کالم

’شورش زدہ سرزمین‘۔اوراندوہناک داستانیں

بلاشبہ ’سچائی‘ ایک پیچیدہ تصور ہے سچائی تک پہنچنااور عین ویسے ہی من وعن بیان کردینا بڑی ہمت وجرات کی بات ہوتی ہے اور خاص کر بھارت جیسے ملک میں جہاں آپ دیش بھرمیں پھیلی ہوئی سرکاری سرپرستی کی جنونی انارکی کوللکارنے نکل پڑیں’ایسی ہی کڑوی کسیلی اورتلخ سچائی سے وابستہ حیات آفریں تصور کے ساتھ چند دوسرے تصورات بھی آپ کے ذہنوں پریعنی سچائی لکھنے اوربولنے والوں کے ذہنوں پرلگاتاردستکیں دینے لگتی ہیں، مثلا تصدیق کی دستک ‘دیانت اورمحنت کی دستکیں’ان بے آوازدستکوں کااحساس اْنہیں یہ باور کراتا ہے کہ وہ انسانیت کے وقار کے لئے کمربستہ ہوچکے ہیں’لہذاء کسی قسم کے خوف کو اپنے قریب پھٹکنے نہ دیں جو سچ بولنے جارہے ہیں وہ سچ بول دیں، بھارت کی نامورعالمی شہرت یافتہ مصنف’صحافی اورممتازٹی وی اینکرپرسن محترمہ برکھادت نے زمینی وواقعاتی سچائی کی سرشاری میں محو ہوکردیش بھرمیں آباد مختلف نسلوں جنہیں ہمہ وقت انسانی محرومیوں نے اپنے حصار میں گھیرا ہوا ہے ایسوں کے ساتھ پیش آنے وا لے دردوالم کو محسوس کرکے بھارتی معاشرے میں بڑھتی ہوئی نسلی ولسانی فرقہ واریت کی متشدد جنونی مشکلات کی کھائی میں اس بہادرمصنفہ نے بلاآخر چھلانگ ہی لگادی ممکنہ پیش آنے والی مشکلات کی بالکل پرواہ نہ کی اور نکسل عوام کی ایک بڑی واضح اکثریت جوغربت وافلاس میں گھری ہوئی ہے اْن کی انتہائی لاچاریوں اوربے بسیوں کی جانب توجہ دلانے کے لئے برکھا دت نے’نکسل وادی’کے عوام کی آوازکواپنی عالمی شہرت یافتہ کتاب کاموضوع بنایا ہے’شورش زدہ سرزمین۔اوراندوہناک داستانیں’مس برکھادت نے ا پنی مقبول عام کتاب میں مغربی بنگالی صوبہ میں واقع نکسل باڑی کے بہادراورغیورمحنت کش عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والی نئی دہلی سرکار کی برسہا برس کی متعصبانہ اور بے حس پالیسیوں پربڑے تفصیل سے گہری تفتیشی اندازمیں تنقیدی تاریخی رویہ اپنایا اوردنیا میں بھارتی جمہوریت کے داغدار چہرے کو بے نقاب کرکے اپنی صحافتی ذمہ داریوں کا حق اداکردیا ہے دنیا جاننا چاہتی ہے تو سن لے کہ’ نکسل عوام’ نے نئی دہلی اقتدارکو اگرچیلنج کیا ہے تو کیوں کیا ہے؟کوئی یہ سب کچھ جاننے کی کوشش کیوں نہیں کرتا ‘نکسلائٹ آئیڈیا لوجی’کے مسلح پس منظر میں ایسے کون سے عوامل کارفرما رہیں یا آج بھی کل کی طرح تروتازہ ہیں بقول مصنفہ برکھادت کہ نکسل عوام تک نئی دہلی سرکار نے انسانی سہولتوں کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کوممکن بنانے میں ہمیشہ تنگ نظری اور صرف نظر سے کام لیا ہے، مگراس ضمن میں نکسل عوام کوجو سب بڑا فائدہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ نکسل عوام کی نئی دہلی کی حاکمیت سے علیحدگی کی تحریک کی بابت بھارتی معاشرے میں اب ایک واضح لکیر وقت کے ساتھ ساتھ نمایاں ترہوتی جارہی ہے نکسل عوام اپنی الگ آزاد ریاست کے لئے اپنی کئی نسلوں کی قربانیاں دینے کے لئے ا پنے آپ کومکمل طور پر تیارکرچکے ہیں ،جس پرسینٹرل دیش کے اکثرسیاسی تجزیہ کار اور صحافی نکسلائٹ چھاپہ ماروں کوکسی طور بھی ‘ریاست مخالف’یا’دیش کے معاشرے کا دشمن خیال نہیں کرتے’بلکہ اکثرحلقوں کی ایک پختہ رائے یہ بھی ہے کہ نکسل عوام کاتعلق بھارتی معاشرے کے اْن محروم طبقات سے ہے جن کے ساتھ بھارتی ریاست’حکومت اور بھارتی ایلیٹ معاشرہ ہمیشہ سے بہت ہی بْری طرح کا غیر انسانی ظلم وستم کرتا چلاآیا ہے’لہذاء ان محروم اور پسماندہ طبقات نے اپنے بنیادی انسانی حقوق کے حصول کی جدوجہد کے لئے اب اپنا ‘مسلح راستہ’اپنا لیا ہے مصنفہ برکھادت نے اسی جانب اپنی کتاب میں اشارہ کیا ہے کہ جب کوئی بھی ریاست اپنی مجموعی آبادی کے ایک بڑے واضح حصہ کو زندہ رہنے کے لئے پینے کا صاف پانی تک فراہم نہ کرئے اْن کی ضروریات زندگی کے لئے روزگارکا کوئی بندوبست نہ کرئے اْنہیں صحت کی سہولیات میسرنہ ہوں علاقہ کے بڑے امیر و کبیر بڑی زمینوں وا لے جاگیرداراْن کی زمینوں پرقبضہ جماتے رہیں علاقائی پولیس تھانوں میں آئے روزاْن کی ظالمانہ چھترول کی جاتی ہو’پہلے سے محروم پسے ہوئے طبقات کوغلام بناکر زندہ رہنے پرمجبورکردیا جاتا ہواْن کی خواتین کی کھلے عام عصمت دری کی جاتی ہو توکیا ایسے محروم اور نادارعوام ہمیشہ کے لئے مہربہ لب اورخاموش رہ سکتے ہیں؟’نکسلائٹ آئیڈیا لوجی‘ کا یہی واحد ٹھوس نظریہ ہے جس نے اْنہیں باہم متحدہ ویکجا کیا ہے، نکسل باڑی تنظیم کی بحثیں کرتے ہوئے نام نہاد’متحدہ بھارت’ کے نام لیواوں کاجوخیال بھی ہو،مگر معروضی سچائی معروضی حقائق اورنظرآنے والے واقعات کو وہ یوں یکسررد نہیں کرسکتے’جیسا کہ مس دت نے محسوس کیا اور اپنی کتاب کے صفحات میں اْنہیں رقم کردیا کہ نکسل عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والا متعصبانہ سلوک تاریخ کا حصہ بن سکے وہ بالکل حق بجانب ہیں گزشتہ 70 برسوں میں نئی دہلی سرکار نے چاہے کسی جماعت کی بھی مرکز میں حکومت رہی ہو یا آج بھی موجود ہے نکسل عوام کو کسی نے بھی وہ توجہ نہیں دی جو بھارت کے عام ‘ہندوجاتیوں’ کو دی جاتی ہے، بلکہ سنجیدگی سے اس کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی گئی تو پھراْنہوں نے بندوق اْٹھالی، نئی دہلی کے علاوہ علاقائی اورعالمی طاقتیں فورا سمجھ گئیں کہ ‘جنوبی ہند میں ضرورت سے زیادہ شورش برپا ہے جو بڑھتی جارہی ہے ا گرفکر نہیں ہے توجانتے بوجھتے ہوئے بھی نئی دہلی سرکارہے جوبے فکرہے کبھی چین پرالزام دھردیا جاتا ہے’ کبھی پاکستان کو اڑے ہاتھوں لے لیا جاتا ہے لیکن مسئلہ کا بامقصد حل تلاش نہیں کیا جاتا نئی دہلی کی اسی ناعاقبت اندیش اور تساہل پرست ہٹ دھرم سیاست نے دیش کو آج کل بارود کے ڈھیر پر ضرورپہنچا دیا ہے، مقبوضہ کشمیر سے لے کر جنوبی ہند تک سے ‘نئی دہلی حاکمیت’کی مرکزیت کے خلاف اْٹھنے والی جاندار اور موثرآوازوں پراپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسنے والوں کوکیا اب یہ ہم بتائیں گے کہ اگر اُنہیں فرصت ملے تووہ مس دت کی کتاب کا مطالعہ کریں تاکہ اْنہیں علم ہوجائے کہ’نکسلائٹ تحریک’وسطی اورمشرقی دیش کے سبھی دیہی علاقوں تک پھیلتی ہی چلی جارہی ہے مس دت کی متذکرہ کتاب کافی ضخیم ہے اپنی کتاب میں مس دت نے بھارتی معاشرے میں بڑھتی ہوئی ہندوتوا تحریک پر بڑے زور دار سوالیہ انداز میں طنزیہ تبصرے کیئے ہیں خاص کر بی جے پی کی موجودہ سرکار پر جنہیں درپردہ آرایس ایس کی مکمل حمایت حاصل ہے دیش بھر میں ’ہندوتوا‘ کی نفرتوں بھری سیاست کی گندگی کو نمایاں کرکے دنیا تک مصنفہ نے پیغام پہنچا دیا ہے کہ بھارت میں جنونی انتہا پسندوں نے ایسا تنگ نظر ماحول پیدا کردیا ہے کہ یہ دیش اب ’لبرل اور روشن خیال اعتدال پسند سیکولر ازم پر چلنے والوں کے لیئے جہنم بنتا جارہا ہے جہاں نسل کی بنیادوں پر اچھوتوں کا کھلے عام استحصال ہوتا ہے، مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک سرکاری سرپرستی ہوتا ہے، مذہبی اقلیتوں میں عدم تحفظ کے احساسات بڑھتے چلے جارہے ہیں بھارت کی انتشار پسند ریاستوں کا یہ رخ کتنا بھیانک ہے بھارت اپنے پڑوسی ممالک کو گیدڑ بھبکیاں دینے میں بڑااتراتا ہے ذرا جھک کر اپنے ہی گریباں میں تو جھانک لے دنیا بھر کے تجزیہ نگاراس امر پر متفق ہوچکے ہیں نکسل وادی گوریلوں کی مسلح کارروائیوں کے نتیجے میں بھارت کے40% حصے پر 92000 مربع کلومیٹر علاقے میں نکسل اپنی عملداری قائم کرچکے ہیں ’ہندوتوا کی فرقہ واریت ‘کی نفرت نے آج بھارت کوکس قدر منقسم کردیا ہے ۔

خاتون اوّل بشریٰ بی بی

پاکستانی خواتین کے سرفخر سے بلند ہو گئے جب انہوں نے اپنی نمائندہ خاتون اوّل بشریٰ بی بی کو یو م دفاع کے دن جی ایچ کیو، راولپنڈی میں پریڈ کے موقعہ پر وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اسلامی پردے کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے شانہ بشانہ کھڑی ،شاندار پریڈ میں شرکت کی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم وزیر اعظم عمران خان صاحب کو بھی داد دیتے ہیں کہ باوجود مغرب میں زندگی کا ایک عرصہ گزانے کے، اپنی بیوی کوپردے میں ساتھ کھڑا کر کے فخر محسوس کیا۔ عمران خان دین کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ عام طور پرہمارے ہاں بڑے بڑے عہدوں سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد کچھ لوگوں کا دین کی طرف رجوع ہوتا ہے۔ اگر پہلی زندگی میں دین کے ارکان پر عمل نہیں کیا تو کم از کم اپنی آخری زندگی میں دین کی طرف رجوع کرلیتے ہیں۔ اللہ انسان کی خطائیں جس وقت چاہے معاف کر سکتا ہے۔لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ عمران خان مغربی معاشرے میں رہے ۔ بلکہ اس میں رچ بس گئے۔ کرکٹ میں نام پیدا کیا۔ پاکستان کا نام بھی روشن کیا۔نوجوان عمران خان کی زندگی کو آئیڈیل بناتے رہے۔ مگر اللہ جب چاہے انسان کو تبدیل کر دے۔ اللہ نے عمران خان کو اسلام کی طرف بڑھنے میں مدد کی۔ بے شک اللہ کی مدد کے بغیر ایسا نہیں ہو سکتا۔ نئے ننے اقتدار میں آنے کے باوجود بھی عمران خان کا اپنی نوجوانی کی زندگی کی طرف ہٹ جانا، مسلمانا ن پاکستان کیلئے بڑی خوش آ ئند بات ہے۔پاکستان کی خاموش اکثریت اپنے حکمرانوں کو ایسا ہی دیکھنا چاہتی ہیں۔ عمران خان کے اسلامی کی طرف آنے پر تحقیق کی جائے تو اس میں بہت سے عوامل ہیں۔ وہ مغرب میں رہ کر بھی اپنے دین کی سوچ رکھتے تھے۔ انہوں نے ایک یہودی خاندان کی چشم و چراغ جمائنا خان کو مسلمان کیا۔ اسے پاکستان لے کر آئے۔مگر اللہ ہدایت دے سیاسی مخالفوں کو اس خاتون کے خلاف ایسا محاذ کھڑا کیا کہ وہ پاکستان کے اس ماحول سے نفرت کرنے لگی۔ اور عمران ں خان سے کہا کہ وہ اس کے ساتھ برطانیہ میں رہے۔ مگر عمران خان کو شاید وہ ماحول پسند نہیں تھا۔ اس لیے ان میں بلا آخر علیحدگی ہوگئی۔ایک ٹی وی اینکرکے مشہور ومعروف پروگرام میں دل برداشتہ انداز میں عمران خان نے کہا کہ سیاسی مخالوں نے اسلام کی طرف آنے والی میری سابقہ اہلیہ جو یہودیت چھوڑ کر اسلام کی طرف بڑھی تھی، اس خاتون کے خلاف پروپگنڈہ کا طوفان گھڑا کیا۔ جس سے وہ پاکستانی معاشرے سے دل برداشہ ہوئی۔ عمران خان نے پاکستانیوں کی ۹۰؍ فی صدخاموش اکثریت کے دلوں کی ترجمانی کرتے ہوئے، مدینہ کی کرپشن سے پاک اسلامی فلاحی ریاست کا پروگرام دیا۔پاکستان کے عوام نے اس کا ۷۱ ؍سال سے انتظار کرتے کرتے اپنے آنکھوں کے آنسو خشک کر چکے ہیں۔ قائد اعظم ؒ کی وفات کے بعدپاکستان کے سیاسدان تو پاکستان کو سیکولرز ریاست کی طرف لے گئے۔کبھی روٹی کپڑا مکان، کبھی کسی ڈکٹیٹر نے روشن خیال پاکستان بنانے کی بے سود کوششیں کیں۔مگر اسلام کے بابرکت نظامِ حکومت کی طرف نہ گئے۔ جس کا قائد اعظمؒ نے تحریک پاکستان کے دوران مسلمانا ن اسلام برصغیر سے دعدہ کیا تھا۔ جس کا خواب مفسر قرآن و حدیث، شاعر اسلام، حضرت شیخ علامہ محمد اقبالؒ نے دیکھا تھا۔جس میں رنگ بھرنے کیلئے جمہوری طریقے سے بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے تحریک پاکستان چلائی تھی۔ جب لاکھوں مسلمانان برصغیر نے قائد اعظم ؒ کی لیڈر شپ میں اللہ کے سامنے یہ نعرہ بلند کیا کہ’’ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ‘‘ تو اللہ نے اپنی مستقل سنت پر عمل کرتے ہوئے، باوجود انگریزوں اور ہندوؤں کی سخت مخالفت کے، مثل مدینہ ریاست مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان طشتری میں رکھ کر مسلمانان برصغیر کو پیش کر دی۔ قرآن کی ایک آیات کا مفہوم ہے کہ’’ اگر بستیوں کے لوگ اللہ کی بتائی ہوئی ہدایات کے مطابق عمل کرتے تو اللہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے آسمان اور زمین کے خزانے کھول دیتا‘‘ کیا مدینہ کی اسلامی ریاست اورخلفائے رشدینؓ کی حکومتوں کے دوران دنیا نے یہ منظر نہیں دیکھا تھا؟ اب اگر عمران خان اگر صدق دل سے پاکستان کو مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست بنانے پر عمل پیرا ہے تو ہمار ا ایمان ہونا چاہیے کہ اللہ کا وعدہ اب بھی موجود ہے۔ اللہ زندہ جاوید ہستی ہے۔ اگر اب بھی پاکستانی عوام اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور اللہ کے بتائی ہوئی تعلیمات پر عمل شروع کر دیں تواللہ آسمانوں اور زہین سے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے خزانوں کو کھول سکتا ہے۔ہم گزارش کرتے ہیں سب دینی جماعتوں سے کہ وہ سیاسی اختلافات بھول جائیں اور عمران خان کوبانیِ پاکستان قائد اعظم ؒ کے وژن کے مطابق پاکستان کو مدینہ کی کرپشن سے پاک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے ایجنڈے پر عمل کرنے میں معاونت کریں۔پاکستان کے عوام بھی عمران خان کا ساتھ دیں۔عمران خان خوش قسمت ہیں کہ انہیں صوم و صلوۃاور اسلامی پردے والی نیک خاتون بشریٰ بی بی شریک حیات ملی ہے۔یہ عمران خان کے پاکستان کو کرپشن فری مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست بنانے میں مدد گار ہو گی۔ ہم پاکستان کی مٹھی بھر اُن خواتین سے جو موم بتی مافیا اور مغرب کے ایجنڈے پر این جی اوئز بنا کر خواتین کے حقوق کے نام پرکبھی پاکستان، کبھی اسلامی شعار اور کبھی پاک فوج کے خلاف مظاہرے کر تی ہیں۔اس خواتین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ مغرب کی نکالی اور ایجنڈے کو چھوڑ کر خاتون اوّل بشریٰ بی بی کی طرح اپنا آئیڈیل امہاۃالمومنینؓ کو بنائیں۔ مغرب نے عورتوں کو گھر کی ملکہ کے برخلاف شمع محفل بنا دیا ہے۔مغرب میں عورتوں کے حقوق کا بُرے طریقے پامال کیا ہے۔ جبکہ اسلام نے عورتوں کو حقوق دیے ہیں۔ ان عورتوں کو چاہیے کہ اسلامی احکامات پر عمل کریں۔ ان کو بھی آخرت میں اپنے اللہ کو اپنے عمال کا جواب دیناہے۔ اب انہیں خاتون اوّل سے معاونت کرنی چاہیے۔ ان سے مل کر پاکستان کی خواتین کے حقوق، جیسے ونی اور غیرت کے نام پر غیر اسلامی چیزوں کے خلاف اپنی آواز اُٹھانی چاہیے۔ورکنگ خواتین کے مسائل حل کرنے چاہیے۔ باپ کی جائداد میں جہاں کہیں حصہ نہیں دیا جاتا اس کے خلاف آواز اُٹھانی چاہیے۔ پاکستان کی خواتین، خاتون اوّل بشریٰ بی بی کو خوش آمدید کہتی ہیں۔ اور درخواست کرتی ہیں کہ وہ پاکستان کی پسی ہوئی خواتین کے حقوق حل کریں گی۔ اللہ پاکستان کو مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست بنائے۔ آمین۔

*****

آگ

معزز قارئین کرام قبل اس کے بھی راقم آگ کے موضوع ،اس کے فوائد اور نقصانات پر قلم آرائی کر چکا ہے لیکن کیا کریں کہ کچھ وقفے کے بعد وطن عزیز کے کسی بڑے شہر میں کسی اہم مقام پر آگ لگنے کا پچھلے واقعات سے ملتا جلتا واقعہ پھر وقوع پذیر ہو جاتا ہے جو دوبارہ قلم اٹھانے کی زحمت سے دوچار کرنے کا باعث بنتا ہے۔آگ کی دریافت سے قبل انسان کی زندگی نامکمل تھی۔ عصر حاضر میں آگ سے انسان سو طرح کے کام لیتا ہے ۔آگ انسان کیلئے کھانا پکانے ،روشنی مہیا کرنے سمیت کسی بھی کام میں جوت دو وہ اپنی قوت خدمت کیلئے حاضر کر دیتی ہے ۔انجن ،جہاز اور صنعت آگ ہی کے زور اور اسی کے دم قدم سے آباد ہے ۔آگ کی قوتوں میں سے ایک بالا تر قوت برق ہے جسے گرتے دیکھ کر انسان لرزنے کے ساتھ استغفار کا ورد ضرور کرتا ہے ۔اس کے جنگل پر گرنے سے جنگل کا جل کر راکھ ہونا مقدر ٹھہرتا ہے۔آتش فشاں پہاڑوں میں آگ لگنے سے پیدا ہونے والے زلزلے دنیا میں بنی نوع انسان کی تباہی و بربادی کی داستانیں رقم کرتے ہیں ۔آگ لگنا اور گھر کے چراغ سے آگ لگنا ہمارے ہاں بطور محاورہ مستعمل اور عام سی بات ہے ۔وطن عزیز میں بعض محبت کے اسیر بہ اختیار و رغبت محبت کی ناکامی پر جوش محبت میں اپنے تئیں آگ لگا کر درد ناک موت سے دوچار ہوتے ہیں ۔ سماج میں آگ لگانے کے واقعات بھی خبروں کی شہ سرخیوں کی شکل میں قارئین تک پہنچتے رہتے ہیں ۔ محرومیاں ،مالی پریشانیاں ،غربت ،مہنگائی ،بے روز گاری،معاشرتی تضادات ،بے انصافیاں ،عدم مساوات اور گھریلو جھگڑوں سے تنگ ستم زدہ افراد بطور احتجاج دنیا کے مصائب و آلام سے ہمیشہ کی رہائی کیلئے خود کو جلا کر اذیت ناک موت کا انتخاب کرتے ہیں ۔ارض پاک میں چولہا جلانے کے دوران سماج کی کمزور و ناتواں مخلوق کے کپڑوں کو آگ پکڑ لیتی ہے جو ان کی درد ناک موت کا باعث بنتی ہے ۔اسے عورت کی غلطی یا خود کشی کا رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن واقعات سوختگی میں جلانے والے کبھی سزا نہیں پاتے۔ ہندوستان میں مردہ خاوند کی لاش کے ساتھ ان کی بیویوں کا چتا پر جلایا جانا رسم ستی کہلاتا تھا گو قانوناً تو اب اس رسم پر سخت پابندی ہے لیکن اس دور جدید میں بھی ہندوستان کے دور دراز پسماندہ علاقوں سے اب بھی کبھی کبھار رسم ستی پر قربانی کی بھینٹ چڑھائی جانے والی مظلوم عورت کی دلخراش خبر سننے کو مل جاتی ہے ۔سماج میں دکھ، درد اور اذیتیں سہتے ہوئے تلخ زندگی بسر کرنے والوں کو بھی کوئی داد نہیں ملتی اور نہ ہی مجبور جل مرنے والوں کے درد کو محسوس کیا جاتا ہے ۔کئی بے گناہ سماج میں جل رہے ہیں مگر دھواں تک نہیں اٹھتا اگر اٹھتا بھی ہے تو کوئی دیکھنے کی کوشش نہیں کرتا ،اگر کوئی دیکھتا بھی ہے تو آگ بجھانے کی تگ و دو سے غافل ہے یا پھر خاموش تماشائی ہے۔کچھ درد دل رکھنے والے ایمان کے کمزور ترین درجے پر کھڑے دل میں برا خیال کرنے اور استغفار کہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں ۔دعا کریں کہ وہاں آگ نہ لگے جہاں اسے بجھانے والا کوئی نہ ہو ۔زندگی بھی آگ وخون کا دریا ہے جسے پار کرنا بدقسمت انسانوں کے بس کا روگ نہیں ۔میرے واجب تکریم قارئین بات ہو رہی تھی آگ لگنے یا لگانے کی کچھ ملک و اسلام دشمن عناصر پس پردہ رہ کر مختلف فرقوں کے درمیان فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دے کر نہ بجھنے والی آگ اس مہارت سے لگاتے ہیں کہ دو برادر مسلمان فریقوں میں قتل و غارت کا بازار گرم کروا دیتے ہیں ۔ جنگ ایک ایسی آگ ہے جس کا ایندھن بے گناہ انسانوں کو ہی بننا پڑتا ہے ۔جنگ ہلاکت ،بربادی و تباہی کی علامت ہے ۔ماضی قریب میں ہم سب نے دیکھا بھی اور سنا بھی انسان کے ہاتھوں لگائی گئی آگ آتش و آہن کی بارش ،جنگی طیاروں کی گھن گرج ،بمباری کی دلخراش آوازیں ،جدید اسلحہ کی داستانیں ،ایسی آگ آسمان جس کے شعلوں سے سرخ کر دیا گیا ،بے رحم بموں نے انسان کجا پتھروں کو بھی پگھلا دیا ۔اس آگ نے بے آب و گیاہ صحراؤں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ، اس آگ کے دریا میں لاکھوں بے گناہ انسان بہا دیے گئے۔ جنگ کے الاؤ سے اٹھنے والی چنگاریاں دور دور تک گرتی ہیں ۔عربی کا ایک محاورہ ہے اگر ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف پھیلتی آگ بجھائی نہ جائے تو وہ آگ اس گھر تک پہنچ جاتی ہے جس سے دیا سلائی پھینکی گئی ہو ۔

اے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی
یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیر ا گھر نہ ہو
مارچ2002ء میں ہونے والے فسادات میں ایک ریل گاڑی کو لگائی گئی آگ میں 59انتہا پسند ہندو ہلاک ہوئے اور نزلہ بر عضو ضعیف کے مصداق الزام بے چارے مسلمانوں پر ہی لگایا گیا اور اس ناکردہ جرم کی پاداش میں تین ہزار مسلمانوں کو قتل کیا گیا یا زندہ جلایا گیا ۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ مسلمانوں کی نسل کشی تھی اور یہ فسادات گجرات کی ریاستی حکومت کی در پردہ اجازت پر ہی کئے گئے۔کئی دفعہ آگ لگتی نہیں لگائی جاتی ہے ۔اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کیلئے ،نشان جرم مٹانے کیلئے لیکن جرم تو خود اپنی گواہی کا سامان پیدا کرتا ہے ،خود بولتا اور تمام ثبوت و شواہد مہیا کرتا ہے ۔یہ علیحدہ بات ہے کہ مجرم کو سماج میں سزا ملے یا نہ ملے لیکن جرم چھپائے نہیں چھپتا۔آگ ضروری دستاویزات ضائع کرنے کیلئے بھی ایک موثر اور معتبر ذریعہ ہے ۔وطن عزیز میں انشورڈ گاڑیوں،دکانوں ،بڑی عمارتوں اور کارخانوں میں قیمتی سامان کو آگ لگنے کا مشاہدہ میرے معزز ناظرین نے کیا ہو گا ۔ایسی لگی آگ کے پس پردہ ہمیشہ ذاتی محرکات و مفادات ہی کار فرما ہوتے ہیں ۔اکثر آگ لگنے کی وجوہات میں تان بجلی کا سرکٹ شارٹ ہونے پر ہی تان ٹوٹتی ہے۔بعد میں ذمہ داران کی طرف سے لگائی گئی انکوائریاں جامع تحقیقات سے گریز کے باعث قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹیں بنا کر کسی بھی مثبت نتیجے پر پہنچنے سے محروم رہتی ہیں۔بعد ازاں ایسے واقعات کو بھلانے اور ان پر مٹی ڈالنے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔گزشتہ چند برسوں کے دوران سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں میں آگ لگنے اور اہم سرکاری ریکارڈ جلنے کے واقعات اس تواتر سے ہوئے ہیں کہ اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ آتشزدگی کے یہ واقعات محض حادثات نہیں ۔لاہور میں اس قسم کے وقوعے نے صورت حال کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے داماد کی ملکیت اس پلازے میں صاف پانی کمپنی کا دفتر واقع تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کمپنی پنجاب کی سابق حکومت کی بد عنوانیوں کا شاہکار ہے اور ان دنوں قومی احتساب بیورو اس کمپنی میں ہونے والی اربوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات کر رہی ہے ۔ گزشتہ ماہ کے وسط میں لاہور میں پنجاب کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے رجسٹرار آفس میں آگ لگنے کا ایسا ہی مشکوک واقعہ اتنی صفائی کے ساتھ رونما ہوا یاکیا گیا کہ مشکوک اور زیر تفتیش ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا اہم ترین ریکارڈ جلنے کے سوا اس سے کو ئی اور نقصان نہیں ہوا تھا ۔حالیہ برسوں میں سرکاری دفاتر میں آتشزدگی کا بدترین وقوعہ مئی 2013ء میں لاہور ہی میں ایل ڈی اے پلازہ میں پیش آیا جس میں لاہور میٹرو منصوبے کے علاوہ رئیل اسٹیٹ کا بہت سا اہم ریکارڈ ضائع ہو گیا اور 25افراد بھی اس خوفناک وقوعے کی نذر ہو گئے تھے مگر متعلقہ ادارے کی جانب سے ایک جلتی ہوئی ٹیوب لائٹ کو اس کو ذمہ دار قرار دے کر معاملے کو دبا دیا گیا۔
*****

نیکٹامعالات پروزیراعظم کے خوش آئنداقدامات

adaria

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت نیکٹا کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیکٹا کے کردار کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی۔ اجلاس میں سیکیورٹی اداروں کے مابین روابط بہتر بنانے اور نیکٹا کو فعال بنانے سے متعلق تجاویز پر غور کیا گیا، اس کے علاوہ اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور اداروں کے مابین معلومات کے تبادلے کو مزید موثر بنانے پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے نیکٹا کے کردار پر نظرثانی کا فیصلہ کرتے ہوئے نیکٹا کے کردار کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی قائم کر دی، کمیٹی ایک ہفتے میں اپنی تجاویز وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے، دہشت گردی کے خلاف عوام اور سیکیورٹی اداروں نے ہزاروں جانیں قربان کیں۔ ملک کو اس وقت کئی اندرونی اور بیرونی چیلنجز درپیش ہیں، انٹیلی جنس اداروں میں موثر رابطوں کی ضرورت ہے جب کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بڑا چیلنج ہے، اس پر قابو پائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انٹیلی جنس اداروں کا کردار بہت اہم ہے، ملک میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری، مسلح افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیز سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مرہون منت ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ حکومتوں نے نیکٹا کے لیے کچھ خاص نہیں کیا، نیکٹا کے بورڈ آف گورنرز کا ایک اجلاس بھی نہیں بلایا گیا، نیکٹا کو فعال اورجدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اس کے کردار کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔دہشت گردی کی روک تھام کے لئے پاکستانی عوام اور ہماری مسلح افواج اور سیکیورٹی کے دیگر اداروں نے جو کردارادا کیا ہے وہ نہ صرف ناقابل فراموش ہے بلکہ ہماری تاریخ کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ وزیراعظم نے دہشت گردی کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیحات میں رکھا ہے اور انہوں نے نیکٹا کااجلاس بلاکر نیکٹا کے کردار کاجائزہ لینے کے لئے ایک کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔یقیناً یہ کمیٹی آگے چل کرنیکٹا کے پلیٹ فارم سے کئے جانے والے اقدامات کانہ صرف جائزہ لے گی بلکہ ان کے حوالے سے تجاویز مرتب کرکے وزیراعظم تک پہنچائے گی ۔اس موقع پر ہم سمجھتے ہیں کہ نیکٹا جیسے اداروں کو مزید فعال اورطاقتور بنانے کے لئے نہ صرف ان کے مالی فنڈز میں اضافے کئے جائیں بلکہ انہیں درکار تمام سہولیات بھی فراہم کی جائیں کیونکہ دشمن ہم سے سوگنازیادہ طاقتورہے اور پھر دشمن ایک نہیں بلکہ ہمیں تو دشمنوں کے اتحاد کے ساتھ لڑناپڑرہا ہے اس لئے وسائل کااضافہ ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیکٹا کے اندر کار کرنے والے اداروں کو جدید تربیت دینے کابھی سوچاجاناچاہیے اور ان سب سے بڑھ کر جس سمت میں کام کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے انٹیلی جنس ،یعنی ہمیں آپریشنل اقدامات کرنے سے پہلے انٹیلی جنس کانیٹ ورک اتنامضبوط اور بھرپور ہوناچاہیے کہ ہم دشمن کو سراٹھانے سے پہلے ہی کچل ڈالیں اورایسا ماضی میں ہوتا رہا ہے ۔نیکٹا کے دائرہ کار میں کام کرنے والی ہماری مختلف ایجنسیوں نے دہشت گردی کے بہت سارے نیٹ ورک توڑے ہیں اور دہشت گردوں کو عبرتناک انجام سے دوچارکیاہے ،اس حوالے سے کلبھوشن کیس سب کے سامنے ہے کہ کتنی مہارت کے ساتھ ہمارے حساس اداروں نے اس کے کھچارمیں جاکرپکڑا اور پنجرے میں بند کیااس لئے وزیراعظم کی جانب سے نیکٹا کے معاملات میں دلچسپی لینا اوراس کے لئے ایک خصوصی کمیٹی کاقیام استحکام پاکستان کے سلسلے کی ایک بنیادی کڑی ہے جس پر وہ بجاطورپرمبارکبادکے مستحق ہیں۔

لارڈنذیرکی پروگرام سچی بات میں گفتگو
ممبر ہاؤس آف لارڈ برطانیہ لارڈ نذیر احمد نے روز نیوز کے پروگرام سچی بات ایس کے نیازی کے ساتھ میں گفتگو کے دوران کہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں، ہندوشدت پسند مسلمانوں پر ظلم کی سیلفیاں بناتے ہیں، کشمیر کے بغیر پاکستان کی بقاء خطرے میں ہے،پانی کے حوالے سے بہت پہلے منصوبہ بندی ہو جانی چاہئے تھی،ڈیمز فنڈ ریزنگ کیلئے روز نیوز کی مہم قابل ستائش ہے سب کو اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔ لارڈ نذیر احمد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں غربت اور بے روزگاری بہت زیادہ ہے،پانی کے حوالے سے پلاننگ بہت پہلے سے ہونی چاہیے تھی،پاکستان میں انڈسٹریز پانی کو آلودہ کررہی ہیں،جو غریب لوگ پانی پیتے ہیں وہ زہر آلود ہے،آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے تک بدمعاش ظلم کرتا رہے گا،بھارتی وزیراعظم مودی مسلمانوں کو سکینڈ کلاس سمجھتا ہے،بھارت یو این مشن کو ایل او سی پر جانے کی اجازت نہیں دیتا،بھارت میں اقلیتوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں، بھارت نے پہلے دریائے راوی کا پانی بند کیا اور پھر چھوڑ دیا،بھارت اچانک پانی چھوڑ کر پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کی اسمبلی میں آواز اٹھائیں گے،ظلم بڑھ چکا ہے اور ظالم کو مزید حوصلہ مل رہا ہے،کشمیری بہنوں،بیٹیوں کا حق ہے کہ انہیں انصاف دلایا جائے امریکا ڈاکٹر آفریدی اور پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی چاہتا ہے،امریکا اور پاکستان کو آپس میں دونوں کا تبادلہ کرلینا چاہیے، امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اچھے ہونے چاہئیں، پاکستان کا قومی مفاد سی پیک کے ساتھ جڑا ہوا ہے، امریکا جب چاہے پاکستان پر پابندیاں لگا دیتا ہے، امریکی رویے کے باعث پاکستان کو چین کی ضرورت ہے،پاکستان کو امریکا کے ساتھ بھی نہیں بگاڑنی چاہیے، اوورسیز پاکستانی چیف جسٹس ثاقب نثار کے شکرگزار ہیں، اوورسیز پاکستانی ڈیمز فنڈ میں پیسے بھیج رہے ہیں، اوورسیز پاکستانی کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں، پانی کو بہت ضائع کیا گیا اور آلودہ بھی کیا گیا،تمام پاکستانیوں کو چیف جسٹس ڈیمز فنڈ میں حصہ ڈالنا چاہیے پاکستان میں جو پہلے تالاب تھے ان پر بھی قبضہ ہو چکا ہے،بڑے ڈیمز بنانے میں ابھی وقت لگے گا، روز نیوز کی ڈیمز فنڈ کے حوالے سے مہم بہت اچھی ہے،سب کو روز نیوز کی اس مہم بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ایس کے نیازی کا پروگرا م سچی بات واحد ٹی وی شو ہے جو پاکستان بھرمیں اوربیرون ملک نہایت مقبول ہے کیونکہ اس کے اندر پاکستان کے حقیقی مسائل کواجاگرکیاجاتاہے اورمعروف اینکر اورصحافی ایس کے نیازی اپنے مخصوص انداز میں بڑی سی بڑی بات کوبغیرلگی لپٹی رکھے سادگی کے ساتھ بیان کردیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ملک کے سنجیدہ حلقے ان کے پروگرام کو توجہ کے ساتھ دیکھتے ہیں ۔لارڈنذیرخودہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں اور کشمیر کے حوالے سے ان کے کام کوفراموش نہیں کیاجاسکتا انہوں نے جس بہادری اوردلیری کے ساتھ برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز میں کشمیر کامقدمہ لڑا وہ اپنی جگہ ایک مثال ہے گزشتہ روز کے پروگرام میں اُن کی کی جانیوالی باتیں فکرآمیزہیں سنجیدہ حلقوں کواسے بھی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے لارڈز پاکستان او رآزادکشمیر کاوہ واحد وکیل ہے جو عالمی سطح پرپاکستان اور کشمیریوں کامقدمہ بغیر کسی لالچ کے لڑتاچلاآرہاہے۔

بھارتی جنگی جنون ۔۔۔!

asgher ali shad

ایک جانب دہلی سرکار کا جنگی جنون انتہاؤں کو چھو رہا ہے جبکہ بھارت کے اندر اقلیتوں کی حالت زار یہ ہے کہ مسلمانوں دوسرے ہی نہیں بلکہ تیسرے درجے کے شہری کے طور پر زندگی گزار رہے ہیں، اور اونچی ذات کے ہندو، اچھوتوں سے حیوانوں سے بھی بدتر برتاؤ کرتے ہیں اور بھارتی حکمران مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے طول و عرض میں بدترین انسانی حقوق کی پامالیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اسی تناظر میں اقوام متحدہ کی جانب سے تیرہ ستمبرکوایک خصوصی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں، دلتوں اور عیسائیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور این آر سی کے ذریعے اقلیتی طبقے کو مزید پریشانیوں کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بے جے پی کے انتہا پسند رہنما اقلیتی طبقات خصوصاً مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف مسلسل اشتعال انگیز تقاریر اور بیانات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے ان طبقات کے خلاف حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندو انتہا پسند جماعت ہمیشہ اپنی فتح کو دلتوں، مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کے خلاف تشدد سے جوڑتی ہے اور انتخابات کے وقت اور اس کے بعد اسے دانستہ ہندو مسلم رنگ دے دیا جاتا ہے جس سے انتہا پسند ہندو طبقے میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انتہائی تیزی سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں دہلی سرکار کی متنازعہ این آر سی کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے اقلیتوں میں اضطراب بڑھا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن کی جانب سے 1997 کے بعد آسام میں بنگالی مسلمانوں کو ’’مشکوک ووٹر‘‘ قرار دیا گیا اور اب این آر سی کی بدولت بنگالی مسلمانوں میں شدید عدم تحفظ کا احساس سرایت کر گیا ہے۔ انسان دوست حلقوں کا کہنا ہے کہ دہلی سرکار کے توسیع پسندانہ عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، اربوں ڈالر کے جنگی معاہدے اور اسلحہ کی خریداری نئی دہلی کی سب سے اہم مصروفیت بن کر رہ گئی ہے، بی جے پی ہتھیاروں کے ذخائر جمع کر کے اکھنڈ بھارت اور رام راجیے کے قیام کا خواب دیکھ رہی ہے۔ بھارت کے فرانسیسی ساخت کے لڑاکا طیاروں ’’رافیل ‘‘ کی خریداری کے معاہدے کے ضمن میں بھارتی ایئر چیف ’’بی ایس دھنووا‘‘ نے 12 ستمبر کو کہا ہے کہ ’’ چین اور پاکستان کے مقابلے کے لئے یہ جہاز ضروری ہیں اور ایسے مزید معاہدے کیے جانے چاہیں ‘‘ ۔ اس پس منظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت گزشتہ دس برسوں میں جنگی ہتھیار خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے دس سالوں میں ہندوستان کے ہتھیاروں کی خرید اری میں 24فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ پاکستان کی امن پسندی کی کوششوں کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ اس کے برعکس اس مدت میں پاکستان میں ہتھیاروں کی خریداری میں ایک تہائی کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ان حقائق کا انکشاف سویڈین کے ایک سرکردہ تحقیقی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں بھی کیا ہے۔واضح رہے کہ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) نے پوری دنیا میں ہتھیاروں کی برآمدات کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسلحے کی خریداری میں مشرق وسطی کے ممالک اور ایشیا سب سے آگے ہیں اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ، روس، فرانس، جرمنی اور چین ہتھیار برآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2013 سے 2017 کے دوران انڈیا بڑے ہتھیار خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک رہا اور پورے دنیا میں ہتھیاروں کا جتنا بیوپار ہوا اس کا 12 فیصد اکیلے بھارت نے خریدا۔ روس ہندوستان کو ہتھیاروں کا سب سے بڑا سپلائیرہے۔ امریکہ دوسرا جبکہ اسرائیل انڈیا کا تیسرا سب سے بڑا دفاعی سپلائر ہے۔یہ امر توجہ طلب ہے کہ دہلی کے حکمرانوں نے گزشتہ دس برس میں سو ارب ڈالر سے زیادہ نئے ہتھیاروں اور دفاعی نظام کی خرید پر صرف کیے۔ اس مدت میں نئے جنگی جہازوں، میزائل، آبدوزوں، ٹینکوں، ہاویٹزر توپوں، سپیشل طیاروں اور دوسرے ہتھیاروں کی خرید کے لیے سودے کیے گئے۔ ابھی گذشتہ ماہ دہلی سرکار نے اپنے جنگی جنون کا ایک بار پھر مظاہرہ کرتے دفاعی اخراجات کیلئے 51 ارب ڈالر مختص کیے ہیں جس میں تقریباً 16 ارب ڈالر نئے ہتھیاروں اور جنگی ساز وسامان کے حصول کیلئے ہیں۔جبکہ عالمی برداری کیلئے یہ امر پاکستان کی عالمی امن کے استحکام کی کاوشوں کی دلیل ہونا چاہیے کہ بھارت سے مسلسل کشیدگی کے باوجود گزشتہ دس برس کے دوران پاکستان کے ہتھیاروں کی درآمد میں 36 فیصد کی کمی آئی ہے جو پوری دنیا میں ہتھیاروں کی فروخت کا تقریباً تین فیصد ہے۔ اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے سنجیدہ حلقوں نے کہا ہے کہ دہلی کے حکمرانوں کے جنگی جنون کا نام دیا جائے یا کچھ اور کہا جائے مگر یہ اظہر من الشمس ہے کہ جنوبی ایشیائی خطے خصوصاً جموں کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی اور دہلی سرکار کافی عرصے سے عالمی قوانین اور ضابطوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ہر قسم کی معاندانہ روش اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایسے میں توقع کی جانی چاہیے کہ موثر عالمی حلقے دہلی کی اس روش کے سد باب کیلئے آگے آئیں گے تا کہ اس خطے میں پائیدار امن کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

افغانستان میں قیام امن کیلئے ماسکو کانفرنس

افغانستان میں پائیدار امن کیلئے افغان طالبان سے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے۔ امن، افغان عوام کا حق ہے اور اْنہیں یہ حق دئیے بغیر افغانستان میں پائدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ امریکہ نے نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملہ کر کے جتنی بڑی غلطی کا ارتکاب کیا تھا‘ اب امن کیلئے طالبان سے مذاکرات سے انکار کر کے اْس سے بھی بڑی مہلک غلطی کررہا ہے۔پاکستان نے بھی ہمیشہ قیام امن کیلئے مذاکرات پر زور دیا ہے۔ افغانستان میں امن قائم ہونے سے پورا خطہ سکھ کا سانس لے گا۔ خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان، امریکہ اور افغانستان کے درمیان بہتر روابط کیساتھ ساتھ ایک دوسرے پر اعتماد کی فضا بھی بہت ضروری ہے۔ جب تک ان ممالک کے درمیان رابطوں میں تیزی کیساتھ ساتھ اعتماد کی فضا میں آگے بڑھنے اور مل جل کر اور انفرادی طور پر اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی نہیں ہوگی افغانستان کے مسئلے کا حل نکالنا ممکن نہ ہوگا۔ اسی تناظر میں روس نے رواں ماہ کے اوائل میں ماسکو کانفرنس کے انعقاد کی کوشش کی۔ مقصد صرف یہ تھا کہ خطے میں امن کیلئے افغانستان میں جاری کشیدگی اور سرد جنگ کو کیسے ختم کیا جائے۔ اس کیلئے روس نے افغان حکومت، امریکہ، طالبان، پاکستان ، ایران اور بھارت کو بھی دعوت دی۔ مجوزہ کانفرنس میں طالبان نے شرکت کی بھی حامی بھری تھی تاہم امریکا نے شرکت سے انکار کردیا تھا۔ ایک اہم رکن ہونے کے ناتے امریکی انکار کی وجہ سے افغانستان کے امن و سلامتی سے متعلق ہونیوالی یہ عالمی کانفرنس ملتوی کردی گئی ۔کابل میں افغان دفتر خارجہ کے ترجمان صبغت اللہ احمدی نے بتایا ہے کہ افغانستان کے روس کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں اور دونوں ملک افغانستان کے مسائل پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن افغانستان نے ماسکو میں ہونے والی امن کانفرنس میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’’افغانستان میں قیام امن سے متعلق کسی بھی قسم کی بات چیت افغانستان کے ذریعے ہی شروع ہونی چاہئے۔ ہم ماسکو میں ہونے والے مذاکرات میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔کسی بھی قسم کے امن مذاکرات جن میں افغان حکومت شامل نہیں ہے مثبت نتائج پیدا نہیں کر سکتے‘‘۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ماسکو میں ہونے والے امن مذاکرات میں شمولیت کے لیے طالبان کو دعوت دی تھی اور روس ان مذاکرات کی کامیابی کی امید رکھتا تھا۔ مگر افغان حکومت نے امریکی دباؤ میں انکارکر کے مذاکرات کا ایک اہم موقع گنوا دیا۔ دونوں ممالک ہی ماسکو مذاکرات میں شرکت نہ کر کے ایک بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ افغان حکومت کا فیصلہ خاص طور پر ناقابل یقین اور عجیب ہے۔ اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے لیے امریکا کے پاس تو ایک عذر ہے لیکن کابل تو سفارتی کشیدگی کو بطور عذر پیش نہیں کر سکتا۔ ویسے بھی آج کل ماسکو کے ساتھ کابل کے تعلقات میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ روس نے افغانستان میں اپنے کردار کو بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ حتمی بات یہ ہے کہ دونوں ممالک ہی غلط کر رہے ہیں۔ اگر آپ جنگ ختم کرنے اور امن عمل شروع کرنے کے بارے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو آپ کو ہر موقع کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ایسے مواقع پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا ناقابل فہم ہے۔حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے دورہ پاکستان کے دوران افغانستان میں سیاسی مفاہمت کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت سے بات کی ہے۔ اس وقت امریکہ افغانستان میں امن کے فروغ کے لیے کئی خطوط پر کوششوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ہماری کوششوں کا ایک اہم عنصر یہ یقینی بنانا ہے کہ پاکستان اس عمل میں ایک تعمیری کر دار ادا کرے۔ جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال نے ایسے علاقوں کو جنم دیا ہے جہاں حکومت کی عمل داری نہیں ہے۔ یہ علاقے داعش اور پاکستان سے فرار ہونے والے کالعدم طالبان گروپس کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کا کام دے رہے ہیں۔پاکستانی عہدے دار افغان تنازع کے خاتمے کے لیے طویل عرصے سے یہ کہتے ہوئے بات چیت پر زور دے رہے ہیں کہ کوئی بھی فریق میدان جنگ میں جیت نہیں سکتا۔اقوام متحدہ بھی افغان عوام کے مصائب کے خاتمے کے لیے جلد ازجلد بات چیت شروع کرنے کی اپیل کر چکے ہیں۔

دراصل طالبان امریکہ سے براہ راست مذاکرات کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور وہ افغان حکومت سے اس وقت تک بات چیت سے انکار کرتے ہیں جب تک تمام امریکی اور نیٹو فوجی افغانستان سے چلے نہیں جاتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ روابط کرنے والے زیادہ تر ممالک کے ارادے اور مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر ایران اور روس شاید سفارتی تعلقات کے علاوہ طالبان کو فوجی حمایت فراہم کرنے کے بھی خواہش مند ہیں۔ طالبان نمائندوں نے قطر میں امریکی نمائندوں سے ملاقات کی اور اب روسی حکام سے مل رہے ہیں۔ لیکن وہ افغان حکومت سے مذاکرات نہیں کرتے۔ کیا اس طرح اشرف غنی حکومت کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے؟
جنگ شروع ہونے سے لے کر اب تک امن عمل کے لیے سب سے زیادہ کوششیں اب کی جا رہی ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ ہے کہ حال ہی میں طالبان پہلی مرتبہ عارضی جنگ بندی کے لیے متفق ہوئے تھے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ کچھ طالبان قوتیں امن کے حق میں ہیں چاہے یہ طویل عرصے کے لیے نہیں تھا۔ ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ کابل حکومت اور امریکا میں یہ طے پا گیا ہے کہ واشنگٹن طالبان سے براہ راست مذاکرات کر سکتا ہے۔ یہ طالبان کی ایک دیرینہ شرط تھی۔ ان دلائل کا مقصد یہ ہرگز نہیں ہے کہ بہت جلد امن ہو جائے گا اور کسی بھی وقت حالات مستحکم ہو جائیں گے۔ ہم شاید ایک امن عمل شروع کرنے کے قریب ہیں لیکن اس کے اختتام تک ایک طویل راستہ ہے۔ آخر کار طالبان کے پاس لڑائی بند کرنے کا کوئی خاص جواز نہیں ہے کیوں کہ وہ میدان جنگ میں اچھی کارکردگی دک%B

بانی جماعت اسلامی سید مولانا ابوا لاعلیٰ موددیؒ

مولانا موددیؒ اپنی خود نوشت سوانح میں تحریر فرماتے ہیں’’خاندان موددیہ کی جس شاخ سے میرا تعلق وہ نو یں صدی ہجری کے اواخر میں ہندوستان آیا تھا۔اس شاخ کے پہلے بزرگ جنہوں نے ہندوستان میں مستقل سکونت اختیار کی وہ ابو ا لاعلیٰ موددی تھے‘‘مولانا موددی ؒ کے اسلاف افغانستان کے علاقہ ہرات کے مقام چشت سے پہلے بلوچستان منتقل ہوئے۔ جہاں کئی پشتوں تک مقیم رہے۔ پھرمولانا موددیؒ کے خاندان کے پہلے بزرگ شاہ ابو ا لاعلی جعفرؒ ہندوستان تشریف لائے۔ ان کے نام پر مولانا موددی ؒ کا نام ابوا لاعلیٰ رکھا گیا۔تاریخی طور پر ہجرت اور جہاد اس خاندان کا طرّہ امتیاز رہا ہے۔ سکندر لودھی نے 6رمضان 912 ھ جس فوج کے ساتھ راجپوتوں کے مضبوط قلعہ تھنکر پر چڑھائی کی تھی اس فوج کے لشکر کے ہمراہ شاہ ابو الاعلیٰ جعفرؒ اپنے مریدان با صفا کے ساتھ شریک تھے ۔ اس لشکر نے راجپوتوں کے مضبوط قلعہ تھنکر کو فتح کیا تھا۔ مولانا موددی ؒ نے بھی اپنے خاندان کی روایت قائم رکھتے ہوئے علامہ اقبالؒ کے کہنے پر حیدر آباد دکن سے ہجرت کر کے پنجاب کے علاقہ پٹھان کوٹ میں اسلام کی خدمت کے لیے منتقل ہوئے تھے۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد مولانا موددیؒ کو قائد اعظم ؒ نے کہا کہ پاکستان میں اسلامی نظام کے قائم کرنے کے طریقے بتائیں۔مولانا موددیؒ نے ریڈیا پاکستان سے کئی دن تقریر نشر کر کے اسلامی نظام حکومت کے قیام کی تشریع تھی ۔یہ تقاریر اب بھی ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔ جو لوگ مولانا کو موددیؒ پر ناجائز بہتان لگا کر ان کو قائد اعظمؒ کا مخالف کہتے ہیں وہ اس بات کو بھی نوٹ کر لیں۔ مولانا موددیؒ جماعت اسلامی کی تشکیل سے پہلے مسلمانان برصغیر کے سامنے ایک عرصہ تک اس کی افادیت اپنے رسالے ترجمان القرآن میں بیان کرتے رہے۔ ان کے نزدیک جماعت اسلامی اسلام کے کسی جزوی کام کے لیے نہیں بلکہ پورے کے پورے اسلام کے نفاذ کے لیے بنائی گئی۔ دنیا میں رائج اللہ سے باغی نظام کو تبدیل کر کے حکومت الہیا، اسلامی نظامی، نظام مصطفےٰ، نام کوئی بھی ہو، اللہ کی زمین پر اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لیے قائم کی گئی۔ اسی پالیسی پر جماعت اسلامی اب تک قائم ہے اور انشاء اللہ جب تک اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم نہیں ہوتا اس کی جدو جہد جاری رہے گی۔ جب کچھ لوگ اس کام کے لیے تیار ہو گئے تھے تو ۱۹۴۱ء لاہور میں ۷۵؍ افراد اور ۷۵ روپے کچھ آنے کی رقم کے ساتھ جماعت اسلامی قائم ہوئی۔جماعت اسلامی نے عصری تقاضے کے مطابق پر امن جمہوری جدو جہد کر کے اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو قائم کرنے کی جو پالیسی شروع میں میں منتخب کی تھی اس پر ہی کام کر کے تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ چاہے اس کے لیے کتنی ہی مدت درکار ہو۔اس عصری طریقہ یعنی بالغ رائے دہی کے ذریعے انتخابات میں شریک اور کامیاب ہو کر جمہوری طریقہ سے اسلامی نظام قائم کر نے کی جماعت اسلامی کے مؤقف سے اختلاف کر کے کچھ بنیادی ارکان جماعت اسلامی سے علیحدہ ہو گئے۔ مگر مولانا موددیؒ نے تحریک اسلامی کے آیندہ لائحہ عمل کتاب میں جماعت اسلامی کی پالیسی واضح کر دی۔ جو اب بھی کتاب کی شکل میں موجود ہے۔اس میں مولاناموددیؒ نے واضع کیا کہ جماعت اسلامی انڈرگرونڈرہ کر کوئی کام نہیں کرے گی۔مروجہ جمہوری انتخابات کے لے ذریعے نظام حکومت کو تبدیل کرے گی۔اس کیلئے جماعت اسلامی نے شروع دن سے چار نکاتی پروگرام طے گیا۔جس کے تحت تطہیر افکار، تعمیر افکار، صالح افراد کی تلاش اور ان کی تربیت، اصلاح معاشرہ کی کوشش، آخر میں نظام حکومت کی تبدیلی۔ اس پروگرام کے تحت جماعت اسلامی ترقی کے منازل طے کر رہی ہے۔ جو تجزیہ کار جماعت اسلامی کے کام کو اس کے واضع کردہ پروگرام کے صرف انتخابی جز کو سامنے رکھ کر اس کو انتخاب میں کامیابی یا ناکامی پر پر کھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید وہ ادھورا تجزیہ کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی صرف مروجہ انتخابی جماعت نہیں بلکہ یہ ایک نظریاتی جماعت ہے جوبتدریج اپنی منز ل کی طرف گامزن ہے۔مولاناموددیؒ عالم دین سے بڑھ کر وقت کے مجدّد تھے۔ہمارے دشمنوں نے مسلم دنیا میں یہ نظریہ عام کر دیا کہ اس دور میں اسلامی نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔ حکومتیں لادینی سیکولر ہونی چاہییں۔مولانا موددیؒ نے اس دور میں بھی مکمل اسلامی نظام نظام کے رائج ہونے کا نظریہ عام کیا۔ مولانا موددیؒ کے نظریات نے پوری دنیا مسلم دنیا میں ہلچل مچا دی۔ صاحبو!۱۹۲۴ء میں جب مسلمانوں کی خلافت ختم کر کے صلیبیوں نے مسلم دنیاکو درجنوں راجوڑوں میں تقسیم کر کے اپنے پٹھو حکمران مسلم امت پر ٹھونس دیے ۔ یہ پٹھوحکمران اب تک صلیبیوں کے مفادات کا خیال رکھتے ہیں۔ اُس وقت امریکا کے وزیر دفاع نے کہا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں کی خلافت یعنی سیاسی حکومت قائم نہیں ہونے دی جائے گی۔جب الجزائر اور مصرمیں جمہوری طریقے سے جیت کر اسلامی سیاسی حکومتیں قائم کرنے کے کوشش کی گئی تو وہاں مسلم دنیا کی فوجوں کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرکے جمہوری حکومتوں کوختم کرادیا گیا اور ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ہمارے ہی لوگوں کے ہاتھوں ایسا کیا گیا۔ مولانا موددیؒ کے افکار پوری مسلم دنیا میں تسلیم کر لیے گئے ہیں۔پوری مسلم دنیا کے عوام امریکی پٹھو حکمرانوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے اپنے ملکوں میں اسلامی نظام قائم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی اسلام کے نام سے حضرت قائد اعظم ؒ کی لیڈر شپ کے اندر جمہوری جدو جہد کے ذریعے قائم ہوا تھا۔ انشاء اللہ جمہوری طریقے سے ہی پاکستان میں اسلامی نظام حکومت بھی قائم ہو گا۔ اللہ نے قائد اعظمؒ کو جلد بلا لیا۔ قائد اعظمؒ کی وفات کے بعد مولانا موددیؒ نے دوسرے اسلام پسند لوگوں کے ساتھ مل کر اسلامی نظام رائج کرنے سے پہلے دستور کو اسلامی بنانے کے لیے دستوری مہم چلائی تھی۔اسی مہم کے نتیجہ میں ہی ۱۹۷۳ء میں پاکستان کا اسلامی آئین بنا۔ گو کہ آج تک اس آئین کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا گیا۔ اگر قائد اعظم ؒ کے وژن اور مولانا موددیؒ کے بتائے ہوئے طریقہ پر عمل کر کے پاکستان میں اسلامی نظام قائم کر دیا جائے تو اللہ کے حکم کے مطابق آسمان سے رزق نازل ہو گا۔ زمین اپنے خزانے اُگل دے گی۔ ملک میں امن آمان ہو گا۔ دہشت گردی ختم ہو جائے گی۔پڑوسی ملک پاکستان میں ناجائز مداخلت ختم کر دیں گے۔ نہ بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ ہو گی۔ نہ مہنگائی ہو گی اور نہ ہی بے روز گاری ہو گی۔رسولؐ اللہ کی ایک حدیث کے مطابق جب تم میری لائی ہوئی شریعت نافذ کر دو گے تو کوئی زکوٰۃ لینے والا تمھیں نہیں ملے گا۔ یعنی سب خوش حال ہو جائیں گے۔۲۲؍ستمبر۱۹۷۹ء کو مولانا موددیؒ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اللہ ان کی سعی کو قبول فرمائے ان کو کروٹ کروٹ سکھی رکھے آمین۔ جہاں تک مولانا مودددیؒ کی اسلام کی خدمات کا تعلق ہے تو لاکھوں لوگ ان کے یاد کرائے گئے سبق سے مستفیض ہو کر اللہ کے کے دین کو قائم کرنے کی جدو جہد میں شریک ہوگئے۔ لوگ تو اپنی حد تک کوششیں کر رہے ہیں۔ جب اللہ کو منظور ہو گا اس مثل مدینہ ریاست، مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی نظام حکومت قائم ہو جائے گا ۔انشاء اللہ۔

ہیلمٹ کی پابندی کا قانون

ان دنوں پاکستان اسلام آباد میں ہیلمٹ کی پابندی کے حوالے سے ایک خبر پڑھنے کو ملی۔خبر کچھ اس طرح تھی کہ لاہور ہائیکورٹ کے احکامات پر شہر کی مصروف ترین شاہراہ مال روڈ پر ہیلمٹ نہ پہننے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیااور پہلے روز 5ہزار تین سو پندرہ موٹر سائیکل سواروں کے چالان کئے گئے ۔ہیلمٹ استعمال کے حوالے سے شہر بھر میں آگاہی بینرز بھی آویزاں کر دیے گئے۔شہریوں نے ہیلمٹ کی خریداری کیلئے مارکیٹوں کا رخ کر لیا تو معزز قارئین ان دنوں وطن عزیز کے ایک بڑے صوبے کے سب سے بڑے شہر لاہور میں جو اہم مسائل عوام کے روبرو ہیں ان میں سے ایک اہم مسئلہ ہیلمٹ کی پابندی کا ہے دوسرے درپیش مسائل و قوانین تو محدود حلقوں پر اثر رکھتے ہیں لیکن ہیلمٹ کا اثر عام ہے ۔یہ سب مسئلوں کے سر پر ہے اسی کا ہی ان دنوں راج ہے یوں تو پورے ملک میں اس کی ضرورت ہے لیکن لاہور میں اس کی بن آئی ہے ۔لاہور میں اس کی افادیت کے بعد پنجاب کے دوسرے شہروں کے عوام بھی اس کا دم بھرنے لگیں تو عجب نہیں ۔لاہور میں ناکوں پر ستم رسیدہ عوام میں آنکھ مچولی کے دیدہ زیب مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ہیلمٹ کی پابندی کی دوامی حیثیت ہمیشہ مشکوک رہی ہے کیونکہ جنرل ضیاء الحق اور پھر جنرل پرویز مشرف کے ادوار حکومت میں ہیلمٹ کی پابندی کا چند ماہ بڑا چرچا رہا کہا جاتا ہے کہ ان دونوں ادوار حکومت میں کسی اوپر کے ہاتھ نے اپنے ہیلمٹ فروخت کرنے کیلئے یہ پابندی لگوائی اور جب غیر معیاری ہیلمٹ فروخت ہو گئے تو یہ پابندی اٹھا لی گئی ۔چند ماہ بڑا ہنگامہ رہا پھر یہ قانون ایسا غائب ہوا کہ آج پھر لاہور میں پٹاری سے باہر نکل آیا ہے ۔اسی سابقہ تجربہ کی روشنی میں اکثریت کا اب بھی یہی خیال ہے کہ یہ قانون چند ماہ کی حیات کے بعد شائد دم توڑ دے گااور بڑی بات نہیں کہ ہیلمٹ پہنانے کی یہ تحریک بھی قصہ ماضی بن جائے۔ہیلمٹ کی افادیت و اہمیت سے انکار ممکن نہیں کم ازکم یہ سر کی چوٹ سے محفوظ رکھتا ہے اس طرح حادثہ کی صورت میں اس کے پہننے سے جان بچنے کے امکانات کافی روشن ہیں لیکن قوم جو پہلے ہی بجلی گیس اور دیگر لوازمات زندگی پورا کرنے میں نڈھال و لاچار ہی نہیں بلکہ نیم جان ہو چکی ہے اسے بذریعہ ہیلمٹ جان سے بچانے کی ہائیکورٹ کی نوازش و سعی سمجھ سے بالا تر ہے۔عید الفطر کے نزدیک عید بنانے کیلئے گاڑیوں ، رکشوں اور موٹر سائیکلوں کے چالان کرنا ہماری پولیس کا دیرینہ شیوہ ہے جس سے وطن عزیز کے کسی باسی کو انکار نہیں کیونکہ آج تک پولیس اسی وطیرہ پر بڑی جانفشانی اور لگن سے عمل پیرا ہے جب بھی ملک خداداد میں پولیس کیلئے کوئی مک مکا کا نیا قانون لاگو ہوتا ہے خواہ یہ رمضان المبارک میں روزہ خوروں کی گرفت کا قانون ہو ،ڈبل سواری کا معاملہ ہو ،کاروں سے کالے شیشے اتروانے کا ٹارگٹ ہو ،بسوں سے ڈیک و ٹیلی ویژن اتروانے کی مساعی ہو یا کرپشن کے خاتمے کیلئے اینٹی کرپشن تشکیل دی جائے ہر صورت میں فیض یاب ہونے والا طبقہ صرف پولیس کا ہی ہوتا ہے اور اسی کے وارے نیارے ہوتے ہیں پروفیسر انور مقصود نے اسی مک مکا کے بارے میں کیا خوب کہا ہے
آپ بے جرم یقیناًہیں مگر یہ فدوی
اس کام پہ مجبور بھی ہے مامور بھی ہے
کچھ نہ کچھ تو آپ کو دینا ہو گا
رسم دنیا بھی موقع بھی ہے دستور بھی ہے
لاہور میں ہیلمٹ کے قانون کے عمل کا نفاذ ہوتے ہی ایسا دکھائی دیا کہ ٹریفک کے دوسرے تمام قوانین یکلخت موقوف کر دیے گئے یا پس پردہ چلے گئے ۔خبر کے مطابق ہیلمٹ کی پابندی پر عمل درآمد کروانے کے پہلے روز ہی مال روڈ پر 1276موٹر سائیکل سواروں کے چالان اور انارکلی سرکل میں 800موٹر سائیکل سواروں کے چالان کئے گئے۔جس سے لاکھوں روپے ریونیو حاصل ہوا ۔سینکڑوں جو مک مکا پر چھوڑے گئے اور جن کی پولیس کے ہاتھوں عزت نفس مجروح ہوئی ہو گی ویسے بھی وطن عزیز کے شرفاکی پولیس کی نظر میں کبھی کوئی عزت رہی ہے جو مجروح ہو۔لاہور میں ذمہ داران نے ہیلمٹ کی پابندی کاعملی نفاذ کرنے سے قبل یہ اندازہ ہی نہ لگایا کہ لاہور کی سڑکوں پر کتنی موٹر سائیکلیں چلتی ہیں اور کتنی تعداد کے پاس ہیلمٹ موجود ہیں اور ہیلمٹوں کا کتنا سٹاک یہاں موجود ہے آیا یہ ذخیرہ کم پڑنے کا احتمال تو نہیں سرکاری سطح پر ہیلمٹوں کی دستیابی،قیمتوں پر کنٹرول جیسے معاملات کو نظر انداز کیا گیا ۔ہیلمٹ کی خرید کا طوفانی انداز اختیار کرنے سے قبل ہی ارباب اختیار کو اندازہ کر لینا چاہیے تھا ہیلمٹ کے قانون کی پابندی کے عملی نفاذ کے ساتھ ہی دکانوں سے ہیلمٹ ختم ہوگئے یا غائب کر دیے گئے ۔اتنی قلت دیکھنے میں آئی کہ دکانوں پر خریداروں کا اتنا ہجوم جیسے کوئی مفت چیز تقسیم ہو رہی ہو۔دکانداروں نے بھی اس بہتی گنگا میں خوب فائدہ اٹھایا ۔عام دنوں میں 600سے 700روپے میں فروخت ہونے والے ہیلمٹ کی قیمت 1500روپے سے2000روپے تک وصول کی جا رہی ہے ۔مارکیٹ میں دکاندار ’’ انڈین ہیلمٹ‘‘ کے نام سے بھی فروخت کر رہے ہیں جس کی بقول دکاندار مضبوطی کی وجہ سے قیمت2500روپے تک طلب کی جا رہی ہے ۔دوسری جانب شہری قیمتیں بڑھنے کے بعد محفوظ ہیلمٹ کی بجائے صرف جرمانے سے بچنے کیلئے انتہائی ناقص میٹیریل سے بنے ہوئے ہیلمٹ خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔چالان سے بچاؤ کی خاطر بعض نوجوانوں نے کھلاڑیوں، صنعتی اداروں اور کان میں کام کرنے والے ملازمین کے زیر استعمال سیفٹی ہیلمٹ پہننے شروع کر دیے ہیں ۔ایک نوجوان نے تو سلور کی دیگچی کے گلے کو کاٹ کر خود ساختہ ہیلمٹ تیار کر لیا اور کئی بار ناکے پر موجود پولیس کے قریب سے اس امر کا جائزہ لینے کیلئے گزرا کہ آیا پولیس اسے ہیلمٹ تصور کرتی ہے یا نہیں لیکن شائد پولیس ابھی تک مخمصے کا شکار ہے اور حکام بالا کی طرف سے ہیلمٹ کی واضع اور مصدقہ تعریف کی منتظر ہے ۔کیا ہی بہتر ہوتا کہ ستم رسیدہ عوام کو بلیک میں ہیلمٹ کی خرید سے بچانے کیلئے لاہور میں ہر ناکے پر پولیس کے پاس ہیلمٹوں کا ذخیرہ ہوتا اور بغیرہیلمٹ کے موٹر سائیکل سوار ان سے معقول و مقررہ نرخ پر ہیلمٹ خرید کر اپنی جیبیں کٹنے سے بچا سکتے۔جہاں تک ہیلمٹ کی پابندی میں سودوزیاں کا تعلق ہے یہ حادثے کی صورت میں سر کو چوٹ سے بچاتا ہے۔گرمی و سردی کی شدت و حدت سے اور گردوغبار اور دھویں جیسی کثافتوں کے منفی اثرات سے بچانے میں بھی ممد و معاون ہے۔بچے جو سکولوں اور کالجوں میں موٹر سائیکلوں پر جاتے ہیں یہ ہیلمٹ سنبھالیں یا بھاری بھرکم بستے ۔سینکڑوں کی تعداد میں بچوں کا ہیلمٹوں کو تعلیمی اداروں میں سنبھالنا اور الگ الگ ان کی پہچان رکھنا بھی ایک مشکل مرحلہ ہے ۔ذرا تصور کریں بازار میں سودا سلف خریدنے آئے ہوئے موٹر سائیکل سوار کیلئے کتنا کھٹن معاملہ ہے کہ وہ خود کو سنبھالے ،ہاتھ میں ہیلمٹ اٹھائے یا سودا خریدے۔ہمارے ہاں سال کا بیشتر حصہ شدید گرم ہوتا ہے اور اس انتہا درجے گرمی میں فوم والے ہیلمٹ کا پہننا آسان نہیں ہوتا ۔دماغی صحت ، دمے اور سینہ کی بیماریوں میں مبتلا مریض اس کے پہننے میں دم گھٹنے کی شکائت کرتے ہیں ۔ایک ماہر امراض جلد کی رائے میں سر پر مسلسل ہیلمٹ پہننے سے جلد کی بیماری ہو سکتی ہے جو سر سے پھیل کر چہرے اور دوسرے حصوں تک بھی وسیع ہو سکتی ہے ۔عمامہ پہننے والے حضرات کیلئے بھی ہیلمٹ ایک سخت چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے ۔عمامہ اتنی معتبر چیز ہے جو ہمارے معاشرے میں جو کسی بزرگ و زاہد کے ساتھ ہی آتا ہے ۔مولویت کا تو جزو لازم ہے یہ شرفا تو کبھی بھی اس سے دست بردار ہونا گوارا نہیں کرتے ۔وطن عزیز ایک عرصہ سے دہشت گردی کا شکار چلا آ رہا ہے ۔ہیلمٹ کے سبب موٹر سائیکل سوار کی پہچان بہت مشکل ہوتی ہے ۔جرائم پیشہ اور دہشت گرد وں کیلئے وارداتوں میں ہیلمٹ مدد گار ہے۔

Google Analytics Alternative