کالم

دروغ گوئی ۔۔۔بھارتی وطیرہ !

ہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بھارتی میڈیا، ونیا کا واحد میڈیا ہے جس کے منہ سے کوئی سچ بات کبھی سننے کو نہیں ملتی ۔ آج کل چونکہ پاکستان کے بعض شہروں اور بھارت میں فضائی آلودگی کا مسئلہ بہت زیادہ ہے، اس پر کئی بھارتی ٹی وی چینل اور اخبار من گھڑت اور مضحکہ خیز قسم کی رپورٹس پیش کر رہے ہیں کہ یہ سب کچھ بھی آئی ایس آئی کا کیا دھرا ہے اور اس نے ایسے پلانٹس خصوصی طور پر بنائے ہیں جن کا رخ بھارت کی طرف کر کے چلایا جاتا ہے اور نتیجے کے طور پر وہاں فضائی آلودگی بڑھتی ہے،حالانکہ معمولی سی عقل اور سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی با آسانی سمجھ سکتا ہے کہ جس ملک میں 65 فیصد آبادی کے پاس ٹوائلٹس جیسی بنیادی سہولت ہی نہ ہو اور وہ باہر کھلے آسمان تلے رفع حاجت کرتے ہوں ، وہاں فضائی آلودگی اور گندگی کا خاتمہ کیونکر ہو سکتا ہے، بھارت میں اتنہائی بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا جو استحصال جاری ہے، اس سے تو پناہ ہی مانگی جا سکتی ہے ۔ بھارتی میڈیا کی روز اول سے یہ روش رہی ہے کہ وہ حقائق کو ہمیشہ توڑ مروڑ کر پیش کرتا رہا ہے ۔ ان دنوں بھی بھارتی ذراءع ابلاغ میں وطن عزیز اور اس کے قومی سلامتی کے اداروں کی بابت ایک نہ ختم ہونےوالا طوفانِ بدتمیزی بپا ہے ۔ دی کوینٹ نامی اخبار نے دو روز قبل زہر افشانی کی کہ پاکستان کی جانب سے ابھی بھی دہشتگرد گروپوں کی حمایت جاری ہے ۔ دی وائر نامی اخبار نے فرمایا کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات بالکل ٹھیک ہیں اور وہاں مزاحمت کے کوئی آثار دیکھنے میں نہیں آ رہے ۔ علاوہ ازیں مختلف بھارتی اخباروں میں کرتار پور راہداری کے متعلق بھی انواع اقسام کے خدشات اور پراپیگنڈے کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس قدر بے سر و پا باتوں کی توقع بھارتی حکمرانوں اور میڈیا سے ہی کی جا سکتی ہے جو اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے کیلئے وطن عزیز کی بابت ہمہ وقت زہر افشانی کرتے رہتے ہیں ۔ دوسری طرف بھارت میں نوٹ بندی کے فیصلے کو تین سال بیت چکے ہیں ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ مودی نے آٹھ نومبر کی شب اچانک پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹوں پر پابندی عائد کر دی ۔ یاد رہے کہ اس وقت تقریباً 15لاکھ کروڑ روپے مالیت کے 500 اور 1000 روپے کے نوٹ بھارت میں گردش میں تھے جو تمام نوٹوں کا 85 فی صد بنتا تھا ۔ یوں مودی نے ایک حکم سے 85 فیصد روپے ردی میں بدل دیے ۔ موصوف کا کہنا ہے کہ اس قدم کا مقصد کالے دھن یا بلیک منی کو ختم کرنا ہے ۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قدم سے واقعی کالا دھن پر قابو پایا گیا;238; ۔ مبصرین نے اس کا جواب نفی میں دیا ہے ۔ ایک جائزے کے مطابق بھارت میں 15 لاکھ کروڑ روپے میں تقریباً تین لاکھ کروڑ روپے کالے دھن کے زمرے میں آتے ہیں ۔ ہندوستان میں گذشتہ نوٹ بندی کے بعد کروڑوں لوگ نئے نوٹ حاصل کرنے اور پرانے نوٹ جمع کرنے کےلئے بینکوں کے باہر قطاروں میں کھڑے ہو گئے تھے ۔ چھوٹے چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں میں افراتفری مچی ہوئی تھی ۔ اس پر مزید ستم ظریفی یہ کہ مودی نے اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے کی یومیہ حد دو ہزار مقرر کر رکھی تھی ، جس سے لوگوں کی مشکلات مزید بڑھتی جا رہی تھیں ۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مودی نے ابتدا میں خیالی پلاءو پکایا تھا کہ کہ چند ہی دنوں کے اندر پورے ملک میں نئے نوٹ لوگوں تک پہنچ جائیں گے اور ماحول نارمل ہوتے ہی موصوف یہ دعویٰ کر سکیں گے کہ ملک میں کالے دھن اور جعلی نوٹوں کا چلن ختم کر دیا گیا ہے ۔ مگر بڑے نوٹوں پر پابندی کے کئی ماہ تک بینکوں کے باہر لوگوں کی قطاریں کم ہوتی ہوئی نظر نہیں آئیں اور نوبت خانہ جنگی تک جا پہنچی ۔ مختلف تجزیوں اور رپورٹوں کے مطابق بھارت کے سیاست دانوں ، سرمایہ کاروں ، تاجروں اور بڑے بڑے لوگوں نے 50 سے 80 لاکھ کروڑ روپے غیر ملکی بینکوں میں جمع کر رکھے ہیں ۔ مودی نے اپنے انتخابی منشور میں یہ بڑ ہانکی تھی کہ غیر ممالک سے کالا دھن بھارت واپس لایا جائے گا اور ہر بھارتی شہری کے کھاتے میں پندرہ لاکھ روپے فی کس کے حساب سے جمع کیے جائیں گے ۔ ;667480; کے صدر ’’ امت شاہ ‘‘ماضی قریب یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ تو محض ایک چناوی جملہ تھا ۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت کا ٹیکس نظام انتہائی فرسودہ اور غیر موثر ہے ۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ بھارت میں گذشتہ مالی برس میں صرف پانچ کروڑ لوگوں نے ٹیکس ریٹرن بھرے تھے جو پوری آبادی کا محض چار فیصد بنتا ہے ۔ واضح رہے کہ ماضی میں دنیا کے کئی اور ملکوں میں بھی بعض حکمرانوں نے مروجہ کرنسی کی جگہ اچانک نئی کرنسی چلانے کا قدم اٹھایا تھا لیکن یہ سبھی تجربات ناکام ثابت ہوئے تھے ۔ مودی نے اپنی حکومت اور پارٹی کے اراکین سے کہا کہ وہ اپنے دفاع کی کوشش نہ کریں بلکہ خود کو اس اعتماد کے ساتھ پیش کریں کہ ’’نوٹ بندی‘‘ بہتر مستقبل کیلئے ہے ۔ بہتر مستقبل کی اُمید کس بل بوتے پر کی گئی;238; یہ اُنہوں نے نہیں بتایا لیکن اظہار اعتماد کا حربہ وہ خود بھی آز ماتے رہے ۔ اُن کا یہ جملہ کہ ’’غریب چین کی نیند سورہا ہے او امیر پریشان ہے، نیند کی گولیاں کھانے پر مجبور ہے‘‘ زمینی حقائق کو خاطر میں لائے بغیر خالی خولی اعتماد ظاہر کرنے کے مترادف ہے ۔ اس وقت بھارت میں کوئی غریب یا عام آدمی ایسا نہیں جو چین کی نیند سورہا ہو ۔ دکاندار پریشان گاہک پریشان، بینک ملازمین پریشان بینک صارفین پریشان، مریض پریشان اسپتال کا عملہ پریشان وغیر ہ گویا کسی کو راحت نہیں ہے ۔ ہر شخص مودی کے فیصلے کی مذمت ہی کررہا ہے ۔ اس ساری صورتحال کا خمیازہ جنابِ مودی کو بھگتنا پڑے گا ۔ اس بابت کسی کو ذرا سا بھی شبہ ہے تو اسے اس کی خوش فہمی یا خام خیالی ہی قرار دیا جاسکتا ہے ۔

مغر ب کے مذموم مقاصد!

آزادی سب سے بڑی نعمت ہے اور مملکت خداداد پاکستان اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے ۔ آزادی کی قدر و قیمت ان کے پاس ہے جو اس وقت جد و جہد آزادی سے گزر رہے ہیں آزادی کے کچھ تقاضے بھی ہیں اور سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ آزادی کی معنوویت کو مد نظر رکھا جائے زبانی کلامی تو لفظ آزادی کا بڑا چرچا ہے اور اس لفظ کا استعمال بہت زیادہ کیا جاتا ہے مگر یہ لفظ قربانی کا متقاضی ہے مثلاً ملک کی معاشی حالت کمزور ہے اور قرضوں کا بوجھ ہے سب کی ذمہ داری ہے کہ ٹیکس ادا کریں اور ٹیکس چوری سے اجتناب کرے ۔ آزادی شطر بے مہار کی طرح نہیں ہے کہ جس کا جی چاہے وہ کرے بلکہ آزادی حدود وقیود اور دائرے کے اندر آزادی، آزادی ہوتی ہے ۔ ایسی آزادی جو اپنے دائرے کو چھوڑ کر دوسرے کے دائرے میں ہوجائے تو یہ آزادی نہیں بلکہ ظلم ہوجاتا ہے ۔ آج اہل مغرب نے آزادی کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ جاگیرداروں کو کھلی آزادی ہے کہ وہ زمین کا مالک ہونے کے نام پر کاشتکاروں کی محنت کو ہڑپ کریں اور انہیں قبر کی جگہ بھی نہ دیں آزادی نسواں کے نام پر عورتوں کو کھلی چھٹی ہے کہ جس طرح چاہیں جسمانی نمائش کریں ۔ اظہار رائے پر دوسرے مذاہب کی مقدس شخصیات کی توہین کریں ۔ جمہوریت کے نام پر سرمایہ کاری کریں اور پھر اقتدار میں جاکر جمور کے خون چوسنے کی کھلی آزادی اور اسی طرح سرمایہ کاری کی آزادی کے نام پر دوسرے ممالک کو لوٹنے کی کھلی آزادی ۔ لیکن نام کے رٹے کے بجائے معنوویت کو مدنظر رکھا جانا چائیے ۔ حقیقی آزادی معنوی ہے ۔ اسلام نے غلامی کے نام کو تو برقرار رکھا لیکن ان کو معنوی آزادی جس کی وجہ سے غلام حقوق میں آقا کے برابر ہوگیا اور آقا و غلام باری باری اونٹ پر سفر کرتے ۔ میرے خیال میں یہ مثال دنیا کا کوئی دوسرا نظام دینے سے قاصر ہے کہ غلام تخت شاہی پر متمکن ہوئے ہو ہندوستان جب اسلامی نظام تھا تو اس دور میں غلاموں نے کئی عشروں تک حکومت کی ۔ اسلام نے لامحدو د ملکیت کو معنوی طور پر ختم کیا اور فرمایا لوگ جو سونا اور چاندی اکٹھی کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ (عوام) پر خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سناءو ۔ جس دن اس سونے اور چاندی کو گرم کرکے ان کی پیٹھوں ، چہروں اور پہلوءوں کو داغا جائے گا ۔ جاگیرداری کو معنوی طور پر ختم کیا اور اور قرآن سورۃ بقرہ میں فرمایہ جو زمین میں ہے وہ تم سب انسانوں کےلئے پیدا کیا گیا ہے ۔ حدیث میں فرمایا کہ جو مردہ زمین کو زندہ کرے وہ اسی کی ہے ، یعنی جو کاشتکاری کرتا ہے وہ اسی کی ہوتی ہے ۔ عورتوں کو بازار حسن اور اشتہار بننے کی آذادی کے بجائے حقیقی آزادی حقوق کی آزادی دی ۔ اور حقوق میں مردوں کے برابر کردیا اظہار رائے کی کے نام پر دوسروں کے باطل معبودوں کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا اور فرمایا جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے ہیں انہیں برا بھلا نہ کہو اس کے نتیجے میں وہ بھی اللہ کو دشمنی ، جہالت اور ظلم کی وجہ سے برا بھلا کہیں گے ۔ مجھے جس طرح اہل مغرب کے تھینک ٹینک سے نفرت ہے کہ وہ اچھے ناموں کو اپنے مذموم عزائم کے حصول کےلئے استعمال کرتے ہیں اسی طرح مجھے پاکستان کے ان انتہا پسندوں ، روشن خیالوں اور، رجعت پسندوں اور قدامت پرستوں سے بھی شکوہ ہے کہ وہ بھی اسلام کی مقدس اصطلاحوں کو تو استعمال کرتے ہیں لیکن ان اصطلاحوں کی روح اور معنویت مد نظر نہیں رکھتے اور ان کے اس عمل کا نتیجہ بھی مغرب کے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کے حق میں نکلتا ہے ۔ مثلاًاسی کی دہائی میں افغانستان میں مقدس عنوان کے نام پر جو کھیل کھیلا گیا اس کا سب سے زیادہ نقصان انہی کو ہوا اور فائدہ امریکہ کو ۔ آزادی انسان کا حق ہے مگر حد سے تجاوز پھر زیادتی ہے ہر صورت میں اسلام اور شریعت کی تعلیمات اور روح کو مدنظر رکھنا چایئے ۔ لہٰذا میری تمام باشعور افراد سے گزارش ہے کہ وہ کسی نام سے خواہ ان کے ساتھ کتنے ہی اسلام کے لاحقے لگے ہو ان سے متاثر نہ ہو بلکہ ان سے حاصل ہونے والے نتاءج کو مدنظر رکھیں ۔ مثلاً اسلامی بینکاری، اسلامی ممالک کی تنظیم،آزاد ملک،آزادی اظہار،جمہوریت، شریعت بل وغیرہ کہ ان مقدس اصطلاحوں کو استعمال کر کے ہم نے ان کی آڑ میں اپنے مقاصد تو حاصل کئے آج تک کیا نتیجہ نکلا مذہب کو کتنا فائدہ ہوا اور عوام کو کیا حقوق ملے

مہنگائی کوکنٹرول کرنے کے لئے وزیراعظم کی ہدایات

وزیراعظم عمران خان نے انتخابات میں اپنے منشور میں کہاتھاکہ وہ اقتدار میں آئیں گے تو کوئی بھوکانہیں سوئے گا، اگر دیکھاجائے تو اس وقت ملک میں مہنگائی عروج پر ہے ، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ۔ اس وقت عوام کا بنیادی مسئلہ روٹی کا ہے،روٹی کے حصول کیلئے عوام مارے مارے پھر رہے ہیں اور نوالے کی تلاش میں ہاتھ پاءوں مار رہے ہیں ، سابقہ حکومتوں کے سیاسی مسخروں نے عوام کو مہنگائی خوف اور بھوک کے تحفے کے سوا اور کچھ نہیں دیا جب بھی انہیں ضرورت ہوتی ہے وہ عوام کے سڑکوں پر نکلنے کی بات ضرور کرتے ہیں لیکن ان کے پاس عوام کے بنیادی مسائل کا کوئی حل نہیں ہے ۔ اب موجودہ حکومت اورعمران خان کے پاس موقع ہے کہ وہ غریب عوام کےلئے کچھ نہ کچھ کرکے دکھائیں اورعمران خان اپنے وعدے کو پورا کریں ، جب ملک میں مہنگائی ہوتی ہے تو کرپشن کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اورکچھ لوگ اس سے ناجائزفائدہ اٹھاتے ہیں اوراس کانقصان غریب عوام ہی بھگتتے ہیں اس کے علاوہ غربت سے بہت سے جرائم جنم لیتے ہیں ۔ وزیراعظم کی یہ بات درست ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ کوئی شخص بھوکانہ سوئے ۔ حکومت کو غربت کے خاتمے کے لئے دوررس اقدامات کرنے چاہئیں ۔ مہنگائی کی حالیہ لہر سے عام آدمی بھی پریشان ہے ۔ ایک بات ثابت ہوگئی ہے کہ عمران خان کے اعصاب مضبوط ہیں نکلے ۔ انہوں نے شدید دباوَ کے حالات میں اپنا حوصلہ قائم رکھا ہوا ہے ۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک سے غربت اور مہنگائی اور بے روزگاری کو ختم کیا جائے عوام کو نہ جمہوریت سے دلچسپی ہے اور نہ آمریت سے بلکہ عوام کو ایک ایسے صالح نظام کی ضرورت ہے جو عوام کے مسائل حل کرسکے اور ان کے حقوق کا تحفظ کرسکے ۔ اس حوالے سے گزشتہ روزوزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اشیائے ضروریہ کی وافر فراہمی اور قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں عام ;200;دمی کے استعمال میں ;200;نے والی اشیاضروریہ مثلاً ;200;ٹا، گھی، چینی، دالیں اور چاول کی وافر فراہمی اور ان اجناس کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں ۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی فرد بھوکا نہ سوئے ۔ حکومت ریاست کا یہ فرض پورا کرنے کےلئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ۔ ہماری ذمہ داری نہ صرف اشیاضروریہ کی وافر فراہمی کو یقینی بنانا ہے بلکہ ان کی قیمتوں پر بھی قابو پانا ہے تاکہ کم ;200;مدنی والے اور غربت کے شکار افراد اور خاندانوں کو ضرورت کی بنیادی اشیا با;200;سانی میسر ;200;ئیں ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیا ضروریہ کی وافر فراہمی اور غریب افراد کےلئے ان اشیاکی کم قیمت پر فراہمی سے متعلق تجاویز کو فوری طور پر حتمی شکل دی جائے تاکہ ان پر عملدر;200;مد کیا جاسکے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے ۔ وزیراعظم عمران خان کا بنیادی مقصد انسانیت کا احساس اور سہولتیں دینا ہے، قانون سازی کے ذریعے غریب کی قانونی معاونت کیلئے مربوط نظام بنایا ہے ۔ بظاہر حالات یہ بتارہے ہیں کہ وقت مشکل ضرور ہے لیکن مشکل وقت کے بعد اچھا وقت بھی آتا ہے کیونکہ گزشتہ حکومتوں کی کارکردگی دیکھی جائے تومحسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے ذاتی مفاد کو زیادہ ترجیح دیاور ملکی وقومی مفاد کوپس پشت ڈال کررکھا ۔

قومی اسمبلی میں طویل عرصے بعدقانون سازی

طویل عرصہ بعدقومی اسمبلی میں قانون سازی ہوئی ہے ، گزشتہ روز اجلاس کے دوران حکومت نے اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود 9 آرڈیننس سمیت11 بلز منظورکر لئے ۔ حکومت کی جانب سے اس یکطرفہ قانون سازی میں اپوزیشن کے ارکان کو بحث کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا اور ان کے اعتراضات کو اسپیکر نے یکسر مسترد کردیا ۔ اجلاس کے آغاز پر حکومت کی جانب سے و قفہ سوالات معطل کرنے کی اپیل کی گئی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ۔ اس موقع پر بھی ڈپٹی اسپیکر نے اپوزیشن کے احتجاج کو نظر انداز کیا اور اپنی تمام توجہ حکومتی بنچوں پر ہی رکھی ۔ وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے مختلف بل منظوری کےلئے پیش کیے جن میں سے کئی حالیہ جاری ہونے والے آرڈیننسز بھی شامل تھے ۔ قومی اسمبلی نے خواتین کے جائیداد میں حق کے حوالے سے بل 2019، انصرام تولید اور وراثت بل 2019، لیگل اینڈ جسٹس ایڈ اتھارٹی بل 2019 اور پسماندہ طبقات کےلئے قانونی معاونت و انصاف اتھارٹی بل منظور کر لیے ۔ اجلاس میں اعلیٰ عدلیہ میں ڈریس کوڈ کے نفاذ سے متعلق بل 2019، تحفظ مخبر نگراں کمیشن کے قیام کا بل، نیا پاکستان ہاءوسنگ اتھارٹی بل، مجموعہ ضابطہ دیوانی ترمیمی بل اور انسداد بے نامی ٹرانزیکشن ترمیمی بل 2019 کثرت رائے سے منظور کیا گیا ۔ اراکین نے قومی احتساب بیورو ترمیمی بل 2019 کی بھی منظوری دی جس کے تحت احتساب آرڈیننس 1999 میں ترمیم کی گئی ہے ۔ ایوان میں مجموعی طور پر 15 بل پیش کیے گئے جن میں سے 11 کی منظوری دی گئی، 9 آرڈیننسز کو بھی بل کا حصہ بنایا گیا جن میں سے 7 حالیہ جاری ہونے والے آرڈیننسز بھی شامل ہیں جبکہ 3 آرڈیننس میں 120 دن کی توسیع دی گئی جن آرڈیننس کو توسیع دی گئی ان میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز اتھارٹی، انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم اور تعزیرات پاکستان میں ترمیم سے متعلق آرڈیننس شامل ہیں ۔

ایس کے نیازی کی زیرک گفتگو

پاکستان گروپ آف نیوزپیپرزکے چیف ایڈیٹر اور روز نیوزکے چیئرمین ایس کے نیازی نے پاکستان کے سیاسی مستقبل کو عیاں کردیا ،ایک نجی ٹی وی پروگرام میں معروف صحافی ضیاء شاہد کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دھرنے سے دراصل ن لیگ اور پی پی کو فائدہ ہوا ہے البتہ مولانا فضل الرحمن کو اس لحاظ سے کامیابی ملی ہے کہ انہوں نے ایک کامیاب ’’پاور شو‘‘ کیا اور پارلیمنٹ میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے کم اکثریت حاصل کرنے کے باوجود کامیاب دھرنا دے کر اپوزیشن کا بھرپور کردار ادا کیا جس کا فائدہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو ہوگا جبکہ مولانا فضل الرحمن کو یہ اعزاز بھی جاتا ہے کہ انہوں نے مختلف مکتب فکر کے مذہبی لوگوں کوایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کر قومی لیڈر کی حیثیت اختیار کر لی ہے ۔ اس کے علاوہ مولانا یہ اجتماع بغیر کسی نقصان کے منعقد کرنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ لینے کے مطالبے کے جواب میں ایس کے نیازی نے کہا کہ یہ مطالبہ غیر ;200;ئینی ہے ۔ ایک سال سے زائد عرصہ ہونے کے باوجود حکومت معاملات کو بہتر نہیں کرسکی مہنگائی کا سلسلہ ہمارے سامنے ہے ۔ عام ;200;دمی کیلئے روزمرہ کی اشیاء خریدنا بھی مشکل ہوچکا ہے ۔ عوام کو مایوسی سے نکالنے کیلئے پی ٹی ;200;ئی کی حکومت کو عوام کے مسائل حل کرنے کے بارے میں جلد سوچنا ہوگا ۔ پی ٹی ;200;ئی کی حکومت ٹیکس کا نظام بہتر بنانے میں بھی ناکام ہوئی ہے حالانکہ میرا خیال ہے کہ وزیراعظم عمران خان قائداعظم کا ویژن رکھتے ہیں مگر ان کیساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ایک تو ان کے ساتھ دوسری سیاسی پارٹیوں سے ;200;ئے ہوئے وزراء ہیں اور ان ;200;زمودہ لوگوں سے بہتر نتاءج کی توقع رکھنا دشوار بات ہے ۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے پاس عوامی مسائل کے ادراک کا کوئی ذریعہ نہیں ۔ ایس کے نیازی نے پیشنگوئی کی کہ الیکشن ڈیڑھ سے دو سال کے عرصے میں ہونگے اور الیکشن فوج کے بغیر نہیں ہوسکتے ۔ فوج کو جب بلایا جاتا ہے تب ;200;تی ہے اور برسر اقتدار حکومت فوج کو بلاتی ہے لہٰذا فوج پرالزام نہیں لگانا چاہیے ۔

مصورپاکستان،اقبال

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے ۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے ۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا ۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے ۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریہ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا ۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا ۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے ۔ علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877کو پیدا ہوئے ۔ ان کی تاریخ پیدائش پر حکومتی اور نجی سطح پر تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ اس دفعہ ملک بھر میں شاعر مشرق ڈاکٹرعلامہ اقبال کا 142 واں یوم پیدائش نہایت عقیدت واحترام سے منایا جائے گا ۔ علامہ اقبال کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے لاہور میں مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پر وقار تقریب کا انعقاد ہوگا ۔ اس مرتبہ اقبال اکادمی پاکستان نے یوم اقبال کے موقع پر گرینڈ اقبال پارک لاہور میں ایک عوامی میلے کا انتظام بھی کیا ہے ۔ یہ میلہ 9 نومبر سے 17 نومبرتک نو روز جاری رہے گا ۔ میلے کے اوقات صبح 10 بجے سے رات 10 بجے تک ہیں ۔ میلے میں صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، وفاقی و صوبائی وزراء، صوبائی گورنر، وزیر اعلیٰ اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی آمد بھی متوقع ہے ۔ اس کے علاوہ سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹوں کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد بھی اس میلے میں شریک ہو رہی ہے ۔ اقبال;231; اکادمی پاکستان کے ظہیر احمد میر نے اقبال;231; عوامی میلے بارے معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اس عوامی میلے میں عظیم الشان بک فیئر کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ جس میں زیادہ تر اقبال;231; کی کتب رکھی جائیں گی ۔ اس کے علاوہ اقبال;231; پر لکھی گئی کتب بھی اس بک فیئر کا حصہ ہوں گی ۔ اس کا اصل مقصد نوجوان نسل کو اقبال;231; کی شخصیت، زندگی اورنظریہ پاکستان بارے سیر حاصل معلومات فر اہم کرنا ہے ۔ عظیم الشان بک فیئر میں میں کتب بینی کے فروغ کےلئے سستی اور معیاری کتب خصوصی رعایت پر فراہم کی جائیں گی ۔ اس سلسلہ میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں پبلشرز، بک میکرز، اسٹیشنری فروش بھی میلہ میں شرکت کریں گے ۔ عوامی میلے میں بزم اقبال کی شاءع کردہ کتب بھی رکھی جائیں گی ۔ بزم اقبال;231; کی دو سو پچاس سے زائد پبلیکشنز ہیں جو فکر اقبال کے فروغ میں معاونت کررہی ہیں ۔ چونکہ میلے میں ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے لہٰذا بچوں ، بڑوں ، خواتین غرض ہرطبقے کےلئے عوامی میلے میں دلچسپی کے انتظامات کیے گئے ہیں ۔ بک فیئر کے علاوہ مختلف روایتی کھانوں کے سٹالز بھی ہوں گے تاکہ آنے والے مہمان مختلف ذائقوں سے لطف اندوز ہو سکیں ۔ اس کے علاوہ خواتین کےلئے میلے میں ہینڈی کرافٹس ، بوتیک وغیرہ کے سٹالز بھی ہوں گے ۔ بچوں کےلئے جھولے، کھلونے اور دوسرے پسندیدہ مشاغل بھی ہوں گے ۔ یہ میلہ گریٹر اقبال پارک میں منعقد کیا جا رہا ہے ۔ قیام پاکستان سے قبل منٹو پارک کے نام سے مشہور 18 ایکڑ رقبے پر محیط یہ گراوَنڈ کئی تاریخ ساز لمحات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ 23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسے سے اس گراوَنڈ کو نئی پہچان ملی اور اسے اقبال پارک کا نام دیا گیا ۔ 23 مارچ 1960ء کو مینار پاکستان کی تعمیر کا آغاز کیا گیا ۔ 21 اکتوبر 1968ء کو 196 فٹ بلند مینار کی تعمیر مکمل ہوئی ۔ 10 اکتوبر 2015ء کو پنجاب حکومت نے اقبال پارک کو 125 ایکڑ رقبے تک وسعت دیتے ہوئے 981 ملین کی لاگت سے پارک کی تزئین و آرائش کا آغاز کیا گیا ۔ تاریخی بادشاہی مسجد، شاہی قلعہ، علامہ اقبال اور حفیظ جالندھری کے مزارات کو بھی پارک کی حدود میں شامل کر کے اسے گریٹر اقبال پارک کا نام دیدیا گیا ۔ فکر اقبال;231; کے فروغ کےلئے ایک ادارہ بزم اقبال لاہور میں قائم ہوا ۔ جس کی ذمہ داری تھی کہ اقبال کے فرمودات و خیالات کو عام کیاجائے اور ان کی تصنیفات سے دنیا کو آگاہ کیا جائے ۔ اس مقصد کےلئے بزم اقبال کے نام سے یہ اکیڈمی ایک خود مختار ادارے کی حیثیت سے کام کر رہی ہے ۔ راقم الحروف ڈائریکٹر بزم اقبال کا کہنا ہے کہ فکر اقبال سے آگاہی موجودہ اور آئندہ معاشرے کی اہم ضرورت ہے ۔ جس کےلئے بزم اقبال اپنا فعال کردار ادا کررہا ہے ۔ اقبال کے فلسفے کو سمجھنے کیلئے اقبال کی فکر کو پھیلانے کی اشد ضرورت ہے ۔ اقبال کی شاعری قرآن کے احکامات کے عین مطابق ہے ۔ اس سلسلے میں تحقیقی کتب اور سہ ماہی مجلہ اقبال شاءع کیا جاتا ہے ۔ علامہ اقبال کی شخصےت کا کوئی پہلو اےسا نہےں ہے جس پر لکھا نہ گےا ہو ۔ اندورون ملک اور بےرون ملک علامہ اقبال پر بے تحاشا لٹرےچر موجود ہے جس میں اےسا لٹرےچر بھی ہے جسے کتابی صورت میں ڈھالاجانا ضروری ہے ۔ ہم دےکھتے ہےں کہ ملک بھر کی تمام جامعات میں علامہ اقبال پر متعدد مقالہ جات اور رےسرچ پیپرز لکھے گئے ہےں ‘ ان مقالہ جات اور رےسرچ پےپرز کو بزم اقبال کے زیر سایہ کتابی صورت میں مرتب کےا جائےگا ۔ علاوہ ازےں ماہرےن اقبالےات‘رےسرچرز اور سکالرز سے اقبال کی شاعری کے مختلف موضوعات پرپےپرز لکھوا کر انہےں بھی مرتب کےا جائےگا ۔

’’ویلڈن پاکستان‘‘

کرتا رپور راہداری کھولنے پرپوری دنیا کہہ رہی ہے ’’ویلڈن پاکستان‘‘یہ پیغام ہے محبت کا، بھائی چارے کا،امن کا،کرتارپور راہداری کاقیام اس بات کی دلیل ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات دونوں طرف کے عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرسکتے ہیں جبکہ بات بات پرمشتعل ہونا، ہر وقت ماحول کوکشیدہ بنائے رکھنا،انسانوں کے منہ کا نوالہ چھین کرسارے وسائل جنگی سازوسامان پرخرچ کرنا، انسانی بقاء کی بجائے تباہی کے انتظامات کرنا کسی صورت دونوں طرف کے عوام کیلئے بہترنہیں ہو سکتا ۔ انڈین حکمران کہتے ہیں کہ پاکستان چھوٹا سا ملک ہوکرآنکھیں دکھاتا ہے، ہمارے پاس ایٹم بم ہے، میزائل ہیں ،جنگی جہاز ہیں ، توپیں ،ٹینک اور بہت بڑی فو ج ہے پرانڈین عوام کولیٹرین کی سہولت دستیاب نہیں ،ہم کہتے ہیں ہمارے پاس اٹیم بم ہیں ، دنیاکابہترین میزائل سسٹم ہے،توپیں اورٹینک ہیں ، دنیاکے بہترین جنگی جہاز اور ماہرپائلٹ ہیں ،ہماری فوج دنیاکی بہترین افواج میں سرفہرست ہے،ہم جذبہ شہادت سے سر شار ہیں لہٰذاہم آخری گولی، آخری سانس،آخری سپاہی تک لڑیں گے ۔ انڈین حکمران کہتے ہیں ہم کشمیر میں 9 لاکھ فوج اتارسکتے ہیں ،ہم ہمسایہ ملک میں گھس کربمباری کرسکتے ہیں پرملک میں پھیلی بھوک افلاس پرتوجہ نہیں دے سکتے،بھارت کے جنگی جنون کے جواب میں ہم کہتے ہیں ،ہم اپنے سے سات گنابڑے ہمسایہ ملک کی اینٹ کا جواب پتھرسے دے سکتے ہیں پراپنے ملک کے عوام کومہنگائی کی طوفانی بمباری سے بچانے کیلئے کچھ نہیں کرسکتے، بھارتی حکمران اپنے عوام کو پاکستان کیخلاف بھڑکاکر اُن کے منہ سے نوالہ چھین کرکچھ جنگی سازوسامان پراورباقی اپنے خاندان پر خرچ کرتے ہیں ،عوام کہیں حساب نہ مانگ لیں اس لئے بھارت کسی نہ کسی محاذ پر چھیڑ چھاڑکرتارہتاہے جس کے نتیجے میں پاکستان کو اپنا دفاع مضبوط سے مضبوط اورپھرمضبوط ترین بنانے کیلئے پاکستانی عوام کوڈینگی،بے روزگاری، مہنگائی ،نا انصافی،بھوک اورافلاس کے حوالے کرنا مجبوری بن جاتاہے،دونوں طرف کے عوام کو غربت، مہنگائی، بیروزگاری، صحت، تعلیم اور انصاف کی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا ہے، دونوں اطراف کے حکمران خاص طوربھارتی حکمران ہوش سے کام لیں اورجنگ وجدل کی بجائے مسائل کاپرامن حل نکالنے کیلئے مل بیٹھ کر تجاویز کا تبادلہ کریں تونہ صرف پاکستان اور بھارت کے عوام کیلئے بہترہوگابلکہ خطے کے دیگر ممالک میں بسنے والے بھی سکھ کاسانس لے سکیں گے، پاکستان نے ہرموقع پرامن کی بات کی ہے جبکہ بھارت کی طرف سے ہربارجنونی جواب آتا ہے،اب کرتا رپو ر راہداری کوہی دیکھ لیں ،ایک طرف بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت کاقانون منسوخ کرکے وادی میں بدترین کرفیو کے زورپر80لاکھ کشمیریوں کیلئے زندگی کے تمام دروازے بندکررکھے ہیں ، لائن آف کنٹرول پر کشیدہ حالات اوربھارت کی آبی جارحیت کے باوجودپاکستان کی جانب سے بھارتی سکھ برادری کے مذہبی مقامات تک بغیر ویزہ ودیگراخراجات انہیں اپنی عبادت گاہ تک آسان ترین رسائی دیناجذبہ خیرسگالی ہے،ہم سمجھ سکتے ہیں کہ باباگرونانک کے ساتھ سکھوں کا پیار ، محبت اور عقیدت کارشتہ ہے ، کشمیر میں بھارتی دہشت گردی بھارتی حکمرانوں کے بدکردارکی آئینہ دارہے اور کرتار پور میں سکھوں کوسہولیات دیناپاکستان کا خوبصورت کردارہے،یہ بات سکھ برادری ہی نہیں بلکہ پوری دنیاجانتی ہے کہ پاکستان نے دیگرضروری منصوبوں کونظراندازکرتے ہوئے کرتارپورراہداری منصوبہ تیزی کے ساتھ مکمل کیاہے ،کرتارپوراہداری کھول کرسکھ برادری کواُن کے مقدس مقامات کی زیارت کیلئے بہترین انتظامات کرنے پرحکومت پاکستان مبارکباد کی مستحق ہے، پاکستان کی جانب سے گرونانک کی پانچ سو پچاسویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کےلئے تین خصوصی رعایتوں کا اعلان کیا گیاہے جس کے مطابق سکھ یاتریوں کو ایک سال تک پاسپورٹ لانے کی ضرورت نہیں ہوگی،کرتارپور راہداری سے آنے والے سکھ یاتریوں کو دس دن قبل پاکستان کی حکومت کو اپنی معلومات نہیں دینی ہونگی،یاتریوں کو صرف دو دن کےلئے،یعنی نو اور بارہ نومبر 2019ء کو ، فی یاتری، فی دورہ، بیس امریکی ڈالر کاسروس چارج نہیں دینا پڑے گا،بھارتی حکمران پاکستان کے جذبہ خیرسگالی کے جواب میں بھارت میں مسلمانوں کے مقدس مقامات جن میں اولیاء اللہ کے مزارات کی بڑی تعداد شامل ہے تک مسلمانوں کوآسان ترین رسائی دے سکتاہے ،بھارتی حکمرانوں کی تنگ دلی اور چھوٹی سوچ کے باعث یہ کام مشکل ہوگاپھر بھی کر پائیں تویہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی اوردیرپا امن کی راہ ہموارکرنے کیلئے موثراقدام ثابت ہو سکتا ہے، پاک بھارت کشیدگی ختم ہوجائے،دیرپا امن کاقائم ہو جائے تودونوں اطراف کے عوام کی زندگی بدل سکتی ہے، غربت کی چکی میں پستے انسانوں کیلئے روٹی ،پانی کا اہتمام ممکن ہوسکتاہے،سکھ برادری خوشیاں منائے اورہماری مہمان نوازی کی یادیں اپنے ساتھ لے جائے اوردنیابھر میں کہتے پھریں ’’ویلڈن پاکستان ‘‘ ’’ویلڈن پاکستان‘‘

کشمیر : بھارت اب پاکستان پر دعویٰ کرنے والا ہے

عمران خان صاحب وزیر اعظم پاکستان سن لیں بھارت نے اپنی ڈاکٹرائین پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کے آئینی ، قانونی ،اخلاقی، ثقافتی ،علاقائی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ فارمولے کے تحت پاکستان کے ایک حصے مقبوضہ کشمیرجو پاکستان کی شہ رگ بھی ہے کو غیری آئینی طور پر بھارت میں ضم کر لیا ہے ۔ کشمیری کی ہر چیز کو بھارتی بنا لیاہے ۔ اب وہ پاکستان پر دعویٰ کرنے والا ہے ۔ اس کی شروعات آزاد کشمیر سے ہو گی ۔ اگر آپ کو یہ معلوم نہیں تو سن لیں جب پاکستان کی تحریک زوروں پر تھی تو قائد اعظم محمد علی جناح;231231;، محب وطن مسلم لیگیوں ،اسلام پسند علماء اور پاکستان کا مطلب کیا ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کے مستانہ نعرے پر جھومنے والے براعظیم کے عوام کو یہ معلوم تھا کہ پاکستان ضرور بنے گا ۔ ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ مکار ہندولیڈروں نے اُسی وقت سے پاکستان کو توڑنے کےلئے سازشیوں بھی شروع کر دیں تھیں ۔ اس میں سب سے بڑی سازش یہ تھی کہ ہند لیڈر شپ نے اپنی قوم کو یہ بیانیہ دیا تھا کہ ابھی تو مسلمان دو قومی نظریہ کے جوش میں مبتلا ہیں ۔ جب پاکستان بن جائے گا تو ہم قائد اعظم;231; کے دو قومی نظریہ کے مقابل اپنے سیکولرزم کے بیانیے کو پروان چڑھاکر دو قومی نظریہ کے اس جوش کو آہستہ آہستہ ختم کر دیں گے ۔ پھر جوں جوں دو قومی نظریہ ختم کرتے جائیں گے پاکستان کے ٹکڑے کرتے جائیں گے ۔ بلا آخر اس ڈاکڑائین کے تحت اکھنڈ بھارت میں ضم کر لیں گے ۔ اسی ڈاکٹرائین کے تحت پاکستان میں پہلے قومیتوں کو مقامی قوم پرستوں کے ذریعے پروان چڑھایا گیا ۔ جس میں شیخ مجیب مشرقی پاکستان، جی ایم سید( غلام مصطفی شاہ) صوبہ سندھ ،عبدلغفار خان صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان سے خیربخش مری وغیرہ شامل ہیں ۔ ان قوم پرستوں نے مقامی قومیت کی بنیاد پر علیحدگی کی تحریکیں چلائے رکھیں ۔ بھارت نے ان کو اربوں کے فنڈز دیے جو اب بھی دے رہا ہے ۔ جس کاثبوت کلبھوشن یادیو کا وہ ویڈیو بیان ہے کہ کراچی اور بلوچستان کے دہشت گردوں کو فنڈنگ کرتا رہا ہے ۔ صوبہ سرحد اور بلوچستان والوں کی قوم پرست افغانستان سے مدد فراہم کرائی ۔ وہ افغانستان جاکر پاکستان میں دہشت گردی پھیلاتے رہے ۔ سندھ کے قوم پرستوں کی سندھ کے ہندو تاجروں نے مدد جاری رکھی ۔ پنجاب میں بھی قوم پرستی خاص کر جنوبی پنجاب پھیلائی گئی مگر ان کی کچھ بھی نہیں سنی گئی ۔ ان لوگوں نے قائد اعظم;231; کے دو قومی نظریہ کے مقابل میں سیکولرزم کی آڑ میں مقامی قوم پرستی جس میں بنگالی،سندھی، بلوچی ، سندھی کو پروان چڑھایا ۔ یہ کام کشمیر میں قوم پرست شیخ عبداللہ لینے کا پروگرام بھی تھا ۔ مگرکشمیری مسلمانوں نے پاکستان بنتے ہی کشمیر کو پاکستان کے ساتھ شامل کرنے کی تحریک چلائے رکھی جو اب بھی جاری ہے ۔ تحریک پاکستان کے وقت ہندوستان میں کیمونسٹ تحریک زروں پر تھی ۔ قادیانی جن کو یہودیوں ، عیسائیوں اور ہندوءوں نے مل کر مسلمانوں کو تقسیم کرنے اور جہاد سے دور رکھنے کےلئے بنایاتھا وہ بھی پھل پھول رہے تھے ۔ جاگیر داروں ، سرمایہ داروں اور ان سب موقع پرستوں نے اپنی خیر سمجھتے ہوئے اور مجبوری سے قائد اعظم محمد علی جناح;231; کا ساتھ دیا تھا ۔ مگر یہ سارے سازشی عناصر پاکستان بننے کے بعد اسے نقصان پہنچانے میں شامل ہوگئے ۔ کیمونسٹوں نے راولپنڈی سازش کر کے پاکستان پر قبضہ کرنا چاہا مگر ناکام رہے ۔ قادیانیوں نے پاکستان میں سازشیں کیں اب بھی کر رہے ہیں ۔ جاگیر داروں اور سرمایا داروں نے مسلم لیگ پر قبضہ کیے رکھا ۔ قائد اعظم;231; کے وژن کے مطابق پاکستان کا اسلامی آئین بنانے کے بجائے وزار تیں بانٹتے رہے ۔ اگر وقت پر قائد اعظم;231; کے وژن اور اللہ کے ساتھ براعظم کے مسلمانوں کے وعدے کے مطابق اگر پاکستان کو مدینے کی فلاحی اسلامی ریاست بناتے تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑھتے ۔ حکمرانوں نے پاکستان میں ’’ لا الہ الا اللہ‘‘ کی بنیاد پر نظام حکومت نہیں بنایا ۔ اللہ سے اپنا وعدہ نہیں نبھایا تو اللہ نے بھی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا ۔ پھر مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب نے بنگلہ قومیت کی بنیاد اگرچہ سازش کے تحت کی بنیاد پر تحریک چلا کر بھارت کی مدد سے پاکستان کے دوٹکڑے کر دیے ۔ اندراگاندھی نے پاکستان بننے کے وقت جو بیان دیا تھا ۔ وہ ہمارے کان کھولنے کےلئے کافی تھا ۔ وزیر اعظم بھارت اندرا نے کہا تھا کہ قائد اعظم;231; کا دو قومی نظریہ میں نے خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے ۔ مسلمانوں سے ہزار سال حکومت کا بدلہ بھی لے لیا ہے ۔ اب بھارت میں دہشت گرد آر ایس ایس ہٹلر کی برترقوم پرستی کی تحریک ہندوءوں میں جاری کیے ہوئے ہے ۔ ہٹلر کی پالیسیوں پر چلتے ہوئے مودی بھارتی مسلمانوں کو تعصب اور ظلم کی چکی میں پیس رہے ہیں ۔ بھارت کا وزیر اعظم مودی اس دہشت گرد آر ایس ایس کا بنیادی رکن ہے ۔ اس نے پاکستان کے ساتھ لڑائی اور پاکستان میں گھس کر مارنے اور سبق سکھانے کے منشور پر الیکشن جیتا ہے ۔ مودی کے وزیر کہتے ہیں کہ پاکستان کے پہلے دو ٹکڑے کیے تھے ۔ اب دس ٹکڑے کریں گے ۔ دہشت گرد مودی بھارت کے یوم آزادی پر لال قلعے دہلی سے اپنی تقریر میں اعلان کر چکا ہے کہ مجھے گلگت بلتستان اور بلو چستان سے علیحدگی پسند مدد کےلئے فون کالیں کر رہے ہیں ۔ بلوچستان کے کئی علیحدگی پسندوں کو بھارت میں بیٹھا کر علیحدگی کی تحریک چلانے کی اجازت دی ہوئی ہے ۔ دوسرے طرف پاکستان میں شامل ہونے کےلئے جتنی کشمیریوں مسلمانوں نے قربانیاں دیں کسی ودسری پاکستانی قوم نے نہیں دیں ۔ وہ۲ ۷ سال سے بھارت کے مظالم سہتے رہے ہیں مگر تحریک تکمیل پاکستان جاری رکھی ۔ بھارت پاکستان میں کشمیر کےلئے کئی جنگیں بھی ہوئیں ۔ پاکستانی حکومتوں نے مسئلہ کشمیر کوموثر طریقے سے ڈیل نہیں کیا ۔ کشمیری اب بھی تین ماہ سے کرفیو کی پابندیوں کے باوجود ڈٹے ہوئے ہیں ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان بزدلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ ٹھیک ہے عمران خان صاحب آپ نے اقوام متحدہ میں کشمیر کےلئے موثر نمائندگی کی ۔ مگر جب پاکستان توڑنے کے بھارت اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل کر کے پاکستان سے علیحدہ کر سکتا ہے پھر پاکستان اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر کے اُسے پاکستان میں شامل کیوں نہیں کر سکتا;238; کون سی چیز مانع ہے ۔ عمران خان وزیر اعظم پاکستان کیا آپ اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ بھارت آرام سے پاکستان کو توڑنے کے اپنے ڈاکٹرائین پر عمل کر لے ۔ مدینے کی اسلامی فلاحی جہادی ریاست کی گردان دہرانے والے وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خاں ہم مسلمان ہیں ۔ مسلمان صرف اللہ سے ڈرتا ہے ۔ آپ نے قرآن کے اس پیغام کو ضرورپڑھا ہو گا کہ اللہ نے کئی دفعہ کمزروں کو طاقتورں پر غلبہ عطا فرمایا ہے ۔ مملکت اسلامی جمہوری پاکستان جو اب ایٹمی اور میزائل وقت ہے اسے بھارت کو کھل کر للکانا چاہیے ۔ جیسے بھارت پاکستان کو للکار رہا ہے ۔ جب وہ پاکستان کوختم کرنا چاہتا ہے تو پھر ہم اسے کہہ دیں کہ ا گر پاکستان نہیں تو پھر بھارت بھی نہیں ۔ رہے نام اللہ کا ۔ عمران خان جن گیارہ ہزار عزت مآب کشمیری خواتین سے بھارتی درندوں صفت فوجیوں نے اجتمائی آبروزیزی کی ۔ جن ایک لاکھ سے زاہد بے گناہ کشمیریوں کوبھارت شہید کر چکا ۔ جن بوڑھے،بچے اور اور عورتوں کو کرفیو میں تین ماہ سے بند کیا ہوا ہے ۔ جن سیکڑوں بے قصور کشمیری نوجوانوں کو جعلی انکاءونٹر سے شہید کیا گیا ۔ جن سیکڑوں کو اجتماعی قبروں میں دفنا دیا گیا ۔ جس بے قصور ہزاروں نوجونوں کو مسنگ پرسن بنا دیا ۔ ان کی ماءوں ،بہنوں ، بیویوں کی ان کے انتظار میں آنسو بہا بہا کر ان کی آنکھیں خشک ہو گئیں ۔ جن ہزاروں نوجوانوں کو اجتماعی قبروں میں دفنا دیاگیا ۔ جو بے بس مظلوم کشمیری عورتیں تین ماہ سے روزانہ کی بنیاد پر اپنے گھروں کے دروازے کھول کر کسی محمد بن قاسم;231; کا انتظار کر رہی ہیں ۔ جو پاکستان کو بچانے کےلئے اپنا سب کچھ قربان کر چکے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان وہ کہتے ہیں کہ آپ مظلوم کشمیریوں سے سے بے وفائی کرتے نظر آرہے ہیں ۔ صبح شام مدینے کی اسلامی فلاحی جہادی ریاست کی گردان دہرانے والے عمران خان آپ کے سارے اقدامات کشمیریوں کے خلاف نظر آنے لگے ہیں ۔ شاید اس لیے پاکستان میں آپ کےلئے اللہ نے مشکلات پیدا کر دی ہیں ۔ ایٹمی اور میزائل قوت،مملکت اسلامی جمہویہ ،مثل مدینہ ریاست پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے پاکستان میں اسلامی نظام حکومت کا اعلان کر دو ۔ بھارت کو للکار کر آزادی کشمیر اور تکمیل پاکستان کے جہاد فی سبیل اللہ کا اعلان کر دو ۔ ساری قوم آپ سے آ ملے گی ۔ ان شا ء اللہ بھارت منہ کی کھائے گا ۔ کشمیر آزاد ہو جائے گا ۔ پاکستان مکمل ہو جائے گا ۔

کرتارپورراہداری کا افتتاح ۔ پاکستان کی سفارتی کامیابی

دنیا کے مختلف خطوں خصوصا فلسطین، شام، عراق اور افغانستان سمیت مقبوضہ جموں وکشمیرکے مسلمانوں پر وارد ہونے والے ماضی کے اور تازہ ترین شدید مصائب وآلام کی بدترین کٹھن مشکلات کا بغور جائزہ لیا جائے تو بحیثیت مسلمان ہونے کے ہ میں مختلف اشکال کی جنگوں کے خطرات،جنونی سماجی و ثقافتی تصادم کے لاحق خطرات کے خدشات کے علاوہ دگر چیلنجز جن میں فضائی اورآبی الودگی،عدم تحفظ،عدم برداشت اور سماجی ومعاشرتی طور پر اس قسم کے کئی اور موضوعات پر باہم ہم سبھی زیادہ تر لب کشائی کل بھی کررہے تھے ہم سب آج بھی یہی باتیں کررہے ہیں ،جس کے نتیجے میں کئی دیگرانسانی بقا کے موضوعات ابھرکر ہ میں اپنی جانب اور متوجہ کرنے لگتے ہیں ، مثلا ہ میں اپنی سرحدوں پرگزشتہ کئی دہائیوں سے امن کی تلاش ہے دیگر اسلامی ممالک کے اپنے مسائل اپنی جگہ،لیکن پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر پاکستانی افواج کی اپنی سی لاکھ جان توڑپیشہ ورانہ مہارت کی کوششوں کے باوجود اطمنان بخش امن قائم ہونے نہیں پاتا، سرحدیں پر اگر خاموشی کبھی کبھار ہوتی ہے تو ہمارے ازلی وابدی یہ دشمن ہمارے سماجی، معاشرتی اور سیاسی ’’ٹھہراوَے تلاب‘‘ میں اپنے سازشی خطرناک مقاصد کی سنگ باریاں کرکے ملکی اندرونی امن وامان کو تہہ وبالا کرنے پر اتر آتے ہیں کئی مرتبہ لکھا جاچکا اسے ہماری بدقسمتی کہیئے کوئی اور نام دیجئے کہ بھارت جیسا ’’کئی چہروں ‘‘والا ملک ہمارامشرقی پڑوسی ملک ہے، جہاں کئی چہروں کئی ہاتھوں والے کئی اقسام کے رنگوں والے تین ہزار دیوتاوں کی پوجا ہوتی ہے جس کی بنا پر بھارت میں گزشتہ پندرہ برسوں سے بی جے پی کی شکل میں بہیمانہ قسم کی بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت رکھنے اْسے اور مزید پائیدار بنانے کے نام پر آرایس ایس نے نئی دہلی کے مرکزی اقتدارکی باگیں اپنے ہاتھوں میں تھامی ہوئی ہیں ، اب یہی ایک متذکرہ بالا’’مسئلہ‘‘ مسائل کی اصل جڑہے ایسے میں جنوبی ایشیا میں کوئی اگر امن کا متلاشی ہوتو وہ امن تک کیسے پہنچ پائے گا;238; بیان کردہ ان زمینی حقائق پر تفصیلی بحث سے پہلو بچاتے ہوئے راقم کا اپنے بھارتی ذمہ دار انصاف پسند اورانسانی رواداری کے احساس پر یقین رکھنے والے معزز قلم برداروں سے انکسارانہ التماس یہ ہے کہ وہ سبھی انسان دوست اپنے سماج کے انتہا پسند جنونی طبقات میں اپنی برابر کی موجودگی کے احساس کوبرابر باور کراتے رہیں کہ بھارتی جمہوریت کو’’ہائی جیک ‘‘کرنے والے صرف ایک قدیم بھارتی معاشرے کا نقصان نہیں کررہے بلکہ وہ انتہا کی ’’ہندوتوا‘‘ کی جنونیت کا مقابلہ ’’نظام فطرت کے ساتھ پیوستہ حقیقی موافقت‘‘سے کھلی جنگ کا آغاز کر چکے ہیں اْنہیں ہر صورت میں یہ جتلانا پڑے گا کہ آر ایس ایس اس ثقافتی نفرت کی بھڑکائی ہوئی جنگ میں کبھی فتح یاب نہیں ہوگئی،چونکہ یہ زمانہ اقوام کے تیزرفتار شعور کے بلا روک ٹوک پھیلاو کا زمانہ ہے،کوئی جنونی اور انتہا پسند نظریہ اقوام کے تیزرفتار شعور کے امڈتے ہوئے اس سیلاب کے سامنے نہیں ٹہرسکتا وقت اقوام کا بہترین استاد مانا گیا جس قوم نے وقت سے کچھ نہیں سیکھا اس قوم کو ’’وقت‘‘نے نیست ونابود کردیا دین اسلام ’’عالمگیریت‘‘پر مبنی ایک ایسا آفاقی دین ہے ،جس میں ’’صبر’’کو برداشت پر فوقیت دی گئی ہے ’’صبر،تحمل اور عالمی روداری دین اسلام کی بنیادی تعلیمات میں بہت نمایاں تصور کی جاتی ہیں پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے ماضی کے برعکس ایک ایسے پاکستانی حکمران کا تصور دنیا کے سامنے پیش کیا کہ’’دنیا‘‘ مطلب یہ کہ عالمی طاقتیں ہنوز عالم محویت فیصلہ نہیں کرپائیں کہ پاکستان نے یکایک وہ کردکھایا جو اْن کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا دین اسلام کا وہ اصل چہرہ دنیا کے سامنے کردیا کہ دین اسلام عالمی مذاہب کے درمیان ’’ٹکراو‘‘کا نہیں بلکہ ’’بین الا اقوامی مذاہب‘‘کے ساتھ بین بین امن وآشتی کے ساتھ چلنے والا مذہب ہے پاکستان کے آئین میں یہ وضاحت موجود ہے کہ دنیا کے سبھی مذاہب کے ماننے والے بطور’’انسان‘‘ امن وآشتی کے خواہش مند ہیں انسانوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت کے سبھی تقاضوں کو پورا کرنے پر اسلام میں بہت اولیت دی گئی ہے بحیثیت ایک مسلمان میں تمام انبیاء اور تاریخ میں مختلف قوموں کےلئے بھیجی جانے والی تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنا ضرور قرار دیا گیا ہے اور ان پر ایمان رکھنے کو بطور مسلمان لازمی سمجھنا لازمی ہے ایک مسلمان حضرت ابراہیم ‘حضرت موسیٰ ‘ حضرت داءو ‘ حضرت عیسیٰ اور دیگر تمام انبیاء کا سچا پیرو کار ہوتا ہے کسی ایک بھی نبی یا آسمانی کتاب پر ایمان نہ رکھنے کا مطلب ’’مسلمان نہ ہونا‘‘ ہے، اس لئے ہم ہر مذہب کی وحدت کی بنیادی یکجہتی پر یقین رکھتے ہیں جو رب کائنات کی رحمت کا ذریعہ اور مذہب پر ایمانی کی آفاقیت کی دلیل ہے ایمانی آفاقیت کے اسی عظیم انسانیت نواز پختہ ارادے کی تکمیل کا سہراکوئی باندھے نہ باندھے دنیا بھر میں آباد سکھ مت کے پیروکاروں نے پاکستان کے سر باندھ دیا ہے آج بھارتی مشرقی پنجاب کے شہروں اور قصبوں میں پاکستان کے لہراتے سبز ہلالی پرچم سے ثابت ہوگیا کہ پاکستان بین الا اقوامی مذاہب کا احترام کرنے والا ملک ہے سکھ مذہب کے بانی بابا صاحب گرونانک کی پانچ سوپچاسویں سالگرہ کے موقع پر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنے وعدے کے مطابق قلیل مدت میں کرتارپور راہداری کھول کر دنیا کو پاکستان کی جانب متوجہ کرکے یہ اور بتادیا کہ پاکستان ہرقیمت پر خطہ میں امن کاسفیر ہے آج نومبر کی9 تاریخ ہے دنیا میں آباد کروڑوں سکھ پاکستان کی جانب کس قدراپنائیت سے دیکھ رہے ہیں بابا صاحب گرونانک بھی ایک خدا پریقین رکھتے تھے بابا صاحب فرماتے ہیں کہ کائنات میں صرف’’ایک خدا ہے جس کا کوئی شریک نہیں جو حق کی تعلیم دیتا ہے دین و دنیا کی کامیابی اور دائمی نجات کے حصول کےلئے بابا صاحب نے چار اصولوں کی تعلیم سکھوں کو دی ہےاول یہ کہ خوفِ خدا،دوئم حسنِ عمل،سوئم توکل علی اللہ‘‘نانک صاحب کے پیروکار سکھ کہلاتے ہیں آج جب بابا صاحب گرونانک کی آخری آرام گاہ کی زیارت دنیا بھر کے سکھ مت کے ماننے والوں کے کھول دی گئی ہے تو ذرا تذکرہ ہوجائے کرتارپورہ کا ’’کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے یہیں گرودوارے میں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے کرتار پورہ میں واقع دربار صاحب گرودوارہ کا انڈین سرحد سے فاصلہ چند کلومیٹر کا ہے نارووال ضلع کی حدود میں واقع اس گرودوارے تک پہنچنے میں لاہور سے 130 کلومیٹر اور تقریباً تین گھنٹے ہی لگتے ہیں یہ گرودوارہ تحصیل شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹھے پنڈ میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے یہاں سے انڈیا کے ڈیرہ صاحب ریلوے سٹیشن کا فاصلہ تقریباً چار کلومیٹر ہے راوی کے مشرقی جانب خاردار تاروں والی انڈین سرحد ہے گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور اپنی نوعیت کا ایک منفرد دلکش مقام ہے پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس یہ پاکستان بھارت سرحد کے قریب ایک گاؤں میں واقع ہے کرتارپورہ راہداری کو کھولنے کا تاریخ ساز فیصلہ کرکے پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت نے خطہ کی کشیدگی کے ماحول کو نرم کرنے کے لئے بھارت کو ایک بہترین موقع فراہم کیا تھا جو اس نے کھودیا مودی حکومت کے گزشتہ پانچ برس بات چیت کے بغیر تلخیوں میں گزر گئے ،اور اب مودی نے دوبارہ الیکسن جیتنے کے بعد اب تک کا عرصہ بھی پاکستان کے ساتھ بلاوجہ تناو بڑھانے میں گزار دیا پاکستان کے اس انتہائی اہم قدم سے انڈین پنجاب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے بے شک یہ راہداری آنے والے دنوں میں بلاشبہ رشتوں میں مثبت تبدیلی کی ضامن بنے گی ۔

سیاست میں ریاستی اداروں کو گھسیٹنے کی روایت اچھی نہیں

اداروں کو سیاست میں گھسیٹنا اچھی روایت نہیں اس طرح کی الزام تراشیوں سے حالات دگرگوں ہونے کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہوتا اور وہ بھی ایسا ادارہ جس کے ساتھ پوری قوم کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے ۔ گرمی ہو یا سردی، دھوپ ہو یا چھاءوں ، جنگ ہو یا امن غرض کہ جو بھی حالات ہوں ان کی خدمات پیش پیش ہوتی ہیں ،یہ ملکی سرحدوں اور وطن کی سالمیت کے ضامن ،عوام کی زندگیوں کے امین ہیں ، اپنی جانیں قربان کرکے وطن کی حفاظت کرتے ہیں ۔ ایسے میں انہیں موردالزام ٹھہرانا کہاں کی خام خیالی ہے لہذا ایسے بیانات سے قطعی طورپر احتراض کرنا چاہیے اسی سلسلے میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا دھرنا سیاسی سرگرمی ہے اس میں فوج کا کوئی کردار نہیں ۔ فوج سیکورٹی اور دفاع میں مصروف ہے، الزام تراشیوں کا جواب دینے کی فرصت نہیں ۔ الیکشن میں آرمی کو نہ بلایا جائے تو نہیں جائے گی ۔ آرمی چیف کہہ چکے ہیں کہ ایسا نظام بنائیں انتخابات میں فوج کا عمل دخل زیرو ہوجائے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ بھارت سے آنے والے سکھ یاتری صرف کرتارپور تک ہی محدود رہیں گے اور ایک انچ آگے نہیں جاسکتے ، کرتارپور راہداری یکطرفہ راستہ ہے اور کرتارپور میں ملکی سکیورٹی یا خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا تاہم سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد قانون کے مطابق ہو گی ۔ فضل الرحمان سینئر سیاستدان ہیں اور وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں ‘ انہیں اس بات کا باخوبی اندازہ ہے کہ دھرنے کے عالمی سطح پر کیا اثرات ہوتے ہیں اور پاکستان کے امیج پر اس کا کیا اثرپڑاہے‘ مسئلہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ کیا اور نہ ہی کبھی ہو گا ۔ حکومت اور فوج اپنے طور پر کشمیر کے مسئلے پر کام کر رہی ہیں ‘مسئلہ کشمیر کا کرتار پور راہداری سے کوئی تعلق نہیں ‘اس کوسیاسی مسئلہ نہ بنایاجائے،فوج 20 سال سے ملکی سکیورٹی اور دفاع کے کاموں میں مصروف ہے جو ہ میں یہ اجازت نہیں دیتے کہ خود کو اس طرح کی چیزوں میں ملوث کریں یا الزام تراشیوں کا جواب دیں ‘جو بیان دیتا ہوں فوج کے ترجمان کی حیثیت سے دیتا ہوں ۔ سیاست میں شاید ایسا ہوتا ہو کہ بیان دیں اور بعد میں کہیں یہ میرا ذاتی بیان تھا ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی چاہتے ہیں کہ الیکشن میں پاک فوج کا عمل دخل کم سے کم ہو، آرمی چیف چاہتے ہیں ایسا الیکشن پراسس تیار کیا جائے جس میں فوج کا کردارنہ ہو ۔ ہ میں اداروں کا احترام کرنا چاہیے، صرف اپنی سیاست چمکانے کیلئے یا کسی کی ٹانگیں گھسیٹنا کوئی اچھا اقدام نہیں ، سیاست دانوں کی آپس کی سیاسی مخالفتیں ہوتی ہیں مگر ان میں بھی اس چیز کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس مخالفت کی وجہ سے کہیں ملکی نظام کو نقصان تو نہیں پہنچ رہا اسی پر انگوشت نمائی کرنے سے قبل اپنے گریباں میں خود جھانک لینا چاہیے کہ صرف زبان کی چاشنی یا سیاسی ماحول کو گرمانے سے اس کے کیا دوررس نتاءج نکل سکتے ہیں ۔ منفی حالات پیدا کرنے سے ملک و قوم کی خدمت نہیں کی جاسکتی ۔ لہذا تمام سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ مثبت سیاست کی جانب گامزن ہوں ، جب آرمی چیف نے کہہ دیا کہ ایسا نظام بنایا جائے جس میں فوج کی مداخلت زیرو فیصد ہو تو پھر اس میں فوج کا کوئی قصور نہیں ۔ حکومت آخر کار انتخابات میں فوج کو ریکوزٹ ہی کیوں کرتی ہے ۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق اگر حکومت بلاتی ہے تو وہ آئین و قانون کے مطابق آتے ہیں ایسے میں یہ کہنا کہ فوج مداخلت کرتی ہے سراسر غلط ہے خود دعوت دی جائے یہ الزام بھی سیاستدانوں کے سر ہی آتا ہے ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے ایک کام کی بساط خود بچھائی جائے اور الزام کسی محترم ادارے پر عائد کردیا جائے ۔

قیمتوں میں اتار چڑھاءو کی رپورٹ روزانہ کی بنیادوں پر وزیراعظم آفس بھیجنے کی ہدایت

مہنگائی اس وقت ملک میں سب سے بڑا مسئلہ ہے اس کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت رات دن تگ و دو ہے، اسی وجہ سے وزیراعظم نے اجلاس اور کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے ۔ نیز انہوں نے ایک اور تقریب سے خطاب میں کہاکہ ہ میں مستقبل کی نسل کےلئے کام کرنے کی ضرورت ہے، ماحولیاتی تبدیلی ہمارے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے، اس کےلئے ہنگامی بنیادوں پر دنیا کو کام کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان قدرتی خوبصورتی اور حسن سے مالا مال ہے ۔ پاکستان میں گھنے جنگلات، طویل صحرا‘ بلند ترین پہاڑی سلسلے ہیں جبکہ شہروں میں رہنے والے زیادہ تر افراد پاکستان کی قدرتی خوبصورتی کو نہیں دیکھ پاتے ہیں ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ایک اجلاس ہوا جس میں انہیں وفاقی دارالحکومت کے نئی مقامی حکومت کے مجوزہ نظام پر بریفنگ دی گئی جس کے مطابق نئے نظام میں میئر کا انتخاب براہ راست الیکشن کے ذریعے کیا جائے گا ، نئے نظام میں میئر کا انتخاب براہ راست الیکشن کے ذریعے کیا جائے گا، دارالحکومت کے ترقیاتی منصوبوں اور روزمرہ کے معاملات کی ذمہ داری میئر کو سونپی جائےگی ۔ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت کےلئے مقامی حکومت کے نئے نظام کے حوالے سے تجاویز کو سراہا اور کہا کہ پی ٹی ;200;ئی حکومت کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا مقامی حکومتوں کا نیا نظام عوام کو با اختیار بنانے میں انقلاب برپا کرے گا ، مقامی حکومتوں کے نئے نظام کا مقصد اختیارات کولوکل سطح پر منتقل کرنا ہے تاکہ تعمیر و ترقی اور مسائل کا حل مقامی طور پر ممکن بنایا جا سکے، وفاقی دارالحکومت کےلئے تجویز کردہ مقامی حکومت کے نئے نظام کا مقصد میئر کی سربراہی میں عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کو مکمل طور پر با اختیار بنا کر ایک ایسا نظام راءج کرنا ہے جو وفاقی دارالحکومت کی تعمیر و ترقی اور عوام کے مسائل کے حل کو یقینی بنا سکے ۔ نیزوزیراعظم کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا ۔ عمران خان نے کہا کہ روز مرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں کنٹرول کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں ۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام یقینی بنائی جائے، گندم، آٹا اور فائن میدے کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بارڈر مینجمنٹ کو مزید موثر بنایا جائے اسمگلرز اور ان کی معاونت کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جائے گا ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایکسل لوڈ موخر ہونے کے بعد گھی کے قیمتوں میں کمی یقینی بنائی جائے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر تحصیل میں کاشت کاروں کیلئے ایسی جگہ مختص کی جائے گی جہاں وہ فیس یا اخراجات کے بغیر اپنی اجناس فروخت کر سکیں گے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی دارالحکومت میں درست دام ایپ کے ذریعے اشیا کی عوام کی دہلیز تک مناسب نرخوں پر فراہمی کا نظام پنجاب کے بڑے شہروں لاہور، راولپنڈی اور ملتان جبکہ خیبر پختونخوا میں ایبٹ آباد، پشاور، مردان اور ڈی آئی خان میں فوری متعارف کرایا جائے ۔ عوام کو مناسب قیمتوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے یوٹیلیٹی اسٹورز کا بھر پور استعمال کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے ۔

آزادی مارچ، سردی میں شدت، حکومت کی جانب سے طبی امداد اور دیگر سہولیات فراہمی کا مستحسن اقدام

مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اور دھرنا اس وقت سردی کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہے، وزیراعظم نے مثبت اقدام اٹھاتے ہوئے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ وہ دھرنے کے شرکاء کو سردی کی شدت سے بچانے اور طبی سہولیات کی فراہمی کا بندوبست کرے ۔ گوکہ جے یو آئی (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری نے اس پیشکش کو مسترد کردیا لیکن حکومت کی جانب سے یہ ایک احسن اقدام ہے ۔ کیونکہ راولپنڈی اسلا م آباد میں بارش ہونے کے بعد سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے اور اسی وجہ سے مجموعی طورپر اب تک تین اموات ہوچکی ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ دھرنا جاری رہے گا اور 12ربیع الاول کو سیرت کانفرنس بھی ہوگی ۔ ادھر چوہدری برادران سے ملاقات کے بعد کچھ نہ کچھ برف پگھل رہی ہے ، حکومت نے سپیکر پنجاب اسمبلی کو مکمل اختیارات دے دئیے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے مزید خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم ملک بچانے ;200;ئے ہیں ملک بچانا ہے تو نا اہل حکمرانوں کومزیدایک دن بھی نہیں دیا جاسکتایکطرفہ احتساب نہیں چلے گا اورجسٹس فائزعیسیٰ کیخلاف ریفرنس واپس لینا ہوگا ہم ایسا جمہوری نظام چاہتے ہیں جو;200;ئین پاکستان کاعکاس ہو ، نا اہل حکومت خاءف ہے پوری قوم نے انکو مستردکردیاہے ۔

Google Analytics Alternative