کالم

دھاندلی الزامات، الیکشن کمیشن کا فارم45 منظر عام پر لانے کا فیصلہ

adaria

عام انتخابات2018ء میں فارم 45 کا تنازع ، الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ ملک بھر کے فارم 45 عوام کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیا ، الیکشن کمیشن آف پاکستان ین اس معاملے میں چاروں صوبائی الیکشن کمشنر کو ہدایات جاری کردی ہیں ۔ 83 ہزار سے زائد فارم 45 الیکشن کمیشن نے ملک بھر سے فارم 45کا ریکارڈ طلب کرلیا اور صوبائی کمشنرز کو ریٹرننگ افسران سے فوری فارم 45 حاصل کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں یہ فیصلہ مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے فارم 45 نہ ملنے کی شکایات پر کیا گیا ہے،فارم 45 ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے میں 4سے 5 روز درکار ہوں گے یہ فارم پہلے فارم 14 کے نام سے جانا جاتا تھا یہ فار کسی بھی پولنگ اسٹیشن میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کا سرکاری اعلان ہوتا ہے اس فارم میں متعلقہ حلقے میں تمام امیدواروں کو ڈالے گئے کل ووٹوں اور مسترد ہونے والے بیلٹ پیپر کا اندراج ہوتا ہے اور اس فارم پر پریزائیڈنگ افسر ، اسسٹنٹ پریزائیڈنگ اور موقع پر اگر کوئی مبصر موجود ہوتو اس کے اور پولنگ ایجنٹس کے دستخط ہوتے ہیں الیکن کمیشن کے فارم 45 پر ہر پولنگ بوتھ سے مرد اور خواتین ووٹرز کے ڈالے گئے ووٹوں کے علیحدہ علیحدہ اعداد و شمار بھی درج ہوتے ہیں ،اعدادوشمار کے یہ نتائج پولنگ اسٹیشنز پر موجود امیدواروں اور ان کے پولنگ ایجنٹس کو فراہم کیے جاتے ہیں تاہم اگر کوئی شخص اس پر دستخط کرنے سے انکار کردے تو پریزائیڈنگ افسر اس پر نوٹ لکھنے کا مجاز ہے جس کے بعد پولنگ اسٹیشن کے نتائج کی نقول پر پریزائیڈنگ افسر کی مہر اور انگوٹھے کا نشان کسی سینیئر اسسٹنٹ پریزائیڈنگ کے دستخط کے بعد اسے امیدوار یا وہاں موجود ان کے ایجنٹس کو فراہم کیا جاتا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے دھاندلی کے الزام کے تناظر میں کیا ہے الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ عام انتخابات کا انعقاد آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انداز میں ہوا ہے جس کو عالمی مبصرین نے بھی سراہا ہے عالمی سطح پر انتخابی عمل کو صاف و شفاف قرار دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کی طرف سے کمیشن پر لگائے گے الزامات مسترد کردئیے الیکشن کمیشن نے انتخابات میں دھاندلی یا بے ضابطگیوں کی شکایات کی سماعت کیلئے عذرداری ٹربیونلز تشکیل دیینے کی منظوری دے دی ہے اور ملک بھر میں قومی و صوبائی اسمبلی کیلئے عذرداری ٹریبونلز بنائے جائیں گے الیکشن کمیشن چند روز میں اس کا نوٹیفکیشن جاری کردے گا جبکہ مسلم لیگ(ن) دھاندلی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کا تقاضا کررہی ہے، مسلم لیگ(ن) اپنی شکست کو دھاندلی کے شور شرابے کی نذر کرنا چاہتی ہے لیکن اس کا یہ مشن ناکام رہے گا ۔ انتخابات صاف و شفاف ہوئے اور عالمی سطح پر بھی انتخابی عمل کو سراہا جارہا ہے ، مسلم لیگ (ن) کا بیانیہ درست نہیں انتخابات بھی مسلم لیگ ن کی مات دراصل سابق وزیراعظم کا عدلیہ مخالف بیانیہ ہے۔ کرپشن کو چھپانے کیلئے نواز شریف نے اداروں کو نشانہ بنایا اور کھلے عام پانامہ فیصلے کو نہ ماننے اور عوام کے جذبات کو ابھرنے اور عدلیہ مخالف بیان بازی جاری رکھی جس کو عوام نے مسترد کردیا ۔ عوام نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا اور انتخابات میں ان کو کامیابی دلوائی ۔ صاف و شفاف انتخابات کو متنازع بنانا درست نہیں مسلم لیگ (ن) اپنے تحفظات والے حلقوں سے دوبارہ گنتی کرواسکتی ہے الیکشن کمیشن نے فارم 45 عوام کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کرکے مسلم لیگ(ن) کی طرف سے لگائے گئے دھاندلی الزام کا توڑ کردیا ہے الیکشن کمیشن کا یہ اقدام اس امر کا آئینہ دار ہے کہ انتخابی عمل صاف و شفاف ہے اس کو دھاندلی قرار دینا انصاف کے تقاضوں کے برعکس ہے فارم 45 ویب سائٹ پر ڈالنے سے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا ۔ دھاندلی کا الزام خود بخود دم توڑ جائے گا ۔ مسلم لیگ(ن) احتجاج کی سیاست کرنے کی بجائے اپوزیشن کا کردار ادا کرے یہی جمہوری تسلسل کیلئے سودمند راستہ ہے ۔ ہار جیت کو قبول کرنا ہی سیاسی بصیرت و تدبر قرار پاتا ہے۔ نواز شریف کے بیانیہ پر ڈٹے رہنا ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں،سیاست میں وسیع النظری اور برداشت کے جمہوری کلچر کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

افغان صدر کی عمران خان کو مبارکباد
افغان صدر اشرف غنی نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے دورہ کابل کی دعوت دی جسے پاکستان کے متوقع وزیراعظم عمران خان نے قبول کرلیا ۔ افغان صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے تاریخی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک بھائی چارے ، ہمسائیگی اور دوستی کے دیرینہ رشتوں سے منسلک ہیں ، ترجمان پی ٹی آئی نعیم الحق نے بتایا کہ افغان صدر نے کہا عمران خان افغانستان میں بہت مقبول اور نوجوانوں کے ہیرو ہیں، افغان نوجوانوں میں عمران خان کی مقبولیت کی وجہ سے افغانستان میں کرکٹ کو فروغ ملا جبکہ عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں مکمل امن و خوشحالی چاہتا ہے ۔ چیئرمین پی ٹی آئی میں خداداد صلاحیت ہیں اور وہ نہ صرف اندرونی معاملات کو سدھارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ بیرونی معاملات کے حل کیلئے بھی پرعزم ہیں عمران خان کی وضع داری ، ثابت قدمی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے 22 سالہ سیاسی جدوجہد کے بعد آج یہ مقام پایا کرپشن کیخلاف ان کا بیانیہ عوام کی امنگوں کا ترجمان قرار پایا عمران خان پر اب بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے پارٹی منشور پر کہاں تک عمل پیرا ہوتے ہیں۔ عوام ان سے پرامید دکھائی دیتے ہیں اور ان کے سہانے خواب کی تعبیر پی ٹی آئی سے جوڑی ہے خدا کرے عوام کا خواب تعبیری شکل میں سامنے آئے اور یہ ملک امن کا گہوارہ بنے۔ کرپشن کا خاتمہ ہو مسائل زدہ عوام کے مسائل حل ہوں ان کا معیار زندگی بلند ہو،افغان صدر کی طرف سے دعوت نیک شگون ہے۔ افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے اس سے برادرانہ اسلامی تعلقات ہیں پاکستان افغان کو مستحکم دیکھنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آئیں افغان حکومت کو اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونے دینی چاہیے ۔ امید ہے کہ پاک افغان تعلقات مزید مستحکم ہونگے اور عمران خان اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات خوشگوار بنانے میں کامیاب قرارپائیں۔
تخت لاہور کیلئے جوڑ توڑ
تخت لاہور کا تاج کس کے سر سجتا ہے حکومت سازی کیلئے جوڑ توڑ کا عمل شدت پکڑ چکا ہے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے چوہدری سرور، جہانگیر ترین اور علیم خان سرگرم عمل ہیں اور ن لیگ بھی ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہے تازہ سیاسی منظر نامے میں آزاد ارکان کی شمولیت سے پی ٹی آئی کا پلڑا بھاری ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ پنجاب میں تحریک انصاف کی 133 سیٹیں ہوگئی ہیں ۔ مسلم لیگ(ق) اور آزاد ارکان کے مزید ارکان بھی پی ٹی آئی میں آسکتے ہیں ۔ تخت لاہور کیلئے پی ٹی آئی اور ن لیگ میں مقابلہ کانٹے دار ہوتا جارہا ہے پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ وہ پنجاب میں حکومت بنائے گی جبکہ ن لیگی تخت لاہور اپنے پاس رکھنے کیلئے پرعزم ہیں دیکھنا یہ ہے کہ آخر تخت لاہور کا تاج کون پہنتا ہے اور جوڑ توڑ میں شدت و حدت بڑھ چکی ہے ۔ قسمت کے اس کھیل میں پنجاب کی حکمرانی کس کے سرجاتی ہے عوام بے تاب و بے قرار ہیں لگتا ہے کہ ن لیگ کے ہاتھ سے تخت لاہور نکلتا جارہا ہے۔

کچھ عوام کا بھی سوچیں!

syed_sherazi

یہ اتحاد وغیرہ کیسے بنتے ہیں؟ کیوں بنتے ہیں؟ اور کون بناتا ہے؟اگر کسی سیاست دان سے پوچھا جائے تو وہ یہی کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ عوام کے وسیع تر مفاد میں کیا جاتا ہے اور یہ سب کچھ پارلیمنٹ تک عوام کی آواز پہنچانے کیلئے ضروری ہوتاہے ایک نظریاتی مخالف کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی ہو سکتی ہے اور اس کو اتحاد میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے اور اور اس کو اتحاد سے نکال بار بھی کیا جاسکتا ہے کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں آج کا دوست کل کا حریف اور کل کا حریف آج کا دوست کچھ بھی ہو سکتا ہے پانسہ کسی بھی وقت پلٹ سکتا ہے وسیع تر عوامی مفاد میں سیاست دان حد سے گزر سکتے ہیں کیوں نکہ ان کو صرف اور صرف عوامی مفاد عزیز ہوتا ہے۔ ہوا کے رخ کے ساتھ چلنا ادھر طلوع ہونا ادھر ڈوب جانا یہ سیاست کا حصہ لازمہ ہے۔ اگر چہ سیاست دان عوامی جلسوں ٹی شو اور حتیٰ کہ پارلیمنٹ میں ایک دوسرے کو برا بھلاکہتے ہیں گالیاں دیتے ہیں اور اور ایک دوسرے پر سنگین نوعیت کے الزامات لگاتے رہتے ہیں مگر یہ سب عوامی مفاد میں ہوتا ہے بقول ان کے ان کی کوئی ذاتی دشمنی تو نہیں ہوتی اور بعض اوقات جب پانی حد سے گزر جاتا ہے تو ان کو یاد آجاتا ہے کہ سیاست دانوں کی کردار کشی ہو رہی ہے حالانکہ ایک دوسرے کی کردار کشی یہ خود کرتے رہتے ہیں مگربقول ان کے وہ صرف عوامی مفاد میں ہوتا ہے۔ سیاست کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ بے وفائی وہرجائی پن اس کی سرشت میں داخل ہے اوراس سینہ میں دل نہیں پتھر ہوتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بے رحم‘ سنگدل بھی ہوتے ہیں اورمفاد پرست‘خودغرض بھی ہوتے ہیں اور وہ اپنے قول وفعل میں تضاد پر شرماتے نہیں اور جو شرما جائے وہ سیاست دان نہیں۔ اگر انسانی اقدار اور روایات اس کی روح سے نکل جائیں تو حیوانیت و درندگی کا جامہ پہن لیتی ہے۔ بے شرم وحیا بن جاتی ہے یہ اس صور ت میں ہوتا ہے جب اس کا واحد مقصد اقتدار ہو‘خدمت نہیں۔ جذبہ وفاداری خال خال ہی ملتا ہے جس طرح جس طرح ایک بھیڑئیے کوبھوک لگتی ہے تو وہ اپنا پرایا نہیں دیکھتا‘ اگر سامنے اس کی نسل موجود ہوتو اسے بھی چیرپھاڑ کر کھاجاتا ہے کیونکہ اس کی پہلی اور آخری ترجیح پیٹ بھرنا ہوتا ہے اسی طرح جب سیاست داں کی پہلی اور آخری ترجیح اقتداربن جائے تو پھر وعدے اور دعوے سب ہوا ہو جاتے ہیں جب ان کا مشترکہ مفاد سامنے آجاتے ہے تو سب ایک ہوجاتے ہیں جیسے اپنے ٹی اے ڈی اے اور مراعات اور تنخواہوں میں اضافے کیلئے سب ایک ہو جاتے ہیں اور یا ایک شخص کو دو سے زیادہ مرتبہ وزیر اعظم بنانے اور یا ایک نا اہل کو اہلیت کا سرٹیفکیٹ دینے کیلئے انتہائی عجلت میں بھی قانون سازی کر لیتے ہیں اور یا اپنے آپ کو بچانے کیلئے الیکشن کے نامزدگی فارم میں مشترکہ طور ایسی تبدیلی لے آتے ہیں کہ واہ واہ کرنے کو دل کرتا ہے ان کو اتفاق اور اتحاد پر، یہاں تک کہ وہ پارلیمنٹ تک رسائی کرنے والوں کیلئے تعلیم کی شرط بھی ختم کر دیتے ہیں حالانکہ ایک چپڑاسی کیلئے بھی تعلیم کی شرط لازمی ہے ۔ جمہوریت کو عوامی آمریت گلدستہ کہا جاتا ہے اوریہ عوام کی خواہشات سے قریب تر نظام ہے مگر ایک ان پڑھ شخص عوام کی کیا نمائندگی کریگا؟ یہ ایک سوالیہ نشان بھی ہے اور لمحہ فکریہ بھی بہر حال جمہوریت میں فیصلے کثرت رائے سے ہوتے ہیں اس لئے صحیح اور غلط کی تمیز بے معنی ہے۔ اس میں معقولیت تلاش کرنا بے سود ہے اکثریت نے جو فیصلہ کر دیا وہ ہو گیا اور اس کا احترام لازم ہے۔ جس طرح عوام کے یہ نمائندے اپنے مفادات کیلئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جاتے ہیں ایک وقت ایسا بھی آئیگا کہ یہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے بھی ایک ہوں جیسے سپریم کورٹ نے موبائل کمپنیوں اور حکومت کی طرف سے صارفین سے سالہا سال تک وصول کیا جانے والا ظالمانہ ٹیکس کا خاتمہ کردیا چند دنوں کیلئے ہی سہی عوامی نمائندے اس نو عیت کے مسائل کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لا کر عوام کی داد رسی کریں گے اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب کو ہر مسئلے پر از خود نوٹس لینے کی ضرورت پیش نہیں آئیگی۔اور رفتہ رفتہ حکمرانوں اورعوام کے درمیان اعلیٰ اورادنیٰ کی جو خط فاصل کھینچ دی گئی ہے وہ ختم ہو جائیگی۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ وی آئی پی کلچر کا بھی خاتمہ ہو جائے اور عوام کی راگ الاپنے والوں کو اس کا احساس ہو جائے کہ وی آئی پی کلچر کا خرچہ عوام کے ٹیکسوں سے پورا ہوتا ہے اور اس کلچر سے انارکی پھیلتی ہے اور ملک کے سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتاہے اور ایک طبقہ اعلیٰ اورارفع ہو جاتا ہے اور یہ طبقہ قابل تعظیم ہوتا ہے اور اس طبقہ کے علاوہ سب کی حیثیت ثانوی اورناقابل تعظیم ہے ۔ از خود یہ کلچر جمہوریت کے روح کے خلاف اورجمہوریت کے مفہوم ہی فناکر دیتا ہے کیوں کہ وی آئی پی کلچر لوگوں میں مایوسی پیدا کرتا ہے اور جمہوریت تو مساوی حقوق کی بات کرتا ہے چند افراد کو عوام کے ٹیکس سے سیکورٹی دی جاتی ہے اور یہ ظلم کے زمرے میں آتا ہے کہ پیسہ عوام کا ہو اور اس پر عیاشی ان کے منتخب نمائندے کریں ۔کیا عوام ان کو اس لئے ووٹ دیتے ہیں کہ وہ ان کا حق کھائیں اس کلچر کا خاتمہ ضروری ہے اور اگر ایسا ہو توغریب اورمحروم طبقات پر بڑااحسان ہوگا ورنہ عوام کو خواس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔اب لوگ باشعور ہوگئے ہیں اور وہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ جب تک وی آئی پی کلچر کا خاتمہ نہیں ہوگااس وقت تک نہ عوامی مسائل حل ہوں گے اور نہ ملک ترقی کریگا۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے اور مقروض بھی ہے ۔ عوام یہ بھی سوچتے ہیں اور جانتے اور سمجھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کو یہاں عوام کے پیسے پر سیکورٹی اور پروٹوکول ملتا ہے دنیا میں ان کی حیثیت کیا ہے؟ کیا امریکہ میں ان حکمرانوں کی تلاشی نہیں لی جاتی اور کیا ان کے کپڑے نہیں اتارے جاتے؟ہمارے پڑوس کے ممالک ایران اور چائنا کے حکمران سادہ زندگی گزارتے ہیں۔سابق برطانوی وزیراعظم کوعام پبلک گاڑی میں سفر کرتے دیکھا جاتا تھا اورنیدرلینڈ کے وزیراعظم روزانہ اپنے دفتر سائیکل سے جاتے ہیں جبکہ یہاں ہٹوبچوکاماحول رہتاہے حالانکہ ہم مسلمان ہیں اسلامی نظریہ کی بنیاد پر ملک کی تشکیل ہوئی اور اسلام کا نظریہ عدل پر مبنی ہو جو ہر قسم کے امتیازات کو مٹاتا ہے پھر یہ امتیازات کیوں؟۔ ملک کی اہم شخصیات کی سیکورٹی سے کسی کو انکارنہیں لیکن ایک عام آدمی کا بھی اتنا ہی حق ہوتا ہے جتنا کہ حاکم کا، اسلام کی تو یہی تعلیمات ہیں۔ ہمارے ہاں یہ کلچر بن گیا ہے کہ جس سیاست داں کی سیکورٹی میں جتنے زیادہ سیکورٹی اہلکارتعینات ہوں گے اس کی حیثیت اور درجہ کو سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد سے ناپا جاتا ہے حالانکہ سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد ویسے بھی کم ہے اور یہ سیکورٹی اہلکار بھی آخر انسان ہیں ہونا تو یہ چائیے کہ وی آئی پی افراد سیکورٹی اہلکاروں کا خرچہ جیب سے پورا کریں کیوں غریب عوام ان کی سیکورٹی کے ذمہ دار نہیں ان کو خود سیکورٹی کی ضرورت ہے۔ہمارے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے عوامی نوعیت کے اہم فیصلے کئے ہیں اور جو کام ہمارے سیاست دانوں کو کرنا چائیے تھا انہوں نے کر کے دیکھا یا بڑے پیمانے پر قرضے معاف کرانے والوں کی فہرست بھی طلب کی ہے اور غیر ضروری سیکورٹی کے حوالے سے ان کے احکامات قابل تحسین ہیں۔

الیکشن ایگزٹ پول اور عمران خان کی کامیابی

rana-biqi

دنیا بھر میں جمہوری حکومتیں عام انتخابات سے قبل عوامی رائے عامہ کے جھکاؤ کو جاننے کیلئے خصوصی توجہ سے گیلپ الیکشن ایگزٹ پول کے نتائج کا غور و فکر ے مطالعہ کرکے سیاسی منشور اور ریاستی پالیسیوں میں رد و بدلکیلئے سنجیدگی سے کام کرتی ہیں ۔ مغربی ملکوں میں رائے عامہ کے مختلف گروپوں جن میں سرمایہ داروں اور جاگیردارں سے لیکر دانشوروں ، سرکاری و غیرسرکاری ملازمین ، مزدوروں اور بیروزگاروں کی انجمنوں سے روابط استوار رکھتی ہیں تاکہ عوامی رجحانات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکے۔چنانچہ اِسی حوالے سے مغرب میں گیلپ اور پلس کنسلٹنٹ پول کو عوامی رجحانات جاننے کیلئے اہمیت دی جاتی ہے۔ البتہ پاکستان میں گیلپ ، پلس و دیگر مقامی سروے مغرب کی طرح گہرائی میں جا کر سروے نہیں کر پاتے ہیں کیونکہ اِن کے رائے دہندگان کی زیادہ تعداد سو ل سوسائیٹی اور شہری حلقوں پر مبنی ہوتی ہے جبکہ اِن تحقیقی مشاہدوں میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزانے والی اکثریتی آبادی کے رجحانات کو محدود بنیاد پر خال خال ہی شامل کیا جاتا ہے۔ ملک میں اشرافیہ کی رائے سے مستفید ہوتے ہوئے یہ ایگزٹ پول سمجھ لیتے ہیں کہ الیکشن کے نتائج پر مزارع ، مزدور اور گھروں میں کام کرنے والی ماسیاں ، اور غربت کے عفریت سے لڑنے والی پڑھی لکھی خواتین و بیوائیں جو ٹیوشن پڑھا کر یا گلی محلوں میں کپڑے سی کر بمشکل تمام زندگی کی گاڑی کو چلا رہی ہیں اور اُن کے پاس انتخابات میں ووٹ ڈالنے کیلئے بھی وقت نہیں ہے چنانچہ سرمایہ داروں ، جاگیرداروں اور اشرافیہ کی رائے کے سامنے اُن کی رائے کوئی وقعت نہیں رکھتی ہے۔ دراصل پاکستانی ایگزٹ پول میں یہی وہ ایک بڑی خلیج ہے جو سیاسی دانشوروں اور سول سوسائٹی کیلئے درست نتائج اخذ کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ انتخابات 2018 سے قبل گیلپ ، پلس اور دیگر مقامی ٹیموں کے سروے میڈیا اور نجی ٹی وی چینلز پر بڑے اہتمام سے پیش کئے جاتے رہے ۔ اِن سروے ٹیموں کے اندازوں کیمطابق تواتر سے اِس اَمر کے دعوے کئے گئے کہ عمران خان کی تحریک انصاف باوجود آگے بڑھنے کے مسلم لیگ (ن) سے قدرے پیچھے ہے جبکہ اُنہوں نے گرا روٹ لیول پر عوامی فکر کو جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔

البتہ انتخابات سے قبل عوام کی معروضی کیفیت کو دیکھتے ہوئے یہی محسوس ہوتا تھا کہ ایگزٹ پول ٹیموں کی رائے حقیقت سے قدرے دور ہے کیونکہ اِن ٹیموں نے غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے والی ملک کی اکژیتی آبادی کے جھکاؤ کے بارے میں کوئی مفید معلومات فراہم نہیں کی تھیں بلکہ صرف اتنا کہا گیا کہ تقریباً بیس فی صد لوگ الیکشن کے موقع پر ہی اپنی رائے کا تعین کرینگے جبکہ دیہاتوں اور شہروں میں غربت و افلاس کے مارے ہوئے لوگ جن کے ووٹوں کو ماضی میں اپنی جیب میں سمجھتے ہوئے وڈیرے اور سرمایہ دار اپنے ذاتی سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتے تھے بہرحال اپنے حالات کو بدلنے کیلئے کسی مسیحا کی تلاش میں تھے ۔ شہروں میں رہنے والے غریبوں کیلئے یہ صورتحال اور بھی زیادہ خوفناک شکل اختیار کرتی جا رہی تھی کیونکہ پریشان حال گھروں میں کام کرنے والی تعلیم یافتہ ماسیاں ، ٹیوشن پڑھا کر اپنے بچوں کا پیٹ پانے والی بیوائیں ، گلی محلوں میں سلائی کڑھائی سے دو وقت کی روٹی کمانے والی با حیا و باپردہ خواتین کے علاوہ ، چھوٹے موٹے کاموں سے زندگی کا پہیہ کھینچنے والے مزدور اور مستری جو نماز فجر کے فوراً بعد رزق حلال کی تلاش میں گلیوں ، بازاروں اور چوراہوں پرچھوٹے موٹے کام کرانے والے متوسط طبقے کے افراد کی آمد پر نگاہیں جمائے بیٹھے ہوتے ہیں، کام ملے یا نہ ملے یہی سوچتے ہیں کہ روز مرہ قیمتوں کے اُتراؤ چڑھاؤ ، آسمان سے باتیں کرتی ہوئی مہنگائی، یوٹیلٹی بلوں میں حیران کن اضافوں ، اور رات گزارنے کیلئے ایک چارپائی کی جگہ یا اپنے بچوں کا سر چھپانے کیلئے ایک یا دوکمروں کے مکانات کے پورشن کے کرایوں میں قیامت خیز اضافوں کیساتھ کب تک زندگی کی گاڑی کو کھنچ سکتی ہے۔ یہی صورتحال دکانوں اور مختلف فرموں میں چھوٹے موٹے کام کرنے والے خواتین و حضرات کی فکر فردا کو سموئے ہوتی ہے کہ کل کیا بنے گا۔ حالات اِس قدر دگرگوں ہوچکے ہیں کہ متوسط طبقے کے وہ خاندان جو وقت کی چکی کے دو پاٹوں میں پِس کر غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اگر حالات سے سمجھوتہ نہیں کر پاتے تو خودکشیوں پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔

حقیقت یہی ہے کہ گزشتہ کئی برسوں میں ملک میں خودکشیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے حتیٰ کہ کچھ والدین کو اپنے بچوں کے ہمراہ دریاؤں اور نہروں میں یا ریلوے ٹرینوں کے سامنے چھلانگیں لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرتے ہوئے دیکھا گیاہے ۔ عوام یہی سوچتے ہیں کہ کیا یہی وہ پاکستان تھا جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جس کی عملی جدوجہد اپنے خون پسینے سے قائداعظم محمد علی جناح نے کی تھی؟ ایسا یقیناًنہیں ہے کیونکہ بانی پاکستان تو امیر اور غریب کے درمیان فاصلے کو کم کرکے پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے لیکن بانیان پاکستان کی وفات کے بعد بل خصوص گزشتہ دس برسوں میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے ایک طاقتور طبقے نے جس بیدردی سے سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اداروں میں اقربہ پروری کے ذریعے مافیائی ایجنٹوں کی تعیناتی کرکے عوام کی گردن پر بیرونی قرضوں کا بوجھ لادنے کیساتھ ساتھ ملک میں کرپشن ، بدعنوانی اور منی لانڈرننگ کا بازار گرم کر کے چرائی ہوئی قومی دولت بیرون ملک منتقل کرکے بیش قیمت پراپرٹی خریدنے اورسونے کا چمچہ منہ میں لیکر پیدا ہونے والی اولاد کو بیرونی ملکوں کی شہریت دلانے کاکام شروع کیا ہے جسکی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ حیرت کی بات ہے ملک کے بیشتر عوام جن کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول ہی مشکل تر ہوتا جا رہا ہے اُنہیں سیاسی طالع آزما لیڈروں کے حاشیہ بردار اطلاعاتی اداروں کے اثر و رسوخ سے سب اچھا ہے کی داستانیں ہی سناتے رہے ہیں۔ چنانچہ جب گلیوں محلوں اور چوپالوں میں موجود غریب عوام مقامی دانشوروں کی باتیں سنتے ہیں کہ ملکی اشرافیہ ملک سے غربت و افلاس کو ختم کرنے کے بجائے غیر ملکی قرضوں سے پاکستانی شہروں میں اپنی جمالیاتی تسکین کیلئے پیرس و لندن بنانے کا اعلان کرتے ہیں اور اِس کی آڑ میں جائز ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی قومی دولت منی لانڈرننگ کے ذریعے بیرونی ملک لے جا رہے ہیں تو اُن کا قومی درد وسیع تر ہو جاتا ہے۔ چنانچہ لوئر مڈل کلاس اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے یہی وہ محب وطن لوگ ہیں جنہوں نے ملک سے بغاوت کرنے یا دہشت گردوں کے ہاتھ بکنے کے بجائے 2018 کے عام انتخابات میں نئے مسیحا کی تلاش شروع کی اور عمران خان کی گزشتہ بائیس سال کی جدوجہد کو دیکھتے ہوئے چار ٹکوں یا ایک ماہ کے راشن کے عوض اپنا ووٹ سیاسی اشرافیہ کو فروخت کرنے کے بجائے انتہائی خاموشی سے عمران خان کے بلے کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ یہی وجہ کہ اب کے برس معاشرے کے نچلے طبقے کی غریب خواتین ، مرد حضرات ، بوڑھے اور جوان صبح سویرے ہی پولنگ اسٹیشنوں پر جوق در جوق موجود تھے جنہوں نے عمران خان کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرکے پاکستان میں تاریخ کا رُخ بدل دیا ہے۔ یہ اَمر خوش آئند ہے کہ انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے فوراً بعد ہی عمران خان کی اہلیہ ولیّہ بشرہ بی بی نے ایک بیان میں غریب عورتوں ، بیواؤں اور غربت و افلاس کے مارے ہوئے عوام کو یقین دلایا ہے کہ اُنکے شوہر عمران خان پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنا کر غربت کے مارے عوام کیلئے معاشرے میں اُن کی بحالی کیلئے بھرپور کام کریں گے۔ بہرحال پاکستان میں غربت و افلاس کے خلاف بیداریء فکر کے بانی اور وزارت خارجہ کے سابق سیکریٹری جنرل و سینیٹر مرحوم اکرم ذکی نے کرپشن زدہ زمانے کی چال کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کہا تھا جس پر غربت و افلاس کے مارے عوام نے بہرحال موجودہ انتخابات میں بخوبی عمل کیا ہے ……….. ؂

تقدیر کی تعمیر ہے میدان عمل میں
گلیوں سے مکانات سے باہر نکلو
تقدیر کے گھوڑے کی لگامیں تھامو
مایوسی کی ظلمات سے باہر نکلو
اللہ سے بھی مانگو خود بھی کرو ہمت
بگڑے ہوئے حالات سے باہر نکلو
*****

پاک فوج ۔۔۔ حقائق اور یہ شرانگیز پراپیگنڈہ !

asgher ali shad

یوں تو عالمی میڈیا کا ایک بہت بڑا حلقہ عرصہ دراز سے پاکستان کے خلاف بے بنیاد اور شرانگیز پراپیگنڈے کا ایک طوفان برپا کیے ہوئے ہے مگر حالیہ چناؤ کے بعد سے تو اس سلسلہ میں کچھ زیادہ ہی شدت آ گئی ہے۔ پاک افواج کی بابت لغو بیانیوں کا ایک طوفان بدتمیزی ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا بلکہ ہر آنے والے دن کے ساتھ ایک مختلف انداز سے سرحدوں کی محافظ پاک افواج کی بابت ایسے ایسے افسانے تراشے جا رہے ہیں جن کا تصور بھی عام صورتحال میں نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے جھوٹ کے ایسے ایسے تُومار باندھے جا رہے ہیں کہ الامان الحفیظ حالانکہ کسے علم نہیں کہ پاکستان کی ہمیشہ سے یہ کاوش رہی ہے کہ پوری دنیا میں بالعموم اور جنوبی ایشیاء میں خاص طور پر پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنایا جائے اور اس ضمن میں وطن عزیز کے سبھی انسان دوست حلقوں نے ہر سطح پر یہ سعی کی ہے کہ دنیا کے اس خطے کو امن کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکے مگر اس ضمن میں بد قسمتی سے عالمی میڈیا کا ایک بڑا حلقہ خصوصاً بھارتی حکمران پاکستان اور نظریہ پاکستان پر وار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ حالیہ دنوں میں عام انتخابات کے انعقاد کے بعد لایعنی قیاس آرائیوں کا لامتناہی سلسلہ جاری و ساری ہے۔ مبصرین کے مطابق اس صورتحال کو کسی بھی صورت قابل رشک قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ امر بھی کسی المیے سے کم نہیں کہ وطن عزیز کے میڈیا کے بعض حلقے یعنی اخبارات اور چینل اس ضمن میں گویا ہراول دستے کا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ اسی تناظر میں سنجیدہ طبقات کا کہنا ہے کہ دورِ حاضر میں ’’5th جنریشن وارفیئر ‘‘ایک کلیدی ہتھیار کی صورت اختیار کر چکا ہے اور بے بنیاد پراپیگنڈے کو بنیاد بنا کر کسی خاص ملک کی بابت حقائق کو مسخ کرنا ایک ’’آرٹ‘‘ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کا ایک بڑا حلقہ بھی جانتے بوجھتے یا نادانستگی میں پاک مخالف قوتوں کا مہرہ بنا ہوا ہے ۔ المیہ یہ بھی ہے کہ ایسا کرنے والے اپنی مکروہ روش پر بے پایاں مسرت سے پھولے نہیں سما رہے۔ شاید ان کو پوری طرح اس امر کا گماں بھی نہ ہو کہ اپنے اس طرز عمل سے وہ ملک دشمنی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان عرصہ دراز سے خود عالمی دہشتگردی کا نشانہ بنا ہوا ہے ۔ ایسے میں ضرورت تو اس امر کی تھی کہ دنیا بھر کے حلقے عالمی دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے ناقابل فراموش کردار کا اعتراف کرتے بلکہ ہر ممکن کوشش کرتے کہ دنیا بھر میں جاری دہشتگردی کے اس ناسور پر قابو پایا جا سکے مگر المیہ یہ ہے کہ الٹا پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا ایک فیشن کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ حالانکہ کسے علم نہیں کہ محض 47 سال پہلے پاکستان کو محض سازشوں اور قوت کے بل پر دولخت کیا گیا اور یہ ایسا جرم عظیم ہے جس کا تصور بھی کوئی ذی شعور معاشرہ نہیں کر سکتا مگر عالمی برادری کا ایک مخصوص حلقہ اپنے اس فعل پر نادم ہونے کی بجائے فخر کرتا نظر آتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان کے مشرقی بازو کو الگ کرنے کے بعد اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے فخریہ طور پر یہ الفاظ ادا کیے تھے کہ ہندو قول نے پاکستان کو دولخت کر کے اپنی ہزار سالہ ہزیمت کا بدلہ چکا دیا ہے۔ واضح رہے کہ سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے اس وقت بھارتی پارلیمنٹ میں اندرا گاندھی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’شی از درگا ماتا‘‘ ( وہ درگاہ ماتا ہیں) یاد رہے کہ ہندو مذہب میں درگا ماتا کو تباہی اور بربادی کی دیوی کا درجہ حاصل ہے۔ بہر کیف بھارتی حکمران تسلسل کے ساتھ پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بنتے نظر آتے ہیں اور اسے معمولی شعور رکھنے والا بھی بخوبی بھانپ سکتا ہے۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بھارت میں وہاں کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 24 ہزار سے زائد مسلم کش فسادات ہو چکے ہیں جن میں ہزاروں بے گناہ بھارتی مسلمانوں کو زندہ رہنے کے حق سے ہمیشہ کے لئے محروم کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک لاکھ سے زائد نہتے کشمیری بھارت کی ریاستی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور 31 اکتوبر 1984 کو اندرا گاندھی کے قتل کے بعد محض 3 روز کے اندر 5 ہزار سے زائد سکھوں کو زندہ جلا دیا گیا مگر نہ تو عالمی برادری اس بھارتی دہشتگردی پر خاطر خواہ ڈھنگ سے توجہ دے رہی ہے بلکہ بدقسمتی سے پاکستان کے مختلف حلقے بھی مختلف حیلوں بہانوں سے پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں توقع کی جانی چاہیے کہ پاکستان کا ہر فرد وطن عزیز کی خاطر قربانیاں دینے والے شہداء اور غازیوں کے روشن کردار کو اپنی تحریروں تقریروں میں نمایاں ڈھنگ سے اجاگر کرے گا اور اس بابت الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا بھی اپنی قومی ذمہ داریوں سے موثر ڈھنگ سے عہدہ بر آ کی کوشش کرے گا۔
*****

اَب بس کردونئے پاکستان کے خاطر…!!

شکست کھا ئی مریدوں نے پیر ہار گئے
جِسے تھا ناز غزل پر وہ میر ہار گئے

مرے عزیز نتیجوں سے صاف ظاہرہ ے
عوام جیت گئے ہیں وزیر ہار گئے
وطن عزیز پاکستان میں 25جولائی 2018ء کو ہونے والے انتخابات میں عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت اور ووٹ کو عزت دو کے نعرے کی بنیاد پر نئے پاکستان کے لئے باہر نکل کر اپنا حق رائے دہی دبا کر استعمال کیا ؛اور برسوں سے جمہوراور جمہوریت کا لبادہ اُڑھے ایوان پرقابضین کو شکست سے دوچار کردیاہے اور ایسا زبردست اپ سیٹ دیاہے کہ بڑے بڑے عیار و مکار سیاست دانوں اور مولویوں اور ملاووں کو ایوانوں سے نکال باہرکیا ہے۔ آج تب ہی یہ سب سینہ کوبی کرتے ہوئے صاف ستھرے اور دھاندلی سے پاک الیکشن میں اپنی ہار کا بدلہ الیکشن کمیشن سے لینے پر تلے بیٹھے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن پاکستان نے انتخابی عمل کو دھاندلی سے پاک کا حلف اُٹھاتے ہوئے مکمل انتخا بی نتائج جاری کردیئے ہیں ،تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک اِنصاف نے حالیہ الیکشن میں قومی اسمبلی میں 1کروڑ 68لاکھ23ہزار792ووٹوں کے ساتھ مُلک کی سب سے زیادہ ووٹ لینے والے جماعت بن کر وفاق میں حکومت بنانے کا حق رکھتی ہے، اِس طرح 2013ء کے انتخابا ت کے مقابلے میں پی ٹی آئی نے88لاکھ ووٹ زائد حاصل کئے ہیں اور پاکستان مسلم لیگ (ن) 1کروڑ 28لاکھ 94ہزار225ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہے، اس کے سال گزشتہ کے مقابلے میں 22لاکھ ووٹ کم ہوگئے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 68لاکھ 94ہزار296 حاصل کرکے گزشتہ الیکشن کے مقابلے میں 25لاکھ ووٹوں کے اضافے کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے ۔آج الیکشن کمیشن کے انتخابی نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کو وفاق میں حکومت بنانے کاحق حاصل ہے؛ آج جہاں پی ٹی آئی حکومت سازی کے لئے جوڑ تور اور نمبر گیم میں متحرک ہے، تو وہیں گزشتہ دِنوں الیکشن میں شکست خوردہ جماعتیں بالخصوص جمعیت علماء اسلام (ف) کی بلوائی گئی، آل پارٹی کانفرنس کے بعدجاری ہونے والے اعلامیہ میں وفاق سمیت صوبوں میں دوبارہ الیکشن کرانے کے لئے مظاہرے اور احتجاجی تحاریک چلانے کاجیسا اعلان کیاگیاہے؛ یقیناًاِن شکست خوردہ جماعتوں کا احتجاج مُلک میں انارگی پھیلائے گا ۔جبکہ کچھ ن لیگ اور پی پی پی کے قریبی سیاسی رہنماوں نے ایک دوسرے سے صلاح مشوروں کے بعد تجویز دی کہ کیوں نہ ہم دونوں مل کر وفاق میں حکومت بنالیں، جِسے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے مسلم لیگ ن ، متحدہ مجلس عمل اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر وفاق میں حکومت سازی کی تجویز مسترد کردی ہے، اور یہ موقف اختیار کیاہے کہ ہمارا ایسا کرنا جمہوری عمل کے لئے نقصان دہ ہے، آج جس کی وفاق میں اکثریت ہے،یقیناًحکومت بنانے کا حق بھی اِسے ہی حاصل ہے اور جہاں تک دھاندلی سے متعلق احتجاج کرنے کا سوال ہے، تو پی پی پی کا یہ کہنا بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ اِس کے لئے ایوان سے بہتر کوئی مقام نہیں ہے، جہاں سے آئین اور قانون کے مطابق بہتر طریقے سے احتجاج کیا جاسکتاہے، لہذا ، حلف لیا جائے اور ایوان میں بیٹھاجائے۔اِس میں شک نہیں ہے کہ پی پی پی نے اپنے اِس موقف سے واضح کردیاہے کہ یہ ایک حقیقی معنوں میں ایوان اور عوام کی جمہوری پارٹی ہے اور ووٹرز کے حقوق کو ایوان سے دلانے والی مُلک کی واحد جماعت ہے یہ مُلک کی وہ جماعت ہے جو ایوان سے احتساب اور چیک اینڈ بیلنس کا عمل کو جاری رکھنا چاہتی ہے اور مُلک کو ہارے ہوئے عناصر کی انارگی پھیلانے والی احتجاجی تحاریک سے محفوظ رکھنا چاہتی ہے ۔ جبکہ دوسری جانب 30 جولائی سے شروع ہونے والی ہاری ہوئی جماعتوں کی احتجاجی تحریک سڑکوں پر نکل کر اور الیکشن کمیشن کے دفاتر کاگھیراو کرتے وقت کوئی ہاتھوں میں پھول اُٹھائے ہوئے آگے نہیں بڑھے گی ،لازماََ اشتعال انگیزی اور تشدد سے بھر پور ہوگی ۔جوایک طرف تو جمہوراور جمہوری طرزِ عمل سے نئی حکومت کیلئے انتقال اقتدار میں مشکلات کا باعث ثابت ہوگی ، تو وہیں ہاری ہوئی جماعتوں کا اشتعال انگیز طرزِ عمل دوسری نادیدہ قوتوں اور خلائی مخلوق کو مداخلت کا بھی موقعہ فراہم کردے گی۔ کیوں کہ آج نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں یہ تاثر عام ہواہے کہ 25جولائی کو پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات مُلکی تاریخ کے انتہائی صاف اور شفاف اور ظاہر و باطن دھاندلی سے پاک فوج کی نگرانی میں الیکشن ہوئے ہیں،ایسے میں ہار نے والی جماعتوں کی جانب سے پولنگ اسٹیشنوں میں اِن کے ایجنٹوں کو صرف فارم 45کی عدم فراہم کو جواز بنا کر دھاندلی کا واویلا کیا جانا؛خود اِن کے مطالبے کو مشکوک بنا رہاہے۔اَب بس کردو، نئے پاکستان کے خاطر…. آج بالفرض اگردھاندلی کا شور مچانے والی جماعتوں کے ہاروالے کسی حلقے میں اِن کے بقول اِن کے ایجنٹ کو فارم 45نہیں دیاگیاہے؛ تو یہ اپنی جیت والے حلقے سے ملنے والے فارم45دکھائیں ۔ اگر اِنہیں اِن کی جیت والے حلقے کے پولنگ اسٹیشنوں سے فارم 45ملا ہے، تو پھر یقین کرلیا جائے کہ اِن کے ایجنٹ کو اِن کی شکست والے پولنگ اسٹیشنوں سے بھی فارم 45ضرور دیاگیاہوگا اَب یہ اور بات ہے کہ یہ اُسے چھپارہے ہیں۔اور اپنی ہار والے حلقے سے فارم 45کی عدم فراہم کو جواز بنا کر احتجاج کرناچاہتے ہیں۔اورہارے ہوئے حلقے میں دوبارہ گنتی کیلئے درخواستیں جمع کروارہے ہیں ۔اور الیکشن کمیشن پر دھاندلی کا الزام لگا کر استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔اِنہیں چاہئے کہ آج جب ہاری ہو ئی جماعتوں کے سربراہان اپنی جماعتوں کے ہارے ہوئے اُمیدواروں کے حلقوں کی فارم 45کی عدم فراہمی پرگنتی دوبارہ کرانے کا مطالبہ کررہے ہیں، تو پھر اِنہیں یہ بھی چاہئے کہ یہ اپنی جیت والے حلقوں کے فارم 45کے ساتھ الیکشن کمیشن حاضر ہوں۔ تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے ، سوچیں ، کہ آج جب اِن کے پاس جیت والے حلقے کے پولنگ اسٹیشنوں کے فارم 45موجود ہیں، تو پھر لامحالہ الیکشن کمیشن کے عملے نے اِن کے ایجنٹوں کو ہارے ہوئے حلقے کے پولنگ اسٹیشنوں سے بھی فارم 45ضرور دیئے ہوں گے اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ایکشن کمیشن اِن جماعتوں کے جیت والے حلقوں کی بھی خود سے دوبارہ گنتی کرے تاکہ بیلنس برابر ہوجائے اور حق و سچ سا منے آجائے۔ تاہم اِس سے اِنکار نہیں ہے کہ اَرض مقدس پاکستان میں ہر الیکشن کے بعد شکست خوردہ عناصر کا دھاندلی کا راگ چھیڑاجانا کوئی نیاتونہیں ہے ، پاکستان کی تو تاریخ گواہ ہے کہ یہاں گزشتہ سے پیوستہ دس انتخابات بھی بعداَز اختتام دھاندلی کے الزامات سے خالی نہیں رہے ہیں۔ آج فرق صرف اتنا ہے کہ پچھلے الیکشن 2013ء میں ایک پارٹی پی ٹی آئی انتخابی دھاندلی کا رونارورہی تھی ، تب یہ چار حلقے دوبارہ کھلوا نے کا مطالبہ کررہی تھی، تو اِس کے اِس مطالبے اور خواہش پر باقی ہنس رہے تھے۔ مگر اِس مرتبہ ماضی میں رونے والی جماعت اپنی فتح کا جشن منارہی ہے، اوردوسری بڑی چھوٹی ن لیگ اور پی پی پی سمیت دیگر سات جماعتیں گلے مل مل کر اپنی شکست پر سرپر خاک ڈالتے گریبان چاک کرتے ہوئے۔ آہو فغاں کررہی ہیں، اور اپنی متوقع جیت کے برعکس ہونے والی شکست کی سُبکی مٹانے اور اپنے سینے میں لگی شکست کی آگ کو ٹھنڈاکرنے کے خاطر واویلا شروع کردیاہے۔ اِسی لئے برسوں سے مملکتِ خدادادپاکستان میں ہر الیکشن میں ہارنے والی جماعت یا اُمیدوار کی طرف سے دھاندلی کے الزامات کے تناظر میں شاعر نے پہلے ہی عرض کردیاتھا کہ:۔

میں نجومی تو نہیں پر پیش گوئی ہے مری
سامنے دیوار پر لکھ دیں بہ الفاظ جَلی
جیتنے والا کہے گا یہ الیکشن تھے فیئر
ہارنے والا یہ گرجے گا ہوئی ہے دھاندلی
****

چیف جسٹس کا جوڈیشل اکیڈمی میں فکر انگیز خطاب

adaria

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے جوڈیشل اکیڈمی میں افسران سے خطاب کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ دوررس نتائج کا حامل ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ملک میں پانی کی قلت ایک بین الاقوامی سازش ہے جبکہ پانی کی قلت کا تدارک نہ کرنے والے ارباب اختیار مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوئے ، کوشش کے باوجود اپنا گھر ٹھیک نہ کرسکا ، ہم عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق قوانین میں ترمیم نہیں کرسکے، میں خود کو آج بھی قانون کا طالب علم سمجھتا ہوں کسی جج کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے تو وہ اگلے دن اس کا مداوا کرے۔ بدقسمتی سے عدالتی نظام میں برسوں سے پرانے طریقے رائج ہیں ، آنے والی نسلوں کیلئے قربانیاں دیناہونی۔ کمپنیوں کے سربراہوں سے اضافی تنخواہ کے واپس لئے گئے ، پیسوں کی لوٹ مار نہیں کرنے دوں گا ۔ یہ پیسے ڈیم کے فنڈ میں جائیں گے ۔ پانی کی قلت عالمی سازش ہے اس کودور نہ کرنے والوں نے مجرمانہ غفلت کی فیصلوں پر نظرثانی کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں، بدقسمتی سے عدالتی نظام میں برسوں پرانے طریقے رائج ہیں کوشش کے باوجود اپنا گھر ٹھیک نہ کرسکا آنے والی نسلوں کیلئے قربانیاں دینا ہونگی یہ ملک ماں سے کم نہیں قومی خزانے کی بندر بانٹ کی اجازت نہیں دیں گے۔ چیف جسٹس کا خطاب دوررس نتائج کاحامل ہے انہوں نے درست کہا ہے کہ یہ ملک ماں سے کم نہیں ہمیں آنے والی نسلوں کیلئے قربانیاں دینا ہونگی ۔ چیف جسٹس نے انتہائی دور اندیشی سے حقائق کا جو منظرنامہ دکھایا ہے وہ اس امر کا عکاس ہے کہ چیف جسٹس اس ملک کے عدالتی نظام کو درست کرنا چاہتے ہیں اور بطور ادارہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا ضروری قرار دے رہے ہیں ۔ یہ وسیع النظری کا بے مثال مظاہرہ ہے۔ چیف جسٹس ایک طرف فوری انصاف کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں تو دوسری طرف ازخودنوٹس کیس میں جو احکامات صادر کررہے ہیں وہ عوام کی امنگوں کے ترجمان ہیں حکومت اگر اپنی انتظامی فرائض کو کماحقہ نبھاتی تو چیف جسٹس کو ازخود نوٹس نہ لینا پڑتے ریاست کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے ان کا معیار زندگی بلند کرے ، مہنگائی اور بیروزگاری کے خاتمے کیلئے اقدامات کرے اور لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے تعلیم و صحت کی سہولتیں بہم پہنچائے اور امن و امان قائم کرے لیکن صد افسوس سابقہ حکومت نے عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل نہ کیا ملک میں پانی و بجلی کا مسئلہ عوام کیلئے درد سر بن کر رہ گیا، گیس و بجلی کی لوڈشیڈنگ لوگوں کیلئے پریشان کن بنی رہی ۔ مہنگائی کی لہر نے غریبوں کا جینا دوبھر کردیا ۔ تعلیم و صحت کی سہولتوں کے فقدان عوام کا مقدر بنا رہا حکمران ذاتی مفادات کو ترجیحی دیتے رہے اور قومی مفاد کو پس پشت ڈالے رکھا جس سے ملک طرح طرح کے مسائل کا شکار ہوکر رہ گیا کرپشن نے ترقی کی راہوں کو مفلوج بنے رکھا جس سے ترقی کا عمل رکارہا ناقص پالیسیوں سے معیشت بھی گرتی چلی گئی ۔ چیف جسٹس عوام کو بنیادی حقوق دلوانے میں کوشاں ہیں کہیں پانی کا مسئلہ ہے تو کہیں نا انصافی کا ماتم ہے ان حالات میں چیف جسٹس نے ازخود نوٹسز لے کر عوام کے دکھوں کا مداوا کیا ہے یہی وجہ ہے کہ عوام کی نظریں عدالت عظمیٰ پر مرکوز ہیں اس وقت ایک آزاد و خودمختار عدلیہ ہے جو آئین و قانون کے تناظر میں فیصلے کررہی ہے جن پر تنقید کرنے والے دراصل اپنی کرپشن اور کوتاہیوں کوچھپانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے پانی کی عالمی سازش دور نہ کرنے والوں نے مجرمانہ غفلت کی ہے اس بے اعتنائی کا ازالہ ضروری ہے ، یہ درست ہے کہ ہمیں آنے والی نسلوں کیلئے قربانیاں دینا ہونگی ورنہ مسائل کی دلدل سے نہیں نکلا جاسکے گا۔

الیکشن کمیشن کا غیرحتمی نتائج کا اعلان
الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے 100 فیصد غیرحتمی نتائج کا اعلان کر دیا،الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے 270، پنجاب کے تمام 295، سندھ کے 129، خیبرپختونخوا کے 97 اور بلوچستان کے تمام 50 حلقوں کے نتائج اور پارٹی پوزیشن جاری کردی,قومی اور خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف، سندھ اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی، پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن)جبکہ بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی کو برتری حاصل ہے۔قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ 116 نشستوں پر برتری حاصل ہے جب کہ مسلم لیگ (ن)64 نشستوں کے ساتھ دوسرے اور پیپلز پارٹی 43 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔قومی اسمبلی کے لیے متحدہ مجلس عمل اور آزاد امیدواروں نے 13، 13 نشستیں جیتیں جب کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے 6، مسلم لیگ(ق) نے 4، بلوچستان عوامی پارٹی نے 4، بلوچستان نیشنل پارٹی نے 2، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے 2، عوامی نیشنل پارٹی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور پاکستان تحریک انسانیت نے ایک، ایک نشست حاصل کی۔اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق عام انتخابات میں ووٹرز کا ٹرن آٹ 51 اعشاریہ 82 فیصد رہا۔پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن)کو 129، تحریک انصاف کو 123 اور آزاد امیدواروں کو 29 نشستیں حاصل ہوئیں۔اسمبلی میں مسلم لیگ(ق) کو 7، پیپلز پارٹی کو 6 جبکہ پاکستان عوامی راج پارٹی کو ایک نشست پر کامیابی ملی۔سندھ میں پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ سے کامیابی حاصل کرنے والی جماعت پیپلز پارٹی کا مکمل صفایا کرنے میں ناکام رہی۔ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی 76 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے جب کہ پی ٹی آئی 23، ایم کیو ایم 16، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے 11 نشستیں جیتیں۔اسی طرح تحریک لبیک پاکستان کو 2 اور متحدہ مجلس عمل کو ایک نشست مل سکی ہے جبکہ سندھ میں کوئی آزاد امیدوار کامیاب نہیں ہوسکا۔یاد رہے کہ سندھ اسمبلی کی 130 میں سے 129 نشستوں پر 25 جولائی کو پولنگ ہوئی جب کہ ایک نشست کا انتخاب پہلے ہی ملتوی کردیا گیا تھا جس پر بعد میں الیکشن ہوں گے۔صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر تحریک انصاف حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے اور اس بار اسے حکومت بنانے کے لیے کسی اتحادی کی بھی ضرورت نہیں۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی 65، متحدہ مجلس عمل 10، عوامی نیشنل پارٹی 6، مسلم لیگ (ن)5، پیپلز پارٹی 4 اور 6 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔بلوچستان اسمبلی کے انتخابی نتائج کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کو صوبے میں برتری حاصل ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے نتائج کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی15، متحدہ مجلس عمل 9 اور بلوچستان نیشنل پارٹی6 نشستوں پر کامیاب رہی۔اسی طرح آزاد امیدواروں نے 5، تحریک انصاف نے 4، عوامی نیشنل پارٹی، بی این پی عوامی نے 3،3 ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے 2، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، مسلم لیگ(ن) اور جمہوری وطن پارٹی نے ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کی۔بلوچستان اسمبلی کی کل 51 نشستیں ہیں جن میں سے 50 پر انتخابات ہوئے اور ایک نشست پی بی 35 پر الیکشن ملتوی ہوئے۔ الیکشن کمیشن نے جن نتائج کا اعلان کیا ہے وہ صاف و شفاف نتائج ہیں ، اقوام متحدہ نے بھی نتائج کو شفاف قرار دیا ہے ، سیاسی جماعتیں دھاندلی کی گردان سے باہر نکلیں اوراپنی ہار کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت سازی کی طرف توجہ دیں۔

بھارتی سازشیں

دہلی میں ’’فری بلوچستان آفس‘‘ کا افتتاح
بھارت اقوام متحدہ کے ذمہ دار رکن کی حیثیت سے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔ پاکستان میں بھارتی مداخلت ایک حقیقت ہے۔کلبھوشن یادیو کا کیس بھارت خود عالمی عدالت انصاف لے گیا ہے۔ بھارت کو جواب دینے کا موقع دیا گیا لیکن الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ اس کی آبادی سوا کروڑ ہے، یعنی پورے ملک کی آبادی کا صرف ایک فیصد ہے۔ بیرونی دنیا میں بلوچستان کا تصور خطہ جنت نظیر ہے۔ جہاں پر قدرتی معدنیات کے بے پناہ ذخائر موجود ہیں۔عالمی طاقتوں کی بلوچستان کے وسائل پر نظریں جمی ہوئی ہیں۔ بلوچستان کے بارے میں ” فری بلوچستان” جیسی منفی اشتہاری مہم چلائی جا رہی ہے۔ چند ماہ قبل سؤٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں بسوں، ٹیکسیوں پر” فری بلوچستان ” کے اشتہار لگائے گئے تھے، پھر لندن کی بسوں، ٹیکسیوں کے ساتھ سڑکوں کے کنارے ” فری بلوچستان ” کے بورڈز آویزاں کئے گئے۔ مغربی طاقتیں ” فری بلوچستان ” جیسی گھناؤنی مہم کی یورپ میں اجازت دے کر حاصل کیا کرنا چاہتی ہیں۔ بلوچستان میں دنیا کے سب سے بڑے سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ بلیک پرل، کوئلہ، گیس، قیمتی پتھر، ہیرے کی بے شمار اقسام، لوہے، زنک اور کرومائٹ کے ذخائر بلوچستان میں موجود ہیں۔ انہیں یہ بھی علم ہے کہ گوادر پورٹ دنیا کی اہم ترین پورٹ بن چکی ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند اور ان کے گاڈ فادر بلوچستان کے خلاف متحرک ہیں۔ اور اپنے مذموم مقاصد کے لئے بے گناہ معصوم شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ عالمی قوتیں بالخصوص بھارت بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں اور علیحدگی پسند تحریکوں کے پیچھے کھڑا ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واشگاف الفاظ میں اس امر کی نشاندہی کی کہ بلوچستان کے ان علیحدگی پسند عناصر کو بھارت کی سرپرستی حاصل ہے ، جو اپنی ایجنسی ” را ” کے ذریعے انکی تربیت اور فنڈنگ کر رہا ہے۔ اور انہیں پاکستان مخالف مہم کے لئے عالمی اداروں تک رسائی دلا رہا ہے۔ بھارت افغانستان کے راستے ” بلوچستان لبریشن فرنٹ ” اور دوسری تنظیموں کو تخریب کاری کے ارتکاب کیلئے اسلحہ اور مالی مدد بھی فراہم کر رہا ہے۔پاکستان کی سلامتی کو کمزور کرنے کی کھلم کھلا اور گھناؤنی بھارتی سازشوں کو مؤثر طریقہ سے اقوام عالم میں بے نقاب کر کے اس کے توڑ کیلئے مؤثر اقدامات بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ بھارت بلوچستان کے خلاف اپنا سازشی منصوبہ پروان چڑھا رہا ہے۔پاکستان دشمنی میں اب بھارت ایک قدم او ر آگے بڑھ گیا ہے۔ نئی دہلی میں ’فری بلوچستان دفتر ‘ کا قیام پاکستان کے خلاف بھارت کے ناپاک عزائم کی عکاسی ہے۔اس قسم کے دفاتر کھولنا پاکستان کیخلاف بھارت کے ناپاک عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس دفتر کے افتتاح میں میں پچاس ساٹھ بھارتیوں نے حصہ لیا۔ یہ سبھی لوگ ’’را‘‘ اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے کارندے اور کارکن تھے۔بھارت میں اس دفتر کے افتتاح سے بلوچستان کیخلاف باقاعدہ شیطانی میڈیا مہمات جاری رہیں گی۔بھارت کا کہنا ہے کہ وہ نئی دہلی میں قائم کیے جانے والے فری بلوچستان آفس میں بھارتی اور غیر ملکی صحافیوں اور سفارتکاروں کو مسلسل مدعو کیا جا ئے گا اور انہیں بلوچوں پر حکمرانوں اور فوج کی طرف سے ہونے والی نام نہاد زیادتیوں سے آگاہ کیا جائیگا۔ اس دفتر کو چلانے کے سارے اخراجات بھارتی خفیہ ادارہ ’را ‘برداشت کرے گا۔ اس طرح اس دفتر کے ذریعے بھارت سی پیک کے خلاف بھی پروپیگنڈہ کرے گا اور سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے ہاتھ پاؤں بھی مارے گا۔ جہاں تک بلوچستان میں بھارتی دہشت گردی اور مداخلت کا سوال ہے تو اس کا جواب صرف کلبھوشن ہے۔بھارت نے بلوچستان میں مختلف عناصر کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کر کے انھیں نہ صرف سرمایہ اور ہتھیار فراہم کیے ہیں بلکہ بلوچستان میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے لسانی ،فرقہ وارانہ اور قبائلی تعصبات کے شعلے بھڑکائے اور ایسی تنظیمیں بنوائیں جو اپنے آقاؤں کے ایجنڈے کے تحت قومی سلامتی کے ضامن اداروں کیخلاف منافرت پھیلا رہے ہیں۔ بلوچستان میں نسلی ، لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات کی بناء پر سینکڑوں بیگناہ افراد کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا کر غیر ملکی قوتوں کے پروردہ آلہ کار تخریب کاروں نے خطرناک خونی کھیل کھیلا۔ان غیر ملکی ایجنٹوں نے الیکشن 2018 کو سبوتاژ کرنے کیلئے بھی دہشتگردی کی کارروائیاں کر کے خوف وہراس کی فضا پیداکر دی ہے۔سی پیک کے منصوبے بھی بھارت کی نظر میں کھٹک رہے ہیں۔ بلوچستان اور سندھ میں بھی ایسے منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کیلئے بھارتی ایجنٹ سرگرم عمل ہیں۔ بھارتی جاسوس کلبوشن یادیو بھی یہی مشن لے کر پاکستان آیا تھا۔ اس نے سندھ میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کی منصوبہ بندی کی اور بلوچستان میں سی پیک کے منصوبوں کو کسی نہ کسی انداز میں نشانہ بنایا۔ سندھ سے جو لوگ بلوچستان جا کر سڑکوں پر کام کررہے تھے انہیں بھی نشانہ بنایا گیا۔ چینی انجینئروں اور ماہرین کی ٹارگٹ کلنگ بھی کی گئی ان کے اغوا کی وار داتیں بھی ہوئیں۔ جس کی وجہ سے سی پیک کے منصوبوں کی حفاظت کیلئے خصوصی فورس بھی تشکیل کی گئی۔ پاکستان کے دشمنوں کی یہ خواہش ہے کہ یہ منصوبہ کسی نہ کسی طرح آگے بڑھنے سے روک دیا جائے اور اس مقصد کیلئے چینیوں کو خاص طور پر نشانہ اس لئے بھی بنایا جارہا ہے۔یہ بھارتی سازشیں اقوام متحدہ، او آئی سی، علاقائی تعاون کی تنظیموں اور تمام عالمی قیادتوں کے نوٹس میں لانی چاہئیں۔

****

ذمہ دارمیڈیا کاکردار۔۔۔!

بحیثیتِ قوم آج ہم جن تشویشناک اندورنی و بیرونی خطرات سے دوچار ہیں خطرات کے یہ مہیب سائے گزشتہ 70 برسوں سے ہم پراب تک ٹلے نہیں’ختم ہونے کا نام نہیں لیتے بلکہ نئے نئے لبادوں میں نئی شناختوں اور بھیانک خوف و دہشت کی نئی علامتوں سے ہمارے ملک وقوم کی جڑوں کو کھوکھلی کرنے’قوم کی اجتماعی طاقت میں دراڑیں ڈالنے‘ہماری فکری ونظری اورہمارے ملی اتحاد ویقین کومتزلزل کرنے کے ساتھ ہمارے پختہ ایمانی جذبوں میں باہمی نفرتوں کے بیج بو نے کا سبب بن رہے ہیں یہ سب ہماری قومی یکجہتی کیلئے کتنا نقصان دہ ہے اِس احساس کا اندازہ یقیناًدرد مند قومی طبقات میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید ابھر کرنمایاں ہورہا ہے’ہمارے ازلی دشمن خوش اور ہماری آئے روز کی اپنے وطن کے بارے میں گہری فکر مندی بڑھتی ہی چلی جاری ہے’ وہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا کہ’ایک کانٹا بھلے چھوٹا سا ہو، گامزن مسافر کا سفر روک دیتا ہے’ایک چھوٹاسا خلیہ جونظر بھی نہ آتا ہو،کسی انسانی صحت مند جسم ہی نہیں بلکہ پورے خاندان ‘پورے سماج’پورے معاشرے کووہ چھوٹاسا ناسورنما خلیہ دیمک کی مانند کھاتا رہتا ہے’یہاں تک کہ پوراسماج پورا معاشرہ ڈہہہ جاتا ہے’تباہ ہوجاتا ہے یہی نہیں بلکہ ماضی کی کوئی ایسی خوفناک یاد جس یاد میں کوئی قومی خوف چھپا ہوا ہو’دہشت ووحشت کے خوفناک المیے جس ماضی کا حصہ ہوں وہ ہرآنے والی نئی صبحوں میں اْن ہی خوف اور المیوں اور تکلیف دہ سانحات کا ایک نیا خوف پیدا کردیتی ہیں ایک سیکنڈ کا وفقہ دشمن کے تباہ کن حملوں کا دروازہ کھول دیتا ہے’ بحیثیت پاکستانی ہم اِن خدشات نما احساسات کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اْٹھائے پھررہے ہیں؟’ایک بڑی ثقہ قدیمی کہاوت ہے”چیزوں کی تفصیلات میں جانے سے مصیبت کے درواہوجاتے ہیں المناک درناک’مصائب اور تکلیف دہ آہ وبْکا کی مسلسل تکراروں کے یہ درباربار کون کھٹکھٹاتا ہے’ کون ہمارے معاشرے پرخوف ودہشت کی پرا گندہ فضاء محیط کردیتا ہے ہم اورآپ اْنہیں بخوبی جانتے ہیں وہ ہم ہی میں سے ہیں لیکن جانے انجانے میں یہاں راقم کی رائے ہے کہ خاص کر وہ حلقے’انجانے’میں اپنی ڈیوٹی سمجھ کر یہ سب کچھ کرتے ہیں اِس پرفخربھی کرتے ہیں’ کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ وہ کیا کررہے ہیں؟یہاں جسے دیکھئے ہربات کی تہہ تک ہر واقعہ کی تہہ تک پہنچنے کی ہرشخص سرتوڑجستجواورکھوج میں لگا ہوا ہے اْسے اِس سے کوئی غرض وغایت نہیں ہے وہ جو کچھ جاننا یاسمجھنا چاہتا ہے اْسے اِس کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے چونکہ یہ اْس کا کام نہیں ہے’امام حضرت علی فرماتے ہیں’بہت کچھ جاننے سے کچھ نہ جاننا بہترہے’امرِواقعہ یہی ہے کہ گزشتہ 15۔10 برسوں میں دہشت گردی کے بیہمانہ خونریزدرندہ صفت سفاکیت سے لبریز سنگین واقعات نے پاکستانی معاشرے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے دہشت گردی کے واقعات میں اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق 80۔70 ہزار پاکستانیوں کی قیمتی جانوں کا نقصان ہوا جن میں ملکی سیکورٹی اداروں’ملکی افواج’ پولیس کے افسر و جوان’ ایف سی کے افسر وجوان رینجرز اور دیگر ریاستی اداروں کے ہزاروں افراد نے اپنی جانیں اپنے وطن پر نچھاور کردیں شدید زخمی جو معذور ہوچکے وہ علیحدہ ہیں اہلِ وطن پردہشت گردی کا بھیانک دورواقعی ناقابلِ فراموش ہے اب جبکہ پاکستانی افواج نے دہشت گردی کی بیخ کنی کیلئے کئی فیصلہ کن آپریشن کیئے جن کے نتیجے میں دہشت گردوں کو اْن کی کمین گاہوں سمیت نیست و نابود کردیا گیا اب ملک بھر میں فوج کا آپریشن ردالفساد جاری ہے۔ میڈیا قوموں کی تفریق نہیں کرتا قومی طبقات میں موجود فرقہ واریت کو میڈیا کبھی ہوا نہیں دیتا’ کیا یہ مقام غور وفکر کا متقاضی نہیں ہے کہ ہرخبرکا جواز تراشنے کی غیرپیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے چلن کی جانچ پڑتال کی جانے چاہیئے’ ساتھ ہی ذرائعِ ابلاغ کے غی ذمہ دار’ نااہل اورپیشہ ورانہ قابلیت سے تہی دست چاہے وہ کوئی بھی چرب زبان اینکرپرسن ہوں یا کوئی ایڈیٹرجوہرخبرکے پیچھے لٹھ بردار ہوکرریڈیو کے سامعین کو’ٹی وی کے ناضرین کو اوراخبار کے قارئین کو قربانی کا بکرا سمجھ لے ایسے میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو صرف’پیسہ کمانے’ کی دھن سے اب باہر نکلنا چاہیئے صحافت کوئی صنعتی انڈسٹری نہیں ہے دہشت گردی کے ایکادکا رونما ہونے والے واقعات میں آنکھیں بند کرکے میڈیا کے ‘چند غیرذمہ دار’ذمہ داروں نے یہ رویہ کیوں اپنالیا کہ وہ بھی ‘ایک طاقت’ ہیں جسے چاہئیں’ ہیرو’ بنادیں جسے چاہیں’زیرو’بنا دیں ملکی قومی حساس اداروں کے درمیان جانتے بوجھتے ہوئے ٹکراؤ اپنی سی بڑی ناکام کوششیں کرلی گئیں یہ بڑی خطرناک بات ہے جس کا نوٹس لیاجانا بہت ہی ضروری تھا اوربہت ضروری بھی ہے دہشت گردی کے حوالے سے کوئی خبرہو یا دیگر انتہائی نازک اور حساس مذہبی ایشوز ہوں بلا تحقیق اور بلا تفتیش کسی خبر کو نشر’ٹیلی کاسٹ یا شائع کرنا صحافت کے مروجہ طے کردہ اْصولوں کے خلاف سمجھا جاتا ہے ملکی میڈیا میں یہ رواج بہت نازیبا ہے، اشارے کنایوں میں مبہم بات چیت کی تشبیہات میں قومی اہمیت و افادیت کے حساس اداروں کوزبردستی کھینچ تان کراپنی خود ساختہ اور من گھڑت اسٹوری میں کشش پیدا کرنے کیلئے اْن اداروں کے نام براہ راست لیئے جارہے ہیں’اْن قومی وآئینی اداروں کا تمسخراْڑایا جا رہا ہے’اْنہیں چیلنج کیا جارہا ہے، دورانِ بحث اسکرینوں پر بیٹھے ہوئے شرکاء قہقے لگا رہے ہیں ، تالیاں بجا رہے ہیں، قوم مانتی بھی ہے اور سمجھتی بھی خوب ہے بس کریں جناب! ‘ معاشرے کو صحافت سے اورصحافت کو معاشرے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا’ معاشرے میں آزادی اور حریت کا بول بالا ہوگا تو صحافت بھی اپنے گندے اور بدبودارانڈوں کواْٹھاکر باہر پھینک دیگی’ کیونکہ ذمہ دارصحافت کی آزادی معاشرے کو صحت مند’ توانا اور جرات مند رکھتی ہے اورصحت مند معاشرہ ذمہ دار قومی صحافت کی آزادی کا امین ہوتا ہے’ محافظ ہوتا ہے’ حقیقی اورذمہ دار صحافت کی آزادی کی مثال روشنی اور تازہ ہوا کی سی ہوتی ہے جو زندہ رہنے کیلئے ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے ہاں البتہ یہ اصول کسی چیز کی بھی زیادتی کیلئے لاگو نہیں ہوتاہمیں کبھی نہیں بھولنا کہ ذمہ دارقوم پرست آزادیِ صحافت کیلئے بھی متذکرہ اصول پر اْتنا ہی صحیح ہے جتنا زندگی کے کسی اور شعبہ میں آزادیِ عمل کیلئے ہم اور آپ اپنے اْوپر لاگو کرتے ہیں یہاں ہماری یہ تجویز ہے کہ ہماری جمہوری حکومتوں کووفاقی اور صوبائی سطحوں پر صحافت کے شعبہ کوپیشہ ورانہ ذمہ دار بنانے کیلئے کوئی اعلیٰ موثراورنتیجہ خیز ابلاغی سسٹم رائج کرنے کی جانب فوری توجہ دینی ہوگی تربیتی ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہے اور یہ اقدام ہر لحاظ سے اورہر اعتبار سے لائق تحسین قرارپائے گا۔

*****

Google Analytics Alternative