کالم

اجنبی

yasir-khan

موجودہ حکومت کی کارکردگی کو جس باریک بینی سے معاشرے کا ہر طبقہ مانیٹر کر رہا ہے ،اسکی مثال شاید پہلے نہیں ملتی۔میڈیا سے لیکرسول سوسائٹی اور سوشل میڈیا سے منسلک افراد جس عرق بینی سے تمام معاملات کا جائزہ لیکر کرید کرید کر مسائل،بحرانوں اور چیلنجز کے ڈھیر سے وہ مواد اکٹھا کر نے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں ،جس سے ثابت کیا جاسکے کہ حکومت معاشی نمو کے احداف حاصل کر نے میں ناکام ہو نے کے ساتھ ساتھ کمزور ایڈمنسٹریشن اور عوامی مشکلات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے،عمران خان کی ٹیم بیشک نا تجربہ کار صحیح مگر ایک بات کو سبھی ناقدین کھلے بندوں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کپتان اپنے ارادوں ،وعدوں اور احداف کے حصول کی خاطر کسی صورت بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ۔ایک فائدہ بطور وزیراعظم ان کو یہ ضرور ہوا ہے کہ انھوں نے عالمی دنیا کے سامنے پاکستان کے واضح موقف اورہمسایہ ممالک سے اپنے تعلقات کو نئی جہت اور نیا رخ دیا ہے،ان ممالک کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی امداد اور سب سے بڑھ کر پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقوں سے فائدہ اٹھا نے کی بابت کافی حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے ہیں ۔ان کی ٹیم کا حصہ ایک اہم کھلاڑی عثمان بزدار کپتان کی جانب سے ملنے والی ہر ہدایت اور احکام کو بجا لا نے میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لیتے۔ایمانداری اور دیانتداری وہ اوصاف ہیں جنھیں آج تک ماضی کی حکومتوں میں سوائے لفظی جمع خرچ کے کہیں بھی کسی سیاستدان کی عملی زندگی میں دیکھنا اس ملک کے عوام کا خواب ہی رہا ہے ۔مگر عمران خان جب بھی عثمان بزدار سے متعلق اپنی رائے دیتے ہیں ہمیشہ ان کی ذات سے جڑے چند اوصاف کا ذکر ضرور کرتے ہیں ۔کم گو اور سیلف میڈ انسان ہیں ،تعلق پنجاب کے پسماندہ ترین ضلع سے ،سیاست نہ تو انھیں ورثے میں ملی جائیداد ہے اور نہ کرسی کا حصول ان کی منزل،کرپشن ،بد دیانتی خیانت سے ایسے پا ک کہ کپتان اپنے اس کھلاڑی پر آنکھیں بند کر کے اعتماد کرتے ہیں ۔عہدہ و اقتدار نہ تو انکی خواہش تھی اور نہ اسے پا کر یہ خود کو اس کا حقدار سمجھتے ہیں ۔ایسے صوبے کے وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالا ہے ،جہاں تمام تر وسائل کے باوجود ماضی کی حکومتوں سے ورثے میں ملے مسائل کے انبار ہیں ۔مگر حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ایک خاص اور مربوط منصوبہ بندی کے تحت تمام سیاسی جماعتوں اور حلقوں کی جانب سے شروع دن سے لیکر آج تک بطور خاص انھیں بے جا تنقید اور نا پسندیدگی کا سامنا ہے،پنجاب میں وقوع پذیر کسی بھی واقع یا حادثے کی کڑیاں پنجاب حکومت کی ناہلی سے ملا نے کی کوشش کی جاتی ہے،اس کی وجوہات جاننے کی ضروت ہے ،عثمان بزدار صاحب بیشک دن رات ایک کر کے مسائل اور مشکلات کے اس بہتے دریا کے سامنے بندھ باندھنے کی تگ و دو میں لگے ہیں ،انھیں صوبائی سطح پر ماضی کی حکومتوں کی بہتی گنگا میں اشنان کر نے والی ایک پوری ٹیم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،صوبائی ایڈمنسٹریشن، پولیس، صحت،تعلیم اور امن و امان جیسے گھمبیر مسائل کا سامنا ہے،میڈیا گروپس کی پسند و نا پسند اپنی جگہ مگر میرے خیال میں عثمان بزدار صاحب کا سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسے پنجاب کے پسماندہ ترین ضلع سے منتخب ہو کر آئے ہیں جہاں آج بھی بجلی جیسی نعمت دستیاب نہیں ،سابق خادم اعلیٰ کی وسیع و عریض بادشاہت میں بھی ان جیسے اضلاع میں آج بھی جانور اور انسان ایک گھاٹ سے پانی پینے پر مجبور ہیں ،ایسے اضلاع جہاں غریب ہونا کسی جرم سے کم نہیں ،جہاں قانون کا گرز صرف غریبوں پر برستا ہے،سردار عثمان بزدار کا دوسرا قصور یہ ہے کہ ان کا اس کلاس سے دور پار کا واسطہ تک نہیں جو اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کو اپنا پیدائشی حق تصور کرتے ہیں ۔کسی پسماندہ ضلع کے فرد کا یوں پنجاب کے سیاہ و سفید کا مالک ہو نے کو بھلا وہ کیونکر برداشت کر پائیں گے،اس کلب کا حصہ بننے کیلئے ، متوسط یا نچلے طبقہ کا فرد خواب تو دیکھ سکتا ہے ،عملی طور پر ان کے ذوق ،شوق کو پانا ممکن نہیں ہوتا۔عثمان بزدار صاحب کا تیسرا قصور یہ ہے کہ یہ اس دیوار کو گرانے کی کوششوں میں لگے ہیں جسے بڑی محنت سے ماضی کی حکومتوں نے عوام اور حکمران کے درمیان کھڑا کیا تھا،جو پیمانہ تھی عوام اور حکمران کے درمیان فرق کرنے کا۔عثمان بزدار صاحب طرز حکمرانی اور بادشاہت کے طور طریقوں کی الف ،ب کی پہچان تک نہیں رکھتے ، ایم پی ایز تو کجا عام آدمی کو بھی ایسے گلے لگا لیتے ہیں ،جیسے برسوں کی واقفیت ہو،وگرنہ ماضی کے حکمرانوں کی طرز حکمرانی کو وہ ایک نظر دیکھ لیتے تو انھیں پتا چلتا کہ آدمی تو دور کی بات خود ان کی اپنی جماعت کے اسمبلی ممبران پانچ سال تک ان سے محض ہاتھ ملا نے کی حسرت دل میں لئے گھروں کو لوٹ جاتے۔وہ شاید پنجاب کے پہلے چیف منسٹر ہیں ،جن کے نام کے ساتھ ،نہ تو چودھری صاحب ،نہ ملک صاحب،نہ میاں صاحب کچھ بھی نہیں آتا۔پہلی دفع تخت پنجاب پر ایک ایسا شخص براجمان ہوا ہے ،جس کا تعلق صوبے کے اس ضلع سے ہے جہاں کی عوام کو اپنی ہر ضرورت ،صحت ہو یا تعلیم سب کیلئے لاہور کی جانب دیکھنا پڑتا ہے۔اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ عثمان بزدار صاحب ،ہر اس طبقہ اور جماعت کو کھٹکتا ہے ،جو امیر و غریب،عوام و حکمران کے درمیاں کم ہوتے فرق سے خوف زدہ ہے۔عثمان بزدار صاحب ،عوام کی عدالت ہو یا اسکے قائد کا اعتماد سبھی پر پورا اتر سکتے ہیں مگر ایک مخصوص لابی انھیں کبھی بھی برداشت نہیں کرے گی،چاہے وہ کتنی ہی سنجیدگی، ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ مسائل کے حل کیلئے سرگرداں رہیں ۔مگر شاید مقولیت جانچنے اور معیار پر پورا اترنے کے ماضی کے یہ سارے پیمانے اب قصہ پارینہ بن چکے، ورنہ اس نظام کی بقاء کی خاطر اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دینے والے حکمران گزشتہ انتخابات میں یوں عوامی عدالت میں خوار نہ ہوتے،کسی سے کریڈبلٹی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت ہی کیا ،جب آپ اپنے ضمیر کی عدالت کے سامنے سچے ہیں ،تو پھر کسی کے چاہنے نہ چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔

*****

قومی سانحات کے تدارک کیلئے قانون سازی ناگزیر

افسوس کی بات ہے کہ کبھی بھی کسی نے قومی سانحات کی اصل حقائق جاننے اوراِن میں ملوث افراد کو کڑی سزا دینے اورآئندہ ایسے سانحات کے تدارک سے متعلق قا نون سازی کا نہیں سوچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوم ستر سال سے سانحہ ساہیوال جیسے قومی سانحات سے دوچار ہورہی ہے ،اللہ جانے کب تک یہ سلسلہ جاری رہے ؟ کوئی کچھ نہیں بتا سکتا ہے کہ سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں نہتے شہری کب تک گولیوں کا نشا نہ بنتے رہیں گے؟اور سرکار اِن کے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اپنی پوری قوت کااستعمال اپنا حق سمجھ کر کرتی رہے گی؟۔ اِس سے بھی کسی کو انکار نہیں ہوناچاہئے کہ دنیا کے جن ممالک اور معاشروں میں پارلیمانی نظامِ حکومت قائم ہے۔ اُن کے ایوانوں کا کام تو وقت اور زمانے کے لحاظ سے پولیس اصطلاحات سمیت دیگر ضروری معاملات میں اصطلاحات کرناہوتا ہے۔ مگر ہمارے ایوانوں میں تو کسی قسم کی دائمی قانون سازی کی بجائے ، یہاں تونصف صدی سے زائد عرصے سے ایوان نمائندگان صرف سٹرکیں بنوانے ، گٹر صاف کروانے ، شہر شہراور گاؤں گاؤں گلی کوچوں کوبرقی قمقموں سے سجانے ، اپنے مخالفین کے گھر گرانے اور اپنے حامیوں اور ہم خیال افرادکے گھر بنانے کے احکاما ت جاری کرکے سمجھتے ہیں کہ اُنہوں نے معمولی کام کرکے اپنا قومی فریضہ ادا کردیاہے اور قوم کی خدمت کردی ہے ، عرض یہ کہ ہمارے ایوان تو جیسے چھوٹے موٹے سیاسی اور ذاتی مسائل حل کرنے اور پیدا کرنے کی ذمہ داریاں اداکرنے کیلئے محدود ہوگئے ہیں ،ایوان جہاں قانون سازی کی جانی چاہئے تھی۔ آج ہمارے ایوان حکمرانوں اورسیاستدانوں کے ذاتی اور سیاسی نوعیت کے لڑائی جھگڑے حل کرنے والے مچھلی بازار بن گئے ہیں ۔جہاں چیخ چلاکر مسائل پیداکئے جاتے ہیں،پھراُنہیں حل کرنے کی کروڑوں ، اربوں اور کھربوں کی بولیاں لگائی جاتی ہیں، جو جتنی بھاری بولی دیتا ہے، اُسے مسائل حل کرنے کی آڑ میں مسائل پیدا کرنے کا ٹھیکہ دے دیاجاتا ہے ، کسی معاملے میں جس کی بولی کم لگتی ہے وہ اپنا کام کمیشن اور پرسنٹیج سے نکال لیتا ہے ، ایسا برسوں سے ہورہاہے ۔افسوس ہے کہ پاکستانی قوم ستر سال سے عام انتخابات میں جنہیں ووٹ دے کر اپنے بنیادی حقوق کے حصول کیلئے قانون سازی کرنے کی ذمہ داری سونپ کر ایوانوں میں پہنچاتی ہے۔ وہی قوم کے سوداگر ثابت ہوتے آئے ہیں۔معاف کیجئے گا ، آج عوام کو مہنگائی ، بھوک و افلاس ، کرپشن ، لوٹ مار اور قومی لٹیروں کا خاتمہ کرکے نیا پاکستان بنانے اور عوامی توقعات کے مطابق ریلیف دے کر تبدیلی کے نام پر اقتدار حاصل کرنے والی رواں پی ٹی آئی کی رواں حکومت بھی کوئی نیا کردِکھانے والی نہیں ہے۔ آج یہ بھی اپنے پیش رو کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی مہنگا ئی بے لگام ہوگئی ہے۔ بلکہ پہلے سے زیادہ آزاد ہوگئی ہے۔ صبح مہنگائی کچھ ہوتی ہے۔ تو دوپہراور شام تک اِس کا رنگ ہی کچھ اور ہو کربے قبول ہوجاتاہے ،حکومت بھی ہے کہ جو پہلے والوں کی طرح تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس کے بوجھ تلے دباکر قوم و مُلک کی ترقی کی راہ دکھا کر اپنے گاڑی کا وزن کھینچ رہی ہے۔ کیوں کہ اِس نے اپنے پہلے چھ ماہ میں دو بجٹ پیش کرکے ثابت کردیا ہے کہ یہ عوام کیلئے اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں کرسکتی ہے۔ ا بھی تک حکومت ایک بھی ایسی قانون سازی کرنے سے قاصر رہی ہے جو مفاد عامہ کیلئے ہو ،یہ قانون سازی سے قاصر کیوں نہ ہو؟اِس نے ابھی تک سنجیدگی کا مظاہرہ ہی نہیں کیا ہے، نہ توسابق کرپٹ حکمرانوں نواز و زرداری اور اِن کے چیلے چانٹوں کو ابھی تک کڑی سزادِلوانے کیلئے اپنے تئیں کچھ کیا دکھایا ہے اور نہ ہی عوام سے کئے گئے اپنے وعدوں اور دعوؤں کے مطابق مُلک سے کرپشن اور کرپٹ عناصر سمیت بے لگام مہنگائی اور پولیس گردی کے خاتمے کیلئے قانون سازی کی ہے۔ ابھی تک تو حکومت زبانی جمع خرچ کرکے قوم کو سبزباغ اور سُنہرے خواب دکھانے میں ہی لگی ہوئی ہے اِسے سوچنا چاہئے کہ بھلا گول مول باتوں سے حکومت نہیں چلاکرتی ہے۔بہر کیف، آج سانحہ ساہیوال پر اپوزیشن اور عوام جس طرح واویلا کررہے ہیں یہ بھی اپنی جگہ ہے ،سانحہ ساہیوال تو ایک بہانہ ہے اصل میں اپوزیشن بالخصوص ن لیگ اور پی پی پی والے سانحہ ساہیوال پر چیخ چلا کر اپنی کرپشن پر پردہ ڈال رہے ہیں اور پوزیشن والے نوازشریف، شہباز شریف ، زرداری ، مولانا فضل الرحمان سانحہ ساہیوال کے مرحومین کی لاشوں پر سیاست کرکے اپنا سیاسی قد اُونچا کررہے ہیں حالانکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن اور دیگر قومی سانحات پلٹ پلٹ کر باریاں لینے والی دونوں جماعتوں پی پی پی اور ن لیگ کے دورِ حکمرانی میں ہی رونما ہوئے ہیں۔ اِن سانحات کے متاثرین کو تو ابھی تک ایک رتی کا بھی انصاف نہیں ملا ہے ۔مگر آج یہی کرپٹ دونوں جماعتوں نے سانحہ ساہیوال کوچیل کی طرح چیخ چلاسر پر اُٹھا رکھاہے۔جیسے یہ بڑے انسانی حقوق کے علمبردار ہیں۔ اِس موقع کا وزیراعظم عمران خان بھر پور فائدہ اُٹھائیں اور تُرنت ایوان میں قانون سازی کی ابتداء پولیس اصطلاحات سے کردیں،پھرلگ پتہ جائے گاکہ کون سی جماعت ہے جو پولیس کو سیاسی اثرورسوخ سے پاک رکھنا چاہتی ہیں؟اور کون نہیں چاہتے کہ خالصتاََ عوامی مفادات اور تحفظات کیلئے پولیس اصطلاحات کی جائیں ؟ وزیراعظم عمران خان ساتھ ہی ایوان سے یہ بل بھی پاس کروا دیں کہ کسی بھی علاقے میں پیش آئے سانحہ کا ذمہ دار علاقے کا تھانہ انچارج ہوگا، اگر 72گھنٹوں میں کسی سانحہ یا واقعہ کے مجرم گرفتار نہ کئے گئے تو متعلقہ تھانے کے انچارج سمیت تین اہلکاروں کے ہاتھ کاٹے جا ئیں گے پھر دیکھیں مُلک کے کسی بھی تھانے کی حدود میں کسی قسم کی کوئی چھوٹی موٹی واردات بھی ہوجائے ۔کیوں کہ قوی اور قومی خیال یہی ہے کہ آج مُلک کے طول ارض میں جس قسم کے بھی جرائم رونماہورہے ہیں۔ اِن کی پست پناہی متعلقہ تھانے کرتے ہیں۔آج وزیراعظم عمران خان کی جتنے بھی دن کی حکومت باقی ہے۔اگرآج یہ سخت نوعیت کی پولیس اصطلاحات کرتے ہیں تو قوم کا اِن پر اعتماد بحال ہوجائے گا ورنہ ؟ قوم رواں حکومت پر کئی سیاہ سوالیہ نشانات لگا نے میں حق بجانب ہوگی ۔اگرچہ اَب تک کی آنے والی اطلاعات کے مطابق سانحہ ساہیوال کی ابتدائی رپورٹوں میں کئی سقم موجود ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ سا منے آرہے ہیں، جن کی وجہ سے ایک عام شہری تذبذب کا شکار ہے، کچھ کا یہ خیال ہے کہ مقتولین بے قصور اور بے گناہ تھے۔ مگر بہت سے پاکستا نی اِس سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کسی قسم کی نااہلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اَب جیسا بھی ہے سانحہ ساہیوال نے قوم کو دو حصوں میں بانٹ دیاہے۔ اصل حقائق سا منے آنے تک سارا مُلک ایک کشمکش میں مبتلاہے۔جبکہ مرحومین کے لواحقین سمیت مُلک کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو سانحہ ساہیوال پر بنائی جانے والی جے آئی ٹی کے کسی نقطے اور فیصلے کو درست تسلیم کرنے سے صاف انکاری ہے ۔تاہم متاثرین سانحہ ساہیوال سمیت ایسے کروڑوں پاکستانی شہری بھی ہیں ۔جن کا حکومت سے یہ مطالبہ ہے کہ سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کے جن اشخاص پر مبنی جے آئی ٹی بنا ئی گئی ہے۔ اِس میں اکثر سی ٹی ڈی کے افراد شامل ہیں۔بھلا کب یہ چاہیں گے کہ اِن کے بیٹی بھائی اور اِن کے ساتھی مجرم قرار پائیں ۔اَب اِس پس منظر میں لازمی ہے کہ سانحہ ساہیوال کے مقتولین اور اِن کے لواحقین کو فوری انصاف کی فراہمی کیلئے حکومت جوڈیشل کمیشن بنائے جو غیر جانبداری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے تحقیقات کرے اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرکے انصاف کے تقاضے پورے کرے ۔ بس ایسا اِسی صورت میں ہی ممکن ہوسکے گاکہ جب حکومت کی جانب سے سانحہ ساہیوال پر فی الفور جوڈیشل کمیشن بنایاجائے گا اور ذمہ داران کو کڑی سزا دی جائے تاکہ پھر ایسا کوئی قومی سانحہ قومی پولیس کے ہاتھوں نہ رونما ہونے پائے اور ایسی سنگین صورتِ حال پیدا نہ ہو جیسی کہ آج تک سا نحہ ساہیوال ،سانحہ ماڈل ٹاؤن اور دیگر قومی سانحات کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صُورٹِ حال سے نہیں نمٹا جا سکا ہے ۔

مہنگاحج اورحکومتی مؤقف!

حج کے اخراجات 280000 سے بڑھاکر 456000 کردیے گئے ہیں۔صرف اتنا ہی نہیں ہے بلکہ حکومت کی طرف سے ہر حاجی کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ 2000 ریال بھی ساتھ لے کر جائے۔اس طرح حج کا کل حکومتی پیکج تقریباً 530000 تک پہنچ جائے گا۔حکومتی ترجمان فوادچوہدری کا کہنا ہے ’’ حکومت حج کے ضمن میں ایک روپیہ بھی نہیں کما رہی ‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا ’’حج اورزکوۃ دوایسی عبادات ہیں جو صرف صاحب استطاعت لوگوں پر فرض ہوتی ہیں ‘‘۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور مولانا نورالحق قادری نے کہا ’’ریاست مدینہ کا یہ مطلب ہر گزنہیں ہے کہ حکومت لوگوں کو مفت حج کرائے‘‘۔ فواد چوہدری ایک دور کی کوڑی لائے اورفرمایا’’پچھلی حکومت میں حج اس لیے سستا تھا کیونکہ لوگوں کو سبسڈی دی جارہی تھی۔موجودہ حکومت سبسڈی ہرگزنہیں دے گی کیونکہ یہ انصاف نہیں ہے کہ غریب لوگوں سے ٹیکس کی مد میں اکٹھاکیاگیا پیسہ حج کرنے والوں پر خرچ کیاجائے‘‘۔حج کے معاملے پر حکومت کا مؤقف ہے کہ اپوزیشن سیاست کررہی ہے جبکہ اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ حکومت ظلم کررہی ہے۔جہاں تک اپوزیشن کی سیاست کا سوال ہے تو شاید درست ہی ہوگا لیکن ہم اسے نہیں مان نہیں سکتے کیونکہ ہم عوام میں رہتے ہیں اورعوام اس معاملے میں کیا کہہ رہی ہے اورکیا سوچ رہی ہے وہ کسی سے ڈھکاچھپا نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ نورالحق قادری نے خود اس بات سے اختلاف کیااور میٹنگ بھی ادھوری چھوڑ دی بلکہ احتجاجاً وہ پریس کانفرنس میں بھی شریک نہیں ہوئے۔میرے ایک دوست کی ٹریول ایجنسی ہے وہ لوگوں کو عمرہ بھی کراتے ہیں۔مکہ المکرمہ اور مدینہ منورہ میں لوگوں کو حرم کی سب سے قریبی ہوٹل میں ٹھہراتے ہیں۔یہاں یہ بات قابل فہم ہے کہ جو ہوٹل حرم سے جتنا زیادہ قریب ہو گا اس کا کرایہ بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔وہ دوست 21 دن کاپیکج 95000میں دیتے ہیں جس میں ہوٹل کی اکیس دن کی رہائش ، آنے جانے کا ٹکٹ اور مکہ ومدینہ کی تمام زیارات بھی شامل ہیں۔ اکیس دن میں حاجی کو صرف کھاناپینا اپنا کرنا پڑتا ہے ۔واپسی پر عمرہ زائرین کچھ چیزیں اپنے ساتھ لاتے ہیں جیساکہ آب زم زم ، جائے نمازیں ، تسبیح جات اورکھجوریں وغیرہ تاکہ مبارکباد دینے والوں کی خاطر تواضع اورتحفہ داری کی جا سکے۔یہ تمام چیزیں لاکر بھی ایک آدمی کا عمرے کا زیادہ سے زیادہ خرچا 120000 بنتا ہے۔اس طرح ایک دن کاخرچہ تقریباً5800 بنتا ہے۔حج کا زیادہ سے زیادہ سٹے چالیس دن کا ہوتا ہے۔یوں اگر مزید انیس دن کا خرچہ جمع کیا جائے تو حج کے چالیس دنوں کا خرچہ 228572 روپے بنتا ہے۔اس میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ حکومت حاجیوں کو رہائش گاہیں بہت دور دیتی ہے جن کا کرایہ کم ہوتا ہے جبکہ مذکورہ حساب قریب کی رہائش گاہوں کے حساب سے ہے۔سمجھ نہیں آتی کہ مزید پیسہ کس مد میں لیاجاتا ہے ؟آئیے فوادچوہدری کی اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ پچھلی حکومت سبسڈی دے رہی تھی ۔ان کی یہ بات فقط گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے مترادف ہے۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ پچھلی حکومت کا حج پیکج 280000تھاجس میں سبسڈی 40000 تھی۔اگرموجودہ حکومت صرف وہ سبسڈی ہی ختم کی ہوتی تو حج کا پیکج 320000 بنناتھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے صرف سبسڈی ہی ختم نہیں کی بلکہ کچھ کمایا بھی ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ پچھلی حکومت نے خودذاتی دلچسپی لے کر سعودی حکومت سے بہت سی مراعات لی تھیں اور رہائشگاہوں کی مد میں خرچہ3800ریال سے کم کراکر1700 ریال کرالیا ۔مزید تفصیل پیر محمدامین الحسنات شاہ سے پوچھی جاسکتی ہیں جوپچھلے دور میں وزیرمملکت برائے مذہبی امور تھے۔کیا موجودہ حکومت یہ بھاگ ڈور نہیں کرسکتی تھی ؟ اس حکومت کاتو یہ دعویٰ بھی ہے کہ عمران خان کی وجہ سے پاک سعودیہ تعلقات تاریخ سب سے اعلیٰ سطح پر ہیں۔اس مباحثے کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ کیا حج پرسبسڈی دی جاسکتی یا نہیں ؟ حکومت نے حج مہنگا کرنے سے پہلے یہ سوال اسلامی نظریاتی کونسل سے سامنے رکھا تھا۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت کو بتایا کہ وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر حاجی کو سبسڈی دے سکتی ہے۔ البتہ زکوٰۃ فنڈ سے سبسڈی نہیں دی جا سکتی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز کے دلائل اورگفتگواس ضمن میں پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔انہوں نے حج کے عمل کو آسان بنانے کیلئے ایک تجویزیہ بھی دی کہ حکومت پی آئی اے کے کرایوں میں خاصر خواہ کمی کر دے مگر یہاں توگنگا ہی الٹی چل رہی ہے۔ پی آئی اے کا خسارہ بھی عوام سے پوراکرنے کے مشن کو حج کے دنوں میں پوراکرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔عام دنوں میں پی آئی اے کا ٹکٹ 60000 اور70000 کے درمیان ہوتاہے جبکہ حج کے دنوں میں یہی ٹکٹ 100000 تک چلاجاتا ہے جو اس سال تبدیلی کی برکت سے تقریباً 120000 کے لگ بھگ پڑے گا۔یہ بات بھی قابل افسوس ہے کہ ہمارے پڑوس کی غیرمسلم انڈین ایئرلائن کے کرائے میں ہر حاجی کو اچھی خاصی سبسڈی دیتی ہے۔کیایہ مذاق نہیں ہے کہ حکومتی عہدیداران تو پی آئی اے کو مفت استعمال کریں اوران کے دوروں کاخرچہ حاجیوں کی جیب سے نکالا جائے؟ حکومت کامؤقف ہے کہ مہنگائی بڑھی ہے اور ڈالر کا ریٹ اوپرچلاگیا جس کی وجہ سے حج مہنگاکرنا پڑا۔ہم پوچھتے ہیں کہ کیاڈالر کاریٹ اورمہنگائی عوام کی وجہ سے بڑھی ہے؟اس کامطلب تو یہ ہوا کہ کرے حکومت اوربھرے عوام۔اگرحکومت کامؤقف تسلیم کربھی لیاجائے تو ڈالراورمہنگائی کی شرح کے حساب سے حج کے اخراجات 3 لاکھ40 ہزار ہونے چاہئیں۔اب یہ فوادچوہدری صاحب کی ذمہ داری ہے کہ وضاحت فرمائیں کہ حکومت نے ساڑھے چار لاکھ کا فیصلہ کیسے کر لیا؟اس بات کا ایک اورپہلو بھی قابل توجہ ہے کہ حکومت حاجیوں کے پیسوں سے مال کماناتو پسند کرتی ہے لیکن انہیں اپنے ہی ادارے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق آسانیاں نہیں دے سکتی ۔اس بات کی وضاحت اس طرح کی جاسکتی ہے کہ حاجیوں سے پیسے درخواستوں کے ساتھ ہی وصول کئے جاتے ہیں۔چونکہ درخواستیں دینے والوں کی تعدادبہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے قرعہ اندازی بعد میں کی جاتی ہے۔ بارہا یہ تجویز دی گئی کہ لوگوں سے ساری رقم وصول نہ کی جائے بلکہ کچھ رقم لی جائے اور باقی رقم اس وقت لی جائے جب ان کا نام قرعہ اندازی میں نکل آئے لیکن وزارت مذہبی امور اس بات کو ماننے سے کنی کتراتی آئی ہے۔

*****

ملی جوش وجذبہ اوریوم یکجہتی کشمیر،عالمی برادری مسئلے کافوری حل نکالے

adaria

پاکستان سمیت دنیا بھر میں بھارتی مظالم کے خلاف سینہ سپر کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے گزشتہ روز یوم یکجہتی کشمیر پورے ملی جوش جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا اور یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اس کیساتھ ساتھ پاکستان کے عوام کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور ظلم و جبر کیخلاف ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنے حق خود ادرایت کیلئے کئی لاکھ بھارتی فوجیوں سے برسرپیکارہیں تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنے حق خوداردایت کو منوا سکیں۔پاکستان اور آزاد کشمیر کو ملانے والے کوہالہ، منگلا، ہولاڑ اورآزاد پتن کے مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی۔ وفاقی دارالحکومت میں معاشرے کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد مظلوم کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ڈی چوک پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی۔ مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے صبح دس بجے ایک منٹ کیلئے خاموشی اختیار کی گئی۔ آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں ریلیاں نکالی گئیں جلسے جلوس اور سیمینارزمنعقد کئے گئے جن کا مقصد عالمی برادری کی توجہ بے گناہ کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم اورانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی طرف مبذول کراناتھا۔کشمیر کے دیرینہ مسئلے کے انسانی پہلووں کو موثر انداز میں اجاگر کرنے کیلئے لندن میں بھی تقریبات کااہتمام کیا گیا۔ اس دن کے حوالے سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خصوصی پیغام دیا، جس میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔ صدر ڈاکٹرعارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں کشمیری بھائی، بہنوں کو ایک مرتبہ پھر یقین دلایا کہ پاکستان کا مسئلہ کشمیر پر اصولی موقف ہمیشہ برقرار رہے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کو ہر گزرتے دن کے ساتھ تقویت مل رہی ہے۔ انہوں نے افسوس کاا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ 7دہائیاں گزرنے کے باوجود تنازع کشمیر حل نہیں ہوسکا۔ انہوں نے بذریعہ ویڈیو پیغام کہا کہ پانچ فروری کو پوری پاکستانی قوم نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے بے حد خوشی ہوتی اگر حریت قیادت آزاد ہوتی، ان کے پاسپورٹ ضبط نہ کیے گئے ہوتے، انہیں اظہار خیال کرنے کا حق دیا گیا ہوتا اور اگر آج وہاں سنگینوں کے نیچے آزادی کے نعرے نہ لگ رہے ہوتے۔اُدھر جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کی چیئرمین یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے پاکستانی عوام کا مظلوم کشمیریوں سے غیر مشروط اور بے پناہ حمایت کا مظاہرہ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر کشمیر ایک دیرینہ تنازعہ ہے۔بھارتی حکمران کشمیر میں استصواب رائے سے انکار کررہے ہیں جس کا ان کے ماضی کے رہنماؤں نے وعدہ کیا تھا۔ بھارت مقبوضہ وادی میں مسلم اکثریت کواقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جاری مظالم پراپنی خاموشی توڑے۔ بین الاقوامی میڈیا بھی مقبوضہ کشمیرکے زمینی حقائق کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرے۔ کشمیر کی عوام بھی انسان ہیں جس کی وجہ سے بین الاقوامی برادری جو عالمی امن اور افغانستان میں امن کیلئے اقدامات کر رہی ہے کو اس ہی طرح کشمیر کے مسئلے کا بھی حل تلاش کرنا چاہیے تاکہ جنوبی ایشیا میں حقیقی امن سامنے آئے۔

صحت کارڈکااجراء۔۔۔ حکومت کاتاریخی اقدام
وزیراعظم عمران خان نے صحت انصاف کارڈ کے پہلے مرحلے کا آغاز کر دیا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قیمتیں بڑھنے کا احساس ہے۔ لوگ مشکل میں ہیں۔ روپے کی قیمت 35 فیصد گری تو مہنگائی آنا تھی۔ آنے والے دنوں میں غربت ختم کرنے کا جامع پروگرام لا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے پنجاب میں ایک کروڑ خاندانوں کو ایک ماہ کے اندر ہیلتھ کارڈ دینے کا اعلان کیا۔ غریب طبقے کو ہیلتھ کارڈ کے ذریعے تحفظ دینا ہے۔ ہیلتھ کارڈ سے غربت کم ہو گی۔ پاکستان کو فلاحی ریاست بنا کر رہیں گے۔ ہیلتھ کارڈ سے 7لاکھ 20ہزار روپے تک کا علاج کرایا جا سکے گا۔ صحت کارڈ سے مریض کی انجیو پلاسٹی، برین سرجری سمیت کینسر اور دیگر امراض کا مفت علاج کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں اسلام آباد میں صحت کارڈ تقسیم کیے جائیں گے اور آئندہ ماہ قبائلی علاقوں اور پھر ملک بھر میں صحت کارڈ تقسیم ہوں گے۔ صحت کارڈ سے ملک کے ڈیڑھ کروڑ غریب خاندان مستفید ہوں گے۔ مریض 150 سے زائد سرکاری و نجی ہسپتالوں میں علاج کرواسکیں گے۔ صحت کارڈ حکومت کابہت اچھا اقدام ہے جس کو ہرکوئی سراہارہاہے۔علاج ہرکسی کی بنیادی ضرورت ہے ، کئی مریض غربت کی وجہ سے علاج کرانے کی سکت نہ رکھنے سے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے غریب کو تو دووقت کی روٹی بھی مشکل ہے وہ اپناعلاج کہاں کراسکتاہے۔ ہسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔عام ٹیسٹ کی فیس بھی ہزاروں میں ہوتی ہے ۔حکومت کے اس اقدام سے عام آدمی کی زندگی میں بہتری آئے گی ۔کوئی بھی بیماری ہو اس کاعلاج ضروری ہوتا ہے ۔ کینسر کے علاج کیلئے توخاندان اپنے گھر تک بیچ دیتے ہیں۔ ضروری ہے کہ کمزور طبقے کو بیماری ہونے پر سہولت فراہم ہوگی اور بیماری ہونے پر مفت علاج کراسکے گا، ہیلتھ کارڈ سے غربت میں بھی واضح کمی آئے گی۔
کور کمانڈرزکانفرنس۔۔۔سیکیورٹی صورتحال کاجائزہ
آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز نے ملک کی داخلی سلامتی میں بہتری اور افغانستان میں امن کیلئے مفاہمتی عمل کی پیشرفت اور ملک میں سکیورٹی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ دو سو اٹھارہویں کور کمانڈرز کانفرنس گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ شرکانے جیو سٹرٹیجک حالات اور ملک کی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ کور کمانڈرز نے دشمن کی کسی غلط مہم جوئی کو ناکام بنانے کے نکتہ نظر سے کنٹرول لائن، ورکنگ بانڈری اور مشرقی سرحد پر فوجی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا اور یوم کشمیر کے موقع پر بہادر کشمیریوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ملکی سرحدوں کی حفاظت اور آپریشن ردالفساد کے تحت جاری آپریشنوں کے علاوہ ہماری توجہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں اور مخالف طاقتوں کے ان عزائم کو ناکام بنانے پر بھی مرکوز ہے جن کا مقصد پاکستان کو حاصل کئے گئے امن کے ثمرات سے محروم کرنا ہے۔ سماجی و معاشی ترقی کے ذریعے امن و امان کی بہتر صورتحال کے ثمرات لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے خلاف کی جانے والی سازشیں ناکام بنائی جائیں گی۔ اجلاس کے دوران لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی اور معصوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا بھی جائزہ لیا گیا۔ نیزآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے پاکستان میں افغان سفیر نے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں علاقائی سکیورٹی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ افغان سفیر نے افغانستان میں امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔

گلگت بلتستان میں بھارتی سازشوں کا جال

پاکستان میں دہشت گردی کی ہونے والی تقریباً تمام وارداتوں اور سازشوں کا سر خیل بھارت ہے جو بلوچستان سے لے کر گلگت بلتستان تک سازشوں کا جال بن رہا ہے۔ اس مقصد کیلئے گلگت بلتستان جو سی پیک کا آغاز ہے اور بلوچستان جو سی پیک کا آخری کنارہ ہے، اس کا خاص ٹارگٹ ہے۔گلگت بلتستان اقتصادی راہداری کا گیٹ وے ہے۔ جوں جوں سی پیک پر کام بڑھتا جا رہا ہے تو ں توں بھارت نے گلگت بلتستان پر اپنا فوکس بڑھا دیا ہے۔اقتصادی راہداری منصوبے میں گلگت بلتستان کی اہمیت اس لئے دو چند ہے کہ چین کے شہر کاشغر سے جیسے ہی اقتصادی راہداری گزر کر پاکستان میں داخل ہوگی تو پہلا علاقہ گلگت بلتستان ہے۔اقتصادی راہداری کی ابتدا پاکستان میں ابتدا اور انتہا گوادر ہے۔ اس لئے بھارت گوادر سے لے کر گلگت بلتستان تک ساشوں میں مصروف ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘بلوچستان کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان میں سازشوں میں مصروف ہے۔ بھارتی سفارت کار بھی اس ضمن میں ر ا کا ساتھ دیتے ہوئے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بلوچستان میں اپنے میڈیائی رابطوں کے ذریعے ایسے عناصر اور خیالات کو پروان چڑھا رہے ہیں جن کے ذریعے ان مذکورہ علاقوں میں پاکستان مخالف جذبات کو ابھارا جا سکے۔سی پیک کے علاوہ بھی پاکستان کے ترقیاتی منصوبے، توانائی منصوبے اور عوامی بہبود کے منصوبے بھارت کیلئے تکلیف دہ ہیں۔ ایک عرصہ بعد سابق چیف جسٹس کی ڈیم مہم کے بعد دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم بنانے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ اس کیلئے فنڈز بھی اکٹھے ہو رہے ہیں۔ مگر ظاہر ہے بھارت کو یہ کہاں پسند آئے گاکہ پاکستان میں ڈیم بنے اسی لئے گزشتہ برس سے ہی بھارت نے دیامر کے علاقہ میں دہشت گردی اور سازشوں کے جال بننا شروع کر دیے۔ دیامر کے علاقے میں سیشن جج کی گاڑی پر شرپسندوں نے حملہ کیا ‘ جج محفوظ رہے۔ اس کے علاوہ علاقے میں لڑکیوں کے سکولوں کو نذر آتش کیا گیا۔ گلگت حکومت کا کہنا تھا کہ ان دہشت گردوں کا اگلا ہدف سی پیک اور بھاشا ڈیم کو نشانہ بنانا تھا۔ فورسز کے آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے خود کش جیکٹس اور دستی بموں سمیت بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔ دیامر میں سکول جلانے والے وہی شدت پسند تھے جو کہ سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں تمام دہشتگرد افغانستان کے ہی تربیت یافتہ تھے اور اس سے پہلے سوات میں بھی لڑکیوں کے سکولوں پر حملے کر چکے تھے۔ انہی دہشت گردوں کا نشانہ ملالہ یوسف زئی بنی تھی۔ علاقے کے مدرسہ میں 200 طلبہ کی لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف برین واش کی جاتی تھی۔گلگت بلتستان اور سوات کے علاقے پہلے بھی دہشت گردی کا شکار رہے ہیں۔ انہی علاقوں میں غیرملکی سیاحوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ایک وہ دور تھا جب شدت پسندوں کے مظالم انتہاء کو پہنچے ہوئے تھے۔ فرقہ واریت اس حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ ایک فرقہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسند دہشت اور وحشت کی علامت بن چکے تھے۔ اپنے گمراہ کن نظریات کا نفاذ چاہے تھے‘ ان نظریات میں خواتین کیلئے تعلیم کا حصول جرم تھا۔سوات اپریشن کے بعد ان علاقوں میں امن لوٹ آیا تھا۔ دہشت و بربریت کی علامت بنے اکثر لوگ افغانستان چلے گئے‘ کچھ روپوش ہوگئے۔ ان میں سے بھی کئی ضرب عضب آپریشن کا نشانہ بنے۔ آپریشن ضرب عضب کے ساتھ آپریشن ردالفساد آج بھی جاری ہے۔ ان آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے خاتمے اور انکے ٹھکانے تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ بہت سے دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ گلگت بلتستان میں صوبہ خیبر پختونخواہ سے دہشت گرد پہنچ رہے ہیں۔ دہشت گردی کی کاروائیوں کے پیچھے بھارتی ’’را‘‘ اور افغان ’’این ڈی ایس‘‘ کا ہاتھ ہے۔ بلوچستان اور کے پی کے میں آپریشنز کے بعد وہاں دہشت گردی میں نمایاں کمی ہوئی ۔ وہاں سے مایوس ہونے کے بعد دہشت گردوں نے گلگت بلتستان کا رخ کر لیا۔گلگت بلتستان کی مغربی سرحد صوبہ خیبر پختونخوا سے لگتی ہے۔ اسی سرحد کو عبور کر کے دہشت گردوں نے گلگت بلتستان میں تازہ کارروائیاں کی ہیں۔ جہاں انہیں مقامی شدت پسندوں اور بھارتی فنڈنگ یافتہ لوکل سہولت کاروں کی مدد حاصل ہے۔براہ راست دہشت گردی کے ساتھ ساتھ بھارت دنیا بھر میں سی پیک اور گلگت بلتستان کو متنازعہ بنانے کیلئے اپنے میڈیا کا استعمال کر رہا ہے۔ بھارتی میڈیا میں گلگت بلتستان میں علیحدگی پسندوں کے احتجاج سے متعلق بے بنیاد خبریں چلائی گئیں۔ جسے مختلف ممالک میں موجود گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے مٹھی بھر ریاست مخالف عناصر سوشل میڈیا پر وائرل کرتے رہے۔ مقصد صرف سی پیک اور پاکستان کی ناکامی تھا۔ گلگت بلتستان میں شرح خواندگی 90 فیصد کے قریب ہے۔ اسکول اور کالجز کی بڑی تعداد موجود ہے۔ آغا خان فاؤنڈیشن نے یہاں بڑا کام کیا ہے۔ یہاں سے کچھ لوگ باہر ممالک میں بھی گئے ہیں۔ ان میں سے بعض کے ساتھ بھارت نے روابط بنا لئے ہیں اور انہیں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ بیرونی ممالک کے علاوہ بھاری فنڈنگ کے ذریعے گلگت بلتستان میں موجود مٹھی بھر عناصر کو متحرک کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔یہ معاملہ فوری توجہ کا طالب ہے۔ حکومت پاکستان اور صوبائی حکومت گلگت بلتستان کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر یہاں چھپے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگائے کیونکہ سی پیک کے تحفظ کیلئے یہ گیٹ وے بہت اہم ہے۔ بھارت نے گلگت بلتستان میں دہشت گردی کے ذریعے سی پیک کو سبوتاژ کرنے کا جو پلان بنا رکھا ہے اس کو ختم کیا جائے ۔ بھارت گلگت بلتستان کو متنازعہ علاقہ قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہاں سے سی پیک نہ گزارا جائے اس کی کوشش ہے کہ جس قدر ممکن ہو سکے غیر مستحکم کر دیا جائے۔ دہشت گردوں کے خلاف جامع آپریشن کیا جائے اور گلگت بلتستان کے عوام کو تمام مراعات اور سہولیات دی جائیں۔

اہل کشمیر سے اظہارِ یکجہتی۔ بانیِ پاکستان کا عہد

ستر اکہتر برس گزر گئے دنیا بھر کے دردمند شاعر‘ صاحب الرائے دانشور‘ تاریخ دان‘ محقق اور سیاسی وسماجی ماہرین ہی کیا زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے دنیا جسے عظیم جمہوریت کا دیش کہتی ہے اْسی دیش بھارت سے سو ال کرتے ہیں کہ وہ کیسا ملک ہے جہاں جمہوریت تو رواں دواں ہے یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں عدل نام کی کوئی شہ نہیں قوموں کے انسانی حقوق کا جہاں پاس نہیں کیا جاتا جہاں انسانوں کا احترام نہیں ہوتا اپنے جائز بنیادی انسانی حق مانگنے والوں کو سرعام جانوروں کی طرح سے قتل کردیا جاتا ہے جس دیش میں اپنا حق مانگنے والوں کی ملکیتوں کو ریاستی سرپرستی میں قانون کے رکھوالے خود لوٹ لیتے ہیں دنیا کو بھارت اس شکایت کا جواب دیتا کیو نہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں یہ کیسا خونریزتماشا لگا ہوا ہے نئی دہلی سرکار مقبوضہ وادی پر اپنے ناجائز قبضے کی واردات کو چھپانے کی غرض سے ستر برس قبل کی سچائیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوششیں کرنا چاہتی ہے نہیں ایسا ممکن ہی نہیں ہوسکتا، تاریخ کے حقائق اتنی آسانی سے بدلے نہیں جاسکتے ریاست جموں و کشمیراہل کشمیراورپاکستان کشمیر کے اہم اور حساس ایشو پر ایک نکتہ پر متفق ہیں اور بھارت اس معاملہ میں ایک واضح جارح فریق ملک ہے ستراکہتر برس سے پْرامن طور پر اس معاملہ کا تصفیہ نہ ہونے کی ایک اصل وجوہ یہ ہے کہ جب انگریز نے برصغیر چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور تقسیم ہند کا مرحلہ درپیش آیا ،متحدہ ہند کی ریاستوں کو’’جون لندن پلان‘‘ کے تحت اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار دیا گیا تھا کشمیر پر اْس وقت ہری سنگھ کی حکومت تھی ابتدائی طور پر کشمیر کو مہاراجہ نے خود مختار ریاست رکھنے کا فیصلہ کیا ،لیکن کشمیر کی عوام کی واضح اکثریت مسلمان تھی اور تقسیم ہند کے لندن پلان کے تحت کشمیری مسلمانوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرلیا تھا یوں کشمیر میں مقامی طور پر امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو ا اور موقع پر پاکستان نے کشمیری مسلمانوں کی امداد کا فیصلہ کیا پاکستانی قبائلی پٹھانوں کی رشتہ داریاں کشمیر میں بھی تھیں، قبائلی مسلم پٹھان کشمیری مسلمانوں کی امداد کے لئے دیوانہ وار میدان میں اترآئے، قبائلی پٹھانوں کی کشمیر میں آمد کی صورت مہاراجہ نے خوف زدہ ہو کر بھارت سے فوجی مدد طلب کرلی کی لیکن بھارت نے فوجی مدد کو الحاق سے مشروط کر کے مہاراجہ پر بھارت سے الحاق کے لیے دباؤ ڈالا جس پر مہاراجہ نے بھارت سے عارضی الحاق کے معائدہ پر دستخط کر دیے پھر بھارت نے اپنی افواج کشمیر میں اتار دیں اکہتر برس گزرنے کے باوجود آج تک بھارتی فوج نے کشمیر کی سرزمین کو نہیں چھوڑا اب تک کشمیر پر قابض ہیں کشمیری بھارت کے ساتھ رہنے پر بالکل تیار نہیں ہیں مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے مابین تین جنگیں ہوچکی ہیں مسلم دشمن طاقتوں کا اس سلسلہ میں تمام تر پلڑا بھارت کے حق میں ہے بھارت اورا سرائیل کا نکتہ نظر ایک ہے وہ ہے مسلم دشمنی‘ پاکستان بھی کہتا ہے کشمیریوں کے ساتھ فلسطینی مسلمانوں کا بھی ماننا ہے کہ ’حق کے لئے لڑنا تو بغاوت نہیں ہوتی ‘کشمیری اپنے سرزمین کو ’جارح ملک‘ بھارت کی فو ج سے آزاد کرانا چاہتے ہیں یہی وہ فکر ہے اور یہی وہ مضبوط اور ٹھوس نکتہِ نظر جس کی بنیاد پر اہلِ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آباد کشمیری اور جموں وکشمیر کے عوام ہر سال 5؍ فروری کو اپنے اِس پختہ عہدِ و پیمان کا اعادہ کرتے ہیں کہ کشمیر ی نسلوں کی لہو رنگ قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی اپنی قومی‘ ملی اور ثقافتی آزادی کو حقیقت میں بدلنے کے لئے کشمیریوں نے نسل در نسل جس خلوصِ عقیدت کے ساتھ بے مثال قربانیوں کا کبھی نہ تھمنے والا جو سلسلہ شروع کیا ہوا ہے انشا ء اﷲ بہت جلد وہ اپنی آزادی کی طلوع ہونے والی روشن کرنوں کا ضرور نظارہ کریں گے، مقبوضہ جموں وکشمیر کی آزادی کی اُسی تاریخی صبح انتظار اہلِ کشمیر کے ساتھ ساتھ ہر پاکستانی بھی بڑی بیتابی سے کررہا ہے اور وہ باطل قوتیں جن کے مقدر میں عبرت ناک شکست و ندامت لکھی جاچکی ہے وہ مایوسی و پشیمانی اور خجالت خیز ندامت سے دوچار ہونگے اہلِ کشمیر کو بھارتی غلامی کے اِس غاصبانہ ‘ جارحانہ و ظالمانہ شکنجے میں ماضی کی سامراج پسند قوتوں نے دھوکہ دہی اور فریب کاری کی سیاست کے ذریعے دھکیلا تھا یقیناًاُن کے بدنما چہروں سے نقاب اُلٹنے میں اب تھوڑا ساوقت باقی رہ گیا ہے، جنوبی ایشیا میں تقسیمِ بر صغیر کے وقت سابقہ ’’کالعدم ہندوستان‘‘ آج کے بھارت دِیش کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیمِ ہند کی دیوار کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑ ھی رکھی تھی لارڈ ماؤنٹ بیٹن جو ہند کی برطانوی نو آبادیاتی نظام کی شہنشاہیت کا نمائندہ تھا‘ جب اُس نے محسوس کیا کہ استبدادی اور غاصبانہ مزاج پر مبنی جابرانہ سسٹم کرچی کرچی ہورہا ہے بکھر رہا ہے تو اُس نے اپنے شیطانی متعصب سازشی ذہن کو کام میں لاتے ہوئے’’ نام نہاد سوشلسٹ‘‘ کشمیری ہندو پنڈتوں کے‘ مذہبی جنونی ہندو لیڈر نہرو کے ساتھ خفیہ ساز باز کی اور کشمیر کے مسلم عوام کی امنگوں کا ‘اُن کی تمناؤں اور خواہشات کے برعکس ایسی غیر ذمہ داری‘بے اصولی اور کھلی مجرمانہ جانبداری کا متعصبانہ قدم اُٹھایا جس کی وجہ سے 71 بر س گذر جانے کے بعد آج تک جنوبی ایشیا کے تقریباً ڈیڑ ھ اَرب سے زائد عوام اپنے پر امن مستقبل کے بارے میں ہمہ وقت تشویش، خوف ا ور دہشت میں مبتلا ہیں‘ریاست جموں و کشمیر کا کل رقبہ آٹھ لاکھ چوالیس ہزار اکہتر مربع میل بنتا ہے بلحاظِ رقبہ ریاست جموں وکشمیر اِس وقت بھی دنیا کے ایک سوا کتیس ممالک سے بڑی ایک ریاست کے ہم پلہ قراردی جاسکتی ہے سر زمینِ کشمیر کو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ یہ دنیا کے قدیم ترین کیلنڈر کی حامل سرزمین ہے اپنی ہزاروں سالہ تاریخ میں سر زمینِ کشمیر میں مختلف تاریخیں پروان چڑھتی رہیں ،کشمیر میں 80 فی صد مسلمانوں کی اکثریت ہمیشہ سے رہی ہے کشمیری مسلمان قومیت کی اپنی ایک ٹھوس تاریخی حیثیت ہے اِن کا اپنا مشترکہ خطہِ زمین ہے‘ مشترکہ اقتصادی‘سماجی ‘ ثقافتی اور معاشرتی طرز حیات کی حامل کشمیر ی قوم میں وہ تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں جو ایک مکمل قوم کیلئے ضروری ہوتی ہیں، تقسیمِ ہند کے پلان اور منظور شدہ چارٹر کے تحت پورے کشمیر کا فیصلہ وہاں بسنے والے عوام سے پوچھے بغیر‘اور اُن کی مرضی معلوم کیئے بغیر نہیں کیا جا نا چاہیئے تھا 80 فی صد مسلمان کشمیریوں کی مرضی و منشا معلوم کیئے بغیر کشمیر کے متعصب ہندو مہاراجہ نے کشمیر کا بھارت سے اعلان بہت ہی سفاکانہ جرم تھا اور مہاراجہ کے اُس اعلان کو اہلِ کشمیر نے نہ کل قبول کیا نہ ہی آج کشمیری نسل اُس اعلان کو ماننے کیلئے تیار ہے وہ اپنی قومی خود مختاری اور اپنی سماجی و ملی آزادی کو یقینی بنانے کیلئے اپنے سر سے کفن باندھ کر میدانِ عمل میں آج بھی اُسی کرّ و فر سے بھارتی افواج کے سامنے سینہ تانے کھڑی ہے بانی ِٗ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ سے مماثل قرار دیکر پاکستان کے ہر دور کے حکمرانوں کو نہ صرف ہوشیار اور چوکنا کردیا تھا بلکہ اُن کیلئے ایک سفارتی گائیڈ لائن بھی فراہم کردی تھی کہ’ یہی ہے وہ فلش پوائنٹ ایجنڈا ‘ جس سے پاکستانی حکمرانوں نے کبھی بھی سر مو انحراف نہیں کیا بھارت نے جنوبی ایشیا کے اِس اہم انسانی مسئلہ کو مشکوک ‘ گنجلک اور پیچیدہ بناکر بین لااقوامی میڈیا پر پیش کرنے کا خطرناک وطیرہ اختیار کررکھا ہے اُس کے اِن مذموم اقدام سے خود بھارت کے اندر چلنے والی آزادی اور علیحدگی کی دیگر تحریکوں کو مزید اور زیادہ پھلنے پھولنے کے مواقع میسر�آ سکتے ہیں‘ لہٰذا بھارت کو کم از کم یہ سوچنا چاہیئے کہ وہ اپنے اندرونی امن و امان کی مخدوش اور بگڑتی صورتِ حال کو بہتر بنانے کی جانب اپنی تمام توجہ مبذول کرئے کوئی دِیر کیئے بناء بھارت کی موثر سول سوسائٹی کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ نئی دہلی حکمرانوں پر اپنا پریشر اور دباؤ بڑھائیں تاکہ اُن کی سوچوں میں مسئلہ ِٗ کشمیر کے حل کی نزاکت کا احسا س پیدا ہو اور وہ کشمیر کے پائیدار اور منصفانہ حل کے ضمن میں کسی ٹھوس پیش رفت کے جانب بڑھ سکیں۔

خوابوں کی دنیا

yasir-khan

ماضی کے تلخ تجربات ہمارے اذہان میں کچھ اس قدر نقش ہو چکے ہیں کہ ہمیں کہیں سے بھی کچھ اچھا ہوتا نظر آئے بھی تو ہم اسے قبول کر نے کو تیار نہیں ،ہمارے دل و دماغ کے کینوس ماضی کی گرد سے اس قدر اٹے ہیں کہ بظاہر صاف شفاف مناظر بھی ہمیں دھندلے دکھائی دیتے ہیں ۔ میں نہ مانوں رویوں کی جھلک ہماری رگ و پے میں اس قدر سرایت کر چکی ہے کہ ہم کسی دلیل و دعوے کو بغیر پرکھے محض ماضی کے تجربات کی روشنی میں پیروں تلے روندتے چلے جاتے ہیں ۔ ہم ناسٹلجیا کا اس قدر شکار ہو چکے ہیں کہ ماضی کے تلخ حقائق و تجربات کو بھی سینوں سے اس لئے لگائے بیٹھے ہیں کہ ہماری آج کے حالات سے لاتعلقی محض قائم و دائم ہی اس وجہ سے ہے کہ ہم کچھ بہتر اور اچھا ہو نے کی امید میں تازہ ہوا کے کسی جھونکے کو بھی محسوس نہیں کر پاتے۔یہ درست ہے کہ کوئی بھی حکومت نہ تو سو فیصد کامیاب ہوتی ہے اور نہ سو فیصد نا کام ،اگر اس حقیقت کا ادراک ہمیں پہلے سے ہے تو کسی کی کامیابی یا ناکامی کے پیمانے ،تجزئیے اور اندازوں میں ہماری اپنی پسند و ناپسند اور چاہنے نہ چاہنے جیسے عوامل کیوں واضح نظر آتے ہیں ۔ موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے اگرچہ بمشکل پانچ چھ ماہ ہی ہوئے ہیں مگر اتنے تھوڑے عرصے میں کامیابی اور ناکامی کے سرٹیفکیٹ تو کجا ابھی سے خوابوں کے ذریعے الہام ہورہا ہے کہ یہ حکومت اگلے برس تک چل نہیں پائے گی،منظور وسان صاحب ماضی میں بھی اپنے خوابوں کی وجہ سے موضوع بحث رہے ہیں ،یہ الگ بحث ہے کہ انھیں ان خوابوں کی تعبیر مل پائی کہ نہیں ،لیکن ان کے خوابوں کی خوبی یہ ہے کہ انھیں مطلب اور موقع محل کے حساب سے خواب میں دیکھ لینے کا ہنر آتا ہے ۔اس دفعہ کے ان خواب کو بھی خوب ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔شاید ان کے خواب کی سب سے زیادہ ضرورت خود ان کی اپنی جماعت کو تھی ، کھلی آنکھوں تو سب کو نظر آرہا ہے کہ آنے والے دنوں میں انکی جماعت اور قائدین کی مشکلات بڑھتی نظر آرہی ہیں ،مگر خواب دیکھنے پر نہ تو کوئی قدغن ہے اور نہ کچھ خرچہ آتا ہے اور سب سے بڑی پذیرائی خود منظور وسان صاحب کیلئے کہ خود ان کے قائد بلاول بھٹو اس خواب کو لیکر اسمبلی پہنچے ، نہ صرف خواب سنایا بلکہ حکومت کو تنبیہ بھی کر دی کہ وہ اس خواب کو سنجیدگی سے لے ،پتا نہیں کیوں ، ان کے منہ سے یہ بات سن کر بڑا عجیب محسوس ہورہا تھا کہ ،ان خوابوں کی تعبیر تو آج تک کسی کو دیکھنا تک نصیب نہ ہو سکی، جو گزشتہ تیس سال سے ان کی جماعت پورے سندھ کے سیاہ و سفید کی مالک رہی بلکہ باقاعدگی کے ساتھ عوام کو خواب دکھاتی بھی رہی اور سناتی بھی رہی ،مگر آج غربت، بیروزگاری، مہنگائی، رشوت، بدعنوانی اور ادارتی جارہ داری کی صورت کچھ بھی بہتر نہ ہو سکا ہے،کتنی دہائیاں بیت گئی،روٹی،کپڑا اور مکان کے خواب سندھ کے عوام اپنے آنکھوں میں سجائے،ان کے وعدوں کے وفا ہونے کے منتظر ہیں،بلاول بھٹو زرداری کو گرچہ سیاست میں نہ تو کسی کڑے امتحان سے گزرنا پڑا اور نہ انھوں نے سیاست کی آبیاری کی خاطر کسی قسم تکلیفیں برداشت کیں ،اسلئے اس نوجوان کی سیاست بھی اسکی اپنی جماعت کے کرتا دھرتاؤں کے ماضی کے کارناموں کی بھینٹ چڑھ جانے کے کافی امکانات ہیں۔سیاست بلاول کے گھر کی لونڈی ہے۔ اس کے پیدا ہو نے اور الیکشن لڑنے کی عمر تک کو پہنچے کے انتظار میں خود پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت نے بڑی بے صبری سے انتظار کیا ۔کیونکہ موروثی اور نسل در نسل چلنے والی جماعتوں کو اپنے سیاسی نظریات اوراصول و قواعد سے زیادہ سیاسی جانشین کی ضرورت پڑتی ہے،جنھیں بڑی محنت اور صبر آزما مراحل سے گزارنے کے بعد عوام کے سامنے بظاہر نجات دہندہ کے طور پر پیش کر کے یہ ثابت کر نے کی کوشش کی جاتی ہے کہ لوگ اسے مسائل،بحرانوں اور چیلنجز سے نبرد آزما ہو نے کیلئے مسیحا مانیں ان کے پاس ،سوائے میرے نانا شہید ،امی محترمہ شہید کے سوا کہنے کو کچھ بھی نہیں ہوتاوگرنہ ،خود کو ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد ہو نے کے دعویداروں کے پاس نہ تو ملکی مسائل کا حل ہے،نہ وژن اور سیاسی بالغ نظری ،کتنی عجیب بات ہے کہ بھٹو کی سیاسی وراثت کا وارث آج اسمبلی میں خوابوں کو سنجیدہ لینے کی بات کر نے کی بجائے ،حکومت کو اپنا وژن دیتا،منشور،نظریات اور اپنی جماعت کی پالیسیوں پر عملدر آمد یقینی بنانے کی بات کرتا،محض خوابوں سرابوں سے نکل کر عملی اقدامات کی بات کرتا۔کتنا فرق ہوتا ہے ، ایک جماعت کی آبیاری کی خاطر بائیس سال کی جدو جہد اور پلیٹ میں رکھے جماعتی تاج کو سر پر سجا لینے کا،یہی سے تو پتا چلتا ہے ایک لیڈر کی سوچ میں اور محض اقتدار کی مسندوں پر براجمان ہونے کی خاطر خود کو لیڈر ثابت کر نے والوں میں ۔ لیڈر کی سوچ ملک کو درپیش چیلنجز اور بحرانوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے وقف ہوتی ہے جبکہ حکمرانی کو اپنی گمشدہ میراث سمجھنے والے محض اپنی کرسی ور اقتدار سے آگے سوچ کے تمام زاویے بند ہو جاتے ہیں ۔بلاول بھٹو صاحب کی بد قسمتی شاید یہ ہے کہ انھیں پارٹی کی موروثی قیادت تو بڑی آسانی سے مل گئی مگر مسند اقتدار شاید ان کا خواب ہی رہے،پڑھے لکھے توآکسفورڈاور کیمبرج کے ہیں مگر عمران خان سے متعلق کہتے ہیں ،مجھے نہیں پتا عمران خان ہیں کون ،قومی ہیروسے ملک کے وزیر اعظم تک ان کی جدو جہد سے پوری دنیا واقف ہے ،مگر شاید بلاول صاحب کو نہیں پتا،خوابوں پر یقین کر نے کو کون تیار ہوگا، لیکن خواب دیکھنے پر نہ تو کوئی ٹیکس ہے اور نہ کوئی قدغن۔مشکل حالات میں گھری ان کی اکثر سیاسی قیادت جن میں ڈاکٹر عاصموں،شرجیل میمنوں اور انور مجیدوں کو خوب اچھی طرح پتا ہے کہ عمران کون ہیں ،انہی سے پوچھ لینا چاہئے ، انھیں شاید پہچاننے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

*****

اسرائیلی مصنوعات پر پابندی کا بل۔۔۔!

khalid-khan

آئرلینڈ کے ایوان زیریں نے فلسطین میں قائم غیر قانونی اسرائیلی کارخانوں کی مصنوعات کی در آمد اور خدمات حاصل کرنے پر پابندی کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا ۔ آئرلینڈ کے ایوان زیریں میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ری پبلک پارٹی (فیانا فیل) کے سینٹر نیال کولنز نے بل پیش کیا جس کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ایوان زیریں میں اس بل کے حق میں78 جبکہ مخالفت میں صرف 45 ووٹ پڑے۔” حقیقت یہ ہے کہ یہودیوں سے صرف مسلمان نہیں بلکہ سب تنگ ہیں۔یورپی ممالک اور امریکہ اکثر معاملات میں اس لئے حمایت نہیں کرتے ہیں کہ وہ یہودیوں سے محبت کرتے ہیں بلکہ اس کے پیچھے تین باتیں ہیں (الف) وہ انتہائی ہوشیاری اور دانشمندی سے یہودیوں کے ساتھ کھیل کھیل رہے ہیں ۔وہ چاہتے ہیں کہ یہودی امریکہ اور یورپ سے نکل جائیں اور فلسطین چلے جائیں تاکہ ان سے ہماری جان چوٹ جائے اوران کی شر سے محفوظ رہ سکیں۔وہاں ان کا ٹکرا مسلمانوں کے ساتھ ہو ۔ مسلمان اور یہودی آپس میں گتھم گتھا رہیں۔ ہم ان کے تماشائی بنے رہیں اوراس طرح ہم ان دونوں سے بچے رہیں گے۔جہاں وہ یہودیوں کو پسند نہیں کرتے ہیں ،وہاں وہ اسلام کو بھی خطرہ سمجھ رہے ہیں کیونکہ امریکہ اور یورپ میں دیگر مذاہب کی نسبت اسلام زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ (ب) امریکہ اور یورپ ممالک میں یہودی لابی بہت زیادہ متحرک اور فعال ہے۔اس وجہ سے امریکہ اور دیگر ممالک ان کے گیت گاتے ہیں ۔(ج) یہودی گریٹ اسرائیل بنانے کے چکر میں ہیں۔اس لئے دنیا بھر سے یہودی فلسطین کی سرزمین کی طرف جارہے ہیں۔ وہاں وہ بستیوں پر بستیاں بنارہے ہیں۔ فلسطینیوں کی سرزمین پر دھیرے دھیرے قبضہ کررہے ہیں۔حال ہی میں اسرائیلی عدالت نے ایک فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ” مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں فلسطین کے مرحوم لیڈر یاسر عرفات کی واقع جائیداد کو ضبط کرلیا جائے۔ عرفات جائیداد کے شریک مالک تھے۔مقبوضہ بیت المقدس کی ضلعی عدالت کے اس فیصلے میں مرحوم یاسر عرفات کی جائیداد کو مدعا علیہ قرار دیا گیا۔”یہ فیصلہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ دراصل یہودی آخری فیصلہ کن جنگ کی تیاری کررہے ہیں اور وہ اس جنگ میں فلسطین کو مضبوط مورچہ سمجھتے ہیں۔یہودی اسرائیل (فلسطین)میں بڑی تعداد میں غرقد (Boxthorn) درخت لگارہے ہیں۔مسلم شریف کی حدیث ہے کہ ” دجال سے جنگ کے وقت مسلمان یہودیوں کا قتل کریں گے۔ یہودی درخت اور پتھر کے پیچھے چھپ جائیں گے تو پتھر اور درخت مسلمانوں سے کہیں گے کہ اے اللہ کے بندے !یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، اس کو مار ڈالو۔ مگر غرقد نہیں کہے گا کیونکہ یہ یہودیوں کا درخت ہے۔” یہودیوں نے حدیث مبارکہ پڑھ کر غرقد کو اپنا پاسبان شجر قرار دیا ہے اور اس کی کاشت کو اپنی نعمت سمجھتے ہیں۔ یہودی یہ بھی جانتے ہیں کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی زبان سے نکلنے والا ہر حرف سچا اور پورا ہونے والا ہے تو اس لئے یہودی غرقد کی درخت لگا رہے ہیں ۔ جب ہر چیز پکارر پکار کر کہے گی کہ اے مسلمان ! میرے پیچھے ایک یہودی چھپا ہوا ہے ، اس کو قتل کردو ۔اس وقت یہی درخت گونگا بن کر یہودی کی پناہ گاہ بن جائے گا۔یہودی ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت کام کررہے ہیں۔وہ یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک چھوڑ کر بے آب و بے گیاہ علاقے میں ویسے نہیں آرہے ہیں۔ قارئین کرام !یہودی مکمل پلاننگ کررہے ہیں لیکن مسلمانوں کی پلاننگ نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ہے۔ مسلمان خواب غفلت میں پڑے ہیں اور آپس میں دست وگربیاں ہیں۔انہیں اپنے مستقبل کی فکر کیوں نہیں ہے؟لڑائی جھگڑے اچھے نہیں ہوتے لیکن اپنی دفاع تو ضروری ہے۔ دنیا میں تقریباً سوا ارب مسلمان ہونے کے باوجود اپنا قبلہ اول آزاد نہ کراسکے اور فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم پرآنکھ بند کیے ہوئے ہیں۔جو کام مسلم ممالک نے کرنا تھا وہ کام آئرلینڈ کے ایوان زیریں نے کیا اورفلسطین میں قائم غیر قانونی اسرائیلی کارخانوں کی مصنوعات کی در آمد اور خدمات حاصل کرنے پر پابندی کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا ۔ کیا اس بل کے بعدمسلمان اپنی آنکھیں اور کان کھول لیں گے یا حسب سابقہ روایت برقرار رکھیں گے۔ مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار ہونا چاہیے اور متحد ہونا چاہیے۔ قرآن مجید فرقان حمید کے سورۃ اَل عمران آیت نمبر103 میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ” اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔”

Google Analytics Alternative