Home » Author Archives: Admin (page 50)

Author Archives: Admin

محسن عباس کی اہلیہ نے خلع کا دعویٰ دائر کردیا

لاہور: پاکستانی اداکاروگلوکار محسن عباس حیدر کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے فیملی کورٹ لاہور میں خلع کا دعویٰ دائر کردیا۔

اداکار محسن عباس کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے بیرسٹر احتشام امیرالدین کی وساطت سے لاہور فیملی کورٹ میں خلع کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنے شوہر پر تشدد اور بے وفائی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا محسن عباس نے مجھے  تشدد کا نشانہ بنایا لہذا اس کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتی، اس کے علاوہ محسن کے دوسری لڑکی کے ساتھ تعلقات ہیں۔ فاطمہ نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت خلع کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے ڈگری جاری کرے۔

واضح رہے کہ فاطمہ سہیل نے دو ماہ قبل اپنے شوہر محسن عباس حیدر پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حاملہ ہونے کے باوجود محسن نے انہیں بدترین جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا اور پیسوں کی ہیر پھیربھی کی۔ اس کے علاوہ فاطمہ نے اپنے شوہر محسن  پر ماڈل نازش جہانگیر کے ساتھ ناجائز تعلقات کابھی الزام لگایاتھا۔

فاطمہ نے  اپنے شوہر  پر  تشدد  اور  دھمکیوں  کی  ایف  آئی  آر  درج  کرائی  تھی۔ محسن عباس اور فاطمہ سہیل کا کیس لاہور کی عدالت میں ہے جہاں گزشتہ پیشی کے دوران پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں اداکار محسن عباس کو اہلیہ پر پستول تاننے اورسنگین نتائج کی دھمیکاں دینے کی دفعات کے تحت قصور وار ٹھہرایاگیاتھا۔

کشمیر،افغانستان،پاکستان اور بھارت

آج میرے کالم کا عنوان قارئین کرام کو بڑا عجیب لگا ہوگا ۔ واقعی یہ عنوان بڑا عجیب ہے ۔ عجیب اس طرح ہے کہ ان چاروں کا ایک دوسرے سے کتنا گہرا تعلق ہے ۔ خاص کر آج کل کے حالات کو مدنظر رکھا جائے تو ان تین ممالک اور مقبوضہ کشمیر ایک دوسرے سے جڑ ے ہوئے ہیں ۔ گزشتہ ایک ماہ سے کشمیر میں بھارتی فوج نے جس طرح ایک کروڑ مسلمان کشمیریوں کو یرغمال بنایا ہو ہے ۔ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ ادھر آسام میں 19 لاکھ مسلمانوں کو جو بھارتی شہری ہیں شہریت سے محروم کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ مودی سرکار کے اقدامات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ نریندر مودی کسی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں ۔ مودی حکومت نے خود اپنے ہی آئین سے غداری کی ہے ۔ نریندر مودی کے ان اقدامات نے بھارت کی سلامتی کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے ۔ اگر آئینی طور پر دیکھا جائے تو مودی حکومت بھارت کے ساتھ غداری کی مرتکب ہوئی ہے ۔ کیونکہ اگر وہ ان اقدامات کو جاری رکھتے ہوئے ان پر عمل پیرا رہتے ہیں اور اپنی غلطیوں کا احساس نہیں کرتے اور اپنے غیر آئینی اور غیر انسانی اقدامات کو واپس نہیں لیتے تو یہ بات یقینی ہے کہ اس سال دسمبر سے بھارت کے ٹکڑے ہونے کا عمل شروع ہو سکتا ہے ۔ اور آنے والا سال بھارت کے لیئے بہت بڑے بربادی لائے گا ۔ نریندر مودی نہ صرف بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ کھلم کھلا دشمنی کا مظاہرہ کر رہے ہیں بلکہ وہ افغانستان میں قیام امن کا بھی دشمن ہے ۔ مودی سرکار کسی صورت نہیں چاہتی کہ افغانستان میں امن کا قیام عمل میں لایا جائے اور اس عمل میں پاکستان کا واضح اور اہم کردار ہو ۔ بھارت تو اس عمل سے مکمل طور پر باہر ہے اور افغانستان میں قیام امن کے عمل میں امریکہ کے لیئے بھارت کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ بھارت کو یہ بھی احساس ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے بعد شاید بھارت کو وہاں وہ جگہ نہیں مل سکے گی جو اس وقت ہے ۔ مودی حکومت ایک مکار دشمن ہے ۔ وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ۔ اور ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی ناکام کوشش کرتی ہے ۔ مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کا حالیہ مسئلہ اس وقت چھیڑا اور غیر آئینی،غیر قانونی اور غیر انسانی طریقہ سے کشمیر کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی جبکہ افغانستان میں قیام امن کے لیئے کوششیں جاری ہیں ۔ اور امریکہ کسی بھی طرح افغانستان سے نکلنے کے لیئے محفوظ راستہ تلاش کرنے میں مصروف ہے ۔ امریکہ جانتا ہے کہ یہ کوششیں پاکستان کے بغیر بار آور ثابت نہیں ہو سکتیں ۔ اگرچہ امریکہ ایک ناقابل اعتبار دوست ہے لیکن اس پر کسی اور موقع پر بات ہو گی اس وقت حالات کے پیش نظر امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے ۔ بھارت نے ایک طرف کشمیریوں کے حق خود ارادیت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی ہے تو دوسری طرف پاکستان کی توجہ افغانستان میں جاری امن کوششوں سے ہٹا کر امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی بھی کوشش ہے ۔

ادھر افغانستان میں ایک طرف قیام امن اور امریکی فوج کے انخلاء پر مزاکرات ہو رہے ہیں لیکن دوسری طرف طالبان کے حملے بھی جاری ہیں ۔ دس دن میں افغانستان کو فتح کرنے کی امریکی صدر ٹرمپ کی بڑھکوں کا طالبان پر کوئی اثر تو نہیں ہوا البتہ طالبان نے اپنی کاروائیاں مزید تیز کر دی ہیں ۔ اس وقت افغانستان کے تقریباً ساٹھ فیصد حصہ پر طالبان کی عمل داری ہے ۔ طالبان اپنی شرائط منوانا چاہتے ہیں اور وہ اس پوزیشن میں بھی ہیں ۔ امریکہ کو افغانستان میں امن کے دیر پا قیام سے کوئی مطلب نہیں ہے وہ تو افغانستان سے جان چھڑانا چاہتا ہے ۔ کیونکہ افغانستان امریکہ کے گلے میں پھنسی ہڈی بن چکا ہے کہ نہ نگلا جائے نہ اگلا جائے ۔ جہاں تک امریکہ کے اس موقف کا تعلق ہے کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے بعد بھی اپنے ساڑھے آٹھ ہزار فوجی وہاں رکھنا چاہتا ہے اور بگرام اور قندہار کے ہوائی اڈے بھی اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے تو یہ اس لیئے کہ افغانستان کے علاوہ ایران اور روس پر نظر رکھنے میں آسانی ہو ۔ طالبان چاہتے ہیں کہ پہلے تمام غیر ملکی افواج افغانستان سے نکل جائیں تب ہی وہ امن معاہدے پر عمل درآمد کریں گے ۔ بصورت دیگر وہ اپنی کاروائیاں جاری رکھیں گے ۔ اور افغانستان حکومت کے ساتھ مذاکرات بھی تب ہی ہو سکیں گے ۔

ادھر افغانستان میں ملتوی کیئے گئے صدارتی انتخابات اب پھر سر پر ہیں لیکن طالبان کو ان انتخابات کی کوئی جلدی نہیں ہے نہ کوئی فکر ہے ۔ اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے تمام تر دعوءوں کے باوجود افغانستان میں قیام امن کے عمل میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے ۔ اور اگر افغانستان میں حالات مزید خراب ہوئے تو اس کے نہایت منفی اثرات تمام پڑوسی ممالک پر پڑیں گے ۔ دوسری طرف اگر بھارت اپنے آئینی اور غیر انسانی اقدامات سے باز نہیں آتا تو آنے والے دو تین مہینے میں پورے خطے میں سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں ۔ بھارت کسی بھی صورت مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو حق خود ارادیت تو کیا کسی قسم کی بھی رعایت دینے کے لیئے تیار ہے نہ ہی پاکستان کے ساتھ اس اہم مسئلے پر مذاکرات کے لیئے تیار ہے بلکہ بھارت حکومت تو اپنے ہی ملک کے مسلمان شہریوں کے حقوق غصب کر رہی ہے اور ان کی زندگی ان پر تنگ کر دی ہے ۔ پاکستان نے اپنی طرف سے اب تک بہت صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور پاکستان کوشش کر رہا ہے کہ حالات تباہی اور خرابی کی طرف نہ جائیں ۔ دوسری طرف پاکستان کشمیری مسلمانوں کو بھارتی بربریت سے بچانے اور مودی حکومت کے یرغمال سے آزاد کرانے کے لیئے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہا ہے ۔ لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود عالمی رہنماءوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔ لیکن دنیا جان لے کہ تنگ آمد بجنگ آمد ۔ کشمیری مسلمانوں اور پاکستان کے صبر کے پیمانے اب لبریز ہو چکے ہیں اور اگر کسی بھی وقت کوئی حادثہ ہوا تو نہ صرف دنیا کو پچھتانا پڑے گا بلکہ اس خاموشی کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑے گا ۔ جو بہت سخت ہوگا ۔

وزیراعلیٰ پنجاب فضائی حادثے سے بال بال بچ گئے

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ہیلی کاپٹر سے دوران پرواز پرندہ ٹکرا گیا تاہم خوش قسمتی سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار حافظ آباد سے واپس لاہور آرہے تھے کہ دوران پرواز ہیلی کاپٹر سے پرندہ ٹکرا گیا تاہم پائلٹ نے مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاہور ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی اور ہیلی کاپٹر بحفاظت اتار لیا۔ حادثے کے باعث ہیلی کاپٹر کو جزوی نقصان پہنچا ہے تاہم ہیلی کاپٹر میں سوار تمام افراد خیریت سے ہیں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے ہیلی کاپٹر سے پرندے ٹکرانے کا واقعہ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی حدود میں نہیں  بلکہ لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب پیش آیا۔

ہیلی کاپٹر کے فلائٹ انجینئر کرنل (ر) ناصر کے مطابق پرندوں کا ایک غول اچانک وزیر اعلی پنجاب کے ہیلی کاپٹر کے سامنے آیا جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا تاہم کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا البتہ ہیلی کاپٹر کو نقصان پہنچا ہے جبکہ پائلٹ نے بحفاظت ہیلی کاپٹر کو لاہور ائیرپورٹ پر لینڈنگ کرائی اور وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار باحفاظت لاہور پہنچ گئے ہیں۔

دوسری جانب  وزیر اعلی پنجاب کے ہیلی کاپٹر سے پرندہ ٹکرانے کا معاملہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا، پائلٹ کی رپورٹ کے بعد  سول ایوی ایشن اتھارٹی حادثے کی وجوہات کا جائزہ لے گی اور نقصان کا جائزہ لینے کے بعد رپورٹ بھی تیار کرے گی۔

 

فرائیز اور چپس شوق سے کھانے والا نوجوان بینائی سے محروم

برطانوی ماہرین نے دنیا بھر کے والدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی غذا پر خصوصی توجہ دیں اور کم عمری میں ہی بچوں کو ’فرائیز‘ ’چپس‘ اور اسی طرح کی دیگر چیزیں کھانے سے روکیں۔

ماہرین نے یہ ہدایت اس وقت جاری کی جب ڈاکٹرز کو پتہ چلا کہ برطانیہ کا ایک نوجوان محض اس لیے بینائی سے محروم ہوگیا، کیوں وہ کم عمری سے فرائیز اور چپس جیسی دیگر چیزیں شوق سے کھاتا آ رہا تھا۔

برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ فرائیز، چپس، پرنگلز اور سوساج کو شوق سے کئی سال تک کھانے والا بینائی سے محروم ہونے والا یہ پہلا نوجوان ہے۔

رپورٹ کے مطابق بینائی سے محروم ہونے والے نوجوان کی عمر 17 برس ہے اور اس نے انتہائی کم عمری یعنی 10 برس کے بعد شوق سے اور زیادہ مقدار میں فرائیز، چپس اور اسی طرح کی دیگر چیزیں کھانا شروع کردی تھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 14 برس کی عمر تک مذکورہ نوجوان میں ’وٹامنز بی 12‘ سمیت اس کی ہڈیوں کے منرلز اور کئی طرح کے دیگر وٹامنز کی کمی دیکھی گئی۔

اگرچہ نوجوان نے وٹامنز اور پروٹین کی کمی مکمل کرنے کے لیے فوڈ سپلیمنٹ یعنی طاقت کی دوائیاں بھی استعمال کیں، تاہم اس سے نوجوان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

کم عمری سے ہی مسلسل کئی سال تک پھل اور سبزیاں نہ کھانے کی وجہ سے نوجوان کی جسمانی حالت انتہائی خراب ہوگئی تھی اور اس میں وٹامنز، پروٹین اور منرلز کی کمی کی وجہ سے اس سے نہ تو چلا جا سکتا تھا اور نہ ہی وہ اسے ٹھیک طرح سے دکھائی دیتا تھا۔

ہر گزرتے دن میں طبعیت میں خرابی کی وجہ سے نوجوان کو آنکھوں کے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں دوران علاج ہی وہ مکمل طور پر بینائی سے محروم ہوگیا۔

نوجوان کے نابینہ ہوجانے کے بعد ماہرین اور ڈاکٹرز نے والدین کے لیے ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ والدین اپنے بچوں کی غذا کا خاص خیال رکھیں اور انہیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ خوراک کا نعمل بدل دوائیاں نہیں ہو سکتیں۔

ماہرین نے والدین کو واضح پیغام دیا کہ فوڈ سپلیمینٹ یعنی طاقت کی دوائیاں بھی اس وقت ہی سازگار ہوتی ہے جب متاثرہ شخص میں کچھ نہ کچھ طاقت اور وٹامنز ہوں گی۔

ماہرین نے طاقت کی دوائیوں سے زیادہ خوراک کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو کم عمری میں ہی پھل اور سبزیوں پر مشتمل خوراک دیں۔

جسمانی ساخت پر طنز کرنے والوں کو جگن کاظم کا کرارا جواب

اداکارہ، ماڈل و معروف ٹی وی میزبان جگن کاظم نے اپنی جسمانی ساخت پر طنز کرنے والے افراد کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ زندگی بہت مختصر ہے، کوشش کریں کہ کسی پر طنز کرنے کے بجائے اس کا احساس کریں۔

میزبان و اداکارہ نے انسٹاگرام و ٹوئٹر پر اپنی جسمانی ساخت پر مختلف افراد و خواتین کی جانب سے کیے جانے طنز پر کھل کر بات کی اور بتایا کہ کس طرح ان کا مذاق اڑایا جاتا رہا۔

جگن کاظم نے سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کی، جس میں انہوں نے بتایا کہ کچھ دن قبل حمل کے ابتدائی دنوں کی وجہ سے ان کا وزن بڑھا تو ان پر طنز کرنا شروع کردیا گیا۔

اداکارہ کے مطابق ابتدائی طور پر ہی خواتین نے ان پر طنز کرنا شروع کردیا اور انہیں دیکھنے والی خواتین کہنے لگیں کہ ’انہیں لاہور کی ہوا لگ گئی ہے‘۔

جگن کاظم کا کہنا تھا کہ چوں کہ وہ حمل کے ابتدائی ایام میں تھیں، اس لیے قدرتی طور پر ان کا وزن بڑھا تاہم انہوں نے طنز کرنے والی خواتین کو یہ نہیں بتایا کہ وہ امید سے ہیں۔

میزبان نے لکھا کہ انہوں نے طنز کرنے والے افراد سے حمل کی بات اس لیے خفیہ رکھی، کیوں کہ وہ کچھ مسائل کی وجہ سے اپنے حمل کے مکمل ہونے کے حوالے سے تذبذب کا شکار تھیں۔

جگن کاظم نے بتایا کہ حمل ٹھہرنے کی وجہ سے ان کا وزن بڑھا تو لوگوں نے طرح طرح سے ان پر طنز کرنا شروع کیے اور انہیں ہر مرتبہ یہ احساس دلانے کی کوشش کی گئی کہ وہ موٹی ہو رہی ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ حمل کے ابتدائی چند ہفتوں کے بعد بعض پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کا حمل ضائع ہوگیا اور ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ اندرونی طور پر بہت زیادہ خون ضائع ہونے کی وجہ سے کچھ مسائل ہوئے ہیں تو انہوں نے تھوڑا سا آرام کیا لیکن پھر جلد ہی اپنے کام کا چوبارہ آغاز کردیا۔

اداکارہ کے مطابق کہا جاتا انہیں لاہور کی ہوا لگ گئی — فوٹو: انسٹاگرام
اداکارہ کے مطابق کہا جاتا انہیں لاہور کی ہوا لگ گئی — فوٹو: انسٹاگرام

جگن کاظم نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا کہ حمل ضائع ہونے کے بعد جب وہ کام پر گئیں تو بھی لوگوں نے انہیں بڑھتے وزن کا طعنہ دیا اور انہیں احساس دلایا گیا کہ ان کا وزن بڑھ چکا ہے۔

اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں طنز کرنے والے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ اضافی وزن رکھنے والے افراد پر اس طرح کا طنز کرنا بند کریں، کیوں کہ جن کا وزن زیادہ ہے، انہیں علم ہے کہ وہ اضافی وزن والے افراد ہیں۔

اداکارہ نے تجویز دی کہ خواتین کے اضافی وزن پر صرف ان کی بہنیں اور ماں ہی انہیں کچھ مشورے اور تجاویز دے سکتی ہیں۔

اداکارہ نے آخر میں سب کو مشورہ دیا کہ یہ زندگی بہت مختصر ہے، اس لیے اسے طنز کرنے کے بجائے دوسروں پر احسان کرنے میں گزار دیں۔

ایف بی آر نے بڑی مارکیٹوں میں اسمگل شدہ اشیا کی چیکنگ شروع کر دی

اسلام آباد: فیڈرل بورڈآف ریونیوکی مشترکہ ٹیموں نے ملک کے بڑے شہروں میں واقع بڑی مارکیٹوں میں اسمگل شْدہ اشیا کی چیکنگ شروع کر دی ہے۔

چیئرمین ایف بی آرشبرزیدی کی جانب سے گزشتہ روزٹویٹر پر جاری کردہ ٹویٹ میںکہا گیا ہے کہ گزشتہ روزمشترکہ ٹیموںکی ڈالمن سنٹر کراچی، ایمپوریم مال،لاہور، سینٹورس مال اسلام آباد سمیت دیگر بڑے شاپنگ مالزکے دورے کیے ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ اسمگلنگ کے خاتمہ کیلیے مارکیٹوں کے دورے کے موقع پرٹیموں سے تعاون پرایف بی آرکی جانب سے تاجروں کا مشکور ہوں۔

شبر زیدی نے تاجروں و صنعتکاروں کو اپنے پیغام میں کہا کہ آئیں ملک میں ٹیکس کلچرکوفروغ دیں۔ ملک بھرکی مارکیٹوں میں موجود غیرملکی اشیاء کی درآمدی دستاویزات کی چیکنگ نہ صرف جاری رہے گی بلکہ مارکیٹوں کی چیکنگ کا دائرہ کار مزید بڑھایا جائیگا۔

چیئرمین ایف بی آرنے مزیدکہا کہ درآمدی اشیاء پرکسٹمزڈیوٹی ودیگرٹیکسوں کیلئے ویلیوایشن کا نظام تبدیل کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔ درآمدی اشیاء کی ویلیوایشن کیلئے پرانا کسٹمز جنرل آرڈرریوائزکیا جائیگا۔ انہوں نے کہا آٹوپارٹس کی ویلیوایشن مالیت کی بجائے وزن کی بنیاد پرکی جائیگی تاہم انکا کہنا تھا ویلیوایشن میکنزم میں تبدیلی انڈسٹری کی سہولت کیلئے انکی مشاورت سے کی جائیگی۔

ان کاکہنا تھا کہ ایف بی آرکی مستقبل کی حکمت عملی پرپہلے سے ہی عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے جس کے تحت جہاں چیللنجزدرپیس ہیں وہاںایف بی آرکے بہترین وذہین آفیسرتعینات کئے جا رہے ہیں۔

ہواوے کے نئے فلیگ شپ فونز 19 ستمبر کو متعارف ہوں گے

اس ماہ صرف ایپل کے نئے آئی فونز ہی متعارف نہیں ہورہے بلکہ چینی کمپنی ہواوے بھی اپنے نئے فلیگ شپ میٹ 30 سیریز کے فونز پیش کرنے والی ہے۔

کمپنی کی جانب سے باضابطہ طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ جرمن شہر میونخ میں 19 ستمبر کو میٹ 30 سیریز کے فونز متعارف کرائے جارہے ہیں۔

اس حوالے سے کمپنی نے ایک مختصر ویڈیو ٹوئیٹ کی جس میں میٹ 30 اور میٹ 30 پرو کے کیمرا سسٹم پر زور دیا گیا ہے، جو اس لیے حیران کن نہیں کیونکہ گزشتہ سال کے میٹ 20 کو اس کے بہترین کیمرا سسٹم کے باعث ہی سراہا گیا تھا۔

مگر ٹوئیٹ میں ایونٹ کی ٹیگ لائن ‘ری تھنک پاسبلٹیز’ سے عندیہ ملتا ہے کہ اس بار ہواوے کے فلیگ شپ فونز گوگل کے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کے اہم پہلوﺅں کو استعمال کرنے سے قاصر ہوں گے۔

گزشتہ ہفتے گوگل کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ ہواوے پر عائد امریکی پابندی کے حوالے سے ریلیف دینے والے عارضی لائسنس کا اطلاق اس کمپنی کی نئی مصنوعات میں نہیں ہوتا اور ممکنہ طور پر وہ میٹ 30 سیریز میں گوگل پلے اسٹور، گوگل ایپس اور لائسنس اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم استعمال نہیں کرسکے گی۔

گوگل نے بعد ازاں وضاحت کی تھی کہ ہواوے اینڈرائیڈ کو استعمال کرسکے گی کیونکہ یہ ایک اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم ہے مگر اس کے باوجود ایسا ممکن ہے کہ اس میں لائسنس گوگل ایپس نہ ہوں۔

اب تک امریکی محکمہ تجارت کو ہواوے کے ساتھ کاروبار کی خواہشمند کمپنیوں کی جانب سے لائسنس کے لیے 130 سے زائد درخواستیں موصول ہوچکی ہیں، مگر کسی ایک کی بھی فی الحال منظوری نہیں دی گئی۔

میٹ 30 سیریز کے فونز کے حوالے سے غیریقینی صورتحال پر ہواوے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کمپنی اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کا استعمال اس صورت میں جاری رکھے گی جب امریکی حکومت کی جانب سے اس کی اجازت دی جائے گی، دوسری صورت میں ہم اپنے آپریٹنگ سسٹم اور ایپس کی تیاری کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

کرتارپور راہداری، قواعد و ضوابط کے حوالے سے پاک بھارت اجلاس کل ہوگا

لاہور:  کرتارپور راہداری کے حوالے سے قواعد وضوابط اورطریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے پاک بھارت اعلی حکام کی تیسری میٹنگ کل واہگہ اٹاری بارڈر پر بھارتی علاقے میں ہوگی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق بدھ کے روز ہونیوالے اجلاس میں پاکستانی وفد کی سربراہی دفترخارجہ کے ترجمان اور ڈی جی ساؤتھ ایشیا وسارک ڈاکٹرمحمد فیصل کریں گے، اجلاس میں کرتارپور راہداری کے راستے روزانہ کتنے سکھ یاتری پاکستان آسکیں گے یہ تعدادفائنل کی جائیگی، اس کے علاوہ پاکستان سکھ یاتریوں کے لیے انٹری فیس مقررکرنا چاہتا ہے جبکہ بھارت کا  وقف ہے کہ انٹری فری ہونی چاہیے۔

دونوں ممالک یاتریوں یاتریوں کی رجسٹریشن آن لائن کرنے پررضامند ہیں تاہم آن لائن درخواست کتنے دن پہلے دینا ہوگی یہ طے ہونا ابھی باقی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے کی طرف سے عارضی پل بنائے جانے سمیت دیگر امورپربات چیت ہوگی۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اجلاس کے بعد دونوں ممالک کے نمائندے الگ الگ پریس کانفرنس کریں گے، بھارتی وفد کے سربراہ بھارتی وقت کے مطابق دوپہر ڈیڑھ بجے پریس کانفرنس کریں گے جبکہ ڈاکٹرمحمد فیصل اجلاس سے واپسی پر واہگہ بارڈرپر اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

Google Analytics Alternative