کالم

جو گھر کو پھونک کے دنیا میں نام کرتے ہیں(قسط نمبر6)

rana-biqi

اِس اَمر کو بھی مد نظر رکھنا چاہئیے کہ جہادی تنظیموں کے علاوہ بھارتی انتہا پسند ہندو تنظیموں ویشوا ہندو پریشد ، آر ایس ایس ، اور بجرنگ دل یا ہندو یونٹی کے ایکسٹرنل لنکس دنیا بھر بشمول پاکستان موجود ہیں اور دہشت گردی کی ایسی کسی بھی واردات میں بخوبی استعمال ہو سکتے ہیں ؟ دکن مجاہدین کے حوالے سے دہشت گردوں کے بیانات بھارتی میڈیا اور چینلز پر کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے بھی بیان کئے گئے جن سے یہ نتائج اخذ کرنا کہ دہشت گردی کی اِس کاروائی میں پاکستانی ،بنگلہ دیشی یا بھارتی اسلامی جہادی تنظیمیں ملوث ہیں کو بھی مستند شہادت کے بغیر ناقابل فہم ہی سمجھا جائے گا ۔ اگر بھارتی ادارےاور میڈیا مقامی سپورٹ کے عمل کو مکمل طور پر expose کئے بغیر دہشت گردی کی اِس واردات کو مقامی دہشت گردوں کی complicity کے عنصرسے علیحدہ رکھتے ہوئے بِلا کسی شہادت کے الزام پاکستان پر عائد کرنے پر اصرار کرتے ہیں تو بات عام فہم کی ادراک سے بھی باہر ہو جاتی ہے۔

فی الحقیقت دہشت گردی پر مبنی عراق ، افغانستان اور پاکستان میں ہونے والے خود کش حملوں کی شیطانی فکر تو سمجھ میں آتی ہے لیکن ممبئی دہشت گردی بالکل ہی مختلف واقعات و معاملات پر مبنی ہے جسے بیرونی عناصر مقامی سیکورٹی اداروں کی موجودگی میں کنڑول نہیں کر سکتے۔ اہم سوال یہی ہے کہ کیا باہر سے آنے والے مبینہ دہشت گردوں کیلئے مقامی سپورٹ ایجنٹوں کی مدد کے بغیر یا بھارتی سیکیورٹی انٹیلی جنس کی نظر میں آئے بغیر ٹارگٹ ایریا کے بلڈنگ اسٹرکچرز کی معلومات حاصل کرنااور اِن اُس سے منسلک گلیوں، محلوں، بازاروں اور شاہراؤں کی متعدد مرتبہ بخوبی Recce کرنا ممکنات میں تھا بظاہر ایسا ممکن نہیں ہے ؟ جبکہ ممبئی جیسے اہم شہر میں موجود مقتدر ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے بحری و شہری اداروں کی متحرک موجودگی میں مضبوط مقامی سپورٹ کے بغیر ممبئی میں کافی دنوں تک اپنے آپ کو اور حساس اسلحہ کو کسی عوامی علاقے یا ہوٹل میں چھپائے رکھنا بھی ایک بہت ہی مشکل اَمر ہے ۔ یہ کہنا کہ یہ دہشت گرد ایک لمبی مدت تک ممبئی میں رہتے ہوئے اسلحہ جمع کرتے رہے ، Recce کرتے رہے اور اپنے آپ کو ایجنسیوں کے سامنے expose ہونے سے بچاتے رہے بغیر کسی مضبوط مقامی سپورٹ کے کیسے ممکن ہے کیونکہ یہ کوئی خودکش حملہ آور نہیں تھے جو کسی خفیہ مقام سے اچانک آئے اور دھماکہ کرکے شہادت بھی اپنے ساتھ ہی ختم کر گئے عذر گناہ بدتر از گناہ کے مترادف ہی ہے ۔ یہ وہ اہم سوالات ہیں جو فی الوقت انسداد دہشت گردی کے بہت سے دانشوروں کے ذہن میں چبھ رہے ہیں کیونکہ جس انداز میں ممبئی دہشت گردی کے ممکنہ عزائم کو دہشت گردوں اور بھارتی میڈیا و سیاسی و سماجی لیڈرشپ کے جاری کردہ بیانات میں بتایا کیا گیا ہے اُن میں نہ صرف مکمل مماثلت ہے بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی اداروں میں موجود ہندو انتہا پسندوں کو اِن دہشت گردوں کی پیشگی تائید حاصل تھی۔ قرائین یہی کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے اِس المناک واردات کی ابتدا سے ہی دہشت گردوں اور سیاسی انتظامیہ کے مقاصد ایک جیسے ہی نظر آتے تھے یعنی بڑی ہی یکسوئی سے دہشت گردی کی اِس واردات کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا جائے ۔
حیران کن بات یہ بھی ہے کہ ممبئی جسے بھارت کے معاشی دارلحکومت کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے ، میں بھارتی سنٹرل انٹیلی جنس بیورو، ‘RAW راء کے ایجنٹوں ، سپیشل برانچ کے موثر ہوٹل نیٹ ورک ، مقامی CID ، پرائیویٹ ہوٹل سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے ایجنٹوں کی نظروں میں آئے بغیر ممبئی میں اتنی بڑی واردات کرنے میں کیونکر کامیاب ہوئے؟ کیونکہ مضبوط مقامی سپورٹ کے بغیر یہ دہشت گرد ممبئی میں اتنی بیباکی ، دیدہ دلیری اور اعتماد کیساتھ تاج محل ہوٹل ، اُبرائے ہوٹل ، اسرائیلی نریمان ہاؤس ، کاما ہسپتال ، چھترپتی شیوا جی ریلوے ٹرمینل اور کیفے لیوپولڈ کے علاقوں کو دہشت گردی کا نشانہ نہیں بنا سکتے تھے ۔ درحقیقت سمجھوتہ ایکسپریس اور مالے گاؤں و مکہ مسجد وغیرہ کے دھماکوں میں سنگھ پرئیوار کی اہم تنظیموں سے منسلک انتہا پسند ہندوؤں اور فوجی افسروں کا دہشت گردی کی کاروئیوں میں تال میل کا پایا جانا اور پھر ممبئی میں دو مبینہ دہشت گردوں کی جانب سے ریلوے ٹرمینل پر فائرنگ کے بعد بآسانی پولیس ہیڈکوارٹر کی پشت پر پہنچ کر جیپ میں موجود انسداد دہشت گردی کے سربراہ ہیمنت کراکرے اور وجے سالسکر جنہوں نے مالے گاؤں اور سمجھوتہ ایکسپریس کے کیس میں انتہا پسند ہندؤ فوجی افسروں کو گرفتار کیا تھا اور جنہیں اِس کارکردگی پر ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے جان سے مار دینے کی دھمکیاں بھی دی گئی تھیں ، کا ممبئی دہشت گردی کی اِسی واردات میں دور سے نشانہ باندھ کر قتل کیا جانا مقامی دہشت گرد تنظیموں کے مارک مین کی مدد کے بغیر کیسے ممکن تھا ؟ ایک ایسی پیچیدہ دہشت گردی کی واردات جس کے واحد زندہ بچ جانے والے مبینہ مرکزی ملزم اجمل قصاب کے بھارتی سپریم کورٹ میں متنازع بیانات کے بعد بھی پاکستانی اداروں کو رسائی دئیے بغیر پھانسی پر لٹکا دینا حیران کن اَمر ہے۔ اندریں حالات ، سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ممبئی دہشت گردی کی اِس واردات کا الزام بغیر کسی شہادت کے پاکستان پر ڈال دینا کیا کسی بیرونی دباؤ کے سبب تھا؟ نواز شریف کے دس برس کے بعد کسی موقع محل کے بغیر ہی ممبئی دہشت گردی کو زیر بحث لانا پاکستان کے قومی مفادات کو زک پہنچانے کے مترادف ہی سمجھا جائیگا کیونکہ اس بیان کے فوراً بعد ہی بھارت کے دفاعی اتحادی امریکا کے وزیر دفاع کے ترجمان ڈانا دبلیو وائٹ کا بھارتی چیرہ دستیوں کو پس پشت ڈالٹے ہوئے یہ کہنا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں ہی نے دہشت گردی کو فروغ دیا ہے بھی نواز شریف کے بیان کا ایکشن رے پلے ہی ہے ۔ کیا نوز شریف اپنے دوست نریندرا مودی اور امریکا کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں، بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ اسلام آباد، لاہور، لندن اور واشنگٹن میں بیٹھے کچھ غدارانِ وطن اپنی فیملی کے اہم ممبران کو غیر ملکی شہریت کو عافیت سمجھتے ہوئے پاکستان کی بربادی کے منصوبے بنانے میں مصروف ہیں جس کا پاکستانی اداروں کو موثر تدارک کرنا چاہیے کیونکہ بقول اقبالؒ ……… ؂
میں اُن کی محفل عشرت سے کانپ جاتا ہوں
جو گھر کو پھونک کے دنیا میں نام کرتے ہیں!
****

روزہ یاڈائیٹنگ

ایک شخص دریا سے ایک مچھلی پکڑ کر لایا ۔ بیوی نے غصے سے کہا نہ گھر میں آٹا ،نہ گھی، نہ گیس ، نہ بجلی اسے کیسے پکاؤں واپس چھوڑ آؤ ،جب اس شخص نے مچھلی واپس دریا میں ڈالی تو مچھلی نے دریامیں تیرتے ہوئے نعرہ لگایا ،جیو نواز شریف۔ در اصل لطائف عوامی سوچ،امنگوں اور مسائل کا ہنسوڑ رخ ہوا کرتے ہیں ان کی اہمیت سے انکار نوشتہ دیوار سے انکار کے مترادف ہے ۔ان کے پس منظر میں سوچ کی تبدیلی ،مسائل کی شدت اور خواہشات کی طلب موجود ہوتی ہے ۔ایک مولوی گاؤں کی مسجد میں درس دے رہا تھا کہ روزوں کے بدلے میں جنت میں آپ کو اپنی ہی بیوی حوروں کی سردار بن کر ملے گی ،یہ سن کر ایک دیہاتی نے ساتھ بیٹھے اپنے دوست کو کہنی مار کر کہا ’’پتر ہور روزے رکھ‘‘۔ایک سرائیکی نے زندگی میں پہلا روزہ رکھا اور وہ بھی گرمیوں کا ،افطاری کے وقت اس نے کچھ یوں دعا مانگی’’ نیت کرینداں روزہ کھولن دی تے توبہ کرینداں وت رکھن دی ‘‘۔پٹھان کا روزہ تھا اور اوپر سے بہت پیاس بھی لگی ہوئی تھی لیکن ساتھ بیٹھے شخص نے جب پانی پینا شروع کر دیا تو پٹھان آسمان کی طرف منہ کر کے بولا اﷲ اگر اس کو ہم نے جنت میں دیکھا تو اس کا خیر نہیں ۔دعوت افطار میں مولانا صاحب نے دیکھا کہ بریانی میں دونوں بڑے لیگ پیس دوسری طرف ہیں تو انہوں نے فوراً بریانی کا تھال گھما کر دونوں لیگ پیس اپنی طرف کر لئے ساتھ بیٹھے شخص نے کہا ،مولانا یہ کیا؟ مولانا بولے مرغے کے پاؤں قبلہ کی طرف تھے ،سیدھے کئے ہیں ۔انہی دنوں ایک میسج آیا ’’بے شک ہم ہی ہیں جو تمہیں قبر کا اندھیرا اور حشر کی گرمی یاد دلاتے ہیں ورنہ تم قبر اور حشر کو بھول ہی چکے تھے ‘‘’’منجانب واپڈا‘‘۔واپڈا کے حوالے سے ہی یہ پیغام ملا ’’ اے مومنو تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے تم سے پہلی امتوں پر اور مومنو یاد رکھو پہلی امتوں کو بھی بجلی میسر نہیں تھی ‘‘۔گزشتہ روز ملنے والے ایک اور موبائل میسج میں ملک تمام بڑے قائدین کی مسکراتے چہروں والی گروپ فوٹو تھی اور نیچے لکھا ہوا تھا کہ ’’ ذرا خیال سے دل میں گالی دینے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے‘‘ ۔افطاری سے ذرا پہلے فقیر نے صدا لگائی ’’روزہ کھولن والیو،بابے نوں وی فروٹ چاٹ تے دہی بھلے کھوا دیو ،بابا بریانی وی کھا لیندا ،بابا چکن برگر تے آئس کریم وی کھا لیندا اے،گھر سے آواز آئی کہ بابا جتیاں وی کھا لوے گا تو بابا بولا نئیں پتر بابے نوں سخت غذامنع اے۔افطاری کے وقت ایک لڑکی نے اپنی شادی کی دعا کچھ اس طرح مانگی ۔یا اﷲ میرے والدین کو ایک امیر اور خوبصورت داماد دے دے ،دعا آناً فاناً قبول ہوئی اور اک دولت مند لڑکے سے اس کی چھوٹی بہن کی شادی ہو گئی ۔مطلب کنفیوژن اور اور ایکٹنگ دعا میں بھی نقصان دہ ہوتی ہے ۔ایک دوست جو رمضان شروع ہوتے ہی یہ کہہ کر بیوی کو میکے بھجوا دے کہ اسے دیکھ کر مجھے روزہ لگتا ہے ،جو تنہائی پسند ایسا کہ جسے پسند کرنا ہو تنہائی میں ہی کرے ،جو مذہبی اس قدر کہ اگر دائیں بائیں لڑکیاں بیٹھی ہوں تو ان کو ایسے دیکھے کہ جیسے بار بار سلام پھیر رہا ہو ،جس کی گفتگو ایسی کہ بندہ دو چار منٹ بعد ہی اس کی خاموشی کی دعائیں کرے ۔ اس نے روزہ نہ لگنے کی یہ نایاب دعا مانگی ’’ یا اﷲ مینوں روزہ نہ لگے‘‘۔شہنشاہ بابر نے اپنی بائیو گرافی میں لکھا کہ ہندوستان پر حکومت کرنے کا تو میں نے کبھی سوچا ہی نہیں ،میں نے تو اپنی زندگی میں صرف دو بڑے کام کئے ایک فرغانہ سے بھاگ کر ہندوستان آتے ہوئے راستے میں خود کو اژدہے سے بچانا اور دوسرا ایک بار دربار میں چینی وفد کی موجودگی میں خارش محسوس ہوئی تو کود کو خارش کرنے سے روکا ،اس کوشش میں مجھے اتنا زور لگانا پڑا کہ پسینہ آگیا ۔رمضان المبارک نیکیوں کا مہینہ ہے ۔ روزے اپنی افادیت کے حوالے سے عیسائیوں ، نصرانیوں اور یہودیوں کے ہاں بھی ملتے ہیں ۔ ہندوستان میں بھی چینی روزے برت کی صورت میں موجود ہیں ۔قدیم مصریوں میں بھی روزہ تہوار کی شکل میں موجود رہا ۔ یونان میں خواتین تھمو فیریا کی تیسری تاریخ کو روزہ رکھتی ہیں ۔پارسی مذہب میں بھی روزے کا ثبوت ملتا ہے ۔اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں میں فرق ہے ان میں یہ عام لوگوں پر فرض نہیں ۔اسلام میں روزوں کی ایک اپنی ہی اہمیت ہے اسی ماہ رمضان کی پاک ساعتوں میں قرآن مجید کی مقدس آیات کا نزول ہوا ۔روزہ ارکان اسلام میں سے دوسرا رکن ہے ۔ قرآن پاک 23 رمضان کو مکمل ہوا ، تورات 6 رمضان کو ، انجیل 13رمضان کو اور زبور 18 رمضان کو نازل ہوئی۔ ہمارا مذہب نیت اور ایمانداری پر منحصر ہے ۔اسلام کے پانچوں استعداد ارکان کی ادائیگی کے وقت اﷲ تعالیٰ کا کوئی نمائندہ ظاہری طور پر تو ہمارے سر پر موجود نہیں ہوتا تاہم انسان کے بارے میں بڑے فیصلے نیت کی بنیاد پر کر دیے جاتے ہیں ۔جو عبادت خالی پیٹ سے ، خشک لبوں کے ساتھ ،فسق و فجور سے دور رہ کر ، گالی گلوچ سے پرہیز اور ہر بدی بد دیانتی سے بندش کے بعد کی جائے وہ درجے میں اس کے برابر کیسے ہو سکتی ہے جو کہ تاجر اپنا اور اپنی تجوری کا پیٹ بھرنے کے بعد کرتا ہے ۔جس مفہوم میں ہم اپنے مذہب کو برتتے یا برت رہے ہیں یہ ظاہر داری اور دکھاوا اس کے اس مفہوم سے قطعی طور پر متصادم ہے جو نزول کے وقت اس کا ماخذ و مقصود تھا ۔ مذہب اگر ہمارے کردار میں نہیں اترا تو ہم یقیناً اکارت عبادت کر رہے ہیں ۔روزہ فقط فاقے کا نام نہیں بلکہ ہر قسم کی برائی سے آفاقے کا نام ہے ۔ اگر ایسا نہیں تو یہ قرب الٰہی یا عبادت کا حصہ ہر گز نہیں ہے۔عبادت میں ہر درجہ نیک نیتی اور ایمانداری درکار ہے وگرنہ زمین پر ٹکریں مارنے کو خالص عبادت قرار نہیں دیا جا سکتا ۔بقول اقبالؒ

جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
زکوٰ ۃ ہمارے مذہب کا ایک اہم رکن ہے جس کی اصل روح کو تصویر اور تشہیر کے ذریعے زخمی کر دیا جاتا ہے ۔لباس کی یکسانیت اور عبادت کے اکٹھ کو حج نہیں کہہ سکتے بلکہ اسے بھی اگر اپنی نیت اور ایمانداری کے تناظر میں دیکھا جائے تو تبھی قابل قبول ہو سکتا ہے۔
*****

فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کا لائق تحسین اقدام

بالآخر 31ویں آئینی ترمیم کے ذریعے 100 برس سے زائد عرصے تک قبائلی علاقہ جات میں نافذ رہنے والے قانون فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن یا ایف سی آر کو ختم کر دیا گیا ہے۔فاٹا کے سیاسی و سماجی حلقوں کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا کہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔اسی طرح ملک کی زیادہ تر سیاسی جماعتیں فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کے حق میں تھی ما سوائے حکومت کی اپنی دو اتحادی جماعتیں جمعیت العلمائے اسلام (ف) اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے،بدقسمتی سے ان دونوں جماعتوں کے بزرگ بھی قیام پاکستان کے مخالف ہوا کرتے تھے،اب ان کی اولادیں بھی اپنے آباؤاجداد کے نقش قدم پر چل کر ملک و ملت کے لیے ہونے والے ہر نیک کام میں شریک ہونے سے محروم چلی آ رہی ہیں۔جمعہ 25مئی کو مذکورہ ترمیمی بل کو منظوری کے لیے ایوان بالا میں پیش کیا گیا۔شق وار رائے شماری کے بعد بل کی حمایت میں 71 جبکہ مخالفت میں 5 ووٹ آئے، یوں یہ بل دو تہائی اکثریت سے ایوان سے منظور ہوگیا۔ اس سے ایک روز قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں فاٹا انضمام سے متعلق بل پیش کیا گیا تھا جو وہاں بھی بھاری اکثریت سے منظور ہوا۔قومی اسمبلی میں بل کی حمایت میں 229 اراکین نے ووٹ دیا جبکہ جمعیت علما اسلام اور پی کے میپ نے ایوان زیریں میں بھی اس بل کی مخالفت کی اور اس کی کاپیاں بھی پھاڑ دی تھیں۔اس بل کو بہت پہلے ہی پاس ہو جانا چاہئے تھا۔ دو سال سے حکومت کوشش کر رہی تھی کہ ان کے دو اتحادی، مولانا فضل الرحمان گروپ اور محمود اچکزئی بھی انضمام کی حمایت کریں۔حکومت نے ان اتحادی جماعتوں کو منانے کی ہر ممکن کوشش کی اس سلسلے میں عوامی تنقید کا بھی سامنا کیا۔مایوسی کا یہ عالم تھا کہ ایک موقع پروفاقی وزیر ریاستیں و سرحدی امور لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقادر بلوچ نے یہاں تک کہہ دیا کہ اب یہ کام اگلی منتخب حکومت کرے گی،اسی بنا پر یہ کہا جانے لگا کہ حکومت یہ کام نہیں کر پائے گی کیونکہ اس کے پاس اب صرف چند دن باقی رہ گئے تھے،تاہم اسی دوران قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس 19 مئی کو ہوا۔قومی سلامتی کمیٹی کے کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام جزیات کا تفصیل سے جائزہ لینے کے بعد کمیٹی قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کرنے اور وہاں قوانین، عدالتی نظام اور انتظامی ڈھانچہ متعارف کروانے کی توثیق کرتی ہے۔ادھر اسی روز ہی پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف سمیت دیگر پارلیمانی جماعتوں اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں کی مشاورت بھی ہوئی جنہوں نے بل کو پارلیمان سے منظور کروانے کا عندیہ دیا۔یوں یہ تاریخی فیصلہ پہلے 24 مئی کو قومی اسمبلی اور پھر 25مئی کو سینٹ سے منظورا ہو کر فاٹا عوام کی امنگوں کا ترجمان بنا۔فاٹا کے قومی دھارے میں شامل ہونے سے جہاں تعمیر و ترقی کے در وا ہونگے وہاں علاقے کی عوام کو ملک کے دیگر ہر شہری کی طرح برابر حقوق بھی دستیاب ہوں گے،خصوصاً اس ترمیم کے تحت سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ کار قبائلی علاقوں تک بڑھ جانے سے ملک میں رائج قوانین پر فاٹا میں عملدرآمد ممکن ہو سکے گا۔

اس کے علاوہ ایف سی آر قانون کا خاتمہ ہوجائے گا۔اس قانون میں سزا یافتہ شخص کو اپیل کا حق نہ ہونے کی وجہ سے یہ انسانی حقوق سے متصادم تھا۔ سابق برطانوی راج میں نافذ ہونے والے قانون کی بعض شقوں کے مطابق کسی ایک شخص کے جرم کی سزا کی خاطر پورے قبیلے کو پابند سلاسل کیا جا سکتا تھا جو اب ایسا نہیں ہو گا۔فاٹا کی تقریباً پچاس لاکھ کی آبادی کو اس انضمام سے آئینی، قانونی، اقتصادی اور سیاسی حقوق ملنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ فاٹا کی نمائندگی اب نہ صرف قومی اسمبلی میں ہو گی بلکہ خیبر پختوانخواہ اسمبلی میں بھی ہو گی۔ 2018 میں عام انتخابات کے ایک سال کے اندر فاٹا میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوں گے اور فاٹا انضمام کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی کے اراکین کی تعداد 124 سے بڑھ کر 145 ہوجائے گی جس میں فاٹا کی 21 نشستیں مختص ہوں گی، جس میں 16 عام نشستیں، خواتین کیلئے 4 نشستیں جبکہ ایک اقلیتی نشست شامل ہو گی۔اتنی بڑی تعداد میں جب ان کے اپنے نمائندے ہوں گے تو وہ اپنے حق کی بات بھی کریں گے ,ان کو فنڈز بھی ملیں گے اور قانون سازی بھی کروا سکیں گے۔ پہلے وہ پورے ملک کے لیے قومی اسمبلی اور سینٹ میں قانون سازی میں حصہ لیتے تھے لیکن اپنے فاٹا کے لیے قانون سازی نہیں کر سکتے تھے۔ اسی طرح رواں سال اکتوبر میں بلدیاتی انتخابات ہوں گے تو اس سے یہاں بھی بلدیاتی نظام کھڑا ہو سکے گا اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہونا شروع ہو جائیں گے۔علاوہ ازیں این ایف سی ایوارڈ کے تحت فاٹا کو 24ارب روپے کیساتھ سالانہ سو ارب روپے اضافی ملیں گے اور دس سال کیلئے ایک ہزار ارب (10کھرب) روپے کا خصوصی ترقیاتی فنڈملے گا جو کسی اور جگہ استعمال نہیں ہوگا۔ پاٹا اور فاٹا کو پانچ سال تک ٹیکس استثنیٰ بھی دیا جائیگا۔یقیناًان اقدامات سے فاٹا کی تعمیر و ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے،فاٹا میں شدید بیروزگاری ہے، اس مسئلے سے بھی نجات مل سکے گی۔ تقریباً بیس لاکھ افراد جو آپریشنز کے باعث بے گھر ہوئے تھے، ان کی آبادکاری کے مسائل جلد حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام بلاشبہ ایک تاریخی اقدام ہے۔جس سے نہ صرف ان علاقوں پر مسلط امتیازی قوانین کا خاتمہ ہوگا بلکہ اس وسیع و عریض علاقے کو ایک مربوط نظام ملے گااور ان کی محرومیوں اور شکایات کا ازالہ ہوگا۔یہ امر باعث حیرت تھا کہ قریباً ساڑھے 27ہزار مربع میل پر مشتمل علاقہ پاکستانی آئین کے آرٹیکل 247کے تحت کسی بھی صوبائی حکومت، وفاقی حکومت اور عدلیہ کے اختیارات سے باہر مگر براہ راست صدارتی حکم کا پابند تھا۔ سامراجیت کی علامت ایف سی آر 1848میں برطانوی راج نے نافذ کیا تھااور تب کی نوآبادیاتی دور کی ضرورت تھا۔قیام پاکستان کے فوری بعد اس کا خاتمہ ضروری تھا لیکن سیاسی مصلحت کوشی کے سبب ستر برس تک علاقے کی عوام اس سامراجی نظام کی اذیت جھیلتے رہے۔ وکیل، دلیل اور اپیل جیسے حق سے محروم عوام کے اندر احساس محرومی لاوا بن کر ابل رہا تھا،جو آگے چل کر کسی بھی صورت میں پھٹ کر ملکی سالمیت کیلئے خطرہ بن سکتا تھا۔اس احساس محرومی کو دوآتشہ کرنے کیلئے ملک دشمن لابیاں پے در پے حملے کر رہی ہیں۔پہلے یہ حملے ٹی ٹی پی کی شکل میں ہوتے رہے جن کو افواج پاکستان نے خطے کے عوام کے بھر پور تعاون سے جان ہتھیلی پر رکھ کر ناکام بنادیا ہے مگر اب نئے حملے پی ٹی ایم اور سائبر ٹیکنالوجی کے ذریعے شروع ہیں،جنہیں ناکام بنانے کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی قیادت اور دانشور طبقہ سامنے آئے۔فا ٹا انضمام کے بعد اب امید پیدا ہو چلی ہے کہ پی ٹی ایم جیسے کٹھ پتلی گروہ کے گمراہ کن پروپیگنڈے سے عوام گمراہ نہیں ہوں گے لیکن یہاں ضروری ہے کہ 31ویں ترمیم کی روح کے مطابق وعدہ کیے گئے اقدامات کو عملی شکل میں ڈھالنے کیلئے کسی پس وپیش سے کام نہیں لینا ہو گا، بصورت دیگر مولانا فضل الرحمن ،محمود اچکزئی یا منظور پشتین جیسے عناصر کو عوام کو گمراہ کرنے کا موقع مل جائیگا۔

قومی اسمبلی، فاٹا پختونخوا انضمام بل منظور

adaria

قومی اسمبلی نے فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کیلئے آئین میں31 ویں ترمیم کا بل 2018ء دو تہائی اکثریت سے منظور رکرلیا، بل کی حمایت میں229، مخالفت ایک ووٹ پڑا جو تحریک انصاف کے داود کنڈی نے دیا، جے یو آئی ف اور پختونخوا میپ کا احتجاج رائے شماری کا بائیکاٹ، دونوں جماعتوں کے ارکان نے بل کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں، بل کے تحت آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12اور سینیٹ میں 8نشستیں برقرار رہیں گی،5سال کے بعد فاٹا سے قومی اسمبلی کی نشستیں6جبکہ سینیٹ کی سیٹیں ختم کر دی جائیں گی،آئندہ برس فاٹا کے لیے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات ہوں گے، فاٹا میں صوبائی قوانین کا فوری اطلاق ہوگا اور منتخب حکومت قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے فیصلہ کرے گی، آئین سے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات الفاظ حذف کر دئیے جائیں گے،بل کے تحت صوبائی حکومت کی عملداری سے صدر اور گورنر کے خصوصی اختیارات ختم ہوجائیں گے اور ایف سی آر کا بھی مکمل خاتمہ ہو جائے گا،این ایف سی ایوارڈ کے تحت فاٹا کو 24 ارب روپے کے ساتھ 100 ارب روپے اضافی ملیں گے،10 سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا خصوصی فنڈ ملے گا جو کسی اور جگہ استعمال نہیں ہو سکے گا،ترمیمی بل میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا جائے گا ، پاٹا اور فاٹا میں 5 سال کے لیے ٹیکس استثنا دیا جائے گا۔آئین کے تحت قومی اسمبلی سے آئینی ترمیمی بل منظور ہونے کے بعد اب سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر مملکت ممنون حسین کے دستخط سے فاٹا اور پاٹا باضابطہ طور پر خیبرپختونخوا میں ضم ہو جائیں گے۔اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا ۔اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف چوہدری محمود بشیر ورک نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق 31ویں آئینی ترمیم بل پیش کیا۔ آئینی ترمیم بل پیش کرنے کی تحریک منظوری کے بعد سپیکر نے بل کی شق وار منظوری کروائی ۔ بل کی شق وار منظوری کے دوران جے یوآئی (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا ۔فاٹا اصلاحات بل کے تحت آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12 اور سینیٹ میں 8 نشستیں برقرار رہیں گی اور فاٹا کے لیے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات اگلے سال ہوں گے۔بل کے تحت آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12اور سینیٹ میں 8نشستیں برقرار رہیں گی،5سال کے بعد فاٹا سے قومی اسمبلی کی نشستیں6جبکہ سینیٹ کی سیٹیں ختم کر دی جائیں گی،آئندہ برس فاٹا کے لیے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات ہوں گے، فاٹا میں صوبائی قوانین کا فوری اطلاق ہوگا اور منتخب حکومت قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے فیصلہ کرے گی، آئین سے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات الفاظ حذف کر دئیے جائیں گے،بل کے تحت صوبائی حکومت کی عملداری سے صدر اور گورنر کے خصوصی اختیارات ختم ہوجائیں گے اور ایف سی آر کا بھی مکمل خاتمہ ہو جائے گا،این ایف سی ایوارڈ کے تحت فاٹا کو 24 ارب روپے کے ساتھ 100 ارب روپے اضافی ملیں گے،10 سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا خصوصی فنڈ ملے گا جو کسی اور جگہ استعمال نہیں ہو سکے گا،ترمیمی بل میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا جائے گا ، پاٹا اور فاٹا میں 5 سال کے لیے ٹیکس استثنا دیا جائے گا۔بل کے تحت پانچ سال کے بعد قومی اسمبلی میں فاٹا کی نشستیں 12سے کم کر کے 6کر دی جائیں گی جبکہ آئین سے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات الفاظ حذف کر دئیے جائیں گے ۔قومی اسمبلی سے آئینی ترمیمی بل منظور ہونے کے بعد سینیٹ میں پیش کیا جائیگا ۔ سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر مملکت ممنون حسین کے دستخط سے فاٹا اور پاٹا باضابطہ طور پر خیبرپختونخوا میں ضم ہو جائیں گے ۔ قیام پاکستان کے کم و بیش 71 سال بعد فاٹا کو ملک کا حصہ بنا دیا گیا جو کہ ایک مستحسن اقدام ہے،1970 کے بعد تک یہ علاقہ غیر کے نام سے پکارا جاتا تھا،جرائم پیشہ افراد قبائلی علاقوں میں پناہ لیا کرتے تھے، 80ء کی دہائی میں روسی فوجیوں کے افغانستان میں داخل ہونے کے بعد فاٹا میں تبدیلی آئی، پاک فوج فاٹا میں گئی تو احساس پیدا ہوا کہ یہ علاقہ پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے، فاٹا کا انضمام برطانیہ راج کی طرف سے قائم بفر زون ہر اعتبار سے ختم ہو جائے گا،2004ء میں پرویز مشرف نے پہلی بار فوج بھجوا کر عملی طورپر زون کو ختم کردیا تھا۔ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے سے لوگوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہونگے۔

نگران وزیراعظم کا معاملہ تعطل کا شکار
نگران وزیراعظم کے معاملے پر تعطل اس امر کا عکاس ہے کہ حکومت اوراپوزیشن نگران وزیراعظم کے نام پر متفق نہ ہوسکی، اتفاق رائے پیدا نہ ہونے سے اب یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا، بہتر ہوتا اگر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نگران وزیراعظم کا انتخاب کرلیتے۔ ڈیڈ لاک برقرار ہے اورخورشید شاہ کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی نگراں وزیراعظم کے ناموں کے معاملے پر اپنی بات سے پھر گئے ہیں، اب وزیراعظم سے نگراں وزیراعظم کے معاملے پر ملاقات نہیں ہو گی، ہمیں کہا گیا کہ ججز کو نگراں وزیراعظم کے نام میں شامل نہیں کیا جائے گا، ہم ججز کے نام دینا چاہتے تھے لیکن نہیں دئیے، اب ہوسکتا ہے پارٹی مشاورت کے بعد پارلیمانی کمیٹی کیلئے2نام اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوادوں، پیپلز پارٹی کی طرف سے نوید قمر اور شیری رحمن پارلیمانی کمیٹی میں شامل ہوں گے۔ نگران وزیراعظم کے بعد نگران کابینہ کا اعلان بھی ایک کٹھن مرحلہ دکھائی دیتا ہے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کے دروازے بند نہیں ہونی چاہیے، اتفاق رائے سے نگران وزیراعظم اور کابینہ کا فیصلہ کرلینا چاہیے یہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے۔
امریکی ڈومور مطالبہ
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی پاکستان سے ایک بار پھر ‘ڈو مور’ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پناہ گاہوں اور دہشت گردی پر اکسانے والوں کے خلاف کارروائی کرے،افغانستان میں امن کا انحصار دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے پاکستان کی آمادگی پر ہے، ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا معاملہ ہمارے دل کے قریب ہے،یہ مقصد حاصل کریں گے،پاکستان میں امریکی اہلکاروں کیساتھ برا سلوک کیا جا رہا ہے۔ امریکی ڈومور مطالبہ درست نہیں ہے پاکستان دہشت گردی کیخلاف بلا تفریق کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے ، پاکستان سے امریکی ڈومور مطالبہ امریکہ کے مخاصمانہ رویے کا آئینہ دار ہے، پاکستان دہشت گردی کیخلاف جوکردار ادا کررہا ہے وہ نہ صرف قابل ستائش ہے بلکہ قابل تقلید بھی ہے۔

بھارتی جوہری تنصیبات ناقص اور غیر محفوظ ہیں

جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی کی جانچ پڑتال کرنے والے امریکی ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کی نیوکلیئر تنصیبات کی سکیورٹی پاکستان کی نسبت انتہائی کمزور ہے۔ بھارت کی نیوکلیئر تنصیبات کو بیرونی دہشت گردوں اور داخلی طور پر خطرات لاحق ہیں۔ امریکی ادارے ہارورڈ کینیڈی سکول نے نیوکلیئر تنصیبات کی سکیورٹی کے حوالے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ بھارتی نیوکلیئر تنصیبات کی سکیورٹی پاکستان کی نسبت انتہائی ناقص ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے جوہری تنصیبات کے لیے اختیار کردہ اقدامات محفوظ اور جدید ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا بھارت میں جوہری تنصیبات اور ہتھیاروں کو دہشت گردوں اور داخلی نوعیت کے سنجیدہ خطرات درپیش ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں کہ بھارت اپنی جوہری تنصیبات کو درپیش خطرات کا مقابلہ کر سکتا ہے یا نہیں۔ اس سے پہلے 2008ء میں بھارتی اٹامک ریسرچ سنٹر کا دورہ کرنے والے امریکی ماہرین نے بھی کہا تھا کہ جوہری تنصیبات کی سکیورٹی کے انتظامات انتہائی کم درجے کے ہیں۔ بھارتی کی جوہری سیکورٹی کا بھانڈہ اس وقت پھوٹا جب ماہرین نے بھارت کے جوہری مواد کی سیکورٹی پر تشویش کا اظہار کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں گزشتہ دو دہائیوں میں جوہری مواد کی چوری کے پانچ واقعات رونما ہوئے۔ ناقص سیکورٹی کا یہ حال ہے کہ 2013 میں گوریلہ جنگجوں نے آرمی کمپلیکس سے یورینئم چرا لی تھی اور بھارتی فوج کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ دوسری جانب کانفرنس میں پاکستان کے ایٹمی مواد کی حفاظتی اقدامات کی زبردست پزیرائی کی گئی۔ ماہرین نے پاکستان کی جوہری تنصیبات کی سیکورٹی کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔امریکہ نے بھی بھارتی جوہری پروگرام کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے اس کے بین الاقوامی جائزے کا مطالبہ کردیا۔ دا تھری اوور لیپنگ اسٹریم آف انڈین نیوکلیئر پروگرامز کے نام سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے پاس بھارت کے جوہری پروگرام پر تحفظات کے حوالے سے ٹھوس وجوہات موجود تھیں کہ بھارت اپنے نیوکلیئر پروگرام کو بڑھانے کے لئے اپنے غیر محفوظ جوہری اثاثے استعمال کر سکتا ہے۔امریکی تھنک ٹینک کے مطابق بھارت کا جوہری پروگرام اس وقت تین حفاظتی لیئرز پر مشتمل ہے اور ان تینوں لیئرز کے درمیان تعلق میں بالکل بھی شفافیت نہیں ہے لہذا انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی اس معاملے میں مداخلت کر کے بھارت کے غیر محفوظ قابل استعمال جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ ان کا جائزہ بھی لے۔ امریکا اور دیگر ممالک کے تعاون سے چلنے والا بھارت کا سول نیوکلیئر توانائی پروگرام ایٹمی مواد کے حصول کے لئے نئے راستے ہموار کر سکتا ہے جسے فوجی استعمال میں بھی لایا جا سکتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت نے اپریل 2016 میں مکمل ہونے والے اپنے 500 میگاواٹ پروٹو ٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر کے حوالے سے متعین حفاظتی اقدامات نہیں کئے جس کے نتیجے میں ری ایکٹر پلانٹ نے بجلی کے ساتھ ساتھ غیر محفوظ پٹرولیم پیدا کرنے کی راہیں بھی ہموار کردیں۔ تھنک ٹینک نے بھارت کے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حوالے سے آئی اے ای اے کے ساتھ اپنے معاہدے کی مکمل پاسداری کریں تاکہ ان ری ایکٹر پلانٹس کے ذریعے سے جوہری مواد کی پیداوار نہ ہو سکے۔ رواں ہفتے شائع ہونے والے ایک ریسرچ پیپر میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا کے بعد بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جس نے ری ایکٹر گریڈ پلوٹونیم سے بنے جوہری ہتھیار کا تجربہ کیا ہے۔پیپر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کی غیر محفوظ سویلین جوہری تنصیبات دوسرے ممالک کیلئے تشویش کا باعث بن گئی ہیں۔ اس پیپر میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 2008 میں بھارت نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو جمع کرائی جانے والی رپورٹ میں اپنے جوہری پروگرام کے انوکھے ہونے کا اعتراف کیا تھا اور بتایا تھا کہ بھارت میں تین طرح کی جوہری تنصیبات ہیں۔ سویلین سیف گارڈڈ، سویلین ان سیف گارڈڈ اور ملٹری۔ بھارت کے جوہری ذخائر میں 5.1 0.4 ٹن علیحدہ سے رکھے ہوئے ری ایکٹر گریڈ پلوٹونیم بھی شامل ہیں جنہیں بھارت اسٹریٹجک ریزرو قرار دیتا ہے۔ اسٹڈی پیپر میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ 1962 میں امریکا نے ایک جوہری ہتھیار کا کامیاب تجربہ کیا تھا جس میں ویپن گریڈ پلوٹونیم کی جگہ فیول گریڈ پلوٹونیم استعمال کیا گیا تھا اور اس سے 20 کلو ٹن سے کم توانائی کا اخراج ہوا تھا۔ امریکا کے بعد ری ایکٹر گریڈ پلوٹونیم کو استعمال کرتے ہوئے جوہری ہتھیار بنانے کا تجربہ دنیا میں صرف ایک ملک نے کیا ہے اور وہ بھارت ہے۔ بھارت کے بااثر منصوبہ ساز اور وزارت دفاع کے حکام کے مطابق بھارت کو 350 سے 400 ہتھیاروں کی کھیپ درکار ہوگی جن میں تھرمو نیوکلیئر وار ہیڈز بھی شامل ہیں۔پیپر میں دعوی کیا گیا ہے کہ بھارت جوہری عدم پھیلا کے معاہدے(این پی ٹی) کا وہ واحد غیر دستخطی ملک ہے جو اپنی جوہری پیداوار میں مسلسل اضافہ کررہا ہے، ابتدائی طور پر اس نے بریڈرز ری ایکٹرز تعمیر کیے جنہیں پہلے مکسڈ آکسائیڈ فیول(ایم او ایف) سے اور بالآخر میٹالک پلوٹونیم سے چلایا گیا۔ بھارت کا سب سے بڑا اور پھیلتا ہوا غیر محفوظ استعمال شدہ ایندھن کا ذخیرہ ہے جس میں ری ایکٹر گریڈ پلوٹونیم شامل ہوتا ہے اور اس سے مستقبل میں بھارت کے جوہری ہتھیاروں میں مزید اضافے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ بھارت میں پہلے بھی ایٹمی بجلی گھروں کے حوالے پائے جانے والے خدشات کی وجہ سے مظاہرے ہوئے ہیں۔جنوبی بھارت میں مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے جوہری بجلی گھر کی طرف جانے والے راستے بلاک کر دیے ہیں۔مظاہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نیوکلیئر پاور پلانٹ غیر محفوظ ہے۔

*****

جو گھر کو پھونک کے دنیا میں نام کرتے ہیں(قسط نمبر4)

rana-biqi

بھارت میں دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے سیکولر ذہن رکھنے والے بیشتربھارتی سیاسی و سماجی دانشور بھی سرکاری سطح پر فروغ پانے والے اِس منافقانہ روئیے سے اکثر و بیشتر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں ۔ بہت سے دانشوروں بشمول کلدیپ نائیر ، خوشونت سنگھ ، تولین سنگھ ، ویرندر سنگھ ، میناکشی گنگولی ،سیدشہاب الدین ،سعید نقوی اور بھٹا چاریہ اپنے حالیہ مقالوں اور کالموں کے ذریعے بھی بھارت میں دہشت گردی کی کاروائیوں کے حوالے سے تواتر سے بھارتی اربابِ اختیار کی توجہ اِس اَمرپر دلاتے رہے ہیں کہ بھارت میں دہشت گردی کے ہر وقوعے کا الزام پاکستان پر لگانے کے بجائے اپنے ملک کے اندر بھی اِن وقوعوں کی وجوہات تلاش کرنی چائیے کیونکہ دہشت گردی کے بہت سے واقعات بھارتی اندرونی سیاسی کشمکش کے باعث ظہور پزیر ہو رہے ہیں چنانچہ بھارت میں مسلمانوں اور انتہا پسند ہندو توا کی سرگرمیاں کو اُبھرتی ہوئی بھارتی دہشت گردی کے موجودہ منظر نامے میں بھارتی سیاسی مسئلے سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ کیونکہ بھارت اب امریکہ و امریکا کا اتحادی ہے اور دہشت گردی کی موجودہ واردات کے دوران ممبئی میں انتہا پسند یہودیوں کے مرکز نریمان ہاؤس کو نشانہ بنایا جانا بھی معنی خیز بات ہے ۔ چنانچہ خطے میں جاری دہشت گردی کی اِس جنگ میں اب شعوری یا غیر شعوری طور پر بھارت اسرائیلی مخصوص مفادات کو بھی جنوبی ایشیا کے معاملات میں اہمیت حاصل ہو گئی ہے ۔یاد رہے کہ خطے میں ایران اسرائیل ایٹمی کشیدگی کے حوالے سے بلوچستان میں اسرائیلی مفادات کے پس منظر میں اسرائیل بلوچستان میں اپنے مخصوص مفادات کے ضمن میں بھارتی اداروں اور گریٹر بلوچستان تحریک کے لیڈروں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور اِسی حوالے سے یروشلم میں نام نہاد آزاد بلوچستان کا آفس کھولا گیا ہے۔ ممبئی دہشت گردی میں یہودی نریمان ہاؤس کو ٹارگٹ بنانا اور پاکستان پر ممبئی دہشت گردی کے ملبہ پھینکنے کا عمل بھی خطے کی زمینی صورتحال کے حوالے سے ایک معنی خیز ڈیویلپمنٹ سے ہی تعبیر کیا جائے گا ۔

یہ درست ہے کہ بھارت بین الاقوامی فورمز کے سامنے اپنی تفتیشی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے بھارت یونین کے اقتدار اعلیٰ کے نام پر نہ صرف مقامی دہشت پسندانہ رجحانات اور بھارتی سیاسی اور سماجی زندگی میں مختلف الخیال شدت پسند گروپوں کی آپس کی چپقلش اور قومی سطح پر دہشت گردی کے مقامی عمل کے تیز تر ہونے کے باوجود مختلف بھارتی سیاسی گروپوں کی جانب سے اپنے مخصوص سیاسی مفادات کو تحفظ دینے کیلئے نہ صرف مضبوط ہندو سماجی پوزیشن رکھنے والے انتہا پسند دہشت گرد عناصر کی نشان دہی نہیں کرتا ، نہ ہی ہندو معاشرے میں سیاسی انتہا پسندی سے لپٹی ہوئی پیچیدگیوں کا تذکرہ کرتا ہے بلکہ دہشت گردی کی واردات کے بعد اِن تمام متنازعہ امور پر منافقانہ سرکاری خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے جیسا کہ سمجھوتہ ایکپریس ، مکہ مسجد ، مالے گاؤں وغیرہ سے متعلق دہشت گرد کارروائیوں کے بارے میں پاکستانی ایجنسیوں پر الزامات لگا کر کیا گیا ۔ سرکاری طور پر اِس اَمر کی وضاحت بھی نہیں کی جاتی ہے کہ نکسل باڑی دہشت گرد تحریک کے دوران آج تک بھارت میں جتنی قتل و غارت گری اور دہشت گردی کی وارداتیں ہوئی ہیں اُن کا گراف جموں و کشمیر میں ہونے والی قتل و غارت گری اور دہشت گردی سے کہیں زیادہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے سیکولر ذہن رکھنے والے بیشتربھارتی سیاسی و سماجی دانشور بھی سرکاری سطح پر فروغ پانے والے اِس منافقانہ روئیے سے اکثر و بیشتر مایوسی کا اظہار کرتے رہے ہیں اور گاہے گاہے بھارتی حکومت سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں اندرونی ہاتھ ملوث ہونے پر بھی تحقیقات کے عمل کو تیز کرنا چاہیے ۔
درج بالا تناظر میں ، اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نائین الیون کے بعد دنیا بھر میں دہشت گردی کی لہر کے آگے بند باندھنے کے حوالے سے امریکہ اور بھارت کے درمیان معتبر دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کی اہمیت کو تو ضرور محسوس کیا گیا ہے لیکن اِن محسوسات کو ریاستی اور بین الاقوامی معاہدوں میں ڈھال کر مستحکم بنیادوں پر قائم کرنے کی خواہشات رکھنے کے باوجود بھارت میں اسلام اور عیسائیت کے خلاف دہشت گردی کا مزاج رکھنے والی مقامی ہندو تواتنظیموں اور علیحدگی پسند نکسل باڑی تحریک کی شدت پسند ی و دہشت گرد کاروائیوں کو کبھی بھی حقیقی معنوں میں بھارتی سیکولر سیاسی ، انتظامی اور معاشرتی نظام میں نہ تو ضم کیا جا سکا ہے اور نہ ہی بھارتی سماجی اور سیاسی نظام پر اثر انداز ہونے والی اِن انتہاپسند تحریکوں اور تنظیموں کی غیرمعمولی شدت پسندی کو بھارتی سیکولر آئین کے تابع کیا جا سکا ہے ۔ جہاں تک بھارتی مسلمانوں کا تعلق ہے اُنہیں ویسے ہی دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے اور سیاسی و سماجی طور پر اُن کی اہمیت محض انتخابات میں ووٹ ڈالنے تک ہی محدود ہے ۔ اِسکی ایک حالیہ مثال اُس وقت سامنے آئی ہے جب ہندو توا دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے بھارتی انسداد دہشت گردی کے ایک مقامی سربراہ ہیمنت کراکرے اور اُن کے ساتھ سالسکر نے جب مالے گاؤں اور سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں میں سنگھ پرئیوار اور ہندو توا کے انتہا پسند حامیوں جن میں بھارتی فوج کے چند متعصب ہندو افسران بشمول کرنل پروہت وغیرہ شامل تھے کے ملوث ہونے کا سراغ لگایا اور بیگناہ مسلمانوں کو مقدمات سے فارغ کیا گیا تو اِنہی ہندو شدت پسند تنظیموں کی جانب سے اُنہیں موت کے گھاٹ اُتارنے کی دھمکیوں سے نوازا گیا ۔بھارتی مسلم سیکولر نمائندوں کے علاوہ دہلی جامع مسجد کے امام بخاری بھی تواتر سے اِس اَمر کی تائید کرتے رہے ہیں کہ بھارت میں ہونے والی کسی بھی مجرمانہ یا دہشت پسندانہ واردات میں بھارت کے طول و ارض سے بے گناہ مسلمانوں کی گرفتاریاں کی جاتی ہیں اور اُن میں سے چیدہ چیدہ افراد کو مقدمات میں پھنسایا جاتا ہے لیکن ایسا خال خال ہی ہوتا ہے کہ جب کوئی باضمیر ہندو افسر اصل حقیقت سے پردہ اُٹھا دیتا ہے۔ ہیمنت کراکرے بھی انسداد دہشت گردی ے حوالے سے ایک ایسے ہی باضمیر افسر تھے لیکن بھارتی سیکولر آئین پر یقین رکھنے والے اِس فرض شناس افسر کی مالیگاؤں اور سمجھوتہ ایکپریس کے دھماکوں میں انتہا پسند ہندوؤں کی complicity کو ثابت کرنے اور انسداد دہشت گردی کی اِس بے مثال کارکردگی پر خراج تحسین پیش کرنے کے بجائے ممبئی دہشت گردی کی موجودہ واردات میں بلاآخر اِس فرض شناس افسر کو بھی اُن کے ساتھی سالسکر کے ہمراہ ممبئی دہشت گردی کی اِسی واردات میں ریلوے ٹرمینل پر فائرنگ کے واقعہ کے فوراً بعد پولیس ہیڈکوارٹر کے عقب میں موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا جس کا الزام بھی اجمل قصاب پر لگا دیا گیا۔ اِس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ ممبئی میں دہشت گردی کی موجودہ المناک واردات کے حوالے سے بھارتی ریاستی اداروں اور میڈیا کی جانب سے درست نتائج اخذ کرنے اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے بجائے اِس کاروائی کو محض پاکستان کے خلاف پوائنٹ اِسکور کرنے اور الزامات کی ایک نہ ختم ہونے والی بے معنی بحث کا محور بنا کر پاکستان، بھارت تعلقات میں بگاڑ کی نئی دیوار قائم کرنے پر ہی تمام تر صلاحیتیں صرف کر دی گئیں اور خطے میں آبرومندانہ امن کو فروغ دینے کے بجائے عوامی سطح پر خوف و ہراس اور مایوسی کی فضا قائم کر دی گئی ہے جو خطے کے امن کیلئے اچھا شگون نہیں ہے ۔
(۔۔۔۔۔۔جاری ہے)

زعفرانی دہشتگردی ۔۔۔نئے روپ میں !!!

asgher ali shad

ایک جانب دہلی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے تو دوسری جانب خود بھارت میں اقلیتوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی انتہا پسندی سے ہر ذی شعور آگاہ ہے۔ مودی کے دورِ حکومت میں اقلیتوں خصوصاًً مسلمانوں کے خلاف جو بدترین استحصال کا سلسلہ جاری ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ آئے دن بھارت کے طول و عرض میں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جو بھارتی سیکولرازم اور جمہوریت کے دعووں کی قلعی پوری طرح کھول دیتے ہیں۔ دنیا بھر اور خود بھارت کی انسان دوست شخصیات وقتاً فوقتاً خط لکھ کر اور دوسرے طریقوں سے دہلی سرکار کی توجہ بھارت میں بڑھ رہی زعفرانی دہشتگردی کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کرتی ہیں۔

اسی تناظر میں چند روز قبل دہلی کے آرک بشپ انل کاؤٹے نے کہا ہے کہ بھارت میں زعفرانی دہشتگردی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ بھارت کے آئین سے سیکولرازم کا لفظ (جو در حقیقت لفظ سے زیادہ کوئی وجود نہیں رکھا) بھی ختم ہو جائے گا۔ ہندوستان کے شورش زدہ اور زعفرانی سیاسی ماحول پر آرک بشپ نے دہلی آرکڈائسیس کے تمام پادریوں اور مذہبی اداروں کو خط لکھا۔ انھوں نے تشویش ظاہر کرتے کہا کہ بھارت میں جو حالات درپیش ہیں اور جیسا ماحول پنپ رہا ہے ان میں سدھار کے لئے دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ شاید اس سے کوئی بہتری آ جائے۔انھوں نے کہا کہ بھارت کا مخصوص ماحول جمہوریت اور نام نہاد سیکولر تانوں بانوں کے لئے شدید خطرہ بن چکا ہے۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار بھارت میں صورتحال یہ ہے کہ 20 مئی کو بھارتی صوبے گجرات کے شاپور قصبہ کے قریب ایک دلت شخص کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ 35 سالہ مکیش وانیا اپنی بیوی کے ساتھ کوڑا چننے کا کام کرتا تھا۔ زعفرانی ہندو تنظیم کے جنونی ہندوؤں نے انھیں پکڑا اور ان پر انسانیت سوز تشدد کیا۔ اس پر ستم ظریفی یہ کہ انھیں مارتے ہوئے کی ویڈیو بنا کر فخریہ طور پر سوشل میڈیا پر ڈال دی گئی۔ بدترین تشدد کے نتیجے میں دلت جوان موقع پر ہی دم توڑ گیا ۔
اس کے علاوہ 20 مئی کو ہی بھارتی صوبے مدھیہ پردیش میں گائے ذبح کرنے کے ’’الزام‘‘ میں مسلم نوجوانوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ نام نہاد گؤ رکھشکوں نے 45 سالہ درزی ریاض خان کو امگرا قصبہ میں تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ موقع پر ہی داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔ اس کے ایک دوست شکیل سے بھی مارپیٹ کی گئی اور وہ تاحال کومہ میں ہے۔ علاقے میں کشیدگی پھیلنے کے بعد سینکڑوں پولیس اہلکاروں کو وہاں تعینات کر دیا گیا۔ ماہرین نے اس پس منظر میں کہا ہے کہ بھارت میں ایسے واقعات روز مرہ کا معمول ہیں اور مسلمانوں، دلتوں و دیگر اقلیتوں کے خلاف ایسی وارداتیں کرنے والے ہندو جنونیوں کو کوئی سزا نہیں ملتی بلکہ اس کی بجائے انھیں حکومتی سطح پر بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے اور عدالتوں تک پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اس کی مثال سوامی آسیم آنند، پرگیہ ٹھاکر، کرنل پروہت کے علاوہ خود اترپردیش کے وزیراعلیٰ اور ہندو جنونی رہنما ’’یوگی ادتیہ ناتھ‘‘ ہیں جنھوں نے ’’ہندو یووا واہنی‘‘ نامی تنظیم بنائی جس نے یو پی کے گورکھپور میں مسلم کش فسادات کا بازار گرم کیا۔ یاد رہے کہ یوگی نے بذات خود بھی مسلمانوں کی اس نسل کشی میں بھرپور حصہ لیا تھا ۔وہ اب بھی اس کا فخریہ طور پر اعتراف کرتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی تقریروں کے ذریعے مسلم مخالف فضا کو ہوا دیتے ہیں۔ قابلِِ ذکر امر یہ ہے کہ اس تمام انتہا پسندی کے باوجود بھی بھارت میں RSS کی سوچ رکھنے والا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو سمجھتا ہے کہ مسلمانوں، عیسائیوں و دیگر اقلیتوں کے ضمن میں نسبتاً نرم رویہ رکھا گیا ہے، جسے ترک کے بھارت سے فوراً غیر ہندوؤں کا خاتمہ شروع کر دینا چاہیے اور بھارت کو اکھنڈ بھارت اور رام راجیے بنا کر اپنا دیرینہ خواب مزید جلد پورا کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ یوگی ادتیہ ناتھ ابھی بھی وقتاً فوقتاًً مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتا رہتا ہے ۔ حالیہ دنوں میں اس نے ایک ریلی سے خطاب کرتے کہا کہ ’’میں عید کیوں مناؤں، میں شُدھ (خالص) ہندو ہوں‘‘ ۔ یوگی کی بنائی گئی ’’ہندو یووا واہنی‘‘ کئی حصوں میں بٹ چکی ہے۔ اس کے سابق لیڈر سنیل سنگھ نے پرانی واہنی سے الگ ہو کر اسی نام کی تنظیم قائم کر کے خود کو اس کا قومی صدر قرار دے دیا ہے۔ یوگی کی پرانی واہنی کے جنرل سیکرٹری پی کے مل نے کہا ہے کہ ہماری تنظیم پرانی واہنی ہی ہے اور ہمارا سنیل سنگھ کی واہنی سے کوئی تعلق نہیں۔ سنیل سنگھ کا کہنا ہے کہ ہم پورے بھارت میں ہندوتوا کے فروغ کے لئے اپنی تمام توانائیاں صرف کریں گے اور اپنے گرو ادتیہ ناتھ کی ہمیں پوری آشیر باد حاصل ہے۔ اسی کے مقابلے پر پی کے مل کا کہنا ہے کہ رام راجیے کا قیام ہر صورت میں یقینی بنایا جائے گا۔ یوں بھارت کو اکھنڈ بھارت میں تبدیل کرنے کے لئے نت نئے ناموں سے تنظیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں اور ان سب کا ایک ہی نعرہ ہے ’’بھارت سے غیر ہندوؤں کا خاتمہ‘‘۔ اب ایسی صورتحال پر بھلا کیا تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔

مسلم لیگ صرف قائدؒ کی

مسلمانانِ برصغیر کی سیاسی جماعت ،صرف قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی آ ل انڈیا مسلم لیگ تھی، ہے اور رہے گی۔ پاکستان بننے کے بعد جتنی بھی مسلم لیگیں بنتی رہیں ،حکومتیں کرتی رہیں اور پھر ٹوٹتی رہیں صرف اور صرف مفادات کے لیے بنیں۔اب مکافات عمل کے تحت نون مسلم لیگ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ آثار بتا رہے ہیں کہ نون مسلم لیگ کے بتن سے اب چوہدری نثار صاحب کی قیادت میں کوئی نئی مسلم لیگ بننے جا رہی ہے ۔ مگر یاد رہے کہ یہ وقت کا ضیاع ہے۔ اس متوقع مسلم لیگ کا حشر بھی پرانی مسلم لیگوں کی طرح ہی ہو گا۔ضرورت اس امر کی ہے اصلی مسلم لیگی حضرات، اِندھر اُدھر مفادات کی مسلم لیگوں کی بجائے قائد ؒ کی اُسی اصل مسلم لیگ کی نشاۃثانیہ کے لیے کام شروع کریں۔ جس نے برصغیر ہندوستان کے مسلمانوں کے سامنے یہ منشور رکھا تھا کہ پاکستان میں مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کا اجرا کیا جائے گا۔ اسلامی نظام حکومت قائم کیا جائے گا۔جس میں عدل و انصاف ہو گا۔برابری ہو گی۔امن وامان ہو گا۔ پاکستان کا قانون قرآن اور حدیث ہو گا۔ جس پر مسلمانا ن برصغیر نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں۔ اپنی عزلتیں لٹائیں۔ اپنے خاندان اورماں باپ کی قبریں چھوڑیں۔ اپنے وطن چھوڑے۔ دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کی۔ معلوم ہونے کہ باوجود کہ ان کے علاقوں میں پاکستان نہیں بنے گا۔ پھر بھی اسلام کے نام پر پاکستان کا ساتھ دیا۔ اب وہ بھارت میں متعصب قوم پرست ہندوؤں کے عذاب کانشانہ بن رہے ہیں۔ اگر چھوٹی چھوٹی مسلم لیگوں کو چھوڑ کر بات کی جائے تواس سے قبل کنونشین مسلم لیگ بنی،جونیجو مسلم لیگ بنی،ق مسلم لیگ بنی،نون مسلم لیگ بنی۔ ان مسلم لیگوں نے پاکستان پر حکومتیں کیں۔ پھر اپنے منطقی انجام تک پہنچ گئیں۔ ان سب مصنوعی مسلم لیگوں نے قائدؒ کی مسلم لیگ سے ا نحراف کرتے ہوئے مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اساس سے انحراف کیا۔ پاکستان کی منزل کھوٹی کیا۔ اپنے مفادات کے لیے سیاست کی۔ مسلمان وہ ہیں جنہوں اپنے اسلامی تدبر سے ایک ہزار سال تک چار براعظموں کی سیکڑوں قوموں کو اسلام کے ایک جھنڈے تلے متحد رکھا۔ مگر پاکستان کے مقتدر حلقے صرف ایک بنگالی قوم کے کے مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملا کر نہ رکھ سکے۔جس سے پاکستان دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔آل انڈیا مسلم لیگ ہی مسلمانانِ برصغیر کی نمائندہ سیاسی جماعت تھی۔ اس سے قبل ہند کے سارے سیاسی لیڈر جس میں مسلمان، ہندو اور سکھ شامل تھے، متحدہو کر انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد میں لگے ہوئے تھے۔مصور پاکستان علامہ اقبال ؒ بھی متحدہ ہندوستان کے ترانے گاتے تھے۔ ان کی مشہور نظم:۔

سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اُس کی ،یہ گلستان ہمارا
سارے ہندوستان میں یہ نظم گنگنائی جاتی تھی۔ خود قائد اعظم ؒ بھی متحدہ پاکستان کے لیے جد وجہد کر رہے تھے۔طویل تجربے نے مسلمانوں کے دونوں قومیں لیڈروں پر واضع کیا کہ قوم پرست ہندو برہمن جس کے ہاتھوں میں ہندوؤں کی سیاسی لیڈرشپ ہے وہ مسلمانوں سے ازلی دشمنی رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ مسلمانوں نے اقلیت ہو کر ہندوستان کی اکثریت پر ایک ہزار سال حکمرانی کی تھی۔ اپنی بہترین نظم نسق کے تجربے ،انسانیت دوستی،عدل و انصاف ، اسلام کی تعلیمات ،پر اُمن رویہ اور ساتھ لے کر چلنے کی پالیسیوں کی وجہ سے ہندوستان کے عام عوام مسلمانوں سے خوش تھے۔ اسی لیے برصغیر کے کروڑوں ہندو مشرف بہ اسلام ہوئے۔ مگر ہندوؤں کا برہمن طبقہ اندر ہی اندر وہ انگریزوں سے ملا ہوا تھا۔ وہ آزادی کے بعد مسلمانوں سے دنیا میں راج سیکولر نظام، جس میں بقول علامہ اقبالؒ تعدادیعنی سر گنتے ہیں ، کے تحت، اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ اپنی اکثریت کی بنیاد پر مسلمانوں کو اپنا غلام بنانے کے ارادہ رکھتے ہیں۔ انگریزوں تجارت کے بہانے مسلمانوں حکمرانوں سے ہندوستان کااقتدار چھینا تھا۔ اس لیے انگریزوں نے بھی برہمنوں کو ہندوستان میں مراعات دیں تھیں۔ مسلمانوں کو ہر طرح پیچھے رکھا کہ وہ کہیں دوبارہان سے اقتدار چھین نہ لیں۔مگر قائد ؒ اور علامہ اقبالؒ نے برہمنوں کے عزاہم کو بھانپ لیا ۔ علامہ اقبال ؒ نے الہ آباد کی مسلم لیگ کی میٹینگ میں پاکستان کا مطالبہ رکھا۔ جسے مسلمانانِ برصغیر میں پزیرائی ملی۔ قائدؒ نے آل انڈیا مسلم لیگ کو دو قومی نظریہ پر منظم کیا۔ برصغیرمسلمانوں نے قائد ؒ کی آواز پر لب بیک کہا۔ پھر بر صغیر ہندوستان کے کونے کونے میں یہ نعرہ مستانہ گوجنے لگا۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الہ اللہ۔ مسلم ہے۔ تو مسلم لیگ میں آ۔ لے کے رہیں پاکستان ۔ بن کے رہے کا پاکستان۔ پاکستان بننے سے پہلے برصغیر کے حکمرانوں کے اصلی وطن یورپ میں عیسایوں میں قوم پرستی عروج پر تھی۔ قوم پرستی کی بنیاد پر جنگ اول اور دوم لڑی گئیں۔کروڑوں انسانوں نے قومیت کی بنیاد پر اپنی جانیں دی تھیں۔ برصغیر کے برہمن بھی قائد ؒ کے دوقومی نظریہ کے مقابلے میں برصغیر کی ساری قوموں کو ایک ہندوستانی قوم تصور کرتے تھے۔علامہ اقبال ؒ نے اس کی نفی کی اور اسلام کے قومیت کے آفاقی نظام کو عام کیااور برصغیر کے مسلمانوں کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ:۔

اپنی ملت پر قیاس ،اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ عاشمیؐ
اسلام کے اس فلسفہ کو برصغیر میں عام کیا تھا۔کچھ نادان مسلمان طبقے برہمنوں کی چال کو سمجھ نہ سکے اور ہندوؤں کے نعرے قومیں اوطان یعنی وطن سے بنتیں کے پر فریب نعرے میں متحدہ پاکستان کی باتوں میں آ گئے۔ پاکستان اور قائڈ اعظم ؒ کی مخالفت کی تھی۔ اللہ نے مولانا موددی ؒ کے دل میں قومیت کے مسئلہ پر بات ڈالی۔ مولانا ؒ نے قومیت کے مسئلہ پر اسلامی نقطہ نظر سے مضامین لکھے۔جسے تحریک پاکستان کے دوران آل انڈیا مسلم لیگ نے برصغیر ہندوستان میں خوب پھیلایا۔ جو اب بھی کتابی شکل میں موجود ہیں۔ پھر جب اللہ کے فضل اور قائدؒ کی انتھک جمہوری کوششوں سے دنیا میں مسلمانوں کی اُس وقت کی سب سے بڑی سلطنت وجود میں آگئی۔ پاکستان بن گیا تو قائد اعظمؒ نے مولانا موددیؒ سے کہا کہ آپ پاکستان کے مسلمانوں کو بتائیں کہ پاکستان میں ا سلامی نظام کیسے قائم کیا جائے گا۔ مولانا مودودیؒ نے قائد اعظم ؒ ؒ کی ہدایات پر ریڈیو پاکستان پر اسلامی کے عملی نفاذ کی کئی تقرریں کیں۔ جو اب بھی ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ اور عام پاکستانیوں کے مطالعہ کے لیے کتابی شکل میں بھی موجود ہیں۔ صاحبو! مصنوعی مسلم لیگوں نے پہلے پاکستان کی ترقی میں کوئی خاص کردار ادا کیا۔ بلکہ پاکستان کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ مصنوعی مسلم لیگوں نے قائدؒ کی وژن کے مطابق پاکستان میں اسلامی نظام حکومت رائج کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔اپنے ذاتی مفادات کو ہی سامنے رکھا۔اب تو نون مسلم لیگ بھی اپنی فطری عمر پوری کر چکی ہی ہے۔ نواز شریف خود اس اس کا خاندان کرپشن کے مقدمات میں پھنس چکے ہیں۔نواز شریف پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے نا اہل قرار دیے جا چکے ہیں۔چند ہفتوں میں ان کے مقدمات کا فیصلہ سامنے آنے والا ہے۔متوقع طور پر سزا بھی ہونے والی ہے۔ اب نواز شریف اپنی کرپشن چھپانے کے لیے تمام حدیں پار کر چکے ہیں۔ کبھی غدار وطن شیخ مجیب کو محب وطن قرار دے رہے ہیں۔فوج اور عدلیہ پر وار کر نے کے بعد مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مجرم ثابت کرنے لگے ہیں۔ تین دفعہ پاکستان کے راز کی حفاظت کا حلف لینے والے نا اہل وزیر اعظم نواز شریف پاکستان پر حملہ کر چکے ہیں۔ڈان اخبار کو انٹر ویو دے کر مملکت پاکستان پر الزام لگا رہے ہیں۔گریٹ گیم کے تینوں کردار، بھارت ،امریکا اور اسرائیل کسی طور پر بھی اسلامی اور ایٹمی پاکستان کو برادشت کرنے کی لیے تیار نہیں۔ نواز شریف پریشانی کے عالم میں یا دانستہ طور پر بھارت، امریکا اور اسرائیل کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ اب اس موقع پر پاکستان سے محبت کرنے والے لوگوں،مقتدر حلقوں اور اصلی مسلم لیگیوں سے پاکستانی قوم کی درخواست ہے کہ چوہدری نثار کی سربراہی میں کوئی نئی مصنوعی مسلم لیگ بنانے کے بجائے قائد ؒ کی آل انڈیا مسلم لیگ طرز ،کی پاکستان میں پھر سے تحریک اُٹھائیں۔جس کا نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا’’لا الہ الا اللہ‘‘ حکمران اللہ سے معافی مانگیں۔ برصغیر کے مسلمانوں سے کیا گیا وعدہ کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔ اس سے اللہ کی مدد شامل حال ہو گی۔ پاکستان مضبوط ہو گا۔مسلم لیگ صرف قائدؒ کی ۔باقی سب مفادات کی۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔
*****

Google Analytics Alternative