کالم

عوام‘ سلامتی ادارے اور جمہوری حکومت ۔ ’’ٹارگٹ ایک‘‘

جن ممالک میں عوام اپنے حکمرانوں کو جوابدہی کے کٹہرے میں لانے کے خلاف سڑکوں پر نکلنے اور احتجاج کرنے کی کھلے عام باتیں کرنا شروع کردیں اور اپنی عدلیہ پر سوالیہ انگلیاں اْٹھانی شروع کردیں تو کیا ایسی قوموں کو جدید سائنسی دنیا میں مہذب اور متمدن قراردیا جاسکتا ہے اوریہی نہیں بلکہ کیا ایسی اقوام کے چند افراد یا گروہ جو بدترین کرپشنز کے الزامات میں پکڑے جانے والے اپنے پسندیدہ سیاسی قائدین کی عدالتوں میں پیشیاں بھگتنے کے شرمناک مواقعوں پراْن کے گرد جمع ہوجانے کی ذلت و خواری اور ندامت بھری ریتوں اور روایات کو بڑھوادینے کی بُری عادتیں اپنا لیں کیا وہ سیاسی اخلاقیات کے زمرے میں معتبر کہلائے جانے کے لائق ہوسکتے ہیں ;238; چند ماہ پیشتر پاکستان میں گزشتہ ستر برسوں کے بعد ہماری عمروں کے لوگوں نے پہلی بار اپنی آنکھوں سے اپنے ملک میں یہ خوش آئند نظارہ دیکھا ہے کہ جن خاندانوں نے چالیس اور بیس برسوں تک پاکستان کی مرکزی حکومت میں اور پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں پر مسلسل حکمرانی کی آج کل وہ ملک کی عدالتوں میں مالی کرپشنز کیسوں میں تفتیشی ریمانڈ پر سلاخوں کے پیچھے ہیں کہیں اْن کو باقاعدہ مجرم تسلیم کر لیا گیا ہے اور وہ جیلوں میں بند پڑے ہیں ، گزشتہ چالیس برسوں سے ملکی قانون ساز اداروں میں یہی لوگ باربار الیکشن جیت کر آتے رہے، ملکی آئین اور قانون سے مجرمانہ کھلواڑ کرتے رہے، اعلیٰ ترین سیاسی آئینی عہدوں پر فائز رہنے والوں کے لئے قانون کے شکنجوں میں استثنائیٰ سقم کی مشگافیاں بناتے رہے یوں ملکی جیلیں بھی ان کےلئے محلات سے کم نہیں رہیں آخر عوام کب تک جمہوری سیاست کے نام پر یہ مظالم برداشت کرتے یوں عوام کے شعور نے جونہی ترقی کی تو جولائی سن دوہزار اْٹھارہ کے عام انتخابات نے لگ بھگ تین چار ادوار کے لگاتار انتخابات کا یکدم سے پانسہ ہی پلٹ دیا اور پاکستان کے نوجوانوں میں مقبولیت پانےوالے نئے ابھرتے ہوئے سیاسی قائد عمران خان کی سحر انگیز اور پُرکشش شخصیت نے اُن کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو ملکی پارلیمنٹ میں عددی برتری سے جیتادیاجس کے نتیجے میں دنیا بھر کے سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگاروں نے پاکستان کے اقتدار اعلیٰ پر ایک بالکل نئے چہرے کو پاکستان کے وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوتے دیکھا نئے وزیراعظم عمران خان نے اپنی بیس سالہ سیاسی جدوجہد میں اپنے عملی کردار کے ذریعے سے پہلے یہ ثابت کرکے دیکھا دیا تھاکہ وہ اپنے فیصلہ سازی میں میرٹ پر سختی سے کار بند رہنے پرکوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ہمیشہ اپنے آپ کو ملکی قانون کے سامنے جوابدہ بنائیں گے ملکی خزانے کو عوام کی امانت کے حقیقی تصورکو عام کیا جائے گا،قومی خزانے کی ایک ایک پائی کا برابر حساب رکھا جائے گا اورخاص طورپر پاکستان میں جاری جمہوریت میں وراثتی اورحادثاتی لیڈر شپ کی فرسودہ روایات کو ختم کردیا جائے گا ایسے موقعوں پرایک انتہائی شرم اور ذلت کا یہ مقام بھی ہ میں اورآپ کو دیکھنا پڑرہا ہے کہ ماضی میں جن کرپٹ زورآوروں نے اپنی بدمعاش طینت ذہنیت کی فطرت پر مبنی حکمرانیوں کے دور میں جہاں بیورکریٹوں کی کھیپ کی کھیپ تیار کی تھی جو آج موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کےلئے ایک بڑی چیلنج بنی ہوئی ہے وہاں فیک نیوز اور جعلی خبریں گھڑنے والے بکاو قلمکاروں کی ایک بھرمار بھی ان کے پاس بطور قلم بردار کھڑی نظرآتی ہے جو وزیراعظم عمران خان اور اْن کے حکومتی فیصلوں کو نیچا دکھانے کے لئے اپنے طور پر وپیگنڈامہم چلا ئے ہوئے ہے چودہ تا بیس جون کے دوران شاءع ہونےوالے ہفتہ وار جریدے ‘‘فرائی ڈے ٹائمز’’ نے اپنے ایڈیٹوریل میں سال دوہزار انیس ۔ بیس کے مالیاتی میزانئیے پرتبصرہ کرتے ہوئے اپنے جریدے مالک ایڈیٹر کے دل کے پھپھولوں کو پھوڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیہ کون ہیں سب جانتے ہیں وقت آنے پر راءٹسٹ بن جاتے ہیں لبرل بن جاتے ہیں قوم پرست اور سیکولر بن جاتے ہیں جس انگریزی جریدے کی بات بیان کی گئی وہ کبھی ماضی میں ’امن کی آشا‘کے گلوکار بھی رہے وہ صاحب کیا کیا نہیں رہے ;238; آج کل وہ ایک ہفت روزہ جریدے کے ایڈیٹر ضرور ہیں ، پی سی بی کے چیئرمین اب وہ رہے نہیں اپنے تین ماہ کی عارضی وزارت اعلیٰ ‘کیئر ٹیکروزارت اعلیٰ کے دوران ‘پینتیس پنکچروں ’ کے نام سے جتنی بہت بدنامی اْنہوں نے کمانی تھی سو کمائی جس کا نقدر آور اجر بھی اْنہیں خوب ملا اور گھر میں اب صوبائی اسمبلی پنجاب کی ایک نشست بھی ہاتھ آگئی بحیثیت صحافی ہونے کے ناطے قلم اْن کا ایک آزمودہ ہتھیار تسلیم، مگر قلم کے اپنے کچھ دیانت وصداقت کے تقاضے بھی ہوتے ہیں یقینا ہر اہم قومی وبین الا اقوامی مسئلہ پراْنہیں اپنے لکھنے کی ذمہ داری ضروری پوری کرنی چاہیئے مگر سچائی کا دامن چھوڑے بغیر اْنہیں پاکستانی قوم کو گمراہ کرنے سے اپنے قلم کی روانی کو روکنا ہوگا ہم مانتے ہیں کہ نواز عہد میں اْن کے نام سے ساتھ پینتیس پنکچروں کا بڑا شورہوا تھا اور یوں اْن کے دل میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے خلاف چھپا پوا بغض وعناد اور حسد کی رقابت کی وہ آگ ابھی تک اْن کے اندریقینا سلگ رہی ہے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان الا ماشا اللہ اب ملک کے وزیراعظم کے مقتدر عہدے پر فائز ہیں اور اْن کی ٹاورنگ قائدانہ شخصیت سے حسد کرنے والوں کی ملک میں کوئی کمی بھی نہیں اْن کے حاسد آج کل اْن کے خلاف بولنے اور لکھنے پر ایکا کیئے ہوئے خاموش رہنا اْن کی فطرت نہیں ہے عمران خان کی ذات سے اندروانی بغض و حسد کا کینہ ایسوں کے دلوں میں کنڈلی مار ہمہ وقت پھنکارتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہتے ہیں کہ حاسد اپنے محسود کو ہمیشہ اپنے زہریلے طنز کے نشانے پر لیئے رہتا ہے اب اْن کے سامنے سال دوہزارانیس ۔ بیس کا مالی بجٹ آگیا ہے ویکلی فرائی ڈے ٹائمز کے ایڈوٹیوریل کا ذکر اس لیئے ضروری سمجھیں وہ کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کا یہ بجٹ جمہوری تقاضوں کی عکاسی نہیں کرتا یہ بجٹ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے سویلین بیورکریسی کو ڈکٹیٹ کرایا ہے، جو انتہائی سخت اور عوام دشمن بجٹ ہے ‘‘خان مخالفت’’ میں اپنی آنکھیں بند رکھنے والوں کے مطابق عوام کواس بجٹ کے مندرجات کے اعدادوشمار کے چکروں میں اکسایا جارہا ہے کہ ایف بی آر نے موجودہ مالی سال کے بجٹ میں سے تقریبا چالیس فی صد جو ایک اعشاریہ پانچ کھرب روپے بنتے ہیں آئندہ بارہ ماہ میں عوام سے زبردستی ٹیکسوں کی صورت میں وصول کیئے جائیں گے یعنی گزشتہ بجٹ سے ٹیکسوں کی مد میں جانے والی مذکورہ رقم زائد ہوگی اور اسکے باوجود ہمارا جی ڈی پی تین اعشاریہ تین فی صد سے اور گھٹ جائے گا حکومت مخالفت سیاسی کرپشنز کے حماءتی کہتے ہیں کہ حکومت کا مسئلہ دوچیزوں سے ہے یعنی جن اخراجات کا تذکرہ خصوصی طور پربجٹ میں کیا گیا ہے جن میں دفاعی اخراجات اور قرضوں پر سود کی ادائیگی کی بات کی گئی ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ سودکی ادائیگی پر حکومت کو جو ریونیو ملے گا اْس پر تو پچاس فی صد سے زائد رقم خرچ ہوجائے گی جبکہ دفاعی اخراجات پر چونتیس فی صد خرچ آئے گا یوں یہ موجودہ حکومت عوام کا اعتماد بالکل کھو بیٹھے گی جوحکومت گزشتہ بارہ ماہ میں اپنے ٹارگٹ حاصل نہیں کرپائی اور جوحکومت آئی ایم ایف کے پروگرام کو نوماہ تک ٹالتی رہی پھر یوٹرن لیا گیا گزشتہ دس برسوں کی ماضی کی سابقہ دوادوار کی حکومتوں نے عالمی اداروں سے جو اربوں ڈالر قرضے لئے وہ ملک میں کن منصوبوں پر خرچ کیئے گئے اس کی تفتیش کےلئے سویلین اور جمہوری نمائندوں کے علاوہ ملکی افواج کے سربراہ کو شامل کرکے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے فرائی ڈے ٹائمزنے اسی ٹاسک فورس کے بارے میں لکھا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی سربراہی میں قائم ہونے والی ٹاسک فورس میں عالمی اداروں کے نمائندے بھی شامل کیئے گئے ہیں اور یہ جھوٹ ہے اور سچ یہ ہے کہ قوم پوچھنے کا حق رکھتی ہے نیشنل مالیاتی تفتیشی ٹاسک فورس کو بتایا جائے کہ عالمی قرضوں کے اخراجات ملک میں کہاں لگائے گئے;238; عوام کی اکثریت کو قومی ٹیکس نیٹ میں لانا ایک قومی فریضہ ہے ملک میں جمہوری سسٹم رواں دواں ہے ریاستی جبرکی باتیں ،میڈیا اورعدلیہ پر دباو رکھنے جیسی احمقانہ سوچ فاشسٹ طرز کی آمرانہ افواہوں کو پھیلانے والے پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلی کرنے ناکام کوششیں کررہے ہیں ملک میں نہ تو ترکی اور مصرجیسا جبروقہر کا کوئی مالی سسٹم آرہا ہے اور نہ ہی ریاستی حساس ادارے رواں جمہوری نظام کے طے کردہ آئینی حدود وقیود کو پار کریں گے پاکستانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے چندروز پیشتر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ماہرین اقتصادیات کے معززین سے خطاب کرتے ہوئے یہ واضح کردیا ہے کہ مسلح افواج نے رضاکارانہ طور پر دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافہ لینے سے انکار کیا ’اور یہ واحد قدم نہیں جو ہم معیشت کی بہتری کےلئے اٹھا رہے ہیں جنرل قمر جاوید باجوہ کے مطابق مالیاتی بدانتظامی کے باعث پاکستان مشکل معاشی حالات کا شکار ہے انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومتیں اس حوالے سے تامل کا شکار رہیں انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت نے دور رس فوائد کےلئے مشکل مگر ضروری فیصلے کیے ہیں اور ہم بھی اپنے عملی اقدامات کے ذریعے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں آرمی چیف نے کہا کہ مشکل وقت میں کوئی فرد تنہا کامیاب نہیں ہو سکتا اس کیلئے قوم کا متحد ہونا ضروری ہے انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے مشکل فیصلوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کےلئے پاکستانی قوم کو مل کر اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے ۔

بنیادی سہولیات ہرفردکاحق

دنیا میں جمہوریت اور تبدیلی بذریعہ انتخاب کا غلغلہ ہے لیکن باشعور حلقے اس جمہوریت اور نتخابات کو ڈھونگ اور سرمایہ داروں کا کھیل قرار دیتے ہیں جو صرف چہروں کی تبدیلی کانام ہے جبکہ پالیسیاں وہی رہتی ہیں اس کی مثال امریکہ ہے جہاں یہ کھیل ملٹی نیشنل کمپنیاں کھیلتی ہیں نظام وہی قائم رہتا ہے اور پالیسیاں وہی باقی رہتی ہیں ۔ دنیا کے ننانوے فیصد عوام کا بنیادی مسئلہ روٹی کا ہے،روٹی کے حصول کیلئے عوام مارے مارے پھیر رہے ہیں اور نوالے کی تلاش میں ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور نوالہ ہے کہ ان کے ہاتھ نہیں آتا ہے ۔ خاص کرپاکستانی نظام کے سیاسی مسخروں نے عوام کو مہنگائی خوف اور بھوک کے تحفے کے اور کچھ نہیں دیا ہے جب بھی انہیں ضرورت ہوتی ہے وہ عوام کے سڑکوں پر نکلنے کی بات ضرور کرتے ہیں لیکن ان کے پاس عوام کے بنیادی مسائل کا کوئی حل نہیں ہے اس بنا پر عوام نہ سڑکوں پر نکلتے ہیں اور نہ جمہوریت اور آمریت میں ان کی دلچسپی ہے ان کیلئے وہی لیڈر اچھا ہے جو ان کے بنیادی مسائل حل کرسکے ۔ گزشتہ اکہتر سالوں میں پاکستان پر مسلط نظام نے داءو وپیچ تو بہت کھائے ہیں اور روپ بدلنے میں کافی شہرت حاصل کی ہے اگرچہ اس کا حقیقی چہرہ چھپا ہوا ہے اور طاقت کی ڈوری جس کے ہاتھ میں ہوتی ہے وہ کبھی سامنے نہیں آتا ہے ہم نے اس نظام کو عسکری وردی ہی میں دیکھا ہے اس کے علاوہ یہ نظام کبھی واسکٹ اور شیروانی کی نمائش کرتا ہے اور کبھی کوٹ پینٹ ی کی صورت میں سامنے آتا ہے جب بھی یہ نظام اپنا رنگ بدلتا ہے تو غریب آدمی اگرچہ خوشی سے شادیانے بجاتا ہے اور تالیاں پیٹ کر اپنے سرخ کرتا ہے مگر اسکے چہرے کی سرخی زائل ہوتی جاتی ہے اور اسکے چہرے کی زردی میں اور اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ یہ ہمارا ایک قومی المیہ ہے کہ جو روٹی اور کپڑ ا اور مکان کی بات کرتا ہے اوسے تحسین کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے اور اسے سوشلسٹ اور کیمونسٹ وغیرہ قرار دیکربدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کے خلاف فتوے اس طرح داغے جاتے ہیں جس طرح میزائل داغا جاتا ہے اور اسے پھانسی وغیرہ دینے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا ہے جس کی مثالیں موجود ہیں اور جو فتویٰ دینے والے ہیں وہ اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ انسان روح اور جسم دونوں سے مرکب ہے اوردونوں کے تقاضے الگ الگ ہیں اس انسان نے اسی سوساءٹی میں زندگی گزارنی ہے اور یہاں اپنا وقت پورا کرنا ہے اسکے روح کے بھی کچھ تقاضے ہیں اور جسم کے بھی کچھ تقاضے ہیں انسان نے ان دونوں سے نمٹنا ہے اپنے مادی تقاضوں کو پورا کئے بغیر انسان معاشرے میں اپنی زندگی گزارنے کی نشوونما جاری نہیں رکھ سکتا ہے روٹی کپڑا اور مکان اور بود وباش ۔ اس وقت ہمارے سیاسی لیڈروں کو عوام سے یہ شکوہ ہے کہ وہ ان کی کالو ں پر سڑکوں پر نہیں نکلتے ہیں اپوزیشن کی یہ خواہش ہے کہ عوام سڑکوں پر نکل کھڑے ہوں تاکہ حکمرانوں کا دھڑن تختہ ہو جائے اور اپوزیشن کو اقتدار حاصل کرنے کا موقع مل جائے لیکن عوام ہیں کہ وہ ٹھس سے مس نہیں ہوتے ان کو دال روٹی کا بھی مسئلہ ہوتا ہے اورانہیں اپنے بچوں کا پیٹ پالنا بھی ہوتا ہے کیونکہ ان کی ایک دیہاڑی کے ضائع ہونے سے ان کے گھر کا بجٹ متاثر ہوتا ہے اور پاکستانی عوام یہ بھی جاننے لگے ہیں کہ ان سیاسی لیڈروں نے انہیں کیا دیا ہے سیوائے غربت اور مہنگائی کے اور عوام یہ بھی سمجھنے لگے ہیں کہ ہمارے یہ رہنماءوں اور سیاسی کردار بشمول سیاسی مذہبی لیڈران سب کے سب نوآبادیاتی نظام کی گلی سڑی لاش کے وارث اپنے مفادات کیلئے ایک دوسرے پر غراتے ہیں اور اپنے مفادات کیلئے یہ عناصر عوام کو استعمال کرتے ہیں ۔ دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں مذہب اور مسلک کے نام پر ایک دوسرے کو بم کا نشانہ بنانے والے ہو ا،افسر شاہی قبضہ گروپ ہو ےا کسان اور مزدور کا خون چوسنے والے جاگیر دار اور سرمایہ دار ہواور ےا قوم پرستی کے نام پر ایک دوسرے کو تہ و تیغ کرنے والے ہوان سب کے مفادات عوام پر ظلم کرنے سے وابستہ ہیں اور یہ قومی مفادات سے عاری ہیں اوریہ سب الا ماشاء اللہ سامراجیت کے آلہ کار ہیں یہ تو نہ دور کے تقاضوں سے آگاہ ہیں اور نہ اورنہ ان کو اپنے شاندار ماضی کا ادراک ہے اور ان سے بہتر مستقبل کی توقع رکھنا بھی حماقت ہے کیونکہ نہ کا کویہ نصب العین ہے اور نہ ان کے پاس کوئی حکمت عملی ہے بلکہ یہ سامراج کی چھتری کے نیچے عوام کا استحصال کرنے میں مصروف ہیں اور مال جمع کرنا اور قومی خزانہ پر ہاتھ صاف کرنا ان کی سیاست کا وطیرہ ہے اور یہی ان کا مشن ہے جس پر سب گامزن ہیں ، اب عام آدمی بھی سمجھنے لگ گیا ہے کہ یہی فرعونی سیاست کی جھلک ہے جو ایکسویں صدی میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ وطن عزیز میں قدرت نے کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی ہے یہاں بہتے ہوئے دریا، سرسبز جنگات، زرخیز اراضی اور زمین میں چھپے معدنیات اور جواہرات کی کمی نہیں ہے لیکن ذاتی مفادات اور ناقص حکمت عملیوں اور کمیشن کے عوض کئے ہوئے معاہدوں نے پوری قوم کو بھکاری بنایا ہوا ہے ورلڈبینک اور آئی ایم ایف کے قرضہ جات نے ملک کی تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے اور مسائل پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کا قبضہ ہے اور سچی بات یہ ہے کہ اس دور کے بت یہ ملٹی نیشنل کمپنیا ں ہیں عام آدمی سڑک پر اس لیئے نہیں نکلتاہے کہ اس کے مسائل کا حل کسی کے پاس نہیں ہے اور انہیں اپنے آنے والے نسلوں کا مستقبل بھی تاریک نظر آرہا ہے ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق روٹی، کپڑا، صحت، تعلیم اورروزگارقوم کے ہر فرد کا بنیادی حق ہے لیکن وہ ملک کے عام آدمی کے دسترس سے باہر ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک سے غربت اور مہنگائی اور بے روزگاری کو ختم کیا جائے عوام کو نہ جمہوریت سے دلچسپی ہے اور آمریت سے بلکہ عوام کو ایک ایسے صالح نظام کی ضرورت ہے جو عوام کے مسائل حل کرسکے اور ان کے حقوق کا تحفظ کرسکے ۔

پاکستان میں ٹورازم کیلئے وسیع مواقع موجود ہیں

سبھی جانتے ہیں کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان لڑکھڑاتی معیشت کو سہارا دینے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور اس ضمن میں ان کا فوکس پاکستان میں سیاحت کے فروغ پر ہے ۔ تبھی تو انھوں نے کہا تھاکہ ہمارا تاریخی ورثہ آنے والی نسلوں کیلئے بہت بڑا سرمایہ ہے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قدرتی خوبصورتی سے مالا مال کیا ہوا ہے، ہمارا جتنا بھی تاریخی ورثہ ہے اس کو محفوظ کرنے کیلئے موثراقدامات اٹھائیں گے ۔ انھوں نے سیاحت کے فروغ کی ضرورت پر مزید زور دیتے کہا تھا’’ ترکی جیسے ممالک ٹورازم سے سالانہ 40ارب کما رہے ہیں اور ملائیشیاء جیسا ملک جس کے پاس تاریخی ورثہ نہیں ہے اس کے باوجود وہ اپنے ٹورازم سے 20ارب ڈالر سالانہ کما رہا ہے ۔ پاکستان میں تو ٹورازم کیلئے بہت وسیع مواقع موجود ہیں ‘‘ ۔ اسی تناظر میں صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ گزشتہ 15 سے 20 برس کے دوران تھائی لینڈ، لاءوس، ویت نام، بنگلہ دیش، میانمر ، کمبوڈیا، فلپائن ،سنگاپور ،ملائشیا اور انڈو نیشیا میں جو قابل رشک حد تک معاشی ترقی ہوئی ہے اس میں سیاحت کے شعبے نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے، اس کے علاوہ بھی دنیا بھر میں سیر و سیاحت کے رجحانات تقویت پا رہے ہیں اور مجموعی طور پر دنیا میں ٹورازم ان چند شعبوں میں سر فہرست ہے جو سب سے زیادہ تیزی سے پھل پھول رہے ہیں ۔ ایسے میں اس امر کو خوش آئند قرار دیا جانا چاہیے اور امید کی جانی چاہیے کہ وطن عزیز میں اس ضمن میں مزید پیش رفت ہو گی ۔ یہاں یہ امر توجہ کا حامل ہے کہ اس حوالے سے بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں کو خصوصی کردار ادا کرنا ہو گا اور ٹورازم کو بھرپور معاونت فراہم کرنا ہو گی ۔ اس ضمن میں یہ خاص طور پر توجہ طلب ہے کہ مالدیپ جیسے ساڑھے 4 لاکھ سے کم آبادی پر مشتمل چھوٹے سے ملک میں بھی ہوٹل اور سیاحت کے مراکز ہی ملک کو زر مبادلہ فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں ۔ ایسے میں پاکستان جہاں دنیا بھر کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں سے لے کر صحرا تک سبھی کچھ موجود ہے وہاں اگر توجہ دی جائے تو ہوٹلنگ کے شعبے میں خاطر خواہ مراعات اور سہولیات میسر کرا کر غالباً پاکستان کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے ۔ البتہ یہ امر ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ اس بابت آگے بڑھتے ہوئے معاشرتی اور ملکی ماحول میں توازن برقرار رکھنا خاصا ضروری ہے، بہرحال یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ وزیراعظم اس ضمن میں خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور کافی جانفشانی سے کام کر رہے ہیں ۔ غیر جانبدار حلقوں کے مطابق پاکستان کی معیشت کو گرچہ کافی دھچکے پہنچے ہیں ، مگر اس کے باوجود یہ امر باعث اطمینان ہونا چاہیے کہ مجموعی طور پر وطن عزیز میں مثبت پیش رفت کا آغاز ہو چکا ہے جس کے ثمرات ہر سطح پر محسوس کئے جا سکتے ہیں ۔ اگرچہ اس ضمن میں بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے مگر یہ کہنے میں غالباً کوئی عار نہیں کہ صورتحال قدرے خوش آئند ہے اور آگے بڑھنے کے کافی مواقع موجود ہیں ۔ اس ضمن میں یہ بات بھی شاید توجہ طلب ہے کہ ناقدین کا ایک بڑا حلقہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کو معاشی ٹامک ٹوئیاں قرار دیتا ہے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس امر کو وسیع تر قومی مفاد میں کسی بھی طور قابل رشک سوچ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ معاشی کمزوریوں کو حد سے زیادہ اجاگر کرنا غالباً خود مذمتی کے زمرے میں ہی آتا ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس ضمن میں سنجیدہ حلقے اپنی قومی ذمہ داریوں کو زیادہ موثر ڈھنگ سے سمجھیں گے ۔

احساس پروگرام اورروڈ ٹومکہ منصوبے کا افتتاح۔۔۔سیکرٹری مذہبی امورکوخراج تحسین

پاکستان تحریک انصاف نے احساس پروگرام کا آغاز کرکے یقینی طورپرایک غریب شخص کے احساس کرنے کاثبوت دیاہے ،اس پروگرام پر عملدرآمد سے ملک بھر میں غربت کاخاتمہ ہوگا، بیروز گارنوجوانوں کوقرض دیئے جائیں گے، گوکہ بظاہرحالات یہ بتارہے ہیں کہ وقت مشکل ہے لیکن اس مشکل وقت کے بعد اچھے وقت کی امید ہے ،کیونکہ گزشتہ حکومتوں کی کارکردگی دیکھی جائے تومحسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپناذاتی مفاد زیادہ اور ملکی وقومی مفاد کوپس پشت ڈال کررکھا، وزیراعظم عمران خان نے نادار افراد کا معیار زند گی بلند کرنے کے لئے احساس پروگرام کے تحت غربت میں کمی کی حکمت عملی کا ;200;غاز کر دیا ہے ۔ انہوں نے اسلام ;200;باد میں پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت احساس پروگرام کے تحت ہر ماہ سماجی تحفظ کے لئے ملک میں نئے پروگرام شروع کرے گی ۔ حکومت مختلف فلاحی منصوبوں کا ;200;غاز کررہی ہے جن کا مقصد ملک کے خدوخال کو ریاست مدینہ کے اصولوں پر استوار کرنا ہے ۔ عمران خان نے پاکستانی شہریوں کے بے نامی اثاثوں کی نشاندہی کرنے والے افراد کیلئے تین سے دس فیصد انعام کا اعلان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی بے نامی املاک سے حاصل کردہ رقم احساس پروگرام کے فنڈز میں شامل کی جائے گی ۔ اس پروگرام سے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد کو فائدہ ہوگا جبکہ ہر ماہ اسی ہزار افراد بلاسود قرضے حاصل کرسکیں گے ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے اسلام ;200;باد میں ملک کے ہوائی اڈوں پر بہترین انتظامات یقینی بنانے سے متعلق اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں ‘ سرمایہ کاروں اور غیر ملکی سیاحوں کے لئے ہوائی اڈوں پر سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ انہوں نے ائیرپورٹس پر عالمی معیار کی سہولتوں کی فراہمی اور امیگریشن اور کسٹم کا عمل زیادہ سے زیادہ ;200;سان بنانے پر زور دیا ۔ وزیراعظم نے سیکرٹری ایوی ایشن کو ہوا بازی کی نئی پالیسی کے تحت ہوائی اڈوں کے قواعد و ضوابط اور انتظام جلد الگ کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈوں کے بہترین انتظام اور بین الاقوامی معیار کی سہولتوں کی فراہمی کیلئے دلچسپی کا اظہار کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کا خیر مقدم کیا جائے گا ۔ وزیراعظم کو پی ;200;ئی اے کی کارکردگی سے ;200;گاہ کیا گیا ۔ انہیں پاکستان کے ہوائی اڈوں پر مسافروں کو بہترین سہولتوں کی فراہمی اور انتظامات کو بہتر بنانے کی ;200;ئندہ حکمت عملی سے متعلق بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ ادھروزیراعظم عمران خان نے روڈٹومکہ کے تاریخی منصوبے کا افتتاح کردیا ہے ،یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلاموقع ہے کہ عازمین حج کی امیگریشن اوردیگرامورپاکستان میں ہی کلیئر ہوں گے، اس سلسلے میں سیکرٹری مذہبی امورمیاں مشتاق نے وزیراعظم کوبریفنگ دی، میاں مشتاق کی خدمات اوراُن کی کاوشوں کووزیراعظم نے بہت سراہا، یہ منصوبہ پاک سعودی عرب کے گہرے تعلقات کاغماز ہے ،اب عازمین حج کوجدہ میں لمبی قطاروں میں نہیں لگناپڑے گا اس کاتمام ترکریڈٹ وزیراعظم عمران خان کوجاتاہے ،منصوبے کے تحت پاکستانی عازمین حج کے کسٹم کلیئرنس اورامیگریشن کے تمام مراحل ان کی روانگی سے قبل پاکستانی ایئرپورٹس پر ہی مکمل کئے جائیں گے تاکہ انہیں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر طویل انتظارنہ کرنا پڑے ۔ سعودی ولی عہدشہزادہ محمدبن سلمان کے پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ان سے روڈٹومکہ منصوبے میں پاکستان کوشامل کرنے کی درخواست کی تھی ۔ روڈٹو مکہ پروگرام اس سال اسلام ;200;باد کے ہوائی اڈے سے شروع کیا گیا ;200;زمائشی منصوبہ ہے جسے ;200;ئندہ برسوں میں ملک کے دیگر ہوائی اڈوں تک وسعت دی جائے گی ۔ روڈ ٹو مکہ منصوبہ پاکستانی عازمےن حج کےلئے نہایت اہمےت کا حامل ہے ۔ اس سہولت کی فراہمی مےں سعودی ولی عہد کا کردار قابل تعرےف ہے ۔ وزےراعظم عمران خان نے پاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے ۔

مودی کاجنگی جنون اوربھارتی بزدل فوج

بھارتی جنگی جنون کسی طرح تھمنے میں نہیں آرہا، مودی نے پہلے ہی خطے کا امن وامان تہہ وبالاکرکے رکھاہواہے ،اب اس نے اپنے دفاعی بجٹ میں مزیداضافہ کردیاہے،بھارت کی انہی حرکات کی وجہ سے خطے میں اسلحے کی ایک نئی دوڑ شروع ہوجاتی ہے مگر بھارت جتنابھی زورلگالے وہ خطے کاسردار کبھی بھی نہیں بن سکتا، لاکھوں دہشت گرد فو ج کے ذریعے آج تک تحریک آزادی کشمیر کوتونہیں دباسکاتو یہ اس کی محض خام خیالی ہے کہ وہ اسلحہ جمع کرکے اپنی برتری قائم رکھ سکے،اسلحہ چلانے کے لئے فوج کابہادرہونابھی ضروری ہے لیکن بھارتی فوج بزدلی کے اعلیٰ ترین درجوں پرفائز ہے ،بھارت کی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے 422 ارب امریکی ڈالر مالیت کا سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے گزشتہ پانچ برسوں میں ملک کی معیشت میں ایک لاکھ کروڑ ڈالر کا اضافہ کیا ہے ۔ ;39;اس وقت ملک کی معیشت تین لاکھ کروڑ ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے اور ;200;ئندہ پانچ برسوں میں ہم اسے پانچ لاکھ کروڑ ڈالر تک پہنچائیں گے ۔ اس بجٹ میں انکم ٹیکس کی بنیادی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے ۔ وزیرِ خزانہ نے بجٹ میں دفاع کےلئے 318931 کروڑ روپے مختص کیے ہیں ۔ یہ رقم گزشتہ بجٹ کے مقابلے تقریب;200; ;200;ٹھ فیصد زیادہ ہے ۔ اس کے علاوہ دفاعی سروسز سے منسلک افراد کی پنشن کے لیے 112079 کروڑ روپے علیحدہ رکھے گئے ہیں ۔ کانگریس کے رہنما اور سابق وزیرِ خزانہ پی چدمبرم نے بجٹ کے بارے میں اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا ایسا بجٹ ہے جس کے بارے میں ہ میں تفصیلات کا نہیں پتا ہے ۔ ;39;مجھے نہیں پتا ہے کہ دفاع کا بجٹ کیا ہے ۔ ;39;انتخاب جیتنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کا یہ پہلا بجٹ ہے ۔

اپوزیشن کی رہبرکمیٹی کا اجلاس

اپوزیشن جماعتوں کی رہبرکمیٹی چیئرمین شپ کے حوالے سے کسی حتمی فیصلے تک نہ پہنچ سکی، اب انہوں نے جن مظاہروں اور یوم سیاہ کا اعلان کیاہے اس میں بھی وقت ہی بتائے گاکہ وہ کتنے کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں ، کمیٹی نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کیلئے قراداد 9 جولائی کو جمع کرانے اور حکومت کیخلاف ملک بھر میں 25 جولائی سے احتجاجی مظاہرے شروع کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔ اجلاس میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ ملک میں ایک نیا سیاسی ڈھانچہ تشکیل دیاجارہا ہے جو انتہائی باعث تشویش ہے ۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلانے سے متعلق اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے کی حکمت عملی بھی مرتب کرلی گئی جس کے تحت تمام بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہونگے ۔ رہبر کمیٹی نے پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ودیگر سیاسی رہنماءوں کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔

مقبوضہ وادی کے بےگناہ مظلوم کشمیری

یہ ایک حقیقت ہے کہ ظلم،جبر، تشدد اورخونِ ناحق ہمیشہ ردعمل کو جنم دیتا ہے ۔ بھارتی حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ ظلم کے ہتھکنڈوں سے آزادی کے بڑھکتے شعلوں کو ٹھنڈا کر رہے ہیں ، لیکن بھارتی فوج کا ظلم آزادی کے شعلوں کو مزید تیز ترکر رہا ہے ۔ یہی معاملہ برہان وانی شہیدکا تھا ۔ بھارتی فوج کے مظالم نے اسے شعلہ مستعجل اور پھر آتش فشاں بنا دیا ۔ کشمیر کی تحریک آزادی گلے کی ایسی ہڈی بن چکی ہے جسے بھارت نگل سکتا ہے اور نہ اگل سکتا ہے ۔ جس کی تازہ مثال ابوالقاسم اوربرہان مظفر وانی کی شہادت اور اس کے بعد کی پیدا شدہ صورت حال ہے ۔ مقبوضہ جموں کشمیر کے ضلع پلوامہ کے علاقے ترال کے گاؤں داد سارا میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ متوسط گھرانے میں برہان نے آنکھ کھولی ۔ شہیدکے والد مظفر وانی گورنمنٹ سیکنڈری اسکول لوری گرام ترال کے ہیڈ ماسٹر اور حساب کے استادتھے ۔ والدہ میمونہ ظفرسائنس گریجوایٹ اوراتوارکے روزگاؤں کی خواتین کوقرآن پڑھاتی ہیں ۔ ان دونوں کے چار بچے تھے ۔ بڑا بیٹا خالد مظفر وانی ایم کام میں تھا ۔ چھوٹا بیٹا برہان وانی میٹرک میں تھا ۔ 18سالہ بہن ارم مظفروانی انٹرکی طالبہ اور16سالہ چھوٹابھائی نویدعالم وانی میٹرک کاطالب علم تھا ۔ اب سے آٹھ برس پہلے دو ہزار دس کے کسی ایک دن دو نوں بھائی خالد مظفر ، برہان مظفر اور ان کا ایک دوست موٹرسائیکل پر جا رہے تھے کہ پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کے اہلکاروں نے انھیں بلاوجہ روکا تلاشی کا مطالبہ کیا تینوں نے نہایت ہی خاموشی اور شرافت سے تلاشی دی لیکن پولیس اہلکاروں نے ان کی خاموشی کو بزدلی سمجھتے ہوئے پیٹنا شروع کردیا ۔ ناز و نعم میں پلاخالد بے ہوش ہوگیا جبکہ برہان اور اس کا دوست وہاں سے فرار ہوگئے ۔ برہان شہیدکے والدمظفروانی کہتے ہیں ’’بھارتی فوجیوں کے مظالم کی داستانیں سن کرکم عمربرہان بے چین ہوجایاکرتاتھا ۔ وہ بھارت فورسزکے مظالم کے کئی واقعات اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ چکاتھالہندا درندہ صفت فوجیوں کے خلاف اس کے دل میں نفرت کالاواپک رہاتھا ۔ بڑے بھائی خالد کی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت کے بعد وہ بہت بے چین رہنے لگاتھا ۔ پھرایک دن موسم سرما کی صبح وہ اچانک گھرسے غائب ہوگیا ۔ یہ سولہ اکتوبر کا دن تھا اورصرف دس دن بعداس کا دسویں کلاس کاسالانہ امتحان تھا ۔ نویں جماعت میں میرے بیٹے نے پورے کشمیر میں اوّل پوزیشن حاصل کی تھی ۔ وہ ایک خاموش طبع، حساس، دیندار اور ہونہارطالب علم اورایک اچھا کرکٹر تھا ۔ کچھ عرصے بعدہ میں اطلاع ملی کہ وہ حرب المجاہدین میں شامل ہوچکا ہے ۔ اگلے پانچ برس تک برہان سیکورٹی فورسزکوتگنی کاناچ نچاتارہا ۔ اس دوران وہ مقبوضہ وادی کاسب سے مقبول جہادی کمانڈربن چکا تھا ۔ اس کی حیثیت ایک افسانوی کردارجیسی تھی ۔ نوجوان کشمیری نسل نے اسے اپنارول ماڈل قرار دیا اورپورے کشمیر میں بچے بچے کی زبان پراس کا نام تھا ۔ پانچ برس کے دوران برہان وانی شہید نے قابض بھارتی فوجیوں کے خلاف کئی خطرناک، کامیاب آپریشن کئے اورمعرکے لڑے، جن میں بیسیوں فوجیوں کے علاوہ اعلی عہدوں کے حامل بہت سے افسرمارے گئے ۔ بھارت دنیا کا واحدملک ہے جو سر کاری سطح پردہشت گردی کو فروغ دیتا،پروان چڑھاتا، دہشت گردتیار کرتا اوراپنے پڑوسی ممالک میں ایکسپورٹ کرتا ہے دوسری طرف بھارتی حکمرانوں کی ڈھٹائی اور بے شرمی کی انتہا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں کشمیر میں آزادی کی جنگ لڑنے والوں کو دہشت گردقراردیتے ہیں حالانکہ مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری جدوجہد دہشت گردی نہیں بلکہ آزادی کی تحریک ہے ۔ یہاں تک کہ اہل کشمیر کا آزادی کا حق جواہر لال نہرو نے بھی تسلیم کیا تھا اور یو این او نے بھی تسلیم کر رکھا ہے ۔ چنانچہ اہل کشمیر نے حق خودارادیت تسلیم کروانے کےلئے ہر کوشش کرڈالی لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ہی رہا ۔ سواہل کشمیر نے ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے1988ء میں مسلح جدوجہدکا آغاز کیا ۔ بھارت اس تحریک کو دبانے اورکچلنے کےلئے ہر حربہ و ہتھکنڈہ استعمال کرچکا ہے ۔ بھارتی مظالم کا اندازہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی درج ذیل رپورٹ سے کیاجاسکتاہے جس میں بتایاگیاتھاکہ ’’مقبوضہ جموں کشمیر میں روارکھے جانے والے بھارتی مظالم کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ بیٹوں کو ماءوں بہنوں کے سامنے ننگا کرکے ماراجاتا ،ان کے جسموں پر کھولتا ہوا پانی ڈال دیا جاتاہے جس سے ان کی کھال اتر جاتی ہے بعدازاں ان کے زخموں پر مرچیں چھڑک دی جاتی ہیں جس سے وہ تڑپ تڑپ اور سسک سسک کر موت کے اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں ۔ ‘‘2007ء میں ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ’’مقبوضہ جموں کشمیر میں گرفتار شدہ افراد پر وحشیانہ تشدد کے علاوہ ان کی خوراک اور پانی بند کر دیاجاتا ہے،انہیں سونے نہیں دیا جاتا،بجلی کے جھٹکے لگائے جاتے اور جسموں میں سوراخ کر دیئے جاتے ہیں ۔ ‘‘اس کے بعدہی بھارتی حکومت نے برہان وانی شہید کے سرکی قیمت دس لاکھ مقررکردی ۔ 8جولائی کو برہان وانی ککرناگ میں اپنے دیگر دو جہادی ساتھیوں کے ہمراہ ایک مقامی دوست فاروق احمدکے گھر میں موجود تھا کہ بھارتی افواج نے فاروق احمدکے گھرکامحاصرہ کر لیا ۔ اس مقابلہ میں برہان نے اپنے دوساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کیا ۔ 21سالہ برہان وانی کی شہادت پر بھارتی حکومت کو جس شدید ترین ردعمل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اس کی مثال مقبوضہ جموں کشمیر کی گذشتہ تاریخ میں نہیں ملتی ۔ وانی کی شہادت کا بدلہ لینے کے لئے بیسیوں مجاہد میدان میں آ چکے ہیں ۔ ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ کے بقول برہان وانی کی مقبولیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ سری نگر میں 40بار اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور مجاہدین نے کلاشنکوفوں سے سلامی دی ۔ حالات صاف بتا رہے ہیں کہ اب بھارت کےلئے تحریک آزادی پر قابو پانا ناممکن ہو چکا ہے ۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد بھی کئی نامور کمانڈر جام شہادت نوش کر چکے ہیں ۔ حقیقت ہے کہ بھارتی فوج کے مظالم تحریک آزادی کو تیزدم کر رہے،تازہ ایندھن اورگرم خون مہیاکررہے اور تحریک آزادی کشمیر کمزور ہونے کی بجائے مضبوط ہورہی ہے ۔ جب ایک نوجوان بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہوتا ہے تو کئی نوجوان اسلحہ تھام کر انتقام لینے کےلئے میدان میں آجاتے ہیں ۔ اس کی تائید ہیومن راءٹس واچ نے بھی کی ۔ ایک بھارتی فوجی نے اپنی ڈائری میں ایک واقعہ لکھا’’ بھارتی میڈیا اوربھارتی حکمران کہتے ہیں مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فوج دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہی ہے مگر ایسا نہیں ہم جموں کشمیر میں جنہیں مارہے ہیں وہ بیگناہ لوگ ہیں باقی رہے ہم فوجی ہم تو حکم کی تعمیل پر مجبور ہیں ہ میں جو کہا جاتا اور تربیت میں سکھایا جاتاہے ہم وہ کرتے ہیں ۔ ‘‘

ظلم کی تارےک رات ختم ہونے والی ہے

معزز قار ئےن نوجوان نسل کو مسئلہ کشمےر سے کماحقہ آگاہی و شناسائی دلانے کےلئے ضروری ہے کہ تارےخی سےاق و سباق کے حوالے سے اس کا مختصر سا تعارف اور معلوماتی خاکہ پےش کےا جائے کشمےر دنےا کی اےک حسےن ترےن برف پوش وادی ہے جہاں مسلمانوں نے پانچ سو سال تک حکومت کی برصغےر مےں مسلمانوں کے اقتدار کا سورج غروب ہوا تو سکھوں نے ےورشےں کر کے اس جنت نظےر وادی کو چھےن لےا انگرےزوں نے ہندوستان پر تسلط جمانے کے بعد سکھوں پر ےلغار کردی اور سکھوں کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے اس برف پوش وادی کو گلاب سنگھ ڈوگرا کے ہاتھ 76لاکھ کے عوض فروخت کر دےا اےک صدی کے طوےل عرصہ تک مسلمان سکھوں اور ڈوگروں کے ظلم کی چکی مےں پستے رہے ۔ 1931ء مےں اس ظلم اور بربرےت کے خلاف جموں و کشمےر کے مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اےک انگرےز مصنف کی تصنےف ’’ دی وےلی آف کشمےر‘‘ کے مطابق اس زمانے مےں ساڑھے تےن سو مجاہدےن پر مقدمات چلائے گئے اور 13جولائی 1931ء کے خون آشام واقعہ مےں بائےس مسلمان شہےد ہوئے ۔ 1947ء مےں تقسےم ہند کے بعد اس وادی فردوس نظےر کا فےصلہ ےہاں کے رہنے والے باشندوں کے سپرد کےا گےا کہ وہ اپنی رائے کے مطابق اس کا الحاق ہندوستان ےا پاکستان سے کر سکتے ہےں ۔ 24اکتوبر1947ء کو اس وادی کا حکمران ہری سنگھ ڈوگرہ جموں بھاگ گےا ۔ اس الحاق ہندوستان کے معاہدے پر دستخط کر کے ہندو فوج طلب کر لی ۔ معاہدے کے فوراً بعد ہندوستان نے اپنی فوجےں سرینگر بھےج دےں ۔ مسلمانوں کا قتل عام از سرنو شروع کر دےا گےا ۔ 1947ء سے تا حال اہل کشمےر اسی استصواب رائے کا انتظار کرتے رہے اور اپنے خون نا حق کی قربانی دےتے رہے ۔ معزز قارئےن 5جنوری 1947ء کو اقوام متحدہ مےں اےک قرار داد پاس ہوئی جس کے مطابق رےاست جموں و کشمےر کے ہندوستان ےا پاکستان سے الحاق کا معاملہ جمہوری طرز فکر کے تحت آزادانہ اور غےر جانبدارانہ اقوام متحدہ کی زےر نگرانی منعقد ہونے والی رائے شماری کے ذرےعے طے کےا جائے گا ۔ اقوام متحدہ کی اس قرار داد پر بھارت کے سابق آنجہانی وزےر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے ےہ اعلان کر کے مہر تصدےق ثبت کر دی کہ کشمےر کی قسمت کا فےصلہ کشمےر کے لوگ کرےں گے ۔ وزےر اعظم نے کہا کہ ہمارا ےہ عہد نہ صرف کشمےرےوں سے بلکہ پوری دنےا سے ہے اور ہم اس عہد کی پاسبانی کرےں گے ۔ بعد ازاں بھارت اس تسلےم شدہ حقےقت سے منحرف ہو گےا بلکہ کشمےر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنا شروع کر دےا اور تا حال اس نے اپنے اےجنڈے مےں سر مو فرق نہےں آنے دےا ۔ بےن الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ کے فےصلے اور بھارتی وزےر اعظم جواہر لال نہرو کے وعدے کے باوجود بے گناہ کشمےرےوں کے خون سے ہولی کھےلی جا رہی ہے ۔ 1950ء کے عشرے مےں اس مسئلے کے حل کےلئے پاکستان نے اقوام متحدہ کے پلےٹ فارم پر دوبارہ کوشش کی جموں کشمےر مےں استصواب رائے کےلئے قرار دادےں پاس کےں لےکن کوئی نتےجہ نہ نکلا ۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ اسی تنازعہ کا شاخسانہ تھی ۔ 1966ء مےں معاہدہ تاشقند ہوا جس مےں کہا گےا تھا کہ مسئلہ کشمےر دو طرفہ مذاکرات کے ذرےعے حل کےا جائے گا لےکن کوئی مثبت پےش رفت نہ ہو سکی ۔ 1971ء کی پاک بھارت جنگ کی بڑی وجہ ےہی مسئلہ تھا ۔ بھارت کی انٹےلی جنس اےجنسےوں نے مشرقی پاکستان مےں مکتی باہنی کے ذرےعے خفےہ آپرےشن پروان چڑھاےا ،بنگالےوں کے احساس علےحدگی کو تقوےت دی اور ان کے احساس محرومی کو مزےد پانی دے کر مغربی پاکستان کے خلاف بطور اےک کامےاب حربہ استعمال کےا جس کے نتےجے مےں پاکستان دو لخت ہو گےا پاکستان کو شملہ معاہدے پر دستخط کرنا پڑے اس کے بعد عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے اس بات پر زور دےا کہ دونوں ممالک مسئلہ کشمےرمذاکرات کے ذرےعے حل کرےں ۔ ہر بار ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور مےں نہ مانوں کی پالےسی آڑے آئی ۔ 1988ء مےں مجاہدےن کشمےر نے اپنی آزادی کے حصول کےلئے مسلح جدوجہد شروع کی ۔ اس جدوجہد نے ہندوستان کی سات لاکھ فوج کو کشمےر مےں بے بس کر کے رکھ دےا ۔ ہندوستان کی سےاسی و عسکری طاقت مجاہدےن کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کا نام دے کر پاکستان پر عالمی دباءو ڈالنے کی کوشش کرتی ہے ۔ معزز قارئےن آج کشمےر کے ہر مجاہد اور اس کے خاندان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہےں ۔ اسلام کی بےٹےاں ہندو لٹےروں کے ہاتھوں لٹ رہی ہےں ،والدےن کے سامنے ان کی عزت برباد کی جارہی ہے ۔ ٹارچر سےلوں مےں بے گناہ کشمےرےوں کو اذےت ناک اور ناقابل فراموش سزائےں دی جا رہی ہےں ۔ ہندو درندوں کی بر برےت اور ظلم کے ہاتھوں کوئی گھر محفوظ نہےں ۔ مسلمانوں کے گھر جلا دیے گئے ،پےلٹ گنوں کے استعمال سے سےنکڑوں مظلوم کشمےرےوں کو بےنائی سے محروم کر دےا گےا ، مساجد کو مندروں مےں تبدےل کر دےا گےا دمظلوم کشمےرےوں پر ظلم کی ےہ تارےک رات ختم ہو جائے گی اور ظلمتوں کی اس تارےک رات سے اےک دن ضرور سپےدہ سحر نمودار ہوگا ۔ مسلمانوں پر بھارتی ظلم و ستم کی ےہ صورت حال بھی پاکستان کے کشمےر پر موقف کی حقانےت کا واضح ثبوت ہے اور ساتھ اس حقےقت کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ کشمےری عوام پاکستان کے کشمےر پر اصولی اور درست موقف کے پر جوش حامی ہےں ۔ بھارت پاکستان سے کشےدگی بڑھانے کی کوئی نہ کوئی مہم شروع رکھتا ہے ۔ مسئلہ کشمےر سمےت باہمی تنازعات بات چےت کے ذرےعے حل کرنے کی پاکستانی پےشکش کے جواب مےں بھارتی حکومت نے اپنی رواےت کو برقرار رکھتے اور حسب عادت پاکستان پر الزام تراشی کا ڈھول پےٹتے ہوئے مذاکرات کی دعوت قبول کرنے کے اگلے روزہی راہ فرار اختےار کرلی ۔ بھارتی آرمی چےف جنرل بپن راوت نے بڑھک لگاتے ہوئے کہاتھا کہ پاکستانی فوج سے بدلہ لےنے کا وقت آگےا ،اس کو ان کی زبان مےں جواب دےا جائے گا ، ہم اپنی اگلی کارروائی کی تفصےل نہےں بتا سکتے ،پاکستان کو سرپرائز دےں گے ۔ پاک فوج کی جانب سے اس بد زبانی کا جواب موثر، معقول اور نپی تلی زبان مےں دے دےا گےا ۔ جب خطے مےں پاک چےن بڑھتی ہوئی قربت ،بھارت کو الگ تھلگ اکائی بنا دےنے کی پوزےشن مےں ہو اور بھارتی دفاعی اسٹےبلشمنٹ اور حکومت کے دفاعی سودوں مےں بد عنوانی کے سکےنڈل طشت از بام ہو رہے ہوں ، مخالف سےاسی جماعتےں اور مفلوک الحال عوام اس پر انگشت بدنداں ہوں تو پھر اےسے مخالفانہ بےانیے جاری کرنا مودی حکومت کی مجبوری ہے ۔ اس قسم کا اےک تازہ سکےنڈل 2016ء مےں فرانس سے 36رافےل طےاروں کی خرےداری مےں بدعنوانی کا ہے ۔ پاکستان مخالف بےانیے کو ہوا دےنا بھارتی جنتا پارٹی کی مودی حکومت بچاءو مہم کا حصہ ہے ۔ بھارت نے خطے مےں ہتھےاروں کی دوڑ شروع کر رکھی ہے ہر دوسرے دن مےزائلوں کے نئے نئے تجربات کر رہا ہے ۔ آج عالمی برادری اور سپر طاقتوں کو جنوبی اےشےاء مےں جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کا جو بھارت کی ہٹ دھرمی، مذاکرات سے پہلو تہی اور اسلحہ کے ڈھےر لگانے سے پےدا ہوئے ہےں ، نوٹس لےنا چاہیے اور بھارت کو مجبور کےا جائے کہ وہ پر امن حالات پےدا کرے اور تمام مسائل کے حل کےلئے پاکستان کےساتھ مذاکرانہ طرز عمل اختےار کرے ۔ ہمارے حکمرانوں کی ہمےشہ ےہ کوشش اور خواہش رہی ہے کہ بھارت کے ساتھ تنازعہ کشمےر سمےت تمام اختلافی امور خوشگوار ماحول اور پر امن مذاکرات کے ذرےعے طے پا جائےں اور دونوں ملک اپنے بجٹ کا کثےر حصہ دفاع پر خرچ کرنے کی بجائے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی پر خرچ کرےں لےکن افسوس کہ بھارت نے پاکستان کو نہ ہی دل سے قبول کےا ہے اور نہ ہی تسلےم اور ابھی تک اس نے حق خود ارادی کے وعدے پورے کرنے کی بجائے ڈھٹائی کے ساتھ اسے اپنا اٹوٹ انگ کہنے کی رٹ لگا رکھی ہے ۔ ےہ سب باتےں دنےا پر بھارت کی اصلےت کو اچھی طرح بے نقاب کر چکی ہےں ۔ مسئلہ کشمےر کا قطعی اور سر بسر منصفانہ حل ساری دنےا کے سامنے موجود ہے ۔ ےو اےن او اس حل پر مہر توثےق ثبت کر چکی ہے خود کشمےر کے عوام اور اس کی نمائندہ جماعتےں اس حل کے سوا کوئی حل قبول کرنے کےلئے تےار نہےں اور جب مسئلہ کشمےر کے منصفانہ حل کےلئے متفق علےہ اور طے شدہ بنےاد موجود ہے اور ساری دنےا اس کی گواہ ہے تو آج بھارت اپنی تازہ مصلحتوں کی بنا پر استصواب رائے سے رو گردانی کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہر گز نہےں کہ اےسے نئے اور متبادل حل تلاش کئے جائےں جو بھارت کے مفاد مےں ہوں ۔ اگر عالمی برادری کو امن عزےز ہے تو کشمےر کا مسئلہ حق وانصاف کے اصولوں کے مطابق حل کرانے کےلئے اپنا کردار ادا کرے ۔

نیو انڈیا، نکسل خواتین کی زبوں حالی !

کانگرس کے سربراہ راہول گاندھی نے نام نہاد بھارتی یوگا دیوس (یوگا ڈے)کے موقع پر نیو انڈیا کے عنوان سے جو ٹویٹ اور تصویر شیئر کی ، اس پر ہندوستانی وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ غیر جانبدار حلقوں کے مطابق پچھلے ایک ہفتے میں جس طرح بھارتی صوبے بہار کے مظفرپور میں 150سے زائد معصوم بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں ، اس سے نیو انڈیا اور شائنگ انڈیا کے دعوءوں کی حقیقت بڑی حد تک واضح ہو گئی ہے ۔ بقول شاعر

بیکاری و عریانی و مے خواری و افلاس

کیا کم ہیں یہ برہمنِ بھارت کی فتوحات

ہندوستان کے حکمران طبقات تو اکثر اپنی عظمت کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں ، جبکہ ناقدین کی رائے میں دہلی سرکار کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا مظہر مندرجہ بالا شعر ہے ۔ اسی متضاد صورتحال کا جائزہ لیتے بہت سے انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ بھارت میں خواتین طرح طرح کے مظالم سہہ رہی ہیں اور ان کیساتھ بھارتی معاشرے کے طرز عمل کو کسی بھی طور مساویانہ قرار نہیں دیا جا سکتا مگر اس ضمن میں قبائلی ہندو خواتین کی حالت تو ایسی قابل رحم ہے جن کا تصور بھی دور حاضر میں نہیں کیا جا سکتا ۔ ہندوستان میں نکسل تحریک کے فروغ میں اسی عنصر کا بنیادی عمل دخل ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت کے کل رقبے میں سے 40 فیصد حصے پر عملی طور پر نکسل گوریلوں کا کنٹرول ہے اور تقریبا ہر روز ان کی کاروائیوں میں بھارتی سیکورٹی فورسز کے درجنوں اہلکار اور عہدیدار ہلاک ہو رہے ہیں تبھی تو چند روز پہلے مہاراشٹر کے گڑچرولی میں 20 سے زائد انڈین فوجی ایک ہی حملے میں نکسل چھاپہ ماروں کے ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھے ۔ خانہ بدوش ہندو قبائلی خواتین کی حالت زار کا اندازہ صرف اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ممتاز ہندو خاتون صحافی اور دانشور ارون دھتی رائے نے انکشاف کیا کہ بھارتی معاشرے میں خانہ بدوش ہندو قبائلی خواتین کو اپنی شادی کے بعد اپنے جسم کا اوپری حصہ عریاں رکھنا پڑتا ہے اور اکیسویں صدی کے اٹھارہ برس گزر جانے کے باوجود بھی ان کروڑوں بے کس ہندو خواتین کو اونچی ذات کے ہندوءوں کے بنائے ان گھٹیا اور فرسودہ قواتین اور روایات کی سختی سے پابندی کرنی پڑتی ہے اور حد درجہ امتیازی سلوک کا شکار ہونا پڑتا ہے ۔ اس انسان دوست ہندو خاتون صحافی کے مطابق بھارت کے بالا دست طبقات کے اسی ظالمانہ طرز عمل کے نتیجے میں بھارت کے مختلف صوبوں میں نکسل تحریک کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے اور تاحال اس میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، کیونکہ نکسل تحریک خواتین اور معاشرے کے دیگر طبقات پر ہونے والے اس وحشیانہ اور غیر مساوی رویے کے خلاف سرگرم عمل ہے اور اپنے دعوے اور عمل سے ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ خواتین کے ساتھ اس قسم کا طرز عمل گوارہ نہیں کرے گی ۔ اسی وجہ سے ہندوستان کے خانہ بدوش ہندو قبائل اور نچلی ذات کے ہندوءوں میں یہ تحریک حیرت انگیز سرعت کے ساتھ مقبولیت حاصل کر رہی ہے اور اپنے زیر قبضہ علاقوں میں نکسل چھاپہ ماروں نے اچھوت اور ہندو قبائلی خواتین کیساتھ ہونیوالے اس قسم کے سلوک کی خاصی حد تک حوصلہ شکنی کی ہے ۔ واضح رہے کہ بھارت کے اونچی جاتی کے ہندوءوں کی بالا دستی کے معاشرے میں خواتین پر صرف اسی طریقے سے ظلم نہیں ڈھایا جا رہا بلکہ پسماندہ ہندو خواتین سے غیر مساوی سلوک کئی دوسرے طریقوں سے بھی روا رکھا جا رہا ہے جس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں ۔ 1 ;58;کوئی ہندو اچھوت اور قبائلی خاتون یہ حق نہیں رکھتی کہ وہ اپنے ہاتھوں سے کسی بھی فصل کے بیج بو سکے یعنی کاشت کاری کر سکے، اس عمل کو انتہائی بدشگونی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور ایسی خواتین کو عبرت ناک سزائیں دی جاتی ہیں ۔ 2 ;58;خواتین کو ماہانہ خصوصی ایام میں گاءوں سے باہر بنی الگ تھلگ جھونپڑی نما کوٹھریوں میں بھیج دیا جاتا ہے اور تقریبا ایک ہفتے بعد انھیں گاءوں واپس آنے کی اجازت ہوتی ہے ۔ وہ اپنے کھانے پینے کا سامان بھی اپنے ساتھ لے جاتی ہیں کیونکہ ان دنوں میں ان کے ساتھ کسی قسم کا ربط و ضبط حتی کہ بات چیت ممنوع ہوتی ہے اور ایسا ہونے کی صورت میں مذکورہ خاتون کو ہی مجرم اور ذمہ دار گردانا جاتا ہے ۔ 3 ;58;ان خواتین کی زبردستی شادیاں اور اغوا انتہائی معمول کی بات ہیں ۔ 4 ;58;ان علاقوں میں بھارتی فوجی اور نیم فوجی دستے تبھی داخل ہونے کی جرات اور زحمت کرتے ہیں جب انھیں کھانے کیلئے مرغیوں یا اجتماعی آبرو ریزی کیلئے خاتون کی خواہش اور ضرورت ہوتی ہے ۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے غیر جانبدار تجزیہ نگاروں نے رائے ظاہر کی ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست ہونے کا دعویدار ہے اور تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا کی اکثریت اس بھارتی دعوے پر یقین بھی کرتی ہے ۔ ایسے میں مہذب دنیا اور انسانی حقوق خصوصا عورتوں کے حقوق کے بین الاقوامی علم برداروں کا شاید یہ فریضہ ہے کہ بھارت میں ہو رہی انسانی حقوق کی پامالیوں کے اس سلسلے کی طرف توجہ دیں ۔ دلچسپ مگر افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ یہ سب کچھ اس ملک میں ریاستی اور حکومتی سرپرستی میں منظم انداز میں رونما ہو رہا ہے جہاں ایک خاتون 16 برس سے زائد عرصہ تک وزارت عظمیٰ (مسز اندرا گاندھی)کے منصب پر فائز رہی ہیں اور ابھی بھی کانگرس کی اصل سربراہ سونیا گاندھی ہی ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی رابڑی دیوی، مایا وتی، ممتا بینر جی، شیلا دکشت جیسی خواتین بھارتی سیاست میں اپنا مقام رکھتی ہیں ۔ مگر اس کے باوجود خواتین کی حالت زار میں نمایاں بہتری لانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں اور انہی علاقوں میں نکسل تحریک کا زیادہ اثر و رسوخ بھی ہے ۔

شیخ القُر آن و شیخ الحدیث مو لانا محمد طیب سے ملاقات

چند دن پہلے تو حید و السنہ کے شیخ القُر آن اور شیخ الحدیث مو لانا محمد طیب سے اُنکے مد رسے دارلقر آن پنج پیر صوابی میں ملاقات ہوئی ۔ مولانا محمد طیب مشہور عالم دین اور مذہبی سکالر مو لانا محمد طاہر کے فر زند ارجمند اور آئی ایس آ ئی اور ایف آئی اے کے سابق اعلیٰ اہل کار میجر ریٹائرڈ ئر ڈ محمد عامر کے بڑے بھائی ہیں ۔ مولانا محمد طیب انتہائی بُر بر دار ، صا حب فراست ، صا حب فہم اور صا حب علم انسان ہیں ۔ وہ ہر بات کو انتہائی سلیس مگر جا مع انداز میں پیش کرتے ہیں ۔ مولانا محمد طیب سے جب جماعت اشاعت التو حید و سُنہ کے عر ض عایت کے بار ے میں پو چھا گیا تو مولانا طیب صا حب فر مانے لگے کہ جماعت تو حید اشاعت التو حید و سنہ کے اغراض و مقاصد میں 1) تو حید و سنت کی اشاعت اور شرک و بد عت کی تر دید کرنا 2) عصمت انبیائے علیھم السلام اور عقیدہ ختم نبو ت کا تحفظ کرنا ۔ 3) تمام صحابہ کرام کو عادل ، راشد اور معیار حق سمجھنا اور انکو تنقید و تنقیض سے بالا تر سمجھتے ہوئے انکے مقام کا دفا ع کرنا4) فقہ کے چاروں آئمہ کو بر حق سمجھتے ہوئے امام ابو حنیفہ کے مسلک کی پیروی اور ترویج کرنا اور سلف صا لحین کا احترام کرنا ۔ 5) فہم قُر آن کریم کو عام کرنے اور اصلاح عقائد و اعمال کے لئے دروس قُر آن کریم کا اہتمام کرنا ۔ 6)غلبہ اسلام اور دفا ع اسلام کے لئے قولی ، قلمی اور عملی جہاد کرنا ۔ 7) مغربی تہذیب کے مقابلے میں اسلامی ثقافت کو فرو ع دینا اور اسلام کے ساتھ ازموں کا سدباب کرنا ۔ 8)فحا شی عریانی اور رسومات جا ہلیت کا خاتمہ کر کے معاشرے کی اصلا ح کرنا ۔ 9) پاکستان کی سالمیت اور اس میں اسلامی نظام کی جدو جہد اور کو شش کرنا اور ایسا ما حول پیدا کرنا جو اسلامی نظام کےلئے ساز گار ہو ۔ 10)نو جوان کو عمو ماً اور طلبہ کو با لخصوص ان اعراض و مقاصد کی تکمیل اور اشاعت کے لئے تیا ر کرنا;180; یہ وہ اہداف ہیں جو تو حید و اشاعت کا مر کزی منشور اور نکات ہیں ۔ مو لانا محمد طیب نے وطن عزیز میں امن و امان کا ذکر کرتے ہو ئے کہا کہ کسی بھی ملک میں مکمل طو ر پر سکون اس وقت حا صل نہیں ہو سکتا جس تک اس ملک کے اندر امن و آمان نہ ہو ۔ خانہ جنگی کا حامل ملک نہ تو اقتصا دی ترقی حا صل کر سکتا ہے اور نہ ہی معا شی اور سیاسی طو ر پر مستحکم ہو سکتا ہے ۔ لہٰذا عوام اور حکومت کے ساتھ ساتھ علمائے کرام کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ملک میں امن وامان کو قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ اس ملک کو شو مئی قسمت سے ایسے افراد سے پالا پڑا ہے جو بجائے تعمیر و ترقی کی غلامی کا طو ق پہنا دیا گیا اور آج ہر پیدا ہو نے والا ہر بچہ غیروں کا غلام ہے ۔ مملکت خداد پاکستان جس مقصد کے لئے بنا تھا اس مقصد کو پس پشت ڈالتے ہوئے مشکلات اور مسائل میں مزید اضا فہ ہوا ۔ اگر ابتدا میں کتاب اللہ اور سُنت رسول ﷺ کو نا فذ کر دیا جاتا تو کبھی بھی کٹھن اور مشکل حالات درپیش نہ ہوتے ۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے قبل یہو دو نصا ریٰ نے پروگرام بنایا تھا کہ کسی بھی صورت پاکستان میں عملاً نفا ذ شریعت نہ ہونے دیا جائے ۔ بڑے غور و فکر کے بعد انگریز نے یہ چال چلی کہ ایسے افراد پیدا کئے جائیں جو ظا ہراً مسلمان ہوں مگر انکے اندر غیر اسلامی خون گر دش کر رہا ہو ۔ اس مقصد میں انہوں نے کامیابی حا صل کی اور پاکستان کی باگ ڈور ان افراد کو دی گئی جنہوں نے ہر لحا ظ سے اپنے غیر ملکی آقاءوں کو خوش کر نے کی کو شش کی اور مکمل جہدو جہد کی تاکہ مملکت خدادا دپاکستان میں اسلامی نظام نا فذ نہ ہو سکے ۔ اور ہر دور میں ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ ملک میں افرا تفری ہو اور مسلمان پاکستان میں اسلامی نظام اور قانون کی طر ف متوجہ نہ ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی ایجنسیاں اسلام اور اہل اسلام کو بد نام اور ذلیل کرنے میں مشغول ہیں اور وہ ہاتھ سے کوئی ایسا مو قع جانے نہیں دیتے جس سے پاکستان اور اسلام کی تضحیک نہ ہو ۔ وہ اپنے زر خرید افراد کے ذریعے ملکی امن و امان کو تباہ کر نے میں ہمہ تن مشغول ہیں اور ملک میں خانہ جنگی کی صورت حال پیدا کر کے اپنے مز موم عزائم کی تکمیل کے لئے کو شاں ہیں ۔ ہر دور کی حکومت ان اغیار کے اشاروں پر رقص میں محو ہیں ۔ دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی نام نہاد جنگ میں بے گناہ لوگ لُقمہ اجل بن گئے اور ما ضی جو وطن عزیز کے جو علاقے امن و سکون کا گہوارہ تھے انہیں مصائب کی آگ میں دھکیلا گیا ۔ غُربت، بھوک افلاس ، بے روز گاری ، مہنگائی اور بجلی اور گیس لو ڈ شیڈنگ کے ستائے ہوئے لوگ اب مزید مشکلات اور امتحان بر داشت نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے کہا میری دلی تمنا ہے کہ پاکستان ،افغانستان اورایران کے درمیان اچھے تعلقات ہو اور پاکستان ماضی کی طر ح امن کا گہوارہ اور عالم اسلام کی اُمیدوں کا مر کز ہو ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ میری یہ دلی خواہش ہے کہ پنج پیر صوابی میں ہمارے اس مدرسے کے ساتھ ایک انجینئرنگ یونیورسٹی، میڈیکل کالج اور ایک ایسی یو نیو رسٹی ہو جس میں زمانے کے سامنے جدید علوم اور فنون پڑھائے جاتے ہوں ۔ کیونکہ ایک مذہبی انسان سائنس اور ٹیکنالوجی ، میڈیکل کے شعبے اور جدید علو م کا استعمال انتہائی احسن طریقے سے کر سکتا ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ57اسلامی ممالک کے پاس دنیا کے70 فیصد وسائل ہیں مگر بد قسمتی سے غُربت، بے روز گاری اور افراتفری کا شکار ہے ۔ انکی اصل وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے آپس میں اختلاف ہیں ۔ جب تک مسلمان اُمت نہیں بنیں گے اُس وقت تک مسلمان یہود وہنود کے زیر دست ہونگے ۔ میری دلی دعا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان آپس کے تنازعات اور فروعی اختلافات ختم ہو ں اور ایک وحدت بن جائے ۔

Google Analytics Alternative