Home » Author Archives: Admin (page 3000)

Author Archives: Admin

بھارتی جارحیت پرحکومت کی خاموشی مجرمانہ ہے، خورشید شاہ

اسلام آباد: قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت سے اب تک 40 فوجیوں سمیت متعدد شہری شہید ہوچکے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے مجرمانہ خاموشی ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ تمام ملک کی نظریں حکومت، ریاست چلانے والی جماعت اور وزیراعظم پر ہے، بھارت کی جانب سے 230 مرتبہ ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزی کی گئی اور اب تک 40 فوجیوں سمیت متعدد شہری شہید جب کہ 150 کے قریب زخمی ہوچکے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے بھارتی جارحیت پرمجرمانہ خاموشی ہے جب کہ مسلح افواج بھارتی جارحیت کامنہ توڑجوب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں جارحیت اس بات کا عندیہ تھا کہ بھارت پاکستان میں حالات خراب کرے گا، پاکستان نیوکلیئر پاور ہے لیکن ایک ملک تباہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔

خورشید شاہ نے کہا پاکستان جنگ نہیں چاہتا مگر بھارتی حکمران جنگ لڑنا چاہتے ہیں، حکومت بھارتی جارحیت سے پوری دنیا کو آگاہ کرے اور اقوام متحدہ سمیت سرحد پر بھی بھرپور جواب دیا جائے ، ہارٹ ایشیا آف کانفرنس میں جانا پاکستان کی کمزوری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف 24 ویں ترمیم کی مخالفت ایوان میں آ کر کرے کیونکہ کسی ترمیم یا بل کی مخالفت ایوان کے اندر ہوگی باہر سے نہیں ہوسکتی، ایوان سے باہر تو مخالفت نہیں پوائنٹ اسکورنگ ہوگی لہذا  پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں آ کر اپوزیشن سے مل کر بل کی مخالفت کرے۔

بلاول بھٹو کا قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ

پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری پارلیمانی سیاست میں قدم رکھنے کو تیار ہیں، سینیٹر فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ پارٹی جائزہ لے رہی ہے کہ بلاول کو کیسے پارلیمان میں لایا جائے؟

آصف زرداری کی زیرصدارت اجلاس میں اس معاملے پر غور کا امکان ہے، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اجلاس میں شرکت کے لیے دبئی پہنچ گئے ہیں۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری این اے 204یا این اے 207 کی نشست پرضمنی الیکشن لڑیں گے۔

وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ

اسلام آباد: وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ دیا گیا ہے جس میں شرکت کے لیے آرمی چیف وزیراعظم ہاؤس پہنچے جہاں وزیراعظم اور جنرل راحیل شریف کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی۔ 

وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ کی تقریب جاری ہے، الوداعی عشائیے میں شرکت کے لیے آرمی چیف جنرل راحیل شریف وزیراعظم ہاؤس پہنچے جہاں وزیراعظم نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، وزیراعظم نے آرمی چیف سے مصافحہ کیا جس کے بعد وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی کی۔

وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے دیئے گئے عشایئے میں آئندہ آرمی چیف کے لیے سینئر موسٹ لیفٹیننٹ جرنیلوں کی فہرست میں شامل چاروں لیفٹیننٹ جرنیل بھی تقریب میں شریک ہیں جن میں لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات، لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم، لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے شامل ہیں، ایئر چیف مارشل سہیل امان، نیول چیف ایڈمرل ذکاءاللہ اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر سمیت دیگر اعلیٰ فوجی حکام بھی تقریب میں شریک ہیں۔

حکومتی شخصیات میں وزیردفاع خواجہ آصف، وزیرخزانہ اسحاق ڈار، وزیردفاعی پیداوار رانا تنویر، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری اور تقریب میں شریک ہیں جب کہ دیگر سیاسی رہنماؤں میں مشاہد حسین سید سمیت شیخ روحیل اصغر بھی الوداعی عشایئے میں شریک ہیں۔

تقریب کے دوران وزیراعظم نوازشریف نے لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات، لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے، لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم سے خوشگوار ماحول میں گفتگو کی جب کہ آرمی چیف نے وزیر دفاع خواجہ آصف، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، وزیر مملکت رانا تنویر اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی سمیت دیگر سے مصافحہ کیا۔ جنرل راحیل شریف نے مسلح افواج کے سربراہان سے بھی مصافحہ کیا۔ تقریب کے دوران وزیراعظم نے تینوں سروسز چیفس کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنوایا۔

واضح رہے آرمی چیف جنرل راحیل شریف 29 نومبر کو ملازمت سے ریٹائر ہوجائیں گے اور اس سے قبل وزیراعطم نوازشریف نئے آرمی چیف کا اعلان کریں گے۔

بھارتی فوج نے سرجیکل اسٹرائیک کا ڈراما رچایا، آرمی چیف

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں قبائلی جرگہ عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج اور قبائل نے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کردیا ہے، دہشت گردی کے خلاف لڑنے والی پاک آرمی دنیا کی مضبوط ترین فوج ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوان بھارتی فوج کوسبق سکھا سکتے ہیں، بھارتی فوج نے سرجیکل اسٹرائیک کا ڈرامہ رچایا، بھارت نے سرجیکل اسٹرائیک کی تو ایسا جواب دینگے کہ بھارتی نصاب میں پاک فوج کے قصے پڑھائے جائیں گے۔

آرمی چیف نے کہا کہ وہ 29نومبر کو اختیارات سونپ دیں گے، ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی زندگی شہداء کے لواحقین کےلئے وقف کرتا ہوں۔

آرمی چیف نے قومی کرکٹر شاہد آفریدی کے ہمراہ خیبر اسٹیڈیم کا افتتاح بھی کیا، اس موقع پر شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کے ساتھ خیبراسٹیڈیم کا افتتاح کرنا اعزاز کی بات ہے۔

شاہد آفریدی نے جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے قومی ہیرو ہیں، میری نیک خواہشات آپ کے ساتھ ہیں، آپ نے جو پاکستان کیلئے کیا اس پر وہ شکر گزار ہیں۔

پاک بھارت صورتحال پر تشویش ہے ، برطانوی وزیر خارجہ

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کےبعد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ، سرتاج عزیز نے کہا کہ ایل او سی پر پاکستان کی تشویش سے برطانیہ کو آگاہ کیا ہے ۔

برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ بھارت اورپاکستان کومسئلہ کشمیرکاحل تلاش کرناچاہیے، انہوں نے کہاکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ، خطےمیں سیکورٹی کامعاملہ بہت اہم ہےجس پرپاکستان کےساتھ ہیں ، دہشتگردی کےخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں قابل تحسین ہیں۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہناہےکہ برطانوی وزیرخارجہ کوکشمیرکی صورتحال اورایل او سی پر بریف کیااورانہیں اپنی تشویش سےآگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی وزیرخارجہ نےپاکستان کی تشویش کوسمجھاہےاورپاک بھارت مذاکرات کی بحالی کی خواہش ظاہرکی ہے،پاکستان اوربرطانیہ نےباہمی روابط تجارتی سطح پربڑھانےکااعادہ بھی کیا۔

بین الاقوامی نمائش آئیڈیاز کی تقریب

وزیراعظم محمد نواز شریف نے بین الاقوامی نمائش آئیڈیاز2016 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں کسی بھی طرح کی اسلحے کی دوڑ کے خلاف ہے‘ ہمارے آلات حرب صرف دفاع کیلئے ہیں‘ ہمارے دفاعی ہتھیار ہر طرح کی آزمائش پر پورے اترے ہیں‘ حکومت معیشت کو مستحکم بنانے کیلئے پرعزم ہے‘ عالمی مالیاتی اداروں میں پاکستان کی درجہ بندی بہتر ہوئی ہے‘ ملک میں سرمایہ کاری کیلئے فضا ساز گار ہے‘ ملک میں شرح سود ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے‘ دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے‘ ملک میں توانائی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ افراد زر میں تاریخی کمی اور شرح نمو میں نمایاں اضافہ ہوا ہے‘ مجموعی ملکی پیداوار 4.71 فیصد ہے جو گزشتہ دس سال میں سب سے زیادہ ہے۔ 2016-17 میں مجموعی ملکی پیدوار کو پانچ فیصد تک لے جائیں گے۔ عالمی ادارے پاکستان کی معاشی ترقی کے معترف ہیں۔ موڈیز اور سٹینڈرڈ اینڈ پورز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کی ہے۔ پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پایا جارہا ہے۔ توانائی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے تیزی سے کام جاری ہے ہم ملک میں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی چاہتے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سوفیصد ملکیتی حقوق حاصل ہیں۔ آئیڈیاز نے عالمی سطح پر اپنا مقام حاصل کیا ہے۔ حکومت سماجی شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ پاکستان میں منافع بخش سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دفاعی صنعت کی ترقی کے لئے بھی سرمایہ کاری کررہا ہے۔ دفاعی صنعت ی استعداد کار اور معیار میں اضافہ کیا گیا ہے۔ دفاعی صنعت کو بین الاقوامی برادری کا قریبی تعاون حاصل ہے۔ دفاعی صنعت کے فروغ کیلئے وزارت تجارت کا تعاون قابل تعریف ہے۔ عالمی منڈی میں پاکستانی دفاعی ہتھیاروں نے اپنا لوہا منوایا ہے۔ ہتھیاروں کی تیاری میں بہتری کیلئے پاکستان دوسرے ملکوں سے ٹیکنالوجی کا تبادلہ کررہا ہے۔ وزیراعظم نے سٹالز پر ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کی مصنوعات کا مشاہدہ کیا۔ کمپنیوں کے نمائندوں نے وزیراعظم کو دفاعی مصنوعات کے بارے میں آگاہ کیا۔ 9ویں بین الاقوامی دفاعی نمائش22سے 25نومبر تک جاری رہے گی۔ دفاعی نمائش میں 43 ممالک سے 90وفود شرکت کررہے ہیں۔ اعلیٰ سطحی وفود میں وزارت دفاع‘ ڈیفنس سیکرٹریز اور سروسز چیفس شامل ہیں۔ 34ممالک کی 418کمپنیوں نے اپنے آلات حرب نمائش میں رکھے ہیں۔ نمائش میں ٹینکوں‘ جنگی طیاروں اور مختلف ہتھیاروں کے ماڈلز بھی رکھے گئے ہیں۔ نمائش میں 261 غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ 157 پاکستانی کمپنیاں بھی شرکت کررہی ہیں۔ 2014 کے مقابلے میں رواں سال مزید 9ممالک نمائش میں حصہ لے رہے ہیں۔ وزیراعظم نے درست کہا ہے کہ پاکستان خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف ہے اور اس کے دفاعی آلات امن کیلئے ہیں اور یہ بے کم و کاست ہے کہ پاکستان دفاعی پیداوار میں ایک ابھرتا ہوا ملک ہے اور دنیا میں امن کا خواہاں ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کا کردار قابل تقلید ہے۔ پاکستان کے خلاف ایک جارح ملک کی پروپیگنڈا مہم اور سازش سے عالمی ادارے بے نیاز نہیں ہیں۔ پاکستان کی امن پسندی عالمی اداروں کیلئے ایک مثال ہے۔ حکومت فوج اور ادارے ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے کوشاں ہیں اور ترقی کی یہ رفتار رہی تو پاکستان بہت جلد معاشی ترقی کرسکے گا۔ پاکستان کی پالیسیاں ملکی ترقی ،خوشحالی اور امن کیلئے سود مند ہیں ۔ سرمایہ کاروں کی پاکستان میں تمام شعبوں میں سرمایہ کاری ان کیلئے نیک شگون قرار پائے گی۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں۔پاکستان کے دفاعی ہتھیار ہر طرح کی آزمائش پر پورے اترتے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کا کردار
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سدرن کمانڈ کوئٹہ کے موقع پر فوجی افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر پاکستان کو خوشحالی کے نئے دور میں داخل کرے گی ، گوادر اور سی پیک کے فوائد عام آدمی تک پہنچیں گے، بلوچستان کے عوام نے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشتگردی کو مسترد کر دیا ، صوبے میں اب دہشت گرد اور ان کے ہمدرد چھپتے پھر رہے ہیں ، بلوچستان کے فراریوں نے بھی بڑی تعداد میں ہتھیار ڈال دیئے ، امید ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا،بطور آرمی چیف بلوچستان میں سیکیورٹی اور سول حکومت کی مدد بطور میری ترجیح رہی ہے۔ جوانوں و افسروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ۔بلوچستان کے عوام نے دہشتگردوں کے نیٹ ورک ختم کرنے میں مدد کی، بہتر سیکیورٹی صورتحال ،و فاق اورصوبائی حکومتوں کے ساتھ کام کرتے رہیں گے ۔صوبائی حکومت کی معاونت اور ترقیاتی کام اولین ترجیح ہے ، ان ترجیحات کی وجہ سے ہر ماہ بلوچستان کا دورہ کرتا تھا۔ سی پیک کی تعمیر پاکستان کو خوشحالی کے نئے دور میں داخل کرے گی ۔ گوادر اور سی پیک کے فوائد عام آدمی تک پہنچیں گے ، بلوچستان کے عوام نے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشتگردی کو مسترد کر دیا، بلوچستان میں اب دہشت گرد اور ان کے ہمدرد چھپتے پھر رہے ہیں ، بلوچستان کے فراریوں نے بھی بڑی تعداد میں ہتھیار ڈال دئیے ہیں ۔ بلوچستان میں سیکیورٹی اور سول حکومت کی مدد بطور آرمی چیف میری ترجیح رہی ہے ۔انہوں نے دشوارگزار علاقوں میں ایک ہزار کلو میٹر طویل سڑکیں بنانے پر سدرن کمانڈ کو سراہا اور کہا کہ اسی سڑک کی تعمیر سے سی پیک کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سیکیورٹی اداروں پرحملوں ‘مواصلاتی نظام،اسکولزتباہ کرنے میں ملوث 10دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ہے‘6 دہشتگردوں کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی اور 4 کا کالعدم لشکر اسلام سے ہے ۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سیکیورٹی اداروں پرحملوں ‘مواصلاتی نظام،اسکولزتباہ کرنے میں ملوث 10دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔ سزائے موت پانے والے مجرمان دہشت گردی کی کئی وارداتوں میں ملوث تھے۔ ان دہشت گردوں میں کیپٹن جنیدخان،کیپٹن نجم کے قاتل بھی شامل ہیں۔یہ دہشت گردسیکیورٹی اداروں پرحملوں میں ملوث تھے۔یہ دہشت گردمواصلاتی نظام ، اسکولزتباہ کرنے میں بھی ملوث تھے۔ آرمی چیف نے بجا فرمایا ہے پاک فوج نے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے اور دہشت گردچھپتے پھر رہے ہیں۔ پاک فوج کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ ایک طرف یہ دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہے تودوسری طرف سرحدوں پر اس کی کڑی نظر ہے ۔ پاک فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ۔ جنرل راحیل شریف کی بے باک قیادت میں پاک فوج نے ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے جو قربانیاں دی ہیں یہ نہ صرف قابل ستائش ہیں بلکہ قابل تقلید بھی ہیں ۔ پاک فوج کے کردار کو قوم کبھی بھی فراموش نہیں کرسکے گی۔ دوسری طرف فوجی عدالتیں دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچا رہی ہیں ۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرکے ہی

گورننس کے مسائل اور قرضوں کا بوجھ

نواز حکومت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی تان ان دنوں ہمیشہ یہاں آکر ٹوٹتی ہے کہ زر مبادلہ کے ذخائر ریکارڈ حد تک پہنچ گئے ہیں لیکن کبھی وہ یہ نہیں بتاتے کہ ملک پر قرضوں کا بوجھ کہاں جاپہنچا ہے۔تجربہ کاراورمنجھی ہوئی جماعت کا دعوی ٰکرنے والی مسلم لیگ کو حکومت ملی تواب تک قرضوں کے اندرونی اوربیرونی تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ گزشتہ تین برسوں میں حکومت نے 8 ہزار ارب روپے کے قرضے حاصل کیے ہیں جسکے بعد ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 22 ہزار ارب روپے سے بڑھ گیا ہے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر 2016 تک صرف مقامی قرضوں کا بوجھ 14ہزار 787ارب روپے ہوچکا ہے جبکہ30جون 2016 تک غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 7 ہزار200 ارب روپے سے بڑھ گیا ہے۔قرضوں کا یہ پہاڑ کون اتارے گا اسکی حکمرانوں کو فکر ہے اور نہ اس بات پر تشویش کہ ہمارا قانون اس بارے کیا کہتا ہے،قانون کہتا ہے کہ قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 60 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے مگر بدقسمتی اور اس تجربہ کار حکومت کی مہربانی سے اس وقت قرضے جی ڈی پی کے تقریباً 68 فیصد تک پہنچ چکے ہیں جو فیسکل ریسپانسیبلیٹی اینڈ ڈیٹلی میٹیشن ایکٹ 2005کی خلاف ورزی ہے۔قرضوں کا یہ حجم بیڈگورننس کی عمدہ بے مثال ہے۔نون لیگی حکومت کی عمدہ گورننس کے ہاتھوں سماجی ترقی کے تمام شعبے زوال پذیر ہوچکے ہیں۔اقوام متحدہ کی گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ 2016 کے مطابق پاکستان تعلیم کے شعبے میں فنڈنگ میں کمی وجہ سے تعلیمی ہدف کو حاصل کرنے میں پرائمری سطح کی تعلیم میں 50 سال اور ثانوی سطح کی تعلیم میں60سال پیچھے ہے۔ اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسکو کی ستمبر میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2014 میں صرف 10 فی صد غریب بچوں جبکہ اسکے مقابلے میں 75 فی صد امیر بچوں نے لوئر سیکنڈری اسکول تک کی تعلیم کو مکمل کیا۔ چاروں صوبوں کے دور دراز کے دیہاتی علاقوں کا سفر کیا جائے تو ہمیں بھینسیں اور بچے ایک ہی سکول میں اکٹھے نظر آئیں گے۔بارہاتعلیمی پالیسیاں بھی آئیں،تعلیمی منصوبے بھی بنے مگر معیاری تعلیم اور شرح خواندگی کا گراف بہتر نہ ہو سکا۔45 سے 54 سال کی عمر تک کے افراد میں شرح خواندگی صرف 46فیصد ہے اور مختلف شعبہ جات میں روزگار کمانے والے اور مختلف اداروں میں کام کرنے والے 54 فیصد افراد ناخواندہ ہیں۔ملکی و غیر ملکی اداروں کے اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں تعلیمی زبوں حالی کی بنیادی وجہ کرپشن ہے۔ اربوں روپے کے پروجیکٹ ادھر سے ادھر ہورہے ہیں حتی کہ بیرونی امداد بھی خردبرد ہوجاتی ہے۔یونیسکو کی گلوبل ایجوکیشن ڈائجسٹ کے مطابق پاکستان کو چین اور بھارت کے بعد541ملین ڈالر کی سب سے بڑی عالمی تعلیمی امداد ملی مگر اس کے باوجود تعلیمی ترقی اور شرح خواندگی کے اشاریے بہتر نہ ہوسکے۔بیڈگورننس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پنجاب میں900 سرکاری سکولوں اور کالجوں کے مستقل سربراہ ہی نہیں ہیں جبکہ500 سے زائد سکولوں پر بااثر افراد قبضہ کرچکے ہیں۔صوبہ پنجاب جس کے پاس دیگر صوبوں کے مقابلے میں وسائل کے انبار ہیں مگرصحت اور تعلیم مسلسل زوال پذیر ہے میلینیم ڈویلپمنٹ گولز 2015 کا ایک بھی ہدف کوئی صوبہ حاصل نہیں کر سکا ہے۔ ان اہداف میں سکول جانے کی عمر کے بچوں کی 100 فیصد انرولمنٹ، اول تاپنجم جماعت کے طلبہ کی سو فیصد حاضری اور شرح خواندگی کا ہدف 88فیصد تک بڑھانا شامل تھا۔جنوبی ایشیا میں پاکستان تعلیم پر سب سے کم خرچ کرنے والا ملک ہے ۔ بھوٹان جی ڈی پی کا 4.9 فیصد، بھارت 3.9 فیصد، ایران 4.7 فیصد، مالدیپ 8فیصد، ترکی 6فیصد خرچ کرتا ہے جبکہ پاکستان جی ڈی پی کا 2فیصد خرچ کرتا ہے۔تعلیم و تربیت کے معیار (سٹینڈرڈ آف ایجوکیشن)کے اعتبار سے پاکستان جنوبی ایشیا میں 123 ویں نمبر پر ہے۔صرف تعلیم کا کیا رونا صحت کا شعبہ بھی بری طرح تباہ ہورہا ہے.188ممالک پر مشتمل صحت کی بین الاقوامی سٹینڈرڈلسٹ میں پاکستان 149 ویں نمبر ہے۔پاکستان میں ناقص خوراک کی وجہ سے ہونے والی اموات کے بارے میں کوئی باقاعدہ اعداد وشمار تو دستیاب نہیں ہیں تاہم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق محض آلودہ پانی کی وجہ سے سالانہ 30 لاکھ افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔صحت کی سہولتوں کا فقدان پاکستان میں گمبھیر صورت حال اختیار کرنے لگا ہے، حکومتی سطح پر قائم اسپتالوں، ہیلتھ کیئر سینٹرز میں موجود سہولتیں اس معیار کے مطابق نہیں جس پرانہیں ہونا چاہیے ،لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک سے اقرباپروری ،میرٹ کشی اوررشوت ستانی کا خاتمہ ہو۔درست مقام پر درست بندے کا انتخاب ہو۔تعلیم اور صحت کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ عوام کو ان کے بنیادی

وکیل۔۔۔ شوق موسوی
ہر اِک مقدمے میں پیش اُلٹ دلیل کی
جیتوں کسی طرح سے ہمیشہ سبیل کی
موصوف کو کرے گا مقرر وہ حشر میں
شیطان کو پڑی جو ضرورت وکیل کی

پانامالیکس سپریم کورٹ اور ملکی حالت

پانامہ لیکس پر جب ملک میں اپوزیش نے ایک ہنگامہ کھڑا کیا تھاتووزیر اعظم جناب نواز شریف صاحب کو دو دفعہ ٹی وی اور ایک بار مجلس شوریٰ(پارلیمنٹ) میں وضاحت کرنی پڑی تھی۔ وزیر اعظم نے ریٹائرڈ جج سے پاناما لیکس کی انکوئری کا کہا تو اپوزیش نہ مانی اور حاضر جج کی ڈیمانڈ کی۔ وزیر اعظم نے سپریم کورٹ کو خط لکھا کہ وہ پاناما لیکس کی انکوئری کے لیے کسی حاضر جج کو تعینات کرے۔ مگر سپرہم کورٹ نے واپس حکومت کو کہا کہ ۱۹۵۶ء کے قانون کے تحت پاناما کی انکوئری ممکن نہیں۔ اس کے لیے مجلس شوریٰ نیاقانون بنائے۔ قانون کے نقات جسے ٹرم آف ریفرنس کہتے ہیں، کو بنانے پر حکومت اور اپوزیشن کی کئی میٹینگ ہوئی۔ ان میٹنگوں میں حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق نہ ہو سکا۔ حکومت کہتی تھی کہ صرف وزیر اعظم کااحتساب نہ ہو بلکہ سب کا ہو۔ اپوزیشن کہتی تھی کہ پہلے وزیر اعظم اور اس کی فیملی کا احتساب ہو پھر اس کے بعد سب کا ہو ۔عمران خان نے بھی اپنے احتساب کا کہا تھا۔ وزیراعظم خود تین دفعہ اپنے خطاب میں اپنے احتساب کا قوم سے وعدہ کر چکے ہیں۔اس پر حکومت اور اپوزیشن کا اتفاق نہ ہونے پر کافی وقت ضائع ہو گیا۔ آخر میں دونوں نے اپنے اپنے ٹی او آربنائے ۔ اگر ٹی او آر پر متفقہ فیصلہ ہو جاتا تو ان ٹی او آر کو مجلس شوریٰ کے دونوں ایوانوں سے پاس کروا کر ملک کا قانون بننا تھا۔ پھر اس قانون کے مطابق سپریم کورٹ نے مقدمہ سننا تھا۔ دونوں فریقوں نے اپنا اپنا نقتہ نظر پیش کرنا تھا اور سپریم کورٹ نے کوئی فیصلہ سنانا تھا۔ اس کام میں چھ ماہ زیادہ عرصہ گزر گیا۔ اپوزیشن کا الزام تھا کہ حکومت نے ٹال مٹول سے کا م لیا۔ دیر کی پالیسی اختیار کی کہ ایسے کرنے سے پاکستان کے عوام پاناما لیکس کو بھول جائیں گے۔ حکومت نے اس الزام کا انکار کیا۔ اس دوران اپوزیشن نے اپنے ٹی او آر کو مجلس شوریٰ کے ایوان بالا(سینیٹ) میں پیش کر دیا۔ حکومت سے کہا کہ وہ ان ٹی او آر کو مجلس شوریٰ زیریں (پارلیمنٹ)سے پاس کرا کر قانون بنائے تاکہ مسئلہ حل ہو۔دوسری طرف عمران خان، سینیٹر سراج الحق اور شیخ رشید صاحبان نے سپریم کورٹ میں پاناما کی تحقیق کے لیے درخواستیں دی ہوئی تھیں جسے پہلے سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے فنی خرابی کے وجہ سے واپس کر دیا تھا۔ دوبارہ پیش کرنے پر سپریم کورٹ نے یہ درخواستیں منظور کر لیں۔اُدھر عمران خان اور جماعت اسلامی نے کرپشن کے خلاف عوامی آگاہی کے لیے ملک میں احتجاجی پروگرام کیے۔ جماعت اسلامی نے فیصل آباد اور تحریک انصاف نے پہلے رائے ونڈ اور پھر اسلا�آباد کو بند کرنے کی کال دی۔ حکومت اور دوسرے سیاسی حلقوں نے زور دیا ،کہ جب سپریم کورٹ نے مقدمہ سننے کے لیے تیار ہو گئی ہے تو اسلام آباد بند کرنے اور احتجاج کرنے کی ضرورت نہیں ۔ عمران خان اپنی روائتی جلد بازی کرتے ہوئے نہ مانے اور سارے ملک سے اپنے کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے کی کال دے دی۔ عمران خان نے اپوزیشن کی کسی بھی سیاسی جماعت کو ساتھ ملانے کی کوشش نہیں۔ اس سے اپوزیشن کا اتحاد ٹوٹ گیااور ساری جماعتیں عمران خان سے الگ ہو گئیں۔ اسلام آباد کو بند کرنے کے اعلان پر پورے ملک میں حکومت نے تحریک انصاف کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی۔ سارے ملک کے راستوں میں کنٹینرز لگا کر تحریک انصاف کے کارکنوں کو روکے رکھا۔سارا ملک میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔خیبر پختوخوا سے آنے والے قافلے کو پنجاب کی سرحد میں داخل نہ ہونے دیا۔ دونوں صوبوں کے درمیان پل پر سات روئیں والی کنٹینرز اور مٹی کے پہاڑ کی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔آنسو گیس کے شیل مارے گئے جس سے لوگ زخمی ہوئے۔ لوگوں نے اشتعال میں آکر ایک طرف کھڑی پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ بلا آ خر قافلے نے کنٹینرز اور مٹی کے پہاڑوں کی ساری رکاوٹیں بلڈوزر سے ہٹا کر پنجاب میں برہان انٹر چینج تک پہنچ گئے۔ حکومت کی طرف سے رات پھر آنسو گیس کا استعمال کیاگیا۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نے رات سردی میں وہی گزاری۔ صبح عمران خان کے کہنے پر کارکن واپس خیبرپختونخوا چلے گئے۔ عمران خان کو بنی گالہ کے گھر پر محصور کر دیا گیا ۔ ان کے گھر کے باہر رکاوٹیں اور چیک پوسٹ بنائی گئیں۔آنسوگیس پتھراؤ اور گرفتاریاں کی گئیں۔ اسی دوران سپریم کورٹ نے پاناما کیس سننے کی کی تاریخ کا اعلان کر دیا۔عمران خان نے فیس سیونگ کے لیے اسلام آباد کو بند کرنے کے بجائے یوم تشکر کا اعلان کر دیا۔ یوم تشکر منایا گیا جس میں تحریک انصاف کے قابل ذکر کارکن شریک ہوئے۔ سپریم کورٹ نے لارجر بنچ تشکیل دیا۔سپریم کورٹ نے کیس شروع کرنے سے پہلے سارے فریقوں کو کہا کہ لکھ کر دیں کہ ان کو سپریم کا کورٹ کا فیصلہ قبول ہو گا۔ سب نے لکھ کر دے دیا کہ قبول ہو گا۔سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کے بچوں کو اپنے اثاثوں کے ثبوت پیش کرنے کے لیے حکم کیا۔ پہلے کچھ دستاویز پیش کیں پھر ان کی طرف سے قطر کے شہزادے کی طرف سے ایک خط پیش کیا گیا جس میں لکھا ہوا ہے کہ کہ لندن کے فلیٹ اس پیسے سے خریدے گئے جوشریف خاندان نے قطر کے شہزادے کے والد کے ساتھ تجارت کے مقصد کے لیے سرمایا کاری کی تھی۔ وزیر اعظم اپنی دو تقریروں اور مجلس شوریٰ کے خطاب میں فر ما چکے ہیں کہ یہ فلیٹ ہم نے سعودی عرب میں سٹیل مل کو فروخت کر کے خریدے تھے۔ اب ملک میں چہ مے گوئیاں شروع ہونے لگیں کہ یہ قطری شہزادہ کہاں سے پیچ میں آ گیا۔ اخباری خبروں اورتبصروں کے مطابق جب اس سے قبل ہیلی کاپٹر کیس میں نواز شریف کو دس سال کی سزا ہوئی تھی توثبوت کے طور پر دبئی سے خط آیا تھا کہ یہ ہیلی کاپٹر ہماراہے۔ اس پر سزا ختم ہوئی تھی۔کیس کی کاروائی کے دوران عدالت کے ججوں نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف کے بیان کردہ حقائق اور اس خط میں کافی لمبا عرصہ ہے۔ تحریک انصاف کے وکیل سے کہا کہ آپ اخباروں کے تراشے پیش کر رہے ہیں یہ تو ایک اخبار کا ٹکڑا ہے اس پر تو دوسرے دن پکوڑے ڈال کر فروخت کیے جاتے ہیں۔ یہ ثبوت نہیں ہیں ٹھوس ثبوت پیش کیے جائیں۔ اس پرتحریک انصاف کے وکیل پر تحریک انصاف کے اپنے لوگوں نے اعتراض کرنے شروع کیا تو انہوں نے اس مقدمے میں پیش ہونے سے معذرت کر لی۔ سپریم کورٹ نے لمبی تاریخ دی توعمران خان اپنے بچوں کو ملنے لندن چلے گئے۔ اب واپس آکر انہوں نے چار رکنی وکلا کی نئی ٹیم مقرر کی ہے جس کے ہیڈ نعیم بخاری ہونگے۔ بابر اعوان بھی اس ٹیم میں شامل ہونگے۔صاحبو! جب ملک میں کسی مسئلہ پر نزاع پیدا ہو جائے اور ملک افراتفری کی طرف جانے لگے تو سپریم کورٹ ہی واحد آئینی ادارہ ہے جو اس معاملے کو سدھار سکتی ہے۔ ساری قوم کی نظریں سپریم کورٹ کی طرف ہیں ۔ سپریم کورٹ نے بھی کہا ہے پاناما لیکس کیس کا فیصلہ جلد از جلد کیا جائے گا اور کیس صرف لندن کے فلیٹ تک ہی معدود رہے گا۔اگر اپوزیشن کے ساری اعتراضات،یعنی قرض معاف کروانے کے کیس شامل مقدمہ کیے جائیں تو سالوں سال لگ جائیں گے۔ اس سے لگتا ہے کہ انشا ء اللہ جلد از جلد کوئی نہ کوئی فیصلہ آ جائے گا جو سب فریقوں کو منظور ہو گا۔ہمارا ازلی دشمن بھارت پر جنگی جنون سوار ہو گیا ہے۔اس نے ہمارے زمینی، بحری اور بری سرحدوں پر چھیڑ خانی شروع کر دی ہے۔ہمارے بے گناہ فوجی اور شہری شہید ہو رہے ہیں۔ سرحدی جھڑپوں کے علاوہ ہمارے صوبے بلوچستان میں تین بڑے واقعے ہوچکے ہیں جو یقیناً ہمارے ازلی دشمن بھارت نے کروائے ہیں۔ اس میں سیکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ اللہ کرے پاناما لیکس کا مقدمہ جلد ختم ہو اور ساری سیاسی قیادت اپنی سرحدوں کی حفاظت کی تدبیروں کے لیے یک جان ہو جائیں اور دشمن کے عزائم کو ناکام

Google Analytics Alternative