Home » Author Archives: Admin (page 18)

Author Archives: Admin

بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ: ‘3 کروڑ غریب افراد’ بہتر زندگی گزار سکیں گے، ورلڈ بینک

ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ چین کے میگا منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ سے درجن بھر ترقی پذیر ممالک میں عالمی مالیاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مذکورہ منصوبے میں مزید شفافیت اور پالیسی میں وسیع اصلاحات کی ضرورت ہے۔

طویل مدت سے منتظر رپورٹ میں کہا گیا کہ بیلٹ اینڈ روڈ پر مکمل عملدرآمد کی صورت میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ افراد خط غربت کی لکیر سے باہر نکل آئیں گے۔

واضح رہے کہ بلیٹ اینڈ روڈ منصوبے میں متعدد پورٹ، ریلویز، سڑکیں، ہوائی گزرگاہوں سمیت دیگر معاملات میں سرمایہ کاری شامل ہے اور مذکورہ منصوبہ چین کو وسطی اور جنوبی اشیا کے ذریعے یورپ کو ملاتا ہے۔

تاہم رپورٹ میں ورلڈ بینک نے ’اہم خدشات‘ کا بھی اظہار کیا۔

ورلڈ بینک میں محکمہ گروتھ کی نائب صدر سیلا پزبر باسسیگلو نے کہا کہ خصوصی طور پر قرضوں سے متعلق معلومات تبادلے میں بہتری کی ضرورت ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے نے بلیٹ اینڈ روڈ منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ منصوبے سے پاکستان اور تھائی لینڈ میں آمدنی کا تناسب 8 فیصد بڑھ جائے گا لیکن ازربائیجان، منگولیا اور تاجکستان میں مہنگے ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

ورلڈ بینک کے مطابق بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں میں نجی شبعوں کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری چین کے سرکاری بینکوں اور کمپنیوں کی ہے جو منصوبے کو طویل المعیاد مدت کے لیے مستحکم بناسکتے ہیں لیکن اس میں شامل ممالک کو اپنے سرمایہ کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کرنے کی بہت ضرورت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے لیے قرضوں کے حصول کے لیے قوائد و شرائط کی شفافیت میں مزید بہتری کی گنجائش ہے جس کے تحت حکومتیں قرضوں کی ادائیگی سے متعلق جائزہ لے سکیں۔

وہ وقت جب کیلے کھانے سے گریز کرنا بہتر

کیلے دنیا میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے پھلوں میں سے ایک ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں اوسطاً ہر سال 18 ملین ٹن کیلوں کی کھپت ہوتی ہے۔

یہ پھل پوٹاشیم اور پیسٹین (فائبر کی ایک قسم) سے بھرپور ہوتا ہے اور اس کے ذریعے جسم کو میگنیشیم، وٹامن سی اور بی سکس بھی مل جاتے ہیں۔

اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اسے کھانا لگ بھگ ہر ایک کو ہی پسند ہوتا ہے اور کسی بھی وقت اسے کھالیا جاتا ہے۔

مگر دن کا ایک وقت ایسا ہوتا ہے جب اس پھل سے دوری ہی بہتر ہوتی ہے اور وہ ہے صبح ناشتے کا وقت۔

جی ہاں کیلوں کو ناشتے میں کھانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ اس پھل میں پوٹاشیم، میگنیشم اور فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے مگر یہ صبح کی پہلی غذا کے لیے کچھ زیادہ اچھا نہیں کیونکہ اس میں مٹھاس اور کافی حد تک تیزابیت بھی ہوتی ہے۔

اس پھل کو کھانے کے بعد ہوسکتا ہے کہ کچھ دیر کے لیے جسمانی توانائی میں اضافہ ہوجائے مگر بہت جلد تھکاوٹ طاری ہوسکتی ہے جبکہ بھوک بھی لگ سکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ناشتے میں اس پھل کو کھانے کے بعد بہت جلد کچھ اور کھانے کی خواہش پیدا ہوجاتی ہے اور ایسا امکان ہے کہ بعد ازاں بہت زیادہ کھالیا جائے۔

صبح خالی پیٹ کیلے کھانے سے انسولین کی سطح بڑھ سکتی ہے اور اگر اس کو عادت بنالیا جائے تو وقت کے ساتھ ہائی بلڈ شوگر کا عارضہ بھی لاحق ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مٹھاس کو کسی بھی شکل میں استعمال کیا جائے تو اس سے جسم میں تیزابیت پیدا ہوتی ہے اور نظام ہاضمہ اس سے بھر جاتا ہے، تاہم ناشتے میں کیلے دلیہ یا کسی اور غذا کے ساتھ کھالینا اس نقصان سے پہنچا سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں پھر اضافہ

دنیا بھر میں جوہری طاقتوں میں ایک مرتبہ پھر اپنے ایٹمی اسلحے کو مزید جدید تر اور مہلک بنانے کے رجحان میں اضافہ دیکھا جانے لگا ہے۔

سوئیڈن  میں قائم بین الاقوامی ادارےاسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ’’سپری‘‘کی جانب سے جاری کی جانے والی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق  دنیا بھر میں جوہری طاقتوں نے اپنے ایٹمی اسلحے کو جدید تر بنانے کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ کردیاہے۔

جوہری اسلحے کو جدید تر بنانے کیلئے خرچ کی جانےوالی رقم میں اضافہ

سپری نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2018 میں عالمی سطح پر ذخیرہ کردہ جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں 4 فیصد کمی دیکھی گئی۔ 2018 کے آغاز میں جوہری طاقتیں کہلانےوالے ممالک کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاروں اور وار ہیڈز کی تعداد 13ہزار 865 تھی جو 2017 کے مقابلے تقریباً 600 کم تھی۔  تاہم جن ریاستوں کے پاس جوہری ہتھیار ہیں انہوں نے اپنے اسلحے کو جدید تر بنانے کے لیے خرچ کی جانے والی رقم میں اضافہ کردیا۔

90 فیصد جوہری ہتھیار امریکا اور روس کے پاس

اس رپورٹ میں سپری نے جن 9 ممالک کے پاس جوہری ہتھیاروں کی موجودگی تسلیم کی ہے ان میں امریکا، روس،برطانیہ، فرانس، چین، بھارت، پاکستان، اسرائیل اورشمالی کوریا شامل ہیں۔ جب کہ دنیا بھر میں موجود جوہری ہتھیاروں کا تقریباً 90 فیصد صرف دو ممالک امریکا اور روس کے پاس ہے۔

اس وقت ایسے جوہری وار ہیڈزکی مجموعی تعداد بھی تقریباً 2000 بنتی ہے جنہیں ان 9 ممالک نے کسی بھی وقت استعمال کے لیے مکمل تیاری کی حالت میں رکھا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سال جنوری تک امریکا کے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کی تعداد 6 ہزار 185 اورروس کے پاس 6 ہزار 500 ہے۔

پاکستان اور بھارت کے پاس جوہری ہتھیاروں کی تعداد

سپری کی رپورٹ کے مطابق 2018 میں پاکستان اور بھارت نے اپنے اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافے کا رجحان جاری رکھا۔ اس کے علاوہ یہ دونوں حریف جوہری طاقتیں ان ایٹمی مادوں کی مدد سے آئندہ 10 سے لے کر 15 برس کے درمیان اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ کرسکتی ہیں۔ اس ادارے کا اندزہ ہے کہ بھارت کے پاس اس وقت 130 اور 140 کے درمیان جوہری وار ہیڈز موجود ہیں اور پاکستان کے پاس موجود وار ہیڈز کی تعداد 150 اور 160 کے درمیان ہے۔

محسن خان کی درخواست منظور، کرکٹ کمیٹی کی سربراہی سے دستبردار

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سابق ٹیسٹ کرکٹر محسن خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیںکرکٹ کمیٹی کی سربراہی سے دستبردار ہو گئے۔

پی سی بی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق محسن حسن خان نے پی سی بی چیئرمین احسان مانی سے ملاقات کے دوران درخواست کی تھی کہ انہیں بحیثیت سربراہ کرکٹ کمیٹی کے عہدے سے فارغ کیا جائے، جسے چیئرمین پی سی بی نے منظور کرلیا۔

احسان مانی کا کہنا تھا کہ محسن خان جیسی صلاحیت کے حامل شخص کو جانے دینا ہمیشہ بہت مشکل فیصلہ ہوتا ہے لیکن ہم ان کے اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کرکٹ کے لیے محسن خان کی خدمات کے مشکور ہیں اور ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔

پی سی بی کی پریس ریلیز میں محسن حسن خان کے بیان کو بھی شامل کیا گیا جس میں سابق ٹیسٹ کرکٹر کا کہنا تھا کہ ‘میں کرکٹ کمیٹی کی سربراہی دینے پر چیئرمین پی سی بی کا مشکور ہوں، میں اپنے ماضی کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے بورڈ میں ‘مناسب پوزیشن’ پر کام کرنے کے لیے بھی دستیاب ہوں۔

پی سی بی کی پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا کہ ‘کرکٹ ورلڈکپ 2019 کے اختتام کے بعد بورڈ کرکٹ ٹیم کی گذشتہ 3 سال کی کارکردگی کا جائزہ لے گا’۔

علاوہ ازیں یہ بھی بتایا گیا کہ پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی کی سربراہی کا چارج مینیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کو دے دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر میں پی سی بی نے 7 رکنی کرکٹ کمیٹی تشکیل دی تھی اور محسن خان کو اس کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

محسن خان کے ساتھ اس کمیٹی میں وسیم اکرم، مصباح الحق، مدثر نذر، ہارون رشید، زاکر خان اور عروج ممتاز کو شامل کیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی اجلاس، اپوزیشن نے وفاقی بجٹ مسترد کردیا

 اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں اجلاس جاری ہے جس میں اپوزیشن نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرکے حکومت سے دوبارہ بجٹ پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا آغاز ہوا تو چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آصف زرداری، سعد رفیق، علی وزیر اور محسن داوڑ کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ  ہم روز پروڈکشن آرڈرز کا مطالبہ کرتے ہیں، اسپیکر کی کرسی سے ہماری توقعات پوری نہیں ہورہی ہیں، آپ اسیر ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کریں۔

پارلیمنٹ میں سابق مصری صدر محمد مرسی کیلئے دعا اور فاتحہ خوانی بھی کرائی گئی۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ عوام دشمن بجٹ کو فی الفور رد کرتے ہیں، بجٹ ظلم کی تلوار ہے جو عام آدمی کی گردن کاٹنے کے لیے آیا ہے اور عوام کے لیے صرف مایوسی کا پیغام لے کر آیا ہے، حکومت تو چار ہزار ارب اکٹھے نہیں کرسکی، بتائیں ٹیکس کی مد میں 5555 ارب روپے کیسے اکٹھے کریں گے، آئی ایم ایف کے پاس جا کر عمران خان قوم کو خودکشی کے قریب لے گئے ہیں، آئی ایم ایف بجٹ سے غربت اس حد تک بڑھتی نظر آرہی ہے کہ کہیں خونی انقلاب ہی نہ آجائے۔

شہباز شریف نے بجٹ ترامیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بجٹ واپس لے کر عوامی خواہشات کی عکاسی کرنے والا بجٹ دوبارہ پیش کرے، مزدور کی کم از کم تنخواہ 20 ہزار روپے کی جائے، 16 گریڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے، ایک لاکھ ماہانہ تنخواہ والے صارفین کو ٹیکس استثنا دیا جائے، بجلی و گیس کی قیمتوں کو دوبارہ مئی 2018 کی سطح پر واپس لایا جائے، گھی اور تیل پر عائد ٹیکس کو واپس لیا جائے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ادویات کی مفت فراہمی یقینی بنایا جائے، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف) کو پورے پاکستان میں پھیلایا جائے، برآمدات کو زیرو ریٹ کیاجائے، ٹیکس ریفنڈ کا سہل نظام بنایا جائے۔ اس موقع پر شہباز شریف نے چیئرمین نیب کے ویڈیو اسکینڈل معاملے پر کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی دہرایا۔

اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے حکومت کو میثاق معیشت کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سے چارٹر آف اکانومی کیلئے تیار ہیں، عمران خان الزام تراشی چھوڑ کر ملکی ترقی کی بات کریں، وزیراعظم ملکی ترقی کے لیے ایک قدم بڑھائیں گے تو اپوزیشن دو قدم آگے بڑھائے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ 4 دن ہاؤس کا وقت ضائع کیا گیا، بجٹ سیشن اہم ترین موقع ہے، ایوان میں موجود لوگ عوام سے ووٹ لے کر آئے ہیں لہذا اسپیکر قومی اسمبلی کےکندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے، کل بھی آپ سے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کی درخواست کی تھی، آصف زرداری، سعد رفیق اور محسن داوڑ ایوان کے ممبر ہیں، ان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے جائیں۔ اپوزیشن لیڈر نے تقریبا ڈھائی گھنٹے میں اپنی بجٹ تقریر مکمل کی۔

وزیر توانائی عمر ایوب نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ توقع نہیں تھی شہبازشریف اپنی ہی پارٹی پر خودکش حملہ کریں گے، شہبازشریف نے اپنی پارٹی پر خود کش حملہ شاید پارٹی کے اندرونی اختلافات کے باعث کیا، ملکی معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پاک فوج کے افسر و جوان نے 178 ارب روپے کی کٹوتی کی ہے، بنی گالہ گھر کی باڑ ہماری پارٹی نے لگوائی ہے، بنی گالہ سڑک اپنے پیسوں سے مرمت کروائی ہے، وزیر اعظم اپنے گھر میں رہتے ہیں بلز خود ادا کرتے ہیں۔

عمر ایوب خان نے کہا کہ ہم 5500ارب ریونیو اکٹھا کرکے دکھائیں گے، دس سال میں دو پارٹیوں نے ملک کو 24ہزارارب کا مقروض بنا دیا، اس سال تین ہزار ارب روپیہ صرف سود کی مد میں دیں گے، مسلم لیگ ن نے ڈالر کو مصنوعی طور پر سہارا دیے رکھا جس کیلئے24ارب ڈالرضائع کیے گئے۔

وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ شہباز شریف نے میرے صوبے کے بارے میں غلط اعداد و شمار دیئے، انہوں نے کہا تھا بڑے دل کے ساتھ بیٹھ کر جواب سنیں گے، لیکن لگتا ہے شہباز شریف کا دل چھوٹا ہے جو بات سننے کے لیئے نہیں رکے، جب وہ یہاں ہوں گے تو صحیح اعداد و شمار ان کے سامنے لاؤں گا۔

رکن جماعت اسلامی مولانا عبد الاکبر چترالی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کا بہت بڑا حصہ سود میں جارہا ہے، جب تک پوری قوم اور حکومت سود چلاتی رہے گی، اللہ اور رسول ﷺ سے جنگ جاری رہے گی، اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ جاری رکھ کر ہم کون سی ریاست مدینہ بنانے چلے ہیں، بتایا جائے اب سود اور ریاست مدینہ ساتھ ساتھ چلیں گے، ہم معاشی طور پر کیسے مضبوط ہوسکتے ہیں جب ہم نسل درنسل سود میں پھنستے چلے جارہے ہیں، ملکی معیشت کو سود سے نجات دلائیں گے تو ہی معیشت درست ہوگی۔

اپوزیشن سے پارلیمانی آداب ملحوظ رکھنے کا معاہدہ ، حکومت بجٹ منظور کرالے گی

وزیراعظم پاکستان نے ایک مرتبہ پھر عزم مصمم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بجٹ پاس کرا لیں گے ، وزراء کسی قسم کی ٹینشن نہ لیں ، کپتان کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ جس بات پر ڈٹ جاتا ہے اگر وہ ناممکن ہوتو بھی وہ اسے ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی خوبی کے تحت انہوں نے کہاکہ ہم بجٹ پاس کرالیں گے، اپوزیشن کی کسی بھی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے جبکہ بلاول بھٹو زرداری ، شہباز شریف اور فضل الرحمن کی ملاقاتوں میں بجٹ کے پاس ہونے کو رکوانے کیلئے باقاعدہ کمیٹی کا اعلان گیا ہے یہ اب اپوزیشن کی تمام جماعتوں اور حکومت کی اتحادی جماعتوں سے بھی رابطہ کرے گی، بی این پی اختر مینگل سے پہلے ہی فضل الرحمن کی ملاقات ہوچکی ہے، ادھر حکومت نے نعیم الحق کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ بجٹ پاس کرانے کیلئے سیاسی جماعتوں سے رابطے کریں ۔ گزشتہ روز ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کابینہ ارکان کو بجٹ منظوری کی ٹینشن نہ لینے اور اپوزیشن کی کسی بلیک میلنگ میں نہ آنے کی ہدایت کی ہے،گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں حکومت نے اپوزیشن سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی تیار کی ۔ وزیراعظم نے تمام وزرا ء کو اپوزیشن کی زبان میں ہی جواب دینے کی ہدایت کی اور کہاکہ کابینہ ارکان بجٹ منظوری کی ٹینشن نہ لیں ، بجٹ ہم منظور کرالیں گے ۔ وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ ارکان کسی بلیک میلنگ میں نہ آئیں ، اپوزیشن آپ کو کسی جگہ بولنے نہیں دیتی تو آپ بھی بولنے نہ دیں ، اپنے موقف سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں ، اسمبلی کے ساتھ میڈیا پر بھی اپنے بیانیے پر قائم رہیں اور بھرپور جواب دیں ۔ اگر اپوزیشن احتجاج کرناچاہتی ہے تو 100 دفعہ کرے لیکن عوام کی زندگی میں خلل ڈالا گیا تو قانون حرکت میں آئے گا ۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ اجلاس میں احتساب کے حوالے اہم پیشرفت ہوئی،ماضی کے وزرائے اعظم چادر سے زیادہ پاؤں پھیلاتے رہے،وزیراعظم چاہتے ہیں قوم مشکل وقت میں ساتھ دے،وزیراعظم نے اپنے اخراجات کم کیے،ماضی کے وزیراعظم نے 2014-15 میں 86کروڑ کا بجٹ استعمال کیا، وزیراعظم عمران خان نے کفایت شعاری کی مہم اپنے آپ سے شروع کی،وزیراعظم ہاوَس کے گزشتہ دور کے 28کروڑ کے بجلی کے بل ہم ادا کررہے ہیں ،شہباز شریف نے 45ارب روپے صرف ذاتی تشہیر پر پنجاب میں خرچ کئے ، مختلف کیمپ آفسز پر اخراجات کی تفصیلات دیکھیں ، وہ قوم کو زہر کے ٹیکے لگا کر گئے ، پنجاب حکومت تنکا تنکا اکٹھا کر کے ان کی عیاشیوں کی قیمت ادا کر رہی ہے ،نوازشریف سرکاری جہاز پر امریکہ گئے تو ان کی بیٹی اور نواسی بھی گئی ،کئی بار بچے ،بغیر وزیراعظم کے اس جہاز سے لطف اندوز ہوتے رہے ، پوری قوم نے دیکھا ماضی کے وزیراعظم اپنی نواسی کے ساتھ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں موجود تھے ، ہمارے وزیراعظم کوئی وی آئی پی ٹریٹمنٹ نہیں لے رہے ۔ وزیراعظم اور ان کا خاندان کوئی ذاتی سہولیات نہیں لے رہا،کرپشن کے کیسز میں اندر ہونیوالے سیاسی قیدی نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد ہیں ،کرپشن اور منی لانڈرنگ کرنیوالے چوری کرکے سینہ زوری کررہے ہیں ۔ اسمبلی کو سب جیل قرار دینا پارلیمنٹ کی توہین ہے، اسمبلی کو فرد واحد کی خواہش پر سب جیل قرار دے دیا گیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان ستمبر میں جنرل اسمبلی اجلاس میں جائیں گے جہاں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بھی ان کے ہمراہ ہوں گے کابینہ نے حسین اصغر کو انکوائری کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کی منظوری دی،ڈپٹی چیئرمین نیب حسین اصغرانکوائری کمیشن کے سربراہ ہونگے،وفاقی کابینہ کے سامنے انکوائری کمیشن کے قیام کا معاملہ رکھا گیا ۔ ستمبر 2018 میں پاکستان پر 30 ہزار 875 ارب روپے قرضہ ہوگیا،2008 میں پاکستان پر 6 ہزار 690 ارب روپے قرضہ تھا ۔ ا دھر وزیراعظم عمران خان نے قومی ترقیاتی کونسل کی بھی منظوری دیدی ہے جس کے آرمی چیف بھی رکن ہوں گے ۔ یہ کونسل ملکی معیشت کی بہتری، ترقی اور علاقائی روابط کو فروغ دینے میں اہم کردارادا کرے گی ۔ 13 رکنی نیشنل ڈویلمپنٹ کونسل کی تشکیل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے، کونسل کے سربراہ وزیراعظم خود ہوں گے جبکہ وزیر خارجہ ، وزیر منصوبہ بندی، مشیر خزانہ اور مشیر تجارت بھی اس کے ارکان میں شامل ہوں گے ۔ ابتدائی طورپر کونسل کے چار ٹی او آرز جاری کیے گئے ہیں کہ ملک کو کیسے ترقی دینی ہے ، حکمت عملی کیا ہونی چاہیے، معاشی ترقی کی شرح کیسے بڑھائی جاسکتی ہے، قومی و علاقائی روابط کیلئے دیرپا منصوبہ بندی کیا ہونی چاہیے اور علاقائی تعاون کیلئے کیا گائیڈ لائنز ہوں ۔ کونسل وزیراعظم کے آفس میں کام کرے گی، سیکرٹری وزیراعظم ، سیکرٹری خارجہ ، سیکرٹری خزانہ اور منصوبہ بندی بھی کونسل کے ارکان میں شامل ہوں گے ، وزیراعظم آزاد کشمیر، چارں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ کو بھی دعوت پر اجلاس میں شریک کیا جاسکے گا ۔ ٹی او آرز نے ضرورت اور وقت کے تحت تبدیلی بھی کی جاسکتی ہے ۔ وزیراعظم کا یہ اقدام قابل ستائش ہے کیونکہ اس کے قیام سے ملکی معاشی ترقی اور دیگر مسائل حل کرنے میں براہ راست مدد مل سکتی ہے ۔ چونکہ سربراہ وزیراعظم ہی ہوں گے اس وجہ سے جو بھی مسائل ہوئے وہ وزیراعظم کے نوٹس میں براہ راست آئیں گے لہذا امید واثق یہی کی جارہی ہے کہ اس کے بہترین نتاءج برآمد ہوں گے ۔ نیز اس میں آرمی چیف کا رکن ہونا بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور وزیراعظم کی جانب سے یہ فیصلہ ان کی دوررس نتاءج پر حامل نظر سے متعلق ہے کیونکہ جب بھی کسی سربراہ کا کپتان کی مستقبل پر نظر ہو تو حال اس کا خودبخود درست ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ ادھر وزیراعظم عمران خان سے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے بھی ملاقات کی، ملاقات میں اہم معاملات زیر غور آئے ، فیض حمید کے عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم سے یہ ان کی پہلی ملاقات ہے ۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے مطابق پی پی، ن لیگ کے ساتھ پارلیمانی آداب محلوظ رکھنے کا معاہدہ طے پاگیا ہے، معاملات وزیراعظم کی منظوری سے طے پائے ہیں ، پہلے شہباز شریف خطاب کریں گے پھر اس کے بعد حکومت کی باری آئے گی اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حکومت بجٹ پاس کرانے میں کامیاب ہو جائے گی ۔

آرمی چیف کا این ڈی یو میں خطاب

پاک فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ خطرات سے نبردآزما ہونے کیلئے قومی سطح پر مشترکہ جواب کی ضرورت ہوتی ہے، یہ بات بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے، ملکی استحکام اور امن و امان میں پاک فوج کا ایک انتہائی کلیدی کردار ہے ۔ آرمی چیف آف اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج وطن کے دفاع کے لئے مکمل طور پر تیار ہے، خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ جواب کی ضرورت ہوتی ہے، پاک فوج دفاع اور سیکیورٹی کے امور قومی تعاون سے انجام دیتی رہے گی ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے مطابق آرمی چیف آف اسٹاف نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ کیا ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج دفاع اور سیکیورٹی کے امور قومی تعاون سے انجام دیتی رہے گی ۔ فوج دیگر ریاستی اداروں سے مل کر قومی ردعمل دینے کے لیے مکمل طور پر تیارہے، خطرات سے نبردآزما ہو نے کیلئے قومی سطح پرجواب کی ضرورت ہوتی ہے ۔

گیدڑ بھبکیاں دینے والے بجٹ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد: معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ گیدڑ بھبکیاں دینے والے بجٹ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ شہبازشریف نے ڈھائی گھنٹے تقریر کی جو 3 دن سے چل رہی تھی، جس کو کمر میں تکلیف ہو وہ ڈھائی گھنٹے قوم کو لیکچر نہیں دیتے، قوم کو مبارکباد کہ شہبازشریف صحت یاب ہوگئے ہیں، شہبازشریف نے آج پھر اپنی تشہیر کا آغاز کیا ہے۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو چور دروازوں سے آنے والے مشن سے نہیں ہٹا سکتے، بجٹ قومی سلامتی اور ملکی دفاع کا ضامن ہے، گیدڑ بھبکیاں دینے والے بجٹ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ غنڈہ گردی سے نہیں آئینی طریقے سے اپوزیشن ترامیم لائے، قبول کریں گے جب کہ بجٹ سے ناطہ توڑنا عوام سے ناطہ توڑنے کے مترادف ہے۔

ڈالر سے جان چھڑانی ضروری ہے

یہ حقیقت ہے کہ ڈالر کی بلند پروازنے ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ عوام کی زندگیوں کو بھی اجیرن کردیا ہے ۔ گو کہ حکومت نے زیادہ منافع کے حصول کےلئے ڈالر ذخیرہ کرنے والوں کو سزا کی دھمکی کے باعث ڈالر کی روزبروز بڑھتی ہوئی قیمت کو روکنا ممکن ہوا ہے ۔ معیشت کو مستحکم بنانے کےلئے حکومت کو مزید موَثر اور بروقت اقدامات کرنے ہوں گے ۔ تبھی ہم معاشی و اقتصادی بحران سے بخوبی نکلنے کے قابل ہو سکیں گے ۔ ہمارے ہاں جب بھی سیاسی، اقتصادی یا معاشی طور پر غیرمعمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو امرا ء اور سرمایہ دار طبقہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا ۔ ڈالر کی چوربازاری اور دھڑا دھڑ خریداری کر کے وہ اپنے آپ کو تو مستحکم کر لیتے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ ایسا کرنے سے ملک کتنا کمزور ہوجاتا ہے ۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا ۔ ڈالر کی قلت کے بعد اس کی قیمت میں اضافہ ہونا ہی تھا ۔ پھر روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے بھی ڈالر کی قیمت میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ۔ زرمبادلہ کے ذخائر گھٹ گئے ۔ غیرملکی قرضوں میں بیٹھے بٹھائے بے تحاشہ اضافہ ہو گیا ۔ ان حالات میں بالآخر حکومت کو ہی الیکشن لینا پڑا تو ڈالر کی قیمت میں کمی ممکن ہو سکی ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے بے لگام عناصر کو بھی لگام ڈالے جو ملک و قوم کے مفاد سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات کو عزیز رکھتے ہیں تاکہ کسی معاشی بحران میں یہ لوگ مزید اضافے کا باعث نہ بن سکیں ۔ اصل میں ہم تیل، ایل این جی، کھانے کی اشیاء ، زرعی اشیاء ، کوکنگ آئل سمیت کئی چیزیں درآمد کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ سی پیک کے پروجیکٹس کے حوالے سے مشینریاں بھی درآمد کی جارہی ہیں ۔ اس وجہ سے ڈالر کی قدر میں اضافہ قدرتی تھا ۔ اگر ہم نے اپنے امپورٹ بل کو کم کرنے کی کوشش نہیں کی اور برآمدات کو نہیں بڑھایا تو صورتحال ایسی ہی رہے گی ۔ اس سے بچنے کےلئے بیرونی سرمایہ کاری ملک میں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے ہماری برآمدات بڑھ سکتی ہیں ۔ بڑے ممالک اگر اپنی صنعتیں یہاں لگاتے ہیں ، ہمارے سرمایہ کار اپنی مسابقانہ صلاحیت بڑھاتے ہیں اور اگر ہم زیادہ مصنوعات ایکسپورٹ کرتے ہیں تو یقیناً اس سے ہم کو فائدہ ہوگا اور ہمارا تجارتی خسارہ کم ہوگا، جس سے ہماری کرنسی بھی مضبوط ہو سکتی ہے ۔ جب دو ہزار آٹھ میں سرمایہ دار ممالک میں بحران آیا تو انہوں نے فری مارکیٹ اور آزاد تجارت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کئی اداروں اور بینکوں کو قومی ملکیت میں لیا ۔ تو ہم بھی وقتی طور پر ایسا کر سکتے ہیں اور آئندہ ایسی پالیسیاں بنائیں جو ملکی معیشت اور ملک کے لئے بہتر ہوں نہ کہ کچھ مالیاتی اداروں کے لئے ۔ اس کےلئے ہ میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کو خصوصی اختیارات دینے ہوں گے کہ وہ ڈالر کے کاروبار میں ضامن کا کردار ادا کرے ۔ پرائیویٹ کمپنیوں کی بجائے ڈالر سٹیٹ بنک جاری کرے ۔ جس سے ڈالر کی آزادانہ خرید و فروخت ختم ہو جائے گی ۔ اگر کسی شخص کو ڈالر کی ضرورت ہو تو سٹیٹ بنک ہی اس کی ضرورت کے مطابق اسے ڈالر فراہم کرے ۔ یوں زرمبادلہ کے ذخائر بھی کم نہیں ہوں گے اور بحران بھی نہ پیدا ہوگا ۔ عوام کو ڈالر کا بائیکاٹ کر دینا چاہیے ۔ ایک وقت تھا جب برطانوی سامراج دنیا میں طاقت کی علامت تھا ۔ اسی لیے 20ویں صدی کے آغاز تک دنیا میں سکہ راءج الوقت یا یوں سمجھیں کہ دنیا کی طاقتور ترین کرنسی برطانوی پاوَنڈ تھی ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک طرف تو یورپی معیشتیں تباہ ہو چکی تھیں اور دوسری جانب امریکہ مغرب میں بڑی عالمی طاقت بن کر ابھرا اور امریکی ڈالر دنیا کی ریزروو کرنسی بن کے سامنے آیا ۔ دنیا میں کوئی ایسا قانون نہیں ہے جس کے تحت دو ممالک کے درمیان لین دین کا ڈالر میں ہونا ضروری ہو ۔ اگر پاکستان اور چین آج طے کر لیں کہ وہ چینی کرنسی یوآن میں ایک دوسرے سے لین دین اور تجارت کریں گے تو ان دو خود مختار ریاستوں کو کوئی روک نہیں سکتا ۔ ماضی میں کئی مرتبہ ایسی کوششیں ہو چکی ہیں کہ لین دین اور تجارت کرنے کےلئے ڈالر کا استعمال ترک کر دیا جائے ۔ تو اس صورت میں یہ لازم ہوگا کہ آپ دنیا کے ہر ملک کے ساتھ الگ الگ تجارتی معاہدہ کریں ۔ اسی طرح ہم ڈالر سے پیچھا چھڑا سکتے ہیں ۔ موجودہ صورتحال میں ہ میں اپنے دوست ملک ترکی کی طرح ڈالربائیکاٹ مہم کیلئے متحد ہونا ہوگا اور ملک اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم ڈالرکے بدلے پاکستانی روپے کوترجیح دیں اوراسے قومی تحریک بنانا ہوگا ۔ جن کے پاس گھروں میں ڈالرموجود ہے وہ باہر لائیں اور ملک کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو بچانے میں اہم کردار ادا کریں ۔ اب ڈالرگراوَ اورپاکستانی روپے کواٹھاوَکا نعرہ لگانے کا وقت آگیا ہے ۔ نفع کیلئے ڈالرخریدنا ملک کیساتھ بے وفائی ہے ۔ پاکستان اس وقت مشکل ترین معاشی بحران کا شکارہے ہم سب کوڈالر بائیکاٹ مہم میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینا چاہیے ۔ بحیثیت پاکستانی ہ میں چاہیے کہ کچھ عرصہ کےلئے ڈالرز کی خریدو فروخت بند کر دیں ۔ پاکستان اسوقت مشکل ترین معاشی بحران کا شکار ہے اور اس مشکل وقت میں ڈالر کی خریدوفروخت صرف اور صرف اس لئے کی جائے کہ اسکو بیچ کر کاروبار کی غرض سے منافع کمانا مقصود ہو تو یہ ملک پاکستان سے غداری کے مترادف ہے ۔ غیر ملکی کرنسی ایکسچینج ڈیلرز صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں انکو روکا جائے ۔ ہم سب کواس سلسلے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے ۔ ڈالر کا بائیکاٹ کرنا ہے اور پاکستان روپے کی قدر کو بڑھانا ہو گا ۔

Google Analytics Alternative