کالم

کتاب ناموس رسالتؐ مغرب اور آزادی اظہار

رسولؐاللہ ،ختم نبوتؐ اور ناموس رسالتؐ کے بے تیخ سپاہی اور قلمی جہاد میں ہمہ تن مصرف جناب محمد متین خالدنے نہایت مہربانی فرماتے ہوئے ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی اپنی نئی شہر آفاق کتاب’’ناموس رسالتؐ مغرب اور آزادی اظہار‘‘ مجھے بھیجی۔ اس سے قبل میں ان کی کئی کتابوں پر تبصرے کر چکا ہوں جو پاکستان میں پرنٹ میڈیا میں شائع ہو چکے ہیں۔کتاب’’ ناموس رسالت مغرب اور آزادی اظہار‘‘ محمد متین خالد صاحب کی یہ پہلی کتاب نہیں اس سے قبل اس نہات ہی اہم مضمون پر درجنوں کتابیں تصنیف کر چکے ہیں۔کتاب پر تبصرے سے پہلے ختم نبوتؐ پر بات کرتے ہیں۔یہ دن تاریخ اور خاص کر تاریخ اسلام میں سنہری حرفوں سے لکھنے جانے کے قابل ہے۔اس دن پاکستان کی پارلیمنٹ نے جمہوری طریقے سے مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کو قرآن حدیث کی روشنی میں باطل ثابت کیا۔پاکستان کی پارلیمنٹ میں ایک طرف مولانا محمود، پروفیسر غفور اور دوسری طرف جھوٹی نبوت کے دعویدار کے نمائندے شریک ہوئے۔دونوں طرف سے کئی دن کی بحث کے بعدقادیانی ہار گئے اور پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانی جھوٹے نبی کی نبوت کو رد کر دیا۔ قادیانیوں کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے جمہوری طریقے سے بحث مباحثے کے بعد غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ اس دن سے پاکستان اور مسلم دنیا 7 ستمبر کو یوم ختم نبوتؐ مناتی آرہی ہے۔ کاذب مرزا غلام محمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اور اپنی کتابوں میں لکھا کی صرف قادیانی مسلمان ہیں باقی ساری دنیا کے مسلمان غیر مسلم ہیں۔پھر عام مسلمانوں کودھوکہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ قادیانی بھی مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں۔جبکہ یہ بات نہیں قادیانی غیر مسلم اور کافر ہیں۔ہاں ان کو مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق حاصل ہیں۔مگر آج تک قادیانی عام مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہوئے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ اپنے آپ کو اقلیت نہیں مانتے اور ڈھٹائی باقی مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ عجیب قسم کی ڈھگی استعمال کر کے سادہ مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ قادیانیت کے سفید جھوٹ، دھوکہ اور ٹھگی سے عام مسلمانوں کو بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔محمد متین خالد صاحب نے اپنی نئی کتاب ’’ناموس رسالت مغرب اور آزادی اظہار‘‘ میں عیسائی ملکوں کی منافقت کا پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ اصل میں جب انگریزوں نے برصغیر میں مسلمانوں سے سازش کر کے حکومت پر قابض ہوئے تو مسلمانوں زیر نگین رکھنے کے لیے تدبریں کرتے رہتے تھے۔برصغیر سے انگریز کے نمائندے نے برطانیہ اپنی حکومت کو ایک تدبیر لکھی کہ برصغیر کے مسلمان پیرپرستی اور روحانیت کی طرف مائل ہیں۔ ان پر غلبہ مستحکم کرنے کے ان ہی میں سے بزور نبی پیدا کیا جائے تو برصغیر میں مسلمان کو قابو رکھا جا سکتا ہے۔ یہ تحریر آل انڈیا آفس لابرئیری میں اب بھی موجود ہے۔ جو چائے اس کا مطالعہ کر سکتا ہے۔ عیسائی دنیا نے پوری دنیا میں اور برصغیر میں قادیانیوں کی ہر طرح سے مدد اور حمایت کا بیڑا اُٹھایا ہوا ہے۔ آج بھی برطانیہ میں قادیانیوں کا ہیڈ کواٹر ہے۔قادیانیت پھیلانے کیلئے سیٹ لائٹ جینلز کام کرے رہے ہیں۔ نیٹ پر لفظ اسلام کلک کریں تو سچے اسلام کے بجائے جھوٹی نبوت پر مبنی قادیانیوں کی کتابوں کی لسٹ مل جاتی ہے۔ اسرائیل میں قادیانی کا مشن اب بھی کام کر رہا ہے۔مصنف نے عرق ریزی ثابت کیا ہے کہ عیسائی ملک ہمارے آخری نبی حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخیاں کرتے رہتے ہیں۔ آپ ؐ کے کارٹون بناتے ہیں اور بے شرمی سے کہتے ہیں کہ یہ اظہار آزادی ہے۔ منافقت کی حد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی تو قابل جرم ہے۔ اس کیلئے قانون بھی ہے۔اسی طرح یورپ کے دس ملکوں میں یہودیوں کی جھوٹی گھڑی ہوئی ہولوکاسٹ کہانی پر بھی بات کی جائے تو قابل گرفت ہے اور اس پر سزا ہے ۔محمد متین خالد نے عیسایوں کی منافقت اور اسلام دشمنی کا پردہ چاک کرنے کیلئے پاکستان میں رسول اللہﷺ کے دفاع میں لکھے گئے کالم نگاروں کے سیکڑوں مضامین کو اس کتاب میں جمع کر کے پاکستانی عوام کیلئے ایک ذخیرہ اس کتاب میں جمع کر دیا ہے۔ مصنف نے اس کام کے لیے درجوں کتابوں کے مطالعے کا نچوڑ بھی بیان کر دیا ہے۔ مصنف نے یہ بھی گھوج لگایا کی کس طرح عیسائی اور یہودی کے نمائندے ’’مولی نورس‘‘ انٹر نیٹ پر جاری ۲۰۰ ؍ قسطوں کے پروگرام میں دوسرے لوگوں کے ساتھ پیارے پیغمبرؐ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔ مسلمان حکومتوں کو اس کی روک تھام کی کوشش کرنی چاہیے۔لکھتے ہیں اسرائیلی پارلیمنٹ نے قانون پاس کیا ہے کہ لوؤڈ اسپیکر پر اذان نہیں دی جاسکتی۔ کیا یہ مسلمانوں کی اظہار آزادی پر قدغن نہیں۔ امریکا میں ٹرمپ کہتا ہے کہ مسلمانوں کو امریکا سے جانا ہو گا۔امریکا میں کوریئر کمپنی کے مسلمان ملازم کو ڈیوٹی کے دوران نماز پڑھنے پر ملازمت سے بے دخل کر دیا گیا۔مسلمان پولیس افسر کو داڑھی ختم نہ کرنے پر ملازمت سے معطل کر دیا گیا۔برطانیہ میں دو بچوں کو داڑھی نہ منڈوانے پر اسکول سے نکال دیا۔ جرمنی میں مساجد پر پٹرول بموں سے حملہ کیا گیا۔ ہالینڈ نے نے گستاخانہ شائع گئے۔کینیڈا کے شہر کھیوبک کیا میں ایک مسجد پر فائرنگ سے36 نمازی شہید ہوئے۔ گوانتا موبے جیل میں قرآن شریف کے اوراق کو فلش میں استعمال ی کیا گیا۔یورپ کے کئی ملکوں میں اسکاف پر پابندی لگائی گئی۔منصف لکھتا ہے کہ یہ مغرب کا اظہار آزادی ہے۔ مصنف نے اس قسم کے سینکڑوں واقعات اپنی کتاب میں درج کیے ہیں۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کامسلمانوں کے ساتھ تعصب کرتے ہیں۔صاحبو! ایک مختصر سے اخباری کالم میں محمد متین خالد صاحب کی سالوں کوشش کو سمویا نہیں جاسکتا۔مسلمان رسولؐ اللہ سے گہری محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔ رسولؐ اللہ سے دشمنی کرنے والوں کے عزاہم سے روشناس ہونے کے لیے محمد متین خالد صاحب کی کتاب ’’ ناموس رسالتؐ مغرب اور آزادی اظہار‘‘ کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ ہماری لائبریریوں کے اندر اس کتاب کا ہونا بھی انتہائی مفید ہو گا۔

*****

ٹارگیٹڈ آپریشن

Mian-Tahwar-Hussain

قرآن کریم میں سورۃ فیل جو کہ مکی ہے یعنی جو مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اس میں پانچ آیات ہیں اور اس کا علما نے یوں ترجمہ کیا ہے “کیا آپ نے دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا۔ کیا ان کے مکر کو بے کار نہیں کر دیا اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے جو انہیں مٹی اور پتھر کی کنکریاں مار رہے تھے پس انھیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا”اس آیات مبارکہ کی شرح کچھ اس طرح ہے کہ حبشہ کے بادشاہ کی طرف سے یمن میں ابرہہ الاشرام گورنر تھا اس نے صنا میں ایک بہت بڑا گرجا گھر(عبادت خانہ) تعمیر کیا اور کوشش کی کہ لوگ خانہ کعبہ کے بجائے عبادات اور حج، عمرہ کے لیئے ادھر ایا کریں۔ یہ بات اہل مکہ اور وہاں رہنے والے دیگر قبائل عرب کیلئے سخت ناگوار اور ناقابل قبول تھی چناچہ کسی شخص نے ابرہہ کے بنائے ہوئے عبادت خانوں کو غلاظت سے بھر دیا جسکی اطلاع اسکو کردی گئی کہ کسی شخص نے تمہارے بنائے ہوئے عبادت خانہ کو ناپاک کر دیا ہے۔ اسپر ابرہہ نے خانہ کعبہ کو نعوذباللہ ڈھانے کا عزم کیا اور ایک لشکر جرار لیکر نکلا کچھ ہاتھی بھی اس کے ساتھ تھے جب یہ لشکر مکہ کے قریب پہنچا تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے دادا جو مکہ کے سردار تھے ان کے اونٹوں پر قبضہ کر لیا جس پر حضرت عبدالمطلب نے ابرہہ سے کہا تو میرے اونٹ واپس کردے تم خانہ کعبہ پر حملے کی غرض سے آئے ہو اپنے گھر کا محافظ خود اللہ تعالی ہے وہی اسکی حفاظت بھی کرے گا۔ جب ابرہہ کا لشکر وادی محسر کے پاس پہنچا تو اللہ تعالی نے پرندوں (ابابیل)کے غول بھیج دیے جن کی چونچوں اور پنجوں میں کنکریاں جو آگ میں پکی ہوئی تھیں ابرہہ کے لشکر پر گرانا شروع کردیں لشکر کے سپاہیوں کا جسم اس طرح بکھر جاتا جس طرح بھوسہ ہو یہی حال ان کے ہاتھیوں کا بھی ہوا یہ اللہ کی طرف سے ابرہہ کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن تھا۔ اب ذرا غور فرمائیں چھوٹے چھوٹے پرندوں کو اللہ نے حکم دیا اور انہوں نے حکم کی تعمیل کی۔ پرندوں کی چونچ اور پنجوں میں کنکریاں تو چھوٹی چھوٹی ہوں گی لیکن انہوں نے ایٹم بم کا کام کیا یہ اللہ کی تدبیر تھی۔ اللہ مخلوق سے کیسے کام لیتا ہے ہم اپنی مشاہداتی زندگی میں غور نہیں کرتے۔ یہ واقعہ سرکاردو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے کا واقعہ ہے اور سور کی ابتدا ہو رہی ہے کیا آپ نے نہیں دیکھا کے تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا۔ سرکاردو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا نور کائنات کے ظہور سے پہلے تخلیق ہوا اس لئے تو آپ ﷺ کو یاد کرایا جا رہا ہے یعنی موجودگی کا احساس دلایا جارہا ہے سبحان اللہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ کے درمیان راز کی باتوں کو سمجھنا مشکل ہے بس تسلیم ہے جو ہوا سچ ہے اور جو ہو رہا ہے وہ بھی عین سچ اور حق ہے۔ ماننا پہلے ہے جاننا بعد کی بات ہے۔ اللہ جس کو چاہے اپنے فضل کرم سے جتنا معرفت کا علم عطا فرما دے۔ قرآن پاک میں جو واقعہ بیان ہوا غالباً وہ چودہ یا پندرہ سو سال پرانا واقعہ ہوگا۔ غور فرمائیں موجودہ صدی کے عالمی نظام نے مخالفین سے نمٹنے کیلئے ایسا آسمانی طریقہ ایجاد کیا ہے کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے اس کا تجربہ لاطینی امریکہ کے ملک وینزویلا میں کیا گیا۔ چاراگست کو وینزویلا کے دارالخلافہ کراکس میں ملک کے صدر نکولس ما وور فوجی گارڈز کے حلقے میں ایک فوجی تقریب سے خطاب کر رہے تھے کہ اس دوران لائف نشریات یکدم بند ہوگئیں تمام افراد کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں وہاں ایک ڈرون اڑتا ہوا نظر آیا اور صدر کے سامنے ایک خوفناک دھماکے سے پھٹ گیا بقول صدر یہ انکی ہلاکت کیلئے ٹارگٹ شدہ حملہ تھا۔ اس حملے میں اگرچہ صدر تو بچ گئے لیکن اس واردات میں وہاں موجود سات نیشنل گارڈز زخمی ہو گئے۔ وینزویلا کے صدر نے پڑوسی ملک کولمبیا پر حملے کا الزام لگا دیا اور کہا کہ اس قاتلانہ حملے کی مالی مدد کرنے والے فلوریڈا میں بیٹھے ہیں صدر ٹرمپ اس کا نوٹس لیں اور ان دہشت گردوں کی اپنے ملک میں موجودگی کے خلاف کارروائی کرکے انجام تک پہنچائیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ نئے عالمی نظام نے امریکہ کے نافرمان حکمرانوں اور اقوام کو سزا دینے کیلئے جدید طریقے وضع کر لئے ہیں کہ نہ تو یہ ایجادات کسی ملک کی سرحدوں کو پار کرنے میں نہ کوئی رکاوٹیں ہیں اور نہ ہی ٹارگٹ کے ارد گرد انسانی اور جدید سیکیورٹی کے مسلح حصار کی کوئی حیثیت ہے ٹارگٹ کے بارے میں صرف بائیو میٹرک اور دیگر ضروری ڈیٹا کی ضرورت ہے اس ڈیٹا کی حامل شخصیت کو سرحد پار کرکے تلاش کرنا ڈراؤن کا کام ہے۔ ڈرونز کا وسیع استعمال اور دہشت گردی کو ختم کرنے میں اس کا رول تمام دنیا جانتی ہے۔ اس کا استعمال دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ جو افغانستان میں لڑی جا رہی ہے بھرپور طریقے سے ہو رہا ہے جس کے ذریعے وہاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور طالبان کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ جدید ڈرونز مطالعاتی اور تجرباتی نوعیت کے بھی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف بھی ہیں۔ اس ایجاد نے امریکہ کی اہمیت میں نہ صرف اضافہ کیا بلکہ اس کی فوقیت اور برتری بھی مزید مستحکم کردی۔ اس صنعت میں روز افزوں ترقی ہورہی ہے۔ ڈرونز کا کمرشل استعمال بھی ہو رہا ہے بڑے اجتماعات کی فضائی فوٹوگرافی اور پھر جاسوسی اور دیگر مقاصد کے حصول کیلئے بھی ڈرونز تکنیک زور پکڑ رہی ہے۔ آپ کو یاد ہو گا افغانستان میں امریکہ نے ملا منصور کی ٹارگیٹڈ ہلاکت کی۔ پاک افغان سرحد پر گھروں میں چھپے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات اور ایجادات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بڑی طاقتیں اپنی سائنسی تحقیقات کے ذریعے دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں کس قدر آسانی سے جھانک سکتی ہیں اور دخل اندازی سے بھی انہیں کوئی روک نہیں سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کمزور اور پسماندہ معاشروں کیلئے مزید بے بسی اور تباہی کا پیغام ہے تحقیق اور ترقی پر کسی کی اجارہ داری نہیں لیکن اس کیلئے علم کوشش ذرائع اور وسائل کا ہونا بہت ضروری ہے دنیا تحقیق میں مصروف ہے لیکن میرے اللہ کریم نے اس ڈراؤن کا استعمال پندرہ سو سال پہلے کردیا اور انسان اس صدی میں تحقیق کے مراحل طے کرنے کے بعد ایجادات کر رہا ہے۔ ذرا سوچیں پرندوں کو اللہ نے حکم دیا اور انہوں نے صرف ابرہہ کے لشکر پر ہی کنکریاں برسائیں ان کو معلوم تھا کہ یہ لشکر کتنا ہے اس کا محل وقوع کیا ہے اور کتنی بلندی سے ان پر پتھر برسانا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں قرآن کریم کو بنیاد بناکر تحقیق کی جا رہی ہے وہ مستفیض ہو رہے ہیں اور ہم جو اس الہامی کتاب کے وارث ہیں اس پر غوروفکر کرنے کی زحمت نہیں کر رہے۔ صرف ثواب حاصل کر رہے ہیں۔ تحقیق کفار کر رہے ہیں اللہ ہمیں قرآن کو پڑھنے سمجھنے اور اس میں چھپی تعلیم کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر۔۔۔نیاپاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی قائم

adaria

چھت اورروزگارہماراہمیشہ سے سب سے بڑا مسئلہ رہاہے ،نوجوان تعلیم تو حاصل کرلیتے ہیں لیکن روزگار کے لئے دربدردھکے کھاتے رہے ہیں اوراگر روزگارمل بھی جائے توساری عمراپنی سرکے اوپرایک چھت قائم کرنے کے لئے اپنی زندگی تیاگ دیتے ہیں۔پاکستان تحریک انصا ف کی حکومت نے جہاں 100دن کے اندر دیگراعلانات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کاوعدہ کیاتھا وہاں پربغیر چھت کے شہریوں کے سرپرچھت دینے کابھی وعدہ کیاتھا ،سو اسی وعدے کونبھاتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ روز پچاس لاکھ گھروں کے منصوبے کاافتتاح کرتے ہوئے نیاپاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے نام سے ادارہ قائم کردیا ہے، اس کے سات اضلاع میں پائلٹ پروجیکٹ کی ابتداء ہوگی، 60دن میں رجسٹریشن بھی مکمل کرلی جائے گی۔ وزیراعظم نے اس منصوبے کو بذات خود مانیٹرکرنے کی ذمہ داری لی ہے تاکہ صحیح طرح یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔ منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ،حوصلہ رکھیں قوموں کی زندگی میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے ان مشکل حالات سے قوم وملک کو انشاء اللہ نکال لوں گا۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے کوئی قیامت نہیں آگئی، جہاں تک پچاس لاکھ مکانوں کی تعمیر کامعاملہ ہے تو اگر دیکھاجائے تو وزیراعظم کے ماضی کاجائزہ لیتے ہوئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ ان کاعزم ہمیشہ مصمم رہا اور ہر اس ناممکن چیز کو ممکن کرکے دکھایا جس کے بارے میں لوگ انہیں مشورہ دیتے رہے کہ یہ کام نہ کریں نہ ہوسکے گا۔زندگی میں جب وہ کرکٹربننے نکلے تو اس میں رکاوٹیں آئیں ،جہد مسلسل رکھی ،پختہ عزم کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو صرف بہترین کرکٹر ہی نہیں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بنے اوراس کے بعدپاکستان کو ورلڈچمپئن بنایا، شوکت خانم کاپراجیکٹ شروع کیاتو اس میں بھی دوستوں نے کوئی مثبت مشورہ نہ دیالیکن پھر کچھ کرنے کی امید لیکر عمران خان آگے بڑھے اور ایک دن ایسا آیا کہ پاکستان شوکت خانم ہسپتال بھی بن گیا۔ یہ سفر یہاں نہیں رکتا سیاست کے میدان میں آئے تو دہائیوں کاسفرطے کرتے ہوئے اس ملک میں دوپارٹی سسٹم توڑ کروزیراعظم بنے، جیسے ہی وہ وزیراعظم بنے تو انہیں مسائل درپیش ہوناشروع ہوگئے لیکن ابھی تک ان کایقین محکم مضبوط ہے اور وہ پُرامید ہیں کہ انشاء اللہ کامیاب ضرور ہوجائیں گے ۔یہ پچاس لاکھ مکان عوام کو دینے سے صرف چھت ہی نہیں ملے گی اس میں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے، شرح نمو میں اضافہ ہوگا غرض کہ ایک مکان کی تعمیر میں بہت سارے شعبے شامل ہوتے ہیں ان سب کے کاروبار کو فروغ ملے گا ،غریب کو چھت میسر ہوگی او رحکومت آسان اقساط پریہ مکان دے گی۔وفاقی دارالحکومت کا جوہمیشہ سے دیرینہ مسئلہ رہا ہے کہ کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق ملیں تووزیراعظم نے یہ بھی کہہ دیا کہ انہیں مالکانہ حقوق دیئے جائیں گے۔وزیراعظم نے کہاکہ فنانسنگ سے متعلقہ رکاوٹیں دور کرنے کے لئے 60روز میں نیشنل فنانشل ریگولیٹری ادارہ بھی قائم کیاجارہاہے۔ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان میں گھر بنانے کی سکیم اس لئے ناکام ہوتی آئی ہے کہ پہلے گھربنائے جاتے ہیں اور پھرلوگوں کو ٹھہرایاجاتا ہے لیکن ہم پہلے ساٹھ روز میں رجسٹریشن کے عمل سے گزریں گے اور طلب کے مطابق گھرتعمیر کئے جائیں گے۔یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ پہلے اندھادھندپراجیکٹ بناکر پھران کو فلوٹ کیاجاتاتھا لیکن یہ اقدام احسن ہے کہ جس حساب سے ڈیمانڈ آئے گی اس حساب سے حکومت مکان بناکردیناشروع ہوجائے گی۔اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنارکردیاگیاتو یقینی طورپرحکومت کانام سنہری حروف میں لکھاجائے گا۔

پاک فوج میں تقرریاں وتبادلے
پاک فوج میں سا ت اعلیٰ ترین عہدوں پر تقرریاں اورتبادلے کئے گئے ہیں جس میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کر دیا گیا ہے۔ فرنٹیئر فورس رجمنٹ کے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) رہ چکے ہیں اور اس سے پہلے انہوں نے سیاچن میں ڈویژن کمانڈ کی اور وہ آپریشنل ایریا میں بریگیڈ کی کمان بھی سنبھال چکے ہیں۔عاصم منیر پاکستان ملٹری اکیڈمی یعنی پی ایم اے کے فارغ التحصیل نہیں بلکہ انہوں نے آفیسرز ٹریننگ اسکول سے فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل ندیم ذکی کور کمانڈر منگلا ، جبکہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالعزیز ملٹری سیکرٹری جی ایچ کیو تعینات کیے گئے ہیں ۔لیفٹیننٹ جنرل اظہر صالح عباسی چیف آف لاجسٹکس، لیفٹیننٹ جنرل محمد عدنان وائس چیف آف جنرل اسٹاف اور لیفٹیننٹ جنرل شاہین مظہر کور کمانڈر پشاور تعینات کیا گیا ہے۔پا ک فوج کی تقرریوں پرروزنیوز کے پروگرام سچی بات میں چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور سینئر اینکرپرسن ایس کے نیازی نے کہا ہے کہ پاک فوج میں مکمل نظام ہے وہاں میرٹ پر تقرریاں ہوتی ہیں،لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیرپہلے ڈی جی ایم آئی رہ چکے ہیں انکی بطور ڈی جی آئی ایس آئی تعیناتی سے بہترین رزلٹ آئیں گے۔ڈی جی آئی ایس آئی عاصم منیرکی تعیناتی کو انتہائی احسن اقدام دیاجارہاہے ۔ پاک فوج نے ہمیشہ وطن عزیز کے لئے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں اورآئی ایس آئی ہماری فوج کے ماتھے کاجھومرہے ہم سب اس پرفخر کرتے ہیں پوری دنیا اس کی کارکردگی کی معترف ہے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیرکی تعیناتی کے بعد اورمزیدبہتری آئے گی۔
غیرملکی سرمایہ کاروں کے لئے ون ونڈوآپریشن ہوناچاہیے
پاکستان میں ا س وقت غیرملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ،وقت کابھی یہ تقاضا ہے کہ معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے غیرملکی سرمایہ کار ہمارے وطن میں آئیں اور مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں اس سلسلے میں انڈونیشیا کے شہر بالی میں وزیر خزانہ اسد عمر نے انڈونیشیا کے ہم منصب سری مالیانی اداوتی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے مابین تجارت کوفروغ دینے پر تبادلہ خیال کیاگیا۔اس موقع پروزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے تجارتی تعلقات کو مزید بڑھنا چاہیے۔ انڈونیشیا پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسیع کرنا چاہتا ہے اور انڈونیشیا پاکستان کو مکمل سپورٹ کرنے کیلئے تیار ہے۔ ملاقات میں دونوں ملکوں نے ترجیحی تجارت کے معاہدے کا ازسر نو جائزہ لینے پر بھی اتفاق کیا جبکہ وزیر خزانہ اسد عمر نے عالمی بینک کے صدر جم یانگ کم سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور عالمی بنک کے مابین اشراک پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ اور عالمی بینک کے صدر کی ملاقات میں حکومتی وژن اور ترجیحات پر بات چیت ہوئی۔امیدواثق کی جاتی ہے کہ حکومتی کاوشوں کی وجہ سے غیرملکی سرمایہ کاری ہمارے ملک میں آئے گی اس کے لئے ضروری ہے کہ امن وامان قائم رہے اور ہمارے ملک سے بیرو ن دنیا کے لئے ہرجانیوالاپیغام مثبت ہوناچاہیے اور جو بھی غیرملکی سرمایہ کار آئیں حکومت کافرض بنتا ہے کہ ان کے لئے سہولیات فراہم کرے اور ممکن ہوسکے توون ونڈو آپریشن ہوناچاہیے تاکہ وہ دربدرخوارنہ ہوتے پھریں۔

بلوچستان بے پناہ وسائل سے مالامال

بلوچستان پاکستان کاسب سے بڑا اور اہم صوبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان بے پناہ وسائل اور بلوچ نوجوانوں کو صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ افواج پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود ملک کے دیگر اداروں کے ساتھ ملکر ہمیشہ کوشش ہے کہ معاشی اور معاشرتی ترقی کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ بلوچستان کی ترقی اصل میں پاکستان کی ترقی ہے اور پاک فوج اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے۔بلوچستان میں پاک فوج کے مثبت اقدامات سے نہ صرف بلوچ عوام فائدہ اٹھا رہے ہیں بلکہ باغی بلوچی بھی یہ سوچنے پر مجبو ر ہوگئے ہیں کہ ہمارا مستقبل پاکستان ہی سے وابستہ ہے۔ پاک فوج میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی شمولیت بلوچستان کی غیور عوام کی دفاع پاکستان سے گہری وابستگی کا مظہر ہے۔ افواج پاکستان نے قوانین میں نرمی کرکے بلوچستان کے نوجوانوں کو پاک میں بھرتی کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے۔ یہ امر ہمارے لئے حوصلہ افزا ہے کہ 2010 سے لے کر اب تک 20 ہزار کے قریب بلوچ نوجوانوں نے پاک فوج میں شمولیت جب کہ 2 ہزار نوجوانوں نے پاک فوج کی سرپرستی میں آئی ایس ایس بی کی تربیت بھی حاصل کی۔ پاک فوج کی جانب سے بلوچستان میں تعلیمی ترقی اور پسماند گی کو دور کرنے کیلئے مختلف منصوبوں پر بڑی تیزی سے کام جاری ہے۔ ان منصوبوں میں ملٹری کالج سوئی، بلوچستان پبلک سکول سوئی کوئٹہ، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، گوادر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، چاما لنگ بینیفشر ایجوکیشن پروگرام، بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن، آرمی انسٹیٹوٹ ان مینرولوجی، اسسٹنس ٹو منسٹری آف ایجوکیشن، بلوچ یوتھ انوائرمنٹ ان آرمی، ڈیرہ بگٹی ڈویلپمنٹ پروجیکٹ، ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کوہلو اینڈ ناصر آباد ڈویژن اور پاکستان آرمی اسٹنس ان ڈویلپمنٹ آف روڈ نیٹ ورک جس میں اسٹنس ٹو منسٹری آف ایجوکیشن بلوچستان، گیس اور پانی کی مفت فراہمی ، سوئی میں پچاس بیڈوں پر مشتمل ہسپتال کی تعمیر، چامالانگ کول مائین، کھجور کی کاشتکاری، آرمی کی جانب سے امداد اور بحالی کی کوششوں اور اسی طرح کے دیگر منصوبوں پر کام تیزی سے جاری و ساری ہے۔ گوادر ڈیپ سی پورٹ اور چین کے تعاون سے اقتصادی راہداری کے عظیم منصوبے بھارت کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں۔ مقام تشکر ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتیں اور قوتیں جو ہمیشہ ملک و قوم کے مفاد کو اولین ترجیح دیتی ہیں اور افادہ رساں منصوبوں پر حکومتوں کیساتھ اختلاف رکھنے کے باوجود پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبہ کی تکمیل کیلئے سنجیدگی سے حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی ہر صورت اور ہر قیمت پر حفاظت کرینگے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی حفاظت کیلئے 2 ڈویژن فوج کو خصوصی تربیت دی جا رہی ہے۔ ایک ڈویژن فوج خنجراب سے راولپنڈی تک سکیورٹی فرائض سرانجام دیگی جبکہ دوسری پنڈی سے گوادر تک حفاظتی ذمہ دار یا ں ادا کریگی۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے ساتھ ساتھ ملکی سرحدوں کی حفاظت اور اب سی پیک کی سکیورٹی بھی فوج کریگی۔سی پیک یا پاک چین اقتصادی راہداری کی افادیت سب پر عیاں ہے اور اسکی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ پروجیکٹ پاکستان دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔بالخصوص پہلے تجارتی قافلے کی گوادر سے مشرق وسطیٰ، افریقہ روانگی نے ان کی نیند اڑا دی ہے کہ وہ رکاوٹیں ڈالنے کی سوچ رہے تھے یہاں تجارت بھی شروع ہوگئی۔ اب یہ فضا بنائی جارہی ہے کہ یہ منصوبہ پورے پاکستان کیلئے نہیں ہے حالانکہ بلوچستان میں ژوب کا روٹ ہو یا خیبر پی کے، سندھ ا ور گلگت بلتستان و آزاد کشمیر سب اس سے مستفید ہوں گے۔ خصوصی اکنامک زون معاشی ترقی اور خوشحالی لائیں گے اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا توانائی کے بحران سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔پاکستان کے مخالف نہیں چاہتے کہ سی پیک مکمل اور فعال ہو کہ پاکستان کی خوشحالی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی لیکن وہ آگاہ نہیں کہ پاکستان کی مسلح ا فواج عوام اور حکومت اس معاملے پرایک پیج پر ہیں کیونکہ سی پیک خطے کی خوشحالی اوراس وژن کا عکاس ہے جو ترقی وخوشحالی کی نئی راہیں کھولے گا اور گوادر کی بندر گاہ تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کامرکز بن جائے گی اور اس کے ثمرات پاکستان کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کا مقدر بنیں گے۔ ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نامی ایک تنظیم بلوچستان میں نفرت کے بیج بو رہی ہے۔ پاک فوج اور بلوچ عوام کے درمیان جھوٹ بول کر غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ سیاسی حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسایا جا رہا ہے۔ اے ایچ آر سی باغی بلوچوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس تنظیم کے پاکستان دشمن ممالک سے بھی رابطے ہیں ۔ وہ بلوچستان میں ترقیاتی کاموں اور سی پیک کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اے ایچ آر سی کے مطابق پاکستان آرمی 52 ٹارچر چلا رہی ہے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں فوجی آپریشن کے نام پر شہری آبادیوں پر بمباری ،گھروں اور مال مویشیوں کو تباہ و مسمار کرنے میں تیزی آئی۔ بلوچوں کی سیاسی اور معاشی جبر کو حل کرنے کی بجائے ان کے سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو جبری طور پر غائب کرکے اور قتل کرکے زخموں پر نمک چھڑکا جارہا ہے۔ نواب اکبر بگٹی کی فوج کے ہاتھوں قتل نے بلوچ قوم کی کی وفاق سے نفرت کو بڑھا دیا ہے۔ ملٹری گورنمنٹ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی ہزاروں کی تعداد میں گرفتار جن میں طالب علم، سیاسی ورکرز، ڈاکٹرز، جرنلسٹ اور یہا ں تک دکاندار بھی شامل ہیں انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے گرفتار کرنا، تشدد کرنا، جبری طور پر لاپتہ کرنا اور ماورائے عدالت قتل کرنے کے حربے استعمال کررہی ہے۔سابق سربراہ پاک فوج نے بھارت کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ ’مودی ہو یا ’’را‘‘ یا کوئی اوردشمن‘ ہم ان سب کی سازشوں اور چالوں کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ سب سن لیں پاک فوج ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے کسی بھی حدتک جائے گی۔ فوج اور عوام ایک ہیں اور فوج جو کچھ کر رہی ہے وہ ملک و قوم کی بھلائی کیلئے کر رہی ہے۔

اپوزیشن کوپی ٹی آئی میں فرشتوں کی تلاش

ابھی عمران خان کی حکومت کو ایک ہی ماہ گزرا ہے کہ جمہوری دنیا میں مروجہ حکومت کے سو دن پورے ہونے سے پہلے ہی اپوزیشن نے پی ٹی آئی میں فرشتے تلاش کرنے شروع کر دیے ہیں۔ سو دنوں کی کارکردگی میں جدید جمہوری حکومت کے سمت کا پتہ چل جاتا ہے۔عوام کی نظروں میں تو حکومت کے اقدام سمت معلوم ہو گئی ہے۔ مگر اپوزیشن کی نظر یں ابھی بند ہیں ۔ لگتا کہ اپوزیشن صرف مخالفت برائے مخالفت پر ابھی سے اتر آئی ہے۔ عمران خان کی ٹیم کو دیکھ کر نون لیگ کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے۔ نون لیگ کی سپوک پرسن عمران خان کو کہہ رہی ہیں کہ اپنی دائیں بائیں بیٹھی گندگی کو صاف کریں۔عمران خان استعفیٰ دیں۔ اگر ان سے سوال کیا جائے کہ کیا نون لیگ کے دائیں بائیں فرشتے ہی فرشتے تھے تو جواب یقیناً صفر ہو گا۔ صرف نون لیگ ہی نہیں،دیکھا جائے توہمارے سیاسی نظام، ملک کے سارے ادارے بلکہ پورے کا پورہ معاشرہ ہی برائیوں میں مبتلا ہے۔ اگر پہلے سیاسی نظام کی بات کی جائے تو سیاست دانوں نے سیاست کو ایک انڈسٹری سمجھ لیا ہے۔کروڑ لگاؤ اور جیتنے کے بعد اربوں کماؤ والی بات ہے۔ عوام دیکھ رہے ہیں کی سیاست دان زیرو سے ہیرو بن جاتے ہیں۔مگر عوام ان کیخلاف کچھ نہیں کرسکتے۔ کیونکہ اقتدار سیاست دانوں کے پاس ہوتا ہے۔ وہ عوام کی ضرورت کے تحت قانون سازی کے بجائے پہلے اپنے مفادات کی قانون سازی کرتے ہیں۔ نہ پاکستان میں ایسے ہسپتال بناتے ہیں کہ جس میں ان کا علاج ملک کے ہسپتالوں میں ہو وہ اور ان کے بچے بیرون ملک ہسپتالوں میں علاج کرواتے ہیں اور غریب عوام اور ان کے بچوں کو پاکستان کی ہسپتالوں میں داوئیاں تک نہیں ملتی۔ ان کے بچے بیرون ملک تجارت کرتے ہیں اوربیرون ملک ہی رہتے ہیں۔ اگر سیاسی نظام کی بات کی جائے توپارلیمنٹ میں سیاست دان کیوں نہیں ایسا خود مختیارالیکشن کمیشن بناتے جس پر تمام سیاسی پارٹیوں کو اعتماد ہو۔ الیکشن کے بعد ایک دوسرے پر الزام لگانے کے بجائے الیکشن جیتنے والی پارٹی کو ملکی مفاد میں کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ ہمارے ملک میں جب بھی الیکشن ہوتے ہیں ہاری والی پارٹیاں جیتنے والی سیاسی پارٹی پر الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہیں۔عمران خان نے ۲۰۱۳ء کے الیکشن کے بعد نواز حکومت کے سارے دورانیے میں ناک میں دم کیے رکھا جس کی وجہ سے ترقی کا پہیہ رکا رہا۔ اب نون لیگ والے پی ٹی آئی میں فرشتے تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اور ناک میں دم کرنے کے اعلانات کر رہے ہیں۔ ملکی ترقی، حکومتی معاملات چلانے، غریبوں کی مشکلات دور کرنے،خارجہ پالیسی کو صحیح سمت میں لگانے، دہشت گردی کو ختم کرنے ،مہنگائی پر کنٹرول کرنے ، بیرونی قرضوں سے جان چھڑانے کے بجائے دھاندلی دھاندلی کی صدائیں آنے لگتی ہیں۔ اس سے قبل توایک دوسرے کے ملکی مفاد میں شروع کیے گئے ترقیاتی پروجیکٹ کو بدلنے کی بھی حماقتیں کی جاتی رہیں۔ جس میں صرف عوام کا نقصان ہوتا رہا۔ نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں موٹر وے کو چھ رویہ بنانے کی بنیاد رکھی تھی۔مرحوم بے نظیر صاحبہ نے اس کو چار رویہ کر دیا۔ پیلی ٹیکسی پروگرام کو بند کر دیا وغیرہ وغیرہ۔ملکی قرضوں کی بات کی جائے تو ڈکٹیٹر کے دور میں چھ(۶) ارب قرضے تھے، زردای حکومت میں اٹھارا(۱۸) ارب اور نون لیگ کی حکومت نے اسے اٹھائیس(۲۸)ارب تک پہنچا دیا۔ اب ملک کا ہر شہری سود خور اداروں کا ایک لاکھ پچاس ہزار کا مقروض بنا دیا گیا ہے۔پی ٹی آئی حکومت کے وزیر اطلاعات کے مطابق زر مبادلہ کے ذخائر ایک ماہ اور کچھ دن کے رہ گئے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر کہ بندہ خود کشی کر لے۔ اگر تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ملائیشیا کے موجودہ سربراہ کی بات سو فیصد درست ہے۔ جو انہوں ایک مدت پہلے اپنے بیان میں آئی ایم ایف کے قرضوں پر تنقید کرتے ہوئے ایک بات کہی تھی کہ جس ملک کو برباد کرنا ہو اسے آئی ایم ایف کے حوالے کر دیں۔ ملائیشیا کے حکمران کی بات سو فیصدصحیح ہے۔ آئی ایم ایف کے قرضوں سے کسی بھی ملک نے ترقی نہیں کی۔بلکہ آئی ایم ایف کو چلانے والے ان قرضوں کے ہتھیاروں سے غریب ملکوں کی حکومتوں کو تبدیل کرنے کی چالیں چلتے رہے ہیں۔اب عمران خان مجبوری میں آئی ایم ایف جب جارہے ہیں تو آئی ایم ایف کی شرطوں کی وجہ سے مہنگائی ایک دم جمپ کرے گی۔ جس سے ملک میں ترقی کی شرح بڑھنے کی بجائے نیچے جائے گی۔ غریب عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھے گا۔ محنت کرنے کی کارکردگی پر منفی اثر پڑے گا۔ جس سے ملک میں پروڈکشن سست پڑ جائے گی۔ مگر اس پوزیشن پر دھان نہیں دے رہی۔ بس ٹانگیں کھینچنے پر ہی سیاست کرتی ہے۔ ان بگڑے ہوئے ملکی حالت کو درست کرنے کی عمران خان نے تو کوششیں شروع کر دیں۔ اپوزیشن کو مخالفت برائے مخالفت کی رٹ لگانے کے بجائے ملکی مفادات میں ہوش کے ناخن لیتے ہوئے عمران خان پر ملکی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ہر قسم کی جائز تنقید تو ضرور کریں مگر جس سے ملک کا نقصان ہوتا ہے اس سے اجتناب برتیں۔ پارلیمنٹ میں سابق حزب اختلاف لیڈر اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما نے اچھا اور ملکی مفادات میں بیان دیا ہے کہ اس موقع پر حکومت پر تنقید کرنے اس کو گرانے سے ملک کو نقصان پہنچے گا۔ اس حکومت کو پانچ سال حکومت کرنے دیں۔ یہ صحیح بات ہے اپوزیشن کو سڑکوں پر آنے اور ملک نظام کو ڈسٹرب کرنے کے بجائے مذہبی جمہوری ملکوں کی طرح پارلیمنٹ کے اندر تنقید کریں۔ملک کے مفاد کے کاموں میں تعاون کریں۔ پارلیمنٹ میں بحث و مباحثے کر کے، حکومت کے جن اقدام سے ملک کو نقصان پہنچنے کاخطرہ ہو اس کی مخالفت کریں۔ حکومت کے جو اقدام ملک کی حمایت میں ہیں ان میں تعاون کریں۔صاحبو! مذہبی جمہوری ملکوں کی تو یہی پالیسیاں ہیں۔ اگر ہمارے ملک کے سیاست دان ان پر چل کر دکھائیں تو یہ ملک ترقی کے زینے چڑھتا جائے گا۔عوام خوش حال ہوں۔ مہنگائی ختم ہو جائے گی۔ دہشت گردی ختم ہو گی۔ ملک میں امن و امان ہو گا۔ عوام یک جان ہو جائیں گے۔ دشمن کو ہماری طرف دیکھنے سے پہلے سو دفع سوچنا ہوگا۔ پھر ہمارے ازلی دشمن بھارت کے چیف آف آرمی کو پاکستان پر حملے کی دھمکی دینے کی ہمت نہیں ہو گی۔ نون لیگ کے لیڈروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان ہی تلوں سے تیل نکالے گا۔ عمران خان کے ارد گرد فرشتے تلاش کرنے کے بجائے حکومت کو پہلے سود ن دیں پھر تنقید کا حق استعمال کریں۔ اللہ مثل مدینہ مملکت اسلامی جمہوریہ کی حفاظت فرمائے ۔آمین۔

*****

غیر تر بیت یا فتہ افغانی فوج

Naghma habib

افغانستان برادر اسلامی ملک ہے لیکن دشمن کے ریشہ دوانیوں کے باعث اکثر اس کے تعلقات پاکستان سے نا خوشگوار ہو جاتے ہیں ۔وہی پاکستان افغان حکمرانوں کے الزامات کی زد میں آجاتا ہے جو ہمیشہ مشکل حالات میں افغانوں کی پُشت پر جم کر کھڑا ہوا ہے چاہے اس کے لیے اسے پوری دنیا کی مخالفت لینا پڑی اور مشکلات برداشت کرنا پڑی اُس نے کیں۔دہائیوں تک خود اپنے ملک سے نکالے گئے افغانوں کو اپنی سر زمین پر پناہ دی اور دہشت گردی کے بے شمار واقعات میں ملوث ہونے کے باوجود بھی انہیں بے یار و مدد گار نہیں چھوڑا ،انہیں روس اور امریکی بموں کی زد میں آنے سے بچائے رکھاورنہ دنیا میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جب پڑوسی ممالک نے بے یارو مدد گار مہاجرین کے لیے اپنے ملک کی سرحدیں بند کیں اور انہیں گولہ بارود کی بارش میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔لیکن پھر بھی افغانستان میں حالیہ حکومتیں پاکستان کے بارے میں ایک منفی تاثر پھیلاتی رہی ہیں اور منفی رویے کو افغان عوام تک بھی پہنچا رہی ہیں اگرچہ پاکستان میں دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ افغانستان میں بد امنی ہے کہ وہاں کے جنگجو گروہ جب اپنی حکومتوں کے خلاف بر سر پیکار ہو جاتے ہیں تو افغان حکومت بجائے انہیں قابو کرنے کے پاکستان کے قبائلی علاقوں سے بالخصوص اور پورے ملک سے بالعموم اپنے مطلب کے لوگ تلاش کر کے انہیں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے لگ جاتی ہے اور پچھلے چالیس سال میں تو اُسے مزید سہولت یوں حاصل ہو گئی ہے کہ اُس کے لاکھوں باشندے مہاجرین کی صورت میں پاکستان میں موجود ہیں اور وہ سب نہیں تو اُن میں ایک اچھی خاصی تعداد اپنی حکومت کی مدد پر آمادہ ہو جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ افغان حکومت اپنے ملک میں امن قائم کرنے میں ہمیشہ سے ناکام ہے کیونکہ وہ اپنے دوست دشمن کی پہچان کرنے کی کوشش نہیں کرتی ہے۔ افغانستان بھارت جیسے مسلم دشمن ملک سے احکامات وصول کرتا ہے اور پاکستان کے مسلمانوں پر آزماتا ہے لیکن خود اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے سے مکمل طور پر معذور ہے۔ اس بار تو خود اس کی اپنی پارلیمنٹ نے اس بات پر اعتراض اٹھایا ہے اور افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے ایک اپنی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق افغان پارلیمنٹ نے اس بات پر اعتراضات اٹھائے ہیں کہ سیکیورٹی ایجنسیاں اپنا طریقہ کار بدل لیں اور اپنے لوگوں کی حفاظت کی طرف توجہ دیں اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت تک افغانستان میں اس سال کے پہلے چھ ماہ میں UNAMA یعنی اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کے پاس فضائی جنگی کاروائیوں میں 353 شہریوں کے متاثر ہونے کی رپورٹ آئی ہے جس میں 149 ہلاک اور204 زخمی ہوئے اور یہ تعداد پہلے کی نسبت بہت زیادہ ہے جس پر افغانستان کے اندر سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔قانون بنانے والے اداروں نے بھی اس پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے کہ اتحادی افواج سول آبادی کے ساتھ ناروا سلوک کر رہی ہے۔ اگرچہ افغان پارلیمنٹ اس سلسلے میں اتحادی افواج کو موردِ الزام ٹھہرا رہی ہیں لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ 2015کے بعدزیادہ تر دہشت گردی کے خلاف کاروائیاں افغان افواج خود کر رہی ہیں لہٰذا اس جانی نقصان کی ذمہ داری بھی زیادہ تر اُسی پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہی شہریوں کو نشانہ بنارہی ہے۔ناتجربہ کار یا ہنگامی بنیادوں پر اٹھائی گئی کسی غیر تر بیت یا فتہ فوج سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ کسی بھی آپریشن کے لیے وہ منصوبہ بندی اور تیاری نہیں کر پاتی جو درست طریقے سے ٹارگٹ کو نشانہ بنائے اور یہی وجہ ہے کہ افغان شہری آبادی اپنی ہی فضائی افواج کا نشانہ بن رہی ہے جس سے اُن کی ساکھ بھی بُری طرح متاثر ہو رہی ہے اور اگر ایک مخصوص طبقے میں اُن کی کچھ مقبولیت تھی وہ بھی ختم ہو رہی ہے اور یہ سب افغان حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے یوں تو اُس کی فوج کو نیٹو میں شامل ترقی یافتہ ممالک کی افواج نے تر بیت دی ہے جن میں امریکہ اور برطانیہ بھی شامل ہیں لیکن ابھی تک وہ ان غیر ملکی افواج کی مدد سے ہی چل رہی ہے اور اس کے سینئر ترین عہدوں پر پہنچنے والے بھی اُس معیار تک نہیں پہنچے جہاں کامیاب منصوبہ بندی ممکن ہوتی ہے۔ یہی حال اس کی فضائی افواج کا ہے جس کے پائیلٹ بغیر کسی تحقیق کے فضائی حملہ کر دیتے ہیں جس سے عام بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور انہی ہلاکتوں کی تعداد کو افغان فضائی افواج اپنی کامیابی کے پیمانے کے طور پر استعمال کر رہی ہے جس پر ہیومن رائٹس واچ نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ افغان ائیر فورس کو مزید تربیت کی ضرورت ہے دوسری طرف خود امریکی فضائی تربیتی افسران کے مطابق ہر سال افغانیوں کی بڑی تعداد کو فوجی تربیت کے لیے امریکہ بھی لایا جاتا ہے لیکن ان کی اکثریت مفرور ہو جاتی ہے۔ان میں سے جو تربیت مکمل بھی کر لیتے ہیں وہ اس معیار تک نہیں پہنچ پاتے جو کامیاب کاروائیوں کے لیے ضروری ہے ورنہ اسی سال سول ہلاکتوں کے اعداد و شمار ہی اس معیار کو جانچنے کے لیے کافی ہیں۔ امریکی فضائیہ کے بریگیڈئیر جنرل فلپ اے سٹیورٹ کے مطابق اُن کے سینکڑوں فوجی ان افغا ن ہوا بازوں کی ذہنی تربیت پر بھی مامور ہیں لیکن اگر نتائج دیکھیں جائیں تو معیار سے انتہائی کم ہیں۔ یہاں معاملہ افغان حکومت کی نیت کا بھی ہے کہ وہ اپنے مغربی آقاؤں اور بھارتی اشاروں کے مطابق زیادہ توجہ پاکستان پر الزام تراشی اور یہاں دہشت گردی کرانے پر مرکوزرکھے ہوئے ہیں دوسرا یہ کہ وہ اپنی افواج کی وہ ذہنی تربیت نہیں کر رہی ہے جس کے مطابق وہ دوست اور دشمن کی پہچان کرے اور یہ بھی کہ اپنے اصل ٹارگٹ کو پہچانے نہ کہ مجمع دیکھ کر اس پر حملہ آور ہو جیسا کہ اُس نے2 اپریل کے ایک واقعے میں کیا جہاں ایک عام مذہبی اجتماع پر حملہ کر کے بیسوں عام شہریوں اور بچوں کو ہلاک کیا گیا۔افغان حکومت کو ان واقعات کی روک تھام پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ اِن ہلاکتوں کو اپنی کامیابی قرار دینے کی کوشش کرے اور مزید یہ کہ اپنی توانائیاں اپنے ملک کو خانہ جنگی سے نکالنے پر صرف کرے نہ کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی مدد کرنے پر اس طرح نہ صرف اِن کا اپنا ملک مسائل سے نکل آئے گا بلکہ خطے کی صورتِ حال بھی بہتر ہو گی۔

*****

پھونک برائے فروخت

 

 

Mian-Tahwar-Hussain

ہم بحیثیت قوم ضعیف العقیدہ لوگ ہیں ذاتی پریشانیاں جو اگر ٹھنڈے دل و دماغ سے تجزیہ کیا جائے تو اپنے اعمال اور عقلمندیوں سے پیدا شدہ ہیدا شدہ ہوتی ہیں ان کے حل کے لیے کسی نہ کسی کے کہنے پر جعلی پیروں فقیروں کے پاس جاکر حل کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں بھی ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی روزی روٹی کا ذریعہ بن سکیں۔ ظاہری حلیہ ان لوگوں نے ایسا بنا رکھا ہوتا ہے کہ مصیبتوں کا مارا ان کے جال میں پھنسں ہی جاتا ہے اس لیے عاملوں کاملوں کی معاشرے میں بھرمار ہے۔ اکثر ہاتھوں میں تین تین چار چار بڑے نگینے والی انگوٹھیاں پہنے رومال کندھے پر ڈالے آنکھوں میں سرمہ لگائے ایک دو یا حسب ضرورت تسبیح نما پتھر کے منکے گلے میں لٹکائے چرس کا سوٹا لگائے اپنے ڈیرے پر گاہکوں کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ انہوں نے دو چار ایسے کارندے بھی چھوڑے ہوتے ہیں جو کرنی والی سرکار کے من گھڑت واقعات وہاں جا کر سناتے ہیں جہاں دو یا چار بوڑھے ایک چارپائی پر بیٹھے حقے کے کش لیتے ہوئے اپنی باتوں میں مگن ہوں ان کی سنگت، صحبت میں حقے کی باری لگاتے ہوئے یہ کارندے کرنی والی سرکار کے بارے میں تجسس بھرے واقعات سنا کر گاہکوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بنتے ہیں ان بوڑھے افراد سے بات متعدد گھروں تک پہنچ جاتی ہے پھر خواتین جو ان معاملات میں اندھا یقین کرنے والی ہوتی ہیں ان سے بات آگے سے آگے سفر کرتی رہتی ہے ان کے منہ سے یہ جملہ ضرور ادا ہوتا ہے کہ بہن میں تمہیں رازداری سے بتا رہی ہوں کیونکہ آپ حالات سے بہت پریشان ہیں اس لیے میرے دل میں آئی کے آپ کے گوش کوزار ضرور کر دوں تاکہ آپ کا بھلا ہو جائے مجھ سے تو آپ کی پریشانی دیکھی نہیں جاتی۔ ہاں بھائی صاحب(یعنی شوہر)کو نہ پتا چلے مرد ذات تو ان کو مانتی ہی نہیں آپ خاموشی سے ان کے پاس جائیں اللہ نے چاہا تو آپ کی پریشانیاں دور ہوجائیں گی۔ وہ خاتون اگر ایک دفعہ کرنی والی سرکار کے پاس چلی جائے تو پھر وہ وہاں جاتی ہی رہتی ہے کیونکہ نہ زندگی کی پریشانیاں ختم ہوں اور نہ خاتون کا جانا بند ہوگا۔ کرنی والی سرکار سفید کاغذ پر آڑی ترچھی لکیریں گھسیٹ کر تعویز گھر میں جلانے اور درختوں سے باندھنے کے لیے دیں گے پانی کی بوتل کا ڈھکن اتار کر دو تین بار اس میں پھونک مار دیں گے اور فرمائیں گے دن میں تین چار بار یہ پانی پی لیا کریں شفا ہوگی۔ اس عمل کو مکمل کرنے کے بعد کرنی والی سرکار کے پاس ایک خالی ڈبہ پڑھا ہوتا ہے جس میں کم از کم دو سرخ ڈال کر جانے کی اجازت مل جاتی ہے شام تک ان کی اچھی خاصی دیہاڑی بن جاتی ہے یہ کردار آپ کو معاشرے میں پھیلے ہوئے ملیں گے جو معصوم اور پریشان حال لوگوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک بڑی تعداد میں چھپنے والے اخبار میں ان لوگوں کے اشتہار بھی آنا شروع ہو گئے تھے یعنی آمدنی میں اضافے کے لیئے اخبار والے ان فراڈیوں کی تشہیر کے کام میں نمایاں کردار ادا کر رہے تھے۔ اب کافی عرصے سے ایسے اشتہار دیکھنے اور پڑھنے کو نہیں ملے۔ جہالت اور ضعیف العتقادی لوگوں کو اس راہ پر چلنے کے لئے مجبور کرتی ہے۔ حکومت کی طرف سے ایسے لوگوں پر کوئی چیک نہیں جو لوگوں کو دھوکے سے لوٹنے میں مصروف ہیں۔ تعجب کا مقام ہے کہ ہم اپنی مرضی سے ایسے فراڈیوں کے ہاتھوں میں سرنڈر کرتے ہیں خواتین کا آنا جانا اکثر اوقات آبروزریزی کے واقعات کا سبب بنتا ہے۔ ایسے لوگوں کا اگر گھر میں آنا جانا شروع ہوجائے تو پھر سمجھئے جان مال عزت دا ؤپر لگ گئے۔ پڑھا لکھا طبقہ اور اعلیٰ عہدوں پر فائز اشرافیہ بھی ایسے لوگوں کا شکار ہیں خود ساختہ پیروں فقیروں کے چہروں پر چھائی خباثت نظر آجاتی ہے۔ لیکن لوگ پھر بھی ان کے ہاتھوں پر بوسہ دینا اپنے لیے خیروبرکت تصور کرتے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے مجھے ایچ ایٹ قبرستان میں ایک دوست کے قریبی عزیز کے جنازے میں شرکت کا موقع ملا وہ صاحب وقفے وقفے سے بتا رہے تھے کہ فلان نامور پیر صاحب نماز جنازہ پڑھائیں گے آخر کار وہ پہنچ گئے بڑی لینڈ کروزرسے ان کا ظہور ہوا اور ایک دوسری گاڑی سے ان کے چند پیروکار برآمد ہوئے۔ پیر صاحب کے چہرے پر تکببررعونت اور خود نمائی تھی کسی کے سلام کا نہ تو انہوں نے جواب دیا اور نہ ہی خود بڑھ کر حاضرین سے مصافحہ کیا ان کے خوشامدی ٹولے نے صفیں سیدھی کرنے کی آواز لگائی اور پھرپیر صاحب مصلیٰ پر آکر نماز جنازہ پڑھانے لگے اس سے فارغ ہوئے تو گھر والے جنازہ کندھوں پر اٹھا کر دیگر لوگوں کے ہمراہ اسے قبر تک لے آئے۔ لاش کو قبر میں اتار کے اور قبرکو بند کرنے کے بعد دعا کا وقت آیا تو پیر صاحب نے اپنے ایک پیروکار کو رعب سے کہا قرآن پڑھو۔ اس نے چند قرآنی آیات پہلے سپارے کا چوتھائی حصہ اور درود پاک صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا ہی تھا کہ پیر صاحب نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھا دیئے سب حاضرین نے پیروی کی انہوں نے چند جملے مغفرت کیلئے کہے اور اپنی قیمتی گاڑی کی طرف چل دیئے یعنی آئے بھی وہ گئے بھی وہ ختم تماشہ ہو گیا کے مصداق یاد چھوڑ گئے۔ میں سوچتا رہا کیا عبادت، ریاضت اگریہ کرتے ہوں گے تو اس عبادت نے ان کو متکبر کیوں بنا دیا لوگوں کو یہ اپنا ہاتھ چومنے سے منع کیوں نہیں کرتے ان میں نرمی محبت پیار اور انسانیت کیلئے پرخلوص رویہ کیوں نہیں۔ ان خود ساختہ سجادہ نشیں گدی نشیں اور عامل لوگوں میں مروت اور مودت کیوں نہیں انسانیت کی عزت اور تکریم کیوں نہیں۔ یہ مزاروں کی کمائی کھانے والے مجبور اور پریشان حال لوگوں کو اپنے گیٹ آپ سے مرعوب کرکے جیبیں خالی کیوں کرواتے ہیں۔ اپنے سامنے جھکنے والوں، ہاتھوں پر بوسہ دینے والوں، نذرانہ پیش کرنے والے لوگوں کو منع کیوں نہیں کرتے میں تو پیر سائیں کی گاڑی پر پڑی دھول کو ہاتھوں پر لگا کر عقیدت سے منہ پر ملتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ سونے چاندی کے زیورات پیش کرتے اور ان کو ہڑپ کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ مالدار تو شادی بیاہ اور جنازہ پڑھانے تک ان لوگوں کی خدمت حاصل کرنا باعث فصل اور بھاری رقوم بطور نذرانہ پیش کرنا سعادت سمجھتے ہیں۔ پیرسائیں کو کبھی انکار کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ میں سوچتا ہوں یہ اللہ کو کیا جواب دیں گے اگرچہ سارے ایسے نہیں لیکن اکثریت سادہ لوح لوگوں کے مال پر ہی چلتی ہے گرمیوں اور سردیوں میں ان کی اولادیں یورپ امریکہ سے پاکستان آتی ہیں۔ اکثر کے بچے انگلینڈ اور امریکی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بگڑی ہوئی نسل کا یہ حال ہے اندر پریشانی اور اوپر شیروانی۔ جو خود اپنی اولادوں کو دین سے دوری پر برداشت کیے ہوئے ہیں وہ لوگوں کی پریشانیوں کو کیا دورکرسکتے ہیں اللہ تو فرماتا ہے کہ تم دل میں خاموشی سے دعا کرو یا گڑ گڑاتے ہوئے میں سن لیتا ہوں وہ تو انسان کی شہ رگ کے قریب ہے۔ اس مالک سے ایسے مانگنا چاہیے جس طرح مانگنے کا حق ہے اس مالک کے احکامات کو اپنی زندگی پر رائج کرنے سے دکھوں تکلیفوں سے اور ان بہروپیوں سے بھی نجات ملتی ہے جو جگہ جگہ اپنی دکانیں چمکائے بیٹھے ہیں۔ اللہ انہیں ہدایت عطا فرمائے جو دین کو بیچ کر دنیا سنوار رہے ہیں۔ قرآن شفا ہے اپنے گھروں میں ہمیں تلاوت کو معمول بنانا چاہئے درود پاک کثرت سے پڑھیں تاکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمتوں کا آپ کے گھر پر نزول ہو آپ کے بچے آپ کی پیروی کریں گھر کا پاکیزہ ماحول ہو اور آپ کی زندگی آسودہ ہو۔

ڈالر کی پرواز روکنے کیلئے منصوبہ بندی کی ضرورت

adaria

پاکستان کی تاریخ میں روپے کی جس انداز میں بے قدری ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی ، ڈالر بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ ابھی اس میں مزید اضافہ ہوگا، کیونکہ آئی ایم ایف کا وفد جب پاکستان آیا تو اس نے کچھ شرائط عائد کی تھیں یوں تو حکومت نے بہت مصمم ارادے ظاہر کیے تھے کہ وہ کسی صورت آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے مگر مجبوری ایسی آن پڑی کہ جب عنان اقتدار چلانے کیلئے اسباب ہی نہ رہیں ہوں تو پھر آخر کیا کرتے، مجبوراً آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا ، ڈالر کی اس پرواز کے بعد بیرونی قرضوں میں 902ارب روپے کا اضافہ ہوگیا، زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوئی، سونا 62 ہزار روپے فی تولہ ہوگیا، اب اس قدر مہنگائی کا طوفان آنے والا ہے جس کے آگے بند باندھنے کیلئے حکومت کو باقاعدہ منصوبہ بندی کرنا ہوگی، اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت آئی ایم ایف سے کتنا بیل آؤٹ پیکیج لیتی ہے اگر تو یہ 10ماہ تک محیط ہے تو پھر حکومت کو مزید ایک سال قدموں پر کھڑے ہونے کیلئے مل جائے گا اگر اس سے زیادہ عرصہ جو کہ دو یا تین سال پر محیط ہوا تو حکومت کو زیادہ مسائل درپیش ہوں گے، ڈالر کے اضافے کے ساتھ ساتھ دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونا شروع ہو جائے گا، کہایہ جارہا ہے کہ ڈالر کی پرواز یہاں نہیں رکے گی یہ 140یا 150 تک جاسکتا ہے، آئی ایم ایف کے پاس جانے سے قبل حکومت نے بہت ہاتھ پاؤں مارے کے اسے دائیں بائیں سے امداد مل جائے لیکن کہیں سے بھی خاطر خواہ امید نہ ہوسکی اس کا اظہار وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا کہ کچھ ممالک سے ہماری بات چیت چلی ان کی ایسی شرائط تھیں ایک طرف ہمارے اسٹرٹیجک معاملات تھے تو دوسری طرف معاشی، لہٰذا ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا ہے گو کہ اب حکومت نے ایک سفر شروع کردیا ہے، حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ مشکل وقت زیادہ دیر نہیں رہے گا آنیوالا وقت اچھا ہوگا ، معاشی حالات مضبوط ہونگے، یہ ساری باتیں اپنی جگہ درست ہیں ، حکومت کے دعوے بھی اپنی جگہ ہیں اور جو عوام کو انتخابات سے قبل وعدے وعید کیے ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہیں ان کو اب کس طرح پورا کرنا اس کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، ہوم ورک اور فائل ورک انتہائی اہم ہے یہ جب تمام چیزیں ہونگی تب ہی منصوبے کامیابی سے ہمکنار ہوسکیں گے۔ ملک میں امیر سے لیکر غریب تک ایک نظام رائج کرنا ہوگا، جب مہنگائی کی صورت میں عوام قربانی دے رہی ہے تو سہولیات دینا بھی اس کا حق ہے یہ نہ ہوکہ کسی امیر زادے یا اقتدار میں بیٹھے ہوئے شخص کو ذرا سا زکام بھی ہو جائے تو وہ لندن یا امریکہ میں جاکر علاج کروائے جبکہ غریب کا بچہ یہی ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر اپنی جان جان افرین کے حوالے کردے،اچھے حالات کیلئے ہمیشہ اس عوام نے قربانیاں دی ہیں مگر وہ سبز باغ جو اسے ہر آنے والی حکومت دکھاتی ہے آج تک حاصل نہیں ہوسکے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے عوام کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں اگر ان امیدوں کو پورا نہ کیا گیا تو آنے والا وقت مشکلات کا شکار ہوسکتا ہے، ڈالر کی اتنی پرواز آخر کس وجہ سے ہوئی حکومت کو اس چیز کا علم تھا یہ تو ایک روایتی بات ہے کہ سابقہ حکومت نے خزانہ خالی دیا یہ ایک ایسی بلیم گیم ہے جو ہر آنے والی حکومت سابقہ حکومت پر عائد کردیتی ہے۔ اس الزام تراشی کے کھیل سے نکل کر ملک کیلئے کچھ کرنا ہوگا، گو کہ وزیراعظم نے مزیدمہنگائی کی نوید بھی سنا رکھی ہے جب ہر طرف سے شکنجہ سخت ہوتا جائے گا پھر آخر کار اس کا حل کیا ہوگا۔ حکومت باخوشی آئی ایم ایف کے پاس جائے ان کے بیل آؤٹ پیکیج لے مگر جو رقم آئے وہ جہاں جہاں اور جن جن منصوبوں پر خرچ کی جائے اس کا کچھ نہ کچھ مثبت حاصل ہونا چاہیے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو بھی کنٹرول کرنا ہوگا جتنی عوام کو سہولیات دی جائیں گی اتنے ہی حالات اچھے اور پرامن رہیں گے نہیں تو اسی طرح حکومت اپنا تمام وقت آئی ایم ایف کے شکنجے سے نہیں نکل سکے گی۔

روز نیوز کی ڈیمز فنڈ میراتھون ٹرانسمیشن قابل تقلید
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور روز نیوز کایہ وطیرہ رہا ہے اورتاریخ بھی اس امر کی گواہ ہے کہ ایس کے نیازی کی زیر ادارت شائع ہونے والے اخبارات اور ان کی چیئرمین شپ کے تحت چلنے والے ٹی وی روزنیوز نے ہمیشہ عوامی مسائل کیلئے آواز بلند کی اور اس آواز کو ایوانوں تک پہنچایا جس سے عوام کو اس کے حقوق حاصل ہوسکیں۔ چونکہ اس وقت صرف پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں پانی کا بحران ہے اور آنے والے وقت میں جنگیں بھی پانی ہی کی خاطر ہونگی، پاکستان نے تو پانی کی صورتحال بہت ابتر ہے، ڈیموں کی حالت اتنی تسلی بخش نہیں ، پانی کاذخیرہ نہ ہونے کے برابر ہے، آخر آنے والی نسلوں کو ہم کیا دے کر جائیں گے یہی حالات رہے تو خدانخواستہ خشک پاکستان ہوگا، پاکستان کو سیراب اور سرسبز و شاداب کرنے کیلئے باقاعدہ ایک مہم کی ضرورت تھی اس سلسلے میں پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور روز نیوز ایک مہم کا آغاز کیا جس میں ڈیمز بناؤ،ملک بچاؤ مہم کیلئے ڈیمز فنڈ ریزنگ کیلئے خصوصی ٹرانسمیشن کا اہتمام کیا جس کا نام ڈیمز فنڈ ریزنگ میراتھون ٹرانسمیشن تھا اس میں دنیا اور ملک بھر سمیت پاکستانیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور دل کھول کر ڈیمز فنڈ کیلئے عطیات دئیے۔روز نیوز کی ڈیمز فنڈ ریزنگ میراتھون ٹرانسمیشن کے ذریعے جمع ہونیوالی2کروڑ10لاکھ 37ہزار800روپے کی رقم کا چیک گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کوپیش کر دیا گیا،یہ چیک چیف ایڈیٹرپاکستان گروپ آف نیوزپیپرزایس کے نیازی اور سردارگروپ آف کمپنیزکے صدرسردارتنویرالیاس ،سی ای اویاسرالیاس نے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارسے ملاقات کے دوران پیش کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے روزنیوزکی خصوصی نشریات کوخوب سراہا۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارنے روزنیوزکی فنڈریزنگ ٹرانسمیشن کوخوب سراہا اور نیک مشن میں حصہ بننے پرچیف ایڈیٹرپاکستان گروپ آف نیوزپیپرز اورچیئرمین روزنیوزایس کے نیازی کاشکریہ اداکیا۔ خصوصی نشریات کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی ڈیمزفنڈ میں اپنی جانب سے مزید ایک لاکھ روپے دینے کااعلان کیاتھا۔روز نیوز کی ٹرانسمیشن دیگر میڈیاہاؤسز کیلئے قابل تقلید ہے ہم سب کو مل کر وطن عزیز کیلئے اسی طرح کاوشیں کرنا ہونگی۔
اداروں کو آزاد ہی رہنا چاہیے
الیکشن کمیشن نے 14اکتوبر کے ضمنی انتخابات سے قبل آئی جی پنجاب محمد طاہر کے تبادلے کانوٹس لیتے ہوئے امجد جاوید سلیمی کی آئی جی پنجاب تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا اور سیکرٹری اسٹیبشلمنٹ ڈویژن سے دو روز میں جواب طلب کیا ہے، حکومت کا موقف یہ ہے کہ آئی جی پنجاب طاہر خان کو حکومت کی جانب سے دی گئی ذمہ داری پوری نہ کرنے پر ہٹایا گیا ۔ ایک جانب حکومت یہ کہتی ہے کہ ادارے آزاد ہیں اور وہ شفافیت پر یقین رکھتی ہے تو ایسے میں یہ تبادلہ بعید از خیال ہے، جب تک ادارے آزاد اور خودمختار نہیں ہونگے اس وقت تک اسی طرح کے حالات پیدا ہوتے رہیں گے۔ ضمنی انتخاب کے باعث آئی جی کی تبدیلی نہیں ہوسکتی، آئی جی پنجاب کا تبادلہ کرکے الیکشن کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی کی گئی۔ دریں اثناچیئرمین پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن ناصر درانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ سابق آئی جی خیبر پختونخوا ناصر درانی نے استعفیٰ ممکنہ طور پر آئی جی پنجاب طاہر خان کے تبادلے کے باعث دیا۔ ناصر درانی نے آئی جی پنجاب کے تبادلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ خیال رہے کہ سابق آئی جی کے پی کے ناصر درانی کو پنجاب پولیس میں اصلاحات کا خصوصی ٹاسک دیا گیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے ناصر درانی کو پولیس میں عدم مداخلت کی یقین بھی دہانی کرائی تھی۔وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ ادارے آزاد ہیں اور ان کے فیصلوں میں کوئی مداخلت نہیں کرسکتا۔

Google Analytics Alternative