کالم

دہشت گردوں کا ایف سی قافلے پر بزدلانہ حملہ

بلوچستان کے ضلع تربت کے علاقے مند میں ایف سی کے قافلے پر دہشت گردوں کا حملہ جس کے نتیجے میں چار اہلکار اور ایک شہری شہید ہوگیا جبکہ تین اہلکار زخمی ہوئے دہشت گردوں نے ایف سی گاڑی کو دوران گشت ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا ۔ وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری کی دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ہدایت ۔ وزیراعظم وزیر داخلہ کی اس دہشت گردانہ واقعہ کی مذمت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہر پاکستانی آپریشن ردالفساد کا سپاہی ہے اور مل کر پاکستان کو فساد سے پاک کریں ۔ قوم متحد ہے پرامن اور ترقی کرنا محفوظ پاکستان ہمارا عزم ہے پاک فوج اپنا کردار ادا کرتی رہے گی ۔ ہم سب کا پاکستان سے متعلق آگاہی مہم میں آرمی چیف کا پیغام بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ آرمی چیف نے درست فرمایا ہے کہ جب تک پاکستان کو محفوظ نہیں بنایا جاتا اس وقت تک ملک ترقی کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتا ۔ دہشت گردی ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ تربت کے علاقے میں دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے پاک فوج دہشت گردی کے خلاف جو کردار ادا کررہی ہے قوم اس کوکبھی بھی فراموش نہیں کر پائے گی ۔ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کا کوئی دین اور کوئی مذہب نہیں ان کا ایک ہی مشن دکھائی دیتا ہے دھماکوں اور خودکش حملوں سے معصوم لوگوں کا خون کرنا جس کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا ۔ دہشت گردی میں بھارت کا عمل دخل پاکستان کیلئے باعث تشویش ہے ۔ بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیاں کروا کر اس کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ پاکستان کمزور ہو اور وہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہولیکن بھارت کا یہ خواب کبھی بھی پورا نہیں ہوگا ۔ پاک فوج دشمن پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے دراصل بھارت مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے لیکن دنیا بھارت کے کردار کو بھانپ چکی ہے ۔ بھارت ایک طرف ’’را‘‘ کے ذریعے دہشت گردی کروا رہا ہے تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں یہ سفاکی اور بربریت کا کھیل کھیل رہا ہے۔ پاکستان کئی بار اپنا احتجاج ریکارڈ کرواچکا ہے لیکن توجہ طلب امر یہ ہے کہ اس کے احتجاج پر عالمی سطح پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور اس کی خواہش ہے کہ بھارت کے ساتھ تمام تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے لیکن بھارت پاکستان کی امن کاوشوں کو دیدہ دانستہ نظر انداز کرتا چلا آرہا ہے جس سے خطے کا امن خطرے میں دکھائی دے رہا ہے ۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے اس کیخلاف مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس وقت وطن عزیز کو کئی دیگر مسائل کا سامنا ہے لیکن دہشت گردی نے اس کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے پاک فوج آپریشن ردالفساد جاری رکھے ہوئے اور ملک کو فسادیوں سے پاک کرنے کیلئے کامیاب کارروائیاں کررہی ہے ۔ بچے کھچے دہشت گرد اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں سے سیاسی و عسکری قیادت کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتے ۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد ردالفساد دہشت گردوں کیلئے موت کا پیغام ہے۔ دہشت گردوں کیلئے محفوظ راستہ ایک ہی ہے کہ وہ ہتھیار پھینک کر امن کے جھنڈے تلے آ جائیں اور اپنی آخرت سنوار لیں یہی ان کے بچاؤ کا راستہ ہے ورنہ بھیانک انجام ان کا مقدر بنے گا۔ ہر پاکستانی بلا شبہ آپریشن ردالفساد کا سپاہی ہے اور وطن سے دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کیلئے پاک فو ج کے ساتھ کھڑا ہے۔ دہشت گردی کو ختم کرکے ہی ملک میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ دہشت گردی ترقی و خوشحالی میں رکاوٹ ہے اس کو ختم کیے بغیر ملک کو امن کا گہوارہ نہیں بنایا جاسکتا۔ سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔
حکومت کیخلاف گرینڈ الائنس
چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں کااجلاس ہوا جس میں چوہدری پرویز الٰہی ‘رکن قومی اسمبلی طارق بشیر چیمہ ‘سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا سمیت دیگر جماعتوں کے نمائندگان شر یک ہوئے چار جماعتی اتحاد کی طرف سے اعلامیہ جاری کیا گیا کہ جے آئی ٹی کو دبا سے بچانے کے لئے وزیراعظم مستعفی ہوں،شفاف تحقیقات کیلئے وزیراعظم کا مستعفی ہونا ضروری ہے اجلا س کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کو جے آئی ٹی کی 15 روزہ رپورٹ کو عام کیا جائے اور پانامہ فیصلے کی روح کے مطابق وزیراعظم کی حیثیت ملزم کی ہے جبکہ بعدازں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی سربراہی میں میاں مقصود،ڈاکٹر وسیم اختر سمیت دیگر رہنماؤں نے (ق) لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین سمیت دیگر سے ملاقات کی جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال ‘پانامہ جے آئی ٹی سمیت دیگر اموار کے حوالے سے بات چیت کی گئی اور (ق) لیگ اور جماعت اسلامی نے جے آئی ٹی کے معاملات کو مانیٹر کر نے کیلئے مشتر کہ وکلاء کی ٹیم بھی تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا ہے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ سپر یم کورٹ نے وزیر اعظم نوازشر یف کے خلاف تاریخی فیصلہ دیا ہے اور پانچوں ججز صاحبان نے یہ واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ نوازشریف اب صادق اور امین نہیں رہے اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں ۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اپوزیشن باہمی اختلافات کو ختم کر کے متحد ہو جائے اور ہم وکلاء کی جانب سے احتجاجی تحر یک چلانے کے فیصلے کی بھی مکمل حمایت کرتے ہیں ۔چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور تحر یک انصاف دونوں بڑی سیاسی جماعتیں ہیں انکی قیات خود عقل مند ہے اس لیے وہ یقینی طور پرفیصلے سوچ سمجھ کر ہی کر یں گے اور موجودہ حالات میں اپوزیشن کا متحد ہونا ضروری ہے ۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملکی حکمران خود کر پشن میں ملوث ہیں ان کو اپنا انجام نظر آرہاتھا اسی وجہ سے (ن) لیگ نے اپوزیشن کے ٹی او آرز کے مطابق پانامہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن نہیں بنایا مگر اس کے بعد معاملہ سپر یم کورٹ گیا جہاں تمام ججز نے یہ واضح طور پر کہ دیا ہے کہ نوازشر یف صادق اور امین نہیں رہے اور 2ججز نے تو واضح طور پر نوازشر یف کونااہل قرار دیا ہے اس لیے جے آئی ٹی کی شفاف تحقیقات کیلئے ضروری ہے کہ نوازشر یف اپنے عہدے سے ہٹ جائے اور اپنی جگہ کسی اور کو وزیر اعظم بنا دیں اگر وہ بری ہو جاتے ہیں تو دوبارہ وزیر اعظم بن جائیں مگر موجودہ حالات میں انکو استعفیٰ دینا چاہیے ۔ پانامہ فیصلہ ملکی سیاست میں جہاں ہلچل کا باعث قرار پایا وہاں سیاسی جماعتوں کو متحد کرنے کا سبب بھی بنتا نظر آرہا ہے اور وزیراعظم سے مستعفی ہونے کیلئے گرینڈ الائنس اس امر کا عکاس ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی محاذ پر لفاظی جنگ کے ساتھ ساتھ حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہونگی ۔ وزیراعظم اخلاقی جواز کھو بیٹھے ہیں ۔ سیاسی تدبر اور بصیرت سے کام لیتے ہوئے جے آئی ٹی کی تحقیقات تک عہدہ چھوڑ دیں یہ ان کیلئے نیک شگون ہے ورنہ ان کی ساکھ پر کاری ضرب لگنے کا امکان موجود ہے۔

اتحاد اور یکجہتی

آج کی سیاست لوگوں کو ذات پات ، مسلک اور لسانیت کی بنیاد پر تقسیم کر رہی ہے۔ اس تقسیم کو ختم کرنے میں اہل قلم کا کردار بہت اہم ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’جب سیاست لڑکھڑاتی ہے تو ادب اسے سنبھالتا ہے۔‘‘ یہ جملہ آج پوری طرح سچ ثابت ہو رہا ہے۔ تاریخ کا یہ سبق ہے کہ جہاں ایک طرف کچھ لوگ سیاست کو پراگندہ کر تے ہیں اور مسلک، فرقہ، ذات اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کرکے مفاد پرستی کی سیاست کر تے ہیں، تو دوسری طرف ادیب، شاعرو ادیب اورصحافی اورقلم کا ر کثرت میں وحدت کا پیغام عام کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتے رہے ہیں۔ یہ لوگ سماجی ہم آہنگی کیلئے انسانیت، محبت، رواداری اور اتحاد و اتفاق کی شمع روشن کرکے ملک کے شیرازہ کو بکھیرنے کی سیاسی سازش میں ملوث لوگوں کو بے نقاب کرنے اور شعوری بیداری کا فریضہ پورا کرتے ہیں۔ موجودہ ملکی سیاسی صورت حال اتنی سنگین ہو گئی ہے کہ دوست اور دشمن کی تمیز ختم ہوگئی ہے اورعام آدمی کیلئے یہ سمجھ پانا مشکل ہو گیا ہے کہ ملک کا دوست کون ہے اور دشمن کون ہے؟ قومی سطح پر اگر دیکھا جائے تو صاف طور پر یہ نظر آرہا ہے کہ موجودہ سیاست متضاد نظریات سامنے آرہے ہیں میڈیا پر غوغا آرائی ہورہی ہے مختلف ٹاک شوز کے ذریعے تماشا لگا یا جاتا ہے لوگوں کو الجھایا جارہاہے، مسائل کا حل کسی کے پاس نہیں ہے بس لفظی مقابلہ کیا جنگ ہوتی ہے ، زبان درازی کو خوب فروغ مل رہا ہے اور کبھی کبھی نازیباالفاظ کا تبادلہ بھی ہوتا ہے اور اوراس طرح میڈیا عوام کے ذہنوں میں خلفشار پیدا کر رہا ہے اور اس پر خوشی کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ میڈیا آزاد ہے ۔ فرقہ پرستی اور مسلک پرستی کے جراثیم نے پورے ملک کو آلودہ کردیا ہے۔ جس کے باعث ایماندار اور ذمہ دار شہریوں میں پایہ جانے والا اضطراب اور بے چینی فطری ہے۔ سیاست کے اس خوفناک ماحول نے بہار کے حساس او ربا شعور لوگوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بار بار کے تجربات نے عوام بہت حساس اور با شعور کردیا ہے اور اگر ماحول اسی طرح رہا تو خلاف توقع واقعہ رونما ہوسکتا ہے جو شاید اس بوسیدہ نظام کو دھڑام سے بھی گراسکتا ہے، لوگوں کا سڑکوں پر نکلنا ایک خطرناک علامت ہے۔حکومت کے ساتھ ساتھ سماجی اور ثقافتی اور سیاسی تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بھی فرقہ واریت اور مسلکی منافرت پھیلا کر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں سے ہوشیار رہنے اور ہر حال میں ہم آہنگی، امن و بھائی چارہ، پیار و محبت اور مشترکہ تہذیبی اقدار کی حفاظت کیلئے عوام کو بیدار رکھنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ انقلابی جدوجہد کے دوران شعراء اور ادیبوں نے قلم کا استعمال کیا ہے اور ’’ہاتھوں کو مسلح کرنے سے پہلے دماغ کو مسلح ‘‘کرنے کا پیغام پہنچایا ہے۔تاریخ اس کی گواہ ہے کہ مسلمانوں نے نا موافق حالات میں بھی انسانیت کے بنیادی اصولوں سے انحراف نہیں کیا ہے او رہر دور میں وہ محبت و انسانیت کی شمع جلاتے رہے ہیں اور انسانیت کے مابین تفریق کو ختم کرکے ان کو صرف ایک محبوب کے رنگ میں رنگ جانے اور اس کے آگے سر جھکا دینے کا درس دیا ہے اور سچائی پر مبنی یہ پیغام دیا کہ’’ پیار و محبت امن کا راستہ ہے‘‘۔ انسا نیت کا یہ درس دیتا ہے انسان کا احترام ہونا چائیے۔ اس پیغام کو گھر گھر پہنچانے کی بھی کوشش ریاستی اداروں اور سماجی اور سیاسی تنظیموں کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے۔ تاریخی حقائق کی روشنی میں عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ملک کی اصلی طاقت اتحاد اور یکجہتی ہے ۔ دلوں کو جوڑنے والے لوگ ہر دور میں رہے ہیں آج بھی موجود ہیں اور رہیں گے۔ محبت کی شمع نہ کبھی بجھی ہے او رنہ کبھی بجھے گی اور اس کے مقابل دلوں کو توڑنے والے لوگ بھی ہر دور میں رہے ہیں اور آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں اوران کی سازشوں سے دنیا تنگ ہے ایسے لوگوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کا بس ایک ہی راستہ ہے کہ دلوں کو جوڑنے اور محبت کا چراغ روشن رکھنے کی مہم کو مسلسل جاری رکھا جائے اور یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جیت بالآخر روشنی کی ہی ہوتی ہے ۔ شاعر اور ادیب جہاں لب ورخسار اور محبوبہ کے نقش ونگار اور اس کی موٹی موٹی آنکھوں ،سیاہ زلفوں کی درازیوں اور جمالیاتی حسن کو موضوع بحث بنا کر یادکرتے ہیں وہاں وہ دھرتی میں بھی محبت عام کرنے کی بات کرتے ہیں اور دنیا کو یہ باور کراتے ہیں کہ انسانیت کے مابین محبت رشتے کا قومی ترقی میں اہم کردار ہوتا ہے ۔اس لیئے اس رشتے کو مضبوط بنایا جائے ۔محبت کی طاقت جیسے جیسے کمزور ہوتی ہے، اسی تناسب سے نفرت کا اندھیرا بڑھتا چلا جاتا ہے دلوں کو جوڑنے کے کام میں شاعروں اور ادیبوں نے ہردور میں اپنا حصہ ڈالا ہے اورفرقہ پرستی اور فسطائی قوتوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا ہے اور موٹی موٹی آنکھوں کے تذکرے اور لب ورخسار کی حاشہ آرائیاں در اصل اس عظیم مشن کے استعارے ہیں جسے بنیاد بنا کر انہوں نے عظیم مشن کی تکمیل کی ہے اب وقت کا تقاضا ہے کہ تشدد کا راستہ ترک کر کے قلم کو بطور ہتھیار استعمال کیا جائے تو کوئی شک نہیں کہ ترقی کے منزل کو پہنچنا آسان ہوجائیگا!۔
****

بھارتی سفاکی !

یوں تو پچھلے ستر سال سے بھارتی حکمرانوں نے نہتے کشمیریوں اور اپنی دیگر اقلیتوں کے خلاف ریاستی دہشتگردی کا جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ، اس کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد معصوم کشمیری بھارتی درندگی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوذ جاری و ساری ہے اور انسانی حقوق کی پا مالیاں ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتی چلی جا رہی ہیں مگر اسے عالمی ضمیر کی بے حسی ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس جانب عالمی برادری نے مکمل طور پر چپ سادھ رکھی ہے ۔
معتبر ذرائع کے مطابق مقبوضہ ریاست میں بھارتی مظالم کا عالم یہ ہے کہ صرف مارچ 2017 کے مہینے میں انیس بے گناہ کشمیریوں کو قابض بھارتی فوجیوں نے شہید کر دیا ۔ پیلٹ گنوں اور دیگر اسلحے کے استعمال کی بدولت 444 کشمیری نوجوان تشویشناک حد تک زخمی ہوئے جبکہ صرف مارچ کے مہینے میں 914 کشمیریوں کو حراست میں لے لیا گیا ۔ 53 دکانوں یا مکانوں کو مسمار کر دیا گیا اور 14 خواتین کے ساتھ اجتماعی بے حرمتی کے واقعات پیش آئے ۔
دوسری طرف ہندوستانی صوبے ’’ اڑیسہ ‘‘ میں مسلم کش فسادات کا نیا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ بھارت کی مشرقی ساحلی ریاست اڑیسہ کے شہر بھدرک میں مسلمانوں کے خلاف پر تشدد واقعات کی وجہ سے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور سکول کالجوں کو بند کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ہندوؤں نے وہاں مسلمانوں کی درجنوں املاک کو نذرِ آتش کر دیا ۔ صورتحال کی کشیدگی کا اندازہ صرف اسی بات سے بخوبی ہو جاتا ہے کہ وہاں بگڑتی صورتحال کو قابو کرنے کے لئے دہلی کے حکمرانوں کو وہاں پولیس کی 35 پلاٹون تعینات کرنا پڑی ہیں ۔
اس کشیدہ صورت حال کے پیش نظراڑیسہ کے ڈائریکٹر جنرل پولیس کے علاوہ سیکریٹری داخلہ اسیت ترپاٹھی کو بھی وہاں جانا پڑا ، اس کے باوجود صورتحال میں کوئی بہتری نہیںآ رہی ۔
اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے غیر جانبدار حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ مودی اور اس کے چیلے یوگی نے اتر پردیش میں جو وطیرہ اپنایا ہے اس کے منطقی تنائج آنے والے دنوں میں مرتب ہو کر رہیں گے اور خدشہ یہ ہے کہ شمالی ہندوستان کے اکثر علاقے بد بد ترین مسلم کش فسادات کی زد میں آ سکتے ہیں اور یہ لہر آگے چل کر نہ صرف بھارتی بلکہ پورے جنوبی ایشیاء کی سلامتی کے لئے نا قابلِ تصور حد تک مشکلات پیدا کر سکی ہے کیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ اس قسم کا ماحول ہر طرح کے انتہا پسند حلقوں کے لئے خاصا سازگار ثابت ہوتا ہے ۔
بہر کیف دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ خود کو انسانی حقوق کے چمپئن سمجھنے والے حلقے اپنی بے حسی کو ختم کر کے زمینی حقائق کا ادراک کریں گے اور مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے دیگر علاقوں میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرانے کے ساتھ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرائیں گے ۔
*****
رواں دواں۔۔۔ شوق موسوی
اگرچہ کچھ نہ کچھ مٹی لگی ہے
مگر وُہ جھاڑ کے کپڑے اُٹھے ہیں
بہر صورت وہ میرِ کارواں ہیں
وہ جیسے تیسے پھر سے چَل پڑے ہیں

مایوسی گناہ ہے

سیاست دراصل شیوہ پیغمبری ہے ہمارے انبیا کرام خلفائے راشدینؓ اور اصحاب نبی العالمین ﷺ بھی سیاست اور سیادت بذریعہ خدمت ہی کرتے رہے یہی مفہوم و تعارف ہمارے ذہنوں میں تھا صدر محمد ایوب خان کی صدارت کے آخری دن تھے ہمارا زمانہ طالب علمی تھا ان کے خلاف تحریک زوروں پر تھی ہمارے استاد محترم عبدالوہاب صدیقی جو ہمیں اردو پڑھایا کرتے تھے ان سے سیاست کا مطلب پوچھ بیٹھے پھر کیا تھا انہوں نے کچھ جڑاؤ اور ملقب قسم کے اوصاف حمیدہ پڑھے جن کو احاطہ تحریر میں نہیں لایا جا سکتا اور ان کی طہارت کا یہ کالم بھی متحمل نہیں ہو سکتا کہنے لگے یہ سیاست ہے، یہ تھا ہمارا عملی سیاست سے پہلا تعارف اور یہی موجودہ سیاست کی عملی حقیقت بھی, بزرگوں سے سنا تھا قوم کاحاکم اس کا خادم ہوتا ہے اور بس خادم، خادم اعلیٰ نہیں آج کا حاکم صرف حاکم ہوتا ہے اور وہ بھی بادشاہ کی طرح مطلق العنان آپ سے ووٹ کیا لیا آپ بک گئے اور اہل اقتدار اپنے آپ کو بادشاہ سمجھ بیٹھتے ہیں اور یہی لوگ عوام سے اتنے دور چلے جاتے ہیں کہ غریب ملک کے مفلوک الحال عوام سے ٹیکس کے نام پر چھینے گئے پیسوں کو اپنے بزرگوں کا مال بلکہ حرام کا مال سمجھ کر اس بے دردی سے اڑاتے ہیں کہ الامان والحفیظ سو 100گاڑیوں کے لشکر ساتھ لئے پھرتے ہیں جس شہر میں نازل ہوتے ہیں عذاب الٰہی کی طرح نازل ہوتے ہیں گھنٹوں ٹریفک بند رکھا جاتا ہے ان کی آمد پر لوگوں کی نقل و حرکت اور اقتصادی سرگرمیاں محدود ہو کر رہ جاتی ہیں لیکن جب یہ بیرون ملک جاتے ہیں سیکیورٹی کے نام پر ان کے جوتے تک اتروا لئے جاتے ہیں اور بھیڑ بکریوں کی طرح متعلقہ افسر کے اشارہ ابرو پر ہی حرکت کرتے ہیں کئی حضرات کو ہم نے برابھلابھی پڑتے بھی دیکھا ہے جو اس عزت افزائی کے جواب میں بے بسی سے برابھلابھی کو دیکھتے سگریٹ کا ایک گہرا کش لگا کر آگے چل پڑتے ہیں اور عزت افزائی کرنے والا مسلسل حجو پڑھتا پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہے اس عزت افزائی کی کئی کلپس آج بھی یوٹیوب کی زینت ہیں۔یہی لوگ مغرب میں ایک اکیلے کھڑے ٹیکسی کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں کوئی پروٹوکول کوئی ہٹو بچو نہیں ہوتا سویڈن جیسے انتہائی ترقی یافتہ ملک کے وزیراعظم آج بھی سائیکل پر دفتر آتے ہیں نکارا گوا کا صدر دفتری اوقات کے بعد اپنے آبائی ملکیتی گھر میں آکر رہتا ہے دوپہر کے بعد اپنی زمین میں ٹریکٹر چلا کر زرعی مزدوری کرکے اسی میں اپنی گزر اوقات کرتا ہے سویڈن کے آنجہانی وزیراعظم اولف پالمے رات کو اپنی بیگم کے ساتھ فلم دیکھ کر نکلے اور قتل کردئے گئے کوئی ہنگامہ نہیں کوئی توڑ پھوڑ نہیں نہ کوئی املاک لوٹی گئیں نہ ٹرینیں جلائی گئیں اور نہ ہی کھپے کہنے کی ضرورت پڑی اگلے چند گھنٹے سوگ کا عالم رہا آخری رسوم ادا کردی گئیں اور بس اگلے روز سب کچھ نارمل کیونکہ ادارے مضبوط ہیں کسی کے آنے جانے سے قطعی کوئی فرق نہیں پڑتا ملکہ برطانیہ کے روایتی پروٹوکول کے علاوہ دنیا میں کہیں کوئی پروٹوکول نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی بیرون ملک سے آئے ہوئے سرکاری مہمانوں کی تکریم کی جاتی ہے انہیں تعلقات کے درجے کے مطابق پروٹول دیا جاتا ہے لیکن امریکی صدر کے ساتھ محافظوں کی چند گاڑیاں اور ایک آدھ موٹر سائیکل ہوتا ہے مشرق وسطی کے حکمرانوں ہی کو دیکھ لیں متحدہ عرب امارات کے حکمران بغیر پروٹوکول کے مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں عام لوگوں سے گھل مل جاتے ہیں ملک کے دور دراز علاقوں میں خود چل کر لوگوں کے پاس جاتے ہیں اور ان کا حال و احوال پوچھتے ہیں اور مسائل معلوم کرتے ہیں اور ان کے فوری حل کے احکام جاری کرتے ہیں جن پر فوری عمل درامد ہو جاتا ہے امریکی صدر کی صاحبزادیان ریسٹورنٹ میں کام کرتی ہیں اور ہمارے ہاں مقتدروں کی بیٹیاں معمولی انکار پر ویٹر کی کھال ادھڑوا دیتی ہیں اوباما کہتا ہے کہ اس تنخواہ میں مشکل سے گزارہ ہوتا ہے کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ ٹائلٹ پیپر تک خود خریدنا پڑتا ہے آج کل نیو یارک میں کرائے کے مکان کی تلاش میں ہیں نائب صدر جو بائیڈن کو بیٹے کے علاج کیلئے دوست سے قرض لینا پڑتا ہے تاکہ اس کا گھر بکنے سے بچ جائے اور جب وہ اقتدار چھوڑ کر گئے تو آخری مرتبہ سرکاری گاڑی ان کو ریلوے اسٹیشن چھوڑنے آئی اس کے بعد وہ اپنی بیگم کے ہمراہ عام مسافر کی طرح ٹرین میں بیٹھ کر اپنی ریاست چلے گئے جہاں چند دن آرام کرنے کے بعد علم سیاسیات پڑھائیں گے ہمارے ہاں مقتدروں کو اندازہ تک نہیں ہوتا کہ ان کی جائیدادیں دنیا بھر میں کس کس شہر میں اور کہاں کہاں تک پھیلی ہوئی ہیں این آر او یا مک مکا کا چلن عام ہو چلا ہے مرغی کے انڈے کے چور ک برسوں جیل میں اس لئے رہنا پڑتا ہے کہ اس کا جرمانہ ادا کرنے والا کوئی نہیں ہوتا لیکن اربوں کی لوٹ کے ملزموں کونہ صرف معمولی زرضمانت کے عوض ضمانت دے دی جاتی ہے بلکہ سونے کے تاج سے تاج پوشی کی جاتی ہے خاتون ماڈل کے بیرون ملک اسمگل کئے جانے والے ڈالر پکڑنے والے افسر کو قتل کردیا جاتا ہے اور بیوہ در در بھٹک کر انصاف مانگ رہی ہے محترم ڈاکٹر عاصم حسین پر دہشت گردوں کے علاج اور سہولت کاری کا الزام ہے 5 سو ارب روپے کی کرپشن کے الزام اور کئی دیگر کیسوں میں بذریعہ ریفری جج ضمانت پا چکے ہیں جو بقلم خود و بزبان خود ہوشربا انکشافات کر چکے ہیں کہ وہ کس کیلئے کام کرتے تھے۔ گرمیوں کا موسم آ چکا ہے کچھ اداروں کو ٹھنڈے ٹھار ستو پلادئے گئے ہیں ڈان لیکس کو 6 ماہ ہو چکے ہیں اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھا ہو سکتا ہے کہ اونٹ ہی کسی صحرا کی جانب ہانک دیا جائے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ٹھنڈ پروگرام کو تباہ کرے اللہ ابابیل کو سیاسی ستو بنانے والی فیکٹری پر کنکر پھنکوا کر تباہ کروا دے اللہ سے کیا بعید ہے مایوسی گناہ ہے لیکن خلق خدا مایوس ہو رہی ہے اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے۔آمین
*****

مدرآف بمز،ٹرمپ کی فارن پالیسی

افغانستان میں ’’بموں کی ماں‘‘ کو گرانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر میک ماسٹرکی اچانک کابل، اسلام آباد اور نئی دہلی آمد خطے میں نئی امریکی حکمت عملی کا اشارہ دے رہی ہے۔ تاہم کابل ائرپورٹ پرانہوں نے جس روایتی لب ولہجے میں پاکستان پر’’پراکسی‘‘ ہونے کا الزام لگایا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ واشنگٹن کی نئی انتظامیہ کے دل میں بھی اسلام آباد کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہوگا۔ جنرل میک ماسٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان پراکسی میں نہ پڑے اور سفارتکاری کی راہ اپنائے۔کابل میں پاکستان پر عدم اعتماد کا اظہار کرنے کے بعد اسلام آباد میں انہوں نے وزیراعظم نوازشریف کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جو ’’نیک خواہشات ‘‘پہنچائی ہیں، ان کی حقیقت کا رازشاید کچھ عرصہ بعد واضح ہوگا۔ تاہم سرکاری اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے ساتھ روابط کو مضبوط اور افغانستان میں امن و استحکام اور خطے کی سلامتی کے لیے مل کر کام کرناچاہتی ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے بھی انہیں آگاہ کیا کہ پاکستان بھی خطے میں امن اور ترقی کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی حکومت نے ملک سے انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اتفاق رائے پیدا کیا اوراب معاشی اصلاحات سے اعتدال وترقی پسند اور جمہوری ملک کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم یا ان کے کسی نمائندے نے امریکی مشیرکی طرف سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کے بارے میں ان سے پوچھنے کی جرات نہیں کی تاہم پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنرل ہیڈکوارٹرز میں امریکی سفیر سے ملاقات میں پاکستان پر’’پراکسی ‘‘ کے الزامات کویکسر مسترد کرتے ہوئے ان پر واضح کیا کہ پاکستان کی سر زمین کسی پراکسی کیلئے استعمال نہیں کررہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خود ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا شکار ہے، وہ اپنی سرزمین کسی کیخلاف استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ افغانستان اور پاکستان کے بعد امریکی مشیر کی اگلی منزل نئی دہلی تھا جہاں انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی اوربھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول سے ملاقاتوں میں امریکہ بھارت ’’دوستی ‘‘ کو مزید گہرا کرنے کے عہدوپیمان باندھے۔سب کو معلوم ہے کہ دونوں کی یہ دوستی خطے میں کیا گل کھلا رہی ہے۔ یہ دوستی کا نہیں بلکہ پراکسی کا گٹھ جوڑ ہے جو بش دور میں بنا، اوبامہ نے اسے پروان چڑھا یااور اب ٹرمپ اسے استعمال کریں گے جس کا اظہار وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کرچکے ہیں۔ ایک انٹرویو کے دوران ان کہنا تھا کہ پاکستان پر ’’چیک‘‘ رکھنے کے لیے بھارت کو ملوث کرنا پڑے گا۔ وہ بھارت کو امریکا کا فطری اتحادی قراردیتے ہوئے یہ اعلان بھی کرچکے ہیں کہ ان کے دورِحکومت میں امریکہ بھارت تعلقات ایسے ہوں گے جو آج سے پہلے کبھی نہیں تھے۔امریکی صدر کا حلف اٹھانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو اداروں اور میڈیا کی جس مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اس کے پیش نظر وہ فوری طورپر اپنی فارن پالیسی پر توجہ نہ دے سکے تھے لہٰذا وہ کچھ عرصہ تذبذب کا شکاررہی۔ خاص طور پر افغانستان کے حوالے سے امریکہ کی عدم دلچسپی نمایاں رہی۔جس سے افغانستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی سمیت بہت سی قوتوں کا اثرورسوخ نمایاں ہوگیا۔ افغان صدر اشرف غنی بھارتی اشاروں پرپاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہے۔ کابل اور اسلام آباد کی ان دوریوں کا فائدہ دہشت گردوں نے اٹھایا۔گزشتہ ماہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کے تانے بانے افغانستان میں موجود قوتوں سے ملنے کے شواہد ملے تو پاکستان نے معاملہ کابل انتظامیہ کے سامنے رکھا تاہم اشرف غنی کی بے بسی اورسردمہری کے پیش نظر اسے خود ہی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرناپڑی۔یہی نہیں، پاکستان میں موجودان کے سہولت کاروں اور ساتھیوں کے قلع قمع کے لیے آپریشن ردالفساد بھی شروع کیا۔علاوہ ازیں چین اور روس سے مل کر افغانستان میں قیام امن کے لیے ہونے والی کوششوں میں بھی شرکت کی۔ اس سلسلے میں تینوں ممالک کے درمیان حوصلہ افزاء مذاکرات کے دو دور ہوچکے ہیں۔افغانستان کی صورتحال پریہ مذاکرات بھارت اور امریکہ کیلئے باعث تشویش ہوسکتے ہیں کیونکہ افغانستان میں امن کی کوئی بھی کوشش براہ راست خطے میں امریکی مداخلت کے جواز کو ختم کرسکتی ہے جو یقیناًاسے قبول نہیں ہوگی۔ وہ تو افغانستان کو دہشت گردی کا پھوڑا بناکر اپنی موجودگی اس خطے میں برقرار رکھنا چاہتا ہے تاکہ پاکستان کے ساتھ ساتھ روس اور چین پر ’’چیک‘‘ رکھ سکے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ویسے تو گزشتہ دو دہائیوں سے افغانستان میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے جتے ہوئے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ابھی تک انہیں کامیابی حاصل کیوں نہیں ہوئی… افغانستان اب بھی دہشت گردوں کی ’’جنت‘‘ کیوں ہے…. یہ بھی سوال ذہن میں آرہا ہے کہ طالبان کے بعد القاعدہ اور اب داعش کی موجودگی امریکی حکمت عملی کی ناکامی ہے یا کامیابی …؟ اب تو یہ حقیقت کھلتی جارہی ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں امریکی خفیہ ایجنسیوں کا دوسرے ممالک میں مداخلت کا سب سے بڑا ’’آلہ کار‘‘ ہیں۔ یہ تنظیمیں پہلے مسلمان ممالک کے نہتے عوام پر ظلم و تشدد کرتی ہیں، وہاں افراتفری اور انارکی پھیلاتی ہیں جس پر قابو پانے کے لیے امریکہ اوراس کے اتحادی جنگ میں کود پڑتے ہیں۔ عراق، افغانستان، یمن اور شام کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ القاعدہ جس کو ختم کرنے کے بہانے امریکہ بہت سے ممالک کو کچل چکا ہے، لاکھوں افراد کا خون بہا چکا ہے وہ اچانک کہاں غائب ہوگئی۔ چلیں اسامہ مارا گیا، اس کے باقی ساتھی کہاں گئے۔ اسی طرح داعش مختصر عرصہ میں اتنی توانا کیسے ہو گئی۔ اس کے پاس چھوٹے بڑے ہتھیار کہاں سے آئے۔ اس کا اتنا منظم نیٹ ورک کیسے بن گیا کہ وہ بہت سے ممالک کے وسائل پر قابض ہوکر ان کا تیل پانی فروخت کررہی ہے؟امریکہ اور اس کے اتحادی القاعدہ کو چھوڑ کراب اس کی سرکوبی کے لیے سرگرم ہیں اور یہ ردعمل میں مسلمانوں کا ہی قتل عام کررہی ہے۔بہرحال ’’مدر آف دی بمز‘‘ گرا کر ٹرمپ نے دنیا خاص طور پرایشیائی ممالک کے لیے اپنی فارن پالیسی کا دبنگ انداز میں اعلان کردیا ہے۔ پیغام واضح ہے کہ وہ اپنے افغان بیس کے ذریعے پورے خطے کو اپنے مٹھی میں رکھنے کے عمل سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا ۔ اس سلسلے میں بقول ٹرمپ بھارت اس کا ’’فطری اتحادی‘‘ ہے۔ جب یہ سطور لکھی جارہی تھیں تو افغانستان کے شہر مزارشریف میں دہشت گردوں نے فوجی ہیڈکوارٹرز پر حملہ کرکے سو سے زائد افغان فوجیوں کو اس وقت ہلاک کردیاجب وہ جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے۔ذمہ داری افغان طالبان نے قبول کرلی ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ ’’مدرآف دی بمز‘‘ کا ردعمل ہے۔تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ مدر آف بمز بھی افغان عوام پر گرا، بدلے میں خون بھی انہی کا بہایا جارہا ہے!

مقبوضہ کشمیر میں ظالم بھارتی فوجی ذہنی مریض بن گئے

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی ذہنی مریض بن گئے۔ خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد450ہو گئی جن میں 2درجن خواتین اہلکار بھی شامل ہیں۔ اعلیٰ فوجی افسران خواتین اہلکاروں کی آبروریزی بھی کرتے ہیں۔تنظیم کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے بھارتی افواج کی چھٹیاں منسوخ کیے جانے اورمقبوضہ وادی میں ریسٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہاں تعینات بھارتی فوجی ذہنی پریشانی کا شکار ہیں۔ فوجی افسران خواتین اہلکاروں کو ہراساں اور زیادتی کانشانہ بناتے ہیں۔ جس پر متعدد خواتین نے خودکشی کر لی۔ حالیہ میجر انیتا کماری کی خودکشی کا واقعہ بھی اعلیٰ افسران کی زیادتی اور ہراساں کرنے کی وجہ سے پیش آیا اور میجر انیتا نے اپنے ہی پستول سے فائر کرکے زندگی کا چراغ گل کرڈالا۔مقبوضہ وادی میں تعینات بی ایس ایف پولیس اورفوجیوں کی چھٹیاں عرصہ دراز سے منسوخ کررکھی ہیں جن کی وجہ سے یہ فوجی نہ تواپنے گھر جا سکتے ہیں اور نہ ہی رشتے داروں سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مقبوضہ وادی میں تعینات 60 فیصد بھارتی فوجی ذہنی پریشانی کا شکار ہیں۔ بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے کے علاوہ وہاں پر بھارتی فوجیوں کو ذہنی طور پر پریشان کرنے کے باعث اکثر مقامات پر گزشتہ 5 ماہ میں فوجیوں نے اپنے ہی ساتھیوں پر فائر کرکے انھیں نشانہ بنایا۔بھارتی فوجیوں میں خودکشی کے علاوہ اپنے رفقاء کار کے ساتھ جھگڑوں میں انہیں ہلاک یا زخمی کرنے کا رجحان بھی بڑھ گیا ہے جبکہ افسروں کے ساتھ ان کالڑنا جھگڑنا بھی معمول بن گیا ہے۔ دور افتادہ علاقوں میں تعینات فوجیوں میں نفسیاتی تناؤ زیادہ پایا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے اہل خانہ پر توجہ دینے سے قطعی قاصر ہوتے ہیں۔ ان کی پریشانی میں کم تنخواہیں، بنیادی سہولتوں کا فقدان اور بعض اوقات افسروں کی طرف سے توہین بھی شامل ہے۔ مقبوضہ کشمیرکی صفا پورہ چھاؤنی میں بھارتی فوجی آپس میں لڑپڑے، جس پر ایک بھارتی فوجی نے رات گئے بیرک میں سوئے ہوئے اپنے ہی ساتھی فوجیوں پر اندھا دھند گولیاں برسا دیں ،جس سے راشٹریہ رائفلز کے چھ اہلکار موقع پر ہلاک، جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔پچھلے چند برسوں میں خودکشی اور آپس میں لڑائی جھگڑوں کے واقعات میں بہت زیادہ شدت پیداہوئی ہے۔ جموں و کشمیر میں جاری طویل اور تھکا دینے والی جنگ سے بھارتی فوجی سخت ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔انہیں سخت ڈیوٹی کرنا پڑ تی ہے اورلمبے عرصے تک گھر جانے کے لئے چھٹی بھی نہیں ملتی، جس سے لڑائی جھگڑوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارتی میڈیاکا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری تھکا دینے والی جنگ اور ہر لمحہ کشمیری مجاہدین کے حملوں کے خوف کی وجہ سے بھارتی فوجی اہلکاروں میں نفسیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ،ان کا مزاج چڑ چڑا ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ بات بات پر مشتعل ہو جاتے ہیں اوربعض اوقات چھوٹی سی بات پر اشتعال میں آ کر اپنے ہی ساتھیوں کوگولیوں کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی اہلکار کی جانب سے اپنے ہی ساتھی پانچ فوجیوں کو قتل کرنے کے ایک دن بعد ہی بڈگام میں فوج کے ایک جونیئر کمشنڈ آفیسر نے خودکشی کر لی ہے، جبکہ پونچھ میں ہونے والے ایک دھماکے میں ایک فوجی زخمی بھی ہوا ہے۔ بڈگام میں 2راشٹریہ رائفلز کیمپ میں تعینات جونیئر کمیشنڈ آفیسر سرندر سنگھ نے ذہنی تناؤسے تنگ آکر اپنی سروس رائفل سے خود پر گولی چلائی۔ گولیوں کی آواز سن کر کیمپ میں موجود دیگر اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تو انہوں نے وہاں آفیسر کو خون میں لت پت دیکھا۔ اگرچہ اسے ہسپتال لے جانے کی کوشش کی گئی، تاہم ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی مسلح افواج میں خود کشی کرنے والے جوانوں کی تعداد کے حوالے سے بھارت پہلا ملک بن گیا ہے۔ بھارتی وزارت دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق خود کشی کے سب سے زیادہ واقعات بھارتی فوج میں رونما ہوتے ہیں، جہاں ایک دہائی میں ایک ہزار سے زیادہ فوجیوں نے خودکشی کی ہے۔ بھارتی فوج میں خود کشی کے رحجان پر 2010ء میں وزارت دفاع سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے حکومت کو اس مسئلے کے حل کے لئے بیرونی ماہرین کی خدمات لینے کی صلاح دی تھی، لیکن اس پر عمل ہوتا نظر نہیں آرہا۔ فوج میں 33 ماہرین نفسیات کی تقرری کی تجویز بھی فائلوں میں ہی ہے۔ اس کے برعکس بھارتی حکمرانوں کے بقول کہ حکومت نے اہلکاروں کو بہترین ماحول اور ہر ممکن سہولت فراہم کی ہوئی ہے، یہاں تک کہ ان کے خاندان والوں کو سہولتیں دی جاتی ہیں، تاکہ وہ کسی بھی دباؤ کے بغیر اپنے فرائض بخوبی انجام دے سکیں لیکن ان تمام اقدامات کے باوجود فوجیوں میں خودکشیوں کے واقعات سامنے آنا تشویشناک بات ہے۔مقبوضہ کشمیر میں ریاستی انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کی کتاب ’’اقبالؒ روحِ دین کا شناسا‘‘ کی سرینگر میں تقریب رونمائی ناکام بنانے کیلئے انکی رہائش گاہ کو سیل کر دیا۔ انتظامیہ نے گزشتہ صبح سویرے سرینگر کے علاقے حیدر پورہ میں واقع سید علی گیلانی کی رہائش گاہ کے ارد گرد بھارتی پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد تعینات کر دی۔پولیس اہلکاروں نے تقریب میں شرکت کے لیے آنے والوں کو گھر کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔ کتاب کی تقریب رونمائی کا آغاز صبح ساڑے دس بجے ہو نا تھا اور اس میں کئی علمی اور ادبی شخصیات کی شرکت متوقع تھی۔ سید علی گیلانی کی یہ تصنیف حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ کے فارسی کلام کا اردو ترجمہ ہے جس پر انہیں آزاد جموں کشمیر کی میرپور یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا ہے۔
*****

قومی اسمبلی اورسینیٹ میں ہنگامہ،وزیراعظم کے استعفے کامطالبہ

اِدھرعدالت عظمیٰ کاجے آئی ٹی بنانے کافیصلہ آیااُدھرپانامہ کی ہنگامہ خیزی میں طوفان امڈ آیا۔قومی اسمبلی اورسینیٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے ٹکراؤ نے سیاسی منظرنامے کو دھندلاکردیا۔پارلیمنٹ اکھاڑے میں تبدیل ہوگئی یہ منظرنامہ سیاسی افق پر دھندلاہٹ لئے جمہوریت پر ایک سوالیہ نشان بنادکھائی دینے لگا۔گزشتہ روز قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس شدید ہنگامہ آرائی کے بعد غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردئیے گئے اپوزیشن ارکان بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر ایوان میں آئے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے سپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کیا اور استعفیٰ استعفیٰ اور الوداع الوداع نوازشریف الوداع اور گو نواز گو کی شدید نعرے بازی کی۔ ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں حکومتی ارکان بھی نشستوں پر کھڑے ہو کر شیر ہے شیر ہے نواز شریف شیر ہے، رو عمران رو کی نعرے بازی کرتے رہے اور وکٹری کا نشان بناتے رہے ہنگامہ آرائی ختم نہ ہونے پر ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔ ڈپٹی سپیکر نے وقفہ سوالات شروع کرانے کیلئے کہا تو خورشید شاہ نے بات کرنے کیلئے فلور مانگا۔ ڈپٹی سپیکر نے ان کو اجازت دیدی جس کے بعد خورشید شاہ نے کہا وزیراعظم نوازشریف ایوان میں آنا پسند نہیں کرتے تھے لیکن آج تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہیں کہ وزیراعظم کا ایوان میں نہ آنا ہی بہتر ہے۔ پانامہ کیس میں وزیراعظم کے خلاف فیصلہ آگیا ہے اور دو ججز نے واضح طور پر وزیراعظم کو نااہل قرار دیا ہے جبکہ باقی تین ججز نے بھی وزیراعظم کو کلیئر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا جے آئی ٹی ایک ڈرامہ ہے۔ ماتحت افسر وزیراعظم سے کیسے تحقیقات کرسکتے ہیں، نواز شریف استعفی دیکر پارلیمنٹ کو بچائیں۔ ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیر اعظم کے مستعفی ہونے پر احتجاج کرنا چاہئے۔ اپوزیشن جماعتیں پانامہ کیس میں عدالتی فیصلے پر حکومت کیخلاف صف آرا ہو گئیں حکومت پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی طے کر لی گئی مشترکہ طور پر وزیراعظم محمد نوازشریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا گیا۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے اپوزیشن میں قریبی رابطوں پر اتفاق ہو گیا۔ سرفہرست جماعتوں میں پاکستان پیپلز پارٹی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی شامل ہیں۔ حکومت پر واضح کیا گیا ہے کہ اسے کسی صورت تحقیقات پر اثرانداز نہیں ہونے دیا جائیگا۔ دریں اثنا مسلم لیگ ن نے وزیراعظم کے حق میں قرارداد لانے کا اعلان کر دیا۔ قرارداد 24 اپریل کو پنجاب اسمبلی اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ قرارداد وزیراعظم کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرنے کیلئے لائی جائے گی۔ اس حوالے سے وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے کہاکہ وزیراعظم نوازشریف پاکستان کے استحکام کی ضمانت ہیں۔سندھ اسمبلی میں وزیراعظم نوازشریف سے استعفی کے مطالبے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی جبکہ بلوچستان اسمبلی میں وزیراعظم پر اعتماد کی قرارداد منظور کرلی گئی۔ سندھ اسمبلی میں قرارداد پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو اور تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی ثمر علی خان نے مشترکہ طور پر پیش کی۔ جس میں کہا گیا وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ دو ججز نے واضح کہا کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں۔ وزیراعظم کیسے افسروں کے سامنے پیش ہونگے۔ نثار کھوڑو نے کہا ڈھٹائی کی انتہا ہوگئی۔ ڈپٹی سپیکر شہلا رضا کا کہنا تھا کہ افسوس وزیراعظم کو کبھی کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔ ثابت ہوگیا چور بہت طاقتور ہے۔ انہوں نے کہا پانامہ سکینڈل پر دنیا میں تین وزرائے اعظم کو ہٹنا پڑا۔ تحریک انصاف نے خیبر پی کے اسمبلی میں بھی وزیراعظم کیخلاف قرارداد جمع کروا دی۔ قرارداد شوکت یوسفزئی نے جمع کرائی۔ جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نوازشریف کے پاس عہدے پر رہنے کا جمہوری اور قانونی جواز نہیں انکوائری مکمل ہونے تک وزیراعظم کو استعفیٰ دیدینا چاہئے۔ اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی میں بھی وزیراعظم کے استعفے کے مطالبہ کی ایک قرارداد اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرا دی ۔چیئرمین تحریک انصاف نے بھی جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد میں جلسے کااعلان کردیا ہے سیاسی پارٹیاں بھی حکومت کیخلاف صف بندی کررہی ہیں اور وزیراعظم پراستعفے کادباؤبڑھتاچلاجارہاہے سیاست میں ہلچل دکھائی دیتی ہے پارلیمنٹ مچھلی بازاربنی دکھائی دے رہی ہے ۔وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ اخلاقی طورپراپنے عہدے سے دستبردار ہوکرجے آئی ٹی میں اپنی صفائی پیش کریں تاکہ اپوزیشن کااحتجاج تھم پائے۔ اپوزیشن کامطالبہ درست ہے کیونکہ وزیراعظم کے ہوتے ہوئے ان کی انویسٹی گیشن صاف اورشفاف ہونا ایک سوالیہ نشان ہے۔اس سوالیہ نشان کو اس وقت ہی ہٹایاجاسکتا ہے جب وزیراعظم اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں اورخود کو پیش کریں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعظم ایسا کرگزریں گے یاپھرسیاسی منظر جوں کاتوں ہی رہے گا اور پانامہ کاہنگامہ ایک طوفانی شکل اختیار کرتاچلاجائے جو جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں ہوگا۔
فراری کمانڈروں کی قومی دھارے میں شمولیت
بلوچستان میں 500 فراریوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ سرنڈر کرنے والوں کا کالعدم تنظیم سے تعلق ہے۔ کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے ہتھیار ڈالنے کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ میرے لئے اس تقریب میں شرکت باعث فخر ہے۔ ہمارے بہت بھائی نام نہاد تحریک سے واپس آئے ہیں۔ ملک و صوبے کو گمراہی میں نقصان پہنچایا، اب ان کو واپسی پر مبارکباد دیتا ہوں۔ پاکستان ترقی کے اہم دور میں داخل ہو چکا ہے۔ بلوچستان دیگر صوبوں کیلئے مثال ہو گا۔ وقت آ گیا ہے بیرونی ہاتھوں میں کھیلنے کی بجائے حقیقت کا ساتھ دیں، پہاڑوں پر وقت ضائع نہ کریں، بلوچ اور بلوچستان کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ فراریوں کے جسم پر بوسیدہ کپڑے شرپسندوں کے منہ پر تھپڑ ہے۔ بلوچوں کے سروں کی قیمت لینے والے یورپ اور سوئٹزرلینڈ میں بیٹھے ہیں، ان مفاد پرستوں نے کئی قیمتی جانوں کو ضائع کیا۔ را کے ایجنٹ بلوچوں کو بھارتی تسلط میں دینا چاہتے تھے۔ قومی دھارے میں شمولیت کا فیصلہ آپ کے خاندان پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ اب کسی کو خون ریزی اور لوگوں کو بہکانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ حکومتی رٹ چیلنج کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔فراری کمانڈروں کاہتھیارڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونا ایک مستحسن اقدام ہے جس سے ان کی آخرت سنورجائے گی اسلام امن کادرس دیتا ہے اورایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کاقتل قرار دیتا ہے ۔جن کمانڈروں نے ہتھیارڈالے ہیں ان کے خاندان کیلئے یہ نیک شگون لمحات ہیں کیونکہ وہ قومی دھارے میں شامل ہوکر اب انسانیت کی بہترانداز میں خدمت کرپائیں گے۔انسانی عظمت کی یہ معراج ہے کہ اسلام اس پر بہت زوردیتا ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات اسی لئے قرا رردیاگیا ہے کہ اس کو دی جانیوالی صفات مثالی ہیں انسان کی زندگی کایہ مقصد ہوناچاہیے کہ وہ دوسروں کے کام آئے۔قتل وغارت کی زندگی کاانجام بھیانک ہوتا ہے اور آخرت میں بھی ان کاانجام انتہائی بھیانک قرارپائے گا۔

کلبھوشن یادیوکو سزائے موت۔۔۔!

ماہِ رواں کی دس تاریخ کو گزشتہ سال پاکستان میں پکڑے جا نے والے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کے ایجنڈ کل بُھوشن یادیوکو سزا ئے موت کی سزا سُنا دی گئی ہے، پاکستانیوں کو یہی اُمید تھی اور یہی ہر پاکستانی کا مطالبہ تھاکہ بھارتی ایجنٹ کو ہر صورت میں سزا ئے موت دی جا ئے اور ایسا ہی ہوگیاہے جیسا کہ ہر پاکستانی کی دلی آرزو تھی، آج اگر ایسا نہ کیا جاتاجیساکہ فیصلہ ہوا ہے تو پاکستانی عوام کے ذہن پر کچھ اور اثرات مرتب ہوتے یہ بہت اچھا ہوا کہ ن لیگ کی حکومت نے بھارت سے اپنے تمام تر سیاسی و ذاتی اور معاشی و معاشرتی تعلقات اور ہر قسم کی مصالحتی اور مفاہمتی پالیسیوں کو بلائے طاق رکھتے ہوئے خالصتاََ مُلکی سا لمیت اور خود مختار ی کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے فوجی عدالت سے بھارتی جاسوس کل بُھوشن یادیو کو سزا ئے موت کے فیصلے کو خندہ پیشانی سے تسلیم کرلیاہے یقیناًپاکستانی فوجی عدالت کے اِس فیصلے نے جہاں مُلکی اور عا لمی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کردیاہے تووہیں بھارتی حکمرانوں کے پیٹ میں بھی مروڑ اُٹھنے شروع ہوگئے ہیں مگر پھر بھی بھارتی حکمران اپنی اِس حالتِ دیوانگی سے بے خبر ہوئے جا رہے ہیں جن کے دماغ میں بس اپنے بیٹے کل بُھوشن یادیو کو موت کے منہ سے نکالنے کابھوت سوار ہے جو کہ ناممکن ہی لگتا ہے کہ اَب بھارتی پاکستان مخالف پرو پیگنڈے سے پاکستان کے چُنگل سے اپنے بیٹے کلبُھوشن کو نکال لے بھاگیں ۔بہر حال ،یہ تو ہمیشہ ہی سے دنیا میں پا ئی جا نے والی اقوام اور ممالک کی تاریخ رہی ہے کہ جب کبھی کسی دوسرے ملک کا کوئی بھی جا سوس کہیں پکڑاگیاہے تواُسے موت کی سزا سے کم یا زیادہ کی سزا نہیں ہوئی ہے اَب یہ اور بات ہے کہ کبھی کسی نے کسی مُلک کے جا سوس کو پکڑا اور کسی سے اپنے اچھے روابط برقرار رکھنے کے خاطر بغیر کسی دباؤ کے چھوڑدیا ہو ،مگرکسی بھی مُلک نے کسی بھی لمحے یہ پریکٹس نہیں بنائی کہ وہ ہمیشہ ہی ایسا کرے گا اور کسی کو یہ بھی زیب نہیں دیتا ہے کہ کوئی کسی دوسرے مُلک میں اپنے جاسوس کے پکڑے جا نے پر آگ بگولہ ہوجا ئے ، اورقصوروار ہوکر بھی جنگ کی دھمکی دے کل بُھوشن کو اپنی ضد اور اَنا کہ مسئلہ بناکر نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں بھی دردر پہ جا کر سینہ کوبی کرتے ہوئے یہ کہہ رہاہے کہ ’’اپنے بیٹے کلبُھوشن کو بچانے کیلئے ہر حد تک جا ئیں گے،چاہے پاک بھار ت تعلقات خراب ہی کیوں نہ ہوجا ئیں، بھارتی بیٹے کلبُھوشن کو بچا نے کے لئے پاک بھارت جنگ سے بھی بھارت دریغ نہیں کرے گا‘‘جیسے دھمکی آمیز الفاظ استعمال کررہاہے ۔اَب جس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ آج بھارت جس شخص کلبُھوشن یادیو کو اپنا بیٹا قرار دے رہاہے انداز ہ کیجئے کہ یہ شخص بھارت کے لئے پاکستان میں را کے ایجنٹ کی حیثیت سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کے حوالوں سے کتنا کام کرچکا ہے اور بھارت اپنے اِس بیٹے سے کتنا خوش ہے ؟ کہ آج جب اِسے پاکستان میں فوجی عدالت / ملٹری کورٹ سے موت کی سزا سُنا ئی گئی ہے تو بھارت اپنے بیٹے کی جان بخشی کیلئے ہر حد تک جا نے کو تیار ہے حالانکہ اِس موقع پر بھارت کو کل بُھوشن یادیو سے لا تعلقی کا اظہار کرنا چا ہئے تھا اور بھارت کو شرمندہ ہونا چا ہئے تھا مگر ہٹ دھرمی کی انتہایہ ہے کہ کم بخت بغیرت بھارت چوری اور سینہ جوڑی پر اُترآیا ہے اُلٹا ایک کل بُھوشن یادیو کو بچا نے کیلئے پاکستان کو عبرت ناک انجام سے دوچار کرنے کیلئے جنگ کی دھمکی دے رہاہے ۔جبکہ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیان ہوچکی ہے کہ پاکستان میں پاکستان مخالف سرگرمیوں کے حوالے سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے فرنٹ مین کا رول ادا کرنے والے بھارتی بحریہ کے حاضر سروس آفیسر جس کا نمبر 41885 ہے اور نام جس کا کمانڈرکلبُھوشن سدھیر یادیو المعروف مسٹر حُسین مبارک پٹیل ہے جِسے گزشتہ سال 3امارچ 2016کو ایک خفیہ اطلاع پر ہنگامی آپریشن کے دوران بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے پاکستان مخالف دہشت گردی و تخریب کاری اور جا سوسی کی سرگرمیوں میں رنگے ہاتھوں تمام شواہد کے ساتھ کے ملوث پاکر گرفتار کیا تھا اور کل بُھوشن یادیو بھی با حالتِ ہوش و حواس اِس بات کا کھلے الفاظ میں اعتراف کرچکاہے کہ وہ بھارتی ایجنسی را کا سرگرم جاسوس ہے اور بھارتی پڑوسی ملک پاکستان کی سا لمیت کو اپنی مکروہ اور غیرقانونی پاکستان مخالف سرگرمیوں سے شدید نقصان پہنچاتا رہاہے اور اِس کا عزمِ خاص رہاتھا کہ یہ پاکستان رہ کر بھارت کی فنڈنگ سے اپنی پاکستان مخالف سرگرمیوں سے ہمیشہ پاکستان کو دہشت گردی اور تخریب کارکا نشا نہ بناتا رہے گا اور پاکستان کو غیر مستحکم کرتا رہے گامگر اِس کا یہ گھناؤنا اور مکروہ خواب و عزم اور منصوبہ اُس وقت خاک میں مل گیاجب اِس کی ایک آپریشن کے دوران عبرت ناک انداز سے گرفتاری ہوئی تو اِس بھارتی جاسوس کا سارا پلان چکنا چور ہوگیااور آج یہ پاکستان کی ملٹری کورٹ سے موت کی سزا سُنا ئے جانے کے بعد اپنی زندگی کے آخری دن گن رہاہے۔اَب جِسے پاکستان کے قومی اداروں کو بغیر کسی بھارتی اور عالمی دبا کے ہر حا ل میں حقیقی رنگ دینا پڑے گا ورنہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں پاکستانی عوام اور اداروں کا امیج کچھ اور انداز سے اُبھر کر سامنے آئے گا ۔
قربِ قیامت۔۔۔۔۔۔ شوق موسوی
دیانت کا وہ درس دیں گے ہمیں
جو خود بد دیانت ہیں مکار ہیں
نثار اُس پہ یہ بات جس نے کہی
یہ قربِ قیامت کے آثار ہیں

Google Analytics Alternative