کالم

قوم کے دن بدلیں گے

Mian-Tahwar-Hussain

کیا زمانہ آگیا ہے کہ خود ساختہ بڑے لوگ ب بینک اکاؤنٹ میں دولت جمع کرنے کے بجائے اپنی مالی، ڈرائیور اور دیگر گھریلو ملازمین کے اکاؤنٹ کھلوا کر اس میں بھاری رقوم اس نیت سے چھپاتے ہیں کہ کسی کو پتہ نہیں چلے گا اور نہ ہی شک پڑے گا کہ مالی یا ڈرائیور کے کھاتے میں اتنی بڑی رقم موجود ہے۔ آخرکار دھوکہ فریب اور جھوٹ پکڑا جاتا ہے۔ موجودہ حکومت نے ایسٹ رکوری یونٹ بنا کر پانچ ہزار ایسے اکاؤنٹس کا سراغ لگایا جن میں ساڑھے پانچ ارب ڈالرز جمع ہیں۔ جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کے ذریعے سوئٹزر لینڈ، برطانیہ اور عرب امارات سمیت دس ممالک میں پاکستان سے اربوں روپے غیر قانونی طور پر باہر چھپائے ہوئے ہیں۔ پچھلی حکومتوں نے بھی لوٹی ہوئی دولت کو ملک میں واپس لانے کے دعوے تو بہت کئے تھے لیکن عملی اقدام کچھ نہ کئے سلطان راہی والی بڑھکیں بہت لگائیں لیکن نتائج کچھ بھی حاصل نہ کئے جاسکے۔ حال ہی میں یہ بھی پتہ چلا کہ اقامے کی آڑ میں اپنی شناخت چھپا کر ناجائز کاروبار اور لانچوں کے ذریعے ملک کا پیسہ باہر منتقل کیا گیا۔ حکومتی ادارے نے بڑی محنت، جانفشانی سے معلومات اکٹھی کی ہیں ۔امید ہے اس عمل کے نتائج بھی جلد ظاہر ہوں گے۔ یقیناًایف آئی اے نیب اور ایس ای سی پی کے تعاون سے یہ معلومات حاصل کی گئی ہونگی۔ اس وقت غالب کا یہ شعر حسب حال معلوم ہورہا ہے وہ کچھ اس طرح ہے حیران ہوں دل کو روں یا پیٹوں جگر کو میں مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں۔ کن کن واقعات پر قوم آنسو بہا ئے بڑی بڑی شخصیات کے کارنامے ہر واقع کے پیچھے جناتی قہقہے لگاتے سنائی دیتے ہیں۔ ان لوگوں میں نہ شرم ہے اور نہ ہی حب الوطنی بس چلتے پھرتے درندے ہیں جو قوم کو چیر پھاڑ کر نگلنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ قوم کا ہر فرد سوچنے پر مجبور ہے کہ ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے یہ کون لوگ ہیں جو عزت دار بن کر قوم کے بہی خواہ بن کر انہیں مستقل لوٹ رہے ہیں۔ ملکی معیشت کی جڑیں کھوکھلی کرتے رہے ہیں۔ چند دن پہلے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب، معاون خصوصی برائے اطلاعات اور سینیٹ کی اطلاعات و نشریات کمیٹی کے چئیرمین نے مشترکہ پریس کانفرنس میں مذکورہ بالا راز آشکار کئے۔ اس کے بعد کیا کچھ سامنے آئے گا قوم دل تھام کے بیٹھے اور بھی بہت کچھ ہوگا۔ امید ہے اس سلسلے میں نیب میں جلد ریفرنس دائر کر دیا جائیگا۔ انہوں نے حیران کن بات کہی کہ کالے دھن کا حجم ہماری معیشت کے پورے حجم کے برابر ہے لیکن بدقسمتی سے ماضی کی حکومتوں نے ملک سے دولت لوٹ کرناجائز ذرائع سے باہر لیجانے والوں کے خلاف کچھ نہیں کیا ایسا کوئی قانون بھی نہ بنایا گیا جس کی گرفت میں ایسے افراد آسکتے جو خود خبیث اور خبیث روحوں کے پیشوا تھے۔ دوبی جو آج کل جرائم پیشہ افراد کا مسکن ہے وہاں پاکستانی شہریوں نے پندرہ ارب روپے کی جائیدادیں بنا رکھیں ہیں اتنے پیسے سے تو ایک ڈیم بنایا جاسکتا ہے بیرون ملک بہت سے ایسے شرفا کے اکاؤنٹس منجمد کئے جاچکے ہیں ابھی مزید تحقیقات جاری ہیں یقیناًحیران کن فگرز سامنے آئنگی۔ غیر ممالک سے لوٹی ہوئی رقوم کی واپسی آسان کام نہیں کیونکہ جہاں ایسی رقوم بینکوں میں جمع ہیں ان ممالک کے ساتھ بات چیت کے ذریعے قوانین بنانا پڑیں گے جن کی چھتری تلے دولت واپس آسکے۔ آپ کو یاد ہو گا پچھلی حکومتوں کے دور میں قوانین بنانے کا شور اٹھا تھا اور کیسز بنانے کے بارے میں بیانات بھی سامنے آئے تھے ان پر کیا پیش رفت ہوئی اس کا کسی کو کوئی علم نہیں۔ تحریک انصاف نے تو ابھی ایک بھی ایسا کیس رجسٹر نہیں کروایا، سوئٹزلینڈ میں بھی ایک اندازے کے مطابق دو سو ارب ڈالر جمع ہیں۔ کہا جاتا ہے ان کی واپسی کی خبر بھی قوم کو جلد سننے کو ملے گی۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ جعلی اکانٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو دو ہفتے میں رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے بینکوں کے اعلی حکام بھی طلب کیے جاچکے ہیں۔ چیف جسٹس نے تو ان ملزمان کو واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ملک کی رقم جو غیر قانونی طریقے سے لانچوں کے ذریعے باہر لے جائی گئی ہے۔ وہ واپس آجائے تو کیس ختم کر دیا جائے گا۔ اب اس سے بڑی یقین دہانی کیا ہوسکتی ہے تعجب یہ ہے کہ جب بینکوں میں اکاؤنٹ کھولے جاتے ہیں اور رقوم کی ٹرانزیکشن شروع ہوتی ہے تو کیا اس برانچ کے افسران آنکھیں بند کرکے بیٹھے رہتے ہیں وہ چیک نہیں کرتے کہ صحیح یا غلط کیا ہو رہا ہے ان کی ملی بھگت کے بغیر ایسا کچھ نہیں ہو سکتا۔ معلوم ہوتا ہے یہ ایک چین ہے ایک کڑی ہاتھ میں آگئی تو ساری چین سامنے آجائے گی۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ایسے ذرائع پیدا کر دے جس سے ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس آجائے اگر ایسا ہو گیا تو ہمیں کسی دوسرے ملک سے مالی معاونت کی ضرورت نہیں رہے گی۔ جعلسازوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا بھی ضروری ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے اس بات کا خصوصی خیال رکھنا ہوگا کہ کاروائی شفاف طریقے سے ہو، غیر جانبدار ہو، انصاف کے تمام تقاضے پورے ہونے چاہیں کسی کے ساتھ ظلم زیادتی یا نمبر بنانے والی گیم نہ ہو۔ اسلام آباد کے رہائشیوں نے ضرور دیکھا ہوگا کہ جی سیون کے علاقے میں گرین بیلٹ پر بیٹھے دیسی بابے حقے کے کش لیتے ہوئے نہ صرف ملکی معاملات پر رائے کا اظہار کرتے ہیں بلکہ شطرنج یا تاش کھیلتے ہوئے ان موضوعات پر جملے کستے ہیں اس خبر پر کہ پانچ ہزار جعلی اکاؤنٹس پکڑے گئے ایک بابا جی نے فرمایا اے اینا چوروں نوں سرعام سو چھترمار کے حقے دا پانی پیا سارے بندے دے پتر بن جان گے۔ بات تو دل کو لگنے والی ہے۔ لیکن یہ تو ڈیٹھ اور بے حیاء لوگ ہیں۔ ہمارے ملک میں قانون شکن افراد کی بہتات ہے اس کی وجہ فوری گرفت کا نہ ہونا اور سزا کا تاخیر سے ہونا ہے یا پھر یہ ہے کہ آپ ہمارا خیال رکھیں ہم آپ کا خیال رکھیں گے تعاون سے ہی کام چلتا ہے والا اصول ہوتا ہے۔ ناجائز قابضین دکانیں، کھوکھے یا عمارت کی تعمیر کے بعد پیسے کماتے ہیں یہ بھی ناجائز آمدنی کے زمرے میں آتا ہے۔ زیادہ تر متعلقہ محکمے کے ملازمین کی ملی بھگت سے قبضے ہوتے ہیں ماہانہ بھتہ ادا کیا جاتا ہے اور سرکاری زمینوں پر قبضہ جاری رہتا ہے۔ اسلام آباد میں تو رہائشی سیکٹرز میں یہ وبا عام ہے اکثر حضرات نے خالی جگہ پر قبضہ کرکے کسی سیاسی جماعت کا بورڈ لگا دیا یا دکاندار اپنے فرنٹ پورشن کو معقول ماہانہ کرائے پر اٹھا دیتے ہیں یہ سب کچھ متعلقہ ادارے کے ملازمین کی آشیر باد سے ہوتا ہے اور ہو رہا ہے۔ ان کی گاڑیاں بنگلے رہن سہن ہاتھی کے دانت کی طرح ہوتے ہیں کہ کھانے کے اور دکھانے کے اور ایسے افراد پر بھی متعلقہ محکمے کو سخت کارروائی کرنی چاہیے۔امید ہے انشااللہ قوم کے دن بدلیں گے موجودہ حکومت کی کوششوں سے ہر محکمے میں بہتری آئے گی لوگ اصلی معنوں میں مخلص، محب وطن، ذمے دار اور فرائض کو ادا کرنے والے بن کر اپنا کھویا ہوا وقار پھر سے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ناجائز ذرائع سے دولت کمانے والوں کے دن ختم ہوں گے ملکی معیشت بیساکھیوں کا سہارا لینا بھی چھوڑ دے گی۔ انشااللہ۔

16 دسمبر تا ۔۔۔16 دسمبر ؟

asgher ali shad

غیر جانبدار مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ بھارتی حکمران نہ صرف کشمیریوں کے خلاف بھیانک انسانی جرائم میں ملوث ہیں بلکہ تمام عالمی ضابطوں اور بین الاقوامی قوانین اور روایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہمسایہ ممالک میں مسلح مداخلت کے بھی مرتکب ہوتے رہتے ہیں ۔اس امر کی سنگین ترین مثال 16دسمبر 1971 کو پاکستان کو قوت اور سازشوں کے بل پر دو لخت کرنا ہے۔یہ بات کسی سے بھی غالباً مخفی نہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں سولہ دسمبر سیاہ ترین دن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے کیونکہ 47 برس قبل بھارت کی کھلی جارحیت کے نتیجے میں وطن عزیز کو دو لخت کر دیا گیا تھا ۔ اور اس سانحے کے 43 برس بعد سولہ دسمبر 2014 کو اس دن کی سیاہی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب پشاور میں 150 سے زائد معصوم روحیں سفاک دہشتگردوں کی بھینٹ چڑھ گئیں ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ یہ امر انتہائی توجہ کا حامل ہے کہ حالیہ دنوں میں ہندوستان کی پاکستان کے خلاف جاری دیرینہ سازشوں میں سرعت کے ساتھ اضافہ ہو ا ہے جس کا ثبوت اس امر سے ملتا ہے کہ چھ اور سات جون 2015 کو اپنے دورہ بنگلہ دیش کے دوران بھارتی وزیر اعظم مودی نے کھل کر اس امر کا اعتراف کیا تھا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کی خاطر بھارتی فوج نے اپنا خون بہایا ہے اور پاکستان کو دو لخت کرنے کے اس عمل پر مودی سمیت ہر بھارتی کو فخر ہے ۔ماہرین نے کہا ہے کہ یوں تو اس کھلے راز سے ہر کوئی بخوبی آگاہ تھا کہ پاکستان کو توڑنے میں میں بنیادی کردار ہندوستان اور بھارتی فوج نے ہی ادا کیا تھا مگر ہندوستان کے وزیر اعظم نے ڈھاکہ میں اپنے اعترافی بیان میں جس انداز میں بین الاقوامی قوانین کا کھلم کھلا تمسخر اڑاتے ہوئے اس مکروہ جرم پر شرمندہ ہونے کی بجائے اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی وہ اتنا قابلِ مذمت ہے جس پر تنقید کرنے کے لئے بھی مناسب الفاظ کا ڈھونڈ پانا خاصا مشکل ہے ۔اس صورتحال میں اقوامِ متحدہ سمیت عالمی برادری کی موثر قوتوں کو آگے بڑھ کر اپنا کردار نبھانا ہو گا وگرنہ دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور قوت کے زور پران کی جغرافیائی سرحدوں کو تقسیم کر دینا آنے والے دنوں میں آئے روز کا معمول بن کر رہ جائے گا اور عالمی امن بری طرح متاثر ہو گا ۔ اسی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی حکومت کا فرض ہے کہ سفارتی محاذ پر دنیا بھر میں ہندوستان کی اس مکروہ روش کو بے نقاب کرے اور تمام عالمی اداروں اور بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے بھارت کے امن پسندی کے نام نہاد دعووں کی حقیقت کا پردہ چاک کرے تا کہ دہلی کے حکمرانوں کی جمہوریت ، سیکولر ازم اور انسان دوستی کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آ سکے ۔ سبھی جانتے ہیں کہ16دسمبر 1971 کو پاکستان کے مشرقی با زو کا الگ ہو جانا یقیناًملکی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہے ،اور اس پر جتنا بھی افسوس اور غور و فکر کیا جائے وہ کم ہے تاکہ آ نے والے ادوار میں دشمن کی ان ریشہ دوانیوں کا خاطر خواہ ڈھنگ سے جواب دیا جا سکے۔دوسری جانب امن پسند حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ سرحد پار دہشت گردی کی اس سے بڑی مثال گذشتہ نصف صدی میں شائد ہی کوئی دوسری ملے گی ۔اور اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ’’ کراس بارڈر ٹیررازم ‘‘کسی بھی طور ایسا عمل نہیں جسے مستحسن قرار دیا جا سکے مگر المیہ یہ ہے کہ دہلی کا حکمران گروہ اس بابت زمینی حقائق سے چشم پوشی کی اپنی دیرینہ روش کو عرصہ دراز سے جاری رکھے ہوئے ہے اور اپنے نام نہاد سیکولرازم کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتا ۔ اس حوالے سے یہ امر خصوصی طور پر پیش نظر رہنا چاہیے کہ بھارت نے بڑی مہارت کے ساتھ خود پر سیکولرازم اور جمہوریت کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے اور اس کے اس دعوے کو کسی حد تک سبھی حلقے قبولیت کا بھی شرف بخشے ہوئے ہیں۔ اسی تناظر میں غیر جانبدار طبقات کی رائے ہے کہ اس ضمن میں جہاں تک بھارتی سیکولرازم کے دعووں کا تعلق ہے تو بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی ’’الیکٹورل ڈیموکریسی‘‘ کی حد تک تو تسلیم کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہاں پر وقتِ مقررہ پر انتخابات ہوتے ہیں۔ البتہ یہ قطعاً ایک الگ معاملہ ہے کہ ان میں جمہوریت اور سیکولرازم کی اصل رو کہاں تک کارفرما ہے اور اسے کتنا معتبر قرار دیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ بھارت میں دراصل RSS کے زعفرانی جنون اور کانگرس کی ’’سافٹ ہندوتوا پالیسیوں‘‘ کے مابین رسہ کشی جاری ہے اور یہ صورتحال نئی بھی نہیں بلکہ اس کے بیج تو تبھی بو دئیے گئے تھے جب اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرار دادوں کے باوجود کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق نہیں دیا گیا اور دہلی نے اس پر اپنا غاصبانہ تسلط جما رکھا ہے۔ مگر اپنے ابتدائی برسوں میں نہرو ظاہری طور پر کشمیریوں کی بابت اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد کا دعویٰ کرتے رہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت اپنے سبھی وعدوں کو فراموش کر بیٹھا۔ کانگرس کی ان پالیسیوں میں پوری شدت تب پیدا ہوئی جب اندرا گاندھی نے اقتدار سنبھالا۔ تب تو گویا بھارت نے تمام ظاہری تکلفات کو بھی بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کو دولخت کر دیا اور اس ضمن میں واجپائی جیسے نسبتاً اعتدال پسند اور کانگرسی پالیسیوں میں فرق مکمل طور سے مٹ گیا جب واجپائی نے 1971 کی لڑائی کے فوراً بعد اندرا گاندھی کو ’’درگا ماتا‘‘ کے لقب سے نوازتے ہوئے انھیں خراج تحسین پیش کیا، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کانگرسی سیکولرازم اور BJP و RSS ایک ہی سکے کے دو رُخ بن کر رہے گئے اور یہ سلسلہ ہنوذ جاری ہے۔ تبھی تو پانچ صوبوں میں ہونے والی انتخابی مہم کے دوران راہل گاندھی اور مودی کے درمیان گویا یہ مقابلہ جاری تھا کہ دونوں خیموں میں سے کون بڑا ’’رام سیوک ‘‘ ہے۔ قابل توجہ ہے کہ انتخابی مہم کے دوران BJP کا نعرہ تھا کہ ’’ جو رام کا نہیں، ہمارے کسی کام کا نہیں‘‘۔ دوسری طرف اپنی مہم کے دوران راہل گاندھی نے سومنات سمیت ہر چھوٹے بڑے مندر میں جا کر خصوصی پرارتھنا کی ۔ یوں 16 دسمبر 1971 اور 16 دسمبر 2014 سانحوں کی برسی مناتے ہوئے اس ساری صورتحال کو ذہن نشین رکھنا چاہیے اور ہر طریقے سے اپنی اصلاحِ احوال کی جانب بھی خاطر خواہ توجہ مرکوز کی جانی چاہیے ۔ ایسے میں یہ بلا جھجھک کہا جاسکتا ہے کہ ایک جانب بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے ایک کروڑ سے زائد نہتے انسانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمان ،سکھ،عیسائی،اور نچلی ذات کے ہندو دہلی کی ریاستی دہشت گردی کا عذاب مسلسل بھگت رہے ہیں ۔علاوہ ازیں پاکستان سمیت بھارت کے سبھی ہمسائے مختلف اوقات میں دہلی کی مسلح مداخلت ،اور سازشی روش کا نشانہ بنتے آئے ہیں اور یہ قابل مذمت سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

******

گیس بحران جلد حل کیاجائے

adaria

حکومت اب ترجیحی بنیادوں پر عوامی مسائل کو حل کرنے پرتوجہ دے رہی ہے جس کی مثال وزیراعظم کی جانب سے گیس پریشر کے حوالے سے نوٹس لیناہے، چونکہ کچھ عرصہ قبل حکومت یہ کہہ چکی تھی کہ گیس لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی ۔ماضی میں بھی یہ المیہ رہاہے کہ سردیوں میں گیس پریشر اور گرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ،دیکھنے میں یہ آتارہاکہ عوام نے اس حوالے سے بے تحاشہ احتجاجی مظاہرے بھی کئے ۔حتیٰ کہ بعض اوقات بجلی کے گرڈاسٹیشنوں کوبکھری ہوئی عوام نے نذرآتش بھی کیا۔ حکومت کو توجہ اس جانب دینی ہوگی کہ آخرکار بجلی اور گیس کے مسائل ہمیشہ کی طرح اب بھی کیوں درپیش ہیں۔ حقیقت کچھ اس طرح ہے کہ جب تک بجلی چوری ،کنڈا سسٹم اور گیس چوری کو روکنے کے لئے اقدامات نہیں کئے جاتے اس وقت تک ایسے ہی گھمبیرمسائل کاسامنارہے گا۔صنعتوں کے اعتبارسے دیکھاجائے تو وہاں پراکثرگیس چوری کی شکایات آتی ہیں ۔تقریباً بہت سارے ادارے اورصنعتیں سوئی گیس کے بلوں کے ڈیفالٹربھی ہیں۔ ہم یہاں حکومت کو یہ مشورہ دیں گے کہ صرف نوٹس لینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا اصل مسائل کی جڑ کاسدباب کرنا ضروری ہے ۔کیا نوٹس لینے سے کل گیس کاپریشربحال ہوجائے گا ایساقطعی طورپرممکن نہیں ۔ تاہم وزیراعظم کانوٹس لینا ایک خوش آئنداقدام ہے چونکہ سوئی گیس اللہ تعالیٰ کی جانب سے پاکستان کے لئے ایک نعمت ہے جو اس نے ہمیں وافرمقدارمیں عطاء کی ہے ۔بات صرف مینجمنٹ کی ہے ا اسی حوالے سے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں جاری گیس بحران پر ہنگامی اجلاس منعقد ہوا ۔اجلاس میں وزیر اعظم کو ملک میں گیس کی بحرانی صورتحال، گیس کی پیداوار اور ضروریات سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس کمپنیوں نے نااہلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گیس کی طلب و رسد کی معلومات چھپائیں جس پر وزیراعظم عمران خان نے دونوں کمپنیوں کے منیجنگ ڈائریکٹرز کیخلاف انکوائری کا حکم دیدیا۔اگر حقائق چھپانے کاسلسلہ ختم ہوجائے تو ہمارا ملک ترقی کرکے کہیں سے کہیں پہنچ سکتاہے حکومت کو ہم یہ مشورہ بھی دیں گے کہ جب وزیراعظم نے متعلقہ کمپنیوں کے سربراہان کو حقائق چھپانے پر طلب کیاہے تو انہیں جلدازجلدقرارواقعی سزادی جائے تاکہ آنیوالا ایسے مذموم اقدام سے پرہیزکرے۔نیزوزیر اعظم نے سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کے ایم ڈیز کیخلاف تحقیقاتی کارروائی 72 گھنٹے میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر پٹرولیم تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کریں۔اجلاس میں وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے وزیراعظم کو گیس کی صورتحال اور پیدا ہونیوالے حالیہ بحران پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گیس کے حالیہ بحران کی ذمہ داری بنیادی طور پر ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اداروں نے نہ صرف حکومت سے بعض گیس کمپریسر پلانٹس کی خرابی سے متعلق معلومات کو پوشیدہ رکھا بلکہ دسمبر کے مہینے میں گیس کی طلب کے حوالہ سے تخمینہ سازی میں بھی غفلت اور نااہلی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ملک میں گیس کی مقامی پیداوار کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس کو بتایا کہ اس وقت جنوب میں واقع گیس فیلڈز کی کل پیداوار 1200 ایم ایم سی ایف ڈی ہے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 80 ایم ایم سی ایف ڈی کم ہے، اسی طرح شمال میں کنڑ پساکی اور گیمبٹ فیلڈ زمیں بھی گیس کی پیداوار میں50 ایم ایم سی ایف ڈی کی کمی واقع ہوئی ہے۔وزیراعظم نے تحقیقات کے حوالے سے چیئرپرسن اوگرا عظمیٰ عادل خان کی سربراہی میں 4 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی قائم کردی ہے جس کا پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ڈی جی نجکاری کمیشن قاضی سلیم صدیقی، ڈی جی گیس شاہد یوسف اور ڈی جی ایل جی عمران احمد کمیٹی کے رکن ہوں گے۔کمیٹی ایم ڈی سوئی ناردرن اور ایم ڈی سوئی سدرن کیخلاف انکوائری کریگی۔کمیٹی دونوں ایم ڈیز کیخلاف انکوائری رپورٹ 72گھنٹے میں پیش کریگی۔ کمیٹی اپنی کارروائی کے دوران کسی بھی ماہر کو معاونت کیلئے بلاسکتی ہے۔ دونوں ایم ڈیز کیخلاف وزارت کو حقائق کے بارے میں آگاہ کرنے میں غفلت اور حکومت سے معلومات چھپانے کے حوالے سے تحقیقات کی جائینگی۔ جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ،سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کے ایم ڈیز سے منظم گورننس کی ناکامی کی تحقیقات بھی کی جائینگی۔

پاکستان میں امن کی صورتحال بہتری کی جانب گامزن
پا ک فوج نے ہمیشہ ملک میں قیام امن کے حوالے سے کلیدی کرداراداکیا جس کی واضح مثالیں آپریشن ضرب عضب اورآپریشن ردالفساد ہیں ،ان آپریشنز کے دوران نہ صرف دہشت گردی کی بیخ کنی کی گئی بلکہ دہشت گردوں کی کمربھی توڑ دی گئی۔اسی وجہ سے ملکی امن وامان کی صورتحال میں واضح اورمثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے ۔یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب بھی دنیابھرمیں کسی بھی ملک میں امن وامان اوراستحکام قائم ہوتا ہے تووہاں پربین الاقوامی سطح سے سرمایہ کاری اور سرمایہ کارآتے ہیں ۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ نے گزشتہ روز گدرا سیکٹر سندھ میں اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔ آرمی چیف نے جوانوں کی پیشہ ورانہ تیاریوں اور بلند حوصلے کو سراہا۔ آرمی چیف نے تھرکول پراجیکٹ کا بھی دورہ کیا۔اس موقع پرآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاک فوج سرحدوں کے دفاع کیلئے مکمل طور پر پرعزم ہے، داخلی صورتحال بہتر ہونے سے بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوئی ہے اور راستے کھل گئے ہیں۔ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ آرمی چیف کو منصوبوں پر ہونے والی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف نے کہاکہ تاجروں اور صنعت کاروں کو محفوظ ماحول دینے کیلئے کردار ادا کرتے رہیں گے۔ پاکستانی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو محفوظ ماحول کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ اس سے قبل آرمی چیف نے ایئر ڈیفنس سینٹر کراچی کا دورہ کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آرمی ایئر ڈیفنس کا کردار قابل تحسین ہے۔ مزید برآں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے پی اے ایف کے آپریشنل بیس کا دورہ کیا اور پاک چین بین الاقوامی فضائی مشق شاہین 7 کا معائنہ کیا۔ اس مشق سے پاکستان اور چین کے درمیان دوستی مزید مضبوط ہو گی اور فروغ پائے گی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی میں آرمی ایئر ڈیفنس سنٹرکا دورہ کیا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی ایئر ڈیفنس سنٹرکے دورے کے موقع پر لیفٹیننٹ جنرل حمودالزمان کو کرنل کمانڈر آف آرمی ایئر ڈیفنس کور کے بیجز لگائے۔

انتخابی نتائج، مودی حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی

بھارت کی5 ریاستوں میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں حکمران جماعت بی جے پی کو عبرتناک شکست ہوئی۔ ان پانچ میں سے تین ریاستوں چھتیس گڑھ، راجھستان اور مدھیہ پردیش میں جہاں بی جے پی کی مضبوط حکومت تھی ، کانگریس نے حکمران جماعت کو پچھاڑا جبکہ دو ریاستوں تلگانہ اور میزورام میں مقامی جماعتوں نے میدان مار لیا۔ تلگانہ میں بھی بی جے پی کی حکومت تھی مگر اب وہاں اسے صرف ایک نشست ملی۔ چھتیس گڑھ کی 90نشستوں میں سے کانگریس نے 68 ، بی جے پی نے 15 اور دیگر پارٹیوں نے 7 نشستیں حاصل کیں۔ راجھستان میں 199 سیٹوں میں سے کانگریس 101 ، بی جے پی 73 اور دوسری پارٹیوں نے 25 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ جبکہ مدھیہ پردیش میں 230 نشستیں ہیں جن میں سے کانگریس 114 ، بی جے پی 108 جبکہ دیگر جماعتیں 8 نشستوں پر کامیاب ہوئیں۔ ریاست میزو رام کی 40 نشستوں پر انتخابات ہوئے جن یں سے ایم این ایف کولیشن نے 26 نشستیں حاصل کیں جبکہ کانگریس 5 اور بی جے پی صرف ایک نشست حاصل کر سکی۔ تلگانہ میں جہاں بی جے پی کی حکومت تھی ، کانگریس نے 21 ، دیگر جماعتوں نے 88 نشستیں حاصل کیں جبکہ بی جے پی کو صرف ایک نشست ہی مل سکی۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ شمالی ہند کی ان ریاستوں میں بی جے پی ایک طویل عرصے سے برسر اقتدار تھی۔ ان ریاستوں میں واضح اکثریت نہ ملنے کی صورت میں چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدوار حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان انتخابات میں بی جے پی کی غیر متوقع شکست کے بعد ریاست راجھستان کی وزیراعلیٰ وسوندھررا جے اور چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ رمن سنگھ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ایک ایسے موقع پر جب چند ہی مہینوں میں پورے ہندوستان میں عام انتخابات ہونے والے ہیں، ان پانچ ریاستوں میں بی جے پی کی شکست بھارتی عوام کے جارحانہ مزاج کا پتہ دے رہی ہے۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ نتائج مودی حکومت کی ناقص کارکردگی اور حکومت سے عوام کی ناراضگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ آدمی پارٹی کے رہنما اور دلی کے وزیراعلیٰ ارونڈ کچریوال کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ان نتائج کے بعد توظاہراً راہول گاندھی کی نوجوان قیادت میں کانگریس ایک مرتبہ پھر بھارت پر راج کرتی نظر آرہی ہے۔ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکست پر کانگریس کے کارکن خوشی سے نہال ہیں۔گو کہ وزیراعظم نریندر مودی نے شکست کو تسلیم کر لیاہے مگر ان کی خاموشی ان کے اندر کے خوف کو ظاہر کر رہی ہے۔یہ مودی کو واضح پیغام ہے کہ عوام خوش نہیں اور یہ تبدیلی کا وقت ہے۔بھارتی اور بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ریاستی اسمبلیوں کے یہ ہولناک نتائج ملک کی موجودہ سیاست کے پس منظر میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ان ریاستوں کے انتخابی نتائج پارلیمانی انتخابات میں اثرانداز ہوں گے۔ ان نتائج کے بعد ملک میں پارلیمانی انتخابات یک سرگرمیاں تیز ہو جائیں گی او بی جے پی کی قیادت کو نئی انتخابی حکمت عملی وضع کرنی ہوگی۔اپنی حکومت کے دوران بڑے بڑے دعوے کرنے والے نریندر مودی اور ان کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی تمام تدبیریں الٹی پڑگئیں اور ان کی انتہا پسندی ریاستی انتخابات میں پارٹی کو لے ڈوبی ۔مسلمانوں کیخلاف انتہا پسندی، کسانوں اور بیروزگار نوجوانوں کے مسائل مودی کو لے بیٹھے۔ اس کے علاوہ مودی حکومت کی انتہا پسندی اور اقلیتوں سے ناروا سلوک بھی شکست کا باعث بنا۔ اسی طرح بی جے پی کی طرف سے مذہبی کارڈ کھیلنے کی حکمت عملی بھی شکست کا باعث بنی۔ بی جے پی کی ہندو توا کی سیاست اور وہ بھی بھارت جیسے سیکولر معاشرہ میں ، اس سے بعض انتہاپسند گروہ تو ضرور متاثر ہوئے مگر بھارت میں بسنے والی دیگر اقلیتیں اور خود نچلی ذات کے ہندو دلتوں کو یہ مذہبی کارڈ ضرور جتلا گیا کہ آئندہ برسراقتدار آنے پر بی جے پی ان اقلیتوں سے کیسا سلوک کرے گی۔ ان انتخابات کے بعد بی جے پی اس بات کی تشہیر کر رہی ہے کہ عوام میں جو بھی ناراضگی ہے وہ ریاستی قیادت اور حکومت سے ہے لیکن عوام وزیر اعظم نریند رمودی کو چاہتے ہیں ۔ لیکن یہ بات بھی واضح ہو ئی ہے کہ جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت نہیں تھی وہاں کے عوام نے بھی بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا۔ گویا عوام مودی کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ عوام مودی حکومت کے غلط فیصلوں اور عوام کش پالیسیوں کی وجہ سے بھی بی جے پی کی حکومت سے خائف تھے۔ نوٹ بندی، جی ایس ٹی ، ملک کی اقتصادی حالت، نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری، کسانوں کے مسائل کو نظر انداز کرنا اور مستقل کانگریس کو برا کہنے سے عوام میں بہت ناراضگی تھی۔ان نتائج کے علاوہ مودی حکومت کو ایک اور دھچکا ریزرو بینک آف انڈیا کے سربراہ ارجیت پٹیل کی جانب سے مستعفی ہونے کا اعلان تھا۔ اگرچہ انہوں نے کہا کہ وہ”ذاتی وجوہات” کی بنا پر استعفیٰ دے رہے ہیں لیکن واقفان حال کہتے ہیں کہ استعفے کی وجوہات کا تعلق بھارتی مرکزی بینک اور حکومت کے درمیان بڑے اختلافات سے ہے۔

مذہبی آزادی کا بہانہ۔ امریکہ نے پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا

عیسائیوں نے مسلمانوں پر اپنی شیطانی تہذیب کو مسلط کرنے کے لیے مختلف طریقے اور قانون بنا رکھے ہیں۔ اس سے قبل اسی قانون کے تحت امریکا، مسلمان ملک سعودی عرب،ایران ا ور سوڈان کوبلیک لسٹ میں شامل کر چکا ہے۔ ہم، اِس سے قبل کئی بار قرآن کی آیات کی طرف حکمرانوں کو متوجہ کرتے آئے ہیں کہ قرآن میں ہے کہ یہودو نصارامسلمانوں کے کبھی بھی دوست نہیں ہو سکتے جب تک مسلمان ان جیسے نہ ہوجائیں۔یعنی ان کی تہذیب اختیا نہ ر کر لیں۔ہم اس وقت طرف پاکستان کی امریکی کے ساتھ نام نہاد دوستی کا ذکر ہیں۔امریکا نے دوستی کی آڑ میں پشاور کے بڈھ بیر کے ہوئی اڈے ے اپنا جاسوس جہاز، روس کی سرزمین تک اُڑیا۔جسے روس نے مار گرایا تھا۔ اسی وجہ سے روس پاکستان کا مخالف ہو ا اور اس کا بدلہ، روس نے مشرقی پاکستان توڑنے میں اپنی ایٹمی گن بوٹس سے بھارت کی مدد کی تھی۔۱۹۶۵ء کی بھارت پاکستان جنگ میں امریکا سے خریدے گئے اسلحہ کے پرزے پاکستان کودینا روک دیے تھے۔ ایف سولہ جہازوں کی پیشکی قیمت ادا کرنے کے باوجود جہاز نہیں دیے۔بلکہ سوابین تیل دیا تھا۔بعد میں افغان جنگ کے وقت کچھ جہاز دیے تھے۔مشرقی پاکستان پر بھارت کے حملے پر بھی کہا تھا کہ چھٹابہری بیڑا پاکستان کی مدد کی لیے چل پڑھا ہے۔چھٹا بہری بیڑا مشرقی پاکستان پر بھارت کے قبضے تک نہیں آیا۔ ہاں اُس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہنری کیسنجر نے اپ نے کتاب میں لکھا ہے کہ مشرقی پاکستان توڑنے میں امریکا بھی ہاتھ تھا۔اب امریکا پاکستان کے خلاف بھارت اوع افغانستان کو استعمال کر رہا ہے جس کیوجہ سے پاکستان میں دہشت گردی عروج پر رہی۔امریکا اور مغرب کو اسلامی اور ایٹمی پاکستان ہرگز گوارا نہیں۔ امریکا کو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان نے سویت یونین کو افغانستان میں شکست دینے میں امریکا کی مدد کی تھی۔اس طرح امریکا کو یک قطبی لیڈر بنانے میں پاکستان کا کردار تھا۔ ویسے تو پاکستان بننے کے وقت بھارت کے ظلم و زیادتی کے خوف سے بچنے کے لیے حکومت پاکستان نے امریکا سے دوستی کرنی مجبور تھی۔اصل میں جو مسلمانوں ملک برطانیہ سے آزادہوئے تھے انہیں امریکا کے حوالے کرنا شرع کیا تھا تاکہ مستقل غلام بنے رہیں۔ اس کے پیچھے وہی حکمت عملی تھی کہ مسلمانوں کی کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ان پر اپنے تہذیب مسلط کر دی جائے۔ مسلمانوں نے اپنی دور میں روما کی سلطنت کو شکست دی تھی یہ اسی کا بدلہ لینا تھا۔جب مسلمانوں کی خلافت عثمانیہ کو پہلی جنگ عظیم کے بعد ختم کیا گیا تھا تو صلیبیوں نے عثمانی سلطنت کو کئی راجوڑوں میں تقسیم کیا تھا ۔اپنے پھٹو مسلمان حکمران عام مسلمانوں پر مسلط کیے تھے ۔ آج تک اسلامی ملکوں نے امریکا سے اپنی جان نہیں چھڑائی، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ شاعر اسلام علامہ اقبالؒ نے اپنے اشعار کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں اور امت مسلمہ کو اس بات سے بار بار خبردار کیا۔ مگر علماء سو نے علامہ اقبال ؒ پر کفر کے فتوے لگائے اور حکمرانوں نے ان کی بات بھی نہیں سنی۔ بلکہ اب تو پاکستان میں تعلیمی نصاب میں سے علامہ اقبالؒ کے کلام تک کو نکالا جا رہاہے۔ علامہ اقبالؒ کی سالانہ چھٹی تک کو ختم کر دیا۔امریکی فنڈڈ پاکستانی الیکٹرنک میڈیا نے علامہ اقبال ؒ کے خلاف پروگرام کیے۔ قاعد اعظم ؒ کو سیکولر ثابت کرنیکی ایک مہم چلائی ہوئی ہے۔ ملک میں کئی ویب سائٹس پرقائد اعظمؒ کے اسلامی وژن اور دو قومی نظریہ کی نفی کی جاتی ہے۔ بات شروع ہوئی تھی کہ امریکا نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کر لیا ہے۔ بلکہ اس سے قبل پاکستان کے خلاف صلیبی ایک اور بھی سازش کر چکے ہیں۔برطانیہ اور امریکا نے یہود کی شہ پر پاکستان میں مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور مسلمانوں میں سے جہاد ختم کرنے کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی کو ایک جعلی نبی بنوا کو پاکستان میں لگایاتھا۔ اس نے برطانیہ کی ملکہ کو ایک خط کے ذریعے لکھا۔میں نے اپنے کتابوں میں نے آپ کی خواہش کے مطابق وسیع کام کیا ہے۔ مسلمانوں میں سے جہاد کے فلسفہ کو ختم کر دیا ہے۔ جہاد مخالف کتابوں سے برصغیر کی لابریئریاں بھر گئیں ہیں۔جب سے مرزا قیادیانی نے نبی ہونے کادعوی ٰ کیا تھا۔ علماء حق نے بھی قوت سے مرزا غلام احمد قادیانی کا کیا تھا۔ اس پر مولانا موددیؒ اور عبدالستار نیازی کو موت کی سزا بھی عدالت نے سنائی تھی۔ علماء نے بڑی کوششیں کر کے ۱۹۷۴ء میں ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے دور میں قادیانوں کو جمہوری طریقے سے پاکستان کی پارلیمنٹ میں بحث مباثے کے بعد اسلام سے خارج کر دیا گیا تھا۔ مراز کاذب نبی نے لکھا کہ جو اس کو نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے۔ یعنی ڈیڑھ عرب مسلمان کافر ہو گئے اور صرف مرزاکو نبی ماننے والے قایادنی مسلمان ہیں۔پاکستان کی پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو پورا موقعہ فراہم کیا تھا ۔ شاید اس نیک اور تاریخی واقعہ جس میں بھٹو نے امت مسلمہ کی جان چھڑائی، اللہ محروم بھٹو صاحب کی غلطیاں معاف فرما کر جنت میں داخل کردے۔ امریکا اُسی ہی روز پاکستان کے آئین سے اس شک کو ختم کرانے کی کوششیں کرتا رہتا ہے۔کبھی آئی ایم ایف ے قرضہ لینے کے موقعہ پر یہ شرط ڈلواتا رہتا ہے۔ دوسری طرف آج تک قادیانیوں نے پاکستان کے آئین کو نہیں مانا، بلکہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ قادیانی عام مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کے شیعہ ،سنی، دیوبندی اور اہل حدیثوں کی طرح ایک فرقہ ہیں ۔جب کہ پاکستان کے آئین نے ان کو مسلمانوں کا ایک فرقہ نہیں بلکہ غیر مسلم قرار دیا۔ جب تک قادیانی اپنے آپ کو اقلیت نہیں مانتے اُس وقت تک پاکستان کے آئین کے باغی ہیں۔ان کو اقلیتوں کے بھی حقوق حاصل نہیں ہونے چاہییں۔ پاکستان میں اقلیتوں کو شہری ہونے کے ناتے پورے حقوق حاصل ہیں جبکہ قادیانی آئین پاکستان کے باغی ہیں۔ کیا دنیا میں کسی کو اس ملک، جس میں وہ رہتا ہے کہ قانون و آئین کا پابند نہیں ہونا چاہیے۔ کیا مسلمان جن مغربی ملکوں رہتے ہیں ان ملکوں کے آئین و قانون کی مخالفت کر کے ان ممالک میں رہ سکتے ہیں؟ پاکستان میں ہندو سکھ پاکستان کے آئین کو مان کر رہی رہ رہے ہیں۔ حکومت نے سکھوں کے متبرک شہر کے لیے اپنی سرحد کھولی دے ہے۔ جس سے پاکستان کی سکھ اقلیت نے خوشی کا جشن منایا۔ اس لیے امریکا کو چاہیے کہ بین لاقوامی قانون کی پابندی کرے اور دھونس دھاندلی کی پالیسی سے رجوع کرے۔اپنے قادیانی ساتھیوں اس بات پر قائل کرے کہ وہ پاکستان کے آئیں قانون تسلیم کروپھر میں تمہاری مدد کرنے کا حق بجانب ہو سکتا ہوں۔حکومت نے امریکی الزام کو مسترد کر کے امریکی سفارت کو دفتر خارجہ طلب کر شدید احتجاج کیا ہے۔ شرین مزاری صاحبہ اپنا رد عمل دیا کہ امریکا یوپری یونین کے طرف دیکھے جس میں عبادت گاہیں پابندی کی زد میں ہیں۔ ہندوؤں کے وفد کے لیڈر جو پاکستان آئے ہوئے ہیں جن کا نام شیو پرتاب بجاج ہے نے بیان دیا ہے کہ پاکستان میں ہمارے مذہبی مکامات جن میں کٹاس راج،سادھو بیلہ،انگلاج ماتا اورکرشنامندر سمیت پاکستان میں مندراور عبادت گاہیں محفوظ ہیں۔ سکھ بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں سکھوں کے گروداوارے محفوظ ہیں۔ امریکا کو کشمیر میں مظالم اور مذہبی بابندیاں نظرنہیں آتیں۔ جہاں مسجدیں بند کر دی جاتی ہیں۔درگاؤں کو جلایا گیا۔ جمعہ کی نماز پر پابندی لگائے جاتے ہیں۔بلیٹ گن چلا کر انسانوں کو اندھا کر دیا جاتا ہے۔ ایک جانور گائے کے نام پر انسانوں کو قتل کیا جاتا ہے۔سکھوں کے گولڈن ٹمپل پر فوج کشی کی گئی تھی۔ دوسری وجہ پاکستان کی امریکا کی ڈور مور حکم نہ ماننا ہے۔ حکومت پاکستان نے اپنے ملک کے مفاد سامنے رکھ کر فیصلے کیے ہیں جس عوام مطمئن ہیں۔ امریکاایک طرف طالبان سے بات چیت کرانے کی درخواست کرتا ہے تو دوسری طرف پاکستان کو اپنی نام نہاد بلیک لسٹ میں شامل کر تا ہے۔ جو سرا سر ایک زیادتی ہے۔

*****

ساتھ چھوڑتے پاکستان سے خائف امریکا کی بوکھلاہٹ !

azam_azim

پاکستان تو پہلے ہی اندرونیِ اور بیرونی طور پر معاشی اور سیاسی صورتحال میں کئی گھمبیر چیلنجوں کے نشیب و فراز سے گزررہاہے ، اِس پر بعض اپوزیشن کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی اور مذہبی رہنمااور اِن کے چیلے چانٹے حکومت پر بیجا تنقیدوں کے تیرچلا کر حکومت کے لئے مشکلا ت پیداکررہے ہیں،اور جمہوری سسٹم کو سپوتاژ کرنے کی راہیں ہموار کرکے بھی دعویدار ہیں کہ یہ جمہوریت کا حُسن ہے۔ جبکہ سر سے اُونچا ہوتا پانی بتارہاہے کہ حزب اختلاف کی جمہوری حُسن کی آڑ میں حکومت پر بیجا تنقیدیں کہیں آمریت کی آمد کے لئے بیوٹی پالراور میک اَپ ناں ثابت ہوجائیں۔ اَب اِس صُورتِ حال میں معاشی اور سیاسی لحاظ سے ہچکولے کھاتی حکومت خود کو سنبھالے بھی کو کیسے؟جب اقتدار سے محروم حزب اختلاف کی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی اور مذہبی رہنماء اپنے سیاہ کرتوتوں اور لوٹ مار پر احتساب کے پھندے کو اپنی گردنوں کی جانب بڑھتا دیکھ کر حکومت مخالف حربے استعمال کرنے پر تلے بیٹھے ہیں، جواپنی اوچھی حرکتوں سے حکومت کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا موقعہ ہی نہیں دے رہے ہیں۔ جس کا مُلک کے اندر اور باہربیٹھے وطن دُشمن عناصر کو فائدہ پہنچ رہاہے۔ جبکہ آج ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اپوزیشن کی جماعتیں اور قومی ادارے رواں حکومت کو سنبھلنے اور کام کرنے کا موقع دیتے اور اپنے سیاسی اور ذاتی اختلافات بالائے طاق رکھتے اور حکومت کو کام کرنے دیتے ۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ کسی نے بھی اپنی اخلاقی اور حیادار ذمہ داری یوں ادانہ کی جس کا اِن سے ملکی آئین اورقانون تقاضہ کرتاہے،۔یہ وہ نکتہ ہے، آج جس پر اپوزیشن کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں اور بعض اداروں میں ابھی تک بیٹھے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سربراہان کو چاہئے کہ وہ حکومت مخالف اپنی روش بدلیں، صرف اور صرف ایک پاکستان اور وطن کی تعمیر و ترقی کے لئے ایک اکائی بن کر اپنا مثبت اور تعمیری کردار کریں۔ جیسا کہ دنیا کے دیگرتہذیب اور ترقی یافتہ ممالک میں اپوزیشن جماعتیں اور اداروں کے سربراہان اپنی ذمہ داریاں مُلک اور قوم کی ترقی کے لئے اداکرتے ہیں۔ اِدھرجب گزشتہ دِنوں ہماری نئی سوروزہ حکومت کے وزراء وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت منعقد ہونے والے اپنی نوعیت کے اہم ترین اجلاس میں اپنے کارناموں کا جائزہ پیش کررہے تھے۔ وزیراعظم عمران خان سے دادیں اور شاباشیاں اپنی جھولیاں پھیلاپھیلا کر وصول کررہے تھے۔ اپنی حکومت کی تین ماہ کی کارکردگی پر بھنگڑے اور دھمال ڈال کر خوشی کے شادیانے بجانے میں مصروف تھے۔ تواُدھراِن لمحات میں پاکستان کی آستین میں سانپ کی طرح چھپا دوست نما دُشمن امریکا اپنا کام کرگیاجس کا کئی دِنوں سے ہمارے مقتدر سیاسی حلقوں میں ڈھکے چھپنے انداز سے خدشہ لاحق تھا۔آخر کار ایک غیر مُلکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا نے مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کا الزام پاکستان کے سرمارتے ہوئے،پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کردیاہے،جس پر امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے اِس حوالے سے پہلے ہی اسلام آباد کو پچھلے سال واچ لسٹ میں رکھاتھا، جبکہ مزید کچھ اِس قسم کی بھی اطلاعات ہیں کہ دہشت گردِ اعظم امریکا اور امریکی کانگریس کے ایک اہم ذمہ دار وزیرخارجہ مائک پومپیو نے کانگریس کی پاکستان متعلق مذہبی ٓزادی پر مرتب رپورٹ پر پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں نہ صرف ڈال دیاہے بلکہ ساتھ ہی اپنے خصوصی تحفظات کا بھی اظہار کردیاہے۔ اور اپنا سینہ چوڑا کرکے اور اپنی گردن تان کر سعودی عرب، چین ، ایران، شمالی کوریا، برما، اریئیریا، سوڈان، تاجکستان اور ترکمانستان کو بھی بلیک لسٹ میں شامل کردیاہے۔ اَب یہ کہنا کچھ غلط نہ ہوگا کہ اپنی اِس قسم کی جلد بازی میں کی گئیں۔ فرسودہ اور ناقص حکمتِ عملیوں کے وجہ سے بہت سے جنگی اور اقتصادی محاذوں پر تنہا ہوتے امریکاکے اِس قسم کے اقدامات سے امریکا اپنے دوستوں کی فہرست سے دوستوں کو نکال کراپنے دوستوں سے زیادہ دُشمنوں کا اضافہ کرے گا، جوکہ آگے چل کر خود امریکا کے لئے بھی شدید مشکلات اور پریشانیوں میں اضافے کا سبب ہوسکتاہے ۔ یقینااِن دِنوں ہم پاکستانیوں میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ بے جاامریکی دباؤکے باعث ساتھ چھوڑتے پاکستان سے خائف امریکا سخت بوکھلا ہٹ کا شکار ہوگیاہے،اِس لئے کہ امریکا سمجھ چکا ہے کہ اَب پاکستان امریکی عتاب اور دباؤوالے مدار سے نکلتا جارہاہے،تب ہی امریکا حسبِ واریت اپنی روش کو برقرار رکھنے کے لئے پاکستان کو اپنے دباؤ میں لانے کی ہر ممکن کوششوں میں لگا پڑا ہے،اِسی لئے پچھلے دِنوں امریکی رنگیلے صدر نے اپنی خودساختہ سوچ وفکر کے نظریئے کے تحت پاکستان کو مذہبی آزادی کی مبینہ خلاف ورزیوں اور اقلیتوں سے نامناسب رویئے پرپاکستان پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اِسے ’’ بلیک لسٹ ممالک کی فہرست میں شامل کردیاہے‘‘امریکی صدر کا پاکستان مخالف یہ اقدام واضح طور پر بتارہاہے کہ آج امریکا اپنا ساتھ چھوڑتا پاکستان سے کس قدر بوکھلاہٹ کاشکار ہوچکاہے۔ جبکہ پاکستان نے اِتنا ہی تو کہاہے کہ اَب پاکستان کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بننے گا، اور نہ ہی کسی کی جنگ اپنی زمین پر آئندہ لڑے گا ‘‘ بس اِتنا کہے پر ہی امریکا آگ بگولہ ہوگیاہے۔آج احسان فراموش امریکا پاکستان مخالف اقدامات اُٹھانے کے لئے ایسے سخت احکامات جاری کررہاہے کہ اَب واضح طور نظر آنے لگا ہے کہ امریکا اور پاکستان کی راہیں بہت جلد جدا ہونے کو ہیں ۔اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکا کا پاکستان کو اقلیتوں پر مذہبی آزادی پر پابندی کے حوالے سے بلیک لسٹ میں شامل کرناکھلم کھلا سیاسی طور پرپاکستان کو اپنے دباؤ میں رکھنے کے مترادف ہے ، آج اگر امریکا پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے سے پہلے اپنے گریبان اور بھارت کے نام نہاد سیکولر نظا م اور اپنے بغل بچے اسرائیل میں بھی جھانک لیتا ؛تو اِسے لگ پتہ جاتا کہ پاکستان میں آباد اقلیتوں کوتو اسلامی تعلیمات اورآئین پاکستان کے مطابق تمام مذہبی آزادی حاصل ہے، مگر خود امریکا، اسرائیل اور بھارت میں مسلمانوں ، عیسائیوں اور دیگر ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ کتنا بُرا سلوک روارکھا جاتاہے۔آج جِسے ایک نابینا بھی دیکھ کر بتاسکتاہے؛ گونگا اور بہرہ بھی سُن کر چیخ چیخ کر دنیاکو سُناسکتاہے، اِن ممالک میں کثریت اپنے یہاں رہنے والی اقلیتوں کے ساتھ مذہبی آزادی کے حوالے سے کتنا ظالمانہ رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ امریکا کو اقلیتوں کی مذہبی آزادی کی پابندی نہ اپنی زمین پر نظر آتی ہے اور نہ ہی اسرائیل اور بھارت میں اقلیتوں پر لگائی گئیں پابندیاں دکھائی دیتی ہیں۔جوکہ دہشت گردِ اعظم امریکا کی کھلی ہٹ دھرمی اور بدمعاشی ہے۔

*****

غیر جانبدار احتساب وقت کی ضرورت

پاکستان کو درپیش چیلنجز میں سب سے بڑا چیلنج معاشی عدم استحکام ہے اگر اس معاشی مسئلے کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کے حکمران اس کی بنیادی وجہ ہیں جن کی وجہ سے آج پوری قوم اس مسئلے میں پھنسی ہوئی ہے پاکستان میں جو بھی حکومت آئی اس نے خزانہ خالی ہونے کا رونا رویا یہ بات ستر سالوں سے عوام سنتے آئے ہیں کہ کہ پاکستان کا وجود خطرے میں ہے سوال یہ ہے کہ پاکستان کا وجود خطرے میں ڈالا کس نے ؟اس سوال کے جواب میں بہت سے لوگ بہت سے جوابات دیتے ہیں مگر جو طبقہ سب سے زیادہ اس کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے وہ ہے ہمارا حکمران طبقہ جن کا یہ کام تھا کہ وہ پاکستان کے لئے کام کرتے اس میں عوامی فلاح ترقی و کامرانی کے لئے قوانین بناتے جن سے یہاں کے عوام کی زندگیاں آسان ہوتی مگر یہ لوگ اپنے اثاثے ہی بناتے رہے اورآج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کوئی بھی حاکم صادق و امین نہیں رہا ہے اکثریت لوٹ مار میں مشغول رہی ۔ستر کی دہائی میں اگر ہمارا ملک دینا کے بہتر ممالک میں شمار ہوتا تھا تو آج کیا وجہ ہے کہ دنیا ہم سے آگے ہے اور ہم وہاں ہی ہیں جہاں سے ستر سال پہلے تھے آج عوام جس تبدیلی کی تمنا کر رہے ہیں وہ تبدیلی آنی چاہیے کیونکہ ہم نے ہمیشہ دو ہی جماعتوں کو اقتدار میں دیکھا ہے اب اگر ایک نئی جماعت جس کا دعویٰ کے وہ پاکستان کو آگے لیکر جا سکتی ہے اس کو موقع بھی دیا گیا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے اس کو کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے پاکستان کی ترقی سب سے زیادہ افضل ہے چاہے اس کیلئے کوئی بھی جماعت ہوہمیں ہمارے ملک کی ترقی عزیز ہے دوسری بات یہ کہ اب کی بار واضح طورپر جو ہمارے حکمران طبقے کا احتساب ہو رہا ہے اس عمل کو جاری رہنا چاہیے دنیا چائنہ کی ترقی کی مثال دیتی ہے مگر یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہاں کرپشن کی سزا موت ہے اور یہ نہیں کہ چھوٹے لوگوں کو کرپشن پر سزا دی جائے اور بڑوں کو چھوڑ دیا جائے جیسا ہمارے ہاں ہوتا ہے بلکہ وہاں احتساب بڑے لوگوں سے شروع ہو تا ہے چائنا دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں پرکئی وزراء اوراعلیٰ حکام کو اس جرم ثابت ہونے پر موت کی نیند سلا دیا گیا اگر یہی فارمولا پاکستان میں لاگو کیاجائے یا کسی بڑے آدمی کی کرپشن پکڑی جائے تو سب سے پہلا خطرہ وفاق کو ہوتا ہے کہ دوسرا خطرہ صوبائی حکومتوں کو اور اگر یہ دونوں خطرات کسی طرح ٹل جائیں تو ہماری نام نہاد جمہوریت خطرے میں آ جاتی ہے چند دن پہلے کسی ترقی یافتہ ملک کے صدر کو کرپشن پر سزا ہوئی نہ تو وہاں پر کوئی مظاہرے ہوئے نہ جمہوریت کو خطرہ ہوا نہ کوئی توڑ پھوڑ ہوئی گزشتہ چند ماہ سے جب سے ہمارے حکمران طبقے کا بے رحم احتساب شروع ہوا ہے سیاسی جماعتوں میں نئی صف بندیاں سامنے آ رہی ہیں ماضی میں ایک دوسرے کہ دشمن اب ایک دوسرے کے دوست بن رہے ہیں کسی بات پر نہ ماننے والے آج اکٹھے ہو رہے ہیں سوشل میڈیا پر ان لوگوں کے اکٹھے ہونے کی تصاویر سب کے سامنے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا یہ لوگ کبھی پاکستان کی خاطر اکھٹے ہوئے؟ کیا یہ لوگ کبھی عوام کی خاطر اکٹھے ہوئے ؟نہیں جناب یہ لوگ صرف ایک چیز پر اکٹھے ہو سکتے ہیں وہ ہے ان کے مفادات الیکشن سے پہلے ایک دوسرے ے دشمن بننے والوں کی دم پر جب احتساب کا پاؤں آیا تو دو دن میں ہی آل پارٹیز کانفرنس بلا لی کیا پاکستان کے کسی بھی بڑے مسئلے ، دہشت گردی ،مہنگائی ، معاشی صورت حال ،عوامی مسائل پر مولانا صاحب ،زرداری صاحب، یا میاں صاحب نے کبھی کوئی ایسی آل پارٹیز کانفرنس بلائی اگر کوئی لولی لنگڑی آل پارٹیز کانفرنس بلائی بھی تو اس کے فیصلے ہی نہ ہو سکے جناب یہ حکمران طبقہ اب جس بے رحم احتساب سے ڈر رہا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی آج وقت کا تقاضا ہے کہ جن جن لوگوں کا نام پانامہ میں آیاہے کہ ان کے خلاف بھر پور کارروائی کی جائے اور جو بھی سابق ،حاضر سروس لوگ اس گھنونے کام میں ملوث ہیں ان کو کسی قیمت پر نہ چھوڑا جائے غضب خدا کا جس ملک میں غریب اپنی غربت سے مر رہا ہے وہاں کہ بے نامی اکاؤنٹ سے اربوں کھربوں کی ٹرانزیکشنز ہو رہی ہیں کسی غریب کے نام پر اکاؤنٹ کھول کر اپنی ناجائز کمائی کو جائز کیا جا رہا ہے اور اوپر سے لیکر نیچے تک تمام محکمے غفلت کی نیند سو رہے ہیں اور اس سارے گھناؤنے کام میں بینک اور ان کا عملہ ضرور شامل ہے جس میں یہ جعلی اکاؤنٹ کھولے گئے ہیں۔ آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ موجود احتسابی عمل اسی غیر جانبداری سے جاری رکھا جائے تاکہ جن جن لوگوں نے اس ملک کو لوٹا ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے تاکہ اس ملک میں چھائے ہوئے اندھیرے پھر سے روشنی بن کر ہماری آنے والی نسلوں کومحفوظ بنا سکیں اس کے لئے احتسابی عمل کا جاری رہنا ضروری ہے ستر سالوں سے موثر احتسابی عمل نہ ہونے کی وجہ سے ہی آج حالات ایسے ہیں کہ ملک اربوں کھربوں کا مقروض ہو چکا ہے ۔

*****

مذہبی آزادی اورامریکہ کادوہرامعیار

adaria

کفارکبھی بھی امت مسلمہ کے حامی، داعی اور دوست نہیں ہوسکتے انہیں جب بھی موقع ملتا ہے تو یہ بچھو کی طرح ڈسنے میں ذرا بھی دیرنہیں لگاتے ،حالانکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو پوری دنیا سراہتی ہے مگر امریکہ نے اپنی آنکھوں پرپٹی باندھ رکھی ہے جہاں پر بھی مسلمانوں کوبے دریغ شہید کیاجارہاہے ان کے ساتھ ظلم وستم ہورہاہے ، جینادوبھرہے وہ اسے قطعی طورپرنظرنہیں آتا ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے اس کرہ ارض پر خاکم بدہن صرف مسلمان ہی دہشت گرد ہیں اور ان کے ہی ممالک میں تمام مذاہب پر حدودوقیود عائد ہیں۔امریکہ کواپنی آنکھ کاشہتیرنظرہی نہیںآتا اور خاص کر مسلمانوں کی آنکھ کابال بھی تلاش کرنے میں لگارہتا ہے ۔آج اگرامت مسلمہ میں اتفاق ہوتا تو ان کفارکی ہمت ہی نہیں تھی کہ وہ کسی بھی مسلمان ملک کو بلیک لسٹ قراردیتے۔ اللہ رب العزت نے مسلم ممالک کوکس نعمت سے نہیں نوازا ،ہر چیز اُن کے پاس ہے سب سے بڑا اللہ کی جانب سے دیاہواتحفہ تیل ہے جو کہ مسلمان ممالک کے پاس وافرمقدار میں موجود ہے مگر محض آپس کی تفرقہ بازی سے اس ہتھیار کواستعمال نہیں کیاجاسکتا۔ آج یہاں پرذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں بلائی ہوئی اسلامی سربراہی کانفرنس کاذکر بہت ضروری ہے جب اس میں یہ فیصلہ کیاگیاتھا کہ تمام مسلم ممالک ملکر اپنا ایک بڑا مالیاتی بنک قائم کریں گے جس میں کفار کے ممالک خصوصی طورپر امریکہ اور یورپ میں پڑا ہوا سرمایہ اس بنک میں رکھاجائے گا تو مسلم ممالک ترقی کرتے ہوئے کہاں سے کہاں تک چلے جائیں گے لیکن ایسا نہ ہوا ،سازشی عناصر کامیاب ہوئے اور ایک ایک کرکے اس اسلامی سربراہی کانفرنس کے اہم سربراہان کو کسی نہ کسی صورت میں موت کے گھاٹ اتاردیاگیا۔آج اسی نااتفاقی کانتیجہ ہے کہ امریکہ نے مذہبی آزادی کی مبینہ خلاف ورزیوں اور اقلیتوں سے نامناسب رویے کابہانہ بناتے ہوئے پاکستان کو بلیک لسٹ ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا،واشنگٹن نے ایک سال قبل خبردار کرتے ہوئے پاکستان کو خصوصی واچ لسٹ میں شامل کیا تھا،امریکا اب پاکستان پر اصلاحات کیلئے دباؤ ڈال سکے گا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ کانگریس کی مرتب کردہ سالانہ رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن کے حوالے سے خصوصی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔امریکا کی جانب سے بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد اب واشنگٹن، مذہبی آزادی کے حوالے سے خلاف ورزیوں پر پاکستان پر اصلاحات کے لیے دباؤ ڈال سکے گا۔ امریکا کی بلیک لسٹ میں شامل دیگر ملکوں میں چین، ایران، سعودی عرب، ایری ٹیریا، میانمار، شمالی کوریا، سوڈان، تاجکستان اور ترکمانستان ہیں،ان ممالک پر الزام ہے کہ یہ باقاعدہ منظم طریقے سے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ازبکستان کو بھی اس فہرست کا حصہ بنایا گیا تھا لیکن حالات کی بہتری اور اصلاحات کے بعد اسے بلیک لسٹ سے نکال دیا گیا ہے تاہم وہ اب بھی واچ لسٹ میں شامل ہے اور اس فہرست میں روس اور کوموروس بھی موجود ہیں۔یہ بات انتہائی قابل ذکرہے کہ جن ممالک کو بلیک لسٹ قراردیاگیا ہے ان میں زیادہ ترتعداد ا ن ممالک کی ہے جن سے امریکہ کی ٹھنی ہوئی ہے ۔دوغلے پن کی انتہاتو یہ ہے کہ ایک جانب امریکی صدرٹرمپ وزیراعظم پاکستان کو خط لکھ کرافغانستان کے حوالے سے مدد طلب کرتا ہے ،سعودی عرب سے اسلحے کے تاریخی معاہدے کرتا ہے مگر اس کے باوجود وہ اِن کے خلاف کمربستہ ہے امریکہ کو فلسطین میں اسرائیلی مظالم اوروہاں پرمذہبی پابندیاں نظرنہیںآتیں آئے روز اسرائیلی فوج بیت المقدس کی بے حرمتی کرتے نظرآتے ہیں فلسطینی خواتین اوربچے غیرمحفوظ ہیں نہتے فلسطینیوں پربمباری کی جاتی ہے سیدھی سیدھی گولیاں چلائی جاتی ہیں،مذہبی رسومات ادا کرنے کی اسرائیل اجازت نہیں دیتا ۔بھارت میں بھی اس سے زیادہ ابتر حالات ہیں بابری مسجد کوشہید کرکے مندربنانے جیسے اقدام کاسلسلہ چل رہاہے حتیٰ کہ مسلمانوں کو نمازتک ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی،عید تہوارکے موقع پر قربانی تک کرنامنع ہے ،اتہاتو یہ ہے کہ بھارت جیسے نام نہاد جمہوریت نواز مکروہ چہرے والے ملک میں گائے کی اہمیت انسانی جان سے زیادہ ہے وہاں پرمسلمانوں کابے دریغ خون بہایاجاتاہے ۔کسی قسم کی بھی مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے کیا اس جانب امریکہ کو توجہ نہیں دیناچاہیے تھی،مقبوضہ کشمیر کے حالات بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہیں ،میانمار میں تو دیکھاجائے تووہاں پر الاماں الاماں ہی کہاجاسکتاہے ۔اس بے دردی سے میانمارمیں مسلمانوں پرعرصہ حیات تنگ کردیاگیا ہے کہ اس کی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی مگر یہ کفار قوتیں اس حوالے سے قطعی طورپر خاموش ہیں یہاں صرف امریکہ کو اپنامفادحاصل ہے جو اس کادشمن ہے اس کو اس نے ٹارگٹ بنارکھا ہے۔ امریکہ کے اندربھی مسلمانوں کوٹارگٹ کیاجاتاہے کبھی نمازیوں پرگاڑی چڑھادی جاتی ہے ،کبھی حجاب کامسئلہ کھڑاہوتاہے، مسلمان خواتین کے چہرے سے حجاب نوچ دیاجاتاہے اور انہیں بلاجوازدہشت گرد گرداناجاتا ہے جبکہ دراصل امریکہ کے اس اقدا م سے دہشت گردی ہی کو فروغ ملے گا اور یہ دنیا کی سپرپاور خودہی دنیا میں امن قائم نہیں رہنے دیتی۔امریکہ کی جانب سے مذہبی پابندیوں کے حوالے سے مندرجہ بالاممالک کو بلیک لسٹ کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، بھارت کو لازمی اس امریکی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔ مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر امریکہ کی طرف سے پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کا اقدام غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے منفی سگنل ہے ۔ امریکہ نے مذہبی آزادیوں کے حوالے سے قبل ازیں ایران اور شمالی کوریا کو بلیک لسٹ کیا تھا اور ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد عراق سمیت سات ممالک کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے کو بھی محدود کر دیا تھا لیکن پاکستان کے خلاف اس قسم کا اقدام پہلی مرتبہ ہوا ہے جس کا بظاہر کو ئی جواز نظر نہیں آتا۔بلیک لسٹ کرنے سے پاکستان کے خلاف اس طرح کی کوئی اقتصادی پابندیاں نہیں لگیں گی جس طرح ایران کے خلاف امریکہ نے عائد کر رکھی ہیں۔

حکومت کاغیرملکی سرمایہ کاروں کوسہولتیں فراہم کرنے کاعزم
وزیراعظم عمران خان نے تیل و گیس کے شعبہ میں اطالوی ملٹی نیشنل کمپنی ای این آئی کے سینٹرل ایشیاریجن کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ لوکا وگناتی سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت آئل اینڈ گیس سمیت ملک کے تمام شعبوں میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کررہی ہے،کاروباری طبقے کو ہر سہولت مہیا کرنے اورکاروبار آسان بنانے کیلئے توجہ مرکوز ہے۔ کمپنی کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری میں توسیع کی خواہش حوصلہ افزا ہے، پاکستان میں تیل و گیس کے شعبہ میں وسیع تر سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، ملک میں ہائیڈروکاربن کے وسیع ذخائر اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات سے بین الاقوامی کمپنیاں فوائد حاصل کرسکتی ہیں،کمپنی کے ایگزیکٹو نائب صدر سینٹرل ایشین ریجن لوکاوگناتی نے وزیراعظم عمران خان کو اپنی کمپنی کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے آگاہ کیا، انہوں نے بتایا کمپنی گزشتہ اٹھارہ سال سے پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہے،کمپنی کی جانب سے پاکستان میں مختلف منصوبے شروع کئے گئے جبکہ کمپنی کی جانب سے صحت، تعلیم، ماحولیات اور سماجی و معاشی ترقی میں بھی کردار ادا کیا جا رہا ہے،ای این آئی دیگر شعبوں سمیت ایل این جی میں بھی سرمایہ کاری کی خواہش مند ہے۔

Google Analytics Alternative