کالم

جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی

یوں تو چھ تاریخ ہر ماہ آکر گزر جاتی ہے لیکن ستمبر کی چھ تاریخ کو جو اہمیت حاصل ہے وہ بیان سے قاصر ہے ۔ تاریخ کے سینے پر پاک فوج کے کارنامے سے کوہ نور بن کر تابندہ ہیں ۔ قوم اپنے مجاہد اور شہید بیٹوں پر جتنا بھی فخر کرے کم ہے ۔ ہندوستان جس نے ابھی تک پاکستان کو قبول نہیں کیا اور ہر شیطانی حربے سے پاکستان کو خاکم بدہن دنیا کے نقشے سے مٹانا چاہتا ہے اس نے بلا اشتعال چھ ستمبر 1965 کی شب تمام بین الاقوامی قواین ، اخلاقیات اورہمسائیگی کی حقیقت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھرپور حملہ کردیا ۔ مسلمان کبھی مشکلات اور ناگہانی آفات سے گھبرایا نہیں کرتا لہذا صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے قوم سے خطاب میں فرمایا کہ ہندوستان کی افواج نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کرکے مسلمان قوم کو للکارا ہے لہذا ہ میں دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کررہنا ہے تاکہ اسے شکست فاش دے سکیں ۔ صدر پاکستان کی ولولہ انگیز تقریر نے نہ صرف فوجی جوانوں کے جو سرحدوں کی حفاظت پر مامور تھے دل بڑھا دئیے بلکہ ملک کا بچہ بچہ بھارت کے ساتھ مقابلے کیلئے تیار ہوگیا ۔ ان پندرہ ایام میں نہ تو کہیں چوری ہوئی نہ کہیں ڈاکہ پڑا اور نہ ہی کوئی جرم سرزد پاکستان میں ایک مثالی معاشرہ پلک جھپکتے قائم ہوگیا ۔ بھارتی وزیر دفاع نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا غلط جائزہ لیتے ہوئے کہا ہم دوپہر تک لاہور پر قابض ہو جائیں گے شام تک بھارتی فوج وزیر آباد تک پہنچ جائے گی اور پھر میں آل انڈیا ریڈیو پر خطاب کروں گا ۔ ہندوستانی وزیراعظم لال بہادر شاستری نے اپنے عوام سے کہا شام تک آپ کو ایک بڑی خوشخبری سنائی جائے گی ۔ انڈین کمانڈر ان چیف نے بھڑک لگائی کہ آج شام لاہور فتح کرنے کے بعد لاہورجمخانہ کلب میں وسکی کا ایک بڑا جام پئیوں گا ۔ بھارت نے طاقت کے نشے میں بہک کر اشونی کمار اشونی کو لاہور کا ایڈمنسٹریٹر بھی مقرر کرنے کی تیاری کرلی لیکن جو کرتا ہے اللہ تعالیٰ کرتا ہے اور جو وہ پاک ذات کرتی ہے وہی ٹھیک ہوتا ہے بھارت کا مکارانہ حملہ ہماری دلیر اور جواں ہمت افواج نے بری طرح ناکام بنا دیا ۔ بھارت کے مقابلے میں عددی طور قلیل ہونے کے باوجود ایمانی اور جہاد کے جذبے نے ہماری فوج کو فتح اور نصرت سے ہمکنار کیا ۔ پاکستان کا پرچم سربلندی کے ساتھ فضاءوں میں لہراتا رہا ۔ جنگ کے یہ پندرہ دن بھلائے نہیں جاسکتے ۔ ہمارے شاہینوں نے بھارتی ہوائی جہازوں کے اس طرح پرخچے اڑائے کہ جس طرح آپ کاغذ کو متعدد بار پھاڑ کر ہوا میں اچھال دیں یا ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں ۔ ایم ایم عالم کے کارنامے جوفضائی جنگ کی تاریخ کے سنہری حروف سے لکھے ہوئے کارنامے ہیں آج بھی فخر سے دہرائے جاتے ہیں ۔ آج جو ہم آزاد فضا ءوں میں سکھ کا سانس لے رہے ہیں وہ ہمارے غازیوں اور شہیدوں کی بدولت ہے ۔ سیاچن کے محاذ پر ڈیوٹی دیتے ہوئے فوجی جوان منفی پچاس ڈگری اور خون جما دینے والی سردی میں خود تکلیف سہتا ہے اور قوم کو بے خوف ، خطر فضا میں سکون کی نیند کا سبب بنتا ہے ۔ کبھی ہم نے سوچا کہ سرحدوں کی حفاظت پر مامور میرے ملک کے رکھوالے کن کن صعوبتوں سے گزر رہے ہوتے ہیں وہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں اس دھرتی پر دشمن کے ناپاک قدم پڑنے نہیں دیتے یہ سجیلے جوان دن رات ملک و قوم کی حفاظت کیلئے اپنا سکھ چین قربان کرتے ہیں ان کی عظمت کو سلام ہے ۔ چھ ستمبر1965 کی جنگ میں دنیا نے دیکھا بھارت نے جب سیالکوٹ کی باءونڈری کو عبور کیا تو چونڈہ میں ٹینکوں کی خوفناک جنگ ہوئی ہمارے جوانوں نے دشمن کے حملے کو اس طرح ناکام بنایا کہ اپنے جسم کے ساتھ بارود باندھ کر وہ دشمن کے بڑھتے ہوئے ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے دشمن کی تباہی، بربادی کا نیا باب رقم کیا اور خود جام شہادت نوش کیا ۔ سیکنڈ ورلڈ وار کے بعد پاکستانی فوجی جوانوں کا یہ دلیرانہ عمل ٹینکوں کی جنگ کا ناقابل زوال واقعہ ہے ۔ دشمن نے اگرچہ 400 مربع میل کا علاقہ اپنے قبضے میں کرلیا تھا لیکن پاکستان کی بہادر فوج نے دشمن کا 1600 مربع میل کا علاقہ اپنے قبضے میں لے لیا تھا ۔ اس جنگ نے پوری قوم کو ایسا متحد کیا کہ جسکی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔ اگرچہ اس وقت فوجی حکومت تھی لیکن تمام سیاسی جماعتیں عوام فوج اور حکومت متحد تھے ۔ عوام کا جذبہ بے مثال تھا بھارت کے فضائی حملوں سے لوگ خوفزدہ نہیں تھے بلکہ جب ان کے جہاز ہماری فضاءوں میں آتے تو ہمارے شاہین ان پر جھپٹ پڑتے یہ ڈاگ فاءٹنگ لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر دیکھتے ۔ جب بھارتی ہوائی جہاز واپس بھاگتے تو لوگ فلک شگاف نعرے لگاتے ۔ بچے بوڑھے اور جوان فوج کے ساتھ بھرپور تعاون کررہے تھے ۔ خواتین نے بھی ملک کی حفاظت میں اپنا کردارادا کیا حتیٰ کہ سونے کے زیورات فوج کی ضرورتوں کو پوران کرنے کیلئے حکومت کودے دیئے ۔ لوگ کھانے پکا پکا کر فوجی جوانوں کو پیش کرنے کیلئے سرحدوں پر جانے لگے بڑی مشکل سے ان عشاق کو منع کیا گیا ۔ و ہ جذبہ قوم کو متحد کرنے میں ایک درخشندہ مثال ہے ۔ ریڈیو پاکستان سے شکیل احمد کی زبانی فتح و کامرانی کی خبریں سن کر دل میں خوشی اور شکر کے جذبات ابھرتے ۔ 1965 کی جنگ جو پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے سترہ سال بعد بھارت کی مکاری اور خباثت کی بنا پر لڑی گئی اس نے ملک کے شاعروں ادیبوں نغمہ نگاروں ، موسیقاروں فنکاروں اور پوری قوم کو مسلح افواج کیساتھ ایک لڑی میں پرو دیا تھا قلیل وقت میں ایسے ایسے ملی نغمے تخلیق ہوئے کہ جن کو سن کر فوجی جوانوں اور عوام کے جذبات میں ایک نئی روح بیدار ہوئی ملک پر قربان ہونے کا جذبہ انگڑائیاں لینے لگتا اے وطن کے سجیلے جوانوں ، یہ نغمے تمہارے لئے ہیں سے لیکر مہاراج اے کھیڈ تلوار دی اے ، جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی تک سارے نغمے آج بھی کانوں میں گونج ر ہے ہیں جو گہر ی تاثیر بھی رکھتے ہیں ۔ ہمارے فوجی جوانوں نے محاذ پر بہادری کے ایسے ایسے کارنامے انجام دئیے کہ ان کی مثال ملنا محال ہے ۔ ان شہداء اور غازیوں کی لمبی لسٹ ہے عسکری تاریخ ان کے ناموں سے درخشاں ہے ۔ ملک کا سب سے بڑا اعزاز نشان حیدر جو بے مثال بہادری پر عطا کیا جاتا ہے وہ ہمارے شہداء کیپٹن راجہ محمدسرور بھٹی ، میجر محمد طفیل، میجز عزیز بھٹی ، پائلٹ آفیسر راشد منہاس،میجر ملک محمد اکرم ، میجر شبیر شریف ، سوار محمد حسین ، لانس نائیک محمد محفوظ، نائیک سیف علی کیپٹن کرنل شیر خان اور حوالدار لالک جان کو بے مثال بہادری پر 1965 کی جنگ ،1971ء اور کارگل کے محاذوں پر ملک کی خاطر قربان ہونے پر عطا کیے گئے ۔ اللہ ان کے درجات مزید بلند فرمائے ۔ 1965 کی جنگ میں بھارت نے لاہور پر چار محاذوں برکی روڈ، واہگہ بارڈر، راوی ساءفن اور بیدیاں کی جانب سے حملہ کیا ۔ مادر وطن کے شیر جوانوں نے اپنے لہو کی دیوار بنا کر ملک کا دفاع کیا اور بھارت کے حملے کو ناکام بنا دیا ۔ چھ ستمبر سے 15 ستمبر تک رات دن جاگ کر میجر راجہ عزیز بھٹی نے کمانڈ کی اور قلیل سپاہ کے ساتھ بڑی تعداد پر مشتمل دشمن کے ہرشیطانی حربے کو ناکام بنا دیا ۔ بھارت کا خواب کہ وہ لاہور پر قبضہ کرلے گا چکنا چورکردیا ۔ راجہ عزیز بھٹی نے عسکری تاریخ میں اپنی بہادری اور جانفشانی سے ایک نئے باب کا اضافہ کردیا ۔ بھارتی کمانڈر نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ ہمارے بڑھتے ہوئے قدم بی آر بی نہر نے روک لئے تھے یہی جگہ تھی جہاں میجر راجہ عزیز بھٹی کمانڈ کررہے تھے ان کی حکمت عملی دلیری اور جذبہ حب الوطنی سے دشمن کے ارادے خاک میں مل گئے یہ جذبہ ایثار پاک فوج کا اثاثہ ہے ان کے عزم کو استقامت ادا کرتا ہے یہ دھرتی ہماری ماں ہے ماں کی عظمت خطرے میں ہوتو میرے ملک کے محافظ شیروں کی طرح جھپٹتے ہیں اور ایک سیکنڈ میں دشمن کے بڑھتے ہوئے قدم زمین سے اکھاڑ پھینکتے ہیں سدا آباد رہے یہ میرا وطن پاکستان اور اس کے محافظ جو قوم کے سکھ کی خاطر اپنا آج کا آرام سکون اور خوشی قربان کرتے ہیں ۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں خبر نہیں ان شہیدوں کے احسانات رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے قوم ان کی احسان مند ہے دعا ہے کہ ایمان تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کا علم ہمیشہ بلند رہے اور ایک مضوط پاکستان تاقیامت رہے ۔ آمین

آرمی چیف کی سندھ کے نوجوانوں کے نمائندہ وفد سے ملاقات اور خطاب

کسی بھی ملک کا حسن اور مستقبل اس کی جمہوریت میں ہی مضمر ہوتا ہے کیونکہ جمہوریت میں جمہور کی آواز سنی جاتی ہے اس کے مسائل حل کیے جاتے ہیں انہیں سہولیات پہنچائی جاتی ہیں اور حکمران عوام کے خادم ہوتے ہیں اس طرح جمہوری ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوجاتے ہیں ۔ جمہوریت چاہے جیسی ہی ہو بہترین ہی ہوتی ہے ۔ اسی سلسلے میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سندھ سے آئے ہوئے نوجوانوں کے وفد سے ملاقات کی اور ان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت اور میرٹ سے ہی وابستہ ہے، یہ تبدیلی کی شروعات ہیں ،کامیابی لہروں کیخلاف چلنے والے کو ملتی ہے، راہ میں رکاوٹیں آتی ہیں ۔ پاکستان کو وہاں لے جائیں گے جہاں حق بنتا ہے، ملکی ترقی کیلئے میرٹ بنیاد ہوگا ، خود کو ایمانداری سے نہ دیکھا تو کوئی مدد نہیں کرے گا، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے راولپنڈی میں سندھ سے آئے نوجوانوں کے وفد نے ملاقات کی، نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ سندھ، پاکستان کی جان ہے، پاکستان بنانے میں سندھ کا بہت اہم کردار ہے،سندھ کے جوان ہمارے بہترین، محنتی، وفادار جوان ہیں ، اگر ہم اپنے آپ کو ایمانداری سے نہیں دیکھیں گے تو کوئی ہماری مدد نہیں کرے گا ۔ جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ ہماری فوج میں میرٹ کا نظام ہے، ہم نے پاکستان کو وہاں لے جانا ہے جو اس کا حق بنتا ہے ۔ یہ سب کو سوچنا پڑے گا کہ ہم نے اگر پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے تو میرٹ کی بنیاد پر لے کر جانا ہے کیونکہ محنت کا کوئی نعم البدل نہیں ہے، پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے اور اس کی سمت کا تعین نوجوان بحیثیت رہنما کریں گے،کسی مذہب میں بھی کسی کا حق مارنے کی اجازت نہیں ، اخلاقی قوت فوجی قوت سے زیادہ ہوتی ہے،جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں ، امریکہ بھی گیا، وہاں بھی پوچھا کہ کیسے ہم نے دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں ، میں دو باتیں کرتا ہوں ایک تو ہماری مائیں ایسی ہیں جو ملک پر جان نچھاور کرنے والے بچے پیدا کرتی ہیں ،دوسرا ہمارے جوان ایسے ہیں کہ پسینہ مانگتا ہوں تو وہ خون دیتے ہیں ،ہمارے نوجوان بہت مضبوط ہیں جو سمندر کا رخ تبدیل کرسکتے ہیں ،آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے اور اس کی سمت کا تعین نوجوان بحیثیت رہنما کریں گے ۔ جس سمت میں نوجوان جائیں گے ،پاکستان اسی سمت میں جائے گا ۔ کامیاب آدمی پانی کے رخ کے مخالف چلتا ہے اور اس کی راہ میں بہت رکاوٹیں ہوتی ہیں ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ میں جب امریکا گیا تو کہا گیا آپ کی فوج نے بہت اچھا کام کیا، آپ نے ملک سے دہشت گردوں کے خاتمہ کرنے میں کس طرح کامیاب ہوئے ۔ انہوں نے پاکستانی ماوں کو خراج تحسین پیش کیا کہ ہماری ماوں کے بچے ملک پر جان نچھاور کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں اور ہمارے جوان ایسے ہیں کہ میں ان سے پسینہ مانگتا ہوں تو وہ خون دیتے ہیں ۔ آرمی چیف نے کہا کہ ہماری فوج کا اصول ہے کہ ہمارا افسر ہمیشہ سب سے آگے ہوتا ہے ۔ پاکستان کی مسلح افواج پیشہ وارانہ لحاظ سے دنیا بھر میں ایک مقام رکھتی ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوا چکی ہیں ۔ اسی وجہ سے آرمی چیف نے کہاکہ ہماری فوج کا اصول ہے کہ ہمیشہ ہمارا افسر سب سے آگے ہوتا ہے ۔ اس میں کوئی دوسری رائے بھی نہیں کہ جب کمانڈ آگے ہوتی ہے تو پھر پیروکار اس کی پیروی کرتے ہیں ۔

208 ارب روپے کی معافی، وزیراعظم نے نوٹس لے لیا

وزیراعظم عمران خان نے بڑے صنعتکاروں کو ٹیکس معاف کرنے کے حوالے سے میڈیا پر چلنے والی خبروں کا نوٹس لے لیا، وزیراعظم نے وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب اور معاون خصوصی ندیم بابر سے تفصیلات مانگ لی ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ٹیکس معافی سے متعلق ابہام کو دور کیا جائے اور عوام کو واضح انداز میں بتایا جائے کہ ٹیکس کیوں معاف کیا گیا ہے ۔ معاشی ٹیم 208 ارب روپے معاف کرنے کی مکمل تفصیل قوم کے سامنے رکھے جبکہ 208 ارب روپے معاف کرنے سے متعلق حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے، گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سرچارج سے متعلق حقائق بتانا ضروری ہے، قومی خزانے کی حفاظت کی ذمہ داری خود لی، کسی کو نہیں نوازا جائے گا ۔ وزیر اعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ کاروبار ی سرگرمیوں کے لئے ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں ۔ جب تک کاروبار میں ;200;سانیاں پیدا نہیں ہونگی اس وقت تک معیشت کا پہیہ نہیں چل سکتا ۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے دن رات ایک کر کے مودی کے بیانیہ کو شکست دی، جب تک کشمیریوں کو حق نہیں ملتا ہم کھڑے رہیں گے،وزیر اعظم مظلوم کشمیریوں کی ;200;واز کو دنیا تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کل یورپی یونین اور اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی)کی طرف سے ایک موثر آواز کشمیریوں کی حمایت میں سامنے آئی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 10 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جس میں سے 8 نکات کی منظوری دی گئی جبکہ 2 کو موخرکر دیا ۔ منگل کووفاقی کابینہ کے فیصلوں بارے وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی وزیر عمر ایوب اور ندیم بابر کے ہمراہ میڈیا کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جی ;200;ئی ڈی سی کا مسئلہ عوامی مفاد میں حل کیا، حکومت کو پہلے سال45 ارب روپے حاصل ہوں گے، جی ;200;ئی ڈی سی میں کسی کو کوئی رعایت نہیں دی گئی، کمپنیوں سے فرانزک ;200;ڈٹ کی شرط پر عمل کا کہا گیا ہے ۔

ہیلتھ کارڈ اچھا کام لیکن ہسپتالوں کی حالت زارخراب

ہیلتھ کارڈ اچھا کام ہے لیکن ہسپتالوں کی حالت زار انتہائی خراب ہے ۔ عمران خان خود جا کر اچانک ہسپتالوں کا دورہ کریں تو اُن پر حقیقت حال ;200;شکارہ ہوجائے گی ۔ ہیلتھ کارڈ دینے کا تب ہی فائدہ ہے جب صحت کی سہولیات بھی صحیح طریقے سے فراہم ہونگی ۔ جناب خان صاحب مےں آج بھی اس بات پر قائم ہوں کہ آپ کا وژن اور آپ کی سوچ قائداعظم کی ہے اور مےں اس بات پر پختہ ےقےن رکھتا ہوں ۔ پاکستان مےں پہلی دفعہ قائد اعظم کے ارادوں والا لےڈر آےا ہے لےکن مےں ےہ بات بھی کہنے پر مجبور ہوں کہ ارادے ،ارادے ہی رہتے نظر آرہے ہےں ۔ خان صاحب آپ بلو خےل ہےں ،مےں بھی بلوخےل ہوں ۔ آپ کا آبائی گھر بلوخےل روڈ پر ہے اور مےرا گھر بھی بلوخےل روڈ پر ہے ۔ آپ مےانوالی کی عزت ہےں ،مےانوالی کی شان ہےں ۔ مجھے اچھی طرح یاد آج سے پندہ سولہ سال پہلے آپ میرے ساتھ گاڑی پر سفر کرتے تھے تو راستے میں سڑکوں پر سوئے ہوئے لوگوں کو دیکھ جو ان کے حوالے سے ہمدردی پیدا ہوتی تھی، آج آپ اس کے تحت کام کررہے ہیں گو کہ آپ نے ان کیلئے شیلٹر ہومز بنائیں ہیں ، ان پر ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ آپ نے وعدہ کےا کہ بلکسر تلہ گنگ روڈ بنے گی ۔ جتنے اےکسےڈنٹ ہو تے ہےں اسی وجہ سے ہو تے ہےں ۔

6 ستمبر: ملی یکجہتی کامظہر

1965ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی قوم نے اپنے جانثاروں کے شانہ بشانہ ملک کی سرحدوں کا دفاع باوقار انداز میں موَثر بناتے ہوئے دنیا کو یہ باور کرایا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں ۔ بلاشبہ قوم و ملک کا مستقبل ان کی ثابت قدمی جرات اور اولوالعزمی سے وابستہ ہے ۔ افواج پاکستان کاشمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے کہ قوم کے یہ جانباز دفاع وطن کےلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا بھی اپنے لئے باعث صد افتخار سمجھتے ہیں ۔ اس جنگ میں بہادری اور جرات کے جو کارنامے سر انجام دیئے گئے اور قربانی کا جو جذبہ دیکھنے میں آیا وہ ناقابل یقین تھا ۔ جنگ ستمبر میں اسلامی اخوت کے انمول جذبے کے علاوہ تمام پاکستانیوں کی سوچ ایک تھی، عمل ایک تھا، انداز ایک تھا ۔ اس جنگ نے ہمارے اندر اتحاد و یک جہتی کا وہ احساس پیدا کر دیا کہ تمام اہل وطن، ملت واحدہ میں بدل گئے ۔ عوام اپنے بہادر فوجی افسروں اور جوانوں پر وفور محبت میں پروانہ وار گر رہے تھے ۔ ملت کا ہر فرد جذبہ ایثار کا پیکر بنا ہوا تھا ۔ ہر شخص کا جذبہ قربانی عروج پر تھا ۔ لوگ اپنی ذاتی کاروں میں رسد و خوراک بھر بھر کرمحاذ جنگ تک پہنچا رہے تھے ۔ 6 ستمبر کا دن قوم میں جہاں ایک نئی امنگ پیدا کرتا ہے وہاں دشمن کے قبیح عزائم کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ کس طرح اس نے ایک آزاد ملک کی آزادی کو سلب کرنے کی ناپاک کوشش کی اور اس قوم کے غیض و غضب کو دعوت دی جس نے صرف دو دہائیاں قبل ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر اپنے لئے ایک الگ اور آزاد مملک حاصل کی تھی ۔ جارح دشمن اپنی طاقت کے نشے میں اتنا مخمور تھا کہ اس نے ایک خود مختار قوم کی سالمیت روندنے اور شام کی چائے جمخانہ لاہور میں پینے کا پلان بنایا ۔ لیکن جب ہماری قوم کے شیر دل جوانوں نے دشمن کو للکارا تو وہ اپنے علاقے میں اپنی باقیات چھوڑ کر بھاگ نکلا ۔ نجانے دشمن اپنے ایڈونچر سے قبل یہ کیوں بھول گیا تھا کہ یہ وہی قوم ہے جو اپنی سرحدوں کی حفاظت کےلئے کٹ مرنے سے بھی دریغ نہیں کرتی ۔ بھارتی فوج میں اعلیٰ ترین عہدے سے ریٹائرڈ ہونے والے ائیرمارشل بھارت کمار نے پچاس سال میں پہلی مرتبہ تسلیم کیا ہے کہ 1965ء کی جنگ میں پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑا تھا یہاں تک کہ پاکستان نے صرف دو دن میں بھارت کے35طیارے تباہ کردیئے تھے ۔ ائیرمارشل بھارت کمار نے یہ اعتراف اپنی کتاب’’ دی ڈیولزآف دی ہیمالین ایگل،دی فرسٹ انڈو پاک وار‘‘ میں کیا ہے جو یکم ستمبر کو منظر عام پر آئے گی ۔ یہ کتاب ایسے موقع پر شاءع ہورہی ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی پہلی جنگ کو 50سال مکمل ہونے جارہے ہیں ۔ بھارت کے موقر اخبا ر’’ٹائمز آف انڈیا‘‘نے اس کتاب کے حوالے سے ایک رپورٹ بھی شاءع کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی وزارت دفاع کے ریکارڈ میں تسلیم کیا گیا کہ1965کی جنگ میں بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تاہم یہ جنگ ہار جیت کے بغیر ختم ہوئی ۔ جنگ کے دوران بھارت کے 460 طیاروں میں سے 59 اور پاکستان کے186 میں سے 43 طیارے تباہ ہوئے ۔ 1965کی جنگ بھارت اور پاکستان کے درمیان پہلی فضائی جنگ تھی ۔ بھارتی فضائیہ کو پاک فضائیہ پر عددی لحاظ سے برتری حاصل تھی لیکن پاکستانی طیارے ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھارت کے مقابلے میں زیادہ جدید تھے ۔ جنگ کے وقت بھارتی فضائیہ کے پاس28لڑاکا اسکوڈرن جبکہ پاکستان کے پاس صرف11اسکواڈرن تھے ۔ پاک فضائیہ نے آناً فاناً دو دن میں بھارت کے 35طیارے تباہ کردیئے جن میں 6ستمبرکو پٹھان کوٹ اور سات ستمبر کلاءکندا میں بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ۔ بھارت نے اس جنگ کے دوران اپنے 28 اسکواڈرن میں سے 13 اسکواڈرن چینی خطرے کے پیش نظر مشرقی اور وسطی سیکٹر پر تعینات کیے ۔ بھارتی اخبار کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارتی فضائیہ کا بہت زیادہ نقصان ہوا جسے پاکستان کی فتح سمجھا گیا ۔ بھارتی اخبار نے اس سے پہلے کی ایک رپورٹ میں واضح کیا تھا کہ مودی حکومت کی طرف سے 1965کی جنگ کو ایک عظیم فتح کے طور پر منانے کے فیصلے پر بھارت میں تنقید کی جارہی ہے اورکئی حلقوں میں سوال پیدا ہو رہے ہیں کہ 1965کی جنگ تو ہار جیت کے بغیر ختم ہو ئی تھی تو پھر یہ فتح کا جشن کیوں منایا جا رہا ہے ۔ بھارتی وزارت دفاع کی سرکاری جنگی تاریخ بتاتی ہے کہ 1965 کی جنگ کا خاتمہ بغیر ہار جیت کے ہوا ۔ یہ جنگ 22 دن تک جاری رہی اور22ستمبر کو جنگ بندی ہو گئی ۔ وزارت دفاع نے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ مجموعی طور پرفضائی جنگ میں کسی نے بھی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کی تھی ۔ واضح پلان کے بغیردونوں اطراف نے آپریشن کیا ۔ بھارت نے 1965 کی جنگ کے زخم کا بدلہ لینے کیلئے 1971 میں پاکستان کو بھاری نقصان پہنچایا ۔ چند دن قبل بھارتی فوج کی جانب سے دئیے گئے اشتہار میں تسلیم کیا گیا ہے کہ بھارتی فوج نے میدان جنگ میں پاکستانی فوج کے خلاف بزدلی کا مظاہرہ کیا ۔ صفحہ اول کے ہندی اخبارات میں چھپنے والے ان اشتہارات میں بھارتی فوج نے اپنی فوج کی بزدلی کو خود تسلیم کیا ہے ۔ بھارتی فوج کے شعبہ اطلاعات عامہ کے ایڈیشنل دائریکٹر کا کہنا ہے کہ مذکورہ اشتہار غلطی سے شاءع ہوا ہے تاہم حقیقت میں بھارتی افواج نے میدان جنگ سے فرار اور اپنی شکست کی حقیقی کہانی خود ہی بیان کردی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ ستمبر افواج پاکستان کی شجاعت ، دلیری اور جانبازی کی وہ تاریخ رقم کر گئی جس نے خلافت عثمانیہ کے بعد دنیا کے نقشہ پر ملت اسلامیہ کی ایک قوت کو زندہ کیا ۔ 65ء کی جنگ کا ہر محاذ جذبہ حریت کی داستان رقم کر گیا ۔ اس جنگ میں پوری قوم فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی تھی ۔ ہ میں سوچنا چاہیے جس قوم نے رات کے اندھیرے میں حملہ کرنے والے اپنے سے چار گنا بڑے دشمن کو شکست سے دوچار کرکے بازو مسلم کا زور دکھایا ۔ آج بھی وہ قوم دشمن کے دانت کھٹے کرنے کےلئے تیار ہے ۔ پاکستانی عوام کاجوش و جذبہ دیدنی تھا لوگوں نے اپنے حوصلوں کو قائم رکھا ۔ یہ معرکہ تمام حکومتی اداروں ، فلاحی تنظیموں غرضیکہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کا امتحان تھا جس میں سرخرو ہو کر قوم نے ثابت کیا کہ وہ اپنے سرحدی محافظوں کے ساتھ ہے ۔ جنگ کا ایک محاذ ہمارے ادیبوں ، شاعروں ، گلوکاروں نے سنبھالا اور ولولہ انگیز ترانے اور نغمے تخلیق کئے جو نہ صرف قوم کے جذبات کے ترجمان تھے بلکہ میدان جنگ میں مصروف کار افواج پاکستان کے جوش اور ولوے کی ضمانت بھی تھے ۔

کشمیر ۔۔۔ اس بار کا سبق۔۔۔یہ جنگ خود لڑنی ہے

مودی اپنی تمام تر دہشت گردی اور شدت پسندانہ سوچ کے باوجود دوبارہ بھارت کا وزیر اعظم بنا تو یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اپنی شدت پسندی میں مودی اکیلا نہیں بھارت کی آبادی کا ایک بڑا حصّہ اس کے ساتھ ہے جس نے اُسے ووٹ دیا یعنی بھارت مذہبی جنونیت میں مبتلا ء ہے ایک ایسی جنونیت جو صرف ہندو کے حقوق کی بات کرتی ہے اور یہ لوگ دیگر تما م مذاہب کے لوگوں کو بھارت کی سر زمین پر کوئی جگہ دینے کو نہ تیار ہیں نہ اُن کا حق سمجھتے ہیں ۔ ان کا مطالبہ اور کوشش ہے کہ وہی لوگ جو پشت ہا پشت سے اسی زمین پر پیدا ہوئے اور رہنے والے ہیں اُن کو اس زمین سے نکال دو، باقی بھارت تو ایک طرف ، کشمیر تو ہے ہی مسلم اکثریتی ریاست لہٰذا اس پر ہندوستان کے حق کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور وہ بھی جب وہاں کے لوگ خود اُس سے علیحدگی چاہتے ہیں تو پھر بھارت کا اُس پر حق جتانے کا حق بھی نہیں بنتا کجا کہ اُس کو اپنے ملک میں شامل کرلے ۔ کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے بلکہ اس کی متنازعہ حیثیت بھی زبردستی پیدا کی گئی ہے ورنہ تو مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی بنا پر اسے پاکستان کا ہی حصہ ہونا چاہیے وہ بھی اس صورت میں جب یہ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان سے جڑا ہوا ہے اس کی تہذیب ،تمدن معاشرت سب کچھ بھارت سے مختلف ہے الغرض یہ کسی حوالے سے بھی بھارت کا حصہ نہیں بن سکتا ۔ تقسیم ہند کے فوراً بعد بھار ت نے یہاں شازشیں شروع کیں اور ہندو راجہ ہری سنگھ کی وجہ سے اُسے کامیابی بھی ملی جس نے بھارت سے الحاق کا اعلان کیا اور یوں کشمیر کے مسئلے اور تنازعے نے جنم لیا جو باوجود اقوام متحدہ کی مداخلت کے حل نہ ہو سکا اور بہتّر سال سے یہ دونوں ملکوں یعنی پاکستان اور بھارت کے درمیان ناخوشگوار تعلقات کی بنیادی وجہ ہے اور کئی جنگوں کا باعث بھی لیکن اس تما م صورت حال کی تمام تر ذمہ داری بھار ت کے اوپر یو ں عائد ہوتی ہے کہ باوجود ایک طویل جدوجہد آزادی کے اس نے کشمیر کے لوگوں کو غلام بنا رکھا ہے ۔ کشمیریوں نے کبھی اپنی علیحدہ حیثیت پر سمجھوتہ نہیں کیا ۔ نسلوں سے اپنی آزادی کے لئے لڑتے ہوئے ان لوگوں نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا اوردنیا کی توجہ اپنی طرف بارہا مبذول کرائی لیکن اس بار تو گویا ایک ملک پر قبضہ کیا گیا جب بھارت کے دہشت گرد وزیراعظم نریندرامودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لئے نہ صرف اپنے ہی آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کیا بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی دھجیاں اُڑا دیں ۔ لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ نہ تو دنیا بولی اور حد یہ کہ نہ مسلمان ممالک بلکہ’’ مسلمان متحدہ عرب امارات‘‘ نے تو حد کردی کہ عین اُس وقت جب اس دہشت گرد نے تقریباً ایک کروڑ مسلمانوں کو گھروں میں قید کیا ہوا تھا تو اُس نے اسے اپنے اعلیٰ ترین سول ایوارڈسے نوازا ۔ اسکی وجہ مودی کی عربوں سے محبت نہیں بلکہ امارات کو اپنے تیل کی ایک بڑی منڈی کو قائم رکھنا ہے ۔ بھارت اس وقت دنیا میں معدنی تیل کی تیسری بڑی منڈی ہے ۔ اُسے اپنی تقریباً ایک ارب کی آبادی کے لئے پوری دنیا سے تجارت کرنا ہے یہ اسکی مجبوری ہے کیونکہ اُسے اپنے ننگے بھوکے عوام کے پیٹ بھی بھر نا ہے اور تن بھی ڈھانپنا ہے لیکن ہمارے مسلمان ملکوں نے حسب معمول خود کو بھارت کی مجبوری بنانے کی بجائے اُسے اپنی مجبوری بنایا ہوا ہے ۔ بھارت ایک پوری مسلمان ریاست ہڑپ کر گیا لیکن مسلمان ممالک ٹس سے مس نہیں ہوئے سوائے ایک دو ممالک کے جہاں سے پاکستانی موقف پرمعمول کے تائیدی بیانات آئے اور بس قصہ ختم ۔ دوسری طرف پاکستان نے بھی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے میں تو کامیابی حاصل کی لیکن سفارتی سطح پر وہ کچھ نہیں کر سکا جو اُسے کر نا چاہیے تھا بلکہ اسلامی ممالک کی بے حسی تو اس حدتک پہنچی ہوئی ہے کہ مغربی اور یورپی ممالک میں جو عوامی احتجاج ہوا اُس کی بھی کوئی خبر اسلامی ممالک سے نہ آئی یہ اور بات ہے کہ کسی دور دراز کے مسلمان ملک میں کچھ اونچ نیچ ہو تو شاید وہاں سے زیادہ ہمارے سیاستدان ہمارے جذباتی عوام کی سڑکوں پر لے آتے ہیں جو راستے اور چوراہے بند کرکے عام عوام کے لئے بے تحاشا مشکلات کھڑی کر دیتے ہیں لیکن ایک اسلامی ملک نے اس بار مودی کو مسلمانوں کے قتل عام پر جس طرح نوازا ہے وہ ہمارے منہ پر ایک طمانچہ ہے کہ سنبھالو اپنے معاملات ہ میں اپنی تجارت اور اپنے مفادات پیارے ہیں ۔ یہ واقعہ ہمارے لئے ایک طرح سے چشم کشا بھی ہے کہ پہلے اپنے آپ کو اتنا مضبوط بناوَ کہ دنیا خود تمہاری عزت کرے ہم جن اسلامی ممالک کی خا طر اپنے عوام سے اپنی املاک کو نقصان تک پہنچوا دیتے ہو وہی ہمارے معاملات سے لاتعلق ہے ۔ مجھے ایک دوست اسلامی ملک جانے کا اتفاق ہوا بے شک وہاں کے لوگ بہت محبت سے ملے ان کے لئے پاکستان کا نام ہی کافی تھا لیکن دھچکا اُس وقت لگا جب ایک سکو ل ٹیچر نے کہا ہاں میں نے آپ کے گاندھی کو پڑھا ہے اور مجھے اُسے بتانا پڑا کہ ہمارا جناح ہے گاندھی نہیں ۔ تو یہ ہے باہر کی دنیا میں ہماری ’’رینکینگ‘‘ ۔ میں خدا نخواستہ اسلامی اخوت کی مخالفت نہیں کر رہی میں تو فٹ بال ورلڈ کپ میں کسی مسلمان ملک کے آگے بڑھنے کا بھی جشن مناتی ہوں اور وہاں ہونے والی خانہ جنگیوں پر سوگ بھی میانمار کے مسلمان بھی مجھے رُلاتے ہیں اور افغانستان میں ہونے والی تباہی اور دھماکے بھی لیکن اس بار اپنی بے کسی کا سوگ بھی منایا کہ ہم دنیا میں عملی معنوں میں تنہا کھڑے ہیں اور شاید بحیثیت قوم بھی ہم نے سمجھ لیا کہ آج دنیا جذبات کی دنیا نہیں اپنے مفادات کی ہے اور آج کی جنگ ہتھیاروں سے زیادہ معاشیات سے لڑی اور جیتی جاتی ہے جس کے لئے سفارتی سطح پر خود کو مضبوط کرنا پڑتا ہے اور کشمیر کے حالیہ حالات میں ایسا لگ رہا ہے کہ معاشی تو ایک مشکل میدان ہے ہم نے سفارتی میدان بھی دشمن کے لئے خالی چھوڑا ہوا ہے وہ جو چاہے کرے ہم مجبوراً اس کو سہیں گے کیونکہ ہم نے حکومتی اور عوامی سطح دونوں پر سنجیدگی سے ہاتھ پیر یا زبان ہلانے کی ضرورت کو سمجھاہی نہیں ۔ ہم نے اقوام متحدہ میں پچاس ساٹھ سال پہلے جو قراردادیں منظور کروائیں انہیں کو کافی سمجھا ۔ کئی ادوارِ حکومت میں تو ہم نے بین الاقوامی سطح پر کشمیر کا نام بھی نہیں لیا ۔ ہاں ایک وزارت امور کشمیر اور ایک کشمیر کمیٹی ضرور ہے تاکہ کچھ سیاسی حمایتوں کی نوکری لگی رہے ۔ ہم نے اس بار بھی میدان جنگ میں گھوڑوں کے نعل بھی لگائی زین بھی چڑھائی اور گھوڑے تیار کئے لیکن اُس وقت تک دشمن کے گھوڑے سری نگر فتح کر چکے تھے، حالانکہ اس فتح سے عین پہلے ہمارے وزیر اعظم امریکہ کا دورہ کرکے آئے تھے لیکن اتنی بڑی خبر سے بے خبر رہے ۔ ہمارے سیاستدانوں نے بھی بڑی جذباتی اور جو شیلی تقریریں کیں لیکن اس وقت جب معاملات ہاتھ سے نکل چکے تھے ۔ اب ہم فوج کشی اور تاخت و تاراج کی باتیں کر رہے ہیں تو پہلے ہی کیوں نہ سیاسی اور سفارتی سطح پر محنت مشقت کی گئی کیوں نہ معاملات کی خبر رکھی گئی ایسا تو ہر گز نہیں کہ چار اگست کو مودی سویا خواب دیکھا اور پانچ اگست کو اٹھا تو اُس نے آرٹیکل 370کو منسوخ کردیا اور بس کشمیر کا قصہ ختم ہوا ،یقینا اس سب کچھ کے لئے لمبی منصوبہ بندی ہوئی ہے، اس پر کام ہوا ہے اس کے پس منظر اور پیش آمدہ حالات دونوں کا تجزیہ ہوا ہے اور تب جاکر حکم نامہ جاری ہوا لیکن ہ میں کانوں کان خبر نہ ہوئی اور اگر ہوچکی تھی تو کیوں سفارتی سطح پرکام شروع نہیں کیا گیا ۔ ویسے اب تو جو آئینہ ہم نے دیکھا ہے اس میں اپنا ہی عکس بہت خوفناک ہے ۔ لہٰذا خود کو بھی اوردوسروں کو بھی پہچاننے کی ضرورت ہے چاہے یہ دوسرے’’ برادر اسلامی‘‘ ممالک ہیں یا ’’غیر مسلم غیر ممالک‘‘ سب اپنے مفادات کی جنگ لڑیں گے اور قاتل کو ہار بھی پہنائیں گے، انہیں ہم سے کوئی غرض نہیں غرض ہے تو اُس وقت جب ہم ان کے بھلے کے ہوں کسی مطلب کے ہوں ورنہ کوئی توقع عبث ہے ہ میں اپنی جنگ خود لڑنی ہے تبھی کسی فتح کی اُمید کی جا سکتی ہے ورنہ اس بار کا سبق کافی ہے ۔

ماہ محرم الحرام مےں رواداری اور وسعت نظری

محر الحرام کا مہےنہ عالم اسلام کے شہرےوں کےلئے اےک انتہائی محترم مہےنہ ہے ۔ اسلامی کےلنڈر کے پہلے مہےنے کی حےثےت سے بھی اس مہےنے کی اہمےت اور عظمت مسلمہ ہے ۔ محرم اےک اےسا مہےنہ ہے جس کا احترام دور جاہلےت مےں بھی کےا جاتا تھا ۔ فروغ اسلام ،فروغ صداقت اور فروغ حقانےت کےلئے اس محترم مہےنے مےں اسلامی تارےخ کی نامور ہستےوں نے بے مثال قربانےاں دےں ۔ ےہ عظےم قربانےاں پےروان اسلام کو وحدت اور اتحاد کا درس دےتی ہےں ۔ نئے اسلامی سال کے آغاز پر وطن عزےز مےں اس امر کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ قومی ےکجہتی کو فروغ دےنے کےلئے ہمہ جہتی ہم آہنگی پےدا کی جائے ۔ قومی ےکجہتی کےلئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی رےڑھ کی ہڈی کی حےثےت رکھتی ہے ۔ ےہ امر خوش آئند ہے کہ ارباب حکومت نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی آہنی سر کوبی کا عزم کر رکھا ہے ۔ ےہ عناصر اسلام مخالف قوتوں کے آلہ کار کی حےثےت سے مسلم امہ کو فرقوں ،مسلکوں اور اکائےوں مےں تقسےم کرتے ہےں ۔ جہاں تک فرقہ وارانہ دہشت گردی کا تعلق ہے تو ےہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ نام نہاد مذہبی رہنماءوں نے مسلکی تعصبات کو انفرادی و گروہی دکاندارےاں چمکانے کا ذرےعہ بنا رکھا ہے ۔ اگر دےانت داری سے عالم اسلام کے انحطاط و تنزل کے اسباب وعلل کا کھوج لگانے کی کوشش کی جائے تو آخری تجزیے مےں ےہ حقےقت روز روشن کی طرح ابھر کر سامنے آئے گی کہ عالم اسلام کو اس کے خارجی اور بےرونی دشمنوں نے اتنا نقصان نہےں پہنچاےا جتنا اس کے داخلی اور اندرونی دشمن پہنچاتے رہے ۔ خارجی اور بےرونی دشمن تو اعلانےہ عالم اسلام کے خلاف بر سر پےکار ہےں لےکن ےہ داخلی اور اندرونی دشمن ’’زےر زمےن اور پس پردہ‘‘ کاروائےوں سے اسلامی معاشروں اور مملکتوں کی وحدت کے آبگےنے کو پاش پاش کرنے مےں مصروف ہےں ۔ وہ پرےشر گروپس اور مسلکی انتہا پسندی کی علمبردار جماعتےں جو فرقہ وارےت کے زہر کو اس ملک کے عوام کی شرےانوں مےں دوڑانا چاہتی ہےں انہےں اپنے گمراہ کن نظرےات و عزائم پر نظر ثانی کرنی چاہیے ۔ انہےں سوچنا چاہیے کہ کےا تارےخ کے اس نازک اور حساس موڑ پر وطن عزےز ان متعصبانہ اور تنگ نظر رجحانات و تصورات کے فروغ کا متحمل ہو سکتا ہے ;238; ےہ تو کسی کو بتانے کی ضرورت نہےں کہ وطن عزےز آئےنی طور پر اےک مسلمہ اسلامی جمہورےہ ہے ۔ اسلام آپس مےں بےر رکھنا نہےں سکھاتا ،وہ آفاقےت کا پرچم بردار ہے ۔ ےہ اےک لمحہ فکرےہ ہے اس دےن کامل کے پےروکار جو دنےائے انسانےت کو محبت اور اخوت کا پےغام دےنے مےں پےش پےش رہا ،آپس مےں نہ صرف دست و گرےباں ہوں بلکہ اےک دوسرے کےلئے ہلاکت کے پےغامبر بنےں ۔ روح اسلام کا تقاضا ےہی ہے کہ علمائے کرام اور ذاکرےن عظام بلا امتےاز و مسالک آگے بڑھےں اور اپنا حقےقی فرےضہ ادا کرتے ہوئے قوم کو وحدت کا پےغام دےں ۔ محرم الحرام کی بابرکت ساعتوں کا تقاضا ےہی ہے کہ دےنی پےشوا اپنے منصب کی اہمےت اور نزاکت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اتحاد بےن المسلمےن کی فضا کو سازگار بنانے کےلئے سر گرم عمل ہو جائےں ۔ اسی بات کو علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ;231; نے اپنے اشعا ر مےں پےش کےا ہے ۔ وہ عالم دےن سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہےں ۔

فرقہ بندی کےلئے وا نہ کر اپنی زباں

چھپ کے ہے بےٹھا ہوا ہنگامہ محشر ےہاں

وصل کے اسباب پےدا ہوں تےری تحرےر سے

دےکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تےری تقرےر سے

حقےقی علمائے کرام و مشاءخ عظام نے کبھی اپنے فرض منصبی سے روگردانی نہےں کی ۔ انہوں نے عوام کو ہمےشہ اتحاد و اخوت اور رواداری و برداشت کا پےغام دےا ۔ انہوں نے تفرقہ پھےلانے کے مذموم عمل کو ہمےشہ نفرت اور ناپسندےدگی کی نگاہ سے دےکھا ۔ فروغ اسلام کو اپنی زندگےوں کا محور و مرکز بنا لےنے والے دےنی پےشواءوں اور سکالرز نے دعوت و تبلےغ کا کام کرتے ہوئے تمام انسانےت کو اپنا مخاطب تصور کےا ہے ۔ دعوت و تبلےغ کے اس عظےم کام کی اصل روح اور خاصا ےہی ہے کہ وہ داعی کو اس کرہ ارض پر بسنے والے ہر انسان کا خےر خواہ بنا دےتا ہے ۔ اس امر کی خواہش اسے ہمےشہ مضطرب اور بے چےن رکھتی ہے کہ اولاد آدم مےں سے ہر اےک تک سلامتی کے راستے کا پےغام پہنچائے ۔ ےہ تو طے ہے کہ داعےان اسلام کے نزدےک سلامتی کا راستہ صرف اور صرف اسلام ہے ۔ اگر کوئی داعی اپنے مدعوئےن سے نفرت کرنا شروع کر دے تو ےقےنا اسے دعوت کے بجائے حرب و پےکار کا راستہ اختےار کرنا پڑے گا ۔ اسلام اپنے پےروکاروں کو آخری حد تک حرب و پےکار کا راستہ اختےار کرنے سے منع کرتا ہے تا وقتےکہ جنگ ان کے سر پر مسلط نہ کر دی جائے ۔ اس زمےن پر بسنے والا ہر انسان اس کا تعلق خواہ کسی بھی مذہب اور دھرم سے کےوں نہ ہو ،اس تک سلامتی کے راستے کی دعوت پہنچانا ہر حلقہ بگوش اسلام کا اساسی فرےضہ ہے ۔ اس فرےضے کو وہ صاحبان کردار ہی ادا کر سکتے ہےں جو اخوت کی جہانگےری اور محبت کی فراوانی کے علمبردار ہوتے ہےں ۔ اس فرےضے کی انجام دہی کےلئے انہےں اےسی دانشمندانہ ،مفاہمانہ اور مصالحانہ حکمت عملی اپنانا پڑتی ہے جس کے تحت گردوپےش سے نفرت ،منافرت تفرقے اور انتشار کی دھند مکمل طور پر چھٹ جائے ۔ سلامتی کے راستے کی طرف دعوت دےنے والے امت مسلمہ کے علاوہ دےگر مذاہب کے پےروکاروں کو بھی امت کا ہی جزو لانےفک سمجھتے ہےں ۔ اس نقطہ نظر سے وہ انسانےت کو صرف دو حصوں مےں تقسےم کرتے ہےں حلقہ بگوشان اسلام ان کے نزدےک امت مستجاب ہےں اور جبکہ آفتاب اسلام کے نور سے مستفےض ہونے کے شرف سے محروم رہ جانے والی انسانےت امت مدعو ہے ۔ محرم الحرام کے دوران وطن عزےز کے چھوٹے اور بڑے شہروں مےں شہےد کربلا امام حسےن;174; اور ان کے جانثار ساتھےوں کی عہد ساز قربانےوں کو خراج تحسےن پےش کےا جاتا ہے ۔ ان خصوصی تقارےب کا اہتمام ہماری قدےمی رواءت ہے ۔ مساجد مےں خصوصی محافل ذکر اور مجالس مواعظ کا اہتمام کےا جاتا ہے ۔ امام بارگاہوں مےں ذاکر اور خطےب آپ عالی مقام اور ان کے ساتھےوں کی قربانےوں کا ذکر کرتے ہوئے اتحاد بےن المسلمےن پر زور دےتے ہےں ۔ اکےسوےں صدی کے اس عشرہ مےں امت مسلمہ اور عالم اسلام ابتلاءوں اور آزمائشوں کے دوراہے پر کھڑی ہے ۔ ابتلاءوں اور آزمائشوں کا مقابلہ زندہ اقوام نے ہمےشہ اتحاد و اتفاق سے کےا ۔ انتشارو افتراق تو اےک اےسی مہلک وبا ہے کہ جو بھی اس کی زد مےں آتا ہے فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے ۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں محض مسلکی ،فقہی ،جزئی،فروعی اور شخصی دکاندارےوں کو چمکانے کےلئے علمائے کرام اور مشاءخ عظام کے لبادے مےں بعض عناصر معاشرے اور مملکت کو انتشارو افتراق کے شعلوں مےں جھونکنے کے مذموم عمل مےں مصروف ہوتے ہےں ۔ اسلام کسی بھی شخص کو اس امر کی اجازت نہےں دےتا کہ وہ پےش پا افتادہ مفادات کے حصول کےلئے منافرت پھےلا کر اتحاد امہ کے دامن کو پارہ پارہ کرے ۔ حضرت امام حسےن;174; ،ان کے اہلبےت اور صحابہ کی عظےم قربانےاں پےروان اسلام کو وحدت اور اتحاد کا درس دےتی ہےں ۔ نئے اسلامی سال کے آغاز پر اس امر کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ قومی ےکجہتی کو فروغ دےنے کےلئے ہمہ جہتی ہم آہنگی پےدا کی جائے ۔ ماہ محرم الحرام کا پہلا عشرہ امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے نہاءت اہمےت اور حساسےت کا حامل ہوتا ہے ۔ اس موقع پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بھرپور انتظامات کئے جاتے ہےں تاکہ کسی بھی سطح پر کوئی ناخوشگوار واقعہ جنم نہ لے سکے ۔ امن وامان کے قےام کےلئے خصوصی طور پر ذمہ داران پولےس کو متحرک ،فعال اور مستعد بنانے کےلئے ہنگامی بنےادوں پر اقدامات اٹھاتے ہےں ۔ ہر ضلع کے ڈی پی او صاحبان ہر تھانہ کے اےس اےچ او کو اس ضمن مےں خصوصی ہداےات جاری کرتے ہےں اور انہےں پابند کےا جاتا ہے کہ وہ محرم الحرام کے پہلے دس دنوں کے دوران روزانہ کی بنےاد پر جن امام بارگاہوں مےں مجالس کے پروگرام ہو رہے ہےں وزٹ کرےں اور اپنی ;74;urisdictionمےں امن و امان برقرار رکھنے کو اپنی ترجےح بنائےں ۔

انڈوافغان تخریب کار جاسوس گرفتار کرلیا گیا

بھارت میں ہونے والے ;3939;انٹی پاکستان;3939; مسلم دشمن عالمی خفیہ ایجنسیوں کے اجتماعات کا تسلسل اس امر کا بین ثبوت ہے کہ یہ سب عالمی طاقتیں پاکستان اور چین کے اشتراک سے قائم منصوبوں کو سبوتاڑ کرنے کیلئے مشترکہ طور پر وقت کے ساتھ مزید متحرک ہورہے ہیں جبکہ بھارت اور افغانستان میں موجود ان کے سرگرم ایجنٹس کی لالچائی ہوئی نظروں میں یہ پورا خطہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ;39;پکے ہوئے انگروں کے گچھوں کی طرح آگرئے گا;39; یہی اْن کی سب سے بڑی بھول ہے یاد ہے نا کہ3 مارچ 2017 کو آئی ایس آئی نے ایران کی سرحد عبورکرکے سیستان اواران بلوچستان کے سے کتنی سخت مشکلات کی کڑی نگرانی کے نتیجے میں ہائی پروفائل بھارتی جاسوس کلبھوش جادیو کو گرفتارکیا تھا کوئی کسی غلطی فہمی میں نہ رہے کہ خطہ میں عدم استحکام اور انتشار وافتراق پھیلانے میں ;39;را،این ڈی اے اور امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی کو فری ہینڈ ملاہوا ہے پاکستانی دفاعی ادارے چوکنا ہیں بیدار ہیں اپنے دشمنوں پر نظریں گاڑے ہوئے ہیں دوروز قبل 2 ستمبرکوطورخم بارڈر سے پاکستانی سیکورٹی اداروں کی مشترکہ کوششوں سے انڈوافغان جاسوس عمرداوڑکو رنگے ہاتھوں دھر لیا گیا ہے طورخم بارڈر سے انڈوافغان جاسوس ایجنٹ عمر داوڑ سے پاکستان اور افغانستان کے پاسپورٹ برآمد ہوئے ہیں گہری تفتیش کے بعد معلوم ہوا ہے کہ گرفتار ملزم عمرداوڑ افغان پاسپورٹ پر پانچ مرتبہ بھارت جاچکا ہے تفتیشی حکام کے مطابق عمر داوڑ پشتون نوجوانوں کو پاکستان اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے خلاف اکساتا تھا ;34;پشتون لبریشن آرمی;34; کے نام سے اْس نے ایک مسلح تنظیم بھی بنا رکھی ہے گرفتار ایجنٹ افغانی اور بھارتی ایجنسیوں کیلئے کام کر رہا تھا اور اب اس سے مزید تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ کابل انتظامیہ نے اْسے سرکاری ملازمت بھی دے رکھی تھی یہ گرفتار جاسوس جب بھی بھارت گیا اسے سفارتی پروٹوکول دیا گیا مختلف بھارتی میڈیا چینلز میں اْسے مدعوکیا جاتا اور وہ اپنے بیانات میں پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا اور پشتونوں کو پاکستان کے خلاف ہتھیار اْٹھانے کے لئے اکساتا تھا یقینا ہ میں یہ ماننا ہوگا کہ 3 مارچ 2017 کو کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد ملٹری کورٹ سے جب اْسے سزائے موت سنائی گئی اور بھارت کلبھوشن کی اس سزا کے خلاف عالمی عدالت انصاف تک جاپہنچا جہاں نئی دہلی کو خاطرخواہ تسلی بخش فائدہ نہ پہنچا تو اب اْس کے ہاتھ پاوں پھول چکے ہیں یہ بھولنے والی باتیں نہیں یاد رکھنے والی باتیں ہیں کہ اوردیرینہ اطلاعات ہیں کہ مودی کی خصوسی ہدایات پر بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘کی نگرانی میں پاک چین اقتصادی راہداری کو ناکام بنانے کیلئے اب مزید خصوصی ڈیسک بنادئیے گئے ہیں ،عالمی مبصرین کے مطابق اگر ہم سیاسی تعصبات کو ایک طرف رکھ کر ;34;را;34; کے اوچھے ٹریک ریکارڈ کا جائزہ لیں تو ہم کیوں نہ ماضی میں جاکر بنگلہ دیش کی;34;دجالی تخلیق;34; کے بعد سے اب تک سی پیک جیسے اہم راہداری کے منصوبہ کو ناکام بنانا;34;را;34; کا یقینا ایک دوسرا بڑا اہم منصوبہ ہے، ان کی کڑیاں افغانستان کی پاکستان سے ملحق سرحدوں پر پھیلی ہوئی ہیں یہی نہیں بلکہ منظور پشتین ٹاءپ کے گمراہوں کی پشت پناہی پراْنہوں نے کیسے کیسے گھناونے اور شرمناک آڑ میں جاسوس یہودی لڑکیوں کا نیٹ ورک پاکستان کے علاوہ ممبئی، چنائی، مدراس ، حیدر آباد دکن اور کلکتہ سمیت بھارت میں پھیلایا ہوا ہے ۔ جناب والہ!پاکستانی حساس اداروں کے پاس تمام ثبوت اور شواہد موجود ہیں کہ را نے پاک چین راہداری منصوبے کو سبوتاڑ کرنے کیلئے اپنے مذموم اور ناپاک کام شروع کیا ہوا ہے تازہ ترین انڈوافغان جاسوس عمرداوڑکی گرفتاری پاکستانی سیکورٹی اداروں کی یقینا ایک بہت اہم کامیابی ہے ۔ پاکستانی عوام مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین تشویش ناک کی سنگینی پر سخت سیخ پا ہیں ، ایسے میں عمرداوڑ جیسے انڈوافغان جاسوس کی گرفتاری کی خبر نے عوام کو اورزیادہ جذباتی بنادیا ہے جبکہ یہ حقیقت بھی ساری دنیا پرعیاں ہے کہ بھارتی خفیہ اداروں کی ساری توجہ پاک چین منصوبے کو ناکام بنانے پر مرکوز ہے ۔ کلبھوش یادیوسمیت سینکڑوں بھارتی اور مغربی خفیہ ایجنٹس جو پاکستان مخالف ایجنڈوں کی مزموم تکمیل کےلئے ملک بھر میں جہاں کہیں بھی سرگرم عمل ہوئے وہ یقینا پاکستان دشمن کہلائیں گے اور پاکستان دشمن ملکی سپریم انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کا سب سے پہلا ہدف ہوتا ہے ۔ آج یقینا آئی ایس آئی کی اپنے دشمنوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر پاکستان کے دشمن بڑے حیرت زدہ ہیں اب تو ہم اکیسیویں صدی کے عہد میں ہیں جسے جدید ترین ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے پتہ نہیں لوگ اتنے بھلکڑ کیوں ہیں یہی آئی ایس آئی تھی جس نے دنیا کی دوسری بڑی عالمی سپرپاور سوویت یونین کی خفیہ ایجنسی ;39;کے جی بی;39; کے 70اور 80 کی دہائیوں میں چھکے چھڑادئیے تھے بلکہ اب تو خود امریکی مان رہے ہیں کہ ;39;سوویت یونین کی افغان وار;39; میں بلکہ گزری افغان وار میں آئی ایس آئی نے اس خطہ میں سی آئی اے کے لئے بھی سر اْٹھانا دشوار بنا دیا تھا لہذا پاکستان کے دشمن بلاوجہ اپنا وقت پاکستان پر ضائع نہ کریں ورنہ وہ زخم سہلاتے رہ جائیں گے اور پتہ بھی نہیں چلے گا کہ اتنا گہرا لہورستا زخم کس نے لگایا ہے;238; ۔

مسائل جنگوں سے نہیں مذاکرات سے حل ہوتے ہیں

کسی بھی مسئلے کا حل جنگ نہیں ہوتی ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل حل کیے جاتے ہیں ، جن ملکوں کے مابین جنگیں ہوئیں وہاں پر نقصان اور بربادی کے سوا کچھ بھی دیکھا جاسکتا ۔ آج تک وہاں بربادی، ماتم کناں ہے، ترقی معدوم ہوچکی ہے، بنیادی سہولیات ناپید ہیں ، انفراسٹرکچر بھی تباہ ہوچکا ہے ۔ جب بھی کسی ملک میں جنگ ہوتی ہے تو اس تباہی کو سمٹینے کیلئے کئی دہائیاں ضرورت ہوتی ہیں ۔ ناگا ساکی اور ہیروشیما پر ایٹم بم گرائے گئے تھے وہاں پر تاریخ گواہ ہے کہ کتنے برے حالات ہوئے ، کتنی دہائیوں تک بچے معذور پیدا ہوتے رہے ۔ آج بھی اس کے اثرات موجود ہیں ۔ لہذا مودی کی ناعاقبت اندیشانہ اقدامات کی وجہ سے دوبارہ سے خطہ ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہوا ہے ۔ یہاں ذرا سی بھی لغزش پوری دنیا کو ایٹمی جنگ میں جھونک دے گی ۔ مقبوضہ وادی میں جو انڈیا اس وقت کرفیو نافذ کررکھا ہے وہ جوالامکھی کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ اسی وجہ سے پاکستان بار بار دنیا کو باور کرانا چا رہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کردارادا کرے ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو کوئی بھی برداشت نہیں کر سکتا ،پاکستان اوربھارت نیوکلیئر ملک ہیں اور اگر دونوں میں ٹینشن بڑھتی ہے تو دنیا کو خطرہ ہے ، ہماری طرف سے کبھی بھی پہل نہیں ہو گی،;200;رایس ایس کے نظریات کے خلاف ;200;واز اٹھانی چاہیے کیونکہ اس سے سب کو خطرہ ہے ،کشمیریوں کے ساتھ اس وقت جو سلوک ہو رہاہے اگر اس کی جگہ سکھوں سے ایسا سلوک ہوتا تو میں تب بھی بھرپور ;200;واز بلند کرتا ، سکھوں کو ملٹی پل ویزے دیں گے اور مزید ;200;سانی پیدا کرینگے، یہ کوشش بھی ہو گی کہ ائیر پورٹ پر ہی ویزا ملے ۔ گورنر ہاءوس میں انٹر نیشنل سکھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں دنیا بھر سے ;200;ئے ہوئے سکھوں کو خوش ;200;مدید کہتاہوں ۔ ;200;پ نے بتایا ہے کہ ویزے کے مسئلے ہیں ، میں ;200;پ کو یقین دہانی کراتا ہوں ان مسائل کو حل کریں گے ، ;200;پ کو ملٹی ویزے دیں گے او ر;200; پ کے لئے ہر قسم کی ;200;سانی پیدا کریں گے ۔ برصغیر میں سب سے بڑا عذاب کلائمینٹ چینچ کا ;200;نا والا ہے اورہم بم پر بیٹھے ہوئے ہیں ، گلیشیئر پگھل رہے ہیں ،اگر ہم نے مشترکہ طو رپر کچھ نہ کیا تودریاءوں میں پانی کم ہوتا جائے گا اور کروڑوں لوگ دریا کے پانی پر گزارا کرتے ہیں ۔ ایک ہی مسئلہ کشمیر کا ہے وہ ہم مذاکرات سے حل کر سکتے ہیں لیکن ;200;پ کے سامنے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے جتنی بھی کوشش کی اس کے بدلے میں شرائط رکھی گئیں اورایسے کہا گیا جیسے کسی غریب ملک کو کہہ رہے ہوتے ہیں اور میں اس پر حیران تھا ۔ جنگ سے مسئلے حل ہوتے نہیں ہوتے ۔ ایک کوئی جنگ جیتا ہے تو اس کے لئے چار اورمسئلے کھڑے ہو جاتے ہیں ، اگر کوئی جیتے بھی تو وہ ایک طرح سے ہار گیا ۔ میں قائد اعظم کو داد دیتا ہوں کہ وہ سمجھ گئے تھے تب انہوں نے پاکستان کی بات کی تھی ،ہندوستان میں جو ہو رہا ہے مجھے اس سے خوف ;200;رہاہے ۔ ;200;ر ایس ایس ہندوستان کو جس طرف لے کر جارہی ہے اس سے واضح ہے وہاں کسی اقلیت کے لئے کوئی جگہ نہیں ۔ ;200;ج مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے ،20کروڑ مسلمان ڈرتے ہیں کیونکہ وہ انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں ، اگراسے روکا نہ گیا تو یہ سب اقلیتوں کو تنگ کرےں گے ، یہ کسی اقلیت کو نہیں بخشے گی ۔ ;200;ر ایس ایس کے بانی ہٹلر کے نظریے کے پیرو کار تھے ،;200;ج بھی ;200;ر ایس ایس ہٹلرکے نسل پرستانہ نظریے پر عمل پیرا ہے اور اس سے ہندوستان کے لوگوں کوخطرہ ہے ۔ ;200;ر ایس ایس کے تربیت یافتہ لوگ جاتے ہیں اورلوگوں پر ظلم کرتے ہیں ، جو ان کے نظریے کے خلاف جائے اسے غدار کہہ دیتے ہیں ۔ ہم کوشش کررہے ہیں ۔ سب کو اس نظریے کےخلاف ;200;واز اٹھانی چاہیے کیونکہ اس سے سب کو خطرہ ہے ۔ دونوں نیوکلیئر ملک ہیں اگرٹینشن بڑھتی ہے دنیا کو خطرہ ہے ۔ ہماری طرف سے کبھی بھی پہل نہیں ہو گی ۔ مقبوضہ کشمیر میں جو صورتحال ہے اسے کوئی بھی برداشت نہیں کر سکتا ۔ ;200;پ 27دن سے 80لاکھ لوگوں کو بند کردیں ،اسے قبول نہیں کر سکتے ۔ اگر کشمیریوں کی جگہ سکھ ہوتے تب بھی ;200;واز بلند کرنی تھی ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں صحت سے حوالے سے بھی اجلاس منعقدہوا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جب ہسپتالوں میں عوام کا رش دیکھتا ہوں تو مجھے بہت دکھ ہوتاہے ۔ پنجاب کے بڑے ہسپتالوں کو ٹھیک کریں ،ہسپتالوں میں عوام کا بہت رش ہوتا ہے انہیں مزید سہولیات دینی ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے عوام کے تصفیہ طلب معاملات کے ایکشن پلان پر عملدر;200;مد کے حوالے سے جلد از اقدامات کی ہدایت کی اور کہا کہ اس نظام کی بدولت عوام الناس کو بھرپورسہولت میسر;200;ئے گی اور وہ تھانہ کچہری کی روایتی پریشانیوں سے بھی محفوظ رہیں گے اور عوام میں پولیس کا امیج بھی بہتر ہوگا ۔ خیبر پختونخواہ میں ہماری صوبائی حکومت نے اس ضمن میں بہترین اقدامات اٹھائے جس پر لوگوں نے اطمینان کا اظہار کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ ماحولیاتی ;200;لودگی کی وجہ سے عوام صحت کے مسائل کا شکار ہو گئے ہیں ، اس ضمن میں ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں ۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ایئر ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کا دورہ کیا اور ملکی دفاع میں پاک فضائیہ کے کردار کو سراہا ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ایئر ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کا دورہ کیا جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ۔ وزیراعظم نے ایئر ہیڈ کوارٹر میں یادگار شہداء پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی ۔ ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے ملکی دفاع اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فضائیہ کے کردار کو سراہا ۔

پاک فوج سے بھارتی فوج خوفزدہ

بھارت چاہے جتنے بھی ظلم و ستم ڈھالے ،کرفیو نافذ کرلے،قتل و غارت گری کرلے، اغواء کرلے، گرفتاریاں کرلے، جیلیں بھر لے، زندگی کی بنیادی سہولیات پر پابندی عائد کردے، حتیٰ کہ تمام حدود بھی کراس کرلے پھر بھی مقبوضہ وادی کے لوگ کسی صورت بھارت کا تسلط تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ۔ اتنی زیادہ پابندیوں کے باوجود وادی میں کشمیریوں نے پاک فوج کے تر جمان کی تصاویر آویزاں کردیں ، بھارتی آرمی چیف بھی اس بات کو تسلیم کررہا ہے کہ سوشل میڈیا وار میں پاک فوج نے بھارت کو بری طرح شکست دی ہے ۔ پاک فوج اس وقت بھارت کیلئے ایک ڈراءونا خواب بن چکی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے پوسٹرز آویزاں کردئیے گئے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی شاہراہوں اور گلیوں میں پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے پوسٹرز اور ہینڈبلز آویزاں کیے گئے ہیں ۔ پوسٹرز میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کشمیریوں کےلئے آخری گولی اور آخری سپاہی تک لڑنے کا بیان تحریر کیا گیا ہے ۔ پوسٹر میں حریت رہنماؤں کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ کشمیری زمین پر جنت اپنے وطن سے بھارت کو نکالنے کے لیے شانہ بشانہ ہوں گے اور جنت غاصب بھارتی فوج کا مسکن نہیں بن سکتی ۔ یاد رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وادی میں کرفیو نافذ کررکھا ہے اور مقبوضہ وادی میں مکمل لاک ڈاوَن کی صورتحال ہے جہاں میڈیا کے نمائندوں کا داخلہ بھی بند ہے ۔

بھارتی آرمی چیف کا اعتراف شکست

بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے انفارمیشن وار فیئر میں پاکستان کی جیت کا اعتراف کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف نے ریٹائرڈ فوجی افسران کو سوشل میڈیا پر محتاط رہنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ پاکستان انفارمیشن وار میں بھی دشمن کے چھکے چھڑا رہا ہے ۔ لہذا بھارتی آرمی چیف نے بھارتی فوج ے ریٹائرڈ افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سائبر واریرز سے چوکنار ہیں ۔

بپن راوت نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ گزشتہ ہفتے بھارت کی آپریشنل معلومات لیک ہوئی ہیں اسی لیے سیکیورٹی پروٹوکول پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی ۔ اس سے قبل سابق بھارتی لیفٹینٹ جنرل بھی انفارمیشن جنگ کے میدان میں پاکستان کی جیت کا اعتراف کر چکے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئی ایس پی آر نے پاکستان کے لیے بہترین کام کیا اس پر انہیں پورے نمبر دینا چاہوں گا ۔ جس طرح انہوں نے معلومات شیئر کرنے میں انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا استعمال کیا ۔ بھارت میں سب آئی ایس آئی کو جانتے ہیں لیکن آئی ایس پی آر سے غافل ہیں ۔ صرف میرے جیسے لوگ ہی آئی ایس پی آر کے بارے میں بات کرتے ہیں ۔ آئی ایس پی آر نے پاکستان کے لیے شاندار کام کیا ۔ مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات میں کشمیریوں کو بھارتی فوج اور بھارتی قوم سے دور کر دیا ۔ جنرل بپن راوت نے بالآخر اعتراف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ وادی کے حالات بہتر کرنے کا طریقہ صرف امن ہی ہے ۔ مجاہدین بھی اپنا مقصد حاصل نہیں کرسکتے ۔ وادی کے زیادہ تر لوگ امن چاہتے ہیں اور ان کا یقین ہے کہ وہ بھارتی ہیں ۔ کشمیریات کا تصور واپس لانے کی ضرورت ہے ۔

موجودہ پاک بھارت کشیدگی اور جنگی حالات میں بھارتی ائیر چیف نے اپنی فضائیہ کی ناکامیوں کا اعتراف کرتے اور اپنے ہی ادارے کا پول کھولتے ہوئے بتایا کہ بھارتی فضائیہ کتنی قابل ہے ۔ بھارتی ائیر چیف کا کہنا ہے کہ ہم 44 سال پرانے 21 مگ طیارے استعمال کر رہے ہیں ۔ اتنی پرانی تو کوئی گاڑی بھی نہیں چلاتا ۔ بھارتی ائیر چیف کا کہنا تھا کہ مگ طیارے اب بہت پرانے ہو چکے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں پاک فوج کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ سری نگرکی شاہراہوں ، گلیوں میں ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفورکے پوسٹرز، ہینڈ بلز لگ گئے ہیں ۔ پوسٹرز پر کشمیریوں کے لئے آخری گولی اور آخری سپاہی تک لڑنے کی تحریر درج ہے ۔ ان پوسٹر پر بھارتی میڈیا بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا اور واویلا شروع کر دیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم کیسے وہ لہو رائیکاں جانے دیں جو کشمیرکی آزادی کیلئے بہاہے ۔ کشمیرکیلئے تین جنگیں لڑی ہیں چوتھی کیلئے بھی تیار ہیں ۔ جنگ ہوئی تو ملک کا بچہ بچہ پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا ۔ جنگ ہوئی توشدت پوری دنیا میں محسوس کی جائے گی ۔ بھارت اور مووی آگ سے کھیل رہے ہیں خود اس میں جلیں گے ۔ آج کشمیر میں کوئی بھارت کا نام لینے کو بھی تیار نہیں ۔

بھارت کشمیر کے علاقوں پر اپنا تسلط قائم کرناچاہتا ہے ۔ کشمیریوں کے دلوں میں تو پاکستان رہتا ہے ۔ کشمیریوں کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے ۔ پاکستان امن کے قیام کیلئے برسر پیکار ہے ۔ وزیراعظم نے کہا تھا بھارت ایک قدم بڑھے پاکستان دو قدم بڑھے گا ۔ پاکستان نے افغان طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرکے امن پسندی کو ثبوت دیا ۔ اب بھارت کی باری ہے اگر بھارت بھی امن پروگرام کے تحت کشمیریوں کا حق خود ارادیت قبول کر لے تو تمام مسائل خود ہی حل ہو جائیں ۔ کیونکہ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں ۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارتی مودی سرکار کے پیدا کردہ حالات کے باعث ہم ہمہ وقت حالتِ جنگ میں ہیں اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرکمان عساکر پاکستان دفاع وطن کے تمام تقاضے نبھانے کیلئے چاک و چوبند اور ہمہ وقت تیار ہیں ۔ بھارت ہماری سلامتی کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات کریگا تو اسکی آنکھیں پھوڑنے اور بازو مروڑنے کی عساکر پاکستان میں مکمل صلاحیت ہے ۔ بھارتی خطرات سے عہدہ برا ہونا بہرصورت عساکر پاکستان کی ہی ذمہ داری ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کی بھارتی سازش کا کشمیری عوا م بھی موَثر جواب دے رہے ہیں اور پاکستان اور اسکے عوام آزادی کشمیر کی جدوجہد میں کشمیری عوام کے کندھے سے کندھا ملائے کھڑے ہیں ۔ آج مودی سرکار کی حماقتوں اور جلدبازی سے مسئلہ کشمیر زندہ اور اجاگر ہوکر اقوام متحدہ کیلئے کور ایشو بن چکا ہے ۔ ہر پاکستانی کی یہی تمنا ہے کہ بھارت ہماری سلامتی پر وار کریگا تو صفحہ ہستی سے مٹ جائیگا ۔

Google Analytics Alternative