Home » Author Archives: Admin (page 2)

Author Archives: Admin

کلبھوشن کیس: بھارت پاکستان کے سوالات کا جواب دینے میں ناکام

عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس سے متعلق کیس کی سماعت میں بھارت، کلبھوشن یادیو سے متعلق سوالات کے جواب دینے میں ناکام ہوگیا۔

ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف میں پاکستانی وکیل خاور قریشی نے بھارت کے خلاف اپنے جواب الجواب کے آغاز میں ہی اپنے جارحانہ دلائل کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ کو نہیں بگاڑا جائے، بھارت ‘خوابوں کی دنیا’ میں رہ رہا ہے اور پاکستان کے خلاف لگائے گئے الزامات پر اٹھائے گئے سخت سوالات کے جواب دینے میں ناکامی سے بدستور توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے۔

پاکستان کے وکیل نے گزشتہ روز سماعت میں حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بھارت دعویٰ کرتا ہے کہ یہ کیس صرف قونصلر رسائی سے انکار سے متعلق ہے جبکہ یہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔

خاور قریشی نے بھارت کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سیکریٹری کے الفاظ کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرکاری پوزیشن کہنے کو مضحکہ خیز قرار دیا۔

انہوں نے کلبھوشن یادیو کے مبینہ اغوا کے دعوے کو ’ بھارتی فکشن‘ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر متل کی ناکامی پر روشنی ڈالی جو بھارتی جاسوس کے مبینہ اغوا سے متعلق ایرانی حکام سے بات کرنے کی کوشش میں ناکام ہوگئے تھے۔

خاور قریشی نے کہا کہ ’ تفصیلات فراہم کرنے سے فکشن بے نقاب ہوجائے گا‘۔

پاکستانی وکیل نے بھارت کی جانب سے اپنے حکام کی ’تصاویر ‘ کی مدد سے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی نشاندہی بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عدالت میں صرف ایک تصویر دکھائی تھی جو کہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کی تھی۔

تاہم یہ بات بھی اہم تھی کہ بھارت نے فروری 2014 میں کی گئی تقریر کے کسی پہلو کو مسترد نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے باہمی قانونی مشاورت (ایم ایل اے) درخواستوں کی تعداد سے متعلق الجھن بھی اس کی نقطہ نظر سے ہٹنے کی ایک اور مثال تھی، کہ وہ 18 تھی یا 40 ایم ایل اے درخواستیں تھیں۔

خاور قریشی کے مطابق بھارت کی جانب سے ’ الفاظ سے کھیلنے کی کوشش بھی کی گئی ‘،انہوں نے بھارت کی جانب سے بھارتی صحافیوں کے لیے قائل کرنے والے اور الزامات سے پاک جیسے الفاظ کی طرف نشاندہی بھی کی کہ خاور قریشی نے کسی مقام پر ان الفاظ کا استعمال نہیں کیا۔

انہوں نے بھارت کی جانب سے کلبھوشن یادیو کے پاسپورٹ کے مسئلےکو فضول اور قانونی بنیادوں کے برعکس قرار دینے کے دعوے پر سوال کیا کہ ’ ہم کیا کرنے آئے ہیں؟‘

خاور قریشی کے مطابق ’ پاکستان کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب واضح، توجہ طلب شواہد پر مبنی تھے‘،در حقیقت بھارت کی جانب سے ’ کھوکھلا رد عمل دیا گیا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ’ پکڑو اگر مجھے پکڑسکتے ہو‘کی سوچ ہے، بھارت حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے قانون توڑنے کی تلاش میں ہے‘۔

خاور قریشی نے ایک مرتبہ نئی دہلی کو خیالی دنیا (ونڈر لینڈ) میں ہونے پر تنبیہ کی تھی۔

پاکستانی وکیل نے ویانا کنوشن میں جاسوسی سے متعلق شق پڑھتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کسی صورت وہ نہیں چاہتا جو دلیل بھارت پیش کرتا ہے۔

خاور قریشی نے مزید کہا کہ ’ یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک بھارت یہ نہ مان لے کہ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 5 (اے) ( عالمی قوانین کی تعمیل) اور آرٹیکل 55 (ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز )کے کوئی معنی نہیں ہیں جو بھارت کے بنیادی موقف کے برابر ہے کہ ’ ریاست کا رویہ غیر متعلقہ ہے‘۔

دلائل کے دوران پاکستانی وکیل نے ہریش سیلو کی جانب سے پاکستان پر غیر مہذب زبان استعمال کرنے کے الزامات کے جواب میں کہا کہ پاکستان نے اپنا وقار برقرار رکھا ہے اور بھارت کے ’لسانی کھیل‘ کی صورت میں خود کو نشانہ بنائے جانے کی اجازت نہیں دیتا۔

بھارت نے 20 فروری کو دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ میں پشاور ہائی کورٹ کے ملٹری کورٹس کی پھانسی کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہوئی ہے، ہریش سیلو نے کہا کہ پاکستان نے یہ حقیقت چھپا کر عالمی عدالت کو گمراہ کیا ہے۔

ہریش سیلو کی اس دلیل کا جواب دیتے ہوئے خاور قریشی نے کہا کہ کوئی فیصلہ کسی اپیل کا حصہ ہونے سے بے جوڑ یا اپنی اہمیت کیسے کھوسکتا ہے۔

خاور قریشی نے مزید کہا کہ ’تمام عدالتی نظام میں اس وقت برقرار رہتا ہے جب تک کسی اعلیٰ عدالت کی جانب سے اس کے خلاف فیصلہ نہ آجائے ‘۔

اس سے قبل اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے پاکستان کے عدالتی نظام میں نظرثانی کے عمل کی عدم موجودگی کے نام پر ہونے والی تنقید کا سخت جواب دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔

اٹارنی جنرل نے ملک کے ’ انتہائی مضبوط نظام‘ سے متعلق واضح کیا کہ ’ تمام عدالتیں، سول ہوں یا کرمنل کورٹس،اسپیشل کورٹس،اسپیشلائزڈ ٹریبونل یا ملٹری کورٹ، یہ تمام آئین کے مطابق پارلیمنٹ کے مختلف ایکٹ کے تحت تشکیل دی جاتی ہیں‘۔

پاکستان میں ہونے والی خفیہ عدالتی کارروائی پر بھارت کی تنقید سے متعلق انہوں نے کہا کہ ’ ریاستی سلامتی، رازداری، ریاستی رازوں کی وجہ سے بعض ٹرائل کو پبلک نہیں کیا جاسکتا،یہ تقریباً تمام دائرہ کار کے حوالے سے سچ میں جس میں بھارت بھی شامل ہے‘۔

انور منصور خان نے پاکستان کی ملٹری کورٹس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ آئین کے تحت بنائی اور چلائی جاتی ہیں جس میں شواہد کے قوانین، کرمنل پروسیجر کوڈ اور اسی طرح کے قوانین شامل ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ یہ کہنا ٹھیک نہیں کہ فوجی عدالتیں کچھ وجوہات کی بنیاد پر اہل نہیں یا قانون سے بالاتر ہیں‘۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جس ریلیف کی درخواست کی گئی ہے وہ اس عدالت کے اختیارات سے باہر ہے،انہوں نے سویلین عدالتوں میں بھارت کے دوبارہ ٹرائل کے مطالبے پر بھی روشنی ڈالی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ میں یہ نقطہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ کلبھوشن کے خلاف شہری دائرہ کار کے تحت بھی ایف آئی آر موجود ہے اور اس سزا کے علاوہ ان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ بھی بنتا ہے‘۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل نے بھارت کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے یاد دہانی کروائی کہ ان کے اپنے ہاتھ کتنے گندے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افضل گرو جنہیں وکیل دینے سے انکار کیا گیا تھا اور یہاں تک کہ دہشت گرد تنظیم سے تعلق ہونے کے الزامات میں بے قصور قرار دیے جانے کے باوجود انہیں ’معاشرے کے اجتماعی موقف کو مطمئن کرنے کے لیے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’ میں ان سے پوچھتا ہوں کیا آئین اور قانون کے تحت یہ سزا کا معیار ہے؟ کیا یہ بھارت میں عدلیہ کا منصفانہ ٹرائل ہے؟

انہوں نے سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملے سے متعلق بھی بات کی جس میں 42 پاکستانی زندہ جل گئے تھے۔

انور منصور خان نے کہا کہ ’ پاکستان نے حملے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی درخواست کی ہے لیکن اس حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ذمہ داران کو بے قصور قرار دینے پر قائم ہے جنہوں نے اس جرم کا اعتراف بھی کیا تھا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ 2002 کے فسادات میں جاں بحق ہونے والے گجرات کے ہزاروں مسلمانوں کے خاندان آج بھی انصاف کے انتظار میں ہیں۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ بھارت پلوامہ حملے میں بغیر کسی ثبوت اور انکوائری کے بغیر ہی ’ جج، جلاد اور نشانہ ‘ بن گیا ہے۔

انور منصور خان نے مقبوضہ کشمیر میں متاثرین کی تعداد بتائے بغیر بھارت کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر دنیا بھر میں تنقید کی جاتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارتی فورسز کی جانب سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں معصوم شہریوں پر پیلیٹ گنز کے استعمال سے متعلق بتایا کہ جہاں 2 سو زائد معصوم شہری جاں بحق، 15 ہزار سے زائد زخمی ہوئے،15 ہزار سے زائد لاپتہ ہیں اور 2 ہزار سے زائد معصوم مرد، خواتین اور بچے پیلیٹ گن کے استعمال سے عمر بھر کے لیے بصارت سے محروم ہوگئے، جن میں 18 ماہ کی بچی ہبہ بھی شامل ہے جو زندگی بھر دیکھ نہیں سکے گی‘۔

عالمی عدالت نے علاقائی دائرہ کار کے تحت اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا جسے آئندہ 6 ماہ میں کسی وقت سنائے جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس کی سماعت ہیگ میں قائم 15 ججوں پر مشتمل عالمی عدالت انصاف میں 18 سے 21 فروری تک کی گئی، اس موقع پر اٹارنی جنرل انور منصور پاکستانی وفد کی قیادت جبکہ ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ ایشیا ڈاکٹر محمد فیصل دفتر خارجہ کی نمائندگی کی۔

کلبھوشن یادیو

یاد رہے کہ ’را‘ کے لیے کام کرنے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو غیرقانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔

بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ کہ انہیں ’را‘ کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے منصوبہ بندی اور رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

کلبھوشن نے یہ بھی کہا تھا کہ 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد ‘را’ کے لیے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا۔

ویڈیو میں کلبھوشن نے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا تھا۔

بعدازاں اپریل 2017 کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنانے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کی توثیق 10 اپریل کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی تھی۔

بھارت نے 9 مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کی پھانسی کے خلاف اپیل دائر کی تھی، اور درخواست کی تھی کہ آئی سی جے پاکستان کو بھارتی جاسوس کو پھانسی دینے سے روکے۔

عالمی عدالت انصاف میں کی گئی درخواست میں بھارت نے پاکستان پر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیاتھا کہ ویانا کنونشن کے مطابق جاسوسی کے الزام میں گرفتار شخص کو رسائی سے روکا نہیں جاسکتا۔

بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو ایک بے قصور تاجر ہے جسے ایران سے اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر زبردستی را ایجنٹ ہونے کا اعتراف کروایا گیا لیکن بھارت اغوا کیے جانے کے کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا تھا۔

خیال رہے کہ 13 دسمبر 2017 کو کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھارت کی شکایت پر پاکستان کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں جوابی یاد داشت جمع کرائی گئی تھی۔

جس کے بعد گزشتہ برس 18 مئی کو عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کلبھوشن کی پھانسی روکنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد دفتر خارجہ نے آگاہ کیا تھا کہ آئی سی جے کے حکم پر حکومتِ پاکستان نے متعلقہ اداروں کو اس پر عمل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے کیے گئے دعووں پر اب تک پاکستان اور بھارت کی جانب سے 2،2 جوابات داخل کروائے جاچکے ہیں ۔

تاہم بھارت یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی بحریہ سے کب اور کس طرح ریٹائر ہوا، کیونکہ پکڑے جانے کے وقت کلبھوشن کی عمر 47 برس تھی۔

علاوہ ازیں بھارت کو اس بات کی وضاحت دینے کی ضرورت ہے کہ کلبھوشن یادیو کے پاس جعلی شناخت کے ساتھ اصلی پاسپورٹ کیسے آیا، جس کو اس نے 17 مرتبہ بھارت آنے جانے کے لیے استعمال بھی کیا اور اس میں اس کا نام حسین مبارک پٹیل درج تھا۔

یاد رہے کہ دسمبر 2017 میں پاکستان نے کلبھوشن کے لیے ان کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کے انتطامات کیے تھے۔

یہ ملاقات پاکستان کے دفترِ خارجہ میں ہوئی جہاں کسی بھی بھارتی سفیر یا اہلکار کو کلبھوشن کے اہلِ خانہ کے ساتھ آنے کی اجازت نہیں تھی۔

مذکورہ ملاقات کے دوران کلبھوشن یادیو نے اپنی اہلیہ اور والدہ کے سامنے بھی بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لیے جاسوسی کا اعتراف کیا تھا، جسے سن کر دونوں خواتین پریشان ہوگئی تھیں۔

لاہور قلندرز نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد ملتان سلطانز کو شکست دیدی

شارجہ: پاکستان سپر لیگ کے دسویں میچ میں لاہور قلندرز نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد ملتان سلطانز کو شکست دے دی۔ 

شارجہ میں کھیلے گئے پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن کے دسویں میچ میں ملتان سلطانز نے مقررہ اوورز میں رواں ایونٹ کا سب سے بڑا اسکور 200 رنز بنایا جس کے جواب میں لاہور قلندرز کے فخرزمان اور سہیل اختر نے اننگز کا آغاز کیا، 35 رنز کی شراکت قائم کرنے کے بعد سہیل 10 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوگئے۔

فخرزمان نے سلمان بٹ کے ساتھ ملکر اسکور بورڈ کو آگے بڑھایا اور وہ 35 گیندوں پر 63 رنز کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے جس میں 3 چھکے اور 7 چوکے شامل تھے جب کہ سلمان بٹ 17 رنز بناکر پویلین واپس لوٹے اور آغا سلمان بھی صرف 2 رنز کے مہمان ثابت ہوئے، وکٹ کیپر بیٹسمین برنڈن ٹیلر پہلی ہی گیند پر انجرڈ ہوکر ریٹائرڈ ہرٹ ہوگئے۔

ایک موقع پر ڈیوڈ ویزے جنید خان کی گیند پر آؤٹ ہوگئے تھے لیکن وہ نوبال ہوگئی جس کے بعد ویزے کو دوبارہ بیٹنگ کا موقع ملا۔ اے بی ڈی ویلیئرز اور ڈیوڈ ویزے نے ذمہ دارنہ بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 96 رنز کی شراکت قائم کرکے لاہور قلندرز کو فتحیاب کروایا۔

لاہورقلندرز کو جیت کے لیے آخری اوور میں 9 اور آخری گیند پر3 رنز درکار تھے، ڈیوڈ ویزے نے ڈینئل کرسچن کو چھکا رسید کرکے میچ میں فتح حاصل کی۔ ڈیوڈ ویزے 20 گیندوں پر 37 اور اے بی ڈی ویلیئرز 29 گیندوں پر 52 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔ ملتان سلطانز کی جانب سے جنید خان نے 3 اور محمد الیاس نے ایک وکٹ حاصل کی۔

اس سے قبل لاہور قلندرز کے کپتان اے بی ڈی ویلیئرز نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، ملتان سلطانز کی جانب سے عمرصدیق اور جیمزونس نے ناقابل یقین 135 رنز کی اوپننگ شراکت قائم کی، اس دوران ونس نے اپنی نصف سنچری بھی مکمل کی۔

جیمز ونس نے 41 گیندوں پر 84 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی جس میں 6 چھکے اور 7 چوکے شامل تھے، تیسرے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آنے والے کپتان شعیب ملک 10 رنز کی اننگز کھیل کر پویلین واپس لوٹ گئے۔ عمر صدیق بھی 37 گیندوں پر 53 رنز کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے جس میں 2 چھکے اور 4 چوکے شامل تھے۔

آندرے رسل بھی 7 رنز کے مہمان ثابت ہوئے جب کہ ڈینیل کرسچن نے 21 رنز کی اننگز کھیلی۔ لاہور قلندرز کی جانب سے پی ایس ایل میں ڈیبیو کرنے والے سندیپ  لیمی چین نے 3 جب کہ حارث رؤف اور شاہین آفریدی نے  ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

کیا شام میں ورزش کرنا نقصان دہ ہوتا ہے؟

دفتری مصروفیات، گھر کے کام اور دیگر مسائل کے باعث ہوسکتا ہے کہ ورزش کے لیے وقت نکالنا مشکل محسوس ہوتا ہو۔

پھر یہ خیال ورزش سے دوری مزید بڑھادیتا ہے کہ رات کو ورزش کرنے کی عادت میٹھی نیند کے حصول میں مشکل پیدا کرسکتی ہے۔

تاہم اب ایک نئی تحقیق میں ورزش کے لیے بہترین وقت کا تعین کردیا گیا ہے۔

آسٹریلیا کی چارلس اسٹیورٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ رات بھیگنے پر آدھے گھنٹے کی ورزش سے نیند متاثر نہیں ہوتی بلکہ اس سے بھوک پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے جس سے جسمانی وزن کم ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران دن بھر میں مختلف اوقات میں ورزش کے اثرات کا جائزہ 11 درمیانی عمر کے افراد پر لیا گیا۔

ان افراد کو تین گروپس میں تقسیم کرکے انہیں صبح 6 سے 7۔ دوپہر 2 سے 4 یا شام 7 سے 9 کے درمیان ورزش کی ہدایت کی گئی۔

تینوں گروپس میں شامل افراد کو 30 منٹ کی ایک جیسی ورزش جیسے سائیکلنگ کرنے کی ہدایت کی گئی اور پھر ان سے رات کو نیند کے معیار کے بارے میں پوچھا گیا۔

ان رضاکاروں کے خون کے نمونے بھی ورزش سے پہلے اور بعد میں لیے گئے نتاءجسے معلوم ہوا کہ شام کو ورزش کرنے سے نیند متاثر نہیں ہوتی بلکہ یہ بھوک بھڑکانے والے ہارمون گرلین پر قابو پانے میں مدد دیتی ہے۔

محققین نے تسلیم کیا کہ اس ورزش کے نتائج کا اطلاق تمام افرد پر نہیں ہوسکتا کیونکہ ہر ایک کا میٹابولزم مختلف طرح کام کرتا ہے۔

مگر ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں توقع ہے کہ اس طرح کی تحقیق میں خواتین کو شامل کرکے ہم ورزش کے نیند اور بھوک پر مرتب ہونے والے اثرات کا جامع جائزہ لے سکیں گے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل ایکسپیرمنٹل فزیولوجی میں شائع ہوئے۔

پلوامہ دہشت گردی کا پس منظر کیا ہے۔۔۔؟

rana-biqi

بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی سنٹرل ریزرو سیکورٹی فورس کے بڑے کانوائے پر جس میں ڈھائی ہزار سے زیادہ اہلکار ،ستر سے زیادہ فوجی گاڑیوں اور بسوں میں سوار تھے، دہشت گردوں کے حملے میں درجنوں بھارتی فوجی اہلکار ہلاک اور بہت سے زخمی ہوگئے ہیں ۔یہ کہا گیا ہے کہ بارود بھری ایک کار نے کانوائے کی بس پر خودکش حملہ کرکے اِس بھیانک کاروائی کا ارتکاب کیا ہے جبکہ دہشت گردوں کی جانب سے دستی بموں کے استعمال کی بات بھی کی گئی ہے ۔ حیرت کی بات ہے کہ جگہ جگہ چیک پوسٹوں اور سیکیورٹی بیرئیرز کی موجودگی میں کنٹرول لائین سے تقریباً سو کلو میٹر دوراتنی بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد کس طرح پہنچ گیا اور کیونکر ہائی سیکیورٹی کانوائے کو نشانہ بنا لیا گیا؟ دنیا بھر کے سیکیورٹی ادارے اِس اَمر سے اچھی طرح واقف ہیں کہ امن اور حالت جنگ کے دوران جب بھی بڑے پیمانے پر سیکیورٹی یا فوجی کانوائے متاثرہ علاقے میں چلتے ہیں یا موو کرتے ہیں تو علاقے سے متعلقہ سٹرکوں کو دیگر ٹریفک کیلئے بند کر دیا جاتا ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کنٹرل لائین پر چپہ چپہ پر پھیلی ہوئی بھارتی فوج، رینجرز ، ریزرو سیکیورٹی پولیس اور مانیٹرننگ کیمروں کی موجودگی میں اتنا بڑا دھماکہ خیز مواد کس طرح ہائی پروفائل سیکیورٹی ذون میں پہنچ گیا؟ حیرت ہے کہ اِس ریڈی میڈ حملے کے فواً بعد ہی کالعدم نام نہاد تنظیم جیش محمد جس سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے کی جانب سے ذمہ داری قبول کرانے کے اعلان کیساتھ ہی اِس حملے کے فوراً بعد بھارت نے اسلام آباد سے اپنے ہائی کمشنر کو واپس نئی دہلی بلا لیا ہے جبکہ سفارتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کرکے کسی ثبوت کے بغیر پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔لہذا، ایک ایسے وقت جبکہ حکومت پاکستان بھارت سے تعلقات بحال کرنے کیلئے پاکستان میں سکھوں کے مقدسہ مقام کو عام سکھ زائرین کیلئے کھولنے کیلئے کرتار پور کوریڈور پر معاہدے کیلئے بھی گفتگو میں مصروف ہیں بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک مرتبہ پھر معاندانہ پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔چنانچہ پاکستانی وزارت خارجہ نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے بغیر تحقیقات کے الزامات لگانے پر بھارت سے شدید احتجاج کیا ہے۔ نام نہاد پلوامہ دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی انتہا پسند وزیراعظم نریندرا مودی اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اِس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں کہ اُنہوں نے ایک اور غیرر سفارتی دھمکی آمیز بیان میں کہا ہے کہ پڑوسی ملک (پاکستان) کو سزا بھگتنی ہوگی جس کیلئے بھارتی فوج کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔

حیرت ہے کہ بھارت ایک جانب تو کشمیر کنٹرول لائن اور سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر روزمرہ کی خلاف ورزی میں مصروف ہے تو دوسری جانب پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور سابق فاٹا کے علاقے میں دہشت گردی میں ملوث ہے جس کی ایک ٹھوس شہادت بھارتی ایکسٹرنل انٹیلی جنس RAW سے منسلک بھارتی سروننگ نیوی کمانڈرکل بھشن جادیو کی جعلی مسلم نام سے سفری دستاویزات کیساتھ بلوچستان میں رنگے ہاتھوں گرفتاری عمل میں آ چکی ہے جس کی آزادی کیلئے بھارتی سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت کمار ڈوّل اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی سخت مضطرب ہیں اور جس کی سماعت اب بھارتی درخواست پر بین الاقوامی کورٹ آف جسٹس کے سامنے ہے۔ چنانچہ کسی معقول ثبوت کے بغیر بھارت اقوام متحدہ کی عدالت کی توجہ کل بھشن کیس سے ہٹانے کیلئے پلوامہ دہشت گردی کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں مصروف ہے۔اِسی دوران کالعدم تنظیم جیش محمد جس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے، کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آیا ہے جس میں اُنہوں نے ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر حریت کانفرنس نے وضاحت سے کہا ہے کہ پلوامہ حملہ کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو کچلنے کی سازش کا حصہ ہے ۔ سابق کشمیری لیڈر شیخ عبداللہ مرحوم کے صاحبزادے سابق وزیراعلی مقبوضہ کشمیر عمر فاروق عبداللہ جنہیں بھارت میں سابق مرکزی کانگریس حکومت کا حامی سمجھا جاتا ہے، نے اِس واردات کے بعد بھارتی چینل پر انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ اِس نوعیت کے حملوں سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ موجودہ تحریک آ زادئ کشمیر بھارتی ظلم و تشدد کے خلاف کشمیری نوجوانوں نے شروع کی ہے۔ جب بھارتی اینکر نے اُن سے بھارتی تھیم کے مطابق پاکستان کے خلاف کچھ کہلوانے کی کوشش کی تو فاروق عبداللہ نے لائیو انٹرویو کے دوران واک آؤٹ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔

درج بالا تناطر میں جمہوری دنیا اِس اَمر سے اچھی طرح واقف ہے کہ امن و امان قائم کرنا ہر جمہوری ریاست کی آئینی ذمہ دار ی میں شامل ہے جبکہ پلوامہ دہشت گردی جس میں اِس اَمر کا ابھی تک تعین نہیں ہوسکا ہے کہ آیا دہشت گردی کا یہ واقعہ بھارت میں پھیلی ہوئی متعدد مقامی عسکریت پسند تنظیموں کاکام ہے یا اِسے بھارتی الیکشن 2019 میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کیلئے آر ایس ایس کی جانب سے کیا گیا ہے ، کیونکہ دہشت گردی کے اِس حملے کے فوراً بعد آر ایس ایس اور ہندو توا تنظیموں سے منسلک انتہا پسند ہندوؤں نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع جموں اور دیگر ہندو اکثریتی علاقوں میں کشمیری مسلمانوں کی مقبوضہ کشمیر نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو چن چن کر نذر آتش کرنے کے علاوہ کشمیری مسلمانوں کی جان و مال کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ طریقہ کار وہی ہے جس طرح سابق وزیر اعلی گجرات احمد آباد نریندرا مودی (موجودہ وزیراعظم بھارت) کے زمانے میں ہندو یاتریوں کی چلتی ٹرین کے ایک ڈبے میں آگ لگنے پر جو دیگر ڈبوں تک پھیل گئی جس کے نتیجے میں کچھ ہندو یاتری ہلاکت کا شکار ہوئے جس کا الزام گجرات احمد آباد کے مسلمانوں پر لگا کر سابق وزیراعلی نریندرا مودی کے اشارے پر گجرات ، احمد آباد میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا جبکہ اُن کی مساجد، رہائشی مکانوں اور تجارتی دکانوں کو آگ لگا کر تباہ و برباد کر دیا گیا تھا ۔ س اَمر کے خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ پلوامہ دہشت گردی کا ملبہ بھارتی مسلمانوں پر ڈالنے کیلئے آر ایس ایس چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کی مشاورت سے بی جے پی اور آر ایس ایس کے مسلح رضاکار ایک مرتبہ پھر سے بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعے بھارتی مسلمانوں کو انتقام کا نشانہ بنا نے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ بھارت میں مسلم ووٹ بھارتی الیکشن 2019 میں نیریندرا مودی کی اینٹی اسلام الیکشن مہم جوئی کے بعد دیگر بھارتی سیاسی جماعتوں کو ووٹ دینے پر متفق ہوتے جا رہے ہیں۔

اندریں حالات یہی محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ ہفتے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے آر ایس ایس کے انتہا پسند کارکنوں کے ہمراہ سری نگر کے دورے میں حریت کانفرنس کی اپیل پر سری نگر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور نریندرا مودی کے خطاب کا بائیکاٹ کرنے پر آر ایس ایس چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کی مشاورت سے بظاہر دو مقاصد کیلئے پلوامہ حملہ انجینئرڈ کیا گیا تھا، ایک تو یہ کہ نریندرا مودی کی بھارت میں گرتی ہوئی ساکھ کوسہارا دیا جائے اور دوسری جانب پاکستان پر الزامات کا بوجھ منتقل کرکے پاکستان کی جانب سے بابا گرونانک دربار تک کرتار پور کوریڈور کے ذریعے حالیہ رسائی دینے پر بھارتی سکھوں اور پاکستانیوں کے درمیان پیدا ہونے والے محبت کے جذبات کو نہ صرف معدوم کیا جائے بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف ایک دہشت گرد ریاست ہونے کے پروپیگنڈے کو مہمیز دی جاسکے۔ جبکہ قرائین یہی کہتے ہیں کہ پاکستان پر الزام لگانے کیلئے ہندو انتہا پسندوں نے بھارتی فوج کی اعانت سے محدود دہشت گردی کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن سازش سے منسلک متعلقہ افراد کی غفلت کے باعث یا پھر منصوبہ بندی کے تحت حملے میں استعمال کی گئی کار سکھ اہلکاروں کی بس سے ٹکرائی گئی ۔ چنانچہ یہ دعویٰ کرنا کہ خود کش حملے کیساتھ ہی دستی بموں سے بھی کانوائے پر حملہ کیا گیا حقائق کے منافی ہے جس کیلئے فکری تھنک ٹینک حلقوں کو ماضی میں بھارتی ایجنٹوں کے طریقہ واردات سے متعلق مزید پرت کھولنے کی ضرورت ہے ۔
(۔۔۔۔۔۔جاری ہے)

دنیا کے پہلے ایک ٹی بی اسٹوریج والے فون کی چونکا دینے والی قیمت

سام سنگ نے 20 فروری کو اپنے گلیکسی ایس 10 سیریز کے فونز متعارف کرائے مگر ان میں سے ایک سب سے زیادہ نمایاں تھا۔

اور وہ تھا گلیکسی ایس 10 پلس کا ایک ٹی بی اسٹوریج اور 12 جی بی ریم والا ورژن۔

یہ دنیا کا پہلا ایک ٹی بی اسٹوریج اور 12 جی بی ریم والا فون ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ گلیکسی ایس سیریز کا بھی مہنگا ترین فون کا اعزاز اپنے نام کرچکا ہے۔

سام سنگ نے اس کی قیمت 16 سو ڈالرز (2 لاکھ 23 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) رکھی ہے۔

فی الحال یہ سام سنگ کا مہنگا ترین فون بھی ہے جو اپریل میں فولڈ ایبل فون گلیکسی فولڈ بن جائے گا جس کی قیمت 1980 ڈالرز رکھی گئی ہے۔

یقیناً سام سنگ کا گلیکسی ایس 10 فائیو جی بھی اس سے زیادہ مہنگا ہوگا۔

ویسے 1600 ڈالرز والے فون اس وقت دنیا میں نہ ہونے کے برابر ہیں آئی فون ایکس ایس میکس ہی شاید اس کی برابری کرسکتا ہے۔

سام سنگ کے خیال میں کسی لیپ ٹاپ سے زیادہ اسٹوریج والے ایک ٹی بی اسمارٹ فون پر لوگ اتنا خرچہ کرنے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔

ویسے یہ فون فیچرز کے لحاظ سے 8 جی بی والے گلیکسی ایس 10 پلس جیسا ہی ہے جس میں 4100 ایم اے ایچ بیٹری، 6.4 انچ کا انفٹنی او ڈسپلے، پنچ ہول ڈوئل سیلفی کیمرا سیٹ، 3 بیک کیمرے اور اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر۔

بس فرق 12 جی بی ریم اور ایک ٹی بی اسٹوریج کا ہی ہے جس میں مائیکرو ایس ڈی کارڈ سے مزید 512 جی بی اسٹوریج کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

تو اگر آپ دنیا کا پہلا ایک ٹی بی اسٹوریج والا فون لینا چاہتے ہیں تو بہتر ہے کہ ابھی سے بچت شروع کردیں کیونکہ یہ فون 8 مارچ سے دنیا کے مختلف ممالک میں دستیاب ہوگا۔

بالی ووڈ کے معروف ہدایتکار کا کنگنا کے ساتھ کام کرنے سے انکار

ممبئی: معروف بالی ووڈ ہدایت کار علی عباس ظفر نے کنگنا رناوت کے ساتھ کام کرنے سے صاف انکار کردیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق رواں سال ریلیز ہونے والی سلمان خان کی فلم ’بھارت‘ کی تشہیر کے لیے فلم کے ہدایت کار علی عباس ظفر اور کترینہ کیف نے ایک شو میں شرکت کی اور جہاں اُن سے مختلف نوعیت کے سوالات کیے گئے۔ ایک سوال کے جواب میں ہدایت کار نے جواب دے کر میزبان کو ہی سوچنے پر مجبور کردیا۔

میزبان کی جانب سے علی عباس ظفر سے سوال پوچھا گیا کہ انڈسٹری کی ایسی کون سی اداکارہ ہیں جن کے ساتھ وہ کام کرنا نہیں چاہیں گے؟ جس پر ابتدا میں علی عباس نے مزاحیہ انداز میں ہالی ووڈ اداکارہ جنیفر لارنس کا نام لیا لیکن جب اُن سے زور دے کر بالی ووڈ کی اداکارہ کا نام پوچھا گیا تو انہوں نے فوری طور پر کنگنا رناوت کا نام لیا۔

شو کی میزبان نے ہدایت کار کے جواب پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کنگنا کا نام لینے کی وجہ پوچھنا چاہی تو ساتھ بیٹھی کترینہ کیف نے مداخلت کرتے ہوئے اگلے سوال کی جانب بڑھنے کی استدعا کی۔

واضح رہے کہ علی عباس ظفر کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’بھارت ‘ میں سلمان خان کے ہمراہ کینیڈین اداکارہ نورا فتیحی اور کترینہ کیف کے علاوہ دیشا پٹانی، تبو، سنیل گروور بھی شامل ہیں جب کہ فلم 2019ء میں عید کے موقع پر سنیما گھروں کی زینت بنے گی۔

ترکی نے پاکستان پر پلوامہ حملے کے بھارتی الزامات مسترد کردیئے

استنبول/اسلام آباد: ترک وزیرخارجہ نے پلوامہ حملے سے متعلق پاکستان پر لگائے گئے بھارتی الزامات مسترد کردیئے۔

دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ترک ہم منصب میولوت چاوش اولو سے ٹیلی فون پر بات کی، دوطرفہ بات چیت میں پاک بھارت کشیدگی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترک وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ترکی پلوامہ حملے سے متعلق پاکستان پر لگائے گئے بھارتی الزامات کو مسترد کرتا ہے، مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کا حل بات چیت سے نکالا جائے، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے۔

ترک  وزیرخارجہ نے بتایا کہ ترک صدر رجب طیب اردگان ترکی میں انتخابات کے بعد پاکستان کا دورہ کریں گے، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کی حمایت پر ترکی کا شکریہ ادا کیا۔

‘ترکی نے پلوامہ واقعے پر پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات رد کردئیے’

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ترک ہم منصف میولت چاوش اوگل کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں پر پلواما میں ہونے والے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور حقائق سے آگاہ کر دیا اور ترکی کی جانب سے پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات کو مسترد کردیا گیا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ترک وزیرخارجہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور کئی مسائل پر پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ تعاون پاکستان اور ترکی کے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا عکس ہے۔

شاہ محمود قریشی نے ترک ہم منصب کو پلواما واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان نے بھارت سے قابل عمل ثبوت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ پاکستان کو تفتیش میں مدد ملے۔

وزیرخارجہ نے مختلف معاملات پرپاکستان کی پوزیشن کو سمجھنے اور مسلسل تعاون پر ترکی کو خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے دونوں برادر ممالک کے درمیان بہترین تعلقات اور 3 اور 4 جنوری 2019 کو وزیراعظم عمران خان کے دورہ ترکی کے بعد تعلقات میں مزید استحکام پر بات کی جہاں دونوں ممالک نے تعلقات کو نئے اسٹریٹجک شراکت داری میں بدلنے پر اتفاق کیا تھا۔

ترک وزیرخارجہ میولت چاوش اوگلو نے پاکستانی پوزیشن جاننے کے بعد کہا کہ ترکی پلوامہ حملے پر پاکستان کے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حل طلب معاملات پر مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔

میولت چاوش اوگلو نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو مذاکرات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر رجب طیب اردوان ترکی میں ہونے والے مقامی انتخابات کے بعد پاکستان کا دورہ کریں گے۔

خیال رہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پلوامہ واقعے پر بھارتی الزامات اور دھمکیوں کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر انتونیو ندونگ مبا کو خط لکھ کر صورت حال سے آگاہ کیا اور اقوام متحدہ کو اس معاملے پر اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے سلامتی کونسل کے صدر کے نام خط میں کہا کہ درپیش صورت حال عالمی امن و امان کے لیے خطرے کا باعث ہے اور عالمی برادری بھارت کو جنگ کی آگ بڑھکانے سے باز رکھے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے پیدا کردہ ہیجان کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کے عوام پر تشدد کی نئی لہر مسلط کردی گئی ہے اور کشمیری عوام کو خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کا مطالبہ کرنے پر ظلم وتشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم کرنے کے لیے بھارت طاقت کا بے رحمانہ استعمال کررہا ہے اور بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے ان کے حق خودارادیت کو ‘دہشت گردی’ قراردینے کا پروپیگنڈہ کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے حقائق کو توڑ مروڑ کر دنیا کو گمراہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، کشمیری عوام کی قربانیاں اور جو مظالم انہوں نے اپنے حق کے لیے سہے ہیں وہ ان کی آزادی کی جدوجہد کا بذات خود ایک بڑا واضح ثبوت ہے۔

Google Analytics Alternative