Home » Author Archives: Admin (page 50)

Author Archives: Admin

پی آئی اے اور نجی ایئرلائنز نے عید سے پہلے کرایوں میں اضافہ کردیا

کراچی: پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) اور نجی فضائی کمپنیوں نے کرایوں میں اضافہ کردیا ہے اور فضائی ٹکٹوں کی بلند اڑان کی وجہ سے عید کے موقع پر مسافروں کو سفر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عالمی منڈی میں جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی بے قدری کے باعث پی آئی اے سمیت نجی ایئرلائنز نے اچانک کرایوں میں اضافہ کردیا ہے۔ فضائی کمپنیوں نے لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور کے درمیان چلنے والی پروازوں کے کرائے بڑھا دیے ہیں۔

پی آئی اے کے لاہور سے کراچی کے دوطرفہ ٹکٹ کی قیمت 34 ہزار روپے سے زیادہ ہوگئی، ائیربلیو کا لاہور سے کراچی کا ریٹرن ٹکٹ 35 ہزار پانچ سو روپے میں فروخت ہونے لگا، سیرین ائیر کا لاہور سے کراچی کا دو طرفہ کرایہ 39 ہزار پانچ سو روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ائر لائن نے ٹکٹوں میں اضافہ اپریل کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا ہے۔

واضح رہے کہ دو ماہ قبل لاہور سے کراچی کا ریٹرن ٹکٹ 28 ہزار روپے میں دستیاب تھا۔

ہانیہ عامر نے عالیہ بھٹ کو اپنی کامیابی کی وجہ قرار دے دیا

کراچی: اداکارہ ہانیہ عامر نے بالی ووڈ اداکارہ عالیہ بھٹ کو اپنی کامیابی کی وجہ قرار دے دیا۔

ہانیہ عامر نے اپنے ایک انٹرویو میں عالیہ بھٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بہت سارے پراجیکٹ حاصل کرنے کے پیچھے عالیہ بھٹ بنیادی وجہ رہیں کیوں کہ اگر کسی پروڈیوسر کو معصوم دکھنے والی نوجوان ڈمپل لڑکی کی ضرورت ہوتی تو انہیں پتا ہوتا ہے کہ انہیں مجھے کہاں تلاش کرنا ہے۔

ہانیہ عامر نے یہ بھی کہا کہ عالیہ بھٹ جب ایک مشہور برانڈ کے لیے سامنے آئیں تو اسی کمپنی نے مجھے بھی پاکستان میں نمائندگی کے لیے منتخب کیا اسی وجہ سے میں عالیہ بھٹ کی بہت شکر گزار ہوں، اگر میری کبھی اُن کی ملاقات ہوئی تو شاید مجھے ایسا لگے کہ میں جیسے چاند پر پہنچ گئی ہوں۔

ہانیہ عامر نے شوبز میں کام کرنے سے متعلق بتایا کہ شوبز میں میری انٹری درحقیقت ایک اتفاق ہے کیوں کہ میں اپنی تعلیم میں مصروف تھی اور میڈیا یا بزنس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن دوران تعلیم مجھے پروڈیوسر کی جانب سے کال موصول ہوئی اور میں سب چھوڑ چھاڑ کر آڈیشن دینے چلے گئی۔

بھارت میں بارودی سرنگ دھماکے میں سیکیورٹی فورسز کے 11 اہلکار زخمی

رانچی: بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران بارودی سرنگ دھماکے میں 11 اہلکار زخمی ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ کے ضلع کوچائی کے جنگلات میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے خصوصی یونٹ ’کوبرا‘ اور پولیس کا مشترکہ آپریشن جاری تھا کہ بارودی سرنگ زوردار دھماکے سے پھٹ گئی۔

بارودی سرنگ دھماکے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں میں سے 8 اہلکار کا تعلق خصوصی یونٹ کوبرا سے ہے جب کہ 3 پولیس اہلکار ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں 3 اہلکاروں کی حالت نازک بتائی گئی ہے

اس علاقے میں علیحدگی پسند اور ماؤ نواز باغیوں کا تسلط ہے اور بارودی سرنگ دھماکا بھی انہی میں سے کسی ایک کی جانب سے کیا گیا ہے۔ علاقے میں مزید نفری کو طلب کرکے سرچ آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ماؤ نواز باغیوں کی جانب سے کارروائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، حالیہ الیکشن کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی کو ان کے محافظوں سمیت دھماکے میں ہلاک کردیا گیا تھا جب کہ دیگر دو واقعات میں درجن سے زائد اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

شمالی وزیرستان واقعے پر قومی اسمبلی میں گرما گرمی، اپوزیشن کا واک آؤٹ

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران شمالی وزیرستان واقعے پر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان شدید گرما گرمی ہوئی جس کے بعد حزب اختلاف نے کارروائی کا واک آؤٹ کردیا۔ 

قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے ہر دور میں غلطیاں کیں، ہم نے مشرقی پاکستان میں غلطیاں کیں، ریاست کو ماں کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبر پختونخوا سے کراچی اور گوادر تک ہمارے مسائل حل نہیں ہو رہے ۔ پچاس کی دہائی سے بلوچستان میں انتشار جاری ہے، بلوچستان میں ہر 4 ،5 دن بعد دہشت گردی ہو رہی ہے، بلوچستان میں اکبر بگٹی کی شہادت سے ایک المیہ پیدا ہوا ، سرحد پار ایسے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جو ہمارے دشمنوں کے آلہ کار ہیں، فالٹ لائنز کو درست نہ کیا تو پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی جنگ میں فاٹا سب سے زیادہ متاثر ہوا ، ہم نے اپنی پراکسی وارز کے لئے ان کا رسم و رواج اور تشخص تباہ کردیا ، ہماری ذمہ داری ہے فاٹا کو قومی دھارے میں لائیں، اب آئینی اور قانونی طور پر فاٹا کا تشخص بدل چکا ہے، فاٹا انضمام سرتاج عزیز کی کمیٹی کی رپورٹ پر ہوا ، چند روز قبل ایک متفقہ آئینی ترمیم کو منظور کیا گیا جو نجی بل تھا، افسوس کچھ عناصر اب سینیٹ سے اس بل کی متفقہ منظوری نہیں چاہتے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ فاٹا کو جنگ میں دھکیلنے کا خمیازہ پتا نہیں کتنی نسلیں بھگتیں گی، فاٹا کے لوگوں سے سیاسی طریقے سے بات چیت کرنا چاہیے، کل جو واقعہ ہوا ہے اس کی تفصیلات میں نہیں جاؤں گا کیونکہ وہ افسوسناک ہیں، ہماری دھرتی پر خون کسی کا بھی گرے وہ انتہائی افسوس ناک ہے، کل کے واقعے پر 2 ارکان قومی اسمبلی کے نام سامنے آرہے ہیں، کہا جارہا ہے کہ کل کے واقعے پر ایک ایم این اے گرفتار اور دوسرا فرار ہے۔ بلوچستان اور فاٹا کے معاملات سیاسی طور پر حل کیے جائیں، وزیراعظم کا اس سلسلے میں بیان اب ناگزیرہے۔

رہنما مسلم لیگ (ن) کی تقریر پر وفاقی وزیر مراد سعید نے جواب میں کہا کہ سابق حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہم بے گھر ہوئے، ان سب کا احتساب کرنا ہوگا جنہوں نے فاٹا کو ترقی نہ دی۔ ہم بھارتی جہاز گرا رہے تھے اور یہاں ایک پارٹی کا لیڈر بھارتی موقف بیان کررہا تھا، ہم دشمن کے طیارے گراتے ہیں یہاں کسی اور کے بیانیے کی بات ہوتی ہے، نقیب اللہ محسود کا قاتل راؤ انوار آج کہاں ہے، بلاول بھٹو زرداری کو بتانا چاہتا ہوں کہ راوٴ انوار تمہارے باپ کا بہادر بچہ ہے جب کہ نقیب اللہ کی شہادت کے بعد ہی پی ٹی ایم بنی تھی۔

مراد سعید نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں جو واقعہ ہوا اس کی فوٹیجز موجود ہیں، محمود اچکزئی اور محسن داوڑ تو سرحد پر خاردار تاریں لگانے کے خلاف تھے ، یہ لوگ نہیں چاہتے تھے ہماری سرحدیں محفوظ ہوں، افغانستان سے ’را‘ اور ’این ڈی ایس‘ کا گٹھ جوڑ یہاں دہشت گردی کرتا ہے، محسن داوڑ جواب دیں کہ ان کا افغان خفیہ تنظیم این ڈی ایس سے کیا تعلق ہے ورنہ ان کو بے نقاب کردوں گا۔ اب پاک فوج کو گالیاں دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

مراد سعید کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے شور شرابا شروع کردیا اور نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے واک آوٴٹ کردیا۔

عدالت نے پی ٹی ایم رہنما علی وزیر کو 8 روز کیلیے سی ٹی ڈی کے حوالے کردیا

پشاور: پی ٹی ایم کے ایم این اے علی وزیر کو 8 روز کے لیے سی ٹی ڈی کے حوالے کردیا گیا۔

گزشتہ روز پاک آرمی کی چیک پوسٹ پر حملہ کرنے والے پی ٹی ایم کے ایم این اے علی وزیر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت بنوں میں پیش کیا گیا جہاں اے ٹی سی جج نے علی وزیر کو 8 روز کے لئے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کردیا اور بعد ازاں علی وزیر کو پشاور منتقل کردیا گیا۔

واضح ہے کہ گزشتہ روز پی ٹی ایم رہنما محسن داؤڑ اور علی وزیر کی قیادت میں خار قمر چیک پوسٹ پر حملے میں پاک فوج کے 5 جوان زخمی ہوئے تھے جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں حملہ کرنے والے تین افراد مارے گئے تھے۔

سرکاری بلٹ پروف گاڑیوں کا استعمال؛ نیب کی نواز شریف سے تفتیش

لاہور: سرکاری بلٹ پروف گاڑیوں کے استعمال پر نیب کی ٹیم نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے جیل میں تفتیش کی ہے۔

نیب کی 4 رکنی ٹیم سابق وزیراعظم نواز شریف سے سرکاری بلٹ پروف گاڑیوں کے استعمال کے بارے میں تفتیش کے لیے کوٹ لکھپت جیل پہنچی، نیب ٹیم میں ایڈیشنل ڈائریکٹرحمادحسن نیازی اور ڈپٹی ڈائریکٹرانویسٹی گیشن عبدالماجد سمیت 2 نیب اہلکار شامل تھے جہاں انہوں نے سابق وزیراعظم سے سرکاری گاڑیوں سے متعلق تفتیش کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی ٹیم نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے سوال کیا کہ بلٹ پروف گاڑیاں کب اور کیسے، کتنی رقم سے خریدی گئیں، کیا آپ کو معلوم تھا کہ خریداری میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں، نواز شریف نے کہا کہ تین بار وزیر اعظم رہا، قوم کی خدمت کی، ملک کو لوڈشیڈنگ کے اندھیروں سے نکالا اور ایٹمی قوت بنایا آج تک جو بھی کیا ملک و قوم کے مفاد میں کیا

ذرائع کے مطابق نیب ٹیم نے سوال کیا کہ آپ پر الزام ہے کہ آپ نے بلٹ پروف گاڑیوں کو اپنے ذاتی استعمال میں لا کر قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا ہے، سابق وزیراعظم نے کہا کہ الزام لگانے والے تو کوئی بھی الزام لگا دیتے ہیں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر بھی نکال دیتے ہیں، قوم کے ایک ایک روپے کی حفاظت کی ہے موٹروے بنائی پاکستان کی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا کوئی غلط کام کرنے کا سوچا بھی نہیں۔

نیب ٹیم نے نواز شریف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپ پر لگنے والے الزام کی حقیقت تک پہنچنا ہے جو بھی آپ کا جواب ہے وہ آپ ہمیں بتا دیں تاکہ قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھا سکیں، نواز شریف نے کہا کہ جب سے جیل میں ہوں مجھے اپنی صحت کی فکر بھی لاحق ہے لیکن پاکستان کی فکر سب سے زیادہ ہے، مجھے اطلاعات مل رہی ہیں کہ عوام کو ریلیف کی تلاش ہے لیکن حکمران ریلیف دینے کی بجائے الزامات لگا رہے ہیں۔

نیب ذرائع کے مطابق جرمنی سے 33 بلٹ پروف گاڑیاں غیر قانونی خریدی گئیں، بلٹ پروف گاڑیاں سارک کانفرنس 2016 کے مہمانوں کیلئے تھیں تاہم گاڑیاں نواز شریف اور مریم نواز نے استعمال کیں جب کہ 33 میں سے 20 گاڑیاں نواز شریف نے اپنے قافلے میں شامل کیں۔

چینی نائب صدر کا کامیاب دورہ پاکستان

چین کے نائب صدر وانگ کشان اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچے جہاں ائیر پورٹ پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار نے ان کا استقبال کیا ۔ وانگ کشان نے اسلام ;200;باد میں فرینڈز ;200;ف سلک روڈ سیمینار میں بھی شرکت کی جس کے بعد وہ ایوان صدر گئے جہاں پر ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز دینے کی تقریب ہوئی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چینی نائب صدر کو پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز’’نشان پاکستان‘‘ سے نوازا ۔ بعد ازاں چین کے نائب صدر ایوان وزیراعظم پہنچے جہاں وزیراعظم نے معزز مہمان کا استقبال کیا ۔ دونوں رہنماءوں کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی جس کے بعد پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنے کی تقریب منعقد کی گئی ۔ پاکستان اور چین نے معاشی، تکنیکی امور اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں تعاون کے ایم او یوز پر دستخط کیے ۔ پاکستان اور چین کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات میں وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی وفد اور چینی نائب صدر وانگ چی شن نے چینی وفد کی قیادت کی ۔ حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ دونوں رہنماءوں نے دو طرفہ تعلقات کے امور، علاقائی صورتحال سمیت جنوبی ایشیا میں حالیہ واقعات پر تبادلہ خیال کیا اور تمام شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ اعلامیے کے مطابق اسٹریٹیجک تعاون اور شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ چین کا روڈ اینڈ بیلٹ منصوبہ قابل تحسین ہے، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ پائیدار ترقی اور خطے کے درمیان رابطوں کیلئے انتہائی موثر ہے ۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے لیے پرعزم ہیں ، اقتصادی راہداری سے زراعت، صنعتی، سماجی و معاشی ترقی کو فروغ ملے گا ۔ چینی نائب صدر وانگ چی شن کا گرمجوش استقبال اور میزبانی پر وزیر اعظم سے اظہار تشکر کیا اور پاک چین دو طرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ چینی نائب صدر کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی اور سماجی بہبود کےلئے پرعزم ہیں ۔ چینی نائب صدر نے ہمسایہ ملکوں سے تعاون اور امن کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابی قابل تحسین ہے ۔ چینی نائب صدر کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور یہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب خطے میں امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ ایک نئی جنگ کی تیاری کی جارہی ہے اور پاکستان بھی اندرونی معاشی دباءو کا شکار ہے، یہی وجہ ہے کہ چینی نائب صدر کا دورہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر بنانے کیلئے بھرپور حمایت کے پس منظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ چینی نائب صدر خارجہ امور کے پس منظر میں چینی صدر اور وزیراعظم کے بعد قائدانہ شخصیت کے حامل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ چینی نائب صدر کے دورہ پاکستان سے چینی سفارتکاری میں پاکستان کی اہمیت کا اظہار ہوتا ہے اور اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چین اپنی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو انتہائی اہمیت دیتا ہے ۔ پاک چین دوستی ہر آزمائش پر پوری اترتی آئی ہے اور دونوں ممالک کی قیادت ہمیشہ سے اس دوستی کو مزید بلندی پر لے جانے کے عزم کا اظہار کرتی آئی ہے اور کررہی ہے جس کا واضح ثبوت سی پیک کی شکل میں موجود ہے، سی پیک چین کیلئے جہاں اہم ہے وہیں پاکستان کیلئے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے، سی پیک سے نہ صرف ملک میں بھاری سرمایہ کاری آرہی ہے بلکہ پاکستان میں نئے اقتصادی زونز اور صنعتیں قائم کی جارہی ہیں ان صنعتوں سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوگا جس سے پاکستان کی معاشی صورتحال انتہائی بہتر ہونے کی امید ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے دشمن ممالک کو سی پیک ایک آنکھ نہیں بھاتا اور وہ ہروقت سی پیک کو سبوتاژ کرنے کیلئے سازشوں میں مصروف رہتے ہیں مگر پاک چین قیادت ان سازشوں کا ڈٹ کر نہ صرف مقابلہ کررہی ہے بلکہ ہر روز پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ سی پیک پر کام کیا جارہا ہے اور اس منصوبے کو وسعت دی جارہی ہے ۔ چونکہ پاکستان واحد اسلامی ریاست ہے جو ایٹمی طاقت کے ساتھ بھرپور جنگی صلاحیت رکھتی ہے جوکہ دشمنان پاکستان کو کھٹکتی رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا ہمسایہ ملک بھارت پاکستان کی امن خواہش کے باوجود پاکستان کیخلاف ہر وقت سازش میں مصروف رہتا ہے اور سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے پاکستان میں دہشت گردی جیسے گھناءونے کھیل کھیل رہا ہے جس کی واضح مثال کلبھوشن یادیو ہے جوکہ ایک بھارتی جاسوس ہے اور پاکستان میں گرفتار ہے ۔ امریکہ کو بھی سی پیک ایک آنکھ نہیں بھاتا اور وہ اس منصوبے کی کھل کر مخالفت کرتا ہے، اب چونکہ بھارت اور امریکہ کا آج کل گٹھ جوڑ چل رہا ہے جس میں بھارت اسرائیل دوستی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ایسی صورتحال میں امریکہ کی خلیج فارس میں موجودگی بھی کئی خدشات کو ظاہر کرتی ہے کہ کہیں امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کے بہانے سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے تو خطے میں موجود نہیں اور امریکہ بھارت گٹھ جوڑ سی پیک کے تناظر میں کوئی نئی سازش نہ تیار کررہا ہو ایسی صورتحال میں چینی نائب صدر کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ پاکستان کو دونوں آنکھیں کھلی رکھنی ہوں گی اور ملک دشمنوں کی ہر سازش کوناکام بنانا ہوگا جس کیلئے سفارتکاری بہترین ہتھیار ہے، پاکستان کو اپنی فوجی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ سفارتکاری پر بھی بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

فوجی چیک پوسٹ پر حملہ خالصتاً ملک دشمنی ہے

شمالی وزیرستان میں بویا سکیورٹی چیک پوسٹ پر ایک گروہ نے محسن جاوید داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں 5 اہلکار زخمی ہوگئے ۔ آئی ایس پی آر کے جاری بیان کے مطابق خرقمر چیک پوسٹ پر حملے کا مقصد گزشتہ روز گرفتار کیے جانے والے مبینہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو چھڑوانے کے لیے دباءو ڈالنا تھا ۔ چیک پوسٹ میں موجود اہلکاروں پر براہ راست فائرنگ کی گئی جس پر اہلکاروں نے تحفظ کے لیے جواب دیا ۔ جوابی کارروائی میں 3 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 10 زخمی ہوئے ۔ واقعے کے بعد علی وزیر سمیت 8 افراد کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ محسن جاوید داوڑ ہجوم کی آڑ میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔ ممبران قومی اسمبلی کی جانب سے فوجی چیک پوسٹ پر حملہ انتہائی تشویشناک اور ملک دشمنی ہے، اگر علی وزیر اور محسن داوڑ کو کچھ شکایات تھیں تو وہ فوج کے سامنے اپنے مطالبات رکھ سکتے تھے، اگر بٹالین ہیڈ کوارٹر میں مسئلہ حل نہ ہوتا تو ڈویژن ہیڈ کوارٹر میں شکایت درج کراسکتے تھے اگر وہاں بھی ان کے مطالبات پورے نہ ہوتے تو آرمی چیف کے سامنے بھی مطالبات رکھے جاسکتے تھے اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہوتا تو وزیراعظم عمران خان والا آپشن موجود تھا اگر یہاں بھی شنوائی نہ ہوتی تو پارلیمنٹ میں اپنی آواز بلند کرسکتے تھے غرض علی وزیر اور محسن داوڑ کے پاس بہت سے ایسے در تھے جن کے ذریعے وہ اپنے مسائل حل کراسکتے تھے یا پھر اپنی آواز بلند کر سکتے تھے مگر یوں ایک شرپسند جتھے کے ساتھ سادہ لوح قبائلیوں کو گمراہ کرکے اپنے ساتھ ملا کر فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کرنا خالصتاً ظاہر کرتا ہے کہ یہ ملک دشمنی ہے کیونکہ پیارے وطن کی حفاظت کیلئے چیک پوسٹ پرمامور فوجی جوانوں نے ان کے مطالبات تو پورے نہیں کرنے تھے پھر آخر یہ انتہائی قدم کیوں اٹھایا گیا، کیا ایسا تو نہیں کہ علی وزیر اور محسن داوڑ ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ، ملک کے سیکورٹی اداروں ، انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اس کی مکمل تحقیقات کرنی چاہئیں اور کسی بھی صورت میں فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کرنے والوں کو نہ بخشا جائے، تمام افراد کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے اور جو آئین کہتا ہے اس کے مطابق ان کیخلاف مقدمات قائم ہونے چاہئیں ۔ پی ٹی ایم کے جو بھی مطالبات ہیں ان کے حل کا آئینی راستہ موجود ہے، غیر آئینی راستے کی کسی صورت حمایت نہیں کی جاسکتی ۔

’’یوم ِ تکبیر‘‘ ۔ پاکستان کی آزادی کا تحفظ کا عزم

21 برس قبل28 ;241;مئی1998 کو پاکستانی قوم نے بے پناہ قومی ایثار کی قربانیوں کا ثمر ’چاغی ‘ کے پہاڑوں سے دنیا بھر کی نیندیں اڑادینے والی ‘ دھڑکنوں کو دہلادینے والی پاکستان کے جغرافیائی دفاع کو یقینی بنانے والی وہ دھواں دھار ایٹمی دھاڑوں کی گونج دنیا کو سنا دیں قوم کو1974 سے انہیں ایٹمی دھاڑوں کو بڑی بے چینی سے انتظار کیوں تھا 1974 میں بھی مئی کی ہی مہینہ کی 18 تاریخ کو پاکستان کے ازلی دشمن ملک بھارت نے ’نیو کلیئر وپین فری زون ‘ کی خلاف ورزی کی‘ پاکستان کو زیر نگیں کرنے کی بزدلانہ بد نیتی سے ایٹمی تجربہ کرکے جنوبی ایشیا میں طاقت کے تواز ن کو بگاڑا دیاتھا ،جس کا جواب یقینی طور پر پاکستان کی طرف آنا تھا سو بحیثیت ِ پاکستانی قوم نے بھی فیصلہ کیا کہ وہ خطہ میں ایٹمی توازن کو ضرور قائم ضرور کرے گی، چاہے دنیا پاکستان پر جتنی چاہے پابندیاں عائد کردے قوم نے پابندیاں جھیلنی ہیں ‘ عالمی مالی ودفاعی مشکلات سے پاکستانی قوم گزرتی رہی مگر پاکستانی قوم اپنی دفاعی اصولی موقف پر ڈٹی رہی‘ وہ حلقے چاہے اُن کا تعلق اندرون ِ ملک سے ہو یا بیرونی دنیا کے میڈیا سے ‘ اُن کی تو عادت بن چکی ہے، گزشتہ کئی دہائیوں سے وہ بے سروپا اور لغویات پر مبنی جھوٹا پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں جوہری اسلحہ کی بازگشت کی تمام تر سنگین وجوہ کے اشارے پاکستان کی طرف اٹھتے ہیں ;238; دنیا کا سب سے بڑا یہی جھوٹ کل بھی تھا، آج بھی یہ ایک جھوٹا ہی تصور ہو گا، چونکہ اُن کی نظر تاریخ کی سچائی پر نہیں ‘ تعصبات کی آلودگی سے لتھڑا ہوا جھوٹ مسلسل بولا جارہا ہے کیا وہ نہیں جانتے کہ 1972 میں ’ میکسیکو‘ میں 16;39;یو این اٹامک انرجی کانفرنس;39; منعقد ہوئی تھی جس میں پہلی بار پاکستا ن نے جنوبی ایشیاء کو جوہری اسلحے سے پاک قرار دینے کی ایک صائب تجویز پیش کی اور کہا تھا کہ جس طرح سے’ لاطینی امریکہ کو’ نیوکلیئر ویپن فری زون‘ قرار دینے کی بابت ایک معاہدہ’ ٹلاٹیلوکو ٹریٹی‘ 1967 کو ہوا ‘جس عالمی معاہدے کے تحت ’’لاطینی امریکہ‘‘ میں جوہری ہتھیار ممنوعہ قرار پائے ہیں ، اسی طرز پر جنوبی ایشیاء کے ضمن میں بھی کوئی ایک معاہدہ طے ہونا چاہیے، پاکستان کی یہ ایک جائز اور جنوبی ایشیا کو مہلک ہتھیاروں سے پاک رکھنے کی تجویز بڑی اہمیت کی حامل تھی اِس سے قبل کہ عالمی طاقتیں کچھ کر گزرتیں یا نہیں بھی کرتیں ،لیکن پاکستان نے اپنا فرض ادا کردیا تھا پاکستان یہ جانتا تھا کہ بھارت میں یقینا کچھ نہ کچھ ایٹمی ہتھیار بنانے کی خفیہ فیکٹریاں اسرائیل کی تکنیکی مدد و اعانت سے قائم ہوچکی ہیں پاکستان کا یہ اندازہ بالکل صحیح ثابت ہوا جب بھارت نے18مئی 1974 کو ’مسکراتا بدھا‘ کے نام سے ایٹمی تجربہ کیا دنیا بھر کی پیشانیوں پر سوالات نما لکیر یں نمایاں ہوئیں جو حلقے جنوبی ایشیا میں پاکستان پر جوہری اسلحہ کی دوڑ کا الزام عائد کرتے ہیں وہ علاقائی تاریخ کی اِن چپقلشوں کیسے نظر انداز کرسکتے ہیں در پردہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ بھارت کو علاقہ میں ہر قسم کی ’بدمعاشیاں ‘ کرنے کا پرمٹ ملا رہے، کوئی اُس کی جوہری ہی نہیں بلکہ کیمیکل ہتھیاروں کی تیاری پر بھی لب کشائی نہ کرئے‘ پاکستان کے دفاع کو ناقابل ِ تسخیر بنانے والے سائنسدان ہیروز کی ٹیم کو ہماری تاریخ میں ہمیشہ احترام وعزت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا بانی ِپاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کئی بار اپنے ارشادات میں پاکستان کے دفاعی حصار کو مضبوط بنانے کی طرف رہنمائی کی ‘پاکستان کی دفاعی تاریخ کا مصنف جب بھی اپنے قلم کو جنوبی ایشیا ئی دفاعی اسٹرٹیجک کے تصورات کو تاریخ کے صفحہ ٗ ِ قرطاس کے سپرد کرئے گا اور یہ پاکستان کی نئی نسل کی رہنمائی کا فریضہ تاریخ دانوں کے ذمہ ہے نام نہاد بھارتی پیسہ کے بکاوَ تجزیہ کار ‘ مبصر اور سیاسی دانشور جو ’را‘ اور ’سی آئی اے ‘ کے ہمیشہ سے ’پے رول ‘ رہے کبھی کسی کے نہیں ہوسکتے خود اپنے نہیں ہوتے بلکہ دنیاوی لذتوں کی وقتی آسائشیں اُن کا مطمع ِ نظر رہتی ہیں وہ ’یوم تکبیر ‘ کی زمینی حقیقتوں کو کیا سمجھیں ‘ ذرا تو اور غور کریں ;238; کہاں گئیں بھارت سمیت عالمی طاقتوں بشمول امریکا کی وہ عیاریاں اور جنگی چالاکیاں ‘ 9;47;11 کے بعد یہ رٹے لگانا کہ ’دنیا بدل گئی ہے;238; ‘ یہ عالمی اور بھارتی میڈیا کی پھیلائی گئی کہانتیں ‘ ہیں اور کچھ نہیں ‘ ہاتھی کے دانت دکھانے کےلئے کچھ ہوتے ہیں کھانے کےلئے کچھ ;238; یہاں ماننا پڑے گا دنیا کو ‘ امریکا کو ‘ اسرائیل کو ‘ بھارت کو ‘ اب کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ نہیں اُٹھاسکتا ‘ بعض حلقے اب یہ کہنے پر آگئے کہ ’امریکا جب پاکستانی علاقہ پر ڈرون حملے کرتا ہے تو پاکستان کے دفاعی اداروں کی خاموشی کے کیا معنی ٰ;238;یہ بڑی سازشی خطرناک’ عالمی شرارتیں ‘ ہیں جنہیں پاکستان کے دفاعی اداروں کے ذمہ داروں نے تحمل ‘ بردباری اور صبر و ضبط سے مگر گہری بصیرت اور دانشورانہ متانت کے وقار کے ساتھ دیکھنا ہے ہ میں اکسانے اورغصہ دلانے کی پالیسی پر وہ باہم ایکا کرچکے ہیں مسلمانوں سے زیادہ کون جانے گا کہ ’غصہ ‘ کس شیطانی حربہ کا نام ہے بھارت میں چاہے کانگریس حکومت میں آئے یا بی جے پی کی وہاں حکومت قائم ہو حالیہ چند روز پیشتر بھارت کی تاریخ میں پہلی بار مودی کی قیادت میں پانچ برس گزرنے کی مدت مکمل ہوئی اور مسٹر مودی دوبارہ نئی دہلی کا اقتدار سنبھالیں گے اگر اُنہوں نے تحمل‘بردباری قائدانہ وقار اور متانت کے طرز کو اپنی حکمرانی کرنے کے معروف انسانیت نواز انداز کا محور بنایا تو یہ خطہ امن کے ساتھ ترقی کرپائے گا اڑی اور پلوامہ جیسے اوچھے ہتھکنڈے اُنہیں بھولانے ہوں گے ایسے غیر انسانی خطرناک حرکات کی حقیقت اور سیاسی چال بازیاں دنیا میں اب متروک ہوچکی ہیں افغانستان میں امریکا کی شکست سے بھارت کو سبق سیکھنا چاہیئے یہ عہد 1971 کا نہیں آج 2019 کا پاکستان دنیا کے سامنے جناب ِ والہ!اٹھائیس مئی 1998 کے بعد کا پاکستان ہر نئے طلوع ہونے والے سورج کے ساتھ بدل رہا ہے جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک بھی اپنی آزادی وخود مختاری کےلئے تحسین کی نظروں سے پاکستان کو دیکھتے ہیں ، اپنے دلوں میں پاکستان کےلئے احسن جیسے جذبات رکھتے ہیں دنیا کےلئے پیغام اس موقع پر یہ کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے ( ایٹمی ڈیٹرنس) محفوظ ہاتھوں میں ہیں کسی غلطی فہمی میں کوئی نہ رہے ا پنی فکر کرئے ’یوم تکبیر قوم کو مبارک ہو‘یہ دن ہمارے قومی تحفظ قومی سلامتی اور پاکستان کی نظریاتی وحدت واساس کو اور ناقابل ِ تسخیر بنانے کی تاریخ کا قابل فخر دن ہے پاکستان کی جغرافیائی شہ رگ کو دشمنوں کی نظر ِ بد سے بچانے کا قومی دن ہے، قومی احساسات وملی جذبات کی بیداری کوتروتازہ رکھنے کا تاریخ ساز دن ہے ۔

Google Analytics Alternative