Home » Author Archives: Admin (page 5)

Author Archives: Admin

بحریہ ٹاؤن کیس:’نیب کی تحقیقات پرآنکھیں بند کروانےکی کوشش کامیاب نہیں ہونےدینگے‘

سپریم کورٹ کے جسٹس عظمت سعید شیخ نے بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس میں ریمارکس دیے قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات پر آنکھیں بند کروانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس کی سماعت کی، اس دوران بحریہ ٹاؤن کے وکیل اعتراز احسن، پراسیکیوٹر جنرل نیب پیش ہوئے، تاہم سندھ حکومت کا کوئی نمائندہ وکیل عدالت میں حاضر نہیں ہوا۔

سماعت کے دوران اعتزاز احنس نے بتایا کہ عدالت عظمیٰ نے بحریہ ٹاؤن کو زمین کی از سر نو الاٹمنٹ کا حکم دیا، فیصلے میں کہا گیا کہ قیمت کا تعین عمل درآمد بینچ کرے گا جبکہ بحریہ ٹاؤن کو خرید و فروخت سے بھی روک دیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ عدالت نے 3 ماہ میں ٹیم کو تحقیقات کرکے ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا جبکہ نظر ثانی درخواست میں نیب کو آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا، اس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ عملدرآمد بینچ کا نیب کی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں۔

عدالت کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ کیا تحقیقات مکمل ہوگئیں، جس پر پراسیکیوٹر جنرل نیب نے بتایا کہ بحریہ ٹاؤن کے خلاف چار تحقیقات زیر التوا ہیں، عدالت نے عبوری حکم سے تحقیقات روک دی تھیں۔

اس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ نیب کو حکم نہیں دیں گے، صرف فیصلے پر عمل کروائیں گے، اس پر پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ عدالت کو ہر 15 دن میں پیش رفت رپورٹ دیں گے۔

جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ نیب کے حوالے سے آنکھیں بند نہیں کرسکتے، نیب کی تحقیقات پر آنکھیں بند کرانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ اگلی تاریخ سے پہلے وکلا اس معاملے کا حل بتائیں اور یہ بھی بتائیں کہ آپ کو کتنے پیسے دینے چاہئیں، وہ قیمت نہ بتائیں جو ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی ( ایم ڈی اے) کے ایک افسر نے بتائی تھی، جس افسر کو نیب نے جیل بھیجا تھا۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اگر آپ کی تجاویز معقول ہوئیں تو عدالت غور کرے گی۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 14 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اس کے بعد مزید تاریخ نہیں دی جائے گی۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ سندھ حکومت اور ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی بھی 14 نومبر تک ریکارڈ دے، اگر نہیں دیا تو نیب پراسیکیوٹر سے ریکارڈ منگوائیں گے۔

خیال رہے کہ 4 مئی 2018 کو سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ اور تبادلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کراچی کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا تھا۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 1-2 کی اکثریت سے بحریہ ٹاؤن اراضی سے متعلق کیسز پر فیصلہ سناتے ہوئے اس معاملے کو قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجنے اور 3 ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کو اراضی کا تبادلہ خلاف قانون تھا، لہٰذا حکومت کی اراضی حکومت کو واپس کی جائے جبکہ بحریہ ٹاؤن کی اراضی بحریہ ٹاؤن کو واپس دی جائے۔

عدالت کی جانب سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا تھا جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے درخواست کی گئی کہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دیں۔

بعد ازاں اس معاملے پر نظرثانی کی درخواستیں دائر کی گئیں تھی، جس پر چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ سماعت کی تھی۔

تاہم کچھ سماعتوں کے بعد بحریہ ٹاؤن، رہائشیوں، پراپرٹی ڈیلرز اور سندھ حکومت کی جانب سے نظرثانی اپیلیں واپس لینے پر عدالت نے معاملہ نمٹا دیا تھا اور عملدرآمد بینچ تشکیل دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے موبائل کمپنیوں کو پوسٹ پیڈ سروسز پر ٹیکس وصولی سے روک دیا

سپریم کورٹ نے موبائل فون کمپنیوں کو پوسٹ پیڈ سروسز پر ٹیکسز لینے سے عارضی طور پر روک دیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے موبائل کمپنیوں کی جانب سے زائد ٹیکس کٹوتی کے معاملے پر سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک بندہ 100 روپے کا کارڈ لوڈ کرتا ہے، 25 روپے ٹیکس کٹ جاتا ہے، موبائل فون کمپنیاں مفتہ لیتی جارہی ہیں۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ سروس چارجز کا کیا مطلب ہے، ایک بندہ روٹی لے کر آئے گا تو کیا کھائے گا نہیں۔

اس پر وکیل ایف بی آر نے بتایا کہ 25 روپے کی جو کٹوتی ہوتی وہ ہمارے پاس نہیں آتی، ہر کال پر جو ٹیکس کٹتا ہے وہ حکومت کے پاس جاتا ہے۔

دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے کہا گیا کہ ہمیں اس معاملے میں وقت چاہیے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ ہمیں ماہانہ ایک ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے، اسی دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ صوبائی حکومت کو ماہانہ 2 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو کمیشن آپ لیتے ہیں وہ نہ لیں تو نقصان رک سکتا ہے، لانچوں پر پیسے نہ بھیجیں تو نقصان رک سکتا ہے، ریڑھی والے اور مزدوروں سے ٹیکس کاٹتے ہیں، آپ اپنے اپنے صوبوں کی کرپشن روکیں۔

ساتھ ہی عدالت نے موبائل فون کمپنیوں کو پوسٹ پیڈ سروسز پر ٹیکس کی وصولی سے عارضی طور پر روک دیا۔

واضح رہے کہ 3 مئی کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک کیس کی سماعت کے دوران موبائل فون بیلنس پر اضافی کٹوتی کے معاملے پر ازخود نوٹس لیا تھا۔

بعد ازاں چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کے دوران پری پیڈ موبائل صارفین سے بیلنس پر لیا جانے والا ٹیکس معطل کردیا تھا۔

دوا کے سائیڈ ایفیکٹس نے سر پر دوبارہ بال اگادیئے

بوسٹن: حال ہی میں طبی سائنس کا ایک اور دلچسپ واقعہ سامنے آیا ہے کہ دائمی گنج پن کی ایک قسم ’ایلوپیشیا‘ میں مبتلا ایک نوعمر لڑکی کے بال اس وقت فوری طور پر اگ آئے جب اس نے ایک جلدی بیماری ایکزیما (eczema) کی دوا کھانا شروع کردی۔

جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن (جاما) میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ لڑکی ایک طویل عرصے سے ایلوپیشیا ٹوٹالس کا شکار تھی جس میں سر کے تمام بال جھڑ جاتے ہیں اور صرف چکنی جلد ہی باقی رہ جاتی ہے۔ تاہم ایکزیما کی ایک دوا نے حیرت انگیز ضمنی اثر(سائیڈ ایفیکٹ) دکھایا اور تیزی سے اس کے سر پر بال اگنے لگے۔

واضح رہے کہ ایلوپیشیا ایک لاعلاج مرض ہے جسے ’’آٹو امیون‘‘ بیماریوں میں شمار کیا جاتا ہے جس میں بدن کا دفاعی نظام ازخود بیدار ہوجاتا ہے اور کئی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے لیکن ایکزیما کی ایک دوا سے دوبارہ بالوں کی افزائش سے خود ماہرین بھی حیران رہ گئے ہیں۔

ماہرین اب بھی پریقین نہیں کہ عین یہی طریقہ ایلوپیشیا ٹوٹالس کے دیگر مریضوں کو بھی فائدہ دے سکتا ہے لیکن قابلِ عمل ہونے کی صورت میں اس سے گنج پن میں مبتلا لاتعداد مریضوں کو افاقہ ہوسکتا ہے۔

میساچیوسیٹس جنرل ہاسپٹل (ایم جی ایچ) کی ڈاکٹر ماریانہ میکریڈیس نے کہا کہ اس لڑکی کے سر پر دوسال کی عمر کے بعد سے بال نہیں اگے تھے لیکن اب بالوں کی دوبارہ افزائش سے ہم بہت حیران ہیں کیوں کہ اس مرض کے علاج میں دیگر طریقے بھی لڑکی کو فائدہ نہیں دے سکے تھے۔

ڈاکٹروں کے مطابق یہ ایکزیما کی دوا ڈیوپی لیومیب کی جانب سے ایلوپیشیا کی شکار کسی مریض میں دوبارہ بالوں کی افزائش کا پہلا واقعہ ہے لیکن طبی تاریخ اتفاقی اور حادثاتی طور پر دریافت ہونے والی دواؤں سے بھری پڑی ہے جن میں ویلیم سے لے کر ویاگرا تک شامل ہیں۔ شاید یہ دوا بھی آگے چل کر گنج پن کے دوسرے مریضوں کےلیے امید کی کرن پیدا کرسکے۔

اب اس ضمن میں ڈیوپی لیومیب سامنے آئی ہے جسے حال ہی میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ایکزیما کے مریضوں کےلیے منظور کیا ہے۔ یہ ہلکے درجے سے لے کر درمیانے درجے کے ایکزیما تک مریض کا علاج کرسکتی ہے جسے ’ایٹوپک ڈرماٹائٹس‘ کہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مرض بھی آٹوامیون امراض میں شامل ہے جس میں جلد پر شدید خارش والے سرخ نشانات پڑ جاتے ہیں۔

پہلے چھ ہفتے میں 13 سالہ لڑکی کو دوا کے ٹیکے لگائے گئے اور ایکزیما درست ہونے لگا لیکن ساتھ ہی سر پر بال بھی اگنے لگے۔ گیارہ ہفتوں کے بعد سر پر بالوں کی تعداد غیرمعمولی طور پر بڑھ گئی۔

پنجاب سے دبئی پہنچنے والی ‘پنکی میم صاحب’ کے بدلتے انداز

دبئی کی خاتون فلم ساز شازیہ علی خان کی آنے والی فلم ‘پنکی میم صاحب’کا پہلا ٹریلر جاری کردیا گیا، جس سے فلم کی پوری کہانی کو سمجھنا مشکل ہے۔

تاہم فلم کے پہلے ٹریلر کو دیکھ کر یہ اندازا ضرور ہوتا ہے کہ اس فلم کی کہانی واقعی روایتی فلموں سے ہٹ کر ہے اور اس بار پاکستانی شائقین کو ایک منفرد کہانی دیکھنے کو ملے گی۔

اس فلم کی خاص بات یہ ہے کہ جہاں اس کی ہدایات دبئی کی ڈائریکٹر دے رہی ہیں، وہیں اس میں کام کرنے والے اداکاروں میں پاکستانی اور بھارتی اداکار شامل ہیں، علاوہ ازیں فلم کی دیگر ٹیم ارکان میں بھی تینوں ممالک کے لوگ شامل ہیں۔

فلم کی کہانی ایک پاکستانی لڑکی کے گرد گھومتی ہے، جو پنجاب کے چھوٹے سے گاؤں سے عالمی شہر دبئی جاتی ہیں۔

پاکستانی لڑکی کا کردار حاجرہ یامین نے ادا کیا ہے، جو ملازمت کے حصول کے لیے دبئی پہنچتی ہیں،جہاں وہ گاؤں اور اپنے ملک سے انتہائی منفرد، رنگین، بولڈ اور مسائل سے بھری ہوئی زندگی کا سامنا کرتی ہے۔

ٹریلر سے فلم کی کہانی سمجھنا مشکل ہے—اسکرین شاٹ
ٹریلر سے فلم کی کہانی سمجھنا مشکل ہے—اسکرین شاٹ

تقریبا ڈھائی منٹ دورانیے کے ٹریلر میں فلم کی کہانی کو سمجھنا مشکل ہے، تاہم ٹریلر سے اندازہ ہوتا ہے کہ فلم کی کہانی عام پاکستانی فلموں سے کہیں زیادہ منفرد اور بہتر ہوگی۔

ٹریلر کے مطابق فلم میں حاجرہ یامین کو جہاں پنجاب کے گاؤں سے دبئی پہنچنے میں مشکلات پیش آتی ہیں، وہیں اسے دبئی میں اپنے قدم جمانے میں بھی کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

ٹریلر سے اندازہ ہوتا ہے کہ حاجرہ یامین ایک عام پاکستانی گاؤں کی لڑکی سے دبئی جیسے شہر میں رہنے والی بولڈ خاتون بن جاتی ہیں، تاہم اسے سفر میں کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خیال رہے کہ حاجرہ یامین کی یہ دوسری فلم ہوگی، اس سے قبل وہ ‘مان جاؤ نہ’ میں کام کر چکی ہیں۔

فلم میں بھارتی و پاکستانی اداکاروں نے کام کیا ہے—اسکرین شاٹ
فلم میں بھارتی و پاکستانی اداکاروں نے کام کیا ہے—اسکرین شاٹ

فلم کی دیگر کاسٹ میں کرن ملک، بھارتی اداکار سنی ہندوجا، عدنان جعفری، خالد احمد، شمیم ہلالی، عمر خان فدو، شیک سورج گنجل اور خود شازیہ علی خان بھی شامل ہیں۔

شازیہ علی خان نے نہ صرف اس فلم کی ہدایات دی ہیں، بلکہ انہوں نے اس کی کہانی بھی لکھی ہے۔

’پنکی میم صاحب’ کو رواں برس دسمبر میں پاکستان اور بھارت سمیت دنیا بھر میں ریلیز کیا جائے گا۔

پہلے جتنے والوں کی ہار اور ہارنے والوں کی جیت ہوئی….!!

پچھلے دِنوں سے مُلک بھر میں جو ضمنی انتخابات کی مچی ہاہاکار مچی ہوئی تھی ،وہ14اکتوبر کو مجموعی طور پرپُرامن ہونے والے ضمی انتخابات کے بعد ماند ہوگئی ہے، جس کے اَب تک کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق عام انتخابات میں بہت نہیں تو کم ازکم تین اہم حلقوں میں جتنے والوں کی ہار اور ہارنے والوں کی جیت ہوئی ہے، گرچہ، ابھی حتمی (سرکاری)نتائج کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ مگرآج ضمنی انتخابات میں جیتنے والے جشن اور ہارنے والے دھاندلی کی غمزدہ راگنی پرنوحہ کناں ہیں،دونوں جانب سے اپنے لحاظ سے نتائج پر اظہارِ خیال کا جیسا سلسلہ جاری ہے یہ بھی سب کے سا منے ہے ۔جبکہ اِس سے اِنکار نہیں ہے کہ رواں حکومت کو ضمنی انتخابات نے بڑے حیران کُن اَپ سیٹ دیئے ہیں۔ جیسے پہلے جیت کر نشتیں چھوڑنے والے وزیراعظم عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے دیگر اُمیدوار ضمنی انتخابات میں یار گئے ہیں۔ اور 25جولائی کے عام انتخابات میں ہارے ہوئے خواجہ سعدرفیق اور شاہدخاقان عباسی کو ضمنی انتخابات میں اپنے مخالف سے ہزاروں کی لیڈ سے کامیابی ملی ہے۔ جو یہ ثابت کرتی ہے کہ آج رواں حکومت کے پہلے سو روزہ پروگرام سے ڈالرز کی اُونچی اُڑان اور بے لگام ہوتی مہنگا ئی سے عوام میں مایوسی پھیلی چکی ہے۔ آج ووٹرزنے سابق نوازحکومت کے کارناموں ،منصوبوں اور مہنگائی کا موازنہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے کفایت شعاری اور اقتصادی اعلان اور منوں دودہ دینے والی بھینسوں کی نیلامی ، قیمتی گاڑیوں کی نیلامی اور 100دن کے ابتدائی اقدامات اور اعلان سے کرناشروع کردیاہے۔ جس کا ضمنی انتخابات میں نتیجہ یہ آیا ہے کہ عام انتخابات میں ن لیگ کے ہارے ہوئے بڑے بڑے برج پھر جیت گئے ہیں۔اِس طرح آج ووٹرز کا ن لیگ کے اُمیدواروں کی جھولی میں جیت کا تحفہ ڈالنا وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے لئے حیران کُن ہونا چاہئے ، اَب حکومت کو ہر حال میں سرجوڑ کر بیٹھ جانا چاہئے کہ آج کے بعد سے ایسا کیا ، کیا جائے؟ کہ حکومت پر ووٹرز کا اعتماد بحال ہواور بار بار یوٹرنز سے اجتناب کرتے ہوئے۔ اَب خالصتاََ عوامی مفادات جیسے گیس کی بڑھی قیمتوں کو کم اور مہنگائی کو جلد ازجلد نچلی سطح پر لانے کے لئے عملی اقدامات کرے گی ۔تو ممکن ہے کہ عوام کاحکومت پر اعتمادبحال ہوجائے، ورنہ ؟اَب ایوان میں نمبرز گیم کے ساتھ مضبوط ہوتی اپوزیشن ایوانوں کے اندر اور باہر سے حکومت کو حقیقی معنوں میں لوہے کے چنے چبواکر ہی دم لے گی ۔یقینااِس موقع پر برسرِاقتدار جماعت پاکستان تحریک اِنصاف کو اپنی سوروزہ پالیسیوں کا ضرورموازنہ کرنا ہوگا ۔اِسے سوچناہوگا کہ اِس سے ضرور کچھ ایسی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ جن کی وجہ سے اِس پر عوام کا اعتماد کم ہونا شروع ہوگیاہے،اِسے سوچنا چاہئے کہ ابھی تو ابتداء ہے ۔حکومت کے سامنے پورے 4سال 10ماہ کا ایک لمباعرصہ پڑاہے۔ اگر حکومت کی آئندہ بھی ایسی پالیسیاں رہیں ۔جن کی وجہ سے عوام کا حکومت پر سے اعتماد ختم ہوتارہا۔ تو ایسے میں پی ٹی آئی کی حکومت سوچ لے کہ اِس کے لئے اپنی حکومتی مدت پوری کرنا نہ صرف مشکل بلکہ نا ممکن بھی ثابت ہوسکتاہے۔بیشک ! اَب اِس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ حالیہ ضمنی انتخابات میں اپوزیشن کی زیادہ نشستوں پر کامیابی دراصل پی ٹی آئی کی حکومت کی ناکامی کا منہ بولتاثبوت ہے ، اَب ایوان میں خواجہ سعد رفیق اور شاہد خاقان عباسی اور دیگر ن لیگ والوں کا قدم رنجا فرمانا وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے لئے مشکلات کا باعث بنارہے گا، کیوں کہ خواجہ سعدرفیق اور شاہد خان عباسی نائبِ نوازشریف ہیں۔ اِن دنوں کی زبان چلانے کی دوڑی نواز شریف کے ہاتھ میں ہے ۔نوازشریف جیسا سوچتے ہیں، جیساکہنا چاہتے ہیں۔ وہ خواجہ سعد رفیق اور شاہد خاقان عباسی سے کہلوادیتے ہیں ۔ غرض یہ کہ خواجہ سعد رفیق اور شاہدخاقان عباسی کی شکل میں نوازشریف جسمانی نہیں توکم ازکم روحانی طور پر ایوان میں ضرورداخل ہوچکے ہیں۔آج حکومت کے سامنے اِس کے سِوا کو ئی متبادل نہیں ہے کہ حکومت کو اپنی پچاس پچپن دِنوں کی کارکردگی اور گڈگورننس کااحتساب کرتے ہوئے ،اپنی عوام دوست پالیسیاں مرتب کرنی لازمی ہوگئی ہے۔ تاکہ عوام اور حکومت کا اعتماد کا رشتہ بحال رہے۔ اور وفاق سمیت صوبوں میں اپوزیشن اپنے نمبرز گیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے۔ اگر حکومت کے خلاف عوام کو اُکسا کر کسی قسم کی تحریک کوہوادے؛ تو عوام اِس کی آواز پر لبیک کہنے سے پہلے حکومت کی جانب دیکھیں۔ ناکہ اپوزیشن کے ایک اشارے پر حکومت کے خلاف روڈ پر نکل جا ئیں۔اِن سطور کے رقم کرنے تک ضمنی انتخابات کے غیر حتمی غیر سرکاری جیسے نتائج سا منے آئے ہیں اِس کے مطابق ضمنی انتخابات میں زیادہ تر اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اُمیدواروں کی اچھی خاصی مارجن سے جیت نے واضح کردیاہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے اپنے پہلے سودِنوں میں عوام میں اپنا اعتماد کھودیاہے۔ یہیں سے رواں حکومت کے لئے امتحانات اور نئے چیلنجز کے نئے دریچے کھل گئے ہیں اَب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اِن سے کس طرح نبر د آزماہوتی ہے، اور عوام میں اپنا کھویا ہوااعتماد کب اور کتنا بحال کروانے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے؟
*****

سابق قومی ویمن کرکٹر مرینہ اقبال نے کمنٹری باکس سنبھال لیا

لاہور: سابق قومی خاتون کرکٹر مرینہ اقبال کرکٹ کے بعد اب کمنٹری کے جوہر دکھائیں گی۔

سابق ویمن کرکٹر مرینہ  اقبال پاکستان اور آسٹریلیا کی خواتین کرکٹ ٹیموں کے درمیان 18 اکتوبر سے شروع ہونے والی آئی سی سی چیمپئن شپ کے دوران بطور کمنٹیٹر فرائض انجام دیں گی۔

یاد رہے کہ 31 سالہ مرینہ اقبال 36 ایک روزہ اور 42 ٹوئنٹی20 میچوں میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ پاکستان اور آسٹریلیا کے دوران آئی سی سی چیمپئن شپ میں 3 ایک روزہ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ جمعرات سے ملائیشیا کے کنرارا اوول گراﺅنڈ میں ہوگا۔

ترسیلاتِ زر میں اضافے کے لئے ہر رکاوٹ دور کریں گے، وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم ہر طرح کی رکاوٹ دور کریں گے تاکہ ترسیلات زر میں اضافہ ہو سکے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم  عمران خان کا کہنا تھا کہ سمندر پار پاکستانیوں سے تفصیلی ملاقات ہوئی،  ہم سمندر پار پاکستانیوں کے لیے خصوصی مراعات کے پیکج  کا اعلان کر رہے ہیں اور بینکوں کے ذریعہ رقم بھیجنے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کے لئے خصوصی پیکج متعارف کریں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اوورسیزپاکستانیوں  کی ترسیلات زر بینکوں سے بھیجنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور انتظامی معاملات میں رکاوٹوں کو دور کریں گے تاکہ ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہو، اس طرح کے اقدام سے ترسیلاتِ  زر میں 20 ارب  سے 40  ارب ڈالر تک اضافہ ہوسکتا ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ فلپائن کی مثال ہمارے سامنے ہے، وہاں اسی طریقے سے معیشت بہتر بنائی گئی، فلپائن نے اس اقدام کو کامیابی سے سرانجام دیا۔

وزیراعظم کی وزیرخزانہ کی کارکردگی پربرہمی سے متعلق خبرمن گھڑت ہے،معاون خصوصی

اسلام آباد: وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی وزیرخزانہ کی کارکردگی پر برہمی سے متعلق خبر من گھڑت ہے۔ 

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی نے میڈیا میں گردش کرنے والی اُس خبرکی سختی سے تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم نے وزیرخزانہ  کی معاشی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کارکردگی پر اظہاربرہمی کیا ہے۔

افتخار درانی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی زیرصدارت  نہ تو پارٹی رہنماؤں کا کوئی اجلاس ہوا اور نہ ہی وزیر اعظم نے وزیر خزانہ کی کارکردگی سے متعلق کوئی ایسا اظہار خیال کیا، اسد عمر وزیراعظم کے قریبی ساتھی اور پارٹی کے سینئر رہنما ہیں جو ملکی معیشت کے معاملات سے پوری طرح واقف ہیں، اور وزیراعظم کو اسدعمر کی صلاحتیوں پر مکمل اعتماد ہے۔

Google Analytics Alternative