Home » Author Archives: Admin (page 3)

Author Archives: Admin

ٹیکس دہندگان کی فہرست میں کراچی سب سے آگے

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والے 150 ٹیکس دہندگان شہریوں کی فہرست جاری کردی، جس میں سال 2018 کی کٹیگری کے لیے کراچی سے تعلق رکھنے والی صائمہ شہباز ملک پہلے نمبر پر ہیں۔

اس کے علاوہ کل افراد میں 50 اعلیٰ افراد کی کٹیگری میں مہوش اے ٹپال بھی شامل ہیں، جو 45 ویں نمبر پر ہیں اور ان کا تعلق بھی کراچی سے ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے افراد، افراد کی ایسوسی ایشن (اے او پیز) اور کمپنیوں میں کی 3 درجہ بندیوں میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے 50 افراد کی فہرستیں جاری کی ہیں۔

50 افراد کی ٹیکس دہندگان کی فہرست میں کراچی کے باشندوں نے خود کو سب سے زیادہ شراکت دار ثابت کیا اور 33 افراد اس فہرست میں شامل تھے جنہوں نے سال 2018 میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کیا۔

اس کے علاوہ 6 افراد کا تعلق لاہور، 3 کا گجرانوالہ، 2 کا اسلام آباد جبکہ سکھر، ایبٹ آباد، حیدرآباد، کوئٹہ اور ملتان سے ایک ایک ٹیکس دہندہ ان 50 افراد کی فہرست میں شامل ہے۔

اسی طرح 10 سب سے زیادہ ٹیکس دہندگان میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی 5 ویں نمبر پر ہیں جبکہ فہرست میں پہلے نمبر پر صائمہ شہباز ملک ہیں، ان کے بعد محمد یاسین ملک، احمد اللہ اور حسن منشا کا نمبر آتا ہے۔

فہرست میں شامل دیگر افراد میں سید بابر علی، ریحان حسن، امتیاز حسین، ملک شاہد اور محمد حنیف جوانی ہیں۔

اس کے بعد جن افراد کا نام آتا ہے ان کوئٹہ کے عین الاحق، سکھر کے نوید احمد مہر، ملتان سے تعلق رکھنے والے محمد رمضان، حیدرآباد کے غلام مصطفیٰ اور ایبٹ آباد میں محمد داؤد خان شامل ہیں، تاہم پشاور سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اپنی جگہ اس فہرست میں نہیں بنا سکا۔

ایف بی آر کے مطابق افراد کی ایسوسی ایشن میں 50 سب سے زیادہ ٹیکس دینے والوں کی فہرست میں بھی کراچی 17 ای او پیز کے ساتھ سرفہرست ہے اور انہوں نے سال 2018 کے دوران خزانے میں سب سے زیادہ ٹیکس جمع کروایا۔

کراچی کے بعد 10 ای او پیز کا تعلق لاہور، 8 کوئٹہ، 3 گوجرانوالہ اور اسلام آباد، 2 حیدرآباد، پشاور، ایبٹ آباد اور سکھر جبکہ ایک ملتان سے ہے۔

سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے ایس او پیز پرنسپل آفیسرز/پارٹنرز میں محمد خان پرائمری پوزیشن پر ہیں، ان کے بعد وسیم افضل، آصف مجید، محمد خان، مظفرحیات پراچہ، چوہدری عامر لطیف، عظیم خان یوسف زئی، نظام الدین، پہلاج رائے اور سید مسعود حسین شاہ شامل ہیں۔

اگر کمپنیوں کی جانب سے ٹیکس ادا کرنے کی بات کی جائے تو اس میں بھی کراچی سب سے آگے ہے اور یہاں کی 21 کمپنیوں نے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کیا، اس کے بعد اسلام آباد میں رجسٹرڈ 16 کمپنیز، لاہور میں 9 کمپنیز، ملتان میں 2 اور فیصل آباد اور پشاور میں ایک ایک کمپنی شامل ہیں۔

ایف بی آر کی فہرست میں 10 سب سے زیادہ ٹیکس دینے والی کمپنیوں میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، یونائٹیڈ بینک لمیٹڈ، گورنمنٹ ہولڈنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ، الائیڈ بینک آف پاکستان، پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی، حبیب بینک لمیٹڈ، انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ اور نیسلے پاکستان لمیٹڈ شامل ہیں۔

تاہم سب سے زیادہ ٹیکس دینے والی 50 کمپنیوں کی فہرست میں کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی کوئی کمپنی شامل نہیں۔

دوسری جانب اگر ٹیکسز میں شراکت کے لحاظ سے بات کی جائے تو 40 سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والوں میں شاہد یاسین ملک، عارف حبیب، میاں عمر منشا، فرخ اعجاز، وزیر علی پردھن، محمد رفیق، محمد حنیف مچھی یارا، محمد عرفان غازی، عبدالوحید شیخ، ملک محمد مکرم، جہانزیب جیلانی، عین الحق، فراز الٰہی شمسی، محمد متین شفیع، محمد حامد خان، شہباز یاسین ملک، عامر محمود، محمد تحریم شمیم، محمد طلحہٰ، سید ارشاد احمد، نجم حفیظ، محمد نجیب ہارون، شعیب انور ملک، علی اکھائی، افتاب فیض اللہ ٹپال، محمد کاشف، محمد سعید فیصل، نویب احمد مہر، خالد محمود، محمد رمضان، طارق رفیع، محمد اسد، غلام مصطفیٰ، الطاف آدم، مہوش اے ٹپال، میاں رضا منشا، اقبال علی محمد، صالم حبیب گوڈیل، محمد داؤد خان اور تنویر احمد شامل ہیں۔

وہ امراض جو جلد سے ظاہر ہوتے ہیں

جلد انسانی جسم کا سب سے بڑا عضو ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ امراض کی پیشگوئی بھی کرتی ہے

جی ہاں کچھ امراض کا سب سے پہلے اشارہ جلد پر ظاہر ہوتا ہے۔

مگر کیا آپ ان علامات سے واقف ہیں جو جلد مختلف امراض کے لیے ظاہر کرتی ہے؟

برص

عام طور پر برص نامی اس مرض کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ یہ مچھلی کھانے کے بعد دودھ پینے کا ری ایکشن ہوتا ہے، تاہم طبی سائنس اس کو رد کرتی ہے۔درحقیقت یہ اس وقت لاحق ہوتا ہے جب جلد کو اس کی قدرتی رنگت دینے والے خلیات مخصوص رنگدار مادہ کی تیاری چھوڑ دیتے ہیں۔جلد پر نمایاں سفید دھبوں کا نمودار ہونا درحقیقت جسمانی دفاعی نظام کی جانب سے جلدی خلیات پر حملہ کرنا ہوتا ہے جو جلد کو رنگ دینے والے جز میلانن پر ہوتا ہے، تاہم یہ دیگر آٹو امیون امراض جیسے تھائی رائیڈ امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔

سوزش جلد

خشک، کھجلی اور جلد پر سرخ نشانات عام طور پر گردن یا کہنیوں کے پاس ظاہرتے ہیں، یہ کافی عام جلدی مرض ہے جو بچوں، بڑوں دونوں کو ہوسکتا ہے، مگر یہ ذہنی صحت میں خرابی کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔ ایک امریکی تحقیق کے مطابق ڈپریشن یا تناﺅ کے ذہنی عارضوں کے شکار افراد میں یہ جلدی مرض نمودار ہوتا ہے، تاہم جلد کی سوزش کا علاج کرانے سے ذہنی صحت میں بھی بہتری آتی ہے۔

کھلے زخم

بلڈ شوگر طویل عرصے تک بڑھی رہے تو اس کے نتیجے میں خون کی گردش متاثر اور اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے، اس کے نتیجے میں جسم کے زخم بھرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، خاص طور پر پیروں میں یہ زخم نظر آتے ہیں جنھیں ذیابیطس کا ناسور بھی کہا جاتا ہے۔

چنبل

اس جلدی مرض میں جلد پر چھلکے سے نمودار ہوجاتے ہیں جبکہ کھجلی اور خارش بھی ہوتی ہے، مگر یہ کچھ سنگین طبی مسائل کی جانب اشارہ بھی کررہے ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق اس جلدی کیفیت کے شکار افراد میں دل کے امراض کا امکان 58 فیصد جبکہ فالج کا خطرہ 43 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ چنبل اور خون کی شریانوں میں خون کا جمنا ورم کے باعث ہوتا ہے اور یہ چیز دونوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔

گلابی دانے یا وردیہ

اس مرض میں جلد سرخ ہوجاتی ہے اور گلابی رنگ کے دانے نکل آتے ہیں، اکثر افراد اس کا علاج نہیں کراتے کیونکہ وہ اسے نقصان دہ نہیں سمجھتے، مگر ایک نئی تحقیق کے مطابق یہ کیفیت خواتین میں ڈیمینشیا کے مرض کا خطرہ 28 فیصد تک بڑھا دیتی ہے، خاص طور پر اگر عمر 50 یا 60 سال سے زائد ہو۔

خشک اور پھٹی ہوئی جلد والے پیر

یہ ممکنہ طور پر تھائی رائیڈ (سانس کی نالی کے قریب موجود غدود) میں مسائل کی علامت ہوسکتے ہیں خاص طور پر اس وقت جب پیروں کی نمی کا خیال رکھنا بھی بے کار ثابت ہو۔ جب تھائی رائیڈ غدود میں مسئلہ ہو تو وہ تھائی رائیڈ ہارمونز کو تیار کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے جو کہ میٹابولک ریٹ، بلڈ پریشر، پٹھوں کی نشوونما اور اعصابی نظام وغیرہ کے لیے کام کرتے ہیں۔ ایک طبی تحقیق کے مطابق تھائی رائیڈ کے مسائل کے نتیجے میں جلد انتہائی خشک ہوجاتی ہے خاص طور پر پیروں کی جلد پھٹنے لگتی ہے اور حالت میں بہتری نہ آنے پر ڈاکٹر کا رخ کرنا ہی فائدہ مند ہوتا ہے۔

ہاتھوں میں پسینہ

اگر ہاتھوں پر بہت زیادہ پسینہ آتا ہے تو یہ تھائی رائیڈ امراض کے ساتھ ساتھ جسم سے ضرورت سے زیادہ پسینے کے اخراج کا مسئلہ بھی ہوسکتا ہے، جس میں پسینہ خارج کرنے والے غدود زیادہ متحرک ہوجاتے ہیں۔ اکثر افراد کو اس مسئلے کا سامنا جسم کے ایک یا 2 حصوں میں ہوتا ہے جیسے بغلیں، ہتھیلی یا پیر۔ ڈاکٹر اس کا معائنہ کرکے علاج تجویز کرسکتے ہیں۔

سیاہ گومڑ یا تل

عام طورپر بہت نمایاں سیاہ تل یا گومڑ جلد کے کینسر کی علامت ثابت ہوسکتے ہیں، جبکہ بریسٹ کینسر، مثانے اور گردے کے کینسر کا خطرہ بھی ان کی وجہ سے بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سورج میں کم گھومنا، متحرک رہنا، صحت بخش غذا اور الکحل سے دوری اس طرح کے جان لیوا کینسر سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔

’ماہرہ خان ہمارا فخر ہے‘ ، اداکارہ میرا نے ماہرہ کی تعریفوں کے پُل باندھ دئیے

کراچی: نامور پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان اوراسکینڈل کوئین میرا کے درمیان طویل عرصے سے جمی برف پگھلنے لگی ہے اداکارہ میرا نے ماہرہ کی تعریفوں کے پُل باندھ دئیے۔

گزشتہ روزماہرہ خان نے ٹوئٹر پر ہدایت کار عاصم رضا کی فلم ’’پرے ہٹ لو‘‘ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا میں نے ’’پرے ہٹ لو‘‘ کا گانا دیکھا ہے، گانے میں تمام لوگوں نے اچھی پرفارمنس دی ہے لیکن ’’میرا جی‘‘ کی پرفارمنس اتنی زبردست ہے کہ آپ کی نظریں ان سے ہٹتی ہی نہیں، میرا نے اسکرین پر کسی کو نظر ہی نہیں آنے دیا۔

ماہرہ کی اس تعریف کے جواب میں اداکارہ میرا نے ماہرہ سے اپنی طویل دشمنی کا خاتمہ کرتے ہوئے کھلے دل سے ان کی تعریف کا شکریہ ادا کیا اور کہا ماہرہ تم نے جو عزت اور محبت مجھے دی ہے میں اسے ہمیشہ یاد رکھوں گی۔ اس کے ساتھ ہی میرا نے ماہرہ کی تعریفوں کے پُل باندھتے ہوئے کہا ماہرہ جس مقام پر تم آج ہو ہمیں تم پر فخر ہے، خدا ہمیشہ تم پر اپنی مہربانی رکھے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اداکارہ میرا ماہرہ خان کو کئی بار تنقید کا نشانہ بناچکی ہیں یہاں تک کہ ماضی میں میرا نے ماہرہ کے خلاف طنز کے تیر برساتے ہوئے کہا تھا کہ ماہرہ خان شوبز سے وابستہ اداکاراؤں کے چولہے بند کرنے کا مشن لے کراس شعبے میں آئی ہے۔

یاد رہے کہ فلم ’’پرے ہٹ لو‘‘ میں اداکار شہریار منور اور مایاعلی اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آئیں گے، جب کہ اداکارہ میرا بھی فلم میں ایک گانے میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ماہرہ خان اور فواد خان بھی فلم میں مختصر کرداروں میں نظر آئیں گے۔’’پرے پٹ لو‘‘ رواں سال عید الضحیٰ پر ریلیز کی جائے گی۔

قابل اعتراض ویڈیوز کی موجودگی: ملٹی نیشنل کمپنیوں نے یوٹیوب کو اشتہار دینا بند کردیے

ویڈیو اسٹریمنگ کی سب سے بڑی ویب سائٹ یوٹیوب پر درجنوں ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن میں کم سن اور نوجوان بچوں کو کھیلتے اور مختلف ایکسر سائیز کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اگرچہ ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹ نے اپنی پالیسی کو تبدیل کرنے کے بعد قابل اعتراض، فحش، تشدد پر مبنی، نامناسب، نفرت انگیز اور کسی کی دل آزاری کا باعث بننے والے مواد کی روک تھام بھی کی ہے۔

تاہم حال ہی میں ایک ویڈیو بلاگر کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ یوٹیوب اب بھی قابل اعتراض ویڈیوز اور مواد کی تشہیر میں مصروف ہے۔

ویڈیو بلاگر کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ یوٹیوب کی جانب سے جائزہ لینے کے باوجود نامناسب ویڈیوز اور مواد کی تشہیر کا سلسلہ جاری ہے۔

ویڈیو بلاگر کی جانب سے انکشاف کیے جانے کے بعد یورپ اور امریکا سمیت کئی ممالک میں یوٹیوب کے خلاف تہلکہ مچ گیا اور اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عوام کی جانب سے تنقید کیے جانے کے بعد متعدد ملٹی نیشنل کمپنیوں نے یوٹیوب کو اربوں روپے کے اشتہارات دینا فوری طور پر بند کردیے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’بلوم برگ‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ویڈیو بلاگر میٹ واٹسن کی جانب سے تحقیقی رپورٹ سامنے آنے کے بعد متعدد ملٹی نیشنل کمپنیوں نے یوٹیوب کو اشتہارات دینا بند کردیے۔

رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ کی ملٹی نیشنل کمپنی نیسلے، آن لائن فروخت کے امریکی ادارے ایمازون، ڈزنی، ایپک، لوریل، فورٹ نائٹ، مے بی لائن، میٹرو اور سنگل مسلم ڈاٹ کام سمیت دیگر کمپنیوں نے یوٹیوب کو اشتہارات دینا بند کردیے۔

نیسلے کے مطابق یوٹیوب پر قابل اعتراض ویڈیوز کی تشہیر اور نامناسب مواد کے پھیلاؤ کا معاملہ سامنے آنے کے فوری بعد کمپنی نے ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹ کو امریکا اور یورپ میں اشتہارات کی بندش کردی۔

اسی طرح دیگر ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بھی یوٹیوب کو اشتہارات بند کرنے کی تصدیق کی۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے اشتہارات کی بندش کے بعد یوٹیوب کو اربوں روپے کا نقصان ہوگا۔

خیال رہے کہ کچھ دن قبل ہی ویڈیو بلاگر میٹ واٹسن نے 20 منٹ دورانیے کی اپنی ویڈیو رپورٹ میں یوٹیوب پر قابل اعتراض ویڈیوز کی تشہیر اور نامناسب مواد کے پھیلاؤ کا انکشاف کیا تھا۔

یوٹیوب کا الگورتھم سسٹم صارف کو مزید نازیبا ویڈیو دیکھنے کی تجویز بھی دیتا ہے، رپورٹ—فوٹو: وائرڈ
یوٹیوب کا الگورتھم سسٹم صارف کو مزید نازیبا ویڈیو دیکھنے کی تجویز بھی دیتا ہے، رپورٹ—فوٹو: وائرڈ

میٹ واٹسن کی رپورٹ کے مطابق یوٹیوب پر موجود کم سن بچوں اور نابالغ بچوں کی ویڈیوز کو پر بچوں پر جنسی تشدد کرنے والے افراد کے نازیبا کمنٹس موجود ہیں۔

میٹ واٹسن کے مطابق خصوصی طور پر نابالغ بچیوں کی ویڈیوز پر ایسے نامناسب کمنٹس موجود ہیں جن سے پتہ چلتاہے کہ کمنٹس کرنے والے افراد بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے عادی ہیں۔

ویڈیو بلاگر کا کہنا تھا کہ مختصر کپڑوں میں ملبوس کھیلتی یا دیگر کام کرتی بچیوں کی ویڈیوز پر نہ صرف درجنوں نامناسب کمنٹس موجود ہیں بلکہ ان ویڈیوز پر کمنٹس کرنے والے افراد نے بچوں کی نازیبا ویڈیوز کی لنکس بھی شیئر کر رکھی ہیں۔

میٹ واٹسن کے مطابق حیران کن بات یہ ہے کہ نامناسب کمنٹس کو یوٹیوب کے الگورتھم سسٹم نے چیک کرنے کے بعد بھی ویب سائٹ کو نہیں ہٹایا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صارف کی جانب سے مختصر کپڑوں میں کھیلتی کودتی نابالغ لڑکی کی ویڈیو دیکھتے یوٹیوب کا الگورتھم سسٹم اسے مزید ایسی ویڈیوز دیکھنے کی تجویز بھی دیتا ہے اور ایسی ویڈیوز کو سامنے لاتا ہے جن میں کم سن بچیاں مختٓصر کپڑوں میں دکھائی دیتی ہیں۔

دوسری جانب ویب سائٹ پر قابل اعتراض ویڈیوز کی تشہیر اور نامناسب مواد کے پھیلاؤ کی خبر سامنے آنے کے بعد یوٹیوب نے کسی خاص ویڈیو کا ذکر کیے بغیر کہا ہے کہ ان کی پالیسی ویب سائٹ پر ناقابل قبول مواد کے پھیلاؤ کی اجازت نہیں دیتی۔

یوٹیوب انتطامیہ نے مزید کہا کہ وہ ویب سائٹ پر قابل اعتراض ویڈیوز کی تشہیر اور نامناسب مواد کے پھیلاؤ کا جائزہ لے رہی ہے اور جلد سے جلد نازیبا کمنٹس کرنے والے افراد کے اکاؤنٹس کو بلاک کردیا جائے گا۔

یوٹیوب نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے اشتہارات بند کرنے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

پلوامہ واقعے کے پیچھے بھارتی سازش اور جنگی جنون….!

azam_azim

نریندرمودی کے دورحکومت میں توبھارت کو ٹوٹ جاناچاہئے تھا، مگر تعجب ہے کہ اَب تک بھارت کیوں نہیں ٹوٹا ہے؟ ابھی تک قائم کیوں ہے؟ بھارت کا شیرازہ تو مودی کی حکمرانی میں ہی بکھر جانا چاہئے تھا،تب نہیں تو لگتاہے کہ اَب بہت جلد بھارت ٹوٹنے والا ہے ،کیوں کہ آج مودی نے اپنی حکمرانی میں بھارت کو اندر سے اتناکھوکھلااور کمزور کردیاہے کہ اگراَب اِس کے اندر کہیں سے بھی بغاوت کی کوئی ایک بھی تحریک اُٹھی تو بھارت ٹوٹنے میں دیر نہیں کرے گا، افسوس ہے کہ بھارتی عوام کیوں اِس سے بے خبر ہیں، جو ابھی تک نریندرمودی کی بھارت کے اندر بھارت مخالف سازشوں اور چالوں کو سمجھ نہیں پائے ہیں ،بھارتی تاریخ گواہ ہے کہ نریندرمودی بھارت کے سب سے زیادہ ناکام وزیراعظم ثابت ہوئے ہیں۔ مودی کی حکمرانی میں بھارت معاشی ، اقتصادی ، سیاسی ، سماجی ، اخلاقی اور دیگر حوالوں سے پوری طرح مفلوج ہوگیاہے ،مودی حکومت نے نہ صرف بھارتی شہریوں میں رنگ و نسل اور مذہب کی نفرت کی آگ کو بھڑکا یاہے؛ بلکہ کھلم کھلابھارت کے تمام بڑے شہروں اور اہم علاقوں میں غیرسرکاری انتہاپسندہندو عسکری تنظمیں بھی قائم کی ہیں۔ جن کا کام بھارت کو خالصتاََ ہندوریاست کی حیثیت سے پہچان کراناہے۔ آج یہ تنظیمیں مودی اور بھارتی افواج کی سپورٹ سے اِس حد تک استحکام پاکر بھارت بھر میں پھیل چکی ہیں کہ اِن کے کارکنوں کی موجودگی میں دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی زندگیاں تنگ ہورہی ہیں،مقبوضہ کشمیر میں بھی نہتے کشمیریوں پر جتنے بھی ظلم و ستم کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ اِن کے پیچھے بھی بھارتی افواج کے ساتھ انتہاپسند ہندوعسکری تنظیموں کے دہشت گرد بھی بھارتی فوجی وردی میں ملوث ہیں، آج بھارت کشمیریوں پرلاکھ ظلم کے پہاڑ ڈھادے، مگر بھارت کبھی بھی کشمیریوں کے دل فتح نہیں کرسکتاہے ۔کشمیر جِسے قائد اعظم ؒ نے پاکستان کی شہ رگ کہا تھا ۔آج اِس کشمیر پربھارتی افواج نے قبضہ جمارکھاہے، کئی سالوں سے نہتے کشمیریوں پرہر پل بھارتی افواج اِنسانیت سوز مظالم ڈھارہی ہے،اِس کے باوجود بھارتیوں کا دعویٰ ہے کہ کشمیر اِن کا ہے،اگر اِن کا ہے تو پھر بھارتی افواج کشمیریوں پر اتنا ظلم کیوں ڈھارہی ہے؟بات صاف ظاہر ہے کہ ہندوستان کے دعوے کو کشمیر یوں نے پہلے دن سے ہی ماننے سے اِنکار کیا ہے،کشمیر کل بھی پاکستان کا تھا اور آج بھی پاکستان کا ہے اور آئندہ بھی پاکستانیوں اور کشمیریوں کے دل ایک ساتھ دھڑکیں گے ،کشمیر کو نہ ماضی میں کوئی پاکستان سے جُدا کرسکاہے اور نہ کوئی کبھی کرسکے گا،کہاجاتا ہے کہ جب تک کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں بن جاتاہے۔ بیشک ، اُس وقت تک یقینی طور پر پاکستان کی تکمیل کا تصور پورا نہیں ہوگا۔زبردستی کوئی کشمیر پر قابض نہیں رہ سکتاہے۔اِس سے اِنکار نہیں کہ جب بھی بھارت میں الیکشن قریب آتے ہیں ، بھارتی حکمران، سیاستدان اپنی جیت کیلئے پاک بھارت جنگ کے آثار پیدا کردیتے ہیں۔ اور کشمیری عوام پر جدید اسلحہ سے لیس بھارتی افواج کو درندگی کے لئے بے لگام چھوڑدیا جاتا ہے۔ ا بھی بھارت میں انتخابات ہونے کو ہیں، اِسی لئے مقبوضہ کشمیر میں نہتے معصوم کشمیریوں پر بھارتی افواج کی ظلم و ستم کی داستان عروج پر پہنچ چکی ہے، اِس طرح بھارتی حکمران الیکشن تو جیت نہیں سکتے مگر اتنا ضرور ہے کہ اَب کشمیر یوں کی آزادی کا جشن دوگام پرہے۔آج چائے بیچنے والے بھارتی وزیراعظم کی پاکستان کو جنگ کی گیدڑبھبکیاں سمجھ سے بالاتر ہیں، کیوں کہ سانحہ پلوامہ بھارتی افواج کااپنا ڈرامہ ہے،آج جِسے رچا کر بھارتی حکمرانوں، سیاستدانوں، برقی و پرنٹ میڈیا اور ہندوستانی افواج کے سربراہان نے پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈاجاری رکھاہواہے اور خطے میں جنگی جنون کو ہوادے رکھی ہے ،حالانکہ پلوامہ واقعہ کو جواز بنا کر بھارتیوں کی جانب سے خطے میں جنگی جنون کا ماحول پیدا کیا جانا ، جہاں باعث تشویش ہے تو وہیں ، ایک قوی خیال یہ بھی جنم لے چکا ہے کہ اِس واقعے میں جتنے بھی بھارتی فوجی مرے ہیں، یہ سب وہ بھارتی فوجی تھے۔ اکثرجو اپنی اعلیٰ فوجی قیادت اور بھارتی حکمرانوں کی پالیسی سے ناراض رہتے تھے ۔جن کے کئی حوالوں سے ریکارڈ خراب تھے۔ دوران ڈیوٹی یہ اپنے اعلیٰ افسران کے احکامات ماننے سے بھی انکار کرتے تھے۔ جن کی وجہ سے بھارتی افواج کا ماحول خراب ہورہاتھا،اور افواج میں اپنی اعلیٰ فوجی قیادت اور حکمرانوں و سیاستدانوں کے خلاف بغاو ت کا عنصر جنم لے رہاتھا ،سو بھارتی افواج کی اعلیٰ قیادت اور حکمرانوں نے مل کر اِنہیں راستے سے ہٹانے کے لئے پلوامہ کا سارا ڈرامہ رچایا ، یوں اپنے ہی ہاتھوں ایک ڈرامائی انداز سے باغی فوجیوں کاصفایا کردیا۔جنہیں بھارتیوں نے مارنے کا یہ وقت چنا جب پاکستان سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورے میں مصروف تھا اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مذہبی ، سماجی، سیاسی، معاشی اوراقتصادی رشتوں کی مضبوطی کیلئے سعودی ولی محمد بن سلمان پاکستان کے تاریخی دورے پر آنے والے تھے ۔اِس ٹائم فریم کا فائدہ اُٹھا تے ہوئے ، سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد سے ٹھیک چند دنوں قبل بھارتی حکمرانوں اور افواج نے اپنے ایجنٹوں سے اپنی ہی فوجیوں کی بس پر حملہ کروایا اور اِنہیں مروا کر سارا الزام پاکستان کے سر مار دیا تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کا جواز پیداکیا جاسکے۔ اورہمیشہ کی طرح دنیا میں بھارت کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھا کر بھی اچھا بنارہے ۔اور پاکستان کے حصے میں سِوائے بدنامی کے کچھ نہ آئے ، اِس سے اِنکار نہیں ہے کہ امریکا کے سانحہ نائن الیون کی طرح بھارتیوں نے بھی سانحہ پلوامہ خود رچایا اور الزام پاکستان کو دے دیاہے۔تاہم گزشتہ منگل کو پلوامہ حملے کے بعد خطے میں سرچڑھتے بھارتی جنگی جنون کے آگے بندھ باندھتے ہوئے؛ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں دوٹوک انداز سے بھارتی وزیراعظم نرریندرمودی کو خبردار کرتے ہوئے کہہ دیاہے کہ ’’کسی بھی بھارتی حملے کی صُورت میں سُوچیں گے نہیں،پہلا اور آخری بھرپور جواب دیں گے، جنگ شروع کرناآسان ، ختم کرنا اِنسان کے بس میں نہیں‘‘ ہم خطے میں مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل اور کشیدگی کے دیر پاحل اوردونوں ممالک کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لئے مذاکرات کا راستہ اپنانے کو ترجیح دیتے ہیں، بھارت کو پلوامہ واقعے کی تحقیقات کرنی چاہئے تھی ،بغیر تحقیقات کے الزام تراشی کرنا دونوں ممالک کے لئے مسائل پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے،وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں بھارتیوں کو یقینی دہانی کراتے ہوئے ، پلوامہ واقعے کی تحقیقات کی پیشکش بھی کی ہے۔ اور یہ بھی کہہ دیاہے کہ ثبوت دیئے جائیں تو خود ایکشن لوں گا،بھارت کو بھی سوچ بدلنی ہوگی، بھارت نے بغیرشواہد کے پاکستان پر الزام لگایااور یہ نہیں سوچاکہ اِس میں پاکستان کا کیا فائدہ؟جنگی جنون میں مبتلاایک سازش کے تحت پلوامہ واقعے کو پاکستان سے نتھی کرتے ہوئے۔ چائے بیچنے والے ایب نارمل بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے خطے میں پاک بھارت طبل جنگ بجادیاہے، اگرواقعی بھارت کی جانب سے کسی بھی وقت کسی بھی محاذ پرجنگ چھڑی تو یہ بھارت کی بقاء وسالمیت کے لئے چیلنج ہوگی، پاکستان اپنے دفاع میں ایک لمحہ ضائع کئے بغیر جنگ کا فیصلہ کُن وار کرنے میں حق بجانب ہوگا،کیوں کہ پاکستان پہلے ہی کہہ چکاہے کہ کسی بھی مسئلے کا حل سِوائے مذاکرات کے جنگ نہیں ہے، مگر پھر بھی ہٹ دھرمی پر قائم بھارتی حکمران ، سیاستدان ، میڈیا ، عسکری قیادت اور بھارتی عوام جنگ کے خواہشمند ہیں۔ تو پھر اپنی یہ خواہش بھی پوری کرکے دیکھ لیں، اگر بھارتی بچ گئے تو دیکھ لیں گے ، فتح پاکستان کا مقدر بنے گی اور شکست کی خاک بھارتیوں کے حصے میں آئے گی۔

شام میں خود کش کار بمبار حملے میں 20 افراد ہلاک

دمشق: شام میں سیریئن ڈیموکریٹک فورس کے قافلے پر خود کش کار بم حملے میں 20 کرد جنگجو ہلاک ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورس کے ایک قافلے پر خود کش حملہ آور نے بارودی مواد سے بھری گاڑی دھماکے سے ٹکرادی جس کے نتیجے میں 20 کرد جنگجو ہلاک ہوگئے۔

دھماکا اس وقت کیا گیا جب سیریئن ڈیموکریٹک فورس کا ایک قافلہ داعش کے زیر تسلط آخری ٹھکانے باغوز سے شہریوں کو منتقل کر رہا تھا تاکہ داعش کے خلاف حتمی اور فیصلہ کن کارروائی کی جا سکے۔

خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق کرد باغیوں سے ہے جنہوں نے داعش کی خلافت کے اعلان کے بعد امریکی حمایت یافتہ مسلح گروہ میں شمولیت اختیار کی تھی اور تب سے داعش کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

حملے میں عام شہریوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں تاہم اس حوالے سے متضاد اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ امکان ہے کہ 20 ہلاکتوں میں سے 6 شہریوں کی ہیں۔

 

کراچی میں ہوٹل کا مضر صحت کھانا کھانے سے 5 بچے جاں بحق

کراچی: صدر کے علاقے میں واقع نوبہار ریسٹورنٹ سے مضر صحت کھانا کھانے کے بعد 5 بچے جاں بحق ہوگئے جب کہ بچوں کی والدہ اور پھوپھو کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

کراچی کے ہوٹل میں مضر صحت کھانا کھانے سے 5 بہن بھائی جاں بحق ہوگئے جب کہ بچوں کی والدہ اور پھوپھو کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں والدہ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، جاں بحق بچوں میں ڈیڑھ سال کاعبدالعلی، 4 سال کا عزیز فیصل، 6 سال کی عالیہ، 7سال کا توحید اور 9 سال کی سلویٰ شامل ہے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ فیملی کے سربراہ کا نام فیصل زمان ہے جن کا تعلق کوئٹہ کے علاقے خانوزئی سے ہے، متاثرہ فیملی نے صدر کے علاقے میں نوبہار ریسٹورنٹ نزد پاسپورٹ آفس سے بریانی کھائی تھی جب کہ فیملی نے کل دوپہر کا کھانا خضدار میں کھایا تھا۔

وزیراعلیٰ سندھ نوٹس؛

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے زہریلا کھانا کھانے سے 5 بچوں کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ فوڈ اتھارٹی سے رپورٹ طلب کرلی ہے، وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کی ہر قسم کی مدد کی جائے، اس قسم کے واقعات ناقابل برداشت ہیں۔ مشیر اطلاعات سندھ مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ واقعے پر فوڈ اتھارٹی سے رپورٹ طلب کرلی ہے جب کہ ذمے داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ریسٹورنٹ سیل؛

دوسری جانب پولیس اور سندھ فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں نوبہار ریسٹورنٹ پہنچ گئیں، جہاں ہوٹل کو سیل کرنے کے بعد ریسٹورنٹ سے کھانوں کے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں جب کہ حکام نے ایک شخص کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

متاثرہ فیملی کو نیشنل اسٹیڈیم کے قریب نجی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، ترجمان نجی اسپتال کا کہنا ہے کہ پانچوں بچوں کو اسپتال لایا گیا جو جاں بحق ہوگئےہیں، موت کس وجہ سے ہوئی ہے تحقیقات کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل بھی کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز فور میں واقع نجی ریسٹورنٹس سے کھانا کھانے کے بعد 2 بچوں اور والدہ کی طبیعت خراب ہوگئی تھی، بچوں اور ان کی والدہ کو نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں بچے جانبرنہ ہوسکے اور دم توڑ گئے، ایک بچے کی عمر ڈیڑھ سال اور دوسرا 5 سال کا تھا۔

سام سنگ گلیکسی ایس 10 پاکستان میں پری آرڈر میں دستیاب

سام سنگ نے رواں سال کے پہلے فلیگ شپ فون گلیکسی ایس 10 کے 2 ماڈلز کو پاکستان میں پری آرڈر میں فروخت کے لیے پیش کردیا، ان فونز کو کمپنی نے گزشتہ روز ہی متعارف کرایا تھا۔

سام سنگ نے یہ فون 20 فروری کو سان فرانسسکو میں ایک ایونٹ کے دوران پیش کیے تھے۔

پاکستان میں کمپنی کی جانب سے گلیکسی ایس 10 اور گلیکسی ایس 10 پلس کو پری آرڈر میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

یہ فونز گزشتہ سال کے ماڈل کے مقابلے میں کچھ بڑے ہیں، گلیکسی ایس 10 6.1 انچ ڈسپلے، 3 بیک کیمروں کا سیٹ اپ اور ایک سیلفی کیمرا کے ساتھ ہے، جبکہ گلیکسی ایس 10 پلس میں 6.4 انچ ڈسپلے ہول پنچ ڈوئل کیمرا سیٹ اپ کے ساتھ موجود ہے۔ یہ فون بھی سابقہ ماڈل کی طرح واٹر ریزیزٹنٹ اور ڈسٹ پروف ہے۔

گلیکسی ایس 10 میں 3400 ایم اے ایچ جبکہ گلیکسی ایس 10 پلس میں 4100 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے ، جو کہ کسی بھی گلیکسی ایس فون میں اب تک کی سب سے طاقتور بیٹری ہے۔

دونوں فونز میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر اور بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ ہے، جن میں سے ایک 16 میگا پکسل الٹرا وائیڈ اینگل لینس ہے، دوسرا 12 میگا پکسل وائیڈ اینگل جبکہ تیسرا 12 میگا پکسل ٹیلی فوٹو کیمرا ہے۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ گلیکسی ایس 10 سیریز اس کے اب تک کے بہترین فلیگ شپ فونز ہیں اور اب اس کے 2 ماڈل پاکستان میں بھی آن لائن فروخت کے لیے پیش کردیئے گئے ہیں۔

ایس 10 پلس — فوٹو بشکریہ سام سنگ
ایس 10 پلس — فوٹو بشکریہ سام سنگ

گلیکسی ایس 10 اور ایس 10 پلس کے 8 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج والے ورژن پری آرڈر میں دستیاب ہیں۔

ایس 10 کی قیمت ایک لاکھ 64 ہزار 999 روپے جبکہ ایس 10 پلس کی ایک لاکھ 79 ہزار 999 روپے رکھی گئی ہے۔

سام سنگ نے پاکستان میں پری آرڈر پر بکنگ کرانےوالے افراد کے لیے کچھ انعامات بھی رکھے ہیں۔

دونوں میں سے کسی بھی فون کو پری آرڈر میں بک کرانے پر 10000 ایم اے ایچ بیٹری پیک اور لیول یو پرو وائرلیس ہیڈفون مفت دیا جائے گا جن کی مالیت لگ بھگ 10 ہزار روپے بنتی ہے۔

یہ فون پاکستان میں دو رنگوں میں دستیاب ہیں اور اس لنک پر جاکر آپ پری آرڈر کرسکتے ہیں

Google Analytics Alternative