Home » Author Archives: Admin (page 29)

Author Archives: Admin

دہشت گردی کی کمر توڑی جائے

شمالی وزیرستان کے علاقے خاڑ کمر بارودی سرنگ میں پاک فوج کے تین افسروں سمیت چار جوان شہید ہو ئے ۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوان شمالی وزیرستان میں 10 سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 35 زخمی ہو چکے ہیں ۔ اسی مقام پر فورسز نے سرچ آپریشن کرکے چند سہولت کاروں کو گرفتار کیا تھا یہ وہی علاقہ ہے جہاں پی ٹی ایم کے محسن داوڑ اور علی وزیر کی سرگردگی میں چوکی پرحملہ کیا گیا تھا ۔ بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں بھی عید کے موقع پر سکیورٹی پر تعینات ایف سی اہلکاروں پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید ہو گئے ۔

صدر ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شر پسند عناصر قبائلی علاقوں کے امن کی بحالی کے دشمن ہیں ۔ قوم ان ناپاک سازشوں کیخلاف متحد ہے ۔ پاک فوج کی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں قربانیاں قابل ستائش ہیں ۔ فوجی جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور پوری قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے ۔ دیگر سیاسی رہنماؤں نے خاڑ کمر دھماکہ کی مذمت کی ہے ۔

دشمن پاکستان کا امن تباہ کرنے کے درپے ہیں ۔ دہشت گرد اپنے مذموم حملوں سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے ۔ شہدا کی عظیم قربانیاں سنہری حروف میں لکھی جائیں گی ۔ پوری قوم شہدا کی قرض دار ہے ۔ ہم اندرونی و بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ واقعہ کے ذمہ دار محسن داوڑ اور علی وزیر جوپاکستان دشمنوں کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں ۔ ان کے چہرے قوم کے سامنے بے نقاب ہو گئے ہیں ۔ وہ آپریشن ہو جاتا جو محسن داوڑ اور علی وزیر نے روکا توآج کا سانحہ نہ ہوتا ۔

خار قمر میں ہی پی ٹی ایم کے کارکنوں کی ہلاکت کا واقعہ چند روز قبل اس وقت پیش آیا تھا جب اس تنظیم کے اراکین اور خاڑکمر چیک پوسٹ پر تعینات فوجی اہلکاروں میں تصادم ہوا تھا اور اس واقعے میں پانچ فوجی اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی بھی ہوئے تھے ۔ شمالی وزیرستان کو کچھ ہی ماہ قبل عام عوام کے لیے کھولا گیا تھا تاہم خار قمر واقعے کے بعد وہاں کرفیو لگا دیا گیا تھا ۔ افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان کے نیٹ ورک نے شمالی وزیرستان کے علاقے خڑکمر میں پاک فوج پر کیے گئے بارودی سرنگ کے حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے ۔

ابھی کچھ ہی سال قبل شمالی وزیرستان دہشت گردوں کا گڑھ تھا ۔ وہاں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے اور اسلحہ کے گودام بھی تھے ۔ یہیں سے دہشت گرد اور اسلحہ پورے ملک میں دہشت گردی کےلئے استعمال کیا جاتا تھا ۔ دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ بھی یہیں تھے جو افغان سرحد سے متصل ہونے کی وجہ سے انتہائی محفوظ گردانے جاتے تھے ۔ کیونکہ یہ علاقہ پاکستانیوں کےلئے ممنوعہ قرار دیا جا چکا تھا ۔ لیکن پھر ہماری بہادر فوج نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے نہ صرف دہشت گردوں کو چن چن کر مارا بلکہ ان کے اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر کو بھی تباہ کر دیا ۔ افغانستان سے آمدورفت روکنے کےلئے سرحد پر باڑ لگائی گئی جس کی وجہ سے یہ علاقہ بہت محفوظ ہو چکا ہے مگر اب بھی کوئی اکا دکا دہشت گرد اپنی دہشت گردی دکھا جاتے ہیں ۔

یہاں بیرونی مداخلت بند ہونے کے بعد را اور این ڈی سی نے مقامی لوگوں کو غلط ترغیبات دینا شروع کر دیں اور انہیں اپنے ساتھ ملالیا ۔ ایک جماعت پی ٹی ایم کی بنیاد رکھی گئی جن کے مقاصد تو اچھے تھے مگر ان کا رویہ اور طریقہ بالکل غلط ہے ۔ پی ٹی ایم کے جلسوں میں پاک فوج کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے اور گزشتہ ماہ سرحدی چوکی پر حملہ بھی کیا گیا ۔ کیونکہ فوج نے یہاں سے دہشت گردوں کے کچھ سہولت کاروں کو گرفتار کیا تھا ۔ ان کو چھڑانے کےلئے سرحدی چوکی پر حملہ کیا گیا ۔ محسن داوڑ اور علی وزیر جیسے افراد بیرونی سرمایہ کے سہارے اسمبلی ممبر بنے تاکہ ان کی ذات شک وشبہ سے نکل جائے ۔ انہوں نے باقاعدہ طورپر احتجاج کو بڑھاوا دیا اور چوکی پر حملہ کےلئے ورغلایا ۔

یہ حقیقت تو واضح ہو چکی ہے کہ یہ غدار ہمارے دشمنوں سے ملے ہوئے ہیں ۔ ان سے بھاری فنڈز لیتے ہیں اور ان کی زبان بولتے ہیں ۔ انہی کے کہنے پر پاک فوج اور دیگر اداروں کو دھمکیاں دیتے ہیں ۔ دہشت گردی کےلئے اپنے آدمیوں کو استعمال کرتے ہیں ۔ علاقے میں دہشت پھیلاتے ہیں ۔ پی ٹی ایم والے اگر محب وطن ہیں تو ان کا بلوچ علیحدگی پسندوں سے کیا تعلق ہے ۔ ٹی ٹی پی آپ کے حق میں کیوں بیان دیتی ہے ، اس کے خلاف جنگ کرتے ہوئے ہمارے فوجی اور شہری شہید ہوئے ہیں ۔ پی ٹی ایم والے یہ بتائیں کہ ان کے پاس کتنا پیسہ ہے اور کہاں سے آیا ہے;238;

یہ سادہ لوح عوام کو ورغلاتے ہیں اور دہشت گردوں کےلئے سہولت کار ی کا کام کرتے ہیں ۔ پھر انہیں اتنی چھوٹ کیوں دی جا رہی ہے ۔ ان کا فوری طورپر قلع قمع ضروری ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کو فوری طورپر کیفر و کردار تک پہنچائیں ۔ بیرونی دشمنوں کو شکست دینے کےلئے ان کے اندرونی ایجنٹوں کو کیفر کردار تک پہنچانا اولین ترجیح ہے ۔

سانحہ گولڈن ٹیمپل ۔ نئی دہلی کےلئے رستاہو ا ناسور

بھارت کے شمال مغرب میں پنجاب کا ایک بڑاحصہ جس پر بھارت گزشتہ ستراکہتر برسوں سے تقسیم ہند کے بعد سے اب تک قابض ہے تقسیم ہند کے موقع پرکانگریسیوں نے سکھ رہنما ماسٹر تارا سنگھ کو وقتی طور پر تسلی دلادی تھی کہ وہ بٹوارے کے جھمیلوں کے بعد سکھوں کی علیحدہ ریاست کی مانگ کو پورا ضرور کریں گے یاد رہے کہ اْس وقت ماسٹر تارا سنگھ نے انگریزوں اور کانگریسی لیڈروں سے پْزور مطالبہ کیا تھا کہ’’سکھ تشخص‘‘ کو جدیدیت اورہندومت کے سیلاب میں ڈوبنے سے بچانے کے لئے اْن کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ سکھوں کو سرکاری طور پر ایک الگ قوم تسلیم کیا جائے اْنہوں نے نئی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر آپ سچے قوم پر ست ہیں تو قوم کی خاطر سکھوں قوم کو بھی عزت سے رہنے دیں قوم پرستی کے نام پر اگرآپ سکھوں کی امتیازی شناخت کو ختم کرنے کی اپنی ناپاک کوشش کرتے ہیں تویہ آپ کی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی ہوگی، ہم سکھ قوم اپنی عزت کوبہت اہمیت دیتے ہیں اگر ہماری الگ سے شناخت نہ ہو تو ہمارے پاس فخر کرنے کے لئے کچھ باقی نہیں بچتا’’ اگرسکھ رہنما ماسٹر تاراسنگھ سے کانگریسیوں اور برطانوی سامراج نے یہ وعدہ کیا تھا تو اْنہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا سقوط حیدرآباد سقوط جونا گڑھ اور مقبوضہ کشمیر کی طرح سے سکھوں کے علاقہ کو بھی زبردستی بھارتی حدود میں شامل کرلیا گیا جبھی اپنے کالم کی ابتدا میں ہم نے ‘بھارتی زیر کنٹرول پنجاب’ کی استبدادی اصطلا ح کو استعمال کیا ہے جناب والہ!یہ علاقہ جب تک خالصتان کا وجود پائیہ تکمیل کو نہیں پہنچتا بھارتی انتظامی کنٹرول والا علاقہ کہلایا جانا چاہیئے اسی بھارتی پنجاب کے دارلحکومت کانام’’چندی گڑھ‘‘ ہے اور چندی گڑھ سے دوسوسترہ کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستانی باڈر شروع ہوجاتا ہے یعنی پاکستانی پنجاب کے صوبائی دارلحکومت لاہور سے صرف اٹھائیس کلومیٹرکے فاصلے پربھارت کے مشرق کی جانب امرتسر واقع ہے امرتسر کی آبادی دوہزار گیارہ کی مردم شماری کے مطابق گیارہ لاکھ تینتیس ہزار کے لگ بھگ بنتی ہے امرتسر شہر میں سکھ مت کا روحانی مقام ‘ہرمندر صاحب’ واقع ہے ہرمندرصاحب یا دربارصاحب کوعام طور پر‘گولڈن ٹیمپل’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اوراس مقام کو سکھوں کی اہم مقدس عبادت گاہ کادرجہ حاصل ہے جیسا بین السطور تاریخی حقائق کے دلائل کی روشنی میں اشارتا ًگفتگو کی گئی کہ سکھوں نے اپنے ثقافتی وسماجی کلچر کو ہندومت میں شامل کرنے والوں کے خلاف تقسیم ہند کے بعد سے 36برس تک پرامن جدوجہد جاری رکھی نئی دہلی کی ہٹ دھرمی کو چیلنج کرتے رہے ہڑتالیں اور مظاہرے کرتے رہے چارجولائی انیس سوپچپن کا دن بھی سکھوں کے لئے کبھی نہ بھلایا جانے والا دن ہے جس روز جب نئی دہلی کے حکم پر اکالی دل اور شرومنی کمیٹی کے دفتر پر چھاپہ مارنے کے لئے مسلح پولیس کے کمانڈوز کے دستے گولڈن ٹیمپل کے سامنے سڑک کے پارواقع ہوسٹل کمپلکس میں داخل ہوگئے امرتسر کے عوام کو جونہی اس کی اطلاع ملی تو ہزاروں اکالی واہ گرو کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے اس مقام پر جمع ہوگئے یوں بھارتی حکمرانی کی استبدادی تاریخ میں یہ دن بھی سکھوں کے نزدیک ایک یادگار دن کا مقام حاصل کرگیا اْس روز کچھ کم نہیں ہوا تھا پولیس کمانڈوز نے شدید لاٹھی چارج کیا بے تحاشہ آنسوگیس کے گولوں کی بوچھاڑ کردی گئی تھی آنسو گیس کے یہ گولے گولڈن ٹیمپل کے مقدس تلاب تک پہنچے یہ گولڈن ٹیمپل کی پہلی بار بے حرمتی کی گئی اور یوں سکھوں میں براہمن ہندوجاتی کی سامراجیت کے خلاف مزاحمتی تحریک ابھر کر سامنے آگئے اور سردار بھنڈرانوالے سکھوں کی اس مزاحمتی تحریک کے قائد بن گئے پہلے اْنہوں نے گولڈن ٹیمپل کے سامنے واقع اسی مقام کو اپنا ہیڈکواٹر بنالیا اور نئی دہلی نے نیم فوجی دستوں کو ہمیشہ کے لئے اسی ہیڈکواٹر کے سامنے اپنی چوکیاں قائم کرنے کاحکم دیدیا یوں وقت بیتا رہا سکھ قوم اپنے ملی تشخص کے حصول کے لئے جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کے خیالات سے متفق ہونے لگی امرتسر میں سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر اندراگاندھی نے فوجی کشی کرنے کا خطرناک فیصلہ کیوں کیا ایک ملکی خبررساں ایجنسی کے نمائندے کی اس بارے میں لکھی گئی یادداشت پڑھنے کا راقم کو موقع ملا جس میں وہ لکھتا ہے ‘‘یہ 1984 کی بات ہے جب میں ابھی کالج میں ہی تھا اتنے زیادہ ٹی وی چینل نہیں تھے جتنے اب ہیں بلکہ پی ٹی وی کے علاوہ صرف امرتسر ٹی وی ہی لاہور میں دیکھا جا سکتا تھا اور وہ بھی اس وقت جب موسم صاف ہو نہ ہی خبر حاصل کرنے کے لیے کوئی سوشل میڈیا تھا اس لیے اچھی اور بری خبریں دھیرے دھیرے ہی لوگوں کے کانوں تک پہنچا کرتی تھیں گھر میں امرتسر ٹی وی آتا تھا لیکن یہ خبر وہاں سے نہیں ملی یہ خبر ملی پاکستانی اخباروں ، پی ٹی وی اور ریڈیو سے ملی کہ سکھوں کے سب سے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر تین جون 1984 کو بھارتی فوج نے حملہ کر دیا ہے اور اس میں کئی سکھ جاں بحق ہوئے اس وقت یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ گولڈن ٹیمپل اور اکال تخت ایک ہی عمارت کا نام ہے یا یہ دو الگ الگ عمارتیں ہیں اس فوجی آپریشن کو ’آپریشن بلیو سٹار‘ کا نام دیا گیا تھا’’ا;63;گے چل کر اْس نے لکھا کہ‘‘مجھے یاد ہے میری اور میرے جیسے بیشتر پاکستانیوں کی ہمدردیاں فوراً سکھ برادری سے ہو گئیں اور کم از کم پاکستان میں یہ سمجھا جانے لگا کہ کیونکہ اب بھارتی فوج نے سکھوں کے مقدس مقام پر حملہ کیا ہے اس لیے سکھ اسے کبھی نہیں بھولیں گے’’ اورہماری یہ سوچ آج بھی اس بات کی گواہ ہے کہ ہم بالکل صحیح سوچ رہے تھے تین جون سے آٹھ جون تک ہندو فوجی جوانوں اور افسروں نے مقدس اکال تخت سمیت گولڈن ٹیمپل کے سفید دودھیا جیسے سنگ مرمر کے تلاب اور صحن کو سکھ مردوں ’ عورتوں اور معصوم بچوں کے خون سے لال سرخ کردیا تھا گولڈن ٹیمپل میں مزید پانچ دن خون خرابہ ہوتا رہا اور جرنیل سنگھ بھنڈراوالہ اور ان کے بہت سے ساتھی بھارتی فوجیوں کے ساتھ مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے جاں بحق ہوگئے سکھ قوم کی تاریخ میں امر ہوگئے سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد چار سو سکھوں اور تراسی فوجیوں کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی لیکن سکھ یہ تعداد ہزاروں میں بتاتے ہیں اور یہی صحیح ہے سانحہ گولڈن ٹیمپل کے بعد امرتسر سمیت بھارتی زیر کنٹرل پنجاب کئی ہفتے تک سوگ میں ڈوب گیا ہر طرف سوگ سکھ قوم کے ہر فرد میں ایک غصہ تھا جو دبا ہوا تھا یہ غصہ اس واقعہ کے صرف چھ ماہ بعد اس وقت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی پر نکلا جنھیں ان ہی کے سکھ محافظوں نے گولیاں مار کر ہلاک کیا اوریوں گولڈن ٹیمپل پربلاوجواز فوج کشی کا بدلہ لے لیا گیا، لیکن اندرا گاندھی کی ہلاکت کے بعد پورے ملک خصوصاً دلی میں سکھ مخالف مظاہرے ہوئے جس میں کم از کم تین ہزار سکھ ہلاک کر دیے گئے سنہ 2012 میں اس آپریشن کی بازگشت ایک مرتبہ پھر لندن میں سنی گئی جب چند سکھ نوجوانوں نے جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی انڈین فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کلدیپ سنگھ برار پر اس وقت حملہ کیا جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ ہوٹل سے واپس آ رہے تھے کلدیپ سنگھ برار آپریشن بلیو سٹار کے کمانڈنگ آفیسر تھے اور انھیں اس آپریشن کا آرکیٹکٹ بھی کہا جاتا ہے سکھ قوم کی تیسری نسل اپنے ملی سکھ تشخص کی بقا کے لئے بہت تیزی سے متحدہونے لگی ہے بھارت کو آج نہیں تو کل لیکن بہت جلد ہی مقبوضہ کشمیر سمیت سکھوں کو بھی اْن کا حق خود ارادیت ہر صورت میں دینا ہی پڑے گا اور نئی دہلی کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ’’سانحہ گولڈن ٹیمپل آج بھی اُس کے چہرے کا ایک رستہ ہوا ناسور ہے ۔

پاکستان کی نا قص سفارت کاری اور ناکام میڈیا

سال1979 سے روس کا افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد اور پھر 2001 میں امریکہ کا افغانستان پر حملہ کرنے کے بعد ، پورے 41 سال سے پاکستان دہشت گردی اور انتہاپسندی کی جنگ لڑ رہا ہے ۔ دھشت گردی کی اس جنگ میں پاکستان کے 70 ہزار لوگ شہید ہوئے جن میں ڈاکٹر، انجینیر ز، مسلح افواج ، پولیس اور قانون نا فذکرنے والے اداروں کے اہل کار، سائنس دان ، پروفیسر، وکلاء، سکول اور کالج کے طالب علم ، صف اول کے پاکستانی سیاست دان ، سیاسی ورکرز، مزدور ، راہگیر اور یہاں تک کہ زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جس سے وابستہ لوگ دہشت گر دی کی جنگ میں شہید یازخمی نہیں ہوئے ۔ ہمارے سیاست دان ، قانون ساز اداروں میں حکومتی اور مخا لف بنچوں پر بیٹھے سیا ست دان جب بھی قومی ، صوبائی اسمبلی ، سینیٹ یا عام اجتماعات یا قومی اور بین الاقوامی فورم پر تقریر کر رہے ہوتے ہیں تو وہ ضرور دہشت گردی کی جنگ میں 70 ہزار پاکستانیوں کی شہادت اور اس جنگ کی وجہ سے 120 ارب ڈالر کے نُقصان کا ذکر کرتے ہیں ۔ مگر یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہماری میڈیا اور بیرون ممالک سفارت کار پاکستان کے اس قربانیوں کو اصلی شکل میں اُجاگر کرنے میں ناکام رہے ۔ نتیجتاً امریکہ ، اور دوسرے یو رپی ممالک کی طرف سے ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ پاکستان کے پاس کوئی ایسا ٹی وی، ریڈیو چینل نہیں جسکی وساطت سے عالمی سطح پر پاکستان کے ان قربانیوں کو منظم طریقے سے ;80;ortrayیا انکی تشہیر کی جائے ۔ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک اور بیدار معزاقوام کے پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر نظر ڈالیں تو وہ ملک کے مُثبت امیج کو اچھے طریقے سے پروجیکٹ کرتے ہیں ۔ مگر بد قسمتی سے ہم نے دہشت گردی اور انتہائی پسندی کی جنگ میں اتنی بھاری قربانیاں دیں جو دنیا میں کسی قوم نے نہیں دی مگر اسکے باجود بھی ہ میں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ہ میں ہل من مزید کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ بد قسمتی سے پاکستان میں اُردو،انگریزی یا علاقائی زبان کا کوئی ایسا ریڈیو ٹی وی چینلز نہیں جس کے ذریعے بیرونی دنیا کو پاکستان کی آواز پہنچائی جائے ۔ اگر ہم غور کریں تو بر طانیہ کا بی بی سی ، امریکہ کا سی ا ین این ، پشتو چینل ڈیوہ، اور بھارت کے سینکڑوں ٹی وی چینلز کس منظم طریقے سے اپنے ملکوں کے ا یجنڈے کو آگے لے کے جا رہے ہیں ۔ بی بی سی کی اُردو سروس اور ڈیوہ ریڈیو کی پشتو سر وس کی خبریں میوزیکل پروگرام اور تبصرے سوشل میڈیا کے اس دور میں سامعین ریڈیو کو بھی انتہائی انہماک سے سُنتے ہیں ۔ ہمارا الیکٹرانک، پرنٹ و سوشل میڈیا پاکستان کے کاز کو لوگوں تک پہنچانے میں ناکام ہے جبکہ اسکے بر عکس دشمن یا پاک مخالف ممالک ہمارے خلاف منفی اور زہریلا پروپیگنڈہ کرتا ہے اور پاکستان اور پاکستانی عوام کو ایک دہشت گرد اور انتہا پسند کی شکل میں پیش کرتے ہیں ۔ افسوس کی بات ہے کہ ریاستی الیکٹرانک میڈیا کے نام پر ہر مہینے بجلی کے بل میں 35 روپے لئے جاتے ہیں مگر اسکے با وجود ریاستی الیکٹرانک میڈیا کا رکردگی بالکل صفر ہے ۔ اسکے ساتھ ساتھ اچھی ڈپلومیسی اور سفارت کاری کسی ملک کی اچھے امیج کو اُجاگر کرنے میں اہم کام ادا کرتا ہے مگر مُجھے پھر انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی طرح ہماری ڈپلومیسی اور سفارت کاری بھی صفر ہے ۔ بیرون ممالک سفارت کار اور ڈپلومیٹ ملک کے اچھے اور نرم امیج بنانے میں ناکام ہیں ۔ وہ اپنے فراءض منصبی کے دوران ملکی مفادات سے زیادہ ذاتی مفا دات کو اہم سمجھتے ہیں اور ان میں اکثر بیرون ملک تجارت اور کاروبار کرتے ہیں ۔ جو سفارت کار اور دُپلومیٹس بیرون ممالک بھیجے جاتے ہیں اُنکا تعلق اکثر و بیشتر حکمران پا رٹی یا فوجی حکومت سے ہوتا ہے اور انکی تقرری میرٹ اوراہلیت کے بجائے سفارش پر ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انکی نا اہلی کی وجہ سے وہ ملکی مفادات کی حفاظت نہیں کر سکتے ۔ اگر ملکی میڈیا اورسفارتکاری اچھی ہوتی تو آج کل پاکستان کو یہ دن دیکھنے نصیب نہ ہوتے ۔ اورپاکستان کا امیج انتہائی اچھا ہوتا اور قدر اور عزت سے دیکھا جاتا ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہ میں قومی اور بین الاقوامی زبانوں کے سا تھ ساتھ پشتو، پنجابی، سندھی اور بلوچی میں ٹی وی چینلز ہونے چاہئیں تاکہ عام پاکستانی کو بھی وطن عزیز کے مسائل سمجھنے میں آسانی ہو ۔ اسکے علاوہ جو ڈپلومیٹ اور سفارت کار باہر بھیجے جاتے ہیں اُنکی تقرری بھی صاف شفاف اور میرٹ پر ہو تاکہ وہ صحیح ، محب وطن پاکستانی ہو کر ملک اور قوم کی صحیح ترجمانی کر سکیں ۔ میڈیا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ;77;edia is the eye and ear of society یعنی میڈیا کسی معاشرے کی آنکھیں اور کان ہوتے ہیں جبکہ سفارت کار اور ڈپلومیٹ اس سے زیادہ ہوتے ہیں ۔ ونسٹن چر چل کہتے ہیں

;68;iplomate is a man who thinks twice before saying any thingکہ ڈپلومیٹ ایک ایسا انسان ہوتا ہے کہ کچھ نہ بولنے سے بھی دو دفعہ سوچتا ہے ۔ جو کچھ آج کل ہم بھگت رہے ہیں اسکی اصل وجہ یہ بھی ہے کہ نہ تو ہمارے پاس اچھا میڈیا ہے اور نہ اچھے سفارت کار اور ڈپلومیٹ جو ملک اور قوم کے کاز کو اچھے طریقے سے دنیا کو دکھا سکیں ۔ اچھی سفارت کاری سے ناکامی کامیابی میں بدل جاتی ہے ۔

پانی ابھی خطرے کے نشان تک نہیں آیا

گزشتہ سے پیوستہ

انکے برجستہ اور موقع محل کے مطابق لطاءف خاص و عام میں ;200;ج بھی بہت مقبول ہیں ۔ وہ اٹاری شام سنگھ ضلع امرتسر میں پیدا ہوئے اٹاری سکول سے میٹرک کرکے خالصہ کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد دلی چلے گئے اور ریاست اخبار میں چھے پیسے روزانہ کے حساب سے کام کرنے لگےپھر فوج میں بھرتی ہو گئے اور راشننگ کے محکمہ میں کام کرنے لگے اور مختلف جگہوں پر جن میں قرقی ،قیاب ،ہر ہنس پورہ میں پھرتے پھراتے رہے یہ پھر نا پھرانا ان کی بصیرت میں بہت کام ;200;یا ان کا حافظہ بہت کمال کا تھا اور پنجابی کے ہزاروں اشعار زبانی یاد تھے اپنے انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ شعر کا ایک مصرع مجھے بالکل یاد نہیں ;200;رہا تھا تو اس کے لیے میں نے جا لندھرکا سفر کیا جنڈ یالا اور تھابل کے ;59; کارخ کرکے چل پڑا ایک دیہات میں پہنچا تو وہاں ایک بوڑھا جو حقے کےکش لگا رہا تھا کنویں میں چلتے ہوئے بیلوں کو چلا رہا تھا کہتے ہیں کہ میں نے بھی کنویں سے پانی پیا اور بوڑھے کے پاس بیٹھ کر حال احوال پوچھنے کے بعد مختلف شعر پڑھنے لگا تاکہ اس بوڑھے کا( مرا ہوا بوڑھا )بیدار کر سکوں ۔ کتے ٹکریں تے حال سناواں ۔ ۔ ۔ ۔ تے دکھا وچ جند رل گئی منڈا روئی دے کیکر توں کالا ۔ ۔ ۔ ۔ تے باپو نوں پسند ;200; گیا اس طرح کے مزید کئی بول سنا کر اس کے مرے ہوئے بو ڑھےکو جگا لیا تو وہ شعر جس کا مجھے ایک مصرع بھولاہوا تھا وہ پڑھا وہ یوں تھا پتناں نوں لادے بیڑیاں : وہ فورا بولا جٹی ہیر نے سیالی جانا جوں ہی اس بڈھے نے دوسرا مصرع پڑھا تو میری مطلب بر;200;ری ہوگی 1965کی جنگ میں نظام دین;59; چھمب جوڑیاں ، چو نڈے اور باقی محاذوں پر جاکرمورچوں میں بیٹھ کر کاروائی دیکھ کر شام کو واپس ;200; کر اتنا شاندار پروگرام کرتے تھے اور اپنے فوجیوں کی اتنی حوصلہ افزائی کرتے تھے کہ وہ قوت ایمانی سے سرشار ہوکر دشمن کے ٹینکوں اور جہازوں کو نیست و نابود کردیتے تھے ۔ ریڈیو جا لندھر، دلی ،جموں کشمیر نظام دین کا نام لے کر للکارتے ادھر نظام دین اپنے مخصوص انداز میں ان کی مٹی پلید کرتا سرگودھا میں کچھ جہاز ہمارے فوجیوں نے مار گرائے نظام دین وہ جہاز دیکھ کر ;200;ئے شام کو پروگرام شروع کیا جب انڈیا والوں نے اپنے ریڈیو سٹیشن سے اپنے جہاز سینا کا ذکر کرنے لگے تو نظام دین کہنے لگے(تواڈی سئینہ مری پء جے) سرگودھا میں جہاز ایسے پڑے ہیں جیو یں کمیٹی والیا ں نے کتیاں نوں زہر د تا اے ۔ نظام دین کے بھپر ے دریا کے ;200;گے چوہدری عبداللطیف مسافر ہی بند با ندھتے تھے ۔ پر یہ پروگرام ;200;ج بھی اتنی ہی مقبولیت کے ساتھ اon air ہوتا ہے کردار وہی ہیں مگر کردار کرنے والے لوگ نئے ہیں بلکہ ان میں سے بھی بیشتر ملک راہی عدم ہوچکے ہیں حسین شاد، منیر نادر ، دلدارپرویز بھٹی، حیدرعباس ، پرویز بھٹی، عباس نجمی جن کے نام لیتے ہوئے کلیجہ منہ کو ;200;تا ہے عباس نجمی (شاہ جی )کا کردار اور فخر چیمہ (چیمہ صاحب)کا کردار ادا کرتے تھے پروگرام کا فارمیٹ دیہاتی ہوتا ہے ایسے لگتا ہے کہ جیسے کسی کنویں (کھو) پر بیٹھ کر پروگرام ہو رہا ہے پورے ہفتے کے پروگرام کا شیڈول ہوتا ہے ایک دن صحت کا پروگرام ۔ سب سے زیادہ خطوط فخر چیمہ کی پذیرائی کے ہوتے اس لیے کہ ان کا لہجہ (ایکسنٹ)بڑا زبردست ہوتا پھر انگریزی ادب کا مطالعہ اور دوسرے علوم سے واقفیت انہیں دیگر کرداروں سے ممتاز کر دیتی ۔ پروگرام کے ;200;خر پر گمشدگی کے اعلان بھی فخر چیمہ ہی کرتے 8 بجے کی خبروں کا اعلان بھی وہی کرتے فلمی گیتوں کی فرمائش کے نام اور جگہوں کے نام صحیح ادا کرنے میں ید طولی رکھتے تھے ریڈیو کی یہی تربیت انہیں پاکستان ٹیلی ویژن تک لے گئی پی ٹی وی ناءٹ اور;59; پنجابی خبریں ;59; ان کی پہچان بنی ہوئی ہے ناظرین و سامعین ;200;ج بھی ان کے منتظر ہیں دیکھیے کب دوبارہ انٹری دیتے ہیں ۔ ریڈیو پاکستان کے سب ہی پروگرام اپنی مثال ;200;پ ہیں ریڈیو فیچر، ریڈیو کالم ،تبصرے، ریڈیائی ڈرامہ، موسیقی پورے پورے کالم کے مقتضی ہیں ۔ موسیقی کو روح کی غذا سمجھا جاتا ہے غالب نے کہا جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماع گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں ریڈیو پاکستان تھکےماندے لوگوں کی تفریح کے لئے ہر روز موسیقی پروگرام پیش کرتا ہے موسیقی کے یہ پروگرام رزمیہ بھی ہوتے ہیں اور عشقیہ بھی ریڈیو کے ذریعے مختلف تاریخی یا مخصوص دونوں میں خصوصی طور پر ملی نغمے اور افواج پاکستان اور عوام پاکستان کے حوصلے بلند کرنے کی خاطر خصوصی پروگرام پیش کئے جاتے ہیں کلاسیکی موسیقی کے لیے ;59200;ہنگ خسروی ;59;کے نام سے پروگرام پیش کیا جاتا ہے ۔ کلاسیکی موسیقی کی ;200;بیاری میں ریڈیو پاکستان کا کردار لازوال ہے نامور غزل گائیک اعجازحسین حضروی، اقبال بانو، فریدہ خانم حسین بخش گلو ،غلام علی، اعجاز قیصر ،غلام عباس ،ثریا ملتانی گھر اور شہنشاہ غزل مہدی حسن جس نے غزل گائیکی کو وہ ;200;برو بخشی کہ رہتی دنیا تک اس کا نام رہے گا مہدی حسن کے گاءکی کی نہ صرف باکمال بلکہ بے مثال بھی ہے ۔

مہدی حسن کی گائی ہوئی ہزاروں غزلیں ریڈیو پاکستان کا شاخسانہ ہیں موسیقی کے ہر شعبے سے وابستہ نا بغےصرف ریڈیو پاکستان کی مرہونِ منت ہے ان سازندوں ، موسیقاروں کے ساتھ ساتھ میوزک پروڈیوسرز کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ مجاہد حسین، حسن فاروقی، خالد اصغر اور سلیم بزمی ناقابل فراموش خدمات سرانجام دے رہے ہیں سلیم بزمی جو خود بھی بہت بڑے گا ئیک ہیں اسکول اور کالج کے زمانے ہی سے گائیکی میں حصہ لے رہے ہیں گورنمنٹ کالج لاہور میں زمانہ طالب علمی میں کالج کے ہفتہ وار میوزک پروگرام میں باقاعدہ حصہ لیتے رہے ۔ انہیں کشور گائیکی کا سپیشلسٹ سمجھا جاتا تھا ریڈیو پر بطور پروڈیوسر ملازمت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے میوزک سے ہی وابستہ کر دیا گیا سلیم بزمی نے کئی ملی نغموں اور غزلوں کی دھنیں بھی تیار کی ہیں ملک کے تمام چیدہ چیدہ اقوال پارٹیوں کی قوالیوں کی پروڈکشن تیار کر چکے ہیں ۔ گلوکاری میں غلام علی، فدا حسین گلوکارہ خورشید بیگم ،ممتاز بیگم ،زاہدہ نذر، فتح علی کمالوی ،پارو جی، استاد لیاقت علی خان گواچکے ہیں ۔ سلمی ;200;غا ،;200;غا کوثر ،شفقت امانت علی خان، سیمی لالیکا ،صائمہ ممتاز ،صنم ماروی، سارہ رضا خان، علی عباس، سجاد طافو، ندیم عباس لونے والا اور بہت سے موسیقاروں اور سازندوں کو ریڈیو پاکستان پر متعارف کروا چکے ہیں ریڈیو پاکستان لاہور سی پی یو میں کلاسیکل ،سیمی کلاسیکل اور لاءٹ میوزیکل، غزل، گیت، ملی نغمے ،موسموں کے گیت، شخصیات کے گیت اور دیگر اصناف سے میں ساڑھے سات ہزار گیت پروڈیوس کیے ۔ 2006 میں بہترین میوزک پروڈیوسر کا پی بی سی نیشنل ایکسیلینس ایوارڈ، 2018 میں کلاسیکل میوزک ۔ کی جانب سے امیر خسرو ایوارڈ ملا ۔ ورق کی تنگ دامنی کی وجہ سے ان کے بقیہ کام کا احاطہ ممکن نہیں ہے ۔ مہدی حسن کی وفات پر تمام پروڈیوسرز نے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے بڑے شاندار پروگرام پیش کیے مگر حسن فاروقی اوربطور خاص سلیم بزمی کی ترتیب شدہ پروگرام کی گونج سامعین اب تک نہیں بھلا سکے ہیں ۔ مگر افسوس صد افسوس !سینٹرل پروڈکشن یونٹ لاہور، کراچی کی بندش جس کے ساتھ گیت، غزل، ٹھمری ، کافی کی گائیکی ،دم توڑ جائے گی وہاں بہت سے سازندے موسیقار اپنے فن سمیت لقمہ اجل بن جائیں گے اس لیے ایک بار پھر وزیر اعظم پاکستان محترم عمران خان صاحب سے ملتمس ہوں کہ اس کی بندش کے نوٹیفکیشن کو جلد از جلد کالعدم قرار دیں ۔

ٹوٹا نہیں اشکوں سے ابھی ضبط کا پشتہ

پانی ابھی خطرے کے نشان تک نہیں آیا

لاکھوں غریب لوگوں کیلئے راشن اسکیم،قابل ِقدر اقدام

حکومت نے ملک کے سب سے کمزور طبقے کو معاشی اور سماجی حقوق کی فراہمی میں مدد کے لیے احساس پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کے تحت معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کو اپنے قدموں پر کھڑا کیا جائے گا ۔ غربت مٹاو پروگرام احساس کے سلسلے میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ، خاتمہ غربت اور چیئرپرسن احساس پروگرام ، ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ایک پریس کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ حکومت 10 لاکھ غریب لوگوں کیلئے راشن اسکیم لا رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس کیلئے شفاف طریقے سے کارڈ تقسیم کئے جائینگے، تمام مستحق معذور افراد جو نادرا میں رجسٹرڈ ہیں انہیں انصاف کارڈ دیئے جائیں گے، پروگرام کے خدو خال بتاتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ معذوروں کوویل چیئر،آلہ سماعت، سفید چھڑی مفت دی جائیگی، اسٹریٹ چلڈرن، جبری مشقت کے شکار بچوں کے تحفظ کیلئے نیا ادارہ بنے گا، نیا پاکستان ہاءوسنگ اسکیم میں بھی معذور افراد کیلئے 2فیصد کوٹہ بھی مختص کیا گیا ہے، کفایت شعار پروگرام کے تحت70 لاکھ غریب خواتین کو وظاءف دیئے جائینگے، یتیموں کیلئے ایک نئی پالیسی لائی جا رہی ہے جو کہ یتیم خانوں کی حالت بہتر بنائے گی اور ضرورت کے مطابق انکی تعداد میں اضافہ کریگی، ہر ماہ 80ہزار بیروز گارافراد کو بلا سودقرضے ،سلائی مشینیں ، مال مویشی، دکان کا سامان دینگے،غریب طالبعلموں کیلئے انڈر گریجویٹ اسکالرشپ اسکیم،ٹیوشن فیس، ہاسٹل کا خرچہ اور وظیفہ دیا جائیگا ۔ بلاشبہ یہ ایک جامع پروگرام ہے جس پر صحیح معنوں میں عمل در;200;مد سے ملک سے غربت اور بے روزگار کے خاتمہ میں مدد ملے گی ۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں غربت اور بےروزگاری کی شرح تشویشناک ہے ۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں بیروزگاری کی شرح چھ فیصدکے لگ بھگ ہے ۔ اگر ہم اپنے اردگرد کے قریبی ممالک پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوگا پاکستان میں بیروزگاری کی شرح خطے میں سب سے زیادہ ہے سنگاپور میں 1;46;8فیصد، بھوٹان میں 2;46;4فیصد، مالدیپ اور نیپال میں 3;46;2فیصد، بھارت میں 3;46;5فیصد،کوریا میں 3;46;7فیصد، بنگلہ دیش میں 4;46;1 فیصد،چین میں 4;46;6فیصد، سری لنکا میں 5فیصد ہے جبکہ پاکستان میں بیروزگاری کی شرح 6فیصد سے زائدہے ۔ اسکے علاوہ ایسے غریب اور ترقی پذیر ممالک بھی ہیں جہاں بیروزگاری کا تناسب انتہائی کم یا نہ ہونے کے برابر ہے جیسے کمبوڈیا میں 0;46;3فیصد، بیلاروس میں 0;46;5 فیصد اورمیانمار میں 0;46;8 فیصد ہے ۔ جبکہ پاکستان میں بیروزگاری کی سطح گزشتہ 13سالوں میں سب سے زیادہ ہوچکی ہے اوربیروزگاروں کی زیادہ تعداد میں ان پڑھ کے بجائے تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے افراد شامل ہیں ۔ بیروزگاری کے اضافے میں توانائی کے بحران، امن وامان کے مسائل اور مہنگائی کا کلیدی کردار ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی اس جانب عملی اقدامات اٹھانے شروع کر رکھے ہیں ۔ ان اقدامات کو نہ صرف اندرون ملک اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ انسانی حقوق کے عالمی نگراں ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل جنوبی ایشیاء نے غربت کے خاتمے کے حکومتی منصوبے احساس کو سراہا ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ خوراک، ہاوَسنگ، تعلیم اور صحت کے حقوق ایک ایسی بنیاد رکھتے ہیں جن پر ایک باوقار زندگی تعمیر کی جاسکتی ہے ۔ پریس کانفرنس سے مخاطب ہوتے ہوئے احساس پروگرام کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ شدید معاشی حالات میں بھی سماجی تحفظ کے بجٹ کو دو گنا کر دینا وزیر اعظم عمران خان کا ایک اہم اور جرات مندانہ قدم ہے، یہ فلاحی ریاست کی جانب ایک اہم قدم ہے ۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ سماجی تحفظ کے ضمن میں تین گروپ ہیں جن کو پالیسی کور دینا ہے، پہلا گروپ وہ ہے جو سالہا سال سے غربت میں گھِرا ہوا ہے، دوسرا ;200;فت زدہ گروپ ہے جو کسی ;200;فت کی وجہ سے غریب ہو رہا ہے اور تیسرا گروپ ہمارے معذور بہن بھائیوں کا گروپ ہے ۔ پاکستان کے 2 اعشاریہ 5 فیصد لوگوں کو کسی نہ کسی معذوری کا سامنا ہے، ان افراد کی تعداد 5 لاکھ بنتی ہے ۔ رواں سال کے بجٹ میں معذور افراد کے لیے اہم پالیسیاں ہیں جن میں تمام مستحق افراد کو ویل چیئر مفت دی جائے گی، سماعت سے محروم مستحق افراد کو مفت ;200;لہ سماعت دیئے جائیں گے، بینائی سے محروم تمام مستحق افراد کو سفید چھڑی مفت مہیا کی جائے گی، جبکہ تمام مستحق معذور افراد جو نادرا میں رجسٹرڈ ہیں انہیں انصاف کارڈ دیا جائے گا تاکہ وہ اپنا اور اپنے خاندان کا علاج حکومتی خرچے پر مخصوص ہسپتالوں میں مفت کروا سکیں ۔ ملک کے20پسماندہ اضلاع میں مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جہاں پر خصوصی افراد کے لیے مصنوعی اعضا تیار کیے جائیں گے ۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ بے روزگارافراد کے لیے ایک نئی اسکیم کے بارے میں ;200;گاہ کیا جس کے تحت ہر ماہ 80 ہزار افراد کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے قرضے دینے کا بھی اعلان کیا ۔ اسی طرح غریب طلبہ کے لیے ایچ ای سی کے تعاون سے نئی انڈر گریجوایٹ اسکیم بارے بھی بتایا کہ انڈر گریجوایٹ طلبہ کی یونیورسٹی اور ہوسٹل فیس حکومت ادا کرے گی ۔ وزیراعظم کا احساس پروگرام ایک انقلابی پروگرام ہے جس میں تمام سماجی مسائل کو حل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئیں ہیں ۔ حکومت کی توجہ نہایت بنیادی مسائل پر ہے جن کا حل کسی معاشرے کے لئے اشد ضروری ہوتا ہے ۔ ان بنیادی ایشو میں سے ایک بے روز گاری ہے اور حکومت اس جانب خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ بے روزگاری کے اثرات جہاں معاشرے کومتاثر کرتے ہیں وہیں جرائم ، سماجی اورنفسانی مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں ۔ حکومت جہاں انقلابی پروگرام متعارف کرا رہی ہے وہاں اس نے اگر مالیاتی بحران کوحل کرنے پر فوری توجہ نہیں دی تومعاشرے میں پھیلی بے چینی اورانحطاط کوکوئی نہیں روک سکے گا ۔

امریکہ کی بھارت پر نوازشات،جنوبی ایشیا کےلئے خطرناک

خطے میں طاقت کا توازن خراب کرنے میں جہاں بھارت پیش پیش رہتا ہے وہاں امریکہ بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتے نہیں تھکتا ۔ جنوبی ایشیاجو اس وقت گولہ بارود کا ڈھیربن چکا ہے امریکہ نے بھارت کو مسلح ڈرونز کی فروخت کی منظوری دے دی ہے ۔ اس کے ساتھ فضائی اور دفاعی میزائل نظام کی فروخت کی بھی پیش کش کی ہے ۔ مسلح ڈرونز کا معاہدہ ڈھائی ارب ڈالرکا بتایا جا رہا ہے ۔ مودی اور ٹرمپ کے درمیان جون 2017 میں بھارت کونگرانی کرنے والے گارڈین ڈرونز کی فروخت پر اتفاق ہوا تھا ۔ بھارتی سرکاری نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے فوجی صلاحیتوں کو فروغ دینے ، مشترکہ سلامتی کے مفادات اور اسٹرٹیجک اہمیت کے حامل انڈوپیسفک خطے میں اہم علاقائی مفادات کی حفاظت میں مدد دینے کے مقصد کے لئے بھارت کو مسلح ڈرونز کی فروخت کی منظوری دی ہے اس کے ساتھ مربوط فضائی اور میزائل دفاعی ٹیکنالوجی کی فراہمی کی بھی بھارت کو پیشکش کی ہے ۔ امریکہ نے بھارت کو حالیہ سالوں میں جو دفاعی سازوسامان فروخت کیا ہے ان میں دو ارب 60کروڑ ڈالر کے سی ہاک ہیلی کاپٹرز، دو ارب تیس کروڑ ڈالر کے اپاچی ہیلی کاپٹر، تین ارب ڈالر کے پی81میری ٹائم پٹرول ائیرکرافٹ وغیرہ شامل ہیں ۔ امریکہ کی اسلحہ کی خریدو فروخت میں بھارت پر نوازشات پورے خطے کے امن کےلئے خطرناک ہیں ،چین اور روس کو اس معاملے کوسلامتی کونسل میں لے کر جانا چاہیے تاکہ اسلحہ کی دوذ کی حوصلہ شکنی ہو ۔

کشمیریوں کی جدوجہدآزادی کو کچلا نہیں جا سکتا

کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ2016ء کے عوامی انتفادہ نے کشمیریوں کی تحریک آزادی میں ایک نئی روح پھونک دی اور یہ تحریک اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے ۔ کشمیریوں نے حال ہی میں بھارتی پارلیمنٹ کے نام نہاد ضمنی انتخابات کے مو قع پر جو مثالی بائیکاٹ کیا اس سے بھارت اور مقبوضہ علاقے میں اس کی کٹھ پتلی حکومت سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں ۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں تحریک انتفادہ شروع کرنے کا مقصد بھارت کے غیر قانونی قبضے اور بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کے قتل عام کیخلاف بھر پور مزاحمت کرنا ہے ۔ سلام ہے کشمیر کے ان غیور مسلمانوں پر کہ وہ اپنا خون پیش کرکے، جوانیاں لٹاکر، بھوک و افلاس کی صعوبتیں جھیل کر بھی ڈٹے ہوئے ہیں ۔ وہ نہ تو جھکے ہیں ، نہ ہی بکے ہیں ۔ اگر ان شہداء کے جنازے اٹھتے ہیں تو وہ بھی پاکستانی پرچم میں لپٹے ہوئے ۔ بھارت اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ وادی کشمیر میں موجودہ انتفادہ ایک شعوری تحریک ہے جس کی جڑیں بہت گہری ہیں اور یہ کسی فرد یا جماعت کی پیدا کرہ تحریک نہیں ۔ بھارت اپنی خفیہ ایجنسیوں اورفورسز کے ذریعے حریت قیادت کی کردار کشی کر کے کشمیریوں کو تحریک آزادی سے دور کرنا چاہتا ہے تاہم اسے معلوم ہونا چاہیے کہ کشمیریوں کا مقدمہ ہر لحاظ سے مضبو ط ہے ۔ دراصل بھارت کو معلوم ہے کہ جب تک وہ اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے تیار نہیں ہوگا کوئی بھی مخلص کشمیری اسکے بہکاوے میں آکر نام نہاد بات چیت میں شامل نہیں ہوگا ۔ بھارت کو معلوم ہے کہ کشمیر کی حقیقی قیادت نام نہاد مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کردیگی اسی لئے اس نے ہٹ دھرمی پر مبنی موقف اختیا ر کر رکھا ہے ۔ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے ریاستی دہشت گردی اور طاقت کا بے جا استعمال کر رہا ہے ۔ ہندوستان کبھی بھی کشمیریوں کو حق خودارادیت کے حصول کے لیے کی جانے والی جائز جدوجہد سے نہیں روک سکتا ۔ مقبوضہ کشمیر میں سرچ آپریشنز کے بہانے معصوم لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے گرفتار کیا جاتا ہے پھر ان کاقتل کیا جاتا ہے ۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کی جانب سے جاری حالیہ رپورٹ بڑے واضح طریقے سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرتی ہے ۔ اور اس رپورٹ میں دو کالے قوانین آرمڈ فوررسز سپیشل پاور ایکٹ اینڈ پبلک سیفٹی ایکٹ کو فوری طور پر منسوخ کرنے کے لیے کہا گیا ہے ۔ ان قوانین کے تحت بھارتی فوج اور نیم فوجی دستوں کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں یعنی گولیاں چلانے سے سنگین نوعیت کی پامالیوں اور خلاف ورزیوں کے سلسلے میں قانونی کارروائی سے ان کو استثنٰی حاصل ہے اور اس قانون میں کسی بھی طرح کی ترمیم سے بھارتی حکومت نے دوٹوک الفاظ میں انکار کردیا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ گذشتہ اٹھائیس برسوں میں اس قانون کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں بہت زیادہ خون بہا ہے اور اس کے علاوہ کروڑوں کی جائیداد تباہ کردی گئی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں کانگرس کے سینئر لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز کا کہناہے کہ مقبوضہ علاقے میں راءج کالاقانون آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ افسپاء مہلک اور غیر مہذب قانون ہے جسے فوری طورپر منسوخ کیاجانا چاہیے ۔ کیونکہ یہ قانون اول تو ہندوستان کو زیب ہی نہیں دیتا کیونکہ یہ مہلک اور غیر مہذب قانون ہے دوم اس قانون کو بیشتر مواقع پر غلط طریقے سے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ اس قانون کے تحت فورسز کو قتل عام کی کھلی چھوٹ حاصل ہے اور وہ کسی کو جواب دہ نہیں ہیں ۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کی مسلمہ رائے ہے کہ افسپا جیسا کالاقانون بھارت کے جمہوری ملک ہونے کے دعوے پر ایک بدنما داغ ہے ۔ اگر مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز نے آٹھ جولائی کو مجاہد کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد پر امن مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال خاص طورپر پیلٹ گن اور براہ راست فائرنگ نہ کی ہوتی تو 56قیمتی جانوں کا زیاں نہ ہوتا اور پانچ ہزار سے زائدکشمیری زخمی اور سینکڑوں عمر بھر کیلئے معذور اور بینائی سے محروم نہ ہوتے ۔ لوگوں کو اس بات کی امید تھی کہ اس قانون کے نفاذ سے کشمیری عوام کو جو مشکلات درپیش ہیں ان کا احساس بھارت کو ہوگا لیکن دہلی کی طرف سے اس بارے میں جو تازہ اعلان کیا گیا ان سے لوگوں کو زبردست مایوسی ہوئی ۔ ماضی میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں نافذ سخت فوجی قانون کو ہٹانے کے لئے فوج اور خفیہ اداروں پر مشتمل یونیفاءڈ ہیڈکوارٹرس کا اہم اجلاس مقبوضہ کشمیر کے اس وقت کے وزیراعلٰی عمرعبداللہ نے طلب کیا تھا ۔ اس اجلاس میں جموں کشمیر کے مختلف خطوں میں تعینات بھارتی فوج کے پانچ کمانڈروں نے افسپا ہٹانے کے فیصلے کی مخالفت کی لیکن سابق وزیر اعلیٰ نے انہیں بتایا کہ بھارت کے وزیرداخلہ نے انہیں ایسے علاقوں سے اس قانون کا نفاذ ختم کرنے کو جائز قراردیا ہے جہاں تشدد کی سطح کم ہوگئی ہے اور فوج کا کردار باقی نہیں رہا ہے ۔ مودی حکومت چاہے جتنے بھی مظالم ڈھا لے، کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو کچلا نہیں جا سکتا ۔ کشمیری عوام اپنے حق خود ارادیت کی جدوجہد کررہے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی غاصب فوج کے جاری مظالم بھی ان کی جدوجہد آزادی کو روک نہیں سکتے ۔ کشمیری شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان شاء اللہ ضرور رنگ لائیں گی ۔

’’ٹاورنگ پرسنالیٹی‘‘کی اسموک اسکرین چہل پہل

ملک بھر کے اخبارات’الیکڑونک میڈیا ’ایف ایم ریڈیوسمیت سوشل میڈیا میں ہیجان خیز طوفان نما ‘اسموک اسکرین’کی فریب زدگی کے سحر نے ہرسیاسی فکرمند بزرجمہرے کو اپنی گرفت میں جکڑا ہوا ہے، ہر کوئی اسموک اسکرین پر نموداران ہی ;39;سیاسی گتھیوں ;39;کو سلجھانے میں لگا ہوا حیران وپریشان ہے خود سرابی کے فریب کا شکار;39;ارے یہ کیا ہوگیا;23839; یہ کیوں کردیا گیا;238;ارے ایسی‘ٹاورنگ پرسنلیٹی’کو جوابدہی کے کٹہرے میں لاکھڑا کردیا گیا;238; بلاوجہ عمران حکومت نے اپنے ہی لئے’عدالتی بحران‘ ساپیدا کردیا;238;ایسی’’لائق و فائق کرشماتی شخصیت‘‘اتنے’’ اونچے قدکاٹھ کی شخصیت‘‘ پر الزامات عائد کردئیے گئے;238; لگتا ہے حکومت نے یہ قدم اْٹھا کراپنے پیروں پر خود ہی کلہاڑی ماردی ہے;238; بس موجودہ حکومت یوں سمجھئے گھر چلی ہی جائے گی جب سے یہ حکومت اقتدار میں آئی ہے’’ احتساب احتساب‘‘ کی باتیں سنتے سنتے پاکستانی عوام تنگ آگئے ہیں ;238;قارئین یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ ملک کے چند فی صد کرپٹ مافیا ز گروہ کی یہی دہائیاں یہی راگ ہیں ، ان ہی سرابوں میں چاہے ماضی کی پالی ہوئی بیوروکریسی کی بقایاجات ہویا ناجائز منافع خور تجارتی شعبہ کے گروہوں کے افراد ہوں یاپھر ذراءع ابلاغ کے ’’ناخداؤں ‘‘ ہوں اُن کے حواری اور چیلے ہوں یہ سب مل کر پاکستان کے نوے فی صد عوام کو یقین دلانے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں کہ ماضی کا حکمرانی سسٹم عمران حکومت سے بہتر تھا ماضی کے مسترد شدہ حکمرانوں پر سنگین کرپشنز کے الزامات غلط لگائے گئے ہیں ایک سابق وزیراعظم کو سپریم کورٹ نے بلاوجہ سزا سنائی ‘ اور اْنہیں جیل میں ڈالا گیا ہے ایک’’ انتہائی معصوم ‘‘سابق صدر اور اْن دیگر قریبی افراد پرمن گھڑت الزامات لگا ئے جارہے ہیں ;238; مطلب یہ کہ موجودہ حکومت نے’’ عدل عدل‘‘ کا شور تو بہت مچا رکھا ہے پر اب تک تاریخوں پر تاریخیں ہی دی جارہی ہیں بقول ان سیاسی مفاداتی بزرجمروں کے چاہے وہ صحافیوں کے بھیس میں ہوں یا وکلاکے بھیس میں ‘ پاکستانی عوام پر حکمرانی کا یکطرفہ حق جتلانے والے جولائی سال دوہزاراٹھارہ سے قبل کے جمہوری ‘اسٹیٹس کو’ کی دوبارہ بحالی کے لئے لگتا ہے کہ اپنی کشتیاں جلانے پر اتر آئے ہیں یہ موقع پرست ہمیشہ تاک میں رہتے ہیں کہ ’’کوئی سافٹ بال‘‘ اگر مل جائے تو اْس پر جیت کا چھکا ماردیا جائے’لیجئے انہیں ایک’سافٹ بال‘ اور مل گئی پاکستانی عوام کی واضح اکثریت منتظرہے اس ‘سافٹ بال’ کو پاکستان کی کرپٹ مافیاز ٹیم کھیل پاتی بھی ہے یا پھر’’ کلین بولڈ‘‘ ہوجائے گی کیونکہ دس گیارہ ماہ ہونے کو آئے ہیں ان کرپٹ مافیا میں سے کسی ایک کو بھی اب تک کوئی عبرتناک سزا ہوتی کسی کو دکھائی نہیں دی ہے اب ایک اور ‘بڑی شخصیت’پر الزامات کا نیا ایشو اور سامنے آگیا مفروضوں پر مبنی باتیں ہیں کہ ختم ہونے پر آ نہیں رہیں ;39;مباحث;39;مناظرات اور مکالمات کی سیاسی جگتیں سب اپنی جگہ مگر کوئی یہ کہتا ہوا تاحال نظر نہیں آیا جو ببانگ دہل کہے کہ عدل اور انصاف کی اہمیت وضرورت قرآن وحدیث کی روشنی میں پاکستانی معاشرے میں استحکام پیدا کرنے کے لئے کل سے زیادہ آج کتنی ضروری ہو چکی ہے حقیقی عدل وانصاف یا پھربقول ایسوں کے جو آج کل اس بارے میں معترض ہیں ،اْن کے نزدیک عدل وانصاف کا کیا ایسا دوہرا نظام قائم رہے ’بڑی شخصیتوں ‘کے لئے کچھ ہو اور عام پاکستانیوں کے لئے سخت اور کڑانظام علیحدہ ہو;23839; اگر ایسا ہوجائے ماضی میں ایسا ہی ناکارہ سسٹم راءج تھا توکیا اس طرح سے ہمارامعاشرہ مجرمانہ چھپن چھپائی اور منکرات سے پاک صاف ہوجائے گا;238;جناب والہ! معاشرے کو ایسی مجموعی سماجی اور ادارہ جاتی برائیوں سے مبرا رکھنے کے لئے قانون اور عدل کا اطلاق بلاشرکت طبقات یکساں رکھے بغیر کیسے پاک و صاف رکھا جاسکتا ہے;238; کیونکہ عدل سب کے لئے یکساں پوچھ گچھ کا متقاضی ہوتا ہے، عدل کی بنیاد قانون پر ہوتی ہے، کسی بالاطبقہ کے فرد کے لئے عدل کی شکل کچھ اور ہو اور عدل میں مصلحت برتی جائے تو پہلی معاشرتی انارکی کی زد سماجی ومعاشرتی امن وامان پربراہ راست پڑتی ہے، یہی وجوہ ہے کہ دین اسلام نے ایسے جرائم میں حدیں مقرر کی ہوئی ہیں جیسے چوری;39;قتل وغارت گری;39;جھوٹے افعال واعمال کی فتنہ گری;39; اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے والوں کا اپنے حلف پر پورا نہ اترنا;39;ریاستی خزانوں کی لوٹ مار میں ملوث ہونا یہ جرائم ہیں جن کی جوابدہی ہر کسی کو دینی ہوگی جوابدہی کا قانون سختی سے نافذ ہوگا تو تبھی کہیں جاکرہمارامعاشرہ کسی حد تک جرائم سے پاک وصاف ہوگا ’’عدل‘‘ کے حقیقی نظام کو چیلنج کرنے والوں نے یہ جو ملک میں ایک غیر ضروری سا طوفان اْٹھانے کے لئے منفی سرگرمیاں شروع کرنے کے جمع ہونے کی منصوبہ بندیاں کرنے پر کمربستہ نظرآرہے ہیں کہ;39;اتنی بڑی قدآور قانون کو سمجھنے والی شخصیت پر الزام کیوں ;238;مگر کوئی یہ نہیں سوچ رہا ہے کل اگراسی ‘قدآور قانون دان‘شخصیت نے سپریم جوڈیشل کونسل کو تسلی بخش جوابات دیدئے تو ان الزامات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی پھر یقینا حکومت سے پوچھا جانا حق بنتا ہے کہ ;39;غلط اور بوگس الزامات کیوں لگائے گئے;238; صبر تحمل مزاجی یکسوی اور وقار اور متانت کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا جارہا جس اعلی قانون شناس شخصیت پر الزامات کا تعلق ہے اْن کا یہ کہنا اپنی جگہ برحق کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجے گئے اْن کے خلاف ریفرنس کے مندرجات میڈیا میں کیسے شاءع ہوئے نشرہوئے اور ٹیلی کاسٹ ہوئے;238;قانون کی ادنیٰ سی سوچ رکھنے والے کی اس رائے اورمنطق میں کتنا وزن ہے کہ جس ‘ٹاورنگ شخصیت’ کے خلاف کوئی ریفرنس اگر سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجا گیا ہے تو کیا اْنہیں صدر مملکت کو خط لکھنا صحیح تھایا وہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کو خط لکھتے یوں بات اندرون خانہ رہتی ‘ٹاورنگ پرسنیلیٹی’ کے صدر پاکستان کو تحریر کردہ دونوں اہم خطوط جو اب شائد اس اہم ریفرنس کا حصہ بن چکے ہیں وہ میڈیا کی خبروں ‘ٹاک شوز اور سوشل میڈیاپر مختلف پیراؤں میں یوں زیر بحث کیسے آئے;238; اہل وطن یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ یہ مذکورہ’ٹاورنگ پرسنالیٹی‘ جو آئین اور قانون پر مکمل سوجھ بوجھ کی قابلیت واہلیت کی برتری کی حامل قرار دی جارہی ہے اور اُوپر سے بلوچستان صوبہ سے تعلق رکھنے کی اہمیت کی تکرار قوم پر آخر باور کیا کرایا جارہا ہے یہ افراد آئین اور قانون سے بالاتر ہوتے ہیں اب ذرا اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کراپنے ایمان کی تازگی کو توانا کرکے کوئی بتلائے توسہی کہ خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ مشہور واقعہ کسے یاد نہیں جن سے مسلمانوں کے ایک اجتماع سے بھری ہوئی مسجد میں جب وہ خلفیہ دوئم کے منصب جلیلہ پر فائز تھے اْن سے ایک عام مسلمان نے سوال کردیا تھا کیا حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی بڑی کوئی اور’ٹاورنگ پرسنالیٹی‘ ہوسکتی ہے;238; خلفیہ دوئم نے تو اس عام مسلمان کو موقع پر گواہ بھی فراہم کردیا تھا اور تشفی جواب بھی دیا مسلمانوں کے مجمع سے کسی ایک بھی مسلمان نے خلیفہ وقت سے سوال پوچھنے والے عام مسلمان کا گھیراو نہیں کیا اور نہ ہی وقت کے عظیم المرتبت خلیفہ دوئم نے عام مسلمان کے سوال پوچھنے پر اس عمل کو اپنے خلاف کسی سازش کا کوئی نتیجہ قرار نہیں دیا تھا جناب والہ!یہ ہے اسلام کا نظام عدل جو متمدن تہذیب کے تمام تر تجربات کاپختہ نچوڑ ہوتا ہے عدل کی کرسی کے متمنی ہر عادل کو انتہائی مطمئن اورپرسکون ہونا چاہیئے اورعاجز طبعیت کا حامل ہوناچاہیئے اور یہی نہیں بلکہ ایسوں کا حلقہ احباب اور ایسے عادل کے دیگر شناور ہر قسم کے الزامات کے ہر شائبہ سے بھی مبرا ہونے چائیں ۔

آوَ ملکی سا لمیت کا مل کر دفاع کریں

پاکستان میں ایک رواج ہے اور بہت عام ہے کہ سیاسی مخالفت ہو، علاقائی مصلحت ہو یا سیاستدانوں کا ذاتی نقصان ہوجائے تو فوراََ کہہ دیا جاتا ہے کہ ملکی سالمیت خطرے میں ہے یعنی یوں کہئے کہ ہمارے ہاں سب سے کمزور شے ملکی سلامتی ہے جس کو ہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے ۔ اس کے لیے حساسیت قابلِ تعریف ہے کہ ہم محتاط رہیں لیکن اس کو پستہ بادام سمجھ لینا کہ دانت کے نیچے رکھا اور توڑ دیا یہ تصور بالکل غلط ہے لیکن ہو یہی رہا ہے اور اس کو ایسا ہی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے کہ ہر ایک اس کو لا ولد کی جاگیر سمجھے کہ جب چاہا تا راج کر دیا ۔ اس سے میرا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ خطرات سے آنکھیں بند کر دی جائیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ بد خواہوں کو ہر وقت یہ بتایا جائے کہ ہم تمہاری ہر سازش ناکام بنانے کے لیے تیار ہیں ۔ ہم لمبے عرصے سے بلوچستان کے بارے میں خاکم بدہن یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ بس ہو اچلی اور اس سوکھے پتے کو اڑا لے جائے گی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نصف سے کچھ کم پاکستان ، یعنی بلوچستان کے وسیع و عریض صوبے میں کچھ جگہوں پر بد امنی اور خود غرض قوم پرستی پھیلانے والے عناصر ضرور ہیں لیکن ہمارا ہر سیاستدان اور سیاسی جماعت بلوچ کارڈ ضرور کھیلتا ہے ہاں اپنے دورِ حکومت میں وہ آنکھیں اور کان بند کر لیتے ہیں اور جب حکومت جاتی ہے تو پھر وہی ملکی سالمیت کی دھمکیاں ۔ ایسی ہی دھمکی سندھو دیش کی بھی استعمال ہوتی رہی ہے اور پختونستان کی بھی ۔ دہشت گردی کی تباہ کاریوں نے قومی منظر نامے کو جہاں بحیثیت مجموعی متاثر کیا وہیں خیبر پختونخواہ پر خصوصی اثرات چھوڑے ۔ یہاں عرصے تک خوف و ہراس کی فضا چھائی رہی، ترقی کے عمل کو سبوتاژ کیا گیا بلکہ روک دیا گیا اور دہشت گردی کی روک تھام ظاہر ہے پہلی ترجیح بن گئی ۔ کو ئی دوسرا منصوبہ نہ توجہ پا رہا تھا نہ تکمیل اور پھر جب ناقابلِ تلافی نقصان کے بعد خدا خدا کر کے دہشت گردی میں کمی آئی اور کافی حد تک اس پر قابو پا لیا گیا اور دشمن نے جب دیکھا کہ اُس کے مسلک فرقے کی چال کو عوام نے سمجھ لیا اور اُن پر واضح ہو گیا ہے کہ اُن سے دوسروں کی جنگ لڑوائی جا رہی ہے تو اُس نے ایک اور چال چلی اور اُنہی شمالی علاقوں جہاں سے وہ خود کش تیار کرکے بھیجتا تھاوہاں سے لسانیت کی آگ بھڑکانے کی کوشش شروع کر دی ۔ یہ علاقے جن میں تاریخ میں شاید پہلی بار ترقی کا عمل شروع ہوا تھا یا ہونے جا رہا تھا یہاں منظور پشتین کے فتنے کو اُٹھا دیا گیا اور ہمارے کچھ سیاسی لیڈر انہیں اپنے حقوق کی جنگ لڑتے کچھ نوجوان کہہ کر انہیں کریڈٹ دینے کو کوشش کر رہے ہیں لیکن کوئی اِن سے پوچھے کہ یہ لوگ اُس وقت کہاں تھے جب اِن کے علاقے جلائے جا رہے تھے سکول اڑا دیے جاتے تھے بازار بموں کی زد میں ہوتے تھے کہ کاوبار نہ چلے یہ اُن لوگوں کے خلاف کیوں کبھی نہ اُٹھے کہ آج اُس فوج کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں جس نے انہیں اس ناسور سے نجات دلانے کے لیے اپنے ہزاروں جوانوں کی قربانی دی ہے ۔ میں ہر بار بلوچستان کارڈ کھیلنے والوں سے یہی عرض کرتی ہو کہ بلوچستان پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہے جس کی سرحدیں باقی تینوں صوبوں سے جڑی ہوئی ہیں اور یہ ایک ہزار میل کے فاصلے پر بھی نہیں جہاں کے مکینوں کو پتہ بھی نہ چلے کہ پاکستان کے دوسرے صوبے بھی لندن یا پیرس نہیں ایک ایسے غریب ترقی پذیر ملک کے صوبے ہیں جہاں غربت ہر جگہ پائی جاتی ہے صرف اُن کے ہاں نہیں ۔ ہاں اُن کے سرداروں نے اُن پراپنی گرفت کچھ زیادہ سخت رکھی ہوئی ہے لہٰذا ان کے مسائل یقیناََ زیادہ ہیں اور ان کا حل ترجیحی بنیادوں پر ہونا چاہیے اورصرف سیاسی فوائد کے لیے ان مسائل کو لاینحل بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے ۔ وہاں مسائل حل کرنے کے بجائے اب یہی کھیل خیبر پختونخواہ میں کھیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ہمارے سیاستدان جو یہاں پھر بنگلہ دیش کو یاد کر رہے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ پٹھان وہ لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا جو اس کی پہلی جنگ لڑ کراس کی بقا ء کے ضامن بنے اُس وقت میں جب یہ ملک جنگی سازوسامان سے بھی تہی دامن تھا اورخزانے میں بھی کچھ نہ تھا یہ اپنی بنیادوں پر ابھی نیا نیا اُٹھنے لگا تھا ایسے میں یہی پٹھان اٹھے اور اس کے بازوئے شمشیرزن بنے ۔ یہ بات بھارت بھی خوب جانتا ہے اور دوسرا ہر دشمن بھی لہٰذا ان لوگوں نے ان پٹھانوں پر کئی بار کام کرنا شروع کیاپختونستان کانعرہ بھی کئی بار لگوایا گیا لیکن انہی پختونوں نے اسے ختم کردیا اور یوں دشمن کی چال کو ناکام بنادیا اوریہی پختون ہیں جو آج بھی پاکستان کے دفاع کی دیوار بنے ہوئے ہیں ۔ یہ لوگ جو پٹھانوں کی محرومی کا رونا رو رہے ہیں کیا اُن کے خیال میں باقی پورے پاکستان سے غربت ختم ہو گئی ہے، صحت کے مسائل حل ہو گئے یا تعلیم سب کے لیے یکساں اور مفت ہو گئی ہے جو اِن کے علاقوں میں نہیں ہے ۔ اس وقت پاک فوج کو لیں تو یہاں پٹھان جوان سے لے کر افسر اور جرنیل تک موجود ہیں ۔ آپ کو بڑے بڑے عہدوں پر پٹھان سول افسران نظر آئیں گے جج، عدالت، تعلیم اورصحافت کے میدان میں غرض ہر جگہ پٹھان اپنے ملک کی خدمت کرتا نظر آتا ہے اور یہ کوئی انہونی بات نہیں یہ اُن کی اپنی ذہانت اور قابلیت ہے جس کے بَل بوتے پر وہ ہر اُس مقام پر پہنچ سکتے ہیں جہاں پر کوئی بھی دوسرا پاکستانی ۔ لہٰذا کو نسی محرومیت لیکن یہ گروہ اپنی سیاست چمکانے کے لیے خود اعتماد پختونوں کی خود اعتمادی کو ختم کرنے کی سازش میں مصروف ہیں اور یہی دشمن کی چال ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ملک کے اندر سے کیوں بار بار بنگلہ دیش سے مماثلت کے آوازے اُٹھ رہے ہیں اور کیوں مسئلے کو پیچیدہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کیوں لسا نیت کو ہوا دی جارہی ہے اور اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جارہی ہے ،کیوں یہ یاد نہیں رکھا جا رہا کہ مسائل کو ہوا دینے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ ان کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ کو شش کی ضرورت ہوتی ہے ان پر سیاست کی نہیں ۔ پٹھان انتہائی محبِ وطن پاکستانی ہیں اور وہ سب میری طرح اس بات پر اپنی توہین محسوس کرتے ہیں کہ کیوں ان کو غدارانِ وطن کے ساتھ جوڑا جارہا ہے اور کم از کم میں اس بات پر شدید احتجاج کرتی ہوں کہ کیوں ہماری مما ثلت بنگلہ دیش سے پیدا کی جا رہی ہے ۔ میں ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر کہوں گی کہ بنگلہ دیش بد قسمتی سے تین اطراف سے بھارت میں گھرا ہو اتھا ہزاورں کلومیٹر دور بنگالی ٹیلی وژن اور فلموں میں دکھائے جانے والے مغربی پاکستان کے پوش علاقوں کو ہی دیکھ سکتے تھے اُنہیں اسلام آباد کی اونچی عمارتیں تو نظر آجاتی تھیں اس کے مضافات میں واقع کچی آبادیاں نہیں ، وہ کراچی میں اونچے اونچے پلازے ہی دیکھ سکتے تھے اس میں بستے بے گھر بے چھت مزدور کی کہانی سے وہ بے خبر تھے لیکن اب یہی اسلام آبادپشاور کے پڑوس میں واقع ہے اور وہاں کا سارا حال پشاور کا باشندہ جانتا ہے ۔ فاصلے بہت بڑا کردار کرتے ہیں ورنہ آج پاکستان میں رہنے والے یہ نہ سمجھتے کہ امریکہ میں کوئی غریب نہیں پایا جاتا ۔ وہ فلموں میں ایک ایسا امریکہ دیکھتا ہے جہاں سب اچھا ہے لیکن اسی امریکہ میں ترقی یافتہ دنیا میں دوسرے نمبر پر غربت پائی جاتی ہے ۔ یہاں کی ایک بہت بڑی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، بہت بڑی تعداد بے گھر بلکہ بے چھت گلیوں میں سوتی ہے، بہت بڑی آبادی ٹرکوں اور کاروں پر رہ رہی ہے اوربے شمار ریلوے سرنگوں میں رہ رہے ہیں تو آخر ہم کیوں اپنے بارے میں اس قدر منفی تاثر پھیلا تے ہیں اور کیوں منظور پشتین اوراس کا گروہ اور اس گروہ کی جینزشرٹ والی لڑکیاں مستقل ہماری بے بسی کا رونا روتے ہیں ۔ ایک مشورہ ان کے لیے یہ بھی ہے کہ گلالئی اسماعیل اور ثناء اعجاز جیسی خواتین اپنے یورپ اور امریکہ کے دورے کم کر کے ان پر آنے والے اخراجات پختونوں کے انتہائی مصائب زدہ خاندانوں پر کیوں نہیں لگا دیتیں اور ان کے حامی بلاول زرداری جیسے انتہائی دولت مند سیاستدان کیوں اپنی دولت کا عشرِعشیر کسی ایک غریب پختون علاقے پر نہیں خرچ کر دیتے یا اسفندیار ولی اپنی فالتو دولت میں سے کچھ ان کو کیوں نہیں دے دیتے ۔ یقین کریں ان کی دولت کا یہ نا محسوس حصہ ان غریب لوگوں کی زندگی بنا دے گا، لہٰذا صرف روئیے مت کچھ کیجیے اور ملک کی سالمیت کو کانچ کا بنا کر پیش مت کریں اسے اتنا مضبوط بنائیے کہ اس کے خلاف کام کرنے کا سوچنے والا ہزار دفعہ سوچ کر بھی کچھ کرنے کی ہمت نہ کر سکے ۔

Google Analytics Alternative