Home » Author Archives: Admin (page 3574)

Author Archives: Admin

12 ہزار فٹ بلندی پر پھنسے تمام سیاحوں کو بچا لیا گیا

فرانس میں حکام کے مطابق پہاڑی سلسلے ایلپس میں کیبل کاریں خراب ہونے کی وجہ سے پھنس جانے والے تمام سیاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔

یہ امدادی آپریشن جمعرات کی شب کیبل کار میں گزارنے والے 33 افراد کو بحفاظت نکالے جانے کے بعد مکمل ہوا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کی دوپہر ماؤنٹ بلانک کے گلیشیئرز کے اوپر 12 ہزار فٹ کی بلندی پر 110 سیاح اس وقت کیبل کاروں میں پھنس گئے تھے جب تیز ہواؤں کی وجہ سے وہ آہنی رسے آپس میں الجھ گئے جن پر یہ کاریں چلتی ہیں۔

 

جمعرات کو 48 افراد کو ہیلی کاپٹروں سے ذریعے نکالا گیا تھا جبکہ زمین کے قریب موجود کیبل کاروں پھنسے 30 افراد کو رسیوں کے ذریعے اتار لیا گیا تھا۔

 

جمعرات کی شب تاریکی کی وجہ سے جب ریسیکیو آپریشن رکا تو ایک دس سالہ بچے سمیت 33 افراد وہاں موجود تھے جنھوں نے یہ شب ہوا میں معلق کیبل کاروں میں گزاری۔

کیبل کاروں میں موجود افراد کو کمبل، قوت بخش خوراک اور پانی کی بوتلیں پہنچا دی گئی تھیں۔

جمعے کی صبح امدادی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوئیں اور چند گھنٹوں کے دوران ان 33 افراد کو بھی بحفاظت اتار لیا گیا۔

مقامی پولیس کے سربراہ سٹفین بوزون نے جمعے کو امدادی آپریشن کے حوالے سے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ’ہم رات بھر ان کے ساتھ رابطے پر رہے تھے، اور لوگوں کو ٹھنڈ لگ رہی تھی۔‘

جمعے کی صبح ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کیا گیا

امدادی آپریشن میں فرانسیسی، اطالوی اور سوئس ٹیمیں شریک تھیں اور انھیں تین ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل تھی۔

خیال رہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی کیبل کار فرانس میں واقع ایگوئیل ڈی میڈی نامی چوٹی کو اٹلی میں واقع پوائنٹ ہیلبرونر سے جوڑتی ہے اور اس سفر کے دوران سیاحوں کو ماؤنٹ بلانک کے مسحور کن نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔

کراچی کے عوام نے کل بتا دیا کہ بس بہت ہو گیا، مصطفیٰ کمال

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے عوام خود کو لاوارث نہ سمجھیں، اللہ کو حاضر جان کر بول رہے ہیں کہ ہم سچ بول رہے ہیں، ایم کیوایم کا ووٹ بینک 60 ہزار سے 15ہزار پر آگیا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کل عوام نے خاموشی اختیار کر کے بڑا پیغام دیا، کل کا نتیجہ بتا رہا ہے کہ لوگوں نے بانی ایم کیو ایم کو ایم کیو ایم سے الگ نہیں سمجھا، فاروق ستار نے ایک بار پھرلوگوں سے جھوٹ بولا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام نے بانی متحدہ اور فاروق ستار اینڈ کمپنی کو مسترد کر دیا، آپ دنیا کو بتارہے ہیں کہ آپ کا بانی ایم کیوایم سے کوئی تعلق نہیں۔

مصطفیٰ کمال مزید کہتے ہیں کہ پوری دنیا آپ کی بانی ایم کیوایم سے متعلق بات نہیں مان رہی، ایک ایک کرکے ہماری ساری باتیں سچ ہورہی ہیں،متحدہ کارکنان مایوس نہ ہوں ہم انہیں لاوارث نہیں چھوڑیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فاروق بھائی جھوٹ نہ بولیں،آپ کو ہم سے زیادہ پتاہے،ملیرکی عوام کو خراج تحسین پیش کرتےہیں،انھوں نےظلم کیخلاف فیصلہ دیا

کارکنوں کی بلا جواز گرفتاریوں پر ایم کیو ایم کا قومی اسمبلی سے واک آؤٹ

اسلام آباد: کارکنوں کی بلا جواز گرفتاری پر ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں جب وزیراعظم نوازشریف ایوان میں آئے تو ایم کیوایم کے رکن قومی اسمبلی خالد مقبول صدیقی نے بولنے کی کوشش کی تو اسپیکر نے ان کا مائیک بند کردیا جس پر ایم کیوایم کے اراکین ایوان سے واک آؤٹ کرگئے جس کے بعد اسمبلی کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ  کارکنوں کی بلا جواز گرفتاریوں اور قانونی دفاتر مسمار کرنے کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف سے بات کر کے پارٹی تحفظات سے آگاہ کرنا چاہتے تھے جس پر اسپیکر نے انہیں بولنے نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی جماعت ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

وفاقی کابینہ نےسائبرکرائم ایکٹ 2016 کے تحت مقدمات کی تحقیقات ایف آئی اے کو سونپ دیں

وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کےاجلاس میں فیصلے کیے گئے کہ سائبر کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت سائبرکرائم کی تحقیقات ایف آئی اے کرےگی ۔

سپریم کورٹ کےحکم پر2014 سے 2016 کے ای سی سی،کابینہ کی نجکاری کمیٹی اور توانائی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کردی گئی۔

ذرائع کا کہناہے کہ سائبر کرائم کے کیسز کی فارنزک تحقیقات کیلئے الگ شعبہ قائم کرنے کافیصلہ کیاگیاہے ۔ فارنزک تجزیے، چھان بین اور سفارشات کےلئےفارنزک انوسٹی گیشن کا شعبہ ایف آئی اے کو فراہم کرے گا ۔

وفاقی کابینہ نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئےاراضی کے حصول اور معاوضے کی ادائیگی کی منظوری بھی دے دی ۔ وزیراعظم نےکہا دیامیر بھاشا ڈیم کے متاثرہ افراد کو معاوضے کی ادائیگیوں میں شفافیت یقینی بنایا جائے۔توانائی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے بڑے ہائیڈل پروجیکٹ بنا رہے ہیں جن سے سیلاب کے خطرات کامقابلہ بھی کیاجاسکے گا ۔

کابینہ نے افغان مہاجرین کے رجسٹریشن کارڈ کی مدت میں 31 مارچ 2017 تک سہ فریقی معاہدے کےتحت توسیع کی منظوری دے دی ۔وزیراعظم کاکہناتھا افغان مہاجرین کوخوف زدہ کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ان کی واپسی کا عمل اس انداز میں ہو کہ سرحد کےدونوں اطراف برا تاثر نہ ملے۔

وزیراعظم نے وزارت سیفران کو افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے معاملے پرسیاسی قیادت اور افغان نمائندوں کے ساتھ وسیع البنیاد مشاورت کی جائے۔

اسلام آباد ایئرپورٹ پر مسافر سے کروڑوں روپے مالیت کی ہیروئن برآمد

راولپنڈی: بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بیرون ملک جانے والے مسافرسے کروڑوں روپے مالیت کی سوا کلو ہیروئن برآمد کر لی گئی۔

ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف ) نے بے نظیر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر کارروائی کر کے نجی ایئر لائن کی پرواز کے ذریعے دمام جانے والے مسافر محمد مقبول سے سوا کلو ہیروئن برآمد کر لی جب کہ  گرفتار ملزم کا تعلق سرگودھا سے ہے۔

اے ایس ایف حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے ہیروئن ہینڈ بیگ میں چھپا رکھی تھی جس کی مالیت عالمی منڈی میں کروڑوں روپے بنتی ہے، ملزم کو ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے حوالے کردیا گیا ہے۔

 

 

بلوچستان کے وزیر بلدیات کا بیٹا قلعہ عبداللہ سے بازیاب

حکومت بلوچستان کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر بلدیات سردار مصطفیٰ خان ترین کے مغوی بیٹے اسد ترین کو افغانستان سے متصل بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے دو لنگی سے بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

جمعرات کی شب ایک سرکاری اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انھیں لیویز فورس نے خفیہ اطلاع ملنے پر دولنگی میں گاؤں سے باحفاظت بازیاب کیا۔ اعلامیے میں کسی گرفتاری کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

27 سالہ اسد خان ترین کیڈٹ کالج پشین میں آفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔ انھیں 20 مئی کو نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ کیڈٹ کالج سے گھر جانے کے لیے نکلے تھے۔

رات دس بجے تک گھر نہ پہنچنے اور اس دوران گھر کے لوگوں سے رابطہ نہ ہونے پر جب ان کی تلاش شروع کی گئی تو ان کی گاڑی پشین شہر کے قریب کلی تراٹہ سے ملی۔

پشین کوئٹہ شہر سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال میں واقع ہے۔ وہاں کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے، اور وہاں کے بڑے قبائل میں ترین اور کاکڑ شامل ہیں۔

بلوچستان کے وزیر بلدیات پشین اور اس سے متصل ضلع قلعہ عبد اللہ میں آباد ترین قبائل کے سردار ہیں۔ اہم قبائلی شخصیت ہونے کے علاوہ ان کا شمار قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے اہم رہنماؤں میں بھی ہوتا ہے۔

ایم کیو ایم کا پی ایس 127 کا ضمنی انتخاب کے نتائج چیلنج کرنے کا فیصلہ

کراچی: متحدہ قومی مومنٹ پاکستان نے گزشہ روز پی ایس 127 میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے نتائج کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

متحدہ قومی مومنٹ پاکستان نے گزشہ روز سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 127 ملیر میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے نتائج کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان انتخابی نتائج کو الیکشن ٹربیونل اور عدالت عالیہ میں لے جائے گی جس میں متحدہ کا کہنا ہے کہ حلقے کے مضافاتی علاقوں کے پولنگ اسٹیشنوں پرپیپلزپارٹی نے قبضہ کرکے کھل کر دھاندلی کی جس کے تمام ثبوت جمع کر لیے گئے ہیں اور سب الیکشن کمیشن میں جمع کرائے جائیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 127 ملیر میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی نے کامیابی حاصل کی تھی جب کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے سندھ اسمبلی کی نشست پی ایس 127 کے ضمنی انتخاب میں دھاندلی کا الزام لگایاتھا۔

برداشت کے جمہوری کلچر کو پروان چڑھانے کی ضرورت

 سیاسی اُفق پر چھائے گہرے بادل کسی طوفانی کیفیت کااشارہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور سیاسی درجہ حرارت آئے دن بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ایک طرف وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد نواز شریف ترقیاتی کاموں کا دھڑا دھر افتتاح کررہے ہیں اور بھرپور عوامی جلسوں سے خطاب کرکے حکومتی کارکردگی پر روشنی ڈالتے نظر آتے ہیں ۔ گزشتہ روز چترال میں منعقدہ جلسہ عام بھی اس سلسلے کی کڑی ہے ۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہاکہ احتجاجی سیاست کرنے والوں کو عوام ہر جگہ بھرپور جواب دے رہے ہیں ۔ پنجاب اور کراچی میں ان کو خوب جواب دیا گیا۔ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمارے دل میں بغض نہیں بلکہ لوگوں کی خدمت کا جذبہ ہے پختونخواہ میں بھی حکومت بنا سکتے تھے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا جس کو جہاں مینڈیٹ ملا اس کا احترام کرتے ہیں ہم نے صوبائی حکومتوں کو مکمل تعاون فرا ہم کیا کچھ لوگوں نے نعرے لگوائے کام نہیں کیا میرے پاس سیاسی مخالفین کو جواب دینے کام وقت نہیں وزیراعظم نے 20بستروں کا ہسپتا ل، یونیورسٹی بنانے اور ضلع کونسل کیلئے 20 کروڑ گرانٹ کا بھی اعلان کیا ۔ وزیراعظم نے کہا لواری ٹنل کی تعمیر سے چترال وسطی ایشیاءکیلئے گیٹ وے ثابت ہوگا۔ وزیراعظم نے جوکچھ کہا وہ بالکل درست کہا یہ وقت واقعی احتجاجی سیاست کا نہیں عوام کی خدمت کا ہے لیکن حکومت کو دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اس بات کے پس منظر میں جانے کی ضرور ت ہے اور ان محرکات و عوامل کا جائزہ لینا چاہیے جو احتجاجی سیاست کا ذریعہ بن رہے ہیں حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی جان و مال کی حفاظت کو بھی یقینی بنائے ملک میںا من قائم رکھنا ، مہنگائی ، بیروزگاری کا خاتمہ اور سماجی انصاف کی فراہمی بھی حکومت کے فرائض میں شامل ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ امر کہ سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن صد افسوس کہ ہمارے ہاں سیاست میں برداشت کا فقدان ہے اور ہٹ دھرمی کا رجحان پایا جاتا ہے جس سے سیاسی ہلچل عوام کا مقدر بنی رہتی ہے۔ وزیراعظم جس تواتر سے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں اس سے ان کی نیت پر شبہ نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ حکمت عملی اچھی ہے اور یہ اقدامات مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی کارکردگی کو بڑھا رہے ہیں لیکن سیاسی عدم استحکا م کا جو منظر اس وقت دیکھنے میں آرہا ہے یہ قطعی طورپر جمہوریت کیلئے نیک شگو ن قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے وہ سیاسی مخالفین کی بات کو سنے اور اس قیمتی وقت کو ضائع نہ کرے کیونکہ حکومت وہی کامیاب قرارپاتی ہے جو سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن کو نہ صرف اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے بلکہ اس کے تحفظات کو بھی دور کرتی ہے پانامہ لیکس پر اپوزیشن کے تحفظات کو دور کرنا حکومت کا کام ہے لیکن حکومتی سطح پر متفقہ ٹی او آرز کا نہ بننا ہی احتجاجی سیاست کا باعث قرار پایا اور تحریک انصاف سڑکوں پر احتجاج کررہی ہے اور اب تو چیئرمین پی ٹی آئی نے 24ستمبر کو رائے ونڈ مارچ کا اعلان بھی کردیا ہے اور اس ضمن میں سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری تحریک قصاص چلائے ہوئے ہیں اور وہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہداءکا قصاص مانگ رہے ہیں عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید تحریک نجات اور جماعت اسلامی دھرنا اور پیپلز پارٹی بھی سڑکوں پر آنے کیلئے پر تول رہی ہے اور جو سیاسی منظرنامہ بنتا دکھائی دے رہا ہے وہ حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرسکتا ہے حکومت سیاسی تدبر اور بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے احتجاج پر سنجیدہ غور وفکر کرے اور ان کو اعتماد میں لے ۔پانامہ پیپرز پر متفقہ ٹی او آرز کو یقینی بنائے یہی وہ راستہ ہے جو جمہوریت کیلئے سود مند ہے۔ حکومت کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے ایک طرف دہشت گردی ہے تو دوسری طرف اس کو بھارتی جارحیت اور سازش کا سامنا ہے ان حالات میں سیاسی محاذ آرائی کامتحمل ہماراملک نہیں ہوسکتا اس لئے حکومت برداشت کے جمہوری کلچر کو اپناتے ہوئے ملک میں سیاسی استحکام لائے جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوگا ۔ ملک ترقی و خوشحالی کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتا ۔ ہماری رائے یہ ہے کہ حکومت سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے اور اپوزیشن کے تحفظات کو دور کرے تاکہ جمہوریت پر کوئی کاری ضرب نہ لگے۔ ملک میں جمہوری کلچر کو پروان چڑھائے بغیر محاذ آرائی کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت اور سیاسی جماعتیں مل جل کر ملک و قوم کی ترقی کیلئے کام کریں، سیاسی استحکام سے ہی ملک ترقی کے راستے پرگامزن ہوگا۔
 دہشتگردی کےخلاف اقدامات پر امریکی اظہار اطمینان
 امریکہ نے پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں حوصلہ افزا قرار دیا ہے اور کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں کے خلاف بھی کارروائی کرے ۔ امریکی محکمہ خارجہ میں ایک بریفنگ کے دوران ترجمان محکمہ خارجہ مارک ٹونر نے کہا کہ اوبامہ انتظامیہ پاکستان کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف حالیہ اقدامات پر مطمئن ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان پر پابندیوں کی تجویز زیر غور نہیں ۔ امریکہ نے درست کہا کہ مشترکہ آپریشنز اور باہمی تعاون پاکستان اور افغانستان دونوں کے مفاد میں ہے ۔ پاکستان پرامن ملک ہے اور دہشت گردی کے خلاف اس وقت فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے جس میں اس کو کافی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن اس کی سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردی کوجڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ امریکہ کا یہ بیان حوصلہ افزاءہے لیکن امریکہ بھارتی دہشت گردانہ کارروائیوں کا بھی نوٹس لے ایک طرف وہ ”را“ کے ذریعے پاکستان کے اندر عدم استحکام پیدا کررہا ہے تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے ہوئے ہے ۔ بھارت کی جارحانہ کارروائیاں خطے کے عوام کیلئے پریشان کن ہیں امریکہ جارح ملک کی طرف اپنے جھکاﺅ پر غور کرے اور بھارتی دہشت گردانہ کارروائیوں پر خاموش تماشائی نہ بنے بلکہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کا حل بھی نکالنے میں اپنا کردار ادا کرے ۔ پاکستان اپنی سرزمین کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ امریکہ ایک طرف تو دہشت گردی کے اقدام کو سراہا رہا ہے لیکن دوسری طرف اس کی دوعملی بھی دکھائی دیتی ہے پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور اس کی خواہش ہے کہ دنیا میں امن قائم رہے لیکن پڑوسی ملک کی مکاری اور بھان متی کا یہ عالم ہے کہ وہ پاکستان میں بدامنی پھیلا کر اس کو کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن دشمن اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ دنیا کو اس پر سنجیدہ سوچنا ہوگا اور جارح ملک کے ساتھ ان کا رویہ دوستانہ نہیں ہونا چاہیے پاکستان واحد ملک ہے جو دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے ۔ عالمی سطح پر اس کی کوششوں کو نہ صرف سراہا جائے بلکہ دہشت گردی کی روک تھام میں پاکستان سے ہر ممکن تعاون بھی کیا جائے
Google Analytics Alternative