Home » Author Archives: Admin (page 2)

Author Archives: Admin

امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور کل ہوگا

اسلام آباد: امریکا اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کا اگلا دور کل دوحا میں ہوگا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کریں گے جب کہ طالبان وفد کی قیادت عباس استنکزئی کریں گے، مذاکرات میں پاکستان باقاعدہ طور پر شریک نہیں ہوگا جب کہ دوسرے دور میں امریکا اور طالبان کے ساتھ افغان حکومت بھی شریک ہوگی۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات 3 روز تک جاری رہیں گے جب کہ طالبان وفد میں طالبان قطر آفس کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے حالیہ دورہ پاکستان میں امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات پر مشاورت کی گئی تھی۔

اسکول میں نقل کرکے امتیازی نمبروں سے پاس ہوگیا تھا، عمران ہاشمی کاانکشاف

ممبئی: نامور بالی ووڈ اداکار عمران ہاشمی نے انکشاف کیا ہے کہ وہ دوران تعلیم نقل کرکے 75 فیصد نمبروں سے پاس ہوگئے تھے لیکن آج انہیں اپنے اس فعل پر سخت شرمندگی ہے۔

بالی ووڈ اداکارعمران ہاشمی ان دنوں اپنی آنے والی فلم’چیٹ انڈیا‘کی تشہیر میں مصروف ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کبھی انہوں نے اسکول یا کالج کے زمانے میں نقل کی ہے تو اس سوال کے جواب میں عمران ہاشمی نے صاف گوئی سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہاں میں نے ایک بار نقل کی تھی اورامتیازی نمبروں سے پاس ہوگیاتھا۔

عمران ہاشمی نے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے معاشیات(اکنامکس) کے پیپرز کی بالکل بھی تیاری نہیں کی تھی اورصرف میں نے نہیں امتحانی کمرے میں موجود دیگر طلبا کا بھی یہی حال تھا ممتحن(امتحانی کمرے میں موجود استاد) اس بات سے واقف تھے کہ کسی نے بھی امتحان کی تیاری نہیں کی ہے لہٰذا انہوں نےکہا میں اس کمرے میں 40 منٹ تک ہوں میرے بعد یہاں دوسرا ممتحن آجائے گا اسلیے جو بھی نقل کرنا چاہتا ہے اپنی کتاب کھول کر نقل کرسکتا ہے، اس دن میں نے نقل کی اور 75 فیصد نمبر لے کر پاس ہوا۔

تاہم عمران ہاشمی نے اپنے اس عمل پرفخر کرنے کے بجائے افسوس کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ آج مجھے آپ کو یہ سب بتاتے ہوئے سخت شرمندگی ہورہی ہے، مجھے معلوم ہے نقل بالکل بھی اچھا عمل نہیں ہے اور میں یہی کہوں گا کہ کسی کو بھی نقل نہیں کرنی چاہئے۔

واضح رہے کہ عمران ہاشمی کی فلم ’چیٹ انڈیا‘ بھی تعلیمی نظام میں موجود نقل مافیا کے گرد گھومتی ہے جس نے تعلمی نظام کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیاہے۔ فلم اگلے ماہ 25 جنوری 2019 کو ریلیز کی جائے گی۔

مقبوضہ کشمیر میں 14 بیگناہ کشمیریوں کی شہادت

مقبوضہ کشمیر میں ضلع پلوامہ میں جاری بھارتی فوج کے ظالمانہ آپریشن میں 14 کشمیری شہید اور 235 زخمی ہو گئے ۔قابض فوج نے ہفتہ کی صبح فائرنگ کرکے تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا تھا جس کے ردعمل میں ہزاروں مظا ہر ین سڑکوں پر نکل آئے۔ جس پر قابض فوج اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں ۔ بھارتی فوج کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں مزید14 شہادتیں ہوگئیں۔احتجاجی مظا ہر ے کے دوران 235 افراد زخمی بھی ہوئے۔ مقبوضہ کشمیر میں جنوری 1989 سے لے کر اب بھارتی فورسز کی ریاستی دہشتگردی کی وحشیانہ کارروائیوں میں 95238 بیگناہ کشمیری شہید ہوئے جن میں 7120 دوران حراست شامل ہیں۔ گزشتہ دنوں عالمی حقوق انسانی دن کے موقع پر جاری کی گئی ریسرچ رپورٹ کے مطابق ان شہادتوں کے باعث 11107 خواتین بیوہ اور 107551 بچے یتم ہوئے۔ اس دورانیے میں 11107 خواتین کی بیحرمتی کی گئی جبکہ 109191 رہائشی گھر تباہ کئے گئے۔ مذکورہ دورانیے میں بھارتی فوج اور پولیس کے زیر حراست8 ہزار افراد لاپتہ ہوئے۔ صرف رواں سال بھارتی فوج اور پولیس نے 350 کشمیریوں کو شہید کیا جن میں ایچ ڈی اسکالرز، انجینئرز، طلباء حریت رہنما ، پروفیسر اور دیگر شامل ہیں۔ اس دورانیے میں کٹھ پتلی انتظامیہ نے حریت قائدین سید علی گیلانی ، میرواعظ ، یاسین ملک ، محمد اشرف صحرائی اور دیگر کو متعدد بار نظربند رکھا اور انہیں اپنی سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ نماز جمعہ کی ادائیگی بھی نہ کرنے دی۔ 8 جولائی 2016 کو بھارتی فوج پر ہان وانی کو شہید کرنے کے بعد پرامن مظاہرین کو بھی بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔جس کے نتیجے میں 846 مظاہرین شہید اور 25909 زخمی ہوئے۔ متحدہ مزاحت کے قائدین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے پلوامہ میں فوج کی فائرنگ سے شہید سات شہریوں کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے تین روزہ ہڑتال کی اپیل کی ہے۔جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر نے بھارتی فورسز کے ہاتھوں بے گناہ کشمیری نوجوانوں کے قتل عام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اقوام عالم اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں پر زور دیاہے کہ وہ کشمیر میں جاری اس سرکاری دہشت گردی اور نسل کشی کو رکوانے کی خاطر ٹھوس اقدامات کریں اور اس میں ملوث بھارتی فوجی اہلکاروں کو عالمی عدالت میں کھڑ اکرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوائے۔ پلوامہ اوراس کے ارد گرد دیہات میں کربلا کا سا سماں برپا ہے اور ہر طرف آہ و فغاں کا عالم ہے۔ حکومت ہند کے چہرے سے آج پردہ اْٹھ گیا اور اس کا یہ سفاکانہ منصوبہ طشت از بام ہوگیا کہ وہ کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کے درپے ہے۔ لیکن بھارت یاد رکھے کہ شہدا کے چھوڑے مشن کو زندگی کے آخری لمحے تک جاری رکھا جائے گا۔ بھارتی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ فی الوقت کشمیر میں 230 عسکریت پسند سرگرم ہیں جن کے خلاف آپریشن آل آؤٹ جاری ہے۔جبکہ پولیس کے مطابق اب تک 240 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو فوج کے ذریعے ہلاک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بھارتی فوجی ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ مارے جانے والوں میں حزب المجاہدین کے کمانڈر ظہور ٹھاکر سمیت3 عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔ شہری علاقوں میں بھارتی فوج نے بنکر بنا لئے ۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی فائرنگ سے 14کشمیریوں کے بہیمانہ قتل کی شدیدمذمت کی گئی اور کہا گیا کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کا مذاق اڑارہا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں 3ماہ کے بچے کا باپ بھی جاں بحق ہو گیا۔ پاکستان بھارتی فائرنگ سے شہادتوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کا مذاق اڑا رہا ہے۔ بھارتی ریاستی دہشت گردی روکنے کیلئے یو این انکوائری کمشن کا قیام ضروری ہے۔مقبوضہ کشمیر میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے اور وہاں کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ ہیومن رائٹس کمیشن نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کا نوٹس لیتے ہوئے کشمیریوں کے ساتھ خصوصاً فوج کے ناروا سلوک پر بھارتی حکومت کو نہ صرف سخت سرزش کی بلکہ اس کے حل پر زور دیا۔ لیکن بھارتی حکومت نے ان کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے جس پر ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین نے استعفیٰ دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا ادارہ SHRC جو کہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کیلئے قائم کیا گیا تھا وہ اپنے مقصد میں ناکام ہو چکا ہے۔ بھارتی فوجیں آئے دن معصوم کشمیری نوجوانوں کو پکڑ کر اذیت خانوں میں پہنچا کر غیر انسانی سلوک کر رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ ایسے ہتھکنڈوں سے کشمیر کی تحریک کبھی کمزور نہیں ہو سکتی۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کا فرض ہے کہ وہ یہاں اپنا رول نبھائیں اور اقوام عالم کے اداروں میں بھارت کو ننگا کریں۔ ہزاروں بے گناہ کشمیری ہندوستان کی مختلف جیلوں میں شدید بیماریوں کا شکار برسوں سے بند پڑے ہیں، جو انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ کشمیری قوم نے آج تکل ایک لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ قربانیاں کنٹرول لائن کو بین الاقوامی سرحد میں تبدیل کرنے کیلئے نہیں دی گئیں بلکہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی پاس شدہ اور تسلیم شدہ قراردادوں کے تحت حل کرنے کیلئے دی گئیں۔ مسئلہ کشمیر کوئی سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ جس کے ساتھ برصغیر کا امن جڑا ہوا ہے۔ جب تک اس مسئلہ کو حل نہ کیا جائے تب تک برصغیر میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

سانحہ مشرقی پاکستان۔ دو قومی لڑائی

ہم جس برصغیر میں رہتے ہیں، دنیا اِسے سونے کی چڑیا سے منسوب کرتی آئی ہے۔ اسی لیے یہاں غالب قومیں آتی رہیں اور اس خطے سے مستفید ہوتی رہیں۔زیاد ہ دُور نہیں جاتے، برصغیر کی قدیم ترین قوم داروڑ قوم سے بات شروع کرتےہیں ۔برصغیر میں رہنے والی ا س قوم نے برصغیراس کے پانیوں کے چشموں ،دریاؤ ں کی روانیوں ، فلک بوس بلند تریں پہاڑوں، اس کی زرخیز زمینوں،اس کے باغات کے پھلوں اور اس کے سمندروں سے فائدہ اُٹھاتے رہے۔ ان ساری نعمتوں کو شاید دراوڑ استعمال کرتے کرتے سست جا ن ہو گئے۔ان کی سست جانی کی وجہ سے پھر فطرت نے اپنا کام شروع کر دیا۔ داروڑاپنے وطن کی حفاظت نہ کر سکے۔ ان کی کمزرویوں کی وجہ سے غالب قوم آریا،ان پر چڑھ دھوڑی۔ کیونکہ ان کا و طن برصغیر، سونے کی جو چڑیا جو ٹھہرا ۔ آریوں نے زمین کے مالکوں، دراوڑوں کی نسل کشی شروع کی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے برطانیہ سے گئے گورے انگریزوں نے امریکی خطہ میں ریڈ انڈین کے ساتھ کیا۔ اب بھی برصغیر اور امریکہ میں بچے کچھے یہ لوگ اپنے حقِ ملکیت کے لیے روتے دھوتے رہتے ہیں۔ مگر اقتدار کے نشے میں غالب لوگ کب کسی کواُن کے حقوق دیتے ہیں؟ اگر دیکھا جائے کہ جس رب نے یہ حسین جمیل زمین ،اپنے ایک کن فیکون کے حکم سے بنائی تھی۔ پھرد نیا میں جتنے انسان اوّل سے آخر تک اپنی اسکیم کے مطابق پیدا کرنے تھے ،ان کی روحوں کو اپنے سامنے حاضر کر کے دربار لگایا اور ان سے کہا،کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں،سب نے کہا کہ آپ ہمارے رب ہیں، ہم اس کی گواہی دیتے ہیں۔ پھر رب نے کہا کہ زمین میں تم نے میرے احکامات کے مطابق رہنا ہے۔ رب نے اپنے بندوں کے درمیان برابر کا حق رکھا تھا۔ان سب باتوں کے ساتھ شیطان کو بھی رب نے پیدا کیا۔

پہلے پہلے سب لوگ اللہ کے حکم کے مطابق ایک دوسرے حق دیتے رہے اور زمین میں سکون اور امن تھا۔ پھر شیطان نے اپنی اسکیم کے مطابق آدمؑ کے بیٹوں ، عابیل قابیل میں سے ایک بیٹے کو دوسرے بیٹے کے خلاف کیا۔ اُس نافرمان نے اپنے حق سے زیادہ کادعویٰ کیا۔ پھر اپنے بھائی کو قتل کر دیا۔ دنیا میں یہیں سے انسانوں میں حقوق کی لڑائیاں شروع ہوئیں۔اللہ نے اپنے بندوں کو برابر کے حقوق دلانے کے لیے اپنے پیغمبر وں کو بھیجا۔ کسی نے ان کی بات مانی اور کسی نہیں سنی اور آپس میں حقوق کی لڑائی کی جو آج تک جاری و ساری ہے، جس میں ایک ہندومسلمان کی بھی لڑائی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ اگر بستیوں کے لوگ اللہ کے احکامات عمل کرتے تو اللہ آسمان سے پانی برساتا اور زمین اپنے خزانے اُگل دیتی ۔ پھر کیا یہ حقوق اور ملکوں کی لڑائیاں ہوتیں؟ آریوں اور انگریزوں کے بعدفطرت کے قانون کے مطابق جب ایک اللہ کو ماننے والے مسلمان برصغیر میں آئے تو انہوں نے اللہ کے حکم کے مطابق پرانی قوموں کے حقوق صلب نہیں کئے بلکہ ان سے ممکن حد تک رواداری برتی۔ اس روادری کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھتے دیکھتے برصغیر کے کروڑوں باشندے مسلمان ہونے لگے ۔ مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ دور میں برصغیر میں امن و امان تھا۔ دونوں بڑی قوموں میں روادری تھی۔ فطرت کے مطابق جب مسلمان بھی سست روی کا شکار ہوئے تو اللہ نے ایک اور قوم انگریز کو ان دونوں پر مسلط کر دیا تھا۔ دو سو سال بعد دونوں نے انگریز کی غلامی سے نکلنے کے لیے مل جل کر جدو جہد کی۔ انگریزوں کے برصغیر چھوڑے پر ہنددؤں نے اپنے حق سے زیادہ چھننے کی کوشش کی اور فلسفہ دیا کہ قومیں اوطان سے بنتیں ہیں۔ مسلمانوں نے نظریہ پیش کیا کہ مسلمان قوم عام قوموں کی طرح نہیں ہے۔علامہ اقبالؒ نے اس تشریح اس طرح کی:۔
اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسولﷺ ہاشمی
ایک طرف ہندو اور دوسری طرف مسلمان۔ آخر میں بین الاقوامی اصول پر طے ہوا کی جس جگہ ہندو زیادہ ہیں وہاں ہندوؤں کی حکومت بھارت اورجہاں مسلمان زیادہ وہاں مسلمانوں کی حکومت پاکستان ۔اس بین الاقوامی فارمولے کے تحت برصغیر کو دو ملکوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ہندوؤں نے اس تقسیم کو دل سے تسلیم نہیں کیا اوراپنے مؤقف پر ڈٹے رہے جبکہ پاکستان نے دو قومی نظریہ، جس کی بنیاد قائم ہوا تھا چھوڑ دیا۔ پاکستان مقامی قومیں نے سر اُٹھا یا۔ بھارت نے سندھ میں جی ایم سید اور الطاف حسین کو استعمال کیا۔ سابق صوبہ سرحد میں عبدالغفار خان کو۔ یہ پاکستان دشمن اپنی انتہائی کوششوں کے باوجود توکامیاب نہ ہوئے سکے۔ مگر مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب کی بنگالی قومیت نے رنگ دکھایا۔ شیخ مجیب نے بنگالی قومیت پر علیحدگی کی تحریک شروع کی اور ہندوستان نے اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل کرکے پاکستان کا ایک بازو کاٹ دیا۔اب بھی بھارت پاکستان کو توڑ کر اَکھنڈ بھارت بنانے کی پالیسیوں پر عمل کر کے اپنا غلام بنانے کی سازش پر عمل درآمد کر رہا۔اگر پاکستان میں مسلمان ایک قوم بن کر رہتے مسلمان رہتے اور قائد اعظمؒ کے دو قومی نظریہ پر عمل کرتے اور بھارت کے مقابلے میں ڈٹے رہتے تو بھارت اس کے ایک بازو مشرقی پاکستان کو نہ توڑ سکتا۔
بھارت اب بھی کہتا ہے کہ پہلے پاکستان کے دو ٹکڑے کیے تھے اب اس کے دس ٹکڑے کروں گا۔صاحبو! باقی ساری باتیں زمینی ہیں کہ پاکستان کی فوج کی غلطی تھی یا سیاستدانوں کی غلطی تھی۔ نہیں بلکہ پوری قوم کی غلطی تھی۔یہ ایک الگ بحث ہے اور اس میں وزن بھی ہے۔ مگراب بھی باقی پاکستان میں سب سے بڑی بات کہ دو نظریہ قومی کی بنیاد پرمدینہ کی فلاحی اسلامی جہادی ریاست قائم کر دی جائے۔مقامی قومیتوں کے حقوق پر ممکن حد عمل کرتے ہوئے پاکستانی یک جان ہوجائیں۔ تواب بھی کچھ نہیں گیا۔ یہاں پرہی سونے کی چڑیابرصغیر موجود ہے اور ناپ تول کا گز بھی۔اللہ کے رسولﷺ کی ہندوستان پرغلبے والی حدیث بھی۔پھر مثلِ مدینہ اسلامی فلاحی،جہادی، ایٹمی میزائل طاقت اور ایمان سے لبریز پاکستانی قوم کی طاقت کے سامنے دشمن نہیں ٹھہرسکے گا۔پھر بھارت کے مسلمانوں کو بھی حوصلہ ملے گا اور کشمیر کے مسلمان بھی بھارتی غلامی سے آزاد ہو جائیں گے۔ بنگلہ دیش بھی واپس اپنی ملت میں آجائے گا۔ ہندو نے جیسے برصغیر کی قدیم قوم، دراڑوں کو ڈرا ڈرا کر غلام بنا لیا تھا اور اب مسلمانوں کو ڈارتے رہتے ہیں کہ بھارت میں ہندو بن کے رہوں ورنہ پاکستان چلے جاؤ۔کیوں! پاکستان چلے جائیں ؟جب پاکستان میں قائد اعظم ؒ کی وژن کے مطابق دو قومی نظریہ والی، مثل مدینہ فلاحی جہادی ریاست بن جائے گی تو پھر بھارت کے مسلمان بھارت میں ایک اور پاکستان بنائیں گے۔ مقتدر حلقوں اٹھو اور بھارت کی بار دھمکیوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوتے ہوئے اعلان کر دوکہ اگر ہم نہیں تو پھر تم بھی نہیں۔
افغانستان میں سویت رشیا کو شکست سے دو چار کرنے والے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کوناکوں چنے چبانے والے اور مشرقی پاکستان میں فوج سے آگے بڑھ کر جنگ لڑنے والے البدر اور الشمس کے جانشین ، جماعت اسلامی کے مجاہد بھی موجود ہیں۔ پاکستان کے اہل اقتدار اگر تم نہیں ایسا نہ کرو گے تو تمہارا اقتدار بھی نہیں رہے گا۔کیونکہ کہ تمہاری بربادی کا فیصلہ تو بھارت نے توعلانیہ کیا ہوا ہے۔ وہ تمہیں نیست و نابود کر دے گا اور تم آلو پیاز کی تجارت میں لگے ہوئے ہو۔اُٹھو ایٹمی میزائل طاقت پاکستان کو مثل مدینہ فلاحی جہادی ریاست بناؤاور تحریک پاکستان جیسی تحریک دوبارہ برپا کرو۔تمہاری بقاء تمہارے ہاتھ میں ہے۔پھر پاکستان میں کوئی دوسراسانحہ مشرقی پاکستان نہیں ہو سکے گا۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔آمین۔
**

آئی ایم ایف کا حکومت سے ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ

اسلام آباد: انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے بیل آؤٹ پیکج میں حکومت سے ٹیکس آمدن کو بڑھانے سے متعلق مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کردیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے نے حکومت سے رواں مالی سال کے دوران ایک سو 60 ارب روپے کے نئے ٹیکسز کے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مالیاتی فریم ورک کو مستحکم کیا جاسکے۔

ادھر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تخمینہ لگایا کہ اگر ٹیکس سے جی ڈی پی کی شرح میں 1.1 فیصد اضافے کے اقدامات بھی اٹھائے جائیں تو ٹیکس کی مد میں 4 سو سے 5 سو ارب روپے آمدن بڑھے گی۔

اگر یہ اقدامات اٹھائے جاتے ہیں تو پاکستان کا جون 2021 تک ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب 13.9 فیصد تک ہوجائے گا۔

پاکستان نے 19-2018 کے اختتام تک مالی خسارہ 5.6 فیصد تک رکھا ہے جبکہ آئی ایم ایف اس سے کچھ کم چاہتا ہے۔

ماضی میں آئی ایم ایف پروگرام مالی خسارے کے ہدف کے تحت تھے جن میں حکومت کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کس طرح اس ہدف کو مکمل کرتی ہے، جن میں آمدن کو بڑھانے اور اخراجات میں کمی کے اقدامات شامل تھے۔

اس مرتبہ آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت کو سالانہ کی بنیاد پر اہداف مقرر کرنے کی تجویز پیش کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ ٹیکس سے جی ڈی پی کی شرح کو جون 2019 تک 0.4 فیصد، جون 2020 میں 1.1 فیصد اور جون 2021 تک 1.2 فیصد تک کیا جائے۔

ان اقدامات کے علاوہ آئی ایم ایف کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ صوبائی آمدن میں بھی اضافے سے متعلق اقدامات کرے گی اور ٹیکس کی شرح کو 1.1 سے بڑھا کر پروگرام کے اختتام تک 1.5 فیصد تک بڑھانا ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل ایف بی آر نے وزارت خزانہ سے درخواست کی تھی کہ پری پیڈ موبائل کارڈز پر عائد ٹیکس کو ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ کا راستہ اختیار کیا جائے۔

موبائل ٹیکس کی مد میں حکومت کو 80 ارب روپے سالانہ کا فائدہ ہوتا ہے جو آئی ایم ایف پروگرام کے پہلے سال میں تقریباً آدھی ٹیکس آمدن کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں شہید 11 نوجوانوں کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں 11 بے گناہ نوجوانوں کی شہادت کیخلاف مکمل ہڑتال ہوئی اور شہدا کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہزاروں افراد کرفیو اور دیگر پابندیوں کو توڑتے ہوئے گھروں سے نکل آئے اور 11 نوجوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت کی جنہیں بھارتی فوج نے گزشتہ روز فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا۔

اس موقع پر پلوامہ میں بھارتی فوج کی بھاری نفری تعینات تھی اور شدید کشیدہ صورت حال رہی لیکن بھارتی جبر و استبداد اور پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آس پاس کے گاؤں دیہات سے ہزاروں افراد اپنے شہدا کے آخری دیدار اور ایک جھلک دیکھنے کے لیے امڈ آئے۔

سوگواروں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے اور جب 11 شہدا کے جنازے اٹھے تو رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے اور ہر آنکھ اشک بار تھی۔ نوجوانوں کو آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کیا گیا جبکہ اس موقع پر کشمیریوں نے ایک جذبے کے ساتھ جدوجہد آزادی جاری رکھنے کا عزم کیا۔

جنازے میں شریک کشمیریوں نے بھارتی دہشت گردی کے خلاف احتجاج کیا اور عالمی برادری و اقوام متحدہ سے اس قتل عام پر خاموشی و بے حسی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔

قابض افواج کے ہاتھوں نہتے نوجوانوں کی شہادت کے خلاف حریت کانفرنس کی اپیل پر وادی بھر میں ہڑتال رہی اور کاروبار زندگی معطل رہا۔

بھارتی ظلم و جارحیت کے خلاف سری نگر سمیت مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے اور مشتعل نوجوانوں نے قابض فوج پر شدید پتھراؤ کیا۔ قابض فوج نے جواب میں نہتے نوجوانوں پر گولیاں چلائیں، پیلٹ گنز سے فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

کٹھ پتلی انتظامیہ نے احتجاج اور مظاہرے روکنے کے لیے وادی میں ٹرین، انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی معطل کردی۔

سانحہ اے پی ایس نے دہشت گردی کے خلاف یکجہتی اور وحدت کو جنم دیا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سانحہ اے پی ایس پشاور میں بچھڑ جانے والوں کی یاد ہمیشہ موجود رہے گی جب کہ 16 دسمبر کے دلخراش واقعے نے دہشت گردی کے خلاف یکجہتی اور وحدت کو جنم دیا۔

سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہداء کی برسی پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 16 دسمبر کے دلخراش واقعے نے دہشت گردی کے خلاف یکجہتی اور وحدت کو جنم دیا، سکیورٹی اداروں نے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن معرکہ سرانجام دیا جس کی مثال نہیں ملتی، معصوم جانوں نے لہو کا نذرانہ دے کرقوم کو سفاک دشمن کے خلاف متحد کر دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس پشاور میں بچھڑ جانے والوں کی یاد ہمیشہ موجود رہے گی، شہیدوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ غمزدہ والدین سے دِلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں، قوم معصوم شہداء کے والدین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے، دنیا کی اس جنگ کی سب سے بھاری قیمت ہم نے ادا کی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نقصانات کے باوجود ہم ملکی، علاقائی اور عالمی امن کے لیے پرعزم ہیں، تعلیم کی بدولت ہی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو مستقل مات دے سکتے ہیں، فرقہ واریت، مذہب، لسانیت، رنگ و نسل یا کسی بھی طرز پر انتہا پسندی اور تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا، افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کے ہیروز کو سلام پیش کرتا ہوں۔

’میں رنویر سنگھ پڈوکون کی اہلیہ ہوں‘

بولی وڈ اداکار رنویر سنگھ اور اداکارہ دپیکا پڈوکون کی شادی رواں سال نومبر میں ہوئی، جن کی تصاویر اور ویڈیوز ابھی بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔

رنویر سنگھ اور دپیکا پڈوکون گزشتہ 6 سالوں سے ایک ساتھ ہیں، جبکہ انہوں نے کبھی بھی کھل کر اپنے رشتے کے حوالے سے بات نہیں کی۔

ان دونوں کی شادی کا مداحوں کو طویل عرصے سے انتظار تھا، تاہم نومبر میں اٹلی میں شادی کے بعد ان کی تصاویر دیکھنے کے لیے بھی مداح بےتاب رہے۔

تاہم اب یہ دونوں ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ کیریئر میں بھی واپس مصروف ہوگئے ہیں۔

جہاں رنویر سنگھ اپنی آنے والی فلم ’سمبا‘ کی تشہیر میں مصروف ہیں، وہیں دپیکا بھی جلد اپنی نئی فلم کی شوٹنگ کا آغاز کریں گی، جس کی وہ پروڈکشن بھی کرنے جارہی ہیں۔

اس کے علاوہ دپیکا پڈوکون کئی انٹرویوز بھی دے رہی ہیں، جن میں سے فلم فیئر کو دیا ایک انٹرویو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہا ہے۔

اس انٹرویو میں دپیکا پڈوکون نے اپنا تعارف دپیکا پڈوکون رنویر سنگھ پڈوکون کی اہلیہ کے طور پر کروایا۔

جس سے مداحوں کو ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ کیا دپیکا کے بجائے رنویر سنگھ اپنا نام تبدیل کرنے جارہے ہیں، تاہم بعدازاں یہ بات سامنے آئی کہ دپیکا یہ بات مذاق میں کہہ رہی تھیں۔

یاد رہے کہ رواں سال شادی کرنے والی سونم کپور کے شوہر آنند اہوجا نے بھی اپنا نام تبدیل کرکے سونم کپور کا نام اپنایا تھا۔

اس کے علاوہ اس انٹرویو میں دپیکا سے ایک مداح کا سوال بھی پوچھا گیا جس نے دپیکا اور رنویر کے اتنی طویل شادی اور اس پر کیے اخراجات کے حوالے سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے سارے پیسے شادی پر ختم کردیں گے؟

اس پر اداکارہ نے کہا کہ ’میرے پاس بہت پیسے ہیں، آپ فکر نہ کریں‘۔

عموماً بہت سے اداکار شادی کے بعد اپنے فلمیں سائن کرنے کے معاہدے میں نو کسنگ کی پالیسی کو حصہ بنا لیتے ہیں، یعنی وہ فلم میں کام کرنے کی چند شرائط میں سے ایک یہ بھی رکھتے ہیں کہ وہ دوسرے کسی اداکارہ کو ہونٹوں پر بوسہ نہیں دیں گے، تو یہی سوال دپیکا سے بھی پوچھا گیا، تاہم اداکارہ نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔

یاد رہے کہ دپیکا اور رنویر نے اٹلی میں 14 اور 15 دسمبر کو شادی کی، جس سے قبل ان کی مہندی کی تقریب میں اٹلی میں منعقد ہوئی تھی۔

اس کے علاوہ دپیکا اور رنویر کے شادی کے استقبالیہ بنگلور اور ممبئی میں منعقد ہوئے، اس کے علاوہ ایک پارٹی بھی ممبئی میں رکھی گئی۔

واضح رہے کہ ایک انٹرویو میں رنویر سنگھ سے بھی سوال کیا گیا تھا کہ کیا وہ شادی کے بعد اپنے جوشیلے انداز کو تبدیل کریں گے۔

اس پر اداکار نے کہا تھا کہ ’میں شادی کی وجہ سے خود کو کبھی تبدیل نہیں کروں گا، نہ ہی دپیکا کو کچھ تبدیل کرنے کو کہوں گا‘۔

رنویر سنگھ سے شادی کے بعد بچوں کے حوالے سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’یہ میرا فیصلہ نہیں، میں نے اس کا حق دپیکا کو دیا ہے، وہ بہتر فیصلہ کرسکتی ہے‘۔

Google Analytics Alternative