Home » Author Archives: Admin (page 2)

Author Archives: Admin

دہشت گردی کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی

پچھلے د نوں صوبائی دارالحکومت لاہور مےں معروف صوفی خانقاہ داتا دربار کے باہر اےلےٹ فورس کی گاڑی پر خود کش حملہ کے مناظر دےکھنے پر بے اختےار آنسو امڈ پڑے ۔ آنسو حساس ہوتے ہےں اس لئے ہی باعث احساس ہوتے ہےں لےکن افسوس بے حس دلوں مےں احساس کی کوئی چنگاری روشن نہ ہو ،ٹھنڈی رگوں مےں کوئی ہمدردی ،پچھتاوا پےدا نہ ہو ،آتش بے وجہ سرد نہ ہو ۔ اس خود کش حملے مےں پانچ پولےس اہلکار وں سمےت دس فراد شہےد ہو گئے جبکہ تےس افراد زخمی ہوئے ۔ ےہ شہداء ان کے گھر والوں کےلئے دوجہانوں سے بھی زےادہ قےمتی تھے لےکن گمراہ دہشت گردوں کے نزدےک ےہ صرف اےک تعداد ۔ معزز و محترم قارئےن سپرانتو زبان کے اےک دانشور نے انسانےت کی عظمت کی تعرےف و توصےف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر روز محشر خدا وند تمام انسانوں کو جنت مےں بھےجنے کےلئے اےک شرط عائد کر دے کہ اےک شخص کو مصلوب کر دو تو ہم جنت کو مسترد کر دےں گے ۔ فطرت ےزداں نے اےک انسان کے خون ناحق کو پوری انسانےت کا قتل قرار دےتے ہوئے رواداری، امن ، مساوات اور ےکجہتی کی پےروی کو اظہر من الشمس قرار دےا ہے کےونکہ امن و امان اور قانون و انصاف سے تہی داماں معاشروں مےں انسان حےوان بن کر انسانےت کی عظمت کو پاش پاش کرتے ہےں ، انسانےت کی کوکھ سے وحشت جنم لےتی ہے اور وحشی خونخوار درندوں کے روپ مےں بے گناہوں کا خون کرتے ہےں جس سے خدا کی خدائی بھی اشک بار ہو جاتی ہے ۔ ےہ دشمنان دےن و ملت امن کی فاختہ کو اپنی بندوق کی سنگےن سے لہو لہان کر کے قلبی تسکےن محسوس کرتے ہےں ۔ ےہ نےم خواندہ لوگ تنگ دل، تنگ نظر اور کوتاہ فکر ہےں ۔ ان پڑھ آدمی کے عقائد جو بھی ہوں ان مےں عالی ظرفی اور فراخ دلی ہوتی ہے ۔ ان کے دل مےں ےہ حناس نہےں سماےا ہوتا کہ مےں ہی حق پر ہوں اور باقی سب مشرک اور کافر ہےں ۔ ان کے دل مےں کسی کے عقےدے سے نفرت نہےں ہوتی ۔ ان کا دل محبت و اخوت کا گہوارہ ہوتا ہے ۔ نےم خواندہ لوگ ہی گمراہ ہےں جو اےسے بد بخت انسان پےدا کر رہے ہےں ۔ جذبات کا عروج جنون اختےار کر کے دےوانگی کی سرحدوں تک پہنچ جاتا ہے ۔ تشدد و وحشت ،جوش اور جنون درندگی ہے ۔ تنگ نظری ،تعصب ،نفرت کےنہ ،عناد روحانی افلاس ہے جو ظلم و جور پر مائل کرتا اور تشدد و نفرت کو اےمان کا درجہ دےتا ہے ۔ سووےت ےونےن کے خلاف امرےکہ اور ضےاء الحق کے نام نہاد جہاد کے ساتھ عرب سے آنے والی اسلام کی جس نئی تعبےر و تشرےح نے ہمارے ہاں رواج پاےا اور ہماری دےنی درسگاہوں کے ساتھ عام سکولوں ،کالجوں اور ےونےورسٹےوں تک کی تعلےم مےں سراءت کر گئی،بلآخر جس کے نتاءج ہم بھگت رہے ہےں ۔ جامد فکر کے ےہ دہشت پسند ہی ہےں جو نوعمر معصوم لڑکوں کو اپنے مسلک کے نام پر خودکش حملوں پر آمادہ کرتے ہےں ۔ ہمےں ان آستےن کے سانپوں پر ہاتھ ڈالنے کی ضرورت ہے جو وطن کے بے گناہ اور نہتے مسلمانوں کا خون بہا کر پاکستان دشمنوں کے اےجنڈے پر عمل پےرا ہےں ۔ ان کا مقصد ےہاں لسانی ، نسلی تعصبات کی آگ بھڑکانے کے ساتھ فرقہ وارانہ فسادات کی راہ ہموار کرنا ہے اور اس نصب العےن کے حصول پر وہ اپنی تمام تر منفی توانائےوں سے عمل پےرا ہےں ۔ وہ عوام کو مشتعل کر کے سڑکوں پر لانے ،اتحاد و ےگانگت کی فضاکو سبوتاژ کر کے ملک مےں انارکی پےدا کرنے کی ہمہ گےر سازش مےں مصروف ہےں ۔ ےہ مسلک اور فرقے کی تفرےق و تقسےم کو تقوےت دے کر اسے مزےد گہرا کرنے کی سازش کر رہے ہےں ۔ پاکستانی قوم نے طوےل جدو جہد اور عظےم قربانےوں کے بعد امن کےلئے لڑی جانے والی جنگ مےں کامےابی حاصل کی ہے ۔ دہشت گردی کے سخت عذاب مےں اب تک 70ہزار جانوں کا نذرانہ دےا جا چکا ہے ۔ قوم کے بھرپور اعتماد ،حماےت اور مدد کی بنےاد پر افواج پاکستان ،سےکورٹی فورسز ،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ تےن سال مےں امن دشمن عناصر کو سرزمےن پاکستان سے فرار ہونے پر مجبور کر دےا ۔ لاہور مےں ہونے والے خودکش حملے کو محض اےک واردات کے طور پر نہ لےا جائے اس سے پہلے کوءٹہ مےں ہونے والی دہشت گردی ،گوادر کے قرےب سےکورٹی فورسز کے جوانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور وزےرستان مےں افغانستان سے پے در پے دہشت گردوں کے حملوں کو سامنے رکھا جائے تو تصوےر کے تمام پہلو سامنے آ جائےں گے ۔ دراصل پاکستان کی داخلی سلامتی کے خلاف خطے مےں موجود بعض قوتےں پھر سے متحرک ہو رہی ہےں ۔ خےبر پختونخواہ ، بلوچستان اور اب پنجاب مےں دہشت گردی کے واقعات دراصل اسی گھناءونی سازش کی کڑےاں ہےں ۔ باخبر حلقے اس حقےقت سے آگاہ ہےں کہ افغانستان کی سرزمےن اےران اور افغانستان کے اندر شر انگےزی کے ذرےعے بھارتی حکمران خطے پر مرضی کا کھےل کھےلنے کی سوچ سے پےچھے نہےں ہٹ رہے ۔ گو کہ دہشت گردانہ کارروائےوں مےں اب اتنی شدت نہےں رہی ۔ 2017ء اور2018ء مےں بھی دہشت گردی کے اکا دکا واقعات پےش آتے رہے جس سے عوام مےں پرےشانی کی لہر پےدا ہوتی رہی ۔ گزشتہ اےک دو برس سے رمضان المبارک ،عےدےن ،عاشورہ محرم ،عےد مےلاد النبی اور دوسرے اہم موقعوں پر بہتر سےکورٹی کے سبب دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما نہ ہونے پر پوری قوم ا;203; کی شکر گزار اور خاصی مطمئن تھی کہ دہشت گردی کے عفرےت سے جان چھوٹ گئی لےکن دہشت گردی کے اس اس درد ناک واقعہ نے ثابت کردےا کہ ملک مےں دہشت گردوں کی سفاکی اور سنگدلی کا باب ابھی بند نہےں ہوا اور رےاست کی جانب سے مسلسل دہشت گردی کے آپرےشنز کے باوجود بے لگام تنظےمےں تا حال قومی سلامتی کےلئے خطرہ ہےں ۔ اس بار جو خود کش حملہ کےا گےا وہ داتا دربار کی ہائی الرٹ صورتحال کا پوری بارےک بےنی سے جائزہ لےنے کے بعد گےٹ نمبر2پر ہوا جہاں خواتےن کا دربار کے اندر جانے کا راستہ ہے ۔ 2010ء مےں بھی داتا دربار پر ہولناک بم دھماکے مےں متعدد افراد شہےد اور زخمی ہوئے تھے ۔ شدت پسند تنظےم حزب الاحرار نے داتا دربارمےں ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی تنظےم کے ترجمان عبد العزےز ےوسفزئی نے اعلان کےا کہ اس آپرےشن شانزئی کا ہدف پولےس اہلکار ہی تھے ۔ تحقےقی رپورٹ مےں بتاےا گےا ہے کہ خود کش بمبار کو قرےبی علاقے ےا ہوٹل مےں خودکش جےکٹ پہنائی گئی تھی ۔ انٹےلی جنس ادارے نے ےہ انکشاف کےا ہے کہ دہشت گردوں کا داتا دربار کے گرد کسی ہوٹل ےا سرائے مےں ٹھکانہ تھا ۔ اس دہشت گرد دھماکے مےں تےن افراد ملوث تھے ۔ انہوں نے اسی ہوٹل ےا سرائے مےں رہتے ہوئے ٹارگٹ کی مانےٹرنگ کی اور سخت سےکورٹی کے باعث انہوں نے گےٹ نمبر 2پر پولےس والوں کی تعداد اور وقت کا تعےن کر کے خودکش حملہ کرواےا ۔ حملہ آور شےش محل کی طرف سے آےا تھا لہٰذا سےکورٹی ادارے اس کے ٹھکانے اور سہولت کاروں کا پتا چلانے کی کوشش کر رہے ہےں ۔ ےہ تفتےش کی جا رہی ہے کہ دہشت گرد بمبار کے سہولت کار علاقے کے کس ہوٹل ےا سرائے مےں مقےم تھے ۔ ےہ بھی اےک قابل افسوس حقےقت ہے کہ سب ہوٹل اور سرائے والے پولےس کو منتھلی دےتے ہےں اور سب اچھا کی رپورٹ حاصل کرتے ہےں ۔ ملک کے مختلف شہروں مےں اب اےک تسلسل کے ساتھ جو دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہےں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمےں اپنس لاءحہ عمل تبدےل کرنے کی ضرورت ہے اب وقت کا تقاضا ہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحہ کے بعد سےاسی و فوجی قےادت کے اتفاق رائے سے وضع کئے گئے نےشنل اےکشن پلان مےں طے کئے گئے اقدامات پر عملدرآمد کا از سر نو جائزہ لےا جائے ےہ طے ہے کہ شہری آبادےوں مےں اب بھی دہشت گردوں کے حماےتی اور سہولت کار موجود ہےں ان کا مکمل خاتمہ نہےں کےا جاسکاہے اس لئے منظم ہونے کی ضرورت ہے ۔ سانحہ ہونا کسی کی غلطی نہےں کےونکہ ےہ اےک اندھی جنگ ہے ۔ خود کش حملہ اےک اےسی ٹےکنالوجی ہے جس کا توڑ تا حال ناممکن نظر آتا ہے ۔ سر پر کفن باندھ کر نکلنے والا جان دے کر ہی اپنا ٹارگٹ پورا کرتا ہے جو جان دےنے پر بضد اور آمادہ ہو اس کا کےا کےا جا سکتا ہے ۔ دہشت گردی کی ےہ جنگ ابھی تک ختم نہےں ہوئی ۔ اسے ہم نے لڑنا ہے ۔ انشاء ا;203; اس کا جڑوں سے خاتمہ ہو گا اور فتح ہماری ہو گی ۔

ہمارے جسم کو روزانہ کتنے پانی کی ضرورت ہوتی ہے؟

کیا آپ کو معلوم ہے کہ روزانہ کتنے گلاس پانی پینا صحت کے لیے ٹھیک رہتا ہے ؟ یقیناً بیشتر افراد کے ذہنوں میں 8 کا ہندسہ گونجا ہوگا جو کہ ہمارے ذہنوں میں برسوں سے روزانہ پانی کے استعمال کی مثالی مقدار کی شکل میں چپک چکا ہے۔

مگر حقیقت تو یہ ہے کہ روزانہ کتنا پانی پینا چاہئے اس کا انحصار فرد کے جسمانی وزن اور ساخت پر ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ہر فرد کے لیے پانی کی مقدار مختلف ہوسکتی ہے مگر ہم متحرک بالغ افراد کو 2 سے 4 لیٹر پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ جسم میں اس سیال کی مقدار مناسب سطح پر رہ سکے جبکہ پانی کی ضرورت میں کمی بیشی کا انحصار موسم پر بھی ہوتا ہے۔

اگر آپ ورزش کرتے ہیں تو پانی کا زیادہ استعمال کرنا چاہئے کیونکہ پٹھوں کو مناسب افعال اور مرمت کے لیے زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسی طرح جسم گرم موسم میں پسینے کے ذریعے خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کافی محنت کرتا ہے اور اگر پسینہ زیادہ آئے تو پانی زیادہ پینا چاہئے تاکہ ڈی ہائیڈریشن سے بچا جاسکے، یعنی پیاس محسوس کیے بغیر بھی دن بھر جب موقع ملے پانی پی لیں۔

کچھ طبی ماہرین جسمانی وزن اور اونس کو پانی پینے کا معیار قرار دیتے ہیں، جیسے اگر آپ کا وزن 180 پونڈ (81 کلو گرام سے زیادہ) ہو تو 90 اونس پانی یا 3 لیٹر پانی روزانہ جسم کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس سے ہٹ کر امریکا کا مایو کلینک نے خواتین کو روزانہ 2.7 لیٹر اور مردوں کو 3.7 لیٹر پانی پینے کا مشورہ دے رکھا ہے۔

آسان فارمولا

امریکا کے مایو کلینک کے میڈیکل ریسرچ سینٹر نے کہا ہے کہ مردوں کو اوسطاً تیرہ کپ پانی روزانہ پینا چاہئے جبکہ خواتین میں یہ مقدار نو ہونی چاہئے۔

مگر ہر شخص کا جسم مختلف ہوتا ہے اور پانی کی ضرورت کا انحصار بھی اس کے مطابق ہوتا ہے جس کے لیے ایک سادہ سائنسی فارمولا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اپنے جسمانی وزن کو لیں اور اسے 2.2 سے تقسیم کریں۔

اس کے بعد جو نمبر آئے اسے اپنی عمر کے مطابق ضرب کریں اور مجموعے کو 28.3 سے تقسیم کریں۔

پھر جو نمبر آئے گا وہ بتائے گا کہ روزانہ کتنے اونس پانی پینے کی ضرورت ہے مگر اسے بھی 8 سے تقسیم کریں تاکہ گلاسوں کی تعداد میں نتیجہ سامنے آجائے۔

جسم میں پانی کی کمی کیسے جانیں؟

پیشاب کی رنگت سے یہ جاننا ممکن ہے کہ آپ کو مزید پانی پینے کی ضرورت ہے یا نہیں، طبی ماہرین کے مطابق اگر پیشاب کی رنگت لیمونیڈ یا لیموں پانی کے قریب ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مناسب مقدار میں پانی استعمال کیا جارہا ہے، اگر اس کی رنگت گہری زرد ہے تو مزید پانی پینے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح تھکاوٹ، خشک جلد، سانس میں بو، پٹھے کاڑنا، قبض اور غشی طاری ہونا بھی ڈی ہائیڈریشن کی عام علامات ہیں۔

عمر بھی جسمانی ہائیڈریشن کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ عمر بڑحنے سے پیاس کم محسوس ہونے لگتی ہے جس کی وجہ اس کا میکنزم کمزور ہونا ہے، تو درماینی عمر میں بغیر پیاس کے بھی دو سے 3 گھنٹے کے وقفے کے بعد پانی پی لینا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں : سانس میں بو سے نجات دلانے میں مددگار طریقے

صرف پانی نہیں غذا بھی اہم

زیادہ پانی والی غذاﺅں کا استعمال بھی جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے بچانے کے لیے کافی ہے۔

کھیرے، تربوز، پالک اور متعدد دیگر سبزیاں اور پھلوں میں پانی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے تحفظ فراہم کرنے میں مددگار ہیں۔

کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی نے بھارتی انتخابات میں شکست تسلیم کرلی

نئی دلی: کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندرا مودی کو لوک سبھا کے انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد دیتے ہوئے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے ایوان زیریں (لوک سبھا) کے انتخابات کے نتائج کے بعد پریس کانفرنس میں اپنی جماعت کی شکست تسلیم کرتے ہوئے وزیراعظم نریندرا مودی کو الیکشن جیتنے پر مبارک باد دی۔

راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ بھارتی ووٹرز کی رائے کا احترام کرتا ہوں اور ووٹرز کی رائے پر ہی مودی اور بی جے پی کی جیت کو ماننا پڑے گا۔ ہمارے سیاسی اور نظریاتی اختلافات ہیں جو برقرار رہیں گے اور جس پر آئندہ بھی بات ہوتی رہے گی لیکن آج ان کی فتح کا دن ہے۔

کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے اپنی مدمقابل امیدوار اداکارہ سمرتی ایرانی کو بھی جیت پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی عوام کی رائے کا احترام کرتا ہوں، پارٹی کارکن اور رہنما گھبرائیں نہیں، دل برداشتہ نہ ہوں اور کسی سے ڈریں نہیں، آپ کی لڑائی سچ اور حق کی لڑائی ہے جو جاری رہے گی۔

 

واضح رہے کہ بھارت میں لوک سبھا انتخابات کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے تحت حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے 543 میں سے 346 نشستیں جیت کر کے واضح اکثریت حاصل کرلی ہے۔

فرشتہ کے اہل خانہ کو 20 لاکھ روپے کی مالی امداد دینے کی منظوری

اسلام آباد میں اغوا، زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی فرشتہ کے کیس میں غفلت برتنے پر ایم ایل او پولی کلینک اسپتال کو برطرف کردیا گیا جبکہ حکومت نے فرشتہ کے لواحقین کو مالی امداد دینے کی منظوری دے دی۔

حکومت نے فرشتہ کے لواحقین کو مالی امداد کے طور پر 20 لاکھ روپے دینے کی منظوری دیتے ہوئے اس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ فرشتہ قتل کے خلاف لواحقین، پشتون تحفظ موومنٹ اور دیگر افراد نے ترامڑی چوک پر دھرنا دیا تھا۔ احتجاج کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات میں لواحقین کی مالی مدد کا مطالبہ کیا گیا تھا جسے حکومت نے منظور کیا تھا۔

دوسری جانب انتظامیہ نے فرشتہ قتل کیس میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایم ایل او پولی کلینک اسپتال ڈاکٹر عابد شاہ کو عہدے سے ہٹا دیا۔ ڈاکٹر امتیاز احمد کو نیا میڈیکو لیگل آفیسر پولی کلینک تعینات کردیا گیا ہے۔

ڈاکٹر عابد شاہ پر ننھی فرشتہ کے پوسٹ مارٹم میں غفلت برتنے کا الزام تھا اور ایم ایل او کی عدم دستیابی کے باعث فرشتہ کا پوسٹ مارٹم رات گئے ہوا تھا۔ فرشتہ کے لواحقین نے پولی کلینک انتظامیہ کے نامناسب رویئے کی شکایت کرتے ہوئے پوسٹ مارٹم میں دیر کرنے پر اسپتال انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

علاوہ ازیں کیس میں غفلت کے مرتکب پولیس اہلکاروں کیخلاف ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر وسیم احمد خان کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن نے کام کا آغاز کرتے ہوئے تمام فریقین کے بیانات ریکارڈ کرلئے۔ کمیشن 7 روز میں اعلی حکام کو رپورٹ جمع کرائے گا۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ تین دن تک مقدمے کے اندراج کے لیے ایس ایچ او کو فون کرتے رہے لیکن انہوں نے بات نہیں کی۔

واضح رہے کہ  15 مئی کو وفاقی دارالحکومت کے علاقے چک شہزاد میں درندہ صفت مجرموں نے معصوم فرشتہ کو زیادتی کے بعد قتل کرکے جنگل میں پھینک دیا تھا۔

الہ دین میں ‘جنی’ بننے کے لیے ول سمتھ خوف زدہ کیوں تھے؟

امریکی کمپنی ڈزنی کی کامیاب کارٹون فلم ’الہ دین‘ کے ریمیک کا انتظار مداح طویل عرصے سے کررہے ہیں جس کی ایک وجہ اس میں موجود کردار جنی کا ہے جو الہ دین کی لائیو ایکشن ریمیک میں امریکی اداکارہ ول سمتھ نبھا رہے ہیں۔

ول سمتھ اس کارٹون فلم کے لائیو ایکشن ریمیک میں نیلے رنگ کے جنی کا کردار پیش کررہے ہیں جن کے انداز کو فلم کے ٹریلر کے سامنے آنے کے بعد بےحد سراہا گیا تھا۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ول سمتھ کا ایک انٹرویو میں اپنے کردار کے حوالے سے کہنا تھا کہ وہ شروعات میں جنی کا کردار ادا کرنے پر کافی پریشان تھے اور اس آفر سے انکار کرنے کا بھی سوچ رہے تھے۔

یاد رہے کہ 1992 میں ریلیز ہوئی کارٹون فلم الہ دین میں جنی کے کردار کو اداکارہ روبن ولیمز نے اپنی آواز دی تھی، جس کے بعد سے یہ کردار ان سے ہی منصوب ہوگیا اور 25 سالوں بعد بھی روبن ولیمز کی اس شاندار پرفارمنس کو سراہا جاتا ہے۔

ول سمتھ ڈزنی کی اس لائیو ایکشن ریمیک میں جنی کا کردار ادا کرنے کے لیے اس لیے ہی پریشان تھے کیوں کہ روبن ولیمز نے اس کردار کو اتنا باخوبی ادا کیا کہ اس میں مزید بہترین کی گنجائش نہیں، تاہم اس کردار کو نبھانے کا ان کا تجربہ بےحد اچھا ثابت ہوا۔

50 سالہ ول سمتھ کا کہنا تھا کہ ‘روبن ولیمز نے جو اس کردار میں کیا، وہ اتنا شاندار تھا کہ اس میں مزید بہتری آ ہی نہیں سکتی، اس لیئے مجھے ڈر لگ رہا تھا، لیکن پھر مجھے اس کا میوزک اتنا پسند آیا کہ میرے اندر کے بچے نے مجھے فلم میں کام کرنے کے لیے آمادہ کرلیا’۔

خیال رہے کہ فلم میں الہ دین کا مرکزی کردار کینیڈین اداکار مینا مسعود ادا کریں گے، برطانوی اداکارہ ناومی سکاٹ فلم میں ‘جاسمین’ بنیں گی۔

فلم الہ دین کی ہدایات گائے ریچی دے رہے ہیں، جسے رواں سال 24 مئی کو سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔

‘ہواوے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی نفرت کی اصل وجہ ایپل کے ٹکڑے ہونا ہے’

امریکا کی جانب سے کمپنیوں کو نشانہ بنانے پر چین کی جانب سے کافی ردعمل سامنے آیا ہے مگر ایک سفارتکار نے ہواوے ٹیکنالوجیز کمپنی کے دفاع کے لیے مزاح کا سہارا لیا ہے۔

اسلام آباد میں چینی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف مشن زہاﺅ لی جیان نے ٹوئٹر پر ہواوے کو بلیک لسٹ کرنے کے امریکی فیصلے پر ردعمل ظاہر کیا اور ایپل کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے لکھا ‘اب اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ آخر ڈونلڈ چین کی ایک نجی کمپنی سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں، ذرا ہواوے کا لوگو تو دیکھیں، اس نے ایپل کو ٹکڑوں میں کاٹ دیا ہے’۔

زہاﺅ لی جیان نے جب یہ ٹوئیٹ کیا تو ان کے ٹوئٹر فالورز ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد تھے اور اب وہ بڑھ کر ایک لاکھ لاکھ 86 ہزار سے زیادہ ہوگئے ہیں۔

انہوں نے اس سے قبل 20 کو بئی ایک ٹوئیٹ کیا تھا جس میں لکھا تھا ‘ہواوے نے آخر امریکا کو کانپنے اور دیوانہ کیوں کردیا ہے؟ اس کی وجہ ہواوے کے نئے فون کے کیمرے کا آپٹیکل زوم ہے جو حیران کردینے والا ہے’۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکا نے ہواوے کو بلیک لسٹ کردیا تھا جس کے باعث امریکی کمپنیوں کو ہواوے کے ساتھ کام کرنے کے لیے حکومتی منظوری درکار تھی۔

یہی وجہ ہے کہ گوگل نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ وہ ہواوے سے اپنا تعلقختم کررہی ہے، جس کے فونز میں گوگل کے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کو استعمال کیا جارہا ہے۔

گوگل کے اعلان نے ہواوے صارفین میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی اور چینی کمپنی کو یقین دہانی کرانا پڑی تھی کہ وہ اپنے آپریٹنگ سسٹم کی تیاری پر کام کررہی ہے۔

مگر پیر کو امریکی محکمہ تجارت نے چینی کمپنی پر عائد تجارتی پابندیوں کو 3 ماہ کے لیے روک دیا تھا۔

اس اعلان کے بعد گوگل نے بھی 19 اگست تک کے لیے ہواوے کے ساتھ اینڈرائیڈ سروسز بحال رکھنے کا اعلان کیا۔

انتخاب لڑے بغیر سنی لیونی اپنی جیت پر حیران

بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات کے غیر حتمی نتائج کا اعلان 23 مئی کو کیا گیا جن کے مطابق بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کو واضح برتری حاصل ہے۔

بی جے پی ایک بار پھر سادہ اکثریت حاصل کرکے تنہا حکومت بنانے کے اہل ہوگئی ہے، تاہم انتخابات کا حتمی اعلان کچھ دن بعد ہوگا۔

انتخابات کے ابتدائی نتائج متعدد بھارتی ٹی وی چینلز نے براہ راست دکھائے اور اس دوران کئی ٹی وی چینلز پر کچھ غلطیاں بھی ہوئیں۔

بھارتی ٹی وی چینل ’ریپبلک‘ میں الیکشن ٹرانمشن کے دوران صحافی ارناب گوسوامی نے ریاست پنجاب کے حلقے گرداس پور کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے سنی لیونی کو جیتنے والا امیدوار بتایا۔

تاہم فوری طور پر ارناب گوسوامی نے اپنی غلطی کو درست کرتے ہوئے صحیح امیدوار یعنی اداکار سنی دیول کا نام لیا اور بتایا کہ وہ اپنے حلقے سے دیگر حریف امیدواروں سے آگے ہیں۔

دراصل سنی دیول ریاست پنجاب کے حلقے گرداس پور سے بی جے پی کی ٹکٹ پر میدان میں اترے تھے اور انہوں نے اس حلقے سے دیگر حریفوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

سنی دیول کی جگہ سنی لیونی کو گرداس پور میں فاتح امیدوار قرار دیے جانے کی انارب گوسوامی کی یہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور لوگوں نے ان کا خوب مذاق اڑایا۔

سنی دیول کی جگہ سنی لیونی کو کامیاب امیدوار قرار دیے جانے کی یہ ویڈیو خود اداکارہ نے بھی دیکھی جس کے بعد انہوں نے مختصر ٹوئیٹ میں مزاحیہ انداز میں سوال کیا کہ وہ دیگر حریف امیدواروں سے کتنے ووٹوں سے آگے ہیں؟

سنی لیونی کے ٹوئیٹ پر کئی مداحوں نے جواب دیے اور ایک مداح نے جواب میں لکھا کہ اداکارہ 135 کروڑ بھارتی افراد کے دلوں پر راج کرکے آگے جا رہی ہیں۔

اسی طرح ایک اور صارف نے سنی لیونی کو جواب دیا کہ وہ 69 ہزار ووٹوں سے آگے ہیں۔ ایک صارف نے تو سنی لیونی کو وزیر اعظم قرار دے دیا۔

خیال رہے کہ گرداس پور سے اداکار سنی لیونی کامیاب ہوئے ہیں۔

بی وٹامنز کے لیے حصول میں مدد دینے والی غذائیں

 بی وٹامنز ہمارے جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں جیسے اعصابی نظام کی معاونت، جلد، خلیات، خون بنانے، میٹابولزم اور توانائی وغیرہ کے لیے ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

وٹامن بی کی 8 مختلف اقسام پائی جاتی ہیں یعنی تائی مائن (بی 1)، ویبو فلیووین (بی 2)، نیاسین (بی 3)، فینٹوتینک ایسڈ (بی 5)، پرآئیڈکسین (بی سکس)، بائیوٹین (بی 7)، فولیٹ (بی 9) اور کوبالامن (بی 12) اور ان سب کو بی کمپلیکس وٹامنز کہا جاتا ہے۔

اب سب بی وٹامنز میں بی 12 واحد ہے جو ہمارے جسم میں طویل عرصے تک محفوظ رہ سکتا ہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ باقی بی وٹامنز کا حصول غذا یا سپلیمنٹ سے ممکن ہوتا ہے۔

ویسے یہ جان لیں کہ بی کمپلیکس سپلیمنٹ عام طور پر اس وقت تک فائدہ مند نہیں ہوتے جب تک ان وٹامنز کی کمی جسم میں نہ ہوجائے۔

اور ان سپلیمنٹس پر پیسے خرچ کرنے کی بجائے ان غذاﺅں کے بارے میں جان لیں جن کے ذریعے آپ تمام بی وٹامنز کو حاصل کرسکتے ہیں۔

کلیجی

گائے کی کلیجی اکثر افراد کو کچھ زیادہ پسند نہیں ہوتی مگر اس میں بی وٹامنز کی مختلف اقسام کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، سو گرام کلیجی سے کافی مقدار میں وٹامن بی 2، بی فائیو اور بی 3 مل جاتا ہے جبکہ فولیٹ، بی سکس اور بی 12 کو حاصل کرنا بھی ممکن ہوتا ہے، یہ غذا خون کی کمی کے شکار افراد کو اس مسئلے سے نجات دلانے کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔

انڈے

انڈے کھانے کی عادت بی وٹامنز کے حصول کا اچھا ذریعہ خصوصاً بائیوٹین (بی 7) کے لیے۔ بائیوٹین انڈے کی زردی اور سفیدی دونوں میں پایا جاتا ہے۔ اور یہ وٹامن اسی وقت جسم کو یہ بائیوٹین بالوں، ناخنوں کی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے جبکہ ڈپریشن اور ذہنی مسائل سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ اس وٹامن کے حصول کے لیے انڈوں کو اچھی طرح پکا کر کھانا چاہیے کیونکہ انڈے کی کچی سفیدی میں ایک ایسا پروٹین ہوتا ہے جو جسم کو بائیوٹین جذب کرنے سے روکتا ہے۔

سورج مکھی کے بیج

سورج مکھی کے بیج وٹامن بی 5 سے بھرپور ہوتے ہیں، اگرچیہ یہ وٹامن اکثر نباتاتی اور حیوانی غذاﺅں میں موجود ہوتا ہے مگر وہ مقدار بہت کم ہوتی ہے اور اکثر پکانے کے عمل میں ضائع ہوجاتی ہے۔ اس لیے سورج مکھی کے بیج اس حوالے سے فائدہ مند ہوتے ہیں۔

مچھلی

چربی والی مچھلی میں بی وٹامنز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، سوگرام مچھلی میں بی تھری، بی 12 اور بی سکس کے ساتھ ساتھ وٹامن بی 2، بی 1 اور بی فائیو بھی موجود ہوتے ہیں۔

چکن

چکن وٹامن بی تھری اور بی سکس کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے، ویسے اس گوشت میں 8 میں سے 6 بی وٹامنز موجود ہوتے ہیں۔

گائے کا گوشت

اگر آپ بی وٹامنز کی زیادہ مقدار چاہتے ہیں تو گائے کا گوشت اچھا ذریعہ ہے جس میں 8 میں سے 6 بی وٹامنز پائے جاتے ہیں، خصوصاً وٹامن بی تھری کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ اعصابی نظام اور جلد کو اچھی ساخت برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، اس کے علاوہ بی 1، بی ٹو اور بی سکس بھی اس گوشت سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

دودھ

دودھ سے جسم کو وٹامن بی 2 ملتا ہے جو غذا سے حاصل ہونے والے توانائی کو جسم میں اخراج میں مدد دیتا ہے، گائے کا دودھ اس وٹامن کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے، اس کے علاوہ دودھ سے جسم کو کچھ مقدار میں بی 12، بی 1 اور بی فائیو بھی ملتا ہے۔

دالیں

دالوں سے جسم کو وٹامن بی نائن یا فولیٹ ملتا ہے جو خون کے صحت مند سرخ خلیات کے بننے میں مدد دیتا ہے، چنے، کالے چنے وغیرہ اس اہم وٹامن کے حصول کا اچھا ذریع ہیں۔

سبز پتوں والی سبزیاں

سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک یا ساگ کو اپنی غذا کا حصہ بنانا بھی فولیٹ کے حصول میں مدد دیتا ہے، کچھ مقدار میں پالک کو کھانے سے ہی جسم کو کافی مقدار میں فولیٹ مل جاتا ہے جس سے خون کی کمی کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔

Google Analytics Alternative