Home » Author Archives: Admin (page 12)

Author Archives: Admin

ماں اور اولاد کے درمیان محبت کو سوشل میڈیا پر اجاگر کرتی پاکستانی اداکارائیں

کراچی: شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے افراد نام اور پیسہ کمانے کے لیے بالکل ویسی ہی محنت کرتے ہیں جس طرح کسی دوسرے شعبے میں لوگ اپنے کام کو محنت سے کرتے ہیں۔ تاہم فرق  صرف اتنا ہے کہ شوبز سے وابستہ افراد روایتی انداز میں کام نہیں کرتے بلکہ اکثر ان کے کام کرنے کا وقت مقرر نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس صورتحال میں اداکاراؤں کا اپنے گھر اوربچوں کے لیے وقت نکالنا کافی مشکل ہوجاتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی محبت میں کمی آجاتی ہے بلکہ وہ بھی اپنے بچوں سے بالکل ویسی ہی محبت کرتی ہیں جس طرح دیگر مائیں اپنی اولاد سے کرتی ہیں۔

پاکستان شوبز انڈسٹری میں بہت سی فنکارائیں ہیں جو گھر اور کام کی ذمہ داریاں بخوبی سنبھال رہی ہیں۔ ایسی ہی ماؤں کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں جن میں یہ اداکارائیں اپنے بچوں سے محبت کو اجاگر کرتی نظر آرہی ہیں۔

ریما خان

فصیلہ قاضی

ماہرہ خان

عینی خالد

عائزہ خان

ندا یاسر

شائستہ لودھی

جگن کاظم

وینا ملک

فضا علی

نور بخاری

اسما عباس

گل رعنا

صبا فیصل

سعدیہ امام

حدیقہ کیانی

مہرین سید

جویریہ سعود

مومل شیخ

صنم جنگ

متھیرا

عام آدمی پریشان

لگتا ہے کہ معاشی حوالے سے حالات سخت ہوں گے موجودہ حکومت کیلئے چیلنج ہے کہ آئی ایم ایف کو قسطیں کیسے ادا کی جائیں یہ ایک مسئلہ ہے جوں جوں وقت گزرے گا حالات گھمبیر ہوں گے ۔ عام آدمی دست بہ دعا ہے کہ یا اللہ خیر ۔ پہلے جب خوشحالی کا دور تھا تو ہمارے شعرا لب کی نازکیوں کا رونا روتے تھے بڑی باریک بینی سے ہجر ووصال کے قصے بیان کیئے جاتے اور غزالی آنکھوں تذکرے ہوتے اور خد وخال کا ذکر ہوتا اور عنبری زلفوں کو یاد کیا جاتا کیونکہ ملک میں خوشحالی تھی اور لوگ پیٹ کے غم سے آزاد تھے تو اس قسم کے شعر گنگناتے تھے

پھول کی ہیں پتیاں یہ لب ترے

اور تری آنکھیں شرابی نیم باز

اور کہتے تھے

یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھور

یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار

یہ تیرے لب یہ دیارِ یمن کے سْرخ عقیق

یہ آئینے سی جبیں ، سجدہ گاہِ لیل و نہار

مگر اب ایسا نہیں ہے ، سب قصہ پارینہ ہے ۔ اب صرف پیٹ کا رونا ہے ہر طرف سے یہ آواز آرہی ہے کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے بحرانی کیفیت نے ہر شخص کو مایوسی میں مبتلا کیا ہے خوشحالی اب قصہ پارینہ بن گئی ہے ایک عام آدمی بے یقینی کا شکار ہے اور تشویش میں مبتلا ہے اور ملک کی ابتری کا رونا رو رہا ہے ایک بحران ختم ہوتا ہے تو دوسرا جنم لیتا ہے ملک پے درپے فسادات کے زد میں ہے اور اس کیفیت میں دوست دشمن کی تمیز ختم ہوگئی ہے اور یہ سمجھنا مشکل ہے کہ دوست کون ہے اور دشمن کون ہے;238; اس حالت میں غریبوں کا غارت ہوگیا ہے سرمایہ داروں اور اداروں کی جنگ میں عوام کا وہ حشر ہو رہا ہے جو ہاتھیوں کی جنگ میں چیونٹیوں کا ہوتا ہے آٹا، چاول، دال، گوشت، سبزی اور گھی جو عام روز مرہ کی چیزیں ہیں ان کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے ۔ ملک میں جس معاشی بحران نے جنم لیا اس نے قوم کو ایک اور پوری قوم کو متاثر کیا اور ہر فرد بے یقینی اور مایوسی کا شکار ہوگیا مراعات یافتہ طبقہ تو اپنا الو سیدھا کرتا ہے مگر عام آدمی بدترین بحرانوں سے دوچار ہے اور پریشان حال ہے اور لوگ نفسیاتی مریض بنتے جارہے ہیں اور ذہنی الجھنوں کا شکار ہیں اور ملک میں ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ملک کو سیاسی،معاشی، معاشرتی اور سماجی طور پر انہوں نے اپنی بے تدبیروں ، غلطیوں اور خطاءوں کی وجہ سے ناکارہ کردیا ہے اور ان کے اقدامات سے لوٹ کھسوٹ ہمارہ طرہ امتیاز بن گیا ہے مگر پھر بھی ایک بار پھر عوام کے سامنے میدان میں ہیں اور عوام ہیں کہ ان ہی سے بھلائی کی امید پر دھوکہ کھانے کیلئے تیار ہیں

میرکیا سادہ ہیں کہ بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

المیہ ہمارا یہ ہے کہ میر جعفر کا پوتاہمارا پہلا صدر بنا تھا اور کچھ عرصہ یہ گورنر جنرل کے منصب پر بھی فائز رہا انہوں نے جو بویا ہے اس کی تیار فصل آج کھایا جارہا ہے اور اس کے نتیجے میں حرام خور طبقہ توندیں نکال رہا ہے اور عام آدمی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے اور پھر بھی عوام کو سبز باغ دکھائے جارہے رہے ہیں عوام کو الیکشن کے دنوں میں بےوقوف بنایا جاتا ہے اور ملک کا باشعور طبقہ سوچتے سوچتے کڑھتا ہے ۔ یہ بحران اچانک نہیں پیدا کئے جاتے بلکہ اس کیلئے باقاعدہ پلاننگ کی جاتی ہے اور کوئی بحران آخری بحران نہیں ہوتا ہے آگے دیکھئے اور بحرانوں کا تماشا کریں کیونکہ نظام بد موجود ہے اس کے آنے والے بد اثرات مزید اذیت ناک ہونگے اور ہمارے شاعر حضرات لب ورخسارکو بھول کر صرف نوحے لکھیں گے اور یہ کہنا بھول جائینگے ۔ ۔ !

ٹیکس گوشواروں کی تعداد40 لاکھ ہونے کا امکان ہے،توقیر بخاری

اسلام آباد: راولپنڈی اسلام آباد ٹیکس بار ایسوسی ایشن (رِٹبا)کے صدر سید توقیر بخاری نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی جانب سے تنخواہ دار ملازمین سمیت دیگر شعبوں کے لیے عام فہم ریٹرن فارم متعارف کروانے سے ٹیکس گوشواروں کی تعداد40 لاکھ سے تجاوز کرنے کا امکان ہے اور اس سے نہ صرف ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری ہوجائیں گی بلکہ ٹیکس نیٹ بڑھے گا اور ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا۔

’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے تنخواہ دار ملازمین کیلیے سادہ و عام فہم ریٹرن فارم پر مشتمل موبائل ایپ متعارف کروادی ہے جو کہ ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے اور توقع ہے کہ پیر تک یہ مکمل آپریشنل ہوجائے گی جبکہ ایف بی آر کی طرف سے چھوٹے تاجروں اور دیگر شعبوں کیلیے بھی سادہ و آسان ریٹرن فارم متعارف کروائے جارہے ہیں جس سے تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور جیولرز وغیر ہ سے ٹیکس کا حصول آسان ہو گا۔

اس سے ادارے کی کارکردگی اور محاصل میں اضافہ متوقع ہے۔انھوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کو سہولتوںکی فراہمی سے ٹیکس کے دائرہ کار سمیت سرکاری محاصل میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں سال ( 2019 ) گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد میں40 لاکھ افراد کے اضافے کا امکان ہے جبکہ گزشتہ سال ان میں25 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا تھا جو ملکی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس اقدام سے ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے میں بھی اہم پیشرفت ہوگی اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا جبکہ انکم ٹیکس فائلرز کی تعداد بڑھنے سے ملک کے دیگر اقتصادی اعدادوشمار پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے جس سے عالمی سطع پر پاکستان کی اقتصادی اشاریوں سے متعلق رینکنگ میں بھی بہتری آنے کی توقع ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھے گا  اور اقتصادی ترقی کی رفتار میں تیزی آئے گی۔

موجودہ حکومت ٹیکنالوجی کو فروغ دے کر ٹیکس دہندگان کو سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی پالیسی پر گامزن ہے جو کہ خوش آئند ہے۔

عوام راشی سرکاری افسروں کو ماریں، سزا نہیں دوں گا، فلپائنی صدر

منیلا: فلپائن کے صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے نے اپنے ملک کے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ رشوت طلب کرنے والے سرکاری ملازمین اور افسروں کی پٹائی کریں۔

فلپائنی صدرنے کہا کہ اگرآپ کے پاس آتشیں ہتیھار ہوں تو ان اہلکاروں کو گولی ماردیں جو رشوت لیتے ہوں اور کرپشن میں ملوث ہوںتاہم انہیں قتل نہ کریں، صرف زخمی کر دیں۔ سخت گیر صدر نے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ اس اقدام پر انہیں جیل نہیں جانے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عوام ٹیکس دیتے ہیں سرکاری واجبات ادا کرتے ہیں اور کسی اہلکار کو ان سے رشوت طلب کر نے کی جرات نہیں ہونی چاہیے۔

انڈین مواد چلانے پر چھاپہ، کیبل آپریٹرز کا پیمرا ٹیم پر حملہ

لاہور: انڈین مواد چلانے پر پیمرا ٹیم کا چھاپہ، کیبل آپریٹرز نے حملہ کردیا۔

پاکستان سٹیزن پورٹل (شکایت سیل) پر شکایت موصول ہونے پر پیمرا انفورسمنٹ ٹیم نے لاہور کے نواحی علاقہ بھوپتیاں میں چھاپہ مارا جہاں پر فرقان عباس اورعرفان وغیرہ غیر قانونی کیبل نیٹ ورک پر انڈین چینلز اور انڈین مواد بذریعہ غیر قانونی ڈی ٹی ایچ چلارہے تھے۔

دوران کارروائی ملزمان فرقان عباس اور عرفان نے 10 سے 12افراد کے ساتھ مل کر پیمرا ٹیم پر حملہ کیا۔ واقعہ کی اطلاع فوری طور پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اور ایس ایس پی آپریشنز لاہور کو دی گئی جس کے بعد پولیس پارٹی ایس ایچ او چوہنگ کی قیادت میں موقع پر پہنچ گئی۔

تھانہ چوہنگ میں ملزمان کے خلاف ایف آئی آر نمبر2272/19 درج کرلی گئی ہے ۔ پولیس ملزمان کو پکڑنے کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے تحت کیبل نیٹ ورک پر انڈین مواد چلانا غیر قانونی ہے۔ جی ایم پیمرالاہور اکرام برکت کا کہنا ہے کہ انڈین مواد پر پیمرا نے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔

اس سلسلے میں چیئر مین پیمرا محمد سلیم بیگ نے ملک کے تمام صوبوں کا دورہ کر کے کیبل آپریٹرز پر یہ واضح کیاتھا کہ کشمیر کی نازک صورت حال کے پیش نظر ملک میں انڈین مواد کو نشر کرنے سے اجتناب کیا جانا چاہئیے۔ اس ضمن میں کیبل آپریٹرز کی تمام تنظیموں نے حکومت کا بھرپور ساتھ دینے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

بھارت میں کشمیری فنکاروں پر بھی زندگی تنگ کردی گئی

ممبئی: مودی حکومت نے مقبوضہ وادی میں تو گزشتہ 40 روز سے مکمل لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے تاہم بھارت میں موجود کشمیری فنکار بھی محفوظ نہیں ہیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بھارتی شہر ممبئی میں قیام پزیر کشمیری گلوکار عادل گریزی کو کشمیری ہونے کی سزا دی گئی اور ان پر زندگی تنگ کردی گئی۔ 24 سالہ نوجوان عادل گریزی بھارتی شہر ممبئی کے علاقے اندھیری ویسٹ میں اپنے 2 دوستوں کے ساتھ ایک فلیٹ میں رہائش پزیر ہیں، تاہم آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد انہیں پراپرٹی ایجنٹ کی جانب سے فلیٹ خالی کرنے کے لیے کہا گیا۔

عادل گریزی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ اپریل میں کشمیر میں واقع اپنے گھر گئے ہوئے تھے تو ان کے ایجنٹ نے معاہدے میں ان کی جگہ فلیٹ میں ان کے ساتھ رہنے والے ایک دوسرے لڑکے اجے کا نام لکھ دیا اور کہا کہ واپسی پرمجھے وہاں نہ رہنے دیں۔ 3 ستمبر کو جب میں واپس آیا تو مجھے کہا گیا کہ مجھے فوراً گھر خالی کرنا ہوگا۔ کشمیر میں صورتحال بہت خراب ہے اور ایجنٹ کے مطابق وہ کسی طرح کا رسک نہیں لے سکتا۔ یہاں تک کہ ان کے دوست اجے کو بھی دھمکی دی گئی کہ اگر وہ مجھے غیر قانونی طور پر گھر میں رکھتا ہے تو اسے بھی گھر چھوڑنا پڑے گا۔

دوسرا گھر ڈھونڈنے میں ناکامی پر عادل گریزی نے واپس کشمیر جانے کا فیصلہ کیا لیکن جانے سے پہلے اپنا تلخ تجربہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا جس کے بعد ان کی سپورٹ میں پیغامات پوسٹ کیے جانے لگے اور ممبئی کے اوشیوارا پولیس اسٹیشن کے انسپیکٹر رگھو ناتھ کدم نے اس مشکل وقت میں عادل کی مدد کی اور معاہدے میں واپس ان کا نام شامل کروایا ۔ عادل نے کہا کہ وہ انسپیکٹر کدم کے مشکور ہیں کہ انہوں نے ان کی مدد کی۔

دوسری جانب عادل کے پراپرٹی ایجنٹ نے پولیس کی مداخلت کے بعد اپنی حرکت پر معافی مانگی تاہم وہ عادل کو گھر سے نکالنے کی کوئی جائز وجہ نہیں دے پایا۔

عادل نے ممبئی میں کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں کشمیری نوجوانوں کے بارے میں چلائی جانے والی خبروں کی وجہ سے ہمیں یہاں گھر ملنا مشکل ہوجاتاہے، لوگ ہمیں گھر دیتے ہوئے ڈرتے ہیں اور صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم کشمیریوں کو گھر نہیں دیں گے۔ واضح رہے کہ عادل گریزی اپنے گانے خود لکھتے اور گاتے ہیں یوٹیوب پر ان کے سینکڑوں مداح ہیں۔

فلم ’گواہ رہنا‘ پاکستان اور ترکی میں بیک وقت ریلیز ہوگی

کراچی: تحریک خلافت کے گمنام ہیروز پر بننے والی فلم گواہ رہنا پاکستان اور ترکی میں بیک وقت نمائش کے لیے پیش کی جائے گی،فلم میں اداکارقوی خان اہم کرداراداکریں گے۔

کراچی پریس کلب میں فلم گواہ رہنا کے ڈائریکٹرطاہرمحمود اداکارقوی خان سمیت دیگراداکاروں کی جانب مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کی گئی، فلم کے ڈائریکٹر کا کہناتھا کہ فلم کی کہانی آج سے ایک صدی قبل سن 1920پر مبنی ہے،جس وقت ترک برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کررہے تھے، فلم میں تحریک خلافت کےگمنام ہیروز کے بے مثال کردار کو اجاگر کیا جائےگا،جبکہ فلم پنجاب کی ثقافت کو بھی فلم کا حصہ ہے،پاکستانی فلم گواہ رہنا کی شوٹنگ کا آغاز اکتوبر سے ہو رہا ہے جبکہ فلم اگلے برس مارچ 2020 میں پاکستان اور ترکی میں بیک وقت ریلیز کی جائے گی۔

فلم کے ڈائریکٹر کے مطابق کاسٹیوم فلم ہونے کی وجہ سے اس دورکے ملبوسات کے حوالے سےکافی تیاری کی گئی ہے،اداکارقوی خان کا اس موقع پر کہناتھا کہ پچھلے سال انھوں نے نیویارک میں ایک فلم میں کرداراداکیا تھا،اور وہ انتظار کررہے تھے کہ اس جیسا کوئی اورکرداراداکرنے کا انھیں موقع ملے،جب انھوں نے فلم کا اسکرپٹ پڑھا تووہ ان سے بہت متاثر ہوئے،اور نوجوانوں کی یہ کاوش انتہائی سراہنے کے لائق ہے۔

کیا بھارت کا چندریان ٹو مشن ناکام ہوگیا؟

6 ستمبر کا دن شروع ہوتے ہی دنیا بھر کی سائنسc کیمیونیٹیز اور اداروں کا رخ بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے “انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن” کی جانب ہو چکا تھا۔

ادارے کی جانب سے جاری کردہ اعلان کے مطابق بھارت کے چاند کے جنوبی قطب کی جانب بھیجے جانے والے مشن چندریان ٹو کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق ایک سے ڈیڑھ بجے کے درمیان لینڈ کرنا تھا جس کی براہ راست کوریج کی جارہی تھی اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اس تاریخی واقعے کو دیکھنے کے لیے مشن کنٹرول سینٹر میں موجود تھے، مگر بدقسمتی سے چندریان ٹو سے منسلک وکرم لینڈر کا رابطہ چاند پر لینڈ کرنے سے صرف چند منٹ پہلے مشن کنٹرول سینٹر سے منقطع ہو گیا جو تاحال بحال نہیں ہوسکا۔

جس کے فوراً بعد ہی سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کا ایک طوفان برپا ہوگیا کہ وکرم لینڈر کریش لینڈنگ کے بعد چاند کی سطح سے ٹکرانے یا لینڈنگ سے قبل ہی آگ بھڑک اٹھنے کے باعث تباہ ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی قیاس آرائی نیدرلینڈز کی ریڈیو ٹیلی اسکوپ “سیز باسا” کی جانب سے ٹویٹر پر کی گئی، جو لینڈنگ کی ڈوپلر شفٹ کو مسلسل نوٹ کر رہی تھی

واضح رہے کہ ڈوپلر شفٹ کسی دور دراز مقام سے زمین کی طرف آنے والے سگنلز کی فریکوئنسی میں مسلسل تبدیلی سے بننے والے گراف کو کہا جاتا ہے۔ سیز باسا کی طرف سے ایک گراف کی تصویر ٹویٹ کی گئی جس میں چندریان کے طے شدہ راستے میں واضح تبدیلی کو عام آدمی بھی نوٹ کر سکتا ہے، جس کے فورا بعد ہی لینڈر کا مشن کنٹرول سینٹر سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

آئی ایس آر او مشن سے متعلق معلومات جاری کرنے میں ابھی تک خاصا محتاط ہے جبکہ دو دن بعد یہ اعلان کیا گیا تھا کہ چندریان سے منسلک آربٹر سے لینڈر کی تھرمل تصاویر حاصل کی گئی ہیں جس میں وہ تباہ شدہ ٹکڑوں کے بجائے سالم حالت میں موجود ہے مگر فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ لینڈر کو کریش لینڈنگ سے کس حد تک نقصان پہنچا ہے اور کیا اس سے مشن کنٹرول سینٹر کا رابطہ بحال ہو سکے گا یا نہیں۔

واضح رہے کہ چندریان سے منسلک آربٹر چاند کے گرد مدار میں مسلسل گردش میں ہے اور اسے چاند کے جنوبی قطب پر کریش لینڈنگ کے مقام تک آنے میں وقت درکار تھا جس کی وجہ سے تھرمل تصویر حاصل کرنے میں ایک دن سے زائد وقت لگا۔ یہ تھرمل تصویر عام کیمروں سے کھینچی گئی تصاویر جیسے نہیں ہوتی بلکہ اس میں انفرا ریڈ شعاؤں کو ڈیٹیکٹ کر کے جسم کا خاکہ بنایا جاتا ہے جس کو بعد میں مخصوص تکنیک کے ذریعے واضح کر دیا جاتا ہے۔

سیز باسا کی جانب سے چندریان مشن کے حوالے سے اس کے بعد بھی متعدد بیانات جاری کیے گئے ہیں جو زیادہ تر قیاس پر مبنی ہیں کیونکہ اب تک حتمی طور پر چندریان مشن کی قسمت کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مگر سیز باسا نے ان کی جانب سے جاری کی جانے والی فوری معلومات کو بنیاد بنا کر ٹویٹر پر بھارت کا مذاق اڑا نے اور نفرت پر مبنی بیا نات جاری کرنے کی مذمت کی۔

خلائی سفر کی تاریخ میں آج تک جتنے مشن چاند، مریخ یا دوسرے سیاروں کی طرف بھیجے گئے ہیں ان میں سب سے اہم لینڈنگ کے آخری پندرہ منٹ ہوتے ہیں جس کو آئی ایس آر او کے چیئر مین کے سائیوان نے “ہیجان کے پندرہ منٹ” سے تشبیہ دی تھی، جس میں کچھ بھی ہو سکتا تھا مگر بھارت کا مشن 95 فیصد تک کامیاب رہا۔

چاند پر لینڈ کرنے کے لیے وکرم لینڈر کی رفتار کو بتدریج کم کرتے ہوئے چاروں انجنوں کو بند کیا گیا اور “رف بریکنگ” کا یہ مرحلہ بخوبی تکمیل کو پہنچا جس کے بعد “فائن بریکنگ” کا مرحلہ شروع ہوا جس میں لینڈر کی رفتار مزید کم ہوتے ہوئے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوجانا تھی، مگر اب تک ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری اور آئی ایس آر او کی جانب سے جو معلومات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق کریش لینڈنگ کے وقت وکرم لینڈر کی رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی اور یہ اپنے طے شدہ راستے “ٹراجیکٹری” سے کافی ہٹ چکا تھا اور لینڈنگ طے شدہ وقت ایک بج کر تئیس منٹ کے بجائے اس سے تین منٹ پہلے ہی ہوچکی تھی۔

جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ لینڈر تیز رفتاری کے ساتھ بے قابو ہوکر چاند کی سطح سے ٹکرایا ہے مگر اس میں زیادہ ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوئی مگر جب تک بھارت آربٹر کی بنائی گئی تھرمل تصاویر جاری نہیں کرتا اس وقت تک یقین سے کچھ بھی کہنا محال ہے، تاہم سادہ قیاس یہی ہے کہ وکرم لینڈر اب قابل استعمال نہیں رہا دوسری جانب چندریان سے رابطہ بحال کرنے کے لیے ناسا سمیت کئی ادارے بھارت کی معاونت کر رہے ہیں۔

موجودہ صورت حال سے بھارت کی خلائی تحقیقاتی ادارے آئی ایس آر او نے مستقبل کے مشنز کے لیے یقیناً بہت سے سبق سیکھیں ہوں گے۔

22جولائی 2019 کو چاند کے جنوبی قطب کی جانب بھیجا جانے والا بھارت کا یہ مشن اس لیے بھی غیر معمولی تھا کہ چاند کے جنوبی قطب پر آج تک دنیا کا کوئی ملک نہیں پہنچ سکا اور جس مقام پر اس نے کریش لینڈ کیا ہے وہاں پانی کے شواہد مل چکے ہیں، مگر بھارت کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ایک ترقی پذیر ملک جہاں غربت اور بے روزگاری آخری حدوں کو چھو رہی ہے ایسے ملک کے لیے اربوں روپے یوں خلائی مشنز پر اڑا دینا کیا دانش مندانہ اقدام ہے؟۔

مگر کیا بھارت کی اس ناکامی سے پاکستانی عوام و خواص نے بھی کچھ سبق حاصل کیا ہے؟

ہماری وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں جس شخص کو کرتا دھرتا بنا دیا گیا ہے ان کے آئے روز بیانات پر کافی تنقید ہوتی رہتی ہے اور دوسری جانب اندورن ملک سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اپنے طور پر کوشاں سوسائٹیز اور اداروں میں بددلی پھیلنے کا امکان ہے جس کا براہ راست اثر این جی اوز کو ملنے والی بین الااقوامی امداد پر بھی پڑسکتا ہے۔

لہٰذا ضروری ہے کہ اس طرح کی صورت حال سے نمٹنے اور حکومت کی جانب سے باقاعدہ بیانات جاری کرنے کے لیے پاکستان کے خلائی تحقیقاتی ادارے سپارکو کو پابند اور متحرک کیا جائے۔ اگر 7 ستمبر2019 کی رات کو سپارکو دیگر خلائی تحقیقاتی اداروں کی طرح متحرک ہوتا اور وکرم لینڈر کے مشن کنٹرول سینٹر سے رابطہ منقطع ہوتے ہی سپارکو کی جانب سے آفیشل طریقے سے بھارت کے مشن پر بیان جاری کردیا جاتا تو فواد چوہدری کی جانب سے دیے گئے بیانات کے بعد ہونے والی بحث سے بچا جاسکتا تھا اور پاکستان کی جانب سے خالصتاً سائنسی بنیاد پر ایک مضبوط ردعمل بھی سامنے آتا۔

تاہم پاکستان کی پہلی خاتون خلا باز کا اعزاز (عنقریب ) رکھنے والی نمیرہ سلیم نے اس حوالے سے پیغام دیا۔ نمیرہ اس وقت امریکا میں مقیم ہیں اور اپنے ادارے “اسپیس ٹرسٹ” کے ذریعے خلا میں امن کے قیام کے لیے کوشاں ہیں جس میں انہیں اقوام متحدہ کا مکمل تعاون اور مدد بھی حاصل ہے۔

نمیرہ سلیم نے 8 ستمبر کی صبح پاکستان کے ڈیجیٹل سائنس میگزین “سائٹیا” کو ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے بھارت کے چندریان مشن کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور انہوں نے کہا کہ میں امید رکھتی ہوں کہ بھارت اس مشن سے بہت کچھ سیکھ کر ہمت نہیں ہارے گا اور خلائی تسخیر کی بھارتی کوششیں جاری رہیں گی۔

اس بیان کو ملکی میڈیا جیو، دی نیوز وغیرہ اور بین الاقوامی میڈیا خلیج ٹائمز اور ٹائمز آف انڈیا نے بہت سراہا۔

خلا کی تسخیر کا خواب دیکھنے والے ممالک چاہے وہ بھارت، چین یا کوئی اور ملک ہو انہیں امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (ناسا) کے یہ الفاظ یاد رکھنے ہوں گے کہ کسی سیارے یا چاند کی جانب بھیجا جانے والا کوئی مشن کبھی بھی حتمی نہیں ہوتا اگر مشن کامیابی سے لینڈ کر جائے تب بھی ضروری نہیں ہوتا کہ جس مقصد کے لیے اربوں، کھربوں ڈالر صرف کیے گئے ہوں وہ حاصل ہوں گے یا نہیں۔

Google Analytics Alternative