Home » Author Archives: Admin (page 20)

Author Archives: Admin

ہر طاقتور کو قانون کے دائرہ کار میں لانا خوش آئند اقدام

adaria

جمہوریت کی بقاء اور ملک میں امن و امان کیلئے اس وقت تمام ادارے بشمول عسکری و سیاسی قیادت ایک پیج پر ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کے حوالے سے جس خواہش کا اظہار کیا ہے اس حوالے سے بھی چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ہم اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ ہیں تاہم ایک انتہائی اہمیت کی حامل بات جو کہ چیف جسٹس نے اپنے خطاب کے دوران کہی کہ اب پارلیمنٹ میں بائیکاٹ یا واک آؤٹ کرنے کا وقت نہیں ، سب مل بیٹھ کر مسائل کا حل کریں۔ دراصل مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اقتدار میں بیٹھے ہوئے وزراء اپنی مرضی سے بھانت بھانت کی بولیاں بولتے رہتے ہیں، ہم نے ان سطور میں متعدد بار وزیراعظم کو یہ مشورہ دیاتھا کہ وہ حکومت کا ایک ترجمان مقرر کریں جوکہ حکومتی موقف کو واضح طورپر میڈیا اور عوام تک پہنچا سکے لیکن ہوتا یوں تھا کہ جس وزیر کے دل میں جو آیا وہی بیان اس نے داغ دیا۔ کرتارپور راہداری جوایک تاریخی واقعہ تھا اس کو بھی مختلف وزراء نے اپنے اپنے انداز میں بیان کیا جس سے حکومت پاکستان جو کریڈٹ حاصل کرسکتی تھی اس میں کچھ نہ کچھ کمی آگئی تاہم اب وزیراعظم نے حکومتی ترجمان مقرر کردیا ہے اور تمام وزراء محدود کردیا گیا ہے کہ وہ صرف اپنی وزارتوں سے متعلق ہی بیان دینگے، یقینی طورپر بین السطور میں دئیے گئے ہمارے مشورے پر وزیراعظم کی جانب سے عمل ایک خوش آئند اقدام ہے۔ گزشتہ روز ہونے والے سمپوزیم میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی لازم و ملزوم ہیں، قانون کی حکمرانی سے سے پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے، چیف جسٹس نے پاناما لیکس کا غیر جانبدارانہ فیصلہ کرکے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے، جو کام چیف جسٹس ثاقب نثار نے کئے وہ جمہوری حکومت کو کرنے چاہیے تھے، پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کیلئے کوششیں کرتے رہیں گے، ڈکٹیٹر ہمیشہ ڈیموکریٹ اور ڈیمو کریٹ ہمیشہ ڈکٹیٹر بننے کی کوشش میں لگا رہتا تھا، ڈیم منصوبہ 5سال میں کبھی نہیں بنتا، ہم نے سول، فوجداری قوانین میں تبدیلی کے لیے 6 نئی تجاویز تیار کی ہیں، پوری کوشش کر رہے ہیں کہ قانون سازی کے ذریعے پرانا نظام عدل تبدیل کریں۔ اسلام آباد میں بڑھتی آبادی پر فوری توجہ کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کا شکرگزار ہوں جنہوں نے پہلے وزیراعظم کو یہاں دعوت دی، نئے پاکستان کی بنیاد ہم نے رکھ دی ہے، وہ معاشرہ ترقی کرتا ہے جہاں قانون کی پاسداری ہو، کیوں کہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی لازم و ملزوم ہے، موجودہ حالات میں نئے پاکستان کے دور کا آغاز ہوا ہے، پانی کے مسئلے کو چیف جسٹس نے اجاگر کیا، ہمیشہ ہر حکومت نے اپنے 5سال کا ہی سوچا، ڈیم منصوبہ 5سال میں کبھی نہیں بنتا، ماضی میں جن ڈیمز اور پانی کے مسائل کے بارے میں سوچا گیا اس میں صرف پاکستان کی ترقی کیلئے ہی سوچا گیا تھا، اس وقت قوم کا احساس کیا جاتا تھا نہ کہ اپنے پانچ سالوں کا، بنگلہ دیش ہم سے آگے نکل چکا ہے، ماضی کی حکومت میں تمام ادارے حکومت کے مفلوج تھے، اب کے دور میں تمام ادارے آزاد ہیں اور ان کو کسی سے کوئی ڈر نہیں ہے، ا سرمایہ کاروں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش ہے، بڑے قبضہ گروپ صرف اس لئے بنتے ہیں کیونکہ سول مقدمات کا فیصلہ ہی نہیں ہوتا، اب کوئی اقتدار میں آ کر قانون کو پامال کرنے کا نہیں سوچ سکتا، لاہور میں راوی نہر کا میٹھا پانی پیا جاتا ہے، آج کا راوی سیوریج کا ڈمپ بن گیا ہے، آج کا لاہور کنکریٹ کا جنگل بن گیا ہے، بڑھتی آبادی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کو چیف جسٹس نے اجاگر کیا، اس حوالے سے اب ہم نے ٹاسک فورس بنا دی ہے، چیف جسٹس کو قوم کی جانب سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جمہوری حکومتیں صرف 5 سال کا سوچتی تھیں کہ اگلا الیکشن کیسے جیتیں، جب منگلا اور تربیلا ڈیم بنے تب پاکستان میں آگے کا سوچا جاتا تھا۔ عمران خان نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ قانون کی حکمرانی کی کوشش کر رہے ہیں جو بہت اچھی چیز ہے آپ ہر طاقتور کو قانون کے نیچے لاتے ہیں یہ سب پاناما سے شروع ہوا اس کا کوئی بھی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ برسراقتدار وزیراعظم قانون کے نیچے آ سکتا ہے۔ عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان میں سول اور کرمنل قانون فرسودہ ہو چکے ہیں قبضہ گروپ اسی وجہ سے بنے کہ سول مقدمات کا فیصلہ ہی نہیں ہوتا۔ ہم نے 6 نئے قوانین تیار کئے ہیں جو اسمبلی میں لا رہے ہیں۔ سول کرمنل پروسیجر کورٹ کا قانون بھی لا رہے ہیں جس میں کچھ وقت لگے گا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ 30 سال بعد آبادی 45 کروڑ ہو گی وسائل کم ہو رہے ہیں اور آبادی بڑھ رہی ہے۔ 21 صدی میں 19 ویں صدی کا قانون چلا رہے ہیں، ججز کی تعداد بڑھانی ہے اور عدالتی ڈھانچے کو اپ ڈیٹ کرنا ہے، وزیر اعظم معلوم کریں کہ گزشتہ چالیس سالوں میں ڈیم کیوں نہیں بنے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست مدینہ کے قیام کے لیے حکومت کے ساتھ ہیں، پارلیمنٹ سپریم ہے، وزیراعظم اور پارلیمنٹ کی معاونت کی بہت ضرورت ہے۔ ہم آنے والی نسلوں کو کچھ دے کر جانا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وسائل محدود اور ضروریات لامحدود ہیں، 60سال میں ہم نے آبادی کے کنٹرول پر کوئی توجہ نہیں دی جبکہ بڑھتی آبادی سے ہمارے وسائل مسلسل دبا کا شکار ہیں۔ ملک میں پانی کے بہتر استعمال کو فروغ دینا ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ سالانہ 7ارب گیلن پانی زمین سے نکالا جاتا ہے، زمین سے نکالے گئے پانی کا تین چوتھائی ضائع کر دیاجاتا ہے۔ اپنے علم کو بہتری کیلئے استعمال کرنے والی قومیں ترقی کرتی ہیں، آبادی پر قابو پانے کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کرنا ہوں گے اور آبادی پر کنٹرول کے لیے میڈیا کے ذریعے آگاہی دینی ہے۔جوڈیشل سسٹم پر صدیوں کا بوجھ ہے ایک سول جج کے پاس روزانہ 160 مقدمات آتے ہیں۔1850 کا قانون آج قابل عمل ہے؟ آج ہر پیدا ہونے والا بچہ ایک لاکھ 21ہزار روپے کا مقروض ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم اور پارلیمنٹ کی معاونت بہت ضرورت ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کا بائیکاٹ کرنا چھوڑ دیا جائے، پارلیمنٹیرینز اپنا کام قانون سازی کریں۔ وزیراعظم مدینہ کی ریاست قائم کرنے کی بات کرتے ہیں اس خواب اور تصور میں عدلیہ شانہ بشانہ ہے اور نیک نیتی سے وزیراعظم کے اس خواب کی تعبیر کو پانے کی کوشش کریں گے، عدلیہ کو وہ ٹولز دیے جائیں کہ وہ آج کے تقاضوں کو پورا کرسکے، عدلیہ اب اس بوجھ کو اٹھانے کی متحمل نہیں ہوسکتی کہ برسہا برس کیس چلتا رہے۔

پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے مابین معاہدہ
پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کا بینک اکاؤنٹس کی معلومات کے حوالے سے معاہدہ ہوگیا ہے، چار سے چھ ہفتوں میں پاکستان کے اکاؤنٹس کی تفصیلات سوئس حکام سے مل جائیں گی۔برٹش ورجن آئی لینڈ اورجرمنی سے بھی ایسے ہی معاہدے کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ رقوم کی واپسی کیلئے سوئس بینک کے دروازے دوبارہ کھٹکھٹائے جاسکتے ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہاکہ آصف زرداری کا کیس دوبارہ کھولا جاسکتا ہے جبکہ نواز شریف کیخلاف وی وی آئی پی طیارے کے غلط استعمال کاریفرنس دائر کیا جائے گا۔ سوئٹزرلینڈ نے پاکستان کے ساتھ معاہدے کی توثیق کردی ہے۔ پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان یہ معاہدہ خوش آئند ثابت ہوسکتا ہے ۔اگر پاکستان اپنے مقاصد حاصل کرسکے ۔

جوہری طاقتوں کے درمیان تصادم خطرناک ہو سکتا ہے

کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشیدگی میں بتدریج اضافہ کر رہاہے۔سرحد پر آئے روز اندھا دھند فائرنگ سے پاکستانی شہری شہید و زخمی ہو رہے ہیں۔ سکردو اور ملحقہ علاقوں میں بھارتی فوج نے جان بوجھ کر جارحیت اور کشیدگی کا آغاز کیا شاید وہ کارگل میں شکست کی شرمندگی مٹانا چاہتی ہے۔ بھارتی جارحیت قابل مذمت ہے۔ بھارت مذاکرات کی طرف آئے کیونکہ پاکستان پڑوسی ممالک کے ساتھ تعمیری بات چیت اور امن کا خواہاں ہے لیکن اگر بھارت نے اپنی ڈگر نہ چھوڑی تو پھر جنگ پاکستان کو بھی کرنا آتی ہے۔بھارتی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے جوانوں کی شہادت سے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی نئی کوششوں کوخطرہ لاحق ہوگیاہے۔اگر بھارتی جارحیت کی وجہ سے یہ جنگ شروع ہوتی ہے تو خطرہ ہے کہ کہیں تیسری عالمی جنگ کا روپ نہ دھار لے ۔بھارت اس وقت پاکستان دشمنی میں پاگل ہو رہا ہے کیونکہ بھارت میں اگلے چند ماہ میں عام انتخاب ہونے ہیں لہذا معمولی واقعہ کو بھی بہت بڑا دکھایا جارہا ہے۔ اسی ضمن میں بھارتی وزیر دفاع نے دھمکی دی تھی کہ پاکستان کسی دھوکے میں نہ رہے، ہم سخت جواب دیں گے۔ دوسری طرف بھارتی آرمی چیف نے بھی اپنی مرضی کا محاذ کھولنے کی دھمکی دی اور ایسی ہی ایک دھمکی جموں کے کور کمانڈر نے بھی جاری کی ہے۔کسی کا کہنا ہے کہ ایک بھارتی فوجی کے بدلے پانچ پاکستانی فوجیوں کی جان لی جائے۔اسی طرح پاکستان دشمنی میں بھارت کا یہ حال ہے کہ بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا کہ پاکستان سے تربیت یافتہ عسکریت پسند جنوبی بھارت پر حملوں کے لئے سری لنکا کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مہاراشٹر پولیس نے مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے موصول دہشت گردی کے خلاف الرٹ جاری کی کہ پاکستان سے تربیت یافتہ آٹھ عسکریت پسند سری لنکا سے جنوبی بھارت پر حملوں کے لئے داخل ہو سکتے ہیں جن میں سے چار دہشت گرد پنجابی جب کہ باقی کشمیری یا پٹھان ہیں جو تامل ناڈو میں مادورائی کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ لشکر طیبہ بھارت پر حملے کر سکتی ہے اور آٹھ مشتبہ عسکریت پسند پاکستان سے تربیت یافتہ ہو سکتے ہیں۔سری لنکا کے ا خبا ر ’’کولمبو گزٹ‘‘ کے مطابق سری لنکن فوج نے بھارتی میڈیا کی ایسی تمام رپورٹوں کو مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ سری لنکن فوج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل جگاتھ جے سوریا نے کہا کہ بھارتی میڈیا کی رپورٹیں بے بنیاد ہیں ۔انتہائی کشیدگی اور جنگی ماحول کی اس فضا میں ہمارے حکمرانوں اور عسکری قیادتوں کو دفاع وطن کے تقاضے نبھانے کی تیاری کرنی چاہیے یا اب بھی بھارت کے ساتھ مذاکرات کا راگ الاپنا چاہیے؟ اگر بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے مسلسل یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ مذاکرات کیلئے پہلے پاکستان کو بھارت کی مرضی کے مطابق سازگار ماحول بنانا ہوگا تو ہمارے حکمرانوں کو ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے تقاضوں کے برعکس بھارت کے ساتھ مذاکرات کی کیا جلدی ہے؟ حد تو یہ ہے کہ بھارت کی ہر دھمکی اور ہر جارحیت کا جواب ہماری جانب سے مذاکرات کی خواہش کے اعادہ کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کے دوران قومی خارجہ پالیسی کا تذکرہ کیا تو اس میں بھی پاکستان بھارت مذاکرات کے ذریعے قیام امن کی یکطرفہ خواہش کا اظہار کیا۔ ہمارے حکمرانوں کی ایسی فدویانہ پالیسیوں کے بعد کیا توقع رکھی جا سکتی ہے کہ بھارت ہماری سالمیت کیخلاف اپنے جارحانہ عزائم سے باز آجائیگا اور مذاکرات کی میز پر مسئلہ کشمیر کے یو این قراردادوں کے مطابق حل سمیت تمام متنازعہ ایشوز کے تصفیہ پر آمادہ ہو جائیگا جبکہ ہمارے حکمران تو بھارت کو ہماری سالمیت کیخلاف جارحیت کے ارتکاب کا نادر موقع فراہم کر رہے ہیں۔ اگر بھارت کو ہماری ایٹمی صلاحیتوں کے حوالے سے اپنی سالمیت کے معاملہ میں کسی قسم کا خوف ہی لاحق نہیں ہو گا تو وہ مذاکرات کی میز پر ہمارے مؤقف کو تسلیم کرنا تو کجا‘ مذاکرات کا راستہ ہی اختیار نہیں کریگا جس کا واضح عندیہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حالیہ بیان سے مل رہا ہے۔ اس تناظر میں موجودہ صورتحال بھارت کے ساتھ مذاکرات کی نہیں‘ اسکے جارحانہ جنگی عزائم کا ٹھوس اور دوٹوک جواب دینے کی تیاریوں کی متقاضی ہے جس میں کسی قسم کی نرمی ملک کی سالمیت کے دفاع میں نرمی کے مترادف ہو گی جبکہ ہمارے پاس اب ملک کی سالمیت کے تحفظ کے معاملہ میں کسی ہلکی سی کوتاہی کی بھی گنجائش نہیں ہے۔

***

چیف جسٹس کا تھر کول منصوبہ کیس نیب کو بھیجنے کا حکم

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے تھرکول منصوبہ نیب کو بھجواتے ہوئے ملازمین کو تنخواہوں کے لیے متعلقہ فورم سے  رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تھرکول منصوبہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی  تو سائنس دان ڈاکٹر ثمرمند مبارک  اور ڈپٹی اٹارنی جنرل سمیت دیگر حکام عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ منصوبے پر 4 ارب 69 کروڑ روپے ضائع ہوگئے اور پیسہ ضائع ہونے کا ذمہ دار میرے سامنے ہے، جو ذمہ داران ہیں ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے بتایا کہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ نے جائزہ لے کر فنڈز جاری کیے جب فنڈز میسر ہوئے تو پلانٹ نہیں چل سکا ہمیں صرف اتنا کہا گیا کہ بجلی پیدا کر کے دکھاؤ، فنڈ بند ہونے کے بعد کوئلے سے گیس کیسے بناتے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ سمجھ نہیں آتی پلانٹس کا کیا کریں؟ وفاقی اور سندھ حکومت جائزہ لے کر بتائیں کہ کیا منصوبہ چل سکتا ہے؟ اور 6 ہفتے میں سائنٹیفک اسٹڈی کرکے فیصلہ کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے تھر کول منصوبہ ازخود نوٹس نمٹاتے ہوئے ملازمین  کو تنخواہوں کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

انسانی حقوق کا عالمی دن اور بھارتی چیرہ دستیاں! (1 )

asgher ali shad

اگرچہ دور حاضر کو بہت سے حلقے انسانی تہذیب و تمدن اور انسانی حقوق کے احترام کے حوالے سے مثا لی قرار دیتے نہیں تھکتے، مگر زمینی حقائق پر نگاہ ڈالیں تو اس تاثر کی تائید کرنا خاصا مشکل ہو جاتا ہے، خصوصاً آج بھی دنیا میں ایسے بہت سے بد قسمت خطے موجود ہیں جہاں انسانی حقوق کی پامالیوں کا بدترین سلسلہ اپنی پوری شدت اور تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور ایسے علاقوں میں یقیناًمقبوضہ کشمیر اور فلسطین سر فہرست ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی جانب سے گذشتہ 71سالوں سے غیر انسانی مظالم کی انتہا ہو چکی ہے مگر اسے عالمی ضمیر کی بے حسی ہی کہا جا سکتا ہے کہ اس جانب عالمی برادری نے ہنوذ خاطر خواہ توجہ نہ دی اور اسی وجہ سے اس علاقے میں کشمیریوں کی نسل کشی کا قبیح عمل نہ صرف جاری ہے بلکہ ہر آنے والے دن کے ساتھ اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ جنگی جرائم بالعموم دو طرح کے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم کو امن کے خلاف جرم قرار دیا گیا ہے، اس ضمن میں جارحیت کے نقطہ نظر سے جنگ کی منصوبہ بندی، تیاری اور عملی جارحیت شامل ہیں۔ جنگی جرائم کی دوسری قسم وہ ہے جس کے مطابق انسانی اقدار کے خلاف جرائم ہوتے ہیں اور ایسی صورتحال کے مطابق اگر دو ممالک یا گروہوں کے مابین بوجوہ جنگ کی نوبت آ ہی جائے تو اس جنگ کے دوران شہریوں کی ہلاکت، عوام پر جان بوجھ کر گولہ باری، زیر حراست افراد کے خلاف دوران حراست تشدد اور ہلاکتیں اور شہری ٹھکانوں کو تباہ کرنا شامل ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اگر کوئی فرد یا گروہ جان بوجھ کر اس قسم کے جرائم کا مرتکب ہوتا ہے تو عالمی برادری کا فرض ہے کہ جنگی جرائم کے ٹربیونل قائم کر کے ایسے افراد کے خلاف باقاعدہ مقدمات چلائے جائیں اور انھیں قرار واقعی سزا دی جائے۔یاد رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ’’نورم برگ‘‘ میں عالمی برادری نے اسی بین الاقوامی قانون اور روایت کے تحت بہت سے نازی جرمنی کے اہلکاروں اور کئی جاپانیوں کو باقاعدہ مقدمہ چلانے کے بعد مختلف نوعیت کی سنگین سزائیں دی تھیں اور پھر گذشتہ برسوں میں یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد سربیا کے حکمران ’’ملازووچ‘‘ اور اس کے کئی ساتھیوں کو گرفتار کیا اور ہیگ (ہالینڈ میں قائم جنگی جرائم کے ٹربیونل ) میں ان کے خلاف مقدمات چلائے گئے۔ اس کے علاوہ کمبوڈیا کے سابق حکمران ’’پول پاٹ‘‘ کے قریبی ساتھیوں کے خلاف بھی جنگی جرائم کے ارتکاب کے جرم میں بھی مقدمات چلے۔ ایسی صورتحال میں بہت سے حلقوں کی یہ رائے خاصی وزن اختیار کر گئی ہے کہ ربع صدی سے بھی زائد عرصے سے جس بڑے پیمانے پر جموں کشمیر کی مقبوضہ ریاست میں انسانی اقدار کی دھجیاں اڑائی گئیں اور جس شدت سے یہ سلسلہ جاری ہے، ہزاروں افراد کو زندہ رہنے کے حق سے محروم کر دیا گیا،ان جرائم کے مرتکب بھارتیوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قائم جنگی جرائم کے ٹربیونل میں مقدمات کیوں نہ چلائے جائیں؟ مقبوضہ کشمیر میں دہلی کے انسانیت سوز مظالم کا جائزہ لیں تو حیرانگی اور بے پناہ افسوس ہوتا ہے کہ اس جدید دور میں بھی زمین کے کسی خطے پر اس قدر مظالم روا رکھے جا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ جنوری 1989 سے لے کر 30 نومبر 2018 تک مقبوضہ کشمیر میں 95,234 بے قصوروں کو شہید کر دیا گیا جبکہ 7,120 لوگ حراست کے دوران شہید ہوئے۔ 109,183دکانوں اور مکانوں کو مسمار یا نذر آتش کر دیا گیا۔ 107,751بچوں کے سروں سے والدین کا سایہ چھین لیا گیا اور 22,894خواتین کو بیوگی کے لق و دق صحرا میں دھکیل دیا گیا۔ 11,107خواتین کے ساتھ اجتماعی بے حرمتی کے واقعات پیش آئے۔ اسی تناظر میں دس دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا تا ہے ۔ نہتے فلسطینیوں ، کشمیریوں اور خود بھارتی اقلیوں کے بنیادی انسانی حقوق کو جس برے طریقے سے مجروح کیا جا رہا اسے ایک ستم ظریفی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف ایک روز قبل ہندوستان بھر کے مسلمانوں نے 6 دسمبر کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا کیونکہ 26 برس قبل یعنی 6 دسمبر 1992 کو جنونی ہندوؤں نے بابری مسجد کو شہید کر کے بھارتی مسلمانوں کے جذبات کو جو ٹھیس پہنچائی تھی اس کا مداوا آج تک نہیں ہو سکا بلکہ انتہا پسند ہندو گروہ کھلے عام اپنے اس غیر انسانی جرم کو بطور کارنامہ بیان کرتے ہیں اور سنگھ پریوار میں شامل BJP سمیت ساری جماعتیں اس دن کو ’’ گرو دیوس‘‘ یعنی یومِ فخر کے طور پر مناتی ہیں ۔ کچھ روز قبل بھارتی صوبے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو رام کا نہیں، وہ ہمارے کسی کام کا نہیں‘‘۔

(جاری ہے۔۔۔)
***

اعظم سواتی نے انتہائی عمومی تحقیقات پر بھی استعفیٰ دے دیا، فواد چوہدری

اسلام آباد: وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اعظم سواتی وہ دوسرے وزیر ہیں جنہوں نے انتہائی عمومی تحقیقات پر بھی استعفی دے دیا۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کے عہدے سے مستعفی ہونے کے اعلان پر فواد چوہدری نے ردعمل  میں ٹوئٹ کیا جس میں انہوں ںے اعظم سواتی کے اقدام کو خود احتسابی کے کلچر میں نئے پاکستان کا نیا رخ قرار دیا۔

وزیر اطلاعات نے لکھا کہ اس ملک میں سزا یافتہ لوگ بھی عہدوں سے چمٹے رہتے تھے تاہم عمران خان نے خوداحتسابی کا جو کلچر سیاست میں متعارف کرایا اس کی مثال انتہائی جدید جمہوری ممالک میں ہی ملتی ہے اور یہی روایات نئے پاکستان کا نیا رخ ہیں۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر اعظم سواتی نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اعظم سواتی کا کہنا ہے کہ میں نے استعفیٰ وزیر اعظم عمران خان کو بھیج دیا ہے، وزیراعظم کو ملاقات میں بتایا کہ ان حالات میں کام نہیں کرسکتا، اخلاقی برتری کے لیے استعفیٰ دیا ہے، وزیر اعظم نے بات مان کر استعفیٰ قبول کرلیا ہے جب کہ اب کسی قلمدان کے بغیر اپنا کیس لڑوں گا۔

خارزارصحافت اورروز نیوزکے بیورو چیف نورالحسن کا صحافتی قتل

صحافت ایک آئینہ ہے جس میں سماج ،معاشرہ قوم اور ملک کی سیاسی اور سماجی زندگی کی جھلک نظر آتی ہے ۔یہ صرف لکھنے پڑھنے کانام نہیں بلکہ موجودہ دور کی ایک ضرورت بن چکی ہے اور اس کے اثرات سیاست،سماج، معاشرے ،ملک اور قوم پر دور رس اور ہمہ گیر ہیں اس وجہ سے اس شعبہ کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں یہ دنیا جو اربوں انسانوں اور لاکھوں مربع میل رقبہ پر محیط ہے اب یہ گلوبل ویلج میں تبدیل ہو چکی ہے۔انسان کی عزو منزلت میں یہ پہلو بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ اسے عقل و شعور دیا گیا ہے اور اس نے لکھنے پڑھنے کے ذریعے نظام حیات و کائنات میں تجسس سے کام لے کر اپنے منصب کو پہچاننے ،مقصد حیات کو سمجھنے اور زندگی کو بہتر طور پر برتنے کی ارتقائے انسان کی ہر دور میں کوشش کی ہے اور یہ کوشش اپنی فطرت کے مطابق جاری و ساری رکھے ہوئے ہے اور تا ابد جاری رکھے گا۔جمہوری دنیا میں ریاست کا جوتصور پیش کیا گیا ہے اس میں پریس کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا گیا ہے اس دور جدید میں الیکٹرانک میڈیا بھی پریس کا ایک حصہ ہے تین ستونوں کی مضبوطی کا انحصار اس چوتھے ستون کی مضبوطی پر ہے ریاست کے تین ستون بھی اہمیت کے حامل ہیں لیکن چوتھا ستون منزل کی طرف راہنما خطوط متعین کرتا ہے منزل کا پتہ دیتا ہے یہی چوتھا ستون صحافت آج لوگوں کی بصارت اور سماعت کا مترادف بن چکی ہے یہ ہر آن سماج کے بدلتے ہوئے حالات اور اقدار میں راہنمائی بخشتی ہے کہ ہمارا ماضی کیا تھا ،حال کیسا ہے اور مستقبل کیسا ہو گا اور اس سلسلے میں ہمیں کیا کچھ کرنا چاہیے یہ سماجی و معاشرتی برائیوں کی نشاندہی کر کے اصلاح قوم و معاشرت کا اہم کام بھی انجام دیتی ہے جب بھی اس چوتھے ستون کو جبراًگل کرنے کی سعی لاحاصل کی جائے گی تو دوسرے تین ستون بھی نظروں سے اوجھل ہو جائیں گے ماضی اس پر شاہد ہے کہ جب بھی اس ستون کی آزادی چھیننے کی کوشش کی گئی کسی کو کچھ نہیں ملافیض احمد فیض نے کہا تھا

زباں پہ مہر لگی تو کہا کہ رکھ دی ہے
ہر حلقہ زنجیر میں زباں میں نے
پاکستان کے جرنلسٹ،دانشور،شاعر اور ادیب آمریت کے خلاف ہراول بنے سبھی اپنی آواز ،اپنے الفاظ ،اپنی تصاویر اور کارٹونوں کے ساتھ زیر عتاب بھی آئے جیل گئے بیڑیاں پہنیں کوڑے کھائے پولیس گردی کا شکار ہوئے لیکن ان کی ثابت قدمی متزلزل نہ کی جاسکی کئی ایسے بھی تھے جو آج آزادی صحافت کے علمبردار بنے ہوئے ہیں ضیاء الحق کے ہراول دستے میں شامل ہو کر مرادیں پا گئے طوفانی اور سچی تحریریں پڑھ کر آمریت کے کاخ ایوان لرزتے ضرور ہیں اور نشے میں مدہوش آمر سہم جاتے ہیں ویسے بھی دنیا کا ہر شعبہ اچھے اور برے انسانوں کی آمیزش پر مشتمل ہوتا ہے باضمیر صحافی سچ کی خاطر اپنی ترقیوں اور ملازمتوں کو خطرے میں ڈالنے سے گریز نہیں کرتے نڈر اور بے باک مالکان اخبار وجرائد حکومت سے اشتہارات کی بندش اور ڈکلریشن کی منسوخی تک مول لے لیتے ہیں اسی طرح جرأت مند اور پیشہ وارانہ امانت کے حامل رپورٹر صحیح اور درست خبروں کو لانے کیلئے جنگی میدانوں میں بے خوف و خطر گھس جاتے ہیں اور جان تک کی پرواہ نہیں کرتے یہ محکمانہ بد عنوانیوں اور اخلاقی سکینڈلوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش میں حادثات کا شکار ہونے کی پرواہ نہیں کرتے ۔رپورٹنگ محض کیچڑ اچھالنے اور کسی کی شہرت کو نقصان پہنچانے کیلئے نہیں ہونی چاہیے بلکہ عظیم تر قومی مفاد میں سچائی اور حقائق کو سامنے لانے کا نام ہے مثبت اور تعمیری رپورٹنگ میں سکینڈلز کو بے نقاب کیا جاتا ہے اور قانون کی خلاف ورزیوں کو نمایاں ۔اس فیلڈ میں کام کرنے والے صحافی معاشرے میں ہونے والی انفرادی اور اجتماعی برائیوں کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی اصلاح کا کام کرتے ہیں اس رپورٹنگ کے نتیجے میں قوم اربوں روپے کی لوٹ مار سے محفوظ ہو جاتی ہے اور اداروں کی پالیسیوں میں مثبت تبدیلی آتی ہے بھارت کا تہلکہ ڈاٹ کام ہو یا امریکہ میں صدر نکسن کے دور کا واٹر گیٹ سکینڈل ،بل کلنٹن کے دور کا مونیکا لیو نسکی کیس،فلپائن کے صدر ایسٹر ا ڈاکو کو ملنے والی سزا ان سب کے پس منظر میں نیوز رپورٹنگ کا ہی کردار نظر آتا ہے ۔معزز و محترم قارئین یہ بھی دنیا کی سب سے بڑی سچائی ہے کہ سچ لکھنا اور سچ کہنا ایک کڑا امتحان ہے ۔سچ کہنے بولنے اور سچ لکھنے کیلئے کبھی زہر کا پیالہ پینا پڑتا ہے ،کبھی پھانسی کے پھندے پر جھولنا مقدر بنتا ہے ۔باجرأت ،بے باک،نڈر لوگوں کو موت کا خوف سچ کہنے ،سچ بولنے اور سچ لکھنے سے باز نہیں رکھ سکتا سچ کی خاطر اذیتیں سہنا تو انبیاء کا شیوہ رہا ہے سچ کہہ کر فرعونان وقت سے ٹکر لینا آسان نہیں ہوتا اس خار دار کھٹن راستے کا چناؤ بھی بہادر ہی کرتے ہیں جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے میں وہ لرزہ بر اندام نہیں ہوتے وقت کی مصلحتیں ایسے انسانوں کیلئے سدّراہ نہیں بنتیں ایسے لوگ بکاؤ مال نہیں ہوتے نہ ہی چڑھتے سورج کے پجاری شاعر نے انہیں کی عظمت کو اس شعر میں بیان کیا ہے۔

انسان کی عظمت کو ترازو میں نہ تولو
انسان ہر دور میں انمول رہا ہے
صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے اس ستون کی بنیادوں میں سچائی کے ان گنت علمبرداروں کا لہو شامل ہے اس وقت وطن عزیز کئی اقسام کے ملک دشمن مافیاز میں گھر چکا ہے جب بھی کسی پر کوئی افتاد پڑتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے پیچھے فلاں مافیا سرگرم ہے اور یہ اس قدر طاقتور ہے کہ حکومت کا کوئی ادارہ کسی غلط فہمی میں اس پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے منہ کی کھانی پڑتی ہے ۔ان مختلف جرائم پیشہ مافیاز کی سرکوبی کیلئے جہاں قانون محافظ ادارے نبرد آزما ہوتے ہیں وہاں صحافت کا شعبہ بھی ان کیلئے سدراہ بنتا ہے صحافت سے وابستہ افراد کو سچ کی تلاش اور سماج کی اصلاح کیلئے قدم قدم پر خطرات کا سامنا رہتا ہے وطن عزیز میں ایسے صحافی اور رپورٹر بھی موجود ہیں جو جان کے نذرانے پیش کر کے ملک و قوم کے سامنے سرخرو ہوئے ۔یہ بے باک صحافی دہشتگردی کا شکار ہوگئے لیکن قانون دشمن عناصر کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکاری رہے اگر سماج کا کوئی معززفرد ،صحافی یا پولیس کا اہلکار آنکھیں بند کر کے اپنے سامنے جرم یا کوئی غیر قانونی کام ہوتے دیکھتا ہے مگر خاموش ہے تو وطن، معاشرے اور اپنے پیشے سے انصاف ہی نہیں کر رہا بلکہ اس سے غداری کا مرتکب ہو رہا ہے صحافت ایک معنوں میں عوام اور حکومت کے درمیان سفارت کاری ہے ۔صحافی قومی سفیر ہوتے ہیں ۔کوئی غنڈہ قومی سفیر کو اپنی بر بریت کا نشانہ بناتا ہے تو اسے کوئی ڈر نہں ہوتا پشاور میں موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں کی فائرنگ سے روزنیوز کے خیبر پختونخواہ کے بیورو چیف نورالحسن شہید ہوگئے جبکہ کیمرہ مین شبیر شدید زخمی ہوگیا۔بیوروچیف نورالحسن کا تعلق نوشہرہ سے تھا وہ گاڑی میں پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کیلئے حیات آباد سے پشاور جا رہے تھے کہ رنگ روڈ پر نامعلوم موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر شہید ہوگئے جبکہ کیمرہ مین شبیر شدید زخمی ہو گیا ۔تہذیبی ارتقاء کے دامن میں اس سے زیادہ بد نما داغ ممکن ہی نہیں ہوتا کہ راہ چلتے انسان کو گولیوں کی بوچھاڑ پر رکھ کر موت سے ہمکنار کر دیا جائے اور یہ معلوم ہی نہ ہو سکے کہ اسے کن لوگوں نے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا۔قتل کے ان مجرموں کی گرفتاری اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانا اصل معرکہ ہے تاکہ ایسی وارداتوں کے منصوبہ ساز اور ان پر عمل درآمد کرنے والے عبرت پکڑیں پاکستان کو صحافتی اعتبار سے دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ میدان صحافت کے دوسرے شہداء کی طرح نورالحسن کا کیس بھی وقت کی راہداریوں میں گم ہوجاتا ہے یا پھر نورالحسن شہید کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جاتی ہے۔
***

قبل از وقت انتخابات کے لیے ہر وقت تیار ہیں، نواز شریف

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ  مسلم لیگ (ن) قبل از وقت انتخابات کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

اسلام آباد میں احتساب عدالت میں پیشی کے دوران صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران نواز شریف نے کہا کہ  ہم نے بجلی کے چار منصوبوں میں  160 ارب روپے بچائے کسی نے شاباش نہیں دی، عمران خان کی بات کیا کروں جو کچھ  وہ کررہے ہیں دنیا دیکھ رہی ہے۔ عمران خان نے قبل ازوقت انتخابات کی بات کی اس کو سن کرعوام کو خوشی ہوئی ہوگی، عوام سوچ رہے ہوں گے کہ اچھا ہے ان سے جتنی جلدی جان چھوٹ جائے۔

صحافی نے نوازشریف سے سوال کیا کہ اگر اب مڈٹرم الیکشن ہوتے ہیں تو کیا آپ تیارہیں جس پرنواز شریف نے کہا کہ کیا آپ کو ہماری تیاری پچھلے الیکشن میں نظرنہیں آئی۔ ہم سنجیدہ سیاست کے قائل ہیں اور مسلم لیگ (ن) قبل از وقت انتخابات کے لیے ہر وقت تیار ہے

نوازشریف نے کہا کہ فافن کے مطابق 53 حلقوں میں مستردووٹوں کی تعداد لیڈ سے زیادہ ہے، فافن کے مطابق 95 فیصد فارم 45 پرپولنگ ایجنٹوں کے دستخط نہیں تھے اور پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا دیکھنے میں نہیں آیا۔ نوازشریف نے آصف علی زرداری کے کرپشن کیسز پر بات کرنے سے گریز  کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو اپنے اوپر عدم اعتماد کرنے والی بات ہے۔

 

یاسر شاہ نے ٹیسٹ کرکٹ کا 82 سالہ ورلڈ ریکارڈ توڑدیا

ابوظہبی: لیگ اسپنر یاسر شاہ نے نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں ٹیسٹ وکٹوں کی تیز ترین ڈبل سنچری مکمل کرلی۔

قومی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز لیگ اسپنر یاسر شاہ نے نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں ٹیسٹ وکٹوں کی تیز ترین ڈبل سنچری مکمل کرلی، لیگ اسپنر نے یہ ہدف 33 ویں میچ میں عبور کرلیا جب کہ اس سے قبل آسٹریلوی کلیری گریمٹ نے 36ٹیسٹ میں وکٹوں کی ڈبل سنچری مکمل کی تھی۔

واضح رہے کہ کلیری گریمٹ کا یہ ریکارڈ 82سال سے نہیں ٹوٹ سکا تھا، اس لحاظ سے ٹاپ بولرز کی فہرست میں روی چندرن ایشون37، ڈینس للی اور وقار یونس38،38 میچز میں 200وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے، تاہم اب یاسر شاہ نے ٹاپ پر جگہ بنالی ہے۔

Google Analytics Alternative