کالم

بھارتی فوجی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھوں میں

بھارتی فوج کرہ ارض کی سب سے زیادہ کرپٹ فوج ہے اور اس امرکا اعتراف اکثر غیر جانبدار بھارتی دفاعی مبصر بھی کرتے ہیں۔ بھارتی حکومت نے 27 آرمی آفسران جن میں کرنل اور لیفٹیننٹ کرنل رینک کے افسران شامل ہیں، کے خلاف فوج کے ہتھیار فروخت کرنے کے الزامات کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلا کر یہ بھی معلوم کیا جا ئے گا کہ فروخت کیا جانے والا اسلحہ کہاں سے حاصل کیا اور کن کو فروخت کیا۔بھارتی حکام نے اسلحہ چرانے کے الزام میں فوج کے دو بریگیڈیئرز کو گرفتار کر لیا۔ کولکتہ سے آرمی ہیڈ کوارٹر کے بریگیڈیئر میری لال شنکر اور بریگیڈیئر رمیش کمار ورما کو مرکزی آرمی ہیڈ کوارٹرز دہلی کے حکم سے حراست میں لیا گیا ہے ۔ ان دونوں نے کولکتہ کے خفیہ اسلحہ خانہ سے ساڑھے تین کروڑ روپے مالیت کا اسلحہ غائب کیا۔ یہ جدید ترین اسلحہ بھارت نے روس اور اسرائیل سے حاصل کیا تھا۔ اسرائیلی جدید رائفلوں کی 178 سیل بند پیٹیاں کالی کٹ سے کولکتہ لائی گئی تھیں۔ بھارتی قیادت کا اخلاقی، سیاسی اور عقلی دیوالیہ پن ایک مرتبہ پھر کھل کر سامنے آگیا ہے کہ بھارت کے طول و عرض میں آزادی کے لئے مسلح چھاپہ مار جدوجہد کرنے والے گروپوں کو جدید ترین اسلحہ کہاں سے مل رہاہے۔ کولکتہ سکینڈل کے بعد بھی کیا یہ بات ثابت کرنے کی گنجائش رہ گئی ہے کہ چھاپہ ماروں کو اسلحہ فراہم کرنے والے افراد اور اداروں کی نشاندہی کی جا سکے۔ بھارتی قیادت کو عقل کے ناخن لیتے ہوئے اس امر کی وضاحت کرنی چاہیے کہ کیا بریگیڈیئر میری لال شنکر اور بریگیڈیئر رمیش کمار ورما کہیں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ایجنٹ تو نہیں تھے جو چھاپہ ماروں کو منہ مانگے داموں پر نا جانے کب سے اسلحہ فراہم کرنے کے کاروبار سے منسلک تھے۔ ایسے سکینڈلز کے منظر عام پر آنے اور واضح ثبوت ہونے کے باوجود بھارتی قیادت کو کسی بھی ہمسایہ ملک یا ان ممالک کے کسی ادارے پر ’’بھارت کے اندرون معاملات‘‘ میں مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے شرم آنی چاہیے کہ جن کارروائیوں کا الزام وہ ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان اور اس کے اداروں پر لگاتے نہیں تھکتے دراصل ان کارروائیوں میں خود ایسے بھارتی سورما شریک ہوتے ہیں جنہوں نے بھارت ماتا کی نہ جانے کون کون سی قسمیں کھا رکھی ہوتی ہیں۔ مارچ 2001ء میں تہلکہ ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ اور آف لائن اخباری ایجنسی نے دفاعی گھپلوں کی نشاندہی کر کے ساری دنیا کو چونکا دیا۔ اس کے دو صحافی دفاعی تاجروں کا روپ دھار کر بی جے پی حکام کے پاس مختلف دفاعی سازو سامان بیچنے کے منصوبے لے کر گئے۔ حکومتی اہلکاروں نے نہ صرف دفاعی سازوسامان خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا بلکہ رشوت بھی طلب کی۔ جب وہ رشوت طلب کر رہے تھے تو تہلکہ ڈاٹ کام کے صحافیوں نے رازداری سے ان کی فلم بنا ڈالی اور جب یہ راز افشا کیا تو اس وقت کے بھارتی وزیر دفاع جارج فرنانڈس کو مستعفی ہونا پڑا۔ یہ الگ بات ہے کہ جارج فرنانڈس بعد میں دوبارہ وزیر کے منصب پر فائز ہونے کے بعد تہلکہ ڈاٹ کام کے اہکاروں کو چن چن کر اپنے غصے اور عتاب کا نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔ بھارتی فوج میں کرپشن کی لعنت بہت بڑھ چکی ہے ۔ دفاعی سودے ہوں یا اندرون ملک فوج کو اسلحہ اور دوسرے سازوسامان کی سپلائی حتیٰ کہ خوراک کی خریداری اور سپلائی میں بھی بھارتی فوجی افسر رشوت اور کمیشن کے بغیر کام نہیں کرتے۔ جو افسر جس جگہ، جس سیٹ پر تعینات ہے کرپشن اور غبن میں ملوث ہے۔ مختلف سودوں میں گھپلوں کے رازافشا ہونے کے باوجود بھارتی دفاعی ماہرین اور تاجر باز نہیں آئے اور اپنی مٹھی گرم کرنے کیلئے نت نئے طریقے دریافت کرلیتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کے دو سنیئر جنرل فوج کو گوشت اور مرغی کی خریداری اورسپلائی میں بدعنوانی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ ان دونوں جنرلوں نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی تعیناتی کے دوران کروڑوں روپے کا غبن کیا اور بات یہاں تک پہنچی کہ بھارتی آرمی چیف کو وزیر دفاع کی ہدایت پر فوج کے اعلیٰ افسران پرمشتمل انکوائری کمیٹی کا قیام عمل میں لانا پڑا۔ یہ حال تو بھارتی فوج کے جنرلوں کا ہے تو نیچے کا طبقہ بھی اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی کرپشن میں ملوث ہے۔ اسلحہ کی فروخت بھی اسی کرپشن کے زمرے میں آتی ہے۔ اسی طرح روس سے خریدے گئے مہنگے ترین گائیڈڈ گولوں کی خریداری پر بھی کمیشن لیا گیا جو کارگل میں عین وقت پر دھوکا دے گئے۔ روس سے ایٹمی آبدوزوں کی خریداری کے دوران وصول کی جانے والی رقم کا ذکر بھی بے جاجس کی انکوائری تاحال جاری ہے۔ سپین سے ’’بو فورس‘‘ توپوں کی خریداری کا کیس تو بہت پرانا ہو چکا ہے لیکن کارگل کے میدان میں بھی بھارتی سورماؤں نے انتہائی جرات مندی کا مظاہرہ کیا۔ لڑائی میں کام آ جانے والے سپاہیوں اور افسروں کی لاشیں ان کے گھروں میں پہنچانے کیلئے ہزاروں تابوتوں کی ضرورت پڑی۔ ان کے حصول میں گھپلا ہوا اور سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے خورد برد ہوئے۔ کارگل کی جنگ کے دوران بھارتی افواج کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے کیلئے لکڑی کے تابوتوں کی وجہ سے جو تنازعہ پیدا ہوا تھا اس بارے میں بھارتی وزارت دفاع کہتی ہے کہ 650 افرادہلاک ہوئے جبکہ آرڈر چار ہزار تابوتوں کا دیا گیا اور وہ بھی مہنگے دام دے کرجو گھٹیا لکڑی کے بنے ہوئے تھے۔ بھارتی افواج جو ہمیشہ سے اخلاقی پستی کا شکار رہی ہیں اب اخلاقیات سے بالکل ہی نا آشنا ہو چکی ہیں۔

****

قائد اعظمؒ اور قومی زبان

قائد اعظم محمد علی جناحؒ بانیِ پاکستان ملت کے پاسبان ہیں۔ایسے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔قائد اعظمؒ ؒ نے اُس وقت کی اسلامی دنیا کی سب سے بڑی نظریاتی اسلامی سلطنت کی تخلیق تھی ۔ قائد اعظم ؒ نے کہا تھا کہ پاکستان تو اُسی وقت ہی بن گیا تھا جب برعظیم کا پہلا فرد مسلمان ہوا تھا۔ مسلمان جرنیل محمد بن قاسمؒ ثقفی سے لے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر تک ہندوستان پر مسلمانوں نے ایک ہزار سال سے زاہد حکمرانی کی تھی۔ پھر مسلمان حکمرانوں میں خرابیوں پیدا ہونے لگیں۔ انگریز تجارت کے بہانے ہندوستان آئے اور ریشہ دوانیوں اور غدرانِ ملت کی وجہ سے سے ملکِ ہندوستان کے حاکم بن بیٹھے۔ مسلمان انگریز سے آخر وقت تک لڑتے رہے۔مسلمانوں نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی انگریزوں کے خلاف لڑی۔ اس کی وجہ سے سفاک انگریزوں نے پندرہ ہزار علما اور پانچ لاکھوں مسلمانوں کو ہلاک کیا تھا۔( حوالہ چند ممتاز علماء انقلاب ۱۸۵۷ء منصف علامہ یاسین اختر مصباحی صفحہ ۱۴)۔ پھر جنگ عظیم کے بعد ہندوستان میں برطانیہ کا زوال شروع ہوا ۔ ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف نفرت نے زور پکڑا۔ پہلے پہل ہندو اور مسلمانوں نے مل کر انگریز کو ہندوستان سے بھاگنے پر مجبور کیا۔ مگرہندوؤں نے مسلمانوں سے ایک ہزار حکمرانی کا بدلہ لینے کیلئے اکثریت کے فلسفہ سے مدد لینی چاہی۔ ہندو لیڈروں نے کہا کہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمان اور ہندو ایک قوم ہیں۔ ہندوؤں میں قوم پرستی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ہندو لیڈروں نے کہا قومیں اوطان، یعنی وطن سے بنتیں ہیں۔ کانگریسی مسلمانوں نے قائد اعظم ؒ کی مخالفت اور تاریخی غلطی کرتے ہوئے قومیت کے مسئلہ پر ہندوؤں کا ساتھ دیا۔ دُکھ کی بات ہے کہ اپنی روش سے باز نہیں آئے اور اب بھی بھارتی حکمرانوں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ہندوؤں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ کشمیر میں جاری تحریک تکمیل پاکستان کی مخالفت کرتے ہیں۔کشمیری مسلمان آٹھ لاکھ بھارتی قابض فوج ،جو کشمیریوںں کی نسل کشی کر رہے ہیں۔ کشمیری مسلمان احتجاجاً بھارتی قابض فوج پر پتھر پرساتے ہیں توکانگریسی مسلمان انہیں ایسا کرنے سے منع کرتے ہیں۔ پھر یہ قائد اعظم ؒ تھے کہ جنہوں نے کہا کہ نہیں، ہندوستان میں دو قومیں رہتی ہیں ایک ہند واور دوسری مسلمان۔ ان کا مذہب الگ الگ ہے۔ ہندو اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ مسلمان صرف ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کی تہذیب،تمدن، کلچر، زبان رہن سہن اور کھانے پینے کے طریقے الگ الگ ہیں۔ ان کے ہیرو الگ الگ ہیں۔ ایک کا ہیرو ہے تو ودسرے کا ولن۔ مسلمانوں اور ہندوؤں میں کوئی ایک چیز بھی مشترک نہیں ۔حتیٰ کہ ماضی قریب میں ہندوؤں کی ہندوستان میں کوئی حکومت بھی نہیں رہی۔ جبکہ مسلمان ہندوستان پر ایک ہزارسال سے زیادہ حکومت کر چکے ہیں۔لہٰذا مسلمانوں کو نظامِ حکومت کامیابی سے چلانے کا تجربہ بھی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانوں کو ایک علیحدہ وطن ملنا چاہیے کہ جس میں وہ اپنے مذہب، تہذیب و تمدن اور روایا ت کے مطابق رہ سکیں ۔ برصغیر کے مسلمان ۱۴ ؍سو سال قبل مدنیہ کی اسلامی فلاحی ریاست کی طرز کی حکومت بنانا چاہتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد قائد اعظم ؒ سے جب کسی نے سوال کیا کہ پاکستان کا آئین کیسا ہو گا۔ تو قائد اعظمؒ نے۲۶؍مارچ ۱۹۴۸ ؁ء چٹاگانگ میں فرمایا تھا ’’اتنا یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا (مقصدحیات) اسلام کے بنیادی اصولوں پر مشتمل جمہوری نوعیت کا ہو گا ان اصولوں کا اطلاق ہماری زندگی پر اسی طرح ہو گا جس طرح تیرہ سو سال قبل ہوا تھا‘‘۔ قائد اعظم ؒ نے بٹی ہوئی مسلم لیگ کو مسلم قومیت پر منظم کیا۔ مسلمانوں کو اسلام کی پلیٹ فارم پر متحد کیا اور ۱۹۴۰ء کی قراداد کے تحت دو قومی نظریہ پرپاکستان کا مطالبہ کیا۔ برصغیر کے مسلمانوں کو نعرہ دیا، پاکستان کا مطلب کیا ’’لا الہ الا اللہ‘ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ۔ بن کے رہے پاکستان۔ لے رہیں گے پاکستان۔ پھر قائد اعظم ؒ کی پکار پر ان نعروں سے برصغیر کی فزائیں گوجنے لگیں۔ ہندوستان کے جن صوبوں میں پاکستان نہیں بننا تھاوہاں بھی اسلام کی محبت میں مسلمانوں نے قائد اعظم ؒ کا ساتھ دیا۔ قائد اعظمؒ ملت کے پاسبان نے، علامہ شیخ ڈاکٹر محمد اقبال ؒ خابوں کے مطابق پاکستان حاصل کیا اورمسلمانوں کو اُن کی کھوئی ہوئی سلطنت پھر سے ملی۔ بھارت نے اوّل روز سے پاکستان کو کبھی بھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ بھارت کے لیڈر تحریک پاکستان کے دوران کہا کرتے تھے کہ جب دو قومی نظریہ کے جذبات ٹھنڈے پڑھنے شروع ہونگے تو پھر ہم اَکھنڈ بھارت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ بھارت نے اسی ڈاکٹرائین پر عمل کرتے ہوئے بنگلہ قوم پرستی کی تحریک سے مدد لے کر قائد اعظمؒ سے ہندوستان کی تقسیم کا بدلہ لیا۔غدار پاکستان شیخ مجیب نے بنگلہ قومیت اور زبان کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف حقوق کی جنگ چھیڑ کر بھارت کی فوجی مداخلت سے پاکستان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا۔ اور اب مذید دس ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ الحمد اللہ اب مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان آج ۱۹۷۰ ء والا پاکستان نہیں ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی اورمیزائل طاقت والا پاکستان ہے۔ ویسے بھی پاکستان مشرق و مغرب کو ملانے والے دنیا کے بہترین محلے وقوع پر واقع ہے۔ اگر مسلمانوں کی بات کی جائے تو پاکستان کے ارد گرد مسلمانوں کا سمندر ہے۔ مشرق میں بھارت کے کروڑوں مسلمان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملیشیا تک، مغرب میں افغانستان ، اس سے آگے مسلم ملکوں کا بڑھتا ہوا مسلمان آبادی کا سمندر،شمال میں اس کی حفاظت میں کھڑاقدرتی حصار ہمالیہ کے پہاڑ اور جنوب میں ٹھاٹیں مارتا ہوا نیل گوں سمندر ہے۔ دیکھا جائے توپاکستان کا ازلی د شمن بھارت تو مسلمانوں کے اس سمندر کے اندر صرف ایک جزیرہ ہے۔ اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ پاکستان سے ازلی دشمنی نبھاتے ہوئے اِس کے مذید ٹکڑے نہیں کر سکے گا۔ بلکہ بھارت میں جاری کشمیر اور خالصتان سمیت علیحدگی کی درجن بھر تحریکیں اس کو ۱۲ ؍ ٹکڑوں میں تقسیم کریں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، اللہ کا شکر ہے کہ اس وقت مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سارے ستون، سیاست دان، فوج اور عدلیہ ایک پیج پر ہیں۔ اُردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔ قائداعظم ؒ نے پاکستان بننے کے بعد ڈھاکہ میں پاکستان کی قومی زبان اُردو ہونا کا اعلان کیا تھا۔ ہندوستان میں اُردو، ہندی کے مقابلہ میں مسلمانوں کی زبان تھی۔ اُردو پورے پاکستان میں بولی ،پڑھی ،لکھی،جانی اوررابطے کی زبان ہے۔کسی بھی قوم کی یکجہتی کے لیے ایک قومی زبان کا ہونا اتنا ہی ضروری ہے جنتا اس مملکت کا وجود۔ اُردو برصغیر ہند و پاکستان میں مسلمانوں کے دور حکمرانی کے دوران مختلف زبانوں کے مخلوبے سے وجود میں آئی۔ سنسکرت، ہندی، عربی، فارسی، لشکری ، انگریزی ،ریختہ کہلاتی ہوئی ساری زبانوں کے الفاظ اپنے اندر جذب کرتی ہوئی اب پاکستانی اُردو ہے۔ اُردو اس وقت دنیا کی تیسری بڑی زبان ہے۔ پاکستان کے آئین کے مطابق اس کو سرکاری طور پر بھی رائج ہونا تھا۔ مگر مقررہ وقت تک پاکستان میں رائج نہ سکی۔ پھرسپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی حکومت کو اُرود کو رائج کرنے کیلئے آرڈر جاری کیے۔ مگر بیوروکریٹ جو مقابلے کے امتحان انگریزی میں دے کر نوکریاں حاصل کرتے ہیں، اُردو کی عملی نفاذ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہے ہیں۔ اگر حکومت وقت، مقابلہ کے امتحان کو اُردو میں کر دے تو یہ سازش ناکام ہو سکتی ہے۔ایک صاحب درد وکیل نے سپریم کو رٹ میں رٹ پیٹیشن داخل کی کہ آ ئین پاکستان اور سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد کر کے اُردو کو فوراً نافاذ کیا جائے۔ کیا جائے انگریزسے مرغوب یا کسی کے اَلہ کار بننے والے بے سمت حکمران اوراِس کی غلام ذہنیت والے بیوروکریٹس جو اختیارات ہوتے ہوئے بھی اُردو کو مکمل طور پر سرکاری زبان نہ بنا سکے۔ دنیا میں جن ملکوں نے بھی ترقی کی ہے وہ اپنی مادری زبان کی وجہ سے کی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حکومت، جس نے عوام سے پاکستان میں، علامہ اقبالؒ کے خواب اور قائداعظمؒ کے وژن کے مطابق مدینہ کی فلاحی اسلامی ریاست کا وعدہ کیا ہوا ہے، پاکستان کی قومی زبان اُردو کو فوراً رائج کر دے۔ پھر قائد اعظمؒ اور قومی زبان، اُردو والی، ایٹمی، میزائل طاقت والی، مملکت اسلامی جمہوریہ، مثل مدینہ پاکستان، اُردو کے سائے میں ترقی کرتا ہوا دنیا کا ترقی یافتہ پاکستان بن جائے گا۔ انشاء اللہ۔

*****

پُرامن خیبرپختونخوا

پروپیگنڈہ’کو دودھاری تلواراورایسے سکہ سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے جس کے دورخ واضح ہوتے ہیں مثلاً کسی بھی سماج کے ا فراد کے ا فکارو ارادوں پر اور ان کے عقل وجذبات پرقابو پا نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انہیں ٹارگٹڈ بناکر اپنی مقصد براری کیلئے انہیں مسخرکرلینا ایک شکل یہ ہوئی دوسرارخ یہ ہوتا ہے کہ پروپیگنڈے کے ذریعے ملکی طبقات کے کچے کمزور اورناپختہ ذہنوں کو برانگیختہ کرکے سماج کے باہمی میل ملاپ کے ملی اورقومی رشتوں میں نفرتوں کے بیج بونا’انہیں پروان چڑھانا اوران کی آبیاری کرناجس کے نتیجے میں معاشرے میں شروفساد اورفتنہ پھیلے سماجی طبقات میں عدم اعتمادی کی غیر انسانی فضا ہموار ہواصل میں یہ وہ منفی پروپیگنڈا ہوتا ہے جوپاکستان دشمن ایجنسیوں نے اب قبائلی علاقوں میں شروع کرادیا ہے گو اِسے پختون عوام میں پذیرائی حاصل نہیں ہورہی ہے کل تک قبائلی علاقہ جات میں دنیا کی بدترین ظلم وستم پرمبنی وحشیانہ دہشت گردی کا دوردورہ تھا ماضی میں خیبرپختونخواہ میں جب’کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان’ کے سرکش جنونی دہشت گردوں نے خیبر پختونخواہ کو اپنی سفاکانہ درندہ صفت دہشت گردی کے بل بوتے پر یرغمال بنایا ہوا تھا اس زمانے میں وہاں لسانی تنظیم کا نام نہ تھا وہاں دہشت گرد شیطانی طاقت کا منبع تھے پختونوں کی لاشیں روز اٹھ رہی تھیں، اسکول تباہ ہورہے تھے، مساجدوں میں بم دھماکے روز کا معمول تھے، پورے صوبہ کا انتظامی ڈھانچہ ڈھے چکا تھا، علاقہ کے معزز پختون بزرگوں کوچن چن کرسرعام قتل کیا جارہا تھا، خیبرپختونخواہ کے شہرت یافتہ سیاحتی مقام وادی سوات ‘وادی موت’ بن چکی تھی وادی کا ریاستی انتظام وانصرام’ملا ریڈیو’ نام کے ایک دہشت گرد’ملا فضل اللہ’ نے سنبھالا ہوا تھا، ہرصبح سوات کے چوک میں دوچاربے گناہ پختونوں کی لاشیں کھمبوں سے ٹنگی ملتی تھیں خیبر پختونخواہ کے ضلعی و ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹرز کے علاقوں میں موت کا دندناتا ہولناک رقص ختم ہونے پر نہیں آرہا تھا، جبکہ صوبائی دارلحکومت پشاورکا کون ساایسا بازارباقی رہ گیا تھا جہاں ظالم وسفاک ملافضل اللہ کے تربیت یافتہ خودکش بمباروں نے ا نسانی جسموں کے چیتھڑے نہ اڑائے ہوں، کالعدم ٹی ٹی پی کی یہ وہ غیر انسانی ظالمانہ کارگزاریاں ہیں جنہیں پاکستانی پختون مسلمانوں کی اکثریت کی نسلیں کبھی فراموش نہیں کرسکتیں خیبرپختونخواہ میں عالمی دہشت گردوں کے آلہ کارملکی دہشت گردوں نے جبروستم کے فتنہ وفساد کی جڑ بیخ کو کاٹ پھنکنے میں اس وقت کی حکمران اشرافیہ اپنی آئینی ریاستی ذمہ داریوں سے کماحقہ عہدابرآ ہونے میں ناکام رہی اس وقت کی خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت آئی جے آئی کی قیادت نے مجرمانہ غفلت برتی ،مرکزی حکومت سے با ہمی مشاورت نہ کی گئی یوں خیبرپختونخواہ میں آئین شکن دہشت گردوں کی سرکوبی نہ کرنے کی تمام تر ذمہ داری آئی جے آئی پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے نامعلوم وجوہ کی بنا پرپاکستان کے قبائلی علاقہ جات کودہشت گردوں کے رحم وکرم پرچھوڑدیا دہشت گردوں کے ساتھ نرمی کیوں برتی گئی آج نہیں توکل سب کچھا چٹھہ سامنے آجائے گا کہ اس انسان دشمن سازش کے پیچھے کون سے سیاسی عوامل کارفرما تھے آج تک پاکستانی قوم کو معلوم نہ ہوسکے قبائلی علاقہ جات سے دہشت گردی کے انسانی لہوپینے والے اس عفریت نے ملک کے سبھی شہروں کو اپنی خونریز لپیٹ میں لے لیاشہرشہر بم دھماکے قریہ قریہ اور گلی گلی میں کاروباری مراکز اورسرکاری دفاتران خودکش بمباروں کے نشانوں پر آگئے کبھی کراچی کبھی لاہورکبھی بلوچستان کبھی اسلام آباد کہاں نہیں پاکستانیوں سیکورٹی فورسنز اور پولیس کے اہلکاروں کا لہو بہایا گیا نہ مساجد محفوظ نہ اقلیتوں کی عبادت گاہیں نہ ہی امام بارگاہیں کوئٹہ میں توحد کردی گئی سینکڑوں کی تعداد میں ایک وقت میں بے گناہ مسلمانوں کو سفاکی سے شہید کیا گیا، جبکہ بلوچستان اور ایران کی سرحدوں پر آئے روز زائرین کی بسوں کو سڑکوں پر روک کر جلایا گیا لاشوں کے انبار لگا دئیے گئے دہشت گردوں کو کوئی غرض نہ تھی ہلاک اور شدید زخمی ہونے والا کون ہے؟ پختون ہے پنجابی ہے ؟ بلوچ ہے یا ارودبولنے والا؟ غیر مسلم ہے یا مسلمان ؟ انہیں انسانی لاشیں گرانے سے مطلب تھا، پوراملک جب دہشت گردی کے جبروستم کی سفاکیتوں کی بھینٹ چڑھ گیا سیاسی حکومتیں اپنی حکومتیں کو بچانے کی فکروں میں عوام کی جان ومال سے بے خبرہونے تک کو آ پہنچیں تو پاکستان کے آئین اور قانون نے سرکشوں کی سرکشیوں کو لگام دینے کیلئے میدان عمل میں اترکراپنا کردارادا شروع کردیا پاکستانی مسلح افواج نے اندرون ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے امن وامان کو ہر قیمت پر قائم ر کھنے ا ور بیرون ملک اپنی سرحدوں پر جغرافیائی تحفظ کا عہد کیا ہوا ہے توپھر پاکستان کے محافظوں نے فیصلہ کیا بہت ہوگئی اب آئین کے سرکشوں کو مزید مہلت نہیں دی جاسکتی فوج نے’ آپریشن راہ نجات’ شروع کردیاسوات کے شہری گواہ ہیں کہ فوجی آپریشن سے قبل سوات کیسا تھا اور آپریشن کے فیصلہ کن مراحل کے نتیجے میں سوات میں امن وامان کی کیسی خوشگوارتبدیلی نے سوات کا پرامن چہرہ اور نکھارالیکن اس لہورنگ تگ ودو میں ملکی افواج کے جواں ہمت جوانوں اورجانثار افسروں کی کثیر تعداد نے قیمتی جانوں کے نذرانے وطن کے اندرونی امن وامان کی بحالی پر نچھاور کر دئیے، جنوبی وزیرستان میںآپریشن راہ راست کے ساتھ آپریشن ‘خیبرٹو’شروع ہوا ،پختون عوام نے اپنے درمیان گھسے دہشت گردوں کی نشاندہی کیلئے اپنے گھر بارچھوڑے لاکھوں کی تعداد میں فوج کی نگرانی میں ‘پناہ گزین کیمپ’قائم ہوئے پرامن پختون عوام ان پناہ گزین کیمپوں میں منتقل ہوئے پھر ملکی افواج نے سوات سمیت قبائلی علاقہ جات میں اس طرف افغان بارڈرز تک مشکل اور دشوار ترین سنگلاخ پہاڑی علاقوں میں گھس کرنہ صرف دہشت گردوں کو بھگا بھگا کر جہنم واصل کیا ان کے اسلحہ خانوں کو تباہ کیا دہشت گردمزید جنونی وحشت میں مبتلا ہوگئے پاگل پن کی جنونیت میں دہشت گردوں نے 16 دسمبر 2014 کی صبح پشاور کے آرمی پبلک اسکول کی عقبی دیواریں پھاند کر پشاور میں گھرگھرقیامت صغریٰ برپاکردی اسکول اسٹاف سمیت ڈیڑھ سومعصوم طلبا اورطالبات کو بھون ڈالا یوں پورے ملک میں کہرام سا مچ گیا ہر پاکستانی کا دل جوش انتقام کی تصویر بن گیا، حکومت نے بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلا س میں ہنگامی بنیادوں پر نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی الغرض دہشت گردی اپنے انجام کو ضرورپہنچی لیکن پاکستان کے ازلی دشمنوں کی نیندیں اڑگئیں ،کل تک جو دہشت گرد تھے، آج وہ اپنے حلیے اور شناختی نشوونما کے رہن سہن کے انداز تبدیل کرکے پرامن پختون سماج کا حصہ بن گئے انہوں نے نیا نعرہ ایجاد کرلیا ‘پختون تحفظ تحریک خاص کرملکی افواج کیخلاف پرانے عناد اورپرانی نفرتوں کا نعرہ بلندکرکے وہ سمجھے ہیں کل تک جنہیں طاقت کے زورپر مغلوب کرنے کی وحشیانہ حرکات کے وہ مرتکب ہورہے تھے پختونوں کو وہ سب ازبر ہے، پاکستانی فوج کی باوقاروردی نے پختونوں کی نسل کشی کرنے والوں سے عبرتناک انتقام لیا ہے۔

حکومت کے اب تک کئے گئے قابل تعریف اقدامات

azam_azim

آج اِس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ اِن دِنوں موجودہ حکومت کئی حوالوں سے کڑے امتحانات سے دوچار ہے، اگرچہ ،حکومت کے ابتدائی سودنوں کی معیاد ختم ہوگئی ہے، جس میں حکومت کا سینہ ٹھونک کر کے دعوی ٰ تھا کہ بہت سے مُلکی معاملات میں بے شمار تبدیلیاں نظر آئیں گیں ، مگر ، آہ ، سب کچھ ٹائیں ٹائیں فش …! جبکہ اِس عرصے میں حکومت کے دامن میں اپوزیشن اور قومی لیٹروں کی جانب سے کی جانے والی تنقیدوں اور عوام کے ہاتھ حکومتی تسلیوں کے کچھ نہیں آیاہے۔البتہ، اتناضرورہواہے کہ اِس دوران اپوزیشن نے اپنی بے جا تنقیدوں سے نوآزمودہ حکمران جماعت کو حکومتی رنگ ڈھنڈنگ سیکھنے کا موقع دے دیاہے۔اَب جیسے وقت گزرتا جار ہا ہے حکومتی ذمہ داران بشمول وزیراعظم عمران خان کا بھی اپنے قدامات اور اپنے کہے ہوئے پر بار بار یوٹرن لینے کا رجحان کم ہوتاجارہاہے ۔اُمید ہے کہ ابتدائی سو دِنوں کے بعد حکمرانوں کو اپوزیشن سے خندہ پیشانی سے نمٹنے کا طریقہ بھی آہی گیا ہو گا ۔ تاہم کوئی حکومت کے پہلے سو دنوں کے بارے کچھ بھی کہے مگراِب لگتا ہے کہ حکمران اپنی حکومت کے ابتدائی تین ماہ میں مُلک سے کرپشن کے ناسُور کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے والے عوام سے کئے گئے اپنے وعدوں اور دعووں پر قائم ہیں، ایسے میں بس ! ضرورت اِس امر کی ہے کہ اَب مُلک سے بلاتفریق کرپٹ عناصر کا خاتمہ کرنے کیلئے سِول جمہوری حکمرانوں کو مارشل لاء سے بڑھ کر اقدامات کو یقینی بنانا ہوگا، تو ممکن ہے کہ حوصلہ افزا مثبت پیش رفت سامنے آجائے، اور سرزمینِ پاکستان سے اگلے پچھلے ہائی پروفائل کرپٹ عناصر کا صفایاہوجائے؛ نہیں تو سب خواب ہی رہے گا۔ ویسے یہ بات تو سب ہی ظاہر و باطن طورپر تسلیم کررہے ہیں کہ آج یقینی طور پر قوم کو کرپشن کی لال پتی کے پیچھے بھگانے والے عوام کے صبر کا مزید انتظار ختم کرانے کو ہیں ، شاید ستر سال میں پہلی مرتبہ مُلک میں کڑے احتساب کی ہنڈی کو دم لگایاگیاہے، اِ س لئے عنقریب کرپٹ عناصر کی پکی پکائی انجام کو پہنچتی کرپشن کی کھچڑی دنیا کے سا منے آنے کو ہے۔تب ہی اپنے عبرت ناک انجام سے خوفزدہ کرپٹ عناصر اپنے بچاؤکیلئے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں۔مگر اَب اِن کی سعی بے سود ہے، کیوں کہ اِن ہائی پروفائل کرپٹ عناصر کے سیاہ کرتوتوں کی اتنی لمبی فہرست ہے کہ اگر اَبھی مُلک کو لوٹ کھانے والے ماضی و حال اور مستقبل کے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور اِن کے اِدھر اُدھر کے چیلے چانٹوں کا کڑا احتساب نہ ہوا اور اِنہیں ہمیشہ کی طرح پھر پھولوں کی پتیوں اور رگِ گل سے ہلکی پھلکی سزا دے چھوڑ دیاگیا،تو پھر با ئیس کروڑ محب وطن پاکستانیوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔جیسا کہ اِن دِنوں کہیں کہیں سے اُڑتی ہوئی اطلاعات آرہی ہیں کہ اندرپڑے ہوئے ہائی پروفائل ماضی کے حکمران اور سیاستدان اور جلد اندر جانے کے خواہشمند مسٹر ٹین پرسنٹ این آراُو کیلئے بیتاب ہیں۔ مگر ساتھ ہی دبے دبے الفاظ کے ساتھ انکاری بھی ہیں۔ بالفرض ، این آراُو ہونے کی صورت میں جیساکہ نظر آرہاہے کہ اَ ب کی بار اگرہائی پروفائل کرپٹ عناصر بے گناہ ثابت ہوکر باہر آئے۔ تو یہ ماضی کے حکمران اور سیاستدان مُلک اور قوم کا اِتنا بُراحشر کریں گے کہ دنیا اپنے کانوں پر ہاتھ لگا کر پاکستا نی قوم کی حالتِ زار پر تر س کھانا بھی چھوڑ دے گی اور کہہ اُٹھے گی کہ پاکستانی اداروں اور قوم کو سترسال بعد اتنا اچھاموقع ہاتھ آیاتھا کہ یہ ماضی اور حال اور لگے ہاتھوں مستقبل کے کرپٹ عناصر کو بھی دنیا کے دیگر مہذب ممالک اور معاشروں کی طرح زمین سے تین فٹ اُونچا اُٹھا کر ہمیشہ کیلئے زمین کے دوہاتھ نیچے کردے،اور کرپٹ عناصر سے جان چھڑائے ، مگر ہائے رے افسوس کہ پاکستان میں قانون کا نفاذ کرنے اور احتساب کرنے والے اداروں نے کچھ نہیں کیا ۔ آج جبکہ کئی دہائیوں کے بعد قومی لٹیرے قانون کی گرفت میں پوری طرح سے جکڑے جاچکے ہیں اور احتساب کے کڑے مراحل سے گزر کر اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچنے والے ہیں، لاز م ہے کہ اَب اِنہیں پاکستانی آئین اور قانون کے مطابق کڑے احتساب کے بعد کڑی سزائیں بھی دی جائیں،تو کچھ بات بنے گی ورنہ ؟ قومی خزانہ لوٹ کھانے والوں پر ترس کھا کر قانون او ر کڑے احتسابی عمل میں لچکداری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے ہلکا ہاتھ رکھا گیا۔تو پھر قوم کا قانون ، انصاف اور احتساب کے اداروں پر سے اعتبار ختم ہوجائے گا ۔ مفلوک ا لحال غریب پاکستا نی قوم چیخ اُٹھے گی کہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے پاکستان میں دُہرا قانون ہے۔ جس میں مہنگائی اور بھوک و افلاس کے ہاتھوں بے کس و مجبور ایک بھوکااپنا پیٹ بھرنے کیلئے کہیں سے ایک روٹی چوری کرلے ،جب پکڑاجائے تواپنی ساری زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار دیتاہے۔ جبکہ اِسی اسلامی مملکتِ خداداد پاکستان میں اربوں اور کھربوں قومی خزانہ لوٹ کھانے والے حکمران ، سیاستدان اور اِن کے چیلے چانٹے قانونی گرفت سے آزاد رہتے ہیں اور سینہ چوڑا کرکے باعزت زندگی گزارتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ایوانوں میں پہنچ کر اپنی بچاؤ کرنے والی قانون سازی کے بھی ٹھیکیدار بن جاتے ہیں، واہ رے..! سرزمینِ پاکستان تیرایہ کیسا انتظامی امُور ہے؟ بہر حال ، ہرکسی کی کچھ حد ہوتی ہے، یہاں تو جیسے سب ہی کچھ حدود وقیود سے آزاد ہیں، سرزمین پاکستان میں ستر سال سے یہ عام رہاہے کہ جوبھی عوام کا مینڈیٹ لے کر تاجِ حکمرانی سر پر سجائے سامنے آیا ، یا اِسے کسی نے کہیں سے پکڑا کر بنا سجاکر لا بٹھایا اور پھر لات مار کراور کان پکڑ کراقتدار کے تخت سے ہٹاکر خودکوئی مطلق العنان مسند اقتدار پر آن بیٹھا دونوں ہی نے قومی خزانے کو اپنے اجداد کی جاگیر سمجھ کر بے دردی سے لوٹ کھایا، ستر سال بعد قومی لیٹروں کو لگام دینے کیلئے جیسے تیسے احتساب کا عمل شروع ہوگیاہے جس پر کرپٹ عناصر کا چین اُجڑ گیا ہے۔ یقیناوزیراعظم عمران خان کی حکومت سے عوام کو بے شمار مثبت تبدیلیوں کے ساتھ اچھائی کی اُمیدیں وابستہ ہیں، مُلک کے بائیس کروڑ محب وطن پاکستانی اپنے وزیراعظم عمران خان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔اَب تک کرپشن کے خاتمے کیلئے حکومت کے کئے گئے اقدامات قابلِ تعریف ہیں۔ مگر عوام کی شدت سے یہ بھی خواہش ہے کہ اِس معاملے میں تیزی لائی جائے،اور کرپٹ عناصر کو جلد از جلد انجام کو پہنچایا جائے ، آخر کب تک حکمران قوم کو کرپشن کی لال بتی کے پیچھے بھگاتے رہیں گے؟ ابھی تو حکومت کو اور بھی بہت سے کام کرنے ہیں۔

نئے چیف جسٹس کاخطا ب ۔۔۔انصاف کی فراہمی کیلئے عزم نو

adaria

جب انصاف کی راہ اور منزل متعین ہو جائے تو پھر بہت زیادہ آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں ،چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ان کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے واضح طورپر کہہ دیا کہ ملکی ترقی کیلئے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا چاہیے، جمہوری استحکام کیلئے ریاستی اداروں کا فعال ہوناضروری ہے۔ ہائیکورٹ کو بھی اپنے اختیارات حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنے چاہئیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے مشکل حالات میں عدالت چلائی، ڈیم بنانا ہے، قرض اتارنا چاہتا ہوں، جعلی مقدمات، جعلی گواہوں کیخلاف ڈیم بناؤں گا۔ یہ بات بالکل100فیصد درست ہے کیونکہ اس وقت ملک کی عدالتوں میں لاکھوں مقدمات التواء کا شکار ہیں اور اسی وجہ سے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ وہ جعلی مقدمات کیخلاف ڈیم بنائیں گے، یوں بھی فیصلے تحریر کرنے کے حوالے سے ان کا ایک ریکارڈ قائم ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے بطور چیف جسٹس انصاف کی فراہمی میں تعطل کو دور کرنے کی کوشش کروں گا اور از خود نوٹس کا اختیار وہاں استعمال ہوگا جہاں دوسرا حل موجود نہ ہو ،چیف جسٹس ثاقب نثار کی انسانی حقوق سے متعلق خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، غیر ضروری التواکو روکنے کیلئے جدید آلات کا استعمال کیا جائے گا، جعلی مقدمات کے خلاف بند باندھوں گا اور عرصہ دراز سے زیر التوامقدمات کا قرض اتاروں گا، ملٹری کورٹس میں سویلین کا ٹرائل ساری دنیا میں غلط سمجھا جاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ فوجی عدالتوں میں جلد فیصلے ہوتے ہیں، کوشش کریں گے سول عدالتوں میں بھی جلد فیصلے ہوں، فوج اور حساس اداروں کا سویلین معاملات میں کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے، چیف جسٹس میاں ثاقب کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر منعقدہ فل کورٹ ریفرنس میں 17 میں سے 16 ججز نے شرکت کی تاہم جسٹس منصور علی خان ریفرنس میں شریک نہ ہوئے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بہت مشکل حالات میں عدالت چلائی، انہیں سیاسی، سماجی، معاشرتی اور آئینی سمیت کئی طرح کی مشکلات کا سامنا رہا۔ انہوں نے کہا جسٹس میاں ثاقب نثار کے ساتھ پچھلے 20 سال سے ہوں اور ہم دونوں ایک ساتھ لاہور ہائیکورٹ کے جج بنے۔ ہم ایک ساتھ جڑے بچوں کی طرح ہیں جو آج الگ ہو جائیں گے، کسی سرجری کے ساتھ نہیں بلکہ آئین کے تحت الگ ہوں گے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ چیف جسٹس کی انسانی حقوق سے متعلق خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے معاشرتی اور آئینی سمیت کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بطور چیف جسٹس پاکستان انصاف کی فراہمی میں تعطل کو دور کرنے کی کوشش کروں گا، جعلی گواہوں کے خلاف بھی ڈیم بنانا چاہتا ہوں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا از خود نوٹس کا اختیار بہت کم استعمال کیا جائے گا اور یہ اختیار وہاں استعمال ہوگا جہاں دوسرا حل موجود نہیں ہوگا، ہائیکورٹ کو بھی اپنے اختیارات حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا پچھلے ادوار میں ریاستی اداروں کے درمیان عدم اعتماد کی فضا پیدا کی گئی، ملک کی ترقی کیلئے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا چاہیے، جمہوری استحکام کیلئے تمام ریاستی اداروں کا فعال ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں بات کرنی چاہیے کس ادارے نے کہاں دوسرے کے کام میں مداخلت کی؟، عدلیہ نے کہاں دوسرے اداروں کے اختیارات میں مداخلت کی؟ لاپتہ افراد کا معاملہ سنگین ہے۔ میری رگوں میں بلوچ خون دوڑ رہا ہے، میں آخری دم تک لڑوں گا۔ مقننہ کا کام صرف قانون سازی ہے ترقیاتی فنڈز دینا یا صرف ٹرانسفر پوسٹنگ کرنا نہیں۔ صدر پاکستان کی سربراہی میں چارٹر آف گورننس پر بحث کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرح میں بھی ڈیم تعمیر کرنا چاہتا ہوں اور میں بھی ان کی طرح ملک کا قرضہ اتارنا چاہتا ہوں۔ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں جسٹس کھوسہ نے کہا مضبوط جمہوریت کے لئے سویلین با لادستی اور احتساب لازم و ملزم ہیں ، آئیں بات کریں سویلین بالادستی کیسے یقینی بنائی جا سکتی ہے، جمہوریت غیر مستحکم کیے بغیر کیسے سویلین کا احتساب یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ یہ بات کرنی چاہیے کس ادارے نے دوسرے کے کام میں مداخلت کی ، مل بیٹھ کر کھلے ذہن سے طے کریں ، عدلیہ ، انتظامیہ اور مقننہ نے کہاں کیا غلط کیا ۔ ہم سب کو خود ہی اپنا احتساب کرنا ہوگا ، جب ہم یہ جان لیں گے کہ ہر شخص کہاں پر غلط ہے تو پھر سسٹم بھی ٹھیک ہو جائے گا ،خوداحتسابی کے عمل کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

غیرملکی کمپنی کاپاکستا ن میں سرمایہ کاری کااعلان خوش آئند
فوڈاینڈ ایگریکلچرل گلوبل کمپنی کارگیل نے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کر دیا۔ وزیراعظم عمران خان سے کمپنی کے وفد نے مارکل سمیٹس، وین ڈین اکر کی قیادت میں ملاقات کی۔ کارگیل کمپنی نے پاکستان میں 20 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا۔ سرمایہ کاری آئندہ تین سے پانچ سال کے دوران کی جائے گی۔ وزیراعظم نے کمپنی کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری پر خیرمقدم کیا اور کارگل کمپنی کے وفد کو تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ سرمایہ کاری سے پاکستان میں زرعی شعبے کی ترقی میں مدد ملے گی۔ حکومت شفافیت اور کاروبار کے یکساں مواقع کی فراہمی یقینی بنا رہی ہے۔ حکومت ملک میں کاروبار کو آسان بنانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ کارگیل کمپنی 2012میں بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی تھی تاہم کرپشن، حوصلہ شکنی اور یکساں مواقع نہ ہونے کے باعث ایسا نہ ہو سکا لیکن موجودہ حکومت کے آنے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹوئٹرپیغام میں کہا ہے کہ ہمارے چند اراکین پارلیمنٹ کو بیرون ملک جانے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے، انہیں تو ابھی بہت کام کرنے ہیں۔ ملک سے باہر جانے والے سیاستدانوں کے ذمہ پاکستان میں کرنے کیلئے بہت سے کام ہیں۔ ایسے اراکین اسمبلی بھی ہیں جو ملک سے باہر جائے بغیر نہیں رہ سکتے جبکہ بعض نے تو بیرون ملک رہائشی اجازت نامے اور اقامے لئے ہوئے ہیں۔ دریں اثناوزیرِاعظم عمران خان سے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی نے جمعرات کو وزیرِاعظم آفس میں ملاقات کی۔وفد نے مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں قبائلی علاقہ جات کیلئے بالترتیب 12 اور 24 نشستیں کی جائیں اور اس سلسلہ میں مطلوبہ کارروائی کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ قائم کرکے اقدامات کئے جائیں۔ مزید برآں وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شریک ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ وزیراعظم کو پارلیمنٹ اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کے لئے قائمہ کمیٹیوں کی تکمیل کا انتظار تھا۔وزیر اعظم عمران خان آئندہ ہفتے سے پارلیمنٹ کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔

جدوجہد آزادی کشمیر ، بھارتی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار

ظالم اور سفاک مودی حکومت مقبوضہ کشمیر میں بربریت اور جلادیت کی ساری حدیں پار کررہی ہے۔ لیکن مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی جدوجہد کی شاندار کامیابی اور بھارتی فوج کی درگت بننے سے مودی سرکار پر لرزہ طاری ہو گیا۔ کشمیر میں پاکستان کے حق میں لگنے والے نعروں نے ان کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ آزادی کے متوالے جب پاکستانی سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں تو نئی دہلی کے ایوانوں میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ اب آزادی کے پروانوں سے اس قدر خوف زدہ ہوگئی ہے کہ پوری وادی میں سبز کپڑے کی فروخت پر بندش لگا دی ہے۔

ہندوستان کا بندوق کی نوک پر پوری وادی میں وہ شیطانی کھیل جاری ہے جو کشمیری مسلمانوں کے آزادی کے جوش و جذبے کو کم کرنے کے بجائے اور تیز کرتا جارہا ہے۔ بھارتی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ وادی میں انٹرنیٹ اور سیل فون پر تو پہلے ہی پابندی لگا چکی ہے۔اب بھارتی حکومت نے پوری وادی میں گہرے سبز رنگ کے کپڑے کی فروخت پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔ کپڑے کے تاجروں کو کہہ دیا کہ اگر کسی نے خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔
مقبوضہ جموں کشمیر کے طول عرض میں آج بھی کشمیری نوجوان اپنے سروں اور چہروں پر سبز ہلالی پرچم باندھ کر نکلتے ہیں۔ آج بھی جب کسی کشمیری جوان کا جنازہ اٹھتا ہے تو اسے سبز ہلالی پرچم میں لپیٹا گیا ہوتا ہے۔ بھارتی مظالم کے خلاف ہونے والے جلسے جلوسوں میں سبز پرچموں کی بہار دیکھی جا سکتی ہے۔

سبز رنگ سے کشمیری مسلمانوں کی جذباتی وابستگی پاکستانی پرچم کی وجہ سے بھی ہے اور عمومی رائے میں بھی دنیا بھر کے مسلمان سبز رنگ سے روحانی و مذہبی لگاؤ رکھتے ہیں۔مختلف ایام کے موقع پر وادی بھر میں سب ہلالی پرچم لہرانا گزشتہ کچھ عرصہ سے روایت بن چکی ہے۔ جواں سال شہید کشمیری کمانڈر اور حزب المجاہدین کے رہنما برہان مظفر وانی اور ان کے ہم عمر مزاحمت کاروں نے تحریک آزادی کشمیر کو نیا رخ دیا ہے جس کے بعد مودی سرکار کی بوکھلاہٹ عروج پر ہے۔حال ہی میں شہید ہونے والے ایک کشمیری نوجوان کے جلوس جنازہ کے مناظر انٹرنیٹ پر وائرل ہوئے ۔ اس ویڈیو میں شہید نوجوان کی والدہ اور ہمشیرہ جنازہ کے قریب کھڑے ہو کر لاالہ الااللہ اور شہادت پر شکر پر مبنی نعرے لگوا رہی ہیں۔
گزشتہ برس پاکستان کے 71 ویں جشن آزادی کے موقع پربھارتی فوج کے مظالم بھی مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کو پاکستان کا جشن آزادی منانے سے نہ روک سکے۔ بارہ مولا کے مرکزی چوراہے پر کشمیری نوجوان سبز ہلالی پرچم لہراتے رہے۔ سری نگر اور اننت ناگ میں بھی طلبہ نے پاکستان کے جشن آزادی پر ریلیاں نکالیں۔ گو کہ کشمیریوں کو پاکستان کا جشن آزادی منانے سے روکنے کیلئے بھارت نے مقبوضہ وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا لیکن اس کے باوجود کشمیریوں نے پاکستان کی آزادی کا جشن منایا۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جگہ جگہ فوجی تعینات کیے۔ بھارتی فوجیوں کی جانب سے گاڑیاں روک کر شہریوں کی تلاشی لی جاتی رہی اور جلسے جلوس نکالنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس سے قبل بھی متعدد بارکشمیریوں کی ریلیوں میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتا رہا ہے۔

گزشتہ برس یوم آزادی کے موقع پر وادی میں خواتین کی ایک تقریب میں پاکستانی پرچم لہرایا گیا اور پاکستان کا قومی ترانہ پڑھا گیا۔ اب غداری کا مقدمہ بنانے یا لوگوں کی اندھا دھند گرفتاری سے بھارت اس مسئلہ کو زیادہ دیر دبا نہیں سکتا۔ اگر بھارت خطے میں امن کا خواہشمند ہے تو پھر اسے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت جلد دینا ہو گا۔ ظلم و تشدد سے غاضبانہ تسلط زیادہ دیر برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ اس دیرینہ تنازعہ کے حل میں دلچسپی لے تاکہ دو ایٹمی ملکوں کے درمیان کشیدگی کی فضا ختم ہو۔
سینئر حریت رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ کشمیری عوام ریلیوں میں پاکستان کا پرچم لہراتے رہیں گے۔ پاکستان ہمارا پڑوسی اور کشمیریوں کا خیر خواہ ہے۔ کشمیریوں کا کہنا ہے کہ وادی میں پاکستان کا جھنڈا پہلی مرتبہ نہیں لہرایا گیا اور پاکستانی پرچم لہرانا کوئی جرم نہیں۔
بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ کشمیر ’’پاکستان بھارت تنازع‘‘ نہیں بلکہ سہ فریقی مسئلہ ہے۔ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی سرحدی تنازع نہیں بلکہ سْلگتا ہوا انسانی مسئلہ ہے اور کشمیری حق خود ارادیت حاصل کرکے رہیں گے۔مقبوضہ کشمیر میں تمام تر بھارتی مظالم اور فوجی کارروائیوں کے باوجود تحریک آزادی کا زور کم ہوتا نظر نہیں آتا۔ جموں وکشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قراردینے والے بھارت کی معروف یونیورسٹی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ادارے میں ایک تقریب سے پہلے لگائے گئے بینرز میں جموں وکشمیر کے بغیر بھارت کانقشہ دکھایا ہے۔ نقشے کو تقسیم برصغیر کے خلاف ایک ڈرامے سے پہلے دکھا یاگیاجس کو یونیورسٹی میں دکھاناتھا۔تاہم ہندو انتہا پسندوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو تقریب منسوخ کرنے پر مجبورکیا۔یونیورسٹی نے اگرچہ تقریب منسوخ کردی پھر بھی اس نے جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت سے انکار نہیں کیا جیسا کہ یونیورسٹی کے اندر اور باہر لگائے گئے بینرز میں دکھایا گیا۔ یہ پوسٹرز ایک ڈرامہ سوسائٹی نے بنائے ہیں۔
*****

کرپشن کے نشیب فراز کے تھپڑے کھاتی اپوزیشن کا اتحاد ؟

کوئی موجودہ حکومت اور وزیراعظم سے متعلق کچھ بھی کہے مگر کم از کم اِتنا تو یہ سچ ہے اور اِس سے کسی کو اِنکار بھی نہیں ہے کہ بظاہر ہمارے وزیراعظم عمران خان جو اپنے قول وعزم کے پکے اور ثابت قدم سنجیدہ شخصیت کےحامل بھلے اِنسان ہیں یہ جو کہہ دیں اور جس پر اڑجا ئیں وہ کرکے ہی رہتے ہیں جیسا کہ یہ با ئیس سال پہلے مُلک سے کرپشن اور کرپٹ عناصر کے خاتمے، اداروں کو آزاد اور خود مختاربنانے کے ساتھ نئے پاکستان کے خواب ا ور اعلان کو لے کر چلے تھے یہ اِس پر ابھی قا ئم ہیں آج اِسی بنیاد پر اِنہیں عوام نے اقتدار کی کُنجی سونپ دی ہے مگر اِن کی حکومتی ٹیم میں شامل کئی گُھسر پُھسرکرتے وفاقی وزراء اور صوبائی حکومتوں میں شامل بہت سے ذمہ داران کا غیر سنجیدہ رویہ اِن کی حکومت میں مشکلات کا باعث بن رہاہے جس سے وزیراعظم کو بہت سے فیصلے کرنے میں پریشانی کا سامنا ہے اِس کی خام وجہ کئی اہم وفاقی وزراء بالخصوص اور حکومت میں شامل دیگر اہم اشخاص بھی ہیں جو وقت سے پہلے بول کر سارا کھیل خراب کررہے ہیں تب ہی کچھ دِنوں سے اہلِ سیاست کا پاکستان تحریک اِنصاف اور اِس کی موجودہ حکومت سے متعلق یہ خیال یقین میں بدلتا جارہاہے کہ پی ٹی آئی کی جدوجہد کا سفر سے صِفر تک کا دورانیہ ہے،اگرابھی وزیراعظم عمران خان نے اپنے اِردگرد ایسے افراد کا احتساب نہ کیا تویہ پھر بھول جا ئیں کہ یہ قومی خزانہ لوٹ کھانے والے سابق حکمرانوں اور سیاستدانوں کا کڑا احتساب کرکے مُلک سے کرپشن کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوپا ئیں گے۔بیشک ،جب پچھلے انتخابات میں پی ٹی آئی کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور اِس کے سر پر اقتدار کا تاج سجا تو اِس کے چاہنے والوں(ووٹروں) کو ایسا لگا کہ آنے والا کل اِن کے آج سے بہتر ہوگا،مُلک میں چار سو تبدیلی کا رقص ہوگا، پرانا فرسودہ نظام منوں مٹی تلے دفن ہوجائے گا، اِنصاف کا بول بالا ہوگا، کرپشن اور کرپٹ عناصرکا منہ کالا ہوگا، مہنگائی مُلک سے غرق ہوجائے گی،ہر طرف سستائی کا راج ہوگا، روز مرہ کی اشیاخوردونوش ملاوٹ سے پاک دستیاب ہوں گی، ڈالر ز زمین کی خاک چاٹے گا اور پاکستا نی کرنسی آسمان کی بلندیوں کو بوسے دے گی، لوڈشیڈنگ ختم ہوجا ئے گی ، بجلی کی فراوانی ہوگی ،جمہوریت کا لبادہ اُوڑھ کر قومی خزا نہ لوٹ کھانے والوں کا کڑا احتساب ہوگا ، سب اپنے کئے کی سزا پائیں گے مگر اَب جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت چھ ماہ کی ہوچکی ہے، پی ٹی آئی کی جدوجہدکا سَفر سے سفرتک کا دورانیہ صِفر معلوم دیتا ہے ،آج سب کچھ عوامی توقعات کے اُلٹ ہی ہوتاجارہاہے، عوامی ریلیف کا خیال حکومت کے پروگراموں میں کہیں نظر نہیں آرہاہے ، اگر کچھ ہے تو بس اتناہے کہ عوام قربانیوں کے لئے تیار رہیں، ابھی سخت امتحانات اور کڑی آزمائشوں سے عوام کو گزرنا ہوگا بس عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبنے کو تیار رہیں یہ عوام کے امتحان اور آزمائش کا وقت ہے اِس کے بعد سب بچ گئے یا کوئی بچ گیا تو نیاپاکستان دیکھے گا حکومت نے سیراب نما خوابوں میں عوام کو بہلا رکھاہے، عرض یہ کہ ابھی تک پی ٹی آئی کی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک رتی کی بھی قانون سازی نہیں کی ہے ، اِدھر اُدھر کے بے جا احکامات اور اقدامات سے لگتا یہی ہے کہ ابھی تک پی ٹی آئی کی حکومت کو یقین نہیں آیا ہے کہ یہ حکمران جماعت ہے اَب اِسے دھرنا سیاست اور احتجاجی جلسے جلوسوں والی سیاست سے نکل کر حقیقی معنوں میں سنجیدگی سے ایسے چلنا ہوگا جیسے حکمران جماعت اپنے اندرونی اور بیرونی اقدامات اور منصوبوں سے سنجیدگی سے چلاکرتی ہیں مگر افسوس یہ ہے کہ آج پی ٹی آئی کی چھ ماہ کی اچھی یا بُری جیسی بھی حکومتی کارکردگی ہے اِس نے اِس کے ووٹروں کو مایوسی اور نااُمیدی کی چادر میں جس طرح ڈھانپ رکھاہے،اِس موقع پر اِس کا کیا تذکرہ کرنا؟جو بھی ہے سب کے سامنے ہے، ہاں اِتنا ضرور ہے کہ عوا م مایوسیوں کے سمندر میں غوطہ زن رہ کر بھی اُمید کا دامن تھامے ہوئے ہیں کہ اَب کوئی انہونی ہوجائے، تو اِس کے ووٹرز کا اِس پر اعتماد بحال ہو ورنہ ؟ ایسا کچھ اچھا ہوتا دور دور تک دِکھائی نہیں دے رہاہے کہ حکومتی ذمہ دارن اور وزراء کچھ سنجیدگی کا مظاہر ہ کریں تو آنے والے وقتوں میں کچھ بہتری کے اثار نمودار ہوں اور پی ٹی آئی کے ووٹرزمایوسیوں اور نااُمیدوں کے سیاہ اندھیرے سے نکل جائیں اور حکومت کے اقدامات اور کا رکردگی پر خوشی کا اظہار کریں اور جب کبھی اپنے ووٹرز کو حکومت ایک آواز دے تو یہ اِس پر لبیک کہیں ،اِس کے شانہ بشانہ آکھڑے ہوں جیسا کہ اَب لگتا ہے کہ اپنی کرپشن سے منہ چراتی ا پوزیشن کے اتحاد ہونے کی صورت میں بہت جلد یہ لمحہ آنے والا ہے جب پی ٹی آئی کے وزراء اپنے وجود کو قائم رکھنے کیلئے اپنے ووٹرز سے مدد طلب کرنے والے ہیں مُلکی شاہراہوں، چوکوں چراہوں پر دونوں جانب سے دمادم مست قلندر کا اکھاڑا سجنے والاہے۔قبل اِس کے کہ ایسی نوبت آئے حکومت کو اپنے وجود میں سنجیدگی کا لاوا بھرتے ہوئے ایسے اقدامات اور احکامات کرنے ہوں گے جس سے اپوزیشن کو سمجھ آجائے کہ حکومت پر حکومتی رنگ چڑھ گیاہے اور اَب اِس سے پنگے بازی مہنگی پڑ سکتی ہے حزبِ اختلاف کو لگ پتہ جائے ابھی تک یہ بھی مذاق مذاق میں اپوزیشن کا رول اداکرتی رہے ہے مگر اَب اِسے اپنے اندر بھی سنجیدگی کا مظاہرہ پیدا کرتے ہوئے اپنا کردار سنجیدگی سے ادا کرنا ہوگا۔ بہر کیف لگتاہے کہ پی ٹی آئی 22سال سے جس سفر میں سرگرداں ہے یہ آج بھی وہیں کھڑی ہے جہاں سے چلی تھی یعنی کہ آج بھی اِس کا سفر سے صِفر تک کا دورانیہ ہے اِس کے ہاتھ سیراب اور خوابوں کے کچھ نہیںآیا ہے تب ہی یہ اِس سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے، اِس سے بھی اِنکار نہیں کہ بائیس سال سے مُلک میں کرپشن سے پاک نظام کی تلاش میں سرگرداں پی ٹی آئی کو منزل مل کر ابھی تک یہ اپنے خواب کی تعبیر سے کوسوں دور لگتی ہے،گو کے ابھی اقتدار پا کر بھی اِسے اپنے مقاصد کے حصول کی راہ میں کڑے امتحانات اور آزمائشوں کی ندی کا سامنا ہے جسے عبور کئے بغیر پاکستان تحریک انصاف اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتی ہے ۔جیسا کہ پچھلے دِنوں وزیراعظم عمران خان نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات کے دوران ہمیشہ کی طرح ایک مرتبہ پھرکہا ہے کہ منتخب نمائندوں کو کرپشن کا لائسنس ملنا ہی اِن کی جمہوریت ہے، کسی کی کرپشن کو چھپانے کیلئے پارلیمنٹ کو استعمال نہیں ہونے دیں گے ، احتساب پر کسی کا سمجھوتہ نہیں ہوگا، اپوزیشن کا واک آوٹ این آر اُو کے لئے ہے، پارلیمنٹ پر عوام کے کروڑوں خرچ ہوتے ہیں، اپوزیشن کا بائیکات جیسے کام دبا وڈالنے کا گھناؤنا حربہ ہے،اور ایسے بہت سے سُنہرے الفاظ اور جملے کہے ہیں جو ہر بار کی طرح حقیقی عمل سے عاری مگراِن کے چاہنے والوں کے نزدیک تاریخی اہمیت کے حامل ہیں ارے بھئی بے عمل کے تاریخی جملے سُن سُن کر قوم کا اعتبار حکومت پر سے ختم ہوتا جارہاہے اَب بہت ہو چکی ہے وزیراعظم صاحب، اپنی ٹیم کے لئے عملی مظاہرہ بھی کردکھائیے ورنہ قوم حکمران جماعت کو بھی تاریخ کا حصہ بنانے میں دیرنہیں کرے گی۔جبکہ اُدھر اپنے گردنوں کے گرد تنگ ہوتے احتساب کے طوق سے خوفزدہ اور اپنی کرپشن کے نشیب وفراز کے تھپڑے کھاتی اپوزیشن نے تُرنت اپنے مفاد کا تحفظ مقدم جانتے ہوئے اتحاد قائم کرلیا ہے حکومت کے خلاف احتجاجی تحاریک چلانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے لگے ہاتھوں حکومت کو دھمکی آمیز لہجے میں یہ عندیہ بھی دے دیاہے کہ اَب حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے،اپنے ذاتی مفادات کی کشتی میں سوار کرپشن کی گُھٹی میں سر سے پیر تک ڈوبے کرپٹ سیاسی ٹولے نے یہ بھی باور کردیاکہ فوجی عدالتوں سمیت اہم معاملات پر مشترکہ حکمت عملی کے لئے کمیٹی قائم کردی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی اپنی توپوں کا رخ حکومت کی طرف کرتے ہوئے یہ گولہ بھی داغ دیاہے کہ منتخب حکومتیں گرانے کے روپے کی شدید مذمت جبکہ فنانس بل پر بھر پور مزاحمت کا فیصلہ کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کردیاہے ‘‘ کرپشن کی دلدادہ اپوزیشن کا قائم ہونے والا اپنی نوعیت کا یہ انوکھا اتحاد حکومت کے لئے پریشانیاں پیدا کرنے کے لئے کیا کیا گُل کھلا ئے گا؟آج شائد حکومت کو پتہ بھی نہیں ہے مگر اَب موجودہ صورتِ حال میں حکومت کو چاہئے کہ یہ اپنے اندر اتحاد برقرار رکھے اور اپنے غیر سنجیدہ پن سے چھٹکارہ پاتے ہوئے سنجیدگی سے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کرپٹ عناصر کے ذاتی مفادات اور سیاسی اتحاد کا ڈٹ کر مقابلہ کرے تو ممکن ہے کہ حکومت کی ثابت قدمی اِس کے کچھ کام آسکے کیوں کہ اَب عوام کی کرپشن سے پاک پاکستان کی آخری اُمیدیں حکومت سے ہی لگی ہوئیں ہیں اگر اَب نہیں تو پھر کبھی بھی سرزمین پاکستان کرپشن اور کرپٹ عناصر سے پاک نہیں ہوسکے گا۔

*****

کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے

کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔کشمیر پاکستان کا پانچواں صوبہ ہے جس پر بھارت قابض ہے۔کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ اپنی لاشوں کو پاکستان کے ہلالی پرچم میں لپیٹ کر دفناتے ہیں۔ پاکستان کشمیریوں کا پشتی بان ہے۔ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی جمہوری جد وجہد کے ذریعہ بنا تھا۔ جب برصغیر میں انگریزوں کی غلامی سے نجات کے لیے تحریک چلی تو ہندوؤں نے کہا تھا کہ بھارت میں صرف ایک قوم رہتی ہے جس میں ہندو، مسلمان،سکھ اور عیسائی شامل ہیں ۔ان سب قوموں کی نمائندہ سیاسی جماعت آ ل انڈیا کانگریس ہے۔ کچھ کانگریسی مسلمانوں کو ملا کر یہ بیانیہ بھی جاری کیا کہ قومیں اوطان ،یعنی وطن سے بنتی ہیں۔ لہٰذا اقتدار ہندوؤں اور مسلمانوں کی نمایندہ جماعت کانگریس کے حوالے کیا جائے۔ مگر قائد محترم ؒ نے کہا کہ برصغیر میں ایک نہیں دو قومیں رہتیں ہیں ایک ہندو اور دوسری مسلمان۔ اگر انگریزوں نے اقتدار صرف ہندوؤں کے حوالے کیا تو مسلمانوں کے ساتھ بے انصافی ہوگی۔ ہندو اپنی اکثریت کی بنیاد پر مسلمانوں کے حقوق کو ہڑپ کر لیں گے۔ اس لیے اقتدار دو قوموں، ہندوؤں اور مسلمانوں کے حوالے کیاجائے ۔ دونوں قوموں کے مذہب ،سماج ،تہذیب، ثقافت،رہن سہن کے طریقے، کھانے پینے، لباس، ان کی تاریخی کہانیاں اور ہیرو سب کچھ مختلف ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے برصغیر پر ایک ہزار سال حکومت کی ہے ان کا حق ہے کہ ان کو علیحدہ ملک میں اپنی تہذیب، تمدن، راویات اور مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا موقعہ ملنا چاہیے۔ قائد اعظم ؒ نے مسلمان قوم کو آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر متحد کیا۔ اور ان کو سلوگن دیا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ۔ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ۔ لے کے رہیں گے پاکستان۔ بن کے رہے گا پاکستان۔ قائد اعظم ؒ نے کہا کہ ہم پاکستان کو مدینہ کی فلاحی اسلامی ریاست طرز کی ریاست بنائیں گے۔ پھر قائد اعظم ؒ نے برصغیر کے اندر ایسی زبردست تحریک پاکستان اُٹھائی کہ اس کے سامنے نہ انگریز اور نہ ہی ہندو ٹھر سکے۔ قائد اعظمؒ نے جمہوری طریقے سے اپنی بات منوائی۔ پھر دو قومی نظریہ کو تینوں فریقوںیعنی انگریز ،ہندوؤ ں اور مسلمانوں نے تسلیم کیا۔ وہ یہ کہ جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں پاکستان بنے گا اورجہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے وہاں بھارت بنے گا۔ ساتھ ہی ساتھ جو ہندو آبادی والی ریاستیں ہیں وہ بھارت میں اور جو مسلمانوں کی ریاستیں ہیں وہ پاکستان میں شامل ہو جائیں گی۔ اس طرح ریاست حیدر آباد اور جونا گڑھ میں ہندو زیادہ تھے مگر ان میں حکمران مسلمان تھے۔ان ریاستوں کے حکمرانوں نے پاکستان میں شامل ہونے کا کہا مگر ان ریاستوں پر بھارت نے بزور قبضہ کر لیا۔ کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ تھی مگر اس کا راجہ ہند تھا۔ لہٰذا اس کو پاکستان میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ مگر تقسیمِ برصغیر کے فارمولے کے خلاف بھارت نے انگریز اور راجہ جموں کشمیر سے سازش کر کے کشمیر میں بھی ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو اپنی فوجیں داخل کر کے کشمیریوں کی خواہش کے بل مقابل کشمیر پرزبردستی قبضہ کر لیا۔ پھر گلگت بلتستان کے عوام نے راجہ کی فوجوں سے لڑکر اِسے آزاد کرا لیا۔ جموں اور وادی کشمیر کو بھارت کے قبضے سے آزاد کرانے کیلئے کشمیریوں، سرحد کے قبائلیوں اور پاکستان فوج نے آگے بڑھ کر موجودہ آزاد جموں کشمیر کا تین سو میل لمبا اور تیس میل چوڑے علاقے کو آزاد کرا لیا۔ یہ مشترکہ فوجیں سری نگر تک پہنچنے والی تھیں کہ بھارت کے اُس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہرلال نہرو صاحب اقوام متحدہ میں جنگ بندی کیلئے پہنچ گئے اور درخواست دی کہ جنگ بند کر دی جائے اور امن قائم ہونے پر کشمیریوں کو حق خودارادیت دے دیا جائے گا۔ وہ دن اور آج کا دن کہ وہ اپنے سیاسی رہبرچانکیہ کوٹلیہ کے سیاسی فلسفے پر عمل کرتے ہوئے، کہ دشمن سے پہلے دوستی کا دم بھرو، پھر اسے قتل کرو اور پھر اس کے قتل پر آنسو بھی بہاؤ والا فامولہ لاگو کرکے کشمیریوں کو ذبح کر رہا ہے۔ بھارت نے اپنی آٹھ لاکھ فوج کشمیر میں لگائی ہوئی ہے۔پورا کشمیر فوجی چھاونی کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔ کشمیریوں کو ہلاک کرنے ان کی نسل کو ختم کرے اورہمیشہ غلام رکھنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ بھارت کشمیر میں کیمیائی ہتھیاراستعمال کر رہا۔ قید خانوں میں سیکڑوں کشمیری نوجوانوں کو زہر آلود کھانا کھلا کر آپائج کر دیا۔پھر ان ڈھانچوں کو آزاد کیا، تا دوسرے عبرت پکڑیں اور آزدی کی جد و جہد چھوڑ دیں۔ یہ لوگ اب بھی کشمیر کے بازاروں میں چلتی پھرتی لاشوں کا منظر پیش کرتے ہیں۔میری لائبریری میں ان چلتی پھرتی لاشوں کے فوٹوں سے بنی کتاب موجود ہے۔ ہزاروں کشمیری خواتین کے ساتھ جابر قابض بھارتی فوجیوں نے اجتمائی آبروزیزی کی تاکہ ان کے خاندان یہ رویہ دیکھ کر آزادی سے باز آ جائیں۔ ان مظلوم بے بس کشمیری خواتین کی داستانوں سے بھری کتاب جس کو عبدالقیوم نامی کشمیری نے لکھا ہے بھی میری لائبریری میں ہے۔ برسوں سے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارت کی قید میں بند ہیں۔ ان کی بنیادی انسانی حقوق کو پامال کیا جارہا ہے۔۔ بھارتی مظالم کے خلاف مظاہرہ کرنے والی کشمیری اسکول کی بچیوں کے چوٹیا ں قینچی سے کاٹی جاتی ہیں تا کہ وہ گھبرا کر گھروں میں بیٹھ جائیں۔ محاصرے کے دوران گھروں کو گن پاؤڈر سے اُڑا دیا جاتا ہے۔ لوگ احتجاج کرتے ہیں تو ان پر گولیاں چلائی جاتیں ہیں۔ کون سا ظلم کا حربہ رہ گیا ہے جو بھارت کی سفاک فوجیوں نے کشمیریوں پر استعمال نہ کیا ہو۔ بیلٹ گنوں سے اندھوں ہونے واکے کشمیریوں کے علاج کے لیے اگر کوئی ملک کہتا کہ ہم ڈاکٹر بھیجتے کہ ان کا علاج کیا جائے تو اس کی اجازت نہیں دی جاتی۔ کشمیر اب بھارتی فوج کی طرف کشمیریوں کی قتل گاہ بن چکی ہے۔اگر دنیا کی انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیر کے حالات کا مشاہدہ کرنے کی اجازت مانگتیں تو بھارت ان کو بھی اجازت نہیں دیتا۔ صحافیوں اوراخباروں کے نمائندوں کا کشمیر میں داخلہ بند ہے۔اب اللہ اللہ کر کے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق نے کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی پر رپورٹ تیار کی جو دل ہلا دینے والے مظالم پر مبنی ہے۔ بوڑھوں ، بچوں، لڑکوں، لڑکیوں ، مرد ،عورتوں کو جانوروں کی طرح ذبح کیا جارہاہے۔ کشمیریوں کی آبادی کو محفوظ رکھنے کیلئے بھارتی آئین کی خصوصی دفعہ جس میں لکھا ہے کہ کشمیر میں کوئی بھی غیر کشمیری جائیداد نہیں خرید سکتا۔ اس شک کو ختم کرنے اور کشمیریوں کی آبادی کو گھٹانے کیلئے دہشت گرد آئی ایس ایس کے کارندوں نے بھارتی سپریم کورٹ کے اندر رٹ داخل کی ہوئی ہے جس کی تاریخیں پڑھ رہی ہیں۔ کسی بھی وقت بھارت کی متعصب عدلیہ یہ خصوصی شک بھی ختم کر دی گی۔ ان حالات میں مسلمانوں کا اقوام متحدہ سے یہ کہنا ہے کہ جب اسلامی ملک انڈونیشاء اور سوڈان میں عیسائی اقلیتوں نے علیحدہ وطن اور آزادی مطالبہ کیا تو اسے فوراً آزادی دلا دی گئی۔ پھر جب اقوام متحدہ میں بھارت کے سابق وزیر اعظم کے لکھے ہوئے وعدے، کہ کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے گی ۔ اس کے حوالے سے منظور شدہ کئی قرارادادیں بھی اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔ تو بھارت کو اپنا وعدہ پورا کرانے کیلئے اقوام متحدہ کیوں نہیں زور دیتی؟

*****

Google Analytics Alternative