Home » Author Archives: Admin (page 5)

Author Archives: Admin

دبئی کی جائیداد ظاہر نہ کرنے پر علیمہ خان کو 29.4 ملین روپے ادا کرنے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو دبئی کی جائیداد ظاہر نہ کرنے پر 29.4 ملین روپے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں بیرون ملک اکاؤنٹس اور جائیدادوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تو علیمہ خان اور ان کے وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے دبئی میں کتنے کی پراپرٹی خریدی اور اس کیلئے بینک سے کتنا قرض لیا؟۔

علیمہ خان نے جواب دیا کہ 2008 میں 3 لاکھ 75 ہزار ڈالر میں جائیداد خریدی، جس کے لیے 50 فیصد بنک قرض لیا اور 50 فیصد رقم خود دی، یہ جائیداد گزشتہ سال فروخت کردی ہے۔ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایف بی آر میں علیمہ خان کے ذمے 18 ملین (ایک کروڑ 80 لاکھ) کی رقم ہے۔

تاہم ایف بی آر نے نشاندہی کی کہ ان کے ذمہ 29.4 ملین کی رقم ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے علیمہ خان کو ایک ہفتے میں 29.4 ملین (2 کروڑ 94 لاکھ) روپے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ علیمہ خان چاہیں تو اس جرمانے کے خلاف اپیل اور ایف بی آر حکام کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کرسکتی ہیں۔

علیمہ خان پر دبئی میں جائیداد کو انکم ٹیکس کے گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کا الزام تھا۔ گزشتہ سماعت پر ایف بی آر کے کمشنر ان لینڈ ریونیو ڈاکٹر اشتیاق نے بتایا تھا کہ علیمہ خان نے بینک سے قرض لے کر دبئی میں فلیٹ خریدا تھا، اس کا کرایہ قسط کے طور پر بینک کو ادا کیا، پھر فلیٹ کو فروخت کر دیا، انہوں نے یہ جائیداد ظاہر نہیں کی تھی جس پر ایف بی آر نے انہیں نوٹس دیا تھا۔

اس سے قبل ایف آئی اے نے پاکستانیوں کے غیرملکی اثاثوں سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ علیمہ خان بھی دبئی میں بے نامی جائیداد کی مالک ہیں۔

اس غذا کو زیادہ کھانا ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھائے

روزانہ ایک برگر کھانے کی عادت درمیانی عمر میں ہارٹ اٹیک کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

کلیولینڈ کلینک کی تحقیق میں بتایا گیا کہ سرخ گوشت کو روزانہ کھانا معمول بنانا خون کی شریانوں کے امراض کا خطرہ بڑھانے والے کیمیکل جسم میں 10 گنا تک بڑھا دیتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اس گوشت کو کھانے سے trimethylamine N-oxide نامی مرکب اسے ہضم کرنے کے دوران بنتا ہے اور اس کی زیادہ مقدار فالج، ہارٹ اٹیک اور قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

یہ پہلی تحقیق ہے جس میں بتایا گیا کہ محض ایک ماہ تک روزانہ سرخ گوشت کھانا ہی اس خطرے کو تین گنا تک بڑھا دیتا ہے۔

کچھ کیسز میں تو یہ خطرہ دس گنا تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس سے معلوم ہوا کہ مختلف مرکبات گردوں کے افعال کو بدل دیتے ہیں اور ہمارا طرز زندگی دل کی صحت کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ان شواہد کو تقویت ملتی ہے کہ غذائی عادات کس حد تک امراض قلب کو دور رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 113 افراد کے خون اور پیشاب کے نمونوں کو جمع کرکے ان کا تجزیہ کیا گیا۔

ان رضاکاروں کو 3 مختلف غذائی پلان دیئے گئے، یعنی سرخ گوشت، سفید گوشت اور سبزیاں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ سرخ گوشت کھانے والے افراد میں اس مرکب کی سطح میں ایک ماہ کے دوران نمایاں اضافہ ہوا۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے یورپی ہارٹ جرنل میں شائع ہوئے۔

ساتھ چھوڑتے پاکستان سے خائف امریکا کی بوکھلاہٹ !

azam_azim

پاکستان تو پہلے ہی اندرونیِ اور بیرونی طور پر معاشی اور سیاسی صورتحال میں کئی گھمبیر چیلنجوں کے نشیب و فراز سے گزررہاہے ، اِس پر بعض اپوزیشن کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی اور مذہبی رہنمااور اِن کے چیلے چانٹے حکومت پر بیجا تنقیدوں کے تیرچلا کر حکومت کے لئے مشکلا ت پیداکررہے ہیں،اور جمہوری سسٹم کو سپوتاژ کرنے کی راہیں ہموار کرکے بھی دعویدار ہیں کہ یہ جمہوریت کا حُسن ہے۔ جبکہ سر سے اُونچا ہوتا پانی بتارہاہے کہ حزب اختلاف کی جمہوری حُسن کی آڑ میں حکومت پر بیجا تنقیدیں کہیں آمریت کی آمد کے لئے بیوٹی پالراور میک اَپ ناں ثابت ہوجائیں۔ اَب اِس صُورتِ حال میں معاشی اور سیاسی لحاظ سے ہچکولے کھاتی حکومت خود کو سنبھالے بھی کو کیسے؟جب اقتدار سے محروم حزب اختلاف کی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی اور مذہبی رہنماء اپنے سیاہ کرتوتوں اور لوٹ مار پر احتساب کے پھندے کو اپنی گردنوں کی جانب بڑھتا دیکھ کر حکومت مخالف حربے استعمال کرنے پر تلے بیٹھے ہیں، جواپنی اوچھی حرکتوں سے حکومت کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا موقعہ ہی نہیں دے رہے ہیں۔ جس کا مُلک کے اندر اور باہربیٹھے وطن دُشمن عناصر کو فائدہ پہنچ رہاہے۔ جبکہ آج ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اپوزیشن کی جماعتیں اور قومی ادارے رواں حکومت کو سنبھلنے اور کام کرنے کا موقع دیتے اور اپنے سیاسی اور ذاتی اختلافات بالائے طاق رکھتے اور حکومت کو کام کرنے دیتے ۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ کسی نے بھی اپنی اخلاقی اور حیادار ذمہ داری یوں ادانہ کی جس کا اِن سے ملکی آئین اورقانون تقاضہ کرتاہے،۔یہ وہ نکتہ ہے، آج جس پر اپوزیشن کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں اور بعض اداروں میں ابھی تک بیٹھے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سربراہان کو چاہئے کہ وہ حکومت مخالف اپنی روش بدلیں، صرف اور صرف ایک پاکستان اور وطن کی تعمیر و ترقی کے لئے ایک اکائی بن کر اپنا مثبت اور تعمیری کردار کریں۔ جیسا کہ دنیا کے دیگرتہذیب اور ترقی یافتہ ممالک میں اپوزیشن جماعتیں اور اداروں کے سربراہان اپنی ذمہ داریاں مُلک اور قوم کی ترقی کے لئے اداکرتے ہیں۔ اِدھرجب گزشتہ دِنوں ہماری نئی سوروزہ حکومت کے وزراء وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت منعقد ہونے والے اپنی نوعیت کے اہم ترین اجلاس میں اپنے کارناموں کا جائزہ پیش کررہے تھے۔ وزیراعظم عمران خان سے دادیں اور شاباشیاں اپنی جھولیاں پھیلاپھیلا کر وصول کررہے تھے۔ اپنی حکومت کی تین ماہ کی کارکردگی پر بھنگڑے اور دھمال ڈال کر خوشی کے شادیانے بجانے میں مصروف تھے۔ تواُدھراِن لمحات میں پاکستان کی آستین میں سانپ کی طرح چھپا دوست نما دُشمن امریکا اپنا کام کرگیاجس کا کئی دِنوں سے ہمارے مقتدر سیاسی حلقوں میں ڈھکے چھپنے انداز سے خدشہ لاحق تھا۔آخر کار ایک غیر مُلکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا نے مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کا الزام پاکستان کے سرمارتے ہوئے،پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کردیاہے،جس پر امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے اِس حوالے سے پہلے ہی اسلام آباد کو پچھلے سال واچ لسٹ میں رکھاتھا، جبکہ مزید کچھ اِس قسم کی بھی اطلاعات ہیں کہ دہشت گردِ اعظم امریکا اور امریکی کانگریس کے ایک اہم ذمہ دار وزیرخارجہ مائک پومپیو نے کانگریس کی پاکستان متعلق مذہبی ٓزادی پر مرتب رپورٹ پر پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں نہ صرف ڈال دیاہے بلکہ ساتھ ہی اپنے خصوصی تحفظات کا بھی اظہار کردیاہے۔ اور اپنا سینہ چوڑا کرکے اور اپنی گردن تان کر سعودی عرب، چین ، ایران، شمالی کوریا، برما، اریئیریا، سوڈان، تاجکستان اور ترکمانستان کو بھی بلیک لسٹ میں شامل کردیاہے۔ اَب یہ کہنا کچھ غلط نہ ہوگا کہ اپنی اِس قسم کی جلد بازی میں کی گئیں۔ فرسودہ اور ناقص حکمتِ عملیوں کے وجہ سے بہت سے جنگی اور اقتصادی محاذوں پر تنہا ہوتے امریکاکے اِس قسم کے اقدامات سے امریکا اپنے دوستوں کی فہرست سے دوستوں کو نکال کراپنے دوستوں سے زیادہ دُشمنوں کا اضافہ کرے گا، جوکہ آگے چل کر خود امریکا کے لئے بھی شدید مشکلات اور پریشانیوں میں اضافے کا سبب ہوسکتاہے ۔ یقینااِن دِنوں ہم پاکستانیوں میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ بے جاامریکی دباؤکے باعث ساتھ چھوڑتے پاکستان سے خائف امریکا سخت بوکھلا ہٹ کا شکار ہوگیاہے،اِس لئے کہ امریکا سمجھ چکا ہے کہ اَب پاکستان امریکی عتاب اور دباؤوالے مدار سے نکلتا جارہاہے،تب ہی امریکا حسبِ واریت اپنی روش کو برقرار رکھنے کے لئے پاکستان کو اپنے دباؤ میں لانے کی ہر ممکن کوششوں میں لگا پڑا ہے،اِسی لئے پچھلے دِنوں امریکی رنگیلے صدر نے اپنی خودساختہ سوچ وفکر کے نظریئے کے تحت پاکستان کو مذہبی آزادی کی مبینہ خلاف ورزیوں اور اقلیتوں سے نامناسب رویئے پرپاکستان پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اِسے ’’ بلیک لسٹ ممالک کی فہرست میں شامل کردیاہے‘‘امریکی صدر کا پاکستان مخالف یہ اقدام واضح طور پر بتارہاہے کہ آج امریکا اپنا ساتھ چھوڑتا پاکستان سے کس قدر بوکھلاہٹ کاشکار ہوچکاہے۔ جبکہ پاکستان نے اِتنا ہی تو کہاہے کہ اَب پاکستان کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بننے گا، اور نہ ہی کسی کی جنگ اپنی زمین پر آئندہ لڑے گا ‘‘ بس اِتنا کہے پر ہی امریکا آگ بگولہ ہوگیاہے۔آج احسان فراموش امریکا پاکستان مخالف اقدامات اُٹھانے کے لئے ایسے سخت احکامات جاری کررہاہے کہ اَب واضح طور نظر آنے لگا ہے کہ امریکا اور پاکستان کی راہیں بہت جلد جدا ہونے کو ہیں ۔اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکا کا پاکستان کو اقلیتوں پر مذہبی آزادی پر پابندی کے حوالے سے بلیک لسٹ میں شامل کرناکھلم کھلا سیاسی طور پرپاکستان کو اپنے دباؤ میں رکھنے کے مترادف ہے ، آج اگر امریکا پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے سے پہلے اپنے گریبان اور بھارت کے نام نہاد سیکولر نظا م اور اپنے بغل بچے اسرائیل میں بھی جھانک لیتا ؛تو اِسے لگ پتہ جاتا کہ پاکستان میں آباد اقلیتوں کوتو اسلامی تعلیمات اورآئین پاکستان کے مطابق تمام مذہبی آزادی حاصل ہے، مگر خود امریکا، اسرائیل اور بھارت میں مسلمانوں ، عیسائیوں اور دیگر ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ کتنا بُرا سلوک روارکھا جاتاہے۔آج جِسے ایک نابینا بھی دیکھ کر بتاسکتاہے؛ گونگا اور بہرہ بھی سُن کر چیخ چیخ کر دنیاکو سُناسکتاہے، اِن ممالک میں کثریت اپنے یہاں رہنے والی اقلیتوں کے ساتھ مذہبی آزادی کے حوالے سے کتنا ظالمانہ رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ امریکا کو اقلیتوں کی مذہبی آزادی کی پابندی نہ اپنی زمین پر نظر آتی ہے اور نہ ہی اسرائیل اور بھارت میں اقلیتوں پر لگائی گئیں پابندیاں دکھائی دیتی ہیں۔جوکہ دہشت گردِ اعظم امریکا کی کھلی ہٹ دھرمی اور بدمعاشی ہے۔

*****

پاکستان کو 2020 ایشیا کپ کی میزبانی مل گئی

ایمرجنگ ایشیا کپ کی میزبانی کے بعد پاکستان کرکٹ کو ایک اور بڑی کامیابی مل گئی اور پاکستان 2020 کے ٹی20 ایشیا کپ کی میزبانی کرے گا۔

2020 کا ٹی20 ایشیا کپ ماہ ستمبر میں کھیلا جائے گا لیکن ابھی تک ایونٹ کے مقام کا فیصلہ نہیں کہ آیا اس کا انعقاد پاکستان میں ہو گا یا پاکستان اپنے مستقل ہوم گراؤنڈ متحدہ عرب امارات میں ایشین ٹیموں کی مہمان نوازی کرے گا۔

مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گرد حملے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کو سینئر ٹیم کے کسی انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کی میزبانی ملی ہے۔

ایشیا کپ کا انعقاد ہر دو سال بعد ہوتا ہے اور 2020 میں شیڈول مینز ٹی20 ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سال ایشیا کپ بھی 20اوورز کے فارمیٹ کے تحت کھیلا جائے گا۔

ایونٹ کے مقام کا فیصلہ تاحال نہیں ہو سکا لیکن غیرملکی ٹیموں کی پاکستان آنے میں ہچکچاہٹ اور پاک بھارت تعلقات کے سبب ممکنہ طور پر پاکستان ایونٹ کی میزبانی متحدہ عرب امارات میں کر سکتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات کے سبب ہی رواں سال ہونے والا ایشیا بھارت میں منعقد نہیں ہو سکا تھا اور بھارت نے اس ایونٹ کی میزبانی متحدہ عرب امارات میں کی تھی۔

ایشیا کپ ٹی20 ستمبر 2020 میں کھیلا جائے گا جس کے ایک ماہ بعد آسٹریلیا میں مینز ٹی20 ورلڈ کپ کا انعقاد ہو گا۔

ایشیا کپ گزشتہ کچھ عرصے سے دو فارمیٹس ون ڈے اور ٹی20 کے تحت کھیلا جا رہا ہے اور جس سال ٹی20 ورلڈ کپ شیڈول ہوتا ہے، اس سال ایونٹ کو ٹی20 فارمیٹ کے تحت کھیلا جاتا ہے لیکن پھر دوسرا ایڈیشن 50اوورز کے فارمیٹ کے تحت منعقد ہوتا ہے۔

ترکی ٹرین حادثے میں 9 افراد ہلاک، 86 زخمی

انقرہ: ترکی کے دارالحکومت میں ٹرین حادثے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور 86 زخمی ہو گئے۔

ترک میڈیا کے مطابق تیز رفتار مسافر ٹرین اسٹیشن پر پہلے سے کھڑے انجن سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔

ترکی کے وزیر ٹرانسپورٹ نے جائے وقوع کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا نمائندوں کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے حادثے میں 9 مسافروں کی ہلاکت اور 86 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔

ترک حکام کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق حادثے کے وقت مسافر ٹرین میں 206 مسافر سوار تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں ٹرین کے تین ڈرائیور اور ایک جرمن باشندے سمیت چھ مسافر شامل ہیں۔

ترک میڈیا کے مطابق حادثے کی تحقیقات کے سلسلے میں ریلوے کے تین ملازمین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس جون میں بھی ترکی میں پیش حادثہ رونما ہوا تھا جس میں 24 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان ٹیم جنوبی افریقہ کیلئے روانہ، کپتان اچھی کارکردگی کیلئے پُر عزم

پاکستان کرکٹ ٹیم دورہ جنوبی افریقہ کے لیے روانہ ہو گئی جو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے ہوتی ہوئی جوہانسبرگ پہنچے گی، کپتان سرفراز احمد اچھی کارکردگی کے لیے پُر عزم ہیں۔

کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد، مڈل آرڈر بیٹسمین اسد شفیق اور اوپننگ بلے باز شان مسعود یو اے ای کے لیے روانہ ہوئے۔

امام الحق، بابر اعظم، حارث سہیل، اظہر علی سمیت دیگر کھلاڑی لاہور کے علامہ اقبال انٹرنینشل ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے۔

جنوبی افریقہ سے ہی تعلق رکھنے والے پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر پہلے ہی اپنے ملک میں موجود ہیں جبکہ دیگر ٹیم آفیشلز بشمول بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور اور باؤلنگ کوچ اظہر محمود بھی ٹیم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔

جنوبی افریقہ روانگی سے قبل کپتان سرفراز احمد نے افریقہ میں بہترین کارکردگی دکھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیم نے ماضی کی غلطیوں سے سیکھا ہے، تاہم نئی سوچ لے کر جنوبی افریقہ جارہے ہیں اور ماضی کو بھول کر پوری توجہ اس دورے پر ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کی وکٹیں باؤلرز کے لیے ساز گار ہوتی ہیں اور یہاں فاسٹ باؤلرز کا کردار ہی اہم ہوتا ہے۔

ریکارڈ ساز لیگ اسپنر یاسر شاہ اپنی ذاتی مصرفیات کی وجہ سے جنوبی افریقہ روانہ نہیں ہوئے، وہ کچھ روز بعد جوہانسبرگ جائیں گے۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ 26 دسمبر کو شروع ہوگا، دوسرا ٹیسٹ 3 جنوری 2019 اور تیسرا ٹیسٹ 11 جنوری سے شروع ہوگا۔

ٹیسٹ سیریز کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان 5 ون ڈے کی سیریز کھیلی جائے گی جس کا پہلا میچ 19 جنوری کو پورٹ الیزبتھ، دوسرا 22 جنوری کو ڈربن، تیسرا 25 جنوری کو سنچورین، چوتھا 27 جنوری کو جوہانسبرگ اور پانچواں 30 جنوری کو کیپ ٹاؤن میں کھیلا جائے گا۔

پاکستان ٹیم مہمان ٹیم کے خلاف اس طویل دورے میں 3 ٹی ٹوئنٹی میچز بھی کھیلے گی جس کا پہلا میچ یکم فروری کو کیپ ٹاؤن، دوسرا 3 فروری کو جوہانسبرگ اور تیسرا سنچورین میں 6 فروری کو کھیلا جائے گا۔

جی ہاں! مثبت تخیل سے خوف اور ڈپریشن پر قابو پایا جاسکتا ہے

کولاراڈو:ہم خیالوں میں دنیا کے مشکل ترین کام کرسکتے ہیں خواہ وہ پہاڑ عبور کرنا ہو یا پھر کوئی طیارہ اڑانا۔ تخیل ہمارے دماغ کو مفید خیالات اور نت نئے تصورات سے بھر دیتا ہے۔ لیکن اب ماہرین کہہ رہے کہ یہی خیالات سوچنے کا عمل ہمیں ڈپریشن اور خوف سے نجات دینے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

حالیہ تحقیق کے بعد بعض ماہرین نے کہا ہے کہ ہمارے تخیل ہمارے ذہنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور یہ عمل بہت ٹھوس انداز میں رونما ہوتا ہے۔ 2009 کی ایک اہم تحقیق سے انکشاف ہوا تھا کہ جو ہم سوچتے ہیں بسا اوقات ہمارا جسم انہیں اصل سمجھتے ہوئے بھی اس پر اپنا ردِ عمل دیتا ہے۔ اسی طرح 2013 کی ایک تحقیق کرنٹ بایالوجی میں شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ خاص آوازوں اور اشکال سوچنے سے حقیقی دنیا سے ہمارے ردِ عمل اور برتاؤ میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔

اب جرنل ’نیورون‘ میں شائع ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اہم تخیل کے زور پر اپنے اندر ’جادوئی قوت‘ جگاکر مسلسل خوف اور پریشانی پر قابو پاسکتے ہیں۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف کولاراڈو کے پروفیسر ٹور ویگر اور ان کے رفقا نے کی ہے۔ اس عمل کو انہوں نے ’ایکسپوژر تھراپی‘ کا نام دیا ہے جس میں خیالات اور سوچ کے ذریعے انسان پریشانی اور خوف سے باہر نکل سکتا ہے۔

سروے میں 68 صحتمند افراد کو شامل کیا گیا اور انہیں ایک خاص آواز سنائی گئی جس کے بے آرام لیکن غیرتکلیف دہ برقی جھٹکا وابستہ تھا۔ اب ان لوگوں کو تین گروہوں میں بانٹا گیا ۔ ایک گروہ کو وہی آواز سنائی گئی لیکن بجلی کا جھٹکا نہیں دیا گیا۔

دوسرے گروہ سے کہا گیا کہ وہ تصور یا خیال میں اس آواز کو سوچیں۔ تیسرے گروہ کو پرندوں کی چہکار اور برسات کی خوشگوار آوازیں سوچنے کا کہا گیا۔  اس دوران سب کے فنکشنل ایم آر آئی لئے جاتے رہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ برقی جھٹکے سے وابستہ آواز کا تصور بھی عین اسی طرح پریشان کن تھا جیسی وہ آواز اور کرنٹ جھٹکا تھا۔

اس بنیاد پرماہرین کا مشورہ ہے کہ اداسی میں اچھی چیزوں کا مضبوط تخیل جمائیں اور خوف کی کیفیت میں عین وہی بات سوچیں جو اس خوف کے خلاف ہو یا اسے کم کرسکے۔ مسلسل مشق سے یہ کیفیت مضبوط ہوتی ہے اور منفی کیفیات دھیرے دھیرے دور ہوتی جاتی ہیں۔

اقوام متحدہ میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کی پاکستانی قرارداد منظور

نیو یارک: بین المذاہب ہم آہنگی  کو فروغ کی حمایت میں پاکستانی قرارداد اقوام متحدہ میں اتفاقِ رائے سے منظورکرلی گئی۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی میں بین المذاہب ہم آہنگی اورتعاون کو فروغ کی حمایت میں پاکستانی قرارداد پیش کی جو اتفاقِ رائے سے منظور کرلی گئی۔

پاکستانی قرارداد میں مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان مثبت جامع اور پرامن بات چیت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لیے مزید اقدامات کریں۔ قرارداد میں نفرت انگیز اور انتشار پسند رویوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں عالمی امن اور بین الاقوامی تعاون کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
Google Analytics Alternative