Home » Author Archives: Admin (page 32)

Author Archives: Admin

پاکستانی فضائی حدود میں اوور فلائی کی بندش میں 28 جون تک توسیع

لاہور: سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پاکستانی فضائی حدود میں اوور فلائی کی بندش میں 28 جون تک  توسیع کردی جس کے بعد لاہور سے مختلف بین الاقوامی پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اوور فلائی پر پابندی کا نیا نوٹی فکیشن جاری کر دیا، اوور فلائی کی بندش کے بعد بھارتی طیارے 28 جون تک پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کر سکیں گے اوور فلائی کی بندش کے بعد لاہور سے دہلی، بنکاک، کوالالمپور، سری لنکا کی پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔

اس حوالے سے ترجمان سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں ٹرانزٹ اور اوور فلائی نئے حکم نامے تک بند رہے گی۔ پاکستانی فضائی حدود میں مشرقی ایئرسائیڈ بند اور ویسٹرن فضائی حدود میں آپریشن جاری ہے۔

واضح رہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے باعث پاکستان کی مشرقی فضائی حدود 27 فروری سے بند ہے۔

پاک بھارت ٹاکرے پر قومی فنکار بھی پُرجوش

کرکٹ ورلڈ کا سب سے مقابلہ جس کا انتظار صرف پاکستان بھارت کے لوگوں کو نہیں بلکہ دنیا بھر کے شائقین کو رہتا ہے آج ہونے جارہاہے اس موقع پر جہاں پوری قوم پاکستان کی جیت کے لیے دعا گو ہے وہیں شوبز فنکاروں نے بھی قومی ٹیم کے لیے نیک تمناؤں کااظہار کیا ہے اور کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئےامید ظاہر کی ہے کہ یہ میچ ہم ہی جیتیں گے۔

علی حیدر

نامور پاکستانی گلوکار علی حیدر نے قومی ٹیم کے لیے ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے پاکستانی ٹیم کی جیت کے لیے دعاکرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی ٹیم سرخرو ہو اوردنیا بھر میں ہمارے پاکستان کا نام روشن ہو۔

ریما خان

خوبرو اداکارہ ریما بھی پیچھے نہیں رہیں انہوں نے بھی قومی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ویڈیو پیغام جاری کیاہے۔ جس میں انہوں نے ٹیم کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمت ، جذبے اور حوصلے سے کھیلیے گا، انشا اللہ جیت کا تاج آپ ہی کے سر ہوگا پاکستان زندہ باد۔

وارث بیگ

گلوکار وارث بیگ نے بھی قومی ٹیم کے لیے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا پوری قوم کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں، جیت ہار اللہ کے ہاتھ میں ہے، کھیل کو کھیل ہی سمجھیں کیونکہ ہماری پاکستانی قوم بہت جذباتی ہے۔

عام آدمی پریشان

لگتا ہے کہ معاشی حوالے سے حالات سخت ہوں گے موجودہ حکومت کیلئے چیلنج ہے کہ آئی ایم ایف کو قسطیں کیسے ادا کی جائیں یہ ایک مسئلہ ہے جوں جوں وقت گزرے گا حالات گھمبیر ہوں گے ۔ عام آدمی دست بہ دعا ہے کہ یا اللہ خیر ۔ پہلے جب خوشحالی کا دور تھا تو ہمارے شعرا لب کی نازکیوں کا رونا روتے تھے بڑی باریک بینی سے ہجر ووصال کے قصے بیان کیئے جاتے اور غزالی آنکھوں تذکرے ہوتے اور خد وخال کا ذکر ہوتا اور عنبری زلفوں کو یاد کیا جاتا کیونکہ ملک میں خوشحالی تھی اور لوگ پیٹ کے غم سے آزاد تھے تو اس قسم کے شعر گنگناتے تھے

پھول کی ہیں پتیاں یہ لب ترے

اور تری آنکھیں شرابی نیم باز

اور کہتے تھے

یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھور

یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار

یہ تیرے لب یہ دیارِ یمن کے سْرخ عقیق

یہ آئینے سی جبیں ، سجدہ گاہِ لیل و نہار

مگر اب ایسا نہیں ہے ، سب قصہ پارینہ ہے ۔ اب صرف پیٹ کا رونا ہے ہر طرف سے یہ آواز آرہی ہے کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے بحرانی کیفیت نے ہر شخص کو مایوسی میں مبتلا کیا ہے خوشحالی اب قصہ پارینہ بن گئی ہے ایک عام آدمی بے یقینی کا شکار ہے اور تشویش میں مبتلا ہے اور ملک کی ابتری کا رونا رو رہا ہے ایک بحران ختم ہوتا ہے تو دوسرا جنم لیتا ہے ملک پے درپے فسادات کے زد میں ہے اور اس کیفیت میں دوست دشمن کی تمیز ختم ہوگئی ہے اور یہ سمجھنا مشکل ہے کہ دوست کون ہے اور دشمن کون ہے;238; اس حالت میں غریبوں کا غارت ہوگیا ہے سرمایہ داروں اور اداروں کی جنگ میں عوام کا وہ حشر ہو رہا ہے جو ہاتھیوں کی جنگ میں چیونٹیوں کا ہوتا ہے آٹا، چاول، دال، گوشت، سبزی اور گھی جو عام روز مرہ کی چیزیں ہیں ان کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے ۔ ملک میں جس معاشی بحران نے جنم لیا اس نے قوم کو ایک اور پوری قوم کو متاثر کیا اور ہر فرد بے یقینی اور مایوسی کا شکار ہوگیا مراعات یافتہ طبقہ تو اپنا الو سیدھا کرتا ہے مگر عام آدمی بدترین بحرانوں سے دوچار ہے اور پریشان حال ہے اور لوگ نفسیاتی مریض بنتے جارہے ہیں اور ذہنی الجھنوں کا شکار ہیں اور ملک میں ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ملک کو سیاسی،معاشی، معاشرتی اور سماجی طور پر انہوں نے اپنی بے تدبیروں ، غلطیوں اور خطاءوں کی وجہ سے ناکارہ کردیا ہے اور ان کے اقدامات سے لوٹ کھسوٹ ہمارہ طرہ امتیاز بن گیا ہے مگر پھر بھی ایک بار پھر عوام کے سامنے میدان میں ہیں اور عوام ہیں کہ ان ہی سے بھلائی کی امید پر دھوکہ کھانے کیلئے تیار ہیں

میرکیا سادہ ہیں کہ بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

المیہ ہمارا یہ ہے کہ میر جعفر کا پوتاہمارا پہلا صدر بنا تھا اور کچھ عرصہ یہ گورنر جنرل کے منصب پر بھی فائز رہا انہوں نے جو بویا ہے اس کی تیار فصل آج کھایا جارہا ہے اور اس کے نتیجے میں حرام خور طبقہ توندیں نکال رہا ہے اور عام آدمی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے اور پھر بھی عوام کو سبز باغ دکھائے جارہے رہے ہیں عوام کو الیکشن کے دنوں میں بےوقوف بنایا جاتا ہے اور ملک کا باشعور طبقہ سوچتے سوچتے کڑھتا ہے ۔ یہ بحران اچانک نہیں پیدا کئے جاتے بلکہ اس کیلئے باقاعدہ پلاننگ کی جاتی ہے اور کوئی بحران آخری بحران نہیں ہوتا ہے آگے دیکھئے اور بحرانوں کا تماشا کریں کیونکہ نظام بد موجود ہے اس کے آنے والے بد اثرات مزید اذیت ناک ہونگے اور ہمارے شاعر حضرات لب ورخسارکو بھول کر صرف نوحے لکھیں گے اور یہ کہنا بھول جائینگے ۔ ۔ !

بھارتی سینماؤں میں سب سے زیادہ چلنے والی 10 فلمیں

دنیا بھر میں فلموں کی کامیابی کا پیمانہ ان کے بزنس اور سینما گھروں میں ان کی مستقل نمائش سے جانچا جاتا ہے۔ بالی ووڈ میں بھی فلموں کی کامیابی ناپنے کے لیے یہی فارمولا رائج تھا۔ آج کے ملٹی پلیکسز سینما دور میں فلموں کی ریلیز کے ابتدائی دنوں کا بزنس ہی طے کردیتا ہے کہ فلم کامیاب ہوگی یا فلاپ۔ آج کے دور میں بڑی کامیاب فلمیں بھی بمشکل تھیٹروں میں 100 دنوں کی نمائش مکمل کرپاتی ہیں۔ لیکن چند سال قبل تک ایسا نہیں تھا بلکہ بھارت کی کئی فلموں نے لمبے عرصے تک نمائش کا ریکارڈ قائم کیا۔

یہاں بالی ووڈ کی ان دس کامیاب ترین فلموں کے تذکرہ کیا جارہا ہے جو طویل عرصے تک تھیٹروں میں نمائش پذیر رہیں۔

1۔ دل والے دلہنیا لے جائیں گے

ادیتیہ چوپڑا کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘‘ نمائش کے اعتبار سے بالی ووڈ کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فلم ہے۔ یہ فلم 20 اکتوبر 1995 کو ریلیز کی گئی اور 24 سال گزر جانے کے باوجود آج بھی ہندوستان کے سینما میں نمائش پذیر ہے۔ ’’مراٹھا ٹیمپل‘‘ میں 1225 ہفتوں سے اس فلم کا ایک شو آج بھی روزانہ ہوتا ہے۔ ’’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘‘ نے 10 فلم فیئر ایوارڈز بھی جیتے ہیں۔ فلم کے مرکزی کردار شاہ رخ خان اور کاجول نے ادا کئے ہیں۔

2۔ شعلے

15 اگست 1975 کو رمیش سپی کی ڈائریکشن میں بننے والی فلم ’’شعلے‘‘ کو انڈیا کی سب سے بڑی بلاک بسٹر فلم کا درجہ حاصل ہے۔ آج بھی اس فلم کے ڈائیلاگ زبان زدِ خاص و عام ہیں۔ بچوں و بڑوں میں یکساں مقبول یہ فلم 5 سال تک سینما گھروں کی زینت بنی رہی۔ فلم کے مرکزی کرداروں میں امیتابھ بچن، دھرمیندرا، سنجیوکمار، ہیما مالنی، جیا بہادری اور امجد خان شامل ہیں۔

3۔ مغل اعظم

شہزادہ سلیم اور انارکلی کی دکھ بھری محبت کی داستان پر بنائی جانے والی فلم ’’مغل اعظم‘‘ کو بھی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فلموں میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ فلم 5 اگست 1960 کو ریلیز کی گئی اور 3 سال تک مسلسل سینما گھروں میں نمائش کی گئی۔ اگلے 15 برسوں تک اس فلم کو انڈیا میں سب سے زیادہ چلنے والی فلم کا اعزاز حاصل رہا۔ فلم نے ایک نیشنل ایوارڈ اور تین فلم فیئر ایوارڈز بھی حاصل کئے۔ فلم کے مرکزی کردار دلیپ کمار، مدھوبالا اور پرتھوی راج کپور نے ادا کئے تھے۔ یہ اپنے دور کی سب سے مہنگی فلم تھی۔ بلیک اینڈ وائٹ دور میں بنائی گئی اس فلم کو بعد ازاں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کلر پرنٹ کے ساتھ حالیہ دور میں دوبارہ ریلیز کیا گیا۔

4۔ قسمت

رائٹر وڈائریکٹر گیان مکھرجی کی فلم ’’قسمت‘‘ کو انڈیا کی پہلی بلاک بسٹر فلم سجھا جاتا ہے۔ یہ فلم 1943 میں ریلیز ہوئی اور کلکتہ کے روکسی سینما میں 187 ہفتے (تقریباً 3 سال) تک نمائش کی جاتی رہی۔ فلم کا مرکزی کردار ادا کرنے والے اشوک کمار اور ممتاز شانتی کو اس فلم کی ریلیز کے 32 سال بعد تک لمبے عرصے تک اسٹار ہونے کا درجہ حاصل رہا۔

5۔ برسات

آرکے اسٹوڈیوز کے بینر تلے بننے والی فلم ’’برسات‘‘ جو 21 اپریل 1949 کو ریلیز ہوئی 2 سال تک سینما گھروں میں مسلسل نمائش کی گئی۔ یہ ایک میوزیکل بلاک بسٹر فلم تھی جس میں راج کپور اور نرگس نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔

6۔ میں نے پیار کیا

سپر اسٹار سلمان خان کی بطور ہیرو پہلی فلم ’’میں نے پیار کیا‘‘ 29 دسمبر 1989 میں ریلیز ہوئی اور ایک سال تک سینما گھروں کی زینت بنی رہی۔ سورج برجاتیہ کی ہدایتکاری میں بننے والی اس فلم میں ہیروئن کا کردار بھاگیہ شری نے ادا کیا تھا۔ اس فلم کو بالی ووڈ کی سب سے رومینٹک لو اسٹوری کا درجہ حاصل ہے۔ اس زمانے میں 2 کروڑ کی لاگت سے بننے والی اس فلم نے تقریباً 28 کروڑ کا بزنس کیا تھا۔

7 ۔ ہم آپ کے ہیں کون؟

5 اگست 1994 کو ریلیز ہونے والی سورج برجاتیہ اور سلمان خان کی فلم ’’ہم آپ کے ہیں کون‘‘ نے کامیابیوں کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ اس فلم میں ہیروئن کا کردار مادھوری ڈکشت نے ادا کیا تھا۔ یہ فلم بھی ایک سال تک انڈیا کے مختلف سینما گھروں میں نمائش کی جاتی رہی۔ اس فلم کی لاگت 1.4 کروڑ تھی اور اسے انڈیا کی پہلی 100 کروڑ کا بزنس کرنے والی فلم مانا جاتا ہے۔

8۔ راجہ ہندوستانی

سپر اسٹار عامر خان اور کرشمہ کپور کی ’’راجہ ہندوستانی‘‘ جو 15 نومبر 1996 کو ریلیز ہوئی ایک سال تک سینما گھروں کی زینت بنی رہی۔ فلم کے ڈائریکٹر دھرمیش درشن تھے۔ 5.75 کروڑ کی لاگت سے بننے والی اس فلم نے اس زمانے میں 76.34 کا بزنس کیا تھا۔

9۔ کہو نہ پیار ہے

راکیش روشن کی ڈائریکشن میں بننے والی فلم ’’کہو نہ پیار ہے‘‘ جو ریتھک روشن اور امیشا پاٹیل کی ڈیبو فلم تھی 14 جنوری 2000 میں ریلیز ہونے کے تقریباً ایک سال تک سینماؤں میں نمائش کی جاتی رہی۔ اس فلم نے مختلف کیٹیگریز میں سن 2000 کی ایوارڈ شوز میں تقریباً 102 ایوارڈز حاصل کئے۔

10۔ محبتیں

ڈائریکٹر ادیتیہ چوپڑا کی فلم ’’محبتیں‘‘ میں بالی ووڈ کے دو شہنشاہ امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان پہلی بار ایک ساتھ جلوہ گر ہوئے۔ 27 اکتوبر 2000 میں ریلیز ہوئی یہ فلم بھی ایک سال تک سینما کی زینت بنی رہی۔ 11 کروڑ کے بجٹ سے بننے والی اس فلم نے مقامی مارکیٹ میں 70.62 اور فارن مارکیٹ میں 20 کروڑ کا بزنس کیا۔ فلم کا ٹوٹل ٹرن اوور دنیا بھر میں 90 کروڑ تھا جو اس سال ریلیز ہونے والی فلموں میں سب سے زیادہ تھا۔

پاکستان ڈیفالٹ سے بچنے کیلیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے ایک ارب ڈالر کا ہنگامی قرضہ لے گا

اسلام آباد: پاکستان نے رواں مالی سال کے دوران اس کے ذمہ 10.4 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی اورڈیفالٹ سے بچنے کیلیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک ارب ڈالرکا ہنگامی قرضہ (کرائسس ریسپانس لون) مانگ لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق عالمی بینک کی پرنسپل پبلک مینجمنٹ سپیشلسٹ ہیرانیامخوپادھیائے نے پاکستان کا دورہ مکمل کرلیا ہے جس میں ایک ارب ڈالر کے قرضے کی تفصیلات طے کی گئیں۔’’سپیشل پالیسی بیسڈ لینڈنگ ‘‘(SPBL)کے تحت قرضہ پانچ سے آٹھ سال کیلیے تقریباً 2 فیصد شرح سود پر دیا جاتاہے۔

پاکستان کیلئے اس قرضے کی منظوری ایشیائی بینک کا بورڈ آف ڈائریکٹرز دے گا۔اس قرضے کی منظوری کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے طے پانے والے 6 ارب ڈالر قرضہ کی میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسز کی تفصیلات کتنے عرصے میں ایشیائی بینک کے ساتھ شیئر کرتا ہے۔پاکستان اور آئی ایم ایف میں چھ ارب ڈالر قرضہ کا معاہدہ گیارہ مئی کوسٹاف لیول سطح کے مذاکرات میں ہوا تھا۔

ماضی کے برعکس ان مذاکرات میں ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے بطور مبصر شرکت نہیں کی تھی۔لہذا پاکستان نے ابھی تک ورلڈ بینک اور ایشیائی بینک کے ساتھ اس معاہدے کی میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسز کی تفصیلات شیئر نہیں کیں جو ایشیائی بینک کی طرف سے بجٹ خسارے اور بیرونی ادائیگیوں کیلیے ہنگامی قرضہ کی جلد منظوری میں آڑے آسکتی ہیں۔

آئی ایم ایف کے بورڈآف ڈائریکٹرز میں پاکستان کیلیے چھ ارب ڈالر قرضہ کا کیس تین جولائی کے اجلاس میں پیش کیا جائیگا۔اس کے بعد میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسز کی تفصیلات قرضہ دینے والے دیگر اداروں کے ساتھ شیئرکی جاسکتی ہیں۔

اس بات کا امکان ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کا بورڈ آف ڈائریکٹرز اکتوبرکے آخری یا نومبر کے پہلے ہفتہ میں پاکستان کیلئے اس ہنگامی قرضے کی منظوری دیگا۔

ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے 2017ء میں پاکستان کی خراب میکرواکنامک صورتحال دیکھ کر اس کی بجٹری سپورٹ بند کردی تھی۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرزکی طرف سے اس سال اگست میں پاکستان کیلئے بجٹری سپورٹ پروگرام کے تحت ملنے والے 80 کروڑ ڈالرز میں سے 50 کروڑ ڈالر قرضہ کی منظوری کاامکان ہے۔

 

کینیا میں پولیس گاڑی پر حملے میں 8 پولیس افسران ہلاک

نیروبی: کینیا میں پولیس قافلے کو بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 8 افسران ہلاک ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیا میں صومالیہ کی سرحد کے نزدیک گشت پر مامور پولیس گاڑی کے نزدیک اچانک زوردار دھماکا ہوگیا جس کے نتیجے میں 8 پولیس افسران ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکا ریمورٹ کنٹرول ڈیوائس کے ذریعے اُس وقت کیا گیا جب پولیس افسران کی گاڑی سرحدی امور کی نگرانی کے لیے اس جگہ سے گزر رہی تھی۔ زخمیوں کو ملٹری اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

تاحال کسی گروپ نے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم اس علاقے میں شدت پسند جماعت الشباب کافی متحرک ہے اور گزشتہ چند دنوں سے حملوں میں تیزی آئی ہے۔

پولیس نے شدت پسندوں کی گرفتاری کے لیے علاقے کا محاصرہ کرلیا ہے اور تلاشی کا عمل جاری ہے تاہم کسی قسم کی گرفتاری کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

گلوبل بی ایچ بی ڈی نے بین الاقوامی مرکز جامعہ کراچی کو رکن تسلیم کرلیا

کراچی: جامعہ کراچی میں واقع بین الاقوامی مرکز برائے حیاتیاتی و کیمیائی علوم (آئی سی سی بی ایس) کو گلوبل اوپن بایوڈائیورسٹی اینڈ ہیلتھ بِگ ڈیٹا الائنس (بی ایچ بی ڈی) کی رکنیت دی گئی ہے، جو پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے۔

آئی سی سی بی ایس کے ترجمان کے مطابق عالمی حیاتیاتی تنوع اور صحت کا ڈیٹا الائنس 14 اکتوبر 2018 کو بیجنگ میں قائم کیا گیا۔ اس کے پہلے اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، تھائی لینڈ، روس، سنگاپور اور امریکا کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔

بی ایچ بی ڈی کا مقصد صحت اور حیاتیاتی تنوع کے میدان میں عالمی تحقیق و تعاون کو فروغ دینا ہے، تاکہ دنیا کے تمام ممالک یکساں طور پر مستفید ہوسکیں اور یکساں طور پر اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے تحت چین میں جینوم اور ڈی این اے پر ایک بہت بڑا ڈیٹا بیس بھی قائم کیا گیا ہے۔

بی ایچ بی ڈی نے آئی سی سی بی ایس کے سربراہ ڈاکٹر پروفیسر محمد اقبال چوہدری کی غیرمعمولی سائنسی خدمات پر ادارے کو اپنی رکنیت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پروفیسر اقبال چوہدری نے نیچرل پروڈکٹ کیمسٹری کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، اس ضمن میں ان کی تقریباً 2120 سائنسی اشاعتیں بین الاقوامی سطح پر شائع ہوچکی ہیں۔ امریکا اور یورپ میں ان کی تحریر و ادارت کردہ 68 کتب اور کتب میں 40 چیپٹر شائع ہوچکے ہیں۔ بین الاقوامی سائنسی جرائد میں 1141 تحقیقی اشاعتیں اور 51 پیٹینٹ بھی قابل ذکر ہیں۔

ڈاکٹرمحمد اقبال چوہدری کیمیا سے متعلق متعدد غیرملکی کتب و جرائد کے مدیر ہیں، جبکہ ان کے سائنسی کام کو 23 ہزار مرتبہ بطور حوالہ پیش کیا گیا ہے۔ ان کے زیر نگرانی 87 طالبعلم پی ایچ ڈی اور 36 ایم فل مکمل کرچکے ہیں۔

شانگلہ: 20 برس میں پہلا پولیو کیس سامنے آگیا

مالاکنڈ ڈویژن کے ضلع شانگلہ میں گذشتہ 2 دہائی میں پہلی مرتبہ پولیو کا کیس سامنے آیا ہے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ دریائے سندھ سے متصل دیدل کمچ نامی علاقے میں 18 ماہ کا بچہ پولیو کے مرض کا شکار ہوا۔

انسداد پولیو ٹیم (ای پی آئی) کے ضلعی رابطہ کار ڈاکٹر واجد خان نے بتایا کہ پہلے مقامی افراد نے پولیو کیس کے بارے میں بتایا اور بعد ازاں ای پی آئی کی ٹیم نے اس کی تصدیق کی۔

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ علاقہ ضلع بونیر اور تورغر سے متصل ہے جو ضلع شانگلہ کی سرحد پر واقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ بچے کا نام علی شیر ہے اور یہ گذشتہ 20 برسوں میں پہلا پولیو کا کیس ہے۔

ضلعی ہیلتھ افسر ڈاکٹر محمد ریاض خان نے ڈان کو بتایا کہ متاثرہ بچے کو پولیو مہم کے دوران قطرے نہیں پلائے گئے اور اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دی جاچکی ہے۔

علاوہ ازیں مقامی یونین کونسل میں جرگہ بلایا گیا جس میں علاقے کی اہم شخصیات اور پولیس نے بھی شرکت کی۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے اہم شخصیات نے کہا کہ علاقے میں پولیو ٹیم کو رکاوٹ کا سامنا نہیں ہے ہر شخص اپنے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے پر آمادہ ہے۔

سماجی رکن عبید اللہ خان نے بتایا کہ علاقہ مکینوں نے ہمیشہ ای پی آئی کے عملے کے ساتھ انسداد پولیو مہم میں تعاون کیا۔

Google Analytics Alternative