کالم

صاف و شفاف احتساب وقت کی ضرورت

adaria

قومی احتساب بیورو نے پنجاب حکومت اور افسران کی ہڑتال دھمکی اور احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کرپشن کیخلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور نیب انتہائی نا مساعد حالات کے باوجود اپنا کام قانون، میرٹ، شفافیت اور انصاف کے مروجہ اصولوں کے مطابق کرتا رہے گا، نیب کسی قسم کی دھمکی، سرزنش، احتجاج یا تنبیہ کو اپنے قانونی کام کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دے گا۔ احد چیمہ کی گرفتاری قانون کے مطابق کی گئی اور اس ضمن میں نیب کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں، ریمانڈ کے اختتام پر صورتحال کی مزید وضاحت معزز احتساب عدالت میں رپورٹ کی صورت میں پیش کی جائے گی، زیب داستان کیلئے کوئی کچھ بھی کہے اس کا جواب معاملہ کے عدالت میں زیر سماعت ہونے کی وجہ سے نہیں دیا جائے گا تاہم نیب اس بات کی مکمل یقین دہانی کرواتا ہے کہ کسی بھی امتیازی سلوک کا کوئی احتمال نہیں نہ ہی کبھی ایسا ہوا ہے اور نہ وہ گا، نیب کا سیاست یا کسی سیاسی جماعت یا گروپ سے کوئی تعلق نہیں، نیب کی پہلی اور آخری وابستگی صرف اور صرف پاکستان، آئین پاکستان اور پاکستان کے عوام سے ہے، نیب لاہور میں رینجرز کی تعیناتی احد چیمہ کی حفاظت اور متعلقہ ریکارڈ کے تحفظ کیلئے ضروری ہے۔لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ کی گرفتاری کے بعد پنجاب حکومت اور قومی احتساب بیورو (نیب) میں تناؤ کے تناظر میں نیب لاہور آفس کی سیکیورٹی اور حفاظت کیلئے رینجرز کی ایک اضافی کمپنی تعینات کردی گئی۔رینجرز کی اضافی کمپنی چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی درخواست پر تعینات کی گئی ہے۔کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے اور نیب آفس کی حفاظت کیلئے رینجرز کی اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔ قومی احتساب بیورو ( لاہور) نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ پراجیکٹ کرپشن کیس میں کارروائی کرتے ہوئے بسم اللہ انجینئرنگ سروسز کے پارٹنر ملزم شاہد شفیق عالم کوگرفتار کر لیا ۔نیب ترجمان کے مطابق ملزم کو پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی انکوائری میں تفتیش کے دوران گرفتار کیا گیا،ملزم شاہد شفیق کی ملکیتی بسم اللہ انجینئرنگ سروسز، پیراگون سٹی کی سی 4 کیٹیگری کی ذیلی کمپنی ہے،پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی سے 20جنوری 2015کو معاہدہ کیا گیا جس میں 16ہزار غریب شہریوں نے آشیانہ اقبال کیلئے 61کروڑ روپے جمع کروائے،تین سال گزرجانے کے باوجود منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، کاسا کمپنی تین کمپنیوں بسم اللہ انجینئرنگ سروسز، سپارکو اور چائنہ فرسٹ گروپ کا جوائنٹ ونچر ہے،قانونی طور پر کمپنیوں کو 15 کروڑ روپے سے زائد رقم کا معاہدہ دیا جانا غیر قانونی ہے،جعلی کاغذات کے ذریعے میسرز ایم ایس سپارکو،بسم اللہ کنسٹرکشن اور میسرز چائنہ فرسٹ نامی کمپنی کو جوائنٹ ونچر کے طور پر پیش کیا گیا۔کمپنیوں کی نااہلی کی وجہ سے حکومت کو 1000 ملین سے زائد رقم کا نقصان اٹھانا پڑا۔ بسم اللہ انجینئرنگ سروسز پیراگون سٹی کی ملکیت ہے۔ملزم کو الزامات کے دفاع کا باقاعدہ موقع فراہم کیا گیا تھا۔شاہد شفیق نے ایل ڈی اے اہلکاروں کی ملی بھگت سے 14 ارب مالیت کا کنٹریکٹ جعلی کاغذات کی مدد سے حاصل کیا۔ملزم کے ممکنہ روپوش یا ملک سے فرار ہونے کی اطلاع پر ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے ،شاہد شفیق کو احتساب عدالت کے روبرو پیش کر کے جسمانی ریمانڈ لیا جائے گا۔ نیب کے ہاتھوں بیورو کریٹ کی گرفتاری پر پنجاب کی بیورو کریسی نے جس طرح کا مظاہرہ کیا وہ کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے بلکہ وہ سول سروس میں خدمات انجام دینے والوں کیخلاف ہی ایک عمل قرار پاتا ہے، قائداعظم محمد علی جناحؒ نے 1948ء میں پشاور میں سرکاری افسروں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیوروکریسی ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، وزیراعظم اور وزیر آتے جاتے رہتے ہیں مگر آپ نے برقرار رہنا ہوتا ہے ، آپ کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، آپ کو ایک سیاسی پارٹی کی حمایت نہیں کرنی چاہیے ، سیاست کرنا آپ کا کام نہیں ہے، قائداعظم بیورو کریسی کو عوام اور قوم کا خادم قرار دیتے تھے، پنجاب بیوروکریسی نے جس طرح کا طرز اپنایا اس سے یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ نیب کو دباؤ میں لاکر کرپشن پر پردہ ڈالنا ہے لیکن نیب کے عزائم اس امر کا عکاس ہیں کہ وہ بلا امتیاز کرپشن کے مرتکب افراد کیخلاف کارروائی جاری رکھیں گے۔ اس وقت ملک میں کوئی ایسا ادارہ نہیں جو کرپشن زدہ نہ ہو ، کرپشن کا ناسور ہی ملک کی ترقی و خوشحالی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ پانامہ کیس کے بعد کرپشن کی صدائیں ہر سو پھیلتی دکھائی دے رہی ہیں ایک طرف عدالتیں کرپشن کیخلاف فیصلہ دے رہی ہیں تو دوسری طرف کرپشن کو چھپانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ پنجاب بیوروکریسی کا حالیہ رویہ درست نہیں ہے، اداروں کو آزادانہ طورپر کام کرنے دیا جائے تاکہ کرپشن کا خاتمہ ہو، اداروں سے کرپشن کی تطہیر کا عمل ہی ملک کی ترقی و خوشحالی کا باعث قرارپاسکتا ہے، قومی احتساب بیورو کو بلاامتیاز اپنی کارروائیاں جاری رکھنی چاہئیں کسی دباؤ دھمکی سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے یہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے ۔

اداروں سے ٹکراؤ جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں
سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے سرگودھا میں مسلم لیگ (ن) کے سوشل میڈیا ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ منصف بنیں حکمران نہ بنیں، نواز شریف کے خلاف کوئی کرپشن ہے تو ثابت کریں،ابھی پاکستان جسٹس منیر اور مولوی تمیز الدین کیس کو رو رہا ہے،نواز شریف عدلیہ کی بحالی کی تحریک چلائے تو ٹھیک ووٹ کی بحالی کیلئے عوام میں جائے تو غلط ہے ، سپریم کورٹ کے 17ججز میں سے 5جج نواز شریف کا مقدمہ سننے کیلئے بیٹھے ہیں، باقی لاکھوں مقدمات کا کیا بنے گا،نیب گواہوں کو پہلے سے تیار کرا رہا تھا وہ ہمارے حق میں گواہی دے کر چلے گئے نواز شریف کو پارٹی کی صدارت کیلئے کسی کی مہر کی ضرورت نہیں ، کبھی دیکھا کہ پوری جماعت کو الیکشن سے باہر کردیا ہو، صوبے کے تحت (ن) لیگ کو سینیٹ الیکشن سے باہر کیا گیا، ,یہ مذاق نواز شریف کے ساتھ نہیں ، عوام کے ساتھ ہوا، ڈاکا ووٹ کی پرچیوں پر ڈالا گیا، عوام پر اپنی رائے مسلط کرنا آمریت ہے ، آپکی عدالت میں پاکستان کا مقدمہ لائی ہوں، آپ کی جماعت کو سینیٹ الیکشن سے اٹھا کر باہر پھینک دیا،عدلیہ بحالی کی تحریک نواز شریف نے چلائی تھی ، انتقام نے مسلم لیگ ن کو اور بھی طاقتور کر دیا ہے۔ دوسری طرف عمران خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ احد چیمہ کی گرفتاری کے بعد ہڑتالیں اور پوسٹروں کی مہم شروع ہوگئی، احد چیمہ نہ ہوا نیلسن منڈیلا ہوگیا۔عمران خان نے دعویٰ کیا کہاحد چیمہ شہباز شریف کا فرنٹ مین ہے، یہ ایسا آدمی تھا جو اربوں کے منصوبے دیکھ رہا تھا۔اپنے کینسر اسپتال کی لاگت سے موازنہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ احد چیمہ پر 14ارب روپے کے آشیانہ ہاسنگ منصوبے میں گھپلوں کا الزام ہے جبکہ پشاور میں شوکت خاتم میموریل کینسر اسپتال 4 کروڑ میں بنا، حالانکہ ایک کینسر اسپتال کافی مہنگا ہوتا ہے۔ ان لوگوں نے چن کر اپنے خاص بیوروکریٹس اداروں میں بٹھائے ہوئے ہیں، جن میں فواد حسن فواد، آفتاب سلطان، قمر زمان چوہدری، زاہد سعید، سبطین فضل علیم اور دیگر شامل ہیں۔ اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی سے اجتناب کیا جائے کیونکہ اداروں سے تصادم ملک اور جمہوریت کیلئے نقصان دہ قرارپاسکتا ہے، عدالتی فیصلوں کا احترام ضروری ہے۔ مریم نواز اپنے بیانیے کو جس انداز میں پیش کررہی ہیں اس سے ان کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں ان کو چاہیے کہ قانونی میدان میں کیسوں کا دفاع کریں اور عدلیہ کو اس طرح تنقید کا نشانہ نہ بنائیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کا تاریخ ساز فیصلہ

ایک صاحب کی رائے ہے کہاں تک صحیح ہے؟ اْن کی یہ رائے ایک فرد کی نہیں کئی پاکستانیوں کی’سینکڑوں’ہزاروں’لاکھوں بلکہ یوں کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا کہ ملک کے کروڑں عوام کی رائے بھی یہی ہے کہ’لگتا ہےکہ ‘پاکستان پرکئی آسیب زدہ مہیب اور اَن دیکھی بلاؤں نے جیسے قبضہ کیا ہوا ہے’حکومت نام کی کوئی شہ کسی کوکہیں پر دکھائی نہیں دے رہی ہے’جدھر دیکھئے لا قانونیت بے قابوہوکرملکی معاشرے میں خود رْو پودوں کی مانند پھیلتی ہی چلی جارہی ہیں مثلاً پورے ملک کے ٹریفک کا نظام بے قابو’کوئی ایک شہرہی نہیں’بلکہ ملک کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں جدھرنگا ہ اْٹھائیں سڑکیں ٹوٹی ہوئیں’ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر کھلے گندے نالے’ڈھکنوں سے آزاد مین ہولز ‘ سڑکوں کے ساتھ ملحق گلیوں میں لائٹس نہیں’اِن گندے نالوں اور مین ہولز میں عام پاکستانیوں کے بچے آئے روز گرتے ہیں مر تے ہیں ‘آسیب زدہ عوامی نمائندے بے پرواہ ‘گندگیو ں کے ڈھیروں میں اضافہ پر اضافہ ہورہا ہے’جمہوریت کی فکر میں ذاتی منفعت کے نشے میں چور سیاسی اشرافیہ کواحساس تک نہیں ہورہا کہ ملک بھرمیں عوام کی پہنچ میں صحت کے اول تو کوئی بنیادی مراکز ہیں ہی نہیں’بلکہ اگرکہیں کوئی ایک صحت کا مرکز کہیں ہے بھی تو اْن مراکزمیں بنیادی سہولتیں تو رہیں کجا’ڈھنگ کے نہ کوئی معالج ہیں اورنہ ہی پیرا میڈیکل اسٹاف کہیں اپنی ڈیوٹی پرکوئی موجود پاجاتا ہے’اورتواور ملک کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں کی بات اگر کی جائے یعنی کراچی’ حیدرآباد ‘ لاڑکانہ سمیت اندروں سندھ بلکہ پنجاب کے اہم بڑے شہروں میں عام پاکستانیوں کوپینے کاصاف پانی تک سرے سے میسر ہی نہیں ہے’ملک بھرمیں تعلیمی سہولیات کا فقدان ایک الگ بہت بڑے سماجی ومعاشرتی بحران کی جانب اپنی توجہ کا مستحق ہے بنیادی اور ثانونی تعلیم اورذہنی فکری اور شعوری آگہی پر تو ایسا لگتا ہے یہ انسانی سہولت پاکستان میں صرف امراء طبقات کیلئے مختص کردی گئی ہیں جہاں تک ملک میں قانون کی بالادستی کی بات ہے تو اب ہر کوئی پاکستانی یہ کہتا دکھائی دے رہا ہے کہ عام ضلعی عدالتیں ہوں یا عدالتِ عالیہ یا عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے ہوں’وہ سبھی فیصلے طبقاتی سسٹم کے تابعِ فرمان ہونے لگے ہیں’جوجتنا بڑا’ڈنڈا بردار’ ہے اْس نے کئی مسلح جھتے بناکراپنے اپنے علاقوں کے پولیس نظام کو اپنے قبضہ میں کیا ہوا ہے’ملک میں چاہے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد ہی کیوں نہ ہو ‘ لینڈمافیاز‘ نے قانون کواپنے گھرکی لونڈی سمجھا ہوا ہے’ سنا تھا سیاستدان جو اگراپوزیشن میں ہوں وہ تنقیدی لب ولہجہ اختیار کریں تو یہ اْن کا حق ہے اپوزیشن حکومت بینچوں پر تنقید کرنے کیلئے ہی ہوتی ہے مگر فی زمانہ پاکستان کا عجب جمہوری سسٹم ہے؟ ایک جماعت کی خیبر پختونخواہ میں صوبائی حکومت ہے دوسری جماعت کی سندھ اور بلوچستان میں حکومت ہے جس میں نام نہاد قوم پرست لیڈر بھی برابر کے حصہ دار ہیں جبکہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب اور مرکز میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہے اور اُسی جماعت کے سابق سربراہ پر عدالتِ عظمیٰ میں چلنے والے کئی اہم مقدمات میں کرپشن اور اپنی ظاہر کردہ آمدنی سے زیادہ بہت ہی زیادہ پْرآسائش طرزِ زندگی گزارنے پر کوئی ٹھوس‘موثر ثبوت نہ پیش کرنے پر اْس سیاسی جماعت کے قائد کو ساری زندگی کیلئے ملک میں سیاسی عہدے کیلئے نااہل قرار دیدیا گیا ہے یہاں قابلِ فکر پہلو قوم کیلئے یہ ہے اور قوم پوچھنا چاہ رہی ہے کہ ساری زندگی کیلئے نااہل ہونے والے (کالعدم سیاسی شخصیت) کے پاس ایسی وہ کون سے زور آور جادو کی چھڑی ہے جو وہ نااہل شخص اب ملک کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلے کو کھلے دل کے ساتھ تسلیم نہ کرنے کی ایک بہت ہی بڑی غلطی کا مرتکب ہورہا ہے‘اْس کے پیچھے وہ کون سے ‘عالمی عوامل’ کارفرما ہیں جو ملک کی پارلیمنٹس میں بیٹھے ہوئے منتخب اراکین بھی سپریم کورٹ جیسے ہم آئینی ادارے کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے اب تک اپنے اْسی نااہل شخص یا نام نہاد قائد کے ترجمان بنے سپریم کورٹ کے فاضل بینچ کو سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میں پر ہدفِ تنقید بنانے میں سرکاری وسائل کو استعمال کررہے ہیں قوم کیا یہ سمجھ لے کہ قانون کی اب کوئی اہمیت وافادیت نہیں رہی؟ملک کی سیاسی اشرافیہ کوئی ایسی علیحدہ مخلوق ہے جو جتنی مرضی چاہے ملک کی دولت لوٹے اْسے روکنے ٹوکنے والا کوئی نہ ہوآج نہیں تو کل ‘سوسنار کی ایک ‘لوہار’ کی یہ وقت تو ہر صورت آنا ہی تھا اِس باراللہ تبارک وتعالیٰ نے پاکستان کے کروڑوں تنگ دست اور بنیادی انسانی ضروریات سے۔

مسلسل محروم عوام کی سن لی 70 ملک کی عدالتِ عالیہ اور عدالتِ عظمیٰ ‘ایکٹو’ ہوئی اور ملک میں جاری آئینی اتھارٹی کے اب تک ‘ خاموش نکات’ سمجھے جانے والے نکات کو قانونی اعتبار سے تابندگی بخشی گئی جنہیں عرفِ عام میں تشریحی لحاظ سے ملکی عوام سے پوشیدہ رکھا گیا تھا عوام سے 70 برس تک کیسا مذاق کیا جاتا رہا کبھی انتخابات کے نام پر کبھی جمہوریت کونام نہادلاحق خطرات کے نام پرکبھی’ملکی جمہوریت بچاؤ’ کے نام پرملکی جاگیرداروں’صنعت کاروں’بڑے ٹائیکون تاجروں’چند ایک حاضرسروس اورریٹائرڈ جرنیلوں اور بہت ہی مضبوط پشت پناہی کے حامل بیوروکریسی کے اعلیٰ ترین کل پْرزوں کے علاوہ عدلیہ کے اہم عہدوں پر فائز کچھ ججز نے بھی یا تو خود کرپشن کی’ملکی دولت کو بطور رشوت کے لوٹنے میں ایک دوسرے سے سبقت لیجاتے رہے ملکی ٹیکس نظام کا ستیاناس کیا آج بھی ٹیکس دہندگان کی فہرست اْٹھاکر کوئی خود دیکھ سکتا ہے اِس سلسلے میں قومی احتساب بیورو کے غالباً پہلے چیئرمین جنرل امجد کی مرتب کردہ رپورٹ دیکھی جاسکتی ہے جس میں حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے پوری زندگی کیلئے کسی سیاسی عہدے کیلئے نااہل ہونے والے میاں نواز شریف اور اْن کے علاوہ جس جس کسی ایک شخص نے بھی قومی دولت کو ‘مالِ مفت دلِ بے رحم’ جان کو اربوں کھربوں روپے پہلے بطور ‘قرض’ قومی بنکوں سے حاصل کیے بعد میں سیاسی اثرورسوخ کی بنا پر وہ قرضے معاف کرالیئے گئے ایسے پاکستان میں کتنے ہی اسکنڈلز پرنٹ میڈیا میں آچکے ہیں اور آجکل بھی عوامی بیٹھکوں میں زیر بحث ہیں ‘مجھے کیوں نکالا’ پانامہ کی بجائے اکامہ پر مجھے نکالا گیا’میں نے کوئی مالی بدعنوانی نہیں کی’کاش ملک میں علمی شعور کی آگاہی ہوتی ‘سیاسی اشرافیہ’ہو یا ‘نام نہاد مذہبی اشرافیہ’ کسی نے جمہوریت کے نام پر عوامی ٹیکسوں سے جمع کی ہوئی دولت کو بے دریغ لوٹا تو کسی نے نام نہاد مذہبی مدارس کے نام پرپاکستان کے مظلوم اور تنگ دست عوام کو جنت اور دوزخ کے خواب اور عذاب دکھا کر اْن کی خیرات’زکواۃ اور فطرات سے اپنے لئے خوب سے خوب تر آسائشیں کے محلات تعمیر کیئے کمی کسی نے نہیں چھوڑی’یہاں آخر میں یہ بات بڑی اہم تصور کی جائے کہ پاکستان میں رائج جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ملکی آئین جمہوریت کا محافظ ہے ملکی آئین کی تشریح سپریم کورٹ آف پاکستان ہی کرسکتا ہے ہاں مگر یہ بھی یاد رہے بطورِ خاص سپریم کورٹ آف پاکستان یہاں ایک لارجربینچ کویہ جائزہ بالا آخر لینا ہی پڑے گا کہ آئین بنانے’ آئینی ترامیم کرنے یا آئینی نکات کی جزئیات کیا کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ’بیرسٹرزاورنازک اور اہم قانونی گوشوں پر گہری بصیرت رکھنے والے کرسکتے ہیں یا ایف ایس سی کی معمولی تعلیم کے حامل نو دولیئے؟’ جو دولت وقوت حاصل کرنے کے بعد از خود یہ تصور کرلیتے ہیں کہ اب صف وہ ہی ملک کے اقتدارِ اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے کا حق رکھتے ہیں اور اِسی زعم کے بھی اسیر ہوجاتے ہیں کہ ملکی آئین اور قانون اْن کیلئے اب ایک کھلونہ ہے؟ جی ہاں جناب اِس آئینی حق کے تفویض کا آئینی فیصلہ کیا جانا اب ملک کے اندرونی اور بیرونی دسلامتی کیلئے بہت ضروری ہے۔

جمہوریت، مافیائی سیاست اور عدالت عظمیٰ (2)

rana-biqi

دریں اثنا، گزشتہ روز قومی احتساب بیورو نے مستند تحقیقات کے شواہد کیساتھ احتساب عدالت( نیب) میں نواز شریف فیملی کے خلاف دو ضمنی ریفرنس دائر کئے ہیں جن میں مبینہ طور پر نواز شریف کو براہ راست ملزم قرار دیتے ہوئے اُنہیں اپنی فیملی کے اثاثوں کا مالک قرار دیا گیا ہے جس سے وہ اب تک انکار کرتے رہے ہیں ۔نیب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نواز شریف کو تحقیق و تفتیش کیلئے نیب نے بلایا تھا تاکہ اگر اُن کے پاس اپنے دفاع کیلئے کچھ مواد ہے تو پیش کر سکیں لیکن وہ شامل تفتیش نہیں ہوئے۔دوسری جانب اُن کی صاحبزادی سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے وکلاء سے کئے گئے سوال و جواب کا سیاق و سباق سے جائزہ لئے بغیر کسی دلیل کے بغیر محض اپنی ہیکڑی جتانے کیلئے سپریم کورٹ کے خلاف بے معنی الزامات لگانے میں مصروف ہیں۔ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ہے اُسے جاننے کی اُنہیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔اُن کا اپنے حماتیوں کو اُکسانے کیلئے یہ کہنا کہ کبھی گاڈ فادر اور کبھی سسلین مافیا کبھی چور کبھی ڈاکو کہا جاتا ہے ، عوامی عدالت سے نواز شریف کے حق میں فیصلہ آتا ہے تو ججزسے نئی گالی سننے کو ملتی ہے ، ناقابل فہم ہے کیونکہ عدالتی کاروائی میں بحث کے دوران ملزم کے وکلا سے سوال و جواب کے ذریعے حقیقت تک پہنچنے کا شمار دنیا بھر میں ایک تسلیم شدہ عدالتی روایت کے طور پر کیا جاتا ہے جبکہ چیف جسٹس کی جانب سے یہ کہا جا چکا ہے کہ میڈیا عدالتی آبزرویشن کو سیاق و سباق سے ہٹ کر چلا دیتا ہے جبکہ عدالت کیلئے تمام سیاسی رہنما قابل احترام ہیں(جب تک کہ اُن کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہو جاتا)۔ دراصل جس قسم کا ردعمل میاں نواز شریف اور مریم نواز صفدر کی جانب سے آ رہا ہے اُس میں جمہوریت کے بجائے فاشزم کی روح جھلکتی نظر آتی ہے۔ جھوٹ اور سچ کی تفریق اور عزت و ذلت کے حوالے سے اسلامی فکر کو سورۃ 2 البقرہ آئیت 9/10/11 اور سورۃ 3 آل عمران آئیت 25/26 میں کے حوالے سے پہلے ہی بیان کردیا گیا ہے جس کے دھرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ یہاں حکمرانوں کی فکرِ جدید کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔

اگر دنیا کی تاریخ میں فاشزم کے عروج کا جائزہ لیا جائے تو یورپ میں نازی جرمنی اور موسولینی کے اٹلی میں اِس کا بخوبی جائزہ لیا جا سکتا ہے ۔ ماضی میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث اٹلی کے جزیرے سسلی میں پانچ فیملیوں کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے جنہوں نے زیر زمین مجرمانہ سرگرمیوں میں فاشسٹ اصولوں کو استعمال کرتے ہوئے جائز ناجائز ذرائع سے دولت کے حصول کو اپنا متمع نظر بنایااور بیشتر دولت امریکہ میں بھی منتقل کی گئی۔یورپ میں فاشزم کا عروج بھی پاپولر سیاسی جماعتوں کی مافیائی سیاست کے ذریعے ہی پایہِ تکمیل تک پہنچا تھا جبکہ زیر زمین مافیائی تنظیموں نے دولت کو اپنا ایمان مان کر عوام پر ظلم و ستم کے بازار گرم کئے جس نے دنیا کو تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مافیا کیا ہے اور مافیائی سیاست کا کیا مقصد ہے ؟ درحقیقت مافیائی سیاست کا مقصد سیاسی ، سماجی اور ثقافتی اقدار اور سرگرمیوں پر قانونی اور غیر قانونی ذرائع سے مکمل کنٹرول حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے جس میں مافیا کے چنیدہ چنیدہ اہم مہروں کی جھولیوں کو غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی دولت سے بھرنا شامل ہے جس کیلئے شریف انتظامیہ نے اہم اداروں بل خصوص معاشی اور اطلاعاتی اداروں میں مشتبہ شہرت رکھنے والے افراد کو تعینات کیا ۔ چنانچہ ملک میں مافیائی سیاست کو فروغ دینے کیلئے اطلاعات و نشریات کے اداروں کو عوام کو ٹیلرڈ کی گئی ڈِس انفارمیشن میڈیا کے ذریعے فراہم کرکے سیاسی مافیا کے اصل عزائم کو اندھیرے میں رکھا گیا۔ چنانچہ اِس مقصد کے حصول کیلئے نازی جرمنی کے جھوٹ اور کپٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے کی مہارت رکھنے والے نازی پراپیگنڈے کے بدنام زمانہ وزیر جوزف پال گوئبلز کی فکر کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ ابتدائی طور پر یہی کام پہلے وزیراعظم ہاؤس میں کیا جاتا رہا جہاں فوج کے خلاف ڈان لیکس کی بنیاد رکھی گئی اور اب اِس کا مرکز نااہل وزیراعظم کی سربراہی میں جاتی عمرہ میں شفٹ ہو گیا ہے جس کی نشان دہی تحریک انصاف کی منحرف عائشی گلالئی نے اپنے انداز سے قومی میڈیا میں نواز شریف کی اینٹی آرمی اور اینٹی عدلیہ پالیسی کے حوالے سے پیش کی ہے ۔ البتہ آج کے حکمران عوام کو جھوٹ کی مافیائی سیاست سے بھول بھلیون میں غوطہ زن کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ 1945 میں خود کشی کے ذریعے موت کو گلے لگانے کے بعددنیا بھر میں گوئبلز کا نام اچھائی کی آواز کے طار پر نہیں بلکہ مافیائی سیاست کے نام سے جھوٹ اور کپٹ کی نشانی کے طور پر ہی یاد کیا جاتا ہے۔

درج بالا تناظر میں اسلامی تعلیمات کے حوالے سے بھی اور دنیا بھر میں جمہوری رسم و رواج کیمطابق بھی سچ کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ سچ کی پناہ ایک ایسی آہنی شیلڈ ہے جو زمانے کے سرد و گرم اور مخالفین کے تواتر سے کئے جانے والے حملوں سے نہ تو شکستہ ہوتی ہے اور نہ ہی اِس میں کوئی شکن آتی ہے چنانچہ سچ کے علمبردار معاشرتی سربلندی اور انسانیت کی معراج پر گامزن ہو کر تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ البتہ جب سے جدید دنیا میں خفیہ مقاصد کو عوامی نظر سے چھپانے کیلئے حاکم وقت کے اشارے پر سچ میں جھوٹ کی ملاوٹ اور ڈِس انفارمیشن وقت کی ضرورت بن گئی ہے تو کلمہء حق کہنے والے بھی خال خال ہی رہ گئے ہیں جنہیں کبھی کبھی حکمرانوں کی جھوٹ و کپٹ سے لبریز کہانیوں کو سن کر تو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ گویا خواص بھی جھوٹ و سچ کی تمیز سے محروم ہو گئے ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ آج کے حکمرانوں کی سچ کو چھپانے چاہے جائز ناجائز دولت کو آف شور کمپنیوں کے ذریعے چھپانے کی عادت ہی کیوں نہ ہو ، حالت یہ ہے کہ حکمرانوں نے جرائم کو سیاست سے آلودہ کرنے کے بعد پروپیگنڈے کے زور پر سیاسی ڈِس انفارمیشن کو زینہ بنا کر عوام کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ تسلیم کرتے جائیں لیکن جھوٹ و سچ کی اِس راکھ میں ابھی کچھ چنگاریاں باقی ہیں جنہیں روشن قندیل بنانے کیلئے ملک کے اسلامی تشخص پر یقین کامل رکھتے ہوئے لوگ جراٰت رندانہ سے آج بھی سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے پر قائم ہیں اور مافیائی سیاسی حربوں کے خلاف پاکستان فوج و عدلیہ کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ علامہ اقبالؒ اپنے وجدانی کلام میں فرماتے ہیں …….. ؂
امرا نشّہِ دولت میں ہیں غافل ہم سے
زندہ ہے ملّتِ بیضاء غربا کے دم سے
کون ہے تارکِ آئینِ رسولؐ مختار ؟
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار
ہوگئی کس کی نگہ طرزِ سلف سے بیزار ؟
قلب میں سوز نہیں ، روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغامِ محمدؐ کا تمہیں پاس نہیں

عمران خان کی ہیٹ ٹرک۔۔۔!

پاکستان تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان نے شادیوں کی ہیٹ ٹرک کرلی ہے۔شادی کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔جو بھی سکت اور استطاعت رکھتا ہے ،اس کو ضرور شادی کرنی چاہیے۔اسلام میں ایک مرد بیک وقت چار بیویاں رکھ سکتا ہے بشرطیکہ وہ ان کے ساتھ انصاف کرسکے۔نکاح کو آسان بنانا چاہیے تاکہ برائیاں اور گناہ تمام ہوں۔ نکاح اور شادی تقریبات کو سہل اورسادہ بنا نا چاہیے تاکہ غریب لوگ بھی آسانی سے نکاح اور شادی کرسکیں۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ”عورت سے لوگ چار اغراض سے نکاح کرتے ہیں۔مال ودولت کی وجہ سے، یا حسب ونسب کی وجہ سے یا حسن وجمال کی وجہ سے یا دین واخلاق کی وجہ سے ۔(پس تم سب سے آخری بات یعنی) دیندار عورت کو اختیار کرو۔ اگر ایسا نہ کرو گے تو تمہارے ہاتھوں کو مٹی لگے گی۔(یعنی کسی وقت ندامت و پریشانی سے دوچار ہونا پڑے گا)”۔ایک اور حدیث ہے ۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ ” نکاح میری سنت ہے جو میری سنت پرعمل نہ کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نکاح کیا کرواس لئے کہ تمہاری کثرت پر میں امتوں کے سامنے فخرکروں گا اور جس میں استطاعت ہوتو وہ نکاح کرلے اور جس میں استطاعت نہ ہو تو وہ روزے رکھے اس لئے کہ روزہ اس کی شہوت کو توڑدے گا۔ “نکاح سنت نبوی ہے لیکن طلاق دنیا اسلام میں ناپسندیدہ فعل ہے۔عمران خان نے شادی کرکے اچھا اقدام اٹھایا ہے لیکن طلاق سے پرہیز کرنا چاہیے۔شادی کرنا بچوں کا کھیل یا کرکٹ میچ نہیں ہے بلکہ اہم فریضہ ہے۔ اس سلسلے میں جذبات سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ دانش مندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔جمائما خان نے عمران خان کیلئے اپنا مذہب، ثقافت ، ملک اور سب کچھ چھوڑ کر شادی کرلی اور دو بچے بھی پیدا ہوئے۔ پھر عمران خان نے جما ئما خان کو طلاق دی۔ عمران خان نے نوازشریف حکومت کے خلاف دھرنا دیا اور ریحام خان نے اس دوران عمران خان کا انٹرویو کیا لیا ؟ اس کا دل لے لیا۔ریحام خان کے ساتھ شادی کرلی اور پھر کچھ عرصے کے بعد راہیں جدا کرلیں۔اس طرح نہیں کرنا چاہیے کہ ایک خاتون سے شادی کی اور پھر کچھ عرصے کے بعد طلاق دی ۔اسی طرح کسی کی زندگی کے ساتھ کھیلنا نہیں چاہیے ۔ایسی حرکات عام شخص کو زیب نہیں دیتیں جبکہ عمران خان ایک سیاسی پارٹی کا سربراہ ہے اور ملک کا وزیر اعظم بننے کی خواہش بھی رکھتا ہے ۔عمران خان کو تمام معاملات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔عمران خان نے گزشتہ تقریباً پانچ سال شادیوں اور دھرنوں میں گزارے ہیں حالانکہ اس کو یہ قیمتی وقت شادی کے ساتھ ساتھ صوبہ خیبر پختونخواہ کے لوگوں کو دینا چاہیے تھا کیونکہ ان لوگوں نے اس پر اعتماد اور بھروسہ کیا۔ عمران خان کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں سب اچھا کی رپورٹ دیتے رہے ہیں ۔وہ یہ سمجھتا رہا ہے کہ واقعی سب اچھا ہے۔ شہد اور دودھ کی نہریں بہنے لگی ہیں اور الہ دین کے چراغ سے لوگوں کے سب مسائل حل ہوگئے ہیں۔ وہ ہیلی کاپٹر میں جلسہ گاہ گیا اورسٹیج پر خطاب کیا ۔ نعرے لگے اورسب ٹھیک نظر آیا ۔بس اللہ اللہ خیر سلا ۔ حضرت عمرؓ خلیفہ بنے تو راتوں کو گلیوں میں گشت کرتے تھے تاکہ لوگوں کے حالات معلوم ہوسکیں۔عمران خان کو شادیوں سے فرصت ملے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے آبائی حلقے میانوالی کا خفیہ دورہ کریں اور روپ بدل کر پھر عام گاڑی کے ذریعے عیسیٰ خیل درہ تنگ کے راستے سے لکی مروت ، بنوں اور ٹانک وغیرہ کا سفر کریں۔اس خفیہ سفر سے اس کو تین چیزوں کا مشاہدہ ہوجائے گا۔ (الف) صوبہ خیبر پختونخواہ کی سڑکوں کی حالت کا پتہ چل جائے گا۔ (ب)صوبہ خیبر پختونخواہ کی پولیس کا علم ہوجائے گا۔ جس کے بارے میں وہ ہر جلسے میں تعریفوں کے چاند ستاروں کو ملاتا ہے۔(ج) صوبہ خیبر پختونخواہ کے عام لوگوں کی حالات زندگی کے بارے میں جانکھاری ہوجائے گی۔عمران خان کو ضلع میانوالی اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے لوگوں کا مشکور ہوناچاہیے۔ضلع میانوالی کے لوگوں نے اس کو عزت دی اور اس کو ووٹ دے کر پہلی مرتبہ قومی اسمبلی میں پہنچایا اور پھر صوبہ خیبر پختونخواہ کے لوگوں نے ووٹ دے کراس صوبے میں اس کی پارٹی کی حکومت بنائی۔ اب اس کو شادیوں کے چکرسے نکل کر صوبہ خیبر پختونخواہ کے لوگوں کو ٹائم دینا چاہیے۔عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کو سوشل میڈیا کی دنیا سے نکل کرحقیقی دنیا میں آنا چاہیے۔قارئین کرام!عمران خان نے پاکپتن کے خاور فرید مانیکا کی سابقہ بیوی دیپالپور کے گاؤں کوئیکی کی رہنی والی روحانی مشیربشری ٰ بی بی دختر ریاض وٹو سے شادی کرکے شادیوں کی ہیٹرک کرلی ہے۔ عمران خان ان کے پاس روحانی مشوروں کیلئے جاتے تھے اور اب ان کو پاکپتن جانے کی بجائے اپنے گھر بنی گالہ ہی میں مشورے عنایت ہونگے ۔خداکرے کہ یہ اس کی آخری شادی ہو اور میاں بیوی خوش وخرم رہیں۔ عمران خان اور پیرنی بشریٰ بی بی جس نیک مقدس کیلئے رشتہ ازواج سے منسلک ہوئے ہیں،اس میں کامران ہوں۔

کیلبری پھر زیر بحث

پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو شریف خاندان کے بیانات میں ویسے تو کئی بے ضابطگیاں نظر آئیں تاہم ان میں سے کوئی بھی چیز عوام کی اس قدر توجہ حاصل میں کامیاب نہ ہوئی جتنا کہ مریم نواز کی جمع کرائی گئی دستاویزات میں کیلبری فونٹ کے استعمال سے ان کا جھوٹا ثابت ہونا۔ 15 نومبر کو اپنے ٹوئٹر پیغام میں مریم نواز نے کہا تھا کہ وہ لندن فلیٹس کی ٹرسٹی ہیں، مالک نہیں۔جبکہ اس بات کے ثبوت کے طور پر انہوں نے چند دستاویزات کی تصاویر بھی اپنی ٹوئیٹ میں شیئر کی تھیں۔ جے آئی ٹی میں جمع کرائے گئے ڈکلیئریشن دستاویزات میں کیلبری فونٹ کا استعمال کیا گیا، جو 31 جنوری 2007 سے پہلے کمرشل بنیادوں پر دستیاب نہیں تھا۔ جمع کرائے گئے ڈکلیئریشن سرٹیفکیٹس میں اصل تاریخ نہیں ہے۔ یہ بعد میں تیار کیے گئے۔کیلبری فونٹ کے سلسلے میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں استغاثہ کے برطانوی گواہ رابرٹ ریڈلی نے اپنا بیان بذریعہ وڈیو لنک جمع کرا یا جس کے بعد وکیل صفائی کی جانب سے استغاثہ کے گواہ سے جرح بھی کی گئی۔ استغاثہ کے گواہ رابر ٹ ریڈلے کا ریڈیو لنک پر بیان قلمبند کیا۔ گواہ سے 6گھنٹے زائد وقت جرح کی گئی۔گواہ نے بتایا کہ فرانزک ہینڈ رائٹنگ کاماہرہوں۔ ونڈو وسٹا بیٹا کاپہلا ایڈیشن 2005 میں آئی ٹی ایکسپرٹ کے لیے جاری ہوا تھا۔اس کیساتھ کیلبری فونٹ کی سہولت موجودتھی۔یہ بات درست ہے کہ یہ صرف آئی ٹی ایکسپرٹ اور آئی ٹی ڈویلپر کو ٹیسٹ کرنے کے لیے فراہم کیا گیا تھا۔اس وقت اس کاکمرشل استعمال نہیں تھا۔گواہ نے بتایا کہ فرانزک ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ ہوں ۔کوئسٹ سالیسٹر نے 30 جون 2017 کو دو ڈیکلیریشن کا موازنہ کرنے کا کہا۔نیلسن اور نیسکول کے دونوں ڈیکلیریشن پر تاریخوں کی تبدیلی کا موازنہ بھی کیا۔ دونوں ڈیکلریشن میں دوسرا اور تیسرا صفحہ الگ سے بنایا گیا۔ یہ ناممکن تھا کہ بتایا جائے کہ کون سا صفحہ اصل ہے ۔جب کہ دونوں صفحات پر موجود تاریخوں میں بھی تبدیلی کی گئی۔ دونوں صفحات میں سے دوسرے صفحہ پر دستخط بھی مختلف تھے۔ رابرٹ ریڈلی کے مطابق 2004ء کو تبدیل کرکے 2006ء بنایا گیا اور 6کی جگہ اصل میں 4 درج تھا۔ ظاہری طور پر ایسا لگتا ہے کاغذات تبدیل کرنے کیلئے کارنر پیس کو کھولا گیا اور دستاویزات پر 2 کے بجائے 4اسٹیپلر پن کے سوراخ تھے۔رابرٹ ریڈلی نے کہا کہ میں نے دستاویزات کے ٹائپنگ فونٹ کا بھی جائزہ لیا۔ ڈیکلیریشن کی تیاری میں کیلبری فونٹ استعمال کیا گیا۔ کیلبری فونٹ پرائمری طور پر وسٹا ونڈو میں استعمال ہوا جو 31 جنوری 2007 تک کمرشل بنیادوں پر موجود نہیں تھا۔ ٹائپنگ کے دوران کیلبری فونٹ ڈیفالٹ ٹائپنگ فونٹ استعمال کیا گیا۔ کمپیوٹر 2007 میں ونڈو سیون میں کیلبری فونٹ آٹو میٹکلی استعمال کرتا تھا جب تک تبدیل نہ کیا جائے۔یہ ڈیکلیریشن 31 جنوری 2007 پہلے سے کمرشل طور پر تیار نہیں ہوسکتے۔

دوران جرح شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث نے رابرٹ ریڈلی سے پوچھا کہ اگر میں یہ کہوں کہ ونڈو وسٹا بیٹا کا پری لانچ ایڈیشن2005ء میں جاری ہوگیا تھا تو کیا یہ درست ہے؟گواہ نے جواب میں کہا کہ ونڈو وسٹا بیٹا کاپہلا ایڈیشن 2005ء میں آئی ٹی ایکسپرٹ کے لیے جاری ہوا تھا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ کیا ونڈووسٹابیٹا کے پری لانچ ایڈیشن کیساتھ کیلبری فونٹ کی سہولت موجود تھی؟رابرٹ ریڈلی نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ونڈو وسٹا بیٹا کے ساتھ کیلیبری فونٹ کی سہولت موجود تھی لیکن یہ صرف آئی ٹی ایکسپرٹ اورآئی ٹی ڈویلپرکوٹیسٹ کرنے کیلئے فراہم کیا گیا تھا۔ خواجہ حارث نے پوچھا کہ کیایہ درست ہے کہ ونڈووسٹا بیٹا کا کیلیبری فونٹ ہزاروں لوگ استعمال کررہے تھے؟ رابرٹ ریڈلی نے جواب دیا کہ یہ بات درست نہیں بلکہ محدود پیمانے پرآئی ٹی ماہرین کولائسنس کے ساتھ ٹیسٹ کیلئے فراہم کیا گیاتھا۔ اس سلسلے میں جب کیلبری فونٹ کو تخلیق کرنے والے گرافک ڈیزائنر لوکاس ڈی گروٹ سے رابطہ کیا تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا یہ فونٹ مریم نواز کے کے دعوے کے مطابق فروری 2006 میں (جب دستاویز پر دستخط کیے گئے) یا اس سے قبل موجود تھا، یا 2007 میں سامنے آیا ، تو لوکاس دی گروٹ کی کمپنی لوکاس فونٹس کی جانب سے اس سوال کا جواب کمپنی کے نمائندے لیسیلوٹ شیفر نے دیا۔ جواب میں کہا گیا کہ لوکاس سے ہونے والی بات چیت کے مطابق کیلبری فونٹ کی ریلیز سے متعلق ہم یہ معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔ مائیکروسافٹ وسٹا آپریٹنگ سسٹم کے بیٹا ورژنز میں یہ فونٹ ممکنہ طور پر موجود ہوسکتا ہے تاہم مائیکروسافٹ کمپنی ہی اس بارے میں بتا سکتی ہے۔لوکاس فونٹس کے مطابق ونڈوز بیٹا ورژنز، پروگرامرز اور ٹیکنالوجی کے شوقین افراد کے لیے ہوتے ہیں تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جاسکے کہ کیا یہ لوگوں میں مقبول ہوگا یا نہیں۔کمپنی کے جواب میں یہ بھی کہا گیا کہ چونکہ ایسے آپریٹنگ سسٹمز کا فائل سائز بہت بڑا ہوتا ہے اس لیے اسے حاصل کرنا دشوار امر ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق کیلبری کا پہلا عوامی بیٹا ورژن 2006 میں شائع ہوا، ہم ریلیز کی تاریخ تو نہیں جانتے مگر ایسا بہت مشکل ہے کہ کوئی سرکاری دستاویزات میں استعمال کیلئے بِیٹا ماحول سے فونٹس کاپی کرے۔ اس فونٹ کا پہلا عوامی بیٹا ورژن 6 جون 2006 میں ریلیز ہوا جو مریم نواز کے کاغذات پر دستخط کرنے کے 4 ماہ بعد کی تاریخ ہے۔ لوکاس فونٹس کا بیان اس لیے بھی وزن رکھتا ہے کیونکہ سافٹ ویئرز کے بیٹا ورژن نامکمل اور تجرباتی مرحلے میں ہوتے ہیں اور صرف کمپیوٹر سافٹ ویئر میں غیرمعمولی دلچسپی رکھنے والے افراد ہی ان کا استعمال کرتے ہیں۔ مائیکروسافٹ آفس 2007 پہلی پراڈکٹ ہے جس میں کیلبری کا بڑے پیمانے پر باقاعدہ استعمال ہوا۔ 30 نومبر 2006 میں والیوم لائسنس کسٹمرز کو فراہم کیا گیا اور 30 جنوری 2007 میں اسے ریٹیل کیلئے پیش کیا گیا۔ فونٹ ڈیزائنر دی گروٹ کا خود کہنا تھا کہ تھیوری میں تو ایسا ممکن ہے کہ کسی کمپیوٹر ماہر کے ہاتھوں بیٹا آپریٹنگ سسٹم سے حاصل کرکے 2006 میں دستاویز میں کیلبری فونٹ کا استعمال کرلیا جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ 2006 میں کوئی کیوں ایک نامعلوم فونٹ کو سرکاری دستاویزات میں استعمال کرے گا؟ان کے خیال سے مریم نواز کی دستخط شدہ دستاویزات بہت بعد میں تیار کی گئی ہیں جب کیلبری مائیکروسافٹ ورڈ کا ڈیفالٹ فونٹ تھا۔

***

تاپی گیس منصوبے کی افتتاحی تقریب سے وزیراعظم کا خطاب

adaria

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبےسے خطے کے کروڑوں عوام کی اقتصادی و سماجی حالت کوبہتر بنانے میں مدد ملے گی اور خطے کے امن کے فروغ میں بھی اس کا ایک کردار ہوگا۔ تاپی پائپ لائن منصوبہ اور اس جڑے دیگر منصوبوں کی بدولت رکن ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات مزید مضبوط ہونگے، پاکستان کی حکومت اور عوام سے بڑھ کر کوئی بھی افغانستان میں امن و استحکام کا خواہاں نہیں ہوسکتا۔پاکستان، ترکمانستان، افغانستان اور بھارت گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دیگا اور خطے کی عوام کو متحد کرنے میں مدد ملے گی۔ گیس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں ترکمانستان کے صدر قربان گل بردی محمدوف کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سی پیک وسطی ایشیائی ریاستوں کیلئے سب سے باکفایت رابطہ ہے، ون بیلٹ ون روڈ اقدام سے شاندار مواقع میسر ہوں گے، رواں مالی سال کیلئے قومی معیشت کی شرح نمو 6 فیصد تک پہنچ جائے گی۔تاپی گیس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں ترکمانستان کے صدر قربان گل بردی محمدوف کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے اس منصوبے کو ایک حقیقت میں بدل دیا جس سے خطے میں تاریخی روابط کے احیائے نو کے مواقع سامنے آئے ہیں۔ ترکمانستان افغانستان پاکستان اور انڈیا تاپی منصوبے کے شراکت دار ہیں اور ترکمانستان کے صدر قربان علی بردی محمدوف کے وژن سے تاپی گیس پائپ لائن کے منصوبے کو انرجی اور کمیونیکیشن کوریڈور بنایا گیا ہے جس سے خطے کے ممالک کے سڑک ریل بجلی گیس آئی ٹی سمیت دیگر مختلف شعبوں میں باہمی رابطوں میں اضافہ ہوگا اور خطے میں امن و امان کی بحالی اور معاشی و اقتصادی ترقی میں مدد ملے گی۔ تاپی منصوبہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دے گا ۔ اس منصوبے سے پاکستان میں توانائی کی کل ضرورت کا 10فیصد پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سے ملک میں قدرتی گیس کی مجموعی طلب کا 20 فیصد حاصل ہو گا جو 9 ملین ٹن امپورٹ کے برابر ہے۔ اس منصوبے سے پاکستان کو قدرتی گیس کی ضروریات و سکیورٹی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی، یہ صرف ایک پائپ لائن کا منصوبہ نہیں ہے، اس طرح کے مزید منصوبوں کے نتیجے میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے لئے سب سے باکفایت رابطہ ہے، ون بیلٹ ون روڈ اقدام سے شاندار مواقع میسر ہوں گے۔ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کے نتیجہ میں ہماری توانائی کی ضروریات بڑھ رہی ہیں اور توانائی کی ضروریات کی تکمیل کے لئے صرف تاپی منصوبہ کو ہی مکمل نہیں کیا جائے گا بلکہ اس حوالے سے کئی نئے منصوبے بھی شروع کئے جارہے ہیں۔پاکستان کی موجودہ حکومت نے توانائی بحران کے خاتمے کیلئے جامع اقدامات کئے، گزشتہ چار سالوں میں قومی گرڈ میں 10ہزار میگاواٹ بجلی شامل کی گئی، 2019 کے اختتام پر پاکستان میں 2500 کلومیٹر طوالت کی حامل موٹر ویز موجود ہوں گی۔ پاکستان نے اپنے مسائل پر قابو پا کر اقتصادی ترقی حاصل کی ہے اور رواں مالی سال کے لئے قومی معیشت کی شرح نمو 6 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چین کے تعاون سے شروع کیا جانا والا چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ(سی پیک) خطے کے ممالک کے باہمی رابطوں کو فروغ دے گا جبکہ گوادر کی بندرگاہ سے ہونے والی اقتصادی سرگرمیوں کے نتیجہ میں وسطی ایشیا ممالک کے رابطوں کو بڑھایا جائے گا۔ سی پیک کے تحت موٹرویز کی تعمیر سے سڑک کے ذریعے رابطوں کے نتیجہ میں خطے کی معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔پاکستان میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع موجود ہیں اور سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے تحفظ منافع جات کی منتقلی سمیت امن وامان اور استحکام کی ضمانت دی جاتی ہے۔ تاپی گیس منصوبے اور انرجی و کمیونیکیشن کوریڈور کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے حوالے سے تمام شراکت داروں اور بالخصوص تاپی منصوبہ کو حقیقت کا روپ دینے کے سلسلے میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت قابل قدر ہے۔خطے کے قدیم روابط بحال ہونے کا یہ تاریخی موقع ہے۔ انرجی کوریڈور میں گیس ریل روڈ اور مواصلات کے نظام شامل ہیں منصوبے سے خطے میں مجموعی طور پر خوشحالی آئے گی۔ پاکستان کو وسط ایشیائی ریاستوں اور پڑوسی ملکوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینی چاہیے تاکہ ان ممالک کے ساتھ مل کر ملک مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو بڑھانے میں مدد مل سکے۔ وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت، ثقافت سمیت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کے ذریعے جہاں اقتصادیات کو مضبوط بنایاجاسکتا ہے وہاں باہمی تعاون سے اقتصادی ترقی کے اہداف بھی پورے کیے جاسکیں گے۔ ہمارے خیال میں پاکستان کو توانائی کے بحران کا ابھی تک سامنا ہے اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنا کیلئے دونوں ملکوں کی قیادت کو چاہیے کہ وہ تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کی جلد تکمیل کو یقینی بنائیں اور اس کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے۔

احدچیمہ کی گرفتاری اوربیورو کریسی کا رویہ
آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں مبینہ کرپشن کے الزام میں سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد خان چیمہ کی گرفتاری پر پنجاب بیوروکریسی نے کام چھوڑ دیا، بیورو کریسی نے سول سرونٹس کو عدلیہ کی طرز پر آئینی تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا جبکہ دوسری طرفپنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے احد چیمہ کو ترقی دینے پرایوان کے اندر شدید احتجاج کیا اور بعد ازاں پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر بھی مظاہرہ کیا گیا ، اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں توں تکرار بھی ہوئی اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگائے گئے ، کورم پورا نہ ہونے کے باعث سرکاری کارروائی نہ ہو سکی اور سپیکر نے اجلاس ملتوی کردیا۔ محکمہ لیبر و ہیومن ریسورسز اور اوقاف و مذہبی امور کے بارے میں سوالوں کے جوابات دئیے جانے تھے تاہم پی ٹی آئی کی خاتون رکن اسمبلی ڈاکٹر نوشین حامد نے آغاز پر ہی نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے شخص جس پر14ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے اسے راتوں رات ترقی دیدی گئی ہے جبکہ نیب نے اسے گرفتار کرکے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ہونا تویہ چاہیے تھا کہ حکومت ایسے کرپٹ شخص کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے نوکری سے فارغ کرتی لیکن اسے ترقی سے نواز دیا گیا ہے اور اداروں سے ٹکراو پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔جس پرسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ احد چیمہ ڈی ایم جی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اوریہ وفاق کا معاملہ ہے ۔ اس معاملے کو سیاسی نہ بنایا جائے ۔ تاہم اپوزیشن نے شور شرابہ جاری رکھا جبکہسابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کی گرفتاری کے معاملے پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری عمر رسول کے حکم پر ڈی ایم جی افسروں نے سول سیکرٹریٹ میں دفاتر میں تالے لگا دیئے گئے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری عمر رسول ، ایڈیشنل سیکرٹری ویلفیئر دانش افضال ، ایڈیشنل سیکرٹری ایڈمن عرفان علی کے دفاتر کو بھی تالے لگا کر بند کر دیا گیا۔ ڈی ایم جی گروپ کے افسر مطالبہ کر رہے تھے کہ احد چیمہ کو رہا کیا جائے ۔ حکومت ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز کرے، اداروں کے ٹکراؤ سے منفی نتائج برآمد ہونگے جو کہ جمہوریت کیلئے سود مند نہیں ہیں۔

افغانستان میں پوست کی کاشت

افغانستان کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ پوست پیدا کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے جس سے بعدمیں ہیروئن بنائی جاتی ہے۔ گو کہ افغانستان میں افیون کی کاشت کو جرم قرار دیا گیا ہے کہ لیکن پوست کی فصل ملک کی سب سے زیادہ منافع بخش فصل ہے۔ اقوام متحدہ نے امریکہ کو افغانستان میں منشیات کی تجارت میں ملوث قرار دے دیا۔ افغانستان میں پوست کی کاشت ، افیون اور ہیروئن کی تیاری کے سلسلہ میں اقوام متحدہ کی رپورٹ نومبر میں منظر عام پر آئی جس میں کہا گیا ہے کہ 2017 میں افغانستان میں پوست کی کاشت میں 63 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اضافہ کی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام ، حکومت کے کنٹرول میں کمی اور امریکی اور افغان حکام کی کرپشن ہے۔ یہ تمام مہرے اس کاروبار میں براہ راست یا بالواسطہ ملوث پائے جاتے ہیں۔ 2017 میں افغانستان میں نو ہزار ٹن پوست کاشت کی گئی جبکہ طالبان کے آخری سال میں پورے ملک میں پوست کی فصل صرف 221 ٹن تھی۔ اس وقت امریکہ کو اپیل کرنا پڑی تھی کہ طالبان اس کی کاشت کو ختم نہ کریں کیونکہ طبی مقاصد کیلئے کچھ کاشت ضروری ہے۔ لیکن اب 2017 میں یہ زہر نو ہزار ٹن کی مقدار میں کاشت کیا گیا ہے جو طالبان کے مقابلے میں 40.72 گنا زائد ہے۔ افغانستان میں یہ کاشت کس رفتار سے بڑھ رہی ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2016 میں یہ پیداوار 4800 ٹن تھی اور 2017 میں 9 ہزار ٹن رہی۔ یہ اضافہ 87 فیصد قرار دیا جا رہا ہے مگر اقوام متحدہ اسے 63 فیصدتسلیم کرتی ہے اور یہ بھی کچھ کم اضافہ نہیں ہے۔ امریکی حکومت کا الزام ہے کہ پوست کی کاشت کے ذمہ دار طالبان ہیں مگر اقوام متحدہ نے یہ الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوست کی کاشت میں اضافہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں نہیں بلکہ شمالی افغانستان میں ہوا ہے جہاں امریکہ کا براہ راست اور اس کی کٹھ پتلی حکومت کا کنٹرول ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے بھی الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور نیٹو افغانستان سے پوری دنیا کو منشیات سمگل کرنے کیلئے اپنے فوجیوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والی ہیروئن کا 90 فیصد افغانستان سے جاتا ہے۔ امریکہ جان بوجھ کر اس مسئلے سے چشم پوشی کرتا ہے اور کاروبار کو مکمل آزادی دے رکھی ہے۔ امریکہ افغانستان کی جنگ میں شکست کھا چکا ہے کیونکہ اتنا عرصہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باوجود بھی منشیات کی تجارت بڑھتی جا رہی ہے۔اس سے قبل مغربی میڈیا نے بھی امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے اس مکروہ دھندے ملوث ہونے کا انکشاف کیا تھا۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات کے مطابق سال 2016 میں افغانستان میں پوست کی کاشت کے زیر رقبہ علاقے میں 10 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر دو لاکھ ایک ہزار ایکٹر رقبے پر پوست کاشت کی گئی ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال افغانستان میں افیون کی کاشت میں 43 فیصد اضافہ ہوا ہے اور کاشت کاری کے بہتر طریقہ کار سے فی ایکٹر پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پوست کی کاشت کے بارے میں ان اعدادوشمار نے ’افیون کی کاشت روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کو خطرہے میں ڈال دیا ہے‘۔ پوست کے پودوں سے حاصل ہونے والی افیون کا استعمال درد کش ادویات بنانے میں ہوتا ہے۔ اگرچہ کئی ممالک ادویات کی تیاری کیلئے پوست خود کاشت کرتے اور افغانستان سے حاصل ہونے والی پوست کی فضل زیادہ تر منشیات بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔ افغانستان میں حکومت نے ریاستی سطح پر پوست کی کاشت ختم کرنے کی پالیسی نافذ کی ہے لیکن اس کے باوجود بھی حکومتی زیر کنٹرول علاقوں میں افیون کی کاشت میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکام نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ امریکا کی افغانستان میں جاری عالمی صلیبی جنگ کا تو پورا محاذ ہی موت، نشہ اور حکومت کی بدعنوانی پر مشتمل ہے۔ 2014ء میں امریکا میں 10 ہزار سے زیادہ افراد خطرناک حد سے زیادہ ہیروئن استعمال کرنے کی وجہ سے مارے گئے۔ ہیروئن کے استعمال میں اضافے کی بڑی وجہ دنیا کے اس سب سے خطرناک اور مہلک نشے کی کم قیمت پر اور باآسانی دستیابی ہے۔بلیک مارکیٹ کے خاتمے کے وعدوں کے باوجود امریکا ہی ہے جو اس غیر قانونی نشے کی تجارت کو ممکن بناتا ہے۔ امریکی حکومت منشیات کی عالمی تجارت کو سہولیات دینے کی طویل تاریخ رکھتی ہے۔ 1950ء کی دہائی میں امریکہ نے جنوب مشرقی ایشیا کی ‘سنہری تکون’ سے افیون کی منتقلی، تیاری اور فراہمی کی اجازت دی جب وہ کمیونسٹ چین کا مقابلہ کرنے کیلئے تائیوان کے دستوں کو تربیت دے رہا تھا۔ 80ء کی دہائی میں سی آئی اے نے نکاراگوا میں کمیونسٹ مخالف کونٹرا باغیوں کو مالی و دیگر امداد دی جو بدنام زمانہ منشیات کے اسمگلر تھے۔امریکا کے پہنچتے ہی چھ ماہ میں افیون کی تجارت واپس عروج پر پہنچ گئی اور 2002کے موسم بہار میں 3400 ٹن کی چھپر پھاڑ کاشت ہوئی۔معنی خیز بات یہ ہے کہ یہ امریکا ہی کا قدم تھا کہ جس نے ‘‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’’ میں طالبان حکومت کا خاتمہ کیا اور افغانستان کو ایک مرتبہ پھر ‘‘منشیات کا گڑھ’’ بنا دیا۔اس جنگ سے پہلے افغانستان میں طالبان نے پوست کے بجائے اجناس کی کاشت کیلئے سخت اقدامات کیے تھے۔ 2000ء کے موسم گرما میں طالبان رہنما ملا محمد عمر نے اعلان کیا تھا کہ پوست کی کاشت پر مکمل طور پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہی وہ پودا ہے کہ جس سے ہیروئن بنتی ہے۔جو بھی پوست کاشت کرتا اس کا منہ کالا کرکے گلیوں میں گھمایا جاتا اور سخت سزا دی جاتی۔ طالبان کی پابندی سے ایک ہی سال میں افغانستان میں ان کے ماتحت علاقوں میں تو کاشت صفر ہوگئی اور ملک میں 2000ء میں 3276 ٹن پوست کی جگہ 2001ء میں صرف 185 ٹن پوست پیدا ہوئی۔پھر نائن الیون ہوا اور بش انتظامیہ نے افغانستان کا رخ کیا، ‘‘دہشت گردی کیخلاف جنگ’’ کے پرچم تلے۔ جب طالبان پہاڑوں میں چھپ گئے تو کاشت کاروں کو وہ مالی مدد ملنا بند ہوگئی جس کی وجہ سے وہ پوست چھوڑ کر اجناس کاشت کیا کرتے تھے، اس لیے وہ دوبارہ پوست کی جانب آئے اور افغانستان ایک بار پھر دنیا بھر میں ہیروئن کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بن گیا۔

سپریم کورٹ کا احسن فیصلہ اور کیلبری فونٹ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے نون لیگی حکومت کی طرف سے کی گئی اس آئینی ترمیم کو اکھاڑ پھینکا ہے جس کے تحت سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو نااہلی کے بعد پارٹی صدارت پر بحال رکھنے کوشش کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وزارت عظمیٰ کیلئے نااہل شخص پارٹی صدارت کیلئے بھی نااہل ہے۔سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ نون لیگی صفحوں پر بجلی بن کر گرا لیکن ملک کی اکثریت نے اسے سراہا جا رہا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ عددی اکثریت کے زور پر من چاہی ترمیم کرنا جمہوریت کی روح پر حملہ تھا جسے سپریم کورٹ نے پسپا کردیا ہے۔شریف خاندان حالیہ عرصہ سے شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ایک طرف سپریم کورٹ میں چلنے والی کیسز کے فیصلے بجلی بن کر گر رہے ہیں تو دوسری طرف احتساب عدالت سے خیر کی خبریں نہیں آ رہی ہیں۔نیب کورٹ کی شریف فیملی کے خلاف تحقیقات اب تقریبا” آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں ۔جمعہ کے روز احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کی، سماعت کے دوران سابق وزیراعظم کے وکیل نے دو ضمنی ریفرنسز پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان ضمنی ریفرنسز کا مقصد صرف اور صرف عدالتی کارروائی کو طول دینے کی کوشش ہے، ان میں کوئی نئے اثاثے یا شواہد سامنے نہیں لائے گئے، العزیزیہ ضمنی ریفرنس میں تو صرف چند نئی ٹرانزیکشنز کو شامل کیا گیا ہے اوردونوں ضمنی ریفرنسز میں 20 نئے گواہان شامل کر دیئے گئے ہیں۔ان دلائل کے جواب میں نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ وکیل صفائی کی جانب سے کئی گئی بات درست نہیں، ضمنی ریفرنسز میں نئے شواہد شامل کئے گئے ہیں، ان میں ملزمان کی آمدنی کے ذرائع کو بھی حصہ بنایا گیا ہے۔قبل ازیں جمعرات 22فروری کی سماعت کے دوران برطانوی گواہ رابرٹ ریڈلی نے بذریعہ ویڈیو لنک اپنا بیان قلمبند کرایا جسمیں انہوں نے خواجہ حارث کے اس سوال پر کہ کیا ونڈو وسٹا بیٹا کا پری لانچ ایڈیشن 2005 آیا تھا اور اسکے ساتھ کیلبری فونٹ کی سہولت موجود تھی۔برطانوی گواہ رابرٹ ریڈلی نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ونڈو وسٹا بیٹا کے ساتھ کیلبری فونٹ کی سہولت موجود تھی۔سیاق و سباق سے ہٹ کر صرف اس ایک لائن کو شریف خاندان کے طبلچی اسے خوب اچھال اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیلبری فونٹ پر جے آئی ٹی کا موقف جھوٹ ثابت ہوا ہے اور برطانوی گواہ نے 2005 میں کیلبری فونٹ کی موجودگی کا اعتراف کر لیا ہے۔بلاشبہ اس نے بتایا کہ یہ فونٹ تیار ہوچکا تھا لیکن اس نے ساتھ واضح الفاظ میں یہ بتایا کہ تب یہ فونٹ صرف اور صرف آئی ٹی ماہرین کے لیے دستیاب تھا۔یہ بھی شور مچایا جا رہا کہ گواہ نے اعتراف کیا کہ ہزاروں لوگ استعمال کر رہے تھے مگر ریڈلی نے ایسا کچھ نہیں کہا.دستاویزات میں فونٹ کے حوالے سے رابرٹ ریڈلی نے بتایا کہ میں نے دستاویزات کے ٹائپنگ فونٹ کا اچھی طرح جائزہ لیا، ڈیکلیریشن کی تیاری میں کیلبری فونٹ ڈیفالٹ ٹائپنگ استعمال کیا گیا حالانکہ کیلبری فونٹ 31 جنوری 2007 تک کمرشل بنیادوں پر موجود نہیں تھا۔ برطانوی گواہ نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ونڈو وسٹا بیٹا کے ساتھ کیلبری فونٹ کی سہولت موجود تھی لیکن یہ صرف آئی ٹی ایکسپرٹ اور آئی ٹی ڈویلپر کو ٹیسٹ کرنے کیلئے فراہم کیا گیا تھا،کمرشل استعمال نہیں تھا، سوال ہوا کہ کیا یہ بات درست ہے کہ ونڈو وسٹا بیٹا کا کیلبری فونٹ ہزاروں لوگ استعمال کر رہے تھے گواہ نے کہا کہ یہ بات درست نہیں کہ ہزاروں لوگ استعمال کر رہے تھے بلکہ محدود پیمانے پر آئی ٹی کے ماہرین کو لائسنس کے ساتھ ٹیسٹ کے لیے فراہم کیا گیا تھا،رابرٹ ریڈلی نے بتایا کہ وہ فرانزک ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ ہے اور کوئسٹ سالیسٹر نے 30 جون 2017 کو دو ڈیکلیریشن کا موازنہ کرنے کا کہا جس پر میں نے نیلسن اور نیسکول کے دونوں ڈیکلیریشن پر تاریخوں کی تبدیلی کا موازنہ بھی کیا، دونوں ڈیکلیریشن میں دوسرا اور تیسرا صفحہ الگ سے بنایا گیا۔ رابرٹ ریڈلے نے بتایا کہ دوسرے اور تیسرے صفحہ پر موجود تاریخوں میں تبدیلی کی گئی اور 2004 کو تبدیل کرکے 2006 بنایا گیا، اس کے علاوہ دونوں صفحات میں دستخط بھی مختلف تھے، دستاویزات پر 2 کے بجائے 4 اسٹیپلر پن کے سوراخ تھے، ظاہری طور پر ایسا لگتا ہے کاغذات تبدیل کرنے کے لیے کارنر پیس کھولا گیا۔ڈیکلیریشن کی تیاری میں ٹائپنگ کے دوران کیلبری فونٹ ڈیفالٹ ٹائپنگ فونٹ استعمال کیا گیا، کمپیوٹر 2007 میں ونڈو سیون میں کیلبری فونٹ آٹو میٹکلی استعمال کرتا تھا جب تک تبدیل نہ کیا جائے۔کیلبری فونٹ میں یہ ڈیکلیریشن 31 جنوری 2007 پہلے سے کمرشل طور پر تیار نہیں ہوسکتے تھے .ریڈلی نے بتایا کہ 2007 پہلے اس فونٹ کا استعمال کرنا صرف آئی ٹی ماہرین کیلئے ممکن تھا وہ بھی صرف لائسنس ہولڈر ہر نتھو پتھو خیرا نہیں لیکن نون لیگ کے پروپیگنڈا آرگن عمدا “عوام کو گمراہ کرکے کیلبری فونٹ کے ذریعے ڈالی گئی واردت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو شریف خاندان کے بیانات میں تضادات اور جعلی پن کی بھر مار نظر آئی جو ان کیلئے سبکی کا باعث بنے تاہم مریم نواز کی جمع کرائی گئی دستاویزات میں کلیبری فونٹ کے استعمال نے انکی رہی سہی ساکھ کا بھی جنازہ نکال دیا۔یہ فونٹ انکا پیچھا نہیں چھوڑ رہا ہے۔نون لیگی حلقے فونٹ کے ذریعے جعل سازی کو ماننے کو تیار نہیں اور بضد ہیں کہ ٹرسٹ ڈیڈ جب تیار کی گئی تو مذکورہ فونٹ دستیاب تھا.12 جولائی 2017 کو ایک مقامی انگریزی اخبار ڈان نے تب ایک رپورٹ میں کلیبری فونٹ کے تخلیق کار گرافک ڈیزائنر لوکاس ڈی گروٹ کے حوالے سے لکھا تھا کہ یہ فونٹ 2007 سے قبل عام صارف کے لیے دستیاب نہیں تھا۔ڈان اخبار نے لکھا کہ لوکاس سے رابطہ کیا گیا تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا یہ فونٹ فروری 2006 میں جب دستاویز پر دستخط کیے گئے تھے موجود تھا یا 2007 میں سامنے آیا۔لوکاس دی گروٹ کی کمپنی لوکاس فونٹس کی جانب سے اس سوال کا جواب کمپنی کے نمائندے لیسیلوٹ شیفر نے دیا۔جریدے کی رپورٹ کے مطابق جواب میں کہا گیا کہ ‘لوکاس سے ہونے والی بات چیت کے مطابق کیلبری فونٹ کی ریلیز سے متعلق ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ لوکاس نے اس فونٹ کی ڈیزائننگ کا آغاز 2002 میں کیا اور فونٹ کی حتمی سورس فائلز مارچ 2004 سے قبل مائیکروسافٹ کو روانہ نہیں کی گئی تھیں۔ونڈوز بیٹا ورژنز، پروگرامز اور ٹیکنالوجی کے شوقین افراد کیلئے ہوتے ہیں تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جاسکے کہ کیا یہ لوگوں میں مقبول ہوگا یا نہیں۔چونکہ ایسے آپریٹنگ سسٹمز کا فائل سائز بہت بڑا ہوتا ہے اس لیے اسے حاصل کرنا دشوار امر ہے۔مزید کہا گیا، کلیبری کا پہلا بیٹا ورژن 2006 میں ریلیز ہوا،ایسا بہت مشکل ہے کہ کوئی سرکاری دستاویزات میں استعمال کیلئے بِیٹا ورژن سے فونٹس کاپی کرسکے۔ڈان نے لکھا کہ وکی پیڈیا پر موجود معلومات کے مطابق اس فونٹ کا پہلا عوامی بیٹا ورژن 6 جون 2006 میں ریلیز ہوا جو مریم نواز کے کاغذات پر دستخط کرنے کے 4 ماہ بعد کی تاریخ ہے۔لوکاس کا بیان اس لیے بھی وزن رکھتا ہے کیونکہ سافٹ ویئرز کے بیٹا ورژن نامکمل اور تجرباتی مرحلے میں ہوتے ہیں اور صرف کمپیوٹر سافٹ ویئر میں غیرمعمولی دلچسپی رکھنے والے افراد ہی ان کا استعمال کرتے ہیں۔رپورٹ کے بقول ایک علیحدہ ای میل میں فونٹ ڈیزائنر لوکاس دی گروٹ کا خود کہنا تھا کہ تھیوری میں تو ایسا ممکن ہے کہ کسی کمپیوٹر ماہر کے ہاتھوں بیٹا آپریٹنگ سسٹم سے حاصل کرکے 2006 میں دستاویز میں کیلبری فونٹ کا استعمال کرلیا جائے، لیکن سوال یہ ہے کہ 2006 میں کوئی کیوں ایک نامعلوم فونٹ کو سرکاری دستاویزات میں استعمال کرے گا۔’اگر کیلبری استعمال کرنے کا شوقین فرد فونٹس کو اتنا ہی پسند کرتا ہے تو وہ 2006 میں اسی فونٹ میں تحریر مزید دستاویزات بھی بطور ثبوت پیش کرسکتا ہے۔لوکاس ڈی گروٹ کا کہنا تھا کہ ‘ان کے خیال سے مریم نواز کی دستخط شدہ دستاویزات بہت بعد میں تیار کی گئی ہیں”۔ان حقائق کے باوجود کیلبری فونٹ کی جعل سازی پر مٹی ڈالنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے اس بارے حتمی فیصلہ تو نیب عدالت کریگی تاہم اس شور شرابے پر صرف اتنا ہی کہا جا سکتا ہے”دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے”.

*****

Google Analytics Alternative