Home » Author Archives: Admin (page 5)

Author Archives: Admin

وزیراعظم سے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی ملاقات

 اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے ملاقات کی ہے جس میں پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے قبل آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ملکی سلامتی اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال سمیت افغان امن عمل میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور پلوامہ خودکش حملے کے بعد بھارتی دھمکیوں سے متعلق معاملات بھی زیر غور آئے۔

آغا سراج درانی یکم مارچ تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

کراچی: احتساب عدالت نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو یکم مارچ تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔

نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو کراچی کی احتساب عدالت میں پیش کیا، نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ آغا سراج پرآمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا الزام ہے، معاملہ انکوائری اسٹیج پر ہے اس لیے تفتیش کے لیے آغا سراج درانی کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے آغا سراج درانی کو 8 روز کے لیے نیب کی تحویل میں دے دیا۔

دوران سماعت آغا سراج درانی نے گھر کے کھانے، ادویات اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی درخواست دے دی جس پرعدالت نے ریمارکس دیئے کہ جن ادویات کی آپ کوضرورت ہے وہ لکھ کردے دیں، عدالت آرڈر جاری کردے گی۔

پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران سراج درانی نے کہا کہ میں بینظیر بھٹو کا جیالا ہوں، مجھے نہیں پتا کہ یہ کیا ڈرامہ تھا، مجھے انکوائری میں بلایا ہی نہیں تو کہاں سے تعاون کروں، میرے گھر میں میرے بچوں کو بند کرکے 6 گھنٹے کارروائی کی گئی، میرے گھر کی بے حرمتی کی گئی۔

واضح رہے کہ آغا سراج درانی کو گزشتہ روز اسلام آباد کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا ، مقامی عدالت سے نیب نے ان کا 3 روزہ راہداری ریمانڈ لیا تھا۔ انہیں گزشتہ رات اسلام آباد سے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔

‘پاکستان میں کوئی بھی جنسی ہراساں کرنے کے خلاف کھل کر بات نہیں کرتا‘

معروف ماڈل و اداکارہ ایمان سلیمان نے پاکستانی شوبز انڈسٹری کے افراد اور عام عوام کی سوچ کو قدرے ایک جیسا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی جنسی ہراساں کرنے والے افراد کے خلاف کھل کر بات نہیں کرتا۔

ماڈل نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں کسی واقعے کا ذکر کیے بغیر سماج اور شوبز انڈسٹری کی خاموشی پر بات کی اور لوگوں کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ کوئی بھی طاقتور کے خلاف آواز بلند نہیں کرتا۔

ماڈل و اداکارہ نے شوبز انڈسٹری کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اس کا حصہ بننے والی شخصیات جنسی طور پر ہراساں کرنے والے افراد کے خلاف کھل کر سامنے نہیں آتیں۔

ایمان سلیمان نے اپنے سمیت عام افراد کو بھی غلط لوگوں کے خلاف آواز بلند نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہم سب کی خاموشی ہی ظالموں کو ہمت بخشتی ہے۔

ایمان سلیمان نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ پاکستان میں کسی بھی طاقتور کا احتساب ممکن نہیں، کیوں کہ ہم سے زیادہ تر افراد غلط کام کرنے والے افراد کے خلاف آواز ہی نہیں اٹھاتے۔

ماڈل و اداکارہ کا کہنا تھا کہ جب بھی کسی کو جنسی ہراساں کرنے کا واقعہ سامنا آتا ہے تو ہم میں سے زیادہ تر افراد اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ اس واقعے میں کون صحیح ہے کون غلط؟

ایمان سلیمان کے مطابق عوام کی جانب سے طاقتور اور ظالم کے خلاف کھل کر بات نہ کرنے کے باعث ہی وہ ظالم شخص مزید طاقتور بن جاتا ہے اور اسی طرح ہم سب غلط روایت کو مدد بھی فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔

ایمان سلیمان نے اپنی پوری پوسٹ میں کسی بھی واقعے اور کسی بھی شخص کا نام لیے بغیر شوبز انڈسٹری پر بھی کڑی تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ کوئی بھی غلط شخص کے خلاف آواز بلند نہیں کرتا۔

ایمان سلیمان نے عام افراد کو بھی خاموش رہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا—فوٹو: انسٹاگرام
ایمان سلیمان نے عام افراد کو بھی خاموش رہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا—فوٹو: انسٹاگرام

اسپیکر اور ان کے خاندان کو نیب کی دہشتگردی سے نہیں بچاسکا، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ افسوس ہے کہ صوبے کا وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے بھی اسپیکر اور ان کے خاندان کو نیب کی دہشت گردی سے نہیں بچاسکا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو کل اسلام آباد کے ہوٹل سے گرفتار کیا گیا، جہاں وہ ایک تقریب میں شرکت میں گئے تھے اور کل شام میں ان کی واپسی تھی اور انہیں گرفتار کرنے کے بعد اسلام آباد میں نیب عدالت میں پیش کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ نیب نے آغا سراج درانی کا 7 دن کا راہداری ریمانڈ طلب کیا جو سمجھ سے باہر ہے لیکن جج نے انہیں صرف 3 دن کے راہداری ریمانڈ کی اجازت دی جس کے بعد انہیں کراچی لے کر آگئے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ’یہ کہا جاتا ہے کہ آغا صاحب کے اوپر اختیارات سے تجاوز کے الزامات ہیں کہ انہوں نے سندھ اسمبلی میں نوکریاں دیں اور بھی مختلف الزامات ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ نیب کے پاس اتنے ثبوت موجود تھے کہ سراج درانی واقعی کرپشن میں ملوث ہیں تو انہیں گرفتار کرکے شام 5 بجے کے بعد نیب نے آغا سراج درانی کے گھر پر دھاوا کیوں بولا ،ان کے ملازمین کو زد وکوب کیا، دیواریں پھیلانگ کر دروازے توڑ کر گھر میں داخل ہوئے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ گھر میں کوئی مرد موجود نہیں تھا، ان کی اہلیہ، بہو اور 3 بیٹیاں گھر میں موجود تھیں،جنہیں گھر سے نکال کر لان میں کھڑا کیا گیا، ہمارے وزرا نے احتجاج کیا کہ اگر ان کی ضرورت نہیں ہے تو انہیں چھوڑ دیں لیکن نیب کے اہلکار اس بات پر نہیں مانے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ خواتین نے ہمیں بتایا کہ 3،4 گھنٹے سے ہم یہاں محصور ہیں ہم نہیں جانتے کہ اندر کیا ہورہا ہے، ہم نے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ آغا سراج درانی کے گھر والوں سے بات ہوئی، مجھے یہ کہتے ہوئے نہایت افسوس ہے کہ اس صوبے کا وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے بھی اسپیکر اور ان کے خاندان کوہم نیب کی دہشت گردی سے نہیں بچاسکے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا کہ خواتین سے انتہائی بدتمیزی کی گئی، ان سے پوچھا گیا کہ تہہ خانہ کہاں ہے جبکہ گھروالوں نے کہا کہ گھر میں تہہ خانہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کے افسران سگریٹ پی رہے تھے،ایک بچی نے منع کیا کہ سگریٹ نہیں پیئں مجھے تکلیف ہورہی ہے تو اس کے منہ پر دھواں چھوڑا کہ تمہیں پتہ نہیں ہے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں روایت ہے کہ دشمن بھی قبضے میں آئے تو ان کے بھی حقوق ہوتے ہیں، لیکن نیب کے لوگ 6،7 گھنٹے ان کے گھر میں رہے،عجیب عجیب فقرے کستے رہے، کافی دیر صوفوں پر بیٹھ کر سگریٹ پیتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین گھرمیں اندر تھیں، ہمارا ان سے کوئی رابطہ نہیں تھا، ان کے موبائل فون چھین لیے گئے تھے، آغا سراج درانی کے گھر والوں سے دستاویزات پر زبردستی دستخط کروائے گئے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ میں چیئرمین نیب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے ماتحتوں کے اس کام کا سخت نوٹس لیں، انہیں سزا دیں جنہوں نے خواتین کے ساتھ ایسا سلوک کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے چیئرمین نیب سے بات کی کوشش کی میں کامیاب نہیں ہوسکا، کہا گیا کہ 5 منٹ میں نکل رہے ہیں اس میں بھی ڈیڑھ گھنٹہ لگا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی بیٹی سے ایک دستاویز پر دستخط کروائے گئے کہ دستخط نہیں کریں گے تو ہم نہیں جائیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں چیئرمین نیب سے درخواست کروں گا کہ ان کے ماتحت ان کا اور ادارے کا نام خراب کررہے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ چیئرمین نیب سپریم کورٹ کے جج رہ چکے ہیں انہیں قانون کا علم ہے، قانون کو، چادر اور چار دیواری کو ایسے پامال کیا گیا تو انہیں سب سے پہلے اپنا گھر درست کرنا چاہیے اور ان افراد کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ان کہ جہاں تک آغا سراج درانی پر الزامات کی بات ہے ہم ان الزامات کا مقابلہ کریں گے،آصف زرداری 11 سال کسی الزام ثابت ہوئے بغیر جیل میں رہے، شرجیل میمن جیل میں ہیں ان پر بھی الزامات ثابت نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ قائم مقام اسپیکر شہلا رضا نے قومی اسمبلی کا اجلاس کل 2 بجے طلب کیا ہے جس میں آغا سراج درانی کی گرفتاری اور خواتین کے ساتھ جو نازیبا سلوک کیا گیا ہم اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں کہوں گا کہ کم از کم اگر میرا کوئی ماتحت کچھ کرے گا تو میں کارروائی کروں گا، پولیس نے ایک غلط اقدام کیا تھا جس پر میں نے ایکشن لیا، اس صوبے میں کچھ بھی ہوتا ہے، میں ذمہ دار ہوں۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ قائم مقام اسپیکر نے آغا سراج درانی کے پروڈکشن آرڈر جاری کردیے ہیں، نیب، آئینی تقاضوں کو پورا کرے اور آغا سراج درانی کو کل اجلاس میں آنے کی اجازت دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم مقدمات یا احتساب سے نہیں ڈرتے، ہم احتجاج کا حق رکھتے ہیں لیکن کسی کی تذلیل کرنا خاص طور پر فیملی کی تذلیل کرنا یہ انسانیت سے گری ہوئی حرکت ہے جو نیب کے افسران نے کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے علم ہوا کہ نیب کے افسران کے ساتھ 2 خواتین بھی تھیں جن میں سے ایک خاتون کی طبیعت خراب ہوئی وہ بیٹھ گئیں تو آغا صاحب کی اہلیہ نے اپنی بیٹی سے کہا کہ ان کی شوگر لو ہوگئی ہے کوئی میٹھی چیز یا کولڈ ڈرنک دے دو۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ فرق ہوتا ہے عزت دار لوگوں میں اور ان میں جو نیب کا نام خراب کرنے والے لوگ ان کے گھر میں گھسے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر نیب کے پاس آغا صاحب کے لیے اتنا مواد موجود تھا کہ انہیں گرفتار کرنے پہنچ گئے تو پھر چھاپے کی کیا ضرروت تھی۔

مراد علی شاہ نے تحریک انصاف کے وزیر علیم خان کا نام لیے بغیر کہا کہ پنجاب میں بھی ایک وزیر کو گرفتار کیا گیا ان کے گھر تو چھاپہ نہیں مارا گیا، ان پر بھی یہی الزامات عائد ہیں ان کے لیے قانون الگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن سے بھی رابطہ کررہے ہیں،ان سے درخواست کررہے ہیں کہ وہ ہمارا ساتھ دیں کیونکہ یہ پوری اسمبلی کا معاملہ ہے ، ہمیں امید ہے وہ ہمارا ساتھ دیں گے خاص طور پر جو آغا سراج درانی کے خاندان کے ساتھ ہوا، اس کی مذمت کریں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ یہ واقعہ چیئرمین نیب کے علم میں ہوگا،میں التجا کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ چیئرمین نیب فی الفور قدم اٹھائیں گے۔

بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو منہ کی کھائے گا،سابق بھارتی چیف جسٹس

نئی دہلی: بھارت کے سابق چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے کہا ہے کہ پاکستان جوہری طاقت ہے یہ کوئی مذاق بات نہیں۔

بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے کہا کہ پاکستان سے بدلہ لینے کی باتیں ہورہی ہیں، پاکستان جوہری طاقت ہے یہ کوئی مذاق بات نہیں اور پاکستانی فوج بھی تیار ہے، ایل او سی عبور کی تو منہ توڑ جواب بھی مل سکتا ہے۔

مرکنڈے کاٹجو نے کہا کہ بھارتی سیاست دانوں نے کشمیر پر عوام کو بے وقوف بنایا ہے، یہ حقیقت ہے کہ کشمیری عوام بھارت کے خلاف کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کی مسلح افواج سرحدوں اور کنٹرول لائن کی حفاظت کرنے کی اہل ہیں۔ بھارتی قیادت نے عشروں پر محیط اپنی غیر حقیقی اور ظالمانہ پالیسیوں سے کشمیریوں خصوصاً نوجوانوں کو مزاحمت پر اکسایا اور بھارت کا دشمن بنایا۔

کرپشن الزامات ۔۔۔سپیکرسندھ اسمبلی آغاسراج درانی کی گرفتاری

adaria

حکومت نے یہ مصمم ارادہ کررکھا ہے کہ اس نے کسی بھی قسم کی کرپشن کو معاف نہیں کرنا، چاہے وہ مالی کرپشن ہو یا آمدن سے زائد اثاثوں کا معاملہ ہو ۔چونکہ یہ ایک ایساناسورہے جوگزشتہ سترسالوں سے اس ملک کے رگ وپے میں بس چکا ہے ۔کبھی حکمرانوں نے اسے کوئی صورت دے کرمعاف کیاتوکبھی کوئی اورحیلے بہانے بنادیئے۔ مگر وزیراعظم عمران خان نے سیاست میں قدم رکھتے ہوئے اپنایک نکاتی ایجنڈا متعارف کرایا جو کہ کرپشن کے خلاف تھا۔ وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے یہ ثابت کردیا کہ احتساب کراس دابارڈر ہوگا ۔کرپٹ افراد کاتعلق چاہے اقتدار سے ہو، اپوزیشن سے ہو یا کسی بھی طبقہ ہائے فکر زندگی سے ہو، سب کے سب پابندسلاسل ہوں گے اور انہیں قرارواقعی سزابھی دی جائے گی۔اس سلسلے میں حکومت نے اداروں کو بھی خودمختاربنایا جب گزشتہ روز اسلام آباد سے آمدن سے زائداثاثے بنانے کے الزام میں سپیکرسندھ اسمبلی آغاسراج درانی کو گرفتارکیاگیاتو اپوزیشن اور سندھ حکومت کی حکمران پارٹی پیپلزپارٹی نے ایسے لگاکہ جیسے بھونچال آگیاہو۔ تمام اپوزیشن نے یک زبان ہوکرحکومت اورنیب کو ہدف نشانہ بنایا اور کہاکہ جمہوریت کوخطرات لاحق ہیں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے تویہاں تک کہاکہ پاکستان میں کون سے جنگل کاقانون نافذ ہے ۔نیب نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے واضح کردیاکہ ان کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں اور نیب کاماٹوکرپشن کے حوالے سے زیروٹالرنس ہے ۔ نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو اسلام آباد سے گرفتار کرنے کے بعد احتساب عدالت میں پیش کر کے ان کا 3روزہ راہداری ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔ نیب ترجمان کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو کراچی نے نیب راولپنڈی اور نیب ہیڈ کوارٹرز کے انٹیلی جنس ونگ کی معاونت سے آغا سراج درانی کو گرفتار کیا، ملزم پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔نیب کافی عرصے سے آغا سراج درانی کے خلاف تحقیقات کررہا ہے۔ انہیں نیب کے دفتر منتقل کردیا گیا۔ بعد ازاں نیب نے سپیکر سندھ اسمبلی آغاسراج درانی کو غیرقانونی اثاثہ جات ریفرنس میں احتساب عدالت کے جج محمدبشیر کے روبرو پیش کیاگیا، آغا سراج درانی اور ان کے خاندان کے گیارہ افراد کے خلاف اثاثوں کی تحقیقات چل رہی ہیں، ان کی کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں جائیدادیں ہیں، جن کی وضاحت نہیں دی گئی۔ نیب کی جانب سے 7دن کے راہداری ریمانڈ کی استدعاکی گئی تھی، جس پر احتساب عدالت نے آغاسراج درانی کا 3روزہ راہداری ریمانڈ منظور کرلیا اور ملزم کو3دن بعد کراچی کی متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ ہاؤس آتے ہوئے راہداری میں سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسے کرپشن میں گرفتار کیا جاتا ہے وہ نیلسن منڈیلا بنتا ہے۔ علاوہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کامیابی سے معاشی بحران سے نکل رہا ہے۔ سعودی ولی عہد کا دورہ کامیاب رہا۔ احتساب میں کسی کو رکاوٹ نہیں ڈالنے دیں گے۔ اپوزیشن کو گرفتاریوں پر جمہوریت یاد آجاتی ہے۔ ملک کوجلد ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ جمہوریت کوکوئی خطرہ نہیں ہے۔ احتساب جاری رہے گا اور رکے گا نہیں۔ اگر ہم نے اپنے آپ کو تبدیل نہ کیا تو آئندہ ہمارے حالات مزید مشکل ہوتے جائیں گے،منی لانڈرنگ کرنے والے قومی مجرم، کسی رعایت کے مستحق نہیں ٹیکس دہندگان ہمارے لئے وی آئی پی ہیں، ٹیکس نہ دینے والوں کو بھی اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہوگا ٹیکس ریٹ نہیں ٹیکس نیٹ بڑھائیں گے ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ٹیکس کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔ ماضی کے اربوں پتی حکمرانوں نے اپنے گھر ٹیکس کے پیسے سے چلائے قوم کو بتائیں گے کہ ان کا وزیر اعظم کابینہ اور ارکان پارلیمنٹ ٹیکس دے رہے ہیں۔ دریں اثنا اقوام متحدہ نے کامیاب نوجوان پروگرام کیلئے 30 ملین ڈالرز فنڈز کا اعلان کر تے ہوئے کہاکہ پاکستان کے ساتھ مل کر نوجوانوں کی ترقی کیلئے کام کریں گے اور منصوبے کے تحت 2 لاکھ نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے گا۔ نیز وزیراعظم عمران خان سے برطانوی کنزرویٹو پارٹی کی رہنما سعیدہ وارثی نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی،وفد نے کرپشن کے خاتمے اور گڈ گورننس کیلئے حکومتی اقدامات کی تعریف کی جبکہ معاشی چیلنجز پر قابو پانے کیلئے کئے گئے حکومتی اقدامات کو سراہا،وزیراعظم عمران خان نے بھارتی جنگی جنون اور بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر ڈھایا جانے والے مظالم پر وفد کو آگاہ کیا۔

پلوامہ حملہ۔۔۔قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور
پلوامہ حملے کے بعد بھارت تو جیسے اپنے ہوش وہواص بھی گنوابیٹھاہے،مودی نے اپنی انتخابی مہم کیلئے خودساختہ حملے کرانے کے بعد پاکستان پرالزام تراشی کرکے دنیاکو یہ باور کرانے کی ناکام کوشش کی کہ ان مذموم کارروائیوں میں پاکستان ملوث ہے لیکن مودی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو تنہاکرنے میں ناکام رہا اور خود ہی اپنے گرداب میں پھنس گیا۔خصوصی طورپر بھارت کو اس وقت منہ کی کھاناپڑی جب اس نے سعودی ولی عہد سے پلوامہ حملے کے حوالے سے کچھ نہ کچھ پاکستان کے خلاف کہلواناچاہا لیکن سعودی ولی عہد نے کچھ بھی نہیں کہا اور سعودی وزیرخارجہ نے تو بھارتی منہ توڑتے ہوئے کہاکہ جب ثبوت ہی نہیں تو پھرپاکستان پرالزام کیسے عائد کیاجائے۔انہی حالات سے بوکھلاکر اورناکامی دیکھتے ہوئے بھارت نے حیدرآباد کی جیل میں مقیدپاکستانی قیدی کوپتھرمارمارشہیدکردیا۔اس سلسلے میں بھارت میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن نے اظہارتشویش کرتے ہوئے انڈین جیلوں میں قید پاکستانی قیدیوں کاتحفظ یقینی بنانے کاکہا۔ نیزقو می اسمبلی نے مقبو ضہ کشمیر میں پلوامہ حملے کو پاکستان کے ساتھ جو ڑنے کے حوالے سے بے بنیاد بھارتی پراپیگنڈا کو سختی سے مستر د کرتے ہوئے بھارتی پراپیگنڈے کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان بھارت کی جانب سے پلوامہ حملے کے فوری بعد کسی بھی بغیر کسی تحقیقات کے پاکستان کے خلاف الزامات کی شدیدمذمت کرتا ہے، پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کے خلاف پاکستان کے عزم کا غلط اندازہ نہ لگایا جائے،مسئلہ کشمیر ایک عالمی مسلمہ تنازعہ ہے او ریہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث حل طلب ہے ۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بھارت کی جانب مقبو ضہ کشمیر میں پلوامہ میں بھارتی ریزور پولیس فورس پر حملے کا لنک پاکستان کے ساتھ جو ڑنے کے حوالے سے بے بنیاد پراپیگنڈا کے خلاف قرار داد ایوان میں پیش کی اور پڑھی۔ متن میں کہا گیا کہ بے بنیاد بھارتی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ ایوان پلوامہ حملے کے فوری بعد کسی بھی تحقیقات کے بعد فوری طور پر ردعمل اور پاکستان کے خلاف الزامات کی شدیدمذمت کرتا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنی ظالمانہ کاروائی بند کرنے کے بجائے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دینے کے بجائے پلوامہ حملے کا الزام پاکستان پر لگا کر مقبوضہ کشمیر میں جاری ان ظالمانہ کاروائیوں سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ بھارت مسلسل کنٹرول لائن کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔

حکومت سندھ کے تمام الزامات بے بنیاد اور جارحانہ پروپیگنڈے کا حصہ ہیں، نیب

اسلام آباد: نیب اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیب کا ہرقدم قانون کے مطابق ہوتا ہے جب کہ حکومت سندھ  کے تمام الزامات بے بنیاد اور جارحانہ پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اسپیکر سندھ اسمبلی  کی گرفتاری اور ان کے گھر پر چھاپہ مارنے پر قومی احتساب بیورو کو شدید  تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ نیب اہلکار دیواریں کود کر سراج درانی کے گھر میں داخل ہوئے اور چادر و چادر دیواری کا تقدس پامال کیا،  سراج درانی کے خلاف کرپشن کے ثبوت تھے تو گرفتاری کے بعد نیب ٹیم کو ان کے گھر پر چھاپا نہیں مارنا چاہیے تھا۔

نیب نے حکومت سندھ کی جانب سے لگائے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت سندھ کے تمام الزامات بے بنیاد اورجارحانہ پروپیگنڈے کاحصہ ہیں اور نیب پر دہشت گردی کا الزام افسوسناک ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیب کا ہرقدم قانون کے مطابق ہوتا ہے، مجازعدالت سے اجازت لی جاتی ہے، گرفتاری کی ٹھوس وجوہات پرعدالت ریمانڈ دیتی ہے۔ نیب بھی ہر شخص کی عزت نفس پر مکمل یقین رکھتا ہے، چادر اور چار دیواری کا تقدس اولین ترجیح ہے، کسی کے اہل خانہ کے ساتھ بدسلوکی یا چادر چاردیواری پامال کرنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ نیب نے مجاز عدالت سے سرچ وارنٹس حاصل کرنے کے بعد خواتین اہلکاروں کے ہمراہ آغا سراج درانی کے گھر کارروائی کی، نیب کی کارروائی اور اختیارات کا استعمال قانون کے مطابق تھا۔

 

بچوں کو پولیو کے قطرے کیوں نہیں پلائے؟ فواد خان نے خاموشی توڑدی

کراچی: اداکار فواد خان نے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے نہ پلانے پر اپنے خلاف مقدمہ درج کئے جانے پر خاموشی توڑ دی ہے۔

گزشتہ روز  لاہور میں  فواد خان کے خلاف بچوں کو پولیو کے قطرے نا پلانے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا جب کہ پاکستان میں پولیو مہم کے فوکل پرسن بابر عطا نے سوشل میڈیا پر فواد خان کی اہلیہ صدف کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا ’’مسزفواد خان اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوائیں کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک کا ہر بچہ پولیو سے محفوظ رہے۔ ‘‘

تاہم اب اس حوالے سے فواد خان کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جس وقت پولیوٹیم ان کے گھر آئی اس وقت  فواد خان اور ان کی اہلیہ گھر پر موجود نہیں تھے۔ فواد خان ان دنوں پاکستان میں موجود نہیں ہیں وہ 13 فروری کو پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیےدبئی گئے تھے اور اس وقت وہ امریکا میں ہیں۔ انہیں ایف آئی آر سے متعلق میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا ہے۔

فواد خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ملک میں جاری پولیو مہم کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اس کے علاوہ وہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ہدایات سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ میری بیٹی کو حفاظتی ٹیکے وقت پر لگائے جاتے ہیں اور اس کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔  فواد خان اس واقعے کے خلاف ان کی شہرت کو ٹھیس پہنچانے پر مناسب کارروائی کرنے کا مکمل اختیار رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ لاہور کے فیصل ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں پولیو رضاکاروں کے ساتھ تعاون نا کرنے پر فوادخان سمیت 6 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیاگیاتھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ اداکار کی جانب سے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیا گیا تھا اور سرکاری کام میں مداخلت کرنے پر فواد خان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

Google Analytics Alternative