Home » Author Archives: Admin (page 30)

Author Archives: Admin

ممبئی حملہ کیس میں تمام پاکستانی گواہوں کے بیانات قلمبند، جرح مکمل

 اسلام آباد: انسداد دہشتگری عدالت نے ممبئی حملہ کیس میں تمام پاکستانی گواہوں کے بیانات قلمبند کرلیے جب کہ ان پر جرح بھی مکمل ہوگئی۔

انسداد دہشتگری عدالت اسلام آباد میں ممبئی حملہ کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے کی۔ استغاثہ کے گواہ زاہد اختر عدالت میں پیش ہوئے اور وکیل صفائی نے ان پر جرح مکمل کرلی۔ عدالت نے کیس میں تمام پاکستانی گواہوں کے بیانات قلمبند کرکے جرح بھی مکمل کرلی۔

ملزمان کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے درخواست کی کہ بھارتی گواہوں سے متعلق حکم جاری کیا جائے، عدالت نے کہا کہ وزرات داخلہ نے 27 بھارتی گواہوں کی دستیابی سے متعلق مہلت مانگ رکھی ہے۔ ملزمان کے وکیل نے کہا کہ وزارت داخلہ تین سال کہاں تھی، اس نے آج تک یہاں کوئی جواب نہیں دیا، یہ نہ ہو 27 جون کو ایک بار پھر وقت مانگ لے۔

فاضل جج نے کہا کہ عدالت نے اپنے حکم نامے میں لکھا ہے کہ 27 جون آخری مہلت ہے۔ پراسیکیوٹر نے وکیل ملزمان سے کہا کہ آپ انتظار کر لیں اگر رپورٹ پیش نہ کی گئی تو بھارتی گواہوں کے بغیر فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 27 جون تک ملتوی کردی۔

ممبئی حملہ کیس میں 87 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جاچکے ہیں۔ مجموعی طورپر 8 ملزمان نامزد ہیں جن میں حماد امین، شاہد جمیل، ظفر اقبال، عبد الواحد، محمد یونس، جمیل احمداور سفیان ظفر جیل میں ہیں جب کہ زکی الرحمان لکھوی بعد از گرفتاری ضمانت پر ہیں۔

عمران خان اقربا پروری اور جنسی ہراسگی میں ملوث ہیں، ریحام خان کا الزام

چیئرمین تحریک انصاف کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان براہ راست اقربا پروری اور جنسی ہراسگی میں ملوث ہیں۔

بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ریحام خان کا کہنا تھا کہ میں نے کتاب میں یہ بات کی ہے کہ کیسے جنسی دباؤ کو سیاسی مقاصد کیلیے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ جنسی ہراسگی کے کئی کیسوں کا براہ راست تحریک انصاف سے تعلق ہے اور عمران خان اقربا پروری اور جنسی ہراسگی میں ملوث ہیں۔

ریحام خان نے کہا کہ پاکستان ایٹمی ملک ہےاور ایسے شخص کے ہاتھوں میں اقتدار دینا انتہائی خطرناک ہے، عمران خان کا اقتدار میں آنا پاکستان کیلئے بڑا رسک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار عمران خان کے ساتھ بیٹھ کر میں نے انہیں کہا تھا کہ آپ کو ووٹ نہیں دوں گی اس بات پر انھوں نے قہقہہ لگایا تھا جب کہ میں اب بھی پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ نہیں دوں گی۔

ریحان خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے نظریات اب تک غیر واضح ہیں اور حالیہ یو ٹرن سے بھی یہ واضح ہے عمران خان انتہاپسندوں کے حامی ہیں اور وہ اسلامی ووٹ بینک کو اقتدار میں آنے کیلیے استعمال کر رہے ہیں۔

فلسطینیوں کا شدید احتجاج: ارجنٹینا نے اسرائیل سے میچ منسوخ کردیا

فلسطین کے شدید احتجاج کے بعد ارجنٹینا کی نیشنل فٹبال ٹیم نے ورلڈ کپ سے قبل اسرائیل سے کھیلا جانے والے دوستانہ میچ منسوخ کردیا۔

ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں اسرائیل اور ارجنٹینا کے درمیان 9 جون کو مقبوضہ بیت المقدس کے ٹیڈی اسٹیڈیم میں دوستانہ میچ ہونا تھا، جو ورلڈ کپ سے قبل ارجنٹینا کا آخری وارم اپ میچ تھا۔

فلسطین کی جانب سے شدید احتجاج سامنے آنے کے بعد ارجنٹینا کی فٹبال ایسوسی ایشن نے 9 جون کو ہونے والا میچ منسوخ کردیا۔

ارجنٹینا کی اسپورٹس ویب سائٹ ‘مینیٹونو’ کے مطابق قومی فٹبال ٹیم کے کپتان لیونل میسی کی ہدایت پر مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والا میچ منسوخ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ارجنٹینا میں فلسطینی سفیر حسنی عبدالوحید نے دوستانہ میچ کی شدید مخالفت کی تھی، جن کا کہنا تھا کہ ارجنٹینا اور اسرائیل کے درمیان اگر میچ ہوا تو اسے اسرائیل کے 70 سالہ قیام پر جشن کے مترادف سمجھا جائے گا۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 1948 میں فلسطین کی سرزمین پر قبضہ کرلیا تھا جس کے 70 سال مکمل ہوگئے۔

ارجنٹینا میں تعینات فلسطینی سفیر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں میچ کا انعقاد ہمارے لیے ناقابل قبول ہے کیوں کہ یہ مقبوضہ علاقہ ہے اور وہاں ایسی ٹیم کو کھیلتا دیکھنا قابل تکلیف ہوگا جس کے حامیوں کی فلسطین اور عرب دنیا میں بڑی تعداد ہے۔

اس سے قبل 70 فلسطینی بچوں کےایک گروپ نے لیونل میسی کو ایک خط لکھا تھا جس میں بچوں نے میسی سے اسرائیل کے خلاف دوستانہ میچ میں شرکت نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔

فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر جبریل رجب کا بھی کہنا تھا کہ لیونل میسی امن اور پیار کی علامت ہیں، اس لیے ہم نہیں چاہیں گے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں کھیلے جانے والے میچ کا حصہ بنیں۔

انہوں نے عرب اور تمام مسلم ممالک میں میسی کے مداحوں سے اپیل کی تھی کہ اگر اسرائیل اور ارجنٹینا کے درمیان میچ ہوا تو میسی اور ارجنٹینا کی شرٹس اور تصاویر کو نذرآتش کردیا جائے۔

تیونس میں کشتی ڈوبنے سے ہلاکتوں کی تعداد 100 تک پہنچنے کا خدشہ

عالمی ادارہ برائے تارکین وطن کے حکام کے مطابق تیونس کے ساحل پر کشتی ڈوبنے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 100 تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

چار روز قبل تارکین وطن سے بھری کشتی تیونس کے ساحل پر ڈوب گئی تھی جس میں تقریباً 190 افراد سوار تھے۔

تیونس میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے حالیہ واقعے کو ہلاکتوں کے حوالے سے سال کا سب سے بڑا واقعہ تصور کیا جا رہا ہے۔

تیونس کی وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ روز تک 51 افراد کی لاشیں نکال لی گئی تھیں جب کہ 68 افراد کو بچا لیا گیا تھا۔

حادثے میں بچ جانے والے ایک شخص نے بتایا کہ زیادہ سے زیادہ 90 افراد کی گنجائش والی کشتی میں 190 کے قریب افراد سوار تھے۔

تارکین وطن کے عالمی ادارے کے مشن چیف برائے تیونس کے مطابق کشتی میں سوار افراد نے سرحد عبور کرنے کے لیے 2000 سے 3000 تیونسی دینار ادا کیے تھے۔

حکام کے مطابق کشتی میں سوار تقریباً 120 افراد کا تعلق تیونس سے جب کہ دیگر کا مراکش اور لیبیا سے تھا۔

سیاستدانوں سے سرکاری گاڑیوں کی واپسی ایک مستحسن اقدام

adaria

عدالت عظمیٰ نے سرکاری افسروں اور وزراء کی جانب سے لگژری گاڑیوں کے غیر مجاذ استعمال کیخلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ان سے گاڑیاں واپس لینے اور چیئرمین ایف بی آر کو ضبط کی گئی گاڑیوں سے متعلق بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 جون تک ملتوی کردی ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے دئیے ہیں کہ کسی سیاستدان کو سرکاری گاڑیوں ر انتخابی مہم نہیں چلانے دیں گے وہ اپنی حفاظت کا انتظام خود کریں ، شہریوں سے ٹیکس اکٹھا کرنے کے ذمہ دار ادارہ ایف بی آر کے اندر اپنے لئے کوئی احتساب نہیں ہے سمگل شدہ گاڑیوں کی وجہ سے مقامی آٹو انڈسٹری بیٹھ گئی ہے خدا کا واسطہ ہے اس قوم کو بددیانتی سے بچائیں ملک کو کدھر لے کر جارہے ہیں ، سرکاری گاڑیاں جمع نہ کرانے والے سیاستدانوں کو ایک ہفتہ بعد2لاکھ یومیہ جرمانہ ہوگا، چیف جسٹس کے ریمارکس لمحہ فکریہ ہیں ،غریب ملک میں افسر شاہی اور وزیروں کے موج میلے نے اداروں کی ساکھ کو نہ صرف کاری ضرب لگائی ہے بلکہ ان کی عیاشیوں سے قومی خزانے کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے لگژری گاڑیوں کے اخراجات قوم برداشت کرتی ہے یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے۔ سیاستدانوں کو سرکاری گاڑیوں پر انتخابی مہم چلانے سے روکنے کیلئے سپریم کورٹ نے جو حکمدیا ہے وہ وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے بیوروکریسی صحیح ڈگر پر چلتی تو ملک کو بیرونی قرضوں پر انحصار نہ کرنا پڑتا۔ سابق حکومت نے ترقیاتی کاموں کیلئے اربوں روپے اراکین اسمبلی کو تفویض کیے جنہوں نے اپنے من پسند ٹھیکیداروں کے ذریعے اس قومی پیسے کو مال غنیمت سمجھ کر لگایا ورک آرڈرز کے تحت بہت کم کام دیکھنے میں آئے کمیشن مافیا نے جڑیں مضبوط کیں اور کرپشن کی صدائیں ہر طرف سنائی دیتی ہیں، کرپشن نے ترقی و خوشحالی کی راہیں مفلوج کررکھی ہیں جس کے خلاف عدالت عظمیٰ ازخود نوٹس کیسز میں اس کی روک تھام کیلئے قابل ستائش احکامات صادر کررہی ہے چیف جسٹس ایک طرف انصاف کی فراہمی کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور دوسری طرف بنیادی انسانی حقوق کیلئے کوشاں ہیں جس سے غریب و عاجز عوام کو آس لگی دکھائی دینے لگی ہے حکومت اپنا فرض نبھاتی عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے اقدامات کرتی ، ملک سے بیروزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ کرتی اور لوگوں کے جان و مال کا تحفظ کرتی اور ملک میں امن و امان قائم کرنے کیلئے موثر اقدام کرتی ، تعلیم و صحت کی سہولتیں بہم پہنچاتی ، بجلی گیس ے بحران پر قابو پاتی لیکن صد افسوس صد افسوس حکومت صاف پانی بھی فراہم نہ کرسکی جو بدن کا اہم جزو ہے ، پانی کے فقدان نے حکومت کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔ چیف جسٹس کا کردار اس امر کا آئینہ دار ہے کہ وہ عاجزو بے بس عوام کو مسائل کی دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں لیکن مسائل و مصائب اتنے ہیں کہ جن کو دیکھ کر ابن آدم رونے لگتا ہے ۔ چیف جسٹس ایک مسیحا کے روپ میں برسرپیکار ہیں عوام کی نگاہیں بھی سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔ کاش زمام اقتدار پر براجماں سابق اشرافیہ اپنے فرائض میں کوتاہی نہ کرتی تو آج یہ حال نہ ہوتا لوگوں کو صاف پانی میسر نہیں علاج کی سہولتوں کا فقدان ہے ملاوٹ زدہ چیزوں کی بھرمار ہے ، عطائی موت کے سوداگر بنے ہوئے ہیں اس صورتحال میں سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس کیسوں سے باقاعدگی اور بے ضابطگی رکے گی اور اصلاح احوال دکھائی دے گا سرکاری افسران اور وزراء سے سرکاری گاڑیوں کی واپسی ایک مستحسن اقدام ہے جس کے دوررس نتائج برآمد ہونگے۔

چھ رکنی نگران کابینہ نے حلف اٹھالیا
چھ رکنی نگران وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ، صدر ممنون حسین نے وفاقی کابینہ سے حلف لیا ایوان صدر میں ہونے والی تقریب حلف برداری میں نگران وزیراعظم جسٹس(ر) ناصر الملک سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی ، حلف اٹھانے والوں میں عبداللہ حسین ہارون، بیرسٹر علی ظفر، روشن خورشید، محمد اعظم خان اور محمد یوسف شامل ہیں ، چھ رکنی کابینہ کو وزارتوں کے قلمدان سونپ دئیے گئے ہیں ، عبداللہ حسین ہارون کو وزارت خارجہ اور نیشنل سیکورٹی جبکہ وزارت دفاع و دفاعی پیداوار کا اضافی چارج ڈاکٹر شمشادا ختر کو دیا گیا ، وزارت خزانہ، شماریات اور وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ وزارت تجارت اور وزارت انڈسٹری و پیداوار کا اضافی چارج اعظم خان اور وزارت داخلہ وزارت کیڈ اور وزارت نارکوٹکس کنٹرول کے ساتھ وزارت بین الصوبائی رابطہ کا اضافیہ چارج بھی ہوگا، سید علی ظفر کو وزارت قانون و انصاف اور وزارت پارلیمانی امور اور وزارت اطلاعات ، یوسف شیخ کو وزارت تعلیم پروفیشنل ٹریننگ کے ساتھ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز اوروزارت مذہبی امور کا اضافیہ چارج بھی دیا گیا ، روشن خورشید کو وزارت انسانی حقوق ، کشمیر ،گلگت بلتستان امور اور وزارت سیفران کا قلمدان دیا گیا ہے۔ نگران وزیراعظم ناصر الملک نے ملک میں جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے لیا ہے۔نگران وزیراعظم نے بدترین لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے کر عوام الناس کے دل جیت لئے ہیں لیکن سابق وزیراعظم کا لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار نگران حکومت کو قرار دینا مضحکہ خیز ہے، یہ ہمارا المیہ ہے کہ جانے والی حکومت آنے والی پر ملبہ ڈال دیتی ہے اور خود اپنی ناقص کارکردگی کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے لیکن عوام اتنے بے سدھ لاشہ نہیں ہیں کہ وہ یہ نہ بھانپ سکیں کہ اقتدار کے مزے لوٹنے والوں نے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر مقدم رکھا جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے ، نگران حکومت نے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے سابق حکومت نے صرف عوام کو خوش کن نعروں اور وعدوں پر ٹرخایا امید ہے کہ نگران حکومت صاف و شفاف انتخابات کروا کر اپنی ذمہ داری سے بطریق احسن سروخرو ہوگی۔
ایس کے نیازی کی پروگرام سچی بات میں گفتگو
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیاز ی نے روزنیوز کے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے کہا ہے کہمیرے میڈیا گروپ کا فوکس پانی کی قلت پر ہے،اگرکہیں پانی میسر ہے تو وہ بھی گندا ہے،وفاقی دارالحکومت میں فلٹریشن پلانٹ خراب پڑے ہیں،پانی کا نہ ہونا اورصاف پانی نہ ہونا یہ بڑا مسئلہ ہے،چیف جسٹس پاکستان کے نوٹس کا خیر مقدم کرتے ہیں،چیف جسٹس سپریم کورٹ لوگوں کے مسیحا بن گئے ہیں،چیف جسٹس دن رات کام کرتے ہیں،چھٹی بھی نہیں کرتے،ن لیگ،پی پی اور تحریک انصاف کی ترجیحات نہیں ہیں،سیاسی جماعتوں کی ترجیحات بنیادی ضروریات نہیں رہی،کالا باغ ڈیم کیوں نہ بنے،یہ تو سیاسی دکان چمکانے والی بات ہے،فاٹا کے انضمام میں فوج نے اہم کردار ادا کیا ہے،مطیع اللہ جان کی اپنی رائے ہے اور میری اپنی رائے ہے،میرے خیال میں الیکشن صاف و شفاف ہوں گے، میرے مطابق الیکشن التوا کا شکار نہیں ہوں گے،چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن بروقت انتخابات چاہتے ہیں،مسلم لیگ(ن)کے دور حکومت میں بجلی بحران کم ہوا،جس طرح ن لیگ نے دعوے کیے تھے ویسا نہیں ہوا،مسلم لیگ(ن)اور پیپلز پارٹی ایک ہی جماعت ہے،ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے مسائل اور پریشانیاں ایک ہیں۔انتخابات الیکشن کمیشن اور نگران حکومت نے کرانے ہیں،فوج کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں ہے،رینجرز کا کام امن کا قیام اور واپسی ہے ۔ ایس کے نیازی کی گفتگو بڑی اہمیت کی حامل ہے انہوں نے جوسیاسی منظر کشی کی ہے وہ بے کم و کاست ہے۔

کوئٹہ: پولیس کی گاڑی پر فائرنگ سے ایک اہلکار شہید، دوسرا زخمی

کوئٹہ کے علاقے ارباب کرم خان روڈ میں پولیس کی گاڑی پر حملے کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید اور دوسرا زخمی ہوگیا۔

پولیس حکام کے مطابق نامعلوم شرپسندوں نے معمول کے پیٹرولنگ کرنے والی پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں اہلکار سعید احمد لانگو شہید جبکہ دوسرا اہلکار زخمی ہوا۔

حملہ آور جائے وقوع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

حملے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچے اور شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

ابتدائی طور پر حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا۔

خیال رہے کہ کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جہاں پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں سمیت شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

30 اپریل کو کوئٹہ کے جان محمد روڑ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کم ازکم3 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوئے تھے۔

واقعے سے ایک روز قبل کوئٹہ کے ہی جمال الدین افغانی روڑ پر ایک دکان میں فائرنگ سے ہزارہ برادری کے 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ کچھ برسوں میں سیکیورٹی اداروں نے بلوچستان میں امن عامہ کی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔

تاہم شرپسند عناصر تخریبی کارروائیوں کی کوشش میں کامیاب ہوجاتے ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں بلوچستان کے اہم کردار کی وجہ سے حکام دیگر ممالک کے خفیہ اداروں پر حالات خراب کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

اس حوالے سے صوبائی حکومت متعدد مرتبہ یہ دعویٰ کرچکی ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘، افغانستان کی خفیہ ایجنسی ’این ڈی ایس‘ کے ساتھ مل کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان نے حلف اٹھالیا

پشاور: نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد خان نے حلف اٹھالیا ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد نے نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا حلف اٹھالیا۔ حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس پشاور میں ہوئی، گورنر خیبر پختونخوا نے نگراں وزیراعلیٰ سے حلف لیا۔ اس موقع پرسبکدوش وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ، اہم سیاسی و سماجی شخصیات، ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اورسرکردہ وکلا نے شرکت کی۔

حلف برداری کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے نگراں وزیراعلیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور آئین پاکستان نے انہیں جو مشن سونپا ہے اسے پورا کریں گے، وقت پرصاف، شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے الیکشن کا انعقاد ممکن بنائیں گے۔ اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کومساوی مواقع فراہم کریں گے۔ ہماری کابینہ مختصرہوگی اور کابینہ کے ارکان کو میرٹ پرمنتخب کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کوشش کریں گے مختصر دور حکومت میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں۔

نام نہاد سیکولر بھارت کا دہشت گرد چہرہ

بھارت کے اہم ترین عہدے مسلمان دشمنی کے لئے مشہور، ہندوتوا کے کٹر حامیوں کے پاس ہیں جن میں بھارتی وزیراعظم نریندرمودی، بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت کْمار دوؤل، بھارت کے ایڈیشنل پرنسپل سیکرٹری پی کے میشرا اور پرنسپل سیکرٹری ناریپندرا مسرا کے علاوہ بھارتی ریاست اْتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدیتیہ ناتھ سمیت سب ‘‘انتہا پسند ہندوتوا’’ کی تھالی کے چٹے پٹے ہیں۔ ان کے علاوہ بھارتی افواج اور بیوروکریسی میں بھی ‘‘ہندوتوا فلسفے’’ کے پیروکارخاصی تعداد میں موجود ہیں۔درحقیقت ‘‘ہندوتوا’’ ہے کیا؟ مفکرین کے مطابق نہ تو یہ نظریہ ہے نہ فلسفہ۔ نہ یہ کوئی نظامِ زندگی ہے اورنہ ہی کوئی دستور العمل؟ بلکہ یہ صرف ایک ‘‘نعرہ’’ ہے۔ ایک ایسا نعرہ جو بھارتی ‘‘سیکولرازم کے نعرے’’ کو سراسر رد کرتا ہے۔مگر تحقیق کے میدان میں اس پر مختلف زاویوں سے پیش رفت ہو رہی ہے اور نیپال سے بھی اس سوچ کے تانے بانے ملتے معلوم ہوتے ہیں۔ اور یہی سوچ سیفرون ٹیررازم کی بھی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ اصطلاح ایسے تشدد پسندانہ خیالات و واقعات کے لئے استعمال ہوتی ہے جو ’’ہندوتوا’’ کے نظریے سے متاثر شدہ ہو۔ ہندوتوا ایک ایسے بھیانک نظریے کا نام ہے جو کہ بھارتی ثقافت کو ہندو مذہب کے آئینے میں متعارف کراتا ہے۔ اور جس سے یقیناً سیکولر بھارت کے نام نہاد نعرے اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔اس انتہا پسند نظریے کے تحت ہندو برصغیر پاک وہند (افغانستان سے انڈونیشیا تک تمام ممالک) کو ہندوؤں کا مادری وطن تصور کرتے ہیں۔ اور بعد ازاں، ان علاقوں پر مشتمل ہندو ریاست (ہندو راشٹرا) کے قیام کو یقینی بنانے کے علاوہ، سنسکرت زبان کو لازمی مضمون کی حیثیت دلوانے اور گائے کے ذبیحہ پر مکمل پابندی لگانے جیسے دیگر شدت پسند اقدامات اسی نظریے میں مشمول سمجھے جاتے ہیں۔ اس نظریے کی بانی تنظیم ‘‘راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ’’ یعنی آر ایس ایس ہے۔ اور یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ برطانوی حکومت کے دور میں اس پر ایک بار اور بعد از آزادی اس پر تین بار پابندی لگ چکی ہے۔سنگھ پریوار کے بینر تلے ہندوتوا تنظیمیں اور ان کے نیٹ ورکس اس ہولناک نظریہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مسلسل سرگرمِ عمل ہیں اور اسی لئے سنگھ پریوار میں لگ بھگ باون (52) شدت پسند تنظیمیں شامل ہیں۔ جن میں آر ایس ایس، بھارتیا جنتا پارٹی، ویشوا ہندو پریشد، شیو سینا اور بجرنگ دل نمایاں ہیں۔ اور ان سب کی مشترکہ حکمتِ عملی ہے نفرت کا ماحول تیار کرنا۔ لوگوں کو جذبات میں لا کر اشتعال دلانا تاکہ ان سے سیاسی اور سماجی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ (1969) احمدآباد فسادات، (1979) جمشید پور فسادات، بابری مسجد کے انہدام کے علاوہ حیدرآباد مکہ مسجد، اجمیر اور سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکے انہی تنظیموں کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کی کڑی ہیں۔بلاشبہ مودی سرکار میں انتہا پسندوں ہندوؤں کی آج اکثریت ہے۔ اور بھارت میں ان انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کی زندگی یقینی طور پرمْحال کر رکھی ہے۔ ماضی میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں جب مسلمانوں کو بے رحمی سے کچلا گیا اور اقوامِ عالم خاموش تماشائی بنی رہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں ہونے والے فسادات (2002) مسلمانوں کی کْھلم کْھلا نسل کشی تھے جن میں تقریباً 2500 سے زائد مسلمان قتل کیے گئے اور سینکڑوں مسلمان خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ مگر مجال ہے کہ کسی ہندو کے خلاف کوئی عدالتی کارروائی کی گئی ہو۔ حتیٰ کہ یورپی یونین سمیت تمام عالمی تنظیموں نے بھی مسلمانوں کی اس بے رحم نسل کشی پر کوئی احتجاج ریکارڈ نہیں کرایا اور نہ ہی بھارت سے کسی قسم کی کوئی بازپْرس کی۔ اور کچھ ایسا ہی طرزِ عمل امریکہ کا بھی تھا۔یہی منفی سوچ اور غیر مساوی رویہ آج نام نہاد سیکولرازم کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بھارت میں انتہاپسندی اور لاقانونیت کے راج کی بنیاد بنتا دکھائی دے رہا ہے جہاں مسلمانوں سے زیادہ گائے محفوظ ہے۔ اور مسلمان دوسرے درجے کے شہری بن کر رہنے پر مجبور ہیں۔ مگرافسوس کی بات تو یہ ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی بھارتی ظلم وستم پر چپ سادھے بیٹھی رہتی ہیں۔گو کہ اب بھارت کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات ملک میں مذہبی برداشت، نسلی امتیاز کے خاتمے اور آزاد خیالی کے لیے آواز بلند کرنے لگی ہیں۔ بھارتی دانشوروں نے ہندو قوم پرست وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت میں تنوع اور سیکولرازم کی حفاظت کی جائے۔ یہ مظاہرین ملک میں لادین افراد اور اقلیتوں کے خلاف شروع ہونے والی تشدد کی نئی لہر پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ بھارت میں سو سے زائد سائنسدانوں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ بھارت میں سائنس اور منطق کو خطرات لاحق ہوتے جا رہے ہیں۔ ان سائنسدانوں میں بھارت کے چوٹی کے جوہری طبعیات دان، ریاضی دان اور خلائی سائنسدان بھی شامل ہیں۔ اس بیان میں کہا گیا، ’’ہم مشاہدہ کر رہے ہیں کہ اہم حکومتی عہدیداروں کی طرف سے غیر منطقی اور نسلی امتیاز پر مبنی سوچ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔‘‘بھارت کے درجنوں مصنفین نے مذہبی عدم برداشت اور نسلی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے قومی انعامات و اعزازات واپس کر دیے ہیں۔ بھارتی معاشرے کے دانشور طبقے میں بے چینی کی یہ لہر اس وقت پیدا ہوئی تھی، جب ہندوؤں کے ایک مشتعل ہجوم نے ایک مسلمان کو مار مار کر ہلاک جب کہ اس کے بیٹے کو شدید زخمی کر دیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ گائے ذبح کرنے کے مرتکب ہوئے تھے۔ بعد ازاں معلوم ہوا تھا کہ اصل میں اس مسلمان کنبے نے گائے نہیں بلکہ ایک بکرا ذبح کیا تھا۔یہ امر اہم ہے بھارت کے کئی حلقوں میں یہ خطرہ اسی وقت پیدا ہو گیا تھا کہ بھارت کے سیکولر تشخص کو خطرہ ہو سکتا ہے، جب ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی نے گزشتہ برس پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد مودی نے بھارتی معاشرے میں ’برداشت اور تنوع‘ کے موضوع پر بیانات کم ہی جاری کیے ہیں۔

*****

Google Analytics Alternative