کالم

رام مندر کی تعمیر کیلئے انتہا پسند ہندوؤں کا مطالبہ

بھارت کا معروف شہر ایودھیا جو بابری مسجد کے حوالے سے خصوصاًمسلم دنیا میں اہمیت اختیار کر گیا ہے، گزشتہ کئی دنوں سے زبردست سکیورٹی کے حصار میں ہے۔ کیونکہ انتہا پسند ہندو وہاں مسجد کی بجائے رام مندر تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں لاکھوں انتہا پسند ہندؤں نے جمع ہو کر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بابری مسجد کی جگہ مندر کر تعمیر کی راہ ہموار کرنے کے لیے آرڈیننس جاری کیا جائے۔پارٹی کے سینئررہنما سنجے راؤت نے کہا کہ ‘بابری مسجد کو منہدم کرنے میں صرف 17 منٹ لگے تھے تو مندر کی تعمیر کے لیے آرڈیننس جاری کرنے میں کتناوقت لگے گا؟’ ایک اطلاع کے مطابق آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد کی کال پر قریباً ایک لاکھ افراد ایودھیا میں جمع ہوگئے ہیں اور پورا شہر ‘جے شری رام’، ‘مندر وہیں بنائیں گے’، ‘ہر ہندو کی یہی پکار، پہلے مندر پھر سرکار’ جیسے نعروں سے گونج رہا ہے۔ شہر کی فضا میں گھبراہٹ اور بے چینی محسوس کی جا سکتی ہے۔متنازع مقام پر عارضی رام مندر کے گرد سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔ وی ایچ پی اور اس کی ہمنوا تنظیم کے کارکن پڑوسی اضلاع سے ‘بھکت مال بگیا’ میں جمع ہو رہے ہیں جہاں ان کی دھرم سبھا منعقد ہونے والی ہے۔ ہزاروں وہاں پہلے ہی پہنچ چکے ہیں۔مہاراشٹر کے بہت سے علاقوں سے شیو سینا کے کارکن ٹرین بک کروا کر، بسوں، لاریوں اور موٹر سائیکل سے ایودھیا پہنچے ہیں۔ شوسینا کے کارکن انتہائی جارحانہ نظر آ رہے تھے اور جوشیلے نعرے لگا رہے تھے۔ مہاراشٹر کی اہم سیاسی پارٹی شیو سینا کے سربراہ اودھو ٹھاکرے پہلی بار ایودھیا آئے ہیں۔ادھو ٹھاکرے نے عارضی رام مندر کا درشن کیا جس کے بعد انھوں نے حکومت سے ایک آرڈینینس جاری کر کے مندر کی تعمیر کی تاریخ کے تعین کا مطالبہ کیا۔دھرم سبھا میں شرکت کرنے والے مذہبی پیشواؤں کے لیے ایک بڑا سٹیج بنایا گیا ہے جہاں سے وہ لوگوں سے خطاب کریں گے۔ سٹیج کے بیک گراؤنڈ میں رام مندر تحریک کے سرکردہ لیڈر اشوک سنگھل، رام چندر پرمہنس اور دوسرے رہنماؤں کی تصاویر نمایاں طور پر لگائی گئی ہیں۔ بابری مسجد سولہوی صدی عیسوی میں مغل حکمران خاندان نے تعمیر کی تھی جسے مغل فرمانروا بابر کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ 1992ء کو ہندو بلوائیوں نے مسجد پر حملہ کر کے اسے شہید کر دیا تھا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ مسجد ایک مندر کی جگہ پر تعمیر کی ہے۔ اس واقعے کے کئی سال بعد ہندوؤں نے ریاست گجرات میں ایک ٹرین میں مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے دوران سیکڑوں مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کردیا تھا۔ گجرات کے فسادات میں مارے جانے والے مسلمانوں کی تعداد 700 سے زائد بتائی جاتی ہے۔پریشد کے رہنما سریندر جین کا کہنا ہے کہ اس ریلی میں 1992 سے بھی زیادہ لوگ جمع ہوں گے۔ پریشد کے کارکن ریاست کے ہر ضلع میں اپنے حامیوں کو ایودھیا کی ریلی کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ پورے ملک سے آئے ہوئے بڑے بڑے مذہبی رہنما اور سادھو ریلی سے خطاب کریں گے۔مندر کی تعمیر کے لیے برسوں سے تیاریاں کی جا رہی ہیں یہاں ایک سنگ تراش کو کندہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اتر پردیش کی اہم سیاسی جماعت سماجوادی پارٹی کے رہنما اکھیلیش یادو نے کہا ہے کہ بی جے پی اور اس کی ہمنوا تنظیمیں انتخابات کے پیش نظر ملک کا ماحول خراب کرنا چاہتی ہیں۔ اگر ضرورت ہو تو ایودھیا میں فوج اتاردی جائے۔شہر کی انتظامیہ نے ایودھیا کے باشندوں کو یقین دلایا ہے کہ صورتحال پوری طرح پر امن ہے اور کسی گبھراہٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں اتوار کو مندرریلی میں بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے کی توقع ہے۔شہر کی فضا میں بے یقینی اور بے چینی کا ملا جلا تاثر ملتا ہے۔ لوگ یہ امید کر رہے ہیں کہ اس بار کوئی انہونی نہیں ہوگی۔ لیکن بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ اندیشے بھی ہیں کہ اگر لاکھوں لوگ یہاں ایک بار پھر باہر سے آ کر جمع ہوئے تو کیا اتنی بڑی بھیڑ قابو میں رہ پائے گی۔کیونکہ بڑی تعداد میں شیو سینا کے رضا کار مہاراشٹر سے اترپردیش کے شہر ایودھیا کا رخ کر رہے ہیں۔ان کے ذہن میں دسمبر1992 کی یادیں بسی ہوئی ہیں۔ چھبیس برس قبل ایودھیا میں اسی طرح لاکھوں کارسیوک (ہندو رضاکار) پورے ملک سے جمع ہوئے تھے۔ بے قابو کارسیوکوں نے ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں بابری مسجد مسمار کر دی تھی۔ پورے ملک میں فسادات برپا ہوئے تھے جن میں ہزاروں لوگ مارے گئے تھے۔ رام مندر کی تحریک ایک بار پھر جارحانہ رخ اختیار کر رہی ہے۔ ایودھیا میں سخت گیر وشو ہندو پریشد کے لاکھوں حامیوں کی متوقع آمد سے لوگوں کے ذہن میں اندیشہ پیدا ہونا فطری ہے۔شیوا سینا اور وی ایچ پی کے پروگراموں کو دیکھتے ہوئے، ایودھیا میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی پولیس کے علاوہ، پی اے سی، آر ایف اے اور اے ڈی جی کی 48 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمان اپنے سر پر لٹکتی ہوئی تلواروں کے سائے تلے سہمی سانس لینے پر مجبور ہیں۔ بھارتی مسلمانوں کی خوفزدہ یادوں میں خطرناک امکانات ابھر رہے ہیں۔ ہندو شاؤنزم کے گھیرے میں مجبور زندگی جینے والے بھارتی مسلمانوں کے خاندان خوف کی فضا میں ہیں اور مسلمان والدین اپنے بچوں کی آنکھوں میں ابھرے ہوئے سوالات کے جوابات دینے سے قاصر ہیں۔

امریکی عزائم

امریکا ماضی میں کبھی فراخ دل رہا نہ ہی حقیقت پسند’ہمیشہ امریکا نے صدیوں کی اپنی تنگ نظری کی پالیسی کل بھی اختیار کیئے رکھی آج جب دنیا انسانی ترقی کی انتہاؤں کوچھورہی ہے امریکا’ بڑی عالمی کرنسی کے اجارہ دار کاعلم تھامے وہیں پہ کھڑا ہے’ڈالرکے استحقاق کے زعم میں وائٹ ہاؤس اپنے آپ کو’عالمی سرمائے’کا جیسے کوئی آقا سمجھتا ہو؟’بہت تکبرہے امریکا کے علاوہ دنیا کی ان چند منہ زور سامراجی چلن رکھنے والی طاقتوں کوجودنیا کے ترقی پذیر ممالک کو زمین پررینگنے والے حشرات الاارض سمجھنے کی عادتوں میں مبتلا ہیں ، جبکہ اصل میں وہ صریحاً غلطی پر ہیں افسوس! اکیسیویں صدی کا دوسرا عشرہ ختم ہونے کو آرہاہے امریکا مگرمکمل انسان پروری کی راہ پرنہیں آیا’ بلیوں’ کتوں’خچروں’پرندوں سے تواس کی محبتیں سنبھالی نہیں جاتیں مگرکمزوراوربے بس انسانوں سے ا مریکا نفرت ہی نہیں کرتا بلکہ ترقی پذیر ممالک کے اقوام کے بنیادی حقوق غصب کرتا ہے، ان کے قدرتی وسائل کومختلف حیلے بہانوں سے لوٹتا ہے اورانکی زیرزمین دولت کوچھینے کے جواز کا متلاشی رہتا ہے ۔پاکستان کی نئی منتخب حکومت کے متوقع سربراہ کے نرم دمِ گفتگو کا نپا تلا اورکچھ کردکھانے کے انداز سے دنیا یہ نتیجہ اخذ کرلے کہ اب اسلام آباد میں وہ ہی کچھ ہوگا جو پاکستان کے کروڑوں عوام چاہیں گے قوموں کی زندگیوں میں اکثروبیشتر ایسے تازہ’جوشیلے اور امیدافزاخوشگوارسیاسی وثقافتی فضاؤں کے مقبولیت کی انتہاؤں کو چھونے والے مواقع آتے ضرور ہیں دیرآید درست آید کے مصداق امریکی حکام کوبہرحال تسلیم کرنا ہوگا کہ ماضی کے برعکس اب پاکستان کے تجارت پیشہ حکمران طبقات میں پروان چڑھنے والی کرپشن آلودہ جمہوریت کے نام پر’جمہوری ملوکیت’کا ناپسندیدہ سلسلہ منقطع ہوچکا ‘ پاکستان چلے گا’ملک میں ترقی ہوگی اور پاکستان میں آج کے بعدخالص عوامی پائیدار جمہوری راج اور زیادہ مستحکم ہوگا جیسا امریکا چاہے گا پاکستان میں ویسا اب نہیں ہوگا امریکا کوپاکستان کی آزادی پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرنا ہوگا پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہونگے۔ امریکی کانگریس کے منظورکردہ بل کے تحت پاکستان کو150 ملین ڈالرکی دفاعی امداد کینسل کی گئی۔ واہ سبحان اللہ پاکستان پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کاعندیہ بھی دیاگیا ، پینٹاگان’وائٹ ہاؤس اورادھرنئی دہلی کے ایوانِ اقتدارمیں نجانے کس مفادی نے اپنے کس مذموم ایجنڈے کے گھناؤنے تصورات کوعملی جامہ پہنانے کی بد نیتی سے مفروضہ پھیلایا تھا کہ پاکستان میں دومخصوص سیاسی پارٹیوں کے بغیرجمہوریت کا سسٹم قائم نہیں رہ سکتا لہٰذاکبھی ‘اے’ اورکبھی’بی’ پارٹی ہی کی حکومتیں جمہوریت کے نام پرچلتی رہیں گی اورعوام کی اکثریت ہرپانچ سال تک اِن ہی کے اشاروں پر ووٹ بکس بھرتے رہیں گے پاکستان میں اعلیٰ عدالتیں کیا متحرک ہوئیں کروڑوں عوام کی سنی گئی، پاکستان کے اقتدار کو جواپنے گھروں کی لونڈی سمجھتے تھے آج کہاں ہیں؟ پاکستان کو اپنی وراثت اور جاگیر سمجھنے والے نشانِ عبرت بن گئے کچھ بننے والے ہیں، اب پکڑ نیچے سے نہیں اوپر سے ہوگی، پاکستانی قوم کی عوامی شعور میں بیداری کی لہر نے جنوبی ایشیا میں امریکی چھتری تلے بھارتی بالادستی کے خواب کے تاروپود کو قوم نے منتشرکرکے رکھ دیا اب افغانستان میں امن ہوگا اور بھارت کو مسئلہِ کشمیر کے پرامن حل کیلئے اپنے قدم بڑھانے ہونگے، حقیقی عوامی طاقت اپنے حکمرانوں کی پشت پر موجود رہے تو سامراجی عزائم کے حامل ممالک ایسی بیدار صفت اقوام کا بال تک بھی بیکا نہیں کرسکتیں ،یقیناًامریکی اور بھارتی فیصلہ ساز جان گئے ہونگے کہ پاکستان میں دوپارٹی سسٹم کی ریت روایت قائم کرنے والے غلط تھے ‘را، موساد اورسی آئی اے’کی مشترکہ پروپیگنڈا مشنری ناکام ہوئی ہے، پاکستانی عوام کے جمہوری شعورکے رجحانات اور میلانات کا متذکرہ بالا تینوں خفیہ ایجنسیوں نے غلط من گھڑت اور بے سروپا مفروضات پر رپورٹیں مرتب کیں ایسی بوگس ڈیسک رپورٹس ٹرمپ اورمودی جیسے ناتجربہ کارجنونی اورانتہا پسندوں نے مان لیں وائٹ ہاؤس اورنئی دہلی سمیت پینٹاگان بھی اِسی فرضی نکتہ نظر کے اسیرمعلوم دئیے ،جنہوں نے پاکستان کی سابقہ کرپٹ حکمران طبقات کے منہ میں اپنے متعصبانہ الفاظ دے کر انہیں انکے انجام تک پہنچا دیا،یوں پاکستان میں حقیقی جمہوریت کا روشن سورج طلوع ہوا اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ منتخب حکمران جماعت کوملک میں درپیش اقتصادی چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا،آئی ایم ایف سے انہیں اپنے محدودمالیاتی انفراسٹرکچرکے دائرے میں اپنی مہارت’ صلاحیت’جرات اورپیشہ ورانہ حکمتِ عملی سے باعزت مذاکرات کرنے ہونگے ‘بیس پچیس برس کی اختیار کردہ گمراہ کن غلط اقتصادی پالیسیوں نے پاکستان پر بیرونی قرضوں کاحجم بڑھا کر قوم اورملک کو آج اِس بد حالی پر لا کھڑا کیا ہے پھر بھی مایوسی کا مقام نہیں آئی ایم ایف کے دیوہیکل قرضوں کی ضمانت اب پاکستان کے بہادر اور محبِ وطن عوام کے علاوہ کوئی اور نہیں دے سکتا، پاکستان کی قیادت اگر جرات مند ہو’بے داغ ہو’صاحبِ کردار ہو’ ایمان داراورصالح ہو’ تویہ کوئی مشکل مرحلہ نہیں عمران خان کی مقبولِ عام شخصیت نے پاکستان کی جمہوری قیادت کی تاریخ میں یقیناًایک نیا باب رقم کیا ہے، عوام نے ان پر بھروسہ کیا خان کہتا ہے کہ وہ سادگی اپنائیں گے قوم سادگی اپنائے’قومی سیاست کے مفلوج زدہ جسم میں عمران خان نے ‘لیکجز’ کا کھوج لگا کر انہیں اگر بند کر دیا لوٹی گئی قومی دولت بیرونِ ملک سے واپسی کیلئے انہوں نے فوری ہنگامی اقدامات اٹھانا شروع کردئیے اور دنیا کے سامنے جرات مندی اور دلیرانہ سچائی سے پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کا تاریخ ساز فیصلہ کرلیا تو بھاڑ میں جائیں امریکی کانگریسی کی بلیک میلنگ اور خطہ میں بھارتی بالادستی کے عزائم جنوبی ایشیا میں پاکستان کی بھی اپنی ایک حقیقی جغرافیائی حیثیت ہے عمران خان نے یہ حقیقت دنیا سے منوانی ہے پاکستان کا مالیاتی بحران چٹکیوں میں حل ہوگا کئی ایشیائی ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے امریکی اور آئی ایم ایف کی مالی مداخلتوں کے بغیر بھی پاکستان ترقی خوشحالی اور امن کی نعمتوں سے مالا مال ہوسکتا ہے ۔

بھارت کاکشمیرپرغاصبانہ قبضہ

کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔کشمیر پاکستان کا پانچواں صوبہ ہے جس پر بھارت قابض ہے۔کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ اپنی لاشوں کو پاکستان کے ہلالی پرچم میں لپیٹ کر دفناتے ہیں۔ پاکستان کشمیریوں کا پشتی بان ہے۔پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی جمہوری جد وجہد کے ذریعہ بنا تھا۔ جب برصغیر میں انگریزوں کی غلامی سے نجات کے لیے تحریک چلی تو ہندوؤں نے کہا تھا کہ بھارت میں صرف ایک قوم رہتی ہے جس میں ہندو، مسلمان،سکھ اور عیسائی شامل ہیں ۔ان سب قوموں کی نمائندہ سیاسی جماعت آ ل انڈیا کانگریس ہے۔ کچھ کانگریسی مسلمانوں کو ملا کر یہ بیانیہ بھی جاری کیا کہ قومیں اوطان ،یعنی وطن سے بنتی ہیں۔ لہٰذا اقتدار ہندوؤں اور مسلمانوں کی نمایندہ جماعت کانگریس کے حوالے کیا جائے۔ مگر قائد محترم ؒ نے کہا کہ برصغیر میں ایک نہیں دو قومیں رہتیں ہیں ایک ہندو اور دوسری مسلمان۔ اگر انگریزوں نے اقتدار صرف ہندوؤں کے حوالے کیا تو مسلمانوں کے ساتھ بے انصافی ہوگی۔ ہندو اپنی اکثریت کی بنیاد پر مسلمانوں کے حقوق کو ہڑپ کر لیں گے۔ اس لیے اقتدار دو قوموں، ہندوؤں اور مسلمانوں کے حوالے کیاجائے ۔دونوں قوموں کے مذہب ،سماج ،تہذیب، ثقافت،رہن سہن کے طریقے، کھانے پینے، لباس، ان کی تاریخی کہانیاں اور ہیرو سب کچھ مختلف ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے برصغیر پر ایک ہزار سال حکومت کی ہے ان کا حق ہے کہ ان کو علیحدہ ملک میں اپنی تہذیب، تمدن، راویات اور مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا موقعہ ملنا چاہیے۔ قائد اعظم ؒ نے مسلمان قوم کو آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر متحد کیا۔ اور ان کو سلوگن دیا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ۔مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ۔ لے کے رہیں گے پاکستان۔ بن کے رہے گا پاکستان۔ قائد اعظم ؒ نے کہا کہ ہم پاکستان کو مدینہ کی فلاحی اسلامی ریاست طرز کی ریاست بنائیں گے۔ پھر قائد اعظم ؒ نے برصغیر کے اندر ایسی زبردست تحریک پاکستان اُٹھائی کہ اس کے سامنے نہ انگریز اور نہ ہی ہندو ٹھر سکے۔ قائد اعظمؒ نے جمہوری طریقے سے اپنی بات منوائی۔ پھر دو قومی نظریہ کو تینوں فریقوںیعنی انگریز ،ہندوؤ ں اور مسلمانوں نے تسلیم کیا۔ وہ یہ کہ جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں پاکستان بنے گا اورجہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے وہاں بھارت بنے گا۔ ساتھ ہی ساتھ جو ہندو آبادی والی ریاستیں ہیں وہ بھارت میں اور جو مسلمانوں کی ریاستیں ہیں وہ پاکستان میں شامل ہو جائیں گی۔ اس طرح ریاست حیدر آباد اور جونا گڑھ میں ہندو زیادہ تھے مگر ان میں حکمران مسلمان تھے۔ان ریاستوں کے حکمرانوں نے پاکستان میں شامل ہونے کا کہا مگر ان ریاستوں پر بھارت نے بزور قبضہ کر لیا۔ کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ تھی مگر اس کا راجہ ہند تھا۔ لہٰذا اس کو پاکستان میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ مگر تقسیمِ برصغیر کے فارمولے کے خلاف بھارت نے انگریز اور راجہ جموں کشمیر سے سازش کر کے کشمیر میں بھی ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو اپنی فوجیں داخل کر کے کشمیریوں کی خواہش کے بل مقابل کشمیر پرزبردستی قبضہ کر لیا۔ پھر گلگت بلتستان کے عوام نے راجہ کی فوجوں سے لڑکر اِسے آزاد کرا لیا۔ جموں اور وادی کشمیر کو بھارت کے قبضے سے آزاد کرانے کیلئے کشمیریوں،سرحد کے قبائلیوں اور پاکستان فوج نے آگے بڑھ کر موجودہ آزاد جموں کشمیر کا تین سو میل لمبا اور تیس میل چوڑے علاقے کو آزاد کرا لیا۔ یہ مشترکہ فوجیں سری نگر تک پہنچنے والی تھیں کہ بھارت کے اُس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہرلال نہرو صاحب اقوام متحدہ میں جنگ بندی کے لیے پہنچ گئے اور درخواست دی کہ جنگ بند کر دی جائے اور امن قائم ہونے پر کشمیریوں کو حق خودارادیت دے دیا جائے گا۔ وہ دن اور آج کا دن کہ وہ اپنے سیاسی رہبرچانکیہ کوٹلیہ کے سیاسی فلسفے پر عمل کرتے ہوئے، کہ دشمن سے پہلے دوستی کا دم بھرو، پھر اسے قتل کرو اور پھر اس کے قتل پر آنسو بھی بہاؤ والا فامولہ لاگو کرکے کشمیریوں کو ذبح کر رہا ہے۔ بھارت نے اپنی آٹھ لاکھ فوج کشمیر میں لگائی ہوئی ہے۔پورا کشمیر فوجی چھاونی کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔ کشمیریوں کو ہلاک کرنے ان کی نسل کو ختم کرے اورہمیشہ غلام رکھنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ بھارت کشمیر میں کیمیائی ہتھیاراستعمال کر رہا۔ قید خانوں میں سیکڑوں کشمیری نوجوانوں کو زہر آلود کھانا کھلا کر اپاہج کر دیا۔ یہ لوگ اب بھی کشمیر کے بازاروں میں چلتی پھرتی لاشوں کا منظر پیش کرتے ہیں۔میری لائبریری میں ان چلتی پھرتی لاشوں کے فوٹوں سے بنی کتاب موجود ہے۔ ہزاروں کشمیری خواتین کے ساتھ جابر قابض بھارتی فوجیوں نے اجتمائی آبروزیزی کی تاکہ ان کے خاندان یہ رویہ دیکھ کر آزادی سے باز آ جائیں۔ ان مظلوم بے بس کشمیری خواتین کی داستانوں سے بھری کتاب جس کو عبدالقیوم نامی کشمیری نے لکھا ہے بھی میری لائبریری میں ہے۔ برسوں سے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارت کی قید میں بند ہیں۔ ان کی بنیادی انسانی حقوق کو پامائل کیا جارہا ہے۔ بھارت کے زیر سایہ عدلیہ ان بے قصور کشمیریوں کو رہا کرنے کے لیے تیار نہیں۔جعلی ان کاوئنٹر کا بہانہ بنا کر نوجوانوں کو شہید کر دیا جاتا ہے۔ ان کی لاشوں کو جنگلات اور ویرانوں میں پھینک دیا جاتا ہے یا اجتمائی قبروں میں دفن کر دیا جاتا ہے۔کئی کشمیریوں کو غائب کر دیا ہے جن کے انتظار میں ان کی ماؤں، بہنوں اور بیویوں کے آنسو، رو رو کو ختم ہو گئے ہیں۔کشمیریوں کی درجنوں اجتمائی قبریں دریافت ہو چکی ہیں۔اگر وادی کا بہانا بنا کر نوجوانوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا اور کہا جاتا ہے کہ یہ سرحد پار سے آئے ہیں۔مسلمانوں کی کھیتوں میں لہلاہاتی فصلوں کو گن پاؤڈر چھڑک کر خاکستر کر دیا جاتا ہے۔ کشمیریوں کی دو کانوں، گھروں،پھلوں کے باغوں کو جلایا جارہا ہے۔ان کے بزرگوں کے مزاروں کو آگ لگائی جاتی ہے۔ان کو مذہبی فرائض ادا کرنے نہیں جاتا۔ نمازجمعہ پر اکژ پابندی لگائی جاتی ہے۔ حریت لیڈر شپ کو قید کر دیا جاتا ہے۔ کشمیریوں کو قتل کر کے ان کی لاشوں کو زنجیر سے باندھ کر بازاروں میں گھسیٹا جاتاہے۔مظاہرین ان مظالم کے خلاف احتجاج کرتے اور قابض فوج پرپتھراؤ کرتے تو فوجی گاڑیو ں کے بونٹ پر کشمیری نوجوان کو باندھ دیا جاتا ہے تاکہ پتھر بھارتی فوجی کے بجائے اس کو لگیں۔ بھارتی مظالم کے خلاف مظاہرہ کرنے والی کشمیری اسکول کی بچیوں کے چوٹیا ں قینچی سے کاٹی جاتی ہیں تا کہ وہ گھبرا کر گھروں میں بیٹھ جائیں۔ دنیا کا بدنام ترین گھروں کے محاصرے کا طریقہ اپنا کر عورتوں کی بے حرمتی کی جاتی ہے۔ محاصرے کے دوران گھروں کو گن پاؤڈر سے اُڑا دیا جاتا ہے۔ لوگ احتجاج کرتے ہیں تو ان پر گولیاں چلائی جاتیں ہیں۔ کون سا ظلم کا حربہ رہ گیا ہے جو بھارت کی سفاک فوجیوں نے کشمیریوں پر استعمال نہ کیا ہو۔اب اللہ اللہ کر کے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق نے کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی پر رپورٹ تیار کی جو دل ہلا دینے والے مظالم پر مبنی ہے۔ بوڑھوں ، بچوں، لڑکوں، لڑکیوں ، مرد ،عورتوں کو جانوروں کی طرح ذبح کیا جارہاہے۔ کشمیریوں کی آبادی کو محفوظ رکھنے کے لیے بھارتی آئین کی خصوصی دفعہ جس میں لکھا ہے کہ کشمیر میں کوئی بھی غیر کشمیری جائداد نہیں خرید سکتا۔ اس شک کو ختم کرنے اور کشمیریوں کی آبادی کو گھٹانے کیلئے دہشت گرد آئی ایس ایس کے کارندوں نے بھارتی سپریم کورٹ کے اندر رٹ داخل کی ہوئی ہے جس کی تاریخیں پڑھ رہی ہیں۔ کسی بھی وقت بھارت کی متعصب عدلیہ یہ خصوصی شک بھی ختم کر دی گی۔ ان حالات میں مسلمانوں کا اقوام متحدہ سے یہ کہنا ہے کہ جب اسلامی ملک انڈونیشاء اور سوڈان میں عیسائی اقلیتوں نے علیحدہ وطن اور آزادی مطالبہ کیا تو اسے فوراً آزادی دلا دی گئی۔ پھر جب اقوام متحدہ میں بھارت کے سابق وزیر اعظم کے لکھے ہوئے وعدے، کہ کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے گی ۔ اس کے حوالے سے منظور شدہ کئی قرارادادیں بھی اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔ تو بھارت کو اپنا وعدہ پورا کرانے کے لیے اقوام متحدہ کیوں نہیں زور دیتی؟ کیونکہ اقوام متحدہ پر یہود و نصارا کا کنٹرول ہے جو مسلمانوں کے دشمن ہیں۔اس سے صاف نظر آتا ہے کہ مسلمانوں سے جانبداری برتی جا رہی ہے۔ایسے حالات میں اگر کشمیری مسلمانوں پر بھارت کی سفاکیت اور ظلم ستم کی وجہ سے مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ بھر گیا اور تنگ آمد بہ جنگ آمد پر آمادہ ہو کرجہاد فی سبیل اللہ کااعلان کر دیا تو تمھارے ایٹم بم اور جدید اسلحہ پڑے کا پڑارہ جائے گا۔ مسلمانوں نے اپنے ساتھ تمھارے روا رکھے گئے مظالم کا بدلالینے کا وقت کسی بھی موقع پر آسکتا ہے۔

مُلک بار بارنقصِ امن کامتحمل نہیں ہوسکتاہے…!

بیشک ، اِس سے انکار نہیں ہےکہ مدینے کے بعد سرزمین پاکستان ایک ایسی اسلامی ریاست ہے ،جو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئی ہے جس پر ہمہ وقت رب جلیل اللہ رب العزت اور سول کریم حضور پُرنور رحمت العالمین حضرت محمد مصطفیﷺ کی رحمتوں کا نزول جاری رہتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ستر سالوں سے کئی اندرونی اور بیرونی بحرانوں سے قوم آسا نی سے نکلتی آئی ہے۔ یقین جا نیئے اگر ہم یوں ہی اللہ کی رسی اوردامنِ نبی کریم ﷺ سے وابستہ رہے، تو ہماراایمان ہے کہ دنیا کی کو ئی طاقت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہے۔آج بھی پوری اُمید ہے کہ ہم آئندہ بھی اغیار اور مُْلک دُشمن عناصر کی جانب سے پیدا ہونے یا آنے والے کسی بھی مالی و معاشی اور سیاسی اور اخلاقی یا مذہبی یا جذباتی بحرانوں اور مشکلات و پریشانیوں سے اپنے ایمان اور یقینِ کامل اور ملی یکجہتی ، اتحاد و یگانگت کے ساتھ نبرد آزما ہوتے ہوئے سُرخرو ہوتے جائیں گے۔ اوراندر و باہر کے مُلک دُشمن عناصرکی ہر سازش ملیامیٹ ہوتی جائے گی۔ تاہم، راقم الحرف کو یہاں انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہاہے کہ پچھلے دنوں سُپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے آنے والے ایک فیصلے کے خلاف کھلم کھلا طورپرایک جذباتی طبقے کی جانب سے ریاست میں انصاف فراہم کرنے والے اداروں اور افواج پاک کے خلاف عوام کو اُکسایاجانا کسی بھی لحاظ سے کسی بھی مہذب ریاست کو زیب نہیں دیتاہے ،اور ایک ایسے ترقی پذیر ملک پاکستان میں تو کسی بھی طرح سے کسی طبقے کا یہ عمل ٹھیک قرار نہیں دیاجاسکتا ہے کہ کوئی طبقہ معزز ججز صاحبان سے اپنی مرضی کا فیصلہ نہ آنے پر مشتعل ہوجائے؛ اور اپنے ہی اداروں کے خلاف عوام کو سڑکوں پر لائے۔ اور حکومت کے خلاف دھرنا ہنی مون کا ایک نہ روکنے والا سلسلہ شروع کردے ؛ جس کا مقصد صرف اور صرف مُلک اور قوم کی بڑھتے ترقی اور خوشحالی کی جانب رینگتے قدم کو روکناہے، بھلاایسے میں کون یہ برداشت کرے گا کہ کوئی طبقہ اپنے مذہبی جذبات کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنی مرضی کا فیصلہ نہ آنے پر سیاست کچھ اِس طرح سے چمکائے کہ معصوم عوام کو اُکسا کر سڑکوں پر آئے، شہریوں کے جان و مال اور سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچائے۔ایسے میں ریاست کی ذمہ داران پر یہ لازم ہوجانا کوئی عجب نہ ہوگا کہ وہ شر پسند عناصر کو لگام دینے کے لئے آئین اور قانون کے مطابق انتہائی قدم اُٹھائیں،آج یہ بات اُن عناصر کو لازمی سو چ لینی چاہئے کہ وہ اپنے اشتعال انگیز عمل سے کیا کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا آج اِن کا یہ عمل اسلامی تعلیمات اور اسوہ حسنہ ﷺ کے مطابق ہے؟بیشک ! اِس سے اِنکار نہیں کہ آج مُلک کا ایک مخصوص مائند سیٹ رکھنے والا موجودہ سسٹم سے ایک باغی اور احساس محرومی میں مبتلا ٹولہ اپنی سیاست چمکانے کے لئے اوچھے حربے استعمال کرکے مُلک اور عوام کو تباہی کے اُس دہانے کی جانب لے جاناچاہتاہے جو اسلام مخالف مُلک دُشمن عناصر کا ایجنڈاہے۔اَب ایسے جذباتی مگر مُلک کو ترقی سے روکنے والے طبقے سے یہ عرض کرنا ہے کہ اِنہیں معلوم ہونا چاہئے کہ خبردار، اَب مُلک اِس کا متحمل نہیں ہوسکتاہے کہ کوئی اُٹھے اور معصوم عوام کو اُکسا کر سڑکوں پر لائے اور سیاست چمکائے، اِس کے ساتھ ہی ایسے معصوم جذباتی عناصر کو اتنا تو معلوم ہونا چاہئے کہ قانون کا ہر فیصلہ شواہد اور حقائق کی روشنی میں ہی کیا جاتاہے، جبکہ آج سُپریم کورٹ کے تین رکنی معزز ججزصاحبان نے آسیہ مسیح کے معاملے میں جو فیصلہ دیاہے، یقیناًیہ شرعی اور آئین و قانون کی روح کا جامع اور مکمل جائزہ لینے کے بعدہی عمل میں لایاگیاہے،مگر اِس کے باوجود بھی سمجھ دار عاشقانِ رسولﷺ کا یہ خیال ہے کہ شانِ رسالتﷺ کی گستاخی کی مرتکب غیرمسلم آسیہ بی بی مسیح کو پھانسی کی سزادیئے جانے کے بجائے اِس خاتون کو معزز ججز صاحبان کارہائی کا حکم نامہ صادر فرمانا،اِن کی سمجھ سے تو بالاتر ضرور ہوسکتاہے ، مگر میرے یہ بھا ئی ، اتنا ضرور سمجھ لیں کے معز ز ججز صاحبان کا فیصلہ غلط نہیں ہوسکتا ہے ، تو بھا ئیوں بس، آپ اتنا سمجھ لیں کہ بعض معاملات میں ہمارے جذبات اور ہماری سمجھ اور ہماری مرضی کے مطابق فیصلے ہونالازمی بھی نہیں ہوتاہے۔ بلکہ فیصلے کرنے والوں پر ہم سے زیادہ دینی اور دنیاوی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ اِنہیں کس معاملے میں کیا فیصلہ کرنا ہے؟ایسے میں ہمیں کسی پر اپنی مرضی تھوپنے کے بجائے ،لازمی طور پر یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یقیناًفیصلے کرنے والوں کے سامنے ایسے حقائق ہوتے ہیں؛ وہ جن کی بنیادوں پر فیصلہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ پچھلے دِنوں سمجھ دار ہو کر بھی چند ناسمجھ عناصر کی جانب سے سُپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فیصلے کے بعد مُلک بھر میں پیدا ہونی والی سیکیورٹی کی صورت حال کے پیش نظر عوام سے اپنے مختصرترین خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے دوٹوک انداز سے خبرردار کرتے ہوئے کہاہے کہ ریاست کا امن و سکون اور سرکاری اور نجی املاک کا نقصان برداشت نہیں کیا جائے گا،اِس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے مختصر ترین عوامی خطاب میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی واضح کردیاہے کہ چند مٹھی بھر افراد اپنی مرضی کے خلاف آنے والے سُپریم کورٹ کے فیصلے کو ہوا دے کر سڑکیں بند کرکے مُلک کے امن اور عوامی ا ملاک کو نقصان پہنچا ناچاہتے ہیں ، اِنہیں چاہئے کہ یہ ہوش کے ناخن لیں ، ورنہ ریاست اِن کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق نمٹے گی۔ غرض یہ کہ اَب بلاوجواز سڑکیں بند اور نقصِ امن پیدا کرنے والوں کو بھی سمجھ جانا چاہئے کہ یہ باز نہ آئے، تو ریاست پاکستان اِنہیں لگام ڈالنے کیلئے انتہا ئی قدم اُٹھانے سے بھی دریغ نہیں کریگی۔کیوں کہ مُلک بار بار نقصِ امن کا متحمل نہیں ہوسکتاہے۔

اقتصادی مشاورتی کونسل کے اہم فیصلے

adaria

وزیراعظم پاکستان عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے اقتصادی مشاورتی کونسل کے اجلاس میں دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ چار اہم نکات زیر بحث آئے جن پراقتصادی مشاورتی کونسل نے اہم فیصلے بھی دئیے،پہلا نکتہ جو اجلاس میں زیر بحث آیا اس میں وزیراعظم نے پچاس لاکھ گھروں کے منصوبے کے آغاز کیلئے پانچ ارب روپے فنڈز کی منظوری دی جبکہ ساتھ ہی غربت مٹاؤ پروگرام کے تحت عالمی بینک سے 5.6 ارب روپے قرض لینے کی بھی منظوری دی گئی نیز یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کیلئے رقم پی ایس ڈی پی کے تحت جاری کی جائے گی، یہ بہت اہم نکتہ ہے کیونکہ حکومت کے 100دن بھی پورے ہونے جارہے ہیں۔ ایسے میں جب وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرنا ہے تو انہوں نے جو وعدے کیے تھے وہ کہاں تک پورے ہوئے اور جو منازل طے کی تھیں وہ کہاں تک حاصل کی گئیں ہیں ۔اس بارے میں آگاہ کیا جائے گا، 50لاکھ گھروں کی تعمیر سب سے اہمیت کی حامل ہے کیونکہ بے تحاشا عوام اس وقت بغیر چھت کے ہے بہت سارے تو ایسے بھی ہیں جو قطعی طورپر کھلے آسمان کے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں، تاہم اس حوالے سے شیلٹر ہوم کا حکومت نے آغاز کیا ہے لیکن شیلٹر ہوم اپنی جگہ اور پچاس لاکھ گھر ایک بہت بڑا منصوبہ ہے اور یہ حکومت کا ایک امتحان ہوگا کہ وہ مقررہ مدت میں ان کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکے، دوسرا نکتہ دیکھا جائے تو اس میں وزیراعظم نے کاروبار کو آسان بنانے ، درآمدات کو کم کرنے برآمدات بڑھانے کیلئے ایف بی آر کے اختیارات کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، نیزایف بی آر کے پالیسی ونگ کو بھی الگ کرنے اور ملک میں نیوٹریشن پروگرام فوری طورپر شروع کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایف بی آر کے حوالے سے بھی وزیراعظم کا اہم فیصلہ ہے بعض اوقات یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایف بی آر اختیارات سے تجاوز کرجاتا ہے پھر عموماً ایسا بھی ہوتا ہے کہ ٹیکس جمع کرنے کے حوالے سے جو مختلف سہ ماہی، ششماہی اور نوماہی اہداف مقرر کیے جاتے ہیں انہیں حاصل کرنے میں بھی مسائل درپیش رہتے ہیں اور شاید جو ایف بی آر کے پالیسی ونگ کو الگ کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے، وہ اسی سلسلے میں بنیادی اقدام ثابت ہوگا ۔جب پالیسی بہترین ہوگی تو پھر اہداف بھی حاصل ہوتے رہیں گے۔چونکہ اس وقت ملک کو معاشی اعتبار سے خاصا بحران درپیش ہے اور حکومت اس جانب کوشاں ہے کہ ملک اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے ، اس سلسلے میں جہاں دیگر ممالک سے مالی معاونت کے سلسلے میں بات چیت چل رہی ہے وہاں پر آئی ایم ایف سے بھی مذاکرات پراسیس میں ہیں ،تاہم آئی ایم ایف کی شرائط کچھ اتنی سخت ہیں کہ ان پر پورا اترنا مشکل نظر آتا ہے۔ اسی وجہ سے وزیراعظم نے کہا ہے کہ دیگر پہلوؤں پر بھی غوروخوص کیا جائے ۔ اجلاس میں معیشت کیلئے درمیانے مدت کے ڈھانچہ جاتی اصلاحات فریم کے ضمن میں پالیسی سفارشات کی بھی منظوری دی گئی۔ ان کے تحت برآمدات میں اضافہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو مضبوط بنانے، ٹیکس اصلاحات، ملازمتوں کے مواقعوں کی فراہمی، اہم پالیسی اقدامات، سماجی تحفظ کی ترجیحات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ معیشت کیلئے درمیانی مدتی ڈھانچہ جاتی اصلاحات فریم کا جہاں تک تعلق ہے تو اس پر بہت زیادہ توجہ دینا ہوگی کیونکہ اگر ان اصلاحات جن کیلئے ایک ٹائم فریم مقرر کیا گیا ہے حاصل نہیں ہو پاتیں تو اس میں مزید ایسی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے جس سے حکومت متعین کردہ اپنی منزل کو حاصل کرسکے۔ حکومتی پالیسیوں کو حتمی شکل دینے کا مقصد پائیدار ، جامع، روزگار کے مواقع کا حامل اور برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقیاتی حکمت عملی کیلئے بنیاد کا قیام ہے جو کہ حکومت کے 100روزہ پلان کا حصہ ہے، وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ آئی ایم ایف سے بات چیت جاری رکھی جائے لیکن وزارت خزانہ ایک متبادل اقتصادی پلان پر بھی غورکرے ۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے اجلاس کو آئی ایم ایف سے ہونے والے مذاکرات پر بریفنگ دی ۔ انہوں نے کہاکہ بعض سخت ا قتصادی فیصلے کرنے پڑیں گے۔ بعض شرکا نے رائے دی کہ اگر حکومت نے سخت فیصلے کئے تو اس کے نتیجے میں حکومت کیلئے سیا سی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔ اس پر وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ وزارت خزانہ متبادل حکمت عملی پر بھی ہوم ورک کرے اور پلان بی تیار کرے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہ لیا جا ئے کہ آئی ایم ایف سے پیکج نہیں لیا جا ئے گا۔وزیر اعظم نے مشاوتی کونسل کا اجلاس دو ہفتے بعد طلب کیا ہے جس میں حتمی فیصلہ کیا جا ئے گا کیا آپشن اختیار کیا جائے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی وحشیانہ کارروائیاں
کرتارپور کوریڈور کا کھلنا نہایت خوش آئند اقدام ہے اور پاکستان بھارت کے مابین ایک امن کی فضا قائم کرنے کیلئے انتہائی اہم فیصلہ ہے لیکن بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جو وحشیانہ کارروائیاں جاری رکھی ہیں ان کو بھی کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، نہتے کشمیریوں پر گولیوں کی بوچھاڑ ، بے دریغ اسلحے کا استعمال، گرفتاریاں، قتل و غارت گریاںیہ کہاں کا انصاف ہے، کیا بین الاقوامی برادری کو نام نہاد جمہوریت نواز بھارت کا مکروہ چہرہ نظر نہیں آرہا ہے ، یہ وہی مودی ہے جس نے گجرات میں مسلمانوں کو مولی ،گاجر کی طرح کاٹ کر رکھ دیا تھا، اب جب وہ اقتدار میں ہے تو اس سے کیونکر امن کی امید کی جاسکتی ہے لیکن اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اپنی قراردادوں کے مطابق حل کرائے ، یہاں پر اقوام متحدہ کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے ، یوں تو دنیا بھر میں ہر جگہ مسلمانوں پر ہی ظلم ڈھائے جارہے ہیں اگر کسی یورپین ملک یا امریکہ میں کوئی ذرا سا بھی واقعہ پیش آجائے تو اس کو بنیاد بنا کر مسلم ممالک پر چڑھ دوڑنا شروع کردیا جاتا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں جو ظلم کی انتہا ہے اس پر بین الاقوامی برادری کی خاموشی کسی مجرمانہ فعل سے کم نہیں، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے مزید آٹھ کشمیریوں کو شہید کردیا ۔گزشتہ تین روز کے دوران شہید ہونیوالے نوجوانوں کی تعداد 18ہو گئی، متحدہ حریت قیادت نے آج وادی میں ہڑتال کا اعلان کردیا ۔6 نوجوانوں کو اتوار کی صبح ضلع شوپیاں کے علاقے بٹہ گنڈ کاپرن میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران شہید کیا ، دسویں جماعت کا طالبعلم مظاہرین پر فائرنگ کا نشانہ بنا جبکہ ضلع پلوامہ کے علاقے کھریو میں ایک اور نوجوان کوفائرنگ کرکے شہید کیا گیا۔ قابض انتظامیہ نے جنوبی کشمیرمیں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی۔ ضلع شوپیاں کے علاقے کا پرن میں ایک حملے میں ایک بھارتی فوجی ہلاک اور ایک اور زخمی ہو گیا۔مقبوضہ کشمیر میں قابض فورسز نے مزید 8 نوجوانوں کو شہید کردیا۔شوپیاں میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے بعد 6 نو جو ا نو ں کی لاشیں تباہ ہونیوالے ایک مکان کے ملبے سے ملی ہیں۔ جبکہ ایک دسویں جماعت کے طالب علم نعمان اشرف بٹ کو فوجیوں نے شہادتوں پر احتجاج کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ کر کے شہید کیا۔گو کہ پاکستان نے اس کی مذمت کی اور سفارتی سطح پر بھی ہمیشہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو بہترین انداز میں اٹھایا لیکن آج جو امن کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں وہ کیوں خاموش ہیں، وہ کیوں نہیں بھارتی بربریت کو رکواتے۔

نظریہ پاکستان ایک اٹل حقیقت ہے

نظریہ پاکستان عصر حاضر کی پیدا وار نہیں بلکہ پاکستان کے اسلامی تشخص کا دوسرا نام ہے۔ نظریہ پاکستان ایک اٹل حقیقت ہے۔ پاکستان کی وجہ تخلیق ہے۔ پاکستان کے وجود کو اس سے الگ کر کے دیکھنا ناممکن ہے۔ نظریہ پاکستان یا دو قومی نظریے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس برصغیر میں دو قومیں مسلمان اور ہندو آباد ہیں جو ہر لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مسلمان ایک بْت شکن قوم ہے جبکہ ہندو بْت پرست ہیں۔ اسی بنیاد پر قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک عظیم اور صبر آزما جدوجہد کے بعد اپنے لیے ایک الگ وطن حاصل کیا تھا۔مسلمانوں نے اقلیت میں ہونے کے باوجود تقریباً ایک ہزار سال تک ہندوستان پر حکومت کی ہے اور یہی وہ بات ہے جو آج تک ہندوؤں کو ہضم نہیں ہو سکی۔ وہ پاکستان کو بطور ایک آزاد ملک تسلیم نہیں کر تے اور ہمہ وقت اس کے وجود کے درپے ہیں۔بھارت، امریکہ اور اسرائیل پاکستان کے بدترین دشمن ہیں۔ انہیں اپنا خیرخواہ سمجھنے والوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ انہیں دراصل پاکستان کا ایٹمی پروگرام کھٹکتا ہے۔ کشمیر میں کشمیریوں کی جدوجہد اور جہاد پسند نہیں لہٰذا انہوں نے پاکستان کے اندر میر جعفر، میر صادق پیدا کرکے انہیں یہ مشن سونپا کہ پاکستان کو اندر سے کمزور کرو اور اس کیلئے نظریہ پاکستان کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ بھارت کی طرف سے ہماری نظریاتی اساس پر بھی حملوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔مخالفین اسلام اور دشمنانِ وطن کی طرف سے یہ زہریلے حملے دو سطحوں پر جاری ہیں۔ ایک میڈیا کی سطح پر اور دوسرا بعض سازشی افراد کی پروپیگنڈہ مہم کی صورت میں۔ اس مہم کے دو حصے ہیں۔ ایک ان مذہبی لوگوں پر مشتمل ہے جن کے اکابرین نے تحریک پاکستان میں نہ صرف خود حصہ نہیں لیا بلکہ اس کی بھرپور مخالفت بھی کی۔ ان لوگوں کے نزدیک علامہ اقبال ؒ اور قائداعظمؒ مغربی تعلیمی اداروں کے پڑھے ہوئے لوگ تھے۔ اس لئے انہوں نے اسلام مخالف قوتوں کا آلہ کار بن کر مسلمانان برصغیر کی اجتماعی قوت کو دو حصوں میں تقسیم کر کے تاریخی غلطی کا ارتکاب کیا۔ پاکستان مخالف مہم کا دوسرا فریق اس مذہبی گروہ سے بالکل برعکس ہے, وہ لوگ خود کو سیکولرازم کا علمبردار سمجھتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کی بقاء سیکولرازم سے مشروط ہے۔ ان کے نزدیک مذہبی جماعتیں اور شخصیات آئے روز قتل و غارت گری میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس لئے ملک کی مذہبی شناخت پوری دنیا کے ساتھ ساتھ خود کئی پاکستانی طبقات کے لئے بھی خطرناک ہے۔ اس دعویٰ کی دلیل کے طور پر وہ قائداعظمؒ کو خالص سیکولر شخص کے طور پر متعارف کراتے ہیں اور دو قومی نظریے کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔قائداعظمؒ کے حوالے دینے والے یاد رکھیں کہ قائداعظمؒ نے ہندو ذہنیت کو جان کر ہی یہ واضح کیا تھا کہ ہندو سے خیر کی توقع نہ کرو اور کہا کہ ہندو اور مسلمان کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے، کبھی ساتھ نہیں مل سکتے۔ کیا یہ خواتین و حضرات جو آئے روز پاکستان اور اس کی بانی قیادت کے بارے میں مختلف تقریبات میں نئے نئے شوشے چھوڑتے ہیں، پاکستان میں بیٹھ کر اس کی پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپ رہے؟ حقیقت میں یہ آستین کے سانپ ہیں۔ انہیں جب بھی ملک دشمنی کا موقع ملتا ہے، اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لئے ’’حقِ نمک‘‘ ادا کرتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کو آج کل نوجوان نسل کو ورغلانے اور انہیں پاکستان کے بنیادی نظرئیے سے برگذشتہ کرنے کا ٹاسک ملا ہوا ہے، مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ابھی تک ہمارے بزرگوں کی شکل میں وہ نسل موجود ہے، جنہوں نے پاک وطن کے لئے خود قربانیاں دیں اور ہجرت کی۔ ان کی سماعتوں سے ابھی تک قائدین تحریک پاکستان کے نعرے اور تقاریر ٹکرا رہی ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں پاکستان کی تاریخ درست نہیں پڑھائی جا رہی۔بھارت نواز اساتذہ نئی نسل کو نظریہ پاکستان کے خلاف درس دے رہے ہیں ۔ طلباء کو قیام پاکستان کی کہانی دو قومی نظریہ کو نظر انداز کرتے ہوئے نئے انداز میں بتائی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کا ہندوؤں اور سکھوں کے تجارتی قافلوں پر حملوں اور قتل و غارت کی وجہ سے پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ جن لوگوں نے یہ تاریخ بنائی ہے انہیں صحیح اور غلط کا زیادہ علم ہے یا جو ساٹھ سال بعد غیر ملکی آقاؤں کی گود میں بیٹھ کر اس کا جائزہ لے رہے ہیں انہیں حقیقت حال کا بہتر علم ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس تاریخ کو ایک مخصوص طبقہ اپنے خودساختہ تصورات کے آئینے میں درست نہیں سمجھ رہا۔ یہ لوگ اس واضح تاریخ کو مٹانے کے جتن کر رہے ہیں جس کے اوراق لاکھوں شہیدوں کے خون سے لکھے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ خون سے لکھی ہوئی تاریخ ہمیشہ اَن مٹ اور دائمی ہوتی ہے۔ اگر نظریہ پاکستان یا دو قومی نظریہ کی نفی کر دی جائے تو پاکستان کی بقاء خطرے سے دوچار ہو جائے گی۔ لہٰذا نظریہ پاکستان ہمارے ملک کی بقا کا ضامن ہے۔ جو لوگ اس نظریے کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں‘ وہ دراصل پاکستان کی بنیادوں پر وار کر رہے ہیں۔ یہی عناصر ’’امن کی آشا‘‘ مہم کے درپردہ اکھنڈ بھارت کے تصور کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ جو لوگ اس نظریہ کی حقانیت کو تسلیم نہیں کرتے‘ انہیں چاہیے کہ اپنا بوریا بستر باندھ کر واہگہ بارڈر کے پار جا بسیں۔ نظریہ پاکستان کے تحفظ کے ساتھ فوج کو امریکہ اور بھارت کی یلغار اور پروپیگنڈہ سے بچانا بھی ہمارا فرض ہے کیونکہ دشمن انہیں ٹارگٹ کررہا ہے جن پر پاکستان کی سلامتی کا انحصار ہے۔ یہ کریڈٹ مجید نظامی اور نوائے وقت سے کوئی نہیں چھین سکتا کہ انہوں نے بروقت ایسے مذموم عزائم کی بیخ کنی کی اور بھیانک چہروں کو بے نقاب کیا۔ پاکستان کا چہرہ بگاڑنے کے ذمہ دار استحصالی طبقات کے یہ قلمی حواری کان کھول کر سْن لیں کہ پاکستانی قوم اپنے بزرگوں اور تحریک پاکستان کے شہدائے کرام کے خونِ پاک کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دے گی۔ مدعی لاکھ بْرا کیوں نہ چاہے‘ پاکستان کا مقصدِ تخلیق انشاء اللہ پورا ہو کر رہے گا اور نظریہ پاکستان اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ پاکستانی قوم کو دل و دماغ پر تا قیامت نقش رہے گا۔

موجود ہ حکومت کے کڑے امتحان

azam_azim

آج اِس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ اِن دِنوں موجودہ حکومت کئی حوالوں سے کڑے امتحانات سے دوچار ہے، اگرچہ ،حکومت کے ابتدائی سودنوں کی معیاد ختم ہوگئی ہے، جس میں حکومت کا سینہ ٹھونک کر کے دعوی ٰ تھا کہ بہت سے مُلکی معاملات میں بے شمار تبدیلیاں نظر آئیں گیں ، مگر ، آہ ، سب کچھ ٹائیں ٹائیں فش …!! جبکہ اِس عرصے میں حکومت کے دامن میں اپوزیشن اور قومی لیٹروں کی جانب سے کی جانے والی تنقیدوں اور عوام کے ہاتھ حکومتی تسلیوںکے کچھ نہیں آیاہے۔البتہ، اتناضرورہواہے کہ اِس دوران اپوزیشن نے اپنی بے جا تنقیدوں سے نوآزمودہ حکمران جماعت کو حکومتی رنگ ڈھنڈنگ سیکھنے کا موقع دے دیاہے۔اَب جیسے وقت گزرتا جار ہا ہے حکومتی ذمہ داران بشمول وزیراعظم عمران خان کا بھی اپنے ا قدامات اور اپنے کہے ہوئے پر بار بار یوٹرن لینے کا رجحان کم ہوتاجارہاہے ۔تاہم کوئی حکومت کے پہلے سو دنوں کے بارے کچھ بھی کہے مگراِب لگتا ہے کہ حکمران اپنی حکومت کے ابتدائی تین ماہ میں مُلک سے کرپشن کے ناسُور کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے والے عوام سے کئے گئے اپنے وعدوں اور دعووں پر قائم ہیں، ایسے میں بس ! ضرورت اِس امر کی ہے کہ اَب مُلک سے بلاتفریق کرپٹ عناصر کا خاتمہ کرنے کے لئے سِول جمہوری حکمرانوں کو مارشل لاء سے بڑھ کر اقدامات کو یقینی بنانا ہوگا، تو ممکن ہے کہ حوصلہ افزا مثبت پیش رفت سامنے آجائے، اور سرزمینِ پاکستان سے اگلے پچھلے ہائی پروفائل کرپٹ عناصر کا صفایاہوجائے؛ نہیں تو سب خواب ہی رہے گا۔ ویسے یہ بات تو سب ہی ظاہر و باطن طورپر تسلیم کررہے ہیں کہ آج یقینی طور پر قوم کو کرپشن کی لال پتی کے پیچھے بھگانے والے عوام کے صبر کا مزید انتظار ختم کرانے کو ہیں ، شاید ستر سال میں پہلی مرتبہ مُلک میں کڑے احتساب کی ہنڈی کو دم لگایاگیاہے، اِ س لئے عنقریب کرپٹ عناصر کی پکی پکائی انجام کو پہنچتی کرپشن کی کھچڑی دنیا کے سا منے آنے کو ہے۔تب ہی اپنے عبرت ناک انجام سے خوفزدہ کرپٹ عناصر اپنے بچاؤکے لئے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں۔مگر اَب اِن کی سعی بے سود ہے، کیوں کہ اِن ہائی پروفائل کرپٹ عناصر کے سیاہ کرتوتوں کی اتنی لمبی فہرست ہے کہ اگر اَبھی مُلک کو لوٹ کھانے والے ماضی و حال اور مستقبل کے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور اِن کے اِدھر اُدھر کے چیلے چانٹوں کا کڑااحتساب نہ ہوا اور اِنہیں ہمیشہ کی طرح پھر پھولوں کی پتیوں اور رگِ گل سے ہلکی پھلکی سزا دے چھوڑ دیاگیا،تو پھر با ئیس کروڑ محب وطن پاکستانیوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ مگر ساتھ ہی دبے دبے الفاظ کے ساتھ انکاری بھی ہیں۔ بالفرض ، این آراُو ہونے کی صورت میں جیساکہ نظر آرہاہے کہ اَبکی بار اگرہائی پروفائل کرپٹ عناصر بے گناہ ثابت ہوکر باہر آئے۔ تو یہ ماضی کے حکمران اور سیاستدان مُلک اور قوم کا اِتنا بُراحشر کریں گے کہ دنیا اپنے کانوں پر ہاتھ لگا کر پاکستا نی قوم کی حالتِ زار پر تر س کھانا بھی چھوڑ دے گی اور کہہ اُٹھے گی کہ پاکستانی اداروں اور قوم کو سترسال بعد اتنااچھاموقعہ ہاتھ آیاتھا کہ یہ ماضی اور حال اور لگے ہاتھوں مستقبل کے کرپٹ عناصر کو بھی دنیا کے دیگر مہذب ممالک اور معاشروں کی طرح زمین سے تین فٹ اُونچا اُٹھا کر ہمیشہ کیلئے زمین کے دوہاتھ نیچے کردے،اور کرپٹ عناصر سے جان چھڑائے ، مگر ہائے رے افسوس کہ پاکستان میں قانون کا نفاذ کرنے اور احتساب کرنے والے اداروں نے کچھ نہیں کیا ۔ قومی خزانہ لوٹ کھانے والوں پر ترس کھا کر قانون او ر کڑے احتسابی عمل میں لچکداری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے ہلکا ہاتھ رکھا گیا۔تو پھر قوم کا قانون ، انصاف اور احتساب کے اداروں پر سے اعتبار ختم ہوجائے گا ۔ مفلوک ا لحال غریب پاکستا نی قوم چیخ اُٹھے گی کہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے پاکستان میں دُہرا قانون ہے۔ جس میں مہنگائی اور بھوک و افلاس کے ہاتھوں بے کس و مجبور ایک بھوکااپنا پیٹ بھرنے کے لئے کہیں سے ایک روٹی چوری کرلے ،جب پکڑاجائے تواپنی ساری زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزاردیتاہے۔ جبکہ اِسی اسلامی مملکتِ خداداد پاکستان میں اربوں اور کھربوں قومی خزانہ لوٹ کھانے والے حکمران ، سیاستدان اور اِن کے چیلے چانٹے قانونی گرفت سے آزاد رہتے ہیں اور سینہ چوڑاکرکے باعزت زندگی گزارتے ہیں۔ نا صرف یہ بلکہ ایوانوں میں پہنچ کر اپنی بچاؤ کرنے والی قانون سازی کے بھی ٹھیکیدار بن جاتے ہیں، واہ رے..! سرزمینِ پاکستان تیرایہ کیسا انتظامی امُور ہے؟بہر حال ، ہرکسی کی کچھ حد ہوتی ہے، یہاں تو جیسے سب ہی کچھ حدود وقیود سے آزاد ہیں،سرزمین پاکستان میں ستر سال سے یہ عام رہاہے کہ جوبھی عوام کا مینڈیٹ لے کر تاجِ حکمرانی سر پر سجائے سامنے آیا ، یا اِسے کسی نے کہیں سے پکڑا کر بنا سجاکر لابٹھایااور پھر لات مار کراور کان پکڑ کراقتدار کے تخت سے ہٹاکر خودکوئی مطلق العنان مسند اقتدار پر آن بیٹھا دونوں ہی نے قومی خزانے کو اپنے اجداد کی جاگیر سمجھ کر بے دردی سے لوٹ کھایا،آج قومی لٹیروں کی لوٹ مار حد سے تجاوز کرگئی ہے، تو ستر سال بعد قومی لیٹروں کو لگام دینے کیلئے جیسے تیسے احتساب کا عمل شروع ہوگیاہے جس پر کرپٹ عناصر کا چین اُجڑ گیا ہے۔ اَب تک کرپشن کے خاتمے کیلئے حکومت کے کئے گئے اقدامات قابلِ تعریف ہیں۔ مگر عوام کی شدت سے یہ بھی خواہش ہے کہ اِس معاملے میں تیزی لائی جائے،اور ہائی پروفائل کرپٹ عناصر کو جلد از جلد انجام کو پہنچایاجائے ، آخر کب تک حکمران قوم کو کرپشن کی لال بتی کے پیچھے بھگاتے رہیں گے؟ کیا یہی ایک کام رہ گیاہے؟ ابھی تو حکومت کو اور بھی بہت سے کام کرنے ہیں۔

چینی قونصلیٹ پر دہشت گرد حملہ

Naghma habib

پاکستان اور چین دو ہمسائے ہی نہیں بلکہ مثالی دوست ممالک ہیں جن کی دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پوری اُتری ہے اور دونوں طرف سے اس دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور اسے برابری کی بنیاد پررکھا گیا ہے۔ اگر چین پاکستان کی مدد پر ہروقت تیار رہتا ہے تو پاکستان نے بھی کسی بھی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر چین کو تنہا نہیں چھوڑا بلکہ ایک طرح سے اس کی اور بڑی طاقتوں کے درمیان حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔چین کے لیے مشرق وسطیٰ یعنی تیل پیدا کرنے والے ممالک تک پہنچنے کا سب سے مختصر راستہ بھی پاکستان سے گزر کر ہی پڑتا ہے جبکہ ایک بہت بڑی معیشت ہونے کے ناطے چین کی ترقی کے فوائد و ثمرات پاکستان تک بھی پہنچتے ہیں اور پہنچ رہے ہیں۔ سی پیک کا منصوبہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور یہ پہلا منصوبہ نہیں جو چین کی مدد سے پاکستان میں چل رہا ہو لیکن اس کے حجم کی وجہ سے خاص توجہ کا مرکز ہے۔ یہ خاص کر عالمی اور علاقائی قوتوں کے لیے باعث تکلیف ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان دشمن عناصر دونوں ملکوں کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی کو ششوں میں مصروف ہیں اور کئی طریقوں سے ایسا کر رہے ہیں ۔23نومبر کو کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جس کی ذمہ داری بی ایل اے یعنی بلو چستان لبریشن آرمی نے قبول کی۔ بلوچستان میں بھارت کی مداخلت بڑی واضح ہے اور ثابت شدہ بھی ، وہاں اُس نے کئی لوگ خرید رکھے ہیں جو وہاں موجود محرومی سے زیادہ اُس کو اُچھال رہے ہیں اور ایسا تاثر دیا جاتا ہے جیسے بلوچستان کے ساتھ کوئی دشمنانہ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ذاتی دشمنی کی بنا پر ہونے والی وارداتوں کو بھی ایجنسیوں کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے اسی طرح عام اغوا کے واقعات بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کر دیے جاتے ہیں۔جن لوگوں کو ملک دشمن عناصر اپنی تنظیموں میں کسی نہ کسی طرح شامل کر دیتے ہیں وہ بھی ان لوگوں کی گنتی میں ڈال دیے جاتے ہیں اور یوں ملک کو نہ صرف یہ لوگ بلکہ دوسرے ادارے بھی بد نام کرنے لگ جاتے ہیں۔ اسی طرح ہر لاوارث لاش کو بھی ایجنسیوں کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے اور یہ لوگ بڑی آزادی سے ملک دشمن سر گرمیوں میں مصروف رہتے ہیں کچھ لوگ انہی لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹ کر لیڈر بن جاتے ہیں۔ خود یہ انتہائی ناز و نعم میں پلے ہوئے دنیا کی ہر دولت کے مالک سردار زادے جو کبھی اپنے علاقے کے غریب لوگوں کی غربت مٹانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ خود یورپ کے پُر تعیش گھروں میں رہ کر انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں ان کے لیڈر بن جاتے ہیں اور ملک کے پُرامن شہریوں کا قتلِ عام کرتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں ۔ چینی قونصلیٹ پر حملے میں بھی حربیار مری کو ہی ماسٹر مائنڈ نامزد کیا گیا ہے اس کے ساتھ اسلم اچھو کا نام بھی سامنے آیا ہے جسے کچھ عرصہ تک بھارت میں زیر علاج رکھا جاتا ہے اور پھر افغانستان میں این ڈی ایس کے لوگوں سے ملوایا جاتا ہے آخر ان ملاقاتوں کا مقصد کیا تھا کیا ایسا ہی نہیں تھا کہ کسی طرح دوبارہ بین الاقوامی برادری کو یقین کروایا دیاجائے کہ پاکستان اب بھی ان کے لیے محفوظ ملک نہیں۔ حملے میں مارے جانے والے تینوں دہشتگرد افضل خان بلوچ، رازق بلوچ اور رئیس بلوچ اپنے نام کے ساتھ بلوچ لگاتے تھے کیا یہ بلوچوں کو بھی بدنام کرنے کی سازش نہیں تھی ۔اِن کے پاس سے اسلحے کے ساتھ ساتھ بی ایل اے کا پرچم بھی برآمد ہوا ۔ان میں رازق بلوچ کے انگلیوں کے نشانات کی تو شناخت ہو چکی ہے تاہم باقی دو دہشتگرد وں کے فنگر پرنٹس نادرا کے پاس موجود نہیں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اِن کے شناختی کارڈ نہیں بنے تھے یا بننے نہیں دیے گئے تھے یہ تو بعد میں معلوم ہو گا بہر حال دشمن نے انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر لیا ۔پولیس کے مطابق اس حملے میں بی ایل اے کے مزید بارہ ارکان کے نام بھی ایف آئی آر میں شامل کیے گئے ہیں ۔بی ایل اے اور اس جیسی دیگر تنظیموں کی چینی حکام یا باشندوں کے خلاف کاروائیوں میں ملوث ہو نے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی متعدد بار پاکستان میں چین کی مدد سے چلنے والے منصوبوں پر کام کرنے والے کارکنوں پر حملے کیے گئے ہیں لیکن سی پیک کے معاہدے اور پھر اس کے منصوبوں پر کام کے آغاز نے دشمن قوتوں کو بوکھلا دیا ہے کہ ان منصوبوں سے گوادر کی بندرگا ہ اور پھر اس سے جڑی ہوئی ترقی کے بلوچستان پر جو اثرات مرتب ہونگے اُس سے دشمن کا بلوچستان میں ترقی نہ ہونے اور پسماندہ رہ جانے کا بہانہ ختم ہو جائے گا اور یو ں ان کی لیڈری بھی ختم ہو جائے گی ۔ ساتھ ہی اس حملے سے بیرونی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچانے کی بھی کوشش کی گئی کہ اگر چین جیسے دوست ملک کے باشندے اور سفارتی حکام پاکستان میں محفوظ نہیں تو کوئی دوسرا ملک کیسے محفوظ ہو سکتا ہے لیکن اس موقع پر جس طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس منصوبے کو ناکام بنایا اُس نے دشمن کو ہی زیادہ نقصان پہنچایا اور چین کو باور کرایا گیا کہ پاکستان اس کے پاکستان میں موجود باشندوں کی حفاظت کی ذمہ داری لے سکتا ہے اور اس کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ اس موقع پر پولیس، فوج اور رینجرز نے جس سرعت کے ساتھ کاروائی کی وہ بذاتِ خود قابلِ تحسین ہے اور دہشت گردوں اور ملک دشمنوں کے لیے ایک کُھلا پیغام ہے کہ وہ اتنی آسانی سے حالات کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے چاہے اُن کے ساتھ دشمن قوتوں کی پوری مدد بھی ہو ۔ اُنہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ’’را‘‘ کا مقابلہ پاک فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے ادارے عرصہ دراز سے کر رہے ہیں اور اب اس کی تیار کردہ اور پالتو این ڈی ایس بھی اگرچہ اُس کے ساتھ شامل ہو گئی ہے تاہم اب بھی وہ پاکستان کو شکست نہیں دے سکتے۔ اس بار تو ایک نوجوان خاتون پولیس افسر سہانی عزیز نے بھی اُن کو بتا دیا ہے کہ اُن کے مقابلے لیے تو پاکستانی خواتین ہی کافی ہیں۔دہشت گردی کے اس واقعے کا دوسرا پہلو بھی انتہائی اہم ہے جس میں پاکستان اور چین کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی گئی اس موقع پر چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ پاکستان میں چینی سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ پاک فوج اور پولیس کے کردار کو انتہائی تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ جس طرح درست اور بروقت کاروائی کی گئی اُس نے اس کوشش کو ناکام بنایا، اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ہمیں یقین ہے کہ پاکستان ہماری حفاظت کی ذمہ داری بخوبی نبھا سکتا ہے اور کوئی بھی ایسی دہشت گرد کاروائی جو پاک چین تعلقات کو خراب کرنے کے لیے کی جائے گی وہ ناکامی سے دوچار ہو گی اور یہ کہ چین سی پیک کے منصوبے پر کام جاری رکھے گا۔ چین کے اس دوستانہ رویے نے دشمن کو مزید پریشان ضرور کیا ہوگا۔یہ سب درست کہ دشمن کو شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس بات پر بھی توجہ ضروری ہے کہ ایک حساس علاقے تک دشمن کی رسائی کیسے ہوئی تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات کو ہونے سے روکا جاسکے۔

Google Analytics Alternative