Home » Author Archives: Admin (page 3580)

Author Archives: Admin

مقبوضہ کشمیر : مفتی سعید کاانتقال اور یومِ حق خود ارادیت

مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ مفتی سعید اگلے روز دہلی میں انتقال کر گئے۔ انہیں پھیپھڑوں میں انفیکشن تھا۔ مفتی سعید 12 جنوری 1936ء کو ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لے کر انہوں نے کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں شروع کی تھیں۔ اندرا گاندھی نے انھیں کشمیر میں کانگریس کی کمان سونپی تھی اور دہلی میں سیاسی جلاوطنی کے دوران انھوں نے مسلم خطوں میں انتخابات جیتے اور جنتا دل کے دور حکومت میں بھارت کے پہلے مسلمان وزیرداخلہ بن گئے۔ گذشتہ برس یکم مارچ کو مفتی سعید نے دوسری مرتبہ جموں و کشمیر کے وزیراعلی کا عہدہ سنبھالا تھا لیکن اقتدار کی سالگرہ سے پہلے ہی وہ علیل ہوگئے۔ مفتی سعید کی دو بیٹیاں محبوبہ مفتی، ڈاکٹر روبیہ سعید اور ایک بیٹا تصدق مفتی ہیں۔ ان میں سے صرف محبوبہ مفتی سیاست میں ہیں جن کی مفتی سعید کی جانشین کے طور پر ریاست کی وزیرِ اعلیٰ بننے کی خبریں گرم ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ مفتی سعید کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالیں گی۔مرحوم ساری عمر بھارت کے رحم و کرم پر رہے اور کشمیریوں کو ان کا احق خود ارادیت دینے میں ناکام رہے۔ انکی زندگی میں کشمیریوں کی طرف سے آخری یوم حق خود اراردیت صرف دوروز قبل ہی5جنوری کو منایا۔کشمیری عوام کو ان سے ہمیشہ ہی گلہ رہا کہ مرحوم اقتدار کے مزے تو لیتے رہے لیکن کشمیری عوام کے لئے کچھ نہ کیا۔ ’’حق خود ارادیت‘‘ کشمیر یوں کا جائز مطالبہ ہے کیونکہ یہ ان کا اپنا گھڑا ہو امطالبہ نہیں بلکہ 1949 میں اسی دن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتفاق رائے سے یہ قرار داد منظور کی تھی کہ کشمیری عوام کو مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے استصواب رائے کا موقع دیا جائے گا۔شومئی قسمت کہ پچھلے 66برس سے یہ موقع فراہم نہ کیا گیا،اس ظلم اور زیادتی کے خلاف کشمیری ہر سال پانچ جنوری کو عالمی برادری کو ضمیر جھنجوڑتے ہیں۔بھارت عالمی ضمیر کی بے حسی فائدہ اُتھاتے ہوئے اپنے قبضے کو جہاں طول دے رہا ہے وہاں اسے مزید مضبوط بنانے میں مصروف ہے۔ ایسے میں پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے کشمیریوں کی اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہی بات بھارت کو قطعاً قبول نہیں ،وہ چاہتا ہے کہ پاکستان کشمیر کو بھول کر دیگر معاملات پر بات چیت کرے۔تنازعہ کشمیر بھارت کا پیدا کردہ ہے اسے یواین کی قراردوں کے آگے ستینڈر کرنا ہوگا۔یہی اس کا واحد حل ہے۔اگرچہ مودی نے گزشتہ ایک دو ہفتوں کے دوران پاکستان سے تعلقات کو نارمل رکھنے کی ایک کوشش کی ہے لیکن اس سے یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ وہ کشمیر ایشو پر کیا پیشرفت کرنے پر آمادہ ہے۔بھارت کی اب تک کی چالوں سے تو کوئی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔اس سلسلے میں اگر گزشتہ برس کا طائرانہجائزہ لیا جائے تو وہ بھارت کی روایتی ہت دھرمی کا واضح ثبوت ہے،اس سلسلے میں سال 2015 لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت اورگولہ باری کا بدترین سال ثابت ہوا۔سال بھر بھارتی فوج نے 68 بار لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجہ میں رینجرز کے آٹھ جوانوں کے علاوہ 25 پاکستانی شہری جن میں بچے ،خواتین، اور بوڑھے شامل تھے شہید ہوئے جبکہ ایک سوتیس افراد زخمی ہوئے۔پچھلے برس 2جنوری 2015 کو بھارتی سکیورٹی فورسز نے شکر گڑھ سیکٹر پر گولہ باری سے نئے سال کاآغاز کیا تھا۔ 65 برسوں سے کشمیری اپنے جدوجہد کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ نہتے کشمیریوں نے 6 لاکھ اپنے شہداء، 10 ہزار لاپتہ افراد، 67 سو نامعلوم قبروں کے کتبوں کو فراموش نہیں کیا اور بھارتی افواج اور پولیس کے آگے سینہ سپر دیوار ثابت ہورہے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ حکومت بھی بھارتی حکومت اور سیاسی قوتوں سے دوست کے راگ الاپ رہی ہے۔ مگر پاکستان کی تمام سیاسی قوتوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے بھارت میں چاہے جو بھی حکومت ہو، انکی سوچ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ایک جیسی رہے گی۔ انسانی حقوق کی تنظیم جموں و کشمیر ہیومن رائٹس موومنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے مظالم کے حوالے سے اپنی تحقیقاتی رپورٹ شائع کی جس کے مطابق 1947ء سے موجودہ سال کے اختتام تک پانچ لاکھ افراد شہید اور 9988 خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔ جبکہ ایک لاکھ دس ہزار بچے یتیم ہو چکے ہیں بھارت کے کالے قوانین پوٹا’ ٹاٹا اور آفسپا کے تحت 24 افراد مختلف جیلوں میں عمر قید کاٹ رہے ہیں۔ شہید کئے گئے افراد میں زیادہ تر تعداد گیارہ سال سے 60 سال تک کے بچوں اور بوڑھوں کی ہے مگر اقوام متحدہ ان مظالم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے آخر کب تک۔

دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کو فوری روکنا ہوگا

چیف آف آرمی سٹاف نے ضرب عضب آپریشن پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں اور ان کی سرگرمیوں کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جنرل راحیل نے حال ہی میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کئے جانے والے دہشت گردی کے خلاف آپریشنوں کو سراہا اور کہا کہ ان آپریشنوں کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور ان کے گٹھ جوڑ توڑنے میں اہم کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ آرمی چیف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی وہ پائیدار امن اور سلامتی کی صورتحال کے حصول تک آپریشن پر توجہ برقرار رکھیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 70کے لگ بھگ جہادی یا طالبان گروپ پائے جاتے ہیں۔ ان میں 30 گروپ ایسے ہیں جو کہ ریاست اور معاشرے کے اندر اپنے نظریات بندوق یا تشدد کے ذریعے مسلط کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ فکری یا سیاسی جدوجہد کی بجائے باقاعدہ جنگ کرتے آئے ہیں۔ اسی جنگ کے نتیجے میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں 50ہزار سے زائد انسان لقمہ اجل بنائے گئے جبکہ اب بھی یہ لڑائی رکنے کا نام نہیں لے رہی اور فورسز کے علاوہ عام لوگ بھی روزانہ کی بنیاد پر اس جنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ محققین کے مطابق جہادی تنظیموں یا گروپوں کی بنیادیں مختلف ادوار میں رکھی جاتی ہیں۔ 60کی دہائی میں کشمیر کی آزادی کے لئے بعض گروپ قائم ہوئے۔
کالعدم جہادی تنظیمیں اسلام اور پاکستان کیلئے خطرہ ہیں۔ ماضی میں کالعدم تنظیموں نے انتہاپسندی دہشت گردی کو فروغ دیکر پا کستان کی سالمیت و بقا کو خطرے میں ڈال دیا اور آج پھر یہ انتہاپسند دہشت گرد ایک بار پھر سیاسی جماعتوں کا سہارا لیکر انتہاپسندی، دہشت گردی کو طول دینا چاہتے ہیں۔ جب ملک کی سالمیت و بقا کو ان انتہاپسند وں سے خطرات لاحق ہوئے اور پا کستان کو بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کی واچ لسٹ میں شا مل کیا گیا تو ان پر پابندی عائد کی گئی۔
اس حوالے سے پیمرا نے تمام ٹی وی چینلوں اور ریڈیو سٹیشنوں کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ، جماعت الدعو اور فلاحِ انسانیت فانڈیشن سمیت تمام 72 کالعدم تنظیموں کی کوریج نہ کریں۔بظاہر اس میں اختلاف کی گنجائش کم ہے کہ کالعدم تنظمیوں میں بعض ایسی تنظیمیں موجود ہیں جو ہر قدرتی آفت کے موقعہ پر دکھی پاکستانیوں کی مشکلات حل کرنے میں پیش میں پیش رہتی ہیں مگر بعض ایسی بھی ہیں جن کی سرگرمیاں یقینی طور پر درست نہیں۔ آبادی کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں 95 کالعدم تنظیمیں قرار پاچکی ہیں۔ وفاق اور صوبوں میں کالعدم تنظمیوں کے خلاف کام کرنے والے حکام کے مطابق اس وقت بہتر کالعدم تنظیموں کی بھی چانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ تازہ حکم میں پیمرا حکام نے کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ کے لیے میڈیا پر کسی بھی قسم کے اشتہارات چلانے کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔ یعنی کالعدم تنظیموں کی کسی قسم کی کوئی کوریج نہ کی جائے۔ کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ کے لیے میڈیا پر کسی بھی قسم کے اشتہارات چلانا بھی منع قرارپایا ہے۔ یعنی ایسے پروگرام کو نشر کرنا یا س کا نشرِ مقرر ممنوع ہے جس سے لوگوں میں نفرت پیدا ہو یا نقصِ امن کا خدشہ ہو۔مذید یہ کہ اس قسم کا مواد نشر نہ کیا جائے جولوگوں کو تشدد پر ابھارے، اس کی معاونت کرے، ترغیب دیاور اسے اچھا بنا کر پیش کرے۔
وطن عزیر میں اس وقت تک امن وامان کی حقیقی صورت حال بحال نہیں ہوسکتی جب تک آئین اور قانون کا حقیقی معنوں میں نفاز عمل میں نہیں آجاتا۔اگرچہ اس حکم نامے میں کالعدم تنظیموں یا ان سے منسلک امدادی اور فلاحی اداروں کی سرگرمیوں کی ترویج کا ذکر نہیں تاہم ملک میں زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کے موقعے پر کالعدم تنظیمیں امدادی کارروائیوں میں پیش پیش نظر آتی ہیں۔ بظاہر یہ حکم ملک میں انتہا پسندی ختم کرنے کے لیے رواں سال کے اوائل میں متعارف ہونے والے’قومی ایکشن پلان’ کے بعد عمل میں آیا ہے۔
بلاشبہ وطن عزیزمشکل حالات سے گزر رہا ہے اسے ایک طرف دہشت گردی کے عفریت کا سامنا ہے تو دوسری جانب حکومتی نظم ونسق مثالی انداز میں اپنا کام کرنے سے تاحال قاصر ہے۔ وقت آگیا ہے کہ حکام محض عالمی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے سے ہٹ کر ٹھوس اقدامات اٹھائیں جن سے مسائل حقیقی معنوں میں حل ہوسکیں۔حکومت وقت موجودہ حالات میں ان عناصر پر بھی کڑی نظر رکھیں جو کالعدم تنظیموں سے نکل کر دوسری تنظیموں کے نام سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور یہ انشاء اللہ ہمیشہ قا ئم دائم رہیگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آپس میں اتفاق اتحا د کیساتھ امن، محبت، بھائی چارگی کے فلسفے کو زیادہ سے زیادہ عام کریں۔

سعودیہ ایران کی کشیدگی اور پاکستان

دو اہم مسلم ملکوں میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستان اور امتِ مسلمہ کے ملکوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ہر کوئی سوچ رہا ہے کہ کس طرح ان کے درمیان تعلوقات واپس دوستی میں تبدیل ہو جائیں۔اس میں کوئی شک کی بات نہیں کہ ہر ملک کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں ان ہی مفادات کے تحت ملکوں سے تعلقات ترتیب دیتے ہیں ۔ سعودیہ اور ایران کے پہلے سے خراب تعلقات مذید اس لیے خراب سے خراب تر ہوئے کہ تہران میں سعودیہ کے سفارتخانے کو آگ لگا دی گئی ہے۔ سلامتی کونسل نے بھی تہران واقعے کی مذمت کی ہے گو کہ اس فعل پر ایران نے واجبی سی معذرت کااعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ کوشش کریں گے کہ آئندہ ایسا نہ ہو۔ جس کو سعودیہ نے ماننے سے انکار کر دیا۔ سعودی عرب نے ایران سے ہر قسم کے تعلقات ختم کر دیے ہیں ۔سعودیہ کی حمایت میں خلیج کی ریاستوں نے ایران سے اپنے اپنے سفیر واپس بلالیے ہیں جس میں کویت بھی شامل ہو گیا ہے۔ کویت نے کہا ہے کہ سفارت خانے پر حملہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف وردی ہے۔ عرب لیگ کا اور خلیج کونسل کے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔جس میں مذید فیصلے کیے جائیں۔
اگر انصاف کو سامنے رکھ کر تجزیہ کیا جائے تو یہ احساس سامنے آتا ہے کہ کئی عرصے سے ایران کا رویہ سعودیہ کے ساتھ جارحانہ رہا ہے۔منیٰ کے حادثے کو جو مسلمانوں کے درمیان کا معاملہ تھا کو ایران نے بین الاقوامی بنا دیا تھا جو اسلامی دنیا میں کسی طرح بھی مناسب نہیں سمجھا گیا تھا۔اس سے قبل ایران کے لیڈروں کے بیانات بھی بڑے تلخ نظر آئے تھے۔علاقہ کے مسلم ملکوں کو سامنے رکھ کر چند دن پہلے ایران کے ایک طاقت ور شخصیت سابق وزیر انٹلیجنس اور موجودہ صدارتی مشیر علی یونس کی طرف سے بیان تھا کہ ا یران عظیم الشان سلطنت بن چکا ہے عراق ہمارا ہے۔کھوئی ہوئی زمین واپس لے رہے ہیں۔ اس بیان کو سامنے رکھ کر اگر تجزیہ کریں تو یہ خطے کے مسلمان ملک جس میں سعودیہ بھی شامل ہے کوایک دھمکی ہے۔ ایران آخر کس کی شہ پر ایسے بیان دیتا ہے جس پڑوسی ملکوں میں تشویش کی لہر دوڑ جائے۔ دوسری طرف ترکی دو مسلمان ملکوں میں تعلوقات واپس نارمل کرنے کی بات کرتا ہے مگر نہ جانے ایران کے لیڈر کس کے کہنے پر دشمنوں جیسے بیان دے رہے ہیں۔ ایران شام میں بشار اسد کی مدد کر رہا اس کے فوجی شام میں لڑے رہے ہیں۔ بشاراسد کا خاندان شام پر کئی عرصہ سے حکومت کر رہا ہے۔ جعلی طریقے سے الیکشن کروا کے حکومت پر ذبردستی قابض ہے۔ ظلم کی انتہا کر دی ہے لا کھوں کو قتل کر دیا ہے لاکھوں کو مہاجرت پر مجبور کر دیا گیا۔شام کے مسلمان دنیا میں در بدر ہو گئے ہیں۔ مجبوراً سعودیہ بھی شام میں بشار اسد کے خلاف لڑنے والوں کی مدد کر رہا ہے۔یمن میں بھی ایران کے فوجی لڑ رہے ہیں ایک مدت سے یمن کے باغیوں کی مدد ایران کر رہا ہے۔ایران نے عراق میں صدام حسین کی حکومت کو امریکا کے ساتھ مل کر ختم کی، یہ واقعات ہیں جس کی وجہ سے سعودیہ میں پہلے سے خطرہ محسوس کر رہاتھا۔اس کے علاوہ ہر ملک کے اپنے اپنے قوانین ہیں جس پر اس کے ہر شہری کو پابندی کرنی پڑتی ہے ۔ قوانین کی پابندی نہ کرنے کی شکل میں سزا بھی بھگتنی پڑتی ہے۔ گو کہ کسی بھی ملک کو اپنے شہریوں کے خلاف بنیادی حقوق کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔جس بات پر ایران نے سخت رد عمل کا مظاہرہ کیا۔ جہاں پر یہ سوال اُٹھتا ہے کہ اس سے قبل ایران میں دہشتگردی کی وجہ سے ھانسیاں نہیں دی گئیں؟کیا دوسرے ملکوں نے ایران کے اس فعل پر ایسا پرتشدد ردعمل ظاہر کیا اور ایران کے سفارت خانے جلائے؟ یقینانہیں کیے تھے تو پھر ایران کو بھی احتیاط کرنی چاہیے تھی۔ بہر حال الحمد اللہ ہم مسلمان ہیں۔ اگر دو مسلمان ملکوں میں لڑائی یااختلافات ہو جائے اور معاملات بگڑنے لگیں تو دوسرے مسلمان ملکوں کو درمیان میں پڑھ صلح کرا دینی چاہیے۔اسی لیے پاکستان کے علماء اور سیاست دانوں نے یک زبان ہو کر اخبارات میں اس بات کا اظہار کیا ہے کی پاکستان آگے بڑھ کران اختلافات کو دور کرنے کی کوششیں کرے جو ان شاء اللہ ضرور ہو گی۔
آج سعودیہ کے وزیر خارجہ پاکستان آ رہے ہین۔ ایران کے وزیر خارجہ کو بھی پاکستان کا دورہ کرنا چاہیے اور مل جل کر اس تنازہ کا حل نکانا چاہیے۔ نہ جانے مسلمان ملکوں کی تنظیم او آئی سی کس کام کے لیے بنائی گئی تھی ۔ ابھی تک اُس کے طرف سے کوئی کاوارئی سننے اور دیکھنے میں نہیں آئی۔ کیا اس موقعہ پر اُسے فعال کردار ادا نہیں کرنا چاہیے ؟ضرور کرنا چاہیے ۔مسلمان ملکوں کے خلاف عیسائیوں حکومتوں نے اتحاد کیا ہوا ہے۔وہ ان کو آپس میں لڑاتے رہتے ہیں اور مسلمان ان کے آلہ کار بنتے رہتے ہیں۔اس وجہ سے مسلمان ملکوں کی کوئی اپنی سوچ نہیں ہے۔ باہر سے جو کچھ کہا جاتا ہے وہ اس پر عمل کرتے ہیں اور اپنی بربادی کے سامان خود مہیا کرتے رہتے ہیں۔ ابھی دودن پہلے کی خبر تھی کہ امریکا کی سابقہ وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے داعش کو بنایا ہے ۔وہ اس لیے بنایا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے نقشے کو تبدیل کرنا ہے۔ ہیلری کلنٹن نے کہا کہ اس نے سو بیس سے زیادہ اتحادی ملکوں کا دورہ کیا تھا اور داعش کے ذریعے خلافت کے اعلان کی تاریخ بھی طے کر لی گئی تھی۔ مگر ایک دم سے حالات بدل گئے۔
امریکا نے ہی داعش کو اردن میں تربیت تھی ۔ عراق میں داعش کو اسلحہ دیا۔ داعش نے عراق اور شام کے درمیانی علاقوں پر قبضہ کیا ۔ تیل کے کنویں پر قبضہ کیا ۔مارکیٹ میں تیل فروخت کیا اور اپنے خزانے کو خوب بھرا۔داعش کے سربراہ ابو بکر بغدادی نے خلافت کا اعلان کیا اور دنیا سے اسلام سے محبت کرنے والے سادہ نوجوانوں کو بھرتی کیا ۔ اس کے بھی پاکستانی طالبان کی طرح قتل و غارت کے واقعات سامنے آئے جس سے عام مسلمانوں میں اس کے خلاف نفرت پھیلی۔ آج کی ہی اخبارات میں خبر لکھی ہے کہ داعش نے ایک خاتون صحافی کا سر قلم کر دیا۔امریکا نے پہلے داعش کو بنایا اس کو اسلحہ دیا آرام سے عراق اور شام کے درمیانی علاقعے پر قبضہ کرنے دیا۔ اب اس کے خلاف ایران کی فوجوں کو ملا کر لڑ رہا ہے۔ اب اس گھتی کو کون حل کرے کہ داعش کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ کیا یہ امریکا کی طرف سے مسلمانوں میں ڈس انفارمیشن کی کوئی مہم ہے۔ عام لوگوں تک تو اسلامی دنیا سے کوئی بھی خبر نہیں ملتی صرف وہ ہی خبر ملتی ہے جو مغربی یہودی ؍صلیبی میڈیا دیتا ہے۔ مسلمان ملکوں کی تو اپنی کوئی خبر رساں ایجنسی بھی نہیں ہے جو مسلمانوں کی رہبری کر سکے مسلمان حکمران امریکا کے پٹھو بن کر عام مسلمانوں پر زبردستی حکومتیں کر رہے وہ امریکا کے ہاتھ تاش کے پتوں کے طرح ہیں امریکا جیسے چاہیے ان پتوں سے کھیلے ۔اس میں سعودیہ، مصر،شام،اور دوسرے مسلمان ملک شامل ہیں۔ایران کے اسلامی انقلاب کے لیڈر خمینی ؒ نے امریکا مردہ باد کا نعرہ لگا کر اسلامی دنیا میں نام کمایا تھا۔امریکا ہی سعودیہ اور ایران کو لڑا رہا ہے۔سعودیہ میں بھی داعش کاروائیاں کرتی رہی ہے اسی لیے سعودیہ نے داعش کیلئے دہشتگردی کرنے کی پاداش میں لوگوں کی گردنیں کاٹی ہیں۔کاش کہ اسلامی دنیا امریکا یا کسی بیرونی طاقت کا آلہ کار نہ بنیں اپنے معاملات آپس میں بیٹھ کر حل کریں یہی اس دور کا مسلمانوں کیلئے پیغام ہے یہی سعودیہ اور ایران کیلئے پیغام ہے۔یہی سعودیہ اور ایران کی کشیدگی کا حل ہے۔ بتان رنگ و خون کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا۔ نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی۔اللہ امتِ مسلمہ کا نگہبان ہو آمین۔

ہندوستانی پالیسیاں اور پاکستان

گزشتہ سے پیوستہ

ہندی بولنے والے لوگوں کا نفسیاتی مسئلہ کچھ زیادہ ہی سوا ہے ان کے اندر ایک احساس برتری یااپنی عظمت یا ایک عظیم نسل ہونے کا خناس سما گیا ہے جو گزرتے وقت کے ساتھ شدید تر ہوتا جا رہا ہے عام آدمی کے ذہن میں اپنے احساس عظمت کو راسخ کرنے کے لئے نئے نئے ڈرامے لکھے جا رہے ہیں جس میں دکھایا جاتا کہ ہندو سائنس اور ٹیکنولوجی میں ایجادات میں سب سے آگے تھے مثلا مہابھارت میں کوروں اور پانڈؤوں کی لڑائی میں ایسے projectile استعمال کئے گئے تھے جو موجودہ میزائلوں سے مشابہ تھے وغیرہ وغیرہ اور اس طرح کی چیزیں جن کا حقیقیت کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے ان کو پروپیگنڈے کے زور پر راسخ کیا جا رہا ہے genetcally ہندو شجاع نہیں ہوتا اور عموما مصلحت سے کام لیتا ہے جس کی ایک کلاسیکی مثال پنڈت چانکیا کی کتاب ارتھ شاستر ہے جس میں جھوٹ اور دھوکہ بنیادی وصف ہے جسے ذہانت کا نام دیا جاتا ہے اور انڈیا کے موجودہ سیاستدانوں کی اکثریت اس کتاب سے استفادہ کرتی ہے بلکہ یہ شدت پسند RSS کے فلسفے کی بنیادی دستاویز ہے اور یہی ہندی بولنے والی اقلیت ہی اکثریت کی گردن پر سوار دہلی کے طاقت کے مراکز پر اپنا تسلط قائم کئے ہوئے ہے اب چونکہ موجودہ ہندوستان بھانت بھانت کی بولیوں اور الگ الگ کلچر کی چھوٹی چھوٹی اکائیوں پر مشتمل ہے مذہبی طور پر بھی ہندو دو انتہاؤں پر ہیں مثلا شمال میں راون کی مذمت کرتے ہوئے آگ میں جلایا جاتا ہے لیکن جنوبی ہندوستان میں اس کی پوجا کی جاتی ہے یعنی بہت کم مشترکات ہیں اب اتنے بڑے ملک کو جو اصل میں بھان متی کا کنبہ ہے اس کو متحد رکھنے کے لئے ایک عدد دشمن کی ضرورت تھی جو پاکستان سے پوری کی جارہی ہے لیکن کیا موجودہ مسلط ٹولے نے کبھی سوچا ہے کہ اس سوچ اور عمل کی انڈیا کیا قیمت اداکر چکا ہے اور ادا کر رہا ہے آپ اگر بر صغیرکا نقشہ اٹھا کر دیکھیں جنوب مشرق سے شمال مغرب کی طرف انڈیا ایک مٹکے کی شکل میں دکھے گا جس گردن پر پاکستان سوار ہے شمال میں چین اور مشرق کی سمت میں نیپال بھوٹان شکم اور میانمار ہے جہاں کی انڈیا کیا لیجا کر بیچے گا سارا خریدار تو مغرب میں ہے جس میں مشرق وسطی پورا افریقہ اور یورپ ہے اس کے علاوہ توانائی کے بہت بڑے اور untapped ذخائر ازبکستان تاجکستان اور ترکمانستان میں ہیں جس کا واحد راستہ صرف پاکستان کے پاس ہے جہاں انڈیا انجنیرنگ پراڈکٹس بیچ سکتا ہے اور وہاں کے توانائی کے ذخائر سے استفادہ کر سکتا ہے یاد رہے کہ یہ علاقے Locked land ہیں شمال میں سمندر تو ہے جو ایک تو دور ہے اور سال کے 10 ماہ برف کی وجہ سے قابل استعمال نہیں رہتا اب انڈیا کے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ کیاوہ اپنی ترجیحات کا از سر نو تعین کرے گا کیا اسے اپنی بڑھتی ہوئی آبادی اور روزافزوں غربت احساس ہے جس میں پاکستان دشمنی کی وجہ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کشمیر میں 7 لاکھ فوج اور کشمیریوں پربد ترین تشدد کے باوجود پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں اور پاکستانی پرچم لہرائے جا رہے ہیں یہ سب کب تک چل سکے گا اگر انڈیا یہ سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان کو ختم کر سکے گا تو جواب ہے کہ ایسا ممکن نہیں اس کی پہلی وجہ ہمارا ایمان ہے کہ یہ ملک اللہ کی خصوصی عطاء4 ہے اور جس اللہ کے نام سے بنا ہے وہی اس کی حفاظت بھی کرے گا دوسرے پاکستانی عوام کا شماردنیا کی ذہین ترین قوموں میں ہوتا ہے جو اپنے وطن کی حفاظت کے لئے سب کچھ کر گزرنے کی اہلیت اور جذبہ رکھتے ہین پاکستان کی مسلح افواج اپنے آپ کو دنیا کی بہترین فوج ثابت کر چکے ہیں پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام انڈیا سے کئی دہائیاں ایڈوانس ہے انڈیا کا اپنا فائٹر جہاز تیجس کئی دہائیوں سے آزمائشی مراحل میں ہے اور اب بھی آزاد فضاؤں میں اڑسکنے کا متمنی جبکہ پاکستان کا fj 17 تھنڈر مارکیٹ میں اپنے ہم پلہ جہازوں کے مقابلے میں اپنی جگہ بنا چکا ہے اور بہترین جہازوں میں بہتر جو پاکستان کی اپنی پروڈکٹ ہے آئندہ بلاک 2 مزید ترقی یافتہ ہوگا انڈیا کو چاہئے کہ اپنے نفسیاتی مخمصے سے باہر نکلے قوموں کا مزاج بنتے بنتے بنتا ہے فلمیں یا ڈرامے بنانے سے نہیں دنیا آپ کی جادوگریاں دہائیاں پہلے سمجھ چکی ہے امریکی صدر اور برطانوی وزیراعظم کے بیانات ریکارڈ کاحصہ ہیں جو آپ کشمیر کے حل سے فرار چاہنے کے لئے نت نئے ڈرامے ترتیب دیتے ہیں کبھی پارلیمنٹ پر خود حملہ کرواتے ہیں کبھی ممبئی حملہ کبھی مالیگاؤں یہ سب آپ کے ذہن سرا کے کارنامے ہیں مغرب کشمیر اور دیگر معاملات پر آپ سے بہت بڑی قیمت وصول کر چکا ہے یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے آپ جو پاکستان کے ساتھ کرنا چاہ رہے ہیں کبھی نہیں کر پائیں گے لہٰذا آئیے ایک بار پھر آپ کی طرف اچھی ہمسایگی اور دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں جو بعد ازاں دست تعاون بن سکتا ہے تاریخ کے غلط رخ ہر مت جائیے نوشتہ دیوار ہے کہ جو کام آپ کو 15 ،20 سال بعد حالات کے جبر سے کرنا پڑے گا آج کر گزریے اسی میں خطے کے تمام عوام کا بھلا ہے تاریخ میں اپنے لئے اچھی یادیں اور اچھا نام چھوڑ جائیے یہی تاریخ کا سبق ہے اللہ سے آپ کی صحیح سمت میں رہنمائی اور حقیقی دانش اور فراست کے لئے دعاگو ہیں اور رب جلیل سے تمام انسانوں کیلئے رحمت اور عفو کے طالب۔

علاج اِس کا کوئی چارہ گراں ہے کہ نہیں

قارئین کرام ! خطے میں محل وقوع کے اعتبار سے سرزمینِ پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا میں مرکزی اہمیت کی حامل ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں خلیج کے دروازے پراِس کی موجودگی مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کے پیش نظر انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ چنانچہ جغرافیائی اِسٹرٹیجک لوکیشن اور حساس قومی سلامتی امور کے پیش نظر خطے میں وقوع پزیر ہونے والی کسی بھی غیرمعمولی صورتحال سے پاکستان کا متاثر ہونا غیر ممکنات میں سے نہیں ہے ۔ نیا سال شروع ہوا تو دنیا بھر میں حالات کی بہتری کی توقعات کی جا رہی تھی لیکن نئے سال کے پہلے ہی ہفتے میں خطے میں دو ایسے غیرمعمولی حساس واقعات نے جنم لیا ہے جن سے پاکستان کا متاثر ہونا لازمی اَمر ہے ، بھارت میں پٹھانکوٹ ایئر بیس پر حملہ ہوا ہے اور ایران میں سعودی عرب کے سفارت خانے کو آگ لگائی گئی ہے ۔بھارت میں پٹھانکوٹ کے ہوائی اڈے پر ہونے والی دہشت گردی کی واردات جس میں ماضی کی طرح کسی ثبوت کے بغیر ہی بھارتی میڈیا اور ریاستی ادارے پاکستان کو ملوث کرنے میں پیش پیش نظر آتے ہیں پر غور و فکر کیا جانا چاہیے ۔ماضی میں ممبئی دہشت گردی کے حوالے سے کئی برسوں تک پاکستان ، بھارت تعلقات اُتراؤ چڑھاؤ کا شکار رہے حتیٰ کہ دس ماہ تک بھارتی فوج پاکستانی سرحدوں پر تعینات رہی ۔ بہرحال ، بھارت میں نئے وزیراعظم نریندر سنگھ مودی کی حلف وفاداری کے موقع پر جنوبی ایشیا میں امن و امان کی فضا کے قیام کے پیش نظر وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے غیر مشروط طور پر نئی دہلی جا کر نہ صرف نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی بلکہ ایک خط کے ذریعے نئے بھارتی وزیراعظم کو دوطرفہ بات چیت کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان مسائل کو گفت و شنید کے ذریعے حل کرنیکی دعوت بھی دی ۔ گو کہ بھارت نئی دہلی میں دونوں ملکوں کے درمیان تمام مسائل پر بات چیت کیلئے پاکستانی مشیر خارجہ سے ابتدائی مذاکرات پر رضامند ہوا تھا لیکن بات چیت سے قبل ہی بھارتی حکام اور میڈیا نے پاکستان کی جانب سے کشمیر کو متنازع علاقہ کہنے پر پاکستانی مشیر سے ملاقات کیلئے آنے والے کشمیری نمائندوں کی گرفتاری و نظر بندی کے حوالے سے نئی دہلی میں ہونے والے ڈائیلاگ کو شروع ہونے سے قبل ہی سبوتاژ کردیا تھا۔ اِس پر طرہّ یہ کہ بھارت نے کشمیر پر پاکستانی موقف پر دباؤ بڑھانے کیلئے جو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کیمطابق بھی ایک متنازع مسئلہ ہے ، نہ صرف کشمیر کنٹرول لائین کو ہتھیاروں کے استعمال سے گرمانا شروع کیا ہے بلکہ سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر بھی سکولوں کے بچوں اور شہری آبادیوں کو بلا اشتعال گولہ باری کے ذریعے قتل و غارتگری کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا ۔ لیکن پاکستان کے اصولی موقف اور واہگہ بارڈر کے ذریعے افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک بھارتی تجارتی رسائی کے مخصوص مفادات کے حصول کے پیش نظر بھارت نے پہلے تو چولہ بدل کر گزشتہ ماہ افغانستان پر ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کیلئے بھارتی وزیر خارجہ شسما سوراج کو اسلام آباد بھیجا گیا اور جامع مذاکرات کے ذریعے پاکستان کیساتھ تمام مسائل پر گفت و شنید کا عندیہ ظاہر کیا گیا۔ پھر اچانک وزیراعظم مودی بنفس نفیس دورہ افغانستان کے بعد 25 دسمبر کو وزیراعظم نواز شریف سے غیر شیڈول ملاقات کیلئے لاہور پہنچے لیکن یہ سحر جلد ہی ٹوٹ گیا جب پٹھانکوٹ دہشت گردی کے حوالے سے جس کی ذمہ داری مبینہ طور پر ایک نام نہاد کشمیر جہاد گروپ کی جانب سے قبول کی گئی ہے جس کا پہلے کبھی چرچا نہیں ہوا ۔ اِسی طرح افغانستان کے شہر مزار شریف میں بھارتی قونصل خانے اور کابل ایئرپورٹ پر بظاہر طالبان کی جانب سے خودکش دھماکہ ہوا ہے جس کا سر پیر بھی ے بغیر کسی جواز کے پاکستان کے سر باندھنے کی سازش کی جا رہی ہے۔یہی صورتحال بھارت میں پٹھانکوٹ دہشت گردی کے حوالے سے اُبھرتی نظر آ رہی ہے جس میں یہ جانے بغیر کہ پٹھانکوت واردات کا اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے بھارت ایک مرتبہ پھر پاکستان پر سیاسی دباؤ ڈالنے کیلئے خطے میں حالات کو بگاڑ نے پر مائل نظر آتا ہے۔
محترم قارئین ، دوسری جانب سعودی ایران تعلقات ایک مرتبہ پھر خرابی کا شکار ہیں ۔سعودی عرب میں مبینہ طور پر دہشت گردی میں ملوث 47 سعودی شہریوں جن میں ایک سعودی شعیہ عالم شیخ نمر باقر النمر بھی شامل تھے کو چند روز قبل موت کی سزا دئیے جانے کے بعد مشتعل ایرانی مظاہرین نے تہران اور مشہد میں بل ترتیب سعودی سفارتی خانے اور قونصل خانے میں آگ دی جس کے بعد سعودی عرب نے ایران سے سفارتی، تجارتی اور فضائی روابط ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ سوڈان اور بحرین نے بھی ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے ہیں۔ سعودی شہریوں پر ایران جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے البتہ ایرانی زائرین پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔ دنیا بھر میں عدالتی فیصلوں سے اختلاف کرتے ہوئے پُرامن احتجاج تو کیا جاتا ہے لیکن ایران میں سفارت خانے اور قونصل خانے کو آگ لگا کر جس شدت پسندی کا مظاہرہ کیا گیا ہے وہ کوئی احسن اقدام نہیں ہے ۔ ماضی میں تہران میں امریکی سفارت خانے کو بھی ایسے ہی عوامی شدت پسندی کا نشانہ بنایا گیا تھاجس کا خمیازعہ اقتصادی پابندیوں کی شکل میں ایرانی حکومت کو کافی عرصہ تک بھگتنا پڑا تھا ۔ بہرحال ایرانی حکومت کی جانب سے اِس بے حکمت شدید عوامی ردعمل کو روکنے میں ناکامی کے باعث مشرق وسطیٰ میں صورتحال کافی کشیدہ ہے اور امریکہ نے اِسے خطے میں فرقہ پرستی کے رجحانات کو مہمیز دینے کے مترادف قرار دیا ہے جبکہ روس اور چین نے دونوں ممالک کو تحمل سے کام لینے کیلئے کہا ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سعودی ایران تعلقات یمن کی خانہ جنگی میں حوثی قبائل کو ایرانی حساس اسلحہ اور تربیت کی فراہمی پر پہلے ہی سیاسی کشیدگی کی لپیٹ میں ہیں جسے گذشتہ حج کے موقع پر بھگدڑ میں ایرانی اور دیگر ممالک کے حجاج کی شہادت جس میں ایک سو سے زیادہ پاکستانی حجاج بھی شہید ہوئے تھے پر ایرانی سپریم مذہبی رہنما آیت اللہ علی خمینائی نے سعودی حکومت سے مبینہ ناقص حج انتظامات کی ذمہ داری قبول کرنے اور مسلم دنیا سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ ایرانی صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں حج کے دوران پیش آنے والے واقعات کو دلخراش قرار دیتے ہوئے اِس کی ذمہ داری سعودی حکومت پر ڈالتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ البتہ سعودی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سانحۂ منیٰ کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور تحقیقات کی روشنی میں منظر عام پر آنے والے حقائق کو منظر عام پر لایا جائیگا ، بظاہر اِس بھگدڑ میں مبینہ طور پر ایرانی حجاج کی غلطی کو بھی بیان کیا گیا تھا ۔ باوجود اِس کے کہ ماضی میں اسلامی فقہی اختلافات کے باوجود ساٹھ کی دھائی سے سعودی ایران تعلقات بہتری کی جانب گامزن تھے حتیٰ کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بحرین پر ایران کے دعوی کا متنازع معاملہ بھی 1961 میں سعودی عرب اور بحرین کے مابین تیل کی دولت میں شراکت کے معاہدے کے بعد اپنے اختتام کو پہنچ گیا تھا ۔ لیکن 1979 میں ایران میں امام خمینی شعیہ اسلامی انقلاب کے بعد ایرانی حجاج کی جانب سے حج کے موقع پر مکہ اور مدینہ میں حرمین شریفین کی سڑکوں پر سیاسی اجتماعات کے انعقاد کے ذریعے نہ صرف سیاسی نعرہ بازی کی گئی بلکہ ایرانی حکومت کی جانب سے سعودی حکومت کی حرمین شریفین پر کسٹوڈین حیثیت کو بھی چیلنج کیا گیا تھا جس کے باعث اسّی کی دھائی میں دونوں ملکوں کے درمیان اسلامی فقیہی اختلافات کے حوالے سے بھی معاشرتی خلیج وسیع تر ہوئی تھی۔اِس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ 1979 ء میں شاہ ایران کی حکومت کے خاتمے پر امام خمینی کے ایرانی شیعہ انقلاب کے ابتدائی دور میں ہمسایہ ممالک میں ایرانی انقلاب کو پھیلانے کی کوشش کی گئی تھی جس کے بدترین اثرات فرقہ وارانہ کشیدگی کے حوالے سے پاکستان میں بھی محسوس کئے گئے تھے ۔ چنانچہ قیام پاکستان کے بعد سے ملک میں قائم فرقہ وارانہ معاشرتی ہم آہنگی بھی کچھ مذہبی حلقوں کی شدت پسندی کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی۔ جس کے سبب سپاہ صحابہ اور نفاذ فقہ جعفریہ نامی شدت پسند تنظیموں کے سایہ تلے سنی لشکر جھنگوی اور شعیہ سپاہ محمد کے نام سے دہشت پسند تنطیموں نے ملک میں جنم لیا اور اِن فقہی اختلافات کے پس منظر میں فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کے المناک واقعات دیکھنے میں آئے۔ اِسی دوران اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں بھی شر پسندوں نے آگ لگائی جبکہ تحریک فقہ جعفریہ نے اپنے مطالبات منوانے کیلئے اسلام آباد میں وفاقی سیکریٹریٹ پر کئی دنوں تک قبضہ جمائے رکھا ۔ چنانچہ سعودی ایران اختلافات کے ضمن میں یہ سمجھنا کہ سب ٹھیک ہے اور ہم اِس قضیئے میں غیر جانبدار رویہ اختیار کر کے معاملات سے پہلو تہی کر سکتے ہیں فکری حوالے سے درست نہیں ہے ۔ اندریں حالات ، ایک ایسے مشکل وقت میں جبکہ مشرق وسطیٰ میں مسلم امّہ بدترین سیاسی، سفارتی اور معاشرتی اختلافات کا شکار ہے ۔ سعودی وزیر خارجہ کا پاکستان کا دورہ التوا میں رکھا گیا ہے ، دوسری جانب پٹھانکوٹ دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی سلامتی کے مشیر اجیت کمار ڈول کا دورۂ چین منسوخ ہوا ہے ۔ بھارتی میڈیا اور ریاستی اداروں کی جانب سے افغانستان میں کابل ایئرپورٹ پر خود کش اور مزار شریف میں بھارتی قونصل خانے پر مبینہ طالبان حملے کیساتھ ساتھ بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کے الزامات بلا کسی جواز کے پاکستان پر ثبت کئے جا رہے ہیں، پاکستان کی جانب سے بروقت سوچ بچار کی ضرورت مسلمہ ہے۔ حیرت ہے کہ اہم سلامتی امور پر نگاہ رکھنے اور خطے میں پاکستانی مفادات کا بروقت تحفظ کرنے کے بجائے وزیراعظم کو غیرملکی دوروں سے ہی فرصت نہیں ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اگر پاکستان کسی حد کسی بڑی دہشت گردی سے محفوظ ہے تو اِسکا کریڈٹ آپریشن ضرب عضب کے چیف جنرل راحیل شریف کو ہی جاتا ہے۔ جناب وزیراعظم وقت کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان کو مسلم دنیا کی اہم ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے ایران اور سعودی عرب کے درمیان بدترین بگڑتے ہوئے تعلقات میں بہتری لانے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے جبکہ بھارت کی جانب سے کسی بھی ممکنہ منفی ردعمل کا موثر جواب دینے کیلئے قوم کویکجہتی کی لڑی میں پرونے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو صرف کرنا ہو گا اور اگر ضرورت پڑے تو ملک میں قومی ھکومت قائم کرنے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ حالات کوئی بھی خطرناک ٹرن لے سکتے ہیں۔ بقول علامہ اقبال…….. ؂
وطن کی فکر کر ناداں ، مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

دہشت گرد ایسے ہوتے ہیں۔۔۔؟

بھارت میں ہونے والے پٹھان کوٹ ایئربیس حملے کی حقیقت کیا ہے؟ ایئربیس پربھارتی رپورٹس کے مطابق6دہشت گردوں نے حملہ کیا جسے بھارتی فوج 4دن کی انتھک محنت کے بعد واگزار کروانے میں کامیاب ہوئی۔ حملہ ہوتے ہی بھارتی میڈیا نے اپنے روایتی ’’بغضِ پاکستان ‘‘کا مظاہرہ کیا اور فوراً سے پیشتر حملے کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا۔ دو دن قبل ایک بھارتی ٹی وی چینل ’’زی ٹی وی‘‘ نے ایک مبینہ فون کال نشر کی جس کے متعلق بتایا گیا کہ یہ کال پٹھان کوٹ میں موجود دہشت گرد نے پاکستان میں اپنی والدہ کو کی تھی۔ فون کال سن کر کوئی بھی شخص اس کی حقیقت کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ ایک طرف بھارتی میڈیا کہہ رہا تھا کہ دہشت گرد پاکستان کے علاقے بہاولپور سے آئے تھے اور حملے کے دوران پنجابی بول رہے تھے۔حالانکہ بہاولپور میں پنجابی نہیں سرائیکی بولی جاتی ہے۔ مگر زی ٹی وی کی نشر کردہ اس فون کال میں مبینہ ماں بیٹا خالص ہندی لہجے میں ’’اردو‘‘ بول رہے تھے۔ فون کال چند فقروں پر محیط ہے۔ سب سے پہلے ماں پوچھتی ہے کہ ’’بیٹا کہاں ہو؟‘‘ بیٹا جواب دیتا ہے کہ ’’میں یہاں فدائین کے ساتھ ہوں۔‘‘ماں کہتی ہے کہ ’’بیٹا جان دینے سے پہلے کھانا کھا لینا۔‘‘بس یہی وہ فقرے ہیں جو بھارتی ٹی وی نے نشر کیے۔ اب جو لوگ بھی پاکستان کے کلچر، پاکستان کی اردو اور پاکستانی ماؤں کے اپنے بیٹوں کے ساتھ روئیے سے واقف ہیں وہ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ فون کال ٹی وی کے عملے نے خود ریکارڈ کی اور نشر کر دی۔ پاکستانی شدت پسندوں نے کبھی اپنے لیے ’’فدائین‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا، بلکہ یہ لفظ ان کے لیے ہمیشہ بھارتی و دیگر غیرملکی میڈیا نے استعمال کیا ہے۔دوسرے کوئی بھی ماں کیا اپنے بیٹے کو مرنے سے پہلے یہ نصیحت کرے گی کہ بیٹا مرنے سے پہلے کھانا کھا لینا؟اگر بھارتی ٹی وی چینل کے عملے میں ذرا سی بھی عقل ہوتی تو وہ ایسی فاش غلطی نہ کرتے۔ کیا کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ بیٹا موت کے قریب کھڑا ہو اور ماں کی آواز میں وہ سکون و طمانیت ہو جو کال میں اس خاتون کی آواز میں موجود تھی؟کھنکتی، چہکتی اور لہکتی آواز، جیسے کسی زی ٹی وی کے ڈرامے کی اداکارہ کی ہو۔ اول تو مائیں اپنے بیٹوں کو اس طرح مرنے کے لیے بھیج ہی نہیں سکتیں، مائیں اپنی جان تو دے سکتی ہیں مگر اپنے بیٹوں کو اس طرح مرنے کے لیے روانہ نہیں کر سکتیں۔لیکن فرض محال اگر ایسا مان بھی لیا جائے تو کیا مرنے کے لیے جانے والے شدت پسند کی ماں اسے مرنے سے پہلے کلمہ طیبہ پڑھنے کی ہدایت نہ کرتی؟ کوئی قرآنی سورۃ پڑھنے کی تلقین نہ کرتی؟ مگر یہاں تو ماں اپنے بیٹے کو مرنے سے پہلے ’’کھانا‘‘کھانے کی نصیحت کر رہی تھی۔زی ٹی وی کی اس صناعی سے پاکستان کے خلاف تو کچھ ثابت نہیں ہو سکا البتہ بھارتیوں کی بھوک ضرور ثابت ہو گئی ہے، یہ ضرور ثابت ہو گیا ہے کہ ان کے ذہن میں ہر لحظہ صرف ’’کھانا‘‘ ہی سمایا رہتا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک کال ریکارڈ کرنے کے لیے بھی ان کے سکرپٹ میں کھانا ہی غالب رہا۔ حالانکہ ’’کھانا‘‘ اس وقت ہمارے حکمرانوں کا ٹریڈ مارک ہے۔
کچھ حقائق ہیں جن کا تجزیہ کیا جائے تو پٹھان کوٹ حملہ بھی ممبئی حملے کی طرح خود بھارت سرکار یا اس کے اداروں ہی کا شاخسانہ لگتا ہے۔ جس طرح اس وقت کی بھارتی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف ایک بل پاس کروانے کے لیے ممبئی حملے کروائے اور ملبہ پاکستان پر ڈال دیا۔ بعد میں خود بھارتی محکمہ داخلہ کے ایک سابق افسر نے اس کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ پٹھان کوٹ ایئربیس رہائشی و کاروباری علاقے میں موجود ہے جس کے اردگرد مارکیٹیں موجود ہیں، عموماً یہ مارکیٹیں رات گئے تک کھلی رہتی ہیں مگر جس دن ایئربیس پر حملہ ہوا اس دن فوج نے دکانیں سرشام ہی بند کروا دیں۔ ایئربیس کے راستے میں جگہ جگہ بیریئر لگے ہوئے تھے، اس روز وہ بیریئر بھی ہٹا دیئے گئے تھے۔ بھارتی فوج نے یہ دو اقدامات کیوں کیے؟حالانکہ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایئربیس پر حملے کی خفیہ اطلاعات موجود تھیں، مگر بھارتی فوج نے سکیورٹی سخت کرنے کی بجائے پہلے سے لگے بیریئر بھی ہٹا دیئے۔دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ دہشت گردوں نے ایک ڈی ایس پی سے گاڑی چھینی اور اسے بھی ساتھ لے گئے مگر کچھ گھنٹوں بعد اسے صحیح سلامت چھوڑ دیا۔ یہ کیسے دہشت گرد تھے جو بھارتی سکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے گئے تھے اور ایک سکیورٹی افسر کو اغواء کر لینے کے بعد اسے زندہ چھوڑ دیا؟دہشت گردی و اغواء کے واقعات ہمارے یہاں بھی ہوتے رہتے ہیں۔ آج تک دہشت گردوں نے ہمارے کسی مغوی کو تو نہیں چھوڑا، خاص طور پر ہمارے سکیورٹی اہلکاروں کو۔ اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کے دہشت گرد بھی خاصے ’’رحم دل‘‘ واقع ہوئے ہیں، اچھا ہو اگر وہ ہم سے دہشت گردوں کا تبادلہ کر لے تاکہ کچھ دن ہم ایسے رحم دل دہشت گردوں سے لطف اندوز ہو سکیں اور بھارت جان سکے کہ فی الحقیقت دہشت گرد ہوتے کیا ہیں۔
نریندر مودی کا ’’اچانک‘‘ دورۂ پاکستان بھارت کے کچھ حلقوں کو قطعاً پسند نہیں آیا تھا۔ نریندرمودی کو بھارتیوں نے جو بھاری اکثریت سے وزیراعظم بنایا تھا اس کی صرف دو وجوہات تھیں، ’’مسلم دشمنی اور پاکستان دشمنی۔‘‘مگر جب وہ اپنے ’’مینڈیٹ‘‘کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ’’بظاہر‘‘ محبت کی پینگیں بڑھانے لگے تو انہیں مینڈیٹ دینے والوں کی ناراضگی لازمی تھی۔ہم بھارتی میڈیا کی طرح کوئی بھی حتمی فیصلہ نہیں سنانے کے قائل نہیں مگر اپنے تجزئیے کی بنیاد پر بھارت سرکار سے ایک درخواست کرتے ہیں کہ وہ سانحہ پٹھان کوٹ کی تحقیقات میں اس پہلو کو بھی زیرغور لائیں کہ کہیں سانحہ پٹھان کوٹ پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے کسی اندرونی بھارتی گروہ یا ادارے کی سازش تو نہیں۔اس کے علاوہ تحقیقات میں جو بھی معلومات بھارت کو حاصل ہوں ان کا تبادلہ پاکستان کے ساتھ کرے اور اگر دہشت گردوں کو فی الواقعی کوئی تعلق پاکستان سے جڑااور بھارت نے اس کے ثبوت فراہم کر دیئے تو یقین رکھے کہ پاکستان ان شرپسندوں کے خلاف کارروائی کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گا، کیونکہ پاکستانی حکومت اور فوج دونوں اس وقت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں اور یہ بھی نہیں چاہتیں کہ پاک سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہو۔

کیا ہمارے قسمت میں یہی لکھا ہے

بد قسمتی سے ہمارے وزیرخزانہ اسحق ڈار صاحب جب بھی میڈیا سے مخاطب ہو تے تو اسکا کہنا ہوتا ہے کہ ماضی میں پاکستان کے زر مبادلہ کے ذ خائر 10 ارب ڈالر تھے اور اب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ڈہائی سالہ دور اقتدار میں خا رجہ سکے کے ذخائر 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔یہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کی خوش قسمتی ہے کہ دنیا میں تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ حد تک کمی واقع ہوئی مگر اسکے باوجود بھی نواز شریف حکومت تیل کی قیمتوں میں کمی سے غریب عوام کو کوئی فائدہ نہ دے سکے۔ اور بد قسمتی سے پاکستان میں غریب پستے اور رُلتے جا رہے ہیں۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں غُربت کی لکیر سے نیچے یعنی جسکی آمدنی200۱ روپے ، یا اس سے کم ہے انکی تعداد3 1کروڑ سے زیادہ ہے۔ایک طر ف اگر بے روز گاری میں اضافہ ہو رہا ہے نوجوان بچے اور بچیاں بے اے ، ایم اے ، ایم ایس سی، انجینیر نگ اور میڈیکل کی ڈگریاں ہاتھ میں پکڑ کر نوکری کے لئے در بدر کی ٹھو کریں کھا رہے ہیں تو دوسری طر ف مہنگائی نے پاکستانی غریب عوام کا جینا دو بھر کیا ہے۔ سکول اور کالج کی فیسوں سے لیکر علاج معالجے کی سہولیات اور غریب پڑھے لکھے بچے بچیوں کے لئے نو کری تک وہ کونسا کام ہے جو غریب اور پسے ہوئے عوام کے بس میں ہے اور جسکی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ایک بچے کی پہلی جماعت سے لیکر کالج اور یونیور سٹی لیول تک بچے پر غریب والدین کا کتنا خرچہ ہوتا ہے ، مگر اسکے باوجود بھی بچے بچی دو ٹکے کی نو کری کے لئے در بدر کی ٹوکریں کھاتے رہتے ہیں۔ وطن عزیز میں والدین غُربت ، تنگدستی ، معاشی اور مالی مسائل کی وجہ معصوم بچوں کو قتل کرتے ور خود خود کشی کرنے پر مجبور ہیں۔ انکی مثالیں روزانہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر د یکھی جا سکتی ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں کو تو پاکستان میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آرہا ہے۔ میں مغرب کی نماز کے بعد نیو کٹا ریاں ، سکتھ روڈ،، کمر شل مار کیٹ ، کالج چوک کا چکر لگا تاہوں ۔ ایک مربع کلو میٹر کے فا صلے میں تین جگہوں پر سینکڑوں کی تعداد میں مزدور اور غریب لوگ الصدیق میرج ہال، الحمید میرج ہال اور کمر شل ما رکیٹ کے بالکل قریب با غبان دستر خوان پر قطاروں میں کھڑے ہوکر مُفت راشن کا کھڑے ہوکر گھنٹوں گھنٹوں انتظار کرتے ہیں۔ ان میں نوجوان بچے، بچیاں ، مزدور ، عورتیں اور مر د کھڑے ہوکر اپنے بھاری کا انتظار کرتے ہیں۔ با قی غریب میونسپل کا رپو ریشن کے کچرے کے ڈرموں سے چیزیں نکال نکال کر کھا رہے ہوتے ہیں ۔ 1992 میں، جب میں بنگلہ دیش اور بھارت کے دورے پر گیا تھا تو وہاں کچرے کے ڈرموں میں جب لوگوں کو خوراکی چیزوں کو تلا ش تلاش کرتے دیکھتا تو مُجھے انکی غُربت پسماندگی پر بڑی حیرانگی ہوتی ، کیونکہ اُس وقت پاکستان میں غُربت کا وہ حال نہ تھا، جو بنگلہ دیش ، بھارت یا جنوبی ایشیاء کے دوسرے ملکوں میں تھا۔ وہ تو ترقی کرتے ہوئے ہم سے کافی نکل گئے اور ہم پیچھے کی طر ف آنے پر مجبور ہیں ص۔ بد قسمتی سے ہمارے حکمران پاکستانی عوام کے دشمن ہیں ۔ میرے خیال میں دنیا کے کسی خطے میں ایسے ظالم اور جابر حکمران نہیں ہونگے جو پاکستان کے ہیں۔ بد قسمتی سے دنیا میں مختلف چیزوں کی قیمتوں میں کمی واقع ہو رہی ہے جب پاکستان میں اس میں کمی کے با وجو د بھی اضا فہ ہورہا ہے۔ سال 2015 میں دنیا بھر میں خام تیل ، خو ر دنی پام آئل، گندم ، چینی سمیت اکثر چیزوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے با وجود پاکستان میں صا رفین کو مہنگائی سے نجات نہ مل سکی بلکہ اسکے بر عکس بعض اشیاء کے نر خ بڑھ گئے اور کم آمدن والے طبقے کو تو مہنگائی نے کچل کر ہی رکھ دیا، اس وقت پاکستان میں پٹرول عالمی ما رکیٹ سے کم و بیش 44 روپے لیٹر اور چینی 20 روپے کلوگرام مہنگی ہے ، جبکہ ماش کی دال کی قیمتیں تو مُر غی کی گو شت سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ چائے کی پتی کے نرخ سال 2015 میں 230 روپے فی 950 گرام بڑھ گئے ہیں، جبکہ گذشتہ ایک سال میں مسور کی دال 11 روپے، چنے کی دال 47 روپے، کابلی چنا 28 روپے اور کالا چنا 32 روپے فی کلو گرام مہنگا ہو گیا ہے۔آٹے کی قیمت عالمی رحجان کے با وجود بھی پاکستان میں 6 روپے فی کلو بڑھ گیا۔ سر کاری اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی کی رفتار تا ریخ کی دھیمی ترین سطح کو چھو رہی ہے تاہم کھلے با زار میں اشیاء صرف بد ستور مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہے۔عالمی بازار میں پٹرول کی قیمت ایک سال کے دوران 1.68ڈالر فی گیلن سے کم ہوکر 1.21ڈالر فی گیلن کی سطح پر پہنچ گئی۔ اور اس طر ح عالمی ما رکیٹ میں پٹرول کی قیمت 33 روپے فی لیٹر بنتی ہے تاہم پاکستان میں پٹرول 76 روپے فی لیٹر کے حساب سے فروخت ہوتی ہے۔ عالمی ما رکیٹ میں چینی کی قیمت میں کمی کی با وجود ملک کی سب سے بڑی ہول سیل اور پر چون ما رکیٹ کراچی میں سال بھر کے دوران چینی کی خوردہ قیمت میں 5 روپے کا اضافہ ہوا۔ سال کے آ غاز پر بین الاقوامی ما رکیٹ میں چینی 33سینٹ یعنی 35 روپے فی کلوگرام تھی جو اگست میں کم ہوکر 29 سینٹ کی سطح پر آگئی، تاہم چینی 65روپے اور اب 55 روپے فی کلو گرام فروخت کی جارہی ہے۔
چینی کی طر ح پاکستان میں گندم اور آٹے کی قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ انٹر نیشنل ما رکیٹ میں گندم کی قیمت 233 ڈالر فی میٹرک ٹن سے کم ہوکر 158 ڈالر ہوگئی مگر بد قسمتی سے پاکستان میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں کمی کے بجائے اضافے اور مہنگائی کا رُحجان رہا۔ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت 40 روپے سے بڑھ کر 45 روپے فی کلو گرام، فائن آٹے کی قیمت 45روپے سے بڑھ کر 48 روپے فی کلو گرام ہوئی تھی۔سال بھر کے دوران مختلف اقسام کی دالوں کی قیمت میں بھی کوئی نمایاں کمی نہ ہوسکی۔ مسور کی دال 135 روپے سے بڑھ کر 145 روپے کلو، مسور ثابت122 سے بڑھ کر 127 روپے کلو تک پہنچ گئی ، مونگ کی دال 150 سے بڑھ کر 160 روپے اور ما ش کی دال 156روپے سے بڑھ کر تا ریخ کی بلند ترین سطح یعنی 270 روپے تک پہنچ گئی تھی۔ایک سال کے دوران مہنگے با سمتی چاول میں 25سے لیکر35روپے فی کلو گرام کمی ہوئی تھی تاہم عام ما رکیٹ میں چاول کی قیمتوں میں 5سے 6روپے کمی ہوئی۔انٹر نیشنل ما رکیٹ میں خشک دودھ کی قیمت میں سال بھر کے دوران 15 فی صد کمی کے با وجود پاکستان میں خشک دودھ کی قیمتوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ اور اسی طر ح خشک دودھ کا 910 گرام کا پیکٹ بد ستور 720 روپے کا اور چائے کے لئے خا ص دودھ بدستور 700 روپے کلو فروخت ہو رہا تھا۔جبکہ پیکٹ ٹیٹرا پیک یعنی پیکٹ میں دودھ 110رو پے کا پیٹ فروخت ہوتا رہا۔عالمی ما رکیٹ میں خور دنی تیل کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران 25فی صد تک کمی وا قع ہوئی مگع وطن عزیز میں اسکو بھی مہنگا فروخت کیا جاتا رہا۔ صابن اور ڈیٹرجنٹ کے خام میٹیڑیلمیں نما یاں کمی کے با وجود صابن اورڈیٹرجنٹ بنانے والے کمپنیوں نے بھی قیمتیں بر قرار رکھیں اور صا رفین کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ جن ملک کے حکمرانوں کا یہ حال ہو اس سے ہم کیا توقع کر سکتے ہیں۔

ہندستانی پالیسیاں اور پاکستان

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر میں ریاستی پالیسیاں اور بین ریاستی تعلقات اخلاقیات اصولوں اور انصاف اور عدل یا ذاتی کیمسٹری پر مبنی نہیں ہوتے ہیں کم از کم آج کی دنیا میں تو بالکل بھی نہیں ریاستوں کے مابین تعلقات کی بنیاد ہی باہمی مفادات پر مبنی ہوتی ہے جہاں ایک ہی اصول کام کرتا ہے اور وہ ہے مفاد دنیا میں بین ریاستی تنازعات کی تاریخ خاصی طویل ہے ان میں سے کئی تنازعات اب بین الاقوامی درجہ پا چکے ہیں جن میں فلسطین اور کشمیر کے معاملات سر فہرست ہیں اور دونوں تنازعات کی بنیاد ہی دھونس دھاندلی اور ریاستی جبر ہے جس میں انسانی حقوق کی شدید پامالیاں ہو رہی ہیں عصمتیں لٹ رہی ہیں نسلیں تباہ ہو رہی ہیں مختلف فورموں پر دھواں دھار تقاریر ہوتی ہیں لیکن ہوتا کیا ہے نشستن گفتن برخاستن سے بات آگے نہیں بڑھتی اس لئے کہ فلسطینی ریاست کے وجود میں آنے سے مغرب اور امریکہ دیکھیں گے کہ اس سے مغرب کو کیا مفاد حاصل ہوگا جہاں ایک غاصب قوت نے مقامی لوگوں زمین اور وسائل پر بزور قبضہ کر رکھا ہے اور مقامی لوگ عملی طور اجتماعی جیل کی سی زندگی گزار رہے ہیں جہاں خوراک ادویہ تک اسرائیلی مرضی کی مرہون منت ہے اسی طرح کشمیر کی آزادی سے مغرب امریکہ اور دوسری طاقتور قوموں کیا فائدہ ہوگا اب اگر حق و انصاف کی بات ہو تو کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فوری طور پر کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل ہو جانا چاہئے جہاں ہندوستان نے سات لاکھ سے زیادہ فوج کے ذریعے بزور قبضہ کر رکھا ہے لیکن اس میں مغرب کا کوئی مفاد پورا نہیں ہوتا بلکہ جب تک یہ مسئلہ زندہ رہے گا خطے کے ممالک کو اپنا اسلحہ اور فوجی ٹیکنالوجی بیچتے رہیں گے ان کی اسلحہ ساز فیکٹریاں چلتی رہیں گی ان ملکوں ایمپلائمنٹ بڑھتی رہے گی جس کی مغرب اور امریکہ کو ہمیشہ ضرورت رہتی ہے لیکن اگر معاملہ بڑی طاقتوں کے مفاد کا ہو تو مشرقی تیمور کو انڈونیشیا سے بزور قوت کاٹ کر علیحدہ ملک بنا کر اپنے ایک پالتو غنڈے شنانہ گوش ماؤ کے حوالے کر دیا جاتا ہے جو آسٹریلیا کا ایک طفیلی ملک بن جاتا ہے اسی طرح سوڈان کے جنوبی علاقوں میں سازش کے ذریعے علیحدگی کی تحریک شروع کروا کر اسلامی ملک سوڈان کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا مغربی oil کمپنیاں مہینوں میں وہاں کے مقامی وسائل لوٹ کر رفوچکر ہو گئیں اور اب لٹنے کے بعد جنوبی سوڈان کی سیاسی قیادت پھر سے شمالی سوڈان میں ضم ہونا چاہتی ہے بندر اپنا کام دکھا گئے اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت اب آئیے دیکھیں کہ انڈیا کے کیا پلان ہیں اور انڈین قیادت کا مسئلہ کیا ہے تاریخی طور پر حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کبھی بھی اتنی بڑی اکائی کی صورت کوئی ملک نہیں رہا خاص طور پر ہندو کبھی بھی مقتدر نہیں رہا ما سوائے چھوٹے چھوٹے راجواڑوں کی صورت میں وہ بھی مسلمان حکمرانوں کے باجگزار بن کر تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی وحدت کی حکمرانی ملنے کے بعد موجودہ انڈین حکمرانوں میں کچھ نفسیاتی عوارض بھی در آئے ہیں جس نے ان کے اندر اپنے سابق حکمران طبقے سے بدلہ لینے کا جنون سوار کر دیا ہے اور یہ سابق حکمران طبقہ پاکستان کی صورت میں موجود ہے اس غصے اور نفرت کا اظہار آں جہانی سابق انڈین وزیراعظم شریمتی اندرا گاندھی مشرقی پاکستان کی علیحدگی موقع پر کر چکی ہیں یہ نفسیاتی زخم خاصا گہرا ہے جس کے مندمل ہونے میں شاید وقت لگے لیکن یہ نفسیاتی معاملہ یوپی راجستھان بھار اورگجرات تک محدود ہے زیادہ شدت ہندی بولنے والے لوگوں میں ہے لیکن اس کے ساتھ کئی اور معاملات بھی مربوط ہیں جس سے ہندوستانی قیادت اغماز برت رہی ہے جیسا کہ عرض کیا حا چکا ہے کہ ہندوستان کبھی بھی ایک اکائی کی صورت میں ملک نہیں رہا اس لئے ہندوستان کے باسیوں کی نفسیات ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہے مثلا اگر آپ مدھیہ پردیش سے جنوب کی طرف جائیں تو ہندوستانی ریاست کا تصور خاصہ کمزور پڑتا جاتا ہے اور بتدریج جنوب کی طرف کمزور تر ہوتا جا تا ہے جہاں کشمیر کے معاملے سے لوگ قطعی لا تعلق ہیں وہ پاکستان اور دوسرے پڑوسیوں سے کاروباری تعلقات چاہتے ہیں غیر کاروباری لوگ ہندوستانی ریاست کا حصہ بنکر رہنا ہی نہیں چاہتے corridor red ایک پوری بیلٹ ہے جو شمال میں گڑوال سے شروع ہو کر جنوب اور جنوب مشرق تک جاتی ہے جہاں ہندوستانی حکومت کی رٹ بالکل نہیں ہے آسام ناگا لینڈ بوڈو قبائل ہندوستانی ریاست کو نہیں مانتیاور بہت سے قبائل ایسے ہین جن کو یہ تک پتہ نہیں کہ دہلی کہاں ہے اور کوئی مقتدرہ وہاں موجود ہے جس کی domain میں یہ علاقہ ہے یا ہم اس کا حصہ ہیں اسی طرح کوئی پنجابی اپنے آپ کو ہندوستانی کہلا کر فخر محسوس نہیں کرتا وہاں ہر شخص فخر سے اپنے آپ کو پنجابی کہلاتا ہے اور غالب اکثریت ہندوستان سے علیحدگی کی سوچ رکھتی ہے اور کشمیر تو عالم آشکارا حقیقت ہے ۔( ۔۔۔۔۔۔جاری ہے)

Google Analytics Alternative