Home » Author Archives: Admin (page 18)

Author Archives: Admin

مقبوضہ وادی سے وارانسی تک ۔ آتش فشاں چنگاریاں

آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹرمنظور عالم کا لکھا گیا ایک مضمون آج سے پانچ برس قبل راقم کی نظر سے گزرا، اتنے برس گزرنے کے بعدآج جب ہم موجودہ بھارتی قیادت کی متشددانہ اور جنونی دہشت زدہ حکمرانی کے لائق نفریں اقدامات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہ میں اور آپ کو یہ ماننے میں لحظہ بھر ذرا تامل نہیں ہونا چاہیئے دنیا آگے بڑھ رہی ہے اور بھارت پتھروں کے زمانے کی طرف گامزن ہے ڈاکٹر منظور عالم نے اپنی بصیرت افروزسیاسی وسماجی دانشورانہ پیش بندیوں کا اپنے مضمون باعنوان ’’نقطہ نظر‘‘ میں جرات مندی اور دلیری سچائی سے اظہار کیا ہے اْن کے لکھے ہوئے ایک ایک لفظ سے آرایس ایس کی آج کل کی کارسیوک سرکار کے زہریلے، متعصبانہ اور مسلم دشمن رویوں کی کھلی عکاسی دنیا کی نظروں کے سامنے عیاں ہوچکی ہے، ڈاکٹر منظور عالم چونکہ خودبھارتی نڑاد شہری ہیں صاحب علم ہونے کے ناطے جانتے ہیں کہ’’ آئین ہند کا ابتدائیہ پانچ بنیادی اجزاء پر مبنی ہے یہ اجزاء انصاف، آزادی، برابری، بھائی چارہ اور سیکولرازم پر مبنی ہیں جس کے تحت یونین کے آئین نے در اصل سماجی ڈھانچے کی ہیءت ترکیبی کو اجاگر کیا ہے، ملک میں کثرت وحدت کا فلسفہ اسی وقت پروان چڑھ سکتا ہے، جب یونین آئین کے ابتدائیہ کے ان پانچوں اجزاء پر عمل در آمد ہوتا ہوا نظربھی آئے، چونکہ یہ کام حکومت کی ذمہ داری میں شامل ہے اس لیے توقع کی جاتی ہے کہ جو حکومت بھی نئی دہلی کے اقتدار میں ہوگی وہ اس پر عمل درا;63;مد کرکے آئین ہند کواور مضبوط کرے گی کیونکہ اسی بنیاد پر اس نے اقتدار حاصل کیا ہے’’اب کوئی موجودہ بھارتی قیادت سے پوچھے کہ جس یونین کے آئین کے تحت بھارت میں انتخابات ہوتے ہیں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے منتخب اراکان جس یونین آئین کے تحت حلف اْٹھاتے ہیں ’’کیا وہ اس یونین کے آئین کودل وجان سے تسلیم کرتے بھی ہیں یا نہیں ;238;بھارت میں ’’سیکولرازم‘‘کی ارتھی تو مودی سرکار نے 2014کے عام چناوَ کے بعد اقتدارکی لگا میں اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہی نذرآتش کردی تھی پھر باقی پیچھے کیا بچا;238;کہاں کا انصاف;238; کہاں کی آزادی;238; برابری اور بھائی چارے کو بھارت میں اب تو کوئی پوچھتا بھی نہیں ہے ،بھارت کی سب سے بڑی اقلیت ’’مسلم نڑاد بھارتی لاکھ اپنے سینے ٹھوک ٹھوک کر رکن لوک سبھا صدر الدین اویسی کی طرح چیختے پھریں کہ’’ہم بھارتی ہیں بھارتی رہیں گے پاکستان کی کیا مجال کہ وہ بھارت کی سرزمین کی طرف انکھ اْٹھاکر بھی دیکھے;238;‘‘ وہ کہتے رہیں پہلے تو یہ کہ اْنہیں ’’بھارتی شہری‘‘سمجھتا کون ہے;238;اور اْن کی مسلم تہذیب وشناخت کی کھلے بندوں دھجیوں پر دھجیاں اْڑائی جارہی ہیں ایودھیا میں ایک بابری مسجد شہید ہوگئی ہے اگلے پانچ برسوں میں مزید کئی اور بابری مساجد یونہی ڈھائی جاتی رہیں گی ’’اویسی‘‘ جیسے بھارتی نڑاد مسلمان رکن ِ لوک سبھا کو کیا علم نہیں پوگا کہ بنارس وارانسی جسے کاشی بھی کہا جاتا ہے جوکہ بھارتی وزیراعظم مودی کا اپنا حلقہ انتخاب ہے وہاں مسلم کش فسادات کی تیاریاں اپنے آخری مراحل میں پہنچ چکی ہیں اب معلوم ہوا کہ مودی نے وارانسی ہی کو اپنا حلقہ انتخاب کیوں بنایا;238; بنارس کی اپنی تاریخ ہے، جسے مندروں کا شہر کہا جاتا ہے2014 کی طرح اس بار2019 کے عام چناو میں مودی نے اپنے ووٹروں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس بار اقتدار میں آتے ہی ’’کاشی وشواناتھ مندر‘‘ہی نہیں بلکہ ہندووں کے مذہبی پوجا پاٹھ کےلئے ایک جدید طرزکا مذہبی کملیکس ضرور تعمیر کرائیں گے چاہے اْنہیں کسی حد تک بھی جانا پڑے اور اب وہ وقت آگیا مودی سرکار نے 600 کروڑ کی لاگت سے’’کاشی وشوناتھ مندر یا وشوناتھ دھام‘‘ کی تعمیر کو مکمل کرنے کا اعلان کردیا ہے،یاد رہے کہ کاشی وارانسی دریائے گنگا کے مضبوط کناروں پر ہندووَں کا ایک انتہائی مقدس شہرہے جسے عام طور پر’’شیو لنگ‘‘کی نمائندگی کے طور پر’’شیو دیوتا‘‘ سے منسوب کیا جاتا ہے، اس منصوبے کے مقصد کو پائیہ تکمیل کو پہنچانے کےلئے آرایس ایس سرکار نے 45000 مربع میٹر کے ارد گرد کے علاقے کواپنے گھیرے میں لے لیا ہے ’’ وشوناتھ دھام‘‘تک جانے کےلئے 50 فٹ چوڑا راستہ تیارکیا جائے گا وزیراعظم مودی کا حلقہ انتخاب ہونے کی وجہ سے ان انتظامات پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے اس منصوبے کو یوپی سرکار نے ہندو انتہا پسند سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کی غیر معمولی توجہ حاصل ہورہی ہے چونکہ جس مقام پر وشوناتھ مندر کی تعمیرات کے انتظامات شروع ہوچکے ہیں یہ علاقہ وارانسی کاشی شہرکا بہت گنجان آباد علاقہ ہے چونکہ بقول مودی کے یہ ایک بہت بڑا کمپلیکس بنے گا تو اس عظیم منصوبے کےلئے اراضی تو بہت کافی ہونی چاہیئے وزیراعظم اور یوپی کے وزیراعلیٰ خود اس کام کی نگرانی کررہے ہیں تعمیر ہونے والے اس مندر کے اردگرد کی بہت سی پرانی تاریخی عمارتوں کو گرایا جانے لگا ہے اطلاعات کے مطابق 300 مکانات اب تک مسمارہوچکے ہیں جس کے نتیجے میں 600 خاندانوں کو بے گھر کردیا گیا ہے، بہت سے مقامی رہائشیوں نے شکوہ کرنا شروع کردیا ہے کہ ان کے مکانات خالی کیوں کرائے گئے یا زبردستی خریدے کیوں جارہے ہیں ;238;اپنی ناپسندیدگیوں کودرج کرنے کےلئے اب وارانسی کے مقامی رہائشیوں نے باقاعدہ احتجاج کرنا شروع کردیا ہے ہندووَں کے مندروں کی تباہیوں اور شیو دیوتا مقامات کی بے حرمتیوں کی یہ جو نئی سے نئی کتھا ہیں اور نئی کہانتیں بھارت کے ہندووَں کے جنونی جذبات کو اکسانے اور بڑھانے کےلئے آرایس ایس کی جانب سے گھڑی جارہی ہیں ٹارگٹ کرکے بڑی مسلم اقلیت کے مذہبی کلچر کے مستقبل کےلئے خطرات کے عفریت کھڑے کیئے جارہے ہیں اس کی تشویش ناک سنگینی کے احساس کےلئے عالمی دنیا بیدار ہوگی جب ہوگئی پہلے خود بھارتی ممبران میں بیٹھے ہوئے مسلمان ارکان توہوش کے ناخن لیں وہ اپنی آوازیں بلند کریں اپنے مسلم مذہبی کلچر کے تحفظ وبقا کےلئے کوئی لاءحہ عمل اختیار کریں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے مسلمان اراکین بھارتی اعتدال پسند روشن خیال اور بھارتی اعلیٰ تعلیم یافتہ یونیورسٹی کے طلبا اور طالبات کو اس بارے میں آگاہ کریں اْنہیں مختلف وفود کی شکلوں میں وارانسی میں اس مقام پر لیجائیں جہاں ہندو اور مسلمانوں کے مکانات اور دکانیں ڈھائی جارہی ہیں اْنہیں وہ مقام دیکھایا جائے بتایا جائے کہ یہاں صدیوں پرانی مسلمانوں کی عبادت گاہ مسجد’گیاناوپی مسجد‘ بھی واقع ہے جو مودی کے’’ کاشی وشوناتھ مندر‘‘ پروجیکٹ سے متصل ہے، اطلاعات کے مطابق کچھ ہندو انتہا پسند کارکنوں نے (بابری مسجد مسئلے کی بنیاد پر) یہ دعوی کرنے کےلئے بیل (نندی) کے بت کو دفن کرنے کی ایک مذموم کوشش کی تھی کہ یہ مسجد ساءٹ ایک’’ ہندو ساءٹ‘‘ ہے;238; تاہم وہ ساری کھتا بالکل غلط ثابت ہوئی بھارت کا پڑوسی مسلم ملک ہونے کے ناطے پاکستان میں ’’ کاشی وشوناتھ مندر پروجیکٹ‘‘ شدید غم وغصہ کی لہرامڈ آئی ہے بھارت بھر میں مودی قیادت کے تباہ کن طوفانوں کی بلائیں لینے والے غیر انسانی اقدامات پر سخت ردعمل پایا جاتا ہے دنیا بھی چوکنا ہوتی جارہی ہے اب بھارتی مسلمان اراکین لوک سبھا اور راجیہ سبھا نیند سے فوراً بیدار ہوں کیونکہ بابری مسجد ساءٹ کی تاریخ کی طرح ہندو گروہ مزید غنڈہ گردی پر اترآئے ہیں وہ اب ’’گیاناوپی مسجد‘‘ کی سرزمین پر حقوق کے دعوے کرنے لگے ہیں 1936 کی تاریخ ہمارے سامنے ہے کہ علاقے کے ہندو باشندوں سے اس بارے میں جھگڑے کے بعد اس وقت کے مسلمانوں نے بنارس کی سول عدالت میں مقدمہ دائر کیاتھا 1937 میں عدالت نے مسلمان کو نماز پڑھنے اور مسجد کے صحن میں دفن صوفی بزرگوار کا عرس منانے کی اجازت دیدی تھی وارانسی کی سول عدالت نے ’’نرسمہاراوحکومت کے عہد کے پاس کیئے ہوئے ایک قانون کی روشنی میں فیصلہ دیا تھا کہ دیش میں آباد کوئی بھی مذہبی عبادت گاہ کے تقدس کو کسی صورت پائمال نہیں کیا جاسکتا‘‘اس قانون میں یہ واضح کردیا گیا تھا کہ ’’ تمام مذہبی مقامات کو اسی طرح سے برقرار رکھا جائے گا جیسے وہ 15 اگست 1947 کو تھے اس قانون کے باوجود آرایس ایس کے کارکن سومناتھ ویاس نے وارانسی کی ایک سول عدالت میں اب ایک مقدمہ دائر کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کاشی وشوناتھ کمپلیکس سے متصل مسلمانوں کی مسجد’’گیانا وپی مسجد‘‘ کے ایک حصہ کو وشوناتھ کمپلیکس کے منتظمین کے حوالے کیا جائے;238; بھارت کی مسلمان سیاسی اشرافیہ کی جانب سے تاحال احتجاج کی کوئی کال فی الحال ہمارے سامنے نہیں آئی جیسے جیسے کاشی وشوناتھ کمپلیکس کے کام میں تیزی آرہی ہے تو کیا بھارت میں ایک ایسا نازک موقع دوبارہ سامنے آتا کسی کو دکھائی نہیں دے رہا ہے کہ پورا دیش ایک بار پھر ہندومسلم کشیدگی کی لپیٹ میں نہیں آجائے گا;238; یقینا ایسا ضرور ہوگا، ہم یہاں پاکستان میں بیٹھ کر وارانسی کاشی میں بھڑکنے والی ہندومسلم کشیدگی کی تپش کو محسوس کررہے ہیں اس بارے میں اطلاعات یہ ہیں کہ علاقے کے مسلمان اب مذکورہ مقام پر جمع ہوناشروع ہوچکے ہیں اور انتظامیہ کے اس فیصلے پر اپنا احتجاج کرتے ہوئے وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے اس اقدام سے’’گیانا وپی مسجد‘‘کو خطرہ لاحق ہو گا، یہاں آخر میں عالمی امن کے اْن نام نہاد متعصب ٹھیکیداروں سے مخاطب جو ہر معاملے میں وقت بیت جانے کے بعد منصفی نبھانے کود پڑتے ہیں جبکہ بھارت میں تازہ ترین بڑھتی ہوئی ہندوتوا کی فرقہ وارانہ منافرت کی شدید تپش کو محسوس کیئے جانے کے باوجود اْن کی مجرمانہ خاموشی کشمیری عوام سمیت بھارت کے کروڑوں مسلمانوں کے خلاف مودی کی جبر وستم کی بربریت نما پالیسیوں کے بارے میں عالمی برادری کا رویہ قابل افسوس بے، دنیا ہر طرح کی انتہا پسندی کی مخالفت کرتی رہی ہے اب کیوں بین الاقوامی برادری ہندو انتہا پسندوں کے مظالم پر خاموش ہے گونگی بنی ہوئی ہے اور بہری بن چکی ہے ۔

کشمیریوں کی جلا وطن حکومت کا قیام

گزشتہ ماہ 5 اگست کو بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرتے ہوئے ریاست کو 2 حصوں میں تقسیم کردیا جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گی جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی ۔ وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ اور لداخ کو وفاق کا زیر انتظام علاقہ بنادیا گیا جس کی قانون ساز اسمبلی نہیں ہوگی ۔ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل جیسے ہتھکنڈے اختیار کررہی ہے ۔ آرٹیکل 370 ختم ہونے سے فلسطینیوں کی طرح کشمیری بھی بے وطن ہوجائیں گے کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیرمسلم ، غیر کشمیری کشمیر میں آباد ہوجائیں گے جو ان کی زمینوں ، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے ۔ وادی میں پہلے ہی بھارت کی سات لاکھ سے زائد فوج تعینات تھی اب حالیہ اقدامات سے قبل ہی ہزاروں کی تعداد میں بھارتی فوجیوں کو مقبوضہ وادی میں تعینات کر دیا گیا تھا ۔ گویا کشمیری عوام کی بجائے ہر طرف فوج ہی فوج نظر آتی ہے کیونکہ پانچ اگست سے آج تک وادی میں سخت کرفیونافذ ہے اور کشمیری اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔ کشمیری قیادت پابند سلاسل کردی گئی ہے ۔ روزانہ نہتے کشمیریوں کو شہید اور زخمی کیا جا رہا ہے ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک میں اضافے کی حالیہ لہرا اٹھنے کے بعد اسرائیل سے مزید تعاون مانگا جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے اسرائیل نے مزید اڑھائی سوکمانڈوز اور پروفیشنلز مقبوضہ کشمیر بھیج دیئے ۔ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے حق میں حالات کنٹرول کرنے اور حریت پسند مزاحمت کار تنظیموں کی سرگرمیوں سے نمٹنے کےلئے اسرائیل نے سینکڑوں جاسوسوں کے علاوہ 350 کمانڈوز مقبوضہ کشمیر میں بھیجے تھے ۔ بھارت کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ساڑھے تین سو اسرائیلی کمپنیاں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں ، جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی معاونت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی فوجی تنصیبات کی جاسوسی میں ملوث ہیں ۔ مقبوضہ علاقے میں دیکھا جا رہا ہے کہ اسرائیلی سیاحوں کی کثیرتعداد اب لیہہ کے سارے علاقہ میں سڑکوں سے لے کر ہوٹلوں تک اور ریستورانوں سے بودھ راہبوں کی خانقاہوں تک ہر جگہ موجود ہیں ۔ لیہہ کے بازاروں اور عام مقامات پر جگہ جگہ لداخی اور عبری (اسرائیلی) زبانیں بولی اور سنی جارہی ہیں ۔ اکثر دکانوں کو بھی اسرائیلی سیاحوں اور گاہکوں کے مزاج کے مطابق ضروریات کے ساز و سامان سے آراستہ کیا گیا ہے ۔ مودی حکومت نے اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ہندو آبادکاری کا منصوبہ تشکیل دیا ہے ۔ جس کے مطابق جموں و کشمیر میں دو سے تین لاکھ ہندوَوں کو نہ صرف رہائش بلکہ مکمل سیکیورٹی بھی فراہم کی جائے گی ۔ مقبوضہ وادی کے مسلم اکثریتی علاقے میں ہندو بستیاں آباد کی جائیں گی ۔ اس کے علاوہ مودی نے عرب ممالک کو مقبوضہ کشمیر میں سرمایہ کاری کی دعوت کی ہے تاکہ بیرونی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک سے لوگ بھی آ کر یہاں آباد ہوں گے ۔ اس کےلئے بہانہ یہ بنایا گیا ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری سے علاقے میں ترقی ہوگی اور مقامی افراد کو روزگار ملے گا ۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو مودی کشمیر پر اپنا قبضہ جمانے اور اسے براہ راست بھارت کے زیر اثر لانے کےلئے کر رہا ہے ۔ مگر ہ میں فوری طورپر اس کا توڑ کرنا چاہیے ۔ اس کےلئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ مقامی کشمیری قیادت کی مد د سے ہ میں ایک جلا وطن کشمیری حکومت کا قیام عمل میں لانا چاہیے اور فوری طورپر اس کو تسلیم بھی کرنا چاہیے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم کا بھی کہنا ہے کہ تحریک حریت کشمیر سے مشاورت کے بعد آزاد کشمیر میں کشمیریوں کی جلا وطن حکومت قائم کر کے پوری دنیا سے کشمیریوں کی قیادت کو اس حکومت میں شامل کیا جائے اور فوری طور پرعالمی برادری سے اس حکومت کو تسلیم کرنے کی اپیل کی جائے ۔ کشمیر اب ایک متنازع نہیں جنگ زدہ علاقہ ہے اور اقوام متحدہ کا چارٹر جنگ زدہ علاقے کو ہر طرح کی مدد دینے کا پابند کرتاہے ۔ اب بھارت کے مقابلے میں صرف پاکستان اور کشمیر نہیں بلکہ امن اور انصاف پسند دنیا فریق ہے ۔ دنیا کے ہر امن پسند کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق مظلوم کشمیریوں کی مدد کرنا ہوگی ۔ اگر ہم نے کشمیر کی جلا وطن حکومت کو پوری طرح فعال کر لیا تو دنیا اسے تسلیم کرے گی اور پھر بھارت میں خالصتان سمیت آزادی کی دوسری تحریکیں بھی کامیاب ہوں گی ۔ ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے اقدامات کی وجہ سے جہاں کشمیر میں تحریک آزاد ی کو جلا ملی ہے وہیں پر بھارت سمیت دنیا بھر میں سکھوں نے اپنے الگ وطن خالصتان کی علیحدگی کی تحریک زور و شور سے شروع کر دی ہے ۔ دنیا بھر میں سکھ اپنے وطن کے قیام کیلئے اْٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔ 2020ء میں آزادخالصتان کےلئے ہونے والے عالمی سطح کے ریفرنڈم سے سکھوں کےلئے نئے دور کا آغاز ہوگا اور یہ ریفرنڈم آزاد خالصتان کا سبب بنے گا ۔ بھارت آئین میں ترمیم کر کے غیر کشمیریوں کو کشمیر میں آبادکاری کی دعوت دے رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرونی سرمایہ دار بھی کشمیر میں آئیں گے ۔ اگر یہ سب کچھ ہوگیا تو کشمیری زمین کشمیریوں کے علاوہ بیرونی آبادکاروں میں تقسیم ہوگی اور وہاں ان کی آبادیاں بنیں گی ۔ جائیدادیں خریدی جائیں گی ۔ یوں کشمیر کی اکثریت اقلیت میں بدل جائےگی ۔ بالکل فلسطین والا حال ہوگا ۔ ابھی وقت ہے کہ ہم کشمیر کو فلسطین بننے سے روک سکتے ہیں ۔ اس کےلئے فوری طور پر ہ میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اقوام عالم میں کشمیریوں کی حمایت زور شور سے جاری رہنی چاہیے اور دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں کو اس کےلئے سرگرم کرنا ہوگا ۔ کشمیر سے باہر کے کشمیری ایک جلاوطن حکومت قائم کریں تو اس سے ایک تو کشمیریوں کو وادی سے باہر عالمی سطح پر ایک پلیٹ فارم میسر آجائے گا اور دوسرا بھارتی حکومت کا دعویٰ کہ کشمیر میں سب اچھا ہے، جھوٹا پڑ جائے گا ۔

نوبل انعام یافتہ خواتین کا بل گیٹس فاؤنڈیشن سے مودی کو ایوارڈ نہ دینے کا مطالبہ

اسلام آباد: نوبل انعام یافتہ خواتین نے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ایوارڈ سے نہ نوازیں۔

نوبل انعام یافتہ خواتین نے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارت میں اقلیتوں پر حملوں اور گجرات میں معصوم لوگوں کے قتل عام میں بھارتی وزیراعظم نرینندر مودی کے ملوث ہونے کی وجہ سے انہیں ایوارڈ سے نہ نوازیں۔

فاؤنڈیشن کے نام اپنے مشترکہ خط میں میریڈ میگوائر، تاوکل عبدالسلام کارمان اور شیریں عبادی نے کہا انہیں یہ جان کر بڑی تشویش ہوئی ہے کہ بل اینڈمیلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن رواں ماہ کے آخر میں نریندر مودی کو ایوارڈ دینے جارہی ہے۔ مودی قیادت میں بھارت نے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں کی ہیں۔ فاؤنڈیشن کے اس فیصلے کیخلاف آن لائن پٹیشن پر اب تک لاکھوں افراد دستخط کر چکے ہیں۔

پی آئی اے کے مسافر طیارے میں ٹیک آف کرتے ہی آگ لگ گئی

لاہور: جدہ جانے والے قومی ایئرلائن کے طیارے کے انجن میں ٹیک آف کرتے ہی آگ لگ گئی تاہم پائلٹ نے بروقت لینڈنگ کرکے طیارے میں موجود 200 سے زائد مسافروں کو بچالیا۔

لاہور سے جدہ جانے والے پی آئی اے کے مسافر طیارے کے انجن میں اڑان بھرتے ہی آگ بھڑک اٹھی۔ آگ لگنے کے باعث طیارے کاانجن ناکارہ ہو گیا۔ پائلٹ نے صورت حال کی سنگینی کا بروقت احساس کرتے ہوئے فوری طور پر ہنگامی لینڈنگ کی۔ فائربریگیڈ کے عملےنے طیارے میں لگنے والی آگ پر قابو پایا۔

ایئرپورٹ حکام کے مطابق حادثے کا شکار طیارے میں پرواز کے وقت 200 سے زائد مسافر سوار تھے جنہیں بحفاظت نکال لیا گیا ہے، طیارہ مزید 10 منٹ ہوا میں رہتا تو زوردار دھماکے سے پھٹ جاتا۔

پی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ مسافروں کو دوسرے طیارے میں بھیجنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں تاہم مسافر اگلے طیارے میں بھی بیٹھنے کو تیار نہیں۔

کراچی میں احتجاجی اساتذہ پر پولیس کا لاٹھی چارج، متعدد زخمی

کراچی سمیت سندھ بھر کے آئی بی اے ٹیسٹ پاس ہیڈ ماسٹر اور ہیڈ مسٹریس ( ایچ ایمز) مستقل نہ کئے جانے پر سندھ حکومت کے خلاف کراچی پریس کلب پر سراپا احتجاج ہوگئے۔

مطالبات کی منظوری کے لئے وزیر اعلی ہاؤس کی جانب پیش قدمی پر پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لئے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کے ساتھ شیلنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے جبکہ 10 سے زائد ایچ ایمز کو حراست میں لے لیا گیا۔احتجاجی ایچ ایمز نے مطالبات منظور نہ ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔

احتجاجی ایچ ایمز کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے 2015 میں بغیر کسی تفریق اور سفارشات کے ایک مکمل شفافیت اور شگفتہ میرٹ کے تحت آئی بی اے  جیسے نامور ادارے کی مدد سے ہیڈماسٹرز اور ہیڈمسٹریسز کی خالی آسامیوں کے لئے ٹیسٹ لیا گیا، جس کے بعد چیف سیکرٹری کی جانب سے کمیٹی تشکیل دے دی گئی اور انٹرویو لیے گئے، ڈگریوں اور اسناد کی تصدیق ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے کروائی گئی، زیبسٹ اور پراونشل انسٹیٹیوٹ آف ٹیچرز ایجوکیشن کی مدد سے مسلسل 14 دن کا ٹریننگ کورس بھی کروایا گیا، جس کے بعد 957 اہل امیدواروں کو کانٹریکٹ کے بنیاد پر بھرتی کر کے تقرر نامے جاری کئی گئے، بھرتی کا مکمل عمل وزیر اعلیٰ سندھ کے احکامات اور اجازت کے مطابق ہوا، اہم اہل نوجوان ملازمین اپنی اعلیٰ جذبے اور باکمال صلاحیتوں کی مدد سے وسائل کی کمی کے باوجود بنجر سرکاری اسکولوں کو گلشن کے طرح سنوارنے لگے۔

سری لنکا کا ڈر بھگانے کیلیے پاکستانی تدبیریں جاری

لاہور: سری لنکاکا ڈر بھگانے کیلیے پاکستانی تدبیریں جاری ہیں جب کہ سفارتی ذرائع بھی استعمال کرلیے گئے۔

پاک سری لنکا  سیریز رواں ماہ کے آخری ہفتے میں شروع ہوگی، اس میں 3 ون ڈے اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے، سری لنکن بورڈ نے گذشتہ دنوں پریس ریلیز میں بتایا کہ وزیر اعظم آفس کی جانب سے پاکستان میں ٹیم پر ممکنہ دہشت گردی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، وہاںکی موجودہ صورتحال کا ازسر نو جائزہ لینے کیلیے حکومت سے رابطہ کرلیا گیا۔

ذرائع کے مطابق کولمبو میں موجود پاکستانی سفیر نے سری لنکن سیکریٹری دفاع سے ملاقات میں دہشت گردی کے خطرات کی تفصیلات کا پوچھا،انھوں نے بہترین سیکیورٹی کا یقین بھی دلایا۔

سری لنکن بورڈ نے وزارت دفاع سے ممکنہ خدشات کے بارے میں تازہ ترین صورتحال جاننے کیلیے رابطہ کیا،امکان یہی ہے کہ سیکیورٹی کا ازسر نو جائزہ لیتے ہوئے کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش ہو گی، البتہ گذشتہ روز تک بھی پی سی بی کو دورے کے حوالے سے کوئی منفی بات نہیں پہنچائی گئی،اسی لیے چیئرمین احسان مانی مطمئن ہیں کہ بالآخر ٹیم کو پاکستان روانہ کرنے کا فیصلہ کرلیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اگست میں سری لنکن وفد سیکیورٹی انتظامات کا تسلی بخش جائزہ لینے کے بعد ہی واپس گیا اور مثبت رپورٹ دی، اسی کو سامنے رکھتے ہوئے انکار کرنے والے 10کرکٹرز کو ٹور پر آمادہ کرنے کی کوشش بھی ہوئی لیکن بعد ازاں اگر مگر کی اطلاعات سامنے آنے لگیں، دوسری جانب سیریز میں آئی سی سی کی جانب سے میچ آفیشلز بھجوائے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچز کا شیڈول ارسال کر دیا گیا تھا، البتہ امپائرز اور ریفریز کو  بھیجنے سے قبل آئی سی سی اپنے طریقہ کار کے مطابق سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔

یاد رہے کہ 2015 میں زمبابوے کے خلاف انٹرنیشنل ہوم سیریز میں کوئی غیر ملکی آفیشل لاہور نہیں آیا تھا، 2017 میں ورلڈ الیون کی پاکستان آمد ہوئی تو تینوں ٹی ٹوئنٹی میچز میں امپائرنگ کی ذمہ داریاں علیم ڈار،احسن رضا اور شوزب رضا نے نبھائی تھیں، میچ ریفری کے فرائض سرانجام دینے کیلیے سر رچی رچرڈسن لاہور آئے اور خوشگوار یادیں لے کر واپس رخصت ہوئے تھے۔

2017 میں ہی سری لنکن ٹیم ایک ٹوئنٹی میچ کیلیے لاہور آئی تو پاکستانی امپائرز کے ساتھ اینڈی پائی کرافٹ میچ ریفری تھے،گذشتہ سال ویسٹ انڈیز کے خلاف کراچی میں ہونے والی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں ڈیوڈ بون کو میچ ریفری مقرر کیا گیا تھا، دیگر آفیشلز پاکستانی ہی تھے، اس بار آئی سی سی سیکیورٹی وفد کی جانب سے کلیئرنس مل گئی تو نیوٹرل امپائرز کو بھجوانا بھی ایک اہم پیش رفت ہوگی۔

دولت کی غیر مساویانہ تقسیم

اگر ہم موجودہ دور میں عالمی اور پاکستان کے مسائل پر نظر ڈالیں تو وہ بُہت سارے ہیں مگر ان میں جو سب سے اہم مسئلہ بھوک اور افلاس ہے ۔ اگر عالمی شما ریات پر طا ئرانہ نظر ڈالی جائے تو اس سے یہ بات ظاہر ہے کہ دنیا کے 6 ارب لوگوں میں ایک ارب لوگ خوراک نہ ہونے کی وجہ سے متا ثر ہو رہے ہیں ۔ جن میں 98 فیصد لوگ ایشیاء میں سکونت پذیرہیں ۔ بالفا ظدیگر کرہ ارض پر 6ارب انسانوں میں سے ایکارب بھوک اور افلاس کا شکار ہے ۔ اگر ہم افریقی ممالک پر نظر ڈالیں تو افریقی ممالک میں بھوک اور افلاس کی شرح اور بھی زیادہ ہے یعنی وہاں پر 4 میں سے ایک انسان انتہائی بھوک اور افلاس کا شکار ہے ۔ بد قسمتی سے ترقی پذیر ممالک میں 100 ملین بچے کم وزن کے پیدا ہوتے ہیں ۔ اور 66 ملین سکول کے ایسے بچے بھی ہیں جنکو مناسب خوراک کی عدم دستیابی کا سامنا ہے ۔ اگر ہم نے ان 66 ملین یعنی 6;46;6 کروڑ بچوں کو مناسب خوراک دینی ہے تو اس کام کے لئے 3;46;2 ارب ڈالر درکار ہوں گے ۔ اگر ہم غُربت کو ایک ڈالر کی شرح سے تصور کر تے ہیں تو جنوبی ایشیاء جو ڈھائی ارب لوگوں کا مسکن ہے اور جس میں بھارت، پاکستان ، نیپال، سری لنکا، بھوٹان، مالدیپ شامل ہیں تو اس وقت بھارت میں 44 فیصد لوگ خطر ناک غُربت کی سطح سے نیچے رہنے پر مجبو ر ہیں ، نیپال میں 38 فیصد ، پاکستان میں 31 فیصد، اور بنگلہ دیش میں 29 فیصد لوگ با لفاظ دیگر 6 ارب انسانوں کی آبادی میں 1;46;4 ارب انسان انتہائی غُربت کا شکار ہے ۔ اگر ہم غُربت کی شرح کو دو ڈالر کی تناسب سے کرتے ہیں تو پھر چین میں غُربت کی لکیر سے نیچے رہنے لوگوں کی تعداد 30 فی صد، بنگلہ دیش میں 77 فیصد، بھارت میں 69 فیصد، سری لنکا میں 29 فیصد ، نیپال میں 57 فیصد فلپائن میں 41 فیصد اور پاکستان میں 70 فیصد لوگ انتہائی غُر بت کا شکار ہے ۔ دنیا کا دوسرا بڑا مسئلہ خو راک کا ضیاع ہے ۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ دنیا میں خوراک بڑی وافر مقدار میں ضائع ہو تی ہے ۔ امریکہ خوراک ضائع ہو نے کی فی کس شرح 760 کلوگرام ، آسڑیلیا میں 690 کلوگرام فی کس، ڈنمارک میں 660 کلوگرام فی کس، سوئزر لینڈ میں 650 کلوگرام فی کس اور ہالینڈ میں 610کلوگرام سالانہ خوراک فی کس ضائع کیا جا رہا ہے ۔ اگر ان خوراک کو ضا ءع ہونے سے بچایا جائے تو اس سے اُن غریبوں کی خوراک کی ضرو ریات پو ری کی جا سکتی ہیں جو خوراک کی کمی کا شکار ہیں ۔ اقوام متحدہ کے مطابق پو ری دنیا میں ایک تھائی خوراک ضائع کیا جا رہا ہے ۔ اگر ہم غذا کی سیکیو رٹی یعنی ذخیرہ کرنے کے نظام کو دیکھیں تو پاکستان اپنی ضروریات کا خوراک ذخیرہ کرنے والے 105 ممالک میں 77ویں نمبر پر ہے جبکہ اسکے بر عکس سری لنکا خوراک ذخیرہ کرنے والے ممالک میں 105 ممالک میں 60 ویں نمبر پر ، بھارت 67 ویں نمبر پر شامل ہے جبکہ اسکے بر عکس ترقی یافتہ ممالک میں امریکہ خوراک ذخیرہ کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر ، کنیڈ ا 7 ویں نمبر پر، اور بر طانیہ 15 ویں نمبر پر ہے ۔ تیسرا بڑا مسئلہ جس سے پوری دنیا پریشان ہیں وہ غریب اور امیر کے درمیان فر ق ہے ۔ آج کل دنیا میں 10 فیصد مالداروں کے پاس 90 فیصد دولت ہے جبکہ 90 فیصد لوگوں کے پاس 10 فیصد ہے ۔ دنیا میں موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ غریب اور امیر کے درمیا فر ق حد سے بڑھ گیا اور بد قسمتی سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بھی غریب اور امیر کے درمیان حد سے بڑھ گیا ۔ یا تو لوگ حد سے زیادہ امیر ہے اور یا حد سے غریب ۔ موجودہ دور میں درمیانہ اور سفید پو ش طبقہ آخری سانسیں لے رہاہے ۔ اگر ہم پاکستان میں غُربت بھوک اور افلاس کو دیکھیں تو ان مسائل میں پاکستان کی فضول پالیسیاں ، کرپشن اور بد عنوانی، زمینوں کی نامناسب تقسیم، ملاک جمع کر نے کی سعی، علم اور تعلیم کی کمی، بڑے پیمانے پر امپورٹ ، لیڈر شپ کی کمی اور نج کا ری جیسے مسائل شامل ہیں ۔ دنیا میں غُربت افلاس اور بھوک کا سب سے بڑا مسئلہ دولت کا غیر مساویانہ تقسیم ، غیر پیداواری اخراجات اور کسی حد تک دفا عی اخراجات بھی ہیں ۔ سی آئی اے اور دوسرے مقتدر اداروں کے مطابق دنیا میں ٹوٹل دفا عی اخراجات تقریباً 1747 بلین ڈالر ہے جس میں سب سے زیادہ دفا عی اخراجات امریکہ کی ہے جو اپنی دفا ع پر تقریباً 700 بلین ڈالر خر چ کر رہا ہے ۔ جبکہ بر طانیہ کی دفا عی اخراجات 60 ارب ڈالر، جاپان کی 56ارب ڈالر، چین کی 166 ارب دالر اور روس کی دفاعی اخراجات 90 ارب ڈالر ہے ۔ اور پاکستان جیسے غریب ترقی پذیر ملک بھی دفا ع 7 ارب ڈالر سالانہ خرچ کررہا ہے ۔ اگر ہم مندر جہ بالا دفاعی اخرا جات پر نظر ڈالیں تو اس سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا کے سارے ممالک اپنے وسائل کا ایک بڑا حصہ دفا ع پر فضول خرچ کر رہا ہے جو ایک پاگل پن کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ لہٰذا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہ میں مندرجہ بالا فضول معاملات سے اپنے آپکو بچا نا چاہئے اور پو ری توجہ لوگوں کے س مسائل اور بالخصوص بھوک افلاس کو ختم کرنے پر دینا چاہئے ۔ اس کے علاوہ جب تک غریب اور امیروں کے درمیان فرق کو کم نہیں کیا جائے گا اُ س وقت تک غُربت ، بھوک اور افلاس پر قابو نہیں پایا جاسکتا ۔ میں اس کالم کے تو سط دنیا کے ہر مذہب کے عالموں ، سکالروں ، شاعروں ، ادیبوں ، دانا لوگوں ، اہل علم و دانش سے استد عاکرتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں پریشر گروپ بنائیں اور حکومتوں کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ اپنے علاقائی مسائل بات چیت کے ذریعے حل کریں اور دفاع اور دوسرے غیر پیداواری چیزوں پر جو رقم خرچ کر رہے ہیں اُنکو اپنے لوگوں کے فلا ح و بہبود پر خرچ کریں ۔ تاکہ دنیا میں امن آشتی کو فروع ہو ۔ جب تک دنیا میں امن نہیں ہوگا اُس وقت تک ترقی ناممکن ہے ۔ مسلمان ممالک سے استد عا ہے کہ وہ اپنے ممالک میں اسامی اقتصادیاتی نظام اور بینکاری کو فروع دیں کیونکہ اسلامی نظام اقتصادیات میں سارے اقتصادی مسائل کا حل موجود ہے ۔ دنیا کا کوئی اور اقتصادی نظام دنیا میں اقتصادی خو شحالی کی گارنٹی نہیں دے سکتا ۔

بہت سارے بھارتی ’غدار پاکستانیوں‘ سے کہیں بہتر ہیں، رابی پیرزادہ

کراچی: پاکستانی گلوکارہ رابی پیرزادہ نے سانپ اور مگر مچھ رکھنے پر محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے چالان بھیجنے پر کرارا جواب دیتے ہوئےجانوروں کی ملکیت سے انکار کردیا۔

چند روز قبل گلوکارہ رابی پیرزادہ نے مظلوم کشمیریوں پر ہونےو الے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں رابی نے مودی کو للکارتے ہوئے سانپ اورمگر مچھ سے ڈرایاتھا ۔ تاہم دو روز قبل پاکستان محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے گلوکارہ رابی کی ویڈیو پر ایکشن لیتے ہوئے ان پر غیر قانونی طور پر اژدھے، سانپ اور مگر مچھ رکھنے کے الزام میں کارروائی کرتے ہوئے چالان درج کیا گیاہے۔

محکمہ وائلڈ لائف کی کارروائی کے بعد رابی پیرزادہ نے ایک اور ویڈیو جاری کی ہے جس میں انہوں نے ویڈیو اورتصاویر میں دکھائے گئے جنگلی جانوروں کی ملکیت سے انکار کرتے ہوئے محکمہ وائلڈ لائف کو کھری کھری سناتے ہوئے انہیں غدار قرار دیا ہے۔

رابی پیرزادہ نے ویڈیو میں کہا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ نریندر مودی کے بھارت میں اتنے سارے فالوورز ہیں ۔ 5 سال سے میں نے سانپ رکھے ہوئے ہیں اور ان سانپوں کے ساتھ مختلف نیوز چینلز پر پروگرام بھی کیے ہیں جب تو کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ رابی پیرزادہ نے ویڈیو میں دکھائے گئے سانپ اور اژدھے کی ملکیت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانپ ان کے نہیں ہیں بلکہ کسی اور کی ملکیت ہیں اور انہوں نے ان سانپ کے مالکوں(سپیروں)سے درخواست کی تھی کہ وہ ان کے ساتھ مجھے ویڈیو بنانے دیں۔ رابی نے یہ بھی بتایا کہ ان ویڈیوز سے ہونے والی آمدنی کا کچھ حصہ وہ ان غریب سپیروں کو بھی دیتی ہیں جس سے انہیں آسرا ہوجاتا ہے۔

رابی پیرزادہ نے اپنے بیوٹی سیلون میں رکھے گئے سانپوں کی حقیقت بتاتے ہوئے کہا کہ پہلے ان کے پاس سانپ تھے لیکن جب انہیں ان کا لائسنس نہیں ملا تو انہوں نے بغیر لائسنس کے یہ سانپ اپنے پاس نہیں رکھے ۔  محکمہ وائلڈ لائف کی پول کھولتے ہوئے رابی پیرزادہ نے کہا کہ جب انہوں نے سانپ رکھنے کے لائسنس کے لیے محکمہ وائلڈ لائف سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو وہاں کوئی تھا ہی نہیں۔

رابی پیرزادہ نے کہا اتنے برسوں تک لوگ دیکھتے رہے کہ میرے پاس سانپ ہیں کسی نے کچھ نہیں کہا لیکن جیسے ہی میں نے مودی کو دھمکی دی اور ان سانپوں سے ڈرایا تو افسوس کی بات ہے کہ میرے خلاف فوراً کارروائی کی گئی۔رابی پیرزادہ نےکسی کانام لیے بغیر کہا کہ اگر آپ لوگ پاکستان سے پیار نہیں کرسکتے تو پاکستان کے ساتھ غداری بھی نہ کریں۔

رابی پیرزادہ نے ٹی وی چینلز انتظامیہ کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا آپ نے وہ ویڈیو کیوں دکھائی جس میں میں مودی کو باتیں سنارہی ہوں، آپ کے اندر  ذرا سی انسانیت نہیں ہے، بھارت واقعی آپ لوگوں سے بہتر ہے۔ رابی نے کہا میں کبھی بھارتیوں کی برائی نہیں کرتی صرف مودی کی کرتی ہوں کیونکہ مجھے سارے انسان پسند ہیں۔ لیکن بہت سارے بھارتی ، بہت سارے ان پاکستانیوں سے بہتر ہیں جو اپنے ملک کے ساتھ غداری کرتے ہیں اور محکمہ وائلڈ لائف ان غداروں میں سے ایک ہیں۔

رابی پیرزادہ نے محکمہ وائلڈ لائف کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ اگر یہ لوگ پہلے میرے خلاف کارروائی کرتے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوتا لیکن مودی کو للکارنے کے بعد میرے خلاف ایکشن لینے کی بات کی گئی ۔ رابی پیرزادہ نے محکمہ وائلڈ لائف پر مقدمہ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک مجھے ادارے کی جانب سے لیٹر نہیں ملا اور آپ کو کس نے اجازت دی کہ میرے متعلق میڈیا میں خبریں دیں۔

رابی پیرزادہ نے مزید کہا کہ انہیں ان تمام لوگوں پر بھی بے حد غصہ ہے جو بھارت کے چاند مشن چندریان2 کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ بھارت کی ترقی رک گئی۔ رابی نے کہا اس سے پہلے انڈیا نے پاکستانی جھنڈے کی بے عزتی کی اس وقت یہ لوگ خاموش کیوں تھے۔

گلوکارہ رابی پیرزادہ نے بھارتی فلموں میں کام کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں بھارتی فلموں میں کام تو دور ان کو دیکھنا تک پسند نہیں کرتی مجھے مودی سے اس لیے دشمنی ہے کیونکہ وہ انسانیت کا دشمن ہے۔

Google Analytics Alternative