Home » Author Archives: Admin (page 3)

Author Archives: Admin

پاک ایران بارڈر پر مسلح افراد کی فائرنگ، پاسداران انقلاب کے دو اہلکار ہلاک

ہران: ایران میں پاکستان کی سرحد کے نزدیک مسلح افراد نے فائرنگ کرکے پاسداران انقلاب کے 2 محافظوں کو قتل کردیا جب کہ 2 اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق پاکستانی بارڈر کے نزدیک ایرانی علاقے میں مسلح افراد نے پٹرولنگ پر مامور پاسداران انقلاب کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 2 اہلکار ہلاک اور 2 شدید زخمی ہوگئے۔

سرکاری ٹیلی وژن کا مزید کہنا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے جن کی تلاش میں چھاپہ مار کارروائی جاری ہے۔ ایرانی صوبے بلوچستان اور سیستان میں ’ڈرگ مافیا‘ اور محافظوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ گزشتہ 2 برس سے جاری ہے۔

یاد رہے کہ رواں برس فروری میں بھی پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کو لے جانے والی گاڑی پر القاعدہ نے خود کش حملہ کیا تھا جس میں پاسداران انقلاب کے 27 محافظ ہلاک ہوگئے تھے۔

اسرائیلی کمپنی کا سوشل میڈیا سے کسی کی بھی معلومات حاصل کرنے کا دعویٰ

یروشلم: ماضی میں واٹس ایپ ہیک کرنے کے الزام میں خبروں کی زینت بننے والی ایک اسرائیلی خفیہ کمپنی نے اپنے صارفین کو آگاہ کیا ہے کہ وہ دنیا کی بڑی سماجی روابط کی ویب سائٹس سے صارفین کا ڈیٹا جمع کرسکتی ہے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں لکھا گیا کہ این ایس او گروپ نے اپنے خریداروں کو بتایا ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی خفیہ طریقے سے ایپل، گوگل، فیس بک، ایمازون اور مائیکروسافٹ کے سرورز سے کسی بھی شخص کا ڈیٹا برآمد کرسکتی ہیں۔

تاہم اس حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے تحریری جوابات دیتے ہوئے این ایس او جے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کردیا کرتے ہوئے کہا کہ ’این ایس او کی سروسز اور ٹیکنالوجی کے بارے میں بنیادی غلط فہمی پائی جاتی ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’این ایس او کی مصنوعات آج کے شائع شدہ آرٹیکل میں دیے گئے انفرا اسٹرکچر، سروسز کسی قسم کی کلیکشن کرنے کی صلاحیت اور کلاؤڈ ایپلکیشن تک رسائی فراہم نہیں کرتیں‘۔

مئی میں واٹس ایپ نے کہا تھا کہ اس نے ایپلیکشن میں موجود ایک سیکیورٹی ہول پلگ کرنے کے لیے ایک اپڈیٹ جاری کررہی ہے جس سے جدید ترین اسپائی ویئر داخل کیا جاسکتا تھا جسے ممکنہ طور پر صحافیوں، رضاکاروں اور دیگر کے خلاف استعمال کیا جاسکتا تھا۔

کمپنی کی جانب سے مشتبہ ادارے کا نام نہیں دیا گیا تھا تاہم یہ ہیک منظر عام پر آنے کے وقت واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار جوزف ہال جو سینـٹر فار ڈیموکریسی اینڈ ٹیکنالوجی کے چیف ٹیکنالوجسٹ بھی ہیں، نے کہا تھا کہ اس کا تعلق این ایس او کے پیگاس سافٹ ویئر سے ہے۔

یہ سافٹ ویئر عموماً قانون نافذ کرنے والے اور خفیہ اداروں کو فروخت کیے جاتے ہیں۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں پروڈکٹ کی تفصیلات اور دستاویز کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پروگرام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ وہ فون سے بڑھ کر کلاؤڈ میں محفوظ معلومات حاصل کر لے‘۔

مثلاً جس کی معلومات حاصل کی جارہی ہے اس کی موجودگی کی مکمل تاریخ، ڈیلیٹ کردہ پیغامات اور تصاویر وغیرہ‘۔ این ایس او کا کہنا تھا کہ وہ پیگاسز سسٹم آپریٹ نہیں کرتی صرف حکومتی صارفین کو لائسنس جاری کرتی ہے ’جس کا واحد مقصد سنگین جرائم یا دہشت گردی کو روکنا یا اس کی تفتیش کرنا ہے‘۔

یہ ادارہ 2016 میں اس وقت خبروں کی زینت بنا تھا جب ریسرچرز نے اس پر متحدہ عرب امارات کے ایک سماجی رضاکار کی جاسوسی میں معاونت کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

این ایس او اسرائیل کے دارلحکومت تل ابیب کے نزدیک واقع ساحلی اور جدید ٹیکنالوجی کے مرکز شہر ہرزیلیا میں ہے۔

اوپن ٹینس: ویمنز سنگلز ٹرافی سارہ منصور لے اڑیں

کراچی: پاکستان کی نمبر ون اور ٹاپ سیڈ سارہ منصور نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اوپن ٹینس چیمپئن شپ کا لیڈیز سنگلز ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔

ڈی اے کریک کلب پر پاکستان نیوی کے تحت اورپاکستان ٹینس فیڈریشن کے تعاون سے کھیلی جانے والی چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی اوپن ٹینس چیمپئن شپ کا لیڈیز سنگلز ایونٹ ٹاپ سیڈ اسلام آباد کی سارہ منصور لے اڑیں،ان کی حریف شدید گرمی سے نڈھال نظر آئیں۔

یکطرفہ فائنل میں سارہ کسی مزاحمت کے بغیر مہک کھوکھر کو 0-6 اور 1-6 سے زیر کرکے ٹرافی کے ساتھ 50 ہزار روپے انعام کی حقدار بن گئیں۔

حامد اسرار نے مطاہر محمود کو 3-5 اور 1-4 سے مات دے کر بوائز انڈر 14 سنگلز ایونٹ جیت لیا، حسنین علی رضوان نے دراف داس کو 0-4 اور0-4 سے شکست دے کر بوائز انڈر12 سنگلزکے فائنل میں جگہ بنائی جہاں ان کا مقابلہ اپنے بھائی حیدر علی رضوان سے ہوگا جنھوں نے دوسرے سیمی فائنل میں اپنے چھوٹے بھائی حمزہ علی رضوان کو 1-4 اور1-4 سے زیر کیا، تاہم حمزہ علی رضوان بوائز انڈر10سنگلز ایونٹ جیتنے میں کامیاب رہے ، انھوں فائنل میں سمیر زمان کو 0-4 اور1-4 سے ہرادیا۔

عابد علی اکبر اوراحمد چوہدری کی جوڑی نے ہیرا عاشق اور وقاص ملک کو 4-6 اور 1-6 سے قابو کرکے مینز ڈبلز ٹائٹل جیت لیا، سینئرمینز ڈبلز ایونٹ اسد علی اور ان کے پارٹنر کلیم گھانچی نے جیت لیا، انھوں نے فائنل میں علی وحید اور رفیع درباری کی جوڑی کو 6-7 اور4-6 سے مات دی، پی این ایس کارساز پر اسپیشل کھلاڑیوں کے درمیان وہیل چیئرٹینس کا منیز ایونٹ عاصم نے جیت لیا۔

فائنل میں مظہر کو 9-10اور 8-10 سے مات ہوئی، سعدیہ اسپیشل لیڈیزسنگلز چیمپئن بن گئیں، فائنل میں میری 2-10 اور2-10 سے ناکام رہیں، چیمپئن شپ کا فائنل اتوار کو ٹاپ سیڈ عقیل خان اور سیکنڈ سیڈ مزمل مرتضیٰ کے درمیان کھیلا جائے گا، فاتح کو وننگ ٹرافی کے ساتھ ایک لاکھ روپے انعام ملے گا جبکہ رنر ٹرافی کے ساتھ 50 ہزار روپے انعام پائے گا،اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیرمحمود انعامات تقسیم کریں گے۔

انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت کی آرزو ہے ، سارہ منصور

پاکستان کی نمبرون ویمن ٹینس پلیئراورچیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اوپن ٹینس چیمپئن شپ کے لیڈیز ٹائٹل کی فاتح سارہ منصور نے کہا ہے کہ اگر مواقع میسرآئیں توانٹرنیشنل ٹینس میں حصہ لیکراپنے ملک وقوم کا نام روشن کرسکتی ہوں، اسپانسرزکوآگے بڑھ کراپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

ایونٹ میں کامیابی کے بعد ڈی اے کریک کلب میں نمائندہ ایکسپریس سے گفتگوکرتے ہوئے اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی قومی نمبر1سارہ منصور نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ آئی ٹی ایف کے انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت کروں لیکن ایسے مقابلوں کے لیے مالی وسائل کی اشد ضرورت ہوتی ہے، اگراسپانسرزمل جائیں توکھلاڑیوں کے لیے بہت آسانی ہوجاتی ہے اوراسے اپنی اہلیت اور صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع میسرآجاتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سارہ منصور نے کہاکہ ٹینس میں دنیا بہت آگے چلی گئی ہے اورہم پرانی ڈگر پر چل رہے ہیں لیکن یہ امرخوش کن ہے کہ پاکستان ٹینس فیڈریشن ملک میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ٹریننگ اورکوچنگ کا اہتمام کرنے کے لیے کوشاں ہے، یہ عمل کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو جلا بخش سکتا ہے۔

ایک سوال پرسارہ منصور نے کہا کہ فائنل میں کراچی میں پڑنے والی37 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی نے بہت پریشان کیا لیکن پراعتماد اندازمیں اسٹروکس کھیلے اورکامیابی پائی، ایک اورسوال پرانھوں نے کہا کہ بھارتی ٹیم کا 55سالہ ڈیوس کپ  کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان کا دورہ خوش آئند ہوگا لیکن ستمبر میں اسلام آباد میں ہونے والے ان مقابلوں میں کامیابی کے لیے میزبان سائیڈ کوسخت محنت کرنا ہوگی۔

1.34 ارب روپے ٹیکس چوری کیس 2 سال سے زیر التوا ہونے کا انکشاف

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے 2ماتحت اداروں میں تعاون کے فقدان کے باعث ایک ارب 34 کروڑ روپے سے زائد کی ٹیکس چوری کا کیس گذشتہ 2سال سے التواکا شکار ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ایف بی آر نے ڈیسنٹ ٹریڈر کے مالک کاشف ضیا کی اربوں روپے کی غیر ظاہر کردہخفیہ بینکنگ ٹرانزیکشنز و غیر ظاہر کردہ سیلز کا سْراغ لگالیا ہے۔ اس کے علاوہ کاشف ضیاکی جانب سے اپنی کمپنی ڈیسنٹ ٹریڈنگ کے چیف اکا ؤنٹنٹ نمعت اللہ اور حسن رضا نامی شخص کے اکاؤنٹس کی تفصیلات اور ان سے ہونے والی ٹرانزکشنز و سیلز کی تفصیلات بھی حاصل کرلی ہیں جبکہ گذشتہ حکومت کی ایک اہم سیاسی شخصیت کی مداخلت پر ماتحت اداروں کے افسران کی جانب سے ڈیسنٹ ٹریڈرز نامی کمپنی کے خلاف ٹیکس چوری و ٹیکس فراڈ کے کیس کی تحقیقات کے 2اہم مرکزی کرداروں کو انکوائری سے نکالنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

ڈائریکٹریٹ جنرل اینٹلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو لاہور حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے مذکورہ ٹیکس چوری کے کیس کی تحقیقات مکمل کرکے 40 سے زائد صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کرکے کارپوریٹ آر ٹی اولاہور کو بھجوادی ہے اور ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو لاہور مس نورین کے پاس اب یہ کیس ہے اور ریکوری کرنا کارپوریٹ آر ٹی او لاہور کی ذمے داری ہے۔

کارپوریٹ آر ٹی او لاہور حکام کاکہنا ہے کہ ڈیسنٹ ٹریڈنگ نے ایف بی آر کے ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو کی طرف سے جاری کردہ آرڈر کو چیلنج کررکھا تھا اور اب چونکہ سْپریم کورٹ نے رْولنگ دی ہے کہ ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو کو آرڈر جاری کرنے کے اختیارات حاصل ہیں، اس لیے اب صرف سْپریم کورٹ کے تحریری فیصلے کا انتطار کیا جارہا ہے اور اس فیصلے کے آتے ہی ڈیسنٹ ٹریڈر سے ایک ارب 34 کرتوڑ 28 لاکھ 59 ہزار 227 روپے سے زائد کی ٹیکس چوری کے کیس میں ریکوری کا پراسیس شروع کردیا جائیگا۔تاہم اس بارے میں ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ کیس کی انکوائری کے دوران ایف بی آر کے ماتحت افسران نے سابق حکومت کی ایک اہم سیاسی شخصیت کی سفارش پر اس کیس کے 2مرکزی ملزمان نعمت اللہ اور حسن رضا کے نام انکوائری سے نکال دیا ہے۔

ایکسپریس کو دستیاب مذکورہ کیس کی 43 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ میں واقع ڈیسنٹ ٹریڈر نامی کمپنی کی جانب سے 6سال کے عرصہ کے دوران محض 4 لاکھ 57 ہزار 866  روپے کا سیلز ٹیکس اداکیا گیا ہے جبکہ اس کمپنی نے 2009 سے جون 2015 کے اس 6 سال کے عرصہ کے دوران اربوں روپے کی سیلز اور ٹرانکشنز کی گئی ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ کی کاپی کے مطابق  کاشف ضیا کی کمپنی کمپنی ڈیسنٹ ٹریڈرز بی 5 اے 222 عینک محل شاہ عالم مارکیٹ مجموعی طور پر ایک ارب 34کروڑ 28لاکھ 59 ہزار 277 روپے کی سیلز ٹیکس چوری، 25 کروڑ 60 لاکھ 29 ہزار 977 روپے کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور ایک کروڑ 47 لاکھ 94 ہزار روپے سے زائد مالیت کی اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی کی چوری میں مبینہ طور پر ملوث ہے اور ڈائریکٹریٹ اینٹلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو لاہور کے ڈپٹی ڈائریکٹر و انویسٹی گیشن آفیسر زبیر خان کے دستخطوں سے کارپوریٹ آر ٹی او لاہور کو بھجوائی جانیوالی انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ کیس کی تحقیقات کے دوران 6 سال کے عرصے کے دوران اربوں روپے کی غیر ظاہر کردہ سیلز، بینک ٹرانزیکشنز و خفیہ ٹرانزیکشنز پکڑی گئی ہیں جس کے تمام تر شواہد بھی اکٹھے کیے گئے ہیں۔

اس بارے میں متعلقہ کارپوریٹ آر ٹی او حکام نے بتایا کہ وہ گذشتہ کافی عرصے سے اس کیس میں ریکوری کی کوشش کررہے ہیں مگر مذکورہ کمپنی کے مالک کاشف ضیامختلف تاخیری حربے اختیار کررہے ہیں اور مذکورہ کمپنی نے ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ آرڈر کو چیلنج کررکھا تھا اور اب چونکہ سْپریم کورٹ  کی جانب سے بھی اس حوالے سے رْولنگ آچکی ہے۔

کارپوریٹ آر ٹی او حکام کا کہنا ہے کہ اس بارے میں سپریم کورٹ  کے تحریری فیصلے کا انتظار کیا جارہاہے جیسے ہی فیصلہ موصول ہوگا تو ریکوری پراسیس شروع کردیا جائیگا تاہم اس بارے میں ترجمان ایف بی آر حامد عتیق سرور سے رابطہ کی کوشش کی گئی مگر رابطہ نہ ہوسکا۔

5لاکھ 25 ہزار آبادی کے لئے ایک ماہر نفسیات

اِس مشینی اور جدیددور میں بُہت ساری آسائشوں اور سہولیات کے باوجود بھی انسان کسی نہ کسی مسئلے کی وجہ سے ڈیپریشن یا ذہنی امراض کا شکارہے ۔ ایک اندازے کے مطابق اِس وقت پاکستان میں 50ملین یعنی 5 کروڑافراد مختلف قسم کے نفسیاتی امراض اور ڈیپریشن کا شکار ہیں ۔ ڈپریشن ، تناءو یا ذہنی امراض کے علامات میں مسلسل پریشان اور اُداس ہونا،نا اُمیدی کی باتیں کرنا، اپنے آپکو بے یار ومدد گار اور ناتوانامحسوس کرنا، پریشان رہنا،،مختلف سماجی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینا، سیکس کی طرف کم رُغبت ، تھکان، کام میں عدمِ دلچسپی اور عدم توجہی ، حافظے کا کمزور ہونا، غلط فیصلے کرنا، صبح جلدی اُٹھنا یا حد سے زیادہ سونا،وزن کا کم ہونا یا بڑھنا، خودکشی کی کوشش کرنا، موت کو ِسر پر سوار کرنا، بے چینی کی سی کیفیات اور بعض ایسے امراض جو کہ دوائیوں کی مسلسل استعمال سے بھی ٹھیک نہیں ہوتے، مثلاسر درد، معدے اورہاضمے کے امراض وغیرہ یہ ذہنی امراض کی علامات ہیں ۔ عورتوں میں مردوں اور بچوں کی نسبت ڈپریشن یا ذہنی امراض بہت زیادہ یعنی ستر فی صد پایا جاتا ہے ۔ میں جب اپنے آبائی گاءوں صوابی گھو متا پھرتا ہوں تو صوابی کے میں بازار میں مُجھے بُہت سارے ذہنی معذور اور پاگل لوگ نظر آتے ہیں ۔ یہ بے دنیا مافیہا سے بے خبر اپنے دھن میں مگن ہو تے ہیں ۔ یہ میرا تجزیہ ہے کہ گذشتہ 20سالوں میں اس قسم کے ذہنی امراض میں بے تحا شا اضافہ ہوا ۔ اسکی بُہت ساری وجوہات میں ایک وجہ معاشرتی اور سماجی بے انصافی ، بغیر محنت کے خوب سے خوب تر کی تلاش ، ذکر الہی اور دین سے غافل ہونا اور اسکے علاوہ دیگر اور بھی عوامل ہیں جو ذہنی امراض کا سبب ببنتے ہیں ۔ آبادی کا جو زیادہ طبقہ اس سے متا ثر ہے وہ عورتیں ہیں ۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم اس قسم کے مریضوں کا علاج نہیں کرتے بلکہ کبھی اس قسم کے مریضوں کو جا دوگروں ، ٹونے بازوں ، جعلی پیروں ، پیر بابا ، مجذوبوں ، مجنونوں اور کبھی مزارات پر لے کر اُس کو پھراتے رہتے ہیں اور انکی حالت بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہو تی ہے ۔ اگر ہم اسلامی تعلیمات پر نظر ڈالیں تو علاج جو کہ سُنت نبویﷺ ہے ۔ اسکے ساتھ ہ میں تاکید کی گئی ہے کہ ہم خود قُر آن مجید فُرقان حمید کو پڑھیں کیونکہ ان میں شفا ہے ۔ مگر ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم خود اپنے ذھنی مریضوں پر قُر آن اور قُر آنی آیات کے اور علاج کے بجائے نام نہاد پیرعوں عاملوں اور جا دو گروں کے پاس لے جاتے ہیں اور انکے مرض میں مزید اضافہ کرتے ہیں ۔ اور اس قسم کے نفسیاتی مریضوں پر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ پھر اُس کا علاج قطعی نہیں ہو سکتا اور وہ معاشرے کے اچھے پُرزے کے بجائے ایک ناکارہ پُر زہ بن جاتا ہے ۔ اگر ہم مزید عور کر لیں تو اس قسم کے نفسیاتی امراض میں مبتلا مریض عورتیں ہیں اور یہ اسلئے کہ یہ لوگ علاج کے بجائے فضول کامواں میں لگ جاتے ہیں ۔ ما ہر نفسیات کے مطابق اس وقت پاکستان میں ذہنی امراض کی مریضوں کی تعداد 50 ملین یعنی 5کروڑ ہیں اور اس میں انتہائی تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا ہے ۔ اگر ہم مزید غور کر لیں تو وطن عزیز میں 21 کروڑ آبادی کے لئے 400 ماہر نفسیات اور 4 ہسپتال ہیں جو اونٹ کے مُنہ میں ریزے کے مترادف ہیں ۔ یا با الفاظ دیگر پاکستان میں 5لاکھ 25 ہزار مریضوں کے لئے ایک ڈاکٹر ہے ۔ ایک طرح اگر مریض کے لوا حقین ذہنی مریضوں پر جا دو ٹونوں کے تجربے کرتے ہیں یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ بعض اوقات ڈاکٹر بھی اس قابل نہیں ہو تے جو اس قسم کے مریضوں کا احسن طریقے سے علاج کر سکیں ۔ ڈاکٹروں کے لئے بھی چاہئے کہ سال میں دو دفعہ کم ازکم ریفریشر کو رس کریں اور سینر ڈاکٹروں پرفیسروں کے زیر نگرانی کام کریں تاکہ انکو اپنے فیلڈ کے بارے میں پورا پورا علم ہو ۔ علاوہ ازیں نفسیاتی امراض کے ڈاکٹروں کو بیرون ملک بھی بھیجنا چاہئے تاکہ وہ ذہنی امراض سے متعلق امراض سے متعلق نئے رُحجانات سے با خبر ہوں ۔ جہاں تک میرا ذاتی تجربہ ہے اس قسم کے ڈاکٹروں میں سے ایک ہوگا جو اپنی فیلڈ کے ساتھ انصاف کر رہا ہوگا ۔ حکومت کو چاہئے کہ انکی استعداد کار کے لئے ڈاکٹروں کا ریفریشر کورس کریں تاکہ ڈاکٹر کی استعداد کار ٹھیک ہو ۔ دوسری میری حکومت اور صاحب ثروت لوگوں سے استد عا ہے کہ جو لا وارث پا گل لوگ بازا روں اور دوسرے جگہوں میں در بد ر کی ٹوکریں کھا رہے ہوتے ہیں ، اُنکے کھانے، سر چھپانے، اُنکے علاج، اور اُنکے نگہداشت کے لئے تحصیل اور ضلع سطح پر دارلکفالہ بنانا چاہئے تاکہ اس قسم کےء مرید بگا ڑ سے بچے رہیں اور ساتھ ساتھ معاشرے کے کا ر آمد شہری بنیں ۔ آقائے نامدار و دوجہان حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ تُم میں بہتر وہ ہے جو دوسروں کے لئے زیادہ مفید اور اچھا ہو ۔ میری والدین سے بھی گزارش ہے کہ اگر کسی کے بچے کو نفسیاتی عارضہ ہو تو اُسکو جعلی پیروں اور عاملوں کے بجائے ماہر نفسیات کے پاس لے جانا چاہئے تاکہ اُسکا مرض نہ بگڑیں ۔ جس طرح ہ میں نزلہ زکام، بخار، ملیریا اور ٹائی فائیڈ ہو سکتا ہے اس طرح ہ میں ذہنی عارضہ بھی لا حق ہو سکتا ہے ۔ لہٰذاء دوسرے بیماریوں کی طرح اسکا علاج بھی کرنا چاہئے ۔ میں اس کالم کے تو سط سے ایک دفعہ پھر حکومت اور صاحب ثروت لوگوں سے استد عا کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور ان کے لئے سویٹ ہوم کے طرز پر جگہیں بنائیں تاکہ یہ معاشرے کے بہترین اور صحت مند شہری بن سکیں ۔

’راولپنڈی ایکسپریس‘ شعیب اختر کے لیے یوٹیوب کا اعزاز

سابق پاکستانی کرکٹر شعیب اختر کو ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹ ’یوٹیوب‘ کی جانب سے ’گولڈن پلے بٹن‘ کے اعزاز سے نواز دیا گیا۔

شعیب اختر کو یوٹیوب کی جانب سے ’گولڈن پلے بٹن‘ کے اعزاز سے ان کے یوٹیوب چینل پر 10 لاکھ سبسکرائبر ہونے کے بعد نوازا گیا۔

شعیب اختر نے یوٹیوب کی جانب سے ’گولڈن پلے بٹن‘ کے اعزاز سے نوازے جانے سے متعلق یوٹیوب پر ایک ویڈیو شیئر کی اور مداحوں کو بتایا کہ انہیں یہ اعزاز حاصل کرنے پر کتنی خوشی ملی ہے۔

مختصر دورانیے کی ویڈٰیو میں شعیب اختر نے اپنے سبسکرائبر اور مداحوں کو شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی انہوں نے ’گولڈن پلے بٹن‘ دیے جانے پر ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹ کا بھی شکریہ ادا کیا۔

شعیب اختر نے ویڈیو میں انکشاف کیا کہ یوٹیوب کی جانب سے ’گولڈن پلے بٹن‘ کا اعزاز دیے جانے کے بعد ان کےحوصلے بلند ہوئے ہیں اور وہ جلد ہی یوٹیوب پر ایک ٹاک شو بھی شروع کریں گے۔

انہوں نے ویڈیو میں پاکستانی مداحوں سمیت بھارتی، بنگلہ دیشی اور سری لنکن مداحوں سمیت دنیا کے دیگر ممالک کے مداحوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

خیال رہے کہ شعیب اختر کے یوٹیوب چینل پر گزشتہ ماہ جون کے آخر میں ہی 10 لاکھ سبسکرائبر ہوگئے تھے، تاہم انہیں یوٹیوب کی جانب سے اب ’گولڈن پلے بٹن‘ بھیجا گیا۔

شعیب اختر نے ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹ پر رواں برس کے آغاز میں چینل کھولا تھا اور وقتا بوقتا وہ مختلف ویڈیوز اپ لوڈ کرتے رہتے تھے۔

شعیب اختر پہلے پاکستانی نہیں ہیں جنہیں یوٹیوب نے ’گولڈن پلے بٹن‘ کے اعزاز سے نوازا ہو، اس سے قبل رواں برس اپریل میں یوٹیوب نے مولانا طارق جمیل کو بھی اس اعزاز سے نوازا تھا۔

طارق جمیل کو بھی یوٹیوب پر 10 لاکھ سبسکرائبر ہونے پر ’گولڈن پلے بٹن‘ بھیجا گیا تھا۔

طارق جمیل سے قبل کامیڈین ادریس شام، کامیڈین چینل ’پی فار پکاؤ‘ کے نادر علی، ’کچن ود آمنہ‘ کی خاتون آمنہ کو بھی یوٹیوب کی جانب سے ’گولڈن پلے بٹن‘ دیا گیا تھا۔

یوٹیوب پلے بٹنز کیا ہیں؟

دنیا کی مشہور یہ ویڈیو ویب سائٹ اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے اور اس پر مواد ڈالنے والے افراد کی خدمات کو تسلیم کرتی ہے اور انہیں مختلف بٹنز سے نوازتی ہے۔

یوٹیوب پلے بٹنز، یوٹیوب کرئیٹر ریوارڈ کا ایک حصہ ہے جو اس بات کا اعتراف ہے کہ آپ کا چینل یوٹیوب پر کافی مشہور ہے۔

یہ یوٹیوب ایوارڈ سے مختلف ہوتا ہے، تاہم یہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ویڈیو ویب سائٹ پر آپ کے چینلز کی ویڈیوز کا معیار بہترین ہے اور لوگ آپ کے چینلز کو پسند کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یوٹیوب کا مولانا طارق جمیل کیلئے اعزاز

یوٹیوب کی جانب سے یہ ریوارڈ چینل کے سبسکرائبر کی تعداد پر انحصار کرتا ہے لیکن یہ یوٹیوب کا صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ کسے اس ایوارڈ سے نوازے، اس سلسلے میں ایوارڈ دینے سے قبل چینل کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ چینل نے یوٹیوب کمیونٹی گائیڈ لائنز پر عمل درآمد کیا یا نہیں، اسی طرح یوٹیوب یہ اختیار بھی رکھتا ہے کہ وہ کسی بھی کرئیٹر کے ریوارڈ سے انکار کردے۔

ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب کی جانب سے اس پلے بٹن کے مجموعی طور پر 4 کٹیگری سلور، گولڈن، ڈائمنڈ اور کسٹم ہیں، جن میں سے 3مختلف ہیں جبکہ ایک 2 مرتبہ پیش کیا جاتا ہے، تاہم ہر ٹرافی کا سائز مختلف ہوتا ہے اور سبسکرائبر کے حساب سے بٹن کے سائز میں تبدیلی ہوتی ہے۔

سلور پلے بٹن: یوٹیوب پر جب کوئی چینل ایک لاکھ سبسکرائبر کی حد کو عبور کرتا ہے تو وہ سلور کٹیگری میں شامل ہوجاتا ہے اور ویب سائٹ کی جانب سے چینل کا نام تحریر کرکے کرئیٹر کو وہ بٹن دیا جاتا ہے۔

گولڈن پلے بٹن: اس ایوارڈ کو حاصل کرنے کے لیے یوٹیوب پر چینل کے سبسکرائبر کی حد 10 لاکھ سے تجاوز کرنی چاہیے، جس کے بات آپ یوٹیوب کی اس کیٹیگری میں شامل ہوتے ہیں، جس میں آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کے چینل کے نام کے ساتھ گولڈن پلے بٹن دیا جاتا ہے۔

ڈائمنڈ پلے بٹن: یوٹیوب کے اس اعزاز کو حاصل کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، اس کے لیے ویب سائٹ پر چینل کے ایک کروڑ سے زائد سبسکرائبر ہونا ضروری ہیں جبکہ اب تک صرف دنیا بھر میں 374 چینلز ہی اس تعداد تک پہنچ چکے ہیں۔

کسٹم پلے بٹن: یہ ایوارڈ یوٹیوب کا سب سے بڑا ایوارڈ ہے جو 5 کروڑ سبسکرائبر کی تعداد کو حد کرنے کے بعد دیا جاتا ہے، اس منفرد ایوارڈ کے حصول کےلیے اب تک صرف 3 چینل ایسے ہیں جو یوٹیوب کی بتائی گئی حد کو عبور کر چکے ہیں۔

پی ایس ایل فرنچائزز کو بینک گارنٹی کھٹکنے لگی

کراچی: پی ایس ایل فرنچائزز کو  بینک گارنٹی کھٹکنے لگی، پی سی بی 2خطوط بھیج چکا کسی نے بھی لفٹ نہیں کرائی۔

پی ایس ایل فورکا فائنل15 مارچ کونیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہوا تھا، ایونٹ کے بعد خود پی سی بی نے ہی اسے بھلا دیا،4ماہ سے زائد وقت گذرنے کے باوجود اب تک گورننگ کونسل کا کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا، فرنچائزز کو بعض معاملات پر کچھ شکایات تھیں، انھیں بھی دورکرنے کی زحمت گوارا نہ ہوئی، ابھی  چوتھے ایڈیشن کے اکاؤنٹس فائنل نہیں ہوئے مگر بورڈ نے ٹیموں سے اگلے ایڈیشن کی بینک گارنٹی طلب کر لی جس سے فرنچائزز ناخوش ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ  گورننگ کونسل کی میٹنگ رواں ماہ کے اواخر یا پھر اگست کے پہلے ہفتے میں ہونے کا امکان ہے، اس سے قبل فرنچائزز نے شکایات کا پلندہ تیارکر لیا، سب سے پہلی بات بینک گارنٹی پر ہوگی،پی سی بی اس حوالے سے2خطوط بھیج چکا مگر کسی نے لفٹ نہ کرائی،مالکان کا خیال ہے کہ اب لیگ کو چار سال ہو گئے لہذا گارنٹی کا معاملہ ختم ہو جانا چاہیے، بورڈ براہ راست فیس لیا کرے۔

واضح رہے کہ معاہدے کے حساب سے ایک سال پہلے ہی اگلے ایڈیشن کی بینک گارنٹی جمع کرانا پڑتی تھی مگر پی سی بی نے فرنچائزز کی درخواست پر گذشتہ برس اسے6ماہ کردیا تھا، اس بات کا امکان بیحد کم ہے کہ یہ سلسلہ ہی ختم کر دیا جائے کیونکہ عموماً بعض فرنچائزز بورڈ کو فیس کے حوالے سے ہر سال ہی تنگ کرتی ہیں، ماضی میں بعض کی بینک گارنٹی کیش بھی کرائی جا چکی ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ پی سی بی اکاؤنٹس فائنل ہونے میں تاخیر کا ذمہ دار بھی فرنچائزز کو ہی قرار دیتا رہا ہے،بعض ٹیموں نے ایک کمپنی کو واجبات ادا نہیں کیے جو پی سی بی کے معاملات بھی دیکھتی ہے، اس نے اسی بات کو جواز بنا کر بورڈ کی رقم روک لی تھی، اب ہر ٹیم کو اس کے اخراجات کی ابتدائی تفصیل ارسال کر دی گئی ہے جس میں ایئرٹریول،ہوٹلنگ وغیرہ شامل ہیں۔

دوسری جانب  کم از کم2فرنچائزز کو پی سی بی نے انکم پول کی رقم کا ابتدائی شیئر بھیج دیا، سیلز ٹیکس کی رقم تمام ٹیموں کو واپس کر دی گئی، اس حوالے سے بعض فرنچائزز نے عدالت سے اسٹے آرڈر لیا تھا، بورڈ نے ان پر واضح کیاکہ کیس کا فیصلہ خلاف آیا  تو رقم دوبارہ جمع کرانا ہوگی۔ ہر بار کی طرح اگلی میٹنگ میں بھی براڈکاسٹ اور دیگر ریونیو سمیت میچز کی گیٹ منی کا حصہ بڑھانے پر بھی بات ہو گی مگر بورڈ ممکنہ طور پرپھر اسے ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دے گا۔

فرنچائزز کا سب سے بڑا مطالبہ ڈالرز کا ایک ریٹ طے کر کے اسی کے تحت فیس کی ادائیگی ہے،اس حوالے سے ٹائٹل اسپانسر شپ ڈیل  کو مثال بنا کر پیش کیا جا رہا ہے،ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے میں ہی ادائیگی کا بھی آپشن موجود ہے، پہلے بورڈ کہتا تھا کہ لیگ یو اے ای میں ہو رہی ہے اس لیے ڈالرز سے ادائیگیوں میں آسانی ہوگی،اب اگلا ایڈیشن مکمل طور پر پاکستان میں ہونے سے فرنچائزز کا کیس مضبوط ہو جائے گا، مقامی کرکٹرز کو ڈالرز میں ادائیگی کا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا۔

فرنچائزز چاہتی ہیں کہ انھیں روپے میں ہی معاوضہ دیں، اسی طرح پانچویں ایڈیشن سے قبل  ڈرافٹ کیلیے پلیئرز کیٹیگری کا تعین کرنے کیلیے کمیٹی بنانے پر بھی زور دیا جائے گا، فرنچائزز اپنے اپنے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز پر مشتمل کمیٹی بنانا چاہتی ہیں جو چیف سلیکٹر کو سفارشات دیں  اور پھر وہ حتمی فہرست تیار کریں۔

چاند پر انسان کے قدم کو نصف صدی مکمل

انسان کی چاند سے انسیت زمانہ قدیم سے ہے اور تہذیب و تمدن کے آغاز سے بہت پہلے جب انسان غاروں اور جنگلوں میں رہتے تھے تب بھی رات میں آسمان پر چمکتا چاند ان کی خصوصی توجہ کا مرکز تھا۔

کئی صدیوں بعد انسان نے باقاعدہ گھر بنا کر رہنے کا آغاز کیا تب چاند کی روشنی رات کے سفر میں اس کی معاونت کرتی اور چاند، ستاروں ہی کے ذریعے وہ سمت کا تعین کرتا تھا۔ مگر چاند کا گھٹنا بڑھنا اور کچھ راتوں میں بالکل غائب ہو جانا اسے طرح طرح کے شکوک میں مبتلا کرتا رہا اور ہر دور میں چاند و سورج سے متعلق ماورائی قصے کہانیاں نسل در نسل منتقل ہوتی رہیں۔

وقت کا دھارا اپنی مخصوص رفتار سے بہتا رہا یہاں تک کہ 19ویں صدی کے اوائل میں جرمن اور امریکی سائنسدانوں نے جنگ میں استعمال کیے جانے والے راکٹس پر کام کا آغاز کیا، پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں مخالفین کی جانب سے انہیں محدود پیمانے پر استعمال بھی کیا گیا۔ تب امریکی سائنسدان و محقق رابرٹ ایچ گوڈارڈ نے پہلی دفعہ ان راکٹوں کے ذریعے خلا میں سفر اور بعد ازاں چاند تک رسائی کا تصور پیش کیا۔ جسے پہلے پہل دیوانے کی بڑ قرار دے کر گوڈارڈ کا باقاعدہ مذاق اڑایا گیا۔ مگر یہ با ہمت اور حوصلہ مند انسان آخری دم تک اپنے پیش کردہ تصورات پر نہ صرف قائم رہے بلکہ نجی ذرائع سے مالی امداد حاصل کر کے راکٹ تیار کر کے ان پر تجربات بھی کیے۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق 16مارچ 1926 کو گوڈارڈ نے اپنا تیار کردہ پہلا مائع ایندھن والا راکٹ خلا میں بھیجا اور یہ تجربہ کامیاب رہا۔ اس کے بعد 1926 سے 1940 کے دوران گوڈارڈ نے متعدد راکٹ خلا میں بھیجے، چند ذرائع کے مطابق ان میں ایک چاند کی سطح تک پہنچنے میں بھی کامیاب رہا۔

گوڈارڈ کی وفات کے بعد امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کو احساس ہوا کہ سائنسدان کے قوانین پر عمل کر کے ہی خلا کے سفر کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ لہذا 1950 کے بعد اس حوالے سے تیز تر پیش رفت ہوئی اور 1961 میں ناسا نے چاند تک رسائی کے لیے اپولو مشن کا آغاز کیا۔

اپولو دراصل مصری زبان کا لفظ ہے اور روشنی کے دیوتا کا نام ہے۔ ابتدا میں 6 سال تک محض خلائی گاڑیوں کو خلا میں بھیجا گیا جن کا مقصد آخری انسانی مشن کے متعلق تمام معلومات جمع کرنا اور اسے محفوظ ترین بنانا تھا۔

1967 میں اپولو مشن اس وقت شدید مشکلات سے دوچار ہوگیا جب لانچنگ سے قبل ویکیوم میں کیے جانے والے کچھ تجربات کے دوران خلائی کیپسول میں آگ بھڑک اٹھی اور تین خلا بازوں پر مشتمل عملہ ہلاک ہو گیا۔ اس کے بعد مکمل تحقیق کے ساتھ 1969 میں اپولو 11 مشن چاند کی طرف روانہ کیا گیا جسے تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ اپولو الیون مشن کے پچاس سال مکمل ہونے پر 2019 میں پوری دنیا میں خصوصی تقریبات منعقد کی جارہی ہیں۔

آئیے اس تاریخی موقع پر چاند کی جانب بھیجے جانے والے تمام انسان بردار مشنز کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

1۔ اپولو الیون: 16 جولائی 1969

بز الڈرین کی چاند پر چہل قدمی جس کی تصویر نیل آرم سٹرانگ نے لی —فوٹو بشکریہ ناسا
بز الڈرین کی چاند پر چہل قدمی جس کی تصویر نیل آرم سٹرانگ نے لی —فوٹو بشکریہ ناسا

اپولو الیون چاند کی جانب بھیجا جانے والا پہلا مشن تھا جس میں تین خلا بازوں کو ایک خلائی گاڑی “ایگل”میں چاند کی جانب بھیجا گیا جن میں کمانڈرنیل آرم سٹرانگ، فلائٹ پائلٹ بز الڈرین، اور معاون فلائٹ پائلٹ مائیکل کولنز شامل تھے۔ یہ خلائی گاڑی 16 جولائی 1969 کو فلوریڈا کے ساحل ِسمندر کے قریب واقع کیپ کارنیوال لانچنگ پیڈ سے روانہ کی گئی اور 4 دن کا سفر کر کے 20 جولائی 1969 کو چاند کی سطح پر جس مقام پر اتری اسے ‘ ساکت سمندر’ کہا جاتا ہے۔

جس وقت ایگل نامی خلائی گاڑی نے چاند کی سطح کو چھوا تو نیل آرم سٹرانگ نے ہاسٹن میں واقع فلائٹ کنٹرول سینٹر کو اطلاع دی کہ ایگل کامیابی کے ساتھ لینڈ کر گیا ہے او ر ساتھ ہی چاند پر پہلی دفعہ قدم رکھنے والے انسان کی حیثیت سے خود کو تاریخ میں امر کر لیا ۔ آرم سٹرانگ اور بز الڈرین نے تقریباً 21 گھنٹے اور 36 منٹ چاند کی سطح پر چہل قدمی کی اور وہاں سے مٹی ، چٹانوں اور پتھروں کے نمونے جمع کرنے کے علاوہ تصاویر بھی کھینچیں۔

واپسی پر نیل آرم سٹرانگ نے چاند کی ایک دلدلی زمین پر اپنی بیٹی کا بریسلٹ یادگار کے طور پر چھوڑ دیا جو چند برس قبل برین کینسر سے انتقال کر گئی تھی۔ اس دوران مائیکل کولنز اندر خلائی گاڑی میں زمین سے مستقل رابطے میں رہے۔ جبکہ دنیا بھر سے کروڑوں افراد نے اس منظر کو ٹی وی پر براہ راست بھی دیکھا۔چار دن کے سفر کے بعد 24 جولائی کو ایگل بحر الکاہل میں باحفاظت لینڈ کر گیااور خلا بازوں کو امریکی نیوی (یو ایس ایس ہارنٹ) کی کشتیوں نے ساحل تک پہنچایا۔

اگرچہ اپولو الیون مشن اور نیل آرم سٹرانگ دونوں ہی ہمیشہ تنازعات کا شکار رہے اور ہر دور میں سائنس و فلکیات سے متعلق لا علمی یا پروفیشنل مخاصمت کے باعث اس مشن کو جعلی اور ہولی وڈ اسٹوڈیو میں فلمائی گئی فلم قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ مگر آج امریکہ کے بعد کئی اور ممالک کے مشن بھی چاند تک رسائی حاصل کر نے کے بعد حقیقت کھل کر سامنے آچکی ہے۔

اپولو 12: نومبر 1969

فوٹو بشکریہ ناسا
فوٹو بشکریہ ناسا

اپولو الیون مشن کی شاندار کامیابی سے ناسا کے ماہرین و انجینئرز کے حوصلے بہت بلند ہو چکے تھے لہذاٰ اس کے محض چار ماہ بعد 14 نومبر 1969 کو اپولو 12 مشن چاند کی طرف روانہ کیا گیا جس کے عملے میں کمانڈر چارلس کانرڈ ، فلائٹ پائلٹ ایلن بین اور معاون پائلٹ ریچرڈ گورڈن شامل تھے۔ یہ خلائی گاڑی کامیا بی سے اپنا سفر طے کرتی ہوئی 19 نومبر کو چاند کی سطح پر جس مقام پر اتری وہ چاند کے مغربی اور زمین سے قدرے قریب تاریک علاقہ تھا۔ جہاں کبھی آتش فشانی ہوئی ہوگی اور اب یہ دلدل نما علاقہ ہے۔

یہ وہی جگہ ہے جہاں تین برس قبل ناسا کی ایک اور خلائی گاڑی سرویئر 3اتری تھی مگر اس میں خلاباز نہیں تھے۔ لہذاٰ یہاں قدم رکھتے ہی خلابازوں نے سرویئر 3 کی تلاش شروع کی اور اس کے کچھ ٹکڑوں کے ساتھ مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کیےاور تصاویر بھی بنا ئیں۔ چونکہ اس مشن کو بھیجنے کا مقصد اپولو الیون سے حاصل ہونے والےتکنیکی معلومات اور ڈیٹا کی تصدیق بھی تھا اس لیے خلا بازوں کے چاند پر قیام کے دورانیے کو بڑھا کر 31 گھنٹے ، 31 منٹ کر دیا گیا ۔

اختتامی مرحلوں میں مشن اس وقت مشکلات سے دوچار ہوگیا جب چاند سے روانگی کے وقت چاند پر اترنے میں مدد کرنے والی چاند گاڑی (لیونر ماڈیول) چاند کی سطح پر گر کر تباہ ہوگیا جس سے پیدا ہونے والا دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ چاند کی سطح پر پہلی دفعہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جوکہ مصنوعی زلزلہ تھا۔ واضح رہے کہ ابتدا میں چاند کی جانب بھیجے جانے والی خلا ئی گاڑیا ں دو حصوں پر مشتمل ہوتی تھیں جن میں ایک حصہ انھیں چاند پر اترنے میں مدد دیتا تھا۔

ان مشکلات کے باوجود فلائٹ پائلٹس کمانڈ ماڈیول کو با حفاظت زمین تک لانے میں کامیاب رہے۔ اور امریکی ساحلی علاقے سے نیوی کے عملے نے تینوں خلابازوں کو باحفاظت نکالا۔اپولو 12 کئی حوالے سے یادگار مشن رہا کیونکہ اپولو الیون کے برعکس اس میں خلائی گاڑی بالکل اسی مقام پر اتری جو منصوبہ بندی میں طے کیا گیا تھا۔یعنی اپولو الیون میں جو تکنیکی غلطیاں کی گئیں ناسا کے ماہرین نے محض چار ماہ میں ان پر قابو پالیا۔

اپولو 14: جنوری 1971

فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

31 جنوری 1971کو ناسا نے اپولو 14 کے نام سے نیا مشن چاند کی جانب بھیجا جس کے عملے میں کمانڈر ایلن شیپارڈ اور فلائٹ پائلٹ ایڈ گر میچل شامل تھے۔ جبکہ کمانڈ موڈیول کو پائلٹ سٹیورٹ روزا چلا رہے تھے جو لیونر ماڈیول سے الگ ہو کر مسلسل مدار میں گردش کرتی رہی۔ اس مشن میں خلائی گاڑی کے دونوں حصوں کو چاند پر اتارنے کے بجائے صرف لیونر ماڈیول کو اتارا گیا جبکہ دوسرا حصہ مدار میں گردش کرتا رہا اور واپسی پر لیونر ماڈیول اس سے جڑ گیا۔

یہ خلائی گاڑی پانچ دن کے سفر کے بعد 5 فروری کو چاند پر جس مقام پر اتری وہ فرا مورو کریٹر(دلدلی سطح) سے شمال میں 21 کلومیٹر کے فاصلے پر تھی۔ جو چاند کا پہاڑوں سے گھرا چٹانی علاقہ کہلاتا ہے۔اس مشن کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ناسا کے ماہرین بہت زیادہ محتاط تھے جس کی وجہ اپولو 13 کو پیش آنے والا حادثہ تھا جس میں لانچنگ کے دو دن بعد تکنیکی خرابی کے باعث آگ بھڑک اٹھی تھی اور خلاباز بہت سی دشواریوں سے گزر نے کے بعد مشن ادھورا چھوڑ کر زمین پر واپس آگئے تھے۔

9 ماہ کی مکمل تحقیقات کے بعد یہ مشن کامیابی سے چاند پر اترا اور خلابازوں نے چاند کے نمونے حاصل کیئے۔ یہ مشن خلابازوں کی جانب سے کیے جانے والے تجربات کی باعث اب تک یادگار ہے جس میں ایلن شیپرڈکا گالف کھیلنااور اس سیارچے کے ٹکڑوں کی تلاش شامل تھی جس کے اربوں سال قبل چاند سے ٹکرانے کے باعث یہاں ایک بہت بڑا اور گہرا گڑھا پڑ گیا تھا۔ خلابازوں کے پاس چونکہ با قاعدہ نقشے نہیں تھے سو وہ درست حساب لگانے میں ناکام رہے اور اس علاقے سے محض سو میل کے فاصلے سے لوٹ آئے۔

تقریباً 33 گھنٹے، 31 منٹ قیام کے بعد چاند سے روانگی ہوئی اور بحرالکاہل پر امریکی نیوی نے خلابازوں کو باحفاظت نکالا۔

اپولو 15:جولائی 1971

فوٹو بشکریہ ناسا
فوٹو بشکریہ ناسا

چھ ماہ کے وقفے کے بعد 10 جولائی 1971 کو اپولو 15 مشن کو چاند کی جانب بھیجا گیا جس کے عملے میں کمانڈر جیمز ارون، فلائٹ پائلٹ الفریڈ وورڈن ، اور کمانڈ ماڈیول پائلٹ ڈیوڈسکاٹ شامل تھے۔ اس مشن کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں خلائی گاڑی کے ساتھ ایک مون روور یا ‘ چاند بگی ” کو بھی شامل کیا گیا تھا جس کی مدد سے خلابازوں نے تقریباً 66 گھنٹے 55 منٹ کا قیام کرتے ہوئے چاند پر بہت دور دراز علاقوں تک سفر کیا ۔

یہ مشن بہت زیادہ کامیاب رہا اور ناسا کے ماہرین کو اس سے بہت سی اہم معلومات حاصل ہوئیں ۔چاند کے جس مقام پر اس خلائی گاڑی کو اتارا گیا تھا وہ اور اس کے آس پاس کا علاقہ چاند کا خوبصورت اور جغرافیائی حوالے سے انتہائی اہم علاقہ کہلاتا ہے۔ جس میں بلند پہاڑ، دلدلی علاقہ اور ایک آبی چشمہ شامل ہیں جسے “ہیڈلے”کہا جاتا ہے۔ اس مشن میں جو نمونے خلابازوں نے جمع کیے ان کے مشاہدے سے معلوم ہوا کہ وہ تقریباً 4 کروڑ 5 لاکھ سال پرانی جینیاتی چٹانوں کے تھے۔

مشن کے آخری مراحل میں خلا بازوں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ زمین پر اترتے وقت تین میں سے ایک پیرا شوٹ تکنیکی خرابی کے باعث کھل نہیں سکا اس کے باوجود وہ بحرالکاہل میں باحفاظت اترنے میں کامیاب رہے۔

اپولو 16:16 اپریل 1972

فوٹو بشکریہ ناسا
فوٹو بشکریہ ناسا

اپولو 16 مشن کو ناسا کے ماہرین نے کچھ اس طرح سے ڈیزائن کیا تھا کہ انھیں چاند کی جغرافیائی تشکیل اور زمانۂ قدیم سے متعلق اہم معلومات حاصل ہوسکیں ۔ اس مقصد کے لیئے اورین نامی خلائی گاڑی کو چاند کی سطح پر جس مقام پر اترنا تھا وہ چاند کا اہم پہاڑی علاقہ ہے جہاں کبھی آتش فشاں رہے ہوں گے۔

مگر مشن ابتدا میں ہی مشکلات سے دوچار ہوا جب کمانڈ ماڈیول سے علیحدہ ہونے بعد لیونر ماڈیول میں کچھ تکنیکی خرابی محسوس کی گئی۔ اس ماڈیول میں موجود کمانڈر جان ینگ اور فلائٹ پائلٹ چارلس ڈیوک کئی گھنٹوں تک مدار میں گردش کرتی خلائی گاڑی میں کنٹرول سینٹر کے اگلے حکم کا انتظار کرتے رہے۔ بلاآخر کمانڈماڈیول پائلٹ تھامس میٹنگ لے نے ہاسٹن کا اجازت نامہ انھیں پہنچایا اور خلائی گاڑی کو چاند پر اتارا گیا۔

تقریباً 71 گھنٹے 21 منٹ تک چاند بگی کے ذریعے خلابازوں نے 27 کلومیٹر علاقے کا سفر کرتے ہوئے چٹانوں کے نمونے جمع کیے۔ اگرچہ وہ آتش فشانی چٹانوں کے نمونے حاصل کرنے میں ناکام رہے مگر اس مشن سے اور بہت سا اہم ڈیٹا حاصل ہوا۔ یہ مشن اس کے عملے کی ذہانت، دور اندیشی اور معاملہ فہمی کے حوالے سے بھی بہت اہمیت ر کھتا ہے جنھوں نے اپنے طے شدہ پلان سے ہٹ کر چاند کے ماحول اور زمینی ساخت سے متعلق اہم معلومات جمع کیں ۔27 اپریل 1972 کو یہ خلاباز امریکی کرسمس ساحلوں کے قریب باحفاظت زمین پر اترنے میں کامیاب ہوئے۔

اپولو17: دسمبر 1972

فوٹو بشکریہ ناسا
فوٹو بشکریہ ناسا

اپولو 17 چاند کی جانب بھیجا جانے والا آخری اور اپولو پروگرام سیریز کا بھی آخری مشن تھا۔ اس کے بعد سے چاند کی جانب کسی ملک نے ایسا مشن نہیں بھیجا جس میں خلاباز شامل ہوں ۔

7دسمبر 1972 کو بھیجے جانے والے اس آخری مشن کو کئی اور حوالوں سے بھی تاریخی حیثیت حاصل ہے جس میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اس کے عملے میں پہلی دفعہ خلابازوں کے علاوہ کسی سائنسدان کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ مایہ ناز ماہر ارضیات ہیریسن جیک ان چھ سائنسدانوں میں سے ایک تھے جنہیں 1965 میں چاند پر تحقیق کے لیے منتخب کیا گیا تھا اور سات برس کی تربیت کے بعد 1972 میں چاند پر بھیجا گیا۔ عملے کے دیگر ارکان میں کمانڈر اوجین سرنن اور کمانڈ پائلٹ رونالڈ ایوانز شامل تھے۔

تقریباً 75 گھنٹے کے قیام کے دوران خلابازوں نے 30 کلومیٹر علاقے کا سفر کرتے ہوئے نمونے اور چاند کی سطح کے متعلق اہم معلومات حاصل کیں ۔ جبکہ ہیریسن جیک نے چاند کی سطح پر کچھ اہم تجربات بھی کیئے جس کے لیئے خاص طور پر ٹورس ویلی کا ا نتخاب کیا گیا تھا۔ بارہ دن بعد 19 دسمبر کو خلاباز زمین پر اترنے میں کامیاب رہے۔

اگرچہ یہ آخری مشن توقعات سے زیادہ کامیاب ثابت ہوا تھا مگر بعد میں حکومتی توجہ ویت نام کی جنگ کی جانب مبذول ہوجانے کے باعث اپولو پروگرام کا بجٹ کم کر دیا گیا لہذاٰ ناسا نے بھی اپنا رخ دیگر منصوبوں کی جانب موڑ لیا جن میں مریخ مشن قابل ذکر ہے۔

آرٹیمس :2017

اس مشن کا تصوراتی خاکہ — فوٹو بشکریہ ناسا
اس مشن کا تصوراتی خاکہ — فوٹو بشکریہ ناسا

ایک طویل وقفے تک نظر انداز کیے جانے کے بعد چاند ایک دفعہ پھر اس وقت عالمی خبروں کا مرکز بن گیا جب 2017 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ 2024 تک چاند کی جانب مزید انسان بردار مشن بھیجے جائیں گے جن کی ایک خصوصیت یہ بھی ہوگی اس بار خواتین خلا باز بھی مشن میں شامل ہونگی۔

آرٹیمس مصری زبان کا لفظ ہے اور اسے اپولو دیوتا کی جڑواں بہن کہا جاتا ہے جو ” وحشت یا جنون کی دیوی” کہلاتی ہے۔ ناسا کی جانب سے چاند کے لیے ایک نئے مشن کا یہ نام منتخب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تکنیکی حوالے سے یہ اپولو مشن کا تسلسل ہی ہونگے مگر ان کا مقصد دور رس نتائج حاصل کر کے چاند پر انسانی کالونی کے قیام کی راہ ہموار کرنا ہے۔ دنیا بھر سے خلائی سفر اور چاند سے جنونی رغبت رکھنے والے لوگ اس مشن کی مزید تفصیلات جاننے کے لیئے بے چین ہیں جو شاید اگلے ایک برس تک جاری کردی جائیں گی۔

Google Analytics Alternative