Home » Author Archives: Admin (page 8)

Author Archives: Admin

بنگلا دیش میں گستاخانہ مواد پر ہنگامے پھوٹ پڑے، 4 افراد جاں بحق

بنگلادیش میں گستاخانہ مواد پر مبنی ایک فیس بک پوسٹ کیخلاف احتجاج کے دوران پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 4 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیش میں ایک غیرمسلم نے فیس بک پر نہایت ہی گستاخانہ مواد پوسٹ کیا جس پر ہزاروں افراد سراپا احتجاج ہو کر سڑکوں پر نکل آئے۔

Bangladesh Balsphemy Protest 2

بنگلا دیش کے علاقے برہان الدین میں ہزاروں افراد نے جمع ہو کر احتجاج کیا اور گستاخی کے مرتکب شخص کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا جسے گزشتہ روز گرفتار کیا جا چکا ہے۔

Bangladesh Balsphemy Protest 1

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ مظاہرین میں سے بعض مشتعل افراد نے ملزم کی حوالگی کے لیے پولیس پر حملہ کردیا جس پر پولیس نے اپنے دفاع میں ہوائی فائرنگ کی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران 4 مظاہرین جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔

Bangladesh Balsphemy Protest 4

واضح رہے کہ بنگلادیش میں 2016 میں بھی فیس بک پر مذہبی دل آزاری پر مبنی ایک پوسٹ پر ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جب کہ 2012 میں بھی ایسی ہی صورت حال درپیش ہوگئی تھی جس پر بڑے پیمانے احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔

بولنگ اٹیک میں نئے چہروں کی انٹری کا راستہ بن گیا

لاہور: دورہ آسٹریلیا کے اسکواڈز کا انتخاب کرنے کیلیے پاکستانی تھنک ٹینک نے سرجوڑ لیے۔

سرفراز احمد کو ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت سے ہٹائے جانے کے بعد اگلا مرحلہ دورہ آسٹریلیا کیلیے اسکواڈز کا انتخاب ہے، گذشتہ روز قذافی اسٹیڈیم لاہورمیں بولرز کے تربیتی کیمپ کے دوران ہیڈکوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق، بولنگ کوچ وقار یونس، ٹیسٹ کپتان اظہر علی اور ٹی ٹوئنٹی قائد بابر اعظم موجود تھے،اتوار کو سب مل کر مجوزہ کھلاڑیوں کی فہرست پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے حتمی شکل دینگے، پیر کو چیئرمین پی سی بی احسان مانی سے منظوری ملنے کے بعد ٹیموں کا اعلان کردیا جائیگا۔

ذرائع کے مطابق ٹی ٹوئنٹی میں محمد رضوان اور ٹیسٹ میں بابر اعظم کو نائب کپتان مقرر کیے جانے کا امکان ہے، مصباح الحق نے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں شریک صوبائی ٹیموں کوچزسے ابتدائی مشاورت مکمل کرتے ہوئے ایک فہرست پہلے ہی مرتب کررکھی ہے، ڈومیسٹک ایونٹ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے بیٹسمینوں کے نام زیر غور ہیں، آسٹریلیا کیخلاف سیریز میں 1،2 نئے نام سامنے آ سکتے ہیں۔

ایک اہم مسئلہ فٹنس اور فارم کو دیکھتے ہوئے آسٹریلوی کنڈیشنز کیلیے موزوں بولرز کا انتخاب ہے، ٹیسٹ کرکٹ سے محمدعامر کی ریٹائرمنٹ، وہاب ریاض کا وقفہ، حسن اور محمد عباس کے فٹنس مسائل وجہ ہیں۔ فٹنس مسائل کا شکار حسن علی ٹی ٹوئنٹی سیریز سے باہر ہوگئے، ٹیسٹ میچز میں بھی ان کی شمولیت کے امکانات بہت معدوم دکھائی دے رہیں۔

ذرائع کے مطابق سری لنکا کیخلاف سیریز سے کمردرد کا شکار پیسر کو ڈاکٹرز نے مزید 3 ہفتے آرام کی ہدایت دی ہے، حسن علی فیصل آباد میں جاری قومی ٹی ٹوئنٹی کے دوسرے راؤنڈ میں سینٹرل پنجاب کی نمائندگی کے خواہاں تھے لیکن تکلیف بڑھنے کا خدشہ دیکھتے ہوئے انھیں واپس بھیج دیاگیا۔

نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں پی سی بی میڈیکل اسٹاف کی نگرانی میںان کی بحالی فٹنس کا عمل مزید تین ہفتے جاری رہے گا، رپورٹ کلیئر نہ ہونے پر سلیکٹرز نے ٹی ٹوئنٹی کے مجوزہ کھلاڑیوں کی فہرست سے ان کا نام خارج کردیا ہے، تین ہفتوں بعد ایک بارپھر فٹنس ٹیسٹ کی روشنی میں ٹیسٹ سیریز میں کھیلنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا، قذافی اسٹیڈیم میں بولرز کا 2 روزہ تربیتی کیمپ ختم ہونے کے بعد وقاریونس کی رپورٹ اہم ہوگی۔

ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں محمدعامر، وہاب ریاض، محمدحسنین اور عثمان شنواری کی شمولیت کا امکان روشن ہے، شاہین شاہ آفریدی کو اسکواڈ کا حصہ بنانے کا فیصلہ ہیڈکوچ وقاریونس کی رپورٹ پر ہوگا، قومی ٹی ٹوئنٹی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے آل راؤنڈرز فہیم اشرف اور عامر یامین میں مقابلہ ہے،شعیب ملک اور محمد حفیظ جیسے سینئرز کی شمولیت پر بات چیت گذشتہ روز بھی جاری رہی۔ ٹیسٹ اسکواڈ کی نومبرکے پہلے ہفتے میں روانگی کا پلان تیار کیاگیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی ٹیم کو دورئہ آسٹریلیا میں 3 ٹی ٹوئنٹی میچ 3،5 اور 8 نومبر کو کھیلنا ہیں،2ٹیسٹ کی سیریز21 نومبر سے شروع ہوگی،ٹی ٹوئنٹی ٹیم 26 اور27 اکتوبر کی درمیان شب سڈنی روانہ ہوگی۔

وزیر اعظم کا کرتار پور راہداری 9 نومبر کو کھولنے کا اعلان

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے سکھوں کے لئے کرتار پور راہداری 9 نومبر کو کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری منصوبے سے متعلق اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان میں مذہبی مقامات کے لیے سیاحت عروج پر ہے، بدھ مت کے پیروکار بھی پاکستان میں مختلف مذہبی مقامات پر آتے رہے ہیں۔ پاکستان پوری دنیا کی سکھ برادری کے لیے دروازے کھولنے جا رہا ہے، کرتارپور منصوبے کا تعمیراتی کام حتمی مراحل میں داخل ہو چکا، راہداری کو 9 نومبر کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ جس کے بعد سکھ برادری سب سے بڑے گوردوارے کی زیارت کر سکے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت اور دوسرے ملکوں سے سکھ دنیا کے سب سے بڑے گوردوارے کی یاترا کریں گے، کرتارپور سکھ برادری کے لیے سب سے بڑا مذہبی مرکز ثابت ہو گا، یہ منصوبہ مقامی معیشت کے لیے کلیدی اور ملک کے لیے زرمبادلہ کا ذریعہ ہو گا، اس سے سیاحت اور میزبانی سمیت کئی شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

انسانی حقوق کے علمبردار تنظی میں کہاں ہیں

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور بھارتی لوک سبھا کے رکن اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ اگر بھارت سرکار ’’ویر ساورکر‘‘ جیسے انتہا پسند اور جنونی شخص کو بھارت رتن ( ہندوستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ) دینے کی وکالت کر رہی ہے تو پھر گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو یہ ایوارڈ دینے سے محروم کیوں رکھا جا رہا ہے ۔ واضح رہے کہ مہاتما گاندھی کے قتل کی سازش تیار کرنے میں ویر ساورکر طویل عرصہ قید میں بھی رہا اور اکثر مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ گاندھی کے قتل کی سازش تیار کرنے میں ساورکر نے بنیادی کردار ادا کیا ۔ یوں صرف اسی ایک بات سے ;828383; اور ;667480; کی قیادت کی مسلم دشمنی پر مبنی ذہنیت کو بآسانی جانچا جا سکتا ہے ۔ دوسری جانب ہندو مہا سبھا کے سابق صدر کملیش تیواڑی کو 18 اکتوبر کو لکھنءو میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ نیشنل انوسٹی گیشن اتھارٹی اور یو پی کے ڈی جی پی ترپاٹھی نے اس واقعہ کے چند گھنٹوں کے اندر اندر اس کا الزام بھارت کے مسلمانوں پر ڈالتے ہوئے یہ گوہر افشانی کی کہ اس کے پس پردہ ال ہند بریگیڈ نامی تنظیم ہے ۔ یاد رہے کہ بھارتی میڈیا کے مطابق 2015 کے اواخر میں کملیشن تیواڑی نے رسول پاک;248; کی ذات اقدس کے حوالے سے یاوا گوئی کی تھی جس کے کچھ عرصے بعد بجنور اور میرٹھ (اتر پردیش) کے چند افراد نے کملیش تیواڑی کو قتل کرنے والے کیلئے 51 لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا تھا اور ایک جنونی حلقہ تیواڑی کے قتل کو ان افراد سے جوڑنے کی سعی کر رہا ہے ۔ حالانکہ ذمہ افراد کہہ رہے کہ تیواڑی کی ہلاکت میں درحقیقت جائیداد کی وراثت کا تنازعہ کارفرما تھا مگر آفرین ہے ان ’’بھارتی جیمز بانڈ‘‘ پر کہ ان کا کہنا ہے کہ یہ کام راشد خان نے ، جو دبئی میں مقیم ہے اپنے چند ساتھیوں کی مدد سے سرانجام دیا ہے ۔ اس سرعت کے ساتھ تو غالباً سی آئی اے بھی کسی نتیجے پر یوں نہیں پہنچتی مگر جس طرح پلوامہ واقعہ کی کڑیاں چند گھنٹوں کے اندر اندر بھارتی مسلمانوں اور کشمیریوں سے جوڑ دی گئیں ، اسی راویتی طرز پر موجودہ کاروائی بھی عمل میں لائی جا رہی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی اخبارات مسلسل پاکستان مخالف اور بھارتی مسلمانوں سے دشمنی پر مبنی پراپیگنڈہ کا ایک لا متناہی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ بھارتی اخبار بزنس سٹینڈرڈ فرماتا ہے کہ بھارت کی فروری میں بالا کوٹ میں کی جانے والی ایئر سٹرائیک کامیاب تھی جس نے خاطر خواہ نتاءج حاصل کئے ۔ ہندوستان ٹائمز کا کہنا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں 5 اگست کے بعد سے اپنی فریکونسی مسلسل پاکستان کی حدود کے اندر بھیجنے کی کوشش میں مصروف ہیں مگر تاحال اسے خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے ۔ دی ہندو نے نکتہ آفرینی کی ہے کہ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش بھی مسلسل بھارت کےخلاف مختلف نوع کی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور اس کا دائرہ کار تیزی سے پورے بھارت میں پھیلتا جا رہا اب اس قسم کے بے سر و پا الزامات اور دھمکیاں بھارتی فوج اور اس کے خفیہ اداروں کی پیشہ وارانہ اہلیت کی اصلیت ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے ۔ بھارتی مسلمانوں کے ضمن میں سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے خلاف دن بدن کوئی نہ کوئی سازش رچی جاتی ہے ۔ یہ کانگریس کے دور حکومت سے ہوتا آرہا ہے ۔ مسلمان 70 سے اپنے آپ کو کانگرس کا محتاج سمجھ کر رہے ہیں ۔ اپنی موجودگی کا ثبوت اور احساس تک نہیں دلا سکے انھیں صرف ووٹ حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔ گزشتہ ساڑھے پانچ سالوں میں مسلمانوں کو کبھی ٹرپل طلاق کے نام پر ستایا گیا ہے، کبھی پرسنل لا میں مداخلت کرنے کی کوشش کی گئی ، کبھی مسلمانوں کو غیر ملکی اور دوسرے درجہ کا شہری کہا گیا ۔ گوَ کشی کے نام پر سیکڑوں مسلم نوجوانوں کو ماب لنچنگ کا نشانہ بنایا گیا اور موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ کبھی جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کے غیر منصوبہ بند فیصلے سے بھارت کی معیشت کو کھوکھلا کردیا گیا جس کا شکار ہر شعبہ ہوا ۔ اتنی نا انصافی اور عدم برداشت کے باوجود بی جے پی نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی ۔ جس میں ای وی ایم (الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں )اور مسلم دشمنی کا خاص عمل دخل ہے ۔ ورنہ اتنے برے حالات سے گزرنے کے باوجود عوام کا ووٹ حاصل کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ دوبارہ بی جے پی کے مرکزی اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلمانوں اور اسلام کو مزید نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ طلاق ثلاثہ کا بل مسلمانوں کے پرسنل لا اور علماء اکرام سے مشورہ لیے بغیر پاس کرایا گیا ۔ اسی کے بعد مسلسل ایسے بلوں کو جلد بازی میں پاس کیا گیا جس کا نقصان آنے والے دنوں میں یقینا بھارت کو اٹھانا پڑے گا ۔ مقبوضہ کشمیر کے خصوصی درجے کو 5 اگست کے دن جبرا ختم کردیا گیا اور کشمیری رہنماؤں کو نظر بند کردیا گیا ہے ۔ آج تقریباً اڑائی ماہ ہوگئے ہیں کشمیری عوام خوف و دہشت کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔ کشمیریوں پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ۔ وہاں حالات بلکل بھی ٹھیک نہیں ہے ۔ موبائل سروس انٹرنیٹ سروس پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ مسلسل ظلم و جبر بے قصور نہتے کشمیریوں پر کیا جارہا ہے ۔ اسلحہ بردار لاکھوں کی تعداد میں فوج کو مقبوضہ کشمیر کے رہنے والوں مسلط کر دیا گیا ہے ۔ دکانیں اسکول سرکاری ادارے، پرائیویٹ سیکٹر سب پر تالے پڑے ہیں ۔ یہاں تک کہ کاروبار سب کچھ بند ہے ۔ کشمیری بیٹیوں کے پاکیزہ نفوس پر فوج کی گندی نظریں گڑھی ہوئی ہے ۔ بوڑھے والدین اپنے بچوں کے مستقبل کو لے کر فکر مند ہیں ۔ بچے اور نوجوانوں کو پیلٹ گن کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ کسی کو کوئی احساس نہیں ہورہا ہے نہ فکر لاحق ہورہی ہے کہ اتنی بڑی انسانی برادری پر جانورں کی طرح ظلم کیا جارہا ہے ۔ یہ سراسر انسانی حقوق کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے ۔ انسانی حقوق کے علمبردار تنظی میں صرف ایک بیان دے کر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ بی جے پی اقتدار کے نشے میں مست ہے ۔ ہو سکتا ہے اب بہت بھارت میں جلد یکساں سول کوڈ کے نفاذ پر کوئی بل پاس ہو جائے اور مسلمانوں کو اپنے مذہب اور اصولوں پر چلنے پر پابندی عائد کرکے یکساں سیول کوڈ پر عمل کرنے کیلے مجبور کر دیا جائے ۔ جس طرح سے طلاق ثلاثہ کی مخالفت کرتے ہوئے لاکھوں کروڑوں خواتین نے سڑکوں پر احتجاج درج کیا تھا ۔ لیکن دہلی سرکار کو اس سے زرہ برابر فرق نہیں پڑا ہے اور وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہی ۔ اسی طرح دفعہ 398 دفعہ 377 کو ختم کیا گیا ۔ حق اطلاعات ایکٹ میں ترمیمی بل کو پاس کرلیا گیا تاکہ کوئی دہلی سرکار سے سوال تک نہ کرسکے اوریو اے پی اے بل میں ترمیم کرکے اسے اور سخت بنا دیا گیا ہے جو کہ آنے والے دنوں میں مسلم اور اسلام دشمنی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا ۔

لبنان میں حکومت مخالف مظاہروں پر4 وزرا نے استعفیٰ دیدیا

بیروت: لبنان میں 3 دنوں سے جاری احتجاجی مظاہروں کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے 4 وزرا نے مستعفی اور ایک اتحادی جماعت نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بیروت اور طرابلس سمیت لبنان کی تمام ہی بڑے شہروں کی مرکزی شاہراہیں احتجاجی مظاہرین سے بھری ہوئی ہیں، یہ مظاہرین تین دن سے سڑکوں پر موجود ہیں جب کہ حکومت مخالف احتجاج نے پُرتشدد مظاہروں کی صورت اختیار کرلی ہے، توڑ پھوڑ جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپوں کے باعث سڑکیں میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہی ہیں۔

Lebnan Protest 2

حکومت مخالف مظاہروں کو عوامی حمایت ملنے کے بعد اتحادیوں کے سہارے کھڑی سعد حریری کی حکومت کمزور پڑتی جارہی ہے، حکومت کی اتحادی جماعت ’کریسچیئن پارٹی‘ نے اتحاد سے علیحدگی جب کہ ’لبنانی فورس پارٹی‘ کے 4 وزرا نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔

Lebnan Protest 3

وزیراعظم سعد حریری نے اپنے اتحادیوں کو منانے کی کوششوں کا آغاز کرتے ہوئے ایک ’ریفارم پیکیج‘ کا اعلان کیا ہے جس میں قیمتوں اور نرخوں میں کمی کا عندیہ دیا گیا ہے جو کہ مظاہرین کا درینہ مطالبہ بھی ہے تاہم مظاہرین کی جانب سے پختہ یقین دہانی اور چند فوری قدامات تک احتجاج ختم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Lebnan Protest 4

سعد حریری نے دوسری بار وزارت عظمیٰ کا قلمدان اگست 2016 میں سنبھالا تھا جب کہ اس سے قبل وہ 2009 سے 2011 تک بھی وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ سعد حریری کے والد رفیق حریری بھی دو مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوچکے ہیں۔
Lebnan Protest

صنم ماروی کا شوہر پر پڑوسن سے تعلقات کا الزام

لاہور: معروف لوک فنکارہ صنم ماروی کا ایک مرتبہ پھر اپنے سے جھگڑا ہوگیا ہے اور اب انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کے شوہر کا پڑوس میں مقیم سابق ماڈل نائرہ کے گھر آنا جانا ہے۔

گلوکارہ صنم ماروی نے لاہور میں اپنے گھر کے سامنے رہنے والی سابق ماڈل نائرہ کے گھر میں گھس کر طوفان برپا کردیا، ان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر حامد کا وہاں آنا جانا ہے، اس بات پر دونوں کے درمیان شدید جھگڑا بھی ہوا۔ نوبت پولیس تھانے تک آن پہنچتی اس سے پہلے ہی کچھ لوگوں نے دونوں کو سمجھایا اور اس حوالے سے ثبوت سامنے آنے تک انتظار کا کہا۔

صنم اور شوہر کے درمیان تعلقات کے حوالے سے شوبز حلقوں کا کہنا ہے کہ صنم ماروی اور حامد کے درمیان اختلافات اور لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں لیکن اس وقت کوک اسٹوڈیو کے نئے سیزن میں شامل گیت کی پروموشن کے لئے ایسا کیا گیا ہے، جس کا مقصد میڈیا کے ذریعے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، شوبز سے وابستہ لوگ شہرت حاصل کرنے کے لیے منفی ہتھکنڈے اپناتے رہتے ہیں۔

شوہر سے جھگڑے اور پبلسٹی اسٹنٹ کے حوالے سے صنم ماروی کا کہنا ہے کہ حامد کا سامنے والے گھر میں آنا جانا ہے اور اس بار میں چپ نہیں بیٹھوں گی، جہاں تک بات کوک اسٹوڈیو میں شامل گیت کی ہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت عزت اور شہرت دے رکھی ہے، مجھے اس طرح کے جھوٹ اور منفی ہتھکنڈوں کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔

بڑی عمر میں ورزش کرنے کے خطرناک نتائج بھی ہوسکتے ہیں، تحقیق

لندن: سائنس دانوں نے 36 ہزار عمر رسیدہ افراد کے مشاہدے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ بڑی عمر کے افراد کے خود کو فٹ رکھنے کے لیے غیر محتاط ورزش کا معمول ان کی صحت کے لیے خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

برطانوی تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والے مقالے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نوجوانی کی عمر میں ورزش کو معمول بنا لینا چاہیئے اس سے صحت مند رہا جا سکتا ہے اور لمبی عمر بھی پائی جا سکتی ہے تاہم غفلت میں گزاری جوانی کے بعد بڑی عمر میں خود پر ورزش کے بوجھ لاد لینے سے مثبت کے بجائے منفی نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ بزرگوں کو ورزش کے لیے مستند اور ماہر انسٹرکٹر یا ڈاکٹر سے مشاورت کے بعد ورزش کرنی چاہیئے۔

امریکی اور برطانوی تحقیق کاروں نے وزن میں اضافے اور عمر بڑھنے کے ساتھ موت کے تعلق کا مشاہدہ کیا اور نتائج کے طور پر وزن کم کرنے سے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں اور قبل از وقت موت کے خدشے کو بیان کیا گیا ہے جس میں سب سے زیادہ امراض قلب میں مبتلا افراد کو غیر محتاط ورزش کے باعث قبل از وقت اموات کے خطرے کا سامنا رہتا ہے۔

پروفیسر آن پین کا کہنا تھا کہ وہ افراد جو عمر بھر موٹے رہے ہوتے ہیں ایسے افراد کی قبل از وقت موت کے امکانات بھی کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں، اسی طرح 20 سال کی عمر کے بعد وزن بڑھنے اور درمیانی عمر تک یہی کیفیت رہنے سے ان افراد کی موت کے امکانات ان لوگوں کے مقابلے میں بڑھ جاتے ہیں جن کا وزن کم یا متوازن ہوتا ہے۔

پروفیسر آن پین نے مزید بتایا کہ عمر کے درمیانی حصے یا اس کے بعد غیر ارادی طور پر وزن کا کم ہونا کسی مرض کی علامت بھی ہو سکتا ہے کیوں کہ عمومی طور پر ذیابطیس یا سرطان کے باعث لوگوں کا وزن تیزی سے کم ہوتا ہے۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ ورزش کو بچپن سے ہی معمول بنایا جائے اور نوجوانی میں زیادہ اور بھرپور ورزش کی جائے تاہم ڈھلتی عمر کے ساتھ ورزش کو کم اور آسان کیا جائے۔

مجھے اختلاف، اختلاف سے نہیں بلکہ طریقہء اختلاف سے ہے

اکستان میں سیاست کے لیے ایک میرٹ تو یہ ہے کہ آپ کسی سیاستدان کی اولاد ہوں پھر چاہے کو ئی سیاسی فہم اور تدبر ہو یانہ ہواس سے کوئی فرق نہیں پڑتا دوسرا میرٹ یہ ہے بلکہ بہت اہم یہ ہے کہ آپ کے پاس اتنی دولت ضرور ہوکہ آپ یا تو گن نہ سکیں اور گن سکیں تو کئی ہفتے یا چلئے کئی دن تو لگیں ورنہ تو کوچہ ء سیاست میں قدم رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں اور اگر اتفاقاََ کوئی ’’غریب سیاستدان‘‘ کامیاب بھی ہو جائے تو یہ کامیابی بس ایک ہی نسل تک رہتی ہے بلکہ بسا اوقات ایک الیکشن یا زیادہ سے زیادہ دو تین بار کی کامیابی سے بات آگے نہیں بڑھتی ہاں اگر یہ ’’غریب سیاستدان‘‘ اپنی دولت میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو پھر اور بات ہے اور یہ اضافہ کسی نہ کسی حد تک ہو ہی جاتا ہے، جو یہ نہیں کر پاتے وہ اکثر ان کی پہلی اور آخری جیت اور سیٹ بن جاتی ہے ۔ ہماری سیاسی جماعتیں بھی اسی اُصول پر عمل پیرا ہیں اور اپنے اثاثوں میں اضافہ کرتی جاتی ہیں تاکہ ممبران کی خرید و فروخت ، ووٹ کی خرید اری،عظیم الشان جلسوں کے انعقاد اور بریانی کی تقسیم میں استعمال ہوسکے اب ان تمام کاموں میں دھرنوں کا بھی اضافہ ہو گیا ہے ۔ یہ سب کچھ اگرچہ سیاسی عمل کا حصہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایک غریب ملک کے اندر یہ سب کچھ کیسے ممکن ہو جاتا ہے ان تمام اخراجات کا بندوبست کون کرتا ہے اور کیسے کرتا ہے کیا پارٹیاں اس سوال کا جواب دے سکتی ہیں ۔ ہماری بد قسمتی یہ بھی ہے کہ ہمارے حکومتی معاملات میں تو بیرونی مداخلت ہے ہی ہماری سیاست میں بھی بہت کچھ باہر سے آتا ہے اور سیاسی جنگ کومذہبی رنگ میں بھی رنگ کر اپنے مقاصد حاصل کر لیے جاتے ہیں ۔ یہ ممالک اپنے مفادات کی خاطر پیسہ پانی کی طرح بہا دیتے ہیں اور ہماری سیاسی جماعتیں یہ کہتے نہ تھکتی ہیں نہ جھجکتی ہیں کہ انہیں چندہ ملتا ہے ۔ دو وقت کی روٹی کو ترستے ہوئے لوگ کیسے مہینوں اپنا روزگار اور نوکریاں چھوڑ کر دھرنوں میں بیٹھ جاتے ہیں آخر ان کے گھر والے کیا کھائیں گے دوادارو کا بندوبست کیسے ہوگا اور ایسے ہی بُہت سارے سوالات جواب طلب ہیں ۔ جواب طلبی تو سیاسی جماعتوں کے سارے اکاوَنٹس اور کھاتوں کی بھی ہونی چاہیے آخر ان کو چندے دینے والے کون ہیں اور کیا ان چندوں کا کوئی حساب کتاب ہے کیا کوئی یہ پوچھنے اور بتانے والا ہے کہ علامہ طاہر القادری کو کس نے کتنا چندہ کس ذریعے سے دیا ۔ کیا نیب نے کبھی ان سے حساب کتاب مانگا کیا عمران خان کے 126دن کے دھرنے پر اٹھنے والے اخراجات کا کو ئی آڈٹ ہوا کسی نے پوچھا کہ صاحب گھر کے جوان ، نوجوان جب آکر آپ کے ساتھ بیٹھے پیچھے خاندان والوں کی روزی کا بندوبست کہاں سے ہوتا رہا اور آخر آپ کے کارکن کتنا پیسہ ساتھ لے کر آئے تھے کہ سینکڑوں دن کھاتے پیتے رہے اور پکنک مناتے رہے ۔ اب ایک اور دھرنا تیار ہے اور مولانا فضل الرحمان اپنے لاوَ لشکر کے ساتھ آزادی مارچ کے لیے تیار ہیں اور پھر اسلام آباد کو مفلوج کر کے ایک غیر معینہ مدت تک کے لیے دھرنے کا پروگرام ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو یہ کسی جمہوری ملک میں عوام اور حزب اختلاف کا حق ہے کہ وہ حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کر لے اور احتجاج بھی کرے لیکن سیاسی پارٹیوں کا بطور پارٹی بھی منی ٹریل ضروری ہے انہیں ان کےپُرجوش کارکنان ضرور چندہ دیں لیکن ان چندوں کے ریکارڈ بھی ضروری ہے تاکہ عوام با خبر رہیں کہ آخر پیسہ کہاں سے آیا اور کہاں جا رہاہے ۔ اگر یہ چندہ بذریعہ بینک پارٹی اکاوَنٹس میں جمع کروائے جائیں اور یہ پارٹی اکاوَنٹ بھی دیگر تمام اکاوَنٹس کی طرح ہو جس پر وہ تمام قوانین لاگو ہوں جو کسی بھی عام شہری پر ہوتے ہیں اوریہ ضرور معلوم ہو کہ ان کے اکاوَنٹس میں پیسے کیسے جمع ہوتے ہیں تو زیادہ بہتر ہوگا ۔ چلیے مان لیا ان کے پاس عوام کے چندے جمع ہوتے ہیں لیکن پھر انہیں خرچ کیسے کیا جاتا ہے آخر ان کا کوئی حساب لیا جاتا ہے یا نہیں اور کیا یہ بات بھی یقینی ہے کہ یہ سب چندے سے ہی ہوتا ہے جبکہ بہت ساری جماعتوں کے بارے میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ وہ بیرونی امداد وصول کرتے ہیں اور پھر اس پیسے سے ملک میں فساد پھیلایا جاتا ہے اور بہت سارے منظور پشتین، گلالئی اسماعیل اور برہمداغ بگٹی بھی پیدا ہوتے ہیں خیر یہ تو ملک دشمن عناصر ہیں اس لیے انہیں دیگر سیاسی جماعتوں سے تو نہیں ملایا جا سکتا لیکن یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ پر موجود ہے کہ آخر ذراءع آمدن اور وسائل کیا ہیں ، سیا سی جماعتیں اپنی کامیابی کے لیے آخر اتنا پیسہ کہاں سے لاتی ہیں کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ انہیں پابند کیا جائے کہ انہیں بقول ان کے جتنے بھی چندے وصول ہوتے ہیں تو انہیں بینک کے ذریعے وصول کیا جائے تاکہ لینے اور دینے والے دونوں کا ریکارڈ رہے لیکن بظاہر ایسا اس لیے نہیں کیا جاتا کہ غیر مناسب ذراءع سے آنے والے پیسے کو چھپایا جا سکے بہر حال ہ میں اپنی سیاست پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے سیاست ضرور کی جائے لیکن اپنے جائز وسائل کے اندر رہ کر اور ملکی مفادات کو مدنظر رکھ کر ۔ سیاسی جماعتیں اپنا مفاد اور مقصد تو حاصل کر لیتی ہیں لیکن اس کے لیے ملکی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر بلکہ اس پر سمجھوتہ کرکے ایسا کیا جاتا ہے ۔ دھرنے، جلسے سب اپنی جگہ اور اس کو اگر جمہوری انداز میں کیا جائے تو کوئی حرج نہیں لیکن دھرنوں کی سیاست کے رواج پانے سے سیاسی اخراجات میں شدید اضافہ ہوا ہے اس اندازِ سیاست کو راءج کرنے والے پی ٹی آئی اور عمران خان کی حکومت کے خلاف ایک ایسا دھرنا تیار ہے جس کے لیے کا باقاعدہ جنگی تربیت اور ڈنڈا بردار وردی پوش فوج بھی تیا رکی گئی ہے ۔ اب گھوم پھر کر پھر وہی سوال کہ خرچ اخراجات کے لیے روپیہ پیسہ کہاں سے آیا اور مہینوں کے لیے کھانے پینے کے بندوبست کیسے کیا جائے گا ۔ مجھے اختلاف اختلاف سے نہیں میرا اختلاف طریقہء اختلاف سے ہے اور وسائل برائے اختلاف سے ہے اور میرا مطالبہ یعنی عوام پاکستان کا مطالبہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کو بھی آڈٹ کا پابند کیا جائے ان سے پوچھاجائے اور بزور قانون پوچھا جائے کہ وہ آخر کہاں سے پیسہ لا رہے ہیں اور اگر کوئی بیرونی قوتیں چاہے وہ بظاہر دوست ہوں ان پر بھی پابندی لگائی جائے انہیں روکا جائے اور اپنی ملکی سیاست میں ہر قسم کے بیرونی عناصر کو ختم کیا جائے اور ہر قسم کے ترسیل کا ریکارڈ رکھا بھی جائے اور عوام کے سامنے بھی لایا جائے کہ عوام اپنے سیاسی ہیروءں اور لیڈروں کے بارے میں کسی خوش فہمی یا غلط فہمی کا شکار نہ رہیں اور انہیں پہچان سکیں اور یہ احساس بھی کر سکیں کہ دھرناچاہے جس بھی پارٹی کا ہو ان کے یعنی عوام کے لیے نہیں اپنے آپ کو ایوانِ حکومت تک پہنچانے کا ایک ذریعہ اور بہانہ ہے اور ان راہد اریوں تک پہنچنے کے بعد کانوں سے محروم یہ لوگ عوام کے چندے، مفاد اور سہولت سب کچھ بھول کر اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔

Google Analytics Alternative