Home » Author Archives: Admin (page 10)

Author Archives: Admin

“نیا پاکستان ہاوٴسنگ پروگرام” کے رجسٹریشن فارم نادرا ویب سائٹ پرجاری

اسلام آباد: نیا پاکستان ہاوٴسنگ پروگرام کے رجسٹریشن فارم نادرا ویب سائٹ پر جاری کردیئے گئے۔

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی جانب سے”نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی” کے اعلان کے بعد رجسٹریشن فارم نادرا ویب سائٹ پرجاری کردیا گیا ہے۔ فارمز22 اکتوبرسے 21 دسمبر تک جمع کروائے جا سکیں گے، پہلے مرحلہ میں 7 اضلاع میں پراجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے، جن میں اسلام آباد، سکھر، گلگت، مظفر آباد، کوئٹہ، سوات اور فیصل آ باد شامل ہیں۔

فارمزجمع کروانے کے لیے 250 روپے فیس بھی جمع کروانا ہوگی، فارم نادرا اور ڈی سی کے دفاتر میں جمع کروائے جا سکیں گے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روزپانچ سالوں میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیرکیلیے ’’نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی‘‘ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بینائی کے عالمی دن پر ان عادات سے پیچھا چھڑائیں

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے جسم کا کونسا مسل سب سے زیادہ متحرک رہتا ہے؟ تو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق وہ ہماری آنکھیں ہیں جو دن بھر میں ایک لاکھ سے زائد بار حرکت کرتی ہیں۔

مگر اس کا متحرک رہنا آنکھوں کو صحت مند رہنے میں مدد نہیں دیتا اور انسانوں کی لاپروائی بینائی کمزور کردینے کا باعث بنتی ہے۔

آج پاکستان سمیت دنیا بھر بینائی کا عالمی دن منایا جارہا ہے، اس موقع پر یہاں ایسی ہی چند عام عادات کا ذکر کیا گیا ہے جن سے پیچھا چھڑا کر آپ نظر کے چشمے سے بھی نجات پاسکتے ہیں۔

ایک سرگرمی پر بہت زیادہ وقت لگانا

آج کل دفاتر میں کمپیوٹر کے سامنے بہت وقت گزارا جاتا ہے اور بیشتر افراد 15 منٹ کا وقفہ نہیں لیتے، جس کا مشورہ طبی ماہرین دیتے ہیں۔ کمپیوٹر اسکرین پر نظریں جمائے رکھنا آنکھوں کی سوجن، بینائی دھندلانے اور دیگر عوارض کا باعث بنتا ہے۔

آنکھوں کی ورزشوں سے دوری

اگر تو چمشہ لگاتے ہیں تو مختلف ورزشیں ان سے جلد نجات میں مدد دے سکتی ہیں، روزانہ آنکھوں کی ورزش صحت مند بینائی کے حصول میں مدد دیتی ہے جبکہ آنکھوں کو تکلیف کا سامنا بھی نہیں ہوتا۔

فائدہ مند غذا کو انکار

اکثر افراد کو سبز پتوں والی، کیروٹین، وٹامن اے اور سی سے بھرپور غذائیں پسند نہیں ہوتیں، جیسے بیٹا کیروٹین گاجر، شکرقندی، پالک اور کدو میں پایا جاتا ہے، جبکہ لیوٹین سبز پتوں والی سبزیوں میں زیادہ ہوتا ہے، مچھلی اور اخروٹ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ گائے یا چکن کی کلیجی، انڈے، مکھن اور دودھ وٹامن اے سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ترش پھلوں میں وٹامن سی پایا جاتا ہے، یہ تمام اجزاءصحت مند بینائی کے لیے بہت ضروری ہیں۔

تمباکو نوشی

تمباکو نوشی صرف پھیپھڑوں کو ہی نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ یہ بینائی کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتی ہے، درحقیقت بینائی سے محرومی کی سب سے بڑی وجہ موتیا نامی مرض کو قرار دیا جاتا ہے اور تمباکو نوشی کے عادی افراد میں اس کا خطرہ دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔

نیند کی کمی

نیند جسم کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے اور اس کی کمی کے نتیجے میں بھی بینائی کے مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے، طبی ماہرین آنکھوں کی اچھی صحت کے لیے کم از کم 6 گھنٹے کی نیند کا مشورہ دیتے ہیں۔

زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب ڈالر کی سطح سے نیچے آگئے

کراچی: رواں ہفتے زر مبادلہ کے ذخائر میں 10 کروڑ ڈالر کمی واقع ہوئی جس کے بعد ذخائر 15 ارب ڈالر کی سطح سے نیچے آگئے ہیں۔

ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران زرِمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں مزید 10 کروڑ ڈالرز کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب ڈالرسے بھی گر کر 14 ارب 85 کروڑ 21 لاکھ ڈالرز کی سطح پر آگئے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق سرکاری ذخائر 8 ارب 30 کروڑ 78 لاکھ ڈالر کی سطح پر اور کمرشل بینکوں کے ذخائر 5 کروڑ 96 لاکھ  ڈالر اضافے  سے 6 ارب 54 کروڑ 43  لاکھ  ڈالر کی سطح پر ہیں۔ سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر میں چار کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔

فطرت سے قربت: بیماریوں کے علاج کی انوکھی لیکن مفید تجویز

اسکاٹ لینڈ: آپ باہر جائیے اور روز بادلوں یا تاروں کو دیکھیے؛ دریا یا سمندر کے کنارے جاکر ایک پتھر پر اپنی پریشانی لکھیے اور اسے پانی میں پھینک دیجیے، یا گھر کے باغیچے میں کھمبیوں کی دس اقسام تلاش کیجیے۔

یہ وہ عجیب نسخے ہیں جو آج کل اسکاٹ لینڈ کے ڈاکٹر اپنے مریضوں کےلیے لکھ رہے ہیں۔ اسے ماہرین نے ’فطرت کے نسخے‘ یا نیچر پرسکرپشنکا نام دیا ہے، بالخصوص شیٹ لینڈ جزائر کے ڈاکٹر دیگر دواؤں کے ساتھ اپنے مریضوں کو فطرت سے قریب ہونے کے مشورے دے رہے ہیں۔

برطانیہ میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا تجربہ ہے جو نیشنل ہیلتھ سروسز اور اسکاٹ لینڈ میں پرندوں کے تحفظ کی تنظیم (آر ایس پی بی) نےشروع کیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس سے بلڈ پریشر قابو میں رہتا ہے، دماغی اور جسمانی اطمینان بڑھتا ہے اور امراض قلب کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ سب سے بڑھ کر انسان جب قدرتی مناظر کے قریب ہوتا ہے تو اس سے خوشی ملتی ہے۔

آر ایس پی بی کی ایک افسر کیرن مک کیلوی کے مطابق فطری مناظر دل و دماغ پر بہت اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں اور یہ بات سائنسی طور پر درست ثابت ہوچکی ہے۔ اگر مریض پہلی بار افاقہ محسوس کرے تو اسے قدرتی مناظر اور سبزے وغیرہ میں مزید وقت گزارنے کو کہا جاتا ہے۔ مریض اس روداد کو ایک کیلنڈر کے ذریعے نوٹ بک میں لکھتا جاتا ہے۔

مثلاً جنوری میں خاص پھولوں کو کھلتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ یا فروری میں پیاز اور دیگر جڑ والی سبزیاں اگائی جاسکتی ہیں اور مارچ میں پالتو جانوروں کے ساتھ واک کی جاسکتی ہے۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ اس طرح صحت پر مفید اثرات ہوتے ہیں ۔ لوگ ذیابیطس، ڈپریشن اور کینسر تک میں بہتری محسوس کرتے ہیں۔

ایک اور ڈاکٹر کلوای ایوانز نےکہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ دوا کے بغیر علاج کیا جائے تو لوگوں کو فطری اور قدرتی مناظر میں جانے دیجئے۔ واضح رہے کہ یہ طریقہ علاج ایک مطالعہ بھی ہے جو طویل عرصے تک جاری رہے گا۔

عامرخان کا جنسی ہراسانی میں ملوث ہدایت کارکی فلم چھوڑنے کا اعلان

ممبئی: بالی ووڈ کے مسٹرپرفیکشنسٹ عامر خان نے جنسی ہراسانی میں ملوث ہدایتکار کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے فلم چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

بالی ووڈ میں ’’می ٹو‘‘ مہم کے تحت جہاں خواتین اپنے ساتھ ہوئی زیادتی پرآواز اٹھارہی ہیں وہیں اس انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے دیگرافراد اس مہم کی حمایت کرتے نظرآرہے ہیں۔ حال ہی میں اداکار عامر خان اور ان کی اہلیہ کرن راؤ نے خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے معاملے پرآواز اٹھاتے ہوئے ٹوئٹرپراس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہےاور جنسی ہراسانی میں ملوث ہدایت کار کی فلم چھوڑنے کااعلان کیا ہے۔

اداکارنے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’’عامرخان پروڈکشن کمپنی نے ہمیشہ جنسی ہراسانی اور بدسلوکی کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی اپنائی ہے، ہم ہرطرح کی جنسی ہراسانی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ عامر خان نے اپنی اگلی فلم کے حوالے سے لکھا ’’می ٹو‘‘ مہم سامنے آنے کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ جس ہدایت کار کے ساتھ ہم اپنا اگلا پروجیکٹ شروع کرنے والے ہیں اس پر بھی اسی طرح کے الزامات ہیں جب کہ مزید معلومات کرنے پر یہ علم ہوا کہ معاملہ عدالت میں ہے۔

اداکار نے کہا کہ ہم نے اس کیس کا کوئی بھی نتیجہ اخذ ہونے سے قبل ہی خود کو اس فلم سے الگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ خواتین لمبے عرصے سے جنسی ہراسانی کا شکار ہورہی ہیں، اب اس عمل کو بند ہونا ہوگا اورہم اپنی فلم انڈسٹری کو محفوظ اور پُر امن بنانے کے لیے کچھ بھی کریں گے۔ عامر خان نے لکھا کہ وہ اس تحریک پر یقین رکھتے ہیں جس نے لوگوں کو ان کے ساتھ ہونے والی جنسی ہراسانی کے خلاف کھل کربولنے کاموقع دیا ہے۔

عامر خان نے اپنی پوسٹ میں نہ تو فلم کا نام بتایا ہے اور نہ ہی اُس ہدایت کار کا جس پر جنسی ہراسانی کا الزام ہے تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق عامر خان فلم ’’جولی ایل ایل بی‘‘ کے ہدایت کارسبہاش کپور کے ساتھ اگلی فلم ’’موگول‘‘ کا پروجیکٹ شروع کرنے والے تھے تاہم 2014 میں ان پر ایک خاتون نے جنسی ہراسانی کاالزام لگایا تھا اور یہ معاملہ اب تک عدالت میں ہے۔

سکھر میں گھر کی دیوار گرنے سے 9 بچے جاں بحق، 3 زخمی

سکھر: صالح پٹ میں گھر کی دیوار گرنے سے 9 بچے جاں بحق جب کہ  3 زخمی ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سے 9 بچے جاں بحق جب کہ 3 زخمی ہوگئے، واقعے کے بعد اہل علاقہ نے امدادی کارروائیاں شروع کردیں اور ملبہ ہٹاکر لاشوں اور زخمیوں کو باہر نکالا۔

حادثے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے بچوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے، جاں بحق ہونے والوں میں 7 بچے اور 2 بچیاں شامل ہیں جب کہ اہل علاقہ کے مطابق گھر کی دیوار خستہ حالی کے باعث گری

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صالح پٹ کے قریب دیوار گرنے سے بچوں کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر سکھر کو زخمی بچوں کو بہتر علاج کی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

پھونک برائے فروخت

 

 

Mian-Tahwar-Hussain

ہم بحیثیت قوم ضعیف العقیدہ لوگ ہیں ذاتی پریشانیاں جو اگر ٹھنڈے دل و دماغ سے تجزیہ کیا جائے تو اپنے اعمال اور عقلمندیوں سے پیدا شدہ ہیدا شدہ ہوتی ہیں ان کے حل کے لیے کسی نہ کسی کے کہنے پر جعلی پیروں فقیروں کے پاس جاکر حل کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں بھی ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی روزی روٹی کا ذریعہ بن سکیں۔ ظاہری حلیہ ان لوگوں نے ایسا بنا رکھا ہوتا ہے کہ مصیبتوں کا مارا ان کے جال میں پھنسں ہی جاتا ہے اس لیے عاملوں کاملوں کی معاشرے میں بھرمار ہے۔ اکثر ہاتھوں میں تین تین چار چار بڑے نگینے والی انگوٹھیاں پہنے رومال کندھے پر ڈالے آنکھوں میں سرمہ لگائے ایک دو یا حسب ضرورت تسبیح نما پتھر کے منکے گلے میں لٹکائے چرس کا سوٹا لگائے اپنے ڈیرے پر گاہکوں کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ انہوں نے دو چار ایسے کارندے بھی چھوڑے ہوتے ہیں جو کرنی والی سرکار کے من گھڑت واقعات وہاں جا کر سناتے ہیں جہاں دو یا چار بوڑھے ایک چارپائی پر بیٹھے حقے کے کش لیتے ہوئے اپنی باتوں میں مگن ہوں ان کی سنگت، صحبت میں حقے کی باری لگاتے ہوئے یہ کارندے کرنی والی سرکار کے بارے میں تجسس بھرے واقعات سنا کر گاہکوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بنتے ہیں ان بوڑھے افراد سے بات متعدد گھروں تک پہنچ جاتی ہے پھر خواتین جو ان معاملات میں اندھا یقین کرنے والی ہوتی ہیں ان سے بات آگے سے آگے سفر کرتی رہتی ہے ان کے منہ سے یہ جملہ ضرور ادا ہوتا ہے کہ بہن میں تمہیں رازداری سے بتا رہی ہوں کیونکہ آپ حالات سے بہت پریشان ہیں اس لیے میرے دل میں آئی کے آپ کے گوش کوزار ضرور کر دوں تاکہ آپ کا بھلا ہو جائے مجھ سے تو آپ کی پریشانی دیکھی نہیں جاتی۔ ہاں بھائی صاحب(یعنی شوہر)کو نہ پتا چلے مرد ذات تو ان کو مانتی ہی نہیں آپ خاموشی سے ان کے پاس جائیں اللہ نے چاہا تو آپ کی پریشانیاں دور ہوجائیں گی۔ وہ خاتون اگر ایک دفعہ کرنی والی سرکار کے پاس چلی جائے تو پھر وہ وہاں جاتی ہی رہتی ہے کیونکہ نہ زندگی کی پریشانیاں ختم ہوں اور نہ خاتون کا جانا بند ہوگا۔ کرنی والی سرکار سفید کاغذ پر آڑی ترچھی لکیریں گھسیٹ کر تعویز گھر میں جلانے اور درختوں سے باندھنے کے لیے دیں گے پانی کی بوتل کا ڈھکن اتار کر دو تین بار اس میں پھونک مار دیں گے اور فرمائیں گے دن میں تین چار بار یہ پانی پی لیا کریں شفا ہوگی۔ اس عمل کو مکمل کرنے کے بعد کرنی والی سرکار کے پاس ایک خالی ڈبہ پڑھا ہوتا ہے جس میں کم از کم دو سرخ ڈال کر جانے کی اجازت مل جاتی ہے شام تک ان کی اچھی خاصی دیہاڑی بن جاتی ہے یہ کردار آپ کو معاشرے میں پھیلے ہوئے ملیں گے جو معصوم اور پریشان حال لوگوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک بڑی تعداد میں چھپنے والے اخبار میں ان لوگوں کے اشتہار بھی آنا شروع ہو گئے تھے یعنی آمدنی میں اضافے کے لیئے اخبار والے ان فراڈیوں کی تشہیر کے کام میں نمایاں کردار ادا کر رہے تھے۔ اب کافی عرصے سے ایسے اشتہار دیکھنے اور پڑھنے کو نہیں ملے۔ جہالت اور ضعیف العتقادی لوگوں کو اس راہ پر چلنے کے لئے مجبور کرتی ہے۔ حکومت کی طرف سے ایسے لوگوں پر کوئی چیک نہیں جو لوگوں کو دھوکے سے لوٹنے میں مصروف ہیں۔ تعجب کا مقام ہے کہ ہم اپنی مرضی سے ایسے فراڈیوں کے ہاتھوں میں سرنڈر کرتے ہیں خواتین کا آنا جانا اکثر اوقات آبروزریزی کے واقعات کا سبب بنتا ہے۔ ایسے لوگوں کا اگر گھر میں آنا جانا شروع ہوجائے تو پھر سمجھئے جان مال عزت دا ؤپر لگ گئے۔ پڑھا لکھا طبقہ اور اعلیٰ عہدوں پر فائز اشرافیہ بھی ایسے لوگوں کا شکار ہیں خود ساختہ پیروں فقیروں کے چہروں پر چھائی خباثت نظر آجاتی ہے۔ لیکن لوگ پھر بھی ان کے ہاتھوں پر بوسہ دینا اپنے لیے خیروبرکت تصور کرتے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے مجھے ایچ ایٹ قبرستان میں ایک دوست کے قریبی عزیز کے جنازے میں شرکت کا موقع ملا وہ صاحب وقفے وقفے سے بتا رہے تھے کہ فلان نامور پیر صاحب نماز جنازہ پڑھائیں گے آخر کار وہ پہنچ گئے بڑی لینڈ کروزرسے ان کا ظہور ہوا اور ایک دوسری گاڑی سے ان کے چند پیروکار برآمد ہوئے۔ پیر صاحب کے چہرے پر تکببررعونت اور خود نمائی تھی کسی کے سلام کا نہ تو انہوں نے جواب دیا اور نہ ہی خود بڑھ کر حاضرین سے مصافحہ کیا ان کے خوشامدی ٹولے نے صفیں سیدھی کرنے کی آواز لگائی اور پھرپیر صاحب مصلیٰ پر آکر نماز جنازہ پڑھانے لگے اس سے فارغ ہوئے تو گھر والے جنازہ کندھوں پر اٹھا کر دیگر لوگوں کے ہمراہ اسے قبر تک لے آئے۔ لاش کو قبر میں اتار کے اور قبرکو بند کرنے کے بعد دعا کا وقت آیا تو پیر صاحب نے اپنے ایک پیروکار کو رعب سے کہا قرآن پڑھو۔ اس نے چند قرآنی آیات پہلے سپارے کا چوتھائی حصہ اور درود پاک صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا ہی تھا کہ پیر صاحب نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھا دیئے سب حاضرین نے پیروی کی انہوں نے چند جملے مغفرت کیلئے کہے اور اپنی قیمتی گاڑی کی طرف چل دیئے یعنی آئے بھی وہ گئے بھی وہ ختم تماشہ ہو گیا کے مصداق یاد چھوڑ گئے۔ میں سوچتا رہا کیا عبادت، ریاضت اگریہ کرتے ہوں گے تو اس عبادت نے ان کو متکبر کیوں بنا دیا لوگوں کو یہ اپنا ہاتھ چومنے سے منع کیوں نہیں کرتے ان میں نرمی محبت پیار اور انسانیت کیلئے پرخلوص رویہ کیوں نہیں۔ ان خود ساختہ سجادہ نشیں گدی نشیں اور عامل لوگوں میں مروت اور مودت کیوں نہیں انسانیت کی عزت اور تکریم کیوں نہیں۔ یہ مزاروں کی کمائی کھانے والے مجبور اور پریشان حال لوگوں کو اپنے گیٹ آپ سے مرعوب کرکے جیبیں خالی کیوں کرواتے ہیں۔ اپنے سامنے جھکنے والوں، ہاتھوں پر بوسہ دینے والوں، نذرانہ پیش کرنے والے لوگوں کو منع کیوں نہیں کرتے میں تو پیر سائیں کی گاڑی پر پڑی دھول کو ہاتھوں پر لگا کر عقیدت سے منہ پر ملتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ سونے چاندی کے زیورات پیش کرتے اور ان کو ہڑپ کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ مالدار تو شادی بیاہ اور جنازہ پڑھانے تک ان لوگوں کی خدمت حاصل کرنا باعث فصل اور بھاری رقوم بطور نذرانہ پیش کرنا سعادت سمجھتے ہیں۔ پیرسائیں کو کبھی انکار کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ میں سوچتا ہوں یہ اللہ کو کیا جواب دیں گے اگرچہ سارے ایسے نہیں لیکن اکثریت سادہ لوح لوگوں کے مال پر ہی چلتی ہے گرمیوں اور سردیوں میں ان کی اولادیں یورپ امریکہ سے پاکستان آتی ہیں۔ اکثر کے بچے انگلینڈ اور امریکی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بگڑی ہوئی نسل کا یہ حال ہے اندر پریشانی اور اوپر شیروانی۔ جو خود اپنی اولادوں کو دین سے دوری پر برداشت کیے ہوئے ہیں وہ لوگوں کی پریشانیوں کو کیا دورکرسکتے ہیں اللہ تو فرماتا ہے کہ تم دل میں خاموشی سے دعا کرو یا گڑ گڑاتے ہوئے میں سن لیتا ہوں وہ تو انسان کی شہ رگ کے قریب ہے۔ اس مالک سے ایسے مانگنا چاہیے جس طرح مانگنے کا حق ہے اس مالک کے احکامات کو اپنی زندگی پر رائج کرنے سے دکھوں تکلیفوں سے اور ان بہروپیوں سے بھی نجات ملتی ہے جو جگہ جگہ اپنی دکانیں چمکائے بیٹھے ہیں۔ اللہ انہیں ہدایت عطا فرمائے جو دین کو بیچ کر دنیا سنوار رہے ہیں۔ قرآن شفا ہے اپنے گھروں میں ہمیں تلاوت کو معمول بنانا چاہئے درود پاک کثرت سے پڑھیں تاکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمتوں کا آپ کے گھر پر نزول ہو آپ کے بچے آپ کی پیروی کریں گھر کا پاکیزہ ماحول ہو اور آپ کی زندگی آسودہ ہو۔

ایپل نے ڈائیلاگ کمپنی کے شیئرز خرید لیے

معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے موبائل چپ بنانے والی یورپی کمپنی ڈائیلاگ کا ایک حصہ خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔

اس معاہدے میں ڈائیلاگ کمپنی کی پاور مینیجمنٹ ٹیکنالوجی، 3 سو انجینئرز اور دیگر اثاثوں کا اختیار اور لائسنس حاصل کرنے کے لیے 30 کروڑ ڈالر کی ادائیگی شامل ہے۔

ایپل آئندہ تین برس کےعرصے میں ڈائیلاگ سے طے شدہ مصنوعات کی مد میں مزید 30 کروڑ ڈالر ادا کرے گا۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹیک کرنچ کے مطابق یہ ایپل کی سب سے اہم شراکت داری ہے، ایپل ڈائیلاگ کمپنی کو حاصل نہیں کررہی کیونکہ 3 سو انجینئرز اس کی ٹیم کا صرف 16 فیصد ہیں جو ایپل کے لیے ڈیزائن کی جانے والی چپس پر سالوں سے کام کررہے ہیں۔

ایس وی پی جونی سروجی نے ایک بیان میں کہا کہ ’ ڈائیلاگ کو چِپ بنانے میں مہارت حاصل ہے اور ہم انجینئرز کے اس قابل گروپ کا ساتھ ملنے پر بہت پُرجوش ہیں جنہوں نے ایک عرصے تک ایپل کا ساتھ نبھایا ہے اور اب اس کے ساتھ کام کریں گے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ ڈائیلاگ کے ساتھ ہمارا رشتہ آئی فونز کے آغاز سے ہیں اور ہم ان کے ساتھ دیرپا تعلق قائم کرنے کے خواہش مند ہیں‘۔

گزشتہ برس نک کی نے رپورٹ کیا تھا کہ ایپل کمپنی اپنی پاور مینیجمنٹ چپس کو ڈیزائن کرنے اور ڈائیلاگ سے علیحدہ ہونے کا ارادہ کررہا ہے۔

رواں سال کے آغاز میں ڈائیلاگ کا کہنا تھا کہ ایپل نے تمام آرڈر منسوخ کردیے تھے، شاید وہ نئے آئی فون ایکس ایس میکس میں ڈائیلاگ کی جگہ اپنی چپس متعارف کروائے گا۔

یہ معاہدہ ڈائیلاگ کی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کو ایپل کے ساتھ لانے کا راستہ ہے جس کے تحت مستقبل میں ان چپس کے ڈیزائن ایپل آئی پی کے نام سے ہوں گے اور کمپنی باآسانی انہیں استعمال اور تبدیل کرسکے گی۔

Google Analytics Alternative