Home » Author Archives: Admin (page 20)

Author Archives: Admin

شریف خاندان نے دولت کی لالچ میں پاکستان کو بدنام کردیا، فردوس عاشق اعوان

سیالکوٹ: معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ شریف خاندان نے دولت کی لالچ میں پاکستان کو بدنام کردیا۔

سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کے دوران فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان کےعوام کے حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں، ان کا پاکستان کا قوم سے وعدہ ہے کہ وہ دنیا بھر میں سبز پاسپورٹ کی عزت کروائیں گے، وہ یکساں احتساب کی بات کرتے ہیں اور ایک خاندان نے پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کا ٹھیکہ اٹھایا ہوا ہے، یہ لوگ برطانیہ کو بھی چونا لگانے سے بازنہیں آئے، اس خاندان نے زلزلہ متاثرین کے لیے برطانوی امداد پر بھی ہاتھ صاف کیا، شریف خاندان نے دولت کی لالچ میں پاکستان کو بدنام کردیا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حدیبیہ پیپر مل سے شروع ہونے والی منی لانڈرنگ کی واردات اب ٹی ٹی تک جا پہنچی ہے شہباز شریف انگلی ہلاہلا کرخود کو کرپشن سے پاک بیان کرتے تھے، اب شریف خاندان کی کرپشن عالمی ادارے سامنے لائے ہیں اور ان کا پاکستانی حکومت سے تعلق نہیں، برطانوی اخبار کی رپورٹ نے تمام پاکستانیوں کے سرشرم سے جھکا دیے ہیں۔ برطانوی اخبارات میں ایک ایک لفظ کی چھان بین کے بعد رپورٹ شائع کی جاتی ہے، مریم صفدر اب اسے حکومت کی انتقامی کارروائی نہیں کہہ سکیں گی۔
معاون خصوصی نے کہا کہ مافیا پہلے کرپشن سے پیسے بناتا ہے پھر بلیک میلنگ کرکے اداروں کو بدنام کرتاہے، ادارے بدنام نہیں ہوتے تو کرپشن کا سہارا لیا جاتا ہے، برطانوی اخبار کی اسٹوری نے سارے پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دیے، شریف خاندان کی کارستانیاں اسٹوری میں سامنے آگئی ہیں۔ برطانوی اخبار کی خبر شریف خاندان کےخلاف ایک ٹریلر ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مشعل اوباما نے تعلیم کے فروغ کےلیے مریم صفدر کو فنڈز دیئے لیکن جن کو رہبر سمجھا گیا وہ رہزن ثابت ہوئے، عوام کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ اس ٹولے کا اپنی جائیداد کے تحفظ کے علاوہ عوام سے کوئی سروکار نہیں۔ دو سیاسی اداکار سیاسی تھیٹر لگاتے ہیں جن کی بات گھر والے بھی نہیں مانتے۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ تجارت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، حکومت آج بھی تاجروں کو سینے سے لگانے کے لیے تیارہے، تجارت کی آڑ میں سیاست نہیں ہونی چاہیے، تاجر تنظیموں سے کہتی ہوں کسی کے ذاتی مفادات کا حصہ نہ بنیں، حکومت کا بازو بن کر ملک کو مشکلات سے نکالیں، ملک اصلاحات کے بغیر نہیں چل سکتا۔

شاہد کپور نے سلمان خان کو پیچھے چھوڑ دیا

ممبئی: بالی ووڈ اداکار شاہد کپور کی فلم ’’کبیر سنگھ‘‘ رواں سال سب سے زیادہ کمائی کرنے کے ساتھ 5 ریکارڈز بنانے میں کامیاب ہوگئی۔

سال 2019 بالی ووڈ اداکار شاہد کپور کے لیے بہت اچھا ثابت ہوا ہے۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والی ان کی فلم ’’کبیر سنگھ‘‘ رواں برس کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندی فلم بن گئی ہے۔ ترن آدرش کے مطابق فلم  ریلیز کے صرف 24 روز (3 ہفتوں) میں 255 کروڑ 89 لاکھ روپے کماکر بلاک بسٹر ثابت ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی  فلم نے ریلیز کے محض 3 ہفتوں میں 5 ریکارڈز بنالیے ہیں۔

ہندی سینما کی 10 سب سے زیادہ بزنس کرنیوالی فلموں میں شامل

ہندی سینما میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلموں میں ’’کبیر سنگھ‘‘ دسویں نمبر پر شامل ہوگئی ہے۔ سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلموں میں باہوبلی2،  511 کروڑ کے ساتھ پہلے نمبر پر، دنگل 387 کروڑ کے ساتھ دوسرے، سنجو 342 کروڑکے ساتھ تیسرے، پی کے 340 کروڑ کے ساتھ چوتھے، ٹائیگر زندہ ہے 339 کروڑ کے ساتھ پانچویں، بجرنگی بھائی جان 320 کروڑ کے ساتھ چھٹے، پدماوت 302 کروڑ کےساتھ ساتویں، سلطان 300 کروڑ کے ساتھ آٹھویں، دھوم3، 284 کروڑ کے ساتھ نویں اور کبیر سنگھ 255 کروڑ کے ساتھ دسویں نمبر پر ہے۔

شاہد کپور کی پہلی سولو سپر ہٹ فلم

شاہد کپور کے کیریئر کی اب تک کی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’’پدماوت‘‘ تھی لیکن اس فلم میں اداکار رنویر سنگھ بھی شامل تھے۔ تاہم ’’کبیر سنگھ‘‘ شاہد کپور کے کیریئر کی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی پہلی سولو سپر ہٹ فلم بن گئی ہے۔

آسٹریلیا میں سب سے زیادہ کمائی کرنیوالی فلم

کبیر سنگھ جہاں بھارت میں کمائی کے نئے ریکارڈ بنارہی ہے وہیں آسٹریلیا میں بھی یہ فلم سب سے زیادہ بزنس کرنے والی بالی ووڈ فلم بن گئی ہے۔ آسٹریلیا میں ’’کبیر سنگھ‘‘ نے گلی بوائے، اڑی، بھارت، اورساؤتھ انڈین فلم پیٹا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

2019 کی  دوسری سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندی فلم

شاہد کپور اور کیارا ایڈوانی کی’’کبیرسنگھ‘‘ بھارتی باکس آفس پر 2019 کی اب تک کی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی دوسری فلم بن گئی ہے اس سے آگے ہالی ووڈ فلم ’’اوینجرز؛ اینڈ گیم‘‘ ہے جس نے بھارت میں 373 کروڑ سے زائد کا بزنس کیا ہے۔

سب سے جلدی 200 کروڑ کمانے والی فلم

فلم ’’کبیر سنگھ‘‘ نے ریلیز کے محض 13 دنوں میں 200 کروڑ کماکرجہاں نیا ریکارڈ قائم کیا وہیں سلمان خان کی فلم ’’بھارت‘‘ کا ریکارڈ توڑ دیا جس نے ریلیز کے 14 دنوں میں 200 کروڑ کا بزنس کیا تھا۔

کلبھوشن یادو اور عالمی ’’انصاف‘‘ ۔۔۔ !!

مبصرین کے مطابق بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کے اندر ریشہ دوانیوں کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے، اس کی ایک طویل تاریخ ہے اور انہی مکروہ سازشوں کے ذریعے وطنِ عزیز کو دو لخت بھی کیا جا چکا ہے ۔ جس کا اعتراف آٹھ جون 2015 کو مودی نے اپنے دورہ بنگلہ دیش کے دوران کھلے عام کیا تھا ۔ اس کے علاوہ سابق ہندوستانی وزیر دفاع اور گوا کے آنجہانی وزیر اعلیٰ’’منوہر پریارکر‘‘ بھی کہہ چکے تھے کہ بھارت پاکستان کے متعلق کانٹے سے کانٹا نکالنے والی پالیسی اپنائے ہوئے ہے اور اس کو جاری رکھے گا ۔ بہر کیف ان تمام سازشوں کے باوجود ہندوستان عالمی برادری کے سامنے خود کو معصوم اور دودھ سے دھلا قرار دیتا نہیں تھکتا اور دنیا کے اکثر ملک بھی نہ صرف دہلی کے ان دعووں پر یقین کرتے ہیں بلکہ اپنے گناہ چھپانے کی اس بھارتی روش کی تائید اور حمایت بھی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ مگر بالآخر سچ کو تو سامنے آنا ہی ہوتا ہے تبھی ’’را‘‘ کا حاضر سروس افسر ’’کل بھوشن یادو‘‘ سوا 3 برس قبل بلوچستان میں گرفتار کر لیا گیا ۔ موصوف نے دورانِ تفتیش اپنی تمام کارستانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ انڈین نیوی میں کمانڈر کے عہدے پر فائز تھا ۔ یاد رہے کہ نیول کمانڈر کا منصب فوج کے لیفٹیننٹ کرنل کے مساوی ہوتا ہے ۔ انڈین نیوی میں اس کا سروس نمبر ’’41558‘‘ ہے اور وہ 16 اپریل 1970 کو پیدا ہوا اور 1991 میں اس نے بھارتی بحریہ میں کمیشن حاصل کیا ۔ کچھ عرصے بعد نیول انٹیلی جنس میں چلا گیا ۔ اس کی اچھی کارکردگی کی بنا پر اس کو را میں شامل کر لیا گیا اور پاکستان میں ’’کور ایجنٹ‘‘ کے طور پر کام کرنے کے لئے اسے منتخب کیا گیا، اس کا مسلمان نام ’’حسین مبارک پٹیل‘‘ رکھا گیا تھا ۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر اس کو نہ صرف اسلام کی بنیادی تعلیمات دی گئیں بلکہ جسمانی طور پر بھی مسلمان ظاہر کرنے کے لئے اس کے ختنے وغیرہ بھی کیے گئے تا کہ کسی بھی مرحلے پر اس کی ہندوانہ اصلیت ظاہر نہ ہو سکے ۔ اسی مسلمان نام پر اس کو پاسپورٹ جاری کیا گیا جس کا نمبر ’’ایل 9630722‘‘ ہے ۔ اور پھر اس کو بلوچستان سے متصل ایرانی ساحلی شہر ’’چاہ بہار‘‘ میں را نے جیولری کی دکان کھول کر دی لیکن اس کا اصل کام بلوچستان آ کر اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کراچی، بلوچستان میں علیحدگی پسند اور فرقہ وارانہ دہشتگردی کی وارداتیں انجام دینا تھا ۔ کئی برسوں سے وہ یہ سب کچھ کرتا آ رہا تھا ۔ وہ بلوچستان میں دہشتگردی کی مسلح تحریک کی ہر طرح سے سر پرستی کر رہا تھا اور اس ضمن میں کئی دوسرے غداروں کے علاوہ ’’حاجی بلوچ‘‘ نامی آدمی اس کا بڑا مہرہ تھا جس کے ذریعے وہ ’’مالی‘‘ اور ’’لاجسٹک‘‘ امداد دہشتگرد تنظیموں کو فراہم کرتا تھا ۔ وہ اسی حوالے سے کراچی میں داعش کے قیام کی کوشش بھی کر تا رہا اور سانحہ صفورا میں بھی پوری طرح ملوث تھا جس میں تقریباً پچاس نہتے شہری شہید ہو گئے تھے ۔ یوں اسے محض جاسوس قرار دینا صحیح نہیں کیونکہ وہ در حقیقت اپنی سر پرستی میں دہشتگردی کا پورا نیٹ ورک چلا رہا تھا ۔ جرمنی، امریکہ، روس، چین، فرانس اور برطانیہ سمیت سبھی عالمی قوتوں کو اس بابت پاکستان نے ٹھوس ثبوت بھی فراہم کر رکھے ہیں ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے غیر جانبدار حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ بھارتی خفیہ ادارے خصوصاً ’’را‘‘ اور ’’آئی بی‘‘ (انٹیلی جن بیورو) پاکستان کے خلاف براہ راست دہشتگردی میں ہمیشہ سے ملوث رہے ہیں ۔ تبھی تو چھبیس نومبر 2012 کو جب آلوک جوشی کو را کا سربراہ بنایا گیا تو اس حوالے سے جاری پریس ریلیز میں بھارت کے تمام ہندی اور انگریزی میڈیا میں نمایاں انداز سے یہ خبر شاءع ہوئی کہ آلوک جوشی کو اس منصب پر اس لئے فائز کیا گیا ہے کیونکہ اس کی نگرانی میں ’’را‘‘ نے بہت سے آپریشنز بلوچستان اور نیپال میں انجام دیئے ۔ 31 دسمبر 2015 کو ’’راجندر کھنہ‘‘ کو ’’را‘‘ کا سربراہ بنایا گیا ۔ موصوف بھی پاکستان اور پڑوسی ممالک میں دہشتگردی کے فروغ کے ماہر سمجھے جاتے تھے ۔ اس ضمن میں یہ امر زیادہ قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان سے متعلقہ را کے ٹارگٹ ایریا میں ایک ’’علیحدہ ’’بلوچی ڈیسک‘‘ بنایا گیا ۔ یوں بلا تردید کہا جا سکتا ہے کہ بلوچستان یا پاکستان کے دیگر علاقوں میں را کی سر گرمیاں محض ماضی قریب میں ہی شروع نہیں ہوئیں بلکہ اس سلسلے کی کڑیاں پچاس برس سے زیادہ عرصے پر پھیلی ہوئی ہیں ۔ یاد رہے کہ ستمبر 1968 میں را کا قیام عمل میں آیا تھا اور ا س کا پہلا سربراہ ’’رامیشور ناتھ کاؤ‘‘ تھا اور اسے سب سے پہلے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا مشن سونپا گیا تھا جسے اس نے کامیابی سے انجام دیا ۔ اور اس کے بعد’’را‘‘ نے سکم پر بھارتی قبضے کے علاوہ بھوٹان، نیپال، بنگلہ دیش میں بھی مسلح مداخلت کی روش اختیار کر لی ۔ اس کے ساتھ ساتھ kbj النگو‘‘ کو سری لنکا کے معاملات میں مداخلت کی وجہ سے ملک بدر کر دیا گیا ۔ بھارتی شورشوں کا یہ سلسلہ تا حال جاری ہے ۔ یہاں اس امر کا ذکر بھی شاید غیر اہم نہ ہو کہ ہندوستان کے موجودہ قومی سلامتی کے مشیر ’’اجیت ڈووال‘‘ بھی ’’کل بھوشن یادو‘‘ کی مانند 1980 سے 1988 تک مختلف بہروپ میں لاہور اور اسلام آباد میں ’’کام‘‘ کرتے رہے ۔ بعد میں ان کو انڈین انٹیلی جنس بیورو کا سربراہ مقرر کیا گیا جہاں وہ جنوری 2005 تک اس عہدے پر فائز رہے ۔ اس کے علاوہ سمجھوتہ ایکسپریس دہشتگردی میں انڈین آرمی کے حاضر سروس کرنل پروہت اور ’’میجر اپادھیا‘‘ کا کردار بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ ۔ گذشتہ عرصے سے اس بابت ہندو ستانی میڈیا نے جس طرح چپ سادھ رکھی ہے، اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کا میڈیا کس حد تک آزاد ہے وگرنہ یہی صورتحال اگر پاکستان میں در پیش ہوتی تو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے اب تلک کلبھوشن یادو کے گھر کے ایڈریس پر جا کر اس کا پورا شجرہ نسب کھنگال ڈالا ہوتا ۔

واٹس ایپ میں جلد متعارف ہونے والے 5 بہترین فیچرز

واٹس ایپ دنیا کی مقبول ترین میسجنگ اپلیکشن ہے جس میں ہر سال ہی متعدد نئے فیچرز سامنے آتے ہیں۔

دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی میسجنگ اپلیکشن ہونے کی وجہ سے واٹس ایپ میں ہر چند ہفتے میں نئے فیچرز متعارف ہوتے رہتے ہیں۔

اس وقت بھی کمپنی کی جانب سے متعدد فیچرز کی آزمائش بیٹا ورژن میں ہورہی ہے۔

میڈیا فائل سینڈ کردینے کے بعد اس میں ایڈیٹنگ، ڈارک موڈ اور ایسے ہی دیگر متعدد فیچرز، جو اس وقت واٹس ایپ میں دستیاب نہیں۔

ویسے تو آپ نئے فیچرز کو سب سے پہلے واٹس ایپ بیٹا پر سائن اپ ہوکر حاصل کرسکتے ہیں مگر اس میں بگز اور ایپ کریش کا سامنا بھی ہوتا ہے۔

آئندہ چند ماہ میں واٹس ایپ میں متعارف کرائے جانے والے فیچرز درج ذیل ہیں۔

کوئیک ایڈٹ میڈیا

واٹس ایپ کی جانب سے کوئیک ایڈٹ میڈیا فیچر پر کام ہورہا ہے جو اس وقت بیٹا ورژن میں نظر آیا ہے، اس فیچر کی بدولت پہلی بار صارفین میڈیا فائلز تصاویر وغیرہ میں سینڈیا ریسیو کرنے کے بعد تبدیلیاں کرسکیں گے، واٹس ایپ اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ WABetainfo کے مطابق اس فیچر سے صارفین ان چیٹ میڈیا کو ایڈٹ کرکے براہ راست شیئر کرسکیں گے۔

کیو آر کوڈ

واٹس ایپ میں نئے کانٹیکٹ کو کیو آر کوڈز کی مدد سے ایڈ کرنے کا فیچر دیا جارہا ہے جو اس عمل کو آسان بنادے گا، یہ فیچر بہت جلد متعارف کرائے جانے کا امکان ہے اور یہ انسٹاگرام کے نیم ٹیگز فیچر سے بہت زیادہ ملتا جلتا ہے۔ ہر صارف کو ایک منفرد کیو آر کوڈ ملے گا جو وہ دیگر سے شیئر کرسکے گا، کیو آر کوڈ پہلے ہی واٹس ایپ ویب میں لاگ ان کے لیے استعمال ہورہا ہے۔

میوٹ اسٹیٹس چھپانا

فیس بک کے ان فالو کی طرح واٹس ایہ میں ہائیڈ میوٹ اسٹیٹس فیچر متعارف کرایا جارہا ہے جس میں کسی کانٹیکٹ کو مکمل بلاک کرنے کی بجائے بس اس کی اسٹیٹس فیڈ کو ہائیڈ کردیا جائے گا، اس وقت اگر آپ کسی اسٹیٹس کو میوٹ کردیں تو بی اسٹیٹس فیڈ کے نیچے نظر آنے لگتا ہے۔

ڈارک موڈ

ڈارک موڈ وہ فیچر ہے جس کا صارفین کو شدت سے انتظار ہے، یہ فیچر بیٹا ورژن 2.19.87 میں دیکھا گیا تھا مگر فی الحال وہاں موجود نہیں، مگر کمپنی گزشتہ سال وعدہ کرچکی ہے کہ صارفین کے لیے اسے بہت جلد متعارف کرایا جائے گا۔

کونسا صارف زیادہ فارورڈ میسج کرتا ہے

واٹس ایپ کی جانب سے ایک اور فیچر پر بھی کام ہورہا ہے جس کے تحت گروپس استعمال کرنے والوں کو آگاہ کیا جائے گا کہ کونسا صارف اکثر پیغامات فارورڈ کرتا ہے، صارفین اس فیچر کی بدولت ی بھی جان سکیں گے کہ کسی میسج کو کتنی بار فارورڈ کیا جاچکا ہے، یہ فیچر بھی فی الحال بیٹا ورژن میں نظر آیا ہے۔

ایف بی آر کو سیاستدانوں سے براہ راست زرعی انکم ٹیکس وصولی کا اختیار مل گیا

اسلام آباد: صوبوں کو فیڈرل بور ڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کوجمع کروائے جانیوالے انکم ٹیکس گوشواروں میں زرعی آمدنی ظاہر کرنے والے سیاستدانوں، جاگیرداروں، زمینداروں سمیت دیگر ٹیکس دہندگان کی ظاہر کردہ زرعی آمدنی پر براہ راست زرعی انکم ٹیکس وصول کرنے کے اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔

اس کے علاوہ صوبوں کو 2 سال سے زیادہ پرانے زرعی انکم ٹیکس کے واجبات بھی ریکور کرنے کے اختیارات حاصل ہوگئے ہیں اورہائیکورٹ نے درخواست دہندگان کی جانب سے زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کیلیے جاری ہونیوالے نوٹسز کے خلاف دائر درخواستیں سْپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مسترد کردی ہیں۔ اس ضمن میں لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کردہ آرڈر میں پنجاب میں 2012 اور 2013 کی زرعی آمدنی پر بھی ٹیکس واجبات ریکور کرنے کی اجازت دیدی ہے۔

تاہم درخواست گذاروں کو ہائیکورٹ کے فیصلے خلاف 30  دن کے اندر اپیل کا حق دیا گیا ہے۔ ایکسپریس کو دستیاب دستاویز کے مطابق پنجاب میں پنجاب زرعی انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت 2012 اور 2013 کی زرعی آمدنی پر ٹیکس وصولی کے نوٹس جاری کیے گئے تھے جس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ کیس کی تفصیلی سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ پنجاب میں جن لوگوں کو پنجاب زرعی انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت کی سیکشن3 بی کے تحت ریکوری کے نوٹس جاری ہوئے ہیں انھیں اپیل کا حق حاصل ہے۔

تاہم عدالت نے ہدایت کی کہ مجاز اتھارٹی کو درخواست دہندگان کو 3 دن کے اندر اندر اپیل دائر کرنا ہوگی اور معیاد ختم ہونے کے بعد ان لوگوں سے زرعی انکم ٹکسک ریکورکیا جاسکے گا۔ اس بارے میں جب ٹیکس لائر وحید شہزاد بٹ سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ ہائیکورٹ کی جانب سے دیے جانے والے فیصلے کے بعد اب پنجاب میں جتنے بھی سیاستدانوں،جاگیرداروں اور دیگر دیگر ٹیکس دہندگان نے ایف بی ار کو جمع کروائے جانیوالے اپنے انکم ٹیکس گوشواروں میں زرعی آمدنی ظاہر کی ہے ان سے پنجاب حکومت براہ راست زرعی ٹیکس کی ریکوری کرسکتی ہے۔

اس کیلیے انہیں اسیسمنٹ آرڈر جاری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ آمدنی پہلے سے ظاہر کردہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں 80 ہزار روپے سالانہ تک کی زرعی آمدنی کو ٹیکس سے چھوٹ ہے اوراس سے زائد آمدنی پر ٹیکس لاگو ہے اور 3 لاکھ سے اوپر آمدنی پر 15 فیصد زرعی انکم ٹیکس لاگو ہے اور جس زرعی زمین سے آمدنی حاصل نہیں ہورہی اس پر ساڑھے 12ایکڑ اراضی پر کوئی ٹیکس نہیں ہے اور ساڑھے 12ایکڑ سے زائد زمین رکھنے والوں پر 5 سو روپے فی ایکڑ سے لے کر ایک ہزار روپے فی ایکڑ تک ٹیکس عائد ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں بڑی تعداد میں سیاستدان، جاگیردارو زمیندار سمیت دیگر ٹیکس دہندگان ایف بی آر کو جمع کروائے جانیوالے انکم ٹیکس گوشواروں میں بھاری زرعی آمدنی ظاہر کررہے ہیں مگر ان میں سے بڑی تعداد میں لوگ صوبوں میں زرعی انکم ٹیکس نہیں دے رہے تھے جس پر انہیں نوٹس جاری کئے گئے تھے۔

وویک اوبروئے بھارتی ٹیم کا مذاق اڑانے پر مشکل میں پڑگئے

ممبئی: بالی ووڈ اداکار وویک اوبروئے کو ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر بھارتی ٹیم کا مذاق اڑانے پر سوشل میڈیا پرتنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

بالی ووڈ اداکار وویک اوبروئے نے نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست اور ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد اپنی ہی ٹیم کا مذاق اڑاتے ہوئے ایک مختصر سی ویڈیو شیئر کی ہے جس میں ایک بھارتی کرکٹ شائق سڑک پر چلتے ہوئے سوچ رہاہے کہ سامنے سے آنے والی خاتون انہیں گلے لگانے والی ہے لیکن خاتون اس کے بجائے اس کے پیچھے چلتے ہوئے شخص کو گلے لگالیتی ہے جس سے بھارتی مداح سخت شرمندہ ہوجاتا ہے۔

وویک اوبروئے نے اس ویڈیو کے ذریعے بھارتی  ٹیم کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا ہے کہ ورلڈ کپ سیمی فائنل میں بھارتی ٹیم کے ساتھ بالکل ایسا ہی ہوا ہے۔ تاہم وویک کی اس پوسٹ پر بھارتی شائقین سخت غصے میں آگئے اورانہیں اپنی ہی ٹیم کا مذاق اڑانے پر جم کر تنقید کا نشانہ بناڈالا۔

ایک صارف نے لکھا مسٹر اوبروئے بڑے ہوجائیں ورنہ لوگ آپ کو سنجیدہ لینا چھوڑ دیں گے۔

کچھ صارفین نے تو ویڈیو میں موجود شرمندہ بھارتی مداح کو وویک اوبروئے، خاتون کو ایشوریا رائے اور دوسرے شخص کو ابھیشیک قراردے کر وویک اوبروئے کا ہی مذاق اڑادیا۔ کئی لوگوں نے انہیں غصے میں ہارا ہوا شخص قرار دیا اور کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ورلڈ کپ کھیلنے آپ چلے جاتے۔

واضح رہے کہ بھارتی ٹیم کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر جہاں انڈین شائقین غصہ ہیں وہیں اداکار عامر خان نے کوہلی کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا تھا کہ بدقسمتی سے آج ہمارا دن نہیں تھا۔

مون سون میں پھیلنے والی عام بیماریاں اور احتیاطی تدابیر

 جولائی کا مہینہ کا شمار جنوبی ایشیا میں سال کے گرم ترین مہینوں میں ہوتا ہے. اس مہینے میں جہاں گرمی کی تپش عروج پر ہوتی ہے وہیں برسات کا موسم لوگوں کے لئے اس گرمی سے نجات کا سبب بنتا ہے.

بارش سے موسم خوشگوار ہونے کے بعد گرمی سے ستائے افراد کے چہرے کھلکھلا اٹھتے ہیں اور اکثر لوگ موسم کا لطف لینے کے لیے اپنے گھروالوں کے ساتھ گھومنے چلے جاتے ہیں، مگر جہاں یہ موسم خوشیاں لاتا ہے وہیں کئی گھر ان موسلادھار بارشوں سے آنے والے سیلاب میں بہہ جاتے ہیں. اس موسم کو ‘مون سون کا موسم’ کہا جاتا ہے.

ہم یہ بات جانتے ہیں کہ جب بھی بارشوں کا موسم آتا ہے تو مختلف بیماریاں سر اٹھا لیتی ہیں. مون سون اپنے ساتھ بہت سی ایسی وبائی بیماریاں لاتا ہے جنہیں بہت سے لوگ جانتے تو ہیں لیکن ان سے بچاؤ کے لیے مختلف تدابیر کے بارے میں انہیں علم نہیں ہوتا.

اسی وجہ سے بہت سی بیماریوں کی تشخیص میں تاخیر ہونے کی وجہ سے ان کی صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے. اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہر ایک کو مون سوں میں پیدا ہونے والی بیماریوں سے آگاہی ہو تاکہ ایہتیاتی تدابیر اپنا پر ان بیماریوں سے بچا جاسکے.

مون سون میں پیدا ہونے والی بیماریوں میں انفلوئنزا (وبائی زکام)، ملیریا، ٹائفائڈ، ڈینگی بخار، ہیضہ، اور ہیپاٹائٹس اے (پیلا یرقان) سرفہرست ہیں.

انفلوئنزا (وبائی زکام)

وبائی زکام مون سون کے موسم میں پھیلنے والی عام بیماری ہے. یہ نزلہ زکام “انفلوئنزا ” کی وجہ سے ہوتا ہے اور چونکہ یہ وائرس کھلی فضا میں موجود ہوتا ہے اس لئے ایک فرد سے دوسرے میں بآسانی منتقل ہوجاتا ہے. انفلوئنزا وائرس ہوا کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے اور ناک، گلے اور پھیپڑوں کو متاثر کرتا ہے. اس بیماری کی نشانیوں میں بہتی ہوئی ناک، جسم اور گلے میں شدید درد اور بخار شامل ہیں. اس وبائی مرض سے بچنے کے لئے اچھی غذا لینا چاہیے تاکہ جسم کی قوت مدافعت زیادہ مضبوط ہو جو اس وائرس کو ختم کرسکے.

کولرا (ہیضہ)

ہیضہ مون سوں کے موسم میں ہونے والی خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے. ہیضہ کچھ خطرناک بیکٹیریا (خوردبینی جاندار) کی وجہ سے ہوتا ہے جو خراب کھانوں، گندے پانی اور حفظان صحت کی کمی کے باعث پھیلتے ہیں. اس کی علامات میں پتلا فضلہ اور قے آنا شامل ہیں, جس کی وجہ سے جسم سے بہت زیادہ پانی کا ضیاع اور پٹھوں میں کھچاؤ پیدا ہوجاتا ہے. اس وجہ سے انسانی جسم میں الیکٹرولائٹس (نمکیات) کی کمی ہوجاتی ہے. آج کل اس کے لئے ‘ڈپ اسٹکس’ موجود ہیں جو انسانی فضلے میں ہیضے کے بیکٹیریا (وبریو کالرا) کی موجودگی کے بارے میں بتا دیتے ہیں.

ہیضے کے مریض کو فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ انسانی جسم میں نمکیات کی کمی موت کا سبب بھی بن سکتی ہے. مریض کو او. آر. ایس.، جو اورل ری ہائڈریشن سالٹس کا مخفف ہے، بھی پانی میں گھول کر پلانا چاہیے جو جسم میں پانی کے ساتھ ساتھ نمکیات کا توازن برقرار رکھتا ہے. ہیضے سے بچاؤ کے لئے صاف پانی، بہتر نظم نکاس، عمدہ حفظان صحت کا خیال رکھنا چاہیے.

ٹائیفائڈ

ٹائیفائڈ آلودہ پانی میں پائے جانے والے بیکٹیریا ‘سلمونیلا’ کی وجہ سے ہوتا ہے. یہ بیماری آلودہ کھانے یا کسی متاثرہ شخص کے فضلے سے آلودہ پانی کے استعمال کی وجہ سے ہوتی ہے. اسکی علامات میں کچھ دنوں تک تیز بخار، پیٹ میں شدید درد، سر درد اور قے آنا شامل ہے. اس بیماری کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اسکا جراثیم علاج کے بعد بھی پتے میں رہ جاتا ہے. اس بیماری کی تشخیص خون کا نمونہ لے کر ٹیسٹ کے ذریعے کی جاتی ہے. اس کی احتیاتی تدابیر میں صاف پانی کا استمال، اچھے انٹی بیکٹیریل صابن کا استعمال اور بہتر نکاسی آب کا انتظام شامل ہے. اس کے لئے مختلف انٹی بایوٹیکس کا استمال کیا جاتا ہے.

ہیپاتیٹس اے (پیلا یرقان)

ہیپاٹائٹس اے کا شمار ان خطرناک وبائی بیماریوں میں ہوتا ہے جو جگر میں انفیکشن پیدا کرتی ہیں. آلودہ پانی اور کھانے کا استعمال اس بیماری کی وجہ بنتا ہے کیونکہ ان میں ہیپاٹائٹس اے کا وائرس موجود ہوتا ہے. پھلوں اور سبزیوں پر بیٹھنے والی مکھیاں بھی اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور اسی وجہ سے ڈاکٹرز یہ تلقین کرتے ہیں کہ ہر چیز پانی سے دھو کر استعمال کرنی چاہیے. اس بیماری کی علامات جگر میں سوزش کی نشان دہی کرتی ہیں جن میں آنکھوں، جلد اور پیشاب کا پیلا ہونا (جسے جوانڈس یا پیلا یرقان بھی کہا جاتا ہے)، معدے میں درد، بھوک کا ختم ہونا، متلی ہونا، بخار اور پتلے فضلے آنا شامل ہیں. اس کی تشخیص کے لئے خون کا ٹیسٹ کیے جاتے ہیں. اس بیماری کا کوئی خاص علاج نہیں کیا جاتا بلکہ اکثر اوقات مختلف مشروبات پینے کی تلقین کی جاتی ہے لیکن خطرے کی صورت میں ہیپاٹائٹس اے کے حفاظتی ٹیکے لگوا کر قوت مدافعت کو بڑھایا جاتا ہے. ہیپاٹائٹس اے سے بچاؤ کے لئے صفائی کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے.

ملیریا

ملیریا ان بیماریوں میں سے ہے جس کی وجہ گندے پانی میں پیدا ہونے والی مادہ مچھر ‘انوفیلیس’ ہے. مون سون کے موسم میں پانی کے جل تھل کی وجہ سے اس مچھر کی پیداوار میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اسی کے ساتھ ہی ملیریا کی وبا پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ ہوجاتا ہے. اس کی تشخیص خون کے ٹیسٹ سے کی جاتی ہے. اس کی نشانیوں میں تیز بخار، جسم اور سر درد، پسینہ آنا شامل ہیں. اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو جگر اور گردوں کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں. ملیریا کے احتیاتی تدابیر کے لیے مچھروں سے بچاؤ کے لیے مچھر دانی کا استعمال ضروری ہے اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے گھر میں گندے پانی کا ذخیرہ نہ ہونے دیں.

ڈینگی بخار

ڈینگی بخار وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس وائرس کو پھیلانے میں ‘ایڈیس ایگیپٹی’ مچھر اہم کردار ادا کرتا ہے. اس مچھر کی پہچان یہ ہے کہ اس کے جسم پر سفید اور کالی لکیریں ہوتی ہیں اور یہ دوسرے مچھروں سے عموما بڑا ہوتا ہے. یہ مچھر صبحاور شام کے وقت کاٹتا ہے. ڈینگی بخار کو “ریڑھ کی ہڈی کا بخار” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی نشانیوں میں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھوں کے پیچھے درد، سر درد، بخار اور جسم پر سرخ نشانات بننا شامل ہیں. ابھی تک ڈینگی بخار کے لئے کوئی خاص اینٹی بایوٹیک یا انٹی وائرل دوائی نہیں بنائی گئی ، اسی لیے عام پین کلر، جن میں پیراسیٹامول شامل ہے، پر ہی استفادہ کیا جاتا ہے. اس کی احتیاتی تدابیر کے لیے مچھروں سے بچاؤ کی ممکنہ کوشش کرنی چاہیے اور صاف پانی کو کہیں بھی کھڑا نہیں ہونے دینا چاہیے تاکہ مچھروں کی پیداوار روکی جائے.

آخر میں یہی کہوں گی کہ مون سون کے موسم میں ہمیں خود کو ان بیماریوں سے محفوظ رکھنا چاہیے تاکہ اس خوبصورت موسم سے بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہوا جائے.

اب سلیکشن نہیں صاف ستھرے الیکشن کرانا ہوں گے، بلاول بھٹوزرداری

رحیم یار خان: بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ کٹھ پتلیوں کو سیاست سے فارغ کرنا ہے اور اب سلیکشن نہیں صاف ستھرے الیکشن کرانا ہوں گے۔

صادق آباد میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کٹھ پتلیوں کو سیاست سے فارغ کرنا ہے کیوں کہ نہ صرف نوجوانوں کا معاشی قتل ہورہا ہے بلکہ صوبوں کا بھی معاشی قتل ہورہا ہے، سندھ میں بھی ڈاکا ڈالا گیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سب سے زیادہ نقصان پنجاب کا ہوا ہے اور سندھ کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو وزیراعلیٰ حقوق کے لیے لڑتے ہیں لیکن پنجاب میں ایسا نہیں ہوتا کٹھ پتلی وزیراعلیٰ پنجاب  صوبے کے لیے نہیں لڑیں گے تو ہم پنجاب کےحقوق چھین کررہیں گے اور پانی کی کمی ہے توسب کو مل کر برداشت کرنا پڑے گا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم نے اپنی حکومت میں بدترین حالات میں بھی عام آدمی کے معاشی مسائل کاخیال رکھا لیکن اس حکومت کے عوام دشمن بجٹ میں غریب کے لیے تکلیف اور امیر کے لئے ریلیف ہے، آئی ایم ایف کے بجٹ میں امیروں کیلئے این آر او ہے، عمران خان نے ایک کڑور نوکریوں کا وعدہ کیا اور ایک بھی نہیں دی، اب سلیکشن نہیں صاف ستھرے الیکشن کرانا ہوں گے۔

Google Analytics Alternative