کالم

افغان صدر کا سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ اظہار افسوس

adaria

پیر کے روز افغان صدر اشرف غنی نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور نگران وزیراعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصرالملک سے ٹیلی فونک گفتگو میں پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کیا۔افغان صدر نے نگراں وزیراعظم اور آرمی چیف سے الگ الگ ٹیلی فون پرگفتگو کی اور سانحہ مستونگ میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق افغانستان کے صدر اشرف غنی نے آرمی چیف کو انتخابات کے دوران پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی معاونت کے لیے افغان بارڈر پر سیکیورٹی مزید سخت کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشت گردی کے واقعات پر اظہار ہمدردی کرنے پر افغان صدر کا شکریہ ادا کیا۔بارڈر منیجمنٹ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ دوسری جانب ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی مذمت کی۔گزشتہ روزایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل ڈاکٹر محمد باغیری نے اعلی سطح کے وفد کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی کا دورہ کیا اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران دوطرفہ دلچسپی کے امور،علاقائی سکیورٹی دفاعی تعاون اور پاک ۔ ایران بارڈر منیجمنٹ کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آرمی چیف نے دونوں ممالک کے افواج کے درمیان روابط کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون بہتر ہونے سے خطے کی سیکیورٹی اور امن کی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ ملک میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں، جن میں160 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔11 جولائی کو پشاور میں انتخابی مہم کے دوران ایک خودکش حملے کے نتیجے میں اے این پی کے سینئر رہنما ہارون بلور سمیت 22افراد شہید ہوگئے تھے۔اس حملیکی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی جو افغانستان میں فعال ہے۔دو روز بعد 13 جولائی کو بنوں میں سابق وزیراعلی خیبر پختونخوا اکرم خان درانی کو نشانہ بنایا گیا جس میں وہ خود تو محفوظ رہے مگر ریموٹ کنٹرول دھماکے کے نتیجے میں ان کے قافلے کے 4 افراد شہید ہو گئے۔اسی روز دوسرا بڑا واقعہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں پیش آیا۔اس واقعہ میں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے انتخابی جلسے میں خودکش حملہ ہوا جسمیں سراج رئیسانی سمیت 130 افراد شہید ہوگئے۔ان پے در پے واقعات سے پورے ملک میں غم کی ایک لہر دوڑ گئی اور ہر شہری اس کرب میں مبتلا ہے کہ پاکستان دشمن نادیدہ طاقتیں آخر خطے کیامن کے کیوں در پے ہیں۔انتخابات کے دوران یہ دہشت گردانہ واقعات ان خدشات کو تقویت دے رہے ہیں جن کا اظہار الیکشن کے اعلان کے ساتھ ہی سے کئے جارہے تھے۔پاکستان کی اکثریت کا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ پاکستان میں امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے اور اس کے تانے بانے افغان سر زمین سے جا جڑتے ہیں۔افغان صدر نے نگران وزیراعظم اور آرمی چیف کو ٹیلی فون کر کے افسوس کا اظہار کیا ہے اور ساتھ اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی کہ انتخابات کے دوران پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی معاونت کے لیے افغان بارڈر پر سیکیورٹی مزید سخت کی جائے گی۔افغان صدر کی الیکشن کے دوران بارڈر پر سکیورٹی مزید سخت کرنے اور تعاون کی یقین دہانی خوش آئند ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بارڈر منیجمنٹ کو موثر بنانا محض کسی ایونٹ کے لیے ضروری ہے یا اس کی ضرورت دونوں ممالک کو ہر وقت اور ہمیشہ کے لیے ہے۔نکتہ یہی سمجھنے کا ہے کہ امن صرف پاکستان کی ضرورت نہیں بلکہ ریجن کے ہر ملک کو ہے۔بدقسمتی سے کچھ بین الاقوامی پلیئر اپنے سیاسی مفادات کی خاطر ریجن کو اپنا اکھاڑا بنائے ہوئے ہیں اور افغان سر زمین اس مقصد کے لیے بے دردی سے استعمال ہو رہی ہے۔یہ ایک گھناونا کھیل ہے جس کو روکنا وقت کا تقاضہ ہے۔اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے پاکستان نے روس چین اور ایران کے ساتھ مل کر ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے اینٹیلی جنس اداروں کے اعلی سربراہوں کا اجلاس منعقد کرایا تاکہ جنوبی ایشیا میں جاری مکروہ کھیل کے محرکات کا جائزہ لے کر ان کا سدباب کیا جا سکے۔گزشتہ روز ایران سے آنے والے عسکری ہائی کمان وفد کے ساتھ بھی اسی بات پر زور دیا گیا۔ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل ڈاکٹر محمد باغیری کی قیادت میں آئے وفد سے ملاقات کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے علاقائی سکیورٹی دفاعی تعاون اور پاک ۔ ایران بارڈر مینجمنٹ کے امور پر تبادلہ خیال کیا جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان بلا تخصیص ہر ملک کے ساتھ سرحدوں کو محفوظ بنانا چاہتا ہے چاہے وہ مشرقی ہوں یا مغربی۔لہذا افغان حکام کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ دہشت گردی کے ناسور پر قابو پانے کیلئے مستقل بنیادوں پر میکنزم تیار کرنا ہوگا۔اسی طرح جب تک دہشت گردی کو ایک مشترکہ مسئلہ نہیں سمجھا جاتا تب امن و استحکام ایک خواب ہی رہے گا،بارڈر مینجمنٹ کو ہر حال میں موثر اور مضبوط بنانا ہو گا۔
سیاست میں گالم گلوچ کا قابل مذمت کلچر
ملک میں انتخابی گہما گہمی عروج پر ہے مگر اس دوران سیاسی جماعتوں اور ان کے حامیوں کی جانب سے اپنی حریف جماعتوں اور رہنماں پر سیاسی الزام تراشی اب گالم گلوچ اور بازاری زبان تک جا پہنچی ہے۔مخالفت کی حد اس قدر بڑھ گئی ہے کہ خود لیڈر بھی اخلاقیات تک بھول گئے ہیں۔جہاں ایک دوسرے کو گدھا اور بے غیرت کہا جا رہا ہے وہاں اس بازار کی عورتوں سے بھی تشبیہ دی جانے لگی ہے۔گزشتہ روز سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ایک کارنر میٹنگ میں تحریک انصاف کو ووٹ دینے والوں کو انتہائی نامناسب الفاظ سے پکارا تو سابق وزیر اعلی کے پی کے پرویز خٹک نے بھی سطحی زبان استعمال کرنے میں حد کر دی۔ایسی زبان کا استعمال قابل مذمت ہے۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سیاست میں برداشت کا عنصر غائب ہو چکا ہے۔جس سے نچلی سطح تک پر تشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔اس رویے کے اثرات بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر بھی پڑ رہے ہیں جو پاکستان کے مقابلے میں زیادہ مہذب معاشروں میں سکونت پذیر ہیں۔یہ صورتحال ملک کی بدنامی کا بھی باعث بن رہی ہے۔سیاسی جماعتوں کی قیادتوں پر لازم ہے کہ وہ اس بات کا نوٹس لیں اور لغو الزام تراشی کے علاوہ گالم گلوچ کے کلچر کی حوصلہ شکنی کریں۔دوسرے ممالک میں مقیم پاکستانیوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ عدم برداشت اور نفرت انگیز سیاست کو چھوڑ کر برداشت کی فضا قائم کریں ، اپنے پسندیدہ سیاستدان اور سیاسی جماعت کی ضرور حمایت کریں یہ سب کا بنیادی جمہوری حق ہے لیکن بیرون ممالک ایسا اقدام نہ اٹھائیں جس سے ملک و قوم کی بدنامی ہو۔برداشت اور روادری جہاں جمہوریت کا بنیادی اصول ہونا چاہیے وہاں اس بات کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ اسلام ہمیں کیا درس دیتا ہے۔

یوم الحاق کشمیر

19جولائی 1967کو کشمیریوں نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت سے اب تک ہرسال 19جولائی کو یوم الحاق کشمیرمنایا جاتا ہے۔19 جولائی1947 ء کو سری نگر میں کشمیریوں کی نمائندہ تنظیم مسلم کانفرنس کا تاریخی اجلاس چودھری حامد اللہ خان کی صدارت میں سردار محمد ابراہیم خان کے گھر میں ہوا۔ پاکستان سے الحاق کی قرارداد خواجہ غلام الدین وانی اور عبدالرحمان وانی نے پیش کی، اجلاس کے تمام شرکاء نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کرلی۔
پاکستان سے الحاق کی اسی قرارداد کی بنیاد پر برطانوی حکمرانوں نے برصغیر کی تقسیم فارمولے کے تحت یہ آزادی دی تھی کہ کشمیری جس ملک کے ساتھ چاہیں الحاق کرلیں، لیکن اکتوبر 1947 ء میں بھارت نے کشمیر پر قبضہ کرلیا اور کشمیر میں مسلمانوں کی تعداد کم کرنے کے لئے ان پر بے شمار مظالم ڈھائے، لیکن کشمیری آج بھی الحاق کی خواہش سے دستبردار نہیں ہوئے اور کشمیری عوام نے پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے اب تک بھارت مخالف مظاہروں میں پاکستانی پرچم لہرائے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔
انگریزوں کے دور حکومت میں پورے برصغیر میں ریاست جموں و کشمیر کا بھی ان پانچ سو ریاستوں میں شمار ہوتا تھا جہاں کسی حد تک انگریزوں کے تابع نیم بادشاہت قائم تھی اورکسی حد تک ریاست اندرونی معاملات میں فیصلے کرنے کے لئے خود مختار تھی۔ جون میں 1947 ء کے آزادی ایکٹ کے تحت ان ریاستوں پر انگریزوں کی عملی حکمرانی کا خاتمہ ہوگیا توآئینی طورپر تو یہ ریاستیں انگریزوں کی عملداری سے آزاد ہوگئیں، مگر 25 جولائی 1947ء کوگورنر جنرل ماؤنٹ بیٹن نے ان ریاستوں کے سربراہان کو نصیحت کی کہ پاکستان اور ہندوستان میں سے کسی ایک ڈومینن (ریاست) کے ساتھ الحاق اختیار کریں۔
ہندو رہنماؤں کے ورغلانے پر جب کشمیر کے ہندو راجہ مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان کے ساتھ منسلک ہونے کی درخواست کی تو نہرو نے فوراً اسکو مان لیا جو اس اصول کی صریحاً خلاف ورزی تھی جو کانگریس کے مطالبے کی بنیاد تھا کہ ریاست میں عوام کی اکثریت یہ فیصلہ کرنے کی مجاز ہے کہ اسے پاکستان یا ہندوستان میں سے کس کے ساتھ شامل ہونا ہے۔ آزادی کے وقت جموں و کشمیر کی کل آبادی40 لاکھ تھی، جس میں 77فیصد اکثریت مسلمانوں کی تھی، جبکہ وادی کشمیرمیں مسلمانوں کی تعداد کل آبادی کا 92 فیصد تھی۔ پورے کشمیر میں پاکستان کی آزادی پر بھرپور جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا گیا۔ مسلمانوں نے اپنے اپنے گھروں کی چھتوں پر پاکستان کے جھنڈوں کو لہرادیا، مگر نہرو اور ماؤنٹ بیٹن کی ملی بھگت سے ریڈ کلف نے جو کہ پنجاب باؤنڈری کمیشن کا چیئر مین تھا، صریحاً بد دیانتی سے گورداس سپور ضلع کی دو مسلم اکثریت کی تحصیلیں ہندوستان کو دے دیں ۔ یہیں سے ہندوستان میں شامل سکھوں کی ریاستیں پٹیالہ اور کپور تھلہ کے سکھ حکمرانوں نے اپنی فوجیں کشمیر کے مسلمانوں کو پاکستان سے الحاق روکنے اور ان کو کچلنے کے لئے بھیج دیں۔
اس ساری صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے 30اکتوبر کوحکومت پاکستان نے واضح اعلان کیا کہ کشمیر کا ہندوستان سے الحاق سراسر دھوکا اور غیر منصفانہ ہے اور کشمیر کو ہندوستان کا حصہ تسلیم کرنا پاکستان کے لئے قطعاً ناممکن ہے، کیونکہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اوراگر انہیں اپنی مرضی سے رائے شماری کا موقع دیاجائے تو وہ اپنی تہذیب، جغرافیائی، معاشی اور ثقافتی عوامل کی بنا پر ہر حال میں پاکستان کے ساتھ فطری طورپرالحاق کریں گے۔
اسی وجہ سے آج کشمیریوں نے آخری آدمی تک جد و جہد آزادی کو جاری رکھنے کا تہیہ کر رکھا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک اپنے منطقی انجام سے ہمکنار ہو کر رہے گی۔ حکومت پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے کشمیریوں کی سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے۔ پاکستان نے برملا کہا ہے کہ کشمیریوں کی تحریک ان کی آزادی کی تحریک ہے، اسے دہشت گردی سے جوڑنا بددیانتی ہے۔ بھارتی افواج نہ تو کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو آج تک دبا سکیں ،نہ ختم کر سکیں۔ بھارتی حکومت کو چاہیے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کی میز پر آئے اور اقوام متحدہ کی قرارداروں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دے۔ پاکستان اور کشمیر ایک تہذیبی اکائی کا نام ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی ،سیاسی اور سفارتی امداد جاری رکھے گا اور نہتے کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ لہذا حکومت پاکستان کی ہدایت پر ہر سال 19 جولائی کو ملک بھرمیں یوم الحاق کشمیر منایا جائے گا، جبکہ 20 جولائی کوکشمیری عوام پربھارتی ظلم و ستم کے خلاف یوم سیاہ منایا جائے گا۔
بھارت نے اگر جنوبی ایشیا کے عوام کے جذبات کونظرانداز کرنے کا سلسلہ بند نہ کیا تو یہ خطے کے امن کے لئے نیک شگون نہیں ہو گا۔ پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جدوجہد کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اورانہیں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گا۔ اقوام متحدہ کو کشمیر کے بارے میں اپنے نامکمل ایجنڈا کو پورا کرنا چاہئے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کو یقینی بنانا چاہئے۔ بھارت کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم ڈھارہا ہے ۔پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔کشمیری اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور بھارتی جارحیت کشمیریوں کے عزم کو اور زیادہ مضبوط بنائے گی۔مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوجی کشمیریوں کی جدوجہد کو دبا نہیں سکتے۔

آمرانہ رویے نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا

دنیا کی ایک بھی معروف رواں دواں جمہوریت کو کسی اندرونی وبیرونی سازشوں سے اتنا نقصان نہیں پہنچا ہے جتنا بڑا نقصان جمہوریت کے نام پرمنتخب ہونے والے سیاسی حکمرانوں نے ‘اختیارات کے ارتکاز’ کا آمرانہ رویہ اپنا کر عوام میں جمہوریت کو بدنام کیا جمہوریت پر اُن کے اعتماد اور بھروسہ کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی آج پاکستان کی بھی کچھ ایسی ہی ملتی جلتی صورتحال ہے ‘اختیارات کے ارتکاز’ کی طرزِ حکمرانی معروف جمہوریت کی تعریف کی بالکل نفی کرتی ہے ،جمہوریت کے نام پر عوام سے ووٹ لینے کے بعد عوام پانچ سال تک حکمرانوں کا اپنے درمیان نہ آنے کا رونا روتے گزاردیتے ہیں پاکستان میں شخصی پرستی کی ایسی ہی جمہوریت کے لئے آج کل نئی سیاسی اصطلاح میڈیا میں استعمال ہورہی ہے’اشرافیہ کلب کی جمہوریت’زیادہ تفصیل میں اب کیا جائیں غالبا لگاتار پاکستان کے عوام ملک میں منعقد ہونے والے تیسرے عام انتخابات کی تاریخ کے بالکل قریب ہیں 25 جولائی 2018 کو اپنے تاریخ کے اہم ترین عام انتخابات ہونگے پندرہ دن رہ گئے ،عوام اِس مرتبہ اپنا قیمتی ووٹ اپنے اْن امیدواروں کو دینا ہے جواْن کی نظرمیں اْن کے لئیاْن کے انتخابی حلقوں میں بہترمعیارزندگی مہیا کرنے کی ضمانت فراہم کرسکتے ہیں یہ عوامی حق ہے جسے کوئی زورزبردستی سے چھین نہیں سکتا نہ اْن کی رائے پر اثرانداز ہوسکتا ہے ماضی کے مقابلے میں جدید سائنسی انفارمیشن ٹیکنالوجی مثلا سوشل میڈیا کے عہد میں عوام میں کافی شعور پیدا ہوچکا ہے کل کے مقابلے میں آج عوام بہتر فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں وہ بخوبی سمجھنے لگے ہیں کہ ریاست کیا ہوتی ہے ریاست کی معاشی واقتصادی خوشحالی کی راہوں رکاوٹیں کیسے درآتی ہیں قومی خزانے کی ‘لیکچ’ کیسے ہوتی ہے؟ اْن کے ٹیکسوں سے بھرنے والے قومی خزانے کی رقومات کے خطیر حصہ کو کہاں خرچ ہونا چاہیئے اور ماضی کے دویا تین عام انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونی والی جمہوری حکومتوں نے قومی خزانے کی رقومات کو بڑی بے دردی سے خرچ کیا اْنہوں نے پاکستان کے شہروں اور گاؤں قصبوں میں صحتِ عامہ کی مد میں لگانے کے لئے ملکی سالانہ بجٹوں میں سے کتنے فی صد رقومات مختص کیں اور زمین پر کتنا فی صد لگایا گیا؟گزشتہ دس سالہ جمہوری ادوار کے دوران’جمہوری اختیارات کے ارتکاز’ نے پاکستان کو بیرونی اور اندرونی قرضوں کے انتہائی بوجھ تلے جھکا دیاوہاں بے پناہ کرپشنز کی خبروں نے پاکستان کی عالمی سطح پر بڑی بدنامی بھی کرائی’افسوس ناک پہلویہ ہے کہ اِس بار ہونے والے الیکشن سے قبل عام عوامی بیٹھکوں میں یہ عام باتیں ہورہی ہیں سوال اْٹھ رہا ہے وہ یہ پاکستان کو بچایا جائے یا ملک میں جاری حکومتی سطح کی کرپشن کا مکو ٹھپا جائے’مطلب یہ ہوا کہ 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں ملکی عوام نے فیصلہ کرنا ہے ‘کیا مستقبل میں کرپشن اور پاکستان ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟’عدالتوں میں کس کے خلاف کیا فیصلہ ہورہا ہے کون حکمران کتنا کرپشن زدہ ہے کسی کو زبردستی کرپشنز کے کیسوں میں پھنسایا تو نہیں جارہاجب کسی کے بڑے طمنداراْونچی پگ والے بڑے صنعت کار حکمران کے خلاف کوئی کرپشنزکے الزامات پر تحقیقات ہوں تو اْسے اپنے خلاف عائد الزامات کا ٹھوس اور موثر دلائل کی روشنی میں ملکی اعلیٰ عدالتوں کو مطمئن کرنا چاہیئے یا وہ یہ کہنے لگے کہ ‘میرے خلاف کرپشنز کے الزامات اِس وجوہ کی بناء پر عائد کیئے جارہے ہیں کہ میں عوام میں ایک مقبول سیاسی لیڈر ہوں پاکستان کو پاکستانی عوام کو میرامتبادل قائد اور لیڈر نہیں مل سکتا یہ عجیب وغریب مضحکہ خیز منطق ہے ملک کے عام انتخابات میں جیسا اوپر بیان ہو کہ صرف پندرہ دن باقی رہ گئے ہیں لہٰذا پاکستان کے چھ سات کروڑ ووٹروں پر اب بڑی بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے کہ وہ ذات اور برادریوں اور لسانی تقسیم سے بالاتر ہوکر فرقہ واریت کی فکری حد بندیوں سے باہر نکل کر اجتماعی طوراپنے قیمتی ووٹوں کی اہمیت اور قدر کو سمجھیں ملکی عوام نے ایک محفوظ’ترقی یافتہ’معاشی واقتصادی لحاظ سے مستحکم جمہوری پاکستان کی ساکھ کو قائم رکھنے کیلئے بہت سوچ سمجھ کر اپنے قیمتی ووٹوں کااستعمال کرنا ہے دنیا کے ترقی یافتہ معروف جمہوری معاشروں میں عوام ہی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ کسی کرشماتی شخصیت یا ‘سیلبرٹی’ کو اپنا حکمران نہیں بناتے بلکہ اْن کی نظراْن کے ملک کے مستقبل پر لگی ہوئی ہوتی ہیں وہ ایسے حکمرانوں کا انتخاب کرتے ہیں جو کسی قسم کی ملوکیت یا کسی بھی نوع کی آمریت کے پروردہ نہیں ہوتے جمہوریت کا سائنسی تجزیہ کرنے بتاسکتے ہیں کہ برطانیہ’امریکا اور یا دیگرمغربی ممالک میں جہاں بڑی کامیابیوں سے تعطل جمہوری نظام چل رہا ہے عدالتیں اپنا کام کررہی ہیں دیگر قومی ادارے آئین کے دائرے میں اپنے فرائضِ منصبی بخوبی نبھارہے ہیں کوئی کسی پر بلاوجہ الزام تراشی نہیں کرتا کوئی ایک دوسرے کی صفائیاں پیش نہیں کرتا وہاں کیسے اور کیونکر بحسن وخوبی ایک سیاسی جماعت کی حکومت دوسری سیاسی جماعت کو اقتدار منتقل کردیتی ہے’پاکستان ایک کامیاب ملک ہے، پاکستان کو دنیا میں تنہاکرنے کا خواب دیکھنے والے’پاکستان کی جمہوریت کو مستقلا کرپشن زدہ دیکھنے والے اب امریکا اور بھارت کے علاوہ شائد ہی کچھ اور ہمارے دشمن ملک باقی رہ گئے ہیں وہ جو قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ایک سرکاری تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا’پاکستان قائم رہنے کیلئے وجود میں آیا ہے دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی’فی زمانہ پاکستان اور جمہوریت لازم ملزوم ہیں اب عوام نے فیصلہ کرلیا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کاجاری سسٹم کبھی ڈی ریل نہیں ہوسکتا، پاکستان کے باشعور اورمعززعوام کی واضح بھاری اکثریت کوکوئی بھی نالائق طالع آزماء جمہوری محرومی کے نام کی آڑ میں اب گمراہ نہیں کرسکتا،جمہوریت کی ایک خالص تعریف یہ بھی ہے کہ جمہوریت کبھی اْوپر سے نیچے نہیں آتی جمہوریت کاسسٹم ہمیشہ نیچے سے اْوپرکی جانب سفر کرتا ہے جمہوریت کی اصل جڑیں بلدیاتی سسٹم سے منسلک ہوتی ہیں کوئی بتلائے پاکستان میں بلدیاتی جمہوری نظام کہیں کسی نیدیکھا بھی ہے یا نہیں؟ کتنے لوگوں کو علم ہے کہ عدلیہ’مقننہ اور انتظامیہ کیسے کہتے ہیں جمہوریت میں اِن اداروں کا کردارکیا ہے عدلیہ ہماری سمجھ میں آگیا یہ ‘مقننہ’ کیا ہے یہ ‘مقنین کی تانیث’ہے اور جنابِ والہ! ‘مقنین’کو کہتے ہیں ‘قانون بنانے والے ادارہ کو ‘پارلیمنٹ’کو مقننہ کہتے ہیں پارلیمنٹ میں منتخب ہوکر جانے والے مقنین’کہلاتے ہیں، جن کا آئینی کام صرف اورصرف قانون سازی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا ہے یہ گٹرصاف کروانے ‘گلیاں’سڑکیں’ اورہیڈبرجز‘ ہر قسم کے فلائی اور ز وغیر بنانے کی آئینی ذمہ داری بلدیاتی نمائندوں کی ہوتی ہے ، تہذیبِ یافتہ جمہوری معاشروں میں پبلک ٹرانسپورٹس تک کا نظام بلدیات کی نگرانی میں ہوتا ہے، کتنی افسوس ناک صورتحال ہے، پاکستان کے عوام پر ماضی میں عقل کے کیسے اندھوں نے جمہوریت کے معنی ہی بدل کررکھ دئیے، ڈپلومہ ہولڈرز‘مڈل پاس‘اَن پڑھ ‘ واجبی دینی تعلیم کے حامل اور نااہل جبکہ اعلیٰ قابلیت اورسیاسی ویژن واہلیت سے دور پرے کا واسطہ نہ رکھنے والے قانون سازاداروں میں آبیٹھے، عوام کی حالت بھی ملاحظہ کیجئے، جنہوں نے کبھی اِن کا محاسبہ کرنا ضروری نہیں سمجھا،جمہوری سسٹم کا یہی تو حسن ہے ، ہر پانچ برس بعد ووٹرز اپنے قیمتی ووٹ کی طاقت سے وقت کے حکمرانوں کو احتساب کے کٹہرے میں لاتے ہیں اور حکمران اپنے ووٹرزکے روبر وجوابدہ ہوتے ہیں۔

بونے کچھ نہیں کرسکتے

جس طرح بونے کچھ بھی کرلیں ،یہ ہمیشہ بونے ہی رہیں گے۔ اِسی طرح جھوٹا کچھ بھی کرلے جھوٹاہی رہتاہے۔ جھوٹا اپنے ایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے سینکڑوں جھوٹ بولتا ہے اور سچ سے کوسوں دور ہوتاچلاجاتا ہے۔ مگر اِ س پر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب اِسے اپنے جھوٹ پر ندامت کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے؛ اور اَب یقینی طور پر سا بق نااہل وزیراعظم اور ن لیگ والوں پر وہ وقت آن پہنچاہے۔ جب اِن سب کے پیروں میں بھی ندامت کی زنجیر یں پڑی ہوں گیں ، اور یہ اپنے سر نیچے کئے اپنی ندامت کی زنجیروں کو دیکھ کر کفِ افسوس ملیں گے ؛ اور باقی زندگی گمنامی میں گزاردیں گے۔بہر حال ، اِس سے انکار نہیں کہ سابق نااہل وزیراعظم اور اِن کے چیلے چانٹے اپنی کرپشن کی وجہ سے شکاری کے جال میں پھنستے جا رہے ہیں۔ ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ مگریہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج جب قومی احتساب اور انصاف فراہم کرنے والے ادارے اپنی تمام تر تحقیقات کے بعد مطلوبہ کرپٹ عناصر کو قانونی گرفت میں لارہے ہیں؛اور اِنہیں سزا دینے کے در پر ہیں۔ تو سابق نااہل وزیراعظم اور اِن کے چہیتے اپنی کرپشن اور بددیانتی ماننے کے بجائے۔ اُلٹا قومی احتساب اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں کے خلاف ہی آستینیں چڑھا کر محاذ آرا ئی پر اُتر رہے ہیں۔ جس سے نہ صرف مُلک بلکہ پوری دنیا میں بھی ماضی و حال اور مستقبل کے حکمرانوں کی نیک نامی سے متعلق پاکستان کا وقار مجروح ہورہاہے۔آج وطنِ عزیز پاکستان کی اندرونی اور بیرونی طور پرجتنی بھی بدنامی ہورہی ہے اِس کے ذمہ دار صرف کرپٹ حکمران ، سیاستدان اور اِن کے چیلے چانٹے ہیں۔ جنہوں نے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے خاطر مُلکی وقار ، خودمختاری اور سلامتی کو دباو پر لگایا اوراِن سب کرپٹ عناصر نے مل کر قومی خزا نے کو اربوں اور کھربوں کا نقصان پہنچایاہے۔تاہم اِن دِنوں کرپٹ عناصر کی موجودگی میں میرے دیس میں اگلے اقتدار کی منتقلی کے لئے الیکشن کا بازار سجاہوا ہے ۔چاردانگ عالم میں سیاسی بونوں اور جھوٹوں کی یلغارزورں پر ہے۔سیاسی بازی گروں اور سیاسی جوکروں نے اپنی کمین گاہوں سے نکل کر غریب ، مفلوک ا لحال اور مسائل میں گھیرے ووٹروں کے محلوں ، گلیوں اور بازاروں کی جانب چلنا شروع کردیاہے۔ اپنی جیت اور فتح کے لئے سیاستدانوں کی زبان سے محبت او راُلفت کی چاشنی کی پھل چھڑیاں نکل رہی ہیں۔ ستربرسوں سے کمزورجمہوری نظام کے نام لیواوں کی با ہیں غریبوں کو بغل گیر ہو کر گلے لگا نے کو تڑپ رہی ہیں۔ نوابوں، سرداروں ، چوہدریوں ، وڈیروں اورخانوں کی پکڑیاں ووٹروں کے قدموں میں پڑی ہو ئی ہیں، سرمایہ داروں اور صنعت کاروں نے بھی اپنی تجوریوں کے منہ کھول دیئے ہیں اوراقتدار کے پچاریوں نے غریب ووٹروں کی دہلیز وں پر ڈیرے ڈال دیئے ہیں، آج جس مقام پر غریب کا پسینہ گررہاہے،ہوسِ اقتدار کے چیلے چانٹے اُس جگہ کی خاک بھی اپنے سر پر ڈالنا کارِ ثواب اور اپنی جیت کے لئے نیک شگون سمجھ رہے ہیں، سیاسی بہروپیوں نے غریبوں ،بے کسوں اورمجبوروں سے الفت اور محبت کا ایسا ڈرامہ رچارکھا ہے کہ اِن سیاسی اداکاروں کی اداکاری دیکھ کر یقین ہوجاتا ہے کہ یہ دودونی چارکرنے والے چکرباز شا طرلوگ بہت بڑے ڈرامے بازبھی ہیں۔اَب اِن سیاسی نوٹنکی بازوں کو سمجھنا اور اِنہیں اِن کی اوقات میں رکھنا تو ووٹرز کا کام ہے کہ یہ اِن اقتدار کے لالچی جوکروں کو اِن کی اوقات یاد دلا ئیں؛ اور اِنہیں اِن کے سیاہ کرتوت گنوائیں اوراِنہیں کان سے پکڑ کر اپنے محلوں، گلیوں اور بازاروں سے باہر نکالیں۔ تاکہ اِنہیں اپنی اصل اوقات کا لگ پتہ جائے۔ ووٹرز اپنا ووٹ اُسے دیں ، جو نیک نامی ،اخلاص، بھا ئی چارگی ، حب الوطنی اور ملی یکجہتی میں اپنی مثال آپ ہو، تا کہ مُلک کو ایک باوقار اور ایماندار قیادت ملے۔ بہر کیف ، آج جہاں ارضِ مقدس مملکت خدادادکستان میں 25جولائی 2018ء کو ہونے والے قومی اور صوبائی الیکشن کا دن قریب سے قریب ترآتاجارہاہے؛ تووہیں، ایک مرتبہ پھر مُلک کے طاقتور ترین کرپٹ عناصربھی کمزور جمہوریت کا احصار باندھے اور جمہوری مالا جپتے یکدل اور یک زبان ہورہے ہیں۔غرضیکہ، اگلے اقتدار کے لئے کرپٹ عناصر ایک دوسرے کی مدد کے لئے قدم سے قدم ملا کر چلنے کا عہدہ پیمان بھی کررہے ہیں۔اَب جب کہ عام انتخابات سر پر آن پہنچے ہیں۔ ، مُلک بھر میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی الیکشن کی تیاریاں اور گہما گہمی عروج پر ہے تو ایسے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ایون فیلڈریفرنس مقدمے میں سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز کی متوقع یا یقینی سزا کے خلاف مُلک گیر احتجاجی تحاریک بھی شروع کرنے کی تیاریاں کرلی ہیں۔ تو وہیں، اِن کی اِدھر اُدھر کی ظاہرو باطن ہم پیالہ اور ہم نوالہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے بھی احتجاج کا حصہ بننے کا اعلان کردیاہے۔ اَب اِس صورتِ حال میں متوقع انتخابات کاپُر امن انعقاد کیسے یقینی ہوسکتاہے؟ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے جان کر ریت میں منہ چھپانا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا ۔اِس مرتبہ الیکشن میں کئی ایسی حقیقتیں اور بھی ہیں۔ جن کا ادراک وقت آنے پر ہوجائے گا۔ فی الحال، مُلک کی موجودہ سیاسی اور غیر یقینی صورتِ حال میں تولاکھ حکومتی مشینری کے باوجود بھی آزادانہ اور پُرامن ماحول میں صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد اپنی ذات میں بے شمار سوالیہ نشانات کی کیلوں سے بھرا پڑاہے۔تاہم یہاں یہ امر آنے والے متوقع الیکشن میں ووٹ ڈالنے والے ووٹروں کے لئے بڑی حد تکِ غورطلب ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول زرداری (مائنس بھٹو)نے اپنی سیاسی فہم وفراست سے کام لیتے ہوئے اِنتہائی مدبرانہ انداز سے پاکستان مسلم لیگ (ن) والوں کو اپنا یہ پیغام بھی ضرور پہنچادیاہے کہ’’ اگلے انتخابات میں اِن کی وفاق میں جیسی بھی پوزیشن ہو۔یعنی کہ آج بلاول کے جو دل میں تھا۔ وہ زبان پر بھی آگیاہے؛ کہ آئندہ آنے والے وقتوں میں کچھ بھی ہوجائے ، پی ایم ایل (ن) اور پی پی پی اندر سے ایک ہیں۔ اِس کے ساتھ ہی اِس میں بھی کو ئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان یقینی طور پر جو یہ کہتے ہیں کہ’’ نوازاور زرداری دو ایسی دیمک کے نام ہیں؛ جو باری باری مُلک کو چاٹ رہے ہیں اور قوم کی خون پسینے کی کمائی کو اپنے اللے تللے پر اُڑا کر مُلک کو قرضوں کے بوجھ تلے دباکر مُلکی معیشت اور عوام کا بیڑا غرق کر رہے ہیں‘‘تواَب یہ سو فیصد درست لگنے لگاہے۔یعنی کہ آج تک جیسا عوام سوچتے اور سمجھتے رہے تھے ۔ وہ سب حقیقت کے یکدم برعکس تھااور حقیقت یہی ہے آج جو عمران خان کا زرداری اور نواز سے متعلق کہنا ہے ۔ اوراَب جو حقیقی رنگ میں سا منے آگیاہے ۔

حکمران اور ان کی نئی نسل

Naghma habib

’’ہم بیس کروڑ عوام کے نمائندے ہیں‘‘ یہ جملہ ہمارے سیاستدانوں کا پسندیدہ جملہ ہے اور حکومت کا پسندیدہ ترین ، جبکہ ان کو ملنے والے ووٹ تو ایک طرف پورے الیکشن میں پڑنے والے ووٹ بھی بیس کروڑ کا بمشکل نصف ہوتے ہیں ۔پاکستان میں اس وقت کل رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد دس کروڑ ساٹھ لاکھ ہے جبکہ013 2کے الیکشن میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد آٹھ کروڑ باسٹھ لاکھ تھی جو کہ کل آبادی کا تقریبا پچاس فیصد تھا اور الیکشن میں ووٹرزکا ٹرن آوٹ 55 فیصد رہا یوں سمجھئے تقریبا چار کروڑ سے کچھ اوپر لوگوں نے ووٹ ڈالے، اب اس کل تعداد میں ہر جماعت کا تناسب کتنا ہے اس کا اندازہ آپ لگائیے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ پورے بیس کروڑ ووٹ پڑیں تو تب ہی ہم اُنہیں حکمران مانیں گے لیکن وہ سب کو تو قصور وارنہ بنائیں کہ انہوں نے’’ اِن قابل لوگوں‘‘ کو منتخب کیا ہے۔ جمہوریت میں ویسے بھی قابلیت سے زیادہ گنتی کی اہمیت ہے چلئے یہ بھی منظور ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران ہمارے آقا تو نہ بنیں اور عوام کو غلام نہ سمجھیں۔ پچھلے دنوں واٹس ایپ پر چلنے والے ایک پیغام نے جسطرح عوام کو ان کی حیثیت یاد دلائی وہ خاصی چشم کشا تھی اور وہ تھی ان آقاؤں کے ناموں پر بننے والے سرکاری اداروں کی لمبی فہرست ۔کل کے یہ بچے ہمارے رہنما بنے ہوئے ہیں مانا اس میں بھی کوئی حرج نہیں اگر یہ پختگی کی اس عمر کو پہنچے ہوتے جہاں ان سے بہتر اور پختہ سوچ اور فیصلوں کی توقع ہوتی، ظاہر ہے ایسا نہیں ہے کہ نہ تو سوچ پختہ ہے نہ عمل ، مگر پھر بھی چوبیس پچیس سال کے یہ بچے بھی قوم کے ناخدا بنے ہوئے ہیں اور یہ نا خدائی نسل درنسل منتقل ہو رہی ہے اور حق سمجھ کر ہو رہی ہے قوم چاہے بھی تو اسے تبدیل نہیں کر سکتی کیونکہ اُس کے پاس کوئی اختیار نہیں اور جس کے پاس اختیار ہے وہی بادشاہ وہی وزیر لہٰذا وہ ان اختیارات میں اضافہ ہی کرتا جاتا ہے کٹوتی کے کوئی امکانات نہیں۔ خود ،پھر اپنی اولادیں، پھر ان کی اولادیں اور سلسلہء دراز چلتا ہی رہتا ہے۔ عوام کو چاہتے نہ چاہتے ان ہی میں سے کسی کو منتخب کرنا پڑتا ہے ظاہر ہے ووٹ کی پرچی پر نام ہی ان کے ہوتے ہیں کوئی نیا نام ہو کوئی مخلص اضافہ ہو تو بھی شاید کوئی بہتری پیدا ہو۔ ایک خبر 2013 کے انتخابات کے وقت اُڑی تھی کہ ووٹ کی پرچی کے اوپر ایک خانہ NOTA کا بنایا جائے یعنی None Of The Above جس میں ووٹر کو یہ حق دیا جائے کہ وہ پولنگ سٹیشن جائے ضرور اور کسی بھی امیدوار کو ووٹ نہ دے اور NOTA کے خانے میں مہر لگا کرانہیں احساس دلائے کہ وہ اس قابل ہی نہیں اور یا یہ کہ وہ کم از کم اُس کے معیار کے مطابق نہیں اور یا اُس نے ابھی تک وہ کارکردگی نہیں دکھائی جو ووٹ حاصل کرنے یا ووٹر کی سپورٹ حاصل کرنے کیلئے اُسے دکھانی چاہیے یوں یہ ثابت ہو کہ یہ ووٹ مال مفت نہیں کہ ہر ایرا غیرا دولت کے بَل پر اسے حاصل کر لے بلکہ اس کی ایک عزت ہے ایک حرمت ہے ہمارے سیاستدان جلسوں میں آپ کو ووٹ کی حرمت اور عزت کے حوالے دیتے ہوئے نظر آتے ہیں ہر ایک اس کی توقیر پر مرمٹنے کے دعوے کرتا ہے اور آپ کو اُکساتا ہے کہ آپ بھی عملاََ ایسا کریں لیکن خود وہ اس کی دھجیاں بکھیرتا ہے جب وہ خدمت جس کے اُس نے وعدے کیے ہوتے ہیں اُس کا سارا رخ صرف اُس یا اُس کے خاندان کی طرف مڑجاتا ہے ۔ بہبود کے خاطر اس کے خاندان کے کئی افراد پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بڑے بڑے عہدوں پر نوکری حاصل کرلیتے ہیں ایک ہی خاندان کے کئی کئی ایم این اے اور ایم پی اے ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں کیونکہ حکمرانی ان چند خاندانوں کا حق ہے اور محکو میت پوری قوم کا اس قوم کا جس کی اکثریت قابل امید وار نہ ہونے کی وجہ سے ووٹ ہی نہیں ڈالتی اور ایسے میں دو تین لاکھ کے حلقے میں پچاس ہزاربلکہ اس سے بھی کم ووٹ لینے والا آپ کا نمائندہ بن کر آپ کے مسائل سے منہ پھیر کر آپ کا مذاق اڑاتا ہے لہٰذا یہ امیداوار جن پر کئی کئی الزامات ہوتے ہیں ان کا مسترد کیا جانا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ ہمارے لیڈر ایک نہیں کئی ایک حلقوں سے انتخابات لڑتے ہیں اور منتخب ہوکر ایک سیٹ رکھ کر باقی چھوڑ دیتے ہیں ان حلقوں میں دوبارہ انتخاب ہوتا ہے پہلے وسائل ضائع ہوجاتے ہیں اور دوبارہ ان کا بے تحاشا استعمال ہوتا ہے ووٹ چھپتے ہیں، ڈیوٹیاں لگتی ہیں، معاوضے دیئے جاتے ہیں، فوج پہنچتی ہے، پولیس حاضر ہوتی ہے، ایف سی یا رینجر ز کی خدمات لی جاتی ہیں اور یوں غریب قوم ان رہنماؤں کی سیٹیں محفوظ بنانے میں اپنے خون پسینے کی کمائی نہ چاہتے ہوئے بھی جھونک دیتی ہے بلکہ ان سے چھین کر ان امیدواروں کے سر سے واردی جاتی ہے۔ ایک بار پھر الیکشن سر پر ہیں کیا بہتر نہ ہو کہ الیکشن کمشن اس بار یہ ہمت کر ہی لے اور حکمرانوں کے آگے ڈٹ کر یہ اقدام اٹھا ہی لے اور ووٹ کی عزت قائم کرنے کیلئے NOTA کی قسم کاکوئی خانہ متعارف کرائے جیسا کہ دنیا کے کئی ملکوں میں مختلف ناموں سے ووٹ پر یہ آپشن موجود ہے اور اس پر باقاعدہ طور پر مہر لگائی جا رہی ہے ان ممالک میں سے چند ایک یہ ہیں بھارت، انڈونیشیا، یوکرائن، امریکہ کی ریاست ناواڈا اور کئی دوسرے شامل ہیں۔ اس اقدام کے ساتھ ہی اگر وہ چند دوسرے اقدامات اٹھائے تو شاید کچھ کچھ بہتری کے آثار نظر آہی جائیں مثلاََ ایک یا زیادہ سے زیادہ دو سے زائد حلقوں سے الیکشن لڑنے کی اجازت نہ ہو اور اگر کوئی نشست خالی کی جائے تو ضمنی انتخابات کے خراجات ہمارے یہ رہنما ہی برداشت کریں جن کے خزانے اس لئے بھرے ہیں کہ قوم کے خزانے خالی ہیں اور قوم کے خزانے اس لیے خالی ہیں کہ ان رہنماؤں کے خزانے بھرے ہوئے ہیں اس بات پر بھی غور کیا جائے کہ کسی حلقے میں اگر کسی خاص تناسب سے کم ووٹ پڑیں یا لیے جائیں تو وہاں کے الیکشن کو منسوخ قرار دے کر دوبارہ انتخاب کروایا جائے تاکہ رکن اسمبلی کو خود کو بیس کروڑ کا نمائندہ کہنے پر شرمند گی نہ ہو الیکشن کمیشن اس طرح سے اپنے عظیم رہنماؤں کی مدد کر سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن سے دست بستہ التماس ہے کہ آپ کے اوپر قوم کے ایک عام آدمی کا بھی حق ہے صرف سیاستدانوں کا ہی نہیں کچھ فیصلے قوم کے لیے بھی کیجئے سیاستدان اپنے لیے خود بہت کچھ کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں لہٰذا آپ اپنا دست شفقت ان پر نہ بھی رکھیں تو کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ ہمارا آزاد اور بیباک میڈیا اور اینکرز بھی اگر اس مسئلے کو اپنے پروگراموں کا موضوع بنائیں تو الیکشن کمشن کی بھی کچھ ہمت بندھے اور ٹھوس اقدامات اٹھائے اور یا کوئی جمہوریت پسند وکیل آگے بڑھ کر اپنی خدمات پیش کرے اور معاملے کو عدالت عظمٰی تک لے جاکر مجھ جیسے بے بس اور کم حیثیت پاکستانیوں کی آواز بن جائے جو اصلاح چاہتے تو ہیں لیکن اس کیلئے وسائل نہیں رکھتے۔ ووٹ کو عزت دیں اور دینے کی بات کریں لیکن ملک اور اس کے عوام کی حرمت بھی مدنظر رہے مشکل اور سخت فیصلوں پر مخالفت کا آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں لہٰذا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوگا لیکن ووٹ کو عزت دینی ہے تو بڑے بڑوں کی مخالفت لینا ہوگی پھر قوم ووٹ کے ساتھ ساتھ آپ کو بھی عزت دے گی وہ عزت جو تاریخ میں ایک ہی بار کسی کے حصے میں آتی ہے جو واقعی اس عزت کا حقدار ہوتا ہے۔

امن کے قیام کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز اپنا کردارادا کریں

adaria

وزیراعظم جسٹس(ر)ناصر الملک نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ انتخابی امیدواروں، سیاسی ریلیوں اور کارنر میٹنگز میں شرکت کرنے والے لوگوں کی حفاظت کیلئے تمام سیکورٹی اقدامات اور ہرممکن حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے وزیراعظم نے یہ حکم کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس میں دی۔ وزیراعظم نے سلامتی سے متعلق انتظامات کے بارے میں سیاسی قیادت سے مشاورت اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو رونما ہونے سے بچانے کیلئے تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔ وزیراعظم نے کہا تمام اسٹیک ہولڈرز ملک میں امن کے قیام کیلئے کردار ادا کریں عوامی شعور اجاگر کرنے کیلےء فوری مہم بھی شروع کرنی چاہیے تاکہ عام لوگوں کو سیکورٹی سے متعلق معیاری طریقہ ہائے کار کے بارے میں معلومات مل سکیں۔اس سے قبل وزیراعظم نے ساراوان ہاؤس کوئٹہ کا دورہ کیا اور شہید سراج رئیسانی کے غمزدہ خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا جو 13 جولائی 2018 کو مستونگ میں دہشت گردی کے حملے میں شہید ہوگئے تھے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے سانحہ مستونگ میں شہید ہونے والے افراد کی یاد میں بلوچستان کی طرح ملک بھر میں یوم سوگ منایا گیا ۔ انتخابی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کا رجحان تشویشناک ہے ۔ انتخابات سے قبل دہشت گردی کے واقعات دراصل انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے لیکن ملک و قوم کے دشمن اپنے مذموم عزائم میں ناکام رہیں گے ۔ پاکستانی قوم سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ کھڑی ہے۔ دہشت گرد امن کے دشمن ہیں اور انسانیت کے بھی دشمن ، دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ دہشت گردی کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا اسلام تو امن کی تعلیم دیتا ہے اور ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ بھی ملوث ہیں اور پڑوسی ملک بھارت خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ذریعے دہشت گردانہ کارروائیاں کرکے پاکستان کے اندر انارکی اور عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے پاکستان کئی بار بھارتی دہشت گردانہ کارروائیوں پر احتجاج کرچکا ہے لیکن عالمی اداروں نے بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کررکھی ہیں ، وزیراعظم نے بجا فرمایا تمام سٹیک ہولڈرز کو قیام امن کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ دھماکوں کا مقصد انتخابات کے عمل کوروکنا ہے لیکن یہ سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ دہشت گرد اور ان کے سہولت کار اپنے ناپاک منصوبے میں ناکام رہیں گے ۔ سانحہ مستونگ ، بنوں اور دیگر سانحات میں متاثرہ خاندانوں نے جس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے وہ اس امر کا آئینہ دار ہے کہ دہشت گرد انتخابی عمل کو متاثر نہیں کرسکیں گے ۔ نگران حکومت اور دیگر اداروں کو امیدواروں اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے سیکورٹی کو فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل کیا جاتا تو دہشت گردی کا ناسور کب کا ختم ہوچکا ہوتا اب بھی وقت ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیا جائے ۔ حکومت امیدواروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ دہشت گردی کے واقعات کو روکا جاسکے الیکشن کمیشن نگران حکومت صاف و شفاف الیکشن کے انعقاد کو یقینی بنائیں اور سیکورٹی انتظامات کو موثر بنایا جائے یہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو بھی چاہیے کہ وہ امن کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں اور امیدوار اور عوام بھی ملک دشمن عناصر کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور مشکوک افراد کی فوراً قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع کریں انتخابات کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازش ناکام قرار پائے گی ۔ سیاسی و عسکری قیادت اور قوم پر عزم ہے اور دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کیلئے اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں سے متزلزل نہیں ۔ دہشت گرد ملک و قوم کے دشمن ہیں ان کو عبرت کا نشان بنا کر ہی امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ پاک فوج کا دہشت گردی کیخلاف کردار قابل ستائش ہے، وہ وقت دور نہیں جب بچے کھچے دہشت گرد بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچیں گے اور یہ ملک امن کا گہوارہ بن کر ابھرے گا۔ وزیراعظم نے انتخابی امیدواروں، عوام کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے جو وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے ، امیدواروں کے جان و مال کی حفاظت حکومت کا فرض قرار پاتا ہے۔نگران وزیراعظم نے جو ہدایات دی ہیں ان پر عملدرآمد کیا جائے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہوں اور انتخابات کا عمل پرامن طریقے سے اپنے انجام کو پہنچے۔

نواز شریف کا جیل سے پیغام وہی پرانا بیانیہ
اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو احتساب عدالت اسلام آباد کی جانب سے دی گئی سزائے قید کے بعد انہیں قیدی نمبر الاٹ کردئیے گئے نواز شریف جو سیل نمبر 11 میں قید ہیں انہیں قیدی نمبر 3421 جبکہ مریم نواز کو قیدی نمبر 3422 الاٹ کیے گئے ہیں ۔ جیل سے پیغام میں سابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ عوام زنجیریں توڑ دیں اٹھیں اور تحریک بن کر پھیل جائیں ووٹ کی توہین کرنے والوں کو شکست دیں مجھے اور میری بیٹی کو اپنی عوام سے دور رکھنے کیلئے پابند سلاسل کیا گیا جیل ، قید میرا آپ کا رشتہ نہیں ختم کرسکتے کوئی ڈکٹیٹر کل یہ رشتہ توڑ سکا نہ ڈوریں ہلانے والے اسے توڑ سکے پورے ملک کو جیل میں بدل دیا گیا ۔70 سال سے جاری اس کھیل سے اب نجات حاصل کرنا ہوگی۔سزا یافتہ سابق وزیراعظم نے جو پیغام دیا ہے وہ اس امر کا آئینہ دار ہے کہ انہوں نے اداروں کیخلاف اپنا بیانیہ نہیں بدلہ پانامہ کیس سے اٹھنے والے ہنگامے نے اور ان کے قول و فعل کے تضادات اور جارحانہ انداز رویہ نے ان کو بند گلی میں داخل کردیا ہے لیکن سابق وزیراعظم آج بھی اداروں کیخلاف بیان بازی سے باز نہیں آئے چاہیے تو یہ تھا کہ نواز شریف اپنے اوپرلگنے والے الزامات کے ثبوت پیش کردیتے اور تصادم کا راستہ اختیار نہ کرتے تو آج صورتحال مختلف دکھائی دیتی ۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنماؤں کے انتہائی صائب مشوروں کو بھی نظر انداز کیا اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو متنازع بنانے اور ججز کے خلاف بیان بازی کو اپنا مشن بنایا جس کا نتیجہ ان کے سامنے ہیں آج پھر وہ عوام کے اندر تحریک پیدا کررہے ہیں لیکن قوم جانتی ہے کرپش کیسے ہوئی پانامہ کا نواز شریف بار ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے اور ججز کو حرف تنقید بنانا ہی ضروری گردانا جو درست راستہ نہیں جمہوریت کیلئے بھٹو خاندان کی قربانیاں کون بھول سکتا ہے جیل ، کوڑے لاٹھی چارج عقوبت خانے ، ٹارچر سیل اور پھانسی لیکن انہوں نے آمریت کے سامنے جھکنا گہوارہ نہ کیا سابق وزیراعظم خود جمہوری حکومتوں کے گرانے کی سازش کرتے رہے اور بھٹو خاندان کیخلاف انہوں نے کیا کچھ نہیں کیا ۔ ضیاء الحق مرحوم کی قبر پر ان کی تقریر قوم بھولی نہیں اب ان کو کبھی خلائی مخلوق دکھائی دیتی ہے لیکن ایسی صورتحال نہیں نواز شریف اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کریں اور اپیل کا حق استعمال کریں لیڈر جیلوں میں جاتے رہتے ہیں عدالتیں جو فیصلہ دیتی ہیں وہ قانون کے تناظر میں دیتی ہیں عوام مسائل زدہ ہے ان کو بنیادیسہولتیں میسر نہیں یہ کیا زنجیریں توڑیں گے ہر شخص فکر فردا میں ہے اور اپنی قسمت پر آہ وبکا کررہا ہے،عوام کی نظریں عدالت عظمیٰ پر لگی ہوئی ہیں جو ان کے دکھوں کا مداوا کرنے میں سرگرداں ہے۔

عالمی عدالت میں کلبھوشن کیس کی سماعت

بلوچستان سے را کے ایجنٹ کمانڈر کل بھوشن یادیوکی گرفتاری نے باہمی تعلقات کے اتار چڑھاؤ میں بھارت کو دفاعی اور پاکستان کو بالادست پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ کل بھوشن یادیو بھارتی بحریہ کا افسر تھا جس کی خدمات را نے مستعار لیں اور وہ پاک چین معاشی راہداری کے بری و بحری راستوں اور گوادر کی بندرگاہ کی تعمیر و ترقی کے بارے میں خفیہ معلومات جمع کرنے کیلئے نیٹ ورک کی تشکیل اور اس نیٹ ورک کی تربیت کے مشن پر تھا۔ہماری فوجی عدالت کی جانب سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سزائے موت سنائے جانے کے بعد بھارت آگ بگولہ ہوگیا اور ہیگ میں واقع عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی۔بھارتی دروغ گوئی‘ جعلسازی اور پاکستان کیخلاف اسکے خبث باطن کا اس سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کلبھوشن کی سزائے موت کیخلاف اسکی دائر کردہ درخواست کی ابھی عالمی عدالت انصاف میں سماعت بھی نہیں ہوئی تھی کہ اس نے عالمی میڈیا کو کلبھوشن کی سزائے موت پر عملدرآمد روکے جانے کی جھوٹی خبر جاری کردی۔ بھارتی میڈیا پر ایسی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ بین الاقوامی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادو کی پھانسی کی سزا معطل کر دی ہے۔تاہم انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے ایسی تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی عدالت انصاف نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا ۔ ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ سزائے موت یافتہ ہندوستانی شہری کلبھوشن یادیو کے بارے میں پاکستان اپنا دوسرا تحریری جواب بین الاقوامی عدالت انصاف میں 17 جولائی کو داخل کرے گا۔ یہ جواب الجواب ہوگا۔ اس سے پہلے 13 دسمبر کو جواب جمع کرایا تھا۔بین الاقوامی عدالت مزید مہلت کی مدت ہندوستان اور پاکستان کی نمائندگیوں کے لئے دینے کے مقصد سے تعین کرے گی۔ اعلیٰ سطحی اٹارنی خاور قریشی نے جو ابتدائی مرحلہ میں اسی مقدمہ میں پاکستان کی پیروی کرچکے ہیں۔ نگراں وزیراعظم پاکستان ناصرالملک کو گزشتہ ہفتہ مقدمہ کی تفصیل سے واقف کرواچکے ہیں۔ دوسری جوابی یادداشت پیش کرنے کے بعد بین الاقوامی عدالت انصاف سماعت کی تاریخ مقرر کرے گی جو آئندہ سال متوقع ہے۔ جاریہ سال سماعت کا امکان نہیں ہے کیوں کہ آئندہ سال مارچ۔ اپریل تک دیگر مقدمات کی سماعت جو شروع ہوچکی ہے، جاری رہے گی۔ بلوچستانی ساحل مکران سے گرفتار ہونیوالا کل بھوشن یادیو 2013ء سے را کیلئے کام کر رہا تھا۔ حسین مبارک پاٹیل کے نام سے پاسپورٹ بنوا رکھا تھا۔ وہ تین سال سے براہ راست را سے منسلک تھا اور دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھا۔ کل بھوشن یادیو بلوچستان میں ’’را‘‘ کا سب سے بڑا ایجنٹ تھا۔ وہ بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی متعدد سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ کل بھوشن پہلے بھارتی نیوی میں ملازم تھا، بعدازاں ’’را‘‘ میں شامل ہوا۔ اس سے تفتیش میں مزید اہم انکشافات سامنے آئے ۔ اس کے مطابق اس کے زیر سایہ کراچی سمیت سندھ میں فسادات پھیلانے کیلئے کئی میٹنگز ہوئیں۔گزشتہ برس 25 دسمبر کو پاکستان نے کلبھوشن یادیو کی اہلیہ کو اس سے ملاقات کی پیشکش خالصتاً انسانی بنیاوں پر اور اسلامی روایات کے تحت کی لیکن بھارت نے حسب معمول پاکستان کے جذبہ خیرسگالی کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی۔ بھارتی میڈ یا نے اس معاملے کو غلط رنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی عدالت کے دباؤ پر کلبھوشن یادیو کو بیوی سے ملاقات کی اجازت دی ہے۔ جبکہ ہمارے دفتر خارجہ کے مطابق عالمی عدالت کا اس پیشکش سے متعلق پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔ پاکستان نے صرف انسانی ہمدردی اور اسلامی اقدار کے تحت بھارتی جاسوس کی اہلیہ کو ملنے کی اجازت دی۔ پاکستان نے انسانی بنیادوں پر بھارت کے دہشت گرد کلبھوشن یادیو کو والدہ اور اہلیہ سے ملنے کا موقع دیاجسے پوری دنیا نے سراہا مگر بھارتی میڈیا کیلئے کچھ بھی اچھا نہ تھا۔ سو روایتی ہیجان خیزی کا مظاہرہ کیا گیا لہذا بھارتی میڈیا زہر اگلے لگا۔ پاکستان کی طرف سے بڑے دل کا مظاہرہ کیا گیا۔ نئی دہلی کو سانپ سونگھ گیا۔ بے بنیاد پروپیگنڈے کی گردان شروع کردی گئی۔ بھارتی ٹی وی چینلز کی حماقتیں قابل دید تھیں۔ اعتراض اٹھایا کہ دہشتگرد کلبھوشن یادیو ملاقات میں شیشے کی دیوار سے رکاوٹ کیوں پیدا کی گئی۔ کیمرے کیوں لگائے گئے۔ بھارت بالکل بھول گیا کہ کلبھوشن یادیو ایک ہائی پروفائل دہشتگرد سزا یافتہ مجرم ہے جبکہ خود بھارت کا اپنا رویہ پاکستانی قیدیوں کے ساتھ کیا رہا ہے؟، سب کے سامنے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں جا کر پاکستان کی سلامتی کیخلاف جاری اپنی سازشوں کو اقوام عالم کے روبرو خود ہی بے نقاب کیا ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ تنازعات کے حوالے سے عالمی فورموں کے اقدامات اور فیصلوں کو درخوراعتناء نہ سمجھنا بھارت کی سرشت میں شامل ہے۔اگر بھارت اپنے سفاک دہشت گرد کلبھوشن کی سزا کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں جانا اپنا استحقاق سمجھتا ہے تو پھر ممبئی حملہ کیس میں بھارتی عدالت کی جانب سے سزائے موت پانے والے اجمل قصاب اور پارلیمنٹ حملہ کیس میں جیل کے اندر پھانسی پر لٹکنے والے کشمیری حریت لیڈر افضل گورو کی سزاؤں کا معاملہ بھی عالمی عدالت انصاف میں جانا چاہیے جنہیں بھارتی ڈرامہ بازی کی بنیاد پر پھانسی پر لٹکایا گیا اور اجمل قصاب تک قونصلر رسائی کی پاکستانی درخواست کو حقارت کے ساتھ مسترد کردیا گیا۔

خوشحال بلوچستان وقت کی اہم ضرورت

asgher ali shad

یہ امر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ حالیہ ہفتوں میں بلوچستان کے بہت سے حلقوں نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ وہ بھارت کے پھیلائے ہوئے جال میں ہرگز نہیں آئیں گے بلکہ مستقبل میں اپنی ساری توانائیاں پاکستان خصوصاً بلوچستان کی حقیقی فلاح و بہبود کیلئے صرف کرنے کی بھرپور سعی کریں گے۔ اس پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے ملکِ عزیز کے اکثر حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ یہ بات بڑی اطمینان بخش اور حوصلہ افزا قرار دی جانی چاہیے کہ ’’ڈاکٹر جمعہ خان مری‘‘ اور ان کے ساتھیوں کی بڑی تعداد نے کھل کر اس امر کا اظہار کیا ہے کہ بھارت بلوچستان میں نام نہاد علیحدگی پسندوں کی ہر طرح سے معاونت کر رہا ہے اور بھارت کے ایما پر یہ عناصر بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں اپنی مذموم سازشوں کو پروان چڑھانے میں مصروف رہے ہیں مگر اب بلوچ عوام کی اکثریت کو اس بات کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے کہ ان بھارتی کے تانے بانے ’’را‘‘ ، این ڈی ایس اور کئی دیگر غیر ملکی قوتوں سے جا ملتے ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹر جمعہ خان جیسی موثر شخصیات کی جانب سے بھارتی عزائم کا پردہ چاک کیا جانا ، انتہائی حوصلہ افزا پیش رفت ہے جس کا ہر سطح پر خیر مقدم کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ امر کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ بھارتی حکمران گزشتہ دو ڈھائی برس سے ’’سی پیک‘‘ کے خلاف زہریلا پراپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں اور وہ برملا اس یہ کہتے رہتے ہیں کہ سی پیک کو نقصان پہنچانا ضروری ہے۔ اسی تناظر میں ماہرین نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ایک حالیہ اجلاس میں جس طرح مودی نے ڈھکے چھپے بلکہ کھلے الفاظ میں سی پیک کی بابت اپنی منفی سوچ کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے بعد تو ہندوستانی عزائم کی بابت کسی خوش فہمی کی گنجائش نہیں بچتی۔ لہٰذا پاکستانی میڈیا اور سول سوسائٹی کے سبھی انسان دوست حلقوں کو اس جانب خاطر خواہ ڈھنگ سے متوجہ ہونا چاہیے کہ بھارتی شر انگیزیوں سے ملک و قوم کو محفوظ بنانے کی کاوش ہر باشعور پاکستانی کا اولین فریضہ ہونا چاہیے اور یہ بات خاصی حد تک اطمینان بخش ہے کہ ملکی سلامتی کے تمام ادارے اس حوالے سے اپنا کردار احسن طریقے سے انجام دینے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں میں منظور پشتین اور پشتون تحفظ موومنٹ نامی اس کی نام نہاد تنظیم جس طرح پاکستان کے خلاف ایک مخصوص پراپیگنڈے میں مصروف ہے ،اس صورتحال کے سد باب میں سبھی ملکی حلقوں کو مزید موثر کردار نبھانا چاہیے۔ ایسے میں ڈاکٹر جمعہ خان جیسی محب وطن شخصیات کی حوصلہ افزائی وقت کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب ’’را‘‘ نے پاکستان مخالف اور حقائق کو مسخ کرنے والی اشاعتوں کے ذریعے بھی زہریلے خیالات کے پرچار کو اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔ یاد رہے کہ دہلی میں قائم یہ ادارہ ہمہ وقت پاکستان مخالف تحریریں اور بے سروپا بیانات جاری کر کے بھارتی عوام کو بھی گمراہ کرتے ہوئے حقائق سے برعکس تصویر پیش کر رہا ہے۔

Google Analytics Alternative