کالم

حدیبیہ کیس کھولنے کی نیب اپیل سماعت کیلئے منظور

احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردئیے ہیں اور شخصی ضمانت کے ساتھ 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے 25ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔ ادھر نیب نے مالیاتی اداروں کو ایک خط کے ذریعے اسحاق ڈار کے اثاثے منجمد کرادئیے ہیں۔ دوسری طرف سپریم کورٹ نے نواز شریف ، شہباز شریف، حمزہ شہباز کے خلاف حدیبیہ کیس دوبارہ کھولنے کی نیب اپیل سماعت کیلئے منظور کرلی ہے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت کا آغاز کیا تو نیب حکام نے عدالت کی طرف سے اسحاق ڈار کی پیشی کے حوالے سے جاری کئے گئے سمن کی تعمیلی رپورٹ پیش کی۔ اسحاق ڈار کے بجائے ان کے پروٹوکول آفیسر فضل داد عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار بیرون ملک ہیں اور مصروفیات کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے، جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ اگر کسی سرکاری کام کے لئے انہیں بیرون ملک جانا تھا تو عدالت کو پیشگی اطلاع دی جانی چاہئے تھی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ وہ کب تک وطن واپس آئیں گے اور ان کی ذاتی مصروفیات کیا ہیں جس پر پرٹوکول آفیسر نے بتایا کہ انہیں اس کا علم نہیں، تاہم عدالت نے ان کا موقف مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر وزیر خزانہ اسحق ڈار آئندہ کی سماعت میں عدالت میں پیش نہیں ہوئے تو ان کے نا قابل ضمانت وارنٹ جاری کئے جائیں گے۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ سمن جاری ہونے کے باوجود عدالت پیش نہ ہونے پر اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں، اسحاق ڈارکے سمن ان کے ڈرائیور عمران نے وصول کئے۔ وارنٹ گرفتاری لندن میں اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کے باہر چسپاں کئے جائیں گے دفتر خارجہ عدالتی حکم پر عملدرآمد یقینی بنائے گا۔ نیب لاہور کی ٹیم نے اسلام آباد میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے گھر پر چھاپہ مارا اور موجود ملازمین سے پوچھ گچھ کی۔نیب کی دو رکنی ٹیم نے اسحاق ڈار کے گھر کی تلاشی لی۔ ملازمین نے بتایا کہ منسٹرز انکلیو میں اسحاق ڈار گھر پر موجود نہیں ہیں ٹیم نے ملازمین کو بتایا ان کے پاس اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری ہیں۔ ملازمین نے ٹیم کی ٹیلی فون پر کسی سے بات کرائی۔ ٹیم نے بتایا کہ وہ قانون کے مطابق عمل کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں وزیر خزانہ نے نیب ریفرنس پر ضمانت قبل ازگرفتاری لینے کا فیصلہ کیا ہے وزیر خزانہ کے وکیل ان کی غیرحاضری میں ان کے ضمانت کی درخواست دائر کریں گے۔درخواست کے فیصلے کے بعد اسحاق ڈار فیصلہ کریں گے کہ وہ پاکستان آئیں گے یا نہیں۔ درخواست ضمانت مسترد ہونے پر اسحاق ڈار وزارت سے مستعفی ہو جائیں گے۔ دوسری طرف نیب نے حدیبیہ پیپرملز کیس کو دوبارہ کھولنے کیلئے اپیل دائر کردی ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل میں سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف، وزیراعلی میاں شہبازشریف اور حمزہ شہباز کو فریق بنایا گیا ہے، پانامہ پیپرز لیکس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواستوں پر سماعت نمٹاتے ہوئے عدالت عظمی نے نیب کو ایک ہفتے میں حدیبیہ پیپرز ملز کیس کھولنے کی ہدایت کی تھی۔اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پانامہ کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں نئے شواہد سامنے آئے ہیں جن کی تحقیقات ضرور ی ہیں ، ان شواہد کی روشنی میں نیب حدیبیہ پیپرز ملز کیس میں اپیل دائرکرنے سے متعلق اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔عدالت عظمی نے نیب کی جانب سے دائر حدیبیہ پیپرملزکیس دوبارہ کھولنے کی اپیل سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے ابتدائی سماعت کیلئے مقرر کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ عدالت عظمی نے نیب اپیل کو نمبر الاٹ کرتے ہوئے فکسیشن برانچ کو بھجوا دی ہے تاہم نیب کی اپیل پرکوئی اعتراض عائد نہیں کیا گیا، سپریم کورٹ رولز 1980کے مطابق اپیل کی سماعت کے لیئے بنچ کی تشکیل کا فیصلہ چیف جسٹس کریں گے۔ واضح رہے کہ نیب پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنسز دائر کر چکا ہے جس کی سماعت بھی شروع کردی گئی ہے تاہم شریف خاندان کے افراد کی جانب سے عدم پیشی پراحتساب عدالت نے ان کو دوبارہ طلبی کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ شریف خاندان کو چاہیے کہ وہ عدالتوں سے رائے فرار اختیار کرنے کی بجائے ان کا سامنے کریں اور اپنے کیسز کی بھرپور انداز میں پیروی کریں یہی ان کیلئے بہتر رہاستہ ہے۔ عدالت قانون کے تحت ہی فیصلہ کرے گی، عدالتوں میں پیش نہ ہونا کسی لحاظ سے بھی سود مند قرار نہیں پائے گا۔
دہشت گردوں کی سزائے موت میں توثیق
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے چار خطرناک دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی۔چاروں دہشت گرد اغوا برائے تاوان دہشت گردی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث تھے۔کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے چاروں مجرمان نے مجموعی طور پر اکیس افراد کو قتل کیا۔چاروں مجرموں پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا گیا جس کے نتیجہ میں انہیں سزائے موت سنائی گئی۔جن دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کی گئی ان میں شبیر احمد مسلح افواج پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں میجر عدنان اور دس دیگر فوجی اہلکار شہید ہوئے۔ عمارا خان مسلح افواج پر حملوں میں ملوث تھا جس میں تین فوجی اہلکار شہید ہوئے۔ طاہر علی نے مسلح افواج پر حملے کیے جس کے نتیجے میں دو فوجی اہلکار شہید ہوئے۔ چوتھے دہشت گرد آفتاب الدین قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملے میں ملوث تھا جس میں ایک پولیس اہلکار جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔مجرم کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا تھا، فوجی عدالتوں کے فیصلے دہشت گردی کی روک تھام میں انتہائی کارآمد ثابت ہورہے ہیں اور انسانیت کے دشمنوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانے میں ممدومعاون ثابت ہورہے ہیں۔ دہشت گردوں کی سزائے موت میں توثیق ایک اچھا اقدام ہے اس طرح دہشت گردی کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
عوام پر بجلی بم گرا دیا گیا
حکومت نے مہنگائی کے گرداب میں پسے عوام پر بجلی بم گرا دیا جس کے باعث مہنگائی کے مارے عوام کو یہ جھٹکے پانچ سال تک محسوس ہوتے رہیں گے۔نیپرا نے بجلی فی یونٹ 3 روپے 90 پیسے مہنگی کرنے کی منظوری دیدی، نئے ٹیرف کی منظوری کے بعد عوام کو پانچ سال تک یہ اضافہ دینا ہوگا۔ نیپرا نے چھوٹے صارفین کو بھی معاف نہیں کیا ہے ۔ 100 یونٹ کے استعمال پرفی یونٹ 60 پیسے اضافہ کردیا گیا ہے ،200روپے یونٹ والے صارفین 3روپے 90پیسے فی یونٹ اضافی دینگے۔ جبکہ 300یونٹ والے صارفین کے ٹیرف میں ایک روپے 50پیسے فی یونٹ کا اضافہ کیا گیا۔100یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو60پیسے فی یونٹ زیادہ دینے پڑیں گے جبکہ 400 یونٹ استعمال پر بجلی 80 پیسے مہنگی۔ بجلی استعمال نہ کرنے پر سنگل فیز میٹر کیلئے 75 روپے اور تھری فیز میٹر کیلئے150 روپے ماہانہ چارجز بھی صارفین کو ادا کرنا ہونگے۔ حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے لیکن یہاں ریلیف دینے کی بجائے عوام کو مزید مہنگائی کے بوجھ تلے دبایا جارہا ہے جو کسی لحاظ سے درست نہیں ، حکومت بجلی کی قیمتوں پرنظرثانی کرے اور عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے اقدامات یقینی بنائے۔

مسلمانوں کی بے حسی

انسانی معاشرے میں لالچ ،خوف ،کمزور پر جبر اور کسی دوسرے کے وسائل پر تصرف کی کوشش انسان کے خمیر میں شامل ہے انہیں بشری کمزوریوں کے ازالے اور ان برائیوں کے خلاف مختلف ادیان اور مذاہب انسانوں کے لئے رشد و ہدایت کا پیغام لے کر آئے تاکہ معاشرے میں انسانوں کے درمیان حق اور انصاف قائم ہو انسان پڑھ لکھ گئے اس پیغام ہدایت کا کچھ اثر ہوا لیکن جزوی طور پر ہی ہوا معاشرے میں جرائم اور ظلم و نا انصافی کم تو ہوئی لیکن ختم نہیں ہر جگہ دوہرا معیار تھا انصاف طاقتور کے لئے تھااور عقوبت کمزور کا مقدر تھی ہوا آج جب ہم ایک ماڈرن معاشرے کا حصہ سمجھے جاتے ہیں جہاں کے لیڈر بظاہر انصاف اور حقوق انسانی کی بات کرتے نہیں تھکتے مغربی حکومتوں نے انسانی حقوق کے تحفظ ادارے بنا رکھے ہیں لیکن انصاف کے معیار اور اصول بھی انہیں کے اپنے بنائے ہوئے ہیں ہر وہ عمل جس میں انہیں کوئی منفعت حاصل ہو یا کسی معاشرے کو مطعون کرنا مقصود ہو تو اس پر انسانی حقوق کے نام پر شور مچایا جاتا ہے مغرب نے خاص طور پر تیسری دنیا کے وسائل پر قبضے کے لئے اور اپنا ایجنڈہ آگے بڑھانے کی خاطر ڈالرخور این جی اوز بنا رکھی ہیں جو مغربی طاقتوں کے اشاروں پر جہاں انہیں اشارہ ہو وہاں خوب احتجاج کرتی ہیں بلکہ بعض اوقات ایشو ایجاد بھی کرلیتی ہیں جیسا کہ ایک خاتون کو کوڑے مارنے کی نام نہاد ویڈیو جو بعد میں جعلی ثابت ہوئی اس طرح کی سینکڑوں مثالیں دی جا سکتی ہیں جہاں حقیقی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہو تو یہ مہر بہ لب رہتی ہیں مثلا آج تک فلسطین کے معاملے جہاں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں جو عملا اسرائیلی قید خانہ ہے وہاں کسی ان این جی او کی چونچ نہیں کھلتی کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کرعقوبت خانوں میں ان پر تشدد کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں عفت ما آب خواتین کی عصمتیں تار تار کی جا رہی ہیں گن پاؤڈر سے لوگوں کی جائیدادیں اور گھر جلائے جارہے ہیں 7 لاکھ فوج وادی میں رکھنے کے باوجود الزام پاکستان پرتھونپے جا رہے ہیں کہ پاکستان سے اتنے لوگ آئے اور کارروائی کر کے چلے گئے جبکہ ہر موڑ پر انڈین فوج کے ناکے لگے ہوئے ہیں اس کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر اسرائیل نے جو حفاظتی آلات انڈیا کونصب کرکے دئے ہیں وہاں سے انسان تو کیا سانپ اور بچھو تک کا گزر نہیں ہو سکتا دوسرے 7 لاکھ فوجی 2 چار لوگوں کا نہ سراغ لگا سکتے ہیں نہ انہیں کارروائی سے روک سکتے ہیں تو ہندوستانی فوج کے عسکری معیار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے یا پھر حسب روایت مکمل جھوٹ بولا جارہا ہے شام سے لاکھوں بے گناہ افراد بے پناہ تشدد اور بمباری کے ڈر سے ترکی منتقل ہوکر وہاں کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں سینٹرل افریقن ری پبلک میں مسلمانوں کو سرعام تشدد کر کے ہلاک کیا جاتا ہے سرعام بکرے کی طرح ذبح کر دینا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے بلکہ زندہ بھی جلا دیا جاتا ہے یہی کچھ آج کل برما میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے روہنگیا نسل کے لوگ تاریخی طور رکھنی مسلم ریاست کے ایک ہزار سال تک حکمران رہے ہیں اور موجودہ برما بھی کئی نسلی آکائیوں کا مجموعہ ہے جس میں کوریائی ہے چینی جاپانی منگولیائی رکھنی اور ویت نامی نسل کیلوگ آباد ہیں پہلے چھوٹے چھوٹے رجواڑوں پر مشتمل لوگ جب بھی کوئی بڑا اتحاد بناتے تو 350 سال تک کی تاریخ ہے کہ بادشاہ گری میں روہنگیاؤں کا کلیدی کردار ہوا کرتا تھا کچھ نام نہاد تاریخ دان ان روہنگیاؤں کے تانے بانے عرب ملاحوں سے جوڑتے ہیں جو درست نہیں بلکہ یہ مقامی لوگ ہیں جنہوں نے تبلیغ اسلام کرنے والی جماعتوں کے ہاتھوں صدیوں پہلے اسلام قبول کیا تھا ان کا صوبہ اراکان میانمار کے انتہائی مغرب میں بنگلہ دیش کی سرحد پر واقع ہے۔نہتے روہنگیا جیسے ہی باہر نکلتے ہیں انہیں گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے یا پھر انہیں میدان میں لاکر پشت پر ہاتھ باندھ کر زمین پر منہ کے بل لٹا کر ان پر بد ترین تشدد کیا جاتا ہے حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کردئے جاتے ہیں مردوں کی گردنیں کلہاڑوں سے کاٹ دی وجاتی ہیں اور جس کے تمام اعضا کے ٹکڑے کر کے پھینک دئیے جاتے ہیں اور ان لاشوں کے ساتھ زندہ لوگوں کو بٹھا کر آگ لگا دی جاتی ہے۔ لیکن میانمار کی وزیراعظم کہہ رہی ہیں کہ یہ سب جھوٹ ہے کہ کر میانمار کی فوج اور پولیس کے مظالم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ میانمار میں ایسا کچھ نہیں ہو رہا دنیا بھر میں ان سے نوبل انعام واپس لینے کی مہم شروع ہوچکی ہے کسی چھلکے پر پھسل کر گرنے پر موم بتیاں جلانے والی ڈالر خور این جی اوز اس ظلم اور ناانصافی پر مہر بہ لب ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور ملتمس ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا کائی سچا غلام ان کی مدد کو پہنچے اللہ ہمیں اور پورے عالم اسلام کو اشرار کے شر سے بچائے آمین۔
*****

معاشی حالت۔۔۔ شوق موسوی
معاشی صورتِ حالات کا بنے گا کیا
کوئی بتائے کہ پہنچیں گے کیسے منزل میں
سٹیٹ بنک نے اُن کے اکاؤنٹس روکے ہیں
یہاں وزیر خزانہ ہیں سخت مشکل میں

استاد محترم۔۔۔!

نیب کے مقدمات سے گلو خلاصی کیلئے میاں نواز شریف کو سابق صدر آصف علی زرداری کی شاگردی کا مشورہ !سابق وزیراعظم باکمال آدمی ہیں کہاں لوہے کی بھٹی اور کہاں تین دفعہ وزات عظمیٰ کا تخت ! مگر ہر دفعہ معراج عظمیٰ پر پہنچ کر واپس زمین پر پٹخ دیا گیا میاں صاحب محنتی بھی ہیں اور قسمت کے بھی دھنی ضدی بھی صدر اسحاق سے بھی زخم کھایا اور پھر اسحاق کو بھی کھا گئے مشرف سے جنگ میں جیل او ر قلع اٹک اور جلاوطنی کاٹی مگر پھر اسے ملک سے بھاگنے پر مجبور کیا نہ جانے محمد خان جونیجو کو کس کے اشارے پر زہر دیاتھا کیونکہ کہ میاں صاحب کے رابطے اپنی ضرورت کے ہمیشہ بڑے بڑوں سے رہے ہیں ویسے بھی کاروباری آدمی ہیں جس شخص چیز کو منافع بخش سمجھتے ہیں بڑی بولی لگا کار خریدنے کا فن بھی جاتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت مولانا فضل الرحمن جیسے معتبر مذہبی سیاسی راہنما کووزارتیں مشاوت دے کر اپنے قریب کر رکھا ہے اسی لیے انھوں نے سابق وزیرا عظم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے مقد مات کے خاتمہ کے لیے سابق صدر آصف علی زرداری کی شاگردی اختیار کریں مولانا صاحب کو پتہ ہے میں صاحب لوگوں کی جب تک حکومت ہوگی مولانا صاحب کی انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہوگا۔اسی لیے مولانا صاحب نے میاں نوازشریف کو مشورہ دیا ہے زرداری صاحب کے تابعدار بنیں ویسے آنے والے الیکشن بھی قریب ہیں اور دونوں حضرات قومی مفاد کے پیشے نظر نیک نیتی سے ملک اور قوم کی خاطر اتحاد کر کے الیکشن لڑیں تو عمران خان اور جماعت اسلامی جیسے بدعنوان اور بد مزاج لوگ ڈھونڈ نے سے بھی نہیں ملیں گے ۔مولانا صاحب آپ صاحب علم انسان ہیں آپ خود ہمت کریں اور دونوں معصوم حضرات اپنی موجود گی میں اپنے سامنے بٹھا کر دعائے خیر پڑھیں فتح بھی یقینی ہوگی۔ آصف علی زرداری ملک کے دوبارہ صدر اور میاں نواز شریف سے ملک کے وزیراعظم یا بادشاہ بن جائیں گے ! آپ کے بھی ہر طرف اور ہر طرح کے مزے ہوں گے۔ KPK ۔ سندھ ۔ بلوچستان اور پنجاب میں جہاں چاہیں گے آپ کو اور آپ کے بھائی کو وزارتیں۔ مشاورتیں اور آپ کے ساتھیوں کو بہت کچھ میسر آئے گا۔آپ میں یہ خوبی ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی گزارہ کرلیتے ہیں۔ آپ ایم ایم اے اتحاد کی بجائےZ FM اتحاد کی کوشش کریں ۔ اوراس اتحاد سے فضل الراحمن ،میاں ، زرداری ، کے مسائل حل ہو جائیں گے ! باقی معاملات الگ ٹھیک ہو جائیں گے۔ مولانا صاحب احباب پوچھتے ہیں کے آپ کس کے شاگرد رہے ہیں ؟ کیا آپ اپنے استاد کا نام بتا نا پسند فرمائیں گے؟کیا آپ میاں صاحب کو اپنے استاد کا شاگرد نہیں بنواسکتے ؟ تاکہ میاں صاحب بھی آپ کے ہم خیال اور ہم جماعت اور ہم استاد ہوجائیں؟مولانا صاحب کیسے ہوں گے۔ آپ کے استاد محترم ؟ کتنے گرو و ھوں گے وہ ؟ کیا آپ کے علاوہ بھی انہوں نے کوئی شاگرد بنایا تھا ؟ کیا آپ جتنا ہی کوئی ان کا کامیاب و کامران شاگرد ٹھیرا؟ میرا خیال ہے کہ آپ نہ تواپنے استاد کا پتہ دیں گے اور نہ ہی کسی دوسرے کو اپنے استاد کی شاگردی کرنے دیں گے! کیونکہ وہ بھی پھر آپ جیسا کامیاب سیاستدان بن جائے گا۔ خیرجو بھی ہے آپ نے کا استاد محترم کو کسی انتہائی محفوظ اور مخصوص کمرے میں بند کر رکھا ہوگا۔ ! آپ نے پرویز مشرف کے ساتھ وقت اچھے طریقے سے گزارہ حالانکہ آ پ مذہبی راہنما ہیں وہ سیکولر مزاج کے انسان تھے! آپ جمہوریت میں رہ کر ہرمقدار کے ساتھ رہے اور وہ ایک امرتھے اسی طرح آپ نے آصف علی زرداری کے ساتھ بھی اتحاد کیئے رکھا ۔دنیا کا خیال ہے کہ اگر کل عمران خان جیسے آپ کے سخت مخالف کی حکومت قائم ہوجاتی ہے تو آپ ان کے ساتھ شراکت داری پر راضی ہو جائیں گے۔ ساری طاقت اپنے خواجوؤں کے سپرد کرنے کی بجائے ہر کسی کو اپنی اپنی طاقت اپنے پاس رکھنے پر راضی کیا جاسکے! تب نہ اختیارات اورنہ مال وزر کے جھگڑے پیدا ہوں گے! نہ شخصی تصادم کا خطرہ ہوگا۔ اورنہ لوٹ مار ہوسکے گی!اورنہ نیب میں مقدمات بنیں گے۔ اورنہ ہی کوئی عدالت آپ کو نااہل کریگی! نہ کوئی آرمی چیف آپ کو معزول کریگااورنہ ہی کوئی صدر آپ کی حکومت کو توڑے گا! ۔

سنا ہے بہت سستا ہے خون وہاں کا !

واضح رہے کہ کانگرس کے نائب صدر راہل گاندھی دو ہفتوں سے امریکی کے دورے پر ہیں ۔ راہل گاندھی نے وہاں ڈیموکریٹک پارٹی کے تھنک ٹینک سینٹر فار امریکن پراگریس (CAP ) کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں نوجوانوں کے لئے نوکریوں کی انتہائی تشویش ناک حد تک کمی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ کانگرس کی گذشتہ سرکار کی کارکردگی بھی قابلِ رشک نہیں تھی مگر مودی سرکار نے تو صورتحال کو انتہائی تشویش ناک حد تک خراب کر دیا ہے ۔ اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ بھارت میں عدم برداشت اس وقت انتہائی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور بھارت RSS کی قیادت میں انتہائی سرعت سے تباہی کی طرف جا رہا ہے ۔ یاد رہے کہ اس میٹنگ میں CAP کی سربراہ’’ نیرا ٹنڈن ‘‘،بھارت میں امریکہ کے چند ماہ پہلے تک سفیر ’’رچرڈ ورما‘‘ اور ہیلری کلنٹن کے ٹاپ کمپین ایڈوائزر ’’جان پوڈیسٹا‘‘ بھی شامل تھے۔ دوسری طرف مہاراشٹر میں BJP کی اتحادی جماعت’’ شیو سینا‘‘ نے کہا ہے کہ بھارت میں اس قدر تیزی سے بڑھتی مہنگائی سے لگتا ہے کہ شاید مودی سرکار بلٹ ٹرین پر آنے والے خرچ کو عام آدمی کی جیب سے پورا کرنا چاہتی ہے ۔ شیو سینا کے ترجمان اخبار ’’سامنا‘‘ کے اداریے میں لکھا گیا کہ ’’ کوئی اہلیت نہ رکھنے والے لوگ اس وقت بھارت کو چلا رہے ہیں ۔ اور مودی جو کہہ رہے کہ بھارت کے حالات پہلے سے بہتر ہو رہے ہیں ، وہ جھوٹ بول رہے ہیں اور بھارت در حقیقت تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ علاوہ ازیں یہ امر کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام کے خلاف بھارتی حکمرانوں نے مکروہ سازشوں کا دیرینہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اسی پس منظر میں حریت قائدین پر آئے دن ایسے بے سروپا الزامات دھرے جا رہے ہیں جن کا حقائق سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔ اسی تناظر میں انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے کشمیریوں کو ٹرر فنڈنگ کے بے بنیاد الزامات لگا کر مشقِ ستم بنا رکھا ہے۔ خصوصاً پچھلے تین ماہ سے یہ سلسلہ اپنے عروج پر ہے ۔ حریت لیڈروں کو بار بار گرفتار کیا جاتا ہے۔ سیدعلی گیلانی کے دو بیٹوں نسیم گیلانی اور نعیم گیلانی کو بھی پوچھ تاچھ کے لئے دو بار دہلی طلب کیا گیا۔وادی کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے۔ کئی تاجروں کے کاروبار سے متعلق ریکارڈ ضبط کیا گیا۔ کئی نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس ساری کارروائی کے باوجود NIA (بھارت کا قومی تحقیقی ادارہ) کوئی بھی ٹھوس ثبوت یا شہادت سامنے لانے میں ناکام ثابت ہوا ہے کیونکہ جھوٹ جھوٹ ہی ہوتا ہے ۔ لیکن اس بیچ حیران کن بات یہ دیکھنے کو مل رہی ہے کہ ایک آدھ کو چھوڑ کر بھارت کے تقریباً تمام ٹیلی ویژن چینلز مقبوضہ کشمیر میں این آئی اے کے چھاپوں کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے نظر آتے ہیں، جیسے کہ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ بھی ہورہا ہے اس کی ساری تاریں ’’ٹرر فنڈنگ‘‘ کیس سے جاملتی ہیں۔ ان ٹی وی چینلوں میں کوئی یہ نہیں کہتا ہے کہ وہاں واقعی ایک تحریک چل رہی ہے، جسے مکمل عوامی سپورٹ حاصل ہے۔ بھارتی الیکٹرانک میڈیا کبھی بھی وہاں ہورہی انسانی حقوق کی پامالیوں کا تذکرہ نہیں کرتا اور نہ ہی مقبوضہ ریاست کے بارے میں دہلی کے مظالم کی کبھی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ تاثر پھیلانے کی ناکام سعی جاری ہے کہ کشمیر میں پیسہ دیکر پتھر پھنکوائے جاتے ہیں، گولیاں چلائی جاتی ہیں اور احتجاج کروایا جاتا ہے۔ حالانکہ گزشتہ ایک سال کے دوران خود ہندوستان کی کئی اہم شخصیتوں نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرکے وہاں کے زمینی حالات کا جائزہ لیا اور پھر دو ٹوک لفظوں میں تسلیم کیا کہ کشمیری عوام حکومت ہند سے نالاں ہے اور یہاں واقعی انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں جاری ہیں۔واضح رہے کہ جولائی 2016میں وانی کی شہادت کے بعد جب مقبوضہ وادی کے حالات انتہائی خراب ہوئے اور وہاں جدوجہدِ آزادی میں مزید سرعت آ گئی تھی تو اُس وقت تین سرکردہ بھارتی صحافی سنتوش بھارتی، اشوک وانکھڑے اور ابھے کمار دوبے وہاں کے زمینی حالات کا جائزہ لینے کیلئے پہنچے تھے ۔ سنتوش بھارتی نے تو مودی کے نام ایک کھلا خط لکھ کر ان تمام مظالم کی نشاندہی کی تھی جن کا ارتکاب بھارت سرکار مقبوضہ کشمیر میں کرتی ہے۔اس ضمن میں سابق بھارتی وزیرخارجہ یشونت سنہا سے لے کر فاروق عبداللہ جیسی بھارت نواز شخصیات نے بھی مقبوضہ ریاست میں جاری دہلی کی ریاستی دہشتگردی کو تسلیم کیا ۔ ایسے میں توقع کی جانی چاہیے کہ اقوامِ متحدہ سمیت عالمی برادری اپنے ہونے کا ثبوت دے گی کہ
سنا ہے بہت سستا ہے خون وہاں کا
اک بستی لوگ جسے کشمیر کہتے ہیں

بیہمانہ قتل عام

میانمارمیں ریاستی سرپرستی میں بدترین تعصب’بدترین جہالت اوربدترین مذہبی وثقافتی تنگ نظری کے پے درپے رونما ہونے والے واقعات نے عالمی میڈیا کوتقریبا جھنجھوڑکررکھ دیا ہے، میانمارمیں روہنگیا نسل کے مسلمانوں پرگزشتہ چھ سات برسوں سے بدھسٹ جنونی انتہا پسندوں نے قیامت ڈھائی ہوئی ہے’عالمی میڈیا میں تواترکے ساتھ ایک کے بعد ایک نئی تشویش ناک اور سنگین خبر یں رپورٹ ہورہی ہے کیا ‘مس آنگ سان سوچی’میانمارمیں نہیں رہ رہی ہیں ؟اْنہیں اصل حقائق کا اگر پتہ نہیں چل رہاتو اْنہیں بحیثت ‘نوبل پیس پرائزشخصیت’کے اپنے ملک میں رونما ہونے والے المناک واقعات پرگہری تشویش توہونی ہی چاہیئے تھی یا نہیں؟ اوراصل حقائق تک پہنچنے کیلئے مس سوچی کو اپنے تمام ممکنہ سرکاری وسائل بروئےِ کارلانے ہر صورت لانے چا ہیئے تھے’میانمارکے حالیہ سفاک اور شرمناک واقعاتی معلومات پر صرفِ نظر کرکے کہیں ‘مس آنگ سان سوچی’کسی قسم کی مجرمانہ غفلت کی مرتکب تونہیں ہوئیں ؟یہ سوچنااْن کا پہلا فرض ہے’چونکہ وہ’نوبل انعامِ یافتہ شخصیت’ہیں اُن پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے میانمارکی تاریخِ آزادی کے لئے جہاں ‘مس سوچی’ کے بزرگوں نے برطانوی سامراج کامقابلہ کیا وہیں اْنہیں یہ بھی اپنے ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ میانمارمیں رو ہنگیانسل کے مسلمانوں کاجس بیدردی کے ساتھ ناقابلِ تلافی قتل عام کیاجارہا ہے، ذرا وہ اپنے دلوں پہ ہاتھ رکھ لیں اور بھی سنیں کہ میانمار میں صدیوں سے آباد مسلمانوں کے بزرگوں نے بھی میانمارجب برطانوی نوآبادیات میں شامل تھا، برطانوی سامراج کی ‘نوآبادی سسٹم’ کوڈنکے کی چوٹ پرللکارا تھا،جن میں’برمامسلم کانگریس’کے چیئرمین عبدالرزاق بوکی قیادت میں میانمار کی آزادی کے لئے کیئے جانے والی مردانہ وارمزاحمتی کردارکی تاریخ ساز سرگرمیوں کو’آزاد سرزمینِ میانمار’ کی تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ،کیا ‘مس آنگ سان سوچی’جوآج میانمارحکومت میں اعلیٰ عہدہ پر فائز ہیں،وہ میانمارکی آزادی کیلئے برمی مسلمانوں کے قائدین کی اِن خدمات کو تسلیم کرنے سے انکارکرسکتی ہیں؟انکار کرنا چاہئیں بھی تو وہ انکار نہیں کرسکتیں، چونکہ کل خود وہ بھی ایک طویل عرصہ تک میانمار پرغیر آئینی طور پر قابض ایک ڈکٹیٹرکے ظلم وستم کا شکاررہیں۔ کل جب اْن پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھائے جارہے تھ اُس وقت بھی پْرامن پاکستانیوں کے دل اْن کے ساتھ تھے’ انسانی حقوق کیلئے کی اُن کی جائزجدوجہد کو ہم پاکستانی کل بھی خراجِ تحسین پیش کرتے رہے ،جو تاریخ کا حصہ ہے’مگر’آج جب روہنگیا نسل کے برمی مسلمانوں کوسرعام قتل کیاجارہا ہے’اْن کی باعصمت خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی جارہی ہے ‘میانمارکی فوج کی موجودگی میں روہنگیامسلمانوں بچوں اورعورتوں کوزندہ نذرِ آتش کیا جارہا ہے’جبکہ میانمار کے قریب کے مسلم ملک بنگلہ دیش نے بھی اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹرزکی خلاف ورزی کرتے ہوئے میانمار کی فوج کے ظلم وستم سے پناہ لینے کی خاطراپنی جانوں کو مشکلات اورجوکھوں میں ڈال کرآنے والے روہنگیا مسلمانوں پراپنی سرحدیں بند کردیں یہ بہت بڑا انسانی المیہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے’مس آنگ سان سوچی’ کوایسے نازک اورحساس موقعوں پر ‘موقع پرستی’ کی بجائے کھل کرحق اورسچائی کا ساتھ دینے کی اشد ضرورت تھی جواب تک وہ خوش اسلوبی سے نبھاتی ہوئی نظرنہیں آرہیں؟ایسا کیوں ہے ؟ مس آنگ سان سوچی ہی وہ واحد شخصیت تھیں جو مذہبی تنگ نظری سے بالا تصور کی جاتی ہیں، جنہوں نے میانمار میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لئے طویل عرصہ تک میانمار کے اقتدار پر قابض ایک نہایت ہی سفاک صفت ڈکٹیٹر کا بڑی بے جگری سے مقابلہ کیا جسے پْرامن دنیا نے تسلیم کیا میانمار میں جاری انسانی نسل کشی کو روکنے کیلئے اُنہیں بلا تاخیر اپنا کردار ادا کرنا تھا یہ اہم سوال دنیا کیلئے آج بڑی اہمیت رکھتا ہے‘میانمار ہ میں گزشتہ 7۔6 برسوں سے کبھی وقفوں سے اور آجکل بڑے تواتر کے ساتھ چند جنونی بدھسٹ رہنماؤں نے میانمارمیں جنگل کا قانون نافذ کرکے اب تک کی معلوم اطلاعات کے مطابق حالیہ خونریز فسادات میں3ہزار کے قریب روہنگیا مسلمانوں کوموت کے گھاٹ اتاردیاہے ایسے نازک اورحساس موقع پربھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کا فوری میانمارجاکر’مس آنگ سان سوچی’ سے خصوصی ملاقات کودنیا بھر کے ا من پسند معتبر حلقوں نے یقیناًتشویش کی نگاہ سے دیکھا ہوگاکیونکہ بھارتی وزیراعظم مودی کی ذاتی شہرت انسانی حقوق کی پائمالیوں کے سلسلے میں خاصی شرمناک بدنامی کا ‘ بڑابھاری ٹریک ریکارڈ’رکھتی ہے، گجرات سے مقبوضہ کشمیرتک کہاں کہاں نہیں مودی نے انسانی لہوکی ہولی نہیں کھیلی؟ لہذاء جنوبی ایشیا کا ایک اہم مسلمان ملک ہونے کے ناطے اہلِ پاکستان نے اپنے دینی مسلم روہنگیا بھائیوں کے درد کوحدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی رْو سے اپنا ہی درد سمجھا ہے’پوری امتِ مسلمہ ایک جسم کی مانند ہیں جسم کے کسی حصہ میں اگر تکلیف محسوس ہوتو وہ دردپورا جسم محسوس کرتا ہے’ذرا ٹھنڈے غوروفکراور اورعقلی تدبرکو استعمال کرکے دردمندی سے سوچا جائے تو’عظیم بدھا’ کی بھی تعلیمات ایسی تونہ تھیں جیسا کچھ ہم اورپوری دنیامیانمارمیں بہتے ہوئے انسانی لہوکی صورت میں آج ملاحظہ کررہی ہے ا ورکفِ افسوس مل رہی ہے’ ‘مس آنگ سان سوچی’ کے لئے آخرمیں ایک فوری مشورہ ہمارا یہ ہے کہ وہ نریندرامودی جیسے قصاب نما گمراہ بھارتی لیڈر سے بہت بڑی اورقدآورلیڈر ہیں ‘نوبل انعامِ یافتہ’ ہیں، مودی کے انسانیت کش بالخصوص مسلم کش مشوروں کو وہ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں خود حالات کا موقع پرجاکرجائزہ لیں اورانسانیت کے اِس قتلِ عام کو جتنی جلد ہوسکے رکوائیں’ اُن کا یہی امر انسانیت کیلئے اْن کی ایک بہت بڑی خدمت متصور ہوگی اور آخر میں اقوامِ متحدہ سمیت عالمی منصفوں سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ ’کوسوو‘دار فراور مشرقی تیمور پالیسیوں کو سامنے رکھتے ہوئے بلا تاخیر میانمار میں انسانیت کے بہیمانہ قتلِ عام کو روکوانے کیلئے وہ تمام عالمی قوانین بروئےِ کار لائیں جو آج میانمار میں جاری خونریزی کو روکنے میں ممدومعاون ثابت ہوسکیں

برطانیہ کی پاکستان کیلئے تجارتی ترجیحی سکیم جی ایس پی پلس

پاکستان اور برطانیہ نے سفا رتی تعلقات کے 70سال پورے ہونے پر دونوں ممالک کی مشترکہ خو شحالی کے مقصد کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کی تاریخ اور مستقبل مشترکہ ہے۔ دونوں ممالک کی تر قی اور خو شحالی کا یہ کام اپنی تجارتی پالیسیوں اور دونو ں ممالک کے مابین کارباری رابطوں کو بہتر بنانے سے ہوگا۔
اس وقت بر طانیہ پوری یونین کی تجارتی ترجیحی سکیم جی ایس پی پلس کے ذریعے پاکستان کے ساتھ تعا ون کررہا ہے اور اس تعاون او ربر طانیہ کی حما یت سے پاکستان میں پائیدار تر قی اور اقتصادی نمو حو صلہ افزا ہے۔ اس سے برطانیہ میں صارفین کو کاروبار کرنے میں بھی مد د ملتی ہے۔ چونکہ برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہو رہا ہے۔ ہمیں تجارتی انتظامات کو تیز ی سے عبوری کئے جانے کو فوری طو رپر یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ برطانیہ کا پختہ ارادہ ہے کہ ان ترجیحات کو دو طرفہ بنیادوں پر بر قرار رکھا جائے اور بر طانو ی مارکیٹوں تک فر اخ دلی سے رسائی دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ چونکہ برطانیہ ابھی تک یورپی یونین کا رکن ہے اس لیے برطانیہ یورپی یونین کی جی ایس پی پلس سکیم سے پاکستان کے استفادہ کرنے کے عمل کو جاری رکھے گا جبکہ اس کے بدلے میں پاکستان کو انسانی حقو ق ، مز دوروں کے حقوق او رما حول کو بہتر بنانا ہو گااور پاکستان کو جی ایس پی پلس سکیم کے حصہ کے طورپر کئے گئے وعدوں اورعز م کے تحت گڈ گورننس میں بھی بہتری لانا ہو گی۔ برطانیہ تجارتی رکاوٹیں دورکرنے اور غربت میں کمی لانے اور ملازمتوں کے موقع پید ا کرنے میں پاکستان کی مددکرے گا۔
20کروڑ صارفین کا حامل ملک پاکستان برطانوی کا روباری حضرت کے لیے شاندار مارکیٹ ہے۔ پاکستان میں برآمدات کرنے والی برطانوی کمپنیوں اوربر طانیہ کی اشیاء اور سر وسز کی خریداری کرنے والوں کے لئے برطانوی ایکسپورٹ کریڈ ٹ ایجنسی اور یو کے ایکسپورٹ فنا نس اپنی رقومات بڑ ھا کر 400ملین پونڈز کردے گی اور اس کے علاوہ 200ملین پونڈز اضا فی طورپر دئیے جائیں گے تاکہ برطانوی برآمد کنندگان کی برآمد ی معاہدوں کی ادائیگیاں کرنے میں مدد کی جا سکے او رپاکستانی خر یداروں کی اعلی معیار کی برطانوی اشیاء اور خدمات کے ذرائع تک رسائی میں بھی مدد کی جاسکے۔پاکستان سرمایہ کاری کے لیے بہترین ملک ہے اور سی پیک میں سرمایہ کاری کے لیے بڑے مواقع موجود ہیں جس میں برطانوی ماہرین مختلف شعبوں میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں۔
دونوں حکومتیں پاکستان میں برطانوی تجارت اور سرمایہ کاری میں مز ید اضافہ دیکھنا چاہتی ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی کاروباری ادارے برآمدات اور برطانیہ میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں ٹیکسٹائلز سے لے کر ادویات سازی تک ، انجینئرنگ کھیلوں کے سامان،لیگل اور بزنس سر وسز جیسے شعبہ جات کی عالمی اقتصادیات میں وسیع امکانا ت پائے جاتے ہیں۔ ہم نے ان تعلقات کو مستقبل میں دونوں ممالک کے مابین مز ید مضبوط بنانے کے لیے کام کرنے کاعزم کر رکھا ہے۔
برطانوی وزیر مملکت برائے تجارتی پالیسی گریک ہینڈز نے کہا ہے کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس اسکیم کے حصے کے طور پرکئے گئے وعدوں کے تحت گڈ گورننس کی صورتحال بہتر بنانا ہو گی ۔یورپی یونین سے الگ ہونے کے بعد بھی برطانیہ جی ایس پی پلس کی تجارتی مراعات کو برقرار رکھے گا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی ترقی کیلئے تجارتی روابط بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ جی ایس پی پلس مراعات جاری رکھنے کے لیے قانونی تقاضے پورے کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ان افواہوں کی بھی تردید کی گئی کہ سزائے موت پر پابندی جی ایس پی پلس کی شرائط میں شامل ہے۔ جی ایس پی پلس کے تحت اقوام متحدہ کے ستائیس کنونشنز میں سے زیادہ تر پر عمل درآمد کی آئینی ذمہ داری صوبوں پر عائد ہوتی ہے۔ لہذاٰ وفاق صوبوں کو انسانی حقوق کے ان کنونشنز پر عملدرآمد کی حساسیت سے آگاہ کر رہا ہے۔ بقول وزیر تجارت کہ جی ایس پی پلس کے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو یورپی یونین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
یورپی یونین نے تقریبا ساڑھے تین سال قبل پاکستان کو جی ایس پی پلس کی حیثیت دی تھی جس کے بعد یورپی ممالک کو پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ برطانیہ کی جانب سے پاکستان کیلئے جی ایس پی پلس کی رعایت جاری رکھنا ایک اہم فیصلہ ہے جس سے بریگزٹ کے بعد بھی پاکستان کی برطانیہ کیلئے برآمدات متاثر نہیں ہوں گی۔جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کی جانب سے یورپی ممالک کو تقریبا بیس فیصد مصنوعات ڈیوٹی فری برآمد ہوتی ہیں جبکہ سترہ فیصد مصنوعات پر کم ڈیوٹیز عائد کی جاتی ہیں۔
****

’’سیاسی فراری‘‘

فرار اورقرار میں ایک نکتے کا فرق ہے جیسے محرم اورمجرم میں،دعا اوردغا میں بلکہ یوں کہا جائے کہ ہم دعا کرتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے ایک نکتے نے محرم سے مجرم بنا دیا ۔یہ چیزیں تو میرے قارئین کرام بخوبی جانتے ہیں مگر آج ہم جس بارے میں اظہار خیال کرنا چاہتے ہیں وہ ایک نئی اختراع ہے وہ فرار اورقرار کی ۔اس میں بھی ایک نکتے کا ہی فرق ہے مگر تھوڑی سی اجازت چاہتے ہوئے ہم فرار کے آگے ہم ’’ی‘‘ڈال دیں تو پھر شاید سمجھنے میں آسانی ہوجائیگی کہ یہ فراری اکثر پہاڑوں سے اتر کر ہتھیار ڈال دیتے ہیں اورپھر اسے علاقے میں امن کی جانب ایک قدم آگے بڑھ جاتا ہے ۔مگر جس فراری کی ہم بات کرنے جارہے ہیں وہ اتنا سخت ترین فراری ہوجاتا ہے جس کا نقصان وطن کو ،قوم کو ،خزانے کو اورحتیٰ کہ اس کی اپنی ساکھ کو پہنچتا ہے ۔اس کو ہم ’’سیاسی فراری ‘‘ کہیں گے ۔جیسے ہی کوئی مسائل آن پہنچتے ہیں تو یہ سیاسی فراری کسی امریکہ یا یورپ کے ملک کی یاترا پر روانہ ہوجاتے ہیں ۔ملک میں پھر انہیں غیرحاضر قرار دیا جاتا ہے ۔کبھی وارنٹ نکالے جاتے ہیں ،کبھی بلاوابھیجا جاتا ہے مگر وہ سیاسی فراری بن کر خودساختہ جلاوطنی گزارنا شروع کردیتے ہیں ۔وقت گزرتا جاتا ہے فائلیں دھول میں دبتی چلی جاتی ہیں پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ اپنی فراری خود ہی ختم کرکے قوم کو آگے لگا کر آوے آوے ،جاوے جاوے کا نعرہ لگاتے ہوئے دوبارہ سے عنان اقتدار پر براجماں ہوکر پھر سے اپنی شکم سیری شروع کردیتے ہیں ۔قوم بیچاری پھر لٹتی ہے ،خزانہ خالی ہوتا ہے ،کیس بنتے ہیں اور پھر تاریخ دہرائی جاتی ہے ،یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ایسے فراری کب تک اس ملک اور قوم کے نصیب میں لکھے ہوئے ہیں ۔مگر اس وقت سراسیمگی سے چلتی ہوئی آہستہ آہستہ ہوا کچھ بین السطور پیغام لارہی ہے ۔ن اورجنون کے مسئلے میں شاید کوئی نیا ’’ن‘‘ نہ آن ٹپکے ۔ہے وہ بھی ن ہی،اس میں بھی پرانے ن کے بہت سے نون غنے جاگ کر ملیں گے اور پھر شاید ایک نئی راہ پر یہ ن لڑھکنا شروع ہوجائیگا ۔آنے والے وقت میں ہوا کی دستک کیا خبر دے رہی ہے ۔’’رمضانی‘‘ اس کے بارے میں خاصا فکرمند نظر آرہا ہے ۔وہ تو کہتا ہے کہ کچھ نیا ہی ہوگا ۔لوگ پیش ہوجائیں گے ،پھر آہستہ آہستہ آؤٹ ہوجائیں گے ،ایک شخص کا انتظار ہے اس نے آنا ہے اور باگ دوڑ سنبھالنی ہے ۔جب رمضانی سے یہ پوچھا گیا کہ یہ گو مگو کی سی گفتگو ہے تو وہ گویا ہوا کہ اس کوابھی گُم سُم ہی رہنے دیں ۔وقت سے پہلے کہی ہوئی بات مزہ نہیں رکھتی ۔مگر حالات تیزی سے بدل رہے ہیں قوم کو اس وقت سمجھ آچکا ہے کہ کون درست ہے اور کون غلط ہے ۔عمران خان کے بارے میں بہت زیادہ ایسے گھمبیر معاملات نہیں تاہم وہ چل رہے ہیں ۔کچھ صحیح چل رہے ہیں کیونکہ وہ کہہ چکے ہیں کہ ایک کی سیاست ختم کردی ہے اب دوسرے کی باری ہے ۔بات تو خاصی وزن والی نظر آتی ہے ۔کیونکہ یہ بات کرتے کرتے ’’رمضانی‘‘ نے فضاؤں کو گھورنا شروع کردیا ۔جیسے کہیں کوئی دور جاتی ہوئی چیز دیکھ رہا ہو ۔چہرے پر اس کے پریشانی نمایاں تھی ۔کچھ اتنے غور سے دیکھا کہ بھنوئیں تک ٹیڑھی ہوگئیں ۔دونوں ہاتھ آپس میں مَلتے ہوئے خودسے ہی گویا ہوا کہ اب تو ہاتھ خالی رہ گئے ہیں ۔کچھ بننے والا نہیں ،کوشش تو بڑی کی تھی مگر ہمیشہ یہ لوگ غلط زاوئیے ہی پر کھیلتے رہے ۔اپنوں نے بھی سمجھایا ،پرایوں نے بھی بتایا ،لکھاریوں نے بھی آشکارا کیا مگر کچھ اثر نہ ہوا گھڑے سے پانی بہتا چلا گیا ۔سارا کچھ خالی ہوگیا پر رسی کا بل نہ گیا ۔پھر تو اسے کا یہ نتیجہ نکلنا ہی تھا جب اپنا پیر خود ہی کاٹ دیا جائے اس کا تو کوئی حل نہیں ۔ہمیشہ اگر نقصان پہنچایا تو اسی کچن کیبنٹ نے ۔ایک تجربہ کار سیاست اور ایک نومولود سیاستدان میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔ویسے بھی سیانے کہتے ہیں کہ پہلے تولو پھر بولو۔بغیر سوچے سمجھے بولنے پر ایسے ہی نتائج بھگتنا پڑتے ہیں کیا دھرا تو اپنا ہی ہے پھر رونا پیٹنا کیسا ۔اس وقت تک بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزرچکا ہے ۔اگر بند بھی باندھا جائے تو بھی ان موجوں کو روکنا بہت مشکل ہے ۔الزامات کی سیاست سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔کیونکہ دامن چھلنی چھلنی ہوچکا ہے کوئی چیز اس میں ٹھہرنے والی نہیں ہے ۔دامن کو بھی خود ہی چھلنی کیا تھا اور چھلنی کرنے والی کوئی چھریاں یا گولیاں نہیں تھیں ۔یہ چرب زبانی ہی تھی اس کو بارہا دفعہ روکا بھی گیا ۔اس مرتبہ بھی ایک وفاقی وزیر نے بھی کہا کہ سوچ سمجھ کر بیان دینا چاہیے ۔مگر شاید ایسا ممکن ہی نہیں ۔چونکہ جبلت میں لکھا ہی نہیں 58ہے ۔اس لیے بس انتظار کریں ،دیکھیں کہ کس شخص کے سر پر کس طرح تاج رکھا جائے گا ۔کون کون اس کے ساتھ ملیں گے ۔کون کون ’’غنے ‘‘ہوجائیں گے اور کتنے ن ٹکرائیں گے ۔ملاقاتیں جاری ہیں ’’رمضانی ‘‘کہتا ہے کہ سمجھنے والوں کیلئے تو ہر لفظ میں خبر ہے اور جو نہ سمجھے اس کیلئے پھر تو ’’سیاسی فراری ‘‘ ہی ہے ۔

اقوام متحدہ دنیا کے امن کیلئے اپنا کردار ادا کرے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے ملکوں کے احتساب کا وقت آگیا ہے ، دہشت گردی دنیا کے کونے کونے میں پھیل گئے ہیں، امریکی عوام سمندری طوفان سے ٹکرا رہے ہیں، دہشت گردوں کی فنڈنگ اور ٹھکانے ختم کرنا ہونگے۔ اپنی عوام سب سے بالاتر ہے،سرکش ممالک دنیا کیلئے خطرہ ہیں۔دنیا کے باغی ممالک دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں، اقوام عالم کو ان باغی ممالک کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی، القاعدہ،طالبان،حزب اللہ،دیگر دہشتگرد گروپوں کی مدد کرنیوالے ملکوں کوبے نقاب کرنیکاوقت آگیا۔ ٹرمپ کا یہ کہنا تھا کہ طالبان اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف حکمت عملی بدل کر اسلامی انتہا پسندی کو روکنا ہوگا،ہم بنیاد پرست اسلامی انتہاپسندی کو ختم کرینگے،دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں،انکی مالی مددکرنیوالوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے،شمالی کوریا سے امریکا کو خطرہ ہوا تو اسے مکمل طور پر تباہ کردیں گے۔ امریکااقوام متحدہ کی فنڈنگ کاغیرمنصفانہ بوجھ برداشت کر رہا ہے ، تمام ممالک دوسری اقوام کے حقوق کا بھی خیال رکھیں، میں امریکی عوام کا مفاد سب سے بالاتررکھتاہوں،امریکی فوج جلد پہلے سے زیادہ مضبوط ترین فوج بن جائیگی۔اس وقت ساری دنیا کو دہشت گردی سے شدید خطرات لاحق ہیں ، میرے لئے یہ قابل فخر لمحہ ہے کہ میں50 سے زیادہ عرب اور اسلامی ریاستوں کے سربراہان سے مخاطب ہوں۔ہم سب کو اسلامی شدت پسندی سے نپٹنے کے لئے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی کیوں کہ ہم اپنے ممالک اور ساری دنیا کو پریشانیوں میں مبتلا نہیں کرسکتے ، امریکہ نے عراق میں داعش کے خلاف گذشتہ آٹھ ماہ میں تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور وہاں پر امن و امان لوٹ رہا ہے۔ بشار الاسد نے شام میں عام شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے جبکہ امریکہ نے ان اڈوں پر فضائی حملے کئے ہیں جہاں سے کیمیائی ہتھیار عام شہریوں پر استعمال کئے جاتے تھے۔ایران کے حوالے سے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی ڈکٹیٹرز نے اپنی قوم کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔تہران حزب اللہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو مالی معاونت کر رہا ہے۔ ایران کا میزائل پروگرام نہ صرف امریکہ بلکہ ساری دنیا کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ ایرانی لیڈروں نے اپنی قوم کو خون اور خرابے میں دھکیل دیا ہے۔ایرانی حکومت نے اپنی روش نہ بدلی تو اسے مزید تنہا کیا جا سکتا ہے۔امریکہ افریقہ میں اپنی امداد جاری رکھے گا جبکہ اقوام متحدہ بھی افریقہ کی سلامتی کے لئے دوسری قوموں کی جانب سے خطرات سے نمٹ رہا ہے۔اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے افریقی ممالک میں امن مشن کے لئے امریکا دنیا بھر کے ممالک سے 22فیصد اخراجات ادا کر رہا ہے۔اقوام متحدہ کے کردار کے حوالے سے امریکی صدر کاکہنا تھا کہ اس کمرے میں بہت طاقتور لوگ بہت سے مسائل حل کر سکتے ہیں۔اقوام متحدہ کی طاقت کا انحصار اس کے ممبر ز کی آزاد طاقت پر ہے۔ عالمی دنیا کو پر امن ممالک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے دنیا میں امن ، ترقی اور انسانی حقوق کی بحالی کے لئے ممبر ممالک کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ ٹرمپ نے جوکچھ کہا وہ ان کے نقطہ نظر سے درست ہوگا لیکن اس سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔ ٹرمپ کو بھارت کی دہشتگردانہ کارروائیاں دکھائی نہیں دیتی جو ’’را‘‘کے ذریعے پاکستان کے اندر کروا رہا ہے اور خطے کا امن تباہ کررہا ہے، افغانستان میں بھی اس کی کارروائیاں پاکستان کیخلاف طشت ازبام ہوچکی ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے، دنیا کے مسلمان جہاں بھی ہیں زیر عتاب ہیں، بوسنیا، فلسطین، مقبوضہ کشمیر،برما اور دیگر اسلامی ممالک میں جو سفاکی کا کھیل کھیلا جارہا ہے وہ ٹرمپ کو دکھائی نہیں دیتا، دہشت گردی کیخلاف مشترکہ جنگ ضروری ہے لیکن امریکہ دوغلی و دوعملی کی پالیسی اختیار نہ کرے۔ ایک طرف وہ دہشت گرد ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے تو دوسری طرف اسلامی ملکوں کو حرف تنقید بنائے ہوئے ہے ، اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ آپس کی تلخیاں ختم کرکے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں تاکہ ان کے خلاف جو قوتیں برسرپیکار ہیں وہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہ ہو پائیں، دہشت گردی کیخلاف پاکستان کا کردار نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ قابل تقلید بھی ہے۔
پاک افغان پائیدار امن وقت کی ضرورت
پاکستان اور افغانستان نے پائیدار امن کیلئے مشترکہ ہدف کے حصول کیلئے تعمیری کردارادا کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے افغانوں کی سرپرستی اور ان کی قیادت میں سیاسی مذاکرات کے ذریعے امن عمل کی پاکستان کی خواہش کااعادہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کے ہدف کے حصول کیلئے اپناتعمیری کردارادا کرتا رہے گا۔ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نینیویارک میں امریکہ کے نائب وزیرخارجہ ٹوم شنن سے ملاقات کی جس میں افغانستان میں امن و امان کی صورت حال سمیت امریکا کی جنوبی ایشیا کے حوالے سے نئی پالیسی کے خطے پر پڑنے والے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ حالیہ امریکی بیانات پر پاکستان کا بھی سخت ردعمل سامنے آیا، پاکستان کے لیے امریکا کے ساتھ تعلقات کی بہت اہمیت ہے جبکہ دونوں ممالک انسداد دہشتگردی اور مشترکہ دشمن کے خاتمے کیلئے تعاون کریں گے۔ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، افغان امن کا معاملہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے جبکہ افغانستان سے داعش کے خاتمے کیلئے دونوں مل کر کام کر سکتے ہیں اور پاکستان افغانستان میں امن کیلئے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ حکومت پاکستان افغانستان سے تعلقات مستحکم کرنے کیلئے پُرعزم ہے اور دونوں ملکوں کو مختلف شعبوں میں تعاون کے فر وغ کیلئے مل کر کام کرناچاہیے جب کہ افغان عوام اور قیادت پر مشتمل امن عمل کے ذریعے مسئلے کے حل پر توجہ دینا ہو گی۔پاک افغان پائیدار امن وقت کا تقاضا ہے اور مشترکہ ہدف کے حصول کیلئے دونوں ملکوں کا تعمیری کردار ہی خطے میں امن کی بحالی کا باعث بن سکتا ہے۔
سیمنٹ فیکٹری میں دھماکہ
روہڑی بارودی مواد ناکارہ بناتے ہوئے دھماکے کے نتیجہ میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے پانچ اہلکار شہید ہوگئے، دھماکہ آگ لگنے کے باعث رونما ہوا اس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ یہ جان لیوا واقعہ اس وقت رونما ہوا جب روہڑی کے قریبی علاقے سیمنٹ فیکٹری میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کی جانب سے کئی کلو بارودی مواد کو ناکارہ بنایا جا رہا تھا کہ اس دوران آگ بھڑک اٹھی اور بارودی مواد زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے چار اہلکار سیلم رضا ، شاہد مغل ، ماجد سمیت رینجرز اہلکار اللہ ڈنو ر سمیت محنت کش زبیر احمد شہید ہو گئے جبکہ آٹھ سے زائد افراد شدید زخمی ہوگئے دھماکے سے پورا علاقہ گونج اٹھا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تاہم قانون نفاذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر فوری طورپر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔واقعہ کی فوری تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔

Google Analytics Alternative