Home » Author Archives: Admin (page 4)

Author Archives: Admin

اس وقت کوہلی سے موازنہ میری ‘خوشامد’ کے سوا کچھ نہیں: بابر اعظم

پاکستانی بیٹسمین بابر اعظم کا کہنا ہے کہ وہ ورات کوہلی جیسا بننا چاہتے ہیں لیکن اس وقت ان کا کوہلی سے موازنہ ‘خوشامد’ کے سوا کچھ نہیں۔

24 سالہ بابر اعظم نے اپنے انٹرنیشنل کیرئیر میں بہت کم وقت میں کئی کامیابیاں سمیٹ لی ہیں اور اس وقت آئی سی سی کی ٹی 20 رینکنگ میں پہلے نمبر پر موجود ہیں۔

بابر اعظم کی ایک روزہ میچوں اور ٹی 20 میں اوسط 50 سے زائد ہے جب کہ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی اوسط 35.28 ہے۔ وارت کوہلی نے بھی ٹیسٹ کرکٹ کافی سست آغاز کیا لیکن اس وقت وہ آئی سی سی کی ٹیسٹ اور ون ڈے رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کرکٹ کے حلقوں بابر اعظم کا موازنہ وارت کوہلی سے شروع کیا جاتا ہے۔

آئی سی سی کی ویب سائٹ کے مطابق بابر اعظم کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ‘کوہلی سے موازنہ میری خوشامد کے مترادف ہے۔۔۔کوہلی کا کھیلنے کا طریقہ کار بہت ہی اچھا ہے اور ان کی کارکردگی میں تسلسل ہے۔ وہ جب بھی بیٹنگ کے لیے آتا ہے تو 100 فیصد دیتا ہے۔’

بابر کے مطابق یہ ابھی ان کے کیرئیر کا آغاز ہے لیکن ان کا مقصد کوہلی جیسا بننا ہے۔

2018 کے آغاز سے اب تک بابر اعظم پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ 50.66کی اوسط سے 760 رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ مطمئن نہیں ہیں۔

بابر کا کہنا ہے کہ ‘میں مسلسل اپنی غلطیوں سے سیکھ رہا ہوں اور میں اپنے سینئرز اظہر علی اور اسد شفیق سے مشورے لیتا ہوں کیونکہ میں ٹیسٹ کرکٹ بہتر سے بہتر ہونا چاہتا ہوں۔’

انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی کی مہارت ، تحمل اور فٹنس کا نام ہے اور تمام طرز کی کرکٹ میں بہترین بننا ہی میرا مقصد ہے۔

پاکستان کے کوچ مکی آرتھر بابر اعظم سے کافی متاثر ہیں اور ہمیشہ ان کی حمایت کرتے ہیں لیکن بابر اعظم کی حالیہ بہترین کارکردگی کے باوجود مکی آرتھر کا ماننا ہے کہ دنیا کو ابھی بابر کی بہترین صلاحیتیں دیکھنا باقی ہیں۔

صدر ٹرمپ کا شام میں سیکیورٹی زون کے قیام کے لیے ترک صدر کو فون

واشنگٹن: صدر ٹرمپ نے شام میں سیکیورٹی زون کے قیام کے لیے ترک صدر طیب اردگان سے ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کیا۔ 

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر نے ترک صدر طیب اردگان کو ٹیلی فون کیا، دونوں رہنماؤں کے درمیان شام کی بدلتی ہوئی صورت حال اور علاقے میں سیکیورٹی زون کے قیام کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان شام کے تنازع کو سیاسی طریقے سے حل کرنے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر بھی اتفاق کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے 75 بلین ڈالر کے تجارتی ڈالر کے ہدف کے حصول کے لیے روٹ میپ پر بھی بات چیت کی گئی اور مشترکہ اہداف کو کسی قسم کے خسارے کے بغیر حاصل کرنے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے پر زور دیا۔

وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا کے قائم مقام وزیر دفاع، چیف آف جنرل اسٹاف اور جنرل جوزف ڈنفورڈ سیکیورٹی زون کو عملہ جامہ پہنانے کے لیے اسی ہفتے واشنگٹن میں اپنے ترک ہم منصبوں سے ملاقات کریں گے۔

لہسن اور پیاز آنتوں کے کینسر سے تحفظ میں مددگار

اگرچہ ماضی میں بھی تحقیقات سے یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ سبز رنگ کی سبزیاں اور پھل پھیپھڑے، سینے اور مادر رحم کے کینسر کے خلاف موثر ثابت ہوتے ہیں۔

تاہم ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لہسن، پیاز، ادرک، ہرے پیازوں کے پتے اور اسی طرح کی ملتی جلتی سبزیاں قولون مستقیمی کینسر کو روکنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

قولون مستقیمی سرطان جسے انگریزی میں کلیکٹرول کینسر کہا جاتا ہے جو آنتوں اور نظام ہاضمہ کے دیگر اعضاء میں ہوتا ہے۔ اس کینسر کو باؤل اور قولون کینسر بھی کہا جاتا ہے۔

یہ کینسر نظام ہاضمہ میں اہم کام سر انجام دینے والے اعضاء میں ہوتا ہے جو بعض اوقات انسان کے موت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

قولون مستقیمی سرطان یعنی کلیکٹرول کینسر پر کی جانے والی چینی ماہرین کی تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا کہ اس مرض کو لہسن، پیاز اور ہرے پیاز کے پتوں سمیت اسی جیسی دیگر سبزیوں سے روکا جا سکتا ہے۔

آنلائن ولے لائبریری کے سائنس جرنل ’ایشیا پیسفک جرنل آف کلینیکل اونکولوجی‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق چینی ماہرین نے لہسن اور پیاز جیسی دیگر سبزیوں کے آنتوں کے کینسر پر اثرات کا جائزہ لیا۔

رپورٹ کے مطابق فرسٹ ہاسپیٹل آف چائنہ میڈیکل یونیورسٹی کے ماہرین نے 833 افراد کے طرز زندگی اور کھانے پینے سمیت دیگر چیزوں کا جائزہ لیا۔

ماہرین نے مرد و خواتین اور مختلف عمر کے افراد کی غذا اور طرز زندگی کا جائزہ لیا جس سے پتہ چلا کہ جن افراد نے لہسن، پیاز، ادرک اور ہرے پیاز کے پتوں سے ملتی جلتی دیگر سبزیوں کا زیادہ استعمال کیا ہے ان میں کلیکٹرول کینسر کے اثرات انتہائی کم پائے گئے۔

ماہرین کے مطابق جو افراد پیاز، لہسن، ادرک اور ہرے پیاز کے پتوں جیسی ملتی جلتی دیگر سبزیاں استعمال کرتے ہیں ان میں عام افراد کے مقابلے کلیکٹرول کینسر ہونے کے امکانات 79 فیصد کم ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ نتائج ابتدائی ہیں اور اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان اپنی غذا اور طرز زندگی سے کلیکٹرول کینسر پر قابو پا سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ کینسر مرد حضرات میں پایا جانے والا عام مرض ہے، دنیا بھر میں سالانہ اس مرض سے 18 لاکھ افراد متاثر ہوتے ہیں۔

سال 2018 میں کلیکٹرول کینسر سے دنیا بھر میں 8 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس تحقیق سے قبل ہونے والی تحقیقات میں ماہرین نے کہا تھا کہ ایسے شواہد ملے ہیں کہ سبز رنگ کی سبزیوں خاص طورپر پتوں والی سبزیوں کے استعمال سے پھیپھڑے، معدے، بریسٹ، مادر رحم اور قولون کینسر کا شکار ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

یہ سبزیاں ایسے اجزا سے بھرپور ہوتی ہیں جو کینسر کے پھیلاﺅ سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، اس کے علاوہ ان میں وٹامن کے بھی پایا جاتا ہے جو ذیابیطس کی روک تھام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جو لبلبے کے کینسر کا خطرہ کم کردیتا ہے۔

ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ ان سبزیوں کا استعمال کینسر سے بچاﺅ کے لیے فائدہ مندثابت ہوتا ہے۔

ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 47 فیصد تک کمی، برآمدات میں اضافہ

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جنوری کے مہینے میں 80 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے قریب رہا جو دسمبر کے مہینے میں 1 ارب 54 کروڑ روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔

مجموعی طور پر رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں خسارہ گزشتہ سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں 16 فیصد کم 1.7 ارب رہا تاہم اس کا حجم بڑھ کر 8 ارب 42 کروڑ ڈالر ہوگیا۔

اس سطح پر کہا جارہا ہے کہ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر 1.2 ارب ڈالر فی مہینہ کم ہورہے ہیں

وزیر خزانہ اسد عمر نے گزشتہ رات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’حکومت کی جانب سے انتہائی بری حالت میں ملنے والی معیشت کو بحال کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں‘۔

گزشتہ 7 ماہ میں روپے کی قدر میں 14 فیصد کمی کے باوجود برآمدات میں اضافے کی رفتار میں کمی کے حوالے سے گارمنٹ بر آمد کرنے والے زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے تجارت پر اثرات سامنے آنے میں 3 سے 6 ماہ درکار ہوں گے۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ آخری مرتبہ روپے کی قدر میں کمی 3 ماہ قبل سامنے آئی تھی اور دی گئی قیمتوں پر بڑے آرڈر آنے میں 6 ماہ درکار ہوتے ہیں جس کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی کے اثرات 3 ماہ میں نظر آئیں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آئندہ ماہ اور اس سے اگلے ماہ تک آپ بڑی تبدیلیاں دیکھیں گے، میرا ماننا ہے کہ آئندہ 2 ماہ میں 10 فیصد تک اضافہ ہوگا‘۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 7 ماہ میں اشیا کا تجارتی توازن (خسارہ) 17.613 ارب ڈالر تھا جو گزشتہ سال کے اس ہی دورانیے میں 17.588 ارب ڈالر تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تجارتی خسارے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کچھ بہتری آئی ہے۔

دوسری جانب سروسز کی تجارت میں زیادہ بہتری سامنے آئی جو گزشتہ سال کے 3.20 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2.09 ارب کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔

جنوری کے مہینے میں ریمیٹنس (ترسیلات زر) میں بھی اضافہ دیکھا گیا جو 7 ماہ کے عرصے میں 5 فیصد اضافے کے بعد 1.743 ارب ڈالر رہی۔

سینٹرل بینک کے ڈیٹا میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال بر آمدات اور در آمدات دونوں میں اضافہ سامنے آیا، بر آمدات میں 1.6 فیصد، گزشتہ سال کے 13.931 ارب ڈالر سے بڑھ کر 14.15 ارب ڈالر جبکہ دوسری جانب در آمدات میں گزشتہ سال کے 31.519 ارب ڈالر کے مقابلے میں 31.763 ارب ڈاب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 7 ماہ میں اشیا اور سروسز کی تجارت میں کل خسارہ میں 1.092 ارب ڈالر کی کمی کے بعد 19.704 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ سال اتنے ہی عرصے میں یہ 20.796 ارب ڈالر رہا تھا۔

صورتحال میں بہتری سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات سے 1 ارب ڈالر موصول ہونے پر سامنے آئی۔

تاہم ملک میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری میں نظر ثانی کی گئی مدت میں 17 فیصد کمی آئی جو 1.451 ارب ڈالر رہی۔

اداکارہ ایمان علی شادی کے بندھن میں بندھ گئیں

لاہور: نامورپاکستانی ماڈل واداکارہ ایمان علی شادی کے بندھن میں بندھ گئیں۔

’’خدا کے لیے‘‘،’’ بول‘‘ اور’’ماہ میر‘‘ جیسی سپرہٹ فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی  نامور ماڈل واداکارہ ایمان علی گزشتہ روزلاہورمیں شادی کے بندھن میں بندھ گئیں۔ نکاح کی تقریب میں فلم، ٹی وی، میوزک اور فیشن انڈسٹری کی اہم شخصیات شریک ہوئیں۔

شادی کی رنگارنگ تقریب لاہور کے علاقہ بیدیاں کے فارم ہاؤس میں ہوئی، ایمان علی کے شوہر بابربھٹی کا تعلق میجرعزیز بھٹی کی فیملی سے ہے۔ ایمان علی کو سرحد پار ہدایت کار اور ان کے ماضی کے دوست امتیازعلی سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والوں کی جانب سے مبارکباد اور نیک تمنائیں دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

واضح رہے کہ ایمان علی کے نکاح، مہندی اور بارات کی تقریب ایک ہی مقام پر وقفے وقفے سے ہوئی۔ اس موقع پر حق مہر کی رقم 25 لاکھ رکھی گئی ہے۔

گزشتہ روز ایمان علی کی مایوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں مایوں میں ایمان علی پیلے رنگ کے لباس میں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔

ایمان علی کے والد عابد علی کا کہنا ہے کہ بیٹی کی شادی پربے حد خوش ہوں۔ میری دعا ہے کہ جس طرح وہ اپنے پروفیشن میں کامیاب رہی ہے اسی طرح اپنی زندگی کے نئے سفر میں بھی اسے کامیابی ملے۔

یہ مکروہ بھارتی بیانیہ اور ۔۔۔؟

بھارتی حکمران تو پاکستان کی بابت جو لغوبیانی قیام پاکستان سے لے کر آج تلک کرتے آ رہے ہیں وہ مزید کسی تعارف کی محتاج نہیں ، سانحہ پلوامہ کی آڑ لے کر مودی جیسے اپنی سیاست چمکا رہے ہیں اور کلبھوشن یادو جیسے دہشت گردکو معصوم قرار دینے کی سعی کر رہے ہیں، وہ بھی سب کے سامنے ہیں۔ مگر کچھ ماہ قبل خود نواز شریف نے وطن عزیز کی بابت جو باتیں کہیں انھیں گوہر افشانی سے بھی آگے کی کوئی بات قرار دیا جانا چاہیے۔ موصوف تین بار پاکستان کی اعلیٰ ترین حکومتی مسند پر فائز رہ چکے ہیں۔ ایسے میں کوئی عام شخص بھی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ پاکستان نے جو عزت و احترام انھیں دیا ، اس سے زیادہ کی توقع بھی دوسرا فرد نہیں کر سکتا۔ مگر اسے ستم ظریفی ہی نہیں بلکہ المیہ قرار دیا جانا چاہیے کہ اس شخصیت نے پاکستان کے خلاف ایسا زہر اگلا ہے ۔ گویا
تو قد و قامت سے شخصیت کا اندازہ نہ کر
جتنے اونچے پیڑ تھے اتنا گھنا سایہ نہ تھا
ممکن ہے انھیں بعض معاملات میں تحفظات ہوں۔ مگر یہ کوئی اتنی قابلِ رشک روش نہیں۔ ان کی باتوں کے نتیجے میں عالمی عدالت انصاف میں ہندوستان اس چیز کو جس طرح ’’کیش ‘‘کرانے کی سعی کر رہا ہے ، اس پر ہندوستان میں خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں اور ان کے چینلوں اور اخبارات پر اس کے علاوہ کوئی دوسری چیز نظر نہیں آتی۔ ظاہری سی بات ہے کہ وہ اپنی اس بے پایاں مسرت پر شاید خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔اس معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ پاکستان عرصہ دراز سے سرحد پار دہشت گردی کا شکار بنا ہوا ہے۔ ایسے میں سابق وزیراعظم کی طرف سے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا، یقیناًایسا مقام افسوس ہے جس کی مذمت کے لئے الفاظ ڈھونڈ پانا بھی ناممکن ہے۔ حالانکہ کسے علم نہیں کہ دہلی کا حکمران گروہ ایک جانب پاکستان کو دو لخت کرنے کے جرمِ عظیم کا صریحاً مرتکب ہو چکا ہے اور اپنے اس عمل پر ذرا سا نادم ہونے کے بجائے، اس پر فخر کا اظہار کرتا آیا ہے ۔ مثلاً اندرا گاندھی نے اپنے اس مکروہ عمل کے بعد ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ دہلی سرکار نے پاکستان کو دولخت کر کے اپنی ایک ہزار سالہ ہندو ہزیمت کا بدلا چکا دیا ہے‘‘
اس موقع پر بی جے پی کے رہنما اٹل بہاری واجپائی نے بھارتی پارلیمنٹ میں اندرا گاندھی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے کہا تھا کہ ’’شی از درگا ماتا ‘‘۔ واضح رہے کہ ہندو دھرم میں ’’درگا ماتا‘‘ کو تباہی اور بربادی کی دیوی کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے بعد بھی بھارتی حکمران جس قدر تسلسل کے ساتھ پاکستان کے خلاف لگاتار سازشوں کا جال بنتے آ رہے ہیں اس سے بھی ہر باشعور اچھی طرح آگاہ ہے۔ اسی کے ساتھ بھارتی دہشت گردی کے نتیجے میں بھارت کے طول و عرض میں اب تلک 24 ہزار سے زائد مسلم کش فسادات ہو چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہزاروں بے گناہ مسلم زندہ رہنے کے حق سے ہمیشہ کے لئے محروم کیے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ سے زائد نہتے کشمیری بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔
اس ضمن میں یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ بھارت نے پاکستان کی پوری کوشش کے باوجود ’’اجمل قصاب‘‘ تک رسائی نہیں دی۔ حالانکہ خود بھارتی دعوؤں کے مطابق بھارت میں ممبئی واقعات کا وہ مرکزی مجرم تھا اور مبینہ طور پر اس کا تعلق پاکستان سے تھا۔ ایسے میں اگر بھارتی حکمران اپنے دعوؤں میں ذرا بھی سچے ہوتے تو اس حوالے سے پاکستانی تفتیشی اور تحقیقی ٹیم کو اس ضمن میں ٹھوس شواہد اور دستاویزی ثبوت فراہم کرتے مگر انھوں نے 2012 میں اجمل قصاب کو فوری طور پر پھانسی پر لٹکا دیا تا کہ اس ضمن میں تمام ثبوتوں کو مٹایا جا سکے ۔ وگرنہ کسے علم نہیں کہ راجیو گاندھی کے قاتلوں کو 27 برس سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال پھانسی نہیں دی گئی۔ راجیو گاندھی کے قتل میں ملوث ساتوں ملزمان زندہ ہیں ۔ چند ماہ قبل ’’رابرٹ پیوس‘‘ سمیت ان ملزمان نے دہلی سرکار کو خط لکھ کر استدعا کی تھی کہ چونکہ وہ 27 برس سے قید کاٹ رہے ہیں ، لہٰذا وہ زندگی کا مقصد کھو چکے ہیں اور ان پر رحم کھا کر انھیں ’’پھانسی‘‘ کی سزا دے دی جائے۔
مبصرین کے مطابق ایسے میں اجمل قصاب کو جتنی عجلت میں سزائے موت سنائی گئی اور اس پر عمل کیا گیا ، وہ اپنے آپ میں بہت سے ایسے سوالات کو جنم دیتا ہے جس پر دنیا کے باشعور حلقوں کو تشویش ہونی چاہیے۔ مگر آفرین ہے پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف پر کہ انھوں نے تمام تر ملبہ پاکستان کے کندھوں پر ڈال کر گویا اپنی جانب سے بھارت کو بری الذمہ قرار دے دیا۔ اس سارے معاملے پر افسوس کرتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے ۔
نیرنگیِ سیاستِ دوراں تو دیکھئے
منزل انھیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے
****

آئی او سی کا پاکستانی شوٹرز کو ویزے نہ دینے پر بھارت کیخلاف پابندیوں کا فیصلہ

برن: آئی او سی نے پاکستانی شوٹرز کی ٹیم کو ویزے نہ دینے پر بھارت کے خلاف سخت پابندیوں کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارت کو پاکستان سے دشمنی میں ایک مرتبہ پھر منہ کی کھانا پڑگئی، بھارت میں جاری شوٹنگ ورلڈ کپ میں شرکت سے روکنے کے لیے بھارتی حکومت نے 65 دن تک انتظار اور وعدوں کے باوجود 3 رکنی پاکستانی ٹیم کو ویزے نہ دیے تاہم اس حوالے سے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور پاکستان شوٹنگ  فیڈریشن آئی او سی کو مسلسل باخبر کرتی رہیں۔

ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں بھارتی حکومت کے رویے کو اولمپک چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا گیا اور ایونٹ کی اولمپکس 2020 کے لئے کوالیفکیشن حیثیت ختم کر دی گئی، یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جب تک انڈین اولمپک کمیٹی اپنی حکومت کی طرف سے تمام ملکوں کے کھلاڑیوں کو ویزہ دینے کی تحریری اطلاع پیش نہیں کرتی، مستقبل میں کسی بھی انٹرنیشنل ایونٹ کی میزبانی کے لئے بات چیت نہیں کی جائے گی۔

پی او اے  کے صدر عارف حسن نے کھیلوں کو سیاست سے پاک رکھنے کے لیے اسے بہترین فیصلہ قرار دیا ہے، شوٹنگ ورلڈ کپ 20 سے 28 فروری تک دہلی میں جاری ہے۔

وزیراعظم نے مسلح افواج کو بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا اختیار دیدیا

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے مسلح افواج کو اختیار دے دیا۔

وزیراعظم کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پلوامہ حملے کے بعد رو نما ہونے والے جیو اسٹریٹیجک اور قومی سلامتی کے امور پر غور کیا گیا۔

وزیرِاعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں متفقہ طورپر آمادگی کا اظہار کیا گیا کہ ’پاکستان پلوامہ حملے میں کسی بھی سطح پر اور کسی بھی طریقے سے ملوث نہیں‘۔

اجلاس میں کہا گیا کہ ’ پلوامہ حملے کی منصوبہ بندی مقامی طور پر کی گئی تاہم پاکستان حملےکی تحقیقات میں معاونت کی سنجیدہ پیشکش کرچکا ہے‘۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں دہشت گردی اور تنازعات کےحل کے لیے بھارت کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت دی گئی۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ’امید ہے بھارت مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب دے گا اور حملےمیں پاکستان کی سرزمین استعمال ہونےکا ثبوت دیاگیا تو کارروائی کی جائے گی‘۔

قومی سلامتی کمیٹی میں کہا گیا کہ بھارت سمجھےکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام میں موت کا خوف کیوں ختم ہوا، کشمیریوں میں بھارتی مظالم کا ردعمل آرہا ہے۔

کمیٹی نے عالمی برادری سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کےحل کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

قومی سلامتی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی خطے کے بڑے مسائل ہیں اور پاکستان سمیت پورا خطہ اس کی لپیٹ میں ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی اور قومی خزانے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور اسی وجہ سے 2014 میں نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا گیا‘۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’نیشنل ایکشن پلان کی تشکیل میں تمام سیاسی اور دیگر اہم اداروں کی آمادگی تھی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’معاشرے میں موجود انتہاپسندی کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت ہے، ریاست کبھی بھی ملک دشمن عناصر سے یرغمال نہیں ہوگی‘۔

اس حوالے سے عمران خان نے دونوں وزارت داخلہ اور سیکیورٹی اداروں کو ہدایت دی کہ انتہاپسندی کے خلاف کارروائی میں تیزی لے کر آئیں۔

Google Analytics Alternative