کالم

الزام تراشی کے رجحان کی حوصلہ شکنی وقت کی ضرورت

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ (ن) لیگ کی جانب سے عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے کہ میں نے پیسہ باہر سے کما کر پاکستان لایا‘ کون کہتا ہے میرے پاس منی ٹریل نہیں‘ ساری دستاویزات عدالت میں پیش کردی ہیں‘ میری جائیداد بے نامی نہیں ہے‘ میرا سارا پیسہ میرے نام پر ہے‘ مشتاق احمد کا کنٹریکٹ صرف مثال کے طور پر پیش کیا عوام سب سے زیادہ خیرات مجھے دیتی ہے‘ شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کے لئے لاکھوں کا چندہ ملتا ہے‘ خیراتی اداروں پر چوری کا الزام لگانے والوں کو شرم آنی چاہئے‘ خواجہ آصف اپنے قائد کی چوری بچانا چاہتے ہیں ان کی باری بھی آنے والی ہے‘ نواز شریف کی حمایت میں نکلنے والے تمام افراد خود بھی مجرم ہیں‘ شریف خاندان نے عدالت میں جھوٹ بولا‘ جعل سازی کی ‘ قوم پانامہ کیس کے فیصلے کا انتظار کررہی ہے۔عوام کو دھوکہ دیا جارہا ہے یہ تاثر پیدا کیا جارہا ہے عمران خان اور ہمارا ایک ہی کیس ہے ان کے اوپر منی لانڈرنگ کا الزام ہے‘ ٹیکس چوری کا الزام ہے۔ انہوں نے عدالت کے سامنے جھوٹ بولا۔ میں نے پیسہ باہر سے کمایا اس پیسے کو پاکستان لایا ٹیکس تو میں باہر دیتا تھا۔ شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کیلئے لاکھوں کا چندہ ملتا ہے۔ میری ساری ٹرانزیکشن سپریم کورٹ میں پڑی ہے۔ جمائما سے رسیدیں لے کر سپریم کورٹ میں جمع کرائیں۔ میرا اور حکومت کا کیس بالکل مختلف ہے۔ لندن فلیٹ کیسے خریدار اس کی دستاویزات آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ شریف خاندان نے ٹیکس چوری کی اور پھر اسے چھپایا۔ 1983,1984 میں لندن میں فلیٹ خریدا۔ میں نے 1977 سے 1979 تک کیری پیکر سیریز کھیلی اس کا خط مہیا کردیا۔ ورلڈ کرکٹ سیریز میں ظہیر عباس اور دیگر پروفیشنل کرکٹرز کو سائن کیا گیا میرا اکیلا نہیں یہ پچاس کرکٹرز کا معاہدہ تھا۔ میرا 33فیصد ٹیکس کٹتا تھا۔ میں نے 1984میں فلیٹ 60لاکھ کا لیا تھا۔ میں نے اپنے بینیفیٹ سیزن کا کنٹریکٹ بھی پیش کیا۔ مشتاق نے میرے اٹھارہ سال بعد سیکسس کے لئے کاؤنٹی کرکٹ کھیلی مشتاق احمد کا کنٹریکٹ صرف مثال کے طور پر پیش کیا۔ بینیفٹ سیزن میں مجھے ایک لاکھ 90ہزار پاؤنڈز ملے میرا سارا پیسہ میرے نام پر ہے۔ گلف اسٹیل نقصان کے بعد بند ہوگئی تھی۔ شوکت خانم پاکستان کا سب سے بڑا خیراتی ہسپتال ہے۔ خیراتی ادارے پر چوری کا الزام لگانے والوں کو شرم آنی چاہئے۔ خواجہ آصف چار سال سے بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔ خواجہ آصف کو دنیا اور آخرت کی فکر کرنی چاہئے۔ کینسز کسی کو بھی ہوسکتا ہے اﷲ سے ڈرنا چاہئے شوکت خانم کینسر کے ستر فیصد مریضوں کا مفت علاج کرتا ہے۔ کرپٹ ٹولہ اپنی چوری بچانے کے لئے اکٹھا ہوگیا ہے دنیا میں کہیں بھی خیراتی اداروں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ جو غریب کینسر کے علاج کے لئے باہر نہیں جاسکتے ان کا علاج کیا جاتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہمیں قطری خط کا طعنہ دیا جاتا ہے قطری خط شریف خاندان نے پیش کیا۔ خواجہ آصف اپنے قائد کی چوری بچانا چاہتے ہیں۔ ان کی باری بھی آنے والی ہے۔ ملزم کی چوری چھپانے والے بھی اس کے ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ شریف خاندان نے عدالت میں جھوٹ ہولا‘ جعل سازی کی۔ میرا ایک روپیہ بھی پاکستان سے باہر نہیں ہے۔ نواز شریف نے تو اپنے فلیٹس سے متعلق کچھ نہیں بتایا میری جو جائیداد ہے وہ بے نامی نہیں سب کے سامنے ہے۔ عمران خان نے ن لیگ کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی وضاحت کردی ہے سیاست میں پانامہ کیس کے حوالے سے اس وقت خوب تہلکہ مچا ہوا ہے ایک دوسرے پر تنقید اور الزامات کی بوچھاڑ جاری ہے سیاست میں ہلچل دکھائی دیتی ہے اور سیاسی عدم استحکام اس ملک کا مقدر بنے دکھائی دے رہا ہے بہتر یہی ہے کہ حکومتی وزراء اور سیاسی جماعتیں پانامہ کیس کے عدالتی فیصلے کا انتظار کرلیں جو بھی فیصلہ آئے اسے قبول کریں یہی جمہوریت کیلئے نیک شگون قرار پائے گا عدالت کا فیصلہ قانون اور آئین کے تناظر میں ہوگا اور اس کے سیاسی اُفق پر گہرے اثرات مرتب ہونگے۔

پیپلز پارٹی کی گو نواز گو ریلیاں
پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام پنجاب بھر میں گو نواز گو ریلیاں اور مطالبہ کیا گیا کہ وزیراعظم نواز شریف فوری استعفیٰ دے دیں ریلیوں میں حکومت کیخلاف زبردست نعرہ بازی کی گئی ۔ راولپنڈی میں بینظیر بھٹو کی جائے شہادت سے لیاقت چوک تک ریلی ، لاہور ، گجرات ، ساہیوال، شیخوپورہ، سیالکوٹ ، فیصل آباد، جھنگ ، کمالیہ ، گوجرانوالہ ، نارروال حافظ آباد ، میانوالی ، سمبڑیال اور دیگر شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں ۔ شرکاء نے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کیا ۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گو نواز گو ریلیوں پر پنجاب میں جیالوں پر مقدمات کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ پنجاب حکومت انتقامی کارروائی پر اتر آئی ہے۔ مقدمات بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ۔ پانامہ کیس میں حکومت کو اس وقت ایک طرف عدالتی فیصلے کی پریشانی لاحق ہے تو دوسری طرف سیاسی جماعتوں کا دباؤ اس کیلئے درد سر بنا ہوا ہے۔ حکومت سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے اور ان کو اپنے ساتھ چلانے میں ناکام رہی جس کا نتیجہ آج اس کے سامنے ہے سیاست میں برداشت ، بردباری بصیرت اور تدبر کا ہونا ناگزیر ہوا کرتا ہے لیکن صد افسوس کے ہمارے ہاں برداشت کا جمہوری کلچر فروغ نہ پاسکا جس سے محاذ آرائی دیکھنے میں آرہی ہے ۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا میثاق جمہوریت کا شیرازہ بکھر چکا ہے اور یہ دونوں بڑی پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں ۔ سیاست میں آج کے حلیف کل کے حریف اور آج کے حریف کل کے حلیف ہونا کوئی عجوبہ نہیں ہے۔ وزیراعظم سیاسی حالات کو بھانپتے ہوئے ایسا فیصلہ کرگزریں جو جمہوریت کیلئے نیک شگون قرار پائے سیاسی جلسے ، جلوسوں اور ریلیوں میں کارکنوں کی پکڑ دھکڑ جمہوریت کیخلاف ہے حکومت انتقامی کارروائیوں سے گریز کرے۔

آپریشن خیبر4 کے اہداف پورے ہونے چاہئیں
آپریشن خیبر 4 کامیابی سے جاری ہے۔ پاک فوج اس کے اہداف کے حصول کیلئے دن رات کوشاں ہے۔ اس سلسلے میں پاک فوج نے سپین کٹی چوٹی پر موجود سپرائی اور ستار کلے درے دہشت گردوں سے خالی کرا لئے۔ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو توپ خانے اور ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایا گیا۔ دونوں درے افغانستان سے پاکستان داخلے کیلئے استعمال کئے جا رہے تھے۔ فوج نے وادی راجگال میں دہشت گردوں کے 2 مضبوط ٹھکانوں پر قبضہ کر لیا۔ سپین کئی چوٹی پر موجود سپرائی اور ستار کلے درے دہشت گردوں سے خالی کرا لئے گئے ۔ دونوں درے افغانستان سے پاکستان داخلے کیلئے استعمال کئے جا رہے تھے۔ پاک فوج نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو توپ خانے اور ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایا گیا۔ آپریشن خیبر 4 میں دہشت گردوں کیخلاف منصوبے کے مطابق پیش رفت جاری ہے ۔ خیبر 4 کے آپریشنل کمانڈر آئی جی ایف سی خیبر پختونخوا نارتھ میجر جنرل شاہین ہیں۔ آپریشن خیبر4 کی پے درپے کامیابی اس امر کا عکاس ہے کہ دہشت گرد اب بچ نہیں پائیں گے اور خطے میں امن قائم ہوگا اور ترقی و خوشحالی اس کا مقدر ٹھہرے گی۔

کشمیری عوام سکون کو ترس گئے

کیا را نے مقبوضہ جموں کشمیر میں پھر کسی بڑی کاروائی کی منصوبہ بندی کی ہے اور اس کا ایک حصہ یہ ہے کہ حسب معمول اس کا الزام پاکستان پر دھرا جائے گااور اسی لیے پہلے اس نے پاکستان کی آئی ایس آئی پر حفظ ما تقدم کے طور پر شک نہیں بلکہ یقینی الزام لگا دیا ہے کہ اس نے اپنے چار دہشت گرد سرحد پار داخل کرا دیے ہیں اور بھارت کی آئی بی کے مطابق اب یہ چاروں اس اسلحے کا انتظار کر رہے ہیں جو پاکستان انہیں بھیجے گااور اس مقصد کے لیے اس نے ایک ایسے شخص کی خدمات حاصل کی ہیں جو نشے کے بیوپار کا کام کرتا ہے۔منصوبہ بندی تو زبردست کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن جھول کہیں نہ کہیں تو رہ ہی جاتا ہے، اگر آئی ایس آئی اتنی نا پختہ کار ہے کہ انتظامات مکمل کرنے سے پہلے اپنے بندے داخل کرائے تو وہ بقول بھارت کے پورے بھارت کو قابوکیسے کئے ہوئے ہے۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا دشمن ملک میں کسی تخریب کار کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ ادھر انتظار کرتا رہے، کیا اسے یہ خوف نہیں ہو گا کہ وہ مقصد حاصل کر لینے یعنی کاروائی کرنے سے پہلے پکڑ لیا جائے،جان سے بھی جائے گا اور ملک کی بد نامی الگ ہو گی پھر یہ کہ کسی نشے کے کاروباری کے ہاتھوں اسلحہ بھیجا جائے یعنی جو شخص پہلے سے ہی قانون کی نظر میں ہے، قابل سزا جرم کر رہا ہے اور کسی بھی وقت گرفتار ہو سکتا ہے اسے اتنی بڑی ذمہ داری کیونکر دی جارہی ہے۔را نے یقیناًاس طریقے کی کوئی واردات پاکستان میں کی ہو گی اور خوش قسمتی سے کامیاب رہا ہو گااس لیے اس نے ایسا ہی منصوبہ آئی ایس آئی کو بھی بنا کر پیش کیا اور سوچا کہ آئی ایس آئی بغیر سوچے سمجھے اس پر عمل درآمد کرانے گی اور راایک بار پھر بڑے آرام سے الزام پاکستان کے سر رکھ کر اپنے عوام کے سامنے ہیرو بن جائے گا۔جن شہروں میں حملے کا یہ منصوبہ ہے ان میں کا تھوا،گورداسپور اور پٹھانکوٹ کے اضلاع شامل ہیں۔ان علاقوں کے عوام کو ہو شیار ہو جانا چاہیے کہ ان کے شہر میں دہشت گردی ہو گی اور یہ پاکستان کا نام لے کر ان کی اپنی کوئی ایجنسی کرے گی۔ پاکستان اور بھارت ہونے کو تو جغرافیائی طور پر دو پڑوسی ہیں اور آزاد ممالک ہیں جن کو آزاد ہوئے ستر سال گزر چکے ہیں لیکن بھارت نے آج بھی اس نئے بننے والے ملک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور اس کی تو انائیوں کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں صرف ہوتا ہے۔اسے آج بھی دکھ ہے کہ ہندوستان میں اقلیت ہوتے ہوئے مسلمانوں نے سیاسی فتح کیسے حاصل، کی اپنی اس شکست کا بدلہ لینے کے لئے اس نے اپنی بھی اور ہماری بھی نسلوں کو جنگوں کی نذرکیا اس نے نہ تو اس وقت پاکستان کے وجود کو تسلیم کیا اور نہ آج کر رہا ہے اور انگریز کے ساتھ مل کر جو سازش کی اور کشمیر پر اس کے راجا کی مدد سے قبضہ کیا ایک مسلم اکثر یتی ریاست ہندوسامراج کے تسلط میں چلی گئی اور یہ آج تک وجہ نزاع بنا ہوا ہے اور معلوم نہیں کب تک ہندو ذہنیت اور بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے انسانوں کا خون بہتا رہے گا ۔بھارت اسی کشمیر کی آڑ لے کر پاکستان کو اپنے تمام مسائل کے لیے مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ کئی ثابت شددہ واقعات اور حملے بھارت سرکار اور رانے خود کیے اور پھر اس کا الزام پاکستان کے سر رکھا اور دونوں ملکوں کی فوجیں سرحدوں پر ایک دوسرے کے سامنے آکھڑی ہوئیں اور تین بار ٹکرائیں بھی۔ 1948میں ہونے والی محدود جنگ، 1965میں ایک بہت بڑی اور کھلی جنگ بن چکی تھی ۔1971کی جنگ کے علاوہ جو مشرقی پاکستان میں بھارت کی سازش تھی 1999میں پھر کشمیر کے محاذ پر دونوں ملکوں کی جنگ کارگل میں ہوئی اور اگر پاکستان تحمل کا مظاہرہ نہ کرے تو یہ جنگیں کبھی ختم ہی نہ ہوں اور جنگ عظیم کی طرح سالہاسال چلیں۔بھارت اپنے اندر کے مسائل ختم کونے کی بجائے ہر مسئلے کیلئے پاکستان کو دوش دے کر سمجھتا ہے کہ وہ بری الزمہ ہوگیا ۔کیا کسی ملک کے لیے ایک دوسرے ملک میں ستر سال تک ایک جنگ آزادی کو قائم رکھنا ممکن ہے اگر نہیں تو پاکستان نے کشمیر میں کیسے اسے فعال رکھا ہوا ہے، اگر وہ ایساکرنے میں کامیاب ہے تو سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا ایسا مقامی آبادی کی خواہش کے بغیر ہو سکتا ہے۔کشمیری بھارتی مظالم اور غلامی کی زندگی سے تنگ آئے ہو ئے لوگ ہیں اور صرف کشمیریوں پر ہی کیا موقوف کوئی بھی قوم دوسرے کا تسلط برداشت نہیں کر سکتی اور وہ بھی اس صورت میں جب اس کا مذہب، تہذیب، رسوم،رواج اور تاریخ سب ایک دوسرے سے مختلف ہوں لہذا کشمیری بھی اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور بالکل برحق اور بجا لڑ رہے ہیں وہ اگر کشمیر کے ہوتے ہوئے بھی کشمیر کے مالک نہ ہوں تو یہ کہاں کا انصاف ہے اگر عالمی برادری سے مسئلہ حل نہ ہو رہا ہو اوراگر اقوام متحدہ بے بس ہے تو کیاکشمیری بھی غلامی سے سمجھوتہ کرلیں اور ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائیں، چونکہ ایسا ممکن نہیں لہذا وہ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور بھارت کے خلاف کوئی نہ کوئی کاروائی کر لیتے ہیں جسے بھارت پاکستان کی کاروائی کہہ کر دنیا کو دھوکہ دینے کی کو شش کرتا ہے بلکہ وہ خود خونی کاروائیاں کر کے اس کا الزام پاکستان کے اوپر ڈال کر اس کے خلاف صف آرا ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی کشمیریوں کے اوپر بھی مظالم کی انتہا کر دیتا ہے بلکہ سرحد کے اِس پار کے کشمیری بھی اس کی دست برد سے محفوظ نہیں رہتے اور وہ بکریاں چراتے بچوں،بچیوں اور بوڑھوں کو نشانہ بنا دیتا ہے یہ لوگ فوجی نہیں ہوتے نہ ہی عمر کے اس حصے میں ہوتے ہیں کہ بھارت جیسے بڑے ملک کو نقصان پہنچا سکیں لیکن بھارت اپنی بد فطرتی کی تسکین کر لیتا ہے۔ اس بار کی منصوبہ بندی بھی ایسے ہی پروگرام کا حصہ معلوم ہو تی ہے کہ بھارت کاروائی کر کے پاکستان اور کشمیریوں کے خلاف پھر اعلانِ جنگ کر لے گا،پھر سرحد کے آرپار کے کشمیری زد میں آئیں گے پھر پاکستان کو الزام دیا جائے گا اوردنیا کو باور کرایا جائے گا کہ پاکستان بھارت میں در اندازی کر رہا ہے اور اس کی توجہ کشمیر کے مسئلے سے ہٹائے گا ،کشمیریوں کے قتلِ عام کے لیے تو جیہہ ڈھونڈے گا اور پھر کئی معصوم کشمیری اِس ظلم کی نذر ہو جائیں گے۔اول خود بھارت کے اپنے باشندے قتل ہونگے ان دھماکوں اور دہشت گرد کاروائیوں میں اور پھر کشمیریوں کی باری آئے گی۔عالمی برادری کو اس طرف ضرور توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ بر صغیرکا امن اسی بھارتی بلیم گیم کی زد میں رہے گا اور یہاں کے عوام امن اور سکون کوترستے رہیں گے۔
*****

جاں نثاری۔۔۔۔ شوکت کاظمی
یوں نہ اپنے آپ کو سستا کرو
چودھری خود کو کمر بستہ کرو
اختیار اپنا کوئی رستہ کرو
یا شجر سے خود کو پیوستہ کرو

بھارتی خلاف ورزیاں

پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں کا پانی منصفانہ طور تقسیم کرنے کے لیے ’سندھ طاس‘ معاہدہ طے پایا تھا۔اس معاہدے کے ضامن میں عالمی بینک بھی شامل ہے۔ معاہدے کے تحت بھارت کو پنجاب میں بہنے والے تین مشرقی دریاؤں بیاس، راوی اور ستلج کا زیادہ پانی ملے گا یعنی اْس کا ان دریاؤں پر کنٹرول زیادہ ہو گا۔جب کہ جموں و کشمیر سے نکلنے والے مغربی دریاؤں چناب اور جہلم اور سندھ کا زیادہ پانی پاکستان کو استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔اگرچہ یہ معاہدہ برقرار ہے لیکن دونوں ملکوں ہی کے اس پر تحفظات رہے ہیں اور بعض اوقات اس معاہدے کو جاری رکھنے کے حوالے سے خدشات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔پاکستان کا الزام رہا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی جاری ہے اور بعض منصوبے پاکستان کو مستقبل میں اس کے حصے کے پانی سے محروم کر دیں گے۔ لیکن بھارت ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے اور بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ جن آبی منصوبوں پر وہ کام کر رہا ہے وہ دراصل پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے بلکہ بہتے پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے ہیں جو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں۔قیام پاکستان کے وقت کی ہندو لیڈر شپ نے پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی نیت سے ہی کشمیر کا تنازعہ پیدا کیا اور اس کا مسلم اکثریتی آبادی ہونے کے باوجود پاکستان کے ساتھ الحاق نہ ہونے دیا اور پھر 1948ء میں اپنی افواج داخل کر کے کشمیر کے بڑے حصے پر اپنا تسلط جما لیا جسے بعدازاں بھارتی آئین میں ترمیم کر کے باقاعدہ بھارتی ریاست کا درجہ دے دیا گیا۔ کشمیر پر تسلط جمانے کا بھارتی مقصد کشمیر کے راستے پاکستان آنے والے دریاؤں کا پانی روک کر پاکستان کو قحط اور خشک سالی کے ذریعے کمزور کر کے بے بس بنانے کا ہی تھا تاکہ وہ خدانخواستہ پاکستان کی سلامتی ختم کرنے کے ناپاک عزائم کی تکمیل کر سکے۔ اس کے یہ عزائم آج تک برقرار ہیں جبکہ اس کی آبی دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے 60ء کی دہائی کے آغاز ہی میں عالمی بنک سے رجوع کیا تھا جس نے پاکستان اور بھارت کے مابین پانی کا تنازعہ ختم کرانے کیلئے ان دونوں ممالک کو سندھ طاس معاہدے میں شریک کیا۔ اگرچہ یہ معاہدہ بھی بنیادی طور پر بھارت کے حق میں تھا کیونکہ اس کے تحت تین دریا مکمل طور پر بھارت کے حوالے کر دیئے گئے تھے جبکہ باقی ماندہ تین دریاؤں پر بھی پاکستان کو پہلے ڈیم تعمیر کرنے کا حق دے کر بھارت کو بھی پاکستان کی جانب سے اپنے حق کے استعمال کے بعد ڈیمز کی تعمیر کا حق دے دیا گیا جس سے بھارت نے خوب فائدہ اٹھایا کیونکہ ہمارے حکمرانوں نے تربیلا اور منگلا ڈیم کے بعد سرے سے کوئی ڈیم تعمیر ہی نہ کیا اور جب ایوب دور میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا فائل ورک مکمل ہونے کے بعد بھٹو دور میں اس کی تعمیر کا عندیہ دیا گیا تو خیبر پی کے اور سندھ کے مفاد پرست سیاستدانوں نے اس ڈیم کو متنازعہ بنا کر اسے تعمیر نہ ہونے دینے کے اعلانات شروع کر دیئے۔ صوبہ سرحد کے سرخ پوش رہنماؤں نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی صورت میں اسے ڈائنا مائیٹ مار کر تباہ کرنے کی دھمکیاں دے کر اپنے بھارتی آقاؤں کو خوش کیا جبکہ سندھ کے نام نہاد قوم پرست لیڈران نے یہ دھمکیاں دے کر بھارتی آشیر باد حاصل کی کہ کالا باغ ڈیم ہماری لاشوں پر سے گزر کر ہی بنایا جا سکے گا۔ پاکستان بڑی حد تک سندھ کے پانی پر منحصر کرتا ہے۔ اس کے تقریباً65 فیصد حصے کو اسی دریا سے پانی ملتا ہے۔ اگر بھارت اپنے یہاں سے پاکستان کی طرف جانے والی دریاؤں کا پانی روک دیتا ہے تو پاکستان میں پانی کا زبردست بحران پیدا ہوجائے گا۔ تاہم آبی ماہرین کہتے ہیں کہ اس سے خود بھارت کو بھی نقصان ہوگا اور جموں و کشمیر نیز بھارتی پنجاب کے علاقے سیلاب کی زد میں آجائیں گے۔بھارت کے سابق وزیر خارجہ اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما یشونت سنہا نے مشورہ دیا ہے کہ بھارت کو سندھ آبی معاہدہ فوراً منسوخ کردینا چاہیے تاکہ پاکستان پر دباؤ ڈالا جاسکے۔ اس طرح کا مشورہ کوئی نیا مشورہ نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی جب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوئے تو پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا آئیڈیا کچھ رہنماؤں نے دیا تھا۔ تاہم اس مشورے کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا کیوں کہ اسٹریٹیجک امور کے ماہرین اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ اس طرح کے اقدامات سے بھارت مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے اور پاکستان کو سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنے کیلئے مجبور کرسکے گا۔یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان 1965او 1971 کی جنگیں نیز 1999 کی کرگل عسکری مہم جوئی کے باوجود دونوں ملک سندھ آبی معاہدہ کو نہایت خوش اسلوبی سے برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں اور اس معاہدے کو بین سرحد ی دریاؤں کے پانی کے استعمال کے حوالے سے تعاون کیلئے عالمی رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔بھارت کے معروف تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انیالسس میں اسٹریٹجک امور کے ماہر اتم سنہا کا خیال ہے کہ پانی روکے بغیر یا ضابطوں کی خلاف ورزی کیے بغیر بھی پاکستان پر دباؤ دیا جاسکتا ہے۔ ان کا خیال ہے، ’’اس معاہدے کے مطابق اگر بھارت مغربی دریاؤں کا پانی استعمال کرنے لگے، جو اس نے آج تک نہیں کیا ہے، تب بھی پاکستان دباؤ میں آجائے گا۔ لیکن اس کے منفی اثرات بھی ہوسکتے ہیں کیوں کہ دیگر پڑوسیوں کے ساتھ ہمارے آبی معاہدے بھی ہیں اور اگر ہم سندھ آبی معاہدے کا احترام نہیں کریں گے تو ایک غلط اشارہ جائے گا اور اگر چین نے بھی اسی طرح کا کوئی قدم اٹھایا تو ہمارے پاس اس کے خلاف کوئی اخلاقی جواز نہیں ہو گا۔

حکمران، تاریخی خط اور حضرت علی

حضرت علیؓ نے اپنے دور حکومت میں بہت سے بحرانوں کے باوجود سیاسی، معاشی، سماجی اور تعلیمی میدانوں سمیت ہر شعبہ میں جو اقدامات اور اصلاحات کیں وہ تمام ادوار اور تمام نظام ہائے حکومت کیلئے نمونہ عمل ہیں۔آج اگر ہم عادلانہ نظام کی بات کرتے ہیں تو ہمارے سامنے حضرت علیؓ کی عادلانہ حکومت کے بے شمار نمونے موجود ہیں۔وہ ایک ہی وقت میں الٰہی اور جمہوری عہدے کا حامل ہونے کی وجہ سے اپنا منفرد اور ممتاز مقام رکھتے تھے لیکن عاجزی کا ایک انداز ان کے اپنے فرمان میں ہے کہ’’ میں امیرالمومنین کہلانے کا حقدار نہیں بن سکتا جب تک عوام کے دکھ درد میں برابر کا شریک نہ بن سکوں‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد آپ نے کوئی امتیازی رویہ نہیں اپنایا اور کسی قسم کی روایات کی رسم نہیں ڈالی بلکہ میرٹ اور شفافیت کے رہنما اصول پیش کئے۔ وہ گڈگورننس قائم کرتے وقت اپنی ذات پر قوم کو ترجیح دیتے اور انصاف کا قیام کسی مصلحت کے بغیر کرتے۔ آپ نے اپنی حکمرانی میں عدل قائم کرتے ہوئے قومی خزانے سے ہر شخص کو مساوی مواقع فراہم کرنے کا اصول سختی سے متعارف کرایا۔ لوٹی ہوئی دولت کو ہر صورت میں واپس کرنے کے احتسابی عمل کی بنیاد رکھی۔ قومی خزانے اور بیت المال کو اس انداز میں صرف کیا کہ ہر شخص بلاامتیاز استفادہ کر سکے۔آپ نے کسی کو لوٹ مار اور بد عنوانی کی اجازت نہ دی۔ اسی سلسلے میں آپ کا مشہور فرمان ہے کہ’’ اگر مجھے پتا چل جائے کہ لوٹی ہوئی قومی دولت کئی ہاتھوں تک منتقل ہو چکی ہے تو اس کو تب بھی واپس قومی خزانے میں لاؤں گا‘‘۔ امیرالمومنین نے بیت المال سے اپنے بھائی کو حصہ دینے کے بعد اپنے بھتیجوں کے خشک چہروں کو دیکھنے کے باوجود بقیہ مال قومی خزانے میں لا کر اقرباپروری کو پاؤں تلے روندنے کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ آئین و قانون کی پابندی کرنے والے عمال حکومت کو برطرف کرنا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ آپ کو اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے اور طول دینے کی فکر نہ تھی۔ دور حاضر میں جس تصور کی بنیاد پر آپ نے انفرادی اور اجتماعی زندگی میں انتہائی اہم، حساس اور دور رس اقدامات کئے اور زندگی کے سیاسی، معاشی، معاشرتی اور عمومی اخلاقی میدان میں جو نقوش چھوڑے ہیں ان کے مطالعے کی ضرورت ہے تا کہ ان کے اقدامات کی روشنی میں گھمبیر معاشرتی مسائل کا عصری تقاضوں کے مطابق حل نکالا جا سکے۔ حضرت علی کرم ا ﷲ وجہہ نے اپنے دور خلافت میں حضرت مالک بن الحارث اشتر کو صوبہ مصر کا گورنر مقرر کیا، اس وقت ان کے نام ایک تاریخی خط لکھا جو آج بھی نہائت قیمتی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے اور خط میں گڈ گورننس کے بارے میں ارسال کردہ ہدایات آج کے دور کے حکمرانوں کیلئے مشعل راہ ہیں۔ آنجناب کے بنائے ہوئے دستور پر عمل کر کے اس جدید دور میں بھی صاحب اختیار و اقتدار نہ صرف اپنی منزل حاصل کر سکتے ہیں بلکہ دین و د نیا میں سرخرو بھی ہو سکتے ہیں۔ آج جب عالم اسلام ایک کرب واضطراب سے دوچار ہے۔مسلم امہ اپنی اصل سے بھٹک گئی ہے اور’’ مغرب کے صنم خانوں‘‘ میں چین و سکون تلاش کر رہی ہے۔ آج جب عالم اسام کو ہنود و یہود کی لاتعداد ان دیکھی سازشوں کا سامنا ہے، مسلم ممالک میں انتشار و فساد پیدا کرنے کی سازش کی جا رہی ہے اوراس میں نادانستہ طور پر بہت سے اپنے ممالک بھی آلہ کار بنائے جا رہے ہیں، بڑی طاقت اپنی مرضی مسلط کر رہی ہے۔ بڑے بوڑھوں کا کہنا ہے کہ جب ایک غلط کام ہو جائے تو اسے درست ثابت کرنے کیلئے اور بھی غلط کام کرنے پڑتے ہیں۔ایسی ہی صورت حال سے اب ملک کو گزرنا پڑ رہا ہے۔ایسے حالات میں امیر المومنین حضرت علیؓ کا خط روشنی کا مینارہ ثابت ہو سکتا ہے۔ جناب امیرالمومنین کا ارشاد ہے! ’’ اورحکم دیا ہے کہ اﷲکی نصرت میں اپنے دل سے، اپنے ہاتھ سے، اپنی زبان سے سر گرم رہو کیونکہ خدائے بزرگ و برتر نے ذمہ لیا ہے کہ جو کوئی اس کی نصرت و تائید پر کھڑا ہو گا ، اسے نصرت وتائید خداوندی حاصل رہے گی۔ مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ’’ خبردار رعایا سے کبھی نہ کہنا کہ میں تمہارا حاکم بنا دیا گیا ہوں‘‘ اب میں ہی سب کچھ ہوں۔ سب کو میری تابعداری کرنی چاہیے۔ اس ذہنیت سے دل میں فساد پیدا ہوتا ہے۔ دین میں کمزوری آتی ہے۔ بربادی کیلئے بلاوا آتا ہے۔ اور اگر حکومت کیلئے غرور پیدا ہونے لگے تو سب سے بڑے بادشاہ، خدا کی طرف دیکھنا جو تمہارے اوپر ہے اور تم وہ قدرت رکھتا ہے۔ جو تم بھی اپنے آپ پر نہیں رکھتے۔ ایسا کرو گے تو نفس کی طغیانی کم ہو جائے گی۔ حدت گھٹ جائے گی۔ بھٹکی ہوئی روح لوٹ آئے گی۔ خبردار! خدا کے ساتھ اس کی عظمت میں بازی نہ لگانا۔ اس کی جبروت میں تشبیہ اختیار نہ کرنا کیونکہ وہ جباروں کو ذلیل کر ڈالتا ہے اور مغروروں کو نیچا دکھا دیتا ہے۔‘‘ یاد رکھو جو کوئی خدا کے بندوں پر ظلم کرتا ہے تو خدا خود اپنے مظلوم بندوں کی طرف سے ظالم کا حریف بن جاتا ہے اور معلوم ہے کہ خدا جس کا حریف بن جائے اس کی حجت باطل ہو جاتی ہے اور وہ خدا سے لڑائی کرنے کا مجرم ہوتا ہے، یہاں تک کہ باز آجائے اور توبہ کر لے خدا کی نعمت کو اس بڑھ کر بدلنے والی اور خدا کی عقوبت کو اس سے زیادہ بلانے والی کوئی چیز نہیں کہ آدمی ظلم اختیار کرے۔ یاد رہے خدا مظلوموں کی سنتا اور ظالموں کی تاک میں رہتا ہے۔ تمہیں سب سے زیادہ پسند وہ راہ ہونا چاہیے جو حق کے لحاظ سے سب سے زیادہ درمیانی، انصاف کی روح سے سب سے زیادہ عام اور رعایا کو سب سے زیادہ رضامند کرنے والی ہو‘‘ اور آخر میں یہ ارشاد کہ
یہ بھی یاد رہے کہ خاص الخاص لوگوں میں وہی تمہاری نگاہ میں سب زیادہ مقبول ہوں جو زیادہ سے زیادہ کڑوی بات تم سے کر سکتے ہوں اور ان باتوں میں تمہارا ساتھ دینے سے انکار کر سکتے ہوں جو خدا اپنے بندوں کیلئے نا پسند فرما چکا ہے۔ خبردار! ناحق خون نہ بہانا کیونکہ خونریزی سے بڑھ کر بد انجام، نعمت کا ڈھانے والا، موت کو ختم کرنے والا کوئی کام نہیں۔ قیامت کے دن جب خدا کا دربار عدالت لگے گا تو سب سے پہلے خون ناحق کے مقدمے ہی پیش ہوں گے اور خدا فیصلہ کرے گا۔ یاد رکھو کہ خونریزی سے حکومت طاقتور نہیں ہوتی بلکہ کمزور پڑ کر مٹ جاتی ہے۔ خبردار! خود پسندی کا شکار نہ ہو جا نا۔ نفس کی جو بات پسند آئے اس پر بھروسہ کرنا۔ خوشامد پسندی سے بچنا کیونکہ شیطان کیلئے یہ زریں موقع ہوتا ہے کہ نیکو کاروں کی نیکیوں پر پانی پھیر دے۔

ایل اوسی پر بھارتی فوج کی خلاف ورزیاں

تاریخ تحریکِ آزادیِ کشمیر کا بغور غیر جانبدرانہ فہم وادراک رکھنے والوں کواگرہرقسم کے تعصبات سے بالاترہوکرجنوبی ایشیا کے اِس واحد حساس معاملہ کی جڑوں تک پہنچنا ہے‘ تواْنہیں ‘ولیم ڈبلیوبیکر’جوعالمی سطح کے تاریخ ازمنہِ قدیم کے مانے ہوئے ثقہ عالم کی حیثیت رکھتے ہیں، اِن ہی موضوعات پراْن کی کئی کتب دنیا بھرمیں بڑی معتبر تسلیم کی جاتی ہیں‘ اْن کی تحریر اِن کتابوں کا گہرا اورعمیق مطالعہ کیئے بغیرکشمیرمیں جاری بھارتی استبدادکے جبروستم کی ظالمانہ مکاریوں کی تہہ تک پہنچنا ممکن نہیں،جنہوں نے ’کشمیر،وادیِ مسرت وادیِ موت’جیسی اپنی موثر کتاب میں بھارتی فوج کی چیرہ دستیوں اور بہیمانہ ظلم وتشدد کی آنکھوں دیکھی وارداتوں کا پردہ فاش کرکے انسانیت کے احترام کی لاج رکھ لی ہے، اپنی کتاب کے ابتداء میں ولیم ڈبلیو بیکر نے کشمیر پر بھارتی فوج کے غاصبانہ قبضہ کے حوالے سے چند اعلیٰ امریکی شخصیات کے ساتھ ہونے والی اپنی گفتگو کے حوالے دیئے ہیں اْس زمانے کے امریکی صدر بل کلنٹن نے 27 دسمبر1993 کو مسٹرولیم ڈبلیو بیکر کے ساتھ ہونے والی ایک گفتگو میں اقرار کیا تھا ‘ میں آپ کے اِس خیال میں برابر کا شریک ہوں کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی منظرنامہ کے مسائل کا سامنا کرنے کیلئے ہم سب کو انسانی حقوق سے متعلق اپنی پالیسیوں پر بغور نظر رکھنی چاہیئے’ مجھے یقین ہے ہم ایسی ہم تبدیلیاں رونما کرسکتے ہیں، جوکہ اقوامِ متحدہ کے بانیوں کے نزدیک ہمیشہ سے اولین رہیں ‘مجھے کشمیر میں امن کی راہ ہموار کرنے میں آپ کے ساتھ اور آپ جیسے دوسرے انسان دوست مورخوں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں خوشی ہوگی’ مسٹر بیکر نے اپنے تفصیلی دورہِ کشمیر کے بعدعالمی شہرتِ یافتہ دانشور برٹرنیڈررسل سے بھی جب مسئلہِ کشمیر پر کچھ کہنے کی بات کی تو مسڑ رسل نے کہا تھا ‘ جب ہم دیکھتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے پر بھارتی حکومت کا بلند بانگ آئیڈیلزم دم توڑ دیتا ہے تو مایوسی کے احساسات سے بچنا مشکل ہوتا ہوا نظر آتا ہے’مسٹر بیکر نے 29 اکتوبر1993 کو امریکی نائب وزیر خارجہ رابن رافیل سے بھی یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ آخر کب تک جنوبی ایشیا کا واحد آتشیں مسئلہ ہمہ وقت دنیا کی سنگینی کے لئے ایک ممکنہ خطرہ بنا رہے گا، تو سابق امریکی نائب وزیرِ خارجہ نے کہا تھا’ مجھے قطعی طور پر یہ کہہ کر واضح کرنے دیجئے کہ ہم اِس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ کشمیر کے الجھے تناؤ میں کسی بھی قسم کی حتمی معاملہ بندی میں کشمیر کے لوگوں سے ہی رجوع کرنا چاہیئے کیونکہ بھارتی مفادات کی پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے یقین ہے کہ اِس موقع پر اْس وقت تک کوئی فیصلہ پائیدار اور پختہ نہیں ہوسکتا جب تک کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی پاس کی ہوئی قراردادوں پر عمل نہیں کیا جاتا، چونکہ کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں یہ دیکھنا اور سمجھنا بہت ضروری ہے‘عالمی فیصلہ سازوں کی رائے کو بھارتی استبدادی ذہن کے حکمرانوں نے کبھی سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کی اِس کی وجوہات میں پوشیدہ اْن کی وہ غاصبانہ خواہشات ہیں جو وہ کشمیر میں جاری رکھنا چاہتے ہیں یعنی ہمہ وقت کا ٹکراؤ’ ‘ انتشار’خونریزی’ بے گناہوں کی پکڑ دھکڑ’ اْنہیں ٹارچرسیلوں میں بند کرکے اْن پر بہیمانہ تشدد کرنا’چادر اور چاردیواری کی دھجیاں اْڑانا’ کشمیر کے دور دراز علاقوں مثلا کنڑول لائن سے ملحق دیہاتوں اور گاؤں کے عام کشمیری آبادیوں پرفوجی طاقت کے گھمنڈمیں جب چاہئیں اْنہیں حراست میں لے لینا، اْن پر مجاہدین کو پناہ دینے کے الزامات لگا نا ،یا پاکستانی ایجنٹس ہونے کے جھوٹے الزامات عائد کرکے اْنہیں گرفتار کرلینا، بلکہ بعض اوقات جھوٹے اور فرضی مقابلے میں کشمیری گاؤں کے کسان نوجوانوں کو فائرنگ اسکاوٹ کے سامنے کھڑا کرکے اْنہیں گولیوں سے بھون دینا اْن کی جوان عورتوں کی اجتماعی آبروریزی اور بے حرمتی کرنے جیسے انسانیت کی سطح سے گرئے ہوئے قبیح واقعات کی چیخ وپکارکی داستانیں آجکل کشمیر بھرکے درودیوارسے بے زبانی کی آوازمیں ہر کہیں سنی جاسکتی ہیں پاکستانی سرحد سے ملحق لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب بھارتی فوج نے گزشتہ دِنوں اپنی ایک پریس ریلیز میں تسلیم کیا ہے ’رواں برس جون کے آخری ہفتہ میں 14۔13 کے قریب کشمیریوں کو ہلاک کیا گیا جن پر’نام نہاد’عسکریت پسندوں کا الزام تھا اوروہ عسکریت پسندوں کے سہولت کار بھی تھے؟ ‘ جبکہ بھارتی فوج نے اْن بے گناہ شہید کشمیریوں پر لگائے جانے والے الزامات کا کوئی ٹھوس ثبوت بھارتی میڈیا کو فراہم نہیں کیا ،بھارتی فوج کے الزامات کی تحقیقات ضروری کیوں نہیں سمجھی گئی؟ کیا جان سے ماردئیے جانے والے کشمیری انسان نہیں تھے؟ بھارتی انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں پڑی سورہی ہیں؟ بھارتی فوج کشمیریوں پر قتل وغارت گری کا بازار گرم کیئے ہوئے ہے لائن آف کنٹرول کی بھارتی سائٹ پر سرحد کے عین نزدیکی علاقوں میں جہاں صرف بھارتی فوج کی علمداری ہے، وہاں کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جب کشمیری دیہاتوں اور قصبوں کے بے گناہ معصوم اور نہتے کشمیریوں پر بلاوجہ اندھا دھند فائرنگ نہ کی جاتی ہو اْن پر سرحد پار پاکستانی فوج کے ساتھ ’’ روابط‘‘ رکھنے کے من گھڑت اور بے سروپا الزامات عائد کرکے اْن پر انسانیت سوز مظالم نہ ڈھائے جاتے ہوں ،کہاں گئے اقوامِ متحدہ کے وہ عالمی فوجی مبصرین؟بھارت اقوامِ متحدہ کو کسی خاطر میں آخر کیوں نہیں لاتا؟ امریکا اور دیگر عالمی طاقتیں بھارت پر دباؤ کیوں نہیں ڈالتیں؟ وہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی پاسداری کیوں نہیں کرتا؟ ایسے اور بہت سے اہم اور ضروری سوالات اہلِ کشمیر کو شدید بے چین کیئے ہوئے ہیں اگر عالمی اداروں نے اِن سوالات کے جواب دینے ضروری نہیں سمجھے تو پھر کشمیر میں اْٹھتا ہوا آزادی کا یہ طوفان حیات وموت کی ایک سونامی کی صورت اختیار کر سکتا ہے، جس کی رْو میں صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں‘ بلکہ ایشیا سمیت پوری دنیا کا امن سوالیہ نشان بن جائے گا؟ تو تب کہیں جاکر اقوامِ متحدہ یا امریکا سمیت دیگر عالمی طاقتوں کو ہوش آئے گا؟بھارتی کنٹرو ل لائن کے نزدیکی دیہاتوں کے اِن رہائشی کھیت بان بے گناہ نہتے کشمیریوں کی زندگیاں بھارتی فوج نے اجیرن کررکھی ہیں یہ کھیت بان کشمیری عوام عین لائن آف کنٹرول کے نزدیکی علاقوں میں صدیوں سے خالص جنگلی جڑی بوٹیوں کی تلاش میں سارے دن مارے مارے پھرتے ہیں جو جڑی بوٹیاں ہربل دوائیوں میں استعمال ہوتی ہیں اپنے کاندھوں پر بورے لادھے یہ کشمیری کھیت بان اِن گھنے جنگلات کی زمینوں میں اُگنے والی قیمتی جڑی بوٹیوں کو شہروں میں جاکرفروخت کرکے اپنے لئے رزقِ حلال کماتے ہیں، اِنہیں عسکریت پسند قراردینا’یااِنہیں پاکستانی فوج کا ایجنٹ قراردیناکسی بھی ذی شعوراورصاحبِ فہم و ادراک کے نزدیک ناقابلِ قبول ہے، شہری آبادیوں سے دور افتادہ اور انتہائی پسماندہ علاقوں کے کشمیری کھیت بانوں کی اکثریت کنٹرول لائن کے دِونوں طرف بڑی کثیر تعداد میں صدیوں سے رہتی بستی چلی آرہی ہے اِن کی فطری معصومیت پر کسی بھی قسم کی مسلح تشدد پسندی کا الزام نہ ماضی میں کبھی لگایا گیا نہ ہی قرینِ قیاس ہوسکتا ہے، اْنہیں سرحد پارایجنٹ قراردے کر اصل میں نئی دہلی پاکستانی فوج کو دنیا بھر میں بدنام کرنا چاہتی ہے، کاش!اقوامِ متحدہ کے عالمی فوجی مبصرین عین لائن آف کنٹرول کے نزدیکی حساس علاقوں میں اپنی ہمہ وقت کی موجودگی کو اپنی عالمی ذمہ داریوں کو یقینی بناسکیں؟ مگر’ننگی جارحیت کی عادت میں ہمیشہ سے مبتلا’بھارتی فوج ایسا ہونا کبھی ممکن ہونے نہیں دے گی۔
*****

بیرونی طاقتیں

اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے کہ جب بھی حق آتا ہے تو باطل متحرک ہوجاتا ہے اسی باطل کو علامہ محمد اقبال نے شرار بو لہبی کہا ہے جو ازل سے چراغ مصطفوی ؐسے بر سر پیکار ہے پیغمبر اسلام صل اللہ علیہ وسلم کی آمد کے ساتھ ہی باطل قوتیں متحرک ہو گئیں آپ صل اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ان طاقتوں نے حق کے خلاف شدید مزاحمت کی کوئی ایسا ستم نہیں تھا جو قبول اسلام کرنے والوں پر روا نہیں رکھا گیا رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمائے کے بعد فتنوں کا دور شروع ہوا اس میں بھی یہودی اور کفار بھرپور طور پر شریک تھے اس کے بعد بھی حق و باطل کے معرکوں کی ایک لمبی تاریخ ہے حضرت خالد بن ولیدؓ آخر عمر تک ان معارک کا حصہ رہے طارق بن زیاد نے اللہ کے بھروسے ہسپانوی ساحلوں پر اپنی کشتیاں جلا ڈالیں اور فتح و نصرت پائی سلطان محمود غزنوی نے بت پرستی پر کاری ضرب لگائی بت فروش کی جگہ بت شکن کہلایا شہاب الدین غوری نے بھی ظلمات ہند میں روشنی لانے کی کوشش کی احمد شاہ ابدالی نے بھی معارک جاری رکھے شیر شاہ سوری نے انتظام و انصرام کی نئی جہتیں متعارف کروائیں اس طرح حق و باطل کا میں جنگ کا یہ سلسلہ جاری رہا عظیم مسلمان سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کرکے ٹکڑوں میں بانٹ دی گئی فلسطین پر بزور قبضہ کرکے دھرتی کے بیٹے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کرکے انہیں ان ہی کے ملک میں غلام بنا دیا گیا اور اسرائیل نام کا خنجر مسلمانوں کے سینے میں گھونپ دیا گیا بعد کے دور میں مغرب نے اسرائیل کو بہت بڑی فوجی اور اقتصادی طاقت بنانے پر کام شروع کردیا 8000 مربع مقبوضہ میل کی ریاست کو دنیا کی بڑی فوجی اور اقتصادی طاقت بنادیا گیا جس کے اسلحہ خانے میں کم و بیش 200 ایٹم بم ہیں اور دنیا میں اسلحے کا بہت بڑا برآمد کنندہ اسرائیل ہی ہے آج بھی مغرب کی سب سے بڑی فکر اسرائیل کو محفوظ رکھنا ہے جس کے لئے امریکہ اور مغرب ہر حد تک جانے کو تیار ہیں مولانا کوثر نیازی جو بلاشبہ بہت بڑے عالم اور دانشور تھے اور مشاہدات و تاثرات کے نام سے کالم لکھا کرتے تھے انہوں نے 1971 میں ایک کالم میں بیان کیا تھا کہ کچھ عرصے میں مغرب اور امریکہ عراق ایران لیبیا اور دیگر طاقتور اسلامی ملکوں کو ختم کریں گے اور ان کے جغرافیے تبدیل کریں گے اس کے بعد پاکستان کا نمبر آسکتا ہے کہ ان کے نزدیک اسرائیل کے تحفظ کیلئے یہ نہایت ضروری ہوگا کہ مشرق وسطی میں کوئی طاقتور ملک اسرائیل کے مقابلے میں نہ ہو 9/11 برپا کیا گیا اور اسامہ کو استعمال کرتے ہوئے القاعدہ پیدا کی گئی اس کا بہانہ بنا کر افغانستان پر چڑھائی کردی گئی مقصد فوجی تربیت یافتہ افغانوں اور افغانستان میں موجود اسلحے کو ختم کرنا تھا اسامہ کو پہلے سوڈان بھیجا گیا وہاں اسامہ کے بہانے حملہ کیا گیا پھر اسے افغانستان بھیجا گیا وہاں لاکھوں انسانوں کو رزق خاک کردیا گیا جہاں کا کوئی باشندہ9/11 میں شامل نہیں تھا عراق فوجی لحاظ سے ایک طاقتور ملک تھا پہلے اسے ایران سے لڑایا گیا تاکہ دونوں مسلمان ملک یا تو ختم ہو جائیں یا کم از کم اتنے کمزور ہو جائیں کہ اسرائیل کے لئے کوئی خطرہ ثابت نہ ہوں پھر عراق پر بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیاروں کا جھوٹ بول کر اسے پورے مغرب نے مل کر مارا اور اسے تباہ کردیا گیا اور عملا اسے 3 حصوں میں تقسیم کردیا گیا کرد ریاست الگ ہو چکی ہے بس رسمی اعلان باقی ہے جس کے ذریعے مستقبل میں ایران ترکی اور عراق کو دباؤ میں رکھا جائے گا باقی عراق پر کٹھ پتلیاں حکومت میں بٹھا دی گئی ہیں ابھی القائدہ کے فتنے سے لگے زخم تازہ تھے کہ امریکہ اور مغرب نے جرائم پیشہ مجرموں کو اکٹھا کرکے داعش بنادی یاد رہے کہ سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن داعش بنانے کا اعتراف کر چکی ہیں اس مجرم ٹولیکو خلافت کا نام دیا گیا تاکہ انہیں دنیا کے سامنے مسلمان باور کرایا جا سکے حالانکہ ان کا اسلام سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا جس طرح کے قتل کے طریقے اپنائے گئے یہ کوئی مسلمان تو کم از کم نہیں کر سکتا بچوں اور عام لوگوں کو آگ میں جلانا اور پانی میں ڈبو کر ہلاک کرنا کہاں کا اسلام ہے قارئین کرام نے شاید وہ تصویریں دیکھی ہو جن میں یہ نام نہاد مجاہد ایک ہی جگہ مختلف سمتوں میں سجدے کر رہے ہیں کسی عقل کے اندھے نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ تمام مسلمان ایک ہی سمت میں سجدہ کرتے ہیں اسی مجرم ٹولے کو لیبیا بھیجا گیا اور لیبیا جیسی مضبوط ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی عملا لیبیا تباہ ہو چکا ہے سیریا کا حال سب کے سامنے ہے ایران پر 3 دہائیوں اقتصادی پابندیاں لگا کر اسکو اقتصادی طور پرتباہ کردیا گیا افغانستان کو بھی پوری طرح بد حال کردیا گیا ہے لے دے کے پاکستان ہی رہ گیا ہے جس پر سب کی نظریں ہیں جس کے بارے میں اسرائیل کے پہلے وزیراعظم بن گوریان نے اپنے لوگوں کو وصیت کی تھی کہ تمہاری پہلی ترجیح پاکستان کو ختم کرنا ہے کیوں کہ پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو اسرائیل اور مغرب کی راہ میں مزاحم ہوگا اور آج بھی وہی پالیسی ہے امریکہ انڈیا اسرائیل اور ہمارے کچھ نادان دوست پوری کوشش کر رہے ہیں پاکستان کو تباہ کردیا جائے لیکن پاکستان ایک مضبوط اور جہاد کے فی سبیل اللہ کے فلسفے کی حامل فوج اور ایک جوہری طاقت ہے تو یہ ممکن نہیں کہ اسے فوجی شکست دی جا سکیاور عوام عظیم ہیں کہ دشمنوں کی جانب سے تباہی کرنے کی لاکھ کوششوں اور لوٹ مار کرپشن کی انتہا کے باوجود قوم کا حوصلہ نہیں ٹوٹا اور نہ عوام اور فوج کے درمیان محبت اور احترام میں کمی نہیں لائی جا سکی آج بھی عوام اپنی فوج پر پورا اعتماد رکھتے ہیں اور پیار کرتے ہیں اور یہی ہمارے دشمنوں کے لئے سوہان روح ہے وہ چاہتے ہیں کہ فوج پر عوام کا اعتماد متزلزل ہو جائے تو وہ پاکستان کی تباہی کا ہدف حاصل کر لیں گے ہماری سیاسی قیادت سے خصوصی گزارش ہے کہ ہمارے دشمنوں کے ایجنڈے کو سمجھیں جس نے دہشتگردی قتل و غارت گری سمیت سب حربے آزما لئے ہیں اور ان کی اب بھی کوشش ہے فوج اور عوام کے درمیان اعتماد کو مجروح کیا جائے اور حکومت اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی بجائے مخاصمت ہو جو کسی طرح بھی ہمارے قومی مفاد میں نہیں جندل کی پاکستان آمد کو شبہے کی نظروں سے دیکھا جارہا ہے کہ یہ پاک فوج کے بارے بغض کا اظہار کرتا ہے اس پر وضاحت آنی چاہئے اب عالمی بنک کی جانب سے مسلسل قرضے دئے جارہے ہیں جو ڈاکو اور لٹیروں کی جیب میں جارہے ہیں اور قرضہ عوام کے نام لکھا جارہا ہے جو ہم سے اور ہمارے بچوں سے وصول کیا جائے گا یہ کوئی خوش ائند سمت نہیں ایبٹ آباد سانحہ میموگیٹ ڈان لیکس کا مقصد ہی عوام کی نظروں اور بیرون ملک اپنی فوج کی ساکھ کو مجروح کرنا ہے جو ناقابل معافی جرم ہے تاریخی پس منظر عرض کرنے کا مقصد یاد دہانی ہے کہ دشمن کس حد تک جا سکتا ہے اللہ ہم سب کو ہوش کے ناخن لینے اور حب وطن کے تقاضوں کو سمجھنے اور اب پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاطت فرمائے۔ آمین

آپریشن خیبرفور کے پہلے مرحلے میں دہشت گردوں کی پسپائی

آپریشن خیبرفورکاپہلامرحلہ مکمل کرلیاگیا۔پاک فوج نے افغان سرحد کے قریب بلند ترین چوٹی کاکنٹرول سنبھال کرایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔قبائلی علاقے فاٹا میں آپریشن ردالفساد کے تحت جاری آپریشن خیبرفور کے دوران پاک فوج نے افغان سرحد کے قریب بلند ترین اور دشوار گزار چوٹی کو دہشت گردوں سے خالی کرالیا۔ آپریشن خیبر فور کے تحت گذشتہ رات 21 جولائی کو افغان سرحدی علاقے میں بلند ترین مقام بریخ محمد کنڈاو پر دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس میں متعدد دہشت گرد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوگئے۔ پاک فوج کے سپیشل سروسز گروپ نے دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دئیے اور ان کے قبضے سے بارودی سرنگوں سمیت دھماکہ خیز مواد، اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا جبکہ جھڑپ کے دوران بچ جانے والے کچھ دہشت گرد سرحد پار کرکے افغانستان کی جانب فرار ہوگئے۔ کارروائی کے بعد پاک فوج نے علاقے کو کلیئر قرار دے کر 12 ہزار فٹ کی بلندی پر اپنی چیک پوسٹیں قائم کردیں۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے راجگال کا مذکورہ پہاڑی علاقہ گھنے جنگلات پر مشتمل ہے اور یہاں موجود پہاڑی چوٹیوں کو دہشت گرد علاقے پر نظر رکھنے اور ٹرانزٹ سٹوریج پوائنٹ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ دہشت گردوں نے چوٹی پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے سخت مزاحمت کی لیکن پاک فوج کے عزم و حوصلے کے باعث دہشت گرد قبضہ برقرار رکھنے میں ناکام ہوگئے اور پاک فوج نے مذکورہ پہاڑی چوٹی کو آپریشن کے دوران مقررہ وقت سے قبل ہی خالی کرالیا۔ یاد رہے فاٹا کے سب سے مشکل علاقے راجگال میں 16 جولائی کی صبح پاک فوج نے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے آپریشن رد الفساد کے تحت آپریشن خیبر فور کا آغاز کیا تھا۔ پاک فوج نے فاٹا میں فوجی آپریشن کا آغاز 2009میں کیا تھا، جس میں پہلے باجوڑ، سوات اور اب مہمند ایجنسی کو کلیئر کیا گیا۔انشااللہ ملک کے کونے کونے میں امن قائم ہو گا کوئی بھی پاکستان کے عزم کو شکست نہیں دے سکتا۔دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کاکردار نہ صرف داد بیداد اورقابل ستائش ہے بلکہ قابل تقلید بھی ہے ۔پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف جو قربانیاں دیتی چلی آرہی ہے ان کو قوم کبھی بھی فراموش نہیں کرپائے گی پاک فوج دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہی ہے آپریشن ضرب عضب میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعدآپریشن رد الفساد شروع کیا گیا جو اپنے مقاصد اوراہداف کی طرف رواں دواں ہے اسی ضمن میں آپریشن خیبرفور کا آغاز کیاگیا جس میں پہلامرحلہ کامیابی سے طے کرلیاگیا ہے۔ آپریشن خیبرفور میں پاک فوج نے جو کامیابی حاصل کی ہے وہ قابل تعریف ہے دہشت گردی میں بھارت کاعمل دخل کسی سے ڈھکاچھپانہیں ہے بھارت خفیہ ایجنسی را کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کروارہا ہے تاکہ پاکستان عدم استحکام کاشکار ہو اور یہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو۔ بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیاں طشت ازبام ہوچکی ہیں جن کیخلاف پاکستان کئی باراحتجاج ریکارڈ کرواچکا ہے اور عالمی برادری کی توجہ بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی طرف مبذول کراتے چلا آرہاہے لیکن عالمی سطح پر جس بے حسی کامظاہرہ کیاجارہا ہے وہ توجہ طلب ہے افغانستان میں دہشت گردوں کی کئی آماجگاہیں موجود ہیں اور قونصل خانوں کو دہشت گردی کیلئے استعمال کیاجارہا ہے اوراس میں بھارت کابڑاعمل دخل ہے۔افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال کی جارہی ہے جس سے خطے کاامن خطرے میں پڑتادکھائی دے رہا ہے پاکستان کئی بار پڑوسی ممالک سے احتجاج کرچکاہے اور چاہتا ہے کہ خطے کو دہشت گردی سے پاک کیاجائے لیکن پاکستان کی یہ بات بھارت اور افغانستان کی سمجھ میں نہیں آرہی بھارب افغانستان کو آلہ کاربنارہاہے افغان حکومت کو اس طرف توجہ دینی چاہیے اور بھارتی عزائم کو خاک میں ملاناچاہیے پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اورچاہتا ہے کہ خطے کاامن قائم رہے دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کا کوئی دین اور کوئی مذہب نہیں اسلام کا یہ درس ہے کہ وہ ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کاقتل قرار دیتا ہے ۔دہشت گردی کیخلاف پاک فوج کاکردارتاریخ کے سنہری حروف میں لکھاجائے گا دہشت گردی کاخاتمہ ہی خطے کے امن ضامن قرارپائے گااورخطے میں ترقی اورخوشحالی آئے گی۔دہشت گرد خطے کے امن کو بدامنی کاشکار کرنے کے درپے ہیں لیکن یہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوپائیں گے آپریشن خیبرفور دہشت گردوں کے خاتمے کاباعث بنے گا۔

سٹیٹ بنک کی مانیٹری پالیسی

گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ نے مانیٹری پالیسی سے متعلق میڈیا بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ نجی شعبے کے قرضوں کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، معیشت کو ادائیگیوں کے توازن میں بگاڑ کے خطرات درپیش ہیں، رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 5.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ سروسز سیکٹرمیں رواں مالی سال میں بھی بہتری جاری رہنے کی توقع ہے۔ برآمدات اورترسیلاتِ زرمیں کمی اوردرآمدات میں اضافے کا رجحان ہے جب کہ سی پیک منصوبوں کی وجہ سے معیشت میں بہتری کے امکانات روشن ہیں۔ مالی سال 18 کے آغاز میں پاکستانی معیشت کے تین پہلو نمایاں ہیں۔ اول، اوسط عمومی مہنگائی، گو کہ مالی سال 17 سے زیادہ ہے تاہم گذشتہ اندازے سے کم رہنے کی توقع ہے اور یہ 6.0 فیصد ہدف سے نیچے رہے گی۔ اس کی بڑی وجہ رسد کے سازگار حالات ہیں۔ دوم، ملکی طلب مزید بڑھے گی جیسا کہ حقیقی شعبے میں موجودہ نمو، نجی شعبے کو قرضے اور درآمدات سے ظاہر ہے۔ سوم، بیرونی محاذ پر برآمدات اور کارکنوں کی ترسیلات زر دونوں کی ناقص کارکردگی نے جاری کھاتے کے خسارے کو سخت متاثر کیا ہے جو مالی سال 17 میں 12.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تاہم فی الحال مالی سال 18 میں مجموعی توازن ادائیگی قابو میں رہنے کی امید ہے۔ درحقیقت مالی سرگرمیوں کے بڑھنے، بینک ڈپازٹس میں خاصے اضافے اور کم شرح سود کے نتیجے میں نجی شعبے کو قرضوں کا بہا مالی سال 17 میں ایک دہائی کی بلند ترین سطح 748 ارب روپے تک جا پہنچا جبکہ مالی سال 16 میں یہ 446 ارب روپے تھا۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے مالی سال 17 کے دوران معینہ سرمایہ کاری اور جاری سرمائے کے قرضوں میں بالترتیب 258.5 ارب روپے اور 360.5 ارب روپے اضافہ ہوا جبکہ گذشتہ سال ان میں بالترتیب 171.7 ارب روپے اور219.3 ارب روپے اضافہ ہوا تھا۔ صارفی مالکاری کی طلب بھی، خاص طور پر کار اور ذاتی قرضوں کیلئے، مالی سال 17 کے دوران بڑھ گئی۔ حقیقی شعبے میں ہونے والی پیش رفت کو دیکھتے ہوئے یہ رجحانات مالی سال 18 میں بھی جاری رہنے کی توقع ہے۔ ان حالات کی بنا پر زرمبادلہ کے ذخائر مالی سال 17 کے اختتام پر کم ہوکر 16.1 ارب ڈالر ہوگئے ۔دوسری جانب سی پیک سے متعلق سرگرمیوں کے تسلسل اور بہتر ہوتی ہوئی معاشی نمو کے باعث درآمدات میں بھی اضافے کی توقع ہے۔ گو کہ یہ اضافہ سست رفتاری سے ہوگا۔ اگرچہ یہ امر غیر یقینی ہے ترسیلاتِ زر میں بہت جلد مثبت اضافہ ہوگا تاہم بیرونی کھاتے کے استحکام اور وسیع پیمانے پر زرِمبادلہ کے ذخائر کا جمع ہونا مالی سال 18 میں میزانی دو فریقی اور مالی رقوم کی بروقت آمد پر بھی منحصر ہے۔ تفصیلی سوچ بچار کے بعد اور نمو کی مسلسل رفتار کے مضبوط امکان، محدود مہنگائی اور بیرونی محاذ کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے سٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 5.75 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جو اطمینان بخش اور خوش آئند ہے۔

بھارت چین سرحدی تنازعہ ، بھارت نے گھٹنے ٹیک دیئے

چین کی جانب سے جنگی جنون میں مبتلا بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی جارحیت سے باز رہے۔ بھارت نے متنازع علاقے سے فوج واپس نہ بلائی تو شرمندگی کا سامنا کرے گا۔چین نے بھارت پر سرحدی مفاہمت کے حوالے سے ’دھوکا دہی‘ کا الزام لگایا ہے۔ سکم کی سرحد پر جاری سرحدی کشیدگی مزید سنگین ہوگئی ہے۔ چین نے کہا ہے کہ ڈوکلام سے فوجیں بلانے تک مذاکرات کسی صورت نہیں ہوں گے۔بھارت نے متنازعہ علاقے ڈوکلام میں فوج بھیج رکھی ہے جہاں چینی فوج سڑک تعمیر کر رہی ہے۔ بھارت کو خدشہ ہے کہ اگر یہ سڑک مکمل ہو جاتی ہے تو چین کو اس پر سٹریٹیجک برتری حاصل ہو جائے گی۔دوسری جانب چین کی فوج نے تبت میں انڈین سرحد کے قریب فوجی مشقیں کی ہیں جس میں اصلی گولہ بارود استعمال کیا گیا۔ یہ مشقیں 11 گھنٹے تک جاری رہیں لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ ان مشقوں کا مقصد کیا تھا اور نہ دن کا تعین ہو سکا ہے۔ ان مشقوں میں تیزی سے نقل و حرکت اور دشمنوں کے جہازوں کو تباہ کرنے کی تیاریاں کی گئیں۔ ان مشقوں میں فوج کی اْس بریگیڈ نے حصہ لیا جو دریائے برہما پترا کے قریب کی ہیں جو وہاں سے بہہ کر انڈیا اور بنگلہ دیش تک جاتا ہے اور اس بریگیڈ کی ذمہ داری سرحدوں پر جنگی کارروائیاں کرنا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل تبت کے دارالحکومت لاسا میں 10 جولائی کو تبت موبائل کمیونیکیشن نے کسی بھی ہنگامی صورت حال میں عارضی نیٹ ورک قائم کرنے کی مشق کی۔
چین کا الزام ہے کہ بھارتی فوج حال ہی میں اس کے ریاستی علاقے میں داخل ہو گئی تھی اور بھارت کے شمال مشرقی علاقے سکم کے حوالے سے دونوں ہمسایہ ملکوں کے مابین جو مفاہمت ہوئی تھی، بھارت اس کی خلاف ورزی کر رہا ہے، حالانکہ بھارت کی تمام سابقہ حکومتیں اس پر کاربند رہی ہیں۔دوسری طرف بھارت کا کہنا ہے کہ چین برطانوی دور کے 1890کے جس معاہدے کی بات کر رہاہے ، بھارت اسے تسلیم نہیں کرتا کیوں کہ 2012 میں دونوں ملکوں کے درمیان یہ مفاہمت ہوئی تھی کہ کسی ایسی جگہ کے سلسلے میں جس پر بھارت اور چین کے درمیان تنازعہ ہو جائے، اس کا فیصلہ اس تیسرے ملک کے ساتھ صلاح مشورے سے کیا جائے گا جہاں وہ جگہ واقع ہے۔ اس طرح مذکورہ تنازعے میں شامل تیسرا ملک بھوٹان ہے۔
بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعے اور فوجی کشیدگی کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ سرحد کے معاملے پر دونوں ملکوں کے درمیان 1962 میں جنگ بھی ہو چکی ہے اور اطراف کی افواج کے درمیان اکثر آمنا سامنا ہوتا رہا ہے۔ تاہم 1962 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جب تعطل اتنا طویل ہو گیا ہے۔ دونوں ملکوں کی فوجیں سکم میں ڈوکلا م کے علاقے میں تقریباً ایک ماہ سے آمنے سامنے ہیں۔یہ علاقہ بھارت، چین اور بھوٹان کے درمیان واقع ہے۔ نیا تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا، جب چینی فوج نے چین اور بھوٹان کے درمیان متنازعہ علاقے ڈوکلام میں (جیسے چینی زبان میں ڈونگلانگ کہا جاتا ہے) ایک سڑک تعمیر کرنا شروع کر دی تھی۔
اس سے قبل چینی فوج نے اس علاقے میں واقع بھارتی فوج کے دو بنکروں کو ہٹانے کی وارننگ بھی دے دی تھی۔ چینی فوج نے ان بنکروں کو چھ جون کی رات کو تباہ کر دیا تھا۔ چین کا دعویٰ ہے کہ یہ اس کا علاقہ ہے اور بھارت یا بھوٹان کا اس پر کوئی حق نہیں ہے۔
تازہ سرحدی کشیدگی کے بعد بھارت نے سکم میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے وہاں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا دی ہے۔ فوجیوں کو ’غیر جنگی حالت‘ میں رکھا گیا ہے۔ملکی وزیر خزانہ اور وزیر دفاع ارون جیٹلی نے چین کو سخت لہجے میں وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اب 1962 کا بھارت نہیں بلکہ 2017 کا بھارت ہے۔ ادھر چینی وزارت خارجہ نے بھی اس کا جواب دیتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’بھارت کا کہنا بالکل درست ہے کہ 2017 کا بھارت 1962کے بھارت سے مختلف ہے۔ ٹھیک اسی طرح چین بھی اب پہلے کے مقابلے میں کافی مختلف ہے۔‘‘
نئی دہلی میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرصورت حال میں جلد از جلد بہتری نہ آئی، تو دونوں ملکوں کے درمیان مکمل فوجی تصادم کا خدشہ ہے۔ بھارت کے انسٹیٹیوٹ آف چائنہ اسٹڈیز میں چینی امور کی ماہر پروفیسر الکا اچاریہ کا کہنا ہے ’’چین کے ساتھ خراب تعلقات کی وجہ او بی او آر ، سی پیک اور کچھ دیگر امور بھی ہوسکتے ہیں۔ رشتوں کی خرابی کا سبب کچھ بھی ہو، لیکن اس تناز عے کو فوراً ختم کرنے کے لیے پہل کی ضرورت ہے۔ اگر دونوں ملکوں کے درمیان جلد ہی وزارتی سیکرٹری یا جوائنٹ سیکرٹری سطح کی کوئی بات چیت نہ ہوئی، تو یہ کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔‘‘
تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے چین نے تبت میں واقع ہندوؤں کے انتہائی متبرک مقام کیلاش مانسرور کی سالانہ یاترا پر جانے والے بھارتی زائرین کو تبت جانے سے روک دیا ہے جس کی وجہ سے درجنوں زائرین کو اپنا سفر منسوخ کرنے واپس لوٹنا پڑا۔ دوسری طرف چین نے ان بھارتی صحافیوں کا ایک دورہ بھی منسوخ کردیا ہے، جو بیجنگ حکومت کی دعوت پراگلے ہفتے تبت جانے والے تھے۔حالیہ دنوں میں بھارت چین کشیدگی کے بعد بھارت نے گھٹنے ٹیک دیئے۔ بھارت چین سے مذاکرات کیلئے تیار ہوگیا ہے۔تاہم دنیا کے سامنے اپنی بے عزتی سے بچنے کیلئے طفل تسلی کے طور پر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا ہے چین کیساتھ سرحدی تنازع پردنیاکے تمام ملک بھارت کیساتھ ہیں۔تمام ممالک بھارتی موقف کوغلط نہیں سمجھ رہے،سشما سوراج کا کہنا تھا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ بھارت ڈرگیا،بھارت چین کیساتھ سرحدی معاملہ مذاکرات سے حل کرنا چاہتاہے۔ مذاکرات کیلئے ضروری ہے چین بھارت کی فوجیں سابقہ پوزیشن پرواپس آجائیں۔
*****

Google Analytics Alternative