کالم

ڈیل کےلئے حکومت کی ڈھیل کیوں ہے

ہر زمانے کے رنگ نرالے ہوتے ہیں ، کیوں نہ ہوں اِس لئے کہ ہر صدی کے ہر زمانے کے ہر معاشرے میں کچھ واقعات ایسے گزرے ہیں کہ جو رہتی دنیا تک تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں ، اہلِ دانش متفق ہیں کہ اِنسا ن کی جبلت میں شامل ہے کہ وہ کچھ انوکھا کردِکھائے،یہی وجہ ہے کہ تاریخ اِنسانی کی کتاب کے اوراق اچھے بُرے حالات وواقعات سے بھرے پڑے ہیں ۔ جن کا مقصد آنے والوں کےلئے سبق اور اُن کے مستقبل کو گزرے کل او رآج سے بہتر بنانا ہے ۔ معذرت قبل اَزگف، ساری باتیں اور نظریات و خیالات اپنی جگہ ٹھیک ہیں ، مگر اِس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ حرام مال سے نیک عمل بھی خاک ہے;234; اور حق و سچ کی حمایت کرنے کی بجائے ، دنیاوی چمک دمک کے حصول کی لالچ سے جھوٹے کو سچ ثابت کرنا اور کرانا ۔ اصل میں گمراہ اور جھوٹے کی حوصلہ افزا ئی کرنے کے مترادف ہے ۔ حق و سچ کی حمایت کرنے والے کےلئے لازمی ہے کہ وہ اِنسان لالچ سے پاک اور ایماندار ہو ;234;اِس کے بغیر کوئی خواہ کتناہی مشہور اور شہرت یافتہ کیوں نہ ہو وہ حق و سچ کی موٹروے پر حق کا عَلم اُٹھا کر نہیں بھاگ سکتا ہے ۔ اہل علم ودانش کہتے ہیں کہ اِنسانوں کی جبلت میں لالچ جسم میں گردش کرتے خون کی طرح شامل ہے ،اِنسان نے اپنی ضرورتوں کا حاجت روا پیسے کو مان لیا ہے ;234;یہی وجہ ہے کہ تمام زمانوں کے اِنسانوں کی مجبوری پیسہ رہاہے،جبکہ آج کا جیتا جاگتا سانس لیتا اِنسان تو مادہ پرستی میں ایسا غرق دِکھائی دیتاہے کہ جیسے اِس میں جائزو ناجائز اور اچھے بُرے کی تمیز ختم ہوکر رہ گئی ہے ۔ آج اِس سے بغیر پیسہ اور مطلب اچھائی کی توقع اور اُمید رکھنا صدی کا مذاق بن گیاہے ۔ غرض یہ کہ مادہ پرستی نے 21ویں صدی کے اِنسان کی عقل پر پردہ اور آنکھ پر ایسی سیاہ پٹی باندہ رکھی ہے کہ آج کے اِنسان کو پٹی کے اندر سے بھی سِوائے روپے پیسے کے کچھ اور دِکھائی نہیں دیتا ہے ۔ آج کی دنیا میں اِنسان کا بنایا ہواکو ئی بھی شعبہ ہو ،ہر معاملے میں اِنسان نے خود کو پیسے کے تابع کررکھاہے، خواہ وہ شعبہ تعلیم، صحت ،سیاست ، معیشت ،قانون و اِنصاف ، تخلیق وتحقیق، تعمیر وتعمیرات ہو یاشعبہ صحافت تمام شعبہ ہائے زندگی میں پیسہ ہی حاجت روا ہے ۔ تب ہی دنیا کی تہذیبوں ، مُلکوں اور معاشروں میں بگاڑ پیدا ہورہاہے ۔ آج کے دور میں دولت مندوں کے ہاتھوں میں جوپیسہ ہے ،وہ اِسے اِنسانوں کی تقدیر بنانے اور بگاڑنے کےلئے ایسے استعمال کررہے ہیں کہ جیسے یہی تقدیرِاِنسانی کے بڑے دیوتا ہیں ۔ معاف کیجئے گا، میرے دیس پاکستان میں آف شور کمپنیوں کے مالکان پانامے و اقامے اور جعلی بینک اکاءونٹس سے اربوں ، کھربوں مُلکی دولت لوٹ کھانے والوں نے بھی ایسا عمل جاری رکھا ہوا ہے ۔ اِنہوں نے مُلکی سیاست میں جمہوریت کا لبادہ اُڑھ کر اپنے کالے دھن کو قومی ونجی اداروں اور بیرونِ ممالک میں اپنی جائیدادیں بنانے میں کچھ اِس طرح سے انویسٹ کیا ہوا ہے کہ آج جِدھر دیکھو ، ہر جانب سے اِن کا ہی پیسہ نکلتا اور بولتا ہوا نظر آرہاہے ۔ قومی لیٹروں اور مجرموں کا پیسہ اِس طرح سے اداروں سے بولتا اور چیختاچلاتا سامنے آرہاہے جیسے کہ اِدھر قومی مجرموں نے جانتے بوجھتے پہلے سے اپنی بچاوَ کےلئے سرمایہ کاری کررکھی ہے،تاکہ جب کبھی کہیں سے احتساب کا ڈنڈا چلے یا کوئی آواز اِن کے خلاف بلند ہوتو پھر اِن قومی لٹیروں اور مجرموں کو اِن کے احتساب سے بچا نے کےلئے اِن کے چیلے چانٹے اِن کی حمایت میں نکل کھڑے ہوں ،اَب ایسا منظر روز دیکھنے کو مل رہاہے ۔ یعنی کہ آج قومی لیٹروں کے حق میں اِن کا پیسہ تو پیسہ اَب تو لفافے اور لفافے والے بھی اِن کےلئے بولتے اور آہو فغاں کرتے دِکھائی دیتے ہیں ۔ اگر یقین نہ آئے تو کسی بھی روزاپنا الیکٹرانک میڈیا دیکھ لیں ، لگ پتہ جائے گا کہ کہاں کہاں قومی لٹیروں اور مجرموں کا پیسہ اور بھاری بھرکم لفافے لے کر کون کون احتسابی اداروں سے اِنہیں بچانے کےلئے کیسے چیخ چلا رہا ہے ۔ ! لوٹی ہوئی قومی دولت کی واپسی کےلئے گھیرا تنگ ہورہاہے،یہ دولت جس نے بھی لوٹی ہے ۔ بیشک، وہ قومی مجرم ہے ۔ اِسے قومی جرم کی کڑی سزا ضرور ملنی چاہئے ۔ مگر اِس معاملے میں دیر کیوں ہورہی ہے;238;یہ بات کچھ سمجھ نہیں آرہی ہے ۔ جب کہ اِس کے برعکس کوئی غریب ننگا بھوکا پیٹ کی آگ بجھانے کےلئے ایک روٹی چوری کرلے توقانون اور اِنصاف کے ادارے فوراََ حرکت میں آکر غریب روٹی چور کو زندگی بھر کےلئے جیل کی ساخوں کے پیچھے بند کردیتے ہیں ۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی تک حکومت و قانون اور اِنصاف واحتساب کرنے والے ادارے اربوں اور کھربوں قومی دولت لوٹ کھانے والوں کو ضمانتوں پر رہائی کی سہولیات فراہم کرکے اِنہیں کیوں رعایت پر رعایت دے رہے ہیں ۔ جب قومی لٹیروں کے خلاف تمام شواہد موجود ہیں ۔ تو پھر کسی ڈیل کےلئے حکومت کی ڈھیل کیوں ہے;238; ہمارے سیاست دانوں نے جمہوریت کو بھی اپنے مفادات کےلئے اپنے پیسے کی طاقت سے خرید لیا ہے ۔ آج ہمارا کوئی بھی سیاست دان یا حکمران بتادے کہ اِس نے پچھلی دودہائیوں میں اپنے اور اپنی پارٹی یا اپنی ہم خیال سیاسی جماعتوں کے سِوا کتنے جمہوری ثمرات عوام الناس تک منتقل کئے ہیں تویقینا جواب صِفر در صفر آئے گا کیوں کہ کسی نے بھی اصل معنوں میں جمہوری ثمرات عوام الناس تک اِس طرح نہیں پہنچائے ہیں ۔ جس کا جمہوریت تقاضا کرتی ہے ۔ پاکستانی قوم کی بدقسمتی یہ ہے کہ اِسے جتنے حکمران اور سیاست دان ملے ہیں ،سب نے جمہوریت کی تعریف اپنے مفادات کو سامنے رکھ کرہی کی ہے اور جمہوریت کو اپنے ذاتی اور سیاسی مفاداتی طبقے تک تقسیم کیا ہے، اور اِس کے ثمرات اپنے مفادات تک محدود رکھا ہے ۔ کیوں کہ اِنہوں نے ہمیشہ عام انتخابات میں سرمایہ کاری کی اور جمہوریت کو اپنی انویسٹمنٹ سے خریدا ہے ۔ یہاں ہ میں یہ ضرور تسلیم کرنا پڑے گا کہ جب ایسا ہوگا تو پھر

ٹورازم مزید توجہ کا متقاضی !

سبھی جانتے ہیں کہ وزیراعظم پاکستان لڑکھڑاتی معیشت کو سہارا دینے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور اس ضمن میں ان کا فوکس پاکستان میں سیاحت کے فروغ پر ہے ۔ تبھی تو 1 روز قبل انھوں نے شاہی قلعہ لاہور میں خطاب کے دوران کہا کہ ہمارا تاریخی ورثہ آنے والی نسلوں کیلئے بہت بڑا سرمایہ ہے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قدرتی خوبصورتی سے مالا مال کیا ہوا ہے، ہمارا جتنا بھی تاریخی ورثہ ہے اس کو محفوظ کرنے کیلئے موثراقدامات اٹھائیں گے ۔ انھوں نے سیاحت کے فروغ کی ضرورت پر مزید زور دیتے کہا کہ’’ ترکی جیسے ممالک ٹورازم سے سالانہ 40ارب کما رہے ہیں اور ملائشیاء جیسا ملک جس کے پاس تاریخی ورثہ نہیں ہے اس کے باوجود وہ اپنے ٹورازم سے 20ارب ڈالر سالانہ کما رہا ہے ۔ پاکستان میں تو ٹورازم کیلئے بہت وسیع مواقع موجود ہیں ‘‘ ۔ اسی تناظر میں صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ گذشتہ 15 سے 20 برس کے دوران تھائی لینڈ، لاءوس، ویت نام، بنگلہ دیش، میانمر ، کمبوڈیا، فلپائن ،سنگاپور ،ملائشیا اور انڈو نیشیا میں جو قابل رشک حد تک معاشی ترقی ہوئی ہے اس میں سیاحت کے شعبے نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے، اس کے علاوہ بھی دنیا بھر میں سیر و سیاحت کے رجحانات تقویت پا رہے ہیں اور مجموعی طور پر دنیا میں ٹورازم ان چند شعبوں میں سر فہرست ہے جو سب سے زیادہ تیزی سے پھل پھول رہے ہیں ۔ ایسے میں اس امر کو خوش آئند قرار دیا جانا چاہیے اور امید کی جانی چاہیے کہ وطن عزیز میں اس ضمن میں مزید پیش رفت ہو گی ۔ یہاں یہ امر توجہ کا حامل ہے کہ اس حوالے سے بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں کو خصوصی کردار ادا کرنا ہو گا اور ٹورازم کو بھرپور معاونت فراہم کرنا ہو گی ۔ اس ضمن میں یہ خاص طور پر توجہ طلب ہے کہ مالدیپ جیسے ساڑھے 4 لاکھ سے کم آبادی پر مشتمل چھوٹے سے ملک میں بھی ہوٹل اور سیاحت کے مراکز ہی ملک کو زر مبادلہ فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں ۔ ایسے میں پاکستان جہاں دنیا بھر کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں سے لے کر صحرا تک سبھی کچھ موجود ہے وہاں اگر توجہ دی جائے تو ہوٹلنگ کے شعبے میں خاطر خواہ مراعات اور سہولیات میسر کرا کر غالباً پاکستان کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے ۔ البتہ یہ امر ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ اس بابت آگے بڑھتے ہوئے معاشرتی اور ملکی ماحول میں توازن برقرار رکھنا خاصا ضروری ہے، بہرحال یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ وزیراعظم اس ضمن میں خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور کافی جانفشانی سے کام کر رہے ہیں ۔ غیر جانبدار حلقوں کے مطابق پاکستان کی معیشت کو گرچہ کافی دھچکے پہنچے ہیں ، مگر اس کے باوجود یہ امر باعث اطمینان ہونا چاہیے کہ مجموعی طور پر وطن عزیز میں مثبت پیش رفت کا آغاز ہو چکا ہے جس کے ثمرات ہر سطح پر محسوس کئے جا سکتے ہیں ۔ اگرچہ اس ضمن میں بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے مگر یہ کہنے میں غالباً کوئی عار نہیں کہ صورتحال قدرے خوش آئند ہے اور آگے بڑھنے کے کافی مواقع موجود ہیں ۔ اس ضمن میں یہ بات بھی شاید توجہ طلب ہے کہ ناقدین کا ایک بڑا حلقہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کو معاشی ٹامک ٹوئیاں قرار دیتا ہے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس امر کو وسیع تر قومی مفاد میں کسی بھی طور قابل رشک سوچ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ معاشی کمزوریوں کو حد سے زیادہ اجاگر کرنا غالباً خود مذمتی کے زمرے میں ہی آتا ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس ضمن میں سنجیدہ حلقے اپنی قومی ذمہ داریوں کو زیادہ موثر ڈھنگ سے سمجھیں گے ۔

سامراجی کھیل

جنوبی ایشیا کے ممالک میں شامل پاکستان ، بنگلہ دیش ، افغانستان ، بھوٹان ، بھارت اور مالدیپ کی ایک تہائی آبادی بھوک کا شکار ہے عالمی معاشی بحران حکمرانوں کے حاصل کردہ قرضوں اور کرپشن سے اس خطے میں غربت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ حکمرانوں کے کاروبار میں دن بدن بے شمار اضافہ ہو رہا ہے ہر شہری کی زبان پر حکمرانوں کی کرپشن کی داستانیں سنائی دیتی ہیں غریب آدمی کا بچہ بھوک اور غربت کی وجہ سے مررہا ہے ۔ موجودہ حکمران ملک کو تباہی کے دہانے پر لے جاچکے ہیں ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے حکمران جھوٹے وعدے کرکے عوام کو بے وقوف بنانے پر تلے ہوئے ہیں پورا ملک مہنگائی کے عذاب سے دوچار ہے مگر حکمران اب بھی عوام کو سبز باغ دکھانے سے باز نہیں آرہے ۔ عوام سے جھوٹے وعدے کرکے مکر جانا موجودہ حکمرانوں کا وطیرہ ہے ۔ قوم سے جھوٹے وعدے کرکے ووٹ لینے والے اقتدار میں رہنے کےلئے نئے نئے حربے استعمال کر رہے ہیں ۔ جمہوریت کے گیت گاکر ذہنی عیاشی کرناہمارا قومی مزاج بن چکا ہے کہ محض بیان بازی میں ہم سب سے آگے ہیں بڑے بڑے ہوٹلوں مختلف انواع واقسام کے کھانے کیمرے کے سامنے سجاکر ہم ملک میں غذائی بحران کا رونا روتے ہیں عالی شان بنگلوں کے ائیر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر ہم عوام کی غربت کے گیت گاتے ہیں اور نئی گاڑیوں کا دھواں اڑا کر عوام کے آنکھوں میں دھول ڈالتے ہوئے ہم ملک میں توانائی کے بحران کا ذکر زور وشور سے کرتے ہیں بین الاقوامی سطح کے سیمینارز میں یہ فلسفہ جھاڑتے ہیں کہ ملک عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا مگر ملک کو غیر مستحکم کرنے کا ذمہ دار بھی ہم ہی ہوتے ہیں سٹیج پر فقہ واریت کے خلاف تقریر تو کی جاتی ہے مگر خود مقرر صاحب کسی نہ کسی فرقے کا ترجمان ضرور ہوتا ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظام کے پنجے بڑے پیچ دار ہیں اس نظام کے کردار ملکوں کو پھانستے ہیں ان پر جنگ مسلط کرتے ہیں اور دنیا میں بھوک اور غربت کے بیج بوتے ہیں سرمایہ پرستانہ نظام ملٹی نیشنل کمپنیوں کو تحفظ دیتا ہے کیونکہ اس نظام کے جتنے بھی کردار ہوتے ہیں ان کو دانہ پانی یہ کمپنیاں فراہم کرتی ہیں ایک ایسٹ انڈیا کمپنی نے پورے برصغیر کو لوٹا حالانکہ برصغیر کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا آج یہاں کے عوام فاقوں پر مجبور ہیں برصغیر کا دیوالیہ ایک کمپنی نے نکال دیا اور آج سینکڑوں کمپنیاں قوموں کو نگل رہی ہیں سرمایہ کی حوس نے کروڑوں لوگوں کے جسموں کو بھوک کی وجہ سے پنجرے بنادیا ہے قوم کا دیوالیہ نکلتا ہے اور کمپنیوں کے مالکان کی توندیں باہر نکلتی ہیں اور ان کی گردنیں موٹی ہوتی جاتی ہیں ۔ اقوام کے وسائل لوٹ کر ان کو بھوکا مارنے کا پروگرام ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاس ہے اور مقامی ملوں اورکمپنیوں کے مالکان ان کے طفل بچے ہیں جو کبھی آٹے کا بحران پیدا کرتے ہیں اور کبھی چینی اور کبھی سیمنٹ کا اور سب سے بڑا سامراج بے گناہ انسانوں پر ہزاروں منوں کے حساب سے بارود پھینک کر ان کے وسائل اور منڈیوں پر قبضہ کر تا ہے اور ان پر خون کے بادل برساتا ہے جس کے نتیجے میں خون کی ندیاں بہتی ہیں ، شہر اجڑتے ہیں اور ملک تباہ ہوتے ہیں سرمایہ دارانہ نظام کا چمپئن امریکہ ہے اور یہ دنیا میں امن کا بھی علمبردار ہے اور اپنا شمار انسانیت کے رکھوالوں میں کرتاہے اسے یہ غم کھایا جارہا تھا کہ عراق میں ڈیڑھ سو کے قریب عراقی عوام کو قتل کیا گیا ہے اور اس غم کو ہلکا کرنے کیلئے اس نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد عراقیوں کو خون میں نہلادیا اور اس سوال کا جواب کوئی نہیں دیتا ہے کہ اٹھارہ لاکھ سے زائد افغانیوں کو جہاد کے نام پر قتل کرواکر کونسا امن قائم کیا گیا;238; ۔ امریکہ موت کا سوداگر ہے او راسکی معیشت کا دارومدار اسلحہ کی فروخت پر ہے دنیا میں اگر امن ہوگا اور دوممالک آپس میں لڑینگے نہیں تو وہ کھائےگا کیا;238; یہی وجہ ہے کہ وہ قوموں کو لڑاتا ہے اور انسانیت کو تقسیم کر کہ شکار کرتا ہے اور جو اسکے راستہ میں رکاوٹ بنتا ہے تو اسکو تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے صدام حسین کا جرم یہ تھا کہ اس نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ ’’ عرب کا تیل عربوں کیلئے ہے‘‘اسی لیئے اسے سولی پر چڑھا دیاگیا دنیا میں جنگ اور خانہ جنگی کی فضا امریکہ اور اسکے حواری ممالک مزاحمتی تحریکوں کو شکست دینے میں مصروف ہیں اس کی کوشش ہے کہ بحر ہند کو اسٹریٹجک تنازعات کا سٹیج اور ایشیا پر بالادستی کے لئے لانچنگ پیڈبنادیا جائے اور اس مقصدکیلئے اس نے انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کو جدید اسلحہ سے مسلح کیا ہے اور مقدس عنوانات کے تحت وہ سامراجی عزائم کو پورہ کرنے کیلئے قومی املاک کو تباہ کرتے ہیں اور دینی تشحص کو پامال کرتے ہیں اور قومی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں ۔ سوچنے کا مقام ہے کہ یہ عناصر قومی فورسز کو نشانہ کیوں بناتے ہیں ;238; اور ملک میں بڑے منصوبوں پر کام کرنے والے چینی انجینئرز کو اغوا کر کے قتل کیا جاتا ہے ;238;کیا کبھی انہوں نے سامراجی مفادات کو بھی نقصان پہنچایا ہے;238; کڑوا سچ یہ ہے کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے لبادے میں سامراجی کھیل کھیلا جارہا ہے اور سامراج چند مفاد پرستوں کو نوازتا ہے جن کاطرز حیات عوام کے ساتھ میل نہیں کھاتا ہے اور عوام بے چارے ’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘کا نمونہ بنتے چلے جاتے ہیں زرعی ملک ہونے کے باوجود ستر فیصد زمینیں بنجر ہیں اور جو تھوڑا بہت حصہ کاشت ہورہا ہے اس کا طریقہ کار بھی غیر سائنسی ہے اور تسلط اس پر سرمایہ دار اور جاگیردار کا ہے اور عوام اسکے ثمرات سے دور ہیں جسکے نتیجے میں غربت، مہنگائی اور بھوک کو فروغ مل رہا ہے ۔ ایک عام آدمی کے خیال میں اس کا واحد حل یہ ہے کہ تمام ملوں اور کارخانوں کو قومی تحویل میں لیا جائے اور ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کر کے غریب عوام کی کمائی پر ہاتھ صاف کرنے والے مجرموں کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ۔

القادریونیورسٹی کاسنگ بنیاد۔۔۔روحانیت کی تعلیم میں کلیدی کرداراداکرے گا

وزیراعظم نے بالکل درست کہاکہ نہ ہم اسلامی رہے نہ ہی فلاحی، بس ریاست بن کررہے گئے ہیں ، یہ حقیقت ہے کہ پاکستان ایک فلاحی ،نظریاتی مملکت ہے مگراس میں فلاح نام کی چیزتوکہیں بھی نظرنہیں آتی، اسلامی احکامات سے بھی ہم دور ہیں کیونکہ بظاہرتو عمل کیاجاتا ہے مگراسلام کی جو اصل روح ہے اس پر کوئی بھی صحیح طرح عمل پیرا نہیں ہے ،جہاں تک فلاحی ریاست کی بات ہے تویہاں توغریب عوام شاید فلاح کے نام سے واقف بھی نہیں اس نے تو جب سے آنکھ کھولی تب سے مصائب اورآلام نے ہی گھیررکھا ہے، غالباً پاکستان کی تاریخ میں عمران خان سب سے پہلے اور واحد وزیراعظم ہیں جنہوں نے کہاکہ وہ پاکستان کو مدینہ منورہ جیسی ریاست بنائیں گے مگرابھی اس پربھی عمل خال خال ہی نظرآتاہے ،تاہم اس جانب وہ کارفرما ضرور ہیں اسی سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان نے سوہاوہ میں القادر یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ طاقت کے زور پر ملک کو اکٹھا نہیں رکھا جاسکتا ، فوج نہیں عوام ملک کو اکٹھے رکھتے ہیں ،ریاست مدینہ کی بنیاد عدل وانصاف پر تھی، طاقتور سے مال لے کر کمزور پر خرچ کیا جاتا تھا،فاٹا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں عوام کی حالت زار انتہائی خراب ہے، اندرون سندھ میں 70 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ، نظریہ سے ہی لیڈر بنتا ہے جب نظریہ ہی نہیں ہوگا تو لیڈر کیسے بنے گا;238;دین کو زبردستی کسی زندگی میں نہیں لایا جاسکتا،کیسے غریب ترین مسلمانوں نے دنیا کی امامت کی یونیورسٹی میں اس پر تحقیق ہوگی،تعلیم کے بغیر دنیا میں کوئی معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا، القادر یونیورسٹی میں جدید علوم کیلئے چین سے مدد لیں گے، مکمل میرٹ پر پاکستان بھر سے ذہین بچوں کو یہاں تعلیم جائے گی ، بھٹو کے بعد جتنے لیڈر آئے حکومت میں آنے سے پہلے عوام کے خیر خواہ بنے، جب گئے تو لندن میں جائیدادیں تھیں اور عوام غریب ہوگئے،برا بھلا کہنے والوں کو القادر یونیورسٹی سے تحقیق کی بنیاد پر جواب دیا جاسکے گا ۔ روحانیت کو ہم سپر سائنس بنائیں گے،برصغیر اور دیگر علاقوں میں اسلام کا پیغام لے کر آنے والے بڑے بڑے صوفیا کرام پر تحقیق کیلئے کوئی ادارہ موجود نہیں تھا، یہ کام القادر یونیورسٹی کریگی، یورپ اور امریکا میں روحانیت پر ریسرچ کے ادارے قائم ہیں تاہم مسلمان ممالک میں ایسے ادارے نہیں ۔ 9;47;11 کے بعد کس طرح اسلام کی بے حرمتی کی گئی،اس کا کوئی جواب دینے والا نہیں تھا ۔ معاشی بحران اور اچھے برے وقت آتے جاتے ہیں تاہم اگر نظریہ چلا جائے تو قوم کا کوئی مستقبل نہیں رہتا ۔ عمران خان انسانیت کی قدر کرنے والے رہنما ہیں ، پاکستان میں عمران خان کے عروج کو کوئی نہیں روک سکتا، وزیراعظم نے انقلاب برپا کیا ۔ 30 سال سے اقتدار پر بیٹھے لوگ خود کو ہر چیز سے بالاتر سمجھتے تھے، اقتدار سے چمٹے لوگ چوہے کی طرح بلوں میں گھستے ہیں ۔ کبھی لندن جاتے ہیں کبھی کسی کو معافی دلوانے کا کہتے ہیں ، نواز شریف جیل جارہے ہیں ، زرداری کیس بھگت رہے ہیں ، شہباز شریف بھاگ رہے ہیں یہ حکومت کی کوشش کا نتیجہ ہے، تحریک انصاف متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت ہے، ملک میں مہنگائی کا سامنا ماضی کے حکمرانوں کی وجہ سے ہے، ماضی کے حکمرانوں کے دل میں غریب کا خیال ہوتا تو یہ حالات کا سامنا نہ ہوتا، پی ٹی آئی نے سیاسی کامیابی حاصل کی ہے متوسط طبقے کا راج قائم کیا ۔ حکومت عوام کو مسائل سے باہر نکالے گی، عمران خان کی قیادت پر عوام نے اعتماد کا اظہار کیا ہے، نظام کے خلاف جدوجہد ختم نہیں ہوئی، عمران خان کی قیادت میں پسماندہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکاجائے گا ۔ تحریک انصاف کی حکومت عوامی فلاحی کاموں میں بھرپوردلچسپی لے رہی ہے شہر،شہرگاءوں گاءوں متعدد عوامی منصوبے شروع کئے گئے ہیں جن کے ثمرات جلد عوام تک پہنچیں گے ،بلدیاتی نظام ایک ایسا نظام ہے جس سے دیہات کے مسائل حل ہو ں گے ، تحریک ا نصاف کی حکومت کاسب سے بڑاکارنامہ صحت انصاف کارڈ ہے جس سے غریب کاعلاج مفت میں ہوگا ، صحت سہولت پروگرام کے تحت صحت انصاف کارڈمنصوبے کی ملکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ۔ حکومت ہر چھوٹے بڑے شہر کی یکساں ترقی پر یقین رکھتی ہے حکومت کاعزم ہے کہ تمام پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ شہروں کے برابر لائے گی ۔ صرف صحت انصاف کارڈ ہی نہیں بلکہ دیگر ہیلتھ پراجیکٹس پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ عوام کو با اختیار بنانے اور ایک پر وقار معاشرہ تشکیل دینے کیلئے نیا بلدیاتی نظام لایاجارہاہے جس سے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے ۔

وزیراعظم سے افغان صدرکاٹیلی فونک رابطہ

وزیراعظم عمران خان سے افغان صدر اشرف غنی نے ٹیلی فونک رابطہ کر کے خطے میں امن و سلامتی اور خوشحالی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی سے کہا کہ طویل تنازع نے افغانستان کو غیر مستحکم کیا لیکن پاکستان افغانستان کو اپنا برادر دوست ملک سمجھتا ہے ۔ افغان تنازع سے گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان بھی متاثر ہوا، پاک افغان قیادت عوامی فلاح، امن، اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرے ۔ افغان مسئلے کا پرامن حل افغانیوں کے ذریعے ہی ہونا چاہیے، پاکستان دو طرفہ برادرانہ تعلقات کے استحکام کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گا ۔ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی ۔ پاکستان کا تو پہلے دن سے یہ موقف رہاہے کہ مسائل جنگوں سے حل نہیں ہوتے بلکہ مذاکرات ہی سے تمام مسائل حل ہونگے ۔ حالات کا مقابلہ کرنے کےلئے دوسرے علاقائی ممالک سے اپنے تعلقات بہتر کرنے ہونگے ۔

بھارت کی ایل ا و سی پرپھربلا اشتعال فائرنگ

;200;زادکشمیر میں لائن ;200;ف کنٹرول کے مقام پر بھارتی فورسز کی فائرنگ سے ایک 12 سالہ بچہ زاہد اور خاتون شہید اور اس کی بہو زخمی ہو گئی ۔ پاک فوج کی جانب سے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گیا ۔ ان کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ بھارتی فورسز کی جانب سے فائر کیا گیا مارٹر شیل خاتون کے مکان پر;200; گرا تھا ۔ واقعہ ;200;زادکشمیر کے ضلع پونچھ کے علاقے سہرا میں پیش ;200;یا ، شہید ہونیوالی خاتون کی شناخت 45 سالہ نسرین بیگم کے نام سے جبکہ زخمی خاتون کی شناخت سونیا نعیم کے نام ہوئی ۔ بھارتی فورسز کی جانب سے ایل او سی پر معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کا عمل ان کی بزدلی کا مظہر ہے ۔ بھارتی حکومت کو یہ غلط فہمی ہے کہ اس طرح کے واقعات سے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے موقف تبدیل ہوجائے گا ۔ کشمیر ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اوراس کے بغیر پاکستان نامکمل ہے بھلاکس طرح مقبوضہ کشمیرکوبھلایاجاسکتاہے پاکستان اس کی سفارتی اوراخلاقی حمایت ہرصورت جاری رکھے گا نیزپاکستان نے بین الاقوامی سطح پرہرفورم پرمسئلہ کشمیرکواٹھایا اوراب مسئلہ کشمیراس نہج پرپہنچ چکا ہے جہاں سے کشمیریوں کی آزادی کوروکناناممکن ہے ، بھارت کے بس میں جتناتھا اس نے ظلم کے پہا ڑ توڑ دیئے ہیں ناحق کشمیری بہن بھائیوں کے خون کی ندیاں بہائیں ،پیلٹ گن سے ہزاروں کشمیریوں کو آنکھوں سے محروم کیا آئے دن کی گرفتاریاں ،جیلوں میں قیدوبندکی سختیاں ،کرفیوکانفاذ ،فائرنگ ،تشدد یہ چیزیں بھی آزادی کشمیرکاراستہ نہ روک سکیں اب بھارت کیسے سوچ سکتاہے کہ کشمیری آزادی سے پیچھے ہٹ جائیں گے ۔

’’اکھنڈ بھارت‘‘ کا بھارتی خواب

ہندو بہت مکار ،عیاراور چالاک ہے ۔ وہ بغل میں چھری اور منہ سے رام رام پکارتا ہے ۔ ہندو قطعاً نا قابل اعتماد ہے ۔ اس نے آج تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ۔ ہندو طاقت کے ذریعے پاکستان پر قبضہ نہیں کر سکتالیکن وہ اپنی عیاری اور منافقت کے ذریعے ہمارے وطن عزیزکو اپنے مال کےلئے منڈی بنانا چاہتاہے اور مقبوضہ کشمیر پر بھی اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے ۔ ہ میں سب سے پہلے تنازعہ کشمیر حل کرنا ہوگا اور اس کے بعد ہی بھارت کے ساتھ تعلقات بحال کرنا ہونگے ۔ اس تلخ حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ بھارت ہمارا ہمسایہ ہے جس سے ہماری سب سے طویل سرحد ملتی ہے ۔ بھارت واحد ملک ہے جس سے ہمارے تعلقات ہمیشہ سے کشیدہ رہے ہیں اور اس کی بڑی وجہ بھارت کا پاکستان کو دل سے قبول نہ کرنا ہے ۔ اس میں قصور قطعاً پاکستان کا نہیں کیونکہ بھارت کا کوئی بھی ہمسایہ اس سے خوش نہیں ۔ دفاعی طور پر کمزور اور چھوٹے ممالک مثلا مالدیپ، سری لنکا، بھوٹان اور یہاں تک کہ نیپال جو کہ بھارت کے علاوہ دنیا کی واحد ہندو ریاست ہے وہ بھی اس کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ نہیں ۔ پاکستان سے تو بھارت کو خدا واسطے کا بیر ہے ۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد جونا گڑھ اور حیدر آباد دکن اور پھر کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر لیا ۔ بعد میں پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی غرض سے 1965ء میں رات کی تاریکی میں بین الاقوامی سرحد عبور کر کے حملہ آور ہوا ۔ 1971ء میں مکتی باہنی کے بھیس میں فوج بھیج کر ہمارا مشرقی حصہ ملک سے الگ کر دیا ۔ ’’گوا‘‘ جیسے چھوٹے اور کمزور ملک پر فوجی کشی کر کے اس پر قبضہ کر لیا اور 80ء کی دہائی میں سری لنکا میں فوج بھیج دی یہ تمام واقعات بھارتی جارحانہ اور توسیع پسندانہ روش کے ان مٹ ثبوت ہیں ۔ بھارت کا یہ غیردوستانہ اور ہمسایہ دشمن رویہ اس کی صدیوں پرانی تاریخ کا حصہ ہے ۔ بھارت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کو اپنے اندر مدغم کر کے اکھنڈ بھارت بنانا چاہتا ہے ۔ اکھنڈ بھارت کے لئے بچھائے گئے جال کی دوڑیں را کے ہاتھ میں ہیں ۔ ’’ را‘‘ نے صوبہ بلوچستان کے ایران سے متصل علاقے (مکران ڈویژن) میں دہشت گردی کی تربیت کےلئے 40 کیمپ قائم کررکھے ہیں اور بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو ہزاروں روپے تنخوادہ دے کر ملک دشمن سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ جن میں بہت سے فراری بلوچ اب واپس آچکے ہیں ۔ بعض دہشت گرد گرفتار بھی ہوئے ہیں ۔ گرفتار کئے جانے والے افراد میں سے بعض کے پاس ریموٹ کنٹرول الیکٹرانک آلات اور سٹیلاءٹ موبائل فون بھی برآمد ہوئے ہیں جبکہ بعض اہم دستاویزات اور نقشے بھی ہاتھ لگے ہیں ۔ ماضی گواہ ہے کہ مسلمانان برصغیر اپنی مرضی سے الگ نہیں ہوئے تھے بلکہ ایسا ماحول پیدا کیا گیا کہ مسلمانوں کو اپنے لیے الگ وطن کا مطالبہ کرنا پڑا ۔ پھر قیام پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب کے سکھوں نے ہجرت کرتے ہوئے مسلمانوں کیساتھ جو سلوک کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ جذبات میں حقائق کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت دو الگ الگ ملک ہیں ۔ انکے درمیان سرحدوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ ایکدوسرے سے ملا جا سکتا ہے، اچھے روابط رکھے جا سکتے ہیں ۔ سماجی اور معاشی تعلقات کو بڑھایا جا سکتا ہے ۔ بھارت کی انتہا پسند اور فرقہ پرست تنظیموں نے بھارت کے علاوہ کئی ممالک میں اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں ۔ یہ انتہا پسند ہندو تنظ میں پاکستان کے وجود کے خلاف ہیں اور انہوں نے کبھی پاکستان کو تسلیم نہیں کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اگر بھارت کے کچھ طبقے پاکستان کے ساتھ دوستانہ مراسم کو استوار کرنا بھی چاہتے ہیں تو یہ انتہا پسند ہندو تنظ میں میں نہ مانوں کا کردار ادا کرکے پا کستان اور بھارت کے تعلقات 1947 ء والی جگہ پر لا کھڑا کرتے ہیں ۔ جس سے دونوں ممالک کی ترقی متاثر ہوتی ہے ۔ امن کا خاتمہ اور خطہ میں کشیدگی کو ہوا ملتی ہے ۔ آج انہی فرقہ پرست ہندو جماعتوں کے گھٹیا اور متعصبانہ کردار کی بدولت پاک بھارت تعلقات کشیدہ ہیں ۔ تاہم بھارت نے پاکستان کے ساتھ سمجھوتہ اور دوستی کے لئے ہاتھ بڑھایا تو ہے مگر اس میں ہندو بنیا لا تعداد کروٹیں بدل بدل کر بین الاقوامی برادری کو ایسے تاثرات دے رہا ہے جس میں اس بات کو حقیقت کا روپ دینے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان جارح ہے اور ابھی تک وہ در اندازی کامرتکب ہو رہا ہے ۔ حالانکہ پوری عالمی برادری نے اپنے مشاہدہ کے بعد دنیا کے سامنے بھارت کی اس منفی سوچ کو رد کرتے ہوئے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نہ تو در اندازی کر رہا ہے اور نہ ہی کسی دہشت گرد کو تربیت دے کر کشمیر بھیج رہا ہے ۔ اگر کشمیر میں کچھ ہو رہا ہے تو یہ کشمیریوں کی اپنی جدو جہد آزادی کا نتیجہ ہے جو وہ عرصہ 71 سال سے غاصب بھارت کے خلاف اپنی آزادی کی تحریک کی صورت میں سامنے لا رہے ہیں ۔

وکلاء گردی، افسوسناک روش

مغرب کے اےک دانشور کا قول ہے an is born free but every where is in chains;انسان آزاد پےدا ہوا ہے لےکن ہر جگہ زنجےروں مےں جکڑا ہوا ہے لےکن اگر زنجےرےں نہ ہوں تو معاشرہ جنگل مےں تبدےل ہو کر جنگل کا سماں ہی پےش کرے ۔ ےہی زنجےرےں ہےں جو افراد پر کچھ اخلاقی ،مذہبی اور قانونی حدود وقےود عائد کرتی ہےں ۔ ےہ پابندےاں ہی کسی سماج ،قوم اور ملک کو بگاڑ سے بچاتی ،زندگی کو پر امن بناتی اور کسی خاص ضابطے کے تحت زندگی گزارنے کی پابند کرتی ہےں ۔ وطن عزےز مےں قانون سے ہر چھوٹا بڑا واقف ہے ۔ ہمارے ےہاں قانون سے کسی کا واسطہ نہےں پڑتا ،جب پڑتا ہے قانون کے نام پر لاقانونےت سے ہی پڑتا ہے کےونکہ جب قانون دان ہی اپنے خےال ،خواب اور خواہش کو قانون بنانے،سمجھنے اور رو بہ عمل لانے پر مصر ہو ں تو پھر لاقانونےت کسے کہےں گے;238; معزز قارئےن وطن عزےز مےں انصاف کی عدالت مےں اےک منصف کو خون مےں لت پت دےکھ کر راقم کرب انگےز احساس سے دوچار ہوا ۔ ےہ واقعہ اےک سرےع الاشتعال اور غضب آلود قانون دان کے ہاتھوں وقوع پذےر ہوا ۔ جڑانوالہ مےں اےک مقدمہ کی سماعت کے دوران وکےل موصوف نے غصہ مےں آ کر سینئر سول جج خالد محمود کے سر پر کرسی دے ماری جس سے جج صاحب کا سر پھٹ گےا اور ان کے سرسے خون نکلنے لگ گےا ۔ ان کی خون آلود تصاوےر سوشل مےڈےا پر وائرل ہےں ۔ ہر ملک کا اپنا عدالتی نظام ہو تا ہے جس کے تحت جج صاحبان فےصلے سناتے ہےں اور ان عدالتوں کا احترام اور وقار سب پر مقدم ہوتا ہے ۔ جج چاہے نچلی سطح پر بےٹھا ہو ےا اےوان کے بالا اےوانوں مےں کسی اونچی نشست پر متمکن ہو انصاف کی فراہمی اور عملداری کے کردار کی ادائےگی کے حوالے سے سوساءٹی مےں اس کی تعظےم و تکرےم محض زبانی کلامی نہےں دل سے بھی ہونی چاہیے ۔ اس کا مقام و مرتبہ دےگر ملازم پےشہ طبقات سے بہر صورت بلند ہوتا ہے ۔ ہمارے سامنے عدالتی احترام اور فےصلے کی اےک مثال آئی ہے جو نذر قارئےن ہے ۔ سنگا پور کی اےک عدالت مےں مقدمہ کی کارروائی جاری تھی کہ اےک شخص جس کا نام بجن تھا انجن کی چوری کے اےک مقدمے مےں ملوث اپنے اےک دوست کی ضمانت کےلئے عدالت مےں موجود تھا ۔ عدالت کی کارروائی کے دوران اچانک اسے جمائی آ گئی ۔ جج نے اس کا کھلا منہ دےکھ کر اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا ،ہمےں افسوس ہے کہ ہم آپ کو بور کر رہے ہےں ۔ جےل مےں قےدےوں کے ساتھ آپ کا پتھر توڑنا زےادہ دلچسپ ہو گا ۔ لہٰذا توہےن عدالت پر آپ کو دو سال قےد بامشقت کی سزا دی جاتی ہے ۔ بجن نے جمائی لےنے پر تحرےری معذرت کرتے ہوئے عدالت کو بتاےا کہ وہ کام کی زےادتی کی وجہ سے رات بھر سو نہےں سکا تھا لےکن جج نے اس کی معذرت مسترد کرتے ہوئے اسے دو سال کےلئے جےل بھےج دےا ۔ اس طرح بجن اپنے دوست کی ضمانت دےنے کے بجائے خود جےل چلا گےا ۔ قارئےن ےہ خبر دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ عدالتوں کے وقار کا وہ سبق بھی دےتی ہے جس کا ہماری عدالتوں مےں فقدان ہے ۔ عوام کے دلوں مےں عدالتوں کا احترام اور وقار بحال کرنا حکومت کا فرض ہے ۔ سزا کا خوف پےدا کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ ہمارے ہاں بعض وکلاء کا شاید رجحان ہی تہذےب و شائستگی سے بد تمےزی ،بد تہذےبی اور بد قماشی مےں بدل چکا ہے ۔ مخالفانہ رائے سننے کا ان مےں حوصلہ ناپےد ہو چکا ہے ۔ معزز و محترم لوگ بے توقےر کئے جا رہے ہےں ۔ خود کو قانون کے سانچے مےں ڈالنے کی بجائے جج صاحبان سے اپنی خواہش کے مطابق فےصلے لےنے کی بزور کوشش کرتے ہےں

گر ہمےں مکتب و ہمےں ملا

کار طفلاں تمام خواہد شد

لاہور ہائےکورٹ کے جسٹس سےد مظاہر علی نقوی کی سربراہی مےں تےن رکنی گل بنچ نے اےک مقدمے کی سماعت کے دوران جڑانوالہ واقعہ کے حوالے سے جس مےں وکےل نے کرسی مار کر جج کو زخمی کر دےا رےمارکس دیے کہ ہمارا (عدالتی ) سسٹم تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور صرف دو فےصد وکلاء نے پورے سسٹم کو مفلوج کر رکھا ہے تاہم کسی کو عدالتوں کو ہائی جےک نہےں کرنے دےں گے ۔ فاضل جج نے رےمارکس دےتے ہوئے افسوس ظاہر کےا کہ وکلاء کی بہتر تربےت نہےں ہورہی ۔ جڑانوالہ کا عدالتی سانحہ انتہائی افسوسناک اور وکلاء گردی کا بدترےن مظاہرہ ہے جس سے قانون دان برادری کے سر شرم سے جھک گئے ۔ وکالت نہ صرف اےک معزز پےشہ ہے بلکہ دکھی انسانےت کی اےک عظےم خدمت بھی ہے ۔ وکلاء مےں موجود کالی بھےڑوں کی تعداد بمشکل دو فےصد ہو گی ۔ اےسے لوگوں کی چونکہ بہتر تربےت نہےں ہوئی اس لئے وہ مقدمات پر محنت کرنے کی بجائے موکل کو جتوانے کےلئے پےسے ےا زور بازو کا سہارا لےتے ہےں ۔ سےدھا راستہ تو ےہ ہے کہ جج کو منطق اور دلےل سے قائل کرےں ،اگر کامےابی نہےں ہوتی تو اس کا ےہ مطلب نہےں کہ انصاف کے حصول کے راستے بند ہو گئے ہےں ،اس سے اگلی عدالت سے رجوع کےا جا سکتا ہے ۔ وکلاء کو قائد اعظم ;231; اور علامہ اقبال ;231; کو اپنا آئےڈےل بنانا چاہیے جنہوں نے مقدمات جےتے ہی نہےں ہارے بھی ہےں لےکن انہوں نے عدلےہ کے احترام مےں کمی نہےں آنے دی ۔ جج صاحب کے ےہ رےمارکس ’’ عدالتی نظام تباہی کے دہانے پر‘‘ خطرے کی گھنٹی ہے ۔ پاکستان بھر کے وکلاء نے اےک طوےل جدوجہد کے ذرےعے عدلےہ کی بحالی مےں اپنا کردار ادا کےا ۔ ےہ احتجاج تو بار آور ہوا لےکن پاکستان بھر کے وکلاء کو اےک نےا موڑ دے گےا ۔ وکلاء نے اپنے گروپ بنا لئے جن کے ذرےعے وہ ماتحت عدالتوں مےں اپنی مرضی کا فےصلہ املا کروانے کی کوشش کرتے ہےں اور اگر متعلقہ جج ان کی مرضی کے مطابق چلنے سے انکار کر دے تو بھری عدالت مےں جج پر تشدد کرنے سے بھی گرےز نہےں کرتے جبکہ ججوں کو مغلظات بکنا اور برا بھلا کہنا اب کوئی اچنبھے کی بات نہےں رہی ۔ پاکستان کی تارےخ مےں دہشت گردی کے ساتھ ساتھ وکلاء گردی کی اصطلاح بھی اسی وقت سے سامنے آئی ہے ۔ وکلاء نے جب چاہا اور جسے چاہا اپنے جوتے کی نوک پر رکھ لےا ۔ کہےں معزز عدالتوں کے جج ان کے ہتھے چڑھے اور ان پر جوتے برسائے ۔ کہےں عدالتوں مےں پےشی پر پولےس افسران ،کہےں عدالتی اہلکار اور کہےں بدنصےب سائلےن وکلاء گردی کا شکار ہوئے ۔ اےسے معاشرے مےں انصاف کی امےد کےسے کی جا سکتی ہے ;238;اگر ان وکلاء کے خلاف کوئی انتظامی کارروائی کی جائے ےا ججوں پر تشدد کی پولےس مےں اےف آئی آر ہی درج کروانے کی کوشش کی جائے تو پوری بار اےسوسی اےشن اےسے وکلاء کی پشت پر کھڑی ہو جاتی ہے اور عدلےہ کا بائےکاٹ کرنے کی دھمکی دے دی جاتی ہے ۔ بعد مےں معاملہ بس اس حد تک حل ہوتا ہے کہ کسی چےمبر مےں وکےل سے معافی منگوا کر اس قضئیے کو رفت گشت کر دےا جاتا ہے ۔ پچھلے دنوں اسلام آباد مےں صدر بار اور خاتون جج شائستہ کنڈی کے درمےان مقدمہ کی سماعت کے دوران تلخ کلامی ہو گئی بات ےہےں ختم نہےں ہوئی اس کے بعد اسلام آباد کی بار اےسوسی اےشن کی جانب سے شائستہ کنڈی کی عدالت کا بائےکاٹ کر دےا گےا اور ساتھ انہےں فوری طور پر تبدےل کرنے کا مطالبہ بھی منظر عام پر آےا ۔ کالم کی تنگ دامنی کا احساس ہے کس کس واقعہ کا ذکر کےا جائے ۔ بار اور بنچ کے درمےان ےہ لڑائی کا کوئی پہلا واقعہ نہےں ۔ وکلاء کی طرف سے تو منفی سرگرمےوں کے حوالے سے اےک تارےخ مرتب کی جا رہی ہے ۔ چےف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے ماڈل کورٹس قائم کی گئی ہےں لےکن وکلاء نے ہڑتال کر دی اور ان کی با اثر تنظےموں کی جانب سے اعلان کےا گےا کہ کوئی بھی وکےل ماڈل کورٹس مےں پےش نہےں ہوگا ۔ عدلےہ کی اصلاحات اور انصاف کی تےز فراہمی وکلاء کو پسند نہےں آئی ۔ وکلاء کو ےہ بات سمجھنی چاہیے کہ وہ پاکستان کی عدالتوں کا ماحول جس طرف لے کر جا رہے ہےں وہ ان کے پےشہ کےلئے بھی فائدہ مند نہےں ہے اگر عوام کا عدالتی نظام سے اعتماد ہی ختم ہو گےا تو وہ کےا کرےں گے ۔ عدالتی نظام بنچ اور بار کے دو ستونوں پر قائم ہے اگر ان کے درمےان اونچ نےچ ےا

رمضان ،قرآن اور قرآنی انسائیکلو پیڈیا

رمضان المبارک نزول قر;200;ن کے مقدس مہینے کا ;200;غاز ہو چکا ہے ۔ اس ماہ مبارکہ کی تمام ساعتیں اگر باعث خیر و برکت ورحمت اور مغفرت ہیں تو قر;200;ن مجید پر کامل یقین اور عمل کی وجہ سے ہیں ۔ یہ قر;200;ن ہی ہے جو رسالت محمدی ﷺ کی پہچان کا عنوان ہے ۔ قر;200;ن کی عظمت خود قر;200;ن ہی سے ;200;شکار ہے ،ارشادباری تعالیٰ ہے ’یہ کتاب اس میں کچھ شک نہیں ، ڈرنے والوں کے لیے سامان ہدایت ہے‘ ۔ یہ محض کتاب نہیں بلکہ انسانی رہنمائی اور فلاح کا دائمی چارٹر ہے جس میں ایک طرف حقوق اللہ کی پاسداری کاحکم ہے تو دوسری طرف حقوق العباد کی عدم ادائیگی پر سخت وعید بھی ہے، گویا قر;200;ن میں پورا نظام حیات عطا کیا گیا ہے جس پر عمل پیرا ہوکر مسلمان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتے ہیں ۔ بدقسمتی سے ہم تعلیمات قر;200;ن کو سمجھنے اور اجاگر کرنے میں ناکام رہے ۔ جس سے یہ امت قر;200;ن حکیم کی تعلیمات سے دوری ہوتی چلی گئی ۔ ;200;ج تو حد یہ ہے کہ نئی نسل قر;200;ن فہمی تو کجا خود قر;200;ن کی عظمت اور قدرومنزلت سے بھی ;200;گاہ نہیں ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو قر;200;ن سے جوڑنے کی سبیل کی جائے اور ایسا اسی صورت ممکن ہے جب قر;200;ن کے مضامین کو ;200;سان پیرائے میں پیش کیا جائے ۔ دور حاضر میں قر;200;ن فہمی پر کام ہو رہا مگر قر;200;نی انسائیکلوپیڈیا کی شکل میں ایک ایسی کوشش سامنے ;200;ئی ہے کہ جس سے طالبانِ علم القر;200;ن کی تشنگی دور ہو گی ۔ قر;200;نی انسائیکلوپیڈیا کی تالیف علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے انجام دی ہے جوبین الاقوامی شخصیت کے حامل اور قدیم و جدید علوم پراتھارٹی ہیں ۔ قر;200;نی انسائیکلوپیڈیا ;200;پ کے نصف صدی سے زائد مطالعہ قر;200;ن کا نچوڑ ہے جس میں جدید عصری، سائنسی اور فکری موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ 8جلدوں پر مشتمل اس ضخیم تالیف میں 5ہزار موضوعات کا چناوَ ہوا ہے ۔ اس کی ضخامت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف موضوعات کی فہرست 400 صفحات پر مشتمل ہے ۔ ایک عام قاری کی سہولت کیلئے اس میں شامل عنوانات کو عصری تقاضوں کے مطابق عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔ علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی جملہ تصنیفات و تالیفات انسانی زندگی سے متعلق ہر موضوع کا احاطہ کیے ہوئے ہوتی ہیں ۔ عرب ہو یا عجم اسلام کا پرامن اور معتدل چہرہ متعارف کروانا ;200;پ ہی کا طرہ امتیاز ہے ۔ ;200;پ کی ساڑھے پانچ سوسے زائدکتب عام ;200;دمی کےلئے ارزاں دستیاب ہیں ۔ یہ ارزاں اس لئے ہیں کہ ان کے پیچھے کوئی کمرشل مفاد شامل نہیں ہے،ان کتب سے حاصل ہونے والی جملہ آمدن علامہ صاحب کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ۔ قر;200;نیات کے موضوع پر 100 سے زائد کتب پہلے ہی موجود ہیں جبکہ عرفان القر;200;ن کے نام سے ان کا ترجمہ قر;200;ن پذیرائی حاصل کر چکا ہے ۔ جید علما اور سکالرز کا ماننا ہے کہ قر;200;نی انسائیکلوپیڈیا علوم القر;200;ن کا ایسا ذخیرہ ہے جو تا ابد امت مسلمہ کی رہنمائی کرتا رہے گا ۔ یہ اسلامی علوم پر تحقیق کرنے والے محققین کیلئے نسخہ کیمیا تو ہے ہی، لیکن اس کے مطالعے سے ہر طبقہ فکر کے عام فرد کو بھی رہنمائی ملے گی ۔ اس کا ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ عربی زبان کا علم رکھے بغیرقر;200;ن کریم کے مطلوبہ مقام تک پہنچنا اور مطلوبہ حقائق سے با ;200;سانی رہنمائی پالینا ممکن ہے کیونکہ قر;200;نی انسائیکلوپیڈیا کو سمجھنے کیلئے اسے جس طرح ابواب اور عنوانات میں تقسیم کیا گیا ہے وہ اس تالیف کا امتیاز ہے ۔ ;200;ٹھ جلدوں پرمشتمل انسائیکلوپیڈیا کی پہلی جلد وجودِ باری تعالیٰ، تصورِ توحید، ایمان باللہ، ذات و صفاتِ الہیہ کا شرح و بسط کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ جلد دوم میں اللہ اور بندے کے درمیان تعلق کی نوعیت، حقِ ربوبیت ذکرِالہٰی کی اہمیت، مجالسِ ذکر کی فضیلت، انسان کی ایمانی زندگی کو درپیش خطرات، نیز نفاق اور اس پر وارِد ہونے والی کیفیات بیان کی گئی ہیں ۔ تیسری جلد میں قیامت کے احوال، یوم حشر، اسکے مراحل، جنت اور جنتیوں کے احوال، درجات و انعامات اور جہنم کے احوال اور عذاب کی تفصیلات کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اسی طرح نماز کی فرضیت، شرائط، اہمیت اور حکمت و برکت کا ذکر تفصیل سے ہے ۔ نکاح، طلاق اور پردہ جیسے موضوعات بھی اسی جلد میں جمع کیے گئے ہیں ۔ مرد اور عورت کے مساوی حقوق، حقِ خلع اور اسکے متعلقات، مطلقہ عورت کے حقوق، بیوہ کے حقوق اور عدت کے قوانین کا تفصیلی ذکر بھی ہے ۔ چوتھی جلد میں امن و محبت، اِصلاحِ معاشرہ، انسانی زندگی کا تحفظ، فرقہ واریت کی مذمت، مسلمانوں میں اتحاد و یگانگت کی ضرورت و اہمیت، غیر مسلموں سے حسنِ سلوک، ان کے جان و مال اور عبادت گاہوں کا تحفظ، مذاہبِ عالم اور ان کے عقائد جیسے اہم موضوعات شامل ہیں ۔ جلد پنجم میں زندگی کے معاشرتی ;200;داب کا ذکر شامل ہے ۔ نیز حکومت اور سیاست کے ذیل میں اِسلامی اور دیگر طرز ہائے حکومت، ریاست کی ذمہ داریاں ، نظامِ عدل اور اس کے تقاضے جیسے مضامین شامل کئے گئے ہیں ۔ اقتصادی و مالی معاملات میں اصولِ تجارت و صنعت، سود کی حرمت و مذمت، اِسلامی معیشت میں محصولات کا تصورجیسے کئی مضامین ماہرینِ معاشیات کی توجہ کا مرکز ہیں ۔ چھٹی، ساتویں اور ;200;ٹھویں جلد الفاظِ قر;200;ن کے جامع اشاریہ پر مشتمل ہے ۔ یہ اشاریہ قاری کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے تا کہ الفاظِ قر;200;ن کے معانی سے ہر خاص و عام ;200;شنا ہو سکے جبکہ قبل ازیں قر;200;ن پاک کو سمجھنے کے لیے عربی زبان پر دسترس حاصل کرنا پڑتی تھی ۔ یہ کہنا ہر گز مبالغہ نہ ہو گا کہ قر;200;نی انسائیکلوپیڈیا نے ہر کس ناکس کے لیے قر;200;ن کو اس کی روح کے مطابق سمجھنے کے کابل بنا دیا ہے ۔ اس امر میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ قر;200;ن مجید کا مطالعہ، اس کی تکریم کرنا باعث برکت و نجات ہے مگر اللہ اپنے بندے سے کیا چاہتا ہے یہ سب جاننا اسی وقت ممکن ہے جب قر;200;نی ;200;یات کی تفہیم پر دسترس بھی ہو، اب یہ کام ڈاکٹر طاہرالقادری نے قر;200;نی انسائیکلوپیڈیا کی تالیف سے ;200;سان بنا دیا ہے ۔ اللہ بزرگ و برتر ہ میں قرآن فہمی کی توفیق عطا فرمائے ۔

حکمرانوں کا عوام کو مہنگائی سے مارنے کامشغلہ

رمضان المبارک میں تو شیطان قید ہو جاتا ہے ۔ مگرجیسے ہمارے یہاں ذخیرہ اندوز اور زائد منافع خور اِنسان نما شیطان کے چیلے چانٹے مدر پدر آزار ہوجاتے ہیں ،جیسایہ ایک ماہ تک لوٹ مار کا بازار گرم کرتے ہیں ،سب جانتے ہیں ۔ اور ماہِ رمضان کے آنے سے پہلے اور عید کی چاند رات تک مہنگائی محورقص رہتی ہے ۔ ذخیرہ اندوز ،زائد منافع خور اور کلمنہی مہنگائی دھمال ڈالتے ہیں ۔ غریب خوشیوں سے محروم رہتاہے ۔ لگتا ہے کہ جیسے میرے دیس پاکستان میں ماہ رمضان سے مہنگائی اور منافع خوروں کا گہرا تعلق ہے ۔ جبکہ رمضان رحمان کے نیک بندوں کے لئے پہلے ہی رحمتوں ، برکتوں اور بخششوں کی ساعتیں لئے نزول ہوتا ہے ۔ یقینا ذخیرہ اندوز اور زائد منافع خور اِس ماہِ مبارکہ میں ناجائز طریقوں سے زائددولت جمع کرنے کے چکر میں ربِ کائنات اللہ رب العزت کی رحمتوں ،برکتوں اور بخششوں سے محروم رہ جاتے ہوں گے ۔ جہاں سارے عقل مند جمع ہوجا ئیں ;234; تو عقل کاگھاس چرنے جا نا یقینی ہوجاتا ہے،ایسے کام ہوتے ہیں کہ توبہ توبہ کان کو ہاتھ لگائے بغیر کوئی نہیں رہ سکتاہے ۔ کہنے دیجئے، کہ آج ہماری حکومت میں بھی ایک سے بڑھ کر ایک ارسطو اور افلا طون جمع ہیں ۔ اِسی لئے قدم قدم پرہر حکومتی نا اہلی ٹپک ٹپک کر بہہ رہی ہے ۔ اَب یہ حکومتی نا اہلی ہی تو ہے کہ جیسے اِس حکومت نے رمضان المبارک میں دفاتر کے اوقات کار صبح 10بجے سے دوپہر4بجے تک فکس کئے ہیں ۔ سوچیں ،جب صبح اور شام کے وقت تمام سرکاری و نجی اور بینکوں کی ایک ساتھ آمد اورچھٹی ہوگی تو کراچی سمیت مُلک بھر کی سڑکوں پر رش اور ہجوم کا کیا عالم ہوگا;238; سب کوشام کے وقت جلدگھر پہنچ کر اپنی فیملی کے ساتھ افطار کرنے کی خواہش اور جلدی میں حادثات الگ ہوں گے ۔ موجودہ حکومت کی نا اہلی سے رمضان المبارک میں دفاتر کے اوقات کارکا 70سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ۔ جبکہ پچھلے 70سالوں میں ماہِ رمضان المبارک کے اوقات کار صبح 8بجے سے دوپہر 1یا2بجے تک ہواکرتے تھے;46; روزہ دار ملازمین آرام اور سہولت کے ساتھ اپنے گھروں تک پہنچتے تھے ;46;مگر امسال پی ٹی آئی کی نا اہل اشخاص اور منصوبہ سازوں پر مشتمل حکومت کی جہ سے ایسا نہیں ہوگا ۔ ماہ رمضان المبارک میں کراچی سمیت مُلک بھر کی سڑکوں کا صبح اور شام کے اوقات میں رش اور ہجوم کے باعث منظر کسی قیامت سے کم نہ ہوگا ;234;سب کو نفسا نفسی کی پڑی ہوگی اور ہر کوئی جلد بازی کی وجہ سے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے چکر میں حادثات کا شکار الگ ہورہا ہوگا ۔ لازمی ہے کہ وزیراعظم عمران خان جہاں تک یوٹرن لے چکے ہیں ۔ آج ایک یوٹرن رمضان المبارک کے پرانے والے صبح اور شام کے اوقات کار کی بحالی کےلئے بھی لے کر خود کو پکا اور سچا مسلمان ثابت کرنے میں جلدی کریں ۔ بہر حال ،آج ایوان اور مچھلی بازار میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ہے، دونوں جگہوں سے تعفن اٹھ رہاہے،ایوان حزبِ اختلاف اور اقتدار کے اراکین کی ذاتی اور سیاسی کردار کشی سے ناگوار بو سے دوچار ہے ;234;تو وہیں ۔ سڑکوں پر حکومتی حامیوں اور اپوزیشن کے چاہنے والے دست وگریبان ہورہے ہیں ۔ اَب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ چیخ چلانے والوں سے غلط اور ٹھیک کی تمیز بھی ختم ہوگئی ہے ۔ ہمارے شہری کتنے طاقتور ہیں ;238; اِس کا اِنہیں اندازہ ہی نہیں ہے ۔ جس رو ز پاکستانیوں کو اپنی قوت کا لگ پتہ گیا ۔ یقینا اُسی روز پچھلے اگلے حکمرانوں کے ہوس ٹھکانے آجا ئیں گے، وہ تو اچھا ہو کہ ابھی تک پاکستانی حکمرانوں اور سیاستدانوں کے ہاتھوں کھیلونا بنے ہوئے ہیں ۔ تب ہی اِن سے سیاسی بہروپئے کھیل رہے ہیں ۔ اَب پاکستانیوں کو جاگنا ہوگا ور نہ، ہمارے سیاسی پنڈٹ ہ میں ٹرک کی لال بتی کے پیچھے بھگاتے رہیں گے;234; اور ہم تھک ہار کر چُورچُور ہوتے رہیں گے ۔ اورباری باری ہمارے سیاسی جو کر (حکمران)ہ میں سیراب دِکھاکر پاگل بناتے رہیں گے اور ہم پاگل بن کر اپنا تن من دھن سب کچھ اپنے سیاسی کائیں کائیں کرتے کوءوں پر اُلٹاتے رہیں گے ۔ جب تک پاکستان میں پیٹ بھرے لوٹ مارکرتے حاکم مسندِ حکمرانی پر قابض رہیں گے ۔ اُس وقت تک یہ بدنیت حکمران اپنے وزراء اور مشیروں سے غریب عوام کو طرح طرح کی لولی پاپ سے بہلاتے رہیں گے اور عوام مہنگائی کے ہاتھوں مرتے رہیں گے، اِس لئے کہ یہی 71سال سے پاکستان میں حکمرانوں اور اِن کے ساتھیوں کا عوام کو مہنگائی سے مارنے کا مشغلہ ہے ۔ اِدھر اُدھر سے آٹھ دس ماہ سے غیرمستحکم ہونے کے طعنے سُننے والی حکومت استحکام کے دائرے میں کب آئے گی;238; کیا یوں ہی اپنے پانچ سال تنقیدیں اور طعنے سُننے اور جواب دینے میں گزار دے گی;238;یا عوام کی خیر خواہی اور فلاح کے لئے بھی اپنے وعدوں اور دعووں کے مطابق کچھ اچھا کرنے کا ارادہ رکھتی بھی ہے کہ نہیں ;238; جبکہ آج گزرتے دن کے ساتھ مہنگائی کے مارے ہر پاکستانی میں رواں حکومت سے متعلق تذذب اور اضطراب بڑھتا جارہاہے کہ یہ کیسی حکومت ہے جو ابھی تک عوامی فلاح و بہبود کا ایک بھی کام نہیں کرسکی ہے ۔ آخرکب حکومت گرداب سے نکلے گی;238;عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب کر مرتے رہیں گے اور حکمران اور اِن کے چیلے چانٹے غیر سنجیدگی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے سب کچھ ہنس کر ڈالتے رہیں گے اور جیسا ہے جہاں ہے سب کچھ یوں ہی چلتارہے گا ۔ ایک بات ہے کہ 71سال سے پاکستانی قوم کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ اِس نے شخصیت کے قول و فعل کو چھلنی سے چھانے بغیر بس چہرہ دیکھ کر جِسے بھی حکمران چُنا اِسی نے قوم کو مہنگائی کے طوفان او ر بحرانوں سے دوچار کیا اورقوم کو مسائل کی دلدل میں دھکیلنے میں ثوابِ دارین سمجھ کر اپنا بڑھ چڑھ کر کردار ادا کیا ۔ اِسی طرح دوسری بات یہ کہ قوم نے جس کسی کو بھی اپنا مسیحا سمجھ کر اقتدار کی کنجی سونپی دراصل وہ اِنسان کی صورت میں لالچی اور بدنیت شیطان کا لائق شاگرد نکلا ۔ اُسی نے اپنے فعل ِ شنیع سے مُلک و قوم اور قومی خز انے کو اِتنا نقصان پہنچایا کہ آج بھی پاکستانی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر رورہے ہیں ۔ پارلیمنٹ جہاں قانون سازی ہونی چاہئے ۔ یہاں کا حال یہ ہے کہ ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے غیر سنجیدہ ریوں اور ذاتی و سیاسی لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے اِن کا تقدس پامال ہورہاہے ، تب ہی آٹھ دس ماہ میں باہر بیٹھ کر دیکھنے والوں نے اندازہ کرلیا کہ حکومت باقی کے سال بھی بغیر کچھ کئے اِسی حال میں گزاردے گی ۔ اِس پس منظر میں آہستہ آہستہ مُلک پر ٹیکنوکریٹس کی حکمرانی کےلئے راہ ہموار کی جانے لگی ہے ۔ اگر حکومت نے ابھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا ۔ اور اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے;234; اپنا صحیح رول ادانہ کیا ;234;تو پھریہ جان لے کہ جو طاقتور باہر بیٹھے ہیں ۔ وہ حکمرانی کے شطرنج کے کھیل میں ٹیکنوکریٹس کی ہی مدد کریں گے;234;اور اِنہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر لا ئیں گے ۔ کیونکہ رواں حکومت کے حالیہ دِنوں میں جس طرح سے ٹیکنو کریٹس کی بنیاد رکھی گئی ہے ۔ اَب کہیں ایسا نہ ہو کہ دیکھتے ہی دیکھتے منتخب حکومت سے اقتدار چھن کر ٹیکنو کریٹس کے ہاتھ آجائے ۔ پھر عوام کو نیا پاکستان اور تبدیلی کا خواب دِکھاکر حکمرانی کرنے والی ہماری رواں حکومت کے کرتادھرتاؤں کے ہاتھ سِوائے کفِ افسوس اور پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہ آئے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت کی مہنگا ئی کی بھڑکائی ہوئی 108روپے لیٹرپیٹرول آگ میں بیچارے مفلوک الحال ،غریب پاکستانی جل بھن کر بھسم ہوجا ئیں اور منتخب حکومت کے ہا تھ سے اقتدار پھسل کر ٹیکنو کریٹس کی جھولی میں چلا جائے ۔ قبل اِس کے کہ ایسا کوئی دن آئے;234; وزیراعظم عمران خان مُلک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو لگام دینے اور اپنے ارد گرد حکومت میں شامل ایسے نا اہل اور ناکارہ لوگوں کو بھی نکال باہر کریں جنہوں نے مُلک میں مہنگائی کا طوفان برپاکرایا ۔

Google Analytics Alternative