Home » Author Archives: Admin (page 4)

Author Archives: Admin

احسان مانی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا سربراہ مقرر کیے جانے کا امکان

پاکستان کرکٹ بورڈ میں انتظامی تبدیلی کی قیاس آرائیوں میں شدت آرہی ہے اور ایسے میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے سابق صدر احسان مانی کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا سربراہ مقرر کرنے کی اطلاعات ہیں۔

اس بارے میں احسانی مانی سے رابطہ کیا گیا تو آئی سی سی کے سابق سربراہ نے کہا کہ میں اس وقت مری کے قریب ڈونگا گلی میں ہوں جہاں ٹی وی نہیں آتا اور اخبار ایک دن بعد آتا ہے۔ پی سی بی میں ذمے داریوں کے بارے میں مجھ سے ابھی تک کسی نے رابطہ نہیں کیا ہے۔ اگر مجھ سے رابطہ کیا گیا تو میں اپنی رائے دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے لوگ مجھ سے رابطے میں رہتے ہیں اس لیے کہ میں گزشتہ چھ سات برسوں سے شوکت خانم اسپتال کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ہوں اور گلیات اتھارٹی میں بھی مجھے ذمے داری دی گئی ہے۔ اس وقت عمران خان کے لیے کرکٹ اہم نہیں ہے وہ حکومت سازی میں مصروف ہیں۔

احسان مانی نے کہا کہ عمران خان کو پتہ ہے کہ مجھ سے کس طرح رابطہ کرنا ہے، میری عام انتخابات کے بعد ابھی تک عمران خان سے بات نہیں ہوئی ہے اگر انہوں نے کرکٹ کے حوالے مجھے سے رابطہ کیا اور رائے مانگی تو میں اپنی دستیابی اور رائے سے انہیں آگاہ کردوں گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں اہم ذمے داری دینے کے بارے میں عمران خان یا ان کے کسی مشیر نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا ہے، میں بھی اپنے بارے میں خبریں میڈیا کے دوستوں سے سنتا رہتا ہوں۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف براہ راست نجم سیٹھی کے معاملے پر کوئی پالیسی بیان نہیں دے رہی ہے اور نجم سیٹھی نے بھی خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ ان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اگلے ہفتے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ اگر انہوں نے استعفیٰ دینا ہے تو اس کا تذکرہ اپنے کسی مشیر سے نہیں کیا ہے۔

نجم سیٹھی کی انتظامی ٹیم نے اپنے عہدوں کو بچانے کے لیے دوڑ بھاگ شروع کردی ہے جبکہ عمران خان کے قریب رہنے والے سابق ٹیسٹ فاسٹ بولر اور پی سی بی ڈائریکٹر ذاکر خان بورڈ میں نئی انتظامی تبدیلی کے لیے متحرک ہیں۔

انہوں نے کئی موجودہ اور سابق کرکٹرز اور ریجن عہدیداروں کی عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات کا انتظام کرایا تھا۔ ذاکر خان چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کی جگہ لینے کے لیے لابنگ کررہے ہیں۔ تاہم بورڈ کے آئین کے مطابق چیف آپریٹنگ آفیسر کا تقرر بورڈ آف گورنرز ہی کرے گا۔

ذاکر خان 2006میں ڈاکٹر نسیم اشرف کے دور میں چار مختلف شعبوں ڈومیسٹک،انٹر نیشنل کرکٹ، انفرا اسٹرکچر اور گیم ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر تھے لیکن بعد میں ان کے پاس صرف ڈومیسٹک کرکٹ کا شعبہ رہ گیا۔

پاکستان کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی یہ سوال انتہائی دلچسپ موضوع کے طور پرپچھلے چند ہفتوں سے موجود ہے کہ کیا نجم سیٹھی اور ان کے قریبی لوگ پاکستان کرکٹ بورڈ کے منظر سے غائب ہوجائیں گے؟

اس حوالے سے گزشتہ دنوں کراچی کے پانچ ستارہ ہوٹل کے ٹھنڈے کمرے میں جب یہ سوال نجم سیٹھی سے دریافت کیا تو کچھ لمحے کمرے میں خاموشی ہوگئی اور پھر ایسا لگا کہ ماحول میں گرما گرمی آنے والی ہے لیکن نجم سیٹھی نے بظاہر پر اعتماد انداز میں کہا کہ بورڈ کے سرپرست اعلیٰ بننے کے بعد عمران خان اپنے کسی شخص کو پی سی بی میں لانا چاہتے ہیں تو مجھے اشارہ کردیں میں استعفی دے دوں گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ نیا چیئرمین مقرر کرنا، پیٹرن ان چیف کا استحقاق ہے لیکن ابھی میں نے عہدے چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

یاد رہے کہ 2013 کے عام انتخابات کے بعد عمران خان نے کھلم کھلا نجم سیٹھی کو اپنی شکست کا ذمے دار قرار دیا تھا۔ عمران خان نے نجم سیٹھی پر الزام عائد کیا تھا کہ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کی حیثیت سے انہوں نے مبینہ طور دھاندلی کرائی تھی۔

عمران خان نے اس ضمن میں نجم سیٹھی کے لیے 35 پنکچرز کی اصطلاح بھی استعمال کی تھی جس پر نجم سیٹھی نے عمران خان کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔

25 جولائی کے عام انتخابات کے بعد نجم سیٹھی نے عمران خان خلاف مسلسل جارحانہ انداز اپنایا ہوا ہے۔ نجم سیٹھی نے ایک سیاسی تجزیہ کار کے طور پر اپنے اخباری مضامین اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے پیغامات میں عمران خان پر سخت الفاظ میں تنقید کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا ہے۔

اس کے برعکس احسانی مانی ،عمران خان کے قریبی لوگوں میں شامل ہوتے ہیں۔ نجم سیٹھی سے شدید اختلافات رکھنے والے بھی ان کی ان کوششوں کو ضرور سراہتے ہیں جو انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کی پاکستان میں بحالی کے لیے کی ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کے کریڈٹ پر پی ایس ایل سب سے بڑی کامیابی کے طور پر موجود ہے لیکن اطلاعات یہ ہیں کہ بنی گالہ نے اسی پی ایس ایل کے آڈٹ کو بنیاد بنا کر نجم سیٹھی کو گھر بھیجنے کی تیاری کر لی ہے۔

مونی راؤ کو اکشے کی ہیروئن بنانے میں سلمان کا ہاتھ؟

بولی وڈ کی آنے والی اسپورٹس فلم ‘گولڈ’ کا شائقین کو بے حد انتظار ہے، جس کے ٹریلر اور گانے نے پہلے ہی دھوم مچادی ہے۔

’گولڈ‘ کی کہانی 1936 سے 1948 کے عرصے کے درمیان گھومتی ہے، تاہم فلم کا زیادہ وقت برصغیر کی تقسیم کے بعد آزاد ہندوستان کے ابتدائی 2 سال کے وقت کے گرد گھومتا ہے۔

فلم کی کہانی آزاد بھارت کی پہلی ہاکی ٹیم کے گرد گھومتی ہے، جس نے 1948 میں برطانیہ میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں میں ماضی میں خود پر حکومت کرنے والے ملک کو ہرا کر گولڈ میڈل جیتا تھا۔

اس فلم میں اکشے کمار کی ہیروئن یعنی ان کی اہلیہ کا کردار بھارتی ٹی وی اداکارہ مونی راؤ نے ادا کیا ہے، جنہوں نے بگ باس 11 میں بھی شرکت کی تھی۔

اطلاعات ہیں کہ مونی راؤ کو اس فلم میں بولی وڈ دبنگ ہیرو سلمان خان کی وجہ سے کام ملا۔

یہ خبریں اس وقت ہی شروع ہوگئی تھیں جب مونی راؤ کو ‘گولڈ’ میں اکشے کمار کی ہیروئن کے طور پر کاسٹ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

مونی راؤ کی یہ پہلی بولی وڈ فلم ہوگی، اس سے قبل وہ متعدد بھارتی ڈراموں اور بنگالی فلموں میں کام کرچکی ہیں۔

مونی راؤ فلم میں اکشے کمار کی اہلیہ کا کردار نبھائیں گی—اسکرین شاٹ
مونی راؤ فلم میں اکشے کمار کی اہلیہ کا کردار نبھائیں گی—اسکرین شاٹ

سلمان خان کی وجہ سے بولی وڈ فلم میں کام ملنے کی خبروں کی وجہ سے جہاں اداکارہ مونی راؤ پریشان ہیں، وہیں اب انہوں نے اس حوالے سے خاموشی توڑتے ہوئے سچائی بتادی۔

ڈی این اے انڈیا کی رپورٹ کے مطابق مونی راؤ نے ‘گولڈ’ کی پروموشن کے سلسلے میں ایک نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ایسی خبروں پر پریشانی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں من گھڑت خبروں پر تکلیف پہنچی ہے۔

اداکارہ نے ‘گولڈ’ میں سلمان خان کی وجہ سے موقع ملنے کی خبروں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اداکاری کو 10 سال دیے اور وہ بنگالی زبان کی فلموں کی اہم اداکارہ ہیں،تاہم انہیں اب اگر بولی وڈ فلم میں موقع ملا ہے تو جھوٹی خبریں کیوں پھیلائی جا رہی ہیں؟

ادکارہ اس وقت فلم کی تشہیر میں مصروف ہیں—فوٹو: آئی اے این ایس
ادکارہ اس وقت فلم کی تشہیر میں مصروف ہیں—فوٹو: آئی اے این ایس

مونی راؤ نے صاف کہا کہ ان خبروں میں کوئی سچائی نہیں کہ انہیں سلمان خان کی وجہ سے ہی اکشے کمار کی فلم میں کام کرنے کا موقع ملا۔

‘گولڈ’ ہیروئن نے کہا کہ انہیں نہیں پتہ کہ ایسی جھوٹی خبروں کو پھیلانے میں کس کا ہاتھ ہے،تاہم ایسی خبریں پھیلانے والے صحافیوں کو فلم پروڈیوسر سے بھی پوچھنا چاہیے۔

مونی راؤ کے مطابق صحافیوں کو چاہیے کہ وہ ‘گولڈ’کے پروڈیوسر سے پوچھیں کہ انہیں کس کے کہنے پر کام کرنے کا موقع دیا گیا؟

ادکارہ نے جھوٹی خبروں پر افسوس کا اظہار کیا—فوٹو: مونی راؤ انسٹاگرام
ادکارہ نے جھوٹی خبروں پر افسوس کا اظہار کیا—فوٹو: مونی راؤ انسٹاگرام

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی اداکارہ کے حوالے سے یہ خبریں سامنے آئی ہوں کہ انہیں سلمان خان کی وجہ سے فلم میں کام کرنے کا موقع ملا۔

اس سے قبل سلمان خان خود بھی متعدد ہیروئنز کو فلم انڈسٹری میں متعارف کرا چکے ہیں۔

سلمان خان نے سوناکشی سنہا،زرین خان اوربھومیکا چاولہ سمیت متعدد اداکاراؤں کو فلم انڈسٹری میں متعارف کرایا۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مونی راؤ ان کی آنے والی فلم ‘دبنگ تھری’ میں بھی نظر آئیں گی۔

علاوہ ازیں مونی راؤ کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ انہیں دیگر کچھ بولی وڈ فلموں میں بھی کام کرنے کی پیش کش ہوئی ہے۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ویژن اور نیا پاکستان

rana-biqi

بانیء پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے قیام پاکستان سے چند روز قبل 11 اگست 1947 میں پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کا صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے تاریخی خطاب میں پاکستان کے انتظامی و سیاسی امور کو دیانت و امانت کے اصولوں پر قائم کرنے کے علاوہ میثاقِ مدینہ کی فکر کیمطابق پاکستان میں آباد اقلیتوں کو برابر کے سیاسی حقوق دینے کا اعلان کیا تھا۔ لارڈ اؤنٹ بیٹن کے 3 جون 1947 کے تقسیم ہند کے اعلان کے بعد قائداعظم جانتے تھے کہ جن خطوں میں پاکستان بننے جا رہا ہے اُن میں آبادی کے لحاظ سے 25 فی صد آبادی ہندو سکھ اور عیسائی اقلیتوں کی ہوگی۔ قائداعظم چونکہ ہندوستان میں آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور کانگریس کے صدر جواہر لال نہرو کے گٹھ جوڑ کے حوالے سے قیام پاکستان کے قبل ہی پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں سے بخوبی آگاہ تھے اور جانتے تھے کہ چونکہ پاکستانی فیڈریشن جن صوبوں میں قائم ہونے جا رہی تھی وہاں آبادی کے حوالے سے پاکستان کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی اقلیتوں پر مثتمل ہوگی اِس لئے وہ اقلیتوں کے مسئلے کو ترجیح بنیادوں پر حل کرنا چاہتے تھے اور اِسی پس منظر میں قائداعظم تحریک پاکستان میں ہندوستانی مسلمانوں کی قربانیوں کو بھی رائیگاں نہیں جانے دینا چاہتے تھے ۔ چنانچہ وہ آزاد ہونے والے دونوں ملکوں کے درمیان پُرامن تہذیبی توازن کو قائم رکھنے کیلئے اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے اچھائی کی آواز بلند کرنا چاہتے تھے تاکہ انتہا پسند ہندوؤں کی سازشوں کے آگے انسانی حقوق کا بند باندھ کر آزادی کے خوشگوار ماحول کو دونوں ملکوں میں یادگار بنایا جاسکے ۔ قائداعظم کیلئے نئی مملکت پاکستان کی سلامتی اور تمام چیزوں سے بالا تر تھی جسے یقینی بنانے کیلئے اُنہوں نے ہر ممکن کوشش کی۔

بہرحال اپنی تمام تر فہم و فراست کو استعمال کرتے ہوئے قائداعظم نے قیام پاکستان سے قبل بھی اقلیتوں کے درمیان معاملہ فہمی کی فکر کو تقویت پہنچانے کیلئے 11 اگست 1947 کی تقریر سے قبل 27 مارچ 1947کو بمبئی چیمبر آف کامرس میں بھارتی ہندوؤں کو مخاطب کرتے ہوئے نئی بننے والی مملکت پاکستان میں ہندوؤں سے مساویانہ سلوک کرنے کا اعلان کیاتھا ۔ اِسی فکر کا اعادہ کرتے ہوئے 14 جولائی 1947 کو نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں پاکستانی ہندو اقلیت کو مخاطب کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا تھا کہ ہندو قیام پاکستان کے حوالے سے غلط پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں کیونکہ پاکستان میں ہندوؤں کی مذہبی ثقافت ، پراپرٹی اور زندگی کا تحفظ کیا جائیگا اور دیگر شہریوں کی طرح اُنہیں مساوی حقوق اور تحفظات مہیا کئے جائیں گے ۔ لیکن بھارتی سیاسی رہنما چونکہ پاکستان کو نقصان پہنچانے پر تُلے ہوئے تھے لہذا اُنہوں نے بھارتی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے ہندوؤں اور سکھوں کو اپنی دولت بھارت میں منتقل کرنے کی ترغیب دینے کے علاوہ مشرقی پنجاب اور دہلی میں باحیثیت مسلمانوں کی جائدادوں پر قبضہ کرنے کیلئے فرقہ وارانہ فسادات کے نام پر ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا جس کے سبب لٹے پٹے لاکھوں مسلمان اپنا سب کچھ ہندوستان میں چھوڑ کر پاکستان آنے پر مجبور ہو گئے۔ بھارتی انتہا پسند تنظیموں نے یہی رویہ کشمیر میں اختیار کیا جہاں قتل و غارت گری کا بازار گرم کرکے لاکھوں کشمیریوں کو پاکستان میں دھکیل دیا گیا۔بہرحال قائداعظم کی ویژن پاکستان کی قومی سلامتی کے گرد گھومتی نظر آتی تھی وہ ہر قیمت پر پاکستان کو ایک آزاد و خودمختار ملک دیکھنا چاہتے تھے۔ قائداعظم انتہا پسند ہندوؤں اور بیشتر انگریز سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کی پاکستان مخالف فکر سے بخوبی آگاہ تھے چنانچہ اُنہوں نے نئی مملکت خداداد پاکستان کو بنتے ہی تباہی کا شکار بننے سے بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی ۔ وہ جانتے تھے کہ کانگریس نے 3 جون 1947 کے تقسیم ہند کے پروگرام کو دل سے تسلیم نہیں کیا ہے جس کا اظہار عبوری حکومتِ ہند کے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے 3 جون کے تقسیم ہند پلان کے حوالے سے آل انڈیا ریڈیو پر اپنی تقریرمیں تقسیم ہند کو عارضی کہتے ہوئے کیا تھا جبکہ کانگریس کی مجلس عاملہ نے بھی تقسیم ہند کے پلان کو تسلیم کرتے ہوئے قیامِ پاکستان کو عارضی قرار دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ پاکستان پھر سے ہندوستان میں شامل ہو جائیگا جبکہ کانگریس حکومت کے وزیر داخلہ سردار پٹیل نے انتہا پسند ہندوؤں (ہندو مہا سبھا اور آر ایس ایس) کی ایک خفیہ بیٹھک میں یہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا تھا کہ برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کیلئے تقسیم ہند کے پلان کی منظوری ضروری تھی چنانچہ انگریزوں سے اقتدار کی منتقلی کے بعد بھارت کی صبحِ آزادی کی طاقت کے سامنے پاکستان شب کی شبنم کی صورت تحلیل ہو جائیگا۔بلاشبہ پاکستان کے خلاف یہ منصوبہ بندی نہرو۔ماؤنٹ بیٹن گٹھ جوڑ کے پس منظر میں کی جا رہی تھی۔ جدید تحقیق سے اِس اَمر کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ 1947 میں برطانوی پارلیمنٹ میں ہندوستان کی آزادی کے بل پر تقریر کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم لارڈ اٹیلی نے کہا تھا کہ برصغیر ہندوستان کو دو ملکوں میں تقسیم کرکے آزاد کرنا ایک عارضی عمل ہے چنانچہ آزادی کے بعد دونوں قومیں ایک بڑی ڈومینین کی حیثیت سے متحد ہو کر دولت مشترکہ میں شامل ہو جائیں گے ۔

درحقیقت یہی وہ بھارتی سازشی ذہن تھا جس کے تحت انتہا پسند ہندوؤں نے سکھ انتہا پسندوں سے مل کر 15 اگست 1947 میں کراچی میں جشن آزادی کے موقع پر قائداعظم کو قتل کرنے کی سازش کی تھی۔ اِسی سازش کے تحت نئی قائم ہونے والی مملکت پاکستان کے دارلحکومت کراچی کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے نئی دہلی سے کراچی سامان اور سٹاف لے جانے والی سپیشل ٹرینوں کو مشرقی پنجاب میں دھماکوں سے اُڑانے کی سازش کی گئی جسے اسپیشل برانچ پنجاب کے باضمیر انگریز چیف کیپٹن جیرالڈ سیوج نے قیام پاکستان سے دو ہفتے قبل انتہا پسند سکھ لیڈر ماسٹر تارا سنگھ اور آر ایس ایس کی سازش کو بے نقاب کر کے ناکام بنا دیا تھا ۔حیرت کی بات ہے کہ کیپٹن جیرالڈ سیوج کی رپورٹ جب انگریز گورنر پنجاب کے سامنے پیش کی گئی تو سر ایون جنکنز نے کیپٹن سیوج کو سیل شدہ رپورٹ کے ہمراہ وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے پاس بھیج دیا۔
(۔۔۔جاری ہے)

ایک اسپرین روزانہ، ایچ آئی وی انفیکشن روکنے میں انتہائی مددگار

ونی پیگ، مینی ٹوبا: اس وقت خصوصاً افریقا سمیت دنیا کا غالب حصہ ایچ آئی وی ایڈز کے چنگل میں گرفتار ہے تاہم سو سال سے بھی پرانی ایک دوا اسپرین اس مرض کو بھی مؤثر انداز میں روک سکتی ہے۔

کینیڈا کی یونیورسٹی آف مینیٹوبا کے ماہرین نے کہا ہے کہ کم مقدار میں اسپرین کھانے سے ایچ آئی وی (ایڈز وائرس) کے پھیلاؤ کو کم کیا جاسکتا ہے۔

افریقی خواتین ایچ آئی وی انفیکشن کی زیادہ شکار ہوتی ہیں اور اسی بنا پر ماہرین نے تحقیق کے لیے افریقا کا انتخاب کیا ہے۔ جامعہ مینیٹوبا ، یونیورسٹی آف واٹرلو، کینیڈا میں صحت کی ایجنسی اور کینیا کے دیگر اداروں نے کینیا کی بہت سی خواتین کو اسپرین دی جس کا کیمیائی نام ’ایسٹائل سیلی سائیلِک ایسڈ‘ یا ’اے ایس اے‘ ہے۔

یہ تحقیق بین الاقوامی ایڈز سوسائٹی کے جرنل میں شائع ہوئی ہے جس میں اسپرین جیسی عام دوا کے ایچ آئی وی پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے جس کے بہت حیرت انگیز مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

وائرس کو پھیلنے کےلیے انسان کے اندر مطلوبہ خلیہ درکار ہوتا ہے۔ اس ضمن میں عام خلیات کے مقابلے میں زیادہ تر سرگرم امنیاتی خلیات (امیون سیلز) ہی ایچ آئی وی کا نوالہ بنتے ہیں۔ ماہرین کے خیال میں خواتین کے تولیدی نظام (ری پروڈکٹیو ٹریکٹ) میں اندرونی سوزش ہی ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی وجہ بنتی ہے۔

تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ اسپرین نے خواتین کے رحم اور تولیدی نظام میں ایچ آئی وی سے متاثر ہونے والے خلیات کی تعداد میں 35 فیصد تک کمی کردی۔ اس کے علاوہ ایچ آئی وی کے خطرے سے دوچار خواتین کئی برس تک انفیکشن سے محفوظ رہیں۔

ماہرین نے اس کامیابی کے بعد اسپرین پر مزید تحقیق پر زور دیا ہے۔ ماہرین اب یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسپرین جیسی سادہ دوا کس طرح خلوی سطح پر انفیکشن کو روک رہی ہے۔ اگر یہ بات اچھی طرح ثابت ہوجاتی ہے تو اسپرین کے ذریعے کم خرچ طریقے پر غریب ممالک کی خواتین میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکا جاسکتا ہے تاہم اسے علاج کے بجائے احتیاطی تدبیر ہی کہا جائے گا۔

اسپرین اگرچہ درد کش دوا کے طور پر جانی جاتی ہے لیکن اس کا باقاعدہ استعمال دل کو صحت مند رکھتے ہوئے امراضِ قلب سے بھی بچاتا ہے۔ طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کے دورے کی صورت میں اگر فوری طور پر کوئی دوا دستیاب نہ ہو تو اسپرین کے استعمال سے دورے کی شدت میں کمی لائی جاسکتی ہے اور مریض کو اسپتال پہنچنے کا وقت مل سکتا ہے۔

گوگل آپ کا ہر جگہ تعاقب کرتا ہے

انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں ؟ تو کبھی خیال کیا کہ گوگل آپ کے بارے میں کیا جانتا ہے؟ درحقیقت یہ سرچ انجن آپ کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے۔

جی ہاں سب کچھ خاص طور پر اگر آپ گوگل کی بیشتر ایپس کو استعمال کرتے ہیں جیسے اینڈرائیڈ، جی میل، ڈرائیو، گوگل میپس، یوٹیوب، کروم براؤزر اور سب سے بڑھ کر گوگل سرچ۔

چاہے آپ لوکیشن ہسٹری کو اپنی ڈیوائس میں آف ہی کیوں نہ رکھیں، گوگل عام طور پر ایسے صارفین کی لوکیشن بھی اسٹور کرتا ہے، کیونکہ کسی بھی ڈیوائس پر جب انٹرنیٹ کنکٹ کیا جاتا ہے تو ایک آئی پی ایڈریس لوکیشن کے لحاظ سے بن جاتا ہے۔

اسمارٹ فونز موبائل ٹاورز سے بھی کنکٹ ہوتے ہیں تو موبائل آپریٹرز کو آپ کی جنرل لوکیشن کا علم ہر وقت ہی ہوتا ہے۔

تاہم اچھی بات یہ ہے گوگل کے ڈیش بورڈ مائی ایکٹیویٹی پر آپ ہر وہ چیز دیکھ سکتے ہیں جو گزرے برسوں میں اس کمپنی نے آپ کے بارے میں جمع کی ہوں گی۔

گوگل ٹریکنگ سے بچا کیسے جائے؟

کسی بھی ڈیوائس پر براﺅزر اوپن کریں اور پھر مائی ایکٹیویٹی ڈاٹ گوگل ڈاٹ کام (myactivity.google.com) پر جائیں۔

وہاں بائیں جانب مختلف آپشنز موجود ہوں گے جن میں سے ایکٹیویٹی کنٹرولز پر کلک کریں۔

آپ کے سامنے نیچے متعدد آپشن آجائیں گے جیسے ویب اینڈ ایپ ایکٹیویٹی، لوکیشن ہسٹری، ڈیوائس انفارمیشن، وائس اینڈ آڈیو ایکٹیویٹی، یوٹیوب سرچ ہسٹری اور یوٹیوب واچ ہسٹری۔

تو ان میں سے ویب اینڈ ایپ ایکٹیویٹی اور لوکیشن ہسٹری کو ٹرن آف کردیں، ایسا کرنے پر لوکیشن مارکرز گوگل اکاﺅنٹ پر محفوظ نہیں ہوں گے۔

ٹرن آف کرنے پر گوگل کی جانب سے انتباہ کیا جائے گا کہ اس کی کچھ سروسز کام نہیں کرسکیں گی، جیسے گوگل اسسٹنٹ۔

اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے

سیٹنگز میں سیکیورٹی اینڈ لوکیشن میں جاکر اسکرول کرکے پرائیویسی میں جائیں اور وہاں لوکیشن پر کلک کریں، جہاں آپ اسے ٹرن آف یا آن کرسکتے ہیں۔

جہاں تک ایپس کی بات ہے تو گوگل پلے سروسز کو ٹرن آف نہیں کیا جاسکتا۔

گوگل آوازیں بھی ریکارڈ کرتا ہے

ہ فیچر لوگوں کو اپنی آواز سے سرچ کرنے کے لیے کام کرتا ہے اور ان ریکارڈنگز کو محفوظ کرلیا جاتا ہے تاکہ گوگل اس زبان کو شناخت کرنے کے ٹولز کو بہتر بناسکے۔

مگر اس معلومات کو سننا اور سب کو ڈیلیٹ کرنا بہت آسان ہے جو گوگل جمع کرتا ہے۔

اس کے لیے آپ کو گوگل کے ہسٹری پیج میں جاکر ریکارڈنگز کی لمبی فہرست کو دیکھنا ہوگا۔

کمپنی نے ایک مخصوص آڈیو پیج بنا رکھا ہے جبکہ ویب پر تمام سرگرمیوں کے لیے بھی پیج ہے جہاں وہ سب کچھ ظاہر ہوتا ہے جو گوگل آپ کے بارے میں جانتا ہے۔

یہ آڈیو پیج جون 2015 میں سامنے آیا تھا اور اس کا مطل ہے کہ وہاں وہ سب کچھ محفوظ ہے جو آپ کے خیال میں انتہائی رازداری کا حامل ہوسکتا ہے۔

ان ریکارڈنگز کو آپ ایک ڈائری کی طرح بھی سمجھ سکتے ہیں جو آپ کو مختلف مقامات اور حالات کی یاد دلاتے ہیں جہاں آپ اور آپ کا فون موجو تھا، مگر زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ آپ کے بارے میں کتنی معلومات گوگل کے پاس ہے۔

اگر تو آپ کے پاس اینڈرائیڈ فون ہے تو ایسی ریکارڈنگز بہت زیادہ ہوں گی تاہم ایسی ڈیوائسز کی ریکارڈنگز بھی ہوسکتی ہیں جن پر آپ نے گوگل یا اس کی سروسز کو استعمال کیا ہو۔

تاہم ان آڈیو فائلز کو ڈیلیٹ کرنا آسان نہیں کیونکہ گوگل نے بیک وقت سب کو ڈیلیٹ کرنے کا آپشن نہیں دیا بلکہ ایک، ایک کرکے ہی ایسا ممکن ہے۔

نیند کی کمی کے یہ اثرات آنکھیں کھول دیں گے

ہوسکتا ہے آپ دفتر میں بہت مصروف ہو یا یہ بھی ممکن ہے کہ کسی نومولود کی دیکھ بھال کررہے ہوں، یہ نہیں تو ہوسکتا ہے آپ کو اچانک پتا چلے کہ آج شب تو کوئی بہت پسندیدہ پروگرام ٹی وی پر آنے والا ہے۔

غرض لاکھوں وضاحتیں ہوسکتی ہیں جن کی مدد سے آپ خود کو تسلی دیں گے کہ طبی ماہرین کے تجویز کردہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند نہیں لی جاسکتی۔

مگر یہاں کچھ وجوہات ایسی بتائی جارہی ہیں جو یہ سمجھانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے کہ ہر رات پوری نیند لینا کیوں ضروری ہے۔

حادثات کا خطرہ بڑھتا ہے

نیند کی کمی صرف آپ کی نہیں بلکہ دیگر افراد کی زندگیاں خطرے میں ڈال سکتی ہے، خصوصاً سڑک پر، ذہنی و جسمانی تھکاوٹ اور غنودگی ردعمل کی صلاحیت کو انتہائی سست کردیتے ہیں بالکل جیسے الکحل استعمال کرنے والوں کی طرح، امریکا کے نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے مطابق صرف امریکا میں ہی نیند کی کمی کی وجہ سے ایک لاکھ حادثات ہوتے ہیں اور 7 ہزار ہلاکتیں ہوتی ہیں، اسی طرح بے خوابی دفاتر میں بھی حادثات اور زخمی ہونے کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

دماغی صلاحیتیں سست ہوجانا

نیند سوچنے، خیالات کے تجزیے اور سیکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس کی کمی ان دماغی صلاحیتوں کو نمایاں حد تک سست کردیتی ہے، اس سے توجہ مرکوز کرنے، چوکنا پن اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں، آسان الفاظ سے دماغ کے لیے اپنی مکمل صلاحیت کام کرنا ممکن نہیں ہوتا جس کی وجہ سے روزمرہ کے کاموں میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

جان لیوا طبی امراض

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق بے خوابی کے شکار افراد میں ذیابیطس، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی، ہائی بلڈ پریشر، امراض قلب، ہارٹ فیلیئر، فالج، بانجھ پن اور بینائی کی کمزوری کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ذہنی صحت کے مسائل

نیند کی کمی سے ڈپریشن کا مرض لاحق ہوسکتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 6 گھنٹے سے کم نیند لینے والے افراد میں ڈپریشن اور ذہنی بے چینی کا عارضہ اکثر سامنے آتا ہے۔

قبل از وقت بڑھاپا

صرف ایک دن کی ناکافی نیند کے اثرات بھی جلد پر نمایاں ہوتے ہیں، یعنی آنکھیں پھول جاتی ہیں اور جلد بھی سوجن کا شکار ہوتی ہے، تاہم اگر ناکافی نیند کو عادت بنالیا جائے تو اس کے جلد پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ ڈھیلی ہوجاتی ہے، فائن لائنز تیزی سے ابھرنے لگتی ہیں جبکہ آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے تو سب سے پہلے نمودار ہوتے ہیں۔

یاداشت سے محرومی

جب ہم سوتے ہیں تو دماغ یاداشت کو منظم کرنے کا کام کرتا ہے، جس سے یاداشت مستحکم رہتی ہے اور نئی چیزیں سیکھنے میں بھی مدد ملتی ہے، تاہم نیند کی کمی کی صورت میں دماغ یادوں کو عارضی طور پر محفوظ کرتا ہے اور طویل المعیاد بنیادوں پر لوگ چیزیں بھولنے لگتے ہیں یا یوں کہہ لیں بھلکڑ ہوجاتے ہیں۔

موٹاپا

کم نیند کے نتیجے میں لوگوں کا جسمانی ہارمون توازن بگڑ جاتا ہے جس کے نتیجے میں کھانے کی اشتہا خاص طور پر بہت زیادہ کیلوریز والی غذاؤں کی خواہش پیدا ہوتی ہے، اپنی خواہشات پر کنٹرول کی صلاحیت گٹ جاتی ہے اور یہ دونوں بہت خطرناک امتزاج ہیں کیونکہ اس کا نتیجہ موٹاپے کی شکل میں نکلتا ہے جبکہ تھکاوٹ کا احساس الگ ہر وقت طاری رہتا ہے۔

آئیے عہد کریں

اس بار یوم آزادی اورنگران حکومت ساتھ ساتھ آرہی ہیں ۔71سال بعد قوم ایسے پاکستان کی آزادی کی نئی صبح ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ منانے جا رہی ہے کیونکہ قوم کو عمران خان سے بہت زیادہ توقعات ہیں۔ماہ اگست نئے شگوفے پھوٹنے، ہری بھری گھاس کے نمودار ہونے کا موسم ہے، اسی ماہ آزادی کی خاطر بہت مسلمان شہید ہوئے بہت بچھڑ گئے۔ بہت سی آنکھوں میں شائد آج بھی اپنوں سے ملنے کی آس باقی ہو۔ وطن عزیز پاکستان کے معرض وجود میں آنے کا بدلہ لینے کیلئے سینکڑوں مسلمان مردو زن کو تہہ تیغ کر کے خون کی ندیاں بہا دی گئیں، مسلمان لڑکیوں کو بے آبرو کر کے نیزوں کی انیوں پر چڑھا دیا گیا لیکن ان کی مدد کو کوئی نہ پہنچ سکا۔ سچ ہے غلامی اﷲ کی مخلوق کے فطری اور جبلی تقاضوں سے لگا نہیں کھاتی۔ یہی سبب رہا کہ حضرت انسان اپنی محبوب ترین شے یعنی متاع حیات بھی آزادی پر نچھاور کرتا رہا۔ مسلمانان ہندنے بھی دوہری غلامی سے نجات حاصل کرنے کیلئے فقیدالمثال قربانیاں دیں۔ یہ خطہ اس لئے حاصل کیا گیا کہ یہاں عدلیہ آزاد ہو گی، سیاست آزاد ہو گی، آئین کی بالا دستی ہو گی لیکن افسوس گزشتہ برسوں میں اس آزاد مملکت کیلئے قائد اعظم کے راہ نما اصولوں سے محرومی ہی مقدر رہی۔ کہنے کو ہم ایک آزاد قوم ہیں ایک آزاد، خود مختار، مقتدر اور زندہ قوم۔ قدرت نے بھی ہمیں اپنی تمام تر نعمتوں سے نوازاہے دریا،پہاڑ،ریگستان، آبنائے، معدنیات، بہت اہم محل وقوع، جوہری توانائی کا حامل لیکن آزاد ہو کر بھی ہم ابھی تک خوئے غلامی سے نجات حاصل نہیں کر سکے۔ ہم سب کچھ لٹا کر بھی ابھی تک غلام ہیں۔ذاتی مصلحتوں پر قومی مفادات کی قربانی بھی غلامی کی ایک شکل ہے۔ہم نے دو قومی نظریہ سے منہ موڑ لیا۔ بانی پاکستان کا یہ ارشاد کہ ہم پاکستان اس لئے حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ اسلام کے اصول حریت و اخوت اورمساوات کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کر سکیں لیکن ہم نے اس کے برعکس آزادی کا مطلب مادر پدر آزادی یعنی حصول مفاد کی آزادی اور نظم و ضبط سے آزادی ہی لیا۔ ہم ہمیشہ اپنی آزادی کے تہوار کو بے ہنگم شور موسیقی میں اپنی ناکامیوں کو چھپا کر مناتے رہے۔ آزادی یقیناً نعمت کبریٰ ہے اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے لیکن حصول آزادی کے صرف چوبیس سال بعد ہی وطن عزیز دو لخت ہو گیا۔ در اصل ہم اپنی آزادی کی حفاظت میں ناکام رہے۔ آج بھی پاکستان میں وزارت داخلہ پر ایف بی آئی اور وزارت خزانہ پر عالمی بنک اور آئی ایم ایف قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ آج کا تلخ سوال یہی ہے کہ آیا پاکستان بن جانے کے بعد پاکستان بنانے کے عظیم مقاصد کو حاصل کر لیا گیا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ وہ مقاصد حاصل نہیں کئے جاسکے۔ آج بھی وطن عزیز کے باسی بے حساب محرومیوں اور مایوسیوں کا شکار نظر آتے ہیں۔ وطن عزیز کا مراعات یافتہ طبقہ دولت کے ہر قسم کے وسائل پر پوری طرح قابض ہے۔ آج بھی کروڑوں کی تعداد میں یہاں کے باسی غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کو غربت، بیماری، بے روزگاری اور جہالت نے بری طرح جکڑ رکھا ہے۔ حکومتیں بنتی ہیں، ٹوٹتی ہیں مگر ان کی حالت میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی ان کے بچے تعلیم سے محروم اور ان کے علاج کیلئے علاج گاہیں نایاب ہیں۔ ہم تو غالب کے اس شعر کی مانند ہیں

رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
وطن عزیز کی ڈگمگاتی ناؤ فقط اﷲ کے بھروسے پر بے رحم تھپیڑوں کی زد میں بہتی چلی جا رہی ہے۔ دنیا میں جو قومیں اپنے لئے کوئی لائحہ عمل، دستور اور منشور مرتب کر کے اس پر عمل پیرا ہوتی ہیں وہی دنیا میں کامیاب اور سرخرو ہوتی ہیں۔1945 ء کی عالمی جنگ نے کوریا کا بد ترین حشر کیا لیکن آج وہ دنیا کی دس بڑی صنعتی قوتوں میں شامل ہے باوجود اس کے کہ اس ملک کے پاس کوئی معدنی دولت نہیں اس کی فی کس آمدنی اٹھارہ ہزار ڈالر سے زائد ہے۔ جرمنی اور جاپان کی مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں ان قوموں نے زرعی استعداد نہ ہونے کے باوجود ٹیکنالوجی میں اس قدر ترقی کر لی کہ ان کی معاشی صورتحال صنعت کی بنیادوں پرہے۔ تامل سنہالہ تنازعہ نے سری لنکا کی چولیں ہلا کر رکھ دیں لیکن ان حالات میں بھی اس کی فی کس آمدنی پاکستان اور بھارت کے مقابلہ میں ستر فیصد سے زیادہ رہی۔ چین جو ہم سے بعد میں آزاد ہوا کیمونسٹ انقلاب کے وقت وہ بھارت سے بھی پسماندہ تھا مگر آج وہ دنیا کی تیسری بڑی عالمی قوت ہے۔ آزادی کے وقت ملائیشیا کی شناخت ٹن کی معدنیات اور پام آئل تھی اور اس کا شمار پاکستان سے بھی زیادہ غریب ممالک کی صف میں ہوتا تھا لیکن آج وہ جنوبی مشرقی ایشیا کا ترقی یافتہ ملک کہلاتا ہے۔ بھارت نے بھی جمہوری و اقتصادی لحاظ سے کچھ ترقی کر لی ہے لیکن مملکت خداداد پاکستان آج کس مقام پر کھڑی ہے۔۔؟ ہم تو ابھی تک اپنے سیاسی، سماجی اور معاشی نظام کا تعین ہی نہیں کر سکے۔

شعیب ملک ٹی ٹوئنٹی میں 8 ہزار رنز بنانے والے دنیا کے چوتھے بیٹسمین

لاہور: سابق قومی کپتان شعیب ملک ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 8 ہزار رنز بنانے والے دنیا کے چوتھے بیٹسمین بن گئے۔

انہوں نے یہ کارنامہ کریبیئن پریمیئر لیگ میں گیانا ایمزون واریئرز کی جانب سے ٹرینیڈاڈ کے خلاف 38 رنز کی اننگز کھیلتے ہوئے انجام دیا ۔ شعیب ملک 8034 رنز کیساتھ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 8 ہزار رنز کا سنگ میل عبور کرنے والے دنیا کے چوتھے بیٹسمین بن گئے ہیں۔ سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں کرس گیل 11575 رنز کیساتھ سرفہرست ہیں۔ برینڈن میک کولم 9188 رنز کیساتھ دوسرے جبکہ کیرون پولارڈ 8225 رنز کیساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے احمد شہزاد5409، کامران اکمل5106، عمر اکمل5044، محمد حفیظ5001، اظہر محمود 4091 اور شاہد آفریدی 3904 رنز بنا چکے ہیں۔

Google Analytics Alternative