کالم

اسلامی کتب کامطالعہ

صحاح ستہ حدیث کی چھ کتابوں کو کہتے ہیں۔ جس میں صحیح بخاری،صحیح مسلم،سنن ابن ماجہ،سنن ابو دؤد، جامع ترمذی اورسننن نسائی شامل ہیں۔ میں ایک عام سا مسلمان ہوں مجھے دین سیکھنے کا شوق ہے۔ الحمداللہ میں نے ان چھ حدیث کی کتابوں میں سے پانچ کا مطالعہ مکمل کر لیا ہے۔ اب میں نے صحاح ستہ کی آخری کتاب ، سنن نسائی کی تین جلدیں میں سے پہلی جلد کا مطالعہ شروع کر دیا ہے۔ حسب معمول جب بھی کسی حدیث کی کتاب کا مطالعہ مکمل کرتا ہوں تو اس کتاب کے تعارف اور حاصل مطالعہ پر مضمون لکھ کر اخبارات میں اشاعت کیلئے ای میل کرتا رہا ہوں۔ پاکستان کی اخبارات اور رسائل نے ان مضامین کو شائع کیا ہے۔اس سے میرا مقصد یہ ہے کہ عام لوگوں میں قرآن کے ساتھ ساتھ حدیث کے مطالعہ کا شوق پید اہو۔ اخبارات میں اس سے قبل بخاری، مسلم، سنن ابن ماجہ اور سنن ابودؤد کے چار مضامین شائع ہو چکے ہیں۔آج میں صحاح ستہ کی پانچویں کتاب پر مضمون لکھ کر اخبارات کی نظر کر رہا ہوں۔ان مضامین سے میرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو ترغیب دلا نے کی کوشش کروں کہ جب الحمد اللہ، ہر مسلمان کے گھر میں قرآن شریف موجود ہیں تو قرآن کے ساتھ ساتھ حدیث کی کتابیں بھی ہونی چاہئیں۔اچھا تو یہ ہے کہ جن حضرات کے گھروں میں ذاتی لائبریریاں ہیں ان میں صحاح ستہ بھی موجود ہوں۔ عام مسلمانوں کے گھروں میں صحاح ستہ ہونا اگر ممکن نہیں تو صحاح ستہ سے علماء حضرات نے ایک ایک جلد میں حدیثیں جمع کی گئیں وہ تو کم از کم موجود ہونی چاہئیں۔بہت عرصہ پہلے میں نے اسی طرح کی ایک کتاب جس کانام’’ارشادات رسولؐ اکرام‘‘ ہے،ہدیہ کرائی تھی۔اس کتاب کے موٗلف مولانا حامد الرحمان صدیقی صاحب ہیں۔ یہ کتاب مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی نے ۱۹۸۲ء میں شائع کی ہے۔ اللہ کرے یہ کتاب اب بھی مارکیٹ میں موجود ہو۔ میں اس سے قبل چھوٹی چھوٹی حدیث کی کتابوں جیسے، زادہ راہ، انتخاب حدیث اور راہ عمل وغیرہ کا مطالعہ کر چکا تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جب لوگ قرآن شریف کا مطالعہ کریں تو ساتھ حدیث کا بھی مطالعہ کریں۔ قرآن اللہ کا کلام ہے جو وحی کے ذریعے ہمارے پیارے پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہوا۔ حدیث قرآن کی تشریح ہے جو رسول اللہؐ نے اپنے قول،فعل اور عمل سے کی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن اور حدیث رسولؐاللہ لازم و ملظوم ہیں۔ قرآن کو حدیث اور حدیث کو قرآن سے سمجھا جا تا ہے۔ کیونکہ حدیث قرآن کی تشریح ہے۔اب ہم صحاح ستہ کی پانچویں کتاب جامع ترمذی پر بات کرتے ہیں۔امام ترمذیؒ کا اسم گرامی ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی ہے۔آپ ۲۰۹ھ میں مقام ترمذ میں پیدا ہوئے اور ۲۷۹ھ میں فوت ہوئے۔ علم کا بہت شوق تھا۔ جب ذرا ہوش سنبھالا تو تحصیل علم کیلئے کوفہ، بصرہ، واسط،رے، خراساں کے سفر کیے اور حجاز میں کافی وقت گزرا۔ مراتب صحاح ستہ میں جامع ترمذی کا پانچواں نمبر ہے۔اس کتا ب کی درجنوں اہل علم نے شروح لکھیں ہیں۔برصغیر میں صحاح ستہ کااردو ترجمہ سب سے پہلے علامہ نواب وحید الزمان ؒ نے کیاہے۔ جامع ترمذی کا ترجمہ ان کے بھائی علامہ بدیح الزامان ؒ نے کیا ہے۔ میرے مطالعہ میں جو کتاب ہے اس کو ضیاء احسان پبلشرز نے ۱۹۸۸ء میں دو جلدوں میں شائع کیا۔ پہلی جلد میں ابواب الطہارت سے ابواب الشہادت۳۳ ؍ ابواب ہیں۔ اس میں طہارت، نماز، وتر،،جمعہ، زکواۃ،صوم وغیرہ سے لے کر شہادت تک حدیثیں جمع کی ہیں۔ دوسری جلد ابواب الزّہد سے ابواب المناقب ۱۳؍ ابواب پر مشتمل ہے۔ اس جلد میں زہد سے لے کرمناقب صحابہ ؓ کے معلق حدیثیں بیان کی ہیں۔ ہر حدیث تحریر کرنے کے بعد اس کوروایت کرنے والے پہلے شخص سے آخری تک سارے حضرات کا نام درج کیا ہے۔ یہ بھی لکھا کہ کس کا حافظہ کمزور تھا ، کس کا قوی تھااور کس قبیلہ سے اس کا تعلق تھا۔ تحقیق کر کے یہ بھی بتایا کہ یہ حدیث صحیح ہے، حسن ہے،یا غریب ہے۔ مطلب یہ رسولؐ اللہ کے ہر قول،فعل اور عمل کو حدیثوں میں بیان کیا گیا ہے۔ مسلمان دنیا کی واحد قوم ہے جس نے علم لنساب ایجاد کیا ہے۔حدیث بیان کرنے والے نے رسول ﷺ کی بات خود سنی اور بیان کی۔ صحابہؓ نے حضورﷺ سے کوئی بات سنی۔پھر کسی دوسرے صحابہؓ سے بیان کی۔ کچھ صحابہؓ ہر وقت رسولؐ اللہ کے پاس رہتے تھے۔سب سے زیادہ حدیثیں ابو ہریرہؓ نے بیان کیں ۔ اس لیے کہ وہ ہر وقت رسولؐ کے پاس رہتے تھے۔ کچھ اپنے دنیاوی کاموں میں لگے ہوتے تھے۔حاضر نے رسولؐاللہ کی بات سن کر جو غیر حاضر ہوتا تھا اس سے بیان کی۔صحابہؓ سے حدیثوں تابعین تک پہنچی پھر تبہ تابعین تک پہنچیں۔ پھرکسی نے اپنے والد سے حدیث سنی اور آگے کسی کو بیان کی۔ اس طرح بیچ میں کئی واسطے پیدا ہو گئے۔ صحاح ستہ کو ترتیب دینے والے حضرات نے حدیثیں بیان کرنے والوں کے متعلق مکمل چھان بین کر حدیثیں تحریر کیں۔ حدیث بیان کرنے والے کے متعلق معلوم کیا کہ وہ کام کرتا ہے۔ صادق امین ہیں یا جھوٹ بولنے والا ہے۔ لین دین میں صحیح ہے یا غلط۔ کاروبار اللہ اور رسول ؐ کے احکامات کے مطابق کرتا ہے۔ کہاں کا رہنے والا ،کس قوم سے تعلق ہے وغیرہ۔ اس طرح حدیث بیان کرنے لاکھوں لوگوں کے حالات قلم بند کر دیے گئے جسے علم لنساب کہتے ہیں۔ معلومات کرنے کے بعدجو سچا تھا اس سے حدیث لی اور جو جھوٹا تھا اس سے حدیث نہیں لی۔ اگر لی بھی تو ساتھ لکھ دیا کہ ہم اس سے حدیث لے تو رہے ہیں مگر یہ شخص جھوٹا ہے۔ ایک شخص سے حدیث سننے کے بعد چار مزید لوگوں سے تصدیق کرنے کے بعد حدیث تحریر کی۔امام بخاریؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کے پاس حدیث لینے گیا تو وہ اپنی بکری کو اپنی جھولی میں ہاتھ مار مار کر پب پب کر کے اپنی طرف بلا رہا تھاجبکہ اس کی جھولی میں بکری کا چارہ موجود نہیں تھا۔ امام بخاریؒ نے اس سے حدیث نہیں لی اور کہا جو شخص جانور سے جھوٹ بول رہا ہے اس سے حدیث نہیں لوں گا۔ صاحبو! مسلمان دنیا کی خوش قسمت قوم ہے کہ اس کے پاس اللہ کاکلام اُسی صورت میں موجود ہے جس صورت میں ہمارے پیغمبر حضرت محمدﷺ پر نازل ہوا تھا اور اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمدﷺ کے قول، فعل اور عمل کو بھی صحابہؓ نے سنبھال کر رکھا اور آگے بیان کیا۔ قربان جائیں پھر علماء اسلام پر کہ جنہوں نے اسے کتابوں کے اندر محفوظ کیا۔ جو امت مسلمہ کے اب بھی صحاح ستہ کی شکل میں موجود ہیں۔ جب تک مسلمان اللہ اور رسولؐ کی ان تعلیمات پر عمل کرتے رہے تو دنیا میں اُس وقت کے معلوم چار براعظموں میں سے پونے چار بر اعظموں پر اسلام کا جھنڈا لہرا دیا تھا۔ مسلمانوں نے ایک ہزار سال تک دنیا پر کامیابی سے حکومت کی۔ پھر مسلم حکمران دولت کی ہوس ،عیاشیوں میں مبتلا ہو کر موت سے خوف کھانے لگے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ فرمایا رسولؐ اللہ نے کہ ایک و قت ایسا آئے گا کہ میری امت پر غیر قومیں اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے بھوکے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ صحابہؓ نے عرض کیا امت تعدادمیں کم ہو جائے گی ۔ فرمایا نے نہیں، بلکہ امت کو وہن کی بیماری لگ جائے گی۔ پوچھا کیا وہن کی بیماری کیا ہے،۔ فرمایا دولت سے محبت اور موت کا خوف۔کیا مسلم قوم کی آج کل ایسی ہی حالت نہیں ہو گئی ہے؟ یہ اس وجہ سے ہوئی کہ مسلم قوم نے قرآن اورحدیث پر عمل کرنا چھوڑدیا ہے۔ اس پر مسلم ارباب اقتدار کو غور و فکر کرنا چاہیے۔ اور انہی تعلیمات پر خود اور مسلم قوم کو عمل کرانا چاہیے۔ جیسے شروع میں مسلمانوں نے عمل کر کے دنیا پر ایک ہزار سال حکومت کی تھی۔ اسی میں مسلم قوم کی سرفرازی پنہاں ہے۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان کا بھارت کودوٹوک جواب

adaria

بھارت کو ابھی تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ پاکستان قطعی طورپر دہشت گردی کے خلاف ہے اور اس نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں دیں تو وہ کیونکر کسی ملک میں جاکر دہشت گردی کرے گا ،پھر بھارت کا تو یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی اس کے ملک میں کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے بغیر سوچے سمجھے اور بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام عائد کردیتا ہے، نہ یہ دیکھتا ہے کہ یہ وقت کیسا ہے یا خطے کے حالات کیا تقاضا کررہے ہیں بس الزام تراشی کرنا اس کی ایک عادت ہے ، ایل او سی پر آئے دن بلا اشتعال فائرنگ کی جاتی ہے، مقبوضہ کشمیر میں اندھیر نگری مچا رکھی ہے، نہتے معصوم کشمیریوں کیلئے عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے۔ گزشتہ دنوں سعودی ولی عہد کا پاکستان کا دوروزہ دورہ تھا جس میں سعودی عرب نے پاکستان میں تاریخی سرمایہ کاری کی اور شہزادہ محمد بن سلمان نے کہاکہ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے، عمران خان کی قیادت میں پاکستان ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ20ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ابتدائی ہے اس کے بعد اور مزید سرمایہ کاری کی جائے گی۔ نیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھا جائے۔ ولی عہد کے اعزاز میں دئیے گئے اعشائیے میں وزیراعظم نے شہزادے سے درخواست کی کہ سعودی عرب میں مقید پاکستانیوں کی رہائی کے احکامات صادر کیے جائیں ۔ نیز حجاج کرام کی پاکستان میں ہی امیگریشن کی جائے اس پر سعودی ولی عہد نے فوری احکامات جاری کرتے ہوئے 2107 قیدیوں کی رہائی کے احکامات صادر کیے ۔ نیزامیگریشن کیلئے بھی کام شروع ہوگیا ہے۔ عمران خان نے یہ بات کرکے پاکستانیوں کے دل جیت لئے جبکہ سعودی ولی عہد نے ثابت کردیا کہ وہ پاکستان کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان کیلئے کچھ کیا وہ میرا فرض تھا اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے بھی اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان میں بہت زیادہ مقبول ہوچکے ہیں اگر انتخابات لڑیں تو مجھ سے زیادہ ووٹ لیں گے۔ نیز سوشل میڈیا پر بھی آج کل آپ کے ہی چرچے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اس وقت بلندیوں کو چھو رہے ہیں چونکہ پاکستان کے معاشی حالات دگرگوں تھے۔ سعودی عرب کی سرمایہ کاری کے بعد پاکستان اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو جائے گا۔ اسٹیٹ بینک نے بھی کہا ہے کہ اب ہم معاشی بحران سے نکل آئے ہیں ۔دوسری جانب سعودی عرب نے سی پیک میں بھی شمولیت کا اظہار کیا ہے۔ عمران خان نے کہاکہ کرپشن کے حوالے سے میری اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سوچ ایک ہی ہے۔ ایسے حالات میں بھارت نے تمام چیزوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان پر الزام تراشیوں کی اندھا دھند بارش کردی مگر وزیراعظم پاکستان نے انتہائی تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں فی الوقت کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ سعودی ولی عہد کا تاریخی دورہ بہت اہمیت کا حامل تھا جیسے ہی یہ دورہ ختم ہوا وزیراعظم نے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرتے ہوئے بھارت کو دوٹوک الفاظ میں بتایا کہ اگر بھارت سمجھتا ہے کہ پاکستان پر حملہ کرے گا تو پاکستان سوچے گا نہیں جواب دے گا۔ جنگ شروع کرنا انسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن ختم کرنا انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ یہ بات بالکل درست ہے جو کہ وزیراعظم نے کہی کیونکہ بھارت صرف گیڈر بھبکیاں دیتا ہے اور جب بھی اس کے انتخابات آتے ہیں تو وہ پاکستان کا کارڈ کھیلنا شروع کردیتا ہے ۔ ابھی تک بھارت میں جتنے بھی سانحات ہوئے ہیں ان سب کے تانے بانے بھارت سے ہی ملتے ہیں چونکہ مودی بنیادی طورپر خود دہشت گرد ہے اس وجہ سے ان انتخابات سے قبل مقبوضہ کشمیر میں خود خون کی ہولی کھیلی تاکہ وہ اس کارڈ کو کھیل کر انتخابات میں ووٹ حاصل کرسکے۔ اب اس کے سامنے حقیقت آتی جارہی ہے ۔ بھارت کے اندر سے ہی یہ آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں کہ مودی کے کسی بھی اقدام اور بیان پر اعتبار نہ کیا جائے اس کے سابق جنرل نے واضح کیا کہ اتنی بھارتی مقدار میں بارود پلوامہ لانا ناممکن ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بھارت نے خود ہی ڈرامہ رچایا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے بھارتی حکومت کو پیش کش کی ہے کہ پلوامہ حملے میں کسی بھی قسم کی تحقیقات کرانا چاہتے ہیں تو پاکستان تیار ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ چند دن پہلے مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ میں واقعہ ہوا، میں نے اس پر فوری طور پر ردعمل دینا تھا کیونکہ اس کا الزام پاکستان پر لگایا گیا لیکن ہمارے ملک میں سعودی ولی عہد کا بہت اہم دورہ تھا اور سرمایہ کاری کانفرنس تھی، لہٰذا میں نے اس وقت جواب اس لیے نہیں دیا کیونکہ اس سے ساری توجہ دوسری طرف ہوجاتی۔ وزیر اعظم نے بھارتی حکومت پر واضح کیا کہ یہ نیا پاکستان، نئی ذہنیت اور نئی سوچ ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نہ کوئی پاکستان سے جاکر باہر دہشت گردی کرے اور نہ باہر سے کوئی آکر پاکستان میں دہشت گردی ہو کیونکہ یہ ہمارے مفاد میں ہے، ہم استحکام چاہتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی حکومت کو پیش کش کی کہ پلوامہ حملے میں کسی بھی قسم کی تحقیقات کروانا چاہتے ہیں تو پاکستان تیار ہے، اگر آپ کے پاس پاکستان کے ملوث ہونے سے متعلق کوئی قابل عمل معلومات ہیں تو ہمیں فراہم کریں، میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم کارروائی کریں گے۔ عمران خان نے کہا کہ ہم کارروائی اس لیے نہیں کریں گے کہ ہم پر کوئی دباؤ ہے بلکہ یہ پاکستان سے دشمنی ہے کہ کوئی دہشت گردی کے لیے اس کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، یہ ہمارے مفاد کے خلاف ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں آپ کو واضح طور پر کہہ رہا ہوں کہ یہ نیا پاکستان ہے، ہم نہیں چاہتے کہ کوئی پاکستان سے جا کر دہشت گردی کرے اور کوئی پاکستان آکر دہشت گردی کرے، ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں دہشت گردی ختم ہو۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے ہمارا 100ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے، بھارت ہمیں ایکشن ایبل انٹیلی جنس معلومات دے ہم ایکشن لیں گے۔

روز نیوز کے پروگرام’’سچی بات ‘‘ میں راجہ ظفر الحق کی مدبرانہ گفتگو
میں دودفعہ وفاقی وزیرمذہبی اموراوروزیراطلاعات بھی رہا،سعودی ولی عہد نے میری باتیں بڑی توجہ سے سنیں،میاں نوازشریف نے کہا تھااگرمیری ضمانت ہوتی توولی عہد سے خود ملتا،ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن کے رہنما راجہ ظفر الحق نے روزنیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد نے کہا سیاست میں ایک دوسرے سے اختلافات ہوتے ،مگرمیاں برادران قابل احترام ہیں،سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان کیلئے بہت اچھا ہے، پانچ ملکوں کا دورہ کافی پہلے سے طے تھا، پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین سردار الیاس تنویر نے روزنیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بزنس مین کو اعتماد دیا جائے،پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ کے دروازے 24گھنٹے کھلے ہوئے ہیں،بزنس کیلئے کسی کو بھی کوئی مسئلہ ہے تو ہم ہروقت کیلئے حاضر ہیں،،روزنیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے جنرل (ر)ضیا الدین بٹ نے کہا کہ سعودی ولی عہد کا دورہ بہت ہی کامیاب رہا،سعودی حکومت پاکستانی فوج کو بڑی اہمیت دیتے ہیں،چیف آف آرمی سٹاف اورعمران خان کی یہ بڑی ایچومنٹ ہے،چیئرمین آ ف انویسٹمنٹ بورڈ ہارون شریف نے پروگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ، سعودی عرب نے ویزہ پالیسی کو بھی آسان کردیا ہے،ابھی بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے،جب بھی کوئی میگا پروجیکٹ لگتا ہے تو لوکل کمپنیوں کوفائدہ ہوتا ہے،پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا ملک کیلئے فائدہ مند ہے،دعا کریں ہم ملک کے لئے بہتر کرسکیں۔

پلوامہ واقعہ کے بعد مودی کی دھمکیاں

پلوامہ خود کش حملہ کے بعدجہاں بھارتی حکومت کو کشمیریوں کے ساتھ روا رکھنے جانے والے رویے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے وہیں وادی میں موجود اپنی آٹھ لاکھ فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے۔ مگر بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی یہ اہم نکتے نظرانداز کر کے صرف پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور دھمکیاں دیتے چلے آرہے ہیں۔ مودی کا دھمکی آمیز لہجے میں کہنا ہے کہہندوستان کی تقسیم کے بعد وجود میں آنے والا ملکدہشت گردوں کی پناہ گاہ اور دہشت گردی کا دوسرا نام بن چکا ہے۔ یہ ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہے اور اس کے منصوبوں کو ہم کسی طور کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔سیکیورٹی فورسزکی یہ قربانی رائیگاں نہیں جائے گی اور اس کے قصوروار چاہے جتنا بھی چھپ جائیں، ان کو اس گناہ کی سزا ضرور ملے گی۔بھارتی سرکار نے ہندوستانی فوج کو اجازت دے دی ہے پلوامہ کے قصورواروں کو کیسے، کہاں، کب، کونسی اور کس طرح کی سزا دی جائے گی؟اس کا تعین ہمارے جوان کریں گے۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ پلوامہ کے حملے کے ساتھ بات چیت کا وقت ختم ہو گیا اور اب دہشت گردی کے خلاف ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ کارروائی سے ہچکچانہ بھی دہشت گردی کو فروغ دینے کے برابر ہے۔جہاں تک پاکستان کے دہشت گرد ملک ہونے کی بات ہے تویہ ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان خود کئی عشروں سے دہشت گرد ی کا شکار ملک ہے۔ وطن عزیز میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے ڈانڈے براہ راست بھارت، را اور افغانستان میں موجود بھارتی قونصل خانوں سے ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت براہ راست کراچی اور بلوچستان میں مداخلت کا مرتکب بھی پایا گیا ہے۔شاید کلبھوشن یادیو بھارتی حاضر سروس جاسوس کے اقبالی بیا ن بھارتی وزیر اعظم مودی نے پڑھے نہیں۔ اسی کلبھوشن کے خلاف مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں آج کل چل رہا ہے جس میں بھارت کلبھوشن کی بیگناہی ثابت کرنے میں کلی طورپر ناکام رہا۔ دوسرا طعنہ پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا دیا گیا تو اس ضمن میں عرض ہے کہ پاکستانی معیشت اڑان بھر رہی ہے۔ سی پیک اور حالیہ سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان اور 20 ارب ڈالر کے منصوبے انشاء اللہ پاکستان کو کہا ں سے کہاں پہنچادیں گے۔ دوسری طرف بھارت میں کونسامعاشی استحکام ہے۔ بے روزگاربھارتی جوان حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ مودی حکومت کے آنے کے بعد مہنگائی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بھارت میں انتہا پسندی حد سے بڑھ گئی ہے۔ اقلیتوں کے ساتھ ساتھ نچلی ذات کے ہندو بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔بھارتی وزیر اعظم کی دھمکیوں اور جھوٹی الزام تراشیوں پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو فوری اقدام کیلئے خط لکھ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے بھارت تحقیقات کے بغیر پلوامہ حملے کا الزام پاکستان پر لگا رہا ہے۔ حملہ آور کشمیری تھا لیکن الزام پاکستان پر دھر دیا۔ بھارت داخلی مقاصد کے تحت پاکستان دشمن بیانات خطے کا ماحول کشیدہ بنارہا ہے۔بھارت نے جہاں پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کی اور دھمکیاں دیں وہیں اپنے ملک میں پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف اقدامات سے اپنے گھٹیا پن کا ثبوت بھی دیا۔پلوامہ کے بعد مودی سرکار نے پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر کومشاورت کیلئے واپس بلا لیا تھا اور بھارتی ہائی کمشنر بھارت چلے گئے تھے۔ دوسری طرف پاکستان نے بھی بھارت میں تعینات اپنے ہائی کمشنر سہیل محمود کو واپس بلا لیا ہے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت میں تعینات اپنے ہائی کمشنر سہیل محمود کو مشاورت کیلئے طلب کیا ہے اور وہ نئی دلی چھوڑ چکے ہیں ۔ بھارتیوں کی طرف سے ان ہی بے سرو پا بیانات میں آل انڈیا سنیما ورکرز کے اعلان کا اضافہ ہوگیا ہے۔بھارتی سینما انڈسٹری سے وابستہ فنکاروں اور دیگر تمام عملے پر مشتمل آل انڈیا سِنے ورکرز ایسوسی ایشن نے پلوامہ حملے کے بعد پاکستانی فنکاروں اور اداکاروں پر مکمل طور پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ پلوامہ واقعہ کے بعد انتہا پسند ہندوؤں نے پورے بھارت میں مسلمانوں پر حملے کرکے ان کی املاک اور جان کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ جموں میں باقاعدہ طور پر گھروں اور گاڑیوں کو نذرآتش کیا گیا جبکہ بھارت کے شہروں میں گھروں اور راہ جاتے مسلمانوں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ جموں میں شہری بھنڈر مکہ مسجد میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ یہاں قریباً دو ہزار افراد موجود ہیں اور مزید پناہ کے لئے آ رہے ہیں۔ ہندوؤں نے اس مسجد کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے اور ان کو پولیس کی معاونت حاصل ہے۔بھارت میں تو پہلے بھی کسی نہ کسی عذر کی بنا پر اقلیتوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔ مسلمان اور عیسائی ان کا نشانہ بنتے ہیں اور دلت بھی روندے جاتے ہیں۔ ہندو شدت پسند تعصب کی انتہا پر ہیں اور اپنا قصد پورا کرنے کو پھرتے ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اقوام عالم بھی بیدار نہیں ہو پا رہیں۔ ایسے میں بعض بھارتی دانشوروں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایسے مظالم سے بھارت میں ایک اور پاکستان کے بیج بوئے جا رہے ہیں کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے بھی ایسے تعصب ہی کے باعث علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا اور پاکستان حاصل کیا تھا۔

*****

پلوامہ دھماکہ۔مودی اجیت کا تیار کردہ الیکشن سلوگن

مجھ پر بھروسہ رکھو میں ہی وہ ‘منش’ہوں، جس کی جنونی’متشدد اورہیجانی قیادت میں مسلم ملک بنگلہ دیش سے مسلم ملک افغانستان کے پرے وسطی ایشیائی ریاستوں کی سرحدوں تک اور لداخ سے اْوپرچینی سرحد کے ساتھ ساتھ بھوٹان’ مالدیپ اورسری لنکا تک پورے جنوبی ایشیا پر نئی دہلی کا ترنگا لہراتا ہوا میں دیکھ رہا ہوں، میں مودی آپ کا پردھان منتری ہوں، آپ کا دھیان اپنی جانب کرارہا ہوں سنومیری ہی ہندو تواکی بھاچپائی قیادت میں مسلم ملک ایران کی بندرگاہ چا ہ بہارتک ہمارا دیش بھارت پہنچ چکا ہے’ چندماہ بعد دیش میں آنے والے چناؤ میں بھارتی عوام کسی اورسیاسی جماعت کو ووٹ نہ دیں، صرف مجھ پر ہی بھروسہ رکھیں،ہندوتوا کے پرچارکو ذرا تصورکرو جب ہم ہندو ایشیا کے وسیع خطہ پر نئی دہلی سے بیٹھ کر حکومت کریں گے تو اس خطہ کے تمام مالیاتی اورغیر مالیاتی شعبہ ہائے زندگی کے اداروں کے علاوہ زرکی تمام منڈیاں ہمارے اپنے تسلط میں ہونگیں’ یہ ہیں بے لگام خواہشات کے خواب جو اقتدار اور ہر قیمت پر اقتدار کے حصول میں گم مدفن شخصیات نے ہر عہد میں دیکھے اور غرقاب ہوئے، بھارتی وزیر اعظم مسٹرمودی اور اْن کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوال کی ٹیم آج کل ایسے خواب دیکھنے میں مگن اپنی عقلوں سمیت اپنی آنکھوں پر پٹیاں باندھے ہوئے اجتماعی خودکشیاں کرنے آمادہ نظرآتی ہے، خوابوں اور سرابوں کے ان اسیروں سے کوئی ذرا پوچھے کہ وہ حقیقتوں کی دنیا میں واپس کب پلٹیں گے؟ کبھی نہ کبھی تو اْن کی آنکھیں کھلیں گی نا ہمیشہ تو وہ سوتے نہیں رہیں گے’مودی ڈوال گٹھ جوڑ’ کی خواہشات نے کسی اور کو تو کیا کہیں بھارتی عوام کے ایک بڑے حصہ کو کسی حد تک نفسیاتی پاگل پن کا مریض ضرور بنادیا ہے 14 فروری کے بعد جب ‘پلوامہ دھماکہ‘ سامنے آیا تو پتہ چلا کہ بھارتی اقتدار کی لابیوں میں پاگل پن کی کیسی جنونی گفتگوؤیں ہوتی ہونگی کیا وہاں یہی باتیں ہوتی ہیں اور یہی منصوبے بنتے ہیں مانتے ہیں چند ماہ بھارت میں اگلے پانچ برس کیلئے نئے چناؤ ہونے والے ہیں یہ بھی مانتے ہیں بھارت کے ہر عام انتخابات میں الیکشن جیتنے کیلئے پاکستان مخالفت کا نعرہ گونجتا ہے اب بھی وہ ایسا کرسکتے تھے، مگر ماضی کے مقابلے میں اب جدید معلوماتی ٹیکنالوجی نے عوامی شعور کو بہت حد تک بیدار کردیا ہے مطلب یہ کہ پرانے لولی پاپ اب بھارتی عوام اتنی اسانی سے قبول نہیں کریں گے، لہٰذا مودی کے اجیت ڈوال جیسے مکار صفت صلاح کار نے’پلوامہ دھماکہ’کی صلاح اپنے ‘باس’ وزیراعظم مودی کو دی، پلوامہ دھماکے کی ذرا ٹائمنگ ملاحظہ فرمائیں چند روز پیشترپیرس میں ‘ایف اے ٹی ایف’ کا بڑا اہم اجلاس ہوا غالباً14 فروری سے ایک روز قبل پیرس میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس جاری تھا اس موقع پر پہلے سے سوچے سمجھے مذموم مقاصد کو سامنے رکھ کر ‘پلوامہ بم بلاسٹ’ کرانے کے پیچھے یہی اہم سازش تھی کہ’ایف اے ٹی ایف’کی توجہ اس جانب مبذول کرائی جائے تاکہ مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کو صرِیحاً ‘دہشت گردی’سے جوڑا جاسکے ہی نہیں بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر بھارت کے حمایتی حلقے ‘ایف اے ٹی ایف’ سے منسلک دنیا کے دیگر اہم ممالک پر اپنا پریشر بڑھاسکیں کہ ‘مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی اصل میں ایک دہشت گردی ہے؟‘ اْس دہشت گردی کو پاکستان کی ریاست انسپانسرڈ کررہی ہے؟’ایف اے ٹی ایف’جیسے اہم ادارے کی اہمیت وافادیت جاننے والے آگاہ ہیں کہ اس فورم کے ذریعے سے ‘پاکستان کو دہشت گردی کا انسپانسرڈ کرنے والا ملک’قرار دلوانا جتنا آسان بھارت سمجھ رہا تھا وہ اْس کی انتہائی احمقانہ سوچ تھی عالمی دنیا کا ایک اہم حصہ جس میں بقدرجسہ خود بھارت کاآقا ملک سپرپاو امریکا شامل ہے وہ پاکستان جیسے ملک جس ملک نے دہشت گردی کے خلاف عملاً دس پندرہ برس باقاعدہ جنگ لڑی ہے پاکستان اور افغانستان کی سرحدی علاقوں میں امن قائم کیا ہے، امریکا کو افغانستان سے نکلنے میں اْس کی درخواست پر مدد کی ہے، امریکا طالبان مذاکرات کا ماحول بنایا ہے اْسے ‘ایف اے ٹی ایف’ کے فورم ممالک کیسے اور کیونکر بھارتی ناجائز خواہش پر کوئی ایسی رپورٹ دیں جو نئی دہلی چاہے؟ہاں یہاں ہم بات صرف اجیت ڈوال کی کریں گے ’ ایک بار مودی اگر وزیراعظم بن جائیں تو اجیت ڈوال کے علاوہ اُن کی قومی سلامتی کا مشیر اور کون بن سکتا ہے یہ بات اجیت ڈوال بھی خود جانتا ہے وہ تو چاہتا ہے مودی 15۔10 برس مزید دیش کا وزیراعظم رہے میں اْن کا مشیر رہوں گا زندگی کے جو مزے آج ہیں آسانی سے کیسے جانیں دیں، ایک مرکزی وزیر کا عہدہ اور کیا چاہیئے ،ایسی ہی خواہشات کا لامتناہی سلسلہ ضرورتوں کا نقاب اْوڑھے ڈوال کے تعاقب میں ہے خود مسٹرمودی بھی کسی سے کیا کم ہیں دوسروں کو وہ کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں ،بھارت میں ایک خاموش مگر نہایت خطرناک فکر پروان چڑھنے لگی ہے کیونکہ بھارتی سیاست کے میدان میں ‘ہندوتوا’ کی جنونیت کو جس طرح سے پروان چڑھایا جارہا ہے، اڑی حملہ کیس میں بھی بھارتی فوج کا بھارتی آئی بی اور را نے بے حد جانی نقصان پہنچایا بعد کی تحقیقات نے ثابت کردیا کہ اڑی حملہ کیس ‘را’ کا ہی کیا دھرا تھا ،اب حالیہ ‘پلوامہ حملہ ‘دیکھ لیں جس میں 44 ۔42 کے لگ بھگ بھارتی فوج کے جوان مارے گئے بھارتی فوجی حلقوں میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی ہے سبب اب سامنے آیا ہے کہ بھارتی فوج میں خود کشیوں کی تعداد میں کمی بجائے اضافہ کی وجوہ کیا ہوسکتی ہے ایک بات یہاں یہ واضح کردینی ہوگی کہ ایک نہیں بلکہ دوریٹائرڈ بھارتی آرمی چیفس یہ چتونی دے چکے ہیں کہ ‘کشمیر کے مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے نئی دہلی سرکار کو فی الفور کشمیر کا سیاسی حل ہرصورت نکالنا پڑے گا دوسرا یہ نکتہ اْڑی حملہ کیس اور حالیہ پلوامہ حملہ کیس کے بعد بھارتی فوجی حلقوں میں اْن کی نجی محفلوں میں زیر بحث ہے بھارتی ملٹری انٹیلی جنس بھی چوکنا ہوگئی ہے کہ کنٹرول لائن پر تعینات بھارتی فوجیوں کی اتنی لاشیں نہیں آتیں جتنی یک بیک ایک حملہ میں کبھی اڑی میں اور کبھی پلوامہ میں بھارتی فوجیوں کو اپنے ہی ساتھیوں کی لاشیں اْٹھانی پڑ رہی ہیں اس کا سبب آخر کیا ہے؟بھارتی خفیہ ایجنسی’رایا آئی بی’ کیسے اپنی مشکوک گاڑی کو پلوامہ فوجی کانوائے میں شامل کرنے میں کامیاب ہوگئی اور بھارتی ملٹری انٹیلی جنس دیکھتی کی دیکھتی ہی رہ گئی؟ مگر! جس کے نتیجے میں دیش کے نئے الیکشن کیلئے نیا اور نہایت ہی جذباتی سلوگن بھارت میں زیر بحث ہے کہ ’’بدلہ ‘بدلہ اور مودی ہی چاہیئے‘‘ ۔

سانحہ پلوامہ تا سمجھوتہ ٹریجڈی ۔۔۔!!

asgher ali shad

پلوامہ سانحے کے حوالے سے دہلی سرکار نے پاکستان کے خلاف بے سر و پا الزامات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور یہ اس کی دیرینہ روش ہے وگرنہ حقائق بڑی حد تک سامنے آ چکے ہیں اور دہلی کے الزامات کی حقیقت بڑی حد تک سامنے آ چکی ہے کہ اس میں خود بھارت پوری طرح ملوث ہے۔ دوسری جانب 12 سال پہلے 18 اور 19 فروری 2007کی درمیانی شب بھارتی صوبے ہریانہ سے گزررہی سمجھوتہ ایکسپریس میں ہوئی دہشت گردی میں 80سے زائد پاکستانی زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 150سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔ بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 68 ہے ۔ یاد ہے کہ یہ ریل گاڑی دہلی سے لاہور آرہی تھی اور مسافروں کی بھاری تعداد پاکستانی تھی۔ اس سانحے کے وقوع پذیر کے بعد بھارتی میڈیا نے اپنی روایت کے مطابق ، اس کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی مگر فطرت کا قانون ہے کہ سچ کو ہر حال میں ظاہر ہونا ہوتا ہے اس لیے بعد میں خود ہندوستانی تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ اس جرم میں انڈین فوج کا حاضر سروس کرنل اور RSS براہ راست ملوث تھی ۔ اس پر خود بھارت کے کئی تجزیہ نگاروں نے افسوس ظاہر کیا تھا کہ اگر RSS اور بھارتی حکمرانوں کے یہی لچھن چلتے رہے تو کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ مستقبل قریب میں بھارت کے لئے ایسی مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں جن کا حل کسی کے پاس بھی نہیں ہو گا۔ دانشوروں نے کہا ہے کہ بھارت (خصوصاً بی جے پی اور مودی) کی حرکتوں کو دیکھ کر اس بات میں کوئی شک نہیں رہتا کہ بھارت رقبے اور آبادی کے معاملے میں تو بلا شبہ ایک بڑا ملک ہے مگر اس کی ذہنیت اتنی چھوٹی ہے جس کا تصور بھی کوئی دوسرا خطہ نہیں کر سکتا اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اپنے اسی منفی چلن کی وجہ سے ہی بھارت کئی صدیوں تک دوسروں کا غلام رہا ہے مگر لگتا یہی ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا اور اگر ان کی مستقبل میں بھی یہی روش رہی تو اس بات کے امکانات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آنے والے سالوں میں بھارت دوبارہ تاریخ کے صفحات میں کھو جائے گا اور اس کا حشر ’’ داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں‘‘ جیسا ہو گا۔ یاد رہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس کے مجرمان کرنل پروہت، میجر اپادھیا، سوامی اسیم آنند،لوکیش شرما،سند یپ ڈانگے،کمل چوہان کے خلاف یہ مقدمے ابھی بھی جاری ہیں۔اس کے ایک ملزم سنیل جوشی کو گرفتاری کے بعد پراسرار حالات میں قتل کر دیا گیا ۔ مبصرین کے مطابق سنیل جوشی کو اس لیے قتل کر دیا گیا تا کہ سانحے میں ملوث دیگر افراد کے نام نہ بتا سکے۔ لیکن 10فروری 2014کے ہندی اخبار بھاسکر میں نیوز رپورٹ شائع ہوئی ۔جس میں ’’کارواں‘‘ میگزین میں سوامی آنند کے اس انٹرویو کی تفصیل شامل تھی جس میں اس نے خاتون صحافی ’’لینا گیتا رگھوُناتھ‘‘کو فخریہ بتایا کہ اس جرم میں RSS کے موجودہ سربراہ ’’موہن بھاگوت‘‘ اور RSS کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن اندریش کمار بھی شامل تھے ۔سوامی نے بتایا کہ RSS مسلمانوں اور ان کے مذہبی مقامات کونشانہ بنا کر انھیں خوفزدہ اور ہراساں رکھنا چاہتی ہے ۔مبصرین کے مطابق غیر جانبدار حلقے مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ بھارت میں زعفرانی دہشت گردی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے ،ایسے میں دہلی سرکارکیلئے یہ افسوس کی بات ہونی چاہئے کہ 12 سال کا وقت گزرنے کے باوجود ابھی تک مجرموں کو سزا دینے کی بجائے سادھوی پرگیہ ٹھاکر، کرنل پروہت اور اسیما نند جیسے مرکزی مجرموں کو ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے۔ ایسے میں اگر بھارت انسانی حقوق کے احترام کی بات کرے تو کیا کہا جا سکتا ہے ۔

*****

امریکی افواج کا انخلاء اور بھارتی تشویش

Naghma habib

ی فوج کے انخلاء کے اعلان کے بعد بھارت کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ بظاہر اس فیصلے کا بھارت سے کوئی تعلق نظر نہیں آرہا لیکن تعلق ہے اور یوں ہے کہ بھارت نے افغانستان میں جو بازو پھیلائے تھے اسے امریکی موجودگی سے بہت سہارا تھا۔ بھارت اور افغانستان کی نہ تو جغرافیائی سرحد ملتی ہے، نہ مذہبی اور نہ نظریاتی لیکن یہ ضرور ہے کہ وہاں تقسیم برِّصغیرسے لے کر اب تک ایک نہ ایک گروہ ایسا موجود رہتا ہے جو اس کے ساتھ گٹھ جوڑ کئے رکھتا ہے اور جب کبھی یہ گروہ یااس کا کوئی رکن حکومت میں آجائے تو اس کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں اور وہ علاقے کاچودھر ی بننے کا اپنا خواب پوراکرنے میں لگ جاتا ہے اور اپنی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کے خلاف اُسے پاؤں رکھنے کو زمین مل جاتی ہے ۔ اب کی بار بھی ایسا ہی ہوا جب 2001 میں طالبان کی حکومت ختم ہوئی اور پھر بھارت ساختہ حامد کرزئی وزیر اعظم بنا توگویا بھارت کی لاٹری نکل آئی اور اس نے افغانستان میں مختلف منصوبے شروع کردیے اور جہاں اپنے ہزاروں بے روزگاروں کو روزگار فراہم کیا وہاں افغانستان کی داخلی و خارجی معاملات میں مکمل طور پر دخیل ہوگیا اس کا اثر و سوخ ہر جگہ نظر آنے لگا۔ اس نے اپنے انجنیئرز ،ڈاکٹرز اور مختلف پیشہ وروں کو افغانستان میں مختلف منصوبوں پر لگایا۔ اس نے تعلیم کے اہم ترین شعبے کو بھی اپنے شکنجے میں لے لیا، طلباء کو وظائف کے ذریعے بھارت بھی بھیجاگیااور افغانستان کے اندر بھی اس نے اس شعبے پر کام کیااور یوں وہاں کی نوجوان نسل کو اپنے قابو میں کیااور سکولز سے لیکر یونیورسٹیاں تک بنائیں اور ظاہر ہے کہ یہ ادارے افغانوں کی محبت میں نہیں بنائے گئے بلکہ اس سے اصل مقصد حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس میں اس نے افغان نوجوانوں کی ذہنیت تبدیل کرنے بلکہ بھارت نواز بنانے پربھر پور کام کیا اور یہ سب کرنے کیلئے اُسے بھارتی تعلیم یافتہ حامد کرزئی جیسا مُہرہ فوراً میّسر آبھی گیا اس طرح افغانستان میں اُس کے پاؤں جمتے گئے اور پھر ایک ایسی فضا بنادی گئی جیسے بھارت ہی افغانستان کا سب سے بڑا خیرخواہ ہو۔ افغانستان نہ بھارت کاپڑوسی ہے نہ ہم مذہب، ہاں یہاں صرف ایک طبقہ اس کا ہمنوا وہم خیال ہے جو جب بھی حکومت میں ہو افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کو منصوبہ بندی کے تحت بگاڑ دیا جاتا ہے اور یہی بھارت کی افغانستان میں موجودگی کا مقصد و منشاء ہو تا ہے لیکن وہ افغانیوں کو یہ بتاتا ہے کہ وہ ان کا دوست ہے اگر ایساہوتا تو آج جب کہ امریکہ نے افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تو بھارت کو اس ملک کی مکمل آزادی کی خوشی ہوتی مگر ایسا نہیں ہے کیونکہ اس کو نظر آنے لگا ہے کہ اس کا افغانستان میں قیام اب مشکل ہوگا کیونکہ افغانیوں کی بھاری اکثریت بھارت کی نیت کو جانتے ہوئے اس کے خلاف ہے اور بھارت جانتا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے جانے کے بعدطالبان کے حکومت میں آنے کے قوی امکانات ہیں اور اس کے دفاعی ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ بھارت کے لئے یہ انتہائی حوصلہ شکن صورت حال ہوگی جبکہ دوسری طرف پاکستان کو اسکا فائدہ ہوگا کیونکہ ایک تو وہ امریکہ کے اس اقدام کا حامی ہے اوراس میں اس کی مدد کرے گااور دوسری طرف اس کے افغان طالبان کی حکومت سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ انہیں یہ بھی خطرہ ہے کہ طالبان کے آنے سے نہ صرف خطے میں دیگر تبدیلیاںآئیں گی بلکہ کشمیر کی تحریک آزادی کو بھی اس سے تقویت ملے گی جس سے بھارت میں الگ ایک بے چینی پائی جا رہی ہے۔ اسکی بے چینی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے پاکستان میں جس دہشت گردی کا بازار گرم کئے رکھا ہے اس کے لئے بھی اُسے پاؤں رکھنے کو جگہ نہیں ملے گی اور نہ ہی اسکے کارندوں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر آسکیں گی لہٰذا بھارت کی پریشانی بجا ہے۔ بھارت کے تھنک ٹینک اپنی حکومت کو یہ تسلی بھی دے رہے ہیں کہ افغانستان میں کچھ بھی مستقل نہیں بلکہ یہاں ہر تبدیلی نئے مواقع فراہم کرتی ہے اور امریکی فوجوں کا انخلاء صرف ایک قسط کا اختتام ہے اور یہ کہ بھارت کچھ ہی عرصے میں دوبارہ افغانستان میں سرمایہ کاری کر سکے گا اور اس کے سیاسی ، سفارتی، معاشی اور سکیورٹی کے معاملات میں دوبارہ شامل ہو جائے گا لیکن سچ یہ ہے اس شمولیت کیلئے وہ ضرور کسی نہ کسی سازش کا حصہ بنے گا تاکہ ایک بار پھر اُسے اپنی تجارت کیلئے ایک کھلا میدان مل سکے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا بھارت بغیر کسی حفاظتی حصار کے افغانستان میں کام کر سکے گا اس نے نظریہ ضرورت کے تحت افغان طالبان کے بارے میں بھی اپنے رویے میں تبدیلی ظاہر کرنے کی کوشش بھی کی اگر چہ یہ تبدیلی یقیناًحقیقی نہیں تاہم بھارت یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہاہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عام افغانی بھارت کے رویے کو بھول جائے گا کہ بھارت اُس کے ملک کا مالک کیونکر بنا رہا کیوں ان کے معاملات میں مداخلت کرتا رہا، ان کی سرزمین کو دہشت گردی کیلئے کیوں استعمال کیا جاتارہا۔ بھارت اپنے مقاصد کیلئے اس کے وسائل و ذرائع کو اپنے کام میں لاتا رہااور دنیا کو یہ تاثر دیتا رہا کہ وہ افغانستان کی تعمیر میں اس کی مدد کر رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ خود کوافغانستان میں ایک مقبول دوست ملک ظاہر کرتا رہا اور پاکستان کے خلاف نہ صرف دنیا میں پروپیگنڈا کرتا رہا بلکہ افغانستان میں بھی اس کے خلاف زہر پھیلاتا رہا اور یو ں دو برادر پڑوسی مسلمان ملکوں کے درمیان تعلقات خراب کیے جاتے رہے تاہم اب جبکہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلارہا ہے تو بھارت کو اپنی حیثیت کا احساس ہو رہا ہے اور اُسے نوشتہء دیوارنظر آرہا ہے کہ اب افغانستان میں نہ صرف یہ کہ اس کی اہمیت نہیں رہے گی بلکہ اپنی حفاظت کی ذمہ داری بھی خود لینا پڑے گی جس کا بندوبست اس کیلئے انتہائی مشکل ہو گا اور یہی فکر ہے جو بھارت کے حکمرانوں اور عوام میں پائی جا رہی ہے ، سوشل میڈیا پر تو اس کا اظہار کھلے عام کیا جا رہا ہے اور ایک بحث چھڑی ہوئی ہے جس میں عام آدمی سے لے کر ریٹائرڈ جرنیل تک شامل ہیں بہر حال بھارت کو اب تیل اور تیل کی دھار دونوں پر توجہ دینا ہو گی۔

سعودی ولی عہدکادورہ پاکستان۔۔۔بے مثل استقبال، تاریخی معاہدے

adaria

سعودی شہزادہ محمدبن سلمان کی آمد اوران کے پاکستان کے دورے کودنیابھرکے میڈیا نے انتہائی اہم کوریج دی۔ چونکہ پاکستان خطے میں ابھرتی ہوئی نئی معیشت ہے اور سعودی عرب کی جانب سے اربوں روپے کی سرمایہ کاری اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ خطے میں معاشی اعتبار سے پاکستان کامستقبل انتہائی روشن ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب تعلقات ہمیشہ بہترین رہے ہیں اورسعودی عرب پرجب بھی کوئی مشکل وقت آیا ہمیشہ پاکستان اُس کے ساتھ کھڑا ہوا۔اسی طرح سعودی عرب نے بھی ہرآڑے وقت میں پاکستان کاساتھ دیا۔ خصوصی طورپر ایٹمی دھماکوں کے بعد جب پاکستان کو مسائل درپیش ہوئے تو سعودی عرب ہی تھا جس نے پاکستان کی ہرممکن مددکی۔اب جبکہ پاکستان کومعاشی بحران درپیش تھا ایسے میں بھی سعودی ولی عہد کادورہ اور تاریخی سرمایہ کاری پاکستان کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا۔گوادر میں سعودی عرب دنیاکی سب سے بڑی آئل ریفائنری لگانے جارہاہے ۔اہم بات یہ ہے کہ جوبیس ارب ڈالر کے ابھی معاہدے ہوئے ہیں سعودی عرب اس میں مزید سرمایہ کاری کرے گا۔ان معاہدوں سے جہاں پاکستان میں روزگارکے مواقع پیدا ہوں گے وہاں پر درپیش مسائل بھی حل ہونا شروع ہوجائیں گے جس میں خصوصی طورپر توانائی بحران کوحل ہونے میں مددملے گی۔دنیابھرمیں پاکستان کاامیج مثبت انداز میں ابھرے گا۔سی پیک کے حوالے سے چین کی سرمایہ کاری اور پھر سعودی عرب کی سرمایہ کاری پاکستان کے لئے ایک نیایوٹرن ثابت ہوگا ۔اب دیکھنایہ ہے کہ پاکستان اس سے کہاں تک فائدہ اٹھاتاہے ۔ پاکستان آمد پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیراعظم عمران خان سے ون آن ون ملاقات کی۔ ملاقات میں پاک سعودی تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزاد ہ محمد بن سلمان نے کہا کہ پاکستان زبردست قیادت کے باعث روشن مستقبل رکھتا ہے۔ 20ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے پہلا مرحلہ ہے۔پاکستان سے مزید سرمایہ کاری کریں گے۔ تقریب سے وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کیلئے آج ایک عظیم دن ہے۔ سعودی ولی عہد اور ان کے وفد کا پاکستان میں خیرمقدم کرتے ہیں۔ سعودی عرب ہمیشہ سے پاکستان کا دوست اور بھائی رہا ہے، سعودی قیادت اور عوام ہمارے دلوں میں رہتے ہیں ۔ سعودی عرب پاکستانی حجاج کو پاکستان میں امیگریشن کی سہولت دے۔ سعودی عرب میں 25لاکھ پاکستانی مقیم ہیں۔ وزیراعظم نے سعودی عرب میں معمولی جرائم میں قید تین ہزار پاکستانیوں کی رہائی کی درخواست کی جس پر خوش آئندبات یہ ہے کہ اس پر عملدرآمدبھی ہوگیاہے اور2107پاکستانی قیدی جلدانشاء اللہ پاکستان پہنچ جائیں گے۔سعودی ولی عہد نے قیدیوں کی رہائی کیلئے جویقین دہائی کرائی وہ پوری ہوگئی ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد بھی موجود تھے۔ دونوں ممالک نے بجلی کی پیداوار کے شعبے اور معدنی وسائل کے شعبے میں ایم او یوز پر دستخط کئے جبکہ ریفائنری پیٹرو کیمیکل پلانٹ کے قیام اور متبادل مصنوعات کی ترقی کیلئے 20 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹینڈرڈائزیشن کے شعبہ میں تعاون کے معاہدے پر سعودی عرب کے وزیر تجارت ڈاکٹر ماجد القاسمی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دستخط کئے۔ کھیلوں کے شعبہ میں تعاون کے معاہدے پر سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر اور وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ، امور نوجوان و کھیل ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے دستخط کئے، سعودی اشیاکی درآمد سے متعلق مالیاتی معاہدہ پر وزیر خزانہ اسد عمر اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے سعودی فنڈ برائے ترقی کی جانب سے دستخط کئے۔ دونوں ممالک کے درمیان معدنی وسائل کی ترقی میں تعاون کی مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط کئے گئے۔ سعودی وزیر توانائی خالد الفالح اور وفاقی وزیر برائے پٹرولیم غلام سرور خان نے معاہدے پر دستخط کئے۔ دونوں ممالک کے درمیان قابل تجدید توانائی کے شعبہ میں تعاون اور سرمایہ کاری کا معاہدہ طے پایا جس پر سعودی وزیر توانائی خالد الفالح اور وزیر توانائی عمر ایوب خان نے دستخط کئے۔ ان معاہدوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ اس سے قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کابینہ ارکان کے ہمراہ معزز مہمان کا نور خان ایئربیس پر استقبال کیا۔ اس موقع پر جے ایف 17 تھنڈر اور ایف 16 طیاروں نے سعودی ولی عہد کو سلامی پیش کی۔ 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ معزز مہمان کو وزیراعظم ہاؤس میں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ وزیراعظم نے معزز مہمان کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔

کلبھوشن کیس۔۔۔آئی سی جے سے انصاف کی توقع
کلبھوشن کیس کی سماعت آج عالمی عدالت انصاف میں ہونے جارہی ہے ۔برطانوی ادارے نے کلبھوشن کے پاسپورٹ کو اصلی قراردیدیاہے ۔ پاکستان نے اس حوالے سے تمام تر ثبوت عالمی عدالت انصاف میں جمع کرادیئے ہیں چونکہ بھارت کاہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ اس نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشیاں کیں حالیہ پلوامہ واقعہ کے بعد اس نے جیسے ہرزہ سرائی کا بازارکاہی گرم کردیا مودی کی اونٹ پٹانگ حرکتوں کو اب اس کی عوام بھی جان چکی ہے ۔بھارت کے سیکیورٹی ادارے ،سابقہ دفاعی قیادت اور عوام یہ سمجھ چکے ہیں کہ مودی یہ تمام ترڈرامہ انتخابات کے لئے رچارہاہے ۔حیف ہے بھارت پر کہ اس کے میڈیا نے ایک خبرچلوائی جس میں اس نے کہاکہ عبدالرشید نے پلوامہ حملے کے حوالے سے لوگوں کو بھرتی کیا اور تربیت کی جبکہ عبدالرشید ایک جھڑپ میں مارے جاچکے ہیں۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ عادل نامی نوجوان جس کے حوالے سے پلوامہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے وہ بھی بھارتی سیکیورٹی فورسز کی حراست میں تھا۔ زبردستی اس سے ذمہ داری کابیان دلوایاگیا۔یہ بھارتی اقدامات کوئی نئے نہیں اڑی حملہ ہو،سمجھوتہ ایکسپریس حملہ ہو ان سب کے ڈانڈے بھارت ہی سے جاکرملتے ہیں۔ چونکہ مودی گجرات کاقصاب ہے اس کے منہ کو خون لگ چکا ہے اسی وجہ سے پلوامہ میں بھی خود ہی حملہ کراکے اورالزام پاکستان پر تھوک رہاہے۔ مزید برآں اس نے حریت قیادت کی سیکیورٹی بھی واپس لے لی ہے ۔پی ایس ایل کے میچ بھی بھارت نے اپنے ملک میں دکھانابند کردیئے ہیں ۔ان اقدامات سے اس کامکروہ چہرہ عیاں ہوچکا ہے۔ دفترخارجہ نے پلوامہ حملے کے حوالے سے بھارتی الزامات مسترد کردیئے ہیں۔ بھارت کو اپنی انٹیلی جنس کی ناکامی پر توجہ دینی چاہیے، پاکستان بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات کی بحالی چاہتا ہے۔ نیز سیکرٹری خارجہ نے بھی دیگرممالک کے سفراء کو بھارت کی مذموم کارروائیوں کے حوالے سے بریفنگ دی ۔

بھارت کی جنگی تیاریاں کس کے خلاف؟

بھارت کے زیر قبضہ مقبوضہ کشمیر کا بیشتر علاقہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے پر پھیلا ہوا ہے۔ جموں و کشمیر کی سرحدیں جنوب میں ہماچل پردیش، مغرب میں پاکستان اور شمال اور مشرق میں چین سے ملتی ہیں۔ یہ علاقہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازعہ حصہ ہے۔ ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت ہے تاہم ہندو، بدھ اور سکھ بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باعث تقسیم ہند کے قانون کی رو سے یہ پاکستان کا حصہ اور شہہ رگ ہے جب کہ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ علاقہ عالمی سطح پر متنازعہ قرار دیا گیا ہے۔

کشمیر کو اپنے زیر نگین رکھنے کیلئے بھارت ہر غیر قانونی طریقہ استعمال کر رہا ہے جس میں نہتے کشمیریوں پر ظلم وستم، عملاً مارشل لاء اور دوسرے پرتشدد طریقے شامل ہیں۔ ریاستی دہشت گردی کے ذریعے بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی کا گلا گھوٹنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نہتے عوام بھارتی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔کشمیریوں پرٖ ظلم و تشدد کے نت نئے طریقے استعمال کیے جارہے ہیں۔ روایتی اسلحہ کے ساتھ ساتھ پیلٹ گنز ، مرچی بم اور دیگر دھماکہ خیز اسلحہ کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اسی پر بس نہیں ، بھارت دوسرے ممالک سے مہلک اسلحہ ، کیمیائی بم اور ڈرون منگوائے جارہے ہیں۔
بھارت اسرائیل سے 110 جدید ہاروپ ڈرونز خرید رہا ہے۔ یہ ڈرونز کسی بھی ہدف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ڈرونز کی خریداری کیلئے معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں۔ مزید دو اقسام کے ڈرونز کی خریداری کیلئے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے امریکہ سے ہنگامی بنیادوں پر 72 ہزار خود کار رائفلز اور 93 ہزار کاربین رائفلز خریدنے کی منظوری دے دی۔ بھارت امریکہ کی اسلحہ ساز کمپنی سیگ سیوگر نامی کمپنی سے فاسٹ ٹریک پروکیورمنٹ (ایف ٹی پی) کے تحت 70 ارب روپے مالیت کی رائفلز خریدے گا۔ محکمہ ڈیفنس کے مطابق مذکورہ رائفلز مقبوضہ کشمیر میں مختلف حساس محاذ میں فرنٹ لائن فوجیوں کو فراہم کی جائیں گی۔ 72 ہزار 200 ایس آئی جی 716 جدید رائفلز میں سے 66 ہزار 400 بری، 2 ہزار بحری اور 4 فضائیہ کو فراہم کی جائیں گی۔ امریکہ سے خریدی جانے والی ایس آئی جی 716 رائفلز پانچ سو میڑ کی دوری پر موجود اپنے ہدف کو ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور تین کلوگرام سے کم وزن کی حامل ہے۔ معاہدے کی رو سے تمام رائفلز 12 مہینے کے اندر فراہم کی جائیں گی۔ گزشتہ برس اکتوبر میں اسرائیل کی اسلحہ ساز کمپنی ایئرو اسپیس انڈسٹری (آئی اے آئی) کا کہنا تھا کہ وہ بھارتی بحری جنگی جہازوں میں 1 کھرب 38 کروڑ روپے مالیت کا زمین سے فضا میں مار والے میزائل ڈیفنس سسٹم (ایل آر ایس اے ایم) نصب کرے گا۔ بھارت کی سرکاری کپمنی بھارت الیکڑونک لمیٹڈ (بی ای ایل) کے ساتھ معاہدہ طے پا چکا ہے اور اس معاہدے میں بی ای ایل مرکزی فریق ہے۔ اس سے قبل فرانس کے سابق صدر فرینکوئس ہولاندے کے انکشافات کے بعد بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے نریندر مودی پر طیاروں کے معاہدے میں سرکاری کمپنی کے بجائے نجی کمپنی کو ترجیح دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
بھارت کی طرف سے یہ کہنا خلاف حقیقت ہے کہ بحیرہ چین میں چین کے عزائم نے کئی ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسی بیان بازی چین کا جارحانہ چہرہ دنیا کو دکھا کربھارت ہمدردیاں اورمزید دفاعی قوت حاصل کرنا ہے۔ امریکہ بھارت کو چین کے مقابل لانے کیلئے اس کو تھپکی اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی بھی دے رہا ہے۔ بھارت کے ایک سابق آرمی چیف جنرل دیپک کپور نے جنگی جنون اور دفاعی ٹیکنالوجی اور روایتی و غیرروایتی ہتھیارات کے انباروں کے زعم میں دم پر کھڑے ہو کر چین اور پاکستان کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی فوج بیجنگ اور اسلام آباد کو 96گھنٹے میں زیر کر سکتی ہے۔ موجودہ آرمی چیف جنرل پین رادت بھی پاکستان اور چین کا مقابلہ کرنے کی بڑھک مار چکے ہیں حالانکہ چین اور پاکستان کے مشترکہ تو کیا انفرادی طور پر بھی کسی ملک کے خلاف کبھی جارحانہ عزائم نہیں رہے البتہ جارحیت مسلط کرنے میں دونوں ممالک نے اپنے اپنے طور پرسخت جواب ضرور دیا ہے۔بھارت امریکہ و عالمی طاقتوں کی ہمدردیاں اور امداد حاصل کرنے کیلئے چین کو ہّوا بنا کر پیش کرتا ہے۔ اس کا دراصل ٹارگٹ چین سے زیادہ پاکستان ہے۔

Google Analytics Alternative