کالم

قومی اسمبلی، پیپلزپارٹی کا ترمیمی بل مسترد

قومی اسمبلی میں نا اہل شخص کے پارٹی سربراہ بننے پر پابندی کا بل کثرت رائے سے مسترد کردیا گیا، یہ بل پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر نے پیش کیا تھا، رائے شماری میں 98 ووٹ بل کے حق میں آئے جبکہ163 مخالفت میں پڑے۔الیکشن بل2017کی شق203میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی سے مسترد ہونے کے بعد اب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا ۔اپوزیشن ارکان سید نوید قمر ،شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 342ارکان پر مشتمل ایوان کوئی فیصلہ کرتا ہے اور باہر بیٹھا شخص اسے تبدیل کر دے یہ غیر آئینی ہے، بدقسمتی سے ایک فرد کو فائدہ دینے کے لیے شق203 منظور کرائی گئی،حکومت پر طاقت کا گھمنڈ غالب ہے اور آپ سوچنا نہیں چاہتے،قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہونے والے الگ الگ قانون سے دونوں ایوانوں میں تصادم پیدا ہو گیا ہے،نا اہل سابق وزیراعظم ابھی تک پیچھے بیٹھ کر حکومت چلا رہے ہیں، جو آئین کے خلاف ہے،پاکستان ایک فیڈریشن ہے جس کی چار اکائیاں ہیں۔وزیر قانون زاہد حامد نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن بل کی شق203نومبر2014میں تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے بل میں ڈالی گئی،اس وقت پانامہ پیپرز کا نام و نشان نہیں تھا، کسی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بل میں کسی نے اعتراض نہیں کیا، سینیٹ ان چار اکائیوں کی نمائندگی کرتا ہے، اگر قومی اسمبلی بغیر کسی دلیل کے یہ بل مسترد کرتی ہے تو آپ فیڈریشن کے فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر عذرافضل پیچوہو نے کہا کہ یہ ہماری کامیابی ہے کہ ہم نے اس خالی ایوان کو بھر دیا ہے، ایک شخص کو بچانے کیلئے سب آ جاتے ہیں مگر عوام کیلئے قانون سازی کیلئے ایوان میں کوئی نہیں آتا، حکومتی بنچوں میں بیٹھے تمام لوگوں کو عوام سے معافی مانگنی چاہیے کہ وہ عوام کی امیدوں پر پورا نہیں اتر سکے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے بات شروع کی تو تحریک انصاف کے ارکان کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی۔وزیر قانون زاہد حامد نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا ایکٹ نافذ کیا گیا، پرانے ایکٹ میں سزا کی مدت کا تعین تھا، 1962کے آئین کے تحت اگر سروس سے ڈس مس ہوا ہو یہ پھر مس کنڈکٹ یا گنہگار ہو تو وہ شخص پارٹی کی سربراہی کا اہل ہو سکتا ہے، پی پی پی نے 1975 میں اس شق کو نکالا تھا، ذوالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں انہوں نے قانون پاس کیا اور شق کو نکالا،1975سے لے کر 25سال تک غائب تھی، کسی نے اعتراض نہیں کیا،2000ء میں صدر مشرف نے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ جاری کیا، نواز شریف اور بے نظیر کو باہر کرنے کیلئے یہ شق دوبارہ یہیں ڈالی گئی کہ نا اہل شخص پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا ہے، انتخابات کے اصلاحات کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی اور اس کی ذیلی کمیٹی بنائی گئی، جس نے انتخابی قوانین کا جائزہ لیا گیا، 17نومبر 2014میں ذیلی کمیٹی نے شق نکالنے کا فیصلہ ہوا، اس کمیٹی میں نوید قمر اور سینیٹر فاروق نائیک، نعیمہ کشور، ایس اے قادری سمیت دیگر شامل تھے۔ حکومت اتحادی جماعتوں کے 50کے قریب ارکان غیر حاضر رہے جبکہ اپوزیشن کے 21 ارکان نے اجلاس میں شرکت نہ کی۔ اپوزیشن مزید33ووٹ لے آتی تو معاملہ برابر ہوسکتا تھا، قومی اسمبلی کے 342 رکنی ایوان میں حکومت اور اتحادیوں کے ارکان کا غیر حاضر رہنا دونوں فریقوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے، پارٹی پوزیشن کے مطابق قومی اسمبلی میں حکومت اور اتحادیوں کے ارکان کی تعداد213 جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی مجموعی تعداد 119 قرار پاتی ہے۔ حکومت کی طرف سے میرظفر اللہ جمالی نے اپوزیشن کے حق میں ووٹ دیکر اپنا آئندہ سیاسی راہ متعین کردی ہے تاہم پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں بل لے جانے کا آپشن کھلا ہے۔ مشترکہ اجلاس میں پارٹی پوزیشن اس طرح بنتی ہے، مسلم لیگ(ن) کی قومی اسمبلی میں 188، سینٹ میں 26، پیپلز پارٹی47 اور27، تحریک انصاف 33اور7، متحدہ قومی موومنٹ 24 اور 8، جمعیت علماء اسلام(ف)13اور 5، مسلم لیگ فنکشنل 5اور 1، جماعت اسلامی 4 اور 1، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی 3اور3، نیشنل پارٹی ، 2اور6، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل ایک اور ایک، قومی وطن پارٹی ایک اور صفر، مسلم لیگ ضیاء ایک اور صفر، جمہوری اتحاد ایک اور صفر، آل پاکستان مسلم لیگ ایک اور صفر، بلوچستان نیشنل پارٹی صفر اور دو جبکہ قومی اسمبلی میں آزاد امیدواروں کی تعداد 10اور10 ہے۔ اب یہ معاملہ مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں جائے گا، عدالتی محاذ پر گرماگرمی دکھائی دے رہی ہے ، جو بھی فیصلہ آئے گا وہ قانون اور آئین کے مطابق قرار پائے گا اور اس کے دوررس نتائج برآمد ہونگے۔
راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ
سینیٹ میں قائد ایوان اور مسلم لیگ (ن)کے چیئرمین راجہ ظفرالحق کمیٹی نے حلف نامہ میں تبدیلی سے متعلق رپورٹ تیار کرلی ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت کی شِق میں تبدیلی وزیرقانون زاہد حامد نے نہیں بلکہ پوری انتخابی اصلاحات کمیٹی کا فیصلہ تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کاغذات نامزدگی میں تبدیلی کا فیصلہ پہلے 16 رکنی ذیلی کمیٹی اس کے بعد 34 رکنی پارلیمانی کمیٹی نے کیا، کمیٹیوں میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل تھے سیاسی جماعتوں میں تحریک انصاف، پیپلزپارٹ، جماعت اسلامی، ایم کیوایم، مسلم لیگ (ق)اور جے یو آئی(ف)بھی شامل ہیں ۔راجا ظفرالحق کمیٹی رپورٹ میں ختم نبوت ترمیم کے حوالے سے کسی ایک شخص کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا اور کہا گیا ہے زاہد حامد نے بحیثیت وزیرقانون رپورٹ ایوان میں پیش کی لہذا ان پر شق کو ختم کرنے یا ترمیم کا الزام لگانا غلط ہوگا۔ کمیٹی کی پیش کردہ رپورٹ تمام ارکان پارلیمنٹ کو بھجوا دی گئی ہے۔ دوسری طرف سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے فیض آباد انٹرچینج دھرنے کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔عدالت نے آئی جی اسلام آباد، آئی جی پنجاب اور اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کردیا، عدالت نے کہا کہ بتایا جائے کہ عوام کے بنیادی حقوق کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کون سی شریعت لوگوں کا راستہ بند کرنے اور دھرنے میں استعمال ہونے والی زبان کی اجازت دیتی ہے۔دوسری جانب حکومت اور مذہبی جماعت کے درمیان دھرنا ختم کرنے کے حوالے سے ہونے والے تمام اجلاس بے سود رہے اور کوئی فریق اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ مذہبی جماعت کا دھرنا 16ویں روز میں داخل ہوگیا ہے جب کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لئے حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی اہم شاہراہوں کو کنٹینر لگا کر بند کیا گیا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو متبادل راستوں پر ٹریفک جام جیسے مسائل کا سامنا ہے، 14 روز سے میٹرو بس سروس بھی معطل ہے۔دھرنا ختم کرنے کے لئے گزشتہ روز پنجاب ہاس میں حکومت اور دھرنا وفد کے درمیان ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلا تاہم ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔دھرنے کی قیادت کرنے والے علامہ خادم رضوی کا موقف ہے کہ وزیر قانون زاہد حامد کااستعفی پہلے ہوگا اور مطالبات پورے ہونے تک دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔ معاملہ کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

اقتصادی راہداری منصوبہ اور بھارتی ہٹ دھرمی

سی پیک منصوبہ 21ویں صدی کی بحری شاہراہ ریشم اور شاہراہ ریشم اقتصادی بیلٹ پرمشتمل ہے جس کا مقصد قدیم شاہراہ ریشم کے روٹ پر تجارت اور بنیادی ڈھانچے کے نیٹ ورک کی تعمیر کر کے ایشیاء کو یورپ افریقہ اوردیگر ممالک کے ساتھ منسلک کرنا ہے۔ بقول چینی صدر کے، پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبہ ہماری دوطرفہ ترقی حاصل کرنے کی مشترکہ کوششوں کا اہم نقطہ ہے اور ہمیں اس اقتصادی راہداری منصوبے کو گوادر بندرگاہ ، توانائی ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور صنعتی تعاون کو عملی تعاون کو بدل دینے کیلئے استعمال کرنا چاہئے۔چین نے سی پیک کی طرح بنگلہ دیش، بھارت،چین اورمیانمار اقتصادی راہداری تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا۔ 1990 کے آواخر میں یہ منصوبہ سوچا گیا کہ چینی صوبہ یون نان سے مشرقی بھارت، بنگلہ دیش اور میانمار کو ملایا جائے۔ اس سلسلے میں بھارت میں چینی سفارت خانے کے وزیر لیو جن سونگ اور چین کے صوبہ یون نان کی حکومت کے بیرونی امور کے ڈائریکٹر لی جی مینگ نے ‘‘دی بیلٹ اینڈ روڈ ‘‘منصوبے اور چین بھارت بنگلادیش اور میانمار اقتصادی راہداری کی تعمیر کو فروغ دینے کے حوالے سے ایکشن پلان پر دستخط کیے۔ ایکشن پلان کے مطابق بھارت میں چینی سفارت خانہ چین کے صوبہ یون نان اور بھارت کے درمیان جامع تعاون اور تبادلوں کی حمایت اور باصلاحیت افراد کی تربیت کے لئے یون نان کو امداد فراہم کر نا تھا۔ اس سلسلے میں پہلی میٹنگ1999 میں چینی صوبہ یون نان کے دارالحکومت کون منگ میں ہوئی۔منصوبہ پیش کرنے والوں کے سامنے(BICM) بنگلہ دیش، انڈیا، چائنا ، میانمار اقتصادی راہداری بنانے کے دو مقاصد تھے۔ ایک تو علاقائی اقتصادی تعاون کو فروغ دینا اور دوسرا خطے کے ممالک کے سرحدی علاقوں کی ترقی۔ چین کی تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک یہ منصوبہ التوا کا شکار ہے۔ اس کی وجہ بھارت کا رویہ ہے۔ بھارت نے منصوبہ پر دستخط تو کر دیئے مگر اس کے بعد گو مگو کی کیفیت میں ہے۔ اب تک بھارت کی طرف سے اس منصوبے پر کام بہت سست رفتاری سے ہو رہا ہے۔ اصل میں بھارت کو سی پیک کا غم کھائے جا رہا ہے۔ بھارت شروع دن سے ہی سی پیک کے خلاف ہے۔ چونکہ سی پیک گلگت بلتستان سے ہو کر گزرتا ہے اور بھارت نہیں چاہتا کہ آزاد جموں و کشمیر کی طرح مقبوضہ کشمیر والے بھی اس سے مستفید ہو ں۔ دوسری طرف وہ پاکستان کو کسی بھی طور ترقی ہوتے نہیں دیکھ سکتا اسی لئے وہ سی پیک کاسب سے بڑا مخالف ہے۔ سی پیک بھارت کے سینے پر سانپ لوٹنے کے مترادف ہے۔ یہ عظیم تر منصوبہ تکمیل کی طرف جتنی تیزی سے گامزن ہے اتنی ہی شدت سے بھارت کو بے چین کئے دے رہا ہے۔ وہ اس منصوبے کی پستیوں کی گہرائی تک جا کر مخالفت اور سازشیں کر رہا ہے۔ چین پر اس منصوبے کے خاتمے کیلئے ممکنہ حد تک دباؤ ڈال چکا ہے۔ متعدد بار وارننگ بھی دی کہ چین بقول بھارت متنازعہ علاقوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے اقتصادی راہداری گزارنے سے باز رہے۔ حالانکہ یہ علاقے بالکل بھی متنازعہ نہیں ہیں۔ چین بھارت کے دباؤ اور دھمکیوں میں آنے پر تیار نہیں۔ اس نے اقتصادی راہداری کی تکمیل پر عزم ظاہر کیا اور اپنے عزم و ارادے اور وعدے کے مطابق 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر کاربند ہے۔ پھربھارت نے پاکستان کے اندر سے بھی سی پیک کے مخالفین تیار کئے۔حالانکہ BICM منصوبہ بھی چین نے تیار کیا ہے اور سی پیک جیسی ہی ترقی ان ممالک میں ہونی تھی مگر بھارت صرف پاکستان مخالفت میں اس منصوبے کو ناکام کرنے پر تلا ہوا ہے۔ دوسری اہم بات جو بھارت کو اس منصوبے سے باہر رکھنے پر مجبور کر رہی ہے، اس کی علیحدگی پسند ریاستیں ہیں۔ بھارت ایک کثیرالقومی اور کثیر اللسانی ملک ہے اور یہاں مذکورہ علاقوں کے علاوہ بھی بہت سی ریاستوں میں علیحدگی کے رجحانات پائے جاتے ہیں کیوں کہ وہاں کے باسی اپنے حکمرانوں کے رویوں کے سخت شاکی ہیں جو اپنے رویوں اور کرتوتوں میں کوئی تبدیلی لانے پر بھی آمادہ نہیں۔ عام طور سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ بس بھارت سے آزادی کی تحریک صرف کشمیر میں چل رہی ہے مگر یہ خیال درست نہیں۔ کشمیر کے علاوہ مشرقی پنجاب ( خالصتان ) تامل ناؤ، آسام، ناگالینڈ، تری پورہ، منی پور، شمالی مشرقی بھارت سمیت کئی ریاستوں میں بھی علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔مذکورہ منصوبے میں بھارت کی عدم دلچسپی اور سست روی دیکھتے ہوئے چین ایک دوسرے متبادل راستے کی طرف دیکھ رہا ہے۔ چین کا خیال ہے کہ اگر بھارت اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتا تو وہ اپنے صوبے کن منگ کو لاشیو اور منڈیلے کے راستے میانمار کی بندرگاہ کیونک پائیو سے ملادے گا۔ یوں اس کا راستہ بھی تھوڑا اور محفوظ ہو جائے گا اور بھارتی ریشہ دوانیوں سے بھی بچا رہے گا۔ لیکن دوسری طرف میانمار کی سیاسی ، سماجی اور علاقائی مشکلات بھی ہیں۔ میانمار کے مسلمانوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ سب سے سامنے ہے۔ میانمار بحران، انسانی المیے کی ابتر ہوتی ہوئی صورتحال کے باعث تقریبا نوّے ہزار روہنگیا مسلمان ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ امدادی اداروں نے اس صورتحال کے نتیجے میں ایک بڑی تباہی سے خبردار کیا ہے۔ اس صورتحال میں امدادی اداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔گزشتہ برس اکتوبر میں بھی میانمار کے صوبے راکھین میں آباد روہنگیا افراد کے خلاف ایک حکومتی کریک ڈاؤن شروع کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے اس مسلم اقلیتی کمیونٹی کے ہزاروں افراد بنگلہ دیش چلے گئے تھے۔ اقوام متحدہ کے تازہ اعداد وشمار کے مطابق اس وقت بنگلہ دیش میں پناہ کے متلاشی روہنگیا افراد کی مجموعی تعداد ڈیرھ لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔امدادی اداروں نے بتایا ہے کہ بنگلہ دیش اور میانمار کی سرحد پر محصور افراد کو فوری ریلف پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔اس سب کے ساتھ ساتھ مذکورہ راہداری میں بھارت کا ایک بڑا او ر طاقتور ملک ہونا بھی ، اس کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ہے۔ بھارت کی علاقے میں اپنی چودھراہٹ قائم کرنے اور دیگر ممالک پر اپنا حکم چلانے ، اور اپنے زیر نگین لانے کا مزاج علاقے کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ میانمار اور بنگلہ دیش بھارت کے مقابلے میں چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک ہیں اور جغرافیائی طور پر بھارت ان کے اوپر ہونے کی وجہ سے راہداری بیلٹ میں اپنی من مانی کرے گا۔ بنگلہ دیش کے ساتھ تو ویسے بھی بھارت کی لگتی ہے۔پانی، سرحد سمیت کئی ایک معاملات میں بھارت اور بنگلہ دیش ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر بنگلہ دیش، بھارت ، چین اور میانمار اقتصادی راہداری کا قیام التوا کا شکار ہو گیا ہے۔ اس منصوبے کی ناکامی کی بڑی اور اہم وجہ بھارت کا منفی رویہ ہے جو وہ دوسرے ممالک کے ساتھ رکھتا ہے۔ چین کے ساتھ بھی تو بھارت کا سرحدی تنازعہ چل رہا ہے۔ لہٰذا جب تک بھارت اپنے رویے میں لچک اور دوسروں کیلئے اپنے دل میں جگہ نہیں بناتا اس وقت تک اقتصادی راہداری منصوبہ تو کیا ایک سڑک بھی بنانی ناممکن ہے۔
*****

حکومت کا ناقابلِ تعریف کارنامہ

پاکستان میں بہت کم ایسے مواقع آتے ہیں جب کسی کام پر پوری قوم خوش ہوئی ہو۔پاکستان میں ایسے تمام ادارے جو عوام کی سہولت کے لئے بنائے جاتے ہیں ۔سب سے زیادہ تکالیف اور مصیبت عوام کو بھی وہیں برداشت کرنی پٹرتی ہیں ۔کونسا ایسا عوامی ادارہ ہے جس سے عوام کا واسطہ ہواور عوام اس ادارے سے مطمئن ہو۔پولیس، محکم�ۂ مال، سی ڈی اے، آر ڈے اے، ایل ڈے اے، محکمہ ڈاک، بجلی، گیس سمیت سیوریج تک کے ادارے عوام کے لئے وبالِ جان بنے رہتے ہیں ۔کالم لکھتے وقت بار بار خیال آتا ہے کہ بات کس ادارے اور کس مصیبت سے شروع کی جائے ۔ عام محاورہ یہ بولا جاتا ہے کہ لوگ نوکری صرف تنخواہ لینے کیلئے کرتے ہیں ۔ کام تو وہ رشوت لیکر کرتے ہیں ۔پھر سب سے افسوسناک پہلو یہ ہوتا ہے کہ کسی کے خلاف کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔لیکن آج میں دوسرے کسی ادارے کے متعلق نہیں لکھنا چاہتا کہ کس محکمے میں کس کو کون کون سے حربے استعمال کر کے سائلین کو تنگ کیا جاتا ہے۔آج میں نے اخبارات کے پہلے صفحے پر وزیر بجلی سردار اویس احمد خان لغاری کی طرف سے یہ خبر پڑھی کہ غلط بل بھیجنے پر زیادہ بل بھیجنے والوں کو 3سال تک قید ہوگی۔پاکستان میں گیس اور بجلی کے40فیصد سے زیادہ بل غلط آتے ہیں ۔پھر بل ٹھیک کرانے کے لئے بجلی اور گیس کے دفاتر کے کئی چکر لگانے پڑتے ہیں زیادہ تر یہ جواب ملتا ہے کہ متعلقہ کلرک سیٹ پر نہیں ہے۔اور خوش قسمتی سے متعلقہ کلرک سیٹ پر بیٹھا ہو تو پتہ چلتا ہے کہ آج نیٹ کام نہیں کر رہا۔اس طرح لوگ دفتروں سے چھٹی اور اور کاروباری لوگ اپنا بزنس چھوڑ کر بجلی اور گیس کے دفاتر کے چکر لگارہے ہوتے ہیں ۔خاص طور پر سب سے زیادہ تکلیف دہ مرحلہ اس وقت ہوتا ہے جب گھر میں کوئی مرد نہ ہو اور خواتین کے پاس ذاتی ٹرانسپورٹ بھی نہ ہو۔تو وہ خواتین کن مشکلات سے ان دفاتر کے ہر ماہ ایک سے زیادہ چکر لگاتی ہونگی۔راقم نے ذاتی طور پر ان محکموں کے ستائے ہوئے لوگوں کو ان دفتروں میں آنسو بہاتے دیکھا۔لیکن وہاں کوئی شکایت سننے والا نہیں تھا۔آج وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے یہ بل پاس کرا دیا کہ غلط یا زیادہ بل بھیجنے والے کو تین سال کی سزا ہوگی۔یہ بہت ہی اہم اور عوام کیلئے خوشی کی خبر ہے۔لیکن اس میں سے پھر ایک سوال نکلتا ہے کہ شکایت کنندہ کو غلط بل کی شکایت لے کر کہاں جانا ہوگا۔کیا اس سائل کو پھر عدالتوں کے چکر لگانے ہونگے۔وہاں پھر وکیل کرنے ہونگے ۔ کیا وہ وکیل اس کی ہر پیشگی پر عدالت میں حاضر ہونگے اور کیا وہ جج صاحب پہلی ہی تاریخ پر غلط بل کا لکھا ثبوت دیکھ کر بغیر وکیل کے ہی مجرم کو اپنی عدالت میں ہی گرفتار کر کے3سال کے لئے جیل بھیج دیں گے۔مجھے تو یہ کاروائی نا ممکن کی حد تک مشکل نظر آتی ہے۔ یا تو اس کا حل یہ نکالا جائے کہ شکایت کنندہ اپنا غلط بل درخواست کے ساتھ نیب جیسے ادارے کے میل باکس میں ڈال دیں ۔ وہ ادارے والے چیک کریں اور غلط بل بھیجنے والے کو جیل بھیج دیں ۔ موجودہ جتنے بھی حالات یا قوانین میں سب سائل کو تنگ کرنے والے ہیں حکومت کو عوام کی سہولتوں کیلئے اقدامات کرنے پڑیں گے۔سرکاری خزانے پر حملے ہر دور میں ہوتے رہے۔کسی نے ٹھیکیداری میں شرکت سے گندگی سمیٹی اور غیر معیاری کاموں کو پاس کرانے میں مدد دی۔کسی نے کاروباری حصص بغیر سرمایہ کاری کے سرکاری اثرو رسوخ اور مراعات کی سہولیات بہم پہنچا کر حاصل کی۔کسی نے کوٹھیاں بنوا کر اپنا مطالبہ پورا کرایا اور کسی نے لنگر اخراجات کسی کے ذمے ڈالے۔کسی نے الیکشن مہمات میں گاڑیوں کی شکل میں مقاصد حاصل کئے۔اور کسی نے پٹرول کے ااخراجات اپنے ذمے ڈال کر نقب زنی کی راہ ڈھونڈی۔کہیں نظریات کے جھٹکوں نے سلوٹ دی اور قوم کی اعصاب پر ضرب محسوس کی تو جھوٹ ، مکاری اور لفاظی کو سہارا بنایا۔کہیں کوئی بے بس ہوا تو دین کو بلیک میل کر کے مطلب براری کا ذریعہ بنایا۔کسی نے بڑائی کا سرٹیفیکیٹ دولت سمیٹ کر لے لیا۔اور کہیں نعرے بازوں اور چاپلوسی کے جوش و خروش سے سکون حاصل کیا۔کسی نے ذرائع ابلاغ کی مدد سے تصاویر کی نمائش میں اپنی برتری کا سکہ منوانے کی کوشش کی اور کسی نے ٹی وی کی چھاپ لگوا کر اپنی شہرت کو چار چاند لگوائے۔کہیں جائیدادیں بڑھانے کو اپنے لئے ذریعہ شناخت بنایا۔اس ملک کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے حربے جو ان فضاؤں میں پروان چڑھنے والوں نے اختیار کیے وہ بے حد و بے حساب ہیں ۔کہیں سے اس وطنِ عزیز کی بقا اور سا لمیت کے لئے رب ذوالجلال کے حضور آنسوؤں اور آہوں کے ساتھ سحر خیزی میں دعائیں ہوئیں ۔عظمتوں اور روشنیوں کے پیکر زندگی کی بازی اس وطنِ عزیز پر قربان کر گئے۔ان کے جذبوں نے نہ نمائش کی فکر کی، نہ ناموں کی تختیوں کا سہارا لیا، نہ ٹی وی پر تصویروں کا تقاضا کیااور نہ اخباری سرخیوں کی حاجت محسوس کی۔جن کے خون کا ہر ہر قطرہ ، سانس کی ہردھڑکن اور روح کے ہر جھٹکے میں وطن کی سا لمیت کا راز چھپا تھا۔حر ص اور لالچ نے انسان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔جدوجہد کے جذبے دم توڑ گئے۔تساہل پسندوں اور آسانیوں نے انسانیت کو بکھیر دیا۔لوٹ مار کے جذبوں نے نہ صرف گھچاؤ بڑھایابلکہ نفرت اور خود غرضی کے تمغے دیے۔چاہت کی چاشنی چھن گئی۔محبت کی بینائی غائب ہو گئی۔قربانی اور ایثار کے جذبے مٹتے چلے گئے۔حلال اور حرام کی تمیز ختم ہوگئی۔خون کی گردش نے رنگ بدل لئے۔افراتفری کا عالم ، جھوٹ و مکار ی کا سماں ، کسی کو کسی پر اعتماد نہیں ۔ہر ایک اپنے داؤ پیچ کے کرتب دکھانے میں سرگرداں ، صرف کمائی کے حوض میں غرقابی کا شوق، کسی کو احساس نہیں ، یہ حوض کس قدر گدلا، کس قدر گندا، کس قدر غلیظ اور کتنا بدبودار ہے۔کتنی بیماریاں اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں اور اس حوض میں اشنان کے کیا اثرات ہونگے؟ بدقسمتی سے مسلمانوں کی پوری تاریخ میں اقتدار حاصل کرنے کے لئے ہر دور میں بڑے بھیانک حربے استعمال کئے۔لیکن آج میں زیادہ پیچھے نہیں جانا چاہتا۔میری نسل کے لوگوں نے ایوب خان کے اقتدار سے لے کر اب تک حالات دیکھے ہیں ۔فوجی آمروں نے جب بھی اقتدار پر قبضہ کرنا چاہا تو جمہوری حکومتوں پر سو قسم کے الزامات لگا کر انہیں رخصت کر دیا۔لیکن ذرائع ابلاغ نے پھر ان ڈکٹیٹروں کا بھی احتساب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے دور کو تاریخ میں سیاہ ترین دور لکھا جاتا ہے۔ابھی عوامی خدمت کے تمام ادارے عوام کیلئے مشکلات پیدا کرتے ہیں ۔ الیکشن نزدیک آ گیا ہے ۔ حکومت کو عوامی سہولیات کیلئے بہت محنت کرنی ہوگی ۔ عوام کو ہر شکایت کا بذریعہ ڈاک یا خط گھر پر اطلاع دی جانی چاہیئے۔لوگوں کو فضول دفتروں کے چکروں سے بچایا جائے۔ شکایت بھی ڈاک میں جائے اور اس کا ازالہ بھی بذریعہ ڈاک اس کو گھر تک پہنچایا جائے۔لیکن بذریعہ سائلین کا ازالہ کرنے کے لئے حکومت کو سب سے پہلے محکم�ۂ ڈاک کے ملازمین کا بھی احتساب کرنا ہوگا۔حکومت کو مبارک ۔کسی چھائی کی طرف قد م اٹھایا تو ہے۔
*****

تو جھوٹ کی دنیا میں مگر سچ ہی کہا کر

تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔دنیا میں کسی ملک کے وقار اور اس کے مقام کا جائزہ لینا مقصود ہو تو جن بہت سے محرکات کو دیکھنا پڑتا ہے ان میں سب سے اہم عنصر معیشت کی مضبوطی ہے اور معیشت کی مضبوطی بغیر تعلیم کے ممکن نہیں۔اسلام نے بھی تعلیم کو جو اہمیت دی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریمؐ پر پہلی وحی کا پہلا لفظ’’ اقراء‘‘ہے جس کا مطلب ہے’’ پڑھ‘‘ ماہرین عمرانیات نے ریاست کی تشکیل اور معاشرے کے معرض وجود میں آنے کے بعد جب ریاست کی ذمہ داریوں کا تعین کیا تو تعلیم کے فروغ،جہالت اور ناخواندگی کے خاتمے کو اولین ترجیح دیتے ہوئے یہ امر کسی تامل کے بغیر واضع کر دیا کہ افراد معاشرہ کی محرومیوں کے خاتمے،تعمیروترقی اور خوشحالی کے خواب کو عملی شکل دینے،افراد معاشرہ کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے،فکری اور قومی یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا کرنے ،ریاست اور افراد معاشرہ کے درمیان خوشگوار تعلقات کے قیام اور عوام کے مفاد کو ترقی اور خوشحالی کیلئے خشت اول کا درجہ دینے کیلئے تعلیم کا فروغ اور ناخواندگی کا خاتمہ امر ناگزیر ہے ۔قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے1947ء میں فرمایا’’ تعلیم پاکستان کیلئے زندگی اور موت کا معاملہ ہے دنیا اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے کہ تعلیم میں ضروری پیش قدمی کے بغیر نہ صرف ہم دوسروں سے پیچھے رہ جائیں گے بلکہ ممکن ہے کہ مکمل طور پر مٹ کر رہ جائیں‘‘۔دنیا میں پرائمری سکولوں میں داخلے کی شرح 87فیصد تک کم ہے جو کہ پاکستان میں مزید نیچے56فیصد تک ہے۔پاکستانی بچوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کی معاشی قیمت ادا کرنا ہر سال سیلاب کا سامنا کرنے کے مترادف ہے۔پاکستان میں سکول جانے کی عمر کے دو کروڑ سے زائد بچے سکول جانے سے محروم ہیں پوری دنیا میں سکول جانے سے محروم دس میں سے ایک بچہ پاکستانی ہے یہاں اوسطاً چار میں سے بمشکل ایک بچہ ثانوی تعلیم تک پہنچ پاتا ہے۔کوئی بھی ملک خوشحال مستقبل کی طرف گامزن نہیں ہو سکتا اگر اس کے لوگ سڑک کنارے لگے سائن بورڈ نہ پڑھ سکیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بچوں کی مفت تعلیم کیلئے کروڑوں روپے کی لاگت سے اعلیٰ معیار کے دانش سکول قائم کئے اگرچہ اس طرح کے اعلیٰ سکولوں میں غرباء کے بچے تعلیم حاصل کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔اس پر بعض طبقات کی طرف سے بڑی لے دے ہوتی رہی ہے۔ہماری عادتیں بھی تنقید برائے تنقید کے حصار سے کبھی باہر نہیں نکلیں کہا جاتا ہے کہ کیا ہی بہتر ہوتا کہ پنجاب گورنمنٹ نئے سکول بنانے کی بجائے موجودہ سکولوں کی حالت زار بہتر بناتی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے تمام سرکاری سکولوں میں جدید فروغ تعلیم کیلئے اقدامات،سکولوں کی اپ گریڈیشن،جدید کمپیوٹر وسائنس لیبز،میرٹ پر اساتذہ کی بھرتی اور اساتذہ کی کمی کا خاتمہ کر کے معیاری تعلیم کی راہ ہموار کرنا ان کی علم دوستی کی مثالیں ہیں۔ان کا یہ کردار بلاشبہ دوسرے صوبوں کیلئے بھی ایک قابل تقلید اقدام کا درجہ رکھتا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے نہ صرف اپنی ذمہ داریوں کا پوری شدت سے احساس کرتے ہوئے ہمیشہ ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا بلکہ تمام سرکاری شعبوں کو بھی ان کی ذمہ داریاں یاد دلاتے ہوئے خدمات کی انجام دہی میں کوتاہی اور فرض نا شناسی کے مرتکب افراد کو کبھی معاف نہیں کیا اس سلسلہ کو آگے بڑھانے اور اس کی احسن تکمیل کیلئے انہوں نے ہر ضلع کی کلیدی پوسٹوں پر فرض شناس آفیسرز تعینات کرنے کیلئے سیکرٹری صاحبان کو دیانت دار اور فرض شناس آفیسرز تعینات کرنے کے احکامات صادر فرمائے۔ہمارے معاشرے کی یہ روائت ہے کہ عموماً ہر طبقہ فکر کے لوگ تنقید و تنقیص پر ہی یقین رکھتے ہیں اور ساری قوت اسی پر ہی صرف کرتے ہیں لیکن کسی کا اچھا کام دیکھ کر اس کی تعریف و توصیف بھی کی جائے تو یقیناً معاشرے پر اس کے خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان کے مدارس و کلیات میں تدریس کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں محکمہ تعلیم کے انتظامی اور کلیدی عہدوں پر تعینات رہے ہیں۔انہوں نے اپنی تعیناتی کے دوران ہر جگہ اچھی شہرت،دیانت داری اور نیک نامی کمائی آپ ایک محقق بالغ نظر،مدقق تیز ذہن،گفتاروکردار کا سنگم اور ماہر تعلیم ہیں سابقہ ادوار میں یوں تو کوئی شعبہ ایسا نہیں بچا جسے کرپشن نے بڑھ کر اپنے شکنجے میں نہ لے لیا ہو لیکن جس شعبے کو سب سے زیادہ تاخت و تاراج کیا گیا وہ تعلیمی شعبہ تھا۔اساتذہ کی بھرتی ہو یا کسی کا تبادلہ مقصود ہو میرٹ کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا تھا۔جب سے اس نے بطور منتظم اعلیٰ چارج سنبھالا ہے اساتذہ کے کام جو پہلے چمک کے بغیر حل نہیں ہوتے تھے وہ روٹین میں بغیر کسی رکاوٹ کے ہو رہے ہیں ان کیلئے اساتذہ کو دفتر کے چکر نہیں لگانے پڑتے ہر کام میرٹ پر ہو رہاہے بد عنوانی صرف دولت کے غلط استعمال اور مالی بے قاعدگیوں تک ہی محدود نہیں وسیع معنوں میں کسی شخص کے درست اعمال کو دیا نت داری اور غلط کاریوں کو کرپشن کہا جائے گا،چاہے اس میں دولت کا استعمال نہ ہو ایک ایسے ادارے میں جہاں ایسی روایات جڑ پکڑ چکی ہوں وہاں سچائی،دیانت داری اور ایمان داری کا دامن تھامے رکھنا کوئی معمولی بات نہیں۔یہ ایک جہاد ہے۔ضلعی چیف ایگزیکٹو تعلیم سیالکوٹ وزیراعلیٰ پنجاب کے روڈ میپ کو آگے بڑھانے میں ایک فعال کردار ادا کر رہے ہیں ان کی آمد سے ضلع سیالکوٹ مین تعلیمی گراف بتدریج بڑھ رہاہے ان سے قبل ضلع سیالکوٹ 35ویں نمبر پر تھالیکن اب یہ 25 ویں نمبر پر آگیا گو ان کی ضلع سیالکوٹ میں تعیناتی کو چند ماہ ہی ہوئے ہیں۔سکولوں میں بچوں اور اساتذہ کی حاضری کی صورت حال کافی بہتر ہے۔انہوں نے اپنی آمد کے ساتھ ہی سکولوں کی بندش کا فوراً نوٹس لیا اور بند سکولوں میں تدریس جاری کروانے کے انتظامات ہنگامی بنیادوں پر کئے ضلع کے دور دراز سکولوں میں بھی اچانک جا پہنچنا اور ادارے کی تعلیمی اور دیگر کار کردگی کو مانیٹر کرنا ان کا معمول ہے غیر حاضر اساتذہ کی سرزنش اور ان کو سزا اور ان کی انکوائریاں کروانے سے اساتذہ میں بے چینی اور اضطراب تو پیدا ہوا ہے لیکن اس عمل سے تعلیمی صورت حال بہتری کی جانب بتدریج رواں ہے۔یہ بھی ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ خوف اور ڈر کے بغیر حالات کار کو بہتر کرنا ناممکن ہوتا ہے خصوصاً ہمارے پیارے وطن عزیز میں۔سچ تو یہی ہے کہ سی او ایجوکیشن نے پورے ضلعی تعلیمی نظام کو متحرک کیا ہے عموماً اخبارات میں کسی کی مدح وتوصیف کرنے والے اپنے ذاتی مفادات کے چکر میں ہوتے ہیں بقول اقبال
سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں
ہے دور نیا اور نئے دور کا آغاز
لیکن یہاں خوشامد والی کوئی بات نہیں کسی کا جائز کام وہ روکتے نہیں اور ناجائز کام کسی قیمت پر کرتے نہیں کیونکہ اس شخص کو برائی کے سامنے نہ جھکایا جا سکتا ہے اور نہ خریدا جا سکتا ہے اپنے منصب سے وفا داری اور پابندی وقت ان کا طرہ امتیاز ہے تعلیم کے سدھار میں ان کی کاوشوں کی بدولت ان کو ضلع سیالکوٹ میں بہت سی مخالفتوں کا سامنا ہے لیکن ابھی تک ان کی قوت ارادی نے کہیں لغزش نہیں دکھائی۔تنقید اور مخالفت سے گبھرانا نہیں چاہئے۔ہم تو صرف اتنا ہی کہیں گے۔
پتھر ہی ملیں گے تجھے ہر سمت سے آکر
تو جھوٹ کی دنیا میں مگر سچ ہی کہا کر
گو ایسے لوگ ہمارے معاشرے میں برداشت نہیں کئے جاتے لیکن یقین واثق ہے کہ اگر ان کو ضلع سیالکوٹ میں مزید تعیناتی کا وقت ملا تو محکمہ تعلیم سے بے قاعدگیوں کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور ضلع تعلیمی میدان میں مزیدترقی کرے گا۔
*****

کشمیر پاکستان کی شہ رگ اور بھارت کے خودکش حملے(2)

قربان جاؤں حریت کانفرنس کے ۸۰ سالہ بوڑھے لیڈر، سید علی گیلانی کہ جس نے بھارت کو للکار کر تاریخی بیان دے کہا کہ’’ اے بھارت تم کشمیر کی سڑکوں پر تار کول کے بجائے سونا بھی بچھا دے تب بھی ہم تمھاری بات نہیں مانیں گے‘‘۔ ہم تم سے آزادی حاصل کر کے پاکستان کے ساتھ شامل ہونگے انشاء اللہ۔ اس ہی اعلان کے بعد کشمیری روزانہ مظاہروں کے درمیان پاکستانی سبز ہلالی جھنڈے لہراتے رہتے ہیں ۔ بھارت کے ترنگے جھنڈے کو جلاتے ہیں۔ پاکستان کے یوم آزادی کو پاکستان کے ساتھ مناتے ہیں اور بھارت کے یوم آزادی کے دن سیاہ جھنڈے لہرا کر ہڑتال کرتے ہیں۔کشمیریوں کے اس عمل سے بھارت نے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوڑ دیے۔ ان کے کھیت کھلیان اور پھلوں کے باغات اور پراپرٹیوں جس میں مکان ، دوکانیں اور کاروبار شامل ہے،پر گن پاؤڈر چھڑک کرخاکستر کر دیا۔ ہزاروں کو جعلی مقابلوں کے ذریعے شہید کر کے اجتمائی قبروں میں دفنا دیا۔ ان کے ہزاروں نوجوانوں کو قید میں بند کر دیا۔ ہزاروں کو قید کے دوران آپائج کر دیااور ہزاروں کو گم کر دیا جس سے کشمیر کی سینکڑوں عورتیں نیم بیوہ ہو گئیں۔ کشمیر کی ہزاروں مائیں، بہنیں،بیویاں اور بہنیں کی آنکھیں اپنے مردوں کی رہیں تکتے تکتے خشک ہو گئیں۔ ہزاروں عزت مآب خواتین کے ساتھ ان کے سفاک فوجیوں نے اجتمائی آبرو ریزی کی۔ اب توان کی خواتیں کی چوٹیاں کا ٹ کر فرعونی ذہنیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کے بے بس نہتے مظاہرین پر بیلٹ گنیں چلا کر اس کے سینکڑوں نوجوانوں کو اندھا کر دیا ہے۔ نام نہاد سیکولرزم کا دعویٰ کرنے والے بھارت کے سفاک حکمرانوں کے حکم پر ان کی آٹھ لاکھ فوج کشمیری مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں دخل دے ان کو جمعہ کی نماز تک نہیں ادا کرنے دیتے۔ اس کی عقیدت کے منبع زیارتوں کو گن پاؤ ڈر چھڑک کر جلا دیا۔مقبوضہ کشمیر میں محاصرے ، کریک ڈاؤن اور چھڑپیں روز کا محمول بن چکی ہیں۔سخت سردی کے دوران شناختی پریڈ نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔کشمیری خواتین کی بے حرمتی کی جاتی ہے۔نہ جانے انسانیت کا ضمیر ان مظالم پر کب جاگے گا۔ اُدھربھارت کی گیدڑ بھبکیوں کہ وہ آزاد پاکستان کے زیر اہتمام آزادکشمیر پر بھی قبضہ کر لے گا۔اب تو ان کے چمچے فاروق عبداللہ تک بھی بول اُٹھے ہیں کہ آزاد کشمیر پاکستان کا حصہ ہے ۔پاکستان کسی طور پر بھی بھارت کو اس پر قبضہ نہیں کرنے دے گا۔ کشمیر ایک آزاد ریاست کے طور پر نہیں رہ سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ جموں و کشمیرکو پاکستان میں ہی شامل ہونا چاہیے۔ بھارت کے کچھ انصاف پسند دانشور،بھارت کے حکمرانوں سے کہہ رہے ہیں کہ کشمیر میں مظالم کی وجہ سے کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔ کہ مقبوضہ کشمیر میںآئے دن بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں۔ آغا حسن الموسوی کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ روزانہ کی بنیاد بھارتی سفاک فوجی کشمیریوں کو شہید کر رہے ہیں۔ دو دن پہلے گھر گھرتالشی کے دوران چھ کشمیریوں کو شہید کر دیاگیا۔لوگوں نے فوجی محاصرہ توڑ کر احتجاج کیا اور ہڑتال کی۔ پلومہ میں کریک ڈاؤن کی کوشش کشمیریوں نے ناکام بنا دی۔جھڑپوں میں پانچ افراد زخمی ہوئے۔وادی میں بھارت مظالم کے خلاف احتجاج ہوا۔ کئی مقامات پر عوام نے فوجیوں پر پتھراؤ کیا۔کشمیر میں جاری تحریک تکمیلِ پاکستان کو دنیا کی نظروں سے اوجل کرنے کی بھارتی حکمرانوں کی پالیسی ہے کہ ایل او سی پر اشتعال پیدا کیا جائے۔چڑی کوٹ اور نیزہ پیرسیکٹر میں بھارتی فوجیوں نے بے اشتعال فائرنگ کی۔ اس سے ۷۵ سالہ خاتون شہید ہو گئی۔ پاکستان کے فوجیوں نے بھارت کی فوجی چوکیوں پر فائرنگ کر کے ان کو تباہ کر دیا۔وفاقی وزیر برائے امور آزاد کشمیر، گلگت وبلتستان برجیس طاہر صاحب نے کہا ہے کہ بھارتی فوج حسب معمول معصوم کشمیری نوجوانون کو نام نہاد جعلی مقابلوں میں شہید کر رہی ہے۔
صاحبو!پاکستان کے بزدل حکمران کشمیریوں سے اور کتنی قربانیاں چاہتے ہیں۔کیا سال میں صرف ایک یوم کشمیر منا کر کشمیر کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے؟کیا پاکستان نے بیرون دنیا اپنے سفارت خانوں میں کشمیر کا مسئلہ اقوام عالم کے سامنے اُٹھانے کے لیے کشمیر بینچ قائم کیے ہیں؟ کیا عوام کا مطالبہ مانتے ہوئے کشمیر کمیٹی میں کوئی فعال شخص کو لگایا ہے؟ ایک بات پاکستان کی عوام اور حکمرانوں کو پلے باندھ لینی چاہیے کہ بھارت پاکستان کو ختم کر کے ہی دم لینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اب تو بھارت میں ہندو انتہا پسند دہشت گرد موددی ہندواتا یعنی بھارت کو ایک کٹڑ ہندو مذہبی ریاست بنانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ یہ تنظیم ہنددؤ ں کی دہشت گرد تنظیم راشٹریہ سیونگ سنگھ( ایس ایس آر) کا بنیادی رکن ہے ۔ پُر تشدد تنظیم پر انگریزوں نے بھی اپنے دور میں پابندی لگائی تھی۔بھارت کے پاکستان توڑنے کے منصوبے کو ناکام کرنے اور پاکستان بچانے کا ایک ہی فارمولہ ہے۔پاکستان میں فوراً قائد اعظم ؒ کے وژن کے مطابق اسلامی نظام حکومت قائم کر دینا چاہیے۔ اس سے بکھری ہوئی پاکستانی قوم یک سو ہو جائے گی۔ حکومت کسی بھی سیاسی پارٹی کی ہو۔عوام اُس کی زورِ بازو بن جائیں گے۔اورجب ہمارے حکمران، تحریک پاکستان کے دوران اللہ سے کیے ہوئے وعدہ پورا کرے گی ۔تو اللہ آسمان سے رزق نازل کرے گا۔ زمین اپنے خزانے اُگل دے گی۔ پاکستان کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ تحریک تکمیل پاکستان پوری ہو جائے گی۔کشمیر پاکستان سے مل جائے گا۔اورکشمیر پاکستان کی شہ رگ بھارت کے خودکش حملوں سے محفوظ ہو جائے گی۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو آمین۔
(ختم شد)

حکومت اور دھرنا مظاہرین کے درمیان ڈیڈلاک تشویشناک

حکومت اور دھرنا مظاہرین کے درمیان ڈیڈلاک کی صورتحال بدستور جوں کی توں دکھائی دے رہی ہے۔فریقین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔عدالتی احکامات کے باوجود دھرنا مظاہرین سے فیض آباد انٹرچینج خالی نہیں کرایا جا سکا جس پر عدالت نے وزیر داخلہ احسن اقبال بلا کر وضاحت طلب کی۔ وزیر داخلہ نے معزز عدالت کو بتایا کہ عدالت کے احکامات کی روشنی میں مسلسل یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ اس جگہ کو خالی کراویا جائے تاہم وہ اس معاملہ کا پرامن حل چاہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی بدقسمت واقعہ ہو جائے کیونکہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔احسن اقبال نے مزید 48 گھنٹے کی مہلت مانگی جو قبول کر لی گئی جبکہ دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کی زیر صدارت علماو مشائخ کے اجلاس کے بعد جاری کر دہ مشترکہ اعلامیہ میں راجہ ظفر الحق کمیٹی کی سفارشات عام کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق علما کرام اور مشائخ عظام کا یہ اجلاس اعلان کرتا ہے کہ عقیدہ ختم نبوتﷺ ہمارے دین کی اساس ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی لغزش،کوتاہی یا غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ،اس ضمن میں حالیہ واقعات ہمارے لئے تشویش کا سبب ہیں۔علما مشائخ کے اجلاس کے بعد دھرنا مظاہرین سے دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی گئی جو بے سود گئی۔راولپنڈی اسلام آباد کے باسیوں کا نظام زندگی گزشتہ پندرہ روز سے بری طرح متاثر ہوچکاہے۔جڑواں شہروں میں ٹریفک کی روانی درہم برہم ہے جس سے شہریوں کو منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا پڑرہا ہے۔روزانہ کئی ایمبولینسز بھی ٹریفک میں پھنس رہی ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے حکومت کو گزشتہ روز دھرنا ختم کرانے کا حکم دیا گیا تھا تاہم وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایت پر سیکیورٹی فورسز کو کسی بھی ایکشن سے روک دیا گیا اور حکومت اس معاملے پر مذاکرات کو ترجیح دے رہی ہے۔اب تک نصف درجن بات چیت کے دور ہوچکے تاہم ڈیڈ لاک برقرار ہے۔دھرنے کی قیادت وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے پر بضد ہے تو حکومت کا موقف ہے کہ ختم نبوت کے قانون کی بحالی کے بعد دھرنا بلا جواز ہے۔وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے ایک بارپھر دھرنے والوں سے دھرنا ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی کے شایان شان نہیں کہ ہم شہریوں کے راستوں میں کانٹیں بکھیریں۔مریض دم توڑ رہے ہیں بچے اسکول نہیں جارہے، دھرنے والوں سے اپیل کرتے ہیں، اس وقت ملک کے حالات کسی تصادم کی اجازت نہیں دیتے، ہمیں خون خرابہ نہیں کرنا چاہیے۔ لہٰذا ربیع الاول کے تقدس کیلئے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کریں۔یہ صورتحال یقیناًانتہائی افسوسناک ہے۔حکومت نے ایک بار پھر ذمہ داروں کے نام سامنے لانے کیلئے کمیٹی بنا دی ہے لیکن سوال ہے کہ راجہ ظفرالحق کمیٹی کی سفارشات کیوں سامنے نہیں لائی جا رہیں۔کمیٹی کمیٹی کھیل چھوڑ کر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔اگر اس قضیے کے معاشرے پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں بدقسمتی سے سوسائٹی میں پہلے ہی ہر سطح پر غصہ تشدد اور انتہاپسندی جڑیں پکڑ رہی ہیں ۔ غیرشائستہ رویہ بالعموم ہماری قومی زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔ عام آدمی سے لے کر علمائے کرام تک مسلکی اور فرقہ وارانہ اختلافات کے معاملے میں رواداری اور برداشت ناپید ہوتی جا رہی ہے۔چھوٹے چھوٹے فروعی معاملات پر کافر ہی نہیں واجب القتل تک قرار دینے کے فتوے جاری کر دیئے جاتے ہیں۔ملک کا موجودہ متفقہ آئین ملک کی دینی و سیاسی قیادت کے اتفاق کا حاصل ہے۔مگر اس کے باوجود ایسے تنازعات کا پیدا ہونا المیہ ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ موجودہ تنازعہ حکومت کا اپنا پیدا کردہ ہے جس نے ایک طے شدہ معاملے کو بلاوجہ چھیڑنے کے کوشش کی۔اس پر سونے پہ سہاگہ یہ کہ ایک طرف وہ اسے سازش قرار دیتی ہے مگر دوسری طرف سازش کرنے والوں کو بے نقاب کرنے کو تیار نہیں۔یہ رویہ یقیناًمذہبی حلقوں کو مشتعل کرنے کا باعث بنا اور تک بن رہا ہے۔ایک عام آدمی بھی حکومت کے اس طرز عمل کو کوس رہا ہے۔ نفرت، تشدد، عدم برداشت، غصے، بیزاری، اشتعال اور انتہاپسندی کے رجحانات کا چلن اگر معاشرے میں عام ہو رہا ہے تو اس میں حکمران طبقات کے ایسے اقدامات کا ہاتھ ہے جس کا تدارک ضروری ہے۔اس وقت جو صورتحال پیدا ہو چکی ہے اس کا واحد حل یہی ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے اندر کی کالی بھیڑوں کو نکال باہر کرے چاہے وہ کوئی بھی ہے۔ناموس رسالت سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ضد اور ہٹ دھرمی تصادم کا باعث بنے گی۔حکومت میں موجود میں نا مانوں کی عملی تصویر بنے وزیر اور مشیر خود حکومت کیلئے گڑھا کھود رہے ہیں۔امید ہے کہ شاہد خاقان عباسی حکومت اس معاملے پر اپنے ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کل تک اس تنازعے کا حل پرامن طریقے سے نکال لے گی اور لوگوں کے جائز مطالبات کے حل میں بے جا تاخیر سے مکمل اجتناب کیا جائے گا۔
بدعنوانی کے خاتمے کیلئے چیئرمین نیب کا حوصلہ افزا عزم
چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے عوامی خواہشات کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بدعنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے، نیب کے کام میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے گا۔ نیب کسی صوبے، پارٹی یا فرد سے انتقامی کارروائی کے لیے نہیں بنا بلکہ بلا تفریق زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نیب کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔انہوں نے اب تک کی اپنے ادارے کی کارکردگی کا جائزی پیش کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ 33 مقدمات انجام تک پہنچ گئے،25 مقدمات انکوائری اور 25 تفتیش کے مراحل میں ہیں۔ملک 84ارب ڈالر کا مقروض ہے۔ 179میگا کرپشن کے مقدمات میں سے 96میگا کرپشن کے مقدمات عدالت مجاز میں دائر کئے ہیں۔انہوں نے نیب کے تمام انوسٹی گیشن افسران اور پراسیکوٹرز کو ہدایت کی وہ اپنے کام میں مزید بہتری لائیں، مکمل تیاری، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق مقدمات تیار کر کے عدالت مجاز میں دائر کئے جائیں نیب میں تھانہ کلچر کو برداشت نہیں کیا جائے گا نیب میں اب ہر شخص کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے گا اور جو شخص بدعنوانی سے متعلق درخواست دینا چاہے گا اس کے ساتھ قانون کے مطابق پیش آیا جائے گا کیونکہ جہاں ہمیں اختیارات دیتا ہے وہاں قانون کے غلط استعمال سے بھی روکتا ہے۔ چیئرمین نیب نے جس عزم کا اظہار کیا ہے ہمیں امید ہے کہ وہ اپنے کہے کی پاسداری بھی کریں گے اور عوامی امنگوں پر ہر حال میں پورا اتریں گے۔یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں جمہوریت کے استحکام کی بات تو ضرور کی جاتی ہے مگر جمہوریت کی روح احتساب کو طاق نسیاں کی زینت بنا دیا جاتا ہے۔برس ہا برس سے احتسابی عمل کو انتقام کے ذریعہ بنانے کی وجہ سے ملک میں جمہوریت کی جڑیں کھوکھلی ہو گئی ہیں۔ پوری قوم کی نظریں اب بھی بدعنوانی کے خاتمے کیلئے نیب پر ہیں۔میگا کرپشن، وائٹ کالر اور دیگر مقدمات کو قانون کے مطابق عصر حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منطقی انجام تک پہنچانا وقت کا تقاضا ہے۔بدعنوان عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے۔

مسلم لیگی حکومت بنام خادم حسین رضوی

مسئلہ اتنا گھمبیر اور مشکل بھی نہیں کہ جسے حل نہ کیا جاسکے ایک عام سے مسئلہ ہے جسے ایک عام سا انسان بھی بخوبی سمجھ رہا ہے مگر جانے حکومت کیوں اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر ختم نبوتؐ کے بل میں کہیں کوئی کوتاہی یا غلطی ،غفلت یا سازش کے تحت ختم نبوتؐ کے قانون کو ختم کرتے ہوئے قادیانی اقلیت کو راستہ دینے کی کسی نے کوشش کی تھی تو مسلم لیگ (ن) کی حکومت اس غلطی کا اعتراف کرتی اورپھر غلطی کرنے والے کو بے نقاب کرتے ہوئے عوام کے سامنے لاتی۔ مولانا خادم حسین رضوی کا مطالبہ اگر اپنی ذات کے حوالے سے ہوتا یا وہ اپنی اولاد، اقربا یا مقربین کیلئے کسی رقم کا مطالبہ کرتا یا اسلام آباد جیسے پوش شہر میں بیش قیمت مالیتی پلاٹ کا مطالبہ کررہا ہوتا تو یقیناً ہم اس کی مذمت کرتے لیکن بات ختم نبوتؐ کی ہے اور حکومت کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آرہی کہ رسول مکرمؐ کی ذات مقدس کیلئے ایک ادنیٰ سے ادنیٰ اور گنہگار ترین شخص بھی جان قربان کرنے کو سعادت جانتا ہے اور اسے اس بات کا پورا یقین ہے کہ اس کا یہ عمل اسے نہ صرف اپنے نبیؐ بلکہ اپنے رب سے قریب تر کردے گا اور اس کا مقام شہادت کا گنا جائے گا۔ حکومت یہ جانتی ہے کہ مجاہد ملت حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی اور حضرت مولانا ابوالاعلی مودودی نے 50 کی دہائی میں تحریک ختم نبوتؐ کی قیادت کی تھی جس کی پاداش میں ایوب حکومت نے انہیں سزائے موت کا حقدار جانا اور انہوں نے اس فیصلے کو کھلے دل کے ساتھ اور نہایت خوشی کے ساتھ قبول کیا۔ اسی برصغیر میں راج پال نامی شخص کو رسول مکرمؐ کی گستاخی کرنے پر غازی علم دین شہید نے واصل جہنم کردیا۔ پاکستان رسول مکرمؐ کے عشاق کا ملک ہے،20کروڑ پاکستانی آقادو جہاں کی ذات پر تن من دھن لٹانے کیلئے ہر وقت تیار بیٹھے ہیں۔ حکومت کا خیال ہے کہ شاید فیض آباد میں مٹھی بھر افراد دھرنا دئیے بیٹھے ہیں اس لئے پہلا ہفتہ تو انہیں جان بوجھ کر نظر انداز کردیا گیا اور پھر جب مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا تو اس وقت حکومت کے ہاتھ سے گیم تقریباً نکل چکی تھی،ایک زاہدحامد کی وزارت کو بچانے کیلئے پوری حکومت ایکطرف ڈٹ کر کھڑی ہوگئی ہے ۔ اگر زاہد حامد یا انوشہ رحمان پر ختم نبوتؐ کے حوالے سے کوئی انگلی اٹھی ہے تو وہ ریاستی ٹی وی پر آکر اپنی صفائی کیوں نہیں دیتے ؟ اور کیا یہ اتنے اہم وزراء ہیں کہ ان کے استعفیٰ دینے سے پوری حکومت بلڈوز ہو جائے گی؟ مجھے خادم حسین رضوی کے دھرنا دینے کے طریقہ کار سے بھی اختلاف ہے کیونکہ ان کے دھرنے سے میرے جیسا ایک عام شہری متاثر ہورہا ہے، ارباب اختیار تو اسلام آباد کی شاہراہ مارگلہ سے آجارہے ہیں ان کی آمدورفت میں کوئی فرق نہیں پڑا فرق پڑا ہے تو ایک عام آدمی کو چنانچہ مولانا رضوی صاحب کوبھی چاہیے تھا کہ وہ کوئی ایسا طریقہ نکالتے کہ جس سے ان کے مطالبات بھی تسلیم کرلئے جاتے اور عام شہری بھی متاثر نہ ہوتے۔ نبی مکرمؐ کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ ایک مسلمان کے ہاتھوں دوسرے مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے اور انہی کا حکم ہے کہ راستوں کو بند نہ کرو اور نہ ہی راستوں پر بیٹھا کرو۔ خادم حسین رضوی عاشق رسولؐ ہیں انہیں چاہیے کہ جس ذات سے وہ عشق کرتے ہیں ان کی تعلیمات پر مکمل طورپر عمل پیرا بھی ہوں مجھے ابھی تک اس بات کا بھی یقین ہے کہ ہماری حکومتیں نبی اکرمؐ کے خاتم النبین ہونے پر پورا یقین رکھتی ہیں اور1974ء میں پاکستان کی پارلیمنٹ کے اندر کیے جانے والے تاریخی فیصلے کی محافظ بھی ہیں مگر ان حالات میں ایک سوالیہ نشان ابھر رہا ہے، انگلیاں حکومت کی جانب اٹھ رہی ہیں کہ شاید وہ قادیانیوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے اور انہیں راستہ دینے کی کوشش کررہی ہے ، کچھ حلقوں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ یہ بیرونی قوتوں کی ایماء پر کام کیاگیا تاکہ وہ خوش ہوسکیں لیکن اس وقت حکومت بند گلی میں موجود ہے، ربیع الاول کا مقدس مہینہ جو میرے آقا محمد عربیؐ کی پیدائش کا مہینہ ہے شروع ہوچکا ہے اور حکمران جماعت کو سب سے بڑی حمایت اسلامی جماعتوں کی حاصل رہی ہے۔ گزشتہ روز پیر سید رضا حسین شاہ کے مدرسہ میں پنجاب کے تقریباً تمام بڑے گدی نشین موجود تھے جنہوں نے اس مسئلہ پر حکومت کا ساتھ دینے کی بجائے دھرنا والوں کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے، حکومت کی تاخیر اور خاموشی کے باعث مسلم لیگ ن مسلم جماعتوں کی حمایت کھوتی چلی جارہی ہے اور ’’حکومت بنام خادم حسین رضوی‘‘ کا مقدمہ بھی عوامی عدالت میں ہے اگر حکومت نے اسے لٹکانے کی کوشش کی یا تاخیر کرنے کی کوشش کی تو کیا اس کے نتائج سے حکمران واقف ہیں؟۔
*****

کراچی امن و ترقی کی راہ پر

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور بلا کسی امتیاز و تفریق کے ہر فرد کو ایک بے لوث ماں بن کر اپنی آغوش میں چھپا لیتا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت ملک کی واحد بندرگاہ کے حامل شہر کراچی نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی اور دیکھتے ہی دیکھتے مچھیروں کی چھوٹی سے بستی روشنیوں کا شہر بن کر دنیا کے نقشے پر ابھری۔ روزگار کے بہتر مواقع کے باعث نہ صرف ملک کے دیگر حصوں بلکہ دیگر ممالک مثلاً سری لنکا، فلپائن، بنگلہ دیش، ایران، برما اور بعض افریقی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی بڑی تعداد میں کراچی کا رخ کرنا شروع کر دیا۔ ہر زبان، رنگ و نسل، مذہب و فرقے سے تعلق رکھنے والا شخص یہاں آباد ہے، اور ہمارا کراچی ہر شخص کی روزی روٹی کا انتظام کرتا ہے۔پھر نہ جانے اس شہر بے مثال کو کس کی نظر لگ گئی۔ کراچی میں خوف وہراس نے ڈیرے ڈال لیے۔ روشنیوں کا شہر تاریکی میں ڈوبتا چلا گیا۔ شہر کی جو سڑکیں لوگوں کے لیے کبھی تفریح کا سامان ہوتی تھیں ، قتل گاہوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔جہاں دوسرے شہروں سے آنے والے لوگ ہر ماہ گھر والوں کو پیسے بھیجتے تھے ، اب وہاں سے لاشیں گھروں کو واپس جانے لگیں۔ لیکن ظلم کی اس تاریک رات کو آخر ختم ہونا تھا سو فوج، رینجرز اور پولیس جیسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مل کر ظلم کی سیاہ رات کو ختم کیا اور امن کا سورج ایک بار پھر طلوع ہو گیا۔ آج کا کراچی بھلے 90کی دہائی سے پہلے والا کراچی نہ سہی لیکن پچھلے دو تین سال سے یہاں کے حالات گزشتہ دو تین دہائیوں کے مقابلے میں بہت بہتر ہو گئے ہیں۔ آبادی کے بڑھتے دباؤ اور سابق حکمرانوں کی غلط منصوبہ بندی کے باعث جہاں ملک بھر میں اسلحے کی فراوانی کی وجہ سے دہشت گردی جیسے سنگین مسائل پیداہوئے، وہیں افغان جنگ کے منفی اثرات نے بھی نہ صرف کراچی میں آباد لوگوں بلکہ یہاں آنے والوں کو بھی جرائم کی راہ پر گامزن کیا۔ رہی سہی کسر غربت اور بے روزگاری کے اضافے نے پوری کر دی۔ مسائل میں گھرے کراچی میں نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ دن میں سو سے زائد موبائل چھن جانا، کاریں اور موٹر سائیکلیں چھننا اور چوری ہونا ایک معمول بن گیا۔کراچی میں امن و امان کی خراب صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شہر میں ٹریفک جام کے دوران بھی سڑکوں پر مسلح لٹیرے دندناتے ہوئے اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں کر کے رفو چکر ہو جاتے ۔ جرائم پیشہ عناصر کے سیاسی اثر و رسوخ کے باعث پولیس انہیں گرفتار کرنے میں بے بس نظر آتی۔گزشتہ کچھ عرصہ سے کراچی کے حالات کچھ ایسے رہے کہ کراچی کے بارے میں دنیا میں تاثر عام ہوگیا کہ یہ شہر مکمل طور پر امن و امان سے عاری ہے، جبکہ ایسا نہیں ہے۔ ہاں یہاں پر سماج دشمن عناصر موجود ہیں، لیکن کراچی کے لوگ عمومی طور پر امن کے خواہاں اور امن پسند ہیں۔موجودہ حکومت نے عنان مملکت سنبھالتے ہی جہاں پہلے بڑی بڑی خرابیوں پر ابتدائی دنوں میں اپنی توجہ مرکوز رکھی وہاں کراچی کے امن کیلئے بھی یہ شہر کسی بڑی کارروائی کا متقاضی تھا۔ سابق وزیر اعظم کے دورہ کراچی کے دوران یہ طے پایا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کی نشاندہی پر رینجرز متعلقہ علاقوں میں ٹارگٹ آپریشن کرے گی تاہم یہ لازم ہے کہ جن عناصرکو بھی گرفتار کیا جائے ان کے خلاف انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں مقدمات چلائے جائیں اور متعلقہ عدالت کو کم سے کم معینہ مدت میں فیصلے کے لئے کہا جائے اس ضمن میں وزیر اعلیٰ سندھ خصوصی آرڈیننس جاری کرکے خصوصی عدالت کو معینہ وقت میں فیصلے کا پابند کر سکتے ہیں۔ کراچی میں ستمبر 2013ء میں رینجرز کی قیادت میں آپریشن شروع کیا گیا تھا۔اس وقت شہر میں جرائم پیشہ افراد کی سرگرمیاں، اہدافی قتل اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں عروج پر تھیں۔آپریشن کے آغاز کے وقت تمام دہشت گرد گروپ شہر میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہے تھے۔وہ تخریبی سرگرمیوں اور حملوں کیلئے ایک پول سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کو استعمال کررہے تھے۔ان میں سے سینکڑوں سخت گیر دہشت گردوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔جن میں سے بیسیوں دہشت گردوں کے سروں کی قیمت مقرر تھی۔ اس آپریشن کے نتیجے میں کراچی میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ۔ کراچی میں آپریشن کے نتیجے میں اہدافی قتل کے واقعات میں ستر فی صد ،بھتا خوری کے واقعات میں پچاسی فی صد اور اغوا برائے تاوان کے کیسوں میں نوّے فی صد تک کمی واقع ہوئی ہے۔پاکستان رینجرز کراچی کے امن میں مرکزی کردار ہیں۔ کراچی آپریشن کی تکمیل کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان رینجرز سندھ ایک نہایت جری اور قابل ستائش فورس کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔ اس فورس کی کامیابیوں کا سہرا اس کے افسران، عہدیداروں اور جوانوں کے سر ہے۔ پاکستان رینجرز صوبے کے عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں اپنا موثر کردار ادا کرتی رہے گی۔کراچی آپریشن مکمل طور پر غیر سیاسی، بلا امتیاز، ہر طرح کی مصلحت اور دباؤ سے آزاد ہے۔ اسے کامیاب اور پائیدار بنانے کے لئے ہمیں مل جل کر اور بھی کام کرنا ہوگا۔کراچی آپریشن کے اہداف رفتار کی قید سے آزاد ہیں۔ کراچی آپریشن بلا تخصیص جاری رہنا چاہیے جب تک آخری دہشت گرد، بھتہ خور ، ٹارگٹ کلر نہ مارا جائے۔ چاہے وہ کسی بھی سیاسی، مذہبی یا لسانی جماعت سے تعلق رکھتا ہو۔ کوئی مصلحت آڑے نہیں آنی چاہیے۔ ہم نے اگر کراچی بچانا ہے تو ہمیں یہ کچھ کرنا پڑے گا۔ دوسری بات یہ کہ اب تک گرفتار ہونے والے افراد کو فوری طورپر سزائیں دی جائیں ۔ ان کے کیس کو التوا میں نہ ڈالا جائے۔ جو جو جرم انہوں نے کیا قانو ن کے مطابق ان کی سزا فوری طور پر سرعام دی جائے تاکہ عوام کو اس بات اطمینان ہو کہ حکومت واقعی کراچی میں قیام امن کے لئے سنجیدہ ہے۔کراچی آپریشن کو اس مرحلے پر ختم کرنا یا اس میں تبدیلیاں کرنا بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ رینجرز اور پولیس کے مابین بہتر کوآرڈینیشن برقرار رہے اور امن و امان کے حوالے سے بہتر نتائج حاصل ہو سکیں۔ایم کیو ایم، اے این پی اور پیپلز پارٹی کے عہدیداران بھی حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے کراچی آپریشن کو کامیاب بنانے میں مدد کریں ۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ کراچی میں مکمل قیام امن کیلئے وفاق ،صوبائی حکومت کے ساتھ تمام سیاسی جماعتوں کو تعاون کرنا ہو گا۔ کراچی میں قیام امن کے حوالے سے وفاقی حکومت کی پالیسی برقرار رہے گی۔ کراچی ملک کا معاشی حب ہے۔ کراچی میں بحالی امن کیلئے سکیورٹی اداروں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ہم ان قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ کراچی میں مستقل امن کا قیام اور ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ شہر قائد میں مستقل امن کے قیام اور ترقی کیلئے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہو کر حکومت کا ساتھ دینا ہو گا۔ وفاقی حکومت کراچی میں ہر صورت قیام امن کو یقینی بنائے گی اور شہر میں جرائم کے خاتمے کیلئے آپریشن کو جاری رکھا جائے گا۔ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے جس کی ترقی وخوشحالی کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہو تے ہیں ،کراچی میں دیر پاامن و امان کیلئے ہرممکن اقدامات کیے جارہے ہیں۔

Google Analytics Alternative