Home » Author Archives: Admin (page 30)

Author Archives: Admin

وزارت داخلہ نے حسن اورحسین نوازکے پاسپورٹ بلاک کردئیے

اسلام آباد: وزارت داخلہ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے دونوں بیٹوں حسین اورحسن نوازکے پاسپورٹ بلاک کردئیے ہیں۔

نیب نے وزارت داخلہ کے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ڈائریکٹوریٹ کو حسین اورحسن نواز کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرکے ان کا پاسپورٹ بلاک کرنے کی درخواست کی تھی۔ وزارت داخلہ نے نیب کی سفارش پر نواز شریف کے دونوں بیٹوں حسن اورحسین نواز کے پاسپورٹ بلاک کردیئے، دونوں پاکستانی پاسپورٹ پر سفر نہیں کرسکیں گے۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے نیب ریفرنسزمیں باربار طلب کیے جانے کے باوجود عدم پیشی پر حسین اورحسن نوازکو اشتہاری قراردے کر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کررکھے ہیں۔

 

پہلی مسلم خاتون امریکی کانگریس کی رکن بننے کیلئے تیار

امریکی ریاست مشی گن کی سابق قانون ساز راشدہ طلیب کانگریس کی نشست کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔

نامزدگی کے بعد وہ امریکی کانگریس کی رکن بننے والی پہلی مسلم خاتون ہوں گی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے پی’ کے مطابق ڈسٹرکٹ 13 میں ہونے والے انتخاب میں ری پبلکن اور کسی تیسری جماعت کے امیدوار نے حصہ نہیں لیا، جس کے باعث نومبر میں ہونے والے انتخاب میں راشدہ طلیب کی فتح کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

راشدہ طلیب اس نشست پر 1965 سے براجمان رکن جون کونیرز کی جگہ لیں گی، جنہوں نے گزشتہ سال دسمبر میں طبی مسائل اور ہراسانی کے الزامات پر عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

جون کونیرز کی مدت پوری کرنے کے لیے ہونے والے خصوصی انتخاب میں راشدہ طلیب اور ڈیٹ روئٹ سٹی کونسل کی صدر برینڈا جونز کے درمیان کڑا مقابلہ ہے۔

نومبر میں ہونے والے انتخاب میں جیتنے والے امیدوار کو کسی مخالفت کا سامنا نہیں ہوگا۔

پریانکا نے فلم ’بھارت‘ چھوڑنے کی غلط وجہ بتائی، سلمان چراغ پا

بالی وڈ اداکار سلمان خان فلم ’بھارت‘ میں کردار ادا کرنے سے انکار پر پریانکا چوپڑا پر پھٹ پڑے۔

پریانکا چوپڑا اور سلمان خان طویل عرصے بعد ایک ساتھ فلم ’بھارت‘ میں نظر آنے والے تھے لیکن پریانکا نے شوٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی فلم کو خیرباد کہہ دیا۔

پریانکا کی جانب سے فلم چھوڑنے کے بعد سلمان خان کی ناراضی کی خبریں سامنے آئی تھیں اور مختلف تقریبات میں بھی سلومیاں نے پریانکا کے فلم چھوڑنے سے متعلق سوالات پر خاموشی اختیار کیے رکھی تھی لیکن اب انہوں نے اپنے بہنوئی کی فلم ٹریلر لانچ کی تقریب میں سارا غصہ اتار دیا ہے۔

سلمان خان نے اپنے پروڈکشن ہاؤس کے بینرتلے بننے والی فلم ’لو راتری‘ کی ٹریلر لانچ کی تقریب میں شرکت کی جہاں انہوں نے صحافیوں کے کئی سوالوں کے جواب دیئے ۔

صحافی کی جانب سے پریانکا کے فلم چھوڑنے سے متعلق سوال پر سلمان خان کا کہنا تھا کہ پریانکا میرے گھر آئیں اور انہوں نے فلم چھوڑنے کا بتایا جس پر میں نے کہا کہ کوئی بات نہیں اگر آپ میرے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پریانکا نے اس وقت ہمیں فلم چھوڑنے کی کوئی اور وجہ بتائی تھی لیکن بعد میں وجہ کچھ اور ہی نکلی ہے حالاں کہ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں پریانکا کے لیے بے حد خوش ہوں ، اگر ہمیں پہلے پتا ہوتا کہ انہوں نے ہالی وڈ کی کوئی بڑی فلم سائن کی ہوئی ہے تو ہم انہیں کبھی نہ روکتے لیکن ہمیں ان کے فلم چھوڑنے سے متعلق اس وقت پتا چلا جب ان کی شوٹنگ شروع ہونے میں 10 دن رہ گئے تھے۔

ایک اور سوال کے جواب میں سلو میاں نے کہا کہ ‘پریانکا سلمان کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتی ہیں تو کوئی بات نہیں، وہ ہالی وڈ کے بڑے ہیرو کے ساتھ کام کرلیں’۔

یاد رہے کہ فلم ’بھارت‘ کی شوٹنگ جاری ہے جس میں پریانکا کی جگہ اب کترینہ کیف مرکزی کردار میں نظر آئیں گی جب کہ فلم کی کاسٹ میں کامیڈین سنیل گروور، ڈشا پٹانی سمیت دیگر اداکار شامل ہیں۔

سام سنگ گلیکسی ایس 7 فون میں سنگین سیکیورٹی خامی کا انکشاف

اگر تو آپ سام سنگ کا نیا اسمارٹ فون گلیکسی ایس 7 استعمال کررہے ہیں تو بری خبر یہ ہے کہ محققین نے اس میں سنگین سیکیورٹی مسائل کی نشاندہی کی ہے۔

آسٹریا کی Graz ٹیکنیکل یونیورسٹی کے محققین کے مطابق سام سنگ گلیکسی ایس 7 میں مائیکرو چپ سیکیورٹی خامی کی وجہ سے اس کی ہیکنگ کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ میلٹ ڈاﺅن نامی خامی ہیکرز کے حملے کو کامیاب بنانے کا باعث بن سکتی ہے۔

سام سنگ کو ماضی میں اس خامی سے محفوظ سمجھا جاتا تھا جو کہ اکثر کمپیوٹنگ ڈیوائسز کے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔

کمپنی نے بھی اس حوالے سے تسلیم کیا کہ اس نے ایک سیکیورٹی اپ ڈیٹ تیار کرکے گلیکسی ایس 7 فونز کو میلٹ ڈاﺅن سے بچانے کے لیے گزشتہ ماہ صارفین تک پہنچانا شروع کی تھی۔

اس خامی کے ذریعے ہیکرز کو ڈیوائسز میں موجود حساس معلومات پڑھنے کا موقع ملتا ہے جبکہ گزشتہ دہائیوں میں اس کی وجہ سے لاکھوں چپس متاثر ہوچکی ہیں۔

انٹیل اور مائیکرو سافٹ نے رواں سال مئی میں میلٹ ڈاﺅن کے نئے ورژن کو دریافت کیا تھا جس کی وجہ سے وہ نئی سیکیورٹی اپ ڈیٹس ریلیز کرنے پر مجبور ہوگئی تھیں۔

ماضی میں بھی سام سنگ فونز کی سیکیورٹی کے حوالے سے کئی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔

جون 2015 میں ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سام سنگ کے ساٹھ کروڑ گلیکسی سمارٹ فونز کی باآسانی جاسوسی ممکن ہے۔

لندن میں منعقدہ ’بلیک ہیٹ‘ کانفرنس میں موجود سائبر سیکیورٹی فرم ’ناؤ سیکیور‘ کے ایک محقق ریان ویلٹن کے حوالے سے بتایا کہ ان فونز میں پہلے سے موجود ایک خامی کی وجہ سے صارف کی سائبر سیکیورٹی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ سام سنگ گلیکسی کے ساٹھ کروڑ ایس تھری سے ایس سیکس فونز میں پہلے سے انسٹال شدہ ’سوئفٹ کی‘ کی بورڈ کو ہیک کر کے صارف کی معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا کہ ہیکرز گلیکسی صارف کی جاسوسی کرتے ہوئے سینسرز، جی پی ایس، کیمرہ اور مائیکرو فون تک رسائی پا سکتے ہیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کےلیے سمری بھجوادی، نگراں وزیر اطلاعات

اسلام آباد: نگراں وفاقی وزیر اطلاعات علی ظفر کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 12 سے  14 اگست کے درمیان بلانے کے لئے سمری بھجوادی گئی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے علی ظفر نے کہا کہ انتخابات کا انعقاد ہمارا اصل کام تھا اور یہ ذمہ داری ہم نے پوری کردی ہے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے نوٹی فکیشن جاری ہونے کا انتظار تھا، اب معمولات آنے والی حکومت  سنبھالے گی اور ہم اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائیں گے۔

نگراں وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ  آئین کے تحت 15 اگست سے پہلے اجلاس بلانا لازمی ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے سمری ارسال کردی گئی ہے جس میں 12 سے  14 اگست کے درمیان قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لئے کہا گیا ہے۔

اجلاس میں نومنتخب ارکان اسمبلی حلف اٹھائیں گے، حلف برداری کے بعد اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہوگا، اجلاس میں قائد ایوان کا انتخاب بھی کیا جائے گا۔

اسلام آباد: ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں اسکینڈل منظر عام پر

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) حکام اسلام آباد اور راولپنڈی میں ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں ایک اسکینڈل منظر عام پر لے کر آئے ہیں جس میں سیکڑوں لوگوں نے سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔

نیب راولپنڈی کے مطابق نیشنل ہاؤس بلڈنگ اینڈ روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایچ بی آر ڈی سی) کے خلاف بڑے پیمانے پر عوام کے ساتھ مبینہ دھوکا دہی کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

نیب کو لاہور، پشاور، حیدر آباد، ڈیرہ غازی خان، لاہور، رحیم یار خان، فیصل آباد اور آزاد کشمیر سے درجنوں شکایات موصول ہوئیں۔

شکایت گزاروں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے کمپنی کی جانب سے ٹیلی ویژن پر دیے گئے اشتہار کے بعد نیشنل گارڈن، ڈیفنس ویلی، نیشنل ٹاؤن، سر سید ٹاؤن، نیو اسلام آباد سٹی، ڈیفنس ایونیو میں پلاٹ خریدے تھے۔

انہوں نے کہا کہ 24 سال گزرجانے کے باوجود انہیں پلاٹ کا قبضہ نہیں مل سکا ہے۔

شکایت کنندگان کی درخواست کی تصدیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزم عوام کو اشتہارات کے ذریعے مختلف اسکیم میں دھوکا دیا کرتا تھا۔

چونکہ یہ تشہیر پورے ملک میں کی جاتی تھی اسی وجہ سے ملزم کو یقین تھا کہ کچھ لوگ اس کے دھوکے میں ضروت آجائیں گے۔

تحقیقات میں بات سامنے آئی کہ ملزم ابتدائی سرمایہ کاری کے بعد انہیں پلاٹس کو 7 یا 10 سال بعد دوسری اسکیم میں منتقل کر دیتا تھا۔

نیب راولپنڈی کے ڈائریکٹری جنرل عرفان نعیم منگی کا کہنا ہے کہ نیب لوٹی ہوئی رقوم کو عوام تک پہنچانے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔

تاہم ان کہنا یہ بھی کہنا تھا کہ غیر مجاز ہاؤسنگ اسکیموں میں زیادہ منافع کی لالچ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ضرور ہونی چاہیے۔

انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ حکومت سے منظور شدہ بینکنگ نظام اور سرمایہ کار کمپنیوں کے ذریعے سرمایہ کاری کریں۔

شکیب الحسن کی امریکا میں ہم وطن شائق سے الجھنے کی ویڈیو وائرل

لائوڈرہل:  بنگلہ دیشی ٹیسٹ اور ٹوئنٹی 20 کپتان شکیب الحسن کی امریکا میں ایک ہم وطن شائق سے الجھنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

فیس بک پر حسن ابن پاشا نے یہ ویڈیو پہلی بار شیئر کی جس میں ہوٹل میں شکیب کو ایک شائق سے الجھتے ہوئے دکھایا گیا جس نے ٹیم جرسی پہنی ہوئی تھی تاہم اس کے دونوں ہاتھ ٹرائوزر کی پاکٹس میں تھے، شکیب کافی برہم دکھائی دے رہے تھے، درشت انداز میں کچھ کہنے کے بعد وہ وہاں سے ہٹے مگر پھر واپس پلٹ کر اس شائق کے پاس پہنچے۔ اس بار انھیں قریب موجود تمیم اقبال و دیگر نے روک دیا اور وہاں سے لے گئے۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں جاری طلباء احتجاج کے حوالے سے شکیب نے چند روز قبل حکومت کی حمایت کی تھی جس پر انھیں شدید تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا، اس پر انھیں وضاحت دینا پڑگئی تھی۔

دُوہری شہریت ،عوام اور قومی سلامتی

rana-biqi

گزشتہ سے پیوستہ
پاکستان میں دوہری شہریت کا مسئلہ اِس لئے بھی گھمبیر شکل اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ دوہری شہریت کے حامل افراد کیلئے بیرونی ممالک میں ذاتی اکاؤنٹ کھولنا اور اِن اکاؤنٹس میں پاکستان سے رقومات منتقل کرنا کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے جبکہ دوہری شہریت کے حامل افرادکی حمایت میں ایسی سیاسی شخصیتیں پیش پیش نظر آتی ہیں جو بیرونی ممالک کے ایجنڈے پر عمل درامد کے حوالے سے نظریہ پاکستان کے حامی عام لوگوں کو قومی سلامتی سے بدظن کرنے کیلئے قانون و آئین کے منافی نِت نئی سیاسی موشگافیاں استعمال کرنے میں پیش پیش ہیں حتیٰ کہ ملک میں الیکشن 2018 کے بعد عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے بجائے دھاندلی کی سیاسی موشگافیوں میں اُلجھانے میں مصروف رہے ہیں۔ درحقیقت مسلمہ جمہوری روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کسی بھی عام انتخابات میں ماضی کی حکومت کی کارکردگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے ووٹ کے ذریعے تبدیلی لانے یا ماضی کی حکومت کو دوبارہ مینڈیٹ دینے کے حوالے سے ہی فیصلہ کرتے ہیں ۔البتہ جمہوری ملکوں میں ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ سیاسی جماعتیں عوام کے مینڈیٹ کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کریں۔ حقیقت یہی ہے کہ ملک میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی ڈیل کی پالیسی کے دس سالہ پُرآشوب دورِ حکومت میں حکمرانوں نے سیاست کو کرپشن ، بدعنوانی اور اقربہ پروری کا کاروبار ہی بنا کر رکھ دیا تھا ۔ جبکہ وقت کی بیداری کی لہر کو سمجھتے ہوئے عوام جان چکے ہیں کہ حکمران طبقے نے ملکی آئین و قانون کو موم کی ناک بنا کر ملک میں جمہوری نظام کو مافیائی اجارہ دار اشرافیہ Aristocracy میں تبدیل کر کے عوامی مینڈیٹ کو ہی مسخ کرکے رکھ دیا تھا جہاں ملکی قومی سلامتی کو پس پشت ڈالتے ہوئے یہ مافیائی حکومت دھونس زبردستی اور حکومتی صفوں میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کو اشرافیہ کے گلے کا ہار بنا کر بار بار اقتدار کی غلام گردشوں پر قبضہ کرنا ہی اپنا مقصد حیات سمجھتی ہے۔ چنانچہ موجودہ انتخابات کے مکمل نتائج ظاہر ہونے سے قبل ہی اِس مافیائی اجارہ دار اشرافیہ نے انتخابی سیاسی ہار کو تسلیم کرنے کے بجائے جے یو آئی کے مولانا فضل الرحمن ، اے این پی کے اسفند یار ولی، بلوچستان کے محمود اچکزئی ، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ اور ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار پیش پیش تھے جنہوں نے عوامی مینڈیٹ کے خلاف ملک میں احتجاج اور خلفشار کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی جسے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی سیاسی قیادت کی بھرپور حمایت حاصل رہی۔ بہرحال عوام الناس نے سابق حکمرانوں اور اُن کے اتحادیوں کے طاغوتی سیاسی حربوں کو سمجھتے ہوئے ایسی کسی تحریک میں شمولیت سے گریز کیا چنانچہ عوامی عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے اِن جماعتوں نے بل آخر اسمبلیوں میں جانے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے۔
درحقیقت پاکستانی عوام اپنے وطن کیلئے جان قربان کرنے والی فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول پولیس کے شہیدوں کو کبھی نہیں بھلا سکیں گے جن کے شانہ بشانہ پاکستان کے ستر ہزار سے زیادہ عوام نے بھی جام شہادت نوش کیا ہے۔ پاکستانی عوام اپنے ملک سے محبت کرنے والے لوگ ہیں چنانچہ موجودہ انتخابات میں عوامی ردعمل کرپٹ مافیائی اجارہ دار نظام اور وطن فروشوں کے ایجنٹوں کیخلاف اچھائی کی آواز کے طور پر بلند ہوا ہے۔ عوام ہی نہیں بلکہ ملک کے مقتدر ادارے بھی ملک میں سیلابی پانی کی چادر کی طرح پھیلتی ہوئی کرپشن ، بدعنوانی اور اقربہ پروری سے حیران پریشان رہے ہیں۔ اجارہ دار مافیائی اشرافیہ کی کرپشن کے سامنے قومی نظامِ حکومت کا تسلیم شدہ دائرہ کار (Established State Crafts) ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا اور ہر سطح پر یہ محسوس کیا جانے لگا تھا کہ ریاستی نظام اندھیر نگری چوپٹ راج کے محاورے سے بھی آگے نکل گیا ہے لیکن جمہوری ملکوں میں عوام کی رائے سے ہی تبدیلی ممکن ہوتی ہے لہٰذا چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے ملکی دگرگوں حالات کو محسوس کرتے ہوئے حکومتی اقدامات کو انتہائی زنگ آلود پاتے ہوئے صحت، ہسپتالوں کی حالت زار، صاف پانی، تعلیم اور ریاستی تعلیمی اداروں کی حالت زار ، بیرونی اور گردشی قرضوں کی بد انتظامی ، ڈیموں کی تعمیر سے پہلو تہی اور پنجاب میں سرکاری سرپرستی میں 56 پرائیویٹ کمپنیوں میں کرپشن کی بھرمار کو دیکھتے ہوئے اپنی آبزرویشن دینی شروع کی تو عوام کیلئے یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ اِس مافیائی ریاستی نظام نے ہی ملک میں غربت و افلاس کو آخری حدوں تک پہنچا دیا ہے جسے آنے والے انتخابات کے ذریعے ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے چنانچہ یہی وہ فکر تھی جس نے عمران خان کی تسلسل سے جاری جدوجہد عوامی سطح پر مقبولیت کا سبب بنی اور بل آخر الیکشن 2018 میں اب یہ تبدیلی ممکن ہوتی نظر آ رہی ہے۔
درج بالا تناظر میں مولانا فضل الرحمن ، اسفند یار ولی، محمود خان اچکزئی اور دیگر ہارے ہوئے سیاست دان انتخابی نتائج موصول ہونے کے باوجود عوامی مینڈیٹ اور اپنی شکست کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ وہ یہ بھی ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کی کرپشن، منی لانڈرنگ پر مبنی مافیائی پالیسیوں کے انکشافات نے غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزانے والی جمہوری اکثریت کو خدائی قوتوں کی حرمت نے خوابِ خرگوش سے جگا دیا ہے اور اُنہوں نے وزیرستان سے لیکر کراچی تک اپنی ووٹ کی قوت سے اشرافیہ کی اجارہ دار مافیائی طاقت کو شکست دے دی ہے۔درحقیقت ، یہی وہ غربت و افلاس کی ماری ہوئی جمہوری اکثریت ہے جس نے قومی یکجہتی کیساتھ قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی تحریک پاکستان کا دست و بازو بن کر پاکستان بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان کے یہ غیور عوام جانتے ہیں کہ مولانا مفتی محمود کی قومی سیاسی بصیرت کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمن نے اپنی ساری سیاسی زندگی میں قوم اور ملک کی بہتری کے بجائے محض ذاتی مفادات کی سیاست کو ہی ترجیح دی ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ اسفند یار ولی پاکستان کی سربلندی کیلئے کام کرنے کے بجائے بھارتی ایجنڈے پر ہی کام کرتے رہے ہیں ۔ پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ وہ کالا باغ ڈیم کو اپنی لاشوں پر بنانے کی بات تواتر سے کرتے رہے ہیں جبکہ پاک افغان بارڈر (ڈیورنڈ لائن) کے حوالے سے اُن کا موقف بھارت اور شمالی اتحاد کی افغان حکومت کے حوالے سے پاکستان میں سیاسی خلفشار پیدا کرنے کے مترادف ہی رہا ہے ۔اُن کا یہ کہنا کہ ڈیورنڈ لائن کا صفایا کرکے خیبر پختون خواہ ، وزیرستان ، بلوچستان اور افغانستان کے پختون علاقوں پر مثتمل پختونوں کی علیحدہ ریاست قائم کی جائے درحقیقت پاکستان کو توڑنے کے مترادف ہی سمجھا جائیگا ۔ یہی وہ ایجنڈا ہے جس پر نواز شریف کے خاص اتحادی محمود خان اچکزئی بھی اسفند یار ولی کے ہمراہ پاکستان دشمن فکر کو ہوا دیتے رہے ہیں ، دراصل پاکستان کو توڑنے کے بھارتی ایجنڈے کے ممکنہ نقصانات کو سمجھتے ہوئے پختون نوجوانوں نے جو پاکستان کیلئے بیشمار قربانیاں دے چکے ہیں خیبر پختوں خواہ اور بلوچستان میں اپنے ووٹ کی طاقت سے پاکستان دشمن ایجنڈے کو بل آخر شکست فاش سے دوچار کر دیا ہے۔ شریف فیملی کی کرپشن کے منکشف ہونے پر سپریم کورٹ اور قومی احتساب بیورو کی کرپشن کے خلاف اجتمائی کوششیں اپنی جگہ مستحسن ہیں۔ پنجاب میں دھیلے کی کرپشن پر مستعفی ہونے کا بار بار اعلان کرنے والے خادم پنجاب کے گرد آشیانہ و صاف پانی کی اسکیموں کے علاوہ سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والی56 کمپنیوں میں ہونے والی اربوں کی کرپشن کے حوالے سے گھیرا ہوتا جا رہا ہے جبکہ آصف علی زرداری اور اُن کی ہمشیرہ منی لانڈرننگ انکوائری میں ایف آئی اے کے سامنے اپنی بیگناہی ثابت کرنے کے بجائے انقوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے ہی گریز کر رہے ہیں۔ چنانچہ اِن تمام حقائق کے سامنے آنے پر عوام نے اپنے وطن کی محبت میں سرشار ہوکر قومی سلامتی کے منافی دوہری شہریت کے بیرونی ایجنڈے کو پشاور سے کراچی تک اپنے ووٹ کی قوت سے شکست فاش دیکر قومی اداروں پر اپنے اعتماد کو بحال کر دیا ہے اب یہ عمران خان کی قیادت میں آنے والی نئی مرکزی حکومت کاکام ہے کہ وہ عوام کی اُمنگوں پر پورا اُترتے ہوئے قائداعظم کے فلاحی ریاست کے آدرشوں پر عمل درامد کرتے ہوئے ملک میں امیر و غریب کے درمیان فاصلوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق کم کرکے نہ صرف ملک سے غربت و افلاس کا خاتمہ کرے بلکہ کرپشن و بدعنوانی کے سبب بیرونی قرضوں میں ڈوبی ہوئی مملکت خدادا د پاکستان میں مساواتِ محمدؐی کا بول بالا کر دے بقول اقبال ……… ؂
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائیگی
پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغام سجود
پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہو جائیگی

 

Google Analytics Alternative