Home » Author Archives: Admin (page 3144)

Author Archives: Admin

کشیدگی برقرار, دونو ممالک تحمل اور برداشت سے کام لیں‘

پاکستانی فوج کے مطابق لائن آف کنٹرول کے بھمبر سیکٹر پر انڈین فوج نے منگل کو بلااشتعال فائرنگ کی جس پر پاکستان نے جوابی کارروائی کی جبکہ اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔

ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان اور انڈیا سے کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔

پیر کو پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیرِ صدارت پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں شریک رہنماؤں نے مسئلہ کشمیر پر حکومت کا ساتھ دینے اور مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیا تھا جبکہ آج قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوگا۔

 

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اپنی بریفنگ کے دوران کہا کہ وہ لائن اف کنٹرول پر پیش آنے والے واقعات کی رپورٹس پر تو کچھ نہیں کہیں گے تاہم وہ پاکستان اور انڈیا دونوں کو تحمل اور برداشت سے کام لینے پر زور دیتے ہیں۔

انھوں نے سرجیکل سٹرائکس کے انڈین دعوؤں اور پاکستانی فوج کی جانب سے دیے جانے والے بیانات پر تبصرہ کرنے سے گزیز کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مسلسل بات چیت ضروری ہے

امریکہ اور روس کے مذاکرات,مزید جاٰٗنئیے

امریکہ نے شام کے معاملے پر روس کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ روس گذشتہ ماہ جنگ بندی کے معاہدے کی شرائط کو پورا نہیں کر سکا۔

پیر کے روز امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا تھا کہ روس شامی حکومت کے جنگ بندی کے معاہدے پر عمل کرنے کو یقینی بنانے میں ناکام رہا ہے۔

امریکہ نے روس اور شام پر امدادی کارکنوں اور ہسپتالوں پر حملوں میں تیزی لانے اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔

 

دوسری جانب روسی وزارت خارجہ نے امریکی فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’امریکہ معاہدے کی شرائط کو پورا کرنے میں ناکام ہونے کے بعد خود پر سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محکمۂ خارجہ کے ترجمان جان کربی روس اور اس کے اتحادی ملک شام پر عام شہریوں کو نشانہ بنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔‘

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جاش ایرنیسٹ نے اس حوالے سے کہا کہ ’روس کو لے کر سب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔‘

عورتوں سے اب بڑا خطرہ ہیں, تہلکہ خیز رپورٹ

اسلام آباد, مغربی میڈیا نے یورپ سے جاکر داعش میں شمولیت اختیارکرنے والی عورتوں کو شدید خطرہ قراردیتے ہوئے کہاہے کہ داعشی عورتیں یورپ پر خطرے کی نئی تلوار ہیں اور شام اور عراق میں داعش کی صفوں میں کام کرنے والی عورتیں اگر اپنے ملکوں کو واپس جاتی ہیں تو وہ وہاں پر بدامنی پھیلانے کا موجب بن سکتی ہیں۔مغربی میڈیا کے مطابق داعش میں جہاں بڑی تعداد میں مقامی جنگجو سرگرم ہیں وہیں اس تنظیم کو یورپی ملکوں کے نوجوانوں اور خواتین کی بھی معاونت مل رہی ہے۔ یورپی ملکوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کا داعش میں شامل ہونا کسی بڑے خطرے سے کم نہیں۔ داعش میں شمولیت اختیار کرنے والے جنگجو یورپی لڑکیاں خود یورپی ملکوں کے سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دی جا رہی ہیں۔مغربی ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں بھی داعشی عورتوں کو یورپی ملکوں کے لیے ایک بڑا خطرہ تسلیم کیا جا رہا ہے۔ شام اور عراق میں داعش کی صفوں میں کام کرنے والی عورتیں اگر اپنے ملکوں کو واپس جاتی ہیں تو وہ وہاں پر بدامنی پھیلانے کا موجب بن سکتی ہیں۔ادھرفرانسیسی پولیس نے خواتین کا ایک سیل بھی پکڑا ہے جس میں شامل عورتیں براعظم یورپ میں داعش کے لیے جنگجو بھرتی کرنے میں سرگرم تھیں۔ خواتین کا سیل پیرس کے ریلوے اسٹیشنوں پر دھماکوں کی منصوبہ کے ساتھ ساتھ بارودی جیکٹیں حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ خواتین شدت پسندوں کی موجودگی اور متعدد کی گرفتاری نے پولیس کو خواتین کی کڑی نگرانی پر مجبور کیا ہے۔ اخباری رپورٹ میں کہا گیاہے کہ یورپی خواتین صرف ثانوی نوعیت کی کارروائیوں پر اکتفا کرنے پر تیار نہیں بلکہ وہ آگے بڑھ کرمرد جنگجوؤں کی جگہ قائدانہ کردار ادا کرنے کی خواہاں ہیں۔یورپی ملکوں کو نشانہ بنائے جانے کی داعش کی پالیسی کے بارے میں متعدد آراء پائی جاتی ہیں۔ داعش کے ایک آلہ کار رشید قاسم کا کہناتھا کہ اس کے گرفتار داعشی خواتین کے ساتھ رابطے ہیں۔ رشید قاسم کا کہنا تھا کہ خواتین کے ذریعے براعظم یورپ کو نشانہ بنانا داعش کی نئی تزویراتی حکمت عملی ہے۔علاوہ ازیں حیات بومدین نامی ایک خاتون جنگجو پچھلے سال نومبر میں پیرس میں یہود شاپنگ مال میں لوگوں کو یرغمال بنانے والے جنگجو کی بیوی قرار دی گئی ہے۔ اس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ شام فرار ہوچکی ہے۔خواتین عناصر کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا شدت پسندوں کی طرف سے کوئی نئی بات نہیں تاہم براعظم یورپ کو خواتین کے ذریعے ہدف بنانا داعش کی نئی حکمت عملی قرار دی جا رہی ہے۔

اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو ,چین کا دھماکہ خیز بیان

اسلام آباد , چین نے پاکستان کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ جنگ کی صورت میں پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑے گا میڈیا رپورٹس میں وزارت خارجہ میں سینئر حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاک بھارت تناؤ کی صورت میں بیجنگ اسلام آباد کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ چین امن کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہے تاہم اگر بھارت نے جنگ مسلط کی تو چین پاکستان کا ساتھ دے گا ۔ وہ عوامی طور پر امن کے لئے بیانات دے رہے ہیں تاہم انہوں نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ماضی کی جنگوں کی طرح ہمیں سپورٹ کریں گے ۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کہہ چکے ہیں کہ جہاں تک پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کا تعلق ہے تو چینی سائیڈ طرفین سے مسلسل رابطوں میں ہے اور امید ہے کہ دونوں ملک امن وامان کے لئے مل جل کر کام کریں گے ۔ دریں اثناء گزشتہ روز چین نے اقوام متحدہ میں جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی اپیل بھی ویٹو کر دی تھی ۔

سعودی عرب کا ایک اور بڑا اقدام سب حیران رہ گئے, مزید جاٰٗنئیے

ریاض, سعودی عرب نے اپنے ملک میں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے ہجری قمری کی بجائے ‘مغربی گریگوری کیلنڈر کو اپنا لیا ہے۔اس سے قبل سعودی عرب میں چاند پر مبنی ہجری کیلنڈر کو 1932 سے استعمال کیا جارہا ہے مگر اب اسے سرکاری شعبے کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے سورج پر مبنی گریگوری کیلنڈر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔قمری تقویم پر مبنی اسلامی کیلنڈر عام طور پر 354 دن پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ مغربی کیلنڈر سے 11 دن کم ہوتا ہے۔ جس کامطلب ہے کہ ملازمین کوسال میں 11دن کی تنخواہیں نہیں ملیں گی اوران کوپتہ بھی نہیں چل سکے گاکہ ان کی تنخواہوں میں کٹوتی ہوگئی ہے ۔سعودی عرب نے یہ فیصلہ اپنے مالیاتی خسارے کوکم کرنے کےلئے کیاہے ۔واضح رہے کہ معاشی ماہرین کے مطابق سعودی عرب بھی گلوبل اکانومی کی وجہ سے معاشی بحران کاشکارہے ۔

وزیراعظم کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس  آج  ہوگا۔

اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی شرکت کریں گے۔

قومی سلامتی سے متعلق اہم اجلاس میں وزیر خزانہ، وزیر دفاع، وزیر داخلہ اور وفاقی وزیر اطلاعات بھی شریک ہوں گے۔

پاک بھارت کشیدگی

مقبوضہ کشمیر کے علاقے بارمولہ میں بھارتی فوجی کیمپ پر حملے میں دو اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ۔ گزشتہ روز بارہ مولا میں 46 اشٹریہ رائفلز کے کیمپ پر دستی بم پھینکے گئے اور شدید فائرنگ کی گئی ۔ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ دو حملہ آور مارے گئے اور 4 فرار ہوگئے ۔ بھارت کا پاکستان پر سیز فائر کا الزام الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے والی بات ہے۔ بھارت سرحدی قوانین کی خلاف ورزی خود کررہا ہے اور واویلا پاکستان کے خلاف کررہا ہے ۔ بھارتی پروپیگنڈہ بے معنی ہے اور الزامات بے سروپا اور بے بنیادہیں بھارت مقبوضہ کشمیر میں جاری بربریت کو چھپانے اور عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کیلئے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے ۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے پاگل پن کا یہ عالم ہے کہ کبھی وہ اڑی حملے کا الزام پاکستان کے سر تھونپنے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی ود ہی اپنے دعوے کو جھوٹا قرار دے رہا ہے مودی سرکار بولے حملہ نہیں کیا گیا نہ کسی کی زمین کے بھوکے ہیں دو عالمی جنگوں میں ڈیڑھ لاکھ انڈین فوجیوں نے دوسروں کی خاطر جانیں دیں ۔ بھارتی پانی کی طرح دوسروں کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں۔ مودی خود ہی پاکستان پر حملے کا الزام لگاتا ہے اور خود ہی اس کی نفی کررہا ہے جس سے اس کی حواص باختی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بھارت کی گیدڑ بھبھکیوں کے خلاف پاکستان بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے اور مودی کیخلاف مظاہرے اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ پاکستانی عوام نے مودی کے پتلے جلا کر اس کو پیغام دیا کہ وہ کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کیلئے اپنی بہادر افواج کے ساتھ ہیں بھارت کشیدگی جس سے خطے کے امن کیلئے خطرات سروں پر منڈلاتے دکھائی دینے لگے ہیں۔ بھارت کے کشمیریوں پر مظالم عالمی برادری کیلئے لمحہ فکریہ ہیں ۔ بھارت کی چیرہ دستیوں اور سفاکی کے خلاف دنیا کو بے حسی اور سرد مہری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے اور بھارت کو باور کرانا چاہیے کہ وہ جارحیت سے باز رہے اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالے ۔ بھارت کا اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو تسلیم نہ کرنا اس کی ہٹ دھرمی کا واضح ثبوت ہے ۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے لیکن بھارتی رویہ امن کوششوں کو ناکام کررہا ہے بھارت مگر مچھ کے آنسو بہا کر اپنی کارستانیوں کو چھپانے کی جو کوشش کررہا ہے وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگی ۔ بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ ایک طرف وہ مقبوضہ کشمیر میں بربریت کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہے تو دوسری طرف سرحدوں پر اس کی سرگرمیاں اور خلاف ورزیاں بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں جو پاکستان کیلئے تشویش کا باعث ہیں ۔ بھارت کسی خوش فہمی میں نہ رہے پاک فوج مادر وطن کے دفاع سے غافل نہیں ہے اور وہ کسی بھی جارحیت کا دندان شکن جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ پاکستان سیاسی ، عسکری قیادت ، سیاسی جماعتیں اور عوام ملکی سلامتی کیلئے متحد ہیں اور بھارت کیلئے یہ بہتر ہے کہ وہ چھیڑ چھاڑ کی غلطی نہ کرے ورنہ اس کو منہ کی کھانا پڑے گی پاک فو ج کے جوان جذبہ شہادت سے سرشار ہیں اور وہ دن رات دشمن کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ بھارت خطے میں کشیدگی بڑھا کر خود اپنے لئے ہی مسائل پیدا کررہا ہے ۔ مودی اپنی انتہا پسندی کے خول سے باہر نکلے اور عالمی منظر نامہ پر نظر ڈالے خلقت کیا کہہ رہی ہے ۔ بھارت کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان بھارت کی ہر سازش کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ بھارت ’’را‘‘ کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرکے دیکھ چکا ہے پاک فوج نہ صرف سرحدوں پر نظر رکھے ہوئے ہے بلکہ ’’را‘‘ کی سرگرمیوں پر بھی اس کی کڑی نظر ہے۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ خطے کو جنگ کی طرف نہ دھکیلے اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کا حل پرامن طریقے سے نکالنے کی کوشش کرے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بند کرے ۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک مسئلہ کشمیر کا ادراک نہیں ہوتا اور کشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں دیا جاتا۔ عالمی اداروں کو انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر پر بھارتی مظالم پر چپ سادھ کر نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ بھارت برسوں سے مسئلہ کشمیر کو سردخانے میں ڈالے ہوئے ہے اور کشمیریوں پر بربریت کررہا ہے جس کے خلاف کشمیری عوام سراپا احتجاج ہیں، ظلم بڑھتا ہی جارہا ہے لیکن عالمی ادارے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں جس سے ان کا کردار ایک سوالیہ نشان بنتا جارہا ہے۔ پاک بھارت کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے عالمی ادارے آگے آئیں ورنہ بھارت کا جارحانہ انداز خطے کے امن کو تباہ کرکے رکھ دے گا۔
کشتی پکڑنے کا بھارتی دعویٰ جھوٹ کا پلندہ
پاکستانی کشتی پکڑنے کا بھارتی دعویٰ جھوٹ کا پلندہ نکلا بھارتی حکام نے کشتی ضبط کرنے اور 9 افراد کو حراست میں لینے کی افواہ اڑائی جب پاکستان نے متعلقہ حکام سے اس ضمن میں باز پرس کی اور چھان بین کی گئی تو پتہ چلا کہ کوئی کشتی یا ماہی گیر لاپتہ نہیں ہے اس طرح ایک اور بھارتی جھوٹ کا پول کھل گیا اور بھارت کا مکروہ چہرہ اور پروپیگنڈہ عیاں ہوگیا بھارت کا یہ وطیرہ ہے کہ وہ اس طرح کی بے پرکی پھیلاتا رہتا ہے ۔ بھارتی میڈیا بھی بے سروپا الزامات اور پروپیگنڈہ کرتے نہیں تھکتا ۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات اس کی خارجہ پالیسی میں شامل ہے لیکن جب بھارت جیسا مکار جارح پڑوسی ہوتو پھر خطے کے امن کا خدا ہی حافظ ہے ۔ بھارت پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ بند کرے اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق کا سامنا کرے اور انتہا سپندی اوردہشت گردانہ سوچ سے باہر نکلے اور غاصب نہ بنے دنیا اس کے کردار سے اب نا آشنا ئے محض نہیں ہے۔ اب اس کا چہرہ پوری طرح بے نقاب ہوچکا ہے۔ مودی سرکار ہوش کے ناخن لے اور جنگی جنون سے نکلے ورنہ خطے کی تباہی کی ذمہ داری اسی کے سر جائے گی۔
لوڈشیڈنگ کیخلاف مظاہرے
بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ نے صارفین کی چیخیں نکال دیں ۔ دیہی اور شہری علاقوں میں 14 سے 18 گھنٹے بجلی کی بندش نے لوگوں کا کاروبار زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا ۔ شارٹ فال 5 ہزار میگاواٹ نے گھمبیر صورتحال اختیار کرلی ۔ حکومت لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوے ایک تواتر سے کرتی چلی آرہی ہے لیکن یہ دعوے حقیقی روپ نہیں دھار رہے عوام بے بس ہیں اور لوڈشیڈنگ کے خلاف ملک گھیر احتجاج کررہے ہیں ۔ حکومت لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ عوام الناس میں پائی جانے والی پریشانی اور اضطراب کا ازالہ ممکن ہو آخر کب تک اندھیرے لوگوں کا مقدر رہیں گے ۔ حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے اور ان کے مسائل کا ادراک کرے عوام کے احتجاج پر کان دھرے اور ان کیلئے آسانیاں پیدا کرے۔ عوام حکومت سے کافی توقعات رکھتے ہیں اور جب ان کی امیدیں بر نہیں آتیں تو وہ مایوس ہوکر رہ جاتے ہیں ۔ عوام کیا کرے ایک طرف گیس کا بحران ہے تو دوسری طرف بجلی کی آنکھ مچولی ہے ان حالات میں وہ سراپا احتجاج نہ ہو تو پھر کیا کریں ۔ حکومت عوامی مظاہروں پر غور کرے اور مسائل حل کرے۔

بھارت کا جنگی جنون اوربانکی مون کی بے بسی

اڑی حملے کے بعد بھارت نے جس طرح کشیدگی کو بڑھاوا دے کر جنگی ماحول بنا دیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عمداً خطے کے امن کو تباہ کرنے پر تلا ہے۔پاکستان کی تمام تر امن کی خواہشات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مودی سرکار جنگی جرائم کی طرف گامزن ہو چکی ہے۔ایل او سی پر بھارتی جارحیت پاکستان کے صبر وتحمل کا امتحان اور عالمی ادارے کی مجرمانہ خاموشی پر تھپڑہے۔حیرت ہے خطہ جنگ کی دہلیز پر کھڑا ہے اور اقوام متحدہ (یو این) کے سیکریٹری جنرل بان کی مون بے بسی کی تصویر بنے فرماتے ہیں کہ عالمی ادارے کا ملٹری آبزرور گروپ برائے ہندوستان اور پاکستان (یو این ایم او جی آئی پی) بھارت کے عدم تعاون کے باعث جموں اور کشمیر میں کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔یہاں عالمی ضمیر کے سامنے ایک سوال ہے کہ اگر یہاں بھارت کی جگہ پاکستان ہوتا تو کیا تب بھی اس عالمی ادارے کا سربراہ اسی طرح بے بسی کا اظہار کرتا۔یقیناًتب ایسا وہ نہ کہتے ،نہ کرتے بلکہ انسانی حقوق کی جملہ تنظیموں کو بھیڑیوں کی طرح پاکستان کے خلاف لگا چکے ہوتے اور شاید سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس بھی بلایا جا چکا ہوتا۔عین ممکن ہے پاکستان پر پابندی بھی لگ چکی ہوتی۔ادھر امریکہ کی نیندیں بھی حرام ہوچکی ہوتیں۔اب چونکہ انکا منظورنظر مسلمانوں کیخلاف واہی تباہی مچارہا ہے تو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ان کی بلا سے جائیں جہنم میں۔یہ بات ہے کوئی کرنے والی ہے کہ بانکی مون فرمائے ’’عالمی تنظیم دونوں ممالک کے درمیان مصالحت کیلئے تیار ہے‘‘۔ایک عالمی تنظیم کے سیکرٹری جنرل ہونے کے ناطے مصالحت کی کوششیں کرانا جناب آپ پر فرض ہے۔ان پھیکے عندیے دینے کا فائدہ نہیں ہے۔ملیحہ لودھی نے درست کہا ہے کہ عالمی برادری اور خاص طور پر اقوام متحدہ کو بین الاقوامی امن اور سلامتی کے حوالے سے خطے کو لاحق خطرات سے پہلو تہی نہیں کرنی چاہیے۔ملیحہ لودھی نے بانکی مون پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔اگر ہندوستان کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم نہیں کرتا تو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کا متبادل طریقہ کار استعمال کیا جائے، تاکہ بین الاقوامی امن و سلامتی کو درپیش خطرات کا تدارک کیا جاسکے۔ اڑی میں بھارتی فوج کے بریگیڈ ہیڈ کواٹرز پر ہونے والے حملے کے بعد بھارتی حکومت نے پاکستان کیخلاف اپنی پروپیگنڈا مہم اور جنگی حرکتیں تیز کر دی ہیں۔ پاکستان کیخلاف جنگی جنون کو ہوا دینے میں بھارتی میڈیا کسی سے پیچھے نہیں‘وہ اپنے تبصروں اور تجزیوں کے ذریعے مسلسل پاکستان کیخلاف نفرت میں اضافہ کر رہا اور اپنی حکومت کو پاکستان پر باقائدہ حملے کے لیے اکسا رہا ہے۔ یہ عناصر یہ سمجھنے سے قاصر نظر آتے ہیں کہ تباہ کن ایٹمی ہتھیار حاصل کرلینے کے بعد قومیں اعتدال اور ذمہ دارانہ رویہ کا مظاہرہ کرتی ہیں لیکن یہاں صورتحال تو الٹ ہے۔بھارت سمجھتا ہے کہ ایسی حرکتوں سے پاکستان دب جائے گا۔بنیادی طور پر بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور ہندو انتہا پسندوں کے نرغے میں ہے۔بھارت میں کام کرنے والے فنکاروں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔اسی طرح ایک بھارتی انتہا پسند تنظیم راشٹریہ کرانتی ہندو دل نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کا سر کاٹ کر لانے والے کو ایک کروڑ روپے انعام دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ادھربھارتی انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے باعث بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کے ایک درجن سے زائد تقریبات کے دعوت نامے منسوخ کرچکے ہیں۔یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت خطے میں جنگ چاہتا ہے۔ایسے میں عالمی برادری محض افسوس کا اظہار نہ کرے بلکہ عملی اقدامات اٹھائے اور لائن آف کنٹرول کو ٹھنڈا کیا جائے۔بریں بنا مسئلہ کشمیر میں جاری بربریت پر بین الاقوامی سطح پر تاری پراسرار خاموشی کو بھی ٹوٹنا چاہیے۔تین ماہ سے مقبوضہ وادی ایک جیل کا منظر پیش کررہی ہے۔اب تک سو سے زائد کشمیری جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں،پیلٹ گنوں سے سینکڑوں نوجوان بینائی سے محروم ہوچکے ہیں،آخر دنیا کب تک یہ بربریت جاری رہے گی۔کیا کشمیری انسان نہیں یا انکو انسانی حقوق حاصل نہیں؟کیا آزادی کی تمنا کرنا جرم ہے؟کیا اقوام متحدہ کی ریزولیشن محض الفاظ کا پلندہ ہے؟آخر اس ریزولیشن کی پاسداری کرانا کس کی ذمہ داری ہے۔کشمیریوں کو دیوار سے لگانے کے بھارتی مؤقف پر امریکا کی جانب سے بھی سرد ردِ عمل ظاہر کیا گیا ہے۔اڑی جیسے حملوں کے بعد مودی اپنے ووٹروں کو یقین دلارہے ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف کانگریسی حکومت کے مقابلے میں زیادہ سخت اقدامات اٹھائیں گے چنانچہ اپنی انتہا پسند جماعت کے مستقبل کیلئے وہ پورے خطے کو جنگ میں دھکیلنے پر مُصر ہیں۔بھارت کے اندر اس کو محسوس کیا جارہا ہے کہ اگلے سال بعض علاقوں میں انتخابات بھی منعقد ہونے والے ہیں لہذا حکمران جماعت بی جے پی اینٹی پاکستان ماحول بنا کر الیکشن جیتنے کی کوشش کرے گی چونکہ گزشتہ الیکشن میںیہی حربہ اس کے کام آیا تھا۔ لہٰذا آنے والے دنوں میں نئی دہلی، حقائق چھپانے اور اپنے ووٹرز میں موجود انتہا عناصر کو مطمئن کرنے کی خاطر، اس سے بھی زیادہ سنگین

Google Analytics Alternative