Home » Author Archives: Admin (page 30)

Author Archives: Admin

ڈاکٹر خورشید نسرین ۔۔۔ شخصیت اور علمی و ادبی خدمات!

syed_sherazi

علم و ادب کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر متعارف ڈاکٹر خورشید نسرین، عرف امواج الساحل کا تعلق پاکستان سے ہے، وہ ایم اے عربی (گولڈ میڈل ) اور(سلور میڈل) ہیں، انہوں نے اردو سے عربی افسانوں کا ترجمہ بھی کیا۔ دونوں زبانوں میں اپنے افسانے بھی لکھے۔مشہور عربی جرائد، الرایہ ، الشرق ، الوطن ، العرب، الجوہرہ ، العروبہ (قطر) میں اور کتابات (بحرین) میں انکی تخلیقات شائع ہوچکی ہیں۔اور انہوں نے پی ایچ ڈی کا مقالہ خلیج عرب کے دور کے شاعر عبد الرحمن المعاودہ کی شاعری پر1985 میں لکھا، قطر کے اعلیٰ تعلیم کے مختلف اداروں میں عربی زبان و ادب پڑھاتی رہی ہیں ان کی تدریس کا دورانیہ (1978 سے 2005 )تک ہے۔پہلے تو پاکستان سے پرائمری مکمل کی، پھروالد نے قطر میں عربی اسکول میں داخل کروادیا۔ کیونکہ اردو یا انگلش کا کوئی بندوبست نہ تھا، صرف ایک عربی اسکول تھا۔ شروع میں تو رٹا مار کر پاس ہوتی رہی، پتہ نہیں کیسے چوتھی پانچویں پوزیشن لے لیتی تھی۔ شاید اچھی یاد داشت کی بنا پر۔ چھٹی میں بورڈ کے پرائمری امتحان میں ٹاپ کر لیا۔ کچھ عربی سمجھ بھی آنے لگی۔ ساتویں میں عربی زبان کا لطف آنے لگا۔ خصوصاً قرآن کا۔ڈاکٹر امواج الساحل نے عربی میں افسانہ نگاری اور شاعری کے علاوہ مختلف شعراء سلطان باہو ، شاہ حسین ، ڈاکٹرمحمد اقبال پرمضامین بھی لکھے اور اقبال کی شاعری کا عربی اشعارمیں ترجمہ بھی کیا، غالب کے بھی کچھ اشعار کا ترجمہ عربی اشعار میں کیا۔ ثلاثیات (ھائیکو)انکا میدان سخن ہے ، اور پورے عالم عرب میں اس صنف میں پہلی شاعرہ ہونے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہے ، قطر میں سب سے پہلے رباعیات ان کی ہی شائع ہوئیں۔ اردو اور پنجابی میں بھی شاعری کی۔سن 2002 میں انہوں نے منسٹری آف ایجوکیشن قطر کیلئے تعلیمی سی ڈی بنائی تھی ، جو کہ قطر میں پہلی تعلیمی سی ڈی تھی۔ اس سی ڈی پران کو منسٹری آف ایجوکیشن قطر نے بیسٹ ریسورس کا ایوارڈ دیا۔ ریڈیو قطر کی اردو سروس میں پروگرام ” برگِ گل ” سے بھی ان کا تعلق رہا ہے۔ عربی سے اردو ترجمہ شدہ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔اپنا خاندانی پس منظر بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں کے بزرگ مشرقی پنجاب ضلع جالندھر کے رہنے والے تھے۔ محنت مزدوری کرنے والے لوگ تھے۔ میرے پردادا کی دوستی ایک زمیندار سے تھی۔ فیصل آباد میں پتہ نہیں کس سلسلے میں ان کو انگریزوں نے کچھ مربعے زمین عطا کی۔ہمارے گھرانے میں تعلیم عام تھی، جو ان پڑھ تھے وہ رات کو پڑھے لکھوں سے سنتے تھے۔ میاں محمد بخش کا کلام، اکرام محمدی اور قصے سنے جاتے۔ جس لڑکی کی آواز اچھی ہوتی وہ پڑھتی، باقی سنتے اس طرح بچیوں کی تعلیم و تربیت بھی ہوتی جاتی۔ نانا حکمت کرتے تھے، بعد میں بڑے ماموں کو بھی انبالہ انسٹیٹیوٹ سے حکمت کروائی۔ ساتھ ساتھ گاؤں والوں کے اصرار پر مسجد میں خطیب کا عہدہ سنبھالا، اور بیس سال تک نبھایا ، پھر ضعیفی کی وجہ سے ہم نے چھڑوادیا۔ دادا جو کہ نانا کے بھائی تھے، درس میں پڑھنے لگ گئے، اور قرآن حفظ کرنا شروع کر دیا۔ بینائی چلی گئی تو گاؤں والوں نے ان کو امام مسجد رکھ لیا، یوں زندگی کی گاڑی چلتی رہی، والد صاحب پڑھنے میں بے حد لائق تھے۔ میٹرک تک وظیفہ لیتے رہے۔ مزید پڑھنے کیلئے پیسے نہیں تھے۔ چھوٹے تین بھائی اور بھی تھے۔ مجبوراً مونگ رسول میں اوورسیر اور ڈرافٹسمین کا ڈپلومہ کیا۔ یہ 1949 کی بات ہے۔ ملک کو کام کرنے والوں کی سخت ضرورت تھی، فورا ان کی تقرری اوورسیر کے طور پر محکمہء انہار میں ہو گئی۔ میری پیدائش بھی اسی سال ہوئی، والدین کی شادی 1947 میں ہوچکی تھی۔ قطر کی طرف سے اخبارات میں ضرورت ملازمیں کے اشتہار آرہے تھے، پٹرول دریافت ہو چکا تھا، ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا مقصود تھا۔ والد صاحب نے درخواست دی تو انہیں بلوالیا گیا، یوں 1958 میں یہاں آگئے، اور 1959 میں مجھے اور والدہ کو لے آئے۔ یہاں زندگی کا نیا باب شروع ہوا۔1974 میں۔ بی اے کر چکی تھی۔ایم اے بعد میں کیا، اور ڈاکٹریٹ دو بچوں کے ساتھ کی۔ شادی بڑے ماموں کے بیٹے سے ہوئی، جو الحمد للہ نبھی جا رہی ہے۔ 44 سال ہوگئے۔میری شادی کیلئے پہلے تو والدین نے انتخاب کیا میرے لئے تعلیم یافتہ ایم کام لڑکے کا پھر مجھے بھی پوچھا میں نے امی پر موافقت ظاہر دی۔ اتنی عربی پڑھ کر سمجھ تو آہی گئی تھی برے بھلے کی۔میرے شوہرریٹائرڈ اکاؤنٹنٹ نے علمی اور ادبی خدمات میں بہت زیادہ تعاون کیا، یا پھر میرے والد نے سٹینڈ لیا تھا جب سب نے کہا تھا اسے ہٹالو کیا ضرورت ہے پڑھائی کی۔ میں نے اپنا تھیسز ان دونوں کے نام منسوب کیا ہے۔میرے تین، بڑا بیٹا ایم بی اے ہے، بیٹی بچوں کی ڈاکٹر ہے، چھوٹا بیٹا آئی ٹی میں ہے۔ تینوں صاحب اولاد ہیں الحمد للہ۔والد نے درویشی سکھائی، تو جو بھی ملے کھا لیتی ہوں اور پہن لیتی ہوں فیشن وغیرہ کا کوئی خاص اہتمام نہیں کرتی۔ عربوں کو اردو کے اور پاکستانیوں کو عربی کے قابل ذکر واقعات سناتی رہتی رہتی ہوں۔ ملنے والے پسند کرتے ہیں اورنرم خو جانتے ہیں مجھے، انہیں شاک تب لگتا ہے جب میں مذہبی اصولوں پر عملی طورپر اڑ جاتی ہوں۔ حیران ہو کر سوچتے ہیں اسے کیا ہوگیا؟ یہ تو خاموش طبیعت تھی۔ انہیں غیرت دین کا نہیں پتہ۔ جلدی ناراض نہیں ہوتی کسی سے، مگر جب ہوجاؤں تو پھر منانے والا کوئی نہیں۔ مجھے اعتراض ہے ان مردوں پر جو کھانے میں نقص نکال نکال کر عورت کو پکانے میں ہی مصروف رکھتے ہیں اور نماز کا ٹائم نہیں ملتا اسے۔ یہ سب حساب دینا پڑے گا۔اپنا کام خود کرتی ہوں دستی پمپ سے پانی نکالنے سے لیکر ویکیوم کلینر تک کر لیتی ہوں۔ کھانے خود بناتی ہوںِ پلاؤ، بریانی، حلوے، قورمہ، مچھلی، شامی کباب، تکے، روٹی، پراٹھے۔ اور بھی کافی کچھ بناتی رہی ہوں، عربی کھانے بھی ٹرائی کئے، ہریسہ، عربی پلاؤ، سویٹ ڈشز وغیرہ۔ اوراپنے کپڑے بھی خود سیتی رہی ہوں، مگر اب ساٹھ سال کی عمر سے بیماریوں نے عاجز کر دیا ہے، کچھ نہیں ہوتا۔ شریعت دین کی بنیاد ہے جیسے ارکان اسلام و ایمان کا علم، قرآن وحدیث کا۔ طریقت محبت کا مختصر ترین راستہ ہے شریعت کا علم بے حد ضروری ہے تاکہ طریقت کے احوال کو برداشت کر سکے۔ یہ راستہ شیخ بتاتا ہے۔جیسے سونے کو سنار پہچانتا ہے ایسے ہی شیخ کو مرید پہچان لیتا ہے۔ ہر دعویٰ کرنیوالا شیخ نہیں ہوتا۔سیاست کی اہمیت یہ ہے کہ اگر سر سلامت ہو تو جسم بھی سلامت رہتا ہے۔ ادبی اصناف میں ان کوشاعری اور افسانے پسند ہیں اوریہی ان کے پسندیدہ مشاغل ہیں اور افسانوں کا ترجمہ، اردو سے عربی اور عربی سے اردوکا ترجمہ کیا ہے۔مجھے لکھنے کا شوق کیسے پیدا ہوا،پتہ نہیں بس پڑھتے پڑھتے دل میں آیا کہ میرا نام بھی کسی بک پر چھپے۔میں نے قطر میں سب سے پہلے رباعیاں لکھیں، عرب دنیا کو ہائیکو سے متعارف کروایا۔مصروفیت کی وجہ سے باقاعدہ لکھنا مشکل ہے میرے لئے۔ عربی اخبار کی طرف سے باقاعدہ کالم نگاری کیلئے پیشکش تو آئی تھی۔لا تعدادلکھا، روزانہ تو لکھتی رہی ہوں زیر طبع” ہماری زندگی” ہے۔ قلم میں بہت طاقت ہے اس میں یہ قوموں کی زندگی کا رخ موڑ دیتی ہے۔ اسے کے زور پر انگریزوں سے نجات حاصل کی قوموں نے۔ یہی انسانی تہذیبوں کی بنیاد ہے۔انسانی سماج کی ترقی کا راز کیا ہے؟ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی چیز کا اگر غلط استعمال کریں گے تو وہ خراب ہو جائے گی۔ صحیح استعمال اسکی گائیڈ بک میں واضح کیا ہوا ہوتا ہے۔ ہماری بھی گائیڈ بک اللہ نے اتاری ہے اگر اس پر عمل کریں گے تو سب کچھ ٹھیک رپے گا ورنہ سب گڑبڑ ہو جائے گی۔ادب میں وہ اعلیٰ مثالیں ہوتی ہیں جن پر نسلیں عمل پیرا ہوتی ہیں۔ وہ زندگی کا آئینہ ہے۔شعر و ادب میں طنز و مزاح کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تفریح کے ساتھ ساتھ سبق آموز بھی ہوتا ہے۔ اورالیکٹرانک میڈیا پرنٹ میڈیا پہ اثر انداز ہو رہا ہے اور آثار بتا رہے ہیں کہ پرنٹ تو ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ اورسوشل میڈیا وقت ضائع کر رہا ہے یا اس کا فائدہ بھی ہے۔ہر ایجاد کے فائدے بھی ہوتے ہیں نقصان بھی۔ مثل مشہور ہے کہ علم دو دھاری تلوار ہے۔سوشل میڈیا کا کردار مثبت بھی ہے۔

(باقی:سامنے والے صفحہ پر)

بھارتی اداکارہ نے محبت میں ناکامی پر خود کشی کرلی

چنائی: تامل اداکارہ یاشیکا نے محبت میں ناکامی پر خودکشی کرلی  اداکارہ کی لاش ان کے گھر سے برآمد ہوئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق تامل اداکارہ یاشیکا نے گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کی۔ اداکارہ نے موت سے قبل اپنی والدہ کو واٹس ایپ پر پیغامات بھیجے تھے جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ محبت میں ناکامی کی وجہ سے یہ انتہائی قدم اٹھانے جارہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یاشیکا اپنے دوست موہن بابو کے ساتھ پچھلے 4 ماہ سے رہ رہی تھیں تاہم تین روز قبل دونوں کا جھگڑا ہوا اور موہن یاشیکا کو چھوڑ کر چلا گیا۔ پولیس نے اداکارہ کے دوست کے خلاف کیس رجسٹر کرکے اس کی تلاش شروع کردی ہے اور یاشیکا کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا ہے۔

واضح رہے کہ اداکارہ یاشیکا نے تامل فلموں میں مختصر کردار ادا کیے تھے، علاوہ ازیں وہ تامل ڈراموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھا چکی تھیں۔

پلاسٹک سے ایندھن کی تیاری میں ابتدائی کامیابی

نیویارک: ماحول کے ایک بڑے وِلن پلاسٹک کے بارے میں خبر آئی ہے کہ سائنسدانوں نے اسے کئی مراحل سے گزار کر ایندھن میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔  

امریکہ میں پورڈوا یونیورسٹی کے ماہرین نے پالیمر کی ایک ایسی قسم کو ایندھنی ہائیڈروکاربنز میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس سے دنیا کا 25 فیصد پلاسٹک ایندھن میں بدلا جاسکتا ہے کیونکہ فی الحال پولی پروپائیلین کو ہی ڈیزل کی ایک قسم کے ایندھن میں بدلنے کا تجربہ کیا گیا ہے۔

یہ اہم کام کیمیکل انجینیئر لِنڈا وینگ نے انجام دیا ہے اور وہ کہتی ہیں کہ ان کی ایجاد سے پلاسٹک ری سائیکل (بازیافت) کرنے والے کارخانوں کے منافع میں اضافہ ہوگا اور دنیا میں موجود پلاسٹک کا پہاڑ بھی کم سے کم ہوسکے گا۔ پلاسٹک کو ری سائیکل کرنے کے لیے اسے ایک ساتھ بھینچا اور گرم کیا جاتا ہے۔ 500 درجے سینٹی گریڈ اور 23 میگا پاسکل پریشر پر اسے چند گھنٹوں رکھا جائے تو پلاسٹک اپنی شکل بدل لیتا ہے۔

اس عمل کو ہائیڈروتھرمل لیکوفیکیشن کہا جاتا ہے اور پلاسٹک کی 90 فیصد مقدار ایندھنی درجے کی ایک شے نیفتھا میں بدل گئی جس میں ہائیڈروکاربنز کی اچھی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ عمل کچھ مہنگا ہے لیکن یاد رہے کہ ماحول دوست عمل اور پلاسٹک ٹھکانے لگانے کی یہ کوئی زیادہ قیمت نہیں ہے۔

لِنڈا وینگ کے مطابق اگلے مراحل میں اس سے نیفتھا اور صاف ایندھن بنانے کی کوشش کی جائے گی تاہم حتمی منزل ابھی بہت دور ہے۔

پلاسٹک اس وقت ماحول کے لیے خوفناک عذاب بن چکا ہے۔ اول یہ کبھی ختم نہیں ہوتا اور دھیرے دھیرے ٹوٹ کر مزید باریک ٹکڑوں میں تقیسم ہوتا ہے اور ان کی مقدار اب ہماری غذا میں بھی شامل ہوتی جارہی ہے۔ سمندروں میں پلاسٹک نے ہولناک تباہی پھیلائی ہے جس سے جانور مررہے ہیں اور خوردنی مچھلیوں میں بھی ان کے آثار نمایاں ہیں۔

شہباز شریف کی رہائی نیب کیلئے لمحہ فکریہ ہے، فواد چوہدری

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی رہائی کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے لیے لمحہ فکریہ قرار دے دیا۔

اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ’یہ محض انکشاف ہے کہ شہباز شریف رہا ہوئے ہیں کیونکہ وہ قید ہی کب تھے، ہم انہیں اسلام آباد کی سڑکوں پر فراٹے بھرتے دیکھ رہے تھے‘۔

عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہاں مرغی چور کو اپنی ضمانت کے لیے کئی سال لگ گئے لیکن اگر 15 سو ارب روپے چوری کرنے والے کی ضمانت 90 روز سے کم میں ہوجاتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی ضمانت ان کی بے گناہی ثابت نہیں تاہم ضمانت کو چیلنج کیا جانا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے نیب پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ’نیب کو بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ جن لوگوں کو کرپشن کیس میں حراست میں لے رہے ہیں ان کے مقدمات کو منطقی انجام تک کیوں نہیں پہنچا رہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نیب کو یہ باتیں عوام کے سامنے رکھنی چاہیے، شہبازشریف کی ضمانت سے معاشرے میں منفی اثر جائے گا‘۔

صنعتی زونز میں گیس، بجلی فوری فراہم کرنے کا فیصلہ

وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلوں کی منظوری سے متعلق بتایا کہ ’انڈسٹریل زونز میں گیس اور بجلی کی فراہمی کو فوری طور پر یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا‘۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’پوری دنیا سے ملک میں سرمایہ کاری کا رحجان بڑھا ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ وقت سے پہلے بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس میں اب تک 440فیصلے لیے گئے تاہم 6ماہ میں کابینہ کے 26 اجلاس ہوئے اور 43 فیصلوں پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے نئے بورڈ کی منظوری دی گئی جس میں ظفر عثمانی نئے چیئرمین ہوں گے‘۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ’وفاقی کابینہ نے اوورسز پاکستانی اور بینکنگ میں وسیع تجربہ رکھنے والے عدنان غنی کو زرعی ترقیاتی بینک کا چیئرمین مقرر کیا ہے‘۔

اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم اوورسز پاکستانیوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ملک کے دروازے ان کے لیے ہمیشہ کھولے ہیں اور وہ واپس آکر اپنا تجربہ استعمال کریں‘۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے فیصلوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’نصیر خان کاشانی کو گوادر پورٹ اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا‘۔

اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’مالیاتی ادارے کو ماضی میں شدید بحران کا سامنا رہا جس کے مارکیٹ شیئرز 100 فیصد سے کم ہو کر محض 28 فیصد رہ گئے تھے‘

انہوں نے بتایا کہ ’اسٹیٹ لائف کی ترقی کے لیے انتظامی سطح پر از سرنو نظام سازی کے لیے چیئرمین اسٹیٹ لائف کے منصوبے پر عملدرآمد ہو گا جس کے لیے اسٹیٹ لائف انشورنس کی یونین پر ’اسینشل سروس ایکٹ‘ کے تحت پابندی لگا دی گئی ہے‘۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ ’وفاق کو ملنے والے طبی ادارے شیخ زید ہسپتال اور کراچی کے جناح ہسپتال سے متعلق امور چلانے کے لیے کابینہ کو بریفنگ دی گئی‘۔

بعدازاں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’وزیرا عظم عمران خان 18 فروری کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں تاہم ان کی مصروفیات کے باعث یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا‘۔

’طالبان نمائندوں کے مذاکرات پاکستان میں ہوں گے‘

وفاقی وزیر نے افغانستان میں امن مذاکرات سے متعلق امور پر تصدیق کی کہ ’طالبان نمائندوں کے مذاکرات پاکستان میں ہوں گے‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خارجہ محاذ پر بے پناہ کامیابیاں حاصل کی ہیں اور مسلم امہ کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔

’وزیر اعظم خود سعودی ولی عہد کا استقبال کریں گے‘

فواد چوہدر ی نے سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان انتہائی منفرد قرار دیتے ہوتے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان از خود سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا خود استقبال کریں گے۔ چوہدری فواد

انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورے کے دوران معاشی معاہدوں پر دستخط ہوں گے تاہم سعودی عرب گوادر میں 8 ارب ڈالر مالیت کی آئل ریفائنری لگائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے لئے ویزا فری پالیسی کا بھی کام کیا گیا ہے لیکن سعودی شہریوں کو پاکستان میں سیاحت کی سہولیات حاصل ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ سعودی ولی عہد کو پاکستان آمد پر 21 توپوں کی سلامی دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کابینہ میں سعودی ولی عہد کے دورہ کے دوران پانی وبجلی کے شعبہ میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی منظوری دی جائے گی

فواد چوہدری نے بتایا کہ بجلی کے 5 منصوبوں کیلئے ایک ارب 20 کروڑ 75 لاکھ ریال کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوں گے۔

علاوہ ازیں دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 37 کروڑ 50 لاکھ، مہمند ڈیم کے لیے 30 کروڑ، شونترمنصوبے کے لیے 24 کروڑ 75 لاکھ، جامشورو پاور پراجیکٹ کے لیے 15 کروڑ 37 لاکھ، جاگران ہائیڈرو پاورمنصوبہ کےلیے 13 کروڑ 12 لاکھ ریال ملیں گے۔

راؤ انوار کی ای سی ایل سے نام کے اخراج کیلئے نظرثانی درخواست

اسلام آباد: نقیب اللہ محسود سمیت 400 افراد کے ماورائے عدالت قتل کے الزامات میں مقدمات کا سامنا کرنے والے سابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راؤ انوار نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نام کے اخراج کے لیے سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل دائر کردی۔

اس سے قبل نقیب اللہ محسود قتل کیس سمیت متعدد مقدمات کا سامنا کرنے والے راؤ انوار نے ای سی ایل سے نام خارج کرنے کی درخواست کی تھی جسے اعلیٰ عدلیہ نے 10 جنوری کو مسترد کردیا تھا۔

تاہم عدالت سے ضمانت پر رہا سابق ایس ایس پی ملیر نے سپریم کورٹ کے 10 جنوری کے حکم نامے کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کی۔

انہوں نے کہا کہ نقیب اللہ محسود قتل کیس میں میرا عمل دخل ابھی تک ثابت نہیں ہوا اس وجہ سے میری نقل و حرکت پر پابندی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے لہٰذا میرا نام ای سی ایل سے نام نکالا جائے۔

انہوں نے نظر ثانی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں انصاف کے تقاضوں کو نظر اندز کیا کیونکہ ایف آئی آر کا اندراج یا زیر التوا مقدمہ نقل حرکت کے حق ختم نہیں کر سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کے عبوری حکم میں قانونی نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا جس سے ٹرائل کورٹ میں شفاف ٹرائل کے حق کا تحفظ نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے ای سی ایل سے نام نکالنے والی درخواست میں کئی پہلوؤں کو نظر انداز کیا، میں ایک والد ہوں اور ذمے داریاں نبھانا میرا فرض ہے اس پہلو کو بھی حکم نامے میں نظر انداز کیا گیا۔

سابق پولیس افسر نے دعویٰ کیا کہ ان کی زندگی کو بیشتر خطرات لاحق ہیں جس کی وجہ سے وہ پاکستان میں آزادی سے سفر نہیں کر سکتے اور استدعا کی کہ سپریم کورٹ 10 جنوری کے حکم نامے پر نظر ثانی کرتے ہوئے ان کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کا حکم دے۔

نقیب اللہ کا قتل

یاد رہے کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ کو گزشتہ ہفتے ایس ایس پی راؤ انوار کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے عثمان خاص خیلی گوٹھ میں مقابلے کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے ہیں، جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے اس وقت الزام لگایا گیا تھا کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے افراد دہشت گردی کے بڑے واقعات میں ملوث تھے اور ان کے لشکر جنگھوی اور عسکریت پسند گروپ داعش سے تعلقات تھے۔

اس واقعے کے بعد نقیب اللہ کے ایک قریبی عزیز نے پولیس افسر کے اس متنازع بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مقتول حقیقت میں ایک دکان کا مالک تھا اور اسے ماڈلنگ کا شوق تھا۔

نقیب اللہ کے قریبی عزیز نے بتایا تھا کہ جنوری میں نقیب اللہ کو سہراب گوٹھ پر واقع کپڑوں کی دکان سے سادہ لباس افراد مبینہ طور پر اٹھا کر لے گئے تھے جبکہ 13 جنوری کو پتہ چلا تھا کہ اسے مقابلے میں قتل کردیا گیا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ مقتول اس سے قبل بلوچستان میں حب چوکی پر ایک پیٹرول پمپ پر کام کرتا تھا اور اس کے کسی عسکریت پسند گروپ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

شہباز شریف کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

لاہور ہائی کورٹ نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم جاری کردیا۔

واضح رہے کہ شہباز شریف کو 5 اکتوبر 2018 کو نیب لاہور نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں حراست میں لیا تھا۔

شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد نیب کے بیان میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا کنٹریکٹ لطیف اینڈ سنز سے منسوخ کر کے کاسا ڈیولپرز کو دیا جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا جس کے لیے مزید تفتیش درکار ہے۔

شہباز شریف کو نیب نے جنوری 2016 میں پہلی مرتبہ طلب کیا تھا، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے چوہدری لطیف اینڈ کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کرنے کے لیے دباؤ کا استعمال کیا اور لاہور کی کاسا کپمنی کو جو پیراگون کی پروکسی کپمنی تھی کو مذکورہ ٹھیکہ دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ملک شہزاد احمد کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔

آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں ملزمان کی ضمانتوں کی درخواستوں پر ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے سیوریج اور سینیٹیشن کے کاموں کی تفصیلات کے علاوہ نالے کی فیزیبیلیٹی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کیں۔

انہوں نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ڈیولپمنٹ پلان کا بجٹ اسمبلی اور کابینہ نے منظور کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’منصوبے پر عمل اس وقت ہی شروع ہوتا ہے جب اسمبلی اسے منظور کرے، نیب ایسے ظاہر کر رہا ہے جیسے رمضان شوگر مل بھارت میں ہے‘۔

خیال رہے کہ قانون کے مطابق ملزم ٹرائل کورٹ کی جانب سے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجے جانے کے بعد ضمانت کی درخواست دائر کرسکتا ہے۔

شہباز شریف کو احتساب عدالت کی جانب سے گزشتہ سال 6 دسمبر کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا گیا تھا۔

قومی احتساب ادارے نے شہباز شریف کو تقریباً 80 روز تک اپنے حراست میں رکھا۔

نیب نے الزام عائد کیا کہ شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر رہتے ہوئے ضلع چنیوٹ کے نکاسی آب کا نظام تعمیر کرنے کی ہدایت دی تھی جس کا استعمال ان کے بیٹوں کی ملکیت میں کمپنی رمضان شوگر ملز نے کرنا تھا۔

نیب کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے لیے قومی خزانے کے 20 کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے۔

فواد حسن فواد کی درخواست ضمانت مسترد

دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما فواد حسن فواد کی ضمانت مسترد کردی۔

تاہم آشیانہ اقبال کیس میں ان کی درخواست ضمانت منظور کرلی گئی۔

خیال رہے کہ 11 فروری 2019 کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست پر عدالتی بینچ کی تبدیلی کی قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔

22 جنوری 2019 کو شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی، جسٹس ملک شہزاد احمد کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کی درخواست ضمانت پر سماعت کررہا تھا۔

آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں شہباز شریف پر الزامات

نیب نے اکتوبر کے آغاز میں شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں باضابطہ طور پر گرفتار کیا تھا۔

6 دسمبر کو احتساب عدالت میں ہونے والی سماعت میں نیب نے شہباز شریف سے متعلق تفتیشی رپورٹ پیش کی۔

تفتیشی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ شہباز شریف نے اعتراف کیا کہ انہوں نے 2 کروڑ روپے سے زائد کی رقم بطور کرایہ رمضان شوگر مل کے توسط سے مری میں ایک جائیداد کی لیز کے طور پر حاصل کی۔

یاد رہے کہ آشیانہ اقبال اسکینڈل میں شہباز شریف سے قبل فواد حسن فواد، سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ، بلال قدوائی، امتیاز حیدر، شاہد شفیق، اسرار سعید اور عارف بٹ کو نیب نے اسی کیس میں گرفتار کیا تھا جبکہ دو ملزمان اسرار سعید اور عارف بٹ ضمانت پر رہا ہیں۔

شہباز شریف کو نیب نے جنوری 2016 میں پہلی مرتبہ طلب کیا تھا، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے چوہدری لطیف اینڈ کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کرنے کے لیے دباؤ کا استعمال کیا اور لاہور کاسا کپمنی کو جو پیراگون کی پروکسی کپمنی تھی مذکورہ ٹھیکہ دیا۔

رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کے اس غیر قانونی اقدام سے سرکاری خزانے کو 19 کروڑ کا نقصان ہوا۔

شہباز شریف پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے ‘پی ایل ڈی سی’ پر دباؤ ڈال کر آشیانہ اقبال کا تعمیراتی ٹھیکہ ایل ڈی اے کو دلوایا لیکن ایل ڈی اے منصوبہ مکمل کرنے میں ناکام رہا اور اس سے 71 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

اس کے علاوہ شہباز شریف نے پی ایل ڈی سی پر دباؤ ڈال کر کنسلٹنسی کا ٹھیکہ ایم ایس انجیئنر کنسلٹنسی سروس کو 19 کروڑ 20 لاکھ میں ٹھیکہ دیا، جبکہ نیسپاک نے اس کا تخمینہ 3 کروڑ لگایا تھا۔

میگا منی لانڈرنگ کیس؛ آصف زرداری اورفریال تالپور کی ضمانت میں توسیع

کراچی: میگا منی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری، فریال تالپور اور دیگر کی ضمانت میں 5 مارچ تک توسیع کردی گئی ۔

کراچی کی بینکنگ کورٹ میں میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی، عبوری ضمانت پر رہا آصف زرداری اورفریال تالپور عدالت پہنچے جب کہ گرفتار ملزمان انور مجید ، عبدالغنی مجید ، حسین لوائی اور طحہٰ رضا کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ انور مجید کے 3 بیٹے نمر مجید، ذوالقرنین اور علی مجید کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

پیشی کے دوران ایف آئی اے نے انٹر پول کی مدد سے گرفتار کئے گئے ملزم اسلم مسعود کو پیش نہ کرنے کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرادی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے اسلم مسعود کو پیش نہ کرنے کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔

نیب پراسیکیوٹر نےکیس اسلام آباد منتقل کرنے کے حق میں موقف اختیار کیا کہ چیئرمین نیب نے کیس اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس لئے ملزمان کی ضمانتوں کی درخواستیں نہ سنی جائیں۔ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ لیا جائے، جس کے مطابق ملزمان کی ضمانتیں سننے کی گنجائش نہیں رہتی۔

آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے اپنے موکلان کی عبوری ضمانت میں مزید توسیع کی درخواست کی اور موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے نیب ریفرنسز اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ فیصلے میں بینکنگ کورٹ کیس کا کوئی ذکر نہیں، فاروق ایچ نائیک قانون ملزمان کی ضمانتیں سننے پر کوئی قدغن نہیں لگاتا، ایف آئی اے اور نیب سپریم کورٹ فیصلے کی غلط تشریح کررہے ہیں۔

عدالت نے ایف آئی اے پراسیکیوٹر سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ آپ کو بتانا ہوگا کیس میں کیا پیش رفت ہو رہی ہے، ایف آئی اے کو جو کہنا ہے تحریری طور پر جمع کرائے۔ عدالت نے انور مجید اور اے جی مجید کی درخواستِ ضمانت کی سماعت 20 فروری تک ملتوی کردی جب کہ آصف زرداری، فریال تالپور اور دیگر کی ضمانت میں 5 مارچ تک توسیع کردی۔

مقبوضہ کشمیر میں کار بم دھماکا، 42 بھارتی فوجی ہلاک

مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں کار بم دھماکے میں 42 بھارتی سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر کار بم دھماکا ضلع پلوامہ میں سری نگر جموں ہائی وے پر لٹھ پورا کے مقام پر ہوا۔

بھارتی پولیس حکام کے مطابق کار میں سوار حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی سی آر پی ایف کی بس سے ٹکرائی اور پھر اسے دھماکے سے تباہ کر دیا۔

دھماکے کی جگہ پر بھارتی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار کھڑے ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا۔

حکام کے مطابق دھماکے میں 42 سی آر پی ایف اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو بھارتی فوج کے 92 بیس اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

دھماکے کے بعد بھارتی سیکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد نے علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

Google Analytics Alternative