Home » Author Archives: Admin (page 2)

Author Archives: Admin

پاکستان کے پاس بھارت سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں ،غیرملکی رپورٹ میں انکشاف

سٹاک ہوم :سٹاک ہوم انٹر نیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس 140سے 150جوہری ہتھیار ہیں اور بھارت کے پاس 130سے 140جوہری ہتھیار ہیں جبکہ چین کے پاس 280کے قریب جوہری ہتھیا ر موجود ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق جوہری طاقت کے حامل ممالک اپنے جوہری ہتھیاروں میں کمی لا رہے ہیں لیکن یہ ممالک اپنی ٹیکنالوجی میں جدت بھی لارہے ہیں اور نئی ٹیکنالوجی پر توجہ دے رہے ہیں ۔ادارے کے سربراہ جان ایلیسن کا کہنا ہے کہ دنیا کی جانب سے جوہری اسلحے کی تخفیف کے لیے واضح عزم کی ضرورت ہے ۔

حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ ،روس ،انگلینڈ ،فرانس ،چین ،بھارت ، پاکستان ،اسرائیل اور شمالی کوریا کے پاس 14ہزار 465جوہری ہتھیار موجود ہیں جن میں سے 3ہزار 750جوہری ہتھیاروں کو اس سال کے شروع میں تعینات کردیا گیا تھا ۔

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

بسلسلہ کاروبار اگر محض آپ نے اپنی انا اور سابقہ واقعات کی بنا پر ان کاروباری لوگوں کو دھتکار دیا تو یہ محض آپ کی عظیم غلطی ہو سکتی ہے اور جلد ہی آپ کو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

کسی جائیداد کی وجہ سے ذہنی کوفت ہو سکتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ آپ کاروبار میں بھی دلچسپی نہ لیں کسی بڑے تعمیراتی منصوبے کو عملی شکل دینے کی کوشش کیجئے۔

جوزا:
21مئی تا21جون

مکان یا زمین کا جھگڑا بڑھانے کی کوشش نہ کریں آپکا مفاد متاثر ہو سکتا ہے، راہ چلتے یا گاڑی چلاتے وقت بہت زیادہ محتاط رہیں، کسی مقتدر شخصیت کی مہربانی سے الجھا ہوا مسئلہ بآسانی حل ہو سکتا ہے۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

کوئی شخص محبت کے نام پر دھوکہ دے سکتا ہے، بچنے کی کوشش کریں تاکہ بھرم قائم رہ جائے، مکان وغیرہ کی تعمیر و مرمت کا موقع مل سکتا ہے، اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کریں۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

یہ عرصہ آپ کے لئے بہتر کارگردگی کا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے بہتر نتائج کے لئے زیادہ محنت کریں، مخالفین کی سازشوں سے ہرگز نہ گھبرائیں بفضل خدا آپ شر سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

فضول سوچوں سے چھٹکارہ پانے کی کوشش کریں تاکہ آپ بہتر اصول زندگی لائحہ عمل کر سکیں کیونکہ آپ کے مخالف بھی آپ کے خلاف سازشوں کا محاذ لگا سکتے ہیں۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

دشواریاں بھی سنگ راہ بنتی رہیں گی، اس کے باوجود آپ بہت کچھ حاصل کر سکیں گے لیکن شرط یہ ہے کہ معمولی سی دشواری یا مایوسی دیکھ کر آپ کسی بھی کام سے بددل نہ ہو جائیں۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

بعض نام نہاد دوست یا عزیز آپ کو نت نئی تاویلوں کے تحت خوف زدہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ آپ وہ مقام حاصل نہ کر سکیں جو کہ آپ کو حاصل ہو سکتا ہے۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

آپ نے اپنی موجودہ پوزیشن کا غلط اندازہ لگایا ہے جلد بازی نہ کریں ورنہ بازی ایک بار پھر پلٹ سکتی ہے آپ اس حقیقت کو نظر انداز نہ کریں کہ بڑی کوشش و محنت کے بعد حالات نے صحیح رخ اختیار کیا ہے۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

کوئی مخالف جو کہ کبھی آپ کا دوست بھی تھا پریشان کرنے کی کوشش کر سکتا ہے وہ آپ کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ کرتا رہے گا، آپ خاموشی کے ساتھ تماشا دیکھئے۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

کسی صاحب حیثیت مقتدر شخصیت کے ساتھ تعلقات قائم ہو سکتے ہیں اگر اس قسم کے تعلقات پہلے ہی سے استوار ہو چکے ہیں تو پھر یہ مضبوطی اختیار کر سکتے ہیں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

تعمیراتی منصوبے کو بے خوف عملی شکل دیجئے نتائج توقع کے مطابق نکل سکتے ہیں کامیابی آپ کے ہمراہ چلے گی۔لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کسی بھی موقع پر ہمت نہ ہاریں۔

پاکستانی روپے کی مسلسل بے قدری

تباہ حال معیشت میں پاکستانی کرنسی کو اور ایک جھٹکا لگا ہے.پیر کے روز انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر 5روپے 90پیسے گرنے سے ڈالر 121روپے 50پیسے کا ہوگیا ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں یکلخت اتنے بڑے اضافے سے اب تک ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔نگران حکومت کے اس اقدام سے پاکستان کے بیرونی قرضوں کا حجم روپے میں بڑھتا جارہا ہے، پیرکو ڈالر کے تازہ جھٹکے نے قرض کا بوجھ مزید 450ارب روپے سے زائد بڑھا دیا ہے، جس کو مزید نئے قرض لے کر ہی پورا کیا جائے گا.نئے قرضے لینے کا بوجھ بھی لا محالہ عوام پر ہی آئے گا۔دسمبر 2017 سے اب تک روپے کی قدر میں 14 فیصد تک کمی آئی چکی ہے جو خطرناک رجحان ہے۔ماہرین کے مطابق انٹر بینک کی سطح پر ڈالر اور دیگر اہم غیر ملکی کرنسیوں کی قدر میں اچانک اضافے سے اوپن مارکیٹ میں بھی زبردست بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیداہوگیا ہے۔6 ماہ میں ڈالر 15 روپے 46 پیسے مہنگا ہوا ہے.روپے کی قدر میں گراوٹ ملک کی معیشت میں تیزی سے کم ہوتے غیر ملکی زر مبادلہ اور مالی خسارے میں اضافہ ظاہر کرتا ہے.جس کی وجہ سے 2013 کے بعد دوسری مرتبہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑسکتا ہے۔جبکہ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان کا آئی ایم ایف کے پاس جانا ناگزیر ہو چکا ہے۔عالمی بینک کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کے آئندہ مالی سال کے دوران شرح نمو پانچ فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے اور معیشت میں سست روی کے باعث پاکستان کو آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑے گا۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ بیرونی ادائیگیاں اور کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر بنے ہیں، ماہانہ ایک ارب ڈالر کی ادائیگیاں زرمبادلہ ذخائرکو کم کررہی ہیں، جنہیں کم از کم 3ماہ کی درآمدات کے مساوی رکھنا ضروری ہے۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی کا طوفان آئے گا پیٹرولیم مصنوعات سمیت بیشتر اشیا مہنگی ہو نگی۔پاکستانی معیشت کو اندرونی اور بیرونی خدشات کا سامنا ہے اور اسی خدشے کے پیش نظر شرح نمو میں کمی متوقع ہے۔ اگر ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے خصوصی طور پر روپے کی قدر میں گراوٹ پر انحصار کیا گیا ہے تو اس کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے. پاکستانی معیشت میں رواں سال شرح نمو کا حدف 6 فیصد رکھا گیا ہے جو بظاہر تیزی سے بڑھنے کی شرح ہے تاہم بڑھتے ہوئے خسارے نے خدشات میں اضافہ کردیا ہے جو پہلے ہی 14 ارب ڈالر ہے۔گزشتہ 5 سالوں میں پاکستانی معیشت پر قیامت سی گزری ہے۔سرکاری اخراجات میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے کو ملا مگر ٹیکسوں کی وصولی میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا۔ بجلی اور گیس کی قلت اس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا جس سے ایکسپورٹ پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔اس وقت پاکستان میں وہ تمام ادارے خسارے میں ہیں ، جنہیں پاکستان کی معیشت کو چلانا تھا ۔اداروں کی بد حالی کا اندازہ شاہد خاقان عباسی کی سابق حکومت کے مشیر برائے اقتصادی امور مفتاح اسماعیل کی اس بات سے لگایا جا سکتا ہے جب انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ پی آئی اے کا قرضہ جو شخص ادا کر دے گا ، اسے پاکستان اسٹیل ملز مفت دے دی جائیگی ۔ اسی طرح بے شمار ادارے ایسے ہیں جنہیں سالانہ اربوں روپے کی سبسڈیز پر زندہ رکھا گیا ۔ دوسری طرف پاکستان پر قرضوں کا بوجھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے قرضے لینے کے علاوہ کوئی دوسرا کام ہی نہیں کیا ۔ 2013 میں پاکستان کے کل اندرونی اور بیرونی قرضے 16338 ارب روپے تھے جبکہ پی ایم لیگ این کی حکومت نے پانچ سال کے دوران 10ہزار ارب سے زیادہ قرضیلئے ہیں اور اب قرضوں کا مجموعی حجم 26500 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ۔ پاکستانی معیشت اب مکمل طور پر قرضوں پر انحصار کر رہی ہے ۔ قرض کی ادائیگی کیلئے مزید قرض لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔ اوسطاً ہر سال 12ارب ڈالرز قرضوں اور سود کی مد میں ہمیں ادا کرنے پڑتے ہیں ۔ یہ قرضے پاکستان کی معاشی ترقی کو نگل رہے ہیں ۔ قرضوں کے ساتھ ساتھ تجارتی اور مالی خسارے میں بھی خوف ناک اضافہ ہو رہا ہے جسکے عام آدمی کی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ غربت میں خوف ناک اضافہ ہو گیا ہے ۔ تعلیم اور صحت کے شعبے تباہ حالی کا شکار ہیں ۔ معیشت کی بد سے بدتر ہوتی ہوئی صورت حال کے باعث ہر شعبہ تباہی کا شکار ہے ۔
عید سے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا تحفہ
نگراں حکومت نے بھی آتے ہی پیٹرولم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ کر کے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ اسے بھی عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے۔حکومت نے عیدالفطر سے قبل پیٹرول بم گراتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 4 روپے 26 پیسے اضافے کے بعد 91 روپے 96 پیسے مقرر کردی گئی ہے۔ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے14پیسے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد نئی قیمت 74 روپے 99 پیسے ہو گئی ہے۔ مٹی کا تیل 4 روپے 46 پیسے اضافے کے بعد 84 روپے 34 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 55 پیسیکا اضافہ کردیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 105روپے 31 پیسے ہوگئی ہے۔ دوسری جانب ایف بی آر نے بھی پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ پیٹرول پر سیلز ٹیکس کی شرح 7 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد مقرر کردی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے بڑھا کر 24 فیصد، مٹی کے تیل پر سیلز ٹیکس کی شرح 7 فیصد سے بڑھا کر 12 اور لائٹ ڈیزل پر سیلز ٹیکس کی شرح 1 فیصد سے بڑھا کر 9 فیصد مقرر کردی گئی ہے۔ایک ایسے موقع پر جب ٹرانسپورٹ مافیا عید پر مسافروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتی ہے انہیں مزید کھال ادھیڑنے کا آسان جواز فراہم کر دیا گیا ہے۔ماہ رمضان میں تاجروں کے ہاتھوں لٹنے والی بے بس عوام پہلے حکومت کے حق میں کلمہ خیر کہنے کو تیار نہیں تھی اب اسے بددعائیں دینے پر مجبور ہے۔دوسری طرف اگر عالمی مارکیٹ کا جائزہ لیا جائے تو اس سے ایسا کو تاثر نہیں ملتا کہ یہ بھاری بھر کم اضافہ نا گزیر تھا۔

کالاباغ ڈیم لائف لائن پاکستان

پانی قدر ت کی وہ انمول نعمت ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی محال ہے۔کرہ ارض پرچہار سو رنگ بکھیرتی زندگی،زراعت،صنعت اور معیشت کے تمام شعبہ جات کی زندگی کا دارومدار پانی کا ہی مرہون منت ہے۔لیکن ہم قدرت کی اس عظیم نعمت کو دن بدن کھو تے ہی چلے جا رہے ہیں ۔مگر المیہ یہ ہے کہ ہمیں اس بات کاادراک تک نہیں اور ہمارے بعض مفاد پرست سیاستدا نوں نے آج بھی اس عظیم ملکی مفاد کے منصوبے کو بھی کئی دہائیوں سے اپنی سیاسی دکان چمکا نے کیلئے استعمال کیا ہے۔ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں سیاستدانوں اور ذرائع ابلاغ کی توجہ آنے والے انتخابات اور سیاسی مسائل پر مر کوز ہے۔ایسے وقت میں ملک کے آبی ماہرین ،پانی کی بڑھتی قلت اور بھارت کی جانب سے کی جا نے والی آبی جا رحیت کی وجہ سے پریشان ہیں ۔ڈاکٹر شمس الملک کے نام سے کون واقف نہیں ،ان کی تعلیم پی اچ ڈی ہے ،اور یہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں دنیا میں کم ہوتے صاف پینے کے پانی کے ذخائر اور دستیاب قدرتی پانی کے بہترین استعمال پر لیکچر دیتے ہیں ،دنیا انکے تجر بے اور علم سے فائدہ اٹھا کر آبی وسائل سے متعلق پالیسیاں وضع کر تی ہے ۔گزشتہ پچیس سال سے یہ شخص چیخ رہا ہے اور ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتا نظر آتا ہے کہ خدا کیلئے کلا باغ ڈیم کو اہمیت دو ،اگر یہ نہ بنا تو ہماری زراعت ختم ہو جائے گی۔ہم بنجر ہو جائیں گے اور پانی کی ایک ایک بوند کو ترسیں گے،اور اب اس کی باتیں بعین ہی سچ ثابت ہورہی ہیں ۔بھارت کے بنائے ہوے ڈیموں کا اثر بھی اس سال سے ہماری زراعت پر پڑنا شروع ہو چکا ہے۔گزشتہ دنوں ارسا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آبپاشی کیلئے پانی کی قلت میں خطر ناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ارسا اعدادو شمار کے مطابق دریاؤں میں پانی کی آمد ایک لاکھ 12بارہ ہزار 9سواور اخراج ایک لاکھ انیس ہزار تین سو کیوسک ہے ۔۔آبی ذخائر میں پانی کا ذخیرہ بھی صرف دو لاکھ بیس ہزار ایکڑ فٹ رہ گیا ہے۔سندھ اور پنجاب کو 51،51فیصد کمی کاسامنا ہے،دونوں صوبوں کا با لترتیب 55ہزار اور57ہزار کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔بلوچستان کو 8ہزاراور خیبر پی کے کو ۳ہزار کیوسک پانی مل رہا ہے،مجموعی طور پر ابھی سے پانی کی قلت پچاس فیصد سے زائد ہے۔آبی وسائل کی دستیابی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال ستر ارب ڈالر کا پانی سمندر کی نذر ہوجاتا ہے۔ماہرین کے خیال میں پاکستان آنے والے چند برسوں میں پانی کی شدید قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔جبکہ حکومت کی طرف سے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا،اگر ہم نے فوری اقدامات نہ کئے تو مستقبل میں ہم تباہی سے دوچار ہو سکتے ہیں ۔پانی کو ذخیرہ کر نے والے ڈیموں کی استعداد کم ہوتی چلی جارہی ہے ،لیکن ہم نئے ڈیموں پر محض چند مفاد پرست عناصر کے ہاتھوں یر غمال بنے بیٹھے ہیں ،ملک خشک سال اور ہماری زرخیز زمینیں بنجر ہوتی جارہی ہیں اور یہ محض بیرونی امداد کے بل اپنے ملک میں یہ کہ رہے ہیں کہ یہ ڈیم ہماری لاشوں پر بنے گا ۔ان قومی مجرموں کو فی الفور ان سے سیمینار اور مزاکروں میں ماہرین کی موجودگی میں ان کے بے بنیاد اعتراضات کو عوام کے سامنے آشکارا کیا جائے تاکہ ان صوبوں کے عوام کو بھی پتا چل سکے ،جو اعتراض یہ گزشتہ تیس سالوں سے کالاباغ ڈیم کے خلاف کر رہے ہیں وہ محض عوام کودھوکہ دینے کیلئے ہے حقیقت کا ان سے دور پار کا بھی واسطہ نہیں۔کالاباغ ڈیم کو ہم نے سیاست کی نظر کر دیا ،جب کہ بھا شا ڈیم کی تعمیر میں کوئی سیاسی مسئلہ یا رکاوٹ نہ ہے اس کے باوجود ہم اس ڈیم کو بھی تک بنا نے میں ناکام رہے ہیں ۔دیا مر بھا شا ڈیم اس لئے نہیں بنا یا جارہا کیونکہ اس میں ممکنہ طور پر بارہ برس لگیں گے جبکہ بدقسمتی سے ہمای کوئی بھی حکومت پانچ سا سے آگے سوچنا نہیں چا ہتی ،سب کیلئے بس پانچ سالہ مدت ہے ۔یہ مفاد پرست عناصر کس طرح سے عوام کو دھوکہ دیکر ان کے ذہنوں میں بھی زہر بھر رہے ہیں ۔کالا باغ ڈیم کو ہم نے سیاست کی نظر کر دیا،جبکہ بھا شا ڈیم کی تعمیر میں کوئی سیاسی مسئلہ یا رکاوٹ نہ ہے ،لیکن اس کے باوجود بھی ہم اس ڈیم کو اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود نہیں بنا پارہے۔دیامیر بھا شا ڈیم اس لئے نہیں بنا یا جارہا کیونکہ اسمیں ممکنہ طور پر بارہ برس لگیں گے جبکہ بد قسمتی سے ہماری کوئی بھی حکومت پانچ سال سے آگے تک کا نہیں سوچتی۔حکومت وقت کی کوشش رہتی ہے کہ محض ایسے اقدامات کئے جائیں جس سے صرف آئندہ الیکشن کیلئے ووٹ پکے ہو سکیں ،جا نے والی حکومت کے پیچھے چھوڑے بحرانوں اور مسائل اس قدر زیادہ ہوتے ہیں کہ آنے والے آدھی مدت تو انہی کا رونا روتے رہتے ہیں۔ملک کے مستقبل کا سوچنا شائد ان کی ترجیحات میں ہی شامل نہیں ۔اس معاملے میں ہمیں قومی مفادات کو پیش نظر رکھ کر سوچنا ہوگا ۔ عالمی معیار کے مطابق کسی بھی ملک کو کم از کم 120دن کاپانی ذخیرہ کر نے کی صلاحیت ہونی چاہئے ،جبکہ ترقی یافتہ ممالک ایک سے دوسال تک پانی کا ذخیرہ کر رہے ہیں ،پاکستان میں دریاؤں کا صرف دس فیصد پانی ذخیرہ ہوپاتا ہے۔کس قدر حسرت و افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان وقت قیام سے اب تک صرف دو ہی آبی ڈخائر تعمیر کر سکا۔جبکہ اس کے مقابل بھارت دو سے زائد چھوٹے بڑے ڈیمز تعمیر کر چکا ہے جن میں بیس سے تیس میگا آبی ذخائر بھی شامل ہیں جو اس نے ہمارے دریاؤں یعنی ہمارے حصہ کا پانی روک کر تعمیر کئے ہیں ۔بھارت تیزی سے آبی قوت میں اضافہ کرتا جا رہا ہے۔طرفہ تماشا یہ ہے کہ بھارت اس حوالے سے پاکستان کے آبی حق پر دن دہاڑے ڈاکہ ڈال رہا ہے۔اور ہمارے اربا ب بست و کشا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ،بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر الٹا ملک میں متوقع ڈیمز کی تعمیر پر سیاسی دکان چمکا رہے ہیں اور بر ملا کہتے ہیں کہ کا لاباغ ڈیم ہماری لاشوں پر بنے گا،اگر ملک کے اندر اس جیسے لوگ موجود ہوں جو ملکی مفادات کے منصوبوں میں رکاوٹ ہوں تو پھر ہمیں بیرونی دشمنوں کی ضرورت ہی کیا ہے۔نریندر مودی گزشتہ دنوں کشن گنگا ڈیم کا با قاعدہ افتتاح کر چکے ہیں ،یہ ڈیم سندھ طاس معاہدے کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے تعمیر کیا ہے ۔عالمی بنک جو اس معاہدے کا ضامن ہے ،پاکستان کے اعتراضات کو فنی طور پر مسترد کر چکا ہے،اور کشن کنگا ڈیم پر بھارتی موقف تسلیم کر چکا ہے جو کہ ہماری نا کام ملکی و خارجہ پالیسی اور گزشتہ حکومتوں کی نا اہلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس سے بڑھ پر ہمارے لئے خفت اور جگ ہنسائی کا مقام کیا ہوگا کہ ہم اپنے دیرینہ اور قانونی حق کے تحفظ میں بھی عالمی سطح پر نا کام رہے ہیں ۔پھر یہی نہیں بگلہیار ڈیم کی صورت میں دریائے چناب کا پانی بھی ہتھیانے کیلئے بھارت تیار نظر آرہا ہے۔ملک کے باشعور عوام اس صورتحال اور ملک میں کم ہوتے آبی ذکائر پر یقیناًدل گرفتہ ہیں ۔اور توقع رکھتے ہیں کہ ارباب اختیارو اقتدار اس مسئلے کے حل کیلئے ضروری وسائل اور تدابیر اختیار کریں گے،مگر یہاں تو الٹا ملک میں ڈیمز کی تعمیر کا سن کر ہی بعض مفاد پرست سیاستدان آگ بگولہ ہو جاتے ہیں ،انکی طرف سے کبھی بھارتی آبی جارحیت سے متعلق مذمت کا ایک لفظ تک نہیں نکلا۔مگر اب شائد انھیں بھی زیادہ دیر تک عوامی مفاد کے منصوبوں میں خلل ڈالنے نہ دیا جائے کیونکہ اب ملک با شعور اور خاص طور پر نوجوان ، چیف جسٹس صاحب اور آرمی چیف سے جو توقعات لگائے بیٹھیں ہیں ،وہ بہت جلد پوری ہونے کو ہیں ۔
*****

قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں!

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے تدبر ، سیاسی فراست او ر مشکل ترین وقت میں بھی قول و فعل میں یکسانیت کے علم کو بلند کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کی بے لوث جستجو کے سبب ہی ہندو اکثریت اور برطانوی حکومت ہند کے گٹھ جوڑ کے باوجود قائد کی جمہوری تحریک کے تسلسل سے ہی پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد و خود مختار اسلامی جمہوری ملک کے طور پر اُبھر کر سامنے آیا تھا۔ پاکستان کا وجود اِس لئے ممکن ہوا تھا کہ برّصغیر کی مسلم قوم نے قائداعظم کی تحریک پر یقین کامل رکھتے ہوئے 1946 کے انتخابات میں اُنہیں غیر معمولی کامیابی سے ہمکنار کیا تھا۔ وعدوں اور معاہدوں کی پاس داری کے حوالے سے قائداعظم کا ریکارڈ سیاسی لغزشوں سے پاک ہی نظر آتا ہے۔ سب سے زیادہ اُن کی فراست پنجاب باؤنڈری کمیشن میں غیر قانونی فیصلے کے حوالے سے سامنے آتی ہے جب اُنہوں نے اپنے تقسیم ہند کے وقت پنجاب کی سرحدوں کے تعین کیلئے ریڈکلف کی ثالثی کو تسلیم کر لیا تھا اُس وقت اُنہیں علم نہیں تھا کہ ریڈ کلف لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے دباؤ پر پنجاب باؤنڈری کمیشن میں ہیر پھیر سے کام لیں گے۔ چنانچہ قائداعظم نے تقسیم ہندکے بعد اپنے ایک خطاب میں فرمایا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیسی کیسی بے انصافیاں ہوئی ہیں ، تقسیم کا کام ختم ہوگیا ہے باؤنڈری کمیشن کا فیصلہ غیر منصفانہ اور بدنیتی پر مبنی ہے جسے قانونی نہیں بلکہ سیاسی فیصلہ کہا جا سکتا ہے ۔ لیکن بہرحال اب یہ فیصلہ ہو چکا ہے لہذا ہم نے جو وعدے کئے تھے اُنہیں پورا کرنا ہے۔پاکستان نے چونکہ یہ ثالثی قبول کی تھی لہذا صول کا تقاضا یہی ہے کہ یہ فیصلہ کتنا ہی الم انگیز اور تکلف دہ کیوں نہ ہو اِسے قبول کیا جائیگا۔ آج ملک انتخابات کی دہلیز پر ہے لیکن صد افسوس کہ گزشتہ کئی عشروں سے قائداعظم کی میراث کی داعی ہونے کے باوجود ملکی ن لیگ کی سیاسی قیادت نے بانی پاکستان کی تحریک کے افکار کو جس بیدردی سے بائی پاس کرتے ہوئے سیاست میں کرپشن کا بازار گرم کر دیا ہے ، کی مثال کم از کم تحریک پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ حیرت کی بات ہے کہ ملک میں عوامی راج کی فکر کو مہمیز دینے کے بجائے پہلے تو ڈیل کی سیاست کی بنیاد پر نگران حکومتوں میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کیلئے ایک ایسے طریقہ کار وضح کیا گیا ہے جس سے انتخابات کے دوران بھی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے منتخب نمائندے ہی نگران حکومتوں میں سامنے آئیں تاکہ بظاہر کرپشن کے شواہد کو عوام تک پہنچنے سے روکا جاسکے ۔ البتہ جب حکمران ملک کو ذاتی جاگیر سمجھ کر سیاسی طاغوت بن جاتے ہیں اور قتدار کا سرچشمہ عوام کو سمجھنے کے بجائے اپنے مخصوص مفادات کے تحت خدا کی مخلوق کو انتہائی دگرگوں حالت میں لا کر اپنے مقاصد کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں تب انگریزی کے ایک محاروے (Man proposes God disposes) کیمطابق قادر مطلق اِن سیاسی و سماجی چالاکیوں کو اُن کے بنانے والوں پر ہی پلٹ دیتے ہیں۔ بقول اقبالؒ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے ….. ؂
ناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کو
بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو
اِس حقیقت سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے ملکی سیاسی قیادت کئی عشروں سے حکمرانی کرنے ، سیاست کو کاروبار بنانے ، کرپشن کو زندگی کا مقصد بنانے جس کی جھلک اب سپریم کورٹ آف پاکستان اور قومی احتساب بیورو کی تفتیشی انکوائریز اور مقدمات میں روز بروز عیاں ہوتی جا رہی ہے، اِس پر طرہّ یہ کہ عوام کی گردن غیرمعمولی بیرونی اور گردشی قرضوں کے جال میں پھنسانے کے بعد بھی جھوٹ ، کپٹ میں لپٹی طاقت گفتار سے ایک مرتبہ پھر سے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چنانچہ ن لیگ کی نااہل سیاسی قیادت باعزت طور پر اقتدار سے دستبرادار ہونے کے بجائے طاغوتی طاقتوں کی مدد سے جرائم کو سیاسی رنگ دے کر نہ صرف سیاست کو ہی جرائم سے آلودہ کرنے میں پیش پیش ہے بلکہ منصب وزیراعظم اور ن لیگ کی قیادت سے تاحیات نااہل قرار دئیے جانے کے باوجود یہی نااہل شخصیت عقل کل بن کر قوم کو درس انسانیت دینے میں مصروف نظر آتی ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ن لیگ سابق نااہل وزیراعظم میاں نواز شریف کی قیادت میں مخالف سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے مل کر طے کی جانے والی آئینی ترمیم اور قواعد کو تسلیم کرنے کے باوجود نگران حکومتوں کے قیام کے حوالے سے پنجاب کے وزیراعلیٰ کی تعیناتی سے روگردانی کرتی نظر آتی ہے۔ طے شدہ طریق کار کیمطابق مرکز اور صوبوں میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ حزب اختلاف کے لیڈر کی مشاورت سے نگران وزیراعظم اور نگران صوبائی وزیراعلیٰ کا تعین کرتی ہیں لیکن اگر تعین پر اتفاق نہ ہوسکے تو پھر معاملہ اسمبلی کی کمیٹی متفقہ طور پر کرتی ہے اور اگر یہااں بھی اتفاق رائے نہ ہوسکے تو پھر الیکشن کمیشن آف پاکستان دونوں جماعتیں کے طے کردہ ناموں میں سے کسی ایک کو اپنی صوابدید پر اہم منصب پر تعینات کر دیتے ہیں۔
اِسی اصول کیمطابق مرکز میں دونوں بڑی جماعتوں نے نگران وزیراعظم کا انتخاب متفقہ طور پر کر لیاجسے تمام دوسری جماعتوں نے بھی قبول کیا۔ صوبہ سندھ میں بھی یہ معاملہ دونوں بڑی جماعتوں کی مشاورت سے طے ہوگیا یہاں بھی کوئی منفی آواز سنائی نہیں دی۔ جبکہ صوبہ پنجاب ، صوبہ خیبر پختون خواہ اور صوبہ بلوچستان میں یہ معاملہ الیکشن کمیشن کی صوابدید پر چلا گیا۔ الیکشن کمیشن نے اپنی صوابدید پر متفقہ طور پر کے پی کے میں پاکستان تحریک انصاف کے نامزد کردہ افراد کے بجائے حزب اختلاف کے نامزد کردہ افراد میں سے سابق جسٹس دوست محمد کو وزیراعلیٰ مقرر کر دیا جس پر کوئی منفی آواز بلند نہیں ہوئی، بلاوچستان میں بھی ایسا ہی ہوا لیکن جب صوبہ پنجاب میں الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ پنجاب کے نمائندے کے بجائے متفقہ طور پر حزب اختلاف کے نامزد کردہ دیانت دار پڑھے لکھے پروفیسر حسن عسکری کو جو پنجاب یونیورسٹی میں بھی اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں کو وزیراعلیٰ نامزد کیا تو سابق نااہل وزیراعظم سے لیکر اُن کو اپنا وزیراعظم ماننے والے سابق قانونی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف اور اُن کے حاشیہ برداروں نے ہاہاکار مچا دی ہے کہ حسن عسکری کی تقرری سے الیکشن کمیشن کی ساکھ متاثر ہوگی، کیوں؟کہنے والے کہتے ہیں کہ اِس اہم تعیناتی سے الیکشن کمیشن کی ساکھ تو متاثر نہیں ہوگی لیکن سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے صوبہ پنجاب میں 56 پرائیویٹ کمپنیوں، صاف پانی کے ادارے اور آشیانہ ہاؤسنگ کے ذریعے جس لوٹ مار کا بازار گرم کیا تھا اُس کے ریکارڈ تک قومی احتساب بیورو کی پہنچ ضرور ہو جائیگی۔ یہی تکلیف بظاہر قومی احتساب بیورو کی جانب سے شاہد خاقان عباسی، میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف کرپشن کے حوالے سے انکوائریز کی منظوری سے بھی سمجھ میں آتی ہے۔ در حقیقت، اِس سے قبل اِن دونوں بڑی جماعتوں نے اتفاق رائے سے قومی احتساب بیورو کے لاڈلے سابق نیب چیف قمر الزمان کی جگہ جسٹس جاوید اقبال کو نیب چیف کے منصب پر تعینات کیا تو سب کچھ ٹھیک ہی تھا لیکن جب جسٹس جاوید اقبال نے قومی مفادات کے تحت ملک سے کرپشن ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا تو ن لیگ اُن کی تعیناتی کے خلاف درخواست لے کر سپریم کورٹ میں پہنچ گئی جسے گزشتہ روز عدالت عظمیٰ نے مسترد کر دیا ہے۔ ایسی ہی ن لیگی سیاسی قیادت کی چالاکی اُس وقت دیکھنے میں آئی جب عدالت عظمیٰ نے مسلم لیگ (ق) کے سابق سیاسی رہنما سید مشاہد حسین جنہوں نے نواز شریف کی حمایت سے ن لیگ کی سینیٹر شپ قبول کرکے ق لیگ سے اپنی وفاداری تبدیل کرلی تھی کی جانب سے ماضی میں میگا پروجیکٹس میں ن لیگی قیادت کی کرپشن کے حوالے درخواست فیصلے کیلئے عدالت عظمیٰ کے سامنے آئی جس میں سیسی وفاداری تبدیل کرنے کے حوالے سے سید مشاہد حسین نے عدالت عظمیٰ میں حاضری سے گریز کیا لیکن اُنہیں عدالت عظمیٰ میں تو پیش ہونا ہی پڑیگا۔کیا سید مشاہد حسین نے مسلم لیگ (ق) چھوڑ کر ن لیگ کی قیادت کی جانب سے پانچ برس کیلئے سینیٹر بننا اِسی لئے قبول کیا تھا تاکہ وہ ن لیگ کی میگا کررپشن کے حوالے سے اپنے کیس سے دستبردار ہو جائیں ا،س کا فیصلہ تو عدلات عظمیٰ میں ہی ہوگا؟ ویسے تو ن لیگ کی قیادت نے اپنی جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والے جنوبی پنجاب کے سیاسی رہنماؤں کے علاوہ بیشتر دیانتدار لیڈروں بشمول سابق وزیراعظم جمالی ، نواب آف بہاولپور ، ذوالفقار کھوسہ وغیرہ کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے پر لوٹا کریسی کے الزامات لگانے سے بھی گریز نہیں کیا ہے لیکن خود میاں نواز شریف کی صفوں میں بیشتر حاشیہ بردار وہی ہیں جو سابق صدر مشرف اور ق لیگ کی حکومتوں میں اہم عہدوں پر فائز رہے اور اب نواز شریف کے ایجنڈے پر کام کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ صورتحال ن لیگ کیلئے صداقت اور امانت کے حوالے سے کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑتا ہے بقول اقبالؒ ……. ؂
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمدؐ کا تمھیں پاس نہیں
*****

نہج البلاغہ باب العلم کی فصاحت و بلاغت کا شاہکار

اسلام کے بطل جلیل اور تا ریخ کے نامور سپوت حضر ت علیؓ کو قدرت نے اتنے امتیازات اور اعزازات سے نوازا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک امتیاز اور اعزاز دنیا بھر کی ناموری اور آخرت کی سرخروئی کیلئے کافی ہے ۔آپؓ کی محبت کو زبان نبوت نے ایمان اور آپ کے ساتھ عداوت کو نفاق قرار دیا ۔علیؓ،جن کے منہ سے نکلے ہوئے ایک جملے نے دنیا والوں کو پیغمبرانہ سیاست کا مزاج سمجھا دیاکہ ’’ اگر دین میرے سامنے نہ ہوتا تو میں پورے عرب کا سب سے بڑا سیاست دان ہوتا‘‘ ۔ جن کے پورے خاندان کیلئے شہادت باعث سعادت رہی ،جن کو ہمیشہ دنیا نے مسجد کا نمازی اور میدان کا غازی دیکھا ،جو عمر بھر جو کی روٹی کھا کر شکر خدا بجا لاتا اور رسول اکرمؐ کے ساتھ عہد وفا نبھاتا رہا۔جس شخص کی پرورش و پرواخت آغوش نبیؐ میں ہوئی ،جس کی جوانی کے آئینے میں عکس رسول جھلکا ہو ،جس کی سر گرمیوں کا دائرہ خوشنودی رب ہو،جس کی نگاہ عقابی ،جس کا ذہن آفاقی ،جس کی سوچ کائناتی اور جس کا کردار ملکوتی ہو وہ کیوں نہ تاریخ کیلئے قابل رشک بنے ۔جس علی المرتضیٰ کو دنیا کی کسی یونیورسٹی کی ڈگری نہیں ملی اس کے منہ سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ دنیا بھر کی جامعات کے سرمایہ علمی پر بھاری ہے ۔جس کے سر پر کسی درسگاہ کی فراغت کی دستار فضیلت نہیں باندھی گئی زمانے بھر کے مدرسوں کے صدر المدرسین اس کے سامنے ہاتھ باندھے نظر آتے ہیں ۔نہج البلاغہ آپ کے خطبات و ارشادات اور مکتوبات کا گرانقدر سرمایہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نہج البلاغہ کو پڑھ کر قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے اور اس کے اعجاز کا انسان قائل ہو جاتا ہے کہ ایک بندے کے زور کلام کا یہ عالم ہے تو خالق کائنات کے کلام کی معجز نمائی کا کیا رنگ ہو گا۔اس میں آپؓ کے چھوٹے چھوٹے جملہ رموزکائنات اور سائنسی علوم کے انکشافات بڑی بلاغت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں ۔علم و دانش پر مبنی آپؓ کے ارشادات اہل علم و دانش کو آج بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں ۔جب سائنسی علوم کی ایجاد نہیں ہوئی تھی ،کوئی تجربہ گاہ اور رصد گاہ بھی نہیں تھی ،کسی طرح کا تجربہ بھی نہیں ہوا تھا اس زمانہ میں حضرت علیؓ نے کہا تھا ’’ اس انسان پر حیرت کرو جو چربی سے دیکھتا ہے ،گوشت سے بولتا ہے، ہڈیوں سے سنتا ہے ،اور شگاف سے سانس لیتا ہے ۔‘‘آج عصر حاضر کی سائنس نے تحقیقات کر کے ان حقیقتوں کا اعتراف کیا ہے۔معاشیات کے اس ترقی یافتہ دور میں آپ کا یہ مختصر سا جملہ علم اقتصادیات کی کتنی گتھیاں سلجھا رہا ہے کہ ’’ کنجوس کے ہاتھ کی اشرفی پتھر کے برابر ہے ۔‘‘ نظام زر کا راز اس امر میں پوشیدہ ہے کہ کرنسی اگر سرکولیشن میں رہے تو سماج کیلئے مفید ہے ورنہ منجمد سکہ کی کوئی قدرو قیمت نہیں ۔منجمد سکہ معیشت و تجارت کی راہ کا پتھر ہے ۔باب العلم کے قلم سے نکلا ہوا یہ جملہ عالمی سیاستدانوں کیلئے درس عبرت ہے کہ’’ حاکموں کی سختیاں ملک خالی کرا دیتی ہیں اور ظلم و ستم مظلوموں کو جنگ یا بغاوت پر مجبور کر دیتا ہے ۔‘‘ عصر حاضر ایسی کئی مثالیں دامن تاریخ پر ثبت ہیں ۔آپ نے زوالوجی کے جو کلئیے پیش کئے تھے کہ ’’وہ جانور جو انڈے دیتے ہیں ان کے کان اندر ہوتے ہیں اور وہ جانور بچے دیتے ہیں جن کے کان باہر ہوتے ہیں‘‘یا یہ کہ ’’وہ جانور جو چگ کر کھاتے ہیں اپنے بچوں کو دانہ بھراتے ہیں اور وہ جانور جو چبا کر (جوگالی کر کے ) کھاتے ہیں اپنے بچوں کو دودھ پلاتے ہیں ۔‘‘ اس وقت علم حیوانات کی حقیقتوں کا کیا اندازہ ہوا ہو گا آج کے اس تحقیق یافتہ دور میں حضرت علیؓ کے منہ سے نکلے ہوئے ان انکشافات کی جو اہمیت اور افادیت ہے وہ اس زمانہ میں ہر گز نہیں تھی جس زمانہ میں یہ بات کہی گئی ۔نہج البلاغہ کے چوتھے حصے میں حضرت علیؓکے مختصر ارشادات ، بعض سوالوں کے جوابات اور انتہائی حکمت آمیز جملے درج ہیں جو نہ صرف حکمت و دانائی کا صحیفہ ہیں بلکہ ادب و انشاکا بھی شاہکار ہیں ۔اس گل صد برگ کی چند پتیاں حاضر ہیں تا کہ مشام جان کو معطر کیا جا سکے ۔حضرت علیؓ نے ایک موقع پر فرمایا ’’ جب دنیا کسی پر مہربان ہوتی ہے تو دوسروں کی خوبیاں بھی اسے مستعار دے دیتی ہے اور جب پیٹھ پھیر لے تو اس کی اپنی خوبیاں بھی چھین لیتی ہے۔‘‘ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے ’’ سب سے نادار شخص وہ ہے جو کسی کو دوست نہ بنا سکے اور اس سے بھی زیادہ تہی دست وہ ہے جو دوستوں کو پا کر انہیں کھو دے ۔‘‘ ایک اور مقام پر ملاحظہ ہو ’’ جسے اپنے رد کر دیتے ہیں اسے غیر اپنا لیتے ہیں ‘‘۔ فرماتے ہیں ’’ جس کو اس کا اچھا عمل آگے نہیں بڑھا سکا اسے نسب کوئی عزت نہیں دے سکے گا‘‘۔یہ رنگ بھی دیکھنے کے قابل ہے ’’اے اولاد آدمؑ !جب تو دیکھے کہ اﷲ کریم تم پر پے در پے نعمتیں نازل کر رہا ہے اور تو اس کی نافرمانی پر کمر بستہ ہے تو اس لمحے سے خوف کھاؤ‘‘(کہ کہیں یہ آزمائش کا زمانہ نہ ہو)۔حقیقت زہد کے بارے میں فرماتے ہیں ’’ زہد کا افضل مرتبہ زہد کو چھپانا ہے ،اصل غنا آرزوؤں کو ترک کر دینے کا نام ہے‘‘۔ایک اور حقیقت کا اظہار یوں فرماتے ہیں ’’ اس وقت سے پناہ مانگو جب شریف انسان بھوکا ہو اور کمینہ صاحب دولت بن جائے ‘‘۔دل کا احوال یوں سناتے ہیں ’’ دل ایک اجنبی پرندہ ہے وہ صرف محبت کی شاخ پر بیٹھتا ہے ۔‘‘ رسم دنیا بیان فرماتے ہیں ’’ تمہارے عیب اس وقت تک ڈھکے رہیں گے جب تک دنیا تم پر مہربان ہے ‘‘۔یگانگی و بیگانگی کو یوں واضح فرماتے ہیں ’’ آدمی مالدار ہو تو پردیس میں بھی اپنا لگتا ہے اور نادار ہو تو اپنے وطن میں بھی اجنبی بن کر رہ جاتا ہے ‘‘۔خیر خواہی کا اصل مفہوم ادا کرتے ہوئے فرمایا ’’ جو شخص تمہیں نتائج بد سے ڈرانے والا ہے در اصل وہی تمہارا خیر خواہ ہے ۔‘‘ کم ظرف سے معاملہ آن پڑے تو کیا کرنا چاہیے ،آپ فرماتے ہیں ’’ ضرورت کا پورا نہ ہونا اس سے بدرجہا بہتر ہے کہ کسی کم ظرف سے کچھ طلب کیا جائے ۔‘‘ یہ انداز بھی لائق توجہ ہے ۔’’ تھوڑا دینے سے کیا شرمانا بہر حال نہ دینے سے تو بہتر ہے ‘‘۔حضرت علیؓ کا یہ فرمان بھی آب زر سے لکھنے کے قابل ہے ۔’’ دو طرح کے عمل کا معاملہ بھی عجیب ہے کہ ایک وہ عمل ہے جس کی لذ ت تو جاتی رہتی ہے مگر پھٹکار باقی رہ جاتی ہے اور دوسرا وہ جس کی زحمت تو آخر ختم ہو جاتی ہے لیکن اجر محفوظ رہ جاتا ہے ۔‘‘ حریصانہ نفسیات کے متعلق فرماتے ہیں ’’ طمع مستقل غلامی ہے ‘‘۔ ایک اور عقدہ کشا فرمان’’ ظالم کیلئے وہ لمحے بڑے شدید ہوتے ہیں جب مظلوم کو اس پر فوقیت حاصل ہو جائے ‘‘۔ حقیقی صاحب علم کون ہے آپؓ نے فرمایا ’’ اصل عالم اور فقیہہ وہ ہے جو لوگوں کو اﷲ کی رحمت سے مایوس اور اس کی عنائت سے محروم نہ کرے اور اﷲ کی خفیہ تدبیروں سے بے پروا ہ نہ ہونے دے‘‘۔ایک شخص نے آپؑ سے سوال کیا ۔’’اﷲ تعالیٰ اتنی بڑی مخلوق کا حساب کیسے لے سکے گا؟آپ نے فرمایاجیسے وہ انہیں رزق دے رہا ہے۔پھر پوچھا بھلا وہ کیسے حساب لے گا جبکہ لوگ اسے نہیں دیکھتے ۔آپؑ نے فرمایا جیسے وہ رزق عطا فرما رہا ہے جبکہ لوگ اسے نہیں دیکھ پاتے‘‘۔یہ لہجہ بھی باب مدینتہ العلم کیلئے خاص ہے ۔’’ قیامت کے دن سب سے زیادہ حسرت اس شخص کیلئے ہو گی جس نے ناجائز طریقوں سے مال کمایا اور اس کا وارث ایسا شخص بنا دیا جس نے وہ سارا مال راہ خدا میں خرچ کر دیا ،اب مال کمانے والا جہنم رسید ہو گا اور خرچ کرنے والا جنت کا حقدار ٹھہرے گا ۔‘‘یہ رہیں گلشن علم علیؓ کی چند کلیاں جن کی مہک سے وادی قلب و روح مہک اٹھی ہے ۔آپؓ کا یہ فرمان کہ میں علم و حکمت کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہے ۔اس فرمان کی صداقت میں کیا شبہ ہے کہ فی ا لواقعہ صدیوں نے اس دروازے کی دریوزہ گری کی ہے اور ابھی کئی زمانے قطار بنائے کھڑے ہیں کہ کب موقع ملے اور وہ علم کی اس چوکھٹ پر اپنا سلام نیاز پیش کر سکیں ۔
*****

فکر اقبالؒ کا فروغ‘ وقت کا لازمی تقاضا!

اگر سوچ یہ بنے کہ قیام پاکستان کے سلسلے میں علامہ اقبال کا کردار قائداعظم سے بڑھ کر ہے تو شاید زیادہ خلاف حقیقت نہ ہو کیونکہ یہ علامہ اقبال ہی تھے جنھوں نے سب سے پہلے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا اس عظیم تصور کی تجسیم پاکستان کی صورت ہوئی یہ علامہ اقبال ہی تھے جنھوں نے اصرار کرکے قائداعظم کو واپس بلایا اگر یہ سب نہ ہوتا تو شاید پاکستان دنیا کے نقشہ پر نمودار نہ ہوتا تاہم واضح رہے یہ شخصی تقابل ہے نہ قائد اعظم کی خدمات اور مرتبہ و مقام کو کم کرنے کی جسارت۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیے محض جغرافیائی خدوخال رکھنے والے ملک کا تصور ہی پیش نہیں کیا بلکہ ایک ایسی مملکت کا نقشہ پیش کیا جو حقیقی معنوں میں ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست جہاں ہر شخص کے ناانفرادی‘ بطور قوم اجتماعی اور بحیثیت ملک انتظامی امور قرآن و سنت کے احکامات اور ہدایات کے تابع اور ریاست فرد کی کفیل ہوگی اسی کا نام فکر اقبال ہے اسی فکر اقبال کو فروغ دینے کے لیے حکومت پنجاب کے محکمہ اطلاعات کے تحت ادارہ بزمِ اقبال کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس نے اپنے قیام کے روز اول سے تادم تحریر علامہ اقبال کے حوالے سے خاصا کام کیا ہے ۔علامہ کی زندگی‘ شاعری اور فلسفیانہ سوچ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے والی کتابیں شائع کیں ایک ماہنامہ میگزین شائع کیا جاتا ہے جس میں علامہ اقبال پر تحقیقی مضامین شائع ہوتے ہیں تاہم فکر اقبال کے فروغ کے لیے ادارہ بزم اقبال کو جتنا فعال ہونا چاہئے تھا شاید حکومتی توجہ کم کم ہونے کے باعث ایسا نہ ہوسکا البتہ کچھ عرصہ قبل ادارہ بزم اقبال کی خوش قسمتی کا چراغ روشن ہوا صوبائی محکمہ اطلاعات کے سیکرٹری راجہ جہانگیر انور ادبی ذوق اور وسعتِ مطالعہ کے باعث ان گنے چُنے بیوروکریٹس میں شامل ہیں جن سے بیورو کریسی کے ماتھے پر توقیر کی کلغی سجی ہے۔ انھوں نے بزم اقبال پر خصوصی توجہ دی‘ گرانٹ کے سلسلے میں طریق کار کے حوالے سے درپیش اڑ چنوں کو دور کیا۔کیا بہتر ہو ریاض چودھری کے فکر اقبال کے جذبہ کو سرد نہ ہونے دیا جائے جو سینئر صحافی اور اقبال شناس ہونے کے ساتھ ساتھ گرم دم جستجو کی زندہ تصویر ہیں۔ ریاض چودھری پاکستان ٹائمز سمیت انگریزی صحافت میں اپنے جوہر دکھاتے رہے جن کی وسعتیں پانچ دہائیوں کو چُھورہی ہیں۔ یہ خوش آئند ہے ان کی جگہ جس شخصیت کو سکرٹری اطلاعات کا عارضی چارج دیا گیا ہے جناب عبداﷲسنبل کمشنر لاہور ڈویژن بھی علم دوست لوگوں میں شامل ہونے کی شہرت رکھتے ہیں اور ایک سچے پاکستانی ہونے کے ناطے وہ فکرِ اقبال کو مملکت خدا داد کی مضبوط اساس سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاض چودھری کے ذریعہ جب فکر اقبال کے فروغ کیلئے ادارہ بزم اقبال کے آئندہ پروگراموں سے آگاہی ہوتی تو وہ فوری طور پر سر پرستانہ تعاون کے لیے تیار ہوگئے۔ بزمِ اقبال کی گرانٹ میں حائل پروسیجرل طریقہ کار کی رکاوٹوں کو دور کیا بزم اقبال کے بورڈ آف گورنر کی از سر نو تشکیل میں خصوصی دلچسپی لی اور ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا ہے۔ جناب عبداﷲ سنبل کے بھرپور سرپرستانہ تعاون سے یقین کیا جاسکتا ہے کہ ریاض چودھری بزم اقبال اور فکر اقبال کے فروغ کے حوالے سے اپنے ارادے کی تکمیل میں سرخروئی حاصل کرسکیں گے۔ فکرِ اقبال کا فروغ اس لیے بھی ضروری ہے کہ آج مغربی تہذیب کے منفی اثرات ہماری نئی نسل کو اپنے اقدار و روایات سے غیر محسوس انداز سے دور کررہے ہیں اس سے محفوظ رکھنے کا یہی ایک موثر طریقہ ہے۔

آرمی چیف کا دورہ کابل،طالبان سے امن مذاکرات پر افغان حکام کی تعریف

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایک روزہ دورے پر کابل پہنچے جہاں انہوں نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے وفود مشترکہ مفادات پر بات کی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان صدر کی دعوت پر آرمی چیف کے دورے کے دوران ان کی ملاقات چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور افغانستان میں اعلیٰ امریکی کمانڈر جنرل جون نکولسن سے ہوئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل باجوہ نے افغان حکام کو امن معاہدے بالخصوص رمضان المبارک اور عید کے موقع پر کیے گئے اقدامات پر مبارک باد پیش کی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے اشرف غنی نے طالبان سے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

چیف آف آرمی اسٹاف کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے دیر پا امن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کی ملاقات کے دوران متعدد امور زیر بحث آئے جن میں افغانستان میں مصالحت کا عمل، داعش کے ابھرنے پر نظر رکھنے اور پاک افغان سرحد پر دہشت گردی شامل ہے۔

اجلاس کے دوران جنرل باجوہ نے زور دیا کہ امن اور ترقی انفرادی نہیں بلکہ خطے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

پاکستان کی کوششوں کے حوالے سے بتاتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ملک نے امن و استحکام حاصل کرنے کے بعد معاشی اقتصادی ترقی کو اپنی ترجیح دے رکھی ہے جس کی وجہ سے دیرپا امن اور استحکام قائم ہوسکے گا۔

مشترکہ تعلقات

آرمی چیف نے امید کاظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان پاکستان ایکشن پلان برائے امن و استحکام (اے پی اے پی پی ایس) سے دونوں ممالک میں مزید تعاون بڑھے گا۔

سرحد پر باڑ لگانے کا حوالے دیتے ہوئے جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ ’باڑ لگانے کا مقصد دہشت گردی پر نظر رکھنا ہے نہ کے دونوں اطراف کی عوام پر‘۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ صدارتی محل میں پاکستانی وفد کے میزبان اشرف غنی نے جنرل باجوہ کے دورے اور امن اور استحکام کے لیے کیے گئے سیکیورٹی اقدامات کا شکریہ ادا کیا۔

اشرف غنی نے اپنے ریمارکس میں خطے کی ترقی، طالبان کے ساتھ جنگ بندی کو بڑھانے کی کوششیں اور مصالحتی عمل کی صورتحال پیدا کرنے کے لیے اقدامات پر اپنا نظریہ پیش کیا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دونوں اطراف نے باہمی اقدامات کو انتہائی ضروری قرار دیتے ہوئے اس پر رضامندی کا اظہار کیا۔

ریزولیوٹ سپورٹ مشن (آر ایس ایم) کے کمانڈر جنرل نکولسن سے بات چیت کے دوران جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خواہش کے امریکا اور نیٹو افواج تشدد کی فضا کے خاتمے میں کامیابی حاصل کرلے اور افغانستان کو امن پسند اور مستحکم بنادے۔

واضح رہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف کے افغانستان پہنچنے پر انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا تھا۔

ان کے ہمراہ پاکستانی وفد میں سیکریٹری خارجہ تحمینہ جنجوعہ، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل نوید مختار، پاکستانی سفیر برائے افغانستان اور دیگر سینیئر حکام شامل تھے۔

افغان وفد ملک کے قومی سلامتی کے مشیر، نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی آفیشلز اور سینیئر وزیروں پر مشتمل تھا۔

Google Analytics Alternative