Home » Author Archives: Admin (page 40)

Author Archives: Admin

جیل بنا مقبوضہ کشمیر !

گزشتہ چالیس روز سے بھارت کے سفاک حکمرانوں نے نہتے کشمیریوں کے خلاف دہشتگردی کا جو بدترین سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں مگر اس معاملے کا یہ پہلو خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ دہلی سرکار روزانہ ہزاروں کے حساب سے ;828383; کے تربیت یافتہ غنڈوں کو لا کر مقبوضہ کشمیر میں بسانے کا کام عملی طور پر شروع کر چکی ہے، مہاراشٹر اور ہریانہ کی حکومتوں نے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر زمین بھی خرید لی ہے ۔ اسی کے ساتھ روزانہ ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو پکڑ کر آگرہ، بھوپال اور تہاڑ جیل میں قید کیا جا رہا ہے ۔ محض گذشتہ دو روز کے اندر 16000 کشمیریوں کو گرفتار کر کے بھارت کی دور دراز جیلوں میں منتقل کیا گیا ۔ دوسری طرف بھلا کسے علم نہیں کہ دہلی کے حکمران ٹولے نے 1 کروڑ کے لگ بھگ کشمیریوں کو عملی طور پر یرغمال بنا رکھا ہے، مقبوضہ ریاست میں ریلوے، انٹرنیٹ، موبیل فونز، ٹیلی ویژنز اور دوسرے مواصلاتی رابطے مکمل طور پر منقطع ہیں اور کسی کو بھی صحیح صورتحال کا علم نہیں کہ کشمیری کن مصائب کو جھیل رہے ہیں ۔ پیلٹ گنوں کے ذریعے لوگوں کی بینائی چھیننے کا عمل ایک ہنر کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔ اس اس ضمن میں یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ فروری 1984 میں مقبول بٹ کو دہلی کی تہاڑ جیل کے اندر نہ صرف پھانسی دی گئی بلکہ انھیں جیل کے اندر ہی کسی نامعلوم گوشے میں دفن کر دیا گیا اور یہی سب کچھ افضل گرو کے ساتھ ہوا ۔ 9 فروری 2013 کو بھارت نے افضل گرو کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی اور شہید کا جسدِ خاکی بھی اس کے لواحقین کے سپرد کیے جانے سے انکار کر دیا تھا ۔ مبصرین نے اس پس منظر کا جائزہ لیتے کہا ہے افضل گرو کو 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے مبینہ حملے میں ملوث ہونے کے نام نہاد الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ طویل عدالتی کاروائی کے دوران ان کےخلاف کوئی ٹھوس شواہد بھی بھارتی حکومت پیش نہ کر سکی جس کا اعتراف خود بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان الفاظ کے ذریعے کیا’’اگرچہ افضل گرو کےخلاف اس جرم میں ملوث ہونے کی کوئی ٹھوس شہادت یا ثبوت استغاثہ فراہم نہیں کر سکا مگر بھارتی عوام کے اجتماعی احساسات اور خواہشات کی تسکین کی خاطر انھیں پھانسی دینا ضروری ہے ‘‘ ۔ مبصرین کے مطابق دنیا کی جدید عدالتی تاریخ میں ایسی بے انصافی کی مثال شائد ڈھونڈنے سے بھی نہ مل سکے ۔ جب کسی ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ایک جانب اس امر کا اعتراف کر رہی ہو کہ ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت بھی موجود نہیں مگر دوسری طرف کسی فرد یا گروہ کی نام نہاد تسکین کی خاطر اس بے گناہ شخص سے زندہ رہنے کا بنیادی انسانی حق چھین لیا جائے تو ایسے میں اس سزائے موت کو عدالتی قتل کے علاوہ اور بھلا کیا نام دیا جا سکتا ہے اور ایسا شائد برہمنی انصاف کے تقاضوں کے تحت ہی ممکن ہے وگرنہ کوئی مہذب اور نارمل انسانی معاشرہ شائد ایسی بے انصافی کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ اس سانحہ کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کےخلاف زبردست احتجاج کیا گیا ۔ 6 روز تک مقبوضہ ریاست میں کوئی اخبار تک شاءع نہ ہوا ،موبائل فون اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر دی گئی اور احتجاج پر قابو پانے کےلئے قابض بھارتی افواج نے کرفیو نافذ کر دیا ۔ اس سانحہ کا جائزہ لیتے اعتدال پسند ماہرین نے کہا کہ بھارت سمیت دنیا کے سبھی ملکوں میں یہ مسلمہ روایت ہے کہ رحم کی اپیل خارج ہونے کے بعد سزائے موت دیے جانے سے قبل متعلقہ ملزم کے اہلِ خانہ کو باقائدہ اطلاع دی جاتی ہے اور پھانسی دیے جانے والے فرد سے اس کے وارثوں کی آخری ملاقات کروائی جاتی ہے مگر دہلی سرکار نے اس حوالے سے بھی تمام انسانی اور اخلاقی ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گرو کے لواحقین کو نہ تو اس کی رحم کی اپیل خارج ہونے کی اطلاع دی اور نہ ہی اس کی آخری ملاقات کروائی گئی اور نہ اس کی میت لواحقین کے حوالے دی گئی اور تہاڑ جیل کے اندر ہی کسی نامعلوم گوشے میں دفن کر دیا گیا ۔ یہ بات شاید بہت سے لوگوں کے علم میں نہ ہو کہ افضل گرو اور مقبول بٹ کی قبریں سرینگر کے ایک قبرستان میں کھدی ہوئی ہیں اور انھیں ابھی تک کھلا رکھا گیا مگر دہلی کے حکمرانوں نے تہاڑ جیل میں اس گوشے تک کی نشاندہی سے انکار کر دیا تھا جہاں شہید مقبول بٹ اور افضل گرو کے جسد خاکی مدفون ہیں ۔ اور اب تو پورا مقبوضہ کشمیر ایک جیل میں تبدیل ہو چکا ہے!

شمعون عباسی کی سسپنس تھرلر فلم ’’دُرج‘‘ 18 اکتوبر کو سینماؤں کی زینت بنے گی

لاہور: پاکستانی اداکار شمعون عباسی  کی آدم خوری سے متعلق سسپنس تھرلر فلم’’دُرج‘‘18 اکتوبر کو ریلیز کی جائے گی۔

فلم’’درج‘‘کی کہانی آدم خوری سے متعلق حقیقی واقعات کے گرد گھومتی ہے اور اس سے قبل اس طرح کی کہانی پر مشتمل فلم برصغیر میں کسی ڈائریکٹر نے  پردہ سیمیں کی زینت نہیں بنائی۔”دُرج“ کے عنوان سے بنائی گئی فلم برصغیر میں آدم خورانسانوں سے متعلق کہانیوں اور معلومات کا احاطہ کرتی ہے ڈائریکٹر شمعون عباسی اور پروڈکشن ٹیم نے فلم کو حقیقی روپ دینے کیلئے کئی مہینے ریسرچ کی اور کافی وقت دنیا سے الگ تھلگ غاروں میں رہنے والے انسانوں کے ساتھ گزارا تاکہ ان کے طرز زندگی کی پراسراریت کو صیحح روپ میں فلم بینوں کے سامنے پیش کیا جاسکے۔

شام فلمز کے بینر تلے بنائی گئی اس فلم میں شمعون عباسی، شیری شاہ،مائرہ خان،ڈودی خان،نعمان جاوید، عذیر عباسی اور نعیم عباسی نے اہم کردار ادا کئے ہیں جبکہ سسپنس سے بھرپور فلم کا میوزک معروف موسیقار آصف نورانی نے ترتیب دیا ہے۔

فلم کے ریلیز کردہ ابتدائی ٹریلرز کو اب تک یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد دیکھ اور سراہ چکے ہیں اور فلم کی ریلیز کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ ”دُرج“ 18 اکتوبر کو آئی ایم جی سی (ڈسٹری بیوشن کلب)کے پلیٹ فارم سے پاکستانی سرکٹ کے تمام سنیماؤں میں نمائش کیلئے پیش کی جائے گی جبکہ اسے بین الاقوامی ممالک میں بھی ریلیز کیا جائے گا۔

غریب و سادہ و رنگین ہے داستانِ حرم

محرم ہر سال آتا ہے دل کے زخموں کو پھر سے تازہ کر جاتا ہے صدےوں سے ےہ صورت قائم ہے ۔ غم و اندوہ کے طوفان ہےں ،آنکھےں اشکبار ہےں ۔ صدےوں سے ےہ دلگداز قصہ بےان کےا جا رہا ہے لےکن ےوں معلوم ہوتا ہے ابھی کل کا واقعہ ہے جس مےں ہم جی رہے ہےں ۔ امام حسےن;230; کو ےاد کرتے ہوئے ہمےں ضرور سوچنا چاہیے کہ آج دنےا بھر مےں کروڑوں مسلمان ہےں لےکن ےہ حقےقت پرےشان کن ہے کہ آج ہم راندہ درگاہ کےوں ہے ۔ ۔ ۔ ;238;تقسےم در تقسےم کا ےہ عمل کےوں اور کب شروع ہوا ۔ ۔ ۔ ;238;آقائے دو جہان کے اس دنےا سے پردہ فرمانے کے وقت اسلام اپنے عروج پر تھا ۔ ہم اس عہد کی فتوحات کاذکر فخر سے کرتے ہےں لےکن ہم کبھی نہ جان سکے کہ اےسا کےا ہوا کہ پےارے نبیﷺ کی رحلت کے چند سال بعد ہی مسلمان حکومت کو اپنے ہی نبیﷺ کے نواسے کو شہےد کرنا پڑ گےا ۔ تارےخ کی اپنی منطق ہوتی ہے ۔ واقعات کا اپنا فلسفہ ہوتا ہے ۔ ہم اسلام کے عروج کا تذکرہ تو بڑی شد و مد سے کرتے ہےں لےکن تضادات کی کہانی سے گرےزاں ہےں ۔ مسلمان فرقوں مےں کےوں تقسےم ہوتے گئے،ےہ تضاد کےسے وجود مےں آےا،خلافت کے پراسےس مےں ملوکےت اور ملوکی رویے کےسے داخل ہوئے،کہاں غلطی ہوئی،جب پےغامبر اعلیٰ ترےن،پےغام بہترےن تو پھر مسلمان پستےوں کے امےن کےوں ،امام عالی مقام کے پاس ان کی زندگی مےں وہ سب کچھ تھا جس کو اےک اچھی زندگی گزارنے کےلئے ضرورت محسوس کےا جاتا ۔ وہ کےا وجہ بنی کہ حضرت امام حسےن;174; نے اپنے اہل و عےال کے ساتھ شہادت قبول کی تھی ۔ ملت اسلامےہ کا اقتدار تبدےل ہو کر ملوکےت مےں تبدےل کر دےا گےا ۔ اسلام مےں آ مرےت اور بادشاہت کی کوئی گنجائش نہےں تھی ۔ اس کے خلاف امام;230; نے علم بغاوت بلند کےا ۔ لوگوں کے لاتعداد احتجاجی خطوط موصول ہونے پر کربلا کا سفر اختےار کےا ۔ تمام اکابرےن اسلام جو مدےنے مےں تھے تمام کے تمام ےزےد کی جانشےنی کے خلاف تھے ۔ وہ ےزےد کی جانشےنی کو خلاف دےن خےال کرتے تھے لےکن وہ عملی طور پر ےزےد کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی ہمت نہےں کر سکے ۔ اس جہاد اور اس بغاوت کا قرعہ فال قدرت کاملہ نے فاطمہ;230; کے لال،حضرت علی;174; کے فرزند اور رسول;248; کے نواسے کے نام ہی کر رکھا تھا ۔ دنےا مےں سب سے کٹھن مرحلہ باطل کے غلبے کے دور مےں اعلائے کلمہ الحق ہوتا ہے ۔ فرمان نبوی;248; ہے کہ سب سے افضل جہاد جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے ۔ حسےنی;230; قافلے کی لازوال قربانےوں نے جرےدہ عالم پر حق و صداقت کی اےسی مہر دوام ثبت کی ہے کہ اب تا قےامت باطل پرست اس کے آثارو نقوش مدھم نہےں کر پائےں گے ۔ چودہ صدےاں گزر چکنے کے باوجود آج بھی دشت کربلا کا آفتاب نما ذرہ اہل عالم کو ےہ جاودانی پےغام دے رہا ہے کہ دنےا مےں ہر چےز کےلئے فنا ہے،زوال ہے، نےستی ہے لےکن اس کائنات مےں اےک چےز اےسی ہے جس کےلئے فنا ابھی تخلےق ہوئی اور نہ کبھی ہو گی ۔ وہ گراں بہا شے ہے شہےد حق کی رگ سے ٹپکنے والے خون کا سرخ قطرہ ۔ ےہی قطرہ فنا نا آشنا اور مرگ ناشناس ہے ۔ حضرت امام حسےن;230; اےک شخصےت کا ہی نام نہےں ۔ حضرت امام حسےن;230; اےک پےغام ہے،آفاقی پےغام جو ہر دور کے مظلوم اور مجبور انسانوں کو درس عمل اور ولولہ شوق عطا کرتا ہے ۔ حضرت امام حسےن;230; اےک مذہب ہے جو ہمےشہ طاغوتی طاقتوں سے ٹکرانا سکھاتا رہے گا، حضرت امام حسےن;230; اےک سےاست کا نام ہے جس کے نزدےک کسی قےمت پر بھی اصولوں پر سودے بازی نہےں کی جا سکے گی ۔ حضرت امام حسےن;230; اےک ملت ہے جس کی ابتدا ء حضرت ابراہےم;230; سے ہوئی اور کربلا کے مےدان مےں نکتہ عروج کو پہنچی ۔ حضرت امام حسےن;230; اےک صدائے انقلاب ہے جو ہر دور مےں بلند ہوتی رہے گی ۔ حضرت امام حسےن;230; اےک تہذےب کا نام ہے اور اےک شرافت کا معےار ہے ۔ امام عالی مقام;230; نے حرص وہوس،طلب جاء و حشمت،حب دنےا اورنسب کو لا الہ کی تےغ بے نےام سے کاٹ کر دھر دےا تا کہ لا الہ کی منزل تک پہنچنے کےلئے کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے ۔ حضرت امام حسےن;230; ظاہراً ہار کر بھی بازی جےت گئے ،ےزےد جےت کر بھی ہار گےا ۔ حضرت امام حسےن;230; کی شکست نے زندگی کے شرف کو عزت اور پائندگی بخش دی جبکہ ےزےد کی قوت اور بالا دستی ہمےشہ کےلئے ذلت و رسوائی کی علامت ٹھہری ۔ سبط رسول;248; و شہےد کربلا کی شہادت تارےخ اسلام کا وہ عظےم المےہ دلخراش ہے کہ اس پر قےامت تک ماتم برپا رہے گا ۔ مظلوم امام کے سوگ مےں 61 ھ تک اتنے آنسو بہائے گئے ہےں کہ اگر ان کو ےکجا کر دےا جائے تو دنےا کی ہر چےز اس مےں ڈوب جائے ۔ حضرت امام حسےن;230; کسی اےک قوم، کسی اےک فرےق کے ہی نہےں ،وہ پوری دنےا کےلئے حرےت فکراور عدل و انصاف کی علامت ہےں ۔ دنےا بھر کے مظلوم حسےن;230; کے لشکری ہےں اور کربلا آج بھی جاری ہے ۔ دنےا مےں جو مقتدر بھی ظلم پر مبنی شخصی حکومت کی بساط بچھانے کی سعی کرتا ہے وہ ےزےد ہے جو اس کا دست و بازو بنتا ہے وہ ابن زےاد اور شمر ہے اور وہ شہر جو اس نظام جبر اور اس کے آلہ کاروں کی ستم آرائےوں پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے ہےں وہ کوفہ ہے ۔ حضرت امام حسےن;230; اور ےزےد زندگی کے دو رنگ ہےں ۔ اب جسے جو اپنا لے ۔ حسین;230; کے رنگ مےں تو قربانےاں ہی قربانےاں ہےں ،ےزےد کے رنگ مےں آسائشےں ہےں ۔ حسےن;230; کے رنگ مےں عاقبت کا سنورنا ہے،ےزےد کے رنگ مےں دنےا ہے ۔

جھکے گا ظلم کا پرچم ےقےن آج بھی ہے

مےرے خےال کی دنےا حسےن آج بھی ہے

ہوائےں لاکھ چلےں مےرا رخ بد لنے کو

دل و نگاہ مےں وہ سر ز مےن آج بھی ہے

صعوبتوں کے سفر مےں ہے کاروان حسےن
ےزےد چےن سے مسند نشےن آج بھی ہے

ایف بی آر اور تاجروں کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر ناکام

اسلام آباد: فیڈرل بیورو آف ریونیو اور تاجروں کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر ناکامی سے دوچار ہوگئے ہیں اور تاجروں نے حکومت کی جانب سے معیشت کو دستاویزی بنانے کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے جس کے باعث حکومت کی جانب سے معیشت کو دستاویزی بنانے کی کوششوں کو دھچکا پہنچا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر اور تاجروں کے درمیان یہ مذکرات نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے ایک سینئر عہدیدار کی زیر نگرانی ہوئے تاہم مذاکرات کے دوران تاجروں کے دو گروہوں کے درمیان جھگڑا ہوگیاجس کے باعث معاملات مزید پیچیدگی اختیار کرگئے۔

تاجروں کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے لچک نہ دکھائی تو وہ سڑکوں پر آجائیں گے ، ان کا موقف تھا کہ ان کی وجہ سے ہی مشرف جیسے آمر کو بھی گھٹنے ٹیکنے پڑے تھے۔

یاد رہے کہ جنرل مشرف نے بھی سن 2000 میں کاروباری حضرات پر زور دیا تھا کہ وہ رجسٹریشن کرائیں مگر تاجروں کے دباؤ اور احتجاج کے باعث مشرف کو بھی یہ فیصلہ واپس لینا پڑا تھا۔رواں مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے صنعت کاروں پر یہ لازمی قرار دیا تھا کہ وہ تقسیم کاروں اور تھوک فروشوں کو 50 ہزار سے زائد مالیت کی فروخت پر کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ طلب کریں گے تاہم حکومت کے اس فیصلے نے تاجروں اور چھوٹے دکانداروں کو حکومت کے خلاف لاکھڑا کیا ہے۔

تاجر نہ ہی انکم ٹیکس رجسٹریشن کرانا چاہتے ہیں اور نہ ہی وہ سیلز ٹیکس رجسٹر کرانا چاہتے ہیں جبکہ یہ دونوں اقدامات معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے اس سلسلے میں ایف بی آر افسران، ٹیکس ماہرین اور تاجروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی تھی تاکہ وہ 30 ستمبر سے قبل اس مسئلے کا حل تلاش کرسکے۔

ایف بی آر کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں ہول سیل اور رٹیل سروسز کا حصہ ٍ18 فیصد بنتا ہے تاہم ٹیکس جمع کرانے میں یہ حصہ صرف 0۔88 فیصد ہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ صنعت کار اپنی مصنوعات کی فروخت کی قیمت کم ظاہر کرتے ہیں اور اسے تقسیم کاروں کے منافع کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے اور اس کا واحد حل یہی ہے کہ ریٹیلرز، ہول سیلرز اور تقسیم کاروں کو انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کے تحت رجسٹرڈ کرلیا جائے۔

ایوان تاجران پاکستان کے صدر اجمل بلوچ، اور سیکریٹری جنرل نعیم میر کی جانب سے جاری کردی پریس ریلیز کے مطابق ایف بی آر سے دوران خرید و فروخت شناختی کارڈ کی فراہمی کے حوالے سے مذاکرات میں تعطل برقرار ہے۔

معروف کامیڈین امان اللہ کو دل کا دورہ، آئی سی یو منتقل

لاہور: کامیڈین امان اللہ کو دل کا دورہ پڑا ہے اور وہ انتہائی نگہداشت وارڈ میں ہیں۔

پاکستان کے معروف کامیڈٰین امان اللہ خان کو دل کا دورہ پڑا ہے اور انہیں ڈاکٹر اسپتال لاہور کے انتہائی نگہداشت وارڈ منتقل کردیا گیا ہے۔

کامیڈین کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز نے امان اللہ کا علاج شروع کر دیا ہے تاہم حالت تشویشناک ہے، پرستاروں سے دعاؤں کی اپیل ہے۔

واضح رہے کہ معروف کامیڈین امان اللہ کی طبیعت کچھ دنوں سے انتہائی ناساز ہے اور وہ سانس کی تکلیف کے باعث اسپتال زیرعلاج تھے۔

جج ویڈیواسکینڈل؛ عدالت نے تینوں ملزمان کوبری کردیا

لاہور: جج وڈیواسکینڈل میں عدالت نے تینوں ملزمان کوبری کردیا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق جج ویڈیو اسکینڈل میں جوڈیشل مجسٹریٹ ثاقب جواد نے سماعت کے بعد محفوظ فیصلہ سنا دیا۔ ایف آئی اے کے تفتیشی افسرمحبوب نے عدالت میں بیان دیا کہ ملزمان کے خلاف ثبوت نہیں ملے۔ جس کے بعد عدالت نے تینوں ملزمان کوبری کردیا۔ ملزمان میں ناصرجنجوعہ، خرم یوسف اورغلام جیلانی شامل تھے۔ تینوں ملزمان پرجج ارشد ملک نے الزامات لگائے تھے۔

پس منظر
مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نوازنے ایک پریس کانفرنس کے دوران احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیوجاری کی تھی جس میں وہ کہتے ہوئے نظرآرہے ہیں کہ انہیں بلیک میل کرکے اوردباؤ ڈال کرنوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا دینے پر مجبور کیا گیا تھا، وگرنہ نوازشریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا۔ تاہم ارشد ملک نے ایک روزبعد پریس ریلیزجاری کرکے مریم نوازکے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ویڈیوکوجعلی قراردیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام کی بندش فی الفور ختم کی جائے، بھارت کو امریکی تنبیہ

واشنگٹن: امریکا نے بھارت کو متنبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام اور معلومات کے تبادلے پر عائد پابندیوں کو فی الفور ہٹائے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن آرٹاگس  نے میڈیا سے گفتگو میں مقبوضہ کشمیر میں کشیدہ صورت حال ،انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور میڈیا بلیک آؤٹ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان مورگن آرٹاگس نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں  ایک ماہ سے عائد موبائل فون اور نیٹ ورک پر پابندی پر شدید تشویش ہے، بھارت کو متنبہ کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائے اور مواصلاتی نظام کو فی الفور بحال کیا جائے۔

مورگن آرٹاگس نے مزید کہا کہ ٹیلی فون، موبائل اور نیٹ سروسز پر پابندی کے باعث معلومات کے تبادلوں میں مشکلات کا سامنا ہے اور وادی کا پوری دنیا سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے جو آزادی اظہار رائے کے بنیادی انسانی حق کی خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست سے کرفیونافذ ہے اور مواصلاتی نظام معطل ہے، وادی بھر میں ٹیلی فون، موبائل ونیٹ سروسزبند ہیں جس کے باعث دنیا بھر سے کشمیر کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

 

گنج پن کا باعث بننے والا غذائی جز

کیا آپ چاہتے ہیں کہ گنج پن کا شکار نہ ہوں؟ تو متوازن غذا روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنالیں۔

درحقیقت طبی سائنس میں ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں کہ صرف پھلوں یا سبزیوں تک غذا کو محدود کرنا بال گرنے یا گنج پن کے عمل کو تیز تر کرسکتا ہے۔

2006 کی ایک تحقیق میں آئرن کی کمی اور گنج پن کے درمیان تعلق دریافت کیا گیا۔

اگرچہ اس تحقیق کے نتائج کا مطلب یہ نہیں کہ آئرن کی کمی یقیناً بالوں کے گرنے کا باعث بنے مگر سبزیاں کھانے کے عادی افراد اور گنج پن کے شکار لوگوں میں ایک تعلق دریافت ہوا ہے اور وہ ہے گوشت کا کم استعمال۔

انٹرنیشنل فوڈ انفارمیشن کونسل کے ڈاکٹر کرس سولائڈ کے مطابق بالوں کی نشوونما میں آئرن کا کیا کردار ہے، وہ تو ابھی نامعلوم ہے، مگر بالوں کا گرن آئرن کی کمی ایک بڑی علامت ضرور ہے۔

بوسٹن میڈیکل سینٹر کی ڈاکٹر کیرولین اپویان کے مطابق طبی سائنس یہ جان چکی ہے کہ اگر آپ ک خون کے سرخ خلیات کو ہیموگلوبن سے مناسب مقدار میں آئرن نہ ملے تو بالوں کی نشوونما اور مرمت کے لیے آکسیجن کی سپلائی محدود ہوجاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سبزیاں کھانے کے عادی افراد میں عام طور پر آئرن کی سطح بہت کم ہوتی ہے۔

آئرن کی 2 اقسام ہوتی ہیں ایک قسم کا آئرن صرف گوشت میں پایا جاتا ہے جبکہ ایک قسم کا آئرن سبزیوں اور گوشت دنوں میں پایا جاتا ہے۔

گوشت میں موجود آئرن جسم میں سبزیوں والے آئرن کے مقابلے میں زیادہ اچھی طرح جذب ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سبزیاں کھانے کے عادی افراد کو آئرن کو روزانہ آئرن کی دوگنی مقدار درکار ہوتی ہے۔

ویسے یہ خیال رہے کہ صرف آئرن ہی گنج پن کی واحد وجہ نہیں بلکہ متعدد عناصر جیسے ذہنی تناﺅ، عمر میں اضافہ، جینز، ہارمون میں تبدیلیاں اور دیگر طبی مسائل بھی اس میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔

امریکن اکیڈمی آف ڈرماٹولوجی کے مطابق بالوں کے اسٹائل کی غلطیاں بھی گنج پن کا شکار بناسکتی ہیں۔

ویسے اگر گنج پن کا شکار ہورہے ہیں اور ایسا غذا کی وجہ سے نہیں، تو بھی صحت بخش غذا کا انتخاب نقصان نہیں پہنچاتاتا۔

آئرن سے بھرپور غذاﺅں، وٹامن سی، وٹامن بی اور ای والے کھانے سب صحت کے لیے فائدہ مند ہی ثابت ہوتے ہیں۔

Google Analytics Alternative