Home » Author Archives: Admin (page 3)

Author Archives: Admin

بے انصافی کا مندر ۔۔۔!!

بھارتی ٹی وی چینلوں میں عدالتوں کو بالعموم انصاف کا مندر قرار دیا جاتا ہے ہے مگر دو روز قبل بھارتی حکمرانوں او رعدلیہ نے جس طور انصاف کا خون کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ دہلی کے حکمرانوں نے اپنے ہر قول اور فعل سے اگرچہ بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اول تا آخر متعصب ہندو نظریات کے حامل ہیں اور ان کے سیکولرازم اور انسانیت کے تمام تر دعوے محض لفاظی کے سوا کچھ نہیں مگر جس طور بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے ذریعے عدل کا ’’خون‘‘ کیا ہے اس کی مثال ڈھونڈنے سے بھی کم کم ہی ملتی ہے ۔ ایک جانب بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے پانچ رکنی بینچ کے سامنے اقرار کیا کہ ماضی میں یہاں کوئی رام مندر ہونے کا ٹھوس دستاویزی ثبوت تو نہیں مگر دوسری طرف مذکورہ بینچ نے محض بھارت کی ہندو اکثریت کے متعصب جذبات کی تسکین کیلئے اس کا فیصلے جنونی ہندوءوں کے حق میں کر دیا ۔ اگرچہ بھارتی عدل و انصاف کی ’’عظیم روایات‘‘ سے یہ غیر متوقع تو نہیں اور یہ فیصلہ بھی برہمنی انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہی کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی زمین ہندوؤں کے حوالے کی ہے اور دہلی سرکار کو وہاں بابری کے ڈھانچے کو بھی شہید کرتے ہوئے رام مندر تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے ۔ بھارتی چیف جسٹس رنجن گنگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا ۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جسٹس رنجن گگوئی نے یہ فیصلہ اپنی ریٹائرمنٹ سے محض ایک ہفتہ قبل سنایا ہے، 17 نومبر کو موصوف ریٹائر ہو رہے ہیں ، ویسے بھی یہ فیصلہ 16 یا 17 نومبر کو سنایا جانا تھا مگر جانے کن وجوہات کی بنا پر انتہائی عجلت میں یہ فیصلہ سنایا گیا ۔ رام مندر کی تعمیر کے فیصلے کے بعد بھارت بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور تقریباً پورے بھارت میں میں تمام سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی ادارے 11 نومبر تک بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور ایودھیا سمیت پورے بھارت میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے ۔ مبصرین کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں عجلت کی وجہ یہ بھی تھی کہ کرتار پور کاریڈور کا افتتاح چونکہ 9 نومبر کو ہوا اور اس کی وجہ سے مودی سرکار انتہائی دباءو میں تھی اس لئے وہ عوامی توجہ ہٹانے کیلئے کچھ جنونی ہندو جذبات کی تسکین چاہتی تھی، جس کی وجہ سے یہ سب کچھ فوری طور پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ چھ دسمبر کو بھارت کے تمام مسلمان گزشتہ ستائیس سالوں سے یومِ سیاہ کے طور پر مناتے آ رہے ہیں کیونکہ اس دن 1992 میں بھارتی صوبے یو پی میں جو سانحہ رونما ہوا اس نے پورے بر صغیر کے امن و امان کو تہہ و بالا کر کے رکھا دیا تھا ۔ اس روز ایودھیا میں بابری مسجد شہید کر دی گئی ، اس کے فوری نتاءج تو یہ برآمد ہوئے کہ ہندوستان بھر میں مسلم کش فسادات کے دوران چند ہی دنوں میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو تہہ تیغ کر دیا گیا اور افسوسناک بات یہ ہے کہ ستائیس سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اس جرم عظیم کے مرتکب کسی بھی ایک فرد کو سزا نہیں دی گئی جس سے بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور سیکولرازم کا اصل چہرہ بڑی حد تک دنیا کے سامنے پھر بے نقاب ہو چکا ۔ یہ الگ بحث ہے کہ مغربی دنیا نے اپنے سطحی مفادات کی خاطر اس جانب ہنوذ خاطر خواہ توجہ نہیں دی ۔ یاد رہے کہ بھارت نے اپنی آزادی کے بعد سے نہ صرف مغربی دنیا، بلکہ عالم ِ اسلام کے اکثر ممالک کو بھی طویل عرصے تک یہ تاثر دیے رکھا کہ ہندوستان میں جمہوریت قائم ہے اور اس ملک کے مسلمان باشندوں کو کسی امتیازی سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جاتا اور اگر کہیں مسلم کشی کے واقعات پیش آتے بھی ہیں تو انھیں حکومتی سرپرستی حاصل نہیں ہوتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کا یہ چہرہ پوری طرح مصنوعی تھا اور گزشتہ 72 برسوں کے دوران وہاں بر سر اقتدار آنے والی ہر حکومت کے دور میں مسلمانوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے گئے اور انھیں اجتماعی اور انفرادی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ توجہ طلب امر ہے کہ واجپائی نے بھی اس حقیقت کا اعتراف ایک سے زائد بار ان الفاظ میں کیا تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا اصل مسئلہ ’’بابری‘‘ نہیں بلکہ ’’ برابری کا ہے‘‘ ۔ اس کی وضاحت کرتے موصوف نے یہ فلسفہ جھاڑا تھا کہ ’’بھارتی مسلمانوں کو بابری مسجد کی شہادت اور اس کی تعمیر نو کا مطالبہ کرنے کی بجائے اپنی ساری توانائی اس مطالبے کو منظور کرانے کی طرف مبذول کرنی چاہیے کہ انھیں ہندوستان میں زندگی کے ہر شعبے میں برابری کے حقوق میسر آنے چاہئیں ‘‘ ۔ واجپائی کے اس بیان میں جو اعترافِ گناہ پوشیدہ ہے وہ یقینا عذر گناہ بد تر از گناہ والی بات ہے مگر بظاہر اس سادہ سی بات میں جو تلخ حقائق چھپے ہیں ان پر پوری عالمی برادری کو توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہی بات پاکستان بھی مسلسل 72 برسوں سے کہہ رہا ہے اور بھارتی مسلمان بھی مسلسل فریاد کرتے رہے ہیں کہ انھیں ہندوستان میں برابری کے شہری حقوق میسر نہیں اور یہ کسی بھی جمہوری معیار کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے ۔ یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مسلم دشمنی میں کانگریس بھی ;667480; سے کچھ زیادہ پیچھے نہیں اور وہ دراصل ’’ سافٹ ہندوتوا‘‘ کی پالیسی پر بتدریج عمل پیرا ہے ۔ ماہرین کے مطابق دہلی کے حکمران یوں تو انسان دوستی کے دعوے کرتے نہیں تھکتے مگر ان کا پول آئے دن کسی نہ کسی صورت میں کھلتا رہتا ہے ۔ گزشتہ روز مہاراشٹر میں شیو سینا کے سربراہ ادت ٹھاکرے نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آرایس ایس اور بی جے پی نے خود پر جو لبادہ اوڑھ رکھا ہے، اس منافقانہ روش کو ختم کر کے اپنی اصلیت دنیا پر واضح کرنی چاہیے ۔

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم دے دیا

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی حکومت کو حکم دیا کہ 3 سے 4 ماہ کے اندر اسکیم تشکیل دے کر زمین کو مندر کی تعمیر کے لئے ہندووں کے حوالے کرے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس رنجن گوگئی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے بابری مسجد سے متعلق فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد مندر کو گرا کر تعمیر کی گئَی جب کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے متنازعہ زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ غلط تھا۔

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس راجن گوگوئی نے کہا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ 1856 سے پہلے اس سر زمین پر کبھی بھی نمازادا کی گئی ہو جب کہ بابری مسجد جس ڈھانچے پر تعمیر کی گئی اسکا کوئی اسلامی پس منظر نہیں ہے۔ کیس کا فیصلہ ایمان اور یقین پر نہیں بلکہ دعووں پر کیا جاسکتا ہے۔ تاریخی بیانات ہندوؤں کے اس عقیدے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آیودھیا رام کی جائے پیدائش تھی۔

بھارتی چیف جسٹس نے کہا کہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ انگریزوں کے آنے سے پہلے ہندورام چبوترہ، سیتا راسوئی کی پوجا کرتے تھے، ریکارڈ میں موجود شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ متنازعہ اراضی ہندوؤں کی ملکیت تھی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس عدالت کو تمام عقائد کو قبول کرنا چاہئے اورعبادت گزاروں کے عقیدوں کوقبول کرنا چاہئے۔ عدالت کو توازن برقرار رکھنا چاہئے۔ ہندوآیودھیا کو رام کی جائے پیدائش سمجھتے ہیں، ان کے مذہبی جذبات ہیں، مسلمان اسے بابری مسجد کہتے ہیں۔ ہندوؤں کا یہ عقیدہ ہے کہ کہ بھگوان رام کی پیدائش یہاں ہوئی ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ مسجد کی تعمیر کیلئے مسلمانوں کو ایودھیا ہی میں 5 ایکڑ کی زمین متبادل کے طور پر دی جائے گی۔  بھارتی سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو حکم دیا ہے کہ علاقے میں اعتماد کی فضا قائم کر کے 3 سے 4 ماہ کے اندر اسکیم تشکیل دے کرزمین کو مندر کی تعمیر کے لئے ہندووں کے حوالے کرے۔

اس سے قبل بھارتی سپریم کورٹ نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان بابری مسجد اور رام مندر کی زمین کا عدالت سے باہر تنازع حل کرنے کے لیے مسلم جج ایف ایم خلیف اللہ کی سربراہی میں ایک ثالثی ٹیم تشکیل دی تھی، ٹیم میں ٹیم میں ہندوؤں کے روحانی گرو شری شری روی شنکر اور سینیئر وکیل شری رام پانچو بھی شامل تھے۔ تاہم یہ کمیٹی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی تھی۔

اس سے قبل الہ آباد ہائیکورٹ نے بابری مسجد کیس میں اپنا فیصلہ 30 ستمبر 2010 کو سنایا تھا۔ اس میں تین ججوں نے حکم دیا تھا کہ ایودھیا کی دو اعشاریہ 77 ایکڑ زمین کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ اس میں سے ایک تہائی زمین رام للا مندر کے پاس جائے گی جس کی نمائندگی ہندو مہاسبھا کرتی ہے، ایک تہائی سُنّی وقف بورڈ کو جائے جبکہ باقی کی ایک تہائی زمین نرموہی اکھاڑے کو ملے گی۔

واضح رہے کہ بابری مسجد کو 1528 میں مغل سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر نے تعمیر کرایا تھا اور اسی نسبت سے اسے بابری مسجد کہا جاتا ہے تاہم 1949 میں ہندوؤں نے بابری مسجد سے مورتیاں برآمد ہونے کا دعویٰ کرکے اسے رام کی جنم بھومی قرار دے دیا تھا جس کے بعد یہ معاملہ مختلف عدالتوں، کمیٹیوں اور کمیشن سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ پہنچا تھا جس کے تین بنیادی فریق نرموہی اکھاڑا، رال للا اور سنی وقف بورڈ تھے۔

وزیراعظم عمران خا ن نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کردیا

نارووال: وزیراعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری اور دنیا کے سب سے بڑے گوردوارے دربار صاحب کا افتتاح کردیا۔

کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر سکھ مت کے بانی بابا گرونانک دیو جی کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت سمیت دنیا بھر سے سیکڑوں سکھ یاتری پہنچے، بھارت سے کوریڈور کے راستے 550 سے زائد یاتریوں کا جتھہ گوردوارہ دربار صاحب پہنچا۔ جتھے میں سابق وزیراعظم من موہن سنگھ، بھارتی پنجاب کے وزیراعلی امریندر سنگھ، وفاقی وزیر ہرسمرت کور بادل اور ہردیپ پوری، فلم اداکار اور گرداس پور پارلیمانی حلقہ سے رکن لوک سبھا سنی دیول سمیت متعدد ممبران پارلیمان اور اراکینِ اسمبلی شامل ہیں جب کہ واہگہ بارڈر سے آنے والے سکھ یاتریوں اور میڈیا نمائندے بھی کرتارپور پہنچے۔

’لیڈر ہمیشہ انسانوں کو یکجا کرتاہے‘

کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ اندازہ نہیں تھا کہ میری حکومت اتنی باصلاحیت ہے، اس کا مطلب ہم اور کام بھی کرسکتے ہیں، ہمارا عقیدہ ہے رب العالمین سارے انسانوں کا خدا ہے، اللہ کے پیغمبر انسانیت اور انصاف کا پیغام لے کر دنیا میں آئے، انسانیت اورانصاف ،انسانی اور حیوانی معاشرے کو الگ کرتے ہیں، کسی کو بھی خوشی دینے سے اللہ خوش ہوتا ہے۔ آج بھی لوگ صوفیا کے مزاروں پر جاکر دعائیں کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگ انسانیت کاپیغام دیتے تھے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ لیڈر ہمیشہ انسانوں کو یکجا کرتاہے، نفرتیں نہیں پھیلاتا، وزیراعظم بننے کے بعد مودی سے کہا سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے، تجارت اور سرحدیں کھولنے سے خوشحالی آسکتی ہے، ہمارے درمیان ایک اہم مسئلہ کشمیر کا ہے اسے اچھے ہمسائیوں کی طرح بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے آج جو کشمیر میں ہورہا ہے انسانیت کا مسئلہ بن گیا ہے، کشمیر میں 80لاکھ لوگوں کو قید کردیا گیا ہے، کشمیر کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل ہوسکتا ہے ، مودی سے کہتا ہوں برصغیر کو آزاد کردیں،  مسئلہ کشمیرحل ہوجاتا تو بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات وہ ہوتے جو ہونے چاہیے تھے، مسئلہ کشمیرحل ہونے سے برصغیر میں خوشحالی آئے گی۔

عمران نے دل جیت لئے

تقریب سے خطاب کے دوران بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ 72سال میں سکھوں کی آواز کسی نے نہیں سنی تھی، ہر وزیراعظم اپنا نفع نقصان دیکھتا رہا،سکھوں کی 4 پشتیں اپنے باپ سے ملنے کے لیے ترستی رہیں، عمران خان وہ سکندر ہیں جو لوگوں کے دلوں میں راج کرتے ہیں، وزیراعظم عمران خان کا دل سمندر جتنا بڑا ہے، عمران خان نے سکھوں کی خواہش کو پورا کیا، سکھ  قوم نے عمران خان کو وہاں لے جانا ہے جہاں کسی کی سوچ بھی نہیں جاسکتی۔

امن کی سب سے بڑی تقریب

وفاقی وزیرمذہبی امور پیر نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ بابا گرونانک نے کرتار پور میں اپنی زندگی کےآخری ایام گزارے،انہوں نے کرتارپور سے پیغام حق اور امن پھیلایا، ان کی تعلیمات امن و آشتی اور انسانیت کے لیے ہیں، تقسیم ہند کےبعد برصغیر میں امن اور محبت کی سب سے بڑی تقریب آج ہورہی ہے، کرتارپورراہداری امن کا پیغام ہے، تقسیم ہند کے بعد برصغیر میں امن اور محبت کی سب سے بڑی تقریب آج ہورہی ہے، وزیراعظم عمران خان نے عوام کے ساتھ کیا وعدہ پورا کر دکھایا۔

برصغیر میں نفرت کے بیج کون بو رہا ہے؟

تقریب سے خطاب کے دوران شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بابا گرونانک کا پیغام محبت ، رواداری اور صوفیا کا پیغام ہے، یہ خیرسگالی کی راہ داری ہے، کاش یہ پیغام کشمیر کی وادی میں بھی پھیل جائے انہوں نے محبت کے بیج بوئے، آج ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا، دیکھنا ہوگا کہ آج برصغیر میں نفرت کے بیج کون بو رہا ہے؟ 21 ویں صدی ایشیا کی صدی کہلاتی ہے،دیکھنا ہے کہ اس میں ہمیں کیا ملتا ہے، پاکستانی حکومت معاشی اور محبت کی راہ داری پر کام کررہی ہے، پوری سکھ برادری پاکستان کے فیصلے کو سراہ رہی ہے، تبدیلی آنہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے، کرتارپورعملی ثبوت ہے۔

کرتارپو ر راہداری

کرتارپو ر راہداری کا منصوبہ 10 ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کیا گیا ہے۔ راہداری کی تعمیر کے ساتھ پاکستان میں موجود سکھوں کے دوسرے مقدس ترین مقام گوردوارہ دربار صاحب میں بھی توسیع کی گئی ہے، 44 ایکڑ رقبے پر مشتمل دنیا کا یہ سب سے بڑا گوردوارہ ہے، سکھ یاتری 72 سال کی دعائیں پوری ہونے پر خاصے خوش دکھائی دے رہے ہیں۔

من موہن سنگھ

زیرو لائن سے پاکستان میں داخلے کے وقت سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج سکھوں کے لیے بہت بڑا دن ہے،کرتارپور راہداری کھلنے پر سب خوش ہیں، راہداری کھولنے سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری آئے گی۔

بھارتی وزیر اعلی

بھارتی رہیاست پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن ریٹائرڈ امریندر سنگھ کا کہنا تھا کہ یہ شروعات ہے اور اچھی شروعات ہوئی ہے، 70سال سے یہ ہماری مانگ رہی ہے، امید ہے راہداری کھلنے سے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں گے۔

کوریڈور کے بھارتی حصے کا بھی افتتاح

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی کرتار پور کوریڈور کے بھارتی حصے کا افتتاح کردیا ہے، انہوں نے 550 یاتریوں پر مشتمل پہلے جھتے کو گردوارہ دربار صاحب روانہ کیا ۔

مودی بھی عمران خان کے شکرگزار

کرتار پور راہداری کے بھارتی حصے کا افتتاح کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کا کہنا تھا کہ ہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نیازی کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے انڈیا کی خواہشات کو سمجھا اور اس راہداری کو کھولنے کا فیصلہ کیا۔ میں پاکستان کے ان تمام افراد کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس راہداری کو کم عرصے میں مکمل کیا۔یہ راہداری ہر روز سینکڑوں سکھ یاتریوں کی خدمت کرے گی، ہم بابا گرو نانک کے لیے جتنا کچھ بھی کریں وہ کم ہی رہے گا۔

کرتار پور کی اہمیت 

دربار صاحب کرتا پور پنجاب کے ضلع ناروال کا سرحدی علاقہ ہے۔  سکھ مذہب کے بانی گرو بابا نانک نے اپنی زندگی کے آخری 18 سال اسی مقام پر تبلیغ میں گزارے تھے اور اسی مقام پر وفات پائی تھی، دونوں ممالک کے درمیان پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سے سکھوں کی اکثریت گزشتہ 71 برس سے اس کی زیارت سے محروم تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے خیرسگالی طور پر ایک سال کے لیے بھارتی یاتریوں کے لیئے پاسپورٹ اور 10 دن پہلے رجسٹریشن کی شرط ہٹانے کا اعلان کیا تھا تاہم بھارت کی طرف پاکستان مخالف پراپیگنڈے اور اپنی طرف سے پاسپورٹ کی شرط ختم نہ کیے جانے کے بعد ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان کی طرف سے دی جاری رعایت پر اعتراض ہے تو ہم باہمی معاہدے پر عمل درآمد کریں گے۔

واضح رہے کہ اس منصوبے کا سنگ بنیاد گزشتہ سال 28 نومبر کو رکھا گیا تھا، منصوبے کا پہلا فیز مکمل ہوگیا ہے جس کا افتتاح آج ہونے جارہا ہے، دوسرے مرحلے میں یہاں اعلیٰ معیار کے ہوٹل، ریسٹورنٹ اور شاپنگ مال تیار ہوں گے

دعا ہے ایسے مبارک دن زندگی میں بار بار آئیں، وزیراعظم کی عید میلاد النبیﷺ پر قوم کو مبارکباد

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ کی پیدائش کے دن پر پوری ملت اسلامیہ اور اہالیان وطن کو بالخصوص مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں آج محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ کی پیدائش کے دن پر پوری ملت اسلامیہ اور اہل وطن کو بالخصوص مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ ایسے مبارک دن ہماری زند گی میں بار بار آتے رہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی زندگی اپنے اندر اعلیٰ اخلاق کی ایک دنیا سموئے ہوئے ہے، آپ ﷺ نے دشمنوں سے اپنے آپ کو صادق اور امین کہلوایا اور تبلیغ اسلام اس وقت شروع کی جب لوگوں نے انہیں صادق و امین تسلیم کر لیا تھا، آپ ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور کبھی امانت میں خیانت نہیں فرمائی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آپ ﷺنے اپنے حسن انتظام سے روئے زمین پر ایک ایسی مثالی فلاحی ریاست اور رول ماڈل معاشرہ قائم کیا جس میں سب کے حقوق مساوی تھے اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے اُن کے مذہبی عقائد کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی تھی، ریاست مدینہ کے یہ وہ روشن پہلو تھے جو اُس زمانے کی کسی ایک ریاست میں بھی رائج نہیں تھے، تاریخ انسانی کی پہلی فلاحی ریاست کا تصور سب سے پہلے اسلام ہی نے دیا۔

عمران خان نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ اور خلفائے راشدین نے اسلام کے اوائل میں اس تصور کو عملی جامہ پہنایا، آج کی مہذب دنیا میں فلاحی ریاست کا جو اعلیٰ سے اعلیٰ تصور ہے وہ ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ نے آج سے 1400 سال قبل اس دورِ جاہلیت کے معاشرے میں ریاست مدینہ کی صورت میں قائم کر کے دکھایا اور اس اہم فیصلے کو خلفائے راشدین نے عدل و مساوات کی بنیاد پر چار چاند لگائے جو تاریخ عالم کا ایک سنہری باب ہے، ریاست مدینہ کے قیام کا مقصد صرف امت مسلمہ کی بھلائی نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد پوری انسانیت کی فلاح و بہبود تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ فلاحی ریاست ہر دور کے لوگوں کے لیے رہنمائی فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس نیک مقصد کے حصول میں کامیاب فرمائے اور اپنے روز و شب کو تعلیمات نبویﷺ کی روشنی میں بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

بھارتی سپریم کورٹ انصاف کے تقاضوں کو برقرار رکھنے میں ناکام رہی، حکومت پاکستان

اسلام آباد: حکومت پاکستان نے بابری مسجد کے مقدمے میں بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ اقلیتوں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے۔

دفتر خارجہ نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک بار پھر انصاف کے تقاضوں کو برقرار رکھنے میں ناکام رہا، اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ ہندوستان کی اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے سے قاصر ہے۔

دفتر خارجہ نے ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے واضح کردیا کہ ہندوستان میں اقلیتیں اب محفوظ نہیں، اس فیصلے نے ہندوستان کے نام نہاد سیکولرازم کا پردہ چاک کردیا اور ہندوستان کے اقلیتوں میں ان کے عقائد اور عبادت گاہوں سے متعلق خوف پیدا کردیا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ہندوستان میں انتہا پسندانہ سوچ اور ہندو کی بالادستی کا نظریہ علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے، ہندوستانی حکومت مسلمانوں کی جانوں، حقوق اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنائے اور بھارتی حکومت ہندو انتہا پسندوں کا نشانہ بننے والے مسلمانوں سے متعلق خاموش تماشائی نہ بنے۔

نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج نہ ہوسکا، لندن روانگی تاخیر کا شکار

لاہور: سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکل نہ سکا جس پر ان کی روانگی مزید تاخیر کا شکار ہوگئی۔

ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے ای سی ایل سے نام نکالنے کا فیصلہ کیے جانے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کو حتمی شکل دی جارہی ہے، نواز شریف نے اتوار کی صبح لندن جانے ارادہ کیا تھا تاہم نیب کی جانب سے ای سی ایل سے ان کا نام نہ نکالا جاسکا جس کے باعث ان کی روانگی مزید تاخیر کا شکار ہوگئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں شہباز شریف، جنید صفدر، ڈاکٹر عدنان سمیت شریف فیملی کے دیگر افراد بھی نواز شریف کے ہمراہ لندن جائیں گے البتہ مریم نواز قانونی پابندیوں کے سبب ان کے ساتھ نہیں جاسکیں گی۔

ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ وزارت داخلہ نے نیب کو بھیج دیا ہے اور امکان یہی ہے کہ نواز شریف کو صرف ایک بار بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے گی تاہم نام تاحال ای سی ایل سے خارج نہیں ہوسکا ہے۔

نواز شریف کے خاندانی ذرائع نے بتایا ہے کہ نواز شریف پلیٹ لیٹس کی انتہائی کم تعداد کی وجہ سے عام کمرشل پرواز کے ذریعے سفر نہیں کر سکتے، نواز شریف نے بیرون ملک سفر کے لیے بکنگ کرالی ہے، انہیں قطر ایئر ویز کی ایئر ایمبولینس کے ذریعے پیر یا منگل کو روانہ کیا جائے گا ان کے ہمراہ ڈاکٹر عدنان بھی ہوں گے، نواز شریف پہلے دوحہ پہنچیں گے جہاں سے وہ لندن جائیں گے تاہم سب کو ایل سی ایل سے نام نکلنے کا انتظار ہے۔

ادھر ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ  سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک لے جانے کے لیے دوحہ سے ائیر ایمبولینس منگوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ایئر ایمبولینس آج شام یا کل صبح لاہور ایئرپورٹ پہنچ جائے گی۔

نواز شریف کی والدہ کا بھی کہنا ہے کہ بیٹے کا علاج بیرون ملک علاج کروایا جائے جب کہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ آپ کی صحت کے حوالے سے بہت فکر مند ہیں، علاج کروانا بہت ضروری ہے۔

کسی مائی کے لعل کو رسول اللہ کی شان میں گستاخی نہیں کرنے دینگے، فضل الرحمن

جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ کسی مائی کے لعل کو رسول اللہ کی شان میں گستاخی کی اجازت نہیں دیں گی اگر کوئی ایسی کوشش کرتا ہے تو ہر شخص غازی علم دین بن کر دکھائے گا۔

آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا یہ دھرنا سیرت النبیؐ کانفرنس میں تبدیل ہوگیا ہے اور ہم نے اس سے بڑی سیرت النبیؐ کانفرنس کبھی نہیں دیکھی، دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہم رسول اللہ ؐ سے کتنی محبت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر کسی بھی شخص کو ناموس رسالتؐ سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، یہ مجمع ناموس رسالتؐ پر مرمٹے گا، یہ عوام ناموس رسالتؐ پر قربان ہونے کو تیار ہے، ہم نے گزشتہ نومبر میں بھی احتجاج کیا تھا جس کی وجہ ایک ملعونہ کی رہائی تھی جسے بیرونی دباؤ پر رہا کیا گیا، ہم اداروں کو ناموس رسالتؐ سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

فضل الرحمن نے کہا کہ ہم ہرسال جشن آزادی مناتے ہیں لیکن ہم آزاد نہیں، ملک کو ایک کالونی بنادیا گیا ہے، حدیث شریف کے مطابق ہم یہود و نصاریٰ کے غلام ہیں، من حیث القوم ہم کس کی پیروی کررہے ہیں؟ آج ہمیں اللہ کے حضور عہد کرنا ہے کہ آج کے بعد ہم نے پاکستان میں کسی مائی کے لعل کو رسول اللہ کی شان میں گستاخی کی اجازت نہیں دے گا اگر کوئی ایسی کوشش کرتا ہے تو ان پر یہ مجمع واضح کرتا ہے ہر شخص غازی علم دین بن کر دکھائے گا، آج کا اجتماع حکومت کو چیلنج کرتا ہے کہ ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی کرکے دکھادو۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ یہودیت، نصرانیت اور منافقت سب کفر کے درجے ہیں، مسلمان نہ کافر ہوتا ہے نہ مشرک، نہ منافق ہوتا ہے نہ کافر لیکن یہ خصوصیات ان میں آسکتی ہیں، ہمارے حکمرانوں میں ایسی ہی خصوصیات ہیں، ہم آئین سے بہت دور چلے گئے پاکستان جن مقاصد کے لیے حاصل کیا گیا وہ مقاصد پورے نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں جائز اور آئینی حکومت چاہتے ہیں تاکہ عوام سکون سے رہیں، لیکن یہاں قدم قدم پر مغرب کی غلامی کی جارہی ہے، پاکستان کے مستقبل کو روشن کرنا ہے تو ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس ملک میں غلام بن کر زندگی نہیں گزاریں گے۔

دیواربرلن گرسکتی ہے توکنٹرول لائن کی عارضی حد بندی بھی کھل سکتی ہے، وزیرخارجہ

ناروال: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ دیواربرلن گرسکتی ہے تو کنٹرول لائن کی عارضی حد بندی بھی کھل سکتی ہے۔

کرتارپورراہدرای کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کرتارپورکے دروازے سکھ یاتریوں کیلئے کھول دیئے گئے، دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو جی آیا نوں، آج کے دن کو تاریخی دن کے طور پر دیکھ رہا ہوں، محبت کی راہداریوں کا افتتاح عمران خان کر رہے ہیں۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ سوچنا ہوگا امن کوخطرہ کہاں سے ہے،غورکرنا ہوگا برصغیرمیں نفرت کے بیج کون بورہا ہے، کاش آج کا محبت کا پیغام مقبوضہ کشمیرتک بھی پہنچ جائے، محبت ہوتی تو منموہن سنگھ کو کرتارپور آنےمیں 72 سال نہ لگتے، کشمیری 72 سال سے بھارتی وزیراعظم کے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں، جس طرح ہم نے آج گوردوارہ کھولا، نریندرمودی بھی اسی طرح سرینگرکی جامع مسجد کھولیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کیا مودی کشمیرسے کرفیو اٹھا کرعمران خان کو شکریہ کا موقع دے سکتے ہیں، دیواربرلن گرسکتی ہے توکنٹرول لائن کی عارضی حد بھی ختم ہوسکتی ہے۔

Google Analytics Alternative