Home » Author Archives: Admin (page 20)

Author Archives: Admin

سائنسدانوں نے وزن بڑھانے والے وائرس کاسراغ لگالیا

وسکانسن…. مقامی یونیورسٹی کے ڈاکٹروںاور سائنسدانو ں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے چند دوسرے سائنسدانوں کیساتھ مل کر مٹاپے کا سبب بننے و الے عوامل کا سراغ لگالیا ہے او راب ایسی ویکسین تیار ہونے لگی ہیں۔

جن کی مدد سے وزن بڑھانے والے وائرس کو قابو کیا جاسکتا ہے۔ مٹاپے کو روکنے والی ویکسین کو ایڈینو وائرس 36کا کام دیا گیا ہے جو موٹے لوگوں میں صحت مند لوگوں کے مقابلے میں 4گنا زیادہ ہوتا ہے۔ یہ ایسا وائرس ہے جو مٹاپے کا سبب بننے والے خلیوں کو بڑھنے ا ور پھیلنے پر اکساتا ہے اور جسم سے نکلنے یا جسم کے اندر ہی ختم ہونے سے روکتا ہے۔ اس تحقیقی رپورٹ اور ایڈینو وائرس 36کی تیاری کی اصل ذمہ داری ڈاکٹر رچرڈ ایٹکنسن کے سر ہے۔ اگر یہ چیز تجرباتی مرحلے میں کامیاب ثابت ہوکر دوا سازی کے مرحلے میں داخل ہوجائے تو دنیا کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد فائدہ اٹھاسکیں گے کیونکہ اب تک جتنی دوائیں وزن اورمٹاپا کم کرنے کیلئے بنی ہیں انکے اثرات زیادہ نہیں ہوتے۔

دانتوں کی سفیدی کا یہ آسان نسخہ حیران کردے گا

سفید دانتوں کی چمک سے اپنی مسکراہٹ کو جگمگانا کس کی خواہش نہیں ہوتی اور لاتعداد افراد اس مقصد کے لیے ہزاروں روپے ڈینٹسٹ کو دے کر ان کی صفائی بھی کرواتے ہیں مگر کیا آپ اس فوری کام کرنے والے اس گھریلو نسخے کو آزمانا پسند کریں گے؟

درحقیقت موتیوں جیسے چمکتے دانت تو آج کے دور میں خوبصورتی کے معمولات میں شامل ہوچکے ہیں جیسے بالوں کو رنگوانا وغیرہ۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ اپنی مسکراہٹ کو جگمگانے کے لیے آپ کو بہت زیادہ خرچہ کرنے بلکہ کسی قسم کے خرچے کی ضرورت نہیں۔

جی ہاں اگر سیب کھانے کی عادت دانتوں کو چائے یا کافی کے داغوں سے بچاتی ہے بلکہ آپ کے دانتوں کو چمکانے کا سستا ترین اور قدرتی طریقہ ثابت ہوتی ہے۔

درحقیقت سیب کھانے کی عادت نہ صرف ڈاکٹروں کو دور رکھ سکتی ہے بلکہ ڈینٹیسٹ سے بھی دور رکھ سکتی ہے۔

جب آپ سیب کھاتے ہیں تو اس کا چھلکا کسی ریگ مال کی طرح قدرتی ٹوتھ برش کا کام کرتا ہے۔

سیب کا چھلکا فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ دانتوں پر ریگ مال کی طرح کام کرکے پلاک اور داغوں کو صاف کرتا ہے۔

سیب میں ایسڈ اور مٹھاس ہوتی ہے مگر اس کے فوائد نقصان سے زیادہ ہوتے ہیں، بس اس پھل کو کھانے کے بعد پانی سے کلیاں کرنے کی احتیاط کرلیں۔

تاہم سیب کے چھلکوں سے دانتوں میں پیدا کی جانے والی سفیدی تادیر برقرار نہیں رہتی تاہم اس سے کوئی نقصان بھی نہیں بلکہ یہ داغ دھبوں کی صفائی بھی کرتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

سندھ حکومت کا ملازمین کو اگست کی تنخواہ ایڈوانس دینے کا فیصلہ

کراچی: سندھ حکومت کے ملازمین کے لیے اچھی خبر ہے کہ انہیں رواں ماہ کی تنخواہ قبل از وقت مل جائے گی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ حکومت نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر ماہِ اگست کی تنخواہ یکم ستمبر کے بجائے اگست میں ہی دینے کا فیصلہ کیا ہے، صوبائی حکومت اپنے ملازمین کو عید سے قبل 17 اگست کو ہی ماہِ رواں کی تنخواہ جاری کردے گی۔

محکمہ خزانہ سندھ کا کہنا ہے کہ ملازمین کو تنخواہ ایڈوانس میں دینے کے ساتھ ساتھ ریٹائرڈ ملازمین کو بھی پینشن قبل ازوقت ملے گی، عیدالاضحیٰ کی وجہ سے ریٹائرڈ ملازمین کو عید سے قبل رواں ماہ کی پینشن کا اجرا شروع ہوجائے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں ذی الحج کا چاند 12 اگست کو نظر آنے کے واضح امکانات ہیں اگر ذی الحج کا چاند 12 اگست کو نظر آگیا تو عیدالاضحیٰ 22 اگست کو منائی جائے گی۔

اسلامی ترقیاتی بینک پاکستان کی نئی حکومت کو 4 ارب ڈالر قرض دینے کیلئے تیار

کراچی: پاکستان نے زرِمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہونے کے بعد معیشت کو استحکام دینے کے لیے سعودی حمایت یافتہ اسلامک ڈیولپمنٹ بینک (آئی ڈی پی) سے 4 ارب ڈالر سے زائد رقم کا قرض لینے کا منصوبہ بنایا ہے۔

اس سلسلے میں 2 عہدیداروں کاکہنا تھا کہ بینک نے باقاعدہ طور پر عمران خان کے وزارت عظمیٰ کے حلف اٹھانے کے بعد اسلام آباد کو قرض کی پیشکش کرنے کا فیصلہ کیا ہے.

ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں امید ہے کہ ممکنہ وزیر خزانہ اسد عمر اس پیشکش کو قبول کرلیں گے۔

اس ضمن میں اسلام آباد میں موجود سینیئر ایڈوائزر کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کاغذی کارروائی جاری ہے، حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسلامی ترقیاتی بینک قرض کی منظوری سے قبل حکومت کی تشکیل کا منتظر ہے ۔

حکام کا مزید کہنا تھا کہ مذکورہ قرض کی رقم سے پاکستان کورواں مالی سال کے دوران پیش آنے والی 25 ارب ڈالر کی ضرورت کو پورا نہیں کیا جاسکتا لیکن اس سے خاصی مدد ملے گی۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق حکام کی جانب سے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے بھی 12 ارب ڈالر کا قرض لینے کا فیصلہ کیا جاچکا ہے، تاہم امکان ہے کہ اس بیل آؤٹ پیج کے ساتھ کچھ کڑی شرائط بھی منسلک ہوں گی۔

اس ضمن میں اسلامی ترقیاتی بینک کے ساتھ معاملات طے کرنے میں شامل مرکزی بینک کے ایک عہدیدار کا کہنا تھاکہ یہ قرض سعودی عرب کی پشت پناہی پر دیا جارہا ہے جو پاکستان کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کی خواہاں ہے۔

دوسری جانب صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے متوقع وزیر خزانہ اسد عمر نے خبردار کیا تھا کہ صورتحال انتہائی خراب ہے،مرکزی بینک کے ذخائر صرف 10 ارب ڈالرجبکہ 8 سے 9 ارب ڈالر ،مختصر دورانیہ کے قرضوں کی صورت میں موجود ہیں، جس کی بنا پر ہمارے کُل ذخائر نہ ہونےکے برابر ہیں، اس کے ساتھ انہوں نے مزید قرض حاصل کرنے کے آپشن کا بھی تذکرہ کیا تھا

تاہم ماہرین معاشیات نے آئندہ بننے والی حکومت کو خبردار کیا ہےکہ خزانےکی بہتری کے لیے انہیں کئی اخرجات ترک کرنے اور مزید ٹیکس نافذ کرنے پڑیں گے۔

واضح رہےکہ گزشتہ مالی سال میں بجٹ خسارہ مجموعی ملکی پیداوار کے 7 فیصد سے تجاوز کرچکا تھا، اس حوالے سے وزارت خزانہ کے سابق عہدیدار کا کہنا تھا کہ بجٹ خسارے کو کم کر کے 4 فیصد تک لانا آسان نہیں ہوگا۔

اگست بانی پاکستان کی تقریر،مذہبی آزادی اور پاکستان

syed-rasool-tagovi

’’آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی یہ الفاظ اس تقریر کا ایک طرح خلاصہ ہیں جو انہوں نے 11اگست 1947 کو پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی سے اپنے صدارتی خطبے میں کہے تھے۔قائد اعظم ؒ کی اس تقریر کو بعض مخصوص مائنڈ رکھنے والے دانشور اس زاویے سے پیش کرتے ہیں کہ جیسے قائداعظم پاکستان کو ایک سیکولر سٹیٹ بنانے کے خواہاں تھے لیکن بدقسمتی سے وہ آپؒ کی دیگر تقاریر خطابات اور مراسلات کو یکسر نظر انداز کر کے نئی نسل کو ابہام اور تشکیک کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔قائداعظم ؒ کا یہ فرمانا کہ تمہارے شخصی طور پر اپنی عبادت گاہوں میں جانے سے ریاست سے کوئی تعلق نہیں، اس کا مطلب ہے کہ تم مندر میں جاؤ یا چرچ میں اس میں تم آزاد ہو، ریاست تمہیں اس معاملہ میں نہیں روکے گی۔اپنے دین پر شخصی اعتبار سے عمل کرنے میں تم آزاد ہو۔آج کیا ریاست نے ملک میں کسی اقلیت پر ایسی قدغن لگا رکھی ،تو ایسا بالکل نہیں ہے۔پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 20 میں بھی اس بات کی مکمل ضمانت دی گئی ہے۔پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں میں سب سے زیادہ تعداد ہندوؤں کی ہے۔ مسیحی آبادی کے اعتبار سے دوسری بڑی اقلیت ہیں جبکہ انکے علاوہ سکھ، پارسی، بودھ اورکیلاشی نمایاں ہیں۔سب اپنی اپنی رسومات آزادانہ طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ ہولی اور کرسمس جیسی تقریبات آزادانہ منعقد ہوتی ہیں حتیٰ کہ کئی ملکی شخصیات ان میں شریک بھی ہوتی ہیں۔تاہم جو مائنڈ سیٹ اس کا پروپیگنڈا کرتا ہے وہ کسی ذاتی مفاد کے ہاتھوں مجبور ہے اور ایک عام آدمی بھی انہیں پہچانتا ہے۔ہماری ان سے صرف اتنی گزارش ہے کہ آپ جس اپنے’ ماسٹر‘ کی خوشنودی کے لیے ایساکرتے ہیں ذرا ادھر بھی جھانک لیں کہ وہاں اقلیتوں کیساتھ ہو کیا رہا ہے۔ سرکاری سرپرستی میں گاؤ رکشا مہم کو ہی لیں تو انسانیت کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔بھارت میں مذہبی آزادی پر قدغنوں پر عالمی ادارے بھی تنقید کرتے ہیں ۔مگر وہاں کا میڈیا چپ رہتا ہے جو بولتا ہے اس کی بولتی بند کردی جاتی ہے۔رواں برس اپریل کے اواخر میں رپورٹرز وِدآٹ بارڈرز نے پریس فریڈم انڈکس 2018ء جاری کیا تھا، جس میں دنیا کے 180ممالک میں میڈیا کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے درجہ بندی کی گئی تھی۔ جس کے مطابق ناروے پہلے سویڈن دوسرے اور ہالینڈ تیسرے نمبر ہے۔انڈکس کے مطابق جنوبی ایشیائی ممالک کی درجہ بندی میں بہتری کم دکھائی دیتی ہے اور میڈیا مشکلات سے دوچار ہے۔سب سے بدترین صورتحال بنگلہ دیش اور بھارت میں ہے۔انڈکس میں اس حوالے سے بھارت کی دو درجے تنزلی دکھائی گئی ہے جبکہ پاکستان کی سابقہ پوزیشن برقرار ہے یعنی بین الاقومی رپورٹ اس تاثر کو مسترد کرتی جو مقامی طور میڈیا کے ایک سیکشن نے کسی ایجنڈے کے تحت آزادی صحافت پر زبان بندی کا شور مچا رکھا ہے۔رپورٹ میں سیلف سینسر شپ کی بات کی گئی ہے گئی ہے جسے منفی معنوں میں لیا جا رہا ہے۔یہ سیلف سینسر شپ در حقیقت احساس ذمہ داری ہے جسے یورپ اور مغرب میں پریکٹس کیاجا رہا ہے۔دوسری طرف ہمارے پڑوسی ممالک بھارت اور بنگلہ دیش میں آزادی صحافت سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے۔بلاشبہ چند برس میں بھارتی میڈیا انڈسٹری نے تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ اس پر سیاسی دبا ؤمیں اضافہ ہو رہا ہے،خصوصاً مودی حکومت میں میڈیا پرسن کو بی جے پی کے انتہا پسندوں کے ہاتھوں شدید خطرات لاحق ہیں ۔ح ال ہی میں’ اے بی پی‘ ایک نیوز چینل سے وابستہ دو معروف صحافیوں نے استعفے دے کر کئے سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق چینل چھوڑنے والوں میں کھانڈیکر اور پنیا پراسون باجپائی شامل ہیں۔یہ نیوز شو ’ماسٹر اسٹروک‘ کے میزبان تھے۔ان دونوں کے استعفیٰ دینے کی وجہ ایک رپورٹ بنی جو گزشتہ ماہ اس چینل نے نشر کی تھی۔رپورٹ میں بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ایک گاؤں کے رہائشی کی کہانی سنائی گئی تھی جس نے بتایا کہ حکومتی اہلکاروں نے اسے یہ جھوٹ بولنے کو کہا تھا کہ اس نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی دیہاتیوں کیلئے شروع کردہ ایک اسکیم سے فائدہ اٹھایا تھا۔ رپوٹ نشر ہونے کے بعد حکمران جماعت بی جے پی اس ٹی وی چینل پر اتنا آگ بگولہ ہوئی کہ دو میڈیا پرسن کو الگ ہونا پڑا۔پاکستان میں ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہوا۔بتایا جاتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی اس چینل نے اینکر ابھیشر شرما کو بھی اس لیے آف ایئر کر دیا تھا کیوں کہ انہوں نے بھی مودی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی میڈیا کو جس دباؤ کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔بھارت میں صحافتی حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ رجحان پریشان کن ہے ۔سیاسی جماعتوں کے کارکن اور سوشل میڈیا ونگ صحافیوں کو منظم انداز میں ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ایسے ماحول میں غیر جانبدارانہ صحافت کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ ادھراپوزیشن پارٹیوں نے مودی حکومت پر ملک میں میڈیا کا گلا گھونٹنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اے بی پی نیوز کے دو سینئر صحافیوں کے استعفیٰ کے معاملہ کو پارلیمنٹ میں اٹھا دیا۔اس سے معاملے کی لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ملک ارجن نے حکومت پر میڈیا کو دھمکا نے کاالزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چند برسوں میں حکومت کی جانب سے میڈیا کا گلا دبانے کے متعدد معاملات سامنے آچکے ہیں اور خاص کر بی جے پی حکومت کی کارکردگی کو دکھایا جاتا ہے تو میڈیا کو دھمکایاجاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں اظہار رائے کی آزادی نہیں رہے گی تو ہم کیسے بولیں گے ؟تاہم حکومت کی طرف سے جواب دیتے ہوئے اطلاعات و نشریات کے وزیر راج وردنے سنگھ راٹھور نے اس کی تردید کی اور کہا کہ اے بی پی نیوز غلط خبر نشر کرتا ہے ۔جبکہ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اس مسئلہ پرمودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناچکے ہیں ۔مختصر یہ کہ ہمارے لبرل حلقے خوامخواہ آزاد خیالی کے چکر میں ہلکان نہ ہوں بلکہ اللہ کا شکر کریں کہ وہ ایک ایسے ملک میں ہیں جہاں مذہبی آزادی ہو یا میڈیا کی آزادی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔آج 11اگست ہے،لبرل دانشوروں سے عرض ہے کہ وہ تعصب کی عینک ایک طرف رکھ کر بانی پاکستان کے جملہ فرمودات کا مطالعہ فرما لیں،ہو سکتا ہے کہ کوئی بہتر رہنمائی مل جائے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی سے درآمدات پر قیمتیں بڑھادیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ترکی سے‘اسٹیل اور ایلمونیم’ کی درآمدات کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت دے دی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘ترک کرنسی لیرا کی قیمت ہمارے مضبوط ڈالر کے مقابلے میں کم ہونے کے باعث ایلمونیم کی درآمدات کی قیمت کو 20 فیصد تک جبکہ اسٹیل کی درآمدات کی قیمت کو 50 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔’

انہوں نے تسلیم کیا کہ ’اس وقت ہمارے ترکی سے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔’

واضح رہے کہ دونوں نیٹو اتحادیوں کے تعلقات میں تلخی اس وقت پیدا ہوئی تھی جب ترکی نے دہشت گردی کے الزام میں اکتوبر 2016 میں امریکی پادری اینڈریو برنسن کو گرفتار کیا تھا اور گزشتہ ہفتے گھر میں منتقل کر کے نظر بند کردیا تھا۔

انقرہ کے اقدام پر واشنگٹن نے 2 ترک وزرا پر پابندی لگادی تھی۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک بھی واشنگٹن کے اقدام کے جواب میں 2 امریکی عہدیداران پر پابندی عائد کر رہا ہے۔

امریکی صدر کے ٹوئٹ کے بعد ترکی کے ‘لیرا’ کی قدر میں 13 فیصد کمی واقع ہوئی۔

ملکی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی کے باعث رجب طیب اردوان نے عوام سے غیر ملکی کرنسی کو لیرا میں تبدیل کرنے کی اپیل کی۔

خیال رہے کہ ترک کرنسی لیرا کی قدر جمعہ کو 10 فیصد گرتے ہوئے ریکارڈ کم ترین سطح پر آگئی ہے۔

رجب طیب اردوان نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آپ نے جو یوروز، ڈالرز اور سونا اپنے تکیوں کے نیچے چھپا کر رکھے ہیں اسے ہمارے بینکوں سے لیرا میں تبدیل کروائیں، یہ ایک قومی جدو جہد ہے۔’

انہوں نے ترکی کو نقصان پہنچانے کی غیر ملکی سازش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ ان لوگوں کو ہماری عوام کا جواب ہوگا جو ہمارے خلاف معاشی جنگ شروع کر رہے ہیں۔’

ترک صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ معاشی جنگ نہیں ہاریں گے۔’

اسپاٹ فکسنگ کیس: شاہ زیب حسن کی سزا بڑھا کر 4 سال کردی گئی

قومی ٹیم کے کھلاڑی شاہ زیب حسن کی پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے فیصلے میں عائد 10 لاکھ روپے جرمانے کے خلاف اپیل کو مسترد کردیا گیا جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی درخواست قبول کرتے ہوئے پابندی کو بڑھا کر 4 سال کر دیا گیا۔

پی ایس ایل اسکینڈل کے فیصلے کی اپیل کی سماعت کے لیے مقرر جسٹس حامد فاروق نے دونوں جانب سے دلائل سننے کے بعد نظرثانی اپیلوں پر فیصلہ سنایا۔

یاد رہے کہ پی سی بی کی جانب سے قائم انسداد کرپشن ٹربیونل نے رواں سال 28 فروری کو شاہ زیب حسن کو جرم ثابت ہونے پر ایک سال کی پابندی اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

انسداد کرپشن ٹربیونل نے شاہ زیب حسن کو پی سی بی کے آئین کی تین شقوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا تھا۔

شاہ زیب حسن پہلے ہی ایک سالہ پابندی مکمل کرچکے تھے تاہم انھوں نے جرمانے کے خلاف اپیل دائر کی تھی جبکہ پی سی بی نے ٹریبونل کے ایک سالہ پابندی کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

جسٹس حامد فاروق نے پی سی بی کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے شاہ زیب حسن کی سزا ایک سال سے بڑھا کر چار سال کر دی جبکہ شاہ زیب حسن کی اپیل مسترد کرتے ہوئے 10 لاکھ روپے جرمانے کو بھی برقرار رکھا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شاہ زیب حسن پر عدم تعاون اور کھلاڑیوں کو اکسانے کا جرم ثابت ہوا جبکہ شاہ زیب حسن ایک سال کی سزا کاٹ چکے ہیں۔

پی سی بی کے وکیل تفضل رضوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے شاہ زیب کی پابندی میں توسیع کی درخواست کی تھی جس کو منظور کرلیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارا موقف تھا کہ شاہ زیب کو تین شقوں کی خلاف ورزی پر ایک سال سے زائد سزا ہونی چاہیے اور آج ہمارے موقف کو تسلیم کیا گیا۔

خیال رہے کہ شاہ زیب حسن کو گزشتہ برس 18 مارچ کو معطل کیا گیا تھا اس لیے ان کی سزا 17 مارچ 2018 کو ختم ہو جائے گی۔

شاہ زیب حسن کیس کی اینٹی کرپشن ٹریبونل میں گزشتہ سال 21 اپریل سے سماعت شروع ہوئی اور ان کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کیس کا فیصلہ 31 جنوری کو محفوظ کیا گیا تھا۔

ڈنمارک: برقع پر پابندی کے خلاف فیشن شو میں ماڈلز کا احتجاج

یورپی ملک ڈنمارک میں رواں ماہ 2 اگست کو عوامی مقامات پر برقع اور نقاب اوڑھنے پر پابندی عائد کی تھی، جس کے خلاف گزشتہ ایک ہفتے سے مظاہرے جاری ہیں۔

اگرچہ ڈنمارک حکومت کے اسی فیصلے کے خلاف 2 اگست کو ہی دارالحکومت کوپن ہیگن سمیت دیگر یورپی شہروں میں بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مظاہرے کیے گئے تھے۔

تاہم اب کوپن ہیگن میں منعقد 2 روزہ فیشن شو میں بھی ماڈلز نے برقع پر پابندی کے فیصلے کے خلاف منفرد احتجاج ریکارڈ کرادیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کی رپورٹ کے مطابق کوپن ہیگن میں منعقد 2 روزہ فیشن ویک میں ایرانی نژاد ڈنمارک فیشن ڈیزائنر ریزا اعتمادی کی جانب سے مصنوعات کو پیش کرنے والی تمام ماڈلز نے برقع اوڑھ کر منفرد احتجاج ریکارڈ کرایا۔

ریزا اعتمادی نے اس فیشن ویک میں اپنے فیشن برانڈ ‘ایم یو ایف 10’ کے تحت مرد و خواتین کے جدید لباس متعارف کرائے، جن میں زیادہ تر ایسے لباس تھے جو مغربی لباس کے برعکس طویل اور بڑے تھے۔

ایرانی نژاد ڈنمارکین ڈیزائنر کی مصنوعات کو مرد و خواتین ماڈلز نے پیش کیا، تاہم ان ہی ماڈل نے فیشن ویک میں ڈنمارک میں برقع اور نقاب پر پابندی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے برقع اوڑھ کر کیٹ واک کی۔

یہی نہیں بلکہ کچھ ماڈلز کو ڈنمارک کی پولیس کا روپ دے کر اسٹریٹ کیٹ واک کا اہتمام کیا گیا۔

احتجاجی کیٹ واک میں جہاں خواتین ماڈلز نے برقع پہن کر کیٹ واک کی، وہیں کچھ خواتین ماڈلز اور مرد ماڈلز نے ڈنمارک پولیس کا روپ دھارا اور احتجاج کرنے والی برقع پوش ماڈلز کو انہوں نے پھول پیش کیے۔

ڈنمارک میں عوامی مقامات پر برقع اور نقاب کی پابندی کے خلاف اگرچہ سڑکوں پر بھی احتجاج جاری ہیں، تاہم پہلی بار فیشن ویک میں منفرد احتجاج کیا گیا۔

ڈنمارک میں برقع اور نقاب پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد گزشتہ ہفتے ہی وہاں ایک نوجوان مسلم لڑکی پرعوامی مقامات پر پردہ کرنے کا مقدمہ درج کرکے ان پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔

ایرانی نژاد ڈیزائنر کے برانڈ کی تشہیر کرنے والے ماڈلز نے احتجاج ریکارڈ کروایا—فوٹو: ڈیلی میل
ایرانی نژاد ڈیزائنر کے برانڈ کی تشہیر کرنے والے ماڈلز نے احتجاج ریکارڈ کروایا—فوٹو: ڈیلی میل
Google Analytics Alternative