کالم

وزیراعظم کاکامیاب دورہ قطر

adaria

پاکستان میں کسی صورت بھی کرپشن بھی برداشت نہیں کیاجائے گا،اس مملکت خدادادکوکرپٹ افراد نے دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے اور لوٹ مار کے بعد بیرون ممالک میں جاکربیٹھ گئے ہیں، اب حالات بدلتے جارہے ہیں اسی وجہ سے غیرملکی سرمایہ کارپاکستان آنے کیلئے تیار ہیں۔نیزامارات سے تین ارب ڈالرقرض کے معاہدے پردستخط بھی ہوگئے ہیں اور یہ رقم دوہفتوں میں پاکستان منتقل ہوجائے گی،پاکستان کی جانب سے معاہدے پردستخط گورنرسٹیٹ بنک نے کئے ہیں یہ رقم آنے سے زرمبادلہ کے ذخائرکوقابل قدر سہارا مل جائے گا۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی مثبت کاوشوں کے پیش نظر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی گاہیں پاکستان کی جانب مرکوز ہونا شروع ہوگئی ہیں ۔وزیراعظم پاکستان کے قطرکے دورے کے حوالے سے جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات مزید بڑھانے پر زور دیا جبکہ امیر قطر نے پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ، وزیر اعظم نے قطری سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور نجی سیکٹر کو پانچ لاکھ گھروں کی تعمیر میں شراکت داری کی دعوت دی۔ اپنے دورہ کے دوران وزیر اعظم نے اپنے قطری ہم منصب شیخ عبداللہ بن نصر بن خلیفہ الثانی اور امیر قطر امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے ملاقاتیں کیں۔ دیوان امیری آمد پر وزیر اعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے قطر کے تاجروں اور سرمایہ کاروں سے بھی ملاقات کی اور قطری سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ اعلامیہ کے مطابق قطر کے تاجروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ جبکہ قطری قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران دو طرفہ تعلقات اور معیشت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بات چیت کی گئی۔ اس دوران دونوں ممالک کی قیادت نے دو طرفہ تعلقات مزید بڑھانے پر زور دیا ۔ جبکہ امیر قطر نے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے امیر قطر کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔ اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان زراعت، توانائی، سرمایہ کاری اور تجارتی حجم بھی بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔پاکستان قطر کو فورڈ سیکیورٹی پر ضمانت دینے کو تیار ہے۔ وزیر اعظم نے زرعی شعبے میں انفراسٹرکچر سے متعلق قطر کو اہم پیشکش کی جس کی وزیر خارجہ نے بھی تصدیق کر دی۔ پاکستان ہر سال اربوں ڈالر کی زرعی اجناس قطر کو برآمد کرسکتا ہے۔ جبکہ امیر قطر نے پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ہم آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پاکستان کی مدد کر سکتے ہیں، پاکستان اور قطر کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانے پر اتفاق ہوگیا ۔ قطر کے ساتھ ایل این جی کے حوالے سے اہم بات چیت ہوئی ،مستقبل میں پاکستان کی ایل این جی ضروریات بڑھیں گی۔ پاکستان اور قطر کے درمیان اربوں ڈالر تجارت کے مواقع موجود ہیں جن سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔قطر پاکستان میں دونئے گیس پاور پلانٹ لگائے گا۔ قطر نے پاکستانی چاول کی درآمد پر پابندی ختم کردی۔ قطر نے پاکستان میں نصب گیس پاور پلانٹ خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے قطر پی آئی اے کی بحالی میں پاکستان کی مدد کرے گا۔

سانحہ ساہیوال۔۔۔قوم انصاف کی منتظر
سانحہ ساہیوال کاسوگ تاحال ملک بھرپرچھایاہواہے ، حتیٰ کہ وزیراعظم پاکستان بھی اس کی وجہ سے شدید تشویش میں مبتلاہیں اوراسی وجہ سے انہوں نے کہاہے کہ وہ ملزمان کوقرارواقعی سزادیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزداربھی وزیراعظم سے براہ راست رابطے میں رہے اور جے آئی ٹی کو جو ٹائم دیاگیاتھا اس کوبڑھانے سے انہوں نے واضح طورپرانکارکردیا تاہم جے آئی ٹی نے کوئی مناسب اور واضح رپورٹ نہیں دی انہوں نے کہاکہ اس کے لئے ابھی وقت درکار ہے ۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق خلیل احمد اوران کے خاندان کوبے گناہ قرار دیتے ہوئے سی ٹی ڈی کو قتل کاذمہ دارٹھہرایاگیا ہے جبکہ ذیشا ن کے حوالے سے تحقیقا ت کے سلسلے میں مزیدوقت مانگ لیاگیاہے۔ پنجاب کے وزیرقانو ن راجہ بشارت نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے خوب زبردست منطق چھوڑ ی کہ آپریشن سوفیصد درست تھا اورخلیل احمد کی فیملی بے گناہ ہے ،ایک جانب آپریشن کادرست ہونااور دوسری جانب اپنے ہی منہ سے بے گناہ کہناسمجھ سے بالاتربیان ہے، جب آپریشن درست تھا تو مرنے والے دہشت گرد تھے اگرمرنے والے دہشت گرد نہیں ہیں تو پھرآپریشن درست نہیں، چونکہ پی ٹی آئی حکومت کے لئے یہ کیس ایک ٹیسٹ کیس سے کم نہیں جس بے دردی سے بقول جے آئی ٹی بے گناہ افراد کوماراگیااس کی مثا ل قریب قریب تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔اول تووہ زندہ گرفتار ہوسکتے تھے لیکن اس کے باوجود اس بے دردی سے گولیوں سے بھون ڈالاگیا کہ جس کو دیکھ کرصرف الاماں الاماں ہی کہا جاسکتاہے،بچوں اور خواتین کو دیکھ کرویسے بھی آپریشن روک دیاجاتاہے جب کہ مرنے والے بے گناہ افرادتھے وہ التجاء بھی کرتے رہے،گڑگڑاتے بھی رہے، درخواست بھی کرتے رہے مگر ان ظالموں نے ایک نہ سنی، جب گاڑی روک لی گئی تھی تو کیاایسا ممکن نہیں تھا کہ ذیشان سمیت سب کوزندہ گرفتار کر لیا جاتا مگر ایسا نہیں کیاگیا۔وزیرقانون نے بتایا کہ 2 ایڈیشنل آئی جیز ، ڈی آئی جی ، ایس ایس پی کو فارغ کردیا گیا جبکہ 5سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف دفعہ 302چالان کے تحت کارروائی ہوگی،مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت میں جائیگا،ڈی ایس پی سی ٹی ڈی کو بھی معطل کردیا گیا۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ فرانزک ٹیسٹ کیلئے فراہم کیاگیااسلحہ ودیگراشیاء بھی دونمبرتھیں ،حکومت کو چاہیے کہ ا س سلسلے میں جس نے بھی غلط بیانی سے کام لیا ہے وہ اس میں باقاعدہ طورپرسہولت کارگرداناجائے اوراس کو بھی وہی سزادی جائے جوکہ سی ٹی ڈی کے ملوث ملزما ن کیلئے تجویزکی جائے کیونکہ سچ کوچھپانابھی بہت بڑا گناہ ہے ،اب جبکہ حکومت دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی آپریشن کررہی ہے توسانحہ ساہیوال میں بھی جتنے سہولت کارتھے انہیں عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آنے والے وقت میں کوئی بھی حقائق چھپانے کی ہمت نہ کرسکے۔امیدواثق تو یہی کی جارہی ہے کہ وزیراعظم اس سلسلے میں انتہائی اہم قدم اٹھائیں گے اب ان کا دورہ قطر بھی مکمل ہوچکا ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ کتنی جلدی پنجاب پولیس کاقبلہ درست ہوتا ہے اورپولیس اصلاحات کب تک لائی جاتی ہیں ۔ایک بات اوراہم ہے کہ جن متعلقہ افسران کو وفاق کورپورٹ کرنے کے لئے کہاگیاہے ان کے خلاف بھی باقاعدہ تادیبی کارروائی کرنی چاہیے کم ازکم پانچ ،پانچ سال سروس ضبط اوراسی طرح سے ان کی ترقی بھی روک دی جانی چاہیے۔

مقبوضہ وادی میں در اندازی بھارت کی طرف سے ہو رہی ہے

پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دیرینہ مسئلہ حل کرنے کیلئے جرات، تدبر اور بصیرت کا مظاہرہ کرنا ہوگا ورنہ یہ مسئلہ مزید نصف صدی تک حل طلب رہے گا۔ بھارت کے سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو ایک سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والے سیاسی لیڈر تھے۔ انہوں نے کشمیریوں سے استصواب رائے کرانے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ اس دنیا سے اٹھ گئے لیکن انہوں نے بھی اپنی زبان سے کیا ہوا وعدہ وفا نہیں کیا۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے کیلئے مثبت اقدامات کئے مگر بھارتی لیڈروں نے متواترکئی متنازعہ بیانات دیے جن سے ماحول نا خوشگوار ہو گیا۔ وزیر اعظم مودی نے بارہا یہ الزام بھی عائد کیا کہ مذاکرات اسی صورت ہوں گے جب سرحد پار در اندازی بند ہوگی۔ ہماری حکومت کئی بار بھارت کو یقین دلانے کی کوشش کرچکی ہے کہ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کوئی مداخلت نہیں کی جا رہی۔ اگر بھارت کو شبہ ہے تو کنٹرول لائین پر غیر جانبدار مبصرین تعینات کئے جا سکتے ہیں۔ لیکن بھارتی حکومت یہ تجویز قبول کرنے کو تیار نہیں۔ بھارتی لیڈر ایک طرف مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف پاکستان پرمقبوضہ کشمیر میں مداخلت کابے بنیاد الزام عائد کرتے ہیں۔دنیا کا ہر باشعور فرد اس سے بخوبی اندازہ کر سکتاہے کہ بھارتی لیڈر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کیلئے مخلص نہیں ہیں ۔ بھارتی لیڈر صرف دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا چاہتے ہیں حالانکہ انہوں نے دل سے کبھی پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔ کشمیریوں کے حق خودارادیت پر پاکستان اس لئے بھی سودے بازی نہیں کر سکتا کہ کشمیری صرف اپنے جائز حق کیلئے لڑ رہے ہیں۔ کشمیر کی آبادی میں اکثریت مسلمانوں کی ہے جو دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان میں شمولیت کے حامی ہیں بلکہ انہوں نے تو پاکستان میں شمولیت کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ مگر بھارت نے ان کی اس خواہش پوری نہ ہونے دی۔ پاکستان شروع ہی سے کشمیریوں کی اس جدوجہد کا حامی اور مددگار رہا ہے۔ اس مسئلے پر پاکستان اور بھارت میں تین جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کو حق رائے دہی ملنا چاہیے اور بھارت کو اس سلسلے میں اقوام متحدہ میں کیا ہوا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔ اس کے مقابلے میں بھارت نے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے جو ایک بے بنیاد بات ہے اور پاکستان پر مداخلت کا الزام بالکل غلط ہے۔ بھارتی لیڈروں کو اشتعال انگیز بیان بازی اور پاکستان کے خلاف بے جا الزام تراشی سے باز رہنا چاہیے۔ عمران خان نے بھارت پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بلا تاخیر مذاکرات شروع کرے اب گیند بھارت کے میدان میں ہے۔اگر بھارت چاہے تو مسئلہ کشمیر پر فی الفور مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ اور اس تنازعہ کا ایسا حل تلاش کیا جا سکتا ہے جو پاکستان، بھارت اور کشمیریوں کے لئے قابل قبول ہو۔ بھارت کے سپہ سالار نے ایک بار پھر پاکستان پر الزام تراشی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے بھارت میں اور خصوصاً کشمیر میں در اندازی ہو رہی ہے۔ دہشت گردی بہت بڑا مسئلہ ہے اور جامع مذاکرات کے ذریعے ہی اس کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات خصوصاً مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان یہ بات کہہ چکا ہے کہ جیسے بھارت چاہے اسی انداز سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ لیکن بھارت آج بھی اپنی ضد پر اڑا ہوا ہے کہ پہلے دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے دیگر معاملات طے کر لیے جائیں اور مسئلہ کشمیر کو اولیت نہ دی جائے۔ یہی رویہ بھارتی دانشوروں اور صحافیوں کا ہے اور وہ تسلسل سے کہہ رہے ہیں کہ پہلے کشمیر کے علاوہ دیگر ایشوز پر بات کی جائے۔ دوسری طرف پاکستان کا مؤقف ہے کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا،دو طرفہ تعلقات میں گرمجوشی آئے گی نہ ہی یہ پروان چڑھیں گے۔پاکستان کا رویہ زیادہ حقیقت پسندانہ ہے کہ مسئلہ کشمیر ہی بنیادی ایشو ہے جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان نہ صرف فاصلے اتنے بڑھ چکے ہیں کہ انہیں پاٹنے کیلئے چیتے کا جگر چاہیے۔کشمیری عوام اپنے ارادے کے تحت حرکت کررہی ہے۔ پاکستان کی اس میں مداخلت نہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد میں لاکھوں کی تعداد میں عوام گلی کوچوں اور سڑکوں پرنکل رہے ہیں کیوں کہ وہ خود دکھی ہیں لیکن بھارت میں بعض بے وقوف لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ پاکستان کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ لیکن یہ حقیقت عیاں ہے کہ کشمیر میں پاکستان کی حمایت بہت زیادہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں رہنے والوں کو تکلیف ہوتی ہے تو درد ہمیں بھی محسوس ہوتا ہے۔ جب کشمیر سے تصاویر آتی ہیں تو دلی افسوس ہوتا ہے۔ ہم کشمیر کو ایک علاقے کے طور پر نہیں بلکہ انسانیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کشمیریوں سے ہمارا دلی رشتہ ہے۔ مسئلہ کشمیر ایک علاقے کا مسئلہ نہیں۔ جذبات اور دل کے راستوں کو فوجیں فتح نہیں کرسکتی۔ گولیوں سے معاملہ حل کرنے کی کوشش میں جذبات مزید ابھریں گے۔ کشمیر کے معاملے پر بھارت کو حقیقت پسندانہ رویہ اپنانا ہوگا۔

*****

ریاستی دہشت گردی کا انجام۔نئی دہلی نوشتہِ دیوار پڑھ لے!

سلطنت روما کا زوال تاریخ کا عبرتناک اور سبق آموز باب ہے روما کے ’خدابنے حکمران‘ اپنی طاقت قوت‘وحشت و ہیبت‘سطوت اور تکبرونخوت کے نشہ میں چورکمزور‘بے بس اور ناتواں انسانوں پرروما حکمرانوں نے کیسے کیسے مظالم نہیں ڈھائے وہ تو کمزور و ناتواں اقوام کو انسان سمجھتے ہی نہیں تھے، بلا آخر زوال پذیر ہوئے جن کے شرمناک اور ذلت آمیز شکست وریخت کے واقعات سے جدید عہد کے جدید سامراجیوں نے کچھ سیکھنا گوارا نہیں کیا، سلطنت روما کے زوال کے اسباب وہ جاننا چاہتے ہی نہیں اگر جاننے کی کوشش کرتے تو اْنہیں علم ہوتا سلطنت روما کے زوال کی ابتداء کی اصل وجہ کیا تھی محکوم اقوام پر اُن کے غاصبانہ اقتدار کی گرفت جب ڈھیلی پڑی تو اُنہیں پتہ چلا کہ افواج جو طاقت وقوت اور تحفظ کا واحد سرچشمہ ہوتی ہیں روما کے اقتدار کے کرتا دھرتاؤں نے اپنی قومی فوج کو اپنا ذاتی نوکر بنایا ہوا تھا اْن کی فوج جس کی پیشہ ورانہ لڑاکا مہارت کا شہرہ تھا اْن کی عسکری منظم جنگی مہارتوں کا جو شہرہ ایک عالم میں پھیلا ہوا تھا اُس وقت روما کی فوج کا جو رعب ودبدبہ تھا وہ فوج جب اپنے عسکری امور کے بنیادی اصولوں سے ہٹ گئی بادشاہوں کے خاندانوں اور اْن کے اشرافیہ کے نوکروں کی عاد ات روما کی فوج میں منتقل ہوگئیں فوج ریاست کی نوکربن کررہ گئی مطلب یہ کہ سلطنت روما کے بادشاہوں کا جاہ وجلال فوج کے نوکر بننے کے بعد صرف دکھاوے کا رہ گیا، پیشہ ور منظم فوج کی غیر موجودگی میں ظاہر ہے کہ بادشاہ اور اْن کے خاندان کے شاہی افراد خود کیا محفوظ رہتے؟ روما کے زیر قبضہ علاقہ کیا محفوظ رہتے سرحدوں کے پاسداری کا تو سوال ہی پیدا نہیں رہتا، ’میکاولی‘ لکھتا ہے سلطنتِ روما بطور کنفیڈریشن ’میلان‘وینس‘فلورنس ‘ریاست ہائے پاپائی اورنیپلس پر قائم کی تھی مثلاً جیسے آج انڈیا خود کو ’انڈین یونین ‘ کہتا ہے، سابقہ سوویت یونین کی شکست وریخت کا انجام اُس کے سامنے ہے اِسی ’انڈین یونین‘ نے بھی اپنی فوج کو’ نئی دہلی کا نوکر بنا دیا گیا ‘ اُس کی ادارہ جاتی عسکری خود مختاری کے کردار کو ’ہندوتوائی نظام‘ میں ضم کردیا گیا ، اب بھارت کی فوج قرونِ وسطیٰ کے مہندم سلطنتِ روما جیسی ’نوکر فوج‘ کی شکل اختیار کرچکی ہے اپنے طور گو بعض بھارتی فوجی جنرلز کبھی کبھار کوئی اخباری بیان ’مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل ‘کے سلسلہ میں جاری کر دیتے ہیں مگر اُن کی سنتا کوئی نہیں‘ کشمیر کی موجودہ تشویشناک صورتحال بھارتی فوج کیلئے ایک بہت اہم سنگین ایشو بن گیا ہے، ہر دوماہ بعد نئی دہلی کے حکم پر تازہ دم فوجی دستے وادی میں بھیج دئیے جاتے ہیں مگر پھر بھی کشمیر نئی دہلی کی لاکھ کوششوں کے باوجود عالمی میڈیا کی سرخیوں میں رہتا ہے حال ہی میں اْس وقت بھارت کو بہت بڑی سفارتی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا جب اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے پاکستان کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے رپورٹ جاری کر دی کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ظالمانہ خلاف ورزیاں ہورہی ہیں اقوام متحدہ کمیشن کی یہ رپورٹ 20 جون 2018 کو نئی دہلی کے حوالے کی گئی جس پر بھارت سخت چراغ پا ہوا لیکن حقائق سے مفر ممکن نہیں‘ جو سچ ہے وہ دنیا کے سامنے آگیا پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی طرف سے انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی سفارشات کا مطالبہ کیا تھا، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے 38 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کو آگاہ کیا کہ ’اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق حالیہ رپورٹ اس حوالے سے پاکستان کے دیرینہ موقف کی واضح توثیق کرتی ہے، مگریہاں قابل توجہ نکتہ یہ ہے، جس پر بات کیئے بناء آگے بڑھا نہیں جاسکتا کہ اقوام متحدہ نے اس بارے میں دوہرامعیار کیوں اپنایا ؟ مثلاً اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے اس بیان سے پاکستان اور اہلِ کشمیر کیا مطلب اخذ کریں کہ’ اقوام متحدہ بھارتی ہٹ دھرمی کے سامنے اپنے آپ کو بے بس پاتا ہے؟‘دوسری جانب اپنی ہی جاری کردہ رپورٹ میں اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سفاکیت کا معترف بھی نظرآتا ہے ساتھ ہی ’بے بسی‘ کا اظہار؟ عوامی جمہوریہ چین نے کسی لگی لپٹی کے بغیر اس بارے میں اپنی بجا تشویش کا اظہار کیا کیونکہ یہ انتہائی حساس معاملہ علاقائی امن وسلامتی سے تعلق رکھتا ہے جنوبی ایشیا کے امن سے ایشیا کا امن وابستہ ہے اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے سنگین سلگتے مسئلہ پر اپنی ‘بے بسی’ کی پالیسی سے نظرثانی کرنی پڑے گی کشمیر میں انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کے منظور کردہ نکات کی خلاف ورزیوں کا جواب بھارت سے کرنا پڑے گا ایل اوسی کی خلاف ورزیاں روز کا معمول بنتی جارہی ہیں 19 جنوری کوکھوئی رٹہ اور اِس سے ملحق علاقہ میں بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں جوسنگین ناخوشگوار واقعات دنیا نے اخبارات میں پڑھے ٹی وی اسکرینیوں پر دیکھے اس پر مستقبل کی عظیم سپرپاور چین کی تشویش کی سنگینی سے پہلو تہی نہیں کی جاسکتی یہاں پر یاددلادیاجائے کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پائمالی سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد پر تحقیقاتی کمیشن کے فوری قیام کا مطالبہ کیا تھا، عالمی میڈیا سمیت مقبوضہ وادی سے آنے والی خبروں کے مطابق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں وزیر اعظم پاکستان کے اس جائز مطالبہ کے فوراً بعد کشمیر میں غاصب بھارتی فوج کی کارروائی میں تین کشمیری حریت پسند جبکہ آٹھ نہتے معصوم شہری شہید کرد ئیے گئے ظلم و بربریت کا یہ واقعہ پلوامہ میں بھارتی فوج کی براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں رپورٹ ہوا نئی دہلی کے بزرجمہروں نے ہرقیمت پر کشمیر کو اپنے زیر نگیں رکھنے اور کشمیریوں پرظلم وستم کے پہاڑ توڑنے کے سفاکانہ حربے آزمانے کا جو ہتھکنڈا اپنی فوج کوازبر کرادیا ہے اور وہ یہ سمجھنے لگے کہ ’یہ بھارت ہے ماضی کی سلطنت روما نہیں ہے لہٰذاء جیسے ’روما‘ کے حکمران اپنی فوج کوا پنا ذاتی ملازم سمجھ کر تباہ برباد ہوئے بھارت برباد نہیں ہوگا ؟یہ کیسے ممکن ہے نئی دہلی نے خود کو ’سلطنت روما سمجھا ہوا ہے کھل کر انسانیت کی تذلیل پر تذلیل ہورہی ہے کیا نئی دہلی کو چلانے والے تاریخ سے سبق سیکھنا نہیں چاہتے نہیں جانتے کہ تاریخ ہمیشہ ہر عہد میں اپنے آپ کو زندہ رکھتی ہے سلطنتِ روما کی طرح سے ’بھارتی یونین‘ نے بھی انسانیت کی بقاء اور احترام کی تاریخ سے روگردانی کا وطیرہ اپنا رکھا ہے نئی دہلی کے زیر قبضہ کئی حصوں میں وہاں کے ثقافتی وسماجی کلچر کی آزادی کیلئے لوگوں نے مسلح جدوجہد شروع کی ہوئی ہے تو پھر کیوں یہ نہ سوچائے کہ ‘بھارتی یونین’ سلطنت روما کی طرح سے آج نہیں تو کل بکھر ے گی ضرور ‘نئی دہلی کے بزرجمہروں کو سمجھایا دیا جائے ماضی کی عظیم سلطنتوں کی عبرتناک شکست وریخت سے سبق نہ لینے والے ہمیشہ گھاٹے میں رہتے ہیں زعم وتکبر کی رْو میں بہہ کر تاریخ کو طاق نسیاں پر رکھنے والے تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہوجاتے ہیں لہٰذا نئی دہلی کے پاس ابھی بھی وقت ہے وہ عقل کے ناخن لے اور کچھ نہیں تو اپنے ہی سابقہ دوست ’’ سوویت یونین‘‘ کے حصہ بخروں سے ہی سبق سیکھ لے۔

فوجی عدالتیں اور دہشت گردی

Naghma habib

امریکی اعدادو شمار کے مطابق نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹرکے حملے میں پانچ ہزار لوگ مارے گئے تھے اس حملے کا ذمہ دار اسامہ بن لادن کو قرار دیا گیا اور دعوی ٰکیا گیا کہ اسامہ افغانستان میں موجود ہے لہٰذا امریکہ نے خود کو افغانستان پر حملے کی اجازت دے دی بلکہ افغانوں کی موت اور زندگی کا بھی خود کو حقدار سمجھ لیا اور یہ سلسلہ پھیلتے پھیلتے اس نے خود کو پورے عالم اسلام میں قتل و غارت کا لائسنس جاری کر دیا اور پاکستان افغانستان کا پڑوسی ہونے کے ناطے امریکہ کے خاص نشانے پر آگیا ہے۔ اس میں ہمارے حکمرانوں کی غلطیاں بھی شامل تھیں اور امریکہ کی نیت بھی جس کو پاکستان کا ایٹمی پروگرام کبھی ایک آنکھ نہ بھایا اور نہ ہی اس کی روایتی دفاعی صلاحیت اس کیلئے قابل برداشت ہے اسی لیے اس کے خلاف تو خصوصا دہشت گردوں کو تیار کیا جاتا ہے۔امریکہ اور بھارت کی خاص ہدایات پر افغانستان کی سر زمین پر ان دہشت گردوں کی تربیت گاہیں مسلسل چل رہی ہیں اور جونہی موقع ملتا ہے وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی کارروائی کر لیتے ہیں جس میں جانی اور مالی دونوں طرح کا نقصان ہو تا ہے جس کا ازالہ تو کسی طرح نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر پکڑے جانے والے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کیلئے سخت سزاؤں کا قانون اور نظام بنایا جائے اور پھر اِن پر سختی اور تیزی سے عمل کروایا جائے اور ان کو نشانِ عبرت بنایا جائے تو حالات میں بہتری کی امید کی جاسکتی ہے لیکن ہمارا عدالتی نظام مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا باعث بن جاتا ہے اور اس دوران مجرموں کو کافی موقع مل جاتا ہے اور پھر ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل ٹوٹنے جیسے واقعات بھی ہو جاتے ہیں۔ایک شخص جس کا جرم صاف ظاہر اور ثابت ہو اس کے اوپر آخر مقدموں میں وقت کیوں ضائع کیا جاتا ہے۔اے پی ایس پشاور پر16 دسمبر 2014کے خونین حملے کے بعد جب قومی ایکشن پلان بنا تو اس میں ایک شق فوجی عدالتوں کا قیام تھا یہ عدالتیں بنیں بھی اور اس نے دہشت گردی کے واقعات کی تیزتر تفتیش کر کے دہشت گردوں کی سزاؤں کا اعلان بھی کیا۔ ان عدالتوں کی یہی خاصیت ہے کہ یہ تیزی سے تفتیش کر کے فیصلہ سناتی ہے اور چونکہ فوج ہی ان دہشت گردوں کے خلاف براہ راست جنگ لڑ رہی ہے لہٰذا اسے اس بات کی زیادہ بہتر سمجھ اور معلومات ہے کہ کس کا جرم کس نو عیت کا ہے اور اس کی سزا کتنی ہونی چاہیے ۔فوجی عدالتوں کا قیام دہشت گردوں کیلئے ایک بڑا دھچکا تھا کیونکہ ان کو اپنا انجام بہت جلدنظر آنے لگا ان عدالتوں کے فیصلوں نے فوجی آپریشنز کو ایک اچھا سہارا دیا اور دہشت گردوں کے خلاف عوام کا جو غم و غصہ تھا انہیں کسی حد تک اطمینان حاصل ہوا کہ ستر ہزار پاکستانیوں کے ان قاتلوں کو اب پناہ حاصل نہیں ہو گی۔اِن میں سے کئی دہشتگردوں کو سزائے موت سنائی گئی چیف آف آرمی سٹاف نے ان سزاؤں کی تو ثیق بھی کی جن میں سے کچھ کو سزائے موت دی بھی گئی تاہم کئی دہشت گردوں کو ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر سول عدالتوں سے بری بھی کیا گیا جو رہائی کے بعد دوبارہ نئی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے لگے اور یوں جس چیز کو جڑ سے اکھاڑا جانا چاہیے تھااس کو دوبارہ جڑ پکڑنے کا ایک موقع دے دیا گیا۔یہ بھی سچ ہے کہ ہماری سول عدالتوں کے جج صاحبان کو سخت فیصلوں کے بعد سیکورٹی کے خد شات بھی لاحق رہتے ہیں لہٰذا ان کی حفاظت کا انتظام بھی ضروری ہے تاکہ وہ جو فیصلہ کریں اس کا انہیں نقصان نہ پہنچایا جا سکے۔ اگر ایک اور زاویے سے دیکھا جائے تو اِن فوجی عدالتوں نے سول عدالتوں پر پڑا ہو بوجھ بھی کم کیا اور دہشت گردی کے بے شمار واقعات کے مقدمات ان عدالتوں میں منتقل ہونے سے انہیں معمول کے مقدمات کیلئے درکار وقت مہیا رہتا ہے۔اِن عدالتوں پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ تیزی سے فیصلوں کی وجہ سے قانونی سقم رہ جاتے ہیں اور غلط فیصلے ہو سکتے ہیں ایسا ہو بھی سکتا ہے کیونکہ یہ عدالتیں چلانے والے بھی انسان ہیں اور ایسے فیصلے معمول کی عدالتوں میں بھی ہو سکتے ہیں اور ہوتے بھی ہیں لیکن جن دہشت گردوں کو ساری دنیا جانتی پہچانتی ہے انہیں ویڈیو فو ٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے بسا اوقات تو وہ اعترافِ جرم بھی کر لیتے ہیں تو کیا پھر بھی ان کے اوپر طویل مقدمات کا چلانا ضروری ہے اور ان میں سے کئی ایک رہا بھی ہو جاتے ہیں جو اگلی دہشت گردی کا باعث بن جاتے ہیں۔ ہمارا ملک انتہائی مشکل حالات سے گزرا ہے ، ہم نے ہزاروں جانیں گنوائیں ہیں جن میں عام شہریوں سے لے کر پولیس ، قانون نافذ کرنے والے ادارے، فوجی افسر اور جوان سب شامل ہیں لیکن الحمد اللہ اب جب حالات میں کا فی بہتری آئی ہے تو اس وقت تمام اداروں کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیے نہ کہ بے جا تنقید کر کے معاملات کو گھمبیر اور پیچیدہ کیا جائے اور کام کرنے سے روکا جائے اگر ریاست کے سارے ستون یعنی فوج، عدلیہ،مقننہ اور میڈیا سب دہشت گردی کی عفریت کے خلاف جم کر کھڑے ہو جائیں تو اس سے چھٹکارا ممکن ہے لیکن ہماری بد قسمتی کہ ہم خود ہی ایک دوسرے پر بے جا تنقیدکرتے رہتے ہیں اور اسی کو اپنی عقلمندی اور دانشمندی سمجھتے ہیں اور اس بات کا احساس کرنے کی کو شش نہیں کرتے کہ کامیابی حاصل کرنے کیلئے اور قوم کو دہشت گردی سے نجات دلانے کیلے ہم نے ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے۔اس وقت جو بھی طریقہ ہمیں دہشت گردی سے نجات دلا سکے ہمیں اسے اپنا نا ہو گا اور اس کیلئے ریاست کے تمام ستونوں اور معاشرے کے تمام عناصرکو مل کر کام کرنا ہو گا ۔جو لوگ فوجی طریقہ کار کے مخالف ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس عفریت کے خلاف فوج اور فوجی عدالتوں کا کردار انتہائی اہم اور بنیادی رہا ہے اور اب بھی فوج آپریشن ردالفساد میں مصروف ہے اور یقیناًقوم چاہے گی کہ یہ آخری اور حتمی آپریشن ہو اور اس کے بعد قوم اپنے ان سترہ سالوں جیسا کوئی سال دوبارہ نہ دیکھے ۔ فرقہ بندی، صوبائیت، تعصب اورایک دوسرے پر بے جا تنقید یہ وہ سارے عناصر ہیں جو بیرونی مداخلت کو موقع دے کر اس کے ذریعے دہشت گردی اور دہشت گردوں کو فروغ دیتے ہیں۔ لہٰذا ان پر قابو پانا بھی ضروری ہے اور ان کے خلاف اتحاد بھی اور ان کے خلاف ہونے والے اقدامات پر ایک متفقہ نکتہ نظر بھی انتہائی اہم ہے ان دہشت گردوں کے خلاف تیزی سے فیصلے ہونے چاہئیں چاہے یہ فیصلے فوجی عدالتوں سے آئیں یا سول عدالتوں سے اور پھر ان سزاؤں پر عملدرآمدبھی ہر صورت ہو نا چاہیے تاکہ ہم آخرِ کار اس دہشت گردی سے نجات حاصل کر لیں اور اس ملک کے وسائل اس کی ترقی پر خرچ ہوں ۔

المیہ ساہیوال،حکومت کیلئے ٹیسٹ کیس

شکاگو کے مئیر رچرڈ ڈیلی نے 1915ء میں کہا تھا کہ پولیس گڑ بڑ ،فساد یا بے ضابطگی پھیلانے کیلئے نہیں بلکہ ان کی حفاظت یا محفوظ رکھنے کیلئے ہے ۔انگریز ناول نگار جوزف کنرڈ نے شائد بطور مذاح ہی کہا تھا کہA terrorist and a police man come from the same basket’’ایک دہشت گرد اور پولیس مین دونوں ایک ہی ٹوکری سے برآمد ہوتے ہیں کنرڈ کی اس کہی بات کو ایک بار پھر وطن عزیز کے شہر ساہیوال میں سچ ثابت کر دکھایا گیا۔سمندری سفر میں ڈوبنے والوں کیلئے بچنا کشتی پر ہی ممکن ہے لیکن جب بچانے والے ہی بحری قذاقوں کے گروہ سے متعلق ہوں تو حفاظت کی ضمانت کیسے دی جا سکتی ہے ۔سانحہ ساہیوال نے ہر شہری کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے شریف شہری جتنا دہشت گردوں کے نشانہ پر ہیں اتنا ہی شاید ہماری پولیس اور اس جیسی فورسز کے ہدف پر ہیں ۔جن پولیس والوں کو ہم تنخواہیں دیتے ہیں آیا وہ بھی کبھی ہمارے محافظ بنیں گے ؟ ہر ذہن میں اس سوال کی گونج سنائی دیتی ہے۔ہمیں درست فیصلہ کرنے والوں کی ضرورت ہے ۔ ریاست شہری سے محبت اور احترام کا تعلق بناتی ہے ۔ اس ادارے میں عوام مخالف سوچ غلبہ پا چکی ہے ۔ ہماری بر سر اقتدار اشرافیہ نے اپنے اختیار اور اقتدار کو دوام دینے کیلئے اس پولیس کا بے رحمانہ استعمال کیا ۔یہاں تو پولیس وزیر اعظم کے بھائی کو دن دیہاڑے مار دیتی ہے ۔ایسے رویے کو کسی سطح پر ہر گز برداشت نہیں کیا جا سکتاکہ پولیس ،سی ٹی ڈی یا قانون کی حاکمیت کیلئے کام کرنے والے ادارے اپنے رویے میں غیر شائستہ ،طریقہ کار میں غیر مہذب اور کارروائیوں میں بے جا اختیار کی وجہ سے غیر انسانی و سفاک رویوں سے عام شہریوں کی زندگی تک کیلئے خطرہ بن جائیں ۔سی ٹی ڈی کا قیام آٹھ سال پہلے عمل میں آیا تھا اور اس کی خصوصی ذمہ داری شدت پسندی اور دہشت گردی پر نظر رکھنا قرار دی گئی تھی تا ہم اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہونا چاہیے کہ محکمے کو محض شبے میں لوگوں کے قتل عام کا لائسنس دے دیا جائے ۔سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ساہیوال میں چار افراد کی ہلاکت نے پوری قوم کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ قوم کے دکھ میں یہ امر اضافہ کر رہا ہے کہ ایسی فورس جسے دہشت گردوں کو قابو کرنے کی اعلیٰ تربیت دی گئی ہو وہ نہتے افراد کو دن دیہاڑے معروف شاہراہ کے کنارے مار ڈالتی ہے ۔اس سانحے نے سی ٹی ڈی اہلکاروں کی تربیت ،ان کی نگرانی اور طریقہ کار کے متعلق سنگین نوعیت کے سوالات کھڑے کر دیے ہیں ۔سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مرنے والے لاہورسے شادی میں شرکت کیلئے بوریوالہ جا رہے تھے تا حال ہلاک شدگان کا مجرمانہ ریکارڈ سامنے نہیں آسکا ۔ڈرائیور کے علاوہ گھر کا سربراہ ،اس کی بیوی اور چودہ سالہ بیٹی کی موت پر عوام کا شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پولیس اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے جس طرح بار بار بیانات تبدیل کئے اور واقعہ کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی اس کا پردہ زندہ بچ جانے والے معصوم بچوں اور عینی گواہان نے چاک کر دیا ہے ۔معصوم بچے کی بے ساختہ گواہی کو کس طرح نظر انداز کیا جا سکتا ہے ۔کہتے ہیں عذر گناہ بد تر از گناہ۔ساہیوال کے سانحہ کی دستیاب تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں کو اس بات کا احساس تک نہ تھا کہ وہ قانونی دائرے سے باہر نکل کر ایک ہنستے بستے خاندان کو قتل کر رہے ہیں ۔محض ویڈ یوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کار سواروں نے نہ کوئی فائر کیا نہ مزاحمت ۔واقعہ کے ذمہ دار وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے پولیس کو بے لگام کیا ۔پچھلے دور میں پولیس کی طرف سے ماورائے قتل کی ایک داستان ہے ۔ساہیوال کا واقعہ انہی واقعات کا ایک تسلسل ہے ۔کئی سال پہلے بلوچستان سے ملحقہ ایرانی سرحد پر چیچن شہریوں کو خروٹ آباد کے مقام پر مار دیا گیا ۔چیچن غیر ملکی تھے مگر دہشت گرد نہ تھے اس واقعے پر بہت شور ہوا ۔کوئی مدعی نہ رہا ۔ہمارے ادارے نے بھی غلطیوں پر نگاہ نہ کی ۔ان میں سے ایک ایک عورت زخمی حالت میں زمین پر گری ہوئی تھی ۔مرنے سے پہلے اس نے انگلی سے آسمان کی طرف اپنی مظلومیت کا اشارہ کیا ۔کچھ دن قبل صوابی میں اس کے اہلکاروں نے ایک بے گناہ شہری کو دہشت گرد قرار دے کر اس کے معصوم بچے کے سامنے مار دیا ۔فرمان الٰہی ہے کہ کسی جانور کو اس کے میمنوں کے سامنے ذبح نہ کریں۔کراچی میں ایس ایس پی راؤ انوار کے ہاتھوں نقیب اﷲ محسود کی موت ایک انتباہ تھا ۔اس وقت قصور وار کو سزا دینے والوں کو کہا جا رہا تھا کہ راؤ انوار ایک مفید افسر ہے لہٰذا اس کے گناہ یا غلطی کو معاف کر دینا چاہیے ۔ہر ایک سانحے کو جس میں بے گناہ انسانوں کی جانیں چلی جائیں مارنے والے کیلئے Acting in good faithیعنی نیک نیتی اور اچھے مقاصد کیلئے یہ قدم اٹھا رہے تھے اسی وجہ سے مظلوموں کے قاتل قانون کے کٹہرے میں نہیں آسکے۔سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا یہ کہنا حقائق کے عین مطابق ہے کہ پنجاب سمیت ملک بھر میں دہشت گردوں سے مقابلے کے نام پر پولیس اب تک بے شمار بے گناہ افراد کو ہلاک کر چکی ہے ۔وزراء کرام سے لیکر آئی جی تک نے فوراً بیان جاری کر دیا کہ مرنے والے دہشت گرد تھے اور آئی جی پنجاب کے جاری بیان میں مرنے والوں کو داعش کا کارندہ قرار دیا گیا ۔ دوسری طرف ڈی سی ساہیوال نے ٹی وی پر تصدیق کی کہ مقتولین کی جانب سے کسی طرح کی مزاحمت کا ثبوت نہیں ملا ۔لاہور اور بوریوالہ میں مقتولین کے لواحقین اور ہمسائے ان کے اچھے چال چلن کی گواہی دے رہے ہیں ۔نہتے لوگ بالفرض مشکوک بھی تھے اور پولیس کی اطلاع کے مطابق کار میں کوئی دہشت گرد بھی موجود تھا تواسے گرفتار کرنے کے مختلف آپشنز موجود تھے ۔ پولیس اور دیگر اہلکار گاڑی کا مسلسل تعاقب کرتے اور مطلوبہ افراد کی حرکات و سکنات پر گہری نظر رکھتے اور اس جگہ پہنچنے دیتے جو ان کی منزل تھا ۔ اگر ان کی کوئی حرکت مشکوک ہوتی تو انہیں اس جگہ سے زندہ بھی گرفتار کیا جا سکتا تھا اور اگر مقابلہ بھی ہوتا تو کم از کم معصوم بچی اور اس کی ماں بچ جاتی ۔ دوسری صورت میں راجہ بشارت کا یہ دعویٰ کہ اس کے گھر اور گاڑی کی نگرانی کی جا رہی تھی کیونکہ ذیشان دہشت گرد یا دہشت گردوں کا سہولت کار تھا تو اسے لاہور اس کے گھر سے کیوں نہ گرفتار کیا گیا ۔اگر ساہیوال میں گاڑی کو روکا گیا تھا تو مطلوبہ افراد کو زندہ گرفتا رکیا جاتا ،ان سے تفتیش کی جاتی اور قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ۔کیا یہ عمل پروفیشنل ازم ،اعلیٰ تربیت اور آپریشن کرانے اور کرنے والوں کی اعلیٰ منصوبہ بندی کا عکاس ہے ۔ قرائن و شواہد اور اب تک کی معلومات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ کارروائی اختیارات کے غلط ، غیر منظم ،بے ہنگم اور ناجائز استعمال کی بد ترین مثال ہے ۔یہ انتہائی تکلیف دہ حقیقت ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں خاص طور پر پنجاب پولیس اور اس کے متعلق اداروں کا عمومی رویہ انتہائی جارحانہ ،غیر مہذب اور تشدد آمیز ہوتا ہے۔پولیس ہو یا سی ٹی ڈی ان اداروں کی کارروائیوں کی نگرانی کا نظام ضروری ہے ۔ایسی باتیں گردش کرتی رہتی ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کئی معاملات میں کرائے کے قاتل کا کردار ادا کرتے ہیں اور اس کے اہلکار پیسے لیکر لوگوں کے دشمن یا مخالفین مارتے ہیں ۔پولیس کے ادارے کے مکمل احتساب کے بغیر اور پولیس کے ڈھانچے میں مکمل تبدیلی کے بغیر پولیس کے معیار میں کوئی بہتری نہیں لائی جاسکتی ۔معاملہ انتہائی نازک اور مسلمہ شہری حقوق سے متعلق ہے ۔اس اندوہناک سانحے پر انصاف کی جو بھی پیش رفت ہو گی وقت کے ساتھ سامنے آجائے گی مگر ایک بات طے ہے کہ اس نہایت پیشہ ورانہ ،انسانیت سوز وقوعے نے ملک میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ایسے افسوسناک واقعات پر سیاست چمکانا ،اس معاملے کو سیاسی رنگ دے کر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرنا ان اذیت ناک لمحوں میں قوم کو جوڑنے کی بجائے گرو ہ د ر گروہ تقسیم کرنا ہے ۔حکومت کی اب تک کی کارروائی ظاہر کرتی ہے کہ ملزموں کو نہ ریلیف دیا جائے گا اور نہ کوئی رعایت بلکہ انہیں عبرت ناک سزائیں دی جائیں گی ادارے تحقیقات کر رہے ہیں۔ امید واثق ہے کہ لوگ انصاف ہوتا دیکھیں گے۔

*****

سانحہ ساہیوال ۔۔۔حکومت کے لئے سخت امتحان

adaria

وزیراعظم کا سانحہ سانحہ ساہیوال پر اظہارناراضگی بالکل سوفیصددرست ہے ،ماضی میں جتنے بھی سی ٹی ڈی نے کامیاب یاناکام آپریشن کئے ان سب پراس ایک سانحے نے پانی پھیرکررکھ دیاہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ حکومت کے وزراء بھی بغیر کسی تیاری کے میدان میں ٹوٹ پڑے اور اوٹ پٹانگ بیانات دیتے رہے ،پوچھا تواس سے جائے جس کے پیارے مرے ہیں وہی اس کی قیمت جانتے ہیں، ایک وفاقی وزیرکہتے ہیں کہ ایسے واقعات سے حوصلے نہیں ہارنے چاہئیں جن کے والدین یابچے چلے گئے ان کاتوجگر اورسینہ چھلنی ہے تاہم وزیراعظم کے اس بیان سے کہ وہ ملزمان کومثالی اورعبرتناک سزا دیں گے کچھ نہ کچھ مرہم رکھا ہے تاہم ایک بات واضح ہے کہ اس سارے وقوعہ کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے حوالے سے بہت سارے سوالات نے جنم لیاہے ۔ایسے وقت میں انہیں ایک بااختیار وزیراعلیٰ کے طورپرسامنے آناچاہیے تھا گوکہ یہ بیان درست ہے کہ وہ رپورٹ کا انتظار کررہے ہیں لیکن کم ازکم وہ آئی جی کوتوتبدیل کرسکتے تھے کیونکہ سی ٹی ڈی کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آنے کے بعد بہت کچھ واضح ہوگیاتھا اور شاید اسی وجہ سے وزیراعظم نے ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا اعادہ کرتے ہوئے کہاہے کہ کسی ادارے کی لاقانونیت کے اقدام کا دفاع نہیں کرسکتے، سانحہ ساہیوال میں ملوث ملزموں کو مثالی سزا دیں گے۔ پولیس کو ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جس سے لاقانونیت کا پہلو اجاگر ہو کیونکہ حکومت قانون کی حکمرانی اور شہریوں کا تحفظ چاہتی ہے اور ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ کسی ادارے کے غیرقانونی اقدام کا دفاع نہیں کریں گے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے واضح موقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ وہ انصاف فراہم کرے گی۔ ساہیوال واقعہ پر پاکستانی عوام کا دکھ اور غصہ جائز ہے۔ ذمہ داروں کو مثالی سزا دیں گے۔ دورہ قطر سے واپسی کے بعد پنجاب پولیس میں اصلاحات لاؤں گا۔پولیس میں اصلاحات لانا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ ماضی میں جس طرح پولیس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیاجاتارہاہے اس کااب خاتمہ ہونابہت ضروری ہے۔ کے پی کے میں اس حوالے سے عمران خان کاتجربہ خاصامثبت رہا تاہم پنجاب میں ناصردرانی کے استعفے کے بعد سے معاملات تھوڑے ڈانواں ڈول نظرآئے۔ وزیراعظم کی جانب سے پولیس اصلاحات کے حوالے سے کی گئی بات کو پانچ ماہ گزرچکے ہیں لیکن پیشرفت نہیں ہوئی ،سب سے بڑا ہمارے ملک میں یہی المیہ ہے کہ بات کردی جاتی ہے، اعلان کردیاجاتا ہے لیکن عمل نہیں ہوتا جب کوئی سانحہ درپیش آتا ہے تواس وقت پھرنئے سرے سے ساری چیزیں تازہ ہوجاتی ہیں۔ حکومت کے پاس ایک نظام ہے قانون بنانے والے ادارے ہیں ان کے نفاذ کے لئے فورسز موجود ہیں اور لاقانونیت کو روکنے کے لئے سزا کااختیاربھی موجودہے پھراس طرح کے وقوعات کادرپیش آنالمحہ فکریہ ہے۔جب تک سانحہ ساہیوال کے ملزمان کو سزا نہیں ملتی اورخصوصی طورپراس آفیسرکوسامنے نہیں لایا جاتا اس وقت تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔وزیراعظم کوچاہیے کہ صرف ایک سی ٹی ڈی کے ادارے کوہی نہیں تمام اداروں کے سسٹم کو ٹھیک کریں بلکہ پورے کے پورے نظام کوبہترکرنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان قطر کے دو روزہ دورے پر دوحہ پہنچے۔ دوحہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ سانحہ ساہیوال کے ذمہ داران سے کوئی رعایت نہیں ہو گی۔ جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں اقدامات کئے جائیں گے۔ نظام میں اصلاحات کریں گے تاکہ دوبارہ ایسا واقعہ نہ ہو۔ متاثرہ خاندان کو انصاف دیا جائیگا۔ دورہ قطر انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اور قطر کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں۔ تمام برادر مسلم ممالک کے ساتھ مثالی تعلقات کے خواہاں ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے قطری ہم منصب عبداللہ بن ناصر بن خلیفہ الثانی سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ قطری وزیراعظم نے وزیراعظم عمران خان کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔ خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور پاکستان کی متحرک خارجہ پالیسی کے تناظر میں اس دورے کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ دورہ سے پاکستان اور قطر کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید وسعت ملے گی۔ گزشتہ چھ ماہ میں قطر کے ساتھ پاکستان کی تجارت میں اضافہ ہوا۔ قطر سے پاکستان کی ایل این جی کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔وزیراعظم کا دورہ قطرانتہائی اہمیت کاحامل ہے۔

چیف جسٹس کافوجداری اپیلیں جلدنمٹانے کاعزم
چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہاہے کہ دوسے تین ماہ میں تمام زیرالتوافوجداری اپیلیں نمٹادیں گے، قتل کے مقدمات نمٹانے میں پہلے 15سے 18سال لگتے تھے، اللہ کاشکرہے اب وقت کم ہوکر4سے5سال تک آگیا،آئندہ 2سے 3 ماہ میں 2019 کی اپیلوں پرسماعت کا آغاز کردینگے، جلد زیرالتوا مقدمات کی شرح صفر ہوجائیگی،جھوٹے گواہوں کی وجہ سے اصل ملزم بری ہوجاتے ہیں لیکن الزام عدالتوں پر لگایا جاتا ہے۔ چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں3 رکنی بنچ نے فوجداری مقدمات سے متعلق اپیلوں پرسماعت کی۔چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یہ سب کچھ آپ کے تعاون سے ہی ممکن ہوا ہے۔ اسلام آباد میں تو پورے ملک سے مقدمات آتے ہیں ۔سماعت کے دوران پہلا فوجداری مقدمہ گجرات کے رہائشی ڈاکٹرشمس الرحمن پر2010 میں اہلیہ کوقتل کرنے کے الزام سے متعلق تھا، دوسرا فوجداری مقدمہ خاوندکی جانب سے اہلیہ کی قابل اعتراض تصویر انٹرنیٹ پرشیئرکرنے سے متعلق تھا۔بنچ نے شمس الرحمن کی رہائی کیخلاف اپیل پرسماعت کی اور عدالت نے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے انکی رہائی کیخلاف دائراپیل مسترد کردی۔ عدالت نے کہاکہ استغاثہ جرم ثابت کرنے میں ناکام رہاجبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی تاخیرکی گئی، اس لئے شک کافائدہ دیتے ہوئے ملزم کو رہا کیا جاتاہے۔سپریم کورٹ کے بنچ نے دوسرے کیس کی سماعت کرتے ہوئے اہلیہ کی خاوند کی ضمانت کی منسوخی کیلئے دائر درخواست بھی خارج کردی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تصویرمیں ملزم خودبھی موجودہے، اپنی فحش تصویرکوئی خودشیئرنہیں کرتا، درخواست گزار اورملزم کے درمیان کاروباری تنازعات چل رہے ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس وقت ہم اپریل 2018کی اپیلوں کی سماعت کررہے ہیں، آئندہ 2سے3ماہ میں2019 تک کی اپیلوں پرسماعت کاآغاز کر دیا جائیگا جس سے فاصلہ کم ہوتا جارہا ہے اور جلد زیر التوا مقدمات کی شرح صفر ہوجائے گی۔ چیف جسٹس کا ریمارکس میں مزید کہنا تھا کہ اپریل 2018 میں دائر ہونے والی اپیلوں پر سماعت ہو رہی ہے،3 ماہ بعد جو فوجداری اپیل آئے گی ساتھ ہی مقرر ہوجائے گی۔

امریکی ریاستیں آزادی کی راہ پر

عالمی سپر پاور امریکا میں علیحدگی پسند تحریکیں زوروں پر ہیں لہٰذا خیال کیا جا رہا ہے کہ سپر پاور کیلئے 2020 تک وجود برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔متعدد ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ امریکہ ایک مایوس کن حالت میں وقت کی آخری دیوار کے ساتھ لگ چکاہے اورایک ایسی جگہ پہنچ چکاہے جہاں سے اس کی واپسی ناممکن دکھائی دیتی ہے۔مغربی اسکالر جان گالٹنگ نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا کہ اپنے مفادات کے حصول کیلئے توسیع پسندانہ عزائم اور دوسروں پر حملہ کرناامریکا ٹوٹنے کا سبب بنے گا۔امریکی ریاست ورمانٹ جوکہ شمال مشرق کے نیو انگلینڈ ریجن میں واقع ہے، کے عوام نے (دی سیکنڈ ورمانٹ ریپبلک) کے نام سے امریکا میں آزادی کا پرچم بلند کر رکھا ہے۔کاسکاڈین کے عوام بھی امریکا سے علیحدگی کیلئے بے تاب ہیں۔ورمانٹ، کاسکاڈیا، ہوائی، الاسکا، ٹیکساس، اوریگان اور جمہوریہ لکوتا میں علیحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں۔ ان ریاستوں کے شہریوں کو شکایت ہے کہ عالمی سپر پاور نے ان کے حقوق یرغمال بنا رکھے ہیں۔امریکہ کی ایک ریاست’’ لوئی زیانا ‘‘ کے چودہ ہزارشہریوں نے وفاق سے علیحدگی کی عرض داشت وائٹ ہاؤس ارسال کی ،جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے علیحدہ ہوکر اپنی خودمختار حکومت تشکیل دینا چاہتے ہیں۔لوئی زیانا کے شہریوں کا یہ مطالبہ بارش کاپہلا قطرہ اورگرنے والی عمارت کی پہلی اینٹ ثابت ہوئی اوران کی دیکھا دیکھی یکے بعد دیگرے کئی ریاستوں نے آزادی کی پٹیشن دائر کرنا شروع کردیئے۔ پہلے میڈیا میں خبر آئی کہ پٹیشن دائر کرنے والی ریاستوں کی تعداد بیس ہے جبکہ صرف دوروز بعدیہ خبر آئی کہ آزادی کا مطالبہ کرنے والی ریاستوں کی تعداد 33 ہوگئی ہے۔آج وہی امریکہ جسے سب ناقابل شکست تصورکرتے تھے ،بری طرح شکست خوردہ ہو کر افغانستان سے بھاگنے کی راہیں تلاش کررہاہے۔ اس کی ایک نہیں ،دونہیں بلکہ33 بڑی ریاستوں میں بڑے زور شورسے علیحدگی کے مطالبات ہوچکے ہیں اوران مطالبات میں روز بروز بتدریج اضافہ ہورہاہے۔خیال کیاجارہاہے کہ آئندہ دنوں میں علیحدگی پسندتحریک باقی ماندہ ریاستوں میں بھی سرایت کرجائے گی۔ اس لئے کہ اس دنیامیں مکافات عمل ایک ناقابل انکارحقیقت ہے ، یعنی انسان آ ج جو کچھ بوتاہے کل کواسے وہی کاٹنے کو ملتاہے ، یہ نہیں ہوتا کہ بوئے توکانٹے ہیں اورخوش بیٹھے ہیں کہ پھو ل نکل آئیں گے۔آج امریکہ ،برطانیہ اوراس کے دیگراتحادی پوری اسلامی دنیا کے حصے بخرے کرنے میں مصروف ہیں ،مثلاً انہوں نے مسلم آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک انڈونیشیاسے مشرقی تیمور الگ کرکے ایک عیسائی ریاست قائم کردی۔سوڈان کو دوحصوں میں تقسیم کرکے بھی لوگ سوڈان میں عیسائی سٹیٹ قائم کرنے کیلئے راہ ہموارکررہے ہیں۔ اس کے علاوہ عراق ،افغانستان اورپاکستان بھی اسی سازش کی زد میں ہیں ، ان ممالک کی تقسیم درتقسیم کے منصوبے سامنے آئے ہیں۔اب طرفہ تماشادیکھئے کہ عراق ،افغانستان اورپاکستان اپنی جگہ پر قائم ہیں لیکن ان ممالک کو تقسیم کرنے کی سازشوں میں مصروف امریکہ ،برطانیہ اور اس کے اتحادی ممالک آج مکافات عمل کا شکارہیں۔ آئے روز علیحدگی پسند تحریکیں زورپکڑتی جارہی ہیں اورآئندہ برسوں میں دنیا کے نقشے پر انہی کے پیٹ سے کئی نئے ممالک نمودارہونے کی پیش گوئیاں ہورہی ہیں۔ امریکی قوانین کی روسے آزادی کا مطالبہ کرنے والے پٹیشنز اس وقت توجہ اوراہمیت حاصل کرتے ہیں جب مطلوبہ پٹیشنز کی تعدا د 25 ہزار سے تجاوزکرجائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی آئین میں ریاستوں کی علیحدگی کی گنجائش موجود ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگرایک ماہ کے اندر اندر کسی بھی ریاست کی درخواست علیحدگی پر25ہزار افراد نے دستخط کردیئے توموجودہ امریکی حکام اوربالخصوص امریکی صدر ان درخواستوں پر غورکرنے کے پابند ہوں گے۔ تادم تحریر سات ریاستوں نے مطلوبہ تعداد کراس کرلی ہے۔جبکہ دیگرریاستوں کی جانب سے دستخطوں میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔اس سارے معاملے میں قابل ذکربات یہ ہے کہ آزادی کے خواہشمندان ریاستوں نے امریکی الیکشن کے فوراً بعد علیحدگی کی درخواستیں دی ہیں اس کامطلب یہ ہے کہ انہوں نے انتخابی نتائج کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا اور آزادی کا مطالبہ کرکے اپنے اس واضح رد عمل کا اظہار کردیاہے کہ وہ اوبامہ انتظامیہ کے زیر سایہ رہنا نہیں چاہتے اورنہ صرف امریکی حکومت کی پالیسیوں سے نالاں ہیں بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے حقوق کی زبردست پامالی بھی کی جارہی ہے۔ جن میں ریاستوں نے آزادی کے لئے درخواستیں دی ہیں انہوں نے حکومتی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔ ان ریاستوں میں رہائش پذیر افراد کے مطابق امریکی معیشت زوال کا شکارہے۔ انہیں سب سے بڑا اعتراض اس بات پر ہے کہ کھربوں ڈالرز بیرونی جنگوں اورغیرترقیاتی اخراجات پراڑائے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں نہ صرف امریکی معیشت خسارے کا شکار ہے بلکہ امریکی حکومت بھی مقروض ہوچکی ہے جس کااندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ آج امریکی حکومت کے قرضے 143کھرب ڈالرز سے تجاوزکرچکے ہیں ۔ ان ریاستوں کا وفاق پر یہ اعتراض بھی ہے کہ ان کی توجہ ایجوکیشن اورصحت سے ہٹتی جارہی ہے اور نوجوانوں کو روزگاردینے میں بھی سستی اور ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔جس کانتیجہ یہ ہے آئے روز بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے۔

‘میں نہ مانوں’ والی بھارتی رام کہانی

بھارت میں ‘جمہوریت’ کی چتا کب کی راکھ ہوچکی ہے اب تو دیش میں جمہوریت کی مالا جپی جاری ہے دیش کی حکمرانی کے ڈگر کو خالص ‘ہندوتوائی’ سسٹم پر چلانے کے واسطے ہر ممکنہ ہتھکنڈے اور ایسے حربے استعمال کیئے جارہے ہیں جن کے نتیجے میں آرایس ایس کے جنونی سرپھرے سرکردہ پنڈت چاہتے ہیں مثلاً وہ پریس پر اپنا مکمل کنٹرول چاہتے ہیں ‘جبکہ دیش میں جمہوری آزادی کا حق کب کا سلب ہوچکا ہے، ذراکوئی وہاں سرحد پار ضمیر کی آزادی کانام تو لے کر دکھائے؟ ووٹ کے حق کو اپنی مرضی ومنشاء سے استعمال کرکے تو دکھائے ؟اس نوعیت کی بہت سی دیگر آزادیاں دیگرانسانی حقوق کا تصورعہدحاضر کے بھارتی معاشرے میں بسنے والوں کے ذہن سے آئے روز تاریک سے تاریک تر اوردھندلاتا ہی جارہا ہے، الیکٹرونک میڈیا کے بڑے حصہ پر کافی حد تک آرایس ایس کے ڈنڈابردار پنڈتوں نے اپنا قبضہ 2008 تک کافی مستحکم کرلیا تھا 2008 یہ وہ زمانہ ہے جب اسی برس نومبر کی 26 اور 27 ویں تاریخ کو شب کے ابتدائی لمحات میں اچانک بھارتی میڈیا نے اپنی غضب ناک چیخ وپکار سے دنیا کو دہلا دیا ،اْن کی بیوقوفانہ چیخ وپکار میں کتنی وحشت تھی اور کتنا خوفناک جھوٹ پرجھوٹ بولا جارہا تھا، پاکستانی فوج اور حساس سیکورٹی ادارے آئی ایس آئی پر بے سروپا تہمتوں کے الزامات پر الزمات عائد کیئے جارہے تھے جبکہ بھارتی میڈیا کے اینکرپرسنز کی زبانوں کے لب ولہجوں سے جیسے آتشیں انگارے برس رہے تھے ویسے ہی تصویری کلپس میں دنیا دیکھ رہی تھی کہ پورا ممبئی بم دھماکوں سے گونجتا اور سلگتا ہوا نظرآرہا تھا ان بم دھماکوں کے واقعات کو ابھی پوری طرح سے کنٹرول نہیں کیا گیا تھا ممبئی کے فائیو اسٹار تاج اوبرائے ہوٹل کے اندرونی حصوں سے فائرنگ کی آوازیں اور دہشت گردوں اور سیکورٹی فورسنز کے درمیان ہونے والے مقابلے براہ راست ٹیلی کاسٹ ہوتے دکھائے جارہے تھے جبکہ ممبئی حملوں کے شروع ہوتے ہی بھارتی میڈیا نے ان دھماکوں کا الزام پاکستان پر تھوپ دیا اس انتہائی نازک موقع پر بھارتی وزیر اعظم تحمل وبردباری کا ثبوت کیا دیتے وہ تو کسی کٹھ پتلی کی مانند قوم سے نشری خطاب کرنے بیٹھ گئے، اپنے خطاب میں براہ راست پاکستان اور آئی ایس آئی پر نام لے کر انہیں کٹہرے میں لاکھڑا کیا اسے ہماری بدقسمتی کہیئے اْس وقت پاکستان میں ‘زرداری پیپلز پارٹی’ کی حکومت تھی جسے پاکستان کے قومی وقار کی رتی برابر فکر نہیں تھی اگر اْنہیں کوئی فکر تھی تو سوئٹرز لینڈ کے بنکوں میں اور پیرس میں اپنے اکاؤنٹس بھرنے کی فکریں تھیں، افسوس صدہا افسوس!ممبئی دھماکوں کے بھارتی ڈرامہ کے دوران ہمارے حزب اقتدار اور حزب مخالف کے سیاستدانوں نے قومی غیرت وحمیت قومی جذبات واحساسات کا خیال نہ کرکے تاریخ کی بدترین فاش غلطی کی ، جس کا ازالہ نہیں کیا جاسکتا ہاں! وقت ہاتھ سے نکل ضرور گیا ہے ممبئی حملے کے پس پشت اصل میں ‘را’ تنہا مصروف عمل نہیں تھی بلکہ سی آئی اے اور موسادجیسی بڑی مالدار خفیہ ایجنسیاں بھی متحرک تھیں چونکہ پاکستان اور پاکستانی سیکورٹی ادارے آئی ایس آئی کو اپنے طور پر’سی آئی اے ر ا اور موساد ‘خوف زدہ اور لرزہ براندام کرنے کے مذموم منصوبے توہمیشہ سے تیار رکھتی ہیں ممبئی کے حملے اُن ہی مذموم منصوبوں کا حصہ تھے ‘اسلام آباد کی سیاسی انتظامیہ’ کو اس کاادراک نہ ہوا ہاں یہ بھی صحیح ہے ’ادراک اور درک‘ کی بصیرت تو اُن سیاسی دانشوروں میں ملتی ہے جو فکری ونظری خصوصیات کی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں افسوس ہے ’زرداری پیپلز پارٹی حکومت اس موقع پر پاکستانی عوام کی آبرومندانہ رہنمائی کرنے بہت ہی بْری طرح سے فلاپ ہوتی دکھائی دی ‘ اور حقیقت یہ ہے کہ ممبئی حملوں کا ڈرامہ اس قدر فلاپ’گھٹیا اور دکھائی دینے والی من گھڑت اسٹوری کا ڈرامہ تھا اگر اْس وقت کی پاکستانی حکومت ذرا بھی نیک نیت اورحب الوطنی سے لگاؤرکھنے والی حکومت ہوتی تو بھارت دنیا بھر میں اُن ہی لمحوں ننگا ہو جاتا، جبکہ یہاں سب کچھ ہی الٹا جارہا تھا بکے ہوئے ملکی میڈیا کے پرائیوٹ حصے نے اْس وقت مزید قوم کومایوس کیا جب بدنام زمانہ ٹی وی نے بلاتحقیق و تصدیق بھارتی میڈیا کی زبان بولتے ہوئے ممبئی حملے کے ملزمان میں سے زندہ بچ جانیوالے گرفتار مجرم اجمل قصاب کے پاکستانی ہونے کا اقرار کردیا بلکہ فوراُ ہی پاکستانی پنجاب میں اجمل قصاب کا گاؤں بھی ڈھونڈنکالاگیا؟ یہی نہیں اْس گاؤں میں اْسی میڈیا کا کیمرہ اْس کے’مبینہ گھر’تک بھی جا پہنچا؟ یہ بڑا ظلم تھا جس کا آج تک حساب نہ لیا جا سکا ، یہ افسوس ناک مقام ہے ‘را’ نے مسلم دشمن عالمی ایجنسیوں کے اشتراک سے یہ ڈرامہ کیوں رچایا ؟ اْن کے اصل اہداف کیا تھے؟ 11/9 کے بعد امریکا جب افغانستان میں قدم جماچکا تھا بھارت کو امریکا افغانستان میں بٹھا چکا تھا کہ اچانک 26/11 کا بھارتی ڈرامہ دنیا دیکھتی ہے مسلم دشمن عالمی ایجنسیوں اور’را’ کے اصل اہداف پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی جیسے اہم سیکورٹی ادارے تھے ‘ممبئی حملوں کے ڈرامہ پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے آئندہ بھی لکھا جاتا رہے گا جب تک بھارت ممبئی حملوں کے نام سے اپنی جان نہیں چھڑاتا اْس وقت تک جھوٹ اور دھوکہ دہی کے یہ کمبل نئی دہلی کی جان نہیں چھوڑیں گے نئی دہلی کی انتظامیہ کو آئندہ ممبئی حملوں کا تذکرہ کرنے سے قبل ممبئی حملوں کے وقت میں بھارتی وزارت داخلہ کے سیکنڈ سیکرٹری آروی ایس مانی کے بیانات کی جانچ پڑتال پر جانا چاہیئے جنہوں نے 13 جولائی 2013 کو ٹائمزآف انڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ’دیش بھر کی پولیس اہلکاروں اور پیراملٹری فورسنز میں ہمہ وقت کی تیاریوں اور ممکنہ الرٹ رہنے کی پلاننگ کے تربیتی کورس کا پیپر وزارت داخلہ نے مرکزی حکومت کی منظوری کیلئے تیار کیا تھا جسے ‘را’ نے اچک لیا جس کی عملی شکل ہم نے بعد میں ممبئی حملوں میں دیکھی اورپھر ان حملوں کا الزام پاکستان اور آئی ایس آئی پر لگادیا گیا یہ صحیح نہیں ہے یہ دیش کا اندرونی محکمہ جاتی منصوبہ تھا ‘ اِس حیرت انگیز انکشاف کے سامنے آنے کے بعد ملک میں موجود بھارت نواز حلقے کیا فرماتے ہیں اُنہیں معلوم ہونا چاہیٗے کہ سابق سیکنڈ سیکرٹری مسٹر آروی ایس مانی کا یہ تفصیلی انٹرویو ٹائمزآف انڈیا کی 13 ؍جولائی 2013 کی اشاعت میں آج بھی انٹرنیٹ کی وساطت سے دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے مگر ‘میں نہ مانوں’ والی پرانی بھارتی رام کہانی دنیا کب تک سنے گی ؟۔

*****

Google Analytics Alternative