Home » Author Archives: Admin (page 6)

Author Archives: Admin

سری لنکا میں وزیراعظم کا ’تنازع‘، پارلیمنٹ میدان جنگ بن گیا

سری لنکا میں وزیراعظم مہندرا راجہ پکسے کے اسپیکر سے متعلق متنازع دعویٰ پر پارلیمنٹ میدان جنگ بن گیا۔

مہندراراجہ پکسے نے دعویٰ کیا کہ اسپیکر انہیں محض ’زبانی ووٹ‘ کے ذریعے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹانے کا اختیار نہیں رکھتے جس پر مخالف سیاسی جماعت طیش میں آگئی اور چیمبر کے گرد لڑائی شروع ہو گئی۔

واضح رہے کہ مہندرا راجہ پکسے کے خلاف عدم اعتماد تحریک متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔

معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پارلیمنٹ کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا اور اسپیکر اسمبلی کرو جے سوریا نے کہا کہ ملک میں نہ کوئی حکومت اور نہ ہی وزیراعظم ہے۔

واضح رہے کہ سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سینا نے اکتوبر میں نومنتخب وزیر اعظم رنیل وکراماسنگے کو برطرف کردیا تھا اور سابق صدر مہندرا راجہ پکسے کو وزیراعظم منتخب کیا جس پر سپریم کورٹ نے صدارتی فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

اسپیکر اسمبلی کے بیان پر مہندرا راجہ پکسے نے اعتراض اٹھایا کہ کہ ووٹ ضرور ہونا چاہے لیکن اس اہم معاملے میں ’زبانی ووٹ‘ ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسپیکر اسمبلی کے پاس کابینہ ارکان اور وزیراعظم کو منتخب کرنے یا برطرف کرنے کا قطعی اختیار نہیں ہے۔

مہندرا راجہ پکسے نے اسپیکر پر الزام لگایا کہ وہ جانبدار ہیں اور اپنی سیاسی جماعت یونائیٹڈ نیشنل پارٹی کی ترجمانی کررہے ہیں۔

انہوں نے تجویز دی کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد حل انتخابات ہی سے ممکن ہے۔

اپوزیشن جماعت نے مہندرا راجہ پکسے کے بیان پر ووٹ دینے کا کہا اور اسی دوران متعدد اراکان اسمبلی ایوان کے وسط میں جمع ہو گئے اور متعدد اسپیکر کی جانب نعرے لگاتے ہوئے بڑھے اور ان کے ’جانبدار‘ رویہ کی مخالفت کرنے لگے۔

جس کے بعد تقریباً 50 اراکان اسمبلی آپس میں لڑ پڑے، مہندرا راجہ پکسے کے حماتیوں نے پانی کی بوتلیں، کتابیں اور کچرا دان اسپیکر کی جانب پھینکے اور اسپیکر اسمبلی کی حماتیوں نے انہیں اپنے گھیرے میں لیکر تحفظ فراہم کیا۔

سری لنکن پارلیمنٹ میں ’تشدد زدہ‘ ماحول آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد اسپیکر نے اجلاس ملتوی کردیا۔

واضح رہے کہ 12 اپریل کو سری لنکا کے صدر نے میتھری پالا سری سینا نے غیر متوقع طور پر پارلیمنٹ کو تقریباً ایک ماہ کے لیے معطل کردیا تھا۔

سری لنکن صدر کی جانب سے یہ اقدام ان کے اور ان کی یونٹی حکومت کے وزیر اعظم کے درمیان اقتدار کی جنگ کے بعد سامنے آیا۔

10 نومبر کو میتھری پالا سری سینا نے قومی پارلیمنٹ تحلیل کرتے ہوئے 5 جنوری کو قبل از وقت انتخابات کروانے کا اعلان کردیا تھا۔

واضح رہے کہ میتھری پالا سری سینا نے اچانک ایک حکم جاری کرتے ہوئے وزیراعظم ’رنیل وکراماسنگے‘ کو برطرف کردیا تھا اور ان کی جگہ سابق صدر ’مہندرا راجہ پکسے‘ کو تعینات کردیا تھا جن کا جھکاؤ چین کی طرف زیادہ ہے۔

واضح رہے ملک میں جاری صورتحال کے سبب روز مرہ کے انتظامی معاملات مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں جس سے سری لنکا کی معیشت اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی متاثر ہورہی ہے۔

خیال رہے کہ رنیل وکراماسنگے کی نیشنل پارٹی کی پارلیمنٹ میں اکثریت ہونے کے باوجود صدر کو استحقاق حاصل ہے کہ نئے وزیراعظم کا انتخاب کرسکے۔

عبرتناک انتقام

پروپیگنڈہ’کو دودھاری تلواراورایسے سکہ سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے جس کے دورخ واضح ہوتے ہیں مثلا کسی بھی سماج کے ا فراد کے ا فکارو ارادوں پر اور ان کے عقل وجذبات پرقابو پا نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انہیں ٹارگٹڈ بناکر اپنی مقصد براریکے لئے انہیں مسخرکرلینا ایک شکل یہ ہوئی دوسرارخ یہ ہوتا ہے کہ پروپیگنڈے کے ذریعہ ملکی طبقات کے کچے کمزور اورناپختہ ذہنوں کو برانگیختہ کرکے سماج کے باہمی میل ملاپ کے ملی اورقومی رشتوں میں نفرتوں کے بیج بونا’ انہیں پروان چڑھانا اوران کی آبیاری کرناجس کے نتیجے میں معاشرے میں شروفساد اورفتنہ پھیلے سماجی طبقات میں عدم اعتمادی کی غیر انسانی فضا ہموار ہواصل میں یہ وہ منفی پروپیگنڈا ہوتا ہے جوپاکستان دشمن ایجنسیوں نے اب قبائلی علاقوں میں شروع کرادیا ہے گو اِسے پختون عوام میں پذیرائی حاصل نہیں ہورہی ہے کل تک قبائلی علاقہ جات میں دنیا کی بدترین ظلم وستم پرمبنی وحشیانہ دہشت گردی کا دوردورہ تھا ماضی میں خیبرپختونخواہ میں جب’کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان’ کے سرکش جنونی دہشت گردوں نے خیبر پختونخواہ کو اپنی سفاکانہ درندہ صفت دہشت گردی کے بل بوتے پر یرغمال بنایا ہوا تھا اس زمانے میں وہاں لسانی تنظیم کا نام نہ تھا وہاں دہشت گرد شیطانی طاقت کا منبع تھے پختونوں کی لاشیں روز اٹھ رہی تھیں، اسکول تباہ ہورہے تھے، مساجدوں میں بم دھماکے روز کا معمول تھے، پورے صوبہ کا انتظامی ڈھانچہ ڈھے چکا تھا، علاقہ کے معززپختون بزرگوں کوچن چن کرسرعام قتل کیا جارہا تھا، خیبرپختونخواہ کے شہرت یافتہ سیاحتی مقام وادی سوات ‘وادی موت’ بن چکی تھی وادی کا ریاستی انتظام وانصرام’ملا ریڈیو’ نام کے ایک دہشت گرد’ملا فضل اللہ’ نے سنبھالا ہوا تھا، ہرصبح سوات کے چوک میں دوچاربے گناہ پختونوں کی لاشیں کھمبوں سے ٹنگی ملتی تھیں خیبر پختونخواہ کے ضلعی وڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹرز کے علاقوں میں موت کا دندناتا ہولناک رقص ختم ہونے پر نہیں آرہا تھا، جبکہ صوبائی دارلحکومت پشاورکا کون ساایسا بازارباقی رہ گیا تھا جہاں ظالم وسفاک ملافضل اللہ کے تربیت یافتہ خودکش بمباروں نے ا نسانی جسموں کے چیتھڑے نہ اڑائے ہوں، کالعدم ٹی ٹی پی کی یہ وہ غیر انسانی ظالمانہ کارگزاریاں ہیں جنہیں پاکستانی پختون مسلمانوں کی اکثریت کی نسلیں کبھی فراموش نہیں کرسکتیں خیبرپختونخواہ میں عالمی دہشت گردوں کے آلہ کارملکی دہشت گردوں نے جبروستم کے فتنہ وفساد کی جڑ بیخ کو کاٹ پھنکنے میں اس وقت کی حکمران اشرافیہ اپنی آئینی ریاستی ذمہ داریوں سے کماحقہ عہدابرآ ہونے میں ناکام رہی اس وقت کی خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت آئی جے آئی کی قیادت نے مجرمانہ غفلت برتی ،مرکزی حکومت سے با ہمی مشاورت نہ کی گئی یوں خیبرپختونخواہ میں آئین شکن دہشت گردوں کی سرکوبی نہ کرنے کی تمام تر ذمہ داری آئی جے آئی پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے نامعلوم وجوہ کی بنا پرپاکستان کے قبائلی علاقہ جات کودہشت گردوں کے رحم وکرم پرچھوڑدیا دہشت گردوں کے ساتھ نرمی کیوں برتی گئی آج نہیں توکل سب کچھا چٹھہ سامنے آجائے گا کہ اس انسان دشمن سازش کے پیچھے کون سے سیاسی عوامل کارفرما تھے آج تک پاکستانی قوم کو معلوم نہ ہوسکے قبائلی علاقہ جات سے دہشت گردی کے انسانی لہوپینے والے اس عفریت نے ملک کے سبھی شہروں کو اپنی خونریز لپیٹ میں لے لیاشہرشہر بم دھماکے قریہ قریہ اور گلی گلی میں کاروباری مراکز اورسرکاری دفاتران خودکش بمباروں کے نشانوں پر آگئے کبھی کراچی کبھی لاہورکبھی بلوچستان کبھی اسلام آباد کہاں نہیں پاکستانیوں سیکورٹی فورسنز اور پولیس کے اہلکاروں کا لہو بہایا گیا نہ مساجد محفوظ نہ اقلیتوں کی عبادت گاہیں نہ ہی امام بارگاہیں کوئٹہ میں توحد کردی گئی سینکڑوں کی تعداد میں ایک وقت میں بے گناہ مسلمانوں کو سفاکی سے شہید کیا گیا، جبکہ بلوچستان اور ایران کی سرحدوں پر آئے روز زائرین کی بسوں کو سڑکوں پر روک کر جلایا گیا لاشوں کے انبار لگا دئیے گئے دہشت گردوں کو کوئی غرض نہ تھی ہلاک اور شدید زخمی ہونے والا کون ہے؟ پختون ہے پنجابی ہے ؟ بلوچ ہے یا ارودبولنے والا؟ غیر مسلم ہے یا مسلمان ؟ انہیں انسانی لاشیں گرانے سے مطلب تھا، پوراملک جب دہشت گردی کے جبروستم کی سفاکیتوں کی بھینٹ چڑھ گیا عوام کی جان ومال بے وقعت ہونے لگیں سیاسی حکومتیں اپنی حکومتیں کو بچانے کی فکروں میں عوام کی جان ومال سے بے خبرہونے تک کو آ پہنچیں تو پاکستان کے آئین اور قانون نے سرکشوں کی سرکشیوں کو لگام دینے کے لئے میدان عمل میں اترکراپنا کردارادا شروع کردیا پاکستانی مسلح افواج نے اندرون ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے امن وامان کو ہر قیمت پرقائم ر کھنے ا وربیرون ملک اپنی سرحدوں پر جغرافیائی تحفظ کا عہد کیا ہوا ہے توپھر پاکستان کے محافظوں نے فیصلہ کیا بہت ہوگئی اب آئین کے سرکشوں کو مزید مہلت نہیں دی جاسکتی فوج نے’آپریشن راہ نجات’ شروع کردیاسوات کے شہری گواہ ہیں کہ فوجی آپریشن سے قبل سوات کیسا تھا اور آپریشن کے فیصلہ کن مراحل کے نتیجے میں سوات میں امن وامان کی کیسی خوشگوارتبدیلی نے سوات کا پرامن چہرہ اور نکھارالیکن اس لہورنگ تگ ودو میں ملکی افواج کے جواں ہمت جوانوں اورجانثار افسروں کی کثیر تعداد نے قیمتی جانوں کے نذرانے وطن کے اندرونی امن وامان کی بحالی پر نچھاورکردئیے، جنوبی وزیرستان میںآپریشن راہ راست کے ساتھ آپریشن ‘خیبرٹو’شروع ہوا ،پختون عوام نے اپنے درمیان گھسے دہشت گردوں کی نشاندہی کے لئے اپنے گھر بارچھوڑے لاکھوں کی تعداد میں فوج کی نگرانی میں ‘پناہ گزین کیمپ’قائم ہوئے پرامن پختون عوام ان پناہ گزین کیمپوں میں منتقل ہوئے پھر ملکی افواج نے سوات سمیت قبائلی علاقہ جات میں اس طرف افغان بارڈرز تک مشکل اور دشوار ترین سنگلاخ پہاڑی علاقوں میں گھس کرنہ صرف دہشت گردوں کو بھگا بھگا کر جہنم واصل کیا ان کے اسلحہ خانوں کو تباہ کیا دہشت گردمزید جنونی وحشت میں مبتلا ہوگئے پاگل پن کی جنونیت میں دہشت گردوں نے 16 دسمبر 2014 کی صبح پشاور کے آرمی پبلک اسکول کی عقبی دیواریں پھاند کر پشاور میں گھرگھرقیامت صغری برپاکردی اسکول اسٹاف سمیت ڈیڑھ سومعصوم طلبا اورطالبات کو بھون ڈالا پرنسپل محترمہ طاہرہ قاضی اور استاد عمرخالد کو جو طلبا کی ڈھال بن گئے تھے انہیں علیحدہ کیا پھربچوں کے سامنے پرنسپل اور استاد کو زندہ جلایا گیا یوں پورے ملک میں کہرام سا مچ گیا ہر پاکستانی کا دل جوش انتقام کی تصویر بن گیا، اس سانحہ عظیم کے بعد ملکی افواج نے دہشت گردوں’ملک میں پھیلے سہولت کاروں اور انہیں مالی تعاون فراہم کرنے والوں کے گرد اپنا گھیراور تنگ کردیا، حکومت نے بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلا س میں ہنگامی بنیادوں پر نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی الغرض دہشت گردی اپنے انجام کو ضرورپہنچی لیکن پاکستان کے ازلی دشمنوں کی نیندیں اڑگئیں ،کل تک جو دہشت گرد تھے، آج وہ اپنے حلیے اور شناختی نشوونما کے رہن سہن کے انداز تبدیل کرکے پرامن پختون سماج کا حصہ بن گئے انہوں نے نیا نعرہ ایجاد کرلیا ‘پختون تحفظ تحریک خاص کرملکی افواج کے خلاف پرانے عناد اورپرانی نفرتوں کا نعرہ بلندکرکے وہ سمجھے ہیں کل تک جنہیں طاقت کے زورپر مغلوب کرنے کی وحشیانہ حرکات کے وہ مرتکب ہورہے تھے پختونوں کو وہ سب ازبر ہے، پاکستانی فوج کی باوقاروردی نے پختونوں کی نسل کشی کرنے والوں سے عبرتناک انتقام لیا ہے، لہٰذا پرامن پختونوں کا پیغام ان تک ضرورجانا چاہئیے کہ پاکستانی پختون بخوبی سمجھتے ہیں کہ ان کا سچا مخلص ہمدرد اور بے غرض دوست کون ہے اور را کا آلہ کار دشمن کون ہے؟

*****

جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث 5 ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

سعوی عرب نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں 11 ملزمان کو نامزد کردیا۔

العربیہ میں شائع رپورٹ کے مطابق سعودی پراسیکیوٹرز نے 5 ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا جہنوں نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دیا اور واقعے کی مکمل نگرانی کی۔

واضح رہے کہ 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ملزمان نے 29 ستمبر کو جمال خاشقجی کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔

پراسیکیوشن نے بتایا کہ قتل سے قبل کسی نے ترکی میں سعودی سفارتخانے کے کیمرے غیر فعال کردیئے تھے۔

پراسیکیوشن کے ترجمان نے ترکی سے کہا کہ وہ قتل سے متعلق شواہد سعودی عرب کو فراہم کرے۔

العربیہ کے مطابق ترجمان نے بتایا کہ نائب انٹیلیجنس چیف کی ہدایت پر ٹیم تشکیل دے دی ہے جو جمال خاشقجی کی لاش لے کر واپس آئے گی۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ سابق سعودی مشیر بھی قتل کے منصوبے میں ملوث تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’پراسیکیوشن کے مطابق جمال خاشقجی کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کے ٹکڑے کردیئے گئے اور اسی حالات میں سفارتخانے سے باہر مقامی ’معاون کار‘ کے حوالے کردی گئی۔

بعدازاں ملزمان نے سابق ڈپٹی انٹیلیجنس چیف کو غلط رپورٹ پیش کی جس میں ابتدائی طور پر قتل کا اعتراف شامل نہیں تھا۔

جمال خاشقجی کا قتل: کب کیا ہوا؟

خیال رہے کہ سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھے۔

تاہم 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔

صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔

تاہم ترک ذرائع نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔

سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔

تاہم 12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد گزشتہ ہفتے سے غائب ہیں۔

اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہِ راست ملاقات بھی کی تھی۔

اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب ملوث ہوا تو اسے سخت قیمت چکانا پڑے گی۔

17 اکتوبر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹین لاگارڈے نے معروف صحافی کی مبینہ گمشدگی کے بعد مشرق وسطیٰ کا دورہ اور سعودی عرب میں سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ملتوی کردی تھی۔

اسی روز سعودی صحافی خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا ۔

یہ بھی پڑھیں: جمال خاشقجی کا قتل: محمد بن سلمان کی بادشاہت خطرے میں پڑگئی؟

بعد ازاں گزشتہ روز سعودی عرب کے جلاوطن شہزادے خالد بن فرحان السعود نے الزام لگایا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی مبینہ گمشدگی کے پیچھے ولی عہد محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے اور سعودی حکمراں کسی نہ کسی پر الزام دھرنے کے لیے ‘قربانی کا کوئی بکرا’ ڈھونڈ ہی لیں گے۔

دریں اثناء 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کردیا گیا۔

کیا آلو کھانے سے واقعی وزن بڑھتا ہے؟

آلو کا شمار اس سبزی میں کیا جاتا ہے جسے دنیا بھر میں سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔

فرینچ فرائز بنانے ہوں، پکوڑے تلنے ہوں، آلو کا سموسہ ہو یا پھر آلو کی ترکاری، اس سبزی کو ہر انداز میں شوق سے کھایا اور کھلایا جاتا ہے۔

تاہم آلو کے بارے میں ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ اگر کسی کو اپنا وزن کم کرنا ہے تو اسے سب سے پہلے آلو کھانا چھوڑنے پڑیں گے۔

کئی افراد وزن کم کرنے کی جدوجہد میں اپنی غذا میں سے آلو کو بالکل باہر کردیتے ہیں۔

ایسا کرنا ان افراد کی ڈائٹ کے لیے تو صحیح ہے جو وزن کم کرنے کی جدوجہد میں کاربوہائڈریٹس سے دوری اختیار کرلیں۔

تاہم آلو کے حوالے سے ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ اس کے صحت پر بھی کئی منفی اثرات سامنے آسکتے ہیں، جیسے ہائی بلڈ شوگر یا ڈیابیطس کا خطرہ بڑھ جانا یا پھر ہائی پلڈ پریشر کا مسئلہ۔

کئی ڈاکٹرز ایسی صورتحال میں آلو کھانے سے منع ہی کرتے ہیں جو بہت حد تک صحیح بھی ہے۔

تاہم اس سبزی کے حوالے سے یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ یہ اتنا بھی خطرناک نہیں جتنا اس سے لوگوں کو ڈرایا جاتا رہا ہے۔

آپ کی غذا میں آلو کسی ولن کا کردار ادا نہیں کررہا، کئی تحقیقات میں ایسا ضرور بتایا گیا کہ زیادہ آلو کھانے کی وجہ سے موٹاپا بڑھتا ہے، تاہم جرنل آف امریکن یونیورسٹی کی سامنے آنے والی ایک تحقیق میں آلو کو اس حد تک صحت کے لیے مضر قرار نہیں دیا گیا۔

یونیورسٹی نے چند ایسے طلبہ پر تحقیق کی جو وزن کم کرنے کے لیے کم کیلوری کی ڈائٹ فالو کررہے تھے۔

ان طلبہ کے 2 گروپ بنائے گئے، جن میں سے ایک کی ڈائٹ میں سے آلو ہٹادیے گئے جبکہ دوسرے گروپ نے آلو کو اپنی ڈائٹ کا حصہ رکھا۔

محققین نے اس بات کا اندازہ لگایا کہ وہ گروپ جس نے آلو کو اپنی ڈائٹ کا حصہ بنا کر رکھا، اس کے وزن کم ہونے پر آلو کھانے کا کوئی منفی اثر سامنے نہیں آیا۔

تو کیا واقعی آلو وزن کم کرنے کے عمل میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں؟

دراصل اگر آپ ایک صحت مند ڈائٹ فالو کریں اور جنک فوڈ سے دوری اختیار کرلیں تو آپ کا وزن اتنی آسانی سے نہیں بڑھے گا۔

آلو تو وزن کم کرنے میں مدد بھی دیتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سبزی غذائیت سے بھرپور ہے جو ہمارے قوت مدافعت کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔

ڈاکٹرز نے مشورہ دیا کہ اگر آلو کو صحیح انداز میں پکا کر لو کیلوری ڈائٹ کا حصہ بنایا جائے تو اس سے وزن نہیں بڑھے گا۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

فیس بک میسنجر میں میسج ڈیلیٹ کا فیچر متعارف

کمان سے نکلا تیر یا زبان سے نکلی بات کی واپسی تو ناممکن ہے مگر اب کم از کم فیس بک میسنجر پر بھیجے گئے پیغام کو واپس کرنا یا ان سینڈ کرنا ضرور ممکن ہوگیا ہے۔

جی ہاں فیس بک نے باضابطہ طور پر میسنجر میں غلطی سے بھیجے گئے پیغامات کو واپس بلانے کا فیچر متعارف کرادیا ہے جسے ریموو فار ایوری ون کا نام دیا گیا ہے۔

مگر یہ فیچر ابھی آپ کو فوری طور پر آزمانے کے لیے نہیں مل سکے گا۔

فیس بک نے یہ فیچر فی الحال پولینڈ، بولیویا، کولمبیا اور لتھوانیا میں اینڈرائیڈ اور آئی او ایس صارفین کے لیے متعارف کرایا ہے۔

فیس بک کے ترجمان نے فیچر متعارف کرانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بہت جلد اسے دنیا بھر میں صارفین کے لیے پیش کردیا جائے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس فیچر میں بہتری کے لیے بھی ابھی کام کیا جارہا ہے، جیسے کسی پیغام کے ڈیلیٹ ہونے کی تاریخ یا پوری تھریڈ کو ہی کسی مخصوص وقت کے بعد ایکسپائر کرنے کا آپشن۔

اس فیچر کی بدولت صارفین کو کسی پیغام کو ارسال کرنے کے بعد 10 منٹ کے اندر ڈیلیٹ کرنے کی سہولت دستیاب ہوگی، مگر ایسا کرنے پر ایک پیغام دوسرے صارف کو نظر آئے گا کہ آپ نے ایک پیغام ریموو کیا ہے۔

اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے مطلوبہ پیغام کو دبا کر رکھنا ہوگا اور پھر ریموو بٹن پر کلک کرنا ہوگا، جس پر ریموو فار ایوری ون یا ریموو فار یو کے آپشن سامنے آئیں گے، جس میں سے ریموو فار ایوری ون پر کلک کرنا ہوگا۔

فیس بک میسنجر میں یہ ان سینڈ میسج کچھ وقت کے لیے محفوظ رہے گا تاکہ وہ کمپنی کی پالیسی کی خلاف ورزی کی روک تھام کرسکے۔

فیس بک میسنجر کے سربراہ اسٹان Chudnovsk کے مطابق ہم اس بات کو یقیی بنائیں گے کہ اس نئے فیچر کو لوگوں کی توہین کا ذریعہ نہ بنایا جاسکے، ہم یقینی بنائیں گے کہ لوگ آپ کے ساتھ بدزبانی نہ کرسکیں اور پھر ریموو کرکے خود کو بچانے کی کوشش کریں۔

خیال رہے کہ رواں سال اپریل میں ایک رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے آیا تھا کہ فیس بک خاموشی سے اپنے سی ای او مارک زکربرگ کے میسنجر پر بھیجے جانے والے پیغامات کو ڈیلیٹ کررہی ہے۔

اس انکشاف کے بعد کمپنی نے اعلان کیا کہ بھیجے جانے والے پیغامات کو واپس بلانے کا فیچر بہت جلد تمام میسنجر صارفین کو دستیاب ہوگا۔

میسنجر میں اس وقت سیکرٹ کنورزیشن موڈ موجود ہے، جس میں صارف اپنے پیغامات کو خودکار طور پر ختم کرنے کا وقت طے کرسکتے ہیں۔

واٹس ایپ کے علاوہ فیس بک کی زیرملکیت ایک اور ایپ انسٹاگرام میں بھی ان سینڈ کا فیچر موجود ہے۔

دپیکا اور رنویر کی شادی کی پہلی تصویر منظرعام پر آگئی

ممبئی: نامور بالی ووڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون نے شادی کے بعد اپنی اور رنویر سنگھ کی پہلی تصویر مداحوں کے ساتھ شیئر کردی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دپیکا اور رنویر کی شادی کے بعد سے پرستاروں کو تصاویر کا بے صبری سے انتظار تھا جسے دونوں اداکاروں نے گزشتہ روز ہی اٹلی میں شادی کے بندھن میں بندھنے کے بعد تصاویر کو صیغہ راز میں رکھا ہوا تھا لیکن اب اداکارہ نے اپنی اور شوہر رنویر سنگھ کی شادی کی پہلی تصویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر جاری کردی۔

اداکارہ کی جانب سے شادی کی جاری کردہ تصاویر میں دپیکا پڈوکون سرخ رنگ کے لباس میں نہایت حسین لگ رہی ہیں جب کہ رنویر سنگھ ونکنی رواج کے مطابق سفید کرتے میں ہاتھ میں سونے کا ہار لئے چہرے پر مسکراہٹ سجائے بیٹھے ہوئے ہیں جب کہ مداحوں کی مقبول ترین جوڑی سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف 10 منٹ میں جاری کردہ تصویر کو نو لاکھ سے زائد شائقین لائیک کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ دپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ 14 نومبر کی شام اٹلی کے خوبصورت مقام لیک کومو میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے اور آج ایک بار پھر ان کی شادی سندھی رسم رواج کے مطابق ہوئی جب کہ اداکاروں کی شادی کے استقبالیے کی دو تقاریب بھارت میں بھی منعقد ہوں گی، پہلی تقریب 21 نومبر کو بنگلورو کے لیلا پیلس اور دوسری 28 نومبر کو ممبئی کے گرینڈ ہائٹ ہوٹل میں ہوگی۔

شادی کے لیے تیرتا سوئمنگ پول اور 75 کمروں کا ہوٹل بک

بولی وڈ کے رومانٹک جوڑے دپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ کی شادی 14 نومبر کو یورپی ملک اٹلی کے معروف سیاحتی مقام ’لیک کومو‘ میں جنوبی بھارتی انداز میں ہوئی۔

چوں کہ دپیکا پڈوکون کا تعلق جنوبی ہندوستان اور کے ہند آریائی نسل سے ہے، اس لیے ان کی شادی کونکنی انداز میں ہوئی۔ تاہم جوڑے نے سندھی روایات کے مطابق بھی 15 نومبر کو ایک بار پھر شادی کی۔

جوڑے نے سندھی روایات میں اس لیے شادی کی، کیوں کہ رنویر سنگھ کا تعلق سندھی نسل سے ہے۔

اگرچہ دونوں کی شادی میں انتہائی کم مہمان شامل ہوئے اور 24 گھنٹے گزر جانے کے باوجود دونوں کی عروسی لباس کی تصاویر سامنے نہیں آئیں۔

تاہم ان کی شادی کے حوالے سے دوسری اہم معلومات نے لوگوں کو حیران کردیا۔

دونوں کی شادی کی تصاویر 2 دن گزر جانے کے بعد بھی سامنے نہیں آئیں—فائل فوٹو: ہندوستان ٹائمز
دونوں کی شادی کی تصاویر 2 دن گزر جانے کے بعد بھی سامنے نہیں آئیں—فائل فوٹو: ہندوستان ٹائمز

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق رنویر اور دپیکا نے جس سیاحتی مقام پر شادی کی اس کا شمار دنیا کے مہنگے، پر تعیش اور معروف مقامات میں ہوتا ہے۔

لیک کومو میں ان سے پہلے بھی کئی شوبز شخصیات شادی سمیت دیگر رسومات کی تقریبات منعقد کر چکی ہیں۔

اکانامکس ٹائمز کے مطابق دونوں کی شادی معروف سیاحتی مقام لیک کومو کے پر تعیش قصبے ولا ڈیل بالبیانیلو کے پر تعیش ہوٹل میں ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق جزیرہ نما یہ علاقہ رومن دور سے ہی لوگوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور اس کا شمار نہ صرف اٹلی بلکہ یورپ کے گہرے جزیروں میں بھی ہوتا ہے۔

75 کمروں کو ہی بک کرایا گیا ہے—فوٹو: ٹوئٹر
75 کمروں کو ہی بک کرایا گیا ہے—فوٹو: ٹوئٹر

انڈیا ٹوڈے کے شوبز صحافی سشانت مہتا کے مطابق رنویر اور دپیکا نے شادی کے لیے 75 کمروں پر مشتمل شاندار ولا کو بک کرایا۔

ڈیلی ہنٹ کے مطابق رنویر سنگھ اور دپیکا پڈوکون کی شادی کے لیے اسی علاقے میں موجود ایک ریزورٹ کی بکنگ کرائی گئی ہے، جس میں 4 پر تعیش ریسٹورانٹ شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس ریزورٹ میں جہاں پر تعیش ریسٹورانٹ ہیں، وہیں اس میں ایک دیدہ زیب بار بھی موجود ہے۔

ہوٹل میں تیرتا ہوا سوئمنگ پول بھی ہے—فوٹو: ٹوئٹر
ہوٹل میں تیرتا ہوا سوئمنگ پول بھی ہے—فوٹو: ٹوئٹر

رپورٹ کے مطابق رنویر اور دپیکا کی شادی کے لیے جس ریزورٹ کو بک کیا گیا ہے، اس میں 4 کانفرنس رومز اور کشادہ سوئمنگ پول کے علاوہ صحن بھی موجود ہے۔

اس ریزورٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ایک تیرتا ہوا سوئمنگ پول بھی ہے، جو علاقے میں موجود سمندر میں تیرتا رہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس ریزورٹ کے 75 کمرے ہیں، جن کو 17 نومبر تک بک کیا گیا ہے اور ہر کمرے کا ایک دن کا کرایہ 40 ہزار روپے تک ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جوڑے کی جانب سے شادی کے لیے بک کیے گئے ریزورٹ پر مجموعی خرچہ 3 کروڑ روپے تک آئے گا۔

شادی کی رسومات اگرچہ اس ریزورٹ کے اندر نہیں ہوں گی، تاہم جہاں رسومات ہوں گی وہ جگہ اس کے بہت قریب ہے اور ممکنہ طور پر دولہا اور دلہن شادی کی رسومات کے بعد بذریعہ سمندر اس ریزورٹ میں پہنچیں گے۔

ہوٹل کے اندر دیدہ زیب بار بھی ہے—فوٹو: ٹوئٹر
ہوٹل کے اندر دیدہ زیب بار بھی ہے—فوٹو: ٹوئٹر

پاکستان میں رواں مالی سال سرمایہ کاری میں کمی

پاکستان میں روں مالی سال جولائی تا اکتوبر بیرونی سرمایہ کاری میں 67 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال جولائی تا اکتوبر ملک میں تقریباً ایک ارب ڈالر سرمایہ کاری کی گئی تھی لیکن رواں سال اس میں 67 فیصد تک کمی آئی ہے۔

رواں مالی سال جولائی تا اکتوبر 33 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری ہوئی، اس عرصے کے دوران تقریباً 26 کروڑ ڈالرز سرمایہ اسٹاک ایکسچینج سے نکال کر بیرون ملک منتقل کیا گیا۔

Google Analytics Alternative