Home » Author Archives: Admin (page 3030)

Author Archives: Admin

سندھ کے تعلیمی ادارے 3 اگست کو کھولنے کی سمری وزیر اعلیٰ نے مسترد کر دی

کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) سندھ کے صوبائی محکمہ تعلیم نے سکولوں میں تعطیلات سے متعلق چھٹیوں کے ختم ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا لیکن  اس سمری کو وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے مسترد کر دیا ہے۔ اب سندھ کے تعلیمی ادارے  11 اگست کو ہی کھلیں گے۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر سندھ میں تعطیلات بڑھائے جانے پر بات کی جا رہی تھی جسے پرائیوٹ سکولز کی جانب سے مسترد کر دیا گیا تھا ۔ اس کے بعد سیکرٹری تعلیم سندھ کی جانب سے دوبارہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق سندھ بھر کے تعلیمی ادارے 3 اگست کو کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ سیکرٹری تعلیم کا کہنا تھا کہ صوبے میں سنگین سیلابی صورتحال نہیں ہے اس لیے طلبہ کے مفاد اور انہیں تعلیمی نقصان سے بچانے کے لیے 3 اگست کو تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے ۔دوسری جانب سیکرٹری تعلیم کی جانب سے پیش کردہ سمری کو وزیر اعلیٰ سندھ نے مسترد کر دیا ہے اور انہوں نے تعلیمی ادارے 11 اگست کو ہی کھولنے کا حکم نامہ برقرار رکھا ہے ۔ اس کے بعد سیکرٹری تعلیم کا کہنا تھا کہ انہوں نے سمری ارسال کی تھی لیکن مسترد  ہو گئی ہے اب کیا ہو سکتا ہے

تاجروں کی جانب سے شٹر ڈاﺅن ہڑتال ملکی مفاد میں نہیں ہے:ایف بی آر

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )فیڈرل بورڈآف ریونیو نے کہا ہے کہ تاجروں کی جانب سے ہڑتال ملکی مفاد میں نہیں ہے اس طرح ہڑتال کرنے سے ٹیکس نیٹ سے باہر لوگوں کو تقویت ملے گی ۔ایف بی آر کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ود ہو لڈنگ ٹیکس کے معاملے پر حکومتی کمیٹیو ںکا اجلاس 3اگست کو ہو گا جس میں یہ کمیٹیاں ود ہولڈنگ ٹیکس کے معاملے کا ٹھوس حل تلاش کریں گی۔اعلامیے کے مطابق تاجر اور کاروباری حضرات پچھلے سال کے گوشوارے ابھی بھی جمع کر اسکتے ہیں۔ ٹیکس گوشواروں جمع کروانے کے لیے علاقائی معاونت فراہم کی گئی ہے ۔

فلم ’بجرنگی بھائی جان ‘میں ڈائریکٹر کبیر خان کی پاکستان اور پروڈکشن سے متعلق ’احمقانہ غلطیاں‘

ممبئی (مانیٹرن ڈیسک)بھارتی اداکار سلمان خان کی فلم ’بجرنگی بھائی جان‘نے یوں تو 2015کی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم او ر اس نے کئی فلموں کے ریکارڈ بھی توڑ ڈالے ہیں لیکن فلم میں کچھ ایسی سنگین غلطیاں کی گئیں جن کے بارے میں پاکستان پر فلم بناتے ہوئے ڈائریکٹر کبیر خان کو ضرور معلوم ہونا چاہیے تھا ،بظاہر تو یہ غلطیاں کسی کو بھی شائد سمجھ میں نہیں آئی ہوں گی چونکہ اس فلم میں سلمان خان پاکستان کی سرزمین پر بھی قدم رکھتے ہیں تو اس حوالے سے فلم کے ڈائریکٹر کبیر خان کی جانب سے یہ بڑی غلطیاں ہیں۔
پہلی غلطی تو یہ ہے کہ فلم میں ننھی لڑکی جس کا تعلق پاکستان کے شہر ناروال سے ہے اور فلم میں ناروال کو کشمیر کا شہر اور تفریحی مقام دکھایا گیاہے جہاں خوبصورت پہاڑ ہیں جبکہ اصل میں یہ نا تو کو ئی تفریحی مقام ہے اور نہ ہی یہ کشمیر میں ہے بلکہ یہ پنجاب کا شہر ہے۔
دوسری غلطی تو اس سے بھی زیادہ بڑی ہے اور وہ یہ ہے کہ سلمان خان کو فلم میں پاکستان سرحد میں داخل ہونے کے بعد ایک ڈھابے میں کھانا کھاتے دکھایا گیاہے اور وہ پاکستانی ڈھابے والے کوپیسے دیتے ہیں جسے ڈھابے والا لے لیتاہے جبکہ فلم میں یہ نہیں دکھایا گیا کہ سلمان خان پاکستانی کرنسی کہاں اور کس سے حاصل کرتے ہیں ۔
فلم میں ایک ہی میچ دو مقام پر براہ راست دکھایا گیاہے جس میں شاہد آفریدی چھکا لگا کر انڈیا کوشکست دیتے ہیں ،پہلے جب ننھی لڑکی شاہدہ اپنے گھر میں ہوتی ہے اور دوسری بار اس وقت جب وہ سلمان خان کے ساتھ بھارت میں ان کے گھر میں ہوتی ہے ۔
فلم میں چوتھی غلطی انتہائی بڑی ہے جسے کوئی بھی دیکھ کر وقتی طور پر تو شائد نہ جان سکے لیکن غور کرنے کے بعد اس معلوم ہو جائے گا کہ نواز الدین جب ننھی لڑکی کو گھر پہنچانے کیلئے پاکستان کی عوام سے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے مدد کیلئے درخواست کرتے ہیں اور وہ یہ پیغام ’یو ٹیوب ‘پر اپ لوڈ کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں عرصہ دراز سے یو ٹیوب پر پابندی ہے ۔

رجب طیب اردوان مختصر دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے، وزیراعظم سے ملاقات

اسلام آباد:  ترک صدر رجب طیب اردوان پاکستان کے مختصر دورے پر اسلام آباد پہنچے تو ایئر پورٹ پر وزیراعظم نواز شریف نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔ رجب طیب اردوان کا صدارتی منصب سنبھالنے کے بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ ترک صدر نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی جس میں پاکستان اور ترکی کے تعلقات ، علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نواز شریف ترک صدر رجب طیب اردوان کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کو ڈی سیٹ کرنے بارے پیپلز پارٹی کا واضح موقف کیا ہے

پاکستان تحریک انصاف کو ڈی سیٹ کرنے بارے پیپلز پارٹی کا واضح مو¿قف کیا ہے

لائٹ یا کم تارکول والے سگریٹ زیادہ خطرناک ہیں: تحقیق

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق غیر تمباکو نوش افراد کو سگریٹ کا عادی بنانے اور بظاہر ’لائٹ‘ یا ’کم تارکول والے‘ سگریٹوں میں زیادہ ذائقے کی خاطر استعمال کیے جانے والے اضافی کیمیائی مادے عام لوگوں کو اس نشے کا عادی بنانے میں خطرناک کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ بات ایک نئی لیکن وسیع تر طبی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج کے مطابق تمباکو کی بین الاقوامی صنعت کی طرف سے سگریٹوں کی تیاری میں خالص تمباکو کے پتوں کے علاوہ جو اضافی کیمیائی مادے استعمال کیے جاتے ہیں انہیں عرف عام میں additives اور کیمیائی حوالے سے ’’پائیرازائنز‘‘ کہا جاتا ہے۔ خام مادے کے طور پر تمباکو میں یہ pyrazines تمباکو نوش افراد کے لیے خاص طور پر’ ’لائٹ کہلانے والے، کم نکوٹین کے حامل اور کم تارکول والے‘‘ سگریٹوں کو’ ’زیادہ ذائقے دار اور پرکشش‘‘ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ لیکن نئی تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ یہی کیمیائی مادے تمباکو مصنوعات کے استعمال کرنے والوں کو ’’نشے کا عادی بنا دینے کی اضافی صلاحیت کے حامل‘‘ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس تحقیق کے دوران ماہرین نے طویل عرصے تک انٹرنیشنل ٹوبیکو انڈسٹری کی سات ملین سے زائد ایسی دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا، جو انہی اضافی کیمیائی مادوں یا additives کے بارے میں تھیں۔ پتہ یہ چلا کہ آج کل سگریٹ سازی میں ایسے جو اضافی کیمیائی مادے استعمال ہوتے ہیں، ان کا استعمال 1960ء کی دہائی میں اس وقت شروع کیا گیا تھا جب تمباکو نوش افراد نے low۔tar والی مصنوعات کے طور پر تیار کردہ اولین سگریٹوں کو ’’بے ذائقہ‘‘ کہہ کر مسترد کر دیا تھا۔ اس بارے میں امریکی ریاست نیو یارک کے شہر Buffalo کے رَوس وَیل پارک کینسر انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر ماسیئے گونِیوِچ نے رائٹرز کو بتایا، ’’تمباکو میں پائی جانے والی نکوٹین ایک ایسا کیمیکل ہے، جس کے انسانی جسم، اعصاب اور دوران خون پر اثرات پوشیدہ نہیں ہیں اور یہ بات مدت سے طے ہے کہ نکوٹین ایک addictive یا اپنے استعمال کا عادی بنا دینے والا مادہ ہے۔‘‘ ڈاکٹر ماسیئے گونِیوِچ کے مطابق، ’’نئی تحقیق اس بارے میں تازہ شواہد مہیا کرتی ہے کہ تمباکو مصنوعات تیار کرنے والے اداروں نے اضافی کیمیائی مادوں کا استعمال ممکنہ طور پر اسی وجہ سے شروع کیا کہ سگریٹ نوشوں کو ’نشے کا عادی بنا دینے کی اسی صلاحیت‘ میں اضافہ کیا جا سکے۔‘‘نیو یارک کے اس محقق نے مزید بتایا کہ ’’یہ اضافی کیمیائی مادے نکوٹین کی انسانی دماغ تک ترسیل کو آسان بنا سکتے ہیں، اس طرح تمباکو نوش افراد کے لیے نکوٹین کی ان کے جسم میں موجودگی کا تجربہ زیادہ شدید اثرات کا حامل ہوتا ہے یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے جسم میں نکوٹین کی موجودگی کے اثرات میں تیز رفتاری آ جاتی ہے۔‘‘ تمباکو نوشی انسانی اموات کی ان سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے، جن کا تدارک کر کے ہر سال کئی ملین انسانوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا سکتا ہے۔

اور کچھ سوالات میرے بھی۔۔۔

خبر چربہ، کالم تعصبات کی جگالی، اسلوب جیسے بیوہ کا بڑھاپا، تدبر غائب، علم عنقا اور ادار یہ مرغ کے وظیفۂ زوجیت کی طرح مشق مستعجل۔ شورش کاشمیری نے لکھا تھا ، ’’اخبار ہیں یا خواجہ سراؤں کا غول‘‘۔ غیر سنجیدگی، غیر ذمہ داری اور جہالت کے آسیب نے گلیاں سونی کر دی ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ آج کسی سنجیدہ آدمی کے لیے اردو صحافت سے وابستہ رہنا یا فیض یاب ہونا ممکن نہیں رہا۔ تنہائی اسے آغوش میں لے لیتی ہے اور اوسط سے کم تر ماحول میں وہ بالکل اجنبی ہو جاتا ہے ۔۔۔ اس عالم میں وجاہت مسعود اگر بہار رتوں کا کوئی سندیسہ بھیجتے ہیں تو مضمحل امیدوں کے مقفل کواڑ گو یا کھل سے جاتے ہیں ۔
وجاہت ،حق الیقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے ،اردو صحافت کے جملہ عوارض سے بخوبی آگاہ ہیں۔یہ بات ان سے کہنا کسی طائر جواں کو درس پرواز دینے کے برابر ہوگا کہ اس غول کا حصہ بننے سے کیا حاصل؟ ردی کا ڈھیر جتنا اونچا ہو جائے، ہمالہ نہیں بن سکتا۔ آج سنجیدہ مباحث کے متلاشی اور یونیورسٹیوں کے وہ نوجوان جو کچھ تفہیم کے آرزو مند ہوں، انگریزی صحافت کے تعاقب میں نظر آئیں گے۔ زمانہ طالبعلمی کے سارے ساون اردو صحافت میں بھیگ کر گزاریں گے ۔مگر جیسے ہی مقابلے کے امتحان کی تیاری شروع ہوئی یا انٹرویو کا مرحلہ درپیش ہوا، انگریزی اخبار کامطالعہ شروع ہو گیا۔ یہ آج کی ارد و صحافت پر خوفناک عدم اعتماد ہے۔ بزرگان مجھے معاف رکھ سکیں تو اردو کے اخبارات اب گرم حماموں اور نیم خواندہ معاشرے کی زخمی انا اور تعصبات کے لیے سامان آسودگی کے سوا شاید ہی کچھ فراہم کر رہے ہیں۔
مستثنیات یقیناًموجود ہیں مگر عمومی صورت حال یہی ہے کہ لوگ تفنن طبع کے لیے اردو اور تفہیم کے لیے انگریزی اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ ایک ہی ادارے کے اردو اخبار میں شائع کسی خبر کا اسی ادارے کے انگریزی اخبار میں چھپی خبر کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھ لیں ،آپ کو معلوم ہوگا کہ اردو کی خبر سطحیت اور سنسنی خیزی کا مرقع ہے جبکہ انگریزی میں معقولیت کی جھلک غالب ہے ۔
اردو اخبارات کے اداریے تو شاید ہی کوئی پڑھتا ہو ،ان میں خوفناک حد تک غیر معیار ی اسلوب و دلائل ملتے ہیں۔ اداریہ ایک رسم ہے جو نباہی جا رہی ہے۔ افادیت کے باب میں ان کا کوئی اعتبار نہیں۔ خبر اپنی صحت کے اعتبار سے مجسم سوال ہے اور کالم خواہشات و جہالت کا دیوان۔ متن پڑھنے کی ضرورت نہیں رہی۔ تصویر ہی سے پتا چل جاتا ہے کس معزز کالم نگا ر نے کس کا نمک حلال کرنا ہے۔ صحافت کو لاحق اس تازہ عارضے کو پالتو صحافت کہتے ہیں۔ اور یہ عارضہ کسی ناسور کی طرح پھیلتا جا رہا ہے۔ المیہ یہ کہ جو کھو نٹے سے نہیں بندھا، اس کی آنکھیں کشکول ہو جاتی ہیں، گداگرانِ سخن ہجوم در ہجوم پھرتے ہیں۔
درد اس وقت کچھ اور بڑھ جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس خطے میں صحافت کی تاریخ خا ص تا بناک رہی ہے۔
ابو لکلام آزاد سے لے کر چراغ حسن حسرت تک ایسے ایسے لوگ اس شعبے سے وابستہ رہے ہیں، اردو جن کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی رہتی تھی۔ سترہ سال کی عمر میں ابو الاعلی مودودی مدھیہ پردیش کے ’’تاج‘‘کے مدیر بنے اورآخر تک صحافت کو وجۂ افتخار جانا۔ پاسپورٹ پر کبھی علامہ ،مولانا یا مذہبی سکالر نہ لکھا۔ ہمیشہ خود کو صحافی لکھا۔ اسلوب، متانت اور علم! ہم نے سب کچھ گنوا ڈالا۔
وے ’گہر‘ تو نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے
ان حالات میں وجاہت مسعود ایک نیا اخبار بلکہ یوں کہیے کہ آن لائن اخبار لارہے ہیں۔جس اخبار کی پیشانی پر وجاہت کا نام چھپے ،آدمی اگر اس اخبار سے امید یں وابستہ نہ کریں تو کیا کرے ۔علم کی دنیا کا وہ آدمی ہے، مکالمے کے فن سے بھی آشنا کہ اختلاف رائے اس وسعت ظرفی سے برداشت کرتا ہے گا ہے آدمی ششدررہ جاتا ہے ۔خبر کیا ہے اسے معلوم ہے۔ اسا لیب سے خوب آگاہ اور شورش کے ’’زاغوں‘‘ سے بے زار۔ ایک سنجیدہ اور باوقار اخبار نکالنے کے لیے جو خوبیاں درکار ہوتی ہیں ،میری شہادت پر اگر کوئی اعتبار کرسکے تو ان میں موجود ہیں ۔
ادھر معاملہ یہ ہے کہ طلاق بائن کے بعد رجوع نہیں ہوتا اور واقعہ یہ کہ اردوکے قاری اور سنجیدگی میں طلاق بائن کبریٰ ہو چکی۔ پاپولر جرنلزم کی قباحتیں اوڑھنے سے اجتناب کی بہرحال ایک قیمت ہوتی ہے اور ہمارے نیم خواندہ معاشرے میں یہ قیمت خاص بھاری ہو سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دانش اور بازار کے تقاضوں کو وجاہت کیسے لے کر چل سکتے ہیں ۔ لیکن یاد رہے کہ آدمی صرف اسی چیز کا مکلف ہوتا ہے جو اس کی استطاعت میں ہو ۔اس پیمانے سے دیکھیں تو وجاہت کا اصل امتحان اور ہے ۔ سنجیدہ اور باوقار اخبار تو وہ دیں گے ہی کہ مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، سوال تو یہ ہے ’’دنیا پاکستان ‘‘لاہور کے صفحات ایک خاص فکر کے تر جمان بن جائیں گے یا آزاد اور باوقار مکالمے کی بنیاد فراہم کریں گے۔۔۔ جس وجاہت کو میں جانتا ہوں، میرا حسن ظن ہی نہیں، اعتبار بھی ہے کہ’ ’دنیا پاکستان ‘‘ میں کسی مخصوص سوچ کی ترجمانی نہیں ہو گی، مکالمے کو فروغ دیا جائے گا۔
میری دعائیں اجمل شاہ دین کے ہم رکاب اور میری تمنائیں اپنے دوست کے دامن گیر رہیں گی۔

جب ایچی سن کالج میں میرٹ تھا ،تب کون سی توپ چلائی تھی؟

نیوز کاسٹر کے لہجے میں ایک جہاں کا دکھ سمٹ آ یا تھا۔ کیا اب ایچی سن کالج جیسے ادارے میں بھی میرٹ پر عمل نہیں ہو گا؟ کیا یہ ظلم نہیں کہ ایچی سن کالج کے پرنسپل کو اس لیے عہدے سے ہٹا دیا گیا کہ اس نے اشرافیہ کے نالائق بچوں کو میرٹ سے ہٹ کر داخلہ دینے سے انکار کر دیا تھا؟
متعفن اشرافیہ کے خلاف ایک لمحے کو میری ’ غیرت ایمانی‘ بھی جوش میں آئی لیکن فورا ہی ایک اور خیال آیا۔ جب ایچی سن کالج میں میرٹ پامال نہیں ہوا تھا تب اس ادارے نے کون سی توپ چلا لی تھی۔اس سماج میں کتنے رجال کار ایسے ہیں جو ایچی سن سے پڑھ کر آئے ہوں؟کوئی بڑا دانشور،کوئی سائنسدان، کوئی باکمال آدمی؟سماج میں حقیقی معنوں میں کوئی ایک صاحب قدرو منزلت جس کی فکری اٹھان اس ادارے سے ہوئی ہو؟وڈیروں ، نوابوں ، سرداروں، سیٹھوں، جاگیرداروں اور نودولتیوں کے فرزندوں کے علاوہ یہاں کون داخلہ لے سکتا ہے؟کیا یہ درست نہیں کہ اس ادارے کی بنیاد ہی میرٹ کی پامالی پر رکھی گئی ہے؟کیا یہ غلط ہے کہ یہاں داخلے کے لیے قابلیت نہیں، با پ کی تجوری کا سائز شرط اول ہے؟ یہاں پاکستانی بچوں کو قابلیت پر نہیں، حسب نسب کی بنیاد پر داخلہ ملتا ہے اور اس ادارے کا مقصد حکمران خانوادوں کی آبیاری کرنا ہے۔ میاں منشا، ایاز صادق اور یوسف رضا گیلانی کی اولاد کو یہاں داخلہ نہ مل سکا تو کیاقیامت آ گئی۔کیا داخلہ لینے والوں میں سے کسی خیر دین، نور دین یا اللہ رکھے کا کوئی لائق اور قابل بیٹا بھی تھا؟
چنانچہ پورے ادب سے عرض کی: بی بی میری بلا سے ،مجھے اشرافیہ کے معاملات سے کچھ لینا دینا نہیں۔ برہمنوں کے معاملات پر جگالی کرنا بند کرو، کبھی ٹیلی ویژن سکرین پر بیٹھ کر شودروں کی بات بھی کیا کرو۔ایچی سن اور اس کا میرٹ، میری طرف سے جائے بھاڑ میں۔۔۔ مجھ سے کسی ٹاٹ سکول کا دکھ پوچھو ،جہاں چاردیواری ہوتی ہے نہ گیٹ، بجلی ہوتی ہے اور نہ چھت۔ ایچی سن کالج کا میرٹ جائے بھاڑ میں ۔۔۔ ہمارے شیخوپورہ کے بیٹے نے پھلوں کی ریڑھی پر بیٹھ کے خربوزے اور امرود بیچتے ہوئے بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ ایچی سن کالج کے معاملات، مائی فٹ۔۔۔

Google Analytics Alternative