کالم

مولانافضل الرحمان کادھرنا۔۔۔مقاصدکیاہیں

بقول مولانا صاحب کے، ملک اسوقت انتہائی نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، کشمیرکا سودا ہو گیا ہے، اور اسلام خطرے میں ہے ۔ اسلئے پورا ملک انکی کال پر27 اکتوبر کو نکل رہا ہے ۔ اور اس کے بعد مولانا کے ان فرمودات پر مشتمل طرح طرح کے ۔ ٹکرز ۔ شام کو ہر ٹی وی سکرین کی زینت بن گئے ۔ دراصل مولانا صاحب نے دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیوں کے پے در پے اجلاسوں کی ناکامیوں اور طویل اور لا حاصل بحث مباحثوں کے بعد تھک ہار کر قوم کو;200;خراپنا حتمی فیصلہ سنا ہی دیا ۔ ;200;پ کی شاطر اور زیرک نظر میں اس حکومت میں مسئلہ نمبر ایک ;200;ج تحفظ ختم نبوت ہے اور ;200;پ کے بقول اسلام شاید سخت خطرے میں ہے،، جناب، اگر اسلام کو واقعی کوئی ;200;ج خطرہ ہے تو;200;پ صحافیوں کے ہر سوال پر نہایت ہی خوشگوار موڈ میں بات بات پر کھلکھلاتے لطیفے اور چٹکلے کس خوشی میں سناتے رہے جبکہ پورے ملک میں سوگ جیسی کیفیت ہے اور ہر ذی شعور پاکستانی اپنے کشمیری بھائیوں کے غم میں برابر کا ڈوبا ہوا ہے ۔ ;238; ;200;پ کے مقدس خیال میں ان کے ;200;ذادی مارچ میں عام لوگ نکلیں گے، تاجر، ڈاکٹر، وکلا اور زندگی کے ہر طبقہ سے تعلق رکھتے والے انکے اس مارچ کا حصہ ہوں گے، اور وہ واپس جانے کیلئے نہیں بلکہ یہاں رہنے کیلئے ;200;ئیں گے ۔ پتہ نہیں وہ ۔ ڈی چوک ۔ میں مسکن لگانے کا پروگرام رکھتے ہیں یا انکی نظر اطہر کسی اور طرف ہے ،،، لیکن اتفاق سے بنگلہ نمبر 22 بھی کوئی یہاں سے زیادہ دور نہیں ۔ تو گویا یہ اسلام کی لڑائی اسلام ;200;باد کے خوبصورت اور پر فضا مقام ۔ پر لڑنے کا ;200;خر بگل بج ہی چکا ہے ۔ ظاہر ہے مولانا صاحب کی ضدی طبیعت کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ چند دنوں بعد یہ نرالی لشکر کشی یہاں ہونے ہی والی ہے ۔ جبکہ سرحدوں پر ہمارا اصلی دشمن روزانہ کی بنیاد پر گولہ باری سے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار رہا ہے،اور مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ساٹھ روز سے کرفیو اور ایک کروڑ مسلمانوں کی زندگیاں سکڑ کر گھر کی چاردیواری تک محدود کر دی گئیں ہیں ، لیکن یہ صاحب پھر بھی اپنے کسی خاص اسلام کی خاطر اپنے اسلام ;200;باد کو ہی روند ڈالنا چاہتے ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہوتا مولانا صاحب یہ اعلان فرماتے کہ بھارت نے چونکہ لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کو مقبوضہ کشمیر میں یرغمال بنا لیا ہے اسلیئے وہ اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کیلئے سر پر کفن باندھ کر دشمن سے لڑنے مقبوضہ کشمیر جا رہے ہیں ۔ ;200;پکی بے تکی نقشہ کشی کے برعکس یہاں پر تو زمینی حقائق یہ ہیں کہ اسوقت ہرمحب وطن پاکستانی، خودحکومت وقت اور افوج پاکستان کا جرنیل سے سپاہی تک رات دن اپنی اپنی سطح پر اپنے اصلی دشمن کے خلاف صف ;200;را اور مجبور و محصور کشمیر یوں کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کر رہا ہے، تو جناب ;200;پ کس کی ایما اور کس کے اشارے یا کس خاص ایجنڈے پر یہ سب غیر ضروری اور بے وقت کی یلغار کرنا چاہ رہے ہیں ، جناب ،،;200;پ کے کس اسلام کو خطرہ ہے،، وزارت کشمیر یا کشمیر کمیٹی کی چیئرمینی کو;238; ۔ یہاں تو الحمداللہ پورے ملک میں پانچ وقت اذان نماز اور مکمل مذہبی ;200;زادی ہے، بلکہ مکمل بھائی چارہ ہے، میلاد بھی منائے جا رہے ہیں ، عرس اور عاشورہ محرم بھی، تو کونسے اسلام کو خطرہ ہے مولانا صاحب جو ;200;پ پورے پندرہ لاکھ بندے اکٹھے کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ اصلی دشمن بھارت کے ارادوں اور ;200;پ کی چالوں میں کیا فرق رہ جاتا ہے ۔ میرے خیال میں دونوں کے ارادے خطرناک بلکہ ناپاک ہیں ۔ یہ ;200;زادی مارچ کیا ہے، کس سے ;200;زادی چاہتے ہیں ;200;پ، عوام کی اکثریت تو سال ہونے کو ہے، ;200;پ جیسے نکمے اور روایتی سیاسی ٹھیکیداروں سے چھٹکارے پر سر بسجود ہے، لوگوں نے تومہنگائی سے بھی تعاون کر لیا ہے، فوج نے اضافی تنخواہ لینے سے رضاکارانہ انکار کر دیا ہے اور یہ سب کچھ لوگ اور ادارے صرف اس واسطے کر رہے ہیں کہ انکو مکمل یقین ہے انکا ایک ایک پیسہ محفوظ اور ایماندار قیادت کے ہاتھوں میں ہے ۔ یہ 15 لاکھ کون لوگ ہیں ، پورے ملک سے کون سے قافلے نکل پڑیں گے ۔ ;200;پ کے تو جلسوں میں مدرسوں کے چھوٹے چھوٹے طلبا کے علاوہ دوسرا کوئی نظر نہیں ;200;تا، اس طرح لگتا ہے جیسے ایک جیسے بڑی تعداد میں حکم کے غلام نما معصوم و محبوس بچے زبردستی کسی سیاسی سرکس کا حصہ بنا دیے جائیں ۔ کشمیر کا سودا ہونا سرا سر ;200;پ جھوٹ بولتے ہیں ، دنیا میں سب سے زیادہ کشمیریوں کی ;200;واز اس حکومت میں اٹھی ۔ عالمی سطح پر اس پر ایک بڑی ڈیبیٹ شروع ہونے والی ہے، جس سے مودی اور اسکے حوحواری پریشان ہیں تو ;200;پ کس کشمیر کے غم میں گھلے جا رہے ہیں ، جو اپنے ہی ملک پر چڑھائی کا ارادہ کئے بیٹھے ہیں ۔ جناب ;200;پ عشروں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین جیسے اعلیٰ عہدے پر مزے لیتے رہے، کوئی ایک بڑا کام بتائیں جو ;200;پ نے کشمیریوں کیلئے کیا ہو ۔ اگر کوئی خفیہ ہے تو ہ میں اسکا ;200;ج تک علم نہیں ۔ وہ ;200;پ ہی بتا دیں ۔ سچی بات یہ ہے کہ مولانا صاحب، الیکشن میں بری طرح ہارنے کے بعد سٹپٹا کر مکمل سٹھیا گئے ہیں ۔ یہ بھی سچ ہے کہ اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے ;200;پ نے دونوں شریفوں کو لڑوا دیا ہے، پی پی کے ٹکڑے پہلے کیا کم تھے،اب ;200;پ اسکا مکمل صفایا کروانا چاہتے ہیں ، کیا کمال کے مذہبی لیڈر ہیں کہ سب کو بکھیر کر رکھ دیا ہے ۔ ٹی وی پر بات بات پر قہقہے، جناب ، یہ کس کشمیر کا غم ہے جو ;200;پ کی باچھیں بند ہی نہیں ہوتیں ، اور بات بات پر ;200;پ ہنستے ہیں جبکہ مظلوم کشمیریوں کی سسکیاں انکے کمروں سے باہر ہی نہیں نکلنے دی جا رہیں ۔ سچی بات یہ ہے کہ جناب بجائے ;200;پ سے مذہبی شخصیت ہونے کے ناطے قوم ;200;پ کی عزت کرتی، ;200;پ اسوقت مبینہ طور پر انتہائی متنازعہ اور ناپسندیدہ شخصیت بن چکے ہیں ، ;200;پ ملک اور حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش میں ہیں ، فوج کے خلاف ;200;پ ہر وقت ہرزہ سرائی سے نہیں چوکتے، کام اور نام اتنا کمایا ہے کہ بدقسمتی سے ;200;پ کا نام سنتے ہی لوگ ڈیزل ڈیزل کے واشگاف نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں ، ;200;جکل تو ببلو بچے کے پچاس کروڑ روپے کی بھی بڑی دھوم مچی ہے، یہ 15 لاکھ کی یلغار کیا ;200;پ بتانا ۔ پسند کریں گے کہ ;200;ج کے مہنگائی کے اس دور میں اتنی بڑی لشکر کشی کروڑوں کے بغیر کسی طرح بھی ممکن ہے ۔ اگر ;200;پ مذہب، اپنے ملک اور عوام کی کوئی حقیقی خدمت کرنے سے قاصر ہیں تو برائے مہربانی اب ;200;پ یہ مذہبی بلیک میلنگ فورا;34; بند کریں ۔ چندے، صدقے، خیراتوں ، اور دوسروں کی سیاسی مالی امدادوں سے اتنی بڑی جنگیں نہیں لڑی جا سکتیں جن کا مقصد ہی بد امنی اور شر پھیلانا ہو،اسی لیئے اس پار کے مودی اور ;200;پ دونوں کا مقدر ہار ہے جو بہت جلد ;200;پکے گلے کی زینت بننے والی ہے ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ;200;ج سے صدیوں پہلے ;200;پ جیسے ہی کرداروں کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا تھا:-اگر کسی قوم کو جڑ سے ہی اتار پھینکنا ہو تو اس کے عوام اور فوج میں نفرت کے بیج بو دو، وہ قوم خود تباہ ہو جائے گی ۔

وہ حق پر تھا، اسی لیے للکار رہا تھا

میں جائیں تو جائیں کہاں کے عنوان سے کبھی کبھار کالم لکھتا رہتا ہوں جس میں زیادہ تر سیاسی رہنماءوں مذہبی سکالرز اور فاضل تجزیہ کاروں کے متنوع بیانات اور تبصروں کی وجہ سے اپنے اور عوام الناس کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات مانگنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ لیکن 27 ستمبر 2019 کو اس ملک خداداد میں بسنے والوں کی اکثریت کی محمدعربی کے دین سے محبت وطن کی الفت کشمیری بہن بھائیوں کے دکھ کا احساس اور کرپشن کیلئے نفرت کے اظہار کا نظارہ دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا ہے کہ سو باہمی اختلافات کے باوجود میرے ہم وطن مشکل ترین حالات میں بھی ان ایشوز پر یکسو و یک زبان ہیں ۔ اس روز شام سوا سات بجے کے قریب میں بیرون شہر سے ایک ضروری کام کے بعد واپس اسلام ;200;باد پہنچا تو ضرورت کی کچھ اشیا لینے اسلام ;200;باد کی ایک مرکزی مارکیٹ میں چلا گیا ۔ دیکھا تو مارکیٹ کے بیچوں بیچ پروجیکٹر کے سامنے ایک بڑی سکرین نصب تھی خواتین و مرد حضرات خصوصاً پرجوش نوجوان سامنے بیٹھے قومی نغمے سن اور دیکھ رہے تھے ۔ زیادہ تر دکانیں بند تھیں اور جو کھلی بھی تھیں انکے مالکان و عملہ کے ارکان کاروبار سے زیادہ اس پرجوش بہت بڑے مجمعے کا ساتھ دے رہے تھے جس سے وقفے وقفے سے پاکستان زندہ باد اور کشمیر ہمارا ہے وغیرہ کے نعرے بلند ہو رہے تھے ۔ میں نے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ لوگ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کی اقوام متحدہ میں ہونے والی تقریر کیلئے اکٹھے ہورہے ہیں ۔ گرچہ پہلے سے مجھے اپنے وزیراعظم کی جنرل اسمبلی کی تقریر کے بارے میں تجسس اور سننے کا ارادہ تھا لیکن مارکیٹ میں لوگوں کا جوش وجذبہ دیکھ کر ایک شوق و ولولہ کے ساتھ فورا گھر چل پڑا ۔ میں نے تہیہ کرلیا تھا کہ ;200;ج کپتان کو اپنے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے براہ راست دیکھوں گا ۔ گھر پہنچا تو 7 بجکر 50 منٹ ہو چکے تھے ۔ دیکھا تو بیگم اور بچے ٹی وی کے سامنے اکٹھے بیٹھے عمران خان کی تقریر کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں اور بیتابی اتنی کہ ماہرین کے تبصروں اور اشتہارات پر بھی کوفت ہوروی ہے ۔ غور کیا تو عیاں ہوا کہ بیگم صاحبہ نریندرا مودی کو صلواتیں اور بد دعائیں دے رہی ہیں اور بچے انکا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں ۔ مجھے دیکھتے ہی سب نے سلام کیا ۔ سب سے چھوٹے بیٹے نے میری مخصوص نشست خالی کی اور سب میرے بیٹھتے ہی اپنی اپنی جگہ براجمان ہوگئے ۔ سفر کی تھکاوٹ تھی اور چائے کا موڈ ہورہا تھا اہل وعیال کے درمیان بیٹھتے بیٹھتے فرمائش کی تو خلاف معمول بیگم نے باورچی کو حکم صادر کر دیا کہ ڈاکٹر صاحب کیلئے چائے بنا کر لا ۔ خلاف معمول عمل پرحیرانگی ہوئی ۔ پوچھا کہ میرے لئے چائے تو ہمیشہ وہ خود بناتی ہیں ۔ ;200;ج کیا افتاد ;200;ن پڑی ہے جو اس سنت زوجوی کو بھی توڑا جارہا ہے ۔ فرمانے لگیں ;23434200;ج عمران خان نے قوم کے جذبات کی نمائندگی کرنی ہے اور ہم سب خود دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ صحیح معنوں میں یہ حق ادا کرتا ہے کہ نہیں ۔ تقریر شروع ہونے کو ہے اس لئے معذرت کہ ;200;پ کیلئے چائے خود نہ بنا سکوں گی;34; سارے اہل خانہ کا تجسس انہماک اور ولولہ دیکھ کر میں خاموش ہوگیا ۔ تھوڑی دیر بعد ٹی وی پر اعلان ہوا کہ وزیراعظم پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیلئے تشریف لا رہے ہیں ۔ سب لوگ انتہائی انہماک سے ٹی وی دیکھ رہے تھے ۔ چہروں پر تفکر اور جوش کے ملے جلے تاثرات عیاں تھے ۔ اتنے میں ٹی وی پر ایک ;200;واز گونجی;23434;بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ایاک نعبد وایاک نستعین ۔ ۔ ۔ ;34;جواب میں میرے بڑے بیٹے نے بے اختیار نعرہ لگایا;234; ;34; اھدنالصراط المستقیم ;34; ۔ میری بیٹی نے رندی ہوئی ;200;واز میں کہا;23434;عمران خان تم پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہو خدا تمہاری مدد کرے گا ۔ ;34; میں نے اور بیگم نے فخر سے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ہم سب معیشت و موسمیات کی تبدیلی پر فصاحت و بلاغت کے دریا میں تیرتے عمران خان کو دیکھنے اور سننے میں مبہوت ہوگئے ۔ وہ وہ منی لانڈرنگ اور کرپشن کی بالواسطہ اور بلا واسطہ سرپرستی کرنے والے مغربی ممالک کے سربراہوں کو ایک جراَت رندانہ سے ان کے منہ پر بتا رہا تھا کہ کس طرح تم کرپٹ اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کی مدد کرتے ہو اور پناہ دیتے ہو اور تمہارے قوانین غریب اور ترقی پذیر ممالک سے لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے کی راہ میں کس قدر رکاوٹ بنتے ہیں ۔ وہ کمال ھوشیاری سے انکے منہ پر طمانچے بھی مار رہا تھا اور بتا رہا تھا کہ ’منی لانڈرنگ اور کرپشن کے خلاف کنونشن اور قوانین تو روزانہ بناتے ہیں لیکن جب غریب ملکوں سے وہاں کے طاقتور لوگ پیسہ لوٹ کر مغربی ترقی یافتہ ممالک میں سرمایہ کاری کرتے ہیں یا چھپا لیتے ہیں تو وہ ترقی یافتہ ممالک نشاندہی کے باوجود قوانین کی ;200;ڑ لےکر لوٹا ہوا پیسہ واپس نہیں کرتے ۔ ’ وہ مظبوط لہجے میں ان سے مطالبہ بھی کر رہا تھا کہ غریب ملکوں سے لوٹی ہوئی دولت کو واپس کرکے انسانوں پر خرچ کرنے کی راہ میں رکاوٹ بننے والے قوانین کو بدلو اور عمل بھی کرو ورنہ ردعمل ہوگا اور تم بھی معاشی تباہی کی زد میں ;200;جاءو گے ۔ وہ حق پر تھا للکار رہا تھا دھاڑ رہا تھا ۔ ہماری طرح سے دنیا بھر میں لوگوں نے دیکھا کہ مقررہ وقت پر اسے تقریر ختم کرنے کیلئے سرخ بتی جلائی گئی لیکن دین و نبی کی محبت اور کشمیری و دنیا بھر کے مسلمانوں کے دکھ میں ڈوبے اس مست مرد قلندر نے کوئی پرواہ کئے بغیر اپنی بات جاری رکھی اور تلخ حقائق بیان کرتا چلا گیا ۔ غریب و امیر دنیا سے ;200;ئے سربراہان و لیڈران اسکی سچائی کے سحر میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ ان کا انہماک اس قدر تھا کہ کسی کی ;200;نکھ بھی نہیں جھپک رہی تھی ۔ مجھے یقین ہے کہ میرے وطن کا ہر شعور رکھنے والا ناظر و سامع عمران خان کے کلمات کو اپنے دل کی ;200;واز سمجھ رہا ہوگا ،شروع کے دو موضوعات کے بعد جب عمران خان نے اسلام فوبیا کا موضوع چھیڑا تو جنرل اسمبلی کے ہال سے لے کر ٹی وی کی سکرین کے سامنے تک بیٹھا ہر شخص اپنی نشست پر ہوشیار ہوتا چلا گیا ۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مغربی ممالک کے خود پسند و شر پسند مفکرین سے لے کر عمران خان کے بدترین دشمن علما و خطبا بھی اس شخص کے علم تحقیق اور جراَت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ہونگے ۔ پرچی پڑھے بغیر وہ کیا کیا حقائق تھے جو اس نے بیان نہیں کئے ۔ اسلام دشمنوں کی کون کون سی سازشیں تھیں جن کا پردہ اس نے چاک نہیں کیا ۔ اس نے کہا;234;*;34;نہ کوئی انتہا پسند اسلام ہے اور نہ ہی کوئی ماڈریٹ اسلام ایک ہی ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سکھایا ہوا ہے;34;*اہلِ ایمان کی ترجمانی کچھ اس انداز میں کی;234;*;34;ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دل میں رہتے ہیں اور جب کوئی ان کے بارے میں گستاخانہ بات کرتا ہے یا انکی تضحیک کرتا ہے تو ہمارے دل میں درد ہوتا ہے ۔ اور دل کا درد جسمانی درد سے کئی کئی کئی گنا زیادہ ہوتا ھے ۔ ;34;*اسلامی شدت پسندی اور انتہا پسندی کا راگ الاپ کر اپنی سیاست چمکانے والے مغربی ممالک اور بھارت کے انتہا اور شر پسندوں کو اس نے ساری دنیا کے سامنے یہ کہہ کر ننگا کیا کہ *جب جاپانی پائلٹ امریکی اڈے پر خود کش حملہ کرتاہے جب سری لنکا میں تامل ہندو خود کش حملوں میں ھزاروں لوگوں کو مار دیتے ہیں جب نیوزی لینڈ میں ایک سفید فام مسجد میں 50 سے زائد مسلمانوں کو برتری کے جنون میں شہید کرتا ہے جب بھارت میں مذہبی جنونی ہندو مودی 20000 سے زائد مسلمانوں کو شہید کروا دیتا ہے اور کشمیر میں نوے ہزار سے زائد کشمیری مسلمانوں کو شہید کردیا جاتاہے تو مغربی دنیا کا کوئی لیڈر اس ظلم کو مذہبی دہشتگردی کا نام نہیں دیتا لیکن اگر کوئی مسلمان پسے جانے اور انصاف نہ ملنے پر ردعمل کرتا ہے تو اس پر فورا مسلمان دہشت گرد کا لیبل لگا دیا جاتا ہے ۔ عمران خان صاحب کی تقریر کا ;200;خری لیکن اہم نقطہ کشمیری مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور انکی داد رسی کیلئے اقوام عالم کو اپنی ذمہ داریاں یاد دلا کر ان کے ضمیر کو جھنجھوڑنا تھا تاکہ دنیا تباہی سے بچ سکے ۔ گجرات کا قصائی مودی تو پہلے ہی ہال سے غائب ہو چکا تھا لیکن اس کے گماشتے گماشتیاں ڈھیٹوں کی طرح وھاں بیٹھے سب کچھ سن رہے تھے ۔ عمران خان نے جب جنونی انتہا و شدت پسند بھارتی حکومت کے کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے مظالم 55 روز سے زائد لگائے گئے کرفیو 13 ہزار کشمیری نوجوانوں کے غائب کرانے ہندو جنونیوں کے ہاتھوں ہزاروں کشمیری مسلمان عورتوں کی عصمت دری اور ان گنت بچوں و بزرگوں پر جاری تشدد پر حقائق بیان کئے تو بھارتی نمائندوں کے چہرے فق اور زبانیں گنگ تھیں ۔ اس نے زور دے کر کہا کہ میں کشمیر کا مقدمہ لے کر ;200;یا ہوں ۔ اس نے یاد دلایا کہ تمہاری اقوام متحدہ کی گیارہ قرار دادیں بھارت کئی دہائیوں سے پامال کر رہا ہے لیکن اقوام عالم خاموش ہیں ۔ اس نے مغربی اقوام کو انکی بے حسی اور زرپرستی پر شرمندہ کرتے ہوئے انسانی حقوق اور کشمیریوں کی ;200;زادی کےلئے عملی اقدامات کرنے کیلئے ;200;واز دی اور انتباہ کیا بلکہ للکارا کہ اگر دنیا نے اس پر توجہ نہ دی اور ناعاقبت اندیش جنونی مودی کی حکومت نے یوں ہی کشمیری مسلمانوں پر ظلم روا رکھے تو اس کے ردعمل میں کوئی بھی مسلمان ہتھیار اٹھا سکتا ہے ۔ اور پلوامہ جیسے کسی واقعے کو بہانہ بنا کر بھارتی سورماں نے کوئی مہم جوئی کی تو پاکستان پہلے کی طرح بھرپور جواب دے گا ۔ اور پھرہم لا الہ الاللہ کے ایمان والے ;200;خری سانس تک لڑیں گے ۔ یہ جنگ پھر روایتی جنگ نہ ہوگی بلکہ دو ایٹمی طاقتوں کی لڑائی کے اثرات پوری دنیا میں پھیلیں گے ۔ عمران خان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد جب میں دوبارہ شہر کی مختلف شاہراہوں پر نکلا اور مارکیٹوں میں لوگوں سے گفتگو کی تو یوں لگ رہا تھا کہ اب کسی پاکستانی بلکہ دین محمدی کے کسی بھی پیروکار کے ذھن میں کوئی ابہام باقی نہیں رہ گیا ۔ ان کے چہروں پر طمانیت اور کلام میں جوش سے یوں لگ رھا تھا جیسے ہر شخص یہی کہہ رہاہے کہ;234;

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا

میں نے جانا کہ گویا یہ میرے دل میں ہے

معاشرے کا بگاڑ، ذمہ دار کون

اللہ تعالیٰ سب کو صحت ، تندرستی اور عزت والی لمبی عمر عطا فرمائے بھائیوں اور قبیلے میں باہم اتحاد و اتفاق قائم کرے ایک دوسرے کی مدد امداد، رکھ رکھا عزت اور احترام کرتے رہیں یہ ہمارے معاشرے اور کلچر کا حسن ہے جو ہمارے معاشرے اور اچھے خاندانوں کا ایک دور میں طرہ امتیاز رہا ہے ۔ کاش یہ ہماری اقدار اور روایات ہم اپنی نوجوان نسل تک منتقل کر سکیں وقت جوں جوں ;200;گئے بڑھ رہا ہے مادہ پرستی، زرپرستی ، ہوس اور لالچ کی وجہ سے انسان مشین بنتا جا رہا ہے ۔ صبح سے شام تک گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ بھاگنا دوڑنا پڑتا ہے اب کسی کے پاس وقت ہی نہیں ۔ اگرچہ انسان کے ارتقا سے ہی انسانی معاشرے میں بگاڑ رہا ہے لیکن موجودہ دور ایسا ;200;گیا ہے ہر کوئی افراتفری اور بھاگ دوڑ میں صرف دنیاوی ساز و سازمان اکٹھا کرنے میں لگا ہوا ہے کل کی خاطر ;200;ج بھی برباد کررہا ہے حالانکہ کل کبھی ;200;تا ہی نہیں ہر روز ;200;ج ہی ہوتا ہے ۔ ;200;ج کا انسان نہ ;200;رام سے کھانا کھا سکتا ہے نہ چین کی نیند سو سکتا ہے نہ اس کو اپنی کامیابی اور اچیوومنٹ پر صبر ;200;تا ہے نہ اللہ تعالیٰ کے شکر بجا لاتا ہے ۔ پہلے جب لوگ غریب ہوتے تھے دور کے رشتہ دار بھی سگے محسوس ہوتے تھے چونکہ پیار و محبت زیادہ ہوتا تھا اپنائیت بہت زیادہ تھی اب لوگوں کے پاس پیسہ ;200;گیا ہے قریب کے رشتہ دار بھی بہت دور کے لگتے ہیں اب رشتہ دار ;200;پ کا حجاب نہیں ۔ اب رشتوں میں بہت بناوٹ ;200;گئی ہے لوگ رشتہ داروں کے طعنوں سے ڈرتے ہیں رشتہ دار اب راز دان نہیں رہے لوگ گاڑی، موٹریں ، کاروبار اپنی ضرورت کے مطابق نہیں بلکہ رشتہ داروں کو جلانے اور مقابلہ کرنے کےلئے کرتے ہیں کسی رشتہ دار کا کاروبار یا وجہ شہرت اچھی ہو یہ اس کے رشتہ داروں کےلئے باعث مسرت نہیں یا اس کےلئے نیک نامی نہیں رہی بلکہ حسد اور جیلسی کا باعث بنتا ہے پہلے لوگ رشتہ داروں میں بچوں کی شادیاں کرتے تھے اب بنگلے اور پیسہ جہاں جہاں سے ملیں بچوں کی شادیاں رچانے کو ترجیح دیتے ہیں رشتے ،ناطے اور جوڑے بیانے کےلئے شرافت، پردہ، خاندان چال چلن اور پڑھا لکھا ہونا معیار ہوتا تھا اب معیار پیسہ اور ماڈرن ہونا طے پا گیا ہے ماں باپ کی مرضی شادی کےلئے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی سمجھا جاتا تھا اب ماں باپ کو مجبورا بچوں کی شادی میں شامل ہونا پڑتا ہے نہ بڑوں میں وہ شفقت رہی نہ چھوٹوں میں وہ احترام رہا ۔ پہلے لوگوں کو کھانے کو کم ملتا تھا بہت برکت تھی سکون تھا اب زیادہ کھانا بیماری کا باعث ہے ۔ میرے ناقص علم کے مطابق حرام کی کمائی صرف شکلیں نہیں بگاڑتی مگر نسلیں ضرور بگاڑ دیتی ہے اب لوگ رشوت، جوا، شراب، سود، جھوٹ، بے ایمانی اور فراڈ کی کمائی کو بھی برا نہیں سمجھتے ;200;ج کل جو ان پڑھ ، بڑا ڈاکو اور بدمعاش ہے وہی شہر کا معزز ہے ۔ بے سکونی زیادہ ہے پہلے ضرورت کے مطابق لوگ خریداری کرتے تھے اب لوگ رشتہ داروں سے مقابلے اور دکھاوے کےلئے چیزیں خریدتے ہیں پہلے عام لوگوں کے بچے اور نوجوان بڑوں کی عزت کرتے تھے اب اپنے بچوں ، بھتیجوں ، بھانجوں بیٹوں اور بیٹیوں سے بھی بات کرنے سے ڈر لگتا ہے اب ماں باپ اپنی اولاد سے ڈرتے ہیں پہلے محلے اور شہر کے بچے بڑوں کا احترام والد ، والدہ، چچا چاچی ماموں اور ممانی کے برابر کرتے تھے اب اپنے بچے ماں باپ کی عزت نہیں کرتے ۔ پہلے نماز، ;200;زان کی ;200;واز امام کا واعظ اور خطبہ سننے کےلئے لوگ دور درز سے مسجد میں جاتے تھے پورا اہتمام کیا جاتا ہے اب دو فرض پڑھنے میں بھی رش ہی رش کرتے ہیں اب نہ وہ امام رہا نہ وہ واعظ نہ نماز وہ رہی نہ مقتدی کہ مسجد سے باہر نکلتے ہی چھریاں تیز رفتار ی سے چلنا شروع ہوجاتی ہیں وہی جھوٹ وہی جھوٹی قس میں وہی منافع خوری، کم تولنا وہی رشوت ستانی وہی بداخلاقی اور گالم گلوچ کا دور دورہ شروع ہو جاتا ہے ۔ مالک ملازمین کا حق مارتا ہے وقت پر اجرت نہیں دیتا ان پر ظلم کرتا ہے تو ملازمین بھی کام چوری کرتے ہیں بے ایمانی کرتے ہیں مالک سر پر تو دوڑ دوڑ کر کام کرتے ہیں مالک سر پر نہیں تو رفو چکر ہو جاتے ہیں اب شرافت، ایمان داری ،صاف گوئی، سچائی ،نیکی بھلائی اور حسن اخلاق خوبی نہیں خامی سمجھی جاتی ہے اب مطلب کی دوستیاں ہیں ٹھیکہ دلوادو، کاروبار روزگار لگوا دو ادھار دے دو مطلب یہ کہ دوسرے کو استعمال کرو پورا دن چغلیاں ، غیبت ، برائیاں ٹچ فون پر نفرت انگیز پیغام رسانی جاری ہے یہ کیسا معاشرے میں بگاڑ ;200;گیا ہے مسجدیں دیکھو تو بھری ہوئی ہیں سکول کالجز اور یونیورسٹیاں بھری ہوئی ہیں لیکن تہذیب، علم اور عمل کچھ نظر نہیں ;200;تا ذخیرہ اندوزی عام ہے;46;،پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر بنا تھا ہ میں ایک قوم بننا تھا معاشرے کے بگاڑ کے ہم سب زمہ دار ہیں اللہ تعالی کو راضی کرنا ہوگا کہتے ہیں قوم کے لیڈر برے ہوں تو ان پر لعن و طعن کرنے کے بجائے ان کی ہدایت کےلئے دعا کرنی چاہئے اور اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہئے اور لیڈر اچھے ہوں تو ان کی کامیابی، حفاظت اور درازی عمر کے لئے دعا کرنی چاہئے ;200;ن کا ساتھ دینا چاہئے ۔

بھارتی شمال شرقی ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں

بھارتی شمال مشرقی ریاستوں میں نہ رکنے والی علیحدگی کی تحریک میں وقت کے ساتھ ساتھ اب بہت زیادہ تیزرفتاری اورنہ تھمنے والا جوش وخروش سب کو صاف نظر آرہا ہے اس بارے میں نئی دہلی میں یہ بحث خاصی زوروں پر زبان زدہ عام ہے کہ سرکار ’’آنتک واد‘‘ کا ڈھول توخوب پیٹتی ہے،مگراْس کا بس لے د یکے صرف پاکستان پرالزام تراشیاں کرنا‘ کبھی جیش محمد اور لشکرطیبہ کی گودی میڈیا پر مالائیں جپنا اس کے علاوہ نئی دہلی کو کچھ دکھائی نہیں دیتا،پاکستان پر’’آنتک وادیوں ’’ کے مسلسل الزامات میں مودی سرکار نے پچھلے پانچ برس بیتا دئیے،پٹھان کوٹ ائیر بیس سے اڑی اور پلوامہ حملوں میں پاکستان پر زبانی کلامی الزامات ضرور لگائے گئے،جب پاکستان کی طرف سے ثبوت دینے کی بات آئی تونئی دہلی کے پاس آئیں بائیں شائیں کرنے کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا گیا کیونکہ بھاجپا سرکار خود سرتاپا جنونی انتہا پسندیوں کی دلدل میں دھنسی ہوئی ہے،مودی انتظامیہ نے اس باررواں برس کےعام چناو میں پاکستان دشمنی اورمسلم دشمنی کے منافرت کے نعرے وغیرہ لگاکر پہلے پانچ برسوں کے مقابلے میں دوتہائی سے زیادہ اکثریت سے چناو جیت تو لیئے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بار مودی جی پاکستان پر ’’آنتک واد‘‘کا الزام نہیں لگاسکیں گے کیونکہ مودی سرکار نے دوسری مرتبہ نئی دہلی کے اقتدار میں آتے ہی خودسری کی سبھی حدیں بندر کی سی چھلانگیں لگاکر پار کر لیں بقول اس محاورے کہ ’’ آسمان پو تھو کے تو اپن پوچ گرتا‘‘ اردو کا یہ محاورہ دکنی زبان کا ہے یعنی جو آسمان پر تھوکے گا تو اْس کا تھوک اْس کے اپنے منہ پر ہی آگرے گا،دکنی زبان کے اس محاورے میں اْس بے وقوف اور پرلے درجے کے نادان کی طرف اشارہ ہے جو’’غصہ میں آپے سے باہر ہوجاتا ہے اور آسمان کی طرف منہ اْٹھاکر تھو کتا ہے‘‘اس بے وقوف کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ تھوک خود اْس کے اپنے منہ پر گرے گا، مقبوضہ وادی اورنئی دہلی کے درمیان ایک کمزورسے آئینی ناطہ کو جسے آرٹیکل تین سوستر کہا جاتا تھا مودی نے خود ہی دیش کے آئین سے نکال باہر کیا ’’ آرایس ایس کے طوطے نے کیا خوب توپ چلائی ہے;238;‘‘ ذرا اندازہ لگائیں مودی اور اجیت جیسے مورکھ چلے ہیں کشمیر کو فتح کرنے ،یہ تو وہ ہی بات ہوئی آج محاورے بہت یاد آرہے ہیں اور وہ بھی بھارتی شہر حیدرآباد دکن کے ‘آپ بھی ذرا سن لیں کہ ’’آسمان کے تارے ہاتھ کو آتیں کیا رے;238;‘‘اس اس محاورے میں اْس لا لچی شخص کی طرف اشارہ ہے کہ وہ دنیا حاصل کرلیتا ہے پھر بھی اس کی لالچ پوری نہیں ہوتی،ہر وہ چیز حاصل کرنے کی فکر میں رہتا ہے جو اس کی پہنچ سے کافی دور ہے بے وقوفی سے آسمان کے تارے حاصل کرنے کےلئے بلندی پر چڑھ جاتا ہے تو اس کی ماں کہتی ہے’’آسمان کے تارے ہاتھ کو آتیں کیا رے‘‘ کاش،مودی ماں کو کچھ ہوش ہوتا اور وہ اپنی ماں کی بات مانتا تو اْس کی سمجھ میں بھی کچھ آتا، بھارت جیسے ملک کا ’’پردھان منتری‘‘بن جانا ہی مودی کے لئے کیا تھا جو اب اس نے ایشیائی پیسیفک کی لیڈرشپ کا خواب اور دیکھ لیا بیچارہ;238;جواگر نہیں دیکھتا تو وہ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں نہ رکنے والی علیحدگی کی اْن تحریکوں کو دیکھنے کی ہمت نہیں کرتا جہاں سرعام بھارتی یونین کےخلاف کھلی بغاوتیں عام ہوچکی ہیں ’’نوگوایریاز‘‘ نے ان ’’سیون سسٹرز ریاستوں میں اپنی اپنی حد بندیاں بنا لی ہیں ’’الفا تنظیم’’ کے نام سے بھارتی سیکورٹی فورسنز کے اہلکاروں میں خوف کی ایک تیزرو سنساہٹ سی دوڑ جاتی ہے جہاں تک مقبوضہ وادی کا سوال ہے وہاں ذرا ہم اور انتظار کرلیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ بھاجپا سرکار کے ظلم وستم کی دوڑتی بھاگتی حدوں میں کتنادم خم ہے;238; مسلمان کشمیری عوام اپنے دکھوں کی آئے روز کی سلگتی ہوئی تپش سے اپنے آپ کو مزید شدائد اور مصائب وآلام کے پہاڑوں کو اْٹھانے کے لئے اپنے مسلز کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے میں وہ مصروف ہیں کشمیری محصور عوام اپنے دکھوں کے ان غموں کو غاصب بھارتی فوج کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طاقت بنانے میں انشا اللہ کامیاب ضرور ہونگے مودی انتظامیہ جن میں سرکردہ شیطان صفت اجیت ڈوبھال بہت سرگرم ہے شیطانوں کا یہ پورا ٹولہ کشمیر میں اْٹھائے گئے اپنے غلط فیصلوں کو سلجھاپائے گا;238;نہیں بالکل نہیں ناکام ہوگا، پوری بھاجپا سرکارکا دھیان اسی ایک گتھی کو سلجھانے میں لگی ہوئی ہے اور وہاں شمال مشرقی ریاستوں میں نئی جتھے بندیاں ہورہی ہیں ’’یونائیڈلبریشن فرنٹ آف آسام‘‘ جسے ’’الفا‘‘کہتے ہیں جو کسی قیمت پر بھارتی فوج کے سامنے سرنڈرہونے پر آمادہ نہیں ہو رہی ’’یونائیڈلبریشن فرنٹ آف آسام‘‘ اور ’’ نکسلاءٹ تحریک‘‘ نے مقبوضہ وادی میں پانچ اگست کے نئی دہلی کے لئے آئینی بحران کے اقدام سے مزید تقویت پالی، کیونکہ دنیا نے اب کہیں جاکر بھارت کی نام نہاد عظیم جمہوریت کا پوسٹ مارٹم کرنا شروع کردیا جب پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی جمہوریت کے سیکولرازم کا پردہ فاش کردیا دنیا کو باور کرادیا کہ جنوبی ایشیا کی ایک ایٹمی قوت بھارت اْس معروف اورطے شدہ بردباری اور وقار ومتانت کی ذمہ داری کی توقعات پر پوری نہیں اتر رہی جو کسی ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ملک کی ہونی چاہئیں ، بھارت میں مقبوضہ وادی کے علاوہ ایک درجن سے زیادہ تحریکیں کہیں کھل کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں کچھ زیرزمین نئی دہلی کی مرکزی حکومت سے علیحدہ اپنی اپنی سماجی وثقافتی اور نسلی حقوق کے حصول کےلئے منصوبہ بندیوں میں جتی ہوئی ہیں یہاں ناگالینڈ کے بوڈوقبائلی کی جائز تحریک آزادی کاتذکرہ نہ کیا جائے یہ ممکن نہیں تھا، جنہوں نے اپنے باشعور غیور عوام کی پس پشت حمایت سے اپنے علاقہ میں اپنے زوربازو پر اپنی اتھارٹی قائم کی ہوئی ہے بھارتی شمال مشرقی ریاستوں میں ہمہ وقت ایک خوف کا عالم ہوتا ہے اور نئی دہلی کو اسی خوف نے کیا ہوا ہے ادھ موا،ایک طرف ان مسلح علیحدگی پسندوں نے بھارتی سیکورٹی فورسنز کی نقل وحمل کے راستوں پر باوردی سرنگیں بچھارکھی ہیں جن کے خوف کے مارے کشمیر کی طرح یہاں پے درپے سیکورٹی فورسنز کے قافلے آجانہیں سکتے اسی برس بلکہ عام چناءوکے دوران تامل علاقہ میں رواں ایک فوجی قافلہ بارودی سرنگ سے ٹکرایا اور درجنوں بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے اس کی چرچا بھارتی میڈیا نے پلوامہ حملے کی چرچا کی طرح نہیں کی یہ حملہ کس کی کارروائی تھی یہی سوال تو پاکستانی وزیراعظم نے عالمی ادارے کو فورم پر اْٹھایا تھا، جس کا جواب کسی سے اب تک نہیں بن پڑا حال ہی میں چین کے ایک نیم سرکار تھنک ٹینک نے بھارت کے شمال مشرقی علاقوں میں جاری علیحدگی کی تحریکوں پر اپنی ایک رپورٹ میں تجویز پیش کی ہے کہ کہ بھارت کو اگر کئی فطری حصوں میں منقسم کردیا جائے مضمون کے مطابق’ چین کو آسام میں آزادی حاصل کرنے کےلئے نئی دہلی سے آزادی پسند تنظیم الفا اور تمل و ناگا گروپوں کی قوم پرستی کی تحریک کی حمایت کرنی چاہیئے اور بنگلہ دیش کی عملاً مدد وقت کی ضرورت ہے تاکہ وہ مغربی بنگال کے ساتھ ایک’’یوناءٹیڈ بنگالی قومیت پر مبنی علیحدہ مملکت‘‘قائم کرا سکے اور اس طرح چین جنوبی تبت کی اپنی نوئے ہزار مربع کلو میٹر زمین بھارت سے واپس لے سکے، جس پر اس نے قبضہ کر رکھا ہے‘ مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ ہندوستان ایک ملک کے طور پر کبھی بھی وجود میں نہیں رہا ۔

ملک بھر میں یکساں تعلیمی نظام خوش آئند اقدام

کسی بھی ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں تعلیمی نظام بنیادی حیثیت رکھتاہے چونکہ ہمارے ملک میں ابھی تک فرنگی کا نظام تعلیم راءج ہے جس کے نقصانات ہی نقصانات ہیں ، اس طبقاتی تعلیمی نظام نے غریبوں پرترقی کے راستے مسدود کردئیے ہیں ۔ اب اصل حکومت کا امتحان یہ ہے کہ آیا ملک بھر میں یکساں تعلیمی نظام راءج ہوسکے گا ۔ کیونکہ یہاں تو ایسے بڑے بڑے پرائیویٹ تعلیمی ادارے یا دیگر تعلیم دینے والے سکول کالج ہیں جن پر ہاتھ ڈالتے ہوئے پر جلتے ہیں کیا اعلیٰ طبقے کے لوگ برداشت کرسکیں گے کہ غریب کا بچہ اے سی ، ڈی سی یا بڑا افسر بنے ۔ حکومت اگر اس اقدام پر صحیح طرح عملدرآمد کرلیتی ہے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی ۔ وزارت تعلیم کے زیر انتظام دینی مدارس کے طلبا میں تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انگریزوں نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کا تعلیمی نصاب ختم کیا انگریزی نظام تعلیم نے معاشرتی تقسیم پیدا کی اسی وجہ سے اردو نظام تعلیم کے ذہین طلبہ کی اکثریت اوپر نہیں آ سکی،انگریز کا بنایا گیا طبقاتی تعلیمی نظام ختم کریں گے ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم راءج کیا جائے گا ایک ہی ملک میں تین قسم کا تعلیمی نصاب بڑی نا انصافی ہے ۔ تعلیم سے دوری کی وجہ سے مسلمان تنزلی کا شکار ہوئے یکساں نظام تعلیم ترقی کے لئے ضروری ہے مدارس کے طلبا کو بھی جدید تعلیم کے ذریعے اوپر آنے کا موقع ملے گاتعلیم کا مقصد پیسہ بنانا نہیں ہونا چاہئے وزیرتعلیم سے کہوں گا کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں اقبالیات کا مضمون لازمی پڑھایا جائے ،آج ہر جگہ مسلمان قتل ہو رہے ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ افراد کو کھلی جیل میں بند کردیا گیا ہے پاکستان، ترکی اور ملائیشیا مسلمانوں کی تاریخ اور موقف دنیا کے سامنے پیش کرنے کےلئے ٹی وی چینل شروع کریں گے ۔ 700 سال تک دنیا کے ممتاز ترین سائنسدان مسلمان تھے، مسلمانوں نے تلوار نہیں بلکہ علم کی وجہ سے ترقی کی دینی مدارس کے طلبا کو بھی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے حصول کا موقع دیاجائے گا تاکہ وہ بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوسکیں کیونکہ اس وقت صرف انگریزی نظام تعلیم حاصل کرنے والے ہی اوپر آسکتے ہیں علامہ اقبال نے مشرق اور مغرب کی تہذبوں کا موازنہ کیا،علامہ اقبال کو سمجھنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی کیا تاریخ اور طاقت تھی اور کس طر ح وہ دنیا پر چھا گئے ۔ تعلیمی نظام میں یکسانیت لا کر تحقیق کی راہ ہموار کی جائے ہر پاکستانی کو ہر طرح کی تعلیم دی جائے، اسلام ہ میں انسانیت کا درس دیتا ہے، تعلیم سے کوئی بھی قوم انسانیت کی طرف جاتی ہے دین ہ میں تعلیم اور انسانیت سکھاتا ہے ۔ ایسی فل میں بنائی جائیں جن کے ذریعے بچوں کو اپنے عروج کا علم ہو ۔ ترکی نے سلطنت عثمانیہ کی تاریخ سے آگاہی کےلئے اسی طر ح کی ایک فلم بنائی ہے ، تعلیمی نظام کو بہتر بنا یاجائے ۔ جب ایک نصاب ہو گا تب ہم ایک قوم بن سکیں گے اور ہمارے اندر تقسیم نہیں ہوگی اور ہر پاکستانی کو ترقی کا موقع ملے گا ۔ موجودہ تعلیمی نظام کے تحت اکثریت اوپرنہیں آسکتی ۔ دوسری جانب وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت بدھ کو اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں سی پیک کے تحت مختلف منصوبوں پر پیش رفت کے ساتھ ساتھ معیشت کے دیگر اہم شعبہ جات میں چین سے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی غور کیا گیا ۔ وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار نے اجلاس کو سی پیک کے تحت جاری منصوبوں پر پیش رفت اور مختلف منصوبوں پر عمل درآمدکی رفتار کو تیز کرنے کے حوالے سے اقدامات سے آگاہ کیا ۔ وفاقی وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد نے سی پیک کے اہم منصوبے مین لائن ۔ ون (;7776;-1) پر اب تک کی پیش رفت اور منصوبے کے ممکنہ ثمرات سے شرکا کو آگاہ کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سی پیک منصوبہ پاک چین دوستی کامظہر ہے سی پیک منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اور ان منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ خطے میں سی پیک گیم چینجر ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی تکمیل سے نہ صرف پاکستان بلکہ متعدد ممالک میں ترقی نمایاں طورپرنظرآنا شروع ہوجائے گی اور سی پیک پاکستان کے ترجیحی منصوبوں میں شامل ہے، ۔ اس کی تکمیل انتہائی ضروری ہے اگر کوئی اس کی مخالفت کرتا بھی ہے تو انہیں یہ جان لیناچاہیے کہ وہ ملک دشمن عناصر کے ساتھ ملاہوا ہے، چین کی ترقی پوری دنیا کےلئے نہ صرف قابل مثال بلکہ قابل تقلیدبھی ہے ۔ گوکہ چین نے پاکستان سے بعد میں ترقی حاصل کی لیکن وہ آج دنیا کی بڑی سپرپاورز میں شامل ہے ۔

مہنگائی کنٹرول نہ ہوسکی، عوام پریشان حال

مہنگائی ہے کہ کنٹرول ہونے میں نہیں آرہی ۔ پہلے ہی وزیراعظم اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھنے پر ناراض ہوئے تو اب بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ۔ پاکستان بیورو آف شماریات نے بھی تسلیم کیاہے کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے ۔ عوام پرپھر بجلی گرادی گئی ہے،اگست کے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں ایک روپے 66 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے جس سے صارفین پر 22 ارب 60 کروڑ کا اضافی بوجھ پڑے گا ،دواءوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور دو اساز کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں 5سے7فیصد اضافہ کر دیاجبکہ ملک میں مہنگائی پچھلے سال کی نسبت بڑھ گئی ہے ، پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق مہنگائی کی شرح میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 12;46;55 فیصد اضافہ ہوا ہے ، سبزی، چائے، آٹے، آلو، تازہ دودھ ، دال، تیل ، گھی کی قیمتیں بڑھ گئیں ۔ بجلی کی قیمت میں اضافہ اگست کے مہینہ کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیاہے، اضافے سے300 سے زائد یونٹ استعمال کرنے والے بجلی کے صارفین پر22 ارب 60 کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا ۔ نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی طرف سے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی درخواست پر کیا ہے ۔ فیصلے کا اطلاق زرعی صارفین اور کے الیکٹرک کے صارفین پر نہیں ہو گا، ایک روز قبل ہی حکومت کی جانب سے ایک سال کیلئے بجلی 53 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی، حکومتی اقدام سے صارفین پر سالانہ 53 ارب 52 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا ۔ نیپرا نے ایک روپے66 پیسے کا اضافہ کیا جبکہ اس سے 1;46;8672 روپے کے اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ سی پی پی اے نے موقف اختیار کیا تھا کہ اگست میں پانی سے 40;46;33 فیصد، کوئلے سے 13;46;34 فیصد جبکہ مقامی گیس سے 11;46;87 فیصد اور درآمدی ایل این جی سے 22;46;89 فیصد بجلی پیدا کی گئی ۔ فرنس آئل سے 3;46;60 فیصد اورایٹمی ذراءع سے 4;46;66 فیصد بجلی پیدا ہوئی ۔ حکومت کی طرف سے دودن میں پاور ٹیرف میں دو بار اضافے سے ایسے صارفین جو تین سو یونٹس سے زائد بجلی استعمال کرتے ہیں جن میں کمرشل اور اندسٹریل دونوں شامل ہیں کو اکتوبر کے بلوں میں 2روپے19پیسے اضافے کا سامنا ہے ۔ دریں اثنا دو اساز کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں 5سے7فیصد اضافہ کر دیا ہے ۔ فارما کمپنیوں کے مطابق یہ اضافہ سالانہ مہنگائی کی شرح کے تناسب سے کیا گیا ہے، کمپنیوں کے مطابق مہنگائی کی شرح کے لحاظ سے حکومت نے سالانہ فارمولا طے کر رکھا ہے، جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں سات اور دیگر کی قیمتوں میں پانچ فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔ ہول سیلرز کے مطابق اضافے کے ساتھ ادویات مارکیٹ میں پہنچا شروع ہو گئی ہیں ۔ اُدھرپاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ماہ ستمبر میں ملک میں مہنگائی کی شرح گزشتہ برس ستمبر کے مقابلے میں 12;46;55 فیصد بڑھ گئی ہے ۔ اگست 2019 میں مہنگائی کی شرح 11;46;63 فیصد تھی ۔ نئے پیمانے کے مطابق مہنگائی کی شرح 11;46;37 فیصد بڑھی اور پرانے پیمانے کے مطابق مہنگائی کی شرح میں 12;46;56 فیصد اضافہ ہوا، اگست 2019کے مقابلے میں مہنگائی میں 0;46;77 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ اگست کے مقابلے میں شہروں میں جن اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں سبزیوں کی قیمت میں 15;46;78 فیصد، پیاز 10;46;86 فیصد پتی 8;46;15 فیصد، دودھ کی اشیا میں 4;46;74 فیصد، گندم میں 1;46;92 فیصد، گندم کے آٹے کی قیمت میں 3;46;22 فیصد، آلو 3;46;16 فیصد، تازہ دودھ 2;46;83 فیصد، دال چنا 1;46;41 فیصد، خوردنی گھی 1;46;3 فیصد، گڑ 1;46;16 فیصد اور دال مسور کی قیمت میں 1;46;11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔

گرتی ہوئی معیشت اور

تاجر برادری کے تحفظات

ملک کی سرکردہ کاروباری شخصیات نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے راولپنڈی میں عشائیے میں ملاقات کی اور انہیں معاشی محاذ پر پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ کیا ۔ بزنس کمیونٹی نے معاشی جمود سے آگاہ کیا جس میں جی ڈی پی کی افزائش انتہائی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور جبکہ مہنگائی مسلسل بڑھتی جارہی ہے اور اس کے نتاءج کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں رک گئی ہیں ۔ کاروباری طبقے نے آرمی چیف کو شکایت کی کہ ملک میں کاروبار کی بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے انہیں اپنا بزنس معاشی لحاظ سے سازگار سطح پر رکھنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں ۔ تاجروں نے اپنی مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار کے مختلف یونٹس بند ہوتے جا رہے ہیں ، اگر مسائل فوری طور پر حل نہ ہوئے تو پورے کے پورے کاروبار بند ہوجائیں گے جس کے نتیجے میں ملازمین کی بھی چھانٹی کرنے پڑے گی ۔ لیبر کا بھی روزگار ہمارے کاروبار سے ہی وابستہ ہے ۔ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ ہم نے جو مال تیار کر رکھا ہے اس کا کوئی خریدار نہیں مل رہا، حالات کی بہتری کے حوالے سے دور دور تک امید کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی ۔ پاکستان بننے کے بعد سے کاروباری طبقے نے ملک کی ترقی اور بہتری کیلئے جو محنت کی ہے اور مختلف ادوار میں آنے والے نشیب و فراز کا جس طرح سامنا کیا ہے وہ ساری محنت رائیگاں جائے گی ۔ اس موقع پرآرمی چیف نے کہا پاکستان سے ہ میں محبت ہے، آپ کاروباری لوگوں کی پاکستان کیلئے جو خدمات اور قربانیاں ہیں اس سے سب آگاہ ہیں ، آپ کی کوششوں سے ہی ملک آگے چلے گا ۔ آرمی چیف نے کہا کہ آپ کی پریشانیاں سن کر مجھے بے انتہا ہمدردی ہے اور میں ان کے حل کیلئے ضرور ہر ممکن کوشش کروں گا ۔ انہوں نے تاجروں کے وفد سے کہا کہ آپ حکومت سے مکمل تعاون کریں اور حکومت مخالف کسی بھی قوت کی حمایت نہ کریں ، آپ کے مسائل حل کیے جائیں گے ۔ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کرنے والے اداروں میں پیداواری صلاحیت گزشتہ کئی مہینوں سے زوال کا شکار ہے ۔ ٹیکسٹائل سیکٹر مطلوبہ معیار کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا رہا کیونکہ زیرو ریٹنگ کے خاتمے کے بعد ٹیکس کا بوجھ بڑھ چکا ہے ۔ یاد رہے چند ماہ قبل آرمی چیف نے کراچی میں تاجروں اور صنعتکاروں سے ملاقات کی تھی اور اس وقت ان سے کہا تھا کہ اگر آپ کے مسائل حل نہ ہوں تو آپ براہِ راست مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔

زلزلے کی تباہ کاری

دنےا مےں لےل و نہار کا سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔ موسموں کا کارواں لمحہ بہ لمحہ بغےر سستائے اگلی منزلوں کی جانب رواں دواں رہتا ہے ۔ ےہ اےک صاف دن تھا خنکی کی بجائے حبس کا غلبہ تھا ۔ آسمان کی وسعتوں مےں کہےں کہےں بادلوں کا کوئی ٹکڑا دکھائی دے جاتا ۔ درےائے جہلم کے کنارے دےہات کے باسی اپنے روز مرہ کے معمولات مےں مصروف تھے ۔ روانی مےں مست درےائے جہلم کی رفاقت مےں لہلہاتے درختوں نے موسم کی رنگےنےوں مےں اضافہ کرتے ہوئے اےک سماں باندھ رکھا تھا ۔ درخت اور پودے نرم و نازک کونپلےں لئے نو شگفتہ پھولوں کا لباس زےب تن کئے اپنی بہار دکھا رہے تھے ۔ زندگی معمول کے مطابق رواں دواں تھی ۔ سچ ہے کہ زندگی اس وقت ہی حسےن لگتی ہے جب آنکھوں مےں درد ،دلوں مےں آہےں اور لبوں پر سسکےاں نہ ہوں ۔ کسے خبر تھی کہ آج کا دن اپنے دامن مےں حشر سامانےاں لئے ہوئے ہے اور اچانک ےہاں کے مکےنوں کی زندگی زےرو زبر ہو جائے گی ۔ ےہاں کے مکےنوں کےلئے اچانک قےامت برپا ہو جائے گی ۔ ابھی 2005ء والے زلزلہ کے اثرات ذہنوں پر حاوی تھے کہ نےا زلزلہ آ گےا ۔ آزاد کشمےر مےر پور سے صرف اےک کلو مےٹر دور جاتلاں کے علاقہ مےں زمےن پھٹ گئی ،گاڑےاں الٹ گئےں ،دو کلو مےٹر تک سڑک ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نہر مےں گر گئی ۔ مےر پور مےں متعدد عمارتےں اور دےوارےں گر گئےں ۔ جاتلاں سڑک پر رواں کئی چھوٹی بڑی گاڑےاں شگاف اور نہر مےں جا گرےں ۔ مساجد کے مےنار منہدم ہو گئے ۔ 45سے زائد افراد جاں بحق اور500کے قرےب زخمی ہو گئے ۔ زلزلے کی شدت پانچ اعشارےہ آٹھ اور اس کی گہرائی دس کلومےٹر تھی ۔ زلزلے کا مرکز جہلم سے تئےس کلومےٹر شمال مےں تھا ۔ پاکستان کی تارےخ کا ناقابل فراموش زلزلہ 8اکتوبر2005ء کو آےا جس مےں تقرےباً اےک لاکھ کے قرےب افراد جاں بحق ہوئے ،ہزاروں زخمی اور لاکھوں افراد کو بے گھری کا عذاب بھی سہنا پڑا ۔ گو حالےہ زلزلے مےں جانی اور مالی نقصان کم ہوا لےکن ذرا خےال کرےں کسی گھر مےں اےک فوتےدگی ہو جائے ،کتنے دنوں بلکہ مہےنوں تک سوگ کا ماحول رہتا ہے ،کتنے کام رک جاتے ہےں ،اس سے جڑے کتنے خاندان غم مےں ڈوب جاتے ہےں لےکن ےہاں تو کتنی ماءوں کی گودےں خالی ہو گئےں ،سہاگنےں بےوہ ہو گئےں ،کتنے چاند سے بچے ےتےم ہو گئے ،ےہ سب کسی ماں کی تمنا تھے ،کسی باپ کا سہارا تھے ،کسی کے سر کا ساےہ تھے ،کسی کی آنکھ کا چےن تھے ،کسی کے دل کی ٹھنڈک تھے ،پےارے ہی نہےں بچھڑے املاک بھی تباہ ہو گئےں ۔ اس خوفناک زلزلے نے کتنے دےہات کے حسےن چہرے پر خراشےں ڈال دےں ۔ رقت آمےز مناظر پر ہر آنکھ اشکبار ہو گئی ۔ کئی کے بازو ٹانگےں ٹوٹ گئےں اور جسم مفلوج ہو گئے ۔ ان کے سروں پر ان کی اپنی ہی تعمےر کردہ منوں وزنی چھتےں گر پڑےں ۔ فضائےں سوگوار ،ہوائےں افسردہ اور گھر مسمار ہو گئے ۔ اس امتحان کے بارے مےں علاقہ کے مکےنوں نے سوچا تھا نہ تےاری کی تھی ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ مےں تمہےں مال کے نقصان سے،جان کے نقصان سے آزماتا ہوں ۔ اس آزمائش مےں صبر سے کام لو ۔ ا;203;صابروں کے ساتھ ہے ۔ اس ناگہانی آزمائش اور افتاد نے کئی ہنستے بستے گھروں کو کھنڈرات مےں بدل دےا ،مکان رزق خاک ہو گئے

لٹی جو فصل بہاراں عجےب منظر تھا

لپٹ کے رو دیے پتے بھی آشےانے کے

قدرتی آفات غرےب اور امےر کے مابےن فرق کئے بغےر آتی ہےں ۔ انسانی تہذےب فطرت کے خلاف اس طوےل جدوجہد کی کہانی ہے ۔ فطرت جو کبھی سےلاب ،کبھی بھونچال ،کبھی قحط ، بےماری ،کبھی آسمانی بجلی اور کبھی دےگر ارضی و سماوی آفات کی شکل مےں اس پر حملہ آور ہوتی رہتی ہےں اور صدےوں پر محےط اس کی اجتماعی ،تہذےبی کاوشوں کو پےوند خاک کرنے پر تلی ہوئی ہےں ۔ قدرتی آفات کے سامنے بے چارگی کا ےہ منظر نےا ہے نہ شاید آخری ۔ انسان ازل سے اسی تگ ودو مےں مصروف ہے کہ کسی طرح نظام قدرت پر قابو حاصل کر لے ۔ جب انسان نے زمےن پر بسےرا کےا تب سے آج تک ساری دنےا مےں انسان کی زندگی کا بڑا حصہ اس کوشش مےں ہی گزرا کہ وہ کسی طرح نظام قدرت نہ صرف اپنے قابو مےں کرے بلکہ اپنا غلام بنا لے ۔ کبھی انسان خلاءوں مےں پہنچا تو کبھی چاند کا سفر کےا لےکن قدرت تو چشم زدن مےں اس کی ہر ترقی اور ہر کامےابی کو تہہ و بالا کر کے رکھ دےتی ہے اور انسان قدرتی آفات کے آگے حقےر تنکے کی طرح بہہ جاتا ہے ۔ کبھی سمندروں مےں زلزلہ آنے سے توانائی پےدا ہو کر اےک قےامت برپا کر دےتی ہے ۔ دنےا کی کوئی حکومت ،کوئی نظام کسی طوفان سے نبٹ تو سکتا ہے مگر قےامت کا مقابلہ کرنے کی سکت سے محروم ہے ۔ جاپان کے وسائل ،ترقی سائنس اور ٹےکنالوجی مےں انتہائی مقامات تک پہنچے ہوئے ہےں لےکن سونامی انہےں بھی خس و خاشاک کی طرح بہا لے جانے کی نےت سے آ کر گزر گےا اور جاتے جاتے تھپےڑے مار کر فوکر شےما کے اےٹمی ری اےکٹروں کو غضبناک کر گےا ۔ اتنی ہلاکت خےز قدرتی آفت کی زہر ناکےوں مےں گھر کر بھی جاپانی قوم نے بے بسی،بے ہمتی اور شکست خوردگی کا اظہار نہ کےا بلکہ دلےری اور پامردی سے اس آفت ناگہانی کا مقابلہ کےا ۔ معزز قارئےن در اصل اس کائنات رنگ و بو مےں پائےداری تبدےلی کو ہی حاصل ہے ۔ تبدےلی کا عمل لمحوں مےں ظہور پذےر ہو جاتا ہے ۔ ہر چےز بدل جاتی ہے کوئی شے اپنے اصل مقام پر نہےں رہتی ۔ زلزلے ،طوفان،رےٹا تو قدرتی آفات ہےں ،ےہ آتے ہےں اور گزر جاتے ہےں ۔ وقت کی رفتار نہےں تھمتی اور نہ ہی سورج طلوع ہونے سے انکاری ہوتا ہے ۔ خدا کا ٹائم فرےم ورک ہے موت مےں سے زندگی کو نکالے ےا زندگی سے موت کو ۔ وہ اس چےز پر قادر ہے ۔ وہ پانی مےں پگ لگا دےنے پر قادر ہے ۔ ےہی قےامت پر ےقےن محکم کےلئے اس کی نشانےاں ہےں لےکن انسان ہرحادثے اور واقعے سے بڑا ہے جو اتنی تباہی کے بعد بھی اپنے پاءوں پر کھڑا ہو جاتا ہے ۔ اندھےروں کے بعد ہی اجالے طلوع ہوتے ہےں ان مےں انسانوں کےلئے نشانےاں اور سبق پنہاں ہوتے ہےں ۔ زندگی حرکت سے مشابہ ہے ستارے ڈوبتے ہےں نکلنے کےلئے عروج کو زوال آتا ہے دوبارہ عروج کےلئے کبھی سمندری طوفان آتا ہے تو کبھی سونامی ان کے سامنے دےوقامت جہاز کاغذ کی ناءو اور محلات تنکے بن کر بہہ جاتے ہےں ۔ ےہی فطرت ہے ےہی قانون فطرت ہے ۔ ا;203; تعالیٰ کا ہزار شکر ہے کہ دکھوں اور کرب کے قےدی متاثرےن زلزلہ کےلئے ےہاں کے باسےوں کے اندر بھی رواءتی جواں ہمتی ،ثابت قدمی ،جرات اور ہمدردی کے جذبات بحر بےکراں کی صورت مےں امڈ کر آئے ۔ زلزلہ کی پہلی اطلاع پر حسب معمول پاک فوج کی امدادی گاڑےاں اور ہےلی کاپٹر جائے وقوع کی طرف بھاگ پڑے اور فوری امدادی کاروائےاں شروع کر دےں ۔ ڈاکٹر آ گئے ۔ مختلف سماجی ،مذہبی اور سےاسی تنظےموں نے ان آفت زدوں کےلئے کےمپ لگائے ،پٹی ادوےات اور کھانا مہےا کرنے کی کوشش کی ۔ سےاسی عمائدےن بھی موقع پر پہنچے ۔ گو وزےر اعظم پاکستان عمران خان اقوم متحدہ کے سالانہ اجلاس مےں شرکت کےلئے بےرون ملک تھے لےکن ان کی ہداءت پر گورنر اور وزراء موقع پر پہنچے اور متاثرےن کو تسلی دلاسہ دےا ۔ وزےر اعظم عمران خان نے اپنی پاکستان آمد کے اگلے روز ہی مےر پور آزاد کشمےر کا دورہ کےا اور کہا کہ حکومت زلزلہ متاثرےن کےلئے پےکےج تشکےل دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ متاثرےن کی بحالی کےلئے تمام ممکن اقدامات کئے جائےں گے ۔ ڈسٹرکٹ ہسپتال مےر پور مےں زخمےوں کی عےادت اور امدادی کاموں پر برےفنگ لےنے کے بعد وزےر اعظم نے کہا مےر پور کے آفت زدگان کا دکھ محسوس کر رہا ہوں ۔ انہوں نے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لےا ۔ رشک آتا ہے ان افراد پر جنہوں نے شکستہ حوصلوں کو جلا بخشی ،وےران آنکھوں کو نشاۃ ثانےہ دکھائی ۔ ےہ جذبہ انمول بھی ہے اور بے مثل بھی ،قابل تقلےد بھی ہے اور لائق رشک بھی ۔

بھارتی بچے جنسی تشدد کا شکار

بھارت آبادی کے لحاظ سے جنوبی ایشیا کا ایک بڑا ملک ہے ۔ زیادہ آبادی کی وجہ سے یہاں پر افرادی قوت سستی اور با آسانی میسر ہے ۔ صنعتکار اور کارخانہ دار چھوٹی عمر کے بچوں کو اپنے کارخانوں میں بطور مزدور بھرتی کر لیتے ہیں ۔ ان سے سخت کام کرواتے ہیں اور ان کو مزدوری بھی بہت کم دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان کو جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے ۔ نیشنل ہیومن راءٹس کمیشن بھارت کا ایک سرکاری ادارہ ہے ۔ اس کی رپورٹ کے مطابق ہرسال بھارت میں گیارہ ہزار سے زائد کم عمر بچے اغوا کر لئے جاتے ہیں جو کبھی واپس اپنے والدین تک نہیں پہنچ سکتے ۔ کچھ بچے والدین سے خریدے جاتے ہیں ۔ مشقت کےلئے زیادہ تر بچے بہار اور مشرقی بھارت میں جھاڑ کھنڈ سے لائے جاتےہیں ۔ انہیں ان کے والدین سے عموماً ایک ہزار تک میں ماہانہ تنخواہ کے جھوٹے وعدے پر خریدا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ چھ کروڑ سے زائد بچے ایسے ہیں جن سے انتہائی کم عمری میں اتنی مشقت کرائی جاتی ہے کہ اس کا تصور بھی کوئی مذہب انسانی معاشرہ نہیں کر سکتا ۔ مگر بھارتی سرکار یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس معاملے میں چشم پوشی سے کام لیتی ہے ۔ بھارت میں کم سن مزدوروں کی تعداد بارہ سے ساتھ ملین تک ہے ۔ حال ہی میں ;71;ap نامی ایک امریکن کمپنی کو سامان فراہم کرنے والے ہندوستانی سپلائر کو بچوں سے مشقت لینے کے جرم میں ملوث پایا گیا ۔ اس کے بعد نئی دہلی میں کپڑے کی بنائی کے چھوٹے چھوٹے کارخانوں پر چھاپے مارے گئے اور ہزاروں بچوں کو جبری مشقت سے چھٹکارا دلایا گیا ۔ سیو دی چائلڈ ہوڈ فاوَنڈیشن کے بھوون ربھو نے کہاہے کہ ان بچوں کی مناسب آباد کاری ضروری ہے ورنہ ان میں سے زیادہ تر جلد ہی کارخانوں میں کام شروع کر دیں گے ۔ بھارت میں انسانی حقوق کی جو پامالیاں ہو رہی ہیں ان کا بدترین نشانہ تو مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہری بن رہے ہیں جن میں خصوصاً بچوں اور خواتین سے جو سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ رونگٹے کھڑنے کردینے والا ہے ۔ بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجہ میں اب مقبوضہ کشمیر میں امن و امان عزت و آبرو سمیت کچھ نہیں بچا ۔ جہاں ہر وقت جنگ جاری ہو، ظلم و بربریت کی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہوں وہاں امن و امان کیسے رہ سکتا ہے ۔ جو امن و امان کے دشمن ہوتے ہیں وہ عزت و آبرو کے بھی دشمن ہوتے ہیں ۔ کسی کی عزت و آبرو پر حملہ کرنا بدترین دہشت گردی ہے مگر کوئی بھی بھارت کے خلاف کارروائی کرنے والا نہیں ۔ وہاں زندگی کی رعنائیاں ختم ہو چکی ہیں اور صرف جنگ کا قانون نافذ ہے ۔ گجرات میں چار برس پہلے یوں تو ہزاروں مسلمان زندہ جلا دیئے گئے مگر بیسٹ بیکری مقدمے کو کچھ زیادہ شہرت ملی ۔ جنونی ہندووں نے ایک ہی خاندان کے 16 سے زائد افراد کو زندہ جلا دیا تھا ۔ اس بدقسمت خاندان کی ایک کم عمر بچی زندہ بچ گئی ۔ جس کی نشاندہی پر قاتل گرفتار ہوگئے ۔ اس بچی پر کو نہ جانے کیسے کیسے ڈرایا دھمکایا گیا کہ وہ اتنی خوفزدہ ہوئی کہ عدالت میں اگلی بار اس نے قاتلوں کو پہچاننے سے انکار کر دیا ۔ اس مقدمے میں سبھی ملزم باعزت بری کر دیئے گئے اور بچی کو ایک سال قید با مشقت سنا دی گئی کیونکہ اس پرالزام تھا کہ اس نے عدالت کو گمراہ کیا ہے ۔ اس قسم کا انصاف یقیناً ہندو عدالتیں ہی کر سکتی ہیں ۔ بھارت کی مذہبی اقلیتوں کو بھی کچھ کم مصائب نہیں سہنے پڑ رہے ۔ خود ہندو خواتین بھی اس سفاکی سے اپنا دامن نہیں بچا سکیں ۔ بھارت کی سرزمین بیٹیوں کےلئے قتل گاہ بن گئی ہے ۔ اگر اس ظالمانہ روش کو نہ روکا گیا تو خطرناک سماجی و معاشرتی نقاءص پیدا ہوں گے ۔ لڑکیوں کی پیدائش کو منحوس سمجھنا، اس پر ناک بھوں چڑھانا اور ان کےلئے زندگی کی راہوں کو مسدود کرنا، لڑکیوں پر لڑکو ں کو فوقیت دینا، انہیں تعلیم سے محروم رکھنا اور جیسے تیسے ان کی شادی کر کے اپنے سر سے بوجھ اتار دینا دور جہالت اور قدامت کی باتیں سمجھی جاتی تھیں لیکن آج کی مہذب سوساءٹی لڑکیوں کی پیدائش کا حق دینے اور ان کے دنیا میں آنے تک کی روادار نہیں ہے ۔ 1988 میں ستی اور جہیز کم لانے پر جلائے جانے والی خواتین کی تعداد 2209 تھی ۔ 1990 میں یہ تعداد 4835 ہوگئی ۔ آج پندرہ برس بعد کوئی بھی شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ اب یہ تعداد کسی طور پر ایک لاکھ سے کم نہیں ہوگی ۔ ایڈز دنیا بھر میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ بھارت میں بھی ایڈز کے مریضوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ بھارت میں اس وقت ایڈز کے مریضوں کی تعداد پچاس لاکھ ہے جن میں سے 75 فیصد مریض بھارت کی جنوبی ریاستوں میں رہتے ہیں ۔ بھارت میں ایڈز کی ایک بڑی وجہ جنسی بے راہ روی ہے ۔ بھارت اپنے آپ کو عالمی معیشت میں ایک اہم مقام دیتا ہے مگر دنیا کے غریب ترین لوگ بھی یہاں بستے ہیں ۔ دو سو نوے ملین افراد یہاں غربت کا شکار ہیں ۔ بھارت کو اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کی طرف توجہ دینی چاہے ۔

جمہوریت کاعنوان !

دنیا بہت آگے نکل گئی ہے اور ہم ابھی تک دھرنے اور احتجاجات میں الجھے ہوئے ہیں دیکھا جائے تو ہمارے سامنے نظر آنے والے سیاسی چہرے ناکام ہوگئے ہیں اور ملک کی معاشی تباہی کے یہ سب ذمہ دار ہیں ۔ مفاد پرستی ، چاپلوسی اور انفرادی سوچ اور طرز سیاست نے ملک و قوم کے مستقبل کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے ۔ روا داری نام کی نہیں ہے صرف اور صرف مفاد پرستی ہے جس کی وجہ سے عام آدی کو زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے ۔ اور کی سیاست کی جاتی ہے مختلف کارڈ اور مقدس عنوانات کو استعمال کیا جاتا ہے اور جب مقصد پورا ہو جاتا ہے تو اسے پس پشت ڈال دیا جاتا ہے ۔ ہمارا ملک نظریاتی کشمکش سے دوچار ہے ایک طرف اس نظام کی بقا کی بات کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ نظام کو خطرہ ہے اور کبھی کبھی کہا جاتا ہے کہ کہ یہ نظام کرپٹ ہے ملک کے نظام کو چلانے والوں کے متعدد چہرے ہیں ہر چہرے کی جداگانہ شناخت ہے اور اس نظام کے سارے ڈانڈے کیپٹل ازم سے ملتے ہیں جسے میکاءولی، ایڈم اسمیتھ اور لارڈ میکالے نے تشکیل کیا ہے ۔ اقتدار اور حکومت کو چند افراد تک محدود رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ، کمزورکی آواز دبائی جارہی ہے ، اور غریب کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی ہوتی ہے ، کرسی اقتدار پر بیٹھے لوگوں کو یہ منظور نہیں ہے کہ ان کے طریقہ کار پر کوئی سوال اٹھاسکے ، ان سے کوئی سوال کرنے کی جرات کرسکے ان کے نظام کے خلاف آواز بلند کرسکے ، یہی صورت حال فرعون کی تھی فرعونی نظام میں چند افراد پوری دنیائے انسانیت کو غلام بنائے ہوئے تھے ، اس دور کے انسانوں اور جانورں میں کوئی فرق نہیں تھا،کائنات اللہ تعالیٰ نے صر ف اسی کیلئے بنائی ہے ، آسمان سے لیکر زمین تک کی تمام چیزیں صرف انہیں کے قبضہ قدرت میں ہے دوسری طرف اپنے ماسوا کے بارے میں ان کا نظریہ تھاکہ یہ سب ان کی غلامی اور خدمت کرنے کیلئے پیدا کئے گئے ہیں ، عزت اور شرافت کی زندگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ، انہیں ان کے قریب بیٹھنے ، دولت حاصل کرنے ، کمانے اور حصول اقتدار کی کوشش کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ فرعونی نظام کے تناظر میں دیکھا جائے تویہ نظام شرمناک بھی ہے اور انسانیت سوزبھی ، یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں غریبوں کیلئے کوئی مقام نہیں ہوتا ہے، اس نظام میں حکومت اور اقتدار میں عوام کی شراکت نہیں ہوتی البتہ پروپیگنڈا بہت ہوتا ہے ، دولت پر چند افراد کا قبضہ ہوتا ہے ۔ حالانکہ انسانیت ، شرافت ، دولت ، اقتدار اور حکومت کسی کی جاگیر نہیں ہے ،یہ چیزیں صرف چند انسان کیلئے مخصوص نہیں ہیں ، پوری انسانیت لائق احترام ہے ، تمام بنی آدم کو عزت واحترام سے جینے کا حق ہے ۔ اسلام اور قرآن نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ایک انسان کو دوسرے انسان پر حکومت اور اقتدار کا کوئی حق نہیں ہے ،مسلمانوں نے دنیا کو ذہنی غلامی سے آزادی دلائی ہے، جابرانہ نظام اور استحصال سے چھٹکارا دلایا ہے اور اسلام کی تعلیم میں یہ پیغام ہے کہ کوئی بھی انسان کسی دوسرے انسان کو غلام نہیں بناسکتا ہے ۔ کسی شخص کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ دوسرے کو اپنی غلامی پر مجبور کرسکے، دولت و اقتدار پرصرف اپنی بالادستی سمجھے ، حکمت ودانائی کو صرف خود تک محدود رکھے بلکہ انسانیت کے ناطے غریب امیر ، عربی عجمی سبھی برابر ہیں ۔ اسلام میں آزادی، مساوات ، بھائی چارگی اور انصاف کی بات کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اقتدار ، دولت اور شرافت کسی کی خاندانی جاگیر نہیں ۔ فرعون ایک سیاسی کردار ہے جو اپنی اقتدار کیلئے فرقہ واریت اور تقسیم کو فروغ دیتا ہے جس کے خلاف حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جدوجہد کی اورمعیشت پر جب چند افراد قبضہ کر لیتے ہیں تو یہی قارونی نظام کہلاتا ہے جس میں دولت و ثروت پر صرف چند لوگوں کی اجارہ داری ہوتی ہے ۔ اور ہامان کا کردار آج وہ سیاست دان ادا کر رہے ہیں جو مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہیں اور فرعونی نظام سے چمٹے ہوئے ہیں اور عوام کو سچائی سے آگاہ کرنے کے بجائے حکومت کی تعریف کر رہے ہیں اور ارباب اقتدار کی قصیدہ خوانی کررہے ہیں ، یہی فرعونی نظام کی خصوصیت کہلاتی ہے جس میں چند لوگ حکومت کے کاموں کا ڈھنڈھوڑا پیٹے ہیں ، پیسے لیکر ڈھول بجاتے ہیں اور جو لوگ اس نظام میں رکاوٹ بن رہے ہیں ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتاہے اوران کے خلاف فتویٰ بازی کی جاتی ہے ۔ حقائق سے سبق لینے کے بجائے غلطیوں پر غلطیاں کرتے چلے جا رہے ہیں جس کے نتاءج سب کے سامنے ہیں ۔ عوام میں بروقت بیداری ضروری ہے ، اس فرعونی طاقت کے بڑھتے قدم کو روکنا وقت کا اہم تقاضا ہے ۔

Google Analytics Alternative