Home » Author Archives: Admin (page 6)

Author Archives: Admin

روس کی سعودی عرب کو ایس 400 دفاعی میزائل نظام کی پیش کش

ماسکو: روس نے سعودی عرب پر حملوں کے بعد اسے دفاعی میزائل نظام فروخت کرنے کی پیش کش کردی۔

روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے سعودی عرب کو ایس 400 دفاعی میزائل نظام کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ڈیفنس سسٹم سے ڈرون اور میزائل حملوں سےبچاجاسکتاہے، سعودی عرب چاہےتو اس کی مددکرنےکوتیارہیں۔

روسی صدر پیوٹن نے کہا کہ ترکی اور ایران بھی ہم سے یہ ڈیفنس سسٹم خرید چکے ہیں، ایس400میزائلوں کی دوسری بیٹری گزشتہ روزترکی کےحوالےکی اور وہاں میزائل ڈیفنس سسٹم اپریل2020سےکام شروع کردےگا۔

چند روز قبل سعودی عرب کے شہر بقیق میں تیل کے کنوؤں اور پراسسنگ پلانٹ پر ڈرون حملے ہوئے تھے جس کے نتیجے میں شدید مالی نقصان ہوا۔ امریکا نے اس حملے کا الزام ایران پر لگایا ہے تاہم ایرانی حکومت نے یہ الزام مسترد کردیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے اصل حالات کی رپورٹ جاری کرنے کی تائید پاکستان کے اصولی موقف کی بھارت کی سپریم کورٹ میں جیت

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھارتی سپریم کورٹ نے بھی نریندر مودی کو آئینہ دکھاتے ہوئے پاکستان کے موقف کی تائید کردی ہے، چونکہ وادی میں نظام زندگی قطعی طورپر مفلوج ہوچکی ہے، بنیادی سہولیات ناپید ہیں ، ذراءع مواصلات بھی بالکل بند ہیں جس کی وجہ سے دنیا بھر سے مقبوضہ کشمیر کا رابطہ منقطع ہے وہاں پر نہیں پتہ چل رہا کہ مودی اور اس کی دہشت گرد فوج کتنے ظلم و ستم ڈھارہی ہے ۔ آئے روز نہتے کشمیریوں کو شہید کیا جارہا ہے، وسیع پیمانے پر گرفتاریاں کی جارہی ہیں ، وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوچکی ہے، بین الاقوامی میڈیا بھی اس سلسلے میں آواز اٹھارہا ہے، وہاں پر ہونے والے ظلم کو دنیا کے سامنے واشگاف کیا جارہا ہے لیکن مودی حکومت کی ہٹ دھرمی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے ، جب بھارتی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ مقبوضہ کشمیر کے معمولات زندگی بحال کئے جائیں ، شہریوں کو سہولیات فراہم کی جائیں ، تعلیمی ادارے اور کاروبار کھولے جائیں ۔ نیز مسلم کانگریسی لیڈر کو سرینگر جانے کی اجازت دی جائے ، بھارتی سپریم کورٹ میں دوران سماعت مودی سرکار نے جھوٹی کہانیاں سناتے ہوئے کہاکہ کشمیر میں کوئی گولی نہیں چلائی گئی اوروہاں پر کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا، لداخ کے علاقے میں کوئی پابندی نہیں ہے، 93 پولیس اسٹیشنوں سے پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں جبکہ وادی میں ہسپتال، میڈیکل سٹور سمیت دیگر کاروبار کھلے ہوئے ہیں ۔ یہ کتنا بڑا سفید جھوٹ اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابر ہے ، پوری دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ وہاں پر مودی کی دہشت گرد فوج نے کس طرح نہتے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے ۔ نہ وہاں پر زندگی محفوظ ہے، نہ ہی کسی ماں بہن کی عزت، تشدد کی ایسی ہولناک کہانیاں سامنے آرہی ہیں جن کو سن کر بدن کے رونگٹے بھی کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ ایک بھائی کے سامنے دوسرے بھائی کو مارا پیٹا گیا، بجلی کے جھٹکے لگائے گئے ، برہنہ کیا گیا، اب کشمیری یہ کہتے ہیں کہ ہم پر تشدد نہ کیا جائے، گولی مار دی جائے ۔ چونکہ مودی ہٹلر کا پیروکار اور نازی نظریے پر عمل کرنے والا ہے، اس کی منزل اکھنڈ بھارت بنانا ہے اسی وجہ سے اس نے بھارت میں بھی مسلمانوں سمیت ہندوءوں کی نچلی ذاتوں پر بھی ظلم و ستم شروع کررکھا ہے لیکن اب وقت دستک دے رہا ہے کہ مقبوضہ وادی بہت جلد آزاد ہوگی ۔ وہاں کے حالات چاہے جتنے دگرگوں ہوں کشمیری ہتھیار ڈالنے والے نہیں ، موت کا خوف ان سے نکل چکا ہے ۔ بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار کو مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہٹا کر حالات نارمل کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے کانگریس رہنما غلام نبی ;200;زاد کو بھی وادی کا دورہ کرنے کی اجازت دے دی، وادی کے اصل حقائق عدالت میں رپورٹ کرنے کی ہدایت بھی کی،سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ضرورت پڑی تو وہ خود بھی مقبوضہ وادی جائیں گے، وادی کے لوگوں کوہائی کورٹ تک رسائی نہ دینے پر تشویش ہے ۔ سپریم کورٹ میں بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی کارکن اناکشی گنگولی کی مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی ۔ سپریم کورٹ میں دوران سماعت مودی سرکار کے سالیسٹر جنرل نے جھوٹی کہانیاں سناتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں کوئی گولی نہیں چلائی گئی اور وہاں کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا ۔ اناکشی گنگولی نے درخواست میں کہا کہ مودی حکومت نے جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 منسوخ کرنے کے بعد سے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور مکمل لاک ڈاءون ہے، اس کے نتیجے میں کشمیری بچے اور کم عمر لڑکے انتہائی مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہیں ۔ بھارتی چیف جسٹس رانجن گوگوئی نے کہا کہ یہ معاملہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ سے متعلق ہے اور وہی اس پر کوئی فیصلہ کرے گی ۔ اس پر اناکشی گنگولی نے جواب دیا کہ پابندیوں کی وجہ سے جموں و کشمیر ہائی کورٹ پہنچنا تو ناممکن ہے ۔ بھارتی چیف جسٹس رانجن گوگوئی نے ریمارکس دیے کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ پہنچنا کیوں مشکل ہے، کیا کوئی راستہ روک رہا ہے، ہم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے صورتحال جاننا چاہتے ہیں ، ضرورت پڑنے پر میں خود جموں و کشمیر ہائی کورٹ جا ءوں گا ۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا کہ جموں و کشمیر کی صورتحال فی الفور معمول پر لائی جائے، لوگوں کو طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر ہر قدم اٹھایا جائے، جبکہ جموں کشمیر ہائی کورٹ ریاست میں جاری لاک ڈا ون اور پابندیوں کے معاملے پر فیصلہ دے سکتی ہے ۔ سپریم کورٹ نے غلام نبی ;200;زاد کو ہدایت کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر کے اصل زمینی صورتحال کے بارے میں عدالت کو رپورٹ کریں ۔ عدالت نے قرار دیا کہ غلام نبی مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں سے ملاقاتیں کرسکیں گے تاہم انہیں جلسے جلوس کی اجازت نہیں ہو گیبھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے سے متعلق کیس کی سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کردی ۔ پاکستان نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بہت بڑی کامیابی ہے، اس سے کشمیریوں کا حوصلہ مزید بلند ہوگا، غلام نبی ;200;زاد کو سری نگر جا کر حقائق دنیا کے سامنے لانے ہوں گے، غلام نبی ;200;زاد کے ساتھ میڈیا وفد کو بھی جانے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ فیصلے پر عمل نہیں ہوتا تو بھارتی ;200;ئین درہم برہم ہوجائے گا ۔ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں تمام عالمی قوانین کو پامال کررہی ہے، پاکستان ہر محاذ پر مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اٹھاتا رہے گا ۔ آج مودی کو علم ہوچکا ہوگا کہ وہ غلطی پر تھا اور غلطی پر ہے، بھارتی سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے مقبوضہ وادی میں فی الفور عام زندگی بحال کی جائے تب ہی اس سے آگے بات چل سکتی ہے ۔

حکومت کا ایک مرتبہ پھر ڈیل نہ کرنے کا عزم

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کسی طرح کی بھی ڈیل نہیں کرے گی گو کہ نواز شریف سے شہباز شریف اور دیگر ن لیگ کے رہنماءوں کی ملاقاتیں ہوئیں اس میں نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن کے مارچ کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہاکہ کوئی ڈیل نہیں ہونی چاہیے نہ ہی کسی قسم کی ڈھیل، اب بات دراصل یہ ہے کہ دونوں اطراف سے ڈٹے رہنے کا عزم ہے ۔ وزیراعظم نے بھی کہہ دیا ہے کہ کسی قسم کی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہم اس بات سے قطعی طورپر متفق ہیں لیکن وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت ڈیل نہ کرے مگر جو بھی افراد کرپشن کے الزام میں گرفتار ہیں ان سے ایک ٹائم فریم کے تحت لوٹی ہوئی رقم کا شیڈول عوام کے سامنے آنا چاہیے اور وہ رقم خزانے میں بھی آئے تاکہ وطن اس وقت جس کسمپرسی کی حالت سے گزر رہا ہے اس کو سہارا مل سکے ۔ ڈیل اور ڈھیل کے حوالے سے بیانات سنتے سنتے عوام قطعی طورپر اکتاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں ، قوم اس وقت نتاءج چاہتی ہے، حکومت نے بھی اس سلسلے میں خاصا وقت گزارلیا ہے مگر ابھی تک مثبت نتاءج سامنے نہیں آرہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے پھر دو ٹوک موقف اپنایا کہ نو ڈیل نو کمپرومائز، کسی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وزیر اعظم عمران خان کامزید کہنا تھا کہ پوری توجہ کشمیر کاز پر مرکوز ہے، جنرل اسمبلی میں خطاب اہم ہوگا ۔ احتساب کا عمل اسی طرح جاری رہے گا ۔ پہلی مرتبہ احتساب کا عمل سیاسی مداخلت سے آزاد اور شفاف و بے لاگ ہے ۔ نیز وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں حکومتی رہنماءوں اور ترجمانوں کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا نے دیکھ لیا بھارت مقبوضہ کشمیر میں حالات نارمل ہونے سے متعلق جھوٹ بولتا رہا ۔ پاکستان کشمیریوں کی ہر فورم حمایت جاری رکھے گا،27 ستمبر کو کشمیر کا سفیر بن کر جنرل اسمبلی میں خطاب کروں گا،موجودہ حکومت کی کوششوں کی بدولت مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے ۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی تسلط اور جبر کے حوالے سے دنیا کو آگاہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور ہم یہ ذمہ داری پوری کررہے ہیں ۔ ادھر نیوبالاکوٹ سٹی منصوبے پر پیشرفت کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہو ئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ نیو بالا کوٹ سٹی کا محل وقوع مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کےلئے کشش کا باعث بن سکتا ہے، پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے بہت سے مواقع ہیں ، سیاحت کو فروغ دے کر مقامی افراد کےلئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں ، نیا شہر بنانے کےلئے نجی اور سرکاری شعبے کی شراکت داری کا جائزہ لیا جائے ۔

گوگل پکسل 4 کی تاریخ رونمائی سامنے آگئی

اگر آپ 2019 کے سب سے بہترین کیمرا فون کے منتظر ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ وہ اگلے ماہ متعارف کرایا جارہا ہے۔

جی ہاں گوگل کے نئے پکسل 4 فون کا انتظار ختم ہورہا ہے اور گوگل کی جانب سے اس کی تاریخ رونمائی کا اعلان کیا گیا ہے جو 15 اکتوبر کو نیویارک میں متعارف کرایا جائے گا۔

گوگل کی جانب سے بھیجنے جانے والے دعوت نامے میں لکھا ‘آکر وہ چند چیزیں دیکھیں جو گوگل نے تیار کی ہیں’۔

اس دعوت نامے میں بہت زیادہ تو نہیں بتایا گیا مگر گوگل روایتی طور پر اکتوبر میں ہی اپنے نئے پکسلز فون متعارف کراتا رہا ہے اور میڈ بائی گوگل برانڈ کو یہ کمپنی اپنی تیار کردہ مصنوعات کے لیے استعمال کرتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گوگل نے اس دعوت نامے میں تو پکسل 4 کا ذکر نہیں کیا مگر اس کی جانب سے گزشتہ چند ماہ کے دوران اس نئے فون کے بارے میں کچھ تفصیلات خود جاری کی گئیں۔

جیسے کمپنی نے اس فون کے کیمرے کی تصاویر ٹوئٹ کیں جبکہ اس میں نئی راڈار ٹیکنالوجی کا عندیہ دیا جو ٹچ اسکرین کو چھوئے بغیر مختلف کام ڈیوائس سے کچھ دور ہاتھ کی حرکت سے کرنا ممکن بنائے گی۔

گوگل نے اپنا پہلا پکسل فون 2016 میں متعارف کرایا تھا جسے پہلی بار میڈ بائی گوگل قرار دیا گیا تھا، اس سے پہلے وہ ایچ ٹی سی اور ایل جی وغیرہ کے ساتھ مل کر نیکسز فونز پیش کرتا رہا تھا۔

جہاں تک نئے گوگل پکسل 4 سیریز کے فونز کی بات ہے تو وہ ز فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے کچھ ایسا کرسکیں گے جو اب تک کوئی اسمارٹ فون کیمرا نہیں کرسکا اور وہ ہے آسٹرو گرافی یا ستاروں کی تصاویر لینا۔

اس حوالے سے پرو اینڈرائیڈ نے ممکنہ طور پر گوگل کی آفیشل مارکیٹنگ ویڈیو لیک کی ہے جس کے مطابق گوگل کے نئے اسمارٹ فون میں ایک موڈ نائٹ اسکائی کی تصاویر لینے کے لیے دیا جائے گا۔

تاہم ویڈیو میں اس نئے فنکشن کے حوالے سے تفصیلات بہت کم دی گئی ہیں بس یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ آپ ستاروں کو بھی کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرسکیں گے۔

اور اگر یہ درست ثابت ہوا تو اس فیچر کے باعث آپ کو ٹرائی پوڈ کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔

اس فیچر سے یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ گوگل نے اپنے نائٹ سائٹ فنکشن کو بہت زیادہ بہتر بنالیا ہے اور یہ ایسا فیچر ہے جو اب تک اسمارٹ فون فوٹوگرافی میں ہونے والی تمام تر پیشرفت کے باوجود فون کیمرے سے ممکن نہیں ہوسکا۔

گوگل نے اگست میں تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ پہلا اسمارٹ فون ہوگا جس میں راڈار ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جائے گا جس کی بدولت صارفین دور سے محض ہاتھ کو حرکت دے کر متعدد فیچرز استعمال کرسکیں گے۔

گوگل کی جانب سے پراجیکٹ سولی کو پکسل 4 میں متعارف کرایا جارہا ہے۔

پراجیکٹ سولی میں یہ کمپنی ایسی ٹیکنالوجی تیار کررہی ہے جو مستقبل قریب میں اسمارٹ ڈیوائسز کو دور سے ہاتھ کی حرکت سے استعمال کرنے میں مدد دے گی۔

یہ ٹیکنالوجی انٹرایکٹو کنٹرول سسٹم ہوگا جس میں یوزر راڈار بیسڈ موشن سنسرز ہاتھوں کی حرکات کو شناخت کریں گے۔

اس ہینڈ جیسچر کو ویڈیو میں استعمال کرتے دکھایا گیا ہے اور فون سے کچھ دور کھڑی خاتون ہاتھ کو ہوا میں ہلا کر گانے بدل رہی ہے، جبکہ اس سے الارم کو بند کرنے کے ساتھ فون کالز کو موصول کرنا بھی ممکن ہوگا۔

ابھی واضح طور پر تو کہنا مشکل ہے کہ ہاتھوں کی حرکت سے فیچرز استعمال کرنے کی ٹیکنالوجی کس حد تک بہتر ہوسکتی ہے، تاہم یہ آغاز ضرور ہوسکتا ہے۔

اس سے قبل سامنے آنے والی لیکس کے مطابق پکسل 4 ایکس ایل میں 6.25 انچ ڈسپلے دیا جائے گا اور چونکہ اس میں بیزل کافی زیادہ ہیں تو یہ کافی بڑا فون محسوس ہوگا۔

پہلی بار اس سیریز میں بیک پر 2 یا اس سے زائد کیمرے دیئے جارہے ہیں، اس سے قبل گزشتہ سال پکسل تھری ایکس ایل کے فرنٹ پر تو 2 کیمرے تھے مگر بیک پر ایک ہی کیمرا دیا گیا تھا۔

کچھ عرصے پہلے لیک تصاویر سے تو عندیہ ملتا ہے کہ پکسل 4 ایکس ایل کے بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ ہوگا جبکہ فنگرپرنٹ سنسر ڈسپلے کے اندر منتقل کردیا جائے گا۔

بھارت میں 8 فلیٹس خریدنے پر عدنان سمیع پر جرمانہ عائد

گلوکار عدنان سمیع خان پر بھارتی شہر ممبئی میں 8 فلیٹس خریدنے کے باعث بھاری جرمانہ عائد کردیا گیا۔

عدنان سمیع کو 2016 میں بھارتی شہریت ملی تھی، تاہم گلوکار پر الزام ہے کہ انہوں نے 2003 میں ممبئی میں اس وقت 8 فلیٹس خریدے جب وہ پاکستانی شہری کی حیثیت سے وہاں رہائش پذیر تھے۔

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ (فیما) ایپیلیٹ ٹریبیوبل کورٹ نے عدنان سمیع پر 50 لاکھ بھارتی روپے کا جرمانہ عائد کیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ عدنان سمیع پر الزام تھا کہ انہوں نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) سے اجازت لیے بغیر 2003 میں ممبئی میں 8 فلیٹس خریدے اور اس وقت وہ پاکستانی شہری کی حیثیت سے بھارت میں موجود تھے۔

واضح رہے کہ دوسرے ممالک کی شہریت رکھنے والے افراد کو بھارت میں جائیداد خریدنے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا سے اجازت لینا ضروری ہے۔

ٹریبیونل کورٹ کی دستاویزات کے مطابق فلیٹس کی خریداری کی مکمل قیمت قرض کے طور پر ادا کی گئی اور یہ رقم بھارت میں ہی کمائی گئی جبکہ کمائی گئی رقم کا عدنان سمیع نے ٹیکس بھی ادا کیا۔

دوسری جانب 46 سالہ موسیقار نے دعویٰ کیا کہ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ غیر ملکیوں کو بھارت میں جائیداد خریدنے کی اجازت نہیں۔

اس سے پہلے یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ گلوکار نے جو جائیداد خریدی تھی اسے انکروچمنٹ انتظامیہ نے ضبط کرکے ان پر 20 لاکھ بھارتی روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

جبکہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اب اس جرمانے کو بڑھا دیا گیا ہے اور عدنان سمیع کو 50 لاکھ بھارتی روپے کا جرمانہ تین ماہ میں ادا کرنا ہوگا جس کے لیے وہ 10 لاکھ بھارتی روپے ادا کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ عدنان سمیع کو انڈیا نے 2015 میں شہریت دینے کا فیصلہ کیا تھا اور ان پر ہندوستانی شہریت کا اطلاق یکم جنوری 2016 سے ہوا۔

واضح رہے کہ عدنان سمیع نے 2013 میں بھی ہندوستانی شہریت کے لیے درخواست دائر کی تھی، تاہم اس وقت ان کی درخواست مسترد کردی گئی تھی جس کے بعد انہوں نے 2015 مارچ میں ایک مرتبہ پھر شہریت کی درخواست دائر کی۔

پاکستانی شہر لاہور سے تعلق رکھنے والے عدنان سمیع پہلی مرتبہ 13 مارچ 2001 میں ایک سال کے وزیٹرز ویزے پر ہندوستان گئے تھے، جس کے بعد ان کے ویزا میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی۔

27 مئی 2010 کو جاری کیے گئے ان کے پاکستانی پاسپورٹ کی مدت 26 مئی 2015 کو ختم ہوئی تھی جس کی حکومت پاکستان نے تجدید نہیں کی، جس کے بعد انہوں نے ہندوستانی حکومت سے ملک میں اپنے قیام کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قانونی قرار دینے کی درخواست کی۔

ان کی درخواست پر غور و فکر کے بعد ہندوستانی وزارت داخلہ نے انہیں غیر معینہ مدت تک ہندوستان میں قیام کی اجازت دے دی تھی۔

عدنان سمیع خان کو ہندوستانی سیٹزن شپ ایکٹ 1995 کے سیکشن 6 کے تحت شہریت دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ ہندوستان میں اس سیکشن کے تحت سائنس، فلسفہ، آرٹ، ادب، دنیا میں امن اور انسانی حقوق کے لیے نمایاں خدمات فراہم کرنے والے درخواست گزاروں کو شہریت دی جاتی ہے۔

ستمگر ستمبر اور الطاف حسین قریشی کی کتاب

ایک کتاب منظر عام پر آنے والی ہے ۔ اس کی تفصیلات تو بعد میں بتائیں گے مگر دو باتوں کا ذکرکردیں کہ اس کتاب کا تعلق بھی ایک صحافی شخصیت سے ہے اوردوسرا اس کتاب کے آنے کے بعد عوام کو علم ہوگا کہ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان کالم نگار رہ چکے ہیں مگر انہیں کالم نگار بنانے میں اہم کردار کس نے ادا کیا اور وزیراعظم عمران خان کیسے کالم نگار بنے یہ بات جاننے کیلئے انتظارکرنا پڑے گا ۔ اس وقت معروف صحافی الطاف حسین قریشی کی کتاب’’ جنگ ستمبر کی یادیں ‘‘ پربات کرنا مقصود ہے ۔ اس کتاب کا انتساب سرفروش افواج اورحوصلہ مند عوام کے نام ہے مگر اس انتساب میں یہ نہیں لکھا ہوا کہ سرفروش افواج، حوصلہ مند عوام اور عظیم حکمرانوں کے نام اور ہمارے حکمرانوں کیلئے یہ بات لمحہ فکریہ ہے ۔ کتاب میں الطاف حسین قریشی نے بتایا کہ پہلی بار جنرل ضیاء الحق نے جنگ ستمبر کی مستند تاریخ مرتب کروانے پر توجہ دی چنانچہ میجر جنرل شوکت رضا نے ;84;he ;80;akistan ;65;rmy 1965 تحریر کی اس کے برعکس ایک برطانوی محقق الاسیٹرلیمب نے جو کتاب لکھی اس کے بارے میں الطاف حسین قریشی لکھتے ہیں کہ’’ مسٹر لیمب کی سال ہا سال کی تحقیق نے وہ بنیادہی منہدم کردی جس پر سیکولر جمہوری اور سوشلسٹ بھارت کے وزیراعظم نہرو نے بدترین دغا بازی کی عمارت کھڑی کی ۔ الطاف صاحب ! اسی لئے ہمارے محققین اور صحافیوں کو بھی کتاب لکھنے اورتاریخ کو محفوظ کرنے کا کام کرنا چاہیے ۔

’’معرکہ ستمبر کی یادیں ‘‘موجودہ حالات میں مزید اہمیت اختیار کر گئی ہیں اور ہ میں وہ ولولہ انگیز یادیں تازہ کرنے اوردہرانے کی ہ میں ضرورت آپڑی ہے کیونکہ ہندوستان پر اب مودی کا تسلط ہے اور مودی نے ہماری توقعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم کی نئی داستان رقم کرنے کی ابتداء کردی ہے ۔ اب دیکھیں کہ ستمبر میں ہی ٹرمپ کی مودی اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتیں ہیں اب یہ ملاقاتیں کیا گل کھلاتی ہیں ۔ مگر قوم ہر قسم کے مشکل حالات کیلئے تیار ہے ذہنی طور پر اس تیاری کے ساتھ قوم کو یکجہتی کی ضرورت ہے اورپھر جنگ ستمبر جیسا ماحول بنانے اوربرقرار رکھنے کی اہمیت ہے ۔ 1965 کے جو واقعات قابل غور ہیں ان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب غیر ملکی صحافی آتے تھے تو عوام کے حوصلوں پر عش عش کیا کرتے تھے کیونکہ منظر یہ تھا کہ شہروں اور قصبوں میں فوجی قافلے گزرتے تو بچے بوڑھے ، نوجوان ان پر گل پاشی کرتے ۔ خون دینے کیلئے نوجوانوں کی قطاریں لگی رہتیں ۔ لاہور کے چھت آباد ہوگئے تھے جہاں وہ پاکستانی ہوا بازوں کی ’’ڈاگ فائیٹ‘‘ شوق سے دیکھتے تھے ۔ اور پھر ریڈیو پاکستان کیسے آباد رہتا تھا ۔ جہاں وہیں کے وہیں نغمات لکھے جاتے، دھنیں ترتیب دی جاتیں اور پھر نور جہاں اورمہدی حسن جیسے گلوکار اپنی آواز کا جادو جگانے کیلئے تیار رہتے ۔ الطاف حسین قریشی نے بڑی درست بات لکھی کہ سترہ روزہ جنگ کے دوران جو عظیم اور روحانی تجربے ہوئے وہ افسانہ نگاروں کے افسانوں کا موضوع بنے ۔ الطاف حسین قریشی کی کتاب کا ایک اہم موضوع شروع میں ہی شامل ہے جس کا عنوان ہے ’’تصادم کے بنیادی محرکات ‘‘ اور ان محرکات کو تاریخ کے آئینے میں تفصیل سے دیکھا گیا ہے ۔ باقی تاریخ کو چھوڑ کر اگر ہندوستان کی تاریخ میں ہندو مسلم اتحاد کے زمانے کو دیکھیں کہ جب گاندھی جی کے زیر اثر اور علی برادران کی پرجوش قیادت کے بعد مسجدوں میں ہندو آنے جانے لگے اور مسلمان مندروں میں جانے لگے تو ایک چھوٹے سے گاءوں ’’ چورا چوری‘‘ میں خون ریز تصادم ہوا اور سب کچھ ختم ہوگیا اور ہندو مسلم اتحاد کافور ہوگیا ۔ پرانے تنازعات پھر سے زندہ ہوگئے ۔ دراصل یہ اتحاد مستقل بنیادوں پر ہونا ناممکن تھا اور پاکستان کا علیحدہ وجود ضروری تھا اور اب مقبوضہ کشمیر میں مودی کا تجربہ بھی گاندھی جی کے تجربے کی طرح ناکام ہوگا ۔ گاندھی تو مودی سے بہت بڑے لیڈر تھے وہ ایسا کام نہ کرسکے تو مودی مقبوضہ کشمیر میں ہندو اکثریت میں لاکر بھی یہ سازش کامیاب نہیں کرسکے گا ۔ اگر ٹرمپ کے دباءو کے بعد کوئی ایسا فیصلہ کرنے کی کوشش ہوئی تو بھی ناکام ہوگی لہٰذا تاریخ کے اس نازک موڑ پر درست فیصلہ کرنا ضروری ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کو مکمل مشاورت دینے کی بھی اہمیت ہے اور یہ مشاورت تاریخی پس منظر میں دی جانی چاہیے تاکہ وہ حقائق کو سامنے رکھ کر اصولی موقف اختیار کریں ۔ مسلمان ہندوستان میں اقلیت بن کر نہیں رہے تو پھر مقبوضہ کشمیر کے مسلمان ہندوءوں کے ساتھ بھی اقلیت بن کر نہیں ر ہیں گے ۔ الطاف حسین قریشی نے مغلیہ تاریخ کے کشمیر کی تاریخ کا بھی جائزہ پیش کیا ہے اور یہ صورتحال مجھے اپنی کتاب ’’ کشمیر 2014‘‘ میں بھی پیش آئی تھی جب میں نے علامہ اقبال ،قائداعظم اور تحریک پاکستان سے کشمیر کی بات شروع کی تھی اور پھر کشمیر کی قدیم تاریخ کا تذکرہ کیا تھا ۔ دراصل یہ سارا کچھ ایک ہی لڑی میں پرویا ہوا ہے کیونکہ تحریک پاکستان کی بنیاد ’’دو قومی نظریہ‘‘ ہے جس کو مودی سرکار نے پھر سے زندہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی تک اس بنیادی حصار سے باہر نہیں نکلا جاسکتا ۔ دو قومی نظریہ آنے والوں زمانوں میں بھی جبر کی قوتوں کے سامنے زندہ کرتا رہے گا ۔ کتاب میں بڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ 25 فروری 1947 کو ہند کی سیاست میں ایک فیصلہ کن واقعہ ہوا جب وزیر خزانہ لیاقت علی خان نے مرکزی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا ۔ اس سے عبوری حکومت میں شدید بحران ہوا اس بجٹ میں تجویز کیا گیا تھا کہ ٹیکس چوروں سے لوٹی ہوئی دولت کے بارے میں تحقیقات کیلئے خودمختار کمیشن قائم کیا جائے ، دوسری تجویز نمک پر محصول ختم کرنے کی تھی ۔ مرکزی اسمبلی میں اسے غریب کا بجٹ قرار دیاگیا مگر اس کے خلاف کانگریس کے سرمایہ کار متحد ہوگئے ۔ انہوں نے سردار پٹیل سے کہاکہ مسلمان سماجی انصاف کے نام پر ہندوءوں کی دولت میں حصہ پانے کا تقاضا کررہے ہیں ، سردار پٹیل کو محسوس ہوا کہ لیاقت علی خان نے وزیر خزانہ بن کر اسے بے بس کردیا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ تقسیم ناگزیر ہوگئی ہے اور نئے حالات سے نبردآزما ہونے کیلئے لارڈ ماءونٹ بیٹن کو بلا لیا گیا اس قسم کے اہم واقعات کے ساتھ کتاب میں محاذوں کی طرف کے سفر اور جنگ کے چشم دید واقعات موجود ہیں ۔

وقت گزر گیا ہے آج ستمبر ہے وہ بھی ستم گر ستمبر تھا ۔ کشمیر آزادی کی دہلیز پر ہے بالکل اسی طرح جیسے پاکستان آزادی کی دہلیز پر تھا ۔ ہندوستان کی سیاست میں وزیر خزانہ کا ٹیکس چوروں اور دولت مندوں پر ہاتھ ڈالنا بھی ایک فیصلے کی حمایت کا باعث بنا تھا ۔ ہندو بنیا سرمایہ کار ہے اور کاروباری ذہن اور سوچ کے مالک ہیں ۔ دنیا اس وقت اسی سوچ کی اسیر ہے مگر پھر خدا تعالیٰ کی ذات بھی موجود ہے ہندو کو دولت کا خطرہ تھا اور نمک اس وقت بھی زیر بحث تھا ۔ ہمارے پنک نمک پر آج بھی ہندوستان دولت کمارہا ہے اور بدقسمتی سے آج بھی ٹیکس چوروں پر ہاتھ ڈالنا مشکل بات نظر آتی ہے مگر ایسی کتابیں موجود ہیں اور تجزیے ہوتے رہتے ہیں جو ملک و قومی مسائل میں اہم کردارادا کرسکتے ہیں ۔ ایک اور کتاب بھی ملکی و قومی معاملات میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے کیونکہ اس میں خود وزیراعظم عمران خان بحیثیت کالم نگار موجود ہیں اور اس میں وزیراعظم عمران خان کو کالم نگار بنانے والے موجود ہیں ۔

کالم کے آخر میں ایک واقعہ کہ ستمبر1949 جب ریاست جموں کشمیر میں بھارت نے اپنی گرفت مضبوط کی تھی تو پاکستان کو فوجی اور معاشی لحاظ سے نقصان پہنچانے کیلئے مسلسل تصادم کی فضا برقرار رکھی تھی انہی دنوں برطانیہ نے پاءونڈ کی قیمت کردی تھی جس کے جواب میں بھارت نے اپنے سکے کی قدر میں کمی کردی ۔ مگر پاکستان نے اپنے روپے میں استحکام برقرار رکھا ۔ آج ہماری معاشی حیثیت میں ہندوستان ویسی ہی چالاکی دکھا رہا ہے اور جنگی ماحول بنا کر فائدے اٹھا رہا ہے لہٰذا یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ مکار دشمن پر بھروسہ کسی بھی صورت نہیں کیا جاسکتا ۔ اپنا خیال رکھیئے گا ۔

سی پیک؛ پاکستان مشرق اور مغرب میں پل کا کردار ادا کریگا، چینی سفیر

راولپنڈی:  چین کے سفیر یاؤجنگ نے کہا ہے کہ سی پیک روٹ کے ذریعے چین اپنی تجارت مغرب کے ساتھ منسلک کر سکے گا اور تجارتی رابطے جوڑنے کے لیے پاکستان مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرے گا۔

راولپنڈی چیمبر آف کامرس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں گوادر پورٹ کی تعمیر اور توانائی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں ۔ سیمنٹ اور کنسٹرکشن کے شعبے میں پاکستان کے نجی شعبے کے لیے اہم موقع ہے کہ وہ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی روابط استوار کرے، چین مکمل راہنمائی اور تعاون کر ے گا۔

کشمیر کے حوالے سے چین کے حالیہ کردار پر اظہار خیال کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ چین صورتحال کو پیچیدہ کرنے والے کسی بھی یک طرفہ اقدام کی مخالفت کرتا ہے۔ چین کے پاکستان کے ساتھ آزاد تجارتی معائدے کے دوسرے مرحلے میں تین سو تیرہ اشیا پر ٹیرف کی چھوٹ دی گئی ہے۔ پاکستانی ایکسپورٹرز ان مواقعوں سے فائدہ اٹھائیں۔

لگ بھگ سو فیصد فرنٹ اسکرین والا ‘مستقبل’ کا اسمارٹ فون

کئی ماہ کی لیکس اور ٹیزرز کے بعد ویوو نے اپنا نیا فلیگ شپ فون نیکس 3 متعارف کرادیا ہے جو کہ 5 جی سپورٹ سے لیس دنیا کا پہلا فون ہے جس میں اسکرین ٹو باڈی ریشو 99.6 فیصد ہے۔

واٹر فال فل ویو او ایل ای ڈی ڈسپلے کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کے فرنٹ پر اسکرین سو فیصد سے محض 0.4 فیصد ہی کم ہے۔

6.89 انچ کی 1080p اسکرین میں خم فون کے سائیڈ میں آخر تک گئے ہوئے ہیں اور یہ بٹن لیس فون بھی ہے۔

کمپنی کی جانب سے اس کے لیے ورچوئل بٹن ٹچ سنس کے نام سے دیئے گئے ہیں جو کہ ہیپٹک فیڈبیک سسٹم پر کام کریں گے جو اس کمپنی کے رواں سال کے شروع میں متعارف کرائے کانسیپٹ فون اپیکس 2019 سے ملتا جلتا سسٹم ہے۔

کمپنی نے اسے مستقبل کا فون قرار دیا ہے جسے 4 جی اور 5 جی ورژن میں پیش کیا جارہا ہے اور دونوں میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون 855 پلس پراسیسر دیا جائے گا جبکہ فون کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ویپر چیمبر کولنگ سسٹم استعمال ہوگا۔

اس میں 8 سے 12 جی بی ریم، 256 جی بی اسٹوریج اور 4500 ایم اے ایچ بیٹری سپر فلیش چارج 44 واٹ فاسٹ چارجنگ سپورٹ کے ساتھ دی جارہی ہے جبکہ فنگرپرنٹ سنسر ڈسپلے کے اندر موجود ہے۔

فوٹو بشکریہ ویوو
فوٹو بشکریہ ویوو

اس کے بیک پر گول دائرے جسے کمپنی نے لونر رنگ کا نام دیا ہے، میں 3 کیمروں کا سیٹ اپ دیا گیا ہے جن میں سے ایک 64 میگا پکسل پرائمری کیمرا ہے، دوسرا 13 میگا پکسل الٹرا وائیڈ جبکہ تیسرا 13 میگا پکسل ٹیلی فوٹو کیمرا ہے۔

سیلفی کے لیے پوپ اپ 16 میگا پکسل سیلفی کیمرا دیا گیا ہے۔

فوٹو بشکریہ دی نیکسٹ ویب
فوٹو بشکریہ دی نیکسٹ ویب

کمپنی کی جانب سے فون کی قیمت یا فروکت کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، بس یہ بتایا گیا کہ آنے والے مہینوں میں یہ فون ایشیا پیسیفک، جنوب مشرقی ایشیا اور دیگر مارکیٹوں میں دستیاب ہوگا۔

ویوو کا پہلا نیکس فون دنیا کا پہلا فون تھا جس میں سلائیڈ آﺅٹ کیمرا دیا گیا تھا جبکہ نیکس 2 میں آگے کے ساتھ پیچھے بھی ڈسپلے دیا گیا تھا، جس میں پرائمری کیمرے کو سیلفی کے بھی استعمال کیا جاسکتا تھا۔

بھوٹان کے ساتھ بھارت کا منفی رویہ

بھارت کا اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ ایسا ہی منفی رویہ رہا ہے ۔ نیپال، بھوٹان، سری لنکا، بنگلہ دیش اور پاکستا ن کے ساتھ اس کے منفی تعلقات سبھی پر عیاں ہیں ۔ بھارت ، عوامی لیگ خفیہ معاہدوں کے تحت بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی پر حاوی ہو چکا ہے لیکن بنگلہ دیش میں سیاسی اثر و رسوخ رکھنے کے باوجود بھارت ، وزیراعظم حسینہ واجد کی قیادت میں عوامی لیگ کی مقبولیت میں کمی اور حکومت کے خلاف مذہبی سیاسی گروپوں کے ارتقاء اور روزمرہ اجتجاجی تحریکوں سے خاءف ہے ۔ بھارت اور بھوٹان کے مابین تعلقات بہت روایتی ہیں ۔ بھارت کا کہنا ہے کہ وہ بھوٹان کو محفوظ ریاست بناتا ہے لیکن اس پر اپنا حق بھی جتاتا ہے ۔ جبکہ بھوٹا ن کو یہ سب قبول نہیں ۔ بھوٹان کا کہنا ہے کہ ہم بھارت کی پروٹیکٹوریٹ;223;محکوم ریاست نہیں ۔ بھوٹان کی خارجہ پالیسی، دفاع اور تجارت پر بھارت اثر انداز ہوتا ہے ۔ بھارت بھوٹان میں 1,416 میگا واٹ کے 3 ہائیڈرو پاور منصوبے چلا رہا ہے اور مزید 3 منصوبے 2,129 میگا واٹ زیر تکمیل ہیں ۔ عام تاثر ہے کہ بھوٹان میں ہر امر کی منظوری کے لیے بھارتی اجازت درکار ہوتی ہے ۔ بھوٹان اپنی تاریخ میں اکثر دوسری دنیا سے الگ تھلگ محفوظ ریاست کے طور پر رہا ہے ۔ اس وقت بھوٹان کے 52 ممالک اور یورپی یونین سے خارجہ تعلقات اور 45 بین الاقوامی تنظیموں کی رکنیت رکھنے والا ملک ہے ۔ برطانوی دور میں بھوٹان ایک زیر حمایت ریاست تھا ۔ 1910 کے ایک معاہدے کے تحت برطانیہ نے بھوٹان کو اپنی حفاظت کے لیے گائیڈ رکھنے اور خارجہ امور کی اجازت دے دی ۔ 1947ء میں بھوٹان پہلا ملک تھا جس نے بھارت کو ایک الگ ملک کے طور پر تسلیم کیا ۔ بھوٹان کے ساتھ چینی سرحدی تنازعے کے دوران بھارت اس چھوٹی سے ریاست کے دفاع کے لیے میدان میں اتر آیا تھا ۔ دونوں ممالک کی افواج بہّتر دنوں تک ایک دوسرے کے مدمقابل رہی تھیں ۔ ڈوکلام کے سرحدی تنازعے کے بعد اب چینی حکومت نے ہمالیہ کے دامن میں واقع چھوٹی سی ریاست بھوٹان پر مہربان ہونا شروع کر دیا ہے ۔ چین اور بھوٹان کے درمیان سفارتی روابط بھی موجود نہیں ہیں ۔ اس وقت بھوٹانی دارالحکومت تھِمپْو میں چینی کھلونوں اور سامان کی بہتات دکھائی دیتی ہے ۔ چین اور بھوٹان کے درمیان سرحدی تنازعہ نیا نہیں ہے ۔ 1951 میں چین نے تبت کو اپنے ریاستی علاقے میں شامل کر لیا تھا ۔ بھوٹان کے ساتھ چینی تعلقات مسلسل نازک حالت میں رہے ہیں ۔ دوسری جانب تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی دلچسپی اس میں ہے کہ ان دونوں کے تعلقات میں بہتری اور گرمجوشی کا فقدان رہے ۔ حالیہ مہینوں کے دوران بھوٹان میں چین کی کئی مصنوعات دستیاب ہونا شروع ہو گئی ہیں ۔ ان میں کھلونے، مشینری، سیمنٹ اور الیکٹرانکس کا سامان شامل ہیں ۔ اس طرح بھوٹان کے لیے چین تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے، جہاں کی مختلف مصنوعات اس کی داخلی منڈیوں میں دستیاب ہیں ۔ بھارت بھوٹان سرحد بھوٹان اور بھارت کے درمیان میں بین الاقوامی حد بندی ہے ۔ یہ سرحد 699 کلومیٹر طویل ہے اور بھارتی ریاستوں آسام (267 کلومیٹر)، اروناچل پردیش (217 کلومیٹر)، مغربی بنگال (183 کلومیٹر) اور سکم (32 کلومیٹر) پر واقع ہے ۔ بھارت بھوٹان سرحد کے قریب بھوٹان کے ڈوکلام خطے پر چین اپنا دعویٰ کرتا ہے ۔ بھوٹان کا یہ علاقہ فوجی اعتبار سے بھارت کے لیے بہت اہم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ 2017ء میں یہاں چین کے سڑک تعمیر کرنے پر بھارت نے شدید احتجاج کیا اور بھوٹان نے بھی، چین کو معائدے کی خلاف ورزی سے اجتناب کا کہا ۔ بھوٹان اور بھارت کے درمیان میں سرحد بھوٹان میں داخل ہونے کا واحد زمینی راستہ ہے ۔ چین کے ساتھ بھوٹان کی سرحد مکمل طور پر بند ہے ۔ غیر ملکی شہریوں کے لیے بھوٹان میں داخل ہونے کے راستے جیگاؤں بھارتی ریاست مغربی بنگال اور پھونتشولنگ، بھوٹان کے جنوب مغرب میں ہیں ۔ اس وقت بھوٹان کے عوام میں یہ کیفیت پائی جاتی ہے کہ وہ بھارت پر انحصار کی حکومتی پالیسی میں تبدیلی چاہتے ہیں اور اْن کی خواہش ہے کہ تعلقات کو وسیع تر کرنا ملکی مفاد میں ہے ۔ مگرجغرافیائی صورت حال ایسی ہے کہ بھوٹان کسی بھی صورت میں بھارت کو نظر انداز نہیں کر سکتا ۔ بھارتی ریاست آسام میں باغیوں کے ہاتھوں دیہاتیوں کے قتل کے بعد بھارت نے پڑوسی ممالک بھوٹان اور میانمار کو ہراساں کرنا شروع کردیا ۔ بھارتی آرمی چیف نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے کہ وہ باغیوں کیخلاف آپریشن کے دائرے کو وسیع کررہے ہیں اوربھارتی فوج باغیوں کیخلاف بھوٹان اور میانمار میں کارروائی پر بھی غور کررہی ہے ۔ اس معاملے پر بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے بھوٹان اور میانمار کے وزرائے اعظم سے بات چیت بھی کی ہے ۔ نئی دہلی حکومت کا موقف ہے کہ ہندو انتہاء پسند بوڈو کے سربراہ میانمار کے علاقے کاچن میں مفرور ہیں اور یو ایل ایف اے کے باغیوں کے ساتھ ان کے مشترکہ کیمپ بھی موجود ہیں ۔

Google Analytics Alternative