Home » Author Archives: Admin (page 11)

Author Archives: Admin

چوہدری شوگر ملز کیس؛ نواز شریف 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

اہور: قومی احتساب  بیورو (نیب) نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کو جیل سے چوہدری شوگر ملز کیس میں گرفتار کرلیا۔

نیب نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو چوہدری شوگر مل کیس میں کوٹ لکھپت جیل سے گرفتار کر کے احتساب عدالت میں پیش کیا۔ نیب پراسکیوٹر حافظ اسد اعوان نے کیس میں مزید تفتیش کے لیے نواز شریف کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر احتساب عدالت نے نواز شریف کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرتے ہوئے 25 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے عدالت میں بیان دیا کہ نیب نے مجھ سے جیل میں بھی تفتیش کی، یہ آئے اور مجھ سے مختلف سوالات پوچھے، جو مجھے معلوم تھا بتا دیا جو معلوم نہیں تھا کہ دیا مجھے علم نہیں لیکن مجھے جیل میں وکلاء سے بھی نہیں ملنے دیتے۔ میرے والد کاروباری آدمی تھے، سیاست میں آنے سے قبل ہی 1937 سے 1971 کاروبار کے ذریعے پیسہ آیا۔

اس موقع پر سابق وزیراعظم نے سوال کیا کہ  بتائیں کرپشن کہاں ہوئی ہے، میں اس ملک کا تین مرتبہ وزیر اعظم رہا، مجھے گوانتاناموبے لے جائیں یا جہاں مرضی ہو لے جائیں، اگر ایک پیسے کی کرپشن دکھا دیں تو میں سیاست سے دستبردار ہو جاوں گا۔

نواز شریف کی پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔  مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے احتساب عدالت کی جانب جانے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں روک دیا جس پر کارکنان اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

کھانے کے بعد سستی طاری کیوں ہوتی ہے؟ وجہ سامنے آگئی

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ دوپہر اور رات کو ذہنی طور پر مکمل بیداری اور متحرک ہونے کے باوجود کھانے کے بعد اچانک طبعیت سست اور غنودگی چھانے لگتی ہے؟

اگر آپ کو ایسا احساس ہوتا ہے تو آپ تنہا نہیں درحقیقت لاکھوں کروڑوں افراد کو اس کا تجربہ ہوتا ہے جسے طبی زبان میں فوڈ کوما بھی کہا جاتا ہے جس کا سامنا مختلف جانوروں کو بھی ہوتا ہے۔

مگر اس کی وجہ کیا ہے؟ اب سائنسدانوں کے خیال میں انہوں نے جواب ڈھونڈ لیا ہے۔

درحقیقت کھانے کے بعد کی اس غنودگی یا سستی اور طویل المعیاد یادوں کی تشکیل میں تعلق ہوسکتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

نیویارک یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ صحت بخش غذا کے بعد طبعیت میں سستی اور غنودگی کا سامنا ہر ایک کو ہوتا ہے اور درحقیقت انسان ہی نہیں بلکہ بیشتر جانوروں میں بھی یہ ردعمل نظر آتا ہے۔

تحقیقی ٹیم میں شامل پروفیسر تھامس کریو نے بتایا کہ ہماری تحقیق میں بتایا گیا کہ ‘آرام اور ہضم’ کرنے والا ردعمل ارتقائی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو طویل المعیاد یادوں کو بنانے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیقی ٹیم نے نے کیلیفورنیا سی سلگ نامی ایک سمندری جاندار کا جائزہ لیا کیونکہ یہ اس طرح کی تحقیق کے لیے بہت طاقتور جاندار ہے اور اس کے دماغی نیورون بیشتر جانداروں سے 10 سے 50 گنا زیادہ بڑے ہوتے ہیں۔

سائنسدانوں نے کھانے اور دماغ کے تعلق کے حوالے سے ماضی کے کام کو بھی دیکھا۔

تحقیقی ٹیم کے ایک اور رکن نکولائی کیکیوشکن نے بتایا ‘انسانوں میں کھانے کے بعد انسولین ہارمون کا اخراج ہوتا ہے، جس سے جسمانی خلیات غذائی اجزا کو دوران خون میں جذب کرتے ہیں اور چربی میں تبدیل کرکے طویل عرصے کے لیے محفوظ کرلیتے ہیں، مگر انسولین کا اثر دماغ پر بہت کم ہوتا ہے، اس کی جگہ ایک اور انسولین جیسے ہارمون کا اخراج ہوتا ہے جو دماغی افعال کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے جس میں طویل المعیاد یاداشت کی تشکیل بھی شامل ہے، تاہم اس کا انحصار کیلوریز کو جزوبدن بنانے پر نہیں ہوتا’۔

ان کا کہنا تھا کہ تاہم انسولین جیسے مرکبات کے انسانی جسم میں اخراج کے 2 فعال موڈیولز ہیں، ایک میٹابولک موڈیول جو انسولین کی نمائندگی کرتا ہے، جو غذا اور توانائی کے توازن کو کنٹرول کرتا ہے، جبکہ ایک دماغی موڈیول ہے، جو انسولین جیسے مرکب پر انحصار کرتا ہے اور یاداشت کی تشکیل کو کنٹرول کرتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ جس جاندار پر انہوں نے تحقیق کی وہ ہارمون یعنی انسولین سسٹمز کے انسانوں جیسے فیچرز رکھتے ہیں، جو دونوں میں غذائیت، یاداشت اور رویوں کے ارتقا میں مددگار ثابت ہوئے، مگر سی سلگ میں یہ افعال اکٹھے رہے، جبکہ انسانوں میں یہ جزوی طورپر خودمختار ہوگئے۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ ابھی تعین کرنا باقی ہے کہ انسانوں میں فوڈ کوما ماضی کے ارتقائی عمل کا حصہ ہے یا یاداشت کی تشکیل کا ایک اہم حصہ، مگر یہ بات پہلے ہی ثابت ہوچکی ہے کہ انسانوں سمیت متعدد جانداروں میں نیند طویل المعیاد یادوں کو ذخیرہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔

ان کا خیال تھا کہ کھانے کے بعد سستی یا غنودگی کا تجربہ بھی اس غذا کے حوالے سے یاد کو محفوظ کرنے کا ملتا جلتا ذریعہ ہوسکتا ہے جو مستقبل میں ذہن میں ابھر سکتی ہے، کیونکہ یادگار کھانا ہمیشہ ذہن میں زندہ رہتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے نیچر ریسرچ جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل رواں سال کے شروع میں امریکا کے اسریپپس ریسرچ انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ انسانوں سمیت مختلف جانداروں میں سامنے آنے والا یہ رویہ عندیہ دیتا ہے کہ اس حوالے سے ضرور کچھ خاص ہے۔

محققین کے خیال مں انسانوں سمیت دیگر جانداروں میں ایک مخصوص سگنل بلٹ ان ہوتے ہیں جو بھوکا ہونے پر انہیں بیدار اور الرٹ رکھتے ہیں۔

یہ سگنل لوگوں کو خوراک کی تلاش میں مدد دیتے ہیں مگر جب کوئی پیٹ بھر کر کھالیتا ہے تو یہ سگنل غائب ہوجاتے ہیں اور اس کی جگہ تھکاوٹ اور غنودگی لے لیتی ہے۔

کچھ ماہرین کے خیال میں اس کی وجہ کھانے کے بعد دوران خون میں آنے والی تبدیلیاں ہیں، کیونکہ کھانے کے بعد چھوٹی آنت میں دوران خون ڈرامائی حد تک بڑھ جاتا ہے۔

جب معدے میں خون کا دورانیہ ہاضمے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے بڑھتا ہے تو دماغ کی جانب یہ شرح سست ہوجاتی ہے جس سے دماغی غنودگی محسوس کرنے لگتا ہے۔

ماضی میں ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ چند مخصوص غذائیں دیگر کے مقابلے میں زیادہ غنودگی طاری کرتی ہیں۔

اسی طرح 2018 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ سبزیوں اور زیتون کے تیل وغیرہ کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، انہیں کھانے کے بعد اس طرح کی غنودگی کا سامنا کم ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ صحت بخش غذا دن میں غنودگی کا امکان کم کرتی ہے جبکہ زیادہ چربی یا کاربوہائیڈریٹ والی غذاﺅں سے جسمانی گھڑی کا نیند کا ردہم متاثر ہوتا ہے جس سے غنودگی طاری ہونے لگتی ہے۔

دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ پاکستانیوں کے اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرے گا، شبر زیدی

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی کا کہنا ہے کہ دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ، ایف بی آر کو دبئی میں موجود پاکستانیوں کے اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرے گا۔

چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ ’فیڈرل بورڈ آف ریونیو حکام کی 9 اور 10 اکتوبر کو اثاثوں کے مالکان کی معلومات کے تبادلے سے متعلق متحدہ عرب امارات کے حکام سے ملاقات ہوئی’۔

شبر زیدی نے ٹوئٹ میں مزید کہا کہ ’دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ فوری طور پر دبئی میں پاکستانیوں کے اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرے گا اور اقامہ کے غلط استعمال سے بھی نمٹا جائے گا’۔

sdfdsfsdخیال رہے کہ 4 اکتوبر کو شبر زیدی نے معاشی خوشحالی کے لیے علاقائی استحکام کے موضوع پر اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ 20 سال میں 6 ارب ڈالر بیرون ملک منتقل ہوئے اور یہ رقم بھی قانونی چینلز سے منتقل کی گئی۔

شبر زیدی نے کہا تھا کہ پاکستانیوں کے 100 ارب ڈالر ملک سے باہر ہونے کا تاثر بلکل غلط ہے جبکہ بیرون ملک بھیجی گئی رقم واپس پاکستان لانے کا کوئی طریقہ موجود نہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ پاکستانی اب بھی اپنا سرمایہ بیرون ملک بھیج رہے ہیں جس میں کرپشن کا پیسہ 15 سے 20 فیصد ہے۔

قومی ٹی 20 کپ، مصباح الحق نے نئے ٹیلنٹ کی تلاش کا بیڑا اٹھا لیا

لاہور / پشاور: چیف سلیکٹر و ہیڈ کوچ مصباح الحق نے فیصل آباد میں شیڈول قومی ٹی20 کپ سے نئے ٹیلنٹ کی تلاش کا بیڑا اٹھا لیا،وہ ایسوسی ایشن ٹیموں کے کوچز کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔

سری لنکا کیخلاف ہوم سیریز میں قومی ٹیم کلین سوئپ کی خفت کا شکار ہوئی، دہری ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے والے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے بطور چیف سلیکٹر اسکواڈ کا انتخاب کیا تھا، پی سی بی نے روایتی سلیکشن کمیٹی کو ختم کرتے ہوئے 6ایسوسی ایشنز کی ٹیموں کے کوچز کوانکا معاون مقرر کیا ہے، مصباح نے کمیٹی کا اجلاس فیصل آباد میں طلب کرلیا جو آئندہ 2 سے 3 روز میں ہورہا ہے۔

پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ انٹرویو میں مصباح الحق نے کہاکہ سری لنکا کے خلاف سیریز میں ناقص کارکردگی کے بعد فیصل آباد میں شیڈول قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کی اہمیت بڑھ گئی ہے، آئی لینڈرز کے ساتھ میچز میں جو مسائل نظرآئے ہمیں ان کا حل تلاش کرنا ہے، جن پوزیشنز پر خلا دیکھا گیا ان کو پُر کرنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ تمام کھلاڑیوں خاص طور پر نئے ٹیلنٹ کیلیے بہترین موقع ہے کہ وہ خود کو قومی ٹیم کا اہل ثابت کریں،امید ہے کہ قومی ٹورنامنٹ سے اچھے کھلاڑیوں کی کھیپ سامنے آئے گی۔

کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ پاکستان نے سری لنکا کیخلاف سیریز میں اچھی کرکٹ نہیں کھیلی، حریف نے پاور پلے میں بہتر کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں دباؤ میں رکھا،انھوں نے کہا کہ احمد شہزاد اور عمر اکمل کو ہوم سیریز میں کم بیک کا موقع دیا، بدقسمتی سے وہ اچھی کارکردگی نہیں دکھا پائے، قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں ان سمیت کھلاڑیوں کیلیے بہترین موقع ہوگا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہارکرتے ہوئے مستقبل کیلیے افادیت ثابت کریں۔

دوسری جانب سلیکشن کمیٹی کے رکن کبیر خان نے پشاور میں ’’ایکسپریس نیوز‘‘ سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم کی مینجمنٹ تبدیل ہونے سے کھلاڑی خود کو نئے سسٹم میں سیٹ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ہوم سیریز ہونے سے بھی ان پر کافی دباؤ تھا، وہ طویل عرصے بعد ہوم گراؤنڈ پر تماشائیوں کے سامنے کھیل رہے تھے، اب ہم فیصل آباد میں قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے دوران مصباح الحق کی سربراہی میں سرجوڑ کر بیٹھیں گے۔

ہیڈکوچ اور چیف سلیکٹر ساری صورتحال بتائیں گے اس کی روشنی میں فیصلے ہوں گے، انھوں نے کہا کہ سری لنکا سے سیریز کیلیے عمدہ پرفارم کرنے والے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا تھا، اگر کسی نے بہتر کھیل پیش نہیں کیا تو اگلی سیریز کیلیے اس کے بارے میں سوچا جائے گا،ڈومیسٹک ایونٹ ان کھلاڑیوں کیلیے آخری موقع ہے جنھوں نے اچھی کارکردگی نہیں دکھائی۔کبیر خان نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کسی کو کھیلنے سے روک نہیں سکتی البتہ ٹیم میں وہی آئے گا جو پرفارم کرسکے۔

یاد رہے کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پاکستان کی اگلی مصروفیات نومبر میں آسٹریلیا کیخلاف 3میچز کی سیریز ہے، نوآموز سری لنکن ٹیم کیخلاف ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے گرین شرٹس جارح مزاج کینگروز کا کس طرح سامنا کریں گے یہ سوال ابھی سے شائقین کو ستا رہا ہے۔

فیصل قریشی کا مارننگ شو آخر کیوں بند ہوا؟

فیصل قریشی پاکستانی شوبز انڈسٹری کا ایک ایسا نام ہے جس سے سب ہی واقف ہیں، وہ صرف ایک بہترین اداکار ہی نہیں بلکہ نہایت شاندار ٹی وی میزبان بھی ہیں۔

فیصل قریشی گزشتہ چار برس سے اے آر وائے زندگی کے مارننگ شو ‘سلام زندگی’ کی میزبانی کرتے آرہے ہیں لیکن اب ان کا شو بند کردیا گیا ہے۔

فیصلہ قریشی کی میزبانی میں ہونے والے اس مارننگ شو میں پاکستانی انڈسٹری کے کئی نامور اسٹارز جلوہ گر ہوئے، شو کی آخری قسط میں اداکار نے پوری ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔

شو کی آخری قسط کی میزبانی اداکار ایاز سمو نے کی تھی جبکہ فیصل قریشی مہمان خصوصی بن کر شریک ہوئے تھے۔

اداکار نے انکشاف کیا کہ ان کا مارننگ شو شوبز کے خراب حالات اور مالی مسائل کے باعث اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔

فیصل قریشی سے جب سوال کیا گیا کہ شو سے پہلے کی زندگی اور بعد کی زندگی میں ان کے لیے کتنا فرق آیا؟

فوٹو: سوشل میڈیا
فوٹو: سوشل میڈیا

تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ ‘میں بالکل بھی اداس نہیں ہوں، یہ انتظامیہ کا فیصلہ ہے، اس وقت جو شوبز کے حالات چل رہے ہیں ان سے میں واقف ہوں اور ہمیں اس پر کام کرنا ہوگا، میں منیجمنٹ کا بے حد شکر گزار ہوں کہ ان حالات کے باوجود بھی ہمارے شو کے لیے کوشش کی گئی۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بالآخر یہ سب ایک بزنس ہی ہے، ہمیں اس کام کی تنخواہ ملتی ہے، تو اگر شو اتنا کما ہی نہیں رہا ہوگا بلکہ نقصان میں جارہا ہوگا تو یہ سمجھنا چاہیے کہ اسے بند ہی کرنا ہوگا، وہ لوگ جو کہہ رہے ہیں کہ ان کے ساتھ ظلم ہورہا ہے انہیں یہ سمجھنا چاہیے’۔

فیصل قریشی نے مزید کہا کہ ‘میں پہلے بھی مارننگ شوز کرچکا ہوں، اب دیکھوں گا زندگی میں کیا تبدیلی آئی، ہاں اب ایک بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ اداکاری کی جانب زیادہ فوکس کرسکوں گا’۔

شو کے دوران اداکار نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ‘انڈسٹری کے لوگ کافی خوش ہیں کہ میں مارننگ شو جاری نہیں رکھ سکوں گا، وہ مجھے اداکاری کرتے دیکھنا چاہتے ہیں، میں 3 ڈرامے سائن کرچکا ہوں اور اب ان پر ہی کام کروں گا’۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ایک انگریزی فلم میں بھی کام کرنے جارہے ہیں۔

فوٹو: سوشل میڈیا
فوٹو: سوشل میڈیا

فیصل قریشی نے یہ بھی کہا کہ انڈسٹری میں ان کے سب سے قریبی دوست اعجاز اسلم ہیں، جن سے وہ بےحد محبت کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ اعجاز اسلم اور فیصل قریشی کئی پروجیکٹس میں ایک ساتھ کام کرچکے ہیں جن میں سب سے مقبول ہونے والا پروجیکٹ ‘کس دن میرا ویا ہوئے گا؟’ ہے۔

فیصل قریشی گزشتہ 4 سال سے اے آر وائے زندگی کے مارننگ شو کی میزبانی کررہے ہیں، وہ اس سے قبل ٹی وی ون کے مارننگ شو مسکراتی مارننگ کی میزبانی بھی کرچکے ہیں۔

کراس جینڈرز کے ہاں بیٹے کی پیدائش

فرانس نے2016ء میں کیے گئے ایک معاہدے کے تحت 36 طیاروں میں سے پہلا رافیل طیارہ چند روز قبل 8 اکتوبر کو بھارت کے حوالے کردیا ۔ اس سلسلے میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فرانس کا تین روزہ دورہ کیا جہاں انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کے ہمراہ طیارے بنانے والی کمپنی ڈاسولٹ ایوی ایشن کی تقریب میں شرکت کی اور طیارہ بھی وصول کیا ۔ اس طیارہ کے حصول کے بعد بھارتی میڈیا خوشی سے ایسے پھولے نہیں سما رہا تھا جیسے کراس جینڈر کے ہاں بیٹا پیدا ہو گیا ہو ۔ بھارتی وزیر دفاع نے طیارہ کے ساتھ جو پوجا پاٹ کی اور پتہ نہیں کیا کیا وارتے رہے وہ الگ مضحکہ خیز حرکت تھی ۔ دراصل رواں سال 27 فروری کو ہونے والی پاک بھارت فضائی جھڑپ جس میں بھارتی طیارے کو پاکستان نے مار گرایا تھا اور اسکے پائلٹ ابھینندن پاکستان کی تحویل میں آگئے تھے، اس کے بعد سے بھارت میں یہ بحث چھڑ گئی تھی کہ پاکستانی ایف;245;16 طیاروں کا مقابلہ کرنے کیلئے بھارت کو جدید رافیل طیاروں کی اشد ضرورت ہے ۔ 27 فروری کی سبکی کا بھارت پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ نریندر مودی کو ایک حسرت کے ساتھ کہنا پڑا تھا کہ کاش بھارت کے پاس رافیل طیارے ہوتے تو پاکستان کے ساتھ بالاکوٹ واقعے کا نتیجہ بہتر ہوتا ۔ نریندر مودی کا یہ شکست خوردہ بیان ایک طرف نا اہلی کا واضح اعتراف تھا تو دوسری طرف انڈین ایئر چیف بی ایس دھنوا کے منہ پہ تھپڑ بھی کہ جس نے بی جے پی حکومت کے بالاکوٹ سٹرائیک کے لغو بیانیہ کو سپورٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان کا ایف سولہ طیارہ بھی مار گرایا ہے ، جو بعد میں سفید جھوٹ ثابت ہوا ۔ 27فروری کی پاکستانی کارروائی مودی دوول گینگ اور بھارتی ایئر فورس کےلئے بھیانک خواب ثابت ہوئی ۔ اس دن پاک ایئر فورس کے شاہینوں نے بڑی فضائی قوت کے گھمنڈ میں غرق بھارتی ایئر فورس کو ایسا سر پرائز دیا کہ اسے دن میں تارے نظر آنے لگے ۔ اس سبکی اور ہزیمت کو چھپانے کے لئے بھارتی میڈیا کے لغو پروپیگنڈے کا سہارا لیا گیا لیکن مودی کے چہرے کی ہوائیاں اور رافیل طیاروں کی دوہائی بتا رہی تھی کہ زخم بہت گہرا لگا تھا ۔ مودی نے اس موقع کو غنیمت جانا اور رافیل طیاروں کی متنازعہ ڈیل کو وقت کی ضرورت قرار دینے کی کوشش کی تاکہ کرپشن کے جو الزامات ہیں وہ پس پشت چلے جائیں ۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ مودی کو رافیل معاہدے پر بھاری کک بیکس کے الزامات کا سامنا رہا ہے ۔ بھارت اور فرانس کے درمیان رافیل طیاروں کی خریداری کے لیے مذاکرات کا ا;63;غاز 2012 میں ہوا تھا جو تعطل کا شکار رہا تاہم 2014 میں مودی نے حکومت سنبھالنے کے بعد دوبارہ اس میں دلچسپی لینا شروع کردی ۔ دوسال کی بات چیت کے بعد ستمبر 2016 میں دونوں ممالک نے 8 ارب 80 کروڑ ڈالر کا سب سے مہنگا معاہدہ کر ڈالا ۔ اتنے بڑے سودے پر سوال تو اٹھنے تھے ۔ طیاروں کی خرید کا یہ معاہدہ اس وقت اور بھی بڑے تنازعے کا شکار ہو گیا جب بھارت کی بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے نریندر مودی پر الزام عائد کردیا کہ انہوں نے ان طیاروں کی ڈیل سے بھاری رقم وصول کی اور فرانسیسی کمپنی ڈسالٹ ایوی ایشن کو مجبور کیا ہے کہ وہ بھارتی بزنس مین انیل امبانی کی کمپنی ریلائنس ڈیفنس کو اپنے کاروبار میں شریک کرے ۔ نریندر مودی نے طیاروں کی خریداری کے لیے 10 اپریل 2015 کوجب فرانس کا دورہ کیا تھا تو انیل امبانی بھی ان کے ساتھ تھے ۔ ان الزامات کو اس لیے بھی تقویت ملی کہ انیل امبانی نے نریندر مودی کے فرانس جانے سے محض 13 دن پہلے ریلائنس ڈیفنس کے نام سے نئی کمپنی بنائی تھی ۔ قبل ازیں رافیل ڈیل طیارہ سازی پر مشتمل تھی لیکن مودی حکومت نے سابقہ حکومت کے معاہدے کو تبدیل کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ126 طیاروں کی تیاری کی بجائے وہ اب مکمل تیار شدہ صرف 36طیارے خریدے گی، جبکہ ہندوستان کی سرکاری کمپنی کے ذریعے طیارے بنانے کا منصوبہ بھی یہ کہہ کر ختم کردیا کہ دفاعی ساز و سامان تیار کرنے والی سرکاری کمپنی ہندوستان ایروناٹکس جنگی طیارے بنانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی ۔ اس پر راہول گاندھی نے معاہدے کو عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا جسے مودی حکومت نے یہ جواز پیش کرتے ہوئے مسترد کر دیا کہ اسطرح ملکی راز افشا ہونے کا خدشہ ہے ۔ یہ کشمکش ابھی عروج پھر تھی کہ گزشتہ برس ستمبر میں سابق فرانسیسی صدر ہولاندے نے ایک انٹرویو میں یہ انکشاف کر دیا کہ مودی حکومت نے فرانسیسی کمپنی ;34;ڈسالٹ;34; کا سرکاری کمپنی کی بجائے پرائیویٹ کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرایا ۔ جنہیں ایرناٹکس کا کوئی تجربہ ہی نہیں تھا ۔ یہ بیان مودی حکومت پر بم بن کر گرا ۔ میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور اپوزیشن جماعت کے صدر راہول گاندھی کے بیانیے کو تقویت ملی ۔ اس معاہدے کے حوالے سے اس وقت مزید تنازع کھڑا ہو گیا جب رواں برس مارچ میں بھارت کے بڑے اخبار دی ہندو نے معاہدے کی دستاویزات چھاپ دیں ۔ اس انکشاف پر مودی حکومت سٹپٹا کے رہ گئی ۔ معاملہ جب عدالت میں پہنچا تو مودی حکومت نے شور مچانا شروع کر دیا کہ معاہدہ کی دستاویزات چوری ہو گئیں ہیں ۔ یہ کیس بھارتی سپریم کورٹ میں گیا تو اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاہدے سے متعلق دستاویزات سامنے لانے والے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مجرم ہیں اور وہ توہین عدالت کے بھی مرتکب ہوئے ہیں ۔ ان کا اشارہ دی ہندو اخبار کی طرف تھا ۔ بعد ازاں انہوں نے کہا ہو سکتا ہے وہ اخبار کے خلاف ملک کی سب سے بڑی عدالت میں مقدمہ دائر کریں مگر یہ دھمکی دھمکی ہی رہی بات آگے نہ بڑی ۔ اس تمام تر شور شرابے میں مودی حکومت کی رافیل طیارے میں دلچسپی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی حکومت نے اپنی فضائی طاقت کا محور صرف انہی طیاروں کو سمجھنا شروع کر دیا ہے ۔ حالانکہ عجیب بات یہ ہے کہ بھارت کے پاس روسی لڑاکا طیارے سخوئی بکثرت موجود ہیں جنہیں ٹیکنالوجی کے اعتبار سے دنیا کے دس خطرناک ترین جہازوں میں شمار کیا جاتا ہے جو مد مقابل کو دنگ کردینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے لیکن مودی انتظامیہ کی طرف سے مگ 27 طیارے اور روسی ساختہ مگ 21 طیاروں کے پانچ میں سے ایک اسکوارڈن کو آئندہ 12 ہفتوں میں ناقابل استعمال قرار دیدیا جائے گا ۔ جبکہ 2019ء کے آخر تک مگ 27 کو مکمل طور پر فضائیہ سے خارج کر دیا جائے گا ۔ یہ طیارے بھارت نے 1970ء کی دہائی میں سوویت یونین سے خریدے تھے ۔ بھارت کے اس فیصلے سے روس جیسے ممالک جو بھارت کو بھاری اسلحہ فراہم کرتے رہے ہیں مایوس ہوں گے ۔c

لندن میں الطاف حسین کے گرد قانونی شکنجہ مزید سخت

لندن: بانی ایم کیو ایم الطاف حسین پر نفرت انگیز تقریر کیس میں فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق لندن کے سدک پولیس اسٹیشن میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو نفرت انگیز تقریر کے الزام میں تیسری مرتبہ طلب کیا گیا تاہم انہوں نے اس بار بھی سوالوں کے جوابات نہیں دیے۔ پولیس کو سوالات کے جواب نہ دینے اور شواہد کی روشنی میں پراسیکیوشن نے ان پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت فرد جرم عائد کردی۔

فرد جرم عائد کئے جانے کے بعد بانی ایم کیو ایم کو سینئیر ڈسٹرکٹ جج ایما آربتھنوٹ کے روبرو پیش کیا گیا۔ عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کردیا تاہم وہ کسی بھی میڈیا کے ذریعے تقاریر نہیں کرسکیں گے۔ اس کے علاوہ عدالت نے الطاف حسین کی رہائش گاہ پر رات کو کسی بھی شخص کے آنے اور عدالتی حکم کے بغیر ان کے ملک سے باہر جانے پر بھی پابندی لگادی۔

برطانوی قانون کے مطابق فرد جرم عائد ہونے کے بعد بانی ایم کیوایم کے خلاف ٹرائل تقریباً 2 ہفتے میں مکمل ہوجائے گا۔

دوسری جانب وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بانی متحدہ سے متعلق ٹویٹ میں کہا کہ اُمید ہے قاتل زندگی کے آخری دن جیل میں گزارے گا، فتح انصاف کی ہوگی۔

واضح رہے کہ الطاف حسین پر 2016 میں نفرت انگیز تقریروں کاالزام ہے۔ انہیں 11 جون کو گرفتار بھی کیا گیا تھا تاہم بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔

وزیراعظم نے وزیر مذہبی امور کو دھرنا رکوانے کا ٹاسک سونپ دیا

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کو مولانا فضل الرحمان سے رابطوں اور انہیں دھرنے سے روکنے کا ٹاسک سونپ دیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کو مولانا فضل الرحمان سے رابطوں اور دھرنا بچاؤ ٹاسک سونپ دیا ہے ۔ وزیر اعظم نے اس سلسلے میں دھرنے سے متعلق تمام معلومات طلب کرتے ہوئے ان سے دھرنے کو روکنے یا نمٹنے سے متعلق سفارشات بھی تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی جانب سے سونپی گئی ذمہ داری کو مد نظر رکھتے ہوئے نور الحق قادری کا مولانا فضل الرحمان سے رابطے کا بھی امکان ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سفارشات مرتب کرکے وزیراعظم کو پیش کریں گے، وزیر اعظم سفارشات کی روشنی میں اعلیٰ سطح اجلاس بلاکر مشاورت بھی کریں گے۔

Google Analytics Alternative