Home » Author Archives: Admin (page 5)

Author Archives: Admin

ویسٹ ایشیا بیس بال، پاکستان نے سلور میڈل جیت لیا

لاہور: 14ویں ویسٹ ایشیا بیس بال کپ سری لنکا نے ایک رن سے جیت لیا۔

میڈیا کوآرڈینیٹر پرویز احمد شیخ کے مطابق سری لنکا نے پہلی، پاکستان نے دوسری، بھارت نے تیسری، ایران نے چوتھی، بنگلہ دیش نے پانچویں اور نیپال نے چھٹی پوزیشن حاصل کی۔

پاکستان فیڈریشن بیس بال کے صدرسید فخر علی شاہ نے سخت فائنل کے اختتام پر کھلاڑیوں اور کوچز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سری لنکا کے خلاف انکے ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کے سامنے آٹھ اننگز میں ہماری ٹیم نے شاندار کھیل پیش کیا تاہم پہلی اننگ میں بدقسمتی سے بن جانے والے 3 رنزکامیابی کی راہ میں رکاوٹ بنے جبکہ سری لنکا کے ڈیپ فیلڈرز کے 3 ناقابل یقین کیچز نے بھی فرق پیدا کیا۔

ہیڈ کوچ مصدق حنیف کا کہنا تھا کہ فائنل دلچسپ رہا، ہماری ٹیم نے شاندار کھیل پیش کیا، ہمیں صرف دس روزہ کیمپ لگانے کا موقع دیا گیا جبکہ سری لنکن ٹیم پچھلے 6 ماہ سے دوسالہ کوچنگ پلان کے تحت کیمپ کررہی ہے۔ہم اپنی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور ایک آدھ شعبے میں موجود کمی کو دور کرکے اولمپک کوالیفائنگ راؤنڈ میں شرکت کرینگے۔

پاکستان کی جانب سے فضل الرحمن، ارسلان جمشید، فقیر حسین، اور سمیر زوار نے 1،1 رن اسکور کیا۔اس موقع پر سری لنکا میں ہائی کمشنرآف پاکستان کرنل سجاد علی،ٹیم لیڈرسید فخر علی شاہ،ٹیم منیجر محمد محسن خان، اسسٹنٹ منیجر پرویز شیخ، ہیڈ کوچ مصدق حنیف، کوچز سید بابر شیرازی، باسط مرتضیٰ، ٹرینرشاہ محمد، فزیوسمیع اللہ ودیگرآفیشلزسید فخر امیر کاظمی،شاہد آفتاب، محمد کاشف شیخ، عمران خان، ظہیرالدین مگسی، حمزہ بلوچ، زبیر وٹو و دیگر موجود تھے۔

 

کرپشن کاخاتمہ۔۔۔حکومت زیروٹالرنس کی پالیسی پرگامزن

حکومت نے قطعی طورپر فیصلہ کرلیاہے کہ وہ کرپشن کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی اور اس پرزیروٹالرینس کے اعتبار سے کام کرے گی، کیونکہ کرپشن ہمار ے معاشرے کے لئے ایک کینسر سے کم بیماری نہیں جس کا جتنا ہاتھ لگا اس نے اتناہی فائدہ اٹھایا،چونکہ ماضی میں اندھیرنگری چوپٹ راج رہا ،خوب لوٹ مار کی گئی، اپنے خزانے بھرے گئے ،قومی خزانوں کو خالی کیاگیا، ذاتی مفادات کو ترجیح دی، قومی اورملکی مفادات کو پس پشت ڈالاگیا ،اسی وجہ سے حکومت اس وقت جو تحقیقات کررہی ہے اس میں یہ ہوشرباء انکشافات سامنے آرہے ہیں کہ کیسے قلیل ترین عرصے میں لاکھوں کے اکاءونٹس کروڑوں میں پہنچے، ایسی اسی بیرونی امداد پر ڈاکہ ڈالاگیا، جس کے بارے میں کوئی خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا کہ عوام کے گھر میں اموات ہوئی پڑی ہیں ، گھربار تباہ ہیں ، خاندان کے خاندان لقمہ اجل بن گئے اور ان حکمرانوں نے اُن کی امداد کے لئے آنیوالی رقوم کو بھی ہڑپ کرلیا یہ رقوم زلزلہ زدگان کے لئے بیرونی دنیا سے آئی تھیں مگر اس پر بھی ہاتھ صاف کرلیاگیا،اب جبکہ حکومت نے ہاتھ ڈالا ہے تو چیخیں نکل رہی ہیں ۔ دراصل مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت ملک وقوم کے لئے تو شاید ہی کوئی اکٹھا ہوا ہو البتہ یہ اتحاد ایک دوسرے کو بچانے کے لئے ضرور ہے تاکہ کی گئی کرپشن کو چھپاسکیں اور لوٹا ہوامال بھی بچاسکیں لیکن کپتان نے کہہ دیا ہے کہ چاہے جتنے مرضی ڈرامے کرلیں احتساب کاعمل کسی صورت نہیں رکے گا، میں جواب لے کر رہوں گا،مجھے جو کہتے ہیں کہ اتناکرو،جتناکل برداشت کرسکو،تو میں کہتا ہوں کہ اس لمحے کاتو میں 22سال سے انتظار کررہاتھا ہمارے پڑوسی ملک چین نے ساڑھے چارسوکے لگ بھگ وزراء کو کرپشن کے الزام میں جیل میں ڈالا اور آج دیکھ لیں چین کہاں ہے ،وزیراعظم نے اپنے بھی وزراء کو یہ عندیہ دے دیا ہے کہ وہ کرپشن کی جانب قطعی طورپرگامزن نہ ہوں کیونکہ اب ادارے آزاد ہیں چاہے وہ اپوزیشن میں ہوں یا حکمرانی میں ،کرپشن کی ہے تو ہرصورت جواب دینا پڑے گا،ادھروزیراعظم عمران خان نے میانوالی میں ہسپتال کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے اور میانوالی ریلوے ایکسپریس ٹرین کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ انسانیت کی بھلائی کرکے روحانی خوشی محسوس ہوتی ہے، انسان اپنی ذات کیلئے کام کرتا ہے، روح اس وقت خوش ہوتی ہے جب ;200;پ اللہ کیلئے کام کرتے ہو، دنیا انسانوں کیلئے کچھ کرنے والوں کو یاد رکھتی ہے، میانوالی میں جدید ہسپتال سے یہاں کے عوام کو فائدہ ہوگا،امیر ;200;دمی کو دنیا یاد نہیں رکھتی، ایک وقت تھا جب میانوالی مفروروں کا علاقہ تھا،اس علاقے میں طبی سہولتیں میسر نہیں تھیں ،ہماری کوشش ہے کہ پسماندہ علاقوں پر توجہ دیں ، چین کی ترقی کی ایک وجہ کرپشن پر ساڑھے چار سو وزیروں کو جیل میں ڈالنا بھی ہے، اوورسیز سب سے زیادہ پاکستانیوں کا درد رکھتے ہیں ، پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ گرفتاریوں سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا، ملک میں ایسا کام کیا گیا کہ 10 سال میں 29 ہزار ارب روپے قرض چڑھا، یہ پیسہ جن کی جیبوں میں گیا جب تک ان کا احتساب نہیں ہوگا ملک ;200;گے نہیں بڑھے گا، شور مچانے والوں نے عدالت میں ایک دستاویز نہیں دی، یہ بڑی دھمکیاں دیتے ہیں ، میں 22 سال سے صرف ایک موقع کا انتظار کر رہا تھا، اللہ سے وعدہ کیا تھا ایک موقع ملے ملک لوٹنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا، یہ جس کیسز میں پکڑے جا رہے ہیں یہ ہم نے نہیں بنائے، جو مرضی کر لیں ;200;ج طاقتور کو قانون کے دائرے میں لا رہے ہیں ، انہوں نے مجھے بیرون ملک سے بھی سفارشیں کروائیں ، موجودہ حکومت نے مشکل حالات میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالی، حکومت نے معاشی استحکام اور ملک کے وسیع تر مفاد میں مشکل فیصلے کیے ۔ گزشتہ دس ماہ میں حکومت نے سماجی، معاشی واقتصادی اور انتظامی شعبوں میں جو اصلاحات متعارف کرائی ہیں ماضی میں انکی نظیر نہیں ملتی،موجودہ حکومت نے مشکل ترین معاشی حالات کے باوجود کمزور اور غریب طبقوں کی بہتری کے لیے اقدامات کئے ہیں ۔ حکومتی اداروں میں سزا و جزا کی روایت کو مضبوط کرنا حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم جزو ہے ۔

جھوٹی گواہی کاخاتمہ کرناہوگا

آج تک اگر انصاف کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ آئی ہے تو وہ جھوٹی گواہی تھی، اس سلسلے میں چیف جسٹس آف پاکستان نے پہلے ہی دن سے یہ قدم اٹھایاتھاکہ جھوٹی گواہی کو ختم کرنا ہے اس کے خاتمے سے ہی انصاف پرمبنی معاشرہ قائم ہوسکتا ہے ، کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ بغیر سنے مقدمات کی سماعت ملتوی نہیں کی جائے گی، ایک کیس سنا جا رہا ہے تو روزانہ کی بنیاد پر اس کی سماعت کرکے فیصلہ کیا جائے گا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسلامی نظام عدل میں ایک بار جھوٹ بولنے والے کی دوبارہ گواہی قبول نہیں ہوتی، اگر ہم انصاف پر مبنی نظام چاہتے ہیں تو جھوٹی گواہی کو ختم کرنا ہوگا، فوجداری نظام میں 2 بڑے نقاءص ہیں ، پہلا مسئلہ جھوٹی گواہی اور دوسرا تاخیری حربے ہیں ، نزاعی بیان عموماً غلط نہیں ہوتا کیونکہ بندہ اپنے اللہ سے ملنے والا ہوتا ہے، تاہم اکثر جھوٹے اور چشم دید گواہ مدعی کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں ۔ بیانات پر اعتماد کیلئے اسسمنٹ کمیٹی بنا رہے ہیں ۔ صرف پولیس کے سامنے اقرار جرم کرنا ہی کافی نہیں ہوتا، تفتیشی افسر کو معلوم ہونا چاہیے کہ عدلیہ میں استغاثہ کیس کیسے ثابت کرتے ہیں ۔ ہ میں اپنے تفتیشی عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، جھوٹی گواہی دینے والے کو مجرم کے برابر سمجھنا چاہیے،پولیس سمیت ہر محکمے میں اچھے افسر موجود ہیں ۔ ہ میں پولیس کے نظام اور معاشرے میں اس کے امیج کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، عدلیہ کی ;200;زادی کی طرح پولیس کی ;200;زادی بھی ضروری ہے، انصاف کے شعبے کو پولیس اور عدلیہ مل کر بہتر بناسکتے ہیں ۔

قرضوں اورمہنگائی میں اضافہ۔۔۔آئی ایم ایف کے تحفظات

آئی ایم ایف کی نمائندہ ٹیریساڈبن سانچیز نے کہاہے کہ اقتصادیات میں اندرونی اور بیرونی محاذوں پرکلیدی اصلاحات کےلئے پالیسی سازی میں بنیادی ،مثالی تبدیلیاں لانا ہوں گی، اصلاحات کے لئے قانون سازی کے سلسلے میں اپوزیشن کواعتماد میں لینا ہوگا،پاکستان اپنی مالی وصولیوں کاپچیس فیصدقرض چکانے پرخر چ کررہاہے جبکہ ریاستی ملکیت میں کاروباری ادارے خسارے میں چل رہے ہیں ، سرکاری قبضوں اورافراط زر میں اضافہ ہورہاہے ،ان مسائل اور مشکلات سے نمٹنے کےلئے پالیسی سازی میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ،شرح مبادلہ کو مصنوعی طورپر مستحکم رکھنے سے غیرملکی زرمبادلہ ذخائر میں نمایا ں کمی واقع ہوئی ہے ،آئی ایم ایف ستمبر کے آواخر میں پیشرفت کاجائزہ لے گا، سٹیٹ بنک مہنگائی کنٹرول کرنے میں کرداراداکرے ،سرکاری ادارے خسارے میں ہیں ،حکومتی قرضوں اور مہنگائی میں اضافہ ہورہاہے ،آئی ایم ایف پروگرام کو کامیابی سے مکمل کرنے کےلئے پاکستان کواقدامات کرنا ہونگے ۔

خالصتان تحریک، سکھوں پر ہندووَں کے مظالم کا نتیجہ ہے

کئی دہائیوں تک راکھ میں دبے رہنے کے بعد خالصتان تحریک کی چنگاری اب ایک بار پھر بھڑک اٹھی ہے ۔ 3 جون 1984 کو ہندوستانی حکومت کی جانب سے سکھ میجر جنرل کلدیپ سنگھ برار کی سربراہی میں خونی آپریشن بلیو اسٹار کے دوران بے پناہ طاقت کے استعمال نے وقتی طور پر 70 اور 80 کی دہائی میں پورے زور و شور کے ساتھ جاری علیحدہ ملک کی سکھ تحریک کو کچل دیا تھا ۔ لیکن جیسا کہ آزادی کی تحریکوں میں ہوا کرتا ہے، طاقت کا استعمال وقتی طور پر تو کارگر ثابت ہوتا ہے لیکن اگلی نسلوں کے جوان ہونے تک طاقت کا استعمال بذاتِ خود تحریکوں میں نئے جذبے پیدا کرنے کا موجب بن جاتا ہے ۔ خالصتان تحریک کے بارے میں ہندوستان کی جانب سے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یہ تحریک پاکستان کی پیدا کردہ ہے جو مشرقی پاکستان میں ہندوستان کی جانب سے دخل اندازی کا بدلہ لینے کےلئے شروع کی گئی ۔ اس بات میں کتنی سچائی ہے یہ تو مستقبل کا تاریخ دان بتائے گا لیکن ہندوستان کی جو تاریخ ہمارے سامنے موجود ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ خالصتان کی تحریک بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی پاکستان کی تحریک ۔ ’’خالصتان‘‘ کی اصطلاح بھی مارچ 1940 میں ڈاکٹر ویر سنگھ بھٹی نے ایک پمفلٹ میں وضع کی، جو مسلم لیگ کی 23 مارچ 1940کی قراردادِ پاکستان کے ردعمل کے طور پر لکھا گیا تھا ۔ ڈاکٹر ویر سنگھ کے مطابق پاکستان کا مطالبہ چونکہ مذہبی بنیادوں پر کیا جا رہا تھا اور پنجاب (اس وقت کا پنجاب پاکستانی پنجاب، ہندوستانی پنجاب، ہریانہ اور ہماچل پردیش کے کچھ علاقوں پر مشتمل تھا) کو پاکستان میں شامل کیے جانے کا مطالبہ بھی کیا جارہا تھا جہاں سکھ کافی بڑی تعداد میں آباد تھے، اس لیے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہندوستان میں پاکستان کے ساتھ ساتھ پنجاب کے کچھ علاقوں میں خالصتان کے نام سے سکھوں کا علیحدہ ملک بھی قائم کیا جائے ۔ ان کا خواب اس لیے شرمندہء تعبیر نہیں ہوسکا کیونکہ اس وقت پنجاب کے کسی ایک ضلع میں بھی سکھ اکثریت میں نہیں تھے لیکن تقسیم ہند کے بعد چونکہ پاکستانی پنجاب سے سارے سکھ ہجرت کر کے ہندوستانی پنجاب کے ملحقہ ضلعوں میں چلے گئے تو وہاں کچھ ضلعوں میں سکھ اکثریتی علاقے وجود میں آنے لگے ۔ البتہ خالصتان کی تحریک کو آگے بڑھانے کےلئے یہ تبدیلیاں کافی نہیں تھیں ۔ ہندوستان میں آزادی کے بعد کہنے کو تو کانگریس کی سیکولر حکومت قائم ہوئی لیکن اس سیکولر حکومت نے جس قسم کی مذہبی پالیسیاں بنانا شروع کیں ان سے مسلمانوں کی طرح سکھوں کو بھی بہت شکایات پیدا ہوئیں ۔ شکایات کے ساتھ ساتھ مطالبات بھی آنے لگے، جب سکھوں کی شکایات اور مطالبات میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا اور کئی دہائیوں تک ہندوستان پر حکمران رہنے والی کانگریس ان مطالبات پر سکھوں کو مطمئن کرنے میں ناکام ہوتی چلی گئی تو ہندوستانی پنجاب میں کئی ایک سیاسی جماعتیں اور علیحدگی کی تحریکیں منظم اور فعال ہونا شروع ہو گئیں جن میں سے کچھ دبے لفظوں میں اور کچھ کھلے عام، کچھ پر امن سیاسی جدوجہد سے، اور کچھ جنگجوانہ مزاحمت کے ذریعے سکھوں کے علیحدہ ملک خالصتان کا مطالبہ کرنے لگیں ۔ جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے 80 کی دہائی میں سکھوں کے علیحدہ ملک کی تحریک کے روحِ رواں تھے ۔ آپریشن بلیو اسٹار کا ہدف بھی انہی کی قیادت میں ;39;خالصتان;39; حاصل کرنے کےلئے منظم ہونے والے نوجوان سکھ جنگجو تھے جو سکھوں کے سب سے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل میں مورچہ زن تھے ۔ اس آپریشن کے نتیجے میں ہزاروں زائرین ہلاک ہوئے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے، سکھوں کے سب سے مقدس گوردوارے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور سکھوں کےلئے مقدس ترین دنیاوی مظہر اکال تخت کو بھی نقصان پہنچا ۔ جس بے رحمی سے جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے اور ان کے ساتھیوں کو طاقت کے بے پناہ استعمال کے ذریعے ہلاک کیا گیا، اور جس طرح سے گولڈن ٹیمپل پر آپریشن کےلئے سکھوں کے مذہبی تہوار کے دنوں کا انتخاب کیا گیا جب وہاں ہزاروں زائرین کی موجودگی یقینی تھی، وہ سکھ نیشنلزم اور خالصتان تحریک کے احیاء کے ایسے بیج بو گیا، جنہوں نے اب پھوٹنا شروع کر دیا ہے ۔ جرنیل سنگھ بھنڈرا نوالے مذہبی رہنما تھے اور سکھ مذہب کے احیاء اور فروغ کےلئے کوشاں تھے، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے جنگجو تنظیم سازی کے ذریعے بزورِ طاقت خالصتان کے علیحدہ ملک بنانے کی جدوجہد شروع کر دی جو آپریشن بلیو اسٹار میں ان کی اپنے سینکڑوں مسلح ساتھیوں کی ہلاکت کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچی ۔ خالصتان کی سکھ تنظیموں نے دوسرے ملکوں میں بسنے والے سکھوں کو منظم کرنا شروع کیا اور آج ایک دفعہ پھر خالصتان تحریک مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔ ہندوستانی انتظامیہ اور اس کی خفیہ ایجنسی را کے بارے میں بھی ایسی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جن کے مطابق انہیں خدشہ ہے کہ خالصتان تحریک زور پکڑ رہی ہے ۔ اس وقت ببر خالصہ، انٹرنیشنل سکھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن، خالصتان کمانڈو فورس، آل انڈیا سکھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن، بھنڈرانوالے ٹائیگر فورس آف خالصتان، خالصتان زندہ باد فورس، خالصتان لبریشن فورس، خالصتان لبریشن آرمی، دشمیش رجمنٹ اور شہید خالصہ فورس نامی مختلف تنظی میں خالصتان کی آزادی کےلئے سرگرم ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اب ایک نیا رجحان جنم لے رہا ہے اور خالصتان کی تحریکوں میں مذہب کے ساتھ ساتھ بتدریج قوم پرستی کا رنگ بھی سامنے آنے لگا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خالصتان تحریک سے وابستہ تنظیموں نے اب کشمیر میں ہونے والی ہندوستانی زیادتیوں کا ذکر بھی کرنا شروع کر دیا ہے اور چند ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ دونوں تحریکیں مستقبل میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو سکیں گی ۔ ہندوستان کے ریاستی معاملات میں تیزی سے بڑھنے والی مذہبی انتہا پسندانہ سوچ ان دونوں تحریکوں کو بالآخر ایک دوسرے کے قریب لانے کا موجب بنے گی ۔

ن لیگ کی قیادت مشکل میں

تارےخ اےسی عبرت ناک مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ کل کے بادشاہ آج کے قےدی اور کل کے قےدی آ ج کے بادشاہ بن جاتے ہےں راتوں رات مقدر بدل جاتا ہے ۔ مکافات عمل سے ڈرنا ہی تارےخ کا سبق ہے لےکن اسے ہمےشہ فراموش کر دےا جاتا ہے ۔ ان دنوں وطن عزےز مےں سےاسی موسم گرم ہے ،گرفتارےاں ہو رہی ہےں کہےں پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے کے بےانات ہےں اور کہےں جےل مےں نواز شرےف کےلئے گھر کا کھانا روکنے کی باتےں ہو رہی ہےں ۔ ملک مےں احتسابی عمل جاری ہے ۔ اس احتسابی عمل کی زد مےں کوئی سےاستدان کسی وقت بھی آ سکتا ہے ۔ عوام کی اکثرےت کا منشا بھی ےہی ہے کہ احتساب کا عمل بلا تفرےق ،شفاف اور غےر جانبدارانہ ہو اور لوٹی ہوئی دولت کو واپس لاےا جائے ۔ کسی سےاستدان کا نےب کے ےا کسی اور ادارے کے ہاتھوں گرفتار ہونا اچنبھے کی بات نہےں لےکن رانا ثنا ا;203; کی اے اےن اےف کے ہاتھوں اچانک منشےات کےس مےں گرفتاری پر ےقےن نہےں آ رہا کہ ےہ بھی ہو سکتا ہے مگر جہاں ملک کا اےک سابق صدر ،تےن سابق وزرائے اعظم ،اےک موجودہ صوبائی سپےکر اور بہت سے موجودہ اور سابق وزراء ملک کے وسائل کی لوٹ مار اور بےرون ملک سمگلنگ اور غےر ممالک مےں درجنوں پلازے ، فلےٹس اور فارم ہاءوس بنانے کے سنگےن قومی جرائم مےں ملوث ہوں تو وہاں اےک سابق سینئر وزےر بھی سنگےن مجرم نکلے تو حےرت کےسی;238;رانا ثنا ء ا;203; کی گرفتاری پر حےرت اس بات پر ہوئی کہ ان کی اپنی سےاسی قےادت کرپشن،بدعنوانےوں اور منی لانڈرنگ جےسے الزامات کے تحت قائم مقدمات کے نتےجے مےں پابند سلاسل ہو اور جس جماعت کی گرفتارےوں کا سلسلہ رکنے مےں نہ آ رہا ہو وہ خود ہمہ وقت کےمروں کی زد مےں ہو وہ اےسی حماقت کےسے کر سکتا ہے کہ اپنی ہی گاڑی مےں 15کلو ہےروئن لے کر نکلے اور وہ بھی موٹر وے پر جہاں ناکوں اور نگرانی کی صورتحال عام شاہراہوں سے کہےں بہتر ہو ۔ رانا ثناء ا;203; پانچ بار اےم پی اے رہے اور اب پہلی دفعہ اےم اےن اے منتخب ہوئے ہےں ۔ ان کی علاقے مےں شہرت اےک اکھڑ اور سخت گےر شخص کی ہے ۔ ساری عمر سےاست کرتے گزر گئی ۔ پہلے پےپلز پارٹی کے مرکزی رہنماءوں مےں شمار تھا ۔ نواز شرےف اور شہباز شرےف کے خلاف سخت بےان بازی اور پھر نواز شرےف کے زےر ساےہ آ کر پےپلز پارٹی کے خلاف مہم مےں کلےدی کردار ادا کےا ۔ ذراءع کا کہنا ہے کہ مصدقہ اطلاع پر انہےں لاہور جاتے ہوئے سکھےکی منڈی کے پاس روکا گےا تو رانا ثناء ا;203; کی گود مےں بےگ تھا جس مےں پندرہ کلو کے لگ بھگ منشےات برآمد ہوئی ۔ رانا ثناء ا ;203; کی گرفتاری پر اےنٹی نار کوٹکس فورس نے موقف اختےار کےا کہ اس نے بڑی جدوجہد اور کوششوں کے بعد ےہ کارنامہ سر انجام دےا ۔ رانا ثناء ا ;203; کی گرفتاری سے قبل اے اےن اےف نے چھ سے سات گرفتارےاں کی تھےں ان سے تفتےش کی روشنی مےں بخاری نامی شخص کو بھی گرفتار کےا گےا جس مےں پتہ چلا کہ کافی تعداد مےں فنڈ اکٹھا کر کے کالعدم تنظےموں کو دےا جاتا ہے ۔ کچھ لوگوں کا تو کہنا ہے رانا ثناء ا;203; کی گرفتاری کا سبب عابد شےر علی کی مخبری بنی ۔ حکومت نے پہلے کہا کہ رانا ثناء ا;203; کی گرفتاری سے ہمارا کوئی لےنا دےنا نہےں پھر دو روز بعد وزےر مملکت شہر ےار آفرےدی نے اےنٹی نار کوٹکس کے ہمراہ اےک پرےس برےفنگ مےں انکشاف کےا کہ حکومت کے پاس پہلے ہی اطلاعات تھےں کہ رانا ثناء ا;203; کا نہ صرف منشےات فروشوں سے تعلق ہے بلکہ وہ خود بھی منشےات سمگلنگ کے دھندہ مےں ملوث ہےں اور ان کے متعلق اب ٹھوس شواہد بھی مل چکے ہےں جن کو عدالت کے روبرو پےش کر دےا جائے گا ۔ اس مےں کوئی شک نہےں کہ اے اےن اےف عمومی طور پر اےک بہتر شہرت کا حامل ادارہ ہے مگر جن حالات مےں اور جس انداز سے رانا ثناء ا;203; پر ہےروئن فروشی کا الزام لگا اس نے بہت سے سوال اٹھا دیے ہےں سب سے اہم سوال ےہ ہے کہ رانا صاحب نے مےڈےا پر بتاےا تھا کہ جناب وزےر اعظم کسی نہ کسی الزام مےں ان کی گرفتاری چاہتے ہےں دوسرے عمران خان کا الےکشن سے قبل جلوسوں مےں رانا ثناء ا;203; کو مونچھوں سے پکڑ کر جےل کی دھمکےاں کس امر کی غماز ہےں ۔ اس وقت پنجاب مےں وفادارےاں تبدےل کروانے کا عمل بھی جاری ہے اور رانا ثناء ا;203; نے وفاداری تبدےل کرنے والے ارکان کے گھےراءو کی بات بھی کہی تھی ۔ اےک اور سوال اٹھتا ہے کہ رانا ثناء ا;203; کو گرفتار ہی کرنا تھا تو ماڈل ٹاءون واقعہ مےں کےوں نہ کےا گےا ۔ رانا صاحب پر کئی فوجداری مقدمات قائم کئے گئے ۔ ان پر دہشت گرد گروپوں کی سہولت کاری کا الزام لگتا رہا ۔ ان پر (ن) لےگ کے فےصل آباد سے تعلق رکھنے والے مقامی لےڈر بھولا گجر کے قتل کا الزام بھی ہے بلکہ (ن) لےگ سے تعلق رکھنے والے سابق اےم اےن اے اور سابق مئےر فےصل آباد چوہدری شےر علی نے مےڈےا کو 22مقتولےن کی فہرست دی تھی جو بقول چوہدری شےر علی رانا ثناء ا;203; نے قتل کروائے تھے ۔ فےصل آباد سے بدنام زمانہ پولےس انسپکٹر فرخ وحےد جو ملک سے فرار ہو کر دوبئی چلا گےا تھا اس نے بھی رانا ثناء ا;203; کے خلاف کافی راز افشاکئے ہےں کہ اس نے کس طرح ان کے حکم پر جعلی پولےس مقابلوں مےں رانا صاحب کے مخالفےن کو ٹھکانے لگاےا تھا ۔ فرخ وحےد اس لئے فرار ہوا تھا کہ اسے خطرہ تھا کہ رانا ثناء ا;203; ثبوت مٹانے کےلئے اسے قتل کروانا چاہتا ہے لےکن رانا صاحب کے خلاف ان الزامات کی آج تک تحقےقات نہےں ہو سکےں ۔ اس سب کے باوجود رانا ثناء ا ;203; پر لگائے جانے والے الزامات کے حوالے سے کبھی شنےد نہےں رہی اور آج تک کسی نے ےہ نہےں کہا تھا کہ وہ منشےات فروشی مےں ملوث ہےں ےا ان کی جانب سے منشےات فروشوں کی سر پرستی کی جاتی ہے ۔ ثناء ا;203; اےک زےرک سےاستدان ہےں اتنے نازک حالات مےں ان سے اےسے نادانی کے فےصلے کی توقع تو نہےں کی جا سکتی لےکن اگر ان کو سےاسی انتقام کا نشانہ بناےا گےا ہے تو اےک طرف تو وہ مظلوم بن گئے ہےں دوسرے وہ اےک جھوٹے مقدمے مےں بری ہو کر اپنے دوسرے جرائم پر پردہ ضرور ڈال سکتے ہےں ۔ ہمارے ہاں سےاسی مخالفےن کوسبق سکھانے کےلئے اچھوتے مقدمے بنانے کی رواےت چلتی رہی ہے ۔ بے نظےر بھٹو کے دور حکومت مےں آج کے وزےر رےلوے شےخ رشےد احمد کے بےڈ کے نےچے سے غےر قانونی کلاشنکوف برآمد ہو گئی ۔ چودھری ظہور الٰہی اور مےاں محمود علی قصوری کو بھےنس چوری کے الزام مےں گرفتار کےا گےا ۔ آمرانہ ادوار مےں سےاسی مخالفےن کو کوڑوں کی زد مےں لے آنا تو معمول تھا لےکن جمہوری ادوار مےں بھی سےاسی مخالفےن کو انتقام اور عناد کی بھٹی مےں جلانے کےلئے متنازعہ قوانےن اور طاقت کے استعمال کا رواج ہر دور مےں رہا ہے ۔ نواز شرےف کے دور حکومت مےں ہی آصف علی زرداری اور انگرےزی اخبار ’’ فرنٹیئر پوسٹ‘‘ کے مالک و اےڈےٹر پر بنائے گئے منشےات کے پس منظر اور قانونی حےثےت سے تمام سےاسی کارکن واقف ہےں ۔ اسی طرح زرداری کے خلاف 35من کپاس چوری کا الزام بھی نواز شرےف اےنڈ کمپنی کی نظر التفات کا ہی نتےجہ تھا ۔ جنرل مشرف کے دور حکومت مےں خفےہ والوں نے رانا ثناء ا;203;سے انسانےت سوز سلوک کےا ۔ انہےں نہ صرف ٹارچر کےا بلکہ ان کے سر کے بال اور بھنوےں تک مونڈ دےں ۔ رانا ثناء ا;203; کا مقدمہ جھوٹا ہے ےا سچا اس کا فےصلہ تو عدالت ہی کرے گی لےکن ےہ کےس اپنی حساسےت کے حوالے سے منفرد ہے ۔ پاکستان کے سےاستدان کرپشن کے حوالے سے پہلے ہی کوئی اچھی شہرت کے حامل نہےں ہےں ان حالات مےں اےک سابق وزےر قانون کی منشےات کےس مےں گرفتاری بےرونی دنےا مےں مزےد منفی تاثر قائم کرے گی ۔ فرض کرےں رانا ثناء ا;203; پر کےس ثابت ہو کر سزا ہو جاتی ہے اور وہ مجرم ثابت ہو جاتے ہےں تو بےرونی دنےا ہمارے بارے مےں ےہ رائے قائم کرنے مےں حق بجانب ہو گی کہ ہمارے سےاسی حکمران منشےات فروشی تک کے غلےظ دھندے مےں ملوث ہےں اور اگر وہ اس الزام سے بری ہو جاتے ہےں تو پھر رےاستی اداروں پر اعتماد ختم ہو جائے گا اور اس خےال کی تصدےق بھی ہو جائے گی کہ ہمارے ماضی کی طرح پھر سےاسی جماعتوں کو ہدف بنا کر انتقامی کاروائےاں کی جا رہی ہےں

بھارت سے بہتری کی توقع ہرگزنہیں

پاکستان اور بھارت نے دو آزاد ممالک کی حیثیت سے برطانیہ سے آزادی حاصل کی لیکن ایک ہی آقا سے آزادی حاصل کرنے کے باوجود ان دونوں کے تعلقات کبھی خوشگوار نہ رہ سکے اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہندو لیڈرشپ کا اکھنڈ بھارت کا وہ خواب تھا جس کو اس نے آزادی کے بعد بھی نہیں توڑا اور اسی وجہ سے پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم بھی نہیں کیا، حالانکہ کہنے کو تو مسلمان اور ہندو ہزار سال سے زائد عرصے سے برصغیر میں رہ رہے تھے لیکن دونوں مذاہب میں زمین آسمان کا فرق ہونے کی وجہ سے دونوں کبھی ایک رنگ میں نہ رنگ سکے ۔ ظاہری شکل و شباہت کے علاوہ کوئی چیز دونوں میں مشترک نہ تھی اور ایساپوری دنیا میں ہوتاہے کہ بنیادی طور پر مختلف نظریات کے حامل لوگ ایک الگ اکائی ہی بناتے ہیں اور ایسا ہی بر صغیر میں ہواکہ دو الگ الگ ریاستیں بنیں ہندو چونکہ اکثریت میں تھے لہٰذا ان کی ریاست بڑی تھی لیکن دوسری طرف بھی سب سے بڑی مسلمان ریاست تھی جسے ہندوذہنیت نے کبھی قبول نہیں کیا اور اس نے اس کے خلاف سازشیں شروع کر دیں اور جو جتنا بڑا سازشی تھا اُ سے اتنا ہی بڑا عہدہ اور مقام ملا ۔ انہی سازشوں کے لئے اس ملک نے باقاعدہ ادارے بنائے جن میں سب سے بڑا ادارہ ’’را‘‘ ہے کہنے کو تو یہ بھارت کی سرا غرساں ایجنسی ہے لیکن اس کی بنیادی ذمہ داری اور منشور ہی پاکستان اور چین کے خلاف کام کرنا ہے ۔ 1962 میں چین کے ہاتھوں بد ترین شکست اور 1965 میں پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت کے رد عمل کے طور پر 1968 میں بھارت نے اپنی اس بد نام زمانہ ایجنسی کی بنیاد رکھی اور اسے جو خاص ترین مشن سونپا گیا وہ پاکستان میں مسائل پیدا کرنا تھا ۔ ’’ را ‘‘نے مشرقی پاکستان میں جو مکروہ کردار ادا کیا وہ بذات خود تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے ۔ اسی نے مکتی باہنی اور مجیب کو بنایا اور پاکستان کی سالمیت پر حملہ کیا اور آج بھی یہ پاکستان کے مختلف علاقوں خاص کر شمالی علاقوں میں براستہ افغانستان اور بلوچستان میں براستہ افغانستان اور ایران دونوں طرف سے ملوث ہے اور مسلسل سبوتاژ اور بد امنی کی کارروائیوں میں مصروف ہے جن میں اگرچہ اُسے پاکستانی اداروں کی چابکدستی کی وجہ سے وہ کامیابی حاصل نہیں ہو رہی جتنی وہ تگ و دو کر رہاہے اور نہ انشاء اللہ اُ س کی یہ خواہش پوری ہوگی ۔ دوسری طرف خود بھارت کے اندر ایک بڑے پاکستان کا خوف اسے بلا وجہ ستاتا رہتا ہے یعنی بیس کروڑ کی دنیا کی سب سے بڑی اقلیت کا خوف جو مسلمان ہے اور یہ مسلمان اسی لئے ہر وقت عوامی ہندو عتاب کا بھی نشانہ بنتے رہے ہیں اور ریاستی دہشت گردی کا بھی اور اس کے لئے اُس کا ایک اور ادارہ مسلسل بر سرپیکار رہتا ہے اور وہ ہے آئی بی یعنی انٹیلجنس بیورو جس کا کام ملک میں اندرونی سطح پر سازشوں بلکہ حکومت مخالفوں کا خاتمہ ہے لیکن یہ بھی زیادہ تر مذہبی یا علاقائی اقلیتوں کے خلاف ہی مصروف عمل ہوتا ہے ۔ یہی آئی بی بھارت سرکار کے اہم امور میں بھی دخیل ہے اور اس کی بدنامی بھی ’’را‘‘سے کچھ کم نہیں ۔ اب اگر ان اداروں کے کام کو ذہن میں رکھا جائے تو یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ ان کے سر براہوں کے لئے کس قسم کے لوگوں کو منتخب کیا جاتا ہوگا اور اس سال بھی دو ایسے ہی اشخاص کی تعیناتی کی گئی ہے جو ان اداروں کی سربراہی میں اپنے پیشرووَں سے کسی طرح کم نہیں ۔ ان میں سے ایک اروند کمار ہے اور دوسرا سمنات گوئل ۔ اروند کمار کو آئی بی اور گوئل کو’’ را‘‘کا سربراہ بنایا گیا ہے یہ دونو ں انڈین سول سروس کے افسران ہیں ۔ ان میں گوئل جسے ’’را‘‘کے سربراہ کے طور پر تعینات کیا گیا ہے وہی شخص ہے جس نے اسی سال فروری میں پاکستان کے اندر بالاکوٹ پر ہوائی حملے کی منصوبہ سازی کی تھی یہ اور بات ہے کہ اُس کا حملہ اس بُری طرح ناکام ہوا کہ اس میں سوائے ایک کوئے کی جان کے کوئی اور جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہاں چند جلے ہوئے درخت ضرور نظر آئے جو بھارت کی ناکام منصوبہ بندی اور کاروائی کی کہانی سنا رہے تھے ۔ بہر حال گوئل پاکستان کے معاملات کا ماہر مانا جاتا ہے اور یہی اس تعیناتی کی وجہ ہے ویسے بالا کوٹ کی ناکامی کے بعد تو اُس کی نوکری کو ختم ہوجانا چاہئے تھا تاہم اُس کی حکومت شاید اُس کی مہارت کا مزید فائدہ اٹھانا چاہتی ہے یہ شخص 1990 کی دہائی میں بھارتی پنجاب میں خالصتان کی تحریک کو بے رحمی سے کچلنے میں بھی شامل تھا تو ظاہر ہے اس کے رویے میں سکھوں کے لئے اب بھی وہی سختی ہوگی جو تھی اور یوں پنجاب کیڈر کے اس افسر کا رول پنجاب میں بھی اہم رہے گا اور یہ اہمیت زیادہ تر منفی ہی ہوگی ۔ دوسری ایسی ہی تعیناتی اروند کمار کی ہے جس نے پرانے آئی بی چیف راجیو جین کی جگہ لی ہے اروند کے خصے میں کشمیر میں جو مظالم اورقتل ہوں گے وہ تو ہیں ہی ساتھ ہی نکسل باڑی تحریک کو کچلنے کے لئے اس نے کیا کیا ہوگا وہ الگ کہانی ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ علیحدگی پسند تحریکوں کی کوئی بھی حکومت پذیرائی کرے لیکن جس بر بریت کا مظاہر ہ بھارت اور خاص کر کشمیر میں ہوتا ہے اُس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ اور یہی اروند جیسے لوگ ہیں جو ان مظالم کے پیچھے ہوتے ہیں ۔ اروند نے انہی مظالم کی داد اپنی حکومت سے تمغوں کی صورت بھی پائی ہے اور اب اس عہدے کی صورت میں بھی پا لی ہے ۔ بہرحال اب دیکھیں بھارت ناکام تجربے کرنے والے ان دونوں افسروں کی سربراہی میں مزید کتنے تجربے کرتا ہے ان کے ناکام تجربوں میں ایک تو حالیہ بالاکوٹ پر حملہ تھا اور دیگر کاموں میں بھی انہیں کو ئی خاص کامیابی یوں نہیں ملی کہ نہ تو نکسل تحریک ختم ہوسکی اور کشمیر میں تو ہر نئے دن کے ساتھ آزادی کی تحریک مزید زور پکڑتی جارہی ہے، خالصتان کی راکھ میں سے بھی کوئی نہ کوئی چنگاری اٹھتی رہتی ہے تاہم ان جیسے افسر اپنی د رندگی کی تسکین کےلئے مزید اور مزید منصوبے بناتے رہتے ہیں کامیابی اور ناکامی کی پرواہ کیے بغیر اور اب بھی گوئل اور اروند دونوں سے یہی تو قع ہے بہر حال دیکھئے یہ دونوں مل کر اپنی اس تعیناتی کے دوران کیا کچھ کرتے ہیں جس کے بارے میں کسی بہتری کی توقع ہر گز نہیں ۔

جہادمذہبی فریضہ

جہاد اسلام میں ایک مذہبی فریضہ ہے بلکہ اسلام کی ساری عبادات مسلمانوں کو اس عظیم کام کےلئے تیار کرتی ہیں جس کا نام جہاد ہے ۔ صرف کلمہ پڑھ کر، نماز ادا کر کے، زکوٰۃ دے کر، رمضان کے روزے رکھ کر اور صاحب نصاب ہوتے ہوئے زندگی میں ایک بار حج کر کے بندہ مسلمانوں کی لسٹ میں توشمار ہو سکتا ہے مگر مومن تب بن سکتا ہے جب خلیفہ ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے جہاد فی سبیل اللہ کے حکم پر عمل کرے ۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا کلمہ بلند کرے ۔ مسلمان کو اللہ نے اپنی اس زمین پر خلیفہ بنایا ہے ۔ خلیفہ جیسے دنیوی حکومتیں اپنے اپنے ملک کے صوبوں میں گورنر تعینات کرتی ہیں ۔ کائنات اللہ نے بنائی ہے اور اس کو اللہ ہی چلا رہا ہے ۔ کائنات پر اللہ کی مکمل حکومت ہے ۔ زمین کو اللہ کی کل کائنات کا اگر ایک صوبہ تصور کریں تو یہ بات صحیح سمجھ آ سکتی ہے ۔ اس فلسفہ کو ذہن میں رکھیں کہ انسان اللہ کی زمین میں اللہ کا خلیفہ ہے ۔ اس کا کام اللہ کے قوانین کو اللہ کے بندوں پر نافذ کرنا ہے ۔ کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم ہو رہاہو تو ان کی مدد کے لیے اُٹھ کھڑا ہونا ہے ۔ اللہ نے جہاد فی سبیل اللہ کا حکم تب دیا ۔ جب کفار مکہ نے مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کرتے ہوئے گھروں سے نکال دیا ۔ مسلمان مکہ سے مدینہ مسلمان ہجرت کے مدینہ چلے گئے ۔ جب سے دنیا قائم ہے جہاد ہوتا رہا ۔ رہتی دنیا تک جہاد ہوتا رہے گا ۔ یہی کا م ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرتے رہے ۔ قرآن کے مطابق پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری بنی ہیں ۔ ان کے بعد کوئی نبی ;174; نے نہیں آنا ۔ لہٰذایہ کام امت مسلمہ نے کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا کہ’’اورتم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں ، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا(البقرۃ: ۰۹۱) جہاد کے معنی کسی مقصد کو حاصل کرنے کےلئے اپنی انتہائی کوشش کرنا ہے ۔ جنگ کےلئے تو قتال کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ مجاہد وہ ہے جو ہر وقت اللہ کے دین کو قائم رکھنے کے لیے جدوجہد کرتا رہے ۔ اس جدو جہد میں جان بھی چلی جائے تو خوشی سے برداشت کرلیتاہے ۔ دوسری جگہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:آخرکیاوجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں ، عورتوں اوربچوں کی خاطر نہ لڑو، جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں ، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے ۔ (سورۃ النساء:۵۷) کیا اب کئی ملکوں ، خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں ایسی صورت حال نہیں کہ مسلمانوں کو مار پیٹا جارہا ہے ۔ ان کی عورتوں کی عزتیں لوٹی جارہی ہیں ۔ ان کے نوجوانوں پر پیلٹ گنیں چلا کر اندھا کیا جارہا ہے ان کے مزاروں کو بارود سے اُڑایا جارہا ہے ۔ ان کی زرعی زمینوں ِ باغات اور رہائشی مکانات کو گن پاءوڈر چھڑک کر جلایا اور بارود نصب کر کے اُڑایا جا رہا ہے ۔ ہمارے پڑوس میں مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ۷۴۹۱ء سے بت پرست ہندو ظلم و ستم کے پہاڑتوڑ رہے ہیں ۔ کشمیر کے مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل نہیں کرنے دیا جارہا ۔ وہ کہتے ہیں آزادی کا مطلب کیا’’ لا الہ الا اللہ‘‘ ہم پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں ۔ وہ ہر سال پاکستان کے یوم آزادی کے میں شریک ہوتے ہیں ۔ بھارت کے یوم آزادی پر سیاہ جھنڈے لہر کر یوم سیاہ مناتے ہیں ۔ تکمیل پاکستان کی جد وجہد میں اب تک لاکھوں شہید ہو چکے ہیں ۔ فلسطین میں مسلمانوں کے گھروں پر یہودی نے ناجائز قبضہ کر لیا ہے ۔ ان کو گھروں سے نکال دیا ہے ۔ وہ دنیا میں تتر بتر ہو گئے ۔ جو فلسطینی، فلسطین میں یہودی قابض فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ مصر ، الجزائر،برما، چیچنیا،بوسینیا ، عراق، افغانستان اور عرب بہا ر کے موقع پر افریقی اور وسط ایشا کے مسلمان ملکوں میں استعمار نے دہشت گردی پھیلائی ۔ مظالم کی ایک لمبی کہانی ہے جو ایک مضمون میں مکمل نہیں ہوسکتی ۔ کیا حکمرانوں نے مسلمانوں پر اس ظلم و ستم ، سفاکیت اورتباہی کے متعلق کبھی تحقیق کی ہے ۔ مسلمانوں کو اپنی اصل کی طرف پلٹنا ہو گا ۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں نے بنو امیّہ کے دور حکومت میں نناویں (۹۹) سالوں کے اندر اندر اس وقت کے موجود، دنیاکے چار براعظموں کے بڑے حصہ پر اسلامی پرچم لہرا دیا تھا ۔ ان براعظموں کے مظلوم عوام پر اس وقت قیصر اور کسریٰ، یعنی روم ( مشرک عیسائی) اور مجوسیوں ( آتش پرست پارسی) کی حکومتیں تھیں ۔ مسلمان کی طاقت صرف اور صرف جہاد فی سبیل اللہ میں تھی ۔ جہاد فی سبیل اللہ کیا ہے;238; اسلام کا وسیع مطالعہ بتاتا ہے کہ قوم ،وطن، علاقوں پر علاقے فتح کرنے ، خزانوں حاصل کرنے کےلئے لڑائی جہاد فی سبیل اللہ نہیں ۔ یہ دنیا کےلئے لڑائی ہے بلکہ مسلمان، اللہ کا اس زمین پر خلیفہ ہونے کے ناطے مسلمانوں یا اللہ کے بندوں پر کہیں بھی جب ظلم و ستم ہو رہا ہو تا ہے، ان کی آزادی ور انصاف دلانے کےلئے لڑا جائے تو وہ جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔

بیرون ملک سے سفارشیں آرہی ہیں لیکن احتساب نہیں رکے گا، وزیراعظم

میانوالی: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جن کی گرفتاریاں ہورہی ہیں وہ باہر سے سفارشیں بھجوارہے ہیں، یہ لوگ جو مرضی کرلیں احتساب کا عمل نہیں رکے گا۔

میانوالی میں اسپتال کے سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ  آج کل شور مچایا جارہا ہے کہ احتساب سے لوگوں کو کیا فائدہ ہوگا؟ یہ بہت بڑا پراپیگنڈا ہے، ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، بدعنوانی کی وجہ سے ملک ترقی نہیں کرپا رہا، ماضی کے حکمرانوں نے ریکارڈ قرضہ حاصل کیا اور آج ہمیں اس قرضے پر سود دینے کے لیے قرضے لینے پڑرہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو مقروض کرنے والوں کا   جب تک احتساب نہیں ہوگا ،چوری نہیں رکے گی، احتساب وہ ہوتا ہے  جو چینی صدر نے اپنے ملک میں کیا ، چینی صدر نے کرپشن پر ساڑھے چار سو وزیروں کو جیل میں ڈالا اور یہی وجہ ہے آج چین دنیا میں سب سے زیادہ معاشی ترقی کرنے والا ملک بن گیا ہے، انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ملک کا پیسہ لوٹا ان کو جیل میں ڈالیں گے، ہم طاقتور طبقے کا احتساب کریں گے،  گرفتاریوں  اور احتساب پر مجھے طرح طرح کی دھمکیاں دے رہے ہیں،  یہ جو مرضی کر لیں ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ کہتے ہیں انتقامی کارروائی ہورہی ہے دراصل انتقامی کارروائی تو میرے خلاف کی گئی، جب پاناما لیکس پر میں نے آواز اٹھائی تو مجھ پر 32 ایف آئی آر درج کرائی گئیں، مجھ پر سپریم کورٹ میں 2 کیسز کیے گئے، میں بھاگانہیں، میں حلال کا پیسہ باہر سے پاکستان لایا اور منی ٹریل دے ، عدالت نے مجھے صادق و امین کہا لیکن جو لوگ آج شور مچارہے ہیں انہوں نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے، بلکہ جعلی دستاویزات پیش کیں اور مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں، ان کو جواب دینا پڑے گا، یہ لوگ جو مرضی کرلیں، جتنا مرضی شور مچائیں اور جتنی مرضی سفارشیں کروائیں  ہم چھوڑیں گے نہیں ۔

نیب نے شریف خاندان کے 150 بینک اکاؤنٹس منجمد کردیئے

اسلام آباد: نیب نے شریف خاندان کے مختلف بینکوں میں موجود 150 اکاؤنٹس منجمد کر دیئے۔

نیب نے شریف خاندان کے مختلف بینکوں میں موجود 150 اکاونٹس منجمد کر دئیے ہیں اور شہباز شریف، حمزہ شریف اور ان کے خاندان کے اکاونٹس میں موجود رقم منجمد کردی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب نے  بینکوں کو مراسلے لکھے تھے جن میں شہبازشریف، نصرت شہباز، حمزہ شہباز، سلمان شہباز، مہرالنسا، رابعہ عمران، عمران علی اورعائشہ ہارون کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کا کہا گیا تھا، جس پر بینکوں نے شہباز شریف، حمزہ شریف سمیت شریف خاندان کے دیگر افراد کے اکاؤنٹس میں موجود رقم منجمد کرکے اکاؤنٹس کی تفصیلات نیب کو فرا ہم کر دی ہیں۔

Google Analytics Alternative