Home » Author Archives: Admin (page 2)

Author Archives: Admin

سابق حکومت نے روپیہ مصنوعی طریقے سے مضبوط رکھنے کیلئے 25 ارب ڈالر خرچ کیے

اسلام آباد: مشیرخزانہ حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ گزشتہ حکومت نے روپیہ مصنوعی طریقے سے مضبوط رکھنے کیلئے 25 ارب ڈالرخرچ کیے۔ 

حکومتی معاشی ٹیم کے ہمراہ  پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ حکومت کے مؤثر اقدامات سے ملک کی معیشت کو سہارا ملا، ملکی تجارتی خسارے میں بتدریج کمی ہو رہی ہے، مجموعی قومی خسارے میں نمایاں کمی ہوئی ہے، گزشتہ حکومتوں کے لیے گئے قرضوں کے 2.1 ارب ڈالر واپس کیے، گزشتہ حکومت نے روپیہ مصنوعی طریقے سے مضبوط رکھنے کیلئے 25 ارب ڈالرخرچ کیے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ خوشحالی اس وقت ہوسکتی ہے جب ہم ڈالر کمائیں گے، قیمتیں بڑھنے کا سب سے زیادہ دکھ حکومت کو ہوتا ہے، قیمتوں میں اضافے کا عمران خان سے بڑا دشمن کوئی نہیں، 4 ماہ بعد پٹرول کی قیمت میں 1 روپیہ اضافہ کیا گیا، گزشتہ چارماہ میں اسٹیٹ بینک سےکوئی قرضہ نہیں لیا گیا، چار مہینے سے کوئی نوٹ نہیں چھاپا گیا جس کا اچھا اثر ہوا، ورلڈبینک کے صدر اور آئی ایم ایف بھی معاشی اقدامات کے معترف ہیں، آئی ایم ایف کی ٹیم نے پاکستان کے لیے دوسری قسط  کی سفارش بھی کی ہے۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ برآمدات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور 4 فیصد اضافہ ہوا، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے، اسٹاک مارکیٹ کئی ہفتوں سے اوپر جا رہی ہے،  اسٹیٹ بینک کےقرض دینے کی حد میں بھی 100 ارب روپے کا اضافہ کیا جارہا ہے، گردشی قرضوں کی مد میں 250 ارب روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاجروں کو مراعات دینے کے مثبت اثرات ظاہر ہو رہے ہیں، ڈومیسٹک ٹیکس نیٹ میں21 فیصد اضافہ ہوا ہے، ایف بی آر کی وصولیاں 16 فیصد بڑھی ہیں، برآمد کنندگان کو 200 ارب روپے اضافی دیں گے تاکہ سبسڈائز کیا جاسکے، بزنس مینوں کوفوری طورپر30 ارب روپے نقد دیں گے۔

حفیظ شیخ کے مطابق مشیرخزانہ ملک میں تعمیرات کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، گھروں کی تعمیر میں حصہ لینےوالے اداروں کیلئے ٹیکس چھوٹ دی جائےگی، سیمنٹ کی پیداوار16ملین ٹن سےزیادہ ہوئی ہے، نیاپاکستان ہاوَسنگ اسکیم کےلیے30ارب روپےاضافی مختص کررہےہیں ، اس اسکیم کےلیےحکومت اپنی طرف سے30ارب روپےکی سبسڈی دےگی۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ جہاں بھی کسی چیز کی قیمت بڑھے اس کی سپلائی میں اضافہ کیاجاتاہے، مارکیٹ میں ساڑھے 6لاکھ ٹن گندم ریلیز کی جس سےآٹےکی قیمتیں کم ہوئیں، کچھ چیزیں یہاں سے اسمگل ہوکر افغانستان اور وسط ایشیا چلی جاتی ہیں،  اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے کوششیں جاری ہیں ، وفاق اور چاروں صوبوں میں این ایف سی پر بات چیت چل رہی ہے۔

وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا تھا کہ زر مبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوگئے ہیں، جولائی سے 1.2 ارب ڈالر اضافہ ہوا ہے، برآمد کنندگان کو 200ارب روپے میں حکومت اور اسٹیٹ بینک بھی حصہ دیں گے، جب کہ  یوٹیلیٹی اسٹورز کیلیے 6 ارب روپے اضافی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 

حکمرانوں کا حساب لینے کا وقت آ گیا ہے، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جبر کی حاکمیت ہمیں تسلیم نہیں اور اب حکمرانوں کا حساب لینے کا وقت آ گیا ہے۔

اسلام آباد میں  دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتے تھے کہ نواز شریف تلاشی نہیں دے رہے اب جب الیکشن کمیشن نے ان کی اپنی پارٹی کی تلاشی لی تو عدالتوں میں چھپتے پھر رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان نے الیکشن کمیشن کو 61 بار سماعت روکنے کا کہا، جب کہ اسٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ تحریک انصاف نے  20 سے زائد اکاؤنٹس چھپائے ہیں، ہندوستان اور اسرائیل سے فنڈ لینے والوں کی بھی تلاشی لی جانی چاہیے، الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم خدا اور قوم کی گرفت میں آگئے ہیں، دوسروں کو چور کہتے کہتے خود چور نکل آئے، وزیراعظم کی بہنوں نے سلائی مشین سے دبئی میں 70 ارب ڈالر کی جائیداد بنائی ایسی سلائی مشین توسب کو چاہیے، حکمرانوں کا حساب لینے کا وقت آ گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم نے دھرنے کے دوران کہا تھا کہ 15 ہزار لوگ آکر کہیں تو میں استعفی دے دوں گا، اب تو ہزاروں افراد یہاں بیٹھے ہیں تو آپ کیوں ڈھیٹ بنے ہوئے ہیں؟ پاکستان میں جبر کی حاکمیت ہمیں تسلیم نہیں، نااہل حکومت کے خاتمے کے لیے سفر جاری ہے اور رہے گا۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ حکومت پرمزید دباؤ بڑھانے کے لیے مشاورت کر رہے ہیں، آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر آگے بڑھیں گے، اس بدبودار حکومت کا خاتمہ کرنا ہمارا اولین فریضہ ہے، نااہل اور ناکام حکومت سے چھٹکارا حاصل کریں گے اور اسی جذبے کے ساتھ  یہ تحریک آگے بڑھے گی۔

حکومت کی توجہ عام آدمی کو ہرممکن ریلیف فراہم کرنے پرمرکوز ہے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت کی توجہ عام آدمی کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی معاشی ٹیم کا اجلاس ہوا، جس میں وزیرِ اقتصادی امور حماد اظہر، وزیرِ منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، مشیر خزانہ حفیظ شیخ، مشیرتجارت عبدالرزاق داوٴد، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق، معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا، معاون خصوصی ندیم بابر، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر گیلانی، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی، چیئرمین نیا پاکستان ہاوٴسنگ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر ودیگر نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم کو  معاشی صورتحال اور ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری کے فروغ، بڑے صنعتی یونٹس کے لئے مراعات، اسپتالوں کے لئے آلات و مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد کے حکومتی فیصلے پر عمل درآمد پربریفنگ دی گئی۔ تیل، گیس اور معدنیات کے شعبے میں وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے، ملک میں چینی کی قیمتوں میں کمی لانے اور پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے ضمن میں کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے بھی بتایا گیا۔

معاون خصوصی براے پیٹرولیم ندیم بابر نے وزیرِ اعظم کو بڑے صنعتی یونٹس کو دی جانے والی مراعات کے حوالے سے مختلف اقدامات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور بتایا کہ 15دسمبر تک 12 نئے بلاکس کو ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کے لئے نیلامی کے لئے پیش کر دیا جائے گا، اس مقصد کے لئے مختلف ممالک میں روڈ شوز و دیگر تشہیری تقریبات منعقد کی گئی ہیں، ان بارہ بلاکس کی نیلامی سے خاطر خواہ سرمایہ کاری متوقع ہے۔

وزیراعظم کو چینی کی قیمتوں اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف حکومتی اقدامات کے حوالے سے بتایا گیا کہ چینی کی قیمتوں کو کنٹرول کے حوالے سے موثر انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس ضمن میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو بنیادی اشیا کی فراہمی کے لئے چھ ارب جاری کرنے کے فیصلے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی، اس وقت ملک میں چینی کے ذخائر اور دستیابی کی صورتحال اطمینان بخش ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت حکومت کی توجہ عام آدمی کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے، حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں معاشی صورتحال مستحکم ہوئی ہے اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہوا ہے، معاشی استحکام کو مزید مستحکم کرنا اور سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کے آسانیاں پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،حکومت تیل ،گیس اورمعدنیات کے شعبوں میں صوبوں کی معاونت کرےگی۔

جسٹس قاضی فائز کیس؛ جس طرز کا خرچ ہے وہ آمدن کے مطابق نہیں، سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس عمر عطا بندیال نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست کی سماعت میں کہا کہ جس طرز کا خرچ ہے وہ آمدن کے مطابق نہیں۔

جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل کورٹ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اوردیگر درخواستوں پر سماعت کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کے ٹیکس معاملات پر معاون وکیل بابر ستار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں قانونی مراحل کو اپنایا نہیں گیا، صرف ٹارگٹ کو مد نظر رکھ کر اقدامات کیے گئے، ٹیکس اتھارٹی نے اپنے اختیارات کادرست استعمال نہیں کیا، ٹیکس قوانین کے تحت آج تک کسی سول سرونٹ کیخلاف کارروائی نہیں ہوئی، سپریم جوڈیشل کونسل نے جائزہ لینا ہے کہ جج مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا کہ نہیں،کیا بلڈنگ کوڈ اور ٹریفک چالان بھی جج کے مس کنڈکٹ میں آئے گا؟۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان قانون دیگر انتظامی ٹربیونلز سے زیادہ جانتے ہیں، یہ نہ بھولیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل سینئر ترین ججز پر مشتمل ہوتی ہے، صرف ٹیکس کمشنر پر معاملہ چھوڑ دینا آرٹیکل 209 کی تضحیک ہوگی، ممکن ہے کونسل ٹیکس کمشنر کو مناسب فورم قرار دیتے ہوئے فیصلہ کرنے دے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بظاہر تینوں جائیدادیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی ہیں، آپ نے دستاویز سے بتاناہے کہ جسٹس عیسی کی اہلیہ زیر کفالت ہیں یا نہیں، جس طرز کا خرچ ہے وہ آ مدن کے مطابق نہیں، کیس میں جج کے مس کنڈکٹ کا الزام ہے۔

بابر ستار نے کہا کہ پانچ اگست 2009 کو جسٹس قاضی فائز عیسی چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ بنے، سپریم کورٹ میں آنا نئی تعیناتی ہے۔

جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ آنے پر ہائی کورٹ کا کنڈکٹ ختم ہو جاتا ہے۔ بابر ستار نے جواب دیا کہ جی بالکل یہ میری لیگل معروضات کا حصہ ہے کہ ہائی کورٹ کا کنڈکٹ سپریم کورٹ آنے پر ختم ہو جاتا ہے، ساڑھے سات ہزار پائونڈبیرون ملک جائیدادوں کی کل مالیت ہے جو اسلام آباد کی جائیدادوں کی مالیت سے زیادہ نہیں۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ الزام جائیدادوں کی مالیت کا نہیں سورس آف اِنکم کا ہے۔ بابر ستار نے کہا کہ صدرمملکت کے سامنے منی لانڈرنگ کا معاملہ نہیں آیا، صدر مملکت نے اگر آزاد ذہن استعمال کیا ہوتا تو ایسٹ ریکوری یونٹ اور ایف آئی اے کی رپورٹ پر معاملہ جوڈیشل کونسل کے سامنے نہیں آتا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ صرف منیر اے ملک کی اِنکم ٹیکس پر معاونت کرنے آئے تھے مہربانی کر کے اسی تک رہیں۔ بابر ستار نے کہا کہ ریفرنس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اثاثہ ظاہر نہ کرنے کا الزام لگایا گیا، ہمارا موقف ہے کہ نہ اثاثے چھپائے گئے اور نہ غلط بتائے گئے۔

بابر ستار نے کہا کہ نیویارک میں میری تنخواہ اچھی تھی تو فلیٹ خرید لیا، اگر میرے والد جج ہوتے تو شاید انہیں بھی شوکاز نوٹس مل جاتا۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی۔

عظیم قوم بننے کیلئے ریاست مدینہ کے اصول اپنانے ہوں گے

ملک بھر میں عیدمیلادالنبیﷺ مذہبی عقیدت واحترام کے ساتھ منا ئی گئی،محافل نعت اورکانفرنسز منعقد ہوئیں ،مساجد میں اسلام اورمذہبی تعلیمات کے فروغ ، اتحاد،یکجہتی، ترقی اورامت مسلمہ کی فلاح وبہبود کےلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں ۔ شہروں میں متعددجلوس نکالے گئے ۔ گلیوں ،سڑکوں ، بازاروں ، شاپنگ سنٹرز اور سرکاری ونجی عمارتوں کو برقی قمقموں ، رنگارنگ جھنڈیوں اوربینرزسے سجایاگیا ۔ اسلام آباد میں انٹرنیشنل رحمت اللعالمین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ میرٹ ختم ہونے پر کوئی معاشرہ اوپر نہیں جاسکتا، ہمارا کام جدوجہد کرنا ہے عزت اورکامیابی دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، میرا ایمان ہے پاکستان اٹھے گا ۔ ایمان کا سفر بہت بڑا ہے، یہ ایک سمندر کی طرح ہے، میں نے مدینہ کی ریاست کی باتیں الیکشن کے بعد کیں کیونکہ میں نہیں چاہتاتھا کہ لوگ بولیں کہ یہ ووٹ کےلئے بات کر رہا ہے ۔ پہلے میرے رول ماڈل کوئی اور لوگ تھے بعد میں آپ ﷺ میرے رول ماڈل قرار پائے، میرا ایمان ہے کوئی عظیم انسان بننا چاہتا ہے تو آپ ﷺ کو رول ماڈل بنائے ۔ جوبھی آپ ﷺ کے قریب لوگ تھے وہ سب عظیم انسان بن گئے، یہ معجزہ ہے کہ آپ ﷺ کے وصال کے 6سال بعد دونوں سپر پاورز نے اسلام کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ۔ ریاست مدینہ کی بات کرنامیری ذاتی زندگی کا تجربہ ہے،ریاست مدینہ کی بنیاد پر صدیوں تک مسلمان دنیا پر چھائے رہے، اگر قوم کو عظیم بننا ہے تو ریاست مدینہ کے اصول پر چلنا ہے ۔ پیسہ بنانا مشن نہیں ، پیسے سے انسانوں کی زندگی بہتر بنانا مشن ہے، آپﷺ آخر وقت تک مسجد نبوی میں اپنے حجرے میں رہے کوئی محل نہیں بنائے ۔ سچائی ہی مسلمان کی سب سے بڑی طاقت ہے، لوگ مجھے کہتے ہیں جنہوں نے پیسہ لوٹا انہیں معاف کردو، پیسہ میرا نہیں قوم کا ہے، ملک کو کنگال کرنے والوں کومعاف کرنے کا مجھے اختیار نہیں ہے ۔ رحم کمزور اور غریب طبقے کے لیے ہے، بڑے ڈاکوءوں پر رحم نہیں کیا جاتا، نبی کریم ﷺ نے بدعنوان عناصر کو عبرتناک سزائیں دیں ۔ این آر او دے کر ہم نے معاشرے کا بیڑا غرق کر دیا ہے، لوٹ مار کرنے والوں پر رحم اور این آر اوز سے معاشرے کا بیڑا غرق ہوتا ہے ۔ لوگ خیرات سب سے زیادہ دیتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے، لوگ اگر ٹیکس نہیں دیں گے تو ملک کیسے چلے گا ۔ اسلام میں عالم کا بڑا درجہ ہے علماء فلاحی معاشرے کے قیام کے لئے رہنمائی کریں ۔ نوجوان حیات طیبہ ﷺ کو مشعل راہ بنائیں ،ہم اپنے نظام تعلیم میں آپ ﷺکی جدو جہد کا بتائیں گے، جو آپﷺ کے راستے پر چلتا ہے وہ بڑا انسان بن جاتا ہے ۔ رسول پاک ﷺکی تعلیمات کوعالمگیر حیثیت حاصل ہے، جدیدٹیکنالوجی کے دور میں بچوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانا ضروری ہے،ہماری یونیورسٹیوں میں ریاست مدینہ پر تحقیق ہونی چاہیے ۔ رسول پاک ﷺ نے وراثت میں جائیدادیں نہیں چھوڑیں ، بلکہ مسلمانوں کےلئے اسوہ کامل چھوڑا ہے، سچائی ہی مسلمان کی سب سے بڑی طاقت ہے،سچ پر چلیں گے تو اللہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا، سیاست، بیوروکریسی سمیت ہر جگہ ہمارے سامنے مافیا بیٹھا ہے ۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وزیراعظم نے سیاست اور بیورو کریسی کے حوالے سے جن تحفظات کا اظہار کیا ہے وہ حقیقت پر مبنی ہیں ان کو دور کرنا ہوگا اور جب تک بیورو کریسی تعاون نہیں کرتی اس وقت تک قانونی اور آئینی درپیش مسائل کا حل ہونا بھی مشکل ہے ۔ لہذا ہم سب کو چاہیے کہ اس وطن کی خاطر اپنے فراءض سرانجام دیں ، ذاتی پسند و ناپسند کو بالائے طاق رکھ کر ملک کی ترقی کیلئے ڈیوٹی سرانجام دینا ہوگی ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ جب وزیراعظم نے کہاکہ وہ پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو اس کے اصول بھی اپنائے جائیں اور ریاست کا حکمران جو کہتا ہے اسلام کے اعتبار سے اس پر عمل پیرا ہونا بھی لازمی ہے ۔

بابری مسجد کا فیصلہ،

انصاف کا جنازہ

بابری مسجد کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا وہ انصاف کے قتل کے مترادف ہے ۔ ایک جانب پاکستان کرتارپور راہداری کھول رہا ہے جبکہ وادی میں بھارت نے لگاتار کرفیو نافذ کررکھا ہے حتیٰ کہ حضرت درگاہ بل ;231; کے راستے بھی بند کررکھے ہیں ، مسجدوں کو تالے ڈالے ہوئے ہیں ، جمعۃ المبارک کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ، ظلم یہ کہ مودی نے دہشت گردی کی انتہا کرتے ہوئے اور بنیادی حقوق کو سلب کرتے ہوئے وادی کے مسلمانوں عید میلادالنبیﷺ منانے کی بھی اجازت نہیں دی اور نہ ہی اس حوالے سے جلوس نکالنے دیا گیا، جگہ جگہ بھارتی دہشت گرد فوج پہرے لگا کر بیٹھی ہے اور آر ایس ایس کے دہشت گرد غنڈے غنڈہ گردی کرتے پھررہے تھے ۔ پاکستان نے کہاکہ مودی بھی ہ میں شکریہ کا موقع دے اور وادی سے کرفیو اٹھا دے ۔ بین الاقوامی برادری جان لے کہ پاکستان میں کس طرح مذہبی آزادی حاصل ہے، اپنے ملک کے اندر تو تمام فرضے آزاد ہیں ، اب سکھوں کیلئے کرتارپور میں بابا گورونانک کی سمادی بھی کھول دی ہے جس سے دنیا بھر کے 14 کروڑ سکھ پاکستان کے مشکور ہیں لیکن حیف ہے مودی پر جس نے بھارت میں اقلیتوں کو عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے ۔ اسی تنگ نظری کے تحت بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی زمین ہندوں کے حوالے کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو مندر تعمیر کرنے کا حکم دیدیا ، عدالت نے فیصلے میں کہا دونوں پارٹیوں کو ریلیف ملے گا، متنازع جگہ پر رام مندر تعمیر کیا جائے گا، مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ دی جائے،بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رانجن گنگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنایا ، پانچ رکنی بنچ میں مسلمان جج ایس عبدالنذیر بھی شامل ہیں ۔ بھارتی سپریم کورٹ کے یکطرفہ فیصلے کے بعدبھارت کامکروہ چہرہ دنیاکے سامنے عیاں ہوچکاہے ۔ بھارت خود کو ایک سیکولر ملک کہتا ہے ،لیکن کیا وہ حقیقی طور پر ایک سیکولر ملک ہے، کیا وہاں کروڑوں مسلمان اور دیگر اقلیتیں محفوظ ہیں ، پاکستان نے تو سکھ مذہب کے ماننے والوں کےلئے کرتار پور راہداری بنادی اوربھارت نے کیا کیا;238; ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل میں کہا کہ فیصلے سے ایک بار پھر انصاف کا تقاضا پورا نہیں ہوا ۔ بھارتی سپریم کورٹ بھارت میں رہنے والی اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ۔ فیصلے سے بھارت کے نام نہاد سیکولر ازم کا چہرہ بے نقاب ہوا ۔ فیصلے سے ظاہر ہوا ہے بھارت میں اقلیتیں محفوظ نہیں ۔ بھارت میں اقلیتوں کو اپنے عقائد اور عبادت گاہوں پر تشویش ہو گئی ہے ۔ بھارت میں ہندوتوا نظریہ دیگر اداروں کو متاثر کر رہا ہے اور ہندو انتہا پسندانہ سوچ خطے میں امن کیلئے خطرہ ہے ۔

مہنگائی میں ہوشرباء

اضافہ،توجہ طلب مسئلہ

اس وقت ملک بھر میں مہنگائی عروج پر ہے ،اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ، انتظامیہ کی پرائس لسٹ پرکوئی کنٹرول نہیں ہے ، بازار میں اشیائے خوردنوش خریدنے جائیں تو روزانہ نئی قیمت ہوتی ہے ۔ آٹا، دال، گھی ،سبزی سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان تک پہنچ گئی ہیں ۔ دوسری جانب ملک بھر میں ٹماٹروں کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے ،مارکیٹ میں ٹماٹرکی فی کلوقیمت تین سو روپے تک پہنچ گئی ہے جو غریب آدمی تودورکی بات ، عام آدمی بھی نہیں خرید سکتا ۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں سرکاری نرخ کا اطلاق کرانے میں بری طرح ناکام ہیں اور سبزی منڈی سمیت شہر بھر میں کہیں بھی سبزیوں کی سرکاری قیمتوں پر عملدرآمد نہیں ہورہا ۔ کراچی میں ٹماٹر کی قیمت ٹرپل سنچری کر چکی ہے جو کہ شہر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے ، شہری اس بڑھتے ہوئے اضافے سے بے حد پریشان دکھائی دے رہے ہیں ۔ ایسوسی ایشن کے مطابق موسم سرد ہے اور بارشوں نے فصل خراب کردی تھی جو دوبارہ لگائی گئی ہے ۔ کراچی میں ایران کا ٹماٹر آنا بند ہوگیا ہے، بلوچستان سے بھی لال ٹماٹر کی سپلائی کم ہوگئی ہے جبکہ سندھ میں ٹماٹر کی فصل تیار ہورہی ہے، 15 روز تک صورتحال واضح ہوگی ۔ حکومت کوچاہیے کہ مہنگائی کوکنٹرول کرے ۔

جوانوں کو پیروں کا استاد کر

میں نوجوانوں کے دلوں میں دیکھ رہا ہوں کہ افکار تازہ کی کوئی کرن، چمک، دمک اور نمود دکھائی نہیں دیتی اور خیالات میں کہیں بھی بلندی و سربلندی نہیں ۔ ان کی زندگی مردہ دلی اور جمود سے عبارت ہو کر رہ گئی ہے یہ تعطل کی برف کب پگھلے گی ۔ اقبال شناسی تو دور کی بات ہے ہم خود شناسی کے قریب نہیں پہنچے اور غیروں کی نقالی اور مغر ب کی خیرہ نگاہی نے گمراہی کی شاہراہ پر ڈال دیا ہے ۔ اِن گھٹا ٹوپ ظلمتوں میں امیدو یقین کا آفتاب شاعر مشرق علامہ اقبال کی صورت میں جنوبی ایشیا کے آسمان پر طلوع ہوا اور اس نے پوری دنیا کے اندھیروں کو اپنے افکار و کردار سے منور کر دیا ۔ یومِ اقبال کے حوالے سے پیامِ اقبال پر پسرزادہ اقبال فضیلت مآب سینیٹر ولید اقبال نے اپنے صدارتی روشن کلمات میں اقبال شناسی کی لذت سے آشنا کیا ۔ سینیٹر ولید اقبال سے پہلے ہمارے ملک کے نامور سکالر پروفیسر ایم اے رفرف کا ساڑھے چار منٹ کا خطاب صدیوں کے واقعات پر محیط تھا ۔ پروفیسر ایم اے رفرف اس گئے گزرے دور میں اچھے وقتوں کی حسین و جمیل نشانی ہیں ۔ آپ سکوت و شگفتگی کا حسین امتزاج ہیں ۔ ہم نے انہیں اکثر کوہستانی وقار کی طرح خاموش دیکھا ہے لیکن جب وہ بولتے ہیں تو پھر شاخِ گفتار سے رنگا رنگ پھول توڑتے چلے جاتے ہیں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی مہ جبیں خرامِ ناز سے گل کترتی جارہی ہو اس لئے

فقط اسی شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں

میں تیرا حسن تیرے حسن بیاں تک دیکھوں

آپ نے فکر اقبال کو قرآن حکیم کی روشنی میں بیان کیا اور کہا کہ علامہ اقبال نے جس طرح قرآن حکیم کو غور و خوض سے پڑھا ہے اس نے مغر ب کی دانش پر ہلہ بول دیا ہے ۔ ایران، ترکی اور جرمنی میں اقبال کے افکار و نظریات نے انہیں زندہ اقوام عالم کی صفوں میں لا کھڑا کر دیا ۔ ترکی میں جو پذیرائی ڈاکٹر محمد اقبال شاعر مشرق کی ہوئی وہ مثالی ہے ۔ مولانا روم کے پہلو میں علامتی قبر بنا دی گئی ہے ۔ ڈاکٹر ایم اے رفرف نے اقبال شناسی کے حوالے سے کہا کہ اقبال خو د بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے ۔ اقبال کی نگاہ پوری مسلم امہ کے انحطاط اور نئی نسل کی بے ہمتی اور اُن کی اخلاقی پستی سے آگاہ ہے اور وہ اِن عوارض اور اخلاقی پستی کا ذمہ دار موجودہ نظام تعلیم کو قرار دیتے ہیں کہ آج کل کے نوجوانوں کے دل سوز دروں سے خالی اور اُن کی نظریں غیر عفیف ہیں ۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی زبان بہت تیز ہے لیکن ان کی آنکھوں میں اشک ندامت اور دل میں خوف و خشیت کی جھلک تک نہیں ہے ۔

جو آنکھ کہ ہے سرمہَ افرنگ سے روشن

پرکار و سخن ساز ہے نم ناک نہیں ہے

سینیٹر پسر زادہ اقبال ولید اقبال نے فلسفہَ خودی اور شاہینی اوصاف حمیدہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ درویش پرندہ شاہین کا ڈاکٹر اقبال نے کیوں انتخاب کیا ۔ اس کی خوبیوں میں اس کی بلند پروازی، تیز نگاہی ، بے نیازی، خود داری اور بے پناہی ہے ۔ ایسا بے غرض پرندہ شاہین کے سوا اور کون ہوسکتا ہے جو بے غرض ہے وہ بے پناہ ہے ۔ پہاڑوں کی چٹانوں میں اسے خلوت پسندی مرغوب ہے کیونکہ تخلیقی کارنامے تنہائی کا تقاضا کرتے ہیں اور بلند مقام پر خلوت میں جلوت کا اورہی مزہ ہوتا ہے ۔ اقبال جوانوں کو پیروں کا استاد دیکھنا چاہتے تھے اور نئی نسل کے نوجوانوں سے کیا توقعات اور اُن کے متعلق کیسے بلند خیالات رکھتے ہیں اس کا اندازہ اُن کے اشعار سے ہو سکتا ہے :

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

پسر زادہ اقبال ولید اقبال تو اقبال کے کلام کے حافظ معلوم ہوتے تھے آپ نے اقبال شناسی اور اقبا ل سے آگاہی سے ہم سب کو روشناس کراتے ہوئے علامہ اقبال کے اشعار اور افکار کی روشنی سے دلوں کو منور کر دیا:

جوانوں کو مری آہ سحر دے

پھر اِن شاہین بچوں کو بال و پر دے

خدایا آرزو میری یہی ہے

مرا نور بصیرت عام کر دے

علامہ اقبال کی امیدوں اور آرزوں کی جھلک ولید اقبال نے ہ میں دکھائی اور عشق کے درد مند کا پیغام ہمارے دلوں میں اترتا چلا گیا

جذب حرم سے ہے فروغ انجمن حجاز کا

ا س کا مقام اور ہے اس کا نظام اور ہے

وہ اپنی ایک نظم میں ایک نوجوان کے نام میں بڑے بلیغ اشاروں میں داستانوں کی داستانیں بیان کر جاتے ہیں ۔ ولید اقبال نے اِن اشعار پر بڑا زور دیا ہے ۔

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہ ہو نومید، نو میدی زوال علم و عرفان ہے

امید مرد مومن ہے، خدا کے رازدانوں میں

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

جدید تعلیم کے مجرمانہ کردار کا اقبال نے بے باکی سے پردہ چاک کیا اور اس کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھا ہے حد سے زائد فکر معاش، ناروا مصلحت بینی اور عافیت گزینی او رمصنوعی تہذیب ، نقلی زندگی اس تعلیم کی نمایاں پیدا وار ہیں ۔ اقبال نے اس کی نشاندہی کی ہے :

عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے

قبض کی روح تری دے کے تجھ فکر معاش

اس جنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کیا

جو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش

فیضِ فطرت نے تجھے دیدہ شاہین بخشا

جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہِ خفاش

مدرسے نے تری آنکھوں سے چھپایا جن کو

خلوتِ کوہ و بیاباں میں وہ اسرار ہیں فاش

ضرب کلیم میں اقبال بڑی درد مندی اور جاں سوزی کے ساتھ پر خلوص انداز میں نئی نسل کے مربی سے درخواست کرتے ہیں وہ جب ایک شفیق استاذ اور مہربان و غمخوار مربی کی زبان سے یہ کہتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سارے جہاں کا درد اقبال کے جگر میں ہے اور پوری ملت کا غم اقبال کے وجود میں سمٹ آیا ہے

اے پیر حرم رسم و رہِ خانقہی چھوڑ

مقصود سمجھ میری نوائے سحری کا

اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت

دے ان کو سبق خود شکنی خود نگری کا

تو ان کو سکھا خارہ شگافی کے طریقے

مغرب نے سکھایا انہیں فن شیشہ گری کا

دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی

دارو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا

کہہ جاتا ہوں میں زور جنوں میں ترے اسرار

مجھ کو بھی صلہ دے مری آشفتہ سری کا

بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر نسیم لیہ کی صاحبزادی ڈاکٹر آئینہ مثال جو اپنی مثال آپ تھیں جس کی افسانہ نگاری پر پاک و ہند کے ادیبوں اور شاعروں نے توصیفی کلمات سے نوازا ہے یہ اعزاز اور شرف بھی آئینہ مثال کے قرطاس اعزاز پر ثبت ہے کہ وہ ایک قومی اخبارکی مدیرہ بھی ہیں جن کو نقیبہَ محفل کے فراءض کی ادائیگی کے لیے بلایا گیا تھا وہ اقبال شناسی کی منتہا کو پہنچی ہوئی فکر کی روشنی میں ابھی اپنی بات مکمل بھی نہ کرسکی تھی اور اُس کی صلاحیتوں سے بھی ہم محروم رہے وہ صرف علامہ اقبال کا ایک شعر جس میں پورا فلسفہ حیات پایا جاتا ہے کیونکہ اقبال کی نگاہ میں اس ذہنی انحطاط کی ایک وجہ حد سے بڑھی ہوئی مادہ پرستی اور اسباب طلبی اور عہدوں ، ملازمتوں اور اونچی کرسیوں کو تعلیم کا مقصد سمجھنا بھی ہے، وہ کہتے ہیں کہ بے مقصد افراد کے لئے علم دوائے نافع نہیں سمّ قاتل و قاطع ہے اور ایسے رزق سے موت بہتر ہے ۔ دختر نسیم لیہ ڈاکٹر آئینہ مثال کا یہی پیغام حاصل تقریب تھا :

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

مہمانانِ گرامی ملک شہباز اعوان، چوہدری ثناء اللہ جٹ، پروفیسر محترمہ شیریں لغاری امبر کراچی، چوہدری منیب الحق ;778065; اوکاڑہ ۔ اظہار خیال میں ڈاکٹر جواز جعفری صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر اور ادیب ، محترمہ صفیہ اسحاق سیکرٹری نظریہ پاکستان ٹرسٹ خواتین ونگ، سید سہیل بخاری چیئرمین ایشین کلچر ایسوسی ایشن آف پاکستان، پروفیسر ایم اے رفرف چیئرمین الفلاح قرآن و سنت اکیڈمی، شاعر و ادیب پروفیسرآغا علی مزمل، روزنامہ جنگ کے معروف کالم نگار ہمارے دلدار سراپا انکسار منتہائے خیال تک پرواز کر جانے والے شاعر ندیم اسلم کی موجودگی بھی ماحول کو آسودگی اور فضا کو پاکیزگی فراہم کر رہی تھی ۔ ندیم اسلم جیسے جوانوں کے بارے میں ہی تو اقبال نے کہا تھا کہ

جوانوں کو پیروں کا استاد کر

اور ندیم اسلم اس کی زندہ مثال ہیں جن کا آئینہ ادراک رنگ و نور سے منور ہے کیونکہ وہ ایک آزاد منش جوان ہے ۔ اس لئے اقبال کا شاہین ہے :

آزاد کا اندیشہ حقیقت سے منور

محکوم کا اندیشہ گرفتار خرافات

کشف درویش فاءونڈیشن کے زیر اہتمام پیامِ اقبال کی اس تقریب میں اُن شخصیات کی خدمات کا اعتراف علامہ اقبال گولڈ میڈل ایوارڈ سے نوازا گیا جنہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ تعلیم و تربیت کے میدان میں شاندار، کامیاب اور موَثر خدمات سر انجام دینے والے ہستی جن کو فاءونڈیشن کی انتظامیہ نے شیخوپورہ سے دو دفعہ فون کرکے اس تقریب میں عزت افزائی اور خدمات کے اعتراف میں پذیرائی کے لیے بلایا ہوا تھا انہیں مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا اور جس کا اعتراف بھی نقیب محفل نے کیا تھا ۔ میں صرف اُن کی خاطر اس تقریب میں پہنچا تھا اور میں اسی لئے نظر انداز کئے جانے والی شخصیت کی پذیرائی کےلئے اپنے کالم میں اُن کا نام سرفہرست لکھ رہا ہوں ۔ میری مرادممتاز ماہر تعلیم، کالم نگار، ادیب اور سماجی سائنسدان جناب محمد شہباز خان سے ہے ۔ محترمہ صفیہ اسحاق کو اُن کی فرزند اقبال پر لکھی جانے والی کتاب کے اعتراف میں علامہ اقبال گولڈ میڈل سے نوازا گیا ۔ پروفیسر محترمہ شیریں لغاری امبر کراچی سے تشریف لائی تھیں ۔ اعظم منیر چیئرمین کشف درویش فاءونڈیشن پاکستان کو سٹیج پر مہمانوں کے ساتھ بیٹھنا چاہئے تھا اور ڈاکٹر آئینہ مثال کو نقابت کی باگ ڈور پورے اعتماد اور حوصلے سے دے دینی چاہئے تھی آپ کے والد گرامی ہمارے ملک کی بہت بڑی علمی، ادبی اور سماجی شخصیت تھے آپ کا نام اتنا معروف تھا کہ اگرامریکہ سے کوئی صاحب آپ کو خط لکھتے اوراُن کا مکمل پتہ صرف نسیم لیہ پاکستان تو مل جاتاتھا ۔ اس سے مہمانوں کی عزت افزائی اور حفظ مراتب کا بھی خیال رکھا جاتا کیونکہ شیخ سعدی نے کہا ہے کہ

حفظ مراتب نہ کنی زندیقی

اس لئے آئندہ اپنی ان کمزوریوں کو دور فرمائیں ۔

بابری مسجد فیصلہ اور کرتار پور رہداری افتتاح

۹نومبر کے دن دو واقعے رونما ہوئے ۔ ایک بابری مسجد کے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ اور دوسرا پاکستان میں کرتار پور رہداری کا افتتاح ۔ بابری مسجد جسے سلطنت مغلیہ کے بانی ظہیرالدین بابرنے ہندوستان ایودھیا میں تقریباًچھ سو برس قبل تعمیر کیا تھا جو ۶ دسمبر ۲۹۹۱ء تک قائم و داہم تھی ۔ جسے دہشت گردآر ایس ایس کے غنڈوں نے کانگریس کے سیکولر دور حکومت کے دوران بےدردی سے شہیدکیا تھا ۔ بابری مسجد کا مقدمہ بھارت کی سپریم کورٹ میں دائر تھا ۔ ہندوءوں کا دعویٰ تھا کہ بابر نے رام مندر کو مسمار کرکے یہ بابری مسجد بنائی تھی ۔ ہندواپنے دعویٰ کو سپریم کورٹ میں ثابت نہیں کر سکے ۔ صرف اتنا ہوا کہ زمین کی کھدائی کی گئی اور کہیں سے کوئی مورتی برآمد کر کے کہا کہ یہ ثبوت ہے ۔ اس کے مقابل مسلمانوں کے وکیلوں نے سپریم کورٹ عدالت میں بیان دیا کہ دنیا میں کہیں بھی کھدائی کی جائے اور کچھ نہ کچھ بر آمد ہو سکتا ہے جس کی بنیاد پر انصاف نہیں ہو سکتا ۔ سب سے بڑا ثبوت تو یہ ہے کہ بابری مسجد ایودھیا میں زمین پرچھ سو سالوں سے موجود ہے ۔ اس میں مسلمان نماز پڑھتے رہے ہیں ۔ یہ ثبوت بھاری کہ زمین کھود کر مورتی بر آمد ہونے کا ثبوت ۔ سپریم کورٹ نے بھی مانا کہ واقعی مسجد موجود تھی جسے مسمار کیا گیا ۔ یہ حقیقت تسلیم کرنے کے باوجود ہندو عقائد کی بنیاد پر فیصلہ سنایا گیا ۔ اس لیے کہ ججوں کے بھی یہی عقائد ہیں ۔ سپریم کورٹ نے ۹نومبر کو متعصبانہ فیصلہ سنا کرمسلمانوں کی ملکیت بابری مسجد کی ساری زمین کوہندوءوں کے حوالے کر دی ۔ ہندوءوں کو اجازت دیدی کہ وہاں رام مندر تعمیر کر لیں ۔ مسلمانوں نے اپنے مطالبات کم از کم کرتے ہوئے بابری مسجد کی زمین میں سے جو ان ہی کی زمین ہے، صرف ۵ ایکڑ مانگی تھی تاکہ شہید کی مسجد کی جگہ پھر سے مسجد تعمیر کر لیں ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ بھارت میں ایک ہی جگہ ایک طرف مندر اور دوسری طرف مسجدہوتی اور کم از کم نام نہاد بھارتی سیکولر جمہورت کاچہرا روشن ہوتا ۔ مگر ہٹلر جیسی قوم کی برتی والے بھارت سے ایسی امید کہاں ہو سکتی ہے ۔ بھارت کے مسلمانوں نے اپنے تحفظات کے ساتھ سپریم کورٹ کے فیصلے کو مانا ۔ مسلم وقف بورڈ نے اس فیصلہ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ۔ سیداسدلدین اویسی ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا خوب کہا ۔ گوکہ بھارت کے حکمرانوں نے مسلمانوں پر ترقی کے راستے بند کرکے بھارت کی غریب ترین اقلیت بنا دیا ہے ۔ مگر پھر بھی مسلمان گئے گزرے نہیں کہ آپ سے ایودھیا میں کسی دوسری جگہ ۵ایکڑ زمین کی بھیک مانگیں ۔ مسلمان خود زمین خرید کر مسجد بنا سکتے ہیں ۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ بھارت کی سپریم کورٹ نے حقائق کے بر عکس عقائد کی بنیاد پر فیصلہ دیا ہے ۔ مسلمانوں اور ان کے مسلم بورڈ نے اس فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا ۔ اس کیخلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا کہا ۔ اسدالدین اویسی ایڈوکیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ سپریم ضرور ہے مگر غلطی سے مبرا نہیں ۔ ہم اپنی نسلوں کو یہ ظلم کی داستان سناتے رہیں گے کہ بھارت میں ہمارے ساتھ یہ ظلم ہوا تھا ۔ بابری مسجد تو ایک طرف وہاں توبھارت کے متعصب ہندوءوں بابری مسجد کے علاوہ بھارت کی کئی مساجد پر دعویٰ کرتے ہیں کہ مندر کو توڑ کر بنائی گئیں ہیں ۔ بھارت میں مہم چلائی ہوئی ہے کہ مسلمان حکمران ڈاکو تھے ۔ اگر مسلمان حکمران ڈاکو تھے تو پھر آریہ جو وسط ایشیا سے آئے تھے وہ بھی تو ڈاکو تھے جو اب بھارت کے حکمران ہیں ۔ ہٹلر کی پالیسی پر چلنے والے ہندوءوں کے مطابق تو پھر ساری دنیا کے حکمران ڈاکو تھے جو دوسرے ملکوں پر قبضے کرتے رہے ۔ سب سے بڑا ڈاکو دہشت گرد نریندر مودی ہے ۔ کیونکہ اس نے مسلم ریاست کشمیر پر ڈاکہ ڈال کر اسے بھارت میں ضم کر لیا ۔ مسلمانوں میں سے طارق فتح نام کا ایک منافق ،متعصب ہندوءوں کو مل گیا ہے ۔ جو زی ٹی وی پر اس کا پرچار کرتا رہتا ہے ۔ بھارت کے علماء نے اسے اسلام سے خارج کر دیا ہے ۔ آ رایس ایس کے لیڈر نے بیان دیا ہے کہ بھارت کے مسلمان اور عیسائی کو۰۲۰۲ء تک ہند بنا لیا جائے گایا پھربھارت چھوڑ جائیں گے ۔ بھا رت میں ہندوءوں کے ہجوم کسی بے گناہ مسلمان کو پکڑ کر’’ جے رام‘‘ کے نعرے لگواتے ہیں ورنہ شہید کر دیتے ہیں ۔ گائے کا گوشت کھانے کے شک کی بنیاد پر دہلی کے قریب ایک مسلمان کو شہید کر دیا گیا ۔ جب تحقیق ہوئی تو پتہ چلا اس کے فریج میں بکرے کا گوشت رکھا تھا نہ کہ گائے کا ۔ بھارت میں مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کیا جا رہا ہے ۔ یہ وہی پالیسی ہے جس کے تحت آریوں نے ہندوستان فتح کرنے کے بعد ہندوستان کی قدیم قوم دراوڑوں پر ظلم اور تشدد کر کر کے انہیں شودر اور نیچ قو میں بنا دیا گیا ۔ یہ پالیسی اب مسلمانوں پر آزمائی جا رہی ہے ۔ اب یہ بھارت کے مسلمانوں پر ہے کہ وہ سیکولر کے جادو میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا اسلام کے جہاد کے اصول پر عمل کر کے بھارت میں عزت سے رہنا چاہتے ہیں یا شودر بن کر ۔ دوسری طرف اسی دن ۹ نومبر کو مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عمران خان نے گوردوارا کرتار پور کا افتتاح کیا ۔ مودی نے مبارکباد تودی مگر اے کاش اس کا بھی رویہ مسلمان اقلیتوں سے بہتر ہوتا ۔ بھارت سمیت ۲۱ ;241;ہزار کے قریب سکھ دنیا ۰۷ ملکوں سے کرتار پور گوردوارا کی یاترا کےلیء تشریف لائے ۔ گوردوارا کرتار پور سکھ مذہب کے بانی باباگرونانک کی جنم بھونی ہے ۔ گرونانک کی پیدائش ننکانا شریف میں ہوئی ۔ بابا گرو ناناک نے کرتار پور میں ۸۱سال گزارنے کے بعد وفات پائی تھی ۔ جہاں پرسکھ یاتریوں نے پاکستان میں آ کر سکھ چین محسوس کیا ۔ گیار ماہ کی قلیل مدت میں کرتار پو رراہداری مکمل کی ۔ کرتار پور کمپلیکس کو مکمل کیا ۔ ۲۷ سال سے سکھ بھارت کی سائیڈ سے دوربین سے کرتارپور کا نظارہ کیا کرتے تھے ۔ اب وہ پیدل چل کر یاسواری سے چار کلومیٹر کا سفر طے کرکے کرتارپور پہنچ سکتے ہیں ۔ کرتار پور گوردوارا پہلے چارایکڑ زمین پر تھا ۔ حکومت پاکستان نے بتالیس ایکڑ زمین اپنی طرف دے کر دنیا کا سب سے بڑا گرودوارا بنا دیا ۔ یہ ہے مسلمانوں کا اپنی اقلیت کے ساتھ رویہ ۔ پاکستان کے سارے گوردواروں کی مکمل دیکھ بھال کی جاتی ہے ۔ عمران خان نے پاکستان میں چار سو مندروں کی لسٹ بھی تیار کی ہے جن کی ضروری مرمت کی جائے گی تاکہ ہندو اقلیت بھی پاکستان میں اپنی مذہبی روسم آرام، سکھ چین سے ادا کر سکیں ۔ مودی صاحب آپ کا دماغ کب وسعت پذیر ہو گا ۔ حکومت پاکستان نے ۹;241; نومبر کے افتتاع کے دن اور باباگرونانک کی پائنچ سو پچاسویں سالگرہ کے موقع پر بیس ڈالر کے سروس چارجز بھی معاف کر دیے ہیں ۔ پاکستان نے پہلے بھی ۳۰۰۲ء میں کرتارپورگوردوارے کی مرمت کروائی تھی ۔ بھارت سے عمران خان کے دوست نجوت سنگ سدھو کریکٹر اور بھارتی پنجاب حکومت کے وزیر، سابق وزیر اعظم بھارت ڈاکٹرمن مو ہن سنگھ تشریف لائے ۔ مودی صاحب کشمیر میں تین ماہ سے زیادہ جاری کرفیو اور سری نگر کی جامع مسجد کو مسلمانوں کےلئے کھول کر رواداری کاثبوت پیش کرو ۔ عمران خان نے کہا کہ جب میں وزیر اعظم بنا تو بھارت کو امن و آشتی کا پیغام پہنچایا مگر مودی نے پاک بھارت جنگ کا سماں پیدا کیا ہوا ہے ۔ لڑائی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ آئیے ملکر خطے سے غربت ختم کرنے پر اتفاق کریں ۔ یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب آپ کشمیریوں کو ان کا حق خوداداریت دے کر اپنا وعدہ پورا کریں ۔ ایک طرف پاکستان اقلیتوں کے ساتھ اچھا روایہ اور دوسری طرف بھارت میں مسلمان اقلیت ظلم وستم کا شکار، فرق صاف ظاہر ہے ۔

کیا ہ میں اندورونی خطرات لا حق ہیں

آج کافی دنوں بعد باباکرمو سے ملنے ان کے گھر گیا ۔ گلے ملے بتایا کہ میں بھی ابھی گھرآیا ہوں ۔ پوچھا کہاں گئے تھے ۔ بتایا گھر بور ہو رہا تھا سوچا چلو دھرنا دیکھ آءوں ۔ لہٰذا میں اپنے ساتھ چنے ، ریوڑیاں ،موم پھلی لیکر گیا تھا ۔ دھرنے والوں کو یہ کھانے کی آفر کر تا رہا مگر وہ شکریہ کے ساتھ واپس کر دیتے جیسے کسی نے انہیں اجنبی بندے سے کھانے سے منع کر رکھا ہو ۔ اس دوران میں پھر خود ہی کھاتا رہا اور چلتا رہا ۔ جب تھکاوٹ محسوس کی تو واپس چلا آیا ۔ راقم نے پوچھا باباجی دھرنے میں آپ نے کیا دیکھا ۔ کہا ڈسپلن ۔ مولانا کے تابعدار ورکر ز دیکھے ۔ اگر انہیں لڑنا پڑا تو یہ لڑ جائیں گے ۔ مر جائیں گے مگرمولانا کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے ۔ پوچھا عمران خان کے دھرنے اور مولانا کے دھرنے میں کیا فرق دیکھا ۔ کہا زمین آسمان کا ۔ عمران خان کے دھرنے میں پی ٹی آئی کے ورکروں کے ساتھ طاہرالقادری کے ورکر بھی تھے ۔ جبکہ یہاں مولاناکے ہی ورکر زان دونوں کے دھرنے سے زیادہ ہیں ۔ مولانا کے دھرنے میں اپوزیشن ساتھ ضرور ہے لیکن ان کے ورکر اس دھرنے میں شامل نہیں ہیں ۔ پوچھا مولانا کو لانگ مارچ اور دھرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ کہا حکمران اگر اپنی توجہ ملکی مسائل کے حل کرنے پر دیتے اور اپوزیشن سے ٹکڑ نہ لیتے ، مہنگائی پر کنٹرول رکھتے تو آج اپوزیشن مقابلے میں کھڑی دکھائی نہ دیتی ۔ کہا انہوں نے اپوزیشن میں مولانا فضل الرحمن کو ہی سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنائے رکھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مولانا فضل الرحمان لانگ مارچ اور دھرنے کے رستے پر چل پڑے ۔ جب اپوزیشن کی دوسری جماعتوں نے دیکھا کہ مولانا مقابلہ کرنے کےلئے سنجیدہ ہیں تو اس پر تمام اپوزیشن جماعتیں بھی ان کے ساتھ کھڑی ہو گئیں ۔ موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے بابا کرمو نے کہا لگتا ہے ملک کو بیرونی نہیں اندورونی خطرات کا سامنا ہے ۔ پھر ایک ماضی کا ایک واقعہ سنایا کہ ہمارے ایک سابق وزیراعظم جب سنگا پور کے دورے پر گئے تو انہیں خیال آیا کہ کیوں نہ اس وزٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے لیڈر لی کو آن یو سے ملاجائے اور ان سے انکی ملکی ترقی کےلئے ٹپس لئے جائیں ۔ ہمارے پی ایم صاحب نے اس خواہش کا اظہار اس وقت کے سنگاپور کے وزیراعظم سے کیا ۔ سنگا پور کے وزیراعظم نے لی کوآن یو کے ساتھ پاکستان کے وزیراعظم کی ملاقات کرا دی ۔ اس ملا قات میں لی کیو آن یو نے بتایا کہ میں پاکستان مختلف حوالے سے آٹھ مرتبہ جا چکا ہوں ۔ لہٰذا میں پاکستان کے جغرافیہ ، رسم ورواج اور عوام سے پوری طرح واقف ہوں ۔ پی ایم صاحب نے پوچھا کیا آپ اپنے تجربے کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ پاکستان کبھی سنگا پور بن سکتا ہے ۔ لی کوان یو یہ سن کر کچھ دیر خاموش رہے پھر سر ہلایا اورکہا سوری سر ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا ۔ اس کی آپ نے تین وجوہات بتائیں ۔ پہلی وجہ یہ بتائی کہ آئیڈیالوجی کی ہے ۔ آپ لوگوں اور ہم میں ایک بنیادی فرق ہے کہ آپ اس دنیا کو عارضی سمجھتے ہیں ، اصل زندگی مرنے کے بعد کی سمجھتے ہیں ۔ آپ سمجھتے ہیں کہ اس عارضی دنیا پر کیا توجہ دینی ۔ لہٰذا آپ سڑک ، عمارت سیوریج سسٹم ٹریفک قانون کی بالا دستی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے جبکہ ہم لوگ سب کچھ اس دنیا کو ہی سمجھتے ہیں ۔ لہٰذا اس دنیا کو ہی ہم خوبصورت بنانا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں ۔ پھر کچھ دیر خاموش رہے اور کہا میں یہ سب کچھ بتاتے ہوئے شرمندہ ہوں مگر سچ بول کر میں خوش ہوں ۔ دوسری وجہ آپ لوگوں کی زندگی کے بارے میں اپروچ درست نہیں ۔ میں پیشہ کے لحاظ سے وکیل ہوں پاکستان بننے سے پہلے میرے موکل کراچی سے کلکتہ تک کے ہوتے تھے ۔ میں نے اس وقت ہندو اور مسلم کی نفسیات کو بڑے قریب سے دیکھا ۔ میرے پاس جب کوئی ہندو موکل آتا اور میں کیس کے جائزے کے بعد اسے بتاتا کہ تمہارے کیس میں جان نہیں ہے ۔ تم اگر عدالت گئے تو کیس ہار جاءو گے ۔ یہ سن کر وہ میرا شکریہ ادا کرتا اور عرض کرتا پھر دوسری پارٹی سے ہماری صلح کرا دی ۔ میں پھر ایسا ہی کرتا اور ان کے درمیان صلح کروا دیتا اور یوں مسئلہ ختم ہو جاتا ۔ اس کے مقابلے میں جب کوئی مسلم موکل میرے پاس آتا اور میں اسے دوسری پارٹی سے صلح کا مشورہ دیتا تو اس کا جواب بڑا دلچسپ ہوتا ۔ کہتا وکیل صاحب آپ کیس دائر کریں میں پوری زندگی مقدمہ لڑونگا ۔ میرے بعد میرے بچے بھی مقدمہ لڑیں گے ۔ اس کے بعد اس کے بچے بھی لڑیں گے ۔ آپ یہ کہہ کر کچھ دیر پھر رکے اور مسکرا کر بولے میرا تجربہ ہے جو قو میں اپنی نسلو ں کو ورثے میں مقدمے اور مسائل چھو ڑ جاتی ہوں وہ قومی کبھی ترقی نہیں کیا کرتیں ۔ پھر کہا تیسری آخری وجہ آپ کی وہ خلائی مخلوق ہے جو اپنی مرضی کے سیاستدانوں کو اقتدار میں لاتی ہے ۔ ایسا کرنے سے ہمیشہ آپ کے ہاں جمہوریت کمزور رہتی ہے ۔ مجھے دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں ملا جس نے اس خلائی مخلوق کے زیر اثر رہ کر ترقی کی ہو ۔ پھر روکے اور دوبارہ بولے اس خلائی مخلوق میں اور سیاستدان کی سوچ میں بڑا فرق ہے ۔ یہ خلائی مخلوق مسائل پیدا کرتی ہے جبکہ سیاستدان مسئلے حل کرتے ہیں ۔ اس مخلوق کی زندگی یا موت ہوتی ہے جبکہ سیاست دان جیو اور جینے دو کے فلسفے پر کار بند رہتے ہیں ۔ انہیں مر جاءو یا مار دو کی ٹریننگ دی جاتی ہے جبکہ سیاستدان کو صلح مذاکرات اور نرمی کی تربیت ہوتی ہے چنانچہ میرا تجربہ ہے جس ملک میں حکومت اور سیاست کرنے کا اختیار کسی اور کے پاس ہو وہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا ۔ لہٰذا میں نہیں سمجھتا کہ آپ کا ملک سنگا پور بن سکتا ہے ۔ یہ واقعہ سنانے کے بعد بابا کرمو نے کہا ہمارے ہاں جب بھی الیکشن ہوتے ہیں اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں شور شرابا کرتے دکھائی دیتیں ہیں کہ الیکشن شفاف نہیں ہوئے ۔ کل تک ایسی ہی شکایت عمران خان بھی کیا کرتے تھے اور وہ بھی کھلے عام اس خلائی مخلوق کو ہی ذمہ دار ٹھہراتے تھے ۔ اب ایسی ہی صورتحال اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کی ہے ۔ موجودہ دھرنے میں بھی مولانا نے خلائی مخلوق کا کھل کر ذکر کیا ۔ جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ انتخابات اور آزادی مارچ میں ہمارا کوئی کردار نہیں ۔ حکومت نہیں بلائے گی تو ہم نہیں آئیں گے ۔ کہا ہم نہیں چاہتے کہ وہ کام ہم کریں جو دوسرے اداروں کے کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اگر آپ نہیں چاہتے کہ الیکشن میں ہم موجود ہوں تو ہم اس پر عمل کرنے کو تیار ہیں ۔ یہ پیغام سب کےلئے ایک مثبت سائن ہے ۔ پاک فوج کے اس بیان کے بعد اب ہ میں ان پر تنقید کرنے کی ضرورت نہیں ۔ مولانا نے بھی اس پیغام کو پسند کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا ۔ یہ ملک سب کا ہے ۔ ہم سب کو مل کر اس کے سسٹم میں موجود خرابیوں اور خامیوں کو دور کرنا ہے ۔ یہ یاد رکھا جائے کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے باہر میں بیٹھے ہمارے سجن دشمن سبھی دیکھ رہے ہوتے ہیں لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ جس جس ادارے میں خامیاں خرابیاں ہوں انہیں وہ خود ہی خندہ پیشانی سے ٹھیک کر لیا کریں ۔ ملک کی اکنامی کی بری حالت ہے ۔ مہنگائی کے طوفان اور بےروز گاری کے سیلاب کو روکنے کی بھی اشد ضرورت ہے ۔ تین روز قبل سپریم کورٹ بار میں ظہیر الدین بابر اعوان سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سابق سینٹرسابق لا منسٹر سے راقم کی ٹی ٹاک غیر سیاسی ہوئی ۔ اس موقع پر سابق صدر اسلام آباد بار ملک نوید ایڈووکیٹ اور سابق اے پی ایس چوہدری شبیر موجود تھے آپ نے بتایا کہ گندم ،گوشت ،مرغی انڈے ،دالیں اور سبزیاں یہ سب میرے اپنے گھر کی ہوتی ہیں ۔ میں مارکیٹ سے نہیں خریدتا ۔ بتایا کہ کاشت کرتے ہوئے ان کی دیکھ بھال میں خود کرتا ہوں ۔ جاپان کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں اکثر شہری گھروں میں چھوٹے چھوٹے گملوں میں کھڑکیوں کے باہر لٹکا کر سبزیاں اگاتے ہیں ۔ اس کے بعد آپ کیس کرنے اٹھے اور یوں ٹی ختم اور ٹاک کا سلسلہ منقطع ہو گیا ۔ ملاقات مختصر تھی لیکن پیغام اچھا ملا کہ ہ میں بھی آپ اور جاپانیوں کی طرح سبزیاں گھروں میں اگانے کا شوق پید اکریں ۔ ایسا کرنے سے گھر کے بجٹ میں ضرور فرق پڑے گا ۔ دیگرملکی مسائل جو ہ میں درپیش ہیں وہ حل ہو جائیں ۔ اس کےلئے دعاءوں کی سخت ضرورت ہے ۔

Google Analytics Alternative