Home » Author Archives: Admin (page 20)

Author Archives: Admin

یہ NGOs ، دوست یا۔۔۔؟

asgher ali shad

سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان نے ٹھوس معلومات کی بنیاد پر قومی سلامتی کے لئے خطرات کا باعث بننے والی 18 عالمی این جی اوز کو دو ماہ میں ملک چھوڑنے کا حکم جاری کیا ہے ،ان میں 9 کا تعلق امریکا، تین کا برطانیہ، 2 کا ہالینڈ جبکہ دیگر این جی اوز کا تعلق آئرلینڈ، ڈنمارک، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ سے ہے۔اس کے علاوہ کئی تنظیموں کو اپنی سرگرمیاں محدود کرنے کا کہا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ پاکستان نے 72 انٹرنیشنل این جی اوز پر پابندی برقرار رکھتے ہوئے کاغذات مکمل کرنے کیلئے مہلت دے دی جبکہ 141 این جی اوز کو گرین سنگل دیتے ہوئے 66 اداروں کو باقاعدہ کام کرنے کی اجازت دی ہے۔اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ اس کھلے راز سے بھلا کسے آگاہی نہیں کہ دہلی کے حکمران طبقات نے پاکستان کو کبھی بھی دل سے تسلیم نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ گاہے بگاہے وہ وطن عزیز کے اندر مختلف نو کے تعصبات کو فروغ دینے کی ہر ممکن سعی کرتے آ رہے ہیں۔ اس معاملے کا قدرے تفصیل سے جائزہ لیتے سنجیدہ حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ 1965 کی جنگ کے بعد جب ہندوستانی حکمرانوں کو حسب خواہش نتائج نہ ملے تو وہاں کی حکومت نے مسلمان قوم کی نفسیات پر ریسرچ کے لئے اپنے یہاں کئی نئے ادارے قائم کئے جن میں سر فہرست ریسرچ اینڈ انیلے سس ونگ (RAW ) ہے۔ اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کی قدرے تفصیل کا جائزہ لیں تو یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ دہلی سرکار نے مسلمان خصوصاً پاکستانی قوم کے مختلف زاویوں سے تجزیے کئے جن کے تحت سبھی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، اس مقصد کے لئے درگاہ پرشاد دھر (ٹی پی دھر) کی قیادت میں بھارتی ماہرین تقریباً دو برس تک اندلس (سپین) کی لائبریریوں کو کھنگالتے رہے اور ان اسباب و عوامل کے مطالعے میں مصروف رہے جن کے تحت اندلس میں صدیوں سے قائم مسلمان حکومت کا نہ صرف خاتمہ ہوا بلکہ اس خطہ زمین سے مسلمان قوم کا نشان ہی کسی حد تک مٹا دیا گیا۔ تجزیہ کا یہ سارا عمل حکومت ہند اور راء کی باقاعدہ نگرانی میں انتہائی سائنٹیفک بنیادوں پر عمل میں لایا گیا اور اسی تحقیق کی بنیاد پر مرحوم مشرقی پاکستان یعنی بنگلہ دیش کے آپریشن کا آغاز کیا۔ اس کے انجام سے ہم بخوبی آگاہ ہیں !واضح رہے کہ اونچی ذات کے عیار ہندو ذہن نے اپنا یہ مشن تاحال جاری رکھا ہوا ہے اور تقریباًہم سبھی شعوری یا غیر شعوری طور پر شکست و ریخت کے اس عمل میں حصہ بقدر جثہ ڈالتے چلے آ رہے ہیں۔ بھارت میں اسی مقصد کے لئے 20 سے زائد ایسے ادارے قائم ہیں جو ’’پاکستان سٹڈیز‘‘ کے بہانے ہمارے ہر عمل پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور راء اور انڈین آئی بی کے یہ ادارے ایسا کھلا راز ہیں جو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ دوسری جانب اس ضمن میں ہماری ’’باخبری ‘‘کا عالم یہ ہے کہ اگرچہ ہم اپنی تمام تر پالیسیاں بالعموم بھارت کو مد نظر رکھ کر ہی ترتیب دیتے ہیں مگر تلخ زمینی حقیقت یہ بھی ہے کہ بھارتی امور کے ماہر ہمارے بہت سے دانشور بھارت کے تمام صوبوں کے نام بھی پوری طرح سے نہیں جانتے حالانکہ ہندو ازم بہت سے گروہوں پر مبنی مجموعہ اضداد ہے۔ ان کے یہاں بھی بہت سے ایسے تضادات ہیں جن کی جڑیں ان کے کلچر میں بہت گہرائی تک موجود ہیں، ایسے میں اگر ہم جواب آں غزل کے طور پر ان بھارتی تضادات کو ایکسپلائٹ کر سکتے ہیں مگر اس ضمن میں تاحال ہم اپنی ذمہ داریاں کم حقہ ہو پوری نہیں کر پا رہے، حالانکہ اس بدیہی حقیقت کو بخوبی سمجھنا ہو گا کہ اگر ہمیں اپنے قومی وجود کو مستحکم بنانا ہے تو اپنے مد مقابل کے مزاج کی ساری جہتوں سے پوری طرح آگاہ ہونا ہو گا وگرنہ کوئی بیرونی طاقت ہماری بقا کی ضامن نہیں ہو سکتی اور قانون فطرت میں جرم ضعیفی کی سزا تو بہرحال طے ہے۔ اس پیرائے میں یہ بات بھی خصوصی اہمیت کی حامل ہے کہ بھارتی راء اور این ڈی ایس نے موساد اور سی آئی اے کی پیروی کرتے ہوئے اپنے یہاں بہت سی خوبصورت خواتین کو بھی اپنے اداروں میں سمویا ہوا ہے جو ان کیلئے خدمات انجام دے رہی ہیں، کیونکہ اس ضمن میں راء نے اپنے طویل مشاہدے کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ایک سو مرد بھی وہ کام نہیں کر سکتے جو ایک خاتون بشرطیکہ وہ خوبصورت اور پڑھی لکھی ہو، انجام دے سکتی ہے۔ یوں بھی ہندو مذہب میں عورت کی عصمت کا تصور ہمارے یہاں سے قدرے مختلف ہے اور دھرتی ماتا کی سیوا کے لئے روٹھے ہوئے یار کو ’’نچ ‘‘ کے منانا وہاں کوئی اتنی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی۔ بہرحال یہ تو شاید جملہ معترضہ ہو ۔ اگرچہ ملک کے اندر این جی او ز کی خاصی تعداد ایسی بھی ہے جو حقیقی طور پر شاید انسانیت کی خدمت انجام دے رہی ہو مگر اس ’’تعداد‘‘ سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا جو خواتین، بچوں، اقلیتوں کے حقوق اور جمہوریت کے نام پر اپنی دکانداریاں سجائے بیٹھے ہیں اور قومی سلامتی تک کو داؤ پر لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ سبھی متعلقہ ادارے اس ضمن میں اپنا فریضہ زیادہ موثر ڈھنگ سے انجام دیں گے۔

*****

پاکستان ہاکی ٹیم کی کپتانی کی دوڑ میں عمران بٹ کا پلڑہ بھاری

لاہور: پاکستان ہاکی ٹیم کی کپتانی کی دوڑ میں عمران بٹ کا پلڑہ بھاری ہے جب کہ عرفان سینئر کے خلاف ٹیم مینجمنٹ متحد ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق فیڈریشن کے ایک اعلی عہدیدار بھی قومی ٹیم کی کمان عمران بٹ کو سونپنے کے حق میں ہیں تاہم حتمی فیصلہ صدر فیڈریشن بریگیڈیئر خالد سجاد کھوکھر 11 اکتوبر کو کراچی میں شیڈول ٹرائلز کے موقع پر کریں گے۔

ذرائع کے مطابق قومی ہاکی کیمپ میں رضوان سینئر کی غیرموجودگی کے بعد نئے قومی ہاکی ٹیم کے کپتان کی جگہ کے حصول کے لئے رسہ کشی عروج پرپہنچ گئی ہے، 9اکتوبر سے کراچی سے  شروع ہونے والے قومی ہاکی تربیتی کیمپ میں قومی ٹیم کی تربیت کا رسمی سیشن دوبارہ شروع ہونے جارہا ہے جس کے اختتام پر قومی سلیکشن کمیٹی اولمپیئن اصلاح الدین صدیقی کی سربراہی میں قومی ہاکی ٹیم کا انتخاب عمل میں لائے گی جو کہ اومان میں ہونے والی ایشین چیمپینز ہاکی ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان ہاکی ٹیم کی کپتانی کی دوڑ میں شامل عمران بٹ جوکہ ٹیم کے کوچ ریحان بٹ کے حقیقی بھائی ہیں کا پلڑہ بھاری نظرآرہا ہے، عرفان سینئر کو اس حوالے سے ٹیم مینجمنٹ کی رائے کا اپنے حق میں حصول مشکل نظر آرہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹیم مینجمنٹ عرفان کے ماضی کے ڈسپلن وجوہات کی بنا پر ان کو ٹیم کا کپتان بنانے کے حق میں نہیں۔

اس حوالے سے ایکسپریس نے جب سیکرٹری پی ایچ ایف شہباز سینئر سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا ایشیائی ایونٹ کے لیے کپتانی کی امید روشن ہے تاہم ایشیائی ون کے لیے ٹیم کے کپتان کاحتمی فیصلہ ٹرائلز کے موقع پر ہی کیا جائے گا۔

کوئی این آر او نہیں ہوگا، کرپشن میں ملوث کسی شخص کو نہیں چھوڑیں گے، وزیر اعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سب کان کھول کر سن لیں،کوئی این آر او نہیں ہوگا، عوام بے فکر رہیں کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا۔

وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد لاہور میں پہلی مرتبہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہماری پہلی پالیسی کی تیاری ابتدائی مرحلے میں ہے جو 100 دن کے بعد پیش کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا تعلق پنجاب کے انتہائی پسماندہ علاقے سے جہاں کوئی جانا بھی پسند نہیں کرتا لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ کبھی کرپشن کو سپورٹ نہیں کریں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم ملک میں ایک نیا قانون وسل بلیو ایکٹ متعارف کروائیں گے جس کے تحت جو شخص حکومت میں کرپشن کی نشاندہی کرے گا اسے ریکور ہونے والی کل رقم کا 20 فیصد حصہ دیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وسل بلیو ایکٹ کے ساتھ کرپشن کی اطلاع دینے والے گواہان کے تحفظ کا ایکٹ بھی متعارف کروایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پرانے بلدیاتی نظام کی خامیاں دور کرکے نیا نظام لائیں گے اور نئے بلدیاتی نظام کا مقصد نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی ہوگا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پنجاب کابینہ نئے نظام سے متعلق بروقت قانون سازی کرے۔

شہباز شریف سے ہمدردی کرنے والوں کے نام بھی آئیں گے

وزیراعظم نے کہا کہ ن لیگ والے شہبازشریف کی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں، یہ سیاسی انتقام کس طرح ہوسکتا ہے، یہ کیسز تو شہباز شریف پر 10 ماہ پرانے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب آزاد ادارہ ہے یہ تو اپوزیشن شکر ادا کرے کہ نیب میرے ماتحت نہیں، نیب میرے ماتحت ہوتا تو کم از کم 50 لوگ اب تک جیل کے اندر ہوتے۔

عمران خان نے کہا کہ کل میں نے شہباز شریف کو نیلسن منڈیلا بنتے دیکھا، شہباز شریف کے ساتھ ہمدردی کرنے والوں کے نام بھی آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب ایک کرپشن پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو ساری کرپشن یونین ایک ہوجاتی ہے، تحریک انصاف کے خلاف ن لیگ اور پی پی والے بھائی بھائی ہوگئے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نیب نے ہمیں بھی ہیلی کاپٹر والے معاملے میں طلب کیا ہے ہم جا کر جواب دے آتے ہیں لیکن ن لیگ میں سے کسی کوطلب کیا جائے تو یہ شور مچا دیتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک ہی صورت میں مہنگائی ختم ہوسکتی ہے کہ ان کرپٹ ممبران سے پیسے نکالے جائیں، نیب چیئرمین کو جو تعاون چاہیے ہم تیار ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ کان کھول کر سن لیں کوئی این آر او نہیں ہوگا اور عوام بے فکر ہوجائیں ہم کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑیں گے۔

عمران خان کہا کہ پاکستان کا قرضہ 6 ہزار ارب سے بڑھ کر 28ہزار ارب روپے ہوچکا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ جب خرچے زیادہ آمدنی کم ہو تو اس کا مطلب ہے کہ حالات برے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے باہر 9 ارب ڈالر دبئی، سعودیہ، امریکا اور برطانیہ منتقل ہوئے اور ملک سے باہر 10 ہزار سے زائد جائیدادیں پکڑی گئی ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قرضے واپس کرنےاور مہنگائی روکنے کا ایک ہی طریقہ ہےکہ لُوٹا ہواپیسہ واپس لائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میٹرو بس کے 3 منصوبے مکمل کیے گئے جو خسارے میں جارہے ہیں اور اورنج ٹرین کے لیے قرضہ لیا گیا یہ منصوبہ بھی خسارے میں ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نظام میں بہتری کیلئے مشکل فیصلے کرنے ہوں گے، تجاوزات کے خلاف مہم میں غریب آبادیوں کو بلاوجہ زحمت نہ دی جائے۔

تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سرکاری عمارتوں اور زمینوں کو مفید استعمال میں لائیں گے اور قبضہ مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

آئی ایم ایف کے پاس جاسکتے ہیں

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہوسکتا یے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے لیکن ہم نے کچھ ممالک کے بینکوں میں اپنا پیسہ رکھوانے کی بات کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق بات چیت چل رہی ہے اور بہت جلد غیر ملکی سرمایہ کار یہاں کا رخ کریں گے۔

قبل ازیں وزیرِ اعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر لاہور پہنچے جہاں انہیں پنجاب کی صورتحال اور حکومت کے 100 روزہ پلان پر ہونے والی پیش رفت سے متعلق بریف کیا گیا۔

وزیرِ اعظم عمران خان اسلام آباد سے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے گورنر ہاؤس پہنچے، جہاں سے وزیرِاعلیٰ سیکریٹریٹ گئے۔

وزیرِاعظم عمران خان نے لاہور میں صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی جہاں انہیں صوبے میں حکومتی کارکردگی سے آگاہ کیا گیا۔

اس دوران وزیرِ اعلیٰ پنجاب، صوبائی کابینہ کے اراکین کے علاوہ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور وفاقی وزرا بھی موجود تھے۔

اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم کو مختلف محکموں کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ بلدیاتی نظام سے متعلق ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

اپنے دورے کے دوران وزیرِاعظم نے وفاقی کابینہ میں موجود تحریک انصاف کے وزرا اور دیگر رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔

وزیراعظم کا پنجاب میں کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنے کا حکم

لاہور: وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری زمینوں پر موجود کچی آبادیوں کے مکینوں کو رعایت دی جائے گی۔

لاہور میں وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پنجاب کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، سینئر وزیر علیم خان، صوبائی وزرا اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

وزیر اعلیٰ نے عمران خان کو قبضہ مافیا اور تجاوزات کے خلاف آپریشن، 100 روزہ  پلان میں پیش رفت اور پنجاب حکومت کے متعدد اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی۔ اجلاس میں صوبے میں جاری منصوبوں ، وزرا کے محکموں کی کارکردگی اور  دیگر امور پر غور کیا گیا۔

وزیراعظم نے پنجاب میں کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری زمینوں پر موجود کچی آبادیوں کے مکینوں کو رعایت دی جائے جبکہ پرائیویٹ زمینوں پر قائم کچی آبادیوں کے بارے میں عدالتی احکامات پر عمل کیا جائے۔ پنجاب کابینہ نے استعمال شدہ ٹریکٹر درآمد کرنے کی سفارش کی تو وزیر اعظم نے کسانوں کیلیے سیکنڈ ہینڈ ٹریکٹر درآمد کرنے کی تجویز وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملک گیر صفائی اور شجرکاری مہم میں صوبائی حکومت بھر پور ساتھ دے۔ وزیراعظم کل سے ملک بھر میں صفائی مہم کا آغاز کریں گے۔ اس مہم کو “کلین اینڈ گرین” پاکستان کا نام دیا گیا ہے جس کا آغاز ملک کے تمام بڑے شہروں سے ہوگا۔

ن لیگ کا ہنگامی اجلاس طلب، حکومت کیخلاف راست اقدام پر مشاورت ہوگی

لاہور: مسلم لیگ (ن) نے مبینہ حکومتی انتقامی کارروائیوں کے خلاف جوابی حکمت عملی تیار کرنے کے لئے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس کل طلب کر لیا۔

مسلم لیگ (ن) نے مبینہ حکومتی انتقامی کاروائیوں کے مقابلے کے لئے جوابی حکمت عملی کی تیاری شروع کردی ہے اور سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کل صبح 11 بجے لاہور میں ہونے والے اجلاس کی صدارت سابق وزیراعظم نوازشریف کریں گے۔

اجلاس میں حکومتی اقدامات، سی پیک سے متعلق فیصلوں اور سیاسی انتقامی کاروائیوں کے خلاف حکمتِ عملی تیار کی جائے گی۔ (ن) لیگی قیادت حکومت کے خلاف راست اقدام پر مشاورت کرے گی۔ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کو اعتماد میں لینے کے بعد اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی۔ ن لیگ کا موقف ہے کہ ضمنی انتخاب سے قبل شہباز شریف کی گرفتاری ناقابل قبول ہے اور انتقامی کاروائیاں مزید برداشت نہیں کی جائیں گی۔

عمران خان کرپشن کی زندہ علامتوں کے محافظ بن چکے ہیں، ترجمان (ن) لیگ

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عمران خان دائیں بائیں دیکھیں وہ کرپشن کی زندہ علامتوں کےمحافظ بن چکے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کی پریس کانفرنس پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے انتخابات سے قبل دعوے کئے تھے کہ بجلی، گیس پر ٹیکسز نہیں لگائیں گے اور چوری ختم کریں گے لیکن حکومت ملتے ہی غریبوں کا گلا دبا دیا گیا، اداروں کو فعال بنانےکے بجائے انہیں مخالفین کےانتقام پرلگا دیا گیا، کرپشن کے نام  پرغریب کے منہ سے روٹی چھین لی گئی.

انہوں نے کہا کہ عمران خان اب اپنے 100 دن کے پلان کی نکلتی ہوئی ہوا نہ چھپائیں، آپ اس طرح کی پریس کانفرنس سے اپنی کارکردگی سے عوام کی توجہ نہیں ہٹاسکتے، شہبازشریف کی گرفتاری کے پہلے ہی دن آپ کی گھبراہٹ عیاں ہے۔

ترجمان مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ عمران خان اپنے دائیں بائیں دیکھیں وہ کرپشن کی زندہ علامتوں کےمحافظ بن چکے ہیں، ان کی کابینہ دوستوں اور حواریوں پر مشتمل ہے، اور یہ کابینہ تاریخ کی کرپٹ ترین کابینہ ثابت ہوگی۔ وزیراعظم کے پرانے ساتھیوں اور تحریک انصاف کے بانی رہنماؤں نے بھی  پی ٹی آئی میں کرپشن کی نشاندہی کی تھی۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستانیوں نے دبئی میں اربوں ڈالر کی جائیدادیں خریدیں، اور ان میں 60 ارب روپے کی جائیداد عمران خان کی بہنوں کی ہے، جب کہ ان کی بہنوں کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ماسوائے اس کہ خیراتی اداروں کے بورڈز کی ارکان ہیں۔

ترجمان(ن) لیگ نے کہا کہ عمران خان اپنی بہنوں کی جائیداد کی تحقیقات کب شروع کریں گے؟ زلفی بخاری، علیمہ خان، علیم خان اور جہانگیرترین کی بیرون ملک جائیدادوں کی نیلامی کب ہوگی؟ وزیراعظم بتائیں کہ دو ماہ میں لوٹا ہوا کتنا مال واپس آیا؟ پی ٹی آئی ملازمین کے اکاوٴنٹس میں ہنڈی کے ذریعے آنے والی کروڑوں روپے کی منی لانڈرنگ پرتحقیقات کیوں نہیں کرائی جارہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخواہ کے لئے 45 ارب کا قرض کیوں لیا گیا اور وہ پیسہ کہاں گیا؟ خیبرپختونخوا میں میٹرو کی کرپشن 80 ارب تک کیسے پہنچی ؟ صوبے کی 65 ارب کی بجلی چوری کیوں نہیں پکڑی گئی؟۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ 22 سال تبدیلی کے دعوے کے بعد پنجاب میں ایسا وزیراعلیٰ بنایا گیا جو ایک ماہ  پہلے پارٹی میں شامل ہوا، اور کہا یہ گیا کہ عثمان بزدار کو ان کی غربت کی وجہ سے وزیراعلیٰ کا منصب دیا گیا، اگر یہی بات ہے  تو پھر بلوچستان سب سے غریب صوبہ ہے وہاں نواب کو وزیراعلیٰ کیوں بنایا گیا؟۔

بلوچستان کی پسماندگی دور کرنے کا عزم

adaria

وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے سرکاری دورہ بلوچستان کے موقع پر اس عزم کا اظہار کیاکہ عوام کی فلاح و بہود، ترقی و خوشحالی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی کے لئے پُرعزم ہے اور بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا اجتماعی کوششوں سے انشااللہ ملک اور صوبے کو صحیح منزل کی جانب گامزن کریں گے،اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے درخواست کی کہ وہ ہمارے تشکیل کردہ بلدیاتی نظام کو اپنے صوبے میں رائج کریں اور گاؤں کی سطح پر کونسل بنائیں تاکہ متعلقہ حق دار تک وسائل کی ترسیل ممکن ہو سکے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ بلوچستان میں ووٹ بینک بنانے کے لیے صوبے میں ترقیاتی منصوبے نہیں چاہتے،ماضی میں بلوچستان کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔بلوچستان سونا، تانبا، کوئلہ اور کرومائیڈ کے بڑے ذخائر رکھتا ہے لیکن کسی نے ان پر توجہ نہیں دی۔بلوچستان کا بینہ کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے صوبے کی پسماندگی کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی ترقی سے پاکستان کی ترقی وابستہ ہے کچھی کینال کی تکمیل سے بلوچستان میں زرعی انقلاب آئے گا۔ایسا کوئی وعدہ نہیں کریں گے جو پورا نہ کرسکیں،بلوچستان حکومت کی تجاویز کی روشنی میں بلوچستان کی ترقی کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کریں گے۔انہوں صوبائی حکومت کو یقین دلایا کہ بلوچستان حکومت کو درپیش مالی بحران کے حل کے لیے وفاق ہر ممکن تعاون کرے گا۔ بلوچستان کے قدرتی وسائل کو صحیح معنوں میں بروئے کار لاکر غربت و پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہے۔انہوں نے اراکین بلوچستان اسمبلی پر زور دیا کہ وہ صوبے کے عوم کو درپیش مسائل کے حل کے لیے موثر قانون سازی کے لئے کام کریں۔وزیراعظم نے سی پیک کے حوالے سے پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے بلوچستان کے تحفظات کا ازالہ کیا جائے گا۔ اس دورے کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ جام کمال نے وزراء کے ہمراہ سدرن کمانڈ ہیڈکواٹرز کا دورہ کیا، جہاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بلوچستان کو صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی۔عمران خان نے صوبے میں جاری ترقیاتی کاموں اور سیکیورٹی کی صورتحال بہتر کرنے پر سیکیورٹی فورسز کے کردار کو سراہا۔ وزیر اعظم کو سی پیک پراجیکٹ، پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کے منصوبے اور خوشحال بلوچستان پروگرام پر بھی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا معاشی اقتصادی مستقبل ہے، خیبرپختونخوا میں استحکام کے بعد ہماری ترجیح بلوچستان ہے۔ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کی ایک ساتھ بلوچستان میں موجودگی اس بات کا اظہار ہے کہ صوبہ پولیٹیکلی و سٹریٹجیکلی کتنی اہمیت کا حامل ہے۔ماضی میں بلوچستان کی ترقی کے لیے بلند بانگ تو بہت ہوئے لیکن زمین پر کسی ترقی کے آثار نظر نہیں آتے اس کی بنیادی وجہ کرپشن ہے۔وزیراعظم نے بجا طور پر بدعنوانی کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے صوبے کی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کرے۔ان کا کہنا تھا کہ چین نے بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات کیے جس کے باعث وہ تیزی کے ساتھ ترقی کر رہا ہے۔ پچھلے چند سال کے دوران چین میں چار سو سے زائد وزیروں کو پکڑا گیا اور ان کا احتساب کیا گیا، اسی طرح بڑی تعداد میں بیوروکریٹس کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کی وجہ سے پاکستان کے قرضے گذشتہ دس سال کے دوران چھ ہزار ارب سے بڑھ کر 28 ہزار ارب روپے تک پہنچ گئے۔وزیرِ اعظم نے بلوچستان حکومت پر زور دیا کہ وہ بدعنوانی کے خلاف محکم انسداد بدعنوانی کو مضبوط کرے۔ اگر بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے گئے تو وسائل یہاں کے لوگوں پر خرچ ہونے کی بجائے دبئی اور دیگر ممالک منتقل ہو جائیں گے۔وزیراعظم کا تجزیہ سو فیصد درست ہے کہ جب بدعنوانی جڑیں پکڑ لیتی ہے تو پھر ملک کا ہر ادارہ تباہ ہو جاتا ہے۔وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد عمران خان پہلی مرتبہ بلوچستان کے دورے پر کوئٹہ پہنچے تھے۔جہاں صوبائی حکومت کی طرف سے گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔اپنے دوران کے دوران وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ مربوط قومی جدوجہد، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون اور آرمی کی مدد سے بلوچستان کے تمام مسائل دور کیے جائیں گے۔

مقبوضہ کشمیر میں بلدیاتی انتخابی ڈرامے کا بائیکاٹ
مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد بلدیاتی انتخابی ڈرامہ آج 8 اکتوبر سے شروع ہونے جا رہا ہے۔حریت قیادت کے بائیکاٹ کے بعد اب مقبوضہ کشمیر کی سکھ کمیونٹی نے بھی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سکھ تنظیموں سکھ انٹلیکچول سرکل،انٹرنیشنل سکھ فیڈریشن اورسکھ سٹوڈنٹس فیڈریشن کا ایک مشترکہ اجلاس ایس نریندر سنگھ خالصہ کی قیادت میں جموں میں منعقد ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ جموں وکشمیرمیں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، شہریوں کے قتل ، غیر قانونی نظر بندیوں، دفعہ 35اے کو ختم کرنے کی کوششوں اور سکھوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف نام نہاد بلدیاتی اور پنچایت انتخابات کابائیکاٹ کیا جائے گا۔اجلاس میں شریک سکھ رہنماؤں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کو اپنی پاس کردہ قراردادوں کے ذریعے حل کرانے کے لیے کردار ادا کرے ۔ انہوں نے حریت قیادت کی ہڑتال کی کال کی حمایت کا بھی اعلان کیا۔حریت قیادت نے پہلے ہی بائیکاٹ کے ساتھ ہڑتال کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اس روز پورے مقبوضہ علاقے میں سول کرفیو رہے گا۔ میرواعظ نے کہا کہ 10،13 اور16 اکتوبر کو جن جن علاقوں میں نام نہاد انتخابی عمل ہوگا ، وہاں ہڑتال کی جائے گی۔کشمیری صرف اور صرف اپنے پیدائشی حق، حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور نام نہاد انتخابی ڈراموں سے انکا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری حق خود ارادیت کے سوا کوئی اور چیز ہر گز تسلیم نہیں کریں گے۔حریت قیادت کے بائیکاٹ کے بعد سکھ کمیونٹی کی طرف سے انتخابی عمل سے دور رہنے کے اعلان سے مودی سرکار کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے کہ وہ جبر سے زمینی قبضہ تو برقرار رکھ سکتی ہے لیکن دلوں پر راج ممکن نہیں۔کشمیری عوام بھارت سے الگ ہونا چاہتے ہیں،یہی ان کا پہلا اور آخری مطالبہ ہے۔یو این کی قراردادیں ان کا یہ حق تسلیم کرتی ہیں۔بھارت کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو دبانے کیلئے گزشتہ ستر برس سے جبر و استبداد کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔مگر کشمیریوں نے بھارتی مظالم، مشکلات اورمصائب کے باوجود حق خود ارادیت کی تحریک کو زندہ رکھا ہوا ہے۔آخر ایک دن کشمیری اپنا حق لے کر رہیں گے۔

 

جوہری تنازع، شمالی کوریا نے امریکا سے دوبارہ مذاکرات کیلئے ہامی بھرلی

سیئول: شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ دوسرے مذاکراتی دور کے لیے ہامی بھرلی۔

واضح رہے کہ مذکورہ فیصلہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکی سفیر نے پیانگ یانگ میں شمالی کوریا کے رہنما سے جوہری تنصیب کے خاتمے سے متعلق ’معنیٰ خیز‘ ملاقات کی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے اتوار کی صبح کم جونگ ان سے دو گھنٹے کی ملاقات کی تھی۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ ’کم جونگ ان نے امریکا-شمالی کوریا سمٹ پر جلدازجلد آمادگی کا اظہار کیا ہے‘۔

شمالی کوریا کے صدارتی افس سے جاری اعلامیہ میں سمٹ سے متعلق وقت اور مقام کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

مائیک پومپیو کی شمالی کوریا کے رہنما سے ملاقات کے متعلق امریکی اعلامیہ میں کہا گیا کہ مائیک پومپیو اور کم جونگ ان نے شمالی کوریا کو جوہری تنصیبات سے پاک کرنے اور اس مسئلے پر امریکی حکومت کے کردار پر بات چیت کی‘۔

واضح رہے کہ مذکورہ دورہ مائیک پومپیو کا چوتھا دورہ تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما سے جون میں سنگاپور میں ملاقات کی تھی تاہم ناقدین کا کہنا تھا کہ مذکورہ ملاقات رسمی تھی۔

دوسری جانب مائیک پومپیو نے ٹوئٹ کیا کہ ’مجھے اور میری ٹیم کی میزبانی کے لیے شکریہ ‘۔

کم جونگ ان نے مائیک پومیپو سے ملاقات کو ’اچھی ملاقات‘ قراردیا اور کہا کہ ’دونوں ملکوں کے درمیان اچھے دن کے ساتھ اچھے مستقبل کے وعدے ہوئے‘۔

Google Analytics Alternative