Home » Author Archives: Admin (page 3030)

Author Archives: Admin

یورپ میں اسلام کی مقبولیت میں اضافہ

مغربی دنیا میں جہاں ایک جانب اسلام مخالف مہم زوروں پر ہے وہاں یورپ کے مسلمانوں نے ایک نئی مہم شروع کی ہے جس کے تحت طویل عرصے سے بند گرجا گھروں کو مساجد میں تبدیل کرنے کی ایک نئی مہم جاری ہے۔ یورپی ملکوں میں ہزاروں گرجا گھر یا تومقامی آبادی کی لاپرواہی کا شکار ہیں یا ان میں عیسائی شہریوں نے عبادت کرنا چھوڑ دی ہے۔ ایسے تمام گرجا گھروں کو مساجد میں تبدیل کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں سالانہ 20 گرجا گھر بند کئے جا رہے ہیں۔ ڈنمارک کی حکومت کی جانب سے جاریکردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ 2015ءکے بعد ایک سال میں 200 چرچ بند ہوچکے ہیں جبکہ جرمنی میں حالیہ چند برسوں کے دوران 515 گرجا گھروں کو تالے لگائے گئے۔ ہالینڈ کے کیتھولک مسیحی فرقے کے رہنماو¿ں کا خیال ہے کہ اگلے 10 سال میں انکے 1600 گرجا گھروں میں سے دو تہائی بند ہوجائیں گے جبکہ پروٹسٹنٹ کا کہنا ہے کہ چار برسوں میں 700 گرجا گھر بند کئے گئے ہیں۔
امریکا کی “جارج ٹاو¿ن” یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق براعظم یورپ میں لادینیت کے بڑھتے اثرات نے عبادت گاہیں اور گرجا گھر ویران کردیے ہیں۔ فرانس کے ‘جنرل ویو انسٹیٹیوٹ’ کی رپورٹ کے مطابق صرف 4.5 فی صد لوگ گرجا گھروں میں عبادت کی غرض سے جاتے ہیں جب کہ 71 فی صد لوگ مذہبی تعلیمات پریقین نہیں رکھتے۔1960ء کے بعد اب تک 10 ہزار گرجا گھر بند ہوچکے ہیں اور سنہ 2020ءتک مزید چار ہزار گرجا گھر بند ہوجائیں گے۔ فرانسیسی عیسائیوں کی نسبت آئرش عیسائی زیادہ مذہبی ہیں جو 49 فی صد ہفتہ وار چرچ میں حاضری دیتے ہیں۔ ان کی نسبت اطالوی کم مذہبی ہیں مگر اس کے باوجود اٹلی میں 39 فی صد عیسائی گرجا گھروں میں جاتے ہیں۔ اسی طرح اسپین میں 25، برطانیہ میں 21، جرمنی میں11 اور ڈنمارک میں 6 فی صد لوگ چرچوں میں جاتے ہیں۔
سوشل سائنس مرکز کی رپورٹ کے مطابق 2030ء تک یورپ میں مسلمان آبادی 8 فی صد تک تجاوز کرجائے گی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپی ملکوں میں مسلمان باشندوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر مساجد کے زیادہ سےزیادہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان باشندے ویران ہونے والے گرجا گھروں کی خریداری کی کوششیں کررہے ہیں۔ عیسائی باشندے اپنی عبادت گاہوں کو بوجھ سمجھتے ہیں جب کہ مسلمان فخر کے ساتھ مساجد کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں۔جرمنی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ یورپی ملکوں کے ہاں مسلمانوں کو مساجد کے لیے فروخت کردہ گرجا گھروں کی فہرست شائع کی گئی ہے۔ ان میں “ڈور تمونڈ یوھانس” چرچ سر فہرست ہے جسے ترک اسلامی یونین 10 سال پیشترخرید کیا اور اسے “جامع مسجد ڈور تمونڈ” کا نام دیا گیا۔ 700 مربع میٹر رقبے پر مشتمل اس چرچ میں 1500 افراد با جماعت نماز ادا کرسکتے ہیں۔ 2012ءمیں کویت کے تعاون سے سےجرمن ریاست “ہیمرگ” کے “کابیر نایوم” مسلمانوں نے خرید کرمسجد میں تبدیل کردیا تھا۔
اہل مغرب ایک عرصے سے اسلام کے حوالے سے خوف میں مبتلا ہیں۔ مغرب میں اسلامو فوبیا کا مطلب یہ ہے کہ مغربی دنیا کے لوگ اسلام کے شدید خوف میں مبتلا ہیں۔ یورپ کے لوگ اسلام کو انتہائی طاقت ور، دل کش اور اثر انگیز محسوس کرتے ہیں۔اسی لیے اسلام کے پھیلاو¿ کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں اور آئے روز مختلف طریقوں سے اپنے اسی خوف اور ڈر کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کی پراثر تعلیمات کی وجہ سے مسلمانوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کے خوف سے اہل مغرب یکجا ہوکر ایک عرصے سے اسلام کے خلاف محاذ سنبھالے بیٹھے ہیں، لیکن ان کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی ہے۔کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ بلکہ ہر بار اسلام کے خلاف ان کے پروپیگنڈے کا فائدہ مسلمانوں کو ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ اہل مغرب اسلام کے خلاف جتنا پروپیگنڈا کرتے ہیں، اتنا ہی زیادہ اسلام موضوع بحث بنتا ہے۔ لوگ اسلام کی جانب متوجہ ہوکر اس کا مطالعہ کرتے ہیں اور اسلام سے متاثر ہوکر اسلام قبول کر لیتے ہیں۔
اسلام کے خلاف یورپ کے پروپیگنڈے کا ہی نتیجہ ہے کہ وہاں سب سے زیادہ لفظ ”محمد“ اور ”اسلام“ کو سرچ کیا جاتا ہے۔ ایک تازہ رپوٹ کے مطابق عالمی شہرت یافتہ بلاگ پیپل کین چینج دی ورلڈ نے انکشاف کیا ہے کہ رمضان المبارک میں دنیا بھر میں استعمال ہونے والے سرچ انجن گوگل پر صارفین کی طر ف سے سرچ کیے جانے والے الفاظ میں لفظ ”محمد“ کوسب سے زیادہ سرچ کیا گیا، جبکہ عالمی شہرت یافتہ سوشل میڈیا ایجنسی میڈیا ڈورکی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق عالمی مذاہب میں لفظ ”اسلام“ انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ سرچ کیا گیا۔

پاکستان دشمنی کی بد طینتی میں مبتلا

برطانوی صحافی کارلوٹا گال نے پاکستان کے خلاف اپنے ازلی ذہنی تعصب کا اظہار کرتے ہوئے 6 فروری کو نیویارک ٹائمز میں اپنی ادھوری ‘ نامکمل معلومات پر مبنی ایک کالم جن بوگس‘ تصوراتی شرپسندی کے افسوس ناک مندرجات پر لکھا ہے کوئی بھی با شعور اور غیر جانبدار صاحب ِ قلم اُس کا یہ کالم کو پڑھنے کے بعد اپنی ہی پہلی نظر میں فوراً اندازہ لگا لے گا کہ یہ برطانوی صحافی مس گال جو اپنے آپ کو 9/11 سے لیکر آج کے افغانستان کے ماضی وحال اور مستقبل کی اپنے طور پر ثقہ بند یا جانکار دیدہ ور دانشور سمجھتی ہے اُس نے اپنے کالم میں پاکستان پر ایک ایسا بے تکا ‘ من گھڑت اور سراسر جھوٹا الزام عائد کیا جسے ہم پاکستانی کیا جھٹلائیں؟ ہمیں یقین ہے کہ اس کا کالم مغربی اور بعض امریکی حلقوں نے بھی ناپسندیدگی کی نظروں سے ہی دیکھا ہوگا ،مس گال نے اپنے کالم کی شہ سرخی میں دنیا کو یکدم اور بغیر کوئی دم لیئے گمراہ کرنے کی جو گھناونی اور شرمناک کوشش کی یعنی اُس کا یہ لکھنا کہ ”پاکستان :عالمی جنونی مذہبی جنگ کا حامی ہے‘ ‘ یہ دنیا کا سب بڑا سفید جھوٹ ہے، دنیا کے کسی بھی خطہ کا کوئی بھی صاحب ِ علم غیر جانبدار شخص جسے جنوبی ایشیا سمیت ایشیا میں تیزی سے فروغ پاتے امن وترقی کے اقدامات پر دلچسپی ہوگی وہ ضرور اِس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ 9/11 کے بعد سے جہاں افغانستان نے تباہی وبربادی دیکھی وہاں پاکستان کی معاشرتی وثقافتی اور تہذیبی انفراسٹر یکچر کی بھی بنیادیں ہل گئیںپورا ملک عالمی سازشوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے شکنجے میں جکڑتا چلا گیا پاکستان نے 9/11 کے بعد امریکی اور نیٹوافواج کے افغانستان میں اترنے کے بعد سے اب تک جس وحشیانہ دہشت گردی کا تن ِ تنہا مقابلہ کیا دنیا میں شائد ہی اِس کی کوئی ایک مثال کہیں دیکھنے کو ملے گی یہ بڑے افسوس اور ستم ظریفی کا مقام ہے کہ مس گال نے ایک عورت ہوتے ہوئے پاکستانی عورتوں کی اجڑتی ہوئی گودوں کا لمحہ بھر بھی کوئی خیال نہیں کیا وہ خیال کرتی بھی تو کیوں ؟ ’کارلوٹا گال ‘ یہ وہ برطانوی خاتون صحافی ہیں، جنہوں نے اپنے پیشہ کی حرمت وتقدس کا بھی ذرا احترام نہیں کیا اپنی ایک کتاب جس میں یہ فرماتی ہیں کہ’ 9/11 کے بعد سے اب تک امریکا بہادر افغانستان میں ایک ’غلط ‘ دشمن کے ساتھ نبرد آزما رہا ‘ اُن کا واضح اشارہ پاکستان کی طرف ہی تھا کہ امریکا کو اپنے دشمن پاکستان میں تلاش کرنے چاہیئے تھے، مطلب یہ کہ افغانستان میں اُس کا کوئی دشمن نہیں تھا مس گال کے سوچنے سمجھنے اور اُن کی تہہ تک پہنچنے کے متعصبانہ طرز ِ عمل ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنا پڑے گا، مس گال پاکستان کو کسی اور کی نظر سے نہیں بلکہ بھارتی استبلیشمنٹ کی نظروں سے دیکھنے کی غالباً عادی معلوم ہوتی ہیںمس گال کی لکھی گئی کتاب سے اُن کے حالیہ مضمون تک ہمیںاُن کے اندرونی مذموم عزائم کو جاننے بغیر یہ کہتے ہوئے کوئی عار محسوس نہیں ہورہی ہے کہ وہ یہودیوں کے میڈیا کے سرکش گھوڑوں پر سوار افغانستان میں امریکا کی ہار ہوئی جنگ پر ’بدگمانیوں ‘ کی پلاسٹک سرجری کا کام کرنے کی ذمہ داری اُٹھا ئے لگتی ہیں 6 فروری کو نیویارک ٹائمز کے اپنے کالم میں’کارلوٹاگال‘ نے تیونس میں افغان صدر مسٹر غنی کے دئیے گئے ایک ٹی وی انٹرویو کو اپنی تحریر کا بنیاد ی نکتہ بنایا جس انٹرویو میں مسٹر غنی نے تاش کے پتوں کی طرح اپنے ہی ادا کیئے ہوئے لفظوں کو اور اپنی پیشانیوں کے تیوروں کو بارہا تبدیل کیا ہمارے لیئے یہ باتیں یقینا اب ایک ماضی بن چکی ہیں ، دنیا کو اب تو سمجھ لینا چاہیئے چونکہ مسٹر غنی اور اُن کی کابینہ سمیت افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے فکرونظر کے رویوں میں تبدیلی آچکی ہے یقینا اِن نازک اور حساس لمحوں میں جبکہ دونوں طرف سے افغان طالبان کے مذاکرات غالباً اِسی ماہ کرانے پر کچھ مثبت کوششیں کی جارہی ہیں، ہم اپنے اِن سطور میں افغان قیادت کو ایک جانب رکھتے ہوئے خاص طور پر مغرب‘ امریکا اور بھارت پر اپنی توجہ مزکوررکھیں گے کہ وہ مغربی میڈیا میں پاکستان اور افغانستان کے مابین ہونے والے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی اپنی ایسی مذموم مہم جوئیوں سے باز رہیں انسانیت نوازی ‘ امن پسندی کے نام پر جنوبی ایشیائی ممالک کے یقینی امن کی خاطر دشمنی پر مبنی مفروضات گھڑ کر ایسے مضامین اور تحریریں شائع کروانے سے اپنے آپ کو علیحدہ کرلیں، جن کی اشاعت کے باعث دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہو،کارلوٹا گال کا تازہ ترین مضمون اِس کا منہ بولتا ثبوت ہے ‘پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی چاہے وہ کسی لبادے میں ہو اُس کی جڑ بیخ کو اکھاڑپھینکے کی جنگ میں مصروف ِ عمل ہے، دہشت گردی کے خلاف ایک ایسی جنگ‘ جسے دنیا بھر میں تحسین وآفرین کی نظروں سے دیکھا جارہا ہے، پاکستان تو خود افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کا بھی خاتمہ چاہتا ہے، تاکہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے مابین باہمی اعتماد کی فضاءہموار ہوسکے، پاکستان اور افغانستان دونوں پڑوسی ملک باہم یکسو ہوکر سرحدوں کے دونوں جوانب امن کی یقینی فکر اور ماحول کو پروان چڑھانے کی سعی و جدوجہد میں اپنا اپنا رول بخوبی ادا کریں دنیا کا کوئی ملک کوئی طاقت پاکستان کو ڈکٹیٹ کرئے نہ ہی افغانستان کو‘ یہ دو نوں قومیں آزاد و خود مختار اقوام کی مانند بین الااقوامی حیثیت کی حامل ہیں’ ’ امریکا نے افغانستان میںغلط دشمن کا انتخاب کیا‘ ‘ اُس موقع پر جبکہ امریکی اور نیٹو کے فوجی دستوں کی واضح اکثریت افغانستان سے اپنا بوریا بستر بغل میں دبائے نکل گئیں مس کارلوٹا گال کا یہ کہنا کیا معنیٰ؟ یعنی یہ سمجھیں کہ 2001ءسے2014ءتک امریکا اور نیٹو افواج ’سانپ ‘ کی لکیر ہی پٹتے رہے، جبکہ اصل دشمن کہیں اور تھا ؟دراصل اِس میں قصور مس گال کا بھی نہیں ‘جس سرزمین سے اُن کا خمیر اُٹھا ،سارا قصور اُس سامراجی واستبدادی ذہنیت کا ہے اُس سرزمین کا ہے ماضی میں جسے ہم ’فرنگی سامراج‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے افغانستان کے اِن سنگلاخ و سیسہ پلائے درّوں میں برطانیہ نے کم ذلت وخواری کی مٹی نہیں چاٹی دنیا کے کمزور مگر قدرتی دولت سے مالا مال خطوںمیں اپنا ’یونین جیک ‘ لہرانے کی آروز میں نجانے کہاں کہاں برطانیہ نے شکست و خواری کا سامنا نہیں کیا جیسا کہ افغانستان میں آج ہورہا ہے ،جن کا خمیر افغانستان سے اُٹھا نہ پاکستان کی سرزمین سے اُن کا کوئی تعلق نہیں‘ اُنہیں کوئی حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اِن دونوں پڑوسی مسلم ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا کریں ،مغربی دنیا کو یقینا اِس خبر نے چونکا دیا ہوگا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کرانے پر 4 ملکی گروپ کا اتفاق ہوچکا ہے اِیسے نازک اور حساس مو اقع پر طالبانزیشن کے فروغ کے نام پر کارلوٹا گال جیسی مسلم دشمنی کی طینت والی صحافیوں کے طنز کے تیروں سے چھلنی کردینے والے مضامین شائع کروانا یہ کسی کو زیب دیتا ہو یا زیب نہ دیتا ہو مگر ہم یہ جانتے ہیں کہ سی آئی اے اور مغربی ایجنسیوں سمیت بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے پیٹوں میں پڑنے والے مروڑوں کا علاج کارلوٹا گال جیسے نسلی تعصب کے پیکروں میں ڈھلے قلمکاروں کی تحریروں سے ضرور ہوتا ہوگا ۔

تاریخ سے بے خبر ایک نجی ٹی وی کے اینکرز پرسن

جب سے ہمارے ملک میں نئے ٹی وی چینلز کھلنے شروع ہوئے ہیں ٹی وی اینکرز کی بھر مار ہو گئی ہے ۔ اس میں کچھ پرنٹ میڈیا سے منسک حضرات تھے جو ٹی وی اینکر بنے اور کئی نئے داخل ہونے والے حضرات ہیں۔ کچھ کے پاس پہلے سے عالمی حالات، ملکی معاملات اور تاریخ سے واقفیت اور تجربہ ہے اور کچھ ِادھر ُادھر سے کچھ نہ کچھ دھونڈ ڈھانڈ کے کام چلاتے رہتے ہیں۔ ہر ٹی وی چینل کی اپنی پالیسی ہوتی ہے وہ اینکرز سے اپنی پالیسی کے مطابق کام کرواتے ہیں۔ دوسری طرف اپنے اپنے ایجنڈوں کو آگے بڑھانے کے لیے ترقی یافتہ ممالک دنیا کے میڈیا کے لیے فنڈ مختص کرتے ہیں۔وہ اس فنڈ کو ترقی یافتہ ممالک خاص کر اسلامی ممالک کے میڈیا کو فنڈنگ کرتے رہتے ہیں۔امریکہ نے ۹۱۱ کے بعد اسلام کے خلاف صلیبی جنگ چھیڑتے ہوئے جارحانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔اپنے اور اپنے زر خرید میڈیا کے زور پر پوری دنیا میں اسلام کو دہشت گرد قرار دے دیا گیاہے۔اسلامی ملکوں میں مذہب بیزار، روش خیال اور لبرل صحافیوں کو آلہ کار بنایا جاتا ہے۔ اخباری خبروں کے مطابق اس پالیسی کے تحت امریکہ پاکستان کے نجی ٹی وی چینل قائم کرنے والے مالکان اور اور میڈیا میں کام کرنے والے ،خصوصاً اینکر پرسن کو بھی فنڈنگ کی جاتی ہے تاکہ ان سے اپنے ایجنڈے کے مطابق کام لیا جاسکے۔آج کل ایک نجی ٹی وی چینل جو پہلے بھی ملک کی محب وطن مایا ناز خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر اپنے ایک اینکر پر قاتلانہ حملے کا الزام ثابت کرنے کے لیے آئی ایس آئی کے سربراہ کو آٹھ گھنٹے تک بغیر ثبوت کے قاتل ظاہر کرتی رہی۔ بھارت سے مل کر پاکستان کے خلاف امن کی آشا پروگرام نشر کرتی رہی۔ ایک کوئس پروگرام”قرارداد پاکستان کے حوالے کیا پاکستان لبرل ہونا چاہےے یااسلامی“ میں عوام کی رائے کو الٹا بتا کر خیانت کر چکی ہے۔ اپنے ہی کروائے گئے سروے کے نتائج کو غلط جھوٹی شرانگیز سرخی لگا کر پیش کرنا نہ تو صحافتی انصاف ہے بلکہ بہت ہی بڑا مغالطہ بھی ہے۔حوالہ طارق جان کی لکھی ہوئی کتاب” سیکولزم مباحثے مغالطے“۔ وہی نجی ٹی وی آج کل ایک پروگرام”رپورٹ کارڈ“ کے نام سے شوکررہا ہے ۔جس میں ٹی اینکرز کے سامنے پاکستان کا ایک مسئلہ رکھا جاتا ہے اور اینکرز سے اس مسئلہ پر رائے لیکر نمبرز کے ذریعے اس مسئلے پر کوئی نہ کوئی رائے ناظرین کے سامنے رکھی جاتی ہے۔پچھلے پروگرام میں ایک مختلف رنگ بدلنے والے اینکر جو پہلے بھی شہید کون کے معاملے پر ایک بڑی دینی جماعت کے امیر کو بدنام کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔اس پروگرام میں دہشت گردی کے مسئلہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے معاملے میں اگر پاکستان کی دینی جماعتیں خصوصاً، منصورا،مریدکے لوگ جہاد کے فلسفے کو عام نہ کرتے تو موجودہ مذہبی دہشت گردی نہ ہوتی۔اس سوچ کو دوسرے لبرل، مذہب بیزار اورروشن خیال اینکر جس نے اسی نجی ٹی میں ایک فاحشہ عورت جو اپنے برہنہ جسم پر آئی ایس آئی لکھوانے والی ہے کا انٹرویو کیا تھا ،نے ا س سوچ کی تائید کی۔یہ دونوں اینکر ز حضرات یا تو تاریخ سے نابلد ہیں یا پھر کسی خاص ایجنڈے پر کام کرتے ہیں ۔روس ایک بڑتی ہوئی قوت تھی جدید روس کے بانی پیٹر اعظم (ایڈورڈ) نے اپنی قوم کو وصیت کی تھی کہ جو قوم خلیج پر تسلط قائم کر لے گی وہ ہی دنیا کی سپر پاور ہو گی حوالہ ” کتاب ترکستان مےں مسلم مذاحمت“ زےر احتمام انسٹی ٹےوٹ آف پالےسی اسٹڈےز اسلام آباد مصنف آباد شاہ اور” ہفت روزہ زندگی“لاہور18تا22 جنوری1980ءمقالہ برگےڈئےر گلزار احمد300 سال پرانا روسی منصوبہ ص18 وصےت نمبر9“۔ اس ڈاکڑائن پر عمل کرتے ہوئے زار روس اور کیمونسٹ روس نے وسط ایشیا کی مسلمان ریاستیں ترکی سے چین تک تقریباً تین سوسال میں ترکوںسے لڑ کر حاصل کی تھی اور آگے بڑھتے ہوئے افغانستان کی سرحد کے قریب دریائے آمو تک پہنچ گیا تھا۔افغانستان میں اپنے پٹھوظاہر شاہ، داﺅداور دوسرے حکمرانوں کے ذریعہ قبضے کی پلاننگ کے تحت ببرک کارمل کو روسی ٹینکوں پر بیٹھا کر روس میں داخل کر دیا۔سرحدی گاندھی کے پیرواور عوامی نیشنل پارٹی کے جنرل سیکر ٹیری اجمل خٹک نے اسی ضم میں مبتلا ہو کر پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ ہم روسی ٹینکوں پر چڑھ کر پاکستان میں داخل ہو نگے۔ اسی دوران روس کی افغانستان میں مداخلت کی بُوسونگ کر کچھ افغانی پاکستان کے حکمران بھٹو کے پاس آئے تھے اور سارا قصہ بیان کیا تھا۔ بھٹو ایک ذہین اور تاریخ سے واقف شخص تھا وہ روس کے عزائم سے بھی باخبر تھا۔ بھٹو نے افغانیوںکی مدد پاکستانی اسلحے کے بجائے درے کا اسلحہ خرید کر کی تھی۔ افغانیوں نے روس کے خلاف اپنے ملک کو بچانے کے لیے مذاحمت شروع کی۔ اس دوران افغانستان کے حکمران داﺅد نے بھی پاکستان کا دورا کیا تھا۔اس پر ناراض ہو کر روس نے اسے قتل کرادیا تھااور افغانستان میں اپنے فوجیں داخل کر دیں تھیں۔ سرحدی گاندھی کے سرخ پوش پیروں کاروں، کیمونسٹ،لبرل بھارت اور روس کے ایجنٹوں نے پاکستان کے لوگوں کو روس سے ڈرایا تھا کہ وہ وہ جہاں داخل ہوتا ہے وہاں سے واپس نہیںجاتا اور میں سرخ ٹینکوںپر بیٹھ پاکستان میں بھی داخل ہو نگا جبکہ ایک اخباری خبر کے مطابق وہ گدھے پر سوار اور چھپ کر افغانستان سے پاکستان آیا تھا ۔ سیکرلر عناصر نے سرخ پوشوں کے ساتھ مل کر پاکستان کو روس کا غلام بنانے میں پوری کوشش کی تھی ۔ بھٹو کے بعد پاکستان میں ڈکٹیٹر ضیاءپاکستان کے حکمران بن بیٹھے۔ ضیاءنے افغانستان کے متعلق بھٹو کی پالیسی پر ہی عمل کیااور افغانستان کی بھر پور مدد کی۔علماءنے اسی اسلامی جہاد کہا ۔ منصورہ اور مریدکے اور پاکستان تمام مسلمان اور مسلم دنیا کے عوام شریک ہوئے تھے۔ تین سال تک افغان مجاہد روس کی اسی درے کے اسلحے سے مزاحمت کرتے رہے۔مسلمانوںنے اسلامی جہاد کے تحت افغانستان کے مسلمانوں کی مدد کی تھی۔مخالفت میں اسی نجی ٹی وی کے یہ اینکرز اور ان کے ہم خیال، مذہب بیزار، لبرل،روشن خیال،روس نواز اور بھارت نواز سرخ پوش لوگ شامل تھے اور کہتے تھے یہ جہاد نہیں فساد ہے۔ یہ روس اور بھارت سے اس کام کے پیسے وصول کرتے تھے۔ گھر کے بیدی نیشنل عوامی پارٹی کے ایک منحرف کارکن کی کتاب”فریب ناتمام“جو کہ ایک سرخ پوش جمعہ خان صوفی نے لکھی ہے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ پھر تین سال بعد امریکا اپنے مقاصد کے لیے افغان جہاد میں شریک ہو گیا۔ امریکا کے جدید اسلحہ خاص کر اسٹنگر میزائل نے کام کر دکھایا اور دنیا کی سب سے بڑی مشین روس کو افغانستان کے مجاہدین نے شکست سے دوچار کیا ۔ اس سے روس کے گرم پانیوں براستہ پاکستان آنے کے خواب چکنا چور کیا اور پاکستان کو ممکنہ روسی غلامی سے بچا لیا گیا۔ روس کوواپس دریائے آموں تک دکھیل دیا گیا۔وسط ایشیاکی ترک مسلمانوںسے چھینی گئیںچھ اسلامی رےاستیںقازقستان،کرغےزستان،اُزبکستان،ترکمانستان، آزربائےجان،اور تاجکستان کی شکل مےں آزاد ہوئےں۔ مشرقی یورپ بھی روس کی گرفت سے آزادہوا۔ دیوار برلن گرا دی گئی۔بھٹو کی ترتیب دی ہوئی پالیسی اور ڈکٹیٹرضیاءاور ہماری فوج کے اسلام سے محبت رکھنے والے جرنیلوں اور آئی ایس آئی کی کامیاب پالیسی ، منصورہ ، مریدکے اور عام مسلمانوں کی مدد کی وجہ سے پاکستان بچ گیا۔ کیا ان لبرل اینکرز کے مطابق اس پالیسی پرپاکستانی قوم کو شرمندگی ہونی چاہےے یا ایک مسلمان کی سوچ کے مطابق فخر کرنا چاہےے؟ تھالی کے بیگن ،لبرل، روشن خیال اور کیمونسٹ جو روس اور بھارت کی بولیاں بولتے تھے روس کے زوال کے بعد امریکا کی گود میں ڈالر کے لیے جا کربیٹھ گئے ہیں۔ اس کا ثبوت بیگم نسیم ولی خان نے اپنے پریس کانفرنسوں میں بیا ن کیا ہے۔ اب یہ نجی ٹی وی کے اینکرز پرسن پھر سرخ پوشوں کی ہاں میں ہاں ملا کر پہلے جیسی ہی مایوسی پھیلا رہے ہیں۔ بھارت اور امریکا کی بولیاں بولنا شروع کر دی ہیں۔اب بھی فاقہ مست افغانوں نے امریکا کو شکست دے دی ہے جیسے روس کو دی تھی۔امریکا افغان جنگ کو پاکستان میں لے آیا ہے۔اب بھارت اور امریکا سرخپوشوںکے حامی طالبان کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغانستان کے سرحدی علاقوں سے استعمال کر رہا ہے۔ سیکولر عناصر اور نجی ٹی وی کے اینکرز اپنے تبصروں کے ذریعے سرحدی گاندھی کے ان سرخ پوشو ں کی مدد کر رہے ہیں جو پاکستان کے خلاف پہلے کی طرح اب بھی سازشوں میں مصروف ہے۔ افغانستان کے طالبان اپنے ملک کو امریکا سے آزاد کرانے کے لیے جہاد کر رہے ہیں جو ان کا حق ہے۔جیسے امریکا نے داعش کو بنایا ہے اسی طرح پاکستانی طالبان کو بھی امریکا نے بنایا تھا۔ا س کا اعلان امریکا کے سابق وزیر دفاع اپنی سینیٹ کی تقریر کے دوران وضاحت کر چکے ہیں۔ پاکستان کے عوام ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہیں ضرب عضب کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان کے عوام تاریخ سے نابلد نجی ٹی وی اینکر پرسن کی عوام کی سوچ کو بدلنے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے5مطالبات اور سڑکوں پر نکلنے کا اعلان

آج مُلک میں غیرفرینڈلی رول اداکرنے والی اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کے چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر عمران خان نے نوازشریف کی حکومت کے خلاف حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے سمیت 5مزیدمطالبات کی عدم منظوری کی صور ت میں ایک بار پھر تحریک چلانے اور ایجی ٹیشن کا عندیہ دے دیاہے اَب اِس صورتِ حال میں ایسا لگتاہے کہ جیسے عمران خان المعروف مسٹرسونامی نے یہ تہیہ کرلیا ہے کہ اِنہوں نے اب کی بار نواز حکومت کا پانسہ نہ پلٹ دیاتو عمران خان المعروف مسٹرسونامی اِن کا نام نہیں ہے۔
اگر چہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن کو حتمی شکل دینے کے لئے مُلک کے چاروں صوبوں سے رپورٹیں جمع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کارکنا ن کو ہدایات بھی جاری کرنی شروع کردی ہیں کہ وہ نوازشریف حکومت کے خلاف آنے والے دِنوں میں چلائی جانے والی تحریک کے لئے اپنی تیار یوں کو مکمل رکھیں اور جیسے ہی کہاجائے کہ نوازحکومت کے خلاف تحریک اور ایجی ٹیشن شروع ہوگیاہے تو اِس پر فوراََ عمل کرنے کے لئے سڑکوں پر نکل جاو¿ پھر یہ کوئی نہ دیکھے کہ اِس راہ میں کیا کچھ کرناپڑے گا؟، بس کمر بستہ ہوکر حکومت مخالف تحریک کا حصہ بن جاو¿پھردیکھوکیاہوتاہے؟۔
اِس میں شک نہیں کہ پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان نے اپنے سب سے بڑے مخالف نوازشریف کی حکومت کے خلاف دوسری مرتبہ پھر بھرپورطاقت سے ایجی ٹیشن کا فیصلہ کیا ہے اور ایسا لگتاہے کہ اگر اِس مرتبہ عمران خان اور اِن کے ساتھی حقیقی معنوں میں ثابت قدم رہے تو عین ممکن ہے کہ یہ نوازشریف کی حکومت کو ہلاکر ہٹانے اور گرانے میں کامیاب ہوجائیں گے ورنہ واپسی کا راستہ تو بندنہیں ہے۔
بہرحال، اِس مرتبہ پی ٹی آئی کے بانی و چیئرمین عمران خان اپنے سب سے بڑے سیاسی مخالف نوازشریف اور اِن کی حکومت کے خلاف انتہائی دانشمندی اور لومڑی جیسی چالاکی اور ہوشیاری کے ساتھ ایجی ٹیشن کرنے اور تحریک چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں،پچھلی مرتبہ تو عمران خان کا نوازشریف حکومت کے خلاف 120کا دیاگیادھرنابہت ساری اندرونی اور بیرونی وجوہات کی بناپر نوازشریف کی حکومت کو ہٹانے میں ناکام ثابت ہواتھامگر اِس بار قوی اُمیدکی جاسکتی ہے کہ عمران خا ن ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے ضرورسبق سیکھیں گے اور اپنے آج کو کل سے بہتر بناتے ہوئے نواز شریف کی حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن کی جیسی تحریک چلائیں گے وہ پہلے ہی دن سے حکومت کے وجود پر کاری ضرب ثابت ہوگی۔
جیسا کہ اِس مرتبہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان( المعروف مسٹرسونامی) نے خالصتاَ عوامی مسائل جن میں بالخصوص حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میںمزیدکمی، گیس پرٹیکسز کا خاتمہ، ماضی و حال کے پی آئی اے واسٹیل ملز جیسے دیگر قومی منافع بخش اداروں کی نجکاری نہ کرنے، سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، پاکستان کا(زرداری اور نوازشریف کے ہاتھوں) لوٹا ہواپیسہ بیرون مُلک سے واپس لانے کے لئے پانچ مطالبات پیش کردیئے ہیں اور اِنہیں پاکستانی قوم سمیت دنیا کے سامنے عیاں کرتے ہوئے حکومت کو واضح کیا ہے کہ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے اور حکومت نے کسی قسم کی ہیچر مچر کا مظاہرہ کیا اور کسی قسم کی عدم منظوری اور بیزاری کا اظہار کیا تو ہم سڑکوں پر نکل آئیں گے اور پھر فیصلہ وہیں ہوگا “۔
اگرچہ اِس مرتبہ عمران خان کی زبان اور لہجے میں سختی کا تو بہت احساس ہوامگر پھر بھی کچھ نہیں کہاجاسکتاہے کہ نہ جانے کب عمران خان اپنے اِس کہے سے پلٹاکھاجائیں اور اِدھر اُدھر کی چھوڑنے لگیں مگر پھر بھی قوم خاطر جمع ضرور رکھے کہ اِس مرتبہ عمران خان اپنی ذات میں تھوڑابہت تو سنجیدہ ضرورہوں گے اور اَب جس ایجنڈے کو لے کر یہ وزیراعظم نوازشریف کی حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن اور تحریک لے کر نکلیں گے اِس میں ثابت قدم رہ کر کامیاب ہوجائیں ورنہ پھر کچھ عرصہ سیاسی کھیل تماشہ رچا کر حسبِ عادت بنی گالہ واپس لوٹ جائیں گے۔
بہرکیف ،آئیں دیکھتے ہیں کہ گزشتہ دِنوں تحریک انصاف کے چیئرمین مسٹرعمران خان المعروف مسٹرسونامی نے ڈیرہ مرادجمالی میں جلسے میں خطاب کے دوران اورکیاکیاکہا؟اِس موقع پر عمران خان کا یہ بھی کہناتھاکہ وزیراعظم چلتے چلتے دستی بم کو ٹھوکرمارتے ہیں نوازشریف کے لئے 2018ئبہت دور ہے تب تک وزیراعظم کا چلنا مشکل ہے، سی پیک کے ذریعے پاکستان کو جوڑنے کا شاندار موقع تھا مگرلوگوں کو دھوکہ دیاگیااور اِسی کے ساتھ عمران خان کا اپنے اِس خطاب میں یہ بھی کہنا اپنے موجودہ وزیراعظم نوازشریف کی حکومت کے طویل سمندر میں طلاطم کے لئے کافی ہے کہ” مسٹرنوازشریف نے نجکاری کے نام پر لوٹ مارکابازار گرم کررکھاہے جواربوں روپے کمیشن ہڑپ کرجاتے ہیں، نوازشریف کے اقتدار کا سورج جلدغروب ہوجائے گااور اپنے مخصوص اور انتہائی تشویشناک انداز سے عمران خان کا اپنے خطاب میں یہ کہنا یقینا ہمارے اِن جمہوریت کے پجاری اور اپنی مطلب کی جمہوریت کی گھٹی کی چاشنی میں تر غیرت مندحکمرانوں کے سینوں کوچیڑتاہو ااِن کے دماغ کے خلیوں میں جاچھپاہوگااوراِن کے جسموں کو ضرور چھلنی کرگیاہوگاکہ”شریف خاندان نے مُلک میں جمہوریت کے بجائے بادشاہت قائم کررکھی ہے، نواز شریف نے مُلک کے غریبوں کی خون پسینے سے کمائی ہوئی قومی دولت جو 200ارب ڈالر ہے اِن 200ار ب ڈالرکو نوازشریف نے بیرون مُلک منتقل کئے اِن کو واپس لاکر مُلک کا قرضہ اتاراجائے“۔
اَب ایسے میں کیا قوم کواِس کا یقین کرلینا چاہئے کہ آج عمران خان جوکچھ کہہ رہے ہیں وہ سب سچ ہے؟؟ مگر کیا اپنے اِس کہے ہوئے اِس سچ پر عمران خان اُس وقت عمل کرواسکتے ہیںجب عمران خان نوازشریف حکومت کے خلاف دوسری مرتبہ تحریک چلانے اور ایجی ٹیشن کرنے کے لئے خود سنجیدگی کامظاہر ہ کریں؟؟ تواِس میں کوئی شک نہیں کہ ایساسوفیصد ممکن ہوسکتاہے کہ مسٹرسونامی یعنی کہ عمران خان نوازشریف کی حکومت کا تختہ پلٹنے میں کامیاب ہوجائیں ورنہ سابقہ 102دنوں کے دھرنے کی طرح عمران خان کی اگلی ایسی ویسی ایں ویں سیاسی حکمتِ عملی ایک بار پھر سیاسی مذاق اور عمران خان کے عمرانی سیاسی لطیفوں کی نظرہوکر نوازشریف کی حکومت کے لئے باعثِ تقویت ثابت ہوگی اور نوازشریف پہلے کی طرح اور زیادہ طاقتور انداز سے سامنے آئیں گے اورعمران خان اپنی رہی سہی سیاسی عزت اور وقار کا اپنے ہی ہاتھوں خود جنازہ نکال دیں گے۔ (ختم شُد)

پھر وہی الزامات ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

پاکستانی حکومت ، عوام اور قومی سلامتی اداروں کے خلاف بے بنیاد الزام تراشیوں کی روش اگرچہ مغربی میڈیا کا دیرنہ شغف رہا ہے مگر حالیہ دنوں میں ایک بار پھر اس سلسلے میں کچھ زیادہ شدت آ گئی ہے اور افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلاف ایسے ایسے افسانے تراشے جا رہے ہیں جن کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر ۔ اسی سلسلے کی تازہ کڑی کے طور پر برطانوی صحافی ” کالوٹا گال “ نے سات فروری کے نیو یارک ٹائمز میں یہ گوہر افشانی کی ہے کہ ” پاکستان عالمی دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے ۔ ایک جانب افغانستان میں شدت پسندی کی سرپرستی کی جا رہی ہے“ ۔ دوسری جانب داعش کی ” پیدائش اور پرورش “ کو بھی موصوفہ نے وطنِ عزیز کے کھاتے میںڈالنے کی بھر پور کوشش کی ہے ۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے غیر جانبدار تجزیہ نگاروں نے رائے ظاہر کی ہے کہ در حقیقت پاکستانی کے ازلی مخالفین گذشتہ نصف صدی سے بھی زائد عرصہ سے ملکِ عزیز کے خلاف منظم مہم چھیڑے ہوئے ہیں ۔ اور اس کے پسِ پردہ نہ صرف بھارت اور اسرائیل کے حکومتی طبقات ہیں بلکہ امریکہ اور یورپ کے کچھ حلقے بھی اس مکروہ مہم میں حصہ بقدرِ جثہ ڈال رہے ہیں ۔ کار لوٹا گال “ کی حالیہ افواہ سازی بھی اسی سلسلے کا حصہ ہے کیونکہ اگر اس کی ٹائمنگ کا جائزہ لیں تو بہت سے حقائق خود بخود سب کے سامنے آ جاتے ہیں مثلاً اس تحریر کی اشاعت کے لئے عین اس دن کو چنا گیا جب افغانستان ، پاکستان ، چین اور امریکہ کے مذاکراتی عمل کا تیسرا دور اسلام آباد میں جاری تھا ۔ اور ان مذاکرات کا مقصد ہی افغانستان میں بد امنی کا خاتمہ کر کے وہاں امن قائم کرنے کے طریقوں کا عملی جائزہ لینا ہے اور اس ضمن میں ٹھوس اور قابلِ عمل راستہ تلاش کرنا ہے ۔
دوسری جانب عین اسی دن ایک بھارتی عدالت نے ممبئی حملوں کے حوالے سے ” رچرڈ ہیڈ لی “ کا ” بیان “ بذریعہ ویڈیو کانفرنس لیا اور اس حوالے سے آٹھ فروری کو سارا دن بھارتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اپنی شہہ سرخیوں میں ہیڈلی کے مبینہ بیانات کو نمک مرچ لگا کر نشر کرتا رہا اور اس ضمن میں پاک قومی سلامتی کے اداروں کو ملوث کرنے کی ہر ممکن سعی کی گئی ۔ بھارتی عدالت میں اس نام نہاد مقدمے کے سرکاری وکیل ” اجول نکم(Ujjwal Nikam ) “ بھارت کے تمام ٹی وی چینلوں پر چھایا رہا۔
اس تناظر میں اعتدال پسند قلم کاروں نے رائے ظاہر کی ہے کہ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ مغربی یا بھارتی میڈیا اس جانب ذرا سی بھی توجہ نہیں دے رہا کہ عالمی دہشتگردی کے خلاف حالیہ لڑائی میں پاکستان سب سے زیادہ قربانیاں دینے والا ملک ہے اور دنیا کو دہشتگردی سے پاک کر نے کے لئے پاکستانی قوم گذشتہ چند برسوں میں اپنی 65 ہزار شہریوں اور سیکورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانی دے چکی ہے اور یہ سلسلہ ہنوذ جاری ہے اور یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ماضی قریب میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اس امر کا ایک سے زائد مرتبہ اعتراف کر چکی ہیں کہ پاکستان کو آج جن مشکلات کا سامنا ہے وہ در حقیقت امریکی پالیسیوں کا منطقی نتیجہ ہے ۔
کسے علم نہیں کہ سوویت یونین کے افغانستان پر قبضے کے دوران اگر پاکستان امریکہ کا ساتھ نہ دیتا تو صورتحال قطعاً مختلف ہوتی ۔ تب تو امریکی صدر ” رونالڈ ریگن “ اور دیگر زعماءانھی افغان شدت پسندوں کو ” وائٹ ہاﺅس “ میں بلا کر باقاعدہ دعوتیں دیتے رہے اور انھیں آزاد دنیا اور انسانی قدروں کے ہیرو قرار دیتے رہے مگر بعد میں سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا گیا ۔ بہر حال توقع کی جانی چاہیے کہ بین الاقوامی سطح پر اس حقیقت کا ادراک زیادہ موثر ڈھنگ سے کیا جائے گا کہ پاک فوج ، حکومت اور عوام عالمی دہشتگردی کے خاتمے کے لئے لا زوال قربانیاں دے رہے ہیں اور اپنی اس جدو جہد میں پاک فوج کے ایک جوان سے لے کر لیفٹیننٹ جنرل کی سطح تک کے افسران جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں ۔ ایسے میں ” کار لوٹا گال “ اور اس جیسے دوسرے عناصر کی حقائق سے طوطا چشمی کے رویہ کے پیشِ نظر یہی کہا جا سکتا ہے۔
لو ، وہ بھی کہہ رہے ہیں بے ننگ و نام ہے
یہ جانتا اگر ، نہ لٹاتا گھر کو میں

نواز شریف صاحب گونگا اور بہر ہ گورنر تعینات کرنے سے گریز کریں

جنوبی وزیرستان: فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ نے صوبہ خیبرپختون خوا میں گورنر کی تعیناتی پر بھرپور احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کے پی کے میں گونگا اور بہر ہ گورنر تعینات کرنے سے گریز کریں۔بصورت دیگر فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ بھرپور احتجاج کریں گے۔منگل کے روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فاٹا کے سنیٹر مولانا محمد صالح شاہ کا کہناتھا کہ صوبہ خیبرپختون خواہ کی اہمیت دیگر صوبوں سے بہت زیادہ ہے ۔اس کی وجہ فاٹا کے سات قبائلی علاقوں اور ایف آر کے علاقے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ صوبہ خیبرپختون خواہ کی گورنر کا پوسٹ نہایت اہمیت رکھتا ہے۔اگر فاٹا کے حالات اور روایات سے واقف گورنر تعینات ہوتا ہے تو فاٹا میں امن و امان کی صورتحال بہت جلد بہتر ہوتے ہیں۔اگر کے پی کے میں ایسا گورنر تعینات ہوتا ہے جو فاٹا کے حالات و روایات سے نا واقف ہو تا ہے تو وہ فاٹا کے قبائلی علاقوں کے لئے جلتی پر تیل کا کردار ادا کرتا ہے۔ان کا کہناتھا کہ ہم فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبہ خیبرپختون خواہ میں گونگا بہرہ گورنر کی تعیناتی کی صورت میں بھرپور احتجاجی تحریک چلائیں گے۔ سینیٹر مولانا محمد صالح شاہ نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف سے بھی اپیل کی کہ وہ KPK میں فاٹا کے روایات کو جاننے والا گورنر کی تعیناتی میں کردار ادا کریں۔

لیونل میسی گردے میں تکلیف کی وجہ سے ہسپتال منتقل

بارسلونا: ارجنٹینا کے کپتان اور ہسپانوی کلب بارسلونا کے اسٹار لیونل میسی (Lionel Messi) کے گردے میں تکلیف کی وجہ سے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے متعدد ٹیسٹ کیے گئے۔

بارسلونا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق  میسی کے گردے میں تکلیف کے بعد متعدد ٹیسٹ کیے جائیں گے تاکہ ان کی تکلیف کا جائزہ لیا جا سکے۔

میسی کو گزشتہ دسمبر گردے میں تکلیف کی شکایت ہوئی تھی اور گردے میں پتھری سے منسلک بیماری کا شکار میسی اسی وجہ سے دسمبر میں ہونے والے فیفا کلب ورلڈ کپ سیمی فائنل میں بھی شرکت نہیں کر سکے تھے۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں محمداصغر کو سرپرائز کے طور پرشامل کیا جاسکتاہے

پاکستان کرکٹ کی تاریخ کی پہلی ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی لیگ پاکستان سپر لیگ (PSL) کی ٹیم پشاور زلمی کے نوجوان اسپنلر محمد اصغر نے صرف دو میچوں میں 8 وکٹیں حاصل کرکے کرکٹ پنڈتوں کی بھرپور توجہ حاصل کرلی ہے۔;محمد اصغر نے اپنے پس منظر کے حوالے نے بتایا کہ ان کا تعلق کوئٹہ سے ہے جبکہ کرکٹ میں آنے سے قبل کئی سال تک وہ بلوچستان کے علاقے حب میں رہائش پذیر رہے۔بائیں ہاتھ سے جادوئی اسپن باؤلنگ کرنے والے محمد اصغر 28 دسمبر 1998 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے جہاں سے کوئی کرکٹر اس طرح نمایاں نہیں ہوسکا۔محمد اصغر نے ابتدائی کیرئیر کے حوالے سے کہا کہ انہیں حب میں رہنے کے دوران گلی کرکٹ کے ذریعے اپنے صلاحیتوں کا اندازہ ہوا۔نوجوان کرکٹر نے کلب کرکٹ کا آغازنیشنل کمبائن کلب سے کیا جبکہ نینشل بینک کے عہدے دار اسحاق پٹیل نے ان کے کھیل کو سراہتے ہوئے بینک کے اسپورٹس سربراہ اور سابق اسپنر اقبال قاسم سے ملوایا جہاں سے انھیں قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا بہترین موقع میسر آیا۔صغر کا کہنا ہے کہ اقبال قاسم نے ان کا بہت خیال رکھا اور آج وہ جس مقام پر وہ کھڑے ہیں، وہاں پہنچنے میں ان کا بڑا کردار ہے۔دوسری جانب، اقبال قاسم کا کہنا تھا کہ وہ اصغر کو وسیم اکرم کی طرح نیچرل ٹیلنٹ قرار دیں گے۔انھوں نے کہا کہ جس طرح اصغر کو گیند پر قابو اور ٹرن کرنے پر عبور حاصل ہے، وہ کسی کو سکھانا ممکن ہی نہیں۔سابق اسپنر نے کہا کہ اصغر کا سب سے بڑا ہتھیار ان کا اعتماد ہے۔قبال قاسم کو یاد ہے کہ جب اصغر پہلی مرتبہ ان سے ملے تو وہ مالی سمیت دیگر بہت سی مشکلات سے دوچار تھے.حب سے روزانہ کراچی آنا ناممکن تھا اس لیے انھوں نے اصغر کا کراچی میں قیام کا بندوبست کیا جبکہ انڈر 19 سطح پر دس سے پندرہ ہزار کا وظفیہ مقرر کیا جو اب تین گنا ہو چکا ہے۔اقبال قاسم نے کہا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اصغر کو سرپرائز کے طور پرشامل کیا جاسکتا ہے. ‘جس طرح وسیم اکرم نے ابتدائی میچوں میں ہی تہلکہ مچایا تھا اصغر بھی ایسی ہی اہلیت رکھتے ہیں۔اصغر سے جب پی ایس ایل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے اسے اپنی زندگی کا اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لیگ میں کھیلنا اور کارکردگی دکھانا ایک خواب کی مانند ہے۔پی ایس ایل کے ابتدائی دو میچوں میں اچھی کارکردگی کے بعد انھیں جس طرح پزیرائی ملی اس پر وہ بہت خوش ہیں اور وہ اس کی وجہ اپنی ٹیم پشاور زلمی اور کپتان شاہد آفریدی کو قرار دے رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ناصرف انھیں منتخب کیا بلکہ کھیلنے کا بھرپور موقع دیا۔نوجوان اسپنر نے کہا کہ وہ PSL میں اپنی کارکردگی کو شہدائے آرمی پبلک اسکول کے نام کرتے ہیں اور اب ان کا مقصد لیگ میں کامایبی حاصل کرکے ٹرافی کو پشاور APS لے جا کر خوشی میں متاثرین کو بھی شریک کرنا ہے۔

Google Analytics Alternative