Home » Author Archives: Admin (page 20)

Author Archives: Admin

کانز فیسٹیول میں بالی وڈ اداکارہ دپیکا کے انوکھے انداز

فرانس کے شہر کانز میں 72 واں سالانہ فلم فیسٹیول جاری ہے جس کے ریڈ کارپٹ پر بالی وڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون نے فیشن کے جلوے بکھیرے۔

دپیکا پڈوکون نے گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی معروف میک اپ برانڈ لورئیل کی نمائندگی کی اور اپنے منفرد اسٹائل سے سب کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔

انہوں نے ہمیشہ کی طرح فیشن کے نئے انداز کا انتخاب کیا اور مختلف میک اپ اور ہیئر اسٹائلز کو اپنایا۔

اداکارہ نے کانز ریڈ کارپٹ پر جلوہ گر ہونے سے قبل ہی اپنے ہر اسٹائل کی تصاویر انسٹاگرام پر شیئر کیں جنہیں مداحوں کی جانب سے پسند کیا گیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے اپنی تیاری کے حوالے سے ویڈیوز بھی شیئر کیں جس میں بتایا کہ وہ صبح چار بجے سے میک اپ اور نت نئے منفرد ملبوسات کا انتخاب کرکے تصاویر  بنانے میں مصروف ہیں۔

اداکارہ نے لورئیل برانڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے سب سے پہلے سفید رنگ کی میکسی زیب تن کی۔

کانز فلم فیسٹیول میں اداکارہ نے کورٹ پینٹ پہن کر بزنس لک کا بھی انتخاب کیا۔

دپیکا پڈوکون نے رن وے لک میں شاندار جلوے بکھیرے۔

دپیکا پڈوکون کی فلورل پرنٹ لک بھی سب کی توجہ کا مرکز بنی۔

 آخر میں انہوں نے ہلکے ہرے رنگ کا فلر لباس زیب تن کیا جس پر مائلڈ پنک رنگ کی کیپ کا انتخاب کیا۔

دپیکا جیسے ہی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتیں، مداح سمیت ان کے شوہر و اداکار رنویر سنگھ بھی محبت کا اظہار کرتے۔

کانز فلم فیسٹیول میں دپیکا پڈوکون سمیت اداکارہ پریانکا چوپڑا کنگنا رناوت اور بھارتی ٹی وی اسٹار حناء خان نے بھی فیشن کے جلوے بکھیرے۔

مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فورسزنے مزید 4 کشمیری نوجوانوں کوشہید کردیا

 سری نگر: ضلع پلوامہ میں قابض بھارتی فورسزکے ہاتھوں مزید 4 کشمیری نوجوانوں شہید ہوگئے۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیرکے ضلع پلوامہ میں بھارتی فورسزنے آج بھی بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید 4 نوجوان کشمیریوں کونام نہاد آپریشن کی آڑمیں شہید کردیا۔

شہادت کے بعد ضلع بھرمیں مظاہرین کا احتجاج جاری تھا کہ بھارتی فورسزکی جانب سے مظاہرین پرآنسو گیس کی شیلنگ اورپیلٹ گنزکا استعمال کیا گیا، جس کے باعث جھڑپوں کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا۔

دوروزقبل بھی ضلع پلواما اوربارہ مولہ میں بھارتی فورسز نے ظلم کا مظاہرہ کرتے ہوئے 8کشمیریوں کو شہید جب کہ  ایک گھر کو نذرآتش کردیا تھا۔

ڈوبتی معیشت قومی سلامتی کیلئےخطرہ ہے،محب وطن قوتوں کوکچھ سوچناہوگا،شہبازشریف

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ ڈوبتی معیشت قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہے اور محب وطن قوتوں کو کچھ سوچنا ہوگا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اوگرا کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں مزید 45 فیصد مجوزہ اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس اضافے کی سمری کو مسترد کیا جائے۔

لندن سے جاری بیان میں حکومتی معاشی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نیازی حکومت ملکی امور چلانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، ملکی معیشت اسی طرح ڈوبتی رہی تو قومی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہوگی اس لئے بہتر ہے کہ نالائق اور نااہل ٹولہ ملک و قوم کے مفاد پر تجربات کرنے کے بجائے گھر چلا جائے کیونکہ نااہل ٹیم جس قدر جلد حکومتی امور سے الگ ہو جائے اتنا ہی ملک و قوم کے حق میں بہتر ہوگا۔

ن لیگ کے صدر نے کہا کہ نیازی صاحب کی نالائقی، نااہلی اور کوتاہ نظری نے پاکستان کی معیشت کو ایشیا کی بدترین معیشت بنا دیا ہے اور قوم اس وقت سب سے بڑی تبدیلی یہ چاہتی ہے کہ نااہل اور نالائق ٹولہ تبدیل ہو جائے، گیس، بجلی، پٹرول اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد عوام کیسے زندہ رہیں گے اور کاروبار کیسے ہوگا؟۔

قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ وقت ثابت کر رہا ہے کہ نیازی صاحب لوگوں کو صرف گالیاں دے سکتے ہیں لیکن ملک گالیاں دینے سے نہیں چلتے، ملک کی سنگین ہوتی معاشی صورتحال خطرے کی گھنٹیاں بجا رہی ہے، ملک و قوم یہ مزید دباؤ برداشت کرنے کے متحمل نہیں اس لئے محب وطن قوتوں کو اس حوالے سے کچھ سوچنا ہوگا کیونکہ خدانخواستہ معیشت اس سے مزید نیچے گئی تو پھر اس کی واپسی معجزہ ہی ہوگی۔

جمہوری طاقتیں جمہوریت چلنے دیں

ملک میں اس وقت مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے جو کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا جس کی دو بڑی وجوہات ہیں ،ایک بیڈ گورننس اور دوسری وجہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کا بڑھنا ہے ۔ اس وقت ایک ڈالر 151پاکستانی روپوں کا ہو چکا ہے اور ڈالر کے مسلسل بڑھنے کے باعث معاشی عدم استحکام پیدا ہو چکا اور سٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان ہے اس کے ساتھ ساتھ ڈالر کی روپے کے مقابلے میں قدر بڑھنے کے باعث پیٹرول اور فرنس آئل کی قیمت میں اضافے نے ملک میں تمام اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بے حد اضافہ کیاجس نے عام آدمی کو مشکلات سے دوچار کر دیا اور گزشتہ10سالوں میں کرپشن کرنے کے باعث احتساب کے گرداب میں پھنسی سیاسی قیادت کو تنقید کا موقع مل گیاکیونکہ مہنگائی پر تو ہر کوئی کسی بھی وقت سیاست کر سکتا ہے حالانکہ آج ملکی معاشی صورتحال کے ذمہ دار موجودہ حکمران نہیں بلکہ 2008ء میں قائم پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اور پھر 2013ء میں قائم ہونیوالی پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومتیں ہیں کیونکہ پی پی اور ن لیگ کے10سالہ اقتدار میں ملک پر 500گنا بیرونی قرضوں کا بوجھ ڈالا گیا اور قرضے بھی شتربے مہار لیے گئے جن کی واپسی کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی ۔ یہاں ڈالر کی پاکستان بننے سے اب تک قیمت پر نظر ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ قارئین کو اصل صورتحال کا پتا چل سکے ۔ پاکستان بننے کے چند ماہ بعدیعنی1948ء میں ڈالر سوا تین روپے کا تھاجو7سال تک اسی قیمت پر برقرار رہا پھر 1955ء میں تھوڑی بہت ڈالر نے ہلچل کی اور 3;46;9روپے کا ہو گیا لیکن اگلے ہی سال 1956ء میں ڈالر یکدم پونے 5روپے کا ہو گیاجو 15سال تک اسی قیمت پر براجمان رہا ۔ 1972ء میں اچانک ڈالر نے اونچی اڑان لی اور تقریبا4روپے مہنگا ہو کر 8;46;6روپے کا ہو گیاجو اگلے ہی سال1973ء میں 10روپے کا ہو گیا ۔ 1973ء سے 1981ء تک ڈالر 10روپے کا ہی رہا مگر پھر1982ء میں پاکستانی کرنسی کو ڈالر کے مقابلے میں نظر سی لگ گئی اور ڈالر نے پاکستانی روپے کے مقابلے میں ہر سال مضبوط سے مضبوط تر ہونا شروع کر دیا ۔ 1982ء میں ڈالر پونے 12روپے،83ء میں 13روپے،84ء میں 14;46;4روپے اور پھر اسی طرح 1988ء میں ڈالر بڑھ کر 18روپے تک جا پہنچا ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 1988ء تک جمہوری ادوار بھی گزرے اورتین ڈکٹیٹرز کے دور حکومت بھی رہے مگر ڈالر 40سالوں میں سواتین روپے سے بڑھ کر 18روپے تک گیا یعنی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت 40سالوں میں محض پونے 15روپے بڑھی لیکن جونہی ملک میں 1988سے جمہوری ادوار شروع ہوئے تو ڈالر1988ء سے 1998ء تک ڈالر 18روپے سے 45روپے تک جا پہنچا اور ان 10سالوں میں دو دفعہ پاکستان پیپلز پارٹی اور دو دفعہ پاکستان مسلم لیگ ن نے حکومت کی جن کے ادوار میں ڈالر 27روپے تک بڑھ گیا ۔ اس کے بعد جنرل (ر)مشرف کا دور حکومت آیا اور ایک ڈکٹیٹر کی حکومت ہوتے ہوئے بھی ڈالر 10سالوں میں 22روپے مزید بڑھ گیایعنی 1998ء سے 2008ء تک ڈالر کی روپے کے مقابلے میں قیمت 45روپے سے بڑھ کر 67روپے تک جا پہنچی ۔ اس کے بعد پھر پاکستان پیپلز پارٹی کا 5سالہ دور حکومت شروع ہوتا ہے اور ڈالر کو پر لگ جاتے ہیں ۔ 2008ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت برسر اقتدار آئی اور اسی سال چند ماہ میں پی پی دور حکومت میں ڈالر یکدم 81روپے تک جا پہنچا یعنی محض 6ماہ میں ڈالر کے مقابلے میں پاکسانی روپے کی قدر میں 14روپے کی کمی واقع ہو گئی جس کی ذمہ داری پی پی حکومت نے سابق وزیراعظم شوکت عزیز پر ڈال دی کہ انھوں نے ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول میں کیا ہوا تھا اب ہم آ گئے ہیں تو ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر آ رہی ہے مگر پی پی حکومت کے اس اقدام سے مہنگائی کا ایک طوفان آ گیا اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں تین گنا تک بھی اضافہ دیکھا گیا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت 2008ء سے 2013تک قائم رہی جس دوران ڈالر کی قیمت 5سال میں 67سے بڑھ کر 98روپے تک جا پہنچی ۔ اب پی پی حکومت جواب دے کہ اس کے دور حکومت میں ڈالر 31روپے کیوں بڑھا;238;پی پی حکومت میں مہنگائی نے جو ہونا تھا ہو گئی تھی اور اب روٹین میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا تھا کہ2013ء میں پھر عام انتخابات ہوئے اور ملک میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہو گئی اور اس ملک کی عوام پر پھر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا گیاکیونکہ ڈالر پھر بے لگام تھا اور ن لیگ معاشی صورتحال کی ذمہ داری مشرف اور پی پی حکومت پر ڈالتی نظر آ رہی تھی ۔ 2013ء سے 2018ء تک پاکستان مسلم لیگ ن نے ملک پر حکومت کی اس دوران ڈالر 98روپے سے بڑھ کر 130روپے کا ہو گیا جو کہ بعد میں 122روپے پر واپس آ کر 124روپے پر ٹھہر گیا ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں ڈالرکی قیمت میں 32روپے تک اضافہ ہوا تو کیا پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت 32روپے ڈالر کے بڑھنے کا جواب دیگی;238;اگر پی پی اور ن لیگ کے 2008ء سے 2018ء کے 10سالہ دور میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 63روپے کمی واقع ہوئی اور ڈالر 67روپے سے 130روپے تک جا پہنچا جس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا طوفان بدتمیزی بپا رہا اور غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پستے چلے گئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت 2018ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی اور پی ٹی آئی کے ابتدائی 9ماہ کے دور حکومت میں ڈالر 124سے 151روپے تک جا پہنچا ہے آگے اللہ خیر ہی کرے کیونکہ یہی سلسلہ رہا تو ملک سے غریب کم ہونا شروع ہوجائیں گے اس لیے خدارا حکومت کچھ ہاتھ پاؤں مارے اور روپے کے مقابلے میں بڑھتی ڈالر کی قدر کو روکے اور جاری مہنگائی پر کنٹرول کرے ۔ ملک میں جاری مہنگائی کے باعث اپوزیشن جماعتیں سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش میں مصروف نظر آتی ہیں کیونکہ تاحیات قائد ن لیگ نواز شریف نے جیل سے پارٹی قائدین کو عید کے بعد حکومت کیخلاف سڑکوں پر تحریک چلانے کی ہدایت کی ہے اور یہ تحریک نوازشریف کے بیانیے کے عین مطابق ہی چلائی جائے گی ۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی اپوزیشن جماعتوں سے رابطے تیز کر دئیے ہیں اور انکے قائدین کو افطار ڈنر پر مدعو کر لیا ہے جبکہ پی پی کے کو چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری 4روز قبل عید کے بعد سڑکوں پر حکومت کے خلاف تحریک کا عندیہ دے چکے ہیں اور مولانا فضل الرحمان تو ویسے ہی ایسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کو تیار بیٹھے ہیں کیونکہ آج کل انکے لیے کوئی کام جو نہیں کرنے کو ۔ پاکستان مسلم لیگ ن ،پاکستان پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف کو ملک میں جاری مہنگائی سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ انہی کے ادوار میں ڈالر 31اور 32روپے مہنگا ہوا تب تو ان کو اپنے اپنے دور حکومت میں عوام کا خیال نہیں آیا تو اب کیسے آ گئی ۔ دراصل تینوں سیاسی جماعتوں کے قائدین ملک میں جاری احتسابی عمل سے بہت تنگ ہیں کیونکہ کچھ لین دین بھی تو نہیں ہو رہا کہ بات بن جائے یہی وجہ ہے کہ پی پی ،ن لیگ اور جے یو آئی ف حکومت کیخلاف عیدکے بعد تحریک چلانے کے لیے صف آراء ہو رہی ہیں ۔ اب کہاں گئی جمہوریت اور کہاں گئے جمہوریت کے رکھوالے ۔ 5سال کیلئے نا اہل ہونے اور سپریم کورٹ کی توہین کرنیوالے مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری بھی بولنا شروع ہو گئے اور کہتے ہیں کہ جمہوریت کے چکر میں ملک کو داوَپر نہیں لگا سکتے مگر ان سے کوئی پوچھے کے اپنے 5سالہ دور حکومت میں ملک کو جو داوَ پر لگایا اس کا کون حساب دیگا ۔ پاکستان تحریک انصاف کی انتظامی غلطیاں اپنی جگہ مگر جمہوریت کو چلنے دیا جائے اور ووٹ کو عزت دی جائے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کو عوام نے 5سال کا مینڈیٹ دیا ہے اس لیے جمہوری طاقتوں کو چاہئے کہ ملک میں افراتفری پھیلائیں نہ ہی ملک کو عدم استحکام سے دوچار کریں اور ملک اور عوام کیساتھ مخلص بنیں ایسا نہ ہو کہ کسی کے ہاتھ کچھ نہ آئے ۔

مکہ مکرمہ کی پہلی تصویر ڈھائی لاکھ ڈالرز میں نیلام

لندن: مکہ مکرمہ کی پہلی تصویر 2 لاکھ 50 ہزار ڈالرز میں نیلام کر دی گئی۔

مکہ مکرمہ کی 1888 میں لی گئی تصویر کی نیلامی لندن کے ساتھبیز نیلام گھر میں کی گئی۔

تصویر مشرقی تہذیبوں کے ماہر کریسٹیان سناک ہرخرونئے نے اس وقت لی تھی جب وہ جدہ میں ہالینڈ قونصل خانے میں ملازم تھے۔

تصویر میں 131 سال قبل کا مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام نمایاں ہے۔

تصویر کی ڈھائی لاکھ ڈالرز تک بولی لگائی گئی، نیلام گھر نے خریدار کا نام صیغہ راز میں رکھا ہے۔

پناہ گزین بھوت کی کہانی نے ایک سیاہ فام خاتون کو کانز کی دوڑ میں پہنچادیا

کانز: فرانس میں سجنے والے فلمی میلے کانز کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سیاہ فام خاتون یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران ڈوب کر مرنے اور پھر بھوت بن جانے والے پناہ گزین کی کہانی کے ساتھ اعلیٰ ترین اعزاز ‘پام ڈور’ کی دوڑ میں شامل ہوگئیں۔

36 سالہ میٹی ڈیوپ، سینیگال کے آرٹسٹ خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کی پرورش فرانس میں ہوئی ہے، معروف ڈائریکٹر جبرل ڈیوپ ان کے عزیز اور والد ویسس ڈیوپ موسیقار ہیں۔

اپنی فلم ’ایٹلانٹس‘ کے ریڈ کارپٹ پریمیئر کے بعد انہوں نے بتایا کہ وہ کچھ عرصے سے سینیگال میں مختصر فلمیں بنا رہی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ ان دنوں سینیگال کے داراحکومت ڈاکر میں رہ رہی تھیں جب وہ اس پیچیدہ اور حساس حقیقت سے روشناس ہوئیں جسے ’غیر قانونی ہجرت‘ کہتے ہیں۔

میٹی ڈیوپ نے بتایا کہ ایک مرتبہ جب انہوں نے فلم مکمل کرلی تو انہیں محسوس ہوا کہ ایسے بہت سے راستے اور مسائل ہیں جنہیں وہ تلاش کرسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ ایک نوجوان خاتون کے نقطہ نظر سے سمندر میں غائب ہوجانے والے نوجوانوں کی کہانی بتاؤں۔

اس مقصد کے لیے میتی نے رومیو جولیٹ کی کہانی کا انتخاب کیا جس میں مافوق الفطرت واقعات کا تڑکا بھی ہے۔

ان کی ہیروئن کا نام ادا ہے جو ڈاکر کے ایک پسماندہ ضلع میں رہتی ہے جس کے والدین اس کی شادی ایک امیر نوجوان سے طے کردیتے ہیں لیکن وہ سلیمان سے محبت کرتی ہے جو ایک بلڈر ہے اور ایک کرپٹ ڈویلپر نے اس کی تنخواہ روکی ہوئی ہے۔

جس کی وجہ سے سلیمان اور اس کے دوست فیصلہ کرتے ہیں کہ ان کا مستقبل صرف یورپ میں بن سکتا ہے اور ایک مشینی کشتی میں سوار ہو کر ایٹلانٹک روانہ ہوجاتے ہیں۔

جس کے بعد کشتی ڈوبنے اور اس کے تمام مسافروں کی ہلاکت کی اطلاع گھر پر آتی ہے لیکن ادا یہ بات ماننے سے انکار کردیتی ہے کہ سلیمان مرچکا ہے۔

جس کے بعد سلیمان اپنے دوستوں کو علاقے میں کئی جگہ نظر آتا ہے اور ادا کو بھی موبائل پر پراسرار پیغامات ملتے ہیں اور بہت سے لوگ ناقابلِ فہم بخار میں مبتلا ہوجاتے ہیں جس کے بعد سلیمان کی روح ایک پولیس والے کے جسم میں آجاتی ہے۔

مرنے کے بعد محبت کی اس کہانی کو بھرپور سراہا گیا اور اس کا موازنہ 1990 کی فلم ’گھوسٹ’ سے کیا جارہا ہے۔

لیکن اس فلم میں پناہ گزینوں کے بحران کی عکاسی سے اس کی سیاسی قدر و قیمت اور اخلاقی ضروریات میں اضافہ ہوا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس یورپی ممالک کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش میں تقریباً 2300 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے۔

کانز ایوارڈ کے لیے اپنی نامزدگی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ایک سیاہ فام عورت ہونے کے ناطے میں بہت شدت سے سیاہ فام کرداروں کی کمی محسوس کرتی ہوں اور اسی لیے میں نے یہ فلم بھی بنائی، میں اسکرین پر ہر جگہ سیاہ فام افراد کو دیکھنا چاہتی تھی’۔

بی جے پی کی رہنما نے گاندھی کے قاتل کو محب وطن قرار دے دیا

نئی دلی: حکمراں جماعت کی خاتون رہنما نے بھارت کے بانی رہنما مہاتما گاندھی کے قاتل کو محب وطن قرار دے دیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کی خاتون رہنما پراگیا سنگھ ٹھاکر نے مہاتما گاندھی کو قتل کرنے والے نتھو رام گوڈسے کی حمایت کرتے ہوئے اسے محب وطن شخص قرار دے دیا۔

بی جے پی رہنما کے بیان پر طوفان کھڑا ہو گیا اور کانگریس سمیت تمام جماعتوں کے رہنماؤں نے متنازع بیان پر شدید تنقید کی اور خاتون رہنما کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے جدو جہد آزادی کی تاریخ پڑھنے کا مشورہ دے ڈالا۔

دوسری جانب بھارتی عوام میں بھی بی جے پی رہنما کے بیان پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور عوام نے جگہ جگہ احتجاجی مظاہرے کیے اور پراگیا سنگھ ٹھاکر کے پتلے جلائے گئے ساتھ ہی وزیراعظم مودی کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔

بی جے پی رہنما پراگیا سنگھ ٹھاکر نے نتھو رام کے عمل کا دفاع کمل ہاسن کے اُس بیان کے ردعمل میں کیا جس میں کمل ہاسن نے کہا تھا کہ بھارت کا پہلا دہشت گرد ایک ہندو تھا جس نے گاندھی کو قتل کیا۔

عمران خان! آپ کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے

عمران خان صاحب ،وزیر اعظم پاکستان کو ذاتی حیثیت میں اپنے اور مخالف سب ہی اچھا سمجھتے ہیں ۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ نہ مغرب کا پسندیدہ ہے نہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کانہ ہی پاکستان کی مورثی،مفاداتی اور سیکولر سیاسی پارٹیوں کا ۔ وجہ اِس کی ایک ہی ہے کہ عمران خان پاکستان کو مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی خواہش رکھتا ہے ۔ مخلص ہے مگر معاملات کا باریکی سے تجزیہ کرنے سے عاری ہے ۔ ویسے دیکھا جائے تو عمران خان دھن کا پکا اورنا ممکن کو ممکن بنانے کا عزم رکھنے والا،مغرب میں گزاری اسلام مخالف پرانی زندگی سے توبہ کر کے اسلام کی بتائی ہوئی زندگی گزانے پر گامز ن ،تیسری بیوی، خاتون اوّل کا اسلامی احکامات پر عمل کرتے ہوئے شرعی پردے میں رہنا ۔ عمران خاں کا لباس قومی، رہائش اور ملکی معاملات میں کفایت شعاری پر ممکن حد عمل کرنا، کردار مومن نانہ ،کرپشن سے بالکل پاک، اقرابا پروری سے کوسوں دور، فلاحی کاموں کو ریکارڈ حد تک پایا تکمیل تک پہنچانے والا، پاکستانی عوام کی دل کی دھڑکنوں اور امنگوں کے مطابق پاکستان کو شاعر اسلام علامہ شیخ محمداقبال;231; کے خواب اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح;231; کے وژن کے مطابق، مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کے لیے کوششیں کرنے والا، صبح شام ہر تقریب میں بہ دبنگ دہل بغیر کسی معذرتانہ یا احساس کمتری کے اللہ کے بروصہ پر بار بار ملک کو مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے عزم کا اعادہ کرنا ۔ کرپٹ سیاست دانوں کے ساتھ سخت رویہ اور ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے عزم پرقائم ۔ ساری باتیں صحیح بلکہ سو فی صد صحیح ہیں ۔ مگر عمران خان کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اپنی نیک خواہشات کو آپ اکیلا پورا نہیں کر سکتے ۔ اس کےلئے ہمیشہ ایک مخلص اور با کردار ٹیم کی ضرور ت ہوتی ہے ۔ مگر آپ کے وزیر تو وہی ہیں جو کل کرپشن کرنے والے زرداری صاحب اور نواز شریف کے ساتھ تھے ۔ سابقہ دور میں ان ہی کی چشم پوشی کی وجہ سے مدینہ کی فلاحی ریاست کی طرف پیش قدمی نہیں ہوئی ۔ بلکہ کرپٹ سیاست کی کرپشن میں مدد مدد کار رہے ۔ کیا آپ بھی ایسے کرپٹ لوگوں کی ٹیم کے ساتھ مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست اور کرپشن فری پاکستان بنا سکتے ہیں ;238; کرپشن کا پیسہ واپس لے کر غریب عوام کے خزانے میں ڈال سکتے ہیں ;238; اگر تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بنو اُمیہ میں ، عمر بن عبدالعزیز;231; ایک نیک دل بادشاہ گزرا ہے ۔ جسے علمائے اسلام اور امت پانچواں خلیفہ راشد;231; کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ جب وہ تحت بیٹھا تو بادشاہی طور طریقے چھوڑ کر اس نے با لکل وہ ہی کچھ کرنے کی کوشش کی جو خلفاء راشدین ;230;نے کامیابی سے کی تھی ۔ اس کے پاس بادشاہوں والے اختیارت بھی تھے ۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے پاس اصلاح کا کام کرنے والی ٹیم نہیں تھی بلکہ بنو امیہ کے پہلے والے باشاہوں والی ہی ٹیم تھی ۔ جو پرانے نظام سے مستفید ہونے کی عادتیں لیے ہوئے تھی ۔ عوام کے اسلامی طرز کی تربیت کا کام کرنا تو دور کی بات، بادشاہت کو واپس مدینہ کی اسلامی ریاست میں تبدیل کرنے کی نیت بھی نہیں تھی ۔ پھر ان ہی ظالموں نے عمر بن عبدالعزیز;231; کو جلد ہی راستے سے ہٹا دیا تھا ۔ عمران خان آپ کی نیت پر شک کرنے کی کوئی بھی گنجائش نہیں ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ نے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے سارے کرپٹ لوگوں کو اپنے پاس جمع کر رکھا ہے ۔ آپ کو اتنا بھی ادراک نہیں کہ ان ہی لوگوں کی وجہ سے پیپلز پارٹی اور نون لیگ بدنام ہوئی ہیں ۔ بین القوامی اہل کاروں اور ان لوگوں آپ کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا ہے ۔ آئی ایم ایف کے ملازموں کا پاکستان کے اداروں میں آنا آپ کے خلاف جائے گا ۔ ملک میں مہنگائی جو آپ کے پہلے وزیر خانہ کے دور میں بڑھی ، اس کو یہ لوگ سونامی کی حد تک لے جائیں ۔ عوام کی چیخیں نکلیں گی ۔ آپ کے نیک ارادے دھرے کے دھرے رہ جائیں ۔ وزیر اعظم بننے سے پہلے آپ کے سارے وعدے سچے اور کھرے تھے ۔ آپ اس میں مخلص بھی تھے اور اب بھی ہیں ۔ آپ نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہترہے خود کشی کر لی جائے ۔ اس میں شک نہیں کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے حکومت نے ۲۳;241; ارب ڈالر کے قرضے آپ کی حکومت کے کھاتے میں ڈالے ۔ جب آپ کو اقتدار ملا توملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ۔ قرضے ادا کرنا تو کجا اس کا سود ہی ادا کرنا ہی مشکل تھا ۔ آپ دوست ملکوں کے پاس گئے اور کچھ مدد حاصل کی جو قابل تعریف ہے ۔ کیونکہ اس سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ۔ مگر یاد رکھیں آپ کے دوست ملایشیا ء کے موجودہ حکمران کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے ہے کہ جس ملک کا دیوالیہ نکالنا ہو اسے آئی ایم ایف کے حوالے کر دو ۔ کیا یہ بات درست نہیں ثابت ہو رہی کہ نون لیگ حکومت کو آئی ایم ایف ہی نے دیوالیہ تک پہنچایا ۔ اب آپ آئی ایم ایف کے پاس گئے ہیں ۔ معاہدہ ہونے والا ہے ۔ آپ نے آئی ایم ایف کے ملازموں کو پاکستان کے اداروں میں لگا دیا ہے ۔ سراج الحق صاحب سینیٹر اور امیر جماعت اسلامی صحیح کہتے ہیں کہ اب آئی ایم ایف والے لوگ آئی ایم ایف سے قرضے لینے کے لیے مذاکرات کریں گے ۔ جیسا اوپر عرض کیا ہے ،یہ لوگ اس سے ملک میں مہنگائی کے طوفان کوسونامی میں بدل دیں گے ۔ جس کے سامنے آپ کی حکومت نہیں ٹھہر سکے گی ۔

Google Analytics Alternative