کالم

ابھی گراں بسانہیں

تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان انتخابات میں بھاری کامیابی کے بعد رواں ہفتے ملک کے 21ویں وزیراعظم کا حلف اٹھانے جا رہے ہیں۔گزشتہ ہفتے انہیں پارٹی نے ایک بڑے پارلیمانی اجلاس میں وزیراعظم کے لیے نامزد کیا تھا۔عمران خان کو اس منصب تک پہنچنے کے لیے ایک طویل جدوجہد سے گزرنا پڑا۔خصوصاً مسلم لیگ نون کے پانچ سالہ عرصہ اقتدار میں انہوں نے ایک حقیقی اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کر کے عوام میں خود کو متبادل لیڈر کے طور پر منوایا جبکہ قبل ازیں گزشتہ کئی عشروں سے مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان میچ پڑتا اور ان کی قیادتیں باری باری اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہوتی رہتی تھیں۔حالیہ الیکشن کے دوران ان دونوں جماعتوں کو تحریک انصاف کے ہاتھوں ناک آوٹ ہونا پڑا۔پنجاب جو نون لیگ کا قلعہ تصور کیا جاتا ہے یہاں سے بھی تحریک انصاف نے اسے کافی ڈینٹ ڈالا ہے اور تخت لاہور شریف فیملی کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ خود کو ناقابل شکست تصور کرنے والی نون لیگ کو اپنا وجود برقرار رکھنے لیے اپنی حریف جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا ہاتھ تھامنا پڑا ہے۔اگرچہ ان دونوں کا جماعتوں کا عوام کو بیوقوف بناتے ہوئے سیاسی مفاد کی خاطر ایک بار پھر مل بیٹھنا نئی بات نہیں لیکن ایک عام آدمی سوچتا ہے کہ آخر کب تک ان دونوں جماعتوں کی قیادتیں ایک دوسرے کا تھوکا چاٹتے رہیں گی۔عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی کامیابی بہت سووں پربھاری پڑی ہوئی ہے۔اس وقت کی اپوزیشن کی صفوں میں تو صف ماتم بچھی ہی ہے ان کے like- minded دانشور بھی ’بے کلی‘ سے دوچار ہیں اور دور کی کوڑیاں لانے میں جت گئے ہیں۔مثلاً تواتر کے ساتھ یہ کہا جانے لگا ہے کہ عمران خان کا آرمی کے ساتھ فوری ٹکراؤ تو شاید ممکن نہیں تاہم ایک سال کے اندر ٹکراؤ ہو جائے گا۔اسے کہتے ہیں گاؤں بسا نہیں اور اُچکے پہلے نکل پڑے۔ابھی عمران خان کی حکومت بنی نہیں اور بد نیتی پر مبنی بھاشن،قیاس آرائیوں اور بدگمانیوں کا سودا بیچنے والوں نے اپنا جمعہ بازار سجا دیا ہے۔ایسے تجزیے سرا سر بدنیتی پر مبنی اور اس پروپیگنڈے کا حصہ ہیں جو حالیہ انتخابات کی ساکھ کو متنازعہ بنانے کیلئے بین الاقومی سطح پر کیا جا رہا ہے۔اوائل اگست میں جس روز محترم سہیل وڑائچ یہ پیش گوئی کر رہے تھے کہ عمران حکومت اور آرمی میں ایک سال کے اندر ٹکراؤ ہو جائے گا اس سے اگلے روز واشنگٹن ڈی سی میں ایسی ہی بدگمانی کا اظہار ایک مجلس مذاکرہ میں کیا جا رہا تھا کہ عمران خان نے چھوٹی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں سے مل کر جو اتحاد بنایا ہے وہ ایک کمزور حکومت ثابت ہوگا تاہم ایک کمزور حکومت مقتدر قوتوں کے مفاد میں ہے ۔پاکستان کے طاقتور حلقے 2013 جیسے مضبوط وزیر اعظم کے حق میں نہیں ہیں۔اس مذاکرے کا اہتمام امریکی تھینک ٹینک ہڈسن انسٹی ٹیوٹ نے کیا تھا ۔اس کے مقررین میں دیگر کے علاوہ سابق سفیر حسین حقانی بھی شامل تھے۔جس تقریب میں حسین حقانی جیسے مقرر موجود ہوں اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں رہتی کہ وہاں کیا زہر اگلا گیا ہو گا۔کہا گیا کہ جس طریقے سے عمران خان نے مقتدر قوتوں کیساتھ مل کر اقتدار حاصل کیا ہے اس سے انہوں نے خود کو بھی اس نظام کا حصہ بنا لیا ہے جسکے خلاف نوجوان طبقے نے ان کا ساتھ دیا ہے۔کہا گیا کہ1970میں عوامی مینڈیٹ انتخابات کے بعد چرایا گیا تھا جبکہ اس بار مینڈیٹ انتخابات سے پہلے ہی چرا لیا گیا۔پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اس طرح کی سیاسی انجنیئرنگ ایوب خان کے زمانے سے کرتی آ رہی ہے۔ الیکشن سے پہلے نوازشریف کی نااہلی اور پھر جیل، الیکٹیبلز کو ایک پارٹی میں شامل ہونے کے لیے مبینہ دبا، میڈیا پر پابندیاں اور شدت پسند گروہوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی چھوٹ جیسے عوامل انتخابات سے پہلے دھاندلی کا حصہ تھے۔ایسے پروپیگنڈے کا مقصد اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ بیرونی طاقتیں اپنے مہروں کو بچانا چاہتی ہیں۔وہ چاہتی ہیں کہ عمران خان حکومت اپنے قدم جمانے سے قبل جلد سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہو کر رخصت ہو جائے اور وہ اپنے مہرے واپس اقتدار میں لے آئیں۔ جہاں تک انتخابات کی شفافیت کا تعلق ہے تو اس حوالے سے عالمی مبصرین کی رائے بالکل مثبت رہی۔دولت مشترکہ، یورپی یونین اور فافن کے مبصرین نے عام انتخابات2018کو شفاف قرار دیا۔ دولت مشترکہ گروپ کے چیف مبصرعبدالسلام ابوبکر نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ عام انتخابات کے دوران ہمارے مشاہدے کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی موجودگی میں انتخابی عمل متاثر نہیں ہوا،بلکہ لوگوں نے زیادہ آزادنہ طریقے سے ووٹ دیا۔ یہ ایک نسبتاً چھوٹا مگر نامور بین الاقوامی مبصرین پر مشتمل دولتِ مشترکہ کے رکن ممالک کا گروپ تھا۔ اس میں14ارکان تھے جن میں نائیجیریا کے سابق سربراہِ مملکت جنرل عبدالسلامی ابوبکر بھی شامل تھے۔اس گروپ کے دیگرارکان میں سابق ہندوستانی چیف الیکشن کمشنر، سری لنکن الیکشن کمیشن کے رکن، ملائیشین ہیومن رائٹس کمیشن کے کمشنر، نیوزی لینڈ کے ایک سابق وزیر، برطانیہ کے ایک جج، ماریشیئن الیکشن کمیشن کے ایک رکن، آسٹریلیا کے ایک سینیٹر اور بنگلہ دیش، جنوبی افریقا، فجی، کینیا اور نائیجیریا کی سول سوسائیٹی کے نمایاں ارکان شامل تھے۔اس مبصر گروپ نے 2018 کے انتخابات کو پاکستان کی جمہوری تاریخ میں سنگ میل قرار دیا۔ کامن ویلتھ آبزرورگروپ نے اس بات کو خاص طور پر نوٹ کیا کہ حالیہ الیکشن کے لیئے قوائدو ضوابط میں گزشتہ انتخابات کی نسبت الیکشن کمیشن کو زیادہ بااختیار بنایا گیا تھا۔گروپ کے سربراہ نے لوگوں کے بڑھ چڑھ کر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستانی ووٹرز ، الیکشن کمیشن ، پولنگ سٹاف، سیاسی جماعتوں اور ان کے امیدواروں ، پولنگ ایجنٹس، اور عام انتخابات کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے اپنے اپنے کردار کو بخوبی نبھانے کے عمل کو سراہتے ہیں۔اسی طرح یورپی یونین کے مبصر مشن نے بھی اطمینان کا اظہار کیا جبکہ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک فافن نے رپورٹ دی کہ ، نتائج کے اعلان میں تاخیرکے علاوہ کوئی قابل ذکر واقعہ سامنے نہیں آیا،کسی سیاسی جماعت نے انتخابی عمل کے دوران سیکیورٹی فورسز کے کام کے طریقہ پرسوالات نہیں اٹھائے۔ مبصرین کی رائے ہے کہ انتخابی عمل کے دوران سیکیورٹی فورسسز کی موجودگی اور کام پر کسی نے سوال نہیں اٹھائے اور نہ کسی نے دھاندلی کی شکایت کی مگر شکست کے بعد رونا دھونا اور آرمی کو مورد الزام ٹھہرانا بودا پن ظاہر کرتا ہے۔شکست خوردہ جماعتوں کا واویلا ہے کہ تاریخی دھاندلی ہوئی ہے مگر ہمارا خیال ہے کہ اس بار دھاندلی ہونے نہیں دی گئی۔اس بار عوام نے جس کو ووٹ ڈالا اسی کے کھاتے میں گِنا گیا جبکہ ماضی میں’’میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے‘‘کے مصداق ووٹ کسی اور کا ہوتا تھا

تلواریں نیام میں رکھیں…!!

azam_azim

جس طرح تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اِسی طرح دنیا کے ہر جمہوری عمل کو آگے بڑھانے اور چلانے کیلئے سب کو ساتھ لے کرچلنا ہوتاہے اور جمہوریت میں تو بہت کچھ ہوتا ہے ،یہ تو کچھ بھی نہیں ہے، ابھی تو بہت کچھ برداشت کرنا ہوگا ، ابھی تو خان نے اپنوں کو اتنا ہی کہا ہے کہ یہ وقت بے سوچے سمجھے بولنے اور کسی خوش فہمی میں آن کر بے وقت کی راگنی چھیڑنے کا نہیں ہے۔ ابھی توسب کی سُنیں اور برداشت کریں ، اِس لئے کہ یہی وقت ہے، حکومت بنا نے اور کرنے کا اور منزلیں پانے کاہے، جب حقیقی معنوں میں تلواریں نیام میں رکھیں گے ،توسب کو ساتھ لے کر بہت کچھ حاصل کر لیں گے ۔یہ ٹھیک ہے کہنے والے نے یہ کہہ تو دیاہے۔ مگر کہنے والے نے یہ نہیں بتایا ہے کہ آخر کب تک تلواریں نیام میں رکھیں ؟ اِس سوال کا بہت سادہ اور آسان جواب یہی ہے کہ فی الحال ، جیسا حکم مِلا ہے،اِس پر سختی سے عمل عمل بس عمل کرناہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے خان کی ٹیم کے ہر فرد کو اگلے آنے والے ہر سیکنڈ کے بعدسے لے کرحکومت بنا نے اور اِس کی دائمی پانچ سالہ مدت پوری کرنے اور خان کے اگلے کسی اشارے یا حکم تک اِسی پر عمل کرنا ہے ، اِسی میں سب کی بھلا ئی ہے ورنہ ؟ پہلے والوں اور اِن میں کوئی فرق نہیں رہے گا؛ آج خان کا وقت کی نزاکت کو بھانتے ہوئے ، اِتنا کہہ دینا ہی اپنوں اور اپنے اتحادیوں کیلئے کا فی ہے کہ اگر پاکستان اور عوام کو مسائل ، بحرانوں اور پریشانیوں سے نجات دلا کر آگے لے جانا ہے تو ہم سب کو ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہوئے اپنی تلواروں کو نیام میں لازمی رکھنا ہوگا ۔ ایسا اِس لئے بھی کرنا ضروری ہے کہ خان صاحب سمجھتے ہیں۔ آج پاکستان کو آگے بڑھانے کیلئے صبروبرداشت اور عفوودرگزر سے اچھا کو ئی عمل کارآمد نہیں ہو سکتا ہے، لہٰذا اَب ہمیں اِس سے ایک انچ بھی آگے جا نے اور اپنی مرضی چلانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگرپھربھی کو ئی اِس سے تجاوز کرے گا؛تو دوسروں کی ناراض گی اور اپنی بے قدری کا خود ذمہ دار ہوگا۔اَب ایسا بھی بھلا کیا تھا ؟کہ فردوس شمیم نقوی لب کشا ہوئے اور ایسے ہوئے کہ اپنوں کو ہی ناراض کر گئے ، اگر یہ برداشت کرلیتے تو کیا ہوجاتا؟، اِنہیں یہ سب کچھ نہیں کہنا چاہئے تھا جیسا کہ یہ اپنے نومولود کراچی کے اتحادیوں سے متعلق کہہ گئے ہیں،اِس موقع پر راقم کا خیال یہ ہے کہ اگر ابھی سے عمران خان کے فردوس نقوی شمیم جیسے ساتھیوں نے خودکو نہ سنبھالا تو ممکن ہے کہ خان کے ایسے نا سمجھ ساتھی جلد ہی عمران خان کی حکومت کو مشکلات سے دوچار کرنے میں دیر نہیں لگا ئیں گے اور وقت گزرنے کے ساتھ خان کی حکومت بھی اندرونی طور پر کھوکھلی ہوتی جا ئے گی اور پھر عمران خان کی اکلوتی حکومت میں بھی کئی چوہدری نثار علی خان، پرویز رشید جیسے اور بہت سے حکومت کو نقصان پہنچا نے والے پیدا ہوجا ئیں گے۔بہر کیف ،پی ٹی آئی کے ہاتھ اقتدار کی مسند آنے والی ہے جس کیلئے صدرمملکت ممنون حسین نے قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس پیر 13اگست کو طلب کرلیاہے ، نومنتخب ارکان حلف اُٹھا ئیں گے ، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب بھی اِسی رو ز ہوگا ؛ جب کہ 18 اگست کو مملکت پاکستان نے نئے نامزد وزیراعظم محترم المقام عزت مآب عمران خان بطور وزیراعظم اپنا حلف اُٹھا ئیں گے ، منسٹر انکلیو میں رہیں گے ، جس کے ساتھ ہی نو منتخب وزیراعظم عمران خان اپنے سب کو ساتھ لے کر چلنے والے عزم کو لئے مُلک اور عوام کی تقدیر بدلنے کیلئے پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے ، مُلک کوقرضوں سے نجات دلانے اور غیر مستحکم مُلکی معاشی و اقتصادی ڈھانچے کواستحکام بخش بنانے کیلئے اقدامات اور احکامات صادر فرمانے کی شروعات کردیں گے ۔ جبکہ مُلکی ترقی اور خوشحالی کے حوالے سے پچھلے دنوں پہلے ہی پاکستان تحریک اِنصاف نے اپنے سو دن کے ترجیحی پروگرام میں کراچی کو ایک سو دن میں تبدیل کرنے کیلئے اِنقلابی اقدامات اُٹھانے کا فیصلہ کر لیاہے یہ فیصلہ بنی گلہ میں چیئرمین عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے تحریک انصاف سندھ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا گیا اجلاس میں بالخصوص سندھ کی صورتِ حال پر کھل کر بات چیت بھی کی گئی جبکہ اندر سے باہر آنے والی کچھ باتوں سے معلوم ہوا ہے کہ اِس دوران عمران خان نے پی ٹی آئی کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی کے بیان پرناراضگی کا اظہار کیا اور آئندہ محتاط رہنے کی ہدایت بھی کردی ہے ۔ جیسا کہ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فردوس شمیم نقوی کاکہناتھاکہ’’ پارٹی چیئرمین نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اِس وقت ہمارے نزدیک حکومت بنانا اور کرنا سب سے اہم ہے، تلواریں نیام میں رکھیں ،‘‘ صاف ظاہر ہے کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ اِن کے ساتھی تلوار نمااپنی زبانیں بند رکھیں تو اچھاہے ورنہ ؟کسی غرور اور تکبر کی وجہ سے اِن کے نئے پرانے پارٹی کے عہدے داروں اور کارکنان کی قینچی کی طرح کترنے والی زبانیں بنابنایاسارا کام اور اِن کی حکومت کتر کر رکھ دیں گی سو آج کے بعد پی ٹی آئی کے تمام ساتھیوں پر لاز م ہے کہ سب اپنی تلوار کی طرح زخم لگا نے والی اپنی زبانیں بند ہی رکھیں تو بہت اچھا ہوگا تاہم جب فردوس شمیم نقوی سے خبر نویسوں نے یہ سوال کیا کہ ایم کیو ایم سے اتحاد مجبوری ہے یا نہیں؟ اِس کا جواب فردوس شمیم نقوی نے کچھ یوں دیا کہ عمران خان نے خاموش رہنے کا کہا ہے اِس لئے خاموش رہوں گا ؛ جبکہ خبر کے مطابق یہاں یہ امرقابلِ ستا ئش ہے کہ فردوس شمیم نقوی نے میڈیا سے بات چیت میں بتایاکہ عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک کراچی میں ترقی نہیں ہوگی پاکستان میں نہیں ہوگی، اِسی لئے عمران خان نے لوکل باڈیز کو مضبوط کرنے کیلئے اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں ہمارا مقابلہ پیپلز پارٹی سے ہے ؛عمران نے سندھ کو بدلنے اور اِس کی بہتری کیلئے مکمل تیاری کرلی ہے اور آئندہ دورسندھ میں پی ٹی آئی کا ہوگا‘‘۔اِس سے انکار نہیں ہے کہ ابتدا ئی دِنوں سے ہی عمران خان کی حکومت کو کئی معاشی بحرانوں کے مدوجزاور بہت سے کٹھن چیلنجز کا سامناکرنا پڑے گا ۔جو عمران خان اور اِن کی کابینہ کیلئے بڑا امتحان ہوگا ،اَب دیکھنا یہ ہے کہ نئے پاکستان کی تبدیلی اور مُلک کو مدینہ جیسی ریاست بنا نے کا عزم رکھنے والے عمران خان اِس امتحان میں کتنے نمبروں سے کامیاب ہوتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ اِن میں چیلنجز سے نمٹنے یا امتحانات میں اچھے نمبروں سے کامیاب ہونے کی صلاحیت نہیں ہے یہ باصلاحیت ہیں مگر دیر سویر تو ہوجائے گی۔ بس سب کو اچھے نتائج کیلئے انتظار کرناہوگا ؛اِس لئے کہ عمران خان کو چیلنجزسے نبرد آزما ہونے کیلئے لازمی طور پر کئی کڑوی گولیاں نگلنے جیسے فیصلے بھی کرنے ہوں گے،آج جس کیلئے عمران خان اور قوم کو قربانیاں دینے کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا۔

*****

اسدقیصرقومی ،پرویزالٰہی سپیکرپنجاب اسمبلی نامزد

adaria

25جولائی کوعام انتخابات 2018ء کامرحلہ مکمل ہونے کے بعد ملک میں انتقال اقتدار کامرحلہ شروع ہوگیا ہے جبکہ سیاسی عہدوں پر نامزدگیاں بھی ہوگئی ہیں۔ تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا سے رکن قومی اسمبلی اسدقیصر کو قومی اسمبلی کاسپیکر ،پرویزالٰہی کو پنجاب اسمبلی کیلئے جبکہ چودھری سرور کو گورنر پنجاب کے عہدے کیلئے نامزد کردیا ہے یہ نامزدگیاں گزشتہ روز پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی زیرصدارت منعقدہ اجلاس میں کی گئیں۔یہ اجلاس سیاسی اہمیت کاحامل قرار پایا جس میں آئندہ سیاسی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیاگیا اور مختلف عہدوں کیلئے نامزدگیوں کاحتمی فیصلہ کیاگیا۔اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسد قیصر قومی اسمبلی میں سپیکر کیلئے امیدوار ہوں گے، وہ پارلیمانی آداب اور قواعد سے واقف ہیں، چودھری سرور سیاسی استحکام کیلئے بہترین کام کریں گے، چودھری سرور گورنر رہ چکے ہیں، وہ آئینی کردار سے واقف ہیں، پنجاب میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکے ہیں۔پنجاب کے وزیراعلیٰ کااعلان عمران خان کرینگے۔ پورا پارلیمانی عمل احسن طریقے سے سر انجام پاناچاہیے۔واضح رہے کہ اسد قیصر 15 نومبر 1969 کو پختونخوا کے ضلع صوابی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہایئر سکینڈری سکول صوابی سے حاصل کی اور اسکے بعد یونیورسٹی آف پشاور سے گریجو ایشن کی۔ 1996میں پاکستان تحریک انصاف جوائن کی اور اپنا سیاسی کیرئر بطور ایک ورکر کے شروع کیا اور پھر ضلع صوابی کے صدر کے عہدے تک پہنچے، 2008 میں انکو پختونخوا میں تحریک انصاف کا صوبائی صدر بھی بنایا گیا اور وہ عہدہ اسد قیصر نے 2011 تک برقرار رکھا۔مارچ 2013 میں اسد قیصر نے پارٹی الیکشن جیتا اور عام انتخابات میں این اے 13 اور پی کے 35 کی نشستوں پر صوابی سے حصہ لیا ، جسکے نتیجے میں انہوں نے دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل کی، لیکن اسد قیصر نے صوبائی نشست کو برقرار رکھا، اسکے بعد ان کو پختونخوا اسمبلی کی جانب سے سپیکر منتخب کیا گیا جو عہدہ اب تک برقرار ہے۔ الیکشن 2018 میں اسد قیصر نے این اے 18 صوابی اور پی کی 44 سے سے کامیابی حاصل کی۔ صدرِ مملکت ممنون حسین نے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر 13 اگست کو طلب کیا ہے۔ اجلاس چار روز تک جاری رہے گا، پہلے روز نومنتخب ارکان حلف اٹھائیں گے، 14 اگست کو سپیکر، ڈپٹی سپیکر کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جائیں گے، 15 اگست کو سپیکر، ڈپٹی سپیکر کیلئے انتخاب ہو گا۔16 اگست کو وزیرِاعظم کیلئے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کا مرحلہ طے ہو گا۔ قائد ایوان کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے بجائے ارکان کی ڈویژن کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ 18 اگست کو عمران خان وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس بھی 13 اگست کو صبح دس بجے بلایا کیا گیا ہے۔ اجلاس میں 113 نومنتخب ارکان حلف اٹھائیں گے جس کے بعد سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کیلئے کاغذاتِ نامزدگی وصول اور جمع کئے جائیں گے۔ کاغذاتِ نامزدگی 14 اگست کو سہ پہر چار بجے تک جمع کرائے جا سکیں گے، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب 15 اگست کو خفیہ رائے دہی کے ذریعے ہو گا۔ عمران خان کی بطور وزیراعظم حلف برداری کی تقریب 18 اگست کو ہونے کا امکان ہے جس کے لیے مہمانوں کو دعوت نامے جاری کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔سینیٹر فیصل جاوید نے بتایا کہ عمران خان نے بطور وزیراعظم اپنی تقریب حلف برداری میں تین سابق بھارتی کھلاڑیوں کو بھی مدعو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عمران خان نے کپل دیو، سنیل گواسکر اور نوجوت سنگھ سدھو کو تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی ہے۔چند روز قبل سنیل گواسکر نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ انہیں عمران خان کی جانب سے تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت ملی ہے تاہم بھارت اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچ کی وجہ سے ان کی تقریب میں شرکت مشکوک ہے۔عمران خان نے 92 ورلڈ کپ کے اسٹارز کو بھی وزارت عظمیٰ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے مدعو کیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے منسٹرانکلیومیں رہنے کامستحسن فیصلہ کیاہے جو کہ نئے پاکستان کی نئی روایت ابھر کرسامنے آئی ہے۔ عمران خان کایہ کہنا کہ قوم یوم آزادی جوش وجذبے سے منائے قائداعظم کے ویژن کے مطابق بڑھ رہے ہیں۔اس امر کاعکاس ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نئے پاکستان کیلئے پُرعزم ہیں اوروہ ملک وقوم کو مسائل کی دلدل سے نکالنے میں کامیاب قرارپائیں گے ۔ قوم کو نئے پاکستان کے خواب کی تعبیرملنی چاہیے۔

عمران خان سے بھارتی ہائی کمشنر کی ملاقات
بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کی عمران خان سے ملاقات بڑی اہمیت کی حامل قرارپائی ۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں پاک بھارت تعلقات اور دیگر ایشوز پر بھی بات چیت کی گئی۔ اجے بساریہ نے کہا کہ انڈین وزیرِاعظم نریندر مودی کے عمران خان کو ٹیلی فون سے دو طرفہ تعلقات سے متعلق بھارت میں نئی امید جاگی ہے۔اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت سمیت تمام ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔ انہوں نے بھارت کیساتھ تمام تصفیہ طلب تنازعات پر مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ تاہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ امید ہے کہ سارک سربراہ اجلاس جلد اسلام آباد میں منعقد ہو گا۔بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ اورچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ملاقات بڑی اہمیت کی حامل قرارپائی یہ ملاقات اس حوالے سے دور رس نتائج کی حامل ہے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ دوستی کاہاتھ بڑھایا ہے۔عمران خان نے بھارتی ہائی کمشنرپر واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت کو مذاکرات کی میزپرآنا چاہیے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں تشویشناک ہیں بھارت نے پاکستان سے دوستی کاہاتھ بڑھایا ہے یہ ایک مثبت رویہ ہے دوطرفہ ملاقات سے ہی فاصلے کم ہوتے ہیں امید ہے کہ اس ملاقات سے تعلقات میں مثبت دور کا آغاز دیکھنے کو ملے گا بھارت اپنا مخاصمانہ رویہ ترک کرے اورمسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہوپائے۔یہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے۔
پیپلزپارٹی کافضل الرحمان کاساتھ نہ دینے کافیصلہ
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی زیرصدارت اجلاس میں یہ فیصلہ کیاگیاکہ اداروں کیخلاف بیانات پر پیپلزپارٹی مولانافضل الرحمان کاساتھ نہیں دے گی اس ضمن میں بلاول بھٹو نے کہاہے کہ خورشید شاہ، شیری رحمان و دیگر مولانافضل الرحمان سے اس ضمن میں بات چیت کریں۔بلاول بھٹو زردای نے مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر تحفظات کا اظہار کر دیاہے۔ اپوزیشن اتحاد میں صرف انتخابی دھاندلی پر بات کی جائے، اداروں کے خلاف کسی بیان کا حصہ نہ بنا جائے، پارلیمنٹ کے اندر موثر احتجاج اور قانونی طریقہ اپنایا جائے۔اداروں کیخلاف بیان بازی سے پیپلزپارٹی کاکنی کترانااچھی بات ہے ،مسلم لیگ نون کااداروں کیخلاف بیانیہ ہی اسے لے ڈوبا ہے سیاست میں گالم گلوچ سے گریزکرناچاہیے اور اداروں سے تصادم کاراستہ اختیارنہیں کرناچاہیے رواداری اور برداشت کے جمہوری کلچرکوفروغ دینا ہی جمہوریت کیلئے نیک شگون قرارپاتاہے۔

یوم پاکستان اور مولانا کی ہرزہ سرائی

8 اگست کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے سامنے بظاہر متحدہ اپوزیشن کے احتجاجی مظاہرے میں امیر جمعیت عْلماء اسلام (ف) فضل اْلرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر سال چودہ اگست یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے لیکن اب کی بار ہم 14اگست کو یوم آزادی نہیں منا سکتے کیونکہ ہماری رائے کا حق چھین لیا گیا ہے۔مظاہرے میں مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف ، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز ( پی۔ پی۔ پی۔ پی) کے صدر آصف زرداری اور اْن دونوں کے فرزندان حمزہ شہباز اور بلاول بھٹو کے علاوہ امیر جماعت اسلامی جناب سراج اْلحق شریک نہیں تھے ، اِسی لئے احتجاجی مظاہرے کی قیادت مولانا فضل الرحمن کو سونپی گئی۔ اْن کے ساتھ عبداْلصمد خان اچکزئی کے فرزند (پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ) محمود خان اچکزئی بھی موجود تھے۔ مولانا کے اس بیان پر جہاں چند سیاسی اکابرین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے وہاں عوامی سطح پر بھی اس پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کے اس فرمان کو عوام میں بھی بالکل پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے مولانا فضل الرحمن کے بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یوم آزادی نہیں کچھ اور منا رہے ہیں۔ مراعات چھن جانے سے مولانا صاحب حواس باختہ ہو گئے۔ شکست سے ان کی دنیا اجڑ گئی۔ اس لئے انہیں پوری قوم کی خوشی بھی اچھی نہیں لگ رہی۔ وہ مایوسی اور سوگ کی کیفیت میں ہیں۔ اگر کچھ دشمنِ پاکستان جشن آزادی کے خلاف ہیں تو ہم پہلے سے بھی زیادہ جوش سے اس مرتبہ جشنِ آزادی منا کر انکے عزائم کام بنا دیں گے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو پاکستان بننے کے بھی مخالف تھے آج عزت دار بنے بیٹھے ہیں۔متحدہ مجلس عمل نامی ایک نام نہاد دینی سیاسی اتحاد کے سربراہ ملا فضل الرحمٰن جنہیں ہمیشہ اسلام سے زیادہ اسلام آباد کی فکر رہتی ہے حالیہ انتخابات میں اپنے اتحاد کی بدترین ناکامی ، قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر اپنی عبرت ناک شکست اور نا چاہتے ہوئے بھی اپنی زیر قبضہ سرکاری رہائش گاہ سے بے دخلی کے بعد قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہیں۔مولانا کا یہ کہنا کہ ہم چودہ اگست کو یوم آزادی نہیں منائیں گے کیونکہ پاکستان نہ آزاد ریاست ہے نہ جمہوری اور نہ اسلامی، بالکل غلط ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جب تک آپ اسمبلی میں تھے اور ہر حکومت کو بلیک میل کرکے مراعات حاصل کرتے تھے تب تک پاکستان آزاد اسلامی اور جمہوری ملک تھا اور اب جب عوامی عدالت نے آپ کی اصلیت، منافقت اور سازشی ذہنیت پہچان کر اقتدار سے علیحدہ کر دیا تو اب آپ کو چودہ اگست، پاکستان اور پاک فوج سب کچھ بری لگنے لگی۔ پاکستان کو تو کبھی آپ نے تسلیم ہی نہیں کیا۔ کبھی پاکستان زندہ باد کا نعرہ نہیں لگایا۔ صرف جیبیں بھرنے تک پاکستانی رہے اب جب جیب خالی ہوگئی تو پاکستان کا جشن آزادی نہیں منائیں گے کا نعرہ لگا دیا۔ دراصل قومی انتخابات میں بدترین شکست اور 13 برس بعد سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کے بعدمولانا فضل الرحمن اپنا دماغی توازن بھی کھوتے جارہے ہیں۔ متحدہ اپوزیشن کے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاک فوج کے خلاف بھی بھرپور ہرزا سرائی کی ۔ بقول ان کے کہ ہم یہاں بعض طاقتوں (پاک فوج ) کو اپنا حاکم تسلیم نہیں کرتے۔ ہم نے انگریز کی حاکمیت کو بھی تسلیم نہیں کیا تھا ۔ ہماری فوج اس وقت بھی انگریزکا دفاع کررہی تھی۔ میں پاکستان کی فوج کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اگر آپ پاکستان کی فوج رہنا چاہتے، پاکستانی عوام کی فوج رہناچاہتے ہیں تو یہ طور طریقے وطیرے تبدیل کرلو ہم ان جعلی قوتوں کی پشت پناہی کا اختیار آپ کو نہیں دے سکتے۔مولانا کے والد مفتی محمود وہ شخص تھے جنہوں نے پارلیمنٹ کے فلور پر کہا تھاکہ خدا کا شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے۔ان کی یہ بات واقعی درست ہے کہ مملکت خدادادپاکستان کے قیام کے وقت ان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام اس وقت کی (ہند) مسلم لیگ کے بجائے کانگریس کی اتحادی تھی اور ان کا مکتبی مرکز دیوبند بھی قیام پاکستان کا مخالف اور ہندو انتہاپسندوں کا اتحادی تھا۔ لیکن مزے کی بات ہے کہ ’’ قائداعظمؒ کے پاکستان ہی میں مفتی محمود ’’مْک مْکا ‘‘ کی سیاست کے ذریعے ، صوبہ سرحد ( موجودہ خیبر پختونخوا ) کے وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب اور برطرف بھی ہْوئے ؟۔اب یہی حال ان کے فرزند ارجمند کا ہے۔ جب تک اسمبلی کی ممبر شپ ملتی رہی اور جوڑ توڑ ، دھمکی دھونس کے ذریعے وزارتیں، کشمیر کونسل کی چیئرمین شپ ملتی رہی تو خوش ، پارلیمنٹ بھی نیک پروین، پاکستان بھی سب سے اچھا ، جیسے ہی عوام نے اپنا فیصلہ سنایا تو محترم دھڑم سے نیچے آگرے۔ اب پارلیمنٹ بھی خراب، اس میں آنے والے ڈاکو، یوم پاکستان کی تقریبات کا بھی بائیکاٹ ۔ یعنی صرف اپنے مفادات کیلئے سب کچھ جائز ہے جہاں مفادات نہیں وہاں پاکستان کی بھی کوئی اہمیت نہیں۔ نئی حکومت کو اس ضمن میں اہم فیصلہ کرنا ہوگا کہ فضل اْلرحمن نے چیئرمین نیشنل کشمیر کمیٹی کی حیثیت سے (بھارت سمیت ) اپنی جمعیت علماء اسلام کے وفود کی قیادت کرتے ہوئے جتنی بار بھی دنیا کے دورے کئے ہیں ، اْن کی نیب سے تحقیقات کروائیں۔ یقیناً کشمیر کمیٹی کے نام پر اربوں روپے کا گھپلا منظر عام پر آجائے گا۔یہ بات بھی اہم ہے کہ اب تک انتخابات میں مذہبی جماعتوں کو واضح مینڈیٹ کیوں نہ مل سکا۔ 2018 کے انتخابات میں تو ایم ایم اے کے علاوہ جتنی بھی مذہبی جماعتوں کے امیدوار کھڑے تھے سب کے سب بہت بری طرح ہارے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ نام نہاد مولویوں کا سیاسی مستقبل ہمیشہ کیلئے تاریک ہوگیا ہے۔آئیں ہم سب اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ انشاء اللہ 14 اگست کو بھرپور طریقے سے ’’ یوم آزادی ‘‘ منا کر مولانا اور ان جیسے برساتی مینڈکوں کا منہ بھی بند کریں گے۔
*****

امریکی کانگریس۔اب امریکا کی فکرکرے

امریکا ماضی میں کبھی فراخ دل رہا نہ ہی حقیقت پسند’ہمیشہ امریکا نے صدیوں کی اپنی تنگ نظری کی پالیسی کل بھی اختیار کیئے رکھی آج جب دنیا انسانی ترقی کی انتہاوں کوچھورہی ہے امریکا’بڑی عالمی کرنسی کے اجارہ دار کا علم تھامے وہیں پہ کھڑا ہے’ڈالرکے استحقاق کے زعم میں وائٹ ہاوس اپنے آپ کو’عالمی سرمائے’کا جیسے کوئی آقا سمجھتا ہو؟’بہت تکبرہے امریکا کے علاوہ دنیا کی ان چند منہ زور سامراجی چلن رکھنے والی طاقتوں کوجودنیا کے ترقی پذیر ممالک کو زمین پررینگنے والے حشرات الاارض سمجھنے کی عادتوں میں مبتلا ہیں ، جبکہ اصل میں وہ صریحا غلطی پر ہیں افسوس! اکیسیویں صدی کا دوسرا عشرہ ختم ہونے کو آرہاہے امریکا مگرمکمل انسان پروری کی راہ پرنہیں آیا’ بلیوں’ کتوں’خچروں’پرندوں سے تواس کی محبتیں سنبھالی نہیں جاتیں مگرکمزوراوربے بس انسانوں سے ا مریکا نفرت ہی نہیں کرتا بلکہ ترقی پذیر ممالک کے اقوام کے بنیادی حقوق غصب کرتا ہے، ان کے قدرتی وسائل کومختلف حیلے بہانوں سے لوٹتا ہے اورانکی زیرزمین دولت کوچھینے کے جواز کا متلاشی رہتا ہے’کبھی جمہوری حکومتوں میں آمریت کے پودے لگانے والا اور کبھی جمہوریت کی آڑ میں جمہوری آمروں کی کھیپ تیار کرنے والا امریکا آج کل پاکستان کے حالیہ الیکشن کے نتائج پر بڑاجزبزدکھائی دے رہا ہے، اب اس کے مسلم دشمن حواری ممالک مثلا اسرائیل اوربھارت کی تازہ ترین مکارانہ پھرتیوں کا ذرااندازہ لگائیے امریکی حکام پاکستان میں 25 جولائی کے عام انتخابات کے بعد سے تادمِ تحریر فرسٹریشن کا شکار معلوم دیتے ہیں نومنتخب ملکی وزیراعظم عمران خان کے طرزِ تخاطب نے امریکیوں کو ہی نہیں نئی دہلی سرکارکوان کی سوچوں سے زیادہ ششدر اور حیران وپریشان کردیا ہے، برابری کی سطح پرسفارتی تعلقات متوازن سفارتی تعلقات قائم کرنا یقیناًاب تک کی چلی آرہی ملکی روائتی ڈپلومیسی کے بالکل برعکس ہے نئی منتخب حکومت کے متوقع سربراہ کے نرم دمِ گفتگو کا نپا تلا اورکچھ کردکھانے کے انداز سے دنیا یہ نتیجہ اخذ کرلے کہ اب اسلام آباد میں وہ ہی کچھ ہوگا جو پاکستان کے کروڑوں عوام چاہئیں گے قوموں کی زندگیوں میں اکثروبیشتر ایسے تازہ’جوشیلے اور امیدافزا خوشگوارسیاسی وثقافتی فضاوں کے مقبولیت کی انتہاوں کو چھونے والے مواقع آتے ضرور ہیں دیرآید درست آید کے مصداق امریکی حکام کوبہرحال تسلیم کرنا ہوگا کہ ماضی کے برعکس اب پاکستان کے تجارت پیشہ حکمران طبقات میں پروان چڑھنے والی کرپشن آلودہ جمہوریت کے نام پر’ جمہوری ملوکیت’ کا ناپسندیدہ سلسلہ منقطع ہوچکا ‘ پاکستان چلے گا’ملک میں ترقی ہوگی اور پاکستان میں آج کے بعدخالص عوامی پائیدار جمہوری راج اور زیادہ مستحکم ہوگا جیسا امریکا چاہے گا پاکستان میں ویسا اب نہیں ہوگا امریکا کوپاکستان کی آزادی پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرنا ہوگا پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہونگے’ٹائمزآف انڈیا نے اپنی جانب سے خبردینی تھی سودیدی کہ’امریکا نے اپنے زیر اثرعالمی مالیاتی اداروں پرا پنے اثررسوخ کو بڑھاناشروع کردیا ہے سوبسم اللہ جناب! امریکی کانگریس کے منظورکردہ بل کے تحت پاکستان کو150 ملین ڈالرکی دفاعی امداد کینسل کردی گئی ہے واہ سبحان اللہ پاکستان پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کاعندیہ بھی اِسی خبر کا حصہ ہے جس کی تصدیق ہونا باقی ہے، پینٹاگان’ وائٹ ہاوس اورادھرنئی دہلی کے ایوانِ اقتدارمیں نجانے کس مفادی نے اپنے کس مذموم ایجنڈے کے گھناؤنے تصورات کوعملی جامہ پہنانے کی بد نیتی سے مفروضہ پھیلایا تھا کہ پاکستان میں دومخصوص سیاسی پارٹیوں کے بغیرجمہوریت کا سسٹم قائم نہیں رہ سکتا لہذاکبھی ‘اے’ اورکبھی’بی’ پارٹی ہی کی حکومتیں جمہوریت کے نام پرچلتی رہیں گی اورعوام کی اکثریت ہرپانچ سال تک اِن ہی کے اشاروں پر ووٹ بکس بھرتے رہیں گے پاکستان میں اعلی عدالتیں کیا متحرک ہوئیں کروڑوں عوام کی سنی گئی، پاکستان کے اقتدار کو جواپنے گھروں کی لونڈی سمجھتے تھے آج کہاں ہیں؟ پاکستان کو اپنی وراثت اور جاگیر سمجھنے والے نشانِ عبرت بن گئے کچھ بننے والے ہیں، اب پکڑ نیچے سے نہیں اوپر سے ہوگی، پاکستانی قوم کی عوامی شعور میں بیداری کی لہر نے جنوبی ایشیا میں امریکی چھتری تلے بھارتی بالادستی کے خواب کے تاروپود کو قوم نے منتشرکرکے رکھ دیا اب افغانستان میں امن ہوگا اور بھارت کو مسئلہِ کشمیر کے پرامن حل کیلئے اپنے قدم بڑھانے ہونگے، حقیقی عوامی طاقت اپنے حکمرانوں کی پشت پر موجود رہے تو سامراجی عزائم کے حامل ممالک ایسی بیدار صفت اقوام کا بال تک بھی بیکا نہیں کرسکتیں ،یقیناًامریکی اور بھارتی فیصلہ ساز جان گئے ہونگے کہ پاکستان میں دوپارٹی سسٹم کی ریت روایت قائم کرنے والے غلط تھے ‘را، موساد اورسی آئی اے’کی مشترکہ پروپیگنڈا مشنری ناکام ہوئی ہے، پاکستانی عوام کے جمہوری شعورکے رجحانات اور میلانات کا متذکرہ بالا تینوں خفیہ ایجنسیوں نے غلط من گھڑت اور بے سروپا مفروضات پر رپورٹیں مرتب کیں ایسی بوگس ڈیسک رپورٹس ٹرمپ اورمودی جیسے ناتجربہ کارجنونی اورانتہا پسندوں نے مان لیں وائٹ ہاوس اورنئی دہلی سمیت پینٹاگان بھی اِسی فرضی نکتہ نظر کے اسیرمعلوم دئیے ،جنہوں نے پاکستان کی سابقہ کرپٹ حکمران طبقات کے منہ میں اپنے متعصبانہ الفاظ دے کر انہیں انکے انجام تک پہنچادیا ،یوں پاکستان میں حقیقی جمہوریت کا روشن سورج طلوع ہوا اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ منتخب حکمران جماعت کوملک میں درپیش اقتصادی چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا،آئی ایم ایف سے انہیں اپنے محدودمالیاتی انفراسٹریکچرکے دائرے میں اپنی مہارت’ صلاحیت’ جرات اورپیشہ ورانہ حکمتِ عملی سے باعزت مذاکرات کرنے ہونگے’ بیس پچیس برس کی اختیار کردہ گمراہ کن غلط اقتصادی پالیسیوں نے پاکستان پر بیرونی قرضوں کاحجم بڑھا کر قوم اورملک کو آج اِس بد حالی پر لا کھڑا کیا ہے پھر بھی مایوسی کا مقام نہیں آئی ایم ایف کے دیوہیکل قرضوں کی ضمانت اب پاکستان کے بہادر اور محبِ وطن عوام کے علاوہ کوئی اور نہیں دے سکتا، پاکستان کی قیادت اگر جرات مند ہو’بے داغ ہو’صاحبِ کردار ہو’ ایمان داراورصالح ہو’ تویہ کوئی مشکل مرحلہ نہیں عمران خان کی مقبولِ عام شخصیت نے پاکستان کی جمہوری قیادت کی تاریخ میں یقیناًایک نیا باب رقم کیا ہے، عوام نے ان پر بھروسہ کیا خان کہتا ہے کہ وہ سادگی اپنائیں گے قوم سادگی اپنائے’قومی سیاست کے مفلوج زدہ جسم میں عمران خان نے ‘لیکجز’ کا کھوج لگا کر انہیں اگر بند کر دیا لوٹی گئی قومی دولت بیرونِ ملک سے واپسی کیلئے انہوں نے فوری ہنگامی اقدامات اٹھانا شروع کردئیے اور دنیا کے سامنے جرات مندی اور دلیرانہ سچائی سے پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کا تاریخ ساز فیصلہ کرلیا تو بھاڑ میں جائیں امریکی کانگریسی کی بلیک میلنگ اور خطہ میں بھارتی بالادستی کے عزائم جنوبی ایشیا میں پاکستان کی بھی اپنی ایک حقیقی جغرافیائی حیثیت ہے عمران خان نے یہ حقیقت دنیا سے منوانی ہے پاکستان کا مالیاتی بحران چٹکیوں میں حل ہوگا کئی ایشیائی ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے امریکی اور آئی ایم ایف کی مالی مداخلتوں کے بغیر بھی پاکستان ترقیخوشحالی اور امن کی نعمتوں سے مالا مال ہوسکتا ہے ۔

*****

عیدآزادی اوربھارت کی ثقافتی یلغار

asgher ali shad

ایک جانب 14 اگست کے حوالے سے عید آزادی کا تہوار پورے قومی تزک و احتشام کے ساتھ منایا جا رہا ہے ۔اسی تناظر میں سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ دور حاضر میں میڈیا کی اثر پذیری اور قوت سے بھلا کسے انکار ہو سکتا ہے یہ الگ بات ہے کہ اس کا استعمال بالعموم منفی ڈھنگ سے ہی کیا جاتا ہے مثال کے طور پر بڑے سے بڑا سرمایہ دار معقول معاوضہ دیئے بغیر چند سیکنڈ کا اشتہار بھی نہیں چلا سکتا مگر جرائم پیشہ افراد کا تذکرہ اس میڈیا پر اتنے تسلسل کے ساتھ ہوتا ہے کہ بعض اوقات لگتا ہے کہ ابلاغ کا یہ ذریعہ شاید جرائم کی تشہیر کے لئے ہی وجود میں آیا ہے ۔ بہر کیف یہ تو شاید جملہ معترضہ ہے ۔دوسری جانب بعض حکومتیں بھی اس ضمن میں میڈیا کے ذریعے اپنے پسماندہ طبقات کا استحصال اس انداز میں کرتی ہیں کہ گویا یہ ان کی ریاستی پالیسی کے بنیادی نکا ت کا حصہ ہے۔

مبصرین کی رائے ہے کہ ہندوستان 15 اگست 1947 کووجود میں آیا تو دنیا بھر کے انسان دوست حلقوں کو توقع تھی کہ یہ ملک شاید آگے چل کر محکوم قوموں کے علم بردار کے طور پر کام کرے گا کیونکہ ہندو قوم لگ بھگ 1200 سال تک بڑی حد تک محکوم رہی ہے اس وجہ سے اس کے بالا دست طبقات کو بخوبی احساس ہو گا کہ غلام قو میں کس حد تک ذہنی ابتری کا شکار ہوتی ہیں مگر بھارتی حکمرانوں نے اپنی آزادی کے بعد اپنی روش سے ثابت کر دیا کہ ان کی بابت ابتدامیں جن خوش گمانیوں کا اظہار کیا گیا وہ سراسر خوش فہمی ہیں ۔واضح رہے کہ دہلی کے حکمران سوچے سمجھے ڈھنگ سے اپنی اقلیتوں کے خلا ف ریاستی دہشتگردی کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ سلسلہ محض سفارتی ،سیاسی یا مذہبی محاذ پر ہی نہیں چل رہا بلکہ زندگی کا کوئی شعبہ اس منفی روش سے محفوظ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دہلی کے بالادست طبقات نے الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے استحصال کا عمل بھی شروع کر رکھا ہے۔یہ بات کچھ عرصہ قبل تب سامنے آئی جب پرویز دیوان نامی اعلی بھارتی عہدے دار نے CULTURAL IMPERIALISM …Caste Hindu’s Hero’s ,All Others Are Villians کے نام سے کتاب لکھی ۔یہ ضخیم کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے ۔واضح رہے کہ موصوف کوئی عام مصنف نہیں بلکہ بھارت سرکار میں کچھ عرصہ قبل تک مرکزی سیکرٹری ٹور ازم کے عہدے پر کام کر رہے تھے اور مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے مسلمان ہیں۔2016 میں انھیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے بارہ شعبوں کا ایڈوائزر مقرر کیا گیا تھا۔

پرویز دیوان کے مطابق انھوں نے 20 سال کی محنت کے بعد یہ کام مکمل کیا ۔یہ کتاب اس لحاظ سے منفرد قرار پاتی ہے کہ اس میں بھارتی معاشرت میں مختلف مذہبی گروہوں اور لسانی اقلیتوں کا قطعا ایک نئے ڈھنگ سے جائزہ لیا گیا ہے ۔مصنف کے بقول انھوں نے 786 ہندی فیچر فلموں،بھارتی ٹی وی سے دکھائے جانے والے 300 سے زائد سلسلہ وار ڈراموں اور دور درشن کے 400 اشتہارات کا بغور جائزہ لے کر اس کتاب کو مرتب کیا ہے ۔مزکورہ تحقیق میں اس امر کا تفصیلی تذکرہ ہے کہ بھارتی فلموں اور ٹی وی چینلز کس طرح اپنی نشریات کے ذریعے اقلیتوں کو چھوٹی سطح کے انسانوں اور معاشرتی حیوان کے طور پر پیش کر رہے ہیں ۔
مصنف کے مطابق ہندی فلموں میں سکھوں کو عمومی طور پر مالی لحاظ سے نسبتا خوشحال مگر عقل سے پیدل انسانوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ عیسائی مردوں کو شکل اور جسمانی لحاظ سے بھدے روپ میں دکھایا جاتا ہے جن کے ایک ہاتھ میں ہمیشہ شراب وغیرہ کی بوتل دکھائی جاتی ہے یا پھر انھیں غنڈوں کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے گویا ان کا مقصدِ حیات ہی غنڈہ گردی اور مہ نوشی ہو ۔یہ لوگ کسی نہ کسی مافیا گروہ کی معمولی کٹھ پتلیوں کے طور پر جرائم کرتے نظر آتے ہیں جبکہ ان گروہوں کے سربراہ اکثر اونچی ذات کے ہندو ہوتے ہیں جو آریا نسل سے متعلقہ ہوتے ہیں یوں بالواسطہ طور پر اونچی ذات کے ہندووں کو قوت کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔اس سارے کھیل کا مقصد شعوری طور پر اونچی ذات کے ہندووں کی برتری کا احساس دلانا ہوتا ہے۔اس تحقیق کے مطابق عیسائی مردوں کو شاید ہی کسی ہندو عورت سے شادی کرتے دکھایا جاتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا بھی ہے تو ایسی شادی کا انجام تباہی اور بے سکونی پر اختتام پذیر ہوتا ہے ۔اس کے بر عکس عیسائی خواتین کو جسمانی لحاظ سے دلکش مگر اخلاقی طور پر انتہائی پست ظاہر کیا جاتا ہے ۔جو بے تکلفی سے سگریٹ نوشی اور شراب کی رسیا ہوتی ہیں ۔بھارتی فلموں اور ڈراموں میں مسلمانوں کو روایتی حلیہ میں پیش کرنا لازمی خیال کیا جاتا ہے جو زیادہ تر بوڑھے، معذور،نچلے درجے کے ماتحت اور لالچی طبیعت کے ہوتے ہیں ۔اگر کسی وجہ سے وہ ان کی ٹاگریز میں شامل نہیں کیے جاتے تو پھر مسلمان کرداروں کی کثیر العیالی کے ذریعے فلم یا ڈرامے میں گھٹیا درجے کا مزاح پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔البتہ ایک آدھ مسلمان کردار کو مثبت مگر اذیت پسند دکھایا جانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔پارسی عقائد سے تعلق رکھنے والوں کو ہمیشہ سست الوجود اور اپاہج دکھانا بھارتی الیکٹرانک میڈیا اپنا فرض سمجھتا ہے۔شمال مشرقی بھارت اور چینی نسل کے افراد کو زیادہ تر زیرِ زمین سرگرمیوں میں ملوث ظاہر کیا جاتا ہے ۔جنوبی ہندوستان کے تامل باشندوں کو شیطان صفت اور حیدر آباد دکن سے متعلقہ کرداروں کو مضحکہ خیز حد تک جوکر کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔اس تناظر میں پرویز دیوان کہتے ہیں کہ وقت آگیا ہے کہ بھارتی الیکٹرانک میڈیا کی اس ثقافتی استحصال کی پالیسی کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے وگرنہ جلد یا بدیر بھارتی اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آئے گا جس کے اثرات بھارت کے حکمرانوں کو بھگتنے پڑیں گے۔اس ضمن میں یہ بات بھی خصوصی اہمیت کی حامل ہے کہ ہندوستان کی یہ ثقافتی دہشتگردی حالیہ برسوں میں مزید شدت اختیار کرتی جا رہی ہے جس کا شکار ایک جانب عام بھارتی مسلمان اور نہتے کشمیری بن رہے ہیں تو دوسری جانب نچلی ذات کے ہندو طبقات کو بڑے منظم انداز سے دیوار سے لگایا جا رہا ہے تا کہ اونچی ذات کے ہندو اپنی دانست میں اپنی صدیوں تک غلامی کا بدلہ چکا سکیں۔
توقع کی جانی چاہیے کہ انسانی حقوق کے عالمی ادارے اس امر کا ادراک کریں گے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ازم کے دعووں کے پسِ پردہ بھارت انسانی حقوق کی پامالیوں کا کس حد تک مرتکب ہو رہا ہے ۔اس صورتحال کی اصلاح کیلئے عالمی رائے عامہ نے موثر اقدامات نہ اٹھائے تو تاریخ میں عالمی چشم پوشی کو یقیناًاچھے لفظوں میں یاد نہیں رکھا جائے گا۔
*****

ہارپر اپوزیشن جماعتوں کا غصہ…؟

azam_azim

یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ بدگمانیاں دوریاں پیدا کردیتی ہیں، اِنسان کو اتنا بھی بدگمان نہیں ہونا چاہئے، جتنی کہ آج الیکشن میں ہماری ہاری ہوئیں اپوزیشن کی جماعتیں ہیں،آج سب کو چاہئے کہ جو جیت گیاہے، اُسے ہنسی خوشی اقتدار سونپ دیاجائے، اور اِسے یکسوئی سے اُمورِ مملکت چلانے دیاجائے اور اپنی ہار پر خاموش رہ کراپنی اصلاح کرتےہوئے آگے کا مثبت لائحہ عمل تیار کرناچاہئے۔اَب یہ کیا بات ہوئی ؟کہ گزشتہ دِنوں اسلام آباد میں عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اپوزیشن اتحادی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنے سربراہ شہباز شریف ، پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اپنے چیئرمین آصف زرداری اور بلاول زرداری جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے بھی اپنے سربراہ اسفندیار ولی کی شمولیت کے بغیر ، متحدہ مجلسِ عمل سمیت دیگر ہارے ہووں کی اِدھر اُدھر کی ہم خیال جماعتوں نے ا لیکشن کمیشن آف پاکستان کے دفتر کے باہر احتجاج کی ابتداء کی، پھراِس کا دائرہ کار سارے مُلک میں پھیلا دیاگیاہے اور اِس کے ساتھ ہی اپوزیشن جماعتوں نے اپنا یہ مطالبہ بھی کردیاہے کہ اسمبلی میں اِن کے حلف اُٹھانے کے ساتھ ہی الیکشن میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیشن بنایاجائے؛ جِسے اُمید ہے کہ متوقع وزیراعظم عمران خان عملی جامہ پہنانے میں پیچ و خم سے کام نہیں لیں گے اور آگے بڑھ کر ہاری ہوئی اپوزیشن جماعتوں کے غصے کو ٹھنڈااور کم کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔حالانکہ آج وطنِ عزیز میں 25جولائی 2018ء کو ہونے والے اپنی نوعیت کے صاف وشفاف اورمُلکی تاریخ کے21ارب کے مہنگے ترین الیکشن کو ہوئے کا فی دن گزرچکے ہیں، مگرجیتنے والی پارٹی کی حکومت سازی میں شکست خوردہ اپنی حرکتوں سے رغنہ ڈالنے سے باز نہیں آرہے ہیں ،ہار پراپوزیشن جماعتوں کا غصہ ہے کہ کم ہونے کو نہیں آرہاہے، اَب اپوزیشن جماعتیں فیصلہ کریں؛ کہ یہ عمران خان سے ناراض ہیں؟ یااُن کے پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے ، وزیراعظم ہاؤس میں نہ رہنے اور گورنر ہاوسز کو مفادِ عامۃ الناس کیلئے استعمال کرنے والے اعلانات اور عزم کے خلاف ہیں؟راقم کو تو ایسا محسوس ہوتاہے کہ آج جیسے طویل عرصے تک مُلکی ایوانوں پر قابض دوجماعتی ن لیگ اور پی پی کا طرزِ حکمرانی اور سیاسی ڈرامہ سمیٹ دیاگیاہے کیوں کہ آج ووٹرز نے ووٹ کو عزت دو اور نئے پاکستان کا نعرہ لگا کر پی ٹی آئی کے دامن میں اقتدار ڈال دیاہے ؛تاہم عالمی برادری کے ساتھ جدید خطوط پر استوانئے پاکستان کے خواہش مندوں کی عمران خان سے بڑی اُمیدیں وابستہ ہیں اور کیوں نہ ہوں؟کیوں کہ عمران خان نے نئے پاکستان اور اِسے مدینہ جیسی ریاست بنانے کے نام پرتو ووٹ لیئے ہیں۔آج اِسی لئے تو ہاری ہوئی اپوزیشن جماعتوں کو عمران خان کی 26جولائی 2018ء کی عوامی تقریر میں مُلک کو مدینہ جیسی ریاست بنائے جانے والے اعلان پہ زیادہ غصہ آرہاہے۔ اِس لئے کہ یہ سب ہاری ہوئی جماعتیں اچھی طرح سے سمجھتی ہیں کہ اگرآج عمران خان نے اپنی جیت کی خوشی اور جوش میں ارضِ مقدس پاکستان کو حقیقی معنوں میں مکمل اسلامی طرز پر مدینہ جیسی ریاست بنادیا۔(جیسا کہ اِس کی فطرت اور عادت میں ہے کہ یہ اللہ کی مددسے جو کرنے کا ارادہ کرلیتا ہے اُسے کرکے ہی دِکھاتاہے اور اِس میں شک نہیں ہے کہ عمران خان نے مُلک کو مدینہ طرز کی ریاست بنانے کا عزم کرلیاہے؛ تواَب سب اِدھر اُدھر والے خاطر جمع رکھیں۔ یہ اپنے کہے کو سچ کرکے ہی دِکھائے گا) تواِن سب ہارے ہووں کا جمہور اور جمہوریت کے نام پر چلنے والا کاروبار ٹھپ ہوجائے گا؛یوں یہ سب ہارے ہوئے نیچے آن گریں گے، آج اِسی لئے حالیہ الیکشن میں تمام شکست خوردہ عناصرسترسال سے اپنے نام نہاد جمہوراور جمہوری کاروبار کی اوٹ میں جاری اپنی لوٹ بازاری کوجاری رکھنے کیلئے یکدل اور یک زبان ہوکر سینے سے سینہ اور شا نے سے شانہ ملا کر کھڑے ہو گئے ہیں اور عمران خان کو اقتدار کی منتقلی کے خلاف ڈٹ کر سا منے آگئے ہیں ۔یہ کتنی عجیب بات ہے کہ آج جہاں مفاد پرست شاطر سیاسی ٹولہ جمہوریت کا لبادہ اُڑھ کراپنی ہار کی وجہ بننے والے فارم 45کی عدم دستیابی کا ڈھونگ رچاکر سارے الیکشن کوہی کالعدم قرار دلواکر اپنی مرضی کے ایک پاؤ گوشت کے چکر میں سارا بیل اور بکرا ذبح کرنا چاہ رہاہے۔ تو وہیں دوبارہ الیکشن کرانے کا سر پھوڑ جان چھوڑ مطالبہ کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹ رہاہے۔ آج یقینی طور پریہ ہاری ہوئی متحدہ اپوزیشن جماعتوں کی سُبکی ہے؛ اِنہیں جس کی وجہ سے یہ ساری ڈرامہ بازی کرنی پڑ رہی ہے، ورنہ جانتی تو یہ بھی ہیں کہ دراصل اِن سب کی پانچ سالہ وہ فرسودہ کارکردگی ہے؛ آج جوہار کی بڑی وجہ بنی ہے۔ مگر اَب یہ سب جان کر بھی نہ مانیں، تو یہ اِن کا اپنا قصور ہے ؛ بھلایہ کیسے ممکن ہوسکتاہے؟ کہ آپ عوام کے مسائل حل کرنے اور پریشانیاں دور کرنے کا وعدہ کرکے ووٹ لے کرتو اقتدار حاصل کریں،اور جب اقتدار کی چڑیاہاتھ لگ جائے، تو پھر ووٹر ز اور اِس کے مسائل و پریشانیوں کو بھول کر قومی خزا نے سے اپنے اللے تللے میں لگ جائیں۔ پھرجب سر پر انتخابات کی گھنٹی بجے تو ووٹرز کی دہلیز پر جایاجائے، توپھر ووٹر بھی کیوں کسی دھوکے بازاور آزمائے ہوئے کو ووٹ دے گا؟آپ نے جس طرح پانچ سال تک ووٹرز کو جوتے کی نوک پر رکھا اور اِسے اور اِس کے مسائل اور پریشانیوں کو لات مارا،لیکن الیکشن والے روز یہ تو ووٹرز کا حق بنتا ہے کہ اُس روز یہ تمہیں لات مارے اور تمہیں بھی اپنے جوتے کی نوک پر رکھ کر تم سے فٹبال کھیلے..!!دیکھ لیا حالیہ عام انتخابات میں ووٹرز نے پلٹ پلٹ کر اقتدار میں آنے والی دوجماعتوں ن لیگ اور پی پی پی کے بجائے پی ٹی آئی کو جیتا کر دونوں کو اِن کی اوقات بتادی ہے،اگر یہ ابھی اپنے گریبانوں میں نہ جھا نکیں اور اپنا محاسبہ نہ کریں تو پھریہی اُمید ہے کہ آئندہ بھی اِن کا حشر ایسا ہوگا ۔بہر کیف ، اِس سے اِنکار نہیں ہے کہ عمران خان کو یہ کامیابی اِن کی مستقل مزاجی عزم و استقلال کے بدولت نصیب ہوئی ہے،راقم کو یقین ہے کہ اِن کی یہی مستقل مزاجی اور پُراعتمادی اقتدار کے سیج کے کانٹوں کو بھی گل و گلزار میں بدلنے کی پوری طرح کارآمد ثابت ہوگی اور اِن کی شخصیت مُلک کو درپیش معاشی بحرانوں اور عالمی سطح پر پریشانیوں کے شکنجے سے نکال کرترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کردے گی ۔درحقیقت عمران خان، قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے خوابوں کی تعبیر ہیں ،جواِن کی شکل میں ستر سال بعد مُلک اور قوم کو نصیب ہوئی ہے،اُمید ہے کہ عمران خان اقتدارکے بوچھ کو اپنی صلاحیتوں سے اُٹھالیں گے اور مُلک اور قوم کی بحرانوں کے طوفان اور سمند ر کی لہروں میں ہچکولے کھاتی ناؤ کو بچاکر نکال لیں گے اور کنارے پر لگا دیں گے۔اَب اِس پر اِن سے جلنے والے حاسدیں جلیں تو بھلے سے جلیں۔!

قومی اسمبلی اجلاس طلب،حلف برداری، سپیکر و ڈپٹی سپیکر کا انتخاب

adaria

صدر مملکت ممنون حسین نے قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس13 اگست کو طلب کرلیا جبکہ گورنر نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس بھی اسی روز طلب کیا ہے، قبل ازیں نگران وزیراعظم جسٹس(ر) ناصر الملک نے صدر مملکت کو سمری ارسال کی تھی جس میں اجلاس طلبی کی سفارش کی گئی تھی، قومی اسمبلی کے منعقدہ اجلاس میں نئے ارکان حلف اٹھائیں گے، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہوگا جبکہ قائد ایوان کا چناؤ 14اگست کے بعد متوقع ہے، انتقال اقتدار کا مرحلہ حتمی مرحلہ کی طرف رواں دواں ہے، قومی اسمبلی میں اس وقت پی ٹی آئی ارکان کی تعداد 180 جبکہ پنجاب میں186 تک پہنچ چکی ہے، آزاد ارکان، جی ڈی اے اور دیگر ارکان کی حمایت سے قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی پوزیشن مستحکم دکھائی دیتی ہے جس سے عمران خان آسانی سے وزیراعظم منتخب ہو جائیں گے، گزشتہ روز بنی گالا میں سندھ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عمران خان کا کہنا تھا کہ تلواریں نیام میں رکھیں حکومت بنانی اور کرنی ہے، عمران خان کی یہ سوچ اس امر کی آئینہ دار ہے کہ وہ ملک و قوم کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کیلئے پرعزم ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے کہا کہ ہم صدر مملکت ممنون حسین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ایک دن کے لیے اپنا بیرونی دورہ منسوخ کردیں تاکہ عمران خان وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا سکیں۔ ہماری کوشش ہے کہ عمران خان جلداز جلد حلف اٹھائیں اور الیکشن کمیشن کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے الیکشن میں مبینہ دھاندلی پر احتجاج کرنا ان کا جمہوری حق ہے تاہم ان کی حکومت کوشش کرے گی کہ اقتدار میں آکر اپوزیشن کے ساتھ مل کر انتخابی اصلاحات کو یقینی بنائیں گے تاکہ آئندہ انتخابات میں سقم کی گنجائش کم ہو۔ دھاندلی سے متعلق اپوزیشن جماعت کی شکایت پر بھرپور قانونی مدد فراہم کریں گے تاہم حلقے کھلوانا اور دوبارہ گنتی کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ الیکشن کمیشن کے قوائد بہت پرانے ہو چکے ہیں جس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں حلف اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ قوموں کو گرداب سے نکالنے اور مختلف چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سب سے بڑا کردار قیادت کے اخلاص اور پختہ عزم کا ہوا کرتا ہے، نئی قیادت سے عوام کی بہت سی امیدیں وابستہ ہیں اور نئی قیادت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں اور اپنے پارٹی منشور پر عمل پیرا ہوکر ملک کو بحران سے نکالے ، ترقی و خوشحالی کیلئے عملی اقدامات کرے۔ حکومت کے انداز فکر اور عملی اقدامات سے ہی عوام کی حالت بدلی جاسکتی ہے، امید ہے کہ نئی قیادت ملک کو بحرانوں سے نکالنے میں کامیاب قرار پائے گی، یہاں اپوزیشن کا بھی اہم کردار ہوگا، سیاسی تدبر، بصیرت اور رواداری کے ذریعے ہی سیاسی استحکام پیداہوسکتا ہے اس وقت سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔ مل جل کر برداشت کے جمہوری کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ترقی و خوشحالی کی راہیں کھل پائیں۔ ماضی کی طرح ایوانوں کو مچھلی منڈی نہیں بننا چاہیے ، سیاست میں برداشت کے رجحان کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، اپوزیشن پرامن احتجاج کرے لیکن گالم گلوچ کی سیاست سے گریز کیا جائے، حکومت کے اچھے اقدام کو سراہنا چاہیے اور جن اقدام پر اپوزیشن کے تحفظات ہوں ان پر مثبت انداز میں تنقیدکی جائے تاکہ حکومت اصلاح کر پائے۔سیاست میں تناؤ جمہوریت کیلئے سود مند قرار نہیں پاسکتا، ماضی کے تجربات اس بات کے آئینہ دار ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن کے لڑائی جھگڑوں سے جمہوریت ہی کو کاری ضرب لگی ، ترقی و خوشحالی کی راہیں متاثر ہوئیں،اب اس پریکٹس کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے ایک نئے عزم کے ساتھ ملک کو مسائل کے گرداب سے نکالنا ہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے۔
نندی پور منصوبہ، تاخیر پر سپریم کورٹ برہم
سپریم کورٹ نے نندی پور کرپشن کیس میں سابق چیئرمین نیب قمر زمان چودھری کو طلب کر لیا۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے نندی پور منصوبہ کرپشن کیس کی سماعت کی،چیف جسٹس ثاقب نثارنے نیب کی تحقیقات میں تاخیر پر اظہاربرہمی کیا،سپریم کورٹ نے نیب پراسیکیوٹرجنرل کوپیش ہونے کا حکم دے دیا۔نندی پورمنصوبے پررحمت حسین جعفری کمیشن کی رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق قومی خزانے کو 113 ارب روپے کانقصان ہوا۔عدالت نے کہا کہ جس شخص کی رائے سے منصوبہ تاخیرکاشکارہوااس پرریفرنس کیوں نہیں بنا؟۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جوریفرنس بنتے ہیں بنائیں ورنہ فارغ کریں،2012 سے مقدمہ زیرالتواہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سابق چیئرمین اورپراسیکیوٹرجنرل نیب کو بلائیں،اس مقدمے کونمٹانے کیلئے ٹائم فریم دیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اہم کیس الماریوں میں رکھ کر بھول گئے ،کیا نیب کو کھلی چھٹی دے دیں ؟۔سابق چیئرمین نیب کیا کرتے رہے ہیں،غلط تفتیش پر تحقیقاتی افسر کیخلا ف کارروائی ہو گی ،عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل اور نیب کے سابق چیئرمین قمر زمان چودھری کو طلب کر لیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کارکردگی دکھائے ،ریفرنس بنتا ہے تو بنائیں لوگوں کو سولی پر نہ لٹکائیں ،سالوں سے تحقیقات چل رہی ہیں نیب نے کچھ نہیں کیا،پتہ نہیں نیب کو شواہد ثابت کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت نوٹس لے تو نیب کو گیئر لگ جاتا ہے۔بعد ازاں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے چیمبر میں نندی پور منصوبہ کیس کی سماعت کی،عدالت نے نندی پور منصوبے کی تحقیقات6 ہفتے میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔
سعودی حکومت کا قرض دینے کا گرین سگنل
امریکہ نے قرض کے حصو ل کیلئے پاکستان کی راہ میں روڑے اٹکائے تو اسلامی ملک امداد کیلئے آپہنچا، سعودی عرب نے اسلامی ترقیاتی بینک کو4 ارب ڈالر سے زائد قرض دینے کا گرین سگنل دیدیا۔ جدہ میں قائم بینک نے عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد اسلام آباد کو قرضہ دینے کیلئے رضا مندی ظاہر کردی ہے ۔متوقع وزیر خزانہ اس قرضے کو قبول کرلیں گے ۔اس سلسلے میں کاغذی کارروائی جاری ہے اور اسلامک ڈویلپمنٹ بینک اس قرضے کی منظوری دینے کیلئے پاکستانی حکومت کے چارج سنبھالنے کا انتظار کررہا ہے ۔رواں معاشی سال میں یہ قرضہ 25بلین ڈالر کے فنانسنگ گیپ کو مکمل نہیں کرسکتا لیکن اس سے سہارا ملے گا ۔وزارت اعظمیٰ سنبھالنے کے بعد عمران خان کیلئے سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ اپنے اخراجات کے مسائل کو متوازن کیا جا سکے ،بہت زیادہ در آمد ات اور جمود کا شکار برآمدات مسائل کی وجہ بن رہی ہے ۔اس قرضے سے درآمد ہونے والے تیل کی قیمت ادا کرنی ہے ۔یہ قرضہ سعودی حکومت کی حمایت سے حاصل کیا جا رہا ہے کیونکہ سعودی عرب پاکستان کو موجودہ مسائل سے نکالنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے ۔پاکستان کی جانب سے سعودی عرب میں فوجی دستے بھیجے جانے کے بعد اب پاکستان اور سعودی عرب قریب آگئے ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کو مالی بحران سے نکالنے میں اپنا کردارادا کرنا چاہتا ہے جو لائق تحسین امر ہے۔

Google Analytics Alternative