Home » Author Archives: Admin (page 2)

Author Archives: Admin

فیروز خان ایوارڈ شو کے دوران بیوی سے متعلق مذاق پر انتظامیہ پر چڑھ دوڑے

کراچی: ڈراما سیریل ’’خانی‘‘کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والے نامور پاکستانی اداکار فیروز خان نے ان کی بیوی سے متعلق مذاق کرنے پر نجی چینل کی ایوارڈ انتظامیہ کو کھری کھری سنادیں۔

حال ہی میں پاکستان کے نجی چینل کی جانب سے ایوارڈ کی تقریب منعقد کی گئی جس میں میزبان نے  تقریب کے ماحول کو خوشگوار بنانے کے لیے چھوٹا سامذاق کرتے ہوئے کہا کہ اس سال پاکستان ٹی وی انڈسٹری میں کئی نئی جوڑیاں سامنے آئی ہیں جیسے اقرا عزیز، فرحان سعید کی جوڑی، احد  اور سجل کی جوڑی اور فیروز خان اور علیزے کی جوڑی۔

اسکرپٹ میں فیروز خان اور ان کی اہلیہ کانام شامل نہیں تھا اوراسی بات کو لے کر فیروز خان غصے میں آگئےاور ٹوئٹر پر ایوارڈ انتظامیہ کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا’’ اگلی بار اگر کسی ایوارڈ شو میں میری فیملی کے ساتھ مذاق کیا گیا تو میں اس کا بائیکاٹ کردوں گا، میں شوبز کا حصہ ہوں میری فیملی نہیں لہٰذا بولنے سے پہلے ایک بار سوچ لیں۔‘‘

فیروز خان کے اس رویے کو کئی سوشل میڈیا صارفین نے شہرت حاصل کرنے کا ہتھکنڈا بتاتے ہوئے کہا کہ ایوارڈ شو کے میزبانوں نے آپ کی بیوی کے ساتھ کوئی مذاق نہیں کیا تھا وہ صرف ایک لائن تھی اور اس میں مذاق کا کوئی پہلو بھی نہیں نکلتا لہٰذا اس بات پر اتنے طیش میں آنے کی ضرورت نہیں تھی۔

اسٹیفن ہاکنگ کی آخری کتاب شائع ہوگئی

لندن: اسٹیفن ہاکنگ کی نئی کتاب منظرِ عام پر آگئی ہے جسے ’بریف آنسرز ٹو ڈی بِگ کوئسچنز‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ممتاز ریاضی داں، ماہرِ کونیات و فلکیات اسٹیفن ہاکنگ کی یہ نئی تصنیف ماضی کی طرح ایک موضوع کے بجائے زیادہ تر ایسے مسائل پر بحث کرتی ہے جو مستقبل میں پیش آسکتے ہیں۔ اسٹیفن ہاکنگ کی یہ کتاب ان کے مختلف مضامین کا مجموعہ ہے جنہیں انہوں نے گھمبیر عالمی مسائل قرار دیا ہے اور ان کے جوابات دینے کی کوشش بھی کی ہے۔

ہاکنگ نے اپنی کتاب میں کہا ہے کہ مستقبل قریب میں انتہائی امیر افراد خود اپنے اور اپنی اولاد کے ڈی این اے میں تبدیلی سے فوق انسان یعنی ’سپرہیومن‘ کی دوڑ میں شامل ہوجائیں گے جبکہ بقیہ انسانیت پیچھے رہ جائے گی۔

اپنے سلسلہ مضامین میں ہاکنگ نے کہا ہے کہ جینیاتی کاٹ چھانٹ اور ڈی این اے میں تبدیلی کے بہت سے غیرمعمولی طریقے سامنے آچکے ہیں جن میں ایک کرسپر (سی آر ایس پی آر) سرِفہرست ہے۔ ہاکنگ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ انسانوں کا ایک ٹولہ سپرہیومن بننے کے بعد بقیہ انسانوں کو فنا کرسکتا ہے۔

ہاکنگ نے اپنے مضامین اور فیچرز میں کہا ہے کہ اس صدی کے آخر تک انسان غصہ اور نفرت سمیت اپنی بعض جبلتوں کو بدل دے گا اور اپنی ذہانت بڑھانے کی کوشش کرے گا۔ حکومتیں انسانوں کی جینیاتی تبدیلی روکنے کے قوانین ضرور بنائیں گی لیکن بعض افراد انسانی زندگی میں طوالت، بیماریوں کو روکنے اور یادداشت بڑھانے کے لیے متنازعہ انسانی جینیاتی انجینیئرنگ کا سہارا لیں گی۔

اس کتاب میں اسٹیفن ہاکنگ نے مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلی جنس) کے ان دیکھے پہلوؤں پر بھی بات کی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ انسان ارتقائی لحاظ سے سست رفتاری سے ترقی کررہا ہے جبکہ مصنوعی ذہانت بہت جلد اسے پیچھے چھوڑ دے گی۔ کئی میدانوں میں انسانی اے آئی کا ساتھ نہیں دے سکے گا۔

اب اگر دفاتر، کارخانوں اور فوجی انتظامات میں اسے استعمال کیا جائے گا تو ایک دن مصنوعی ذہانت خود فیصلہ کرنے کے قابل ہوکر ہم انسانوں کو ہی صفحہ ہستی سے مٹاسکتی ہے یا نقصان پہنچانے کی کوشش کرسکتی ہے۔

اپنے دیگر مضامین میں ہاکنگ نے زمین کے کسی سیارچے سے ٹکراؤ اور آب و ہوا میں تبدیلی (کلائمیٹ چینج) کو زمین کےلیے بڑے خطرات قرار دیا ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے نیوکلیئر فیوژن کو توانائی کا بہترین، سب سے صاف اور ماحول دوست ذریعہ قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ اسٹیفن ہاکنگ کی پہلی کتاب ’اے بریف ہسٹری آف ٹائم‘ 1988 میں منظرِعام پر آئی تھی جو پوری دنیا کی درجنوں زبانوں میں ترجمہ کی گئی تھی۔ اسی مناسبت سے ان کی آخری کتاب کو ’بریف آنسرز ٹو ڈی بِگ کوئسچنز‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ موٹر نیورون ڈیزیز میں مبتلا تھے اور اس سال 14 مارچ کو ان کا انتقال ہوگیا تھا۔

آسٹریلیا کا بھی مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے پر غور

کینبرا: امریکا کے بعد آسٹریلیا نے بھی مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر غور شروع کردیا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے کہا ہے کہ ہم مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور آسٹریلوی سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

اسکاٹ موریسن کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے لیکن اس حل کے لئے کوئی خاطر خواہ کوشش نہیں کی گئی جب کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ کابینہ کی مشاورت سے کیا گیا ہے۔

واضح رہے ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرکے اپنا سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرچکی ہے جس کے خلاف فلسطین سمیت پوری دنیا میں احتجاج اور  مظاہرے ہوئے تھے

’عمران خان کا گھر پہلے ریگولرائز ہوگا تو باقی بھی ہوں گے‘

اسلام آباد: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بنی گالہ کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ وزیرِاعظم عمران خان کا گھر پہلے ریگولرائز ہونا چاہیے، اس کے بعد ہی دیگر گھر ریگولرائز ہوجائیں گے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بنی گالا میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیر رضوی نے عدالت کو بتایا کہ بوٹینیکل گارڈن کے تحفظ کے لیے دیوار تعمیر کی جارہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بوٹینکل گارڈن میں اسلام اباد کی 7 یونین کونسل شامل ہیں اس کے علاوہ کئی ہاؤسنگ سوسائٹیز بھی بنی ہیں جنہوں نے ماحولیاتی ایجنسی سے کلیئرنس نہیں لی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بنی گالا کے تحفظ کے لیے پہلا قدم عمران خان نے درخواست دے کر اٹھایا، ریگولرائزیشن کا معاملہ حل ہونے تک نئی عمارتوں کی اجازت نہیں دیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سب سے پہلے عمران خان کا گھر ریگولرائز ہوگا جس کے لیے وہ جرمانہ ادا کریں گے۔

چیف جسٹس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو سیاسی نہ سمجھا جائے، کیونکہ عمران خان کے بعد باقی شہریوں کو اپنی تعمیرات ریگولرائز کروانے کا کہا جائے گا۔

علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے بنی گالا میں تجاوزات کو ریگولرائز کرنے کے لیے کمیٹی کی تشکیل دینے کا بھی حکم دے دیا۔

مذکورہ کمیٹی میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) حکام سمیت سیکریٹری داخلہ پلاننگ اور ماحولیات شامل ہوں گے جو تمام تجاوزات کو ریگولرائز کرکے 3 ہفتوں میں رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی۔

عدالتِ عظمیٰ نے بنی گالہ میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت 29 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے بنی گالہ میں غیرقانونی کمپنیوں کی لیز منسوخ کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جو کمپنیاں لیز کے طے کردہ قواعد و ضوابط پر پورا نہیں اترتیں انہیں بند کردیا جائے، کیونکہ اسلام آباد میں دی گئی لیز اقربا پروری پر دی گئی۔

کورنگ نالہ تجاوزات کیس میں تمام درخواستیں مسترد

سپریم کورٹ نے کورنگ نالہ تجاوزات کیس میں نظر ثانی کے لیے دائر تمام درخواستوں کر مسترد کردیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کورنگ نالہ تجاوزات کیس کی سماعت کی۔

عدالتِ عظمیٰ نے مسماۃ اصغر کو انسانی ہمدردی کے تحت شوہر کے کینسر اور 7 سالہ بچے کی پرورش کی بنیاد 4 ماہ کی مہلت دے دی۔

سماعت کے دوران وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ مسماۃ اصغر کا شوہر کینسر میں مبتلا ہے گھر گرگیا تو وہ بے گھر ہوجائیں گے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ غیر قانونی گھر ہے اس نے تو گرنا ہے لیکن ہم ہمدردی کی بنیاد پر 4 ماہ مہلت دے دیتے ہیں۔

متاثرہ خاتون نے عدالت میں کہا کہ مجھے اپنی جائیداد پر ہمدردی نہیں چاہیے جن لوگوں نے ہمیں یہ جائیداد دلائی ہے اور فروخت کی ہے ان افراد کو کیوں نہیں پکڑا جاتا جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ چاہیں تو ان کے خلاف مقدمہ درج کروادیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں یہاں پر کچھ کہتا ہوں تو صبح شہ سرخیاں لگ جاتی ہیں، افسوس کہ اس ملک کو سب سے زیادہ نقصان پٹواریوں نے پہنچایا اور اس کے اوپر کے عملے کے کھانچوں کی وجہ سے غیر قانونی تعمیرات ہوئیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے کسی شخص کے لیے قانون تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے تجاوزات کو ہٹانے کے حکم پر نظر ثانی کے لیے دائر تمام درخواستوں کو مسترد کردیا جبکہ ایک درخواست کو منظور کرلیا۔

منان وانی کی شہادت، بھارتی ظلم و بربریت کی انتہا

بھارت نے ظلم و بربریت کی تمام حدود کو پار کر لیا ہے اور کشمیر کے نہتے اور بے گناہ انسانوں کو اپنے حق مانگنے کی پاداش میں زندہ رہنے کے حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں موت اور تباہی کے نہ ختم ہونے والے بھیانک کھیل نے عام نوجوانوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر منان وانی جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں آزادی کے ساتھ رہنا ہے یا شہادت کو قبول کرنا ہے۔بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرنے والے آزادی کی تحریک کے نوجوان ہیرو منان وانی کی شہادت کو اہل کشمیر کیلئے نا قابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیر کے نوجوانوں کو بھارت کے استعماری جبر نے دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے۔ مجید وانی سے لے کر برہان مظفر وانی اور اب ڈاکٹر منان وانی تک آزادی و حریت کے عظیم جذبوں اور باوقار موت کی ایک ایسی عظیم داستان ہے جو کشمیر کے نوجوان کے جذبوں کو مہمیز اور تازگی بخشتی رہے گی۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت کے حکمران اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں اور مسلسل ایسے اقدامات کر رہے ہیں جو خود بھارت کے اپنے آئین اور بانیان ہند کے اْصولوں کے منافی ہیں۔26 سالہ منان وانی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی پروگرام ادھورا چھوڑ کربھارت کے زیرانتظام کشمیر کی راہ لی اور یہاں مسلح ہوکر سوشل میڈیا پر اعلان کردیا کہ وہ حزب المجاہدین میں شامل ہوگئے ہیں۔وہ سائنس کے طالب علم تھے لیکن تاریخ، مذاہب اور سیاسی مزاحمت سے متعلق بھی وسیع مطالعہ رکھتے تھے۔ وہ اپنے مضامین میں امریکی شہری حقوق کے رہنما میلکم ایکس اور دیگر سیاہ فام مزاحمتی رہنماؤں کے حوالے دیا کرتے تھے۔ پی ایچ ڈی میں منان وانی کی تحقیق کا موضوع اپنے آبائی قصبہ لولاب کی ارضیاتی خصوصیات سے متعلق تھا۔منان وانی نے کئی طویل مضامین لکھے، جن کی اشاعت پر مقامی نیوز ایجنسی کے خلاف پولیس میں مقدمہ بھی درج ہوا اور سروس کی ویب سائٹ سے منان کا مضمون بھی ہٹایا گیا۔منان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور بھارتی سیکورٹی اہلکار جگہ جگہ چیکنگ کر رہے ہیں کہ کہیں اور منان تو نہیں تیار ہو رہا۔ کیونکہ منان اْس طویل فہرست میں شامل ہوگئے ہیں جس میں ایسے متعدد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہیں جنہوں نے اپنے کیرئیر کو ادھورا چھوڑ کر بندوق تھام لی۔اسی لئے منان کی ہلاکت پر نہ صرف ہندنواز حلقے پریشان ہیں بلکہ سیکورٹی اداروں کے بعض افسروں کو بھی خدشہ ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بغاوت کی لہر پیدا ہوسکتی ہے۔دو سال قبل برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے اب تک متعدد تعلیم یافتہ نوجوانوں اور سکالرز سمیت 600 نوجوان مسلح ہوکر بھارتی فورسز کے خلاف برسرپیکار ہوگئے ہیں جن میں سے اب تک کم از کم 300 حریت پسند جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔یہ سلسلہ اس قدر تشویشناک ہے کہ سابق وزیراعلی عمرعبداللہ نے بھی کہا کہ ‘اب کشمیریوں کو پاکستان کی ضرورت نہیں’ کیونکہ اب وہ پولیس اور فورسز اہلکاروں کی بندوق چھین کر جنگل میں پناہ لیتے ہیں اور فورسز پر حملے کرتے ہیں۔گزشتہ ماہ بھارتی سرکار نے مقبوضہ جموں کشمیر میں پنچایتی الیکشن کروانے کی تاریخ مقرر کی جو کہ کافی عرصے التواء کا شکار چلے آ رہے تھے۔ لہذاس دِلی سے لے کر کشمیر تک سر گر میاں شروع ہو چکی ہیں اور اس دوران امر ناتھ یاترا کی حفاظت پر مامور سنٹرل فورسز کی 202کمپنیوں کو ریاست میں آنے والے پنچایتی انتخابات مکمل ہو نے تک واپس نہیں بھیجا جائے گا۔یہ انتخابات نومبر میں منعقد کئے جائیں گے۔جموں کشمیر کی آٹھ ہزار پنچایتوں کیلئے انتخابات طویل مدت کے بعد 2011 میں ہوئے تھے۔ان پنچایتوں کی مدت کار کا خاتمہ 2016 میں عین اْسی وقت ہوا جب مقبول کشمیری کمانڈر برہان وانی کی شہادت نے کشمیر میں بھارت مخالف احتجاجی لہر اٹھی تھی اور اس کی وجہ سے کشمیریوں کی طرف سے یہ انتخابات مسترد کر دیے گئے تھے جو کہ بھارت کیلئے ایک بڑی ناکامی تھی۔اب بھی بھارت سرکار کی جانب سے کشمیریوں کیلئے یہ نئی خبر بھی کسی ڈھکوسلے سے کم نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کے تمام عوامی نمائندوں اور سول سوسائٹی سے لے کر سیاسی اور حریت پسند جماعتوں نے اس کا بائیکاٹ کر دیا ہے اور عوام الناس سے اس میں حصہ نہ لینے کی اپیل کی ہے۔پنچایت سرپنچ ایسو سی ایشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’’جب تک دفعہ 35 اے کا فیصلہ ہمارے حق میں نہ ہوجائے اس وقت تک ہم پنچایت انتخابات کا بائیکاٹ کرینگے۔سابق سرپنچ نے تمام سابق سرپنچوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی اس کابائیکاٹ کریں‘‘۔یہ پہلا موقع ہے کہ ہندنواز سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے بھی پنچایتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ بظاہر ان کا یہ اقدام کشمیریوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے ہے مگر اس سے اتنا ضرور ثابت ہوجاتا ہے کہ کشمیریوں نے بھارت سرکار کے اِقدامات کو اس حد تک نفرت کا نشانہ بنا دیا ہے کہ بھارت کے حمایتی بھی بھارت سرکار کے اقدامات سے بائیکات کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ہمارے نوجوان اورخواتین بے قصور شہید کیے جارہے ہیں، ہمارے حق خود ارادیت پر ڈاکہ ڈالا جا چکا ہے تو اب انتخابات کا کیا مطلب؟ مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد انتخابات کے موقع پر بھی بھارتی چیرہ دستیوں میں اضافے کے باوجود کشمیری عوام نے بھارت کے اس ڈھونگ کو ناکام بنا دیا ہے۔اب پنچائیتی کے انتخابات کے موقع پر حکمران جماعت بی جے پی نے ووٹ حاصل کرنے کیلئے جو پینترا بدلا اور انتہا پسند ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے یہ دعویٰ دہرایا ہے کہ جموں و کشمیر بشمول وہ حصہ جو پاکستان کے پاس ہے وہ بھارت کا حق ہے اور بھارت کی یک جہتی اور وحدت برقرار رکھنا بی جے پی کا اولین فرض ہے۔ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کوبدنام کرنے کیلئے ہمیشہ پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ دراندازوں کو مقبوضہ کشمیر بھیج رہا ہے۔ بھارت نے کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دینے کیلئے پوری دنیا میں یہ پراپیگنڈہ کیا۔ پاکستان نے حال ہی میں باہمی اعتماد کی بحالی کیلئے جو اقدامات کیے ہیں اس کے بعد بھارت کے رہنماؤں نے تسلیم کیا ہے کہ کنٹرول لائن سے دراندازی میں کمی آئی ہے۔ اس کے باوجود اگر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں اور مقبوضہ کشمیر کے بھارت نواز سیاستدانوں پر حملے ہو رہے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیری عوام اپنے بل بوتے پر آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

برطانیہ میں مذہبی منافرت کے جرائم میں 40فیصد اضافہ

برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق انگلینڈ اینڈ ویلز میں مذہبی منافرت پر مبنی جرائم میں 40فیصد اضافہ ہوا ہے جس میں سب سے زیادہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے دفتر سے جاری سالانہ اعدادوشمار کے مطابق مذہبی منافرت کے 52 فیصد جرائم میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ جرائم کی شرح بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔

پولیس کے مطابق مذہبی منافرت کے 94ہزار 98واقعات رونما ہوئے جو اب تک اس طرح کے جرائم کی سب سے بڑی تعداد ہے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں اس میں 17 فیصد ہوا ہے اور گزشتہ پانچ سال میں یہ شرح دگنی ہو چکی ہے۔

نفرت پر مبنی جرائم میں سے تین چوتھائی نسلی پرستی کی بنیاد پر کیے گئے جبکہ ان میں سے 9فیصد حملے جنسی بنیادوں پر کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر طرح کے نفرت انگیز جرائم میں اضافہ ہوا ہے لیکن ہمارا ماننا ہے کہ اس کی ایک وجہ پولیس کے کام میں واضح بہتری ہے جس کے نتیجے میں یہ واقعات منظر عام پر آنا شروع ہوئے۔

تاہم 2016 میں بریگزٹ اور گزشتہ سال دہشت گرد حملوں کے بعد سے اس طرح کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا کہ مذہبی منافرت کے حملوں میں مسلمانوں کے بعد برطانیہ میں سب سے زیادہ نشانہ یہودیوں کو بنایا گیا۔

رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ہوم آفس نے اپنے بیان میں کہا کہ قانونی کمیشن منافرت پر مبنی جرائم کے موجودہ قانون کی افادیت کا جائزہ لے رہا ہے اور اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ جرائم کی روک تھام کے لیے مزید سزائیں قانون کا حصہ بنائی جانی چاہئیں یا نہیں۔

ہوم سیکریٹری ساجد جاوید نے کہا کہ ہم گھناؤنے رویے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں کیونکہ منافرت پر مبنی جرائم اتحاد، برداشت اور باہمی احترام پر مبنی دیرینہ برطانوی اقدار کے خلاف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے نسل پرستی اور تعصب کی اصل جڑ کو پکڑنے کے لیے نیا منصوبہ بنایا جس کے تحت ان جرائم سے متاثرہ افراد کی مکمل مدد کرتے ہوئے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لے کر آئیں گے۔

’عوام نے ضمنی الیکشن سے نیازی صاحب کا احتساب شروع کردیا‘

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ عوام نے ضمنی الیکشن سے نیازی صاحب کا احتساب شروع کردیا ہے۔

لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ عوامی عدالت میں سرخرو ہوئے اور ضمنی الیکشن میں کامیابی حاصل کی۔

انہوں نے کہا 71 سالہ ملکی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ ڈیڑھ مہینے بعد حکومت ضمنی الیکشن ہار جائے۔

حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ ڈالر کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے ،اسٹاک مارکیٹ گرگئی ،ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑی نہیں کھلنڈروں کی جماعت ہے جو بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھارہے ہیں۔

شہباز شریف کے صاحبزادے کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو دوبارہ 14 روز کا ریمانڈ دے دیا ہے یہ کیا مذاق ہے،ایک آدمی جس نے دس سال عوام کی خدمت اس کو دھر لیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو قبضہ گروپ علیم خان اور عثمان بزدار نظر نہیں آتے، عوام کو حکومت میں آنے کے بعد عثمان بزدار اور علیم خان تحفے میں دیئے گئے ہیں۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ کے پی کے میں تحریک انصاف نے کون سا وعدہ پورا کیا، یہ جعلی مینڈیٹ ہیں اور جعلی نعرے ہیں۔

حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ احتساب بنی گالا سے شروع ہونا چاہیے، عوام کی عدالت ہے اور عوام نے فیصلہ کرنا ہے نیب کے پیچھے نیازی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج نیازی صاحب کو لینے کے دینے پڑ گئے ہیں وہ اپنی دونوں سیٹیں بھی ہار چکے ہیں، عمران نیازی کو یو ٹرن کے پیچھے چھپنے نہیں دیں گے۔

مسلم لیگ(ن) کے رہنما کا کہنا تھا کہ عمران خان نے دو کام کیے ایک بھینسیں بیچی اور دوسرا پٹرول پمپ کے باتھ روم صاف کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ڈٹ کر عمران خان کے بغض کا مقابلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ قبضہ گروپ آج پنجاب اسمبلی میں بیھٹے ہوئے ہیں، شہباز شریف باعزت طریقے سے واپس آئیں گے۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ ہم نئے پاکستان کے خلاف نہیں ہیں، ان کو حکومت کرنے دیں ہم ان کے خلاف نہیں ہیں، ہم ابھی اپوزیشن کریں ان کو بھرپور دیکھیں گے۔

پنجاب اسمبلی اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ اگر شہباز شریف کا قصور یہ ہے اس نے ایک مجرم کے خلاف کاروائی کی تو ان کو پکڑ لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ احتساب یہ ہے کہ جعلی وزیر اعظم 2 ہزار ووٹوں سے جیتیں اور 10 ہزار ووٹوں سے ہار جاتے ہیں، لوگوں کو ان کا اصل چہرہ پتہ لگنا چاہیے۔

حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ یہ شیشے کے گھر میں بیھٹے ہوئے ہیں جعلی ووٹ لے کر آئے ہیں اس لیے ہر چیز سے ڈرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ایک عدالت میں نواز شریف پیش ہورہے تھے، دوسری میں شہباز شریف پیش ہورہے تھے، اگر مریم نواز کا احتساب ہوسکتا ہے تو علیمہ خان کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔

فاٹا انضمام اور ملکی مفاد

yasir-khan

ملکی مسائل کے تناظر میں اگر با ت کی جائے تو ان میں چند مسائل ایسے ہیں ،جنھیں بڑی آسانی کے ساتھ محض وسیع تر ملکی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے حل کر نے میں کم از کم ہماری سیاسی قیادت کو کسی پس و پیش سے کام نہیں لینا چاہئے تھا،اور بظاہر جنھیں افہام و تفہیم اور متفقہ لائحہ عمل کے ذریعے حل کر نے کے انتظار میں ہم کئی سالوں سے ، محض انتظار کی کربناک سولی پر لٹک رہے ہیں ،ان حل طلب مسائل میں ایک بہت بڑا مسئلہ جو گزشتہ ستر سالوں سے ہماری حکومتوں کی توجہ کا طلبگار رہا اور اب بھی ہے وہ ہے ،فاٹا انضمام کے بعد اسے مکمل طور پر خیبر پختونخواہ میں ضم کر نے کا۔فاٹا کے عوام جوقیام پاکستان کے وقت سے ہی خود اپنی مرض سے پاکستان میں شامل ہوئے تھے۔اور ان کا مطالبہ فقط یہ ہے کہ انہیں آئینی،انتظامی ، سیاسی اور مالی حوالوں سے بھی پاکستان کا حصہ بنا دیا جائے،قبائلی عوام کے مطالبات سو فیصد حقائق پر مبنی اور جائز ہیں جنھیں آج تک ہماری ماضی کی حکومتیں دینے سے قاصر رہیں ۔نتیجے کے طور پر فاٹا کے عوام کے اندر مایوسیوں اور محرومیوں نے سر اٹھایا،غربت بیروزگاری،بد امنی،جرائم اور بھوک نے قبائلی عوام کو ملک کے باقی حصوں کی نسبت سب سے زیادہ متاثر کیا،فاٹا کے عوام ،تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے تو محروم ہیں ہی مگر ،انتظامی ڈھانچہ نہ ہو نے اور ان قبائلی عام پر ؛آزاد قبائل کے بد نما لیبل نے انھیں آزادی تو کیا غلامی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا،یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ کچھ دشمن ممالک نے بھی اپنے مفادات اور عزائم کی تکمیل کی خاطر اسے اپنی آماجگاہ بنائے رکھا ،یہاں بسنے والے محب وطن قبائل کی محرومیوں اور مایوسیوں کو ہوا دے کر ،ایسے لوگوں کو تیار کیا جنھوں نے آگ و بارود کا کھیل پورے ملک میں کھیل کر اپنی اناء کی تسکین کی۔کچھ سیاسی قائدین کو ساتھ ملا کر ان لوگوں نے ہمیشہ جب بھی اس خطے کے عوام کی بہبود کی خاطر اصلاحات کی کوششوں ہوئیں ان کی راہ میں ہر طرح سے روڑے اٹکا نے کی کوشش کی،انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیموں کے آلہ کار کا کردار ادا کرتے ہوئے ،پوری دنیا کے میڈیا کے سامنے فاٹا کے عوام کی بے بسی اور محرومیوں کی تصویر کشی کر کے اپنی من چاہی اصلاحات لا نے کوششوں میں لگے رہے،وہ قبائل جن کی پہچان مہمان نوازی تھی مگر انھیں بے یارو مدد گار چھوڑ دینے سے ان کی اپنی پہچان یہ ہے کہ مہمان نوازی تو کجا خود در بدر ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں ،وطن بے وطن ، ہجرت ،اور خیموں کی زندگی نے ان کی نسلوں کا سکھ چین ہی چھین لیا ہے۔نام تو ہم ان قبائل کو آزاد قبائل کا دیتے ہیں ،اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تاریخ گواہ ہے کہ ان محب وطن قبائل نے ملک کی خاطر کیا کچھ قربانیاں دی ہیں ۔مگر ماضی کی حکومتوں کی فاٹا کے عوام کے ان دیرینہ مطالبات اور مسائل سے صرف نظر کا ہی کرشمہ ہے کہ قبائلی عوام کی آزادیاں یوں سلب ہو رہی ہیں کہ کبھی پولیٹیکل ایجنٹ کی غلامی،کبھی وہاں کے قبائلی سرداروں کی غلامی ان کا مقدر بن گئی ہے۔فاٹا کے کے عوام تو اپنی خودداری میں مشہور ہیں ،مگر انھیں اپنا ہی حصہ بنا نے میں آج تک جس پس و پیش سے کام لیا گیا ہے،اس نے ان قبائل کو بھکاری بنا دیا ہے۔ان کی پہچان تو یہ تھی کہ یہ لوگ ،دولت،غم اور خوراک غرض ہر چیز کو بانٹتے تھے،مگر فاٹا سے متعلق بر وقت اصلاحات نہ ہونے ،انھیں ملک کے دوسرے حصوں کی طرح قانونی عملداری میں نہ لانے،ان علاقوں کے عوام کی بنیادی ضروریات تک رسائی میں ناکامی کا ہی نتیجہ ہے کہ چند قبائلی سردار ،امیر سے امیر تر اور لاکھوں عوام خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔آج بھی کچھ لوگ فاٹا کے اس انضمام کی مخالفت کرتے ہوئے اسے الگ صوبہ کی حیثیت سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ،یہ بات درست ہے کہ ملک میں بڑھتی آبادی کے سبب انتظامی بنیا دوں پر نئے صوبوں کی ضرورت و اہمیت بڑھ چکی ہے،مگر فاٹا کا معاملہ اس سے یکسر مختلف ہے، کیونکہ جب تک فاٹا مکمل طور پر ملکی قانون کی عملداری میں نہیں لایا جاتا،مضبوط اور مربوط طریقے سے انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر بحال نہیں کر دیا جاتا،ملک کے باقی علاقوں کی طرح ،پولیس کا نظام نہیں لایا جاتا،ضلعی دفاتر،ڈویژنل اور سب ڈویشنل ہیڈ کوارٹرز کی عمارات کے علاوہ ،پاکستانی قانون کے تحت عدالتوں کا قیام ،جب تک اسے تکمیل پذیر کر کے ،یہاں کے نوجوانوں کی روزگار کے حصول کیلئے سہولیات،ان کی فنی تربیت کے اداروں کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا اس وقت تک ،اسے نئے صوبے کی شکل میں آزاد حیثیت دینے کا مطالبہ صحیح نہیں ہے۔قبائلی عوام خود بھی یہی چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد اس انضمام کے بعد باقی ماندہ تمام اصلاحات کو جلد سے جلد عملی شکل دی جائے، موجودہ حکومت چونکہ خود اس بات پر یقین رکھتی ہے اور شروع دن سے فاٹا انضمام کے حق میں تھی اس لئے اقتدار میں آنے کے بعد قبائلی عوام کی توقعات موجودہ حکومت سے اور بھی زیادہ ہیں ۔اس لئے کہ ہم نے فاٹا کے قبائلی عوام سے اپنے وعدوں کا پاس کر نے میں پہلے ہی بہت زیادہ وقت ضائع کر دیا ہے ،جس کے نتائج آج ہمیں فاٹا میں ، غربت، بیروزگاری، بدامنی، دہشت گردی کی صورت جا بجا نظر آتے ہیں ،موجودہ حکومت جس طرح باقی ماندہ شعبوں پر اپنی توجہ صرف کر رہی ہے اسی طرح فاٹا انضمام کے فیصلے کے بعد اصلاحا ت کو عملی اور قانونی شکل دینے کی جانب بھی بھر پور توجہ مرکوز کر نے کی ضرورت ہے ۔

Google Analytics Alternative