کالم

پانی کو صوبائی تعصب سے بچائیے

ہم بھی کیا عجیب قوم ٹھہرے ہیں پانی جو کہ ہر موسم اور ہر وقت کی بنیادی ضرورت ہے جب بھی موسم گرما کی شدت بے حال کرنے لگتی ہے اس کی قدروقیمت کا احساس ہونے لگتا ہے۔گزشتہ موسم گرما کی طرح رواں موسم گرما بھی کڑاکے نکالنے لگا ہے تو ہر طرف پانی پانی کی دہائی ہے.ہر چھوٹی بڑی محفل کا موضوع پانی کی قلت اور ڈیمز کی تعمیر ہے .ان دنوں سوشل میڈیا پر نئے ڈیمز کی تعمیر خصوصا کالاباغ ڈیم ٹاپ ٹرینڈ ہے۔بلاشبہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں پانی نایاب ہونے کو ہے۔مستقبل کی جنگوں کی ایک وجہ پانی کو ایک عرصہ سے قرار دیا جا رہا ہے لیکن اب تو قلت آب کو دہشتگردی سے بھی بڑاخطرہ قراردیا جا رہا ہے۔آئی ایم ایف کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پانی کی سنگین قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔جبکہ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی اور آبی ذخائر کے لیے پاکستانی کونسل برائے تحقیق (پی سی آر ڈبلیو آر) نے خبردار کیا ہے کہ 2025 تک یہ جنوب ایشیائی ملک پانی کے شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کے ہیومنیٹیرین کوآرڈینٹر نیل بوہنے کے مطابق پانی کے اس بحران کی وجہ سے پاکستان کا کوئی علاقہ بھی نہیں بچ سکے گا۔محققین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ 2040 تک شہریوں کی پانی کی طلب کو پورا کرنے کے حوالے سے پاکستان شدید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں کئی عالمی اداروں نے پہلی مرتبہ پاکستانی حکام کو خبردار کیا ہے کہ پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری ایکشن نہ لیا گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں ماہ کے دوران پانی کے دو بڑے ذخائر منگلہ اور تربیلا ڈیموں میں پانی کی سطح انتہائی خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دو بڑے آبی ذخائر میں پانی صرف تیس دن کی ضرورت کے لیے ہی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے جوکہ کم از کم 120 دن تک ہونا چاہیے جبکہ بھارت ایک سو نوے دنوں تک کے استعمال کے لیے پانی اسٹور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کو دریاں اور بارشوں کی صورت میں سالانہ تقریبا 115ملین ایکڑ فٹ پانی دستیاب ہوتا ہے۔ اس پانی کا 93 فیصد زراعت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور پانچ فیصد گھریلو اور دو فیصد صنعتی شعبے میں استعمال ہوتا ہے۔ تاہم اریگیشن نیٹ ورک بد حالی کا شکار ہونے کے باعث زرعی شعبے کو ملنے والے پانی کا 70فیصد حصہ ترسیل کے دوران ضائع ہوجاتا ہے۔کئی ماہرین زور دے رہے ہیں کہ اس مسئلے کے حل کی خاطر حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور سیاسی عزم کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ پانی کے ذخائر قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کو ضائع ہونے سے بھی روکنا ہوگا جو ہر سال تقریبا 46 ملین ایکڑ فٹ ضائع ہوتا ہے.اپریل میں حکومت نے پاکستان کی پہلی قومی واٹر پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان میں پانی کے بحران پر قابو پانے کی خاطر پہلے سے جاری کوششوں کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ تاہم ماہرین، حکومت کی طرف سے کیے گئے ان اعلانات کو محض اعلان ہی سمجھتے ہیں۔جیسے کہ اوپر اقوام متحدہ کے ہیومنیٹیرین کوآرڈینٹر نے کہا ہے کہ پانی کے اس بحران کی وجہ سے پاکستان کا کوئی علاقہ بھی نہیں بچ سکے گا ہم اس کے آثار تھر اور کوئٹہ کے دور دراز علاقوں آواران اور گردونواح میں دیکھ سکتے ہیں۔تھر میں پانی اور دیگر غذائی قلت کے باعث ہر سال بیسیوں بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں مگر اس کا حل نہیں نکالا جا سکا ہے جبکہ ضلع آواران میں بھی موسم گرما میں کم بارشوں کی یہی صورتحال رہتی ہے۔بس فرق اتنا ہے کہ آوارن میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ابھی گزشتہ ماہ ہی صاف پانی کی عدم دستیابی اور کم بارشوں کے باعث اس بد قسمت علاقے کو گیسٹرو کے مرض نے آن لیا.اس افسوسناک صورتحال میں بھی حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتی رہی جبکہ پاک فوج نے حسب سابق ریلیف کی سرگرمیوں کو سنبھالا. فوری طور پر میڈیکل کیمپ لگائے .ادویات فراہم کرنے کے علاوہ عوام میں پینے کا پانی,پانی کی ٹینکیاں، مچھردانیاں اور راشن بھی تقسیم کیا۔جن مریضوں کی حالت زیادہ خراب ہوتی انہیں فوجی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے حب پہنچایا گیا ۔اس قدرتی آفت میں پاک فوج کی ان کوششوں کو سرہانے کی بجائے بلوچ سب نیشلسٹوں نے منفی پروپیگنڈا کے طور لیا.کہا جانے لگا کہ علاقے کی عوام کو بی ایس اینز کی حمایت سے دور رکھنے کیلئے جبری طور دوسرے علاقوں میں منتقل کیا جا رہا ہے.یقیناًحقیقت اس سے مختلف ہے ۔ضلع آواران جو کسی نہ کسی آفت کا شکار رہتا امدادی سرگرمیوں کے لیے پاک فوج ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔چند برس قبل یہ ضلع جب زلزلہ کی آفت سے دوچار ہوا تھا تو یہ پاک فوج ہی تھی جس نے کئی قیمتی جانوں کو بچایا تھا.بات دور تک چلی گئی مختصر یہ کہ موسمیاتی تبدیلیاں خطے کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں جس کے اثرات قلت آب کی شکل میں ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں.چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں لارجر بینچ ان دنوں کالا باغ ڈیم سے متعلق کیس کی سماعت کر رہا ہے ،اگلے روز کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران سابق چیرمین واپڈا ظفر محمود نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان میں زیر زمین پانی خطرناک حد تک نیچے جاچکا ہے،کوئٹہ کا پانی اتنا نیچے جاچکا ہے کہ بحالی میں 2 سو سال لگیں گے۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 10 سال بعد تو کوئٹہ میں پینے کا پانی نہیں ہوگا، یعنی 10 سال بعد لوگوں کو کوئٹہ سے ہجرت کرنا پڑے گی.پانی کی قلت کا اندازہ اس سے بھی لگا لینا چاہیے کہ 1948 میں سالانہ فی کس پچاس لاکھ لیٹر پانی موجود ہوتا تھا۔ جو اب کم ہوکر دس لاکھ لیٹر فی کس رہ گیا ہے۔ اسی طرح کی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سال 2025 تک سالانہ فی کس پانی کی موجودگی خطرناک حد تک کم ہوکر آٹھ لاکھ لٹر تک ہوجا ئے گی۔ تب ملک میں 80 فیصد لوگوں کو گھروں میں ٹونٹیوں کے ذریعے پانی مہیا نہیں ہوسکے گا اور زراعت کو بڑی حد تک نقصان پہنچے گا۔اس سے معاملے کی سنگین کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم پانی جیسی بنیادی ضرورت کو بھی صوبائی تعصب کی بھینٹ چڑھا کر اپنی ہی آنے والی نسلوں سے دشمنی کر رہے ہیں۔

*****

زکواۃ کی جبری وصولی اور مستحقین زکواۃ

زکواۃ ،عشر اور خمس کی ادائیگی اسلامی معیشت کی بنیادی اکائی ہے ۔زکواۃاور نماز دین کے ایسے ارکان ہیں جن کا ہر دور میں اور ہر مذہب میں آسمانی تعلیمات کے پیرو کاروں کو حکم دیا گیا ہے یہ دونوں فریضے ایسے ہیں جو ہر نبی کی امت پر عائد ہوتے رہے ۔لغوی اعتبار سے زکواۃ کے معنی بڑھوتری اور اضافے کے ہیں اور دوسرے معنی پاک وصاف ہونے کے ہیں ۔ شرعی اصطلاح کے مطابق زکواۃ میں دونوں ہی مفہوم پائے جاتے ہیں ۔زکواۃ کی ادائیگی میں بقیہ مال پاک وصاف ہو جاتا ہے اور عدم ادائیگی سے اس میں غرباء و مساکین کا حق شامل رہتا ہے ۔قرآن مجید میں عموماً جہاں بھی نماز کا ذکر یعنی اقامت صلوٰ ۃ کا حکم آیا ہے زکواۃ کی ادائیگی کا حکم ساتھ ساتھ ہے۔ماہ رمضان میں زکواۃ کی اپیل کی درخواستیں اور اشتہار بازی اتنی عام ہے کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پوری قوم ہی زکواۃ کی مستحق ہے لیکن زکواۃ و صدقات کا استحقاق صرف نادار اور بیمار مسلمانوں کو ہی قرار دیا گیا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی ایک کھرب سے زائد صدقہ ،خیرات اور زکواۃ کی مد میں دیتے ہیں لیکن انفرادی تقسیم میں سب ضائع ہو جاتا ہے ۔حکومتی ونجی سطح پر سو یا چند ہزار دینے سے جہاں ہم بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں وہاں سفید پوش طبقہ کا بھی کچھ نہیں بنتا ۔غربت اور بھوک سے روز افزوں بڑھتی ہوئی خود کشیوں کے انسداد کیلئے اب وسیع پیمانے پر مستقل بحالی کا پروگرام شروع کیا جانا چاہیے ۔ہر سال مقررہ تعداد میں معقول رقم دے کر لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے ۔اس مقصد کیلئے ملک و معاشرے کے چند نیک نام لوگوں کی قیادت میں زکواۃ بینک قائم کیا جائے جو نجی شعبہ کے وافر وسائل کو منظم انداز میں استعمال میں لائے ،وسائل کم نہیں ہیں ضرورت وسائل کے بہتر مصرف اور منظم تنظیم و ترتیب کی ہے۔اسلامی دنیا میں شائد ہمارا ملک ہی وہ واحد ملک ہے جہاں بینکوں کے ذریعے ان کے کھاتہ داروں سے زکواۃ جبراً وصول کی جاتی ہے ۔متحدہ عرب امارات میں کم و بیش ہر شاہراہ کے اہم مقام پر زکواۃ کی ادائیگی کیلئے کاؤنٹر بنائے گئے ہیں جہاں مقامی باشندوں میں موجودمستحقین زکواۃ خاموشی سے آتے ہیں اور اپنا شناختی کارڈ دکھا کر اپنے حصے کی زکواۃ وصول کر لیتے ہیں کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی کہ زکواۃ دینے والا کون ہے اور لینے والا کون ہے ۔ البتہ زکواۃ کاؤنٹر یو اے ای حکومت کی معاونت سے قائم کئے گئے ہیں جہاں متعلقہ علاقے میں موجود اصحاب نصاب اپنی واجب الادا زکواۃ کی رقم جمع کرا جاتے ہیں ۔اس طرح زکواۃ کی وصولی اور ادائیگی کا یہ سسٹم خاموشی کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے چل رہا ہے جس میں کسی گھپلے کا کوئی امکان ہے نہ غیر مستحق لوگوں میں تقسیم ہونے کا کوئی خدشہ۔ہمارے پڑوسی غیر مسلم ملک بھارت میں جہاں مسلم آبادی ہماری مجموعی مسلم آبادی سے زیادہ ہے حکومت کی سطح پر زکواۃ کی وصولی اور تقسیم کا کوئی شعبہ قائم نہیں اور اسلام میں زکواۃ کی تقسیم کا فلسفہ ہی یہی ہے کہ اصحاب نصاب خاموشی سے اپنے ارد گردمستحقین میں اپنی تسلی کر کے خود زکواۃ کی رقم تقسیم کریں اور خالق کائنات سے اس کا اجر پائیں ۔وطن عزیز میں زکواۃ کی جبری وصولی کی بدعت کا آغاز جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء دور میں صدارتی زکواۃ آرڈیننس کے ذریعہ ہوا جس کی بنیاد پر تمام قومی بینکوں کو پابند کیا گیا کہ وہ ماہ رمضان المبارک کے آغاز ہی میں اپنے مسلم کھاتہ داروں کے اکاؤنٹس میں سے از خود واجب الادا زکواۃ کی رقم منہا کر لیا کریں گے ۔اس میں قباحت زکواۃ کی تقسیم کے نظام کے ذریعے پیدا ہوئی کیونکہ حکومت نے زکواۃ ڈائیریکٹوریٹ قائم کر کے مستحقین زکواۃ کی فہرستیں اپنی من مرضی سے مرتب کیں جن میں زیادہ تر غیر مستحقین کو مستحقین زکواۃ بنا کر نوازا جانے لگا جبکہ زکواۃ ڈائریکٹیوریٹ اور اس کی پورے ملک میں قائم برانچوں کے انتظامی اخراجات اور ان کے ملازمین کی تنخواہیں بھی زکواۃ فنڈ میں سے نکالی جانے لگیں ۔یہ سارے اخراجات کروڑوں میں بنتے ہیں جبکہ ہر برسر اقتدار سیاسی جماعت نے زکواۃ فنڈ سے ہی اپنے کارکنوں کو نوازنے کے راستے نکال لئے ۔اس طرح زکواۃ کی تقسیم کے اسلامی تصور ہی کو غارت کر دیا گیا جبکہ اسلام میں زکواۃ کی جبری وصولی کا بھی کوئی تصور موجود نہیں ۔زکواۃ کی جبری وصولی شروع ہوئی تو لوگوں نے اس سے بچنے کے بھی کئی راستے نکال لئے ۔پہلے تو مسلم کھاتہ داروں کی جانب سے اہل تشیع ہونے کے جعلی سرٹیفیکیٹ تیار کرا کے بینکوں میں جمع کرائے جانے لگے اور پھر کھاتہ داروں کی اکثریت نے ماہ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل ہی اپنے بینک اکاؤنٹ خالی کرنے کی راہ اختیار کر لی ۔چنانچہ زکواۃ کی جبری وصولی کی بدعت نے اصحاب نصاب مسلمانوں کو جعل سازی کے گر بھی سکھا دیے جو زکواۃ کی ادائیگی کے ذریعے مستحقین کی خاموشی سے امداد کر کے ثواب کمانے کے فلسفہ کی سرا سر نفی ہے ۔سب سے زیادہ اذیت ناک پہلو تو یہ ہے کہ ضیاء آمریت کو قبول نہ کرنے اور 5جولائی کو ہر سال یوم سیاہ منانے والی پیپلز پارٹی نے بھی اپنے تمام ادوار حکومت میں آمر ضیاء الحق کے مسلط کردہ زکواۃ آرڈیننس کو خوشدلی سے قبول کر کے اسے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔غرض جو بھی سیاسی جماعت اقتدار یں آئی اسے جرنیلی آمریت کی قباحتوں کا ڈھنڈورا پیٹنے کے باوجود ضیاء الحق کے زکواۃ آرڈیننس میں کوئی قباحت نظر نہیں آئی چنانچہ یہ آرڈیننس قانون کا درجہ پا کر آج کے دن تک اپنی عملداری قائم کئے ہوئے ہے ۔آج بے نظیر انکم سپورٹ کا محکمہ اسی زکواۃ فنڈ سے چل رہا ہے اور پیپلز پارٹی سارا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالتی ہے جیسے انکم سپورٹ کی مد میں یہ طبقات اپنی جیبوں سے رقوم ادا کر رہے ہوں ۔چنانچہ اس حوالے سے جائز سوال اٹھتے ہیں کہ جعلسازی کی بنیاد پر استوار کئے گئے زکواۃ کے جبری وصولی کے نظام کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ہمارے جید علمائے کرام فروعی مسائل و معاملات کے بارے میں اپنا حصہ ڈالنے میں تو پیش پیش ہوتے ہیں مگر زکواۃ کی جبری وصولی کے حکومتی نظام کے بارے میں کوئی مستند رائے یا فتویٰ صادر کرنے کی علمائے کرام میں سے کسی کو کم ہی توفیق ہوتی ہے اور یہ سیاسی جماعتوں نے بھی فوجی حکمرانوں سے انتہا درجے کی نفرت کرنے کے باوجود ضیاء آمریت کے زکواۃ آرڈیننس کو آخر کس مقصد کے تحت خوشدلی سے قبول کر رکھا ہے اور زکواۃ کے نام پر جعلسازی کی لعنت اس معاشرے میں کیوں سرائت کرنے دی جا رہی ہے ۔زکواۃ کی جبری وصولی کا حکومتی نظام تو در حقیقت مستحقین زکواۃ کا حق مارنے کے فلسفہ پر مبنی ہے پھر کیوں نہ اس جبری نظام ہی کے خلاف آواز بلند کی جائے ۔کئی فلاحی اور رفاحی ادارے جو بے وسیلہ اور غریب عوام کو اپنے ہسپتالوں کے ذریعے علاج معالجہ کی بلا معاوضہ سہولتیں فراہم کر رہے ہیں ۔مختلف تنظیمیں اور فلاحی ادارے بھی دن رات اپنے کام میں مصروف ہیں ۔عمران خان اور نوجوان گلوکار ابرارالحق کے ہسپتال و دیگر کئی ایسے ادارے غریب مریضوں کی آخری امید ہیں ۔عبد القدیر خان نے بھی اپنا ہسپتال شروع کیا ہے اور بذریعہ زکواۃ و صدقات اس میں شریک ہونے کی اپیل کر رہے ہیں ایسے ادارے یقیناًزکواۃ کے مستحق ہیں مگر زکواۃ فنڈ کی حکومتی بندر بانٹ کے بعد سرکاری فنڈ میں سے ان اداروں کی مالی معاونت کیلئے کیا بچے گا۔کیا شہریوں کی اس جبری نظام سے گلوخلاصی کیلئے کوئی تدبیرکارگر ہو سکتی ہے یہی آج کا سوال ہے جو میں نے کارپردازان وقت کے سامنے رکھ کر اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔

قرض معافی کیس، مالیاتی اداروں اورکمپنیوں سے جواب طلبی

adaria

عدالت عظمیٰ نے مختلف مالیاتی اداروں سے 54ارب روپے کے قرضے لے کر معاف کرانے والی222کمپنیوں اور افراد سے ایک ہفتہ کے اندر جواب طلب کرلیا ہے جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بنک قرضے معاف کراکر لٹ ڈال دی گئی کیوں نہ ان کی جائیدادیں ضبط کرلیں، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہرعالم خان میاں خلیل پرمشتمل تین رکنی بنچ نے قرضہ معافی سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت کی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قوم کے54ارب روپے کھانے کے باوجود کمپنیاں تاحال کام کررہی ہیں انہوں نے پیسے بھی ہضم کرلئے اورلینڈ کروزر اور کاروبار بھی چل رہے ہیں اگر انہوں نے پیسے واپس نہ کئے تو معاملہ نیب کے حوالے کردیں گے ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اہم کیس کو ملتوی نہیں کیاجاسکتا آئندہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے گی پبلک نوٹس کردیاگیا ہے کوئی نہیں آتا تو اپنی ذمہ داری پر نہ آئے۔ چیف جسٹس کے ریمارکس لمحہ فکریہ ہیں قوم کے اربوں روپے معاف کرنے اور ڈکار کرنے والے کسی معافی کے مستحق نہیں عدالت عظمیٰ قرض خوروں سے ریکوری کرائے اور قومی خزانے کو ٹیکہ لگانے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا حکم دے تاکہ آئندہ لوٹ مار کارجحان دم توڑے جو کمپنیاں اور افرادقرض واپس نہ کریں ان کی جائیدادیں ضبط کرلی جائیں یہ اسی سزا کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ کرپشن کی جڑیں اتنی پھیل چکی ہیں کہ کوئی ادارہ ایسا دکھائی نہیں دیتا جس میں کرپشن کاناسور نہ ہو جس ملک میں کرپشن ہو وہ ترقی نہیں کرسکتا اورنہ ہی اس کے باسی خوشحالی کے راستے پرچل سکتے ہیں تعمیروترقی کے راستے میں کرپشن اس وقت رکاوٹ بنی ہوئی ہے جس کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے عدالت عظمیٰ اپنا کردار اد ا کررہی ہے جو تاریخ کے سنہری باب میں رقم ہوگا ذاتی مفادات کی خاطر قومی مفاد کونقصان پہنچانے والے کسی رعایت کے حق دار نہیں کرپشن کے مرتکب عناصر کو جب تک سزا نہیں ملے گی کرپشن کاناسور ختم نہیں ہوسکے گا مختلف ادوار میں زمام اقتدار پربراجمان اشرافیہ نے ملک کو دیوالیہ کرکے رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے بیرونی قرضوں پرانحصار کرنا پڑرہا ہے جو بھی حکومت آتی ہے وہ سابق حکومت پر ملبہ ڈال کر اپنی جان بچانے کی کوشش کرتی ہے لیکن سپریم کورٹ ایسے عناصر کیخلاف شکنجہ تنگ کررہی ہے اور بنک قرضے معاف کراکر لٹ ڈالنے والوں کیخلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے عدالت عظمیٰ نے جن 222کمپنیوں کو نوٹس جاری کئے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ قانون کی گرفت سے بچنے کیلئے قومی دولت واپس کریں اور سزا سے بچیں ورنہ ان کی جائیدادیں ضبط سرکار کرلی جائیں گی اور وہ پچھتاتے پھریں گے ۔سپریم کورٹ ازخودنوٹس کیسز میں جو احکامات دے رہی ہے اور فیصلے کررہی ہے وہ وقت کی آواز اور تقاضاہیں اگر حکومتی سطح پر کرپشن کے خلاف کوئی کارروائی کی جاتی توآج یہ حال نہ ہوتا ۔چیف جسٹس ایک ایسا کردار ادا کررہے ہیں جس کو مدتوں یادرکھاجائے گا قومی دولت کو مال غنیمت سمجھ کرلوٹنے والے یہ بھول چکے تھے کہ ان کیخلاف بھی کوئی کارروائی ہوسکتی ہے لیکن خداوند کریم نے میاں ثاقب نثار کے روپ میں ایک مسیحا بھیجا جس نے کرپشن ، مافیا اور عوامی حقوق سلب کرنیوالوں کیخلاف ایکشن لیا اور عوام کے دل جیت لئے لوگوں کی نظریں اس وقت سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں سپریم کورٹ آئین وقانون کے تناظر میں احکامات صادر کررہی ہے جن پر انگلی اٹھانا درست نہیں ہے چیف جسٹس ایک طرف فوری انصاف کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں تو دوسری طرف عوامی حقوق کیلئے برسر پیکار دکھائی دیتے ہیں جو اس امر کاعکاس ہے کہ اب کوئی قانونی گرفت سے بچ نہیں پائے گا54ارب روپے معاف کرانے والوں پر قانونی گرفت مضبوط کرکے ہی لوٹی گئی رقم واپس کرائی جاسکتی ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی کااجلاس

نگراں وزیر اعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے،جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان، وزرائے داخلہ، خارجہ اور خزانہ کے علاوہ دیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران متعلقہ حکام کی جانب سے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال، دہشتگردی کے خاتمے اور جاری آپریشن پر بریفنگ دی گئی، اجلاس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی فنڈنگ پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس سے متعلق تیاریوں پر بریفنگ دی اور اس حوالے سے درکار قانونی اور انتظامی اقدامات سے متعلق بریف کیا۔ قومی سلامتی کمیٹی نے ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس کے علاوہ وزیراعظم نے کمیٹی کو گزشتہ روز امریکی نائب صدر سے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے بھی آگاہ کیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ذمہ داریوں کو پورا کررہا ہے اور مشترکہ مفادات اور اہداف کے حصول کے لیے عالمی تنظیموں کے ساتھ تعاون کررہے ہیں جب کہ ایف اے ٹی ایف کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تمام اقدامات اٹھائیں گے۔نگرا ن حکومت کو اپنے اختیارات میں رہتے ہوئے کام کرنا ہوگا گزشتہ روز صدرمملکت ممنو ن حسین نے جس گائیڈلائق کی منظوری دی ہے اس سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ مسائل پیدا نہ ہوں نگران حکومت نہ تو عالمی اداروں کے ساتھ مذاکرات یامعاہدہ کرسکتی ہے اورنہ ہی اعلیٰ سطح کی تقرریاں اورتبادلے، اس کا کام صرف روزمرہ کے امور کی ا نجام دہی اورالیکشن کمیشن سے تعاون ہے۔
نگران وزرائے اعلیٰ نے حلف اٹھالیا
نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب حسن عسکری نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا۔ گورنر ہاس لاہور میں نگراں وزیر اعلی کی تقریب حلف برداری ہوئی، گورنر پنجاب رفیق رجوانہ نے نگراں وزیراعلیٰ حسن عسکری سے عہدے کا حلف لیا۔ تقریب حلف برداری میں سیاسی و عسکری شخصیات سمیت آئی جی پنجاب عارف نواز، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی موجود تھے جس کے بعد حسن عسکری نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں جا کر باقاعدہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں،وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچتے ہی حسن عسکری کو گارڈ آف آنر دیا گیا۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گزشتہ روز نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے پروفیسر حسن عسکری کا اعلان کیا تھا تاہم مسلم لیگ(ن)نے ان کی تقرری کو مسترد کردیا تھا۔بلوچستان کے نگران وزیرِاعلی علاالدین مری نے آتے ہی پینڈوار باکس کھول دیا۔ کہتے ہیں انتخابات میں تھوڑی تاخیر ہو جائے تو حرج نہیں ہے۔ بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ علاالدین مری نے حلف اٹھا لیا۔ گورنر ہاس کوئٹہ میں اس حوالے سے تقریب منعقد ہوئی۔ گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے نگران وزیرِاعلیٰ سے حلف لیا۔

ویسے آئیڈیا بُرا نہیں

Naghma habib

بھارت کی طرف سے پاکستان پر اکثر اوقات مضحکہ خیز الزامات لگتے رہتے ہیں ان کے ہاں داؤد ابراہیم بھی پاکستان کا جاسوس ہے اور اس کی فضاؤں میں اڑنے والاکبوتر بھی وہ پکڑ لیتاہے کہ پاکستان کے لیے کام کر رہا ہے بیچارہ معصوم پرندہ کھلی فضاؤں کا باسی ۔چھوٹے چھوٹے بچے اگرکھیلتے کودتے ہوئے غلطی سے سرحد پار چلے جائیں تو وہ اُسامہ ن لادن کے پائے کے دہشت گرد ٹھہرادیے جاتے ہیں اور اُنہیں مہینوں اور سالوں کے لیے قید کر لیا جاتا ہے، خوب واویلا کیا جاتا ہے اور اُس کا پورا میڈیا چیخنے لگ جاتا ہے، غیر فطری طریقے سے پروپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے اور پاکستان پر ایسے ایسے الزامات لگاتے جاتے ہیں جن کی کوئی منطق ہوتی ہے نہ دلیل ۔ابھی بھی اُس نے ایک ایسا ہی شو شا چھوڑا ہے کہ پاکستان اپنے ہاں دہشت گردی کرنے والے طالبان کو کشمیر بھیجنے کی کوشش اور منصوبہ بندی کر رہا ہے یعنی بالفاظ دیگر طالبان پاکستان میں اپنے مشن سے ریٹائرمنٹ لے کر فارغ ہو رہے ہیں اور نئی نو کری کے لیے بھارت جا رہے ہیں ویسے آئیڈیا بھارت کا بُرا نہیں اُس کے بھیجے ہوئے اور پالے پوسے ہوئے یہ دہشت گرد اب اگر بھارت بھیج دیے جائیں تو بہتر ہوگا کیونکہ پاکستان ان کو بہت بھگت چکا بھارت ان کی بھارت میں بھی پذیرائی کرتا ہے اور افغانستان میں تو ان کی پیدائش اور نشوونما سب کچھ ہوتا ہے۔ ان کو پال پوس کر جوان کرنے والے بھی اسی بھارت سے افغانستان آتے ہیں یہاں بھارت کے ستائیس قونصل خانے ہیں اور یہ تعداد اُس ملک میں ہے جہاں ایک ہی ایسا شہر ہے جس کی آبادی دس لاکھ سے زائد ہے اب ان چھوٹے موٹے شہروں میں قونصل خانوں کا ہونا کیا جواز رکھتا ہے سوائے اس کے کہ ان کا کوئی خاص مشن ہو اور یہاں ان کا خاص مشن افغان عوام میں پاکستان کے خلاف زہر پھیلانا ہے اور ساتھ ہی یہ دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے وہ انہیں دہشت گردی کی باقاعدہ تربیت دیتا ہے یہ بات سوچنے کی ہے کہ پہاڑوں میں رو پوش اور دنیا سے کٹے ہوئے دہشت گردوں کے پاس آخر تمام ضروریات زندگی کیسے پہنچتی ہیں اور نہ ختم ہونے والا اسلحہ کہاں سے آرہا ہے آخر انہیں یہ اسلحہ کون دے رہا ہے ظاہر ہے کہیں سے تو آرہا ہے وہ خود اگر بنا بھی رہے ہوتے ہیں تو اس کا خام مال کہاں سے آرہا ہے۔ بھارت کے درجنوں قونصلیٹ افغانستان میں یہی تو کام کر رہے ہیں کہ اپنے ان وحشی جانوروں کو خوراک فراہم کر سکیں۔ اب اگر یہ طالبان پاک فوج اور عوام کے حوصلے اور ہمت کے سامنے بے بس ہوگئے ہیں اور اپنی سرگرمیاں کچھ کم کر دی ہیں اگرچہ ختم اب بھی نہیں ہوئیں ہیں تو بھارت سے یہ ہضم نہیں ہو رہا اور اس نے الزام لگا دیا کہ پاکستان نے انہیں کشمیر بھیج دیا ہے یا ایسی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔کشمیر میں بھارت جو کچھ کر رہا ہے وہ جنگی جرائم کے زمرے میں بھی آتا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بھی وہ جنگ آزادی لڑنے والوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہا ہے ان کو غائب کر کے ساری عمر کے لیے کسی اذیت خانے میں ڈال دیتا ہے اور پھر ان کی لاش کسی اجتماعی قبر سے برآمد ہوتی ہے، وہ ان کی ماؤوں بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری کرتا ہے جو ہرکشمیری کو خود ہی طالبان بنا دیا ہے اس کا جنون نہ تو اُسے طالبان کا محتاج رہنے دیتا ہے نہ پاکستان کا وہ خو د ہی انتقام لینے نکل کھڑا ہوتا ہے اور جان سے گزر جاتا ہے کیوں کہ وہ ، وہ تڑپ اور سسکی برداشت نہیں کر سکتا جو اُس کی ماں بہن اور بیٹی کے ہونٹوں سے نکلتی ہے۔ بھارت کا الزام ہے کہ پاکستان طالبان کو اب بھارت بھیج رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا دست شفقت اب بھی طالبان کے سر پر ہے اور دہشت گردی کے واقعات اب بھی پاکستان میں ہو رہے ہیں اور جو کمی آئی ہے وہ اسے پشتین جیسے لوگوں کو آگے لا کر پو را کر رہاہے اِس کے منہ سے فوج کو گالیاں دلوائی جارہی ہیں عوام کو فوج کے خلاف کرنے کی سٹریٹجی اپنائی جا رہی ہے امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے سیکیورٹی ادارے جو اقدامات کر رہے ہیں ان کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے مانا کہ ان سے عوام کو کچھ مسائل پیش آتے ہیں مگر عوام کی زندگی کی حفاظت سب سے زیادہ ضروری ہے لیکن بھارت کی دلچسپی ظاہر ہے عوام مخالف چیزوں میں زیادہ ہے۔ وہ اپنے عوام کے لیے بھی اتنا فکر مند نہیں جتنا پاکستان میں مسائل کھڑے کرنے کے لیے فکر مند رہتا ہے اور ساتھ ہی دنیا میں اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے۔ کشمیر پر اس نے نا جائز قبضہ کیا ہوا ہے اور مقبوضہ قومیں اپنی آزادی کی جنگیں لڑتی ہی ہیں اور آزادی حاصل بھی کر لیتی ہے۔ کشمیری بھی پچھلے ستر سال سے اپنی الحا ق پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں اور آزادی ان کا حق ہے چاہے وہ اس کے لیے جو بھی طریقہ کار اختیار کریں۔ اگرچہ بھارت کے دیگر صوبوں میں بھی کروڑوں مسلمان بستے ہیں لیکن کشمیر کا محل وقوع اسے قدرتی طور پر پاکستان کا حصہ بناتا ہے اور اسی لیے کشمیری اپنا یہ حق چھوڑنے پر کسی طور پر آمادہ نہیں چاہے اس کے لیے وہ اپنی مدد آپ کرے یا کسی سے مدد لے بے شک کہ پاکستان کشمیر کی اخلاقی اور سیاسی مدد کر رہا ہے اور اس کی آزادی تک کرتا رہے گا لیکن بھارت کے طریقہء کار یعنی دہشت گردی سے نہیں ۔ طالبان سے پاکستان نے کسی صلح کا اعلان نہیں کیا وہ اب بھی جابجا اپنی خونی فطرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملے کرتے ہیں، آئے روز کسی بارودی سرنگ پر پیر�آجانے یا کسی فوجی قافلے پر گھات لگا کر حملہ کرنے یا کسی خود کش کے حملے سے شہادتیں ہونے کی خبریں آتی رہتی ہیں اور ایک طالبان ہی کیا بھارت کے حمایت یا فتہ بلوچ شدت پسند ، پشتین جیسا شرپسند بھی موجود ہیں حتٰی کہ کچھ بھارت پسند سیاستدان بھی عام لوگوں کو ملک کے خلاف اکساتے رہتے ہیں اور حیرت انگیز طور پر کھلے عام یہ کام کرتے ہیں۔ اس لیے بھارت کو اپنے حا لات اور حرکات پر خود سوچ لینا چاہیے کشمیر پر اس نے زبردستی قبضہ کیا ہوا ہے وہ اُس کا نہ تو جغرافیائی طور پر حصہ ہے نہ مذہبی اور معاشرتی طور پر لہٰذا بھارت کو کشمیر کو آزادی دے دینی چاہیے ایسا کر نے سے شاید اس کے مسائل میں کمی ہو ورنہ کشمیر کا یہ خنجر اُس کے سینے میں کھبا رہے گا ۔ کشمیر سے فرصت کے بعد وہ خالصتان ،ناگالینڈ، تری پورہ اور درجنوں دوسری آزادی کی تحریکوں کی طرف توجہ دے سکے گا جن کے لیے اس کے پاس یہ بات بھی کرنے کو نہیں ہے کہ پاکستان ان تحریکوں کو جلا بخشنے کے لیے طالبان کو بھیج رہا ہے۔ بھارت اپنے حالات پر اگر پاکستان کی نسبت زیادہ توجہ دیتا تو آج پاکستان بھی آرام سے ہوتا اور بھارت کے کوڑے کے ڈھیروں پر پلتے عوام کے حالات بھی کہیں اچھے ہوتے۔

*****

فلسطین ، بلفور سے ڈونلڈ ٹرمپ تک(3)

rana-biqi

دوسری جانب مغربی ملکوں میں یہودی لابی مغربی عوام کے ذہنوں کو مسخر کرنے کیلئے مغرب کے کچھ مفکرین کے ذریعے ڈِس انفارمیشن کو حربے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے نام نہاد تحقیقی مقالوں اور کتابوں کے ذریعے اسلامی تہذیب کے اقتصادی اور معاشرتی نظام کو مغربی سرمایہ دارانہ نظام کیلئے بڑی رکاوٹ گردانتے ہوئے مسلم ریاستوں کے خلاف تہذیبی کشمکش کو مغربی فکر و نظر کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔ اِن میں 1918 میں شائع ہونے ہونے والی کتاب ” مغرب کا زوال ” کے مصنف اَسوالڈ سیپنگلر جس میں مسلم ریاستوں کو مغربی ممالک کے مبینہ زوال کی وجہ قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے، 1990 میں شائع ہونے والے مقالے ” مسلم برہمی کی جڑیں ” کے مصنف برنارڈ لیوس جنہوں نے اپنے مقالے میں مسلم فکر و نظر کو مغربی ممالک کے خلاف تیزی سے اُبھرنے والی تحریک سے تعبیر کیا ہے اور 1993 میں شائع ہونے والی کتاب ” تہذیبوں کا ٹکراؤ ” کے مصنف سیموئل ہٹنگٹن نے تو افغان جہاد کے بعد پیدا ہونے والی دہشت گردی کو مغرب کے خلاف تہذیبی ٹکراؤ کے مترادف ہی قرار دیدیا ہے ۔حقیقت یہی ہے کہ موجودہ جمہوری یورپ ، امریکا اورآسٹریلیا کی نئی نسلیں یہ نہیں جانتی ہیں کہ اُن کی عمل داری قائم کرنے کیلئے امریکہ اور آسٹریلیا میں تیس ملین مقامی لوگوں کا قتل عام کیا گیا تھا ۔ مغربی استعمار نے دیگر ملکوں پر قبضہ کرتے ہوئے بھی تقریباً چالیس ملین لوگوں کا قتل عام کیا اور افریقہ کے پچیس ملین لوگوں کو امریکہ میں غلاموں کی تجارت کے ذریعے بدترین زندگی گذارنے پر مجبور کیا گیا چنانچہ جنوبی افریقہ میں نسلی بنیادوں پر کالوں کے حقوق کی پامالی بیسویں صدی تک جاری رہی ۔لہذا مغربی دانشور اپنے مقالوں میں اپنا گِلٹ چھپانے کیلئے اسلام پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے نظر آتے ہیں جبکہ اسلام نے قرآن حکیم میں یہ کہہ کر معاشرتی توازن قائم کرنے کی بنیاد رکھ دی تھی کہ “آپ کا مذہب آپ کیلئے اور میر ے لئے میرا مذہب ” لہذا دیگر مذاہب کے خلاف اسلام شدت پسندی کی تلقین نہیں کرتا۔ اِس کی مثال خلافت عثمانیہ کے زمانے میں بھی دیکھی جا سکتی کہ اگر کسی عیسائی یا یہودی کو زبردستی مسلمان بنانے کی شکایت موصول ہوئی تو ایسے مسلمان کے خلاف تادیبی کاروائی کی گئی ۔ جنگوں کے دوران بھی عام شہریوں کے خلاف مسلم رواداری کا جذبہ ہمیشہ ہی موجزن رہا ۔ اِس کے برعکس جب عیسائی فاتحین نے 1099 میں فلسطین پر قبضہ کیا تو تیس ہزار مسلمانوں اور یہودیوں کا قتل عام کیا گیا لیکن جب صلاح الدین ایوبی نے 1187 میں فلسطین فتح کیا تو اُنہوں نے نہ صرف مقامی عیسائیوں اور یہودیوں کو تحفظ فراہم کیابلکہ اُن کے مذہبی مقامات کی بھی حفاظت کی گئی۔لیکن فلسطین پر 1917 میں برطانوی قبضے کے بعد نہ صرف اکثریتی مسلمان آبادی کے حقوق کی پامالی کرتے ہوئے فلسطین کو یہودیوں کا وطن بنانے کی سازش کی گئی بلکہ آج تک فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ آج کے دور میں کسی بھی مسلم اکثریتی ملک میں اقلیتوں کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا جا رہا ہے کیونکہ کسی بھی مسلمان ملک میں اقلیتی آبادی کا تناسب تبدیل نہیں ہوا ہے جبکہ امریکہ اور یورپی ملکوں میں دیگر مذاہب کے لوگ آزادانہ طور پر اسلام قبول کر رہے ہیں جس کی ایک جھلک اِن ممالک میں آبادی کے تناسب سے محسوس کی جاسکتی ہے لہذا ، سمجھا جا سکتا ہے کہ اسلام دباؤ یا قتل و غارت گری کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے آفاقی اصولوں کی بناہ پر پھیلا ہے اور اِسے کسی طرح بھی اسلام کی بے مقصد جنگجوانہ تہذیبی کشمکش کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ اگر اِسے تہذیبی کشمکش سے تعبیر کیا جاتا ہے تو اِس کی ایک وجہ مسلم ممالک پر مغرب کے بے پایاں کنٹرول ،سیاسی غلبے اور گلوبل بالادستی قائم کرنے کی پالیسی ہے جسے کچھ مسلم ممالک میں مغرب کے خلاف نفرت اور شدت پسندی کے جذبات کے اُبھار کی اہم وجہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ مغرب کے منفی پراپیگنڈے نے مذہبی بنیاد پرستی اور مغرب مخالف اندرونی سیاسی دباؤ میں بتدریج ا ضافے کو ہوا دی ہے جس کا تدارک مذاہب کے مابین روابط اور ڈائیلاگ کو فروغ دیکر کیا جا سکتا ہے ۔ بہرحال برطانوی لارڈ بلفور سے لیکر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک فلسطین میں مذہبی توازن کی پالیسی قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کے باعث دنیا میں دہشت گرد ی کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ مسئلہ فلسطین کے تاریخی پس منظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا معروضی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت منکشف ہو جاتی ہے کہ برّصغیر ہندوستان میں تحریکِ خلافت کے بعد مسلمانانِ ہند کیلئے مسلمانوں کے قبلہ اوّل کے حوالے سے فلسطین میں جبر و تشدد کی پالیسی کے پیش نظر یہودی ریاست کا قیام کسی پہلو سے بھی ایک لمحہ فکریہ سے کم نہیں تھاجبکہ قائداعظم محمد علی جناح ماضی میں برٹش انڈیا کے شہری ہونے کے باوجود فلسطین میں ہونے والے ظلم و ستم پر ہمیشہ ہی مضطرب رہے ۔

(۔۔۔۔۔۔جاری ہے)

ڈسٹرکٹ آوارانکے مسائل عالمی پراپیگنڈے کی زد میں

واقعات کی درستگی یاسچائی کااندازہ سینکڑوں میل دوربیٹھ کرلگایا جاسکتا ہے یا سنی سنائی باتوں پر اپنی مرضی کے نتائج اخذ کرلیئے جائیں ؟یا جب تک ہمیں یقین نہ ہوجائے کہ طویل ترین’دوردرازاور دشوارگزارعلاقوں کی جومتاثرہ تصویر ہمیں دکھلائی جارہی ہے کیا وہ اسٹوری(کہانی) چیزوں کی حقیقی کھوج اور پوری طرح سے چھان بین کے نتیجے میں جیسی وہاں موقع پرموجود ہے وہ حقیقتا ایسی ہی ہے جیسی ہمیں سنائی یا دکھائی جارہی ہے؟ یا پھر کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ جو کچھ بھی بیان کیا جارہا ہے ا لیکٹرونک میڈیایاسوشل میڈیا کے مختلف ایپس کے توسط سے ان علاقوں کے واقعات کی ‘من پسند منظر کشی’ سے ہماری یا غیروں کی توجہ اپنی جانب مبذول تو کرانے کی کوئی کوشش تو نہیں کی جارہی ہے اور خاص کرپاکستان اور پاکستانی فوج کو نشانے پر لئے کر بات اگر بلوچستان کی ہو بلکہ کوئٹہ شہر سے لگ بھگ آٹھ نوسو کلومیٹر کے فاصلے سے واقع ایران کے بارڈر کے منسلک بلوچستان کے ڈسٹرکٹ آواران کی بات کی جارہی ہو تو معاملہ اور بھی نازک سمجھیں معاملہ کو کیوں اتنا نازک اور حساس سمجھیں عالمی طالع آزماوں نے قیامِ پاکستان سے تادمِ تحریر اپنی استعماری ہوس پرست نگائیں بلوچستان پر گاڑھی ہوئی ہیں وہاں کوئی ایک واقعہ رونما ہوجائے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پاکستان اور پاکستانی فوج کے دشمنوں میں کھلبلی مچ جاتی ہے چاہے واقعات کی نوعیت انسانی قدرت سے نہ رکھتے ہوں بلوچستان میں اگر بارشیں کم ہوتی ہیں تو اِس میں کیسی انسان کو قصوروار کیسے ٹھہرایا جاسکتا ہے پہلے ہی بلوچستان میں بارشیں بہت کم ہوتی ہیں تقریبا سارا سال ہی بلوچستان کے دوردراز علاقے زیادہ تر علاقہ خشک سالی کی لپیٹ میں رہتے ہیں،جبکہ ڈسٹرکٹ آواران کے محل ووقوع کے بارے میں جانے والے آگاہ ہیں کہ وہاں تو پینے کا صاف پانی بھی آسانی سے دستیاب نہیں ہوتا’اور سچ بھی ہے پانی قلت کی بات کی جائے توپورے ملک میں آجکل پانی کا رونا رویا جارہا ہے’ مگرحقیقت یہ ہی ہے کہ بلوچستان میں پانی نایاب ہے حکومتی سطح پربلوچستان کے بالائی علاقوں میں اگرکہیں پانی پہنچایا جارہاہے تو پھر یقیناًڈسٹرکٹ آواران میں پانی کی سنگین قلت کی عوامی شکایات پربلوچستان کی صوبائی حکومت کوفی الفورنوٹس لینا چاہیئے اور یہ ان کی ذمہ داری ہے تاکہ پاکستان اور بلوچستان کے ازلی دشمنوں کو ہم خود سے کیوں کوئی ایسا موقع فراہم کریں کہ وہ آواران ڈسٹرکٹ میں پانی کی کامیابی کی آڑ میں بلوچی عوام کو گمراہ کرنے جیسی مذموم کوششیں کرنے لگ جائیں جنابِ والہ! پروپیگنڈے کا یہ مذموم شرمناک کام وہاں ملک دشمنوں نے کئی ماہ سے شروع کیا ہوا ہے ایک تو آواران میں پانی کی شدید قلت اور اوپرسے کم بارشوں کی وجہ سے رہے سہے پانی کے ذخائر میں فضائی آلودگی نے اس آلودہ پانی کواستعمال کرنے کے قابل نہیں چھوڑا وہاں صحرائی ریت کی جب تیز تپتی ہوائیں چلتی ہیں تو گرم صحرائی علاقے آواران کے عوام اور وہاں پر ملکی سیکورٹی اداروں کے متعین اہلکار اس گرم آلودہ ہواوں سے بہت ہی بری طرح سے متاثر ہوتے ہیں، آواران کا جتنا علاقہ ہے اور وہاں جتنی بھی سویلین آبادی ہے اب ان کا زیادہ تر انحصار سیکورٹی فورسنز کی قائم کی ہوئی چیک پوسٹوں پر میسر آنے والے پینے کے صاف پانی کے ان ٹینکروں پر ہونے لگا ہے جو سیکورٹی اہلکاروں کے لئے وہاں بذریعہ ہیلی کاپٹر پہنچا ئے جاتے ملکی فوج کی سدرن کمانڈ نے آواران ڈسٹرکٹ میں پانی کی اِس قدر شدید قلت کے پیشِ نظر اپنے سیکورٹی اسٹاف کے علاوہ اب ڈسٹرکٹ آواران کے عام سویلین کے لئے بھی بلاکسی رکاوٹ اورتعطل کے ٹینکروں کی تعداد بڑھادی ہے جس کے بعد اب ڈسٹرکٹ آواران کے عام عوام کو بھی اپنے فوجی بھائیوں کے ساتھ پینے کے صاف پانی کی سہولت ہمہ وقت میسر ہے اور یہی نہیں بلکہ وہاں آلودگی کے شدید مصائب میں مبتلا بلوچی عوام کو مفت طبی امداد کے کیمپس باقاعدگی لگائے جارہے ہیں پاکستانی سیکورٹی ادارے جدید دنیا کے جدید تقاضوں کے مطابق اپنی انسانی خدمات کے فرائض کوبخوبی سمجھتے ہیں دنیاکی کوئی فوج اپنے عوام کی انسانی ضروریات سے بے خبر اور لاپرواہ ہوکراپنے ملک کے دفاعی امورکو بخوبی انجام نہیں دے سکتی عالمی دفاعی ماہرین کا یہ ماننا ہے لہذا پاکستانی قوم کے پیشِ نظرپاکستان کا مستقبل ہے نہ کہ وہ اپنے دشمنوں کے پھیلائے ہوئے من گھڑت پروپیگنڈے کے جال میں آجائیں؟ ہمارے دشمنوں کی یہ بڑی بھول ہے پاکستان کے مغربی بارڈر کے پار درِخیبر سے چمن کے بارڈرتک جتنا زہریلا اور نفرت انگیز افغانی اور بھارتی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے وہ اپنی موت آپ مرجائے گاہمیں یہ علم ہے کہ پاکستان کے دشمن اپنی آخری اعصابی ونفساتی جنگ کے کسی بھی حربے کوہر صورت میں آزمائیں گے وہ اپنا ہر پتہ کھیلنا چاہا رہے ہیں اب انہیں آواران ڈسٹرکٹ میں پانی کی قلت اورآلودہ پانی پینے کی وجہ سے ہونے والی ممکنہ بیماریوں سے ہونے والی ‘اموات’ کے نام پر جذباتی پروپیگنڈامہم نے اپنے پیچھے لگالیا ہے وہ سب نام نہاد بلوچ قوم پرست ایک ہی متعصبانہ راگ الاپے چلے جارہے ہیں میڈیا کے ذریعے دنیا میں جھوٹ کا طوفان اٹھانے کی اپنی سی بڑی کوششیں ہورہی ہے پاکستان کی مسلح افواج کی سدرن کمانڈ پر الزامات دھرے جارہے ہیں بلوچستان کے ڈسٹرکٹ آواران کے بلوچی عوام کی دہائیاں دی جارہی ہیں جیسا ابتدامیں عرض ہوا ہے کہ آواران کے اصل واقعات وہ نہیں ہیں جو بتائے جارہے ہیں امریکا’کینڈا’ اوردیگر مسلم دشمن مغربی ممالک میں بیٹھے ہوئے نام نہاد قوم پرست لیڈر’پاک چین اقتصادی راہداری’ کے عظیم ترقیاتی منصوبے کی راہوں میں اپنے پروپیگنڈے کی مذموم اور گھٹیا مہمات کے زور پرعالمی استعمار کے معاشی مفادات پورے کرنے کے لئے خوب استعمال ہورہے ہیں ہماری بلا سیعالمی استبداد کے ہاتھوں بکے ہوئے گمراہ گروہ اِس کے علاوہ اور کیا سکتے ہیں سوشل میڈیا’اسکائی فونزاور انسٹاگرام کی جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایپس پر یہ رات گئے تک اِ یسی ہی ملک دشمن مصروفیات میں لگے ہوئے ہیں ،بلوچستان اور بلوچستان کے دوردرازپسماندہ علاقوں میں افغانستان اورایران کی پاکستان سے ملنے والی سرحدوں تک اپنے خودساختہ من گھڑت پیغامات کی ترسیل کرتے رہیں، کیا سچ ہے کیا جھوٹ اِنہیں اِس سے کوئی غرض وغایت نہیں بس پاکستانی فوج کے خلاف بغض وعناد دنیا میں پھیلانا اِن کی ڈیوٹی عالمی استعمار نے لگا رکھی ہے بلوچی عوام کے حقوق کے نام پر نام نہاد بلوچ نیشنلسٹ کوئی نیا انوکھا کام نہیں کررہے، اب تو بلوچستان کے عوام نے اِن پر بھروسہ کرنا ترک کردیا ہے کیونکہ جتنا جھوٹ گمراہ گروہ کے یہ بکے ہوئے لوگ بول سکتے تھے بول چکے بلوچی غیورعوام کوجتنا گمراہ کرسکتے تھے اس میں بھی اِنہیں ناکامی کا منہ ہی دیکھنا پڑا اب تو بلوچی نوجوانوں کی ایک بڑی واضح اکثریت پاکستانی فوج کے مختلف اداروں کا حصہ بن چکی ہے، ملکی سیکورٹی اداروں میں بلوچی عوام اپنی بہترین جسمانی تربیت اور خالص ہنرمندی کی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اب ترقی کے شانداز زینے طے کرتے چلے جا رہے ہیں، ڈسٹرکٹ آواران کے تازہ ترین متاثرہ واقعات کوقدرتی خشک سالی کے معروضی حالات میں جانچنے اوران متاثرہ واقعات کی سنگینی کو حل کرنے کی جانب اب ظاہر ہے کہ سب سے پہلے پاکستانی فوج نے ہی دیکھنا تھا پاکستانی فوج نے اپنا یہ آئینی فرض موقع پر بہ حسن وخوبی نبھانا شروع کردیا ہے آواران کے عوام اپنی آنکھوں سے سب دیکھ رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں پاکستانی فوج کے ڈاکٹرز’فی میل ڈاکٹرزآواران کے عوام کے درمیان ہیں اب بلوچی عوام کس پر بھروسہ کریں گے پاکستانی فوج کی وردی میں انسانی سہولیات کی ضروریات کے ہمراہ ان کے درمیان جو پاکستانی موجود ہیں وہ ان پر ہی مکمل بھروسہ کریں گے نا’نہ کہ ان غیرملکی آلہِ کاروں پر جو ان کے نام پر باہر کی دنیاوں میں بیٹھے پرتعیش زندگیاں بسرکررے ہیں مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں یادرہے حقائق ہمیشہ تصدیق مصدقہ تصدیق سے علیحدہ نہیں کئے جاسکتے ۔

*****

پاکستان کے جوہری اثاثے

وطن عزیز میں جگہ جگہ چلتے ٹی ہاؤس جہاں شام کو لوگ چائے سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہاں حالات حاضرہ کے اہم قومی وملکی موضوعات بھی زیر بحث آتے ہیں ۔ہر صاحب فہم اس سعی میں نظر آتا ہے کہ زیر بحث موضوع پر اس کی نظر وسعت کی حامل اور تجربہ عمیق ہے ۔کسی کے منہ سے نکلی ہوئی بات یا موضوع پر دیے گئے ریمارکس بعض اوقات پر اثر اور حیران کن ہوتے ہیں اور عام سامعین اختلاف رکھتے ہوئے بھی رائے زنی اور دلیل دینے والے کی بات کو درست خیال کرتے ہوئے اس کی بالغ نظری کے معترف ہو جاتے ہیں ۔راقم کا گاؤں چٹی شیخاں جو ضلع سیالکوٹ کا ایک تاریخی قصبہ ہے ،ایک شام ایک ٹی ہاؤس پر چائے کا دور چل رہا تھا ۔پاکستان کے 28مئی کو ہونے والے ایٹمی دھماکے موضوع گفتگو بنے ہوئے تھے۔دکان کا مالک جو پرانے وقتوں کا ایف اے پاس ہے ایٹم بم کے حوالے سے جاری گفتگو میں بھرپور حصہ لے رہا تھا ۔اس کا موقف تھا کہ پاکستان کیلئے ایٹم بم ضروری نہیں تھا ۔اگر ہم نے ہندوستان سے مقابلہ کرنا ہے تو اس کیلئے تعلیمی، معاشی اور سیاسی میدان کھلا ہے ۔کیا مقابلے کیلئے ایٹم بم ہی رہ گیا ہے۔کیا ہم کبھی جنگ کی باتیں چھوڑ کر امن کی زبان میں بات نہیں کر سکتے ۔جنگ کا عفریت جہاں گھس آئے وہاں تو موت شہروں ،گلیوں اور آنگنوں میں وحشیانہ رقص کرنے لگتی ہے ۔جنگ کے بعد زندگی مدتوں روتی ہے ۔ایٹمی جنگ کا تو خیال ہی رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے جس سے تو شہر صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں ،بچنے والے اپاہج،خوراک کے ذخائر خاک اور عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن جاتی ہیں ۔پاکستان اور ہندوستان میں کشیدگی قائم رکھنے کے خواہش مند حلقے اسلحہ کے انبار جمع کر رہے ہیں ۔ایٹمی اسلحہ کے انبار پر کھڑے ہو کر وہ کہہ رہے ہیں کہ اس اسلحے کی وجہ سے برصغیر میں امن ہے ۔کیا یہ حقیقت ہے کہ امن قائم ہو گیا ہے ؟پاکستان میں ابھی تک دہشت گرد اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ۔گو ان کا زور کافی حد تک کم ہوگیا ہے لیکن ان کا خاتمہ ممکن نہیں بنایا جا سکا ۔اب بھی ان کو جہاں موقع ملتا ہے یہ دہشت گرد خود کش حملے،بم دھماکے اور سول اور فوجی تنصیبات پر حملے کرتے ہیں ۔یہ دہشت گرد ابھی تک اپنی مذموم سرگرمیوں میں مصروف ہیں ۔آج ساری دنیا میں شور مچا ہوا ہے کہ پاکستان کا ایٹم بم محفوظ نہیں ہے اور یہ کسی وقت کہیں دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگ جائے۔اگر دہشت گرد فوجی چوکیوں میں سے گزر کر کوئٹہ،کراچی ،اسلام آباد اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں کاروائیاں کر سکتے ہیں تو کیا یہ کبھی ایٹمی تنصیبات تک نہیں پہنچ سکتے ۔کیا ایٹم بم کا دہشت گردی سے بچاؤ کیلئے کوئی کردار ہے ۔ایٹم بم بنانے ،اسے محفوظ رکھنے کیلئے اربوں روپے درکار ہیں ،اگر یہ روپیہ غربت و افلاس کے مارے ہوئے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوتا تو قوم کے غربت کی دلدل سے نکلنے کی ایک تدبیر ہوتی ۔راقم نے مالک ٹی شاپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے عزیز آپ کی تقریر یقیناً پر اثر ہے لیکن دونوں ملکوں کی ایٹمی صلاحیت ہی فی ا لحقیقت انہیں تصادم سے باز رکھے ہوئے ہے ۔یہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کا ہی نتیجہ ہے کہ بھارت کے ساتھ 1971ء کے بعد کسی بڑی جنگ کی نوبت ہی نہیں آنے پائی ہے ۔ماضی میں پاکستان اور بھارت کی فوجیں دس ماہ تک آمنے سامنے کھڑی رہیں لیکن ایٹمی ڈیٹرنٹ کے باعث بھارت جس نے سرحدوں پرفوج لا کھڑی کرنے میں پہل کی تھی واپس لے جانے پر مجبور ہو گیا ۔تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ برصغیر میں ایٹمی اسلحہ کی دوڑ کے ہر مرحلے میں بھارت نے پہل کی ۔پاکستان کے خلاف بھارت کے جارحانہ عزائم اور بالخصوص دسمبر1971ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان کیلئے اپنی سلامتی ،آزادی اور خود مختاری کا تحفظ ایٹمی صلاحیت کے حصول کے بغیر ممکن ہی نہ تھا ۔راقم نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے تھے جس سے یہ دونوں شہر تباہ ہو گئے اور جاپان وہ جنگ ہار گیا ۔اس وقت جاپان کے پاس بھی ایٹم بم ہوتے تو امریکہ کبھی بھی جاپان پر ایٹم بم نہ گرا سکتا تھا ۔امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ کے زمانے میں شدید مخالفت کے باوجود امریکہ نے روس یا چین پر ایٹمی حملہ کی جسارت نہیں کی کیونکہ اس کو معلوم تھا کہ ان ملکوں کے پاس بر اعظمی ایٹمی میزائل ،ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم ہیں اور امریکہ ان کی زد میں ہے ۔روس کے افغانستان سے انخلا کے بعد یہی توقع کی جا رہی تھی کہ اب نیٹو کو ختم کر دیا جائے گا لیکن اس کے برعکس امریکہ سمیت مغربی ممالک نے دفاعی مد میں کمی کی بجائے اس کے بجٹ میں اضافہ ہی کیا ہے ۔امریکہ کے نیٹو کو مزید توسیع دینے کی کوشش پر روس اور امریکہ میں تلخی بھی پیدا ہوئی ۔امریکہ اور روس سمیت تمام بڑی طاقتیں جن کے پاس ہزاروں کی تعداد میں ایٹمی ہتھیار اور برق رفتار ڈلیوری سسٹم موجود ہیں انہیں امن عالم اور نوع انسانی کے وسیع تر مفاد میں سب سے پہلے خود ایٹمی ذخائر کو ختم کرنا چاہیے ۔واقعاتی تناظر میں یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکی انتظامیہ براہ راست نہ سہی بالواسطہ طور پر ہماری حکومت کو دباؤ میں لیکر مستقبل میں پاکستان کو جوہری صلاحیت اور ایٹمی ہتھیاروں سے محروم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔پاکستان کے جوہری اثاثوں کے حوالے سے امریکہ کے میڈیا میں ایک مہم چلائی گئی جس کا مقصد خیال آرائیوں ،افواہوں اور مفروضوں کی بنیاد پر ملک کوسیاسی اور دفاعی اعتبار سے نقصان پہنچانا تھا ۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سول حکومت ایک کمزور حکومت ہے ،آئی اے�آئی ،پاکستانی فوج اور دہشت گرد تنظیموں اورطالبان میں ایک رابطہ ہے اور پاکستان کی فوج طالبان اور دہشت گردوں سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ۔وہ دہشت گردوں کو اتنا طاقت ور دکھاتے ہیں کہ وہ پاکستان کے جوہری اثاثوں تک پہنچ سکتے ہیں ۔ذرا غور کریں کہ امریکہ تو خود طالبان اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا خواہش مند تھا ۔اگر آج پاک فوج نے انتہا پسندوں پر ہاتھ ڈال کر ان کی قوت کمزور کر دی ہے تو پھر امریکہ کو ہیجان میں مبتلا ہو کر پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے تحفظ کے سلسلے میں بے ربط بیان بازی کی ضرورت کیوں آن پڑتی ہے ؟امن کے قیام کا انحصار طاقت کے توازن پر ہی ہوتا ہے ۔1960ء کی دہائی اور اس کے بعد جو واقعات رونما ہوتے چلے گئے ،اس تبدیلی سے یہی سبق اخذ ہوتا ہے کہ حالات دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست بنا دیتے ہیں ۔حالات کے زیر اثر تباہی کا مشاہدہ عراق، افغانستان،لیبیا ،شام اور پاکستان میں بھی بخوبی کیا جا سکتا ہے ۔کل کے طالبان غازی تھے جو اب دہشت گرد ہیں ۔فوجی اعتبار سے مضبوط پاکستان ہی مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء کو غیر مستحکم ہونے سے بچا سکتا ہے ۔عالمی دہشت گردی کے منظر نامے سے بھی یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے اور اس حوالہ سے بھی وطن عزیز کے دفاع کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ۔دنیا میں انصاف بہت کم ہے اور یہ صرف طاقتور کو ہی ملتا ہے ۔لہذا عوام کی یہ انتہائی اہم ذمہ داری ہے کہ موجودہ طاقت کے تحفظ اور مزید طاقت کے حصول کیلئے مثالی اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے ۔پاکستانی میڈیا کو بھی امریکی میڈیا کے بے بنیاد پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دینے کی ضرورت ہے ۔پاکستان کی فوج بفضل خدا ہر شورش اور بغاوت سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔پاکستان کا جوہری پروگرام اور جوہری اثاثے محفوظ ہیں ۔پاکستان کے عوام اور فوج اس کے محافظ ہیں ۔پاکستان کو مضبوط بنانا ہی تقاضائے وقت ہے اگر یہ معاشی طور پر مضبوط ہو گا تو پھر ہی یہ اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا سکتا ہے اور بیرونی دباؤ سے بھی بچ سکتا ہے۔

کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت

سپریم کورٹ نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کا آغاز کراچی رجسٹری سے کرنے کا اعلان کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا ورنہ پانی کا مسئلہ قوم کیلئے عذاب بن جائے گا، عدالت نے اعتزاز احسن کو معاون مقرر کرتے ہوئے انہیں پینے کے پانی کے ذخیروں پر رپورٹ مرتب کرکے 21 جون تک پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اسلام آباد میں پانی کی قلت پر لیے گئے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہاں 22 گریڈ کے افسر کو پانی کی بالٹی لے کر نہانا پڑتا ہے، یہ سی ڈی اے کی کارکردگی ہے، سمبلی ڈیم میں پانی نہیں کیا حکومت فیل ہوگئی ہے، پانی کی کمی کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو اقتدار میں ہیں اور جو چھوڑ کر گئے ہیں یہ مسئلہ واٹر بم بنتا جارہا ہے کیا بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیں زرداری اور نواز شریف آکر بتائیں پانی کیلئے کیا کیا کاش بلوچ یا سندھی ہوتا تاکہ مسئلے کی سمجھ آجاتی دل چاہتا ہے ملکی قرضے اتارنے ، ڈیم بنانے کیلئے چندہ اکٹھا کروں ، بنیادی حقوق کی فراہمی ووٹ کی عزت ہے، درخت بھی کاغذوں تک محدود،4 ارب لگا کر بھی پانی نہیں ملا۔ چیف جسٹس کے ریمارکس لمحہ فکریہ ہیں ، زمام اقتدار پر براجمان ر ہنے والوں نے پانی کا مسئلہ بھی لاینحل بنا دیا ، پانی انسانی زندگی کا اہم جزو ہے اوریہ مسئلہ دنیا میں زندگی اور موت کا مسئلہ بنتا جارہا ہے ، وطن عزیز میں اس کی صورتحال انتہائی خطرناک روپ دھارتی چلی جارہی ہے، عالمی ادارے قحط تک کی وارننگ جاری کرچکے ہیں مگر حکومتی بے اعتنائی اور غفلت کا یہ عالم ہے کہ اس نے پانی کا مسئلہ حل کرنے میں دیدہ دانستہ کوتاہی کا مظاہرہ کیا جس کے باعث نوبت قحط تک پہنچتی جارہی ہے، حکومتی تساہل پسندی یہ ہے کہ 40 سال سے کالا باغ ڈیم کے تنازع کو حل نہیں کر پائے اور پڑوسی ملک بھارت نے اس عرصہ میں کئی ڈیموں کی تعمیر کرلی ہے جن میں سے کئی ایک ہمارے پانی کو چوری کرکے بنائے گئے ہیں ، سندھ کو یقین دہانی کروائی جاسکتی ہے کہ خشک موسم میں بھی سندھ کو پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی جو اس وقت بے یقینی کی شکل میں آشکار ہے دوسری طرف صوبہ خیبرپختونخوا کے سیاستدانوں کا معاملہ ہے جو محض ضد کی بنیاد پر اڑے ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس نے بجا فرمایا کالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے، پانی کی قلت لوگوں کیلئے پریشان کن بنتی جارہی ہے، آب کی قلت کے ذمہ دار وہ اشرافیہ ہے جو مختلف ادوار میں اقتدار کے مزے لیتی رہی لیکن انہوں نے بنیادی حقوق سے چشم پوشی کی جس کا نتیجہ ایک تشویشناک صورت میں آج ہمارے سامنے ہے کالا باغ ڈیم کو زیادہ دیر تک متنازع بنائے رکھنا قومی مفاد کے برعکس ہے ، ڈیم کی تعمیر میں تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے، پانی کے مسئلے کا جلد ازجلد ادراک کیا جانا ازحد ضروری ہے ورنہ یہ مسئلہ قوم کیلئے عذاب بن جائے گا ، کالا باغ ڈیم کی تعمیر وقت کا تقاضا ہے ورنہ پانی کی قلت عوام الناس کیلئے پریشان کن روپ دھارلے گی، عدالت عظمی نے جو ریمارکس دئیے ہیں وہ حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہیں ، حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کے معیار زندگی کو بلند کرے ان کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے اور بنیادی حقوق فراہم کرے لیکن صد افسوس ہمارے ہاں بنیادی حقوق سے چشم پوشی کی جاتی ہے اور اقتدار پر براجمان اشرافیہ ذاتی مفادات کو ترجیح دیتی ہے جس سے لوگ بنیادی حقوق کیلئے آہ وبکا کررہے ہیں ان کی فریاد پر نہ کوئی کان دھرتا ہے نہ داد رسی کرتا ہے اس صورتحال میں پھر سپریم کورٹ کو نوٹس لینا پڑ رہا ہے اور بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے سپریم کورٹ جو کردار ادا کررہی ہے وہ تاریخ کے سنہری باب میں لکھا جائے گا، پانی بنیادی ضروریات زندگی ہے اس کے بغیر جتنا مشکل ہے ، خدارا پانی کے مسئلہ کوحل کیا جائے تشنہ لبی لوگوں کیلئے عذاب بنتی جارہی ہے، کالا باغ ڈیم پانی کی قلت کے مسئلے کا حل ہے اس پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے یہی وقت کی آواز ہے جس سے پہلو تہی مفاد عامہ کے برعکس ہے۔
لوئر دیر پولیس موبائل پر بم حملہ
لوئر دیر کے علاقہ جندول میں پولیس کی موبائل وین پر ریموٹ کنٹرول بم حملے کے نتیجہ میں ایس ایچ او سمیت 3اہلکار شہید اور دو شدید زخمی ہوگئے۔ ایس ایچ او تفتیش کیلئے جارہے تھے کہ راستے میں ان کو نشانہ بنایا گیا اس بم حملے میں 5کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا ، دہشت گردی کے اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کا کوئی دین نہیں ، دہشت گردی کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا ، اسلام تو امن کا دین ہے سلامتی کی تعلیم دیتا ہے اور ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے، یہ معصوم جانوں کے دشمن انسانیت کے دشمن ہیں ان کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پاک فوج ، سیکورٹی ادارے اور پولیس دن رات کوشاں ہے اس طرح کی بزدلانہ کاررروائیاں پاک فوج اور دیگر اداروں کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتیں ، پولیس موبائل پر کی جانے والی دہشت گردی ایک بزدلانہ کارروائی ہے اس طرح کی کارروائیاں دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ میں رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتیں ، خداوند کریم اس دردناک واقعہ میں شہید ہونے والوں کے درجات بلند کرے اور ان کے لواحقین کو صبرجمیل عطا فرمائے۔
پنجاب و بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ مقرر
الیکشن کمیشن نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے پروفیسر حسن عسکری اور بلوچستان کیلئے علاؤالدین مری کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔ نگران وزیراعلیٰ کیلئے پنجاب اور بلوچستان میں حزب اقتدار اور حزب مخالف میں فیصلہ نہ ہونے پر معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس گیا تھا ، ن لیگ نے حسن عسکری پر اعتراضات اٹھائے جن کو الیکشن کمیشن نے مسترد کردیا ،ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ کسی کے ایماء اور خواہش پر نہیں میرٹ پر فیصلے کرتے ہیں۔ حسن عسکری نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی مقررہ کردہ تاریخ پر انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائیں گے ، محدود وقت میں عوام کی فلاح پر توجہ اور کابینہ محدود رکھی۔ حزب اقتدار اور حزب مخالف جب وزیراعلیٰ کے نام پر متفق نہ ہوپائے تو الیکشن کمیشن نے میرٹ کی روشنی میں بھیجے گئے ناموں میں سے کسی ایک کا تقرر کرنا تھا جس پر ن لیگ کے اعتراضات بے معنی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے جو فیصلہ کیا ہے وہ درست ہے اس پرحرف گیری درست نہیں،نگران وزیراعلیٰ پنجاب اور بلوچستان کا تقرر آئینی تقاضے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ۔ الیکشن کمیشن بروقت پرامن اور صاف و شفاف انتخابات کو یقینی بنائے تاکہ دھاندلی دھاندلی کی روایت دم توڑے اور ایک عمدہ روایت دیکھنے کو ملے۔

Google Analytics Alternative