Home » Author Archives: Admin (page 12)

Author Archives: Admin

حکومتی کوششوں سے دنیا پاکستان کو اہم ملک کی حیثیت سے دیکھ رہی ہے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوششوں سے دنیا پاکستان کو اہم ملک کی حیثیت سے دیکھ رہی ہے۔ 

وزیراعظم عمران خان سے پی ٹی آئی کے سینیٹرز کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں سینیٹر شبلی فراز، معاون خصوصی نعیم الحق اور سینیٹر فیصل جاوید بھی موجود تھے۔ حکومتی سینیٹرز نے وزیراعظم سے شکوہ کیا کہ سینیٹ میں اپوزیشن کا جواب دینے کے لیے متعلقہ وفاقی وزیر نہیں آتے، وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ تمام سینیٹرز سینیٹ میں 100 فیصد حاضری یقینی بنائیں اور  ایوان میں جارحانہ حکمت عملی اپنائیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عوام پارلیمنٹیرینز کو اپنے حقوق اور امنگوں کے ترجمان کی حیثیت سے دیکھتے ہیں، اراکین جب عوام کی آواز بنتے ہیں تو عوام کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ حکومت کی کوششوں سے دنیا پاکستان کو اہم ملک کی حیثیت سے دیکھ رہی ہے اور انشاء اللہ جلد ہمارا ملک ترقی اورخوش حالی سے ہمکنار ہوگا۔

بجٹ اجلاس کی حکمت عملی

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت بجٹ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں اپوزیشن کے ممکنہ احتجاج سمیت ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اوربجٹ اجلاس کے حوالے سے امور زیرغور آئے۔

سمیع ابراہیم کو فون

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافی سمیع ابراہیم سے ٹیلی فون پر گفتگو کی وفاقی وزیر فواد چوہدری کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پراظہارافسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت کسی کی عزت نفس مجروح کرنے والے فعل کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی، حکومت اور میڈیا جمہوری عمل کے دو لازم و ملزوم جزو ہیں، نقطہ نظر کے اختلاف کو ذاتی اختلاف کی حد تک لے جانا کسی صورت مناسب نہیں۔

ہواوے نے پہلی بار امریکی پابندیوں کے اثرات کا اعتراف کرلیا

امریکا کی جانب سے مئی میں ہواوے کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے مختلف پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور اب چینی کمپنی نے اس کے منفی اثرات کو پہلی بار تسلیم کیا ہے۔

ہواوے کے بانی اور چیف ایگزیکٹو رین زین فی نے تسلیم کیا ہے کہ امریکی پابندی کے اثرات توقعات سے زیادہ ہوں گے جبکہ آمدنی کے تخمینے کو بھی کم کیا گیا ہے۔

یہ پہلی بار ہے کہ کمپنی کے بانی نے امریکی پابندیوں کے کئی ہفتوں بعد اس کے اثرات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے نتیجے میں 30 ارب ڈالرز تک آمدنی متاثر ہوسکتی ہے۔

امریکا نے چینی کمپنی کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے بلیک لسٹ میں شامل کردیا جس کے باعث امریکی کمپنیاں ہواوے کو پرزہ جات اور دیگر سپورٹ ٹرمپ انتظامیہ کی اجازت کے بغیر فراہم نہیں کرسکیں گی۔

امریکی محکمہ تجارت نے اس پابندی کو 3 ماہ کے لیے ملتوی کردیا اور اب اس کا اطلاق اگست میں ہونا ہے۔

ہواوے کے بانی نے شینزین میں واقع کمپنی کے ہیڈکوارٹر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ امریکا کی جانب سے اتنے زیادہ پہلوﺅں سے ہمیں ہدف بنایا جائے گا، اس سے تمام فریقین متاثر ہوں گے اور کوئی بھی جیت نہیں سکے گا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ 2021 تک ہم اس کے اثرات سے باہر نکل جائیں گے۔

انہوں نے کہا ‘ہم پرزہ جات کی سپلائی حاصل نہیں کرسکیں گے، متعدد بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام نہیں کرسکیں گے، متعدد یونیورسٹیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع نہیں ملے گا، ہم کسی قسم کے امریکی آلات استعمال نہیں کرسکیں گے اور نیٹ ورکس کے ساتھ ان آلات کی مدد سے قائم کیا جانے والا کنکشن بھی بناسکیں گے’۔

گزشتہ سال ہواوے کی آمدنی 104 ارب ڈالرز رہی تھی اور 2019 میں اس نے آمدنی کا تخمینہ 125 سے 130 ارب ڈالرز تک رکھا تھا مگر اب امریکی پابندیوں کے بعد یہ تخمینہ 100 ارب ڈالرز ہوگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ‘اگلے 2 برسوں میں میرے خیال میں ہماری توسیع میں کمی آئے گی، ہماری آمدنی سابقہ اندازوں کے مقابلے میں 30 ارب ڈالرز تک کم ہوسکتی ہے، اسی لیے رواں برس اور 2020 میں ہماری آمدنی 100 ارب ڈالرز تک رہنے کا امکان ہے’۔

تاہم رین زین فی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کمپنی کو آگے بڑھنے سے روک نہیں سکتے۔

امریکی کمپنیاں پابندی ختم کرانے کے لیے سرگرم

دوسری جانب ہواوے کو چپ سپلائی کرنے والی کمپنیاں کوالکوم اور انٹیل نے خاموشی سے امریکی حکومت کے اندر چینی کمپنی پر عائد پابندی کو نرم کرانے کے لیے کوششیں شروع کردی ہیں۔

خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ بڑی امریکی چپ بنانے والی کمپنیوں انٹیل اور Xilinx کے عہدیداران نے مئی کے آخر میں امریکی محکمہ تجارت کے ایک اجلاس میں شرکت کی تاکہ ہواوے کو بلیک لسٹ کیے جانے پر ردعمل ظاہر کرسکیں۔

کوالکوم نے بھی امریکی محکمہ تجارت پر اس پابندی کو نرم کرنے کے لیے زور دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ان امریکی کمپنیوں کا موقف تھا کہ ہواوے کی فروخت ہونے والی مصنوعات یعنی اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر سرورز میں آسانی سے دستیاب پرزے استعمال ہوتے ہیں اور وہ چینی کمپنی کے 5 جی نیٹ ورکنگ آلات کے برعکس سیکیورٹی خطرات کا باعث نہیں۔

ان کمپنیوں کا موقف تھا کہ ہم ہواوے کی مدد نہیں کررہے بلکہ امریکی کمپنیوں کو ہونے والے نقصان کی روک تھام چاہتے ہیں۔

گزشتہ سال ہواوے نے پرزہ جات کی خریداری پر 70 ارب ڈالرز خرچ کیے تھے جن میں سے 11 ارب ڈالرز کے قریب امریکی کمپنیوں کوالکوم، انٹیل اور مائیکرو ٹیکنالوجی کے حصے میں آئے تھے۔

انٹربینک میں ڈالر 156.96 روپے کا ہوگیا

کراچی: انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا۔

پیر کو کاروباری ہفتے کے پہلے روز کاروبار کے آغاز پر ہی انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور ڈالر کی قدر میں ایک روپے 16 پیسہ کا اضافہ ہوا۔

اضافے کے بعد انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 157 روپے ہوکر تاریخ کی بلند سطح پر برقرار رہی۔

کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر میں کمی واقع ہوئی اور سستا ہوکر 156.96 روپے پر بند ہوا۔

دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر 157.25 روپے پر فروخت ہورہا ہے۔

گزشتہ ہفتے بھی انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا اور ڈالر انٹربینک میں 155.84 پر بند ہوا تھا۔

سعودی اور امریکی فضائیہ کی بحیرہ عرب پر مشترکہ جنگی مشقیں

ریاض: سعودی شاہی فضائیہ اور امریکی فضائیہ نے بحیرہ عرب پر مشترکہ جنگی مشقیں کیں اس دوران فضا سے فضا میں مار کرنے والے طیاروں کی معاونت بھی شامل رہی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق خلیج عمان کی گذر گاہوں کو تیل بردار طیاروں اور آئل ٹینکرز کے لیے محفوظ گذر گاہیں بنانے کے لیے سعودی عرب اور امریکا کی فضائیہ نے بحیرہ عرب پر مشترکہ جنگی فضائی مشقیں کیں جن میں امریکی ایف-15 ایگل فائٹر جیٹ طیاروں اور رائل سعودی ایئر فورس کے طیاروں نے حصہ لیا۔

مشقوں میں حصہ لینے والے امریکی اور فضائی طیاروں کی حفاظت کے لیے فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے جنگی طیارے بھی چاک وچوبند کسی ممکنہ حملے کے پیش نظر نگرانی کرتے رہے۔ مشترکہ مشقوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانا اور ایران کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی تیاری کرنا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے آغاز پر امریکا کو تیل فراہمی پر مامور سعودی بحری جہازوں پر حملہ کیا گیا تھا، امریکا اور سعودیہ حملے کا الزام ایران پر عائد کیا جس کے بعد فائٹر طیاروں سے لیس امریکی بحری بیڑا ابراہام لنکن کو خلیج عمان میں تعینات کردیا گیا جب کہ قطر میں امریکی فوجی بیس پر بھی جدید جنگی طیارے بھیجوادیئے گئے ہیں۔

چائے کے یہ فوائد جانتے ہیں؟

پاکستان میں چائے کی مقبولیت سے انکار ممکن نہیں اور یہ گرم مشروب دنیا کے بیشتر حصوں میں بھی پسند کیا جاتا ہے۔

مختلف تحقیقی رپورٹس میں چائے نوشی کی عادات کے فوائد کا ذکر ہوا ہے جیسے قبل از وقت دماغی تنزلی سے تحفظ، مخصوص اقسام کے کینسر، فالج، امراض قلب اور ذیابیطس کے خطرے میں کمی وغیرہ۔

درحقیقت چائے میں موجود کیفین مزاج کو خوشگوار بنانے کے ساتھ جسم کو توانائی فراہم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

کیفین اعصابی نظام اور دماغی مسلز کو متحرک کرتا ہے اور روزانہ محض ایک کپ چائے پینے کے فوائد جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔

گلے کی خراش کے خلاف موثر

چائے کی پیالی میں چٹکی بھر نمک کا اضافہ کریں اور گلے کی خراش پر قابو پانے کے لیے اس کا جادو دیکھیں، اگر آپ کھانسی، گلے میں درد یا خراش وغیرہ سے متاثر ہیں، تو نمک سوجن کو کم کرنے کے ساتھ انفیکشن کے باعث بننے والے بیکٹریا کا خاتمہ کرنے میں مدد دے گا۔

قبض دور کرے

ایک کپ گرم چائے میں ایک چائے کے چمچ مکھن کو شامل کردیں، گرم چائے کے ساتھ مکھن کا استعمال نظام ہاضمہ کو سیال فراہم کرتا ہے جبکہ آنتوں کے افعال کو بہتر بناتا ہے، مکھن معدے میں تیزابیت کو بھی کم کرتا ہے جس سے سینے میں جلن کی شکایت کم ہوتی ہے جبکہ کھانا ہضم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

نزلہ زکام پر قابو پائیں

چائے بنانے کے بعد اس میں تلسی کے 5 سے 6 پتوں کا اضافہ کرنا نزلہ زکام دور کرنے میں مدد دے سکتا ہے، یہ پتے ورم کش ہونے کے ساتھ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں جو فلو اور موسمی نزلہ زکام کی روک تھام میں موثر ثابت ہوتے ہیں۔

پیٹ میں درد دور کرے

اگر اکثر پیٹ میں درد رہتا ہے تو آدھا چائے کا چمچ سونف کو چائے میں شامل کرلیں، سونف نظام ہاضمہ کے لیے بہت فائدہ مند ہے اور چائے میں اس کا استعمال پیٹ میں درد کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔

بلڈ پریشر کنٹرول کرے

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چائے میں شامل اجزا بلڈ پریشر کو کم کرنے کے ساتھ دوران خون کے افعال کو بہتر بناتے ہیں، جس سے امراض قلب اور فالج کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق چائے کے ساتھ آپ کو فلورائیڈ اور دیگر اجزا بھی ملتے ہیں جو دوران خون پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں اور اس کے مضر اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں خاص طور پر اگر آپ باہر کی بجائے گھر کی چائے کو ترجیح دیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ہم وزیراعظم کے خطاب کو اس رات نشر نہیں کرنا چاہتے تھے، معاون خصوصی

اسلام آباد: معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے خطاب میں خلل میری ناکامی ہے اور ہم تو وزیراعظم کے خطاب کو اس رات نہیں چلانا چاہتے تھے۔

اسلام آباد میں جاوید لطیف کی زیر صدارت قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات کا اجلاس ہوا جس میں معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے بھی شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی جاوید لطیف نے کہا بتایا جائے کہ وزیراعظم کے خطاب کو کیا پیمرا نے سنسر کیا یا ٹیکنیکل مسئلہ تھا، وزیراعظم نے صحابہ کرام ؓ کے بارے میں جو بولا، پیمرا کو اسکو سنسر کرنا چاہیے تھا، عمران خان کووہ بات نہیں کرنی چاہیے جس سے لوگوں کو تکلیف پہنچے۔

سید امین الحق نے کہا کہ وزیراعظم نے خطاب میں جو دینی بات کی اسکو نظرانداز کیا جائے، ہمیں مذہبی انتہاپسندی کی نفی کرنا ہوگی، وزیراعظم کی تقریر میں خلل ناقابل برداشت ہے، خلل کے ذمہ داران سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔

معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے جواب دیا کہ شروع میں وزیراعظم کا ارادہ صرف پبلک سروس مسیج ریکارڈ کرانے کا تھا، جب ریکارڈنگ شروع ہوئی تو وزیراعظم نے کہا کچھ اور بھی مسائل ہیں جن پر بات کرونگا، ہم نے سوچا کہ وزیراعظم زیادہ سے زیادہ سات منٹ بولیں گے اور ایڈیٹنگ کے بعد تین منٹ کا پیغام بن جائے گا، لیکن وزیراعظم نے 38 منٹ کی ریکارڈنگ کرائی جو ایچ ڈی پر تھی، وزیراعظم کے خطاب میں خلل ٹیکنالوجی کا مس میچ (فرق) تھا، پی ٹی وی ایچ ڈی پر نہیں ہے، اس لیے یہ خلل آیا، وزیراعظم کے خطاب میں خلل میری ناکامی تھی، مجھے اسٹینڈ لینا چاہیے تھا کہ ریکارڈنگ پی ٹی وی سے کرائی جاتی۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہم وزیراعظم کے خطاب کو اس دن نہیں چلانا چاہتے تھے، ہم نے میڈیا پر نہیں دیا تھا کہ وزیراعظم کا خطاب سوا نو بجے چلے گا، مگر جب ٹی وی پر چلا کہ سوا نو بجے وزیراعظم کا خطاب ہوگا تو وزیراعظم نے حکم دیا خطاب آج ہی نشر کیا جائے، ورنہ ہم رات کے اندھیرے میں وزیراعظم کا خطاب نہ چلاتے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے جو دینی بات کی اس میں وہ الفاظ کا چناوٴ ٹھیک نہیں کرسکے، وہ بات قرآن و حدیث سے باہر نہیں تھی، الفاظ کے چناوٴ میں غلطی ہوسکتی ہے،اس متعلق زیادہ بات نہیں کرنی چاہیے۔

چیئرمین کمیٹی جاوید لطیف نے کہا کہ ہمیں قطعا وزیر اعظم کی نیت پر شک نہیں ہے، دین کے حوالے سے اگر معلومات کم ہوں تو اس پر بات نہیں کرنی چاہیے۔

جاوید لطیف نے کہا کہ بتایا جائے کہ کیبل آپریٹرز کہ پاس کیا حق ہے وہ چینلز کے نمبرز آگے پیچھے کرے، کس قانون کے تحت چینلز کے نمبر آگے پیچھے کیے جاتے ہیں، اگلی میٹنگ میں تمام صحافتی تنظیموں کے نمائندگان کو بلارہے ہیں، میڈیا کنٹرول کرنے کی بھی باتیں چل رہی ہیں، کہیں کوئی میڈیا بحران کا فائدہ تو نہیں اٹھا رہا، میڈیا وزکرز کو تحفظ ملنا چاہیے، حکومت اگلی میٹنگ میں رپورٹ پیش کرے، فواد چودھری نے جو سمیع ابراہیم کے ساتھ کیا، کمیٹی اسکی مذمت کرتی ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم نے سمیع ابراہیم کو فون کیا اور مذمت بھی کی ہے، وزیراعظم نے فواد چودھری کو بلایا ہے، آپ کو پتہ ہے جب لیڈر بلاتا ہے تو کیا ہوتا ہے۔

ورلڈکپ میں شکست کے بعد رنویر کی پاکستانی شائقین کو تسلیاں

ورلڈکپ میں بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی شکست پر جہاں بھارتی فنکار خوشی سے نہال تھے وہیں رنویر سنگھ نے پاکستانی شائقین کو میچ ہارنے پر حوصلہ بھی دیا۔

ورلڈکپ میں پڑوسی ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے گئے اہم میچ میں دونوں ممالک کے فنکاروں نے اپنی اپنی ٹیموں کو سپورٹ کرنے کے لیے مانچسٹر کا رخ کیا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم روایتی حریف بھارت سے ایک بار پھر میچ نا جیت سکی جس نے قومی شائقین کرکٹ کو بہت اداس کیا۔

میچ کےمتعلق سوشل میڈیا پر فنکاروں  نے دل کھول کر تبصرہ کیا۔

بالی وڈ اسٹار رنویر سنگھ نے میچ کے بعد اداس ہونے والے پاکستانی شائقین کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ’اداس نہ ہوں آپ کی ٹیم نے بھی اچھا کھیل پیش کیا‘۔

Embedded video

Aatif Nawaz

@AatifNawaz

Indian fans are nice. Thanks @RanveerOfficial.

290 people are talking about this

دوسری جانب پاکستانی فنکاروں نے بھی دل کھول کر بھارتی ٹیم کی تعریفیں کیں۔

پاکستانی سوشل میڈیا اسٹار اور کامیڈین زید علی قومی ٹیم کی پرفامنس سے ناخوش دکھائی دیے۔

انہوں نے کھیل کے میدان سے ٹوئٹر پر تبصرہ کیا کہ ملک اور قومی ٹیم کے لیے محبت، لیکن سچائی یہی ہے کہ بھارت کی ٹیم ہم سے کئی گنا بہتر ہے ، ایک وقت تھا کہ ہماری ٹیم بہتر مقابلہ پیش کرتی تھی لیکن اب ایسا نہیں۔

Zaid Ali

@Za1d

As much as I love my country and team, the truth is that India has a better cricket team. There was a time when we were a tough competition for India, not anymore. Very disappointing.

1,812 people are talking about this

بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی پربے لگام قانون کا ظلم کے عنوان سے رپورٹ جاری کی ہے جس میں جموں کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بے نقاب کرنے کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے بنیادی حقوق سے متصادم جموں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 210 گرفتار کشمیری افراد پر تحقیق کے بعد یہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کالے قانون کے تحت زیر حراست افراد کو شفاف ٹرائل اور متعلقہ حقوق سے محروم رکھا گیا اور ضمانت کا حق بھی نہیں دیا گیا ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی ریاستی جبر و استبداد اور ظلم کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے بھارتی سرکار کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اورزبردستی جیلوں میں رکھنے کی مجرم قرار دیدیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کالے قانون کے تحت بچوں کو بھی بغیر ٹھوس شواہد کے حراست میں لیا جاسکتا ہے ۔ زیر حراست افراد کو عدالت سے رہائی ملنے پر نئی ایف آئی آر میں فوری حراست میں لے لیا جاتا ہے ۔ انہیں بیک وقت 2 مختلف قوانین کے تحت گرفتار رکھا جاتا ہے ۔ ان کے خلاف مجسٹریٹ کے سامنے ایک جیسے جرائم کی رپورٹس پیش کی جاتی ہیں ۔ پولیس فوجداری قانون سے زیادہ پبلک سیفٹی قانون کا سہارا لیتی ہے جس سے متاثرہ افراد رہائی ملنے کے بعد نوکریوں سے محروم رہتے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بچوں کی نظربندی، خفیہ احکامات آنا اور ریوالونگ ڈور (غیر معینہ مدت تک) حراست معمول کی بات ہے ۔ قیدیوں کو ضمانت سے روک دیا جاتا ہے ۔ ریوالونگ ڈور کے 71 واقعات میں حراست کا ایک کے بعد ایک نیا حکم جاری کیا گیا ۔ 90 فیصد واقعات میں نظربند افراد کو ایک ہی الزام میں 2،2 کیسز میں پکڑ لیا گیا ۔ بھارتی فوج گرفتار افراد کو اپنے گھروں سے دور جیلوں میں ڈالتی ہے تاکہ گھر والے نہ مل سکیں ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی حکومت غیر قانونی حراستوں ، اذیت رسانیوں اور تشدد کے تمام الزامات کی آزادانہ غیر جانبدارانہ تحقیق کرے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پبلک سیفٹی ایکٹ کا قانون بھارت کے انسانی حقوق قوانین سے متصادم ہے جو عدالتی نظام سے ماورا اور شفافیت و انسانی حقوق کے خلاف ہے ۔ اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو 2 سال تک نظربند رکھنے کی اجازت ہے اور اس کی وجہ سے ریاستی انتظامیہ اور مقامی آبادی کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے ۔ ماضی میں بھی انسانی حقوق کے عالمی ادارے سنگین خلاف ورزیوں کی رپورٹس دے چکے ہیں ، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مبصرین کوزمینی حقائق دیکھنے کی اجازت نہیں دی جارہی اور دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت بھارت نے ان خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنے پر فرانسیسی صحافی کو گرفتار بھی کیا ۔ چین نے پاکستان بھارت تعلقات کی بحالی میں تعمیری کردار ادا کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کشمیر کی کشیدہ صورت حال نے بین الاقوامی برادری کی توجہ اپنی طرف مرکوز کی ہے لہٰذا چین کشمیر کی موجودہ صورت حال کو نظرانداز نہیں کر سکتا ۔ اس دوران چین نے واضح کیا کشمیر میں کنٹرول لائن پر کشیدگی سے برصغیر کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے لہذا اس مسئلے کو حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ کشمیر میں جو صورت حال پیدا ہو رہی ہے وہ انتہائی خطرناک ہے اور اس صورت حال سے اب براہ راست عالمی برادری کی توجہ کو اپنی جانب مرکوز کر دیا ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر میں کنٹرول لائن پر جو سرحدی کشیدگی بڑھ رہی ہے وہ نہ صرف دونوں کے امن کو غارت کر رہی ہے بلکہ پڑوسی ممالک بھی اس سے متاثر ہوں گے لہذا چین کسی بھی صورت میں اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کر سکتا ۔ دونوں ممالک اس نازک مرحلے پر کشمیر مسئلے کے حل کے لئے کوششیں شروع کریں تاہم چین نے دونوں ممالک کو پیش کش کی ہے کہ چین دونوں ممالک کو قریب لانے اور مذاکرات کی بحالی میں تعمیری روال ادا کر سکتا ہے ۔ اگرچہ بھارت ہر محاذ پر یہ کہتا آیا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر تیسرے فریق کی ثالثی ناقابل قبول ہے لیکن اس کے باوجود جو صورت حال بن رہی ہے اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ بھارتی دانشور پرتاب بھانو مہتا نے اعتراف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال خراب کرنے کے ذمہ دارہم خود ہیں ۔ پلوامہ واقعہ کے بعد پاکستان پر کوئی عالمی، سیاسی اور سفارتی دباءو نہیں ۔ بھارت نیم روایتی جنگ میں پاکستان کو شکست دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ پلوامہ حملے کے بعد ہمارا رویہ ایسا ہوگیا جیسے پاکستان جیت چکا ۔ سرجیکل سٹرائیک جیسا کوئی عمل صورتحال کو تبدیل نہیں کرسکتا ۔ امریکہ جیسی بڑی طاقت بھی افغانستان میں بے بس ہوگئی ۔ پاکستان کے خلاف بھارت نے اپنی استعداد کار میں اضافہ نہیں کیا ۔ پاکستان جیت گیا کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں احساس محرومی حقیقی ہے ۔ بھارتی دانشور نے اعتراف کیا 5 سال میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال خراب کرنے کے ذمہ دار ہم خود ہیں ۔ پلوامہ حملے کے بعد عوام میں غصہ اپنی ہی تباہی کا باعث بن گیا ۔ پاکستان جیت گیا کیوں کہ بھارت کی ثقافت گل سڑ گئی ہے ۔ بھارت کامیاب خفیہ آپریشن کرنے اور جدید فنی صلاحیتیں حاصل نہیں کرسکا ۔ بھارت کی بڑھکیں مارنے والی سیاسی قیادت امن قائم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور اس صورتحال کا اعتراف کرنا ہمارے لئے مشکل ہے ۔

Google Analytics Alternative