کالم

بھارت سے بہتری کی توقع ہرگزنہیں

پاکستان اور بھارت نے دو آزاد ممالک کی حیثیت سے برطانیہ سے آزادی حاصل کی لیکن ایک ہی آقا سے آزادی حاصل کرنے کے باوجود ان دونوں کے تعلقات کبھی خوشگوار نہ رہ سکے اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہندو لیڈرشپ کا اکھنڈ بھارت کا وہ خواب تھا جس کو اس نے آزادی کے بعد بھی نہیں توڑا اور اسی وجہ سے پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم بھی نہیں کیا، حالانکہ کہنے کو تو مسلمان اور ہندو ہزار سال سے زائد عرصے سے برصغیر میں رہ رہے تھے لیکن دونوں مذاہب میں زمین آسمان کا فرق ہونے کی وجہ سے دونوں کبھی ایک رنگ میں نہ رنگ سکے ۔ ظاہری شکل و شباہت کے علاوہ کوئی چیز دونوں میں مشترک نہ تھی اور ایساپوری دنیا میں ہوتاہے کہ بنیادی طور پر مختلف نظریات کے حامل لوگ ایک الگ اکائی ہی بناتے ہیں اور ایسا ہی بر صغیر میں ہواکہ دو الگ الگ ریاستیں بنیں ہندو چونکہ اکثریت میں تھے لہٰذا ان کی ریاست بڑی تھی لیکن دوسری طرف بھی سب سے بڑی مسلمان ریاست تھی جسے ہندوذہنیت نے کبھی قبول نہیں کیا اور اس نے اس کے خلاف سازشیں شروع کر دیں اور جو جتنا بڑا سازشی تھا اُ سے اتنا ہی بڑا عہدہ اور مقام ملا ۔ انہی سازشوں کے لئے اس ملک نے باقاعدہ ادارے بنائے جن میں سب سے بڑا ادارہ ’’را‘‘ ہے کہنے کو تو یہ بھارت کی سرا غرساں ایجنسی ہے لیکن اس کی بنیادی ذمہ داری اور منشور ہی پاکستان اور چین کے خلاف کام کرنا ہے ۔ 1962 میں چین کے ہاتھوں بد ترین شکست اور 1965 میں پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت کے رد عمل کے طور پر 1968 میں بھارت نے اپنی اس بد نام زمانہ ایجنسی کی بنیاد رکھی اور اسے جو خاص ترین مشن سونپا گیا وہ پاکستان میں مسائل پیدا کرنا تھا ۔ ’’ را ‘‘نے مشرقی پاکستان میں جو مکروہ کردار ادا کیا وہ بذات خود تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے ۔ اسی نے مکتی باہنی اور مجیب کو بنایا اور پاکستان کی سالمیت پر حملہ کیا اور آج بھی یہ پاکستان کے مختلف علاقوں خاص کر شمالی علاقوں میں براستہ افغانستان اور بلوچستان میں براستہ افغانستان اور ایران دونوں طرف سے ملوث ہے اور مسلسل سبوتاژ اور بد امنی کی کارروائیوں میں مصروف ہے جن میں اگرچہ اُسے پاکستانی اداروں کی چابکدستی کی وجہ سے وہ کامیابی حاصل نہیں ہو رہی جتنی وہ تگ و دو کر رہاہے اور نہ انشاء اللہ اُ س کی یہ خواہش پوری ہوگی ۔ دوسری طرف خود بھارت کے اندر ایک بڑے پاکستان کا خوف اسے بلا وجہ ستاتا رہتا ہے یعنی بیس کروڑ کی دنیا کی سب سے بڑی اقلیت کا خوف جو مسلمان ہے اور یہ مسلمان اسی لئے ہر وقت عوامی ہندو عتاب کا بھی نشانہ بنتے رہے ہیں اور ریاستی دہشت گردی کا بھی اور اس کے لئے اُس کا ایک اور ادارہ مسلسل بر سرپیکار رہتا ہے اور وہ ہے آئی بی یعنی انٹیلجنس بیورو جس کا کام ملک میں اندرونی سطح پر سازشوں بلکہ حکومت مخالفوں کا خاتمہ ہے لیکن یہ بھی زیادہ تر مذہبی یا علاقائی اقلیتوں کے خلاف ہی مصروف عمل ہوتا ہے ۔ یہی آئی بی بھارت سرکار کے اہم امور میں بھی دخیل ہے اور اس کی بدنامی بھی ’’را‘‘سے کچھ کم نہیں ۔ اب اگر ان اداروں کے کام کو ذہن میں رکھا جائے تو یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ ان کے سر براہوں کے لئے کس قسم کے لوگوں کو منتخب کیا جاتا ہوگا اور اس سال بھی دو ایسے ہی اشخاص کی تعیناتی کی گئی ہے جو ان اداروں کی سربراہی میں اپنے پیشرووَں سے کسی طرح کم نہیں ۔ ان میں سے ایک اروند کمار ہے اور دوسرا سمنات گوئل ۔ اروند کمار کو آئی بی اور گوئل کو’’ را‘‘کا سربراہ بنایا گیا ہے یہ دونو ں انڈین سول سروس کے افسران ہیں ۔ ان میں گوئل جسے ’’را‘‘کے سربراہ کے طور پر تعینات کیا گیا ہے وہی شخص ہے جس نے اسی سال فروری میں پاکستان کے اندر بالاکوٹ پر ہوائی حملے کی منصوبہ سازی کی تھی یہ اور بات ہے کہ اُس کا حملہ اس بُری طرح ناکام ہوا کہ اس میں سوائے ایک کوئے کی جان کے کوئی اور جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہاں چند جلے ہوئے درخت ضرور نظر آئے جو بھارت کی ناکام منصوبہ بندی اور کاروائی کی کہانی سنا رہے تھے ۔ بہر حال گوئل پاکستان کے معاملات کا ماہر مانا جاتا ہے اور یہی اس تعیناتی کی وجہ ہے ویسے بالا کوٹ کی ناکامی کے بعد تو اُس کی نوکری کو ختم ہوجانا چاہئے تھا تاہم اُس کی حکومت شاید اُس کی مہارت کا مزید فائدہ اٹھانا چاہتی ہے یہ شخص 1990 کی دہائی میں بھارتی پنجاب میں خالصتان کی تحریک کو بے رحمی سے کچلنے میں بھی شامل تھا تو ظاہر ہے اس کے رویے میں سکھوں کے لئے اب بھی وہی سختی ہوگی جو تھی اور یوں پنجاب کیڈر کے اس افسر کا رول پنجاب میں بھی اہم رہے گا اور یہ اہمیت زیادہ تر منفی ہی ہوگی ۔ دوسری ایسی ہی تعیناتی اروند کمار کی ہے جس نے پرانے آئی بی چیف راجیو جین کی جگہ لی ہے اروند کے خصے میں کشمیر میں جو مظالم اورقتل ہوں گے وہ تو ہیں ہی ساتھ ہی نکسل باڑی تحریک کو کچلنے کے لئے اس نے کیا کیا ہوگا وہ الگ کہانی ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ علیحدگی پسند تحریکوں کی کوئی بھی حکومت پذیرائی کرے لیکن جس بر بریت کا مظاہر ہ بھارت اور خاص کر کشمیر میں ہوتا ہے اُس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ اور یہی اروند جیسے لوگ ہیں جو ان مظالم کے پیچھے ہوتے ہیں ۔ اروند نے انہی مظالم کی داد اپنی حکومت سے تمغوں کی صورت بھی پائی ہے اور اب اس عہدے کی صورت میں بھی پا لی ہے ۔ بہرحال اب دیکھیں بھارت ناکام تجربے کرنے والے ان دونوں افسروں کی سربراہی میں مزید کتنے تجربے کرتا ہے ان کے ناکام تجربوں میں ایک تو حالیہ بالاکوٹ پر حملہ تھا اور دیگر کاموں میں بھی انہیں کو ئی خاص کامیابی یوں نہیں ملی کہ نہ تو نکسل تحریک ختم ہوسکی اور کشمیر میں تو ہر نئے دن کے ساتھ آزادی کی تحریک مزید زور پکڑتی جارہی ہے، خالصتان کی راکھ میں سے بھی کوئی نہ کوئی چنگاری اٹھتی رہتی ہے تاہم ان جیسے افسر اپنی د رندگی کی تسکین کےلئے مزید اور مزید منصوبے بناتے رہتے ہیں کامیابی اور ناکامی کی پرواہ کیے بغیر اور اب بھی گوئل اور اروند دونوں سے یہی تو قع ہے بہر حال دیکھئے یہ دونوں مل کر اپنی اس تعیناتی کے دوران کیا کچھ کرتے ہیں جس کے بارے میں کسی بہتری کی توقع ہر گز نہیں ۔

جہادمذہبی فریضہ

جہاد اسلام میں ایک مذہبی فریضہ ہے بلکہ اسلام کی ساری عبادات مسلمانوں کو اس عظیم کام کےلئے تیار کرتی ہیں جس کا نام جہاد ہے ۔ صرف کلمہ پڑھ کر، نماز ادا کر کے، زکوٰۃ دے کر، رمضان کے روزے رکھ کر اور صاحب نصاب ہوتے ہوئے زندگی میں ایک بار حج کر کے بندہ مسلمانوں کی لسٹ میں توشمار ہو سکتا ہے مگر مومن تب بن سکتا ہے جب خلیفہ ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے جہاد فی سبیل اللہ کے حکم پر عمل کرے ۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا کلمہ بلند کرے ۔ مسلمان کو اللہ نے اپنی اس زمین پر خلیفہ بنایا ہے ۔ خلیفہ جیسے دنیوی حکومتیں اپنے اپنے ملک کے صوبوں میں گورنر تعینات کرتی ہیں ۔ کائنات اللہ نے بنائی ہے اور اس کو اللہ ہی چلا رہا ہے ۔ کائنات پر اللہ کی مکمل حکومت ہے ۔ زمین کو اللہ کی کل کائنات کا اگر ایک صوبہ تصور کریں تو یہ بات صحیح سمجھ آ سکتی ہے ۔ اس فلسفہ کو ذہن میں رکھیں کہ انسان اللہ کی زمین میں اللہ کا خلیفہ ہے ۔ اس کا کام اللہ کے قوانین کو اللہ کے بندوں پر نافذ کرنا ہے ۔ کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم ہو رہاہو تو ان کی مدد کے لیے اُٹھ کھڑا ہونا ہے ۔ اللہ نے جہاد فی سبیل اللہ کا حکم تب دیا ۔ جب کفار مکہ نے مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کرتے ہوئے گھروں سے نکال دیا ۔ مسلمان مکہ سے مدینہ مسلمان ہجرت کے مدینہ چلے گئے ۔ جب سے دنیا قائم ہے جہاد ہوتا رہا ۔ رہتی دنیا تک جہاد ہوتا رہے گا ۔ یہی کا م ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرتے رہے ۔ قرآن کے مطابق پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری بنی ہیں ۔ ان کے بعد کوئی نبی ;174; نے نہیں آنا ۔ لہٰذایہ کام امت مسلمہ نے کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا کہ’’اورتم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں ، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا(البقرۃ: ۰۹۱) جہاد کے معنی کسی مقصد کو حاصل کرنے کےلئے اپنی انتہائی کوشش کرنا ہے ۔ جنگ کےلئے تو قتال کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ مجاہد وہ ہے جو ہر وقت اللہ کے دین کو قائم رکھنے کے لیے جدوجہد کرتا رہے ۔ اس جدو جہد میں جان بھی چلی جائے تو خوشی سے برداشت کرلیتاہے ۔ دوسری جگہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:آخرکیاوجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں ، عورتوں اوربچوں کی خاطر نہ لڑو، جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں ، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے ۔ (سورۃ النساء:۵۷) کیا اب کئی ملکوں ، خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں ایسی صورت حال نہیں کہ مسلمانوں کو مار پیٹا جارہا ہے ۔ ان کی عورتوں کی عزتیں لوٹی جارہی ہیں ۔ ان کے نوجوانوں پر پیلٹ گنیں چلا کر اندھا کیا جارہا ہے ان کے مزاروں کو بارود سے اُڑایا جارہا ہے ۔ ان کی زرعی زمینوں ِ باغات اور رہائشی مکانات کو گن پاءوڈر چھڑک کر جلایا اور بارود نصب کر کے اُڑایا جا رہا ہے ۔ ہمارے پڑوس میں مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ۷۴۹۱ء سے بت پرست ہندو ظلم و ستم کے پہاڑتوڑ رہے ہیں ۔ کشمیر کے مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل نہیں کرنے دیا جارہا ۔ وہ کہتے ہیں آزادی کا مطلب کیا’’ لا الہ الا اللہ‘‘ ہم پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں ۔ وہ ہر سال پاکستان کے یوم آزادی کے میں شریک ہوتے ہیں ۔ بھارت کے یوم آزادی پر سیاہ جھنڈے لہر کر یوم سیاہ مناتے ہیں ۔ تکمیل پاکستان کی جد وجہد میں اب تک لاکھوں شہید ہو چکے ہیں ۔ فلسطین میں مسلمانوں کے گھروں پر یہودی نے ناجائز قبضہ کر لیا ہے ۔ ان کو گھروں سے نکال دیا ہے ۔ وہ دنیا میں تتر بتر ہو گئے ۔ جو فلسطینی، فلسطین میں یہودی قابض فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ مصر ، الجزائر،برما، چیچنیا،بوسینیا ، عراق، افغانستان اور عرب بہا ر کے موقع پر افریقی اور وسط ایشا کے مسلمان ملکوں میں استعمار نے دہشت گردی پھیلائی ۔ مظالم کی ایک لمبی کہانی ہے جو ایک مضمون میں مکمل نہیں ہوسکتی ۔ کیا حکمرانوں نے مسلمانوں پر اس ظلم و ستم ، سفاکیت اورتباہی کے متعلق کبھی تحقیق کی ہے ۔ مسلمانوں کو اپنی اصل کی طرف پلٹنا ہو گا ۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں نے بنو امیّہ کے دور حکومت میں نناویں (۹۹) سالوں کے اندر اندر اس وقت کے موجود، دنیاکے چار براعظموں کے بڑے حصہ پر اسلامی پرچم لہرا دیا تھا ۔ ان براعظموں کے مظلوم عوام پر اس وقت قیصر اور کسریٰ، یعنی روم ( مشرک عیسائی) اور مجوسیوں ( آتش پرست پارسی) کی حکومتیں تھیں ۔ مسلمان کی طاقت صرف اور صرف جہاد فی سبیل اللہ میں تھی ۔ جہاد فی سبیل اللہ کیا ہے;238; اسلام کا وسیع مطالعہ بتاتا ہے کہ قوم ،وطن، علاقوں پر علاقے فتح کرنے ، خزانوں حاصل کرنے کےلئے لڑائی جہاد فی سبیل اللہ نہیں ۔ یہ دنیا کےلئے لڑائی ہے بلکہ مسلمان، اللہ کا اس زمین پر خلیفہ ہونے کے ناطے مسلمانوں یا اللہ کے بندوں پر کہیں بھی جب ظلم و ستم ہو رہا ہو تا ہے، ان کی آزادی ور انصاف دلانے کےلئے لڑا جائے تو وہ جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔

سخت احتساب ۔۔۔مگرپراسیکیوشن پر توجہ دی جائے

کرپشن کے خلاف حکومت نے بھرپوراقدامات کا آغاز کررکھا ہے اس میں جوبھی ملوث ہو، چاہے وہ جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہواس سے تحقیقات اورتفتیش لازمی ہوگی، جس کی واضح اور تاریخی مثال موجود ہے شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں ایسا واقعہ خال خال ہی پیش آیا ہو، کہ بیک وقت کسی بھی دنیا کے ملک میں اپنے دور کا ایک صدر مملکت اور دوسابقہ وزرائے اعظم پابندسلاسل ہوں اور تیسرے وزیراعظم کے بارے میں تحقیقات چل رہی ہوں ، ان اقدامات سے واضح نظر آتا ہے کہ حکومت ’’نو کرپشن ‘‘کے فارمولے پرگامزن ہے ،نوازشریف پہلے ہی گرفتار اور جیل میں بند ہیں جبکہ آصف علی زرداری بھی مقیدہے، خاقان عباسی کوگزشتہ روز گرفتارکرلیاگیا جبکہ تیسرے وزیراعظم راجہ پرویزاشرف کاکیس چل رہاہے اگر وہ بھی تسلی بخش جواب نہ دے سکے تو گرفتار ہوجائیں گے، حکومت واضح کرچکی ہے کہ جس نے بھی کرپشن کی ہے وہ اس سلسلے میں جوابدہ ہے تاہم حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ کمزور پراسیکیوشن احتسابی عمل پر سوالات اٹھانے کاموقع دیتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ پراسیکیوشن کے عمل پرتوجہ دی جائے تاکہ احتساب کے جاری عمل کے نتاءج نکل سکیں ۔ نیب نے مسلم لیگ(ن)کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو ایل این جی اسکینڈل میں گرفتار کرلیا،شاہد خاقان پر قومی خزانے کو ڈیڑھ ارب کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے، نیب نے شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری کے حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی کو آگاہ کردیاہے،سابق سیکرٹری پیٹرولیم عابد سعید وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں ،شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ(ن)کے صدر شہبازشریف کی پریس کانفرنس میں شرکت کے سلسلے میں احسن اقبال کے ساتھ لاہور جارہے تھے، اُدھر سندھ ہائی کورٹ نے(ن) لیگی رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی ایل این جی کیس میں 7 روز کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے ۔ سابق وزیر خزانہ اور لیگی رہنما مفتاح اسماعیل ایل این جی کیس میں نیب گرفتاری سے بچنے کےلئے صبح 7 بجے ہی سندھ ہائی کورٹ پہنچ گئے ۔ بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ نیب کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے، نیب نے جب بھی طلب کیا میں وہاں گیا ہوں تاہم گرفتاری کا خدشہ ہے لہذا حفاظتی ضمانت دی جائے ۔ مفتاح اسماعیل اور عمران الحق کے وکلا نے حفاظتی ضمانت درخواستیں سننے کی درخواست دائر کی جس کو عدالت نے منظور کرلیا ۔ درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے مفتاح اسماعیل اور سابق ایم ڈی پی ایس او عمران الحق کی حفاظتی ضمانت 7 روز کے لیے منظور کرلی تاہم دونوں کو 5 ،5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے اور متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز نیب کی جانب سے مفتاح اسماعیل کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے جس کے بعد نیب ٹیم نے سابق وزیر خزانہ کی گرفتاری کے لیے ان کے گھر پر چھاپہ بھی مارا تاہم وہ گھر کے اندر موجود نہیں تھے ۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ شاہد خاقان کوان کی خواہش پر گرفتار کیاگیا،شہباز شریف کے چہرے کا اڑتا رنگ بتارہا تھاکہ قانون اپنا رنگ دکھا رہاہے ۔ وزیرداخلہ اعجاز شاہ کاکہناکہ وزیراعظم وہ کام ضرور کرینگے جو ملکی مفاد میں ہو، پاکستان کی پالیسی میں واضح تبدیلی آئی ہے، جس نے جو کیاوہ ضرور بھگتے گا ۔ وزیرریلوے شیخ رشید نے کہاکہ جو زیادہ چیخ رہا ہے اس کی اگلی باری ہے، ایل این جی کیس میں ابھی بہت گرفتاریاں ہونگی،90روز میں بڑے فیصلے ہونگے ۔ فیاض الحسن چوہان نے کہاکہ گرفتاری پر شہباز شریف کا واویلا قوم کو گمراہ نہیں کر سکتا ۔

ملکی ترقی اور خوشحالی کے لئے صنعتی ترقی ناگزیر ہے

وزیراعظم نے پھراعادہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیاہے کہ ادارے آزاد ہیں وہ کام کریں ، حکومت کوئی مداخلت نہیں کرے گی،جب ادارے آزاد ہوتے ہیں تونظام بھی بہترین چلتاہے مگراس آزادی کو جانچنے کے لئے ایک واضح اوردوٹوک پیمانہ ہے کہ اگرکوئی بھی ادارہ کسی کے خلاف کارروائی کرتاہے تواس میں اقرباء پروری یاکسی قسم کی سیاسی جھلک نظرنہیں آنی چاہیے ،کیونکہ وزیراعظم نے کہہ دیا ہے کہ ادارے آزاد ہیں تووہ ادارے اپوزیشن سے ہٹ کراُن افراد کے خلاف بھی کارروائی کرنے کے مجاز ہیں جو کہ حکمران نیت میں بیٹھے ہوئے ہیں ، وزیراعظم نے لاہوردورہ کے موقع پرمختلف ملاقاتیں کیں جن میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور دیگراہم شخصیات بھی شامل تھیں کے علاوہ اجلاس کی صدارت بھی کی، عمران خان نے کہاکہ ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے صنعتی ترقی ناگزیر ہے ، اس کی بدولت روزگار میسر ہو گا اور ملک میں دولت بڑھے گی، 1960 کی دہائی کا پاکستان ایشیا میں بھرپور ترقی کر رہا تھا جس کی وجہ صنعتی ترقی تھی، بدقسمتی سے ہم ایک منفی مائنڈ سیٹ کا شکار ہو گئے اور خطے کے دوسرے ممالک ہم سے ;200;گے نکل گئے، وزیراعظم عمران خان نے کاروبار میں ;200;سانی اور کاروباری طبقے کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے شرکا کو ;200;گاہ کیا اور کہا جلد ہی کاروباری حضرات اس ضمن میں حکومتی کاوشوں کے نتاءج سے مستفید ہوں گے،وزیر اعظم نے انڈسٹریل زوننگ اور ٹاءون پلاننگ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ان کی اہمیت کو نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے ;200;لودگی، بنیادی سہولیات کا فقدان اور دوسرے سماجی مسائل نے جنم لیا ۔ وزیر اعظم نے اس ضمن میں متعلقہ اداروں کو مربوط حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی ۔ لاہو رچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندگان نے موجودہ حکومت کے جانب سے معیشت کو باقاعدہ دستاویزی شکل میں لانے اور ٹیکس اصطلاحات کے اقدامات پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ۔ نمائندگان نے انڈسٹرئیل زوننگ ، کاروبار کو سہل بنانے اور کاروباری طبقے کو درپیش مسائل کے حوالے سے وزیر اعظم کو ;200;گاہ کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو عوام کو ریلیف فراہم کرنے ، مہنگاء پر قابو پانے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری اقدامات کی ہدایت کی ۔ ملک اس وقت مشکل حالات میں ہے تاجر اورعوام حکومت کاساتھ دیں ، قانون سب کے لئے برابر ہے، ادارے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کو شعبہ صحت کی بہتری کے سلسلے میں موجودہ حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی ۔ سیکرٹری ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن مومن آغا نے وزیراعظم کو ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے جاری منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا ۔ سرکاری ہسپتالوں کے انتظام و انصرام کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے،انصاف صحت کارڈ کا دائرہ کار صوبے کے پسماندہ علاقوں میں مزید بڑھایا جائے، عام آدمی کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے سرکاری ہسپتالوں میں جزا و سزا کا جامع نظام متعارف کروایاجائے ۔

مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم نہیں کیا جا سکتا

مودی حکومت کی شروع دن سے یہ کوشش رہی ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت میں مدغم کیا جائے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جب سے اقتدار میں آئی ہے، مقبوضہ کشمیر میں خصوصی آئینی حقوق واپس لینے کے لئے مسلسل کوشش کررہی ہے جبکہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 35 ;39;اے;39; مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ریاست کے مستقل شہریوں اور ان کے خصوصی حقوق کا تعین کرے ۔ ابھی گزشتہ برس ہی مقبوضہ کشمیر ہائیکورٹ نے نریندر مودی سرکار کے ارمانوں پر اوس ڈالتے ہوئے واضح کردیا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کو بھارتی آئین میں خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کو منسوخ یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس میں کوئی ترمیم کی جا سکتی ہے ۔ عدالت نے آرٹیکل 370 سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران قرار دیا کہ آرٹیکل 370 بھارت اور ریاست جموں کشمیر کے درمیان تعلق کا نظریاتی فریم ورک ہے ۔ عدالت کے مطابق دیگر راجواڑوں کی طرح جموں و کشمیر بھارت میں ضم نہیں ہوا اسے محدود خودمختاری حاصل ہے جبکہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 35 اے 1954 کے بعد جموں و کشمیر میں ریاستی اسمبلی اور حکومت کے وضع کردہ قوانین کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کے بنائے گئے قوانین کو بھارتی پارلیمنٹ بھی تبدیل نہیں کر سکتی ۔ آرٹیکل 370 کے تحت حاصل محدود خودمختاری کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کسی غیرکشمیری حتیٰ کہ کسی فوجی افسر کو لاکر آباد کیا جا سکتا ہے نہ اسے جائیداد خریدنے کی اجازت ہوتی ہے ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت کے بعض رہنماؤں نے الیکشن سے پہلے اور نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد مقبوضہ کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا واضح عندیہ دیا تھا جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں مستقلاً ضم کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا تاہم مقبوضہ کشمیر ہائیکورٹ نے مودی اور ان کے حامی بی جے رہنماؤں کے ارمانوں پر اوس ڈال دی ہے ۔ مسئلہ کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرار داد مجریہ 21 اپریل 1948ء ، اقوام متحدہ کشمیر کمیشن برائے ہندو پاکستان مجربہ 13 اگست 1948ء اور جنوری 1949ء کے تحت مذکورہ کونسل کی نگرانی میں کی گئی رائے شماری کے نتاءج کے مطابق پاکستان یا ہندوستان میں ریاست جموں اور کشمیر کے الحاق کی حمایت کرتے ہیں ۔ ہندوستان نے کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس ریاست پر فوجی قبضہ کر کے اسے بھارت میں ضم کر لیا لیکن افسوس کی بات ہے کہ سلامتی کونسل نے بھارت کے اس ناجائز اقدام کے خلاف اقوام متحدہ کے منشور کے باب 7 کی شقوں 39 تا 1947 کے تحت کوئی اقدام نہیں کیا بلکہ اسی عالمی تنظیم نے 1999 ء میں انڈونیشیا کی مشرقی تیمور سے علیحدگی کی مزاحمت پر اس ریاست کے خلاف کونسل کے ارکان کو ہر کارروائی کی ہدایت کر دی تھی جبکہ سلامتی کونسل کی چشم پوشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے مقبوضہ ریاست پر فوجی قبضہ مستحکم کر لیا اور اس پر 6 لاکھ فوج ، نیم فوجی دستے اور پولیس کو مسلط کر دیا ۔ چنانچہ بھارت کے اس ناجائز اور غیر قانونی اقدام کے خلاف مقامی آبادی اٹھ کھڑی ہوئی لیکن جب بھارت نے ان کے پر امن احتجاج کو کچلنے کےلئے فوجی ہتھکنڈے استعمال کئے تو مظلوم عوام قابض بھارتی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو گئے ۔ بین الاقوامی قانون مقبوضہ آبادی کو اپنا وطن آزاد کرانے کے لئے مسلح جدوجہد کا حق دیتا ہے لیکن بھارت حریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف انسداد دہشت گردی جیسے کالے قانون کی آڑ میں کشمیری عوام کی نسل کشی کرنا ہے اور پاکستان کی حکومت اور فوج کو اس کا ذمہ دار قرار دیتا ہے ۔ بھارت اور بعض بڑی طاقتوں نے یہ موَقف اختیار کیا کہ حکومت پاکستان نے بھارت سے 2 جولائی 1972ء کو معاہدہ شملہ میں کشمیر سمیت تمام تنازعات کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے طے کرنے پر اتفاق کیا ہے لہٰذا یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں نہیں اٹھایا جا سکتا ۔ یہ بڑی طاقتوں کی انتہائی بددیانتی اور پاکستان کے حکمرانوں کی کمزوری اور نا اہلی ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی موَقف کو مانتے ہیں جس سے بھارت کشمیر پر اپنے ناجائز قبضہ کو طول دیتا جا رہا ہے ۔ اول تو معاہدہ شملہ میں ایسی کوئی شق نہیں ہے کہ فریقین کسی تنازع کو سلامتی کونسل میں نہیں اٹھا سکتے ، دوم یہ کہ اگر بالفرض ایسی کوئی شق ہوتی بھی تو وہ کالعدم ہو جاتی کیونکہ اقوام متحدہ کے منشور کی شق 103 کی روسے اگر کوئی معاہدہ اقوام متحدہ کے منشور سے متصادم ہو تو وہ نافذ العمل نہیں ہو سکتا ۔ کشمیر کی صورت حال کے پیش نظر مقبوضہ علاقے پر قابض بھارتی فوج پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حریت پسند قیدیوں کو جنگی قیدیوں کی حیثیت دے ان کے ساتھ جنیوا کنونشن ;737373; کے تحت سلوک کرے نہ کہ اپنے انسداد دہشت گردی کے کالے قانون ;6570838065; کے مطابق ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کرے یا ان کا ماورائے عدالت قتل کرے بھارت کو 80 ہزار کشمیریوں کے قتل پر بین الاقوامی تعزیراتی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے ۔

عمران خان ڈاکٹر عافیہ کو واپس لاءو

عمران خان صاحب آپ وہ شخص ہیں جس نے پہلی مرتبہ مریم ریڈلے لندن کی نو مسلم صحافی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کر کے گم شدہ، مظلومہ امتِ مسلمہ عافیہ کا مسئلہ کا دنیا اور پاکستانی عوام کے سامنے میں اُٹھا یا تھا ۔ ہم ڈاکٹر حافظہ عافیہ صدیقہ صاحبہ کو مظلومہ امتِ مسلمہ اس لیے لکھتے ہیں کہ جب یہودی متعصب امریکی جج نے عافیہ کو کمزور شواہد کے باوجود۷۸ سالہ قید سنائی تھی تو عدالت میں موجود ایک انصاف پسند اور باضمیرامریکی دانشور نے کہا تھا کہ یہ سزا عافیہ کو نہیں امت مسلمہ کو سنائی گئی ہے ۔ مریم ریڈلے جو طالبان کی قید میں تھی ۔ جس نے بعد میں طالبان کے عورتوں کے ساتھ اسلامی رویہ سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا تھا ۔ مریم ریڈلے نے افغانستان کی جیل جو امریکا کے کنٹرول میں تھی ۔ عافیہ کی چیخ و پکار سن کر دنیا کے سامنے کیس کو اُٹھایا تھا ۔ پھر دشمنِ وطن ڈکٹیٹر مشرف نے افغانستان کی جیل سے عافیہ کو امریکا منتقل کرنے کے اسباب پیدا کیے تھے ۔ عمران خان صاحب وزیر اعظم پاکستان ،اقتدار توآنی جانی شے ہے ۔ آپ مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کی بات کرتے ہیں ۔ تو آپ پر فرض عائد ہو جاتا کہ ایک بے گناہ حافظہ قرآن پڑھی لکھی مظلوم خاتون کو امریکا کی قید سے سے نجات دلائیں ۔ ہم داد دیتے ہیں افغان طالبان کو کہ جن کو دشمن جاہل اور ان پڑھ کہتے ۔ جو ہمارے نزدیک تو دنیا کے باعزت ترین، بہادر اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ طالبان نے امریکا سے قطر میں ہونے والے مذاکرات کی لسٹ میں عافیہ کی رہائی کو سرے فہرست رکھا ہے ۔ ہمارے نزدیک افغان طالبان امت مسلمہ کے پشتی بان ہیں ۔ اگر ہم عافیہ موومنٹ چلانے والی ایک بظاہر کمزور سی خاتون ڈاکٹر فوزیہ صاحبہ کی بات کریں تو اس عورت نے اکیلے کسی بھی بڑی سیاسی پارٹی کے کاموں سے کہیں زیادہ بڑھ کو اپنی بہن عافیہ کی رہائی کے لیے مہم چلائی ۔ اس نے ایک ایک کالم نگارسے ذاتی تعلوقات قائم کیے ۔ کالم نگاروں نے پرنٹ میڈیا میں عافیہ کی رہائی کےلئے طوفان اُٹھ دیا ۔ سوائے سلیم صحافی کہ وہ کہتا عافیہ امریکاکی قید میں خوش ہے وہ پاکستان نہیں آنا چاہتی;238; ہر کالم نگار نے اپنے اپنے طورجو ہو سکا اُس نے کیا ۔ اخبارات کا اگر جائزہ لیا جائے تو کسی بھی مسئلہ سے زیادہ عافیہ کی رہائی کے لیے کالم نگاروں نے کالم لکھے ۔ فوزیہ صاحبہ نے سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں سے رابطے کیے ۔ ان کو عافیہ کی رہائی کے لیے مسئلہ اُٹھانے کے درخواست کی ۔ سب سیاسی پارٹیوں نے فوزیہ صاحبہ سے تعاون کیا ۔ سیاسی پارٹیوں نے اپنے جلسوں ، ریلیوں اور دیگرپروگراموں میں فوزیہ صاحبہ کو بلا کر اپنا دُھکڑا بیان کرنے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا ۔ سیاسی پارٹیوں نے عافیہ کی رہائی کے لیے خود ریلیاں نکالےں ۔ سیاست دانوں نے پارلیمنٹ اور سینیٹ کے اندر عافیہ کی رہائی پر بحث کی ۔ فوزیہ صاحبہ نے قائد اعظم کے مزار کے سامنے ایک جرگے کا اہتمام کیا ۔ جس کی کمپیئرنگ کراچی یونیورسٹی کے پروفیر سلیم صاحب نے کی ۔ اس میں ساری سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں صحافیوں ،کالم نگاروں ، دانشوروں ،وکیلوں اور معاشرے کے دکھ درد رکھنے والے حضرات نے شرکت کی تھی ۔ کئی کالم نگار کراچی کے باہرسے بھی شرکت کے لیے تشریف لائے تھے ۔ راقم بھی اس جرگہ میں شریک ہوا اور کالم بھی لکھا ۔ اس جرگے نے متفقہ طور پر حکومت سے عافیہ کی رہائی کی کوشش کرنے کی اپیل کی تھی ۔ یہ نواز شریف کی حکومت کا دور تھا ۔ جرگہ میں اعلان کیا گیا کی نواز شریف فوزیہ صاحبہ سے فون پر بات کرنا چاہتے ہیں ۔ فون پر بھی نواز شریف صاحب نے ہمدردی کا اظہار کیا تھا ۔ پیپلز پارٹی کے دونوں وزیر اعظموں اور صدر زرادری نے بھی عافیہ کی رہائی کےلئے فوزیہ صاحبہ سے وعدہ کیا ۔ کالم نگاروں نے اپنے کالموں میں صاحب اقتدار لوگوں سے اپلیں کی تھی کہ مظلومہ امت مسلمہ کی رہائی کے لیے کچھ کریں ۔ جب راحیل شریف سابق کمانڈر ان چیف پاک فوج امریکا دورے پر جارہے تھے تو ہم اپنے کالم میں رحیل شریف صاحب سے ہافیہ کی رہائی کی اپیل کی تھی ۔ کالم میں محمد قاسم کا حوالہ دے کر کہا تھا کہ ایک وہ وقت بھی تھا جب مظلوم مسلمان عورتوں کی رہائی کے لیے ایک مسلمان جرنیل نے ہندوستان پر حملہ کر کے مظلوم مسلمان عورتوں کو رہائی دلائی تھی ۔ آپ امریکا کے دورے پر جا رہے ہیں ۔ ۰۷ سالہ دوستی کا پرچارک کرنے والے امریکا سے ایک مسلمان مظلومہ ہافیہ کو رہائی دلانے کے امریکا سے بات کریں ۔ مگر جرنل راحیل شریف سے بھی کچھ نہ ہوا ۔ جب نواز شریف امریکا کے دورے پر گئے تو پھر نے ہم کالم لکھا ۔ کہا کہ اگر تم عافیہ کو رہا کراءو گے تو پاکستانیوں کے ہیرو کہلاءو گے ۔ نواز شریف بھی ناکام لوٹا ۔ جب امریکا میں عافیہ کے خلاف مقدمہ چل رہا تھا تو اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی ۔ پیپلز پارٹی کے وزیر خارجہ اور اب عمران خان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وکیلوں کوصحیح طریقے سے مقدمہ لڑنے نہیں دیا ۔ بلکہ ہافیہ کی والدہ صاحبہ کے مطابق وکیلوں کی فیس میں بھی کرپشن کی ۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے وزیر داخلہ رحمان ملک صاحب نے عافیہ کے دو بچوں کو ڈھونڈ کے فوزیہ صاحبہ کے حوالے کیا تھا ۔ ایک بچہ کا ابھی تک کچھ بھی اتہ پتہ نہیں ۔ پاکستانی قوم اور عافیہ کی فیملی شکر گزار ہے ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران سندھ ہائی کورٹ میں فوزیہ صاحبہ نے مقدمہ داہر کیا تھا ۔ کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ امریکا سے قیدیوں کے اپنے اپنے ملکوں واپس بھیجنے کا معاہدہ کیاجائے ۔ اگر عافیہ کو شیطان کبیر نیوورلڈ آدر والا رہائی نہیں دیتا تو کم از کم وہ باقی سزا اپنے ملک پاکستان کی جیل میں گزارے کی اجازت تو دے ۔ عدالت کے حکم پر عمل نہیں کیا گیا ۔ فوزیہ صاحبہ نے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کے سامنے مقدمہ رکھا ۔ چیف جسٹس صاحب نے ایک خاتون سے چار گھنٹے انتظار کر وایا ۔ راقم بھی سپریم کورٹ کے باہر دو گھنٹے فیصلہ کے انتظار میں بھی بیٹھارہا ۔ بیماری کی وجہ سے واپس آنا پڑا ۔ چیف جسٹس صاحب نے فیصلہ سنایا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے داہرہ اختیار میں نہیں کہ وہ حکومت کو حکم نہیں دے کہ عافیہ کوواپس لایا جائے ۔ ہم نے اس فیصلہ پر بھی کالم لکھا تھا کہ’’عافیہ کی بہن سپریم کورٹ سے روتی ہوئی باہر آ گئی‘‘ ۔ فوزیہ صاحبہ حالیہ ملاقات میں انکشاف کیا کہ چیف جسٹس صاحب نے فیصلہ دیا تھا کہ امریکا پاکستان سے خفا ہو جائے گا ۔ سندھ ہائی کورٹ نے حکومت حکم جاری کہ مرکزی حکومت سے مل کر امریکا سے قیدیوں کی تبدیلی کا معاہدہ کیا جائے اور سپریم کورٹ وفاقی حکومت حکم دینے سے اجتناب کر رہی ہے ۔ یہ کیسا قانون ہے;238; ۔ فوزیہ صاحبہ نے فاران کلب میں پرگروام کر کے دینی مدرسوں کے طا لب علموں کو عا فیہ کی رہائی کے سلسلے میں مضمون نویسی پر انعام دینے کے ریٹائرڈجسٹس وجی الدین صاحب کو بلایا ۔ پوزیشن حاصل کرنے والوں میں نقد انعام اور ٹرافیاں تقسیم کیں تھی ۔ کراچی پریس کلب کے سامنے عافیہ موومنت کے کارکنوں نے چالیس روزہ طویل دھرنہ بھی دیا ۔ درجنوں دفعہ پریس کلب کے سامنے عافیہ کی رہائی کے لیے مظاہرے کیے گئے ۔ فوزیہ صاحبہ نے بیرون ملکوں میں جا کر ریلیاں ،پریس کانفرنسس اور مظاہرے کرائے گئے ۔ سرحد کے دور دراز شہر سے اسلام آباد تک عافیہ کی رہائی کے لیے لانگ مارچ کرایا گیا ۔ اوباما صدر امریکا کو ایک لاکھ پٹیشنز ای میل کیں کہ اس کے بہن کو رہا کر دیا جائے ۔ اب بھی فوزیہ صاحبہ نے ڈونلڈ ٹرمپ صدرامریکا کوفوزیہ صاحبہ نے رحم کی اپیل کر رکھی ہے ۔ فوزیہ صاحبہ کی کوششوں کی ایک لمبی دکھ بھری داستا ن ہے ۔ کیا کیا بیان کیا جائے ۔ ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ اللہ فوزیہ صاحبہ کی کوششوں کو قبول کرکے مظلومہ امتِ مسلمہ کو امریکا کی قید سے رہائی دلائے آمین ۔ ہم آج تک یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ امریکہ پاکستان کو کروڑوں ڈالروں کی فوجی اور دیگر امداد دیتا ہے ۔ ڈکٹیٹرمشرف نے ایک فون کال پر اپنی فوج اور ملک کی سیاسی پارٹیوں سے مشورے کے بغیر لاجسٹک سپورٹ کے نام پر پاکستان کے ہوئی، بحری اور بری راستے امریکا کے حوالے کر دیے ۔ امریکا کی جنگ کی وجہ ہمارے ملک کا اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ۔ ہمارے لاتعداد فوجی اور شہری شہید ہوئے ۔ مگرہماری کمزور خارجہ پالیسی کی وجہ سے امریکا مظلومہ عافیہ کو رہا کرنے پر تیار نہیں ۔ بقول عمران خان صاحب کہ اب ہم کرایہ کے فوجی کی حیثیت سے امریکا کے لیے نہیں لڑیں گے ۔ موجودہ آرمی چیف کہتے ہیں کہ پاک فوج نے بہت کچھ کر لیا اب دنیا ڈور مور کرے ۔ امریکا کے لیے لڑنے کے باوجود ہمارے پچھلے سارے حکمران عافیہ کو رہائی یا پاکستان واپس نہ لا سکے ۔ پاکستان کے سارے وزیراعظموں اور صدرو نے عافیہ کی رہائی کی یقین کی کے باوجود عافیہ کو رہائی نہ دلا سکے ۔ کیا وجہ ہے کہ آج تک عافیہ کی رہائی ممکن نہیں ہوئی ۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے جو ہم نے کراچی کے سفر کے دوران فوزیہ صاحبہ کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ شاید دکٹیٹر مشرف نے امریکا سے کوئی خفیہ معاہدہ کیا ہوا ہے کہ امریکاکے ہاتھوں ڈالر کے عواض فروخت کیے گئے مسلمانوں کو واپس نہیں کرے گا ۔ ویسے توملا ضعیف سابق افغان سفیر اوردوسرے کئی قیدیوں کے ساتھ رہا کر دیا ۔ مگر عافیہ کو اتنی کوششوں کے باوجود رہانہیں کیا ۔ کیاہمارے سارے حکمران بودے ہیں کہ امریکا سے بات کرنے کی ہمت ہی نہیں رکھتے ۔ یا اللہ کیا ماجرہ ہے ۔ جو کچھ ہو چکا سو ہو چکا ۔ اب ہم عمران خان صاحب وزیراعظم پاکستان سے اُمید رکھتے ہیں کہ وہ امریکا کے صدر ٹرمپ سے دو ٹوک بات چیت کر کے عافیہ کو رہائی یا باقی قید پاکستان کی جیل میں گزارنے یا قیدیوں کے تبادلہ کا کوئی معاہدہ کر کے عافیہ کو پاکستان واپس لائےں ۔ پاکستان قوم کو اس پر بھی تیار رہنا چاہیے کہ ایک بے قصور مظلومہ امت ِمسلمہ کے بدلے اگر غدار وطن ،امریکا کے ٹاءوٹ ،جسے امریکا بہت پسند کرتا ہے کے بدلے بے قصور عافیہ کو واپس پاکستان لائے ۔ پاکستان قوم عمران خان کو ہیرو مان کر اس کی ساری غلطیاں بھی معاف کر دے گی ۔ اے کاش ایسا ہوجائے ۔

کلبھوشن کو بریت نہ ملی بھارت کا منہ ضرور کالا ہوگیا

رواں ہفتہ مُلکی اور عالمی سیاسی معاملات کے حوالوں سے گرما گرم رہا،لکھنے کو تو بے شمار خبریں تھیں ۔ مگر دوخبریں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر چھائی رہیں ۔ اِدھر ایک طرف جہاں پوراہفتہ مُلکی سیاست میں وفاق سے لے کر صوبوں تک احتسابی عمل میں تیزی رہی تووہیں گرفتاریوں ، پریس کانفرنسوں اور الزام تراشیوں سے بھی یہ ہفتہ بھر پوررہا ۔ تواُدھر دوسری جانب کلبھوشن یادیو کے حوالے سے عالمی عدالتِ اِنصاف کے سزاکے خاتمے اور حوالگی کی بھارتی درخواستیں مسترد کئے جانے کے فیصلے کے بعد خطے میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے ۔ آئی سی جے سے آنے والے کلبھوشن کے فیصلے کے بعدبھارتی حکمران وبھارتی میڈیا اور عوام خوشی کے بھنگڑے ڈال رہے ہیں کہ اِن کی کامیابی ہو ئی ہے ۔ جبکہ اِنہیں اچھی طرح یہ سمجھ آجانی چاہئے کہ بھارت کو کلبھوشن کی بریت کے حوالے سے صریحاََ ناکامی اور سُبکی ہوئی ہے ۔ عدالتی فیصلے کے مطابق بھارتی جاسوس پاکستان کی ہی تحویل میں رہے گا ۔ یوں آج اگرحقیقی کامیابی نصیب ہوئی ہے ۔ تو صرف پاکستان کو فتح و نصرت ملی ہے ۔ پچھلے دِنوں عالمی عدالتِ اِنصاف نے کلبھوشن یادیو کا ملا جلا فیصلہ سُنا کر پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کو خوش کردیاہے ۔ جس نے گول مول فیصلہ کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جیسے دونوں ممالک اپنی جگہہ ٹھیک ہیں ۔ اگردونوں چاہیں ۔ تو مستقبل قریب میں خطے اور اپنی سرحدوں کے اندر اورباہرقیام امن اور اپنی ترقی اور خوشحالی سے متعلق اپنی راہیں متعین کرنے کے لئے کلبھوشن یادیو کے معاملے پر نظرثانی کریں ۔ تو ممکن ہے کہ خطے سمیت دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل سمیت برسوں سے جاری کشیدگی کم ہو کر ختم بھی کی جاسکتی ہے ۔ بہرحال ، اَب کچھ بھی ہو مگر اِتنا یہ ضرور ہے کہ عالمی عدالت اِنصاف کے فیصلے کے بعد یہ واضح ہوگیاہے کہ کلبھوشن یادیوبھارتی جاسوس ہے ۔ جس کے پاس دو پاسپورٹ تھے،جو پاکستان میں انارکی پھیلا کرپاکستان کو جانی و مالی ا ورمعاشی نقصان پہنچانے کےلئے اپنے منظم نیٹ ورک کا سہارا لیتارہا اور متحرک رہا ۔ اگرچہ، عالمی عدالت اِنصاف (آئی سی جے ) نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیوکی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کرکے بھارت کے منہ پر طمانچہ مارنے کے ساتھ ساتھ اِس کا منہ بھی کالاکردیا ہے ،اِسے بتادیاہے کہ اپنی ہٹ دھرمی چھوڑے کلبھوشن سے پہلے بھی بہت سے جاسوس پکڑے گئے اور سزائیں پوری کیں ہیں ۔ ایک کلبھوشن یادیو کے معاملے کو لے کربھارت کیوں ;238; عالمی عدالتِ اِنصاف میں چلا آیا ہے ۔ اَب بھارت کیامنہ لے کر دنیا میں پھرے گا;238;کلبھوشن کے معاملے کو لے کر کہاں کہاں اپنا سر پیٹے گا ۔ جہاں بھی جائے گا ۔ اِسے ہر فورم پر سُبکی کا سامنہ رہے گا ۔ اور تو اوراَب بھارتی حکمران اپنے عوام کو کیا بتا ئیں گے ;238; کیوں کہ اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں ،یاد رہے کہ کلبھوشن کا معاملہ بھارت ہی عالمی عدالت میں لے کر گیاتھا ۔ اَب عالمی عدالتِ اِنصاف کے فیصلے کے بعد تویہاں سے بھی اِسے منہ کی کھانی پڑی ہے ۔ لازمی ہے کہ اَب بھارت کلبھوشن یادیو کے معاملے کو اُلٹی گنگا بہانے کا خواب سمجھ کر بھول جائے ۔ اور بھارت ہمارے ملٹری کورٹس ٹرائل کو تسلیم کرتے ہوئے ۔ خاموشی اختیار کرے اور خطے میں دائمی امن و سلامتی کے قیام اور عوام کی ترقی و خوشحالی کے لئے پاکستان کے خطے میں جاری امن پسندی اور ترقی و استحکام کے منصوبوں میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی سعی کرے ۔ جو کہ بھارتی حکمرانوں اور عوام کےلئے بہتر ہوگا ۔ اَب ذرا کچھ بات ہوجائے مُلک میں جاری تیزی سے آگے بڑھتے قومی لٹیروں اور قومی خزانہ لوٹ کھانے والوں کی نیب کے ہاتھوں گرفتاریوں کے بعد جاری احتسابی عمل پرحکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کے داغے جانے والے گھن گرج گولوں کی ۔ تو آج کل وطن عزیز پاکستان میں دونوں جانب سے الزام تراشیوں کا گھمسان کا رن جاری ہے ۔ یقینا اِس عمل میں ووٹرز بھی برابر کے شریک ہیں ۔ جو قومی لٹیروں اور چوروں کو اپنا مسیحا سمجھ بیٹھتے ہیں ۔ اور جانتے بوجھتے، بہروپیوں ، قومی چوروں ، لٹیروں ، اچکوں ، منافقوں اور فراڈیوں کو حکمرانی کی کنجی تھما کر جنہیں اپنے مقدر اور نصیبوں سے کھیلنے کا حق دے دیتے ہیں ۔ جو عوامی مینڈیٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر معصوم ووٹرز کو محرومیوں اور لاچارگی کی چکی میں پیس کر رکھ دیتے ہیں ۔ اور عوام کی ہڈیوں کا سُرمہ بنا کر خود قومی خزانے کو اپنے اللے تللے اور عیاشیوں کےلئے بہتا سمندر سمجھ کر استعمال کرتے ہیں ۔ اور عوام کے اگلے میں غلامی کا طوق ڈال دیتے ہیں ۔ آج ایسے ہی بہروپیئے ، فراڈیوں اور قومی چور اچکوں ، حکمرانوں ، سیاستدانوں اور اِن کے چیلے چانٹوں کے خلاف حکومت احتسابی اداروں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ اِنہیں مکمل آزادانہ اختیارات دے کر قومی چوروں کے کڑے احتساب کےلئے متحرک ہوگئی ہے ۔ جیسا کہ گزشتہ دِنوں وزیراعظم عمران خان نے گوجرانوالہ سیالکوٹ اور گجرات کوبرآمدی صنعتوں کے حوالے سے گولڈن ٹرائی اینگل بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہڑتال کے ڈر سے پیچھے نہیں ہٹوں گا،اسمگلنگ کا سامان بیچنے والے شناختی کارڈ شرط کے اصل مخالف ہیں ، سروسز سیکٹر ایک فیصد ٹیکس نہیں دیتا ماضی میں جیسے مُلک کو چلایاجارہاتھا ۔ اَب ویسے نہیں چل سکتا پاکستان کو عظیم سے عظیم تر مُلک بنائیں گے ۔ ‘‘ آج بھی وزیراعظم اول روز سے مُلک سے کرپشن اور کرپٹ عناصر کو بلاتفریق ختم کرنے کے عزم پر قائم ہیں ۔ تاہم اَب ضروری ہے کہ اِس منظر میں کرپٹ عناصر کو بھی چاہئے کہ اِنہوں نے جتنا لوٹ مار کرکے قومی خزانہ خالی کیا ہے ۔ وہ خاموشی سے لوٹی ہوئی قومی دولت حکومت کو واپس کر دیں ۔ اَب اِن کے احتجاجوں ،ہڑتالوں اور چیخنے چلانے سے کچھ نہیں ہوگا ۔ سولازمی ہے کہ جتنے بھی بڑے چھوٹے قومی لٹیرے اور قومی چور ہیں ۔ وہ اِسی کو اپنی بھلائی سمجھیں کہ آج اللہ نے عمران خان کی حکومت میں انہیں اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کا موقعہ دےاہے ۔ اِسی کو غنیمت جانیں ۔ اِسے اللہ کی رضا سمجھتے ہوئے ۔ اپنے گناہ کو اِسی دنیا میں معاف کروالیں ۔ باریاں لگا لگا کر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ و ادنی قیادت اور اِن کے خاندان والوں نے جتنا قومی خزانہ لوٹاہے ۔ اِنہوں نے مُلک کے اندر اور باہر جہاں کہیں بھی جتنی بے نامی جائیدادیں بنائیں ہوئیں ہیں ۔ اَب وہ بسم اللہ کریں ۔ آگے بڑھ کر حکومت اور احتسابی اداروں کوخود سے واپس کردیں ۔ اِسی میں اِن کی نجات ہے ورنہ ;238;اگلے آنے والے دِنوں میں قومی لٹیروں اور چوروں کا جو حشر ہو گا وہ کسی نشانِ عبرت سے کم نہ ہوگا ۔

بھارت کی عالمی شرمندگی

بھارت کو ایک بار پھر عالمی شرمندگی ہوئی ۔ بقول ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے بھارت کو 27 فروری کی طرح ایک اور سرپرائیز مل گیا ۔ مذکورہ تاریخ کو بھی بھارت کا جھوٹ دنیا کے سامنے عیاں ہو گیا تھا اور بھارت کو عالمی سطح پر ذلت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ کلبھوشن یادیو کے کیس میں عالمی عدالت کے فیصلے سے بھارت ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنے بے نقاب اور رسوا ہوا ۔ اس فیصلے کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں لیکن اس میں دو نکات بڑے اہم ہیں اور ان نکات کی وجہ سے بھارت دنیا کے سامنے صرف جھوٹا ہی ثابت نہیں بلکہ بے نقاب بھی ہوا ۔ ایک نکتہ یہ ہے کہ دنیا نے دیکھ لیا کہ بھارت کا پاکستان مخالف پروپیگنڈہ سراسر جھوٹ اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے علاوہ کچھ نہیں ۔ بھارت کے اندر یا مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات کے تانے بانے پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی باتوں میں کبھی بھی کوئی حقیقت نہیں رہی ہے بلکہ کلبھوشن کے کیس کے عالمی عدالت کے فیصلے سے واضح ہو گیا کہ دراصل بھارت خود بہت بڑا دہشت گرد ہے ۔ وہ مقبوضہ کشمیر میں کھلی اور ریاستی دہشت گردی کرتا رہا ہے اور آج بھی کر رہا ہے اور بھارتی حکومت ہندو انتہاء پسندوں کی سرعام دہشت گردی کی سرپرستی کرتی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ کشمیریوں پر بھارتی فوج ریاستی دہشت گردی کر کے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑتی ہے ۔ اب تو اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو مقبوضہ وادی پر بھارت کے غاصبانہ قبضہ ختم کرانے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کےلئے سامنے آکر اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیئے ۔ دوسرا نکتہ جو نہایت اہم ہے وہ پاکستانی ملٹری کورٹس کا کلبھوشن یادیو کے بارے میں فیصلہ ہے ۔ جس کو بھارت کی لاکھ کوششوں اور پروپیگنڈے کے بوجود عالمی عدالت نے مسترد نہیں کیا ۔ نہ ہی کوئی ایسی قدغن لگائی کہ پاکستان لازمی طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔ عدالت کے تفصیلی فیصلے سے قطع نظر میرے موقف کی مضبوطی کےلئے اتنا کافی ہے کہ عالمی عدالت نے بھارت کی طرف سے کلبھوشن کی رہائی اور پاکستانی ملٹری کورٹ کی طرف سے سنائی گئی سزا کے خاتمے کی اپیل کو یکسر مسترد کر دیا ۔ عالمی عدالت نے تو بھارت کی اس درخواست کو بھی مسترد کر دیا کہ کلبھوشن کو بھارت کے حوالے کیا جائے اور صاف کہہ دیا کہ نہ تو عالمی عدالت پاکستانی فوجی عدالت کی طرف سے سنائی سزا کو کالعدم کر سکتی ہے نہ کلبھوشن یادیو کی رہائی اور بھارت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرتی ہے ۔ یہ بات عیاں ہے کہ کلبھوشن بھارتی شہری اور بھارتی نیوی کا افسر ہے ۔ اور وہ جاسوسی اور بدترین کاروائیوں میں ملوث رہا ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ پاکستان اس کیس پر دوبارہ غور کرنا چاہے تو اس پر دوبارہ غور کرے اور اس صورت میں دوبارہ فیصلہ آنے تک سنائی گئی سزا پر عملدرآمد روک دے ۔ لیکن یہ سب پاکستان کی مرضی اور قانون پر منحصر ہے ۔ بھارت ہمیشہ سے پاکستان میں اپنے جاسوس بھیجتا رہا ہے ۔ اور ان میں اکثریت پاکستان کے حساس ادارے کے ہاتھ چڑھے ہیں ۔ بھارت تو بڑے ٹرینڈ جاسوسوں کو پاکستان بھیجتا ہے لیکن پاکستان کے حساس ادارے کی کارکردگی کی وجہ سے بلا آخر وہ پکڑے جاتے ہیں ۔ پاکستان کے اس اہم ادارے کی شاندار کارکردگی کی وجہ سے بھارت بے بس ہے ۔ 1990ء کے اگست کے مہینے میں خفیہ ادارے نے سربھجیت سنگھ کو گرفتار کیا ۔ یہ جاسوس لاہور،فیصل آباد اور ملتان میں بم دھماکوں میں ملوث تھا ۔ اس کو سزائے موت سنائی گئی ۔ اور 2013ء میں کوٹ لکھپت لاہور میں قیدیوں کے ہاتھوں زخمی ہو کر مر گیا ۔ جس کی لاش بھارت کے حوالے کی گئی ۔ اسی طرح نبی احمدشاکر کے نام سے پاکستان آنیوالا جاسوس بھی گرفتار کیا گیا ۔ اس نے تو پاکستان میں شادی بھی کی تھی ۔ ایک بچہ بھی پیدا ہوا تھا ۔ اس جاسوس کا اصل نام تھیرویندرا تھا ۔ گرفتاری کے سولہ سال کے بعد 2011ء میں جیل میں مرگیا ۔ 2004ء میں رام راج پکڑا گیا ۔ جس کو چھ سال بعد رہا کر دیا گیا ۔ شوکت علی کے نام سے پاکستان میں جوسوسی کے لیئے آنے والا گر بخش رام پاکستان میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد جب واپس بھارت جا رہا تھا تو گرفتار کیا گیا ۔ سرجیت سنگھ نامی جاسوس کو 30 سال قید گزارنے کے بعد 2012ء میں رہا کیا گیا ۔ اسی طرح ایک طویل فہرست ہے ۔ دوسری طرف پاکستان سے غلطی سے سرحد پار کرنے والے یا رشتہ داروں سے ملنے بھارت جانےوالے یا کسی کام کی غرض سے بھارت جانے والے پاکستانیوں میں سے بعض کو بھارت میں گرفتار کیا جاتا ہے اور ان پر جاسوسی کا الزام لگا دیا جاتا ہے ۔ بھارت کا کوئی ایک جھوٹ ہو تو اس پر بات کی جائے ۔ میں نے گزشتہ متعدد کالموں میں تحریر کیا ہے کہ بھارت ایک جھوٹا،فریبی اور مکار دشمن ہے ۔ اس کے مکر و فریب اور چالبازیوں سے ہمہ وقت محتاط اور تیار رہنا چاہیئے ۔ امریکہ افغان امن مذاکرات میں پاکستان کی بہترین خارجہ حکمت عملی کی وجہ سے بھارت کو کان سے پکڑ کر باہر کیا گیا ہے ۔ حالانکہ بھارت نے افغانستان میں نہ صرف بہت سرمایہ کاری کی ہے بلکہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کےلئے افغانستان کو محفوظ اڈے کے طور پر بھی استعمال کرتا رہا ہے ۔ امریکہ کی شہ پر اچھل کود کرنے والے بھارت کو امریکہ نے گھاس بھی نہیں ڈالی ۔ امریکہ اور افغانستان نے امن مذاکرات کی کامیابی کا محور پاکستان کو قرار دیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کا امریکہ کا سرکاری دورہ اور امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے پاکستانی وزیراعظم کو واءٹ ہاءوس میں خصوصی دعوت پر بلانا اسی کامیابی کا غماز ہے ۔ کلبھوشن یادیو کے کیس میں عالمی عدالت میں پاکستانی ماہرین قانون کو بھیجنے اور اس قانونی جیت میں آرمی چیف جنرل باجوہ کی کوششیں قابل تحسین ہیں ۔

عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کی تاریخ ساز فتح

عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کے حوالے سے فیصلہ دے کر دنیا کو یہ بتا دیا ہے کہ بھارت ایک دہشت گرد ملک ہے اور پاکستان آئین و قانون کا پیروکار ملک ہے ۔ بھارت کی جتنی سبکی اس فیصلے کے بعد ہوئی ہے شاید ہی ماضی میں کبھی ہوئی ہو ۔ پاکستان کی سفارتی سطح پر ناقابل شکست فتح ہوئی ہے اور عالمی عدالت نے کلبھوشن کو دہشت گرد قرار دیا ہے اور اب اس کا فیصلہ پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق کیا جائے گا ۔ بھارت کو عالمی عدالت انصاف میں منہ کی کھانی پڑ گئی ،عدالت نے پاکستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی دہشت گرد کمانڈر کلبھوشن یادیوکی رہائی کی بھارتی درخواست مسترد جبکہ کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے سے متعلق بھارتی درخواست منظور کرتے ہوئے پاکستان کو کلبھوشن کے سزائے موت کے فیصلے پر بھی نظر ثانی کرنے کو کہا ہے ،جج نے اپنے فیصلے میں موقف اپنایا کہ کلبھوشن یادیو کو سنائی جانے والی سزا کو ویانا کنونشن کے ;200;رٹیکل 36 کی خلاف ورزی تصور نہیں کیا جاسکتا، کلبھوشن بھارتی شہری ہے، ویانا کنونشن جاسوسی کے الزام میں قید افراد کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا ، پاکستان کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے، پاکستان کا موقف تھا کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کے فورم موجود ہیں ، پاکستانی آئین ہر ملزم کے منصفانہ عدالتی ٹرائل کی ضمانت دیتا ہے ۔ ہالینڈ کے دارالحکومت دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف کے صدر جج عبدالقوی احمد یوسف نے دی ہیگ کے پیس پیلس میں کلبھوشن کیس کا فیصلہ سنایا ۔ کارروائی میں عالمی عدالت کا 15 رکنی فل بینچ بھی موجود تھا، بینچ میں پاکستان کے ایک ایڈ ہاک جج اور بھارت کے ایک مستقل جج بھی شامل تھے، فیصلہ سننے کے لئے پاکستان کی ٹیم اٹارنی جنرل کی قیادت میں دی ہیگ پہنچی تھی جو عالمی عدالت انصاف میں موجود رہی ۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیوجوبھارتی بحریہ کاحاضرسروس کمانڈر اور بھارتی خفیہ ایجنسی کے تحقیق اورتجزیاتی شعبے سے وابستہ ہے،تین مارچ2016ء کو بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں پاکستان کے خلاف جاسوسی اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پرایک خفیہ کارروائی کے دوران گرفتارکیاگیاتھا ۔ بھارتی جاسوس نے اپنے بیان میں اعتراف کیاتھاکہ بھارتی خفیہ ایجنسی را نے اسے کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں کی ذمہ داری سونپی تھی ۔ اسے دس اپریل2017ء کو سزائے موت سنائی گئی ۔ وزیراعظم عمران خان نے عالمی عدالت انصاف کی جانب سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی رہائی اور بھارت کے حوالے نہ کرنے کے فیصلے کو سراہاہے ۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہاکہ کلبھوشن پاکستان کے عوام کے خلاف جرائم میں ملوث ہے ۔ پاکستان قانون کے مطابق مزید کارروائی کرے گا ۔ فیصلے میں کلبھوشن یادیوکے جاسوسی اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے سے متعلق پاکستان کے موقف کا اعتراف اورتائیدکی گئی ہے ۔ عدالت کافیصلہ پاکستان کی بڑی کامےابی اور اخلاقی فتح ہے ۔ عدالت نے مقدمے کے فیصلے میں واضح طورپر کہاہے کہ پاکستان اپنی مرضی سے مجرم کی سزا پر نظرثانی کرسکتا ہے ۔ فےصلے سے اےک اہم چےز ےہ سامنے آئی ہے کہ عالمی عدالت نے پاکستان کی فوجی عدالت کا فےصلہ منسوخ نہےں کےا جس کی درخواست بھارت نے کی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پوری عالمی برادری نے پاکستان کے نظام پر اعتماد ظاہر کےا ہے ۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائرےکٹر جنرل مےجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن ےادےو کے مقدمے کا فےصلہ پاکستان کی شاندارکامیابی ہے ۔ انہوں نے مقدمے مےں بھرپور قانونی دلائل دےنے پر پاکستان کی قانونی ٹےم کو مبارکباد دی ۔ جنرل غفور نے کہا کہ بھارت نے عالمی عدالت انصاف مےں پانچ نکات اٹھائے تھے اور عالمی عدالت انصاف نے اپنے فےصلے مےں ان تمام نکات کو مسترد کردےا ۔ پاکستان کواس فیصلے کے بارے میں مکمل اعتماد تھا کیونکہ اس کے پاس پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردی کی سر گرمیوں میں کلبھوشن یادیوکے ملوث ہونے کے شواہدتھے ۔ عالمی عدالت کے فیصلے میں یہ بھی ظاہر ہوتاہے کہ کلبھوشن یادیوبھارتی بحریہ کا حاضر سروس کمانڈرتھا جو پاکستان کی سرزمین میں دہشت گردی کی سرگرمیوں ملوث تھا اور جعلی دستاویزات کے ساتھ نام بدل کرپاکستان آیاتھا ۔ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعددنیا بھی یہ بات سمجھ جائے گی کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کی پشت پناہی کرتاہے ۔ کلبھوشن ےادےو کےس مےں عالمی عدالت انصاف کا فےصلہ پاکستان کی سفارتی فتح ہے اس فیصلے سے بھارت کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیاہے ۔ مقدمے مےں عالمی عدالت انصاف کے فےصلے نے پاکستان مےں بھارتی رےاستی دہشت گردی کے پاکستانی موقف پر مہر تصدےق ثبت کردی ہے ۔ پاکستان نے بھارت کو عالمی برادری کے سامنے کامےابی سے بے نقاب کیاہے ۔ بھارت کوعالمی عدالت انصاف کے سامنے شکست کاسامناکرناپڑا ہے ۔

سب کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا

وزیراعظم عمران خان نے گوجرانوالہ سیالکوٹ اور گجرات کو برآمدی صنعتوں کے حوالے سے گولڈن ٹرائی اینگل بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ ماضی میں جیسے ملک کو چلایا جارہا تھا اب ویسے نہیں چل سکتاپاکستان کو عظیم ملک بنائیں گے اقتصادی استحکام و اصلاحات اور ٹیکس کی بنیاد میں وسعت کیلئے کوئی بھی دباءو قبول نہیں کریں گے ،دباءویا ہڑتال کے ڈرسے پیچھے نہیں ہٹوں گا ،پیچھے ہٹنا ملک و قوم سے غداری ہو گی سروسز سیکٹر 20 فیصد ہے مگر ایک فیصد بھی ٹیکس نہیں دیتا سب کو ٹیکس نیٹ میں لیکر آنا ہے اسمگلنگ کا سامان بیچنے والے تاجر شناختی کارڈ کی شرط کے مخالف ہیں لوگوں کو ایف بی آر پر اعتماد نہیں ،ادارے میں اصلاحات کرتے ہوئے خودکار نظام لایا جائے گا ا، اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے ایک موثر اور فعال پالیسی کے ساتھ کریک ڈاءون کیا جائے گا، سابقہ حکمرانوں نے منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسہ بیرون ملک بھجوا کر جائیدادیں بنائی ہیں ان کا احتساب جاری رہے گایہ رکے گا نہیں ۔

سچی بات میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کا تاریخی انٹرویو

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں ایس کے نیازی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ بغیر کسی ججمنٹ کوپڑھے اورسمجھے بات کرتے ہیں ،یہ تاثردیا جارہاہے کہ میں نے فیصلہ دیاجس سے ملک کونقصان ہوا، میں اس ملک وقوم کےلئے ہر وہ فیصلہ کرونگاجوقانون اورآئین مجھے اجازت دیتا ہے،ایک ٹی وی اینکر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ قوم کے غدار ہیں ، اپنے ملک،آئین اورقانون کے تحت جوبھی فیصلہ کرنا پڑا کرونگا،یہ غداری کی بات کرتے ہیں مجھے تواس ملک کی خاطر پھانسی بھی قبول ہے،ججز کو کسی قسم کی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ، میں پاکستانی اداروں اور ملکی وسائل کے ساتھ ہوں ، ریکوڈک بہت بڑا خزانہ ہے کوئی چھوٹی موٹی چیز نہیں ہے،ریکوڈیک سینکڑوں کلومیٹر پر محیط علاقہ ہے ،ریکوڈک میں کاپر، سونا ،گیس اورپٹرولیم کا خزانہ ہے، یہ دنیا کا پانچواں سب سے بڑا خزانہ ہے، اگر اسے ڈویلپ کرلیں توبیرونی قرضوں کی ضرورت نہیں رہتی،بلوچستان ہمارا ایک صوبہ ہے اس ملک کا ایک یونٹ ہے،بلوچستان کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے،بلوچستان کے اوپر ساری دنیا کی نظریں ہیں ، امریکہ نے بھی ایک رپورٹ بنائی کہ یہاں خزانہ بہت زیادہ ہے،بعض قوتیں یہ نہیں چاہتی ہیں کہ بلوچستان میں ایسا کام ہوجس سے لوگوں کو فائدہ ہو،قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی ہے جو نیشنل ریسورس پر بنائی گئی ہے ۔

Google Analytics Alternative