Home » Author Archives: Admin (page 11)

Author Archives: Admin

پیٹ پھولنے اور گیس کے مسئلے سے نجات کے لیے بہترین ٹوٹکا

بہت زیادہ یا بہت تیزی سے کھانے کے نتیجے میں پیٹ پھول جاتا ہے یا یوں کہہ لیں اندر سے سوج جاتا ہے جس کے نتیجے میں کافی تکلیف کا سامنا ہوتا ہے۔

ویسے یہ جان لیں کہ ہر وقت پیٹ سپاٹ رکھنا نارمل نہیں ہوتا کیونکہ کھانے یا پینے کے بعد غذائیں اور سیال مواد معدے اور آنتوں میں جگہ بناتا ہے، یعنی وہ کچھ پھول جاتے ہیں۔

ویسے تو پیٹ کا بہت زیادہ پھولنا ضروری نہیں، اس بات کی علامت ہو کہ آپ نے کچھ غلط کھالیا ہے تاہم یہ اتنا پھول جائے کہ کپڑے تنگ محسوس ہونے لگے تو اس کی وجہ آپ کی غذا ہی ہوسکتی ہے۔

درحقیقت نظام ہاضمہ کے پاس یہ ایسا ذریعہ ہے جو بتاتا ہے کچھ گڑبڑ ہے، جب ایسا ہوتا ہے تو آپ کو قبض، گیس یا درد کی شکایت ہوسکتی ہے۔

جب ایسا ہو تو کیا کرنا چاہئے؟ کیا ایک یا 2 درد کش گولیاں کھا کر دن گزرنے کا انتظار کریں یا کچھ گھریلو ٹوٹکوں کو آزمائیں جو موثر بھی ثابت ہوسکتے ہیں؟

اگر آپ کو اس مسئلے کا سامنا ہے تو گھریلو ٹوٹکوں سے مسئلہ پوری طرح تو حل نہیں ہوتا مگر کافی ریلیف ضرور مل جاتا ہے۔

آپ کے کچن میں ہی ایک چیز ایسی موجود ہوگی جس کا استعمال آسان ہونے کے ساتھ فوری اثر کرتا ہے اور اس کے ساتھ بس ایک کپ پانی کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔

ویسے تو بہترین حل یہ ہے کہ کھانا آرام سے کھائیں اور نوالے کو اچھی طرح چبائیں۔

جی ہاں بس سونف اور پانی پیٹ پھولنے اور گیس کے مسئلے سے نجات دلانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

اس مشروب کو بنانے کے لیے آدھا یا ایک چائے چمچ سونف، ایک کپ پانی اور شہد (اگر دل کرے تو) درکار ہوگا۔

اسے بنانے کے لیے سونف کو پیس لیں اور پھر اس سفوف کو ایک گپ گرم پانی میں شامل کرکے 5 سے 10 منٹ کے لیے چھوڑ دیں، اس کے بعد چمچ سے مکس کریں اور حسب ذائقہ شہد شامل کردیں۔

اس مشروب کا روزانہ استعمال کریں، اگر مشروب پسند نہیں تو آدھا چائے کا چمچ سونف روزانہ کھانا بھی اس مسئلے سے نجات میں مدد دے سکتا ہے۔

سونف نظام ہاضمہ کے لیے بہت موثر ہوتی ہے جس میں موجود اجزا جراثیم کش خصوصیات رکھتے ہیں جو گیس اور پیٹ پھولنے کے مسئلے سے نجات دلانے کے لیے اسے مفید بناتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

جرائم پیشہ افراد سیاسی قیدی کا لیبل لگا کر قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں، فردوس عاشق

اسلام آباد: معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ جولوگ کرپشن کیسز میں جیل میں ہیں وہ سیاسی قیدی کا لیبل لگا کر قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ماضی میں وزیراعظم چادر سے زیادہ اپنے پاؤں پھیلاتے رہے، 2014 – 15 میں وزیراعظم نے 88 کروڑ روپے کا بجٹ استعمال کیا، قوم کو اصلاح کا درس دینے والے عوام کے ٹیکس کا پیسا خرچ کرتے رہے۔

معاون خصوصی اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان پرانگلیاں اٹھانے والے ٹولے کو اپنی آنکھیں نیچی رکھنی چاہیے، کیوں کہ ان  کا پورا کا پورا خاندان سرکاری خرچے پر پل رہا تھا، رائیونڈ میں کیمپ آفس بنایا گیا جس کی دیواریں قوم کے پیسوں سے بنائی گئیں، شہبازشریف نے ذاتی تشہیر اور ذاتی عیاشیوں پر45 ارب روپے خرچ کئے، اقوام متحدہ میں راج کماری اور نواز شریف کی نواسی تک جاتے رہے، گزشتہ حکومت کے دوران وزیراعظم ہاؤس کا بجلی کا بل 28کروڑ روپے موجودہ حکومت ادا کررہی ہے۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ جعلی اکاؤنٹس بنانے والے اور منی لانڈرنگ کرنے والے رنگے ہاتھوں گرفتارہوئے ہیں،  جولوگ کرپشن کیسز میں جیل گئے وہ سیاسی قیدی کا لیبل لگا کر قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں، شرمندہ ہونےکے بجائے یہ لوگ سینہ زوری کر رہے ہیں، یہ آئین کی بالادستی نہیں بلکہ اپنی بالادستی پرزوردے رہے ہیں، بجٹ نہ منظورکرنے دینے اور پارلیمنٹ کویرغمال بنانےوالے سیاسی قیدی نہیں، یہ کون ہوتے ہیں بجٹ روکنےوالے، بجٹ سے ملک کی سیکیورٹی وابستہ ہے، اسپیکر قومی اسمبلی سیاسی قیدی اور کرمنل میں فرق کو واضح کریں۔

سخت تنقید کے بعد ثانیہ مرزا کا ٹوئٹر اکاؤنٹ خاموش

 لاہور: پاکستانی صارفین کی جانب سے سخت تنقید کے بعد ثانیہ مرزا کا ٹوئٹر اکاؤنٹ وقتی طور پر خاموش ہو گیا ہے۔

پاک بھارت میچ سے قبل شیشہ بار میں شعیب ملک سمیت پاکستانی کرکٹرز کی سرگرمیوں پر مبنی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد ثانیہ مرزا نے اس کو نجی زندگی میں دخل اندازی قرار دیتے ہوئے سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا، پاکستانی اداکارہ وینا ملک سمیت دیگر ناقدین کو ترکی بہ ترکی جواب بھی دیے، بیٹے اذہان کو شیشہ بار جیسے غیر صحت مندانہ ماحول میں لے جانے کے حوالے سے وضاحتیں بھی پیش کیں۔

پاکستانی صارفین کی جانب سے مسلسل تابڑ توڑ حملوں کے بعد بالآخر ثانیہ مرزا نے فی الحال ٹوئٹر پر غیر متحرک ہونے میں ہی عافیت جانی ہے۔

وزیراعظم کا نوٹس احسن اقدام، سہولت کار آزاد کیوں ;238;

پیر17جون2019ء کو حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتوں نے بھی شرکت کی ۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن والے چور ڈاکو ہیں اور دنیا میں کہیں مجرم پروڈکشن آرڈر پر ایوان میں آکر حکومت اور وزیراعظم کیخلاف تقریریں نہیں کرتے،آصف زرداری سمیت کسی کے بھی پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہونگے ۔ شکر ہے وزیراعظم عمران خان نے پروڈکشن آرڈر بارے آئین میں گنجائش کے غلط استعمال پر توجہ دی کاش یہ توجہ شہباز شریف،حمزہ شہباز،سلمان رفیق اور سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے وقت دی ہوتی تو آج قوم کو پروڈکشن آرڈرکے غلط استعمال پر دکھ نہ ہوتا ۔ پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی آئین میں گنجائش اس لیے پیدا کی گئی کہ اگر پارلیمنٹ میں انتہائی ضروری بحث چل رہی ہو تو ہر علاقے اور ہر ذہن کونمائندگی دی جائے تاکہ جس موضوع پر بحث چل رہی ہو اس بارے کوئی بھی پہلو نظر اندازنہ ہو مگر یہاں پر تو نظام ہی الٹا نظر آ رہا تھا ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اشرافیہ قوم کا مذاق اڑارہی ہے اور ہر خاص و عام کو پیغام دیا گیا کہ ہم کچھ بھی کر لیں مگر قانون کی گرفت ہم پر مضبوط نہیں ہو سکتی ،ہمارے لیے قانون کمزور اور ہم قانون سے زیادہ طاقتور ہیں ۔ بھلا ہو وزیراعظم عمران خان کا جنھوں نے اس صورتحال کا نوٹس لیا ،چلو دیر آئید درست آئید،اب بھی کونسا زیادہ وقت گزرا ہے جو موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا جا سکے ۔ یہاں پر اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی سوچنا چاہئے کہ ضروری نہیں آئین میں جو لکھا ہو اس پر آنکھیں بند کر کے عمل کیا جائے ۔ آئین پر عمل کرنا ضروری مگر آئین کو بھی مکمل پڑھنا چاہئے ۔ اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی سوچنا چاہئے کہ کہیں اپوزیشن پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی آئینی سہولت کا غلط استعمال تو نہیں کر رہی ،ایسا تو نہیں کہ قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہو،جن کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے انھوں نے قومی اسمبلی اجلاس میں کیا کردار ادا کیا;238;کیا انھوں نے پروڈکشن آرڈر پر قومی اسمبلی فورم کا غلط استعمال کیا یا نہیں ;238;جن ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے انکی تقاریر کا جائزہ لیا گیایا اس کیلئے کوئی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی;238;کیا قومی اسمبلی یا پنجاب اسمبلی کے اسپیکرز نے عدالت کو خطوط لکھے کہ ہم نے جسمانی ریمانڈ کے دوران پروڈکشن آرڈر جاری کیے لہٰذا ان ایام کو جسمانی ریمانڈ میں شامل نہ کیا جائے;238;کیا کسی نے اپنے اختیارات سے تجاوز تو نہیں کیا;238;یا پھر اپنے اختیارات کا بے دریغ استعمال کیا ہو;238;آئین اسپیکرکو اجازت دیتا ہے کہ وہ پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مکمل اختیار رکھتا اور مرضی کا مالک ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کو اس معاملے کو بھی دیکھنا چاہئے اور متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کرنی چاہئے ۔ یہ بات طے ہے کہ اپوزیشن حکومت کیساتھ مخلص نہیں ،حکومت کیا وہ تو شائد قوم کیساتھ بھی مخلص نہیں کیونکہ اگر اپوزیشن قوم کیساتھ مخلص ہوتی تو پارلیمنٹ کے باہر ہونے والی ملاقاتوں میں اس پر اتفاق نہ ہو رہا ہوتا کہ بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے ۔ قوم کو بھی سوچنا چاہئے کہ پارلیمنٹ میں انکے بھیجے نمائندے آخر کیا کر رہے ہیں اگر وہ قانون سازی بھی نہیں کر سکتے تو پھر انکو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا فائدہ;238;کیا عوامی نمائندے ذاتی سیاست کیلئے پارلیمنٹ میں آتے ہیں یا قانون سازی کے فرض کو پورا کرنے کیلئے ایوان میں پہنچتے ہیں ;238;مگر ہمارے ملک میں عجیب ہی نظام راءج ہے ،جہاں اسپیکر چیمبر کو جیل قرار دے دیا جائے اور قوم خاموش تماشائی بن کر تماشا دیکھتی رہے اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے اپنے آپ کو بے بس محسوس کریں وہاں پر ارکان اسمبلی و سینیٹ کے کردار پر کون انگلی اٹھا سکتا ہے یا پھر کون جوابدہی مانگ سکتا ہے کیونکہ ماضی میں ایسی کوئی مثال ملتی نہیں اور ہمارے ہاں نئی مثال قائم کرنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن بات ہے ۔ اب آپ اسی بات سے اندازہ لگا لیں کہ قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس جاری ہے اور اپوزیشن آصف زرداری اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے پر سراپا احتجاج ہے ۔ ووٹ کو عزت دینے بیانیے کیساتھ انصاف تو یہ تھا کہ بجٹ سے متعلق بات کرتے،اشیاء خوردونوش کی قیمتوں اور عوام کیلئے اپوزیشن ہنگامہ آرائی کرتی مگر عوامی نمائندوں نے ذاتی سیاست کا وطیرہ چھوڑنا ذرا بھی گوارا نہ کیا اور ڈھٹائی کیساتھ قوم کے مال پر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ ایوان کی کارروائی بھی نہ چلنے دی ۔ پی پی نے تو دو قدم آگے جا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور اسپیکرقومی اسمبلی کے چیمبر کے سامنے دھرنا دیکر اسپیکر کو کافی دیر تک اجلاس میں شرکت کرنے سے روکے رکھا ۔ آفرین ہے اپوزیشن کے احتجاج پرجس کے باعث قومی اسمبلی کی کارروائی نہ چل سکی اور اسپیکر کو پیر کے روز اجلاس ملتوی کرنا پڑا ۔ ہم سب کو انفرادی طور پر اپنے اپنے کردار بارے سوچنا چاہئے کہ کیا ہم قوم کے پیسے کا ضیاع تو نہیں کر رہے;238;ایسا تو نہیں کہ ہم اپنے اپنے فراءض منصبی سے غفلت برت رہے ہوں ;238;جس ملک کے پارلیمنٹیرنزکرپشن میں گرفتار افراد کیلئے سراپا احتجاج ہوں اور ایوان کی کارروائی نہ چلنے دیں تو پھر اس ملک کی ترقی کا سفر سست روی کا شکار ہی ہو گا ۔ وزیراعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ کرپشن کے سہولت کاروں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لائیں اور جس جس نے بھی جس سطح پر بھی کرپشن میں سہولت کاری کے فراءض سرانجام دیے انھیں قانون کے مطابق پابند سلاسل کیا جائے تاکہ کرپشن کرنے اور سہولت فراہم کرنے والے دونوں اپنے اپنے انجام کو پہنچ سکیں اور آئندہ اس ملک و قوم کیساتھ کھلواڑ کرنے کا کوئی سوچے بھی نا ۔

سنی دیول اور شاہ رخ خان نے 16 سال تک بات کیوں نہیں کی؟

بولی وڈ انڈسٹری میں اداکاروں کے ایک دوسرے سے جھگڑے ہونا کوئی بڑی بات نہیں، تاہم دو اداکار ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے جھگڑے کے بعد ایک دوسرے سے ایک یا دو سال نہیں بلکہ سال تک بات نہیں کی۔

یہ دو اداکار شاہ رخ خان اور سنی دیول ہیں، جنہوں نے ایک ساتھ 1993 کی کامیاب فلم ‘ڈر’ میں کام کیا تھا۔

اس فلم کی شوٹنگ کے دوران ان دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے بعد ان دونوں نے ایک دوسرے سے کوئی رابطہ نہیں رکھا۔

ان دونوں کے جھگڑے کی وجہ بھی کوئی نہیں جانتا کیوں کہ ان دونوں اداکاروں نے کبھی اس مسئلے پر کھل کر بات نہیں کی۔

تاہم اتنے سالون بعد اداکار سنی دیول نے اپنے ایک انٹرویو میں اس شاہ رخ خان سے ہوئے جھگڑے کی وجہ بتادی۔

اپنے انٹرویو میں 62 سالہ اداکار کا کہنا تھا کہ ‘ہم فلم ڈر کے دوران ایک سین کی شوٹنگ کررہے تھے، جہاں شاہ رخ کو مجھ پر خنجر سے حملہ کرنا تھا، اس سین کے متعلق میرے اور فلم کے ہدایت کار یش چوپڑا کے درمیان بحث ہوگئی، میں نے انہیں سمجھایا کہ میں فلم میں ایک کمانڈو آفسر بنا ہوں، میرا کردار بےحد فٹ ہے تو پھر کیسے ایک لڑکا مجھ پر اتنی آسانی سے حملہ کرسکتا ہے؟ مجھے یہ سین خاصہ پسند نہیں آیا’۔

سنی دیول نے مزید بتایا کہ ‘یش چوپڑا اور شاہ رخ خان دونوں فلم کے سیٹ پر مجھ سے ڈرتے تھے، کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ میں صحیح کہہ رہا ہوں’۔

سین کے حوالے سے اداکار کا کہنا تھا کہ ‘یش چوپڑا مجھ سے بڑے تھے تو ان کے احترام میں، میں نے سین شوٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا، لیکن پھر اپنے دونوں ہاتھ جیب میں ڈال لیے، لیکن اس حرکت سے میری پینٹ پھٹ گئی’۔

یاد رہے کہ فلم ‘ڈر’ کی ہدایات اور پروڈکشن دونوں یش چوپڑا نے کی تھی، فلم میں سنی دیول نے ہیرو جبکہ شاہ رخ خان نے ولن کا کردار نبھایا تھا، جوہی چاولا فلم میں ہیروئن بنی تھیں۔

شائقین نے سنی دیول کے کردار سے زیادہ فلم میں شاہ رخ کے کام کو پسند کیا۔

شاہ رخ سے 16 سال تک کوئی رابطہ نہ رکھنے کے حوالے سے سنی نے بتایا کہ ‘ایسا نہیں ہے کہ میں نے بات نہیں کی، بس میں زیادہ لوگوں سے ملتا جھلتا نہیں ہوں، تو ہماری کبھی ملاقات نہیں ہوئی، تو بات کرنے کی بات ہی نہیں تھی’۔

یاد رہے فلم ‘ڈر’ میں شاہ رخ خان کا منفی کردار آج تک ان کے کیریئر کا سب سے بہترین کردار مانا جاتا ہے۔

اسٹیل ملز کی نجکاری میں تاخیر پر مشیر خزانہ کی کابینہ پر تنقید

 اسلام آباد: مشیربرائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری میں تاخیر پر کابینہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، ساتھ ساتھ انھوں نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی فروخت کی انرجی ٹاسک فورس کی تجویز پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

کابینہ کی کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں شریک حکام کے مطابق دوران اجلاس 4 سال سے بند اسٹیل ملز کی نجکاری میں تاخیر کے معاملے پر گرما گرم بحث ہوئی۔

حکام کے مطابق کابینہ کی کمیٹی برائے نجکاری کے چیئرمین عبدالحفیظ شیخ نے وزارت صنعت کی تاخیری پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے متعلقہ وزارتوں کو اسٹیل ملز کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔

مشیر خزانہ نے چیئرمین انرجی ٹاسک فورس اور وزیراعظم کے مشیرخصوصی برائے پیٹرولیم کو آئندہ مال سال میں کم از کم ایک پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی کی فروخت کی تجویز دینے کی ہدایت کی۔

مقبوضہ کشمیر میں مسلح افراد کے حملے میں بھارتی فوج کا میجر ہلاک، 3 اہلکار زخمی

سری نگر: مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں بھارتی فوج کی گاڑی پر مسلح افراد کی فائرنگ میں میجر ہلاک  جب کہ ایک میجر اور دو اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔

مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے اچھابل میں بھارتی فوج کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں میجر راہول ورما ہلاک ہوگئے جب کہ بھارتی فوج کا ایک اور میجر دو اہلکاروں سمیت زخمی ہوگیا۔

دوسری جانب بھارتی فوج کے مطابق میجر راہول ورما اہلکاروں کے ہمراہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے گئے تھے جہاں مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر مزید نفری طلب کرلی گئی، ریسکیو ادارے نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو سری نگر میں واقع بھارتی فوج کے 92 بیس آرمی اسپتال منتقل کیا جہاں ایک زخمی کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

ادھر ضلع اننت ناگ میں سرچ آپریشن کے دوران 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا گیا جب کہ ضلع کلگام، پلوامہ، شوپیاں اور بانڈی پورہ میں بھی سرچ آپریشن کے دوران چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے ضلع بھر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی۔

مریم اور بلاول کی ملاقات۔۔۔احتساب کے عمل میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے

مریم اوربلاول کی ملاقات کے بعد سیاست میں اہم پیشرفت ہونے جارہی ہے ،دونوں رہنماءوں نے اس بات پراتفاق کیاہے کہ وہ حکومت کے خلاف ملکرجدوجہد کریں گے نیز بجٹ کو بھی کسی صورت پاس نہیں ہونے دیاجائے گا تاہم حکومت نے ان کے اس الٹی میٹم کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن ہاتھ ملتی رہ جائے گی اور ہم بجٹ پاس کرالیں گے، اس کے لئے متحدہ اپوزیشن نے لاءحہ عمل طے کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ تمام اپوزیشن جماعتیں بمعہ حکومتی اتحادی جماعتوں سے بھی رابطہ کرے گی، اب بات یہ ہے کہ اگر حکومت اپنی اتحادی جماعتوں سے کئے گئے وعدے وعید کو پورے نہیں کرپاتی توپھریقینی طورپرخطرے کی تلوارسرپرلٹک رہی ہے، ایک بات ضرورت اہمیت کی حامل ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زندگی کی تاریخ بتاتی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ انہونے اور ناممکن فیصلے کرتے ہوئے انہیں ممکنات میں شامل کیا اور اب بھی یہی صورتحال ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں کی حالت صرف ہنگاموں ،آوے آوے ،جاوے جاوے اورواک آءوٹ کے علاوہ کچھ بھی نہیں لیکن اس کے باوجود اب حکومت اپنے موقف پرڈٹی ہوئی ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی دعوت پر چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جاتی امرا میں ملاقات کی ۔ مریم نواز نے گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری کو ملاقات کی دعوت دی تھی جسے بلاول نے قبول کیا تھا ۔ ملاقات میں دونوں جانب سے چند قریبی رفقا بھی شریک تھے ۔ وفود کی سطح پر ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جس کے بعد مریم نواز اور بلاول بھٹو نے ون آن ون ملاقات بھی کی ۔ ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیاگیا جس کے مطابق مریم اور بلاول نے اتفاق کیا کہ ملک میں ہر شعبہ زندگی زوال کا شکار ہے، ملک کو اقتصادی تباہ حالی کی گہری دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے ۔ مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ معیشت کے تمام اعشاریے شدید بحران کی طرف جا رہے ہیں ، پاکستان کو عالمی ساہوکا روں کے پاس گروی رکھ دیا گیا، قومی ادارے غیروں کے سپرد کرنے کے باوجود صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے، روپے کی قیمت مسلسل گر رہی ہے اور مہنگائی بڑھ رہی ہے ۔ اعلامیے کے مطابق مریم بلاول ملاقات میں چیئرمین نیب کی یکطرفہ انتقامی کارروائیوں اور حکومتی ملی بھگت کے ساتھ اپوزیشن کے ساتھ ٹارگیٹڈ سلوک پر بھی غور کیا گیا جب کہ نیب کے جعلی، بے بنیاداور من گھڑت مقدمات سے متعلق عدالتوں کا طرز عمل بھی زیر غور ;200;یا ۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں مولانا فضل الرحمان کی مجوزہ اے پی سی اور دونوں جماعتوں کے مشترکہ لاءحہ عمل پر بھی بات چیت کی گئی اور اتفاق کیا گیا کہ موجودہ غیر نمائندہ حکومت عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی ترجمانی نہیں کرتی ۔ اعلامیے میں دونوں رہنماں نے اعلی عدلیہ کے معزز جج صاحبان کے خلاف حکومتی ریفرنس واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اعلی عدلیہ کے جج صاحبان کے خلاف ریفرنس بد نیتی پر مبنی اور عدلیہ کی ;200;زادی پر حملہ ہے ۔ دونوں رہنماں نے اسپیکر قومی اسمبلی سے گرفتار ارکانِ کے پروڈکشن ;200;ڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی جانبدارانہ رویہ ترک کریں ، تمام پابند سلاسل قومی اسمبلی کے ارکان کے فوری طور پر پروڈکشن ;200;رڈر جاری کئے جائیں ۔ مریم نواز سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ عوام اور جمہوریت کی خاطر آواز اٹھائیں گے، مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے اور 21 جون کو نواب شاہ جلسے سے مہم شروع کروں گا ۔ دوسری جانب معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ رائے ونڈ میل ملاپ میں شہبازشریف کی عدم موجودگی انتشار اور دھڑے بندی کا واضح ثبوت ہے ۔ ;200;ج محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی روح تڑپ رہی ہوگی ۔ محترمہ کے جانشین ابا کی کرپشن بچانے کیلئے رائے ونڈ گئے، مہنگائی اور عوام کے درد کا ذکر کرنے والے منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے ۔ قوم کو سمجھ جانا چاہئے دونوں کے ابو کارستانیوں کا حساب دینے اصل جگہ پر ہیں ، دونوں نے اپنے اپنے ابو کو تحفظ دینے کیلئے فادرز ڈے کا چناءو کیا ۔ فرانس کے منرل واٹر، چارٹر طیاروں میں گھومنے والے عوامی مسائل سے ناواقف ہیں ۔ حکومت اپنے اتحادیوں سے مل کر بجٹ پاس کرے گی ۔ سیاسی یتیموں کا ٹولہ ہاتھ ملتا رہ جائے گا، کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ حکومت سیاسی اداکاروں کا حساب لینے ;200;ئی ہے ۔ سزا یافتہ شہزادی کا مشترکہ ایجنڈے پر اتفاق عمران خان کے بیانیے کی جیت ہے ۔ قوم عمران خان کی قیادت میں مشکلات سے نکلے گی ۔ ان لوگوں نے اپنوں کو نوازنے کیلئے پالیسیاں بنائیں ۔ غریبوں کے لیڈر کروڑوں روپے کی بلٹ پروف گاڑیوں میں بیٹھ کر اربوں کی سلطنت میں پہنچے ۔ دونوں نے ڈیزائنر فرنیچر پر تشریف رکھتے ہی فرانس کے پانی سے ان کی تواضع کی گئی ۔ حکومت کی مریم بلاول ملاقات پرتنقیدبجالیکن حقائق پر بھی نظررکھنا لازمی ہے کیونکہ کپتان نے حکومت میں آنے کے لئے کرپشن کے خاتمے کانعرہ بلند کیاتھا جس کے عوض عوام نے انہیں اپنے ووٹ سے نوازا،لیکن حکومت میں آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف مہنگائی کو کنٹرول نہ کرسکی ،ڈالر کی پرواز بھی لگاتار برقرار ہے لہٰذا اس وقت وہ پارٹی کامیاب ہوگی جو مہنگائی کے خلاف نعرہ بلند کرے گی سو اپوزیشن نے یہی یک نجاتی ایجنڈا طے کیاہے، بلاول کہتے ہیں کہ حکومت جاتی ہے تو جائے مگر ہم مہنگائی اور ون یونٹ پرکسی طرح بھی سمجھوتہ نہیں کریں گے گوکہ ون یونٹ کے حوالے سے حکومتی وزراء کابھی یہی موقف ہے کہ ملک میں کوئی صدارتی نظام نہیں آرہا لیکن مہنگائی کے حوالے سے حکومت کے اقدامات قابل ستائش نہیں ہیں مشیرخزانہ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ موجودہ حالات میں ڈالر کو کنٹرول کرنامشکل میں ہے ایسے میں اپوزیشن جو ترپ کے پتے کھیل رہی ہے وہ خاصی درست سمت میں جارہے ہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسا لاءحہ عمل اختیارکرے جس سے نہ صرف ڈالر کنٹرول ہو بلکہ مہنگائی کو بھی قابو میں لایاجاسکے ۔ حکومت کو چاہیے کہ تمام اقدامات کو پس دیواررکھ کرصرف ایک جانب توجہ دے کہ جن افراد کو کرپشن کے الزام میں پابندسلاسل کررکھا ہے ان سے ایک ٹائم فریم کے تحت رقم کی وصولی یقینی بنائے اورپھر عوام کو بتائے کہ اس نے اتنی رقم برآمدکرلی ہے ۔ یقینی طورپراس اقدام کے بعد وہ عوام کی نظر میں سرخروہوسکے گی یہی ایک نکتہ ہے جس کے ذریعے اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل سکتی ہے ۔

پاک فوج میں تقرریاں اورتبادلے

پاک فوج میں متعدد لیفٹیننٹ جنرلز کے تقرر و تبادلے کردیئے گئے ہیں ، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ڈی جی ;200;ئی ایس ;200;ئی تعینات کیا گیا ہے ۔ اتوار کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (;200;ئی ایس پی ;200;ر) کی طرف سے جاری بیان کے مطابق پاک فوج میں متعدد لیفٹیننٹ جنرلر کے تقرو و تبادلے کردیئے گئے ہیں ، لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کوکو ر کمانڈر گوجرانوالہ تعینات کردیا گیاہے ، لیفٹیننٹ جنرل عامر عباسی کو کوارٹر ماسٹر جنرل تعینات جبکہ لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز کوجی ایچ کیو میں انجینئران چیف تعینات کیا گیاہے ۔ بیان کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ساحرشمشاد مرزا جی ایچ کیو میں ایڈجوٹینٹ جنرل تعینات جبکہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ڈی جی ;200;ئی ایس ;200;ئی تعینات کردیا گیا ہے ۔

Google Analytics Alternative