Home » Author Archives: Admin (page 4721)

Author Archives: Admin

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک اور صحافی کا قتل عام

کراچی: ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک اور صحافی کو قتل کر دیا گیا۔

نارتھ کراچی کے سیکٹر الیون سی میں سینئر صحافی آفتاب عالم کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔

آفتاب عالم کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں حکام نے بتایا کہ مقتول کے چہرے پر گولیاں لگیں جس سے ان کی ہلاکت ہوئی۔

نارتھ کراچی میں یو پی موڑ کے قریب ان کے گھر کے سامنے ہی 2 موٹر سائیکل سواروں نے آفتاب عالم پر فائرنگ کی۔

پولیس حکام کے مطابق آفتاب کا لم گھر سے گاڑی نکال رہے تھے کہ ان پر فائرنگ کی گئی۔

حکام کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے ان کو تین گولیاں ماریں.

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ویسٹ فیروز شاہ کے مطابق آفتاب عالم کو گھر کے باہر نشانہ بنایا گیا وہ اس وقت اپنے بچوں کو اسکول سے واپس لانے کے لیے جا رہے تھے۔

ان کا کہنا تھاکہ پولیس کو جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول کے تین خول ملے ہیں جبکہ حملہ آوروں کی تعداد 2 تھی جن میں سے ایک موٹر سائیکل چلا رہا تھا جبکہ دوسرے نے فائرنگ کی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق راہزنی کے واقعات میں عمومی طور پر لوگوں کو فائرنگ کے دوران جسم کے نچلے حصہ پر نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ آفتاب عالم کو جسم کے اوپر حصے پر فائرنگ کرکے ہالک کیا گیا۔

آفتاب عالم کافی عرصے تک جیو نیوز کی بزنس ڈیسک سے پر کام کرتے رہے جبکہ بعد ازاں سماء نیوز سے وابستگی اختیار کر لی تھی البتہ آج کل کسی ادارے سے وابستہ نہیں تھے.

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے آفتاب عالم کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے نے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی دوسری جانب وزیر داخلہ انور سیال نے ڈی آئی جی سینٹرل سے رپورٹ طلب کرلی.

صحافتی تنظیموں کی جانب پریس کلب پر احتجاج کرنے کا اعلان کیا گیا ہے.

کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے صدر افسر عمران اور سیکریٹری شعیب احمد نے سینئر صحافی آفتاب عالم کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 24 گھنٹوں کے دوران میڈیا سے وابستہ 2افراد کی شہادت نےکراچی آپریشن پر سوالیہ نشان کھڑا کردیاہے، قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیاجائے.

خیال رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی نیوز چینل جیو کی گاڑی پر بھی فائرنگ کی گئی تھی جس سے ایک سیٹلائیٹ انجئیر ہلاک اور ایک انجنئیر زخمی ہوا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس مشہور صحافی حامد میر کو بھی کراچی میں ہی قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی، ان پر جناح ائر پورٹ سے شاہراہ فیصل پر نکلتے ہوئے فائرنگ کی گئی تھی، البتہ کئی گولیاں لگنے کے باوجود خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہے تھے.

قبل ازیں جیو نیوز کے رپورٹر ولی خان بابر کو بھی کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں قتل کیا گیا تھا البتہ ان کے قتل کے مجرموں کی نشاندہی ہو گئی تھی جن کو بعد ازاں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی جبکہ ان مجرموں میں سے ایک فیصل عرف موٹا 11 مارچ کو ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو سے گرفتار کیا گیا تھا.

امریکی صحافی ڈینیئل پرل کو بھی 23 جنوری 2002ء میں کراچی میں اغوا کے بعد قتل کیا گیا تھا

تعلیم و ترقی کے اس دور میں پاکستان کی پوزیشن ۔

دنیائے اسلام میں پاکستان ایک ایسا ملک بن کر ابھر رہا ہے جس کے ہونہار طالب علم کبھی دنیا کے کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل بن رہے ہیں اور کبھی اے اور او لیول کے امتحانات میں سب سے زیادہ اے گریڈ لے رہے ہیں۔ کبھی تندور پر روٹیاں لگانے والا جامعہ پنجاب کے بی اے کے امتحان میں اوّل آتا ہے تو کبھی کھیتی باڑی کرنے والا۔

کیا یہ تمام ریکارڈز بنانے کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی ادارے صحیح معنوں میں تعلیم یافتہ نوجوان پیدا کر رہے ہیں؟ یا پھر طالب علم ڈگری یافتہ تو بن رہے ہیں مگر تعلیم یافتہ نہیں۔ کیا وجہ ہے کہ تعلیمی میدان میں تو ریکارڈ پر ریکارڈ بن رہے ہیں مگر عملی میدان میں یہ ریکارڈ بنانے والے ہونہار طالب علم کوئی بھی اہم معرکہ سر انجام دینے میں ناکام رہتے ہیں۔

کسی بھی امتحان کے نتائج آنے کے بعد ہمارا میڈیا پوزیشن ہولڈرز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ پوزیشن ہولڈر کے علاوہ گھر والوں اور حتیٰ کہ اس کے دوستوں کے انٹرویوز بھی نشر کیے جاتے ہیں۔ کالج اور یونیورسٹیاں بڑے بڑے بینرز اور اشتہارات کے ذریعے پوزیشن لینے والے طلبہ و طالبات کی تصویریں لگا کر اپنی تشہیر کرتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے بھی نقد انعامات کے علاوہ عمرہ کروانے کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔ انعامات بانٹنے کی تقریب میں “معمولی تعلیم یافتہ” وزیر تعلیم پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علموں کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے تقاریر کرتے ہیں۔

مگر کیا یہ پوزیشن ہولڈرز مختلف امتحانات میں نمایاں پوزیشنز لینے کے باوجود عالمی معیار پر پورا اترتے ہیں؟

اس تصنیف کا مقصد کسی کا مذاق اڑانا نہیں بلکہ پاکستان میں رائج تعلیمی نظام کی افادیت اور اس کے فرسودہ پن کو آشکار کرنا ہے جس سے پڑھ کر میں بھی یہ تصنیف لکھنے کے قابل ہوا ہوں۔

اگر کاغذوں میں دیکھا جائے یا پھر حکومتی عہدیداروں کی تقریریں سنی جائیں تو ہمیں پتہ لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں شرحِ خواندگی بڑھ رہی ہے اور ممکن ہے کہ یہ حقیقت بھی ہو۔ مگر موجودہ دور میں آج بھی ہم نے اخبار پڑھ لینے والے یا خط لکھ لینے والے کو خواندہ ہی مانا ہے۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں بی اے کرنے والوں کو کیا صحیح معنوں میں گریجویٹ کہا جا سکتا ہے؟

حیران کن طور پر پچھلے کچھ سالوں سے جامعہ پنجاب کے بی اے کے امتحانات میں اوّل پوزیشن حاصل کرنے والے کا تعلق نچلے متوسط طبقے سے ہوتا ہے۔ جس سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پڑھائی کے لیے دولت کا ہونا لازمی نہیں اور کوئی بھی مزدور یا فیکٹری میں کام کرنے والے کا بیٹا یا بیٹی محنت کے ذریعے نمایاں پوزیشن حاصل کرسکتا ہے۔

مگر کیا وجہ ہے کہ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں ہزاروں روپے دے کر تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ ان امتحانات میں پوزیشنز حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں؟

میرے نزدیک اس کی وجہ ہمارا فرسودہ تعلیمی نظام ہے جس میں رٹّا لگا کر پڑھنے والا تو پوزیشن حاصل کرسکتا ہے مگر کسی بھی تعلیمی ادارے میں دیگر غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے والا نمایاں پوزیشن حاصل نہیں کرسکتا۔

تعلیم صرف یہ نہیں کہ امتحانات میں پوزیشن حاصل کر کے ڈگری لے لی جائے بلکہ تعلیم میں وہ ماحول بھی نمایاں رول ادا کرتا ہے جو کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں پایا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں ہونے والی غیر نصابی سرگرمیاں نتائج پر تو نہیں مگر اسٹوڈنٹس کی شخصیت پر ضرور گہرا اثر ڈالتی ہیں۔

اس کے علاوہ بی اے کے امتحانات میں پوزیشن لینے والے طالب علموں کے مضامین بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ جیسے کہ کچھ مضامین ایسے ہیں جن میں زیادہ نمبرز لینا قدرے آسان ہوتا ہے۔ جیسے کہ پنجابی، کشمیریات، عربی، اور فارسی۔

لیکن تعلیمی اداروں میں ان مضامین کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں ہوتی اور اس کی وجہ یہ کہ ریگولر اسٹوڈنٹس معاشیات، شماریات اور سِوکس جیسے مضامین میں دلچسپی لیتے ہیں۔ جن کو استعمال کرتے ہوئے وہ عملی زندگی میں نوکریاں حاصل کرتے ہیں۔

2012 کے جامعہ پنجاب کے بے اے کے امتحانات میں اوّل پوزیشن حاصل کرنے والے محسن علی کا کہنا تھا کہ اس نے 6 ماہ میں بی اے کی تیاری کر کے اوّل پوزیشن حاصل کی ہے۔

اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جو اسٹوڈنٹ دو سال کسی ادارے میں پڑھتا ہے وہ بقیہ ڈیڑھ سال ضائع کرتا ہے کیونکہ اگر 6 ماہ میں پڑھ کر ہی اوّل پوزیشن حاصل کی جاسکتی ہے تو دو سال کالج یا یونیورسٹی جا کر ہزاروں روپے برباد کرنے کا کیا فائدہ؟

حالیہ آنے والی تعلیمی اداروں کی درجہ بندی میں جامعہ پنجاب کو پاکستان کی تیسری بہترین یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا ہے اور حالیہ کچھ سالوں میں بی اے کے نتائج کو دیکھ کر جامعہ پنجاب کی افادیت کا اندازہ باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔

اول پوزیشن حاصل کرنے والے یہی طلبہ جب کسی مشکل مضمون میں ماسٹرز کرتے ہیں تو بمشکل 3 سی جی پی اے لے پاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں جو پوزیشن لینا ہی سب کچھ سمجھا جاتا ہے، اب اس سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا، کیونکہ عالمی معیار کی یونیورسٹیوں، یا پاکستان ہی کی بہتر یونیورسٹیوں میں پوزیشن دیکھ کر داخلہ نہیں دیا جاتا، بلکہ وہاں پر جدید تحقیق کی مدد سے داخلہ ٹیسٹ تیار کیے جاتے ہیں جن کو پاس کرنے کی قابلیت کم از کم ہماری یونیورسٹیوں سے تو نہیں مل سکتی۔ اور جاب سیکٹر میں تو ویسے بھی کوئی پوزیشن کو نہیں پوچھتا، وہاں صرف قابلیت دیکھی جاتی ہے۔

لہٰذا جہاں پوزیشن لینے والوں کی مدح سرائی اور نہ لے سکنے والوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے، تو وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ پوزیشن یا اے گریڈ کو ہی قابلیت کی واحد علامت کے طور پر نہ گردانا جائے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ جہاں مستحق اور نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو اعلیٰ انعامات سے نوازے، وہیں ان کے ساتھ ساتھ ان دوسرے طلبہ کے لیے بھی مواقع اور وظائف مہیا کرے جو ہوتے تو ہونہار ہیں، لیکن پوزیشن لینے میں ناکام رہتے ہیں۔

سعودی عرب ;تمام حجاج کے فنگر پرنٹ لے کر محفوظ رکھے جائیں گے.

دمام : سعودی عرب کے پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ نے نیا سیکیورٹی سسٹم متعارف کرادیاہے جس کے تحت حج کیلئے بذریعہ ہوائی جہازیا بحری راستے سے سعودی عرب پہنچنے والے تمام مردوخواتین حجاج کرام کے فنگر پرنٹ لے کر محفوظ رکھے جائیں گے ، نئے سسٹم کے تحت انٹرنیشنل فنگر پرنٹ ٹیکنالوجی استعمال کے استعمال سے حج سیزن کے بعد حجاج کی واپسی یقینی ہوگی ۔ عرب نیوز کے مطابق حالیہ سالوں میں وزارت داخلہ کی طرف سے لائے جانیوالے پراجیکٹس میں سے اہم پراجیکٹ ہے جس سے فراڈ میں ملوث لوگوں کو بے نقاب کرنے اور کام کی جگہ سے غیرحاضری پکڑنے میں مدد ملے گی جبکہ اِسی کی مدد سے ریاست سے جانیوالے اور ملک بدرکیے گئے لوگوں کا سٹیٹس جانچنے میں آسانی ہوگی ۔ رپورٹ کے مطابق فنگر پرنٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے لوگوں کی شناخت ہوگی اور حکام مناسب طریقے سے نمٹ سکیں گے.

قمر منصور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا.

کراچی: سندھ رینجرز نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما قمر منصور کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کردیا۔ کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 2 میں سندھ رینجرز کے لا آفیسر نے ایم کیو ایم کے رہنما قمر منصور کی گرفتاری سے متعلق رپورٹ جمع کرائی، جس میں کہا گیا ہے کہ قمر منصور کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا گیا ہے تاہم ان کے خلاف تحقیقات جاری رہے گی اور ٹھوس ثبوت ملنے پر انہیں دوبارہ گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ رینجرز نے 17 جولائی کو نائن زیرو پر کارروائی کرتے ہوئے قمر منصور کو گرفتار کیا تھا تاہم 22 جولائی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے قمر منصور کو نفرت انگیز تقاریر کے لیے انتظامات کرنے اور سہولت پہنچانے کے الزام میں 90 روز کے لئے رینجرز کی تحویل میں دے دیا تھا۔

بلوچستان : طالبات کی شرح تعلیم میں اضافہ جبکہ 80 فیصد بچے میٹرک پہلے اسکول چھوڑ دیتے ہیں

کوئٹہ: صوبہ بلوچستان میں 80 فیصد بچے میٹرک، یعنی دسویں جماعت تک پہنچنے سے پہلے ہی اسکول چھوڑ دیتے ہیں،صوبے کی طالبات تعلیمی کارکردگی سمیت بہت سے شعبوں میں طلبا سے بازی لے جاتی ہیں۔یہ انکشاف تعلیم کیلئے سرگرم غیر سرکاری تنظیم کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، صوبہ بلوچستان میں سیکنڈری سطح کے اسکول کی عمر کے صرف 20 فیصد بچے میٹرک کا امتحان دیتے ہیں، جبکہ صوبے کے 80 فیصد بچے یا تو اسکول میں داخل ہی نہیں ہوتے یا میٹرک سے پہلے ہی تعلیم کا سلسلہ منقطع کر دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، صوبے میں مجموعی طور پر ہر سال 90 فیصد طلبا و طالبات بورڈ کے امتحانات پاس کر جاتے ہیں۔ لیکن ان میں سے نصف سے زائد صرف سی گریڈ میں پاس ہوتے ہیں۔یہ رپورٹ بلوچستان کی تعلیمی صورتحال کی عکاس ہے، جسے ایک غیر سرکاری سطح پر کام کرنے والی تنظیم، الف اعلان نے جاری کیا ہے۔ اس کا عنوان ہے’’پاس یا فیل؟ بلوچستان میں میٹرک کے امتحانی نتائج اور مستقبل میں اس کی اہمیت‘‘۔الف اعلان تنظیم کے ترجمان، سمیع خان کا کہنا ہے کہ امتحانی نتائج کسی بچے کی کارکردگی سے بھی زیادہ تعلیمی نظام کی کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ معیار تعلیم کی جانچ اور تعلیمی نظام میں بہتری کیلئے امتحانی نتائج سے استفادہ بہت ضروری ہے۔دوسری جانب، انھوں نے سرکاری اسکولوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے پلس یا اے گریڈ میں پاس ہونے والے سب سے زیادہ بچے 62.5 فیصد سرکاری اسکولوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ اسکول نہ صرف مجموعی طور پر سب سے آگے ہیں، بلکہ الگ الگ مضامین کے حساب سے بھی سب سے بہتر نتائج رکھتے ہیں۔ اردو، انگریزی، ریاضی اور کمپیو ٹر کے مضامین میں ان اسکولوں کی کارکردگی واضح طور پر بہتر ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجموعی کارکردگی اور مضامین کے حساب سے بھی سرکاری اور نجی اسکولوں کے درمیان بہت زیادہ فرق نہیں۔ سرکاری اور نجی اسکولوں کے خراب نتائج مجموعی طور پر ناقص معیار تعلیم کی نشاندہی کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق میٹرک کا امتحان دینے والے 71 فیصد بچے سرکاری اسکولوں سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ 26 فیصد نجی اسکول میں زیر تعلیم ہیں۔ اور بقیہ 3 فیصد بچوں کا تعلق ‘دیگر سرکاری اسکولوں’ یعنی فوج اور وزارت محنت کے زیر انتظام اسکولوں سے بتایا گیا ہے۔صوبہ بلوچستان میں لڑکیوں کی شرح تعلیم کے حوالے سے رپورٹ کہتی ہے کہ صوبے کی طالبات تعلیمی کارکردگی سمیت بہت سے شعبوں میں طلبا سے بازی لے جاتی ہیں۔ سال 2001 اور سال 2015 کا تقابلی جائزہ کے مطابق، میٹرک کا امتحان دینے والی طالبات کی شرح میں193 فیصد اضافہ ہوا اسکے برعکس طلبا کے جن کی تعداد میں صرف 54 فیصد ہی اضافہ سامنے آیا۔رپورٹ میں طالبات کی شرح تعلیم میں اضافے کا سبب انھیں دستیاب ہائی اسکولوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ براہ راست تعلق بتایا گیا ہے

شہد ایک بہترین صحت افزا اور شفا دینے والا جز.تحقیق

ہر معاشرے اور مذہب میں شہد کو ایک بہترین صحت افزا اور شفا دینے والا جز تصور کیا جاتا ہے اور اس پر کی جانے والی مختلف تحقیق نے اس میں چھپے صحت کے خزانوں کو دنیا کے سامنے لا کر اس کی افادیت کواور بھی بڑھا دیا ہے۔ چہرے کی لچک کو برقرار رکھنے کےلیے: شہد میں موجود ہیومیکٹیک مرکب چہرے پر موئسچر کو برقرار رکھتا ہے اور جلد میں لچک پیدا کردیتا ہے جب کہ شہد جلد کے مردہ خلیوں کو صاف کرتا اور جھریوں کو دور کرتا ہے۔ بیکٹریا کی افزائش کو روکتا ہے: شہد کے اندر موجود اینٹی بیکٹریا اور اینٹی مائیکروبائیل خصوصیات جسم میں پلنے والے خطرناک بیکٹریا کی افزائش کو روکتا ہے جب کہ اسے زخموں،کٹ، جلنے اور رگڑ کا علاج بھی کیا جاتا ہے جب کہ اسے بدبو دور کرنے اور درد کو روکنے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جلد کی دوبارہ افزائش کے لیے: شہد جلد کے تباہ شدہ خلیوں کو ختم کر کے نئے خلیے تشکیل دیتا ہے اسی لیے شہد کو ایگزیما، سوزش اور دیگر جلدی بیماریوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ الٹراوئیلٹ شعاعوں سے بچاتا ہے: شہد میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ جلد کو الٹراوئیلٹ شعاعوں کے مضر اثرات سے بچاتا ہے۔ سن اسکرین کا کام: سورج کی روشنی میں مسلسل رہنے سے جلد پر جلد بڑھاپے کے آثار شروع ہوجاتے ہیں ایسے میں شہد سن اسکرین کا کام دیتا ہے اور چہرے کو دھوپ کے اثرات سے بچاتا ہے جب کہ شہد جلد کی اوپری سطح میں سرائیت کرکے بند مسام کھولتا اور فاسد مادوں کو خارج کردیتا ہے اس لیے یہ انفیکشن اور کیل مہاسوں کو بھی دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ہونٹوں کی خوبصورتی کے لیے: خشک اور بھربھرے ہونٹوں کو شہد لگانے سے ان میں نئی زندگی آجاتی ہے اورنرم اور دلکش نظرآتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہد میں چند قطرے گلیسرین ملا کر ہونٹوں پرلگانے سے ان کا رنگ گلابی ہوجاتا ہے۔ شہد معدنیات کا خزانہ: شہد پر کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس میں شوگرکی طرح کا جز گلوکوز، فرکٹوز اور دیگر معدنیات جیسے میگنیشیم، پوٹاشیم، کیلشیم، سوڈیم کلورین، سلفر، آئرن اور فاسفورس پائی جاتی ہیں اس کے علاوہ شہد اپنے اندر وٹامنز بی ون، بی ٹو، بی سکس، بی فائیو اور بی تھری کے علاوہ کاپر، آئیوڈین اور زنک بھی تھوڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ پٹھوں کو طاقت دیتا ہے: شہد میں موجود گلوکوز اور فرکٹوز کی شکل میں موجود کاربوہائیڈریٹ جسم کو توانائی بخشتا ہے جب کہ پٹھوں کو کھچاؤ سے بچاکر انہیں طاقت دیتا ہے۔ خون میں ہیموگلوبن کو بڑھاتا ہے: شہد کا روزانہ استعمال جسم میں کیلشیم اور ہیموگلوبن کی مقدار کو بڑھاتا ہے اور خون کی کمی کو دور کرتا ہے۔ کولیسٹرول کو کنٹرول کرتا ہے: شہد کا استعمال کولیسٹرول کو کم کرتا اور ایچ ڈی ایل یعنی گڈ کولیسٹرول کو بڑھاتا ہے۔ شہد کے اندر موجود ایکس پیکٹورنٹ اور سوتھنگ کی خوبیاں نظام تنفس میں ہونے والے انفیکشن کو ختم کرتا ہے۔ قوت مدافعت بڑھاتا ہے: شہد جسم میں قوت مدافعت کو بڑھا کر انفیکشن کو دوبارہ ہونے سے روکتا ہے۔ موٹاپے کو کم کرتا ہے: شہد موٹاپے کو بھی کم کرنے کا بہترین علاج ہے۔ نیم گرم پانی میں شہد پینے سے نظام ہاضمہ تیزی سے کام کرتا ہے اور جسم میں موجود اضافی چربی کو پگھلا کر موٹاپے کو تیزی سے کم کرتا ہے۔

پرانی کرنسی کی قانونی حثیت ختم کرنے کا علان۔

لاہور :اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پرانے ڈیزائن کے تمام کرنسی نوٹوں کی قانونی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے 4جون 2015ءکو جاری کردہ گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق یکم دسمبر 2016ءسے پرانے ڈیزائن کے بینک نوٹوں کی قانونی حیثیت ختم ہو جائے گی۔ اس لیے اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام باقی رہ جانے والے دس، پچاس، سو اور ہزار روپے کے پرانے ڈیزائن کے بینک نوٹوں کو مرحلہ وار ختم کر دیا جائے گا۔پانچ روپے کے نوٹ اور پرانے ڈیزائن کے پانچ سو روپے کے نوٹ کی قانونی حیثیت پہلے ہی ختم ہو چکی ہے۔ بینکوں میں پرانے ڈیزائن کے تمام نوٹوں کے تبادلے کا آخری دن 30نومبر 2016ءہے۔پرانے ڈیزائن کے تمام نوٹوں کی قانونی حیثیت یکم دسمبر 2016ءسے ختم ہو جائے گی جبکہ ایسے تمام بینک نوٹوں کے ایس بی پی بی ای سی کے فیلڈ دفاتر سے تبادلے کا آخری دن 31دسمبر 2021ءہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان انٹرمیڈیٹ کے نتائج میں بے ضابطگیوں کا نوٹس لے لیا

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے انٹرمیڈیٹ کے نتائج میں بے ضابطگیوں کا نوٹس لے لیا، طلبا کے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے بعد تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی بنا دی ۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے انٹرمیڈیٹ کے نتائج کے حوالے سے طلبا کے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی کمیٹی بنادی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ جلد از جلد اس واقعے کی رپورٹ پیش کرے ۔ کمیٹی ڈائریکٹر کالجز کی سربراہی میں بنائی گئی ہے جس میں ایڈیشنل سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ، ایڈیشنل سیکرٹری سکینڈری ایجوکیشن ، کنڑولر امتحانات ، بورڈ بلوچستان ، اور ڈپٹی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ شامل ہیں ، جو طبا سے مل کر ان کے خدشات اور اعتراضات کا جائزہ لے گی۔

Google Analytics Alternative