Home » Author Archives: Admin (page 6)

Author Archives: Admin

نیب ہمارے رہنماؤں سے میڈیا کے سامنے سوالات کرے ہم تیار ہیں، احسن اقبال

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا ہے کہ نیب ہمارے خلاف اوپن انکوائریاں کریں اور میڈیا کو بٹھا کر سوال و جواب کرے ہم تیار ہیں۔

پارلیمنٹ ہاوٴس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت نے سپریم کورٹ سے شہباز شریف کے خلاف درخواست واپس لے لی اور نیب شہباز شریف کے خلاف عدالت میں ایک بھی ثبوت پیش نہ کرسکی جب کہ 2 دن قبل سپریم کورٹ میں بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، ثابت ہوگیا کہ ہم حکومت کے جھوٹے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں لیکن نہ جھکے ہیں نہ جھکیں گے۔

احسن اقبال کا  کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کا ایک بھی اکاوٴنٹ ایسا نہیں ہے جو حساب کے لیے پیش نہ کیا گیا ہو، اس کے برعکس پی ٹی آئی کے 23 اکاوٴنٹ ہیں جس میں عوام کا پیسہ اکٹھا کرکے گل چھرے اڑائے جارہے تھے، ہمارے ہر رہنما نے اپنا اوپن ٹرائل کرنے کا کہا ہے، نیب کو کہتے ہیں ہمارے خلاف اوپن انکوائریاں کریں، میڈیا کو بٹھا کر سوال جواب کریں، تاکہ عوام کو الزامات کی حقیقت کا علم ہو اور پتا چلے کہ حکمران صرف گالی گلوچ اور کردار کشی پر زندہ ہیں۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کو آج ڈر تھا کہ اپوزیشن قومی اسمبلی میں مہنگائی پر ہنگامہ کرے گی اس لیے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک نام نہاد احتساب سیل کی پریس کانفرنس کردی، وزیراعظم نے معاشی مشیر کو ویلڈن کہا، کس بات پر ویلڈن کہا؟ آج میڈیا پر آپ واویلا کر رہے ہیں، سپریم کورٹ میں آپ بھیگی بلی بن جاتے ہیں، من گھڑت حقائق پیش کر کے میڈیا ٹرائل شروع کر دیتے ہیں اور جب فارن فنڈنگ کی بات آتی ہے توعمران خان بھاگتے پھرتے ہیں۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ حکومت نے پارلیمنٹ کو نہ صرف غیر فعال بلکہ غیر موثر کر دیا ہے، اسپیکر کے احکامات کو اتنی بھی اہمیت حاصل نہیں جتنی ایک سیکشن آفیسر کو ہوتی ہے، جب کہ سیاسی مقدمات میں گرفتار اپوزیشن اراکین کو اجلاس میں شرکت سے روکا جاتا ہے، خواجہ سعد رفیق کے آرڈرز جاری ہوئے مگر پنجاب حکومت نے عمل درآمد سے معذرت کرلی، رانا ثنا اللہ کا پروڈکشن آرڈر خصوصی طور پر جاری نہیں کیا گیا، اسپیکر کے آرڈرز کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا جا رہا ہے، اسپیکر بے توقیر ہے تو پارلیمنٹ کی کیا توقیر رہ گئی ہے؟ اس حکومت کے فیصلے کون کر رہا ہے؟ یہ حکومت نہیں کامیڈی تھیٹر ہے۔

شہباز شریف کا وزیراعظم کو دوبارہ خط، چیف الیکشن کمشنر کی جلد از جلد تقرری پر زور

اسلام آباد: قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کو ایک بار پھر خط لکھا ہے جس میں انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کی جلد از جلد تقرری پر زور دیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے 3 نام وزیراعظم کو بھجوا دیے ہیں، شہبازشریف کی جانب سے بھجوائے گئے ناموں میں ناصرمحمود کھوسہ، جلیل عباس جیلانی اوراخلاق احمد تارڑ شامل ہیں۔

شہبازشریف نے وزیراعظم کو خط میں لکھا کہ میری دانست میں یہ ممتاز شخصیات اس منصب کے لیے نہایت مناسب اور اہل ہیں، بغیر کسی تاخیر کے چیف الیکشن کمشنر کے لئے یہ 3 نام زیر غور لائیں، اس امید کے ساتھ آپ کو تین نام بھجوارہا ہوں کہ آپ کی طرف سے جلد جواب ملے گا۔

شہبازشریف نے خط میں کہا کہ 6 دسمبر کو چیف الیکشن کمشنر کی 5 سال کی آئینی مدت مکمل ہورہی ہے، چیف الیکشن کمشنر، ایک یا زائد ارکان کا تقرر نہ ہوا تو الیکشن کمشن غیرفعال ہوجائے گا جب کہ آئین کے آرٹیکل 213 ٹو اے کا تقاضا ہے کہ وزیراعظم اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کرے۔

شہبازشریف نے وزیراعظم عمران خان سے خط میں کہا کہ میری دانست میں آئین کے تحت آپ کو مشاورت کا یہ عمل بہت عرصہ قبل شروع ہونا چاہیے تھا تاہم الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے کو غیرفعال ہونے سے بچانے کی کوشش میں دوبارہ مشاورت کا عمل شروع کررہا ہوں، امید ہے کہ ان افراد کی اہلیت کی آپ پذیرائی کریں گے اور قانون کے مطابق زیرغور لائیں گے، مزید وضاحت یا معلومات درکار ہوں تو آپ کو فراہم کردی جائیں گی۔

شہبازشریف نے خط میں کہا کہ بلوچستان اور سندھ سے الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے لئے اتفاق رائے پر مبنی مشاورت ضروری ہے تاہم میرے عقلی ومنطقی استدلال کے باوجود بدقسمتی سے مشاورت میں کمیشن کے ارکان پر اتفاق رائے نہ ہونے سے تعطل پیدا ہوا، میں آپ پر زور دیتا ہوں کہ اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے اس مرتبہ مخلصانہ اور سنجیدہ کوشش کریں۔

میک اپ مصنوعات کے ساتھ یہ احتیاط نہ کرنا بیمار کرسکتا ہے

اگر آپ دنیا بھر میں موجود ان کروڑوں خواتین میں سے ایک ہے جو مسکارا، لپ گلوس یا دیگر میک اپ مصنوعات کرتی ہیں تو جان لیں کہ ایسی مصنوعات میں جان لیوا جراثیم موجود ہوتے ہیں، اور اس کی وجہ آپ کی ہی سستی ہوسکتی ہے۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

آسٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اس وقت نوے فیصد یا ہر 10 میں سے 9 کاسمیٹکس مصنوعات خطرناک جراثیم بشمول ای کولی اور دیگر سے آلودہ ہوتی ہیں جبکہ بیوٹی بلینڈرز، مسکارا اور لپ گلوس میں سب سے زیادہ مقدار میں بیکٹریا پائے جاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق بیشتر بیکٹریا قدرتی طور پر جلد پر موجود ہوسکتے ہیں مگر میک اپ مصنوعات کی شکل میں وہ سنگین امراض جیسے جلدی انفیکشن سے لے کر آشوب چشم اور بلڈ پوائزننگ تک، کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اگر یہ جراثیم جسم میں آنکھوں، منہ یا کسی زخم یا چہرے پر خراش سے داخل ہوں تو مدافعتی نظام متاثر ہونے کا امکان بھی ہوتا ہے۔

طبی جریدے جرنل آف اپلائیڈ مائیکروبائیولوجی میں شائع تحقیق میں سائنسدانوں نے 470 کاسمیٹکس مصنوعات جیسے لپ اسٹک، لپ گلوس، آئی لائنر، مسکارا اور بیوٹی بلینڈرز وغیرہ میں جراثیمی آلودگی کا جائزہ لیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ ایک بار استعمال ہونے کے بعد ان مصنوعات میں جراثیمی آلودگی کی شرح 79 سے 90 فیصد تک بڑھ جاتی ہے جبکہ 25 فیصد مصنوعات میں متعدد اقسام کی Fungi کو دریافت کای گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ اسفنج جیسے بیوٹی بلینڈرز کو لیکوئیڈ فاﺅنڈیشن مصنوعات کو لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور استعمال کے بعد ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ جراثیم کی افزائش نسل کے لیے مثالی ثابت ہوتا ہے۔

محققین کے مطابق مجموعی طور پر جراثیم کی مقدار بہت زیادہ ہونے کی وجہ صارفین کی جانب سے ان مصنوعات کی صفائی کا خیال نہ رکھنا ہے یا ایکسپائری تاریخ کے بعد بھی استعمال کرنا ہے۔

محققین نے مزید کہا کہ ممکنہ طور پر یہ مصنوعات جب خریدی جاتی ہیں تو ان میں یہ جراثیمی آلودگی نہیں ہوتی، مگر ان میں موجود جراثیم کش اجزا کی افادیت وقت کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے اور جراثیم کی شرح بڑھنے لگتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فنگس اور بیکٹریا ضروری نہیں کہ ہمیشہ انفیکشن کا باعث بنے تاہم اگر میک اپ کے استعمال کے دوران کھلے زخم یا خراش کے نتیجے میں انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے خاص طور پر اینٹی بائیوٹیکس کے خلاف مزاحمت کرنے والا انفیکشن، جس کا علاج مشکل ہوتا ہے اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین نے مشورہ دیا کہ میک اپ کے لیے استعمال ہونے والے برشز کو ہر 7 سے 10 دن میں دھونا چاہیے تاکہ بیکٹریا کے اجتماع کو روکا جاسکے۔

اس مقصد کے لیے نیم گرم پانی میں شیمپو کو مکس کرکے ہر برش کو اس میں دھونا چاہیے اور کبھی بھی اپنے برش کو دوسروں کے ساتھ استعمال مت کریں۔

محققین نے کمپنیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایکسپائری تاریخ کو زیادہ نمایاں اور واضح کریں تاکہ اس کے بعد ان کا استعمال نہ ہوسکے۔

پھر تبدیلی تبدیلی کا کھیلپھر تبدیلی تبدیلی کا کھیل

سلطنت پنجاب میں ایک بار پھر تبدیلی تبدیلی کا کھیل کھیلا گیا ۔ پنجاب کے بارہ کروڑ عوام کے ساتھ جاری یہ مذاق کب تک چلے گا یہ کوئی نہیں جانتا ۔ اگر تبدیل نہیں کیا جاتا تو ڈرایءور کو تبدیل نہیں کیا جاتا ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ عثمان بزدار کا کلہ بہت مظبوط ہے ۔ اس قلعے کے آگے سب بے بس ہیں ۔ ورنہ بظاہر موجودہ وزیراعلیٰ میں ایسی کوئی خاص خوبی نہیں جو امور سلطنت پنجاب کے لیئے ضروری ہو ۔ پنجاب کے ساتھ جاری کھلواڑ میں نہ صرف تحریک انصاف بلکہ پنجاب کے عوام کا شدید نقصان ہو رہا ہے اس کے ذمہ دار ارکان صوبائی اور قومی اسمبلی ہیں ۔ جو اس کے خلاف آواز ہی بلند نہیں کرتے ۔ اور یس باس کی تصویر بنے ہوئے ہیں ۔ یہ کالم شاید بہت سے ایسے لوگوں کو پسند نہ آئے جو کسی بھی طرح اس کھیل میں شامل ہیں یا اپنے حلف اور عوام سے کیئے گئے وعدوں کے بر خلاف خاموش رہتے ہیں ۔ اگر صوبہ کے پی کے سے تحریک انصاف کے ایم این اے نور عالم خان کی طرح کوئی بولنے کی جسارت کرتا ہو تو اس کے حلقے کے ترقیاتی فنڈز روک لیئے جاتے ہیں یا فنڈز دیئے ہی نہیں جاتے ۔ یہ کیسا مذاق ہے جن لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیئے ہیں ان کے ساتھ یہ سلوک ہے تو اندازہ لگائیں کہ جنہوں نے دوسری جماعتوں کو ووٹ دیئے ہیں ان کا کیا حال ہوگا ۔ ایک طرف ایسے ڈرایءور کو اتنی بڑی بس کی ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھایا گیا ہے جس کو بس سٹارٹ کرنا ہی نہیں آتا ۔ بس رکی ہوئی ہے ۔ اور سواریوں کا حال بد سے بد تر ہوتا جا رہا ہے ۔ دوسری طرف سارا غصہ بیورو کریسی پر نکالا جاتا ہے کہ بس کو دکھے سے کیوں نہیں چلاتے ۔ جب ڈرائیور کو یہ پتہ نہ ہو کہ بس کے سٹارٹ ہونے کا سوءچ کہاں ہے تو دھکے دینے والے جتنی مرضی کوششیں کر لیں بس سٹارٹ نہیں ہوگی ۔

سرکاری افسران کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تبدیل کرنے سے گورننس بہتر ہونے کی امید کتنی عقلمندی ہے اس کا اندازہ کون لگائے اور کون کس کو سمجھائے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ایک شریف آدمی ہیں اس سے کون انکاری ہے ۔ پھر بار بار یہ بات دہرانے کا کیا مقصد ہے ۔ لیکن یہاں بات پنجاب کے امور سلطنت کی ہے ۔ اب اس کو وزیراعظم عمران خان کی ضد یا انا کہیں یا بقول بعض لوگوں کے قلعے کی مضبوطی یا جادو کے اثرات یہ سب باتیں دشمنوں کی پھیلائی ہوئی ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان باتوں میں کوئی صداقت ہے نہ عثمان بزدار کی شرافت پر کوئی شبہ ہے ۔ مسئلہ تو پنجاب کی گورننس کا ہے ۔ جو پندرہ سولہ ماہ سے حالت کومہ میں ہے ۔ اور چار پانچ بار سرکاری افسران بشمول پولیس کے پے در پے تبدیلیوں کے باوجود ایک ذرا بھی کوئی تبدیلی اور بہتری نہیں ہوئی ۔ البتہ وزیراعلیٰ کے اپنے شہر کی خوبصورتی کے لیئے کام ہو رہا ہے اور بقول شخصے اس مقصد کے لیئے کروڑوں روپے کے فنڈز جاری ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ پورے پنجاب میں کسی بھی جگہ کوئی منصوبہ شروع کرنا تو درکنار مختلف حلقوں میں ترقیاتی کام بھی شروع نہیں کرائے گئے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ پنجاب میں تحریک انصاف کا گراف تیزی سے نیچے گر رہا ہے ۔ خود تحریک انصاف کے اراکین صوبائی اور قومی اسمبلی کی ایک تعداد ہے جو اپنی ہی حکومت سے نالاں ہیں ۔ ضلعی اور تحصیل سطح کے عہدیدار تو عوام کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ جب ایم این ایز اور ایم پی ایز کی بات سننے والا نہ ہو تو ضلع اور تحصیل سطح کے عہدیدار کس گنتی میں آتے ہیں ۔ بلکہ حالیہ تبادلوں کے نتیجے میں انتہائی تجربہ کار اور ایماندار افسران کو اہم شہروں اور علاقوں میں لگایا گیا ۔ یہ وہ افسران ہیں جو نہ سفارش مانتے ہیں نہ کسی سیاسی دباءو کو خاطر میں لاتے ہیں ۔ اور قوی امکان ہے کہ اگلے تین ماہ کے بعد یا اس دوران ہی تبدیلیوں کا ریلا پھر آئے گا اور یہ سیلابی ریلے اگلے چار سال تک یا جب تک موجودہ حکومت برقرار ہے اسی طرح آتے رہیں گے ۔ کیونکہ بقول وزیراعظم عمران خان کے پنجاب کے موجودہ وزیراعلیٰ ہی اس کرسی پر براجمان رہیں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملہ پر یو ٹرن نہیں لیا جائے گا ۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پے در پے اور ہر تین چار ماہ بعد تبدیلیوں کے باعث پنجاب کی بیورو کریسی اور پولیس کے اعلیٰ افسران کیونکر اور کیسے کوئی کار کردگی دکھائیں گے کہ کوئی گائیڈ لائین دینے والا بھی نہیں اور ابھی اپنا سامان کھولا ہی نہیں کہ پھر سے تبدیلی کا حکم نامہ آگیا ۔ بقول غالب

’’ در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کر کیسے پھر گیا‘‘

’’جتنے عرصے میں میرا لپٹا ہوا بستر کھلا‘‘

اس سارے کھیل میں پنجاب کا تو جو نقصان ہوا اور ہو رہا ہے وہ تو ہے ہی لیکن یہ یاد رکھا جائے کہ تحریک انصاف کا بھی بہت نقصان ہو رہا ہے ۔ یہ کسی کی ضد ہے یا عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ برقرار رکھنے کی خواہش لیکن تحریک انصاف اس سودے کی بہت بھاری قیمت ادا کر رہی ہے ۔ اور اپنا کافی نقصان کر چکی ۔ صوبہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کا حال بھی کچھ مختلف نہیں ۔ سندھ کا بھی برا حال ہے ۔ کسی صوبہ میں نہ کوئی قابل ذکر ترقیاتی کام ہو رہے ہیں نہ گورننس میں کوئی بہتری ہے ۔ پورے ملک میں ایک عجیب اور نا گفتہ بہہ صورت حال ہے ۔ علاوہ ازیں مہنگائی ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی ۔ مہنگائی کو کنٹرول کرنے والے تمام ادارے مفلوج نظر آرہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں تمام کاروائیاں صرف فوٹو سیشن،بیانات اور گھبرانا نہیں جیسی تسلیوں تک محدود ہیں ۔ چوری،ڈکیتی،اغواء اور قتل کے واقعات میں پنجاب سر فہرست ہے ۔ دوسرے نمبر پر سندھ ہے ۔ بے روزگاری میں ناقابل بیان اضافہ ہوا ہے اور ہو رہا ہے جس سے جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے ۔ حکومت کرسی بچانے اور اپوزیشن حکمرانوں کو کرسی سے گرانے کی سر توڑ کوششیں کر رہی ہے ۔ کسی کو نہ ملک کی فکر ہے نہ عوام کی ۔ ادھر ہر بندے کے سر پر نیب کی تلوار لٹکائی گئی ہے ۔ ایف بی آر کی پالیسیوں کی وجہ سے ہر شعبہ زندگی میں کاروباری سرگرمیاں بند ہیں ۔ نیب کے خوف اور ایف بی آر کی پالیسیوں کی وجہ سے ادارے مفلوج اور کاروبار ٹھپ ہیں ۔

یہ تو ارباب اقتدار ہی جانتے ہیں کہ اس ملک اور عوام کو کہاں اور کیوں پہنچایا جا رہا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان اب بھی ’’ کسی کو نہیں چھوڑیں گے‘‘ کی پالیسی بار بار دہرا رہے ہیں اور معاشی ٹیم کو شاباش دیتے ہیں ۔ اس پر پھر غالب یاد آئے ۔

’’یہ مسائل تصوف یہ تیرا بیان غالب‘‘

’’تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا‘‘

یہاں بادہ خوار سے مراد جناب کے ناقابل فہم بیانات اور بعض لوگوں کو شاباشی دینا ہے ۔

جتنی جلدی ان ہاؤس تبدیلی لائی جائے قوم کیلیے بہتر ہے، شہباز شریف

لندن: مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان اور نیب گٹھ جوڑ میں کوئی شک نہیں رہا، انہوں نے میرے اثاثے منجمد کیے۔

لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک کی سیاسی صورتحال پر تشویش ہے، عدالت عظمیٰ نے کل آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں مجھے سرخرو کیا، عدالت نے میری ضمانت منسوخی کی نیب درخواست مسترد کردی، نیب نے جیسے درخواستیں واپس لیں اور عدالتی ریمارکس نے دودھ کا دودھ پانی کا پانی کردیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان اور نیب گٹھ جوڑ میں کوئی شک نہیں رہا، انہوں نے شرمندگی سے بچنے کے لیے میرے اثاثے منجمد کیے، الیکشن کمیشن اورایف بی آرمیں میرے تمام اثاثے ظاہرہیں، مجھ پر یا میرے بچوں پرکرپشن ثابت ہوئی توسیاست چھوڑدوں گا جب کہ نوازشریف سمیت پوری ٹیم کی  بے گناہی ایک ایک کرکے سامنے آرہی ہے، میں نیب کےعقوبت خانے میں بھی رہا لیکن کچھ ثابت نہیں ہوا۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں عمران خان سے بڑا جھوٹا شخص نہیں دیکھا، عمران خان احسان فراموش اورغصے سے بھرا انسان ہے، انتشارکے بیج حکومتی پارٹی نے بوئے، ہم سب متحد ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ کسی معاملے پر بات نہیں ہوسکتی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان یوٹرن کے ماسٹر ہیں، کہاں گئے 50 لاکھ گھر، ڈیڑھ سال میں ایک گھربھی نہیں بنا اور وہ ایک کروڑنوکریاں کہاں گئیں، پشاورمیں بی آرٹی منصوبےمیں اب بھی توڑپھوڑچل رہی ہے، حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے  لاکھوں لوگ بے روزگارہوئے۔ ایک سوال کے جواب میں صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ جتنی جلدی ان ہاوَس تبدیلی لائی جائے اس میں قوم کی بہتری ہے کیوں کہ عمران خان نے پاکستانی معیشت کوتباہ کردیا،پاکستان اس کامزید متحمل نہیں ہوسکتا۔

الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری مؤخر، کمیشن غیرفعال ہونے کا خطرہ

اسلام آباد: الیکشن کمیشن ممبران کی تقرری کا معاملہ ایک ہفتے کیلئے مؤخر ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن غیرفعال ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

ڈاکٹر شیریں مزاری کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کےدو ممبران کی تعیناتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں الیکشن کمیشن کے سندھ اور بلوچستان کے ممبران کی تقرری پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں پرویز خٹک،راجہ پرویز اشرف،مشاہد اللہ،شیزا فاطمہ خواجہ، اعظم سواتی،نصیب اللہ بازئی،ڈاکٹر سکندر مہندرو شریک ہوئے۔

حکومت اور اپوزیشن نے ارکان کی تقرری ایک ہفتے کیلئے مؤخر کرتے ہوئے متفقہ فیصلہ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر اورممبران کی تقرری ایک ساتھ کی جائے گی۔

تاخیر کے باعث الیکشن کمیشن پرسوں سے غیر فعال ہو جائے گا کیونکہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا کی مدت ملازمت 6 دسمبر کو ختم ہوجائے گی جبکہ سندھ اور بلوچستان کے ارکان بھی ریٹائر ہوچکے ہیں۔

پارلیمانی کمیٹی کے ممبران میں بھی ردو بدل کرتے ہوئے اپوزیشن اورحکومت کا ایک ایک رکن تبدیل کردیا گیا ہے۔ مرتضی جاوید عباسی کی جگہ شیزا فاطمہ خواجہ اور سید فخر امام کی جگہ پرویز خٹک کو کمیٹی کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ شیریں مزاری نے کل اعلان کیا تھا کہ آج قومی اسمبلی اجلاس سے قبل ممبران کے ناموں کا اعلان کردیا جائے گا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے مابین حج معاہدہ 2020 طے پا گیا

اسلام آباد / ریاض: پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے ہونے والے معاہدے کے مطابق آئندہ سال 2 لاکھ پاکستانی حج کا فریضہ ادا کریں گے۔ 

وزارت مذہبی امور کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین حج معاہدہ 2020ء طے پا گیا ہے، معاہدے پر پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیرمذہبی امور نور الحق قادری نے اور سعودی عرب کے ڈاکٹر صالح بن بنتن نے  دستخط کئے، معاہدے کے تحت آئندہ حج کے موقع پر 2 لاکھ پاکستانی فریضہ حج ادا کریں گے۔

ترجمان مذہبی امور عمران صدیقی نے بتایا ہے کہ حج معاہدے سے قبل وفاقی وزیر نور الحق قادری کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر صالح بن بنتن اور ان کی ٹیم سے حج انتظامات پر مذاکرات کیے، جس میں پاکستانی وفد نے آئندہ سال حج کے لئے عازمین کو مزید بہتر سہولیات کی فراہمی کے مطالبات پیش کئے۔

وفاقی وزیر نور الحق قادری نے مطالبہ کیا کہ روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ میں دیگر شہروں کی شمولیت ، مشاعر میں اضافی سہولیات ، ملکی کوٹہ میں مزید اضافہ کیا جائے۔ جس پر سعودی وزیر حج صالح بنتن نے جواب دیا کہ منیٰ میں گنجائش کم ہے تاہم حج کوٹہ میں اضافہ کی درخواست پراعلیٰ حکام سے بات کی جائے گی، پچھلے سال روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ میں پاکستان کی شمولیت نہایت کامیاب رہی، دیگر شہروں تک روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ کی توسیع کیلئے سعودی وزارتِ داخلہ سے بات کی جائے گی۔

ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق مذاکرات میں منیٰ، مزدلفہ، عرفات میں شکایات کے ازالے کے لئے سعودی پاک جوائنٹ ورکنگ کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا، پاکستان اور سعودی اراکین پر مشتمل 10 رکنی کمیٹی مسائل کے ازالے کیلئے موقع پر احکامات جاری کرے گی۔ کمیٹی مشاعر میں پاکستان کی مرضی کے مطابق کھانا اور سفری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔

نوازشریف اور مریم نواز کے خلاف اور ایک اور نیب ریفرنس کی تیاری

لاہور: نیب نے نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف چوہدری شوگر مل کیس میں ریفرنس دائر کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ 

چوہدری شوگر مل منی لانڈرنگ کیس میں نواز شریف اور مریم نواز کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور نیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز اور یوسف عباس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی تیاری شروع کردی ہیں۔

ذرائع کے مطابق نیب کے تفتیشی افسر نے ریفرنس کی تیاری کے حوالے سے چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو بھی آگاہ کردیا ہے اور چوہدری شوگر ملز کا ابتدائی ریفرنس رواں ماہ دائر کیے جانے کا امکان ہے۔

نیب زرائع کے مطابق چوہدری شوگر مل کیس میں نواز شریف سے 2 مرتبہ سوالات کا سیشن ہوا تاہم سابق وزیراعظم  دونوں مرتبہ نیب کے سوالات کا تسلی بخش جوابات نہیں دے سکے۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے مریم نواز کو ریفرنس آنے تک حاضری سے استثنٰی دے رکھا ہے، جب کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی بھی 4 ہفتوں کے لیے حاظری معافی کی درخواست منظور ہو چکی ہے، ریفرنس آنے کے بعد ملزمان کو طلبی کے نوٹس جاری کیے جائیں گے۔شیئر

Google Analytics Alternative