کالم

ایس پی طاہر داوڑ کا افغانستان میں قتل ۔۔۔افغان حکام کاافسوسناک رویہ

adaria

پاک افغان سرحد پر حالات میں کھچاؤ رہتا ہے اور افغانستان کی جانب سے عموماً سرحدی خلاف ورزی بھی دیکھنے میں آتی رہتی ہے جس پر پاکستان احتجاج بھی کرتا ہے، ایس پی داوڑ کے افغانستان میں قتل کے حوالے سے بہت سارے سوالات نے جنم لے لیا ہے کہ ایک انتہائی اہم آفیسر کو وفاقی دارالحکومت سے اغواء کرکے میانوالی کے راستے بنوں اور پھر افغانستان پہنچایا گیا اور وہاں لے جاکر انہیں شہید کردیاگیا، شہید کرنے کے بعد میت دینے کے حوالے سے بھی افغانستان کا رویہ پاکستان کیلئے قابل تشویش ہے، شہید ایس پی طاہر داوڑ کی لاش وزراء کو دینے کی بجائے قبائلی عمائدین کو دینے پر اصرار کیا گیا جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، بات دراصل یہ ہے کہ آخر کار اسلام آباد سے یہ کارروائی کیونکر ممکن ہوسکی، وزیر مملکت برائے داخلہ نے واضح طورپر کہاکہ اسلام آباد میں سیف سٹی منصوبہ کے تحت 1800 جو کیمرے نصب ہیں ان میں سے 600 تو نان فنگشنل ہیں باقی کسی کیمرے میں ایسی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ کسی کے چہرے کو پہچان سکے یا گاڑی کی نمبر پلیٹ کو پڑھنے کے قابل ویڈیو فراہم کرسکے، یہ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان کا دارالحکومت ہی اگر غیر محفوظ ہے تو باقی ملک کا تو اللہ ہی حافظ ہے، اب وقت کا تقاضا ہے کہ نظام کو درست کیا جائے ظاہری سی بات ہے کہ یہ تمام چیزیں حکومت کو ماضی میں ملی ہیں مگر اب اقتدار تحریک انصاف کے پاس ہے انہیں چاہیے کہ ترجیحی بنیادوں پر ان مسائل کو حل کرے، صرف اسلام آباد میں ہی نہیں پورے ملک میں عوام کو عدم تحفظ کا شکار ہونے سے بچانا حکومتی اہم ذمہ داری ہے۔اسلام آباد سے اغواء کے بعد افغانستان میں قتل ہونے والے ایس پی رورل پشاور طاہر خان داوڑ کی میت افغان حکام نے مذاکرات کے بعد پاکستانی وفد کے حوالے کردی جس کے بعد اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور پہنچا دیا گیا۔ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی وصول کرنے کے لیے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی، خیبرپختونخوا کے وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی، ڈپٹی کمشنر خیبر پختونخوا محمود اسلم سمیت دیگر حکام طورخم بارڈر پہنچے تاہم افغان حکام نے میت حوالے کرنے سے انکار کیا۔افغان حکام کا اصرار تھا کہ وہ طاہر داوڑ کی میت قبائلی نمائندوں یا محسن داوڑ کے حوالے کریں گے، جس کے بعد حکومت کی اجازت سے محسن داوڑ بھی طورخم بارڈر پہنچے اور مذاکرات میں حصہ لیا۔کامیاب مذاکرات کے بعد افغان حکام کی جانب سے ایس پی طاہر داوڑ کی میت رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور قبائلی عمائدین کے حوالے کی گئی۔وزیراعظم نے ایس پی طاہر خان داوڑ کے بیہمانہ قتل پر اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ وہ اس معاملے کو خود دیکھ رہے ہیں اور اس حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ایس پی داوڈ قتل کی فوری تحقیقات کے لیے اسلام آباد پولیس سے تعاون کیا جائے۔وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی فوری طور پر معاملے کو دیکھیں اور رپورٹ پیش کریں۔دفتر خارجہ نے ایس پی طاہر خان داوڑ شہید کی میت کی حوالگی میں تاخیر کرنے پر افغان ناظم الامور کو دو مرتبہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ افغانستان میں قتل ہونے والے پولیس افسر ایس پی طاہر خان داوڑ کی میت کی حوالگی میں تاخیر پر افغان ناظم الامور کو دو مرتبہ طلب کر کے تحریری وضاحت مانگی گئی ہے ۔ امید ہے کہ افغان حکام ایس پی طاہر خان داوڑ کے قتل کے محرکات جاننے کیلئے تمام تر تعاون یقینی بنائیں گے۔ ادھرپاک فوج نے کہا ہے کہ پاکستانی پولیس افسر طاہر داوڑ کا اسلام آباد سے اغوا، افغانستان منتقلی، وہاں قتل اور پھر افغان حکام کا رویہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے جو کہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ معاملہ افغانستان میں ایک دہشت گرد تنظیم تک نہیں ہے۔پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایس پی طاہر داوڑ کا افغانستان میں بہیمانہ قتل انتہائی قابل مذمت ہے، تحقیقات جاری ہیں لیکن ہم اعادہ کرتے ہیں کہ افغان سیکیورٹی حکام اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کیلئے آہنی باڑلگانے میں تعاون کریں۔ افغان حکام کا تعاون یقینی ہونا چاہیے اس کے بغیر امن و امان کا قیام بہت مشکل ہوگا، افغانستان کی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ اپنی سرزمین کسی صورت بھی پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور ایس پی طاہرداوڑ کی شہادت میں جو بھی عناصر ملوث ہیں ان تک پہنچنے کیلئے ہر ممکن پاکستان سے تعاون کرے گا۔

سینیٹ واقعہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت
سینیٹ میں پیش آنے والے واقعے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ماحول کو مزید خراب کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، ایوان کے تقدس کو بالائے طاق نہیں رکھنا چاہیے، جو شخصیت ایوان چلارہی ہے اس کی پیروی کرنا انتہائی ضروری ہے، اپوزیشن کی جانب سے جو بھی سوالات آتے ہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کا جواب صبروتحمل سے دے۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری آمنے سامنے آگئے صادق سنجرانی نے غیرپارلیمانی الفاظ پر معافی مانگنے تک وفاقی وزیر ااطلاعات فواد چوہدری پر سینیٹ کے موجودہ سیشن میں داخلے پر پابندی لگا دی ۔ وزیراعظم پاکستان نے وزیردفاع پرویز خٹک کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کودیکھیں ساتھ انہوں نے یہ بھی کہاکہ کسی کووزراء کی تضحیک کا حق نہیں، وزیراعظم کی بات بالکل درست ہے کہ کسی کو بھی کسی کی تذلیل کرنے کا کوئی اختیار نہیں تاہم یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے کیوں نہیں ایوان مل کر متفقہ طورپرایک ایس او پی بنالیتے ہیں جس کے تحت سوالوں کے جواب دئیے جائیں ذاتی طورپر کیچڑ اچھالنے کی بجائے مسائل حل کرنے کی جانب توجہ دی جائے۔
ایوان بالا انتخابات۔۔۔ تحریک انصاف نے میدان مارلیا
سینیٹ میں خالی ہونے والی نشستوں پر پاکستان تحریک انصاف نے میدان مار کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ آگے کی جانب بڑھ رہی ہے مگر پی ٹی آئی کے جو 9ووٹ مسترد ہوئے ہیں وہ قابل غور ہیں کیونکہ دو نشستوں پر انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ن لیگ نے اپنی نشستیں اور ووٹ سنبھال کے رکھے ہیں اور وہ تمام کے تمام ان کے ساتھ ہیں یہ جو 9ووٹ مستردہوئے ہیں حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔ تحریک انصاف نے اپنی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق)کے تعاون سے مسلم لیگ (ن)کے ہارون اختر اور سعدیہ عباسی کی خالی دونوں نشستیں جیت کر میدان مار لیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو اپنی پارٹی کے 166اراکین کے علاوہ پیپلز پارٹی کے 7 اور ایک آزاد رکن کی حمایت حاصل تھی اس طرح مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کے ووٹرز کی کل تعداد 174 ہے جبکہ حکمران جماعت کے 179 اراکین کے علاوہ مسلم لیگ (ق) کے 10، 2 آزاداور راہ حق پارٹی کے ایک ووٹ سے پی ٹی آئی کو 192 اراکین کی حمایت حاصل تھی لیکن 192 ووٹوں کے بجائے ولید اقبال کو 184 اور سیمی ایزدی کو 183 ووٹ ملے جبکہ ن لیگ کے امیدواروں سعود مجید کو 176 اور سیمی زیدی کو 175 ووٹ ملے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ن لیگ نے سینیٹ الیکشن میں اپنی پارٹی اراکین کے تمام ووٹ لے کر اپنی گرفت برقرار رکھی ہے جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار ولید اقبال اور سیمی زیدی کوبالترتیب8 اور9ووٹ کم ملے ہیں ۔بین السطور دیکھا جائے تو گو کہ تحریک انصاف نے فتح حاصل کی ہے لیکن ن لیگ کی پوزیشن بھی مضبوط ہوتی نظر آرہی ہے۔

گجرات فسادات کا اصل مجرم مودی

گجرات فسادات بھارتی تاریخ کے بدترین فسادات میں سے ایک تھے اور موجود ہ وزیراعظم نریندر مودی اس وقت وزیراعلیٰ تھے۔ ریاست گجرات کے مذہبی فسادات 2002 میں ہوئے تھے۔ ان فسادات میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔28 فروری 2002 کو احمد آباد کی ایک مسلم اکثریتی کالونی گل برگ سوسائٹی پر ایک مشتعل ہجوم کے حملے میں کانگریس کے ایک رکن پارلیمنٹ احسان جعفری سمیت 68افراد ہلاک ہوئے تھے۔احسان جعفری کی 80 سالہ بیوہ ذکیہ جعفری نے کسی بڑی سازش کا الزام عائد کرتے ہوئے عدالت میں مقدمہ دائر کیا جس پر سپریم کورٹ کی مقرر کردہ ایس آئی ٹی نے الزامات کی تحقیقات کی تھی۔ خصوصی تفتیشی ٹیم ایس آئی ٹی کی جانب سے اس وقت کے ریاستی وزیر اعلیٰ اور موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر کو کلین چٹ دیئے جانے کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ 19نومبر کو سماعت کرے گی۔ جس پر انتہا پسند ہندوؤں نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف احتجاج کا اعلان کر دیا۔ ایس آئی ٹی نے 2010 میں ریاستی وزیر اعلیٰ نریندر مودی سے 9 گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد اپنی رپورٹ میں انہیں الزامات سے بری کر دیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ مودی اور دیگر سیاست دانوں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لائق شواہد نہیں ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے گودھرا ٹرین آتش زدگی کے بعد جس میں 59 افراد ہلاک ہوئے تھے، بھڑک اٹھنے والے فسادات پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے تھے۔9فروری 2012 کو ذکیہ جعفری اور ایک نجی تنظیم سٹیزن فار جسٹس اینڈ پیس کی چیئرپرسن تیستا سیتل واڈ نے عدالت میں درخواست دائر کر کے ایس آئی ٹی کی رپورٹ کو چیلنج کیا۔ دسمبر 2013 میں ذیلی عدالت نے یہ درخواست خارج کر دی۔ 3جولائی 2017 کو گجرات ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی گئی۔ اس نے بھی پانچ اکتوبر 2017 کو اپیل خارج کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔ ابذکیہ جعفری اور سیتل واڈ نے سپریم کورٹ میں عرضداشت پیش کی جس پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس کھانویلکر کے بینچ نے اگلی سماعت کے لیے 19 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔بھارتی ماتحت عدالتوں کا یہ حال ہے کہ اپنے ہی کئے ہوئے فیصلے انتہا پسند ہندووں کے دباؤپر واپس لے لیتے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کی اہم ساتھی مایا کودنانی جس کو 2012 میں ماتحت عدالت نے مذہبی فسادات میں کلیدی کردار ادا کرنے پر اٹھائیس برس قید کی سزا سنائی تھی، رہائی دی گئی ہے۔ حالانکہ استغاثہ نے ثابت کیا تھا کہ وہ ستانوے مسلمانوں کی ہلاکت میں ملوث تھیں۔ اعلیٰ ترین ریاستی عدالت نے خاتون لیڈر کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔ایک رپورٹ کے مطابق مودی نے کشیدگی کے دوران مسلم برادری کے بارے میں ہتک آمیز اور اشتعال انگیز بیانات دئیے تھے۔ احمد آباد کے نروڈہ پاٹیہ اور گلبرگ سوسائٹی میں سو سے زیادہ مسلمانوں کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسٹر مودی نے اس کی سنگینی کو یہ کہہ کر کم دکھانے کی کوشش کی تھی کہ ہر عمل پر ردعمل ہونا فطری ہے۔ گودھرا کے واقعے کے بعد مسٹر مودی کا یہ بیان واضح طور پر ہتک آمیز تھا کہ گودھرا اور اس کے اطراف میں ایسے مسلمان ہیں جو مجرمانہ دہنیت کے حامل ہیں۔مسٹر مودی نے گودھرا کے واقعہ کے فوراً بعد گودھرا کا دورہ کیا اور ایک دن میں تین سو کلو میٹر کا سفر کیا لیکن وہ احمد آباد کے نروڈہ پاٹیہ اور گلبرگ سوسائٹی نہیں گئے جہاں مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔گجرات میں فروری ، مارچ 2002 میں گودھرا میں ٹرین پر حملہ پہلے سے تیار شدہ منصوبہ تھا۔ منصوبے پر عمل ہوتے ہی حکومت نے ذمہ داروں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی ہندوؤں کو بدلہ لینے پر ابھارا گیا۔ یہاں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ٹرین پر حملہ ہونے کے محض چند گھنٹوں کے اندر گجرات بھر سے مسلح انتہا پسند ہندو وہاں پہنچنا شروع ہو گئے۔ ان کے ہاتھوں میں مسلمانوں کے گھروں اور املاک کے بارے میں تفصیلی فہرستیں تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا انہیں زندہ جلادیا گیا۔ خواتین کی عصمت دری کی گئی ان کے گھروں اور ان کی دکانوں کو لوٹ کر نذر آتش کر دیا گیا۔ راشٹریہ سوئیم سیوک سنگھ اور اس کی ساتھی جماعتیں جن سنگھ، بھارتیہ جنتا پارٹی، شیو سینا، بجرنگ دل ، وشو ہندو پریشد نے ڈھائی ہزار مسلمانوں کو شہید کیا۔ ان میں عورتیں بچے اور بزرگ لوگ شامل تھے۔ سینکڑوں مسلمان لڑکیوں کو اغوا کیا گیا اور ان کی عصمت دری کی گئی۔ لیکن صوبائی یا مرکزی حکومت نے ان کیلئے کچھ نہیں کیا۔ گودھرا کی آڑ میں ہونے والے مسلم کش فسادات کی تحقیقات کیلئے جتنے بھی کمشن مقرر ہوئے ان سب نے یہی رپورٹ دی کہ ان فسادات میں وزیر اعلیٰ نریندر مودی براہ راست ملوث تھے جنہوں نے ہندوؤں کو تین دن کی کھلی چھٹی دی اور زیادہ مسلمانوں کو شہید کرنے والے ہندوؤں کو پھولوں کے ہار پہنائے۔ وشواہند پریشد کے رہنما دھوال پٹیل نے اعتراف کیا ہے کہ 2002 ء کے فسادات کے دوران اس نے اپنے ہاتھوں سے بم بنائے۔ لیکن مرکزی حکومت نے ان سب رپورٹوں کو دبائے رکھا۔ مختلف عدالتوں میں ان مقدمات کی سماعت تو ہو رہی ہے لیکن کیا مسلمانوں کو انصاف ملے گا۔ بھارت میں جتنے بھی مسلم کش فسادات ہوئے ان کے ذمہ دار لوگوں کو کبھی سزا نہیں دی گئی۔ جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سیکولر ازم کا نعرہ محض عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔ گجرات ہندو توا کی تجربہ گاہ کیسے بنا؟ اسے تجربہ گاہ میں راتوں رات نہیں ڈھالا گیا۔ سنگھ اور اس کے ہمدردوں نے آزادی کے فوراً بعد ہی گجرات کی فضاؤں میں نفرت کا زہر گھولنا شروع کر دیا تھا۔ کانگریس نے بھی گجرات کے آہستہ آہستہ خراب ہونے والے ماحول کا فائدہ اٹھایا اور انتخابات میں کامیابی کیلئے گجراتی معاشرے کو تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ہندو آج سے نہیں بلکہ سالہا سال سے غیر مذاہب سے متعصب چلا آرہا ہے خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ تو اس کا تعصب عروج پرہے۔

داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

مشرف دور میں امریکہ کو مطلوب کچھ لوگوں کو امریکہ کے حوالے کیا گیا بلکہ در حقیقت بیچا گیااوراپنے اس جرم کا اعتراف جنرل مشرف نے خود اپنی کتاب اِن دی لائن آف فائر میں بھی کیا۔ ان لوگوں کے جرائم جو بھی تھے ان کی فروخت کسی بھی طرح درست نہیں تھی کیونکہ ان کے جرائم پاکستان کے خلاف نہیں امریکہ کے خلاف تھے اور انہی فروخت شدہ لوگوں میں سے ایک ڈاکٹر عافیہ صدیقی تھی۔عافیہ کا کس سے تعلق تھا یا خود وہ کون تھی، اُس کے ابتدائی جرائم کیا تھے یا نہیں تھے یہ سب سوالات اپنی جگہ لیکن اُسے جو پچاسی سال قید کی سزا سنائی گئی ، اُس کے ساتھ مقدمے کے دوران جو غیر انسانی سلوک کیا گیا اور اس سے پہلے اُس کو جس طرح نہ صرف حبس بے جا میں رکھا گیا اور بگرام جیل میں اُس کے ساتھ جو وحشیانہ رویہ رکھا گیا وہ سب اُس کو انتہائی قابل رحم بناتا ہے اور زیادہ افسوسناک عمل یہ ہے کہ اس تمام سزا کے لیے اُس کے جس جرم کو بنیاد بنایا گیا وہ یہ تھا کہ اُس نے ایک امریکی فوجی پر صرف بندوق اٹھائی تھی مارا نہیں تھا۔ عافیہ کے ساتھ پاکستان میں عمومی طور پر ہمدردی کا ایک جذبہ پایا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف ایک مجرم ہے، جو پاکستان کا مجرم ہے، جس نے پاکستان کی عزت اور خود مختاری کا سودا کیا تھا۔ امریکہ نے 2 مئی 2011 کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی مخبری پر ایبٹ آباد کے بلال ٹاؤن میں ایک گھر پر ہیلی کاپٹروں کی مدد سے حملہ کرکے اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کا دعویٰ کیا یہ حملہ پاکستان کے کئی کلومیٹر اندر آکر پاکستان ملٹری اکیڈمی سے دوچار کلومیٹر کے فاصلے پر کیا گیا اور اس کا باعث خود پاکستان کا ایک شہری ڈاکٹر شکیل آفریدی بنا جس نے امریکیوں کی ہر طرح سے رہنمائی کی۔ خوش قسمتی سے یہ غدارِ وطن پکڑا گیا اور تب سے اب تک امریکہ مسلسل اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ کسی طرح اپنے اس مخبر اور ہمارے اس غدار کو رہا کرواکر اپنے ملک لے جائے اور ظاہر ہے کہ وہاں اسے جس طرح نوازا جائے گا اُس کی تفصیل بیان کئے بغیر بھی سب کو معلوم ہے۔ ابھی تک حکومتِ پاکستان نے عوامی دباؤ کے تحت اس غیر ملکی دباؤ کو برداشت کیا لیکن اب جو خبریں گردش کر رہی ہیں وہ یہی ہیں کہ ممکن ہے کہ حکومت شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کر دے اور شاید عوام کو مطمئن کرنے کے لیے اس سے عافیہ صدیقی کو پاکستان کو دے دینے کامطالبہ کیا جائے تا کہ یوں پاکستانیوں کے جذبات کو ٹھنڈا کیا جائے۔ بات اگر دو عام قیدیوں کی ہوتی تو قابلِ قبول تھی لیکن یہاں بات ایک ایسے غدار کی ہے جس کی غداری نے پوری قوم کا سر جھکا دیا اور پاکستان کو ایک ایسا ملک ثابت کرنے کی پوری کوشش کی جو اپنی سرحدوں کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا اور جہاں دشمن جب چاہے سرحدوں کے بہت اندر آکر ہم پر وار کر سکتا ہے۔ اگر وہ جانتا تھا کہ ایبٹ آباد کے ایک عام سے گھر کے اندر دنیا کا انتہائی مطلوب شخص اُسامہ رہتا ہے تو اُسے یہ راز اپنی حکومت کو دینا چاہیئے تھا نہ کہ ایک غیر طاقت کو اور وہ بھی ایک ایسی طاقت کو جو اسلامی ملکوں پر حملہ کرنا اپنا فرض اور اپنے سُپر پاور ہونے کی تسکین سمجھتا ہے۔ شکیل آفریدی کوئی عام مجرم نہیں جسے قیدیوں کے تبادلے میں دوسرے ملک کے حوالے کیا جائے۔ امریکہ اپنے مجرموں کو تو دُنیا کے لیے عبرت بنا دیتا ہے جیسا کہ اُس نے عافیہ کے معاملے میں کیا جب کہ اپنے لیے کام کرنے والوں کو وہ دُنیا کے سامنے ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے نہ صرف اپنے لیے بلکہ دنیا والوں پر بھی وہ ان کا ہیرو ہونا مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اس بات کا بھی قائل ہے اور اس پر مُصر بھی کہ اُس کے شہریوں کو دنیا میں کچھ بھی کرنے کا اختیار حاصل ہے اور وہ کسی بھی جرم کے بعد انہیں بزور بازو چھڑالے جاتا ہے۔ دُنیا میں تو یقیناًاس کی کئی مثالیں ہونگی جب اُس نے اپنے شہریوں کو دوسرے ممالک میں جرائم کے بعد چھڑا کر ہیرو بنا دیا ہوگا لیکن پاکستانیوں کے ذہنوں میں ابھی تک ریمنڈ ڈیوس کا رعونت زدہ چہرہ محفوظ ہے جو لاہور کی سڑکوں پر دو پاکستانیوں کے قتل کے بعد محفوظ و ماموں امریکہ پہنچ گیا تھا۔ اب اگر چہ معاملہ اُن کے شہری کا نہیں لیکن یہ شخص یعنی شکیل آفریدی امریکہ کے لیے اُس سے بھی زیادہ قیمتی ہے اور پاکستان کے لیے انتہائی خطرناک ۔ حکومت پاکستان کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ ڈاکٹر آفریدی کی حوالگی کے اثرات کیا ہونگے، ایک ایسی قوم جس کے کچھ افراد اپنی غربت کے مارے بڑی آسانی سے غیر ملکی طاقتوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور کچھ اپنی اخلاقی پسماندگی اور طمع و لالچ اور حرص و ہوس سے مجبور ہوکر اپنے آپ کو بیچ ڈالتے ہیں کیا شکیل آفریدی کی حوالگی کے بعد اُن میں بہت سارے شکیل آفریدی بننے پر آمادہ نہیں ہو جائیں گے اور یہ نئے غدار پرانے سے بڑھ کر ہونگے کیونکہ پرانوں کے ذہن میں کہیں نہ کہیں تو سزا کا خوف ہوگا لیکن نئے تو ہر قسم کے اندیشے سے آزاد ہو کر جرمِ غداری کے مرتکب ہونگے اور بڑی تسلی سے بڑے بڑے قومی جرائم کریں گے۔ لہٰذا حکومت اس قومی موقف پر جم جائے کہ ڈاکٹر آفریدی قومی مجرم ہے اور اگر پاکستان میں غداری کی سزا موت ہے تو یہی اُس کی سزا ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ یقیناًپوری قوم کی ہمدردیاں ہیں اور پاکستان کا ہر فرد ان کی آزادی کا خواہاں ہے اور ان کی بے حرمتی پر ہر پاکستانی تڑپا بھی ہے لیکن اُن کی رہائی کے لیے کوئی دوسری سبیل کی جائے جو پوری قوم کو قابلِ قبول ہو ڈاکٹر آفریدی کی رہائی کے بدلے عافیہ کی رہائی بھی متنازعہ ہو جائے گی اور ایک کمزور عورت جو عرصہ دراز سے امریکیوں کے مظالم سہہ رہی ہے اپنے لیے قومی ہمدردی بھی کھو دے گی ۔یہاں جذبات نہیں بلکہ ہوش اور فکر کی ضرورت ہے اور قوم یہ توقع کرنے میں حق بجانب بھی ہے کہ عافیہ اور اس کے اہل خانہ ایک غدار کے ساتھ پلڑے میں تُلنے کو راضی نہیں ہونگے، لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہر گز نہیں کہ عافیہ کی رہائی کی کوششیں ترک کر دی جائیں بلکہ اس رہائی کو باوقار طریقے سے ممکن بنایا جائے اور عافیہ کو پورے عزت و احترام کے ساتھ واپس اپنے ملک لایا جائے نہ کہ ایک غدار کے بدلے میں۔ ڈاکٹر آفریدی کی امریکہ کو حوالگی ایک انتہائی حساس نوعیت کا معاملہ ہے اور اسے کسی صورت عمل میں نہیں آنا چاہیے ورنہ اُسکے فعل سے تو ملک کی جو سُبکی بین الا قوامی سطح پر ہوئی تھی سو ہوئی تھی اب کا معاملہ اس سے زیادہ سنجیدہ نوعیت کا ہوگا اگر ایسا کیا گیا تو دشمن اور شیر ہوگا اور ہر ایک اپنے کارندے نہ صرف بڑی تسلی سے پاکستان بھیجے گا بلکہ یہاں سے بھی اپنے مہرے ڈھونڈ نکالے گا۔ پاکستانی حکومت ماضی میں بڑی آسانی سے امریکی دباؤ میں آتی رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قوم اس خوف میں مبتلاء ہے کہ ایک بار پھر قومی وقار اور عزت کا سودا کر لیا جائے گا لیکن حکومت کو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یوں آسانی سے ہتھیار ڈالنے کی روش نے ہمیں ایک مضبوط قوم نہیں بننے دیا اور تاریخ اور وقت شاید دوچار بار تومعافی دے بھی دیتی ہے ہر بار نہیں ، اور وقت کی پکڑنے بڑے بڑوں کو دنیا سے بے ننگ و نام رخصت کیا ہے لہٰذا موجودہ حکومت اپنی حب الوطنی اور تبدیلی کے بلندو بانگ دعوؤں کے باوجود اگر کوئی عامیانہ بلکہ غدارانہ قدم اٹھائے گی اور سستی شہرت خریدے گی تو یہ سودا اُسے بہت مہنگا پڑ سکتا ہے اورپھر اُسکی داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں ۔
*****

کرپٹ عناصر کو جلد انجام تک پہنچایاجائے….!

آج اِس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ اِن دِنوں موجودہ حکومت کئی حوالوں سے کڑے امتحانات سے دوچار ہے، اگرچہ ،حکومت کے ابتدائی سودنوں کی معیاد ختم ہوگئی ہے، جس میں حکومت کا سینہ ٹھونک کر کے دعوی ٰ تھا کہ بہت سے مُلکی معاملات میں بے شمار تبدیلیاں نظر آئیں گیں ، مگر ، آہ ، سب کچھ ٹائیں ٹائیں فش …!! جبکہ اِس عرصے میں حکومت کے دامن میں اپوزیشن اور قومی لیٹروں کی جانب سے کی جانے والی تنقیدوں اور عوام کے ہاتھ حکومتی تسلیوں کے کچھ نہیں آیاہے۔البتہ، اتناضرورہواہے کہ اِس دوران اپوزیشن نے اپنی بے جا تنقیدوں سے نوآزمودہ حکمران جماعت کو حکومتی رنگ ڈھنڈنگ سیکھنے کا موقع دے دیاہے۔اَب جیسے وقت گزرتا جار ہا ہے حکومتی ذمہ داران بشمول وزیراعظم عمران خان کا بھی اپنے قدامات اور اپنے کہے ہوئے پر بار بار یوٹرن لینے کا رجحان کم ہوتاجارہاہے ۔اُمید ہے کہ ابتدائی سو دِنوں کے بعد حکمرانوں کو اپوزیشن سے خندہ پیشانی سے نمٹنے کا طریقہ بھی آہی گیاہوگا۔تاہم کوئی حکومت کے پہلے سو دنوں کے بارے کچھ بھی کہے مگراِب لگتا ہے کہ حکمران اپنی حکومت کے ابتدائی تین ماہ میں مُلک سے کرپشن کے ناسُور کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے والے عوام سے کئے گئے اپنے وعدوں اور دعووں پر قائم ہیں، ایسے میں بس ! ضرورت اِس امر کی ہے کہ اَب مُلک سے بلاتفریق کرپٹ عناصر کا خاتمہ کرنے کے لئے سِول جمہوری حکمرانوں کو مارشل لاء سے بڑھ کر اقدامات کو یقینی بنانا ہوگا، تو ممکن ہے کہ حوصلہ افزا مثبت پیش رفت سامنے آجائے، اور سرزمینِ پاکستان سے اگلے پچھلے ہائی پروفائل کرپٹ عناصر کا صفایاہوجائے؛ نہیں تو سب خواب ہی رہے گا۔ ویسے یہ بات تو سب ہی ظاہر و باطن طورپر تسلیم کررہے ہیں کہ آج یقینی طور پر قوم کو کرپشن کی لال پتی کے پیچھے بھگانے والے عوام کے صبر کا مزید انتظار ختم کرانے کو ہیں ، شاید ستر سال میں پہلی مرتبہ مُلک میں کڑے احتساب کی ہنڈی کو دم لگایاگیاہے، اِ س لئے عنقریب کرپٹ عناصر کی پکی پکائی انجام کو پہنچتی کرپشن کی کھچڑی دنیا کے سا منے آنے کو ہے۔تب ہی اپنے عبرت ناک انجام سے خوفزدہ کرپٹ عناصر اپنے بچاؤکے لئے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں۔مگر اَب اِن کی سعی بے سود ہے، کیوں کہ اِن ہائی پروفائل کرپٹ عناصر کے سیاہ کرتوتوں کی اتنی لمبی فہرست ہے کہ اگر اَبھی مُلک کو لوٹ کھانے والے ماضی و حال اور مستقبل کے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور اِن کے اِدھر اُدھر کے چیلے چانٹوں کا کڑااحتساب نہ ہوا اور اِنہیں ہمیشہ کی طرح پھر پھولوں کی پتیوں اور رگِ گل سے ہلکی پھلکی سزا دے چھوڑ دیاگیا،تو پھر با ئیس کروڑ محب وطن پاکستانیوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔جیسا کہ اِن دِنوں کہیں کہیں سے اُڑتی ہوئی اطلاعات آرہی ہیں کہ اندرپڑے ہوئے ہائی پروفائل ماضی کے حکمران اور سیاستدان اور جلد اندر جانے کے خواہشمند مسٹر ٹین پرسنٹ این آراُو کیلئے بیتاب ہیں۔ مگر ساتھ ہی دبے دبے الفاظ کے ساتھ انکاری بھی ہیں۔ بالفرض ، این آراُو ہونے کی صورت میں جیساکہ نظر آرہاہے کہ اَبکی بار اگرہائی پروفائل کرپٹ عناصر بے گناہ ثابت ہوکر باہر آئے۔ تو یہ ماضی کے حکمران اور سیاستدان مُلک اور قوم کا اِتنا بُراحشر کریں گے کہ دنیا اپنے کانوں پر ہاتھ لگا کر پاکستا نی قوم کی حالتِ زار پر تر س کھانا بھی چھوڑ دے گی اور کہہ اُٹھے گی کہ پاکستانی اداروں اور قوم کو سترسال بعد اتنااچھاموقعہ ہاتھ آیاتھا کہ یہ ماضی اور حال اور لگے ہاتھوں مستقبل کے کرپٹ عناصر کو بھی دنیا کے دیگر مہذب ممالک اور معاشروں کی طرح زمین سے تین فٹ اُونچا اُٹھا کر ہمیشہ کیلئے زمین کے دوہاتھ نیچے کردے،اور کرپٹ عناصر سے جان چھڑائے ، مگر ہائے رے افسوس کہ پاکستان میں قانون کا نفاذ کرنے اور احتساب کرنے والے اداروں نے کچھ نہیں کیا ۔ آج جبکہ کئی دہائیوں کے بعد قومی لٹیرے قانون کی گرفت میں پوری طرح سے جکڑے جاچکے ہیں ،اور احتساب کے کڑے مراحل سے گزر کر اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچنے والے ہیں، لاز م ہے کہ اَب اِنہیں پاکستانی آئین اور قانون کے مطابق کڑے احتساب کے بعد کڑی سزائیں بھی دی جائیں،تو کچھ بات بنے گی ورنہ ؟ قومی خزانہ لوٹ کھانے والوں پر ترس کھا کر قانون او ر کڑے احتسابی عمل میں لچکداری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے ہلکا ہاتھ رکھا گیا۔تو پھر قوم کا قانون ، انصاف اور احتساب کے اداروں پر سے اعتبار ختم ہوجائے گا ۔ مفلوک ا لحال غریب پاکستا نی قوم چیخ اُٹھے گی کہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے پاکستان میں دُہرا قانون ہے۔ جس میں مہنگائی اور بھوک و افلاس کے ہاتھوں بے کس و مجبور ایک بھوکااپنا پیٹ بھرنے کے لئے کہیں سے ایک روٹی چوری کرلے ،جب پکڑاجائے تواپنی ساری زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزاردیتاہے۔ جبکہ اِسی اسلامی مملکتِ خداداد پاکستان میں اربوں اور کھربوں قومی خزانہ لوٹ کھانے والے حکمران ، سیاستدان اور اِن کے چیلے چانٹے قانونی گرفت سے آزاد رہتے ہیں اور سینہ چوڑاکرکے باعزت زندگی گزارتے ہیں۔ نا صرف یہ بلکہ ایوانوں میں پہنچ کر اپنی بچاؤ کرنے والی قانون سازی کے بھی ٹھیکیدار بن جاتے ہیں، واہ رے..! سرزمینِ پاکستان تیرایہ کیسا انتظامی امُور ہے؟بہر حال ، ہرکسی کی کچھ حد ہوتی ہے، یہاں تو جیسے سب ہی کچھ حدود وقیود سے آزاد ہیں،سرزمین پاکستان میں ستر سال سے یہ عام رہاہے کہ جوبھی عوام کا مینڈیٹ لے کر تاجِ حکمرانی سر پر سجائے سامنے آیا ، یا اِسے کسی نے کہیں سے پکڑا کر بنا سجاکر لابٹھایااور پھر لات مار کراور کان پکڑ کراقتدار کے تخت سے ہٹاکر خودکوئی مطلق العنان مسند اقتدار پر آن بیٹھا دونوں ہی نے قومی خزانے کو اپنے اجداد کی جاگیر سمجھ کر بے دردی سے لوٹ کھایا،آج قومی لٹیروں کی لوٹ مار حد سے تجاوز کرگئی ہے، تو ستر سال بعد قومی لیٹروں کو لگام دینے کیلئے جیسے تیسے احتساب کا عمل شروع ہوگیاہے جس پر کرپٹ عناصر کا چین اُجڑ گیا ہے۔ یقیناوزیراعظم عمران خان کی حکومت سے عوام کو بے شمار مثبت تبدیلیوں کے ساتھ اچھائی کی اُمیدیں وابستہ ہیں، مُلک کے بائیس کروڑ محب وطن پاکستانی اپنے وزیراعظم عمران خان کی جانب دیکھ رہے ہیں،جنہوں نے مُلک سے کرپشن اور کرپٹ عناصر کا بلاتفریق خاتمہ کرنے کا عزم کررکھاہے ، اَب تک کرپشن کے خاتمے کیلئے حکومت کے کئے گئے اقدامات قابلِ تعریف ہیں۔ مگر عوام کی شدت سے یہ بھی خواہش ہے کہ اِس معاملے میں تیزی لائی جائے،اور ہائی پروفائل کرپٹ عناصر کو جلد از جلد انجام کو پہنچایاجائے ، آخر کب تک حکمران قوم کو کرپشن کی لال بتی کے پیچھے بھگاتے رہیں گے؟ کیا یہی ایک کام رہ گیاہے؟ ابھی تو حکومت کو اور بھی بہت سے کام کرنے ہیں۔

مولانا سمیع الحق کا اندوہناک قتل اور افغان رویہ

مولانا سمیع الحق پرکچھ لکھنے سے قبل گزشتہ روز پولیس افسر طاہر خان کے افغانستان میں قتل اور پھر اس کے جسد خاکی کی حوالگی پر افغان انتظامیہ نے جو رویہ اختیار کیا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔پاک آرمی کے ترجمان نے درست کہا کہ افغان حکام کا رویہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے جو کہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ معاملہ افغانستان میں ایک دہشت گرد تنظیم تک نہیں ہے۔اس سارے عمل سے افغان حکام کا اصل چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوا ہے کہ وہ کس طرح پاکستان سے بغض رکھتے ہیں۔تازہ ترین صورتحال کے بعد قرآئن بتا رہے ہیں کہ مولانا سمیع الحق اور ایس پی طاہرخان کے قتل کی کڑیاں ملتی نظر آرہی ہیں۔ مولانا مرحوم کے قتل کو بھی دو ہفتے گزر چکے ہیں لیکن تاحال نہ اس المناک قتل کی وجوہات سامنے آ سکی ہیں نہ ملزم پکڑے گئے ہیں تاہم چند مشکوک افراد کو پوچھ گچھ کے لیے ضرور حراست میں لیا گیا۔اب یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ مولانا سمیع الحق کے سیکریٹری احمد شاہ کو ضابطہ فوجداری 160 کے تحت تفتیش میں شامل کرنے کے لیے تحریری حکم نامہ جاری کیا گیا ہے لیکن وہ کئی روز سے لاپتہ ہے۔اس قتل کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہے کیونکہ ایک تو مولانا سمیع الحق کوئی عام شخصیت نہیں تھے بلکہ ملک کے گزشتہ تین چار عشروں کے مخصوص حالات کی تاریخ ان سے وابستہ ہے، دوسری اہم بات ان کے قتل کے بعد سرحد پار افغانستان سے آمدہ خوشی کے شادیانے بجانے کی مبینہ اطلاعات اورایس پی طاہر خان کا قتل ہے۔مولانا سمیع الحق نہ صرف ایک مذہبی اسکالر اور عالم تھے بلکہ ایک نامور سیاست دان بھی تھے۔ ان کا طالبان کے رہنما ملا عمر کے ساتھ قریبی تعلق تھا۔ مولانا سمیع الحق دار العلوم حقانیہ کے مہتمم اور سربراہ تھے۔ دار العلوم حقانیہ ایک دینی درس گاہ ہے جو دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہے۔ مولانا دفاع پاکستان کونسل کے چئیرمین اور جمعیت علما اسلام(س) کے امیر تھے۔وہ متحدہ مجلس عمل کے بانی رکن اور حرکت المجاہدین کے بانی بھی تھے جو ایک مذہبی تنظیم ہے۔وہ سینٹ کے رکن بھی رہے اور متحدہ دینی محاذ کے بھی بانی تھے جو پاکستان کے چھوٹے مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے۔انہوں نے یہ اتحاد سال 2013 کے انتخابات میں شرکت کرنے کے لیے بنایا تھا ۔ وہ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ بر سر اقتدار آنے کی کھلے طور پر حمایت کرتے تھے۔ انہوں نے ایک موقع پر کہا تھاانہیں صرف ایک سال دیا جائے وہ سارے افغانستان کو خوشحال بنا دینگے سارا افغانستان ان کے ساتھ ہو گا، جب تک امریکی وہاں ہیں، افغانوں کو اپنی آزادی کے لیے لڑنا ہو گا یہ آزادی کے لیے ایک جنگ ہے اور یہ تب تک ختم نہیں ہو گی جب تک بیرونی لوگ چلے نہ جائیں۔یہ موقف ان کا زندگی بھر کا نچوڑ تھا جس سے افغان طالبان حوصلہ پکڑتے تھے اور شاید آئندہ بھی اس سے طاقت پکڑتے رہیں اور لڑتے رہیں۔جبکہ دوسری طرف افغان حکام مولانا مرحوم کو طالبان کا روحانی باپ اور پشت بان سمجھتے ہوئے امن کی راہ میں اصل رکاوٹ سمجھتے تھے ۔انہیں کیوں قتل کیا گیا اب گزشتہ ماہ 18 اکتوبر کو افغانستان میں ہونے والے ایک واقعہ کو دیکھتے ہیں کہ جس میں قندہار پولیس کا چیف عبد الرازق ایک ہائی پروفائل میٹنگ کے بعد ڈیوٹی پر مامور ایک سکیورٹی اہلکار کے ہاتھوں مارا جاتاہے۔حسب عادت حسب معمول اس بار بھی صدر غنی اور اس کی نا اہل انتظامیہ اشاروں کناؤں میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتی ہے۔افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی ایس کے چیف معصوم استانک زئی ایک من گھڑت دعویٰ کرتے ہیں کہ قندھار پولیس چیف عبد الرازق کے قتل سے کچھ دیر پہلے قاتل نے دو منٹ تک سرحد کے پار کسی سے گفتگو کی تھی۔میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے افغان خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے بتایا کہ قندہار پولیس چیف عبدالرازق کو قتل کرنے والے باڈی گارڈ نے جعلی نام سے فورس میں شمولیت حاصل کی اور ایک ماہ قبل ہی ان کا باڈی گارڈ مقرر ہوا تھا۔اسی طرح اگلے روز 20اکتوبر کو صدراشرف غنی کے مشیر برائے افغان قومی سلامتی، حمداللہ محب نے وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک لایا جائے گا،اور’دشمن‘کسی صورت سزاسے بچ نہیں سکتا۔ انٹرویو میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن، ہم افغان عوام کو اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ طالبان کی پشت پناہی کرنے والے دشمن کو سخت سبق سکھایا جائے گا۔اس دھمکی کے بارہ روز بعد پھر وہی ہوا جسکا اظہار سوشل میڈیا پر افغانستان اور بھارت میں جشن کی صورت میں دیکھا گیا۔بھارتی ٹی وی چینلز سمیت سوشل میڈیا پر اسے بھارت اور افغانستان کے دشمن کی موت قرار دیا گیا۔ بھارتی ٹی وی چینل ڈی این اے نیوز نے بھارت کے خلاف منصوبے بنانے کا الزام عائد کر کے خصوصی رپورٹس اور پروگرام نشر کیے۔ افغان حکومت کے سابق ڈائریکٹر میڈیا اور وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے اپنی ٹویٹ میں انہیں سب سے بڑا دشمن قرار دیتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے امریکہ اور افغان حکومت کے خلاف لڑنے والے افغان طالبان کی مدد کیلئے ہزاروں جنگجوؤں کو افغانستان بھجوایا۔سابق ڈائریکٹر این ڈی ایس اور افغان صدر کی حفاظت کیلئے بنائی گئی پریزیڈنٹ پروٹیکشن سروس کے بانی رحمت اللہ نبیل کی جانب سے سوشل میڈیا پر مولانا سمیع الحق کوآئی ایس آئی کا عظیم اثاثہ قرار دیتے ہوئے ان کے قتل کی حمایت کی گئی۔افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس سے منسوب سوشل میڈیا اکانٹ میں دعوی ٰکیا گیا کہ مولانا سمیع الحق کے قتل سے قندھار پولیس کے چیف کی ہلاکت کا بدلہ لے لیا گیا ہے۔پولیس چیف رزاق پاکستان کے خلاف انتہائی سخت موقف رکھنے کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ مجھ پر ہزار حملے بھی کیے جائیں مگر جب تک زندہ ہوں پاکستان اور پنجاب کا دشمن رہوں گا۔بلاشبہ کمانڈر رزاق پاکستان مخالفت میں ثانی نہیں رکھتے تھے مگر ان کی ہلاکت کی وجہ داخلی انتشار اور بھارتی لابی کی کارستانی ہو سکتی ہے جو پاکستان اور افغانستان کے امن کے در پے ہے۔ملکی حساس اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملے اور شہادت کے پیچھے غیر ملکی طاقتیں(امریکی سی آئی اے افغانستان این ڈی ایس اور بھارتی خفیہ ایجنسی را)کارفرما ہو سکتی ہیں ۔خفیہ ہاتھوں نے مشترکہ طور پر سٹنگ آپریشن کے انداز میں کارروائی کی۔ قاتل کو بھی یقینی طور مار دیا گیا ہو گا تاکہ اس واردات کے تمام ثبوت اور خفیہ راز ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائیں۔ مولانا سمیع الحق کواس وقت نشانہ بنایا گیا جب ایک مذہبی جماعت کی جانب سے ملک بھر میں گھراؤ جلاؤ اور احتجاج کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال پہلے ہی انتہائی خراب تھی اوپر سے اس واردات سے حالات قابو سے باہر ہو سکتے تھے مگر صد شکر کہ پاکستان دشمن بد خواہوں کی چال ناکام ہوئی۔

****

افغانستان میں خیبر پختونخوا کے پولیس افسر کے قتل کا افسوسناک واقعہ

adaria

ان افسوسناک اطلاعات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ایس پی طاہر خان کی تشدد شدہ لاش افغانستان سے ملی ہے۔وزارت خارجہ نے گزشتہ ماہ لاپتہ ہونے والے خیبرپختونخوا کے سپرنٹنڈنٹ پولیس طاہر خان داوڑ کی لاش افغانستان سے برآمد ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی لاش کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد براستہ طورخم پاکستان پہنچایا جائے گا۔بتایا گیا ہے کہ طاہر خان کی لاش افغان صوبے ننگرہار کے ضلع دربابا میں مقامی رہائشیوں کو ایک روز قبل ملی تھی۔ ایس پی خیبر پختونخوا کی لاش کے ساتھ ان کا سروس کارڈ بھی ملا ہے جس سے ان کی شناخت ممکن ہو ئی ہے ۔وزارت خارجہ کے مطابق ایس پی طاہر خان کی لاش کو ضروری کارروائی کے بعد براستہ طورخم سرحد پاکستان منتقل کردیا جائے گا، وزارت اس حوالے سے افغان سفارت خانے سے رابطے میں ہے۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس طاہر خان داوڑ پشاور پولیس کے دیہی سرکل کے سربراہ تھے جنہیں 26 اکتوبر کو اسلام آباد کے پوش علاقے جی۔10 سے اغوا کیا گیا تھا، دو ہفتے بعد ان کی لاش افغانستان سے برآمد ہوئی ہے ،اس بہیمانہ واقعہ اور افغان سرزمین پر پاکستان کے ایک حاضر سروس افسرکے قتل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ سرکاری طور تصدیق سے قبل ایس پی طاہر خان کی مبینہ تشدد شدہ لاش کے ساتھ پشتو میں لکھے گئے خط کی تصاویر وائرل ہوئی تھیں ۔ افغانستان میں پاکستانی پولیس افسر کو کس مقام پر قتل کیا گیا اور کون سا گروہ اس کا ذمہ دار ہے، اس بارے میں طالبان نے تردید کی ہے تاہم افغانستان میں متحرک ایک غیر معروف تنظیم کا نام سامنے آیا ہے۔ تصاویر میں نعش کیساتھ ملنے والے خط میں پشتو زبان میں ولایت خراسان کا نام لکھا ہے اور اس میں وہی رسم الخط استعمال کیا گیا ہے جو پاک افغان علاقے میں داعش استعمال کرتی ہے۔خط میں ایس پی طاہر خان داوڑ کا نام لے کر لکھا گیا ہے کہ پولیس اہلکار جس نے متعدد عسکریت پسندوں کو گرفتار اور قتل کیا، اپنے انجام کو پہنچ گیا۔اسکے ساتھ خط میں دوسرے افراد کو بھی محتاط رہنے کی دھمکی دیتے ہوئے تحریر ہے کہ بصورت دیگر ان کا بھی ایسا ہی انجام ہوگا۔وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طاہر خان داوڑ 26 اکتوبر کو ہی پشاور سے اسلام آباد پہنچے تھے جہاں انہیں اسی روز اغوا کرلیا گیا تھا۔طاہر خان ایک بہادر پولیس افسر تھے وہ اس سے قبل وہ بنوں میں تعیناتی کے دوران 2 خود کش حملوں کا سامنا کرچکے تھے جس میں وہ محفوظ رہے تھے۔پاکستان کے ایک حاضر سروس پولیس کے اعلیٰ افسر کا افغان سرزمین پر قتل ہونا ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں حکومتی رٹ اور امن سوالیہ نشان ہے۔خدانخواستہ ایسا کوئی افسوسناک واقعہ پاکستان میں ہوا ہوتا اور افغانستان سے کسی اہم سرکاری شخصیت کو اغوا کر کے پاکستان میں لا کر بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہوتا تو آج افغان حکام آسمان سر پر اٹھا چکے ہوتے اور صدر اشرف غنی غصے میں منہ سے جھاگ بہا رہے ہوتے۔یہی نہیں بلکہ امریکہ اور برطانیہ کی توپوں کا رخ بھی پاکستان کی طرف ہوتا حتیٰ کہ مودی سرکار بھی جلتی پر تیل ڈال کر اسے بھڑکا رہی ہوتی ۔دوسری طرف اس سارے معاملے میں حکومت پاکستان نے خاموشی اختیار کیے رکھی حتیٰ کہ افغانستان سے رسمی احتجاج بھی نہیں کیا ہے۔ اگرچہ یہ دانشمندانہ محتاط رویہ ہے لیکن افغان حکام کو کم از کم اس کی ذمہ داری کا احساس دلانا چاہیے تھا کہ کس طرح ان کے ہاں لاقانونیت کا راج ہے اور چھوٹی چھوٹی دہشت گرد تنظیمیں حکومت کی رٹ کو چیلنج کر رہی ہیں۔یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ نیٹو اور امریکی افواج بھی ان تنظیموں کا قلع قمع کرنے میں کلی طور پر نا کام رہی ہیں جبکہ غنی حکومت کی سکیورٹی فورسز میں اتنی اہلیت ہی نہیں کہ وہ اپنے ہائی پروفائل اعلیٰ عہدیدران کی سکیورٹی کو یقینی بنا سکیں۔ نومبر 2001 میں امریکی افواج اپنے اتحادیوں کے ہمراہ کابل میں داخل ہوئیں تھیں، تو وہاں لوگوں نے جشن منا کر ان کا استقبال کیا تھا مگر 17 برس بعد اب افغان عوام امریکہ پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ سترہ برس بعدبھی طالبان افغانستان کے قریب نصف حصے پر قابض ہیں،جبکہ افغان عوام جنگ ختم نہ ہونے کی تمام تر ذمہ داری امریکہ اور اپنی حکومت پر عائد کرتے ہیں۔یہ جنگ امریکہ کی طویل ترین جنگوں میں سے ایک ہے، جس پر اب تک نو سو ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ اس حوالے سے سابق افغان صدر حامد کرزئی کا یہ کہنا درست ہے کہ امریکی افواج کو افغان عوام نے کھلے دل سے خوش آمدید کہا تھا، کچھ عرصہ چیزیں نہایت درست انداز سے چلتی رہیں مگر پھر ہم نے دیکھا کہ امریکہ نے افغان عوام کے نکتہ نگاہ اور حالات کو یکسر انداز کرنا شروع کر دیا۔

دواؤں کی قیمتیں منجمد ،سپریم کورٹ کا احسن اقدام
ایک ایسے وقت میں جب عام آدمی کا مہنگائی کے بوجھ تلے سانس لینا محال دکھائی دے رہا ہے ،سپریم کورٹ کا دواؤں کی بڑھتی قیمتوں کو منجمد کر دینا تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔سپریم کورٹ نے گزشتہ روز دواؤں کی قیمتوں میں اضافے پر از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے سی ای او کی تقرری تک دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ روک دیا ہے۔عدالت نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا مستقل سی ای او تعینات نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو 15دن میں تعیناتی کا فیصلہ کر نے کی ہدایات کی ہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ڈریپ کا مستقل سی ای او کیوں نہیں لگایا جارہا۔ سیکرٹری ہیلتھ دو دن میں سی ای او کے تقرر کی سمری تیار کریں، سمری مجاز اتھارٹی کے سامنے پیش کی جائے۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دورانِ دوا ساز کمپنیوں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اور دوا ساز کمپنیوں میں اتفاق رائے ہو چکا ہے، ڈالر کی قیمت میں اضافے سے قیمتوں پر فرق پڑے گا تاہم حکومتی نوٹیفکیشن تک دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ دواؤں کی قیمتوں کے لیے ڈریپ اپنی سفارشات آئندہ ہفتے کابینہ کو بھجوائے گی، کابینہ کے فیصلے کے بعد دواؤں کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری ہو گا۔دوائیں بنانے والی کمپنیاں دکھ درد کے مارے عوام کو مہنگائی کے ٹیکے لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں۔ ہر ماہ دو ماہ بعد ادویات کی قیمتوں میں کوئی نہ کوئی جواز گھڑ کر بے جا اضافہ یہاں معمول بن چکا ہے، اب کی بار بھی دوا ساز کمپنیاں ڈالر کی قیمت میں اضافے کی آڑ میں دواؤں کی قیمتوں اضافے پر تلی بیٹھی ہیں۔تاہم سپریم کورٹ نے فی الحال انہیں روک دیا ہے جس سے کچھ دن عوام کو ریلیف ملے گا۔امید ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملے کا کوئی مستقل حل بھی طے کر دے گی۔

پابندیاں بھارت کیلئے کیوں نہیں؟

ایران امریکہ جوہری معاہدے پراختلافات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کافی حد تک بگڑ چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس دفعہ ایران پر جو پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں وہ 2015 کی پابندیوں سے زیادہ سخت ہوں گی۔ ان پابندیوں کا اطلاق نہ صرف ایران پر بلکہ ان تمام ممالک پر بھی ہوگا جو ایران سے تجارت کرتے ہیں۔ 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد جو پابندیاں ختم ہو گئی تھیں وہ دوبارہ عمل میں آجائیں گی۔ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایرانی تیل کی فروخت پر بتدریج پابندیاں لگائے گا۔ ایک دم سے ایرانی تیل بند کرنے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا جو کہ معیشت کیلئے کافی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر غور کریں تو ایرانی تیل کی کھپت آدھی رہ گئی ہے کیونکہ پابندیوں کے ڈر سے بہت سے ممالک نے ایران سے تیل لینا بند کر دیا ہے۔ تاہم امریکہ نے بھارت سمیت آٹھ ممالک ایران سے تیل خریدنے کی چھوٹ دی ہے۔ ان آٹھ ممالک میں امریکی اتحادی اٹلی ، جاپان، جنوبی کوریا اور ترکی بھی شامل ہیں۔ بھارت بھی ان چھوٹ حاصل کرنے والے ممالک میں شامل ہے مگر بھارت امریکہ کا اتحادی دوست نہیں۔ گو کہ بھارتی میڈیا ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھارت امریکہ دوستی اور اتحادی ہونے کا واویلا کرتے ہیں مگر ابھی تک امریکہ نے اسے باضابطہ طورپر شرف قبولیت نہیں بخشا۔ ایران پر امریکی پابندیوں کے اثرات گو بھارت پر بھی ہوں گے کیونکہ اعراق اور سعودی عرب کے بعد بھارت کو تیل فراہم کرنے والا تیسرا بڑ ا ملک ایران ہے۔ بھارت کی نیشنل آئل کمپنی اور ایم آر پی ایل کمپنی بھارت کی دو اہم کمپنیاں ہیں جو ایران سے زیادہ تیل درآمد کرتی ہیں جنہیں امریکہ کی جانب سے ایران مخالف پابندیوں سے چھوٹ ملنا یقیناًبڑی خوشخبری ہوگی۔متوقع پابندیوں کی وجہ سے ان کمپنیوں نے جولائی میں ایران سے بہت بڑی مقدار میں تیل خرید لیا تھا۔ اب تک تو بھارت نے ایران پر امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچنے کیلئے کچھ انتظامات کر رکھے تھے جیسے ڈالر کی بجائے ریال اور روپے میں تجارت کا معاہدہ۔ اس کے تحت تیل کی قیمت بھارتی روپے میں بھی ادا کی جا سکتی تھی۔ اس کے علاوہ بارٹر سسٹم کے تحت تجارت ہورہی تھی۔ ایران بعض اجناس کے بدلے بھارت کو تیل فراہم کرتا تھا۔ 4 نومبر سے ایران پر لگنے والی پابندیوں کے باوجود بھارت ایران سے تیل درآمد کر رہا ہے۔ اس ضمن میں امریکہ نے بھارت کو خصوصی چھوٹ دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ بھارت پر دباؤ بھی ڈال رہا ہے کہ ایران سے تیل کی درآمد ختم کر دے۔ ا مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایرانی جوہری معاہدے سے الگ ہونے کے اعلان کے چند ہفتے بعد بھارتی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ بھارت کسی کی پابندی کو تسلیم نہیں کرتا اور وہ صرف اقوام متحدہ کے ذریعے منظور کی گئی پابندیوں کے نفاذ کا پابند ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ سابق امریکی صدر براک اوباما نے بھارت کو ایران سے تیل درآمد کرنے اور چاہ بہار کی تعمیر کے سلسلے میں استثنیٰ دے رکھا تھا۔چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر اور بھارتی کنٹرول صرف اور صرف گوادر بندرگاہ اور چینی اجارہ داری کی مخالفت کی وجہ سے امریکہ نے دیا۔ امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ چین کی رسائی بحیرہ عرب تک ہو۔ افغانستان میں امریکی اقتدار میں بھارتی موجودگی اور پاکستان و چین کے خلاف اس کی کارروائیوں کو امریکہ کی تائید حاصل رہی ہے۔ اصل میں بھارت امریکہ گٹھ جوڑ پاکستان اور چین اور سی پیک کے خلاف ہے۔ اس وقت پاک امریکہ تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔ دونوں کے درمیان افغانستان سے متعلق پالیسی پر اختلافات ہیں۔ امریکہ پاکستان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ طالبان پر اپنے اثرورسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے انہیں افغانستان سے مذاکرات پر آمادہ کرے۔ گو کہ پاکستان نے اس سلسلے میں کئی بار امریکہ کی مدد کی مگر امریکہ میں نہ مانوں کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ بھارت دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والا ملک ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے جنگی جنون نے امریکہ کے لیے کئی آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ نریندر مودی کو افغانستان میں وسیع اور اہم کردار دینے کے وعدوں کے بدلے امریکہ کئی ارب ڈالر کے معاہدے کر چکا ہے۔ انہی معاہدوں اور خصوصی تعلقات کی بناپر بھارت اپنے آپ کو امریکی اتحادی گردانتا ہے۔ جب بھی پاک بھارت تعلقات کشیدگی کا شکار ہوتے ہیں امریکہ بھی پاکستان پر دباؤ بڑھانا شروع کردیتا ہے جس کا مقصد بھارت کو خوش کرنا ہے۔ امریکہ بھارت کو اپنے مفادات کے حصول کے لئے استعمال کر رہا ہے ۔وہ بھارت کو خوش کر کے چین کے ساتھ جنگ کی صورت میں بھارت کے اڈے استعمال کرنے کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ جنگ کی صورت میں ملکوں کو فوجی معاونت کی ضرورت بھی ہوتی ہے اسی لئے دونوں ملکوں نے فوجی نظام کو بروئے کار لانے کا معاہدہ بھی کرلیا ہے ۔بہر حال بھارتی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے امریکی پابندیوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے نومبر میں ایران سے 9 ملین بیرل تیل خریدے گی۔اس لئے 4 نومبر سے ایرانی تیل کی خرید پر لگنے والی امریکی پابندی کے باوجود بھارت اسلامی جمہوریہ ایران سے خام تیل کی خرید کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ایرانی آئل کارپوریشن نومبر میں 6 ملین بیرل خام تیل منگلور ریفائنری کو روانہ کریگی جبکہ 3 ملین بیرل تیل پٹرو کیمیکل لمیٹڈ کو فراہم کیا جائے گا۔

عبرتناک انتقام

پروپیگنڈہ’کو دودھاری تلواراورایسے سکہ سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے جس کے دورخ واضح ہوتے ہیں مثلا کسی بھی سماج کے ا فراد کے ا فکارو ارادوں پر اور ان کے عقل وجذبات پرقابو پا نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انہیں ٹارگٹڈ بناکر اپنی مقصد براریکے لئے انہیں مسخرکرلینا ایک شکل یہ ہوئی دوسرارخ یہ ہوتا ہے کہ پروپیگنڈے کے ذریعہ ملکی طبقات کے کچے کمزور اورناپختہ ذہنوں کو برانگیختہ کرکے سماج کے باہمی میل ملاپ کے ملی اورقومی رشتوں میں نفرتوں کے بیج بونا’ انہیں پروان چڑھانا اوران کی آبیاری کرناجس کے نتیجے میں معاشرے میں شروفساد اورفتنہ پھیلے سماجی طبقات میں عدم اعتمادی کی غیر انسانی فضا ہموار ہواصل میں یہ وہ منفی پروپیگنڈا ہوتا ہے جوپاکستان دشمن ایجنسیوں نے اب قبائلی علاقوں میں شروع کرادیا ہے گو اِسے پختون عوام میں پذیرائی حاصل نہیں ہورہی ہے کل تک قبائلی علاقہ جات میں دنیا کی بدترین ظلم وستم پرمبنی وحشیانہ دہشت گردی کا دوردورہ تھا ماضی میں خیبرپختونخواہ میں جب’کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان’ کے سرکش جنونی دہشت گردوں نے خیبر پختونخواہ کو اپنی سفاکانہ درندہ صفت دہشت گردی کے بل بوتے پر یرغمال بنایا ہوا تھا اس زمانے میں وہاں لسانی تنظیم کا نام نہ تھا وہاں دہشت گرد شیطانی طاقت کا منبع تھے پختونوں کی لاشیں روز اٹھ رہی تھیں، اسکول تباہ ہورہے تھے، مساجدوں میں بم دھماکے روز کا معمول تھے، پورے صوبہ کا انتظامی ڈھانچہ ڈھے چکا تھا، علاقہ کے معززپختون بزرگوں کوچن چن کرسرعام قتل کیا جارہا تھا، خیبرپختونخواہ کے شہرت یافتہ سیاحتی مقام وادی سوات ‘وادی موت’ بن چکی تھی وادی کا ریاستی انتظام وانصرام’ملا ریڈیو’ نام کے ایک دہشت گرد’ملا فضل اللہ’ نے سنبھالا ہوا تھا، ہرصبح سوات کے چوک میں دوچاربے گناہ پختونوں کی لاشیں کھمبوں سے ٹنگی ملتی تھیں خیبر پختونخواہ کے ضلعی وڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹرز کے علاقوں میں موت کا دندناتا ہولناک رقص ختم ہونے پر نہیں آرہا تھا، جبکہ صوبائی دارلحکومت پشاورکا کون ساایسا بازارباقی رہ گیا تھا جہاں ظالم وسفاک ملافضل اللہ کے تربیت یافتہ خودکش بمباروں نے ا نسانی جسموں کے چیتھڑے نہ اڑائے ہوں، کالعدم ٹی ٹی پی کی یہ وہ غیر انسانی ظالمانہ کارگزاریاں ہیں جنہیں پاکستانی پختون مسلمانوں کی اکثریت کی نسلیں کبھی فراموش نہیں کرسکتیں خیبرپختونخواہ میں عالمی دہشت گردوں کے آلہ کارملکی دہشت گردوں نے جبروستم کے فتنہ وفساد کی جڑ بیخ کو کاٹ پھنکنے میں اس وقت کی حکمران اشرافیہ اپنی آئینی ریاستی ذمہ داریوں سے کماحقہ عہدابرآ ہونے میں ناکام رہی اس وقت کی خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت آئی جے آئی کی قیادت نے مجرمانہ غفلت برتی ،مرکزی حکومت سے با ہمی مشاورت نہ کی گئی یوں خیبرپختونخواہ میں آئین شکن دہشت گردوں کی سرکوبی نہ کرنے کی تمام تر ذمہ داری آئی جے آئی پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے نامعلوم وجوہ کی بنا پرپاکستان کے قبائلی علاقہ جات کودہشت گردوں کے رحم وکرم پرچھوڑدیا دہشت گردوں کے ساتھ نرمی کیوں برتی گئی آج نہیں توکل سب کچھا چٹھہ سامنے آجائے گا کہ اس انسان دشمن سازش کے پیچھے کون سے سیاسی عوامل کارفرما تھے آج تک پاکستانی قوم کو معلوم نہ ہوسکے قبائلی علاقہ جات سے دہشت گردی کے انسانی لہوپینے والے اس عفریت نے ملک کے سبھی شہروں کو اپنی خونریز لپیٹ میں لے لیاشہرشہر بم دھماکے قریہ قریہ اور گلی گلی میں کاروباری مراکز اورسرکاری دفاتران خودکش بمباروں کے نشانوں پر آگئے کبھی کراچی کبھی لاہورکبھی بلوچستان کبھی اسلام آباد کہاں نہیں پاکستانیوں سیکورٹی فورسنز اور پولیس کے اہلکاروں کا لہو بہایا گیا نہ مساجد محفوظ نہ اقلیتوں کی عبادت گاہیں نہ ہی امام بارگاہیں کوئٹہ میں توحد کردی گئی سینکڑوں کی تعداد میں ایک وقت میں بے گناہ مسلمانوں کو سفاکی سے شہید کیا گیا، جبکہ بلوچستان اور ایران کی سرحدوں پر آئے روز زائرین کی بسوں کو سڑکوں پر روک کر جلایا گیا لاشوں کے انبار لگا دئیے گئے دہشت گردوں کو کوئی غرض نہ تھی ہلاک اور شدید زخمی ہونے والا کون ہے؟ پختون ہے پنجابی ہے ؟ بلوچ ہے یا ارودبولنے والا؟ غیر مسلم ہے یا مسلمان ؟ انہیں انسانی لاشیں گرانے سے مطلب تھا، پوراملک جب دہشت گردی کے جبروستم کی سفاکیتوں کی بھینٹ چڑھ گیا عوام کی جان ومال بے وقعت ہونے لگیں سیاسی حکومتیں اپنی حکومتیں کو بچانے کی فکروں میں عوام کی جان ومال سے بے خبرہونے تک کو آ پہنچیں تو پاکستان کے آئین اور قانون نے سرکشوں کی سرکشیوں کو لگام دینے کے لئے میدان عمل میں اترکراپنا کردارادا شروع کردیا پاکستانی مسلح افواج نے اندرون ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے امن وامان کو ہر قیمت پرقائم ر کھنے ا وربیرون ملک اپنی سرحدوں پر جغرافیائی تحفظ کا عہد کیا ہوا ہے توپھر پاکستان کے محافظوں نے فیصلہ کیا بہت ہوگئی اب آئین کے سرکشوں کو مزید مہلت نہیں دی جاسکتی فوج نے’آپریشن راہ نجات’ شروع کردیاسوات کے شہری گواہ ہیں کہ فوجی آپریشن سے قبل سوات کیسا تھا اور آپریشن کے فیصلہ کن مراحل کے نتیجے میں سوات میں امن وامان کی کیسی خوشگوارتبدیلی نے سوات کا پرامن چہرہ اور نکھارالیکن اس لہورنگ تگ ودو میں ملکی افواج کے جواں ہمت جوانوں اورجانثار افسروں کی کثیر تعداد نے قیمتی جانوں کے نذرانے وطن کے اندرونی امن وامان کی بحالی پر نچھاورکردئیے، جنوبی وزیرستان میںآپریشن راہ راست کے ساتھ آپریشن ‘خیبرٹو’شروع ہوا ،پختون عوام نے اپنے درمیان گھسے دہشت گردوں کی نشاندہی کے لئے اپنے گھر بارچھوڑے لاکھوں کی تعداد میں فوج کی نگرانی میں ‘پناہ گزین کیمپ’قائم ہوئے پرامن پختون عوام ان پناہ گزین کیمپوں میں منتقل ہوئے پھر ملکی افواج نے سوات سمیت قبائلی علاقہ جات میں اس طرف افغان بارڈرز تک مشکل اور دشوار ترین سنگلاخ پہاڑی علاقوں میں گھس کرنہ صرف دہشت گردوں کو بھگا بھگا کر جہنم واصل کیا ان کے اسلحہ خانوں کو تباہ کیا دہشت گردمزید جنونی وحشت میں مبتلا ہوگئے پاگل پن کی جنونیت میں دہشت گردوں نے 16 دسمبر 2014 کی صبح پشاور کے آرمی پبلک اسکول کی عقبی دیواریں پھاند کر پشاور میں گھرگھرقیامت صغری برپاکردی اسکول اسٹاف سمیت ڈیڑھ سومعصوم طلبا اورطالبات کو بھون ڈالا پرنسپل محترمہ طاہرہ قاضی اور استاد عمرخالد کو جو طلبا کی ڈھال بن گئے تھے انہیں علیحدہ کیا پھربچوں کے سامنے پرنسپل اور استاد کو زندہ جلایا گیا یوں پورے ملک میں کہرام سا مچ گیا ہر پاکستانی کا دل جوش انتقام کی تصویر بن گیا، اس سانحہ عظیم کے بعد ملکی افواج نے دہشت گردوں’ملک میں پھیلے سہولت کاروں اور انہیں مالی تعاون فراہم کرنے والوں کے گرد اپنا گھیراور تنگ کردیا، حکومت نے بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلا س میں ہنگامی بنیادوں پر نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی الغرض دہشت گردی اپنے انجام کو ضرورپہنچی لیکن پاکستان کے ازلی دشمنوں کی نیندیں اڑگئیں ،کل تک جو دہشت گرد تھے، آج وہ اپنے حلیے اور شناختی نشوونما کے رہن سہن کے انداز تبدیل کرکے پرامن پختون سماج کا حصہ بن گئے انہوں نے نیا نعرہ ایجاد کرلیا ‘پختون تحفظ تحریک خاص کرملکی افواج کے خلاف پرانے عناد اورپرانی نفرتوں کا نعرہ بلندکرکے وہ سمجھے ہیں کل تک جنہیں طاقت کے زورپر مغلوب کرنے کی وحشیانہ حرکات کے وہ مرتکب ہورہے تھے پختونوں کو وہ سب ازبر ہے، پاکستانی فوج کی باوقاروردی نے پختونوں کی نسل کشی کرنے والوں سے عبرتناک انتقام لیا ہے، لہٰذا پرامن پختونوں کا پیغام ان تک ضرورجانا چاہئیے کہ پاکستانی پختون بخوبی سمجھتے ہیں کہ ان کا سچا مخلص ہمدرد اور بے غرض دوست کون ہے اور را کا آلہ کار دشمن کون ہے؟

*****

Google Analytics Alternative