Home » Author Archives: Admin (page 4)

Author Archives: Admin

مجید نظامی۔۔۔ کتھوں قبراں وچوں بول۔۔۔!

نوائے وقت کو کون بچائے گا ;238; کہیں نوائے وقت کی تاریخ اپنے آپ کو دہرا تو نہیں رہی ;238; جب عارف نظامی کی والدہ دفتر سے نکلی تھیں اور مجید نظامی آئے تھے ;238; کیا عارف نظامی کے نوائے وقت کی گرتی دیوار کو تعمیرکرنے کا وقت آگیاہے ;238; یہ سوال لوگوں کے ذہنوں میں ہے ، خود میرے احساسات دلگرفتہ ہیں کیونکہ زندگی میں پہلی مرتبہ یہ منظر دیکھا کہ صبح سویرے اخباروں کا بنڈل کھولا تو اس میں ’’ نوائے وقت ‘‘ نہیں تھا ۔ دل پر عجیب سی افسردگی چھاگئی ۔ مجید نظامی کی رفاقت میں گزرے لمحات اور پاکستانی قوم کی اس اخبار کے ساتھ نظریاتی وابستگی یاد آگئی ۔ جملہ ہے تو یوں کہ ’’ آج آکھاں وارث شاہ نو کتھوں قبراں وچوں بول‘‘ ۔ مگر دل چاہ رہا ہے کہ مجید نظامی سے کہوں کہ آج قبر سے بول پڑیں اور جواب دیں کہ قائداعظم کی خواہش پر جس اخبار کا اجراء ہوا تھا اسے کیوں برباد کیا گیا اور جس اخبار نے آئندہ آنے والی نسلوں کی ذہنی تربیت کرنا تھی ۔ اقبال ، قائد کے افکار بیان کرنا تھے اور سب سے بڑی بات کسی بھی جابر حکمران کہ سامنے حق سچ بولنے کی جراَت کرتا مگر اس کی زبان بندی کیسے ہوئی;238; ۔

مجھے عارف نظامی سے کہنا ہے کہ سامنے آئیں اور نوائے وقت اخبار چاہے دو صفحوں کا چھاپ کر تجدید عہد وفا ہی کرتے رہیں ۔ کیونکہ پاکستان کے بہت سارے دلوں پر چوٹ پڑی ہے مگر میرے دل پر اس لئے یہ چوٹ کسی زلزلے کی طرح ہے اور میری آنکھوں سے آنسو ہیں کیونکہ میں نے نہ صرف نوائے وقت میں بہت عرصہ گزارا بلکہ مجید نظامی کی بائیو گرافی لکھی ۔ مجید نظامی نے ایک مرتبہ حکم دیا کہ میں بائیس ، تئیس کالم لکھوں میں نے لکھے اور کڑے ٹیسٹ کے بعدانہوں نے مجھے اپنی روحانی بیٹی تسلیم کیاجس کے گواہ بہت سارے لوگ ہیں ۔ جن میں جسٹس (ر) آفتاب فرخ (مرحوم) بھی شامل تھے ۔ جو مجید نظامی کے دیرینہ رفیق تھے اور دونوں نے بہت ساراوقت اکٹھا گزاراتھا اور روحانی بیٹی ہونے کا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ آج ان کے فکری اثاثہ کی حقدار میں خود کو سمجھ کر خوش قسمت تصور کرتی ہوں اور جا بجا مجید نظامی کی سوچ کا پرچار کرتی رہونگی ، میری خوش قسمتی ہے کہ سردار خان نیازی کی زیر قیادت کام کررہی ہیں جن سے مجید نظامی بہت محبت کرتے تھے ۔ لیکن نوائے وقت کی کہانی میں عارف نظامی کو اس لئے سوچنا پڑے گا کہ جب قائداعظم کی سرگرمیوں کامرکز پنجاب تھا تو انہوں نے نوجوان طالب علموں کو اپنی امیدوں کا مرکز بنایا تھا کیونکہ وہ پنجاب کے جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرداروں سے مایوس تھے پنجاب کے طالب علموں کاوفد قائداعظم سے ملنے گیا تو قائداعظم نے چاروں طرف متلاشی نظروں سے دیکھا اور کہنے لگے ۔۔۔ کہاں ہے آپکا آتش نوا;238; کیونکہ اس مرتبہ طالب علموں کے قافلہ میں حمیدنظامی موجود نہیں تھے ۔ قائداعظم کی حمید نظامی سے ملاقات نومبر 1946 میں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سالانہ اجلاس میں ہوئی تھی ۔ حمید نظامی نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر کی حیثیت سے اس اجلاس میں اپنی تقریر کی تھی کہ مجمع عش عش کررہاتھا جس کے بعد قائداعظم نے کہا تھا ’’ میری قوم کو حمید نظامی جیسے ہوش مند نوجوان میسر ہوں تو اس قوم کا مستقبل روشن اور تابناک ہے‘‘ دراصل نوائے وقت کو بھی ’’ہوش مند‘‘نوجوان وارثوں کی ضرورت ہے ۔ رمیزہ نظامی تومجید نظامی کی بٹ خاندان میں شادی کے بعد حادثاتی وارث بن گئیں مگرعارف نظامی اگر اپنی زندگی کو مجید نظامی کی زندگی میں اس طرح ڈھال لیتے کہ مجید نظامی قائداعظم کے حمید نظامی کو کہے گئے کلمات کی طرح عارف نظامی کو کہتے ’’ نوائے وقت کو عارف نظامی جیسے ہوش مند نوجوان میسر ہوں تو اس اخبار کا مستقبل روشن اور تابناک ہے‘‘ مجید نظامی نے مجھے ذاتی طورپر ایک مرتبہ بہت دکھی دل کے ساتھ بتایا تھا کہ عارف نظامی اور رمیزہ ایک ساتھ رہ کر کام کرتے تو ایک دن عارف نظامی نے میری جگہ ہی آنا تھا یعنی عارف نظامی آج مجید نظامی ہوتے ۔ میں اس بات کی بھی گواہ ہوں اور جسٹس آفتاب فرخ(مرحوم) ساتھ ہوتے تو وہ بھی گواہ ہوتے کیونکہ ہم تین لوگوں کے درمیان بے شمار ملاقاتیں ہوئی تھیں کہ مجید نظامی کبھی بھی اس اخبار کا اختتام یوں پسند نہیں کرسکتے تھے ۔ مجھے یاد ہے لاہور آفس میں ایک مرتبہ میں ملاقات کو گئی تو کمرے میں داخل ہوکر دیکھا کہ کمرے کی سیٹنگ بدلی ہوئی تھی ۔ مجید نظامی نے فوراً پوچھا عائشہ آپکو یہ ترتیب کیسی لگ رہی ہے;238; میں نے کہا نظامی صاحب یہ ترتیب پہلے سے اچھی ہے ۔ مجید نظامی عام طورپر کرسی سے کھڑے ہوکر بات نہیں کرتے تھے اس روز وہ کمرے کی ایک ایک چیز اورکتابیں دکھاتے رہے ۔ یہ بات ان کی دفتر سے محبت کی علامت تھی میں ان دنوں کشمیر پر کام کررہی تھی ۔ میں نے فوراً ان سے کشمیر کے موضوع پر لکھی دو کتابیں مانگ لیں جو ان کی ذاتی کلیکشن تھی ۔ انہوں نے مجھے وہ عنایت کردیں ۔ مجید نظامی کی کشمیر کے ساتھ وابستگی کو پورا پاکستان جانتا ہے دراصل مجید نظامی کے انتقال کے بعد سے پاکستان کے ہر شہر میں یہ چہ میگوئیاں ہورہی تھیں کہ مجید نظامی کے جانے کے بعدا ور عارف نظامی کے کھڈے لائن ہونے کے بعد یہ اخبار بند کردیا جائے گا مگراس سوچ کے برعکس مجھے فاطمہ جناح یاد آتی رہیں تھیں اورخیال آتا تھا کہ کیسے اتنے محبت کرنے والے باپ کی شناخت کو رمیزہ ختم ہونے دے سکتی ہیں ۔ مجید نظامی نے رمیزہ کو ان کے سگے والد سے بڑھ کر محبت دی ۔ انہیں لندن پڑھنے کے لئے بھیجا ۔ ان کی واپسی پر ان کی صحافی کے طورپر تربیت کرنے میں بھی کوشاں رہے ۔ مجھے یاد

ہے ایک مرتبہ میں نے ان کی یادداشتوں کو مرتب کرنے کے سلسلے میں دفتر بیٹھی تھی اور مجید نظامی کے ساتھ رمیزہ موجود تھیں مجید نظامی اپنی کرسی پر براجمان تھے جبکہ رمیزہ نزدیک ہی تشریف فرما تھیں اوران کے ہاتھ میں اور سامنے میز پر ڈاک اور خبریں پڑی تھیں میں مجید نظامی کے سامنے والی کرسی پر جاکر بیٹھ گئی اورکاغذ قلم نکال لیا اتنے میں میرے سامنے مجید نظامی نے رمیزہ سے پنجابی میں کہا ’’توں وی کچھ سکھ لے‘‘ اور تاکید کی کہ ڈاک اور خبریں اچھی طرح دیکھو ۔ نوائے وقت کی بربادی کا آغاز ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ مجھے یاد ہے میں نوائے وقت کالم کمپوزرکو تھما کر ادبی صفحہ کیلئے انٹرویو کرتے مخصوص چھوٹے ہال میں پہنچی جہاں ہم نے مجید نظامی کی بڑی بڑی تصاویر آویزاں کی تھیں تو وہاں سامنے مجھے وقت نیوز کے دو بندے بیٹھے نظر آئے جو خبروں پر کام کررہے تھے میں نے حیرت سے دیکھا تو کہنے لگے وقت نیوز بند کردیا گیا ہے اور اب ہم یہاں بیٹھ کرکام کررہے ہیں ا ور پھر انہوں نے وہ جملے بولے جو وہ رمیزہ کو اس کے منہ پر نہیں کہہ سکتے تھے ۔ رمیزہ چاہتی تو ملک میں بہت عزت کما سکتی تھیں مگر اس کیلئے محنت کشوں والی صحافت کرنا پڑتی تھی ۔ وقت نیوز کے سامنے ڈاکٹر اجمل نیازی اور دیگر کالم نگاروں کی ٹیم موجود تھی ۔ ہم سب وقت نیوز کے پروگرام فری کرکے روزانہ دیتے مگر اسے بند ہونے نہ دیتے مگر اس کیلئے رمیزہ کا ارادہ بھی ہمارے ارادوں جیسے ہونا ضروری تھا میں نے اس سلسلے میں ایک دو مرتبہ تجاویز بھی دیں مگر ان کا فائدہ نہ ہونا تھا نہ ہوا کیونکہ نوائے وقت کا یہ انجام طے شدہ تھا ۔ نوائے وقت اخبار کے ساتھ پاکستانی عوام کی نظریاتی وابستگی کا یہ عالم ہے کہ نیشنل بک فاءونڈیشن کے کتاب میلے میں پچھلے سال میں داخل ہوئی تھی کہ میرپور، کے پی کے اور کشمیر کے لوگوں نے مجھے گھیر لیا اور کہاکہ خدا کاواسطہ ہے کچھ کریں ہم اس اخبار کو قائداعظم کا اخبار مانتے ہیں لوگوں کا مطالبہ تھا کہ میں کچھ کروں اور گلہ شکوہ یہ تھا کہ شاید میں رمیزہ تک یہ حالات نہیں پہنچاءوں گی ۔ دراصل محب وطن عوام یہ اخبار اور چینل بند ہوتا نہیں دیکھ سکتے تھے، انہیں محسوس ہوتاتھا کہ ’’نظریہ پاکستان‘‘ کو نقصان پہنچایا جارہا ہے رمیزہ کو ان کی غیر موجودگی میں لوگ جن جن الفاظ میں یاد کرتے تھے وہ میں دہرا نہیں سکتی مگر ہر مرتبہ اس قسم کے الفاظ سن کر میرے دل میں دکھ بھر جاتا تھا ۔ مگراس سارے عرصے میں عارف نظامی نے کم ازکم صحافت جاری رکھی کیونکہ وہ ایک صحافی ہیں ۔ اور عظیم صحافی حمید نظامی کے بیٹے اور مجید نظامی کے بھتیجے ہیں ۔ ا گروہ اپنے والد حمیدنظامی کے صحافتی اصول اپنا لیں تو معاملات سدھر سکتے ہیں ۔ اور اس وقت مجھے مجید نظامی کا سفر آخرت یاد آرہا ہے، روزہ تھا جب سحری کو اطلاع ملی کہ وہ دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں ۔ دو دن قبل میں ہسپتال انہیں دیکھنے گئی تھی ۔ ہسپتال کے کمرے کے دروازے سے انہیں دیکھا مگر کمرے میں داخل ہونے کی رمیزہ کی طرف سے اجازت نہیں تھی لہذا دور سے دیدار کیاجاسکتا تھا ۔ میں نے ہاتھ ہلا کر سلام کیا ۔ ان کی آنکھیں حسرت میں ڈوبی ہوئی تھیں ۔ رمضان میں جب ان کے انتقال کی خبر سن کر میں سحری کوروانہ ہوئی تو جنازہ سے پانچ منٹ قبل پہنچ گئی ۔ چند لوگ موجود تھے شہباز شریف اور عارف نظامی بیٹھے ہوئے تھے ۔ صبح سویرے لاہور کی عوام اور پاکستان کی دیگر عوام کے بیدار ہونے سے پہلے نماز جنازہ ادا کردی گئی ۔ جبکہ سانگلہ ہل کے مجید نظارمی کے چند رشتے دار راہداری میں بیٹھے رہے تھے اور ،نظریہ پاکستان، نوائے وقت کے ملازمین اور پورے پاکستان میں مجید نظامی سے محبت کرنے والوں کو صبح کے سورج نے یہ اطلاع نہیں دی تھی کہ مجید نظامی کا چار یاپانچ بجے نماز جنازہ ہے تاکہ مجمع شریک ہوتا بلکہ یہ اطلاع دی گئی کہ صبح مجید نظامی دفنا دئیے گئے ۔ مجید نظامی کو اب ایک اور قبر میں اتارا جارہا ہے!! دل چاہتا ہے کہ کہوں ۔

مجید نظامی کتھوں قبراں وچوں بول ۔ مگر یہ سچ ہے کہ نوائے وقتیوں نے عارف نظامی کی طرف دیکھنا شروع کر دیاہے

کشمیر میں بڑی جنگ کے آثارنظرآرہے ہیں

مودی کی مسلم دشمنی اور مسلم کشی مدت سے نئے نئے رنگ دکھاتی چلی ;200;رہی ہے ۔ اس سلسلے کی تازہ کڑی وہ صف ;200;رائی بغرض معرکہ ;200;رائی ہے جو مقبوضہ کشمیر میں ہو رہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے اندر مجاہدین ;200;زادی پر قیامت ڈھائی جا رہی ہے ۔ اور وہاں سے ;200;زاد کشمیر پر بلا اشتعال گولہ باری کرکے خون ناحق بہایا جا رہا ہے ۔ بربریت کا شکار ہونے والوں میں معصوم عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں ۔ بظاہر یہ سب کارروائی یکسر برائی ہے لیکن اس میں بھلائی مضمر ہوسکتی ہے ۔ یعنی وہ بھلائی جو پردہ غیب سے بتائید ایزدی ظہور پذیر ہوا کرتی ہے ۔ برائی میں چھپی ممکنہ بھلائی کی فوری نشاندہی مندرجہ ذیل اقوال زریں کرتے ہیں :-1 بلا از غیب بر خیزد کہ خیر ما در;200;ں باشد (ترجمہ:- غیب سے ایسی بلا اٹھ بیٹھے جس میں ہماری بھلائی مضمر ہو ۔ )2 مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے ، وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے ۔ 3 ۔ لو ;200;پ اپنے دام میں صیاد ;200;گیا ۔ (یہاں صیاد یعنی شکاری سے مراد مودی ہے اور دام سے مراد اس کا وہ جال ہے جو پھیلایا تو ہمارے لئے جا رہا ہے لیکن لپیٹ میں مودی کو لے رہا ہے)4 ۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے5-جب گیدڑ کی موت ;200;تی ہے تو وہ گاں کا رخ کرتا ہے6 ۔ درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا 7 ۔ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے خون پھر خون ہے گرتا ہے تو جم جاتا ہے ۔ برائی میں ممکنہ بھلائی کا قر;200;نی ثبوت دیا جائے تو اس کی درخشاں مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے ان کا کنویں میں ڈالے جانا اور وہاں سے نکال کر بازار مصر میں بیچا جانا اور خریدارہ زلیخہ کے بہتان لگانے پر قید کیا جانا ایک مسلسل برائی تھا ۔ لیکن اسی برائی کے بطن سے وہ بھلائی پھوٹی جس نے انہیں مصر کا حکمران بنا دیا ۔ تاریخ عالم بھی اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کوئی تحریک ;200;زادی اٹھتی ہے تو نا پیار پوچے سے تھمتی ہے نہ جورو جبر سے رکتی ہے ۔ اثر پذیر ہوتی ہے تو صرف بات چیت سے جس پر پاکستان اصرار کر رہا ہے اور ہندوستان انکار پر انکار ۔ یہاں مجھے ایک پتے کی بات یاد ;200;گئی ہے جو 1974 میں ہندوستان کے پارسی صنعتکار ٹاٹا نے میرے کان میں کہی تھی ۔ اس کا پہلا حصہ ہندوستان میں پڑے جنگی قیدیوں کے حوالے سے تھا اور دوسرا مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے حوالے سے ۔ میں عالمی ادارہ محنت کی ایشیائی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس میں بحیثیت پاکستانی مندوب کوالالمپور گیا ہوا تھا ۔ اور چیئرمین منتخب ہوکر ایک سفارتی ضیافت میں امتیازی کرسی پر بٹھایا گیا ہوا تھا ۔ میرا ہمنشین ٹاٹا تھا اور ہمارے دائیں بائیں بھارتی ہندو تھے اس نے میز پوش کی اوٹ میں میرا گھٹنا دبا کر دبی ;200;واز میں کہا کہ;34; میں ہر صنعت کار کی طرح امن پسند ہوں ۔ اس سادہ لوح لڑکی اندرا گاندھی کے باپ نے مجھے ہند روس معاہدے کا مسودہ دراز سے نکال کر دکھایا تھا اور یہ کہہ کر واپس رکھ دیا تھا کہ میں اس پر کبھی دستخط نہیں کروں گا کیونکہ ;200;ج روس ہمارے لیے لڑے گا تو کل کو ہ میں بھی اس کےلئے لڑنا پڑے گا،باپ نے دستخط نہ کئے لیکن بیٹی نے کردیے ہیں ۔ اب یہ جنگی قیدیوں کو یہاں بضد رکھ کر خواہ مخواہ گندم کھلا رہی ہے ۔ بال;200;خر اسے چھوڑنے ہی پڑھیں گے ۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو بھی مراعات پر مراعات(اس زمانے کی مراعات)دیے جا رہی ہے ان کو جب بھی موقع ملا وہ پاکستان کا ساتھ دینگے ۔ ;34; ٹاٹا نے جو کچھ جنگی قیدیوں کے حوالے سے کہا وہ اسی زمانے میں سچا ثابت ہوگیا اور جو کچھ کشمیریوں کے حوالے سے کہا وہ بھی بتدریج سچا ثابت ہوتے ہوتے اپنے نقطہ معراج کو پہنچنے کے قریب ;200;گیا ہے ۔ چنانچہ ٹاٹا کی یہ بات بھی برائی میں ممکنہ بھلائی مضمر ہونے کا بین ثبوت ہے ۔ اب زمینی حقائق یہ ہیں کہ ہندوستان پاکستان کو دنیا میں تنہا کرتے کرتے خود تنہا ہو گیا ہے ۔ تمام بڑی طاقتیں ہماری اہمیت کی معترف ہیں ۔ کشمیر میں ہورہی جھڑپوں میں بڑی جنگ (بشمول ایٹمی جنگ) کے ;200;ثار دیکھ رہی ہیں ،کشمیر کے اندر سے اٹھی ہوئی ;200;زادی کی تحریک روزبروز پرزور ہو رہی ہے ۔ افغانستان سے ہندوستان کے پاءوں اکھڑ رہے ہیں اور ایران کے ساتھ بھی اس کے تعلقات میں لغزش ;200;چکی ہے ۔ عالم اسلام بھی ہمارے ساتھ ہے ۔ کشمیر کی ہندوستان سے علیحدگی میں سکھوں کو بھی اپنا علیحدہ خالصتان بنا لینے کا امکان نظر ;200; رہا ہے اور یہی حال تاگا لینڈ اور اس کے علیحدگی پسند اڑوس پڑوس کا ہے ۔ کشمیر کا مسئلہ جسے اب تک ہندوستان گڑھا ہوا مردہ قرار دیتا رہا ہے ;200;تش گیر مسئلہ بن کر ابھر ;200;یا ہے جو ;200;گے بڑھ کر عالمگیر جنگ کو بھی جنم دے سکتا ہے ۔ پاکستان کے اندرونی حالات کو دیکھیں تو ایک بڑا مسئلہ (جو بنیادی نوعیت کا ہے) ماحولیاتی تبدیلی کا ہے اور اس کا اہم عنصر ;200;ب رسانی کا ہے ۔ کشمیر کو ہمیشہ پاکستان کی شہ رگ کہا جاتا رہا ہے ۔ چنانچہ اس میں سے گزر کر جو پانی پاکستان میں ;200;تا ہے وہ شہ رگ میں بہنے والے خون کا مترادف ہے ۔ ہندوستان نے ضرورت سے زیادہ ڈیم بنا بنا کر پاکستان کو ریگستان بنانے کا بیڑہ اٹھا لیا ہے ۔ اس کے تدارک کے لئے کشمیر کا جزو پاکستان ہونا لازم ہے ۔ دانشور مدتوں سے کہہ رہے ہیں کہ اگلی جنگیں پانی پر ہوں گی ۔ پاکستان کے معروضی حالات میں پانی کا مسئلہ اور کشمیر کا مسئلہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں چنانچہ اس ہمہ گیر مسئلہ پر اگر جنگ بھی کرنی پڑے تو پاکستان کے لیے قابل قبول ہے ۔ جنگی صلاحیت کے حوالے سے ہماری فوج اپنا سکہ جما چکی ہے اور دشمن سے لوہا منوا چکی ہے ۔ اس کو قوم کی تائید بھی حاصل ہے جو 1965 کی جنگ میں یکجہتی کی صورت میں موجود ہونے کی وجہ سے باعث کامیابی بنی تھی اور 1971 کی جنگ میں مفقود ہونے کی وجہ سے باعث ناکامی ۔ حکومت فوج عوام اور بقول وزیراعظم امریکہ بھی متفق الرائے (at one page)ہیں حزب اختلاف اور حکومت کی کشیدگی تو ہے لیکن کشمیر کے مسئلے سے ہٹ کر دیگر مسائل پر ہے ۔ کشمیر کے مسئلہ پر وہ متفق الرائے ہیں متفق الرائے رہے ہیں اور متفق الرائے رہیں گے ۔ بھارت نے لداخ کو تنازع میں شامل کر کے ہمارا مسئلہ چین کا اپنا مسئلہ بنا دیا ہے ۔ موجودہ صورتحال تحریک ;200;زادی کے نکتہ عروج پر ;200;جانے والی ہے ۔ یعنی موڑ پر ;200; جانے والی ۔ اگر پاکستان نے اس سے فائدہ اٹھا لیا تو کامیابی سے ہمکنار ہو جائے گا ورنہ نت نئی مصیبتوں کا شکار ہوتا رہے گا ۔ معاملہ ابھی یا کبھی نہیں (now or never ) والا ہے ۔ جب بخار بحران کی صورت اختیار کر لیتا ہے ہے تو اترنا شروع ہو جاتا ہے اسی طرح جب بین الاقوامی تعلقات نازک صورت اختیار کر لیتے ہیں تو اقوام متحدہ کا ادارہ حرکت میں ;200;تا ہے اس سے پہلے کچھ نہیں کرتا اس وقت مودی کا جھوٹ پکڑا جا چکا ہے اور اس کی شورش پسندی بد نام ہو چکی ہے ۔ چنانچہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اور بڑی طاقتیں کشمیر کے ستر سالہ پرانے تنازع کو نپٹانے پر ;200;مادہ ہو سکتی ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارا لاءحہ عمل کیا ہونا چاہیے، اس حوالے سے میری پہلی تجویز یہ ہے کہ ہم نے انڈیا کے ہواباز کو ازخود رہا کرکے اور دیگر فراخ دلانہ اقدامات کر کے دنیا میں امن پسندی کی ساکھ قائم کی ہے اسے استوار کرتے رہنا چاہیے ہے ۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ سفارتی سطح پر سرگرم رہنا چاہیے ہے ۔ تیسری تجویز یہ ہے کہ اندرونی اور بیرونی ذراءع ابلاغ کا بھرپور استفادہ کرنا چاہیے ۔ چوتھی تجویز یہ ہے کہ ہندوستان کے اپنے اندر جو امن پسند اور رواداری کے حامی ادارے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ۔ پانچویں اور ;200;خری تجویز یہ ہے کہ ہ میں پرامن رہ کر اقتصادی اور فلاحی ترقی کرنی چاہیے لیکن لیکن اگر اس کے باوجود ہم پر جنگ مسلط کی جا رہی ہو تو دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے ۔ امید بہترین نتاءج کی رکھنی چاہیے لیکن تیاری بدترین نتاءج کے انسداد کی کرنی چاہیے ۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو ۔

افغانستان میں دہشت گردوں کی تربیت گاہیں ہیں

گزشتہ روز سرحد پر باڑ لگانے والے فوجیوں پر بلا اشتعال فائرنگ کر کے پاک فوج کے 3 جوانوں کو شہید اور ایک کو زخمی کر دیا جس پر پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا ۔ افغان حکام اپنے علاقے میں صورت حال کنٹرول کرنے کے ذمہ دار ہیں ۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان حکومت بارڈر محفوظ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے ۔ پاک فوج کے ہزاروں جوان اور سیکٹروں گاڑیاں سرحد میں باڑ لگانے کے منصوبے پر روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے کےلئے مختلف مقامات پر تعینات ہیں جو چترال سے لے کر جنوبی وزیرستان تک پاک;245;افغان سرحد پر باڑ کی تنصیب کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ امریکہ افغانستان میں ناکام ہو چکا ہے اور اس کی ناکامی کے سبب دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں کے اثرات پاکستان پر پڑ رہے ہیں ۔ پاکستان سیکورٹی ادارے ان حالات کو بھانپتے ہوئے قبل از وقت بندوبست کرنے کی کوشش میں ہیں تاکہ پاکستان کو امریکی ناکامیوں کے اثرات سے بچایا جا سکے ۔ اس مقصد کےلئے اب تک افغانستان کے ساتھ ساتھ خیبر ایجنسی، باجوڑ ایجنسی اورمہمند ایجنسی کا انتہائی خطرناک 237 کلومیٹر بارڈر محفوظ بنالیا گیا ہے اور ابھی کام جاری ہے ۔ پاکستان کے محدود مالی وسائل کے باوجود سرحدوں پر امریکہ کی جانب سے پیدا کردہ خطرات سے نمٹنے کی خاطر بھاری اخراجات ہو رہے ہیں ۔ 40 ارب روپے سی پیک کی خصوصی سیکورٹی پر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ نو ارب روپے افغان سرحد کی فضائی نگرانی پر خرچ کرنا پڑے ۔ حسب روایت افغان حکام اس اہم کام میں روڑے اٹکانے کی روش پر کارفرما ہیں ۔ اسی روش کی وجہ سے بارہا افغان فورسز نے بلا اشتعال فائرنگ کرکے پاکستانی حکومت کی کوششوں کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کی ۔ افغان حکام بھارتی شہ پر سرحد پر باڑ لگانے کے پاکستانی کوششوں میں رخنہ ڈالنے کے درپے ہیں ۔ پاکستان کے پڑوس افغانستان میں امن قائم ہوجائے یہ دلی سرکار کو پسند نہیں ۔ پڑوسی سے دشمنی اور پڑوسی کے پڑوس میں بیٹھ کر سازشیں کرنا چانکیہ کا پْرانا نسخہ ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی کی لہرافغانستان سے اٹھ رہی ہے ۔ دہشت گردی کی تربیت کے بھارتی مراکز افغانستان سے پاکستان میں کارروائی کرتے ہیں ۔ بھارت افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے جب کہ افغانستان کے ساتھ یہ معاملہ متعدد مرتبہ اٹھایا ۔ امریکہ کے سامنے بھی افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال کا معاملہ رکھا گیا ہے ۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دیں اور پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے تاہم بھارت پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کیلئے بھارت نے کبھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا ۔ افغانستان میں دہشت گردوں کی کمین گاہیں ، تربیت گاہیں ہیں ۔ یہ تربیت گاہیں بھارت کے قونصل خانے ہیں ۔ جی ہاں بھارت کے یہ قونصل خانے کالعدم تحریک طالبان کے خفیہ ٹھکانے ہیں ۔ بھارت کے یہ خفیہ ٹھکانے مختلف دہشت گرد گروہوں کیلئے پناہ گاہیں ہیں ۔ نئی دہلی افغانستان کی طرف سے پاکستان کا گھیراوَ کرنا چاہتا ہے ۔ وہ پاکستان مخالف افغانستان تخلیق کرنا چاہتا ہے ۔ افغانستان کودہشت گردوں کی جنت بنانا چاہتا ہے ۔ پاکستان نہیں چاہتا کہ افغانستان بھارت کے ہاتھوں دوزخ بن جائے، پاکستان کے خلاف مورچہ بن جائے ۔ پاکستان کی طرف سے بارڈر مینجمنٹ کے سلسلے میں افغانستان سے تعاون کے لئے متعدد بار کہا گیا لیکن اس کا رویہ منفی ہے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے افغانستان کو پاکستان سے جو تعاون کرنا چاہیے اس کی عدم موجودگی سے انسداد دہشت گردی کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں ۔ دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے ۔ یہ المیہ ہے کہ جن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔ انہیں بھارت اور افغانستان اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔ کامیاب آپریشن ضرب عضب میں بھارتی ایجنٹوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے ۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں نے بھارت کا آلہ کار بننے سے انکار کردیا ہے اور پاکستانی فوج کے آگے ہتھیار رکھ دیئے ہیں ۔ پورے پاکستان میں ;39;را;39; پراکسی جنگ کی جڑیں اکھاڑدی گئی ہیں ۔ افغان عوام کے ساتھ مل کربھارت کو افغانستان سے بھی باہر کر دیا جائے گا ۔ افغانستان کو بھارت کا آلہ کار بننے کے بجائے اپنے مفادات کو دیکھنا چاہیے ۔ اس کے مفادات پاکستان سے وابستہ ہیں اور پاکستان کے مفادات اس سے منسلک ہیں ۔ دونوں کا امن ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ کابل انتظامیہ کو اپنی روش درست کرنی چاہیے بصورت دیگر اس کے لئے بہت سی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں ۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کا یہ فیصلہ احسن ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کے اثرات کو کسی صورت ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا اور ملک بھر میں موجود دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ۔

شعبہ تعلیم کی ترقی حکومتی توجہ کی طالب

نبی پاک;248; کا ارشاد ہے کہ علم و حکمت مومن کی میراث ہے جہاں ملے لے لوکیا ہمارا نظام تعلیم حضوراکرمٖ;248;کے اس ارشاد پر پورا اترتا ہے تو جواب نفی میں ہو گا کہ ہماری حکومتوں نے اس طرف توجہ ہی نہیں دی تعلیم اور صحت دوایسے شعبے ہیں جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کی ضمانت ہیں کہ تعلیم یافتہ اور صحت مندمعاشرہ ہی ہ میں ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑا کر سکتا ہے دُکھ کہ بات یہ ہے کہ ہمارا نظام تعلیم منتشر ہے کہ پرائیوت تعلیمی اور سرکاری اداروں کا نصاب اور معیار یکسر مختلف ہے اور ان میں کہیں بھی مماثلت نہیں پائی جاتی جس کے باعث وطن عزیز میں تعیلم کا فیصد تناسب کم ہے ہمارے گردونواح میں واقع سارک ممالک کاتعلیمی تناسب ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔ سری لنکا جو ہم سے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے قدرے چھوٹا ملک ہے وہاں کا تعلیمی تناسب 96فیصد ،ہم سے الگ ہونے والے بنگلہ دیش کا 71فیصد ،بھارت کا 74فیصد،نیپال 77،بھوٹان کا 60فیصد ،سینکڑوں جزیروں پر مشتمل مالدیپ کا تعلیمی تناسب 98فیصد ہے جو ہمارے ارباب بست و کشاد کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ غورطلب بات یہ ہے کہ ان ممالک نے اس طرح شرح خواندگی میں قابلِ ذکراضافہ کیابہتر ہوگاکہ ان ممالک میں ماہرین تعلیم کے وفودبھیجے جائیں جوان کی تعلیمی ترقی کا باعث بننے والے عوامل کامطالعہ کریں اوران سے استفادہ کیا جائے ۔ کہنے کو تو ہمارا تعلیمی تناسب 58فیصد ہے لیکن اعلٰی تعلیم کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تناسب صرف2فیصد رہ جاتا ہے اور اس 2فیصد کو بھی ان کے تعلیمی معیار کے مطابق مناسب روزگار میسر نہیں ہوتا جس کے باعث وہ تذبذب کاشکار رہتے ہیں یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ جو طلباء اپنی قابلیت کی بنیاد پر سکالر شپ کے ذریعے یا پھر وہ طلباء جن کے والدین متمول ہونے کے باعث اپنے بچوں کو اعلٰی تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجتے ہیں اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد واپسی پر ان کو تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے روزگار میسر نہیں آتا اور وہ روزگار کے حصول کے لئے بیرونی ممالک کا رُخ کرتے ہیں اور پھر ہمیشہ کے لئے وہیں کے ہو کے رہ جاتے ہیں ۔ یہاں اس امر کاتذکرہ بھی بے جا نہ ہوگا کہ وطن عزیز کو ایٹمی اور میزائل قوت بنانے والے معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدلقدیر خان بھی اگر بیرون ملک سے اعلٰی تعلیم حاصل نہ کرتے تو آج ہم اس صلاحیت سے محروم ہوتے ہماری حکومتوں نے تعلیم پر وہ توجہ نہیں دی جو دی جانی چاہیے تھی بلاتفریق ہر حکومت نے تعلیمی بجٹ کم رکھا جس کے باعث ہمارا نظامِ تعلیم روبہ زوال رہاجس سے ہمارے طلباء اورتعلیمی ادارے بھی متاثر ہوئے ایک دانشوراناکہاوت ہے کہ کسی قوم کو ختم کرنا مقصود ہو تواس کے نظام تعلیم کومفلوج اور منتشر کردو ۔ قرونِ اولٰی سے لے کر ماضیِ بعید تک عالم اسلام تعلیم کے محاذ کے اوجِ ثریا پر متمکن تھا آج جتنی سائنسی اور دیگر تخلیقات منظرِعام پر ہیں ان میں سے بیشتر مسلمانوں کی ایجاد ہیں مگرازاں بعد رفتہ رفتہ مسلمان تعلیم سے روگردانی کرتے رہے جو ان کے زوال کا سبب بنی بعینہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہمارے شعبہ تعلیم کو درخوراعتناء نہ سمجھا گیا جس کے باعث ہم ترقی کی وہ منازل طے نہ کر سکے جو ہونی چاہیے تھیں ۔ ریاست مدینہ کے دعویدار موجودہ حکومت کے حالیہ تعلیمی بجٹ میں تخفیف کی گئی اورایک بار پھر تعلیم کے شعبہ کو نظر انداز کردیا گیا ہے جوناقابلِ فہم ہے عوامی توقعات تو یہ تھیں کہ تعلیمی بجٹ کو دیگر شعبوں پر ترجیح اور فوقیت دی جائے گی مگر عمل اس کے برعکس ہوا اور اس میں کمی کی گئی جو ایک تکلیف دہ بات ہے ۔ ہمارے نونہالوں کو ایک عجیب نفسیاتی کشمکش سے گزرنا پڑتا ہے کہ گھر میں ان کے ساتھ ان کی مادری علاقائی زبان میں گفتگو کی جاتی ہے سکول میں قومی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے اوردفتروں میں انگریزی زبان استعمال کی جاتی ہے ماہرین نفسیات کے مطابق اس سے بچے کی ذہنی نشونما متاثر ہوتی ہے وہ کہتے ہیں کہ بچے کو ابتدائی تعلیم اس کی مادری زبان میں دی جائے جس سے وہ گھر اور سکول میں یکسانیت محسوس کرے گاجس سے اسے ذہنی پختگی حاصل ہو گی اور وہ ذہنی دباوسے محفوظ رہے گاجبکہ بعد کی کلاسوں میں اسے قومی زبان اور دیگر زبانوں میں تعلیم دی جائے تووہ ذہنی طورپراسے قبول کرنے کی صلاحیت کا حامل ہو چکا ہوگا ۔ ہمارے نظامِ تعلیم کی بہتری کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ حکومت پرائیوٹ اور سرکاری سکولوں کے نصاب اور معیار میں یکسانیت اور مماثلت پیدا کرے اور نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں کو اس حد تک لے آئے جوعام آدمی کے لئے قابلِ برداشت ہو تاکہ غریب طالبعلم کو احساسِ محرومی نہ ہواور ایسے جوہر قابل اس لئے ضائع نہ ہوں کہ وہ نجی تعلیمی اداروں کی فیس برداشت کرنے سے قاصر ہوں ۔ نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کو ْتعلیم فروش، کے بجائے ْفروغِ تعلیم ،کا پابند بنایا جائے ملک کے سالانہ بجٹ میں تعلیم کو دیگر شعبوں پر فوقیت دی جائے اوراسے دُگناکیا جائے ۔ جہاں کہیں ممکن ہو اور بہتر نتاءج کی توقع ہو تو ان نجی تعلیمی اداروں کو ہر ممکنہ سہولیات فراہم کی جائےں ۔ ریسرچ کا ایک الگ مکمل شعبہ قائم کیا جائے اور اس حوالے سے ملک میں موجود ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں اور اس شعبہ کی فراغ دلی سے مالی اعانت کی جائے تاکہ ملک و قوم ان کی جدید ترین ایجادات سے استفادہ کر سکےں ۔ ہمارے ملک کی اکثریت دیہی آبادی پر مشتمل ہے اور تعلیمی شرح خواندگی کے اضافہ کے لئے تعلیم کا دائرہ کار ایک منظم اور مربوط نظام کے تحت دیہاتوں تک پھیلایا جائے جیساکہ پہلے عرض کیا گیا ہے ان تمام امور کی انجام دہی کے لئے اعلٰی ماہرین پر مشتمل ایک ٹاسک فورس بنائی جائے جو باقائدگی سے ہر ماہ اپنی کارکردگی کی رپورٹ مرتب کرے جو اخبارات اور دیگر ذراءع ابلاغ کے ذریعہ عوام تک بھی پہنچائی جائے اور اس ٹاسک فورس کی نگرانی وزیراعظم خود کریں ۔

کیا وزیراعظم تین لفظ دے سکتے ہیں

پاکستان کی سیاست میں اس وقت گومگو کی صورتحال ہے اور بھونچال اس آیا ہوا ہے اور اگر کہاجائے کہ سیاسی عدم استحکام ہے ملک کی سیاست میں یہ بات غلط نہ ہوگی اور جب ملک میں سیاسی عدم استحکام ہوتا ہے تو اس کا گہر اثر ملک کی معیشت پر پڑتا ہے ۔ اسی وجہ سے ملک کے معاشی حالات دن بدن سدھرنے کی بجائے خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں ۔ ملکی معاشی اداروں کی رپورٹس اور عالمی معاشی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کے معاشی حالات بہت زیادہ خراب ہوچکے ہیں اور ان کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا اور وقت کا تعین کون کرے گا اس کا سارا انحصار ملک کی سیاسی صورتحال پر ہے ۔ اگر پہلے کے حالات کو دیکھا جائے تو کہا جاتا تھا اور محاورتاً بولا جاتا تھا کہ اس ملک میں امیر لوگ امیر ہوتے جارہ ہیں اور غریب لوگ غریب ہوتے جارہے ہیں اگر اس حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کہا جارہا ہے کہ امیر لوگ اور غریب لوگ دونوں ہی غریب سے غریب تر ہوتے جارہے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے اس وقت ملک میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی پوری قیادت کو مختلف نوعیت کے مقدمات میں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا ہے ۔ دونوں پارٹیوں کی قیادت اور رہنماءوں کا کہنا ہے کہ یہ یکطرفہ احتساب ہورہا ہے ۔ صرف دو خاندانوں کا احتساب کیا جارہا ہے ، سیاسی احتساب ہورہا ہے جس میں عملی احتساب ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ۔ سپریم کورٹ نے بھی اپوزیشن کے رہنماءوں جیسی بات کی ہے کہ ملک میں احتساب کا سسٹم ٹھیک نہیں ہے جبکہ دوسری وزیراعظم عمران خان اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے یہ سیاسی مقدمات نہیں ہیں یہ کرپشن کے مقدمات ہیں ، اختیارات کا ناجائز استعمال کے مقدمات ہیں ۔ وزیراعظم بار بار یہی کہتے ہیں کہ اس ملک کو کرپشن کرنے والوں نے لوٹا اور کرپشن کرنے والوں کو معافی نہیں مل سکتی ہے اور کڑا احتساب ہوگا اور کوئی ڈیل نہیں کی جائے گی ۔ پاکستان تحریک انصاف ےن 25 جولائی 2018 کا الیکشن کرپشن فری نعرے پر جیتنا ہے ہمارے منشور میں سب سے پہلے کرپشن فری پاکستان کی بات ہے ۔ 21 جولائی 2019 کو وزیراعظم پاکستان نے سمندر پار پاکستانیوں کے اجتماع سے خطاب کیا اور جلسہ امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ،ڈی سی کے سب سے بڑے اسٹیڈیم;67;apital one ;65;rena کیپیٹل، ون ایرینا میں منعقد کیا گیا اس میں پورے امریکہ اور کینیڈا سے لوگ اپنے خاندانوں ، بزرگوں ، عورتوں اور بچوں کے ساتھ شریک ہوئے ۔ اس میں تقریباً20 ہزار سے 30 ہزار لوگ جمع تھے اور لوگوں کا جذبہ بھی دیدنی تھا اور مجھے ان تمام چیزوں کا اس لئے علم ہے کہ میں بھی امریکہ کے دورے پر تھا اور میں اپنے دوستوں کے ساتھ اس اسٹیڈیم میں موجود تھا یہ وہ دوست تھے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی نہ کسی طریقے سے انتظامیہ کا حصے تھے اور ان کے انتظامات کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے اور اس وقت اگر میں ان کے نام نہ لکھوں تو بڑی زیادتی ہوگی ان معروف کاروباری شخصیات ہیں آصف بیگ نیو یارک ، علی رشید نیو یارک، محسن اقبال مرزا نیویارک، امین غنی نیو یارک ، عدیل شجاع گوندل نیو یارک، سیم خان نیو جرسی، محمد سعید واشنگٹن ڈی سی ، سعدیہ تقی نیو یارک ،چوہدری حسنین رفاقت اوہائیو موجود تھے اس کے علاوہ پاکستان کے صحافی، محسن ظہیر، عالیہ صدیقی، سبینہ محمود ، اسد علی خان ، سمد خان بھی وہاں موجود تھے وہاں پر وزیراعظم نے تقریر کی اور پوری اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ ان چوروں ، ڈاکوءوں نے ملک کو لوٹا ہے ہم ان سے حساب لیں گے اور اس میں کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی اور کبھی اس کی نوبت آئی تو میں اقتدار سے الگ ہو جاءوں گا ۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمن کا نام لے کر اور باقی اپوزیشن رہنماءوں کا نام لئے بغیر تنقید کی اور وہاں کے مجمعے سے خوب داد وصول کی اوروہاں کے مجمعے سے پوچھا کیا آپ کو پتہ ہے کہ اپوزیشن کیا چاہتی ہے کسی نے کچھ جواب دیا تو کسی نے کچھ کہا اور وزیراعظم پاکستان نے کہاکہ یہ تین لفظ چاہتے ہیں اور وہ یہ تین لفظ یہ ہیں ;78;-;82;-;79; اور میں کس صورت ان کو یہ تین لفظ نہیں دوں گا چاہے مجھے اپنے اقتدار کی قربانی کیوں نہ دینی پڑھ جائے اور یہ الفاظ تھے کہ حاضرین سے وزیراعظم پاکستان نے خوب تالیاں اور ڈانس کے ذریعے داد وصول کی اور اس لمحے کو وزیراعظم نے خوب ;69;njoy کیا یعنی خوب محظوظ ہوئے جب این آراو کی بات کی جاتی ہے تو آپ کو تھوڑی سی اس کی تفصیل بنانا ضروری ہے ۔ 5 اکتوبر 2007 کو ایک آرڈیننس جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ جنوری ایک 1986 سے 12اکتوبر 1999 کے جتنے بھی سیاسی مقدمات ہیں ان کو ختم کیاجاتا ہے اس قومی مفاہمتی فرمان سے سیاستدانوں ، سرکاری ملازمین ، کاروباری حضرات اور مختلف طبقہ ہائے زندگی کے لوگوں نے فائدہ اٹھایا لیکن دو سال بعد 16دسمبر 2009 کو اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری نے اس کو ختم کردیا اور یوں این آراو تاریخ کا حصہ بن گیا ۔ این آر او دینے کیلئے سیاسی اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات ضروری ہے اور بات چیت ضروری ہے کیا ملاقات اور بات چیت چل رہی ہے اس بارے میں مختلف چہ میگوئیاں اور افواہیں اس وقت مارکیٹ میں موجود ہیں اور ہر کوئی اپنے مطابق اس کی تشریح کررہا ہے مجھے بھی بہت سی چیزوں کا علم ہے مگر میری قلم اس کو لکھنے کی اجازت نہیں دیتی ہے ۔ میں نواز شریف کے ساتھیوں ، رفقاء اور مختلف فیملی ممبرز سے بھی ملا ہوں جب ان سے ڈیل کی بات کی جاتی ہے سوال ہوتا ہے تو ان کا موقف یہی ہے کہ جو ہمارے ساتھ کرنا تھا کریں اب ہ میں کسی قسم کی ڈیل کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہمارے پورے خاندان کو جیل میں ڈال دیا اور اب ڈیل کیوں ان کا کہنا تھا کہ ہم نواز شریف کے نظریے ، ووٹ کو عزت دو‘‘ پر قائم ہیں اور نواز شریف جیل میں قائم و دائم ہے اور ان کی باتوں سے پتہ چلا کہ وہ ہم سے ڈیل کرنا چاہتے ہیں اور جب تک ملک میں مکمل جمہوریت بحال نہیں ہو جاتی ہے ہم ڈیل نہیں کریں گے ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور دوسری طرف کا موقف بھی سننے کا موقع ملا تو حکومتی جماعت کے عہدیداران وزیروں کا کہنا تھا کہ کوئی ڈیل نہیں ہوگی اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے بھی ملاقات کرنے کا موقع ملا ان کا بڑا سیدھا سادہ موقف تھا کہ ہم وہی کریں گے جو پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ہوگا ۔ میں نے ارادتاً ڈیل کی بات کی تو اسٹیبلشمنٹ نے بھی مذاق میں بات ٹال دی اور وہ اپنے موقف میں ;67;lear تھے کہ کوئی ڈیل نہیں ہوگی اور ایسی چیز ہمارے علم میں نہیں ہے ۔ باتوں باتوں میں ایک بات سمجھ آئی کہ شہباز شریف ان کی good books میں ہیں اور یہ کہ نہ ہی این آراو دینے والے راضی ہیں اور نہ ہی این آراو لینے والے راضی ہیں تو بھی پھر این آراو کی بات کیوں کی جارہی ہے کہ وزیراعظم سیاسی پوائنٹ سکورننگ کی بات کررہے یا سیاسی اصطلاح کے طورپر استعمال کررہے ہیں ۔ اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ دیکھیں تو آج تک کسی بھی سیاسی صدر، وزیراعظم نے این آراو نہیں دیا ہے ۔ این آراو ہمیشہ ملکوں کی اسٹیبلشمنٹ دیتی ہے اور اس کی زندہ مثال جنرل (ر)پرویز مشرف ہیں جب وزیراعظم صاحب این آراو نہیں دے سکتے ہو تو بات کیوں کرتے ہو

علی زیدی مہم بند کردیں اب کراچی کو ہم صاف کرکے دکھائیں گے، مراد علی شاہ

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ علی زیدی اپنی صفائی مہم بند کردیں اب کراچی سے کچرا اٹھا کر اور اسے صاف کرکے ہم دکھائیں گے، وفاق اپنا کام کرے اور صوبوں میں مداخلت نہ کرے۔

مقامی ہوٹل میں  سندھ اسٹریٹیجی پلان کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈی ایم سیز نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے علاقوں کا کچرا اٹھائیں، ہم نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ قائم کیا ہے، ڈی ایم سیز کے انتخابات ہوجائیں اس کے بعد اگر ان کی کونسلز چاہیں گی تو سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کچرا اٹھائے گی۔

  1. وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کہا تھا کہ وہ کچرا نالوں سے اٹھائی گی انہوں نے یہ کچرا نالوں سے اٹھا کر کھلی جگہ پر پھینک دیا وہ اسے  لینڈ فل سائٹ لے کر نہیں گئے، میں نے وفاقی وزیر علی زیدی سے خود بات کی کہ  کچرا لینڈ فل سائٹ پر پھینکیں مگر اس بات پر عمل درآمد  نہیں ہوا اس سے مسائل بڑھے اور شہر میں مکھیوں اور مچھروں کی بہتات ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ہم 21 ستمبر سے خصوصی مہم کے ذریعے کچرا اٹھانا شروع کریں گے میں علی زیدی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ 21 ستمبر سے 21 اکتوبر تک کراچی میں اپنی مہم بند کردیں، ہم کچرا اٹھا کر تمام علاقے صاف کرکے دکھائیں گے، وفاقی حکومت ملک میں موجودہ مالی مسائل کا تدارک کرے تو بہتر ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ آرٹیکل 149 تو دور کی بات ہے مگر کوئی بھی کمیٹی سندھ کی ایگزیکٹو اتھارٹی کی رضامندی کے بغیر بناتے ہیں تو وہ آئین کے  آرٹیکل 97 کی خلاف ورزی ہوگی، میں وفاقی حکومت  سے کہتا ہوں کہ آپ آئین پر عمل کریں اور اپنا کام کریں، دوسرے صوبوں کے معاملات میں  مداخلت نہ کریں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی میں  کچرے کی سیاست بڑھتی جا رہی ہے، قانون کے مطابق شہر کی صفائی اور کچرا اٹھانے کا کام ڈی ایم سیز کا ہے اور نالوں کی صفائی کا کام کے ایم سی کا ہے، ڈپٹی کمشنرز کو ضلع کے حساب سے کچرا اٹھانے کے اہداف دیئے ہیں اور ان سے کہا ہے کہ جہاں جہاں پر کچرا ہے اُن کی تصاویر بنائی جائیں اور بتایا جائے کہ کتنے کچرے جمع کرنے کے اسپاٹس ہیں اور علاقے کے حساب سے تفصیلات جمع کریں اور اس کے بعد جامع منصوبہ بندی کے ساتھ صفائی کا عمل شروع کیا جائے اور یہ بات واضح کی جائے کہ  صفائی کے کام میں کتنے دن لگیں گے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آئی بی اے پاس ٹیچرز 2016ء میں مقرر کیے گئے تھے اور ان سے کہا گیا ہے کہ آپ سندھ پبلک سروس کمیشن میں پیش ہوجائیں، یہ گریڈ 17 کی پوسٹ ہے جو کہ ایس پی ایس سی کے بغیر نہیں ہوسکتی، پر امن احتجاج کوئی بھی کرتا ہے ہم اسے نہیں روکیں گے۔

آئی ایم ایف کا حکومت کی پالیسیوں پر اطمینان کا اظہار

اسلام آباد: آئی ایم ایف مشن نے پاکستان کی جانب سے معیشت کی بہتری کے لیے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان سے مشرق وسطٰی اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر آئی ایم ایف جہاد آزور نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ ، گورنر اسٹیٹ بینک، سیکریٹری خزانہ بھی موجود تھے۔

آئی ایم ایف مشن نے حکومت کی پالیسیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی تعریف و توثیق کی اور کہا کہ پروگرام کے نفاذ کے تین ماہ میں اعشاریے ٹیکس بیس میں توسیع اور محصولات میں اضافے میں بہتری دکھا رہے ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت معیشت میں بہتری کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھارہی ہے اور اب ملک ترقی اور تمام مطلوبہ اہداف کو حاصل کر رہا ہے، آئی ایم ایف پروگرام استحکام اور اصلاحات کے ساتھ حکومت کی معیشت کو پٹٹری پر ڈالنے کی کوششوں کی تکمیل کرے گا۔

حکومت مریم نواز سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کرے گی، فردوس عاشق

 اسلام آباد: معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ حکومت مریم نوازسےمتعلق الیکشن کمیشن کافیصلہ چیلنج کرےگی۔

وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں19 نکاتی ایجنڈےپر غور کیا گیا، الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل دائرکرنے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت مریم نواز کی نائب صدارت برقرار رکھنے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کرے گی۔

معاون خصوصی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ ہے کہ سزا یافتہ شخص کسی عہدے پر فائز نہیں ہو سکتا، اس فیصلے میں مانا گیا ہے کہ مریم نواز سزا یافتہ ہیں، اور وہ کسی جلسے جلوس اور سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لےسکتیں، الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلےکی خلاف ورزی ہے، فیصلےمیں نائب صدر کےعہدے کو غیرفعال کہا گیا ہے۔

فردوس عاشق نے بتایا کہ حکومت میڈیاکی خودمختاری پریقین رکھتی ہے، اجلاس میں میڈیا کے معاملات پر غور کیا گیا ہے، میڈیا کو ذمہ دار بنانے اور میڈیا کے شفاف کردار کو فعال بنانے اور احتسابی عمل کا آغاز کیا جارہا ہے، اس کے لئے حکومت نے خصوصی میڈیا ٹریبونلز بنانے کا فیصلہ کیا ہے، میڈیا کے حوالے سے جو بھی شکایت ہے وہ عدلیہ کے ماتحت میڈیا ٹربونل سنے گا، اگر میڈیا کسی پر الزام لگاتا ہے وہ معاملہ میڈیا ٹرائبیونلز دیکھیں گے، اور میڈیا ٹریبونل 90 روزمیں فیصلے کرنے کا پابند ہوگا، میڈیا ٹرائبیونلز کی نگرانی اعلی عدلیہ کرے گی۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کابینہ کو مجوزہ دورہ امریکا پر اعتماد میں لیا، وزیراعظم عمران خان کشمیریوں کے سفیر بن کرامریکا جا رہے ہیں، اپنے دورے میں اہم رہنماؤں سےملاقاتیں کریں گے۔

 

Google Analytics Alternative