دی لائن کنگ، ٹوائے اسٹوری 4، کیپٹن مارول، اسپائیڈر مین فار فرام ہوم اور الہ دین شامل ہیں، جن میں سے ڈزنی اسٹوڈیو جبکہ ایک سونی(اسپائیڈرمین) کی تیار کردہ ہے، مگر اس میں بھی ڈزنی کا حصہ شامل تھا۔

توقع کی جارہی ہے کہ جوکر کو آسکر ایوارڈز میں متعدد شعبوں میں نامزد کیا جائے گا اور یہ پہلی کامک بک فلم بھی ہوسکتی ہے جسے بہترین فلم اور اداکار کے ایوارڈز مل جائیں۔

طبی بنیادوں پر سیاسی کھچڑی

اور پھر اچانک ایک دن خبر ;200;تی ہے کہ جناب نواز شریف صاحب کے پلیٹ لیٹس خطرناک حد تک گر گئے ہیں اور ڈاکٹرز کی پوری ٹیم انکی جان بچانے کی جنگ لڑتی دکھائی دیتی ہے، پورے ملک کے بہترین ڈاکٹروں کا پینل رات دن چوبیس گھنٹے بیمار کے ارد گرد موجود رہتے ہیں ۔ سارا میڈیا لمحے لمحے کے پلیٹ لیٹس گننے میں جت جاتا ہے، لمحہ بہ لمحہ لیگی فکرمندوں کے اوپر کے سانس اوپر اور نیچے کے نیچے رہ جاتے ہیں ، میڈیا پر پوری قوم سے صحت اور درازی عمر کی دعائیں طلب کی جاتی ہیں ، منظر کشی کچھ ایسے انداز میں کرتے لیگی لیڈران میڈیا پر ;200;تے جیسے ابھی کچھ ہوا، کہ ابھی کچھ ۔ یہ دو تین ہفتے دراصل عام پاکستانیوں پر بہت بھاری گزر رہے ہیں ، ایک طرف مولوی حضرات اسلام ;200;باد کو فتح کرنے نکلے ہوئے تھے کہ ادھر نواز شریف صاحب کے پلیٹ لیٹس نے عوام کو ایک عجیب مخمصے اور پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ سومولانا کے زور دار تڑکے میں طبی کھچڑی اب مکمل طور پر پک کر تیار ہو چکی ہے، چھٹی والے دن عدالتیں لگ چکی ہیں ، حکومت بھی بظاہر بیک فٹ پر ;200;چکی ہے، حکومت کے اپنے سیاسی خیر خواہ ڈبل گیم کے ساتھ ساتھ وکٹ پر دونوں طرف کھیلتے نظر ;200;نا شروع ہو چکے ہیں اور کچھ برادران یوسف کی طرح سامنے ;200;نا شروع ہو چکے ہیں ، دراصل اس مخصوص صورتحال میں تو ایک دوراندیش سیاسی طبقے نے مستقبل کا بیانیہ کچھ مختلف انداز میں دیکھنا شروع کر دیا ہے، سب لوگ اپنے اپنے ۔ ۔ سی ویز ۔ ۔ ;200;پ ڈیٹ کرتے نظر ;200; رہے ہیں ،اکثر کی نظروں میں ایک خاص چمک اور منہ سے اقتدار کی رال ٹپکنا شروع ہو چکی ہے ۔ لگتا یہ ہے کہ یہ خاص سیاسی کھچڑی کسی خاص بیمار کیلئے نہیں کھانا تو اسے کوئی اور ہی چاہتا ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کے پاس اس سے اچھا فیصلہ کرنا ممکن ہی نہیں تھا، لیکن دونوں طرف سے بڑی چالاکی سے سیاست بھی کھیلی جا رہی ہے، عام ;200;دمی کے ذہن میں چالیس صندوقوں کی پھر سے یاد تازہ ہو چکی ہے ۔ دونوں فریقین معاملے میں روبرو عدالت عالیہ پیش ہو ایک ایک کر اپنا اپنا کارڈ شو کر رہے ہیں ، ن لیگ اس انتہائی نازک ترین صورتحال میں بھی بھونڈی سیاست کھیل رہی ہے جسکی مثال شہباز شریف صاحب کی خالی مخولی انڈرٹیکنگ ہے جو عدالت عالیہ میں پیش کی گئی، جو غیر سنجیدہ ہی نہیں بلکہ ایک مذاق ہے جو کسی اور کے ساتھ نہیں خود اس شخص کے ساتھ ہے بقول ن لیگ جو اسوقت موت اور زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے ۔ لیکن ایک سوال یہاں یہ بھی پیدا ہو تا ہے کہ جس شخص کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے یا جسکی صحت کے ایک لمحے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، وہ کیوں مکمل خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہے، پہلے تو وہ کہتا تھا کہ کبھی باہر نہیں جاءوں گا، اب سارا زور ہی خروج پر ہی کیوں ;238; جسکی زندگی کی ایک گھنٹے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی تھی، اسکی نازک صورتحال پر دنوں اور ہفتوں کی دیر کیوں ، یہ درخواستوں ،جواب درخواستوں کا کھیل کیسا;238;عام ;200;دمی سمجھ نہیں پا رہا کہ سچ کہاں اور جھوٹ کیا ہے، یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے;238; عام ;200;دمی تو یہ کہتا ہے اگر واقعی زندگی اور موت کا معاملہ ہے تو پھر جب حکومت نے فراخدلی سے ۔ ای سی ایل ۔ سے نام نکال ہی دیا ہے تو اگر من میں سچ ہے تو پھر سات ارب کی گارنٹی نہیں اپنے محبوب قائد پر سات سو ارب بھی وارتے ہیں تو کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ۔ عدالت بھی عالیہ، درخواست گزار بھی اعلیٰ، لاہور ہائیکورٹ کی تاریخ میں شاید ہی کبھی عدالت ہفتہ کو لگی ہو، میرا خیال ہے کہ فیصلہ جو بھی ہوا ہے، اس میں حکومت کی کوئی ہار نہیں ہے، حکومت نے اپنے کارڈز نہایت ہی عمدہ ترتیب سے کھیلے، یہ وہ بہترین حکمت عملی ہے جو نہ صرف حکومت کو ہر طرح کی تنقید سے محفوظ رکھے گی بلکہ یقینی دوسرے فریق کیلئے سیاسی طور پر انتہائی خطرناک بلکہ مستقبل کی سیاست میں بڑی مہلک اور نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے ۔

ہواوے کا پہلا فولڈایبل فون آخرکار فروخت کے لیے پیش

ہواوے نے اپنا پہلا فولڈ ایبل فون میٹ ایکس چین میں فروخت کے لیے پیش کردیا ہے۔

اس فون کو رواں سال فروری میں موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران پیش کیا گیا تھا اور جون میں اسے فروخت کے لیے پیش کرنا تھا، مگر پھر اسے ستمبر اور پھر اکتوبر میں متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا، مگر اب جاکر یہ صارفین کو دستیاب ہوا ہے۔

ہواوے کا پہلا فولڈ ایبل اسمارٹ فون گوگل ایپس کے بغیر صارفین کو پیش کیا گیا ہے۔

جمعے کو ہواوے نے چین میں اپنے آن لائن اسٹور میں یہ فون فروخت کے لیے پیش کیا جس کی قیمت 16 ہزار 999 چینی یوآن (3 لاکھ 76 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی۔

یہ فون فولڈ شکل میں فرنٹ پر 6.6 انچ اور بیک پر 6.38 انچ اسکرین کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ جب اسے ان فولڈ کیا جاتا ہے تو اسکرین کا حجم 8 انجچ ہوجاتا ہے۔

یہ فون 5 جی سے لیس ہے جبکہ کمپنی کا اپنا کیرین 980 پراسیسر اور ڈوئل سیل 4500 ایم اے ایچ بیٹری اس میں دی گئی ہے۔

اس فون میں گرپ بار نامی ایک فیچر دیا گیا ہے جو ایک ہاتھ سے بھی اس ڈیوائس کو پکڑنے میں مدد دیتا ہے۔

اس فون میں بالون 5000 فائیو جی موڈیم، 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے۔

فروری میں کمپنی کا دعویٰ تھا کہ فائیو جی موڈیم بہت تیز ہے اور اس کی ڈا?ن لوڈ اسپیڈ 4.6 جی بی پی ایس ہے یعنی بیشتر 4 جی موڈیم سے 10 گنا تیز جبکہ کوالکوم ایکس 50 فائیو جی موڈیم سے دوگنا تیز۔

اس میں ڈا?ن لوڈنگ رفتار اتنی تیز ہے کہ کمپنی کے مطابق صارفین ایک جی بی فلم محض 3 سیکنڈ میں ڈاﺅن لوڈ کرسکتے ہیں۔

اس کا پاور بٹن فنگرپرنٹ ریڈر کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔

فون میں لائیسا ڈیزائن کیمرے اور یو ایس بی پورٹ سی بھی موجود ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ فون دیگر ممالک میں کب تک دریافت ہوگا تاہم کمپنی کی جانب سے اکتوبر میں کیا گیا تھا کہ اس فون کی دستیابی کا انحصار دیگر ممالک میں فائیو جی ٹیکنالوجی پر ہوگا۔

کوک اسٹوڈیو 12 کی چوتھی قسط کے ’ڈھولا‘ کے سب دیوانے

کوک اسٹوڈیو کے 12 ویں سیزن کی چوتھی قسط بھی جاری کردی گئی اور اس بار بھی تین گانے جاری کیے گئے ہیں۔

کوک اسٹوڈیو 12 کی چوتھی قسط کو 15 نومبر کو ریلیز کیا گیا۔

چوتھی قسط میں گلوکارہ صنم ماروی نے صوفی کلام کو پیش کیا ہے، گلوکارہ نے ’جگر مراد آبادی، سچل سرمست اور دیگر شعرا‘ کے بولوں پر جاری ’حیراں ہوا‘ کو صوفیانہ انداز میں پیش کرکے ایک بار پھر مداحوں کو اچھا تحفہ دیا۔

چوتھی قسط میں علی سیٹھی نے فیض احمد فیض کی غزل بھی پیش کی اور اسے بھی سراہا جا رہا ہے، تاہم چوتھی قسط کے پنجابی گانے کی تعریفیں کی جا رہی ہیں۔

کوک اسٹوڈیو کی پہلی قسط کے گانے سنیں
چوتھی قسط کے پنجابی گانے ’ڈھولا‘ کو ساحر علی بگا اور آئمہ بیگ نے پیش کیا، جسے خوب سراہا جا رہا ہے۔

اس سے قبل اس کی تین قسطوں کو جاری کیا جا چکا ہے اور پہلی تینوں قسطوں میں بھی تین، تین گانوں کو جاری کیا گیا تھا۔

پہلی قسط 19 اکتوبر کو ریلیز کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ
تیسری قسط کو رواں ماہ 8 نومبر کو ریلیز کیا گیا تھا، جس میں تین گانے شامل تھے۔

تیسری قسط کے گانے ’مبارک مبارک‘ کے بلوچی و پنجابی زبان کے گانے کو عاطف اسلم کے ساتھ بلوچستان کے میوزیکل بینڈ بنور کے ارکان نے بھی گایا تھا۔

تیسری قسط میں قوال فرید ایاز اور ابو محمد کے ’آدم‘ کو بھی ریلیز کیا گیا تھا، جب کہ عمیر جسوال کے ’چل رہا ہوں‘ کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

کوک اسٹوڈیو کی دوسری قسط کے گانے سنیں
کوک اسٹوڈیو کی دوسری قسط گزشتہ ماہ 27 اکتوبر کو جاری کی گئی تھی، جس میں پہلی قسط کی طرح تین گانے دیے گئے تھے۔

دوسری قسط کو 26 اکتوبر کو ریلیز کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ
دوسری قسط میں کشمیری و ترکی زبان کے گانے ’روشے‘ کو بھی جاری کیا تھا، جسے گلوکارہ زیب بنگش اور ساتھیوں نے گایا۔

دوسری قسط میں ماضی کے مقبول گیت ’سیاں‘ کا ریمیک بھی شامل کیا گیا، جسے ریچل وکاجی اور شجاع حیدر نے گایا۔

کوک اسٹوڈیو کی تیسری قسط کے گانے سنیں
دوسری قسط کے ماضی کے مقبول گانے ’بلو‘ کے ریمیک نے سب کا دل دیوانہ کردیا، مقبول گیت کے ریمیک کو بھی گلوکار ابرار الحق نے گایا۔

’بلو‘ کو ماضی میں بھی ابرار الحق نے گایا تھا اور اس گانے کو پہلی بار 1995 میں ریلیز کیا گیا تھا، جسے اب دوبارہ کوک اسٹوڈیو میں 24 سال بعد گایا گیا۔

تیسری قسط کو 8 نومبر کو ریلیز کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ
کوک اسٹوڈیو 12 کی پہلی قسط کو گزشتہ ماہ 19 اکتوبر کو ریلیز کیا گیا تھا، پہلی قسط میں تین گانے دیے گئے تھے، تاہم سب سے زیادہ سرائیکی گانے ’ماہی دیاں جھوکاں‘ کو پسند کیا گیا تھا۔

پہلی قسط کے ’ماہی دیاں جھوکاں‘ کو جمال فقیر تروپ اور ان کے ساتھیوں نے روایتی انداز میں پیش کیا تھا۔

پہلی قسط کے گانے ’دم مستم‘ کو راحت فتح علی خان نے جب کے تیسرے گانے ’رم پم‘ کو گلوکارہ ذوئی وکاجی اور شہاب حسین نے گایا تھا۔

حیراں ہوا
ڈھولا
گلوں میں رنگ

’تماشا‘ کا دوسری دنیا پر مبنی سائنس فکشن گانا

رواں ماہ 5 نومبر کو میوزیکل کامپیٹیشن شو’پیپسی بیٹل آف دی بینڈز‘ میں شرکت کرنے والے میوزیکل بینڈ ’ای شارپ‘ نے اپنا رومانوی گانا ’او شبانہ‘ جاری کیا تھا۔

’او شبانہ‘ کی ویڈیو اور کہانی کو بہت سراہا گیا تھا اور اسے اب تک 80 ہزار کے قریب بار دیکھا جا چکا ہے۔

’او شبانہ‘ کے بعد رواں ماہ 12 نومبر کو بھی ’پیپسی بیٹل آف دی بینڈز‘ کے تعاون سے ایک اور ’کشمیر‘ بینڈ نے اپنا گانا ریلیز کیا تھا۔

پیپسی بیٹل آف دی بینڈز کے دوسرے سیزن کے فاتح کشمیر نے 12 نومبر کو ’پروانا ہوں‘ جاری کیا تھا، جسے بینڈ نے کامپیٹیشن میں بھی گایا تھا۔

ای شارپ نے 5 نومبر کو او شبانہ گانا جاری کیا تھا—اسکرین شاٹ
ای شارپ نے 5 نومبر کو او شبانہ گانا جاری کیا تھا—اسکرین شاٹ

’پروانا ہوں‘ کے مختصر دورانیے کی ویڈیو میں میوزیکل بینڈ کے ارکان کو پہاڑوں پر پرفارمنس کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

ساتھ ہی صحراؤں میں لوگوں کو جستجو کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا تھا۔

اور اب ’پیپسی بیٹل آف دی بینڈز‘ کے تیسرے سیزن میں شرکت کرنے والے بینڈ ’تماشا‘ کے ارکان نے بھی اپنا گانا ’روشنی’ جاری کردیا۔

کشمیر بینڈ نے پروانا ہوں 12 نومبر کو ریلیز کیا تھا—اسکرین شاٹ
کشمیر بینڈ نے پروانا ہوں 12 نومبر کو ریلیز کیا تھا—اسکرین شاٹ

تماشا کے گانے ’روشنی‘ میں دوسری دنیا کو دکھایا گیا ہے اور گانے میں 2545 کا زمانہ یعنی ڈیڑھ صدی بعد آنے والے دور کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

اگرچہ اسی گانے کی شاعری کو پہلے بھی سراہا جا چکا ہے اور بینڈ اسی گانے پر تعریفیں بھی حاصل کر چکا ہے، تاہم اب اسی گانے کی ویڈیو کو بھی اچھوتا قرار دیا جا رہا ہے۔

پیپسی بیٹل آف دی بینڈز میں شامل ہونے والے کسی بھی بینڈ نے پہلی بار سائنس فکشن مناظر پر گانا جاری کیا ہے اور اسے بہت سراہا جا رہا ہے۔

IMF نے 250 ارب کی ریاستی ضمانت جاری کرنے اجازت دیدی

کراچی: عالمی مالیاتی فنڈ نے توانائی کے شعبے میں گردشی قرض پر قابو پانے کے لیے پاکستان کو 250 ارب روپے کی نئی اضافی ریاستی ضمانت (sovereign guarantee) جاری کرنے کی اجازت دے دی۔ یہ ضمانت دیگر شعبوں کے لیے بھی جاری کی جاسکے گی۔

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے گذشتہ روز ( ہفتے کو) اوورسیز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( او آئی سی سی آئی ) کی تقریب میں تاجربرادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آئی ایم ایف کو راضی کر لیا ہے، اب پاکستان اضافی ڈھائی سو ارب روپے کی ریاستی ضمانت جاری کرسکتا ہے جو بنیادی طور پر گردشی قرضے کی ادائیگی میں استعمال ہوگی۔

قبل ازیں آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر کے قرضہ پروگرام کے تحت ریاسی ضمانت کی حد جی ڈی پی کے 3.6 فیصد یا 1265 ارب روپے مقرر کی تھی۔ اس پابندی کی وجہ سے حکومت جولائی 2019 میں دوسری بار 200 ارب روپے مالیت کے سکوک بانڈ کے اجرا پر مجبور ہوگئی تھی۔

او آئی سی سی آئی کی تقریب میں شرکت کرنے والے ایک شخص کے مطابق مشیرخزانہ نے کہا کہ جلد ہی ہم سکوک بانڈ کے اجرا کے لیے ریاستی ضمانت جاری کریں گے۔ تاہم انھوں نے سکوک بانڈ کے اجرا کے لیے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

سکوک کے اجرا کے بعد اسلامی بینک سینٹرل پرچیزنگ پاور ایجنسی ( سی پی پی اے ) کو 200 ارب روپے فراہم کرسکیں گے جس سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، گیس یوٹیلٹی فرموں اور آئی پی پیز کو ادائیگیاں کی جاسکیں گی۔

مشیر خزانہ کے مطابق دسمبر 2020 تک گردشی قرضوں پر قابو پالیا جائے گا۔ گردشی قرضوں کا حجم 12ارب روپے ماہانہ تک محدود ہوگیا ہے جو ایک ماہ قبل تک 20 تا 30 ارب روپے تھا۔

مشیرخزانہ نے کہا کہ ملکی معیشت مستحکم ہوچکی ہے۔ انھوں نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عمل درآمد کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے تمام تر کوششیں کی جا رہی ہیں۔

وکی پیڈیا کے بانی نے فیس بک و ٹوئٹر کے ٹکر کی ویب سائٹ متعارف کرادی

انٹرنیٹ پر تقریبا دنیا کے ہر موضوع پر مفت معلومات فراہم کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کانٹینٹ ویب سائٹ ’وکی پیڈیا‘ کے شریک بانی جمی ویلز نے فیس بک اور ٹوئٹر کے ٹکر کی نئی سوشل ویب سائٹ متعارف کرادی۔

جمی ویلز کی جانب سے ’ڈبلیو ٹی سوشل‘ کے نام کی متعارف کرائی گئی سوشل ویب سائٹ دراصل ان کی جانب سے 2 سال قبل متعارف کرائی گئی نیوز ویب سائٹ کا تسلسل ہے۔

جمی ویلز نے 2017 میں ’وکی ٹربیون‘ نامی وکی پیڈیا طرز کی ایب نیوز ویب سائٹ متعارف کرائی تھی، اس ویب سائٹ کا مقصد دنیا بھر کے حالات کو جوں کا توں شائقین تک پہچانا ہے۔

’وکی ٹربیون‘ دنیا کی ایک ایسی منفرد نیوز ویب سائٹ ہے جسے کے مضامین اور خبروں کو ’وکی پیڈیا‘ کی طرح دوسرے لوگ بھی ایڈٹ اور تبدیل کر سکتے ہیں اور اسی وجہ سے اسے دیگر نیوز سائٹس کے مقابلے کم شہرت ملی۔

’وکی ٹربیون‘ کے بعد اب اس کے بانی جمی ویلز نے ’ڈبلیو ٹی سوشل‘ نامی سوشل انفارمیشن شیئرنگ ویب سائٹ متعارف کرادی۔ جیمز ویلز نے اس نئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ایک ماہ قبل آزمائشی بنیادوں پر متعارف کرایا تھا، تاہم اب اسے باقاعدہ طور پر متعارف کرادیا گیا۔

جمی ویلز نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ ان کی جانب سے متعارف کرائی گئی سوشل ویب سائٹ پر ایک لاکھ صارفین نے اپنے اکاؤنٹ بنا لیے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق جمی ویلز کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے متعارف کرائی گئی سوشل انفارمیشن ویب سائٹ جہاں ایک طرف فیس بک اور ٹوئٹر کی طرح کام کرے گی، وہیں وہ منفرد بھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چوں کہ فیس بک اور ٹوئٹر صحافتی اداروں کا مواد پھیلانے کے لیے ایڈوٹائزنگ کی مد میں پیسے کماتے ہیں اس لیے وہاں پر کمائی کی لالچ میں صارفین تک غلط معلومات بھی پھیلائی جاتی ہے۔

جمی ویلز کے مطابق ’ڈبلیو ٹی سوشل‘ پر اشتہارات نہیں دیے جائیں گے البتہ اس فورم پر لوگوں سے ’ڈونیشن‘ کا مطالبہ کیا جائے گا۔

جمی ویلز نے بتایا کہ یہ استعمال کرنے والے صارف پر انحصار ہے کہ وہ ’ڈبلیو ٹی سوشل‘ کو ’ڈونیشن‘ فراہم کرتا ہے یا نہیں، کیوں کہ ویب سائٹ میں ڈونیشن کے فیچر کو اسکپ کرنے کا آپشن بھی دیا گیا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ بغیر کسی معاوضے اور کمائی والی ان کی سوشل انفارمیشن ویب سائیٹ پر لوگوں دوسرے افراد تک درست اور معنی خیز معلومات پہنچانے کا کارنامہ سر انجام دیں گے۔

’ڈبلیو ٹی سوشل‘ پر اکاؤنٹ بنانا انتہائی آسان ہے، دیگر سوشل ویب سائٹس کی طرح اس پر بھی اکاؤنٹ بنانے کے لیے پہلے مرحلے میں نام، ای میل، تاریخ پیدائش اور دیگر اہم معلومات پوچھی جاتی ہیں۔

اس لنک کو کلک کرکے ’ڈبلیو ٹی سوشل‘ پر اکاؤنٹ بنایا جا سکتا ہے۔

ڈبلیو ٹی سوشل پر اکاؤنٹ بنانا انتہائی آسان ہے—اسکرین شاٹ
ڈبلیو ٹی سوشل پر اکاؤنٹ بنانا انتہائی آسان ہے—اسکرین شاٹ
Google Analytics Alternative