Home » Author Archives: Admin (page 5)

Author Archives: Admin

بگ باس شو کے 12ویں سیزن کا پرومو جاری

ممبئی: بھارت کے مشہور ریئلٹی شو ’’بگ باس‘‘ سیزن 12 کا پرومور جاری کردیا گیا۔

بھارتی ٹی وی کے کامیاب ترین ریئلٹی شو بگ باس کا 12 واں سیزن نشر ہونے جارہا ہے جب کہ  اس بار شو کو منفرد بنانے کے لئے اس میں عام لوگوں کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، شو ستمبر میں آن ایئر ہوگا جب کہ اس کا پرومو جاری کردیا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر بگ باس کے اکاؤنٹ کی جانب سے شو کے 12 ویں سیزن کا پرومو شیئر کیا گیا جس میں شو کے میزبان بالی ووڈ سلطان سلمان خان کلاس میں داخل ہوتے ہیں اور سب کو نام سے پکارتے ہیں۔

پرومو میں سلمان خان کہتے ہیں اس بار بدل جائے گی گیم کی اے بی سی ڈی جب آئے گی مختلف جوڑی  کیوں کہ بگ باس سیزن 12 میرے ساتھ آرہا ہے۔

واضح رہے کہ بگ باس  کے 11 سیزن میں میزبانی کے فرائض  سلمان خان نے ہی انجام دیئے ہیں جب کہ شو 16 ستمبر سے آن ایئر ہوگا۔

جیمز اینڈرسن نے لارڈز میں وکٹوں کی سنچری بنا ڈالی

لندن: انگلش فاسٹ بولر جیمز اینڈرسن نے لارڈز میں ٹیسٹ وکٹوں کی سنچری مکمل کرلی۔

ہوم آف کرکٹ کے طور پر مشہور اس تاریخی وینیو پر جیمز اینڈرسن نے 100 واں شکار مرلی وجے کی صورت میں کھیلا، ان کی ان سوئنگ ڈلیوری مرلی وجے کے بیٹ کا اندرونی کنارہ چھوتی ہوئی سیدھی وکٹوں کے عقب میں موجود جونی بیئر اسٹو کے گلوز میں چلی گئی۔

اس طرح جیمز اینڈرسن ایک وینیو میں وکٹوں کی سنچری مکمل کرنے والے دوسرے بولر بن گئے، ان سے قبل مرلی دھرن یہ کارنامہ تین مختلف وینیوز پر انجام دے چکے ہیں، انھوں نے سنہالیز اسپورٹس کلب پر 166، کینڈی میں 117 اور گال میں 111 ٹیسٹ وکٹیں لی تھیں۔ وجے اس میچ میں دونوں مرتبہ کھاتہ کھولے بغیر آئوٹ ہوکر پیئر کا شکار ہوئے۔

 

سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں، عامر خان

پونے: بھارتی اداکار عامر خان نے سیاست میں آنے کا تاثر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جتنے کام میں کررہا ہوں مجھے نہیں لگتا کہ اس کے لیے مجھے سیاست میں آنے کی ضرورت ہے۔

پونے میں اپنی این جی او کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بالی ووڈ اسٹار عامر خان کا کہنا تھا کہ میں تخلیقی میدان میں کام کررہا ہوں اور اس میدان میں جو لوگ کام کررہے ہیں ان پر قوم کو بنانے اور سماج کو ایک ساتھ جوڑ کر رکھنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

ایک سوال پر کہ اگر انہیں راجیہ سبھا میں نشست دی گئی تو کیا وہ سیاست میں آنا پسند کریں گے، عامرخان نے کہا کہ ہم بہت سارے کام کررہے ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ ان تمام کاموں کے لیے مجھے سیاست میں آنے کی ضرورت ہے۔

پہلا خلائی شوپیس اس سال اکتوبر میں مدار میں بھیجا جائے گا

نیویارک: اس سال اکتوبر کو سیاہ کھلے آسمان پر نظر دوڑائیں تو آپ کو ایک نیا ستارہ دکھائی دے گا جسے ایک انسان نے تیار کیا ہے۔

یہ کسی انسان کا بنایا ہوا دنیا کا پہلا ’خلائی فن پارہ‘ ہے جس کی جسامت فٹبال کے ایک میدان کے برابر ہے اور یہ سورج کی روشنی کو منعکس کرکے زمین کی جانب بھیجے گا۔

امریکی فنکار ٹریور پیجلین نے اسے بنایا ہے جسے اسپیس ایکس فالکن نائن راکٹ کے ذریعےنچلے زمینی مدار میں بھیجا جائے گا۔ موسمِ خزاں کے دوران تین ہفتوں تک اسے آسانی سے دیکھا جاسکے گا۔ صرف برطانیہ میں ہی اکتوبر کی راتوں میں اسے تین سے چار مرتبہ دیکھنا ممکن ہوگا۔

ٹریور پیجلین کہتے ہیں کہ یہ انسانی تاریخ کا پہلا سیٹلائٹ ہے جو خصوصی طور پر ایک فنکارانہ انداز میں بنایا گیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کو حیرت میں مبتلا کرکے انہیں کائنات میں ان کے مقام کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ اسے آربٹل ریفلیکٹر کا نام دیا گیا ہے۔

آربٹل ریفلیکٹر کو سمیٹ کر راکٹ میں رکھا جائے گا جسے زمین سے 350 میل بلندی پر خلاء میں چھوڑ دیا جائے گا۔ خلا میں کھلنے کے بعد یہ سورج کی روشنی میں تیزی سے حرکت کرتا ایک روشن نقطہ دکھائی دے گا ۔ کئی ہفتوں تک مدار میں گردش کرنے کے بعد آخر کار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر دوبارہ زمین کا رخ کرے گا۔

آربٹل ریفلیکٹر اکتوبر میں وانڈنبرگ ایئرفورس بیس، کیلیفورنیا سے مدار میں بھیجا جائے گا۔

سجاول میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت

کراچی: سجاول میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت کر لیے گئے۔

پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تیل اور گیس کا ذخیرہ 2700 میٹر گہرائی کھدائی کے بعد دریافت ہوا۔

پی پی ایل کے مطابق ابتدائی اندازے کے مطابق کنویں سے یومیہ 475 بیرل تیل اور 3.2 ملین مکعب فٹ گیس نکلنے کا امکان ہے۔

کمپنی کے مطابق تیل اور گیس کی تلاش کے لیے کھدائی 22 جون کو شروع کی گئی تھی۔

عید آزادی

آج ہم 72واں یوم آزادی اور 71ویں سالگرہ ایک ایسے ماحول میں منانے جا رہے ہیں جب ایک نئی منتخب حکومت وجود میں آنے والی ہے.چار دن بعد انتقال اقتدار کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد نئے جموری دور کا آغاز ہو جائے گا.بلاشبہ یہ ملک ایک جمہوری جدوجہد کے بعد وجود میں آیا اور اسکا مستقبل بھی جمہوریت سے وابستہ ہے۔کسی بھی جمہوری , آزاد اور خود مختار ملک کے لیے اس کا یوم آزادی ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ایک سو ساٹھ ممالک کی اس دنیا میں پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے غاصب قوتوں سے ٹکرا کر آزادی حاصل کی۔بحیثیت پاکستانی اِس دن کی اہمیت ہمارے لئے اسی طرح ہے جس طرح ایک مسلمان کیلئے عیدین کی ہوتی ہے۔اس دن کو پورے ملی جوش و جذبے کیساتھ منانا چاہیے تاکہ دنیا کو باور کرایا جا سکے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں۔ایسا اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ ملک کسی نے تھالی میں رکھ کر تحفے میں نہیں دیا بلکہ ہمارے اسلاف نے ایک” آگ کا دریا” اس کی خاطر عبور کیا تھا۔لاکھوں انسانی جانوں کے لہو سے اس کی بنیادوں کو سینچا گیا۔جانے کتنے بوڑھوں جوانوں اور باہمت بچوں نے کرپانوں کو سینوں پر جھیلا۔کتنی ماں نے لختِ جگروں کو چھلنی ہو تے دیکھا۔کتنی بہنوں کی عزتیں پامال ہوئیں ۔ بابائے قوم محمد علی جناح نے کس طرح ایک جان لیوا بیماری کے چرکوں کو جگر پر سہہ کر ہندو اور انگریز سامراج کی مشترکہ سازشوں کا ڈٹ مقابلہ کر کیا اور دنیا کے سینے پر ایک نظریاتی مملکت کی بنیاد رکھی۔ پاکستان کا قیام بانی پاکستان قائداعظم محمد علی کی فہم و فراست، تدبراور دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 40 کی دہائی میں قائد کی صحت تپ دق جیسے موذی مرض کی وجہ روز بروز بگڑ رہی تھی مگر آپ نے اپنے معالج کو اس مرض کا راز افشا کرنے سے روک دیا تھا۔قائد اعظم اس سے بخوبی آگاہ تھے کہ اگر انگریزوں پر یہ راز افشا ہو گیا تووہ مزید تاخیری حربے اختیار کرنے لگیں گے۔ آپ قیام پاکستان کے بعد محض ایک سال 27 دن ہی حیات رہے۔انگریز سامراج کو قائد کے موذی مرض کی بھنک پڑ جاتی تو وہ یقیناًپاکستان کے قیام کو ٹالنے کی کوششوں میں لگ جاتے۔انگریزوں نے برصغیر کا اقتدار مسلم حکمرانوں سے چھین رکھا تھا لہذا وہ پاکستان کا قیام اپنے لئے خطرہ سمجھتے تھے۔انگریزوں کی سرتوڑ کوشش تھی کہ برصغیر میں کوئی مسلم ریاست وجود میں نہ آئے۔ادھر ہندو چاہتے تھے کہ ہندوستان کی تقسیم نہ ہو۔یہ تو قائد اعظم کی فراست اور غیر متزلزل عزم تھا کہ دونوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور 14 اگست 1947کو قائد اور اقبال خوابوں کو تعبیر مل گئی۔وقت کے جبر نے یہ سازشیں نا کام تو بنا دیں مگر چند برس بعد ہی رام رام کے پجاریوں نے تقسیمِ ہند کے زخم کریدنے شروع کردیئے۔ کانگریسی قیادت گاندھی، پنڈت نہرو اور پٹیل کا خیال تھا کہ پاکستان زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے گا اور وہ ٹوٹے ہوئے پھل کی مانند ان کی جھولی میں آگرے گا۔عالمی مبصرین کا بھی خیال تھا کہ یہ کٹا پھٹا پاکستان زیادہ دیر تک بھارت سے الگ نہیں رہ سکے گا۔مولانا آزاد کے بقول آنجہانی پٹیل نے اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے گا اور مسلم لیگ کو پاکستان کو سنبھالتے وقت ایسا وقت ملے گا ،جو وہ کبھی نہیں بھلا سکے گی۔جب انکا یہ خواب پورا نہ ہوا تو پاکستان کے خلاف نئی سازشوں کا نیا محاذ کھول دیا۔ 65 میں ایک جنگی مہم جوئی کر ڈالی جبکہ 1971 میں ایک اور جنگ مسلط کر کے پاکستان کو دو لخت کیا۔چانکیائی سیاست کے مکروہ خمیر پر کھڑی ریاست بھارت نے پاکستان جو ازل سے قبول نہیں کیا اور ابد تک وہ اسے قبول نہیں کرے گا۔پاکستان اگر مسائل کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے تو اسمیں جہاں اپنی کوہتاہیاں نمایاں ہیں وہاں پڑوسی ملک بھارت اس کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں ابتدا ہی سے روڑے اٹکا رہا ہے۔تقسیم ہند کے بعد پاکستان کو اس کے حصے کے اثاثوں سے بھی محروم رکھا گیا۔

بانی پاکستان قائد اعظم نے یکم نومبر 1947 کو ہندوستان میں انگریزوں کے نمائندہ گورنر ماؤنٹ بیٹن سے واشگاف انداز میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا ” مجھے یہ بالکل صاف نظر آرہا ہے کہ بھارت پاکستان کی پیدائش ہی پر اس کا گلا دبا کر اسے موت کی نیند سلا دینا چاہتا ہے۔”قائد اعظم کا یہ بیان اس وقت سچ ثابت ہوا جب بٹوارے کے وقت پاکستان کے حصے میں محض ایک زمین کے ٹکڑے کے سوا کچھ بھی نہ آیا۔اسلحہ ،نہ روپیہ، اثاثے اور نہ کوئی دیگر سازوسامان۔ پاکستان نے نئی منزل کا سفر شدید بے سروسامانی کے عالم میں شروع کیا تھا۔کوئی ادارہ فعال نہ تھا۔ مگر صد شکر کہ ان نامساعد حالات میں جب ہمارے پاس پیپر پن بھی نہیں تھے آج پاکستان ایٹمی میزائلوں سے لیس ہے۔ دفاعی خود کفالت کے باعث ازلی دشمن کی ٹانگیں کانپتی ہیں،مگر اپنے اس رعب اور دبدبے کو قائم رکھنے کے لئے اپنے دشمن پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو مختلف روپ دھارے ہماری صفوں میں گھس رہا ہے۔ دنیا میں شدت پسندی ہماری پہچان بنانے کے حربے عروج پر ہیں، افواج پاکستان اور عوام کے رشتے میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آزادی کا یہ دن اس بات کاتقاضا کررہاہے کہ ہم غیروں کی سازشوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں ۔ پاکستان ہرگز ایک معمولی حیثیت رکھنے والا ملک نہیں ہے ،بس کمی ہے تو ایک حقیقی قیادت کی جو ذات سے زیادہ صرف پاکستان کی سوچے۔ سب اہل وطن کو یوم آزادی مبارک۔

امریکا نے کینیڈا کی گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی دے دی

واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا پر دبائو ڈالا ہے کہ وہ امریکی درآمدات پر عائد محصولات پر نظرثانی کرے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں انہوں نے گاڑیوں پر اضافی محصول عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔

جاپانی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے مابین، شمالی امریکا آزاد تجارت معاہدے نافٹا کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور شرکا اگست کے آخر تک ایک بنیادی اتفاق رائے کے حصول کے متمنی ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا کہ میکسیکو کے ساتھ مذاکرات بخوبی انجام پا رہے ہیں تاہم کینیڈا کے محصولات اور تجارتی رکاوٹیں بہت زیادہ ہیں اور کسی اتفاق رائے کے عدم حصول کی صورت میں امریکا گاڑیوں پر ٹیکس عائد کریگا۔

کیا ذہنی تناﺅ بال گرنے کی رفتار بڑھانے کا باعث بنتا ہے؟

ہر ایک کو ہی روزمرہ کی زندگی میں ذہنی تناﺅ کا سامنا ہوتا ہے، اب وہ پیشہ وارانہ فرائض کی وجہ سے ہو یا گھریلو مسائل، بیماریاں یا کس بھی وجہ سے، ذہنی صحت تو متاثر ہوتی ہے۔

مگر کیا ذہنی تناﺅ بالوں کے گرنے یا گنج پن کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے؟

اس سوال کا جواب ہے ہاں ایسا ہوتا ہے کیونکہ کئی بار تناﺅ کے باعث جسم اپنا ردعمل مختلف مسائل جیسے ناخن کمزور ہوجانا، کیل مہاسوں یا بالوں کے گرنے کی شکل میں ظاہر کرتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اس وجہ سے اگر بالوں سے محروم ہورہے ہوں تو اسے telogen effluvium کہا جاتا ہے جس کے دوران تناﺅ کے باعث بالوں کی جڑوں کو ‘سونے’ پر مجبور کردیتا ہے جس کے نتیجے میں بال گرنے لگتے ہیں یا کچھ حصوں سے کھوپڑی نمایاں ہونے لگتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بالوں کی جڑوں کی اپنی زندگی کا چکر ہوتا ہے، نشوونما، تبدیلی، آرام اور گرنا، بیشتر افراد اس پیچیدہ عمل کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں، آسان الفاظ میں کہا جائے تو ذہنی تناﺅ آپ کو گنج پن کا شکار بنا سکتا ہے۔

تاہم یہ اثر اکثر حالات میں دیرپا نہیں ہوتا بلکہ مکمل گنج پن اسی وقت تک ممکن نہیں جب تک سر کے اندر ورم موجود نہ ہو اور یہ آٹو امیون مرض اس وقت حرکت میں آتا ہے جب کوئی شخص بہت زیادہ تناﺅ کا شکار ہو۔

درحقیقت تناﺅ کے نتیجے میں بالوں کے گرنے کا نوٹس فوری طور پر نہیں ہوتا بلکہ 3 ماہ بعد اس کے آثار نظر آنا شروع ہوتے ہیں کیونکہ نئے بالوں کی نشوونما جو نہیں ہوتی۔

تو فکر مند کب ہونا چاہئے؟

عام طور پر اوسطاًہر فرد کے روزانہ 50 سے 100 بال گرتے ہیں جو کہ معمول کا حصہ ہے بلکہ عام طور پر ان بالوں کی عدم موجودگی کا علم بھی نہیں ہوتا، مگر جب یہ تعداد زیادہ ہوجائے تو پھر یہ واقعی سوچنے پر مجبور کردینے والا مسئلہ ہے۔

یعنی اگر آپ کنگھے یا سردھونے کے بعد ٹوٹ جانے والے بالوں کو معمول سے زیادہ دیکھیں یا ان کا گھنا پن کسی ایک حصے سے کم ہورہا ہو یا پورے سر پر ایسا ہورہا ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔

اس سے بچنے کے آسان طریقے

طرز زندگی میں مخصوص تبدیلیاں کرنا اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے، جیسے مناسب وقت تک نیند، اپنے پسندیدہ مشاغل میں وقت گزارنا جس سے تناﺅ میں کمی آئے، قابل ذکر ہیں۔

اسی طرح وٹامنز اور منرلز سے بھرپور متوازن غذا کا استعمال بھی ضروری ہوتا ہے، ورزش کو معلوم بنالینا بھی ذہنی تناﺅ میں کمی لاتا ہے۔

Google Analytics Alternative