Home » Author Archives: Admin (page 31)

Author Archives: Admin

تیز رفتار منصفانہ احتساب ۔ نئے جمہوری پاکستان کا نقیب

قانون مکافات عمل ہمارے ایمان وایقان کا لازمی جزو انکار ممکن نہیں یہ ازلی وابدی الٰہی قوانین ہیں جن سے مفر کسی صورت نہیں کیا جاسکتا جن کا اطلاق بلا شرکت مذہب وملت ملحد وتوحید پرست میں جو کل دنیا میں آئے تھے اْن پر لاگو ہواہے جو آج موجود ہیں قانون مکافات عمل سے یقینا گزررہے ہیں یہ سلسلہ ’’یوم التناد‘‘ تک یونہی جاری رہے گا یہ قوانین اٹل ہیں ناقابل تغیر ہیں ہم تاریخ میں پڑھتے آئے تھے کہ مخلوق خدا پر حکمرانی کی نخوت وتکبر میں اُن کے مال ومتاع پر ڈاکے ڈالنے والوں اور اُن پر ظلم وستم ڈھانے والوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اْسی قوم کے افراد کے سامنے اُنہیں نشان عبرت بنادیا پاکستان میں آج آپ کیا نظارہ نہیں کررہے;238;اگرآج کے موجودہ حکمرانوں نے قانون مکافات کے شکنجہ میں آنے والوں سے عبرت نہیں پکڑی تو کل ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا قانون مکافات عمل سے کوئی ماورا نہیں ہے جناب والہ!جیسی کرنی ویسی بھرنی تحریک انصاف پاکستان کے قائد اور وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پاکستان کو’’ کرپشن فری جمہوریت‘‘ سے نکھارنے اور سنوارنے کے عوام سے وعدے کیئے تھے کرپشن فری جمہوریت کا مطلب صرف ملکی سیاست سے جڑا ہوا نہیں ‘ہے اس کا مطلب ہے کرپشن فری معاشرہ ،کرپشن فری انتظامیہ، کرپشن فری اقتصادی انفراسٹریکچر،کرپشن فری خارجہ امور سمیت ملکی سلامتی اور عدلیہ کا پورا سسٹم جس میں خاص کر ملکی سماج کی نبضوں سے جڑا ہوا ہمارا میڈیا سسٹم بھی شامل ہے ہاں سوال یہ ہے کہ عمران خان تنہا یہ سب کچھ کرپائیں گے اپنی اپنی جگہ ہر کوئی متجسس ہے کہ کہیں میرا دامن تو کرپشن سے آلودہ نہیں ہے;238; یہیں سے عمران خان کی شخصیت اور اْن کی نئی طرز کی سیاست پر سوالیہ نشانات اپنے بھی لگا رہے ہیں اور دوسرے اْن کے کھلے مخالفین تو چاہئیں گے کہ اگر پاکستانی سماج کے ہر شعبہ سے کرپشن کا نام نشان ہی مٹ گیا تو پھر کہاں کی سیاست باقی رہے گی اور کہاں کی سرکاری ملازمت کے چسکے لئے جاسکتے ہیں چاہے گریڈ ایک کی ہویا گریڈ بائیس کی ملازمت ;238; کرپشن ہمارے قومی مائنڈ سیٹ میں شائد خون کی مانند رچ بس چکی ہے راقم کا تعلق چونکہ میڈیا سے ہے راقم بخوبی جانتا ہے کہ میڈیا میں رہ کر’مال‘کیسے بنایا جاسکتا ہے لہذا سمجھ میں آنہیں رہا کہ پھر’نیاپاکستان کیسے بن سکتاہے‘جوکرپشن کی آلودگی سے لتھڑا ہوا نہ ہوگزشتہ ہفتہ ان خطوط پر لکھا گیا ایک کالم انگریزی ہفتہ روزہ میں پڑھنے کو ملا اس کالم کے مصنف نے اپنے تئیں اوراپنے ہی جیسے ایک ہم خیال دوست کے گھڑے ہوئے عمران مخالف مفروضوں پردئیے گئے تجزیوں پر اپنا پورا کالم باندھ دیا تھا، اْنہوں نے اپنی بے منطق اورحقائق کے بالکل برعکس اپنی دلیل میں یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ عمران خان کا ‘نیا پاکستان’ ظہور پذیرکیسے ہوسکتا ہے;238;اسی متذکرہ انگریزی کالم میں مصنف نے اپنے نکتہ نظر کی وضاحت کے لئے اپنے خیالی سرابوں کے تصورات کو بنیاد بنایا ہے کہ ماضی کی دوبڑی اہم سیاسی جماعتوں کے سربراہ خاندانوں کو سیاسی منظر نامہ سے ہٹانے کے لئے وزیراعظم عمران خان نے ایک طرف قومی احتساب بیورو کو اپنے سیاسی مخالفین پر دباو ڈالنے کے لئے متحرک کیا تودوسری جانب وزیراعظم مخالف اس کالم کے مصنف کے بقول ’’امریکا اور مغرب سے پاکستان کے گزشتہ اکہتر برسوں سے جاری رواءتی ڈپلومیٹک تعلقات کوسرد مہری سے دوچار کرکے وزیراعظم مسٹر خان نے پاکستان کواپنے عالمی دوستوں سے دور کردیا ہے;238; امریکا اور پاکستان کا دوست یہ کیسا عجوبہ تصور ہے;238;جس سے علاقائی بدگمانیوں میں اضافہ بڑھنے لگا ہے بقول انگریزی کالم کے مصنف کے ’جی ہاں ،کسی حد تک یہ صحیح ہے کہ پاکستان کے چین اور ایران سمیت افغانستان سے گہرے ثقافتی وسماجی تعلقات کئی دہائیوں ہی نہیں بلکہ صدیوں سے چلے آرہے ہیں جس کے دورس نتاءج کے اثرات جنوبی ایشیا، مشرقی وسطی اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ مختلف نہج پر وقوع پذیر ہونے والے اہم واقعات کی تاریخی کڑیاں آج بھی ہ میں ملتی ہیں ان زمینی حقائق کی جغرافیائی اہمیت وافادیت اپنی جگہ بہت ٹھوس ہے توپھر یوں سوچا اور سمجھا کیوں نہیں جاسکتا کہ پاکستان ایک طویل عرصے کے بعد اپنی اسی جغرافیائی حیثیت سے فائدہ اْٹھانے کی بہترسے بہتر پوزیشن میں اب آنے لگا ہے متذکرہ بالا انگریزی جریدے کے کالم کے نکات اہنی جگہ’مگراس کےساتھ ہی اْن کا یہ کہنا یہ لکھنا کیا ایک خود مختارقوم ہو نے اور آزاد پاکستانی ہونے کے ناطے سے اْنہیں زیب دیتا ہے کہ وہ پاکستانیوں کو سکھلائیں کہ ہ میں اپنے پڑوسی بڑی طاقتوں چین اور روس کی بجائے امریکا کو ترجیح دینا چاہیئے یہ بات کہہ کرآخر اپنی قوم پروہ کیا باور کرانا چاہ رہے ہیں کہ’’ ہم ہاکستانی امریکا اور اْس کے حلیف مسلم دشمن اتحادیوں کے ساتھ روز محشر تک یونہی بلا مقصد قدم باقدم چلتے رہیں ;238; ہماری اپنی کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہوسکتی’ہماری اپنی کوئی قومی سلامتی اور قومی خود مختاری نہیں ہے‘ ہماری اپنی کوئی قومی اقتصادی پالیسی نہیں بن سکتی‘ ہم یونہی آئی ایم ایف کے ہمیشہ محتاج رہیں ;238; افغانستان‘ ‘ایران‘ وسطی ایشیائی ریاستیں اور شرق البعید کے ممالک بہت اہم ایشیائی خطہ میں واقع ہیں روس بھی اسی خطہ کی ایک سپر طاقت ہے بھارت‘جاپان اور جنوبی کوریا اگر امریکی اتحادی بلاک میں ہیں تو کیا یہ ضروری نہیں ہوسکتا کہ ستر اکہتر برسوں بعد اب ہم امریکی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ لیں امریکا کا ہمیشہ ساتھ دے کر ہم نے اب تک کیا پایاہے;238; کچھ بھی تو نہیں پایا ہر پہلو سے پاکستان نے بطور دوست بن کراسے خوب آزما بھی لیا ہے اگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے امریکا کے بارے میں اپنی ڈپلومیٹک پالیسی کو تبدیل کرنے کا کوئی خاص فیصلہ کیا ہے توذرا صبر کا دامن تھا میں دیکھتے ہیں کہ امریکا چلتے ہوئے ڈیڑھ دوبرسوں میں ہ میں اور زیادہ تکالیف پہنچانے کےلئے کس حد تک اور جاسکتا ہے;238; ہم پر امریکا نے اقتصادی پالیسیاں ویسے ہی کئی صورتوں میں کئی برسوں سے نافذ کی ہوئی ہیں پاکستان اہم خطہ میں واقع ہے یہ بھی ہ میں اپنے پیش نظر رکھنا ہے کہ یہ خطہ اسٹرٹیجک تبدیلیوں کے ایک خود تکنیکی ‘فیز’ میں داخل ہوچکا ہے لہٰذا ‘دیکھو اورانتظار کرو’ کی اپنی پالیسی کو ہ میں جاری رکھنا ہوگا’ پاکستان تحریک انصاف کی یہ ڈپلومیٹک پالیسی مستقبل کے ترقی یافتہ پاکستان کے لئے خوشگوار امکانات کے کئی ممکنہ پہلووں کو لئے اپنے ساتھ یقینا نمودار ہوگی اب بات کرلیں کہ عمران خان کا‘‘نیا پاکستان کیسے ظہور پذیر ہوگا;238;’’بین السطور ہم نے تفصیلاً علاقائی ڈپلومیٹک بحث کرنے سے خود ہی اپنا پہلو بچایا ہے اس خطہ میں امریکا کے افغانستان سے نکلنے کے بعد جن اہم ممالک پر خطہ کے امن وامان کی ذمہ داری زیادہ عائد ہوگی اْن میں پاکستان کی حیثیت بڑی نمایاں ہوگیا 90 کی دہائی میں روسی ریچھ کے واپس پلٹنے کے بعد پاکستان پر امریکی وحشیانہ کردار کو ہم کیسے بھلا دیں پاکستان نے تو افغانستان پر کسی ’’بلادن‘‘ کو پکڑنے کے بہانے چڑھائی نہیں کی تھی پھر بھی امریکی پالے ہوئے دہشت گردوں نے ہمارا کچھ نہیں چھوڑا بے اندازہ پاکستان نے مالی نقصان اْٹھایا ہے ہزاروں پاکستانیوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں ، ملکی سیکورٹی فورسنز،نیم پیراملٹری فورسنز، پولیس اوراسکاوٹس کے جوانوں اور افسروں کی لاشیں پاکستانیوں نے اْٹھائیں ، ہم پاکستانی اب امریکا سے خوفزدہ قطعی نہیں ہیں اورہم دیکھ رہے ہیں کہ بچی کچی القاعدہ اور نیم مردہ ٹی ٹی پی کے بزدل گروہوں نے اپنے لباس اوراپنے جھنڈے البتہ ضرور بدل لیئے اب وہ داعش بن گئے;238; جن کا مقابلہ نیت نیتی کے ساتھ کرنا اور مقصد کے حصول تک پہنچنے والوں کے جیساعزم رکھنا پاکستانی فوج کے لئے کوئی مشکل امر نہیں ہے اور افغانستان کی کابل انتظامیہ بھی گومگو کی کنفیوڑڈ صورتحال سے سنبھلتی دکھائی دے رہی ہے اور ہم نے بحیثیت قوم امید واثق کادامن اپنے ہاتھوں سے نہیں چھوڑا نہ ہی کبھی چھوڑیں گے ہمارا دشمن چاہے وہ کتنا ہی پروپیگنڈا کرلے، اب پہلی سطح پر پاکستانی جمہوریت کرپشنز سے پاک ہوگی یہ پاکستانی عوام کا دوٹوک فیصلہ ہے، پاکستان کی انتظامیہ کو سیاست زدگی کی آلودگی سے کلین اور شفاف کیا جائے گا 2018کے عام انتخابات میں عمران خان کا نعرہ یہی تھا کہ قومی دولت لوٹ کر باہر لیجانے والوں کو اقتدار میں آنے کے بعد اُن کی حکومت عبرت کا نشان بنائیں گی اور آج قوم یہ منظر دیکھ رہی ہے تیس چالیس برسوں سے مختلف صورتوں میں حکومتوں میں رہنے والے تقریباً پورا چور خاندان جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ چکا ہے اب میڈیا کا ایک متاثرہ طبقہ ایکدم کود کر میدان میں آگیا ہے جوکہ عمران حکومت پر‘ملٹری پشت پناہی‘ کا جھوٹا اور مفروضہ پروپیگنڈاکرکے پاکستان مخالف خفیہ ایجنسیوں کا آلہ کار بن گیاہے اور تسلیم نہیں کررہا کہ عمران خان اب پاکستان کی ایک مقبول سلیبرٹی بن چکے ہیں ، عوام کی مقبولیت ہی عمران خان کی اصل طاقت ہے قومی حلقے بالکل مایوس نہ ہوں وہ یقین رکھیں کہ عمران خان ملکی جمہوریت پر عوامی حاکمیت کے اعتماد اور بھروسہ کو ہر صورت میں بحال کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے عمران خان حکومت پر انگشت نمائیاں کرنے والے بالا آخر تھک جائیں گے اور تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے کہ عمران خان عوامی مقبولیت کا ایک پْرکشش استعارہ ہیں ملک سے خاندانی میراثیت کی علامت سیاسی جماعتیں اپنی موت آپ مر جائیں گی ہر کوئی یہ بھی ازبر کرلے کہ محفوظ ومستحکم اورایک خوشحال ترقی یافتہ پاکستان کی بقا کرپشنز کی بدبودار گندگی سے بالکل پاک و صاف جمہوریت میں مضمرہے ،ملکی عدالتیں آزادانہ اور منصفانہ تیز رفتاراپنے فیصلے صادر کررہی ہیں اورملکی ملٹری بیوروکریسی نے گزشتہ دس دہائیوں میں ماضی کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے عوام کی والہانہ انسیت وچاہت کی بے پناہ طاقت سے اپنی پیشہ ورانہ سلامتی کو اور زیادہ با صلاحیت اور زیادہ پیشہ ورانہ مہارت سے بروئے کار لانے پراپنی توانیاں صرف ملکی سلامتی پر مرکوز کررکھی ہیں اور قوم اب کیچوئے کی چال چلتی ہوئی سست رفتار سول بیوروکریسی کی طرف دیکھ رہی ہے سست رفتار سول بیوروکریسی کوپہلی فرصت میں جتنی جلد ہوسکے اسے بھی اب اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا کرپشنز سے پاک سیاسی پسند وناپسند کی آلودگیوں سے پاک صاف افسرشاہی طبقہ کے مفاد میں اس کے سوا اب کوئی چارہ نہیں ہے ۔

پاک بھارت میچ: علی ظفر اور ماورہ گرین شرٹس کو سپورٹ کرنے مانچسٹر پہنچ گئے

مانچسٹر: کرکٹ ورلڈ کپ کے سب سے بڑے مقابلے میں پاکستان ٹیم کو سپورٹ کرنے اداکار و گلوکار علی ظفر اور ماورہ حسین بھی مانچسٹر پہنچ گئے۔

کچھ ستارے قومی کرکٹ ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے پہلے سے مانچسٹر میں موجود ہیں اور پاکستان ٹیم کی جیت کے لیے پُرامید ہیں اور نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں۔

گلوکار و اداکار علی ظفر قومی کرکٹ ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لیے مانچسٹر پہنچ گئے اور وہ آج اولڈ ٹریفورڈ اسٹیڈیم میں پاکستان اور بھارت کا دلچسپ ٹاکرا دیکھیں گے۔

انہوں نے گرین شرٹس کی جیت کے لیے اور میچ کے دوران بارش نہ ہونے کی امید کا اظہار کیا۔

اداکارہ ماورہ حسین پاک بھارت کا زبردست مقابلہ دیکھنے کے لیے گزشتہ روز مانچسٹر پہنچیں جہاں سے انہوں نے اپنی ایک تصویر مداحوں سے شیئر کی۔

مانچسٹر پہنچنے پر ان سے ایک شخص نے سوال کیا کہ وہ پاک بھارت میچ میں کس کو سپورٹ کر رہی ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ کیا اس سوال کا پوچھنا بنتا ہے؟

اداکارہ نے پاکستانی پاسپورٹ دکھاتے ہوئے کہا کہ ظاہر سی بات ہے میری سپورٹ قومی کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہے، انشاءاللہ ہم جیت جائیں گے۔

گلوکار و اداکار فرحان سعید اہل خانہ کے ہمراہ لندن میں موجود ہیں اور امکان ہے کہ وہ بھی آج پاک بھارت کا مانچسٹر میں ہونے والا میچ دیکھنے جائیں گے۔

اداکارہ عروہ حسین سمیت اداکار عدنان صدیقی بھی لندن میں موجود ہیں اور ممکن ہے کہ دونوں آج قومی کرکٹ ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لیے میچ دیکھنے مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ گراؤنڈ پہنچیں گے۔

شوبز ستارے بھی پاکستان ٹیم کی جیت کے لیے پُرامید ہیں کہتے ہیں بھارت کے ساتھ مقابلے میں جیت پاکستان کا مقدر بنے گی۔

ورلڈ کپ ٹاکرا؛ ترجمان پاک فوج کا بھارتی صحافی کو کرارا جواب

کراچی: ورلڈ کپ 2019 کا سب سے بڑامقابلہ آج ہونے جارہا ہے اس سنسنی خیز مقابلے پر صرف پاک بھارت کرکٹ شائقین کی ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی نظریں جمی ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان  میچ نہیں بلکہ جنگ ہوتی ہے۔

پاک بھارت مقابلہ تو آج ہونے جارہا ہے لیکن اس کی تیاریاں گزشتہ کئی روز سے جاری ہیں جہاں دونوں طرف کے شائقین سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں  اور اپنی اپنی ٹیم کی جیت کے لیے دعا گو ہیں وہیں بھارتی اپنی روایتی ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے، تاہم پاک فوج بھی اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے میدان میں اتر آئی ہے۔

پاک بھارت ٹاکرے پر اپنی سطحی سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نائلہ عنایت نامی صحافی نےٹوئٹ کرتے ہوئے لکھالاہور میں بارش ہورہی ہے، بس اب کل مانچسٹر میں بھی بارش ہوجائے۔ نائلہ عنایت کے اس ٹوئٹ پرکشمیری نژاد بھارتی صحافی آدیتیہ راج کول نےپاکستانیوں کے جذبات بھڑکاتے ہوئے جوابی ٹوئٹ کی ’’یہ ہر پاکستانی کا خواب ہے کہ پاک بھارت میچ کے دوران بارش ہوجائے‘‘۔

اس بے ہودہ مذاق کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے نائلہ عنایت نے اس ٹوئٹ کے جواب میں ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کی ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ ہاتھوں کو دعا کے انداز میں اٹھائے ہوئے ہیں۔ نائلہ عنایت شاید یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے ظاہر کرنا چاہ رہی تھیں ہر پاکستانی اس وقت بارش کی دعا کررہاہے تاکہ پاکستان بھارت کے ہاتھوں شکست سے بچ جائے۔

آدیتیہ راج نے اس تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئےترجمان پاک فوج کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ’’اللہ میاں ہماری طرف ہیں، غفور صاحب‘‘۔

ان ٹوئٹس پر ترجمان پاک فوج نےآدیتیہ راج کول کی ٹوئٹ پر جواب دیتے ہوئے ان کی بولتی بند کرادی۔ ترجمان پاک فون نے لکھا ’’ہمارا ایمان ہے کہ رب سب کا، ہر کسی کا حق ہے کہ وہ اللہ سے دعا کریں، آپ کا بھی حق ہے کہ آپ دعا کریں لیکن دوسروں کے لیے انکار نہ کریں۔ آج کے میچ کے بارے میں میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ صرف ایک کھیل ہے، جو ٹیم اچھا کھیلے گی وہ جیتے گی، ہوسکتا ہے ہم جیت جائیں، ہوسکتا ہے ہم ہار جائیں، لیکن ہماری دعائیں ہماری ٹیم کے ساتھ ہیں۔‘‘

صومالیہ میں صدارتی محل پر خود کش حملہ، 8 افراد ہلاک

موغا ديشو: صومالیہ میں صدارتی محل میں داخلی چیک پوسٹ پر خود کش کار بم دھماکے میں 8 افراد ہلاک اور 12 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ 

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق خود کش حملہ آور نے صومالیہ کے صدارتی محل کے باہر چیک پوسٹ پر بارودی سے بھری کار ٹکرا دی جس کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 8 افراد ہلاک اور 12 سے زائد زخمی ہوگئے، ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں سیکیورٹی فورس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ایئرپورٹ کو جانے والے شاہراہ پر واقع چیک پوسٹ پر خود کش کار بم دھماکا کیا گیا، جس میں 16 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سے 2 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شدت پسند جماعت الشباب نے دونوں خود کش حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ایئرپورٹ کے علاقے میں اہم سول افسران کی رہائشی کالونی کو نشانہ بنایا ہے جب کہ صدارتی محل کے اندر داخل ہونے میں ناکامی پر چیک پوسٹ کو دھماکے سے اُڑادیا گیا۔

 

پاک سوزوکی کی آلٹو 660 سی سی مارکیٹ میں آگئی

اسلام آباد: پاک سوزوکی موٹرز نے ’مہران کار‘ کی جگہ اپنی نئی گاڑی ’آلٹو 660 سی سی‘ متعارف کروادی۔

پاک چین فرینڈشپ سینٹر میں ہونے والی پروقار تقریب میں پاک سوزوکی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ماسومی ہرانو نے سرخ رنگ کی گاڑی متعارف کروائی جس کے مزید 6 رنگ بھی موجود ہیں۔

اس موقع پر ان کے ہمراہ کمپنی کے سینئر منیجرز بھی موجود تھے۔

پاک سوزوکی نئی آلٹو 660 سی سی کمپنی کی کامیاب ترین کار ’مہران 800 سی سی‘ کی جگہ متعارف کروائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پاک سوزوکی نے 30 سال قبل 1989 میں مہران کار کو پاکستان میں متعارف کروایا تھا، جبکہ اُس وقت اس کار کا نام بھی ’آلٹو‘ ہی تھا جس بعد میں مہران کا نام دیا گیا۔

نئی آلٹو 660 سی سی پہلی مرتبہ مکمل طور پر پاکستان میں تیار کی جانے والی کار ہے جس کے تین ماڈل ہیں جن میں 2 مینول جبکہ ایک آٹومیٹک۔

پاک سوزوکی نے پاکستان میں پہلی مرتبہ 660 سی سی انجن سے لیس مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑی آلٹو کو رواں سال اپریل میں متعارف کرایا تھا۔ فوٹو: فیس بک
پاک سوزوکی نے پاکستان میں پہلی مرتبہ 660 سی سی انجن سے لیس مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑی آلٹو کو رواں سال اپریل میں متعارف کرایا تھا۔ فوٹو: فیس بک

کمپنی کی جانب سے اپنی نئی گاڑی کی قیمت 9 لاکھ 99 ہزار سے 12 لاکھ 95 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔

نئی آلٹو گاڑی جاپانی ٹیکنالوجی کے 660 سی سی کے آر-سیریز انجن کی حامل ہے۔ یہ گاڑی جدید ڈیزائن کے انٹیریئر سے مزین ہے۔

مذکورہ گاڑی کو کراچی میں کمپنی کے بن قاسم پلانٹ میں تیار کیا گیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ اس گاڑی کی مدد سے ایندھن کی بچت کی جاسکتی ہے، گاڑی کی 3 سال یا 60 ہزار کلومیٹر کی وارنٹی بھی دی گئی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک سوزوکی کپنی کے سی ای او ماسومی ہرانو کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی سطح پر تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک ہے اور گاڑیوں کی صنعت ملکی معیشت کو تیز کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

انہوں نے پاکستان میں آٹوموبائل سیکٹر میں حاصل ہونے والی کامیابیوں میں پاک سوزوکی کمپنی کے کردار پر روشنی ڈالی۔

خیال رہے کہ اپریل کے مہینے سے ہی کمپنی نے مہران کار کی بکنگ بند کردی تھی، جبکہ پاکستان آٹو شو 2019 میں نئی آلٹو 660 سی سی متعارف کروادی تھی۔

افغان بارڈر سیل کرنے کی ضرورت ہے

وطن عزیز گزشتہ تین دہائیوں سے دہشت گردی جیسے ناسور کی لپیٹ میں آنے کی وجہ سے نہ صرف اندرونی طور پر کمزور ہوا بلکہ بین الاقوامی سطح خصوصاً خطے میں پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دلوانے کےلئے دشمن ملک بھارت کی ناپاک سازشوں کا بھی مقابلہ کرتا آرہا ہے ملک میں امن کے قیام اور اسے دہشت گردی سے پاک ملک بنانے کےلئے ہمیشہ پاک فوج نے اہم کردار ادا کیا ۔ پاک فوج نے سر اٹھانے والے فسادیوں کی سرکوبی کےلئے ردالفساد کے نام سے جہاد شروع کیا تو دہشت گردوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا ۔ ان کے بچے کھچے ٹھکانے تباہ برباد کردیئے گئے اور ان کے سہولت کاروں کے گرد بھی شکنجہ سخت کردیا گیا ۔ ایسے نا مساعدہ حالات میں فسادیوں کی اکثریت موت کے گھاٹ اتار دی گئی یا ملک سے راہ فرار اختیار کرگئی ۔ راہ فرار اختیار کرنے والی اکثریت نے پڑوسی ملک سے سازشوں کا سلسلہ شروع کردیا تو افواج پاکستان نے ان کو وہ سبق سکھایا کہ ان کے مدد گار اب امن اور دوستی کی زبان بولنے پر مجبور نظر آتے ہیں کیونکہ پاک فوج نے ہمسایہ ملک میں ان کے ٹھکانوں کو نیست و نابود کردیا ہے ۔ پاکستان نے بلوچستان سے ملحق افغان بارڈر سیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت 1260 کلو میٹر طویل سرحد پر خاردار تار لگائی جائے گی ۔ سرحد پر باڑ نصب کرنے کا کام تین برسوں میں مکمل کیا جائے گا ۔ بین الاقوامی سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کی روک تھام کےلئے کیا گیا ہے ۔ پاک افغان بارڈر پر حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے کےلئے خیبرپختونخوا سے ملحق سرحد کو پہلے ہی باڑ لگا کر بند کرنے کا عمل جاری ہے ۔ سرحد پر سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اس سے قبل چمن، قندھار بارڈر پر 1100 کلومیٹر طویل خندق بھی کھودی گئی تھی ۔ افغانستان سے متصل سرحد پر اب تک 209کلومیٹر باڑ لگائی گئی ہے، جب کہ اس سال کے آخر تک پانچ سوکلومیٹر سرحد کو محفوظ بنایا جائے گا ۔ دسمبر 2019ء میں 830 کلومیٹر باڑ لگا کر منصوبہ مکمل کیا جائے گا، جس پر بارہ ارب روپے کی لاگت آئے گی ۔ پاک افغان سرحد پر باڑ سے دہشت گردی کے خاتمہ میں مد ملے گی ۔ باڑ لگانے کا مقصد ملک کو محفوظ بنانا ہے ۔ کیونکہ افغانیوں کی مہمان نوازی کے تحفہ میں دہشت گردی ملی ۔ افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہورہی ہے ۔ شمالی وزیرستان میں 80 کلو میٹر سرحد باڑ لگا کر، جب کہ جنوبی وزیرستان میں 48 کلومیٹر سرحد باڑ لگا کر محفوظ بنائی گئی ۔ پاک افغان سرحد پر نظر رکھنے کیلئے تکنیکی نگرانی کا نظام بھی وضع کیا گیا ہے جس کے تحت رات کو دیکھنے والے آلات ،اور ریڈار سسٹم اور دور بینوں کے ذریعے سرحد کی نگرانی کا عمل مزید سخت کردیا گیا ہے ۔ پاکستان آئندہ برس تک افغانستان کے ساتھ اپنا پانچ سوپندرہ میل طویل بارڈ سیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ پاکستان کی طرف سے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے عمل کو کئی حلقے دہشت گردی روکنے کےلئے اہم قرار دے رہے ہیں لیکن ناقدین کے خیال میں اس سے دہشت گردی کے رکنے امکانات نہیں ہیں ۔ پاکستان میں کئی پختون قوم پرست اور تجزیہ نگار اس حکومتی اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔ سرحدپر امن قائم کرنے کےلئے باڑ کے ساتھ ساتھ افغان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا قلع قمع بھی ضروری ہے ۔ سرحد کے پار دہشت گردوں کی جو پناہ گاہیں ہیں ان کو ختم کرنا چاہیے ۔ سرحد کو مشترکہ طور پر مانیٹر کرنا چاہیے کیونکہ یہ بارڈ اتنا طویل اور دشوار گزار ہے کہ کوئی ایک ملک اس کی مانیٹرنگ تنہا نہیں کر سکتا ۔ لہٰذا دونوں ممالک کو مشترکہ کوششیں کرنا چاہیے ۔ کیونکہ کابل ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتا ۔ وہ تو طورخم پر بھی سرحد نما ڈھانچے کو تسلیم کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں تو اس باڑ کو کیسے تسلیم کرے گا ۔ پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کےلئے ہر وہ کام کرنا چاہیے، جو وہ ضروری خیال کرتا ہے ۔ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے پر گزشتہ دو برسوں سے کام ہو رہا ہے ۔ گزشتہ برس اس مسئلے پر پاکستان اور افغانستان کے سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان کشیدگی بھی ہوئی تھی ۔ کابل کے اس پر تحفظات ہوسکتے ہیں لیکن ہم اس کی وجہ سے اپنی قومی سلامتی کی سودے بازی تو نہیں کر سکتے ۔ دنیا بھر میں دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے سرحد کی سخت مانیٹرنگ کی جاتی ہے اور پاکستان بھی ایسا ہی کر رہا ہے ۔ سرحد کے اطراف کچھ مجرمانہ عناصر بھی ہیں ، جو اس باڑ کے خلاف ہیں کیونکہ اس سے اسمگلنگ اور دوسرے غیر قانونی دھندے بھی متاثر ہوں گے لیکن میرے خیال میں پاکستان کا موقف بالکل صحیح ہے اور ہ میں اس پر کام جاری رکھنا چاہیے ۔ فوج کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سی مشکلات اور رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن پاک فوج کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے ان تمام تر مشکلات کے باوجود ثابت قدمی اور قومی جذبے سے وطن عزیز کی حفاظت میں جو لازوال قربانیاں دیں انکی بدولت آج پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں میں ممکنہ حد تک کمی واقع ہوئی ہے ۔ پاک فوج جہاں ملک کی سرحدو ں کی حفاظت کرتی ہے وہیں اندرونی سازشوں اور خطرات سے بھی نبردآزماہوتی ہے ۔ مشرقی اور مغربی محاذ پر دشمن کی توپوں کو خاموش کروانا تو معمول ہی بن گیا ہے ۔ اسی طرح بارشوں اور سیلابوں کی تباہ کاریاں بھی پاک فوج کی مدد کے بغیر قابو بھی ناممکن ہے ۔ الغرض وطن عزیز کی ہمہ جہت ترقی اور حفاظت کےلئے پاک آرمی نے ناقابل فراموش کردار ادا کررہی ہے جسے کوئی نظرانداز نہیں کرسکتا ۔

اس عام سبزی کا جوس امراض قلب سے بچانے میں مددگار

ٹماٹر ایسی سبزی (یا پھل) ہے جس کا استعمال پاکستان کے ہر گھر میں ہوتا ہے اور کوئی بھی پکوان اس کے بغیر ادھورا محسوس ہوتا ہے۔

یہ کھانوں کو رنگت اور ذائقہ ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ متعدد غذائی اجزا سے بھرپور بھی ہوتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کا جوس آپ کو کس خطرناک مرض سے بچاسکتا ہے؟

جی ہاں ٹماٹر کا جوس پینے کی عادت منہ کا ذائقہ بدلنے کے ساتھ امراض قلب سے بچانے میں بھی مدد دیتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

طبی جریدے جرنل آف فوڈ سائنس اینڈ نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ بغیر نمک کے ٹماٹر کے جوس پینے کی عادت دل کی صحت کو بہتر بنانے کے ساتھ امراض قلب کا خطرہ کم کرتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ٹماٹر کا جوس بالغ افراد میں بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاتا ہے جس سے امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

جاپان کی ٹوکیو میڈیکل اینڈ ڈینٹل یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 500 رضاکاروں کا جائزہ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ ٹماٹر کے جوس کا استعمال بلڈپریشر کی سطح کم کرتا ہے جبکہ نقصان دہ کولیسٹرول کا لیول بھی کم ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس جوس کا اثر مردوں اور خواتین دونوں کو ہوتا ہے اور تمام عمر کے افراد اس سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ٹماٹر کے جوس میں فائبر اور ایک مرکب نیاسن موجود ہوتا ہے جو نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے۔

اس کے علاوہ ٹماٹر کا جوس اینٹی آکسائیڈنٹ بیٹا کیروٹین اور لائیکوپین بھی ہوتا ہے جو خون کی شریانوں کے مسائل سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔

بلاول اور مریم ملاقات؛ حکومت کے خلاف جدوجہد پر اتفاق

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے حکومت کے خلاف جدوجہد پر اتفاق کیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی دعوت پر چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری جاتی امرا پہنچے ، ان کے ہمراہ قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور، حسن مرتضی اور مصطفیٰ نواز کھوکھر کے علاوہ پیپلز پارٹی کی دیگر اعلیٰ قیادت بھی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب ، رانا ثنا اللہ، سردار ایاز صادق اور محمد زبیر موجود ہیں۔ مریم نواز نے جاتی امرا آمد پر بلاول بھٹوزرداری کا استقبال کیا۔

ملاقات میں آصف زرداری، فریال تالپور اور حمزہ شہباز کی گرفتاری سمیت دیگر سیاسی امور اور اپوزیشن کی حکمت عملی پر بات چیت کی گئی جب کہ اس دوران بجٹ کے حوالے سے بھی معاملات زیر غور آئے۔ ملاقات کے دوران پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں حکومت کے خلاف جدوجہد پر اتفاق اور بجٹ کے متعلق مشترکہ حکمت عملی کےلیےاعلیٰ سطحی رابطے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی قیادت دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطے کریں گی۔

واضح رہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے رمضان المبارک میں اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کو دعوت افطار پر مدعو کیا تھا، جس میں مریم نواز بھی شریک ہوئی تھیں، یہ دونوں سیاسی رہنماؤں کے درمیان پہلی باضابطہ سیاسی ملاقات تھی۔ مریم نواز نے گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری کو ملاقات کی دعوت دی تھی جسے بلاول نے قبول کیا تھا۔

Google Analytics Alternative