Home » Author Archives: Admin (page 6)

Author Archives: Admin

اہلیہ مجھ سے زیادہ قابل ہیں، حمزہ علی عباسی

کراچی: اداکارحمزہ علی عباسی کا کہنا ہے کہ ان کی اہلیہ نیمل خاوران سے زیادہ قابل ہیں۔

دوماہ قبل شادی کے بندھن میں بندھنے والے اداکار حمزہ علی عباسی اور اداکارہ نیمل خاور خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ دونوں کی شادی انتہائی سادہ انداز میں ہوئی تھی جسے ان کے مداحوں کی جانب سے خوب سراہا گیا تھا۔

اداکار حمزہ علی عباسی نے انسٹاگرام پراسٹوری میں اہلیہ نیمل کی جانب سے بنائی گئی ایک پینٹنگ شئیرکرتے ہوئے  لکھا کہ نیمل نے یہ پینٹنگ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت بنائی ہے۔

اداکار نے کہا کہ جب آپ کی اہلیہ آپ سے زیادہ قابل ہوں تو کیسا لگتا ہے؟ اوراپنے اس سوال کا جواب خود ہی دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت زیادہ فخر اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔

کایلی جینر شادی سے قبل دوسرے بچے کی خواہاں

دنیا کی کم عمر ترین سیلف میڈ ارب پتی خاتون کا اعزاز حاصل کرنے والی امریکی ماڈل و ٹی وی اسٹار 22 سالہ کایلی جینر اپنے فیشن، معاشقوں و انداز کی وجہ سے یوں تو ہمیشہ خبروں میں رہتی ہیں۔

تاہم گزشتہ چند ہفتوں سے وہ اپنے پارٹنر ریپر و گلوکار تریوس اسکاٹ سے علیحدگی کی وجہ سے خبروں میں تھیں۔

ابھی کایلی جینر اور تریوس اسکاٹ کے درمیان علیحدگی کی مکمل تصدیق بھی نہ ہوئی تھی کہ ماڈل نے مزید بچے پیدا کرنے کی خواہش کرکے سب کو حیران کردیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کایلی جینر کے ہاں فروری 2018 میں پہلی بچی کی پیدائش ہوئی تھی جس کے بعد رواں برس جولائی میں ماڈل نے خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گی۔

لیکن کایلی جینر اور تریوس اسکاٹ کی شادی تاحال نہ ہوسکی البتہ ان دونوں کے درمیان علیحدگی کی خبریں سامنے آ رہی تھیں۔

تاہم اب ایک بار پھر کایلی جینر نے بچے پیدا کرنے کی خواہش کرکے سب کو حیران کردیا، ساتھ ہی ان کے مداحوں کو اس بات کی امید بھی ہوئی کہ ماڈل اور تریوس اسکاٹ کے تاحال تعلقات ہیں۔

امریکی میگزین ’پیپلز‘ کے مطابق حال ہی میں کایلی جینر نے انسٹاگرام پر مداحوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کھل کر بات کی اور کہا کہ بچے پیدا کرنے جیسا احساس اور کسی احساس میں نہیں۔

کایلی جینر اور تریوس اسکاٹ کے 2 سال سے تعلقات ہیں—فوٹو: ہیلو میگزین
کایلی جینر اور تریوس اسکاٹ کے 2 سال سے تعلقات ہیں—فوٹو: ہیلو میگزین

کایلی جینر نے ایک مداح کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کی بچی ابھی ایک سال کی ہے، تاہم وہ چاہتی ہیں کہ ان کے ہاں دوسرے بچے کی بھی پیدائش ہو۔

ٹی وی اسٹار نے مداح کو جواب دیا کہ اگرچہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کے ہاں مزید بچوں کی پیدائش ہو، تاہم وہ فوری طور پر بچے پیدا نہیں کرنا چاہتیں۔

مداحوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے ماڈل نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیٹی اسٹورمی کے بہن کا نام بھی سوچ رکھا ہے۔

کایلی جینر نے مداحوں کو پہلے بچے کی پیدائش کے وقت حمل سے ہونے والی پیچیدگیوں سے متعلق بھی بتایا اور اعتراف کیا کہ حمل کے دوران ان کی چھاتی پر نشانات پڑگئے تھے، تاہم انہیں حمل سے ہونا اور بچہ پیدا کرنے کا تجربہ انتہائی شاندار لگا۔

کایلی جینر فیشن مصنوعات اور میک اپ کا کاروبار بھی کرتی ہیں—فوٹو: انسٹاگرام
کایلی جینر فیشن مصنوعات اور میک اپ کا کاروبار بھی کرتی ہیں—فوٹو: انسٹاگرام

حیرانگی کی بات یہ ہے کہ کسی بھی مداح نے کایلی جینر سے شادی کرنے کا نہیں پوچھا ۔

کایلی جینر کی جانب سے مزید بچوں کی پیدائش کی خواہش کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ جلد ہی گلوکار تریوس اسکارٹ کے ساتھ تعلقات استوار کرلیں گی۔

کایلی جینر کے ہاں ہونے والی پہلی بچی بھی انہیں اس وقت ہوئی جب ان کے تعلقات تریوس اسکارٹ سے تھے۔

کایلی جینر امریکی ماڈل کنڈیل جینر کی بڑی بہن ہیں، وہ اپنے منفرد فیشن اور ماڈلنگ انداز کی وجہ سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہیں، دنیا بھر کی کم عمر اور نوجوان لڑکیاں ان کے فیشن کو کاپی کرتی ہیں۔

کایلی اور تریوس 2017 سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں اور ان کی ایک بچی بھی ہے—فوٹو: پیپلز میگزین
کایلی اور تریوس 2017 سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں اور ان کی ایک بچی بھی ہے—فوٹو: پیپلز میگزین

کایلی جینر امریکا کی اداکار فیملی سے تعلق رکھتی ہیں، وہ کارڈیشین سسٹرز کی سوتیلی بہن ہیں، انہوں نے 9 سال کی عمر سے ریئلٹی ٹی وی شو میں شرکت کرنا شروع کی اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں مشہور ہوگئیں۔

کایلی جینر کو امریکی اقتصادی جریدے فوربز نے گزشتہ برس جولائی میں دنیا کی کم عمر ترین سیلف میڈ ارب پتی خاتون قرار دیا تھا، اس وقت تک ان کے اثاثوں کی مالیت ایک ارب ڈالر تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کایلی جینر دنیا کی کم عمر ترین سیلف میڈ ارب پتی خاتون

کایلی جینر اس وقت سال میں زیادہ کمائی کرنے والی دوسری شخصیت ہیں، فوربز کے مطابق دنیا کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی 100 شخصیات میں پہلے نمبر پر ٹیلر سوئفٹ اور دوسرے نمبر کایلی جینر ہیں۔

کایلی جینر کی سالانہ کمائی 17 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ہے یعنی وہ سالانہ پاکستانی 25 ارب روپے کے قریب کماتی ہیں۔

کایلی جینر نہ صرف فیشن کی وجہ سے دنیا بھر کی نوجوان لڑکیوں میں معروف ہیں بلکہ وہ سوشل میڈیا پر بھی متحرک رہتی ہیں اور انسٹاگرام پر وہ سب سے زیادہ فالو کی جانے والی شخصیت ہیں۔

کایلی جینر کے ہاں پہلی بچی فروری 2018 میں ہوئی تھی—فوٹو: انسٹاگرام
کایلی جینر کے ہاں پہلی بچی فروری 2018 میں ہوئی تھی—فوٹو: انسٹاگرام

عروج فاطمہ کی علی ظفر کے ساتھ ’لیلیٰ او لیلیٰ‘ کے ذریعے انٹری

موسیقار، گلوکار و اداکار علی ظفر نے پسماندہ ترین صوبے بلوچستان سے تعلق رکھنے والی جواں سالہ گلوکارہ عروج فاطمہ کے ساتھ اپنا کیا وعدہ مکمل کرتے ہوئے ان کے ساتھ گانے کی ویڈیو جاری کردی۔

لائٹنگل پروڈکشن کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو کو محض ایک ہی دن میں 87 ہزار سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے اور شائقین عروج فاطمہ کی آواز کی تعریف کر رہے ہیں۔

گانے کی ویڈیو کو پروڈیوس بھی علی ظفر نے کیا ہے جب کہ اس کی ہدایات عمیر خان نے دی ہیں۔

عروج فاطمہ کا تعلق کوئٹہ سے ہے—فوٹو: ٹوئٹر
عروج فاطمہ کا تعلق کوئٹہ سے ہے—فوٹو: ٹوئٹر

عروج فاطمہ کا تعلق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ہے اور انہوں نے گزشتہ برس علی ظفر کے ساتھ گانا گانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

عروج فاطمہ نہ صرف علی ظفر بلکہ عابدہ پروین کی بھی بڑی مداح ہیں جب کہ ساتھ ہی وہ اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق کام کرنے والے ذیلی ادارے ’یونیسف‘ کی بھی ٹین ایج چیمیئن ہیں۔

عروج فاطمہ اور علی ظفر نے ماضی کے مقبول لوک بلوچی گانے ’لیلیٰ او لیلیٰ‘ کو جدید انداز میں پیش کرکے اپنے مداحوں کو تحفہ دیا ہے۔

’لیلیٰ او لیلیٰ‘ کو سب سے پہلے بلوچ لوک گلوکار استاد فیض محمد بلوچ نے گایا تھا جب کہ اسے ایرانی نژاد سویڈن کے بلوچی، پارسی و پشتو گلوکار روستم میر لاشاری نے بھی کوک اسٹوڈیو کے لیے گایا تھا۔

تاہم پرانے گانوں کے مقابلے علی ظفر اور عروج فاطمہ کے گانے میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے خوبصورت نظاروں کو شامل کرکے اسے منفرد انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

’معیشت کیلئے کیے گئے مشکل فیصلوں کے ثمرات آنا شرو ع ہوگئے‘

وزیراعظم کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے مالی سال 20-2019 کی پہلی سہ ماہی کے دوران حکومتی معاشی کارکردگی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ معاشی صورتحال کے باعث حکومت نے جو مشکل فیصلے کیے اس کے نتائج آنا شروع ہوگئے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، عالمی بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے ساتھ اچھے پروگرام شروع کیے اور ان اداروں سے 10 سال کے لیے اضافی رقوم حاصل کرکے مالیاتی ذخائر کی صورتحال کو بہتر بنایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے رواں مالی سال کے بجٹ میں حکومتی اخراجات کم کیے گئے، کابینہ کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی، اعلیٰ سول و عسکری عہدیداروں کی تنخواہیں منجمد کی گئیں، پاک فوج کے بجٹ کو منجمد کیا گیا اور سولین حکومت کے بجٹ میں بھی 40 ارب روپے سے زائد کی کٹوتی کی گئی۔

اس کے ساتھ وزیراعظم آفس کے اخراجات میں بھی کمی کر کے یہ کوشش کی گئی کہ امیر طبقے سے ٹیکس وصول کرکے حکومت کی آمدن میں اضافہ کیا جائے۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ 55 کھرب روپے کا ہدف مقرر کرکے تقریباً 8 لاکھ مزید افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا ہے اور نوکریاں فراہم کرنے کے لیے برآمدات اور پیداوار بڑھانے کی کوششیں کی گئیں جس کے لیے برآمدات کے شعبے کو گیس، بجلی اور قرضوں میں سبسڈی دی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے پہلی سہ ماہی میں حکومت نے 2 اہم اور بڑے خساروں پر قابو پالیا جس میں 9 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ 30 فیصد کمی کے بعد 5 ارب 70 کروڑ روپے کی سطح پر لایا گیا جبکہ حکومتی آمدن و اخراجات کے فرق میں 36 فیصد کمی کی گئی۔

مشیر خزانہ کے مطابق گزشتہ مالی سال کی ابتدائی سہ ماہی میں مالی خسارہ 7 کھرب 38 ارب روپے تھا جسے آمدن میں اضافہ اور اخراجات کم کر کے 35 فیصد کمی کے بعد 4 کھرب 76 ارب روپے کی سطح پر لایا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کی آمدن میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ 3 ماہ کے دوران اسٹیٹ بینک سے بھی کوئی قرض نہیں لیا گیا کیوں کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ اخراجات کو کنٹرول کرتے ہوئے کوئی سپلیمنٹری گرانٹ بھی نہیں دی گئی۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ان 2 بڑے خساروں پر قابو پانے کے علاوہ حکومت کی نان ٹیکس آمدن میں خاصہ اضافہ ہوا اور پہلی سہ ماہی کے دوران 4 کھرب 6 ارب روپے حاصل کیے گئے جو پچھلے سال کے مقابلے 140 فیصد زائد ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں 12 کھرب روپے کا ہدف رکھا گیا تھا لیکن میں یہ خوش خبری دینا چاہتا ہو کہ ہم اس ہدف سے 4 کھرب روپے زائد یعنی 16 کھرب روپے کی نان ٹیکس آمدن حاصل کرلیں گے۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایکسچینج ریٹ کو ایک سطح پر رکھنے کے لیے کئی ارب ڈالر ضائع کیے گئے لیکن ہم نے عوام کے پیسے کو محفوظ کرتے ہوئے ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کی سطح پر رکھ کر برآمدات میں معاون بنانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے گزشتہ 3 ماہ سے ایکسچینج ریٹ مستحکم ہے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر بھی مستحکم ہوگئے ہیں اور بیرونِ ملک سے پاکستان میں کی گئی سرمایہ کاری میں 3 سال کے بعد 30 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

برآمدات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 5 سال کے عرصے میں کوئی بہتری نہیں آئی تاہم اب حکومت کی جانب سے برآمدات کے شعبے کی مدد کرنے کے ثمرات سامنے آرہے ہیں اور برآمدات کی پیداوار میں خاصہ اضافہ ہوا جس سے نوکریوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ نوکریوں کے لیے بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے،گزشتہ سال جنوری سے اگست تک کے عرصے میں یہ تعداد 2 لاکھ 24 ہزار تھی جبکہ رواں سال اسی عرصے کے دوران 3 لاکھ 73 ہزار لوگ بیرونِ ملک گئے جس سے معیشت اور زر مبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئے گی۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ اسٹاک مارکیٹ میں بھی بہتری آئی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے جس کے باعث اگست سے اب تک اسٹاک مارکیٹ 28ہزار سے بڑھ کر 34 ہزار پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گئی یوں اس میں 22 فیصد اضافہ ہوا۔

چھوٹے کاروبار کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ بہت اہم شعبہ ہے جس کے بارے میں آئندہ 2 ہفتوں میں مکمل پالیسی آنے والی ہے جس سے انہیں مراعات، کاروبار میں آسانی اور منظوری میں تیزی آجائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہر صنعت کی مدد کی جائے لہٰذا ہماری پالیسی رہی کہ 5 اہم برآمداتی شعبوں کی معاونت کی جائے تاہم اس شعبے کو وسیع کرنے کے حوالے سے خود حکومت میں بھی رائے پائی جارہی ہے اور جو ماضی میں ان فوائد سے محروم رہے انہیں بھی اس کا فائدہ پہنچایا جائے۔

مشیر خزانہ نے مالیاتی فوائد کے اعداد و شمار سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کو گزشہ برس پہلی سہ ماہی میں 51 ارب کا منافع ہوا تھا جبکہ اس برس ایک کھرب 85 ارب روپے منافع حاصل ہوا۔

اسی طرح پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) کا منافع پہلی سہ ماہی میں 6 ارب روپے تھا جو اس برس 70 ارب روپے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں آمدن کا ہدف 12 کھرب ہونے کے باوجود 16 کھرب روپے کی امید اس وجہ سے ہے کہ ٹیلی کام سیکٹر کا منافع 30 کھرب 38 ارب روپے جبکہ اسٹیٹ بینک کو منافع 2 کھرب کا اضافی ہونے کی توقع ہے جبکہ مائع قدرتی گیس کے پلانٹ کی نجکاری سے 30 کھرب روپے حاصل ہونے کی امید ہے۔

وزیراعظم کے تاریخی اقدامات اورچندمعروضات

کراچی: آٹوانڈسٹری کی مشکلات میں کوئی کمی نہ آسکی، ستمبر2019ء میں کاروں کی فروخت میں 39 فیصد کمی ریکارڈ، اس ماہ 11724 کاریں فروخت ہوئیں جبکہ اسی عرصے میں گذشتہ سال 19345 گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں۔

پاکستان آٹوموٹومینوفیکچرز ایسوسی ایشن(پاما) کے دیئے گئے اعدادو شمار کے مطابق آٹوانڈسٹری کوبحرانی صورتحال سے نکالنے کے لئے کوئی مناسب اقدامات نہیں کئے گئے ، ستمبر میں بھی اس انڈسٹری کی تباہ ہوتی ہوئی صورت حال کی عکاسی کر رہا ہے۔ رواں مالی سال 2019-20کی پہلی سہ ماہی میںگاڑیوں کی فروخت میں41 فیصد کمی ریکارڈکی گئی ہے جس کے مطابق(جولائی تا ستمبر) 38308 گاڑیاں فروخت ہوئیں جب کہ گذشتہ سال کے اسی عرصے میں 58351 گاڑیاں فروخت ہوئیں۔

اس کے باوجود ستمبر میں اگست کے مقابلے میں گاڑیوں کی سیل 16فیصد اضافہ ہوا۔ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کی اس بحرانی صورتحال پرقابو پانے کیلئے تین بڑے مینوفیکچرز نے اپنے پیداواری ایام میں بھی کمی کر دی ہے۔

ہونڈا اٹلس کمپنی کی سیل میں سالانہ 68 فیصد، انڈس موٹرزکی سیل میں 57 فیصد، سوزوکی موٹرزکی سیل میں 18فیصدکمی واقع ہوئی ہے۔

وائرلیس اور فون کے بغیر آپ کے پیاروں کو تلاش کرنے والا انقلابی آلہ

نیویارک: پاکستان سمیت کئی ممالک میں ہم بھیڑ میں لوگوں سے بچھڑ جاتے ہیں، بسا اوقات کئی مقامات پر موبائل فون کام نہیں کرتے اور ہرجگہ وائی فائی بھی نہیں ہوتا اس کا حل ایک کمپنی نے لنک ’lynq ‘ کی صورت میں پیش کیا ہے۔

’لنک‘ نامی اس آلے کے ذریعے ایک وقت میں دو سے بارہ افراد جڑسکتے ہیں۔ اس کے لیے کسی فون سروس، وائی فائی، انٹرنیٹ اور ماہانہ فیس درکار نہیں ہوتی بلکہ چھوٹا سا آلہ لنک خاص ریڈیو فری کوئنسی کے ذریعے دوسرے آلے سے جڑا ہوتا ہے۔

اس طرح بازار، ہجوم، تفریح، حادثے اور بچوں پر نظر رکھنے میں یہ ایجاد بہت کارآمد ثابت ہوئی ہے۔ بسا اوقات بچے بھی والدین سے دور ہوجاتے ہیں اور لنک اس ضمن میں بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

اس کا استعمال بہت سادہ ہے، لنک کے 2 یا 12 آلات پہلے ایک دوسرے کے قریب لاکر انہیں باہم مربوط کرلیں۔ اس کے بعد ہر شخص اپنے ڈیوائس میں اپنا نام شامل کرلے یہاں تک کہ دور جانے کی ایک حد بھی مقرر کی جاسکتی ہے لیکن یاد رہے کہ یہ صرف 5 کلومیٹر یا 3 میل کے دائرے میں ہی کام کرتا ہے۔

اب اگر دور جاتے ہوئے جس شخص کا نام آپ لکھیں گے اس کا فاصلہ اسکرین پر نمودار ہوگا اور بس اسی سمت میں چلتے جائیں یہاں تک کہ آپ اپنے دوست یا اہلِ خانہ تک جاپہنچیں گے۔ اسے بطور جی پی ایس قطب نما (کمپاس) استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ غائب ہوجانے والے کی سمت بھی بتاتا ہے۔

لنک کمپنی کے مطابق اس نظام کو فوج نے حقیقی میدانِ جنگ میں آزمایا ہے اور اس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح یہ آلہ ان بزرگوں کو بھی دیا جاسکتا ہے جو کسی دماغی عارضے کے سبب بار بار گھر سے باہر دور نکل جاتے ہیں۔ دوسری جانب پہاڑوں پر ٹریکنگ کرنے والے اور برف میں اسکینگ کرنے والے اس کا بھرپور استعمال کرسکتے ہیں۔

اسی طرح قدرتی آفات اور حادثات میں بھی اسے استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں موبائل نیٹ ورک اور بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے اور لوگ ایک دوسرے کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح چھوٹے بچوں کے لیے یہ آلہ بہت ہی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

لنک ایک مرتبہ چارج ہونے پر تین دن تک چل سکتا ہے اور مکمل طور پر واٹرپروف، چائلڈ پروف اور شاک پروف ہے، اس وقت لنک کے لیے قبل پری آرڈر خریداری جاری ہے اور یوں اگلے سال تک یہ ایجاد سامنے آسکتی ہے۔

فیس بک کی ’لبرا‘ کرنسی متعارف ہونے سے قبل مشکلات کا شکار

سوشل ویب سائٹ فیس بک کی جانب سے رواں برس جون میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ فیس بک متعدد عالمی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر بٹ کوائن کے مقابلے کی کرپٹو کرنسی متعارف کرائی جائے گی۔

فیس بک انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ کرپٹو کرنسی کو 2020 کی پہلی سہ ماہی تک متعدد اداروں کے ساتھ متعارف کرایا جائے گا اور اس کرنسی کو ’لبرا‘ کا نام دیا جائے گا۔

بتایا گیا تھا کہ ’لبرا‘ کو متعدد اداروں کی ایک ایسوسی ایشن کے تحت متعارف کرایا جائے گا جسے ’لبرا ایسوسی ایشن‘ کا نام دیا جائے گا۔

فیس بک نے بتایا تھا کہ ’لبرا‘ کو متعارف کرانے کے لیے فیس بک کے ساتھ 28 شراکت دار موجود ہوں گے جن میں پے پال، ماسٹر، ویزا، ای بے، اوبر، کوائن بیس اور مرسی کارپس سمیت دیگر شامل ہوں گے۔

فیس بک جون سے اب تک اس کرنسی کو متعارف کرانے کے حوالے سے امریکا، برطانیہ و یورپ کے کئی بینکس کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا۔

تاہم اب خبر سامنے آئی ہے کہ ’لبرا ایسوسی ایشن‘ میں شامل کئی عالمی مالیاتی اداروں نے فیس بک کا ساتھ چھوڑنے کا عندیہ دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ابتدائی طور پرمالیاتی ادارے ’پے پال‘ نے ’لبرا‘ ایسوسی ایشن سے نکلنے کا عندیہ دیا اور کہا کہ وہ اپنے ماضی کے فیصلے کو بدلنے پر مجبور ہیں۔

پے پال کے مطابق وہ ’لبرا‘ کے بانی ارکان میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے، تاہم مستقبل میں اس کرنسی کا حصہ بنا جا سکتا ہے۔

پے پال کے بعد ’ماسٹرکارڈ اور ویزا‘ نے بھی فیس بک کا ساتھ چھوڑنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھی کرپٹو کرنسی کے بانی ارکان میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پے پال، ویزا اور ماسٹر کارڈ کے بعد ای کامرس کمپنی ’اے بی اور اسٹرائپ‘ نے بھی فیس بک لبرا سے خود کو الگ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ابتدائی طور پر اس کرپٹو کرنسی کا حصہ نہیں بن سکتے۔

فیس بک لبرا سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرنے والے اداروں نے واضح طور پر کرپٹو کرنسی سے الگ ہونے کی وضاحت نہیں کی۔

تاہم ان اداروں کی جانب سے ایک ایسے وقت میں فیس بک لبرا سے علیحدگی کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ کچھ ہفتے قبل ہی امریکی ایوان نمائندگان نے لبرا ایسوسی ایشن میں شامل اداروں کو ایک خط بھیجا تھا۔

امریکی ایوان نماندگان کی جانب سے بھیجے گئے خط میں ان اداروں کو کہا گیا تھا کہ اگر وہ فیس بک لبرا کرنسی کو متعارف کرانے میں کردار ادا کرتے ہیں تو ان کی سخت تفتیش اور نگرانی کی جائے گی۔

اگرچہ لبرا سے الگ ہونے والے اداروں نے واضح نہیں کیا کہ انہوں نے امریکی ایوان نمائندگان کے خط کی وجہ سے کرپٹو کرنسی سے علیحدگی اختیار کی ہے۔

تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی وجہ سے ہی ان اداروں نے لبرا سے علیحدگی اختیار کی۔

دوسری جانب فیس بک نے بھی اداروں کے الگ ہونے پر تاحال کوئی بیان نہیں دیا۔

دماغی شریان پھٹنے کی وجوہات اور علامات جانتے ہیں؟

دماغی شریان پھٹ جانا یا برین ہیمرج ایسا عارضہ ہے جس میں موت کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم ہو یا نہ ہو مگر فالج کی 2 اقسام ہوتی ہیں، ایک قسم میں دماغی ٹشوز کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے یا کم ہوجاتی ہے جسے Ischemic اسٹروک کہا جاتا ہے جبکہ دوسری قسم برین ہیمرج ہے جس میں دماغی شریان پھٹ جاتی ہے۔

اس کی کئی اقسام ہوتی ہیں intracranial ہیمرج، جس میں سر کے اندر خون بہنے لگتا ہے جبکہ دوسری cerebral ہیمرج، جس میں دماغ کے اندر یا ارگرد خون بہنے لگتا ہے یا Subarachnoid ہیمرج جس میں دماغ اور دماغ کو کور کرنے والے ٹشوز کے درمیان خلا پیدا ہوجاتا ہے۔

عام طورپر فالج کے 13 فیصد کیسز برین ہیمرج کے ہوتے ہیں اور اس کے لیے فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ریکوری ممن ہوسکے، جبکہ اس کا خطرہ بڑھانے والے عناصر کو کنٹرول میں رکھنا بھی اس سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

علامات

برین ہیمرج کو intracerebral ہیمرج بھی کہا جاتا ہے اور اس کی علامات ہر مریض میں مختلف ہوتی ہیں، مگر کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو فالج کے حملے کے ساتھ ہی ہمیشہ نظر آتی ہیں۔

یہ ممکنہ علامات درج ذیل ہیں:

مکمل یا جزوی ہوش کھودینا

دل متلانا

قے ہونا

اچانک اور شدید سردرد

جسم کے ایک حصے میں چہرے، ٹانگ یا بازو میں کمزوری یا سن ہونے کا احساس

seizures

سر چکرانا

توازن کھو دینا

بولنے یا نگلنے میں مشکلات

الجھن یا ماحول کا احساس ختم ہوجانا

وجوہات

دماغی شریان پھٹنے کی 2 ممکنہ وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں زیادہ عام شریان کا پھیلنا یا aneurysm ہے، یعنی خون کی شریان کا کوئی حصہ ہائی بلڈ پریشر یا خون کی شریان کی کمزوری کی وجہ سے پھیل جائے، غبارے کی طرح پھول جانے والا یہ حصہ شریان کی دیوار کمزور بناتا ہے اور پھٹنے پر مجبور کردیتا ہے۔

دوسری وجہ کو اے وی ایم کہا جاتا ہے جس کے دوران شریانیں اور رگیں غیرمعمولی طریقے سے آپس میں مل جاتی ہیں، یہ پیدائشی ہوسکتا ہے مگر یہ موروثی نہیں اور ابھی یہ واضح نہیں کہ کچھ افراد میں اس کا خطرہ کیوں بڑھتا ہے۔

برین ہیمرج جان لیوا ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے دوران دماغی شریان پھٹ جاتی ہے جس سے دماغ کو نقصان پہنچتا ہے اور بچنے کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ کھوپڑی کے اندر سوجن اور خون بہنے کو کتنی جلد کنٹرول کیا جاتا ہے، یعنی کچھ لوگوں پر تو اس کے اثرات مستقل ہوسکتے ہیں جبکہ کچھ مکمل طور پر صحت یاب ہوسکتے ہیں۔

اس کا خطرہ کیسے کم کریں؟

برین ہیمرج کا خطرہ بڑحانے والے چند مخصوص عناصر ہیں جیسے ہائی بلڈ پریشر اس کی بڑی وجہ ہے اور اسے کنٹرول میں رکھ کر برین ہیمرج کا خطرہ بھی کم کیا جاسکتا ہے جس کے لیے تمباکو نوشی سے گریز بھی ضروری ہے۔

الکحل اور منشیات کا استعمال بھی یہ خطرہ بڑھاتے ہیں۔

مریض کے لیے کیا کریں؟

برین ہیمرج کے حملے کے بعد فوری اور ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد کی فراہمی انتہائی ضروری ہوتی ہے، ڈاکٹر اس حوالے سے دماغ میں خون کے بہاﺅ کو کنٹرول کرنے اور خون بہنے سے پیدا ہونے والے دباﺅ کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خون کے دباﺅ یا بہاﺅ کو سست کرنے کے لیے ادویات بھی استعمال کی جاسکتی ہیں، مگر خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرتے ہیں اور برین ہیمرج کا سامنا ہو تو اس سے خون کے زیادہ بہاﺅ کا خطرہ بڑھتا ہے، مگر ڈاکٹر اس حوالے سے زیادہ بہتر تجویز کرسکتے ہیں۔

جب برین ہیمرج کے بعد مریض کو بچانے میں کامیابی مل جاتی ہے تو مزید اقدامات کیے جاسکتے ہیں، جس کا انحصار دورے کی شدت پر ہوتا ہے کہ وہ ادویات یا تھراپی وغیرہ سے ٹھیک کیا جاسکتا ہے یا آپریشن کرانے کی ضرورت ہے۔

Google Analytics Alternative