کالم

پاکستان اوریو اے ای کے مابین معاہدے اورمشترکہ اعلامیہ

adaria

وزیراعظم پاکستان عمران خان کاسعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات کا دورہ بھی بارآورثابت ہونے جارہا ہے ،یواے ای اور پاکستان کے مابین سٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں بدلنے پر اتفاق کیاگیا ہے یہ ایک خوش آئند بات ہے کیونکہ سو روزہ پلان بھی تقریباً ختم ہونے کے عنقریب ہے اور وزیراعظم اس حوالے سے وطن واپسی پر خطاب بھی کریں گے اور عوام کے سامنے ان سودنوں کے دوران حکومتی کارکردگی سامنے رکھیں گے کہ جو وقت دیاگیاتھا اس میں پی ٹی آئی کی حکومت نے کیاکھویا اور کیاپایا۔ یو اے ای کادورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران ابوظہبی ولی عہد شیخ محمد زید بن سلطان النیہان سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات کو طویل مدت سٹرٹیجک اور اقتصادی شراکت داری میں بدلنے پر اتفاق کیا ، دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ علاقائی اور عالمی معاملات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ تاریخی شراکت داری کو فروغ دینے کیلئے فوری اقدامات پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیراعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم سے بھی ملاقات کی۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری اعلامیہ کے مطابق تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ یو اے ای کے اعلیٰ سطح اقتصادی وفد کے دورہ پاکستان کے نتائج پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ دونوں ملکوں کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس آئندہ سال فروری میں ہوگا۔ دونوں رہنماؤں نے زیر غور معاہدوں کو جلد حتمی شکل دینے کیلئے مشاورت پر اتفاق کیا۔ دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون پر بھی اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ دونوں ملکوں کے تربیت، مشترکہ مشقوں اور دفاعی پیداوار میں تعاون کے عزم کا اظہار کیا گیا۔رواداری، عدم مداخلت سے پائیدار امن و استحکام ممکن ہے۔ یو اے ای کے ولی عہد نے انسداد دہشت گردی کیلئے پاکستان کی قربانیاں اور کاوشیں قابل تحسین قرار دیں۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی یو اے ای کے بانی کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ۔ عمران خان نے پولیو کے خاتمے میں یو اے ای کے تعاون کو سراہا اور حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے سے بھی آگاہ کیا۔ پاکستان ایکسپو 2020میں بھرپور شرکت کرے گا۔ وزیراعظم نے شیخ محمد بن زید النیہان کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جسے شیخ محمد نے شکریہ کے ساتھ قبول کرلیا۔ ملاقاتوں میں وزیر اعظم کے ہمراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر خزانہ اسد عمر، وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور، وزیر برائے توانائی اور مشیر تجارت جبکہ یو اے ای میں پہلے سے موجود وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود بھی شامل تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدوں کے تحت نہ صرف پاکستان کی معیشت بہتر ہوگی بلکہ دیگرسیکٹرز میں بھی ترقی اورخوشحالی آئے گی۔پولیو کے حوالے سے ہونیوالامعاہدہ بھی انتہائی اہمیت کاحامل ہے نیز توانائی ،زراعت ،انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون، وائٹ کالرکرائم اور منی لانڈرنگ روکنے کے حوالے سے بھی اتفاق کیاگیا ہے چونکہ اس وقت حکومت پاکستان کی سب سے اہم منزل کرپشن کو روکنا ہے اور کرپشن میں منی لانڈرنگ اہمیت کی حامل ہے جب منی لانڈرنگ کو روک لیاجائے گا تو کرپشن کرنے والے افراد کم ازکم پاکستان کے خزانے سے لوٹی ہوئی رقم باہرنہیں لے جاسکیں گے اور جو رقم باہر ترسیل ہوچکی ہے اس کی واپسی بھی یقینی ہوجائے گی۔حکومت کو چاہیے کہ خصوصی طورپر منی لانڈرنگ اور اس میں ملوث ملزمان کے تبادلے کے حوالے سے بھی دیگرملکوں سے مزیدمعاہدے کرے۔

ٹرمپ ہرزہ سرائی۔۔۔حکومت دوٹوک موقف اختیارکرے
افغانستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ افغانیوں نے کبھی بھی اپنے سرپرسردار کو برداشت نہیں کیا ،امریکہ سے قبل روس بھی اس خطے پر حملہ آورکی صورت میں اترا تھا اور آخر میں اس کانتیجہ یہ نکلا کہ دنیا کی سپرپاور کہلانے والا جب افغانستان سے واپس ہوا تو وہ شکست وریخت کا شکار ہوچکا تھا اس کے بعد امریکہ نے افغانستان میں قدم رکھا مگر تاحال اسے قابل ذکرکامیابی حاصل نہیں ہوسکی اور اب اس کامسئلہ اس طرح ہے کہ وہ کمبل کو چھوڑناچاہتاہے لیکن کمبل اس کو نہیں چھوڑ رہا اپنی ناکامیوں کاملبہ وہ پاکستان پر ڈالناچاہتا ہے اور ٹرمپ کی پالیسیاں تو روز اول سے ہی مسلمانوں کے خلاف رہی ہیں ۔حالیہ فاکس نیوز کو دیاجانے والاٹرمپ کاانٹرویو قطعی طورپر واضح کرتا ہے کہ امریکی صدر کس قدر پاکستان کے خلاف ہے ۔بین الاقوامی برادری اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں مگر امریکی صد رکی جانب سے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی ناقابل فہم ہے مگر ایک بات یہ طے کہ امریکہ کبھی بھی پاکستان کاایک بااعتماد دوست ثابت نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کبھی ہوسکے گا اسی وجہ سے ٹرمپ نے ایک بار پھر دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ہمارے لئے کچھ نہیں کرتا ۔صدر ٹرمپ نے اتوار کو امریکی ٹیلی ویژن چینل فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کو اپنے ملک میں رکھا ہوا تھا۔انھوں نے کہا پاکستان میں ہر کسی کو معلوم تھا کہ وہ (اسامہ بن لادن) ایبٹ آباد میں اکیڈمی کے قریب رہتے ہیں۔ اور ہم انھیں 1.3 ارب ڈالر سالانہ امداد دے رہے ہیں۔ ہم اب یہ امداد نہیں دے رہے۔ میں نے یہ بند کر دی تھی کیوں کہ وہ ہمارے لیے کچھ نہیں کرتے۔یہاں ٹرمپ کو آئینہ دیکھنا ہوگا تاکہ اس کو اپناچہرہ خودنظرآسکے کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف کتنی زیادہ قربانیاں دی ہیں ۔نیز پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے امن کے قیام کو ترجیح دی ہے اور پوری دنیا اس بات کی معترف ہے کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کاموقف ہمیشہ بہترین رہا ہے بعض اوقات امریکہ کی جانب سے بھی پاکستانی اقدامات کو سراہاگیا لیکن ٹرمپ کی جانب سے کبھی بھی ٹھنڈی ہوا کاجھونکانہیں آیا۔جب بھی موقع ملا ٹرمپ نے صرف پاکستان ہی نہیں پوری امت مسلمہ کے خلاف کسی نہ کسی صورت میں آوازاٹھائی ۔چونکہ امریکہ یہ جانتا ہے کہ وہ افغانستان میں پوری طرح پھنس چکا ہے اور وہاں پر وہ چھاپہ مار کارروائیوں کامقابلہ بھی نہیں کرسکتا ویسے بھی عملی طورپردیکھاجائے تو کابل تک ہی امریکی سرگرمیاں محدود ہیں فضائی حملے تو اس کے کامیاب جاتے ہیں لیکن جب بھی اس نے زمین پراترکرکسی بھی قسم کی مہم جوئی کرنے کی کوشش تو اسے ناکامی کاسامناکرناپڑا۔ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے خلاف دیئے جاانیوالے انٹرویوپرحکومت پاکستان کوچاہیے کہ وہ اس حوالے سے واضح اور دوٹوک موقف اختیارکرے۔

12 ربیع الاول کی اہمیت اور ہماری ذمہ داری

اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ربیع الاول مبارک ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ابتداء میں اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت موسم ربیع یعنی فصل بہار کا آغاز تھا۔ یہ مہینہ فیوضات و برکات کے اعتبار سے افضل ہے کہ باعث تخلیق کائنات رحمۃ اللعالمین احمد مجتبیٰ محمد مصطفی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا میں قدم رنجہ فرمایا۔ 12 ربیع الاول شریف بروز پیر، مکہ المکرمہ کے محلہ بنی ہاشم میں آپ کی ولادت باسعادت صبح صادق کے وقت ہوئی۔ 12 ربیع الاول ہی میں آپ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے۔ اسی ماہ کی 10 تاریخ کو محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین سیدہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا تھا۔اسی تاریخ سے کائنات کی ظلمت و تاریکیاں نورانیت میں تبدیل ہونے لگیں۔ انسان کا مردہ دل پھر سے تازگی پانے لگا، کفر و شرک کی گھنگور گھٹائیں ختم ہونے لگیں۔ انسانوں کو انسانیت کے صحیح اور حقیقی مفہوم سے عملی آشنائی ہونے لگی۔ ہر قسم کے خرافات اور بے بنیاد رسم و رواج کی بندشوں میں جکڑا ہوا انسان آزاد ہو کر اپنے مقاصد زندگی، اور وجہ تخلیقات کو سمجھا۔ اپنے معبود حقیقی کو جانا، عبد و معبود کے رشتوں کو سمجھا۔یہی وجہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے لئے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا عشق غیر فانی دولت بن چکا ہے اور اس محبت کا اظہارشیدائیانہ کرتے رہتے ہیں اور بارہ ربیع الاول کے موقع پر مختلف طریقے سے اظہار مسرت کرتے ہیں۔جوگوناگوں احسانات و نوازشات کا ہلکا سا شکر یہ ہے۔ہر ملک اور قوم کے لوگ اپنے رہنما، لیڈر، اور دانشوروں کا یوم پیدائش مناتے ہیں جب کہ ان شخصیتوں سے فائدہ کسی ایک ملک یا ایک قوم کو یا کسی ایک خط کو یا کسی ایک خاص نظریات و مکتب فکر کو ہی ہوتا ہے مگر یوم پیدائش پر خراج عقیدت ضرور کرتے ہیں۔یہاں اس ذات گرامی کے یوم پیدائش کی بات اور خراج عقیدت پیش کرنے کا معاملہ ہے۔ جو ہر انسان، جانور، پرندے، چوپائے، پیڑ پودے اور ہر چیز کے نبی ہیں۔ سب کو وجود ان کے طفیل ہے سب کو ان سے برابر کا فائدہ ہے وہ تمام انسانوں کے نبی، کائنات کے ہر اشیاء کیلئے رحمت ہی رحمت۔ ان کو سب سے پیار ہے۔ انھوں نے جو بتایا سب کے لئے۔ جو کیا سب کیلئے۔ جو ان کی باتوں کو مانا، ان کی باتوں پر چلا۔ ان کے طریقوں کو اپنایا۔ اس کے وارے نیارے ہو گئے دنیا کی ہر بھلائی مل گئی اور آخرت کی سرخروئی بھی مل گئی اللہ کی خوشنودی بھی مل گئی۔ پھر ایسے عظیم محسن، ایسے پیارے نبی، جن سے بڑھ کر اللہ کے سواء کوئی نہیں کوئی شخصیت کتنی عظیم کیوں نہ ہو مگر سرکار دو جہاں سے اس کی نسبت ذرہ اور آفتاب جیسی ہے۔ کسی ذرہ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر آفتاب کی برتری کا عالم کچھ اور ہے۔ مگر محمدرسول اللہ کی عظمت کے آگے آفتاب بھی ایک ذرہ ہے آفتاب اپنی شعاعوں سے بیک وقت زمین کے نصف حصہ کو روشن کرتا ہے مگر نبی کریم کی ضوفشانی ان کے علم و حکمت نبوت و رسالت کی روشنی زمین ہی نہیں ہر عالم کے ایک ایک ذرہ پر پڑ رہی ہے۔12 ربیع الاول کی تاریخ، انسانی تاریخ کا عظیم ترین دن اس دن کو شایان شان طریقہ سے خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ پوری انسانی برادری اور انسانیت کو دنیا و آخرت کی بھلائی کے حسین طور طریقوں کو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کے آئنے میں اخذ کرنے پر گزرانا چاہئے۔ ہر جشن مسرت، ہر جلسہ میلاد بامقصد اور موثر ہونا چاہئیے۔ تمام مسلمانوں کو اس دن کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے گذشتہ کا احتساب اور آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرکے فلاح و صلاح انسانیت کے لئے ایک نئے جوش و جذبے کے ساتھ مشغول ہو جانا چاہئیے۔ اس تاریخ کے تمام جلسوں، میلادوں اور اجتماعات میں سرکار دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سماجی، سیاسی، معاشی، معاشرتی اور عائلی زندگی کے تابناک گوشوں کو اجاگر کرنے اور بیان کرکے عوام الناس کو بامقصد عملی زندگی کت آغاز کا سبق دینا چاہئیے۔ سرکار دو جہاں کی رحم دلی، امن طلبی، احترام انسانیت، حقوق اللہ و حقوق العباد، تبلیغ اسلام، سماجی بائیکاٹ، ترک وطن و ہجرت، کافروں مشرکوں کے ظلم و ستم عناد و دشمنی طرح طرح کی اذیت و فتنہ فسادات جو وہ حضور اور صحابہ کے ساتھ کرتے تھے۔ حضور کی رواداری، مساوات، عورتوں کے حقوق و احترام، بچوں کی تعلیم و تربیت و ذہنی تعمیر، حق کی پاسداری، برائیوں کی بیخ کنی کے حسین طریقے، آپسی بھائی چارگی، پڑوسیوں کے حقوق، وغیرہ پر روشنی ڈالنا انھیں بیان کرنا بہت ضرروی ہے تاکہ آج کے بھٹکے ہوئے انسانوں کو تباہ ہوتے سماج و معاشرہ کو سدھارنے کے لئے سچا جذبہ میسر آ سکے اور عظمت محمدیہ بھی اجاگر ہو اور دیگر اقوام پر بھی اچھے اثرات مرتب ہو سکیں۔ فلسفہ و حکمت اور باریکیوں کو عام اجتماعات و اجلاس میں بیان کرنے سے اپنی قابلیت صلاحیت کا دھاک بیٹھایا جا سکتا ہے مگر فرد عام کے ذہنوں کو صحیح سمت کا پتہ نہیں دیا جا سکتا۔ ہر مسلمان خواص سے عوام تک کی ذمہ داری اور عقیدت و محبت رسول کا تقاضا ہے کہ اپنے آپ کو رسول پاک کی سنتوں کے سانچے میں ڈھالنے کا عزم مصمم کر لیں اور ہر منزل پر ہر موقعہ پر انھیں سنتوں کی عملی تفسیر بن کر سامنے آئیں دل، زبان اور عمل اور میں یکسانیت پیدا کریں۔ ریاکاری و نام و نمود سے بچیں، خلوص و للہیت کو اپنائیں۔ ایثار و قربانی پر کمربستہ رہیں، صبر و استقلال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ صورت و شکل وضع قطع کو اسلامی تہذیب کا آئینہ بنائیں۔ ہاتھ، پاؤں اور زبان سے کسی کو اذیت نہ دیں۔ کسی بھی غریب ناچار مجبور کی طاقت بھر مدد کریں۔ مظلوم کی حمایت، حق کی پاسداری کریں، علماء کرام، حفاظ، مساجد کے اماموں کی عزت و احترام کریں۔ تعلیم کو عام کرنے میں بھرپور حصہ لیں۔ اچھی اور نیک باتیں بلا جھجک مگر شفقت و احترام کے ساتھ دوسروں کو بتائیں۔ اختلاف و انتشار سے بچنے اور بچانے کی پوری کوشش کریں۔ دینی اسلامی کتابوں کا مسلسل مطالعہ کرکے علم میں اضافہ کریں۔ بیحیائی، بیپردگی، اور عریانیت سے احتراز لازم رکھیں۔ اولاد کو دینی تعلیم بھرپور دیں۔ جہاں کہیں رہیں جس مجلس میں رہیں جس سوسائٹی میں رہیں مگر ایک سچے مسلمان بن کر رہیں اور اسلامی تعلیمات اداب و اخلاق کی عملی و زبانی تبلیغ میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مکی زندگی و مدنی زندگی اگر سامنے رہے تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر عیدمیلادالنبی کے موقع پر تمام مسلمانوں کو نیا عزم نیا حوصلہ اور عملی جذبہ عطا فرما کر سنت رسول پاک کا آئینہ بنائے آمین۔ ثم آمین

ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمدﷺ اور ربیع اول کا پیغام

اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے ’’اے محمد ؐ!کہو کہ اے انسانو !میں تم سب کی طرف اُس خدا کا پیغمبر ؐہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے ‘‘(الا عراف۱۵۸) دوسری جگہ فرمایا ’’درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول ؐ میں ایک بہترین نمونہ ہے ،ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوارہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے‘‘(الاحزاب۲۱) مسلم کی حدیث ہے کہ ایک دفعہ چند صحابہ ؓ نے حضرت عائشہ ؓ ام المومنین سے عرض کیا کہ آپ نبی اکرم ؐ کے کچھ حالات زندگی ہم کو بتائیں عائشہ صدیقہؓ نے تعجب سے دریافت کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا جو مجھ سے خلق نبی ؐ کے متعلق سوال کرتے ہو؟(مسلم )یعنی آپ ؐ کی ساری زندگی قرآن تھی۔۹ربیع لاول مطابق ۲۰ ؍اپریل۵۷۱ ء( الر حیق المختوم) کی صبح مکہ کے ایک معزز قبیلہ قریش(بنی ہاشم) میں عبداللہ بن عبدالمطلب کے گھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ دارالرقم میں نبوت کے پہلے ۳ سال خفیہ طریقے سے خاص خاص لوگو ں کو اللہ کی دعوت پہنچاتے رہے۔ شروع دنوں میں دعوت کامرکز حضرت ار قم ؓ کے گھر کو بنایا تھا۔ حضرت خدیجہؓ ،حضرت علیؓ ،حضرت ابوبکر ؓ حضرت زیدؓ یہ سب پہلے ہی دن مسلمان ہو گےٗ تھے ۔پھر اس زمانے کے رواج کے مطابق پہاڑ صفا کی چوٹی پر چڑ کر اعلان کیا، یاصباحا.یاصباحا یعنی صبح کا خطرہ صبح کا خطرہ، قریش کے لوگوں کو پکارا لوگ جمع ہو گےٗ آپ ؐنے فرمایا اگر میں آپ لوگوں سے کہوں کہ پہاڑ کی دوسری طرف سے دشمن حملہ کرنے والا ہے تو آپ لوگ میری بات پر یقین کریں گے سب نے کہا آپ ؐ سچے اور نیک آدمی ہیں ہم ضرور یقین کریں گے آپ ؐ نے فرمایا لوگومیں اللہ کا پیغمبر ؐہوں اور تمہیں ا للہ واحد کی طرف بلاتا ہوں بتوں کی پوجا سے بچاتا ہوں یہ زندگی چند روزہ ہے سب نے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ۔ قریش جب محسوس کیا کہ اسلام کی دعوت پھیل رہی ہے تو انہوں نے دھمکی کیلئے اپنے چند آدمی ابو طالب کے پاس بھیجے انہوں نے کہا تمہارے بھتیجے نے ہمارے خداؤں کو برا بھلا کہا لہذا آپ یا تو اس کو روک دیں یا درمیان سے ہٹ جائیں ہم اس کے لیے کافی ہیں ابو طالب نے اس کا ذکر رسول ؐ اللہ سے کیا مگر رسول ؐاللہ نے فرمایا چچایہ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے ہاتھ پر چاند رکھ دیں تب بھی میں یہ کام نہیں چھوڑوں گا ۔ حضرت حمزہؓ اور حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کے بعد قریش نے ایک نمائندہ عتبہ بن ربیعہ کو رسول ؐ اللہ کے پاس بھیجا ۔خانہ کعبہ کے اندر عتبہ نے رسول ؐاللہ سے ملاقات کی اور آپ ؐ کے سامنے قریش سے منظور شدہ گفتگو رکھی اورکہا ہماری قوم کے اندر آپ ؐ کا مرتبہ اور مقام ہے اب آپؐ ایک بڑا معاملہ لے کر آئے ہو جس سے قوم میں تفرقہ پڑھ گیا ہے آپ ؐ نے کہا میری سنو آپ ؐ نے سورۃ حم السجدہ تلاوت فرمائی عتبہ سنتا گیا اٹھا اور سیدھا ساتھیوں کے پاس گیا ۔ ابو طالب کو مقابلے کی دھمکی ، ابوجہل کا رسول اللہؐ کے سر پر بھاری پتھر رکھنے،عتبہ بن ابی معیط کا چادر لپیٹ کر گلا گھونٹنے، یہ سب باتیں سنگین خطرہ محسوس ہو رہی تھیں اس لیے ابو طالب نے جدِاعلیٰ عبدِمناف کے دونوں صاحبزادوں ہاشم اور مطلب سے وجود میں آنے والے خاندان کو جمع کیا اور کہا اب رسول ؐاللہ کی سب حفاظت کریں ابو طالب کی یہ بات عربی حمیت کے پیش نظر ان دونوں خاندانوں کے سارے مسلم اور کافر افراد نے قبول کی البتہ صرف ابو لہب مشرکین سے جا ملا۔ ایک دفعہ خانہ کعبہ میں سرداران قریش موجود تھے رسول ؐ بھی ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ ان ہی دنوں حج کا موسم تھا۔ قریش کو فکر ہوئی کہ رسول ؐ اللہ آنے والے حاجیوں میں اپنے دین کو پھیلائے گے لہذا کو ئی تدبیر کرنی چاہیے ۔ کافی سوچ بچار کے بعد ولید نے مشورہ دیا ہم کہیں گے جادوگر ہے اس بات کے بعد سب پھیل گئے اور آنے والے حاجیوں میں وہ پروپگنڈا شروع کر دیا اس سے لوگوں میں مشہور ہوگیا کہ آپ ؐنے دعویٰ نبوت کیا ہے ان کی اس حرکت سے دیار عرب میں آپ ؐ کا چرچا ہوگیا۔مکہ کے ۱۳؍ سال میں آپ ؐاور آپ ؐ کے صحابہ ؓ کو بہت ستایا گیا ۔رسول ؐاللہ نے کہا دین کے معاملے میں جتنا مجھے ستایا گیا ہے کوئی اور پیغمبر ؑ نہیں ستایا گیا۔ بازار کے اندر آپ ؐ لوگوں کودعوت دیتے پیچھے ابو لہب لوگوں کو کہتا یہ میرا بھتیجا ہے یہ جھوٹ کہتا ہے، خانہ کعبہ میں سجدے کی حالت میں سر پر اونٹ کی اوجھ ڈالی گئی، گردن میں چادر ڈال کرختم کر دینے کی کوشش کی گئی، دو بیٹیوں رقیہ ؓ اور ام کلثوم ؓ کوچچا ابولہب کے بیٹوں نے طلاق دی،طائف میں لہو لہان کیا گیا، رسول ؐاللہ کا بیٹا عبداللہ فوت ہوا تو ابولہب خوش ہوا دوستوں کو خوشخبری دی کہ محمد ؐ ابتر ہو گیا ہے،ابو لہب کی بیوی جو ابو سفیان کی بہن تھی رسول ؐاللہ کے راستے میں کانٹے ڈالتی تھی،آپ ؐ کے کافر پڑوسی جب آپ ؐ گھر میں نماز پڑھ رہے ہوتے تو وہ آپ کے سرپر بکری کی بچہ دانی ڈال دیتے ،چولھے پر ہانڈی چڑھائی جاتی تو بچہ دانی اس طرح پھینکتے کہ سیدھے ہانڈی میں جا گرتی،امیہ بن خلف کا وطیرہ تھا جب رسول ؐاللہ کو دیکھتا تو لعن طعن کرتا ، ۳ سال تک شعب ابوطا لب میں محصور رکھا گیا،قتل کرنے کی اور ملک بدر کرنے کی سازش کی گئی ۔صحابہ ؓ کو اتنا پریشان کیا گیا کہ وہ دو دفع حبشہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔جب ابو طلب بیمار ہوئے تو قریش کو فکر ہوئی کہ ان کی زندگی میں ہی کچھ معاملہ ہو جانا چا ہیے چناں چہ قریش ایک بڑا وفد جس میں عتبہ بن ر بیعہ ،شیبہ بن ر بیعہ ،ابو جہل بن ہشام، امیہ بن خلف، ابو سفیان بن حرب اور دیگر تقریباً ۲۵؍ افراد آئے ۔ رسول ؐ نے ان کی باتیں سن کر کہا آپ لوگوں کو میں ایک ایسا کلمہ نہ بتاوٗں جس کو اگر آپ مان لیں تو آپ عرب کے بادشاہ بن جائیں اور عجم آپ کے زیر نگیں آ جائے تو آپ کی کیارائے ہو گی قریش یہ سن کر حیران تھے آخر ابو جہل نے کہا اچھا بتاو ہم ایسی دس باتیں ماننے کے لیےٗ تیار ہیں آپ ؐ نے فرمایا’’آپ لوگ لا الٰہ الا اللہ کہیں اور اللہ کے سوا جو کچھ پوجتے ہیں اسے چھوڑ دو اس پر انہوں نے ہاتھ پیٹ پیٹ کر کہا ’’محمد ؐ !تم یہ چاہتے ہو کہ سارے خداوءں کی جگہ بس ایک ہی خدا بنا ڈالو؟۔ ۱۰ ؁ نبوت میں رسول ؐ طائف دعوت کی غرض سے تشریف لے گئے مگر انہوں نے شریر لڑکے آپ کے پیچھے لگا دیے آپ پر پتھروں کی بارش کی گئی آپ لہو لہان ہو گئے پہاڑوں کے فرشتے نے آکر کہا مجھے اللہ نے بھیجا ہے آپ ؐ کہیں تو ان کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس دوں مگر پھر بھی آپ ؐ نے ان کے ایمان لانے کی دعاء کی۔اس کے بعد اللہ نے اپنے رسول ؐ کو معراج کرائی ، دوسری باتوں کے علاوہ پانچ وقتہ نماز فرض کی گئی۔دوسرے پیغمبروں ؑ سے ملاقات کرائی،جنت دوزخ کا مشاہدہ کرایا،پھر اسی رات بیت المقدس سے مکہ تشریف لے آئے ۔رسول ؐاللہ طائف سے واپس آئے اُس کے بعد بیعت عقبہ ہوئی انصارِ مدینہ نے رسول ؐ اللہ کو مدینے آنے کی دعوت دی گئی۔ ان حضرات نے آپ ؐکو ایک معاہدے کے تحت مدینے میں بلایا۔ دو شنبہ ۸؍ ربیع الاول ۱۴ ؁نبوت یعنی ۱ ؁ ھ مطابق ۲۳ ستمبر ۶۲۲ ؁ ء کو رسولؐاللہ قباء میں دارد ہوئے مسلمانانِ مدینہ رسول ؐاللہ کے انتظار میں تھے ۔آپ ؐ کے دیدار کے لیے سارا مدینہ امنڈ آیایہ ایک تاریخی دن تھا جس کی نظیر سر زمینِ مدینہ نے کبھی نہ دیکھی تھی ۔ اسی دوران مسجد قباء کی بنیاد رکھی اور نماز ادا کی اس کے بعد رسول ؐاللہ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔رسولؐ کو مدینے میں بھی آرام سے اللہ کے دین کوپھیلانے کیلئے نہ چھوڑا گیا۔ طرح طرح سے رکاوٹیں ڈالی گئیں بدر، احد اور خندق کی جنگ کی،جنگ خندق کے موقعے پرتمام عرب کے مشرکوں نے مدینے کا محاصرہ کیا مگر اُنہیں شکست ہوئی۔ رسول ؐ اللہ نے ۱۰؍ رمضان ۸ ؁ ھ دس ہزار صحابہؓ کے ساتھ مکہ کا رخ کیا اللہ نے فتح عطا کی۔ فتح مکہ کے بعد آپؐ نے عام معافی کا اعلان کیا خانہ کعبہ میں داخل ہو کر سب بتوں کو توڑ ڈالا۔ رسول ؐ اللہ نے پہلے اللہ کی کبریائی بیان کی پھرفرمایا جاہلیت کے تمام دستور میرے پاوٗں کے نیچے ہیں،عربی کو عجمی سفید کو سیاہ پر کوئی فضلیت نہیں مگر تقویٰ،مسلمان بھائی بھائی ہیں،جو خود کھاوٗ غلاموں کو کھلاوٗ ،جاہلیت کے تمام خون معاف،سود پر پابندی،عورتوں کے حقوق،ایک دوسرے کا خون اور مال حرام،کتاب اللہ کو مضبوطی سے پکڑنے کی تاکید،حقدار کو حق،لڑکا اس کا جس کے بستر پر پیدا ہوا، اس کے بعد ایک لاکھ چالیس ہزار انسانوں کے سمندر کو آپ ؐنے فرمایا میر ے بعد کوئی بنی نہیں ہے اللہ کی عبادت کرنا پانچ وقت کی نماز رمضان کے روزے زکوۃ اللہ کے گھر کا حج اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرنا جنت میں داخل ہو گے ۔تم سے میرے متعلق پوچھا جانے والا ہے صحابہؓ نے کہا آپ ؐ نے تبلیغ کر دی، پیغام پہنچا دیا اور حق ادا کر دیا۔یہ سن کر شہادت کی انگلی کو آسمان کی طرف اٹھایا اور کہا اے اللہ آپ بھی گواہ رہیے۔اس خطبے کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں ’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بحیثیت دین پسند کر لیا‘‘ (المائدہ۳)اب رہتی دنیا تک یہ ہی دین غالب رہے گا ۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے آخری پیغمبر ہیں اور یہ دین آخری دین ہے۔ قیامت تک نہ کوئی نیا نبی آئے گا نہ نیا دین آئے گا۔ اب اس دین کو دوسری قوموں تک پہنچانے کا کام امت محمدی ؐ کرے گی لہٰذا ہمارے لیے سبق ہے کہ ہم اپنے اعمال ٹھیک کریں اسلام کے دستور میں جتنی بھی انسانوں کی خواہشات داخل کر دی گئی ہیں انہیں ایک ایک کر کے اپنے دستو ر عمل سے نکال دیں اور اپنے ملک میں اسلامی نظام، نظام مصطفی، حکومت الہیہ کو قائم کریں او ر پھر اس دستور کو دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچائیں جنت کے حق دار بنیں اور جہنم کی آگ سے نجات پائیں جو کافروں کیلئے تیار کی گئی ہے اپنی آخری منزل جنت میں داخل ہوں جہاں ہمیشہ رہنا ہے جہاں نہ موت ہو گی نہ تکلیف ہو گی اللہ مومنوں سے راضی ہو گا اور یہی کامیابی ہے۔ یہی ربیع الول کا پیغام ہے۔

وزیراعظم کا کچھ اچھا کرگزرنے کا عزم .. . !

یقین جا نیے کہ آج حکمرانوں کے منہ سے کشکول توڑنے اور بھیک سے نجات دِلاکر مُلک اور قوم کی ترقی اور خوشحالی کے وعدوں اور دعوؤں کی باتیں سُنتے سُنتے قوم کے کان پک گئے ہیں،ماضی میں جتنا کہا جاتارہا، اگر اِس میں ایک فیصد بھی سچ ثابت ہوجاتاتو مُلک اور قوم کا حال اِتنا بُرا نہ ہوتا جیسا کہ آج ہے ، اَب قوم کو وعدوں ، دعووں اور اعلانات سے بہلایا نہیں جاسکتاہے،یہ 21ویں صدی ہے ،دنیا حقائق جاننے اور سچ دیکھنے اور پرکھنے کی عادی ہوگئی ، خوابوں کی باتیں پرا نی ہوگئیں ہیں، اَب جو کچھ کرنا ہے ، حق اور سچ کی بنیا د پر فوراََ کردکھانا ہوگا ، ورنہ ، سب کچھ بیکا ر ہوگا ۔ اَب جیسا کہ موجودہ حکومت سو دن بعد اور چھ ماہ میں مُلک اور قوم کی ترقی اور خوشحالی کو سُرخاب کے پَر لگانے کی باتیں کررہی ہے ۔جو کہ اچھی بات ہے مگراِس میں کتنی صداقت ہے۔ یہ تو آنے والے دِنوں میں لگ پتہ جائے گا کہ سر پر کتنے بال ہیں ؟ بس قوم ہمیشہ کی طرح انتظار کرے ، کیوں کہ ستر سال سے حکمرانوں نے قوم کو اچھے دن کا انتظار ہی تو کرایا ہے ،ابھی پاکستا نی قوم اِسی اُمید پر کچھ دن اور زندہ رہ لے، تواِس میں کیا حرج ہے ۔؟ دیکھ لیتے ہیں کہ یہ حکومت آسمان سے کون سے ستارے توڑ لگائے گی؟بہر کیف ،پچھلے دِنوں ایک بار پھر وزیرخزانہ اسد عمراور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اپنے سینہ چوڑے کرکے اور گردنیں تان کر دعوے کئے ہیں کہ ادائیگیوں کا توازن کا اب کوئی بحران نہیں ، وہ ختم ہوچکا، 12ارب ڈالر کاخلا تھا،سعودی عرب نے چھ ارب ڈالر فراہم کئے اور باقی کچھ رقم چین سے ملی ہے، ہم نے نہ صرف پرانے معاہدوں پر نظرثانی کی ہے، بلکہ نئے معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے ہیں،سی پیک سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے کا بھی موقع ملا ہے ، ہماری توجہ طویل المیعاد استحکام پر مرکوز ہے، مستقل توازن کیلئے برآمدات میں اضافہ ضروری ہے ،دوسرے سے باہمی اسٹرٹیجک تعلقات کو اقتصادی پارٹنر شپ میں بدلنے کا موقع ملا، پندرہ معاہدے ہوئے ، بیجنگ کے تعاون سے برآمدات کو دوگنا کیا جائے گا ‘‘وغیرہ وغیرہ ایسے کئی سُنہرے خواب دکھاکرقوم سے دعوے کئے گئے ہیں یہ ساری باتیں اپنی جگہ ہیں۔ مگر یہ ٹھیک ہے کہ چین اور سعودی عرب کے دوروں کے دوران پاکستان کو بہت کچھ ملا ہے، اَب ایسا بھی نہیں ہوناچاہئے کہ حکومت ہر چیز اپوزیشن اور عوام کے سامنے سب کچھ کھول کر رکھ دے اور اپوزیشن کے ہر سوال کا جواب دے ، کچھ نکات ایسے ہوتے ہیں۔ جن کے ثمرات وقت آنے کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ یقین ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور اِن کی ٹیم کا دورہ چین اور سعودی عرب مُلکی معیشت اور قوم کی ترقی کیلئے سنگِ میل ثابت ہوں گے۔سُو،اپوزیشن کو ہر دورے پر یہ سوال خود بھی نہیں کرناچاہئے کہ ملاکیا ہے؟اِس حکومت سے پہلے والی حکومتوں نے اپنے دوروں کے بعد کِسے کیا جواب دیاتھا جو موجودہ حکومت کسی کواپنے دوروں سے متعلق بتائے۔ بے شک یہاں یہ امر قابل ستائش ہے کہ میری پاکستا نی قوم میں بڑی لچک اور صلاحیت ہے ، یہ ستر سال سے ہر قسم کے حالات کا جانفشانی سے مقابلہ کررہی ہے، گر کر اُٹھنے اور اپنی منزل پالینے کا یہی جذبہ تو ہے ،جو اِسے زندہ قوموں میں شمار کئے ہوئے ہے ۔اگر یہ بھی اِس میں نہ ہوتاتو یہ کب کی مایوسیوں کی گہری کھا ئی میں گر چکی ہوتی ، تاہم موجودہ حکومت کے آگے بڑھنے اور قوم کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دِلانے والے عزم اور حوصلے سے پوری پاکستانی قوم کو قوی اُمیدہوچلی ہے کہ اگلے آنے والے دن ، ہفتے ، ماہ اور سال ماضی سے بہت بہتر ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر پاکستانی کو محسوس ہونے لگاہے وہ وقت کوئی زیادہ دور نہیں ہے جب کئی ہزار ارب کے بوجھ تلے دبی سرزمین پاکستان قرضوں سے چھٹکارہ پا ئے گی اور معاشی واقتصادی اور سیاسی و سماجی لحاظ سے ایک نئے اور وتابناک پاکستان کے روپ میں دنیا کے نقشے پر چکمگاتی ، چہچہاتی ،لہراتی اور بل کھاتی ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کرتی نمودار ہوگی اور چار دانگِ عالم میں اِس کی بھی کامیابیوں کے ڈنکے بجیں گے۔آج سوفیصد وزیر اعظم عمران خان اوراِن کی حکومت کا عزم بتارہا ہے کہ یہ کچھ ایسا اچھا کر گزرنے کی لائن پر گامزن ہیں، جو پچھلی کئی دہائیوں سے کوئی حکومت نہیں کرسکی تھی ، وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے اِس جذبہ متحرک اور اضطراب کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اَب یقینی طور پربائیس کروڑ پاکستانیوں کے بھی اچھے دن آنے کو ہیں، بس قوم کسی کی باتوں پر کان نہ دھرے ،اور حکومت کے سو دن گزرنے کا انتظار کرنے کے ساتھ ساتھ جنازوں پہ نہیں ، جہالت پر رونا دھونا شروع کردے تو میری قوم کے بھی سُنہرے دن ضرور آجا ئیں گے۔اِس موقع پرقوم کیلئے بس سمجھنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہ اپوزیشن کی جھوٹی باتوں کو سُنتی رہی اور مایوسیوں کے سمندر میں ڈوبتی رہی تو پھر مایوسی کے اندھیرے قوم کے حوصلے پست سے پست کرتے جا ئیں گے اور ہاتھ اِس کے سِوائے مایوسیوں کے کچھ نہیںآئے گا۔حالانکہ پاکستانی قوم یہ بات بھی اچھی طرح سے جانتی اور سمجھتی ہے کہ پاکستان کو غریب اور مفلوک الحال عوام سے زیادہ ستر سال کے عرصے میں ہر دومیں آنے والے سِول اور آمر حکمرانوں اور اِن کے قیمتی غلاموں اوراِن کے چیلے چانٹوں نے ہی لوٹ کھایاہے مگر پھر بھی تعجب یہ ہے کہ اِن قومی لٹیروں کی کرپشن نے قوم کی آنکھیں ابھی تک بند کی ہوئیں ہیں۔افسوس ہے کہ ماضی کے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور اِن کے گولڈن چیلے چانٹوں ا ور غلاموں نے مل کر قوم کی غربت کا چہر ہ دنیا کو دکھا کر قرضے لئے اور پوری قوم کو بھوک و افلاس، تنگدستی، عدم تحفظ، ناانصافی اور غیر یقینی پن کے دلدل میں دھنسا کر اپنی آف شور کمپنیاں بنائیں اور سوئیس بینکوں میں اپنے اور اپنے خاندان کے افراد اور دوستوں یاروں کے ناموں سے کھاتے کھلواکر اربوں روپے رکھوا ئے اور اَب جو اپنی گردنوں کے گرد قانون کا شکنجہ تنگ ہوتا دیکھ کر کنی کٹا کر چلتے بننے کی راہیں تلاش کررہے ہیں آخر کارعبرت ناک انجام کو پہنچتے قومی لٹیروں کو لگ پتہ گیاہے کہ کفن کی جیب نہیں ہوتی ہے اِسی لئے اپنے کڑے احتساب سے بچنے کیلئے گلے پھاڑ پھاڑ کر چیختے چلاتے پھر رہے ہیں کہ ہم پر منی لانڈرنگ کا محض الزام ہے ، مگراصل میں بیک ڈور سے چاہ رہے ہیں کہ چاہے ہمارا سب کچھ لے لو، مگر ہماری جان چھوڑدو۔

تیسری کانفرنس برائے انسداد منشیات

khalid-khan

منشیات ایک لعنت ہے۔منشیات معاشروں کو تباہ کرتا ہے اور جوانوں کو نگل لیتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق وطن عزیز میں پچاس لاکھ افراد منشیات کا استعمال کررہے ہیں۔اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اب تو ہمارے تعلیمی ادارے بھی منشیات سے محفوظ نہیں ہیں۔ہمارے ملک کی تعلیمی اداروں میں منشیات کااستعمال عام ہورہا ہے۔یہ سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ تعلیمی اداروں کا کردار سنوارنے میں کلیدی رول ہوتا ہے لیکن ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں دھیرے دھیرے منشیات کا استعمال بڑھ رہاہے ۔منشیات کے استعمال سے ہماری نئی نسل برباد ہورہی ہے۔نئی نسل ہمارا مستقبل ہے اور ان کو بچانے کیلئے ہمیں اپنا رول ادا کرناچاہیے۔وطن عزیز اورتعلیمی اداروں میں منشیات کے بارے میں ہر محب وطن فکر مند ہے۔پاکستان اور ہمارے تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے سول سو سائٹی نیٹ ورک برائے انسداد منشیات پاکستان کے چےئرمین اکمل اویسی پیرزادہ ، ان کے رفقا ء اور دیگر ادارے کوشاں ہیں۔اس سلسلے میں سرزمین اولیا ء کرام ملتان کے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں پاکستان سول سوسائٹی نیٹ ورک برائے انسداد منشیات اور دیگر تنظیموں کے تعاون سے تیسری کانفرنس برائے انسداد منشیات کا انعقاد کیا گیا۔ملتان کے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں منعقدہ تیسری کانفرنس برائے انسداد منشیات میں صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر و بیت المال پنجاب محمد اجمل چیمہ نے کہا کہ طلباء و طالبات ہمارا سرمایہ ہیں ۔وہ معاشرے میں بہتری اور انسداد منشیات کیلئے میدان عمل میں آئیں۔منشیات کے عادی افراد کا علاج و معالجہ ہماری ترجیج ہونی چاہیے اور انہیں حکومت کے مفت علاج کے بارے میں ترغیب بھی دینا ہوگی۔وائس چانسلر بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ڈاکٹر طاہر آمین نے کہا کہ ہمیں اپنے سوچنے کا انداز فکر بھی تبدیل کرنا پڑے گا۔ انسداد منشیات کیلئے مقامی سطح پرعملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سول سو سائٹی نیٹ ورک برائے انسداد منشیات پاکستان کے چےئرمین اکمل اویسی پیرزادہ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔ مقررین نے منشیات کو معاشرہ کیلئے ناسور قرار دیا اور معاشرہ کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے کوشش تیز کرنا کاتہیہ کیا۔تعلیمی اداروں کو منشیات سے سو فی صد پاک کرنے کیلئے عملی اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔تیسری کانفرنس برائے انسداد منشیات میں چاروں صوبوں ، گلگت بلستان اور آزاد کشمیر سے مندوبین نے شرکت کی۔ کانفرنس سے قبل ملتان میں پاکستان سول سوسائٹی نیٹ ورک برائے انسداد منشیات کی باڈی میٹنگ ہوئی۔ملتان پریس کلب تک واک کی گئی۔ کانفرنس کے بعد پوسٹرز کا مقابلہ ہوا۔ واضح ہوکہ پہلی کانفرنس برائے انسداد منشیات پاکستان سول سوسائٹی نیٹ ورک برائے انسداد منشیات اور محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نار کو ٹکس کنٹرول حکومت پنجاب کے تعاون سے نظریہ پاکستان ٹرسٹ ہال ایوان کارکنان تحریک پاکستان مادر ملت پارک 100شاہراہ قائداعظم لاہور میں منعقد ہوئی تھی جس میں ملک بھر سے سول سوسائٹی نیٹ ورک برائے انسداد منشیات پاکستان کے عہدیدار شریک ہوئے تھے۔اس کانفرنس میں تمام مندوبین کو اس بات پر اتفاق تھا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو نوجوان نسل کو منشیات کے خوفناک اثرات سے بچانے کیلئے متحد ہوکر حکومتی اداروں کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ دوسری قومی کانفرنس برائے انسداد منشیات پاکستان کو اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسپیشل ایجوکیشن میں منعقد کیاگیا جس میں سول سو سائٹی نیٹ ورک برائے انسداد منشیات پاکستان کے ملک بھر سے عہدیداران نے شرکت کی۔کانفرنس کا مقصد نوجوانوں خصوصاً طلبہ کو منشیات سے بچانے کیلئے مثبت کاوشیں کرنا اور وطن عزیز کو منشیات سے نجات دلا کرخوشگوار ماحول فراہم کرنا ہے۔قارئین کرام!منشیات فروش ملک و ملت کے دشمن ہیں جو اپنے ہم وطنوں خصوصاً نوجوان نسلوں کو برباد کرکے ملک وقوم کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔منشیات فروش صرف چندروپوں کی خطر ایسے کونپوں اور شگوفوں کو شاخوں سے توڑ کر گندگی اور غلاظت کے ڈھیر پر رکھ دیتے ہیں جنہیں کشت حیات میں قاصد بہار بننا تھا۔ہمارے وسیب میں منشیات نے اغیار کی سازشوں اورملک دشمن عناصر کی باعث راہ پائی ہے۔ بیرونی اور اندورنی دشمنوں کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو جسمانی اور ذہنی لحاظ سے مفلوج کریں تاکہ وہ دنیا میں اپنامثبت اور متحرک کردار ادا نہ کرسکیں۔منشیات کی روک تھام کسی ایک شخص، ادارے یا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ اس مسئلے کو قومی سطح پر مل کر بہتر انداز سے حل کیا جانا چاہیے ۔ سول سو سائٹی نیٹ ورک برائے انسداد منشیات پاکستان کے چےئرمین اکمل اویسی پیرزادہ اور ان کے رفقا ء ملک بھر میں منشیات کے خلاف صدا بلند کررہے ہیں۔ان افراد کیساتھ تعاون کریں جو انسداد منشیات کیلئے کام کررہے ہیں اور ان کے دست وبازو بن کر ان کاساتھ دیں۔سب کا فرض ہے کہ وہ انسداد منشیات کیلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ وطن عزیز اور ہمارے تعلیمیادارے منشیات سے پاک ہو جائیں تاکہ ہماری نئی کا مستقبل محفوظ اور روشن ہو۔

کراچی کا امن مزید بہتر بنانے کا عزم

adaria

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے رینجرز ہیڈ کوارٹرز سندھ کے دورے کے دوران اپنے عزم کو دوہراتے ہوئے کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کا انجن ہے اس کے امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنائیں گے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کورکمانڈر کراچی لیفٹنٹ جنرل ہمایوں عزیز کے ہمراہ رینجر ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا۔اس موقع پر ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید نے آرمی چیف کو صوبے بھرکی سکیورٹی اور کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی، جنرل قمر جاوید باجوہ نے امن وامان کے لیے رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں کو سراہا.سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ امن و امان کی بہتری سے کراچی میں تجارتی سرگرمیاں مثبت انداز میں جاری ہیں، شہر کی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔بلاشبہ افواج پاکستان نے ملک کے امن و امان کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں،جس سے ملکی معیشت پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوئے خصوصا کراچی کے امن کی بحالی سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔اس وقت ملک کو جن اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کے لیے افواج پاکستان ہر وقت سر بکف رہتی ہیں۔تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام ریاستی ادارے باہم یکسو ہو کر ریاستی و حکومتی معاملات کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں تو کسی ملک کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات بھی نہ ہو ۔ بھارت جو روز اول سے ہی پاکستان کی سالمیت کے درپے ہے کو ہمارے اندرونی سیاسی و اقتصادی عدم استحکام سے سازشوں کا جال پھیلانے کا موقع ملتا جاتا ہے۔اس تناظر میں ہمیں اپنی جری افواج کے پیچھے کھڑا ہونا ہو گا۔ بطور ادارہ پاک فوج پر پوری قوم کو فخر ہے کہ جہاں وہ مکمل جانفشانی اور جاں نثاری کے ساتھ دفاع وطن کی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہی ہے وہاں وہ ملکی معاشی استحکام کے لیے بھی فکر مند رہتی ہے۔اسی لیے رینجرز ہیڈ کوارٹرز سندھ کے دورے کے دوران آرمی چیف نے اس عزم کا اظہار کیاکہ کراچی پاکستان کی معیشت کا انجن ہے اس کے امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنائیں گے۔ایک وقت تھا کہ کراچی پر دہشتگردی کا راج تھا اور بڑے بڑے سرمایہ کار کراچی چھوڑنے پر مجبور ہو رہے تھے۔کراچی کا امن مکمل طور پر سوالیہ بن چکا تھا ایسے میں پاکستان رینجرز نے کراچی کی کمان سنبھالی اور جس جانفشانی سے اس معاشی حب کو بھتہ مافیہ کے شکنجے سے نکالا وہ لائق تحسین ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اپنے دورے کے دوران امن وامان کے لیے رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں کو سراہا۔ رینجرز کے اس فریضے کی ادائیگی کے باعث ہی کراچی میں آج امن لوٹ آیا ہے اور دہشت گرد اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔پاک فوج کا یہی وہ کردار ہے جس پر ہر شہری بجا طور پر فخر کرتا ہے ۔عسکری قیادت کی جانب سے امن و امان کی حکمرانی یقینی بنانے کیلئے کردار ادا کرنے کا عزم بھی اسی تناظر میں کیا جاتا ہے کہ پرامن معاشرے کی بنیاد پر ہی معاشی و اقتصادی استحکام ممکن ہے ۔ اگر لاقانونیت کا دور دورہ ہو جیسا کہ آج سے دو تین سال قبل کراچی سنگین صورتحال سے دوچار تھا تو پھر ملکی معیشت کا پہیہ جام ہو کر رہ جاتا ہے۔ہمارے ازلی دشمنوں کی یہی خواہش تھی کہ پاکستان کو معاشی دہشت گردی کے ذریعے اتنا کمزور کر دیا جائے کہ اس کی سالمیت سوالیہ نشان بن جائے .یہ حقیقت ہے کہ دشمن اپنی اس چال میں کسی حد تک کامیاب ہوتا بھی دکھائی دے رہا تھا مگر خدا کا شکر ہے کہ افواج پاکستان نے اس گھناونی سازش کا بروقت قلع قمع کر کے ملک کا مستقبل محفوظ بنا دیا ہے تاہم ابھی کچھ عناصر لسانی بنیادوں پر امن دشمن سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور ملک کے امن میں دراڑ ڈالنے کے لیے ملک دشمن طاقتوں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ایس پی طاہر خان کے قتل اور ان کے جسد خاکی کی واپسی کے موقع پر پیدا ہونے والی صورتحال سے خطرے کی جو گھنٹی بجی ہے اس سے نمٹنا بھی ضروری ہے۔نئی حکومت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ اپنے سکیورٹی اداروں کی پشت پر کھڑے ہو کر بر وقت سبیل کرے ۔ہزاروں قربانیوں کے بعد قبائیلی علاقوں پر ریاستی رٹ بحال ہوئی ہے اگر تھوڑی سی غفلت سے کام لیا گیا تو ساری محنت غارت ہو جائے گا۔

گوگل کی پاکستان کے حوالے سے حوصلہ افزا رپورٹ
معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے پاکستان کو تیزی سے ابھرنے والا ڈیجیٹل ملک قرار دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ متعدد برانڈز کے لیے یہاں لاتعداد مواقع موجود ہیں جہاں وہ اپنے صارفین سے براہ راست رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔گوگل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں چھوٹے اور محدود پیمانے پر لاتعداد کاروبار انٹرنیٹ کی بدولت پروان چڑھ رہے ہیں اور اسے بتدریج مزید تقویت مل رہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں اضافہ اور بڑا سرمایہ رکھنے والی غیر ملکی کمپنیوں کی دلچسپی ہے۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان کی آبادی 20 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے شہری علاقوں کا پھیلا تیزی سے ہورہا ہے، لوگ دیہی علاقوں سے نکل کر شہر کی زندگی اپنا رہے ہیں۔جس کا مطلب ہے کہ ہر روز انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے۔پاکستان کے موجودہ فی کس جی ڈی پی جو اس وقتایک ہزار 641 ڈالر ہے کی رفتار کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر جی ڈی پی کی یہی رفتار برقرار رہی تو 2030 میں پاکستان چوتھی بڑی ابھرتی ہوئی معاشی ریاست بن جائے گا۔پاکستان میں تقریبا 5 کروڑ 90 لاکھ اسمارٹ فون کے صارفین ہیں جس میں اندازا 83 فیصد ‘اینڈرائڈ موبائل’ استعمال کرتے ہیں، اس حقیقت کے تناظر میں آئندہ برسوں میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوگا، اسی طرح پاک ۔ چین اقتصادی راہداری کو بھی اس کی ایک وجہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سی پیک منصوبوں کے تحت چین 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے اور اسی منصوبے کے تحت ملک کے اندر انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے 820 کلومیٹر لمبی فائبر اپٹک کیبل بھی ڈالی جارہی ہے، جس کے نتیجے میں انٹرنیٹ تک رسائی مزید بڑھ جائے گی۔یہ خوش آئند رپورٹ ہے جو یقیناًسرمایہ کاروں کو بھی متوجہ کرے گی جس کے ملک کی اقتصادی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔

پاکستان میں دخل اندازی پر غیر ملکی طاقتوں کو انتباہ

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے غیرملکی ریاستوں اور انکے جاسوس اداروں کو کھلے الفاظ میں وارننگ دی ہے کہ وہ بلوچستان میں دہشت گردوں کو مدد فراہم کرکے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں ترک کر دیں۔ دہشت گردوں کو کیفرکردار کو پہنچایا جائیگا اور انکے سرپرستوں‘ کمین گاہیں فراہم کرنیوالوں اور مالی مدد دینے والوں کو پاکستان میں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔بلوچستان میں بیرونی ریاستوں اور انکی ایجنسیوں کی پاکستان کی سلامتی کے منافی سرگرمیاں کوئی آج کا معاملہ نہیں‘ بدقسمتی سے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کبھی مثالی نہیں رہی جو وہاں کی اب تک کی حکومتوں کی انتظامی اتھارٹی پر گرفت کمزور ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔ اسی طرح وفاق کی رقبے کے اعتبار سے بڑی اکائی ہونے کے باوجود وہاں پسماندگی اور بلوچ عوام میں بنیادی سہولتوں اور وسائل سے محرومی کے باعث پروان چڑھنے والے احساس محرومی نے بھی بلوچستان میں عدم اطمینان اور غیریقینی کی کیفیت پیدا کئے رکھی ہے اور یہی وہ ماحول ہے جس سے احساس محرومی کا شکار بلوچ عوام کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کا ملک کی سلامتی کے درپے بیرونی عناصر کو موقع ملتا ہے۔ بدقسمتی سے بھٹو کی سول حکمرانی میں بھی بلوچستان کی محرومیوں کے ازالہ کی جانب کوئی توجہ نہ دی گئی اور جرنیلی آمروں ہی کی طرح ریاستی طاقت کے زور پر انکی آواز دبانے کے حربے اختیار کئے گئے جبکہ ضیاء الحق اور مشرف کی جرنیلی آمریتوں کے دوران بلوچستان میں فوجی اپریشن بھی شروع کئے گئے جس نے جلتی پر تیل ڈالا اور ناراض بلوچوں نے بلوچستان لبریشن آرمی کی شکل میں اپنی عسکری تنظیم تشکیل دے ڈالی۔ ہماری سلامتی کے درپے بھارت کو پاکستان کی کسی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کیلئے ایسے ہی مواقع کی تلاش رہتی ہے چنانچہ اس نے بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی سرپرستی کرکے اپنی ایجنسی ’’را‘‘ کے ذریعے سازشوں کے جال بچھانا شروع کر دیئے۔ مشرف کے فوجی اپریشن کے دوران ناراض بلوچوں نے کابل اور دوسرے ممالک میں جلاوطنی اختیار کی جن کی بھارت نے سرپرستی کرکے انکے علیحدگی کے مقاصد کو تقویت پہنچائی چنانچہ بلوچستان میں بالخصوص پنجابی آباد کاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا جبکہ بلوچستان کی حکومتیں بدامنی پر منتج ہونیوالے ایسے واقعات کے سدباب میں قطعی ناکام رہیں۔ مشرف حکومت نے بلوچستان میں امن و امان کی ذمہ داری ایف سی کے سپرد کی جس کے اقدامات سے بلوچ قوم میں مزید غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور وفاق کے ساتھ نفرتوں کی خلیج بڑھتی گئی۔ بدقسمتی سے مشرف دور کے بعد بھی سیاسی فہم و ادراک سے معاملات سلجھانے کے بجائے مشرف دور کی پالیسیاں ہی برقرار رکھی گئیں جس کے تحت لوگوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ بھی برقرار رہا۔ بلوچستان میں نظر آنیوالی حکومتی کمزوریوں سے بھارت ہی نہیں‘ افغانستان اور ایران نے بھی فائدہ اٹھایا جس کے جاسوسی نیٹ ورک وہاں بدامنی پھیلانے کا باعث بنتے رہے ہیں جبکہ دہشت گردی کی پے در پے وارداتوں میں بلوچستان کی ہزارہ کمیونٹی کو ٹارگٹ کرکے فرقہ ورانہ کشیدگی بھی بڑھائی گئی۔ اس صورتحال میں سوائے منافرت کی فضا کے بلوچستان میں اور کچھ بھی پروان چڑھتا نظر نہیں آیا۔ سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کے معاملہ کا نوٹس لیا‘ کوئٹہ میں بیٹھ کر مقدمات کی سماعت کی جس کے دوران ایف سی کی جانب سے پیش کی جانیوالی رپورٹوں سے مزید غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ آرمی چیف نے بلوچستان میں شورش کی پشت پناہی کرنے والی طاقتوں کو نہ صرف واضح الفاظ میں للکارا ہے بلکہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والی ریاستوں اور غیر ملکی ایجنسیوں کو انتباہ بھی جاری کیا۔ جنرل راحیل شریف نے اپنے دور امریکہ کے دوران بھی بلوچستان میں بھارتی در اندازوں اور بھارت نواز دہشت گردوں کے مسئلے کو اْٹھایا تھا۔ ان سے قبل سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے شرم الشیخ میں منموہن سنگھ سے ملاقات میں بھی اس امر پر شکوہ کیا تھا کہ بھارت بلوچستان میں مسلح عسکریت پسندوں کی ہمہ جہتی مدد کر رہا ہے۔ سابق وزیر داخلہ اسمبلی کے فلور پر ایک سے زائد بار یہ کہہ چکے تھے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال کی دگر گونی اور دہشت گردانہ و تخریب کارانہ کارروائیوں کے پیچھے غیر ملکی قوتوں کا ہاتھ ہے۔ تربت میں سندھی اور پنجابی 20 مزدوروں کے اذیت ناک قتل کی تحقیقات کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ اس واردات میں را اور اس کے گماشتے ملوث ہیں۔ بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ اب آرمی چیف نے بھی انتباہ کیا ہے کہ بیرونی قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے سے باز آ جائیں۔ غیر ملکی ایجنسیاں بلوچستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑ دیں۔ بلوچستان میں غیر ملکی طاقتوں اور ایجنسیوں کی کار فرمائی کی تاریخ سے ہر باخبر اور باشعور پاکستانی آگاہ ہے۔ محب وطن بلوچ قیادت اور عوام بھی بلوچستان میں قیام امن کی دیرینہ خواہش کی تکمیل چاہتے ہیں۔ بلوچستان میں بھارتی اور افغان ایجنسیوں کی مداخلت اورو ہاں افراتفری پیدا کرنے کے واقعات کے ثبوت میرظفراللہ جمالی سے اب تک کے تمام حکمرانوں کے پاس موجود ہیں جن کا گاہے بگاہے تذکرہ اور کبھی اس پر احتجاج بھی سامنے آتا رہتا ہے مگر یہ ثبوت کیا ہیں‘ بلوچ عوام کو بھی اس سے بے خبر رکھا جاتا ہے۔ کیا اب وقت نہیں آگیا کہ یہ سارے ثبوت اب پارلیمنٹ کے ذریعے قوم کے سامنے لائے جائیں اور پھر عالمی اداروں کے ذریعے بھارت اور دیگر ممالک پر دباؤ بڑھایا جائے۔

شہید طاہر داوڑ کا سانحہ۔امن کو سبوتاژ کرنے کی سازش

حقیقت کو خود منوالیتی ہے مانی نہیں جاتی’پاکستان پولیس فورس کے نڈر’بے باک’دلیر اپنے فرائض کے آئینی اور محکمہ جاتی ذمہ داریوں کو ہر قیمت پر نبھانے والے آفسر’ایس پی شہید محمد طاہر داوڑ’اپنے دوستوں کے ساتھ خود اپنے گھر سے کہیں نہیں گئے تھے اْنہیں افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس سے ملی بھگت کرکے پی ٹی ایم کے سرکردہ غیر ملکی پاکستان دشمنوں نے اور مسلح افواج سے سخت مخاصمت رکھنے والے آلہ کاروں نے اغوا کیا تھا شہید ایس پی محمد طاہر کے بارے میں جوکچھ بھی میڈیا میں دیکھایا جارہا ہے سنایا جارہا ہے وہ سب جھوٹ کا پلندہ ہے ایک بے گناہ پولیس افسر کو ناحق قتل کرنے والے آسمانی عذاب سے محفوظ نہیں رہ سکتے افغان خفیہ ادارے اپنے اندرونی امن وامان کی خلفشاریوں بدامنیوں کی انارکی کی کیفیات کو چھپانے میں جب ہاتھ پاوں چھوڑ دیتی ہیں تو وہ یہی حربے اور ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں جیسا کہ این ڈی ایس نے پاکستانی قبائلی علاقوں میں پنپنے والی تنظیم پی ٹی ایم کی مذموم سرپرستی کرکے شروع کیئے ہوئے ہیں یاد رہے ڈاور شہید ایک شاعر تھے شاعر کے جذبات واحساسات اْس کے اندر کی دنیا کو نمایاں کردیتے ہیں واہ شہید کی کیا شاعری ہے سبحان اللہ! ‘میں برباد ہوا’میراجہان تباہ ہوا‘گھر اور سب کچھ اجڑتوگیا ہے’صبح کی بلبل نے رنگین نغمہ گانا چھوڑ دیا’ ہر طرف آنسوہی آنسو’ آہیں درد سے بھری ہوئی فریاد کی صداؤں نے فضاکو پرنم بنادیا ہے‘ یہ کیا کہ شاعراس ناکردہ جرم سے لاعلم’ میرے ساتھ یہ کیوں ہو رہا ہے، میرا جرم ہے کیا، لیکن کوئی بھولے نا، ظالم کو اس کے اْس کے ظلم کا مزہ اس وقت معلوم ہو گا جب اس کا اپنا بیٹا کسی کے ہاتھوں اپنے باپ کے ظلم وستم کا حساب دے گا اور جب اْس کے اپنے ہولناک و دردناک موت کامزہ چکھیں گے وقت نے کب کسی ظالم کو چھوڑا ہے‘ پاکستان کے بہادر سپوت سرزمین پاکستان کے جراّت مند غیرت ایمانی کے پیکر پولیس فورس کے قابل ستائش افسر ایس پی شہید محمد طاہر داوڑ اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور سپاہی ہونے کے ساتھ ادبی اور سماجی حلقوں میں بھی کافی مقبول اور جانے پہچانے جاتے تھے، انہوں نے پشتو زبان میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی اکثراوقات وہ پشتو زبان میں شعر و شاعری بھی کیا کرتے تھے، اُ نھوں نے پشتو زبان میں کئی غزلیں اور نظمیں لکھیں ‘جنہیں مقامی فنکاروں نے میوزک کے ساتھ گایا بھی ہے’ان کی شہادت کی تصدیق ہونے کے بعد اُن کی لکھی ہوئی ایک دکھ بھری نظم مختلف واٹس ایپ گروپس میں آڈیو کی شکل میں قبائلی علاقہ کے اْن لوگوں نے سنی ہوگی دیکھی ہوگئی ،جن کی نجی محفلوں میں بیٹھ کر شہید طاہر داوڑ اکثر گنگنایا کرتے جب اْنہیں پتہ چلتا کہ سوات کی دلکش وادی کو دہشت گردوں نے ‘موت کی وادی’ بنادیا ہے جب اْنہیں علم ہوتا کہ جنوبی وزیرستان کے پْرامن پاکستانی پختونوں پر اْن کے آباواجداد کی زمین تنگ کردی گئی ہے اُن کے رشتہ دار بتاتے ہیں کہ اْنہوں نے اپنی شاعری میں قبائلی علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی کی خونریز سفاکیت کو بیان کرکے درد مند دلوں کو افسردہ کیا ہے آج پاکستان کے پختونوں کے ساتھ ساتھ ہر’’فرید رجُل پاکستانی‘ اِس دکھ بھری گھڑی میں شہید محمد طاہر کے خاندان کے غم میں شریک ہے اور رنجیدہ ہے محمد طاہر داوڑ کا تعلق شمالی وزیرستان کے گاؤں خدی سے تھا،انھوں نے پرائمری سے ڈگری سطح تک کی ابتدائی تعلیم شمالی وزیرستان سے حاصل کی، تاہم بی اے کرنے کے بعد وہ کچھ عرصے تک ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال شمالی وزیرستان میں کمپاؤنڈر کے طور پر ملازمت کرتے رہے وہ ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے بی بی سی کے مطابق شہید محمد طاہر داوڑ کے بھائی سے ملنے والی معلومات کے مطابق محمد طاہر داوڑ نے نوے کے عشرے میں پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے محکمہ ٗ پولیس میں بطور اے ایس آئی اپنے کریئر کا آغاز کیا شہید طاہر داوڑ نے تقریباً 23 سال تک محکمہ ٗپولیس میں ملازمت کی اس دوران اے ایس آئی سے ترقی کرتے ہوئے وہ سپرنٹنڈنٹ پولیس ‘ایس پی’ کے عہدے تک پہنچے محمد طاہر داوڑ نے بیشتر ملازمت شمالی وزیرستان سے متصل ضلع بنوں میں کی جہاں بطور ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کے طور پراپنے فرائض انجام انجام دئیے شہید داوڑ نے پشاور میں بھی کچھ عرصہ بحثیت پولیس افسر کام کیا،تین سال تک پشاور میں اْنہوں نے ایف آئی اے میں بحیثیت اسسٹنٹ ڈائریکٹر فرائض انجام دئیے، خیبر پختونخواہ میں اُن کے ماتحت پولیس محکمہ کا ہر چھوٹا بڑا اہلکار ‘اُن کے قریبی دوست احباب اور بعض صحافی کہتے ہیں کہ’ شہید داوڑ ‘دہشت گردوں کو زندہ گرفتار کرنے پر ہمیشہ زوردیتے تھے تاکہ پتہ چل سکے کہ دہشت گردوں کے ’وائٹ کالرسہولت کار‘ کون ہیں؟ اُن کے موٹیویٹر اور فنانسرز کون کون ہیں اُنہوں نے اپنی اس جان توڑ کوششوں میں کئی بار کامیابی بھی حاصل کی اور اُن کے آہنی ہاتھ دہشت گردوں کے ’وائٹ کالر سہولت کاروں ‘ کی گردنوں تک پہنچے محمد طاہر داوڑ نے جنہیں قانون کے سخت شکنجے میں کسا ‘ جیلوں کی سلاخو ں کے پیچھے دھکیلا اُن کے ہمدردبعض اوقات سنیئر پولیس افسران اُنہیں دوبدوسامنے آکر دہشت گردوں کو للکارنے سے روکتے وہ نہیں مانتے تھے، اُن کا کہنا تھا جن دہشت گردوں نے میرے ملکی علاقوں کو میرے صوبے کے اندرونی امن وامان کو تہہ وبالا کیا، میرے پختونوں کو رلایا میرے پختونوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنے بزرگوں ‘ بچوں ‘ ماؤں اور بہنوں کی لاشیں اُٹھائیں لاشوں کے جلتے ہوئے ٹکڑوں کو جمع کریں، اے پی ایس پشاور کے سینکڑوں بچوں کو ‘اساتذہ اور پرنسپل قاضی جیسی ممتاز ٹیچرز کو دن دھاڑے جلادیں، گولیوں سے بھون ڈالیں،کسی صور ت بھی وہ چھوڑے نہیں جاسکتے یہی جرم تھا انسانیت سفاک دشمنوں کے نزدیک شہید محمد طاہر داوڑ کا‘ پیشہ ورانہ ایمانداری کے اپنے فرائض کی انجام دہی میں رات دن منہمک ایس پی شہید محمد طاہر داوڑ کو انتہائی بے دردی سے تڑپا ٹرپا کر قتل کرنے والوں کے طریقہ ِٗ واردات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شہید داوڑ کی افغانستان میں وقوع پذیر شہادت کے پیچھے وہ ہی قوتیں سرگرم عمل ہیں جو کل وادیِ سوات کولہولہان کیئے ہوئے تھیں ملا فضل اللہ لعنتی سے آج کی ٹی پی ایم کے سرکردہ لیڈروں تک ‘جنابِ والہ! صرف داڑھیاں منڈوالینے سے یا پھر اونچی شلواروں کی جگہ شہری وضع قطع بنالینے سے اندرونی دہشت گردی کی مجنونیت کو چھپایا نہیں جاسکتا ’ٹی پی ایم‘ سے ’را‘ کے ’سی آئی اے کے خاص طور افغانستان کی خفیہ ایجنسی ’ این ڈی ایس‘کے رابطے ڈھکے چھپے نہیں رہے، افغانستان کا خفیہ ادارہ شہیدایس پی کے بہیمانہ ’وارداتِ قتل‘میں اگر شریک نہ ہوتا توحکومتی سطح پر اپنی سرزمین پر پاکستانی پولیس افسر کی شہادت ہونے پر اُن کی لاش پاکستان سرکار کے حوالے کرنے سے افغان حکام پہلو تہی نہ کرتے قبائلی علاقہ کے نام پر سیاست چمکانے والوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی، لیکن اس نہ ہوا ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے انتہائی افسوس ناک اِس واقعہ پر پاکستانی قوم کی ترجمانی کاحق ادا کیا ہے پاکستان کے دشمن بے نقاب ہوئے ہیں وزیر اعظم عمران خان نے بھی ٹویٹ کرکے قبائلی علاقوں سے منتخب ہونے والے ممبران قومی اسمبلی کے ’جانبداری اور غیر جانبداری ‘ پر کئی سنگین سوالات اُٹھادئیے ہیں اب افغانستان کے خفیہ ادارے کو جواب دینا ہوگا، افغان حکام کو جواب دینا ہوگا ’ وہ کون عناصر تھے جو شہید محمد طاہر داوڑ کو اغوا کرکے افغانستان لے گئے؟‘ اور افغان سرزمین پر اُن کا بہیمانہ قتل ہو گیا ایسے نازک اورحساس موقع پر جب پاکستان ‘ روس اور چین اپنے خطہ میں ہر صورت میں امن قائم کرنے میں سرگرمِ عمل ہیں۔

*****

Google Analytics Alternative