Home » Author Archives: Admin (page 12)

Author Archives: Admin

نئے سال میں حکومت کی گڈ گورننس کی شروعات ہوجائے گی، شیخ رشید

لاہور: وزیرریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے کہا نئے سال میں عمران خان حکومت کی گڈ گورننس کی شروعات ہو جائے گی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر ریلوے نے کہا کہ عمران خان پاکستان کی سیاست کو بہتری کی جانب لے جارہے ہیں، آصف زرداری اور فریال تالپور سمیت تمام کے معاملات  بارگینگ کی جانب جارہے ہیں، عمران خان مہنگائی کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، نئے سال میں عمران خان حکومت کی گڈ گورننس کی شروعات ہو جائے گی۔

شیخ رشید نے کہا کہ انسان لندن میں ہو یا کہیں اور موت کے فرشتے سے فائل گم نہیں ہوتی، نوازشریف کا باہر جانا دونوں کے مفاد میں ہے، عمران خان کے کارکن نہیں چاہتے کہ چوروں کو کوئی رعایت دی جائے، معاملہ عدالتوں میں جانا اچھا ہے اس سے دونوں پارٹیوں کے لیے درمیانی راستہ نکل آیا، اس طرح نواز شریف کے  جانے سے ڈیل یا ڈھیل کا تصور ختم ہو جائے گا۔

مولانا فضل الرحمان کی سیاست دم توڑ چکی ہے، اب ان کی پارلیمنٹ میں نشستیں بڑھنے کے بجائے کم ہی ہوں گی، ان کی وجہ سے کشمیریوں کو نقصان پہنچا، ان  کا دھرنا ناکام رہا کیونکہ وہ غلط موسم میں اسلام آباد آئے، ان کے پلان بی کو پشتون  ٹرانسپورٹر خود ہی ناکام بنائیں گے، دھرنا سیاست بڑی مہنگی سیاست ہے، اس میں مولانا فضل الرحمان کے بڑے پیسے لگ گئے، معلوم نہیں اتنا پیسہ کہاں سے آیا ۔

اتحادی جماعتوں کے اختلافات سے متعلق شیخ رشید نے کہا کہ ایم کیو ایم اور (ق) لیگ عمران خان سے کہیں نہیں جاتی، یہ سمجھ دار لوگوں کی جماعتیں ہیں.

ای سی ایل سے نام نکالنے کے لئے حکومتی شرط غیر قانونی ہے، نواز شریف

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ای سی ایل سے ان کا نام نکالنے کے لئے حکومتی شرط غیر قانونی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے دوران شہباز شریف نے ٹیلی فون پر نواز شریف، مریم نواز اور اپنی والدہ سے مشاورت کی۔

اس دوران نواز شریف نے کہا کہ ای سی ایل سے ان کا نام نکالنے کے لئے حکومتی شرط غیر قانونی ہے، عدالت کا ہر فیصلہ سر آنکھوں پر ہوگا، عدالتی احکامات پر من و عن عمل کیا جائے گا۔

نوازشریف واپس نہیں آئیں گے، فواد چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حلف نامہ میں صرف یہی یقین دہانی ہے کہ میاں صاحب واپس نہیں آئیں گے۔

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ نوازشریف کے وکلاء نے جو حلف نامہ جمع تجویزکیا ہے، اس میں صرف ایک یقین دہانی ہے کہ میاں صاحب نے واپس نہیں آنا جب کہ وفاقی حکومت کے وکلاء کا موقف بالکل جائز اور قانونی طور پر درست ہے۔

واضح رہے کہ نواز شریف کے وکیل نے علاج کے بعد وطن واپس آنے اور مقدمات کا سامنا کرنے کے بیان حلفی کا مسودہ ہائی کورٹ میں جمع کرادیا ہے۔

بنگلہ دیش کو پہلے ٹیسٹ میچ میں اننگز اور 130رنز سے شکست

بھارت نے ماینک اگرووال اور باؤلرز کی عمدہ کارکردگی کی بدولت بنگلہ دیش کو پہلے ٹیسٹ میچ کے تیسرے ہی دن یکطرفہ مقابلے کے بعد اننگز اور 130رنز سے شکست دے کر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔

اندور میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں بنگلہ دیش کی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو غلط ثابت ہوا۔

بھارتی باؤلرز کے سامنے بنگلہ دیشی بلے باز بے بس نظر آئے اور پوری ٹیم 150رنز پر ڈھیر ہو گئی، مشفیق 43 اور کپتان مومن الحق 37 رنز بنا کر نمایاں بلے باز رہے۔

جواب میں ماینک اگروال کی شاندار ڈبل سنچری اور شتیشور پجارا، رویندرا جدیجا اور اجنکیا راہانے کی نصف سنچریوں کی بدولت بھارت نے 493 رنز چھ وکٹوں کے نقصان پر اپنی اننگز ڈکلیئر کرنے کا اعلان کردیا۔

اگروال نے عمدہ فارم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے 28 چوکوں اور 8 چھکوں کی مدد سے 243 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ راہانے نے 86، پجارا 54 اور جدیجا 60 رنز کی اننگز کھیلی۔

343 رنز کے خسارے میں جانے کے بعد بنگلہ دیش کی دوسری اننگز کا احوال بھی پہلی اننگز سے زیادہ مختلف نہ تھا اور 64 رنز بنانے والے مشفیق الرحیم کے سوا کوئی بھی بلے باز بھارتی باؤلرز کا سامنا کر سکا۔

بنگلہ دیش کی پوری ٹیم دوسری اننگز میں بھی 213 رنز پر ڈھیر ہو گئی، محمد شامی 4 وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ روی چندرن ایشون نے تین اور امنیش یادو نے دو وکٹیں حاصل کیں۔

بھارت نے میچ کے تیسرے دن ہی یکطرفہ مقابلے کے بعد اننگز اور 130 رنز سے فتح حاصل کر لی۔

بھارت نے میچ میں فتح حاصل کر کے سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی جبکہ سیریز کا دوسرا میچ 22نومبر سے کولکتہ میں کھیلا جائے گا۔

ماینک اگروال کو ڈبل سنچری پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

پی ٹی آئی کی کورکمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم کے اہم فیصلے

وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر عندیادے دیا ہے کہ وہ جن وزراء کی کارکردگی ٹھیک نہیں ہوگی ان کوفارغ کردیاجائے گا، اس سلسلے میں وہ بہت جلد اعلان کریں گے، ظاہری سی بات ہے کہ ملک کو اس وقت ملک کومختلف قسم کے حالات درپیش ہیں جس کی وجہ سے حکومت کو بھی آئے دن عوام کے سامنے جوابدہی کرناپڑتی ہے جو وزراء کارکردگی دکھانے میں ناکام جارہے ہیں وہ یقینی طورپرگھرجائیں گے ملک کاسب سے بڑامسئلہ اس وقت مہنگائی کاہے ،عوام کوکسی چیز سے کوئی سروکارنہیں ، جب اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان پربات کریں گی تو پھر حکومت کو تو سبکی کاسامناکرناہی پڑے گا، جب کہ وزیراعظم کاکہنا یہ ہے کہ مصنوعی مہنگائی دکھاکرعوام کوناکام بنانے کی سازش کی جارہی ہے ہمارا یہاں کپتان سے یہ سوال بنتا ہے کہ اگر مصنوعی مہنگائی ہے تو اس کاذمہ دار کون ہے ان کے آگے بندکوباندھے گا،ذخیرہ اندوزوں کو کون پکڑے گا ان کی نشاندہی کون کرے گا اس سلسلے میں پارٹی عہدیداروں اورضلعی انتظامیہ کو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں لیکن حالت یہ ہے کہ پچھہتر فیصد دکانوں پرقیمتوں کی فہرستیں ہی آویزاں ہی نہیں ہوتیں ۔ ادھروزیراعظم نے نوازشریف کے حوالے سے کہاکہ ان کی کوئی نوازشریف سے ذاتی دشمنی نہیں ہم نے انسانی ہمدردی کے تحت ان کے لئے ہرفورم پرسہولت پیدا کی، اب یہ ان پرمنحصر ہے کہ وہ کیاکرتے ہیں تاہم عدالت جو فیصلہ کرے گی اس کو ہم من وعن تسلیم کریں گے، ہماری نظر میں نوازشریف کی جان بہت عزیز ہے ۔ فضل الرحمن کے دھرنے کے حوالے سے انہوں کہاکہ اُن کے غبارے سے ہوانکل چکی ہے یہ بات حقیقت ہے کہ مولانافضل الرحمان کو فیس سیونگ چاہیے تھی اورآخرکار وہ لیکرنکل گئے ہیں چنددنوں کی بات ہے جو ملک بھر میں سڑکیں بند کی جارہی ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گی، تاہم جو مولانانے تقاریر کی ہیں اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کابھی عندیہ دیدیا ہے ۔ کورکمیٹی میں اہم ترین بات یہ سامنے آئی ہے کہ حکومت نے میڈیا اموردیکھنے کے لئے پانچ رکنی کمیٹی قائم کی ہے ، یہ کمیٹی ریاست مدینہ کے تصورکے مطابق تجویز پیش کرے گی نیزریاست مدینہ کے خدوخال کواجاگر کرے گی، پارلیمنٹ میں قانون سازی مزید موثر بنانے کےلئے چاررکنی کمیٹی بھی بنائی گئی ہے ،کمیٹیاں بنانا اچھی بات ہے لیکن اگرماضی کوکھنگالاجائے تو کمیٹیوں کی کارکردگی کوئی تسلی بخش نہیں رہی ہے ۔ اب حکومت اتناوقت گزارچکی ہے عوام نتاءج کی طلبگار ہے لہٰذا ایسے مثبت اقدامات اٹھانے چاہئیں کہ ثمرات عوام تک پہنچ پائیں ۔ وزیراعظم کی زیرصدارت پی ٹی ;200;ئی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا،اجلاس میں نواز شریف کی بیماری اور ای سی ایل میں نام کے معاملے پر تفصیلی مشاورت کی گئی، وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف بیمار ہیں اور ان کو بہتر علاج کیلئے باہر جانا ہے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہم نے نواز شریف کیلئے ہر موقع پر سہولت پیدا کی، ہماری نظر میں نواز شریف کی جان عزیز ہے سیاست ہوتی رہتی ہے، افسوس ہے شریف خاندان نواز شریف کے علاج کی بجائے اس پر سیاست کر رہا ہے، شیورٹی بانڈ نہ دینے کی کوئی منطق سمجھ سے بالاتر ہے، حکومت نے ان سے کون سے پیسے مانگ لئے ہیں ;238; کور کمیٹی ارکان نے موجودہ سیاسی صورتحال پر اظہار خیال کیا، کور کمیٹی نے مولانا فضل الرحمن کی اداروں پر تنقید کی بھی شدید مذمت کی،اجلاس میں مولانا فضل الرحمن کی تقاریر پر قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے ہوا سے 360 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے سپر سکس منصوبے کے معاہدے کی تقریب سے خطاب میں کہاکہ ہماری معیشت مستحکم ہوگئی ہے اور روپے کی قدر میں کسی سپورٹ کے بغیر اضافہ ہورہا ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے، اب ہم نے آگے بڑھنا ہے اور اپنی معیشت کو چلانا ہے تاکہ لوگوں کو روزگار ملے، جو بھی ہم کریں ہ میں دیکھنا ہے کہ عوام بہتری کیسے کرسکتے ہیں ، ہم نے پیسہ بناکر اس پر ٹیکس لگانا اور ٹیکس سے غریب طبقے کو اٹھانا ہے یہ چین کی کامیابی کا راز تھا، انہوں نے کہا ہم جب 3 مرتبہ چین گئے اور ان کے تھنک ٹینک اور وزارت سے ملے، 30 سال میں دنیا میں کبھی بھی کسی ملک میں اتنی تیزی سے ترقی نہیں کی لیکن چین نے اتنی تعداد میں لوگوں کو غربت سے نکالا ۔ کامیاب جوان پروگرام معیشت کی بہتری میں سازگار ثابت ہوگا،نئے کاروبار سے اقتصادی صورتحال میں بھی بہتری آئیگی، نوجوانوں کے درپیش روزگار کے مسائل حل کرنا حکومت کی ترجیح ہے ۔ دریں اثناء وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ایک اجلاس میں نجکاری عمل میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا ، وزیرِ اعظم نے سیکرٹری نجکاری کو ہدایت کی کہ نجکاری کےلئے نشاندہی کیے جانے والے تمام اداروں کی نجکاری کو مقررہ ٹائم فریم میں مکمل کیا جائے، سیکرٹری نجکاری رضوان ملک نے نجکاری عمل پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں ان اداروں اور املاک کو شامل کیا گیا ہے جو سرکاری خزانے پرمسلسل بوجھ ہیں یا اپنی صلاحیت سے کم کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ ایسی سرکاری املاک کو بھی نجکاری عمل میں شامل کیا گیا ہے جو کہ سالہا سال سے غیر استعمال شدہ یا غیر منافع بخش ہیں ۔ نجکاری کے عمل سے ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی جن کی کاکردگی عدم توجہ کے باعث گزشتہ سالہا سال سے انکی اصل استعداد سے کم رہی ہے ۔ نجکاری عمل کی جلداز جلد تکمیل سے حکومتی مالی وسائل خصوصاً نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوگا جس سے حکومت کی جانب سے عوامی فلاح وبہبود کے زیادہ منصوبے شروع کرنے اور صحت، تعلیم و دیگر سہولتوں کی عوام تک فراہمی میں آسانی پیدا ہو گی ۔ بات دیکھنے کی یہ ہے کہ نجکاری تو ضرور کی جائے لیکن جب ادارے پرائیویٹائزہوں گے توان کے ملازمین کوکیاتحفظ ملے گا، کیامزید بیروزگاری پھیلے گی کیونکہ حکومت نے پہلے ہی روزگاردینے کے جووعدے کئے تھے اُن کے اہداف ابھی تک حاصل نہیں ہوپارہے ۔

ملکی ترقی پاک فوج

کی مرہون منت

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فرنٹیئر کور کے افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ سکیورٹی فورسز کی کوششوں کی بدولت ملک میں سماجی، معاشی ترقی کا مرحلہ شروع ہوگیا ہے،اب دائمی استحکام کی منزل کی جانب سفر شروع ہے اور آپریشنز میں حاصل کیے گئے امن اور استحکام کے ذریعہ ترقیاتی عمل کو آگے بڑھایا جائے گا ۔ آرمی چیف نے سابق فاٹا اور صوبہ میں قیام امن اور استحکام امن کیلئے فرنٹئیر کور کی خدمات کی شاندار الفاظ میں تعریف کی ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فرنٹیئر کور ہیڈ کوارٹر خیبرپی کے کا دورہ کیا اور یادگار شہدا پرحاضری دی اور پھول چڑھائے ۔ آرمی چیف نے دورے کے موقع پر ایف سی میوزیم اور قلعہ کی گیلری کا دورہ کیا جنہیں عوام کےلئے کھول دیا گیا ہے ۔ انہوں نے شہدا اور ان کے خاندانوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے مادر وطن کے دفاع کیلئے عظیم قربانیاں پیش کیں ۔ اُدھر وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ملاقات میں ملکی سکیورٹی صورتحال اور پاک فوج کے پیشہ ورانہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ملاقات میں مقبوضہ کشمیر، مغربی سرحدوں اور اندرونی سلامتی کی صورتحال پر بات چیت کی گئی ۔ وزیر اعظم نے ملکی سرحدوں کے دفاع کےلئے فوج کی مسلسل مساعی کو سراہا ۔ وزیر اعظم نے فوج کی طرف سے اندورنی سلامتی کو یقینی بنانے اور معاشی وسماجی ترقی میں مدد دینے کی بھی تعریف کی ۔ پاک فوج کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ،دہشتگردی کےخلاف جنگ ہو، قدرتی آفات آجائیں ،امن وامان کامسئلہ ہو، سرحدوں کی حفاظت کامسئلہ ہو غرض کہ جوبھی مسائل درپیش ہوں اُن میں ہماری فوج کے جوان پیش پیش نظرآتے ہیں ۔ اس اعتبار سے اس وقت ملک میں ہونے والی ترقی بھی پاک فوج کے ہی مرہون منت ہے کیونکہ جس طرح دہشت گردو ں کی کمرتوڑی گئی ہے اس کاکریڈٹ فوج کو ہی جاتا ہے ۔ جب امن وامان قائم ہوتو لامحالہ ملک ترقی کی جانب گامزن ہوتاہے اوراس میں ہمارے جری جوانوں کا اہم کردار ہے یہ تمام تر سربراہ مرہون منت ہوتاہے اورجنرل قمرجاویدباجوہ کے اقدامات ملکی معاشی ترقی کے حوالے سے انتہائی کلیدی کرداراداکررہے ہیں ۔

ترکی کے زیر انتظام شامی شہر میں کار بم دھماکا، 14 افراد ہلاک

الباب: ترکی کے زیر انتظام شامی شہر الباب میں ہونے والے کار بم حملے میں 14 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی شام کے پر رونق بازار میں ہونے والے زوردار دھماکے میں 14 افراد ہلاک اور 33 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں ترکی کی حمایت یافتہ عسکری جتھے کے جنگجو بھی شامل ہیں۔

دھماکا خیز مواد سے بھری ایک کار کو مارکیٹ کے قریب بس اسٹینڈ پر کھڑا کیا گیا تھا اور ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کار کو دھماکے سے اُڑادیا گیا۔ اس علاقے میں کئی عرصے سے کرد جنگجوؤں کی کارروائیاں جاری ہیں تاہم کسی شدت پسند گروہ کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

قبل ازیں ترک فوج کی راس الخیمہ اور تل ابیض میں کارروائی کے جواب میں کرد جنگجوؤں نے گوریلا وار کی دھمکی دی تھی۔ کرد جنگجوؤں نے ترک فوج اور ترکی کی حمایت یافتہ جنگجوؤں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ادھر 11 اکتوبر کو ایک حملے میں زخمی ہونے والے ترک فوج کے اہلکار نے آج اسپتال میں دم توڑ دیا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں شمالی شام کے شہر تل ابیض میں ترک حکومت کی حمایت یافتہ گروہ کے زیر انتظام علاقے میں واقع ایک پرہجوم مارکیٹ میں بھی کار بم دھماکا کیا گیا تھا جس میں 13 شہری ہلاک اور 23 زخمی ہوگئے تھے۔

عدنان سمیع سے ہمدردی کرنے پر سوشل میڈیا صارفین اُشنا شاہ پر برس پڑے

کراچی:  گلوکار عدنان سمیع خان کو پاکستان سے تعلق یاد دلانے اور ان کے ساتھ ہمدردی دکھانے پر پاکستانی سوشل میڈیا صارفین ٹی وی اداکارہ اُشنا شاہ پر برس پڑے۔

اداکارہ اشنا شاہ نے اپنی ٹوئٹ میں گلوکار عدنان سمیع کی مشہور حمد ’’اے خدا‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے عدنان سمیع خان کی حمد سنی اور عدنان سمیع خان کے پاکستان سے متعلق خیالات پر افسوس ہوتا ہے۔ عدنان سمیع آپ خدا کی طرف سے دیا ہوا تحفہ ہیں، خدا نے آپ کو قابلیت سے نوازا ہے آپ کو محبت پھیلانی چاہئیے لوگوں کو تقسیم نہیں کرنا چاہیے۔

اشنا شاہ کی اس ٹوئٹ پر عدنان سمیع نے جوابی ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا میں ہر اس شخص سے پیار کرتا ہوں اور اس کی عزت کرتا ہوں جو ملک، ذات یا نسل سے قطع نظر میری عزت کرتا اور مجھ سے پیار کرتا ہے۔

تاہم پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کو اشنا شاہ کا عدنان سمیع کو پاکستان سے تعلق یاد دلانا اور ان کے ساتھ ہمدردی جتانا کچھ زیادہ پسند نہیں آیا اور صارفین نے اشنا کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ کس طرح عدنان سمیع پاکستان مخالف ٹوئٹس کرتے رہے ہیں۔

اکرام حسین نامی شخص نے کہا میڈم آپ اس شخص سے اتحاد کی توقع کررہی ہیں جس نے اس ملک کی مخالفت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ عدنان سمیع آج جو کچھ ہے وہ پاکستان کی وجہ سے ہے مجھے حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو یہاں پیدا ہوئے، یہاں پلے بڑھے یہاں ملنے والے تمام حقوق سے لطف اندوز ہوئے  لیکن جب سستی شہرت ملی خود غرض ہوگئے۔

آصف شیخ نے نہایت جلے بھنے انداز میں کہا معاف کیجئے گا میڈم عدنان سمیع میں کوئی ٹیلنٹ نہیں ہے۔

لیاقت علی  نامی صارف نے نہایت غصے بھرے انداز میں لکھا عدنان ٹھاکرے کے چرنوں میں بیٹھ جا( عدنان سمیع کے قدموں میں بیٹھ جاؤ)۔

ایک صارف نے اشنا شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ اس طرح کے ٹوئٹس کرکے عدنان سمیع کا دل تو نہیں بدل سکتیں۔ جب کہ انعام فاضل نے لکھا اتنی عزت سے بات وہ بھی اس بندے کے لیے غداروں کے لیے  کوئی ہمدردی نہیں۔

کرفیو کے 104 دن، وادی چنار کے بے بس و لاچار باسی

5 اگست سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے نافذ کیے گئے کرفیو کو سو دن مکمل ہونے پر وادی چنار کے باسی بے بسی و لاچاری کی تصویر بنے دنیا کی توجہ کے منتظر ہیں جو کہ اب تک خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے ۔ کشمیر ی عوام خود اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے سیاہ جھنڈے، بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے شاہراہوں پر نکلے کہ شایداقوام عالم میں ان کی سنی جائے مگر دنیا اور اقوام متحدہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔ احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے والے ہزاروں بے گناہ نوجوان کشمیری اپنے ہی وطن میں بھارتی قید میں ہیں ۔ کرفیو کی وجہ سے وادی میں خوراک اور ادویات کی قلت ہے ۔ بچوں کو دودھ نہیں مل پارہا جو کہ منظم نسل کشی کے مترادف ہے ۔ بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع گاندربل میں مزید2نوجوانوں کو شہید کردیا ہے جس سے گزشتہ دو روزکے دوران شہید ہونیوالے نوجوانوں کی تعداد بڑھ کر 4 ہوگئی ۔ 5اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ اور اسے دو یونین علاقوں میں تقسیم کرنے کے یکطرفہ اقدام کے بعد بھارت ایک اور کھیل کھیلنے کی جسارت کر رہا ہے اور اسرائیلی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں اہم عمارتوں ، ہسپتالوں ، ہوائی اڈوں ، کرکٹ سٹیڈیم اور شاہراہوں کے نام آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈروں کے نام سے منسوب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔ اس سے قبل ان جگہوں کے نام مسلم شخصیات کے نام پر رکھے گئے تھے کیونکہ کشمیر کا علاقہ ہمیشہ سے مسلم اکثریت کا علاقہ رہا ہے ۔ اب دیکھیں کہ وادی میں شیخ محمد عبداللہ کے نام سے منسوب متعدد مقامات یا اداروں کو سردار پٹیل اور بی جے پی کے دیگر بانیوں کے نام سے منسوب کیاجا رہا ہے حالانکہ شیخ عبداللہ کی بھارت نوازی میں کبھی کوئی شک نہیں رہا مگر یہ صرف اس لئے ہو رہا ہے کہ شیخ عبداللہ مسلمان تھے ۔ بین الاقوامی کنونش سینٹر، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ، سرینگر پارک کرکٹ اسٹیڈیم اور انڈور اسٹیڈیم سمیت متعدد مقامات اور ادارے جو شیر کشمیر کے نام سے منسوب تھے کو اب ہندو انتہا پسند لیڈروں کے نام سے منسوب کیا جارہا ہے ۔ سرینگر جموں ہائی وے پر ساڑھے گیارہ کلو میٹر طویل چنانی ناشری سرنگ کانام بھی تبدیل کر کے اب شیاماپرساد مکھر جی سرنگ رکھا جارہا ہے ۔ بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے انکشاف کیاہے کہ مقامات اور اداروں کو سردار پٹیل کے نام سے منسوب کرنا پارٹی کا دیرینہ مطالبہ تھا ۔ یہ صرف مقامات ، سڑکوں ، اداروں کے نام تبدیل کرنے کا مسئلہ نہیں بلکہ کشمیر کی صدیوں پرانی تاریخ تبدیل کی جا رہی ہے ۔ اس وقت بھارت کا یہی مسئلہ ہے کہ کسی طرح کشمیر کی تا ریخ، مسلم آبادی کی اکثریت اور کشمیر کی زمینی ہیءت تبدیل کی جائے اور اس پر اپنا قبضہ مضبوط کیا جائے ۔ اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے حریت رہنما سید علی گیلانی نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا جس میں ان کا کہنا ہے کہ بھارت کشمیر کی سیاسی حیثیت ختم کرکے ہماری زمین زبردستی چھیننا چاہتا ہے ۔ بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔ کشمیری خواتین کو ہراساں کرنے کا عمل جاری ہے اور عوام کو نوٹسز بھیجے جارہے ہیں کہ ان کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جائے گا ۔ بھارت کی جانب سے غیرقانونی فیصلوں کے بعد یہاں کی عوام کو مسلسل کرفیو کا سامنا ہے تاہم کشمیری اپنی جدوجہد سے دست بردار نہیں ہوئے ۔ سید علی گیلانی نے خط میں یہ مشورہ بھی دیاکہ بھارت نے غیر قانونی اقدامات کرکے اپنی طرف سے پاکستان سے کیے گئے معاہدوں کو ختم کیا لہذا پاکستان بھی بھارت کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو ختم کرنے کا اعلان کرے ۔ پاکستان دو طرفہ معاہدوں شملہ، تاشقند اور لاہور معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کرے ۔ ایل او سی پرمعاہدے کے تحت باڑ لگانے کے معاہدے کو بھی ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ہے جب کہ حکومت پاکستان ان سارے فیصلوں کو لے کر اقوام متحدہ بھی جائے ۔ سید علی گیلانی نے خط میں عمران خان کا شکریہ بھی ادا کیا کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں مقبوضہ کشمیر کے حق میں نہ صرف بات کی بلکہ بھارتی سازشوں کو کھول کر رکھ دیا ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے توقع ظاہر کی کہ موجودہ صورتحال پر آپ سے رابطہ قومی اور ذاتی ذمے داری ہے تاہم پاکستان کی طرف سے کچھ مضبوط اور اہم فیصلوں کی ضرورت ہے ۔ کشمیریوں کی جدوجہد اور پاکستان کی بقا کے لیے یہ اہم موڑ ہے اور پاکستان کو کل جماعتی پارلیمانی میٹنگ طلب کرنی چاہیے ۔ کشمیری اس وقت پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جنگی اقدامات کے جواب میں پاکستان کو بھی اسی سطح پر جواب دینا ہوگا ۔ مقبوضہ کشمیر کی عوام کسی بھی امکان کے لئے پوری طرح تیار ہے ۔ حریت رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ آپ کے ساتھ میرا آخری رابطہ ہو، علالت اور زائد عمری شاید دوبارہ آپ کو خط لکھنے کی اجازت نہ دے ۔ سید علی گیلانی نے ایسے ہی ایک خط میں مودی سرکار کے 5 اگست کے منصوبے بارے دنیا کے سامنے انکشاف کیا تھا ۔ بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ ان کی تشویش بالکل درست نکلی اور بھارت نے مقبوضہ کشمیرکے حصے بخرے کر کے وادی میں خونی آپریشن شروع کر دیا ۔ علی گیلانی نے مسلم امہ کے نام پیغام میں کہا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام کرنے جا رہا ہے ۔ اگر ہم شہید اور آپ سب مسلمان خاموش رہے تو اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے ۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کیسا گندہ کھیل کھیلا کہ 100 روز گزرنے باوجود ابھی تک کشمیری پابند سلاسل ہیں ۔ 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی تقسیم کے بعد بھارتی فورسز کا سرکاری و نجی عمارتوں پرقبضہ ، 3 لاکھ ہندو یاتریوں کو کشمیر سے نکل جانے کا حکم، ہوائی اڈوں پر فوجی تنصیبات کو تیار کھنا، یہ کیا تھا ۔ کشمیر پر بزور طاقت حملہ اور قبضہ کا منصوبہ ۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی ہی بھارت کی بدنیتی تھی جو کشمیر کی موجودہ صورتحال کی بنیاد بنی اور مقبوضہ وادی ابھی تک آرٹیکل کی منسوخی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی کشیدگی، ظلم و ستم اور جبر کو صرف اور صرف مظلوم ، نہتے کشمیری ہی جھیل رہے ہیں ۔ بھارتی سیاستدان بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ بھارت کے سرکاری اور انتہا پسندسیاستدان دعویٰ کرتے ہیں کہ آرٹیکل 370آئین کی خصوصی نہیں عارضی شق تھی اور مختلف عارضی، عبوری اور خصوصی شقوں میں عارضی شق سب سے کمزور ہوتی ہے اور فیصلہ صرف یہ کرنا ہوتا ہے کہ اس شق کو کب اور کیسے ختم کرنا ہے ۔ لیکن ایسی قانونی شق جس سے ایک علاقے کا جغرافیہ ہی تبدیل ہوجائے، وہاں صدیوں سے آباد قوم کی مذہبی ، قومی، ملی آزادی چھن جائے اور وہ شق صرف اور صرف ایک مخصوص حکمران طبقے کو فائدہ پہنچائے اور گزشتہ 72 سالوں سے اس پر احسن طریقے سے عمل درآمد ہو رہا ہو تو اس شق کی منسوخی اشرافیہ کی ذہنی آسودگی کو حاصل کرنے کی ایک سنگین کوشش ہو سکتی ہے ۔ بھارتی سرکار شاید یہ نہیں جانتی کہ بھارت کی طرف سے ایسی کوئی بھی کوشش جو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ آئینی حیثیت کو تبدیل کرے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہو گی ۔ مگر مودی سرکار کے موٹے دماغ والے کارندوں کو یہ کون سمجھائے ۔

Google Analytics Alternative