Home » Author Archives: Admin (page 7)

Author Archives: Admin

مصر کا اقوام متحدہ پر محمد مرسی کی موت کو ’’سیاسی‘‘ بنانے کا الزام

قاہرہ: مصر نے اقوام متحدہ کی جانب سے صدر مرسی کی موت پر ’’آزادانہ انکوائری‘‘ کا مطالبہ کرنے پر اس معاملے کو ’’سیاسی‘‘ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

مصر کی وزارت خارجہ کے ترجمان احمد حفیظ نے پیر کو ایک عدالتی سماعت کے دوران اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق روپرٹ کولولی کی جانب سے سابق صدر محمد مرسی کی موت کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبے کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک قدرتی موت کو جان بوجھ کر سیاسی بنانے کی کوشش ہے۔

واضح رہے کہ مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی پیر کے روز عدالتی کارروائی کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگئے تھے، جنہیں منگل کو قاہرہ میں خاموشی سے سپرد خاک کردیا گیا تھا۔

پی سی بی گورننگ بورڈ نے ٹیم، مینجمنٹ اورسلیکشن کمیٹی کے احتساب کی منظوری دیدی

لاہور: پی سی بی گورننگ بورڈ اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

پی سی بی گورننگ بورڈ نے ورلڈ کپ کے بعد ٹیم ، مینجمنٹ ، سلیکشن کمیٹی کے احتساب کی منظوری دے دی، چیئرمین کی جگہ ایم ڈی کو تمام بڑے اختیارات منتقل ہوگئے، کوچز اور سلیکشن کمیٹی ممبران کے تقرر اور ڈومیسٹک کرکٹ کا اختیار بھی ایم ڈی کے پاس ہوگا تاہم کپتان کا انتخاب چیئرمین کے پاس ہی رہے گا۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ورلڈکپ کے بعد تمام کھلاڑیوں، ٹیم انتظامیہ اور سلیکشن کمیٹی کی تین سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔اس حوالے سے چیئرمین مزید تجویز کیلے رپورٹ پیش کریں گے۔

ایم ڈی وسیم خان نے اپنے دورہ انگلینڈ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے ساتھ پلیئرز اور آ فیشل ایکسچینج پروگرام شروع ہوگا جب کہ بورڈ ممبران نے ٹیم کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا اورآ ئندہ میچوں میں ٹیم سے عمدہ کارکردگی کی توقع کا  اظہار کیا۔

ایم ڈی نے واضح کیا کہ آئندہ سال پاکستان ایشیاء کپ اور ٹی ٹوئنٹی کی میز بانی کرے گا جس پرگورننگ بورڈ اراکین نے ایشیا کپ کی میزبانی ملنے پر چیئرمین پی سی بی کو مبارکباد دی۔ ایشیاء کپ پاکستان میں کرکٹ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

گھریلو صارفین کیلیے یکم جولائی سے گیس قیمتوں میں 200 فیصد اضافے کا فیصلہ

 اسلام آباد: حکومت نے گھریلو صارفین کو یکم جولائی سے گیس کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ای سی سی کے آج ہونے والے اجلاس میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ کی منظوری دی جائے گی۔ حکام نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران گیس کی قیمتوں میں 143 فیصد اضافہ کیا ہے۔

پٹرولیم ڈویژن نے گھریلو گیس صارفین کیلیے پہلی سلیب میں گیس کی قیمتوں میں 25 فیصد اضافہ دوسری سلیب کیلئے 50 فیصد، تیسری سلیب کیلئے75 فیصد، چوتھی سلیب کیلئے 100فیصد، پانچویں سلیب کیلئے 150فیصد اور چھٹے سلیب کیلئے 200 فیصد اضافہ تجویز کیا ہے۔

تجویز کردہ اضافہ کے مطابق پہلے سلیب کے صارفین کا ماہانہ بل 285 روپے سے بڑھ کر 422 روپے ہو جائے گا۔ دوسرے سلیب کے گیس صارفین کا ماہانہ بل 572روپے سے بڑھ کر1,219روپے ہو جائے گا۔ تیسرے سلیب کے گیس صارفین کا ماہانہ بل 2,305 روپے سے بڑھ کر 4,009 روپے ہو جائے گا۔ چوتھے سلیب کے گیس صارفین کا ماہانہ بل3,589 روپے سے بڑھ کر 7,995 روپے ہو جائے گا۔ پانچویں سلیب کے گیس صارفین کا ماہانہ بل 13,508 روپے سے بڑھ کر14,373 روپے ہو جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اوگرا نے ملک بھر میں گیس صارفین کی تمام کیٹیگریزکیلئے 31 فیصد اور  20 فیصد تک قیمت میں اضافہ کی تجویز دی تھی۔ ایس  این جی پی ایل نے گیس قیمتوں میں 144فیصد اضافہ کا مطالبہ کیا جس پر اوگرا نے اوسط 46 فیصد اضافہ کی  اجازت دی۔ اسی طرح ایس ایس جی سی نے گیس قیمتوں میں 30 فیصد اضافہ کا مطالبہ کیا جبکہ اوگرا نے اوسط 28 فیصد گیس قیمتوں میں آئندہ مالی میں اضافہ کی اجازت دی۔

اوگرا نے پہلے سلیب کے صارفین کیلئے 18فیصد گیس قیمتوں میں اضافہ کی سفارش کی۔ دوسرے سلیب کے صارفین کیلئے 29 فیصد گیس قیمتوں میں اضافہ، تیسرے سلیب کے صارفین کیلئے 32 فیصدگیس قیمتوں میں اضافہ، چوتھے سلیب کے صارفین کیلئے  12 فیصد گیس قیمتوں میں اضافہ، پانچویںاور چھٹے سلیب کے صارفین کیلئے  4فیصد گیس قیمتوں میں اضافہ کی سفارش کی۔

ماہرین کا کہنا ہے اوگرا نے گیس قیمتوں میں اضافہ کی اجازت صرف اسلئے دی کہ حکومت کو آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ یکیج لینے میں آسانی ہو کیونکہ حکومت آئی ایم ایف سے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیلئے رضامندی کا اظہار کر چکی ہے۔ ایس این جی پی ایل نے  اپنی آمدن کا تخمینہ 1223.7 ارب روپے لگایا ہے جس میں309.5ارب روپے رواں مالی سال اور گزشتہ مالی سال کا شارٹ فال 165.12ارب روپے بھی شامل ہے۔

قومی ترقیاتی کونسل کا قیام احسن اقدام

کیا کسی کو 6اکتوبر 1998کا دن یا د ہے یا پھر اس دن سے جڑا ملکی ترقی کیلئے کسی کا بیان یاد ہو;238;یا پھر7اکتوبر ہی کسی کو یاد ہو;238;

وزیراعظم عمران خان نے ترقیاتی پالیسی اور حکمت عملی بنانے سمیت وسیع اختیارات کی حامل 13رکنی قومی ترقیاتی کونسل (این ڈی سی)قائم کر دی جس کے رکن چیف آف آرمی سٹاف بھی ہونگے ۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے ۔ اب آپ کے ذہن میں سوال آرہا ہو گا کہ اس بات کا تعلق میرے کالم کے آغاز میں پوچھے سوالات سے کیا بنتا ہے ۔ تو جناب بالکل بنتا ہے کیونکہ ماضی میں ہمارے سول حکمرانوں نے ہمارا فخر پاک فوج کو ہمیشہ تنقید کی ذد میں رکھا اور کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جس میں پاک فوج پر تنقید کی جا سکے ۔ کارگل کا معاملہ ہو یا پھر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہو،ڈان لیکس ہو یا دہشتگردی کی لہر،غرض یہ کہ ماضی میں سول حکمرانوں نے ہر ہر اس موقع پر پاک فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی جس میں وہ جھوٹ بول سکتے تھے ۔ ماضی کے حکمرانوں نے بغیر سوچے سمجھے پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بنایاحالانکہ پاک فوج نے دفاعی صلاحیت اور پیشہ وارانہ امورکے حوالے سے اپنا لوہا پوری دنیا میں منوایا جبکہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ اور 27فروری2019ء کا دن بھی ہمارا سر فخر سے بلند کرتا ہے جب پاک فوج نے ہمارے دشمن ملک بھارت کے 2طیارے مار گراکر بھارت کو اس کی اوقات یاد دلا دی تھی مگرماضی میں ہمارے چند سیاستدانوں نے قومی سلامتی کو پس پشت ڈالتے ہوئے مسلح افواج کے بارے ایسے ایسے بیانات داغے جس سے پاک فوج کا تو کچھ نہیں بگڑا مگرچند سیاستدانوں کے مکروہ چہرے ضرور بے نقاب ہوگئے ۔ پاک فوج پر ہلکا پھلکا تنقید کا سلسلہ اب بھی کچھ سیاستدانوں کی جانب سے جاری رہتا ہے جس پر صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ اللہ انکو ہدایت دے ۔ آمین ۔ میں ذکر کر رہا تھا کہ وزیراعظم نے قومی ترقیاتی کونسل قائم کر دی ہے ،قومی ترقیاتی کونسل ترقیاتی پالیسی اور حکمت عملی بنانے سمیت وسیع اختیارات کی حامل ہو گی اور یہ کردار محدود نہیں ہو گا،این ڈی سی کے کاموں میں معاشی بڑھوتری کے حصول کیلئے پالیسی بنانا اور ان پالیسیوں کی وضاحت بھی ہو گا،کونسل قومی اور علاقائی رابطہ سازی کیلئے طویل مدتی منصوبہ بندی کی منظوری بھی دیا کریگی اور علاقائی تعاون کیلئے گائیڈ لائنز بھی فراہم کریگی،قومی ترقیاتی کونسل کے اراکین میں وفاقی وزراء،تمام صوبوں کے وزراء اعلیٰ،آرمی چیف شامل ہیں ۔ کونسل اجلاس میں کسی بھی ادارے کے سربراہ اور وزیر کو شامل کر سکے گی اور اجلاس میں بلائے جانیوالے کسی بھی وزیریا ادارے کے سربراہ کی حیثیت بھی رکن کی ہو گی ۔ پاکستان مسلم لیگ ن نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کر دی ہے ،سیکرٹری جنرل مسلم لیگ ن اور سابق وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ کیا قومی ترقیاتی کونسل قومی معاشی کونسل کی جگہ لیگی;238;کیا فوج باضابطہ طور پر معاشی انتظام سنبھالنے کا کریڈٹ یا الزام خود پر لیگی;238;احسن اقبال نے مزید کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت پاک فوج کو تنازعات میں دھکیل رہی ہے ۔ اب قربان جائیں احسن اقبال صاحب کے اس بیان پر کہ حکومت پاک فوج کو تنازعات میں دھکیل رہی ہے،کیا مسلم لیگ ن صحافی و اینکر پرسن حامد میر پر قاتلانہ حملے کے حکومتی ردعمل کو بھول گئی ہے;238;کیا مسلم لیگ ن کارگل معاملے میں پاک فوج پر تنقید بھی بھول گئی;238;کیا مسلم لیگ یہ بھی بھول گئی کہ ڈان لیکس کس نے کی;238;کیا مسلم لیگ ن نے پاک فوج کو کبھی تنازعات میں دھکیلنے کی کوشش نہیں کی جبکہ قومی ترقیاتی کونسل میں آرمی چیف کی شمولت احسن اقدام ہے مگر ن لیگ اس پربھی خواہ مخواہ تنقید کررہی ہے ۔ 6اکتوبر1998کو بھی اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے ملکی ترقی کیلئے قومی سلامتی کونسل کے قیام کی تجویز دی تھی مگر مسلم لیگ ن کے تاحیات قائداور اس وقت کے وزیراعظم نا اہل نواز شریف کو یہ بات پسند نہ آئی اور جنرل جہانگیر کرامت سے استعفیٰ لے لیا ۔ ساری بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج قوم کو اپنے سیاسی حکمرانوں پر فخر ہو رہا ہے کہ اس نے پہلی بار اچھی اور بہترین قیادت کا انتخاب کیا جو کہ پاک فوج کو کسی دوسرے ملک کی نہیں بلکہ اپنی فوج تصور کرتی ہے اور ملکی ترقی کیلئے جہاں ضرورت پیش آئے پاک فوج کی مدد حاصل کرتی ہے اور آفرین ہے ہماری پاک فوج پرجس نے کبھی بھی سویلین حکومت کو انکار نہیں کیا اور ہمیشہ لبیک کہتے ہوئے ملکی ترقی میں بھرپور کردار ادا کیا ۔ ابھی بھی جب ملکی معاشی صورتحال دگر گوں ہے تو پاک فوج نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ کر کے فقید المثال کام سرانجام دیا حالانکہ پاک فوج کو ایک تو دفاعی بجٹ میں کمی اور اوپر سے ڈالر کی قدر میں اضافے کے باعث بڑھتی مہنگائی کے باعث چند مسائل کا بھی سامنا کر پڑیگامگر وہ پاک فوج ہی کیا جو کسی مسئلے سے نبرد آزما نہ ہو سکے،ہمارا فخر ہماری پاک فوج ہر مسئلے سے نپٹنا بخوبی جانتی ہے چاہے ملک میں سیلاب کا مسئلہ درپیش ہو یا پھر زلزلے جیسی آفت اور دہشت گردی کا سامنا ہو پاک فوج کو اس قوم نے ملک کو درپیش تمام آفات اور مسائل کے حل کیلئے ہمیشہ ہر اول دستہ پایا ۔ یہی وجہ ہے کہ قوم پی ٹی آئی حکومت کے قومی ترقیاتی کونسل میں آرمی چیف کی شمولیت سے خوش ہے کیونکہ پاک فوج قوم کے دلوں میں بستی ہے اور قوم کو اپنی مسلح افواج پر بھرپور اعتماد ہے ۔ لہٰذا اب حکومت کے سیاسی مخالفین یہ کہنا اور ان ڈائریکٹ کہنا چھوڑ دیں کہ عمران خان کو لانے والے تنگ آگئے،یہ بیانیہ قوم کے دلوں میں گھر نہیں کر سکتا کیونکہ قوم سب حقیقت جانتی ہے،قوم کو فیصل آباد میں احتجاج کے دوران پی ٹی آئی کارکنوں پر گولیاں چلانا نہیں بھولا نہ ہی قوم سانحہ ماڈل ٹاوَن بھول رہی ہے اور نہ ہی یہ قوم وفاقی دارالحکومت میں ربڑ کی گولیوں کی جگہ اصلی گولیوں کا استعمال کر کے پی آے ٹی اور پی ٹی آئی کارکنوں کو زخمی کیا جن میں چند جہان فانی سے کوچ کر گئے،قوم اس ملک کے بچے بچے کو سر سے پاؤں تک بیرونی قرضوں میں مقروض کرنیوالے حکمرانوں کو بھی نہیں بھول پا رہی او ر اس ملک میں سفارش اور کرپشن کے نظام کے فروغ کو بھی نظر انداز نہیں کر پا رہی اس لیے سیاستدانوں کو اب سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر ملکی مفاد میں سوچنا اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ وفاق میں حکومت سے صوبائی حکومت اور پھر اپوزیشن کی پوزیشن پر آنیوالوں کو قوم آئندہ گھر تک ہی محدود نہ کر دے ۔

بھارت میں سابق مس انڈیا یونیورس بھی ہراسانی کا شکار

کولکتہ: بھارت کی سابق مس انڈیا یونیورس اوشوشی سین گپتا پر 15 لڑکوں نے حملہ کرکے نہ صرف انہیں ڈرایا دھمکایا بلکہ ڈرائیور کو بھی باہر نکال کر مارا پیٹا، اس واقعے کے بعد اوشوشی نے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کرکے بھارتی پولیس کو بروقت مدد نہ کرنے پرشدید تنقید کا نشانہ بنایاہے۔

2010 میں مس انڈیا یونیورس کا خطاب جیتنے والی اوشوشی سین گپتا نے اپنے ساتھ پیش آئے خوفناک واقعے کے بارے میں بتاتے ہوئے پوری دنیا کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کیا ہے کہ کس طرح بھارت میں خواتین غیر محفوظ ہیں اور پولیس بھی خواتین کی مدد کرنے میں پس وپیش سے کام لیتی ہے۔

اوشوشی نے فیس بک پر اپنے ساتھ پیش آئے حادثے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا منگل کی رات تقریباً پونے بارہ بجے وہ کولکتہ کے ہوٹل سے کام ختم کرنے کے بعد اوبر کی کار سے واپس اپنے گھر جارہی تھیں کہ تقریباً 15 نوجوان لڑکوں نے ان کی کار پر حملہ کردیا اور مسلسل کار کا دروازہ پیٹتے ہوئے ڈرائیور کو باہر آنے کا کہہ رہے تھے۔ بلآخر ان لڑکوں نے ڈرائیور کو گھسیٹ کر باہر نکال کرپیٹنا شروع کردیا اس موقع پر میں کار سے باہر نکلی اور لڑکوں پر چلانا شروع کردیا  اور ان کی ویڈیو بھی بنائی۔

اوشوشی نے کہا کہ وہ بھاگ کر نزدیکی پولیس اسٹیشن گئیں اور وہاں موجود پولیس آفیسر سے مدد مانگی لیکن اس نے یہ کہہ کر مدد کرنے سے انکار کردیا کہ یہ علاقہ اس کی عملداری میں نہیں آتا، تاہم بہت زیادہ منت کرنے کے بعد وہ آفیسر ان کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوا، پولیس آفیسر کو دیکھ کر وہاں موجود لڑکے آفیسر کو دھکا دے کر بھاگ گئے۔

میں نے اور میرے ساتھ موجود میری ساتھی نے ڈرائیور سے درخواست کی کہ ہمیں گھر چھوڑ دے اورجب ہم اپنے گھر پہنچے تو یہ دیکھ کر خوفزدہ ہوگئے کہ 6 لڑکے موٹر سائیکلوں پر ہمارا پیچھا کررہے تھےانہوں نے  ہماری کار روکی اور کار پر پتھر مار کر شیشہ توڑ دیا اس کے علاوہ وہ میرا فون بھی چھین کر توڑنا چاہ رہے تھے جس میں ان کے حملے کی ویڈیو موجود تھی، بعد ازاں وہ لڑکے وہاں سے بھاگ گئے۔

اوشوشی نے یہاں ایف آئی آر درج کرانے میں پیش آئی مشکلات اور بھارتی پولیس کے رویے کی قلعی کھولتے ہوئے کہا کہ پولیس نے لاتعداد سوالات پوچھنے کے بعد میری شکایت تو درج کرلی لیکن اوبر کے ڈرائیور کی شکایت درج کرنے سے انکار کردیا اس کا کہنا تھا کہ انہیں ایک ہی کیس میں دو ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت نہیں ہے یہ قانون کے خلاف ہے۔

اوشوشی نے بھارت کو خواتین کے لیے غیر محفوظ ملک قراردیتے ہوئے کہا کہ اس رات کے حادثے نے انہیں گہرا صدمہ پہنچایا ہے۔ دوسری جانب سابق مس انڈیا یونیورس پر حملہ کرنے والے لڑکوں میں سے سات لڑکوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

پبلشنگ پارٹنر سرفراز احمد کپتانی کے اہل نہیں، معین خان

 پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان معین خان نے کہا ہے کہ اگر ٹیم کے موجودہ کپتان سرفراز احمد کو ٹیم میں ہونے والی گروپ بندی کا علم تھا لیکن وہ پھر بھی اسے ختم نہ کرواسکے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کپتانی کے اہل نہیں ہیں۔

کراچی میں ایک تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معین خان نے ٹیم میں گروپ بندی، قومی ٹیم کی ورلڈکپ میں کارکردگی اور ٹیم کی ایونٹ میں واپسی کی بات کی۔

واضح رہے کہ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق بھارت کے خلاف شکست کے بعد سرفراز احمد نے ڈریسنگ روم میں بغیر کسی کھلاڑی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ اگر ان کے ساتھ کچھ برا ہوا تو ان کے ساتھ مزید لوگ بھی گھر جائیں گے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مذکورہ معاملے پر سوال کے جواب میں معین خان نے بتایا کہ انہوں نے سرفراز احمد کے اس بیان کو نہیں سنا، تاہم اگر ایسے کچھ الفاظ سرفراز احمد نے کہے ہیں تو وہ غلط ہیں کیونکہ ابھی ٹورنامنٹ ختم نہیں ہوا۔

سابق وکٹ کیپر بیٹسمین نے کہا کہ ٹیم میں اگر گروپ بندی ہے اور سرفراز اس پر قابو پانے میں ناکام ہوگئے ہیں تو وہ پھر قیادت کے اہل نہیں ہیں۔

قومی ٹیم کی صلاحیت سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ ٹیم جب مشکل میں آتی ہے تو اس کے بعد وہ مزید ابھر کر سامنے آتی ہے، ابھی ٹیم کی سیمی فائنل میں پہنچنے کی امیدیں ختم نہیں ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنے تمام میچز جیتنے ہوں گے، تاہم جب ٹیم دلیری کے ساتھ کھیلتی ہے تو غیبی مدد بھی شامل ہوجاتی ہے۔

کپتانی اور چیف سلیکٹر کو ہٹانے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘ یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ کس کو رکھنا چاہیے اور کس کو نکال دینا چاہیے، کیونکہ ابھی ورلڈکپ جاری ہے۔’

خیال رہے کہ پاکستان ٹیم نے ورلڈکپ میں اب تک 5 میچز کھیلے ہیں جس میں صرف ایک میچ میں کامیابی حاصل ہوئی جبکہ 3 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایک میچ بارش کی نظر ہوا۔

قومی ٹیم صرف 3 پوائنٹس کے ساتھ 10 ٹیموں میں 9ویں نمبر پر ہے جو صرف افغانستان سے آگے ہے جس نے ایونٹ میں کوئی کامیابی ہی حاصل نہیں کی۔

پی ٹی آئی کےساتھ میثاق معیشت چاہتے ہیں، شہباز شریف

اسلام آباد: قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی سے چارٹر آف اکانومی کے لیے تیار ہیں، پی ٹی آئی کےساتھ میثاق معیشت چاہتےہیں۔

قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کے دوران قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 4 دن ہاؤس کا وقت ضائع کیا گیا، بجٹ سیشن اہم ترین موقع ہے، ایوان میں موجود لوگ عوام سے ووٹ لے کر آئے ہیں لہذا اسپیکر قومی اسمبلی کےکندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے، کل بھی آپ سے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔

شہباز شریف نے کہا کہ آصف زرداری، سعد رفیق اور محسن داوڑ ایوان کے ممبر ہیں، اراکین لاکھوں ووٹ لے کر عوام کے جذبات کی ترجمانی کے لیے آتے ہیں، اراکین کی حاضری یقینی بنانا اسپیکر کی ذمہ داری ہے۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ2013 میں عوام کی ووٹوں سے ن لیگ حکومت میں آئی تاہم اقتدار سنبھالتے ہی سر منڈواتے ہی اولے پڑے، جب حکومت ملی بجلی20،20گھنٹے جاتی تھی، جذبات میں آکر کہا 6 مہینے میں بجلی کا بحران ختم کر دیں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمارے خلاف بدترین سازش کا جال بنا تاہم ہم نے نہایت تحمل و برداشت سے اس وقت کو گزارا، چینی صدر نے ستمبر 2014 میں تشریف لانا تھا، پی ٹی آئی رہنماؤں سے کہا 3 دن کے لیے ڈی چوک سے اٹھ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی وجہ سےچینی صدر نے دورہ ملتوی کردیا تاہم دہشت گردی،معیشت کی بہتری کیلئے چین ہماری مدد کو آیا، پی ٹی آئی نے چینی صدر کا دورہ ملتوی کراکےملک دشمنی کا ثبوت دیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان نے کنٹینر پر عوام کو سہانے خواب دکھائے، پی ٹی آئی کے یوٹرنز نے ملک کوجہنم بنا دیا ہے، خدشہ ہے میری تقریر ختم ہونے تک ڈالر 160 تک نہ پہنچ جائے، عمران خان نے کہا ان کی چیخیں نکال دوں گا، 10مہینے کی مہنگائی نے واقعی عوام کی چیخیں نکال دی ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان نے رات گئے قوم سے خطاب کیا، صبح میں نے پوچھا خیر تو ہے وزیراعظم نے رات کو خطاب کیا، پتا چلا وزیراعظم نے قرضوں پر کمیشن بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کئی بار این آر او کا ذکر کر چکے ہیں تاہم وزیراعظم کو این آر او دینے کا اختیار ہی نہیں ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کے دوران اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے میثاق معیشت کی تجویز پر پیش رفت نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سے چارٹر آف اکانومی کے لیے تیار ہیں، پی ٹی آئی کےساتھ میثاق معیشت چاہتےہیں جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اس پر اب بھی بات ہوسکتی ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان بات کر دیتے ہیں پھر پلہ نہیں پکڑاتے، وزیراعظم قوم کو بتائیں کس نے کب ان سے این آر او مانگا، وزیراعظم اسپیکر کے کان میں ہی بتا دیں کس نے این آر او مانگا، غلط بیانی کرنے والے وزیراعظم پر قوم کیا دنیا کیسے اعتبار کرے گی۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے چیخ چیخ کر کہا کہ شہبازشریف نے 10 ارب پانامہ کیس میں پیشکش کی، ملتان میٹرو میں کک بیکس اور جنگلہ بس کا الزام لگایا، نوٹس دیے اور عدالتوں میں بلوایا لیکن آج تک جواب نہیں دیا، ایسے وزیر اعظم پر دنیا کیسے اعتبار کرے گی، بات پھر انڈے مرغی اور کٹے پر آکر رہ جائے گی۔

بنگلا دیش میں پاور پلانٹ سائٹ پر ہنگامہ آرائی میں مقامی مزدوروں کے ہاتھوں چینی قتل

ڈھاکا: بنگلا دیش میں زیر تعمیر پاور پلانٹ پر چینی اور مقامی مزدوروں کے درمیان تصادم میں ایک چینی ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بنگل دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کے جنوبی علاقے میں چین کی مالی معاونت سے ایک ہزار 320 میگا واٹ صلاحیت کے بجلی گھر کی تعمیر کی جارہی ہے۔ منصوبے پر مقامی مزدوروں کے علاوہ سیکڑوں چینی بھی کام کررہے ہیں۔ کام کے دوران ایک مقامی مزدور کی موت ہوگئی جس پر چینی اور بنگلا دیشی کارکنوں میں جھگڑا ہوگیا جس نے پرتشدد صورت اختیار کرلی، جھگڑے میں ایک چینی ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہوگئے۔

پولیس کے مطابق پاور پلانٹ سائٹ پر 6 ہزار سے زائد مزدور کام کررہے تھے، جن میں سے 2 ہزار چینی ہیں۔ مقامی پولیس چیف منیر الاسلام نے بتایا کہ تصادم میں درجنوں مزدور زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ایک چینی مزدور ہلاک ہوگیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سائٹ پر حالات کو کنٹرول کرنے کےلیے ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔

Google Analytics Alternative