کالم

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے نو منتخب صدر کا خطاب

adaria

صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پارلیمانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی نے پیر کے روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنا پہلا خطاب کیا جس میں انہوں نے گروہی مفادات اور کرپشن کو پاکستان کے مسائل کی بنیادی وجہ قرار دیا،انہوں نے ان مسائل پر قابو پانے کیلئے احتساب کے اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیااور کہاکہ نئے پاکستان کی شناخت سادگی کا فروغ ، بدعنوانی سے پاک نظام ہے ،توقع ہے حکومت ہر شعبے میں روڈ میپ کا تعین کریگی۔آئین کے آرٹیکل 56 کی ذیلی شق 3 کے تحت ہر پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر مملکت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب ایک روایت ہے۔یہ روایت 1985 میں سابق صدرضیاء الحق کے پارلیمنٹ سے خطاب کے بعد شروع ہوئی جو آج تک جاری ہے۔اب تک ڈاکٹر علوی سمیت سات صدور نے28 مرتبہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا ہے۔سابق صدرممنون حسین نے پانچ دفعہ خطاب کیا جبکہ سابق صدور غلام اسحاق خان اور آصف علی زرداری نے چھ چھ مرتبہ ، جنرل ضیا الحق نے پانچ،فاروق احمد خان لغاری اوررفیق احمد تارڑ نے دو دو مرتبہ خطاب کیا۔پرویز مشرف نے نو سالہ اقتدار میں صرف ایک مرتبہ 2004 میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ماضی میں صدور کو اپنے خطابات میں شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔اس حوالے سے جب گزشتہ روز اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی طرف سے صدر مملکت کو مشترکہ اجلاس سے خطاب کی دعوت دی تو پیپلز پارٹی کے علاوہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کی کارروائی شروع ہوتے ہی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا اور اجلاس سے واک آٹ کیا۔اسیپکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی جانب سے اپوزیشن کو احتجاج سے روکنے کی کوشش کی گئی تاہم اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔مشترکہ اجلاسوں سے صدارتی خطابات کے موقع پر اپوزیشن کے احتجاج کی روایت کا جائزہ لیں تو اس حوالے سے ماضی کوئی شاندار نہیں ہے1991-92 میں جب صدر غلام اسحاق خان تیسری مرتبہ مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے آئے تو ایوان گو بابا گو کے نعروں سے گونج اٹھا تھا. اسوقت وزیراعظم نواز شریف جبکہ حزب اختلاف کی لیڈر محترمہ بے نظیربھٹو تھیں۔ 1994 اور 95میں پی پی پی کی حمایت یافتہ صدر فاروق خان لغاری کو مشترکہ اجلاس کے خطاب کے موقع پر بھی سخت احتجاج کا سامنا کرنا پڑا تھا تب نواز شریف اپوزیشن لیڈر تھے1997 میں صدر فاروق لغاری نے آخری مرتبہ مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تو اس بار بھی احتجاج ہوا مگر اس بار یہ احتجاج محترمہ بے نظیر بھٹو کی زیرقیادت حزب اختلاف نے کیا تھا۔رفیق احمد تارڑ جو مسلم لیگ نون کے منتخب کردہ صدر تھے انکو بھی 1998 اور 99 میں ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔صدر پرویز مشرف نے 2004 میں پہلی بار مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تو انہیں بھی حزب اختلاف کے شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا تھا۔صدر آصف زرداری 2008 سے 2013 تک صدر رہے انہیں بھی ہر بار احتجاج کا سامنا کرنا تھا۔ماضی کی روایت کو دیکھتے ہوئے امکان تھا کہ اپوزیشن پی ٹی آئی کے صدر عارف علوی کو ٹف ٹائم دے گی لیکن وہ بکھری بکھر نظر آئی اور بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے نکل گئی۔ کیاہی اچھا ہوتا کہ اپوزیشن نئی روایت قائم کرتے ہوئے صدر کا خطاب سنتی اور بعدازاں اس پر اپنی رائے کا اظہار کرتی۔صدر عارف علوی کا اگرچہ اولین خطاب تھا لیکن انہوں پاکستان کے جملہ مسائل اور درپیش چیلنجز کا اپنے خطاب میں احاطہ کیا، تعلیم صحت اور پانی کے مسائل کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں پانی کا بے دریغ استعمال ہورہاہے جس پر قابو پانا ہوگا۔ڈاکٹر عارف علوی نے یہ بھی کہاکہ پاکستان کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر کئی طرح کے چیلنجز درپیش ہیں ۔ملک پر گردشی قرضوں کا بوجھ 1100 ارب سے زیادہ ہوگیا ہے ،مہنگائی اور افراط زر میں اضافہ ہوا ہے ، صنعتیں بند ہیں ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے ، برآمدات اور درآمدات میں توازن نہیں ہے ،سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنایا جائے، بلوچستان اور سندھ کے علاقے خشک سالی کا شکار ہیں ،انہوں نے کہا قومیں مسائل سے دوچار ہوتی ہیں مگر گھبراتی نہیں۔صدر مملکت نے خارجہ پالیسی کے خدوخال پر بھی بات چیت کی اور کہا کہ خارجہ تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے ،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک سے پرامن تعلقات کا خواہشمند ہے۔ پاکستان، روس کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے جبکہ ترکی کے ساتھ ہمارے تعلقات اہمیت کے حامل ہیں۔ انشا اللہ بیرونی تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔انہوں نے برسوں سے حل طلب مسئلہ ،مسئلہ کشمیر پر توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ‘خطے کے پائیدار امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ضروری ہے ۔پاکستان، مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ہر سطح پر کاوشیں جاری رکھے گا۔صدر نے حکومت وقت اور تمام جماعتوں کے لیڈروں سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کی سمت کو درست کرنے میں تعاون کریں۔

پاکستان اور برطانیہ کے مابین خوش آئند پیشرفت
پاکستان اور برطانیہ کے مابین ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں منی لانڈرنگ کی روک تھام،لوٹی دولت کی واپسی کیلئے دونوں ممالک کے درمیان معاہدے اور مجرموں کی تحویل کے سمجھوتے پر بھی اتفاق ہوا ہے جس کے مطابق ملزمان کی حوالگی اور پاکستانی اثاثوں کی ریکوری کیلئے دوبارہ کام کیا جائے گا۔اس سلسلے میں قبل ازیں وزیراعظم عمران خان ،وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی ،وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم ،وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی سے برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید کی اہم ملاقاتیں ہوئیں۔اس پیشرفت کو بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔اگرچہ ابھی باقاعدہ معاہدہ ہونا باقی ہے تاہم ماضی میں اس معاملے پر کبھی کسی حکومت نے سنجیدگی سے کام نہیں کیا۔امید ہے پی ٹی آئی حکومت اس معاملے کو حتمی شکل دینے میں کامیاب ہو جائے گی۔
پاک چین دفاعی تعاون،جنوبی ایشیا کیلئے نیک شگون
پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاویدباجوہ چین کے دورے پر ہیں جہاں وہ چین کی سیاسی و عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں۔پیر کے روز انہوں نے پیپلزلبریشن آرمی کے ہیڈ کوارٹرکادورہ کیااورچینی فوج کے سربراہ جنرل ہان ویگو سے ملاقات کی،اس موقع پرعلاقائی سلامتی،سی پیک کی سکیورٹی اوردوطرفہ سکیورٹی تعاون پرتبادلہ خیال اور، تعاون بڑھانے پراتفاق کیاگیا۔ پیپلزلبریشن آرمی کے چیف نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کااعتراف کرتے ہوئے اس کوسراہا۔انہوں نے پاک افواج کی جانب سے اقتصادی راہداری منصوبے کوفراہم کی جانے والی فول پروف سکیورٹی کی بھی تعریف کی۔ جنرل ہان نے پاکستان آرمی کے عسکری تجربات سیاستفادیاور دوطرفہ تعاون کووسیع کرنے میں گہری دلچسپی ظاہرکی جبکہ جنرل باجوہ نے شاندار میزبانی پراپنے چینی ہم منصب کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ دونوں افواج میں تعاون کی ایک تاریخ ہے اوراس میں مزیداضافے کیلئے وسیع گنجائش موجودہے ۔بلاشبہ پاکستان اور چین کی دوستی وقت کیساتھ ساتھ ایک دفاعی پارٹنر میں بدلی چکی ہے اور دونوں خطے کے امن و استحکام کیلئے ایک ساتھ کھڑے آتے ہیں جو جنوبی ایشیا کیلئے نیک شگون ہے۔

کشمیریوں کاخو ن اتناسستانہیں کہ پانی کی طرح بہایاجائے

کشمیر کی تحریک دن بدن زور پکڑتی جارہی ہے جسے دبانے کیلئے بھارتی سکیورٹی فورسز مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزیوں میں مصروف ہے اور کشمیری مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کر رہی ہے۔ جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور اسکی آزادی کیلئے ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے جانوں کی قربانی دی۔ جبکہ ہزاروں بچے یتیم ہو گئے۔ ماوں بہنوں کی عصمتیں لٹ گئیں۔ لاکھوں بے گناہ شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کا خون اتنا سستا نہیں کہ پانی کی طرح بہایا جائے۔ جب تک آفسپا جیسے کالے قانون نافذ رہیں گے تشدد کے واقعات کا سلسلہ ختم نہیں ہو سکتا۔کالے قوانین کے تحت کشمیریوں کوگاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے۔ بھارت طاقت کے زور پر تحریک آزادی کی آواز دبانے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ مقبوضہ علاقے میں کم عمر کشمیری لڑکوں کو بھی گرفتاریوں اور ظلم و تشددکانشانہ بنایا جارہا جبکہ عدالتیں بے گناہ کشمیریوں کوجھوٹے مقدمات میں عمر قید کی سزائیں سنارہی ہیں۔ہزاروں کشمیری بچے اپنے ماں باپ کا سایہ کھونے کے بعد یوں بے یارو مددگار پھر رہے ہیں کہ انہیں دیکھ کر پتھر دل اور بڑے سے بڑے سنگدل کا سینہ بھی ایک لمحے کو دہل جاتا ہے۔ مگر بھارتی حکمران ہیں کہ اپنی سفاکی کے نتائج دیکھ کر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے۔وہاں کے سوچنے سمجھنے اور اہل شعور افراد کو یہ احساس ضرور ہوتا کہ ان کے حکمرانوں کے ہاتھوں جو لوگ رزق خاک ہو رہے ہیں وہ بھی انہی کی طرح گوشت پوست کے بنے ہوئے ہیں۔ ان کے سینوں میں بھی دل دھڑکتا ہے اور ہر دھڑکن میں جانے کیسی کیسی خواہشات پوشیدہ ہیں۔ یہ ناحق ماردیے جانے والے بھی کسی کے بیٹے تھے، کسی کے بھائی تھے اور کسی کی آنکھ کا نور اور دل کا قرار تھے۔ آخر ان بے کسوں کو کس گناہ کی سزا دی جا رہی ہے۔ کیا آزادی کا مطالبہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کا ارتکاب کرنے والوں کو یوں زندہ درگور کر دیا جائے۔ کشمیری قوم صرف اسی گناہ کی تو مرتکب ہوئی ہے کہ عالمی رائے عامہ اور بھارتی حکمرانوں سے یہ کہہ رہی ہے کہ ایک کروڑ سے بھی کہیں زیادہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی اجازت دی جائے، جس کا وعدہ بھارت نے ساری دنیا کے سامنے کیا تھا۔ ایسے میں ہندوستان کی یہ ریاستی دہشت گردی با لآخر کیا گل کھلائے گی؟بھارت میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کے جرائم کا پول کھول دیا، گھر کی اس گواہی کے باوجود بھارتی فوج ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رپورٹ سے لاعلمی ظاہر کررہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز سالوں سے جنگی جرائم میں ملوث ہیں۔ یہ پاکستان کا پروپیگنڈہ نہیں بلکہ گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھائی ہے۔ بھارت میں انسانی حقوق کی 3تنظیموں نے مشترکہ رپورٹ میں وہ تمام پول کھول دیئے ہیں جن سے بھارتی حکومت اور سیکیورٹی فورسز ہمیشہ انکار کرتی آئی ہیں۔ رپورٹ میں پہلی بار کشمیریوں کے خلاف جرائم میں ملوث اہلکاروں کی براہ راست نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ وادی میں جعلی مقابلوں، زیر حراست اور ماورائے عدالت ہلاکتوں ، خواتین کی عصمت دری اور دیگر سنگین جرائم کے سیکڑوں کیسز میں بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس کے 500 افسران اور اہل کار ملوث ہیں۔ ان میں فوج کے 2میجر جنرل، 3 بریگیڈیئر، 9 کرنل، 3لیفٹیننٹ کرنل، 78 میجر اور 25کیپٹن شامل ہیں، ان کے علاوہ نیم فوجی اداروں کے 37 سینئر افسر، ایک انسپکٹر جنرل پولیس اور ایک ادارے کے ریٹائرڈ سربراہ کا نام بھی شامل ہے۔ بھارتی فوج کے ترجمان نے حسب معمول اس رپورٹ سے صاف لاعلمی ظاہر کردی۔ ترجمان کا دعویٰ ہے ایسی کوئی رپورٹ ان کی نظر سے نہیں گزری۔لیکن ریت میں سر چھپانے سے سچائی نہیں بدل جاتی۔ بھارتی صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی نہ صرف رپورٹ کو شرمناک قرار دیا ہے بلکہ وہ کسی اہلکار کو سزا نہ ملنے پر بھارتی حکومت کو بھی برابر کا ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں کٹھ پتلی انتظامیہ کے نمائندے بھی گھناؤنے جرائم میں ملوث اہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں قاصر ہیں۔جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نوآبادیاتی نظام رائج ہے۔کشمیریوں کی منزل آزادی ہے اور آزادی کشمیریوں کا پیدائشی حق ہے آج مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم اور دہشت گردی کا سلسلہ عروج پر پہنچ چکا ہے اور دہشت گردی کے نام نہاد علمبردار امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی دہشت گردی نظر کیوں نہیں آتی ۔ جنوبی ایشا میں اسی صورت امن قائم ہو سکتا ہے کہ کشمیریوں کا ان کا حق دیا جائے اور خودمختار کشمیر ہی پائیدار امن کا ضامن ہے۔ کشمیر کسی بھی ملک کا اٹوٹ انگ نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں اسکی شاہد ہیں کہ یہ خطہ متنازعہ ہے اور اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔بھارت نے اس خطہ ارض کو فوج کے ذریعے زیر تسلط رکھا ہے۔ ہمارے سروں پر ساڑھے سات لاکھ بھارتی فوج مسلط ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ نے تسلیم کیا کہ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے۔ بھارت نے پوری دنیا سے بغاوت کرکے اپنے آئین میں ترمیم کی پھر کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنا شروع کر دیا اور کہا کہ بھارت کے آئین میں درج ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ 1948 میں مجاہدین سرینگر پہنچنے والے تھے کہ بھارت بھاگ کر سلامتی کونسل گیا اور پھر یہ قرار داد منظور ہوئی پھر دباؤ ڈال کر تحریک آزادی کے بڑھتے قدم روک دئیے گئے۔ پاکستان نے قرارداد کو مانا لیکن بھارت نے کشمیر کو اٹوٹ انگ کی رٹ لگانا شروع کردی ۔ مسئلہ کشمیر پر موقف کی تائید اقوام متحدہ کی طرف سے ہوچکی ہے۔ پنڈت نہرو نے خود تسلیم کیا تھا کہ وہ کشمیر میں استصواب رائے کروائے گا لیکن انڈیا کی آٹھ لاکھ فوج کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کر رہی ہے۔ نہتے کشمیریوں کا وحشیانہ قتل عام کیا جا رہا ہے۔ ہزاروں بہنوں و بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی لیکن پوری کشمیری قوم کا ایک ہی نعرہ ہے کہ وہ آزادی حاصل کرکے رہے گی۔

عمران خان نے اپنے وعدے پورے کرنے شروع کر دیے

عمران خان نے ۲۰۱۳ء تا۲۰۱۸ء اپوزیشن میں رہ کر اور ۲۰۱۸ء کی الیکشن مہم کے دوران عوام کے سامنے جو وعدے کیے تھے وہ پورے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ عمران خان نے علامہ اقبالؒ کے خواب قائد اعظمؒ ؒ کے وژن کے مطابق، پاکستان کو مدینے کی اسلامی فلاحی ریاست بنانے ، کرپشن سے پاک نئے پاکستان کے سمت قدم، لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے کے اقدام اور احتساب کا عمل اوپر سے شروع کرنے کا ارادہ، مملکت میں کفایت شعاری اور حکمرانوں کی شاہ ہانہ زندگی سے اجتناب پر عمل شروع کر دیا ہے۔ اس وقت عوام کو گزشتہ حکومت اور موجودہ حکومت کی پالیسیوں میں جوہری فرق محسوس ہو رہا ہے۔ سب وعدوں میں سے کچھ پر عمل شروع ہو چکا ہے۔پالیسیوں میں جہاں کمزروی ہو رہی ہے اُس پر میڈیا کھل کر تنقید کررہا ہے۔ کچھ اینکر پرسن عمران خان پر بے جا تنقید بھی کر رہے ہیں۔ یہ نوازشریف صاحب کے حامی ہیں ۔ ان میں وہ اینکر پرسن پیش پیش ہیں جو نواز شریف کے لندن سے پاکستان واپسی کے دوران دبئی میں مریم نواز کے فون ملانے پر نواز شریف سے باتیں کرتے رہے ہیں۔ نوازشریف سے باتیں کرتے ہوئے ان کی گفتگو اور تصویریں سوشل میڈیا میں اُس وقت وائرل ہوئی تھیں۔ ایک خاتون اینکر کو نواز شریف نے کہا تھا آپ کو اس خبر کو اپنے پروگرام میں چلانا چاہیے تھاوغیرہ۔ جہاں تک میڈیا کی صحیح اور مثبت تنقید ہے وہ درست ہے۔ اس سے عمران خان کے کان کھڑے رہیں گے اور وہ اپنی کمزرویوں کی ساتھ ساتھ اصلاع بھی کرتے جائیں گے۔ اسی میں عمران خان کی کامیابی کا راز ہے۔ لیکن جو لفافہ ایکر پرسن ہیں ان کو بھی اپنے رویہ میں مثبت تبدیلی لانا چاہیے ورنہ ان کو بھی جوابی تنقیدکا سامنانہ کرنا پڑے گا۔ ہم نے اس سے قبل بھی میڈیا کو بے تحاشہ تنقید کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اپنے ایک کالم میں میڈیاسے درخواست کی تھی کہ عمران خان کو حالات درست کرنے کیلئے کم از کم تین ماہ تو دیں۔ اس سے پتہ چل جائے گا کہ عمران خان نے عوام سے جو وعدے کیے ہیں وہ پورے کرتے ہیں یا نہیں۔پہلے خاتون اوّل کی بات۔الحمد اللہ ہم مسلمان ہیں۔ مسلمان عورتوں کے لیے قرآن کے حکم کامفہوم ہے کہ مسلمان خواتین اپنے چہروں پراپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں۔ عمران خان جو مغرب میں زندگی کا ایک عرصہ گزار چکا ہے ایک باپردہ خاتوں کا شوہر ہے۔ جو پاکستان کی ۹۰؍ فی صد خواتین کی نمائندگی ہے۔ اس سے عمران خان کی اسلام سے محبت کا عملی ثبوت ملتا ہے۔پاکستان کے عوام اپنی خاتون اوّل کو پردے میں دیکھ کر خوش ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔عوام کی نظر میں مدینے کی اسلامی فلاحی ریاست کی جانب یہ پہلا قدم ہے۔اس سے مسلم خواتین خاص کر مغرب میں رہنے والیوں کے حوصلے بڑھیں گے۔ عمران خان نے جرنل ہیڈ کواٹر اور آئی ایس آئی کے دفتر کا دورہ کیا۔ ہر دو جگہ عمران خان کو آٹھ آٹھ گھنٹے کھل کر بریفنگ دی گئی۔ عمران خان نے کھل کر فوج اور آئی ایس آئی کی تعریف کی۔ سب سے اچھی اور اہم بات کہ ملک کے دفاحی اداروں اور حکومت ایک پیج پر ہیں بلکہ ایک کتاب ہیں۔ یہ بات پاکستان کے دشمنوں کے دلوں پر مونگ دلنے کے مترادف ہے۔ اس میں عوام کوپاکستان کو آگے لے جانے میں مثالی کوآپریشن نظر آتی ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس نے اپنے وعدے کے مطابق وزیر اعظم ہاؤس میں رہائش نہ رکھنے کا وعدہ پورا کر دیا۔وزیر اعظم ہاؤس کویونیورسٹی بنانے کا ا علان بھی کر دیا۔ چاروں گورنر ہاؤسز کو بھی پبلک کی ضرورت کے تحت استعمال کرنے کا بھی مظاہرہ کرتے ہوئے پنجاب اورسندھ کے گورنرہاؤسز کو عوام کیلئے کھول بھی دیا۔ عمران خان کے وعدے کے مطابق نیب نے لرپشن پر قابو پانے اور لوٹا پیسا واپس لانے کے لیے بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالا جو قابل تعریف ہے۔ سپریم کورٹ میں منی لانڈرنگ پر مقدمہ چل رہا ہے۔ برطانیہ سے منی لارنڈرنگ کے ذریعے لوٹے ہوئے عوامی پیسے کی واپسی کے لیے برطانیہ کے ساتھ معاہدہ بھی ہو گیا ہے۔ سعودی اور سوئس حکومتوں سے بھی ایسے ہی معاہدے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ برطانیہ سے ملزمان اور قیدیوں کی تبدیل کا معاہدہ بھی ہو گیا ہے۔ اس سے غداروطن الطاف حسین کی واپسی ،مفرورسابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار، عدالت کی طرف سے اشتہاری حسن نواز اور حسین نواز کو واپس پاکستان لانے اور انصاف کے کہڑے میں کھڑا کرنے کا راستہ بھی صاف ہو گیا ہے۔منی لانڈرنگ کے سلسلے میں، برطانیہ سرے کوئنٹی میں پاکستان کے ایک شخص کو بیوی کے ساتھ گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ برطانیہ کا پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکالنے میں مدد کا وعدہ کرنا بھی عمران خان حکومت کی فتح ہے۔ سابقہ حکومت کے زیر استعمال وزیر اعظم ہاؤس کی بلٹ پروف گھاڑیاں بھی نیلام ہو گئیں۔ اب ہیلی کاپٹر اور بھیسں نیلام ہونا باقی ہیں ۔ پنجاب حکومت نے بھی گاڑیاں نیلام کرنے کیلئے پیش کر دیں ہیں۔عمران خان کا پہلا غیر ملکی سرکاری سعودی عرب اور یو اے ای کا دورہ بھی نیک شگون ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی حمایت اور مدد کی ہے۔اب اس کے بعد عمران خان انشاء اللہ ، صدا بہار دوست چین کا دورہ بھی کرے گا۔ پاکستان کے سپہ سالار چین کے تین روزہ دوسرے پر گئے ہوئے ہیں۔ امریکا کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان پر ڈور مور کے مطالبہ پر نو مور کے جواب کے بعد چین کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان بھی تقویت کاباعث بنا۔ احتساب اوپر سے ،پر عمل کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا پنجاب کے وزیر اعلیٰ ، ڈی آئی جی اور احسن گجر کو انصاف کے کہڑے میں لانا اور ان کا معافی مانگنا اور چیف جسٹس کے سخت ریمارکس بھی عمران خان کی حکومت کے لیے نیک شگون ہیں۔ نندی پور انکوئری میں عمران خان کے ایک وزیر کے نام آنا، اس وزیر سے استعفیٰ لے لینا اور ایک قادیانی ایڈوائزر کو عوامی احتجاج پر فارخ کرنے سے عوام عمران خان سے خوش ہیں۔ عمران خان نے ڈیم بنانے کے لیے اندرون اور بیرون پاکستانیوں سے چندہ مانگنا اور چیف جسٹس فنڈ کے فنڈ کو اکٹھا کرنا اور چیف جسٹس کا ڈیم کی مخالفت کرنے والوں پر پاکستان کے آئین کا آٹیکلز سیکس لگانے کو بھی عوام نے پسند کیا۔پانی زندگی ہے اور زندگی پر سیاست کرنے والوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر پاکستان کامشترکہ پارلیمنٹ سے کامیاب خطاب ، صدر نے حکومت کواخراجات کم کرنے، کرپشن کو قابو کرنا ہے، دہشت گردی کو ختم کرنے پر فوج کی کامیابی صدر کا خراج تحسین ، کشمیر یوں کی سیاسی ، سفارتی اوراخلاقی حمایت جاری رکھنا، کشمیر میں ظلم کے خلاف دنیا کو آواز اُٹھانا،پڑوسی ملکوں سے خوشگوار تعلقات پرصدر کی تقریر کو عوام نے سرہایا۔رولز کی خلاف دری کرنے پر اسپیکر کا پرانے اسپیکر کو باور کرنے کے باوجود نواز لیگ نے خطاب کے دوران ہنگامہ اور واک آؤٹ کرنا اچھی بات نہیں۔ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے ممران نے صدر کی تقریر سنی۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی الیکشن میں دھاندلی پر یوڈیشنل کمیشن بنانے کا مطالبہ کر رہی تھی۔ عمران حکومت کو اپوزیشن کا یہ مطالبہ منظور کر کے فوراً یوڈیشنل کمیشن بنانا چاہیے۔ یہ اپوزیشن کا حق ہے۔عمران خان حلقے کھولنے کے وعدے پر بھی عمل کرنا چاہیے تاکہ اپوزیشن کی تشفی ہو۔ عمران خان حکومت نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کوتین مرتبہ خاتون اول رہنے والی مرحومہ کلثوم صاحبہ کی تدفین میں شرکت کے لیے ہفتہ بھر پیرل پر رہائی ایک اچھا اور انسانیت پر مبنی قدم تھا جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔صاحبو! عمران خان نے کہہ رکھا ہے کہ حکومت کا کوئی بھی شخص عمران خان کے وژن جس میں ملک کو اسلامی فلاحی ریاسست بنانے، کرپشن فری کرنے ،لوٹا ہوا پیسا واپس لانے ،گڈ گورنرز مہیا کرنے، ملک کوکفایت شعاری کے راستے میں ڈالنے میں،رکاوٹ بنے گا اسے فارخ کر دیا جائے۔ اللہ کرے حکومتی اہل کار اپنے رویے تبدیل کر لیں۔یہی بات عمران خان نے بیوروکریٹ سے خطاب کرتے ہوئے بھی کہی ہے۔ شاید اللہ نے۷۰ سال کے انتظار کے بعد علامہ اقبالؒ کے خواب اور بانیِ پاکستان قائد اعظم ؒ کے وژن اور پاکستان کی۹۰ فیصد خاموش اکژیت کی خواہشات کے مطابق پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے عمران خان کو منتخب کیا ہے۔ عوام کو اس کام کے لیے عمران خان کو مناسب وقت دینا چاہیے اور اللہ سے دعا ء بھی کرنی چاہیے کہ عوام کی خواہشات عمران خان کے ہاتھوں ہی پوری ہوں۔ اللہ مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین۔

سی پیک : پاکستان سمجھوتہ نہیں کرسکتا

سی پیک کی تکمیل جہاں پاکستان کی معاشی بقا کیلئے لازمی ہے وہاں اس کے مخالفین بھارت اور امریکہ نے بھی اسے اپنے لیے سیاسی موت کا مسئلہ بنا لیا ہے۔جب کبھی اس بڑے منصوبے کے حوالے سے کوئی اہم پیشرفت سامنے آتی ہے مخالف لابی بھی متحرک ہو جاتی ہے۔گزشتہ دنوں چینی وزیر خارجہ جب پاکستان کے دورے پر آئے تو وزیرِ اعظم کے مشیر برائے اقتصادی امور عبدالرزاق داؤد کے سی پیک کے حوالے سے برطانوی اخبار فنانشیل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو کی آڑ میں طوفان اٹھانے کی بھر پور کوشش کی گئی لیکن چین اور پاکستان نے بروقت تمام خدشات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مخالفین کی بولتی بند کر دی۔وزیراعظم کے مشیر برائے اقتصادی امور کے مبینہ موقف جس کی انہوں تردید کردی تھی کہ’ ایک سال کے لئے سب کچھ روک دینا چاہیے‘ حکومت مخالف سیاسی حلقوں کی طرف سے بھی خوب اچھالا گیا۔اپوزیشن یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کرتی رہی کہ جیسے حکومت اس منصوبے کو ختم کرنا چاہتی ہے۔حکومت مخالف حلقوں کے غبارے سے اس وقت ہوا نکل گئی جب وزیر اعظم عمران خان نے تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے اور 60 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا حامل اقتصادی راہداری کا منصوبہ بعض حلقوں کی جانب سے مخالفت کے باوجود ہر حال میں مکمل کیا جائے گا۔ اسی طرح دورے پر آئے ہوئے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کی طرف سے بھی پاکستان اور چین کے درمیان سٹریٹجک دوستی اور شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔چینی وزیر خارجہ کا یہ دورہ بڑی اہمیت کا حامل رہا۔رائی کا پہاڑ بنانے والوں کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ منصوبہ ختم کرنے کے تاثر کو ہوا دینا کسی بچگانہ سوچ کی اپنی اختراع تو ہو سکتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اب منصوبے میں تیسرے فریق کو سرمایہ کاری کیلئے بھی باضابطہ طور پر مدعو کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔اس کے ساتھ دونوں ممالک نے سماجی شعبے اور علاقائی ترقیاتی اسکیموں کو اس منصوبے کا حصہ بنانے پر بھی رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔سی پیک کے حوالے سے کیے گئے ان دو فیصلوں پر اتفاق کمیشن برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اور نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈریفارمز کمیشن آف چائنا (این ڈی آر سی)کے درمیان ہونے والی طویل دورانیے کی ملاقات میں کیا گیا۔چار گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں پاکستانی وفد کی سربراہی وزیر برائے منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار نے کی، جبکہ این ڈی آر سی کے نائب چیئرمین نینگ جزہے نے چینی وفد کی قیادت کی۔چین نے دونوں ممالک سے دوستانہ تعلقات رکھنے والے ممالک کے اسپیشل اکنامک زونز میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا، کیونکہ وہ اس حوالے سے ہونے والی منفی تنقید کا خاتمہ چاہتا ہے ۔مزید یہ کہ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے پاکستانی ترجیحات سر فہرست ہونگی ، مستقبل اور تعاون کا تعین مشورے سے ہوگا،دونوں ممالک نے رفتار بڑھانے پر اتفاق اور دفاعی و سیکورٹی سمیت تمام شعبوں میں دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم بنانے کا فیصلہ کیا ، خوش آئند امر یہ ہے کہ چینی ترجمان کا یہ بیان سی پیک کے بارے میں خدشات اور قیاس آرائیوں پر مبنی حقائق کے برعکس خبروں کے فوری بعدسامنے آیاجس سے اپوزیشن کے پروپیگنڈے کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔چینی سفارتخانے نے بھی برطانوی اخبار کی رپورٹ پر نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ناپاک ارادے پر مبنی مذکورہ رپورٹ مسخ شدہ تفصیلات پر مبنی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رپورٹ دینے والے شخص نے سی پیک اور پاک چین روایتی پارٹنر شپ کو مکمل طور پر نظر انداز کیاہے۔چینی سفارتخانے سے جاری بیان کے مطابق چین اور پاکستان کے درمیان یہ اتفاق پایاجاتا ہے کہ سی پیک باہمی مفاد پر مبنی منصوبہ ہے اور دونوں ممالک اس منصوبے کو پاکستان کی ضروریات اور پاکستان کی ترقی کے مطابق جاری رکھیں گے۔ دفتر خارجہ پاکستان نے بھی سی پیک پر عملدرآمد کا عزم کیا کہ منصوبے پر پاکستان اور چین کے درمیان مکمل اتفاق رائے ہے،پاک چین قیادت کے درمیان ملاقاتوں میں سی پیک کو تعاون کے نئے شعبوں تک پھیلانے پر اتفاق بھی ہوا جس سے ظاہر ہوتا ہے سی پیک مخالف لابی کے منفی پروپیگنڈے میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔سی پیک منصوبے کی مخالفت میں بھارت کے بعد امریکہ بھی کھل سامنے آ چکا ہے۔پاکستان کے ساتھ کشیدگی کی ایک وجہ سی پیک بھی ہے۔اسکا انکشاف اگلے روزامریکی جریدے وال اسٹریٹ جنرل کی ایک رپورٹ میں ہوا ہے۔جریدے کے مطابق چین کے حوالے سے کانگریس میں جمع کروائی گئی پینٹاگون کی رپورٹ برائے سال 2018 میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تلخی کی وجہ صرف افغانستان نہیں بلکہ سی پیک بھی ہے۔ رپورٹ میں چین اور روس کو امریکہ کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے مرکزی خطرہ قرار دیا گیا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ میں اس امریکی خدشے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا گیا کہ پاکستان میں بننے والے چینی منصوبے ون بیلٹ، ون روڈ پر چین اور امریکہ کے مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ چین عالمی اثر و رسوخ حاصل کرنے کیلئے قرضوں کے جال میں پھانسنے والی پالیسی پر عمل کر رہا ہے، جس میں وہ دیگر ممالک کو ایسے منصوبوں کیلئے قرض فراہم کرتا ہے جسکے اخراجات وہ خود نہیں اٹھاسکتے۔اُدھر امریکی بجٹ دستاویز میں بھی اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کس طرح اس خطرے سے نمٹنے کیلئے مضبوط اتحادیوں اور شراکت داروں کیساتھ مل کر تیزی سے تبدیل ہونے والی مشترکہ قوت تشکیل دینا چاہتی ہے۔ دستاویز میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ امریکہ نے خطے میں بڑھتے ہوئے چینی اثر و رسوخ کو کم کرنے کیلئے بھارت کے ساتھ اتحاد بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کو یہ خوف ہے کہ اس کی گرفت پاکستان پر رفتہ رفتہ کم ہوتی جارہی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی غیر متوازن پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کو خود سے بہت دور کر دیا ہے۔پاکستان کا چین اور روسی بلاک کی طرف مائل ہونا ایک فطری عمل بھی ہے اور خطے میں اس کیلئے بڑھتے ہوئے تھریٹس کا نتیجہ بھی ہے۔ پاکستان اپنی سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا جبکہ امریکہ اس بات پر بضدہے کہ وہ یعنی پاکستان ہر حکم پرyes کرے مگر اب ایسا ممکن نہیں رہا۔

*****

ماہ محرم الحرام میں رواداری اور وسعت نظری

محر الحرام کا مہینہ عالم اسلام کے شہریوں کیلئے ایک انتہائی محترم مہینہ ہے ۔اسلامی کیلنڈر کے پہلے مہینے کی حیثیت سےبھی اس مہینے کی اہمیت اور عظمت مسلمہ ہے ۔محرم ایک ایسا مہینہ ہے جس کا احترام دور جاہلیت میں بھی کیا جاتا تھا ۔فروغ اسلام ،فروغ صداقت اور فروغ حقانیت کیلئے اس محترم مہینے میں اسلامی تاریخ کی نامور ہستیوں نے بے مثال قربانیاں دیں ۔یہ عظیم قربانیاں پیروان اسلام کو وحدت اور اتحاد کا درس دیتی ہیں ۔نئے اسلامی سال کے آغاز پر وطن عزیز میں اس امر کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ قومی یکجہتی کو فروغ دینے کیلئے ہمہ جہتی ہم آہنگی پیدا کی جائے ۔قومی یکجہتی کیلئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ ارباب حکومت نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی آہنی سر کوبی کا عزم کر رکھا ہے ۔یہ عناصر اسلام مخالف قوتوں کے آلہ کار کی حیثیت سے مسلم امہ کو فرقوں ،مسلکوں اور اکائیوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔ جہاں تک فرقہ وارانہ دہشت گردی کا تعلق ہے تو یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ نام نہاد مذہبی رہنماؤں نے مسلکی تعصبات کو انفرادی و گروہی دکانداریاں چمکانے کا ذریعہ بنا رکھا ہے ۔اگر دیانت داری سے عالم اسلام کے انحطاط و تنزل کے اسباب وعلل کا کھوج لگانے کی کوشش کی جائے تو آخری تجزیے میں یہ حقیقت روز روشن کی طرح ابھر کر سامنے آئے گی کہ عالم اسلام کو اس کے خارجی اور بیرونی دشمنوں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا اس کے داخلی اور اندرونی دشمن پہنچاتے رہے۔خارجی اور بیرونی دشمن تو اعلانیہ عالم اسلام کے خلاف بر سر پیکار ہیں لیکن یہ داخلی اور اندرونی دشمن ’’زیر زمین اور پس پردہ‘‘ کاروائیوں سے اسلامی معاشروں اور مملکتوں کی وحدت کے آبگینے کو پاش پاش کرنے میں مصروف ہیں ۔وہ پریشر گروپس اور مسلکی انتہا پسندی کی علمبردار جماعتیں جو فرقہ واریت کے زہر کو اس ملک کے عوام کی شریانوں میں دوڑانا چاہتی ہیں انہیں اپنے گمراہ کن نظریات و عزائم پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ انہیں سوچنا چاہیے کہ کیا تاریخ کے اس نازک اور حساس موڑ پر وطن عزیز ان متعصبانہ اور تنگ نظر رجحانات و تصورات کے فروغ کا متحمل ہو سکتا ہے ؟ یہ تو کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ وطن عزیز آئینی طور پر ایک مسلمہ اسلامی جمہوریہ ہے ۔ اسلام آپس میں بیر رکھنا نہیں سکھاتا ،وہ آفاقیت کا پرچم بردار ہے ۔یہ ایک لمحہ فکریہ ہے اس دین کامل کے پیروکار جو دنیائے انسانیت کو محبت اور اخوت کا پیغام دینے میں پیش پیش رہا ،آپس میں نہ صرف دست و گریباں ہوں بلکہ ایک دوسرے کیلئے ہلاکت کے پیغامبر بنیں ۔روح اسلام کا تقاضا یہی ہے کہ علمائے کرام اور ذاکرین عظام بلا امتیاز و مسالک آگے بڑھیں اور اپنا حقیقی فریضہ ادا کرتے ہوئے قوم کو وحدت کا پیغام دیں ۔محرم الحرام کی بابرکت ساعتوں کا تقاضا یہی ہے کہ دینی پیشوا اپنے منصب کی اہمیت اور نزاکت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اتحاد بین المسلمین کی فضا کو سازگار بنانے کیلئے سر گرم عمل ہو جائیں ۔اسی بات کو علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒ نے اپنے اشعا ر میں پیش کیا ہے ۔وہ عالم دین سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

فرقہ بندی کیلئے وا نہ کر اپنی زباں
چھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامہ محشر یہاں
وصل کے اسباب پیدا ہوں تیری تحریر سے
دیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تیری تقریر سے
حقیقی علمائے کرام و مشائخ عظام نے کبھی اپنے فرض منصبی سے روگردانی نہیں کی ۔انہوں نے عوام کو ہمیشہ اتحاد و اخوت اور رواداری و برداشت کا پیغام دیا ۔انہوں نے تفرقہ پھیلانے کے مذموم عمل کو ہمیشہ نفرت اور ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ۔ فروغ اسلام کو اپنی زندگیوں کا محور و مرکز بنا لینے والے دینی پیشواؤں اور سکالرز نے دعوت و تبلیغ کا کام کرتے ہوئے تمام انسانیت کو اپنا مخاطب تصور کیا ہے۔دعوت و تبلیغ کے اس عظیم کام کی اصل روح اور خاصا یہی ہے کہ وہ داعی کو اس کرہ ارض پر بسنے والے ہر انسان کا خیر خواہ بنا دیتا ہے ۔ اس امر کی خواہش اسے ہمیشہ مضطرب اور بے چین رکھتی ہے کہ اولاد آدم میں سے ہر ایک تک سلامتی کے راستے کا پیغام پہنچائے ۔یہ تو طے ہے کہ داعیان اسلام کے نزدیک سلامتی کا راستہ صرف اور صرف اسلام ہے ۔اگر کوئی داعی اپنے مدعوئین سے نفرت کرنا شروع کر دے تو یقینااسے دعوت کے بجائے حرب و پیکار کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا ۔اسلام اپنے پیروکاروں کو آخری حد تک حرب و پیکار کا راستہ اختیار کرنے سے منع کرتا ہے تا وقتیکہ جنگ ان کے سر پر مسلط نہ کر دی جائے ۔اس زمین پر بسنے والا ہر انسان اس کا تعلق خواہ کسی بھی مذہب اور دھرم سے کیوں نہ ہو ،اس تک سلامتی کے راستے کی دعوت پہنچانا ہر حلقہ بگوش اسلام کا اساسی فریضہ ہے۔اس فریضے کو وہ صاحبان کردار ہی ادا کر سکتے ہیں جو اخوت کی جہانگیری اور محبت کی فراوانی کے علمبردار ہوتے ہیں ۔اس فریضے کی انجام دہی کیلئے انہیں ایسی دانشمندانہ ،مفاہمانہ اور مصالحانہ حکمت عملی اپنانا پڑتی ہے جس کے تحت گردوپیش سے نفرت ،منافرت تفرقے اور انتشار کی دھند مکمل طور پر چھٹ جائے ۔سلامتی کے راستے کی طرف دعوت دینے والے امت مسلمہ کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو بھی امت کا ہی جزو لاینفک سمجھتے ہیں ۔اس نقطہ نظر سے وہ انسانیت کو صرف دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں حلقہ بگوشان اسلام ان کے نزدیک امت مستجاب ہیں اور جبکہ آفتاب اسلام کے نور سے مستفیض ہونے کے شرف سے محروم رہ جانے والی انسانیت امت مدعو ہے۔محرم الحرام کے دوران وطن عزیز کے چھوٹے اور بڑے شہروں میں شہید کربلا امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی عہد ساز قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے ۔ان خصوصی تقاریب کا اہتمام ہماری قدیمی روایت ہے ۔مساجد میں خصوصی محافل ذکر اور مجالس مواعظ کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔امام بارگاہوں میں ذاکر اور خطیب آپ عالی مقام اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے اتحاد بین المسلمین پر زور دیتے ہیں ۔اکیسویں صدی کے اس عشرہ میں امت مسلمہ اور عالم اسلام ابتلاؤں اور آزمائشوں کے دوراہے پر کھڑی ہے ۔ابتلاؤں اور آزمائشوں کا مقابلہ زندہ اقوام نے ہمیشہ اتحاد و اتفاق سے کیا ۔انتشارو افتراق تو ایک ایسی مہلک وبا ہے کہ جو بھی اس کی زد میں آتا ہے فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے ۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں محض مسلکی ،فقہی ،جزئی،فروعی اور شخصی دکانداریوں کو چمکانے کیلئے علمائے کرام اور مشائخ عظام کے لبادے میں بعض عناصر معاشرے اور مملکت کو انتشارو افتراق کے شعلوں میں جھونکنے کے مذموم عمل میں مصروف ہوتے ہیں ۔اسلام کسی بھی شخص کو اس امر کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ پیش پا افتادہ مفادات کے حصول کیلئے منافرت پھیلا کر اتحاد امہ کے دامن کو پارہ پارہ کرے ۔حضرت امام حسینؓ ،ان کے اہلبیت اور صحابہ کی عظیم قربانیاں پیروان اسلام کو وحدت اور اتحاد کا درس دیتی ہیں ۔نئے اسلامی سال کے آغاز پر اس امر کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ قومی یکجہتی کو فروغ دینے کیلئے ہمہ جہتی ہم آہنگی پیدا کی جائے ۔ ماہ محرم الحرام کا پہلا عشرہ امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے نہایت اہمیت اور حساسیت کا حامل ہوتا ہے۔اس موقع پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بھرپور انتظامات کئے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی سطح پر کوئی ناخوشگوار واقعہ جنم نہ لے سکے ۔
(باقی:سامنے والے صفحہ پر)

وزیراعظم کا دورہ کراچی

adaria

وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں فنڈ ریزنگ تقریب، اجلاس اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کی ترقی کیلئے سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کام کرینگے، وفاقی حکومت امن و امان کے قیام میں صوبائی حکومت کی ہرممکن مدد کرے گی، تبدیلی اوپر سے نیچے آتی ہے، ہم تبدیل ہونگے تو عوام میں بھی تبدیلی آئے گی، انہوں نے کہاکہ اس وقت حکومت کوکئی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن جلد بہتری آئے گی، امن و امان اولین ترجیح ہے، ڈیم کیلئے فنڈنگ نہ رکی تو 5سال میں ڈیم بن جائے گا، انہوں نے کراچی میں پیدا ہونے والے افغانیوں اور بنگالیوں کوشہریت دینے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ سیاسی حکومتوں نے ڈیم بنانے پر توجہ نہ دی جس سے 80فیصد پانی ضائع ہو جاتا ہے، ڈیم بنیں گے تو قرض اترے گا، امن کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، عوام کا تعاون نہ ہوتو حکومت کچھ نہیں کرسکتی، کراچی کی روشنیاں واپس لائیں گے۔ وزیراعظم نے کراچی کیلئے نیا ماسٹر پلان بنانے کا اعلان بھی کیا۔ وزیراعظم کا دورہ کراچی بڑی اہمیت کا حامل قرار پایا ۔ وزیراعظم نے مزار قائد پر فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کا گلدستہ بھی رکھا جس کے بعد وہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اور سابق وزیراعظم لیاقت علی خان کی قبروں پر بھی گئے اور فاتحہ خوانی کی۔وزیراعظم عمران خان اپنے دورے کے دوران روایت کے برعکس تمام اجلاسوں کی صدارت گورنر ہاؤس کے بجائے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سب کو پتا تھا کہ ڈیمز بنانا کتنا ضروری ہے، سیاسی لوگ پانچ سال کیلئے آتے ہیں، کسی نے نہیں سوچا کہ ایک دن پانی کی کمی ہوگی۔توانائی کے حصول کیلئے کسی نے ماضی میں نہیں سوچا، 2025 تک اسی طرح چلتے رہے تو پانی کی بہت قلت ہوگی۔ بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ میں سب بڑا قرضہ چڑھا ہوا ہے، جن پر ایک دن کا 6 ارب روپے سود ادا کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صرف دو بڑے ڈیم ہیں، اس کے مقابلے میں چین میں 84 ہزار ڈیم ہیں۔انہوں نے اپیل کی کہ تمام پاکستانی اپنی حیثیت کے مطابق ڈیم فنڈ میں شریک ہوں جبکہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دیامیر بھاشا کے ساتھ ساتھ مہمند ڈیم پر بھی کام کریں گے۔کراچی کنکریٹ کا جنگل بن گیا ہے، یہاں درجہ حرارت بڑھتا جائے گا، ہم گرین کراچی پروگرام بھی شروع کریں گے۔ویسٹ ڈسپوزل کراچی کا بڑا مسئلہ ہے اس پر کام کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے کورنگی صنعتی ایریا میں سیوریج پانی کا ری سائیکلنگ پلانٹ لگانے کا بھی اعلان کیا۔دو ماہ کے اندر کراچی میں کچرا اٹھانے کا نظام بہتر نہ ہوا تو صوبائی حکومت کی مدد کا پلان بنائیں گے۔ جب تک کراچی کھڑا نہیں ہوگا، ملک آگے نہیں بڑھے گا۔ ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے بعد کراچی کا اسٹریٹ کرائم بڑھا ہے، وجہ محرومی کے شکار لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہے۔بنگالیوں اور افغانیوں کے پاکستان میں پیدا ہونے والے بچوں کو شناختی کارڈ دلوائیں گے۔حکومت سندھ کو انٹیلی جنس شیئرنگ سمیت ہرقسم کی مدد فراہم کی جائے گی۔ کراچی کے حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں سے شہر کا امن بحال ہوا۔انہوں نے کہا کہ امن و امان کا قیام حکومت کا اولین ایجنڈا ہے اور کراچی میں امن وامان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔امن واستحکام کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں اور کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے۔وفاقی حکومت امن وامان بحال رکھنے کیلئے صوبوں کی بھرپور مدد کرے گی۔ کراچی میں قیام امن کے لیے رینجرز اور پولیس کے کردار کو سراہتے ہیں۔سیف سٹی منصوبہ کراچی کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کراچی میں پانی کے کمی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پانی کے مشترکہ منصوبوں پر کام کریں۔وزیراعظم نے کراچی کیلئے جس ماسٹر پلان بنانے کا اعلان کیا اس کے دوررس نتائج برآمد ہونگے اس پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، وزیراعظم کا یہ کہنا بے کم و کاست ہے کہ امن کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، حکومت کو اس ضمن میں اقدامات بروئے کار لانے ہونگے۔ حکومت کا یہ فرض قرارپاتا ہے کہ وہ درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے موثر پالیسیاں اور اقدامات کرے۔ حکومت سے عوام کو بہت سی توقعات ہیں ان پر پورا اترنا ضروری ہے۔

نجی ہسپتالوں میں مہنگے علاج پر اظہار برہمی
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نجی ہسپتالوں میں مہنگے علاج، پارکنگ کی عدم دستیابی اور عمارتوں کیخلاف غیرقانونی تعمیر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام چوروں کو پکڑنے کا وقت آچکا ہے ، سب کو پکڑیں گے، خلاف قانون بننے والے نجی ہسپتال گرا دئیے جائیں، سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے لاہور رجسٹری میں ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے سیکرٹری ماحولیات کو تمام نجی ہسپتالوں کی چیکنگ کرکے15 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس کا یہ اقدام عوام کی امنگوں کا ترجمان ہے، نجی ہسپتال غریبوں کے علاج کے دسترس سے باہر ہے، چیف جسٹس کا یہ اقدام اس امر کا آئینہ دار ہے کہ خلاف قانون بننے والے نجی ہسپتال گرا دئیے جائیں گے، ہسپتال لوگوں کے علاج معالجے کیلئے ہوا کرتے ہیں اور ڈاکٹر مسیحا کا کردارادا کرتے ہیں لیکن دیکھا گیا ہے کہ ڈاکٹر مسیحائی کے کردار کے بجائے قصاب کا روپ دھارے غریب لوگوں کو لوٹ رہے ہیں، چیف جسٹس نے نجی ہسپتالوں کے معاملات کا نوٹس لے کر لوگوں کے دل جیت لئے ہیں قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہر ادنیٰ اور اعلیٰ پر اس کا اطلاق ہوتا ہے، سابقہ حکومت نے اس طرف کوئی توجہ نہ دی جس سے کئی نجی ہسپتال غیر قانونی طورپر تعمیر ہوئے اور مہنگا ترین علاج کیا جارہا ہے،سستے علاج کو یقینی بنانے کیلئے چیف جسٹس نے جو قدم اٹھایا ہے اس کے دوررس نتائج برآمد ہونگے، چیف جسٹس ایک طرف منرل واٹر کمپنیوں کوقانونی دائرے میں لارہے ہیں تو دوسری طرف سکولوں میں منشیات فروشی کی روک تھام کیلئے کوشاں ہیں، چیف جسٹس سماجی انصاف کی فراہمی اور عوام کی فلاح و بہبود اور ان مسائل کے حل کیلئے جس طرح کوشاں ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ آزاد و خودمختار عدلیہ کے اقدامات لائق ستائش ہیں۔
خوشحال ایکسپریس کو حادثہ
خوشحال خان خٹک ایکسپریس ٹرین اٹک اور میانوالی کے درمیان مسان برج اور مکھڈ اسٹیشن کے قریب پٹڑی سے اتر گئی جس کے نتیجے میں 20مسافر زخمی ہوگئے ، یہ ٹرین کراچی سے براستہ اٹک اور میانوالی پشاور کیلئے جارہی تھی کہ راستے میں حادثے کا شکار ہوگئی، جس سے ٹرینوں کی آمدورفت رک گئی ریلوے حکام اور ریسکیو1122 نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ یہ ٹرین مہر ایکسپریس، میانوالی ایکسپریس اور خوشحال ایکسپریس کیلئے بند ہے جس سے ہزاروں مسافروں کو شدیدسفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،ٹریک کی بحالی کو یقینی بنایا جائے اور اس حادثے کی فوری تحقیقات کی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کا حادثہ پیش نہ آئے ، ٹریک پر فوری کام کیا جائے اور اس کو ایکسپریس گاڑیوں کے تقاضوں کے مطابق بنایا جائے تاکہ حادثات سے بچا جاسکے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی درندگی و سفاکی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی مظالم کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے۔ قابض فوج کی جانب سے سرچ آپریشن کے دوران آئے روز بے گناہ کشمیریوں کو گولیاں مار کر شہید کیا جارہا ہے۔بھارتی فورسز نے گزشتہ روز بھی مقبوضہ کشمیر کے ضلع کلگام میں سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کرکے مزید 6 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ شہید نوجوانوں کو گرفتار کرکے پہلے ان پر بہیمانہ تشدد کیا گیا اور پھر عسکریت پسند قرار دے کر ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔شہید نوجوانوں کی شناخت گلزار احمد، فیصل احمد راٹھور، زاہد احمد میر، مسرور احمد مولوی، ظہور احمد لون اور رؤف احمد کے نام سے ہوئی۔ قابض فوج نے جمعرات کو بھی 8 کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا تھا جس کے نتیجے میں تین روز میں شہدا کی تعداد 14 ہوگئی ہے۔

کٹھ پتلی انتظامیہ نے بے گناہ نوجوانوں کی شہادت کے خلاف لوگوں کو احتجاج سے روکنے کے لیے روایتی ہتھکنڈے اپناتے ہوئے وادی میں نہ صرف انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل کردی بلکہ ٹرینیں بھی منسوخ کردیں۔ قابض بھارتی فوج نے سرچ آپریشن میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کااستعمال بھی کیا ۔
حریت قائدین علی گیلانی، میرواعظ ڈاکٹر محمد عمر فاروق اور محمد یاسین نے مزاحمتی تحریک سے وابستہ جملہ اسیران زندان کو ریاست اور ریاست سے باہر جیل خانوں میں طبی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کے علاوہ انہیں جسمانی تشدد ، تعصب ، نفرت اور بدترین قسم کی سیاسی انتقام گیری کا شکار بنائے جانے کے نتیجے میں ان کی عزیز جانوں کو خطرہ لاحق ہونے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کو گرفتار کر کے اپنے اہل و عیال، والدین اور بچوں سے علیحدہ کر کے جیل کی آہنی سلاخوں کے پیچھے مقید رکھنا کیا کم سزا ہے کہ اسے جسمانی تشدد، گالی گلوچ، تعصب، نفرت کے علاوہ تسلیم شدہ جیل مینول کو روندتے ہوئے طبی سہولیات اور دیگر غذائی اجناس جیسی بنیادی ضروریات سے محروم رکھتے ہوئے اس کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جائے۔

مقبوضہ کشمیر میں اگست کے ماہ میں بھارتی فوج کے شدید ظلم و جبر کے نتیجے میں خاتون سمیت 34 افراد جاں بحق ہوئے۔ جاں بحق ہونے والے افراد میں سے 2 کو جعلی انکاؤنٹر میں ہلاک کیا گیا۔گزشتہ ماہ قابض فوج، پیرا ملٹری اور پولیس کی جانب سے پرامن مظاہرین پر فائرنگ، پیلٹ گنز کے استعمال اور آنسو گیس کی شیلنگ سے 483 افراد شدید زخمی بھی ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گھروں پر چھاپے مارنے اور کریک ڈاؤن آپریشنز کے دوران 196 حریت رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا۔بھارتی فوج نے گزشتہ ایک ماہ میں سرچ آپریشنز کے دوران 140 گھروں کو تباہ یا نقصان پہنچایا، جبکہ 5 خواتین کی عزت کو پامال کیا گیا۔کشمیر میں جاری اس تشدد میں گزشتہ دہائی میں تیزی سے کمی آئی تھی لیکن گزشتہ سال بھارتی فوج کے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن آل آؤٹ کے نتیجے میں 350 اموات ہوئیں اور وادی میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا۔
بھارتی حکومت اپنی ناکامیوں اور نااہلیوں کو چھپا کر پاکستان پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ کشمیری حریت پسندوں کی تربیت کر کے اور انہیں مسلح کر کے مقبوضہ کشمیر میں بھیجتا ہے۔ تاہم پاکستان کی جانب سے اس الزام کی تردید کی جاتی ہے۔ عالمی طاقتیں ، اقوام متحدہ اور او آئی سی بھارتی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کرے تاہم بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان کے خلاف اور زیادہ طاقت کا استعمال کرے گی کیونکہ یہ پاکستانی حمایت یافتہ عسکریت پسند ہیں۔ یوں بھارتی حکومت کے دعووں کے برعکس تقریباً تمام کشمیری علیحدگی پسندوں کے مقصد کی حمایت کرتے ہیں اور وہ اس خطے میں بھارتی اقتدار اور وہاں جاری فوجی آپریشن کے خلاف احتجاج میں شریک ہوتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی میں بھارتی فوج اور پولیس کے مظالم اور غلامانہ سلوک کے بعد اب عام کشمیری بھی مجاہدین کے حامی بن رہے ہیں۔ وہ مجاہدین کو صرف پناہ ہی نہیں دیتے بلکہ ضرورت پڑنے پہ انہیں بھارتی فوجیوں سے بچاتے بھی ہیں۔ کچھ عرصہ سے یہ منظر بھی دیکھنے میںآئے ہیں کہ بھارتی فوج کسی جگہ مجاہد کو گرفتار کر نے جائے‘ تو وہاں مرد، عورتیں، بچے غرض پورا گاؤں انھیں دیکھ کر اکٹھا ہو جاتا ہے۔ گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے اور بھارتی فوجیوں پر بلا خوف و خطر زبردست سنگ باری کی جاتی ہے یہاں تک کہ فوجی بزدلوں کی طرح دم دبا کر بھاگنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔
ابھی کچھ عرصہ قبل ہی کی بات ہے کہ کشمیری والدین کی اکثریت خصوصاً اپنے نوجوان بیٹوں کو مسلح جدوجہد آزادی کرنے سے روکتی تھی۔انہیں بھارتی مظالم سے بچاتی تھی۔ مگر آج کشمیری خاندان اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ان کے بہادر سپوت بے وسیلہ ہوتے ہوئے بھی طاقتور دشمن سے نبردآزما ہیں۔اب منظر یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی مجاہد بھارتی غاصبوں سے دوبدو لڑتا شہید ہو‘ تو اس کے جنازے پر پورا علاقہ امڈ آتا ہے۔اس موقع پر ’’ہمیں آزادی چاہیے‘‘’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے فلک شگاف نعرے اور پاک پرچم میں لپٹا شہید بھارتی حکمرانوں کا دل دہلا دیتے ہیں۔ اب ہزار ہا خاندان آزادی کی خاطر ہر قسم کی مصیبت و پریشانی جھیلنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ تبدیلی ایسے ہی نہیں آئی اس کے پس منظر میں ہزاروں نوجوانوں کی قربانیاں ہیں۔ دور حاضر میں اس تبدیلی کی بہترین مثال مظفر احمد وانی ہیں۔
بھارتی فوجیں آئے دن معصوم کشمیری نوجوانوں کو پکڑ کر اذیت خانوں میں پہنچا کر غیر انسانی سلوک کر رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ ایسے ہتھکنڈوں سے کشمیر کی تحریک کبھی کمزور نہیں ہو سکتی۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کا فرض ہے کہ وہ یہاں اپنا رول نبھائیں اور اقوام عالم کے اداروں میں بھارت کو ننگا کریں۔ ہزاروں بے گناہ کشمیری ہندوستان کی مختلف جیلوں میں شدید بیماریوں کا شکار برسوں سے بند پڑے ہیں، جو انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ کشمیری قوم نے آج تک ایک لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ قربانیاں کنٹرول لائن کو بین الاقوامی سرحد میں تبدیل کرنے کیلئے نہیں دی گئیں بلکہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی پاس شدہ اور تسلیم شدہ قراردادوں کے تحت حل کرنے کیلئے دی گئیں۔ مسئلہ کشمیر کوئی سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ جس کے ساتھ برصغیر کا امن جڑا ہوا ہے۔ جب تک اس مسئلہ کو حل نہ کیا جائے تب تک برصغیر میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
****

تعمیرِ ڈیم: آصف علی زرداری ، خورشید شاہ اور جمہوریت

rana-biqi

پاکستان میں پانی کی کمی اور حکمرنوں کی جانب سے ملک میں ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے کی جانے والی کوتاہی کے برخلاف گزشتہ ایک عشرے میں بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جس تیزی سے مقبوضہ کشمیر کی سرزمین سے پاکستان میں داخل ہونے والے دریاؤں پر درجنوں ڈیم بنا کر اور کچھ دریاؤں کا رُخ بھارت کی جانب موڑنیکا قصد کیا ہے لیکن صد افسوس کہ گزشتہ عشرے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں نے پاکستان میں کم ہوتی ہوئی پانی کی خبر گیری کرنے میں انتہائی کوتاہی کا ثبوت دیا جس کا منفی اثر نہری پانی سے کاشت ہونے والی زمینوں پر بھی دیکھنے میں آیاجبکہ ملکی معیشت کو بظاہر بیرونی و گردشی قرضوں کی بھرمار کرکے تباہی کے گہرے غار میں دھکیل دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ پاکستان میں تیزی سے کم ہوتے ہوئے پانی کے ذخائر کی صورتحال پر جب درد دل محسوس کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان محترم میاں ثاقب نثار نے خلوص دل سے تعمیرء ڈیم کی فکر سے کمر باندھی ہے تو ملکی فکر و نظر سے عاری کچھ سیاست دانوں نے اپنے گریبانوں کو ٹٹولنے اور اچھائی کی آواز پر لبیک کہنے کے بجائے عوام کو گمراہ کرنے کیلئے نِت نئے سیاسی شوشے چھوڑنا بھی شروع کر دئیے ہیں۔ چنانچہ عالمی یوم جمہوریت کے بین الاقوامی دن کے موقع پر جناب آصف علی زرداری اور اُن کے خصوصی نمائندے سید خورشید شاہ کو بھی جمہوریت اور آئین کی یاد آگئی ہے ۔ سید خورشید شاہ کی شخصیت سندھ کے عوام سے پوشیدہ نہیں ہے سیاست میں اُن کا نام 1988 میں سامنے آتا ہے جب وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی سندھ کے ممبر بنے اور پھر چل سو چل ترقی پا کر قومی اسمبلی اور وزارتوں تک اُن نام شہرت کی منزلیں طے کرتا گیا۔ اُن کا نام ایسے ہی باکمال افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے وہ سب کچھ پا لیا جو کسی اور صاحب ادراک دانشور کیلئے تمام زندگی کی مشقت سے بھی ممکن نہیں ہوتا۔

حقیقت یہی ہے کہ جناب چیف جسٹس کی ڈیم بنانے کی کاوش پر جب قوم نے دامے درمے سخنے دلی سپورٹ سے چیف جسٹس کی مخلصانہ فکر کو نوازنا شروع کیا تو کچھ سیاسی رہنماؤں نے اپنے کوتاہیوں کی تلافی کرنے کے بجائے جناب چیف جسٹس کو ہی غیرمعمولی تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ۔ ایک جانب تو طلبا و طالبات ، قومی دانشور ، اساتذہ کرام ، ڈاکٹرز ، پروفیسرز ، شعرا کرام ، ادیب ، لکھاری ، تاجر ، سرکاری ملازمین اور فوج کے جوان ، افسر اور دردمند دل رکھنے والے عوام ہیں جنہوں نے جناب چیف جسٹس کی اچھائی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اربوں روپے ڈیم کی تعمیر کیلئے نچھاور کر دئیے ہیں اور دوسری جانب کچھ کوتاہ اندیش سیاست دان ہیں جو بیرونی ڈش انفارمیشن پر ڈیم کی تعمیر کے خلاف پیش پیش ہیں۔ یہ اَمر بہرحال قابل ستائش ہے کہ جناب چیف جسٹس کی کاوش پر ملک میں سیاسی تبدیلی لانے کے علمبردار موجودہ وزیراعظم عمران خان نے حالیہ کیبنٹ میٹینگ میں جناب چیف جسٹس کی فکر سے قدم ملاتے ہوئے نہ صرف چیف جسٹس کو اِس قومی خدمت پر خراج تحسین پیش کیا بلکہ وزیراعظم ڈیم فنڈ کو بھی چیف جسٹس ڈیم فنڈ سے منسلک کر دیا۔
حیرت کی بات ہے کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو جو مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے پیش پیش تھے اور جن کے دور حکومت میں بھارت کو کشمیر سے پاکستان آنے والے دریاؤں پر ڈیم بنانے کی کبھی جراٗت نہیں ہوئی تھی کی نام لیوا جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ نے نہ صرف چیف جسٹس ڈیم فنڈ کی شدید مخالفت کی بلکہ سیاسی موشگافیوں کو استعمال کرتے ہوئے چیف جسٹس کو کہا گیا کہ وہ اپنے ادارے کو ڈیم بنانے کیلئے استعمال کرنے کے بجائے عدلیہ کی سیاسی جماعت بنائیں۔ چنانچہ جناب وزیراعظم عمران خان کی کیبنٹ نے اِن سیاسی موشگافیوں کا بروقت جواب دیتے ہوئے جناب چیف جسٹس کی کاوش کی حوصلہ افزائی کی اور وزیراعظم ڈیم فنڈ کو بھی چیف جسٹس ڈیم فنڈ سے منسلک کرنے کا اعلان کیا تو جوابی طور پر جناب آصف علی زرداری بھی میدان عمل میں کود پڑے اور اُنہیں وہ آئینی حدود یاد آگئیں جن سے وہ زندگی پھر پہلو تہی کرتے رہے۔ اُنہوں نے بظاہر سید خورشید شاہ کی حمایت میں انٹرنیشنل ڈیموکریسی ڈے پر اپنے بیان میں گزشتہ دنوں یہ فرمانے سے بھی گریز نہیں کیا کہ پاکستان کے تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں۔
اگر ماضی کے سیاسی جھروکوں سے دیکھا جائے تو جناب زرداری نے اپنی صدارت میں سوئس کورٹ کرپشن و منی لانڈرننگ کیس کو ٹائم بارڈ کرانے کیلئے اپنے وزیراعظم کو سپریم کورٹ کے آئینی و قانونی فیصلے پر عملدرامد نہیں کرنے دیا جس کے نتیجے میں وزیراعظم اپنے عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ سوئس کیس کے ٹائم بارڈ ہونے پر جناب زرداری نے اپنے ذاتی دوست واجد شمس الحسن جنہیں برطانیہ میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا تھا کے ذریعے تمام دستاویزات سوئس کورٹ سے حاصل کرکے غائب کردی جن کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جناب زرداری جو 35 ارب روپے کے حالیہ جعلی اکاؤنٹس منی لانڈرننگ کیس میں ایف آئی اے کو مطلوب ہیں نے سوئس کیس ٹائم بارڈ ہونے پر اپنے حالیہ بیان حلفی میں سپریم کورٹ کو مطلع کیا تھا کہ اُن کی بیرون ملک کوئی پراپرٹی نہیں ہے جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا ہے۔بظاہر بیرون ملک پراپرٹی کے حوالے سے جناب زرداری کے خلاف کوئی دستاویز اب ریکارڈ سے غائب ہیں لیکن بیرونی ممالک میں جنوبی ایشیا کی جمہوریتوں میں کرپشن اور منی لانڈرننگ سے متعلقہ معلومات کا تذکرہ بہرحال اہم بیرونی مصنفوں کی کتابوں میں سوئس کورٹ کے جج ، محترمہ بے نظیر بھٹو کے قلم بند کئے گئے بیان کے علاوہ سرے محل کیس جج کی بیان کردہ تفصیلات بہرحال موجود ہیں۔اِن کتابوں میں بیش قیمت ہیروں کے نیکلس کی لندن میں خریداری کے علاوہ لاکھوں ڈالر کی بیورے ہلز میں زرداری صاحب کی خریداری کی تفصیلات بھی موجود ہیں ۔ اندریں حالات قومی کام پر تنقید کرنے کے بجائے جناب زرداری اور سید خورشید شاہ کو بلند بانگ دعوے کرنے کے بجائے اپنے گریبانوں کو ضرور ٹٹول کر دیکھنا چاہیے بقول شاعر …….. ؂
کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت
جس کا جتنا ظرف ہے اُتنا ہی وہ خاموش ہے
جب سیاسی رہنما کرپشن اور بدعنوانی کے مقدمات میں پھنس جاتے ہیں تو اُنہیں جموری نظام زندگی کی یاد ستانے لگتی ہے۔ جمہوریت نام ہے قانون کی حکمرانی کا چاہے وہ براہ راست عوامی حکومت ہو یا منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت کی جائے۔ ایک سابق مشہور امریکی صدر ابراھم لنکن کی آسان تشریح کیمطابق جمہوریت نام ہے : Government of the people, by the people, for the people. ۔ بیشتر سیاسی دانشور اِسے آئین و قانون کیمطابق عوام کے براہ راست راج یا اکثریتی راج سے تشبیہ دیتے ہیں جسے عوام کی شمولیت سے فیئر و فری الیکشن کے ذریعے چنا جائے اور جس میں عوام الناس اور اقلیتوں کے آئینی حقوق کا بخوبی تحفظ کیا جائے۔ البتہ دنیا بھر میں سیاسی دانشوروں کو جمہوری نظام میں پھیلتی ہوئی کرپشن ، بدعنوانی اور اقربہ پروری نے ہلا کر کھ دیا ہے۔ بیشتر سیاسی دانشور جمہوری نظام میں در آنے والی اِن بیماریوں کو سیاسی کینسر یا رِستے ہوئے ناسور سے تعبیر کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں چنانچہ آج کی دنیا میں متعدد سیاسی تھنک ٹینکس، کرپشن و احتساب اور جمہوری گوڈ گورننس کے حوالے سے تحقیقی عمل میں مصروف ہیں تاکہ امانت ، دیانت اور عوامی مفادات کے اصولوں سے ہٹ کر جمہوری نظام میں داخل ہونے والی حکمرانوں کی ذاتی مفادات سے اُلجھی ہوئی اِن سیاسی بدعتوں سے جمہوریت کو محفوظ بنایا جاسکے۔ جدید تحقیق کیمطابق تیسری دنیا کے ملکوں میں حکمرانوں نے اجتماعی تجارتی حلقوں اور بیوروکریسی میں مافیائی نظام کو فوقیت دیتے ہوئے نہ صرف حکمرانوں کے ذاتی مفادات کو تحفظ دینے کی کوشش کی ہے بلکہ اِس مافیائی نظام کے سبب عوام کو ناقابل برداشت نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ چنانچہ جب حکمران اجتمائی مفاد کو چھوڑ کر محض ذاتی مفادات کے تابع دولت کی حصول کو ہی مقصد حیات بنا لیتے ہیں اور قومی دولت کو منی لانڈرننگ و آف شور کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک منتقل کر دیتے ہیں تو پھر اِس کی مثال کسی بھی ملک میں غربت و افلاس میں غیر معمولی اضافے اور مقابلتاً حکمرانوں کے سیاسی حاشیہ برداروں اور ذاتی مفادات کا تحفظ کرنے والی بیوروکریسی میں دولت اور شہرت کی ریل پیل میں نظر آتی ہے۔ متوسط طبقے یا عام لوگوں کی اکثریت جو کچھ اپنی زندگی بھر کی محنت و جفاکشی کے باوجود نہیں کما پاتی ہے اُن کے دیکھتے ہی دیکھتے حکمرانوں کے سیاسی حاشیہ بردار اور محبوب بیوروکریسی کے افراد محلوں ، پلازوں اور ملوں کے مالک بن جاتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ گزشتہ مافیائی حکومتوں کی کرپشن، منی لانڈرننگ اور آف شور کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک چھپائی جانے والی دولت کے باعث پاکستانی عوام ملکی تباہی پر حد درجے مضطرب ہیں کہ اِس دولت کو پاکستان واپس لایا جائے تاکہ نہ صرف ملک کی ڈولتی ہوئی معیشت کو سہارا ملے بلکہ غربت و افلاس کی ماری عوام کے مسائل کا بھی بخوبی تدارک کیا جاسکے۔
*****

Google Analytics Alternative