Home » Author Archives: Admin (page 3)

Author Archives: Admin

ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے کوچ 2 میچز کیلیے معطل

ممبئی: آئی سی سی نے ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے کوچ اسٹورٹ لاء کو دو میچز کے لیے معطل کر دیا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کاؤنسل (آئی سی سی) نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے کوچ اسٹورٹ لاء کو دو میچز کے لیے معطل کردیا۔ ویسٹ انڈین کوچ بھارت کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے آخری روز کیران پوول کو آوٹ دینے پر غصے میں آگئے تھے اور انہوں نے ٹی وی امپائر کے کمرے میں جا کر متنازع جملے کسے اور بعد ازاں چوتھے امپائر کے پاس گئے جہاں کھلاڑیوں کی موجودگی میں ان کو برا بھلا کہا۔

آئی سی سی نے ویسٹ انڈین کوچ کی حرکت پر نوٹس لیتے ہوئے ان پر میچ فیس کا 100 فیصد جرمانہ عائد کرتے ہوئے تین ڈی میرٹ پوائنٹس دے دیے، 24 ماہ کے دوران 4 ڈی میرٹ پوائنٹس ہونے پر اسٹورٹ لاء کو بھارت کے خلاف ون ڈے سیریز کے پہلے دو میچوں کے لیے معطل کر دیا گیا۔

حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ پھر موخر کردیا

 اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ایک بار پھر موخر کردیا ہے۔

اسلام آباد میں وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر سربراہی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس ہوا۔ ای سی سی نے دسمبر تا فروری زیرو ریٹڈ شعبوں کو سو فیصد آر ایل این جی فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔ مارچ سے نومبر تک پانچ زیرو ریٹڈ شعبے پچاس فیصد آر ایل این جی اور پچاس فیصد سوئی گیس استعمال کریں گے۔

ای سی سی کے اجلاس میں صرف ایک ایجنڈا ہی زیر بحث آسکا اور بجلی کے نرخوں میں ردو بدل پر بات نہ ہوسکی۔ کمیٹی نے بجلی کی قیمت میں اضافے کا معاملہ ایک بار پھر موخر کردیا۔

نیپرا نے حکومت کو 3 روپے 82 پیسے فی یونٹ اضافہ کی سفارش کی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں صارفین سے تقریباً 400 ارب روپے ماہانہ اضافی وصول کئے جائیں۔

واضح رہے کہ حکومت اس سے قبل گیس کی قیمتوں میں 10 سے لے کر 143  فیصد تک اضافہ کرچکی ہے جب کہ منی بجٹ کی صورت میں عوام پر مہنگائی کا بم بھی گرایا جاچکا ہے۔

بعض نیل پالش استعمال کرنے سے کینسر اور الرجی کا خطرہ؟

مختلف رنگوں کی نیل پالش خواتین کے ہاتھوں کو خوبصورت بناتی ہیں لیکن یہ صحت کے لیے کتنی نقصان دہ ہے اس کا دار و مدار نیل پالش میں شامل اجزا پر منحصر ہے.

اکثر نیل پالش برانڈ کے مطابق ان کی تیار کردہ مصنوعات مضر صحت کیمیکلز سے پاک ہیں لیکن ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان برانڈز کی نیل پالش میں بھی شامل اجزا نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔

ایک طبی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ نیل پالش میں شامل مضرِ صحت اجزا موٹاپا، کینسر، تھائی رائیڈ ، الرجی اور دیگر بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔

انوائرمنٹل سائنس اور ٹیکنالوجی میں شائع کردہ تحقیق میں بتایا گیا کہ تحقیق کے لیے سیلون اور سپر اسٹورز پر فروخت ہونے والے 44 معروف برانڈ میں سے 55 کا جائزہ لیا گیا۔

انہوں نے ان تمام نیل پالش کے اجزا کی فہرست بنائی تاکہ جائزہ لیا جاسکے کہ کس نیل پالش میں زہریلے اجزا کتنے کم ہیں۔

بعض نیل پالش پر درج ہوتا ہے کہ وہ ’ تھری فری ‘ ہیں یعنی ان میں ڈائی بیوٹائل فیتھلیٹ، ٹولین اور فورم ال ڈیہائیڈ شامل نہیں،یہ طریقہ کار اس وقت اپنایا گیا تھا جب ان تینوں اجزا سے مختلف طبی مسائل جیسے کینسر اور دماغی بیماریوں کا ادراک ہوا تھا.

اس وقت سے لے کر اب تک نیل پالش کمپنیاں اپنی مصنوعات کو ’ 5فری ‘ بھی قرار دیتی ہیں ، جس کا مطلب ہے اس میں تین مضر اجزا کے علاوہ کامفور اور فورم ال ڈیہائڈ ریزن بھی شامل نہیں۔

بات ’ 5 تھری ‘ پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ اکثر بڑے اور معروف نیل پالش برانڈ اپنی مصنوعات کو ’ 6 فری‘ ، 7 فری ‘ 8 فری یہاں تک کہ 13 فری بھی قرار دیتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق کہ صارفین سمجھتے ہیں کہ زیادہ ’ 3 فری‘ ’ 5 فری ‘ سے جتنا نمبر بڑھتا جائے چیز صحت کے لیے اتنی ہی اچھی ہے لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔

تحقیق میں دیکھا گیا کہ اکثر مصنوعات جنہیں تھری فری یا 5 فری قرار دیا گیا تھا ان میں وہ اجزا شامل تھے اور دیگر میں بھی یہی چیز مشترک تھی۔

مثال کے طور پر ’ 10 فری ‘ کہلائی جانے والی 10 اشیا میں سے 6 میں 10 ناقص اجزا مختلف تھے اور پروڈکٹ کے لیے معیار مختص نہ ہونے کی وجہ سے یہ واضح نہیں کہ ’ سیسہ یا ایسی ٹون میں سے کون سا کیمیکل شامل نہیں ہونا چاہیے۔

علاوہ ازیں دیگر برانڈ کی مصنوعات میں شامل نہ ہونے والے اجزا میں گلوٹین، گندم ، اور دیگر اجزا شامل تھے جو صحت کے لیے ہرگز نقصان دہ نہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ کچھ کمپنیاں ’ تھری فری ‘ مصنوعات کے متبادل کے طور پر ان اجزا کو شامل کررہی ہیں جن سے متعلق زیادہ تحقیق نہیں کی گئی اور یہ صارفین کے لیے زیادہ نقصان دہ ہوسکتی ہیں۔

‘مجھے بھی 21 سال کی عمر میں جنسی ہراساں کیا گیا’

بولی وڈ میں گزشتہ ماہ 26 ستمبر سے اداکارہ تنوشری دتہ کی جانب سے اداکار نانا پاٹیکر پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا الزام لگانے کے بعد اب تک کئی اداکاروں نے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر بات کی ہے۔

‘می ٹو’ مہم کے تحت جہاں اب تک ہدایت کار وکاس بہل، سبھاش گھائے، ساجد خان اور اداکار آلوک ناتھ جیسی شخصیات پر اداکاراؤں کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا الزام لگ چکا ہے۔

وہیں ایک کامیڈین اداکارہ کنیز سرکا نے بھی ساتھ اداکارہ ادیتی متل پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزامعائد کیا تھا۔

اسی طرح لوگوں نے اداکار آدھیان ثمن سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھی اداکارہ کنگنا رناوٹ کی جانب سے 2 سال قبل جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعے کی سچائی ایک بار پھر سامنے لائیں، تاہم انہوں نے فی الحال اس واقعے پر بات کرنے سے معزرت کرلی۔

یوں 14 اکتوبر کو سیف علی خان نے بھی انکشاف کیا کہ انہیں بھی کیریئر کے آغاز میں 25 سال قبل ہراساں کیا گیا، تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ انہیں جنسی طور پر ہراساں نہیں کیا گیا تھا۔

ثاقب سلیم نے ہراساں کرنے والے کا نام نہیں بتایا—فوٹو: زی نیوز
ثاقب سلیم نے ہراساں کرنے والے کا نام نہیں بتایا—فوٹو: زی نیوز

تاہم اب اداکارہ ہما قریشی کے بھائی اور ایکشن فلم ‘ریس تھری’ میں سلمان خان کے بھائی کا کردار ادا کرنے والے اداکار ثاقب سلیم نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں بھی 21 سال کی عمر میں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔

ہندوستان ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں ثاقب سلیم نے انکشاف کیا کہ کیریئر کے آغاز میں جب وہ فلم کے لیے انٹرویو دینے کے لیے پہنچیں تو انٹرویو لینے والی تین رکنی ٹیم میں شامل ایک مرد نے ان کے ساتھ سب کے سامنے نازیبا حرکت کی۔

ثاقب سلیم نے بتایا کہ وہ اس شخص کا نام نہیں لینا چاہتے، تاہم وہ اس وقت کم عمر اور نئے تھے، اس وجہ سے اپنے ساتھ ہونے والے اس واقعے سے وہ ڈر گئے۔

اداکار نے یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ کس فلم کے لیے انٹرویو دینے گئے تھے اور ان کا انٹرویو کرنے والے تین رکنی پینل میں شامل دیگر 2 افراد کون تھے اور ان کا اس واقعے پر کیا رد عمل تھا؟

تاہم اداکار نے بتایا کہ انہیں یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ انٹرویو لینے والا شخص اس طرح کا ہے، انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کو اپنے لیے اذیت ناک قرار دیا اور کہا کہ وہ کم عمری میں ایسے واقعے پر ڈر گئے تھے۔

ثاقب سلیم نے مزید بتایا کہ انہوں نے اپنے ساتھ ایسی نازیبا حرکت کرنے والے کو وہیں کھری کھری سنادی اور انہیں بتایا کہ وہ ایسے نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ 30 سالہ ثاقب سلیم نے 2011 میں فلم ‘مجھ سے فرینڈ شپ کروگی’ سے کیریئر کا آغاز کیا۔

اب تک وہ 10 کے قریب فلموں میں جلوہ گر ہوچکے ہیں اور وہ اپنی بہن اداکارہ ہما قریشی کے ساتھ بھی ایک فلم‘ریس تھری’میں کام کرچکے ہیں۔

’ریس تھری’ میں انہوں نے سلمان خان کے بھائی سورج کا کردار ادا کیا تھا۔

گوگل کا چین کیلئے ’سینسرڈ سرچ انجن‘ بنانے کا اعتراف

دنیا کی سب سے بڑی سرچ انجن ‘گوگل’ نے اعتراف کیا ہے کہ کمپنی نے چین کے لیے ایک علیحدہ اور سینسرڈ سرچ انجن بنانے میں مصروف ہے۔

یہ اعتراف گوگل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سندر پچائی نے کیا ہے، جنہوں نے پہلے ان خبروں کو مسترد کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ گوگل کے چیف پرائیویسی آفیسر نے امریکی سینیٹ کے آگے کمپنی کے خفیہ منصوبے ’ڈریگن فلائی‘ پر کام کرنے کا اعتراف کیا ہے، تاہم کمپنی کے سی ای اور سندر پچائی نے اس حوالے سے بتانے سے گریز کیا تھا۔

تاہم اب گوگل نے اس منصوبے کا اعتراف کیا ہے۔

ان گیجٹ کے مطابق ایک سمٹ سے خطاب کے دوران سندر پچائی نے اعتراف کیا کہ کمپنی نے ‘ڈریگن فلائی’ نامی چین کے لیے سرچ انجن کا منصوبہ تیار کیا۔

گوگل کے سی ای او کے مطابق اس سینسرڈ سرچ انجن کو بنانے کا مقصد چین میں پابندی کا سامنا کرنے والی ویب سائٹس کو گوگل پر تلاش کرنے پر بھی سامنے نہ لانا ہے۔

سندر پچائی نے اعتراف کیا کہ ان کی کمپنی اس منصوبے پر کام کر رہی ہے اور انہوں نے بتایا کہ اس کی تیاری بہترین طریقے سے جاری ہے۔

سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس منصوبے کے بارے میں بتایا اور کہا کہ’ہم اس سے متعلق 99 فیصد سوالات کا جواب دے سکیں گے، گوگل تمام افراد کو معلومات فراہم کرنے کے اپنے منشور پر عمل پیرا ہے تاہم یہ ملک کے قوانین کی بھی پاسداری کرے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’چین میں دنیا کی 20 فیصد آبادی رہتی ہے اور گوگل کی یہاں غیر موجودگی کا مطلب اس پلیٹ فارم کا بڑی تعداد میں لوگوں سے دور ہونا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ گوگل کئی امور میں چین میں عوام کو دستیاب معلومات سے بہتر معلومات فراہم کرسکتا ہے جیسے کینسر کے علاج کے حوالے سے معلومات جس کے بارے میں لوگ کہیں سے غلط معلومات بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

گوگل کے سی ای او کا کہنا تھا کہ کمپنی نے اپنے چین سے باہر نکلنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی اور چین میں دوبارہ داخل ہونے کے لیے اسے بہترین مارکیٹ سمجھا۔ ’ہم جاننا چاہتے تھے کہ ہم چین میں ہوں تو کیسا رہے گا، جس کی وجہ سے ہم نے اس منصوبے کو اندر ہی اندر تیار کیا‘۔

انہوں نے سینسرڈ انجن کی لانچنگ کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اگلے 6 سے 9 ماہ میں تیار ہوجائے گا۔

فخر عالم کی ‘مشن پرواز’ کے تحت کراچی آمد

پاکستانی اداکار اور میزبان فخر عالم نے گزشتہ ماہ 30 ستمبر کو اپنی ایک ٹوئیٹ کے ذریعے اعلان کیا تھا کہ وہ ‘مشن پرواز’ کے تحت خود جہاز اڑا کر دنیا بھر کی سیر کرنے کا آغاز کرنے والے ہیں۔

‘مشن پرواز’ کا اعلان کرنے کے بعد ڈان امیجز سے بات کے دوران انہوں نے وضاحت کی تھی کہ اگرچہ ان کے پاس جہاز اڑانے کا لائسنس پہلے سے ہی موجود تھا، تاہم اب وہ اسی لائسنس کے تحت جہاز اڑائیں گے۔

فخر عالم کے مطابق انہیں 3 سال قبل 2015 میں امریکا میں جہاز اڑانے کا لائسنس ملا تھا۔

فخر عالم کا کہنا تھا کہ وہ خود سے جہاز اڑا کر محض 28 دن میں دنیا کی سیر کریں گے اور وہ دنیا بھر کی مختلف 30 ایئرپورٹس پر جہاز کو لینڈ کرائیں گے۔

اسی ‘مشن پرواز’ کا آغاز فخر عالم نے رواں ماہ 10 اکتوبر کو امریکی ریاست فلوریڈا کے چھوٹے سے شہر ‘واٹرز’ سے کیا تھا اور وہ 16 اکتوبر کی صبح دبئی کے ایئرپورٹ پر پہنچے تھے۔

فخر عالم نے دبئی ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے سے قبل اپنے ایک ویڈیو میں بتایا کہ بس وہ کچھ ہی دیر میں اپنے ملک کے سب سے بڑے شہر کے ایئرپورٹ پر اترنے والے ہیں۔

فخر عالم کا کہنا تھا کہ وہ دو پہر ایک بجے تک کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچ جائیں گے۔

فخر عالم جیسے ہی دوپہر کو جناح انٹرنیشنل کے پرانے ٹرمینل پر پہنچے تو گورنر سندھ عمران اسماعیل اور سول ایوی ایشن (سی اے اے) حکام نے ان کا استقبال کیا۔

فخر عالم نے گورنر سندھ عمران اسماعیل اور سی اے اے سمیت دیگر افسران اور عہدیداروں کی جانب سے استقبال کیے جانے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

خیال رہے کہ فخر عالم اگرچہ خود جہاز اڑا رہے ہیں،تاہم انہیں ‘مشن پرواز’ میں برطانیہ کی ایوی ایشن کمپنی ‘ٹمپا بے ایوی ایشن’ کی معاونت حاصل ہے۔

فخر عالم اسی کمپنی کے 2 ایوی ایشن افسران جوشوا بریکن اور کرٹ روئے کے تعاون سے ‘مشن پرواز’کی تکمیل کر رہے ہیں۔

ابھی ان کے ‘مشن پرواز’ کو شروع ہوئے 6 دن گزرے ہیں اور ان کے پاس مزید 22 دن ہے اور وہ اس دوران مزید 2 درجن سے زائد ممالک جائیں گے۔

اگر فخر عالم ‘مشن پرواز’ کے ذریعے دنیا کی سیر 28 دن میں مکمل کرتے ہیں تو وہ یہ منفرد اعزاز رکھنے والے پہلے پاکستانی بن جائیں گے۔

بھارت میں سوٹ کیس سے 20 سالہ ماڈل کی لاش برآمد

ممبئی: بھارت میں 20 سالہ ماڈل کی لاش سوٹ کیس سے برآمد ہوئی ہے  جب کہ ماڈل کے قتل کے الزام میں اس کے دوست مزمل سید کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سوٹ کیس سے برآمد ہونے والی لاش کی شناخت مانسی ڈکشٹ کے نام سے ہوئی ہے، مانسی کا تعلق بھارتی ریاست راجستھان سے تھا جو ممبئی  ماڈل بننے کے لیے آئی تھی اور شوبز کی دنیا میں قدم جمانے کی کوشش کررہی تھی۔

بنگور نگر پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم مزمل سید اور مانسی کی ملاقات انٹرنیٹ پر ہوئی تھی  اور دونوں گزشتہ روز دوپہر میں ممبئی کے علاقے اندھیری میں مزمل کے اپارٹمنٹ میں ملے تھے، بعد ازاں مزمل اور مانسی میں کسی بات پر بحث ہوئی اور مزمل نے کسی وزنی چیز سے مانسی پر وار کیا اور پھر اس کا گلا دبا کر اسے مارڈالا۔

اس کے بعد مزمل سید نے مانسی کی لاش سوٹ کیس میں ڈالی اور ایک ٹیکسی میں سوٹ کیس کو ملاڈ ریلوے اسٹیشن لے گیا اور لاش پھینک کر وہاں سے فرارہوگیا، یہ ساری کارروائی رات 3 بجے سے 4 بجے کے درمیان ہوئی۔

پولیس کو اس کارروائی کا ٹیکسی ڈرائیور کے ذریعے پتہ چلا تھا جسے مزمل سید نے بلایا تھا، ٹیکسی ڈرائیور نے سید کو بیگ پھینک کر رکشے میں واپس جاتے ہوئے دیکھا تھا، جس کے بعد اس نے پولیس کو فون کیا اور اس ساری کارروائی کے متعلق بتایا، پولیس فوراً موقع پر پہنچی اور سوٹ کیس سے ماڈل کی لاش برآمد کرلی۔

بعد ازاں سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پولیس نے مزمل کو گرفتار کرلیا، ڈپٹی کمشنر آف پولیس سنگرامسن کا کہنا ہے کہ ہم نے  کیس کی ایف آئی آر درج کرلی ہے، ملزم سید کو منگل کے روز  یعنی آج عدالت میں پیش کیاجائے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزمل سید نے ماڈل مانسی ڈکشٹ کے قتل کا اعتراف کرلیا ہے۔ جب کہ ماڈل کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے آٹوپسی روانہ کردی گئی ہے۔

اندوہناک داستانیں

بلاشبہ ’سچائی‘ ایک پیچیدہ تصور ہے سچائی تک پہنچنااور عین ویسے ہی من وعن بیان کردینا بڑی ہمت وجرات کی بات ہوتی ہے اور خاص کر بھارت جیسے ملک میں جہاں آپ دیش بھرمیں پھیلی ہوئی سرکاری سرپرستی کی جنونی انارکی کوللکارنے نکل پڑیں’ایسی ہی کڑوی کسیلی اورتلخ سچائی سے وابستہ حیات آفریں تصور کے ساتھ چند دوسرے تصورات بھی آپ کے ذہنوں پریعنی سچائی لکھنے اوربولنے والوں کے ذہنوں پرلگاتاردستکیں دینے لگتی ہیں، مثلا تصدیق کی دستک ‘دیانت اورمحنت کی دستکیں’ان بے آوازدستکوں کااحساس اْنہیں یہ باور کراتا ہے کہ وہ انسانیت کے وقار کے لئے کمربستہ ہوچکے ہیں’لہذاء کسی قسم کے خوف کو اپنے قریب پھٹکنے نہ دیں جو سچ بولنے جارہے ہیں وہ سچ بول دیں، بھارت کی نامورعالمی شہرت یافتہ مصنف’صحافی اورممتازٹی وی اینکرپرسن محترمہ برکھادت نے زمینی وواقعاتی سچائی کی سرشاری میں محو ہوکردیش بھرمیں آباد مختلف نسلوں جنہیں ہمہ وقت انسانی محرومیوں نے اپنے حصار میں گھیرا ہوا ہے ایسوں کے ساتھ پیش آنے وا لے دردوالم کو محسوس کرکے بھارتی معاشرے میں بڑھتی ہوئی نسلی ولسانی فرقہ واریت کی متشدد جنونی مشکلات کی کھائی میں اس بہادرمصنفہ نے بلاآخر چھلانگ ہی لگادی ممکنہ پیش آنے والی مشکلات کی بالکل پرواہ نہ کی اور نکسل عوام کی ایک بڑی واضح اکثریت جوغربت وافلاس میں گھری ہوئی ہے اْن کی انتہائی لاچاریوں اوربے بسیوں کی جانب توجہ دلانے کے لئے برکھا دت نے’نکسل وادی’کے عوام کی آوازکواپنی عالمی شہرت یافتہ کتاب کاموضوع بنایا ہے’شورش زدہ سرزمین۔اوراندوہناک داستانیں’مس برکھادت نے ا پنی مقبول عام کتاب میں مغربی بنگالی صوبہ میں واقع نکسل باڑی کے بہادراورغیورمحنت کش عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والی نئی دہلی سرکار کی برسہا برس کی متعصبانہ اور بے حس پالیسیوں پربڑے تفصیل سے گہری تفتیشی اندازمیں تنقیدی تاریخی رویہ اپنایا اوردنیا میں بھارتی جمہوریت کے داغدار چہرے کو بے نقاب کرکے اپنی صحافتی ذمہ داریوں کا حق اداکردیا ہے دنیا جاننا چاہتی ہے تو سن لے کہ’ نکسل عوام’ نے نئی دہلی اقتدارکو اگرچیلنج کیا ہے تو کیوں کیا ہے؟کوئی یہ سب کچھ جاننے کی کوشش کیوں نہیں کرتا ‘نکسلائٹ آئیڈیا لوجی’کے مسلح پس منظر میں ایسے کون سے عوامل کارفرما رہیں یا آج بھی کل کی طرح تروتازہ ہیں بقول مصنفہ برکھادت کہ نکسل عوام تک نئی دہلی سرکار نے انسانی سہولتوں کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کوممکن بنانے میں ہمیشہ تنگ نظری اور صرف نظر سے کام لیا ہے، مگراس ضمن میں نکسل عوام کوجو سب بڑا فائدہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ نکسل عوام کی نئی دہلی کی حاکمیت سے علیحدگی کی تحریک کی بابت بھارتی معاشرے میں اب ایک واضح لکیر وقت کے ساتھ ساتھ نمایاں ترہوتی جارہی ہے نکسل عوام اپنی الگ آزاد ریاست کے لئے اپنی کئی نسلوں کی قربانیاں دینے کے لئے ا پنے آپ کومکمل طور پر تیارکرچکے ہیں ،جس پرسینٹرل دیش کے اکثرسیاسی تجزیہ کار اور صحافی نکسلائٹ چھاپہ ماروں کوکسی طور بھی ‘ریاست مخالف’یا’دیش کے معاشرے کا دشمن خیال نہیں کرتے’بلکہ اکثرحلقوں کی ایک پختہ رائے یہ بھی ہے کہ نکسل عوام کاتعلق بھارتی معاشرے کے اْن محروم طبقات سے ہے جن کے ساتھ بھارتی ریاست’حکومت اور بھارتی ایلیٹ معاشرہ ہمیشہ سے بہت ہی بْری طرح کا غیر انسانی ظلم وستم کرتا چلاآیا ہے’لہذاء ان محروم اور پسماندہ طبقات نے اپنے بنیادی انسانی حقوق کے حصول کی جدوجہد کے لئے اب اپنا ‘مسلح راستہ’اپنا لیا ہے مصنفہ برکھادت نے اسی جانب اپنی کتاب میں اشارہ کیا ہے کہ جب کوئی بھی ریاست اپنی مجموعی آبادی کے ایک بڑے واضح حصہ کو زندہ رہنے کے لئے پینے کا صاف پانی تک فراہم نہ کرئے اْن کی ضروریات زندگی کے لئے روزگارکا کوئی بندوبست نہ کرئے اْنہیں صحت کی سہولیات میسرنہ ہوں علاقہ کے بڑے امیر و کبیر بڑی زمینوں وا لے جاگیرداراْن کی زمینوں پرقبضہ جماتے رہیں علاقائی پولیس تھانوں میں آئے روزاْن کی ظالمانہ چھترول کی جاتی ہو’پہلے سے محروم پسے ہوئے طبقات کوغلام بناکر زندہ رہنے پرمجبورکردیا جاتا ہواْن کی خواتین کی کھلے عام عصمت دری کی جاتی ہو توکیا ایسے محروم اور نادارعوام ہمیشہ کے لئے مہربہ لب اورخاموش رہ سکتے ہیں؟’نکسلائٹ آئیڈیا لوجی‘ کا یہی واحد ٹھوس نظریہ ہے جس نے اْنہیں باہم متحدہ ویکجا کیا ہے، نکسل باڑی تنظیم کی بحثیں کرتے ہوئے نام نہاد’متحدہ بھارت’ کے نام لیواوں کاجوخیال بھی ہو،مگر معروضی سچائی معروضی حقائق اورنظرآنے والے واقعات کو وہ یوں یکسررد نہیں کرسکتے’جیسا کہ مس دت نے محسوس کیا اور اپنی کتاب کے صفحات میں اْنہیں رقم کردیا کہ نکسل عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والا متعصبانہ سلوک تاریخ کا حصہ بن سکے وہ بالکل حق بجانب ہیں گزشتہ 70 برسوں میں نئی دہلی سرکار نے چاہے کسی جماعت کی بھی مرکز میں حکومت رہی ہو یا آج بھی موجود ہے نکسل عوام کو کسی نے بھی وہ توجہ نہیں دی جو بھارت کے عام ‘ہندوجاتیوں’ کو دی جاتی ہے، بلکہ سنجیدگی سے اس کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی گئی تو پھراْنہوں نے بندوق اْٹھالی، نئی دہلی کے علاوہ علاقائی اورعالمی طاقتیں فورا سمجھ گئیں کہ ‘جنوبی ہند میں ضرورت سے زیادہ شورش برپا ہے جو بڑھتی جارہی ہے ا گرفکر نہیں ہے توجانتے بوجھتے ہوئے بھی نئی دہلی سرکارہے جوبے فکرہے کبھی چین پرالزام دھردیا جاتا ہے’ کبھی پاکستان کو اڑے ہاتھوں لے لیا جاتا ہے لیکن مسئلہ کا بامقصد حل تلاش نہیں کیا جاتا نئی دہلی کی اسی ناعاقبت اندیش اور تساہل پرست ہٹ دھرم سیاست نے دیش کو آج کل بارود کے ڈھیر پر ضرورپہنچا دیا ہے، مقبوضہ کشمیر سے لے کر جنوبی ہند تک سے ‘نئی دہلی حاکمیت’کی مرکزیت کے خلاف اْٹھنے والی جاندار اور موثرآوازوں پراپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسنے والوں کوکیا اب یہ ہم بتائیں گے کہ اگر اُنہیں فرصت ملے تووہ مس دت کی کتاب کا مطالعہ کریں تاکہ اْنہیں علم ہوجائے کہ’نکسلائٹ تحریک’وسطی اورمشرقی دیش کے سبھی دیہی علاقوں تک پھیلتی ہی چلی جارہی ہے مس دت کی متذکرہ کتاب کافی ضخیم ہے اپنی کتاب میں مس دت نے بھارتی معاشرے میں بڑھتی ہوئی ہندوتوا تحریک پر بڑے زور دار سوالیہ انداز میں طنزیہ تبصرے کیئے ہیں خاص کر بی جے پی کی موجودہ سرکار پر جنہیں درپردہ آرایس ایس کی مکمل حمایت حاصل ہے دیش بھر میں ’ہندوتوا‘ کی نفرتوں بھری سیاست کی گندگی کو نمایاں کرکے دنیا تک مصنفہ نے پیغام پہنچا دیا ہے کہ بھارت میں جنونی انتہا پسندوں نے ایسا تنگ نظر ماحول پیدا کردیا ہے کہ یہ دیش اب ’لبرل اور روشن خیال اعتدال پسند سیکولر ازم پر چلنے والوں کے لیئے جہنم بنتا جارہا ہے جہاں نسل کی بنیادوں پر اچھوتوں کا کھلے عام استحصال ہوتا ہے، مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک سرکاری سرپرستی ہوتا ہے، مذہبی اقلیتوں میں عدم تحفظ کے احساسات بڑھتے چلے جارہے ہیں بھارت کی انتشار پسند ریاستوں کا یہ رخ کتنا بھیانک ہے بھارت اپنے پڑوسی ممالک کو گیدڑ بھبکیاں دینے میں بڑااتراتا ہے ذرا جھک کر اپنے ہی گریباں میں تو جھانک لے دنیا بھر کے تجزیہ نگاراس امر پر متفق ہوچکے ہیں نکسل وادی گوریلوں کی مسلح کارروائیوں کے نتیجے میں بھارت کے40% حصے پر 92000 مربع کلومیٹر علاقے میں نکسل اپنی عملداری قائم کرچکے ہیں ’ہندوتوا کی فرقہ واریت ‘کی نفرت نے آج بھارت کوکس قدر منقسم کردیا ہے ۔

*****

Google Analytics Alternative