Home » Author Archives: Admin (page 5)

Author Archives: Admin

وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ 

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر داخلہ، وزیر دفاع، وزیرخزانہ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ایئر چیف، نیول چیف اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان شریک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے ملکی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور افغان امن عمل اور خطے کی بدلتی صورتحال پر غور کیا جب کہ اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔

قومی سلامتی کمیٹی نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی سے خطے پر پڑنے والے اثرات پر بھی غور کیا اور اجلاس میں ایف اے ٹی ایف کے معاملے میں پیش رفت پر بھی جائزہ لیا گیا۔

‘گیم آف تھرونز’ کے اختتام سے مداح مایوس

امریکا کے معروف شہرہ آفاق فنٹیسی ڈرامہ ‘گیم آف تھرونز’ کا آخری سیزن کی آخری قسط رواں سال 19 مئی کو نشر ہوئی تاہم اس کے اختتام نے مداحوں کو بےحد مایوس کردیا۔

‘گیم آف تھرونز’ کا پہلا سیزن 2011 میں سامنے آیا تھا جس کے بعد سے دنیا بھر میں اسے بےحد پسند کیا گیا۔

اس شو کے 8 سیزنز ریلیز ہوئے، مداح ہر سیزن کے اختتام پر دوسرے سیزن کے جلد ریلیز ہونے کے لیے پرجوش رہتے تھے اور جب رواں سال اس شو کے آخری سیزن کے ریلیز کا اعلان کیا تو سب کو یہی لگ رہا تھا کہ یہ اس سیزن اس شو کا سب سے کامیاب سیزن ثابت ہوگا۔

تاہم سیزن کے نشر ہونے کے بعد ہی مداح ہر نئی قسط کے سامنے آنے کے ساتھ اس شو سے مایوسی کا اظہار کرتے رہے۔

تاہم سیزن کی آخری قسط کی ریلیز کے بعد شو کے اختتام سے مداح بےحد مایوس ہوگئے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مداحوں نے کہا کہ اس سیزن کی کہانی نہایت کمزور تھی، جبکہ انہیں اس کا اختتام بھی بالکل پسند نہیں آیا۔

ایک صارف نے لکھا ‘اس قسم کے فنالے کے بعد گیم آف تھرونز کے سیکوئل کی امید نہ رکھیں’۔

صارفین نے اس شو کے اختتام پر تھرون حاصل کرنے والے کردار ‘برین’ کا بھی مذاق اڑایا۔

کچھ مداح تو اپنی پسند کے اختتام کا خیال بھی سامنے لائے۔

جبکہ کئی صارفین کے مطابق اس سیزن کے اختتام سے بہتر انٹرنیٹ پر سامنے آنے والی میمز ہیں۔

جبکہ ان کا ماننا تھا کہ اگر شو کے تمام کردار تھرون حاصل کرنے کے لیے میوزیکل چیئر کا کھیل کھیلتے تو اس کا اختتام زیادہ بہتر ہوتا۔

خیال رہے کہ ‘گیم آف تھرونز’ میں ‘جون سنو’ کا کردار ادا کرنے والے اداکار کٹ ہیرنگنٹن نے اختتام سے چند روز قبل ہی مداحوں کو بتادیا تھا کہ اس ڈرامے کے اختتام سے ہر کوئی خوش نہیں ہوگا۔

ان کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ شہرہ آفاق ڈرامے کا اختتام اس طرح سےنہیں ہونا چاہیے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ جس ڈرامے نے 8 سے 7 سال کا وقت لیا، اس کا اختتام یوں نہیں ہونا چاہیے۔

یاد رہے کہ اس ڈرامے کی کہانی امریکی فنٹیسی ناول ‘اے سانگ آف آئس اینڈ فائر’ سے لی گئی ہے، اس ڈرامے کو ایچ بی او کے لیے ڈیوڈ بینیوف اور ڈی بی ویزز نے بنایا۔

ڈرامے میں امریکا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک کے اداکاروں نے کردار ادا کیے، جب کہ اس کی شوٹنگ بھی امریکا، یورپ،افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں کی گئی۔

تشدد کا نشانہ بننے والے 70 فیصد عام کشمیری ہیں

مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج اور سیکیورٹی فورسز گزشتہ 30 سال سے آزادی کی تحریک کو دبانے میں لگی ہیں ۔ کشمیریوں کو جسمانی اور ذہنی اذیت پہنچانے کے وہ تمام حربے استعمال کئے جا رہے ہیں جن کو عالمی قوانین کے تحت غیرانسانی اور غیرقانونی قرار دیا جاتا ہے ۔ بین الاقوامی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں تشدد کا نشانہ بننے والے 70 فیصد افراد عام شہری ہیں جنہیں کرنٹ لگا کر، لوہے کے راڈ سے مار کر اور جلانے سمیت مختلف طریقوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ مقبوضہ وادی میں قابض فوج کے مظالم پر مبنی رپورٹ ;34;ٹارچر: انڈیا سٹیٹ انسٹرومنٹ آف کنٹرول ان انڈیا ایڈمنسٹرڈ جموں اینڈ کشمیر;34; میں بین الاقوامی میڈیا بھی پھٹ پڑا ۔ رپورٹ کے مطابق کئی دہائیوں سے جاری اس ظلم وستم میں شہریوں پرمختلف طریقوں سے تشدد کیا جاتا ہے جن میں عریاں حراست میں لینا، آئرن راڈ، لیدر بیلٹ اور ڈنڈوں سے مارنا، زمین پر گھسیٹنا، پانی میں غوطے دینا، کرنٹ لگانا، چھت سے لٹکانا اور جسم کو جلانا شامل ہیں ۔ رپورٹ میں چار سو بتیس مختلف کیسز کا جائزہ لیا گیا جن میں تین سو ایک افراد خواتین، طلباء ، سیاسی کارکن، ہیومن راءٹس کارکن اور صحافیوں سمیت عام شہری شامل تھے ۔ رپورٹ کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران تشدد اور جنسی ہراساں کرنا عام ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 432 قیدیوں پر تشدد کے واقعات پر تحقیق کی گئی، ان میں سے 40 واقعات میں قیدی جسمانی تشدد سے ہلاک ہوئے ۔ 190 قیدیوں کو برہنہ کرکے تشدد کیا گیا ۔ 326 افراد کو ڈنڈوں ، لوہے کی راڈوں ، چمڑے کے ہنٹر اور بیلٹ سے مارا پیٹا گیا، ان میں سے 169 کو رولر ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا اور واٹر بورڈنگ کا حربہ 24 قیدیوں پر آزمایا گیا ۔ قیدیوں کے سروں کو پانی میں ڈبو کر تشدد کرنے کے 101 واقعات ہوئے، 231 کے جسم کے نازک حصوں پر کرنٹ لگایا گیا، 121 قیدیوں کو سر کے بل چھت سے لٹکایا گیا ۔ رپورٹ میں الزام ہے کہ گیارہ کشمیریوں کو طویل عرصے تک قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ۔ اکیس قیدیوں کو سونے نہیں دیا گیا اور 238 کو ریپ اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ تشدد کے ان انفرادی واقعات کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر شہریوں کو اجتماعی طور پر سزا دینے کے بھی طریقے بنا لیے گئے جن میں پوری پوری آبادیوں کا محاصرہ کر کے وہاں تلاشی کے بہانے گھروں میں گھس کر لوگوں پر تشدد کیا جاتا ہے اور خواتین کو ریپ کیا جاتا ہے ۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس طرح کے زیادہ تر واقعات منظر عام پر ہی نہیں آتے ۔ خطے میں فوج اور سکیورٹی فورسز کو خصوصی قوانین کے تحت قانونی تحفظ حاصل ہونے کی وجہ سے انسانی حقوق کی پامالی کے ایک بھی واقعہ میں ملوث کسی فوجی اور سرکاری اہلکار کو سزا نہیں دی جا سکی ہے ۔ فوج اور سکیورٹی فورسز کے علاوہ اخوان اور ولج ڈیفنس کمیٹیز کو بھی وقتاً فوقتاً انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شامل کیا جاتا رہا ہے ۔ خلیج گوانتامو اور عراق کے ابو غریب قید خانے میں انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات کے منظر عام پر آنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر ایسے واقعات کی پرزور مذمت کے باوجود بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پر کوئی بات نہیں کی گئی اور یہ بین الاقوامی نظروں سے اوجھل رہی ہے ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور لاپتہ افراد کے لواحقین کی تنظیموں نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ تشدد اور بربریت کا یہ سلسلہ وسیع پیمانے پر اب بھی جاری ہے ۔ ظلم و تشدد پررپورٹ میں ایک واقعہ بھی درج کیا گیا ہے جس میں اس سال مارچ کی انیس تاریخ کو مبینہ طور پر ایک مقامی سکول کے انتیس سالہ پرنسپل رضوان پنڈت کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیے جانے کے بعد کشمیر پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ کے کارگو کیمپ میں تشدد کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا ۔ تین دن کے بعد پولیس نے رضوان کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا جس میں الزام لگایا کہ رضوان پولیس کی حراست سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے مارا گیا ہے ۔ ہزاروں کشمیری بچے اپنے ماں باپ کا سایہ کھونے کے بعد یوں بے یارو مددگار پھر رہے ہیں کہ انہیں دیکھ کر پتھر دل اور بڑے سے بڑے سنگدل کا سینہ بھی ایک لمحے کو دہل جاتا ہے ۔ مگر بھارتی حکمران ہیں کہ اپنی سفاکی کے نتاءج دیکھ کر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے ۔ جانے یہ ٹولہ کس مٹی کا بنا ہوا ہے ۔ وگرنہ کوئی بھی معاشرہ کتنا بھی زوال پذیر کیوں نہ ہو جائے،وہاں کے سوچنے سمجھنے اور اہل شعور افراد کو یہ احساس ضرور ہوتا کہ ان کے حکمرانوں کے ہاتھوں جو لوگ رزق خاک ہو رہے ہیں وہ بھی انہی کی طرح گوشت پوست کے بنے ہوئے ہیں ۔ ان کے سینوں میں بھی دل دھڑکتا ہے اور ہر دھڑکن میں جانے کیسی کیسی خواہشات پوشیدہ ہیں ۔ یہ ناحق ماردیے جانے والے بھی کسی کے بیٹے تھے، کسی کے بھائی تھے اور کسی کی آنکھ کا نور اور دل کا قرار تھے ۔ آخر ان بے کسوں کو کس گناہ کی سزا دی جا رہی ہے ۔ کیا آزادی کا مطالبہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کا ارتکاب کرنے والوں کو یوں زندہ درگور کر دیا جائے ۔ کشمیری قوم صرف اسی گناہ کی تو مرتکب ہوئی ہے کہ عالمی رائے عامہ اور بھارتی حکمرانوں سے یہ کہہ رہی ہے کہ ایک کروڑ سے بھی کہیں زیادہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی اجازت دی جائے، جس کا وعدہ بھارت نے ساری دنیا کے سامنے کیا تھا ۔ ایسے میں ہندوستان کی یہ ریاستی دہشت گردی با لآخر کیا گل کھلائے گی

گوگل اے آئی پروگرام نے کینسر کی شناخت میں انسانی ماہرین کو مات دے دی

الینوائے: بیماریوں کی اکثریت کی طرح پھیپھڑے کے سرطان کو اگر ابتدائی درجے میں معلوم کرلیا جائے تو اس سے مریض کی جان بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس ضمن میں گوگل کے بنائے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) پروگرام کے ذریعے نہ صرف درست شناخت کی گئی ہے بلکہ پہلے درجے میں اس نے ماہرریڈیالوجسٹ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

مصنوعی ذہانت کی ترقی سے کئی شعبوں سمیت طب میں غیرمعمولی کام لیا جارہا ہے بالخصوص چھاتی، جلد اور بچہ دانی کے کینسر میں اے آئی سے مدد ملی ہے اور گزشتہ برسوں ایسے کمپیوٹر پروگراموں کی مدد سے بروقت اور درست تشخیص میں بہت مدد ملی ہے۔

اس کے لیے کمپیوٹرپروگراموں کو پہلے صحتمند اور کینسر سے متاثرہ مریضوں کے ہزاروں ایکس رے، اسکین اور تصاویر دکھائی جاتی ہیں جسے کمپیوٹر پڑھ کر اپنے پروگرام کی معلومات میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔ اس کےبعد ہزاروں تصاویر دیکھ کر خود کمپیوٹر پروگرام ایک ماہر بن جاتا ہے۔ ہزاروں طبی تصاویر اور اسکین دیکھنے کے بعد کمپیوٹر پروگرام ایسی معمولی تبدیلیاں بھی نوٹ کرسکتا ہے جسے انسانی آنکھ نظرانداز کردیتی ہے۔ اس طرح مرض کو ابتدائی درجے میں شناخت کیا جاسکتا ہے۔

گوگل اے آئی الگورتھم نے سینے کے 45 ہزار ایکسرے دیکھ کر اپنا ڈیٹا بیس اور پروگرام مرتب کیا جو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اور نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے لیے گئے تھے۔ ان میں کئی مریض کینسر کے مختلف درجوں پر تھے ۔ سافٹ ویئر نے سی ٹی اسکین کے تھری ڈی ماڈل بھی بنائے اور معمولی تبدیلیوں کو بھی نوٹ کرکے بیماری کی پیشگوئی بھی کی ۔  اس کی درستگی کا درجہ ایسا ہی تھا جو 6 ریڈیالوجی ماہرین کا بورڈ کرسکتا ہے۔ اپنے پورے عمل میں سافٹ ویئر نے 5 فیصد زائد کیس پکڑے اور غلط تشخیص کی شرح 11 فیصد کم ہوئی۔

تحقیقی جرنل نیچر میں چھپنے والی اس رپورٹ کو دیگر ماہرین نے بھی بہت سراہا ہے۔ اس پر کام کرنے والے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس سے کئی ایسے مریضوں میں بیماری کی شناخت میں مدد ملے گی جو اپنے مرض سے غافل ہیں اور اس طرح ان کی بروقت جان بچائی جاسکے گی۔

امریکی پابندیاں ایک طرف، آنر 20 سیریز کے 3 فونز متعارف

ہواوے کو اس وقت امریکی پابندیوں کا سامنا ہے مگر اس کمپنی نے ہمت نہیں ہاری اور اس کے ذیلی برانڈ آنر نے اپنے 3 نئے فلیگ شپ فونز متعارف کرادیئے ہیں۔

آنر 20، 20 پرو اور آنر 20 لائٹ کو لندن میں ایک ایونٹ کے دوران متعارف کرایا گیا۔

یہ دونوں فونز ایسے صارفین کو مدنظر رکھ کر تیار کی گئی ہیں جو کسی نئے فلیگ شپ فون کے لیے ایک ہزار ڈالرز (ڈیڑھ لاکھ پاکستانی روپے) خرچ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔

فیچرز کے لحاظ سے یہ کسی بھی فلیگ شپ فون سے کم نہیں مگر قیمت کے لحاظ سے کافی سستے قرار دیئے جاسکتے ہیں۔

آنر 20

فوٹو بشکریہ آنر
فوٹو بشکریہ آنر

اس فون میں 6.2 انچ کا ایف ایچ ڈی پلس آئی پی ایس ایل سی ڈی ڈسپلے دیا گیا ہے جبکہ کمپنی کا اپنا کیرین 980 پراسیسر اس کا حصہ ہے۔

اس کے علاوہ 6 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے۔

آنر 20 میں اینڈرائیڈ پائی آپریٹنگ سسٹم کا امتزاج کمپنی نے اپنے میجک یو آئی 2.1 سے کیا ہے جبکہ 3750 ایم اے ایچ بیٹری 22.5 واٹ سپرچارج فاسٹ چارجنگ سپورٹ سے لیس ہے۔

اس فون کے بیک پر 4 کیمروں کا سیٹ اپ موجود ہے جس میں سے مین سنسر 48 میگا پکسل کا ہے جس میں ایف 1.8 آپرچر دیا گیا ہے۔

دوسرا کیمرا 16 میگا پکسل سپر وائیڈ اینگل لینس ہے جس میں ایف 2.2 آپرچر اور 117 ڈگری فیلڈ آف ویو موجود ہے، 2 میگا پکسل ڈیپتھ کیمرا اور 2 میگا پکسل میکرو کیمرا دیا ہے جبکہ فون کے فرنٹ پر 32 میگا پکسل سیلفی کیمرا دیا گیا ہے۔

اس فون میں فنگر پرنٹ سنسر پاور بٹن میں ہی دیا گیا ہے جبکہ اس کی قیمت 499 یورو (84 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی ہے۔

آنر 20 پرو

فوٹو بشکریہ آنر
فوٹو بشکریہ آنر

یہ آنر 20 سے کچھ مختلف ہے اس کا ڈسپلے، پراسیسر، سیلفی کیمرا اور فنگر پرنٹ اسکینر تو آنر 20 پرو جیسا ہی ہے۔

مگر اس کے بیک پر موجود 48 میگا پکسل مین کیمرے میں او آئی ایس، اے آئی ایس اور ای آئی ایس سپورٹ کے ساتھ کسی اسمارٹ فون کیمرے میں سب سے بڑا آپرچر ایف 1.4 دیا گیا ہے۔

یہ جان لیں کہ آپرچر جتنا بڑا ہوگا، اس کا لینس اتنی ہی روشنی جذب کرسکے گا اور بہت کم روشنی میں بھی بہتر تصاویر لینا ممکن ہوسکے گا۔

اس کے علاوہ 16 میگا پکسل سپر وائیڈ انگل لینس، 8 میگا پکسل ٹیلی فوٹو لینس تھری ایکس زوم، فائیو ایس ہائیبرڈ زوم اور 30 ایکس ڈیجیٹل زوم کی سہولت فراہم کرتا ہے جبکہ 2 میگا پکسل میکرو لینس دیا گیا ہے۔

اس فون میں 4000 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے جبکہ اس کی قیمت 599 یورو (ایک لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی ہے۔

یہ فونز اگلے ماہ دنیا بھر میں فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

آنر 20 لائٹ

فوٹو بشکریہ آنر
فوٹو بشکریہ آنر

ان دونوں فلیگ شپ فونز کے ساتھ کمپنی کی جانب سے ایک ہلکا ورژن آنر 20 لائٹ بھی متعارف کرایا گیا۔

اس فون میں 6.21 انچ کا ایچ ڈی پلس ڈسپلے دیا گیا ہے جس میں ڈراپ نوچ، کیرین 710 پراسیسر اور 4000 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے۔

اس کے بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ موجود ہے جس میں 24 میگا پکسل، 8 میگا پکسل اور 2 میگا پکسل کیمرے سنسر ہیں جبکہ اس کی قیمت 299 یورو (50 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی ہے۔

اپوزیشن اتحاد یا بندوبست

کہا جا رہا ہے کہ اپوزیشن متحد ہو کر رمضان کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرے گی ۔ حکومت اپنی قبر خود کھود رہی ہے ۔ تبدیلی کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے ۔ تبدیلی کے نام پر قوم کو دھوکہ دیا گیا ۔ نیب کا ادارہ اپنی ساکھ کھو چکا ہے ۔ کچھ عناصر کہتے ہیں کہ یہ اتحاد این آر او کیلئے ہے جو ہی کچھ پیش رفت ہوئی یہ اتحاد پارہ پارہ ہو جائیگا ۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ کاش یہ اتحاد عوام کے مفاد کیلئے بھی ہوتا یہاں تو صاف ظاہر ہے کہ یہ اتحاد تمام سیاست دانوں کا اپنے مفاد کیلئے ہے ۔ کہتے ہیں کہ اعمال کا دار و مدار اس کے نتاءج پر ہوتا ہے عوام اس کا انتظار کریں کہ آیا یہ اتحاد عوام کو رپیش مسائل کیلئے ہے یا صرف اپنے مسائل کے حل کیلئے کچھ دنوں کے بعد اس کا اندازہ ہو جائیگا ۔ عوام کا حافظہ اتنا کمزور بھی نہیں ہے ۔ اس اتحاد کی ایک جھلکی عوام کو صدارتی انتخاب کے موقع پر بھی دیکھنے کو ملی تھی ۔ پیپلز پارٹی کے رہنماءوں نے کہا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں میں کوئی باقاعدہ اتحاد نہیں بلکہ محض ایک بندوبست ہے، الیکشن میں دھاندلی کے خلاف تمام جماعتیں اکٹھی ہوئی ہیں ، اسے اس طرح نہ پیش کیا جائے کہ ہم نے اتحاد بنایا تھا جسے توڑ دیا گیا، تاہم اپوزیشن کو متحد کرنے میں نہ پہلے کسر چھوڑی ہے نہ اب چھوڑیں گے، اعتزاز احسن کو امیدوار بنانا پی پی پی کا اپنا فیصلہ ہے، پوری کوشش تھی کہ اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار آئے ۔ مولانا فضل الرحمن سے ن لیگ کو اعتزاز احسن کے نام پر راضی کرنے کی گزارش کی تھی، لیکن وہ خود امیدوار بن گئے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ن لیگ پی پی پی کی مجبوریوں کا تاثر دے رہی ہے، بے نظیر اور آصف زرداری کے خلاف تمام کیسز نواز شریف نے بنوائے تھے، یہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد نہیں بلکہ صرف ایک بندوبست ہے، سب کا اپنا اپنا منشور ہے، اور کوئی ایک دوسرے کا منشور ماننے کے لیے تیار نہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کی معیشت تباہ ہے اور خزانہ خالی ہے ۔ بیرونی قرض چکانے کیلئے بھی کچکول کا سہارا لیا جارہا ہے کہ قسط ادا کیا جاسکے مگر یہ سب خرابی چند مھینوں کی نہیں گزشتہ تہتر برس کی بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے ۔ اس وقت جب کہ سی پیک کا ایک مرحلہ تکمیل کی طرف جا رہا ہے تو اس وقت قومی اتحاد کی ضرورت ہے ۔ یہ جاننا چائیے کہ عالمی سامراج کو سی پیک ہضم نہیں ہو رہا ہے اس وجہ وہ مختلف حربے استعمال کرا رہا ہے ۔ مختلف عنوانات سے لوگوں کو اپنے حق اور پاکستان کے قومی اداروں کے خلاف اکسا رہا ہے ۔ ٰیہ امر اطمینان بخش ہے کہ پاکستان کے مقتدر ادارے اپنے فیصلے خود کرنے لگے ہیں ورنہ ماضی کی یہ ایک روایت رہی ہے کہ پاکستان میں اپوزیشن نے ہمیشہ برملا طور پر امریکہ کو پاکستان کا نا اعتبار دوست ٹھہرایا ہے ،لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے امریکہ کی چھتری میں حکومت کرنے میں اپنی عافیت سمجھی ہے ۔ اس تناظر میں یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ روز اول سے ہم سامراج کے حق میں استعمال ہوئے ہیں اور آج بھی سامراج ہ میں کھلونا بنانے پر تلا ہوا ہے اور ایک تسلسل کے ساتھ ہم آگے کے جانب بڑھ رہے ہیں اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اتحادی کے طور پر مشہور ہیں ، اور سرمایہ دارانہ نظام کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں ۔ یہ کہنا کہ موجودہ حکمران اس راستے پر چل پڑے ہیں درست نہیں ان کے لیئے تو اس راستے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے ملک کو موجودہ ڈگر پر چلانے کیلئے اسے بھر حال اس راستے پر چلنا ہوگا جس کے نقوش ماضی کے حکمرانوں نے چھوڑے تھے ۔ ہمارے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے مئی 1950;247;ء کو امریکہ کا وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت سے اپنا پہلا دورہ کیا تھا اس دورے کا مقصد انہوں نے پاکستان کیلئے دفاعی امداد کا حصول قرار دیا تھا جس کیلئے اکتوبر 1947;247;ء میں پاکستان امریکہ سے مطالبہ کر چکا تھا آئندہ پانچ سال کی ضروریات کے لئے پاکستان کو امریکہ کی طرف سے دو ارب ڈلر کی امداد کی ضرورت ہوگی چنانچہ وزیر اعظم لیاقت علی خان اس عزم اور ارادے سے امریکہ کے دورے پر روانہ ہوئے تھے اور بظاہر کامیاب لوٹے تھے ۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اپنے پہلے دورے میں امریکی حکام سے اپنی بات چیت میں انہیں یہ باور کرایا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سرمایہ دارانہ نظام معیشت سے جڑا رہے گا اور اس نظام کے استحکام کے لیئے امریکہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرتا رہیگا اور انہوں نے امریکہ کو یہ بھی یقین دلایا کہ’’ ہم جانتے ہیں کہ آپ جارحیت کا مقابلہ کرنے کا عزم کر چکے ہیں اس کام میں آپ پاکستان کو اپنا دوست پائینگے ‘‘ چنانچہ ان کی اس یقین دہانی کے بعد پاکستان کا ہر حکمران ان کے اس عہد کو نبہانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرسکتا ہے اور اس طرح پاکستان اور امریکہ کی دوستی قائم اور دائم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا سفر جاری ہے ۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جنوبی کے حوالے سے امریکی قومی سلامتی کونسل نے جنوری 1951;247;ء کو یہ قراداد منظور کر کی تھیاور اس وقت کے امریکی صدر ٹرومین نے اس پر دستخط ثبت کئے تھے کہ ہ میں جنوبی ایشا میں ایک ایسا رویہ چائیے جو امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی اس بات میں مدد کریں زمانہ امن میں جن چیزوں کی خواہش ہوتی ہے انہیں اور اور زمانہ جنگ میں جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کو اس علاقے سے حاصل کر سکےں اور ان میں سے کوئی چیز سویت یونین حاصل نہ کر سکے ۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کے اس قراداد کی روشنی میں اگر اپنی گزشتہ ساٹھ سالہ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ نے جنگ اور امن ہر دو حالات میں ہ میں استعمال کیا ہے اگرچہ امریکہ نے ہ میں فوجی امداد دی اور اقتصادی قرضے بھی عنایت کئے لیکن اس کے بدلے میں ہماری آذادی سلب کی گئی اور ہ میں آلہ کار بنا کر اس نے ہ میں کمیونزم کے خلاف استعمال کیا اور سویت یونین کا راستہ روکنے کی کوشش کی اس طرح امریکہ نے دو فوائد حاصل کئے ایک یہ کہ اس نے یہاں اپنا معاشی اور سیاسی تسلط قائم کیا اور دوسرا یہ کہ اس نے سویت یونین کے خلاف ہ میں استعمال کیا اور زبردست کامیابی حاصل کی ۔ ;247;ہمارے پہلے وزیر اعظم کے پہلے دورہ امریکہ کے بعد اسی سال میں امریکہ کے ساتھ پاکستان کا فوجی ساز وسامان خریدنے کا معاہدہ ہوا اور اس کے دو سال بعد مزید معاہدات ان دونوں دوستوں کے درمیان طے پاگئے اور یوں دوستی کا سفر جاری ہوا جو آج تک جاری ہے اور آج بین الاقوامی دنیا میں ہماری شناخت بھی امریکہ کے دوست کی حیثیت سے مشہور ہے اور یہ ہماری پہچان ہے اور اس دوستی میں مزید گرم جوشی اس وقت پیدا ہوئی جب پاکستان 1;576247;ٗ;247;ٗ;247;ء کو کا ممبر بنایا گیا اور ایک سال بعد 1;577247;ء میں سینٹو کا رکن بنا ان معاہدات میں شمولیت سے ہم امریکہ کے تو قریب ہوگئے مگر پڑوسیوں کی نظروں ہم ناقابل اعتبار ٹھرگئے ہمارا تعارف سامراج کیلیے ایک آلہ کار کی حیثیت سے مشہور ہوا سامراجی مفادات کو اپنا نصب العین بناکر اپنے خطے کے ممالک کو ہم نے اپنادشمن بنا لیا اور یوں ہمارا ملک ناعاقبت اندیش اور آلہ کار قیادت کی وجہ سے سامراج کے حق میں خوب استعمال ہو اور تسلسل کے ساتھ یہ سلسلہ جاری ہے ۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سامراجی طاقتوں نے ہمیشہ فرعونی طرز سیاست کو اپنا کر اپنے عزائم کے پورا کیا ہے ،فرعون نے بھی تقسیم کرو اور حکومت کرو اوالہ فارمولا اپنایا تھا اور اسی فارمولے پر ہر دور میں سامراج نے بھی خوب عمل کیا ہے چنانچہ امریکہ نے ایک طرف کمیونزم کا ہوا کھڑا کر کے اس کا راستہ روکنے کیلئے کسی دور میں انتہا پسند مذہبی تحریکوں جماعتوں کی آکی نشوونماں کی اور انہیں پروان چڑھایا اور انہیں اسلحہ اور بود وباش فراہم کی سرد جنگ کے دوران امریکہ نے یہ حربہ خوب اپنایا جو کامیاب رہا اور جو بھی راستہ میں مزاحم ہوا اسے منظرہی سے ہٹادیا گیا اور یا عوام الناس میں اسکی حیثیت ہی مشکوک بنادی گئی جیسے سعودی عرب کے شاہ فیصل اور پاکستان میں ذولفقار علی بھٹواور صدام حسین جیسے لیڈروں کو راستے سے ہٹادیا گیا اور مصر کے جمال عبد الناصر فلسطینی لیڈر یاسر عرفات اور شام کے حافظ الاسد کی کردار کشی کی گئی اور ان کے خلاف محاذ کھڑا کیا گیا اور ان پر فتوے وغیرہ داغے گئے ر انہیں مطعون کیا گیا ۔ ایک طرف امریکہ نے تقسیم کرنے کی پالیسی اپنائی اور دوسری طرف اس نے ہماری معیشت کو نشانہ بنایا اور ملک کی سیاست کو کمزور کیا اس مقصد کیلئے اس نے اپنے سیاسی اور بیوروکریسی کو آ لہ کار کے طور پر استعمال کیا ہماری سیاست امریکہ کی تابع ہوگئی اور اور معاشی طور پر ہم مفلوج ہوگئے امداد اور قرضوں کے نام پر ہمارا استحصال کیا گیا اور یوں غریبوں کے نام پر حاصل کیا گیا قرضہ ملک کی غربت کا باعث ہوا ملک کی مصنوعات کو فیل کردیا گیا اور پورا ملک ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تابع ہوگیا اور یوں امریکہ کے ساتھ ہمای دوستی کی پینگی ہمارے گلے کا روگ بن گیا اور محتاجی ہمارا مقدر ٹھہر گئی اور اب جبکہ حالات نے پلٹاکھایا ہے اور ہمارے فیصلے خود ہونے لگے ہیں سی پیک سے سامراج کو زک پہنچ رہی ہے اور اس کا میڈیا چیخ رہا ہے دیکھتے ہیں حالات کیا پلٹا کھاتے ہیں ۔ اور اپوزیشن کے موجودہ کردار کو ہم بندوبست کا نام دیں یا اتحاد کا نام اور اگر یہ اتحاد ہے تو یہ اتحاد کیا عوامی مفاد کیلئے ہے یا صرف این آرو کے حصول اور نیب سے اپنی جان چھڑانے کیلئے۔۔۔!

پاک بھارت مقابلہ، سیکیورٹی خدشات منتظمین کے اعصاب پر سوار

مانچسٹر: ورلڈ کپ میں پاک بھارت مقابلے سے قبل سیکیورٹی خدشات منتظمین کے اعصاب پر سوار ہوگئے۔

ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ 16 جون کو اولڈ ٹریفورڈ مانچسٹرمیں ہوگا، ایک برطانوی اخبار کے مطابق میچ کی سیکیورٹی کیلیے انتظامیہ نے منصوبہ بندی شروع کردی ہے، مسلح اہلکاروں کوکسی بھی خطرے کے پیش نظر تعینات کیا جائے گا۔

اس مقابلے کیلیے جوش و خروش کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 25 ہزار ٹکٹوں کیلیے 5 لاکھ سے زائد لوگوں نے درخواست دی تھی،دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بھی اس میچ کی اہمیت کو بڑھا رہی ہے، اگرچہ حکام نے اس مقابلے کیلیے کی جانے والی سیکیورٹی منصوبہ بندی پر اپنے ہونٹ سختی سے بند کررکھے ہیں۔

یہ بات واضح ہے کہ ورلڈ کپ کے دوسرے میچز کی بانسبت اس میچ کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کی غیرمعمولی تعداد تعینات ہوگی۔گریٹرمانچسٹر کی پولیس کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اس مقابلے کی اہمیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی دہشتگرد کارروائی بھی کرسکتا ہے، اس لیے اسٹیڈیم کی چاروں جانب سے سخت نگرانی کی جائے گی۔ آفیسرز اس دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی صورتحال پر بھی نظر رکھیں گے۔

ابھی تک ایسی کوئی انٹیلی جنس موصول نہیں ہوئی جس میں کراؤڈ میں کسی بھی قسم کی بدنظمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہو کیونکہ میدان میں موجود 80 فیصد شائقین کی تعداد برطانیہ میں بسنے والے لوگوں کی ہوگی۔ 2017 میں انہی دونوں ممالک کے درمیان اوول میں چیمپئنز ٹرافی کا فائنل بھی خیروعافیت سے منعقد ہوا تھا۔

پولیس مقامی پاکستانی اور بھارتی کمیونٹی کے درمیان صورتحال کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاہم دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باوجود مانچسٹر میں مقیم تارکین وطن میں کسی قسم کی نفرت نہیں پائی جا رہی۔

مقامی انتظامیہ کی جانب سے فی الحال سیکیورٹی انتظامات کے بارے میں کوئی تفصیل ظاہر نہیں کی گئی، البتہ یہ بات یقینی ہے کہ اسٹیڈیم کے داخلی راستوں پر بھی سخت انتظامات ہوں گے جبکہ کسی بھی قسم کی بدنظمی پر فوری قابو پانے کیلیے بھی سریع الحرکت پولیس یونٹ بھی موجود ہوگا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان میچ سے قبل شہر میں بھارتی شائقین کی جانب سے ایک کنسرٹ کے انعقاد کا بھی امکان ہے، پاک بھارت میچ دکھانے کیلیے مانچسٹر کے کیتھیڈرل گارڈنز میں بڑی اسکرین بھی نصب کی جائے گی، یہاں پر بھی 3 ہزار سے زائد شائقین کی آمد کا اندازہ ہے اس لیے بھی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں گے۔

کرکٹ وشوبزستاروں کا معصوم ’فرشتہ‘ کے قاتل کوعبرتناک سزادینے کا مطالبہ

وفاقی دارالحکومت میں معصوم فرشتہ کے ساتھ زیادتی اوربہیمانہ تشدد کے بعد قتل کے واقعے نے پورے ملک سمیت شوبزوکرکٹ ستاروں کو بھی آبدیدہ کردیا ہے۔

15 مئی کوچک شہزاد سے لاپتہ ہونے والی 10 سالہ معصوم فرشتہ کی تشدد زدہ لاش گزشتہ روز اسلام آباد میں جنگل سے برآمد ہوئی۔ درندہ صفت قاتلوں نے بچی کے ساتھ نہ صرف زیادتی کی بلکہ شدید  تشدد کا نشانہ بناکر بہیمانہ طریقے سے قتل کردیا۔ زینب کے بعد ایک اور حواکی بیٹی کی زخموں سے چور لاش دیکھ کر نہ صرف فرشتہ کے والدین بلکہ پورے ملک پرسکتہ طاری ہوگیا۔ شوبز و کرکٹ ستاروں نے بھی فرشتہ کے ساتھ ہوئی زیادتی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قاتلوں کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

گلوکاروسیاستدان جواد احمد نے معصوم فرشتہ کے ساتھ ہوئی زیادتی وقتل کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا میں لاہور میں رہتا ہوں لیکن میرا تعلق پاکستان کے ہر صوبے سے ہے۔ میرا دل خیبرپختونخواہ اورفاٹا میں رہتا ہے۔ جواد احمد نے کہا کہ جس طرح میں نے زینب کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا تھا اسی طرح ننھی فرشتہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتا ہوں۔ بچیوں کے ساتھ زیادتی ناقابل یقین ہے۔ فرشتہ کی تصویر نے میرادل خون کردیا ہے۔ فرشتہ کے گنہگاروں کو گرفتار کرکے انہیں سخت سے سخت سزادی جائے۔

پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے معصوم فرشتہ کے ساتھ زیادتی و قتل پرافسوس کا اظہارکرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں درندوں کو لگام دینے کی ضرورت ہے۔ ایک کے بعد ایک کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور تشدد کے واقعات سامنے آرہے ہیں، اس سلسلے میں قوانین سخت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان درندوں کو عبرت کا نشان بنایاجاسکے۔ خدارا کچھ کریں!!

نامور اداکار فیصل قریشی نے شاہد آفریدی کا یہی ٹوئٹ ری ٹوئٹ کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اورننھی فرشتہ کے لیےانصاف کا مطالبہ کیا۔

اداکارہ ماہرہ خان نے فرشتہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین سے درخواست کی کہ ننھی فرشتہ کی تشدد زدہ لاش کی تصویر کو شیئر کرنا بند کریں۔

اداکار و میزبان حمزہ علی عباسی نےقرآن کی ایک آیت کا ترجمہ شیئر کیا جس میں زمین میں فساد پھیلانے والوں کے لیے دردناک سزاکا ذکر کیا گیا ہے۔ اس آیت کا حوالہ دیتے ہوئے حمزہ علی عباسی نے ننھی فرشتہ کے قاتل کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

Google Analytics Alternative