کالم

قومی اسمبلی، فاٹا پختونخوا انضمام بل منظور

adaria

قومی اسمبلی نے فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کیلئے آئین میں31 ویں ترمیم کا بل 2018ء دو تہائی اکثریت سے منظور رکرلیا، بل کی حمایت میں229، مخالفت ایک ووٹ پڑا جو تحریک انصاف کے داود کنڈی نے دیا، جے یو آئی ف اور پختونخوا میپ کا احتجاج رائے شماری کا بائیکاٹ، دونوں جماعتوں کے ارکان نے بل کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں، بل کے تحت آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12اور سینیٹ میں 8نشستیں برقرار رہیں گی،5سال کے بعد فاٹا سے قومی اسمبلی کی نشستیں6جبکہ سینیٹ کی سیٹیں ختم کر دی جائیں گی،آئندہ برس فاٹا کے لیے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات ہوں گے، فاٹا میں صوبائی قوانین کا فوری اطلاق ہوگا اور منتخب حکومت قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے فیصلہ کرے گی، آئین سے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات الفاظ حذف کر دئیے جائیں گے،بل کے تحت صوبائی حکومت کی عملداری سے صدر اور گورنر کے خصوصی اختیارات ختم ہوجائیں گے اور ایف سی آر کا بھی مکمل خاتمہ ہو جائے گا،این ایف سی ایوارڈ کے تحت فاٹا کو 24 ارب روپے کے ساتھ 100 ارب روپے اضافی ملیں گے،10 سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا خصوصی فنڈ ملے گا جو کسی اور جگہ استعمال نہیں ہو سکے گا،ترمیمی بل میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا جائے گا ، پاٹا اور فاٹا میں 5 سال کے لیے ٹیکس استثنا دیا جائے گا۔آئین کے تحت قومی اسمبلی سے آئینی ترمیمی بل منظور ہونے کے بعد اب سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر مملکت ممنون حسین کے دستخط سے فاٹا اور پاٹا باضابطہ طور پر خیبرپختونخوا میں ضم ہو جائیں گے۔اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا ۔اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف چوہدری محمود بشیر ورک نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق 31ویں آئینی ترمیم بل پیش کیا۔ آئینی ترمیم بل پیش کرنے کی تحریک منظوری کے بعد سپیکر نے بل کی شق وار منظوری کروائی ۔ بل کی شق وار منظوری کے دوران جے یوآئی (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا ۔فاٹا اصلاحات بل کے تحت آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12 اور سینیٹ میں 8 نشستیں برقرار رہیں گی اور فاٹا کے لیے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات اگلے سال ہوں گے۔بل کے تحت آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12اور سینیٹ میں 8نشستیں برقرار رہیں گی،5سال کے بعد فاٹا سے قومی اسمبلی کی نشستیں6جبکہ سینیٹ کی سیٹیں ختم کر دی جائیں گی،آئندہ برس فاٹا کے لیے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات ہوں گے، فاٹا میں صوبائی قوانین کا فوری اطلاق ہوگا اور منتخب حکومت قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے فیصلہ کرے گی، آئین سے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات الفاظ حذف کر دئیے جائیں گے،بل کے تحت صوبائی حکومت کی عملداری سے صدر اور گورنر کے خصوصی اختیارات ختم ہوجائیں گے اور ایف سی آر کا بھی مکمل خاتمہ ہو جائے گا،این ایف سی ایوارڈ کے تحت فاٹا کو 24 ارب روپے کے ساتھ 100 ارب روپے اضافی ملیں گے،10 سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا خصوصی فنڈ ملے گا جو کسی اور جگہ استعمال نہیں ہو سکے گا،ترمیمی بل میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا جائے گا ، پاٹا اور فاٹا میں 5 سال کے لیے ٹیکس استثنا دیا جائے گا۔بل کے تحت پانچ سال کے بعد قومی اسمبلی میں فاٹا کی نشستیں 12سے کم کر کے 6کر دی جائیں گی جبکہ آئین سے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات الفاظ حذف کر دئیے جائیں گے ۔قومی اسمبلی سے آئینی ترمیمی بل منظور ہونے کے بعد سینیٹ میں پیش کیا جائیگا ۔ سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر مملکت ممنون حسین کے دستخط سے فاٹا اور پاٹا باضابطہ طور پر خیبرپختونخوا میں ضم ہو جائیں گے ۔ قیام پاکستان کے کم و بیش 71 سال بعد فاٹا کو ملک کا حصہ بنا دیا گیا جو کہ ایک مستحسن اقدام ہے،1970 کے بعد تک یہ علاقہ غیر کے نام سے پکارا جاتا تھا،جرائم پیشہ افراد قبائلی علاقوں میں پناہ لیا کرتے تھے، 80ء کی دہائی میں روسی فوجیوں کے افغانستان میں داخل ہونے کے بعد فاٹا میں تبدیلی آئی، پاک فوج فاٹا میں گئی تو احساس پیدا ہوا کہ یہ علاقہ پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے، فاٹا کا انضمام برطانیہ راج کی طرف سے قائم بفر زون ہر اعتبار سے ختم ہو جائے گا،2004ء میں پرویز مشرف نے پہلی بار فوج بھجوا کر عملی طورپر زون کو ختم کردیا تھا۔ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے سے لوگوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہونگے۔

نگران وزیراعظم کا معاملہ تعطل کا شکار
نگران وزیراعظم کے معاملے پر تعطل اس امر کا عکاس ہے کہ حکومت اوراپوزیشن نگران وزیراعظم کے نام پر متفق نہ ہوسکی، اتفاق رائے پیدا نہ ہونے سے اب یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا، بہتر ہوتا اگر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نگران وزیراعظم کا انتخاب کرلیتے۔ ڈیڈ لاک برقرار ہے اورخورشید شاہ کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی نگراں وزیراعظم کے ناموں کے معاملے پر اپنی بات سے پھر گئے ہیں، اب وزیراعظم سے نگراں وزیراعظم کے معاملے پر ملاقات نہیں ہو گی، ہمیں کہا گیا کہ ججز کو نگراں وزیراعظم کے نام میں شامل نہیں کیا جائے گا، ہم ججز کے نام دینا چاہتے تھے لیکن نہیں دئیے، اب ہوسکتا ہے پارٹی مشاورت کے بعد پارلیمانی کمیٹی کیلئے2نام اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوادوں، پیپلز پارٹی کی طرف سے نوید قمر اور شیری رحمن پارلیمانی کمیٹی میں شامل ہوں گے۔ نگران وزیراعظم کے بعد نگران کابینہ کا اعلان بھی ایک کٹھن مرحلہ دکھائی دیتا ہے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کے دروازے بند نہیں ہونی چاہیے، اتفاق رائے سے نگران وزیراعظم اور کابینہ کا فیصلہ کرلینا چاہیے یہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے۔
امریکی ڈومور مطالبہ
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی پاکستان سے ایک بار پھر ‘ڈو مور’ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پناہ گاہوں اور دہشت گردی پر اکسانے والوں کے خلاف کارروائی کرے،افغانستان میں امن کا انحصار دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے پاکستان کی آمادگی پر ہے، ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا معاملہ ہمارے دل کے قریب ہے،یہ مقصد حاصل کریں گے،پاکستان میں امریکی اہلکاروں کیساتھ برا سلوک کیا جا رہا ہے۔ امریکی ڈومور مطالبہ درست نہیں ہے پاکستان دہشت گردی کیخلاف بلا تفریق کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے ، پاکستان سے امریکی ڈومور مطالبہ امریکہ کے مخاصمانہ رویے کا آئینہ دار ہے، پاکستان دہشت گردی کیخلاف جوکردار ادا کررہا ہے وہ نہ صرف قابل ستائش ہے بلکہ قابل تقلید بھی ہے۔

بھارتی جوہری تنصیبات ناقص اور غیر محفوظ ہیں

جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی کی جانچ پڑتال کرنے والے امریکی ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کی نیوکلیئر تنصیبات کی سکیورٹی پاکستان کی نسبت انتہائی کمزور ہے۔ بھارت کی نیوکلیئر تنصیبات کو بیرونی دہشت گردوں اور داخلی طور پر خطرات لاحق ہیں۔ امریکی ادارے ہارورڈ کینیڈی سکول نے نیوکلیئر تنصیبات کی سکیورٹی کے حوالے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ بھارتی نیوکلیئر تنصیبات کی سکیورٹی پاکستان کی نسبت انتہائی ناقص ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے جوہری تنصیبات کے لیے اختیار کردہ اقدامات محفوظ اور جدید ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا بھارت میں جوہری تنصیبات اور ہتھیاروں کو دہشت گردوں اور داخلی نوعیت کے سنجیدہ خطرات درپیش ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں کہ بھارت اپنی جوہری تنصیبات کو درپیش خطرات کا مقابلہ کر سکتا ہے یا نہیں۔ اس سے پہلے 2008ء میں بھارتی اٹامک ریسرچ سنٹر کا دورہ کرنے والے امریکی ماہرین نے بھی کہا تھا کہ جوہری تنصیبات کی سکیورٹی کے انتظامات انتہائی کم درجے کے ہیں۔ بھارتی کی جوہری سیکورٹی کا بھانڈہ اس وقت پھوٹا جب ماہرین نے بھارت کے جوہری مواد کی سیکورٹی پر تشویش کا اظہار کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں گزشتہ دو دہائیوں میں جوہری مواد کی چوری کے پانچ واقعات رونما ہوئے۔ ناقص سیکورٹی کا یہ حال ہے کہ 2013 میں گوریلہ جنگجوں نے آرمی کمپلیکس سے یورینئم چرا لی تھی اور بھارتی فوج کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ دوسری جانب کانفرنس میں پاکستان کے ایٹمی مواد کی حفاظتی اقدامات کی زبردست پزیرائی کی گئی۔ ماہرین نے پاکستان کی جوہری تنصیبات کی سیکورٹی کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔امریکہ نے بھی بھارتی جوہری پروگرام کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے اس کے بین الاقوامی جائزے کا مطالبہ کردیا۔ دا تھری اوور لیپنگ اسٹریم آف انڈین نیوکلیئر پروگرامز کے نام سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے پاس بھارت کے جوہری پروگرام پر تحفظات کے حوالے سے ٹھوس وجوہات موجود تھیں کہ بھارت اپنے نیوکلیئر پروگرام کو بڑھانے کے لئے اپنے غیر محفوظ جوہری اثاثے استعمال کر سکتا ہے۔امریکی تھنک ٹینک کے مطابق بھارت کا جوہری پروگرام اس وقت تین حفاظتی لیئرز پر مشتمل ہے اور ان تینوں لیئرز کے درمیان تعلق میں بالکل بھی شفافیت نہیں ہے لہذا انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی اس معاملے میں مداخلت کر کے بھارت کے غیر محفوظ قابل استعمال جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ ان کا جائزہ بھی لے۔ امریکا اور دیگر ممالک کے تعاون سے چلنے والا بھارت کا سول نیوکلیئر توانائی پروگرام ایٹمی مواد کے حصول کے لئے نئے راستے ہموار کر سکتا ہے جسے فوجی استعمال میں بھی لایا جا سکتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت نے اپریل 2016 میں مکمل ہونے والے اپنے 500 میگاواٹ پروٹو ٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر کے حوالے سے متعین حفاظتی اقدامات نہیں کئے جس کے نتیجے میں ری ایکٹر پلانٹ نے بجلی کے ساتھ ساتھ غیر محفوظ پٹرولیم پیدا کرنے کی راہیں بھی ہموار کردیں۔ تھنک ٹینک نے بھارت کے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حوالے سے آئی اے ای اے کے ساتھ اپنے معاہدے کی مکمل پاسداری کریں تاکہ ان ری ایکٹر پلانٹس کے ذریعے سے جوہری مواد کی پیداوار نہ ہو سکے۔ رواں ہفتے شائع ہونے والے ایک ریسرچ پیپر میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا کے بعد بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جس نے ری ایکٹر گریڈ پلوٹونیم سے بنے جوہری ہتھیار کا تجربہ کیا ہے۔پیپر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کی غیر محفوظ سویلین جوہری تنصیبات دوسرے ممالک کیلئے تشویش کا باعث بن گئی ہیں۔ اس پیپر میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 2008 میں بھارت نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو جمع کرائی جانے والی رپورٹ میں اپنے جوہری پروگرام کے انوکھے ہونے کا اعتراف کیا تھا اور بتایا تھا کہ بھارت میں تین طرح کی جوہری تنصیبات ہیں۔ سویلین سیف گارڈڈ، سویلین ان سیف گارڈڈ اور ملٹری۔ بھارت کے جوہری ذخائر میں 5.1 0.4 ٹن علیحدہ سے رکھے ہوئے ری ایکٹر گریڈ پلوٹونیم بھی شامل ہیں جنہیں بھارت اسٹریٹجک ریزرو قرار دیتا ہے۔ اسٹڈی پیپر میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ 1962 میں امریکا نے ایک جوہری ہتھیار کا کامیاب تجربہ کیا تھا جس میں ویپن گریڈ پلوٹونیم کی جگہ فیول گریڈ پلوٹونیم استعمال کیا گیا تھا اور اس سے 20 کلو ٹن سے کم توانائی کا اخراج ہوا تھا۔ امریکا کے بعد ری ایکٹر گریڈ پلوٹونیم کو استعمال کرتے ہوئے جوہری ہتھیار بنانے کا تجربہ دنیا میں صرف ایک ملک نے کیا ہے اور وہ بھارت ہے۔ بھارت کے بااثر منصوبہ ساز اور وزارت دفاع کے حکام کے مطابق بھارت کو 350 سے 400 ہتھیاروں کی کھیپ درکار ہوگی جن میں تھرمو نیوکلیئر وار ہیڈز بھی شامل ہیں۔پیپر میں دعوی کیا گیا ہے کہ بھارت جوہری عدم پھیلا کے معاہدے(این پی ٹی) کا وہ واحد غیر دستخطی ملک ہے جو اپنی جوہری پیداوار میں مسلسل اضافہ کررہا ہے، ابتدائی طور پر اس نے بریڈرز ری ایکٹرز تعمیر کیے جنہیں پہلے مکسڈ آکسائیڈ فیول(ایم او ایف) سے اور بالآخر میٹالک پلوٹونیم سے چلایا گیا۔ بھارت کا سب سے بڑا اور پھیلتا ہوا غیر محفوظ استعمال شدہ ایندھن کا ذخیرہ ہے جس میں ری ایکٹر گریڈ پلوٹونیم شامل ہوتا ہے اور اس سے مستقبل میں بھارت کے جوہری ہتھیاروں میں مزید اضافے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ بھارت میں پہلے بھی ایٹمی بجلی گھروں کے حوالے پائے جانے والے خدشات کی وجہ سے مظاہرے ہوئے ہیں۔جنوبی بھارت میں مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے جوہری بجلی گھر کی طرف جانے والے راستے بلاک کر دیے ہیں۔مظاہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نیوکلیئر پاور پلانٹ غیر محفوظ ہے۔

*****

جو گھر کو پھونک کے دنیا میں نام کرتے ہیں(قسط نمبر4)

rana-biqi

بھارت میں دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے سیکولر ذہن رکھنے والے بیشتربھارتی سیاسی و سماجی دانشور بھی سرکاری سطح پر فروغ پانے والے اِس منافقانہ روئیے سے اکثر و بیشتر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں ۔ بہت سے دانشوروں بشمول کلدیپ نائیر ، خوشونت سنگھ ، تولین سنگھ ، ویرندر سنگھ ، میناکشی گنگولی ،سیدشہاب الدین ،سعید نقوی اور بھٹا چاریہ اپنے حالیہ مقالوں اور کالموں کے ذریعے بھی بھارت میں دہشت گردی کی کاروائیوں کے حوالے سے تواتر سے بھارتی اربابِ اختیار کی توجہ اِس اَمرپر دلاتے رہے ہیں کہ بھارت میں دہشت گردی کے ہر وقوعے کا الزام پاکستان پر لگانے کے بجائے اپنے ملک کے اندر بھی اِن وقوعوں کی وجوہات تلاش کرنی چائیے کیونکہ دہشت گردی کے بہت سے واقعات بھارتی اندرونی سیاسی کشمکش کے باعث ظہور پزیر ہو رہے ہیں چنانچہ بھارت میں مسلمانوں اور انتہا پسند ہندو توا کی سرگرمیاں کو اُبھرتی ہوئی بھارتی دہشت گردی کے موجودہ منظر نامے میں بھارتی سیاسی مسئلے سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ کیونکہ بھارت اب امریکہ و امریکا کا اتحادی ہے اور دہشت گردی کی موجودہ واردات کے دوران ممبئی میں انتہا پسند یہودیوں کے مرکز نریمان ہاؤس کو نشانہ بنایا جانا بھی معنی خیز بات ہے ۔ چنانچہ خطے میں جاری دہشت گردی کی اِس جنگ میں اب شعوری یا غیر شعوری طور پر بھارت اسرائیلی مخصوص مفادات کو بھی جنوبی ایشیا کے معاملات میں اہمیت حاصل ہو گئی ہے ۔یاد رہے کہ خطے میں ایران اسرائیل ایٹمی کشیدگی کے حوالے سے بلوچستان میں اسرائیلی مفادات کے پس منظر میں اسرائیل بلوچستان میں اپنے مخصوص مفادات کے ضمن میں بھارتی اداروں اور گریٹر بلوچستان تحریک کے لیڈروں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور اِسی حوالے سے یروشلم میں نام نہاد آزاد بلوچستان کا آفس کھولا گیا ہے۔ ممبئی دہشت گردی میں یہودی نریمان ہاؤس کو ٹارگٹ بنانا اور پاکستان پر ممبئی دہشت گردی کے ملبہ پھینکنے کا عمل بھی خطے کی زمینی صورتحال کے حوالے سے ایک معنی خیز ڈیویلپمنٹ سے ہی تعبیر کیا جائے گا ۔

یہ درست ہے کہ بھارت بین الاقوامی فورمز کے سامنے اپنی تفتیشی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے بھارت یونین کے اقتدار اعلیٰ کے نام پر نہ صرف مقامی دہشت پسندانہ رجحانات اور بھارتی سیاسی اور سماجی زندگی میں مختلف الخیال شدت پسند گروپوں کی آپس کی چپقلش اور قومی سطح پر دہشت گردی کے مقامی عمل کے تیز تر ہونے کے باوجود مختلف بھارتی سیاسی گروپوں کی جانب سے اپنے مخصوص سیاسی مفادات کو تحفظ دینے کیلئے نہ صرف مضبوط ہندو سماجی پوزیشن رکھنے والے انتہا پسند دہشت گرد عناصر کی نشان دہی نہیں کرتا ، نہ ہی ہندو معاشرے میں سیاسی انتہا پسندی سے لپٹی ہوئی پیچیدگیوں کا تذکرہ کرتا ہے بلکہ دہشت گردی کی واردات کے بعد اِن تمام متنازعہ امور پر منافقانہ سرکاری خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے جیسا کہ سمجھوتہ ایکپریس ، مکہ مسجد ، مالے گاؤں وغیرہ سے متعلق دہشت گرد کارروائیوں کے بارے میں پاکستانی ایجنسیوں پر الزامات لگا کر کیا گیا ۔ سرکاری طور پر اِس اَمر کی وضاحت بھی نہیں کی جاتی ہے کہ نکسل باڑی دہشت گرد تحریک کے دوران آج تک بھارت میں جتنی قتل و غارت گری اور دہشت گردی کی وارداتیں ہوئی ہیں اُن کا گراف جموں و کشمیر میں ہونے والی قتل و غارت گری اور دہشت گردی سے کہیں زیادہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے سیکولر ذہن رکھنے والے بیشتربھارتی سیاسی و سماجی دانشور بھی سرکاری سطح پر فروغ پانے والے اِس منافقانہ روئیے سے اکثر و بیشتر مایوسی کا اظہار کرتے رہے ہیں اور گاہے گاہے بھارتی حکومت سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں اندرونی ہاتھ ملوث ہونے پر بھی تحقیقات کے عمل کو تیز کرنا چاہیے ۔
درج بالا تناظر میں ، اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نائین الیون کے بعد دنیا بھر میں دہشت گردی کی لہر کے آگے بند باندھنے کے حوالے سے امریکہ اور بھارت کے درمیان معتبر دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کی اہمیت کو تو ضرور محسوس کیا گیا ہے لیکن اِن محسوسات کو ریاستی اور بین الاقوامی معاہدوں میں ڈھال کر مستحکم بنیادوں پر قائم کرنے کی خواہشات رکھنے کے باوجود بھارت میں اسلام اور عیسائیت کے خلاف دہشت گردی کا مزاج رکھنے والی مقامی ہندو تواتنظیموں اور علیحدگی پسند نکسل باڑی تحریک کی شدت پسند ی و دہشت گرد کاروائیوں کو کبھی بھی حقیقی معنوں میں بھارتی سیکولر سیاسی ، انتظامی اور معاشرتی نظام میں نہ تو ضم کیا جا سکا ہے اور نہ ہی بھارتی سماجی اور سیاسی نظام پر اثر انداز ہونے والی اِن انتہاپسند تحریکوں اور تنظیموں کی غیرمعمولی شدت پسندی کو بھارتی سیکولر آئین کے تابع کیا جا سکا ہے ۔ جہاں تک بھارتی مسلمانوں کا تعلق ہے اُنہیں ویسے ہی دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے اور سیاسی و سماجی طور پر اُن کی اہمیت محض انتخابات میں ووٹ ڈالنے تک ہی محدود ہے ۔ اِسکی ایک حالیہ مثال اُس وقت سامنے آئی ہے جب ہندو توا دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے بھارتی انسداد دہشت گردی کے ایک مقامی سربراہ ہیمنت کراکرے اور اُن کے ساتھ سالسکر نے جب مالے گاؤں اور سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں میں سنگھ پرئیوار اور ہندو توا کے انتہا پسند حامیوں جن میں بھارتی فوج کے چند متعصب ہندو افسران بشمول کرنل پروہت وغیرہ شامل تھے کے ملوث ہونے کا سراغ لگایا اور بیگناہ مسلمانوں کو مقدمات سے فارغ کیا گیا تو اِنہی ہندو شدت پسند تنظیموں کی جانب سے اُنہیں موت کے گھاٹ اُتارنے کی دھمکیوں سے نوازا گیا ۔بھارتی مسلم سیکولر نمائندوں کے علاوہ دہلی جامع مسجد کے امام بخاری بھی تواتر سے اِس اَمر کی تائید کرتے رہے ہیں کہ بھارت میں ہونے والی کسی بھی مجرمانہ یا دہشت پسندانہ واردات میں بھارت کے طول و ارض سے بے گناہ مسلمانوں کی گرفتاریاں کی جاتی ہیں اور اُن میں سے چیدہ چیدہ افراد کو مقدمات میں پھنسایا جاتا ہے لیکن ایسا خال خال ہی ہوتا ہے کہ جب کوئی باضمیر ہندو افسر اصل حقیقت سے پردہ اُٹھا دیتا ہے۔ ہیمنت کراکرے بھی انسداد دہشت گردی ے حوالے سے ایک ایسے ہی باضمیر افسر تھے لیکن بھارتی سیکولر آئین پر یقین رکھنے والے اِس فرض شناس افسر کی مالیگاؤں اور سمجھوتہ ایکپریس کے دھماکوں میں انتہا پسند ہندوؤں کی complicity کو ثابت کرنے اور انسداد دہشت گردی کی اِس بے مثال کارکردگی پر خراج تحسین پیش کرنے کے بجائے ممبئی دہشت گردی کی موجودہ واردات میں بلاآخر اِس فرض شناس افسر کو بھی اُن کے ساتھی سالسکر کے ہمراہ ممبئی دہشت گردی کی اِسی واردات میں ریلوے ٹرمینل پر فائرنگ کے واقعہ کے فوراً بعد پولیس ہیڈکوارٹر کے عقب میں موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا جس کا الزام بھی اجمل قصاب پر لگا دیا گیا۔ اِس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ ممبئی میں دہشت گردی کی موجودہ المناک واردات کے حوالے سے بھارتی ریاستی اداروں اور میڈیا کی جانب سے درست نتائج اخذ کرنے اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے بجائے اِس کاروائی کو محض پاکستان کے خلاف پوائنٹ اِسکور کرنے اور الزامات کی ایک نہ ختم ہونے والی بے معنی بحث کا محور بنا کر پاکستان، بھارت تعلقات میں بگاڑ کی نئی دیوار قائم کرنے پر ہی تمام تر صلاحیتیں صرف کر دی گئیں اور خطے میں آبرومندانہ امن کو فروغ دینے کے بجائے عوامی سطح پر خوف و ہراس اور مایوسی کی فضا قائم کر دی گئی ہے جو خطے کے امن کیلئے اچھا شگون نہیں ہے ۔
(۔۔۔۔۔۔جاری ہے)

زعفرانی دہشتگردی ۔۔۔نئے روپ میں !!!

asgher ali shad

ایک جانب دہلی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے تو دوسری جانب خود بھارت میں اقلیتوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی انتہا پسندی سے ہر ذی شعور آگاہ ہے۔ مودی کے دورِ حکومت میں اقلیتوں خصوصاًً مسلمانوں کے خلاف جو بدترین استحصال کا سلسلہ جاری ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ آئے دن بھارت کے طول و عرض میں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جو بھارتی سیکولرازم اور جمہوریت کے دعووں کی قلعی پوری طرح کھول دیتے ہیں۔ دنیا بھر اور خود بھارت کی انسان دوست شخصیات وقتاً فوقتاً خط لکھ کر اور دوسرے طریقوں سے دہلی سرکار کی توجہ بھارت میں بڑھ رہی زعفرانی دہشتگردی کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کرتی ہیں۔

اسی تناظر میں چند روز قبل دہلی کے آرک بشپ انل کاؤٹے نے کہا ہے کہ بھارت میں زعفرانی دہشتگردی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ بھارت کے آئین سے سیکولرازم کا لفظ (جو در حقیقت لفظ سے زیادہ کوئی وجود نہیں رکھا) بھی ختم ہو جائے گا۔ ہندوستان کے شورش زدہ اور زعفرانی سیاسی ماحول پر آرک بشپ نے دہلی آرکڈائسیس کے تمام پادریوں اور مذہبی اداروں کو خط لکھا۔ انھوں نے تشویش ظاہر کرتے کہا کہ بھارت میں جو حالات درپیش ہیں اور جیسا ماحول پنپ رہا ہے ان میں سدھار کے لئے دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ شاید اس سے کوئی بہتری آ جائے۔انھوں نے کہا کہ بھارت کا مخصوص ماحول جمہوریت اور نام نہاد سیکولر تانوں بانوں کے لئے شدید خطرہ بن چکا ہے۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار بھارت میں صورتحال یہ ہے کہ 20 مئی کو بھارتی صوبے گجرات کے شاپور قصبہ کے قریب ایک دلت شخص کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ 35 سالہ مکیش وانیا اپنی بیوی کے ساتھ کوڑا چننے کا کام کرتا تھا۔ زعفرانی ہندو تنظیم کے جنونی ہندوؤں نے انھیں پکڑا اور ان پر انسانیت سوز تشدد کیا۔ اس پر ستم ظریفی یہ کہ انھیں مارتے ہوئے کی ویڈیو بنا کر فخریہ طور پر سوشل میڈیا پر ڈال دی گئی۔ بدترین تشدد کے نتیجے میں دلت جوان موقع پر ہی دم توڑ گیا ۔
اس کے علاوہ 20 مئی کو ہی بھارتی صوبے مدھیہ پردیش میں گائے ذبح کرنے کے ’’الزام‘‘ میں مسلم نوجوانوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ نام نہاد گؤ رکھشکوں نے 45 سالہ درزی ریاض خان کو امگرا قصبہ میں تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ موقع پر ہی داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔ اس کے ایک دوست شکیل سے بھی مارپیٹ کی گئی اور وہ تاحال کومہ میں ہے۔ علاقے میں کشیدگی پھیلنے کے بعد سینکڑوں پولیس اہلکاروں کو وہاں تعینات کر دیا گیا۔ ماہرین نے اس پس منظر میں کہا ہے کہ بھارت میں ایسے واقعات روز مرہ کا معمول ہیں اور مسلمانوں، دلتوں و دیگر اقلیتوں کے خلاف ایسی وارداتیں کرنے والے ہندو جنونیوں کو کوئی سزا نہیں ملتی بلکہ اس کی بجائے انھیں حکومتی سطح پر بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے اور عدالتوں تک پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اس کی مثال سوامی آسیم آنند، پرگیہ ٹھاکر، کرنل پروہت کے علاوہ خود اترپردیش کے وزیراعلیٰ اور ہندو جنونی رہنما ’’یوگی ادتیہ ناتھ‘‘ ہیں جنھوں نے ’’ہندو یووا واہنی‘‘ نامی تنظیم بنائی جس نے یو پی کے گورکھپور میں مسلم کش فسادات کا بازار گرم کیا۔ یاد رہے کہ یوگی نے بذات خود بھی مسلمانوں کی اس نسل کشی میں بھرپور حصہ لیا تھا ۔وہ اب بھی اس کا فخریہ طور پر اعتراف کرتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی تقریروں کے ذریعے مسلم مخالف فضا کو ہوا دیتے ہیں۔ قابلِِ ذکر امر یہ ہے کہ اس تمام انتہا پسندی کے باوجود بھی بھارت میں RSS کی سوچ رکھنے والا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو سمجھتا ہے کہ مسلمانوں، عیسائیوں و دیگر اقلیتوں کے ضمن میں نسبتاً نرم رویہ رکھا گیا ہے، جسے ترک کے بھارت سے فوراً غیر ہندوؤں کا خاتمہ شروع کر دینا چاہیے اور بھارت کو اکھنڈ بھارت اور رام راجیے بنا کر اپنا دیرینہ خواب مزید جلد پورا کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ یوگی ادتیہ ناتھ ابھی بھی وقتاً فوقتاًً مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتا رہتا ہے ۔ حالیہ دنوں میں اس نے ایک ریلی سے خطاب کرتے کہا کہ ’’میں عید کیوں مناؤں، میں شُدھ (خالص) ہندو ہوں‘‘ ۔ یوگی کی بنائی گئی ’’ہندو یووا واہنی‘‘ کئی حصوں میں بٹ چکی ہے۔ اس کے سابق لیڈر سنیل سنگھ نے پرانی واہنی سے الگ ہو کر اسی نام کی تنظیم قائم کر کے خود کو اس کا قومی صدر قرار دے دیا ہے۔ یوگی کی پرانی واہنی کے جنرل سیکرٹری پی کے مل نے کہا ہے کہ ہماری تنظیم پرانی واہنی ہی ہے اور ہمارا سنیل سنگھ کی واہنی سے کوئی تعلق نہیں۔ سنیل سنگھ کا کہنا ہے کہ ہم پورے بھارت میں ہندوتوا کے فروغ کے لئے اپنی تمام توانائیاں صرف کریں گے اور اپنے گرو ادتیہ ناتھ کی ہمیں پوری آشیر باد حاصل ہے۔ اسی کے مقابلے پر پی کے مل کا کہنا ہے کہ رام راجیے کا قیام ہر صورت میں یقینی بنایا جائے گا۔ یوں بھارت کو اکھنڈ بھارت میں تبدیل کرنے کے لئے نت نئے ناموں سے تنظیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں اور ان سب کا ایک ہی نعرہ ہے ’’بھارت سے غیر ہندوؤں کا خاتمہ‘‘۔ اب ایسی صورتحال پر بھلا کیا تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔

مسلم لیگ صرف قائدؒ کی

مسلمانانِ برصغیر کی سیاسی جماعت ،صرف قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی آ ل انڈیا مسلم لیگ تھی، ہے اور رہے گی۔ پاکستان بننے کے بعد جتنی بھی مسلم لیگیں بنتی رہیں ،حکومتیں کرتی رہیں اور پھر ٹوٹتی رہیں صرف اور صرف مفادات کے لیے بنیں۔اب مکافات عمل کے تحت نون مسلم لیگ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ آثار بتا رہے ہیں کہ نون مسلم لیگ کے بتن سے اب چوہدری نثار صاحب کی قیادت میں کوئی نئی مسلم لیگ بننے جا رہی ہے ۔ مگر یاد رہے کہ یہ وقت کا ضیاع ہے۔ اس متوقع مسلم لیگ کا حشر بھی پرانی مسلم لیگوں کی طرح ہی ہو گا۔ضرورت اس امر کی ہے اصلی مسلم لیگی حضرات، اِندھر اُدھر مفادات کی مسلم لیگوں کی بجائے قائد ؒ کی اُسی اصل مسلم لیگ کی نشاۃثانیہ کے لیے کام شروع کریں۔ جس نے برصغیر ہندوستان کے مسلمانوں کے سامنے یہ منشور رکھا تھا کہ پاکستان میں مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کا اجرا کیا جائے گا۔ اسلامی نظام حکومت قائم کیا جائے گا۔جس میں عدل و انصاف ہو گا۔برابری ہو گی۔امن وامان ہو گا۔ پاکستان کا قانون قرآن اور حدیث ہو گا۔ جس پر مسلمانا ن برصغیر نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں۔ اپنی عزلتیں لٹائیں۔ اپنے خاندان اورماں باپ کی قبریں چھوڑیں۔ اپنے وطن چھوڑے۔ دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کی۔ معلوم ہونے کہ باوجود کہ ان کے علاقوں میں پاکستان نہیں بنے گا۔ پھر بھی اسلام کے نام پر پاکستان کا ساتھ دیا۔ اب وہ بھارت میں متعصب قوم پرست ہندوؤں کے عذاب کانشانہ بن رہے ہیں۔ اگر چھوٹی چھوٹی مسلم لیگوں کو چھوڑ کر بات کی جائے تواس سے قبل کنونشین مسلم لیگ بنی،جونیجو مسلم لیگ بنی،ق مسلم لیگ بنی،نون مسلم لیگ بنی۔ ان مسلم لیگوں نے پاکستان پر حکومتیں کیں۔ پھر اپنے منطقی انجام تک پہنچ گئیں۔ ان سب مصنوعی مسلم لیگوں نے قائدؒ کی مسلم لیگ سے ا نحراف کرتے ہوئے مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اساس سے انحراف کیا۔ پاکستان کی منزل کھوٹی کیا۔ اپنے مفادات کے لیے سیاست کی۔ مسلمان وہ ہیں جنہوں اپنے اسلامی تدبر سے ایک ہزار سال تک چار براعظموں کی سیکڑوں قوموں کو اسلام کے ایک جھنڈے تلے متحد رکھا۔ مگر پاکستان کے مقتدر حلقے صرف ایک بنگالی قوم کے کے مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملا کر نہ رکھ سکے۔جس سے پاکستان دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔آل انڈیا مسلم لیگ ہی مسلمانانِ برصغیر کی نمائندہ سیاسی جماعت تھی۔ اس سے قبل ہند کے سارے سیاسی لیڈر جس میں مسلمان، ہندو اور سکھ شامل تھے، متحدہو کر انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد میں لگے ہوئے تھے۔مصور پاکستان علامہ اقبال ؒ بھی متحدہ ہندوستان کے ترانے گاتے تھے۔ ان کی مشہور نظم:۔

سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اُس کی ،یہ گلستان ہمارا
سارے ہندوستان میں یہ نظم گنگنائی جاتی تھی۔ خود قائد اعظم ؒ بھی متحدہ پاکستان کے لیے جد وجہد کر رہے تھے۔طویل تجربے نے مسلمانوں کے دونوں قومیں لیڈروں پر واضع کیا کہ قوم پرست ہندو برہمن جس کے ہاتھوں میں ہندوؤں کی سیاسی لیڈرشپ ہے وہ مسلمانوں سے ازلی دشمنی رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ مسلمانوں نے اقلیت ہو کر ہندوستان کی اکثریت پر ایک ہزار سال حکمرانی کی تھی۔ اپنی بہترین نظم نسق کے تجربے ،انسانیت دوستی،عدل و انصاف ، اسلام کی تعلیمات ،پر اُمن رویہ اور ساتھ لے کر چلنے کی پالیسیوں کی وجہ سے ہندوستان کے عام عوام مسلمانوں سے خوش تھے۔ اسی لیے برصغیر کے کروڑوں ہندو مشرف بہ اسلام ہوئے۔ مگر ہندوؤں کا برہمن طبقہ اندر ہی اندر وہ انگریزوں سے ملا ہوا تھا۔ وہ آزادی کے بعد مسلمانوں سے دنیا میں راج سیکولر نظام، جس میں بقول علامہ اقبالؒ تعدادیعنی سر گنتے ہیں ، کے تحت، اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ اپنی اکثریت کی بنیاد پر مسلمانوں کو اپنا غلام بنانے کے ارادہ رکھتے ہیں۔ انگریزوں تجارت کے بہانے مسلمانوں حکمرانوں سے ہندوستان کااقتدار چھینا تھا۔ اس لیے انگریزوں نے بھی برہمنوں کو ہندوستان میں مراعات دیں تھیں۔ مسلمانوں کو ہر طرح پیچھے رکھا کہ وہ کہیں دوبارہان سے اقتدار چھین نہ لیں۔مگر قائد ؒ اور علامہ اقبالؒ نے برہمنوں کے عزاہم کو بھانپ لیا ۔ علامہ اقبال ؒ نے الہ آباد کی مسلم لیگ کی میٹینگ میں پاکستان کا مطالبہ رکھا۔ جسے مسلمانانِ برصغیر میں پزیرائی ملی۔ قائدؒ نے آل انڈیا مسلم لیگ کو دو قومی نظریہ پر منظم کیا۔ برصغیرمسلمانوں نے قائد ؒ کی آواز پر لب بیک کہا۔ پھر بر صغیر ہندوستان کے کونے کونے میں یہ نعرہ مستانہ گوجنے لگا۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الہ اللہ۔ مسلم ہے۔ تو مسلم لیگ میں آ۔ لے کے رہیں پاکستان ۔ بن کے رہے کا پاکستان۔ پاکستان بننے سے پہلے برصغیر کے حکمرانوں کے اصلی وطن یورپ میں عیسایوں میں قوم پرستی عروج پر تھی۔ قوم پرستی کی بنیاد پر جنگ اول اور دوم لڑی گئیں۔کروڑوں انسانوں نے قومیت کی بنیاد پر اپنی جانیں دی تھیں۔ برصغیر کے برہمن بھی قائد ؒ کے دوقومی نظریہ کے مقابلے میں برصغیر کی ساری قوموں کو ایک ہندوستانی قوم تصور کرتے تھے۔علامہ اقبال ؒ نے اس کی نفی کی اور اسلام کے قومیت کے آفاقی نظام کو عام کیااور برصغیر کے مسلمانوں کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ:۔

اپنی ملت پر قیاس ،اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ عاشمیؐ
اسلام کے اس فلسفہ کو برصغیر میں عام کیا تھا۔کچھ نادان مسلمان طبقے برہمنوں کی چال کو سمجھ نہ سکے اور ہندوؤں کے نعرے قومیں اوطان یعنی وطن سے بنتیں کے پر فریب نعرے میں متحدہ پاکستان کی باتوں میں آ گئے۔ پاکستان اور قائڈ اعظم ؒ کی مخالفت کی تھی۔ اللہ نے مولانا موددی ؒ کے دل میں قومیت کے مسئلہ پر بات ڈالی۔ مولانا ؒ نے قومیت کے مسئلہ پر اسلامی نقطہ نظر سے مضامین لکھے۔جسے تحریک پاکستان کے دوران آل انڈیا مسلم لیگ نے برصغیر ہندوستان میں خوب پھیلایا۔ جو اب بھی کتابی شکل میں موجود ہیں۔ پھر جب اللہ کے فضل اور قائدؒ کی انتھک جمہوری کوششوں سے دنیا میں مسلمانوں کی اُس وقت کی سب سے بڑی سلطنت وجود میں آگئی۔ پاکستان بن گیا تو قائد اعظمؒ نے مولانا موددیؒ سے کہا کہ آپ پاکستان کے مسلمانوں کو بتائیں کہ پاکستان میں ا سلامی نظام کیسے قائم کیا جائے گا۔ مولانا مودودیؒ نے قائد اعظم ؒ ؒ کی ہدایات پر ریڈیو پاکستان پر اسلامی کے عملی نفاذ کی کئی تقرریں کیں۔ جو اب بھی ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ اور عام پاکستانیوں کے مطالعہ کے لیے کتابی شکل میں بھی موجود ہیں۔ صاحبو! مصنوعی مسلم لیگوں نے پہلے پاکستان کی ترقی میں کوئی خاص کردار ادا کیا۔ بلکہ پاکستان کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ مصنوعی مسلم لیگوں نے قائدؒ کی وژن کے مطابق پاکستان میں اسلامی نظام حکومت رائج کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔اپنے ذاتی مفادات کو ہی سامنے رکھا۔اب تو نون مسلم لیگ بھی اپنی فطری عمر پوری کر چکی ہی ہے۔ نواز شریف خود اس اس کا خاندان کرپشن کے مقدمات میں پھنس چکے ہیں۔نواز شریف پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے نا اہل قرار دیے جا چکے ہیں۔چند ہفتوں میں ان کے مقدمات کا فیصلہ سامنے آنے والا ہے۔متوقع طور پر سزا بھی ہونے والی ہے۔ اب نواز شریف اپنی کرپشن چھپانے کے لیے تمام حدیں پار کر چکے ہیں۔ کبھی غدار وطن شیخ مجیب کو محب وطن قرار دے رہے ہیں۔فوج اور عدلیہ پر وار کر نے کے بعد مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مجرم ثابت کرنے لگے ہیں۔ تین دفعہ پاکستان کے راز کی حفاظت کا حلف لینے والے نا اہل وزیر اعظم نواز شریف پاکستان پر حملہ کر چکے ہیں۔ڈان اخبار کو انٹر ویو دے کر مملکت پاکستان پر الزام لگا رہے ہیں۔گریٹ گیم کے تینوں کردار، بھارت ،امریکا اور اسرائیل کسی طور پر بھی اسلامی اور ایٹمی پاکستان کو برادشت کرنے کی لیے تیار نہیں۔ نواز شریف پریشانی کے عالم میں یا دانستہ طور پر بھارت، امریکا اور اسرائیل کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ اب اس موقع پر پاکستان سے محبت کرنے والے لوگوں،مقتدر حلقوں اور اصلی مسلم لیگیوں سے پاکستانی قوم کی درخواست ہے کہ چوہدری نثار کی سربراہی میں کوئی نئی مصنوعی مسلم لیگ بنانے کے بجائے قائد ؒ کی آل انڈیا مسلم لیگ طرز ،کی پاکستان میں پھر سے تحریک اُٹھائیں۔جس کا نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا’’لا الہ الا اللہ‘‘ حکمران اللہ سے معافی مانگیں۔ برصغیر کے مسلمانوں سے کیا گیا وعدہ کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔ اس سے اللہ کی مدد شامل حال ہو گی۔ پاکستان مضبوط ہو گا۔مسلم لیگ صرف قائدؒ کی ۔باقی سب مفادات کی۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔
*****

سوکس سنٹرزکیس۔۔۔سپریم کورٹ کے ریمارکس لمحہ فکریہ!

adaria

سپریم کورٹ آف پاکستان میں سوکس سینٹرز بلڈنگ ویلتھ ٹیکس ادائیگی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے ہیں کہ ملک میں بادشاہت نہیں ، وزیراعظم ریاست کی جائیداد مالک نہیں ہوسکتا،عدالت عظمیٰ نے سوکس سنٹرز کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔ گزشتہ روز جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس قاضی عیسیٰ اور جسٹس اعجاز علی شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر وکیل ایف بی آر نے بتایا کہ سابق وزیراعظم کے حکم سے دو حکومتی عمارتیں سوکس سینٹر کو دی گئیں۔ سوکس سینٹرز نے انکم ٹیکس دیا اور ویلیو ٹیکس واجب الادا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وزیراعظم ریاست کی جائیداد کا مالک نہیں ہوسکتا ‘کس قانون کے تحت وزیراعظم سرکاری جائیداد ٹرانسفر کرسکتا ہے؟ وکیل ایف بی آر نے بتایا کہ دونوں پراپرٹیز 198 ملین میں فروخت کی گئیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ پراپرٹی کی فروخت کا ایک پیسہ ادا نہیں ہوا۔ جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ پراپرٹیز کی فروخت کا کوئی معاہدہ ریکارڈ پر نہیں۔ وکیل ایف بی آر نے بتایا کہ حکومتی جائیداد کو وزیراعظم نے دوسرے ادارے کو فروخت کیا۔ جائیداد کسی نجی فرد کو فروخت نہیں ہوئی۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ملک میں بادشاہت نہیں ہے ایسا نہیں ہے حکومت کی جائیداد کسی کو دے دی جائے۔ کیا وزیراعظم کو سپریم کورٹ فروخت کرنے کا اختیار ہے؟ وزیراعظم سپریم کورٹ کو فروخت کردیں تو کیا کریں گے۔ عدالتی ریمارکس لمحہ فکریہ ہیں اور یہ درست ہے کہ پاکستان میں بادشاہت نہیں ، جمہوریت ہے اور جمہوریت طرز حکمرانی میں وزیراعظم عوام کے سامنے جوابدہ ہوا کرتا ہے اور وزیراعظم ریاستی جائیداد کا مالک نہیں ہوسکتا لیکن ہمارے ہاں حکمرانوں کا طرز بادشاہوں جیسا ہے اور شاہانہ طرز حکمرانی نے وطن عزیز کو طرح طرح کے مسائل و چیلنجز سے دوچار کررکھا ہے ، ریاست کی یہ ذمہ داری قرار پاتی ہے کہ وہ عوام کا معیار زندگی بلند کرے، ان کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ امن و امان قائم کرے ، تعلیم و صحت اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے لیکن اس وقت عوام کو پینے کیلئے صاف پانی دستیاب نہیں ، علاج معالجہ کی سہولتوں کا فقدان ہے بیروزگاری اور مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کررکھا ہے ، بجلی و گیس کے مسائل ، طبقاتی نظام تعلیم نے تعلیم کا ستیاناس کررکھا ہے ، تاریخ اقبال اور قائداعظم کے خوابوں کی تعبیر آج تک نہ مل سکی ، فلاحی ریاست کا نہ بننا لمحہ فکریہ ہے ۔ عدالت جب عوامی مسائل کے حل کیلئے ازخود نوٹس لیتی ہے تو حکمران بے جا تنقیدی رویہ اپنائے دکھائی دیتے ہیں ، عدلیہ ایک طرف فوری انصاف کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے تو دوسری طرف بنیادی انسانی حقوق کیلئے قابل رشک کردار ادا کررہی ہے ۔ یہ درست ہے کہ وطن عزیز میں بادشاہت نہیں اور وزیراعظم ریاستی جائیداد کا مالک ہوسکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے ریمارکس حکمران طبقہ کیلئے لمحہ فکریہ ہیں ۔عدالت کا کام ہے انصاف فراہم کرنا ایک آزاد اورخودمختار عدلیہ کے ہوتے ہوئے نا انصافی اور حق تلفی نہیں کی جاسکتی۔

ایس کے نیازی کی دوررس گفتگو
چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز ایس کے نیازی نے روز نیوز کے پروگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب کو دلیر بننا چاہیے،امپائر کا نام لیں،میاں صاحب میں جرأت ہونی چاہیے اور نام لینے چاہئیں،اگر میاں صاحب نام نہیں لیتے تو اس کی انکوائری ہونی چاہیے،جو نام چلتے رہے وہ ہمیں معلوم ہے مگر میاں صاحب بتائیں ،ہوسکتا ہے اس شخص نے میاں صاحب کوغلط پیغام پہنچایا ہو،اداروں پر تنقید نہیں ہونی چاہیے،میاں صاحب کا فرض ہے کہ پیغام دینے والے کا نام بتائیں،پرویز مشرف پر اگر غداری کا کیس بنتا ہے تو چلنا چاہیے،ضیا الحق نے نواز شریف کو پہلے وزیر پھروزیراعظم بنوایا،میاں صاحب نے اداروں کو ڈرایا اور دھمکایا ہے،پاناما میں صرف میاں صاحب کا احتساب غلط بات ہے،نواز شریف کا گراف نام نہ بتانے سے گرا ہے،نواز شریف نام نہ بتا کر صرف دھمکیاں دے رہے ہیں،پہلے میاں صاحب نام بتائیں بعد میں ہم بھی نام دینگے،حکمرانوں کی تقاریر ہمیشہ کوئی اور لکھا کرتا ہے،نواز شریف نے کہا مشرف کیخلاف کیس پر مجھے نشانہ بنایا گیا،پرویز مشرف پہلے نہیں آئے تو اب کیوں آئیں گے،نواز شریف نے آج نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے،مشرف کو باہر سے بلانا حکومت کیلئے مشکل کام نہیں،کوئی امپائر اور پیغام پہنچانے والا شخص تو ہوگا،ادارے کوبدنام نہیں کرنا چاہیے،اس شخص کا نام لیا جائے،مسلم لیگ(ن)کا ووٹ بینک بڑھا ہے،کم نہیں ہوا،یہ حقیقت ہے پاناما میں صرف نواز شریف کی تحقیقات ہوئی،الیکشن ضرور ہوں گے چاہے کچھ ہفتے تاخیر سے ہوں،میرے مطابق اگلے وزیراعظم عمران خان ہوں گے ،وزیراعظم سے بڑا کون ہے جسے کوئی نیچے سے پیغام دے،نواز شریف کی آج پریس کانفرنس کا مقصد ایک میسج دینا تھا،نواز شریف نے آج جواب نہیں دینا تھا صرف ایک پیغام دیا،یہ بات چل رہی ہے کرنل جوزف کو دیت کے بدلے چھوڑا گیا،اگر دیت کے بدلے کرنل جوزف کو چھوڑا گیا تو کچھ ٹھیک ہے۔ ایس کے نیازی کی گفتگو سیاسی منظرنامے کو جہاں نمایاں کرتی ہے وہاں موجودہ صورتحال کی صحیح ترجمانی کا ذریعہ بھی ہے، ایس کے نیازی ملکی مسائل اور سیاسی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں ان کی گفتگو دوررس نتائج کی حامل ہے یہی وجہ ہے کہ ناظرین پروگرام سچی بات میں ان کی گفتگو سننے کیلئے بے تاب و بے قرار دکھائی دیتے ہیں اور ان کے تجزیے سے سیاسی اتارچڑھاؤ کا اندازہ لگاتے ہیں یہی طرہ امتیاز ان کی گفتگو کو ایک جداگانہ حیثیت کا حامل بنا رہا ہے۔
بھارت سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کرے
عالمی بینک نے سندھ طاس معاہدے اور کشن گنگا ہائیڈرو منصوبے پر پاکستان کی شکایات کو ناکافی قرار دے دیا ۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہے کی خلاف ورزیوں پر اٹارنی جنرل اشتراوصاف کی قیادت میں 4رکنی وفد نے عالمی بینک کے صدر اور دیگر حکام سے ملاقات کی اور پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا ۔ پاکستانی وفد نے معاہدے کے ضامن کی حیثیت سے عالمی بینک سے کردار ادا کرنے کی درخواست بھی کی سندھ طاس معاہدے کے دائرے میں رہتے ہوئے مسئلے کے پرامن حل کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا لیکن پاکستانی وفد سے ملاقات تنازع کے حل کیلئے کسی طریقہ کار پر اتفاق رائے کے بغیر ختم ہو گئی، عالمی بینک نے کشن گنگا پر پاکستانی تحفظات کو ناکافی قرار دیدیا اور کہا ہے کہ تنازعات اور اختلافات پر عالمی بنک کا کردار انتہائی محدود ہے۔ یہ امر انتہائی توجہ طلب اور مضحکہ خیز ہے کہ عالمی بنک نے پاکستان کے تحفظات کو ناکافی قرار دیا ہے، بھارتی آبی جارحیت کی روک تھام کیلئے پاکستان نے عالمی بنک کو ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے رجوع کیا لیکن وہاں سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، بھارت سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کرے اور پانی کے معاملے پر تنازعات کو سلجھانے کی کوشش کرے، پاکستان امن پسند ملک ہے اور متنازع مسائل کا حل باہمی مذاکرات کے ذریعے نکالنے کا خواہاں ہے لیکن بھارت ایک طرف سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے تو دوسری طرف لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی بھی اس نے اپنا معمول بنا رکھا ہے جس سے خطے کیلئے خطرات بڑھتے چلے جارہے ہیں ، پاکستان کے مصالحتی کردار کو بھارت کمزوری نہ گردانے پاکستان کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ جوڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بھارت میں صنفی امتیاز کے تحت شرح اموات 22 فیصد

دی لینسنٹ میڈیکل کالج جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں محقق کریسٹنی گلیموٹو نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں صنفی امتیاز کے باعث سالانہ 2 لاکھ 50 ہزار لڑکیوں کو موت کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ صنفی امتیاز کی بنیاد پر اسقاط حمل بھی شامل ہے۔ صنفی امتیاز تعلیم اور ملازمت تک محدود نہیں بلکہ توجہ، بیماری سے بچاؤ اور خوراک شامل ہے۔ صنفی امتیاز برتنے سے شرح اموات میں 22 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ بھارت میں پانچ سال سے کم عمر کی 2 لاکھ 39 ہزار لڑکیاں محض صنفی امتیاز کی وجہ سے جاں بحق ہو جاتی ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس رپورٹ میں پیدائش سے قبل ہونے والی ہلاکتیں شامل نہیں ہیں تاہم صنفی امتیاز کی بنیاد پر اسقاط حمل بھی شامل ہے اور اگر لڑکیاں پیدا ہو جائیں تو ان کیلئے وسائل اور توجہ دونوں انتہائی محدودہوتی ہے۔ محقق کا کہنا ہے کہ صنفی امتیازکا دائرہ کار صرف تعلیم اور ملازمت تک محدود نہیں بلکہ اس کی وسعت توجہ، بیماری سے بچاؤ کی ویکسین اور لڑکیوں کی خوراک بھی شامل ہے۔ مذکورہ رپورٹ کیلئے بھارت کے 640 اضلاع میں ایسے عناصر کا جائزہ لیا گیا جہاں 5 سال سے کم عمر لڑکیوں کو موت سے بچایا جا سکتا ہے۔بھارت میں ایک ہفتے میں تیسری لڑکی کو زیادتی کے بعد زندہ جلا دیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ مدھیہ پردیش کے علاقے ساغر میں لڑکی گھر میں اکیلی تھی کہ ملزموں نے اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے لڑکی کے کزن سمیت 2 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ لڑکی نے ملزم کو دھمکی دی کہ وہ اپنے خاندان کو ریپ کے بارے میں بتا دے گی جس کے بعد اسے زندہ جلا دیا گیا۔ اس سے قبل جھاڑ کھنڈ میں 2 لڑکیوں کو ریپ کے بعد زندہ جلایا گیا تھا۔ ریاست جھاڑ کھنڈ میں 16 سالہ لڑکی کو اجتماعی زیادتی کے بعد بے دردی سے زندہ جلا دیا گیا۔ ریاست جھاڑ کھنڈ میں لڑکی کو عصمت دری کے بعد زندہ جلا دیا گیا جبکہ پولیس نے چودہ ملزمان کو حراست میں لے لیا۔ تاہم اصل ملزم تاحال آزاد ہے اور متاثرہ خاندان انصاف کیلئے سڑکوں پر آگیا ہے۔ ملزمان نے 16 سالہ لڑکی کو گھر میں اکیلے پا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا یا۔ جس پر مقامی پنچایت نے ملزمان کو معمولی سزا کے ساتھ پچاس ہزار روپے جرمانہ کیا۔ سزا ملنے پر ملزمان طیش میں آگئے اور اگلے روز دن دیہاڑے لڑکی کو گھر میں بند کر کے آگ لگا دی۔ ایک اور واقعہ میں سکول جانے والی طالبہ کو بس میں زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا جبکہ بھارتی قانون نافذ کرنے والے ادارے جنسی تشدد کے واقعات میں بے بس نظر آتے ہیں۔ گزشتہ دنوں امریکا سے بھارت آئی ایک طالبہ نے کھلے الفاظ میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ’’بھارت سیاحوں کے لیے جنت ،پر خواتین کے لیے جہنم۔۔۔‘‘یہ الفاظ ہیں ایک امریکی طالبہ کے، جس نے یہ جملے بھارت کا دورہ کرنے کے بعد لکھے۔امریکی طالبہ ہی نہیں بھارتی خواتین بھی ہوس کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔ بھارت میں خواتین کی حالت زار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہوں کہ بھارتی اخبارات میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوئی خبر نہ آتی ہو۔بھارت میں اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ بھارتی ’’مذہبی‘‘ پیشوا بھی اس گھناؤنے فعل میں ملوث پائے جاتے ہیں۔جس ملک کے مذہبی پیشوا ہی برائی میں پیش پیش ہوں پھر وہاں سے برائی کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل بھارت میں 72سالہ سنت آسا رام نے سولہ سالہ لڑکی کو ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔ جس پر اسے قید کی سزا سنائی گئی۔ بھارت میں 2012 میں جنوبی دہلی میں ایک لڑکی کی جنسی زیادتی کے بعد موت کے نتیجے میں ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔اس کے بعد ملک میں خواتین کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنائے گئے لیکن عمومی رائے یہی ہے کہ یہ قوانین ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کافی نہیں۔بھارتی فلم انڈسٹری کی اداکاروں کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک بھارت میں خواتین کی عزت محفوظ نہیں ہے حکومت کو اس حوالے سے قوانین بدلنے چاہئیں۔ ممبئی میں خواتین بہت زیادہ غیر محفوظ ہیں حکمرانوں کو خواتین کو تحفظ دینے کیلئے نئے قوانین بنانا ہوں گے۔اب تو یہ حال ہے کہ بھارتی پولیس اور فوج کے عہدیدار و اہلکار ریپ کیسوں کی اعانت کرتے ہیں۔ زیادہ تر ریپ کیس پولیس اہلکاروں کے زیر سایہ ہو رہے ہیں۔ بھارتی پولیس کے اعلی افسرنے انتہائی شرمساری سے یہ انکشاف کیا ہے کہ خاتون فوٹو جرنلسٹ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے میں ملوث پانچ ملزمان میں سے ایک ملزم پولیس کا اپنا آدمی تھا، جس سے پولیس علاقے میں مخبری کا کام لیتی تھی۔ بھارتی پولیس کے اس واقعے میں مخبر کے ملوث ہونے کی اطلاعات کے بعد تفتیش پر بھی سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں کہ آیا بھارتی پولیس اس کیس کو اپنے منطقی انجام تک پہنچائے گی اور کیا اس ظلم کا شکار فوٹو جرنلسٹ کے انصاف کیا جائے گا۔پولیس چیف نے اعتراف کیا کہ پولیس کا ایسا رویہ بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم میں کمی کے بجائے اضافے کا باعث بنے گا۔ اگر ہمیں اپنے دیش میں بڑھتے ہوئے جرائم کو ختم کرنا ہے تو بھارتی پولیس کو بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ بھارت میں ایک لڑکی کو زیادتی کے بعد تیل چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔ متاثرہ لڑکی کی حالت نازک بیان کی جارہی ہے۔ 17 سالہ لڑکی کے ساتھ سفاکانہ ظلم کا یہ واقعہ مشرقی ریاست جھاڑ کھنڈ میں پیش آیا جہاں ایک 16 سالہ لڑکی کو دو روز قبل اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد زندہ جلا کر مار ڈالا گیا تھا۔ اے ایف پی کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بربریت کا یہ تازہ واقعہ بھی اسی روز اور اسی ریاست میں پیش آیا جہاں دو روز قبل 16 سالہ لڑکی کو درندگی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔ ضلع پاکور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس شیلانہ رابرنوال نے کہا ہے کہ 19 سالہ ملزم نے اپنی ہمسایہ 17 سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔ جس سے اس کا 70 فیصد جسم جھلس گیا اور اس کی ہسپتال میں حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ بھارتی پولیس کی رپورٹ کے مطابق رواں سال 15 اپریل تک ملک بھر میں ریپ کے 578 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ اس سے قبل گزشتہ برس اسی عرصہ کے دوران یہ تعداد 563 تھی۔بھارت میں خواتین کے ساتھ پیش آنے والے جنسی زیادتی کے مسلسل واقعات نے ملک کی بڑی سیاحتی صنعت کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس حوالے سے وہاں کاروباری حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ گزشتہ تین ماہ سے بھارت میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات مسلسل بین الاقومی ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیاں بن رہے ہیں جس کی وجہ سے بھارت میں خواتین سیاحوں کی آمد میں 35 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ بھارتی ایوان صنعت و تجارت کی جانب سے جاری کیے گیے اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں سیاحتی سرگرمیوں میں مجموعی طور پر 25 فیصد کمی آئی ہے۔ تعطیلات کیلئے بھارت آنے والے غیر ملکی سیاح اب دیگر ایشیائی ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔پچھلے دنوں اقوامِ متحدہ کی جانب سے بھارت بھیجے جانے والے وفد کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں جنسی تشدد اور ہراساں کیے جانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ایسی واقعات پورے بھارت میں پھیلے دکھائی دیتے ہیں۔

جو گھر کو پھونک کے دنیا میں نام کرتے ہیں(قسط نمبر3)

rana-biqi

ممبئی دہشت گردی (نومبر 2008 ) کے حوالے سے راقم کے گزشتہ کالم پر بہت سے قارئین نے سوالات قائم کئے ہیں اور ممبئی دہشت گردی کے حوالے سے نواز شریف کے بیان کی روشنی میں مزید تفصیلات جاننے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ میاں نواز شریف جن کے بارے میں سابق وزیراعظم شہید بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب مفاہمت میں لکھا تھا کہ نواز شریف نے اکتوبر 1989 میں اُسامہ بن لادن کی حمایت اور مالی سپورٹ سے اُن کی حکومت کو گرانے کیلئے بے نظیر کے حامی ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کی تھی کے حوالے سے ماضی میں میاں نواز شریف کے نان اسٹیٹ ایکٹرز سے رابطے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔چنانچہ ممبئی دہشت گردی کے حوالے سے سوال کیا گیا ہے کہ میاں نواز شریف نومبر 2008 میں نہ تو وزیراعظم اور نہ ہی صدر مملکت کے منصب پر فائز تھے اور نہ ہی صوبہ سندھ کی حکومت اُن کے دائرہ اختیار میں تھی تو اُن کا ممبئی دہشت گردی کے بارے میں معلومات کا ذریعہ کیا تھا کیونکہ بھارت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ دہشت گردوں کا مبینہ سفر سندھ کے پانیوں سے ممبئی کی بندرگاہ تک پہنچا تھا ؟ درحقیقت سابق نااہل وزیراعظم میاں نواز شریف کی جانب سے سیاق و سباق اور کسی مضبوط شہادت کے بغیر ہی بھارتی سیاسی قیادت اور انتہا پسند ہندو تنظیموں کے پروپیگنڈے سے متاثرہو کر ممبئی دہشت گردی کی ذمہ داری احمقانہ انداز سے قبول کرکے گھر کو برباد ی کے جنکشن پر چھوڑتے ہوئے معصومیت سے یہ کہنا کہ گھر کو ٹھیک کرنے کی بات کرکے اُنہوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے جسے قوم و ملک سے خوفناک مذاق کے مترادف ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔چنانچہ اِس خوفناک مذاق کے منفی نتائج کے بارے میں مسلم لیگی مقتدر سیاسی رہنما چوہدری نثار علی خان کا یہ تجزیہ کہ ایسے بیانیہ سے نہ صرف ملک بلکہ مسلم لیگ (ن) پارٹی کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے قابلِ غور ہے۔ البتہ نواز شریف کے بیانیہ پر مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کا یہ کہنا کہ میاں نواز شریف کا مبینہ انٹرویو کرانے والے مسلم لیگ کے قائد کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور لیگی ارکانِ سے رہنمائی طلب کرنا کہ موجودہ حالات میں نواز شریف کے بیانات کا کس طرح دفاع کیا جا سکتا ہے حیران کن بات ہے۔ کیا تیس برس تک اقتدار کی غلام گردشوں میں متحرک رہنے اور اہم منصبوں کا حلف اُٹھانے کے بعد بھی سابق نااہل وزیراعظم کو اِس اَمر کا ادراک نہیں ہے کہ کیا بات کہنی چاہیے اور کیا نہیں جبکہ خطے میں بھارتی قیادت پاکستان کو بھارت ماتا میں جذب کرنے کے ناپاک عزائم کے حوالے سے مشرقی پاکستان کو طفیلی ریاست بنگلہ دیش میں تبدیل کرنے کے بعد اب امریکا اور اسرائیل کے تعاون سے موجودہ پاکستان پر بھی دانت تیز کر رہی ہے۔ چنانچہ قوم اور ملک کے حوالے سے ایسے احمقانہ بیانات بھارت کیلئے خصوصی انعام کی حیثیت رکھتے ہیں جسے بھارتی قیادت دنیا بھر میں پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے طور پر پھیلانے کیلئے ہر دم تیار بیٹھی رہتی ہے ۔ علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ نے فرمایا تھا ………. ؂

میں اُن کی محفل عشرت سے کانپ جاتا ہوں
جو گھر کو پھونک کے دنیا میں نام کرتے ہیں
درحقیقت ، ممبئی دہشت گردی میں پاکستان مخالف بھارتی ایجنسی را، انتہا پسند بھارتی فوجی افسران اور دہشت گرد بھارتی تنظیمیں دامے درمے سخنے شامل ہیں۔ راقم نے دسمبر 2008 میں ممبئی دہشت گردی کے تمام پہلوؤں پر ایک تحقیقی ، تفتیشی اور تجزیاتی کالم تحریر کیا تھا جس سے یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ پاکستانی ایجنسیوں کا اِس دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ مضمون آج بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی 2008 میں چنانچہ عوام کے ذہنوں میں جنم لینے والے سوالات کا مفصل جواب اِس تحقیقی رپورٹ میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ” 26 / 27 نومبر 2008 کو ممبئی میں شروع ہونے والی دہشت گردی کی ایک منظم و منضبط کاروائی جسے انسانی اقدار کے ہر پیمانے سے بہیمانہ اور دلخراش واردات سے ہی تعبیر کیا جائے گا اور جوتقریباً 60 گھنٹوں تک ممبئی کے انسانوں پر ایک تاریک رات کی ظلمات کی طرح طاری رہی ، کیونکر ممکن ہوئی ہے ؟ یہ وہ سوال ہے جسے نہ صرف دنیا بھر کے تمام ہی دارلحکومتوں میں بھارتی دفاعی اور سیکورٹی اداروں کی کارکردگی کیساتھ ساتھ بھارتی سیاسی اور انتظامی اداروں کی منافقانہ حکمت عملی سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے ۔ اِس بھارتی ناکامی کا المیہ اُس وقت اور بھی زیادہ گھمبیر ہو جاتا ہے جب اِس المناک واردات کی آڑ میں تمام تر بھارتی ناکامیوں کا پر فریب ملبہ حکومت پاکستان پر ڈالنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے ۔بہرحال ایسا پہلی مرتبہ ہی ہوا ہے کہ دنیا بھر میں ممبئی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان پر الزامات کا ملبہ ڈالنے کی بھارتی کوششوں پر شکوک و شبہات کا برملا اظہار کیا گیا ہے ۔ دہشت گردوں کی اِس بہیمانہ کاروائی کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان پر الزامات کی بارش کے بعد بھارت کی جانب سے حکومت پاکستان کو فراہم کی جانے والی مبینہ دہشت گردوں کی فہرست میں بھی کوئی نئی بات نہیں کہی گئی ہے بلکہ اِس فہرست میں کم و بیش وہی نام دُھرائے گئے ہیں جو ماضی میں کئی مرتبہ بھارت کی جانب سے انڈر ورلڈ کرائمز ، کشمیر اور سکھ دہشت گردی کے حوالے سے پیش کئے جاتے رہے ہیں۔ اِن ناموں پر پاکستانی موقف بھی اتنا ہی پرانا ہے جتنی کہ یہ فہرست ۔ حیرت ہے کہ بھارت کے اُبھرتے ہوئے معاشی دارالحکومت ممبئی میں جنم لینے والی دہشت گردی کی اِس منظم واردات کے مبینہ طور پر سمندری راستے سے ظہور پذیر ہونے پر ایشیا کی سب سے بڑی انڈین نیوی نے بھی بھارتی حکومت کی جانب سے بعد از وقوعہ جاری کردہ متضاد اور متنازعہ ریاستی بیانات کی تفصیلات جاری ہونے کے بعد دہشت گردی کے اِس واقعہ میں بھارتی انٹیلی جنس ، مقتدر بحری اورانتظامی اداروں کی مکمل ناکامی کا وا ضع طور پر اعلان کیا ہے 3 دسمبر 2008 کو جاری کئے گئے ایک بیان میں بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل سریش مہتا نے امریکی معلومات پر تبصرہ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ممبئی دہشت گردی کے حوالے سے اُن کے پاس ایسی معلومات نہیں تھیں جس کی بنیاد پر کاروائی کرنا ممکن ہوتا ۔ اُنہوں نے ممبئی میں دہشت گردوں کے داخلے کو ملک کی سیکورٹی اور انٹیلی جنس کی ناکامی سے تعبیر کیا ۔ اِس اعلانِ ناکامی کے حوالے سے بھارتی نیوی کا موقف اِس لئے بھی ناقابل فہم ہو جاتا ہے کہ جب بھی بھارتی حکومت خطے میں دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتی ہے تو وہ ملک بھر میں مقامی ہندو انتہا پسند تنظیموں کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات ISI یا پاکستانی جہادی تنظیموں پرہی لگانے پر اکتفا کرتی رہی ہے”
(۔۔۔۔۔۔جاری ہے)

Google Analytics Alternative