Home » Author Archives: Admin (page 32)

Author Archives: Admin

کشمیر بنے گا خود مختار یا الحاق پاکستان

جے کے ایل ایف کے چیئرمین یاسین ملک بدترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں ایک کمرے میں پابند سلاسل ہیں ان سے بھارت مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور انکے رویے میں لچک پیدا کرنے کےلئے دباءو ڈال رہا ہے اور یاسین ملک کو اپنی موت سامنے نظر ;200;رہی ہے لیکن کشمیری قوم کا یہ سپوت مرد کا بچہ ہے موت گلے لگا لے گا سمجھوتہ نہیں کرے گا اسے پتہ ہے ایک یاسین ملک کے ;200;زادی کی راہ میں جان دینے سے ہزاروں یاسین پیدا ہونگے اسے معلوم ہے کہ شیخ عبداللہ نے غداری کی تھی ;200;ج اس کی قبر پر کوئے بول رہے ہیں جبکہ مقبول بٹ، حمید دیوانی، افضل گورو اور برہان وانی کے تابوتوں سے بھی بھارت خوف کھاتا ہے وہ قبر سے شمعیں روشن کر رہے ہیں اور بھارت سے ;200;زادی کی تحریک کی قیادت کر رہے ہیں ۔ حمید دیوانی، افضل گورو مقبول بٹ اور برہان وانی اور دیگر شہدا کو سب کو موت سامنے نظر ;200;رہی تھی مگر انہوں نے شہادت کو ;200;زادی کےلئے ترجیح دی انہیں پتہ تھا ;200;زادی کی راہ میں بہنے والا خون کبھی ضائع نہیں ہوگا;46; سید علی گیلانی 90سال کی عمر میں بھارتی ظلم اور بربریت برداشت کررہا ہے لیکن اس کے موقف میں زرہ نرمی نہیں ہے وہ ہندوستان کی نام نہاد جمہوریت کی بربادی کی علامت ہے وہ پورے قد کے ساتھ کھڑا ہے ۔ دختران ملت کی ;200;سیہ اندرابی کی حالت دیکھ لیں اس پر بدترین ریاستی دہشت گردی ہورہی ہے بیمار مجبور عورت ہے ہندو انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ رہی ہے جیل میں ساری تکلیفیں برداشت کررہی ہے لیکن جذبہ دیکھیں مسمم ارادے کے ساتھ چٹان کی طرح ڈٹی ہوئی ہے شبیر شاہ کو دیکھ لیں بھارتی جبر کی ;200;خری حد بھی برداشت کرچکا ہے مجال ہے کوئی لغزش کوئی مجبوری اس کو درپیش ہو موت کی خبر گردش کرتی رہی بیگم اور بھائی فتح کے نشان بناتے ہیں بھارت کے اس ;200;زادی پسند قیدی کو ;200;زادی کا سورج ہی اپنی معراج لگتی ہے گویا کشمیر کی ساری قیادت ایک ہی نکتہ پر متحد ہے جیل کے اندر اور باہر بھارت سے ابتدا سے ;200;خر تک ;200;زادی ۔ قربانیوں کی تاریخ رقم ہو رہی ہے جماعت اسلامی اور جے کے ایل ایف 90 ہزار شہدا کی وارث ہے مقبوضہ کشمیر میں ہر گھر میں شہید کی قبر ہے وہی لوگ تحریک کے اصلی وارث ہیں وہاں جنگ وجدل ہے وہاں قیامت صغری برپا ہے وہاں پر ہی کربلا ہے جہاں ماءوں کی گودیں ;200;جڑ رہی ہیں شیرخوار بچے ماءوں سے چھین کر موت کی گھاٹ ;200;تارے جارہے ہیں کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے جوان عورتوں کو اغوا کر کے بھیڑیے بھارتی درندے دہلی ممبئی لاکر عصمت دری پر مجبور کر رہے ہیں پانچ ہفتوں سے زائد وقت گزر گیا کرفیو نافذ ہے خوراک نہیں دودھ نہیں مقبوضہ کشمیر کی فضا خون ;200;لود ہے ۔ ;200;زاد کشمیر کا اقتداری طبقہ نہ کچھ پہلے کرسکا ہے نہ اب کرے گا نہ ان کے بس کی بات ہے صرف ان کے خون میں ایمان کی حرارت پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور ہم ادھر والے کشمیری اپنی قیادت کی طرح سفید خون والے ہیں جنازے پر تصویریں کھینچ کر اسے کشمیر کا سیمینار بنا دیتے ہیں اپنی پارٹی اپنی دوکان اپنا لیڈر اپنا منجن بیجتے ہیں دوسروں پر نکتہ چینی، اعتراضات ،مخالفت غیبت اور اپنی چوھدراہٹ قائم کرنے کےلئے لگے ہوئے ہیں شرم کا مقام ہے ہم کیسے مسلمان ہیں حالت جنگ وجدل میں بھی اپنے ;200;پ کو بدلنے کےلئے تیار نہیں پھر نماز بھی پڑھتے ہیں جمعہ کی نماز جنازہ ایک ساتھ ادا کرتے ہیں مانا تم سب بہت بڑے قد کاٹھ، برادری، پیسے، مال و اسباب والے ہو لیکن زرہ سوچو تمہارے مسلمان بھائی کس اذیت میں ہیں انہیں عرب ممالک کیا مدد کریں گے جو بھارت میں انوسٹمنٹ کررہے ہیں موددی کو کشمیریوں اور گجراتی مسلمانوں کو قتل کرنے پر ایوارڈ دے رہے ہیں وہ کبھی نہیں کریں گے ان کی نظریں تمہارے ;200;وپر پاکستانیوں اور ;200;زادکشمیر والوں پر لگی ہوئی ہیں اور تم ہو جو ;200;پس میں نفاق اور اختلاف پیدا کرنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہو خدا را اس موقع پر رد کر کردیں ہر اس کوشش کی جو اندرون پاکستان ;200;زادکشمیر اور بیرون ملک ;200;باد پاکستانیوں اور کشمیریوں میں انتشار پیدا کرے پاکستان کی حکومتوں سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ریاست کی مخالفت اس موقع پر زہر قاتل ہے پاکستان کی حکومتوں سے کوئی گلہ شکوہ ہے تو میڈیا کا سہارا لیں پاکستان کے سفارت خانے استعمال کریں سفارت خانے ہر اس شخص کے ہیں جو پاکستانی پاسپورٹ رکھتا ہے اور سفارت کار ;200;پ کا نوکر ہے دوسرے سفارت خانوں میں جاکر چیف اور بڑے بن جاتے ہیں چونکہ ;200;پ وہاں نہیں جاتے یہ ;200;پ کا حق ہے کہ بیرون ممالک رہتے ہوئے سفارت خانوں کے زریعے حکومت پاکستان ریاست پاکستان کے اداروں پر اپنے تحفظات یا سفارشات پیش کریں جس طرح ہر کسی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کشمیر کو پاکستان میں شامل کرنے کی تگ ودو کرے اگر وہ اس نظریہ کو درست سمجھتا ہےتو کیوں نہیں اسی طرح کوئی بنیادی طور پر خود مختار کشمیری ریاست کا حامی ہے تو اس کو اس کا پورا حق حاصل ہے لیکن اس کا ابھی وقت ہی نہیں ;200;یا موقع ;200;ئے گا تو بناتے رہنا جو بنانا ہے پہلے 10 ملین مسلمانوں کو ظالموں سے تو چھڑائیں ۔ چلتے چلتے یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی چیئرمین امان اللہ خان مرحوم پاکستان کا مخالف نہیں حامی تھا بھارت نے جب انٹرپول کے زریعے امان اللہ خان کو گرفتار کروایا تو حکومت پاکستان نے مقدمہ لڑ کر انہیں واپس لے گئی تھی گلگت بلتستان کی ;200;ئینی حیثیت کو سابقہ حکومت نے تبدیل کرنے کی کوشش کی تو مرحوم امان اللہ گلگت میں چلے گئے اور ایک ماہ سے زیادہ عرصہ انہوں نے وہاں گزرا اور گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ ڈکلیئر کرنے کی مخالفت کی ان کی بات سنی گئی پیپلزپارٹی کی حکومت نے تو باقاعدہ قمر زمان کائرہ کو گورنر بناکر شیروانی بھی پہنا دی تھی تاریخ سے نابلد دوستوں کےلئے عرض ہے حمید دیوانی اور مقبول بٹ دونوں گوریلا وار کے حامی تھے وہ پاکستان میں بھی رہے لیکن انہوں نے کبھی پاکستان کے خلاف گوریلا جنگ نہیں کی نہ کسی کو ایسا کرنے کی ترغیب دی اور نہ کبھی پاکستان کے خلاف خود گولی چلائی یہ لوگ ;200;زادی پسند تھے ان کی نظر میں پاکستان اور ہندوستان میں بڑا فرق تھا نہ کبھی یاسین ملک نے کسی نجی محفل میں بھی ایسی کوئی بات نہیں یاسین ملک کی بیوی اور بچی پاکستان میں ہے اور پوری ;200;زادی سے پاکستان کے سارے میڈیا پر اپنا موقف پیش کرنے میں ;200;زاد ہے میں نے لندن میں سردار عبدالقیوم مرحوم و مغفور کو خود یہ نعرہ لگانے سے پہلے یہ کہتے سنا کہ کشمیر بنے گا جس نے کہنا ہے پاکستان وہ کہے پاکستان اور جس نے کہنا ہے خود مختار وہ کہے خود مختار ۔ پھر سردار عبدالقیوم خان صاحب نے نعرہ لگوایا حالانکہ سردار عبدالقیوم الحاق پاکستان کے سب سے بڑے داعی تھے اور جس وقت انہوں نے یہ نعرہ لگوایا وہ جنرل مشرف کی قومی کشمیر کمیٹی کے چیرمین تھے کشمیر میں دو نظریات پائے جاتے ہیں ایک الحاق اور دوسرا خود مختاری کا;200;زاد کشمیر میں محرومیوں کے خلاف میں ہمیشہ لکھتا بھی ہوں اور بولتا بھی ہوں حتی کہ میں نے کئی محرومیوں کے خلاف کئی ٹی وی پروگرام کیے ;200;ور یہاں تک کہ میں نے الیکشن لڑتے وقت الحاق پاکستان کی شق ختم کرنے کےلئے بار بار پروگرام کیے میں ;200;ج بھی لکھتا ہوں کہ ;200;زادکشمیر میں ایک انٹرنیشنل ائیرپورٹ ہونا چاہئے پاکستانی افواج میں کشمیریوں کا بیس فیصد کوٹہ ہونا چاہئے پاکستان کی سینٹ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں کشمیریوں کی الگ سیٹیں ہونی چاہیئے ;200;زادکشمیر کی اپنی کرکٹ بورڈ ہونی چاہیئے سڑکیں ،پل اور سکولز کالجز قائم ہونے چاہئیں ۔ مجھ سے بڑا نہ کوئی کشمیری ہے اور نہ ہی پاکستانی ۔ اس موقع پر ایک دوسرے سے الجھنے کے بجائے اتفاق اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے وقت ;200;ئے گا تو کشمیر کو پاکستان بنا دینا یا خود مختار بنادیں میرے لئے تو دونوں جسم اور روح کی مانند ہیں ۔

;200;گیا ہے وقت اپنے خواب کی تعبیر کا

فیصلہ ہونے کو ہے تم دیکھنا کشمیر کا

عمران خان نے ثابت کردیا کہ چھوٹے آدمی کو بڑی کرسی پرمسلط کیا گیا ہے، ترجمان (ن) لیگ

لاہور: ترجمان (ن) لیگ مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ بدترین سیاسی انتقام اور حکومتی قوت سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے پر عمران خان کا نام سیاہ حروف میں لکھا جائے گا۔

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کا جیل میں گھر کا کھانا بند کرنے پر مذمت کرتے  ہوئے ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ انڈر ٹرائل ملزم کو جیل مینوئل حق دیتا ہے کہ اسے گھر کا کھانا فراہم کیا جا سکتا ہے، لیکن حکومت وقت نے بدترین سیاسی انتقام کی مثال قائم کردی ہے، عمران خان نے ثابت کر دیا کہ چھوٹے آدمی کو بڑی کرسی پر مسلط کر دیا گیا ہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارا مخالف بزدل اور کم ظرف  ہے، آپ کی نالائقی، نااہلی اور جھوٹ کا پول ہر گلی ہر محلے میں کھُل چکا ہے، بدترین سیاسی انتقام اور حکومتی قوت سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے پر تاریخ میں آپ کا نام سیاہ حروف میں لکھاجائے گا۔

ترجمان (ن) لیگ نے کہا کہ اوچھی اور کم ظرف حرکتوں سے ہم جھکنے والے نہیں، ہم منت کریں، یہ آپ کی حسرت ہی رہے گی، نوازشریف اور اس کے شیروں کو بھوکا، پیاسا رکھ کر ان کے حوصلے نہیں توڑے جاسکتے، جتنا مرضی ظلم کر لیا جائے آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کو ڈرا دھمکا کر نیچے نہیں کیا جاسکتا، اور نہ ہی پارٹی کو توڑا جاسکتا ہے، پارٹی بھی زندہ رہے گی کارکن بھی زندہ رہیں گے اور ہم بھی رہیں گے۔

ہر 40 سیکنڈ میں ایک فرد خودکشی کررہا ہے، عالمی ادارہ صحت

دنیا بھر میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک فرد خودکشی کرلیتا ہے اور ہر سال اس وجہ سے کسی جنگ کے مقابلے میں سب سے زیادہ لوگ مرتے ہیں۔

یہ بات عالمی ادارہ صحت نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں بتائی۔

انسدادِ خودکشی کے عالمی دن (10 ستمبر) کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت نے رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ پھانسی پر لٹک جانا، زہر کھانا اور بندوق کا استعمال خودکشی کرنے کے سب سے عام طریقے ہیں۔

عالمی ادارے نے دنیا بھر میں حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ خودکشی کی روک تھام کے لیے مختلف پروگرامز پر کام کریں اور لوگوں کو ذہنی تناﺅ پر قابو پانے میں مدد دیں۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر سالانہ اوسطاً 8 لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں۔

اسی رپورٹ میں زور دیا گیا کہ کیڑے مار ادویات پر پابندی کے ذریعے لوگوں کی زہر تک رسائی کم کرکے خودکشیوں کی شرح کو 70 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

رپورٹ کے بتایا گیا کہ ‘خودکشیاں عالمی سطح پر عوامی صحت کا مسئلہ ہے، ہر عمر، جنس اور مذاہب کے افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کا نقصان بہت بڑا ہوتا ہے’۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ خودکشی 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے اور 15 سے 19 سال کی لڑکیوں میں جذباتی مسائل کے باعث خودکشی کرنا دوسری بڑی وجہ ہے۔

اس عمر کے لڑکوں میں خودکشی سے اموات، ٹریفک حادثات اور باہمی جھگڑوں کے بعد تیسری بڑی وجہ ہے۔

عالمی ادارے کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر ہر سال 8 لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں اور یہ تعداد ملیریا یا بریسٹ کینسر یا جنگ یا قتل وغیرہ سے زیادہ ہے۔

عالمی سطح پر حالیہ برسوں میں خودکشیوں کی شرح میں 9.8 فیصد کمی آئی ہے مگر اس حوالے سے اعداد و شمار پیچیدہ ہیں کیونکہ اس عرصے میں امریکا میں خودکشیوں کی شرح میں 6 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ خودکشی کے مسئلے کی روک تھام ممکن ہے، بس حکومتوں کو اس حوالے سے حکمت عملی کو مرتب کرنا چاہیے اور انہیں نیشنل ہیلتھ اور تعلیمی پروگرامز میں شامل کرنا چاہیے۔

منافع بخش کاروبار کیلئے اوبر کا 8 فیصد ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ

دنیا کے مختلف ممالک میں سفری سہولیات فراہم کرنے والی کمپنی اوبر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سروس کو منافع بخش بنانے کے لیے مصنوعات اور انجینئرنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے اپنے 8 فیصد عملے کو فارغ کر رہی ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سان فرانسسکو سے تعلق رکھنے والی کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اوبر کے ملازمین کی تعداد 27 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے اور اب کارکردگی کے لیے اس میں کمی کا وقت آگیا ہے’۔

اوبر کمپنی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم دوبارہ ٹریک پر واپس آنے کے لیے کچھ تبدیلیاں کر رہے ہیں، جس میں عملے کی تعداد میں کمی بھی شامل ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ہمارا عملہ اولین ترجیحات کے مطابق ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ یہ تبدیلیاں روزانہ کی بنیاد پر ہمارے کام کو بہتر کریں گی اور ہم اعلیٰ میعار کے حوالے سے اپنی کارکردگی کا جائزہ لے سکیں گے‘۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’اوبر بہترین تکنیکی قابلیت والے افراد کو ملازمت دیتی رہے گی لیکن اس میں خصوصی طور پر اعلیٰ کارکردگی کو مدِ نظر رکھا جائے گا‘۔

خیال رہے کہ اس سے قبل جولائی کے مہینے میں اوبر نے لاگت میں کمی اور کام کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے مارکیٹنگ ٹیم سے 400 ملازمین سمیت 1200 کارکنان کو فارغ کردیا تھا۔

اس ضمن میں ایک ماہ قبل ہی اوبر کے چیف ایگزیکٹو دارا خوروشاہی نے اسٹاک مارکیٹ قرضوں کے پیشِ نظر کمپنی کے معاملات میں سختی کرنی شروع کردی تھی۔

یاد رہے رائیڈنگ کمپنی کا خیال تھا کہ وہ مستقبل میں ’ٹرانسپورٹیشن کی ایمازون‘ بن جائے گی اور لوگ ذاتی کار رکھنے کے بجائے اس کے ساتھ سفر کریں گے۔

تاہم 2011 میں اپنی پہلی رائیڈ کرنے سے اب تک کمپنی کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔

دوسری جانب کمپنی کار کے ساتھ ساتھ الیکٹرونک بائیکس اور موٹر سائیکل، کھانے پینے کی اشیا پہنچانے کا کام بھی کرچکی ہے اور اب اس کا اڑنے والی ٹیکسیاں متعارف کروانے کا ارادہ بھی ہے۔

محرم الحرام اسلامی سال کے مہینے کی اہمیت

محرالحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے ۔ یہ وہ مہینہ ہے جو تقویم اسلا می اور سن ہجری کا نقطہ آغاز بھی وَ ہے ۔ اس مہینے کی دس تاریخ کو کربلا میں حضرت امام حسین;230; شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے ۔ اسی ماہ میں حضرت آدم علیہ اسلام کی توبہ قبول فر مائی گئی ۔ اسی مہینے میں حضرت نوح علیہ اسلام کی کشتی طوفان نوح کے بعد ایک پہاڑ جودی کے قریب آ کر رک گئی ۔ اسی ماہ میں حضرت یوسف علیہ اسلام کو قید سے رہائی حا صل ہوئی ۔ اسی ماہ حضرت ایوب علیہ اسلام کو طویل بیماری کے بعد شفا یاب ہو ئے ۔ اسی ماہ میں حضرت یو نس علیہ اسلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی ۔ اسی ماہ میں حضرت موسی علیہ اسلام اور بنی اسرائیل کو فرعون اور آل فرعون سے نجات دلائی اور فرعون کو ساتھیوں سمیت بحیرہ قلزم میں غرق کر دیا ۔ اسی ماہ میں حضرت عیسی علیہ اسلام کو زندہ آسمان پر لے جایا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ ان تمام واقعات کا تعلق دین اسلام کی آمد سے قبل ہے اور یہ تمام واقعات محرم کی دسویں جسے عاشورہ محرم کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے پیش آئے ۔ قیامت کا وقوع بھی دسویں محرم بروز جمعہ کے دن ہو گا ۔

شاہ است حسین رضہ بادشاہ است حسین ;230;

( شاہ بھی حسین;230; ہے بادشاہ بھی حسین;230; ہے )

دہم است حسین ;230; دین پنا است حسین ;230;

(دین بھی حسین ;230; ہے ۔ دین کو پنا دینے والا بھی حسین ;230; ہے)

سرداد نہ داد دست در دست یزید

(سر دے دیا مگر نہیں دیا ۔ اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں )

حقا کہ بنائے لا الل است حسین ;230;

(حقیت تو یہ ہے کہ لا الہ الا ا;203; کی بنیاد ہی حسین ;230; ہے )

یہ حقیقت ہے کہ تاریخ انسانی کی دو قر با نیاں پوری تاریخ میں منفرد مقام اور نہایت عظمت و اہمیت کی عامل ہیں ۔ ایک امام الانبیا ء سیدالمرسلین ، خاتم النبین حضرت محمد مصطفی ، احمد مجتبیٰ ﷺ کے جداعلیٰ حضرت ابراہیم ;230; و اسماعیل ;230; کی قربا نی اور دوسری نواسۃ رسول ، جگر گوشہ علی;230; و بتول ;230; شہید کر بلا حضرت امام حسین;230; کی قر با نی ۔ ان دونوں قربا نیوں کا پس منظر غیبی اشارہ اور ایک خواب تھا ۔ اس کی خاطر بیٹے نے باپ کے سامنے اپنے سر کو قربان ہونے کےلئے جھکا دیا تھا ۔ روایت کے مطابق جب سید نا حسین ابن علی;230; اپنے جان نثاروں کے ساتھ کربلا کی جانب جب روزنہ ہوئے اور روکنے والوں نے آپ کو روکنا چاہا تو آپ نے تمام باتوں کے جواب میں ایک بات فرمائی کہ میں نے اپنے نانا رسول اکرم ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے آپ ﷺ نے تاکید کے ساتھ مجھے ایک دینی فریضہ انجام دینے کا حکم دیا ہے ۔ اب بہر حال یہ فریضہ میں ضرور سر انجام دونگا ۔ اب خواہ اس میں مجھے نقصان ہو یا فائدہ ۔ پوچھنے والے نے پوچھا کہ وہ خواب کیا ہے ۔ فرمایا ابھی تک نہ کسی کو بتایا ہے اور نہ کسی کو بتاءو گا ۔ روایات کے مطابق یزید نے اسلامی اقدار اور دین کی روح کے منافی اپنی حکومت کا اعلان کر چکا تھا ۔ زبردستی عام مسلمانوں کو بیعت اور اطاعت پر مجبور کیا ۔ اس حکم کو ماننے کےلئے کوئی بھی حربہ استعمال کرتا تھا تاکہ لوگ میری بیعت کر لیں ۔ لیکن نواسہ رسولﷺ جگر گوشہ علی ;230; و بتول حضرت امام حسین;230; نے یزید کے کسی حکم کی پرواہ نہ کی ۔ یزید کے ظلم و جبر پر مبنی باطل نظام کے خلاف جرات اظہار اور اعلان جہاد بلند کرتے ہوئے اسوا پیغمبری پر عمل پیرا ہوئے ۔ امت مسلمہ کو حق و صداقت ا ور دین پر مر مٹنے کا درس دیا ۔ پھر اسی پر عمل کرتے ہوئے یزید کے خلاف ۷۲ نفوس قدسیہ کے ہمراہ کربلا میں وارد ہوئے ۔ اور حق و صداقت اور جرات و شجاعت کی وہ مثال قائم کی جس پر انسانیت ہمیشہ فخر کرتی رہے گی ۔ حق کی آ واز بلند کرنا ، انسانی اقدار کا تحفظ اور دین کی سر بلندی ہی دراصل اسواہ پیغمبری اور شیوہ شبیری ہے ۔ جب حضرت امیر معاویہ;230; کے بعد یزید نے اقتدار سنبھالا تو یزید نے خود اور اپنے کارندوں سے مسلمانوں سے اپنی خلافت کے حق میں بیعت لینی شروع کر دی تھی ۔ جو حکم نہ مانتا اس پر تشدد کرتے ۔ بیعت کا یزید نے سید نا حسین;230; سے بھی مطالبہ کیا تھا لیکن آپ نے یزید کی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا ۔ انکار کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یزید کی بیعت خلافت نہیں بلکہ ملو کیت تھی ۔ یزید کی بیعت نہ کرنے والے صحابہ پر بدسلوکی کا مظاہرہ کرتا تھا ۔ ان حالات کے پیش نظر آپ کربلا میں ساتھیوں کے ساتھ پہنچے ۔ نو محرم کو یزید نے بیت نہ کرنے پر پانی بند کر دیا ۔ اور بالاخر اس معرکہ میں سید نا امام حسین ڑضہ نے ا حقاق حق کی خاطر حق و صداقت اور جرات و شجاعت کی بے مثال تاریخ رقم کر کے جام شہادت نوش فرما لیا ۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی خواب کی تعمیل دس ذی الحجہ کو پوری ہوئی اسی طرح نواسہ رسول ﷺ اپنا خواب دس محرم کو سرزمین کربلا پر اپنا یہ خواب پورا کر دکھایا ۔ جس طرح حضرت اسماعیل علیہ اسلام سے جس سنت کی ابتدا ہوئی تھی ، سید نا حسین ;230; پر اس کی انتہا ہوئی ۔ آپ دونوں کی قربا نیاں میں جذبہ عشق و محبت کار فرما تھا ۔ اس لئے یہ قربانیاں آج تک زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہے گیں ۔ میاں محمد بخش فرماتے ہیں ۔

کملی دنیا چیتے رکھیا ابراہیم رضہ دا لیلا

بھل گئی ویکھ محمد بخشا حسین رضہ دا ڈیگر ویلا

پیری بیٹری کندے وچ تیر کی جانے بے در د زمانہ

درد حسین;230; دی اماں جانے یا جا نے حسین;230;د ا نانا ﷺ

’رسوائی‘ اپنے حق کے لیے لڑنے والی بہادر خاتون کی کہانی

گزشتہ ماہ خبر سامنے آئی تھی کہ اداکار میکال ذوالفقار اور ثنا جاوید جلد ہی رومانٹک ڈرامے ’زرد بہار‘ میں رومانس کرتے دکھائی دیں گے۔

اگرچہ اس ڈرامے کی شوٹںگ اب آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے اور ڈرامہ جلد نشر ہونے کو تیار ہے، تاہم ڈرامے کی ٹیم نے اس کا نام ’زرد بہار‘ سے بدل کر ’رسوائی‘ رکھ دیا ہے۔

’رسوائی‘ میں جہاں میکال ذوالفقار ایک کمرشل پائلٹ کے منفرد کردار میں دکھائی دیں گے، وہیں اداکارہ ثنا جاوید بھی قدرے مختلف کردار میں نظر آئیں گی۔

یہ خبر پہلے ہی آ چکی تھی کہ ثنا جاوید ڈرامے میں ایک ڈاکٹر کا کردار ادا کریں گی جسے ڈرامے میں میکال ذوالفقار سے محبت ہوجاتی ہے اور ان کی محبت شادی میں بدل جاتی ہے۔

تاہم دونوں کی محبت شادی میں بدلنے کے باوجود ان کی زندگی کےمسائل ختم نہیں ہوتے اور ان میں نئے المیے جنم لیتے ہیں۔

ڈرامے کے حوالے سے ثنا جاوید نے ڈان امیجز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ڈرامے میں ڈاکٹر سمیرا نامی خاتون کا کردار ادا کرتی دکھائی دیں گی جو ایک مضبوط اور خود مختار خاتون ہوتی ہیں۔

ثنا جاوید کے مطابق ان کا کردار اپنے پورے خاندان سے اچھے تعلقات کی وجہ سے منفرد ہوتا ہے، تاہم ان کا کردار اپنے والد کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر سمیرا ایک بہادر اور دبنگ خاتون کے روپ میں دکھائی دیں گی جو ہر ناانصافی پر آواز بلند کرنا جانتی ہے اور اسے اپنا حق بھی سمجھتی ہے۔

میکال ذوالفقار اور ثنا جاوید ڈرامے میں رومانوی کردار میں دکھائی دیں گے—فوٹو: انسٹاگرامen
میکال ذوالفقار اور ثنا جاوید ڈرامے میں رومانوی کردار میں دکھائی دیں گے—فوٹو: انسٹاگرامen

اداکارہ کے مطابق ان کا کردار نہ صرف اپنے ساتھ ناانصافیوں کے لیے لڑنے کے لیے پرعزم ہوتی ہیں بلکہ وہ دوسروں کے ساتھ بھی ایسا ہونے نہیں دیتیں۔

ثنا جاوید نے ڈرامے کی مزید کہانی بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈرامے میں اپنے حقوق کی جنگ لڑتی دکھائی دیں گی اور اسی وجہ سے ہی انہیں یہ ڈرامہ منفرد لگا۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ہمارے سماج میں عام طور پر خواتین اپنے حقوق کی جنگ نہیں لڑتیں حالانکہ وہ جانتی ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے لیکن پھر بھی وہ نہیں لڑتیں اور ان کی خواہشات اندر ہی مر جاتی ہیں۔

اداکارہ کے مطابق ہمارے میں اپنے حقوق کے لیے لڑنے والی خواتین کو بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا، تاہم ڈرامے میں اس خیال کو منفرد انداز میں دکھایا جائے گا۔

ثنا جاوید سے قبل اداکار میکال ذوالفقار نے ڈان کو اپنے کردار کے حوالے سے بتایا تھا کہ میرے کردار کا نام سلمان ہوگا جو کمرشل ایئرلائن کا پائلٹ ہوگا، وہ سمیرا نامی ڈاکٹر سے محبت کرتا ہے جس کا کردار ثنا جاوید نبھارہی ہیں، یہ ایک دلچسپ رومانوی کہانی ہے جس میں کئی اتار چڑھاو آئیں گے’۔

اداکار کے مطابق ‘یہ ڈرامہ ایک خاص موضوع پر مبنی ہے، جس میں ثنا کے کردار کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آئے گا جو میں ابھی شیئر نہیں کرسکتا، ان دونوں کرداروں کی رومانوی کہانی میں کئی چیلنجز بھی آئیں گے، ان کی شادی ہوجانے کے بعد بھی سب کچھ جلدی ٹھیک نہیں ہوگا’۔

خیال رہے کہ ڈرامے کی کہانی نائلہ انصاری نے تحریر کی ہے جب کہ روبینہ اشرف نے اس کی ہدایات دی ہیں۔

ڈرامے کی کاسٹ میں عثمان پیرزادہ، محمد عدیل، سیمی راحیل، اسامہ طاہر، ارسا غزل اور شرمین علی بھی شامل ہیں۔

ڈرامے کو رواں ماہ 25 ستمبر سے اے آر وائے ڈجیٹل پر نشر کیا جائے گا۔

میکال ذوالفقار کمرشل پائلٹ کا کردار ادا کریں گے—اسکرین شاٹ
میکال ذوالفقار کمرشل پائلٹ کا کردار ادا کریں گے—اسکرین شاٹ

پاکستان نے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر اپنا جواب جمع کرا دیا

نکاک: پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق اپنا جواب جمع کرا دیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف اور پاکستان کے درمیان ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق مذاکرات بنکاک میں ہوئے جس میں پاکستانی ٹیم کی قیادت وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے کی۔

وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کی ٹیکنیکل ٹیم کے ساتھ بات چیت کی اور تکنیکی سطح پر ہر 4 ماہ کی پیش رفت پر حکام کو بریف کیا گیا، پاکستان نے گزشتہ 4 سے 5 ماہ میں اہداف کو حاصل کیا ہے، ایف اے ٹی ایف حکام کو بریفنگ پہلے سے بہت موثر رہی۔

حماد اظہر نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کا تکنیکی وفد پاکستان کی بریفنگ پر رپورٹ مرتب کرے گا، جو اگلے ماہ ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک کو پیش کی جائے گی، جس کی روشنی میں پاکستان کے اسٹیٹس کا فیصلہ کیا جائے گا۔

وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق ان مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے یا بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ ہوگا۔

بھارتی فورسز کی فائرنگ سے کشمیری نوجوان شہید

سری نگر: بھارتی فورسزنے سوپورمیں فائرنگ کرکے کشمیری نوجوان کوشہید کردیا۔

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضلع سوپورمیں فائرنگ کرکے کشمیری نوجوان آصف کوشہید کیا، قابض فورسزنے سوپورمیں ہی 8 نوجوانوں کو حراست میں بھی لے لیا۔

مقبوضہ وادی میں مسلسل 38 ویں روز بھی کرفیو اورپابندیاں برقرارہیں۔ اسپتالوں میں ادویات کی شدید قلت ہوگئی جب کہ ڈاکٹرزکے نہ پہنچے کی وجہ سے 6 مریض تشویش ناک حالت میں ہیں۔

مقبوضہ وادی میں موبائل، انٹرنیٹ سروس اور ٹی وی چینلزبھی بند ہیں جب کہ سڑکوں سے ٹرانسپورٹ غائب ہے۔

قابض فورسزنے یوم عاشور پر عزاداروں کوجلوس نکالنے کی اجازت بھی نہ دی جس کے باعث متعدد علاقوں میں کشمیریوں نے کرفیو توڑتے ہوئے جلوس نکالے۔

Google Analytics Alternative