Home » Author Archives: Admin (page 3)

Author Archives: Admin

طالبان کے زیر قبضہ امریکی گاڑی کو افغان فوج نے راکٹ حملے میں اُڑا دیا

کابل: طالبان کی جانب سے قبضہ کی گئی امریکی گاڑی پر افغان فوج نے راکٹ داغے جس کے نتیجے میں چار جنگجو ہلاک ہوگئے جب کہ راکٹ لگنے سے 2 افغان فوجی اور 2 شہری بھی ہلاک ہوئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان میں طالبان جنگوؤں نے ایک امریکی گاڑی کو چُرا لیا تھا، افغان فوج نے طالبان کا تعاقب کرتے ہوئے امریکی گاڑی پر راکٹ داغے جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 4 جنگجو ہلاک ہوگئے جب کہ دوسری گاڑیوں میں سوار درجن سے زائد طالبان زخمی ہوگئے۔

افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان جنگجو چوری شدہ امریکی گاڑی میں بارود بھر کر لے جارہے تھے جسے افغان فوج نے راکٹ سے نشانہ بنایا، دھماکے میں 10 شہری اور 5 فوجی بھی زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال میں طبی امداد فراہم کی گئی۔

طالبان ترجمان نے اپنے ایک بیان میں زیر تسلط امریکی وین کے افغان فوج کے راکٹ حملے میں تباہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں ہلاک ہونے والے طالبان جنگجو نہیں بلکہ 2 افغان فوجی اور دو شہری تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی غزنی میں پولیس نے ایک گاڑی کو روکنے کا اشارہ کیا تو گاڑی میں سوار جنگجوؤں نے گاڑی کو دھماکے سے اُڑادیا جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہوگئے تھے۔

اٹک میں تیل کی دریافت کیلئے کویتی کمپنی کو لائسنس جاری

پیٹرولیم ڈویژن نے کویت کی کمپنی ‘کوفپیک’ کے ذیلی ادارے ‘کیرتھر پاکستان بی وی’ کو اٹک میں مکھڈ بلاک میں تیل کی تلاش کے لیے لائسنس جاری کردیا۔

وزارت توانائی کی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ حکومت نے مذکورہ کمپنی کے ساتھ ایکسپلوریشن لائسنس (ای ایل) اور پیٹرولیم کنسیشن معاہدہ (پی سی اے) کیا۔

پریس ریلیز کے مطابق معاہدے پر سیکریٹری پیٹرولیم اسد حیاالدین اور کویتی کمپنی کوفپیک کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) شیخ نواف سعود الصبح نے دستخط کیے۔

تقریب میں وفاقی وزیر پیٹرولیم عمر ایوب خان بھی موجود تھے۔

اس موقع پر عمر ایوب نے کہا کہ پی سی اے اور ای ایل پر عملدرآمد سے پیٹرولیم سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا رجحان بڑھے گا جبکہ توانائی کے شعبے میں موجود طلب اور رسد کے فرق میں کمی آئے گی۔

عمر ایوب خان نے کہا کہ اگلے چند برس میں مذکورہ فیصلہ ضرور رنگ لائے گا اور ملک کو اضافی ہائیڈروکاربن کے ذخائر مہیا ہوں گے۔

مکھڈ بلاک کے بارے میں بتایا گیا کہ مذکورہ بلاک خیبر پختونخوا کے ضلع اٹک میں موجود ہے جس کا رقبہ پنجاب میں میانوالی اور چکوال تک پھیلا ہوا ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق مکھڈ بلاک ایک ہزار 562 مربع کلو میٹر پر محیط ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق کوفپیک مکھڈ بلاک میں تقریباً 90 لاکھ 80 کروڑ ڈالر خرچ کرے گی۔

پریس ریلیز کے مطابق کویتی کمپنی مکھڈ بلاک میں سماجی اسکیموں پر سالانہ 30 ہزار ڈالر خرچ کرنے کی پابند ہوگی۔

سستے بازارمردہ ضمیر

آج کل ملک بھر میں مہنگائی کا بول بالا ہے اورہرسُو اسی کے چرچے ہیں اور اگر رمضان المبارک کا مہینہ چل رہا ہو تو پھر مہنگائی لازم و ملزوم سمجھی جاتی ہے ۔ اس مہنگائی کے خاتمے یا مصنوعی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے ضلعی انتظامیہ نے رمضان المبارک کے مہینے میں وفاق اور پنجاب میں سستے بازاروں کا انعقاد کیا ہے جس میں دکانداروں نے ایک ماہ کیلئے سٹالوں کی جگہ لیکر سبزی و پھلوں کی عارضی دکانیں قائم کیں ۔ تجارت کو دین اسلام میں انتہائی باعزت اور مبارک عمل قرار دیا گیا ہے ۔ حضور پاکﷺ بھی تجارت کے پیشہ سے وابستہ رہے اور تجارت کی ترغیب دیا کرتے تھے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اکثریت بھی تجارت ہی کیا کرتی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر جائز تجارت کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے منافع کو اپنے فضل سے تعبیر فرمایا ہے جس سے اس عمل کی اہمیت و برکت کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ اللہ پاک فرماتا ہے کہ ’’ پھر جب نماز مکمل ہو جائے تو زمین میں پھیل جاءو اور اللہ کا فضل (رزق) تلاش کرو ۔ اگر کاروبار و تجارت میں اسلامی احکام، شرائط و ضوابط کو مدنظر رکھا جائے تو یہ عمل عبادت ہے ۔ رسول پاک حضرت محمد مصطفیﷺ سے ایک صحابی نے پوچھا کہ سب سے پاکیزہ و بہترین ذریعہ معاش کونسا ہے;238; آپﷺ نے فرمایا کہ ہاتھ کی کمائی اور ہر وہ تجارت یا کاروبار جو شرعی لحاظ سے جائز ہو، امانت و صداقت کو محلوظ خاطر رکھا جائے جھوٹ، دھوکہ ، خیانت ، زیادتی اور حرام کا شائبہ تک نہ ہو ۔ شریعت میں تجارت سے متعلق رہنما اصول طے کردئیے گئے ہیں جس میں لوگوں کیساتھ نرمی ، آسانی کیساتھ پیش آنا، بلند اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرنا ، سخاوت کو اختیار کرنا ، مجبور و کمزور لوگوں پر نرمی ، شفقت و احسان رکھنا ،سختی و تنگی نہ کرنا اور جائز منافع سے زائد نہ کمانا وغیرہ شامل ہیں ۔ اب میں اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں چند دن سے حکومت کے قائم کردہ سستے بازاروں میں ناجائز منافع خوری اور اشیاء خوردونوش کے کم معیار بارے خبریں اخبارات کی زینت بنی ہوئی ہیں جن پر مجھے مقرر کردہ نرخوں سے زائد وصول کرنے بارے خبروں پر زیادہ یقین نہیں آتا تھا کیونکہ میں سوچتا تھا کہ ریٹ لسٹ تو سامنے آویزاں ہوتی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سامنے نرخ آویزاں ہوں اور دکاندار اس سے زائد وصول کررہا ہو لیکن میں اس وقت غلط ثابت ہوا جب میں نے پہلی بار ریٹ لسٹ دیکھی اور اپنی خریدی اشیاء کی قیمتوں کیساتھ موازنہ کیا ۔ میرا اتفاق جی سیون سروس موڑ کے سامنے گرین بیلٹ میں قائم سستے بازار میں جانے کا اتفاق ہوا وہاں پر خربوزے ، آم ، تربوز اور لیموں کے نرخ ضلعی انتظامیہ کے مقرر کردہ نرخوں سے زائد دکاندار دھڑلے سے وصول کررہے تھے باقی اشیاء خوردونوش بھی مہنگی ہونگی مگر میرا تجربہ انہی چار اشیاء بارے ہی تھا ۔ جب میں نے مختلف سٹال ہولڈروں سے زائد قیمت وصول کرنے کی وجہ پوچھی تو تقریباً سب نے خاموش رہنے کا کہا پہلے تو ڈھیٹوں کی طرح کہاکہ یہی نرخ مقرر ہیں جب میں نے انہیں ریٹ لسٹ پر انکے وصول کردہ نرخ دکھانے کو کہا تو انہوں نے مجھے خاموش رہنے کیلئے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرلیا تاہم میں نے انہیں ناجائز منافع خوری سے منع کیا تو وہاں پر موجود دیگر صارفین نے میری بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دکاندار کے بتائے نرخوں پر ہی پھل خریدنا شروع کردئیے جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ قوم صرف سوشل میڈیا پر شور مچاسکتی ہے اورلمبے لمبے لیکچر دے سکتی ہے مگر عملی میدان میں ہماری کارکردگی صفر ہے ویسے بھی تھوڑی سی تکرار پر آپ کو تو مقرر کردہ نرخوں پر پھل یا سبزی مل جاتی ہے مگر جب آپ باقیوں کیلئے آواز بلند کرتے ہیں تو کوئی ساتھ نہیں دیتا اور دکاندار بھی کہتا ہے کہ آپ نے لینا ہے تو لیں ورنہ شور نہ مچائیں اور پھر انکے لئے صارفین میں سے ہی ہمدرد پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور آپ کو اپنا آپ ہی غلط محسوس ہونے لگتا ہے ۔ ضلعی حکومت کے سستے بازاروں میں ضلعی انتظامیہ کا کوئی نمائندہ موجود نہیں ہوتا جبکہ گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں موجود ہوتا تھا جسکو آپ موقع پر شکایت لگا کر دکانداروں کو ناجائز منافع خوری سے روک لیتے تھے مگر اس تبدیلی کی حکومت میں تو جیسے ہر کسی کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے ۔ ضلعی انتظامیہ کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں محض اعلیٰ حکومتی افسران کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے چند دکانداروں کے چالان اور ان پرجرمانے عائد کردئیے جاتے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ہر سطح پر ناکام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور آفرین ہے موجودہ حکمرانوں پر کیونکہ انہی کی ایما پر موجودہ بیوروکریسی کام کررہی ہے اگر حکمران اپنی آنکھیں کھلی رکھیں تو نا اہل بیورو کریسی کی جگہ ایماندار اور محنتی افسران کو تعینات کیا جاتا ۔ اس قوم میں اخلاقیات، دیانت، صداقت ، امانت اور صلہ رحمی نام کی کوئی چیز نہیں خواہ وہ بحیثیت دکاندار اپنا کردار ادا کررہا ہو یا پھر بطور صارف ظالمانہ نظام کا حصہ بنا ہوا ہو ۔ اسی طرح سستے بازار میں کچھ پھل خریدا مگر میرے ہاتھ کا چنا پھل دکاندار نے لفافے میں ڈالتے وقت تبدیل کرکے ٹھیک کی جگہ خراب پھل لفافے میں ڈال دیاجس کا مجھے گھر جاکر معلوم ہوا تو اگلے روز میں نے محض احساس دلانے کیلئے دکاندار کو جاکر شکایت کی کہ آپ نے گزشتہ روز ایسا کیا آپ کو کم ازکم رمضان المبارک کے مہینے میں ایسا نہیں کرنا چاہیے جس پر دکاندار طنزیہ ہنستے ہوئے بولا جی رمضان میں ایسا نہیں کرنا چاہیے دکاندار کی طنزیہ ہنسی نے مجھ پر بجلی سی گرا دی تب میں نے سوچا کہ جو ہورہا ہے شاید ٹھیک ہی ہورہا ہے کیونکہ جس قوم کے ضمیر مردہ ہوچکے ہوں اور حکمران تخت و تاج کے مزے لینے میں مصروف ہوں اور عوام بخوشی کرپٹ نظام کا حصہ بنے ہوئے ہوں تو پھر ملک میں مہنگائی اور لوٹ مار کا ہی راج ہی ہوگا ہر کوئی کسی نہ کسی طرح دوسرے کو دھوکہ دینے میں مصروف عمل ر ہے گا ۔ یہاں پر حکمرانوں سے التجا ہے کہ قانون کی عملداری کو ہرصورت یقینی بنائیں کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے مگر اس کیلئے حکمرانوں کو بھی جاگنا ہوگا کیونکہ اس قوم کے تاجروں نے باعزت اور مبارک عمل تجارت کو ناجائز منافع خوری کیلئے بھی نہیں بخشا تو پھر وہاں ڈنڈے کا قانون ہی کام کرے گا ۔

جب ایک مکڑی نے ایک شخص کے کان میں گھر بنالیا

چین میں اکثر ایسے مریض سامنے آتے ہیں جو دنیا کو دنگ کرکے رکھ دیتے ہیں۔

ایسا ہی ایک مریض گزشتہ دنوں سامنے آیا جسے کان میں عجیب سی سنسناہٹ کی شکایت تھی۔

اور جب ڈاکٹروں نے تشخیص کی تو ان کی اپنی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کیونکہ یہ سنسناہٹ ایسی وجہ سے تھی جس کی کسی نے توقع بھی نہیں کی۔

چین کے صوبے جیانگ سو کے رہائشی یانگ زو یونیورسٹی میں اس شکایت کے ساتھ گیا تھا اور ڈاکٹروں کو اس مرض کو ایک مکڑی کی شکل میں دریافت کیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق آنکھوں سے کان کا معائنہ کرتے ہوئے تو ہمیں معلوم نہیں ہوا مگر اینڈواسکوپ کے استعمال سے ہم نے ایک مکڑی کو کان کے اندر دریافت کیا۔

ڈاکٹروں نے پہلے عام آلات سے مکڑی کو پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ بچنے میں کامیاب ہوگئی۔

اس کے بعد ڈاکٹروں سے اسے فلش آﺅٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور مریض کے کان میں ڈراپس ڈالے گئے جس سے مکڑی کا جال بکھر گیا۔

اس واقعے کی فوٹیج چینی سوشل میڈیا پر لوگوں کے ہوش اڑاتی رہی اور اسے دیکھ کر بیشتر افراد کو اپنے کانوں میں تکلیف کا احساس ہونے لگا۔

ویسے تو لوگوں کے کانوں میں کیڑوں کا گھس جانے کے واقعات شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں مگر یہ اتنے بھی نئے نہیں۔

ایسے کیسز پہلے بھی سامنے آچکے ہیں پہلے بھارت میں تو ایک شخص کان کے درد پر ڈاکٹروں کے پاس آیا تو اس کے کان سے جھینگر کو نکالا گیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق مکڑیوں جیسے کیڑے گرم ممالک میں دن کے وقت اندھیرے میں رہنا پسند کرتے ہیں اور کان ان کے لیے اچھی پناہ گاہ ثابت ہوتے ہیں۔

پاکستان کا زمین سے زمین پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ’شاہین 2‘ کا کامیاب تجربہ

راولپنڈی: پاکستان نے زمین سے زمین پرمارکرنے والے بیلسٹک میزائل ’شاہین 2‘ کا کامیاب تجربہ کرلیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفورکے مطابق پاکستان نے زمین سے زمین پرمارکرنے والے بیلسٹک میزائل ’شاہین 2 ‘ کا کامیاب تجربہ کیا۔ میزائل 1500 کلومیٹرتک اپنے ہدف کو باآسانی نشانہ بناسکتا ہے اور اس میں ہر قسم کا ایٹمی اور روایتی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آرکا کہنا ہے کہ شاہین 2 پاکستان کی کم سے کم ڈیٹرنس اورخطے میں استحکام برقرار رکھنے کی ضروریات پوری کرتا ہے، تجربہ کا مقصد پاک فوج کی اسٹریٹیجک صلاحیتوں میں اضافہ ہے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ ڈی جی ایس پی ڈی، کمانڈرآرمی اسٹریٹیجک کمانڈ فورس اور چیئرمین نیسکام نے ’شاہین 2‘ کے تجربے کا مشاہدہ کیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے میزائل کی تیاری کے لیے کام کرنے والے سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد دی ہے۔

Successful training launch of surface to surface ballistic missile Shaheen-II conducted. Capable of carrying both conventional & nuclear warheads upto a range of 1500 KMs. Shaheen-II fully meets Pak’s strat needs towards maintenance of desired deterrence stability in the region. pic.twitter.com/I9t468wxnq

 

ڈالر اور مہنگائی، حکومتی اور عوامی مشکلات

ڈالر کی قدر میں روز افزوں اضافہ جاری ہے ۔ جس کے اثرات سے عام آدمی متاثر ہو رہا ہے ۔ مہنگائی میں روز بروز اضافہ نے عام لوگوں کا جینا دو بھر کر دیا ہے ۔ عام تاثر یہ ہے کہ ڈالر آہستہ آہستہ مارکیٹ سے غائب ہو رہا ہے ۔ گزشتہ دنوں یہ بھی اطلاعات تھیں کہ حکومت نے ایک ارب ڈالر نجی بینکوں اور مارکیٹ سے اٹھایا ہے ۔ اب یہ اطلاعات بھی ہیں کہ پاکستان سے بڑے پیمانے پر ڈالر افغانستان سمگل ہو ہرا ہے ۔ ڈالر کی قدر میں بڑھتے اضافے کو دیکھتے ہوئے کئی لوگوں نے ڈالر خرید کر زخیرہ کر لیا ہے ۔ اس ساری صورتحال میں کےا حقیقت ہے اور حکومت اس بارے میں کیا کر رہی ہے ۔ ابھی تک حکومت کی طرف سے کچھ نہیں بتایا جا رہا ۔ کیا یہ تاثر درست ہے کہ سب کچھ حکومتی منشاء کے مطابق ہے ۔ اور یہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیئے گئے معاہدے کو نہ تو ابھی تک پارلیمنٹ میں لایا گیا ہے جس کا اپزیشن نے بار بار مطالبہ بھی کیا ہے ۔ نہ ہی اس معاہدے کے بارے میں عوام کو بتاےا گیا ہے ۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ کیئے گئے معاہدے کے بارے میں کچھ چھپا رہی ہے ۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ ابھی فائینل نہیں ہواہے ۔ فی الحال یہ معاہدہ صرف شرائط پر رضامندی کا اظہار ہے ۔ یعنی حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط تسلیم کی ہیں ۔ معاہدے کی منظوری آئی ایم ایف کے مجاز بورڈ کی اجازت سے ہوگی ۔ اور توقع ہے کہ معاہدے کی اگر منظوری دی گئی تو اسی سال جولائی میں قرضے کی پہلی قسط پاکستان کو مل سکتی ہے ۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے میں یہ شامل ہے کہ ڈالر کی قیمت کا تعین سٹیٹ بینک نہیں کرے گا بلکہ یہ تعین مارکیٹ کے مطابق کیا جائے گا ۔ دوسرے الفاظ میں ڈالر کی قیمت کا تعین حکومتی دائیرہ اختیار سے نکل کر اوپن مارکیٹ کو دیا جائے ۔ اور حکومت نے دیگر شرائط کی طرح اس پر عمل درآمد شروع بھی کر دیا ہے ۔ جس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے مشیر خزانہ تبدیل کیا ۔ ایف بی آر کے چیئر مین کو تبدیل کیا ۔ لیکن صورتحال جوں کی توں ہے ۔ اور تمام تر کوششوں کے باوجود تبدیلی نا ممکن نظرآتی ہے ۔ اگر معاہدے کے مطابق آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کو چھ ارب ڈالرز مل بھی جائیں تب بھی مہنگائی میں کمی نہیں آسکتی ۔ کیونکہ ڈالر کی قیمت کے تعین کے لیئے حکومت جس شرط پر راضی ہوئی ہے اور اس پر عمل درآمد بھی کیا گیا ہے اس کی وجہ سے مہنگائی میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ تو ہوگا لیکن کمی ممکن نہیں ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈالر کی بڑھتی قیمت کو دیکھتے ہوئے بعض لوگوں نے ڈالر خرید کر زخیرہ کر لیا ہے ۔ ڈالر کی بیرون ملک سمگلنگ کو بھی نظر انداز نہیں کیا سکتا ۔ ڈالر کی قدر میں اضافہ کی وجہ سے پورے ملک میں مہنگائی کا سونامی آیا ہے ۔ اور روز مرہ استعمال کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں ۔ ہر ہفتے بجلی،گیس اور پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی مشکلات میں بے حد اضافہ کر دیا ہے ۔ حکومت کی نہ کوئی واضح معاشی پالیسی ہے نہ مہنگائی کے خاتمے کے لیئے کوئی اقدامات ہیں ۔ رمضان بازاروں کے نام پر اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی بھی سراب ثابت ہوا ۔ جب حکومت خود بجلی،گیس،پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کرتی جائے گی تو ایسی حکومت مہنگائی کو کیسے قابو میں لا سکتی ہے ۔ خود سٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی پانچ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ۔ مالیاتی خسارہ 2;46;3 فیصد سے بڑھ کر 2;46;7 فیصد ہو گیا ہے ۔ مہنگائی کی شرح8;46;8 فیصد تک ہے ۔ اور ان تمام اعشاریوں میں مزید اضافہ ہوگا ۔ صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ ملک میں جاری134 ترقیاتی اسکیموں کی لاگت میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے 9 کھرب 45 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے ۔ ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ کی صورت میں اس لاگت میں مزید اضافہ ہوگا ۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان ریلوے کو 3;46;5 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے ۔ اس کے علاوہ اب ریلوے کے لیئے جو نئے انجن خرید نے کا منصوبہ ہے ڈالر کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے انجنوں کی خریداری کی تخمینہ لاگت میں 32سے 79 کروڑ روپے کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ اسی طرح نیلم جہلم منصوبہکی لاگت میں چار سو ارب روپے کے لگ بھگ اضافہ ہوا ہے ۔ اسی طرح دیگر تمام 134 منصوبوں کی لاگت میں اربوں روپے کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ ایک مفتی صاحب نے کہا ہے کہ ڈالر زخیرہ کرنا شرعی طور پر گناہ ہے ۔ شرعی طور پر ملاوٹ ۔ کم ناپ تول اور اجناس کا زخیرہ کرنا بھی گناہ ہے ۔ اس کے علاوہ کئی کام گناہ ہیں ۔ اور یہ سب کو پتہ بھی ہے کہ لیکن عمل کون کرتا ہے ۔ جب تک حکومت کی طرف سے سخت قوانین اور عمدرآمد نہ ہوں ۔ اس وقت ملک جس بدترین معاشی بحران کا شکار ہے اور اس سے جس طرح ہر پاکستانی خصوصاً غریب عوام بری طرح متاثر ہیں ۔ اس میں ڈالر ہو یا اجناس ہوں ذخیرہ کرنا نہ صرف شرعی طور پر بہت بڑا گناہ ہے بلکہ یہ ملک کے ساتھ غداری کے بھی مترادف ہے ۔ کیونکہ جو بھی ایسا کوئی قدم اٹھائے گا جو بھی ایسا کام کرے گا جس سے ملک و قوم کو نقصان پہنچتا ہو وہ غداری کے زمرے میں آئے گا ۔ اس لیئے ڈالر اور اجناس زخیرہ کرنا معاشی دہشت گردی اور ملک و قوم کے ساتھ واضح طور پر غداری ہے ۔ اگر حکومت چاہے تو ایسے زخیرہ اندوزوں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتی ہے ۔ اور اس طرح اربوں ڈالرز برآمد ہو سکتے ہیں ۔ ملک میں جاری ناقابل ِبرداشت مہنگائی اور معاشی بحران شاید حکومت کے لیئے مزید مشکلات پیدا کریں ۔ اور حکومت کا برقرار رہنا مشکل ہو جائے ۔ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت کا گراف بہت نیچے آچکا ہے ۔ اور بجٹ کے بعد اس میں بہت بڑی گراوٹ آسکتی ہے ۔ عمران خان کو ووٹ دینے والے اور ان کے ہمدرد سب اب پچھتاوے کا کھلے عام اظہار کر رہے ہیں ۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں نے یک زبان ہو کر عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ حکومت کی حامی جماعتوں کی عوام میں ایسی پوزیشن نظر نہیں آتی کہ وہ حالات پر قابو پا سکیں گے ۔ اس کے علاوہ حکومت کی حامی جماعتوں میں بھی مہنگائی میں پستے عوام سے ہمدردی میں کوئی شک شبہ نہیں ہے ۔ حکومت کے ساتھ کئی معاملات میں میں ان کے تحفظات بھی اپنی جگہ قائم ہیں ۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت عید کے بعد وزارتوں اور بعض اہم عہدوں میں تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے ۔ لیکن یہ سب کچھ مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ اس سے حکومت کے غلط فیصلوں اور ناکامی کی غمازی ہوتی ہے ۔ ان تمام مذکورہ عوامل کو دیکھتے ہوئے کہیں سے کسی بہتری کی امید نظر نہیں آتی ۔ جب تک کہ حکومت کے ایسے اقدامات نظر نہ آئیں جن سے عوام مطمئن ہو جائیں ۔ ما جولائی سے اندازہ ہونا شروع ہو جائے گا کہ حالات کس طرف جا ہرے ہیں ۔

حکومت کی نظریں ملکی مجموعی پیداوار 4 فیصد تک لے جانے پر مرکوز

اسلام آباد: سرکاری حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال 20-2019 کے لیے ملکی مجموعی پیداوار 4 فیصد تک پہنچانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں، جبکہ امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ یہ شرح 3.28 فیصد رہے گی۔

حکومت پاکستان نے آئندہ مالی سال کے لیے ایک ذیلی معاشی نکتہ نظر کا تصور پیش کردیا جسے بجٹ کی تیاری کے لیے سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی (اے پی سی سی) کے اجلاس سے قبل اہم قرار دیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ اے پی سی سی کے اجلاس کی سربراہی وفاقی وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار کریں گے جس میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کے وزرا برائے منصوبہ بندی شرکت کریں گے۔

حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ زراعت کے شعبے سے 3.7 فیصد ترقی کی شرح جبکہ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ سے 2 فیصد شرح ترقی کا حصہ ملا کر ملکی مجموعی ترقی کی شرح 4 فیصد تک رہے گی۔

آئندہ مالی سال لیے مالی خسارے کا ہدف 6.2 فیصد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ رواں مالی سال کے لیے اس کا تخمینہ 7.3 فیصد لگایا گیا تھا۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان تخمینوں کو حتمی شکل اے پی سی سی کے اجلاس کے کچھ دیر قبل دی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکریٹری پلاننگ نے میکرو اکنامکس کے اہداف کو حتمی شکل دینے کے لیے وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے اعلیٰ حکام کا اجلاس بلایا تھا تاہم کی جونیئر نمائندگی کی وجہ سے اس اجلاس میں مطلوبہ معاملات پر گفتگو نہیں ہوئی۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایک پیغام پلاننگ کمیشن کو ارسال کیا گیا جس میں ترقی کی شرح کو حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی روشنی میں رکھنے کا کہا گیا۔

واضح رہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ پاکستان کو 6 ارب ڈالر کا قرضہ فراہم کرے گا جس پر دونوں فریقین کے درمیان بات چیت مکمل کی جاچکی ہے تاہم اس معاملے کو حتمی شکل دینے کے لیے اب تک باقاعدہ دستخط نہیں ہوئے۔

ڈان کو موصول ہونے والے دستاویزات کے مطابق پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے مختص رقم کو تبدیل نہیں کیا گیا جو گزشتہ برس 6 سو 75 ارب روپے تھی، تاہم اس مرتبہ اس میں سے 100 ارب روپے علیحدہ کرکے وزیراعظم کے ترقیاتی پروگرام کے لیے مختص کر دیے گئے ہیں جس کے باعث پی ایس ڈی پی کے مختص کی گئی بنیادی رقم 5 سو 75 ارب روپے تے ہوجائے گی۔

اسی طرح مجموعی طور پر ڈیولمپنٹ کے لیے 18 کھرب 37 ارب روپے مختص کیے جائیں گے، جن میں صوبائی ڈیولپمنٹ پروگرام کے 9 سو 12 ارب روپے بھی شامل ہیں۔

ان سو ارب روپے میں 32 ارب 50 کروڑ روپے سیکیورٹی اور بے گھر افراد کی رہائش، 22 ارب روپے خیبرپختونخوا میں سابق قبائلی اضلاع کے انضمام اور 10 ارب روپے وزیراعظم کے یوتھ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام پر خرچ کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ 2 ارب روپے کلین اینڈ گرین پاکستان اور ایک ارب روپے گیس کے ترقیاتی منصبوں پر خرچ ہوں گے۔

تمام وفاقی وزرا کو 3 سو 70 ارب روپے دیے جائیں گے جن میں 85 ارب روپے پانی کے منصوبوں، 45 ارب روپے کمشیر اور گلگت بلتستان کے معاملات اور 37 ارب روپے وزارت خزانہ کے لیے خرچ کیے جائیں گے۔

ہائی ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے لیے 32 ارب روپے مختص کیے جایئں گے جبکہ پاکستان اٹامک اینرجی کمیشن کو 25 ارب روپے دیے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی وزرا کی جانب سے ترقاتی منصوبوں کے لیے 15 کھرب روپے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاہم پاکستان کے مالی معاملات نے وزارت خزانہ کو پی ایس ڈی پی کے لیے صرف 6 سو 75 ارب روپے تک ہی محدود رکھا۔

انیل کپور نے فواد خان کو فلم ’خوبصورت‘ میں شامل کرنے کی وجہ بتا دی

ممبئی: معروف اداکار و فلمساز انیل کپور نے کئی عرصے بعد فلم ’خوبصورت‘ میں اپنی بیٹی سونم کپور کے مد مقابل فواد خان کو شامل کرنے کی وجہ بتا دی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق انیل کپور نے ایک چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں فواد خان سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ فلم ’خوبصورت‘ کے دوران جہاں ہمیں بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا وہاں ہمارے لئے سب سے بڑی پریشان سونم کپور کے مد مقابل ہیرو کا مرکزی کردار تھا کیوں کہ کوئی بھی اس کردار کو کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔

انیل کپور نے یہ بھی کہا کہ تمام ہی نامور اداکاروں نے یہ کردار کرنے سے معذرت کرلی تھی تاہم پھر بھی ہماری تلاش جاری رہی لیکن ایک روز میری بیٹی ریہا کپور نے فواد خان سے متعلق بتایا اور اُن کے کام دکھائے جس سے میں بہت متاثر ہوا۔

واضح رہے کہ انیل کپور کی پروڈکشن میں 2014 میں بننے والی فلم ’خوبصورت‘ بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی اداکار فواد خان اور سونم کپور نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

Google Analytics Alternative