Home » Author Archives: Admin (page 19)

Author Archives: Admin

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا سدرن کمانڈ کوئٹہ کا دورہ

کوئٹہ: پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سدرن کمانڈ ہیڈ کوارٹرز کوئٹہ کا دورہ کیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے سدرن کمانڈ ہیڈ کوارٹر ز کوئٹہ کا دورہ کیا، آرمی چیف کوخوشحال بلوچستان پروگرام کے تحت شروع کئے گئے منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ نے  امن وامان برقرار رکھنے کےلیے پاک فوج کے اقدامات کو سراہا اور دیگرقانون نافذ کرنے والےاداروں کے اقدامات کی بھی تعریف کی۔ آرمی چیف  نے وزیراعلی بلوچستان کے ہمراہ نسٹ کوئٹہ کیمپس کا افتتاح بھی کیا۔

نجی اسکولز نے فیسوں میں غیرقانونی اضافہ کیا تو سخت کارروائی ہوگی، وفاقی وزیرتعلیم

اسلام آباد: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی پرائیوٹ اسکول نے فیس سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف بڑھائی تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کے خلاف زیادہ شکایات آرہی ہیں کہ وہ فیسوں میں 5 فیصد سے زیادہ غیرقانونی اضافہ کررہے ہیں، نجی اسکولوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق فیسیں بڑھائیں۔

وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ پرائیوٹ اسکول انتظامیہ اپنے اختیارات سے تجاوزنہ کرے ، اگر کسی بھی پرائیوٹ اسکول میں فیس سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف بڑھائی گئی تو سخت ایکشن ہوگا۔

شفقت محمود نے مزید کہا کہ میں نے تمام صوبائی حکومتوں سے رابطہ کیا ہے کہ اپنے اختیارات کے مطابق اس معاملے کو کنٹرول کریں، جو بھی والدین اس حوالے سے احتجاج کررہے ہیں ان سے مذاکرات کئے جائیں۔

صدرمملکت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب، عالمی برادری کیلئے واضح پیغام

صدر مملکت عارف علوی نے واضح طورپر کہا ہے کہ کشمیریوں کی نسل کشی برداشت نہیں کریں گے، بھارتی حکمران حالات اس نہج پر نہ لے کر جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو اور نہ ہی ہماری امن کی خواہش کو کمزوری سمجھا جائے، مسئلہ کشمیر نہ حل ہوا تو عالمی امن کیلئے شدید خطرات لاحق ہوں گے، اقوام متحدہ کو مقبوضہ وادی میں اپنے مبصرین بھیجنے چاہئیں ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت نے کہاکہ کشمیریوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔ پارلیمنٹ سے خطاب پاکستان کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دوٹوک موقف ہے، عالمی دنیا اگر اس سلسلے میں اب بھی آنکھیں نہیں کھولتی تو پھر اس کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا ۔ پاکستان ہر فورم پر آواز اٹھارہا ہے، ہر موقع پر باور کرانے کی کوشش کررہا ہے کہ مسئلہ کشمیر دراصل آتش فشاں ہے جس کے پھٹنے سے یہ خطہ ہی نہیں پوری دنیا بھسم ہو جائے گی لیکن شاید دنیا نے اپنے مفادات کو مقدم رکھا ہے ۔ سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ مفادات تب تک مفادات ہوتے ہیں جب ان سے فائدہ اٹھانے والے موجود رہیں ۔ اگر خدانخواستہ بھارتی ہٹ دھرمیوں کے باعث دنیا نیست و نابود ہوتی ہے تو پھر کونسے مفاد، کونسی تجارت اور کونسے تعلقات،ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ہم بھارتی حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لیں ۔ ملکی معاشی حالت کے حوالے سے کہاکہ وطن عزیز اس وقت تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے حکومت کو کرنٹ اکاءونٹ اور بجٹ خسارہ اور گردشی قرضے ورثے میں ملے سابقہ حکمرانوں نے کرپشن کا بازارگرم کرکے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاملکی خزانے اور وسائل کو لوٹنے والوں کا احتساب جاری ہے ہم نے پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا ہےمدینہ جیسی فلاحی ریاست کا قیام اسی وقت ممکن ہے جب قوم کا ہر فرد ریاست کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالے ۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ نہ صرف دونوں ممالک کیلئے فائدہ مند ہے بلکہ اس کی تکمیل سے خطے کا مستقبل بھی تابناک ہو گا اپنی قابل فخر اور بہادر افواج کو سلام پیش کرتا ہوں پوری قوم وطن عزیز کے دفاع اور سلامتی کے لیے پاکستان کی قابل فخر اور بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں کمی کی طرف توجہ مرکوز کی جائے آبادی میں تیز تر اضافہ ایک سنگین اور فوری توجہ طلب مسئلہ ہے ادارہ جاتی اصلاحات کے عمل کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ۔ معاشرے کی اصلاح کےلئے مسجد و منبر رسولﷺ بہترین فورم ہےوطن عزیز کا مستقبل صرف جمہوریت سے وابستہ ہے پائیدار ترقیاتی اہداف کا حصول اور عام آدمی تک ان کے ثمرات کو پہنچانا ہمارا قومی فریضہ ہے دوسروں کی جنگ لڑنا ہماراسب سے بڑاغلط فیصلہ تھا ہر فیصلہ کرتے ہوئے ہ میں ملکی مفاد کو مقدم رکھناہوگا ۔ حکومت سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک جامع اور موثر پالیسی وضع کرے ۔ بھارت نے اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات سے نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ شملہ معاہدے کی روح کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے ۔ یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ 50 سال بعد مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ِزیربحث لایا گیا مسئلہ کشمیر پر دہائیوں بعد سلامتی کونسل کے اجلاس میں گفت وشنیداس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی تصفیہ طلب مسئلہ ہے جس کے حل کےلئے عالمی برادری خصوصا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ یہ مسئلہ علاقائی و عالمی امن کے لئے شدید خطرے کا سبب بن سکتا ہے ۔ پاکستان امریکا کی مقبوضہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل کےلئے ثالثی کی ہر کوشش کا خیرمقدم کرے گا ۔ 9 لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی کی وجہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ تعداد کا حامل فوجی علاقہ ہے بھارت جابرانہ ہتھکنڈے استعمال کرکے کشمیریوں کی آواز سلب نہیں کر سکتا ۔ آج بھارت کی سیکولرازم اور جمہوریت آر ایس ایس کی جنونیت کی نذر ہو رہی ہے ۔ بھارت کو ہندو نسل پرست نظریے اور فاشسٹ سوچ کے حامل لوگوں نے ایسے یرغمال بنایا ہے جیسے نازیوں اور نازی ازم نے جرمنی کو بنایا تھا ۔ آج اگر دنیا نے کشمیر میں ممکنہ نسل کشی کا نوٹس نہ لیا تو مجھے ڈر ہے کہ عالمی امن ایک بہت بڑے بحران کا شکار ہوجائے گا ۔ پوری پاکستانی قوم اس وقت تک ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مددکرتی رہے گی جب تک انہیں حق خودارادیت نہیں مل جاتا ۔ بھارت کی غیر ذمہ دارانہ اور جارجانہ کارروائیوں سے جنوبی ایشیا میں امن، سلامتی اور استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہے ۔ بھارت ہمیشہ پاکستان کے اندر تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہا اور وطن عزیز میں دہشت گردی کی سرپرستی کرتا رہا ۔ اس کی ایک مثال کمانڈر کلبھوشن یادیوکی گرفتاری کی صورت میں سامنے آئی ۔ دنیا کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ بھارت پر آج ہندو انتہاپسندانہ سوچ نے اپنا غلبہ قائم کر لیا ہے ۔ دنیا کو ان فاشسٹ پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کرنی ہوگی ۔ یہ بات اہم ہے کہ پچھلے مالیاتی سال کی نسبت درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کی وجہ سے کرنٹ اکاونٹ خسارے میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے اور ہمارے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بھی بڑھے ہیں ۔ اب پائیدار ترقیاتی اہداف کا حصول اور عام آدمی تک ان کے ثمرات کو پہنچانا ہمارا قومی فریضہ ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت معیشت سے وابستہ تمام کاروبار کی دستاویز بندی کر کے حکومتی دائرہ اختیار میں لائے اور اسمگلنگ کی لعنت کا قلع قمع کرے ۔ گزشتہ ادوار میں ذاتی مفادات کی جنگ میں کرپشن کا بازار گرم رہا اور غیر منصفانہ فیصلے کیے گئے ۔ احتساب کے اصول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکمرانوں نے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ۔ یہی وجہ ہے کہ معیشت کو جدید اصولوں پر استوار نہیں کیا جا سکا اور اس کا ایک بڑا حصہ کالے دھن کی نذر ہوگیا جس کے اثرات کا ہم آج تک خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔ ان بے شمار چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت کوبجٹ میں مشکل فیصلے کرنے پڑے ۔ ٹیکس نظام میں اصلاحات جیسے سخت اقدامات معیشت کی بہتری کے لیے اہم ہیں ۔ اس کے علاوہ میں چاہتا ہوں کہ ایف بی آر میں اصلاحات لائی جائیں اور ٹیکس گزاروں کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں ۔ میں چاہوں گا کہ ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں کرپشن کی لعنت بری طرح پھیل چکی ہے ۔ ملکی خزانے اور وسائل کو لوٹنے والوں کا احتساب جاری ہے ۔ میری حکو مت کو تاکید ہے کہ آبادی میں اضافہ روکنے پرفوری توجہ دے اور عوام میں اس سلسلے میں شعور بیدار کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے ۔ ہم نے پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا ہے ۔ صدرمملکت نے کرپشن کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی یہ ایک ایسا کینسر کی طرح موذی مرض ہے جس کو ختم کرنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے ۔ گو کہ حکومت اس جانب کام کررہی ہے مگر مزید توجہ دینی ہوگی ۔

بلاول بھٹو کا افسوسناک بیان

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بنگلہ دیش کے بعد سندھو ، سرائیکی اور پختون دیش بھی بن سکتے ہیں ، جب ملکی حالات ایسے ہوں کہ سرحد پر تناءو کسی صورت ہو ایسے میں ایک ایسی سیاسی پارٹی کی جانب سے ملک کی تقسیم کا بیان آنا کوئی خوش آئند نہیں اس کو حب الوطنی نہیں کہا جاسکتا، سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ سیاست ضرور کریں لیکن ملک کی قیمت پر نہیں ۔ یہ بات کہاں سے درست ہے کہ پاکستان کو مزید تین دیشوں میں تقسیم کرنے کا آئیڈیا دیا جائے ۔ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو بھی دیکھنا چاہیے کہ آخر ایسے بیانات کیوں آرہے ہیں ان کیخلاف بھی تادیبی کارروائی کرنا بہت ضروری ہے ۔ جہاں تک وطن کے استحکام اور اتحاد کا مسئلہ ہے تو اس سلسلے میں پوری قوم یکجان ہے اور ہماری مسلح افواج وطن کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں لیکن جب ملک کے اندر ہی سے ایسی آوازیں اٹھنا شروع ہو جائیں جبکہ مسئلہ کشمیر بھی دنیا بھر کیلئے ہاٹ ایشو بنا ہو تو ایسے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے ۔

حزب اللہ اور حزب شیطان

اللہ تعالی نے جب انسان کو پیدا کیا تو پہلے سے موجو دفرشتوں اورجنوں سے کہا کہ انسان آگے جھک جاءو ۔ فرشتے تو اللہ کے حکم کے پابند ہیں جبکہ انسان اور جنوں کو اللہ نے ارادے کی اجازت دی ہوئی ہے ۔ چاہے تو اللہ کاحکم مان کر اللہ کے فرمانبردار مخلوق بنیں ،چاہیں تو اللہ کا حکم نہ مان کر اللہ کے نافرمان بندے بنیں ۔ دوسرے لفظوں میں حزب اللہ بن جائیں یا پھر حزب شیطان بن جائیں ۔ واقعی دنیا میں انسان ان ہی دو پارٹیوں میں تقسیم چلے آرہے ہیں ۔ فرشتے تو اللہ کا حکم کو مان کر انسان کے آگے جھک گئے ۔ مگر جنوں کے سردار ابلیس;241;شیطان نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی ۔ اللہ نے ابلیس سے باز پرس کرتے ہوئے معلوم کیا ۔ کیا وجہ ہے کہ تم نے میرا حکم نہیں مانا ۔ ابلیس نے تکبر کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا جبکہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا ۔ میں انسان سے افضل ہوں ۔ اس لیے میں انسان کے آگے نہیں جھکا ۔ اللہ نے ابلیس کو کہا کہ تم بڑئی کے گھمنڈ میں پڑھ کرنافرمان ہو گیا ہے ۔ ابلیس نے اللہ سے التجا کہ تو مجھے قیامت تک قوت دے میں تیرے بندوں کو آگے سے پیچھے، دائیں سے بائیں سے تیرانافرمان بناءو ۔ اللہ نے ابلیس کو اجازت دے دی ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تو میرے نیک بندوں کو میرا نافرمان نہیں بنا سکے گا ۔ تم صرف میرے بندوں کوسبز باغ اوروسوسے ڈال کے میرے راستے سے ہٹاسکو گے ۔ کسی کو ہاتھ پکڑ کر میرے راستے سے نہیں ہٹا سکے گا ۔ جو بندے تیری بات مانیں گے، انہیں اور تم کو دوزخ میں ڈالوں گا ۔ میری دوزخ وہ ہے جس کے ایندھن پتھر اور انسان ہو نگے ۔ اللہ نے آدم;174; کے بعد حوا;174; کو پیدا کیا ۔ آدم ;174; اور حوا ;174; کو ہدایت کی کہ میری جنت میں آرام سے رہو ۔ یہاں جو چاہو کھاءو پیو ۔ مزے سے رہو، مگر فلاں درخت کو ہاتھ نہیں لگانا ۔ ورنہ تم میرے نافرمان ہو جاءو گے ۔ یاد رکھو شیطان تمہارا ازلی دشمن ہے ۔ پھر یہ ہی ہوا کہ آدم اور حوا ;174; ;174; کو رفتہ رفتہ ابلیس، اپنے ڈھنگ پر لے آیا ۔ آدم;174; کو وسوسوں میں ڈالا ، سبز باغ دکھایا اور کہا کہ اللہ نے تمہیں اس درخت کو ہاتھ لگانے سے اس لیے منع کیا ہے کہ کہیں تمہیں ہمیشہ کے لیے زندگی حاصل نہ ہوجائے ۔ آدم;174; ابلیس کے جھانسے اور سبز باغ میں آکر اس درخت کوہاتھ لگا بیٹھا ۔ اس کے بعد جو آدم;174; اور حوا;174; کواللہ کی طرف سے جو لباس ملا ہوا تھا وہ کھل گیا ۔ دونوں پریشان ہو گئے ۔ آدم ;174; اور حوا;174; جنت کے بتوں سے جسم ڈھاکنے لگے ۔ آدم ;174; نے اس کمزروری پر اللہ سے معافی مانگی ۔ اللہ نے آدم;174; کو معاف کر دیا کیونکہ اللہ اپنے بندوں کو ہمیشہ معاف کرنے والا ہے ۔ اللہ نے آدم;174; اور ابلیس کو جنت سے بے دخل کرکے زمین میں اُتار دیا ۔ کہا ، کہ تم کو اب قیامت تک اسی زمین میں رہنا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ یہ ہدایت بھی دیں کہ میرے انبیا;174; تم کو میرے ہدایات پہنچاتے رہیں گے ۔ جو کوئی بھی میرے احکامات پر عمل کرے گا وہ حز ب اللہ یعنی اللہ کی پارٹی کا اور جوبھی میرے احکامات کی نافرمانی کرے گا وہ حز ب شیطان، یعنی شیطان کی پارٹی میں شمارکیا جائے گا ۔ اللہ کا یہ نظام ازل سے ابد تک چل رہا ہے ۔ اللہ کی ہی پارٹی والے کامیاب ہو نگے اور شیطان کے پارٹی والے نامراد ہو نگے ۔ اللہ کی پارٹی والے اپنے نیک اعمال کی وجہ سے واپس جنت میں داخل ہونگے، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ شیطان کی پارٹی والے اپنے بد اعمال کی وجہ سے شیطان کے ساتھ دوزخ میں داخل ہونگے، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ ہ میں شیطان کی پارٹی سے بجائے ۔ قرآن کے اس ہی فلسفے پر دنیا میں اللہ کا نظام چلتا رہا ہے اور چل رہا ہے ۔ حق و باطل کی لڑائی ہمیشہ سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی ۔ کچھ خوش قسمت انسان اللہ کے انبیا;174; کی طرف سے آئے ہوئے اللہ کے احکامات پر عمل کرکے اپنے آپ کو جنت کا مستحق بناتے رہے ہیں ۔ کچھ بدبخت انسان اللہ کی نافرمانی کر کے اپنے آپ کو دوزخ کامستحق بناتے رہے ہیں ۔ یہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنے اپنے انجام کے انتظار میں قبروں میں مدفون ہیں ۔ ہاں اللہ جن سے راضی ہوا، ان کے چہرے جنت کے کسی باغ کے طرف کھلے ہوئے ہیں جو اللہ کے باغی ہیں ان کے چہرے دوزخ کی طرف کھلے ہوئے ہیں ۔ پھر اللہ نے اس دنیا میں اپنا آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ۔ آدم ;174; سے لے کر آج تک جتنی ہدایات اللہ نے اپنے پیغمبروں ;174; کے ذریعے انسانیت تک پہنچائیں تھیں ان سب کا نچوڑ اپنی آخری کتاب قرآن میں بیان کر دیں ۔ آخر مےں حجۃ الوادع کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اللہ کے آخری پیغمبر;248; پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ ’’ آج مےں نے تمہارےلیے تمہارا دےن مکمل کر دےا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارےلیے اسلام کو بحےثےت دےن پسند کر لےا ‘‘( المائدہ ۔ ۳) ےہ دےن کےا تھا جو مکمل کر دےا گےا ۔ یہ دین، دنےا کے انسانوں کےلئے دستور عمل تھا جس پر رہتی دنےا تک انسانوں نے عمل کرنا ہے اور ےہی اللہ کو پسند ہے ۔ ان احکامات کو آخری پیغمبر;248; نے دنیا تک پہنچایا ۔ ان احکامات کی روشنی میں آخری پیغمبر;248; نے پہلے پورے عرب کے خطہ کو شرک سے پاک کیا ۔ کیونکہ قرآن کے مطابق ا نسان کے سارے گناہ معاف ہو سکتے ہیں مگر اللہ کے ساتھ شرک کو اللہ کبھی بھی معاف نہیں کرتا ۔ پھر اللہ کے آخری پیغمبر;248; نے اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں مدینہ میں ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست قائم کی ۔ اس لیے کہ اس مثالی حکومت کو دنیا کے لیے رول ماڈل ہونا تھا ۔ مگر افسوس کہ دنیا نے اس مثالی حکومت سے فائدہ نہیں اُٹھایا اور اللہ کے احکامات کے احکامات کی مخالف حکومتیں قائم کر کے ، حزب اللہ کے بجائے حزب شیطان میں شامل ہو گئے ۔ اللہ نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے اس لیے حکومت الہیا( اسلامی نظام حکومت) میں انسان ہونے کے ناطے سب انسانوں کے حقوق برابر تھے ۔ خزانہ اللہ کی طرف سے حکمرانوں کے پاس مسلمانوں کی امانت تھا ۔ اللہ کے رسول;248; نے اس پر عمل کر کے دکھایا ۔ شام ہونے سے پہلے پہلے خزانے کے انچارج حضرت بلال حبشی;230; مدینہ کے عوام میں تقسیم کر دیا کرتے تھے ۔ اللہ کا حکم ہے کہ جب ان کو اقتدار بخشا جائے گا تو یہ صلوٰۃ کا نظام قائم کریں گے ۔ اس حکم کے مطابق صلوٰۃ کا نظام قائم تھا ۔ لوگ پانچ وقت کی نماز مسجدں میں ادا کرتے تھے ۔ نماز کو جاتے ہوئے لوگ بازاروں میں دکھانوں پر تالے نہیں ڈالتے تھے ۔ کیونکہ چوری کرنے والے کے ہاتھ کاٹ دیے جانے کا ایک نظام بھی قائم تھا ۔ جمعہ کی نماز کا بھی انتظام تھا ۔ انصاف کا یہ عالم تھا کہ رسول;248; اللہ کے سامنے ایک فاطمہ نام کی کسی بڑے قبیلہ کی خاتون کو چوری کے کیس میں پیش کیا گیا ۔ لوگوں نے کہا کہ یہ ایک بڑے قبیلہ کی خاتون ہے اس کے ہاتھ کاٹنے سے امن و امان کا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے ۔ اللہ کے رسول;248; نے کہا کہ اس کی جگہ میری بیٹی فاطمہ ;230; بھی چوری کے الزام میں پیش ہوتی تو اس کے بھی ہاتھ کاٹ ڈالتا ۔ زکوٰۃ کا نظام قائم تھا ۔ حکومت ایک نصاب کے مطابق لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرتی تھی ۔ پھر اس رقم کو قرآن میں بیان کیے اللہ کے حکم کے مطابق آٹھ مدوں میں ، حقداروں میں تقسیم کر دیا جاتا تھا ۔ ایک صاحب کو زکوٰۃ وصول کرنے پر لگایا تھا ۔ وہ زکوٰۃ وصول کر آیا اور کہا کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملے ہیں ۔ رسول;248; اللہ نے کہا کہ اگر تم حکومت کے نمائندے نہ ہوتے تو تمھیں یہ رقم تحفہ میں ملتی;238; تحفہ والی اس رقم کو زکوٰۃ میں شامل کرو ۔ انصاف کا نظام قائم تھا ۔ کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کرتا تھا ۔ لوگوں کے ڈے ٹو ڈے کے معاملات رسول;248; اللہ کے پاس پیش ہوتے تھے ۔ رسول;248; اللہ نے لوگوں سے کہا کہ اگر میں نے کسی کے ساتھ زیادتی کی ہے تو وہ مجھ بدلہ اسی دنیا میں لے لے ۔ ایک صحابی;230; نے کہا کہ آپ نے ایک دفعہ میرے نگے جسم پر کوڑا مارا تھا ۔ رسول;248; اللہ نے اپنی قمیض اُتاری اور اس سے کہا لو مجھ سے بدلہ لے لو ۔ اُس شخص نے رسول ;248;اللہ کے کاندھے پر بنے نبوت;248; کے نشان کوپیار سے چوم لیا اور کہا میں نے ایسا کرنے کےلئے یہ حرکت کی ہے ۔ باہر سے آئے وفود کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا جاتا تھا ۔ باہر ملکوں کے سفیروں سے یہیں ملاقات ہوتی تھی ۔ بیرون ملک سلطنتوں کر رسول;248; اللہ نے مسجد نبی;248; میں بیٹھ کر خطوط لکھے تھے ۔ جنگ کا اعلان بھی مسجد نبوی;248; میں ہوا کرتا تھا ۔ وہیں سے فوجوں کو جنگ لڑنے کی ہدایات دے کر روانہ کیا جاتا تھا ۔ اپنی موت سے پہلے رسول;248; اللہ نے اسامہ;230; کو ایک جنگی مہم پر فوج کا کمانڈر بنا کر روانا کرنا تھا ۔ اس فوجی دستہ میں بڑے بڑے نامی گرامی صحابہ;230;کو بھی شامل کیا تھا ۔ اللہ کا کرنا کہ رسول;248; اللہ کی وفات واقع ہو گئی ۔ حضرت ابوکر ;230; خلیفہ اوّل بنے تو لوگوں نے مشورہ دیا کہ اتنے بڑے بڑے صحابہ;230; موجود ہیں ۔ کسی نامور صحابی ;230; کو فوج کے اس دستے کا سربراہ بناءو ۔ ابوبکر ;230; نے کہا کہ جس کام کا حکم میرے نبی;248; نے دیا ہوا ہے، میں کون ہوتاہوں اسے تبدیل کرنے والا ۔ یہ تھی نبی;248; کی پیروی ۔ سچ اور حق کی گواہی کو چھپایا نہیں جاتا تھا ۔ امر بی لمعروف اور نہی المنکر کا نظم قائم تھا جس سے معاشرہ ٹھیک سمت میں چل رہا تھا ۔ جہاد فی سبیل اللہ میں خواتین بھی شامل ہوتیں تھیں ۔

دہشت گردی اور شدت پسندی میں خواتین کے کردار پر ایک نظر

خواتین کا کردار کسی بھی معاشرتی اتار چڑھاوَ میں کسی تعارف کا محتاج نہیں یہ نہ صرف گھر کی اکائی کو متاثر کرتی ہیں بلکہ بڑی بڑی تحریکوں میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ موجود دہشت گردی اور شدت پسندی میں بھی یہ خواتین کسی نہ کسی طریقے سے ملوث ہوئیں اگرچہ اس کا عملی مظاہرہ بہت ہی کم دیکھنے میں آیا تا ہم اس بات سے انکار نہیں کہ خیالات اور نظریات کی ترویج میں یہ شامل رہیں ۔ سوات میں صوفی محمد کی تحریک تھی یا فضل اللہ کا فساد انہیں خواتین نے کچھ نہ ہوسکا تو زیورات ہی کی شکل میں مالی معاوت فراہم کی ۔ داعش میں بھی خواتین کا حصہ منظر عام پر آتا رہا اور بات انہی تحریکوں تک محدودنہیں کسی بھی مذہبی یا معاشرتی تحریک میں یہ شامل ہوتی ہیں جیسا کہ ہندو شدت پسند تحریکوں میں یہ بڑی فعال ہیں لیکن ایک بات ہے کہ پاکستان میں چلنے والی دہشت گردی میں ان کا عملی حصہ نہ ہونے کے برابر ہے اور اسی انتہائی کم تناسب میں ایک ڈیرہ سماعیل خان میں ہونے والا واقعہ ہے جس میں شبہ ہے کہ برقعہ پوش بمبار عورت تھی ۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ دہشت گردی میں بڑے پیمانے پر ان کی شرکت کے کوئی شواہد موجود ہیں تاہم اس محاذ کو بھی خالی نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ ہمارے وہ علاقے جہاں دہشت گردوں کے ٹھکانے اور سہولت کار موجود ہیں ان میں تعلیم کی شرح باقی ملک کی مناسبت سے بہت کم ہے اور خواتین میں تو یہ تناسب اور بھی کم ہے لہٰذا خود علم نہ ہونے کی وجہ سے یہ سنی سنائی باتوں اور قصوں پر زیادہ یقین رکھتی ہیں ۔ انہیں ان کے علاقوں سے باہر کی دنیا کے بارے میں ایسی ایسی کہانیاں سنائی جاتی ہیں کہ ان کے خیال میں صرف وہی لوگ راہ راست پر ہیں اور نہ صرف غیرمسلم بلکہ مسلمان بھی اسلام کی تباہی کا باعث ہیں اور یوں ان کے ذہنوں میں وہ زہر بھرا جاتا ہے جو نفرت کی بنیاد بنتا ہے اور پھر یہی نفرت اور منفی نظریات و خیالات یہ عورتیں اپنی اگلی نسل کو منتقل کرتی ہیں ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہمارے معاشرے میں بحیثیت مجموعی بھی لیکن ان علاقوں میں تو خاص کر خواتین کو اپنے بارے میں بھی فیصلہ کرنے کاکوئی اختیار نہیں لہٰذا وہ دہشت گردی یا شدت پسندی کی کسی تحریک میں بھی اپنی مرضی سے شامل نہیں ہو سکتیں جب تک کہ انہیں اس کےلئے اجازت نہ دی جائے یا مجبور نہ کیا جائے ۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں عورت نہ صرف اپنے خاوند بلکہ اس کے پورے خاندان کی خدمت پر مامور اور مجبور ہے بلکہ ان کے ہر رویے کو چپ چاپ برداشت بھی کرے گی اور ان کے ہاتھوں مار اور موت کو بھی قبول کرے گی ۔ ایسی ہی ایک ادھیڑ عمر عورت جو ایک سرحدی گاؤں میں رہتی ہے کی حقیقی اور مختصر کہانی یوں ہے کہ اُس کو اُس کے پہلے خاوند نے طلاق دی، دوسرا افغانستان کے اندر جنگ میں مارا گیاتو اسے ایک گونگے اور بہرے شخص کے ساتھ بیاہ دیا گیا جہاں اُس کے دیور نے مار مار کر اُس کی پسلیاں توڑ دیں جب وقت نے زخموں کو جیسا تیسا مندمل کر دیا صحتیاب وہ پھر بھی نہیں تھی تو پورا خاندان افغانستان چلا گیا اور اپنے تمام مال مویشی اور گاؤں کے دس بیس گھروں کی رکھوالی کےلئے اُسے اپنے معذور شوہر سمیت چھوڑ دیا اور جب اُسے گاؤں چھوڑ کر علاج کےلئے باہر آنے کو کہا گیا تو اُس نے انکار کر دیا کہ اس میں مزید مار کھانے اور پسلیاں تڑوانے کی ہمت نہیں جو اُس کا خاندان واپس آکر اور اُسے گاءوں میں نہ پا کر کرے گا اب اس معاشرے میں اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کوئی عورت کیسے یہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ وہ کسی تحریک کا حصہ بن جائے ۔ ان کی کچھ ہی سہی پڑھی لکھی خواتین بھی اپنے شعور کی وجہ ایسے معاملات سے دور رہتی ہیں ۔ میں اس عنصر سے انکار نہیں کر رہی کہ خواتین کا شدت پسندی میں کوئی کردار نہیں یقینا ہے جیسا کہ میں نے شروع میں ہی کہہ دیا ہے تاہم اس چیز کو اس حد تک سمجھنا جتنا کہ اس کو ہوا دے دی جاتی ہے درست نہیں ہاں اس سے صرفِ نظر بھی نہیں کرنا چاہیے اور خواتین میں تعلیم کے ذریعے شعور بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ نہ صرف یہ کہ وہ اِن لوگوں کے ہتھے نہ چڑ ھیں بلکہ اپنی اولاد کو بھی حور وقصور کا اصل مفہوم سمجھا سکیں نہ کہ خودکشی جیسے فعل کو قبول کرکے یقینی جہنم کمائیں اگرچہ اس بات کے امکانات پھر بھی بہت کم ہیں کہ کوئی ماں اپنے لخت جگر کو یوں مرنے کے لئے بھیج دے بلکہ زیاوہ گمان یہی ہے کہ یہ لڑکے اغوا شدہ ہوتے ہیں اور یا گھر وں سے بھاگے ہوئے یا جہاد کے غلط تصور کو لے کر مختلف مدارس سے نکلے ہوئے جو خود کشی جیسے فعل پر آمادہ ہوجاتے ہیں ۔ لیکن ان تمام عوامل کے باوجود خواتین کا کردار خارج از امکا ن نہیں تاہم اسکو خوف کا اس قدر باعث نہیں بنانا چا ہیے کہ سمجھا جانے لگے کہ مستقبل میں عورتیں ہی اس مقصد کےلئے استعمال ہونگی لیکن ایک بار پھر عرض ہے کہ اس سے صرفِ نظر بھی نہیں کرنا چا ہیے بلکہ اگر ان خواتین پرہی کا م کیا جائے اور ان کو تعلیم دے کر انہیں با شعور اور با اختیار کیا جائے تو بنیادی سطح پر ایک بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ جہاں لڑکوں کے مدارس کا تجزیہ و جانچ ضروری ہے اُسی طرح لڑکیوں کے مدارس کا بھی معائنہ کیا جائے اور وہاں بھی نصاب کو صحیح اسلامی روح کے مطابق بنایا جائے اور ساتھ ہی جدید علوم کو بھی شامل نصاب کیا جائے یہاں سے اُٹھنے والی تبدیلی یقینا پورے معاشرے کو مثبت طور پر متاثر کرے گی ۔ دہشت گردی اور شدت پسندی میں خواتین کے کردار پر نہ صرف نظر رکھنی ہوگی بلکہ اس کے تدراک کابندوبست بھی کرنا ہوگا اور ایسا کرنے کےلئے ان کی درست سمت میں تعلیم، اختیار اور ساتھ ہی روزگار کا بھی بندوبست کر نا ہوگا ۔ ان ہنر مند خواتین کے ہنر کو ہی اگر اُجاگر کر دیا جائے اور انہیں اپنی اہمیت اور صلاحیت کا احساس دلوادیا جائے تو ان علاقوں میں بھی بہت بڑی تبدیلی آ سکتی ہے جو ملک میں دوسری مثبت تبدیلیوں کے ساتھ شدت پسندی کو بھی قابو کرنے میں اہم ترین کردار ادا کرے گی ۔

بلوچستان کی محرومیوں کوختم کیاجائے

بلوچستان،پاکستان کا اہم ترین صوبہ ہے ۔ پاکستان میں معدنیات کے حوالے سے اس صوبہ کی نہایت خاص حیثیت ہے ۔ جغرافیائی حوالے سے بھی اس صوبہ کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ اس کے باوجود یہ پاکستان کا سب سے پسماندہ صوبہ کیوں ہے ۔ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے اور آبادی کے لحاظ سے سب سے پہلے کم آبادی والا یہ صوبہ غربت کا شکار کیوں ہے;238; پاک فوج میں خدمات سرانجام دینے کےلئے بلوچ رجمنٹ کے نام سے اس صوبہ کی ملک کےلئے خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ لیکن بے روزگاری کا یہ عالم ہے کہ ہر دس میں سے سات لوگ بے روزگار ہیں ۔ یہ کیسا صوبہ ہے جو دوسرے صوبوں کو روزگار فراہم کرتا ہے لیکن یہاں کے عوام خود بے روزگار ہیں ۔ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اس صوبہ میں شیعہ،سنی فسادات کو ہوا دینے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے ۔ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے یہاں کے رہنے والے بھائیوں میں بلوچ اور پشتون کے نام پر دوریاں پیدا کر رکھی ہیں ۔ وہ کون لوگ ہیں جو دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ۔ وہ کون لوگ ہیں جو سرداروں اور عوام کو ایک دوسرے سے متنفر کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں ۔ یہاں کے عوام میں برابری کی بنیاد پر جینے کا طریقہ اور سلیقہ کیوں پیدا نہیں ہوتا ۔ اس صوبہ کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں ان کا حصہ اور حق کیوں نہیں ملتا ۔ اس اہم ترین صوبہ کی ترقی کےلئے مطلوبہ ترقیاتی فنڈ کیوں نہیں دیا جاتا ۔ اس صوبہ کے عوام کو تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ یہ ہیں وہ وجوہات جن کی بناء پر بیرونی طاقتیں یہاں امن قائم نہیں ہونے دیتیں ۔ پاک فوج کے جوان اور پولیس اہلکار جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں تاکہ صوبہ میں امن قائم ہو ۔ اس کے باوجود ہر وقت کہیں نہ کہیں امن ق امان کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے ۔ اور ان تمام جانی قربانیوں کے باوجود بلوچستان کے عوام مطمئن نہیں ہیں ۔ پاک فوج کا کام تو وہ کر رہے ہیں لیکن حکومتیں کیا کر رہی ہیں ;238; ہر حکومت نے بلوچستان کو نظر انداز کیا ہے ۔ ہر حکومت اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیئے یہاں کے ان سیاستدانوں کے ساتھ ساز باز کرتی ہے جو برائے فروخت ہوتے ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ جن سیاستدانوں کا مقصد اس صوبہ اور عوام کی ترقی ہوتا ہے ان کو پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے ۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ میڈیا نے بھی بلوچستان کے بارے میں آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور یہ تمام صورتحال آج کل سے نہیں ہے یہ عرصہ دراز سے جاری ہے ۔ اس کو قومی جرم کہیں یا کچھ بھی کہیں لیکن کیا بلوچستان صرف اس وقت خبروں کی زینت بنتا ہے جب وہاں کوئی واقعہ،کوئی بڑا حادثہ،زلزلہ یا سیلاب آجائے;238;بلوچستان کے عوام تو ہر وقت مصائب کا شکار رہتے ہیں ۔ لیکن افسوس کبھی کسی نے اس اہم ترین صوبے کے عوام کی مشکلات کو اس قابل نہیں سمجھا جس پر بات کی جا سکے ۔ جہاں تک بلوچستان کے سرداروں کو تعلق ہے تو انہوں نے اگرچہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاکستان کا دیا ہے ۔ اور صوبہ کی ترقی کےلئے کچھ کوششیں بھی کی ہیں لیکن انہوں نے وہ حق ادا نہیں کیا جو ان کو کرنا چاہیئے تھا ۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ صوبہ کو پسماندہ رکھنے میں ان کا بھی بڑا کردار ہے ۔ اس طرح امن و امان کے قیام میں بھی ان کو جو کردار ادا کرنا چاہیئے وہ پورے طریقے سے ادا نہیں کر پا رہے یا ادا نہیں کر رہے ۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سیاستدان یا تو ذاتی مفادات کے حصار میں بند ہیں یا وہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ وہ تو اس قابل بھی نہیں ہیں کہ آئین کے تحت اپنے صوبے کے حقوق کےلئے پارلیمنٹ کے اندر ہی سہی کوئی آواز بلند کر سکیں ۔ ذاتی مفادات کے حصول کے بعد جب وہ واپس بلوچستان جاتے ہیں تو اپنے ساتھ وفاقی حکومت کے وعدوں کی ایک بوری لے جاتے ہیں ۔ جو وفاقی حکومت کے ان وعدوں سے بھری ہوتی ہے جن میں اکثریت کی کبھی تکمیل نہیں ہوئی ۔ بلوچستان کے عوام کو طفل تسلیاں دے کر ہر حکومت اپنی مدت پوری کرتی ہے ۔ اگر وہاں کے سیاستدان فوج کے شانہ بشانہ صوبے کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کےلئے کمر کس لیں اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالیں تو کوئی وجہ نہیں کہ کوئی بھی حکومت بلوچستان کے مسائل سے پہلو تہی کر سکے ۔ لیکن اس کےلئے قربانی دینی ہوگی اور قربانی اپنے ذاتی مفادات کی دینی ہوگی ۔ آئینی طریقہ سے اپنے حقوق کےلئے کوشش کرنا ہر شہری کا حق ہے ۔ بلوچستان کے نوجوان کا حق ہے کہ آئین کے مطابق اس کو سرکاری ملازمتوں میں حصہ ملے ۔ بلوچستان کے عوام کو روزگار دلایا جائے ۔ سی پیک،گوادر اور دیگر منصوبوں میں سب سے زیادہ ملازمتیں اور روزگار کے مواقع بلوچستان کے لوگوں کو دیئے جائیں ۔ تعلیم اور صحت کے مسائل اس صوبہ میں اور بھی زیادہ گھمبیر ہیں ۔ اس پر خصوصی توجہ دی جائے ۔ پاک فوج نے اس میدان میں بھی صوبہ کے عوام کےلئے گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں اور دے رہی ہے ۔

آشاؤں کا جزیرہ

ہمارے معاشرے کی اقدار دم توڑ چکی ہیں ۔ اگر کہیں دم خم رہ گیا ہے تو اور کوئی وجہ نہیں ، بس اک مجبوری ہے ۔ ہر کسی نے خود کو روایتی چلن کی زنجیروں میں جکڑکے رکھا ہواہے ۔ ’’انگور کھٹے ہیں ‘‘ انگور تک جب رسائی ہی نہ ہو تو یہ کونکر فرض کیا جا سکتا ہے کہ وہ کھٹے ہیں یا میٹھے ہیں ۔ ہاں اگر کھالیتے تو انکی رائے دلیل پر مبنی ہوتی ۔ اختیارات کے اس سماجی تقسیم نے ہر طبقے کی آشاؤں کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔ زندگی سے دوپل خوشیوں کے چرانے کیلئے ۔ اپنے اختیار اور قوت کے پیمانوں کو آزمایا جاتا ہے ۔ جائز اور ناجائز کا اُصول شعل بن جاتا ہے ۔ اپنی عمر کو زندگی میں بدلنے کی اک آشا ہوتی ہے ۔ مگر ذاتی مفاد نشوونما جدوجہد میں ، انسان کی انسانیت ۔ معاشرے کے ادب وا ٓداب کو روند ڈالتا ہے ۔ اُسکی سانسیں زندگی کے لذاتو سے ملذوز ہوں ۔ اس سماجی ذمہ داری سے یو ں وہ عملاً دستبردار ہو جاتا ہے ۔ اس طرح اسکی دوپل کی عمر تو فرحاں ہوجاتی ہے ۔ لیکن اس طرح ایک خونخوار قسم کی محرومیاں بھی جنم لیتی ہیں ۔ گویا جنت کے اردگرد جہنم کا الاوَ جل رہا ہوتا ہے ۔ کمال یہ ہے کہ اس جہنم کو دیدے پھاڑ پھاڑ کے دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔ مگرا س رویے سے ’’احساس‘‘ کا’’ شوءچ بھی آف‘‘ رہتا ہے ۔ وہ دیکھتے ہیں ، سنتے ہیں اور بول بھی لیتے ہیں ۔ مگر قلب تک ان کا احساس اترتا نہیں ہے ۔ اور شکر ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ کیونکہ ان کا گھرانہ قرار میں ہوتا ہے ۔ اک گھرانہ وہ ہوتا ہے جو صرف محرومیوں کی دھول چاٹ رہا ہو تا ہے ۔ ان کو محروم رکھنے کے آدرش مسجد و محراب سے بھی ملتے ہیں ۔ جوش گماں میں پل دو پل کی زندگی گزارنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ’’مہلت ‘‘کا قانون احساس کے جاگنے تک انتظار کرتا ہے ۔ اس کے بعد ساری آشائیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں ۔ محرومی اور خوش گمانی کے گھرانے کسی قانون کے بند سے آذادرہنے کا ہُنر بھی رکھتے ہیں ۔ جو مجبور ہیں اپنی مجبوری کے بند میں قید ہیں ۔ ہمارے سماج میں گھرانوں کی تقسیم تو ان گنت ہیں ۔ مگر یہاں تین ایسے نمائندہ گھرانوں کا احوال پیش ہے ۔ ایک ریڑھی والا ۔ دن بھر چمچماتی دھوپ میں ۔ ۔ پسینے سے شرابور ۔ صبح سے شام تک ۔ ایک کر نباک جدوجہد سے گزر کر ۔ جب گھر لوٹتا ہے ۔ تو بیو ی اور بچے ان کی آمد سے سُکھ کا سانس لیتے ہیں ۔ اور کچھ آشائیں بھی منتظر ہو تی ہیں ۔ بیوی کے ہاتھ میں 500 روپیہ کمائی کے میں تھما دیتا ہے ۔ بیوی ان پیسوں پر شکرا دا کرتی ہے کہ کل کا خرچہ ہاتھ لگ گیا ۔ مگر اس گھر میں 3 لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں ۔ جو گھر پر یا مسجد میں قرآن کی تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ سکول جیسی عیاشی کے متحمل نہیں ۔ ۔ پھٹے پرانے کپڑے پہنے یہ بچے ۔ باپ کے اردگرد بیٹھ جاتے ہیں ۔ انکی دبی آشائیں جیسے دفن ہوں ۔ کچھ بولنا چاہیں بھی تو اظہار کے قابل نہیں ۔ ان کو معلوم ہے ہمارے باپ کی کمائی محدود ہے ۔ اور کمائی اچھی ہوتی تو ہم دوسرے بچو ں کی طرح سکول جاتے اور لکھتے پڑھتے ۔ یہ آشائیں پنپ رہی تھیں ۔ کہ باپ نے اپنے لاڈلوں کو ایک ایک ٹافی پکڑا دی ۔ جس پر اک دھمال مچ گئی ۔ اور خوشی کا وہ اظہار کیاجیسے ان کو آج اک عظیم تحفہ ملا ہو ۔ ماں اس رقص کو دیکھ کر ۔ مسکراتی ہے ۔ یہ آشائیں ہیں ۔ یا محرومیوں کے خلاف ردعمل ۔ یا اپنی جہالت سے صرف نظر کرنا ۔ ;238; دوسرا گھرانہ ایک بیوروکریت کا ہے ۔ بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں ۔ انکے لیے الگ گاڑی اور ڈرائیور ۔ بیوی کی شاپنگ اور دیگر سرگرمیوں کے لیے الگ ڈرائیور اور گاڑی موجود رہتی ہے ۔ بیوروکریت صاحب جب اپنی دفتر سے گھر آتے ہیں ۔ تو معمول کے مطابق نہ بچے خوش آمدید کہتے ہیں ۔ اور نہ بیگم کسی روایتی بیوی کی طرح اسکی آوَ بھگت کرتی ہیں ۔ نوکروں کو معلوم ہوتا ہے اور صاحب سے استفسار پر چائے، پانی پیش کرلیتے ہیں ۔ بیوروکریٹ کا ذریعہ معاش ایک سرکاری ملازم کی سی ہے ۔ مگر چور دروازوں اور اختیار کے ناجائز استعمال سے اور دیگر ممالک تک بینکوں کے سینے کھول رکھے ہیں ۔ دولت کی اس ریل پیل میں بچوں کے رویے، بیوی کا دیگر بیگمات سے ;83;tatusکا شعل بھی ایک آشاء ہیں جس میں اس کی صحت فربہی کی طرف گامزن رہتی ہے ۔ شام کو لان میں ساری فیملی موسم سے لطف اندوز ہورہے ہے ۔ بچے کرکٹ کھیلتے ہیں ۔ بیگم اور شوہر مزید دولت کے بیلنس کاتازہ حال آپس میں خیال کرتے ہیں ۔ کہ بچے آجاتے ہیں ۔ بابا ۔ آج سے ہماری چھٹیاں ہوگئیں ۔ کیوں نہ یہ چھٹیاں سوئزز لینڈ میں گزاری جائیں ۔ ایسی آشا کی تعمیل کون سا اختیارات سے ماوراء ہے ۔ بیگم کچھ عادتا زور دے کر اس آرڈینس کو پاس کروالیتی ہیں ۔ اب بیورکریٹ جو کہ دراصل روبوٹ ہے ۔ وہ حکومتی امور میں جُت جاتا ہے ۔ ا ور بیگم بچوں کو ساتھ لیکر ۔ دو مہینوں کےلئے اپنی آشاؤں کی تکمیل کی تلاش میں سرسبز وادیوں میں اُتر جاتی ہیں ۔ جس کی مثال اس پل دو پل کی زندگی میں اک جنت کی سی ہے ۔ تیسرا گھرانہ ۔ ہمارے سیاستدان اور حکمرانوں کا ہے ۔ اس گھرانے میں قوت اور اختیار حاصل کرنے کی آشا ۔ وراثتی عقیدے کے تحت چلی آرہی ہوتی ہے ۔ یہ گھرانہ ۔ آپس میں لڑتے بھی ہیں ۔ مگر ان کا طریقہ جمہوری ہوتاہے یعنی یہ جھوٹ بولتے ہیں ۔ مگر اس کے ساتھ جمہوریت کا لاحقہ لگاکر ۔ اسے مقدس بنا لیتے ہیں ۔ جب بھی ان کو حکومت ملتی ہے تو ۔ بیورکریسٹ سے ملکر ۔ دھاندلی کرپشن کے نت نئے معاملات طے کرتے ہیں ۔ ان کی یہ عادت بھی ررہتی ہے کہ شہر میں فیتے کاٹتے ہیں تاکہ وہ پسے ہوئے طبقات جن کی محرومیاں بھی رواثتی بن چکی ہیں ۔ ’’اتنا فی الدنیا حسنہ‘‘’’اے اللہ میر ی اس دنیا کو حسین بنادے‘‘کیا خواہش ،آرزو یا آشا سے یہ دنیا جنت بن سکتی ہے;238;جو قیامتیں ہماری زندگی میں برپا ہیں ۔ اس کا شعور نہیں دیا جاتا بلکہ دنیا کو مُردار کہا جاتا ہے ۔ اور یہ احباب جو کہنے والے ہے ہر ایک مکر کے سہارے ان تمام لذاءذ سے مستفید ہورہے ہیں ۔ انکی آشائیں زندہ رکھیں اور ان کو اُمید دیتے رہنا چاہیے کیونکہ یہ وہ مخلوق ہے ۔ جو ہماری جمہوریت کی ضمانت ہیں ۔ ہماری سماج کے ان تین چہروں کے علاوہ اک ایسا چہرہ بھی ہے ۔ جس کی مار ۔ اُفق سے یاد جاتی ہے ۔ قوم ان ہی کی آشاؤں کی تعلیم سے بس خواب کی حالت میں ہیں ۔ یہ وہ مذہبی پیشوا میں جو عوام کو اس جنت سے خوش فہمی اور ’’اُس جہنم‘‘ سے ڈراتے ہیں ۔ جس کا اس جہنم اور جنت سے کوئی رابطہ نہیں ۔ اس فرسودہ نظام نے کروڑوں کی آشاؤں نا بہتر زندگی کے خواب جھلسا کر رکھ رہے ہیں ۔ جمہوریت کے اس لباس میں کالے چہرے اپنی نسلوں کو آشائیں ، ترکے میں چھوڑ نے کی روایت قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ باطل نظام کبھی انصاف کو پسند نہیں کرتا جو انصاف طلب کرتے ہیں یا اس کی آشا رکھتے ہیں ان کو ذہنی وجسمانی طور پر معذور کردیاجاتا ہے ۔ مایوس، مجبور یا معذور ہی آشا رکھتے ہیں ۔ وہ کیوں آشا پالیں جب کرنسی سے وہ یہ خرید لیتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ کیا ہے;238; اصل سوال یہ ہے ۔ یہ تینوں گھرانے ایک ہی صورت حال سے دوچار ہیں ۔ پہلے نمبر پر جوہڑ میں رہتے ہیں ، دوسرے نمبر پر فرضی باغ میں اور تیسرے نمبرپر اختیارات کے محل میں قید ہیں ۔ جو ہڑ والے زندگی کی طرف آسکتے ہیں ۔ اگر ایک جھٹکا لیں اور اپنے دم پر قیام کرلیں ۔ باقی دو گھرانے اب کسی کام کے نہ رہے ۔ جو وہ چاہتے تھے ان کو مل گیا ۔ ان کے پاس آگے بڑھنے کے ذراءع ختم ہورہے ہیں ۔ ان کی دولت رہ جائیگی ۔ مگر جن انسانی ا قدروں سے کوئی قوم آگے جاتی ہے ۔ اس کی مہلت گھٹی جاری ہے ۔ ظلم کے اس نظام کا انجام تباہی سے دو چار ہوگا ۔ اپنی حالت بدلنا یا اسکے لیے کوشش کرنا ہر انسان کی ذمہ داری ہے ۔ مجبور صرف جانور پیدا کئے گئے ہیں ۔ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے سے ہی ظلم کے اس نظام کو خطرہ در پیش ہوسکتا ہیں ۔ یہ جکڑ ہے اور احساس نہ ہو تو اس جکڑ کے پنجے گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں ۔

وہاب ریاض کا طویل دورانیے کی کرکٹ سے آرام کا فیصلہ

لاہور:قومی ٹیم کے فاسٹ بولر وہاب ریاض غیر معینہ مدت تک کےلیے طویل دورانیے کی کرکٹ سے آرام کریں گے۔

پیسر ہفتہ کو شروع ہونے والی قائد اعظم ٹرافی سے دستبردار ہوگئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ فرسٹ کلاس کرکٹ سے غیر معینہ مدت تک کےلیے آرام کرنے کا فیصلہ کیا ہے، فیصلہ اپنی گزشتہ کارکردگی کو سامنے رکھ کر کیا ہے، محدود اوورز کی کرکٹ کھیلتا رہوں گا، اس دوران مجھے اپنی فٹنس جانچنے کا بھی موقع ملے گا،جب خود کو طویل دورانیئے کی کرکٹ کھیلنے کا اہل سمجھوں گا تو اپنی دستیابی ظاہر کر دوں گا۔

وہاب ریاض نے کہا کہ پی سی بی کی خواہش تھی کہ میں طویل دورانیئے کی کرکٹ جاری رکھوں، بورڈ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے،میرا موقف سمجھنے پر پی سی بی کا مشکور ہوں۔

Google Analytics Alternative