کالم

جمہوری طاقتیں جمہوریت چلنے دیں

ملک میں اس وقت مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے جو کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا جس کی دو بڑی وجوہات ہیں ،ایک بیڈ گورننس اور دوسری وجہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کا بڑھنا ہے ۔ اس وقت ایک ڈالر 151پاکستانی روپوں کا ہو چکا ہے اور ڈالر کے مسلسل بڑھنے کے باعث معاشی عدم استحکام پیدا ہو چکا اور سٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان ہے اس کے ساتھ ساتھ ڈالر کی روپے کے مقابلے میں قدر بڑھنے کے باعث پیٹرول اور فرنس آئل کی قیمت میں اضافے نے ملک میں تمام اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بے حد اضافہ کیاجس نے عام آدمی کو مشکلات سے دوچار کر دیا اور گزشتہ10سالوں میں کرپشن کرنے کے باعث احتساب کے گرداب میں پھنسی سیاسی قیادت کو تنقید کا موقع مل گیاکیونکہ مہنگائی پر تو ہر کوئی کسی بھی وقت سیاست کر سکتا ہے حالانکہ آج ملکی معاشی صورتحال کے ذمہ دار موجودہ حکمران نہیں بلکہ 2008ء میں قائم پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اور پھر 2013ء میں قائم ہونیوالی پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومتیں ہیں کیونکہ پی پی اور ن لیگ کے10سالہ اقتدار میں ملک پر 500گنا بیرونی قرضوں کا بوجھ ڈالا گیا اور قرضے بھی شتربے مہار لیے گئے جن کی واپسی کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی ۔ یہاں ڈالر کی پاکستان بننے سے اب تک قیمت پر نظر ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ قارئین کو اصل صورتحال کا پتا چل سکے ۔ پاکستان بننے کے چند ماہ بعدیعنی1948ء میں ڈالر سوا تین روپے کا تھاجو7سال تک اسی قیمت پر برقرار رہا پھر 1955ء میں تھوڑی بہت ڈالر نے ہلچل کی اور 3;46;9روپے کا ہو گیا لیکن اگلے ہی سال 1956ء میں ڈالر یکدم پونے 5روپے کا ہو گیاجو 15سال تک اسی قیمت پر براجمان رہا ۔ 1972ء میں اچانک ڈالر نے اونچی اڑان لی اور تقریبا4روپے مہنگا ہو کر 8;46;6روپے کا ہو گیاجو اگلے ہی سال1973ء میں 10روپے کا ہو گیا ۔ 1973ء سے 1981ء تک ڈالر 10روپے کا ہی رہا مگر پھر1982ء میں پاکستانی کرنسی کو ڈالر کے مقابلے میں نظر سی لگ گئی اور ڈالر نے پاکستانی روپے کے مقابلے میں ہر سال مضبوط سے مضبوط تر ہونا شروع کر دیا ۔ 1982ء میں ڈالر پونے 12روپے،83ء میں 13روپے،84ء میں 14;46;4روپے اور پھر اسی طرح 1988ء میں ڈالر بڑھ کر 18روپے تک جا پہنچا ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 1988ء تک جمہوری ادوار بھی گزرے اورتین ڈکٹیٹرز کے دور حکومت بھی رہے مگر ڈالر 40سالوں میں سواتین روپے سے بڑھ کر 18روپے تک گیا یعنی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت 40سالوں میں محض پونے 15روپے بڑھی لیکن جونہی ملک میں 1988سے جمہوری ادوار شروع ہوئے تو ڈالر1988ء سے 1998ء تک ڈالر 18روپے سے 45روپے تک جا پہنچا اور ان 10سالوں میں دو دفعہ پاکستان پیپلز پارٹی اور دو دفعہ پاکستان مسلم لیگ ن نے حکومت کی جن کے ادوار میں ڈالر 27روپے تک بڑھ گیا ۔ اس کے بعد جنرل (ر)مشرف کا دور حکومت آیا اور ایک ڈکٹیٹر کی حکومت ہوتے ہوئے بھی ڈالر 10سالوں میں 22روپے مزید بڑھ گیایعنی 1998ء سے 2008ء تک ڈالر کی روپے کے مقابلے میں قیمت 45روپے سے بڑھ کر 67روپے تک جا پہنچی ۔ اس کے بعد پھر پاکستان پیپلز پارٹی کا 5سالہ دور حکومت شروع ہوتا ہے اور ڈالر کو پر لگ جاتے ہیں ۔ 2008ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت برسر اقتدار آئی اور اسی سال چند ماہ میں پی پی دور حکومت میں ڈالر یکدم 81روپے تک جا پہنچا یعنی محض 6ماہ میں ڈالر کے مقابلے میں پاکسانی روپے کی قدر میں 14روپے کی کمی واقع ہو گئی جس کی ذمہ داری پی پی حکومت نے سابق وزیراعظم شوکت عزیز پر ڈال دی کہ انھوں نے ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول میں کیا ہوا تھا اب ہم آ گئے ہیں تو ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر آ رہی ہے مگر پی پی حکومت کے اس اقدام سے مہنگائی کا ایک طوفان آ گیا اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں تین گنا تک بھی اضافہ دیکھا گیا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت 2008ء سے 2013تک قائم رہی جس دوران ڈالر کی قیمت 5سال میں 67سے بڑھ کر 98روپے تک جا پہنچی ۔ اب پی پی حکومت جواب دے کہ اس کے دور حکومت میں ڈالر 31روپے کیوں بڑھا;238;پی پی حکومت میں مہنگائی نے جو ہونا تھا ہو گئی تھی اور اب روٹین میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا تھا کہ2013ء میں پھر عام انتخابات ہوئے اور ملک میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہو گئی اور اس ملک کی عوام پر پھر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا گیاکیونکہ ڈالر پھر بے لگام تھا اور ن لیگ معاشی صورتحال کی ذمہ داری مشرف اور پی پی حکومت پر ڈالتی نظر آ رہی تھی ۔ 2013ء سے 2018ء تک پاکستان مسلم لیگ ن نے ملک پر حکومت کی اس دوران ڈالر 98روپے سے بڑھ کر 130روپے کا ہو گیا جو کہ بعد میں 122روپے پر واپس آ کر 124روپے پر ٹھہر گیا ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں ڈالرکی قیمت میں 32روپے تک اضافہ ہوا تو کیا پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت 32روپے ڈالر کے بڑھنے کا جواب دیگی;238;اگر پی پی اور ن لیگ کے 2008ء سے 2018ء کے 10سالہ دور میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 63روپے کمی واقع ہوئی اور ڈالر 67روپے سے 130روپے تک جا پہنچا جس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا طوفان بدتمیزی بپا رہا اور غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پستے چلے گئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت 2018ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی اور پی ٹی آئی کے ابتدائی 9ماہ کے دور حکومت میں ڈالر 124سے 151روپے تک جا پہنچا ہے آگے اللہ خیر ہی کرے کیونکہ یہی سلسلہ رہا تو ملک سے غریب کم ہونا شروع ہوجائیں گے اس لیے خدارا حکومت کچھ ہاتھ پاؤں مارے اور روپے کے مقابلے میں بڑھتی ڈالر کی قدر کو روکے اور جاری مہنگائی پر کنٹرول کرے ۔ ملک میں جاری مہنگائی کے باعث اپوزیشن جماعتیں سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش میں مصروف نظر آتی ہیں کیونکہ تاحیات قائد ن لیگ نواز شریف نے جیل سے پارٹی قائدین کو عید کے بعد حکومت کیخلاف سڑکوں پر تحریک چلانے کی ہدایت کی ہے اور یہ تحریک نوازشریف کے بیانیے کے عین مطابق ہی چلائی جائے گی ۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی اپوزیشن جماعتوں سے رابطے تیز کر دئیے ہیں اور انکے قائدین کو افطار ڈنر پر مدعو کر لیا ہے جبکہ پی پی کے کو چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری 4روز قبل عید کے بعد سڑکوں پر حکومت کے خلاف تحریک کا عندیہ دے چکے ہیں اور مولانا فضل الرحمان تو ویسے ہی ایسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کو تیار بیٹھے ہیں کیونکہ آج کل انکے لیے کوئی کام جو نہیں کرنے کو ۔ پاکستان مسلم لیگ ن ،پاکستان پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف کو ملک میں جاری مہنگائی سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ انہی کے ادوار میں ڈالر 31اور 32روپے مہنگا ہوا تب تو ان کو اپنے اپنے دور حکومت میں عوام کا خیال نہیں آیا تو اب کیسے آ گئی ۔ دراصل تینوں سیاسی جماعتوں کے قائدین ملک میں جاری احتسابی عمل سے بہت تنگ ہیں کیونکہ کچھ لین دین بھی تو نہیں ہو رہا کہ بات بن جائے یہی وجہ ہے کہ پی پی ،ن لیگ اور جے یو آئی ف حکومت کیخلاف عیدکے بعد تحریک چلانے کے لیے صف آراء ہو رہی ہیں ۔ اب کہاں گئی جمہوریت اور کہاں گئے جمہوریت کے رکھوالے ۔ 5سال کیلئے نا اہل ہونے اور سپریم کورٹ کی توہین کرنیوالے مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری بھی بولنا شروع ہو گئے اور کہتے ہیں کہ جمہوریت کے چکر میں ملک کو داوَپر نہیں لگا سکتے مگر ان سے کوئی پوچھے کے اپنے 5سالہ دور حکومت میں ملک کو جو داوَ پر لگایا اس کا کون حساب دیگا ۔ پاکستان تحریک انصاف کی انتظامی غلطیاں اپنی جگہ مگر جمہوریت کو چلنے دیا جائے اور ووٹ کو عزت دی جائے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کو عوام نے 5سال کا مینڈیٹ دیا ہے اس لیے جمہوری طاقتوں کو چاہئے کہ ملک میں افراتفری پھیلائیں نہ ہی ملک کو عدم استحکام سے دوچار کریں اور ملک اور عوام کیساتھ مخلص بنیں ایسا نہ ہو کہ کسی کے ہاتھ کچھ نہ آئے ۔

عمران خان! آپ کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے

عمران خان صاحب ،وزیر اعظم پاکستان کو ذاتی حیثیت میں اپنے اور مخالف سب ہی اچھا سمجھتے ہیں ۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ نہ مغرب کا پسندیدہ ہے نہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کانہ ہی پاکستان کی مورثی،مفاداتی اور سیکولر سیاسی پارٹیوں کا ۔ وجہ اِس کی ایک ہی ہے کہ عمران خان پاکستان کو مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی خواہش رکھتا ہے ۔ مخلص ہے مگر معاملات کا باریکی سے تجزیہ کرنے سے عاری ہے ۔ ویسے دیکھا جائے تو عمران خان دھن کا پکا اورنا ممکن کو ممکن بنانے کا عزم رکھنے والا،مغرب میں گزاری اسلام مخالف پرانی زندگی سے توبہ کر کے اسلام کی بتائی ہوئی زندگی گزانے پر گامز ن ،تیسری بیوی، خاتون اوّل کا اسلامی احکامات پر عمل کرتے ہوئے شرعی پردے میں رہنا ۔ عمران خاں کا لباس قومی، رہائش اور ملکی معاملات میں کفایت شعاری پر ممکن حد عمل کرنا، کردار مومن نانہ ،کرپشن سے بالکل پاک، اقرابا پروری سے کوسوں دور، فلاحی کاموں کو ریکارڈ حد تک پایا تکمیل تک پہنچانے والا، پاکستانی عوام کی دل کی دھڑکنوں اور امنگوں کے مطابق پاکستان کو شاعر اسلام علامہ شیخ محمداقبال;231; کے خواب اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح;231; کے وژن کے مطابق، مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کے لیے کوششیں کرنے والا، صبح شام ہر تقریب میں بہ دبنگ دہل بغیر کسی معذرتانہ یا احساس کمتری کے اللہ کے بروصہ پر بار بار ملک کو مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے عزم کا اعادہ کرنا ۔ کرپٹ سیاست دانوں کے ساتھ سخت رویہ اور ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے عزم پرقائم ۔ ساری باتیں صحیح بلکہ سو فی صد صحیح ہیں ۔ مگر عمران خان کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اپنی نیک خواہشات کو آپ اکیلا پورا نہیں کر سکتے ۔ اس کےلئے ہمیشہ ایک مخلص اور با کردار ٹیم کی ضرور ت ہوتی ہے ۔ مگر آپ کے وزیر تو وہی ہیں جو کل کرپشن کرنے والے زرداری صاحب اور نواز شریف کے ساتھ تھے ۔ سابقہ دور میں ان ہی کی چشم پوشی کی وجہ سے مدینہ کی فلاحی ریاست کی طرف پیش قدمی نہیں ہوئی ۔ بلکہ کرپٹ سیاست کی کرپشن میں مدد مدد کار رہے ۔ کیا آپ بھی ایسے کرپٹ لوگوں کی ٹیم کے ساتھ مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست اور کرپشن فری پاکستان بنا سکتے ہیں ;238; کرپشن کا پیسہ واپس لے کر غریب عوام کے خزانے میں ڈال سکتے ہیں ;238; اگر تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بنو اُمیہ میں ، عمر بن عبدالعزیز;231; ایک نیک دل بادشاہ گزرا ہے ۔ جسے علمائے اسلام اور امت پانچواں خلیفہ راشد;231; کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ جب وہ تحت بیٹھا تو بادشاہی طور طریقے چھوڑ کر اس نے با لکل وہ ہی کچھ کرنے کی کوشش کی جو خلفاء راشدین ;230;نے کامیابی سے کی تھی ۔ اس کے پاس بادشاہوں والے اختیارت بھی تھے ۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے پاس اصلاح کا کام کرنے والی ٹیم نہیں تھی بلکہ بنو امیہ کے پہلے والے باشاہوں والی ہی ٹیم تھی ۔ جو پرانے نظام سے مستفید ہونے کی عادتیں لیے ہوئے تھی ۔ عوام کے اسلامی طرز کی تربیت کا کام کرنا تو دور کی بات، بادشاہت کو واپس مدینہ کی اسلامی ریاست میں تبدیل کرنے کی نیت بھی نہیں تھی ۔ پھر ان ہی ظالموں نے عمر بن عبدالعزیز;231; کو جلد ہی راستے سے ہٹا دیا تھا ۔ عمران خان آپ کی نیت پر شک کرنے کی کوئی بھی گنجائش نہیں ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ نے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے سارے کرپٹ لوگوں کو اپنے پاس جمع کر رکھا ہے ۔ آپ کو اتنا بھی ادراک نہیں کہ ان ہی لوگوں کی وجہ سے پیپلز پارٹی اور نون لیگ بدنام ہوئی ہیں ۔ بین القوامی اہل کاروں اور ان لوگوں آپ کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا ہے ۔ آئی ایم ایف کے ملازموں کا پاکستان کے اداروں میں آنا آپ کے خلاف جائے گا ۔ ملک میں مہنگائی جو آپ کے پہلے وزیر خانہ کے دور میں بڑھی ، اس کو یہ لوگ سونامی کی حد تک لے جائیں ۔ عوام کی چیخیں نکلیں گی ۔ آپ کے نیک ارادے دھرے کے دھرے رہ جائیں ۔ وزیر اعظم بننے سے پہلے آپ کے سارے وعدے سچے اور کھرے تھے ۔ آپ اس میں مخلص بھی تھے اور اب بھی ہیں ۔ آپ نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہترہے خود کشی کر لی جائے ۔ اس میں شک نہیں کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے حکومت نے ۲۳;241; ارب ڈالر کے قرضے آپ کی حکومت کے کھاتے میں ڈالے ۔ جب آپ کو اقتدار ملا توملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ۔ قرضے ادا کرنا تو کجا اس کا سود ہی ادا کرنا ہی مشکل تھا ۔ آپ دوست ملکوں کے پاس گئے اور کچھ مدد حاصل کی جو قابل تعریف ہے ۔ کیونکہ اس سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ۔ مگر یاد رکھیں آپ کے دوست ملایشیا ء کے موجودہ حکمران کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے ہے کہ جس ملک کا دیوالیہ نکالنا ہو اسے آئی ایم ایف کے حوالے کر دو ۔ کیا یہ بات درست نہیں ثابت ہو رہی کہ نون لیگ حکومت کو آئی ایم ایف ہی نے دیوالیہ تک پہنچایا ۔ اب آپ آئی ایم ایف کے پاس گئے ہیں ۔ معاہدہ ہونے والا ہے ۔ آپ نے آئی ایم ایف کے ملازموں کو پاکستان کے اداروں میں لگا دیا ہے ۔ سراج الحق صاحب سینیٹر اور امیر جماعت اسلامی صحیح کہتے ہیں کہ اب آئی ایم ایف والے لوگ آئی ایم ایف سے قرضے لینے کے لیے مذاکرات کریں گے ۔ جیسا اوپر عرض کیا ہے ،یہ لوگ اس سے ملک میں مہنگائی کے طوفان کوسونامی میں بدل دیں گے ۔ جس کے سامنے آپ کی حکومت نہیں ٹھہر سکے گی ۔

ڈالر کی پرواز جاری۔۔۔مہنگائی عروج پر ،اسٹاک مارکیٹ میں مندی

ڈالر حکومت پاکستان کے قابو میں کسی طرح نہیں آرہا اور یہ 150روپے تک پہنچ چکا ہے ۔ گزشتہ روز6 روپے مہنگا ہونے کی وجہ سے بیرونی قرضوں میں 666 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور حصص مارکیٹ میں 321 پوائنٹس مندی دیکھنے میں آئی ہے ۔ آج بھی اسٹاک ایکسچینج کی حالت کوئی اتنی مضبوط نہیں مزید اربوں روپے ڈوبنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ اسٹاک ایکسچینج کی نفسیاتی حد بھی مزید گرتی جارہی ہے، مارکیٹ کی حالت یہ ہے کہ ڈالر کے خریدار موجود ہیں تاہم بیچنے والے ناکام ہوگئے ہیں ۔ سونے کی فی تولہ قیمت میں بھی 1300روپے اضافہ ہوگیا، ادھر مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ جب حکومت آئی تو قرضے 31ہزار ارب تھے بحران سے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں ، زر مبادلہ مستحکم رکھنا اسٹیٹ بنک کی ذمہ داری ہے، ظاہر ہے مشیر خزانہ وزیراعظم نے کہاکہ اسٹیٹ بینک خودمختار ادارہ ہے اور ایکسچینج کے ریٹ وہی فکس کرتا ہے ، مسئلہ یہ ہے کہ ڈالر خریدنے کی حکومت نے کوئی حدود مقرر کی ہے اتنی بھاری مقدار میں ڈالر خریدنے والوں کے گرد گھیرا کیوں نہیں تنگ کیا جارہا ہے جب مارکیٹ سے ڈالر غائب ہوگا تو یقینی طورپر اس کی قیمت میں لامحالہ اضافہ ہی ہوگا ۔ عبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ ہم تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں ، شرح نمو کم اور مہنگائی بڑھ رہی ہے ،بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا، مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے، حکومت کا جو بھی رکن آتا ہے وہ ایک ہی بات کرتا ہے کہ مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے، ہمارا حکمرانوں سے یہ سوال ہے کہ کیا یہ مشکل فیصلے ان پر بھی اثر انداز ہوں گے یا غریب عوام ہی پستی رہے گی ۔ وزیراعظم ، وزرائے اعلیٰ ،وزراء ،سینیٹرز اور بڑے بڑے سرمایہ داروں کو اس سے کیا غرض کہ پٹرول کس طرح لیٹر ہے، آٹے ،دال کا بھاءو کیا ہے وہ تو گاڑی میں بیٹھتے ہیں تو فیول ٹینک بھرا ہوا ہوتا ہے، جہاں جانا ہو صرف حکم شاہی چلتا ہے مگر غریب آدمی تو اس وقت موٹرسائیکل تک چلانے سے محال ہے ۔ جس طرح ڈالر پرواز کررہا ہے اس سے یہ مخصوص ہوتا ہے کی اس کی قیمت ناقابل برداشت حد تک بڑھ جائے گی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے اس کو کنٹرول کون کرے گا ۔ ہر چیز مہنگی کرنے کی تو نوید سنا دی جاتی ہے مگر مسائل کا حل کہاں پر ہے ۔ دراصل اس برائی کی جڑ کو ختم کرنا ہوگا جس کی وجہ سے ڈالر کی پرواز تھمنے میں نہیں آرہی ۔ جب تک مارکیٹ سے ڈالرخریدنے والوں کا خاتمہ یا ان پر چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھا جائے گا اس وقت تک یہ حالات اسی طرح رہیں گے یا پھر حکومت مارکیٹ میں زیادہ تعداد میں ڈالر ڈال دے جس کی وجہ سے خریدار کونقصان برداشت کرنا پڑے گا اس طرح تو روزانہ کروڑوں روپے کے ڈالر فروخت کرکے مارکیٹ میں مصنوعی طلب پیدا کردی جاتی ہے، رسد روک کر طلب کا اضافہ کرکے ناجائز منافع خوری کی جاتی ہے ۔ اس طرح بڑے بڑے سرمایہ دار اس ڈالر کی پرواز کی وجہ سے روزانہ لاکھوں روپے کمارہے ہیں ، جب اسٹیٹ بنک کو ایک خودمختار ادارہ بنا دیا گیا ہے تو یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈالر کو کنٹرول کرے ، کیسے اور کیونکر کرنا اس کیلئے باقاعدہ پالیسی بنائی جائے اور ڈالرکی خریداری کیلئے ایک حدود کا متعین کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ نیز حکومت یہ بھی شق رکھے کہ جو شخص بھی ڈالر خریدنے کیلئے آتا ہے وہ اپنے انکم کے ذراءع اور ٹیکس ادائیگی کی دستاویزات بھی ڈالر خریداری کے وقت بینک کو دینے کا پابند ہو ۔ ایک تو اس اقدام سے معلوم ہو جائے گا کہ وہ جو کروڑوں روپے کے ڈالر خرید رہا ہے کیا اس پر اس نے ٹیکس ادا کیا اور یہ اتنا پیسہ کن ذراءع سے اس کے پاس آیا ہے ۔ یہ اقدامات اٹھانے سے امید ہے کہ کافی حد تک حالات کنٹرول ہو جائیں گے اگر بلیک مارکیٹنگ کا اسی طرح حال جاری رہے تو ڈالر 200 روپے تک پرواز کرجائے گا اور اس کے بعد ملک کی معاشی حالت کیا ہوگی وہ ناقابل بیان ہے ۔ لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے اہم اقدامات اٹھائے اور معاشی ماہرین کی جو ٹیم رکھی ہے اس کی خدمات سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مہنگائی کو بھی کم کیا جائے گا، زر مبادلہ کے ذخائر بھی بڑھائے جائیں اور ڈالر کو بھی کنٹرول کیا جائے ۔

ادویات سستی کرنے کیلئے ڈیڈ لائن

صحت اور تعلیم وہ بنیادی چیزیں ہیں جن کو فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے کیونکہ ایک صحت مند قوم ہی ملک کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے اور تعلیم بھی صحت مند اذہان کے مرہون منت ہوتی ہے ۔ اگر یہ دوچیزیں نہ ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طرح نبھا نہیں رہی ۔ وزیراعظم عمران خان نے اس وقت سابقہ وزیر صحت عامرمحمود کیانی کو برطرف کردیا جب ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ۔ یہاں پر بھی انہوں نے ایک ماہر کی خدمات حاصل کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا کو یہ ذمہ داریاں سونپی کہ نہ وہ صرف ادویات کی قیمتیں سستی کرائیں بلکہ ملک میں صحت کے حوالے سے بھی سہولیات بہم پہنچائی جائیں ۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ 20مئی تک ادویات کی قیمتیں کم کرکے 75فیصد تک لائی جائیں ورنہ ڈرگ کورٹ جائیں گے ۔ فارما انڈسٹری مرضی سے قیمتیں بڑھا دیتی ہے ہم تمام شراکت داروں سے مل کر قومی ادویات کی پالیسی تیار کررہے ہیں ، معیار اور قوانین سمیت تمام مسائل حل کریں گے ، قیمتوں کو بھی غریب طبقے کی پہنچ تک لائیں گے ۔ نیز ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو مثالی اتھارٹی بنائیں گے ۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کے خیالات بہت اچھے ہیں اگر ان پر عملدرآمد ہو جائے ، وقت کوئی بہت زیادہ دور نہیں 20مئی میں 2دن باقی ہیں اور اس کے بعد ہم پھر دیکھیں گے کہ ادویات کی قیمتیں کہاں تک پہنچی ہیں ۔ یہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ان چیزوں کو کنٹرول کرے ۔ جہاں تک تعلق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو مثالی بنانے کا ہے کہ تو ہم حکومت مشورہ دیں گے کہ وہ اتھارٹی کو مثالی ضرور بنائے لیکن اس میں جو پہلے سے لوگ تعینات ہیں ان کو تبدیل کردیا جائے ۔

سڑکوں پر نہیں معاملات پارلیمنٹ میں حل کیے جائیں

سیاسی حالات بھی کروٹ لیتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ، پاکستان مسلم لیگ (ن) و دیگر جماعتوں نے عید کے بعد سڑکوں پر سیاسی جنگ کا اعلان کردیا ہے، ادھر آصف علی زرداری نے بھی کہا ہے کہ میں اب آخری مرتبہ نیب کو دستیاب ہوں اس کے بعد نیب چلے گا یہ ملکی معیشت، دونوں جماعت اس بات پر متفق ہیں کہ وہ اب عوام کی عدالت میں مسائل کو لے کر جائیں گے، سیاسی انارکی پھیلانے کے بجائے ہم یہ کہیں گے کہ معاملات و مسائل کو افہام وتفہیم سے بیٹھ کرحل کیا جائے اور اس کیلئے سب سے بہترین پلیٹ فارم پارلیمنٹ ہے جہاں پر عوام نے اپنے منتخب نمائندوں کو ووٹ کے ذریعے بھیجا ہے ۔ سڑکوں پر آنے سے مزید ملکی حالات خراب ہوں گے ،جمہوریت کو نقصان پہنچے گا، حالات جیسے بھی ہوں جمہوریت پھر سب سے بہتر ہوتی ہے لہذا ہم سب نے مل کر جمہوریت کا دفاع کرنا ہے اور اس کا علم بلند رکھنا ہے، جہاں تک عوامی حقوق اور مہنگائی کا تعلق ہے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ اس جانب خاطر خواہ توجہ دے تاکہ معاملات پرسکون انداز میں چلتے رہیں ۔

بناویلنٹ گرانٹس میں اضافہ پنجاب حکومت کا احسن اقدام

موجودہ پنجاب حکومت نے برسراقتدار آتے ہی عوامی فلاح و بہبود کے بہت سے کام کئے ۔ وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدارنے حلف اٹھاتے ہی واضح کیا تھا کہ وہ صوبے کواپنے قائد وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے وژن کے مطابق چلائیں گے ۔ تبدیلی لوگوں کے بہتر مستقبل کیلئے آئی ہے اور اس حقیقی تبدیلی کو برقرار رکھنے اور اس کے ثمرات عوام تک پہنچانے کےلئے شب و روز محنت کریں گے ۔ گزشتہ نو ماہ میں عثمان بزدار اور ان کی ٹیم عوامی توقعات پر پورا اتری ہے ۔ دو روز قبل وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی ہدایت پرمحکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن نے پنجاب کے سرکاری ملازمین کیلئے بناویلنٹ گرانٹس میں اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری کیاجس کے تحت پنجاب کے سرکاری ملازمین کے بچوں کے سکالرشپ میں اضافہ اور پرائمری تا سیکنڈری سکول سالانہ 20 ہزار روپے تعلیمی وظیفہ دیا جائے گا ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہائیر سیکنڈری سکول طلبا کو سالانہ 50 ہزار روپے ایجوکیشنل سکالرشپ ملے گا ۔ وزیراعلی کی جانب سے صوبائی ملازمین کے بچوں کیلئے میرج گرانٹ میں 3 گنا سے زائد اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ میرج گرانٹ 40 اور 50 ہزار سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے کردی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ وفات کی صورت میں جنازہ گرانٹ بھی بڑھا دی گئی ہے ۔ سرکاری ملازم کی وفات کی صورت میں لواحقین کو 50 ہزار روپے جنازہ گرانٹ ادا کی جائے گی اورسرکاری ملازم کی بیوہ کو ملنے والی ماہانہ گرانٹ میں بھی اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے جو تاحیات ادا کی جائے گی ۔ گرانٹس میں اضافے کی نئی شرح کے نوٹیفکیشن کا اطلاق10 مئی سے ہوگا جبکہ میرج اور جنازہ گرانٹ میں اضافے کا اطلاق 10 مئی کے بعد کیا جائے گا ۔ یہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک پسماندہ علاقے سے وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کیا گیا ہے ۔ عثمان بزدار کا تعلق ضلع ڈیرہ غازیخان کے اس علاقے سے ہے جہاں 2لاکھ کی آبادی کیلئے بجلی، پانی اور ڈاکٹر تک کی سہولت نہیں ۔ وہ پسماندہ علاقے سے تعلق کی وجہ سے عوام کے مسائل کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں ۔ بہت سادہ زندگی گزارتے ہیں ۔ یہی سادگی وہ اپنے کاموں اور منصوبوں میں بھی لے کر آئے ہیں ۔ اس سے پہلے اس منصب پرفائز افراد ذاتی جاہ و حشمت پر زیادہ زور دیتے تھے ۔ عوامی بہبود کے کاموں کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا تھا مگر عثمان بزدار ایک درد مند دل رکھنے والے وزیر اعلیٰ ہیں جن کے دور حکومت میں یقینا پنجاب ایک ماڈل صوبہ بن جائےگا ۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ تقریباً نصف صدی بعدپنجاب کے وزیر اعلیٰ کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے ۔ ورنہ اس منصب پر بھی اپر پنجاب اور لاہور والے ہی چھائے ہوئے تھے ۔ گو ماضی میں جنوبی پنجاب سے بہت سے لوگ کلیدی عہدوں پر تعینات رہے ۔ جن میں گورنر اور وزیر اعلیٰ کے عہدے بھی ہیں مگر کسی کو بھی علاقے کی تعمیر و ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں دلچسپی لینے کی توفیق نہیں ہوئی ۔ موجودہ پنجاب حکومت کے دور میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے محکموں میں اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں ۔ یہ لوگ کام کرنے آئے ہیں اورانشاء اللہ کام کرکے بھی دکھائیں گے ۔ تعلیم کے میدان میں وظاءف اور گرانٹ میں اضافہ سے یقینا تعلیم کے میدان میں انقلاب آجائےگا ۔ پنجاب کے غریب سرکاری ملازمین کے ذہین بچے جو غربت کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے وہ اس سے بھرپور استفادہ کر سکیں گے ۔ اس سے جہاں ہماری شرح خواندگی میں اضافہ ہوگا وہاں پاکستان بھی ترقی کی منازل بخوبی طے کرے گا ۔ بچوں کی شادی ایک سرکاری ملازم کےلئے بہت کٹھن مرحلہ ہوتا ہے ۔ خاص طور پر بچیوں کی شادی پر ساری عمر کی کمائی لگ جاتی ہے ۔ بچوں کی شادی گرانٹ میں تین گنا اضافہ سے بہت سی بچیاں جو جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بابل کی دہلیز پر بیٹھی رہ جاتی تھیں ، ان کے ہاتھ بھی پیلے ہو سکیں گے ۔ عوامی فلاح و بہبود کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ کا یہ قدم بہت احسن ہے ۔ وفات کی صورت میں لواحقین کو 50 ہزار روپے جنازہ گرانٹ کی مد میں ادائیگی بھی ایک اچھا عمل ہے ۔ سرکاری ملازمین کی وفات کے بعد زیادہ تر ان کے لواحقین شدید دباوَ میں آجاتے ہیں ۔ جنازہ ، قل اور دیگر رسوم کے لئے رقوم کا انتظام بعض اوقات بہت مشکلات پیدا کر دیتا ہے ۔ اس موقع پر عموماً قرض اٹھانا پڑتا ہے جس کی ادائیگی ایک مشکل عمل ہے ۔ کیونکہ وفات کے بعد ماہوار لگی بندھی تنخواہ تو ختم ہو چکی ہوتی ہے اس کے علاوہ گھر کے ماہانہ اخراجات ، بچوں کی تعلیم ، بیماری و دیگر مدوں میں ایک معقول رقم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس موقع پر جنازہ گرانٹ کے 50 ہزار اور بعد میں بیوہ کو ملنے والی ماہانہ گرانٹ میں اضافہ لواحقین کو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے نہ دے گا ۔ اس عمل کا اجر و ثواب جہاں دنیا میں حکومتی اکابرین کو ملے گا وہاں آخرت میں بھی جنت کے حق دار ٹھہریں گے ۔ بلاشبہ یہ اقدامات وزیراعلی کی جانب سے سرکاری ملازمین کی خوشحالی میں اضافہ کا باعث بنیں گے ۔ یہ نمائشی منصوبے نہیں بلکہ عوام کی حقیقی خوشحالی کیلئے پروگرام شروع کیے ہیں ۔ عوام کی بنیادی ضرورتوں کو ماضی میں نظرانداز کیا گیا لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے سماجی شعبوں کی پائیدار ترقی پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ ان منصوبوں کی مستقل طورپر مانیٹری کی جائے ۔ کیونکہ ان رقوم پرچیک اینڈ بیلنس نہ رکھنے سے رقم خورد برد ہونے کے بہت سے مواقع ہوتے ہیں ۔ کرپشن یہیں سے شروع ہوتی ہے ۔ لہذا امید ہے کہ وزیر اعلیٰ مذکورہ گرانٹس حق داروں تک پہنچانے کے عمل پر کڑی نگاہ رکھیں گے تاکہ اس سے کرپشن کا خاتمہ ہو سکے اور رقم بروقت جائز حق دار کو مل سکے ۔ کیونکہ عثمان بزدارکا کہنا ہے کہ پنجاب میں کرپشن کسی صورت برداشت نہیں ہو گی ۔ نہ ہم کرپشن کریں گے نہ کسی اور کو کرنے دیں گے ۔ اب وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پنجاب سمیت پاکستان بدلے گا ۔

خان بددیانت نہیں ہے

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے کسی کو لاکھ اختلافات ہوں اپنی جگہ وہ بالکل صحیح بھی ہوں مگر’کپتان کی ذات سے شدید تر اختلافات رکھنے کے باوجود اور اْن پرسنگین اعتراضات کے سیاسی طنز کے وار کرنے والے مانتے ہیں ’کپتان خائن نہیں ہے ‘ بددیانت نہیں ہے‘ اقتدار کو اپنی جاگیر نہیں سمجھتا آج وہ ملک کا منتخب وزیراعظم ہے پاکستانی عوام کے کروڑوں ووٹرز نے اُس پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے قومی اسمبلی میں اُسے منتخب کیا گیا ہے اْسے ایک ‘شہید’سیاسی جماعت کے دو چیئرمین اگر’ سلیکٹڈ وزیراعظم ‘کہہ کر مخاطب کریں گے تو کبھی نہ کبھی اْس کی جانب سے اس کا جواب تو ضرور آنا تھا ، ایک تقریب میں وزیراعظم عمران خان نے اگر یہ کہہ دیا تو کیا غلط کہا کہ ‘وصیت اور وراثت میں سیاسی جماعتیں نہیں ملا کرتیں ‘ ایسی جماعت کے قائد وہ جو بھی ہوں اُن صاحب نے ایک’ حادثہ‘ کے رونما ہونے کے نتیجے میں نہایت ہی سستے میں پارٹی پر بھی ہتھیائی اور بیٹھے بٹھائے وہ لیڈر بھی بن گئے;238; نہ صرف سیاسی لیڈر بن گئے بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر مملکت بن بیٹھے اْس زمانہ میں جب اْن کا نام نامی صدر مملکت کے عہدے کے لئے میڈیا میں آیا تو پاکستان کی ملٹری اور سول بیوروکریسی سمیت اْس وقت کی سبھی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کی زبانیں گنگ ہوگئی تھیں ;238; اْس وقت کے قانون وآئین کے سنجیدہ اور فہمیدہ سیاسی وسماجی دانشور سکتہ کی کیفیت میں آگئے تھے کسی نے سوال نہیں اْٹھایا علمی وادبی میدانوں کے شہ سوار ڈاکٹرز‘ پروفیسرز‘ اساتذہ‘ مذہبی اسکالر ‘ جانے مانے صحافی قلم کارعقل وخرد کا دامن اپنے ہاتھوں سے چھوڑ بیٹھے تھے;238; اْس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک ایسے فرد سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کا حلف لینا کیسے قبول کرلیا;238; جو علم ودانش عقل وفہم کا اور ملکی و عالمی سیاسی وسفارتی بلکہ علاقائی حساس پیچیدہ مسائل کے ادراک کا رتی برابر درک تک نہیں رکھتا تھا، ہم نے دیکھا اور دنیا نے دیکھا تھا انٹرمیڈیٹ پاس یا فیل ایک ایسے ڈپلومہ ہولڈر کے حامل شخص کی بطور صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تقریب حلف برداری میں اْس وقت کی تینوں افواج کے چیفس موجودتھے، تینوں سروسنز چیف نے حلف برداری مکمل ہونے کے بعد اُسی ’حادثاتی جمہوری قائد‘ کو ’سرکاری سیلوٹ‘ پیش کیا تھا ۔ کرپشنز‘ منی لانڈرنگ‘ اقربا پروری ‘غنڈہ گردی کے کئی کیس میں کئی سالوں ملک کی مختلف جیلوں میں قید رہا ہر عہد کی سیاسی مصلحتوں کی آڑ میں اُس پر قائم جرائم کے مقدمات پر سیاسی اور ایک ’فوجی حکومت‘ نے بھی درد مندی سے دلچسپی نہیں لی اور وہ شخص جس نے لاڑکانہ کے ایک سیاسی انڑخاندان کے نامی گرامی شخص کے پیروں سے ٹائم بم باندھ کر اُسے بلیک میل کیا تھا اب وہ شخص اپنی بیوی کے ’حادثاتی قتل‘ کے مصائب رونے پیٹنے کی آڑ میں ملک کا صدر بننے جارہا ہے جبکہ پاکستان میں تو یہ عام ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے مشکوک قتل کی ایف آئی آر درج کرانے تھانے میں جاتا ہے تو پولیس اُسے واپس جانے نہیں دیتی بٹھا لیتی ہے جبکہ اُسے تو صدر مملکت بنایا جارہا تھا کسی جانب سے ‘اُف’تک کی آواز سنائی نہیں دی کوئی ’کہنے والا‘ اپنی آئینی ذمہ داری تو پوری کرتا کہ ’جناب ِ والہ! آپ اپنی ہی سیاسی جماعت میں سے کسی کو بھی جس پر کرپشنز کے کوئی داغ دھبے نہ ہوں اُسے ملکی صدارت کے عہدے کے لئے چن لیں چونکہ ’صدر مملکت اپنے عہدے کے اعتبار سے ملک کی افواج کا سپریم کمانڈر انچیف بھی ہوتا ہے ‘ بدقسمتی سے آپ کے داغدار ماضی کے بوجھ کو ہمارا مستحکم تنظیمی ڈھانچہ اُٹھا نہیں سکتا ‘مگر کوئی نہ بولا اور پاکستان کا یہ تماشا دنیا نے دیکھ لیا پاکستانی قوم اور پاکستانی جمہوریت اْسی تماشے کے تباہ کن نتاءج اب تک بھگت رہی ہے، اْسی مذکورہ شخص کی مرحومہ بیوی جو ممتاز عالمی شہرت یافتہ سیاست دان ہونے کے علاوہ عالمی سطح کی دانشگاہوں سے فارغ التحصیل مہذب خاتون تھیں ، کئی کتابوں کی مصنفہ تھیں جن کے والد پاکستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندانوں میں سے ایک ممتاز خاندان کے فرد تھے جن کی اعلیٰ علمی وعملی قابلیت کا ایک جہاں معترف تھا اْن کی بیٹی کی شادی بھی اُسی حادثاتی شخص کے ساتھ ہو جا نا ہی پہلا بڑاحادثہ تھا لوگ حیران ہوئے تھے بالکل ایسے ہی جیسے اچانک سے اعلیٰ ذہین وفطین اور دوراندیش ودوربین خاندان کی بیٹی کا بیاہ ایک سنیما مالک کے بیٹے کے ساتھ ہو گیا اُس کی موت پر لاکھوں پاکستانیوں نے آنسو بہائے پھر اْسی مرحومہ کی ’وصیت‘ بھی سامنے آگئی ‘وصیت’کے مشکوک مندرجات کو پاکستان کے گونگے بہرے سبھی دانشوروں نے تسلیم کرلیا دیکھیں توسہی کہ اُسی ’وصیت‘ کے فوائد کس کس نے حاصل نہیں کیئے ’حادثہ ‘ اور ’وصیت‘ کی مشکوک ہونے پر آج تک کسی جانب سے سوال نہیں اُٹھایا گیا جس بہیمانہ قتل کے پیچھے ’بلیک واٹر اور سی آئی اے ملوث ہو جس قتل میں ملکی ٹولز ملوث ہوں اُس کی قتل کی تفتیش دنیا میں کہیں نہیں کرائی جاتی یہی پاکستان میں بھی ہوا جس کے نتیجے میں ایک ’حادثاتی لیڈر شپ ‘نے مشروم جیسی بڑھوتی پائی جس نے پاکستان کی سیاسی جمہوریت کی انیٹ سے اینٹ بجاکر رکھی دی ‘ ملکی جمہوریت کرپشن زدہ ہو کر اور مزید سہم گئی، قومی اداروں کی دیواریں شکستہ درکشتہ ہوگئیں قومی جمہوری تاریخ کو وہ سب یقینا جوابدہ ہونگے جنہوں نے فروری2008 کے انتخابات کے نتاءج آنے کے بعد سے تاحال چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے یہاں تفصیل کی گنجائش نہیں ‘ ناپ تول کر لکھنا پڑتا ہے ‘حادثاتی لیڈر اور حوادثات کے تباہ کن اثرات پر اخباری بیان بازیاں شروع ہوئیں تو ہ میں بھی قلم اْٹھانا ہی پڑا ہم تو اْس قافلے کے راہ رْو ہیں ‘جو قلم اْٹھاتے ہیں یا اپنے ہاتھ قلم کراتے ہیں ’ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے سامنے ہاتھ درازنہیں کرتے راقم کو جانے والے جانتے ہیں بات اگر چل ہی پڑی ہے تو عرض ہے کہ ایک’ مشکوک وصیت‘ کی وراثت میں ملنے والی سیاسی جماعت کے’’ متاثرہ ‘‘قائد نے ملکی سیاسی انفراسٹرکچر کو کیا اپنا مال غنیمت سمجھا ہوا تھا;238; دنیاحیران ہے اْن پر جنہوں نے اْسی مشکوک وصیت کو اپنے لئے بھی ’بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے مترادف مال غنیمت جان لیاجو ماضی کے ’بالشویک سیاسی ورکروں ‘ کی صف میں جانے جاتے تھے کیا وہ نہیں جانتے کہ اُن کے ’حادثاتی قائد‘ کے والد کو بھٹوصاحب نے پارٹی کے عروج کے زمانے میں پارٹی سے نکال باہر کیا تھا جو واپس ولی خان کی اے این پی میں اْس وقت بھی تھے جب بیگم نسیم ولی خان نے اپنے دوپٹے کو پھیلاپھیلا کر ضیا الحق سے بھٹو صاحب کو پھانسی دینے کی سرعام التجائیں کرنے کی جذباتی تقریریں کرنے میں اپنا ریکارڈ قائم کیا تھا ایسے سبھی بالشویک سیاسی ورکروں نے اپنے’حادثاتی قائد‘ سے پوچھنے کی کبھی یہ زحمت گوارا ہی نہیں کی کہ اْن کے موجودہ قائد کے ذاتی کریڈٹ پر شہیدبھٹو کی کونسی’لیگیسی‘ ہے;238; جس کا بنا سوچے سمجھے وہ چرچا کرتے پھرتے ہیں منی لانڈرنگ کے بے نامی اکاءونٹس کی لاتعداد مکروہ زدہ کرپشنز کی بھرمار کیا بھٹو کی سیاسی ‘لیگیسی’ تسلیم کرلی جائے;238; یہاں کس کس بالشویک ورکرز کا نام لکھا جائے;238; اگر شہید بھٹو زیادہ سے زیادہ بی بی شہید کی سیاسی وجمہوری جدوجہد کی خدمات کا ہی وہ دفاع کیا کریں تو کوئی بات بنتی ہے‘اربوں کھربوں ڈالرز کے بے نامی اکاءونٹس اور کرپشنز کا ٹی وی ٹاک شوز میں ماضی کے نامی گرامی مزدور لیڈروں اور بالشویک میڈل کلاس وکلاء لیڈرں کو دفاع کرنا زیب نہیں دیتا ہے آج کی بچی کچھی پی پی میں کچھ ہیں جو دل کی باتیں کرنا چاہتے ہیں نجانے ڈرتے کیوں ہیں ;238; اُنہیں ہم سے زیادہ یہ علم ہے کہ اْن کے موجودہ قائد میں سرتاپا حسد اور کینہ بھرا رہتا ہے حسد سے بھرا ہوا کوئی شخص ا گر وہ لیڈر بھی ہو تو ہمیشہ ناقابل اصلاح ہوتا ہے کیونکہ مشورہ اور نصیحت سننے والے کان وہ رکھتا ہی نہیں ‘ آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ اس شخص کی گردن میں غرور کا کیسا طوق پڑا ہوا ہے اس کی نظریں مسدود اپنی ناک کے نیچے اِسے کچھ دکھائی نہیں دیتا ،لہٰذا وقت کا انتظار کریں سیاسی عہدوں پر بیٹھ کر جس جس نے بھی سنگین کرپشن کی اس منحوس کشتی میں چرایا ہوا اپنا مال مسروقہ رکھا ہوا ہے اب وہ جان لیں کہ یہ کشتی آج ڈوبی یا کل;238; کسی کوبچنا ہے تو وہ اپنے آپ پر لگے کرپشنز کے الزامات کے داغ فی الفور دور کرلے اوراس ’حادثاتی قائدنما شخص‘ سے ہراقسام کی کم ازکم اپنی سیاسی وابستگیوں سے لاتعلقی کا ہی اظہار کرنے میں اب دیر نہ لگائے ۔

منصوبہ بندی کی اشد ضرورت

مسلم لیگ ن یا اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ نیا پاکستان سے اکثر یوں کتراتے ہیں جیسے ان کی چھیڑ ہو ۔ بہرحال یہ کوئی ایسا شجر ممنوعہ نہیں جس کو چھو لینے سے جہنم واجب ہوتی ہو ۔ نہ سمجھ آنے سے پہلے ہر پاکستانی کی طرح میں بھی ہونکوں کی طرح نیا پاکستان پر ادھر ادھر دیکھنے لگتا کہ یہ کدھر سے وارد ہو گا ۔ بہر حال یہ خواب سے حقیقت اورلفظوں سے عمل میں آنے تک یوں ایک سر بستہ کہانی ہی رہے گا ۔ نیا پاکستان سے عمران خان کی کیا مراد ہے یا پی ٹی آئی کا نیا پاکستان کیسے معرض وجود میں آنا ہے مجھے اس سے متعلق کسی نے بھی بریف کرنے کی نہ تو کوشش کی اورنہ میں نے کوئی بریفنگ لی ۔ حالانکہ میرے کئی عزیز دوست تعلق دار پی ٹی آئی سے وابستگی رکھتے ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہر پاکستانی کی طرح میری بھی خواہش ہے کہ پرانے پاکستان کی بجائے نیا پاکستان ہونا چاہیے جہاں صحت تعلیم تحفظ روزگار عزت کے ساتھ وقت گزارا جا سکے ۔ سیاسی کارکن عام طور جس بھی سیاسی جماعت سے وابستگی رکھتے ہیں اس سے یہی امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے کارکنوں کیلئے بنیادی ضروریات کی فراہمی کو آسان بنائے گی ۔ پیپلز پارٹی تو باقائدہ روٹی کپڑا مکان کے معاشی اورمعاشرتی نعرے کے ذریعے عوام کو اپنا بناتی رہی ہے ۔ دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی معاشی اور معاشرتی ضروریات کو مدنظر رکھ کر سیاسی پلیٹ فارم کیلئے نعرہ تخلیق کیے ہیں ۔ مذہبی جماعتیں مذہبی اقدار کو اپنانے اور عوام کو خلافت راشدہ جیسا دور لانے کی وعید دے کر سیاسی کھیل کھیل رہی ہیں ۔ حالانکہ تقریبا تمام سیاسی حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ خلافت راشدہ کا دور صرف چارخلفاء راشدین کے دور تک ہی تھا اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کو اعزازی طور پر خلیفہ راشدہ کی ایکسٹینشن قرار دیا جاتا ہے ۔ ان کے بعد خلافت کا دور نہ آیا اور نہ آنا ہے ۔ قبل از قیامت ہی احادیث شریف میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ السلام ہی کا دور سنہری دور ہو گا جس میں ہر طرف امن و شرافت دیانت کا وور دورہ ہوگا ۔ امابعد تمہید موضوع کی باریکی کی طرف واپس ہوتے ہیں ۔ پی ٹی آئی حصول انصاف کے نعرہ کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کرتی ہے ۔ البتہ یہ علیحدہ موضوع ہے کہ وہ خود انصاف سے کیونکر گریزاں رہی ۔ اب اسکا نعرہ تو وہی ہے لیکن پوری توجہ کرپشن کے خلاف جہادی اقدامات کی طرف ہے ۔ کرپشن میں ملوث دیگر سیاسی قائدین کو نشان عبرت بنانے کیلئے پی ٹی آئی کی حکومت پوری طرح کوشاں ہے ۔ ایسے میں میاں نوازشریف سابق وزیر اعظم پاکستان بالخصوص نشان امتیاز کے ساتھ صف اول میں مورچہ زن ہیں ۔ ان کے پیچھے سابق صدر زرداری صاحب اور ان کے مصاحب صف آرا ہیں ۔ یہ تمام کیس انصاف کیلئے اپنے باری کے انتظار میں ہیں ۔ جب بھی کسی کو اپنی باری قریب نظر آتی ہے تو وہ اس پر چیخنے چلانے لگتا ہے کہ یہ ظلم و زیادتی ہے کہ پورے پاکستان کو چھوڑ کر مجھے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ میرے ایک دوست طنزیہ کہتے ہیں کہ وی وی آئی پی پروٹوکول بھی تو پورا پاکستان ایک طرف کر کے آپ ہی لیا کرتے تھے ۔ اس وقت کیوں نہیں کہتے تھے کہ یار مجھے بھی عام پاکستانیوں میں ہی رہنے دو ۔ اس وقت بھی آپ خاص تھے اور اب بھی اپ ہی خاص الخاص ہو ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ عام پاکستانی تو بس آپ کو بادشاہ تسلیم کرنے کیلئے پیدا ہوتا ہے اور آپ کی نسلوں کو کورنش بجا لانے کیلئے دنیا میں ہے ۔ نہ ان میں کوئی صلاحیت ہے اورنہ ان میں کوئی اس قابل ہے کہ وہ راہنما کردار ادا کر سکے ۔ یہ عزتیں اور تفاخر صرف چندخاندانوں کی میراث ہیں ۔ جن میں عالمی سطح کے راہنما پیدا ہوتے ہیں اور باقی قوم کی مائیں غلام پیدا کرتی ہیں ۔ بات نئے پاکستان کی ہورہی ہے تو اب نئے پاکستان میں ایک تو یہ انہونی ہو رہی ہے کہ نہ تو راہنما بھٹو خاندان سے ہے اور نہ ہی اس کا کوئی تعلق میاں خاندان سے ہے ۔ جو کم از کم یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ ان دو خاندانوں کے بغیر بھی اگر کوئی ملک کا وزیر اعظم و صدر بن جائے یا ان کی پشت پناہی کے بغیر بن جائے تو نرنیدر مودی کو اگر تکلیف ہو بھی تو دور کی جا سکتی ہے ۔ سعودی عرب بھی پاکستان کی پشت سے ہر گز ہاتھ نہیں کھینچتا اور نہ ہی پاک چین دوستی میں کوئی دراڑ آتی ہے ۔ یورپ و امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی معمول کے مطابق ہی تلخ و شیریں چلتے رہتے ہیں ۔ نیا پاکستان کی بنیاد نہیں رکھی گئی بلکہ جیسے دوکان کی افتتاح کرنے کیلئے فیتہ کاٹا جاتا ہے کچھ ایسا طرز عمل اختیار کیا گیا ہے ۔ اب نئے پاکستان کا خواب تو دکھایا گیا اور عوام کو پسند بھی آیا لیکن وہ اس انتظار میں ہیں کہ اس کی تعبیر کب ملے گی ۔ انصاف کب ملے گا اور کرپشن سے چھٹکار ا پا کر وہ کب سکون و امن سے صحت تعلیم اورروزگار کے حصول کیلئے مزید رسوا نہیں ہونگے ۔ چائنا کو ہی دیکھ لیں کہ یہ ملک صنعت و حرفت میں سرمایہ کاری کر کے آج معاشی طور پر استحکام کا ہمالیہ سر کر چکا ہے ۔ دنیا کے تقریبا تمام ممالک جنہوں نے جینوئین سرمایہ کاری کو صنعت و حرفت میں لگایا اور اس کی بنیاد پر اپنے ملک کی معاشی استحکام کی بنیاد رکھی وہ کامیاب رہے ۔ سٹاک ایکس چینج کی مصنوعی سرمایہ کاری کے زریعہ مائیکرو اہداف کا حصول جواری کی بازی کی طرح ہے ۔ کبھی ہار تو کبھی جیت ،کبھی خوشی تو کبھی اور کبھی تو بالکل ہی بے غم ۔ ملک میں صنعت و حرفت کو فروغ دینے کیلئے منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے ۔ گوجرانوالہ لاہور سیالکوٹ گجرات جیسے شہر اور بھی بنائے جا سکتے ہیں ۔ ہر شہر میں منصوبہ بندی کے ساتھ کوئی نہ کوئی انڈسٹری کھڑی کی جا سکتی ہے ۔ ہر علاقہ میں کسی نہ کسی انڈسٹری کیلئے خام مواد موجود ہے ۔ ہم تو آج تک سرگودھا اور خان پور سے فروٹ صیح طرح ایکسپورٹ نہیں کر پائے ۔ جن علاقوں میں سیلکا ریت پائی جاتی ہے وہاں پر ہم شیشہ کا کارخانہ نہیں لگا سکے ۔ جن علاقوں میں جانوروں اور پرندوں کو پالنے کے مواقع ہیں وہاں پر ہم کوئی ڈیری فارم بنانے کی منصوبہ بندی نہیں کر پائے ۔ ہم جوتا بنانے والے ہنر مندوں کو بیروزگار ہوتے دیکھتے رہے لیکن ان کے جوتوں کیلئے ایکسپورٹ کا کوئی ذریعہ نہ بناپائے ۔ ہ میں چھوٹی صنعتوں کو فروغ دینے کیلئے سمال انڈسٹری کو متحرک کرنا چاہیے ۔ سمال انڈسٹری کے مشورہ کاراور اس میں سرمایہ کاری کیلئے حکومت کو پوری طرح ذراءع مہیا کرنا چاہیں ۔ حکومت اگر معاشی استحکام چاہتی ہے اور اپنے لوگوں کو روزگار دینا چاہتی ہے تو اس کیلئے وہ مختلف علاقوں میں سمال انڈسٹریل زون بنائے جہاں پر سمال انڈسٹری کو فروغ اور تحفظ دینے کیلئے حکومتی سائبان مہیا کیا جائے ۔ سمال انڈسٹری کے ذریعہ ملکی معیشت مضبوط ہوگی اور حکومت پر عوام کو نوکری دینے اور روزگار مہیا کرنے کا بوجھ بھی تقسیم ہو گا ۔ ملک حقیقی معنوں میں معاشی طور پر استحکام کی منازل طے کرے گا عوام معاشی طور پر آزاد اور خوشحال ہونگے ۔ نیا پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے ضروری ہے کہ معاشی طورپر ہم کشکول کو ترک کرکے زوربازو سے رزق کا حصول ممکن بنائیں

امریکا افغانستان کی دلدل سے جلد نکلنا والاہے(2)

گزشتہ سے پیوستہ

دو سال تک افغان درے کی بندوقوں سے روسی فوج سے گوریلا لڑائی لڑ تے رہے ۔ پچاس لاکھ سے زیادہ مہاجرین پاکستان اور اس سے کچھ کم ایران میں پناہ گزین ہوئے ۔ ساری دنیا کے اسلام پسندوں نے اسلام دشمن کیمونزم سے جہاد لڑنے والے افغان مجائدین کی مدد کی ۔ اسلامی دینا کے جہادی افغانستان آئے ۔ پاکستان ن اس مدد میں پیش پیش تھا ۔ دو سال بعد امریکا سویت یونین کے کیمونزم کو شکست دینے کے افغان مجاہدین کی مدد کے لیے میدان میں کود پڑا ۔ امریکا کے اسٹنگر میزائیل نے سویت یونین کی ہوائی قوت کو توڑا ۔ بلا آخر سویت یونین مذاکرات کا ڈھول ڈال کر افغانستان سے رسوا ہو کر نکل گیا ۔ امریکا نے افغان مجائدین کی سویٹ قبضہ کے وقت مدد کی تھی ۔ امریکا مجائدین کے ساتھ تصویریں بنا کر دنیا کے سامنے بڑے فخر سے پیش کیا کرتا تھا ۔ روس نے افغانستان میں تباہی پھیلائی تھی ۔ افغان مجائدین کے نو(۹) ہ جہادی گروپوں نے سویت یونین کو شکست دی تھی ۔ ان کا مطالبہ تھا کی ان نوجہادی گروپوں کے نمائندوں پر مشتمل عبوری حکومت قائم کی جائے ۔ عبوری حکومت عام الیکشن کرائے ۔ آزاد الیکشن کے ذریعے عوام کی رائے سے جیتنے والے افغانستان میں حکومت بنائے ۔ امریکا نے پاکستان کی حکومت کو ڈرایا کہ اگر افغانستان میں اسلامی جہادی قائم حکومت ہو گئی تو وہ اسے پاکستان میں بھی لے آئیں گے اور تمھاری عیاشیوں ختم ہو جائیں گی ۔ امریکا کے جال میں پھنس کر پاکستان حکومت نے باہر سے آئے ہوئے جہادیوں کو پکڑنا شروع کیا ۔ انہیں عادی مجرموں کے ساتھ قید کیا ۔ ایک کم طاقت والے صبغت اللہ مجددی کو افغانستان کا صدر نامزد کر دیا ۔ افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوئی ۔ دینی مدرسوں میں پڑھے ہوئے طالبان نے افغانستان میں امن قائم کرنے کے سفید جھنڈا لہرا دیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان میں امن قائم ہو گیا ۔ افیون کی کاشست ختم کر دی گئی ۔ وار لارڈز سے اسلحہ واپس حکومتی مال خانے میں جمع کروایا ۔ پھر کریڈٹ لینے والوں نے کریڈ لینا شروع کیا ۔ پیپلز پارٹی کے وزیر داخلہ نے کہا کہ طالبان ہمارے بچے ہیں ۔ ایک خاص مکتبہ فکر کے دینی سربراہ نے کہا کہ طالبان ہمارے دینی مدرسوں کے پڑھے ہوئے طالب علم ہیں ۔ بحر حال افغان عوام نے سکھ کا سانس لیا ۔ ملا عمر;231; کو اپنا امیر المومنیں منتخب کر لیا ۔ اسلامی شری عدالتیں قائم ہو گئیں ۔ کچھ جزوی کمزرویوں کے باجود افغانستان کے حالت بہتر ہونے لگے ۔ پاکستان اور سعودی عرب نے افغانستان کی اسلامی حکومت کو قانونی طور پر تسلم کر لیا ۔ تاریخ میں پہلی بار پاکستان اور افغانستان میں تعلوقات مثالی ہو گئے ۔ پاکستان کی مغربی سرحد طالبان محفوط ہو گئی ۔ مگر افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت امریکا کو اور خیبر پختون خواہ کے قوم پرستوں کوہضم نہیں ہوئی اور نہ ہی پاکستان کی روشن خیال سیکولر پارٹیوں کو ۔ ان دنوں مرکز میں پیپلز پارٹی، خیبر پختون خواہ میں قوم پرست نیشنل عوام پارٹی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت تھی ۔ انہوں نے طالبان کے خلاف امریکا کی کھل کرحمایت کی ۔ امریکا نے بھی محسوس کیا کہ اسلامی حکومت آگے بڑھ کے مسلمانوں کی خلافت کی بحالی کے لیے کام کرے گی ۔ امریکا نے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو استعمال کیا تھا ۔ ڈکٹیٹر ایک فون کال پر افغانستان طالبان حکومت کے خلاف امریکا کا کرایہ کا فوجی بن گیا ۔ پورے پاکستان کو لاجسٹک سپورٹ کے نام پر امریکا کے حوالے کر دیا ۔ امریکا اور نیٹو کے ۸۴ ملکوں کی فوجوں نے افغانستان پر قبضہ کر لیا ۔ فاقہ مست افغانوں نے اللہ کے بھروصے پر پھر گوریلہ لڑائی شروع کی ۔ اب سوائے اللہ کے طالبان کا کوئی بھی مدد گار نہ تھا ۔ نہ اسلامی دنیا کے عوام اور نہ ہی امریکی پٹھو مسلم حکمران اور نہ ہی وارلڈ پاور امریکا کا کوئی دشمن ملک ۔ پروگرام کے مطابق پاکستان کے دشمنوں ، جس میں گریٹ گیم کے تینوں اہل کار، بھارت، اسرائیل اور امریکا نے پاکستان میں دہشت گردی پھیلا دی ۔ امریکا نے پاکستانی قوم پر ستوں پرمبنی’’ تحریک طالبان پاکستان‘‘ بنائی ۔ دہشت گردی امریکی کمپنی بلیک واٹر کرتی اور اس کی ذمہ واری تحریک طالبان پاکستان قبول کر لیتی ۔ امریکا نے پاکستان کوکیری لوگر بل کے تحت مدد دے کر اپنے ہی رعایاسے لڑا دیا ۔ قبائلی علاقوں میں کئی فوجی آپریشن ہوئے ۔ اُدھرفاقہ مست افغان طالبان کے افغانستان کو امریکا نے تورابورا بنا دیا ۔ مگر طالبان تن تنہا صرف اور صرف اللہ کے بروصے پر امریکا اور نیٹو کے سامنے ڈٹے رہے ۔ شکست تسلیم کرتے ہوئے ایک ایک کر کے نیٹو ممالک نے اپنی فوجیں افغانستان سے نکال لیں ۔ امریکا نے صرف دس ہزار فوجی افغانستان میں رکھے ۔ اب امریکا افغانستان کی دلدل سے نکلنے کے لیے افغان طالبان سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے ۔ امریکا نے کوشش کی کہ پاکستان کی فوج کو طالبان سے لڑا دے ۔ مگر اللہ کالاکھ لاکھ شکر ہے کہ فوج نے کہہ دیا ہے ہم نے بہت کچھ کیا اب دنیا ڈو مور کرے ۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے بھی کہ دیا کہ اب ہماری فوج کسی کےلئے کرائے کی فوج نہیں بنے گی ۔ اللہ کا شکر ہے فوج اور سیاسی حکومت ایک پیج پر ہے ۔ امریکا کو افغانستان سے نکلنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ۔ افغان طالبان کی امریکا سے مذاکرات کے ایجنڈے کا پہلا آءٹم افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا ہے ۔ لگتا ہے کہ جلد ہی امریکا افغانستان کی دلدل سے نکل جائے گا ۔ یہی اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ وہ کمزروں کو طاقتورں پر فتح عطا کرتا رہا ہے ۔ جب تک ہمارے پڑوسی مسلمان ملک افغانستان کے کوہسار باقی!افغان باقی ۔ انشاء اللہ ۔

ڈالر کی بڑھتی قیمت پروزیراعظم عمران خان کی تشویش

فلاڈیلفیا: ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو اور شراب نوشی سے ہڈیوں کی کمزوری، جوڑوں کے درد اور گٹھیا (اوسٹیوپوروسِس) کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ سگریٹ نوش سے جسم کا فطری دفاعی (امنیاتی) نظام اوسٹیو کلاسٹ نامی خلیات (سیلز) کو اس طرح تبدیل کرتا ہے کہ وہ ہڈیوں کو گھلانے کا کام شروع کردیتے ہیں۔

سگریٹ نوشی میں خلیات میں موجود توانائی گھر مائٹو کونڈریا خاص سگنل خارج کرتا ہے جس سے اوسٹیو کلاسٹ کا کام بدل جاتا ہے۔ فلاڈیلفیا میں واقع یونیورسٹی آف پینسلوانیا اورنیویارک میں واقع ماؤنٹ سینائی اسکول آف میڈیسن کے سائنسدانوں نے اس پر مشترکہ تحقیق کی ہے جس کی تفصیل ایف اے ایس ای بی نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

ماہرین نے ثابت کیا ہےکہ سگریٹ پینے اور مے نوشی سے  خلوی سطح پر مائٹوکونڈریا متاثر ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ خاص اسٹریس سگنل خارج کرتا ہے اور یوں اوسٹیوکلاسٹ کی ضرورت سے زائد پیداوار شروع ہوجاتی ہے۔ نہ صرف تمباکو اور شراب پینے بلکہ بعض ادویہ اور ان کے سائیڈ افیکٹس سے بھی مائٹوکونڈریا متاثر ہوتا ہے اور وہ ہڈیوں کے بھربھرے پن اور کمزوری کی وجہ بن سکتا ہے۔

پینسلوانیا یونیورسٹی کے پروفیسر نارائن جی اودھانی اور ان کے ساتھیوں نے تجربہ گاہ میں چوہوں پر اس کے کئی تجربات کئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گٹھیا کے مرض میں ہڈیوں کی سختی کم ہوتی جاتی ہے اور وہ ٹھوس نہیں رہتی ۔ دھیرے دھیرے وہ کمزور ہوجاتی ہے اور یوں ٹوٹ پھوٹ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ 30 کی دہائی میں ہڈیوں کی مضبوطی بلند ترین سطح پر ہوتی ہے اور اس کے بعد ان کی سختی اور کمیت میں رفتہ رفتہ کمی ہوتی جاتی ہے۔ صرف امریکہ اور یورپ میں ساڑھے سات کروڑ افراد اس مرض کے شکار ہیں اور ہر سال 90 لاکھ افراد اس کیفیت میں ہڈیوں کے ٹوٹنے اور فریکچر کے شکار ہوجاتےہیں۔

ماہرین کے مطابق شراب نوشی اور تمباکونوشی سے مائٹوکونڈریا کی سطح پرایک پیچیدہ عمل شروع ہوجاتا ہے اور یوں اوسٹیوکلاسٹ بننا شروع ہوجاتے ہیں اور اس طرح ہڈیوں کا بھربھرا پن شروع ہوجاتا ہے۔

Google Analytics Alternative