Home » Author Archives: Admin (page 20)

Author Archives: Admin

“کُرد” ہمارے بھائی لیکن اس نام سے پکارا جانے والا گروپ دہشت گرد ہے، رجب طیب اردوان

واشنگٹن: ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ کُرد ہمارے بھائی ہیں تاہم عام طور پر اس نام سے پکارا جانے والا گروپ اصل میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم ہے۔

امریکا کے دورہ کے دوران ترکی کے صدررجب طیب اردوان نے کہا کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ سمیت بعض حکام کی طرف سے “کُرد” کے نام سے پکارا جانے والا گروپ اصل میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم ہے، ترکی اصل کردوں کواپنے بھائیوں کی طرح دیکھتا ہے اور یہی نہیں بلکہ ترکی سب سے زیادہ کرد آبادی رکھنے والا ملک ہے تاہم جسے سب کُرد کہتے ہیں وہ اصل میں عام شہری نہیں بلکہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔

ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ شام کی سرحد پر متوقع سیف زون میں 2 سال کے دوران 10 لاکھ مہاجرین کو رکھنے کا منصوبہ تیار ہے۔

دوسری جانب اردوان  کی وائٹ ہاوس میں امریکی صدرٹرمپ سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں ٹرمپ نے صدراردوان کودوست مخاطب کرتے ہوئے شامی سرحد کے آپریشن پران کا شکریہ ادا کیا۔ ٹرمپ نے مزید بتایا کہ ملاقات میں ایس 400 دفاعی نظام اورایف 35 طیاروں کے معاملے پربھی بات ہوئی۔

نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق ذیلی کمیٹی کے نکات سامنے آگئے

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق وزارت داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے نکات سامنے آگئے۔

ذیلی کمیٹی کے نکات کے مطابق نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق درخواست 7 نومبر کو موصول ہوئی، 10 نومبر کو میڈیکل بورڈ کی تصدیقی رپورٹ میں نوازشریف کی صحت کو تشویشناک  قراردیا گیا، میڈیکل بورڈ کے مطابق نوازشریف جدید ترین علاج کے لئے اپنے چوائس اور رسک پر کہیں بھی علاج کرواسکتے ہیں۔

ذیلی کمیٹی کے نکات کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے 11 نومبر کو نوازشریف کی تشویشناک صحت کی الگ رپورٹ ذیلی کمیٹی کے سامنے لائی گئی، وزارت داخلہ نے 11 نومبر کو ایمرجنسی صورتحال پر ذیلی کمیٹی کااجلاس 12 نومبر کو وزارت قانون میں صبح 10 بجے طلب کیا، ذیلی کمیٹی نے نیب ،سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ  کیریئراور میڈیکل بورڈ کے سربرا ہ کوموقف کے لئے طلب کیا۔

نکات کے مطابق درخواست گزار کی جانب سے عطاء اللہ تارڑ اور منوراقبال دگل ایڈووکیٹ ذیلی کمیٹی میں پیش ہوئے، ڈپٹی ڈائریکٹر ای سی ایل نیب قمر شہزاد پھپھرا، سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیریئر مومن آغاز اور پروفیسر ڈاکٹر محمود ایازذیلی کمیٹی میں پیش ہوئے، ذیلی کمیٹی میں نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنا ن خان ،ایڈیشنل ڈائریکٹر آپریشن نیب عمر رندھاوا پیش ہوئے۔

نکات کے مطابق ای سی ایل سے نام نکالنے کے لئے مخصوص میکنزم نہ ہونے پر نیب کے نمائندوں نے اتفاق کیا، ایسا کوئی میکنزم نہیں ہے جس کے تحت ای سی ایل سے نام نکالاجاسکے، نیب کے مطابق وفاقی حکومت نوازشریف کے باہر جانے کے حوالے سے کوئی ایسا طریقہ کار وضع کرسکتی ہے جب انہیں طلب کیا جائے تو وہ پیش ہوجائیں، تاہم وفاقی حکومت انسانی بنیادوں پرنوازشریف کانام ای سی ایل سے نکالنے کے ہدایات جاری کرسکتی ہے۔

نکات کے مطابق نوازشریف کو العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس میں 7 سال سزاء اور ڈیڑھ ارب روپے جرمانہ ہوا، العزیزیہ اسٹیل مل کیس میں نوازشریف نے سزا کے خلاف جب کہ نیب نے نوازشریف کی سزا بڑھانے کے لئے اسلام آبا دہائی کورٹ میں اپیلیں بھی دائرکی ہوئی ہے، ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں نوازشریف کو 10 سال سزا اور 80لاکھ پاؤنڈ جرمانہ ہوا،

نکات کے مطابق ذیلی کمیٹی میں شورٹی بانڈ لینے کے بعد ون ٹائم پرمیشن دینے پر اتفاق ہوا، نوازشریف سے عدالتی جرمانے کے مساوی رقوم کے شورٹی بانڈلیکر وفاقی کابینہ انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دے سکتی ہے،  ریکارڈ نوٹ پر ذیلی کمیٹی کے چیئرمین فروغ نسیم ،وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبراور سیکرٹری داخلہ اعظم سلیمان خان نے دستخط کئے۔

بھارت میں ہندوتوا نظریہ مسلمان اور دیگر اقلیتوں کے لیے خطرہ ہے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت میں ہندوتوا نظریہ مسلمان اور دیگر اقلیتوں کے لیے خطرہ ہے۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا  کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بہت قربانیاں دیں اور اس جنگ میں صف اول کا کردار ادا کیا لیکن یہ جنگ پاکستان کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی، ہم نے سیکھا پاکستان آئندہ کسی جنگ کا حصہ نہیں ہوگا اور اب کسی تنازع کا حصہ بننے کے بجائے مصالحانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ امریکا نے جنگوں پر کئی ٹریلین ڈالرز جھونک دیے لیکن اس کے برعکس چین اپنا پیسہ جنگ کے بجائے عوام کی ترقی پر خرچ کرتا ہے، پچھلے20سال میں چین نےجوترقی کی ہم اس سےسبق سیکھ سکتےہیں، کاروبارکوآسان بنانےکے لیے اقدامات کر رہے ہیں، غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے ویزے میں نرمی سمیت کئی اصلاحات کیں، پہلے دہشتگردی کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کار آنے کے لیے تیار نہیں تھے لیکن اب دنیا بھر سے سرمایہ کار پاکستان آرہے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں جب بھی ضرورت ہوئی سعودی عرب نے ہماری مدد کی، ایران کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں، چاہتےہیں سعودی ایران تنازعہ ختم ہو، افغانوں کےمابین مذاکرات کے لیے بھی پر امید ہیں، کوشش ہے کہ پاکستان کے پڑوس میں مزید تنازعات نہ ہوں اور بھارت کے ساتھ بھی حالات بہتر ہوجائیں لیکن بدقسمتی سے بھارت میں انتہا پسند اور آرایس ایس نظریاتی پارٹی برسراقتدار ہے اور آرایس ایس نظریےکےماننےوالے ہندوبالادستی پریقین رکھتےہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نسل پرستانہ برتری کے خطرناک نظریہ پر عمل پیرا ہے اور وہاں جرمن نازی کی طرح ہندوتوا نظریہ جڑیں پکڑ رہا ہے اور  ہندو توا نظریہ مسلمان اور دیگر اقلیتوں کے لیے خطرہ ہے، مقبوضہ کشمیر میں 100 روز سے کرفیو نافذ ہے لیکن مودی حکومت طاقت کے زور پر کشمیریوں کو نہیں دبا سکتی اور مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار ترقی بھی ممکن نہیں۔

پورا ملک قرضوں میں گروی رکھنے والے اپنا محل گروی رکھنے کوتیار نہیں، فردوس عاشق

اسلام آباد: فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ پورا ملک قرضوں میں گروی رکھنے والے اپنا محل گروی رکھنے کو تیار نہیں ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت نے نوازشریف کی صحت کو شٹل کاک نہیں بنایا، شریف خاندان نے نوازشریف کی صحت کو فٹ بال بنا دیا ہے، صرف بہتان اورالزام تراشی سے کام نہیں چلے گا، وزیراعظم نے بدترین الزام تراشیوں پرکان نہ دھرے اور بیمار کو سہولت دی۔

معاون خصوصی نے کہا کہ (ن) لیگ اپنے گریبان میں جھانکے آپ اللہ کی پکڑ میں ہیں، عزت اور ذلت بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے،  (ن) لیگ کا بیانیہ ذاتی مفادات سے جڑا ہوا ہے، جن لوگوں کے لیے شریف خاندان نے پاپ کمائے وہ بچے بھی ضمانت دینے کو تیار نہیں، شریف خاندان نے نوازشریف کو جاتی امرا میں اغوا کیا ہوا ہے

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ احتساب کا عمل یرغمال بنانے کے لیے وزیراعظم کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے، حکومت سے طویل مشاورتوں میں (ن) لیگ کے نمائندے بھی شامل تھے، حکومت نے انسانی ہمدردی پر ون ٹائم فیور کا فیصلہ کیا اور (ن) لیگ جسے تاوان کہہ رہی وہ عدالتوں کی طرف سے جرمانے ہیں۔ انہوں نے شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تاوان اغوا کار طلب کرتے ہیں سہولت کار نہیں، عوام آپ کے جھانسےمیں نہیں آئیں گے۔

جے یو آئی کا پلان بی؛ کے پی کے میں شاہراہ ریشم سمیت 4 اہم شاہراہیں بند

پشاور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے تحت ملک بھر میں اہم شاہراؤں کو بند کرکے دھرنا دیا گیا، جے یو آئی نے کے پی کے میں شاہراہ ریشم سمیت چار اہم شاہراہیں بند کردیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے جمعیت علماء اسلام (ف) نے اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کی مدد کے بغیر ہی پلان بی کا آغازکردیا۔

JUI Protest at KPK 2

منصوبے کے تحت خیبرپختونخوا کے چار مقامات حکیم آباد نوشہرہ کے مقام پر جی ٹی روڈ، بنوں میں انڈس ہائی وے، چکدرہ کے مقام پر شمالی علاقہ جات کی مرکزی شاہراہ اور چھتر پلین مانسہرہ کے مقام پر شاہراہ ریشم کو دھرنے اور احتجاج کے لیے ہرقسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔

JUI Protest at KPK 4

اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملک کا کوئی طبقہ خوش نہیں، عوام کا جینا محال ہوچکا ہے اور لوگ خود کشیوں پرمجبور ہوگئے ہیں، پورا ملک پی ٹی آئی حکومت کے خلاف  سڑکوں پر نکلا ہوا ہے، پلان بی کے تحت ہمارا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک عمران خان اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہوجاتے۔

JUI Protest at KPK 5

جے یو آئی (ف) کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات نہیں مانے تو پلان سی پر عمل درآمد شروع کردیں گے جو اس سے بھی زیادہ سخت ہوگا اور تمام تر ذمہ داری حکومت پرعائد ہوگی۔

JUI Protest at KPK 3

JUI Protest at KPK

 

اسحاق ڈار کے خلاف جاری تحقیقات میں 50 کروڑ روپے کی رقم برآمد کی، چیئرمین نیب

لاہور: چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ اسحاق ڈار کے خلاف جاری تحقیقات میں نیب لاہور نے 50 کروڑ روپے کی رقم ملزم کے بینک  سے برآمد کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے حوالے کی۔

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے نیب لاہور کا دورہ کیا جہاں ڈائریکٹر جنرل نیب شہزاد سلیم کی جانب سے انہیں میگا کرپشن کے مقدمات جن میں سابق وزیر اعلی پنجاب ملزم شہباز شریف ملزم حمزہ شہباز ملزم  سلمان شہباز ودیگر کیخلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی تحقیقات پر بریفنگ دی گئی۔

چیئرمین نیب کو چودھری شوگر مل کیس میں ملزم میاں نوازشریف مریم نواز شریف، ملزم یوسف عباس اور ملزم عبدالعزیز کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ، پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کیس میں ملزم اکرام نوید کے خلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی تحقیقات پیش رفت کے حوالے سے بتایا گیا۔

ڈائریکٹر جنرل نیب نے شہباز شریف کے داماد ملزم عمران علی یوسف کے خلاف تحقیقات، سابق وزیر خزانہ ملزم اسحاق ڈار کے خلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے کیس کی تحقیقات، نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف رائیونڈ روڈ کی توسیع میں مبینہ طور پر اختیارات کے غیر قانونی استعمال کے خلاف جاری تحقیقات، نواز شریف کے خلاف ایل ڈی اے میں  پلاٹوں کی مبینہ غیرقانونی تقسیم کے کیس کی انکوائری کے علاوہ دیگر میگا کرپشن کیس میں ہونے والی پیش رفت پر بریفنگ دی۔

اس موقع پر چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند ماہ میں نیب 71 ارب روپے  کی رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جس میں بڑا کردار نیب لاہور کا ہے، سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف جاری تحقیقات میں نیب لاہور نے 50 کروڑ روپے کی رقم ملزم کے بینک  سے برآمد کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے حوالے کیں جب کہ گلبرگ میں کروڑوں روپے مالیت کا 4 کنال کا گھر بھی حکومت پنجاب کے حوالے کیا جا رہا ہے جسے فروخت کر کے وصول ہونے والی مکمل رقم قومی خزانے میں جمع کروائی جائے گی، چیئرمین پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کے سابق چیف فنانشل آفیسر ملزم سے ایک ارب روپے مالیت کے جائیداد برآمد کرکے حکومت پنجاب اور ایرا حکام کے حوالے کی ہیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کے مقدمات کی تحقیقات انتہائی اہم ہوتی ہے، نیب کے افسران کی وابستگی کسی سیاسی جماعت یا گروہ کے ساتھ  نہیں بلکہ ان کا مقصد صرف اور صرف ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہے جسے وہ اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ میگا کرپشن مقدمات میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، جن کیسوں میں شہادت موجود ہیں وہاں ٹھوس اور مضبوط کیسے بنائے جائیں تاکہ عدالتوں میں قانون کے مطابق پیروی کی جا سکے، ہر شخص کی عزت نفس کا خیال کیا جائے۔

نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت، گو مگو کا شکار

حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو انسانی اور صحت کی بنیادوں پر بیرون ملک جانے کی اجازت دے کر ایک اچھی اور جمہوری روایت قائم کی ہے تاہم اس سلسلے میں شورٹی بانڈ بنیادی رکاوٹ ہے ۔ جب تک نواز شریف وہ نہیں فراہم کریں گے اس وقت تک وہ بیرون ملک نہیں جاسکتے ۔ ن لیگ نے اس سلسلے میں عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ہم یہاں کہتے ہیں کہ جان ہے توجہان ہے ۔ یہ دنیا کا جاوحشمت یہیں رہ جانا ہے یہ جتنے بھی میلے ہیں سب زندگی سے منسوب ہیں ۔ حکومتی اقدام سے ن لیگ اور خصوصی طورپر نواز شریف کو مستفید ہونا چاہیے اور اس حوالے سے جو شرائط عائد ہیں ان کو پورا کرکے ہی بیرونی دنیا کا رخت سفر باندھا جاسکتا ہے ۔ حکومت کہتی ہے کہ وہ آئینی اور قانونی طور پر شورٹی بانڈ لے سکتی ہے جبکہ ن لیگ اس کی مخالف ہے ۔ ماضی کے جھرونکے میں جھانکا جائے اور جو بھی سیاسی راہنما باہر گئے پھر وہ وطن واپس نہیں آئے انہیں واپس لانے کیلئے حکومت کو بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں لیکن پھر بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوتی ۔ بہت دور کی بات نہیں اسحاق ڈار جوکہ ن لیگ کے وزیر خزانہ تھے انہیں حکومت نے وطن واپس لانے کیلئے کیا جتن نہیں کیے ۔ مگر نتاءج زیرو ہیں ۔ اسی وجہ سے حکومت نے شورٹی بانڈ کی شرط عائد کی ہے ۔ حکومت کے مطابق چونکہ کیس کرپشن کا ہے اور عوام کی دولت لوٹی گئی ہے لہذا سکی واپسی ہر صورت لازمی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا کہ وہ کیونکر معاف کرسکتے ہیں ۔ یہ اختیار صرف عوام کو حاصل ہے کیونکہ لوٹی عوام کی دولت گئی ہے بلکہ یہ شورٹی بانڈ کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر ہونا چاہیے کہ کوئی بھی کسی بھی مقدمے میں ملوث شخص چاہے اس کا تعلق سیاست سے ہو یا زندگی کے کسی شعبے سے ہو وہ ہر صورت شورٹی بانڈ بھرے ۔ پھر المیہ یہ ہے کہ ان حکمرانوں نے ملک میں کوئی ایسا ہسپتال نہیں بنایا جہاں ان کا علاج معالجہ ممکن ہو سکے، عوام بیچارے تو ان ہی ہسپتالوں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے رہے ہیں پھر یہ سیاسی راہنما کیوں علاج کیلئے باہر جاتے ہیں ۔ بیرون ملک علاج کا سلسلہ ہی ختم ہونا چاہیے ۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو حکومت کی جانب سے عائد شرائط درست اور حقائق پر مبنی ہیں ۔ وزارت داخلہ نے نوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کو 4 ہفتوں کیلئے ایک بار بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دے دی گئی ہے اور یہ فیصلہ نواز شریف کی صحت کی تشویش ناک صورت حال کے باعث کیا گیا ہے ۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری میمورنڈم میں 80 لاکھ پاوَنڈ، 2 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر، 1;46;5 ارب روپے جمع کرانے کی شرط رکھی گئی ہے، نوازشریف یا شہبازشریف وزار ت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری کو شورٹی بانڈ جمع کرواسکتے ہیں ، جبکہ نوازشریف روانگی کی تاریخ سے چار ہفتوں کا میڈیکل ٹریٹمنٹ کروا سکیں گے ۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ

حکومت کو کسی بھی سزایافتہ مجرم سے ضمانت اور سیکیورٹی بانڈ لینے کا حق حاصل ہے، نواز شریف کو شیورٹی بانڈ دینا ہوگا، حکومت شرائط کے ساتھ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ جاری کرے گی، باقی ان کی مرضی ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ اگر دوران علاج نواز شریف کی طبیعت بہتر نہیں ہوتی تو انہیں ملنے والی مدت میں توسیع ہوسکتی ہے ۔ ماضی میں کچھ لوگ بیرون ملک گئے اور واپس نہیں آئے، کیا ضمانت ہے کہ نواز شریف وطن واپس آئیں گے;238; ہم سے سوال ہوسکتا ہے کہ جانے کی اجازت دی تو کیا کوئی ضمانت بھی لی ۔ دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف نے حکومت کی جانب سے 7 ارب روپے کے سیکیورٹی بانڈ جمع کرانے کی شرط پر بیرون ملک جانے سے انکار کردیا ہے، انہوں نے اپنے اس فیصلے سے شہباز شریف کو بھی آگاہ کردیا ہے ۔ اس فیصلے کے بعد ن لیگ کو بھی چاہیے کہ وہ کوئی ایک ایسا درمیانہ راستہ نکالے جس سے ملک میں سیاسی انارکی نہ پھیلے ۔ اس وقت نواز شریف کی صحت اور ان کا علاج ترجیحی بنیادوں پر ہونا لازمی ہے، جب حکومت نے ایک سہولت فراہم کی ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا ن لیگ پر منحصر ہے ۔ اب بال ن لیگ کے کورٹ میں ہے کیونکہ کوئی بھی غلط فیصلہ کسی بھی بڑے سانحہ کا سبب بن سکتا ہے جس سے ملکی سیاسی حالات خراب ہوسکتے ہیں ۔ دیگر سیاسی رہنماءوں کو بھی ن لیگ کو اس امر پر قائل کرنا چاہیے کہ وہ دنیاوی دولت سے زیادہ نواز شریف کی صحت اور ان کی جان کو ترجیح دیں ۔ شورٹی بانڈ تو ایک ضمانت ہے جب نواز شریف نے ملک واپس ہی آنا ہے تو پھر کس بات کے تحفظات ہیں ۔

مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اسلام آباد سے دھرنا ختم کرنا خوش آئند اقدام

وفاقی دارالحکومت سے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے دھرنا ختم کرنا احسن اقدام ہے ۔ سردی کی شدت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے تقریباً لوگ آہستہ آہستہ روانہ ہورہے تھے ۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے فضل الرحمن نے یہ ہی بہتر سمجھا کہ دھرنے کو ختم کرکے اسے ملک بھر میں پھیلا دیا جائے ۔ اس طرح فیس سیونگ بھی مل جائے گی اور یہ بات بھی و جائے گی کہ اب احتجاج ملک بھر ہوگا لیکن درحقیقت بات یہ ہے کہ اس آزادی مارچ اور دھرنے میں جے یو آئی (ف) تنہا کھڑی نظر آئی ۔ ملک کی دونوں بڑی جماعتیں جن میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی شامل ہیں وہ اس دھرنے میں شامل نہیں ہوئیں ۔ اس وجہ سے بھی دھرنے کا ختم ہونا ہی بہتر تھا ۔ تاہم ایک بات ضرور ہے کہ اسلام آباد میں چودہ روز رہنے والا دھرنا انتہائی آرگنائز تھا، کسی قسم کی توڑ پھوڑ نہیں کی گئی ۔ کوئی ناچ گانا نہیں تھا ۔ اور نہ ہی لوگ ڈی چوک کی جانب بڑھے ۔ اس اعتبار سے ان کو داد بھی دینی چاہیے ۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پشاور موڑ دھرنا ختم کرتے ہوئے پلان بی کا اعلان کردیاہے اور کہاہے کہ ملک بھر کی اہم شاہرائیں بند کردی جائیں گی،کشمیری عوام کے ساتھ ہیں ، پرامن دھرنے سے تاریخ رقم کی ہے، پرامن جدوجہد جاری رہے گی ،حکومت نوازشریف کی بیرون ملک روانگی میں رکاوٹیں ڈال کر ظالمانہ اور بدنیتی پر مبنی رویہ اختیار کررہی ہے جس کی مذمت کرتے ہیں ۔ حکومتی حلقوں میں خیال تھا اجتماع اٹھے گاتو حکومت کے لئے آسانیاں ہوجائیں گی لیکن گلی گلی احتجاج کے اعلان سے صوبوں اورضلعوں میں حکومت کی چولیں ہل گئی ہیں ۔ کارکن گھروں سے نکل آئیں ،احتجاج ہمارا حق ہے ،عرصہ دراز سے ڈاکٹرعافیہ کوامریکہ نے قید کیا ہوا ہے لیکن ہمارے حکمران خاموش ہیں ،کشمیریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں ۔

روزنیوز کے پروگرام سچی بات میں ایس کے نیازی کے اہم ترین انکشافات

پاکستان گروپ آف نیوزپیپرز اورروز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے معروف پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں ملک کی تازہ ترین صورتحال پر تجزیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف گیا ، مریم چلی جائے گی مگر پنجاب بھی تحریک انصاف سے چلا گیا ، انہوں نے پیشن گوئی کی کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر چوہدری پرویز الٰہی کے امکانات زیادہ جبکہ شہباز شریف کا چانس بھی موجود ہے ، ایس کے نیازی نے کہاکہ عثمان بزدار ایک اچھا آدمی ہے ، نوازشریف کےلئے سات ارب کی کیا اہمیت ہے ، ان کاباہرجانا یقینا ڈیل کا نتیجہ ہے لیکن یہ این آر او نہیں ہے ، قانون میں کسی ایسی بیماری کی صورت میں جس کا علاج ملک میں ممکن نہیں باہر جانے کی اجازت مل جایا کرتی ہے ، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری جیلوں میں ایسی ایسی بیماریوں والے لوگ پڑے ہوئے ہیں جن کا علاج یہاں ممکن نہیں ، ایس کے نیازی نے کہا نواز شریف نے دس ارب کی ڈیل کر لی مگر زرداری کچھ دینا نہیں چاہتے ۔

پیرِ مغاں ہے مردِ خلیق

آج ہم عشق رسول ;248; کے بہت بڑے داعی اور محبت رسول کے قولی دعویدار بنے ہوئے ہیں اور حقیقی اور عملی محبت سے کوسوں دور ہیں ۔ گزشتہ روز پورے پاکستان میں عید میلاد النبی کے حوالے سے پُر شکوہ تقریبات کا انعقاد سرکاری اور غیر سرکاری ہر سطح پر ہوا جس میں ہم نے شہروں کے شہروں کو اور پاکستان کے ہر صوبے کو، قصبوں اور گاءوں کے کوچہ و بازار کو دلہن کی طرح سجا دیا، بام و در پر چراغاں ، بازاروں اور درختوں پر قمقموں کی لڑیاں اس طرح لٹکادیں جس طرح آسمان پر تارے جگمگاتے ہیں ۔ ہم نے یہ سارے ظاہری مصنوعی انداز اختیار کرکے تعلیمات نبوی;248; کی روشنی سے انحراف کیا ہے ۔ ریاست مدینہ کے خدو خال ظاہری سجاوٹوں اور بناوٹوں میں نہیں ہیں اور نہ ہی مسجد نبوی اور روضۃ النبی کے ماڈل تیار کرنے میں اسلامی فلاحی مملکت کا تصور سامنے آتا ہے ۔ آج ریاست مدینہ اور اسلامی فلاحی مملکت کا تصور تعلیمات نبوی کی روشنی میں ایک روزہ کانفرنس میں مصر، ایران، عرب و عجم سے ممتاز علمائے اکرام دانشور، موَرخ ، محقق اور مقالہ نگاروں کی شرکت نے حقیقی تصور ریاست مدینہ کے خدوخال پیش کئے یہ وہ علمائے اکرام تھے جو علمی حلقوں میں بے پناہ قدر منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف الرحمان علوی، وزیر اعظم پاکستان عمران خان، وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر پیرنورالحق قادری مسلم ہینڈز انٹرنیشنل کے سربراہ فضیلت مآب پیرسید لخت حسنین شاہ نے اس موقع پر حکمرانوں کے اوصاف بیان کیے کہ نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو کی مثال اور صلح و جنگ میں مثالی شخصیت کا مالک ہو ۔ جس کی امیدیں قلیل اور مقاصد جلیل ہوں جو فقر میں غنی اور امیری میں فقیر ہو، بوقت تنگ دستی خود دارو غیور اور بوقت فراغ کریم و حلیم ہو جو عزت کی موت کو ذلت کی زندگی پر ترجیح دیتا ہو ۔ ایسے اوصافِ حمیدہ کے مالک راہنما ہی آنے والی نسلوں کی فصلوں کو شاداب کر سکتے ہیں ۔ پیر مکرم حضرت سید لخت حسنین نے اسلوب حکمرانی کے گُر بتاتے ہوئے انتہائی بلیغ اشاروں میں تفصیل پر اختصار کو ترجیح دی ۔ ریاست مدینہ کے امیر، رہبر و راہنما کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے عمر بن عبدالعزیز کی مثال پیش کی ۔ نوجوان ملنے کےلئے آئے تو اس کے ساتھ کون سا انداز و اسلوب اپنانا ہے کہ وہ آپ کا گرویدہ ہوجائے ۔ بوڑھوں کو محسوس ہو کہ یہ حاکم نہیں بلکہ ہماری اولاد ہے اور ایک سعادت مند بیٹا ہے اور حاکم وقت بوڑھوں کی اپنے والد کی طرح تعظیم کرے اور بچوں سے شفیق اور بہت زیادہ مہربان بن کر اولاد کی طرح سلوک کرے ۔ غریب رعایا کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھے اوراُن کی طرف زیادہ متوجہ رہے ۔ ریاست مدینہ کے سربراہ کا یہی طرز واسلو ب تھا کہ غریب صحابہ کادل نہ ٹوٹے کیونکہ دلوں میں اللہ رہتا ہے ۔ اے میرے نبی یہ تیرے غریب صحابہ ہیں ان سے آپ کا رخ نہیں بدلنا چاہئے ۔ ایک اچھے راہنما کی حیثیت سے پیر سید لخت حسنین شاہ کاخطاب وزیر اعظم عمران خان کےلئے شاندار تھا کیونکہ سیاستدان اور راہنما میں یہی تو فرق ہوتا ہے کہ سیاست دان صرف آنے والے انتخابات کے بارے میں اور راہنما آنے والی نسلوں کی فصلوں کو شاداب کرتا ہے ۔ جب تک ہمارے واعظ، ہمارے خطیب، ہمارے اہل قلم ، ہمارے دانشور، ہمارے علما، ہمارے حکمران، ہمارے فقہا اور حکمران اسلام کو لوگوں کی زندگی میں نہیں اتارتے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک معاشرہ میں معاش و اقتصاد کے نظام کا استحصال موجود ہے ۔ بقول آغا شورش کاشمیری کے اس وقت تک جو لوگ سیرت النبی کی آڑ لے کر خطابت یا خیرات کے میدانوں میں چوکڑی بھر رہے ہیں وہ سیرت النبی کے اتباع میں کبھی بھی مخلص نہیں ہوسکتے کیونکہ روح اسلام کو جتنا گزند سرمایہ داری کے ہاتھوں پہنچاہے یا جن لوگوں نے اسلام میں ملوکیت کی بنیاد رکھی ان کے ہاتھوں قرآن و سنت کی جو اہانت ہوئی اور کسی کے ہاتھوں یہ سانحہ نہیں بیتا ہے جو لوگ معاشرہ کی اصل برائی پر ہاتھ نہیں ڈالتے وہ بنیادی طور پر کسی مرض کو دور نہیں کرسکتے ۔ نسل انسانی اس کو تسلیم کرتے ہوئے ہچکچائے گی کہ سامراج کا ایک کل پرزہ جو لاکھوں انسانوں کی محنت پر قابض ہے وہ صرف اس لئے ممدوح و محترم ہوجائے کہ وہ لوٹی ہوئی دولت یا ہتھیائی ہوئی محنت میں سے زکوٰۃ دیتا ہے خیرات کرتا ہے عام لوگوں میں سخی کہلاتا ہے نیاز، نذر بانٹتا ہے، مسجدیں بناتا ہے، چراغاں کرتا ہے، تبرک لٹاتا ہے ، اپنے دسترخوان پر واعظوں اور خطیبوں کو کھانے کھلاتا ہے اس کی وسیع دولت میں سے ایک آدھ طالب علم کو وظیفہ اور ایک آدھ بیوہ کو ماہانہ بھی ملتا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ جس معاشرے کے ہم فرد ہیں اس میں لوگ بھوکے کیوں ہیں ، بیمار بے دوا کیوں ہے ، بچوں کو تعلیم کیوں نہیں ملتی، لوگ ننگے ہیں تو کیوں ہیں ;238;سب کے لئے مکان کیوں نہیں ، دولت چند خاندانوں کا ہی حصہ کیوں ہے، مرید فاقہ مست ہے پیر جام بدست اس کے ہاں روشنی، اس کے ہاں اندھیرا، جس معاشرے میں آنکھوں کے چراغ بجھ رہے ہوں ، جہاں دل ٹوٹ گئے ہوں ، زبانیں تشنہ ہوں ، پیٹ گر سنہ، جسم برہنہ، اولاد نا خواندہ وہاں سیرت فروشی یا بازاروں کی مینا کاری کوئی رونق پیدا نہیں کرسکتی ۔ معاف کیجئے یہ اتباعِ رسول نہیں او رنہ عشقِ رسول ہے یہ ظواہر کی نمائش ہے ۔ آج سنت رسول اور ریاست مدینہ کے خدو خال کی معراج یہ ہے کہ ہم اس معاشرہ کو تہس نہس کر دیں جس میں انسان مادی ضرورتوں کا غلام ہوگیا ہے اور سیرت رسول انسانی دلوں میں جگہ پیدا کرنے کی بجائے واعظوں کی زبانوں پر آگئی ہے یا اس کا اظہار بازاروں کی سجاوٹوں کا طغریٰ ہوگیا ہے ۔ ہمارے نزدیک یہ سیرت کی پیروی نہیں سوداگری ہے ۔ سیرت کی پیروی اور اس کا فلسفہ پیر سید لخت حسنین شاہ نے اپنی انتہائی مختصر تقریر میں اسلوب حکمرانی کے انداز اس طرح اپنا کر جس طرح ریاستِ مدینہ کے والی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے مسکینوں ، یتیموں اور بے سہاروں کو جد انہیں ہونے دیا اور کمزوروں اور لاچاروں کو وہ تقویت ملی کہ وہ پکار اٹھے کہ ہم اس دنیا میں تنہا نہیں ہیں اللہ کا نبی ;248; حکمران ہمارے ساتھ ہیں ۔ سید لخت حسنین شاہ نے اپنی تقریر میں آگے چل کر بتایا کہ حضرت عمر بن عبدلعزیز ;230; خلیفہ بنے تو انہوں نے علمائے اکرام کو بلایا اور اُن کی مشاورت حاصل کی کہ میں حکمران تو بن گیاہوں مجھے طریقہ بتاءو کہ میں نے کیسے حکمرانی کے انداز اختیار کرنے ہیں تو علمائے اکرام نے خلیفہ کو بتایا جس کا تذکرہ شاہ جی نے پہلے کر دیا ہے کہ بچوں جوانوں اور بوڑھوں کے ساتھ ملتے وقت رشتوں کی تعظیم بدل جائے گی ۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف الرحمن علوی وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور مذہبی امور کے وزیر پیر نورالحق قادری نے بجا طور پر کہا ہے کہ 70سالوں میں کسی بھی حکمران نے ریاست مدینہ کی بات نہیں کی ہے اور نہ ہی ریاست مدینہ کا تصور پیش کیا ہے ۔ ریاست مدینہ کے خدوخال تو علمائے اکرام ہی بتائیں گے ۔ فلاحی ریاست کا تصور عمران خان کا وژن ضرور ہے مگر جس انداز میں حکمرانی کی فرمانروائی سید لخت حسنین شاہ نے بتائی ہے ۔ ریاست مدینہ کی حقیقی روح ہے ۔ ریاست مدینہ میں لنگر خانے نہیں ہوتے یتیموں ، مسکینوں ، کمزوروں اور بے سہاروں کا مستقل سامان پرورش ہوتاہے ۔ طعام المسکین کا ہم نے بہت آسان مفہوم لے لیا ہے اور مسکین کے معانی دو وقت کی روٹی سے محروم کسی انسان کا تصور کر لیا ہے ۔ مسکین وہ ہوتا ہے جس کا کاروبار حیات ساکن ہوجائے اس کے کاروبارِ حیات کو رواں دواں کرنا ریاست مدینہ کی ذمہ داری ہے اس وقت کتنی ہی صنعتیں بند ہورہی ہیں اور وہاں کام کرنے والوں کو نکالا جارہا ہے ۔ ریاست مدینہ بے روزگاروں کو روزگار اور بے سہاروں کو سہارادیتی ہے اور ان کے ہاتھوں میں ہنر اور دماغ میں علم کی روشنی فراہم کرتی ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے قرآن حکیم کی روشنی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک قوم خود اپنے آپ کو نہیں بدلے گی اُس وقت تک انقلاب نہیں آسکتا اور جس تبدیلی کی خواہش اور آرزو 21 کروڑ انسانوں کے دلوں میں جاگ اٹھے گی وہ تبدیلی کا سال ہوگا ۔

خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جسے خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

وزیر مذہبی امور ڈاکٹر پیر نورالحق قادری نے اپنے استقبالیہ کلمات میں علامہ اقبال کے اشعار کا بر محل استعمال کرکے خوب داد لی اور 12 ربیع الاول کی خوشی میں خوبصورت پیغام دیا ۔

ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو

چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو

یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو

بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو

خیمہَ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے

نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

پیر سید لخت حسنین شاہ نے آخر میں علامہ اقبال کے اس شعر پر اپنی تقریر کا اختتام کیا

ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں

فقط یہ بات کہ پیرِ مغاں ہے مردِ خلیق

Google Analytics Alternative