Home » Author Archives: Admin (page 4242)

Author Archives: Admin

پاکستان میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت.

کراچی :پاکستان میں تیل اور گیس کا نیا ذخیرہ, ذخیرے کیلئے تین ہزار میٹرز کھدائی کی گئی ، کنویں سے روزانہ 160 بیرل تیل نکالا جا رہا ہے ماری پیٹرولیم نے گیس کا نیا ذخیرہ دریافت کرلیا ہے ، گیس کے اس کنویں سے یومیہ 160 بیرل تیل نکالا جا رہا ہے ۔ ماری پیٹرولیم اعلامیے کے مطابق کمپنی نے کالا باغ کے کرک بلاک میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت کرلیا ہے ۔ تیل و گیس کے اس ذخیرہ کو حاصل کرنے کے لئے 3 ہزار میٹر کھدائی کی گئی ہے ۔ ابتداء میں گیس کے اس کنویں سے یومیہ 3 اعشاریہ 3 ملین مکعب فٹ گیس اور160 بیرل خام تیل نکل رہا ہے ۔ ماری پیٹرولیم کیجانب کالا باغ کے کرک بلاک سے یہ دوسرا کنواں دریافت ہوا ہے ۔ ماری پیٹرولیم کے مطابق دریافت سے ملک میں تیل وگیس کی رسد میں اضافہ اور زرمبادلہ کی بھی بچت ہوگی ۔

پڑھائی میں دل لگانے کے بہترین نسخے.

دنیا بھرمیں طلبا پرتعلیم کا دباؤ ہمیشہ سے رہا ہے لیکن کئی بار کتاب کھولنے کے باوجود ان کے لیے پڑھائی پر توجہ مرکز رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ دماغ کو بیدار اور چوکس رکھنے کے لیے یہ طریقے اپنائے جا سکتے ہیں۔ پڑھائی کے دوران کھڑے ہوجانا: کچھ دیر بیٹھنے کے بعد جسم سستی کا شکار ہونے لگتا ہے، جس کا اثر دماغ پر پڑتا ہے۔ امریکا کی ٹیکساس یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق لیکچر کے دوران وقفے وقفے کے ساتھ کھڑے ہونے والے طالب علم زیادہ توجہ کے ساتھ سنتے ہیں۔ ذمہ داری: اکثر طالب علم باقی سارے کام تو ذمے داری کے ساتھ کرتے ہیں لیکن تعلیم کے معاملے میں ایسا نہیں کرتے۔ باقی کاموں کی طرح ہی تعلیم کو بھی ایک ذمے داری سمجھ کر حاصل کریں۔ ایسا کرنے سے آپ کی استعداد میں بہتری آئے گی۔ غذائیت سے بھری خوراک : محققین کے مطابق صحت مند دماغ کے لیے وٹامن اور معدنیات بہت ضروری ہیں۔ ساتھ ہی پانی پینا بھی بہت ضروری ہے۔ کئی ممالک میں سیب کو طالب علموں کے لیے بہت اچھا پھل سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ اپنے دماغ کو بہترین رکھنا چاہتے ہیں تو اخروٹ، بادام، سبزیاں، ٹماٹر اور پھل ضرور کھائیں۔ مچھلی اور چائے بھی ذہن کو چاق و چوبند رکھنے کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں. فاسٹ فوڈ سے دور رہیں: آج کل نوجوانوں کی مرغوب غذا فاسٹ فوڈ ہے، جس کی اچھی خاصی مقدار کھانے کے بعد وہ کولڈ ڈرنک بھی ضرور پیتے ہیں۔ جن سے پیٹ تو بھر جاتا ہے لیکن دماغ اور جسم کے لیے ضروری غذائیت نہیں ملتی۔ پڑھائی کے دوران وقفہ: پڑھائی کے دوران وقفہ بہت ضروری ہے لیکن اس وقفے کے دوران سوشل میڈیا پر اپنا وقت خرچ کرنے کے بجائے موسیقی سننا، دوستوں کے ساتھ مل کر گپ شپ کرنا یا ٹہلنے چلے جانا زیادہ اچھی اور صحت بخش مصروفیات ہیں۔ اس سے ناصرف دماغ کو آرام اور سکون ملتا ہے بلکہ ایسی سرگرمیوں کے بعد پڑھائی پر یکسوئی سے توجہ دی جاسکتی ہے۔ ورزش: سائنسدانوں کے مطابق ورزش بھی دماغ کو ہلکا پھلکا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ کہتے ہیں کہ دَس منٹ سے زیادہ جسمانی مشقت کرنے پر کئی ایسے ہارمون نکلتے ہیں جو فیصلہ سازی کے عمل میں مدد دیتے ہیں۔

پاکستان کا اگلا آرمی چیف کون ہوگا ؟

راولپنڈی : پاکستان کے موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدت میں بہت کم عرصہ بچا ہے اس لئے اب یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ پاکستان کا اگلا آرمی چیف کون ہوگا۔ اگر پاک فوج کی تمام ممکنہ شخصیات کی طرف دیکھا جائے تو پاک فوج کے 4 لیفٹیننٹ جنرلوں کی آئندہ ماہ 4 اکتوبر کو ریٹائرمنٹ کے بعد لیفٹیننٹ جنرل مقصود احمد سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرل ہوں گے۔ جبکہ لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات سنیارٹی لسٹ میں چھٹے سے دوسرے نمبر پر آجائیں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ‘ لیفٹیننٹ جنرل سید طارق ندیم گیلانی‘ لیفٹیننٹ جنرل محمد ایاز چودھری اور لیفٹیننٹ جنرل نوید زمان 4 اکتوبر کو ریٹائرڈ ہورہے ہیں جس کے بعد لیفٹیننٹ جنرل مقصود احمد سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرل ہوں گے جبکہ سنیارٹی فہرست میں لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کا دوسرا‘ لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللہ خان کا تیسرا‘ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم احمد کا چوتھا‘ لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الحسن شاہ کا پانچواں‘ لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے کا چھٹا‘ لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کا ساتواں‘ لیفٹیننٹ جنرل خالد اصغر کا آٹھواں‘ لیفٹیننٹ جنرل مظہر جمیل کا نواں اور لیفٹیننٹ جنرل اکرام الحق کا دسواں نمبر ہوگا۔ ان تمام لیفٹیننٹ جنرلوں کے عہدوں کی میعاد 20 ستمبر 2017 ءکو ختم ہوگی۔ تاہم جنرل کے عہدہ پر ترقی ملنے کی صورت میں وہ مزید 3 سال تک پاک فوج میں خدمات انجام دیں سکیں گے۔ حالات میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی تو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف 29 نومبر 2016 ءکو اپنے عہدوں سے ریٹائر ہوجائیں گے۔ جس کے بعد ان عہدوں پر تعیناتی کے لئے مذکورہ لیفٹیننٹ جرنلوں کے نام سنیارٹی کے لحاظ سے زیرغور آئیں گے۔

پشاور حملے کی کہانی عینی شاید 12سالہ ثناءاللہ کی زبانی.

پشاور: پاکستان ایئر فورس بڈھ بیر کیمپ میں دہشت گردوں نے آدمی پبلک سکول کی روایت دہرادی 12 سالہ ثناءاللہ جو روزانہ اپنے والد کے ساتھ فجر کی نماز کیلئے ایئرفورس کالونی کی مسجد جاتا ہے جمعہ کے روز بھی نماز فجر کی ادائیگی کیلئے مسجد چلا گیا وضو کے بعد جماعت میں تھوڑا سا وقت باقی تھا والد کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت شروع کی اس دوران امام مسجد داخل ہوئے اور سنت پڑھنے لگے کہ اچانک زوردار دھماکوں کی آوازیں شروع ہوئیں۔ ثناءاللہ کہتا ہے کہ ایسی آوازیں میں نے پہلے کبھی نہیں سنی تھیں اور اچانک گولیاں چلنے لگیں مسجد میں سارے سوچ رہے تھے کہ کہاں پناہ لیں اچانک فرنٹیئر کانسٹیبلری کی وردی میں ملبوس دو نوجوان اندر آئے اور فوراً کہنے لگے دہشتگردوں نے حملہ کیا ہے ایک طرف کھڑے ہوجاﺅ تاکہ تم لوگوں کو باہر نکالا جاسکے۔ سارے لوگ مسجد کی شمال کی دیوار سے چپک گئے اچانک وردیوں میں ملبوس ایک نوجوان نے کہا کہ سب اب نشانے پر ہیں۔ چلاﺅ گولی اور میرے سامنے وردی میں ملبوس دہشتگردوں کے کلاشنکوفوں سے انگارے الگنے لگیں جبکہ دیوار کے ساتھ کھڑے نمازیوں میں سے کسی سے آہ تک نہیں نکل رہی تھی۔ میرے والد نے فوراً مجھےا پنے پیچھے دیوار کے ساتھ چکادیا اور گولیاں چلنے لگیں۔ پتہ نہیں میرے والد کو کتنی گولیاں لگیں کہ اچانک میرے ران میں دوگولیاں گھس گئیں اور ایک چیخ کے ساتھ میں گر پڑا میرے گرنے کے ساتھ ہی میرے والد بھی گر پڑے لیکن گولیاں چلتی رہیں تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی میرے اوپر والد خون آلود حالت میں گر پڑے ایک دہشتگرد چلایا۔ ان سے تو اپنا بدلہ چکا لیا اب کوارٹر کی طرف چلتے ہیں اچانک دوسری طرف سے بھی گولیاں چلنے لگیں ایک دہشتگرد پھر چیخا فوجی آگئے ہیں بھاگو۔ مسجد ایسی سنسان ہوگئی کہ کوئی آواز ہی نہیں نکل رہی تھی۔

انڈونیشیا کے صوبے آچے میں شرعی قوانین نافذ.

جکارتہ : انڈونیشیا کے صوبے آچے میں شرعی قوانین کے نفاذ کے بعد مجرموں کو سرعام کوڑے لگانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور مقامی میڈیا میں حال ہی میں سامنے آنے والی تصاویر میں درجنوں مردوں اور خواتین کو عوامی مقامات پر کوڑے لگتے دکھائے گئے ہیں۔ آچے انڈونیشیا کا واحد صوبہ ہے کہ جہاں شرعی قانون نافذ کیا گیا ہے جبکہ باقی تمام ملک میں برطانوی قانون سے ماخوذ روایتی نظام انصاف نافذ ہے جس میں کوڑوں کی سزا کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اس صوبے میں تاریخی طور پر علیحدگی پسندی کی تحریکیں چلتی رہی ہیں اور 2001ءمیں جب یہ تحریکیں زور پکڑ گئیں تو مرکز کی طرف سے اس صوبے میں امن وامان کے قیام اور علیحدگی پسندی کی تحریکوں پر قابو پانے کیلئے شرعی قانون کے نفاذ کی اجازت دے دی گئی۔ حالیہ دنوں میں بھی 14 خواتین اور 3 مردوں کو سرعام کوڑے لگائے گئے ہیں۔ ان پر ناجائز مراسم اور زناکاری کے الزامات تھے۔ میڈیا میں سامنے آنے والی تصاویر میںد یکھا جاسکتا ہے کہ سفید لباس میں ملبوس خواتین کو سرخ قالین پر بٹھا کر کوڑے لگائے جارہے ہیں۔ ایک تصویر میں مجرموں کی قطار نظر آتی ہے جو کوڑے لگنے کے منتظر ہیں۔ اس صوبے میں شرعی قوانین کے نفاذ کے بعد ہم جنس پرستی، شراب نوشی چوری اور زنا جیسے جرائم پر کوڑے لگانے کی سزائیں دی جارہی ہیں۔ غیر شادی شدہ مردوں اور عورتوں کو اکٹھے موٹرسائیکل سواری کی بھی اجازت نہیں، جبکہ 11 بجے کے بعد خواتین محرم کے بغیر تفریحی مقامات پر بھی نہیں جاسکتیں۔

احمد شہزاد کی بارات میں شاہد آفریدی گاڑی چلا کے ہوٹل لائے.

لاہور : قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی احمد شہزاد کی شادی کی تقر یب  جہاں احمد شہز اد نے اپنی سیلفیاں بھی لیں ہیں ۔میڈ یا رپورٹس کے مطابق احمد شہزا د کی گاڑی کو شاہد آفریدی چلا تے ہوئے مقامی ہوٹل لے کر آئے ۔اس موقع پر احمد شہزاد نے سنہرے رنگ کی شیر وانی زیب تن کی اور شاہد آفریدی کالی شیروانی میں ملبوس تھے ۔ہوٹل میں پہنچ کر احمد شہزاد نے میڈ یا نمائندوں کی شرکت پر برہمی کا اظہار کیا اور ہوٹل میں اندر آنے پر پابندی لگا دی ۔احمد شہزاد نے اپنی شادی کے موقع پر بھی سیلفی لینے کی ریت قائم رکھی اور خوب دل بھر کے اپنی سیلفیا ں بنائیں ۔اس موقع پر شاہد آفریدی نے بھی احمد شہزاد کے ساتھ سیلفی بنائی۔ قومی کرکٹر شاہد آفریدی نے ساتھی کھلاڑی احمد شہزاد کی شادی کے موقع پر انتہائی دل چسپ پیغام جاری کیا ہے۔ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں ان کا کہنا ہے ’سیلفی بوائے اصل پویلین میں خوش آمدید‘۔ واضح رہے شاہد آفریدی احمد شہزاد کے انتہائی قریبی دوستوں میں شمار ہوتے ہیں اور احمد شہزاد سیلفیاں لینے کی شہرت بھی رکھتے ہیں۔

جانوروں کی آن لائن فروخت کے بعد آن لائن قصاب بھی دستیاب ہیں۔

کراچی: کمیونی کیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے عیدقرباں کے لیے قصابوں کی تلاش کا کام بھی آسان کردیا، پیشہ ور قصابوں کے ساتھ تعلیم یافتہ نوجوان بھی میدان میں آگئے ہیں جو مارکیٹنگ کیلیے سوشل میڈیا کا استعمال کررہے ہیں۔ پاکستان میں قربانی کے جانوروں کی آن لائن فروخت کے بعد آن لائن قصاب بھی سامنے آگئے ہیں۔ عید قرباںقریب آتے ہی مصنوعات اور خدمات کی تشہیر کیلیے استعمال ہونے والی معروف ویب سائٹس پر قصابوں کے اشتہارات کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے، بعض قصابوں نے فیس بک پر بھی اپنے پروفائل جاری کرتے ہوئے قربانی کیلیے آن لائن بکنگ کا آغاز کردیا۔ راؤ قصائی کے نام سے اشتہار دینے والے اورنگی ٹاؤن کے رہائشی نے ایکسپریس کو بتایا کہ وہ گزشتہ کئی سال سے قصاب کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ گزشتہ سال بھی اشتہار دینے سے انھیں أرڈرز ملے تھے، انھوں نے بتایا کہ قربانی کے جانور ذبح کرنے کی اجرت کا تعین جانور دیکھ کر کیا جاتا ہے، آن لائن اشتہار میں بکرے کی قربانی کی اجرت 2ہزار روپے، اوسط وزن کی گائے کی قربانی کیلیے 10 ہزار روپے، اونٹ کی قربانی کے لیے 15 سے 18 ہزار روپے اجرت درج کی گئی ہے۔ جس میں کمی بیشی کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ آن لائن بکنگ کرنے والے ایک اور قصاب قاری زاہد نے بتایا کہ وہ15سال سے یہ کام کررہے ہیں اور گزشتہ3سال سے معروف ویب سائٹس پربھی اشتہار دے رہے ہیں، انھوں نے اپنی سہولت کے لیے اپنی رہائش کے نزدیکی علاقوں کو ترجیح دی ہے اور شہر کے وسطی اور شمالی علاقوں کے آرڈرز لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ پاکستان میں سماجی رابطے کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ویب سائٹ فیس بک پر بھی آن لائن قصابوں کے پروفائلز موجود ہیں جن میں سے کچھ پیجز چار سے پانچ سال پرانے ہیں، ’’قصائی‘‘ کے عنوان سے قائم ایک پیج پر 30اگست سے قصاب کی خدمات کے لیے آن لائن بکنگ کے آغاز کا پیغام درج ہے اور گزشتہ تین سال کے دوران کی جانے والی قربانیوں کی تصاویر بھی اپ لوڈ کی گئی ہیں،انگریزی زبان میں قربانی کے جانور ذبح کرنے کے لیے مہارت یافتہ قصابوں کی خدمات آفر کی گئی ہیں۔ قربانی کے جانور ذبح کرنے کیلیے آن لائن بکنگ کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ نئے گاہکوں کیلیے قصابوں پر اعتبار کرنا مشکل ہوتا ہے اس لیے آرڈر بک کرنے یا گاہک کو ڈیل کرنے کیلیے تعلیم یافتہ افراد کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جوگاہک سے مل کر اجرت اور وقت طے کرتا ہے، آن لائن ملنے والے زیادہ تر گاہک ایڈوانس دینے سے کتراتے ہیں تاہم ایک مرتبہ کام کرانے کے بعد اعتماد قائم ہوجاتا ہے۔

لوگ کینسر کی ابتدائی وجوہات نظر انداز کردیتے ہیں.ماہرین

ماہرین کے مطابق کینسر کے نصف سے زائد مریض ایسی علامات سے گزرتے ہیں جنہیں وہ نظر انداز کردیتے ہیں اور اسی وجہ سے بالآخر وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ 1.مسلسل کھانسی یا گلے میں خراش : اگر آپ کے گلےمیں خراش ہے اور کھانسی ہے کہ جانے کانام نہیں لیتی، کھانسنے کے دوران خون بھی آتا ہے تو ضروری ہے کہ آپ فوری طور پر اپنے معالج سے رجوع کریں کیونکہ یہ گلے کے کینسر کی ابتدائی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں، 2. کھانا نگلنے میں مشکل : عام طور پر گلے میں خراش یا زخم کی وجہ سے ٹھوس خوراک نگلنے میں تکلیف ہوتی ہے ایسی صورت میں لوگ عام طور پرنرم کھانا کھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے جو درست نہیں ہے، کھانا نگلنے میں تکلیف گلے کے کینسر کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔ 3.مناسب خوراک کے باوجود وزن میں تیزی سے کمی : اگر آپ مناسب خوراک کے باوجود بغیر کسی وجہ کے مسلسل دبلے ہوتے جا رہے ہیں تو اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ کینسر کا بھی اشارہ ہو سکتا ہے۔ 4.نظام انہضام میں خرابی : ماہرین کا کہنا ہے کہ نظام انہضام میں خرابی ایک عام مسئلہ ہے تاہم اگر آپ کو یہ شکایت مسلسل ہے تو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے ملیں۔ 5.پیشاب میں خون : مثانے میں انفیکشن کی وجہ سے پیشاب میں خون آتا ہے لیکن یہ مثانے یا گردے کے کینسر کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے 6. جسم کے کسی بھی حصے میں مسلسل درد رہنا : اگرآپ کو جسم کے کسی بھی حصے میں مسلسل درد رہتا ہے اوروہ معالج کی تجویزکردہ دوا سے دورنہیں ہورہا تو پھر ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔ درد کی وجہ کینسر بھی ہوسکتا ہے۔ 7. جسم پر تل کی طرح کے نشانات : ڈاکٹروں کے مطابق جسم پر نظر آنے والا تل درحقیقت تل نہیں ہوتا، اگر جلد پر ایسے نشانات تیزی کے ساتھ ابھرنے لگیں تو یہ جِلد کے کینسر کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ 8. جسم میں گٹھلیاں نکلنا: آپ کو جسم کے کسی بھی حصے میں اگر گٹھلی یا گانٹھ محسوس ہو تو اس پر توجہ دیں۔ اگرچہ ہر گٹھلی خطرناک نہیں ہوتی لیکن کچھ گٹھلیاں کینسر کی وجہ سے بھی ہوتی ہیں 9. زخم بھرنے میں تاخیر : جسم کے کسی حصے پر چوٹ یا زخم تھیک ہونے میں تاخیر کا سب سے بڑا سبب ذیابطیس ہے لیکن اگر کوئی زخم 3 ہفتے میں بھی نہ بھرے تو ڈاکٹر کو دکھانا انتہائی ضروری ہے.

Google Analytics Alternative