کالم

گستاخانہ موادکی تشہیر۔۔۔معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کافیصلہ

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان کی زیرصدارت اسلامی ملکوں کے سفیروں کی کانفرنس بڑی اہمیت کی حامل قرار پائی اس میں 25 اسلامی ممالک نے شرکت کی۔ تحفظ شان رسالتﷺ کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے اور اس امرپر اتفاق رائے کااظہار کیاگیا کہ دین اسلام اور حضور نبی کریمﷺ کی ناموس کی حرمت کیلئے پوری مسلم امہ متحد ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزارت خارجہ تمام قانونی و تکنیکی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیاگیاجامع حکمت عملی پیپر مسلم ممالک کے سفیروں کو ارسال کرے گی جس پر وہ اپنے ممالک کی حکومتوں کو اعتماد میں لیں گے تاکہ آئندہ کا لائحہ عمل وضع کیا جا سکے۔ وزیر داخلہ نے اجلاس یک نکاتی ایجنڈا پر تبادلہ خیال کیلئے بلایا تھا تاکہ سوشل میڈیا پر اظہار رائے کی آزادی کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کے خلاف گستاخانہ مواد پر پوری مسلم دنیا کی طرف سے موثر آواز بلند کی جا سکے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ عرب لیگ اور او آئی سی کے سیکرٹری جنرلز کو ایک رسمی ریفرنس بھیجا جائے گا جس میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد اور اس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کے معاملہ کو اٹھایا جائے گا۔ فیصلہ کیا گیا کہ اسلامی ممالک کی حکومتوں کی طرف سے جواب آنے کے بعد یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سطح پر بھی اٹھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایسے ممالک جہاں سے اس طرح کا گستاخانہ مواد سوشل میڈیا پر ڈالا جا رہا ہے، کی عدالتوں میں اس معاملہ کو قانونی طور پر اٹھانے کے حوالہ سے قانونی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ وزیر داخلہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مذہب کی مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی اور مذہبی عقائد کو مسخ کرنا ناقابل برداشت ہے۔ کوئی بھی قانون کسی مذہب کو بگاڑنے یا اس کا احترام ملحوظ نہ رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ مسلمان جو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، ان کو دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والوں کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ مسلم امہ کو بین الاقوامی برادری کو اسلام فوبیا سے نکالنے کیلئے متحد ہو کر جدوجہد کرنی چاہئے۔ کسی بھی مذہب کو مسخ کرنا دہشت گردی کی ایک اور شکل ہے جس کا بین الاقوامی برادری کو ادراک کرنا چاہئے۔ مغربی دنیا کو اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں دوہرے معیارات سے باہر آنا چاہئے، ایک طرف ان کے کسی بھی مذہب کا احترام ملحوظ نہ رکھنے اور اسے کسی بھی طرح مسخ کرنے کے خلاف قوانین ہیں اور دوسری جانب اسلام کی مقدس ترین ہستیوں کا تمسخر اڑانے کی ناپاک جسارت ہے۔ اعلامیہ کے مطابق مقدس ہستیوں کیخلاف پراپیگنڈہ کا موثر جواب دینے پر غور کیا گیا۔ مسلم امہ ناموس رسالتؓ کے تحفظ کیلئے متحد ہے۔ وزارت خارجہ گستاخانہ مواد روکنے کیلئے سٹریٹجی بنائیگی۔ سٹریٹجی پیپر تمام مسلم ممالک کے حوالے کیا جائیگا، مسلم سفیر اپنی حکومتوں سے رابطہ کر کے رائے حاصل کریں گے ۔ مسلم ممالک کی آرا پر مشتمل حکمت عملی طے کی جائیگی۔ دنیا تسلیم کرے مذہب کی بے حرمتی بھی دہشت گردی ہے۔ مغربی دنیا اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے دوہرا معیار نہ اپنائے۔ سفیروں نے معاملہ کو اجاگر کرنے پر وزیر داخلہ کو خراج تحسین پیش کیا۔وفاقی وزیر داخلہ نے اسلام آباد میں تعینات اسلامی ممالک کے سفیروں کی کانفرنس طلب کرکے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی اشاعت کو رکوانے کے معاملہ کو عالم اسلام کا مسئلہ بنا دیا۔ کامیاب کانفرنس میں گستاخانہ مواد پر پورے عالم اسلام کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اسلامی ممالک کی جانب سے سب سے زیادہ بزنس دیا جاتا ہے۔ پاکستان تنہا فیس بک انتظامیہ اور سوشل میڈیا کے دیگر اداروں پر دباؤ نہیں ڈال سکتا۔ پی ٹی اے جو گستاخانہ مواد رکوانے کیلئے اپنے طور پر کام کر رہی ہے تاہم پی ٹی آئی نے اس بارے میں بے بسی کا اظہار کیا تھا جس کے بعد چودھری نثار نے پورے عالم اسلام کو بیدار کرنے اور اس کی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ سفیروں کی کانفرنس میں طے پایا کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کو رکوانے کیلئے جہاں یہ معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے گا وہاں ان ممالک پر سفارتی دباؤ ڈال کر گستاخانہ مواد کو سوشل میڈیا پر ڈالنے سے رکوانے کی کوشش بھی کی جائے گی۔ مسلم ممالک کو فیس بک بند کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تحفظ شان رسالتﷺ کیلئے مسلم امہ متحد ہے مغرب اسلام اورمسلمانوں کے حوالے سے دوہرا معیار نہ اپنائے کوئی قانون توہین مذہب کی اجازت نہیں دیتا دنیا کو اسلام فوبیا سے نکالنے کیلئے مل جل کر کام کرنا ہوگاتاکہ آئندہ کوئی اس طرح کی مذموم کارروائیاں کرنے کی جرات نہ کرپائے ۔سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے مرتکب عناصر کوکیفر کردار تک پہنچا کر ہی انصاف کے تقاضے پورے کئے جاسکتے ہیں۔
شہریوں کاتحفظ یقینی بنانے کاعسکری عزم
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج لائن آف کنٹرول کے قریب رہنے والے لوگوں کی حفاظت یقینی بنانے کا سلسلہ جار ی رکھے گی بھارت کے عسکریت پسندوں کی لائن آف کنٹرول کے ساتھ موجودگی کے پروپیگنڈے کا مقصد آزاد جموں و کشمیر میں بد امنی پھیلانا ہے ، اس کا یہ ایجنڈا کبھی کامیاب نہیں ہوگا ، آزاد جموں و کشمیر کے لوگ بھارتی ایجنڈے اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم سے مکمل واقف ہیں ، آزاد جموں و کشمیر کے لوگ بھارتی ایجنڈے اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم سے مکمل واقف ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول پر کیل سیکٹر اور شاردہ میں اگلے مورچوں کا دورہ کیا جہاں پر جنرل کمانڈنگ آفیسر مری میجرجنرل اظہر عباس نے انہیں لائن آف کنٹرول پر حالیہ مہینوں میں ہونے والی سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر بریفنگ دی ۔ اس موقع پر آرمی چیف کو ملک میں جاری مردم و خانہ شماری میں پاک فوج کے تعاون و حمایت کے حوالے سے بھی آگاہ کیاگیا ۔انہوں نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور فوج کی آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار انہوں نے آزاد جموں و کشمیرحکومت کے تعاون کے ساتھ علاقے میں ترقیاتی کام جاری رکھنے اور ان میں پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی ۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے مکروہ عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ آرمی چیف نے بجافرمایا ہے لائن آف کنٹرول پر بھارت ایک تواتر کے ساتھ سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کرتا چلا آرہا ہے اور اس نے کشمیر میں افراتفری کی صورت حال بپا کررکھی ہے جس سے خطے کے امن کو خطرہ ہے۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور اس کی خواہش ہے کہ بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات برقرار رہیں لیکن بھارت کامخاصمانہ اورجارحانہ رویہ پاکستان کے امن مشن پر پانی پھیررہاہے ۔بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے پاکستان کی عسکری قیادت کسی بھی جارحیت کامنہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت ایک طرف کشمیریوں پر مظالم ڈھارہاہے تو دوسری طرف پاکستان کے ا ندر دہشت گردانہ کارروائیاں کرکے اس کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کررہاہے۔ پاکستان پھر بھی صبر وتحمل کے ساتھ پڑوسی ملک کے ساتھ تمام متنازعہ مسائل کے ادراک کیلئے کوشاں ہے لیکن بھارتی رویہ دوطرفہ تعلقات میں رکاوٹ کاباعث بنا ہوا ہے۔مسئلہ کشمیر کاحل ہی خطے کے امن کاضامن ہے۔ بھارت اس طرح کی کارروائیاں کرکے اقوام عالم کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانے کی کوشش کررہاہے لیکن دنیاجانتی ہے کہ بھارت کے عزائم کیاہیں۔

پاک افغان بھائی چارہ سالوں پرانی روایات کا امین

پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کو اپنا بھائی سمجھا ہے دونوں ملکوں کے عوام بھائی چارے کے اس عظیم رشتے میں بندھے ہوئے ہیں جس کا اعلان ہمارے پیارے آقا ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں کیا تھا کہ ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ‘‘تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی افغانستان پر کوئی مشکل وقت آیا سب سے پہلے پاکستان نے اس کی مدد کی یہ او ر بات ہے کہ افغانستان نے کھبی بھی پاکستان کے احسان کو احسان نہیں مانا اقوام متحدہ میں جب بھی کوئی پاکستان کے حوالے سے بڑی سرگرمی نظر آئی افغانستان نے پاکستان کی مخالفت کی اس کے باوجود پاکستان افغانستان کے مشکل وقت کا ساتھی رہا ہے اور یہ سب اسی بھائی چارے کے رشتے کو سامنے رکھ کر کیا جاتا رہا ہے کچھ عرصہ پہلے جب یہاں افغانستان میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے دہشتگردی کی بذدلانہ کاروائیاں کی تو پاکستان نے اس کے سد باب کیلئے اپنی سرحد بند کرنے کا اعلان کیا جس کی وجہ سے افغانستان کی وہ تمام تجارت جو پاکستان کے ر استے سے ہوتی تھی بند ہو گئی اس سے دونوں اطراف کے تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑا ساتھ ساتھ افغانستان میں علاج معالجے کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے وہاں کے ہزاروں مریض ہر روز پاکستان میں اپنا علاج کروانے آتے ہیں جن کو پریشانی کی سامنا کرنا پڑا بعد ازاں افغان حکام کی طرف سے ان عناصر کے خلاف کاروائی کی یقین دھانی کروائی گئی جنھوں نے پاکستان میں بزدلانہ دہشت گردی کا ارتکاب کیا تھا صورت حال اس وقت بہت ہی زیادہ خراب ہو گئی جب سرحد کی بندش کی وجہ سے ہزاروں لوگ دونوں اطراف میں پھنس گئے افغانستان کی حکومت کی طرف سے بار بار سرحد کھولنے کی اپیلیں کی جانی لگی جس پر وزیراعظم نواز شریف نے خیر سگالی کے جذبے کے تحت افغانستان کے ساتھ چمن اور طورخم سرحد کھولنے کا اعلان کیا تاکہ تجارتی سامان اور عام لوگ افغانستان جاسکیں 32روز کی بندش کے نتیجے میں افغانستان کے اندر اشیائے خوراک کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی اور ان کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی تھیں اس امر کے باوجود کہ حالیہ دنوں میں پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے تانے بانے افغان سرزمین پر موجود پاکستان دشمن عناصر سے جا ملتے ہیں پاکستان سمجھتا ہیں دونوں ممالک کے درمیان صدیوں کے مذہبی’ ثقافتی اور تاریخی رابطوں اور تعلق کے پیش نظر سرحدوں کا زیادہ دیر تک بند رہنا عوامی اور معاشی مفادات کے منافی ہے پاکستان میں امن و سلامتی کیلئے افغانستان میں دیرپا امن ناگزیر ہے اور دونوں ممالک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے افغان حکومت سے تعاون کی پالیسی جاری رکھیں گے۔
افغانستان کو اس سچائی کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ یہ پاکستان ہی تھا جس نے سوویت جارحیت کے دنوں میں افغانستان کی خودمختاری اور آزادی کی بحالی کیلئے اس کے عوام کا بھرپور ساتھ دیا تھا اس نے افغانستان کے 30لاکھ سے زائد مہاجروں کے لئے بھی اپنی سرزمین کھول دی اور ان کی ہر ممکن مدد کی جبکہ بھارت سمیت بعض ملکوں نے سوویت جارحیت کی مذمت اور مخالفت سے انکار کر دیا تھا’ پاکستان نے اگر سرحد بند کی ہے تو شدید مجبوری کے عالم میں اس نے یہ قدم اٹھایا ہے افغانستان کی حکومت کو بار بار متوجہ کیا گیا کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال کی جارہی ہے اس نے حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ جس علاقے سے اس کی سرزمین استعمال کی جارہی ہے وہاں حکومتی رٹ موجود نہیں ہے گویا اس نے اپنی بے بسی کا اظہار کر دیا ایسی صورتحال میں پاکستان کے لئے یہی راستہ تھا کہ وہ سرحد کی مینجمنٹ پر توجہ دے اور چمن و طورخم بارڈر کو بند کر دے اب اگرچہ 32روز کے بعد پاکستان نے خیر سگالی کے جذبے کے تحت سرحد کھول دی ہے اور تجارتی سامان افغانستان جانے لگا ہے لیکن جن وجوہات کے باعث سرحد بند کی گئی بہرصورت انہیں بھی ختم کیا جانا چاہیے تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لئے کس حد تک موثر کردار ادا کرتی رہے گی؟ موجودہ حالات میں جب افعانستان کی حکومت کی اتھارٹی بعض علاقوں میں موجود نہیں ہے اس کے لئے بہترین آپشن یہی ہے کہ وہ بارڈر مینجمنٹ کے معاملے میں پاکستان سے تعاون کرے اس طرح ہی دہشت گردوں کی آمدورفت کو روکا جاسکتا ہے بارڈر مینجمنٹ کے بعد افغان حکومت کے دباؤ کی صورت میں دہشت گردوں کے لئے فرار کا راستہ بھی نہیں ہوگا اس لئے افغان حکومت کو اس سلسلے میں پاکستان سے بھرپور تعاون کرنا چاہیے۔
ضرورت اس امر کی ہے پاکستان کی طرف سے بارڈر مینجمنٹ کو افغانستان کی حکومت سمجھے اور دوسروں کے کہنے پر اپنی پالیسیاں بنانے کے بجائے خود اس بات کا اندازہ لگائے کہ پاکستان کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات اس کیلئے فائدہ مند ہیں یا نقصان دہ اسے خود ہی سچائی کا علم ہو جائے گا لیکن اگر وہ دوسروں کے کہنے پر چلتا رہا تو اس کے لے گھاٹے کو سودا ہو گا کیونکہ کوئی بھی دیگر ملک پاکستان سے زیادہ افغانستان کیلئے وہ کردار ادا نہیں کر سکتا جو پاکستان کر سکتا ہے ۔

کھودا پہاڑ ۔ ۔ نکلا یوگی !

اتر پردیش میں فی الحال مودی دور کے بعد یوگی عہد کا نعرہ گونج رہا ہے۔ اس موقع پر یوگی ادتیہ ناتھ کی تاجپوشی پر ان کے والد کا بیان بہت توجہ طلب ہے۔یاد رہے کہ بھارتی ٹی وی چینل ’’ نیوز نیشن ‘‘ اور ’’ انڈیا نیوز ‘‘ پر یوگی کے والد آنند سنگھ بشٹ نے خوشی اور فخر کا اظہار کرنے کے بعد کہا کہ ’’مہنت اویدیہ ناتھ ( یوگی کا گُرو ) کی علامات یوگی میں بھی آ گئی ہیں۔ میں نے بھی اسے ( یوگی ) کو سمجھایا کہ لوگوں کے ساتھ رواداری رکھو اتفاق سے اب تم بہت بڑے عہدے پر ہو۔ دوسروں سے برا سلوک نہ کرو خصوصاً مسلمانوں سے امتیازی سلوک بند کر دو ‘‘ سوال یہ ہے کہ آخر اس نصیحت کی ضرورت آنند سنگھ کو کیوں محسوس ہوئی؟ اس لئے کہ یوگی میں مذکورہ صفات کا فقدان ہے بلکہ وہ اس کے بالکل بر عکس ہے اور اس میں مسلم دشمنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ جس کا اعتراف اس کے والد نے بلاواسطہ کیا ۔ آنند سنگھ نے اس کیلئے مہنت اویدیہ ناتھ( یوگی کا گُرو ) کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ اگر آنند سنگھ اپنے بیٹے کو اویدیہ ناتھ کے ساتھ نہ بھیجتا تو اسے سمجھانے کی نوبت ہی پیش نہ آتی ۔ واضح رہے کہ ادتیہ ناتھ کے والد نے تواس موقع پر اپنے خاندانی بزرگ اویدیہ ناتھ کا ذکر کیا لیکن خود وزیراعلیٰ کی زبان پر اپنے گرو کا نام ابھی تک ایک بار بھی نہیں آیا۔ اس سے یوگی کی خصلت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی اور یوگی دونوں میں یہ احسان فراموشی قدرے مشترک ہے۔واضح رہے کہ مہنت ادیتیہ ناتھ کا اصلی نام اجے سنگھ بشٹ تھا اور یہ خاندان اتراکھنڈ میں پوڑی گڑھوال کا باشندا ہے ۔ ادیتیہ ناتھ نے 1998 سے اب تک پانچ مرتبہ اسمبلی کا انتخاب جیتا۔ وہ اویدیہ ناتھ کے نام سے 1998 سے پانچ مرتبہ رکن پارلیمان چنا گیا ۔ ادیتناتھ اپنے گرو کو تو کیا یاد کرتا کہ اس نے تو ابھی تک اپنی ماں کو فون نہیں کیا۔ اس لئے نیوز نیشن کے پوچھے جانے پر بوڑھی ماں بولی ابھی تک بات نہیں ہوئی ہے۔ یوگی نے اپنے نئے گرو ( مودی ) سے ماں کی محبت کو کیش کرانے کی سیاست شاید ابھی تک نہیں سیکھی ہے۔دوسری جانب یہ امر بھی توجہ کا حامل ہے کہ اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں سے نفرت کے بھارتی جنون میں ان دنوں انتہائی سرعت سے اضافہ ہوا ہے اور راجیہ سبھا کے رکن اور BJP کے سینئر لیڈر ’’ سبرا منیم سوامی ‘‘ نے بائیس مارچ کو کہا کہ ’’ کسی میں ہمت ہے تو ایودھیا میں بنے رام مندر ( عارضی ) کو گرا کر دکھائے ۔ اور اگر کسی نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو اس کا جو انجام ہو گا وہ دنیا دیکھے گی ۔ ‘‘ علاوہ ازیں گذشتہ چند دنوں میں جنونی ہندو رہنما ’’ ساکشی مہاراج ‘‘ نے کہا ’’ مسلمانوں اور عیسائیوں کی میتیں دفن کرنے کی بجائے جلائی جانی چاہیں کیونکہ یہ ایک ہندو ملک ہے اور یہاں پر صرف وہی رسوم و رواج رائج چلیں گے جو ہندو دھرم کے مطابق ہوں گے ۔ ‘‘ اس کے علاوہ ’’ سادھوی پراچی ‘‘ ، ’’ نرنجن جیوتی ‘‘ ، ’’ ونے کٹیار ‘‘ اور ’’ اوما بھارتی ‘‘ سمیت بہت سے جنونیوں نے اس ضمن میں جو کچھ کہا اور جو زبان استعمال کی ، اسے احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں ۔ ایسے میں امید ہی کی جا سکتی ہے کہ عالمی برادری اپنے تجاہلِ عارفانہ کو ترک کر کے مثبت اور ٹھوس طرز عمل اپنائے گی ۔ اور دنیا بھر کے فسادی عناصر کی بیخ کنی میں اپنا کردار نبھائے گی ۔

دعا۔۔۔ شوق موسوی
کسی کا امتحاں ہے اُس کو دے کر
کسی کا امتحاں ہے اُس سے لے کر
مِرے مولا یہی میری دعا ہے
کہ میرا امتحاں ہو مجھ کو دے کر

قیام پاکستان انسانی تاریخ میں معجزے سے کم نہیں

ایوان اقبال میں منعقدہ یوم پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خاں نے کہا ہے اتفاق و اتحاد ہی میں کامیابی کی ضمانت ہے۔23مارچ دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملانے کے عزم کا دن ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے مفکر پاکستا ن ڈاکٹر علا مہ محمد اقبالؒ کی فکر اور سوچ کے مطابق برصغیر کے مسلمانوں کو یکجا کیا۔
اپنے خطاب میں سپیکر پنجاب اسمبلی کا مزید کہنا تھا ہم لازوال قربانیاں پیش اورخون کی ند یاں عبور کر کے بالاآخر خود مختار ریاست پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ آزادی حاصل کرنے کا سفر کبھی آسان نہیں ہوتا۔ پا کستا ن کا قیام انسانی تاریخ میں معجزے سے کم نہیں ، پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک مشن، نظریہ، جذبہ ، تحریک اور نصب العین ہے۔23مارچ کا دن اسی ایمانی جذبے کی یاد تازہ کرتا ہے جس کی بدولت برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کا حصول ممکن ہوا۔ اس میں شک نہیں ہمیں دہشت گردی و بے روز گاری سمیت بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے .مگر ہم عزم و استقلال سے تمام چیلنجز کا مقابلہ کرکے ملک کو مستحکم کر رہے ہیں۔ قائداعظم ؒ کے سنہری اصول ایمان ، اتحاد اور تنظیم پر عمل پیرا ہوئے بغیر مستحکم پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کی سالمیت کو مقدم رکھنے کیلئے مذہبی وسیاسی جماعتیں باہمی نفرتوں اور کدورتوں کو بالا ئے طاق رکھ کر تعمیر ملک و ملت کیلئے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔پاکستان کو مضبوط کرنے کیلئے عملی اقدامات نہ کئے تو آنیوالی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ آئین کی بالا دستی و قانون کی حکمرانی قائم کر کے جمہوریت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
تقریب سے وزیر اعلیٰ نے بھی خطاب کرنا تھا مگر وہ دیگر مصروفیات کی وجہ سے نہ پہنچ سکے ۔ البتہ انہوں نے مسلم لیگ(ن) کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوم پاکستان کے عظیم اور تاریخی دن کے موقع پر میرا قوم سے وعدہ ہے کہ آخری بچے کے سکول داخلے، غربت ، بے روزگاری ، جہالت کے اندھیرے دور کرنے ، سفارش ، دھونس دھاندلی، کرپشن، ناانصافی اور لوٹ کھسوٹ کے نظام کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا اور اس سفر میں معاشرے کے ہر طبقے کو میرا ساتھ دینا ہے اور ہم سب نے مل کرایک ٹیم کے طور پر اس مشکل سفر کو طے کرنا ہے ۔ قرار داد پاکستان کی لاج رکھتے ہوئے محنت، امانت، صداقت اور دیانت کو شعار بنا کر آگے بڑھنا ہے ۔ملک کو بانیان پاکستان کے تصورات کے مطابق صحیح معنوں میں ایسی فلاحی اسلامی ریاست بنانا ہے جہاں ہر شہری کو بلاامتیاز رنگ و نسل آگے بڑھنے کے یکساں مواقع حاصل ہوں ۔ انصاف ، میرٹ اور قانون کی حکمرانی سکہ رائج الوقت ہو اوراس منزل کے حصول کے لئے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہے ۔ سفر مشکل اور طویل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ تحریک قیام پاکستان اورقرار داد پاکستان والے جذبے کو زندہ کر کے ہم منزل حاصل کرسکتے ہیں ۔
وزیر اعلی شہباز شریف نے کہاکہ آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم دن ہے ۔ 23 مارچ 1940 ء کو قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں ہندوستان کے کونے کونے سے مسلمان منٹوپارک میں اکٹھے ہوئے اور قائد اعظم ؒ کی کرشماتی قیادت میں صرف 7 سال کے عرصہ میں مسلمان ایک علیحدہ مملکت کے حصول میں کامیاب ہوئے۔قائد اعظمؒ کی قیادت میں اکٹھے ہونے والے سب لوگ متحد اور پرعزم تھے اور ایک نیک مقصد کے لئے جدوجہد میں شریک تھے۔ان میں نہ کوئی شیعہ تھا اور نہ کوئی بریلوی ، نہ ہی کوئی اہل حدیث اورنہ کوئی دیوبند ، سب کے سب متحد ہو کر ایک علیحدہ وطن کے حصول کے لئے جدوجہد کر رہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں جائزہ لینا ہے کہ اس تاریخی دن کو گزرے 77 سال ہو چکے ہیں کیا ہم نے قائد اعظمؒ کی روح اور تحریک پاکستان کے عظیم شہداء کی لازوال قربانیوں کے ساتھ کیا انصاف کیا ہے ؟ یوم پاکستان کے تاریخی دن کے موقع پر میرا وعدہ ہے سماجی، معاشی اور معاشرتی انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گے ، بے روزگاری اور غربت کے خاتمے اور لوٹ کھسوٹ کے نظام کو ختم کریں گے اورکسی صورت عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے ۔
اس موقع پر صوبائی وزراء مجتبیٰ شجاع الرحمان ،ذکیہ شاہنواز ،شیخ علاوالدین ، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، کمشنر لاہور عبداللہ سنبل ،ڈپٹی کمشنر سمیر احمد ، اساتذہ ،طلبہ و تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی موجود تھے۔
****

دہشت گرد اور مجاہد…کچھ تو امتیاز رکھیئے

مقبوضہ کشمیر میں تحریکِ مزاحمت کا یہ اہم دور ہے جو1989 سے شروع ہوا اور مختلف نشیب و فراز کے باوجود جاری ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھنے کی ہے کہ کشمیریوں کو یہ راستہ بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی،جمہوریت کش پالیسی اور تشدد کے ذریعے عوام کے سیاسی حقوق اور سیاسی عزائم کو بزور طاقت دبانے اور عالمی معاہدوں سے فرار کے نتیجے میں اختیار کرنا پڑا مگر مزاحمتی تحریک سے زچ بھارت پروپیگنڈے کے ذریعے مجاہدین کو دہشت گرد اور آزادی کی تحریک کو دہشتگردی سے جوڑنے میں مصروف ہے،یہ پروپیگنڈا اتنا طاقتور اور تواتر کے ساتھ ہورہا ہے کہ اس کا اثر پڑھے لکھے ہوش مند طبقے پر بھی ہونے لگا ہے،محسوس اور غیر محسوس طریقے سے دہشتگردی اور آزادی کی جدوجہد غلط ملط کی جا رہی ہے،دہشت گردوں اور آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کے درمیان فرق کرنا لازمی ہے۔یہ دیکھ اور پڑھ کر دکھ ہوتا ہے کہ ہمارا دانشور طبقہ بھی مظلوم کشمیریوں کو کبھی باغی کبھی انتہا پسند کبھی شر پسند کبھی دہشت گرد لکھ یا پکار رہا ہے،حتیٰ کہ شہید کی بجائے ہلاک کہہ دیتا ہے۔
بد قسمتی سے ہم ایک ایسے ماحول میں زندہ ہیں جہاں انسانی حقوق کی بات تو کی جاتی ہے لیکن انسانوں کے ساتھ ظلم کرنے والوں کے بارے میں بات نہیں کرتے۔ فلسطین اور کشمیر اس حوالے دو اہم ترین اور نمایاں مثالیں ہیں۔اسرائیل نے غزہ میں اندھیر نگری مچا رکھی ہے لیکن دنیا ہمیشہ منہ دوسری طرف پھیر لیتی ہے اور تشدد کا الزام بھی مظلوم فلسطینیوں پر ہی عائد کیا جاتا ہے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں بھی یہی صورت حال ہے وہ آزادی کیلئے پرامن طریقے سے آواز بلند کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بھارت اس کا جواب گولیوں میں دے رہا ہے اور اگر کوئی اس پر سوال اٹھا دے تو وہ اسے بھارت کا اندرونی معاملہ کہتا ہے۔عوام کے احتجاج کو پاکستان کی شرارت اور دہشت گردی قرار دے کر دنیا میں اپنی معصومیت کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے۔بھارت اقوام متحدہ کے ذریعے اقوام عالم کے ساتھ کشمیر میں استصواب کروانے کا وعدہ کرنے کے باوجود اس سے منحرف ہو چکا ہے۔کشمیری عوام یا پاکستان جب بھی اسے یہ وعدہ یاد کروانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں دہشت گرد قرار دے کر خاموش کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
کسی بھی محکوم خطے کے عوام صرف اس وقت ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں جب ان کیلئے آزادی حاصل کرنے کے باقی سارے راستے بند کردئے جائیں۔دنیا کے متعدد خطوں میں آزادی کیلئے لوگوں نے طویل مسلح جدوجہد کی ہے،کوئی انہیں دہشت گرد کہنے کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔ کشمیر میں فوج اور حکومت کے جبر سے تنگ آکر ہتھیار اٹھانے والے کیسے دہشت گرد ہوسکتے ہیں.اپنے ماں باپ بہن بھائیوں جان مال کی حفاظت اور وطن کی آزادی کیلئے جان سے جانے والے دہشت گرد نہیں شہید اور مجاہد ہوتے ہیں.سنن ابوداد:جلد سوم:حدیث نمبر 1369 میں ہے کہ ہارون بن عبد اللہ، ابوداد طیالسی، ابراہیم بن سعد، ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر، حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبیداللہ بن عوف، حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اور وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جو شخص اپنا مال(بچاتے ہوئے)مارا جائے وہ شہید ہے، جو اپنے گھر والوں کی حفاظت کرنے میں مارا جائے وہ شہید ہے، یا اپنے آپ کو بچانے میں یا اپنے دین کو بچانے میں مارا جائے وہ شہید ہے”۔کیا آج کا کشمیری نوجوان اپنی ماؤں بہنوں کی عصمتیں بچانے کیلئے جان ہتھیلی پر رکھے نہیں پھرتے.اگر مجبور کشمیری نوجوان دہشت گرد ہیں تو نہتوں پر حملے کرنے والی ان فورسز کو کیا نام دیا جائے گا۔کشمیر کے حالات ایک ایسے موڑ پر آگئے ہیں جہاں منزل دوگام پر دکھائی دیتی ہے،کشمیری قوم نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور وہ اپنا حق حاصل کرنے کیلئے جان کی بازی لگاچکی ہے۔ اب فیصلہ اقوام عالم اور پاکستانی قوم کو کرنا ہے کہ تاریخ کے اس فیصلہ کن موڑ پر ان کا کردار کیا ہوگا؟ صاف نظر آرہا ہے کہ بی جے پی کے دبا ؤاور مقامی میڈیا کے شوروغوغا اور تشدد کو تیزتر کرنے کے واویلے کے باوجود بھارت کے سوچنے سمجھنے والے عناصر اور خود پالیسی ساز تسلیم کرنے پر مبجبور ہیں کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور اگر ہمارے دانشور طبقے کے حوصلہ شکن تجزیوں دہشت گرداور مجاہد کے کردار کو گڈمڈ کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو پھر تحریک آزادی کشمیر مظلوم کشمیریوں کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔
*****

افغانستان اوربیرونی طالع آزما

پاکستان اور افغانستان دو برادر ہمسایہ ممالک ہیں جو مذہبی، تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے جڑے ہوئے ہیں بلکہ ان کے نسلی تانے بانے بھی آپس میں ملتے ہیں اور لسانی مماثلت بھی موجود ہے ۔اِن تمام رشتوں ناطوں کے باوجود یہ دونوں اپنی جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں اور الگ الگ اکائی کے طور پر موجود ہیں ۔ افغانستان اور پاکستان کے مابین سرحد تقریباََ ڈھائی ہزار کلومیٹر طویل ہے جو دونوں ممالک کی کسی دوسرے ملک سے طویل ترین سرحد ہے یعنی نہ تو افغانستان کی کسی اور پڑوسی ملک کے ساتھ اتنی طویل سرحد ہے اور نہ پاکستان کی۔ دونوں اسلامی ممالک ہیں اور بڑی گہرائی سے اسلام کے پیرو کار ہیں یوں دونوں کے آپس میں مثالی تعلقات ہونے چاہیے تھے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسا نہیں ہو سکا اگر چہ پاکستان کی طرف سے مسلسل ایسی کوششیں کی گئی اور اب بھی جا رہی ہیں لیکن دوسری طرف پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی پاکستان کے ساتھ مخاصمانہ رویہ رکھا گیا اور افغانستان پاکستان کو تسلیم نہ کرنے والا واحداسلامی ملک بن گیا یہ اعزاز حاصل کرنے کی افغانستان کے پاس کوئی ٹھوس وجہ تو نہ تھی لیکن اُس نے ایسا کیا اور پاکستان کی راہ میں پہلا روڑا اٹکایا ۔ افغانستان ہمیشہ کسی دوسری قوت کے زیراثر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو زیادہ خوشگوار نہیں ہونے دیتا اور کسی نہ کسی حیلے بہانے دونوں ملکوں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ افغانستان اکثر اوقات بدامنی اور خانہ جنگیوں کا شکار رہا ہے جس کیلئے وہ پاکستان کو موردِ الزام بھی ٹھہراتا رہتا ہے اور یوں دو نوں ممالک کے تعلقات بہتر نہیں ہو پاتے۔ معمول کی الزام تراشی کے ساتھ جو افغان حکمران پاکستان کے بارے میں کرتے رہتے ہیں وقتاََ فوقتاََ ڈیورنڈ لائن کا قصہ بھی چھیڑدیتے ہیں۔ ڈیورنڈ لائن پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈھائی ہزار کلومیٹر لمبی سرحد ہے اور اس کا تعین 1893 میں کیا گیا تھا ایک صفحے پر درج سات نکات پر مشتمل اس معاہدے پر برطانوی حکومت کی طرف سے مورٹیمر ڈیورنڈ اور افغانستان کی طرف سے امیر عبدالرحمان نے دستخط کیے۔ افغانستان نے پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلاکرنے کے لیے پختونستان کے شوشے کو بھی ہوا دیے رکھی جو وقت کے ساتھ اپنی موت آپ مر گیا اور اُس کی حکومتوں نے بھارت سے بھی غیر معمولی تعلقات پاکستان کی مخالفت میں ہی استوار کیے جن میں کرزئی حکومت سر فہرست ہے۔ افغانستان ڈیورنڈلائن کا مسئلہ بھی اٹھا کر حالات اور تعلقات کو کشیدہ کرتا رہتا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ سرحد ایک معاہدے کے تحت کھینچی گئی تھی جو سو سال کے لیے تھا جب کہ معاہدے کے نکات میں کسی وقت کا کوئی تعین موجود نہیں۔ افغان حکومتیں یہ موقف بھی اپناتی ہیں کہ یہ معاہدہ دباؤ کے تحت کیا گیا لیکن بات یہ ہے کہ معاہدے میں کسی دباؤ کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ اُن کی تسلی کے لیے یہ بات بھی کافی ہونی چاہیے کہ قیام پاکستان کے وقت صوبہ سرحد نے بھر پور انداز میں تحریک پاکستان میں حصہ لیا اور جب سازشوں کے تحت معاملے کو الجھانے اور پیچیدہ بنانے کی کوشش کی گئی اور یہاں کے عوام سے فیصلہ مانگا گیا کہ آیا وہ پاکستان میں شامل ہونا چا ہتے ہیں یا نہیں تو سرحدی گاندھی عبدالغفار خان ان کی پشت پر موجود قوتوں اور بھارتی گاندھی کے دیگر پیرو کاروں اور تاج برطانیہ جو اس معاملے کو متنازعہ بنانے سے روک سکتا تھا سب کے خلاف اور پاکستان کے حق میں اس صوبے کے عوام کا ووٹ اور فیصلہ اس بات کا ثبوت تھا کہ انہیں ہر صورت پاکستان کے ساتھ ہی رہنا ہے اس فیصلے میں آج بھی کوئی تبدیلی نہیں بلکہ اور زیادہ مضبوطی اور ثابت قدمی آچکی ہے۔ خود افغانستان میں بھی جو لوگ تاریخ سے آگاہی رکھتے ہیں وہ اس حقیقت کو مکمل طور پر تسلیم کیے ہوئے ہیں۔ افغانستان کی نیشنل کانگریس پارٹی کے سربراہ عبدالطیف پدرم نے اپنے فیس بک پیج پر بڑے کھلے دل سے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا کہ میں ڈیورنڈلائن کو متنازعہ خیال نہیں کرتا یہ کسی بھی بین الاقوامی سرحد کی طرح ایک سرحد ہے وہ لکھتے ہیں میں نے کرزئی دور میں افغان وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر ڈیورنڈ لائن متنازعہ ہے تو اس معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے جائیں اور اگر آپ کے پاس اس کے دستاویزی ثبوت نہیں ہیں تو پھر اسے تسلیم کر لیجئے انہوں نے مزید لکھا کہ اگر ان کی پارٹی بر سر اقتدار آگئی تو وہ اسے مستقل سرحد ہی تسلیم کریں گے۔ افغان حکومت بھی اگر موجودہ افغانستان کو قابو کر لے تو بہت ہے پہلے وہ کابل سے باہر تو اپنی عملداری قائم کرے اور اپنے اندر کی خانہ جنگیوں کو ختم کر کے اور بیرونی طالع آزماؤں سے اپنی موجودہ سرحدوں کی حفاظت کرلے تو یہی کافی ہے اُس کی حکومتوں کو حقیقت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے عوام کو بھی حقائق بتا دیناچاہیے نہ کہ وہ اُنہیں توڑ مروڑ کر حقائق سے دور لے جانے کی کوشش کرے۔
****

مکے ٹماٹر ۔تھپڑ

اسمبلی ہال میں مسلم لیگی ممبرقومی اسمبلی جاوید لطیف کو تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی مراد سعید نے مکے مار کر نہ صرف عمران سے دادشجاعت پائی بلکہ تحریک انصاف کے جیالوں نے ملک بھر میں مراد سعید کی کاروائی کو بر حق قرار دیا اسی طرح میانوالی کے ممبران ضلعی اسمبلی مولوی عظمت اللہ خان چیئرمین یونین کونسل موچھ اور طارق خان چیئر مین شہباز خیل نے جعلی اپوزیشن لیڈر پر ٹماٹر بر ساکر تحریک انصاف کے ساتھیوں کے دلوں میں جگہ بنائی ! مراد سعید جواں سال پڑھا لکھا او ر عمران کا جیالا ہے مراد سعید نے انتہائی اقدام اٹھاکر اسمبلی میں حکومتی ممبرقومی اسمبلی کو تھپڑ مار کر ملک میں پیغام دیا ہے کہ عمران خان کے خلاف غلط الزام لگانے والے جان لیں ! عمران کی بے عزتی کرنے والے تپھڑوں ۔لاٹھیوں اور مکوں کے حقدار ہیں۔ مراد سعید نے انتہائی قدم اٹھایا ہے یہ ان کا ذاتی فعل اور فیصلہ ہے اس فیصلے پر تالی بجانے والے بھی ہونگے اور کچھ اس فعل کو نا پسند کرنے والے بھی! اور مسلم لیگ کے ہم خیال اس فعل کی مذمت کریں گے۔ احالانکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی شریک حیات تہمینہ دورانی نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جاوید لطیف کو پارٹی سے بر طرف کی جائے کیونکہ موصوف نے پختون قوم کی تغحیک کی ہے اور اسے پارٹی سے نکالا گیا تو خیبر پختونخواہ سے پارٹی کا جنازہ نکل جائے گا! اور تہمینہ دورانی کو مسلم لیگی حلقوں میں کوئی پزہرائی ملنے کی توقع نہ ہے مگر ان کی حق گوئی بے باکی کو ہر باشعور شہری ضرورسہرائے گا۔ کچھ لوگوں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ محترمہ درانی نے یہ بیان وزیراعلیٰ پنجاب کی ایما پر دیا ہے ! سچ کچھ بھی ہو تہمینہ درانی نے بڑے پر وقار انداز میں خالد لطیف کو آڑے ہاتھوں لیا ہے خصوصاً اپوزیشن اور تحریک انصاف کے ارکان کی نظر میں تہمینہ درانی کی عزت وقار میں اضافہ ہوگا! خیر تہمینہ درانی کا ذکر تو ان کی معیاری رائے کی وجہ نے ہوا ہے بات تو اسمبلی میں ہونے والی کاروائی اور ٹماٹر باری اور تھپڑ بازی کی ہورہی تھی جو کچھ جاوید لطیف نے کیا اسکی اس کے ساتھی داردیں یا مذمت کریں انکی مرضی! مراد سعید نے جوکچھ کیا ہے کچھ حدتک غلط ہے ! مگر مراد سعید نے غلط کرکے بھی عوام الناس میں عزت کمائی ہے کیونکہ جاوید لطیف نے عمران کو عدار کہہ کرمراد سعید کو قانون کو ہاتھ میں لینے پر مجبور کیا! جاوید لطیف عمران خان کو غدار نہ کہتے تو نہ مراد سعید ہاتھ اٹھاتے اورنہ جاوید لطیف کو تھپڑ پڑتے! مراد سعید اورجاوید لطیف کی باتوں اور جھگڑے نے ممبران اسمبلی کی عزت وقار کو داغدار کیا ہے! کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ ممبران اسمبلی عوام سے ووٹ لیکر پارلیمنٹ میں عوامی خدمت کیلئے نہیں جاتے ! بلکے ممبران اسمبلی پارلیمنٹ میں اپنے کاروبار کیلئے جاتے ہیں۔ کیونکہ اسمبلیوں کو قائم ہوتے عشرے گزرگئے! معلوم نہیں ممبران اسمبلی اب تک اسمبلیوں میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں کیونکہ ملک میں تعلیم کا نظام حکومتی سطح پر ناکام ہو چکا یعنی سرکاری تعلیمی ادارے جن میں اعلیٰ تعلیم یا فتہ سٹاف تعینات ہے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مقابلے میں فیل ہو چکے ہیں۔ زراعت روز بروز تنزلی کا شکار ہے محکمہ زراعت پر اربوں روپے سالانہ خرچ ہوتے ہیں مگر نتیجہ صفر! محکمہ صحت کی حالت ناگفتہ بہ ہے سرکاری ہسپتالوں مین اعلیٰ تعلیم تافتہ ڈاکٹر اور والائیتی مشینری اور لیبارٹری کے باوجود عوام سرکاری ہسپتالوں میں علاج کرانے کی بجائے پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکوں کر ترجیح دیتے ہیں۔ قوم کے اربوں روپے خرچ کرکے روڈز تعمیر ہو جاتے ہیں مگر ان کی حفاظت پر تعینات عملہ گھر بیٹھ کر تنخوائیں لیتا ہے اور شاہراھیں بغیر نگرانوں کے چل رہی ہیں ممبران اسمبلی قوم کیلئے قانون سازی کی بجائے اپنے اپنے مفادات کیلئے مصروف ہیں جب ممبران اسمبلی اپنی اصل ذمہ داری سے غافل ہوں گے تو پھر کوئی نہ کوئی کا م تو ان کو کرنا پڑے گا ۔ کوئی نواز شریف کا سپاہی تو کوئی دوسرا عمران خان کا جیالہ بن کر تو کوئی تیسرا دارداری کا تابعدار بن کر ڈیوٹی کرے گا۔ تو نتائج عوامی فلاح کے نہیں ہیں اسمبلیوں میں مکے تھپڑ اور انڈے و ٹماٹر چلنے کیلئے برآمد ہونگے۔

تحریک انصاف ہی حقیقی اپوزیشن

دنیا کی اقوام کی تاریخ گواہ ہے کہ ہرزمانے کی ہر تہذیب کے ہرمُلک وملت کے ہر معا شرے کے افراد پر کبھی نہ کبھی ایک لمحہ ایک گھڑی ایسی ضرور آتی ہے جسے وہ ضا ئع نہیں جانے دیتے ہیں بلکہ موقع پر فا ئدہ اُٹھاکر وہ اِس گھڑی میں سنجیدگی کا مظاہر ہ کرتے ہیں اوراپنی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں اور خودکو درپیش مسائل اور پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں اور پھریکسو اور یک جان ہوکر بحرانوں اور مشکلات سے نبرد آزما ہوجاتے ہیں اور اپنے فیصلے پہ قا ئم رہ کر اپنے بہتر و تابنا ک مستقبل کی راہ پر گامزن ہو جا تے ہیں۔مگرآج اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بدقسمتی سے ہم پاکستانی بھی بڑے عجیب و غریب لوگ ہیں ، جہاں ہمیں سنجیدہ ہونا چا ہئے وہاں ہم سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے ہیں اور جہاں ہمیں غیر سنجیدہ ہونا چا ہئے وہاں ہم سنجیدہ ہوجا تے ہیں ہم پچھلے 70سال سے اِسی المیے میں مبتلاہیں کہ ہمیں کس وقت کیا کرنا چا ہئے ؟اور کس لمحے ہمیں کس کا دامن تھامنا چاہئے؟یعنی کہ ہم میں جیسے کسی نقطے اور مسئلے کے حل کے خاطر اجتماعی سو چ وبچاراور فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہی ختم ہوگئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم ابھی تک اپنی ذہنی کیفیت کو ہی نہیں سمجھ سکے ہیں یوںآج یقینی طور پر ہم اپنے مسائل اور پریشا نیوں سے چھٹکارہ نہیں پا سکے ہیں ورنہ کیا وجہ تھی کہ نو دس ماہ قبل پا نا ما لیکس کا معاملہ جس طرح سے سامنے آیا تھا اگر اُسی وقت دنیا کے دیگرممالک کی اقوام کی طرح ہماری بھی ایک سوچ اور فکر بن جاتی تو آج ہمارا بھی یہ مسئلہ کب کا ختم ہوچکاہوتا جیسا کہ دوسری اقوام نے متحد و منظم ہوکر پا نا ما لیکس میں نامزداپنے لوگوں کا کڑااحتساب کیا اور سچ و جھوٹ کو واضح ہونے تک جیسا چاہا احتجاج کیااورمنٹوں، گھنٹوں ،دِنوں، ہفتوں اور مہینوں میں پانا ما لیکس کا مسئلہ خود حل کرلیا اور جو اِس میں ملوث پایا گیااُس کا بھی بڑااعلیٰ اور بلند ظرف تھاکہ اُس نے بھی خود کو ہر موقع پر عوامی اور اِنصاف کی عدالتوں میں پیش کیا اور پا نا ما لیکس میں اپنے متعلق �آ ئے تمام ریکارڈ کے شواہد پیش کئے اور اپنے لوگوں کو اعتماد میں لیا اور مطمئن کیا بری الذمہ قرارپایا اور جو ایسا نہ کرسکا اُس نے عدالتی فیصلوں کے سامنے اپنا سر تسلیمِ خم کیا اور خود کو سزا کیلئے پیش کیا اور اپنے عہدے سے مستعفی ہوا مگر اِن تمام حالات ’ واقعات اور حقائق کے با وجود بھی دوسری طرف ایک ہمارے مُلک کے پا نا ما لیکس کے شکنجے میں جکڑے حکمران ہیں کہ جنہوں نے پا نا ما لیکس کو نہ ما ننے کی ٹھان رکھی ہے۔ اور اپنے متعلق پا نا ما لیکس میں آئے تمام شواہد اور ریکارڈ کو جھٹلانے کیلئے جھوٹ پہ جھوٹ بولے ہی چلے جارہے ہیں آج یہ جتنا جھوٹ بول رہے ہیں اُلٹا اِس میں مزید پھنستے ہی چلے جا رہے ہیں۔ شایدوہ یہ بھول گئے ہیں کہ جانور شکاری کے جا ل میں اپنے پیروں اور پنجوں سے پھنستا ہے اور اِنسان اپنی زبان اور جھوٹ سے مصیبتوں کا شکار ہوتا ہے اِن دِنوں میرے مُلک میں جیسے سچے اور جھوٹوں کاگھمسان کا رن جاری ہے اَب دیکھتے ہیں کہ آنے والے دِنوں ، ہفتوں اور مہینوں میں سچّوں کو فتح حا صل ہوتی ہے یا جھوٹوں کو پستی اور اپنی ذلت و رسوا ئی کے تلوے چاٹنے پڑتے ہیں۔تاہم آج کیا پانا ما لیکس کا پیچھاکرنے کا سارا ٹھیکہ صرف پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کا ہے؟باقی سب اپنی طرح طرح کی ذاتی اور سیاسی مصالحتوں اور مفاہمتوں کے خول میں منہ چھپا ئے بیٹھے خاموشی سے چین اور سُکھ کی با نسری بجارہے رہیں اور اپوزیشن ہوتے ہوئے بھی فرینڈلی اپوزیشن کا ایک ایسا مکروہ رول اداکررہے ہیں کہ اَب قوم کا اپوزیشن پر سے اعتبار اُٹھ گیاہے۔ پیپلز پارٹی کو پا نا ما لیکس کے حقا ئق سامنے آنے تک اپنے مثبت اور تعمیری قول و فعل کے ساتھ عوامی سطح پرکھل کر راہ ہموار کرنی چا ہئے تھی مگر وہ اپنا یہ رول اداکرنے سے کتراتی رہی ہے۔ بہرکیف ، کچھ بھی ہے مگراِس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پا ناما لیکس میں نا مزد وزیراعظم نواز شریف اور اِن کے خاندان کے افراد کی آف شور کمپنیوں سے متعلق حقا ئق دنیا کے سامنے لا نے کیلئے ایک محب وطن سیاسی رہنماء تحریک اِنصاف کے سربراہ عمران خان ہی ہیں جو اپنی پا رٹی کے عہدیداران اور کارکنان کے ساتھ پاناما پیپرزلیکس کے معاملے کودودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کا علم لئے میدانِ سیاست میں متحرک ہیں۔اگرچہ عمران خان کے اِس عزمِ خاص کوحکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جذباتی اور جوشیلے عہدیداران و کارکنان اور حکومتی وزراٗ اور اِن کے ارد گرد کی طرح منڈلاتے کارندے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اور مُلک بھر میں ہونے والے اپنی پارٹی کے بڑے چھوٹے جلسے جلوسوں اور عوامی و پبلک مقامات پر کھلم کھلا بیچارے عمران خان اور اِن کی جماعت والوں کو چیخ چلاکراور اپنے گلے پھاڑ پھاڑ کرہدفِ تنقید بنانا اور بُرا بھلا کہنا خود پرلازم کرچکے ہیں اور اَب یہ لوگ یہ کام اپنا فرض سمجھ ایسا کرنے لگے ہیں۔اَب اِس ساری صورتِ حال میں یہ توضرور واضح ہوگیاہے کہ میرے دیس پاکستان میں سچ اور جھوٹ اور کون اچھا ہے؟ اور کون بُرا ہے؟ کو پرکھنے کی سوچ اور فکرختم ہوکررہ گئی ہے ہم نے اپنے حصے کا یہ کام بھی اپنی عدالتوں اور افواج کے کاندھے پر ڈال دیاہے اور خود ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ہمیں خود کچھ نہیں کرنا ہے بس جو کرنا ہے ہماری عدالتوں اور فوج کو ہی کرنا ہے۔

Skip to toolbar
Google Analytics Alternative