Home » Author Archives: Admin (page 3625)

Author Archives: Admin

ٹماٹو کیچپ کے حیرت انگیز فوائد

لندن:پاکستان میں دن با دن بیوٹی کریموں کا استعما ل بڑھ رہا ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک میں حسن و خوبصورتی کے لیے ٹماٹو کیچپ کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کے حیرت انگیز نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ ٹماٹو کیچپ کا فیس ماسک: ٹماٹروں میں لائسوپین نامی طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ پایا جاتا ہے جو دھوپ سے جھلسنے والی جلد کی مرمت کرتا ہے اس میں وٹامن اے ، سی اور کے بھی ہوتا ہے جو جلد کو نرم رکھتے ہوئے اسے مزید تباہی سے بچاتا ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ ٹماٹروں کو پکانے سے لائسوپین کی مقدار مزید بڑھ جاتی ہے اس کے خاص اجزا جلد میں موجود کولاجن کی پیداوار بڑھاتے ہیں اور جلد تروتازہ اور خوبصورت لگتی ہے۔ یاد رہے کہ بازار کے ٹماٹو کیچپ میں سرکہ ہوتا ہے جو اس کے فائدے کو ختم کردے گا اسی لیے جوسر میں ٹماٹر کا رس نکال کر استعمال کرنا بہت مفید ہے۔ ٹماٹر کے رس کو 15 منٹ چہرے پر ماسک کی طرح لگائیں اور ٹھنڈے پانی سے چہرے کو دھولیں کچھ ہی دنوں میں آپ کو حوصلہ افزا نتائج ملیں گے۔ بالوں کے لیے کنڈیشنر: ٹماٹر کے کیچپ میں کئی طرح کے تیزاب موجود ہوتے ہیں جو بالوں کی جڑوں میں جذب ہوکر بالوں کو چمکدار بناتے ہیں لیکن ان سے بالوں میں خشکی بھی پیدا ہوسکتی ہے اور وہ سر کی کھال میں کھنچاؤ پیدا کرسکتی ہے۔ 5 منٹ تک ٹماٹو کیچپ اپنے بالوں میں لگائیں اور اس کے بعد کسی اچھے شیمپو سے اسے دھولیں اس سے آپ کے بال چمکدار ہوجائیں گے۔ ٹماٹو کیچپ سے اسٹیل کے برتن چمکائیں: جن تانبے کے سکوں اور برتنوں کا رنگ متاثر ہوتا ہے ٹماٹو کیچپ میں موجود تیزاب سے پرانے سکوں کو بھی چمکایا جاسکتا ہے اس کے علاوہ فرائی پین کے اندرونی حصے کو صاف کرنے کے لیے بھی ٹماٹو کیچپ کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ڈس ایبلڈ کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستان نے بھارت کو ہرا کر فائنل میں جگہ بنا لی۔

ڈھاکا: پانچ ملکی ڈس ایبلڈ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستان نے بھارت کو 43رنز سے کچل کر فائنل میں رسائی پالی، لیفٹ آرم اسپنر فیاض احمد نے ہیٹ ٹرک کا کارنامہ انجام دیا، افغانستان نے میزبان بنگلہ دیش کو 3 وکٹ سے مات دے دی۔ تفصیلات کے مطابق ڈھاکا میں جاری ایونٹ میں پاکستان کیخلاف بھارتی سائیڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا، گرین شرٹس نے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مقررہ اوورز میں 6 وکٹیں گنواکر174 رنز اسکور بورڈ پر جوڑے، کپتان حسنین عالم نے ساتھی اوپنر مطلوب حسین کے ہمراہ ففٹی پلس کا آغاز فراہم کیا، حسنین عالم نے25 گیندوں پر 39رنز اسکور کیے۔ ان کی اننگز میں 6 چوکے اور ایک چھکا شامل رہا، مطلوب نے13رنز اسکور کیے، ریحان غنی مرزا نے 25 گیندوں پر 34رنز بنائے،دانش احمد 15بالز پر26رنز بنانے میں کامیاب رہے، دنیش کمار اور دیشارتھ نے 2،2 وکٹیں لیں، جواب میں لیفٹ آرم اسپنر فیاض احمد کی تباہ کن بولنگ کے سامنے بھارتی ٹیم 131رنز پر آؤٹ ہوگئی، یش ناگی 26،انسول 24 اور کرونل 20رنز بناکر کچھ مزاحمت کرپائے، فیاض نے ہیٹ ٹرک سمیت14رنز کے عوض4 کھلاڑیوں کو پویلین چلتا کیا،یہ انٹرنیشنل ڈس ایبلڈ کرکٹ ٹورنامنٹ کی تاریخ میں بھی پہلی ہیٹ ٹرک شمار ہوئی، راؤ جاوید اور نہارعالم نے 2،2 وکٹیں اپنے نام کیں۔ واضح رہے کہ ون ڈے انٹرنیشنل میں بھی دنیا کی پہلی ہیٹ ٹرک بنانے کا اعزاز پاکستان کے سابق فاسٹ بولر جلال الدین کو حاصل ہے، گذشتہ روزدوسرے میچ میں افغانستان نے بنگلہ دیش کو3 وکٹ سے ہرادیا، میزبان ٹیم نے مقررہ اوورز میں6 وکٹ کے نقصان پر119رنزبنائے، افغان بولرز نے آغاز پر نپی تلی بولنگ کرتے ہوئے ابتدائی3 اوورز میں میزبان ٹیم کے 2 کھلاڑی آؤٹ کیے، جس کے بعد ہر اوور کے ساتھ رنزبنانے کی رفتارکم ہوتی گئی۔ پاورپلے میں بنگلہ دیشی ٹیم محض18رنز اسکور کرپائی، امین الدین نے کچھ ہمت دکھاتے ہوئے 26کی اننگز کھیلی، شاہریا شمیم نے47 گیندوں پر 56رنزبٹورکرٹیم کو سنبھالادیا، اپربوکمار 19 رنز بناکرنمایاں رہے، محمود اللہ نے2 کھلاڑیوں کو قابوکیا، جوابی اننگز میں افغان ٹیم جارحانہ موڈ میں دکھائی دی اور دوسرے اوورمیں20 رنزبٹورے، حسیب اللہ متنازع انداز میں رن آؤٹ ہوئے، افغانستان نے ہدف 7 وکٹ پرحاصل کرلیا، 32رنز اسکور کرنے والے محمود اللہ کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیاگیا۔

بھارت کا مقصد اچانک حملہ کرنا تھا, کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کے عزائم سامنے آ گئے

اسلام آباد: بھارت کی پاکستان کیخلاف کی گئی جنگ کی منصوبہ بندی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کے عزائم سامنے آ گئے ہیں جس کا مقصد اچانک حملہ کرنا تھا۔کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کا بھارتی نظریہ 2004ء میں بھارتی جرنیل سندر جی کے اس منصوبے کی ناکامی کے بعد سامنے آیا جس کے تحت وہ ستلج کے جوب سے حملہ کر کے افواج پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اور پھر اسے شکست سے دوچار کرنا چاہتے تھے۔کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کے مطابق بھارتی منصوبہ یہ ہے کہ بہت سارے پیمانے پر عسکری کارروائیوں کا آغاز بیک وقت کیا جائے اور حملہ کرنے والی بھارتی فوج ہر حوالے سے مسلح و تیار ہو۔بھارتی جنگی ماہرین کے خیال میں بیک وقت کم از کم 8 بڑے محاذ کھولنا ضروری ہے تاکہ پاک فوج کو تقسیم کیا جا سکے ، اس طرح بھارتی بحریہ ساحلی علاقوں سے حملہ آور ہوگی۔بھارت کے اس جنگی نظرئیے کولڈ سٹارٹ کا اہم پہلو اچانک اور بھرپور حملہ کر کے مخالف کو چونکا دینا ہے، منصوبہ بندی کے تحت ایسے علاقوں کو نشانہ بنایا جائے گا جو فوجی اور سول حوالے سے زیادہ اہمیت کے حامل نہ ہوں تاکہ پاکستان فوری طور پر ایٹمی آپشن استعمال نہ کرسکے اور روایتی جنگ میں الجھ کر رہ جائے۔بھارتی جنگی نظریئے میں یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ بھارت پاکستان کو کچھ اس طرح نشانہ بنائے گا کہ پاکستان کو جواب میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا جواز نہ مل سکے۔مگر جنرل راحیل شریف نے بھارت کی اس سازشی اور مکارانہ ذہنیت کا “ہم تیار ہیں” کہہ کر ایسا جواب دیا کہ اسے اس طرح کی مہم جوئی سے پہلے سو بار سوچنا پڑے گا.

دھرنےکے بارے شکوک ہیں تو تحقیقات کرالے ، جنرل ظہیر السلام


راولپنڈی: سابق جنرل ظہیر السلام نے کہا کہ اگر کسی کو دھرنے کے بارے شکوک وشبہات ہیں تو وہ تحقیقات کرالے۔ یوم دفاع کی تقریب کے دوران سابق ڈی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرے ہوئے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ اس بارے تحقیقات کرلینی چاہئیں۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

عمران خان چار روزہ نجی دورے پر لندن روانہ

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان چار روزہ نجی دورے پر لندن روانہ ہوگئے۔ پیر کو تحریک انصاف کے ترجمان نے عمران خان کے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان لندن میں بچوں سے ملنے گئے ہیں۔

نوواک جوکووچ کی لگاتار 26ویں فتح

نیویارک: عالمی نمبر ایک نوواک جوکووچ اسپین کے روبرٹو بوٹسٹا کو شکست دے کر یو ایس اوپن کے کوارٹر فائنل میں پہنچنے کے ساتھ ساتھ لگاتار 26ویں گرینڈ سلیم کے کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے ہیں۔

2011 کے یو ایس اوپن چیمپیئن نے 6-3 کی فتح کے ساتھ پہلا سیٹ اپنے نام کیا لیکن دوسرے سیٹ میں ہسپانوی حریف نے انہیں اپ سیٹ کرتے ہوئے 4-6 سے فتح اپنے نام کی۔

تاہم اس کے بعد جوکووچ نے بوٹسٹا کو کوئی موقع نہ دیا اور اگلے دونوں سیٹ 6-4 اور 6-3 سے جیت کر لگاتار نویں مرتبہ یو ایس اوپن کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی۔

کوارٹر فائنل میں ان کا مقابلہ ایک اور ہسپانوی حریف فلسیانو لوپیز سے ہو گا۔

ادھر خواتین کی عالمی نمبر ایک سرینا ولیمز نے بھی کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی ہے جہاں ان کا مقابلہ اپنی بہن اور سابقہ چیمپیئن وینس ولیمز سے ہو گا۔

سرینا نے اپنی شاندار فارم کا سلسلہ برقرار رکھا اور امریکا کی ہی 19ویں سیڈ میڈیسن کی کو 6-3 اور 6-3 سے شکست دے کر ٹائٹل کے ساتھ ساتھ کیلنڈر گرینڈ سلیم کی جانب پیش قدمی برقرار رکھی۔

ان کی بہن اور 23ویں وینس ولیمز نے 152ویں سیڈ ایسٹونیا کی کوالیفائر اینٹ کونٹاویٹ کو باآسانی 6-2 اور 6-1 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کی جہاں ان کا سامنا اپنی بہن اور عالمی نمبر ایک سرینا سے ہو گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ پانچ سال سے گرینڈ سلیم مقابلوں میں وینس کی کارکردگی اس معیار کی نہیں رہی جس کے لیے وہ ماضی میں مشہور تھیں اور یہی وجہ ہے کہ 2010 کے یو ایس اوپن کے سیمی فائنل میں رسائی کے بعد سے وہ کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھا سکیں۔

اگر سرینا یہ گرینڈ سلیم جیت جاتی ہیں تو وہ سال کے چاروں گرینڈ سلیم مقابلے جیت کر کیلنڈر گرینڈ سلیم مکمل کر لیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے ٹائٹلر کی تعداد 22 تک پہنچا کر جرمنی کی اسٹیفی گراف کا ریکارڈ برابر کردیں گی۔

ترکی :ایلان کو دیکھ کر اپنا بیٹا یاد آیا, پولیس افسر

استنبول: گذشتہ ہفتے ترکی کے ساحل پر شامی بچے ایلان کردی کی لاش کو دیکھ کر جہاں ہر آنکھ اشک بار ہوئی، وہیں اس بچے کو گود میں اٹھانے والے ترکی کے پولیس افسر کو بھی اپنے بیٹے کا خیال آیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکی کی ڈوگن نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے محمد چپلق نے بتایا کہ جب انھوں نے اس بچے کی لاش ساحل پر دیکھی تو دعا کی کہ وہ زندہ ہو۔

“جب میں اس بچے تک پہنچا تو میں نے خود سے کہا، اے پروردگار! مجھے امید ہے یہ زندہ ہے، لیکن اُس (ایلان) میں زندگی کے کوئی آثار باقی نہیں تھے، مجھے بہت مایوسی ہوئی”۔

“میرا بھی ایک 6 سال کا بیٹا ہے، جب میں نے اس بچے کو دیکھا تو میرے ذہن میں اپنے بچے کا خیال آیا اور میں نے خود کو اُس بچے کے والد کی جگہ پر محسوس کیا، اس اداس اور المناک منظر کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا”۔

پولیس افسر کے مطابق انھیں اس تصویر کے بارے میں علم نہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پھیل گئی، “میں بس اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا”۔

 

ایلان کردی نامی بچہ اُن 12 شامی پناہ گزینوں میں سے ایک ہے جنھوں نے یونان پہنچنے اور وہاں ایک بہتر زندگی کے حصول کے لیے سمندر میں موت کا سفر کیا اور کشتی ڈوب جانے کے باعث جان کی بازی ہار گئے.

یہ تمام مسافر شامی کرد تھے جنھوں نے گذشتہ برس اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے شدت پسندوں کی وجہ سے ترکی میں پناہ لی تھی.

3 سالہ ایلان، اس کے 4 سالہ بھائی غالب اور والدہ کی تدفین گذشتہ جمعے کو شام کے علاقے کوبانی میں کردی گئی۔

بچوں کے والد عبداللہ کردی حادثے میں محفوظ رہے اور انھوں نے شام میں اپنے آبائی علاقے کوبانی میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ترکی سے بذریعہ سمندر یونان جانے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور کشتیاں ڈوبنے کے واقعات بھی میڈیا پر آتے رہتے ہیں، لیکن ایلان کردی کی المناک موت نے یورپی عوام کو ہلا کر رکھ دیا، جس کے بعد یورپی یورپین پر اس حوالے سے اقدامات کرنے پر دباؤ ڈالا گیا۔

مستقبل کی منصوبہ بندی کیسے اور کب کی جائے ، رہنمائی حاصل کرنے کے لیے پڑیئے

کریئر کی منصوبہ بندی، یعنی آپ کس تعلیمی شعبے کو اپنانا اور نتیجتاً کس شعبے میں کام کرنا چاہتے ہیں، کس طرح کی جائے، اس کا سب سے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ آپ کسی پروفیشنل کریئر کونسلر سے رابطہ کریں جو آپ کی اس حوالے سے رہنمائی کرے۔ لیکن پاکستان میں کریئر کونسلرز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ میری ذاتی معلومات کے مطابق (لاہور میں) کوئی بھی کریئر کونسلر ذاتی طور پر کام نہیں کر رہا۔ کچھ تعلیمی اداروں نے اپنے طور پر کریئر کونسلرز کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ لیکن اگر آپ کو خود یا اپنے بچے کے لیے کسی کریئر کونسلر کی تلاش ہے تو آپ کو شاید مایوسی ہوگی۔

کریئر پلاننگ کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ خود وہ طریقہء کار اپنائیں جو پروفیشنل کریئر کونسلرز اختیار کرتے ہیں۔ اس طریقہء کار سے آپ زیادہ آسانی اور زیادہ بہتر طور پر تعین کر سکتے ہیں کہ بطور طالب علم خود آپ کے لیے یا بطور والدین آپ کے بچے کے لیے کون سا شعبہ زیادہ فائدہ مند ہے۔

اور یاد رکھیں کہ آپ جو بھی منصوبہ بندی کریں، اس کو لازمی کاغذ پر (Black and White) درج کریں تاکہ بعد میں آپ کو رزلٹ حاصل کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے میں آسانی ہو۔

طلبہ یا والدین کو کریئر پلاننگ کے لیے مندرجہ ذیل امور کو مدِ نظر رکھنا چاہیے۔

1: ذہانت کا امتحان (آئی کیو ٹیسٹ)

2: رجحان /مزاج

3: دلچسپی

4: معاشی حالات

5: صنف

6: دستیاب تعلیمی مواقع

1: بنیادی ذہانت/آئی کیو لیول کو ٹیسٹ کرنا: اس ٹیسٹ میں کسی بھی انسان کی ذہنی صلاحیتوں کی سائنسی بنیاد پر پیمائش کرنا مقصود ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ طالب علم مطلوبہ شعبے میں جانے کی بنیادی قابلیت رکھتا ہے یا نہیں، (ویسے آپ کو بطور والدین اپنے بچے کے بارے میں اور ہر طالب علم کو خود اپنے بارے میں زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ذہنی صلاحیت کتنی ہے اور اس کو اس کورس/شعبے میں داخلہ لینا چاہیے یا نہیں)۔ کریئر کی بہتر منصوبہ سازی کے لیے یہ بنیادی شرط ہے۔

بنیادی ذہانت معلوم کرنے کے لیے بہت سی کتابیں اردو اور انگریزی زبان میں مارکیٹ میں دستیاب ہیں جن سے آپ استفادہ کر سکتے ہیں۔

اس کا ایک جدید طریقہ آئی کیو ٹیسٹ کا بھی ہے جس سے زیادہ جامع معلومات مل جاتی ہے۔ آج کل آئی کیو ٹیسٹ کمپیوٹر کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ آئی کیو ٹیسٹ یعنی ذہانت کی جانچ کے مرحلے میں صرف طالب علم کی خواندگی اور حافظے (یاد رکھنے کی صلاحیت) کے معیار کو چیک کیا جاتا ہے۔ لیکن خیال رکھیے کہ یہ ٹیسٹ صرف انگلش میں ہوتا ہے، اس لیے صرف ان بچوں کو جن کی انگریزی بہت اچھی ہے، ان کے لیے ہی یہ طریقہء کار کارآمد ہے۔ اردو میڈیم بچوں کو یا وہ بچے جن کی انگریزی کمزور ہے، ان سے یہ ٹیسٹ نہیں لینے چاہیئں کیونکہ اس سے بچے میں کئی نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ٹیسٹ دینے والے طالب علم کے جتنے زیادہ نمبر ہوں گے وہ اتنا ہی زیادہ ذہین شمار کیا جاتا ہے۔ آئی کیو ٹیسٹ میں عام انسان کے نمبر 70 سے 90 تک ہوتے ہیں۔ جب کہ جو شخص 90 سے زیادہ پوائنٹس لیتا ہے اس کو ذہین تسلیم جاتا ہے۔ اکثر سائنس دانوں کا آئی کیو لیول 120 کے آس پاس ہوتا ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مشہور سائنس دان البرٹ آئن اسٹائن کا آئی کیو 160پوائنٹس ہوگا۔

آئی کیو ٹیسٹ کئی حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں سائنس، زبان، سماجی سوجھ بوجھ، ریاضی، اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت اور زندگی کے مختلف شعبوں میں مہارت کا جائزہ لے کر ایک اوسط تخمینہ لگایا جاتا ہے۔

2: رویہ: عملی زندگی میں کامیابی کے لیے کسی بھی شعبے کے انتخاب کے لیے لازمی ہے کہ طالبِ علم کا رویہ اس شعبے کے بارے میں درست ہو۔ رویے کو تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے کافی محنت درکار ہوتی ہے اس لیے زیادہ بہتر یہ ہے کہ طالب علم کا جو عمومی رویہ یعنی مزاج ہو، اسی طرح کے شعبے کا انتخاب کیا جائے۔ مثلاً جو بچے زیادہ سخت جسمانی مشقت نہیں کر سکتے ان کو پولیس یا فوج کے شعبے کا انتخاب نہیں کرنا چاہے کیونکہ وہاں ساری زندگی سخت ترین جسمانی مشقت، سخت حالات، اور تھکا دینے والے روز مرہ کے معمول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگر کوئی ایسا طالب علم جو مطلوبہ مزاج کا نہ ہو اور وہ پولیس یا فوج کے شعبے کا انتخاب کرتا ہے تو اس کو دو میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا ہوگا: یا تو وہ نوکری چھوڑ دے یا اپنا رویہ یا مزاج تبدیل کر لے۔ چونکہ رویے کو تبدیل کرنا کافی مشکل کام ہے اسی لیے ایسے محکموں میں بھرتی کا عمل مشکل ہوتا ہے تاکہ صرف مطلوبہ رویے/مزاج کے لوگ ہی کامیاب ہوں۔

جو طالب علم اپنا رویہ مزاج تبدیل /درست کرنا چاہتے ہیں ان کو چاہیے کہ ایسا طرز عمل اپنائیں جو ان کا پسندیدہ شعبے کی ضرورت ہو۔ اپنے بارے میں اپنی رائے کو ہمیشہ مثبت رکھیں۔ اور جو شعبہ اختیار کرنا ہے، اس کے کامیاب و ناکام افراد سے ملاقات کریں، اور ان سے ان کی کامیابی اور ناکامی کے اسباب جانیں۔

3: طالب علم کی ذاتی دلچسپی: کسی بھی انسان سے اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں لیا جا سکتا۔ اگر زبردستی کام کروا بھی لیا جائے، تو بھی اس میں وہ نفاست نہیں ہوگی جو دلچسپی سے کرنے پر آتی ہے۔ اسی طرح جب تک کہ طالب علم کی کسی کام میں ذاتی دلچسپی نہیں ہوگی وہ اس شعبے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ اس لیے سب سے زیادہ والدین کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی مرضی بچوں پر مسلط نہ کریں اور کریئر کے انتخاب کے مراحل میں طلبہ کے شوق اور مرضی یعنی ان کی دلچسپی کا خیال رکھیں، ورنہ بعد میں ان کی تمام محنت ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔

یاد رکھیے کہ عملی زندگی میں لوگ اس لیے ناکام نہیں ہوتے کہ ان کے پاس ٹیلنٹ نہیں تھا یا وہ ذہین نہیں تھے، یا ان کے پاس اعلیٰ ڈگری نہیں تھی، بلکہ وہ صرف اور صرف اس لیے ناکام ہوتے کیونکہ وہ دلچسپی کے بغیر بے دلی سے کام کرتے تھے۔

4: خاندان کے معاشی حالات: اپنے لیے یا اپنے بچے کے لیے کسی بھی کورس کا انتخاب کرتے وقت اپنے خاندان کے معاشی حالات کو مدِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ پاکستان میں طلبہ و طالبات کی بہت بڑی تعداد ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کرنا چاہتی ہے، لیکن حکومتی سطح پر ملک بھر میں میڈیکل کالجز اور ان میں سیٹوں کی تعداد شرمناک حد تک کم ہے۔ ہر سال پاکستان بھر سے لاکھوں کی تعداد میں طلبہ و طالبات میڈیکل کالجز میں داخلے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ لیکن ان میں سے صرف چند ہزار کو ہی داخلہ ملتا ہے اور باقی کے لیے صرف نجی کالجز بچتے ہیں جن کی فیسیں بہت زیادہ ہیں۔

کہنے کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں ہے، لیکن کیا یہ بہتر نہیں کہ ایسی صورتحال میں دلبرداشتہ ہونے کے بجائے ایک بیک اپ پلان موجود ہو؟ کئی لوگ ایسے ہیں جو میڈیکل کالجز میں داخلہ نہ ہونے پر ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور کئی کئی سالوں تک کوشش کرتے رہتے ہیں جس میں وقت اور توانائی ضائع ہوتی ہے جبکہ ہر سال داخلہ نہ ملنے پر ہمت میں کمی آتی جاتی ہے۔ جبکہ کئی لوگ اسی ناکامی کو اپنی دوسری دلچسپی والا شعبہ اپنا کر کامیابی میں تبدیل کر لیتے ہیں۔

5: صنف: پاکستانی معاشرے میں خواتین کے بارے میں کافی تنگ نظری موجود ہے اس لیے لڑکیوں کو ان شعبہ جات کا انتخاب کرنا چاہیے جس میں اگر وہ عملی زندگی میں جاب کرنا چاہیں تو ان کو زیادہ مشکلات نہ ہوں۔

خواتین کی جاب کے بارے میں پاکستانی معاشرے کی سوچ کے لیے صرف پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی یہ رپورٹ ہی کافی ہے کہ ’’50 فیصد لڑکیاں میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کبھی جاب نہیں کرتیں۔‘‘ اس میں خاندانی دباؤ اور بہت سارے دیگر عوامل شامل ہیں۔

بعض واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ لڑکیوں نے اپنی پسند سے سول انجینیئرنگ میں ڈگری اچھے نمبروں سے حاصل کی لیکن ان کو اچھی کمپنیز میں جاب نہ مل سکی، کیونکہ نجی کمپنیز کے مالک ان سے کہتے تھے کہ ہم آپ کی جگہ مردوں کو جاب دیتے ہیں تو وہ آفس کے ساتھ ساتھ بطور سائٹ انجینیئر سٹرکوں، پلوں، اور جنگلوں میں کام کر سکتا ہے جبکہ ’’لیڈی سول انجینیئر‘‘ یہ کام نہیں کر سکتیں۔ اگر ہم آپ کو جاب دیتے ہیں تو ہمیں بطور سائٹ انجینیئر ایک اور شخص کو اضافی تنخواہ دینی ہوگی اس لیے معذرت۔

کریئر کونسلنگ کے ماہرین کے مطابق اگر ایسی لڑکیاں سول انجینیئرنگ کے بجائے آرکیٹکچر کا انتخاب کرتیں تو ان کو عملی زندگی میں زیادہ مشکلات نہ ہوتی اور ان کا تعمیرات کا شوق بھی پورا ہوجاتا۔

اسی طرح پرائمری اسکول ٹیچرز کا کام نوجوان لڑکے نہیں کر سکتے۔ وہ کلاس میں چھوٹے چھوٹے بچوں سے بہت جلدی تنگ آ جائیں گے اور فوری ان پر تشدد شروع کر دیں گے۔

6: دستیاب تعلیمی مواقع: اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر طالب علموں اور ان کے والدین کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس وقت کون کون سے تعلیمی شعبہ جات میں وہ داخلہ لے سکتے ہیں۔ مثلاً عمومی طور پر ایف ایس سی پری میڈیکل کرنے والے خواہشمند طلبہ اس کے بعد کے مزید شعبہ جات کے بارے میں لاعلم ہوتے ہیں حالانکہ پاکستان میں ایم بی بی ایس/بی ڈی ایس کے علاوہ فارمیسی، ویٹرنری، میڈیکل سائنسز، بائیو میڈیکل، کیمیکل میڈیکل، ایگریکلچرل، مائیکرو بائیولوجی اور منسلک طبی سائنسز جیسے سائیکاٹری، سائیکولوجی، فزیوتھیراپی وغیرہ کے شعبہ جات میں تعلیم اور روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

اس میں سارا قصور والدین یا طلبہ کا نہیں بلکہ ہماری حکومت کا بھی ہے جس نے کبھی اس سمت میں کوئی کام کیا ہی نہیں اور نہ ہی سرکاری یونیورسٹیوں اور ایجوکیشن کے ذمہ دار محکموں نے اس طرح کا مواد شائع کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے آپ کو خود اپنے لیے محنت کرنا ہوگی اور اپنے لیے دستیاب تمام تعلیمی مواقع تلاش کرنے ہوں گے۔

بہترین تعلیمی شعبے کا انتخاب ہر طالب علم اور اس کے خاندان کے لیے سب سے اہم فیصلہ ہوتا ہے، لہٰذا ہر طالب علم کو اپنی شخصیت، صلاحیت، خواہش، ذہنی استعداد، مالی وسائل اور اپنی عملی ضروریات کو دیکھ کر اپنے لیے بہترین شعبے کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ معاشرے کے ہر فرد کی ضروریات اور مسائل مختلف ہیں، چنانچہ ہو سکتا ہے کہ ایک شعبہ ایک طالب علم کے لیے بہترین ہو لیکن دوسرے طالب علم کے لیے وہ بدتر ہو۔ اس لیے ہر شخص کو اپنے وسائل اور حالات کے مطابق خود فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اس کے لیے کون سا تعلیمی شعبہ بہترین ہے۔

Google Analytics Alternative