Home » Author Archives: Admin (page 6)

Author Archives: Admin

قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے 3 کشمیری نوجوان شہید

سرینگر: مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی بربریت کے نتیجے میں مزید 3 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے۔

کشمیر میڈیا سیل کے مطابق ضلع شوپیاں میں بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے دوران محاصرہ کرکے  3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ 24 گھنٹوں میں بھارتی ریاستی دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کی تعداد 5 ہوگئی۔

ضلع شوپیاں میں بھارتی فوج کی تازہ جارحیت میں نوجوانوں کی شہادت پر شدید برفباری اور بارش کے باوجود کشمیری عوام سڑکوں پر نکل آئے اور بھارت فوج کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

قابض بھارتی فوج نے ظلم کی تمام حدوں کو پار کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کیا جس سے خواتین، بزرگ اور بچے بھی محفوظ نہ رہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی قابض فوج نے دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں ضلع بڈگام میں سرچ آپریشن کیا اور گھر گھر تلاشی لی گئی، آپریشن کی آڑ میں بھارتی فوج نے فائرنگ کرکے 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

سانحہ ساہیوال ۔۔۔حکومت کے لئے سخت امتحان

adaria

وزیراعظم کا سانحہ سانحہ ساہیوال پر اظہارناراضگی بالکل سوفیصددرست ہے ،ماضی میں جتنے بھی سی ٹی ڈی نے کامیاب یاناکام آپریشن کئے ان سب پراس ایک سانحے نے پانی پھیرکررکھ دیاہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ حکومت کے وزراء بھی بغیر کسی تیاری کے میدان میں ٹوٹ پڑے اور اوٹ پٹانگ بیانات دیتے رہے ،پوچھا تواس سے جائے جس کے پیارے مرے ہیں وہی اس کی قیمت جانتے ہیں، ایک وفاقی وزیرکہتے ہیں کہ ایسے واقعات سے حوصلے نہیں ہارنے چاہئیں جن کے والدین یابچے چلے گئے ان کاتوجگر اورسینہ چھلنی ہے تاہم وزیراعظم کے اس بیان سے کہ وہ ملزمان کومثالی اورعبرتناک سزا دیں گے کچھ نہ کچھ مرہم رکھا ہے تاہم ایک بات واضح ہے کہ اس سارے وقوعہ کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے حوالے سے بہت سارے سوالات نے جنم لیاہے ۔ایسے وقت میں انہیں ایک بااختیار وزیراعلیٰ کے طورپرسامنے آناچاہیے تھا گوکہ یہ بیان درست ہے کہ وہ رپورٹ کا انتظار کررہے ہیں لیکن کم ازکم وہ آئی جی کوتوتبدیل کرسکتے تھے کیونکہ سی ٹی ڈی کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آنے کے بعد بہت کچھ واضح ہوگیاتھا اور شاید اسی وجہ سے وزیراعظم نے ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا اعادہ کرتے ہوئے کہاہے کہ کسی ادارے کی لاقانونیت کے اقدام کا دفاع نہیں کرسکتے، سانحہ ساہیوال میں ملوث ملزموں کو مثالی سزا دیں گے۔ پولیس کو ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جس سے لاقانونیت کا پہلو اجاگر ہو کیونکہ حکومت قانون کی حکمرانی اور شہریوں کا تحفظ چاہتی ہے اور ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ کسی ادارے کے غیرقانونی اقدام کا دفاع نہیں کریں گے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے واضح موقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ وہ انصاف فراہم کرے گی۔ ساہیوال واقعہ پر پاکستانی عوام کا دکھ اور غصہ جائز ہے۔ ذمہ داروں کو مثالی سزا دیں گے۔ دورہ قطر سے واپسی کے بعد پنجاب پولیس میں اصلاحات لاؤں گا۔پولیس میں اصلاحات لانا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ ماضی میں جس طرح پولیس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیاجاتارہاہے اس کااب خاتمہ ہونابہت ضروری ہے۔ کے پی کے میں اس حوالے سے عمران خان کاتجربہ خاصامثبت رہا تاہم پنجاب میں ناصردرانی کے استعفے کے بعد سے معاملات تھوڑے ڈانواں ڈول نظرآئے۔ وزیراعظم کی جانب سے پولیس اصلاحات کے حوالے سے کی گئی بات کو پانچ ماہ گزرچکے ہیں لیکن پیشرفت نہیں ہوئی ،سب سے بڑا ہمارے ملک میں یہی المیہ ہے کہ بات کردی جاتی ہے، اعلان کردیاجاتا ہے لیکن عمل نہیں ہوتا جب کوئی سانحہ درپیش آتا ہے تواس وقت پھرنئے سرے سے ساری چیزیں تازہ ہوجاتی ہیں۔ حکومت کے پاس ایک نظام ہے قانون بنانے والے ادارے ہیں ان کے نفاذ کے لئے فورسز موجود ہیں اور لاقانونیت کو روکنے کے لئے سزا کااختیاربھی موجودہے پھراس طرح کے وقوعات کادرپیش آنالمحہ فکریہ ہے۔جب تک سانحہ ساہیوال کے ملزمان کو سزا نہیں ملتی اورخصوصی طورپراس آفیسرکوسامنے نہیں لایا جاتا اس وقت تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔وزیراعظم کوچاہیے کہ صرف ایک سی ٹی ڈی کے ادارے کوہی نہیں تمام اداروں کے سسٹم کو ٹھیک کریں بلکہ پورے کے پورے نظام کوبہترکرنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان قطر کے دو روزہ دورے پر دوحہ پہنچے۔ دوحہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ سانحہ ساہیوال کے ذمہ داران سے کوئی رعایت نہیں ہو گی۔ جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں اقدامات کئے جائیں گے۔ نظام میں اصلاحات کریں گے تاکہ دوبارہ ایسا واقعہ نہ ہو۔ متاثرہ خاندان کو انصاف دیا جائیگا۔ دورہ قطر انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اور قطر کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں۔ تمام برادر مسلم ممالک کے ساتھ مثالی تعلقات کے خواہاں ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے قطری ہم منصب عبداللہ بن ناصر بن خلیفہ الثانی سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ قطری وزیراعظم نے وزیراعظم عمران خان کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔ خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور پاکستان کی متحرک خارجہ پالیسی کے تناظر میں اس دورے کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ دورہ سے پاکستان اور قطر کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید وسعت ملے گی۔ گزشتہ چھ ماہ میں قطر کے ساتھ پاکستان کی تجارت میں اضافہ ہوا۔ قطر سے پاکستان کی ایل این جی کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔وزیراعظم کا دورہ قطرانتہائی اہمیت کاحامل ہے۔

چیف جسٹس کافوجداری اپیلیں جلدنمٹانے کاعزم
چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہاہے کہ دوسے تین ماہ میں تمام زیرالتوافوجداری اپیلیں نمٹادیں گے، قتل کے مقدمات نمٹانے میں پہلے 15سے 18سال لگتے تھے، اللہ کاشکرہے اب وقت کم ہوکر4سے5سال تک آگیا،آئندہ 2سے 3 ماہ میں 2019 کی اپیلوں پرسماعت کا آغاز کردینگے، جلد زیرالتوا مقدمات کی شرح صفر ہوجائیگی،جھوٹے گواہوں کی وجہ سے اصل ملزم بری ہوجاتے ہیں لیکن الزام عدالتوں پر لگایا جاتا ہے۔ چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں3 رکنی بنچ نے فوجداری مقدمات سے متعلق اپیلوں پرسماعت کی۔چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یہ سب کچھ آپ کے تعاون سے ہی ممکن ہوا ہے۔ اسلام آباد میں تو پورے ملک سے مقدمات آتے ہیں ۔سماعت کے دوران پہلا فوجداری مقدمہ گجرات کے رہائشی ڈاکٹرشمس الرحمن پر2010 میں اہلیہ کوقتل کرنے کے الزام سے متعلق تھا، دوسرا فوجداری مقدمہ خاوندکی جانب سے اہلیہ کی قابل اعتراض تصویر انٹرنیٹ پرشیئرکرنے سے متعلق تھا۔بنچ نے شمس الرحمن کی رہائی کیخلاف اپیل پرسماعت کی اور عدالت نے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے انکی رہائی کیخلاف دائراپیل مسترد کردی۔ عدالت نے کہاکہ استغاثہ جرم ثابت کرنے میں ناکام رہاجبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی تاخیرکی گئی، اس لئے شک کافائدہ دیتے ہوئے ملزم کو رہا کیا جاتاہے۔سپریم کورٹ کے بنچ نے دوسرے کیس کی سماعت کرتے ہوئے اہلیہ کی خاوند کی ضمانت کی منسوخی کیلئے دائر درخواست بھی خارج کردی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تصویرمیں ملزم خودبھی موجودہے، اپنی فحش تصویرکوئی خودشیئرنہیں کرتا، درخواست گزار اورملزم کے درمیان کاروباری تنازعات چل رہے ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس وقت ہم اپریل 2018کی اپیلوں کی سماعت کررہے ہیں، آئندہ 2سے3ماہ میں2019 تک کی اپیلوں پرسماعت کاآغاز کر دیا جائیگا جس سے فاصلہ کم ہوتا جارہا ہے اور جلد زیر التوا مقدمات کی شرح صفر ہوجائے گی۔ چیف جسٹس کا ریمارکس میں مزید کہنا تھا کہ اپریل 2018 میں دائر ہونے والی اپیلوں پر سماعت ہو رہی ہے،3 ماہ بعد جو فوجداری اپیل آئے گی ساتھ ہی مقرر ہوجائے گی۔

امریکی ریاستیں آزادی کی راہ پر

عالمی سپر پاور امریکا میں علیحدگی پسند تحریکیں زوروں پر ہیں لہٰذا خیال کیا جا رہا ہے کہ سپر پاور کیلئے 2020 تک وجود برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔متعدد ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ امریکہ ایک مایوس کن حالت میں وقت کی آخری دیوار کے ساتھ لگ چکاہے اورایک ایسی جگہ پہنچ چکاہے جہاں سے اس کی واپسی ناممکن دکھائی دیتی ہے۔مغربی اسکالر جان گالٹنگ نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا کہ اپنے مفادات کے حصول کیلئے توسیع پسندانہ عزائم اور دوسروں پر حملہ کرناامریکا ٹوٹنے کا سبب بنے گا۔امریکی ریاست ورمانٹ جوکہ شمال مشرق کے نیو انگلینڈ ریجن میں واقع ہے، کے عوام نے (دی سیکنڈ ورمانٹ ریپبلک) کے نام سے امریکا میں آزادی کا پرچم بلند کر رکھا ہے۔کاسکاڈین کے عوام بھی امریکا سے علیحدگی کیلئے بے تاب ہیں۔ورمانٹ، کاسکاڈیا، ہوائی، الاسکا، ٹیکساس، اوریگان اور جمہوریہ لکوتا میں علیحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں۔ ان ریاستوں کے شہریوں کو شکایت ہے کہ عالمی سپر پاور نے ان کے حقوق یرغمال بنا رکھے ہیں۔امریکہ کی ایک ریاست’’ لوئی زیانا ‘‘ کے چودہ ہزارشہریوں نے وفاق سے علیحدگی کی عرض داشت وائٹ ہاؤس ارسال کی ،جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے علیحدہ ہوکر اپنی خودمختار حکومت تشکیل دینا چاہتے ہیں۔لوئی زیانا کے شہریوں کا یہ مطالبہ بارش کاپہلا قطرہ اورگرنے والی عمارت کی پہلی اینٹ ثابت ہوئی اوران کی دیکھا دیکھی یکے بعد دیگرے کئی ریاستوں نے آزادی کی پٹیشن دائر کرنا شروع کردیئے۔ پہلے میڈیا میں خبر آئی کہ پٹیشن دائر کرنے والی ریاستوں کی تعداد بیس ہے جبکہ صرف دوروز بعدیہ خبر آئی کہ آزادی کا مطالبہ کرنے والی ریاستوں کی تعداد 33 ہوگئی ہے۔آج وہی امریکہ جسے سب ناقابل شکست تصورکرتے تھے ،بری طرح شکست خوردہ ہو کر افغانستان سے بھاگنے کی راہیں تلاش کررہاہے۔ اس کی ایک نہیں ،دونہیں بلکہ33 بڑی ریاستوں میں بڑے زور شورسے علیحدگی کے مطالبات ہوچکے ہیں اوران مطالبات میں روز بروز بتدریج اضافہ ہورہاہے۔خیال کیاجارہاہے کہ آئندہ دنوں میں علیحدگی پسندتحریک باقی ماندہ ریاستوں میں بھی سرایت کرجائے گی۔ اس لئے کہ اس دنیامیں مکافات عمل ایک ناقابل انکارحقیقت ہے ، یعنی انسان آ ج جو کچھ بوتاہے کل کواسے وہی کاٹنے کو ملتاہے ، یہ نہیں ہوتا کہ بوئے توکانٹے ہیں اورخوش بیٹھے ہیں کہ پھو ل نکل آئیں گے۔آج امریکہ ،برطانیہ اوراس کے دیگراتحادی پوری اسلامی دنیا کے حصے بخرے کرنے میں مصروف ہیں ،مثلاً انہوں نے مسلم آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک انڈونیشیاسے مشرقی تیمور الگ کرکے ایک عیسائی ریاست قائم کردی۔سوڈان کو دوحصوں میں تقسیم کرکے بھی لوگ سوڈان میں عیسائی سٹیٹ قائم کرنے کیلئے راہ ہموارکررہے ہیں۔ اس کے علاوہ عراق ،افغانستان اورپاکستان بھی اسی سازش کی زد میں ہیں ، ان ممالک کی تقسیم درتقسیم کے منصوبے سامنے آئے ہیں۔اب طرفہ تماشادیکھئے کہ عراق ،افغانستان اورپاکستان اپنی جگہ پر قائم ہیں لیکن ان ممالک کو تقسیم کرنے کی سازشوں میں مصروف امریکہ ،برطانیہ اور اس کے اتحادی ممالک آج مکافات عمل کا شکارہیں۔ آئے روز علیحدگی پسند تحریکیں زورپکڑتی جارہی ہیں اورآئندہ برسوں میں دنیا کے نقشے پر انہی کے پیٹ سے کئی نئے ممالک نمودارہونے کی پیش گوئیاں ہورہی ہیں۔ امریکی قوانین کی روسے آزادی کا مطالبہ کرنے والے پٹیشنز اس وقت توجہ اوراہمیت حاصل کرتے ہیں جب مطلوبہ پٹیشنز کی تعدا د 25 ہزار سے تجاوزکرجائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی آئین میں ریاستوں کی علیحدگی کی گنجائش موجود ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگرایک ماہ کے اندر اندر کسی بھی ریاست کی درخواست علیحدگی پر25ہزار افراد نے دستخط کردیئے توموجودہ امریکی حکام اوربالخصوص امریکی صدر ان درخواستوں پر غورکرنے کے پابند ہوں گے۔ تادم تحریر سات ریاستوں نے مطلوبہ تعداد کراس کرلی ہے۔جبکہ دیگرریاستوں کی جانب سے دستخطوں میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔اس سارے معاملے میں قابل ذکربات یہ ہے کہ آزادی کے خواہشمندان ریاستوں نے امریکی الیکشن کے فوراً بعد علیحدگی کی درخواستیں دی ہیں اس کامطلب یہ ہے کہ انہوں نے انتخابی نتائج کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا اور آزادی کا مطالبہ کرکے اپنے اس واضح رد عمل کا اظہار کردیاہے کہ وہ اوبامہ انتظامیہ کے زیر سایہ رہنا نہیں چاہتے اورنہ صرف امریکی حکومت کی پالیسیوں سے نالاں ہیں بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے حقوق کی زبردست پامالی بھی کی جارہی ہے۔ جن میں ریاستوں نے آزادی کے لئے درخواستیں دی ہیں انہوں نے حکومتی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔ ان ریاستوں میں رہائش پذیر افراد کے مطابق امریکی معیشت زوال کا شکارہے۔ انہیں سب سے بڑا اعتراض اس بات پر ہے کہ کھربوں ڈالرز بیرونی جنگوں اورغیرترقیاتی اخراجات پراڑائے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں نہ صرف امریکی معیشت خسارے کا شکار ہے بلکہ امریکی حکومت بھی مقروض ہوچکی ہے جس کااندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ آج امریکی حکومت کے قرضے 143کھرب ڈالرز سے تجاوزکرچکے ہیں ۔ ان ریاستوں کا وفاق پر یہ اعتراض بھی ہے کہ ان کی توجہ ایجوکیشن اورصحت سے ہٹتی جارہی ہے اور نوجوانوں کو روزگاردینے میں بھی سستی اور ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔جس کانتیجہ یہ ہے آئے روز بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے۔

نواز شریف کے دل میں تکلیف، پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں طبی معائنہ

لاہور: پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ماہرین نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا تفصیلی طبی معائنہ کیا ہے۔

کوٹ لکھ پت جیل لاہور میں العزیزیہ اسٹیل مل کیس میں سزا کاٹنے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو گزشتہ کچھ روز سے دل میں تکلیف کا سامنا تھا، نواز شریف کو ان کی طبیعت کو مد نظر رکھتے ہوئے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لایا گیا۔

نواز شریف کی اسپتال آمد کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، ایمرجنسی وارڈز کے داخلی راستوں پر پولیس کی نفری تعینات کی گئی جب کہ مریضوں کے تیمارداروں کو وارڈ سے باہرنکال دیا گیا اور مریضوں کےلئے متبادل انتظامات کیے گئے ہیں۔ چیف ایگزیکٹو پی آئی سی نے دیگر ماہرین کے ہمراہ نواز شریف کا تفصیلی طبی معائنہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی کے ماہرین کی ایکو رپورٹ کے مطابق نواز شریف کے دل کے پٹھے معمول سے تھوڑے زیادہ سخت ہیں، اس کے علاوہ ان کی ای سی جی رپورٹ بھی تسلی بخش نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹ میں سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا کہ میں پہلے کہہ چکی ہوں کہ میاں نواز شریف کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور انہیں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لے جایا جارہا ہے لیکن مجھے اور ہماری فیملی کو اس حوالے سے آگاہ تک نہیں کیا گیا۔

بدعنوانی کا الزام:نسان کے سابق سربراہ کی درخواستِ ضمانت ایک مرتبہ پھر مسترد

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کی عدالت نے نسان کے سابق سربراہ کارلوس گھوسن کی جانب سے بیرون ملک فرار نہ ہونے اور نگرانی کے لیے برقی کڑا پہننے کے وعدے کے باوجود درخواست ضمانت مسترد کردی۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق عدالت کی جانب سے کارلوس گھوسن کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانےکی وجوہات نہیں بتائیں گئیں لیکن اس سے قبل ضمانت مسترد کرتےہوئے عدالت نے کارلوس گھوسن کے بیرون ملک فرار ہونے اور ان کی جانب سے ثبوت تباہ کرنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

ٹوکیو کی عدالت کی جانب سے درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد اب کارلوس گھوسن ٹرائل کے آغاز تک جیل میں رہیں گے۔

گزشتہ روز ضمانت پر رہائی کی ایک اور کوشش کے تحت نسان کے سابق سربراہ نے درخواست ضمانت میں اپنے تینوں پاسپورٹ جمع کروانے، نگرانی کے لیے الیکٹرانک ڈیوائس پہننے اور گارڈز مقرر کیے جانے کی پیشکش کی تھی۔

اس حوالے سے کارلوس گھوسن کے وکلا سمیت قانونی ماہرین نے کہا تھا کہ ان کے خلاف ٹرائل کی تیاریاں پیچیدہ ہیں جس میں 6 ماہ یا اس سے زائد بھی لگ سکتے ہیں۔

گزشتہ روز کارلوس گھوسن نے ایک نمائندے کے ذریعے اے پی کو ارسال کیے گئے بیان میں کہا تھا کہ ’ اگر عدالت میری درخواست ضمانت پر غور کرتی ہے تو میں یہ اس بات کی یقین دہانی کراتا ہوں کہ جاپان میں رہوں گا اور عدالت کی جانب سے ضمانت کے تحت طے کی جانے والی تمام شرائط کا احترام کروں گا‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’میرے خلاف عائد کیےگئے الزامات غلط ہیں ، میں بے قصور ہوں اور میں کمرہ عدالت میں اپنا دفاع کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، میرے لیے یا میرے خاندان کے لیے کچھ بھی زیادہ اہم نہیں ‘۔

کارلوس گھوسن نے کہا تھا کہ نسان کمپنی کو ان کی ذاتی سرمایہ کاری سے کوئی نقصان نہیں ہوا اور سعودی تاجر کو کی گئی ادائیگیاں خلیج میں نسان کے کاروبار کی جائز خدمات کے تحت تھیں۔

خیال رہے کہ کارلوس گھوسن جو اب مہینوں تک جیل میں رہیں گے ان کی گرفتاری کی وجہ سے جاپان کا نظام انصاف شدید تنقید کی زد میں ہے۔

جاپان میں وکلا کی غیرموجودگی میں تفتیش کی جاسکتی ہے اور مشتبہ افراد کو فرد جرم عائد کیے جانے سے 23 روز قبل گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

جیپنیز فیڈریشن آف بار ایسوسی ایشن کے مطابق ضمانت آسانی سے نہیں دی جاتی جب تک مشتبہ شخص خود پر عائد الزامات کا اعتراف نہ کرلے۔

بشمول کارلوس گھوسن کے وکلا سمیت قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرائل کی تیاریاں پیچیدہ ہیں جس میں 6 ماہ یا اس سے زائد بھی لگ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس 19 نومبر کو گاڑیاں تیار کرنے والی مشہور کمپنی ‘نسان’ کے چیئرمین کارلوس گھوسن کو کمپنی کے مالی معاملات میں ہیرا پھیری کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا، جس نے کاروباری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

وہ ٹوکیو کے حراستی مرکز میں قید ہیں جہاں صرف سفارت خانے کے حکام، وکلا اور پروسیکیوٹرز کو ان سے ملنے کی اجازت ہے۔

پروسیکیوٹر کی جانب سے کارلوس گھوسن پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے ایگزیکٹو گریگ کیلی کے ساتھ مل کر اپنی آمدنی چھپائی، جو تقریباً 4 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہے۔

کارلوس گھوسن نے ضمانت کے لیے اپیل دائر کی تھی لیکن گزشتہ ہفتے جاپان کی عدالت نے ان کی درخواست ضمانت یہ کہہ کر مسترد کردی کہ وہ اپنے خلاف موجود ثبوت تباہ کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ‘نسان’ نے سابق سربراہ کارلوس گھوسن پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے نیدرلینڈز میں قائم مشترکہ منصوبے سے ’غیر قانونی ادائیگیوں‘ کی مد میں تقریبا 80 لاکھ یورو وصول کیے۔

لبنانی پس منظر رکھنے والے برازیلی نژاد فرانسیسی شہری کارلوس گھوسن جن کے پاس امریکا میں ملازمت کا تجربہ بھی ہے، انہیں 1999 میں فرانس کی کمپنی رینالٹ کی جانب سے نسان بھیجا گیا تھا۔

واضح رہے کہ آٹو کمپنی رینالٹ ، نسان کمپنی کے 43 فیصد حصص کی مالک ہے۔

کارلوس گھوسن نے 2 دہائیوں تک نسان کی سربراہی کی اور کمپنی کو دنیا کا کامیاب ترین آٹو گروپ بنانے میں کردار ادا کرنے پر پذیرائی بھی حاصل کی

روس میں 2 بحری جہازوں میں آتشزدگی سے 11 افراد ہلاک

ماسکو: کریمیا اور روس کو علیحدہ کرنے والی بحری سرحد کرچ اسٹریٹ میں دو بحری جہازوں میں آگ بھڑک اُٹھی جس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کی بحری سرحد کے نزدیک دو جہازوں میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی، ایک جہاز میں قدرتی گیس کو مائع حالت میں لے جایا جا رہا تھا جب کہ دوسرا ٹینکر ہے۔

جہازوں میں دھماکے ساتھ آگ بھڑک اُٹھی اور 11 افراد جھلس کر ہلاک ہوگئے جب کہ دیگر افراد نے سمندر میں کود کر جان بچائی۔ ریسکیو اداروں نے 12 افراد کو سمندر سے بحفاظت نکال لیا ہے۔

تنزانیہ کے جھنڈا بردار دونوں جہازوں میں آگ اس وقت بھڑکی جب ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں آئل منتقل کیا جا رہا تھا۔ جہاز کے عملے میں بھارت، ترکی اور لیبیا کے باشندے شامل تھے تاہم ہلاک ہونے والوں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

حادثے کے شکار ایک جہاز کا نام کینڈی ہے جس میں 17 افراد سوار تھے جن میں 9 ترکی اور 8 بھارتی باشندے تھے اسی طرح دوسرے جہاز میسٹرو میں عملے کے 15 ارکان موجود تھے جن میں ترکی اور بھارت کے 7،7 باشندے شامل ہیں۔

عمران خان کی حکومت میں ملک کو ڈوبتے دیکھ رہا ہوں، وزیراعلیٰ سندھ

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں ملک کو ڈوبتے دیکھ رہا ہوں۔

سندھ اسمبلی میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی سرکلر ریلوے اور سی پیک سے متعلق منصوبوں پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیوں کو بنک گارنٹی دینے کے لیے وزیراعظم عمران خان اور وفاقی حکومت کو متعدد خطوط لکھے ہیں لیکن ان کے جواب نہیں دیے جارہے، اس سے اندازہ لگا لیں کہ ان کی کراچی میں کتنی دلچسپی ہے، ہفتہ بھر پہلے بھی وزیراعظم کو کے سی آر سے متعلق خط لکھا ہے، میں اس لیے خط لکھتا رہتا ہوں کہ شاید کبھی تو اثر ہوگا۔

مراد علی شاہ نے الزام لگایا کہ ان کا نام چین جانے کی وجہ سے ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے اور وفاقی حکومت کو میرے دورہ چین پر اعتراض تھا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ وفاق کے تعاون کے بغیر بننا ممکن نہیں ہے، ریلوے سے الگ ہماری لڑائی چل رہی ہے، ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں لیکن ہم قرض لیکر اس منصوبے کے لئے 15 فیصد پیسے دینے کے لئے تیار ہیں۔

ایوان میں اظہار خیال کرتے کرتے وزیراعلیٰ جذباتی ہوگئے اور کہا کہ لوگوں کو سولی چڑھانا، مرنا مارنا بند کریں، اپنے ووٹروں کے لئے کام کریں جنہوں نے آپ کو ووٹ دیا، ملک کی معاشی حالت بہت خراب ہے، میں اس حکومت میں ملک کو ڈوبتے دیکھ رہا ہوں، اس حکومت کا اب صرف یہی کام رہ گیا کہ اس کو ماردو، اس کو پکڑ لو، وزیراعلی کی تقریر پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج اور خوب شور شرابہ کیا۔

مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ خدارا لوگوں کو جیلوں ڈالنا پھانسی لگانا بند کریں، سولی پر ایک کو تو چڑھا دیا مگر وہ آج تک زندہ ہے، ہمیں بھی سولی پر چڑھا دو، حساب لینے کی بات نہ کریں، ہم ہمیشہ حساب دیتے رہے ہیں وفاق سے اپنا حق زبردستی لیکر رہیں گے، اگر پکڑ دھکڑ کی تو وزارت عظمی بھی نہیں رہے گی۔

ویرات کوہلی نے تاریخ رقم کردی، آئی سی سی کے تینوں بڑے ایوارڈز لے اڑے

بھارتی کپتان ویران کوہلی نے 2017 کی فارم کو جاری رکھتے ہوئے 2018 میں بھی عمدہ کھیل پیش کیا جس کی مدد سے انہوں نے نہ صرف بھارت کو پہلی مرتبہ آسٹریلیا میں ٹیسٹ سیریز جیتنے کا کارنامہ انجام دیا بلکہ آئی سی سی ایوارڈز پر بھی اپنا نام درج کروادیا۔

مایہ ناز کرکٹر ویرات کوہلی کی گزشتہ 12 ماہ کی بہترین کارکردگی پر سال کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ ’سر گارفلیڈ سوبرز ٹرافی‘ دیا گیا۔

ویرات کوہلی نے سفید لباس میں 2018 کے دوران 5 سنچریوں اور 5 نصف سنچریوں کی مدد سے ایک ہزار سو 22 رنز اسکور کیے۔

اسی طرح آئی سی سی ووٹنگ اکیڈمی نے ٹیسٹ اور ون ڈے کا پلیئر آف دی ایئر کے لیے بھی ویرات کوہلی کا ہی انتخاب کیا۔

ایشیا کپ 2018 میں شرکت نہ کرنے والے ویرات کوہلی نے ٹیسٹ کے مقابلے میں ون ڈے میں زیادہ بہتر کھیل پیش کیا اور ایک سال کے دوران صرف 14 میچز کھیل کر 133.55 کی شاندار اوسط سے 6 سنچریوں کی بدولت ایک ہزار 2 سو 2 رنز اسکور کیے۔

بھارتی کھلاڑیوں کا ایوارڈز جیتنے کا سلسلہ یہیں نہیں تھما بلکہ وکٹ کیپر بیٹسمین رشبھ پَنٹ سال کے بہترین ابھرتے ہوئی کھلاڑی قرار پائے۔

اسی طرح ایسوسی ایٹس ٹیموں میں بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ اسکاٹ لینڈ کے کیلم میک لائیڈ کے نام رہا جنہوں نے انگلینڈ اور افغانستان کے خلاف ون ڈے میچز میں اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

سال کے بہترین امپائر کے شعبے میں ایک مرتبہ پھر ووٹنگ اکیڈمی نے سری لنکا کے کمار دھرمیسینا کا انتخاب کیا جس کے ساتھ ہی مسلسل دوسری مرتبہ یہ ایوارڈ ان کے نام رہا۔

زمبابوے میں ہونے والی سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوران میزبان ملک کے خلاف آسٹریلوی بلے باز ایرون فنچ کی 172 رنز کی ریکارڈ توڑ اننگز ٹی ٹوئٹی کی بہترین اننگز قرار پائی۔

نیوزی لینڈ کے کپتان بھی ایوارڈز کی فہرست میں اپنا نام درج کروانے میں کامیاب ہوگئے اور انہیں آئی سی سی اسپرٹ آف کرکٹ آف دی ایئر کا ایوارڈ دیا گیا۔

Google Analytics Alternative