Home » Author Archives: Admin (page 4)

Author Archives: Admin

قائد اعظم کا ہندوتوا کے بارے میں نظریہ پھر صحیح ثابت ہوگیا، ترجمان پاک فوج

روالپنڈی: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آج ایک بار پھر عظیم قائد محمد علی جناح کا ہندو شدت پسندی کے بارے میں نظریہ درست ثابت ہوگیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے لکھا کہ آج ہندوستان کی تمام اقلیتوں کو ایک بار پھر احساس ہو جانا چاہئے کہ ہندوتوا کے بارے میں ہمارے عظیم قائد محمد علی جناح کا نظریہ بالکل ٹھیک تھا اور یقینی طور پر بھارت میں موجود اقلیتوں کو اب ہندستان کا حصہ بننے پر افسوس ہو رہا ہوگا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اپنی ٹویٹ کے ساتھ میڈیا بریفنگ کی اپنی ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں انہوں کہا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمیں کس طرح اپنا ملک چلانا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے ویڈیو بریفنگ میں مزید کہا کہ بھارت خود کو ایک سیکولر ملک کہتا ہے ،لیکن کیا وہ حقیقی طور پر ایک سیکولر ملک ہے؟ کیا وہاں کروڑوں مسلمان اور دیگر اقلیتیں محفوظ ہیں؟ پاکستان نے تو سکھ مذہب کے ماننے والوں کے لیے کرتار پور راہداری بنادی۔

مسلمانوں کو 5 ایکڑ زمین کی بھیک نہیں بابری مسجد چاہیئے، اسد اویسی

نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو چند ایکڑ زمین کی بھیک نہیں اپنا حق چاہیئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مسلم رہنما اسد الدین اویسی نے بابری مسجد فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان غریب ہیں اور تعصب کا شکار بھی ہیں لین اتنے بھی گئے گزرے بھی نہیں کہ  اللہ کے لیے پانچ ایکڑ زمین نہ خرید سکے۔ ہمیں کسی کے خیرات یا بھیک کی ضرورت نہیں۔ ہم اپنے قانونی حق کے لیے لڑ رہے تھے۔

اسد اویسی نے مزید کہا کہ عدالت عظمٰی کا احترام ہے، وہ سپریم اتھارٹی بھی ہے لیکن غلطی سے مبرا نہیں۔ جن لوگوں نے 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد گرائی تھی آج انھی کو سپریم کورٹ نے ٹرسٹ بنا کر مندر کا کام شروع کرنے کا حکم دیا ہے، یہ حقائق کی نہیں عدقیدے کی جیت ہے۔ اس فیصلے پر ہمیں شدید تحفظات ہیں۔

اسد الدین اویسی نے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر 1949 میں راجیو گاندھی مسجد کا تالا نہیں کھولتے تو وہاں انتہا پسند چپکے سے مورتیاں رکھ کر یہ سارا ڈرامہ نہیں کرپاتے اور اب کانگریس منافقانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔

واضح رہے کی بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس میں متنازع زمین کو ہندوؤں کی ملکیت قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو کسی اور جگہ مسجد تعمیر کرنے کے لیے 5 ایکڑ زمین دینے کا فیصلہ سنایا ہے۔

کرتاپور راہداری ؛ نریندر مودی بھی عمران خان کے مشکور

گرداسپور: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کرتارپور راہداری پر پاکستان کی کوشش کو سراہتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

سکھ مت کے بانی بابا گرونانک کے یوم ولادت پر پاکستان کی جانب سے سکھوں کو دنیا کے سب سے بڑے گوردوارے دربار صاحب کا تحفہ دیے جانے پر  جہاں دنیا بھر سے سکھ  پاکستانی اقدام پر انتہائی خوش ہیں وہیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی پاکستانی کوششوں کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔

گرداسپور گرردوارا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ  کرتارپور راہدری منصوبے  پر وہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے مشکور ہیں۔

نریندر مودی نے کہا کہ  پاکستانی وزیر اعظم نے کرتار پور کے معاملے پر بھارت کے جذبات کو سمجھا اور عزت دی،میں پاکستانی عملے کا شکریہ ادا کرتا یوں جنہوں نے اپنی طرف کرتار پور منصوبے کو انتہائی کم وقت میں کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔

واضح رہے کہ زیراعظم عمران خان آج کرتار پور راہداری اور دنیا کے سب سے بڑے گوردوارے دربار صاحب کا افتتاح کریں گے۔یہ منصوبہ 10 ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کیا گیا ہے۔

راہداری کی تعمیر کے ساتھ پاکستان میں موجود سکھوں کے دوسرے مقدس ترین مقام گوردوارہ دربار صاحب میں بھی توسیع کی گئی ہے، 44 ایکڑ رقبے پر مشتمل دنیا کا یہ سب سے بڑا گوردوارہ ہے، سکھ یاتری 72 سال کی دعائیں پوری ہونے پر خاصے خوش دکھائی دے رہے ہیں۔

یمن میں بارودی سرنگ دھماکے میں 9 سالہ بچہ جاں بحق، 2 زخمی

صنعا: جنگ زدہ یمن کے دارالحکومت کے مشرقی علاقے میں بارودی سرنگ پھٹنے سے ایک 9 سالہ بچہ جاں بحق اور اس کی بہن اور بھائی زخمی ہو گئے۔

العربیہ نیوز کے مطابق یمن کے دارالحکومت صنعا کے علاقے ربیع یام میں بچے بکریاں چرا تھے کہ اچانک زوردار دھماکا ہوگیا جس کے نتیجے میں 9 سالہ مارش ربیع موقع پر ہی دم توڑ گیا، دھماکے کی زد میں آکر اس کا 7 سالہ بھائی ھمام اور 6 سالہ بہن صنع اللہ بھی زخمی ہوگئی۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکا بارودی سرنگ پھٹنے کے باعث ہوا، یہ بارودی سرنگیں حوثی باغیوں نے زیر زمین بچھائی تھیں تاکہ یمن کی اتحادی افواج کو نشانہ بنایا جا سکے۔ باغی جنگجوؤں نے اس علاقے میں ہزاروں بارودی سرنگیں اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات زیر زمین نصب کر رکھے ہیں۔

واضح رہے کہ یمن میں دارالحکومت صنعا کے اکثر علاقوں پر حوثی باغیوں کا قبضہ ہے جب کہ سعودی عرب کی سربراہی میں عسکری اتحاد کی افواج صنعا سے باغیوں کا قبضہ چھڑوانے کے لیے پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے تاہم اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں زیادہ تر جانی اور مالی نقصان شہریوں کا ہوا ہے۔

سنی دیول کی بھی کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت

بابا گرو نانک کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر کرتارپور راہداری کا افتتاح کیا گیا جس میں پاکستان کی اہم سیاسی و سماجی شخصیات سمیت بھارت کی بھی اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔

افتتاحی تقریب شروع ہونے سے قبل ہی پاکستان کی خصوصی دعوت پر بھارت کے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ سمیت دیگر بھارتی اہم سیاسی، سماجی و شوبز شخصیات کرتارپور راہداری کے ذریعے شرکت کے لیے پہنچیں۔

سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے کرتارپور راہدرای کے ذریعے پاکستان آنے والے پہلے جتھے کی قیادت کی۔

ان کے علاوہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امرندر سنگھ، سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو اور بولی وڈ اداکار سنی دیول بھی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے۔

سنی دیول کا تعلق اگرچہ شوبز انڈسٹری سے ہے، تاہم وہ بطور سیاسی رہنما تقریب میں شریک ہوئے، وہ اس وقت حکمران جماعت جماعت ’بھارتی جنتا پارٹی‘ (بی جےپی) کے رکن اسمبلی ہیں۔

جہاں سنی دیول کا تعلق بی جے پی سے ہے، وہیں وہ سکھ خاندان سے بھی تعلق رکھتے ہیں اور وہ عام طور پر فلموں میں بھی سکھوں کے کردار نبھاتے دکھائی دیتے ہیں۔

کرتارپور راہداری کی افتاحی تقریب میں سنی دیول وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں— فوٹو: رائٹرز
کرتارپور راہداری کی افتاحی تقریب میں سنی دیول وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں— فوٹو: رائٹرز

سنی دیول نے کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت سے قبل ہی اپنے ٹوئٹر پر اس کا اعلان کیا تھا اور اس پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔

کرتارپور راہداری کھلنے سے یومیہ 8 سے 10 ہزار افراد کے پاکستان آنے کے امکانات ہیں۔

کرتار پور پاکستانی پنجاب کے ضلع نارووال میں شکر گڑھ کے علاقے میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے، جہاں سکھوں کے پہلے گرونانک دیو جی نے اپنی زندگی کے 18 برس گزارے تھے۔

کرتارپور میں واقع دربار صاحب گوردوارہ کا بھارتی سرحد سے فاصلہ تین سے چار کلومیٹر کا ہی ہے۔

سکھ زائرین بھارت سے دوربین کے ذریعے ڈیرہ بابانک کی زیارت کرتے ہیں بابا گرونانک کے جنم دن کے موقع پر ہزاروں سکھ زائرین ہر سال بھارت سے پاکستان آتے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کرتارپور سرحد کھولنے کا معاملہ 1988 میں طے پاگیا تھا لیکن بعد ازاں دونوں ممالک کے کشیدہ حالات کے باعث اس حوالے سے پیش رفت نہ ہوسکی، تاہم اب پاکستان نے اس راہداری کو کھول کر تاریخ رقم کردی۔

درجنوں سکھ زائرین بھی پیدل تقریب میں پہنچے—فوٹو: اے ایف پی
درجنوں سکھ زائرین بھی پیدل تقریب میں پہنچے—فوٹو: اے ایف پی

اقبال حسین کی بشریٰ انصاری سے شادی کی خبروں کی تردید

کراچی: ہدایت کار اقبال حسین نے پاکستان کی ورسٹائل اداکارہ بشریٰ انصاری کے ساتھ شادی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دے دیا۔

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر بشریٰ انصاری کی ہدایت کارا قبال حسین کے ساتھ دوسری شادی کی افواہیں گردش کررہی تھیں تاہم بشریٰ انصاری نے ان افواہوں پر کسی قسم کا کوئی ردعمل نہیں دیا تھا۔ لیکن اب اقبال حسین نے ان افواہوں کی تردید کردی ہے۔

انٹرٹینمنٹ پی کے نامی مقامی ویب سائٹ کے مطابق حال ہی میں دئیے گئے انٹرویو کے دوران جب اقبال حسین سے بشریٰ انصاری کے ساتھ شادی کی خبروں کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے ان افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بے بنیاد اور جھوٹی خبر ہے اور لوگوں کو اس طرح کی افواہوں پر دھیان نہیں د ینا چاہیئے۔

اقبال حسین نے سیتا بگڑی، نظر بد اور دیوار شب جیسے بڑے پراجیکٹ کی ہدایات دی ہیں اور اس وقت وہ ڈراما سیریل’’زیبائش‘‘کی تیاریوں میں مصروف ہیں جسے بشریٰ انصاری نے تحریر کیا ہے۔

کچھ عرصہ قبل بشریٰ انصاری نے اپنی بہن  اسماعباس کے ساتھ مل کر پاک بھارت کشیدہ صورتحال میں امن کا پیغام دیتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس کا ٹائٹل’’ماں جایا‘‘تھا۔ اس ویڈیو کو بھی اقبال حسین نے ہی ڈائریکٹ کیا تھا۔

واضح رہے کہ بشریٰ انصاری نے پروڈیوسر اقبال انصاری سے شادی کی تھی دونوں کی دوبیٹیاں ناریمن اور میرا انصاری ہیں۔

جمہوریت کی بقاء کےلئے حکومت کومدت پوری کرنی چاہیے

سیاست میں کبھی بھی دوٹوک بات کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے ، حکومت جب ہرطرح سے راضی ہے وہ ہرحلقہ کھولناچاہتی ہے تو پھرمولانافضل الرحمان کواس پرکوئی اعتراض نہیں ہوناچاہیے، ظاہر ہورہاہے کہ مولاناکسی ذاتی ایجنڈے پرکارفرما ہیں ان کا اختلاف حکومت یا اس کی پالیسیوں سے نہیں بلکہ محض ایک شخص سے ہے جس کانام عمران خان ہے، اسی ذاتی مفادات کی سیاست نے ہمیشہ جمہوریت کو ڈبویا، حکومت انتہادرجے کی لچک دکھا رہی ہے لیکن آخرکاروزیراعظم نے کہہ دیا کہ اگربات استعفے کی ہے تو پھراپوزیشن سے مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں ، مولانافضل الرحمان کوچاہیے کہ وہ نہ تو جمہوریت کی بساط لپیٹیں اورنہ ہی ایسے فیصلے کریں جو اس ملک وقوم کےلئے نقصان دہ ثابت ہوں ، جو وقت کاتقاضا ہے اسی پرچلناچاہیے لفظی گولہ باری سے رہبرکمیٹی اورحکومتی مذاکراتی کمیٹی کے مابین خلیج حائل ہوتی جارہی ہے فضل الرحمان صرف استعفے پرڈٹے ہوئے ہیں اورانہوں نے کہہ دیاکہ مذاکراتی ٹیم کا آناجانالاحاصل ہے جب تک وہ وزیراعظم کے مستعفی ہونے کامطالبہ پورانہیں کرتے تو تمام ملاقاتیں بے کار ہیں جبکہ پرویزخٹک نے بھی کہاکہ ہم بھی صرف آجا رہے ہیں اوروقت گزاری کررہے ہیں اب ان بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حالات پوائنٹ آف نوریٹرن کی جانب گامزن ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے واشگاف الفاظ میں کہاکہ گزشتہ دنوں مولانانے کہاتھاکہ انہیں لاشیں چاہئیں جس پرعمران خان نے کہاکہ ہم جمہوری لوگ ہیں لاشیں نہیں دیں گے اس طرح کے انتہاپسندانہ بیانات جمہوریت کوقتل کرنے کے مترادف ہیں ،انہی حالات کومدنظررکھتے ہوئے حکومت کے تمام ترجمانوں کو دھرنے کے حوالے سے بیان بازی سے بھی روک دیاگیاہے یہ ایک انتہائی احسن اقدام ہے ماضی کی سیاست کوبھی کھنگالاجائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نوازشریف کے دور میں جب قطر میں طالبان کے ساتھ مذاکرات ہورہے تھے تو اس وقت بھی اس زبان کی چاشنی نے تمام معاملے کو سبوتاژ کردیاتھا جب حالات انتہائی نازک اورحساس نوعیت کے ہوجائیں تو بہت سوچ سمجھ کربولناپڑتاہے کیونکہ بعض اوقات ایک چھوٹاسابیان تمام کاوشوں کوتلپٹ کرکے رکھ دیتاہے ۔ دونوں فریقین کوباہمی افہام وتفہیم سے اورمل بیٹھ کرمعنی اورنتیجہ خیزمذاکرات کرنے چاہئیں کیونکہ اسلام آباد میں اس وقت سردی کی شدت ہے اوررات بھردھرنے کے شرکاء کاکھلے آسمان میں ٹھہرنا انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتاہے ، خصوصی طورپرجب بارش ہوجائے تواس وقت ان کے سرچھپانے کی کوئی جگہ نہیں جبکہ دھرنے کے اکابرین چھت تلے مزے سے گرم رضائیوں میں خواب خرگوش کے مزے لیتے رہتے ہیں اورکارکن ٹھٹھرتی سردی میں تھرتھرکانپتے ہوئے مختلف بیماریوں میں مبتلاہورہے ہیں بلکہ ابھی تک تقریباً تین افراداپنی جان کی بازی بھی ہارچکے ہیں ۔ جمہوریت کبھی بھی خون نہیں مانگتی وہ جمہورکی حفاظت اوران کے حقوق کی پاسداری کرتی ہے ہم سب کی بقاء اسی میں ہے کہ جمہوریت کوچلنے دیاجائے اورمل بیٹھ کرکوئی درمیانی راستہ نکالاجائے ۔ ادھر وزیراعظم نے یوٹیلٹی سٹورکارپوریشن کےلئے بھی چھ ارب روپے جاری کرنے کا اعلان کیاہے جس میں اشیائے خوردونوش کی فراہمی سستی ہونے کا امکان ہے دراصل عوام کا حقیقی مسئلہ ،دھرنایا آزادی مارچ نہیں بلکہ مہنگائی ہے اس کوترجیحی بنیادوں پرحل کرناہوگا ۔ دوسری جانب وزیراعظم نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے معاشی ترقی کےلئے سمگلنگ کی موثرروک تھام کے عزم کا اظہارکیا ۔ چیزیں سستی کرنے کے ساتھ ساتھ سمگلنگ کو بھی کنٹرول کرنا انتہائی ضروری ہے اسی سلسلے میں وزیراعظم نے اجلاس کے دوران متعلقہ اداروں کو سمگلنگ روکنے کی ہدایات جاری کیں تاکہ ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں ۔ دوسری جانب نوازشریف کاعلاج کے سلسلے میں بیرون ملک روانگی کے حوالے سے عمران خان نے کہاکہ یہ کوئی این آرنہیں ہے ،این آراوتب ہوتاہے جب حکومت مقدمات کی پیروی نہ کرے نوازشریف علاج کے لئے باہرجارہے ہیں ا ن کے مقدمات قائم رہیں گے اور وہ واپس آکران کاسامناکریں گے جبکہ شہبازشریف نے بیرون ملک جانے اورای سی ایل نے نام نکلوانے کے لئے درخواست دیدی ہے لند ن اورامریکہ میں بھی نوازشریف کے علاج کے حوالے سے مختلف ڈاکٹروں سے گفت وشنیدچل رہی ہے نوازشریف کے ہمراہ شہبازشریف بھی جائیں گے ،مریم نوازنے بھی کہاکہ سیاست سے ضروری نوازشریف کی صحت ہے ان کی زندگی اس قوم کی امانت ہے لہٰذا انہیں بیرون ملک علاج کےلئے جانا چاہیے ، حکومت کابھی یہ احسن اقدام ہے کہ اس نے انسانی بنیادوں پرنوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی ہے اور آئندہ ہفتے وہ لندن روانہ ہوجائیں گے ۔

پاکستان کی بہترمعیشت پر

آئی ایم ایف کا اظہاراعتماد

حکومتی اقدامات کے باعث معیشت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے آئی ایم ایف نے بھی اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے اپنے پرانے اہداف مکمل کرلئے ہیں نیزاب نئی گائیڈلائنز دیدی گئی ہے ، آئی ایم ایف نے پاکستان کو45کروڑ ڈالریعنی کہ 70ارب روپے کی دوسری قسط دسمبر میں دینے کا اعلان کردیا ہے جبکہ بھارت کی معیشت تباہ حال ہوچکی ہے ۔ موڈیز کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے معاشی حالات انتہائی دگرگوں ہیں آنے والے وقتوں میں وہاں پربھوک، افلاس اورمہنگائی کاراج ہوگا ۔ ادھرپاکستان کے اقدامات پرآئی ایم ایف نے معترف ہوتے ہوئے کہاہے کہ مشکل حالات کے باوجود پاکستان نے پروگرام پربہترعمل کیا اندرو نی وبیرونی خسارے کم ہوگئے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لئے اقدامات کئے گئے وزیراعظم کے مشیرخزانہ حفیظ شیخ کاکہنا ہے کہ پاکستان پہلے جائزے میں کارکردگی کے معیارپرپورا اترا، معیشت مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہے ،مہنگائی میں کمی کی توقع ہے ،انسدادمنی لانڈرنگ اوردہشت گردوں تک مالی رسائی روکنے کے لئے فریم ورک پرخاطرخواہ کام ہورہاہے، اقتصادی ترقی سست لیکن اس کے نتاءج مثبت آرہے ہیں ۔ حال میں جو حکومت فیصلے کررہی ہے وہ عوام کوگراں تو گزررہے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کے نتاءج اچھے برآمدہورہے ہیں جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہورہاہے آج کچھ مشکلات برداشت کرناہوں گی آنیوالاوقت انشاء اللہ سکون کاہوگا ۔ توقع ہے کہ رواں سال مہنگائی کی اوسط شرح کم ہوکرگیارہ اعشاریہ آٹھ فیصد پرآجائے گی ۔

عیدمیلادالنبیﷺ کے موقع پر امت مسلمہ کومتحداوریکجاہونے کاعزم کرناہوگا

ملک بھر میں آج عیدمیلادالنبی;248; مذہبی عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے ۔ رات کومحافل نعت اور کانفرنسز ہونگی ۔ مساجد میں اسلام اورمذہبی تعلیمات کے فروغ ،اتحاد،یکجہتی، ترقی اورامت مسلمہ کی فلاح وبہبود کےلئے خصوصی دعائیں مانگی جائیں گی ۔ دن کی سب سے بڑی تقریب اسلام آباد میں بین الاقوامی رحمت الالعالمین;248; کانفرنس ہوگی، جس کے افتتاحی اجلاس کی صدارت وزیراعظم عمران خان جبکہ اختتامی نشست کی صدارت صدر ڈاکٹر عارف علوی کریں گے ۔ حکومت ، مذہبی تنظیموں ;47; میلاد کمیٹیوں اورذاتی طورپرلوگوں نے اس موقع پر جلوس ، سیمینارز، کانفرنسز اورمباحثے کے پروگرام ترتیب دیئے ہیں ۔ ملک بھر میں عیدمیلادالنبیﷺ کے سلسلے میں متعدد جلوس نکالے جائیں گے ۔ اُدھر گلیوں ،سڑکوں ، بازاروں ، شاپنگ سنٹرز اورسرکاری و نجی عمارتوں کو برقی قمقموں ، رنگارنگ جھنڈیوں اور بینرزسے سجایا گیا ہے جونہایت دلکش منظرپیش کر رہے ہیں ۔ عید میلادالنبیﷺ کا دن ہ میں اس بات کا پیغام دیتا ہے کہ ہم اللہ اوراس کے رسولﷺ کے احکامات پر عمل پیرا ہوں آج امت مسلمہ جو ذلیل وخوار اور نفاق کا شکار ہے وہ محض اس لئے کہ ہم نے رسول پاکﷺ کی تعلیمات سے دوری اختیار کرلی ہے ۔ حضور پاک ﷺ کی زندگی ہمارے لئے عملی نمونہ ہے ہم اللہ تعالیٰ کے حکم اورحضورپاکﷺ کی پیروی کر کے کامیابی حاصل کرسکتے ہیں ۔ آج ہم دنیا و ما فیہا میں اتنے گم ہوچکے ہیں کہ آخرت کی کوئی فکرہی نہیں ، آخر کار دنیابھر میں صرف مسلمان ہی کیوں ظلم وتشدد کا نشانہ بن رہے ہیں ،دیکھاجائے تو ہرجگہ پرمسلمانوں پرظلم ہورہاہے ۔ آج کشمیر ، فلسطین ، افغانستان، عراق سمیت بہت سے اسلامی ممالک میں مسلمان غیر مسلموں کے ہاتھ مررہاہے ۔ اب ہ میں قرآن ، سنت اوراحادیث پرعمل پیرا ہونا ہوگا، اللہ اور اس کے محبوبﷺ کی قربت حاصل کرنا ہوگی ان کے دیئے ہوئے احکامات پر عملدر آمد کرنا ہوگا ، عید میلاد النبیﷺ ہ میں آپس میں اتحاد اور اخوت سے رہنے کا سبق دیتی ہے ،متحدہوکرہی مسلمان کفار کو شکست سے دوچارکرسکتے ہیں ۔

جدید پاکستان ، نوجوانوں کا کردار اور فکر اقبال

اکستان کا خیال اقبال;231; کے ذہن میں کیوں آیا ;238; جیسے کہ اقبال;231; عالم اسلام کے مفکر جن کو لا الہٰ کے ذریعے جواب مل جاتا ہے، دو قومی نظریے کا خیال آیا ۔ جس میں ہندو اور مسلمان دو الگ قو میں ہیں ۔ ایک میان میں دو تلواروں والی بات تھی ۔ جب قرآن اس قدر واضح تصور سیاسست پیش کرتا ہے ، نظریہ قرآن کو عملی طور پر الگ ریاست میں احکام الہٰی کے تحت نافذ کیا جاسکتا ہے ۔ ہندو اکثریت کی غلامی بمنزلہ موت کے ہے ۔ ایسی زمین کا ٹکڑا جہاں مسلمان اللہ کی حاکمیت کے تحت اس مملکت کا احیاء کریں گے ۔ جہاں وہ اپنے افکار اور احکام دین کے مطابق زندگی بسر کریں گے ۔ قیام پاکستان کا تصور کرہ ارض میں ہمارے دین کی بنیاد ہے ۔ اس وقت اسلام ہی واحد دین ہے ۔ باقی سب مذاہب ۔ جہاں مذاہب ہوں گے وہاں تاریکی ، توہمات، باطل تصورات ہونگے ۔ مولانا آزاد عالم اسلام میں معروف مقرر اور مذہبی عالم تھے ۔ حسین مدنی دیوبند کے ممتاز عالم تھے مگر انہوں نے ہندو یعنی باطل کے ساتھ مصالحت کی بلکہ انکے آلہ کار بن گئے ۔ علامہ اقبال کے ان افکار اور قائداعظم کو عوامی جلسوں میں کافر، کہہ کر بدنام کرنے کا پروپیگنڈا چلایا بلکہ آخر میں حسین مدنی نے اقبال کے تصور کو زائل کرنے کے لئے قو میں اوطان سے بنتی ہیں ‘‘ کے پمفلٹ بانٹا شروع کئے ۔ یعنی ہندوستان ہم سب کا وطن ہے ۔ اس میں ہندو اور مسلم دونوں ایک ہی قوم ہیں ۔ یعنی رام اور رحیم دونو ں ایک ہیں ۔ آپ غور کیجئے کہ یہ ایک گمراہ کن صدا تھی جس پر علامہ اقبال نے ایسا جواب دیا کہ مولانا معافیوں پر اترآیا ۔

ملاُ کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

بحر حال نو جوانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان کسی دیوانے کا خواب نہیں ۔ اس کا مقصد اور نصب العین نہایت مقدس اور پاکیزہ ہے ۔ یہ درست ہے کہ اب تک پاکستان نے ان نظریات کا جامہ نہیں پہنا ۔ مگر یہ خوش قسمتی کیا کم ہے یہاں کے مسلمان ہندوستان کے مسلمانوں یا کشمیر کے مسلمانو ں کی نسبت آزاد فضا میں جی رہے ہیں ۔ ہمارا سیاسی نظام اپنے مفا د پرست ٹولے کے شکنجے میں ہے باطل اور حق کی اس آویزش میں دنیا کی کئی قو میں اُبھری ہیں اور آج انکی اپنی شاخت ہے ۔ امریکہ کو تین سو سال لگے خانہ جنگی میں اور بد ترین حالات سے ۔ چین ہمار ا پڑوسی ہے ۔ جاپان یا مغربی ممالک ۔ تاریک دور سے گزر کر آج ترقی کی راہ پر گامزن ہیں ۔ لیکن جن قوموں کی مثال دی جار ہی ہے انکے پاس تحریک کا سبب وطن پرستی تھا ۔ پاکستان اسلام کے تحت معرض وجود میں آیا ۔ عالمی سطح پر اور ہمارے اپنے مسلمان بھی اس نظریے کی مخالفت کر رہے تھے کیونکہ جب خدا کی حاکمیت کی بات ہوئی جسکا آئین قرآن ہے ۔ نافذالعمل ہوگا تو یہ تاریکیاں فنا ہو جائیں گی ۔ اقبال کے کلام کا مرکزی فلسفہ، خودی ہے ۔ خودی وہ توانائی ہے جو صرف نوجوان میں پائی جاتی ہے ۔ اقبال نے اپنے اس فلسفے کی تکمیل کے لئے نوجوان کا انتخاب کیا ہے یہ قرآن کا وہ کردار ہے جسے اقبال نے خودی کے ذریعے متشکل کرنا چاہا ۔ خودی دراصل وہ صفت یا کردار ہے جس سے پہچان ذات، معارف ذات ، انفرادیت ، شخصیت ، سچائی اور حق کے لئے کوشاں کردار ، عادل منصف، ذمہ دار ، مایوسی کا دشمن اپنی زندگی کو نظم و ضبط سے گزارنے والا ۔ ہر وقت متحرک رہنے والا ۔ بلند مقاصد سے لیس’’ خیرالناس‘‘ کا ترجمان ، عمل پسند، مستقبل پسند، ماضی سے کسی قسم کی تصوراتی وابستگی نہ رکھنے والا ۔ اللہ کی حاکمیت پر ایمان رکھنے والا ۔ قرآن میں غور و فکر کرنے والا ۔ وہاں سے اللہ کی نگہبانی لینے والا اور اسکو اپنی زندگی میں نافذ کرنے والا اور اسکا دائرہ عالمگیر انسانیت تک پھیلانے والا ۔ خود احتسابی کے عمل سے گزرنے والا ۔ علوم اور سائنس میں محقق بن کر ارتقاء سے گزرنے والا ،جدید تصورات کےساتھ ساتھ دین کے اخلاقی نظا م کا پابند رہنے والا ۔ محکوموں ، غلاموں اور یتیموں کا آسرا ۔

ان صفات کو حاصل کرنےوالے نوجوان کو مومن کہتے ہیں ۔ اقبال نے ہر اُس نوجوان کیلئے ہی پیغام دیا ہے ( ایک نوجوان کے نام )

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

توُ شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

جو کبوتر پہ جھپٹنے کا مزا ہے اے پسر

وہ مزہ شاید کبوتر کے لہو میں میں بھی نہیں

ان دواشعار میں نوجوان کو شاہین کے استعارے میں رکھا یا گیا ۔ شاہین کی یہ صفت ہے کہ وہ مسلسل حرکت میں رہتا ہے ۔ اُسکی اڑان فضاؤں میں رہتی ہے ۔ اُس کا مشاہدہ آسمان سے زمین پر ۔ وہ تمام جزیات حرکت زندگی سے با خبر رہتا ہے ۔ ایک نوجوان نے اپنی عملی زندگی میں مسلسل مصروف رہتا ہے کیونکہ اس کی قوت اور توانائی اس قدر پاکیزہ و مقدس ہوتی ہیں کہ وہ ہر نا ممکن کو ممکن بنا لیتا ہے ۔ دوسرے شعر میں نوجوان کے لئے کیا خوبصورت پیغام ہے کہ جب آپ کسی مقصد کےلئے مسلسل یہ عمل کرتے ہیں تو اس کی لذت سے خو د کو بیگانہ رکھیں ۔ جو اس شے کو حصول سے پہلے آپکو حاصل ہے کیونکہ منزل پر پہنچنے سے پہلے جو کوشش ہے اصل قیمت اسکی ہے منزل کا حصول اس لذت کا خاتمہ ہے ۔ لہٰذا پہلی سے دوسری اور دوسری سے اگلی منزل کاتعین کرتے جائیں ۔ اس سے آپکے عزائم ، ارادے اور نصب العین کی وسعت گہرائی اور گیرائی میں اضافہ ہوتا چلاجائیگا اور یہ تسخیر کا ئنات ہے ۔ گویا خودی اپنی سرحدوں سے نکل کر خدائی بن جاتی ہے اور اس طرح شرف انسانیت کا وہ مقام حاصل ہوتاہے ۔ جب اللہ نے انسان کی پیدائش پر فخر کیا تھا ۔ اقبال نے پاکستان کے تصور کے دوران ہی اپنے اس خواب کو نوجوانوں کے ہاتھوں متشکل کروانے کی آرزو کی تھی ۔

خدایا آزرو میری یہی ہے

میرا نورِ بصیرت عام کردے

جاوید کے نام کے ذریعے نوجوان کو پیغام :

میرا طریق امیری نہیں فقیری نہیں

خودی نہ بیج غریبی میں نام پیدا کردے

ایک مومن نوجوان کی تگ و دو ۔ اسکی زندگی سے لیکر بعداز موت کی زندگی میں بھی جاری رہتی ہے ۔

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

نوجوان ہی سے کہا کہ اپنے مستقبل پر نظر رکھو، حال زندگی کا وہ زمانہ ہے جس کو موقع oppurtinity کہتے ہیں ۔ حال کا سفر مستقبل کی طرف ہے ۔ ’یہ زمانہ ‘’وقت‘’ دور‘ ۔ ارتقاء ;69;voluteپذیر ہے ۔ آگے کی طرف رواں دواں ہے واپس نہیں جاتا ۔ آج ستاروں سیاروں اور بلیک ہول کی باتیں ہو رہی ہیں مریخ اور چاند پر انسان نے قدم رکھا کیا پہلے ممکن تھا ،یہ اصول کائنات ہے کہ وقت کی قدر کرکے اسکو اپنے اور انسانیت کے مفاد کے لئے استعمال کرو اور یوں آپ ایک ’’جنت ‘‘ سے ’’دوسری جنت ‘‘ مگر مستقبل میں داخل ہوجائیں گے ۔ اقبال نے یہ نکتہ سورہ رحمان سے لیا ہے جہاں ’’قرآن نے ’’جناتان‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ یعنی اس دنیا میں جب انسان قرآن کی اطاعت کر کے ایک ایسا نظام قائم کرتا جس میں فلاح انسانیت کے اصول مرتب ہوتے ہیں ۔ انفرادی و اجتماعی دونوں زندگیا ں امن میں ہونگی ۔ اسے قرآن نے دنیا کی ’’جنت ‘‘ قرار دیا ہے اور جس نے جہاں جتنی زندگی گزاری اس کی آخروی جنت اس نے خریدلی ہے ۔ یعنی اصول یہ ہے کہ اپنے آج کو مسلسل محنت ، دیانتداری ، ایمانداری سے خوشگواربنالیں تو آپ اگلے مرحلہ زندگی کی خوشگواریت کا حق دار بن جاتا ہے ۔ ایسا نہیں کہ آپ ماضی پرستی، اپنے آباوَ اجداد کے کارناموں پر صرف فخر کرتے رہیں تو آپکا اس دنیا اور آخرت کا بہترین مستقبل ایک خواب ہی رہے گا ۔

کبھی اے نوجواں مسلم تدبیر بھی کیا تو نے

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا سے زمین پر آسماں نے ہم کو دے مارا

Google Analytics Alternative