Home » Author Archives: Admin (page 29)

Author Archives: Admin

مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے توجہ ہٹانے کیلیے مودی سرکار کی شاطرانہ چال

نئی دلی: بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس نے مضحکہ خیز طور پر خبردار کیا ہے کہ بھارتی فوج اور عوام پر سمندر کے راستے حملے کیے جاسکتے ہیں جس کے لیے جیش محمد کے جنگجوؤں کو ’سمندر کی تہہ‘ میں ٹریننگ دی جارہی ہے۔

کشمیر میں جاری اپنے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے مودی سرکار نے نئی چال چلتے ہوئے جھوٹ پر مبنی بے بنیاد دعویٰ کیا ہے کہ سمندر کی تہہ میں جیشِ محمد سے تعلق رکھنے والے 50 جنگجوؤں کو بھارت پر حملہ کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔

بھارتی فوج کے جنوبی کمانڈ کے جی او سی لیفٹیننٹ جنرل ایس کے سینی کا کہنا تھا کہ بھارت کے جنوبی حصے پر فوجی اہلکاروں پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ جس کے لیے سیکیورٹی الرٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ پڑوسی ملک جنگجوؤں کو سمندر کی تہہ میں تربیت دے رہا ہے۔

بھارتی فوج کی لیفٹیننٹ جنرل کے انکشاف کے بعد کیرالہ پولیس نے بھی برق رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام اضلاع کے چیفس کو الرٹ جاری کر دیا ہے اور ساحلی علاقوں پر پولیس کی پٹرولنگ اور پُرہجوم مقامات پر تعینات نفری میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔

قبل ازیں بھارتی بحریہ کے چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل کرمبیر سنگھ نے نے پونا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے بھارت پر بحری حملے کا بے سروپا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی بحریہ نے بھی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے مودی سرکار کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کئی بار دنیا کو آگاہ کیا ہے کہ بھارت اپنے غیر آئینی اقدام اور کشمیریوں پر مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے پلوامہ حملے جیسا کوئی ڈرامہ رچا سکتا ہے اور ذمہ دار پاکستان کو قرار دے گا۔

برآمدات میں اضافے پر توجہ IMF سے نجات کا واحد حل

کراچی:  اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر  نے حال ہی میں کہا تھا کہ ملکی معشیت جھٹکے سہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آئی ایم ایف کے پروگرام کی وجہ  سے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی وجہ سے معیشت مالیاتی جھٹکوں کو سہنے کے قابل ہوئی ہے۔

غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم جتنا وسیع ہوگا اسی قدر حکومت شرح مبادلہ کو لگنے والے جھٹکوں کا سدباب کرنے کے قابل ہوگی، اور انھی لمحات میں افراط زر پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کار کا اعتماد بھی بڑھاسکے گی۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے بیان کو سمجھنے کے لیے ان مسائل کو جاننا بھی ضروری ہے جو موجودہ پالیسی سازوں کو ورثے میں ملے۔

سابق حکومت نے اوور ویلیوڈ ایکسچینج ریٹ برقرار رکھا لیکن سرحد پار سے سرمائے کی آمد پر کنٹرول قائم نہ رکھ پائی، اس کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ بھی کم رہا۔ مالی سال 2016 کے اختتام پر اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 18.1 ارب ڈالر تھے جو مالی سال 2018 کے اختتام پر کم ہوکر 9.8 ارب ڈالر اور پھر مالی سال 2019 کے اختتام پر 7.3 ارب ڈالر رہ گئے۔

مئی 2015 سے مئی 2018 کے دوران پالیسی ریٹ 5.75 فیصد سے 6.50 کے درمیان رہا جو جولائی 2019 میں  13.25 تک پہنچ گیا۔ سابق حکومت نے کم شرح سود اور اوور ویلیوڈ ایکسچینج ریٹ کی برقراری کو اپنا ہدف رکھا۔ اگر سرحد پار سے سرمایہ نہ آرہا ہو تو اوور ویلیوڈ کرنسی کو برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ 2016 میں آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل اور غیرملکی سرمائے کی آمد محدود ہوجانے کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر کم ہونے کے نتیجے میں روپے کی قدر میں تیزی سے کمی آئی۔ افراط زر کا دباؤ کم کرنے اور گھٹتے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں اضافہ شروع کردیا۔

روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے مالی سال 2018 میں ایک تخمینے کے مطابق 10 کھرب روپے کا نقصان ہوا۔ پاکستان کو اس وقت بلند بجٹ خسارے اور کرنٹ اکاؤٹ خسارے کا سامنا ہے۔ دوسری جانب گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق جی ڈی پی تناسب کے لحاظ سے نجی سرمایہ کاری کی شرح ڈسکاؤنٹ ریٹ کی سطح سے قطع نظر گراوٹ کا شکار ہے۔

ورلڈ ڈیولپمنٹ انڈیکٹرز ( ڈبلیو ڈی آئی) کے مطابق یہ شرح 2011 اور 2018 کے دوران بالترتیب 9.29 اور  10.36 فیصد تھی۔ معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ نجی شعبے کی جانب سے کم سرمایہ کاری کا ازالہ کیا جائے۔ گذشتہ کچھ برسوں کے دوران پرائیویٹ سیکٹر کو رعایتی قرضوں کی فراہمی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات کا واحد حل زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہے۔ اس مقصد کے لیے برآمدات میں اضافے پر توجہ دینی ہوگی۔ ان اقدامات کے نتیجے میں معیشت جھٹکے سہنے کے قابل ہوجائے گی۔

بھارت کے ناکام خلائی مشن کی باقیات کہاں گئیں؟

بھارت کی جانب سے 22 جولائی کو بھجوایا گیا مشن 20 اگست کو چاند کی مدار میں پہنچ گیا تھا تاہم یہ مشن اپنی آخری منزل سے محض سوا 2 کلو میٹر کی دوری پر ناکامی سے دوچار ہو گیا تھا۔

بھارت کا خلائی مشن 22 دن تک زمین کے مدار میں تھا اور 14 اگست کو اس مشن نے چاند کے مدار کی جانب سفر شروع کیا تھا اور 20 اگست تک ’چندریان ٹو‘ چاند کے مدار میں داخل ہوگیا تھا۔

ریسرچ ادارے کی جانب سے چاند کی سطح پر پہنچنے کی براہِ راست نشریات جاری تھیں، جس میں دیکھا گیا تھا کہ جب کنٹرول اسٹیشن کو وکرم کی جانب سے سگنلز موصول ہونا رک گئے تو سائنسدان یک دم پریشان نظر آئے اور پورے کمرے میں سناٹا چھا گیا۔

بد قسمتی سے لینڈر وکرم کا مطلوبہ منزل تک پہنچنے سے محض 2 اعشایہ ایک کلو میٹر کے فاصلے اور مقررہ وقت سے 45 منٹ قبل بھارتی خلائی ادارے سے رابطہ منقطع ہوگیا اور اس کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔

لینڈر وکرم کے اپنی منزل تک نہ پہنچنے اور اس کا رابطہ بھارتی خلائی ادارے سے نہ ہوپانے پر خلائی ادارے کے سربراہ کے سیون جذباتی ہوکر رو پڑے تھے۔

تاہم اتوار کو اس خلائی مشن کی باقیات کی چاند کی سطح پر موجودگی کا انکشاف ہوا ہے اور اس سے رابطہ قائم کرنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق انڈین اسپیس اینڈ ریسرچ آرگنائزیشن کے چیئرمین کے سیوان کے مطابق کیمروں سے مشن کے آربیٹر کی چاند کی سطح پر موجودگی کا پتہ چلا ہے اور یہ ایک مشکل لینڈنگ رہی ہو گی۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس خلائی مشن کو چاند کے ایک دن کی مناسبت سے تیار کیا گیا تھا جو زمین کے 14دن کے برابر بنتا ہے اور صحیح طریقوں پر عملدرآمد کی بدولت یہ اب بھی توانائی پیدا کرنے اور سولر پینل کی مدد سے بیٹری چارج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تاہم اس مشن سے منسلک ایک آفیشل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس بات کے امکانات انتہائی کم ہیں۔

ایک اور آفیشل نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مشن کے چاروں ٹانگوں پر نہ اترنے کے سبب بیٹری کو چارج کرنے کے عمل کو صحیح طریقے سے انجام نہیں دیا جا سکتا اور دوبارہ رابطہ بھی ممکن نہیں۔

اگر بھارت کا خلائی مشن کا یہ تجربہ کامیاب رہتا تو وہ دنیا کا چوتھا ملک ہوتا جس کا خلائی مشن چاند پر اترا ہو جبکہ روبوٹک روور کی مدد سے آپریٹ کرنے والا دنیا کا تیسرا ملک ہوتا۔

جولائی میں مشن روانہ کرتے ہوئے بھارت کو امید تھی کہ وہ امریکا، روس اور چین کے بعد کامیابی سے چاند پر اترنے والا چوتھا ملک اور اس کے قطب جنوب تک پہنچنے والا پہلا ملک بن جائے گا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

چندریان 2 نامی خلائی مشن پر بھارت نے 140ملین ڈالر خرچ کیے تھے لیکن اس کے خلائی جہاز کا چاند پر اترنے سے پہلے ہی رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔

اس مشن سے قبل بھارت نے 2008 میں بھی چاند پر خلائی مشن بھیجا تھا، تاہم وہ مشن کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔

خیال رہے کہ چین جنوری میں وہ پہلا ملک بنا تھا جو چاند کے دور دراز مقام پر اترنے میں کامیاب ہوا تھا، اسی قسم کی کوشش اسرائیل کی جانب سے اپریل میں کی گئی تھی جس کا نتیجہ آخری لمحات میں خلائی جہاز کا انجن فیل ہوجانے کے سبب چاند کی سطح پر تباہ ہونے کی صورت میں نکلا تھا۔

یہ بات مدِنظر رہے کہ بھارتی خلائی ادارہ (اسرو) 15 اگست 1969 کو وجود میں آنے کے بعد سے اب تک کئی ریموٹ سینسنگ سیٹیلائٹس، فلکیاتی دوربینیں اور موسمی سیٹیلائٹس زمین کے گرد بھیج چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سیارہ مریخ اور چاند کے گرد بھی اپنی خلائی گاڑیاں بھیج چکا۔

لائن آف کنٹرول پر علاج اور خدمت

ہمارے دوست اور مہربان ڈاکٹر آصف محمود جاہ (ستارۃ امتیاز) گزشتہ دنوں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ سے زخمی اور متاثر ہونے والے گھرانوں کی خدمت اور علاج کےلئے اپنی ٹیم کے ہمراہ چکوٹھی سے کھلانا گاءوں پہنچے ۔ کھلانایونین کونسل سطح سمندر سے 6000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے ۔ خوبصورت وادی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ دو تین جگہ تو گاڑیاں اک دم جھٹکے سے رک گئیں ۔ آرمی آفیسرز نے بڑی احتیاط سے گاڑیاں آگے بڑھانے کو کہا تھا کیونکہ بالکل سامنے انڈین چیک پوسٹیں تھیں جہاں سے اکثر و بیشتر فائرنگ ہوتی رہتی ہے ۔ جس دن فائرنگ ہو جائے اسی دن پورے علاقے کی آبادی محصور ہو کے رہ جاتی ہے ۔ لوگ زخمی بھی ہوتے ہیں اور جام شہادت بھی نوش کرجاتے ہیں ۔ لائن آف کنٹرول پہ رہنے والے غریب کشمیری مسلمان بڑی بہادری اور ہمت سے بھارتی جارحیت کا مقابلہ کررہے ہیں ۔ کشمیر مسلمان مرد اور عورتیں خود دار ہیں ۔ محنت مزدوری کر کے اپنا گزارا کرتی ہیں کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرتیں ۔ کھلانا جاتے ہوئے راسے میں پیدل چلتی ہوئی کئی غریب عورتیں نظر آئیں ۔ گاڑی روک کر ان کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا ۔ فوراََ لینے کی بجائے انہوں نے بار بار پوچھا کیوں دے رہے ہیں ۔ ہم نہیں لیں گی ۔ اصرار کر کے کہا کہ یہ پاکستانیوں کی طرف سے ہے ۔ تو انہوں نے لے لیا ۔ کھلانا پہنچے جہاں رورل ہیلتھ سنٹر کے سٹاف کے ساتھ کام کا آغاز کیا ۔ کھلانا کے معتبر شخص نے بتایا کہ وہ پچھلے 72 سال سے انڈین فائرنگ کا مقابلہ کر رہے ہیں اور یہاں کے غیور لوگوں نے اپنے علاقے سے کبھی نقل مکانی نہیں کی ۔ اکتوبر 2005 زلزلے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی طرف سے لائن آف کنٹرول پہ رہنے والوں کے لیے کسی قسم کا کوئی ریلیف آیا ہے ۔ اس وقت کشمیر کی جنت نظر مقبوضہ وادی انگار وادی بنی ہوئی ہے ۔ بھاری بر بریت کا شکار ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مگر غیور مسلمان گزشتہ 27 دنوں سے بھاری فوج کے کرفیو کی وجہ سے اپنے گھروں میں محصور ہیں ۔ روزانہ کشمیری مسلمان نوجوان کرفیوں کی پابندیاں توڑ کر گھروں سے نکلتے ہیں ۔ اپنے وطن کی آزادی کےلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ۔ کھلانا;827267; میں غریب مردوں اور عورتوں کی کثیر تعداد جمع تھی ۔ ان مین راشن اور کیش تقسیم کیا ۔ عورتیں کے لیے خوبصورت شالیں بھی لے کر آئے تھے ۔ جو اُن میں تقسیم کیں ۔ بچوں کو بھی تحاءف دیے ۔ عورتیں اور بچے راشن لے کر خوش ہوئے ۔ چکوٹھی کے اہم علاقے کھلانا کے سامنے پتراج ہے جہاں پاکستان کے پہلے نشان حیدر کیپٹن سرور شہید مدفون ہیں ۔ علاقے کی آبادی تیس یا 35 ہزار ہے ۔ زیادہ تر لوگ غریب ہیں ۔ محنت مزدوری کر کے گزارے کرتے ہیں ۔ عورتیں اور بچیاں بہت کمزور اور خون کی کمی کا شکار نظر آتی ہیں ۔ یہاں ادویات نہیں ملتیں اور بھی مسائل ہیں ۔ ہم نے اسی لئے ایک ماہ کےلئے ضروری ادویات رورل ہیلتھ سنٹر کے حوالے کیں ۔ پرخطر راستوں اور فائرنگ کے منڈلاتے خطروذں سے بچتے ہوئے کھلانا اور چکوٹھی کی خوبصورت وادیوں اورپہاڑوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے رات گئے مظفرآباد پہنچے ۔ بندہ اللہ کے راستے میں نکلتاہے ۔ تو اللہ ہر طرح سے مدد بھی کرتے ہیں اور اعزاز اکرام بھی فرماتے ہیں ۔ 2005 کے زلزلے میں مظفر آباد بالکل تباہ ہوگیا تھا ۔ اس وقت کے وزیراعظم آزاد کشمیر نے بجا کہا تھا کہ مجھے لگتا ہے میں قبروں کا وزیراعظم ہوں ۔ اسٹیٹ گیسٹ ہاءوس کی عمارت ترکی کے عظیم اور انسان دوست صدر طبیب اردوان نے بنوا کر دی ۔ دوسرے دفاتر بھی بعد میں بنوائے گئے ۔ صبح سویرے پانڈو پہاڑی کی طرف نکلے جو سطح سمندر سے 9000 فٹ کی بلندی پر ہے ۔ پانڈو پہاڑی کی بڑی اہمیت ہے ۔ اس سے پاکستان کو ہندوستان پر دفاعی اور تزویراتی برتری حاصل ہے ۔ اسے مجاہدین اور قبائیلیوں نے 1948 میں آزاد کروایا ۔ ہندوستان نے اس پر قبضہ کی پھر کوشش کی ۔ پانڈو پہاڑ پر فوج کے زیر انتظام میڈیکل کیمپ اور راشن کے لیے بہترین انتظام تھا ۔ مختلف کیبن بنے ہوئے تھے ۔ تھوڑی دیر میں مریضوں کی آمد شروع ہوگئی ۔ ظہر تک 150 مریضوں کا چیک اپ ہوا ۔ ادویات دیں ۔ غریبوں اور ناداروں میں کیش بھی تقسیم کیا ۔ ظہر کے بعد بھی کیمپ جاری رہا ۔ شام گئے واپسی کا رُخ کیا ۔ پانڈو پہاڑی کے دوسری طرف ہندوستان کا آڑی سیکٹر ہے جہاں اکثر مسائل ہوتے رہتے ہیں ۔ پانڈو پہاڑی اور یہاں مستعد بہادر اور جذبے والی پاکستانی فوج اور اس کی قیادت کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج کتنے خاصا حالات میں بہادری اور بے جگری کے ساتھ وطن کا دفاع کرتی ہے ۔ ان حالات میں رہنا اور ہر وقت جان ہتھیلی پہ رکھنا پاک فوج کے جوانوں کا کمال ہے ۔

پشاور ائیرپورٹ پر حجاج آب زمزم ڈھونڈتے ڈھونڈتے لگیج بیلٹ پر چڑھ گئے

پشاور: باچا خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر قومی ائیر لائن (پی آئی اے) کی نااہلی کے باعث حاجی آب زمزم ڈھونڈتے ڈھونڈتے لگیج (سامان) کی بیلٹ پر چڑھ گئے۔

باکمال لوگ لاجواب سروس کا دعویٰ کرنے والی قومی فضائی کمپنی کے عملے نے غفلت اور نااہلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آب زم زم پہنچانے میں دیر کر دی۔ حج کی سعادت کے بعد وطن واپس پہنچنے والے حاجی آب زم زم کی گمشدگی پر شدید پریشانی کا شکار ہوگئے اور انتظامیہ سے اس حوالے سے پوچھا تو وہ کوئی تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہی۔

اس پر حجاج کرام کی پی آئی اے کے عملے اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) سے تلخ کلامی ہوئی۔ حاجی اپنا سامان ڈھونڈتے ڈھونڈتے لگیج مشین میں گھس گئے جس سے ایک مضحکہ خیز صورتحال دیکھنے میں آئی۔ سول ایوی ایشن انتظامیہ نے حالات پر قابو پاتے ہوئے حجاج کو ان کا سامان فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

باچا خان انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے سی او او نے ممنوعہ جگہوں پر وڈیو بنانے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

حزب اللہ کا اسرائیلی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

یروت:لبنان کے عسکریت پسند گروہ حزب اللہ نے اسرائیلی ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق حزب اللہ نے لبنان کے جنوبی حصے میں ایک اسرائیلی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی ڈرون اب بھی ہمارے قبضے میں ہے تاہم لبنان کے دعوے کے حوالے سے اسرائیل کا کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

گزشتہ ہفتے اسرائیل نے حزب اللہ پر اسرائیلی ٹینک تباہ کرنے کا الزام عائد کر کے لبنان پر راکٹ حملہ بھی کیا تھا جس میں حزب اللہ کے ایک دفتر کو شدید نقصان پہنچا تھا جس پر حزاب اللہ نے بھی اسرائیلی چیک پوسٹوں اور تنصیبات کی جانب راکٹ داغے تھے۔

اسرائیل نے انتہائی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی لبنان پر توپ خانے سے 100 گولے داغے، حزب اللہ بھی ان حملوں کے لیے تیار تھی اور اسرائیلی گولوں کا جواب راکٹ حملوں سے دیا اور اسی دوران ایک اسرائیلی ڈرون کو بھی مارگرایا۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ حزب اللہ کے راکٹ حملوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا ہے جب کہ ایک اسرائیلی ڈرون معمول کی تجرباتی پرواز کے دوران لبنان کے جنوبی صوبے میں گر کر تباہ ہوگیا۔

 

پاکستانی فلم ڈارلنگ وینس فلم فیسٹیول میں ایوارڈ جیتنے میں کامیاب

پاکستانی شارٹ فلم ‘ڈارلنگ’ نے وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بہتر مختصر فلم ایوارڈ اپنے نام کرلیا ہے۔

فلم ڈارلنگ لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان شانی اور ایک مخنث خاتون الینا کی دوستی پر مبنی فلم تھی جس کا ورلڈ پریمیئر وینس فلم فیسٹیول میں ہوا۔

الینا کا کردار الینا خان نے ادا کیا جو کہ لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک مخنث خاتون ہیں۔

اس فلم کی ہدایات 28 سالہ صائم صدیق نے دیں جو کہ لاہور سے تعلق رکھتے ہیں اور اس وقت کولمبیا یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں۔

یہ پہلی بار ہے جب ایک پاکستانی فلم کی اسکریننگ وینس فلم فیسٹیول میں ہوئی اور وہ ایوارڈ بھی جیتنے میں کامیاب رہی۔

وینس فلم فیسٹیول کو فلمی دنیا کا سب سے پرانا فلمی فیسٹیول قرار دیا جاتا ہے اور ڈارلنگ کو بیسٹ شارٹ فلم کا Orizzonti ایوارڈ دیا گیا۔

ڈارلنگ پہلی پاکستانی فلم ہے جو 3 بڑے فلمی فیسٹیول یعنی کانز، برلن اور وینس میں پیش کی گئی۔

فلم کے ڈائریکٹر نے عرب نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا ‘میں نے بغیر توقع کے فلم کا نام بھیجا تھا کہ شاید اسے منتخب کرلیا جائے، اب یہ خوش قسمتی تھی یا کچھ اور، فلم کو منتخب کرلیا گیا’۔

اب اس فلم 10 ستمبر کو ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی پیش کیا جائے گا۔

سارے مسائل کا حل اسٹیٹ بینک کے پاس نہیں، گورنر اسٹیٹ بینک

لاہور: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر رضا باقر نے کہا ہے کہ سارے مسائل کا حل سٹیٹ بنک کے پاس نہیں ہے۔ 

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ معیشت میں استحکام لانا ہماری ترجیح ہے۔ ایکسپورٹ میں 10سے 20فیصد اضافہ ہوا۔ ملک کی پائیدار ترقی نجی شعبہ کی گروتھ سے ہی ممکن ہے۔جب تک نجی شعبہ کے مسائل حل نہیں ہوں گے اور کاروبار نہیں بڑھے گا اس وقت تک پائیدار ترقی نہیں ہو سکتی، پبلک سیکٹر سے اگر نجی شعبہ کو کوئی مسئلہ ہو تو ان رکاوٹوں کو دور کریں گے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی) ریجنل آفس لاہور میں ریجنل چیئرمین عبدالرؤف مختار کی سربراہی میں کاروباری برادری کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں نجی شعبہ کا کاروبار بڑھے،منافع بڑھے اور روزگار میں بھی اضافہ ہو۔ نجی شعبہ کو اصول وضوابط کے مطابق کام کرنا چاہیے۔ مقابلہ کے رجحان کو برقرار رکھنا ہماری ترجیح ہے، اس کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی۔(Inflation) افراط زرکو کنٹرول کرنا سٹیٹ بنک آف پاکستان کا کام ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ سسٹم میں لایا گیا ہے جو پہلے فکس تھا۔ ایکسچینج ریٹ کی پالیسی کو بناتے وقت سپلائی اور ڈیمانڈ کا خیال رکھا جاتا ہے۔گزشتہ سالوں میں جب بھی تجارتی خسارہ بڑھا،ایکسچینج ریٹ کو ایڈجسٹ نہیں کیا گیا بلکہIntervention کی گئی جس سے تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا، ادھار کی قسطوں کو پورا کرنے کیلئے ڈالر موجود نہیں تھے۔ جب خزانہ ختم ہوتا ہے تو بہت نقصان ہوتا ہے،کاروبار ختم ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاروبار میں پائیدار گروتھ لانا ہماری ترجیح ہے۔6ماہ سے پہلے کی صورتحال سے اب حالات بہتر ہیں۔ ریفارمز لائے ہیں،آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا ہے، آئی ایم ایف کی وجہ سے غلط چیزیں نہیں ہوتیں۔ سارے مسائل کا حل سٹیٹ بنک کے پاس نہیں ہے۔

رضا باقر نے کہا کہ ایکسپورٹ اور ایس ایم ای سے متعلق پالیسی لا سکتے ہیں، کاروباری برادری کواگر بینکوں کی وجہ سے کوئی بھی دقت ہے، سٹیٹ بنک ان کو حل کرے گا۔ دستاویزی معیشت ہماری ترجیح ہے۔ اس موقع پر سٹیٹ بنک کی ایس ایم ای،مانیٹری پالیسی،شرح سود،نجی سرمایہ کاری کے حوالے سے کاروباری برادری کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

Google Analytics Alternative