کالم

پاکستان کا ایٹمی پروگرام خطے میں امن کی علامت

وزیراعظم نواز شریف نے یوم تکبیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام خطے میں امن کی علامت ہے اور ہمارے ایٹمی طاقت بننے کی وجہ سے خطے کے چھوٹے ممالک نے سکھ کا سانس لیا اور جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن پیدا ہوا،ایٹمی دھماکوں کی طرح پاکستان اب معاشی دھماکے بھی کرے گا،پوری دنیا پاکستان کی مثبت اقتصادی پالیسیوں کی تعریف کر رہی ہے ،سی پیک سے خطے میں خوشحالی کے نئے سفر کا آغاز ہو گا، پاکستان کا معاشی استحکام بھی علاقے میں خوش حالی کا ضامن ہے، ترقی کے سفر میں جنوبی ایشیا اور خطے کے دیگرملکوں کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔28 مئی پاکستان کی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش دن ہے۔اس دن ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا دیاگیا جب پاکستان ایک ایٹمی قوت کے تعارف کے ساتھ دنیاکے نقشے پر نمودار ہوا۔یومِ تکبیر جہاں پاکستانی قوم کے بے مثال جرأت اور بہادری کی علامت ہے وہاں پاکستان کے دشمنوں اور بد خواہوں کے لیے بھی یہ پیغام ہے کہ پاکستان کے خلاف جارحیت کا مظاہرہ کرنے والوں کاانجام عبرت ناک ہوگا۔آج سے انیس سال پہلے جب مسلم لیگ کی منتخب حکومت نے یہ فیصلہ کیا تو اسے طرح طرح کے چیلنجوں کا سامنا تھا۔ایک طرف اقتصادی پابندیوں کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور دوسری طرف اس اقدام کو ناقابلِ معافی جرم کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔مسلم لیگ کی قیادت نے اللہ تعالیٰ کے بھروسے اور عوام کی تائید کے بل بو تے پر ان چیلنجوں کو قبول کیا اور پاکستان کے وقار کاعلم سر بلند رکھا۔ یومِ تکبیر اس بات کاا علان ہے کہ قومیں استقلال اور وژن کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔قوموں کی قیادت اگر غیر سنجیدہ،بصیرت سے عاری اورقومی مفاد سے بے خبر ہو تو ان کا مستقبل خدشات میں گھر جاتا ہے۔اگر قیادت جرأت مند،دور اندیش اوربہادر ہو تو اس کے نتیجے میں عوام میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اوروہ زینہ بزینہ ترقی کی منازل طے کرتی جاتی ہے۔آج اسی جذبے اور وژن کے ساتھ پاکستان کی معیشت کو بھی مضبوط اور مستحکم بنایا جا رہا ہے۔آج کے دور میں کسی قوم کا دفاع اس کے معاشی استحکام سے جدا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور پاکستان کے عوام کی تائید کے ساتھ یہ سفر بھی تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ایٹمی دھماکے کی طرح پاکستان اب معاشی دھماکہ بھی کرے گا۔ساری دنیا ان مثبت امکانات کا ذکر کررہی ہے جو ہمارے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ سی پیک میں ترقیاتی منصوبوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جس سے خوشحالی کے ایک شاندار دور کا آغاز ہوگا۔یہ بات خوش آئند ہے کہ جس طرح انیس سال پہلے قوم اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے یک سو تھی،آج اسی جذبے کے ساتھ پاکستان کو معاشی اعتبار سے ایشین ٹائیگر بنانے کے لیے بھی یکسو ہے۔پاکستان کا معاشی استحکام بھی علاقے میں خوش حالی کی علامت ہے۔ پاکستان اس ترقی کے سفر میں جنوبی ایشیاہی نہیں خطے کے دیگر ممالک کوبھی شریک کرنا چاہتا ہے تاکہ سب مل کر اس علاقے کے عوام کو خوش حال بنائیں۔انصاف اور معاشی ترقی کے یکساں مواقع ہی اس خطے میں امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔وزیراعظم نے بجا فرمایا پاکستان کا ایٹمی پروگرام خطے میں جہاں امن کی علامت ہے وہاں چھوٹے ملکوں کیلئے باعث اطمینان اور سکھ ہے۔ پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے سے جنوبی ایشیاء میں طاقت کا توازن پیدا ہوا۔ پاکستان پرامن ملک ہے اور پڑوسی ملکوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے لیکن پاکستان اپنے دفاع سے غافل بھی نہیں ہے کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے سکتا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ایٹمی طاقت بننے سے پاکستان ایک مضبوط اسلامی ملک بن کا ابھرا۔ اب کسی بھی جارح ملک کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہو پائے گی کیونکہ پاکستان اندرونی و بیرونی سازشوں سے بے نیاز نہیں ہے اور وہ ہر سازش اور جارحیت کا منہ توڑ جواب دے سکتا ہے۔
پانامہ کیس، حسین نواز سے پوچھ گچھ
وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نے نواز پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے قائم کی گئی جے آئی ٹی میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ‘ حسین نواز کے ہمراہ ان کے وکیل بھی تھے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سوال جواب کا سلسلہ پونے دو گھنٹے تک جاری رکھا۔ بیان ریکارڈ کرانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کئے بغیر روانہ ہو گئے۔ تاہم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے قبل حسین نواز کامیڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کیلئے گزشتہ روز نوٹس ملا تھا۔ اپنے وکیل کے سامنے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گا۔ وکیل کو روکا گیا تو میڈیا کو آگاہ کروں گا۔ جے آئی ٹی نے پیش ہونے کے لئے محض 24 گھنٹے کا وقت دیا۔ مجھے ابھی تک کوئی سوالنامہ نہیں دیا گیا۔ جے آئی ٹی کے سامنے اپنا موقف پیش کروں گا۔ ابھی کسی مفروضے پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نوازتقریباً پو دو گھنٹے تک پانامہ کیس کی جے آئی ٹی کے سوالوں کی جواب دیتے رہے ‘حسین نوازکو 30مئی تک متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ۔حسین نواز جے آئی ٹی کو دیے گئے بیان سے متعلقہ دستاویزات جمع کرائیں گے۔ جے آئی ٹی کے ارکان کی طرف سے حسین نواز سے نیلسن اور نیسکول کمپنیوں سے متعلق سوالات بھی کئے ۔ حسین نواز سے مے فئیر فلیٹس سے متعلق سوالات بھی کیے گئے۔حسین نواز سے ان کی کمپنیوں کی بیرون ملک سرمایہ کاری سے متعلق سوالات بھی کیے گئے۔حسین نواز کے ہمراہ ان کے وکیل سعد ہاشمی تھے اور حسین نوا زکی طرف سے دیے گئے بیانات کے نکات سعد ہاشمی نے درج کیے۔ جے آئی ٹی میں حسین نواز کا پیش ہونا خوش آئند بات ہے ، تحقیقاتی عمل جاری ہے اس پر کوئی رائے دینا مناسب نہیں۔ جے آئی ٹی اپنی مقررہ مدت میں پانامہ کیس کی تحقیقات مکمل کرنے کی پابند ہے۔
بھارتی آرمی چیف کی بڑھک
بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ پاکستان کیساتھ محدود جنگ کی توقع نہیں ہے، ہمیں مقبوضہ کشمیر میں پراکسی وار کا سامنا ہے جو ہمیشہ بری ہوتی ہے،مجھے خوشی ہوگی اگر کشمیری مظاہرین ہمیں پتھر کے بجائے گولی ماریں، فوج کا حوصلہ بلند کرنے کیلئے کشمیر ی کو جیپ کے آگے باندھنے والے آرمی افسر کو عزاز دیا۔ اگر مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مظاہرین فوج پر پتھرا کی جگہ گولیاں چلائیں گے تو مجھے خوشی ہوگی اس کے بعد میں وہ کروں گا گو میر ا دل کرے گا ۔ جب کشمیری فوج پر پتھرا اورپیٹرول بم پھینکتے ہیں تو میں اپنے فوج کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ انتظارکرو اور مرجا جبکہ فوج کا حوصلہ بلند کرنا میرا کام ہے ۔ بھارتی آرمی چیف کی طرف سے کشمیریوں کے فوج پر پتھراؤ کو پراکسی وار قرار دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ بھارتی فوج کا معاملہ چور مچائے شور اور الٹا چورکوتوال کو ڈانٹنے والا ہے۔ خود بھارتی فوج کشمیریوں پر بربریت اور سفاکی کا مظاہرہ کررہی ہے اور مگر مچھ کے آنسو بہانااس نے اپنا معمول بنالیا ہے لیکن دنیا جانتی ہے کہ بھارت کے عزائم کیا ہیں ، مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ اورافتتاح

بجلی آئی اور بجلی چلی گئی ۔پورے پاکستان میں یہ آنکھ مچولی نون لیگ حکومت میں جاری ہے۔ شہروں میں چھ چھ گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور دیہاتوں میں اس سے زیادہ کی لوڈ شیڈنگ نے پاکستان کی کثیر آبادی کو عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔انتہائی غور و غوص کے باوجود ہم کسی نکتے پر آج تک نہیں پہنچ سکے کہ نون لیگ کی عوام کو سہولیتیں پہنچانے کے بارے میں ترجیہات کیا ہیں۔ کیا پورے ملک کو ایک طرف رکھ کر صرف ملک کے چند بڑے شہروں میں ،وہ بھی چند لوگوں کو میٹرو بس اور میٹرو ٹرین سے سفر کی سہولت پہنچا کر اوراربوں روپے خرچ کرنے سے یہ بہتر نہیں تھا کہ ملک کی دھاتی اور شہری کثیرآبادی، کارخانوں،ہسپتالوں، مارکیٹوں میں بجلی فراہم کر کے نون لیگ ملک کی کثیر آبادی کے ساتھ ظلم کے بجائے انصاف کرتی۔ کیا ملک کی کثیر آبادی کو بجلی سے محروم رکھ کر وہ آنے والے انتخابات میں پھر سے کامیاب ہو سکتی ہے۔ نون لیگ حکومت سے پہلے پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ ۲۰۱۳ء کے الیکشن میں جس بات کو نون لیگ نے سب سے زیادہ اُٹھایا تھا وہ بجلی کا بہران ہی تھا۔لوگ بجلی کے ہاتھوں ہلکان ہو گئے تھے۔ نون لیگ نے پنکھے ہاتوں میں لیے پیپلز پارٹی پر تنقید کے نشتر چلائے تھے۔ لوگوں کو یقین دلایا تھا کی چھ مہینوں میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ پنجاب کے موجودہ وزیر اعلی ہے جہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر میں چھ ماہ میں بجلی کی کمی پوری نہ کر سکا تو میرا نام ہی تبدیل کر دیا جائے۔یہی بات سرگودھا کے جلسے میں نون لیگ کے سب سے زیادہ مخالف تحریک انصاف کے سربراہ نے پرانی ویڈیو چلا کر عوام کو دکھائی ہے کہ دیکھوں چھ ماہ کا وعدہ کیا تھا اور چار سال گزار دیے مگر بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہیں کر سکے۔ پیپلز پارٹی والے بھی پنکھے ہاتھوں میں لہرا کر نون لیگ پر تنقید کر رہے ہیں۔عوام کو اچھی طرح سے یاد ہے کہ اسی وعدے پر نون لیگ نے پیپلز پارٹی کو شکست دے کر مرکز، پنجاب اور بلوچستان میں حکومت بنائی تھی۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ بجلی کا ویسا ہی بحران جیسا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں تھا۔ نون لیگ آئے دن بجلی منصوبوں کا افتتاح پر افتتاح کر رہی ہے مگر عوام کو بجلی کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ عوام پہلے جیسے عذاب میں اب بھی مبتلا ہے۔ ہاں یہ سننے میں ضرور آتا ہے کہ فلاں منصوبہ اتنے میں شروع ہوا تھا اس کا خرچہ اب ڈبل ہو گیا ہے مگر منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ بجلی میں اضافہ کیا ہوا بلکہ رتی برابر کا بھی فرق نہیں پڑا۔ عوام آج بھی ویسے ہی پریشان و ہلکان ہیں جیسے پیپلز پارٹی کے دور میں تھے۔ بجلی آئی بجلی چلی گئی نون حکومت نے اس کا ادراک ہی نہیں کیا کہ اس سے عوام کتنے پریشان ہیں۔ صاحبو!بجلی گئی تو اسٹریٹ لائٹ بجھ گئیں جس سے اندھیروں کی وجہ سے ملک میں چوروں اور ڈاکوں کی چاندی ہو گئی۔ وہ آرام سے عوام کے مال لوٹ کر لے گئے۔ بجلی گئی تو گھر کے اندراندھیرا ہو گیا بچوں کی پڑھائی میں خلل پڑا جس سے بچوں میں بھی بڑوں کی طرح نون لیگ کے خلاف نفرت نے جنم لیا۔ باہر سے مین لین سے پانی کیھچنے والی موٹریں نہ چلی تو گھر کے اندر پانی کے انڈر گرونڈ ٹینک میں ذخیرہ نہ ہوا س سے تو پورے گھر کے افراد میں غصے نے جنم لیا۔اگر کسی وقت بجلی آئی تو میں لین میں پانی کی ترسیل پانی کے محکمے کے طے شدہ وقت کی وجہ سے بند ہوئی اور موٹریں چلی بھی تو پانی نہ دارد۔ اگر خوش قسمتی سے گھر کے اندر پانی کا ذخیرہ موجودہے اورکچھ افراد دفتر، کاروبار اور بچوں کو اسکول جانے کی تیاری میں نہانے کی ضرورت پڑی تو پانی کے اور ہیڈ ٹنکوں میں پانی موجود نہیں اس لیے پانی کی ٹوٹیوں میں پانی موجود نہیں۔ کیونکہ بجلی چلی گئی تو پانی کیسے اور ہیڈ پانی کے ٹینکوں میں چڑھایاجائے ۔اس سے بھی عوام کے ٹینشن میں اضافہ ہوا۔کسی طرح کرتے کراتے افراد کاروبار، نوکری اور بچے اپنے اسکولوں میں پہنچ گئے تو معلوم ہوا ،وہی جو گھر میں بجلی آئی بجلی گئی والا معاملہ ہے نہ گھر میں سکون نہ کاروبار کی جگہ میں اور نہ ہی بچوں کے اسکولوں میں۔ہسپتالوں میں ڈاکڑوں اور مریضوں کو اس سے زیادہ تکلیف برداشت کرنے پڑتی ہے۔ ہسپتالوں میں وارڈز میں داخل مریضوں کو بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بے انتہا تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہے۔ویسے بھی ہمارے ملک کی زیادہ آبادی دھاتوں میں رہتی ہے۔ وہ اپنے شدید بیمار مریضوں کو شہر کی ہسپتالوں میں آپریشن کے لیے لے کر آتے ہیں بجلی کے بند ہوجانے سے ان کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔ کسی بھی ملک کی انڈسڑی بجلی کی صحیح ترسیل کے بغیر صحیح سمت میں نہیں چل سکتی۔معلوم ہوا کہ بجلی کی کمی کی وجہ سے ہمارے ملک کی انڈسٹری بند پڑی ہے۔ ہماری در آمند اور بر آمند میں توازن قائم نہیں رہا جس سے مہنگاہی بڑھ گئی ہے۔ ملک سے باہر مال نہیں جا رہا کہ بجلی کے نہ ہونے سے کارخانوں میں مال تیار ہی نہیں ہو رہا تو باہر کیسے بھیجا جائے۔در آمندکم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ اس سے زر مبادلہ کے ذخاہر میں کمی ہوتی ہے اس سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ نون لیگ بھلے بیرون ملک اور اندرون ملک بنکوں سے قرضے لے کر زر مبادلہ کے ذخاہر میں اضافہ بتاتے رہیں یہ حقیقی اضافہ نہیں بلکہ مصنوعی اضافہ ہے۔ ملیں بند ہونے سے مزدور بے روزگار ہو تے ہیں۔ ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ بے روز گاری بڑھتی ہے۔ پورے ملک کے عوام میں افراتفری جنم لیتی ہے۔بجلی کے چلے جانے سے مارکیٹوں میں کاروبار بند ہو جاتا ہے۔پورے ملک کی مارکیٹیں متاثر ہوتیں ہیں۔ دوکاندار بجلی کے سامان کی ڈیمانسٹریشن نہیں دے سکتے جس سے ان کی فروخت بری طرح سے کم ہوجاتی ہے وہ خریداروں کو بجلی کی اشیا جس میں،ٹی وی، فریج،کمپیوٹرز وغیرہ چلا کر نہیں دیکھا سکتے۔ اس سے ملک کی معیشت کوبڑا نقصان پہنچ رہا ہے۔جس ملک میں زرعی اجناس ملک کو زر مبادلہ کما کر دے اس ملک کے ٹیوب ویلز بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وقت پر نہ چل پائیں تو ملک کو کتنا نقصان ہو رہا ہے اس کو نون لیگ کی قیادت نے نہ جانے کیوں زیر غور نہیں لایا۔ہاں ایسے ماحول میں ملک کے بڑے شہروں میں ٹینکر مافیا وجود میں آچکا ہے جو حکومتی اہلکاروں کے ساتھ مل کر عوام کو لوٹ رہا ہے۔ اپوزیشن والے نون حکومت پر ا لزام لگا رہے ہیں کہ میگا پروجیکٹس میں کک بیک محفوض طریقے سے مل جاتا ہے۔ کچھ بھی ہو عوام میں نون حکومت کے خلاف بجلی کی وجہ سے غصہ جنم لے رہا ہے جو ابھرتی ہوئی تحریک انصاف کیش کروا رہی ہے جو اس کے جلسوں میں عوام کی شرکت سے بھی ظاہر ہو رہا ہے۔ صاحبو!کیا یہ مفروضہ صحیح ہے کہ پیپلز پارٹی عوام میں شعور بلند کرنے، اسلامی متفقہ آئین دینے اور ملک میں ایٹمی پروگرام شروع کرنے کے باوجود عوام کی کو بنیادی ضرورت بجلی کی سہولت فراہم نہ کر ملک سے صفایاہو کر صرف سندھ کے دھاتی علاقوں کی پارٹی بن گئی ہے تو کیا نون لیگ پاک چین اقتصادی راہداری کے بل بوتے پر اور عوام کی بنیادی ضرورت بجلی وقت پر نہ دے کر آئندہ الیکشن میں کامیاب ہو سکتی ہے؟ یہ تو آنے والے الیکشن میں ہی پتہ چلے گا۔ اس وقت تو عوام بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے نون لیگ سے نالان ہے۔ اللہ حکمرانوں کوترجیحات صحیح سمت میں قائم کرنے کی صلاحیت عطا فرمائے اور عوام کے دکھ کم سے کم ہوں آمین۔
.

پنجہ آزمائی۔۔۔ شوق موسوی
ٹرمپ دیکھا کیئے ایک بے بسی کے ساتھ
گرفت سے اُنہیں کون اب چھڑانے آتے ہیں
سبق سکھایا فرانسیسی صدر نے اُن کو
مصافحہ نہیں پنجہ لڑانے آتے ہیں

اسحاق ڈار کی بجٹ تقریر

جس روز 26مئی 2017کو ہمارے ضرورت سے زیادہ ماہرِ معیشت اور وزیراعظم نوازشریف کے سمدھیء خاص وفاقی وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار آئندہ مالی سال 2017-2018ء کیلئے1480ارب روپے کے خسارے اور 47کھرب53ارب کا وفاقی بجٹ پیش کررہے تھے جس میں چندفیصد مُلک امیر طبقے کو خوبصورت انداز سے نوازاگیاہے یقیناًیہ بجٹ تقریرسُن کرملک کا امیرطبقہ اپنے امیر ہونے پر فخر اور غریب و مزدورطبقہ مایوسیوں کے گہرے سمند ر میں غوطہ زن ہوتا گیا الغرض یہ کہ جب میں بھی اسحاق ڈار کی بجٹ تقریر سُن رہاتھا تب مجھے بھارتی اداکارکی بھارتی فلم شدت سے یاد آرہی تھی آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اسحاق ڈار کی بجٹ تقریر سے اداکار کی فلم اور اِس کی فلم سے کیا تعلق ہے تو عرض یہ ہے کہ اکشے کی اِس فلم کو اِس موقع پر یاد آنے کا جو خاص مقصد رہاوہ یہ تھاکہ اِس فلم کے ایک سین میں اداکار اپنے ساتھی اداکار کو لوٹی گئی رقم کے بٹوارے کو کچھ اِس طرح گورکھ دھن سے تقسیم کرتا ہے کہ آخر میں ساری کی ساری رقم اُسکے ہتھے لگ جا تی ہے اور بٹوارے کے اختتام پر ساتھی کے حصے میں سوا ئے کفِ افسوس اور خالی ہاتھ و خالی جھولی کے کچھ نہیں آتا ہے، فلم کا یہ جملہ مجھے یاد ہے کہ لوٹی ہوئی رقم کے بٹوارے کے وقت اداکار اپنے مخصوص انداز سے بار بار یہی کہتا رہا کہ ’’ ایک تیرا دومیرا ‘‘اوریوں اِسی فارمولے پر دونوں کے درمیان رقم کی تقسیم ہوئی اور وہ سب کچھ بٹور کر چلتا بنا اور بیچارہ ساتھی اداکار اپنی کچھ وقتوں کی خوش فہمی کے بعد خالی ہاتھ رہا۔یکدم ایسے ہی جیسے کہ آج اسحاق ڈار نے اپنی بجٹ تقریر کے دوران بار بار قسمیں کھا کرمُلک کے98فیصد اور خطے غریب سے بھی نیچے زندگیاں گزارنے والے غریب اور تنخواہ دارطبقے کے لوگوں کوپوری قوت سے یہ یقین دلانے کی کوشش کی یہ ن لیگ (نوازحکومت) کا پانچواں قومی بجٹ ہے جو انتہا ئی محتاط و متوازن ہے جس میں ڈیلی ویجز ، مزدور اور کم آمدنی والے سرکاری و نیم سرکاری ملازمین کو ٹیکسوں کی بے شمار چھوٹ دے کر ریلیف اور مراعات کی نوازشیں کردی گئی ہیں رقم الحرف کو یہ سُن کر ایسا لگاکہ جیسے وہ دبے لفظوں میں یہ کہنا چا ہ رہے تھے کہ اِس بجٹ کو بنا تے وقت دوفیصد اپنے امیر اورمراعات یافتہ طبقے کو نظرانداز کرکے سب سے زیادہ غریب اور ملازم پیشہ طبقے کو مراعات دی گئی ہیں ایسا اِس لئے بھی خاص طور پرکیا گیاہے کہ وزیراعظم نوازشریف کی خصوصی ہدایات تھیں کہ اگلاسال الیکشن کا سال ہے ہمیں اِس بجٹ سے زیادہ سے زیادہ رقم الیکشن مہم کے لئے بھی رکھنی ہے سو بجٹ میں مُلک کے غریب اور کم آمدنی والے طبقے کو زیادہ سے زیادہ مراعا ت دینی ہے اور اِن کی زیادہ سے زیادہ ماہانہ تنخواہ ایک ہزار روپے کے اضافے کے بعد 15ہزار روپے ہر صورت کرنی ہے کیو نکہ یہ ن لیگ /نوازحکومت کا عوام سے کھلا اور سچا وعدہ ہے کہ حکومت غریبوں اور کم آمدنی اور تنخواہ دار طبقے کی پریشانیوں اور مشکلات اور دُکھ درد کا مکمل احساس رکھتی ہے اِس بِنا پر ماہا نہ تنخواہ کی مد اور اُجرت میں ایک ہزارکا اضافہ کرنا حکومت پر لازم تھا ورنہ اگلے سال2018ء کے انتخابات میں غریب عوام ن لیگ کو ووٹ نہیں دے گی،یوں حکومت نے اپنے فائدے اور آئندہ انتخابات میں غریبوں ، مزدوروں اور کم تنخواہ دار طبقے سے اپنے حق میں زیادہ سے زیادہ ووٹ لینے کے خاطر ماہانہ اُجرت کی مد میں صرف ایک ہزار روپے کا اضا فہ کرکے بہت بڑا تیرچلایا ہے کیونکہ بقول حکومت اِس اضافے سے پہلے ماہانہ چودہ ہزار روپے کمانے والے طبقے کے گھر میں خوشیاں ڈیرے ڈالے گی اور غریب راتوں رات امیر ہوکر مُلک کے امیروں کے صف میں آجا ئے گااورمُلک کے زیادہ تر غریب اور تنخواہ دار طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بہت سے رنگ برنگین اور سُہنرے باغات دکھا ئے گئے کہ غریب اور مزدور طبقہ اِس میں ہی گھوگیااِسے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ بجٹ میں اسحاق ڈار نے غریبوں کو سوا ئے حسین خواب دکھا نے کے اِن کے لئے اور کچھ نہیں کیا ہے۔تاہم بجٹ تقریر میں مسٹر اسحاق ڈار نے اپنے مخصوص لب و لہجے میں کہاکہ بجٹ ن لیگ حکومت کی مقبولیت میں اضافہ کا گراف بلند کرے گا اِس لئے کہ بجٹ میں 1001ارب روپے کے جتنے بھی پروگرام ہیں یہ مُلکی تاریخ کا ترقیاتی پروگراموں کے لحاظ سے ن لیگ کی حکومت کا بہت عظیم یعنی کہ اعظم عظیم کارنامہ ہے جبکہ مُلکی دفاعی ضروریات کے لئے920ارب روپے دل کھول کر مختص کئے گئے ہیں،بجٹ میں موبائل کالز،مرغی کھاداور پیمپرزسستے جبکہ غریبوں کی قوتِ خریدوالے کم قیمت موبائل فون مہنگے اور امیروں کیلئے زیادہ قیمت والے موبائل فونز سستے کئے گئے ہیں،سیمنٹ، سریااور دودھ مہنگا،اور تنخواہوں پنشن میں10فیصداضافہ کرکے بہت بڑاکارنامہ انجام دیاگیاہے،سگریٹ،پان چھالیہ، امیروں کی بیگمات کے میک اَپ کے سامان درآمدی،کپڑے،گھڑیوں پر ڈیوٹی میں اضافہ کے ساتھ 1480ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کرنے کی جہاں حکومت نے جسارت کی ہے تو وہیں اِس حکومت نے بڑی جرات اور بہادری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے بیٹھے بیٹھائے صدرِ مملکت ممنون حُسین کی تنخواہ میں بھی 6لاکھ روپے کا یکدم سے اضافہ کرکے خود صدرِمملکت ممنون حُسین کو بھی حیرت میں ڈال دیا یقیناًاُنہوں نے بھی ایک لمحے کو یہ ضرور سوچا ہوگاکہ اِنہوں نے اپنے صدر بننے سے لے کر آج تک کیا ہی کیاہے کہ نوازشریف کی حکومت نے موجودہ بجٹ میں اِن کی تنخواہ میں یکد م سے 6لاکھ روپے کا اضافہ کردیاگیاہے پھریہ بھی سوچ کر خود ہی خاموش ہوگئے ہوں گے کہ جب اللہ مہربان تو بندہ پہلوان…اسحا ق ڈار نے حکومتی ایما پر موجودہ بجٹ میں وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات میں یومیہ 25لاکھ جو سال کے 91 کروڑ67 لاکھ22 ہزارروپے بنتے ہیں کا اضافہ کیا ہے اور اِسی طرح ایوانِ صدر کے لئے بھی ساڑھے 12لاکھ روپے یومیہ اخراجات کی مد میں مختص کئے گئے ہیں۔جبکہ یہاں توجہ طلب امر یہ بھی ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے اِس سے قبل مالی سال 2016-2017ء کے بجٹ میں وزیراعظم ہاؤس کیلئے سالانہ 88کروڑ96لاکھ94ہزار روپے مختص کئے گئے تھے خبر ہے کہ بعد میں اخراجات میں مسلسل ہونے والے اضافے کے باعث نظرثانی شدہ 95 کروڑ 6 لاکھ 13 ہزار روپے مختص کئے گئے مگر اِس کے باوجود بھی مُلک میں غربت کے خاتمے اور توانا ئی بحرانوں کے لئے کوئی خاطر خواہ حکمتِ عملی وضع نہ ہوسکی اور قوم پھر بھی اپنے بنیادی حقوق سے یکسر محروم ہی رہی ایسا لگتا ہے آئندہ بھی قوم کے حصے میں سوا ئے پریشانیوں اور مشکلات و آزمائشوں کے کچھ نہیں آئے گا اور وزیراعظم ہاؤس اور ایوانِ صدر کے اخراجات یوں ہی دن دگنی رات چگنی رفتار سے بڑھتے رہیں گے۔تا ہم ایک افسوس نا ک امر یہ بھی ہے کہ ایک طرف موجودہ بجٹ میں مُلک کے صرف ایک وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات میں یومیہ 25لاکھ کے حساب سے سالانہ 91کروڑ67لاکھ22ہزارروپے اور ایوانِ صدر کے اخراجات کے لئے یومیہ ساڑھے 12لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں تو وہیں موجودہ اپنے نوعیت کے سب سے زیادہ انوکھے اور عجوبے بجٹ 2017-2018ء میں اِسی ن لیگ یا نواز شریف کی حکومت نے کھلم کھلا کھیلوں کے لئے بھی 2ارب روپے مختص کردیئے ہیں توکیا یہ حکومت کی کتنی بڑی غلطی اور ہٹ دھرمی نہیں ہے کہ موجودہ بجٹ میں مُلک کی107جامعات کیلئے محض 62.184بلین مختص کرکے حکومت بڑے بڑے دعوے بھی کررہی ہے کہ نواز حکومت نے تعلیم کو بین الاقوامی سطح کے معیار پر لے جا نے کا تہیہ کررکھا ہے،یہاں سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا یہ تہیہ کررکھا کہ موجودہ بجٹ میں سرکاری جامعات کے غیرترقیاتی اخراجات میں 10فیصداضافہ بھی نہیں کیاگیانہ صرف یہ بلکہ موجودہ بجٹ میں حکومت نے مُلک کی 107جامعات کیلئے جتنی حقیررقم مختص کی ہے تو جنابِ اعلیٰ ، اِس رقم سے تو اساتذہ ، اسٹاف کی نتخواہوں اور پنشنرز کی ماہانہ ادائیگیوں کی رقم کے قال پڑ جا ئے گااور بہت سے دیگر مسائل پیدا ہو جا ئیں گے۔ جبکہ ہونا تو یہ چا ہئے تھاکہ حکومت نے موجودہ بجٹ میں وزیراعظم ہاؤس ، ایوان صدر کے اللے تللے اورکھیلوں کیلئے جتنی رقوم مختص کی ہیں یہ ساری رقوم مُلک میں صحت و تعلیم کیلئے مختص کردی جا تیں تو آئندہ سال صحت و تعلیم کا معیار سالِ گزشتہ سے پیوستہ کچھ تو بہتر ہوجاتا، مگر حکومت کو اِس سے کوئی غرض اور مطلب نہیں کہ قوموں کی ترقی اور خوشحالی کی راہیں تعلیم اور صحت مند معاشرے سے کھولتی ہیں اور آج بھی دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ دنیامیں جن اقوام میں تعلیم اور صحت کے بہتر مواقع میسر آئے اور حکمرانوں اور حکومتوں نے تعلیم اور صحت کے میدان میں خصوصی توجہ دی وہی اقوام ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کرتے ہوئے آگے بڑھیں جب کہ اِس کے برعکس جن اقوام میں تعلیم اور صحت کا فقدان رہا اور اُن اقوام کے حکمران اور حکومتیں ہماری موجودہ حکومت اور ہمارے حال کے عیاش پسند حکمرانوں کی طرح قومی خزا نے سے اللے تللے کرتے رہے ہماری طرح دنیا کی وہ قومیں بھی ہمیشہ پستی اور گمنامی میں رہیں آج ن لیگ یا نواز شریف کی موجودہ حکومت جو لہک لہک کر یہ دعوے کرتے نہیں تھک رہی ہے کہ اِس نے مُلکی تاریخ کا عظیم تر بجٹ پیش کیاہے تو درحقیقت ایسا ہے کہ اِس بجٹ میں مُلک کے 98فیصد غریب اور تنخواہ دار طبقے کومہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبانے کا سامان کرکے موجودہ بجٹ میں اِس طبقے کو اِس کے بنیادی حقوق سے محروم رکھاگیاہے۔

قوم کو مایوس نہ کریں

پاکستان کے موجودہ اور کئی بار کے حکمرانوں نے پانامہ میں آف شور کمپنیاں بنائیں ملکی پیسہ اور دولت ملک سے برآمد کی گئی اور وہ ملک جو غریب ممالک کی فہرست میں شامل ہے اور وہاں کے عوام کی ایک بڑی تعداد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اگر اس ملک کے اثاثہ جات بھی دوسرے ملکوں میں منتقل ہو جائیں تو سو چئے پھر کیا ہو خیر اس ملک میں رہ کر بھی وہ دولت انہی خاندانوں کے ہاتھ میں محصور ہے ۔جودولت ملک کی ترقی کے لیے استعمال ہونی چاہیے وہ سیاسی خانوادوں کی سیاسی اور معاشی ترقی کے لیے استعمال ہو رہی ہے چلیے ملک میں اُنہی کے کارخانے لگیں تو بھی اُس میں کام کرکے کمانے والے تو کم از کم پاکستانی ہونگے کچھ تو بھلا ہوگا پاکستانیوں کا مگر یہاں تو عالم یہ ہے کہ یہ ’’غریب کار خانے دار‘‘ کاغذی کمپنیاں بھی ٹیکس فری ملکوں میں بنا کر یہاں کی کمائی ہوئی دولت منتقل کر دیتے ہیں۔ ٹیکس دیتے وقت تو ویسے بھی یہ اپنے اثاثوں کا ہزارواں حصہ دکھاتے ہیں لیکن حیرت ہے کہ محلات میں رہنے والے اپنے باپ دادوں کو نواب ابن نواب ظاہر کرنے والے چند لاکھ روپے ٹیکس دے کر اپنا نام ٹیکس ادا کرنے والوں کی فہرست میں شامل کر دیتے ہیں اور حیرت انگیز طور پر وہ’’ ایماندار ٹیکس افسر‘‘ جو عام آدمی کی کھال اُتارتا ہے اُدھر خاموشی سے فرائض منصبی انتہائی ایمانداری کے ساتھ انجام دے دیتا ہے اور بڑے بڑے فیکٹری مالکان، حکمرانوں اور سرمایہ داریوں سے چند لاکھ روپے لے کرقومی خزانے پر احسان کر دیتا ہے ’’اللہ کی پناہ‘‘ ۔اللہ تعالیٰ اس قوم پر رحم کرے جس کے حکمرانوں اور سرمایہ داروں کو اپنے قارونی خزانوں کے بعد بھی غربت کا خوف رہتا ہے کہ ٹیکس دینے سے دولت میں کمی نہ آجائے۔ اللہ تعالیٰ تجھ سے رحم کی دعا اور درخواست ہے اس قوم کی غریبی پر رحم فرما کہ یہ لوگ پانامہ کی ٹیکس فری جنت سے زیادہ اس ملک کو سنواریں جسے یہ لوگ اپنی سیاسی تقریروں میں جنت سے کہیں بڑھ کے حسیں اور جنت نظیر کہتے ہیں۔ قوم سال بھر سے اس قدر پانامہ پانامہ سن ر ہی ہے کہ اتنا ذکر تو پاکستان کا اس عرصے میں نہ ہوا ہو، ٹی وی پروگرام، مخالفین کے سیاسی جلسے، عدالتیں سب اسی نام سے گونجتی رہی ججز کی زبانی تاریخی فیصلوں کی نوید بھی سنائی گئی اور جب فیصلہ آیا تو ’’ایک اور‘‘ جے آئی ٹی بنانے کا اعلان ہوا دونوں طرف سے فریقین نے مٹھائیاں بانٹی اور قوم مزید کنفیوز ہوگئی وہ جن کے کان یہ نام سن سن کر پک چکے تھے اور فیصلے کے ذریعے نجات چاہتے تھے اور دیگر قومی امور پر حاکمان وقت اور سیاستدانان عصر کی توجہ مبذول ہونے کے متمنی تھے ایک اور خفیہ فیصلے کی توقع کر کے خاموش ہونے لگے امید اور امید کا دامن اس قوم کے ہاتھ سے ہر بار کھینچ دیا جاتا ہے۔ محسوس تو اس بار بھی ایسا ہی ہوا ایک فیصلہ کن فیصلہ سامنے نہیں آیا اور قوم پھر گوں مگوں کی کیفیت میں چلی گئی لیکن اس بار اس جے آئی ٹی کو جس طرح بنایا گیا ہے اور اختیارات تفویض کیے گئے ہیں اور سپریم کورٹ کی طرف سے اسے جو تعاون حاصل ہے اس میں یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ فیصلہ مبنی برانصاف ہوگا اور قومی مفاد کے مطابق ہوگا ۔جے آئی ٹی میں شامل اراکین کے بارے میں تو یہی کہا جا رہا ہے کہ اُنہوں نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور پوری ایمانداری سے اپنے فرائض منصبی سرانجام دیے مزید برآں تحقیقات میں وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں ۔ اس ٹیم کو ضابطہ فوجداری 1898 ،ایف آئی اے ایکٹ 1975 اورنیب آرڈیننس 1999 کے تحت مکمل اختیارات دیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ٹیم کے اراکین کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں جس سے توقع کی جاتی ہے کہ یہ لوگ بلا خوف و خطر اپنے فرائض سرانجام دے سکیں گے۔ اراکین کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ہی اداروں سے یا دوسرے اداروں سے اپنی مرضی کا ایماندار سٹاف لے سکیں گے اور اگر ضرورت پڑے تو غیر ملکی ماہرین سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے فیڈرل جو ڈیشل اکیڈمی میں ایک سیکریٹریٹ بنایا گیا ہے اور ٹیم کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے ساٹھ دن یعنی دوماہ کا عرصہ دیا گیا ہے اِن تمام اقدامات و انتطامات کے بعد یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ قوم کو ایک واضح فیصلہ مل جائے گا اور اگر یہ تاریخ بنانے کی کوشش کی گئی کہ قوم کو حقائق مِن و عن بتا دیے جائیں تو اسے بھی احساس ہوگا کہ اس کی بھی کوئی اہمیت ہے اور حکمران بھی مستقبل میں شاید احتیاط سے کام لیں اور قومی دولت کو یوں مال مفت نہ سمجھیں اور نہ ہی اسے یوں لٹاتے پھریں،حقیقی احتساب کا خوف ان کے دلوں میں بھی پیدا ہو اور اگر اُن کی بے گنا ہی ثابت ہو تو مخالفین بھی قوم کا وقت اسطرح کے معاملات میں الجھا کر ضائع نہ کریں۔ جے آئی ٹی سے دست بستہ عرض ہے قوم کو مایوس نہ کریں یہ قوم آپ کی ممنون ہوگی ۔

’’یومِ تکبیر‘‘۔ آزادیِ کشمیر کیلئے موجبِ اُ میّد

بھارتی زیر انتظام کشمیرمیں ابھی اصل فتح وشکست کا فیصلہ نہیں ہوا ہے’ہم بھی دیکھ رہے ہیں، دنیا کی نگاہیں بھی اِسی پرمرکوز ہیں کہ بھارتی غاصب سیکورٹی فورسنزسے نبردآزما آزادیِ ِ کشمیر کی اُبھرتی مزاحمتی قوتیں وقت کے ساتھ ساتھ اپنے میں پیدا ہونے والی آزادی کی بید ار ہوتی روحوں کی پرورشِ لوح وقلم کے مراحل میں ایک متفقہ عمل پر باہم یکسو ہوتی جارہی ہیں، دوروز پیشتر پاکستانی قوم 28 مئی کو جب اپنی قومی آزادی کے تحفظ اوردفاع کا تاریخی دن ‘یومِ تکبیر’منانے کی تیاریوں میں تھی ‘عین اْن لمحات میں 27 اور28 مئی کی شب بھارتی سیکیورٹی فورسنز نے ماضی کی اپنی حسد اورمتکبرانہ جھنجھلاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے جنوبی قصبے ترال میں بے رحمانہ طویل محاصرے سے اُکتا کر نئی دہلی کی ایماء پر تحریکِ آزادیِ کشمیر کے ایک اور عوامی مقبولیت کی حامل‘ نئی مزاحمتی لہر کے اُبھرتے روحِ رواں سبزار بھٹ سمیت 12 حریّت پسندوں کوموقع پر بڑی بیدردی سے شہید کرکے اِس تحریک میں ایک بار پھر تازہ اور نئی روح پیدا کردی’یومِ تکبیر’پاکستانیوں کا ہی تحفظ اور دفاع کا قومی دن نہیں بلکہ ‘یومِ تکبیر’ جنوبی ایشیا ئی عوام کے لئے امن وسلامتی کی نوید کا دن ہے‘ یہ تاریخی دن اہلِ کشمیر کے لئے بھی اْتنا ہی اہمیت وافادیت کا دن ہے جتنا کسی بھی پاکستانی کے لئے لائق صد افتخار ہے ،یقیناًمقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جنگ کشمیر کے محکوم و مقہور عوام اور نئی دہلی کی غاصب فو ج کے مابین آمنے سامنے لڑتے لڑتے اب اْس مقام پر آپہنچی ہے جس کے نتائج دیکھ کر ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ بھارت چاہے دنیا کی کوئی قوت کشمیری جراّت پسند دلیروں کے مقابل لا کھڑی کرئے وہ اہلِ کشمیر کے بپھرتے ہوئے جوانوں کے جذبوں کو شکست نہیں دے سکتی’بھارت کی باطل پرست غیرمرئی طاقتیں بھی اگرآسمان کی بجلیاں بن جائیں ‘ہمالیہ کی چٹانیں اْن کے عزائم کے مابین حائل ہوجائیں تو بھی کشمیر کے اِن نڈر’بے خوف اورہمہ وقت جن کے سروں پر مو ت کے خطرات کے سائے منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں موت کے یہ بھارتی اندھیرے اْن کشمیریوں کو ایک قدم بھی پیچھے ہٹانے میں اب کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے’اہلِ کشمیر کے دلوں میں آزادی کی شمعیں روزبروز روشن سے روشن تر ہوتی جارہی ہیں، 8 جولائی 2016 کو جب بھارتی سیکورٹی فورسنز نے ‘مظفراحمد وانی’ کو دھوکہ دہی سے گھیر کر شہید کیا تو یہی وہ تاریخ ساز لمحہ تھا جب کشمیری مسلمان نوجوانوں نے اپنی متفقہ آواز میں پہلی بار اپنی پہلی ‘فتح مندی’ کا معرکتہ الاآرا اعلان کیا ،وہ دن ہے اور آج کے یہ فیصلہ کن کٹھن لمحات‘ جوکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں رونما ہونے والی خونریز چھڑپوں کے پے درپے واقعات کا تسلسل کشمیر کی تحریکِ آزادی کا جزولاینفک بنتے جارہے ہیں ، تازہ ترین واقعہ جو27 اور28 مئی کی شب ترال قصبے کی سرزمین پر شہید سبزار بھٹ اور اْن کے دلیر’نڈر اور شہادت کے آرزومندوں نے اپنے لہو سے رقم کیا اِس قابل صد افتخار واقعہ سے کشمیر کی جاری آزادی کی جدوجہد کو اب اور تیز تر جلا ملنے کے سبب کشمیری نوجوانوں میں آتشیں جذبے بھڑکنے لگے ہیں، اہلِ پاکستان اپنے قیام سے آج تک بلا کسی تردد اور فکر ی و نظری شک وشبہ کے کھلے دوٹوک انداز میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہیں، آج سے 19 برس قبل 28 مئی 1998 کو پاکستان نے بھارتی تکبر وغرور کے بتوں کو ہمیشہ کے لئے پاش پاش کرنے کے لئے اپنا حتمی فیصلہ کیا اور5 کامیاب ایٹمی دھماکے کیئے تھے اْس وقت بھارت نوازمغربی ممالک نے امریکا کی سرپرستی میں پاکستان پر بڑا سخت عالمی دباؤ ڈلوایا تاکہ پاکستان بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا کوئی جواب نہ دے، مگر قوم ذہنی اور فکری طور پر بھارت کو ‘کرارا’ جواب دینے کے لئے ناامیدی ہر قسم کے لالچ کو ٹھکرا کر اور خوف کے ہر ممکنہ اندیشے کو بالائے طاق رکھ کر یک زبان ہوچکی تھی کہ پاکستان کو بھی اب اپنے اْس ایٹمی ڈیٹرنس کی طاقت دنیا کو دکھا دینی چاہیئے پاکستانی قوم نے جس ایٹمی طاقت کو عملی شکل دینے کیلئے کئی دہائیوں سے بڑی سخت مالی قربانیاں خود برداشت کی ہیں یہاں قوم آج نئی نسل کو یہ باور کرانا بھی ضروری سمجھتی ہے پاکستانی ایٹمی پروگرام کے تصور کے اصل بانی کون تھے؟ آج کی پاکستانی نئی نسل کو علم ہونا چاہیئے کہ شہید ذوالفقارعلی بھٹو وہ قائد تھے جن کی قائدانہ صلاحیت وبصیرت کو سلامِ عقیدت پیش کرنے کا یہی موقع ہے، جنہوں نے سقوطِ مشرقی پاکستان کے عظیم سانحہ کے موقع پر تاریخ ساز جملہ کہا تھا کہ’ پاکستان ہزارسال تک اپنے ازلی دشمنوں سے جنگ کرنے کے لئے اب اگلی منزلوں میں اپنی تیاریا ں خود کریگا’ اْنہوں نے بحیثیتِ پاکستانی قائد محسنِ پاکستان ڈاکٹرعبدالقدیرخان اور اْن کے عظیم اور قابلِ اعتماد سائنس دان ساتھیوں سے ‘تحفظِ پاکستان’ کا وہ تاریخ ساز کام لینے کا بیڑا اُٹھایا جو70 کی دہائیوں سے قبل کسی ایک بھی پاکستانی کے ذہن میں نہیں تھا، ڈاکٹر اے کیو خان اور اْن کے رفقاء سائنسدان پاکستانی قوم کیلئے اب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے لائقِ احترام رہیں گے 28 مئی 1998 کی سہہ پہر کو جب بلوچستان کے علاقہ چاغی کے پہاڑوں کے دامن میں پاکستانیوں کے دلی آرزؤں اور خواہشات نے اپنی ایٹمی دھماکہ خیز گونجدار دھاڑوں سے دنیا کے دلوں کو دہلا ہی دیا تو پھر بھارت سمیت دنیا نے تسلیم کرلیا اب پاکستان دنیا کے کسی ملک کے لئے ترنوالہ نہیں رہا اور نہ ہی بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر پر تادیر اپنا غیر اخلاقی اور غیر سفارتی قبضہ جمائے رکھ سکتا ہے، اب جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن ایک پلڑے میں سما چکا ہے کاش! دنیا کی عالمی طاقتوں کی سمجھ میں یہ نکتہ سماسکے پاکستان کے ایٹمی ہتھیارپاکستان کی دفاعی قوت کے مظاہرہی نہیں ‘ خطہ میں بڑھتے ہوئے بھارتی بالادستی کے مذموم عزائم کی راہ میں یقینی رکاوٹ ضرورسمجھے جائیں اِس لکھے کو دنیا نوشتہِ دیوار سمجھے‘ جو یہ نہیں سمجھتے کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان ہی واحد مسلمانوں کا مرکزہے ،فی الحقیقت دنیا کے ہرایک صاحب الرائے کو اپنی چشمِ بصیرت کی عمیق بصائرسے یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اگر کوئی ‘احمق’ پاکستان کومغربی’امریکی یا بھارتی عزائم کی راہ کا کوئی’روڑا’ سمجھ کراْڑانے میں کامیاب ہوجائے گا؟ وہ نادان غلطی پر ہے اور یہ اتنی آسان اور سادہ بات نہیں ہے ، اگر کسی نے ‘پاکستانی بارود کے پہاڑوں کے فلیتے’کو ماچس کی تیلی دکھانے کی کوئی ذرا سی جسارت بھی کی تو پھر جنوبی ایشیا کا امن ہی نہیں ‘بلکہ ایشیا سمیت پوری دنیا کا امن تہہ وبالا ہوسکتا ہے ‘احمقوں کی بڑ’ اب گزرے زمانوں کی بات جانیئے ،بھارت کے ساتھ جڑے پاکستان کے سبھی حل طلب سنگین مسائل بشمول اوّلین مسئلہِ کشمیر‘ بھارتی تکبر اور غرور سے حل ہونے سے تو رہابھارت کو مہذب اقوام کی پیروی کرنی ہوگی پُرامن پڑوسی ملکوں کا پُرامن طریقہ اپنا نا ہی پڑے گا اب تو خود کشمیر کے علاوہ بھارت کے اندر سے بھی ایسی آوازیں اُٹھنا شروع ہوچکیں جن سے وقتی طور پر بھارت جتنا بھی بھاگنا چاہے بھاگ لے بالاآخر تھک ہار کر اُسے خطہ میں امن کی راہ آنا ہی پڑے گا، پاکستان کے ایٹمی اثاثے اہلِ کشمیر کے ایٹمی اثاثے ہیں، کل بھی پاکستان کشمیریوں کی آواز دنیا کے ہرفورم پر اُٹھاتا رہا آج بھی پاکستان کشمیریوں کی توانا آواز ہے ائے اہلِ کشمیر اب نہ رکو! بلکہ اپنے قدم آگے بڑھاتے رہو کشمیر کی آزادی کی منزل اب زیادہ دور نہیں ہے ۔

پاکستان مخالف پروپیگنڈے

امریکی میڈیا میں پھر سے پاکستان مخالف پروپیگنڈا مہم شروع ہو گئی اب بھارتی میڈیا بھی پاکستان کے خلاف بولنا شروع ہو گیا۔ امریکی جریدے نے دعویٰ کیا کہ القاعدہ کا موجودہ سربراہ ایمن اظواہری پاکستان کے شہر کراچی میں موجود ہو سکتا ہے۔ امریکا میں پاکستانی سفارتخانے کے ترجمان عابد سعید نے اس بے بنیاد پروپیگنڈے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی میڈیا کا ایک حصہ جان بوجھ کر پاکستان مخالف بے بنیاد خبریں پھیلاتا ہے۔ القاعدہ اور دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی افواج کارروائیوں کیں جس کی دنیا بھر میں مثال نہیں ملتی۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق آفیسر بروس رائیڈل نے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایس آئی نے ایمن الظواہری کو کراچی میں چھپا رکھا ہے۔ افغانستان سے القاعدہ کے خاتمے کے بعد آئی ایس آئی القاعدہ کے رہنماء ایمن الظواہری کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سابق آفیسر کا مزید کہنا ہے کہ جب امریکی افواج نے افغانستان سے القاعدہ کا صفایا کیا تو آئی ایس آئی ایمن الظواہری کو پاکستان لے گئی ہے اور اسے ممکنہ طور پر کراچی میں چھپا رکھا ہے جبکہ اس کی لوکیشن کے حوالے سے ہمارے پاس ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ ایبٹ آباد میں اسامہ کو ہلاک کئے جانے والی جگہ سے ایمن الظواہری کے متعلق بہت سارے شواہد ملے ہیں۔2 مئی 2011ء کو شہر کراچی امریکی فوجیوں کیلئے اسامہ بن لادن کو پکڑنے اور کمانڈو آپریشن کرنے کیلئے بہت مشکل مقام ہو سکتا تھا کیونکہ اس شہر میں پولیس کی بھاری نفری موجود ہوتی ہے جہاں پاکستان کے بحری اور ہوائی اڈے بھی موجود ہیں جہاں فورسز فوری طور پر امریکی فوجیوں کی راہ میں حائل ہو سکتی تھیں۔سی آئی اے اس لئے بھی پاکستان پر الزام عائد کر رہی ہے کہ گزشتہ دنوں کراچی میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے القاعدہ کے انتہائی مطلوب دہشت گرد عبدالرحمان سندھی کو گرفتار کرلیا۔ ملزم کا القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتا ہے۔ سندھی مقتول امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل میں بھی مبینہ طور پر ملوث ہے۔ ملزم عبدالرحمان سندھی کا نام مطلوب افراد کی فہرست میں 2001ء میں اس وقت شامل کیا گیا جب امریکی صحافی ڈینیل پرل کو کراچی میں اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ سندھی اور سعود میمن پر شبہ ہے کہ انہوں نے اغوا کیلئے دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کی تھی۔ امریکی اہلکار سعود میمن کو جنوبی افریقہ سے گرفتار کرکے گوانتانامو بے منتقل کیا گیا ، جہاں سے رہائی کے بعد 2005 میں اس کا انتقال ہوگیا تھا جبکہ عبدالرحمان سندھی نہ تو امریکی اور نہ ہی پاکستانی اداروں کے ہاتھ آیا۔ عبدالرحمان سندھی کو گرفتاری کے فوری بعد حساس اداروں کے حوالے کردیا گیا جو اس سے مزید ساتھیوں اور مستقبل کے اہداف کے حوالے سے تفتیش کررہے ہیں۔مصری نژاد جنگجو رہنما اور اسامہ بن لادن کے جانشین ایمن الظواہری نے شام میں اپنے پیروکاروں اور تمام جنگجوؤں سے کہا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور طویل عرصے کے جہاد کے لیے تیار ہوجائیں۔حال ہی میں القاعدہ نے ان کا ایک آڈیو (صوتی) پیغام جاری کیا ہے۔اس میں انھوں نے جنگجوؤں سے کہا ہے کہ وہ پْرعزم رہیں اور گوریلا جنگ کے حربوں کو تبدیل کریں۔ ایک’’ بین الاقوامی شیطانی اتحاد‘‘ شام میں کبھی اسلام کی حکمرانی کو تسلیم نہیں کرے گا۔ یہ جنگ صرف شامی قوم پرستوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ تمام مسلم قوم کی ایک مہم ہے جو اسلامی حکمرانی قائم کرنا چاہتی ہے‘‘۔ پاکستان نے القاعدہ کے کئی اہم رہنما گرفتار کیے۔ ابھی بھی ڈو مور کا راگ الاپا جا رہا ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت ملکی دفاع کے حوالے سے الرٹ ہیں۔ پاکستان کے دفاع پر کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔ ایبٹ آباد جیسا واقعہ دہرایا گیا تو نتائج تباہ کن ہوں گے۔ ایبٹ آباد آپریشن یکطرفہ تھا، پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ آپریشن کے دوران ہمارے ریڈار جام کر دیئے گئے تھے۔پاک فوج اور اداروں کو آپریشن کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔اگرامریکہ یا کسی اور ملک نے پاکستان میں ایبٹ آباد آپریشن کی طرز پر یکطرفہ کارروائی کا خیال بھی کیا تو یہ ایک بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ امریکہ نے ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی بارے کوئی قابل اعتماد معلومات فراہم نہیں کیں۔اگر امریکی حکومت کا کوئی شخص کوئٹہ یا کراچی شوریٰ بارے کچھ جانتا ہے تووہ معلومات کاتبادلہ کرے ۔ آئی ایس آئی نہایت پیشہ ور انٹیلی جنس ایجنسی ہے اس کیخلاف الزامات بے بنیاد ہیںیہ صرف یہودی لابی کا پروپیگنڈہ ہے۔
****

بجٹ اور عوامی توقعات

آئندہ مالی سال2017-18ء کا47کھرب53ارب روپے حجم پرمشتمل 1480ارب روپے خسار ے کاوفاقی بجٹ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔جس کے تحت ایڈہاک الانس کو ضم کرکے سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں10 فیصداضافے،محنت کش کی کم سے کم اجرت ایک ہزارروپے اضافے کے ساتھ 14ہزار سے بڑھا کر 15ہزار روپے کرنے ،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی کامیابیوں کا اعتراف،چھوٹے کسانوں کو کم شرح سو د پر قرضوں کی فراہمی، امونیا کھاد کی قیمت میں کمی کا اعلان، جبکہ بجٹ کے تحت لگائے گئے نئے ٹیکس اور ڈیوٹیوں میں اضافے کے نتیجے میں سیمنٹ ،سریا، در آمدی کپڑے، سگریٹ، پان، چھالیہ، چاکلیٹ، کاسمیٹکس، الیکٹرانکس مہنگی ہوگئیں۔ چھوٹی گاڑیاں، سمارٹ موبائل فون، فون کال، مرغی، شترمرغ ، ٹیکسٹائل، زرعی مشینری ، بے بی ڈائپرز، ہائبریڈکا ر، لبریکٹینگ آئل او ر ٹیوب ویل کے لئے بجلی سستی ہوگئی،85ہزارروپے سے زائد ماہانہ تنخواہ لینے والوں کو ایڈوانس ٹیکس دیناہوگا،1تا5گریڈ کے سرکاری ملازمین ہاس رینٹ الانس کٹوتی سے مستثنیٰ ہونگے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک منتخب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ مسلسل پانچواں بجٹ پیش کر رہے ہیں۔ یہ چیز مضبوط جمہوریت کی عکاسی کرتی ہیں جس پر پوری قوم فخر کر سکتی ہے۔ آج پاکستان تیز تر ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اس سال جی ڈی پی میں اضافہ کی شرح 5.3 فیصد ہے جو کہ پچھلے سال میں ترقی کی بلند ترین شرح ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر مناسب سطح پر ہیں جو کہ چار ماہ کی برآمدات کے لئے کافی ہیں۔ گزشتہ 4 سال کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 81 فیصد اضافہ ہوا ہے جو اوسطاً20 فیصد اضافہ ہے۔ 2013 سے اب تک پرائیویٹ سیکٹر کو قرضے کی فراہمی میں پانچ گنا سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ تقریبا 4.2 بہتر ہو گا۔ اس سال مشینری کی درامد میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ گیس کی فراہمی بہتر ہوئی ہے اور صنعت کیلئے لوڈ شیڈنگ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے جبکہ تجارتی اور گھریلو صارفین کیلئے لوڈ شیڈنگ میں واضح کمی ہوئی ہے۔ اس سال جی ڈی پی میں اضافے کی شرح 5.28 فیصد رہی جو کہ پچھلے دس برسوں کی بلند ترین شرح ہے۔ رواں سال عالمی معیشت میں 3.5 فیصد کی شرح سے اضافہ کی توقع ہے۔ پاکستان کی معاشی کارکردگی دنیاکے اکثر ممالک کی کارکردگی سے بہتر رہی ہے۔ معاشی ترقی کی بلند ترین شرح کے سبب پاکستان میں ہر لحاظ سے بہتری آئی ہے۔ پہلی دفعہ پاکستان کی معیشت کا حجم 300 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ ا ہمارا زرعی شعبہ اب بہتری کی راہ پر گامزن ہے ۔ حالیہ سال اس کی کارکردگی متاثر کن رہی ہے۔ تمام بڑی فصلوں بشمول گندم کپاس گنا اور مکئی کی پیداوار میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ انڈسٹریل سیکٹر میں 5.02 فی صد اضافہ ہوا ہے اور کاروبار میں روزگار کے نئے مواقع میسر آ رہے ہیں۔ سروسز سیکٹر میں 5.98 فیصد ترقی ہوئی ہے جس میں ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن بنکنگ اور ہاسنگ وغیرہ کے شعبہ جات شامل ہیں۔ پچھلے چار سالوں میں فی کس آمدن 1.334 ڈالر سے بڑھ کر 1.629 ڈالر ہوئی ہے یعنی 22 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سال ٹیکس کا ٹارگٹ 3.521 ارب روپے ہے۔مالی سال 2017-18 میں مختلف مالیت کے دیگر رجسٹرڈ بانڈ بھی متعارف کرائے جائیں گے۔ میں اب اس سلسلے میں اگلے سال کے چند اہم اہداف کا ذکر کروں گا۔ جی ڈی پی کی شرح میں 6 فیصد اضافہ انوسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی ریشو 17 فیصد 1.001 ارب روپے کے وفاقی ترقیاتی اخرجات 6 فیصد سے کم افراط زر بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.1 فیصد اوری دگر شامل ہیں۔ حکومت 300 یونٹ ماہانہ بجلی استعمال کرنے والے کم آمدن صارفین کے بجلی کے بلوں کی ادائیگی سبسڈی کی صورت میں جاری رکھے گی۔ بلوچستان کے کسانوں کے لئے زرعی ٹیوب ویلوں کے بجلی کے استعمال پر وفاقی حکومت سبسڈی جاری رکھے گی۔ جبکہ پورے ملک میں زرعی ٹیوب ویل کے لئے 5.35 روپے فی یونٹ آف پیک ریٹ آئندہ مالی سال میں بھی جاری رہے گا اس کا مقصد آئندہ کیلئے مالی سال کے بجٹ میں 118ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ شمسی توانائی سے چلنے والے آف گرڈنظام متعارف کروائے گی۔ اس اقدام میں بلوچستان پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ 2017سے زرعی ترقیاتی بنک اور نیشنل بنک آف پاکستان نئی سکیم کے تحت 12.5 ایکر اراضی رکھنے والے کسانوں کو 9.9 فیصد سالانہ کی کم شرح پر زرعی قرضے دیئے جائیں گے۔ سکیم کی دیگر خصوصیات کچھ یوں ہیں۔ 50 ہزار روپے فی کسان تک قرضہ فراہم کیاجائے گا۔ 20 لاکھ قرضے زرعی ترقیاتی بنک اور نیشنل بنک اور دیگر بنک مہیاکریں گے۔ کسانوں کی سہولت کیلئے سال 2017-18 میں قرضوں کا حجم پچھلے سال کے 700 ارب روپے سے بڑھا کر 1.001 ارب روپے کر دیا گیا ہے جوکہ قرضوں کے حجم میں 43 فیصد اضافہ ہے۔ ڈی اے پی پر دی جانے والی سبسڈی کی فراہمی میں آسانی کی خاطر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ڈی اے پی فکس سیلز ٹیکس لاگو کیاجائے گا جس کے نتیجے میں جی ایس ٹی 400 روپے سے کم ہو کر 100 روپے فی بوری کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2017-18میں ٹیکس میں کمی اور سبسڈی کے ذریعے یوریاکی زیادہ سے زیادہ فی بوری قیمت 1400 روپے پر برقرا ر رکھی جائے گی۔ہاؤسنگ کے شعبے کے لئے ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے اور ہر سال گھر بنانے کیلئے 10 لاکھ روپے تک کے قرضے دئیے جائیں گے اور اس کیلئے 6 ارب روپے مختص کر دئیے گئے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حو الے سے بھی کئی اقعدامات کئے گئے ہیں نئی آئی ٹیز کمپنیز کو 3 سال تک ٹیکس میں چھوٹ دی جائے گی۔ اسلام آباد فاٹا اور گلگت میں آئی ٹی سروسز پر سیلز ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔ موبائل کالز پر ود ہولڈنگ کالز کو 14 فیصد سے کم کر کے12.5 فیصد جبکہ ا یکسائز ڈیوٹی کو 18.5 فیصد سے کم کر کے 17 فیصد کیا جا رہا ہے اسی شرح سے موبائل کالز پر سیلز ٹیکس میں کمی کی جائے گی۔ مجموعی مالی محصولات کا تخمینہ 5310 ارب روپے لگایا گیا ہے جس میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 4013 روپے ہے۔ کل آمدنی میں سے صوبائی حکومتوں کا حصہ 2384 ارب روپے بنتا ہے جو کہ 2016-17 کے نظر ثانی شدہ ہدف 2121ارب روپے کے مقابلے میں 12.4 فیصد زیادہ ہے ۔ یہ وسائل صوبائی حکومتیں انسانی ترقی اور لوگوں کی سیکیورٹی کے لئے خرچ کر یں گی ۔ دفاعی بجٹ کی مد میں نظر ثانی شدہ تخمینہ جات کے مطابق پچھلے سال کے 841 ارب روپے کی نسبت اس سال 920 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔ پی ایس ڈی پی بجٹ رواں مالی سال کے نظر ثانی شدہ تخمینے 715 روپے کی نسبت 40 فیصد اضافے کے ساتھ 1001 ارب روپے رکھا گیا ہے ۔ معاشی نظرنامے کو بدلنے کیلئے ابھی حکومت کو بہت کچھ کرنا باقی تھا تاہم موجودہ بجٹ کو اطمینان بخش قراردیاجاسکتا ہے جب تک معاشی منظرنامہ تبدیل نہیں ہوگا خود کشیوں اور جرائم کونہیں روکا جاسکتا۔تعلیم اورصحت کے شعبے میں خطیررقم بجٹ میں رکھنے کی ضرورت تھی۔ حکومت خودکفالت اورخودانحصاری کی پالیسی اپناکرہی ملک کو معاشی ترقی کے راستے پرگامزن کرسکتی ہے۔ حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کے معیار زندگی کو بلند کرے اور ان کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے اور بیرونی قرضوں سے نجات کیلئے خودانحصاری سے کام لے اور براہ راست ٹیکسوں کی حکمت عملی اپنائے۔

شام کی صورتحال

شام میں موجودہ جاری جنگ سے پہلے وہاں کے عوام بے روز گاری، بڑے پیمانے پر بد عنوانیوں کرپشن، سیاسی آزادی نہ ہونے اور بشار اسد حکومت کو عوام کو دبانے اور ان پر ظلم کی شکایات عام تھیں۔مارچ 2011 میں شام کے عوام بھی جمہو ریت اور عرب سپرنگ سے مٹا ثر ہوکر شام کے شہر دیرہ میں مظاہرے شروع ہوئے ۔ بشار الاسد حکومت نے عوام کو دبانے کیلئے زور طاقت کا بے تحا شا استعمال کیا۔جسکے نتیجے میں پورے ملک میں بشار الاسد اور انکے حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے ۔ جوں جوں حالات خراب اور بگڑتے جا رہے تھے تو حکومت مخالف قوتوں نے بھی اپنی حفاظت میں ہتھیار اُٹھانا شروع کئے اورعام لوگ اپنے اپنے علاقوں سے قانون نا فذ کرنے والے اداروں کو نکلنے کے لئے بر سر پیکار ہوئے۔بشار الاسد نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ بیرونی قوتوں کی مدد سے ملک میں جاری دہشت گر دی اور انتہا پسندی کو کچلے گے۔ اور وطن عزیز میں امن و آمان قائم رکھنے کے لئے پو ری کو شش کی جائے گی۔ وقت کے ساتھ حالات مزید بگڑتے جا رہے تھے اور سول وارجیسی صورت حال پیدا ہوگئی۔ شام کی اس جنگ میں ایران،روس بشار اسد کی مدد کرتا ہے جبکہ امریکہ ، سعودی عرب اور دوسرے کئی ممالک با غیوں کی مدد کر رہا ہے۔امریکہ سعودی عرب، فرانس، روس ایران اور دوسرے کئی ممالک کی بر ہ راست مدا خلت کی وجہ سے اور ان دو گروہوں کی سیاسی ، فوجی اور مالی مدد کی وجہ سے شام افغانستان کی وجہ سے بڑی طاقتوں کے لئے میدان جنگ بنا ہوا ہے ۔ امریکہ شام اور بشار اسد کو کمزور اور ختم کرنے کے لئے اور اسرائیل کو تحفظ دینا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اگر مسلمانوں کے ازلی دشمن اسرائیل کو اگر کسی سے خطرہ ہے تو وہ شام میں حزب للہ ہے، جنہوں نے ہمیشہ اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجائی ہے۔ جبکہ ایران شام جیسے سُنی ملک کے شیعہ حکمران بشار اسد کو بچانے کیلئے کو شاں ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ایران، لبنان، عراق، افغانستان اور یمن کے بُہت سارے عوام شامی فو جیوں اور بشارت لاسدکے ساتھ شانہ بشانہ لڑ رہی ہیں۔اسی طر ح شام کی حکومت اور بشار الاسد کو بچانے کے لئے روس نے 2015 میں شامی حکومت مخالف قوتوں پر ہوائی حملے کئے۔ اور اسی طرح امریکہ اور دیگر کئی ممالک با غیوں کی مدد کر رہا ہے۔اسی طر ح ایران کی حکومت شامی حکومت اور بشار الاسد کو بچانے کے لئے فوجی اور مالی امداد ، فوجی مشیر اور رعایتی نر خوں پر ہتھیار بھی دے رہے ہیں۔شام ایران کا قریبی اتحادی ہے کیونکہ ایران لبنان میں شیعہ جہادی گروہوں کو شام کے راستے مختلف قسم کی چیزیں فراہم کر رہے ہیں۔شام میں تُرکی بھی با غیوں کی مدد کر رہا ہے۔ جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے تو وہ بھی با غیوں یا حکومت مخا لگ گروہوں کی مدد کر رہا ہے۔ اور انکی پو ری پو ری کو شش ہے کہ شام میں ایران کا راستہ ہر حالت میں روکا جائے۔ بد قسمتی سے اس جا ری جنگ کی وجہ سے اب تک تقریباً 5 لاکھ لوگ لُقمہ اجل بن گئے ہیں۔ 63 لاکھ کے قریب لوگ بے گھر ہوگئے ہیں اور شامی آبادی کا 10 فی صد لوگ ملک چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق شام کے 13 ملین لوگوں کو بنیادی سہولیات کیلئے تقریباً 3.5 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی۔اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ شام میں تقریباً 85 فی صد عوام غُربت کی لکیر سے نیچے زندگی گرانے پر مجبور ہیں۔ اس خا نہ جنگی کو ختم کرنے کیلئے اقوام متحدہ کے سلامتی کو نسل نے 2012 کے جنیوا کے اعلامیہ کے نفا ذ کے لئے کہا جس کا مقصد ایک کثیر الاقوامی با ڈی بنا نا جسکے پاس تمام اختیارات ہونگے اور جو باہمی افہام و تفہیم سے بنایا جائے گا مگر شام کی حکومت نے اس وجہ سے اس پر بات کرنے سے انکار کیا کہ بات چیت میں اپوزیشن کے مطالبات پر گفت و شنید نہیں ہوگی۔اسکے بعد 2015 میں امریکہ بے ایک کمیٹی بنائی جسکا مطلب دشمنی کو ختم کرنا ہے ۔ اور اس میں جہادی گروہوں کو شامل نہیں کیا جائے گا مگر یہ اُس مہینے ختم ہوگئی۔ اپا لو کے فال کے بعد جنوری 2017میں قازقستان میں قازقستان نے شامی حکومتی اہلکاروں اور با غیوں کے درمیان با لمشافہ بات چیت کا آغاز کیا ۔ مگر وہ بھی ناکام ہو گیا۔اگر ہم حالات اور واقعات کا تجزیہ کریں تو مسلمان ممالک کی اس قسم کی بے اتفاقی مسلم اُمہ کو نُقصان پہنچ رہا ہے۔ ا
*****

Google Analytics Alternative