Home » Author Archives: Admin (page 11)

Author Archives: Admin

جدید تعلیم ،اقدار اور ہمار ا مستقبل

اکبر الہ آبادی نے مغربی تعلیم اور تہذیب کو ہدف تنقید بنایا تھا ۔ جبکہ سرسید احمد خان نے اس کے متضاد ، سائنسی علوم اور مغربی تعلیم کی حمایت کی تھی ۔ انہوں نے آکسفورڈ اور کیمبرج کے طرز پر ہندوستان میں علی گڑھ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی ۔ ان دونوں مشاہیر کے افکار جدید تعلیم کے حوالے سے آج اپنے اپنے نتاءج کے مطابق ہمارے سماج میں ۔ ابتر حالات سے دو چارہیں ۔ اکبر الہ آبادی کا اندیشہ یہ تھا ۔ کہ اس ’’الحادی‘‘ تصور تعلیم سے مسلمانوں کی تہذیب اور ثقافت تقلیدی ڈگر پر چل پڑے کی ۔ اور وہی ہوا ۔ شروع شروع میں علماء نے بھی بقول ان کے اس بد نہاد ’’ کالج سسٹم‘‘ کے خلاف آواز بلند کی ۔ اور شدت سے مزاحمت کی ۔ علماء چونکہ مسلک اور فرقہی عقائد میں مبتلا تھے وہ ناکام ہوئے ۔ ان کے پاس جدید علوم کی متبادل ایساکوئی نظام نہ تھا ۔ جو عام مسلمانوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ تعلیم کا اہتمام کرسکتے ۔ یہ مسالک ہزارسالہ قدیم سلیبس کے ذریعے ’’خد ا پرستی‘‘ ہی کی تعلم دیتے جارہے ہیں ۔ لہٰذا ان کے تصورات ، خیالات اور تعلیمی رویے ۔ جدید عہد کے تقاضے پورے کرنے کے اہل نہ تھے ۔ لہٰذا آج بھی پاکستان میں مدرسوں کا جال بچھا ہوا ہے ۔ ان اداروں میں تربیت اور تعلیم پانے والے طالب علم نہ سائنسی حقائق، نہ ٹیکنالوجی اور نہ ہی تہذیبی نشوونما کے اُصولوں سے آشنا ہیں ۔ لہذا ان کی فکری اور علمی نشوونما جمود کا شکار ہے ۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب اس کی نشوونما رُک جاہے تو وہ جدت پسندی کا قائل نہیں رہتے ۔ رفتہ رفتہ وہ سماجی ذمہ داری کو لینے سے معذور ہوجاتے ہے ۔ آج پاکستان میں تعلیمی نظام بعینہ اسی روایت کو آگے لے کے جارہا ہے ۔ جہاں اکبر الہ آبادی نے نونہالان کو مغرب تہذیبی یلغار سے محفوظ رکھنے کا اندیشہ ظاہر کیا تھا ۔ سر سید احمد خان نے جدید تعلیم کے ساتھ سائنس ، قرآن اور اقدار کو ساتھ ساتھ لے کے چلنے کا اُصول وضع کیا تھا ۔ سر سید اور اکبر کے تصورات اپنے عہد کے مسلمانوں کے روہے کی نگرانی کے لیے اہم اور رہنما اُصول وضع کرتے ہیں ۔ مگر بعد ازاں ان مشاہیر کی راہنمائی سے کوئی فائدہ نہ اُٹھایاگیا ۔ پاکستان میں جدید تعلیمی مراکز بھی قائم ہیں جہاں عالمی سطح پر اُجاگر ہونے والے علوم کو مد نظر رکھتے ہوئے ۔ فنی علوم پر زیادہ توجہ دے رہ ہے ۔ اس طرز تعلیم سے اشرافیہ کے 2 تا 5 فیصد بچے مستفید ہورہے ہیں ۔ ایسے تعلیمی اداروں میں بچوں کے خاندانی پس منظر کو انکی مالی حیثیت کے لحاظ سے ان اقدارکو سلیبس بنایا جاتا ہے ۔ جس کا تعلق مغربی تہذیب سے ہوتاہے ۔ ہمارے یہ مسلمان بچے تعلیم کے فنیات سے تو آگاہ جاتے ہیں ۔ مغربی اقدار میں ملبوس ہوتے چلے جارہے ہیں ;238;مثلاً اب ان اداروں میں ’’السلام علیکم‘‘ کا کلچرمفقودہوتا جارہاہے ۔ کیونکہ اسی تہذیب سے آشنائی سے اپنے اقدار کے زریں اُصول سے دلچسپی ختم ہو چکی ہے ۔ اس کو فیشن کہتے ہیں ۔ یہ ایک خوفناک رویہ ہے ۔ تعلیمی ادارے پیسہ کمانے کے چکر میں ۔ نئی نسل کو اس الاوَ کے قریب لے آتے ہیں ۔ جہاں نہ یہ آگے جاسکیں گے اور نہ واپسی کا رستہ انکو نظر آئے گا ۔ اس وقت والدین، اساتذہ اور طالب علم نہ تعلیم اور نہ ہی تربیت کے حیات بخش اُصولوں سے واقف ہیں بلکہ دن بہ دن دلدل میں پھنستے جارہے ہیں ۔ آج جس مغر ب کی تہذیب تک رسائی حاصل کرنے کےلئے ایسے تعلیمی ادارے متحرک ہیں جو ۔ عوام کی ان آرزوں کو مارکیٹ بنارہے ہیں کہ وہ برطانیہ، امریکہ اور کینڈا جاکر اپنے شاندار مستقبل کا آغاز کریں ۔ ا س کےلئے زبان اور فنیات پر دھیان دیا جاتا ہے ۔ جب کہ ان بچوں کی تربیت خالصتاً اسی فضا کے لیے تیار کی جاتی ہے جو اک خیالی دنیا کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ عربوں نے جب کردار اور اخلاق کی نئی تہذیب پیدا کی تو انکی علمی وسعت بھی ایران، روما اور مغرب کے لئے مثال بنی تھی ۔ ان کے سامنے قرآن کے وہ اقدار رہنما اور اُصول رہنما تھے جس کے ذریعے وہ علم کو عالمی انسانیت کے مفاد کےلئے ایک نصب العین کے طور پر اپنا چکے تھے ۔ 100 سال کے اندر اندر ۔ عربوں کا دائرہ اثر وسطی یورپ اور ہندوستان تک پھیلا ۔ مسلمان سائنسدانوں نے ہر شعبہ حیات میں کمال حاصل کیا ۔ اک طرح ایک مہذب معاشرے کے طور پر دنیائے علم وادب اور اعلیٰ معیار کے اقدار کی ضمانت بن گئے ۔ مغرب سے عراق، شام اور مصر کے علمی مراکز سے فیضیاب ہونے یورپ سے آتے تھے ۔ یہاں تک کہ بو علی سینا، الرازی، فارابی اور ابن لہثم کی کتب آکسفورڈ یونیورسٹی کے نصاب کا حصہ رہے ۔ تہذیبی ارتقا اور علمی ارتقا کے حوالے سے عربوں نے یورپ میں علم کی روشنی اس قدر پھیلائی کہ بقول انگریز مفکر برفا کہتے ہیں کہ عربوں نے اپنے اقدار تہذیب اور سائنس کے ذریعے یورپ کو زندگی بخشی ۔ جابر بن حیان تو ’’کیمیا‘‘ کے موجد تھے ۔ یہ تہذیب دُنیائے علم کے صفحات پر تاریخ انسانی میں سب سے مہذب قوم بن گئی تھی ۔ 18 ویں صدی تک یورپ کی خواتین عربوں کی ثقافت کو فیشن کے طور پر استعمال کرتی تھیں اور پردے کی قائل تھیں ۔ تجارت میں عربوں کی زبان کا یہ اثر تھا کہ تمام اصطلاحات انگریزی میں ڈھل گئی مثلاً ;84;arrifیہ عربی لفظ الطریف لفظ کا ماخذ ہے ۔ مخزن ;77;agezine میں رواج پاگیا ۔ اس طرح صک کےلئے ;67;heque لفظ رواج پایا جو آج تک راءج ہے ۔ لُب لباب یہ ہے ۔ کہ علم کا انتقال قوانین فطرت کے مطابق ہوتا ہے ۔ وہ قوم جو کسی بھی سرحد سے آئے ہوئے علم کا حصول کرتی ہے ۔ اُس کا تجزیہ ۔ فنی، اخلاقی اور تہذیبی تقاضوں کے مطابق ضروری ہے ۔ اقدار کے اُصول پر سماج کےلئے ایک اور بنیادی تعلیمی رویہ ضروری ہوتا ہے ۔ ایسی تعلیم جو اپنے اقدار کی سرحد سے بے نیا ز ہوجاتے ۔ وہ بظاہر ماڈرن نظر آتی ہے ۔ تقلید پرست اوبیمار قوم بن جاتی ہے ۔ علم آج کل ;73;nforamtion اور ;68;ate کی بنیاد پر قائم ہے ۔ تحقیق یا ریسراچ کا دور دور تک اب کوئی رویہ نہیں رہا ۔ ہمارا تعلیمی نظام مدارس، سرکاری سکولز اور اس درجہ جدید انگریزی تعلیمی جو کہ بنا تحقیق کے آگے جارہی ہیں ۔ قرآن اور اسلام کے آفاقی اقدار اگر نصاب کا حصہ ہی نہیں ۔ تو مسلمان ہونے کا یہ کیا مطلب ;238; آپ قرآن کے تصورِ تعلیم کو نظر انداز کرلیں او رپھر آپ مسلمان ہونے کے دعوے پر بھی ساری زندگی گزاردیں ۔ پاکستانی نظام تعلیم طالب علموں کےلئے جہنم ثابت ہورہا ہے ۔ نہ کردار کی تربیت ہورہی ہے نہ ہی تحقیق اس رویے کی طرف دھیان دے رہے ہیں کہ آخر میں کیا رُخ اختیار کرےگا ۔ جہالت یہی ہے کہ جو سرسید احمد خان اور اکبر الہ آبادی نے ہندوستان میں جدید تعلیم کے بارے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا ۔ وہ جذبہ محرکہ ہی نہیں ریا کہ جو دو قومی نظریہ کا تقاضہ ہے ۔ ہم مسلم ملک ضرور ہیں مگر ہماری معاشرت اسلامی نہ رہی ۔ مغربی لباس پہننے میں کوئی عار نہیں مگر یہی لباس پہن کر اپنے اسلامی اقدار کو تہ تیع کرڈالنا ایک خطرناک ڈگر پر چلنے کے مترادف ہے ۔ چین نے جدید علم ذریعے اپنے معاشرے کو جدید تر بنادیا ۔ مگر آج بھی ان کے معاشرے میں ان کے قدیم اقدار متحرک نظر آتے ہیں ۔ ہمارے مسئلہ بالکل عجیب ہے ۔ اگرچہ ہمارے پاس تعلیم اور تربیت مثالی آئین ہے ۔ مگر کیا کیجئے ہر فرد حق کی بات ضرور کرتا ہے ۔ مگر ذمہ داری کا عہد نہیں کرتا ۔ اُستاد، والدین طالب علم اور تعلیمی ادارے بچوں کو نمبر ریس میں لگاکر اقدار کی تربیت سے اپنا ذمہ اٹھا چکے ہیں ۔ اب طالب علم میں حصول تعلیم کا جذبہ ہے نہ کوئی مقصد متعین ہے ۔ اور پریشان کھڑے اپنے تاریک مستقبل کے دھانے پرکھڑے ہیں ۔ تحقیق کسی بھی علم کا وہ ارفع شعبہ ہوتا ہے جس سے مستقبل کا تعین ہوتا ہے ۔ پاکستان ایک مسلمان ملک ہے ۔ تعلیمی نظام کی اس درجہ بندی نے ، اسلامی معاشرت اور اقدار کو مٹاکر رکھ دیا ہے ۔ گھریلو اور معاشرتی نظام اس قدر بے یقینی کا شکار ہے کہ والدین ، اساتذہ طالب علموں کےلئے مستحکم اخلاقی نظام دینے میں ناکام ہوگئے ہیں ۔ ماہرین تعلیم کے اندر بھی وہ قومی جذبہ نہیں رہا کہ وہ اس پیش آمدہ نقصان کا اندازہ کر سکیں ۔ حکومتیں اب تک تعلیمی فلاح کا ڈھانچا تعمیر کرنے میں تاحال ناکام ہے ۔ یہ صورتحال اور بھی گھمبیر ہوجاتی ہے کہ وہ پاکستانی معاشرت اور 56 فیصد جوانوں کی تعلیم اور تربیت کا انتظام کیسے کرپاینگے ۔ یہ ایک قومی جرم ہے ۔ جس کی ذمہ داری اساتذہ، والدین اور حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے ۔

کیریئر کے آغاز میں حد سے زیادہ بولڈ دکھایا گیا، اسکارلٹ جانسن

بولڈ پرفارمنس کی وجہ سے کیریئر کے آغاز میں ہی فلمی دنیا کے اعلیٰ ترین ایوارڈز کے لیے نامزد ہونے والی 34 سالہ ہولی وڈ اداکارہ اسکارلٹ جانسن نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں ابتدا میں انتہائی بولڈ اور عریاں کردار دیے گئے۔

اسکارلٹ جانسن کو زندگی کا پہلا فلمی کردار ہی قدرے بولڈ دیا گیا تھا، ان کی پہلی فلم ’نارتھ‘ 1994 میں ریلیز ہوئی تھی اور اس وقت ان کی عمر 15 برس سے بھی کم تھی۔

اگرچہ اداکارہ کو اپنی پہلی فلم میں اتنا بولڈ نہیں دکھایا گیا تھا، تاہم انہیں آنے والی فلموں میں قدرے بولڈ کردار دیے گئے۔

اسکارلٹ جانسن نے جلد ہی فلم سازوں کی توجہ حاصل کرلی تھی اور انہیں شہرت 1996 میں ریلیز ہونے والی فلم ’فال‘ اور 1997 میں ریلیز ہونے والی فلم ’ہوم الون 3‘ سے ملی۔

دونوں فلموں کی شہرت کے بعد انہیں بولڈ کردار دیے جانے لگے اور انہوں نے 2003 میں ریلیز ہونے والی فلم ’لوسٹ ان ٹرانسلیشن‘ میں خود سے دگنی عمر کے مرد کے ساتھ رومانس کرتے دکھایا گیا۔

اسی سال اسکارلٹ جانسن کی فلم ’گرل ود پرل ایرنگس‘ بھی ریلیز ہوئی، جس میں انہیں ایک مرتبہ پھر خود سے بڑی عمر کے مرد کے ساتھ رومانس کرتے دکھایا گیا۔

اسکارلٹ جانسن اب تک بولڈ کردار نبھاتی آ رہی ہیں—فوٹو: اے ایف پی
اسکارلٹ جانسن اب تک بولڈ کردار نبھاتی آ رہی ہیں—فوٹو: اے ایف پی

نہ صرف کیریئر کے ابتدائی دور میں بلکہ اسکارلٹ جانسن اب بھی بولڈ کرداروں میں دکھائی دیتی ہیں، تاہم انہوں نے کیریئر کے آغاز میں ایسے کردار دیے جانے پر فلم سازوں کو قصور وار ٹھہرایا۔

اسکارلٹ جانسن نے حال ہی میں شوبز میگزین ’ہولی وڈ رپورٹر‘ کو دیگر ہولی وڈ اداکاراؤں جینیفر لوپیز، لپیتا نیانگو، لارا ڈیرن، رینی زلویگر اور آکوافینا کے ساتھ اپنے زندگی کے تجربات شیئر کرتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ زندگی پر کھل کر بات کی۔

اسی انٹرویو کے دوران دیگر اداکاراؤں نے بھی اپنے تجربات شیئر کیے اور ادھیڑ عمر جینیفر لوپیز نے انکشاف کیا کہ کیریئر کے آغاز میں ایک فلم ساز نے انہیں کمرے میں برہنہ ہونے کا کہا تھا۔

جینیفر لوپیز کے مطابق فلم کا کاسٹیوم ڈائریکٹر ان کے ’بریسٹ‘ دیکھنا چاہتا تھا، اسی لیے انہوں نے ان سے شرٹ اتارنے یا اوپر کرنے کو کہا تھا۔

خصوصی انٹرویو میں اسکارلٹ جانسن کے علاوہ دیگر اداکاراؤں نے بھی اپنے ماضی کے واقعات شیئر کیے—فوٹو: ہولی وڈ رپورٹر
خصوصی انٹرویو میں اسکارلٹ جانسن کے علاوہ دیگر اداکاراؤں نے بھی اپنے ماضی کے واقعات شیئر کیے—فوٹو: ہولی وڈ رپورٹر

اسی انٹرویو کے دوران جینیفر لوپیز کے علاوہ دیگر اداکاراؤں نے بھی اپنے تجربات شیئر کیے اور اسکارلٹ جانسن نے انکشاف کیا کہ انہیں بھی کیریئر کے آغاز میں حد سے زیادہ بولڈ کردار دیے گئے۔

اسکارلٹ جانسن کے مطابق چوں کہ اس وقت انہیں اداکاری سے متعلق اتنی خبر نہیں تھی اور خواتین کے لیے انڈسٹری میں آگے آنے کے لیے مواقع بھی کم تھے، اس لیے ان کے ساتھ ایسا کیا گیا

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان کی بلکل بھی یہ خواہش نہیں تھی کہ انہیں نسوانی یا جنسی طور پر اتنا بولڈ اور پرکشش دکھایا جائے کہ بعد میں انہیں مسائل کا سامنا کرنا پڑے۔

اسکارلٹ جانسن کا کہنا تھا کہ انہیں 20 سال کی عمر تک پہنچتے ہی فلم سازوں نے انتہائی بولڈ اور حد سے زیادہ رومانوی اور جنسی مناظر والے کردار دینا شروع کیے۔

اسکارلٹ جانسن کو بولڈ اداکاری کے عوض متعدد ایوارڈ کیلئے بھی نامزد کیا گیا—فوٹو: انسٹاگرام
اسکارلٹ جانسن کو بولڈ اداکاری کے عوض متعدد ایوارڈ کیلئے بھی نامزد کیا گیا—فوٹو: انسٹاگرام

اگرچہ اسکارلٹ جانسن نے کہا کہ انہیں ان کی مرضی کے بغیر حد سے زیادہ بولڈ کردار دیے گئے، تاہم انہوں نے ان کرداروں کے اپنی ذہنی صحت پر پڑنے والے اثرات کا ذکر نہیں کیا اور کہا کہ اس وقت شاید ایسے کردار خواتین کی ضرورت تھے۔

fdgdfghاداکارہ نے اپنے حد سے زیادہ بولڈ کرداروں کی وضاحت بھی نہیں کی لیکن بتایا کہ 20 سال کی عمر کو پہنچتے ہیں انہیں رومانوی اور جنسی مناظر والے کردار دیے جانے لگے۔

خیال رہے کہ اسکارلٹ جانسن نے اب تک 90 کے قریب فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں، وہ ہولی وڈ کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی اداکاراؤں میں بھی شمار ہوتی ہیں۔

شاندار اداکاری دکھانے پر وہ متعدد اعلیٰ فلمی ایوارڈ بھی اپنے نام کر چکی ہیں۔

اسکارلٹ جانسن کا شمار زیادہ کمائی کرنے والی اداکاراؤں میں ہوتا ہے—فوٹو: اے اسٹاک
اسکارلٹ جانسن کا شمار زیادہ کمائی کرنے والی اداکاراؤں میں ہوتا ہے—فوٹو: اے اسٹاک

بھارت کو بیرونی نہیں اندرونی خطرات لاحق

حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو بیرونی نہیں اندرونی خطرات زیادہ ہیں ۔ اسی لئے سابق وزیر اعلی مقبوضہ کشمیرکہتے ہیں کہ بھارت کو چین یا پاکستان نہیں بلکہ اپنے لوگوں سے خطرہ ہے ۔ اس وقت بھارت کے اندر سرگرم کچھ گروپ ملک کو جوڑنے کی دہائی دیتے پھر رہے ہیں جبکہ اصل میں ان ہی گروپوں کی وجہ سے ملک میں تقسیم کی فضاء یا ماحول پنپ رہا ہے ۔ جوڑنے کا دم بھرنے والوں کی سرگرمیاں ملک کو توڑنے کا موجب بن سکتی ہیں ۔ بھارت کو باہر نہیں بلکہ ملک کے اندر سے خطرہ ہے ۔ ایسے لوگوں کو لگام دینے کی ضرورت ہے ۔ بھارت میں جس انداز میں ہندو انتہا پسند متحرک ہیں وہ خاصا خطرناک ہوتا جا رہا ہے ۔ حالیہ ایام میں ایسے ہندووَں نے ایک دانشور اور کٹر کمیونسٹ کو قتل کر دیا، پھر گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں ایک شخص کو ہلاک کر دیا گیا اور ایسے دوسرے واقعات پر بھارتی معاشرت سے ہمدردی رکھنے والے شدید پریشان ہیں کیونکہ ایسے واقعات میں ملوث افراد بھارت جیسے بڑے ملک کی سماجی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ۔ اِس عمل سے بھارتی اقتصادی ترقی کو شدید نقصانات کا اندیشہ لاحق ہو سکتا ہے ۔ بھارت کے انتہا پسند ہندووَں کی جانب سے رونما ہونے والے پرتشدد واقعات سے بھارتی سماج کی مختلف جہتیں خطرات سے دوچار ہیں ۔ انتہا پسند ہندو کھلے عام بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں ۔ بھارتی وزیراعظم بھی مذہبی عدم برداشت کے معاشی ترقی پر منفی اثرات کے بارے میں آگہی رکھتے ہیں ۔ نریندر مودی نے کہا تھا کہ مذہبی منافرت پر مبنی تقسیم بھارت کی اقتصادی ترقی کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتی ہے ۔ مودی نے واضح طور پر اپنی عوام سے کہا کہ ہندووں نے غربت کے خلاف جنگ کرنی ہے یا مسلمانوں کے خلاف ۔ مودی نے بھارتی کی اجتماعی ترقی میں اتفاق و اتحاد، مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارے اور سماجی امن کو اہم قرار دیا ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مودی بھی منافرت کی سیڑھی پر چڑھتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ کے منصب تک پہنچے ہیں اور اْن کے دور میں بھارت کے ہندو اپنی انتہا پسندی کا مظاہرہ ہر انداز میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ سارے بھارت میں عدم برداشت کو مذہب اور کلچر میں تطہیر کے نام پر فروغ دیا جا رہا ہے ۔ یہ رویے بھارتی معاشرتی جہتوں کے منافی ہیں ۔ انتہا پسند ہندووَں کے حملوں میں شامل افراد کا تعلق بی جے پی کی نظریاتی اساس رکھنے والے گروپ راشٹریہ سوائم سیوک سَنگھ کے علاوہ کئی دوسرے کٹر گروپ سے خیال کیا جاتا ہے ۔ جو کچھ بھارت میں ہو رہا ہے، اْس کی اخلاقی ذمہ داری ملکی لیڈر پر عائد ہوتی ہے ۔ اگر وزیراعظم ایسے واقعات کی مذمت کرتے ہیں تو اِس کا گہرا اثر مرتب ہو گا ۔ اب تو کانگریس کا بھی کہنا ہے کہ بھارت کو مسلم تنظیموں سے زیادہ انتہا پسند ہندووَں سے خطرہ ہے ۔ ہندو انتہا پسند مسلمانوں سے مذہبی و سیاسی منافرت پیدا کرتے ہیں ۔ یہ گروپس بھارت میں مذہبی بنیادوں پر کشیدگی کی بڑی وجہ ہیں ،جس کے باعث بھارت کو مستقبل میں سنگین خطرہ ہو سکتا ہے ۔ بھارت کی کوئی ایک تہائی ریاستی حکومتوں نے مذہب کی تبدیلی یا ذبیحہ گا ئے قوانین کو غیر ہندءووں کے خلاف استعمال کیا اور تشدد کا رخ بھی مسلمانوں اور دلتوں کی طرف رہا ۔ آرایس ایس، ویشوا ہندو پر یشد اوربجرنگ دل ہندو جماعت کی حیثیت سے بھارتی پولیس اور فوج میں اپنے انتہا پسند ارکان کو بخوبی داخل کراتی رہی ہیں جبکہ وقت گزرنے کیساتھ بھارت بھر میں اِس کے تربیت یافتہ رضاکاروں کی تعداد ایک محتاط اندازے کیمطابق 10 لاکھ تک پہنچ گئی ہے ۔ ہندو انتہاپسند گروپوں نے 2017ء میں تشدد کے ذریعہ بھارت کو بھگوا ملک بنانے کی کوشش کی ۔ سرکاری اعداد وشمار میں اس بات کی نشاندہی کے باوجود کہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں پچھلے دو برسوں میں اضافہ ہوا ہے مودی انتظامیہ نے فرقہ وارانہ تشدد کے بڑے پیمانے پر رونما ہونے والے واقعات کے متاثرین کے ساتھ انصاف کےلئے بھی کچھ نہیں کیا ۔ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات اکثر مودی کی پارٹی کے لیڈروں کی اشتعال انگیز تقریروں کی وجہ سے پیش آئے ۔ بھارت کی انتہا پسند جماعتو ں آر ایس ایس، ویشواہندوپریشد اوربجرنگ دل کے ٹریننگ کیمپوں میں گزشتہ 20 سالوں سے ہر سال ٹریننگ کی کلاسیں منعقد کی جا رہی ہیں ۔ ٹریننگ پانے والے ہندو لڑکوں کومسلمانوں کے تئیں غصہ دلایا جاتاہے اور بندوقیں ، چاقو اور لاٹھیوں کا استعمال سکھایاجاتا ہے ۔ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کےلئے بھارت کی کئی ریاستوں میں ایسے کیمپ منعقد کیے جا رہے ہیں جہاں مارشل آرٹ کے نام پر کراٹے وغیرہ کی تربیت بھی دی جاتی ہے ۔ جبکہ کسی بھی س دہشت گردکارروائی کے بعدچھپنے کے طریقوں کی تربیت بھی ان تربیتی کورسز میں شامل ہے ۔ آرایس ایس کی ذیلی تنظی میں ویشوا ہندو پریشد یاوی ایچ پی اور بجرنگ دل کے لیڈروں نے تو کھلے عام کہا ہے کہ بھارتی جمہوریت کو ہندو ثقافت کی بنیاد پر چلانے کی ضرورت ہے ۔ ایودھیا میں اسلحے کی تربیت لینے والے رضاکاروں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی ۔ ادھرمقبوضہ کشمیرکے صوبہ جموں میں آرایس ایس، ویشواہندوپریشد اوربجرنگ دل جموں کے تعلیمی اداروں میں ہندووں کو ہتھیاروں کی تربیت دے رہی ہیں اس طرح انہوں نے جموں میں ایک بارپھر مسلمانوں کی نسلی صفائی کرنے کیلئے خاکے بنادیئے ہیں ۔ جموں میں مسلمانوں کو جنگلاتی اراضی چھڑانے کے نام پر بے گھر کرنے، ان کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کرکے مندر بنانے اور انتظامیہ، عدلیہ، پولیس اور محکمہ مال میں اہم پوسٹوں پر تعینات مسلم افسروں کا تبادلہ کرنے اور ان کی جگہ آر ایس ایس ذہنیت کے لوگوں کو لانے کے بعد اب جموں صوبہ فرقہ پرست اور انتہاپسند ہندووں کی آماجگاہ بن چکا ہے ۔

دسمبر کے پہلے ہفتے یوٹیلیٹی اسٹورز کی 5 بنیادی اشیا سبسڈی پر دستیاب ہوگی

اسلام آباد: حکومت یوٹیلیٹی اسٹورز پر 5 بنیادی اشیا پر دسمبر کے پہلے ہفتے سے سبسڈی دے گی۔

حکومت یوٹیلیٹی اسٹورز پر 5 بنیادی اشیا چینی، آٹا، چاول، گھی اور دالوں پر دسمبر کے پہلے ہفتے سے سبسڈی دے گی، سبسڈی فراہمی کے لیے یوٹیلیٹی سٹورز پر ورکنگ شروع کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق 20 کلو آٹے کا تھیلا 808 روپے میں دستیاب ہوگا، چینی 71 روپے کلو ،گھی 160 روپے کلو اور چاول 125 روپے کلو میں فروخت کی جائے گی۔

لاہور ہائی کورٹ نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیدیا

لاہور ہائی کورٹ نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا جب کہ عدالت کی جانب سے فریقین کو دیے گئے بیان حلفی میں نواز شریف کو بیرون ملک علاج کیلئے 4 ہفتے کا وقت دیا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا گیا اگر نواز شریف کی صحت بہتر نہیں ہوتی تو اس مدت میں توسیع ہوسکتی ہے اور حکومتی نمائندہ سفارتخانے کے ذریعے نواز شریف سے رابطہ کرسکے گا۔ 

جسٹس علی باقرنجفی اورجسٹس سرداراحمد نعیم پر مشتمل لاہورہائی کورٹ کا 2 رکنی بنچ سابق وزیر اعظم نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے حکومتی شرائط کے خلاف شہباز شریف کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران صدرمسلم لیگ (ن) شہباز شریف کے علاوہ پارٹی کے کئی رہنما بھی موجود تھے۔

عدالت کے فریقین سے سوالات 

سماعت کے آغاز پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے شرائط لگائی جا سکتی ہیں؟ کیا لگائی گئی شرائط علیحدہ کی جا سکتی ہیں؟ کیا میمورنڈم انسانی بنیادوں پر جاری کیا گیا؟  ضمانت کے بعد شرائط لاگو ہوں تو کیا عدالتی فیصلے کو تقویت ملے گی ؟ کیا درخواست گزار ادائیگی کے لیے کوئی اور طریقہ ڈھونڈنے کو تیار ہے ؟ حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا چاہتی ہے یا نہیں ؟ کیا فریقین نواز شریف کی واپسی سے متعلق یا کوئی رعایت کی بات کر سکتے ہیں؟  کیا فریقین اپنے انڈیمنٹی بانڈز میں کمی کر سکتے ہیں؟

’نواز شریف جانا چاہتے ہیں تو اعتراض نہیں‘

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نواز شریف علاج کیلئے باہرجانا چاہتے ہیں تو حکومت کو کوئی اعتراض نہیں لیکن نواز شریف کو باہر جانے سے پہلے عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا، ان کے پاس یہ آپشن ہے کہ اینڈیمنٹی یا شورٹی بانڈ کی رقم عدالت کے اکاونٹ پاس جمع کرادیں اگر یہ تمام چیزیں پوری کردیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا، اس موقع پر انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے انڈیمنٹی بانڈ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروانے کی پیشکش کردی۔

عدالت نے شہبازشریف سے استفسارکیا کہ کیا نوازشریف واپس آئیں گے، جس پرشہبازشریف نے کہا کہ  انشاءاللہ واپس لائیں، عدالت نے مزید استفسار کیا کہ آپ کا انہیں ملک واپس لانے میں کیا کردار ہوگا، جس پرانہوں نے کہا کہ میں ان کے ساتھ بیرون ملک جارہا ہوں وہ علاج کے بعد واپس آئیں گے۔

لاہورہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ قانون اپنی روح کے مطابق کام کرتا ہے، جو حلف یہ دینا چاہتے ہیں ان سے لکھ کرپوچھ لیتے ہیں، ہم درخواست گزارسے لکھ کرحلف لے لیتے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے عدالت نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ انڈرٹیکنگ عدالت کو جمع کرائی جائے گی۔ عدالت نے وفاق سے استفسار کیا کہ اگرآپ انسانی بنیادوں پر نواز شریف کو جانے کی اجازت دے رہے ہیں تو پھرشرائط لگانے کی کیا ضرورت ہے، عدالت چاہ رہی ہے کہ یہ معاملہ حل ہو۔

نواز، شہباز شریف سے انڈرٹیکنگ لے لیتے ہیں

عدالت نے کہا کہ ہم نواز شریف اور شہباز شریف سے لکھ کر انڈرٹیکنگ لے لیتے ہیں وفاق اس انڈر ٹیکنگ کو دیکھ لے، یہ انڈر ٹیکنگ عدالت میں دی جائے گی اگرانڈرٹیکنگ پر پورا نہیں اترا جاتا تو توہین عدالت کا قانون موجود ہے۔

نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ جو شرائط بھی عائد کی گئی ہیں وہ عدالت کے ذریعے ہونا چاہیے تھیں،اگر عدالت کو مطمئن کرنے کی بات ہے تو جو عدالت حکم دے گی ہمیں قبول ہوگا۔

وکیل نواز شریف نے کہا کہ جب عدالت میں کیس زیرسماعت ہو تو ریاست کا اختیار نہیں کہ سزا ختم کرے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے 6 ہفتے کی سزا معطل کی لیکن بیرون ملک جانے پر پابندی لگائی، عدالتی اورسیاسی تاریخ میں ایسی مثال نہیں کہ سزا یافتہ شخص واپس آئے اور سزا کاٹ رہا ہو۔

’سزا یافتہ کو باہر بھیجنے کا اختیار حکومت کو بھی نہیں‘

نوازشریف کے ایک اور وکیل اشتر اوصاف نے کہا کہ آرٹیکل 4 کے مطابق کسی شہری پر شرط عائد نہیں کی جا سکتی جس پر جسٹس باقر نجفی نے ریمارکس دیئے کہ قانون تو سزا یافتہ کو باہر بھیجنے کا اختیار حکومت کو بھی نہیں دیتا، ہم چاہتے ہیں یہ معاملہ اتفاق رائے سے طے ہو، لکھ کر دیں کہ نوازشریف اور شہبازشریف وطن واپس آئیں گے۔

“حکومتی شرط غیر قانونی ہے”

درخواست کی سماعت کے دوران شہباز شریف نے ٹیلی فون پر نواز شریف، مریم نواز اور اپنی والدہ سے مشاورت کی۔ اس دوران نواز شریف نے کہا کہ ای سی ایل سے ان کا نام نکالنے کے لئے حکومتی شرط غیر قانونی ہے، عدالت کا ہر فیصلہ سر آنکھوں پر ہوگا، عدالتی احکامات پر من و عن عمل کیا جائے گا۔

بیان حلفی کا مسودہ جمع

عدالتی ہدایت کی روشنی میں امجد پرویز ایڈووکیٹ نے نواز شریف اور شہباز شریف کے بیان حلفی کا مسودہ لاہور ہائی کورٹ کے معاون کے حوالے کر دیا۔ بیان حلفی کا ڈرافٹ 2 صفحات پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف صحت یاب ہوتے ہی وطن واپس آئیں گے اور عدالتی کیسز کا سامنا کریں گے۔

ایسا بیان حلفی بیان قبول نہیں کرسکتے، حکومت

 دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے شہبازشریف کا بیان حلفی مسترد کردیا، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے خاص مدت کے لیے نواز شریف کی ضمانت منظور کی ہے، اس بیان حلفی میں کسی قسم کی ضمانت نہیں دی گئی، ایسی صورت میں ہم اس کو کیسے تسلیم کرسکتے ہیں۔ 25نومبرکو اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کیس کی اپیل بھی مقرر ہے،  اگر نواز شریف نہیں آتے تو کیا ہو گا اس لیے اینڈیمنٹی بانڈ مانگے ہیں۔
اشتیاق احمد خان نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے ڈرافٹ کے جواب میں حکومت نے بھی ایک ڈرافٹ تیار کیا ہے، حکومت جب سمجھے گی کہ نواز شریف کی حالت ٹھیک ہے تو حکومت اپنا بورڈ ملک سے باہر چیک اپ کے لیے بھیج سکتی ہے، بورڈ یہ چیک کرے گا کہ نواز شریف سفر کر کے ملک میں واپس آ سکتے ہیں یا نہیں،  عدالت کی جانب سے ضمانت مقررمدت کے لیے دی گئی ہے۔

دونوں جانب سے ڈرافٹ کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے کہا کہ عدالت اپنا ڈرافٹ تیارکرکے فریقین کے وکلا کو دے گی، عدالتی ڈرافٹ پر فریقین متفق ہوئے تو فیصلہ کیا جائے گا۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں تیسری مرتبہ وقفہ کر دیا۔

 عدالتی ڈرافٹ

عدالت کی جانب سے تیار کردہ مجوزہ ڈرافٹ وفاقی حکومت اور شہباز شریف کے وکلاء کو فراہم کیے گئے۔ شہباز شریف اور احسن اقبال نے بھی ڈرافٹ کا جائزہ لیا۔

عدالتی ڈرافٹ کے متن میں کہا گیا کہ نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لیے 4 ہفتے کا وقت دیا گیا ہے لیکن اگر نواز شریف کی صحت بہتر نہیں ہوتی تو اس مدت میں توسیع ہو سکتی ہے جب کہ حکومتی نمائندہ سفارت خانے کے ذریعے نوازشریف سے رابطہ کرسکے گا۔

بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کے وکلا نے عدالتی ڈارفٹ منظور کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں عدالتی ڈرافٹ منظورہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ عدالتی ڈرافٹ پرمکمل عملدرآمد کریں گے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالتی ڈرافٹ پراعتراض کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی ڈرافٹ میں معمولی ترامیم کے لیے تجاویز ججزکو چیمبرمیں بھجوادی۔

کیس کا پس منظر؛

حکومت نے نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے ایک بار بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دی تھی تاہم اس کے لیے ان کی جانب سے 80 لاکھ پاؤنڈ، 2 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر، 1.5 ارب روپے جمع کرانے کی شرط رکھی گئی تھی۔ گزشتہ روز نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے حکومتی شرائط کے خلاف شہبازشریف کی جانب سے دائر درخواست کو قابل سماعت قرار دیا تھا۔

حکومتی تاخیری حربے آج ختم ہوگئے ہیں، شہبازشریف

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف نے کہا ہے کہ عدالت عالیہ نے انسانی بنیادوں پر فیصلہ سنایا جس پر ہم ان کے مشکور ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف کا کہنا تھا کہ قوم کی دعائیں اور والدہ کی التجائیں رنگ لے آئیں اللہ تعالی نے دعائیں قبول کیں اور عدالت نے نوازشریف کو بیرون ملک علاج کرانے کی اجازت دی ہے، عدالت عالیہ نے انسانی بنیادوں پر فیصلہ سنایا جس پر ہم ان کے مشکور ہیں۔

شہبازشریف نے کہا کہ عدالت نے زرضمانت کے بغیر جانے کی اجازت دی ہے، نوازشریف کے علاج میں جو رکاوٹیں حائل تھیں وہ اب دور ہو چکی ہیں اور حکومتی تاخیری حربے آج ختم ہوگئے ہیں، نوازشریف علاج کروا کر وطن واپس آئیں گے۔

نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت ملی ہے 7 ارب جرمانہ معاف نہیں ہوا، اٹارنی جنرل

اسلام آباد: اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا ہے کہ نواز شریف کو صرف باہر جانے کی اجازت ملی ہے انکی سزا معطل نہیں ہوئی اور نہ ان کا جرمانہ معاف ہوا، ان پر تاحال سات ارب روپے کا جرمانہ عائد ہے۔

اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف پر ایک فیصلے میں سات ارب روپے ہرجانہ عائد کیا گیا ہے اور انہوں نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہوئی ہے سزا صحیح ہے یا نہیں، یا تو وہ فیصلہ کالعدم ہوگا یا درست تاہم فیصلہ ابھی برقرار ہے۔

انور منصور نے کہا کہ  نواز شریف نے ضمانت مانگی تو سوالات اٹھے کہ ضمانت دی جائے یا نہیں؟ کیوں کہ نیب لا کے تحت ملزم کی سزا معطل نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ضمانت دی جاسکتی ہے تاہم دیگر لاز میں ضمانت ممکن ہے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ معاملہ عدالت میں آنے پر حکومت نے باہر جانے پر اعتراض نہیں کیا تاہم وہ کوئی نہ کوئی ضمانت چاہتی ہے کیوں کہ پہلے بھی نواز شریف نے دیے گئے بانڈز پر عمل درآمد نہیں کیا، ضمانت کے بعد وہ ہاسپٹل کے بجائے گھر چلے گئے اور اسے آئی سی یو بنالیا بعد ازاں بیرون ملک جانے کی درخواست فائل کردی جس پر ہم نے اعتراض عائد کیا کہ جس عدالت میں مقدمہ ہو درخواستیں اسی عدالت میں جانی چاہئیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے آج کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل فائل نہیں کی ہمیں ان کے باہر جانے پر نہیں بلکہ بغیر بانڈز کے باہر جانے پر اعتراض ہے جس کی ہم نے لاہور ہائی کورٹ میں بھی مخالفت کی تاہم ہائی کورٹ نے انہیں باہر جانے کی اجازت دے دی جو کہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی ہے تاہم سزا و جرمانہ برقرار ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کو انڈر ٹیکنگ دینا معمولی بات نہیں اس کا ذکر فیصلہ میں بھی ہوگا، خلاف ورزی پر نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف 61 (2) بی کی کارروائی ہوسکتی ہے، آج کی درخواست کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اپنے رائے کابینہ کے سامنے پیش کروں گا فیصلے کے خلاف اپیل کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ کابینہ کی صوابدید پر منحصر ہے۔

شریف فیملی کا ماضی ٹھیک نہیں اس لیے ضمانتی بانڈز مانگے، فردوس عاشق

قبل ازیں پریس کانفرنس میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ بدقسمتی سے حکومت کی نیک نیتی کا مذاق اڑایا گیا جب کہ حکومت نے ہر مرحلے پر نواز شریف کے لیے راہ ہموار کی، انہیں میڈیکل بورڈ کی سہولت دی اور ترجمانوں کو نواز شریف کی صحت کے بارے میں بیان بازی سے روکا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نواز شریف کے باہر جانے کی مخالف نہیں، زرضمانت کا بانڈ وفاقی کابینہ نے اس لیے مانگا کہ انہوں نے ماضی میں جھوٹے معاہدے کیے، شریف خاندان ماضی میں اپنے معاہدوں سے مکرا، قول و فعل میں تضاد رہا، انڈیمنٹی بانڈ شریف خاندان کے گزشتہ ٹریک ریکارڈ کو دیکھ کر مانگا گیا لیکن مسلم لیگ (ن) کا رویہ قابل مذمت اور افسوس ناک تھا اور اپوزیشن نے حکومت پر بلاجواز الزام تراشی کی۔

نواز شریف اور شہباز نے بیان حلفی دیا ہے کہ واپس آئیں گے، شاہ محمود قریشی

ملتان: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ شہباز شریف نے بیان حلفی دیا ہے کہ نواز شریف کو 4 ہفتے کے لیے باہر لے جا رہے ہیں اور واپس لے آنے کے پابند ہوں گے جب کہ نواز شریف نے بھی اس بیان کی تائید کی ہے۔

ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے اختلافات کی وجہ مسئلہ کشمیر ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو مظالم ڈھا رہا ہے وہ کسی سے برداشت نہیں ہوسکتے، آج یورپی یونین میں بھی کشمیر پر بھارتی مظالم کے حوالے سے بحث چلی اور یورپی یونین نے بھی بھارتی جارحیت کی مخالفت کی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ عدالتی فیصلوں کو مانا ہے، جب ڈاکٹرز اور میڈیکل بورڈ  نے فیصلہ کیا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں تو ہم نے بھی کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی، وزارت قانون نے پچھلے کیس سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا اور عدالت نے انسانی تقاضوں اور قانونی پہلو دیکھتے ہوئے فیصلہ دے دیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بیان حلفی دیا ہے کہ نواز شریف کو چار ہفتے کے لیے باہر لے جا رہے ہیں اور واپس لے آنے کے پابند ہوں گے، نواز شریف نے بھی بیان حلفی دیا کہ جو ان کے بھائی نے کہا اس کی تائید کرتے ہیں، وزیر اعظم نے کور کمیٹی سے مشاورت شروع کر دی ہے کہ نواز شریف کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا یا نہیں۔

جے یو آئی کے آزادی مارچ اور دھرنوں سے متعلق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے دھرنے والوں کے لیے سہولتیں پیدا کیں اور ماضی کی حکومت کے برعکس کوئی گرفتاریاں اور تشدد نہیں کیا، جمعیت علمائے اسلام کا پلان بی سب کے سامنے ہے جہاں ان کے لوگوں نے راستے میں بندش کی لوگوں نے اسے پسند نہیں کیا بلکہ عوام کی جانب سے شاہراہوں کی بندش پر بھرپور مخالفت کی گئی۔

Google Analytics Alternative