Home » Author Archives: Admin (page 3625)

Author Archives: Admin

شعیب ملک اور احمد شہزاد آج کے میچ میں حصہ لیں گے

دبئی: انتخاب عالم نے بتایا ہے کہ شعیب ملک اور احمد شہزاد فٹ ہوگئے اور آج کے میچ میں حصہ لیں گے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کو انگلینڈ کیخلاف دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ سے قبل اچھی خبر ملی ہے۔ پہلے میچ میں زخمی ہوجانے کے باعث باہر ہوجانے والے شعیب ملک اور احمد شہزاد فٹ ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے قومی ٹیم کے مینیجر انتخاب عالم نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دونوں کھلاڑی اب فٹ ہیں اور انگلینڈ کیخلاف آج کے میچ میں شرکت کریں گے۔

وقار یونس کا ریکارڈروی چندرن ایشون نے توڑ ڈالا

ناگپور:روی چندرن ایشون کیلنڈر ایئر میں ٹیسٹ میچ میں پانچ مرتبہ اننگز میں پانچ یا زائد وکٹیں لینے والے ساتویں بھارتی بولر بن گئے ، انہوں نے ایشیائی سرزمین پر ابتدائی 22میچز میں پاکستانی فاسٹ بولر وقار یونس کی زیادہ وکٹوں کا ریکارڈ بھی توڑ ڈالا۔ ایشون نے جنوبی افریقا کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 5کھلاڑیوں کو آوٹ کر کے یہ سنگ میل عبور کیا۔ کپل دیو اور ہربھجن سنگھ کو دو، دو بار ایک برس کے دوران یہ کارنامہ انجام دینے کا اعزاز حاصل ہے۔ وقار یونس نے ایشیائی سرزمین پر ابتدائی 22ٹیسٹ میچز میں 130 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ ناگپور میں جنوبی افریقا کے خلاف جاری تیسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ایشون نے تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کیا ، انہوں نے 5 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ رواں برس پانچواں موقع ہے کہ ایشون نے اننگز میں پانچ یا زائد کھلاڑیوں کو آوٹ کیا جب کہ وہ ایشیائی سرزمین پر پہلے 22ٹیسٹ میچز میں 14بار اننگز میں پانچ یا زائد وکٹیں لے چکے ہیں۔
a

ایکشن اسٹار سیلویسٹر اسٹالن کی فلم”کریڈ“آج ملک بھر میں ریلیز

ہالی ووڈ کے ایکشن اسٹار سیلویسٹر اسٹالن کی فلم” کریڈ“ آج سے پاکستان بھر میں شاندار بزنس کرنے آرہی ہے۔ہدایت کار راین کوگلر کی یہ اسپورٹس ڈرامہ1974 سے شروع ہونے والی ہالی ووڈ کی مقبول سیریز راکی کے سلسلے کو آگے بڑھاتی ساتویں پیشکش ہے۔راکی بلبو نامی ایک عام سے باکسر کی انتھک محنت کے بعد بڑی کامیابی سے شروع ہونے والی اس کہانی میں یہ کردار اس بار بھی ایکشن اسٹار سلویسٹر اسٹالن نبھا رہے ہیں۔اس نئی فلم کی کہانی کا مرکزی کردار راکی کے تیس برس پرانے دوست اور حریف اپولو کریڈ کے بیٹے کا ہے جسے مائیکل بی جورڈن ادا کررہے ہیں۔راکی بلبو سے ٹریننگ کی غرض adonis creed لاس اینجلس سے فلاڈلفیا کا رخ کرتا ہے۔امریکی باکس آفس پر پہلے دن کی شاندار کامیابی اور فلم ناقدین میں پذیرائی حاصل کرنے والی آل ایکشن اورا سپورٹس ڈرامہ فلم کا ہے، آج سے ملکی سینماوں میں افتتاح ہے۔کریڈ پاکستان بھر میں جیو فلمز کے بینر تلے ریلیز کی جارہی ہے۔

بروس لی کی75 ویں سالگرہ

ہانگ کانگ:مارشل آرٹ کی دنیا کے بے تاج بادشاہ بروس لی کے مداح آج ان کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔27نومبر 1940 کو پیدا ہونے والے بروس لی نے دنیا کو ہانگ کانگ کی مارشل آرٹ فلموں سے متعارف کرایا اور موت کے 41 سال بعد بھی ان کا نام شہرت کی بلندیوں پر ہے۔بروس لی سے پہلے کنگ فو فلمیں صرف مارشل آرٹ کے پرستاروں تک محدود تھیں۔ انٹر دی ڈریگن اورفسٹ آف فیوری جیسی فلمیں دینے والے اداکار بروس لی کا انتقال دماغ کی سوجن کے باعث20 جولائی 1971 کو صرف32 سال کی عمر میں ہو گیا تھا۔

کابل اور دہلی ایک بار پھر باہم شیر و شکر

riaz-ahmed

افغان حکومت ملک میں طالبان کی مسلح بغاوت کے خلاف کامیاب جنگ کے لیے بھارت سے چار جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر روسی ساختہ Mi-25 طرز کے لڑاکا ہیلی کاپٹر ہوں گے۔ افغانستان اور بھارت کے مابین دفاعی شعبے میں تعاون کا یہ معاہدہ اپنی مالیت میں بہت بڑا تو نہیں لیکن کابل کی طرف سے اس طرح اپنے لیے اتحادیوں کی تلاش کا یہ عمل ممکنہ طور پر ہمسایہ ملک پاکستان کو ناراض کر سکتا ہے۔
افغان حکومت کا کہنا ہے کہ طالبان کو شکست دینے کے لیے فضائی طاقت کی خصوصا جنگی ہیلی کاپٹروں کی اشد ضرورت ہے جبکہ امریکہ نے افغان فورسز کو کم طاقتور مکڈونلڈ ڈگلس ایم ڈی 530 ہیلی کاپٹر فراہم کرنے پر اتفاق کیا جنہیں ہتھیاروں سے لیس کیا جا سکتا ہے مگر افغان افسر بڑے اور مضبوط روسی ہیلی کاپٹروں کو ترجیح دیتے ہیں۔
2011 میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے سٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے کے بعد بھارت کی طرف سے افغانستان کو یہ جنگی سازوسامان کی پہلی فراہمی ہو گی۔ اس معاہدے پر پاکستان نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔اس سے قبل بھارت افغانستان کو کم طاقت والے ہیلی کاپٹر، گاڑیاں اور فوجی تربیت فراہم کر چکا ہے۔ افغانستان نے بھارت کے علاوہ روس سے بھی فوجی سازوسامان خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔نئی دہلی ہیلی کاپٹروں کو اڑا کر کابل نہیں پہنچا سکتی کیونکہ ایسا کرنے کے لیے انہیں پاکستان کی فضائی حدود میں سے گزرنا پڑے گا۔ اس لیے ان ہیلی کاپٹروں کے حصوں کو علیحدہ کر کے انہیں جہاز کے ذریعے افغانستان پہنچایا جائے گا۔نئی دہلی کو ہیلی کاپٹروں کی منتقلی کے لیے روس سے بھی اجازت لینا پڑے گی کیونکہ یہ ہیلی کاپٹر روس سے خریدے گئے تھے۔
افغانستان کی قومی سلامتی کے محکمہ نے کھلم کھلا پاکستان پر اپنی نوعیت کا انتہائی مضحکہ خیز اور بے بنیاد ایک الزام یہ لگایا ہے کہ کابل میں بھارتی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان میں تیار کی جاتی ہے ۔مزید یہ کہا کہ بھارت سمیت دیگر غیر ملکی اہداف پر حملوں کی منصوبہ بندی بھی پاکستان میں موجود طالبان اور دیگر انتہاپسند تنظیموں کی پناہ گاہوں میں تیار کی جاتی ہیں۔ اصل میں افغانستان ایک بار پھر بھارت کی گود میں جانے کی تیاریاں کر رہا ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہ پاکستان پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کرے ۔ حامد کرزئی کے بعد اشرف غنی کے منہ میں بھی بھارتی زبان بول رہی ہے۔
افغانستان نے ہی اپنے ملک میں پاکستان کی سرحدوں کے ساتھ بھارت کے 24کونسل خانے کھلوا کر سرحد اور بلوچستان میں پاکستان کی تباہی کے مکمل سامان پیدا کرنے کی گھناونی کوششیں کی ہوئی ہیں ۔ اِسی طرح ساری دنیا کو یہ بات بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ آج پاکستان سے متعلق جو زہر اگلا جا رہا ہے وہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ کی شہ پر ہے۔
دنیا جانتی ہے کہ دہشت گرد افغانستان سے آکر پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ہماری حکومت نے بار ہا کہا کہ افغان حکومت کنٹر سے باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں دہشت گردوں کا داخلہ روکنے کے لئے بارڈر سیل اور خفیہ معلومات کا فوری طور پر تبادلہ کرے مگر افغان حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔
افغانستان 1979 میں پاکستان کے کئے جانے والے احسانوں کو بھول کر آج بھارت کی گود میں جا بیٹھا اور بھارت، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے پاکستان سے متعلق آنے والی ہدایات پر پاکستان پر بہتان ترازی کی انتہا کو پہنچ کر ساری دنیا میں پاکستان کو دہشت گرد ملک گردانے میں لگا ہوا ہے حالانکہ افغانستان خود ایک مدت سے دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ آج بھی امریکا بھارت اور دیگر کو کسی بھی دہشت گرد کی تلاش ہوتی ہے تو یہ اِسے افغانستان سے ہی ڈھونڈ نکالتے ہیں۔
بھارت ایک بار پھر افغانستان میں اپنے قدم جما رہا ہے۔ اسلحے کے معاہدے کر رہا ہے۔ سیکورٹی اداروں کی ٹریننگ کا ذمہ لے رہا ہے۔ سو سے زائد قونصل خانے تعمیر کرچکا ہے۔ افغانستان کی تعمیر و ترقی کے نام پر افغانستان کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے۔
پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے خلاف زبردست کارروائی ہورہی ہے۔ دہشت گردوں کے سب سے بڑے گڑھ شمالی وزیرستان سے ان کا صفایا جاری ہے۔ افواج پاکستان کو اس سلسلے میں بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ مگر اس سلسلے میں مکمل کامیابی کا انحصار افغانستان کے رویے اور اسکے تعاون سے مشروط ہے۔ پاکستان نے افغانستان کو کارروائی سے پہلے اطلاع دی تھی کہ فوج دہشت گردوں کے خلاف شمالی وزیرستان میں ایک بڑی کارروائی کاآغاز کررہی ہے۔ اس میں تعاون کی صورت میں دہشت گردوں کا صفایا ہوسکتا ہے اور دونوں ملک آئندہ زیادہ پر امن طریقے سے تعلقات جاری رکھ سکیں گے، اگرافغانستان ان دہشت گردوں کے افغانستان فرار ہونے کے تمام راستے بند کردے۔ پاکستانی فوج نے زبردست کارروائی کی لیکن افسوس کی بات ہے کہ افغانستان نے تعاون نہیں کیا ۔ اپنی سرحدوں کو بند نہیں کیا اور دہشت گردوں کو فرار ہونے کاموقع فراہم کیا۔ یوں دہشت گرد فرار ہوگئے۔ آج کل ان کی بڑی تعداد افغانستان میں ہے۔ افغانستان اور اس کے حکمران یہ بات محسوس کررہے ہیں کہ انہوں نے غلطی کی اور دہشت گردوں کو افغانستان میں داخل ہونے کا موقع فراہم کیا بلکہ بعض سرحدی محافظین نے ان کی مدد کی اور ان کو پاکستان سے بچ نکلنے کا موقع دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ طالبان نے افغان حکومت پر حملے تیز کردئیے۔ افغانستان کے دور دراز علاقوں میں طالبان دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ آئے دن ایک آدھ ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر قبضہ ہوتا ہے۔ درجنوں سپاہی ہلاک اور زخمی ہورہے ہیں یہ سب کچھ افغان طالبان کی طاقت میں اضافہ کے بعد ہوا ہے۔ پاکستانی طالبان افغانستان پہنچ گئے او روہاں پر حالات زیادہ خراب ہوگئے۔ اگر افغانستان تعاون کرتا اور پاکستان کی مدد کو آتا اور اپنی سرحدوں کو بند کردیتا تو ممکن تھا کہ ان کی مشکلات میں کمی آتی اور افغانستان زیادہ پر امن ہوتا بہ نسبت آج کل کے حالات کے۔

علی احسن اور صلاح الدین شہداءپاکستان

mir-afsar

بنگلہ دیش کی قاتل حکمران حسینہ واجد نے بھارت کے حکمران دہشت گرد مودی کو خوش کرنے کے لیے پاکستان سے محبت کرنے والے ایک اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنما علی احسن مجاہد کو پھانسی پر چڑھا دیا وہ بنگلہ دیش پارلیمنٹ کے ممبر رہے ہیں اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے جرنل سیکرٹیری بھی تھے۔ اس کے ساتھ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے صلاح الدین کو بھی پھانسی پر چڑھا دیا گیا وہ بھی بنگلہ دیش پارلیمنٹ کے ممبر تھے۔اس سے قبل جماعت اسلامی کے دو رہنماﺅںعبدلقادر ملا اور قمر الزامان کو بھی پھانسی پر چڑھا چکی ہے۔ بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سابق امیر کو بھی اسی جرم میں ۰۰۱ سال کی سزا ہوئی تھی وہ قید کی حالت میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔ان سب کا جرم یہ ہے کہ پاکستان کو بچانے کے لیے انہوں نے ۱۷۹۱ءمیںپاکستان کی فوج کا ساتھ دیا۔ جب بھارت نے پاکستان دشمن قوم پرست بنگالیوں پر مشتمل مکتی باہنی بنائی تھی تو اُس وقت پاکستان کو بچانے والے جماعت اسلامی کے پاکستان دوست اسلام پسند بنگالیوںرہنماﺅں نے الشمس اور البدر بنائیں تھی جنہوں نے ایک طرف پاکستان دشمن مکتی باہنی اور دوسری طرف بھارت کی فوج کا مردانہ وار مقابلہ کیا تھا جس کی تعریف پاکستان فوج کے اعلی افسران کر چکے ہیں۔ کہانی کچھ اس طرح ہے کہ شیخ مجیب نے بھارت سے مل کرمشرقی پاکستان کومغربی پاکستان سے علیحدہ کرنے کے لیے ہندوستان کے شہر اگر تلہ میں سازش تیار کی تھی جس کے تحت مسلح کاروائیاں شروع کی گئیںاور مشرقی پاکستان میں غیر بنگالیوں کا جینا محال کر دیا تھا۔ ڈکٹیٹرایوب خان نے شیخ مجیب پر اگر تلہ سازش کیس کا مقدمہ قائم کیا تھا۔پاکستان میںمرحوم ذوالفقار علی بٹھو کی قیادت میں ڈکٹیٹر ایوب خان کے خلاف معزولی کی تحریک چلی اور گلیوں میں ایوب خان کو کتا تک کہا گیا تو اُس نے حکومت ڈکٹیٹر یحییٰ خان کے حوالے کر کے وہ ایک طرف ہو گیا۔ ان مخدوش حالات میں ڈکٹیٹر یحییٰ خان نے پاکستان میں انتخابات کرائے جس کو سیاست دان شفاف انتخابات کہتے ہیں مگر وہ ہر گز شفاف اتخابات نہیں تھے اس لیے کہ مشرقی پاکستان میں غیر بنگالیوں کے خلاف خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی ہر طرف دہشت گردی تھی امن وامان کا نام تک نہ تھا مکمل بغاوت کا ماحول تھاان حالات میں انتخابات ہوئے تو لامحالہ شیخ مجیب کی پارٹی نے انتخابات جیتنے ہی تھے۔ووٹوں کے حوالے سے مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر تھی مشرقی پاکستان جو بعد میں بنگلہ دیش کہلایا شیخ مجیب نے حکومت بنائی اور مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بٹھو حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ یہ تو سامنے پیش آنے والے واقعات تھے اورقدرت کاانتقام کچھ اور تھا کہ دیکھیں شیخ مجیب کی قوم نے اس کے پورے خاندان کے ساتھ اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا صرف حسینہ واجد بچ گئی تھی کیونکہ وہ اُس وقت ملک سے باہر تھی۔ یہ مقافات عمل تھا۔ خیرجب یہ سب کچھ ہو گیا جنگی قیدی بھی واپس آ گئے اور تو بنگلہ دیش کو پاکستان نے تسلیم کر لیا پھر تینوں فریقوں میں ایک معاہدہ ۴۷۹۱ءمیں طے ہوا جسے قانونی زبان میں بین الالقوامی معاہدہ بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ اب تین آزاد ریاستوں میں طے ہوا تھا اس معاہدے کے تحت سب غلطیوں کو بھلا دیا تھا اور ایک دوسرے کے خلاف کسی قسم کی بھی کاروائی نہ کرنا بھی شامل تھا۔جماعت اسلامی نے بنگلہ دیش میں اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔پارلیمنٹ میں قابل ذکر نمائندے جیت کر گئے۔ بلدیاتی الیکشن میں بھی جماعت اسلامی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور بڑی تعداد میں سیٹیں جیتیں۔اب نہ جانے حسینہ واجد کو کیا ہو گیا ہے کہ پرانے معاہدے کو ایک طرف رکھ کر اپنی ہی ملک کے شہریوں کے خلاف ایک نام نہاد عدالتی ٹریبیونل بنا کر لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہے۔ اس نام نہاد ٹریبیونل کو نہ تو آزاد ملکوںنے صحیح کہا ہے نہ ہی بنیادی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اسے قانونی تسلیم کیا ہے۔ ٹریبیونل کے جج کے ٹیلفون کو دنیا میں سنا دیا گیا کہ وہ حکومت کے حکام سے سزائیں دینے کی ہدایات لے رہا ہے۔اس کے علاوہ متعصب ٹریبیونل نے ضابطے کی بنیادی عدالتی کاروائی بھی مکمل نہیں کی اور اُجلت میں لوگوں کو سزائیں سنا دیں جس کے پیچھے حکومت کی دشمنی شامل ہے۔مثلاً پاکستان میں تحریک انصاف کے اسحاق خاکوانی صاحب نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہا کہ جس واقعہ کی بنیاد پراحسن علی مجاہد کو سزا دی گئی اُس وقت وہ پنجاب یونیورسٹی میں میرے ساتھ پڑھ رہا تھا۔عمران خان نے اسی ہی بنیاد پر حسینہ واجد کو فون کیا اور پھر ای میل بھی کی اور سزا کو رکوانے کی کوشش کی مگر حسینہ واجد جو بھارت کے دباﺅ میں ہے کچھ بھی نہ مانی اور اسی رات دونوں پاکستان سے محبت کرنے والوں کو پھانسی پر چڑھادیا۔جب پہلی دفعہ عبدلقادر ملا کو پھانسی کی سزا سنائی تھی تو پاکستان کی نواز شریف حکومت کو اُس بین الاقوامی معاہدے کے تحت عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ لے جانے چاہےے تھا مگر جن لوگوں نے نظریہ پاکستان کے لیے جانیں لڑائیں ان کو پاکستان نے تنہا چھوڑ دیا جس فوج کے ساتھ شانہ بشانہ مکتی باہنی اور بھات کی فوج کے خلاف لڑائی لڑی اور فوج کے اعلی عہداداروں نے الشمس اورالبدر کے مجاہدین کی تعریفیں بھی کی تھیں کو بھی چپ سادھ گئی اس پر ہم نے اُ س وقت کالم بھی لکھا تھا کہ خدا نہ خاستہ اگر اب کہیں پاکستان پر برا وقت آئے تو پھر کون الشمس اور البدر بنائے گا؟جماعت اسلامی کو کسی سے مدد نہیں چاہےے اس کا ہر کارکن شہادت کے موت کی تمنا لیے ہوئے ہے ان شہادتوں سے اس کے کارکنوں کے ایمان مزید مضبوط ہوں گے وہ اسلام کے نام پر بننے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہے۔جماعت اسلامی ایک نظریاتی جماعت ہے ۔یہ پاکستان، بنگلہ دیش،بھارت، مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر، سری لنکا وغیرہ میں موجود ہے اس کی ذیلی تنظیمیں دنیا کے تما م ملکوں میں موجود ہیں حسینہ واجد اوربھارت بلکہ پوری دنیا بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ دنیا کے رواج پورے کرتے ہوئے جماعت اسلامی نے ان شہداکی نماز جنازہ پڑھ لیں۔جماعت اسلامی نے بنگلہ دیش میں ہڑتال کی کال بھی دے دی حسینہ واجد بھارتی پٹھو حکومت نے فوج بھی بلا لی ۔ پاکستان میں بھی ان شہیدوں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کر دی احتجاج بھی ریکارڈ کرا دیا گیا۔ جماعت اسلامی تو پاکستان کے نظریہ پاکستان سے بے خبر بزدل حکمرانوں کو یاد کراتی ہی ہے کہ جس وقت اندرا گاندھی نے کہا تھا بھارت نے مسلمانوں سے ایک ہزار سال حکمرانی کا بدلہ لے لیا دو قومی نظریہ بنگلہ دیش میں ڈبو دیا۔جماعت اسلامی تو اس کے جواب میں بنگلہ دیش میں نظریہ پاکستان کو ابھی تک زندہ رکھا ہوا ہے اور شہادتیں قبول کر رہی ہے۔ کاش اندرا گاندھی کے بیان کے جواب میں پاکستانی حکومتوں کو نظریہ پاکستان کو ابھی تک زندہ رکھنے والے جھونپڑیوں میں تین نسلیں گزارنے والے بہاریوں کو پاکستان بلا لینا چاہےے تھا۔ اب بھی ۴۷۹۱ءکے معاہدے کو سامنے رکھتے ہوئے بین الاقوامی عدالت انصاف میں نظریہ پاکستان کے شہیدوں کے مقدمے کو لیکر جائے تا کہ ایک طرف انصاف کے تقاضے پورے ہوں ،دوسری طرف نظریہ پاکستان بھی زندہ رہے اور پاکستان بننے والوں کی روحوں کو تسکین بھی نصیب ہو۔ جماعت اسلامی والے رہیں یا نہ رہیں یہ اُس پر چھوڑ دو۔اللہ نظریہ پاکستان جوحقیقت میںنظریہ اسلام ہے کی حفاظت فرمائے آمین۔

پنشنروں کا استحصال

ejaz-ahmed

EOBIیعنی صنعتی کا رکنوںکے ضعیف العمری سے متعلق فوائد کے ادارے نے اپنا کام یکم جولائی 1976ءکو شروع کیا۔ اور اعداد و شمار کے مطا بق اس ادارے نے اب تک 101,024 ملازمت دینے والے اداروںکی رجسٹریشن کی ہے۔ مگر بد قسمتی سے ملک میں جاری لوڈ شیڈنگ ، مختلف ادوار کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں اور دیگر کئی وجوہات کی وجہ سے بد قسمتی سے ان میں30ہزار ادارے بند ہوچکے ہیں اور4ہزار اداروںنے اپنی رجسٹریشن منسوخ کردی ہے ۔ اور اب باقی ماندہ68 ہزاراداروں میں58 لاکھ خواتین و حضرات رجسٹرڈ ہیں۔ فی الوقت یہ ادارہ وطن عزیز کے5لاکھ کارکنوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے ، جس میں نجی اداروں کی پنشن یافتہ ملازمین کی تعدادساڑھے 3 لاکھ،،پنشن یافتہ ملازمین کی لواحقین جس میں بیوائیں اور یتیم شامل ہیں، انکی تعدادڈیڑھ لاکھ اورتقریباً 9 ہزار افراد کو معذوری کی پنشن دی جا رہی ہے۔اس ادارے کے اخراجات مالکوں اور کارکنوں کی مالی شراکت سے پورے کئے جاتے ہیں جسکے تحت آجر( یعنی مالک) 5 فیصد اور آجیر(یعنی کارکن) ایک فی صد فنڈ کٹوتی کرتا ہے۔EOBIکے تحت کارکنوں کو کم ازکم 15سال کی ملازمت کے بعد پنشن کے فوائد دیئے جاتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ 15 سال کی مدت ملازمت ایک ہی ادارے میں پوری کی جائے۔ پنشن کے لئے کل مدت ملازمت کا تخمینہ لگا یا جاتا ہے ، ملازمت کا تسلسل شرط نہیں۔ 15سال کی مدت ملازمت 20 سال میں پوری کی جاسکتی ہے۔ اگر ہم 1973ءکے آئین پر نظر ڈالیں تو یہ دستور اس بات کی ضمانت دیتاہے کہ ریاست ، حکومت پاکستان اور دیگر اداروں کے ملازمین کو سماجی تحفظ فراہم کرے گی۔ 2010ء میں اٹھارویں ترمیم کی منظوری، پاکستان پیپلز پا رٹی کی حکومت کا ایک بڑا کارنامہ تھا اور پاکستان ورکرز فیڈریشنWF) (P،جوکہ ملک بھر میں 8لاکھ لوگوں کی نمائندہ تنظیم ہے اس تنظیم نے اٹھارویں ترمیم کی کامیابی کے لئے جتنی بھی تگ ودو اور حمایت کی اُسکی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ،مگر بد قسمتی سے اس ترمیم کی منظوری کے بعد کئی وفاقی اداروں کے ساتھ ساتھ، Employees Old Age Benifits ای او بی آئی کوصوبوں کے حوالے کرنا اُن لاکھوں مزدوروں، کارکنوں اور اُنکے خاندانوں کے ساتھ بڑی زیادتی ہے ،جنہوں نے آٹھویں ترمیم کی دل کھول کر تائید اور حمایت کی تھی اور ملک تعمیر اور ترقی کے لئے کو شاں ہیں۔ ورکرز فیڈریشن میں اس ادارے کو صوبوں کو حوالگی کے بارے میں بڑی تشویش پائی جاتی ہے۔ کیونکہ نجی اداروں کے یہ لاکھوں ملازمین اس بات کو اچھی طریقے سے سمجھتے ہیں کہ اس ادارے کو صوبوں کے حوالہ کرنے سے کارکنوں ، انکے خا ندانوں کی مالی ، سما جی اور معاشرتی حالت کے علاوہ انکے پنشن پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آٹھا رویں ترمیم کے بعد گذشتہ ۴ سال سے اس تنظیم کے ملازمین کو پنشن فنڈز عدم دستیابی کے بہانے نہیں دی جا رہی ہے۔دنیا کے تقریباً ۰۵ ممالک میں سوشل سیکور ٹی یعنی سماجی تحفظ اور پنشن وغیرہ وفاقی حکومت کے پا س ہوتاہے۔ پاکستان کے دستور کے مطابق صرف وفاقی پارلیمینٹ کو محنت کشوں کے سلسلے میں قانون سازی کا حق حا صل ہے۔ پاکستان نے عالمی ادارہ محنت آئی ایل اوکے 36 کنونشنز کی تو ثیق کر رکھی ہے ۔ مزدوروں اور کارکنوں کی سماجی تحفظ کے سلسلے میں پاکستان نے ڈنمارک ، ہالینڈ اور لیبیا سے دوطر فہ معاہدے اور اقوام متحدہ کے عالمی منشور برائے انسانی حقوق اور معاشی ، معاشرتی اور ثقافتی حقوق کے سلسلے میں بھی بین الاقوامی قوانین پر دستخط کئے ہیں جسکے تحت کارکنوں کو ساتھ معاشی اور معاشرتی تحفظ فراہم کرنے کی اشد ضرورت پر زور دیا گیا ہے ۔ اگر ہم بین الاقوامی کنونشنز اور بین لاقوامی معاہدوں کی روشنی میں سماجی تحفظ کے موضوع کو لیں، جس سے مراد پنشن ہے تو یہ اختیار صرف اور صرف وفاقی پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور صوبائی اسمبلیوں کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔یہ بات بھی انتہائی قابل ذکر ہے کہ ایف ایل ایل کی شق نمبر 5 کے تحت کسی بھی صوبے سے ہجرت اور تبادلہ یا کسی اور صوبے یا وفاق میں سکونت بھی صرف اور صرف وفاقی پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔مردم شماری کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں سے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ملک کے جنوبی حصے میں ہجرت کرتے ہیں جبکہ بزر گوں ، بیواﺅں اور معذوروں کی ایک کثیر تعدادملک کے شمالی حصوں میں ہجرت کرتے ہیںاس تنا ظر میں یہ ایک بڑا صوبائی مسئلہ بن گیا ہے ۔ ای او بی آئی کا قانون وہ واحد قانون ہے جو ایسے تمام ہجرت کرنے والے اور عارضی طو ر پر کہیں آباد کار ایسے ملازمین کو معاشرتی تحفظ فراہم کرتا ہے جنکی انشورنس ہوئی ہو۔،لہذاءصوبائی اسمبلیوں کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ کار کنوں کی ایسی ہجرت یا ان کی عارضی علاقے کی تبدیلی کے متعلق کو بھی قانون سازی کر یں۔ خیبر پختون خوا اور بلوچستان اس ادارے کی صوبوں کو منتقلی کے بارے تشویش پائی جاتی ہے۔ اُنکا کہنا ہے کہ ایسے کارکن کو پنشن اور ای او بی آئی کی سہولیات کیسے دی جائیں گی جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی ایک صوبے میں گزاری اور ریٹائر منٹ کی زندگی دوسرے صوبے میں پسند کرتا ہو۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ایسے پنشن کا کیا ہوگا جوکہ ایک صوبے میں کام کرتا رہا ہے اور 7 سال بعد ملازمت کے لئے ایک اور صوبے میں چلاجاتا ہے ۔ مزید کہتے ہیں ایسا کارکن جس نے ایک صوبے کام کیا ہوا ہے اسکے لواحقین کو پنشن کیسے دی جائے گی اگر لواحقین دوسرے صوبے میں رہائش اختیار کرلیتے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت کو ای اوبی آئی کو صوبوں کے حوالے نہیں کرنا چاہئے اور اگر کرنا چاہتے ہیں تو اسکے لئے صوبوں کو پہلے قانون سازی کرنی چاہئے اور اپھر اسکے بعد فنڈز کے لئے پہلے کے لئے انتظام کرنا چاہئے۔علاوہ ازیں بو رڈ ممبران میں حقیقی نمائندہ گان کو شامل کرنا چاہئے۔ ماضی میں اس ادارے کے فنڈز کو مختلف اور کاموں کے لئے Misuse کیا جاتا رہا. ۔ حالانکہ یہ ورکروں اور نجی اداروں کے اداروں کے شراکت سے قائم ہونے والا فنڈ ہے اور حکومت کو تو اس میں مداخلت نہیں کرنا چاہئے ۔ اگر حکومت اس میں مدا خلت کا خواہاں ہیں تو حکومت کو چاہئے کہ وہ اسکے لئے ایسی قانون سازی کریں کہ وہ اس مد میں فنڈز کو کسی اور مد میں استعمال نہیںکرسکیں گے۔جیسا کہ ماضی ہوتا رہا۔اس کالم کی تو سط سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران اور تمام پارٹیوں کی قیادت سے درخواست ہے کہ ورکروں کو استحصال سے بچانے کےلئے ادارے کو و فاقی حکومت کےساتھ رہنے دیں۔

بنگلہ دیش: امام بار گاہ میں نامعلوم مسلح افراد نکی فائرنگ‘ ایک شخص ہلاک

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے شمال مغربی علاقے میں واقع ایک امام بارگاہ میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق مذکورہ حملہ ملک میں شیعہ کمیونٹی پر دوسرا حملہ ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پولیس افسر احسن حبیب کا کہنا ہے کہ ’متعدد حملہ آور امام بار گاہ میں داخل ہوئے اور مرکزی دروازے کو بند کرنے کے بعد امام بار گاہ کی عمارت میں موجود افراد پر فائرنگ کردی اور اس کے بعد فرار ہوگئے۔‘عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ 3 نوجوان حملہ آور امام بارگاہ میں داخل ہوئے تھے اور انھوں نے عبادت میں مصروف افراد پر فائرنگ کی۔خیال رہے کہ گذشتہ روز پولیس نے بنگلہ دیش کے شمال مغربی ضلع بوگرا میں ایک دہشت گرد کو ہلاک کیا تھا جو گذشتہ ماہ ایک مزار پر بم حملے کا مرکزی ملزم بتایا جاتا ہے، اس بم حملے میں 2 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔پولیس کا کہا ہے کہ مقامی عسکریت پسند گروپ جماعت المجاہدین ان حملوں میں ملوث ہے.اس کالعدم گروپ کے 5 اراکین کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ ایک مرکزی ملزم اور گروپ کا سربراہ گذشتہ دنوں مقابلے میں ہلاک ہوچکا ہے۔پولیس کے جوائنٹ کمشنر منیر السلام نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ ’گرفتار ہونے والے ملزمان متعدد مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں، جن میں پولیس چیک پوسٹ اور عاشورہ کے موقع پر اجتماعات پر حملے شامل ہیں۔‘خیال رہے کہ بنگلہ دیش مں گذشتہ کچھ ماہ سے عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، جس میں اب تک دو غیر ملکی، 4 سیکولر مصنف اور ایک پبلشر ہلاک ہو چکے ہیں۔واضح رہے کہ ان حملوں کی مبینہ ذمہ داری داعش کے عسکریت پسند نے قبول کی ہیں۔دوسری جانب حکومت نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی عسکریت پسند گروپ مذکورہ ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔یاد رہے کہ داعش نے 24 اکتوبر کو ڈھاکا کے ایک مزار پر ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی، جو بنگلہ دیش میں اہل تشیع کمیونٹی پر اپنی نوعیت کا پہلا حملہ تھا۔یہ بھی یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے ملک میں عسکریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاو¿ن کی ہدایت دیتے ہوئے متعدد اپوزیشن اور مذہبی جماعتوں کے رہنماو¿ں پر 1971 کی جنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں جنگی جرائم کے ٹرائل کا آغاز کیا۔

Google Analytics Alternative