Home » Author Archives: Admin (page 40)

Author Archives: Admin

سندھ بھر میں سی این جی اسٹیشن پورے ہفتے کھلے رکھنے کا اعلان

کراچی: سوئی سدرن گیس کمپنی نے عید الفطر کے باعث سندھ بھر میں آئندہ پورے ہفتے سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی بحال رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

ترجمان سوئی سدرن کمپنی کے مطابق عیدالفطر کے باعث ایس ایس جی سی حکام نے 3 جون تا 9 جون پیر تا اتوار صوبے بھر میں سی این جی اسٹیشنز پر گیس بندش نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ عیدالفطر کی تعطیلات کے دوران عوام کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

موبائل فون چارج کرتے ہوئے 22 سالہ شخص کرنٹ لگنے سے ہلاک

ویسے تو اکثر افراد اپنے موبائل فون کو چارجنگ پر لگانے کے بعد کال کرنے یا موسیقی سننے کے عادی ہوتے ہیں مگر ہوسکتا ہے یہ پڑھ کر آپ اس سے گریز کرنے کو ہی بہتر سمجھیں۔

تھائی لینڈ میں ایک 22 سالہ شخص اپنے فون کو بستر پر چارج کرنے کے دوران بجلی کے کرنٹ کے نتیجے میں ہلاک ہوگیا۔

تھائی لینڈ کے صوبے ناکھون راتچاسیما کا یہ رہائشی اپنے اپارٹمنٹ میں تنہا تھا اور اس کی لاش کئی گھنٹوں بعد رشتے داروں نے دریافت کی۔

جب رشتے دار مرنے والے کے گھر پہنچا تو اس نے اس شخص کوبستر پر بے حرکت پایا جبکہ ڈیوائس اس کے ہاتھ میں تھی جس کا چارجر دیوار کے ساکٹ میں لگا ہوا تھا۔

ہلاک ہونے والے شخص کے ہاتھ پر جلنے کے نشانات دیکھے گئے جبکہ پوسٹ مارٹم سے انکشاف ہوا کہ وہ شخص رشتے دار کے آنے سے 5 گھنٹے پہلے ہلاک ہوچکا تھا۔

بدنصیب شخص (اس کا نام میڈیا رپورٹس میں نہیں دیا گیا) کی ماں نے اپنے بیٹے کو محنتی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وہ کم عمری سے ہی والدین کے ساتھ مارکیٹ جاکر سبزیوں کی فروخت میں مدد دیتا ہے۔

اس سے پہلے تھائی لینڈ میں ہی چند ماہ قبل ایک فیکٹری ورکر اپنے فون کو چارج کرنے کے دوران بجلی کے کرنٹ سے ہلاک ہوگیا تھا جو چارجنگ کے دوران ائیرفون سے گانے سن رہا تھا یا کسی سے بات کررہا تھا۔

فروری میں کرٹساڈا سیوپول نامی اس شخص کی لاش بھی بستر میں ملی تھی اور اس کا فون بھی چارج ہورہا تھا۔

اس کی لاش گھر کے مالک نے اگلی صبح دریافت کی تھی جبکہ لاش کے کانوں میں جلنے کے نشانات بھی دیکھے گئے۔

ماہرین کے مطابق ناقص برانڈ کے چارجر کو استعمال کرنے کے دوران لوگوں کو کرنٹ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

2016 میں ایک ملائیشین خاتون نے جیسے ہی چارجنگ پر لگے فون کو کان پر لگایا تو اچانک ہی انہیں کرنٹ لگا اور وہ ہلاک ہوگئی۔

2015 میں ہانگ کانگ میں ایک خاتون نے چارجنگ کے دوران اپنے فون کو استعمال کرنے پر انگلیاں سن ہوجانے کی شکایت کی تھی اور اسے ہسپتال لے جایا گیا۔

2013 میں ایک چینی شخص اسی طرح کے ایک واقعے کا شکار ہوکر کوما میں چلا گیا۔

اسی طرح 2013 میں ہی آئی فون فائیو کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے پر ایک چینی خاتون کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوگئی تھیں۔

اسٹاک مارکیٹ کیلئے 20 ارب روپے کے فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت نے نیشنل انویسمنٹ ٹرسٹ (این آئی ٹی) کے تحت اسٹاک مارکیٹ کے استحکام کے لیے 20 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دے دی۔

معاون خصوصی برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی صدارت میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں فیصلہ لیا گیا۔

ای سی سی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک میں اسٹاک مارکیٹ کے استحکام کے لیے ای سی سی نے فنانس ڈویژن کی تجویز کو منظور کیا۔

اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ حکومت نے ریاستی ادارے این آئی ٹی میں سرمایہ کاری کے لیے 20 ارب روپے کے خودمختار ضمانت جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اسٹیٹ بینک کے وفد کے ہمراہ بروکرز سے ملاقات کی تھی جس میں سیکیورٹی اینڈ ایکسینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کا کوئی نمائندہ نہیں تھا۔

وزارت خزانہ کے ترجمان ڈاکٹر خاقان نجیب نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے خودمختار ضمانت کے اجزا کے لیے مختلف بینکوں سے 20 ارب ادھار لیے جائیں گے جو این آئی ٹی میں سرمایہ کاری کے لیے ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ دیگر بنیکوں کے علاوہ نیشنل بینک آف پاکستان بھی معاہدے کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ فیصلے سے اسٹاک مارکیٹ میں بہتری کے امکانات ہیں جس کے فائدے حکومت کے ساتھ بھی شیئرہوں گے۔ ڈاکٹر خاقان نجیب نے بتایا کہ گزشتہ حکومتوں نے بھی ایسے اقدامات اٹھائے تھے۔

وزات خزانہ کے ترجمان نے مذکورہ فنڈز پیرتک فعال ہونے سے متعلق بیان دینے سے گریز کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’فنڈز کے مکمل فعال ہونے میں تاحال بعض اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہیں‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ای سی سی نے حصص کی واپسی کا کوئی اختیار نہیں لیا۔

حکومت سلیکٹڈ اپوزیشن اورسلیکٹڈ عدلیہ چاہتی ہے، بلاول بھٹو

اسلام آباد: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ حکومت سلیکٹڈ اپوزیشن اورسلیکٹڈ ججز چاہتی ہے۔

پارلیمنٹ کے باہر ن لیگ اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹونے کہا کہ آج جو پارلیمنٹ میں ہوا وہ جمہوریت نہیں آمرانہ طریقہ تھا، حکومت نے اپوزیشن کے کسی رہ نما کوبولنے نہیں دیا، اسلام آباد میں دو دن قبل پُرامن لوگوں پرحملہ کیا گیا، ہمارے دو اراکین کوگرفتارکیا گیا اور خاتون ایم این اے پرتشدد کیا گیا۔

بلاول بھٹونے کہا کہ پاکستان میں حساس معاملات چل رہے ہیں، حکومت سلیکٹڈ اپوزیشن اورسلیکٹڈ ججزچاہتی ہے اور مشرف کا طریقہ کار اپنا رہی ہے۔ بلاول بھٹو نے پی ٹی ایم ارکان اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جھوٹ بولا کہ اس حوالے سے میرا خط ان کو نہیں ملا۔

(ن) لیگ کے سینیئررہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت عدلیہ کودباؤمیں رکھنا چاہتی ہے، آج پاکستان کی عدلیہ پرٹارگٹ کلنگ ہورہی ہے، حکومت نے ججزپردباؤ ڈالنے کی بدترین مثال قائم کی، ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت ججزکے خلاف ریفرنسز واپس لے ، رات کے اندھیرے میں یہ ریفرنسز بنتے ہیں جن کا کسی کا علم نہیں ہوتا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح حکومت نے قومی اسمبلی سے راہ فراراختیارکی، خواتین پرحملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، یہ خواتین پرحملہ نہیں بلکہ عدلیہ پرحملہ ہے اوریہ حملے صرف اس لیے ہیں کہ جج حکومت کے خلاف فیصلے نہ دے پائیں۔

بی این پی سربراہ سرداراخترمینگل کا کہنا تھا کہ آج اسمبلی میں حکومتی رویے کی مذمت کرتے ہیں، کہنے کوتو یہ جمہوریت ہے مگر بُو آمریت کی آرہی ہے، جب کہ عدلیہ اورمیڈیا کو پابند سلاسل کیا جا رہا ہے۔ جے یو آئی (ف) کی رکن قومی اسمبلی شاہدہ اختر نے وزیرستان واقعہ پر پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں خار قمر چیک پوسٹ پر جھڑپ اور 13 افراد کی ہلاکت کے واقعے پر قومی اسمبلی میں آج شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں مزید 3 کشمیری شہید

سری نگر: قابض بھارتی فوج نے نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کرکے مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا جس کے بعد ایک ہفتے میں شہداء کی تعداد 8 ہوگئی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنت نظیر وادی میں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جمعتہ الوداع کے روز بھی نہ رک سکا، ضلع شوپیاں میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران داخلی و خارجی راستوں کو بند کر کے قابض بھارتی فوج نے فائرنگ کر کے مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

بھارتی فوج کے سرچ آپریشن کے دوران نیٹ سروس اور موبائل سروس مکمل طور پر بند رہی جب کہ ایمبولینس کو بھی علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ نوجوانوں کی شہادت پر علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور بھارتی فوج کے خلاف شدید نعرے بازی کی جس پر قابض فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا ستعمال کیا۔

واضح رہے کہ 24 مئی کو بھارتی فورسز نے کشمیر میں حریت پسندی کا استعارہ بننے والے شہید برہان وانی کے دست راست ذاکر موسیٰ کو شہید کردیا تھا جس کے بعد کشمیری نوجوانوں کی شہادت کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا،ضلع باندی پوری میں 28 مئی کو 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا گیا اور اگلے روز ہی ضلع کلگام میں ایک اور کشمیری نوجوان کو شہید کیا گیا تھا۔

انرجی ڈرنکس کا ایک اور بڑا نقصان سامنے آگیا

نوجوانوں میں بہت زیادہ مقبول انرجی ڈرنکس پینے کا شوق جان لیوا امراض قلب کا باعث بن سکتا ہے اور اس کی وجہ ان مشروبات میں موجود کیفین کی بہت زیادہ مقدار کی موجودگی نہیں ہوتی۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

پیسیفیک یونیورسٹی کی تھقیق میں خبردار کیا کہ ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے شکار افراد کو اس طرح کے مشروبات کا استعمال محدود کردینا چاہیے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ یہ مشروبات دل کے برقی سگنلز میں مداخلت کا باعث بنتے ہیں۔

اس تھقیق کے دوران 18 سے 40 سال کی عمر کے افراد پر انرجی ڈرنکس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ ایک انرجی ڈرنک پینے کے بعد دل کی دھڑکن کی رفتار میں تبدیلی آتی ہے جو 4 گھنٹوں بعد معمول پر آتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران 34 صحت مند افراد کو ایک انرجی ڈرنک یا ایک اور مشروب 3 دن تک استعمال کرایا گیا۔

محققین نے رضاکاروں کے دل کی برقی سرگرمی کا الیکٹرو کارڈیوگرام میں جائزہ لیا جبکہ ان کے بلڈپریشر کو بھی ریکارڈ کیا گیا۔

یہ تمام ٹیسٹ تحقیق کے آغاز اور مشروب پینے کے بعد چار گھنٹوں کے دوران ہر آدھے گھنٹے بعد کیے گئے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے انرجی ڈرنک پی، ان کی دل کی دھڑکن دوسرا مشروب پینے والوں کے مقابلے میں زیادہ تیز ہوگئی، جس سے دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کے عارضے کا خطرہ بڑھتا ہے جو کہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

اسی طرح انرجی ڈرنکس کے استعمال سے رضاکاروں کے بلڈ پریشر میں نمایاں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہمیں فوری طور پر اس مخصوص جز یا اجزا کے امتزاج کی تفتیش کرنی چاہیے جو مختلف اقسام کی انرجی ڈرنکس میں موجود ہوتی ہیں جبکہ عوام میں ان مشروبات کے استعمال کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن رپورٹ میں شائع ہوئے۔

پاکستان ٹیم کی موجودہ صورتحال زیادہ تسلی بخش نہیں، مصباح الحق

لاہور: سابق قومی کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم کی موجودہ صورتحال زیادہ تسلی بخش نہیں۔ 

سابق قومی کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف فتح کے حصول میں 2 اسپنرز کا کردار اہم ہوگا، عماد وسیم اور شاداب خان گرین شرٹس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، مصباح الحق کے مطابق ویسٹ انڈیز بیٹسمین اسپنرز کو زیادہ بہتر انداز میں نہیں کھیل پاتے جس کا فائدہ پاکستانی ٹیم کو اٹھانا چاہیے۔

مصباح الحق نے کہا کہ عماد وسیم کی ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیابیوں کا گراف بہت زیادہ ہے جب کہ شاداب خان بھی بھرپور فارم میں ہیں، پاکستان کا ویسٹ انڈیز کے خلاف ماضی کا ریکارڈ بھی بہت اچھا ہے، ان دونوں چیزوں کا فائدہ پاکستان ٹیم کو اٹھانا چاہیے۔

سابق قومی کپتان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم کی موجودہ صورتحال زیادہ تسلی بخش نہیں ہے جب آپ جیت نہیں رہے ہوتے ہیں تو مورال بھی ڈاؤن ہوتا ہے، اس بات کا فائدہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم اٹھانے کی کوشش کری گی لیکن ورلڈ کپ کے اپنے ابتدائی میچز میں زیادہ اہم یہ ہے کہ کون سی ٹیم کس حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترتی ہے اور میچ کے دوران ملنے والے مواقعوں  سے کتنا فائدہ اٹھاتی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کا اَچارحکومت کی چٹنی بنائے گا

آج ہمارے سیاست دانوں اور اشرافیہ کے ماتھے پر جتنا بڑا نشان نام نہاد جمہوری پاسداری کا ہے ۔ اُس سے کہیں زیادہ بڑا اور گہرا سیاہ نشان اُن کے دل و دماغ پرقومی خزانہ لوٹ کھا نے اور عوام کو بے وقوف بنا کرآف شو رکمپنیا ں اور جعلی بینک اکاونٹس سے خود کو باعزت ظاہر کرکے حکمرانی کرنے اور آگے بڑھتے رہنے کا ہے ۔ پچھلے سالوں کے مقابلے میں کچھ ماہ سے مُلک میں کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قدر اتنی بڑھ گئی ہے کہ سارے دیس میں مہنگائی کانہ تھمنے والا طوفان آگیاہے ۔ آج ڈالر کے ساتھ غربت کی اُونچی اڑان بھی اپنی مثال آپ ہے ۔ ہر طرف مہنگائی منہ کھولے زبان نکالے قوم کو نگل لینے کو تیار کھڑی ہے ۔ اِسے بے لگام کرنے والے ہمارے یہی سیاست دان ہیں ;234; جنہوں نے جمہوریت کی مالا تو جپی ہے ۔ مگر مُلک سے حقیقی معنوں میں غربت کے خاتمے کے لئے کچھ نہیں کیا ہے ۔ آج عالم یہ ہے کہ قومی ادارے عوام کو بھوک و افلاس اور کسمپرسی کا تصدیق نامہ جاری کرکے دوست ممالک سے امداد وصول کرتے نہیں تھک رہے ہیں ۔ اگر یہی ٹھیک ہوتے تو مُلک بھی درست جانب گامزن ہوتا اور قرضوں کے بوجھ تلے دب کرپستی اور بھوک و افلاس کی دلدل میں غرق نہ ہوتا ۔ ہماری سترسالہ تاریخ بتاتی ہے کہ اِس عرصے میں مُلک پر زیادہ تر وردی والوں اور دوسول سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی پلٹ پلٹ کرباریاں لگا حکمرانی قائم رہی ہے ۔ سب نے اپنے لئے سوچا اور ٹائم پاس کیا اور چلتے بنے ۔ مگر کبھی کسی نے مُلک سے غربت اور مہنگائی کے خاتمے کے لئے اپنے حصے کا کوئی بھی تعمیری اور مثبت کام اُس طرح سے نہیں کیا ۔ اُنہیں جس طرح کیا جانا چاہئے تھا ۔ آج جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مُلک میں ٹاپ ٹین مسائل میں غربت اور مہنگائی سرفہرست ہے ۔ اگرچہ ایسا نہیں ہے ۔ مگر کچھ دیر کو فرض کرلیتے ہیں کہ حکمران جماعت سے حکومت چلائی نہیں جارہی ہے;234; تو اِس میں اپوزیشن کا بھی بڑا کردار ہے ۔ اگر حزبِ اختلاف حکومتی کاموں میں رغنہ نہ ڈالے، تو سوفیصد اُمید ہے کہ حکومت بہتر طریقے سے اپنے کام انجام دے کر مُلک کو معاشی او ر اقتصادی بحرانوں سمیت دیگر مسائل سے نمٹ سکتی ہے ۔ مگر اپوزیشن ایسا کیوں کرے گی;238;اِس نے تو سوچ رکھا ہے کہ حکومت کے لئے مشکلات اور پریشانیاں پیدا کرنی ہے ۔ اپوزیشن کا حکمران جماعت سے رویہ نہ صرف غیر سیاسی بلکہ غیر مذہب بھی ہے ۔ آج اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جماعتیں پچھلے الیکشن میں اپنی شکست کی سُبکی حکومت کے خلاف گندی زبان استعمال کرکے نکال رہی ہے ۔ اور حکومت کے کاموں میں ٹانگیں آڑاکر جمہوریت کا ٹیکہ ماتھے پر سجانے کی نوٹنکی کررہی ہیں ۔ دراصل اِن کا ایسا کرنا جمہوریت اور جمہوری روایات کے بھی برخلاف ہے ۔ اِس سے اِنکار نہیں ہے کہ اپوزیشن جماعتوں (پی ایم ایل ن اورپی پی پی) کے قائدین قومی خزانے سے لوٹ مار اور سیاہ کرتوتوں کی وجہ سے احتساب کے قومی اداروں کی کڑی گرفت میں ہیں ۔ جو اپنی لوٹ مار کے باعث کڑے احتسابی عمل سے گزررہے ہیں ۔ جس سے اِن سب کے اوسان خطا ہیں ۔ اِنہیں کچھ سمجھ نہیں آرہاہے کہ اِن کا کون سا عمل اِن کے لئے بہترہے اور کونسا اِنہیں پریشانیوں سے دوچار کرسکتاہے ۔ اِس صُورتِ حال میں آج کل احتساب سے بچنے او ر بچانے کے لئے دونوں کرپٹ سیاسی جماعتوں کے قائدین کی اولادیں (جو نہ چاہتے ہوئے بھی ) ہاتھ میں ہاتھ ڈالے نیا اتحاد بنا چکے ہیں ۔ جنہوں نے اعلان کیا ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں مل کرحکومت مخالف تحاریک چلائیں گیں ۔ غرض یہ کہ عید بعداپوزیشن کی مختلف جماعتوں کا اَچارکی طرح بنا اتحادواقعی حکومت کی چٹنی بنا ڈالے گا;4646; !! حکومت مخالف اپوزیشن اتحادسڑکوں پر آنے کی تیاریوں میں یوں مصروفِ عمل ہے کہ جیسے یہ سڑکوں پر آکر حکومت کا تختہ اُلٹ ہی دے گا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ عید بعد شکست خوردہ اپوزیشن کی جماعتیں حکومت مخالف تحاریک سڑکوں پر چلا کر کیا ;238;واقعی اُس طرح سے اپنا جمہوری حق اداکریں گیں ۔ جس کا جمہوراور جمہوریت تقاضا کرتے ہیں ۔ یا یہ سب حکومت مخالف پروپیگنڈوں سے اپنی مردہ سیاست میں جان ڈالنے اور اپنے کرپٹ سربراہان کی کرپشن کے بعد سخت احتساب اور عبرت ناک انجام سے بچنے کے لئے ڈھونگ رچا کر مُلک میں انارکی پھیلا کر غیر جمہوری قوتوں کے لئے راہیں ہموار کررہے ہیں ;238; اِس میں کچھ بھی ہے مگر اتنا ضرورواضح ہوچکاہے کہ اپوزیشن جماعتیں اپنے معصومانہ مگر غیر جمہوری طرزِ عمل سے خودکو جمہوریت مخالف ثابت کرانے پر تلی ہوئی ہیں ۔ ایک جانب جہاں اپوزیشن عیدبعد حکومت مخالف تحاریک چلانے کے لئے کمر کس چکی ہے ۔ تو وہیں حکمران جماعت اِن سے نبردآزما ہونے کے لئے اپنے تئیں تیار ہے ۔ جیسے گزشتہ دِنوں وزیراعظم عمران خان سے سندھ کے شہر اور مُلک کے تجارتی و معاشی حب کراچی سے تعلق رکھنے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے ۔ جس میں وزیراعظم نے ایم کیو ایم پاکستان کو پی ٹی آئی کا سب اہم اتحادی قراردیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ سندھ کے شہری علاقوں کی محرومیاں ختم کی جائیں گی ۔ اُنہوں نے اِس موقع پر اِ ن کی محرومیوں کا جلد ازجلد ہر ممکن ازالہ کیئے جانے کا وعدہ بھی کیا ہے ۔ اور ساتھ ہی دُہراتے ہوئے کابینہ میں شامل ایم کیو ایم کے دونوں وزراء کی کارکردگی کو بھی سراہتے ہوئے کہاہے کہ وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم کی کارکردگی تمام وزراسے بہت بہتر ہے‘‘ یہاں یہ ماننا پڑے گاکہ 71سالوں میں کوئی وزیراعظم ہے جو اپنی اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اپنے وزراء کی اِس طرح کھلے عام تعریف کررہاہے ۔ جس سے اتحادی جماعتوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے ۔ اِس سے انکار نہیں کہ وزیراعظم عمران خان سے قبل کسی بھی وزیراعظم نے کبھی بھی اتنی جرات اور ہمت نہیں پیداہوئی تھی کہ جو اپنے اتحادی وزراء کی یوں تعریف کرتا اور وہ بھی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے تعلق رکھنے والے وزراء کی ۔ یقینا یہ کریڈیٹ ایم کیوایم پاکستان اور وزیراعظم عمران خان کو ہی جاتا ہے جو اپنی حکومت کی مدت ختم ہونے تک مُلک میں حقیقی جمہوری تقاضوں کی پاسداری کرتے ہوئے وطن عزیر کو متحدہ جیسی باشعور اور محب وطن سیاسی اتحادی جماعت کے ساتھ مل کر قرضوں اور معاشی بحرانوں سے نکال کر ترقی اور خوشحالی کی جانب لے جانا چاہتے ہیں جس کے لئے پاکستانی قوم ستر سالوں سے منتظرتھی ۔

Google Analytics Alternative