کالم

کام اچھا تو نام اچھا ۔ حکومت پنجاب توجہ دے

اچھا کام ہمیشہ اچھا ہی ہوتا ہے اور صدیوں یاد رکھا جاتا ہے چاہے کرنیوالا کوئی فرد، حکومت یا ادارہ ہو ۔ یہ حکومت کرے تو اقتدار سے رخصتی کے بعد بھی یہ ہمیشہ اس حکومت کی نیک نامی ہی میں گردانا جاتا رہتاہے ، یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد بڑے بڑے میگا ترقیاتی کاموں کی وجہ سے عوام ;200;ج تک فوجی جرنیل صدر ایوب خان کو نہیں بھول پائے اور ;200;ج عشروں گزر جانے اورڈکٹیٹر وں کےخلاف لاکھ پروپیگنڈے کے باوجود ، انہیں عوام کے دلوں سے نہیں نکالا جا سکا اور ;200;دھی صدی گزرنے کے بعد، فیلڈ مارشل ایوب خان کی بڑی بڑی تصاویر ;200;ج بھی دنیا کے واحد، انوکھے اور مشہور ترین ’’ٹرک ;200;رٹ‘‘کے ہر تیسرے چوتھے چھکڑے کے پیچھے ;200;پ کو دیکھنے کو ملتی ہیں ،جس کے پیچھے حسرت بھرا یہ شعر بھی پڑھنے کو ملتا ہے ۔

;34;تیری یاد ;200;ئی تیرے جانے کے بعد;34;

اور انہیں اچھے کارناموں کی وجہ سے لوگ ;200;ج بھی انہیں پیار کرتے اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ۔ بعد میں کچھ نام نہاد لوگوں نے ٹرکوں کے پچھلے حصہ پر جگہ بنانے کی اپنی سی کوشش کی لیکن وہ ہمیشہ ناکام رہے، اور ڈرائیو طبقے نے تو جان چھڑانے کیلئے باقاعدہ اب ;34;پپو یار تنگ نہ کر;34; جلی حروف میں لکھوا کر صدر ایوب کی جگہ کسی کو اس عزت کا مقابل نہ پانے کا نوٹس بھی جاری کررکھا ہے ۔ بات ہو رہی تھی نیک نامی کی اپنے اچھے کاموں کی وجہ سے اچھے فلاحی منصوبوں کی وجہ سے، اس موقع پر اس دوڑ میں پھر سے ایک سابق صدر پرویز مشرف ہی کی شخصیت ماضی قریب میں سب سے نمایاں نظر ;200;تی ہے، جو ;200;ئے تو ایک محدود وقت کیلئے لیکن گزار پورے دس سال گئے، ایک فوجی ڈکٹیٹر ہوتے ہوئے انکا دور بھی جمہوری حکومتوں کی نسبت عوامی ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے بہت بہتر رہا، خصوصاً زراعت کے شعبے میں ، اس دور میں کھیت کو پانی کی وافر فراہمی اور اسکے ضیاع کے تدارک پر بڑا زور دیا گیا اور عملی اقدام کے طور پر کھیت سے منڈی تک سڑک اور پکے کھال سب سے نمایاں نظر ;200;تے ہیں ۔ ہر دیہات میں یہ کام ہوتے نظر ;200;ئے اور موقع پر مکمل بھی ہوئے،یہ کامیاب اسکیم سبسڈی کی بنیاد پر کام کی تکمیل تھی جس کا بڑا حصہ حکومت اور برائے نام خرچہ زمیندار پر پڑتا، لیکن کام ہر حال میں مکمل کروایا جاتا اور اسی لئے ;200;ج ہر چھوٹے بڑے گاؤں میں ہزاروں میٹرپکے کھا لے دیکھنے کو ملتے ہیں ، لیکن افسوس کی بات ہے کہ جنرل مشرف کے دور کے بعد بڑی بڑی جمہوری حکومتیں ;200;ئیں لیکن اس اہم ترین کام پر کسی نے توجہ نہ دی، میں یہ نہیں کہتا کہ اس جیسی تمام اسکی میں بند کر دی گئیں ، لیکن انکے موجود ہونے کے باوجود اس پر کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے گئے اسی لئے جہاں صدر مشرف جاتے ہوئے اس کام کو چھوڑگئے وہ کام شاید ایک انچ بھی ;200;گے نہیں بڑھا، کم از کم میرے گاؤں میں تو اس پر رتی برابر کام نہیں ہوا اسی لئے فوجی ڈکٹیٹر سے دیگر اختلافات کے باوجود ;200;ج بھی دل سے یہ بات نکلتی ہے کہ’’تیری یاد ;200;ئی تیرے جانے کے بعد‘‘ ۔ سابقہ دور حکومت نے پٹواریوں اور پٹوار خانوں کی اصلاح کی ٹھانی تو بہت اچھے اصلاحی اقدامات کر ڈالے جس میں سر فہرست لینڈ ریکارڈ کا کمپیوٹرائزڈ کروانا اور حصول ریکارڈ و انتقال;47; رجسٹریشن کی مد میں یقینا بڑے انقلابی اقدامات اٹھانا، جسکا بیک وقت کریڈٹ ق لیگ بھی لیتی ہے اور مکمل سہرا ن لیگ اپنے سر پر بھی سجاتی ہے، لیکن بھائی صاحب جس کسی نے بھی یہ کیا بہت اچھا کیا اور قابل صد ستائش ہے ۔ مجھے ذاتی طور پر اپنے گاؤں کے لینڈ ریکارڈ سنٹر جانے کا اتفاق ہوا، غرض حصول فرد اراضی تھا،سابقہ دور حکومت تھا، کام کمپیوٹرائزڈ طریقے سے فٹافٹ طریقے سے ہو گیا، نہ کوئی سفارش نہ رشوت، پہلی دفعہ روایتی پریشانیوں سے چھٹکارے پر بہت اچھا لگا، لیکن لگتا ہے بزدار صاحب کو شاید اپنی پڑی ہے کہ اس شاندار عوامی منصوبے کو شاید انکے دور میں جان بوجھ کر برباد کیا جا رہا خاص طور پر اس حکومت میں تو اس پر زرا بھر توجہ نہ ہے کیونکہ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ان دفاتر کی حالت تیزی سے گرتی جا رہی ہے ۔ مجھے ذاتی کام کی غرض سے پھر سے صرف چند روز قبل لینڈ ریکارڈ سنٹر پپلاں جانا پڑا ۔ رش دیکھ کر گھبراہٹ ہوئی، مختصر وقت نکال کر پنڈی سے جانا ہوا خیال تھا کہ ;200;ن لائن سسٹم کی وجہ سے جلد فارغ ہو کر واپسی ممکن ہو سکے، لیکن یہاں جیسے کھوے سے کھوا چھل رہا ہو ۔ اتنی بڑی تحصیل جس میں سارا کچا، کندیاں اور ہرنولی کا وسیع و عریض علاقہ شامل ہو اور جس سنٹر کی بنیاد ;200;ج سے پانچ چھ سال قبل دیگر متفرق کاموں کے علاوہ صرف پانچ انتقال روزانہ کی بنیاد پر ہو جب شام چار بجے کے قریب میرا نمبر ;200;یا تو ;65687682; صاحب اسی تندہی اور توجہ سے (117) ایک سو سترھویں انتقال کی کارروائی مکمل کر رہے تھے اور ابھی بھی خاصہ رش موجود تھا ۔ انچارج صاحب ایک نہایت محنتی اور ایماندار ;200;فیسر کے طور پر شہرت رکھتے ہیں ، میں سارا دن سنٹر کی کارروائی دیکھتا رہا، سوائے چند منٹ کی بریک کے لگاتار کام جاری رہا، کام کے بوجھ کی وجہ اور خصوصاً ناکافی تعداد میں ہونے کی وجہ سے ملازمین کا رویہ قدرے مختلف لیکن اوپر بیٹھے اعلیٰ افسر کی وجہ سے کسی کو عوام کے ساتھ بد تمیزی کی جرات نہیں تھی ۔ میرے ذاتی خیال میں ;65687682; جس تندہی سے اس خدمت مرکز پر’’ بے حسابا‘‘ کام اور مسلسل محنت اور لگن سے لینڈ ریکارڈ سنٹر پپلاں کامیابی سے چلا رہے،صاحب موصوف کی ذاتی دلچسپی اور خدمت خلق کا جذبہ نہ ہوتا تو عوام کب کا گونا گوں تکالیف کا اپنا حساب چکتا کر دیتی لیکن تمام تر مسائل کے، اس سنٹر پر ;200;ئے ہر شہری کا یہ یقین ہوتا ہے کہ بلا;200;خر اسکا کام ضرور ہو جائے گا اسی لئے وہ کوئی احتجاج کوئی ایسا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کو شش ہی نہیں کرتا جس سے بدمزگی پیدا ہو ۔ سب سے اچھی بات یہاں رشوت اور سفارش کی مکمل چھٹی، کام جلد یا بدیر سے، لیکن مجال ہے جو ’’چاہ پانڑیں ‘‘ کا نام بھی کسی کی زباں پر ;200;ئے ۔ یہ سنٹر باوجود بلڈنگ کے ناکافی ،بلکہ ناکارہ ہونے کے، حکومت کو روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کا ریوینو دے رہا ہے اور اگر یہ لوگ روایتی طور پر’’ڈنگ ٹپاو‘‘ پالیسی کے تحت کام کرتے تو نا صرف عوام کی چیخیں ;200;سمانوں تک جاتیں ،بلکہ وصولیاں بھی صرف برائے نام ہوتیں ، اسلئے حکومت پنجاب اس پر فوری توجہ دے اور اس اہم ترین عوامی مرکز کر اس کے کام، نام اور ریونیو کے حساب سے کسی بڑی اور مناسب بلڈنگ میں فوری شفٹ کرے جہاں عوام کو ہر طرح کی سہولتیں از قسم فوٹو سٹیٹ، فارم ہائے و تصدیق اور تمام فیسوں کی وصولی علیحدہ کی بجائے صرف ایک جگہ کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ساتھ ساتھ معاون ;200;فیسر تصدیق انتقال کے عملہ کی تعداد چار سے کم از کم دس ونڈوز تک بڑھائی جائے تاکہ گھنٹوں کے اذیت ناک انتظار سے چھٹکاراملے اور ادارے اور حکومت کی نیک نامی میں اضافہ ہو ۔

مولانا فضل الرحمن کی بے وقت کی راگنی،ازادی مارچ کی ہوا نکل گئی

مولانافضل الرحمان کا;200;زادی مارچ بے وقت کی راگنی ہے ،اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ جب سے عنان اقتدار سے باہر ہوئے اسی روز سے ;200;بِ بیماری کی طرح تڑپ رہے ہیں ، پہلے انہوں نے بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے مابین دوریاں ختم کرنے کی انتھک کاوشیں کیں ، کسی حد تک کامیاب بھی نظر;200;ئے لیکن شاید قسمت کی دیوی ان پرکوئی خاطر خواہ مہربان نظر نہ ;200;ئی، پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ سیاسی سمندر میں تنہا ہی غوطہ زن ہوجائیں اس کے لئے انہوں نے پھر سے کاوشیں شروع کیں لیکن وہ بھی بار ;200;ور ثابت ہوتی نظرنہیں ;200;رہیں ، جب نوازشریف اور شہبازشریف کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے واضح طورپرکہہ دیا کہ(ن) لیگ ;200;زادی مارچ کی قیادت نہیں کرے گی، جبکہ ;200;صف علی زرداری سے اس بابت پوچھاگیا تو انہوں نے بھی کوئی حوصلہ افزا جواب نہ دیا، بلاول بھٹو زرداری نے بھی مولانافضل الرحمان کاساتھ دینے کے حوالے سے واضح اوردوٹوک بیان نہیں دیا اب جوستائیس اکتوبر کی مولاناصاحب نے تاریخ دی ہے وہ یہ تاریخ دینے سے قبل سوچ لیتے کہ اسی روز بھارت نے مقبوضہ وادی پر370 اور 35اے ختم کرکے شب خون مارا تھا ۔ گزشتہ روز وزیراعظم کی زیرصدارت حکومتی وپارٹی ترجمانوں کا اجلاس ہوا ۔ اجلاس کے دوران ملک کی معاشی و سیاسی صورتحال پر بھی غور کیاگیا ۔ اجلاس میں فضل الرحمان کی طرف سے ;200;زادی مارچ کے اعلان پر گفتگو ہوئی ۔ اس موقع پروزیراعظم عمران خان نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان مدارس اصلاحات سے پریشان ہیں اصلاحات ہوگئیں تو مدارس کے طلبہ کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکے گا، مولانا اپنی ڈوبتی سیاست بچانے کی کوشش کررہے ہیں مولاناکے دھرنے سے کوئی پریشانی نہیں احتجاجی تحریکوں کا مقصد این ;200;ر او کیلئے دباءو ڈالنا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن حکومت کیخلاف طبلِ جنگ بجا چکے ہیں اور 27اکتوبر کو اسلام ;200;باد کی طرف کوچ کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ مولانا بہت منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور انہوں نے یہ بات ذہن نشین کرلی تھی کہ ان کے لشکر میں باقی سیاسی جماعتیں بھی شریک ہوں گی لیکن پیپلزپارٹی اورنون لیگ نے مولاناکے احتجاج میں شرکت نہ کرنے کافیصلہ کیا ہے ۔ مگر یہ دونوں مولانا فضل الرحمان کے احتجاج کی مکمل حمایت کررہی ہیں ،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے تو یہ کہا ہے کہ ہم ہر جمہوری احتجاج میں مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ہیں لیکن اگر شک ہوا کہ مولانا کسی قوت کے اشارے پر ہیں تو اپنی حمایت واپس لے لیں گے، احتجاج ہرکسی کاجمہوری و;200;ئینی حق ہے ، مدارس کے طلبا کو سیاسی احتجاج کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہئے سڑکوں پر فیصلے نہیں ہوتے ۔ مولانافضل الرحمان کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے ۔ وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے بھی مولانافضل الرحمان سے کہاہے کہ وہ اسلام ;200;باد کی طرف مارچ سے گریز کریں کیونکہ یہ دن کشمیری عوام کے ساتھ اظہاریکجہتی کادن ہے ۔ انہوں نے مولانافضل الرحمان کو تجویز دی کہ وہ احتجاجی مارچ کی تاریخ پرنظرثانی کریں کیونکہ یہ دن کشمیر کے لئے مخصوص ہے اور کشمیر کا نصب العین متاثر نہیں ہونا چاہیے ۔ بھارت نے ستائیس اکتوبر کووادی پرقبضہ کیا اوراسی روز مولانافضل الرحمان اسلام ;200;باد کی طرف مارچ کر رہے ہیں جس سے کشمیر کاز اور پاکستان کو نقصان پہنچ سکتاہے ۔ وزیراعظم نے سٹیل ملز سے متعلق کہاکہ سٹیل ملز کی بحالی کے ذریعے قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ یہ ملک کی ترقی میں اپنا کردارادا کرسکے ۔ سٹیل ملز کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے ،ماضی کی حکومتوں نے خسارے میں جانے والے اس ادارے کی بحالی پر توجہ نہ دے کر قوم پر بہت بڑا ظلم کیا جو سالہا سال سے ایک اضافی بوجھ بن گیا ہے ۔ وزیراعظم کو بتایاگیاکہ چینی اور روسی کمپنیوں نے پاکستان سٹیل ملز کی بحالی میں دلچسپی ظاہر کی ہے اوراس سلسلے میں متعدد تجاویز زیر غور ہیں ۔ ملک اقتصادی بحران سے نکل ;200;یا ہے اور اب عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کی فراہمی کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ داخلی اور خارجی چیلنجوں کے باوجود معیشت مثبت سمت میں گامزن ہے ۔ حکومت افراط زر میں کمی لا کر ملک میں استحکام کیلئے کوشاں ہے اور بلاتفریق احتساب کیا جا رہا ہے جس کے ملکی معیشت پر مثبت نتاءج مرتب ہو رہے ہیں ۔ حکومت حزب اختلاف لاک ڈان کی دھمکی سے خوفزدہ نہیں ہے حکومت نے اس وقت مسئلہ کشمیر پر توجہ دے رکھی ہے اور ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ جمہوریت میں احتجاج کرنا ہر کسی کا ;200;ئینی حق ہے ۔ دوسری جانب گوجرانوالہ ڈویژن کے ارکان قومی اسمبلی سے اسلام ;200;باد میں ملاقات میں وزیراعظم کاکہناتھا کہ عوام کی خدمت اور ان کامعیار زندگی بلند کرنا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ حکومت نے احساس پروگرام شروع کیا ہے جو ملک کی تاریخ میں غربت کے خاتمے اور عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کا سب سے بڑاسماجی فلاحی منصوبہ ہے ۔ صحت سہولت کارڈ عوام کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کریگا ۔ وزیراعظم نے ارکان پارلیمنٹ پر زوردیا کہ وہ اپنے حلقوں کے عوام کو درپیش مسائل کے حل میں موثر کردارادا کریں ۔

پاکستان کی کامیابی،افغان طالبان اور زلمے خلیل زاد ملاقات پررضامند

طالبان زلمے خلیل زاد سے ملاقات کرنے کےلئے رضامندہوگئے ہیں چونکہ دوحہ قطر کے مذاکرات کے بعد ملابرادر کی سربراہی میں وفد چین اورروس کے دورے کے بعد پاکستان ;200;یا ،یہاں اہم ملاقاتیں کیں ، افغانستان کےلئے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد بھی یہاں موجود ہیں ، وزیرخارجہ نے بتایا کہ اب طالبان اور ان کے مابین مذاکرات ہوں گے کیونکہ افغانستان کے مسئلے کاحل فوجی نہیں مذاکرات ہی ہیں ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ،افغان طالبان کے وفد کی زلمے خلیل زاد سے بھی ملاقات ہو گی،کچھ قوتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان کی مغربی سرحد سے فارغ نہ ہو لیکن ہم پر امید ہیں کہ افغانستان کے حالات بہتر ہوں گے ، ہم امن کی طرف جائیں گے ، افغانستان میں بھی قائم ہوگا، ہم اس کیلئے بھی کوششیں جاری رکھیں گے ،مسئلہ افغانستان کو جتنا طول دیا گیا مشکلات اتنی ہی بڑھیں گی ۔ افغانستان میں ہونے والے انتخابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ افغانی کیا چاہتے ہیں ، 36ملین رجسٹرڈ ووٹر میں سے صرف 2ملین ووٹرز نے ووٹ کیا ، افغانستان میں دیرپا بہتری کیلئے مذاکرات دوبارہ شروع کئے جائیں اور انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جائے ۔ طالبان اور امریکہ کے درمیان بات تقریبا ًطے ہو چکی تھی تاہم چند معاملات کی وجہ سے تعطل ;200; گیا ۔ امن کے بعد افغانستان گوادر کی بندرگاہ سے فائدہ اٹھا سکیں گے جس سے ان کی معیشت بہتر ہو گی ۔ عمران خان کے ساتھ طالبان کی ملاقات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں وزیراعظم طالبان کے ساتھ ملاقات کرنا چاہتے تھے لیکن افغان حکومت کی درخواست پر وہ رک گئے، اب بھی ہم نے انہیں اعتماد میں لیا ہوا ہے ۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جہاں ختم ہوا وہیں سے دوبارہ شروع ہو ۔ امریکہ کو پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کی کوششوں پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں پاکستان کی کوششوں کو سراہ چکے ہیں ۔

یوم یکجہتی کشمیر

بھارت کیلئے واضح پیغام

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے 61ویں روزبھی کرفیو پابندیوں کیخلاف اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جمعہ کو ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا ۔ ;200;زادکشمیر سمیت، پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلیاں نکالی گئیں اور احتجاجی مظاہرے کئے گئے، پورے پاکستان میں انسانی زنجیریں بنانے کے علاوہ عوامی ریلیوں کا اہتمام کیا گیاجبکہ سیمینارز اور دیگر پروگرامز میں بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی گئی ۔ نماز جمعہ کے اجتماعات میں کشمیر کی ;200;زادی کیلئے دعائیں کی گئیں ۔ بھمبر سے چکوٹھی تک ;200;زادی مارچ کیا گیا ۔ ریلیوں میں مودی سرکار کے مکروہ عزائم کو بے نقاب کیا گیا ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے ۔ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے ۔ بھارتی عدلیہ مقبوضہ کشمیر میں حکومت کے مظالم نظر انداز کررہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے80لاکھ سے زائد عوام چاہتے ہیں کہ عدلیہ کشمیر میں حکومتی اقدامات کیخلاف دائر درخواستوں پر فوری فیصلے کرے کیونکہ انہیں پانچ اگست سے محاصرے اور شدید مصائب و تکالیف کاسامنا ہے ۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ علاقے کو ایک کھلے حراستی مرکز میں تبدیل کردیا ہے ۔ بی جے پی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے ظالمانہ قوانین کا استعمال کرتے ہوئے سیاستدانوں ، تاجروں ، کارکنوں اور صحافیوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کرلیا تاکہ انہیں احتجاج سے روکا جاسکے ۔ بھارت اپنے اندرونی مسائل پرتوجہ دے کیونکہ بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کی وجہ سے معاشی بحران روز بروز خطرناک صورتحال اختیار کررہا ہے ۔ انتہا پسند جماعت بی جے پی کے دور حکومت میں بھارت میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ادھراقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریز نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے جہاں لوگوں کو گزشتہ 62دنوں سے سخت پابندیوں کا سامنا ہے ۔ اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈیوجیرک نے نیویارک میں معمول کی بریفنگ کے دوران مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال پر تشویش ہے اور انہوں نے ایک بار پھر بھارت اور پاکستان پر بحران کے حل کیلئے مذاکرات کرنے پر زور دیا ہے ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پرانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں باعث تشویش ہیں بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں دانستہ طورپر مسلمانوں کی نسل کشی کررہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیرکی خصوصی ;200;ئینی حیثیت کے خاتمے کافیصلہ نام نہادبھارتی جمہوریت کے چہر ے پر سیاہ دھبہ ہے ۔ پاکستان اورعالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کرانے کےلئے بھارت پر دباءو ڈالنا چاہیے ۔ حق خودارادیت کےلئے کشمیریوں کی گرانقدر قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔

ن لیگ اور پی پی کا اچھا فیصلہ مگر جے یو آئی ہٹ دھرمی پر قائم!

یقینا اَب حکومت کی پریشانی اور اُلجھن میں قدرے کمی آگئی ہوگی ۔ کیوں کہ آج دودھ کا دودھ پانی کا پانی الگ ہوگیا ہے ۔ ایسا اِس لئے ہواہے کہ پچھلے دِنوں ن لیگ اور پی پی پی کی اعلیٰ قیادت نے کھلم کھلا اپنی سیاسی بصیرت اور آگاہی کی بالغانہ حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۔ جمعیت علما ء اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے 27اکتوبر سے شروع ہونے والے حکومت مخالف آزادی مارچ سے نومبر یا بعد کے مہینے تک باضابطہ طور پر علیحدگی کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ جس سے پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا سیاسی شعور واضح ہوگیاہے اور عوام الناس میں اِن کا زیادہ نہیں تو تھوڑا بہت اچھا امیج گیا ہے ۔ جبکہ اِس پس منظر میں اہلیانِ دانش کا قوی خیال یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں بالخصوص ن لیگ اور پی پی پی کا رواں سال کسی بھی ایسے( بڑے یا چھوٹے) حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں یا تحاریک کا فائدہ صریحاََ انہیں نہیں بلکہ حکومت کوہوگا ۔ کیوں کہ اِن دِنوں ایک طرف بھارت کا جنگی جنون اورمقبوضہ کشمیر کا مسئلہ گرم ہے ۔ اِس صُورتِ حال میں مُلک کی اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کا ساتھ دینا چاہئے اوراپنے تمام ذاتی اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر ایک پیچ پر آناچاہئے اور حکومت کے بازومضبوط کرنے چاہئے ۔ اِس لئے مُلک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں ن لیگ اور پی پی پی نے آزادی مارچ نومبر یا اگلے مہینے تک موخر کر نے کی درخواست کی اور اپنی پوری کوشش کی کہ کسی بھی طرح سے مولانا مان جا ئیں ۔ اورکسی بھی طرح آزادی مارچ اگلے سال تک ملتوی کردیں ۔ مگر مولانا ہیں کہ جیسے اِن پر ضد سوار ہے ۔ یا اِن کے دل و دماغ میں حکومت مخالف فوبیا گھر کرچکا ہے ۔ یہ ایک پل بھی حکومت کو برداشت کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں ۔ اِس لئے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کے ہاتھوں مجبور ہوکر اکیلے ہی مولانا فضل الرحمان 27اکتوبر کو اپنے حکومت مخالف بغض اور کینہ کے ساتھ آزادی مارچ کرنے کی تیاریوں میں مگن ہیں ۔ یہاں عوام بس اِتنا ذہن میں رکھے کہ جب 27اکتوبر کو دُھوپ میں دینِ اسلام کا لبادہ اُوڑھ کر سیاسی بہروپ عوام کے دوست بن کرنکلیں ،تو عوام اِن کے پیچھے چاندی یا سونا سمجھ کر نہ ہولے ۔ کیوں کہ یہ وہ بہروپئے ہیں ۔ جن کو صرف اپنا ذاتی اور سیاسی مفاد عزیز ہے ۔ کسی بھی آزادی مارچ کے پیچھے خواہ کوئی بھی ہو سب کا مقصد عوام کو اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا کر اپنا الوسیدھا کرنا ہوتاہے بھلے سے عوام مریں تو مریں ،مگر مُلک میں انارگی پھیلا کر اِن کا مقصد حاصل ہوجائے ۔ حالا ں کہ اِس سے بھی اِنکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ مولانا کے سیاسی اور ذاتی مفادات میں رنگا آزادی مارچ سوفیصد ناکامی سے دوچار ہوجائے گا ۔ کیوں کہ مولانا کی سیاسی بصیرت اور آگاہی ن لیگ اور پی پی پی کی اعلی ٰ قیادت کے سیاسی معیار اور اپروچ کے مقابلے میں اتناقابل تحسین و پائیدار نہیں ہے ۔ جتنا کہ مولانا اپنی خودی میں گھم رہتے ہیں ۔ یا لوگ اِنہیں چڑھا دیتے ہیں ۔ سو یقین نہیں آتاہے ۔ تو دیکھ لیں ۔ بہت جلدخود لگ پتہ جائے گا کس کے سر پر کتنے بال ہیں ۔ بس تھوڑا سا انتظار کیجئے ۔ سب کا سب کچھ کیا دھراسب کے سامنے آجائے گا ۔ حقیقت یہ ہے کہ آزادی مارچ سے ن لیگ اور پی پی پی کے علیحدہ ہوجانے سے لامحالہ مولانا فضل الرحمان اکیلے رہ گئے ہیں اوراِن کا احتجاج بے اثر اور خالی ڈھول ثابت ہوگا ۔ جِسے بے سُرے ڈھول کو مولانا نے پیٹ پیٹ کر بجایاتو بہت مگرپھر بھی ساری محنت بے کارجائے گی ۔ تاہم بقول مولانا فضل الرحمان ہم اکیلے پندرہ لاکھ کا اجتماع آزادی مارچ کے نام سے اسلام آباد لاگ ڈاون کرنے کے لئے نکلیں گے ۔ ‘‘ اِس موقع پر کچھ دیر کے لئے سوچ لیں کہ مولانا جس مارچ اور دھرنے کو پُرامن قرار دے کر اسلام آباد میں دیر تک بیٹھنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ جس میں پورے مُلک سے لوگ شامل ہوں گے ۔ بھلا یہ پُرامن کیسے رہ سکتاہے;238;آج جیسا کہ محترم المقام عزت مآب حضرت قبلہ وکعبہ مولانا فضل الرحمان دعویٰ کررہے ہیں کہ اِن کا 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب شروع ہونے والا آزادی مارچ،جو حکومت کو گھر بھیجنے اور مہنگائی سے پریشان حال عوام کو حکومت سے نجات دلانے کےلئے ہے ۔ یہ حکومت مخالف آزادی مارچ انتہائی پُرامن اور حکومت سے آزادی کے لئے ہوگا ۔ (تو کیا آنکھ بند کرکے یقین کرلیا جائے کہ اِن کے آزادی مارچ کے شرکا ء ہاتھوں میں تسبیح اور مقدس کتب لئے ہوئے ہوں گے;238; حسبِ روایت مولانا کے مدرسے کے بچوں اور سیدھے سادھے مولویوں پر مشتمل آزادی مارچ کے شرکا ء کے ہاتھ میں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے لئے ڈنڈے نہیں لئے ہوں گے;4646;!! ایسا تو ہو ہی نہیں سکتاہے مولانا کے حکم پر نکلنے والے احتجاجی مارچ کے شرکاء لاٹھی ، ڈنڈوں ، پتھروں اور آتشین اسلحہ سے پاک ہوں ) مولانا اِس کی ضمانت لیں کہ اِن کے آزادی مارچ میں شامل افراد واقعی پُرامن اور پُرتشددکارروائیوں کے پاک جذبے سے سرشار ہوکرنہیں بلکہ اِنسان کے روپ میں فرشتے بن کا حکومت مخالف آزادی مارچ کو کامیاب بنا کرواپس لوٹیں گے اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے ۔ اگر سب کچھ اِس کے برعکس ہوگیاجیسا کہ ایسے موقع پر عموماََ ہوتا ہے ۔ تو پھر یقینی طور پر جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ حکومت کے تابوت میں کیل ٹھونکنے کے بجائے اُلٹا اپنے ہی سیاسی کیرئیر اور اپنی سیاست کے تابوت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خود اپنے ہی ہاتھوں آخری کیل ٹھونک دیں گے، اور پھر اِدھر اُدھر بغلیں جھانکتے پھریں گے ۔ اِس طرح اکیلے مولانا فضل الرحمان کا اپنی ذاتی اور سیاسی مفادات کے لئے نکالا جانے والا نام نہادآزادی مارچ مُلکی تاریخ میں ایک نئے سیاہ باب کا اضافہ کرجائے گا کہ جس میں جلی حروف سے لکھا ہوا ہوگا کہ’’ایک زمانے میں ایک مولانا صاحب نے اپنی ذات اور سیاست چمکانے کے لئے برسراقتداروزیراعظم عمران خان کی حکومت سے چھٹکارہ پانے کے لئے دینِ اسلام کے نام پر پندرہ لاکھ افراد پرآزادی مارچ کا لیبل لگاکرعوام کو اسلام آباد لاگ ڈاون کرنے کے لئے ہانکا، کُھدیڑا(عوام کو نکالا اور اسلام آباد کی شاہراہوں پر بھاگایا)مگر پھر بھی اُنہیں اِس میں ناکامی ہوئی اور وہ سُبکی سے دوچار ہوئے ۔ یوں اُنہوں نے اپنا جیسا تیسا بنابنایاسیاسی قد خود ہی زمین بوس کردیا ۔ جس کا کریڈٹ حکومت کوگیا اور اکیلے اسلام آباد لاگ ڈاون کرنے والے کے ہاتھ کچھ نہیں آیا‘‘ ۔ لہٰذاوقت اور حالات تقاضہ کرتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان بھی ن لیگ اور پی پی پی کی اعلی قیادت کی طرح اپنی اعلیٰ سیاسی بصیرت اور آگاہی کا ثبوت دیں ۔ اور یہ آزادی مارچ کے چکر سے فی الحال باہر نکلیں ، اور سارے اختلافات کو بھلا کر مقبوضہ کشمیرکے مسئلے کے حل اور بھارت کی خطے میں بدمعاشی اور چوہدراہٹ کے خاتمے کے لئے حکومت کا ساتھ دیں ۔ اِسی میں سب کی بھلائی ہے ۔ ورنہ حکومت مخالف تحاریک اور احتجاج کرنے والوں سے حکومت آئین اور قانون کے مطابق پوری قوت سے نمٹنے کا حق تو رکھتی ہی ہے ۔ مگر پھر بھی کوئی باز نہ آیا ۔ تو پھر حکومت قومی لٹیروں اور کرپٹ عناصر سمیت اپنے ہر قسم کے مخالفین کو زمین سے دوہاتھ اُونچا اُٹھاکر ڈھائی ہاتھ نیچے کرنے سے متعلق بھی سوچنے پر مجبور ہوجائے گی ۔

بھارتی آئین میں ریاستوں کی خصوصی حیثیت

بھارتی آئین کے مختلف آرٹیکلز کے تحت مختلف ریاستوں کو خصوصی حیثیت دی گئی ہے ۔ جس طرح جموں و کشمیر کو آرٹیکل 370 کے تحت خصوصی درجہ دیا گیا تھا جسے مودی حکومت نے 5 اگست کو ختم کر دیا اور اس وقت سے آج تک مقبوضہ وادی میں کرفیو جاری ہے ۔ اسی طرح بھارتی آئین میں دفعہ 371 کے تحت مختلف ریاستوں کو بھی خصوصی حیثیت دی گئی ہے ۔ جن ریاستوں کے لئے آرٹیکل 371 کے تحت خصوصی اہتمام کئے گئے ہیں ، ان میں سے زیادہ تر ریاست نارتھ ایسٹ کی ہیں اور خصوصی درجہ ان کی تہذیب کو تحفظ عطا کرنے پر مرکوز ہے ۔ 5 اگست کو جموں و کشمیر میں خصوصی درجہ کے حامل آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا گیا ۔ اس وقت سے وادی میں بے چینی کی کیفیت ہے ۔ بھارتی حکومت کے اس اقدام کا بین الاقوامی طورپر بہت زیادہ نوٹس لیا گیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس کشمیر ایشو پر منعقد ہوا ۔ آج کل بین الاقوامی سطح پر کشمیر میں کرفیو کا خاتمہ اور کشمیریوں کی آزادی ہاٹ ایشو بن چکا ہے ۔ کشمیرکے ساتھ آرٹیکل 371 نے بھی لوگوں کا دھیان اپنی طرف کھینچا ہے جو دیگر ریاستوں ، خاص کر نارتھ ایسٹ کی ریاستوں کو خصوصی درجہ عطا کرتا ہے ۔ جن ریاستوں کے لئے آرٹیکل 371 کے تحت خاص اہتمام کئے گئے ہیں ، ان میں سے زیادہ تر ریاست شمال مشرق کی ہیں اور خصوصی درجہ ان کی تہذیب کو تحفظ عطا کرنے پر مرکوز ہے ۔ آرٹیکل 371 ‘ اے ‘ کہتا ہے کہ ناگالینڈ کے معاملے میں ناگاؤں کی مذہبی یا سماجی روایتوں ، اس کے روایتی قانون اور عمل، ناگا روایت قانون کے مطابق، فیصلوں سے جڑے دیوانی اور فوجداری انصاف انتظامیہ ، زمین اور وسائل کی ملکیت اور منتقلی کے تناظر میں پارلیامنٹ کی کوئی بھی کارروائی نافذ نہیں ہوگی ۔ یہ تبھی نافذ ہوگی جب ریاستی اسمبلی اس کو نافذ کرنے کے لئے تجویز منظور کرے ۔ اس سلسلے میں نیشنلسٹ ڈیموکریٹک پروگریسیو پارٹی (این ڈی پی پی) کے نیءکی سلی نکی کائرے نے کہا تھا کہ آرٹیکل 371 اے ریاست کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے ۔ آرٹیکل 371 اے کہتا ہے کہ ریاست میں زمین اور وسائل حکومت کے نہیں ، بلکہ لوگوں کے ہیں ۔ ایم ایل اے نے کہا تھا کہ آرٹیکل 371 اے کے اہتماموں کی وجہ سے زمین مالکان اپنی زمین پر حکومت کو کوئی بھی ترقی کا کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ آرٹیکل 371;245;جی بھی اسی طرح کا ہے جو میزورم کے لئے خاص اہتمام مہیاکراتا ہے ۔ آرٹیکل 371 بی آسام کے لئے خاص اہتمام دستیاب کراتا ہے ۔ آرٹیکل 371 سی منی پور کو خاص اہتمام دستیاب کراتا ہے ۔ آرٹیکل 371 ایف، 371 ایچ بالترتیب سکم اور اروناچل پردیش کو خاص اہتمام دستیاب کراتے ہیں ۔ آرٹیکل 371 صدر جمہوریہ کو مہاراشٹر کے ودربھ اور مراٹھ واڑہ علاقوں اور باقی ریاست اور گجرات کے سوراشٹر، کچھ اور باقی ریاست کے لئے الگ ڈیولپمنٹ بورڈوں کی تشکیل کی طاقت عطا کرتا ہے ۔ آرٹیکل 371 ڈی، آرٹیکل 371 ای، آرٹیکل 371 جے، آرٹیکل 371 آئی بالترتیب آندھر پردیش، کرناٹک اور گووا کو خاص اہتمام مہیا کراتے ہیں ۔ بھارت خود اپنے اندر آزادی کی بے شمار تحریکوں کا شکار ہے جو کہ ناگا لینڈ سے میزو رام ، آسام، بنگال اور کھیرتک میں جاری ہیں مگر ہرتحریک میں پاکستان کا نام لے کر اسے بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ۔ بھارت میں کوئی بھی فساد ہو، ٹرین کا حادثہ، کوئی بم دھماکہ، سیلاب آجائے، زلزلہ آجائے یا کوئی بھی مصیبت ، بھارتی پولیس اور خفیہ ادارے بغیر کوئی تحقیق کئے اس کا سارا ملبہ پاکستان پر دھر دیتے ہیں ۔ کوئی بھی بے گناہ مسلمان پکڑ کر اسے پاکستان کا ایجنٹ بنا کر میڈیا کی چکا چوند کے حوالے کر دیا جاتا ہے ۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے بنگلہ دیش کی سرحد کے اندر دہشت گردوں کی ٹریننگ کےلئے کیمپ بنائے ہوئے ہیں تو کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان دنیا میں دہشت گردی کا محور ہے اور مخصوص مغربی پروپیگنڈہ کو آگے بڑھانے کےلئے بھارتی میڈیا شدت سے پاکستان کا نام لے دیتا ہے جس کا مقصد پاکستان کی سالمیت کے رکھوالے اداروں پرضرب لگانا ہوتی ہے ۔ بھارت کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کےلئے ہمیشہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کا سہارا لیتا ہے ۔ چونکہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں علیحدگی پسند تحریکیں حکام کی سر توڑ کوششوں کے باوجود اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں اور اندرون ملک دہشت گردانہ کارروائیاں ان کے معمول کا حصہ ہیں اس لئے بھارتی حکام کی نا اہلی دنیا پر عیاں ہوتی جارہی ہے ۔

سی پیک کو نقصان پہنچانے کی بھارتی منصوبہ بندی

حال ہی میں چینی وزیرخارجہ نے دورہ پاکستان میں سی پیک کے جاری منصوبوں کو جلد مکمل کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک منصوبوں سے روزگار کی فراہمی، صنعتی پارکس اور زراعت کے شعبے میں انقلاب برپا ہو جائےگا ۔ دونوں ممالک کے درمیان سی پیک منصوبہ ایک نئے فیز میں داخل ہو چکا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں پاک چین تعلقات، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) فریم ورک کے تحت چین کے تعاون پر اظہار تشکر کیا ۔ جواباًصدر شی جن پنگ نے سی پیک منصوبوں میں تیزی لانے پر پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سی پیک سے قومی و علاقائی معاشی ترقی کے عمل میں مدد ملے گی ۔ حقیقت میں بھارت کو سی پیک لڑ گیا ہے ۔ بھارت کو پاک چین مشترکہ اعلامیہ پر تشویش لاحق ہوگئی ہے ۔ اسی ضمن میں بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کو آزاد کشمیر میں پاک چین راہداری منصوبے (سی پیک) پر اپنی سرگرمیاں بند کر دینی چاہئیں کیونکہ آزادکشمیر بھی بھارت کا حصہ ہے جس پر پاکستان نے 1947 سے قبضہ کر رکھا ہے اور اس میں کسی قسم کا بھی منصوبہ بھارت کی اجازت کے بغیر نہیں مکمل ہو سکتا ۔ بھارت نے صرف پاکستان کی ضد میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے اجلاس میں شرکت سے معذرت کی تھی جس پر بیجنگ نے بھارت کے پاک چین اقتصادی راہداری پر اعتراضات کو بہانہ بنا کر ’بیلٹ اینڈ روڈ فورم‘ کے ہونے والی دوسرے اجلاس میں شرکت سے انکار کے عمل کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے بھارت کو جلد بازی میں فیصلہ کرنے سے باز رہنے کا کہا ہے ۔ بھارت نے 2017 میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے پہلے اجلاس کا بائیکاٹ بھی کیا تھا ۔ اس ضمن میں چینی قیادت کہنا ہے کہ بی آر آئی ایک معاشی پروجیکٹ ہے جس میں جنوب ایشیائی، خلیجی ممالک اور یورپی ممالک ایک دوسرے سے منسلک ہوجائیں گے اور تجارتی فوائد حاصل کریں گے ۔ اس پروجیکٹ کا کسی بھی زمینی تنازع یا ملکیت سے کچھ لینا دینا نہیں ہے اس لیے بھارت اپنی بے جا ضد چھوڑ دے ۔ چین نے سی پیک پر بھارتی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ خوش اسلوبی سے جاری ، بھارت مبالغہ آرائی سے باز رہے ۔ بھارتی خدشات بے بنیاد ہیں ۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ اب عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے ۔ پاکستان میں توانائی کے سترہ میں سے گیارہ منصوبوں پر کام شروع کردیاگیا ہے ۔ ان میں سے چند منصوبے مکمل بھی ہو چکے ہیں ۔ منصوبوں کی تکمیل سے ملک میں بجلی کی قلت پرقابو پانے میں مدد ملے گی اور پاکستان کے عوام کو ریلیف ملے گا ۔ چین امن اورترقی کا وکیل ہے ۔ خطے میں بالادستی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا ۔ ہماری وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے گلگت بلتستان میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کی ہے اور بھارت سی پیک کی تنصیبات کو نقصان پہنچاسکتا ہے ۔ اس صورتحال میں وزارتِ خارجہ میں خصوصی سی پیک ڈیسک قائم کردیا گیا ہے جس کا مقصد مختلف بین الاقوامی فورمز پر سازشوں سے نمٹنا ہے ۔ صوبے میں بدامنی پھیلانے کےلئے ’’را‘‘ فنڈنگ بھی کررہی ہے جس کا ہدف آخر سی پیک ہی ہے ۔ سی پیک روٹ پرموجود آر سی سی پلوں کو خطرات لاحق ہیں ۔ وزارت داخلہ کے خط میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ بھارت نے چار سو نوجوانوں کو تخریب کاری کی تربیت کےلئے افغانستان بھیجا ہے ۔ یہ تربیت یافتہ نوجوان شاہراہ قراقرم کو بھی نقصان پہنچاسکتے ہیں ۔ گلگت بلتستان اور دوسرے شمالی علاقے دشوار گزار ہیں یہاں سڑکیں اور پل بنانا دِقت طلب کام ہے اور انجینئرنگ کے شاہکار شاہراہِ قراقرم کی سی پیک کے تحت جو اپ گریڈیشن ہورہی ہے اس کی وجہ سے اس شاہراہ کی افادیت بہت بڑھ جائیگی ۔ اگلے چند برسوں میں یہ منصوبے پاکستان کی معیشت میں اپنا شاندار حصہ ڈال رہے ہوں گے ۔ اس لئے بھارت نے یہی وقت غنیمت جانتے ہوئے ان منصوبوں کو سبوتاژ کرنے پر کمر کس لی اس سے پہلے اس نے ہر سطح پر کوشش کرکے دیکھ لی ۔ منصوبوں کو متنازعہ بنانے کے لئے بھی طرح طرح کے شوشے چھوڑے گئے ۔ نریندر مودی نے چینی صدر شی چن پنگ سے شکایت کی ۔ بعد میں بھارتی وزارتِ خارجہ کے افسروں کے ذریعے بھی سفارتی سطح پر کوشش کی جاتی رہی کہ کسی طرح ان منصوبوں کو روکا جائے ۔ جب ساری کوششیں رائیگاں گئیں تو بھارت نے اس معاملے میں امریکہ کو بھی گھسیٹ لیا جس کا ان منصوبوں سے کوئی بلاواسطہ تعلق بھی نہیں اور اگر امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب ہوتے ہیں تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ پاکستان اپنے دوسرے دوستوں کے ساتھ مل کر اپنی معیشت کو رواں دواں رکھنے کےلئے اقدامات کرے ۔ سی پیک ایسا ہی ایک گیم چینجر منصوبہ ہے ۔ جب بھارت سے بھی کچھ حاصل نہ ہوا تو براہ راست سبوتاژ کی کارروائیاں شروع کردیں جس کا اعتراف بھارتی جاسوس اپنے اقبالی بیان میں کرچکا ہے ۔ بھارتی کارروائیوں کو ناکام بنانے کےلئے ضروری ہے کہ نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے ملک میں منصوبوں کی حفاظت فول پروف بنائی جائے خاص طور پر چینی انجینئروں اور ماہرین کی سیکیورٹی میں کوئی رخنہ باقی نہ رہنے دیا جائے کیونکہ اگر چینی باشندے اسی طرح ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوتے رہے تو چین کی قیادت ان منصوبوں پر نظر ثانی کرسکتی ہے اور یہی بھارت کا مقصد ہے کہ ہر جانب سے ناکامی کے بعد اب وہ تخریبی کارروائی پر اتر آیا ہے ۔

سانحہ چونیاں ، ذمہ دارکون

معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اورپھرقتل کے بڑھتے ہوئے واقعات نے والدین کوانتہائی پریشان کردیاہے ۔ بچوں کوسکول و مدرسے بھیجے بغیرتوکسی صورت گزارا نہیں اوربچوں کو اپنی ہی گلی محلے میں کھیل کودکی اجازت نہ دینابھی نا انصافی ہے ۔ تین تین چار چارسال کی عمر کے معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی و قتل کے واقعات کی خبروں کے بعدوالدین اپنے بچوں کو گھر میں قیدکرنے کے علاوہ کیا کرسکتے ہیں ;238;والدین کوشدیدکرب میں مبتلاکرنے والے یہ حالات اگلی نسل کوان پڑھ اورذہنی بیماربنارہے ہیں ایک رپورٹ کے مطابق سال2017ء میں ملک بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے 4139 واقعات پیش آئے جن میں زیادہ 1089واقعات پنجاب میں رونما ہوئے ۔ صرف قصور میں گزشتہ دس برسوں میں 272 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں با اثر سیاسی افراد ملوث پائے گئے ۔ ہ میں بتایاجاتاہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات روکنے کیلئے قانون سازی کی گئی ہے ۔ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی یا چائلڈ پروٹیکشن سیل کی طرز کے ادارے تقریباً تمام صوبوں میں کام کررہے ہیں ۔ حکمران کہتے ہیں ان واقعات کی روک تھام کے لیے قوانین بھی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد کون اور کب کرے گا;238;گزشتہ سال قصور میں ننھی زینب کودرندگی کانشانہ بنانے کے بعد بے دردی کے ساتھ قتل کردیاگیاتھا اورپھرمحکمہ پولیس کی روایتی سستی کے باعث بروقت قاتل کی گرفتاری نہ ہونے پرجب عوام نے احتجاج کیاتواُس احتجاج میں دوبے گناہ شہری پولیس کی گولیوں کی نظرہوگئے تھے ۔ پورے ملک کے میڈیا ۔ سوشل میڈیا اورعوام کے بھرپوراحتجاج کے بعداس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف اوروزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے نوٹس لیاتوپولیس اوردیگرمحکمے حرکت میں آئے ۔ طویل اورانتھک جدوجہد کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے پریس کانفرنس میں عمران نامی شخص کوزینب کے ساتھ درندگی اورقتل کے جرم میں گرفتارکرنے کا اعلان کیاجسے بعدازاں بذریعہ عدالت بھانسی کے پھندے تک پہنچایاگیا ۔ جس طرح پرانے پاکستان میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے پریس کانفرنس کی ٹھیک اسی طرح نئے پاکستان میں بھی شدید احتجاج اورعوامی ردعمل پرحکومت ہوش میں آئی اورآخرکارٹھیک اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب وسیم اکرم پلس عثمان بزدارنے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایاکہ قصور کے علاقے چونیاں میں چار بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد انھیں قتل کرنے والے مبینہ ملزم کو ڈی این اے کی شناخت کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے پریس کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ چونیاں کے واقعات میں ملوث شخص کا تعلق اسی علاقے سے ہے اور ملزم کی شناخت ڈی این اے میچ ہونے کے بعد منگل کی صبح ہوئی ۔ انھوں نے بتایا کہ 200 فیصد تصدیق ہو چکی ہے کہ زیادتی کے بعد چار بچوں کو قتل کرنے کے واقعات میں ایک ہی ملزم ملوث ہے ۔ ایک بچے کی لاش اور تین بچوں کی ہڈیوں سے ڈی این اے کے ذریعے ملزم کو شناخت کرلیاگیا ہے ۔ آر پی او شیخو پورہ سہیل حبیب کے مطابق ملزم نے سب سے پہلے 3 جون کو 12سالہ عمران کو اغوا کے بعد زیادتی کر کے قتل کیا اس کے علاوہ ملزم سہیل شہزاد نے علی حسنین ۔ سلمان اور فیضان کو بھی زیادتی کے بعد قتل کیا ۔ سہیل حبیب کے مطابق ملزم کو 29 ستمبر کو گرفتار کیا گیا جب وہ ڈی این اے کے ڈر سے لاہور فرار ہونے کوشش کررہاتھا ۔ سہیل حبیب نے بتایاکہ پولیس نے روایتی تفتیشی ذراءع، ہیومن انٹیلی جنس اور اس کے بعد ڈی این اے کی مدد لی ۔ جبکہ پولیس نے جائے وقوعہ سے ملنے والے جوتوں کے نشان کو محفوظ کیا اور اسے مقدمے کا حصہ بنایا ۔ جائے وقوعہ پر ملزم کے جوتے ہی اس کی گرفتاری کا سبب بنے کیونکہ ملزم نے گرفتاری کے وقت بھی وہی جوتے پہن رکھے تھے،پولیس کے مطابق ملزم سہیل شہزاد غیرشادی شدہ ہے جس کابدھ کے روزعدالت نے15روزہ جسمانی ریمانڈدے دیاہے ۔ اعلیٰ حکام سے آج ایک عاجزباپ کی حیثیت سے پوچھناچاہتاہوں کہ تبدیلی کہاں ہے;238;محکمہ پولیس نے ٹھیک اسی طرح روایتی سستی کامظاہرہ کیاجیسے پرانے پاکستان میں کیاکرتاتھا ۔ ٹھیک اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب نے چونیاں کے معصوم بچوں کے قاتل کی گرفتاری کا اعلان بذریعہ پریس کانفرس کیاجیسے میاں شہبازشریف نے بطوروزراعلیٰ پنجاب قصور کی معصوم زینت کے قاتل کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا ۔ ٹھیک اسی طرح بطوروزیراعظم عمران خان نے بھی نوٹس لیاجیسے بطوروزیراعظم میاں نوازشریف نے لیاتھا ۔ ٹھیک اسی طرح چارمعصوموں کے قتل اورجنسی زیادتی کیس میں ایک مجرم کوسخت سزادے دی جائے گی ۔ ہ میں بتایاجائے کہ تبدیلی کہاں ہے;238;ہ میں کون بتائے گاکہ معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی اورانتہائی حیوانیت کے بعد قتل کے پیچھے اصل محرکات کیاہیں ۔ آج توانتہائی فحاشی اور عریانی کادورہے آخراس سارے معاملے کے پیچھے حقائق کیا ہیں ;238; ذہن ودل یہ بات تسلیم کرنے کیلئے ہرگزتیارنہیں کہ آج کے اوپن ماحول میں کوئی مردصرف تین ۔ چاریاپانچ سال عمرکے معصوم بچے کواپنی جنسی خواہش پوری کرنے کیلئے استعمال کرتاہے اور پھر قتل بھی کردیتاہے;238;اورعلاقے میں کہرام مچ جانے کے بعد بھی وہی شخص بازنہیں آتا اسی قسم کی وارداتیں جاری رکھتاہے ;238;یہاں یہ بات بھی یاد رہنی چاہئے کہ قصورکے علاقے میں ایسے واقعات کاتسلسل کے ساتھ جاری رہنا اورکچھ با اثرسیاسی عناصرکے ملوث ہونے کو مد نظرر کھا جائے تو یقینا اس سارے معاملے کے پیچھے کچھ اور عوامل بھی شامل ہوسکتے ہیں جن سے پردہ اُٹھایا جانا لازم ہے ۔ سانحہ چونیاں میں گرفتارملزم نے صرف جنسی ہوس پوری کرنے کی غرض سے چار معصوم بچوں کے ساتھ درندگی کے بعدقتل کیاہے توبھی یہ سانحہ ماضی کی طرح پورے معاشرے کے منہ پرطمانچہ ہے جس کی شدت ہ میں محسوس ہونی چاہیے ۔ کیوں ہم بالغ بچوں کے نکاح نہیں کرتے;238; کیوں ہم جنسی بے راہ روی اورفحاشی کوفروغ دیتے ہیں ۔ کیوں ہم نے نکاح کی جگہ بے راہ روی کوآسان بنادیاہے;238; عریانی آسان ہونے کے باوجودایسے سانحات کارونماہونا اس بات کی دلیل ہے کہ جنسی آزادی حل نہیں تباہی ہے ۔ معاشرے میں جنسی ہوس اس قدربڑھ گئی ہے توپورے سسٹم کی خرابی ہے جسے تبدیل کرنا ناگزیر ہے ۔ وزیراعظم پاکستان نے میرا بچہ الرٹ کے نام سے خصوصی ایپلی کیشن بنانے کا حکم دیا ہے ۔ میرا بچہ الرٹ ایپلی کیشن کامقصد کسی بھی بچے کی گمشدگی کی صورت میں اس ایپلی کیشن پر کواءف کے اندراج کی صورت میں تمام تفصیلات صوبوں کے آئی جیز اور دیگر سینئر افسران تک فوری طور پر پہنچ جائیں گی ۔ وزیراعظم عمران خان کے خیال کے مطابق عمل ہوجائے تومیرا بچہ الرٹ ایپلی کیشن اچھا اقدام ثابت ہوگا ۔ جناب وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب اس باربھی چونیاں کیس کی مکمل چھان بین کے بعد اصل حقائق عوام کے سامنے نہ لائے گئے توپھریادرکھیں جس تبدیلی کی اُمیدپرعوام نے آپ کومنتخب کیاتھاوہ نہیں آسکتی اور عوام آپ سے یہ باربارسوال کرتے رہیں گے کہ تبدیلی کہاں ہے;238;اوریہ بھی یاد رہے کہ چونیاں میں درندگی کا نشانہ بننے والے معصوم ایسے پہلے یا آخری بچے نہیں جب تک قوم کی غیرت نہیں جاگتی ۔ جب تک حکمران خواب خرگوش کے مزے لیتے رہیں گے ایسے انسانیت سوزواقعات رونما ہوتے رہیں گے ۔ والدین اپنے بچوں کے متعلق سوچ کرشدیدکرب میں مبتلارہیں گے اوراللہ تعالیٰ کے عذاب کبھی زلزلوں کبھی مہنگائی ۔ کبھی جنگ ۔ کبھی کرپشن ۔ کبھی نا انصافی کی صورت نازل ہوتے رہیں گے

کیا حکمت نورانی! ۔ ۔ ۔ ۔ یہ حکمت مولانا

27اکتوبر ۔ ۔ ۔ ۔ یوم کشمیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یا یلغار ہندوستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور فضل الرحمن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کی ایٹمی ریلی ۔ ۔ ۔ ۔ مولانا کشمیر سے یکجہتی کے سلسلے ۔ ۔ ۔ ۔ اسلام آباد پر حملہ کرینگے ۔ ۔ ۔ ۔ اس اعلان سے یہ بات سامنے ہوئی ۔ ۔ ۔ کہ اس یکجہتی کے اعلان کی آژ میں وہ کشمیر واپس دینے کا تقاضا کریں ۔ جسے اسلام ۔ ۔ ۔ ۔ اور اسلام آباد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دو الگ اصطلاحات ہیں ۔ ۔ ۔ ایک ظرف مکاں ہے اور دوسرا تصور نصبا لعین حیات ۔ ۔ ۔ ۔ اسلام ایسا تصور حیات ہے جو ۔ ۔ ۔ ۔ امن ۔ ۔ ۔ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور جبر اور ظالم کے ہاتھوں جکڑی انسانیت کو پر امن بنا نا ۔ ۔ ۔ ۔ اسلام کا ارفع مقصد ہے ۔ ۔ ۔ اب اسلام اور اسلام آباد کا فرق مولانا سمجھنا نہیں چاہتے ۔ ۔ ۔ ۔ دراصل مولانا ایک چابکدست مولانا ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ دینی معاملات سے عملن ایک غافل مولانا ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلکہ ملکی سیاسی منچلے انکو ۔ ۔ ۔ ۔ سیاسی پنڈت قرار دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ انکا نشانہ وہاں ٹکتا ہے جہاں اسکی روزی روٹی لگتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ بے نظیر ۔ ۔ ۔ ۔ نواز شریف کو اسلام یا پھر اسلام آباد کے دائرے سے خارج قرار دیتے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مگر جونہی وزارت یا پوزیشن ملی ۔ ۔ ۔ ۔ انہیں جھپیاں لگائیں ۔ ۔ ہ میں یاد ہے ۔ ۔ ۔ پرویز مشرف کے ساتھ مل بیٹھنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھی اسلام آباد سے انکی محبت کی مثالیں ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ماضی قریب کا افسانہ ہے ۔ مولانا ۔ ۔ ۔ ۔ دراصل ہندوستان سے یکجہتی منانے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ کیونکہ کشمیر کمیٹی کے اس سابقہ نیم مولانا نے اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جادوگر ۔ ۔ ۔ نے ہندوستان کو خوش رکھا ہے ۔ ۔ ۔ ایک لفظ تک اس نے کشمیر مسلمانوں کے حق میں نہیں بولا ۔ ۔ ۔ یہ اتفاق نہیں ۔ ۔ ۔ مولانا نے مودی کو اشارہ دے دیا میں آپکے کشمیر پر غاصبانہ حملے کو سلام پیش کررہا ہوں ! چونکہ اس وقت مولانا کی محنت کی کمائی ۔ ۔ ۔ انکے ذاتی خزانوں سے اڑنے لگی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باوجود بسیار کو شش کے ۔ ۔ ۔ دو کرپٹ علامتی پارٹیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مولانا کے ہم پیالہ ۔ ۔ ۔ متذبذب ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ سو مولانا اپنی خلائی مخلوق ۔ ۔ ۔ ۔ جن کی تربیت انکے اباوَاجداد نے عشروں سے جاری رکھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مولانا کی تربیت سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایٹمی توانائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں بد چکی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ مولانا بہت شاطر ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ان بچوں کو جو انکے بچے نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ انہیں ۔ ۔ ۔ ۔ بتایا گیا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی قوت ایمان سے ۔ ۔ ۔ ۔ اسلام کے افاقی کلمہ لا الہ ۔ ۔ ۔ ۔ کا ورد کر کے ۔ ۔ ۔ ۔ اسلام آباد کے درو دیوار ۔ ۔ ۔ ۔ گرادو ۔ ۔ ۔ ۔ اسلام بھی زندہ ہوجائیگا ۔ ۔ ۔ ۔ کشمیر ہندوستان کے حوالے ہوجائیگا ۔ ۔ ۔ ۔ اسلام زندہ ہو جائیگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور عمران خان برباد ہوجائیگا ۔ ۔ ۔ ایک طالب علم نے اٹھ کر مولانا سے سوال کیا ۔ ۔ ۔ حضرت جی اگر آپ شہید ہوگئے ۔ ۔ ۔ ۔ تو کیا اپنی ساری جائیداد ہم 15لاکھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غریب بچوں میں تقسیم کر دینگے ۔ ۔ ۔ ۔ تاکہ ہم بھی اپنی تعلیم ۔ ۔ ۔ انگریزی اداروں میں حاصل کر سکیں ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ننھی خواہش ان بچوں کے قلب میں مرتسم ہے ۔ مولانا ۔ ۔ ۔ ۔ سٹپٹپایا ۔ ۔ ۔ اس غیر معقول سوال پر ۔ ۔ ۔ کہا ۔ ۔ ۔ اللہ نہ کرے میں شہید ہوں ۔ ۔ ۔ میرے بچوں شہادت آپکی تقدیر میں لکھی جاچکی ہے ۔ ۔ ۔ راہنما شہید ہوگیا تو تحریک رک جاتی ہے ۔ ۔ ۔ اور اسلام خطرے میں آجا تاہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور کوئی ایسا سوال نہ کریں ۔ ۔ ۔ جس سے اسلام کو خطرہ ہو ۔ ۔ ۔ دوستو! آئین ریاست باپ ہے ۔ ۔ ۔ ایک باپ اُس وقت مر جاتا ہے جب اس کے بچے ۔ ۔ بد کردار ، بد اخلاق اور دیگر عیاشی کی سرگرمیوں میں ۔ ۔ ۔ ۔ بدنامی کا باعث بن کر گھر میں داخ;231; ہوتے ہیں ۔ بزرگ باپ اگر جاندار ہے تووہ یا تو ان کو گھر سے عا ق کردیتا ہے ۔ یا کمزور ہوا تو ۔ ۔ ۔ ۔ لمحہ لمحہ مرتا چلا تا جاتا ہے ۔ سیاستدانوں نے ایک کھیل تماشہ رچایا ہوا ہے ۔ اپنے داخل معقدین، پیروکار وں کی ایک ایسی فوج بناتی ہے جس کو بوقت ضرورت ۔ ۔ ۔ اس عظیم باپ ۔ ۔ ۔ ریاست کے کسی بھی گوشے کو اپنے حملوں سے زخمی گرتے اور ٹکریں مار مار کر ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی جیب سے ۔ ۔ ۔ ۔ وہ سرمایہ اخذ کرتے ہیں ۔ تاکہ وہ زندگی کے معاملات کو اپنی پسند ، اپنی مرضی اور دھانس دھونس ۔ ۔ ۔ سے سنبھال سکیں ۔ ۔ ۔ مہذب قوموں میں تصور نہیں کی جاسکتی ۔ ۔ ۔ ۔ آج تک یہ طے نہ ہو سکا کہ فضل الرحمن ۔ ۔ ۔ جن مدرسواں کے کاروبار میں ملوث ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی فنڈنگ کہاں سے آتی ہے ۔ یہ کیسے علمی ادارے ہیں کہ جن کے بچوں کو ۔ ۔ اس قدرگھناوَ نے جرم پر آمادہ کیا جا رہا ہے ۔ ۔ حکومت وقت اس حرکت پر کیوں خاموش ہے ۔ وہ ہر وہ دفاعی اقدام بوجہ مجبور ی کرے گی کہ جس کا سے ۔ ۔ ۔ ۔ انسانی جانوں کا زیان متوقع ہے ۔ حکومت ، آئین ریاست کے تابع ہے ۔ اس قسم کی من چلیاں جو کہ صرف ذاتی مفاد، کی خاطر ہیں ۔ انسانی جانوں کو لاحق خطرہ ایک المیہ ہو یا سرکاری املاک کو نقصان ہوگا ۔ مولانا کرسی تک رسائی اور سیاسی قلابازیوں کے معاملے میں کفر کی حد تک ایمان رکھتے ہیں ۔ ان کا سیاسی کیرئیر اس قسم کے خرافات سے پھر پور ہے ۔ وہ مولانا اس لئے کہلوانا پسند کرتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ان مدارسوں کی آڑ میں ان کی مذہبی پیشوائیت یا پھر مانیت کا بھر م قائم رہے ۔ وگرنہ ۔ ۔ ۔ کہنے والے یہ کہتے ہین کہ پر اس شے کے سیاسی جس میں لطف شدید ہو ۔ اگرچہ اس لانگ مارچ ۔ ۔ ۔ ۔ کے نتاءج مولانا کی نفسیاتی ، سیاسی اور مولانویت کے لبادے کے لئے ۔ ۔ ۔ بے حد مہلک ہوں گے ۔ ۔ ۔ یہ ایک نفسیاتی کیس ہے جس کسی کے کردار میں ، ہوس، لالچ کا جن نمودار ہوتا ہے ۔ تو وہ اس کی تکمیل کے لئے ہر وہ حربہ استعمال کرتا ہے اور لذت کیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چھٹتی نہیں شراب منہ گونگی ہوئی! سو! مولانا کا 27اکتوبر کا دن چننا کیا ہے ;238;ہندوستان کو پیغام دیتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ پاکستان کشمیر کی یوم آزادی منا رہا ہے ۔ اور میں 27اکتوبر کو ۔ ۔ ۔ کشمیر کے راستے ۔ ۔ ۔ سری نگر میں آپ سے ہم بغل ہو جاؤں گا ۔ پاکستانی لعن طعن کرینگے کہ مولانا منافقت کر رہا ہے ۔ کشمیر کے نام ۔ ۔ ۔ ہندوستان کو ۔ ۔ ۔ اُنکے ’’یوم عصب‘‘ کا ہمنوا بن رہاہے ، مودی کو اس نے یہ پیغام دیا ۔ ۔ مجھے منافقت کہنے والے خود منافق ہیں ۔ ۔ ۔ تو مجھے کہ دیا تو کیا فرق پڑتا ہے ۔ مولانا کا انجام آئندہ آئے والے دنوں مین سبق کے لئے پیش کیا جائے گا ۔ مولانا ایک نفسیاتی مریض بن چکا ہے ۔ اسی طرح ی سارے سیاست دان ۔ ۔ ۔ جن کا صرف ایک ہی مقصد ہے ۔ کہ ’’اپنے باپ ‘‘ ریاست پاکستان سے خون یعنی دولت جس قدر نچوڑا جاسکتے کم ہے ۔ ایسے جادوگر سیاستدان بھول چکے ہیں کہ یہ اپنے مکافات عمل کے ڈیڈلائن کے بے حد قریب آگئے ۔ مولانا اور انکے اتحادی ۔ ۔ ۔ خوف سے مقابل ہیں انکے اعمال نے انکو نفسیاتی طور پر کمزور کر دیا ہے ۔ مولانا جانتا ہے کہ اگر اس نے یہ آخری داوَ نہ کھیلا تو وہ جیتے جہنم ہی واصل ہو جائے گا ۔ اس کے لئے انہوں نے ’’ مدرسے ‘‘ کے غریب بچوں کو گمراہی کے اس راستے پہ لگا رہا ہے کہ اسکی نہیں قرب المرگی واضح طور پر نظر آرہی ہے ۔ مولانا نے بچوں کی کفالت اس لئے کہ وہ ’’مسلمان بمقابلہ مسلمان گھڑا ہو جائے ۔ اگر یہ جموں کے راستے ۔ ۔ ۔ ۔ سری نگر تک اعلان جہاد کرلیں تو ’’بچوں کا جذبہ بھی لائق تحسین ہوگا ۔

وزیراعظم سے افغان طالبان وفد کی ملاقات، امن عمل مذاکرات بحال کرنے پر اتفاق

امریکہ نے افغانستان کے معاملے میں پاکستان کی مدد طلب کی تھی ۔ پاکستان ہمیشہ ہی اس بات پر کاربند رہا کہ مسائل جنگ سے نہیں مذاکرات سے حل ہوتے ہیں ۔ اسی سلسلے میں ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں طالبان کا وفد امریکہ سے مذاکرات میں تعطل کے بعد روس گیا اور اب پاکستان آیا ہوا ہے جہاں اس نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات کی ۔ اس سے قبل وزیر خارجہ سے بھی ملاقات ہوئی ۔ وفد نے اس بات کا اظہار کیا کہ مذاکرات میں تعطل امریکہ کی وجہ سے آیا ہے ۔ طالبان آج بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں ۔ امریکہ کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اگر وہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنا چاہتا ہے تو اسے مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑے گا ۔ ماضی کی تاریخ دیکھ لیں کہ جس ملک نے خطہ افغانستان کی سرزمین پر قدم رکھا اس کو فاتح کرنا چاہا تو وہ یہاں سے مقتوح ہوکر ہی نکلا ۔ چاہے اپنی شکست تسلیم کرے یا نہ کرے مگر حقیقت یہ ہی ہے کہ روس کو نہ صرف شکست ہوئی بلکہ افغانستان سے ہزیمت کے بعد شکست و ریخت کا بھی شکار ہوگیا پھر دنیا میں صرف امریکہ ہی سپر پاو رہ گیا ۔ طاقت کی تقسیم ختم ہونے کی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہوئی ۔ کیونکہ گاءوں کا ایک چوہدری ہو تو وہ جو مرضی کرے اگر اسے آگے سے کوئی روکنے والا موجود ہو تو پھر وہ من مانی نہیں کرسکتا اب امریکہ کی بھی یہی پوزیشن ہے ۔ وہ چاہے دنیا کے کسی بھی ملک کو تختہ مشق بنالے لیکن افغانستان میں حالات مختلف ہیں ۔ یہاں پوری ایک نسل جنگ کے حالات میں جوان ہوچکی ہے ، بارود، دھماکے ، فائرنگ ان کیلئے کوئی حیثیت نہیں رکھتے پھر افغانستان کی سرزمین پر باہر سے آنے والا حملہ آور زمینی جنگ کسی صورت نہیں جیت سکتا ، چھاپہ مار کارروائیوں میں آنے والی بیرونی قوتوں نے ہمیشہ ہی نقصان اٹھایا ۔ اب یہ ہی حالت امریکہ کی ہے ۔ مصداق اس کے کہ امریکہ اس کمبل کو چھوڑنا چاہتا ہے مگر اب کمبل اس کو نہیں چھوڑ رہا ۔ اسی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے مدد طلب کی ہے ۔ افغان طالبان کے اعلی سطحی وفد نے ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں وزیر اعظم ہاوس میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے ۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں وزیر خارجہ سے وفد کی ہونے والی ملاقات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ملاقا ت کے دوران طالبان کے سیاسی وفد کی سربراہی ملا عبدالغنی برادر نے کی اور اس ملاقات کے دوران خطے کی صورتحال اور افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا ۔ اس ملاقات کے موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین دو طرفہ برادرانہ تعلقات، مذہبی، ثقافتی اور تاریخی بنیادوں پر استوار ہیں پاکستان گذشتہ 40 برسوں سے افغانستان میں عدم استحکام کا خمیازہ یکساں طور پر بھگت رہا ہے ۔ پاکستان صدق دل سے سمجھتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور افغانستان میں قیام امن کے لیے ;39;مذاکرات;39; ہی مثبت اور واحد راستہ ہے ۔ ہ میں خوشی ہے کہ ;200;ج دنیا، افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے موقوف کی تائید کر رہی ہے ۔ پاکستان نے افغان امن عمل میں مشترکہ ذمہ داری کے تحت نہایت ایمانداری سے مصالحانہ کردار ادا کیا ہے کیونکہ پرامن افغانستان پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے ناگزیر ہے ۔ ہماری خواہش ہے کہ فریقین مذاکرات کی جلد بحالی کی طرف راغب ہوں تاکہ دیرپا، اور پائیدار امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے ۔ گذشتہ کئی برسوں سے پاکستان دنیا کو یہ یاد کرواتا رہا ہے کہ وہ افغانستان کی ہارڈ کور سخت گیر سیاسی، معاشی، معاشرتی اور تہذیبی زمینی حقائق کو نظرانداز نہ کریں ۔ افغان تنازعے کا پرامن حل تشدد کے واقعات میں نمایاں کمی کا باعث بنے گا ۔ افغانستان میں امن کے حصول کے لیے موجودہ علاقائی اور بین اقوامی اتفاق رائے نے ایک بے مثل موقع فراہم کیا ہے جو کسی صورت ضائع نہیں ہونا چاہیے ۔ تعطل کے شکار افغان امن عمل کی دوبارہ شروعات جلد ہی ہو گی ۔ دوسری جانب افغانستان کے چیف ایگزیکیوٹو عبداللہ عبداللہ نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کی خاطر طالبان کو کابل کے ساتھ بات چیت کرنے پر ;200;مادہ کر پائے گا ۔ کابل میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ خان سے ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انھیں افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر ;200;مادہ کر پائے تو ملک میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو تقویت ملے گی ۔ ادھر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قائم افغان طالبان کے سیاسی دفترکے ترجمان سہیل شاہین نے سماجی رابطوں کی ویب ساءٹ ٹویٹر میں کہاکہ امارت اسلامیہ کے وفد نے اسلام آباد میں پاکستان کے

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ۔ وفد نے دونوں ممالک کے تعلقات سیاسی امور اور امن پر بھی بات کی ، وفد نے افغان مہاجرین کی تعلیم ، صحت اور ویزہ کی ادائیگی کیلئے سہولیات کا مطالبہ کیاجبکہ حکومت پاکستان سے افغان تاجروں کے ساتھ تعاون کی اپیل بھی کی ۔ پاکستان نے وعدہ کیا کہ وہ تمام شعبوں میں مکمل تعاون کریں گے ۔ وزیرخارجہ نے کہاہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہو اور معاملات سلجھیں ۔ ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ;200;ج ملا برادر کی سربراہی میں طالبان کے سیاسی کمیشن کے 12 رکنی وفد سے سوا گھنٹے ملاقات ہوئی، ہم نے طالبان کے سامنے پاکستان کانقطہ نظر پیش کیا اور ان کا موقف سنا ۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ طالبان وفد نے مذاکرات میں تعطل کی وجوہات اور اسے معطل کرنے سے متعلق اپنا موقف پیش کیا ۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہو اور معاملات سلجھیں ، خطے میں امن نہ چاہنے والی قوتیں خون خرابہ چاہتی ہیں ۔ امن مخالف قوتیں چاہتی ہیں کہ مسلمان ;200;پس میں الجھتے رہیں اور ان کی دکان چمکتی رہے، ان قوتوں کے مفادات ہیں ،ان کے کِک بیکس، کمیشن اور کھانا پینا لگا ہوا ہے ۔ افغان مسئلے کا واحد حل سیاسی حل ہے، بہ زور بازو افغان مسئلے کا حل نکلنا ہوتا تو 19 سال کا عرصہ کافی تھا ۔ افغان طالبان سے گفتگو کا نچوڑ یہ ہے کہ بات ساری طے ہوچکی تھی، معاہدے پر تقریبا رضا مندی ہوگئی تھی، میری دعا ہے اور یہ کہوں گا کہ بات بہت ;200;گے بڑھ چکی ہے اور حوصلہ افزا ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ افغان طالبان کی اور بھی نشستیں ہوں گی، امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد بھی پاکستان میں ہیں ان سے بھی طالبان کی ملاقات ہوگی ۔ دفتر خارجہ کے اعلامیے کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان مسئلے کے جلد پر امن حل کیلئے تمام ممکنہ کوششیں کرنے کا وقت ہے اور افغانستان میں مستقل امن کیلئے پاکستان تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا ۔ مذاکرات کے بعد نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی پر تیار ہیں ، امریکا مذاکرات میں واپس ;200;ئے تو اسے خوش ;200;مدید کہیں گے ۔ ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا، اور اس معاہدے پر ;200;ج بھی قائم ہیں ۔

کشمیریوں کے حق خودارادیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، کور کمانڈرز کانفرنس

کشمیر ہماری جان، کشمیر ہماری شہ رگ ہے اس کے بغیر پاکستان نہیں رہ سکتا ۔ اسی وجہ سے ایک مرتبہ پھر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔ یہ بات بھی بالکل درست ہے ۔ 70 دہائیوں سے کشمیر کی مائیں ، بہنیں اور نوجوان آزادی کے حصول کیلئے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں ۔ مودی نے جو مقبوضہ وادی میں ظلم کے پہاڑ توڑے دراصل اس سے کشمیریوں کی آزادی مزید قریب آن پہنچی ہے ۔ آج دنیا بھر کو علم ہے کہ دنیا بھر میں امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے ۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں ۔ اگر خدانخواستہ ان کے مابین جنگ ہوئی تو بھیانک اور ہولنا ک ہوگی جس سے پوری دنیا متاثر ہوگی ۔ کور کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہاکہ پاک فوج مادر وطن کے دفاع کے لئے مکمل طور پرتیار ہے ۔ مادر وطن کا ہر قیمت پردفاع یقینی بنایا جائے گا ۔ کور کمانڈر کانفرنس میں اعادہ کیا گےا کہ پاک فوج کسی بھی بھارتی جارحیت کا فوری اور بھرپور جواب دے گی،چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان آرمی اپنے وطن کی عزت و ناموس اور علاقائی استحکام کی ہر قیمت پر حفاظت کرے گی کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، کشمیریوں کے حق خودارادیت سے متعلق سمجھوتا نہیں کیا جائے گا،کور کمانڈرز کے اس اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا گیا ۔ اس موقع پر شرکا کا کہنا تھا کہ یواین جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیربھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا، ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے والوں کی سازشیں ناکام بنائی گئی ہیں ۔

’’آزادی مارچ‘‘ فیس سیونگ دینے کی ضرورت

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کردیا ہے لیکن مسلم لیگ (ن) نے اس حوالے سے کسی بھی طرح مارچ کی قیادت سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا صاحب آزادی مارچ کی تاریخ آگے بڑھائیں جبکہ پیپلزپارٹی کی جانب سے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ مارچ شروع ہونے سے قبل ہی اس کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ یوں تو مولانا صاحب کے پاس مدارس کی صورت میں طلبا کی ایک خاطر خواہ تعداد موجود ہے بلکہ یہ لاکھوں میں ہے لیکن ان طلباء کا سیاست کیلئے استعمال اچھا نہیں ہوگا ۔ وزیراعلیٰ کے پی کے نے بھی کہا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمن کو کے پی کے سے آگے نہیں جانے دیں گے ۔ ہم تو حکومت سے کہیں گے کہ سیاسی مڈبھیڑ سے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔ کوئی درمیانہ راستہ نکالا جائے جس سے سیاسی انارکی نہ پھیلے، ہمارے سرحدی حالات باہمی اتفاق کا مطالبہ کررہے ہیں نہ کہ نفاق کا ۔ ایسے میں مولانا صاحب جوکہ ایک زیرک سیاستدان ہیں انہیں بھی مفاہمت کی ج انب آنا چاہیے فریقین کو فیس سیونگ دینا ہوگی تب ہی حالات کنٹرول ہوسکتے ہیں ۔ دمادم مست قلندر کسی صورت بھی جمہوریت اور ملکی استحکام کے حق میں نہیں ۔

کرپشن کے خاتمے کیلئے چیئرمین نیب کمربستہ

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کا حکومت سے کوئی گٹھ جوڑ نہیں ، جنہیں سائیکل پر دیکھا ;200;ج ان کے دبئی میں ٹاورز ہیں ، میری منظوری تک پلی بارگین نہیں ہوسکتی، ہم کب ملکی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں گے ;238; ۔ تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے منی لانڈرنگ کے کئی کیس ہمارے حوالے کیے، نیب اپنے دائرہ اختیار سے نکل کر کوئی اقدام نہیں کرتا، ہم نے ٹیکس کا کوئی کیس نہیں لیا، ٹیکس معاملات کا کوئی کیس نیب نہیں دیکھے گا، ٹیکس سے بچنا اور منی لانڈرنگ مختلف معاملات ہیں ، ٹیکس معاملات کے تمام کیسز ایف بی ;200;ر کو بھیجیں گے، پاناما لیکس کے دیگر کیسز بھی چل رہے ہیں ۔ مجھے تو دو روز کسی کو قید رکھنے کا اختیار نہیں ، اختیار دیں پھر دیکھیں 3 ہفتوں میں سب کچھ واپس لاءوں گا ۔ نیب انسان دوست ادارہ ہے، منی لانڈرنگ اور بزنس میں بہت فرق ہے، سزا اور جزا ملکی قانون کے تحت عدالتوں کا کام ہے، ;200;پ کا تشخص پاکستان کی وجہ سے ہے، ملک کو ترجیح دیں ، ملک کے مقروض ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں ، ہسپتال میں ایک بستر پر 4، 4 مریض ہیں ، ملک میں بہت سے مافیاز کی داستانیں ہیں ، ملک 100 ارب ڈالر کا مقروض ہے، 100 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے ;238; ۔ ہمارے ہاتھوں میں کشکول ہے، دیگرممالک سے برابری کی بنیاد پر بات نہیں کرسکتے، ایک چھوٹے سے ملک نے بھی شواہد دینے سے انکار کر دیا، واپسی کیلئے رابطہ کیا تو اس ملک کی عدالت نے سٹے دے دیا، 100 روپے کی کرپشن پر 10 روپے واپس کرنا زیادتی ہے، میں نے ساری عمر منصفی کی ہے، مجھے ہر ایک کی عزت نفس کا خیال ہے ۔

Google Analytics Alternative