Home » Author Archives: Admin (page 30)

Author Archives: Admin

ہواوے کے بعد اوپو اور ویوو کا فونز کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

رمضان المبارک کے آغاز پر ہواوے نے اپنے مختلف فونز کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا تھا، اب اوپو اور ویوو کی جانب سے بھی مختلف ڈیوائسز کو سستا کیا گیا ہے۔

دونوں کمپنیوں نے سوشل میڈیا پر رمضان المبارک کے لیے مختلف فونز کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا۔

اوپو کے فیس بک پیج کے مطابق اس کمپنی نے اوپو اے 7 کی قیمت 36 ہزار 999 روپے سے کم کرکے 31 ہزار 999 روپے کردی ہے۔

اوپو اے 7 کے علاوہ کمپنی نے اوپو اے 3 کی قیمت میں بھی کمی کی ہے جو کہ 19 ہزار 999 روپے سے کم ہوکر 18 ہزار 999 روپے ہوگئی ہے۔

دوسری جانب ویوو نے بھی مختلف ماڈلز کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

ویوو کے 32 میگا پکسل سیلفی کیمرے سے لیس فلیگ شپ فون وی 15 کی قیمت 49 ہزار 999 روپے سے کم ہوکر 45 ہزار 999 روپے کردی گئی ہے جبکہ 32 میگاپکسل سیلفی کیمرے اور 48 میگا پکسل بیک کیمرے (بیک پر تین کیمرے دیئے گئے ہیں) والے وی 15 پرو کی قیمت 64 ہزار 999 روپے سے کم کرکے 59 ہزار 999 روپے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

فوٹو بشکریہ اوپو پاکستان فیس بک پیج
فوٹو بشکریہ اوپو پاکستان فیس بک پیج

ویوو وائے 95 کی قیمت 34 ہزار 999 روپے کی جگہ اب 31 ہزار 999 روپے کردی گئی ہے جبکہ وائے 91 سی کی قیمت 19 ہزار 999 روپے سے کم ہوکر 18 ہزار 999 روپے ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ رمضان کے آغاز پر ہواوے کے پی 30 لائٹ، نووا 3 آئی، وائے نائن 2019، اور وائے 5 لائٹ کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا تھا۔

سیاسی مفادات

سیاستدان چونکہ براہ راست عوام کے نمائندہ ہونے کے دعویدار ہیں اس لیے و ہ عوامی تنقید کا بھی براہ راست نشانہ بنتے ہیں ۔ خادم ہونے کے دعویدار جب بادشاہانہ کردار ادا کرنے لگتے ہیں تو ان پر تنقید کے نشتر برسائے جاتے ہیں تاکہ انہیں یاد دلا یا جا سکے کہ ماضی میں انہوں نے خادم ہونے کا دعویٰ کیا تھا ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ دعویٰ تو خادم ہونے کا کرے اور عمل بادشاہوں والے کرے ۔ جب منتخب لوگ عوام سے بھائی ہونے کا دعویٰ کر کے ووٹ لیتے ہیں تو پھر وہ عوامی نمائندہ ہونے اور اس پر فخر کرتے اچھے نہیں لگتے ۔ بھائی تو بھائی ہوتے ہیں اور انہیں بحیثیت بھائی ووٹ دئیے گئے تھے تو وہ عوامی نمائیندہ ہونے کے دعویٰ میں ہی جھوٹے ہیں اور اس جھوٹ کی اور کذب دھوکہ دہی کی وجہ سے آئین کی آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نا اہل قرار دئیے جانے چاہئیں ۔ بات مخالفت برائے مخالفت کی نہیں بلکہ راستگی کی طرف اشارہ کرنے سے متعلق ہے ۔ تحریک انصاف کے کارکن اگر اپنی پارٹی کے ساتھ وفاداری میں برداشت کریں تو یہ ان کی وفا کا امتحان بھی ہے ۔ اگر دوسری پارٹیوں کے ووٹر مخالفت کریں تو یہ ان کا استحقاق ہے کیونکہ ان کے دور حکومت میں اپوزیشن یہی کردار ادا کرتی رہی تھی ۔ ماضی اور حال کو مستقبل سے جدا نہیں کیا جا سکتا ۔ جو بو گئے وہ کاٹو گے ۔ پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کے کارکن اگر تحریک انصاف کے کارکنوں سے بحث کر رہے ہوتے ہیں یا انہیں طنز کر رہے ہوتے تو وہ وہی کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں جو ماضی میں تحریک انصاف کے کارکن ادا کر چکے ہیں ۔ اس پر سیخ پا ہونے یا غصہ کرنے کی بجائے ٹھنڈے دماغ اور دل سے سوچنا چاہیے کہ سیاسی کارکن کا کردار کیا بس یہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کا گریبان پکڑے رکھے یا اپنی جماعت کی خاطر مخالف نظریہ کی جماعت کے کارکنوں کیلئے زندگی کا دائرہ کم کرتا رہے ۔ نہ تو یہ مہذب معاشرہ کے رکن کا کردار ہے اور نہ ہی کسی طرح بھی معاشرہ کیلئے سود مند کردار ہے ۔ چونکہ ہماری لیڈر شپ کو اقتدار کے حصول کیلئے اپنی کوشش کو کامیاب بنانا ہوتا ہے اس لیے وہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے اپنے کارکنوں کو جذباتی طور ابھاررکھیں تاکہ وہ ہر حال میں ان کے ساتھ وفاداری نبھائیں ۔ وہ یہ نہ سوچیں کہ ہم کس کی تقلید کررہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں ۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس شخص کو ہم اپنا لیڈر مان کر اس کے پیچھے چلنے کو تیار ہیں اور اپنا حال اور مستقبل اس کے سپر د کر رہے ہیں خود اس کا ماضی کیسا ہے ۔ لیڈر کا ماضی اس کے معاشرے کا مستقبل بن سکتا ہے ۔ جو لیڈر کم تعلیم یافتہ اور باتوں کا دہنی ہے وہ کیا مستقبل میں اس پر وحی نازل ہونا شروع ہو جائے گی کہ وہ راست فیصلے کر سکے گا ۔ ویلسا پولینڈ کا مزدور لیڈر تھا اس نے پولینڈ کی مزدور یونین کے لیڈر سے قومی لیڈر کی منازل طے کیں ۔ وہ بہت اچھا احتجاجی لیڈر تھا لیکن اس معاشرے کی درست سمت میں راہنمائی کیلئے ضروری صلاحیتیں نہیں تھیں ۔ ناکام ہو گیا اور وہی احتجاج اس کے خلاف شروع ہوا جو وہ دوسروں کے خلاف کیا کرتا تھا ۔ غیرت مند تھا مستعفی ہو کر واپس اپنی جگہ پر آگیا ۔ نیلسن مینڈیلا نے سیاہ فام لوگوں کے حقوق کیلئے احتجاج کیا اور پھر اس مقصد کی خاطر ایک طویل قید بھی کاٹی ۔ قوم کی راہنمائی کا وقت آیا تو اس میں ناکام ہو کر واپس ہو گیا ۔ احتجاج کرنا کوئی آسان کا م نہیں کہ فرعون کے دربار میں کلمہ حق کہنے کی سعادت موسی ;174; کے سوا کسی کو حاصل نہ ہوئی ۔ زبردست کے سامنے زیر دست نہ ہونے والے معمولی لوگ نہیں ہوتے لیکن کسی بھی معاشرے کو درست سمت میں لے جانے کا کردار ادا کرنا کچھ اور معنی رکھتا ہے ۔ میں اپنے بابائے قوم جناب حضرت قائد اعظم کی مثا ل پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے احتجاجی سیاست نہیں کی بلکہ قوم کی راہنمائی کی ، قائد اعظم حقیقی معنوں میں قومی راہنما ہیں جنہوں نے قوم اورمعاشرے کی صحیح سمت میں راہنمائی کر کے انہیں منزل شناس کیا ۔ چیئرمین ماءوزے تنگ قومی راہنما ہیں کہ ایک افیون زدہ قوم کو کھڑا کرکے منزل کی طرف رواں دواں کیا ۔ حقوق کی جنگ لڑنا اور بات ہے اور کسی قوم کو حقیقی معنوں میں قوم بنا کر یکجا کر کے ایک سمت میں لے جانا اور بات ہے ۔ سیاسی رہنما کسی ایک نکتہ پر احتجاج کی راہ اپنا کر یا اس کو اپنا موقف بنا کر کسی گروہ کے نمائندہ بن جاتے ہیں ۔ وہ اسی گروہ کے مقاصد کو آگے لے کر چلتے ہیں ۔ انہیں معاشرے کے دیگر گروہوں سے کوئی خاص لگاءو نہیں ہوتا ۔ وہ جہاں دیکھتے ہیں کہ دوسرا گروہ ان کے مقاصد کے حصول میں ممدد ہو سکتا ہے تو وہ اس کے ساتھ وقتی طور پر دوستی کا ہاتھ بڑھا کر اجتماعی شراکت داری کے اصول کے تحت چل پڑتے ہیں ۔ جہاں انہیں اپنے مقصد میں رکاوٹ دکھائی دیتی ہے تو فورا اپنے ساتھی شراکت دار کو دھمکی دیتے ہیں کہ وہ ان کے مقصد کی طرف توجہ دے یا اس کی حمایت میں بھی بولے ورنہ وہ اس سے علیحدگی اختیار کر نے لگے ہیں ۔ یہ ہماری سیاست میں کولیشن پارٹنر شپ تقریباً ہر سیاسی گروپ کرتا ہے اور اپنے مقاصد کیلئے دوسرے گروپوں کو اپنی عددی طاقت سے سپورٹ مہیا کرتا ہے ۔ مذہبی گروہ اور لبرل سیکولر گروہ تک ایک دوسرے کو اپنی عددی طاقت سے حکومت سازی میں کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ پریشر گروپ کی صورت میں اپنے مخصوص مقاصد کی تکمیل کیلئے گروہ بندی کر کے کسی بڑے گروپ کو توڑا یاکسی کمزور گروپ کی عددی طاقت کو اس سے تقویت دیکر طاقتور گروپ سے عددی اکثریت چھین لی جاتی ہے ۔ معاشرہ کے پچاس فیصد گروہوں کے نمائندے گر خدمت کے جذبہ سے کام کریں تو وہ معاشرہ کچھ ہی عرصہ میں فلاح وبہبود کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرنے لگتا ہے ۔ اس کے ترقی تیز رفتار نہیں ہوتی لیکن وہ معقولیت کے ساتھ اگے بڑھنے لگتا ہے ۔ جس معاشرے کی انتظامیہ ہی لوٹ کھسوٹ اور اختیارات کا استعمال ذاتی اور گروہی مقاصد کیلئے کرے تو وہ ذات اور گروہ طاقتور ہو کر یکجہتی کیلئے ناسور بن جاتے ہیں ۔ سیاستدان جب بھی بات کرتے ہیں تو کسی کو جنوبی پنجاب کے حقوق کی بات کرنی ہوتی ہے تو کوئی اردو سپیکنگ کا نمائندہ ہے تو کسی کو سندھی ہونے پر فخر ہے تو کوئی قوم پرست لیڈر بن کر قومی سیاست میں بلیک میلنگ کا کردار ادا کر کے مطمئن ہے ۔ ہمارے رہنماءوں نے 65کی جنگ میں ایک قوم بنے معاشرہ کو اپنے مقاصد کیلئے گروہوں میں تقسیم کر دیا ۔ ہم سینتالیس میں ایک قوم تھے پھر بکھر گئے ۔ پینسٹھ میں ایک قوم ہوئے پھر بکھیر دئیے گئے ۔ اس کے بعد ہم آج تک کبھی قومی لڑی میں پروے نہیں جا سکے ۔ بیشک کہنے اور کہلانے کو ہم پاکستانی ہیں لیکن ہم بنتے نہیں ہیں ۔ جیسے ہم کہنے اور کہلانے کو کلمہ گو مسلمان تو ہیں لیکن عملاً ہم مسلمان ہونے کا حق ادا کرنے سے قاصر ہیں ۔ جیسے ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم حضور پاک ﷺ کے سچے عاشق اور ان کے غلام ہیں لیکن جب کردار ادا کرنے کی باری آئی تو سب نے دیکھا کہ ہمارا عشق اور غلامی کا دعویٰ بس زبانی تھا ۔ ہم صرف شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول کیلئے پاکستانی کہلاتے ہیں ۔ ہم جائیداد بنانے اور اس کے وارث کہلانے کیلئے پاکستانی بنتے ہیں ورنہ جس کا دا لگتا ہے وہ گرین کارڈ لے کر پاکستان کو یوں خیر آباد کہتا ہے جیسے جیل سے روبکار آنے پر قیدی رہا ہو کر بھاگتا ہے ۔

اثاثے ظاہر کرنے کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا صدارتی آرڈیننس جاری

 اسلام آباد: صدر مملکت عارف علوی نے رضاکارانہ طور پر غیر قانونی اثاثے ظاہر کرنے کیٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا آرڈیننس جاری کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق صدر نے ایمنسٹی اسکیم کے تحت رضاکارانہ اثاثے ظاہر کرنے کا آرڈیننس جاری کردیا۔ اسکیم سے فائدہ اٹھانے کیلیے ڈیکلئریشن 30 جون تک جمع کروانا ہونگے البتہ ٹیکس پورا سال جمع کروایا جاسکے گا مگر ہر سہہ ماہی پر جرمانہ اداکرنا ہوگا۔

ایمنسٹی اسکیم کے تحت تمام اقسام کے ملکی و غیر ملکی اثاثہ جات پر 4 فیصد ٹیکس ادا کرکے قانونی حیثیت دلوائی جاسکے گی البتہ بیرونی اثاثہ جات واپس پاکستان لانا ہونگے اور اگر اثاثہ جات پاکستان واپس نہیں لائے جائیں گے تو 2 فیصد مزید ٹیکس کے ساتھ کُل 6 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔

صدارتی آرڈیننس کے مطابق غیر قانونی اثاثہ جات کو قانونی بنانے کیلئے 30 جون تک 4 فیصد ٹیکس دینا ہوگا لیکن 30 جون کے بعد اگر ٹیکس جمع کروانا ہوگا تو ٹیکس کی رقم پر 10 فیصد جرمانہ دینا ہوگا۔ دوسری سہہ ماہی میں ٹیکس کی رقم جمع کروانے پر ٹیکس کی رقم پر 20 فیصد، تیسری سہہ ماہی پر 30 فیصد اور چوتھی سہہ ماہی پر 40 فیصد جرمانہ ادا کرنا ہوگا جبکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کیلیے غیر منقولہ جائیدادوں پر ڈیڑھ فیصد اضافی ویلیو پر ڈیڑھ فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔

ایمنسٹی اسکیم کے تحت پاکستان میں ظاہر کی جانیوالی غیر ملکی کرنسی و اثاثہ جات پر ٹیکس غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا۔ آرڈیننس اسکیم کے تحت 30 جون 2018 تک کے غیر ظاہر کردہ ملکی و غیر ملکی، اثاثے، سیلز اور اخراجات ظاہر کئے جاسکتے ہیں۔

آرڈیننس ملکی اثاثوں میں جہاں ایف بی آر کی ویلیو مقرر نہیں وہاں ڈی سی ریٹ کے کم از کم 150 فیصد کے برابر ویلیو مقرر ہوگی۔ جہاں ایف بی آر کی ویلیو ایشن اور ڈی سی ریٹ نہیں ہوں وہاں اوپن مارکیٹ میں رائج قیمت فروخت پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا، پبلک کمپنی پر اس اسکیم کا اطلاق نہیں ہوگا جب کہ کمیشن یا کسی دوسری مجرمانہ سرگرمیوں سے کمائی ہوئی دولت پر اس اسکیم کا اطلاق نہیں ہوگا۔

علاوہ ازیں سونے، قیمتی پتھر و ہیرے جواہرات، انعامی بونڈز، بئیرر سرٹیفکیٹس، شئیرز، سرٹیفکیٹس و دیگر اقسام کے بونڈز پر بھی اسکیم لاگو نہیں ہوگی۔ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی حامل جائیدادوں و منقولہ و غیر منقولہ اثاثہ جات کے کیسوں پر بھی اسکیم لاگو نہیں ہوگی۔

عید کے بعد سڑکوں پر حکومت مخالف تحریک چلائیں گے، آصف زرداری

اسلام آباد: سابق صدر آصف زرداری کا کہنا ہے کہ عید کے بعد پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ سڑکوں پر حکومت مخالف تحریک چلائیں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ نیب اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتی جب کہ ماضی کی اور موجودہ ایمنسٹی اسکیم میں کوئی فرق نہیں، جس کے پاس تھوڑے بہت پیسے ہیں وہ بلیک منی کو وائٹ کرلے گا جب کہ لوگوں کو پہلے امیر بناؤ اور پھر ٹیکس لگاؤ۔

سابق صدر نے کہا کہ بلاول بھٹو شہید بی بی کا بیٹا ہے، بلاول کو بھی اسی انگاروں پر چلنا ہے، صحافی نے سوال کیا کہ اگر جیلوں سے نہیں ڈرتے تو پھر ضمانتیں کیوں کرواتے ہیں، سابق صدر نے کہا کہ ضمانت میرا آئینی حق ہے، آپ کو بھی جیل ساتھ لے کر جاؤں گا۔

عید کے بعد حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے حوالے سے سابق صدر نے کہا کہ اس بات کا ان کو بھی اندازہ ہے اس لیے تو کیسز بن رہے ہیں، پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ سڑکوں پر حکومت مخالف تحریک چلائیں گے۔

ہانیہ عامرکے بعد مہوش حیات نے بھی خوبصورتی کے معیارپرسوال اٹھادئیے

کراچی: نامورپاکستانی اداکارہ ہانیہ عامرکے بعد مہوش حیات نے بھی سوشل میڈیا پراپنی بغیر میک اپ تصویر شیئر کرکے معاشرے میں قائم خوبصورتی کے معیار پر سوال اٹھادئیے ہیں۔

اداکارہ ہانیہ عامرکی بغیرمیک اپ شیئر کی جانے والی تصویر جس میں ان کے چہرے پر کیل مہاسے اور دانے(ایکنی) نظر آرہے ہیں، نے اب ایک تحریک کی صورت اختیارکرلی ہے۔ ماہرہ خان، سائرہ شہروز سمیت شوبز کی نامور اداکارائیں ہانیہ عامرکے اس اقدام کو سراہ رہی ہیں اوراب اداکارہ مہوش حیات نے بھی ہانیہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی تصویر شیئر کی ہے جس میں ان کے چہرے پردانے نظرآرہے ہیں۔

مہوش حیات نے اپنی تصویرکے ساتھ معاشرے میں قائم خوبصورتی کے معیار(جوصرف صاف اور شفاف جلد کوہی مانا جاتا ہے) کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسٹوڈیو لائٹس، کیمرہ اورگلیمرس میک اپ سے ہٹ کر ہم سب جلد کے ایک جیسے مسائل سے دوچار ہیں اور ہمیں بھی کسی عام لڑکی طرح اپنی جلد کو لے کرعدم تحفظ کا سامنا ہوتا ہے۔ ایک عورت ہونے کے ناطے چلو اسے قبول کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ ہانیہ عامر نے چند روز قبل اپنی بغیر میک اپ دو تصاویر شیئر کی تھیں جن میں ان کے چہرے پر کیل مہاسے اور دانےنمایاں تھے جو کافی بدنما لگ رہے تھے۔ ہانیہ نے یہ تصاویر شیئر کرکے بتایا کہ چہرے پر موجود ان کیل مہاسوں کی وجہ سے وہ کتنا پریشان رہیں۔

معاشرے میں قائم خوبصورتی کے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے ہانیہ نے کہا تھا کہ میری جلد میری پہچان کیوں ہے، خوبصورتی کے یہ معیارآخرکس نے بنائے ہیں۔ ایک مشہورشخصیت کا مطلب مکمل ہونا نہیں ہے بلکہ مکمل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی حقیقی جلد کے ساتھ مطمئن رہیں۔ ہانیہ عامر کی اس پوسٹ کو ماہرہ خان، سائرہ شہروز اور میشا شفیع سمیت متعدد فنکاروں کی جانب سے بے حد سراہا جارہا ہے۔

اخروٹ کھائیں، بلڈ پریشر بھگائیں

پینسلوانیہ: اخروٹ کے کئی فوائد سامنے آتے رہتے ہیں اور اب معلوم ہوا ہے کہ اس جادوئی میوے کا باقاعدہ استعمال بلڈ پریشر قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

پینسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین کی یہ نئی تحقیق ’امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن‘ کے تحقیقی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اخروٹ میں پولی فینولز نامی مرکبات پائے جاتے ہیں تو لوگوں کو دل کے امراض سے بچاتے ہیں اور بلڈ پریشر قابو میں رکھنے پر بھی مدد دیتے ہیں۔

تجرباتی طورپر ماہرین نے 30 سے 65 سال تک کے 45 شرکا کوشامل کیا جو یا تو زائد وزن کے تھے یا موٹاپے کی فہرست میں شمار ہوتے تھے۔ تمام شرکا کو دو ہفتوں تک مشاہدے میں رکھا گیا ۔ انہیں خاص غذا دی گئی جس میں 12 فیصد کیلیوری سیرشدہ (سیچوریٹڈ) چکنائی سے لی گئی تھیں۔

اگلے مرحلے میں تمام شرکا کو تین حصوں میں بانٹ کر چھ ہفتے تک کم سیرشدہ چکنائی کی خوراک دی گئیں۔ ان میں ایک گروہ کو اخروٹ، دوسرے کو اخروٹ کے بنا پولی ان سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز اور دیگر غذائیں دی گئیں جبکہ تیسرے گروہ کو اخروٹ کے ساتھ دیگر چکنائی والی غذا کھلائی گئی۔

چھ ہفتوں بعد دیکھا گیا کہ جس گروہ نے صرف اخروٹ کھائے تھے ان میں صحتمند دل کے طبی آثار بہتر نظر آئے اور بلڈ پریشر بھی معمول کے مطابق رہا۔

اسی بنا پر ماہرین نے کہا ہے کہ اخروٹ کھانے سے بلڈ پریشر بہتر رہتا ہے اور اگر بلڈ پریشر قابو میں رہے تو امراضِ قلب اور فالج (اسٹروک) کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ اسی بنا پر ماہرین اخروٹ کے باقاعدہ استعمال پر زور دیتے ہیں۔

چاکلیٹ کھانا پسند ہے؟ تو یہ اچھی خبر جان لیں

چاکلیٹ گھلنے سے پیدا ہونے والی لذت کا مزہ صرف وہی افراد بیان کرسکتے ہیں جنہیں چاکلیٹ کھانا بےحد پسند ہو۔

ہمیشہ لوگ چاکلیٹ کے منفی اثرات بتاکر ان لوگوں کو چاکلیٹ کھانے سے روکتے ہیں جنہیں یہ بےحد پسند ہے، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ میٹھی سوغات درحقیقت آپ کی صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔

خاص طور پر ڈارک چاکلیٹ کے طبی فوائد تو حیران کن ہیں جو کہ جون کے گردشی نظام میں معاونت کے ساتھ دماغ کو متحرک کرنے، دماغی کمزوریوں سے خلاف جدوجہد، آپ کو زیادہ چوکس اور بہتر طرز فکر کے ساتھ ساتھ کھانسی کی روک تھام اور تناﺅ سے بھی نجات دلاتی ہے۔

چاکلیٹ کو بطور تحفہ بھی استعمال کیا جاتا ہے تاہم اس کے چند دلچسپ فوائد جان کر ہوسکتا ہے کہ آپ کو حیران رہ جائیں۔

صحت مند دانت

اگرچہ دندان ساز تو چاکلیٹ کو دانتوں کے لیے مضر قرار دیتے ہیں مگر ایک نئی تحقیق کے مطابق چاکلیٹ میں شامل کوکا پاﺅڈر درحقیقت آپ کے دانتوں کو صحت مند رکھنے والے ٹوتھ پیسٹ اور فلورائیڈ کا موثر متبادل ثابت ہوتی ہے۔

مزاج خوشگوار بنائے

جب آپ مایوسی کا شکار ہو تو چاکلیٹ کا استعمال بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اس کا ذائقہ ذہن کو تحریک دیتا ہے اور آپ کو خوش باش بناتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ چاکلیٹ کا ذائقہ، خوشبو یا بناوٹ بھی لوگوں کو خوش باش بنادیتی ہے، چاکلیٹ سے دماغ میں اچھا محسوس ہونے والے کیمیکل ڈوپامائن کی مقدار بڑھنے میں مدد ملتی ہے۔

آپ کی جلد کو بہترین رکھے

کوکا سے بنا مکھن ایسی منفرد چیز ہے جس کا استعمال آپ کی جلد کی کشش کے لیے حیرت انگیز اثر رکھتا ہے۔ جی ہاں چاکلیٹ کا استعمال جلد کو خوش اور ہموار رکھتا ہے بس نرم چاکلیٹ کو جلد پر پندرہ منٹ تک لگا رہنے دیں یہ آپ کی جلد کو نرم و ملائم کردیتا ہے۔

اس کو نہانے کے دوران بھی آزمایا جاسکتا ہے بس دو کپ چاکلیٹ ملک، دو چائے کے چمچ سیال صابن اور ایک چائے کا چم شہد پانی میں ملا کر نہالیں، چاکلیٹ ملک میں شامل اینٹی آکسائیڈنٹس اور تیزابی اثر جلد کو ملائم اور ہموار کردے گا، جبکہ ڈارک چاکلیٹ میں پایا جانے والا فلیوونائڈ سورج کی شعاعوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

ایمنسٹی اسکیم کا مقصد کالے دھن کو سفید کرنے کا موقع دینا ہے، مشیر خزانہ

اسلام آباد: مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی اسکیم کا مقصد کالے دھن کو سفید کرنے کا موقع دینا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ آج کابینہ نے مختلف نکات کی منظوری دی ہے، لوگ 31 جون تک اس اسکیم میں شامل ہوں گے، کابینہ نے بہت فیصلے کیے تاہم اہم فیصلہ اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم ہے، اسکیم کا مقصد کالے دھن کو سفید کرنے کا موقع دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کا مقصد ریونیو نہیں بلکہ معیشت دستاویزی بنانا ہے تاکہ معاشی پہیہ چل سکے اور یہ سادہ، عام فہم اور حقیقت پر مبنی اسکیم ہے اس کا مقصد ڈرانا دھمکانا نہیں ہے بلکہ کاروبار کی حوصلہ افزائی ہے۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ صرف پبلک آفس ہولڈر اسکیم حاصل نہیں کرسکیں گے جب کہ ملکی اثاثے 4 فیصد دے کر قانونی بنائے جاسکتے ہیں تاہم پیسے بینک اکاؤنٹ میں رکھنا ہوں گے، بے نامی اکاؤ نٹس اور پراپرٹیز کو بھی ظاہر کیا جا سکےگا۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ بجلی کی قیمت اگر بڑھی تو 300 یونٹ سے کم استعمال کرنے والوں پر اثر نہیں پڑے گا، احساس پروگرام کا بجٹ 180ارب روپے کیا جا رہا ہے جب کہ ترقیاتی پروگرام کا آئندہ  سال کا بجٹ 800ارب روپے رکھا جائے گا۔

Google Analytics Alternative