Home » Author Archives: Admin (page 11)

Author Archives: Admin

بہت سارے بھارتی ’غدار پاکستانیوں‘ سے کہیں بہتر ہیں، رابی پیرزادہ

کراچی: پاکستانی گلوکارہ رابی پیرزادہ نے سانپ اور مگر مچھ رکھنے پر محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے چالان بھیجنے پر کرارا جواب دیتے ہوئےجانوروں کی ملکیت سے انکار کردیا۔

چند روز قبل گلوکارہ رابی پیرزادہ نے مظلوم کشمیریوں پر ہونےو الے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں رابی نے مودی کو للکارتے ہوئے سانپ اورمگر مچھ سے ڈرایاتھا ۔ تاہم دو روز قبل پاکستان محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے گلوکارہ رابی کی ویڈیو پر ایکشن لیتے ہوئے ان پر غیر قانونی طور پر اژدھے، سانپ اور مگر مچھ رکھنے کے الزام میں کارروائی کرتے ہوئے چالان درج کیا گیاہے۔

محکمہ وائلڈ لائف کی کارروائی کے بعد رابی پیرزادہ نے ایک اور ویڈیو جاری کی ہے جس میں انہوں نے ویڈیو اورتصاویر میں دکھائے گئے جنگلی جانوروں کی ملکیت سے انکار کرتے ہوئے محکمہ وائلڈ لائف کو کھری کھری سناتے ہوئے انہیں غدار قرار دیا ہے۔

رابی پیرزادہ نے ویڈیو میں کہا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ نریندر مودی کے بھارت میں اتنے سارے فالوورز ہیں ۔ 5 سال سے میں نے سانپ رکھے ہوئے ہیں اور ان سانپوں کے ساتھ مختلف نیوز چینلز پر پروگرام بھی کیے ہیں جب تو کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ رابی پیرزادہ نے ویڈیو میں دکھائے گئے سانپ اور اژدھے کی ملکیت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانپ ان کے نہیں ہیں بلکہ کسی اور کی ملکیت ہیں اور انہوں نے ان سانپ کے مالکوں(سپیروں)سے درخواست کی تھی کہ وہ ان کے ساتھ مجھے ویڈیو بنانے دیں۔ رابی نے یہ بھی بتایا کہ ان ویڈیوز سے ہونے والی آمدنی کا کچھ حصہ وہ ان غریب سپیروں کو بھی دیتی ہیں جس سے انہیں آسرا ہوجاتا ہے۔

رابی پیرزادہ نے اپنے بیوٹی سیلون میں رکھے گئے سانپوں کی حقیقت بتاتے ہوئے کہا کہ پہلے ان کے پاس سانپ تھے لیکن جب انہیں ان کا لائسنس نہیں ملا تو انہوں نے بغیر لائسنس کے یہ سانپ اپنے پاس نہیں رکھے ۔  محکمہ وائلڈ لائف کی پول کھولتے ہوئے رابی پیرزادہ نے کہا کہ جب انہوں نے سانپ رکھنے کے لائسنس کے لیے محکمہ وائلڈ لائف سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو وہاں کوئی تھا ہی نہیں۔

رابی پیرزادہ نے کہا اتنے برسوں تک لوگ دیکھتے رہے کہ میرے پاس سانپ ہیں کسی نے کچھ نہیں کہا لیکن جیسے ہی میں نے مودی کو دھمکی دی اور ان سانپوں سے ڈرایا تو افسوس کی بات ہے کہ میرے خلاف فوراً کارروائی کی گئی۔رابی پیرزادہ نےکسی کانام لیے بغیر کہا کہ اگر آپ لوگ پاکستان سے پیار نہیں کرسکتے تو پاکستان کے ساتھ غداری بھی نہ کریں۔

رابی پیرزادہ نے ٹی وی چینلز انتظامیہ کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا آپ نے وہ ویڈیو کیوں دکھائی جس میں میں مودی کو باتیں سنارہی ہوں، آپ کے اندر  ذرا سی انسانیت نہیں ہے، بھارت واقعی آپ لوگوں سے بہتر ہے۔ رابی نے کہا میں کبھی بھارتیوں کی برائی نہیں کرتی صرف مودی کی کرتی ہوں کیونکہ مجھے سارے انسان پسند ہیں۔ لیکن بہت سارے بھارتی ، بہت سارے ان پاکستانیوں سے بہتر ہیں جو اپنے ملک کے ساتھ غداری کرتے ہیں اور محکمہ وائلڈ لائف ان غداروں میں سے ایک ہیں۔

رابی پیرزادہ نے محکمہ وائلڈ لائف کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ اگر یہ لوگ پہلے میرے خلاف کارروائی کرتے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوتا لیکن مودی کو للکارنے کے بعد میرے خلاف ایکشن لینے کی بات کی گئی ۔ رابی پیرزادہ نے محکمہ وائلڈ لائف پر مقدمہ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک مجھے ادارے کی جانب سے لیٹر نہیں ملا اور آپ کو کس نے اجازت دی کہ میرے متعلق میڈیا میں خبریں دیں۔

رابی پیرزادہ نے مزید کہا کہ انہیں ان تمام لوگوں پر بھی بے حد غصہ ہے جو بھارت کے چاند مشن چندریان2 کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ بھارت کی ترقی رک گئی۔ رابی نے کہا اس سے پہلے انڈیا نے پاکستانی جھنڈے کی بے عزتی کی اس وقت یہ لوگ خاموش کیوں تھے۔

گلوکارہ رابی پیرزادہ نے بھارتی فلموں میں کام کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں بھارتی فلموں میں کام تو دور ان کو دیکھنا تک پسند نہیں کرتی مجھے مودی سے اس لیے دشمنی ہے کیونکہ وہ انسانیت کا دشمن ہے۔

وفاقی محکموں میں 14562 ارب کے کمزور مالی انتظامات کی نشاندہی

اسلام آباد: آڈیٹر جنرل پاکستان نے وفاقی محکموں کی آڈٹ رپورٹ پارلیمنٹ کو بھجوا دی ہے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ چودہ ہزار 562ارب روپے کے کمزور مالی انتظامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں 292ارب 97کروڑ روپے مالیت کے کیسوں میں قوانین کی خلاف ورزی اور بے ضابطگیوں جبکہ 26ہزار 331کیسوں میں اکاؤنٹنگ کی غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ ایک لاکھ 85ہزار 885روپے مالیت کے کیسوں میں وصولیوں، زیادہ ادائیگیوں اور بے قاعدگیوں کی نشاندہی بھی کی ہے۔ ذرائع آڈٹ کی نشاندہی پر 4 ارب 90 کروڑ روپے کی وصولیاں کی گئی ہیں جبکہ 4کیسز میں ایک ارب روپے کے استعمال کا ریکارڈ ہی فراہم نہیں کیا گیا۔

آڈٹ رپورٹ میں دیگر 11 کیسز میں 86کروڑ 20لاکھ روپے مالیت کی چوری فراڈ اور بدعنوانیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ 237 کیسوں میں 29کروڑایک لاکھ روپے کی خلاف ضابطہ ادائیگیوں کی نشاندہی بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔

آڈیٹر جنرل پاکستان کو 50 وفاقی وزارتوں کے آڈٹ کا اختیار ہے تاہم یہ رپورٹ 40وزارتوں کے آڈٹ پر مشتمل ہے۔

طاقتور دواؤں جیسی تاثیر رکھنے والی عام غذائیں

ہارورڈ: بلیو بیری سے لے کر شاخ گوبھی تک کئی طرح کے پھل امراض کو روکتے ہیں اور جسمانی دفاعی نظام مضبوط کرتے ہیں۔

اس بات کا انکشاف ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسداں اور غذائی ماہر پروفیسر ولیم لائی نے اپنی نئی کتاب میں ایسی غذاؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے کیا ہے جو طاقتور دواؤں کے طور پر کام کرتی ہیں۔

ڈاکٹر ولیم کا خیال ہے کہ غذا خود بطور دوا استعمال کی جاسکتی ہے کیونکہ پھلوں، سبزیوں اور دیگر سمندری غذاؤں میں دریافت ہونے والے بایو ایکٹیو کیمیکلز اور دیگر مرکبات زبردست تاثیر رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر ولیم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص آنتوں کے کینسر سے شفایاب ہوگیا ہے اور وہ ہفتے میں 14 اخروٹ کھائے تو مرض دوبارہ لوٹنے کا خدشہ 44 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح چھاتی کے سرطان میں سویا کا پروٹین بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔

کیوی، گاجریں اور بیریاں جسم میں شکستہ ڈی این اے کی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرتی ہیں کیونکہ ڈی این اے کی شکستگی کینسر سمیت کئی امراض کی بنیادی وجہ ہے۔ اسی طرح اگر آپ وٹامن اے، بی، سی، ڈی اور ای حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پالک، سرخ شملہ مرچ، گاجر، دالیں، لوبیا، مشروم، انڈے اور تیل دار مچھلیاں استعمال کریں۔ ان کا استعمال کسی سپلیمنٹ سے کم نہیں۔

کافی اور ہلدی، جسم کے حفاظتی جین کو جگاتی ہیں اور یوں ڈی این اے کی ٹوٹ پھوٹ کو دور کرتی ہیں۔ ڈاکٹر ولیم کہتے ہیں کہ اگر آپ صحت کی نعمت پانا چاہتے ہیں تو ہر سرخ گلابی پھل ضرور کھائیے؛ جن میں انار، تربوز، گلابی امرود اور گریپ فروٹ شامل ہیں۔

اسی طرح سرخ اور گہری رنگت کی بیریاں بھی اپنے اندر شفا کا خزانہ رکھتی ہیں۔ دوسری جانب سپرفوڈ میں شاخ گوبھی یا بروکولی بھی کسی سے کم نہیں اور اس میں کئی طرح کے انتہائی مفید اجزا پائے جاتے ہیں۔ اگر صرف 10 روز تک ایک پاؤ بروکولی روزانہ کھائی جائے تو ڈی این اے کو ہونے والے نقصان کا ازالہ ہوسکتا ہے۔

مقدمات کا فیصلہ 2 سال تک کرنے کی قانونی شرط لاگو کی جارہی ہے، فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد: معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ سول کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک دیوانی مقدمات کا فیصلہ دو سال تک کرنےکی قانونی شرط لاگو کی جارہی ہے۔

اپنی ٹوئٹ میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سستے اور فوری انصاف کی فراہمی پاکستان تحریک انصاف کا بنیادی نظریہ اور وزیراعظم عمران خان کا مشن ہے۔ سمن کے اجراء ، وصولی اور عدالتی حاضری سے لے کر شہادتیں ریکارڈ کے عمل کو جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کیا جا رہا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ سول پروسیجر کوڈ کا ترمیمی بل حقیقی تبدیلی کی طرف بڑھتے موجودہ حکومت کے لیے مثبت قدم ہے، ایک نسل مقدمہ درج کرتی اور تیسری نسل تک پہنچ کر اس کا فیصلہ ہوتا تھا۔ سول کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک دیوانی مقدمات کا فیصلہ دو سال تک کرنےکی قانونی شرط لاگو کی جارہی ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اسلام میں خواتین کودستیاب وراثتی حق معاشرتی اورقانونی پیچیدگیوں کی نذر ہو چکا تھاریاست مدینہ کی طرز پر تشکیل دیے جانے والے معاشرے کے لیے پرعزم وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کی روشنی میں تشکیل پانے والا یہ قانون خواتین کو جائیداد میں اپنے حصے کے حصول کو یقینی بنانے کا باعث بنے گا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے کندھوں پر ان بے گناہ اور معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کا بوجھ اٹھا لیا ہے جو کئی دہائیوں سے جیلوں میں قید تھے۔ خصوصی طور پر وہ خواتین، بچے اور دیگر مستحق و نادار قیدی جو قانونی مدد کی سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اپنے مقدمات کی پیروی سے قاصر تھے۔ لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی بل کی منظوری سے انہیں فوری انصاف کی فراہمی کا خواب حقیقت میں بدل جائے گا

سی بی کے تحت نئے نظام میں ڈومیسٹک کرکٹ اچھی ہورہی ہے، عابد علی

کراچی: قائد اعظم ٹرافی میں بلوچستان کے خلاف ڈبل سنچری جڑنے والے سندھ ٹیم کےعابد علی نے کہا ہے کہ 249 رنز کا بہترین انفرادی اسکور کرنے پر بہت خوش ہوں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عابد علی نے کہا کہ ٹیم پلان پر عمل کیا اور اچھی کارکردگی رہی، سی بی کے تحت نئے نظام میں ڈومیسٹک کرکٹ اچھی  ہورہی ہے اور پروفیشنل کھلاڑی میدان میں ہیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم میں جگہ بنانے کی کوشش میں مصروف عابد علی نے کہا کہ میرا کام  پرفارمنس دینا ہے اب اچھا آغاز ملا ہے، کوشش کروں گاکہ کارکردگی برقرار رکھوں،کنڈیشن جیسی بھی ہو ہمیں اچھا کھیلنا ہے،میری خواہش یہی ہے کہ ہر فارمیٹ کی کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کروں، کھیل کے ساتھ فٹنس پر بھرپور کام کررہا ہوں،سیزن کا آغاز اور نیا سسٹم بنا ہے، امید کرتا ہوں اچھی کرکٹ ہوگی۔

بھارت پر تجارتی پابندیاں لگائی جائیں، ارکان یورپی پارلیمنٹ

برسلز: یورپی یونین کے ارکان پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت کے خلاف تجارتی پابندیاں لگانے کے علاوہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث افراد پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں فرینڈز آف کشمیر گروپ کے شریک چیئرمین رچرڈ کوربیٹ نے برسلز میں کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہٹانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔

انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث نئی دہلی پر تجارتی پابندیاں لگانے کے علاوہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث افراد پر سفری پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی۔

فرینڈز آف کشمیر گروپ نے مقبوضہ وادی میں صورتحال پر یورپی یونین میںقرارداد پیش کرنے کی کی بھی تجویز دی۔ یورپین پارلیمنٹ کے ارکان انتھیا، شفیق محمد، جان ہو ارتھ، ارینا وان ویز، تھریساگریفین، نوشینا مبارک اور راجہ نجابت حسین نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر صدر آزاد کشمیر سردار مسعود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کو رکوانے اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس عملی اقدامات اٹھائے۔ وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری بھارت کے ساتھ تجارت سمیت ہر قسم کے تعلقات کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کی بہتری اور کشمیری عوام کے بنیادی حق، حق خودارادیت کے ساتھ مشروط کرے۔

بھارت ایک منصوبہ بندی کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے اور اگر بھارت کے خلاف عالمی سطح پر فوری اقدامات نہ اٹھائے گے تو وہاں ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے سردار مسعود نے کہا کشمیر بھارت کا حصہ تھا نہ بنے گا۔ انتہاء پسندانہ ہندو نظریات کو محض کشمیر، بھارت اور پاکستان کے مسلمانوں کے خلاف سمجھنا سنگین غلطی ہو گی۔

مانچسٹر میں خطاب کرتے ہوئے سردار مسعود نے کہاعالمی میڈیا نے بھارتی کرتوتوں کی قلعی کھول دی ہے۔

مچھروں سے بچاؤ کیلئے نئی کوششیں شروع

مچھر ایک مہلک مخلوق ہیں جو ہر سال لاکھوں اموات کا سبب بنتے ہیں۔

مچھروں پر تحقیق کے دوران معلوم ہوا ہے کہ مچھر اپنے پروں کی مدد سے بھنبھناتے ہیں اور یہ آواز ان کے تولیدی عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مچھر اپنے جنسِ مخالف کو اس بھنبھناہٹ سے تلاش کرتے ہیں۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہ اس آواز میں خلل ڈال کر مچھروں کے مسئلے کا تدارک کر سکتے ہیں۔

سائنسدان مچھروں کے بھنبھنانے کی آواز کی مدد سے ان کی آبادی کو کم کرنے پر تحقیق کر رہے ہیں اور انہیں انسانی آبادی سے دور رکھنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مادہ مچھر کے پروں کا وزن کم ہوتا ہے، اسی لیے اس کی بھنبھناہٹ ہلکی ہوتی ہے جبکہ سیکڑوں کے جھنڈ میں اپنی مادہ کو تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سائنسدانوں کو یقین ہے کہ وہ مچھروں کی زبان یا بھنبھنانے کے انداز کو سمجھ سکتے ہیں اور ان کی آواز میں خلل ڈال کر خطرے کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی اداروں کے سربراہان کی تقرری؛ حکومت کو سخت قانونی پیچیدگیوں کا سامنا

اسلام آباد: وفاقی اداروں  کے سربراہان کے تقرر کے حوالے سے وفاقی حکومت کو سخت قانونی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اور بڑا آرڈر جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو چئیرمین پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کی جگہ روز مرہ کے امور چلانے کے لئے عارضی انچارج مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے، عدالت نے حکومت کو سختی سے حکم دیا ہے کہ روز بروز کے معاملات دیکھنے کے لئے تقرر کرتے ہوئے پی اے آر سی 1981 کے قانون میں دئیے گئے معیار کو مدنظر رکھا جائے۔

چئیرمین پی اے آر سی تقرری کے خلاف کیس میں  اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا ہے ، عدالت کے تحریری حکم کے مطابق عدالت کو درخواست گزار وکیل ظفر اقبال چوہدری کی جانب سے بتایا گیا کہ قائم مقام چئیرمین پی اے آر سی ایوب چوہدری بغیر توسیع عہدے پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں  قائم مقام چئیرمین ایوب چوہدری کا دورانیہ 11 اگست کو ختم ہو چکا تھا جس میں  اب تک حکومت کی جانب سے توسیع نہیں  کی گئی۔

عدالت عالیہ کے تحریری حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت عارضی انچارج پی اے آر سی 1981 قانون کے مطابق تعیناتی کرے، پاکستان ایگریکلچرریسرچ کونسل کے امور چلانے کے لیے تعیناتی کرتے ہوئے حکومت عارضی انتظام کرنے میں  قانون کو سختی سے مدنظر رکھے، وفاقی حکومت کونسل کے امور چلانے کے لیے عارضی انتظام کرسکتی ہے، عدالت نے وفاقی حکومت کی درخواست پر جواب جمع کرانے کے لئے ایک ہفتے کا دیتے ہوئے کیس 19 ستمبر کو دوبارہ سماعت کے لئے مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل نیشنل ایگریکلچر ریسرچ کونسل ڈاکٹر غلام محمد علی نے ایڈیشنل سیکریٹری وزارت فوڈ اینڈ سیکیورٹی محمد ایوب چوہدری کی بطور چئیرمین پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل تعیناتی کو چیلنج کررکھا ہے ،پٹیشن کے مطابق ڈاکٹر غلام محمد علی پی اے آر سی میں  سینئر ترین سائنسدان ہیں۔

واضع رہے اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ وفاقی ٹیکس محتسب مشتاق سکھیرا کی برطرفی کے حوالے سے حکومتی نوٹیفکیشن کو معطل کرکے حکم امتناع جاری کرچکی ہے ، الیکشن کمیشن کے دو نئے ممبران کی تعیناتی کے حوالے سے کیس میں  بھی حکومت کو نوٹس جاری ہو چکا ہے۔ چئیرمین سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پالیسی بورڈ خالد مرزا کی برطرفی کے حکو متی نوٹیفکیشن کو معطل کرکے حکم امتناع جاری کیا جاچکا ہے۔

Google Analytics Alternative