کالم

رواداری کا فروغ۔۔۔ ضرورتِ وقت !

ایک جانب دنیا کے کئی خطوں میں مختلف نسلی اور مذہبی تعصبات کی بنیاد پر مختلف نو ع کی انتہا پسندی نئی شکل میں فروغ پا رہی ہے، جس کا ثبوت سری لنکا میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات ہیں۔ اس سے پہلے بلوچستان کی کوسٹل ہائی وے پر جو سفاکانہ واردات پیش آئی، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس صورت حال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ سبھی جانتے ہیں کہ برصغیر جنوبی ایشیا میں دنیا بھر کے مسلمانوں کا 33.51 فیصد آباد ہے اور یہ تعداد باقی تمام خطوں میں رہنے والے مسلمان بلحاظ خطہ سب سے زیادہ ہے۔ تقریباً سبھی حلقے اس امر پر متفق ہیں کہ کرہ ارض کے اس حصے میں اسلام پھیلانے میں بزرگان دین اور صوفیا کرام کا حصہ سب سے زیادہ ہے نہ کہ مسلمان فاتحین اور بادشاہوں کا۔ یوں یہ امر ہی اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں رہنے والی مسلم آبادی صوفیا کی تعلیمات سے بہت زیادہ متاثر ہے۔تاہم اس حوالے سے یہ امر غالباً زیادہ توجہ کا حامل ہے کہ اسلامی تعلیمات کسی بھی طور اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ مذہب کو بنیاد بنا کر کسی بھی طبقے کے خلاف جبر و استبداد کا طرز عمل اختیار کیا جائے، لہٰذا ماضی میں اگر کسی بھی جانب سے اس قسم کی روش اپنائی بھی گئی ہے تو اسے کسی بھی طور قابل ستائش نہیں قرار دیا جا سکتا بلکہ ہر سطح پر اس کی حوصلہ شکنی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس ضمن میں یہ بات خصوصی طور پر پیش نظر رہنی چاہیے کہ تمام علمی اور تحقیقی پلیٹ فارم پر شعوری کوشش کی جائے کہ سول سوسائٹی کے تمام حلقوں کی طرف سے قومی سطح پر ایسا بیانیہ تشکیل پا سکے جس کے نتیجے میں باہمی منافرت، فرقہ وارانہ اور گروہی تعصبات کی حوصلہ افزائی کی بجائے ان کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ اس حوالے سے ایسا ’’متبادل بیانیہ‘‘ تیار ہونا چاہیے جس کے ذریعے اس امر کو اس کی تمام تر جزئیات کے ساتھ واضح کیا جائے کہ اسلام میں تشدد، جبر اور انتہا پسندی کسی بھی لحاظ سے قطعاً نا قابل قبول ہیں اور کوئی بھی معاشرہ یا ریاست اس طرز عمل کے فروغ کی اجازت نہیں دے سکتی، کیونکہ یہ قومی ریاست کی تشکیل کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ ایسے میں خصوصی طور پر پاکستانی معاشرے کا فرض اولین ہے کہ وہ تمام تر کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ’’متبادل بیانیے‘‘ کی تشکیل کو بنیادی ترجیحات میں شریک رکھے۔انسان دوست حلقوں کے مطابق اسے عالمی امن کی بد قسمتی ہی قرار دیا جانا چاہیے کہ بھارت، امریکہ اور کابل انتظامیہ تسلسل کے ساتھ وطن عزیز کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرتی چلی آ رہی ہیں اور یہ سلسلہ ہے کہ رکنے کی بجائے ہر آنے والے دن کے ساتھ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جا رہا ہے، ان طبقات کی جانب سے لگاتار پاکستان کے خلاف اس قدر زہریلا پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ الامان الحفیظ۔اس معاملے کا جائزہ لیتے سنجیدہ ماہرین نے کہا ہے کہ افغانستان پر قابض امریکی افواج نے پچھلے سترہ سال میں افغان عوام اور اس کے سبھی اداروں کا جو حشر کیا ہے وہ افغان تاریخ کا ایسا باب ہے جس پر وہاں کے عوام و خواص میں شاید ہی کسی کو فخر کا احساس ہوتا ہو۔ اس پر طرہ یہ کہ دہلی کی معاونت سے کابل انتظامیہ نے ماضی قریب میں افغانستان کی وہ حالت بنا دی کہ وہ ایک لحاظ سے عبرت کا نشاں بن کر رہ گیا ہے مگر بات یہیں تک محدود رہتی تو شاید پھر بھی غنیمت ہوتا مگر بھارتی خفیہ اداروں ’’را‘‘ اور ’’انڈین آئی بی‘‘ کی شازشوں اور NDS کی کارستانیوں کے نتیجے میں یہ خطہ ارض ٹرمپ اور مودی کے گٹھ جوڑ کی جولان گاہ بن کر رہ گیا ہے۔حالانکہ یہ امر کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ پاکستان نے افغان عوام کی خاطر مدد اور ایثار کی جو تاریخ رقم کی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں البتہ اسے اس خطے کی بد قسمتی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ مملکت خداداد پاکستان کی تمام تر کوششوں کا ثمر اسے یہ دیا جا رہا ہے کہ دہلی کے ایما پر ایک جانب سی پیک کے خلاف سازشوں کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف بلوچستان، فاٹا اور کراچی سمیت پاکستان کے کئی علاقوں میں بھارتی دہشتگردی کا عفریت منہ کھولے کھڑا ہے اور وطن عزیز کی بابت ہر قسم کی کہانیاں اور افسانے تراشے جا رہے ہیں اور امریکی حماقتوں کو چھپانے کیلئے ’’ڈو مور‘‘ کا بے سروپا راگ بند ہونے کا نام نہیں لے رہا۔اس صورتحال کا جائزہ لیتے سنجیدہ مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ سبھی جانتے ہیں کہ اصل حقائق اس بھارتی، امریکی اور بعض دیگر طاقتوں کے پراپیگنڈے سے مختلف ہی نہیں بلکہ قطعاً متضاد ہیں اور اصل حقیقت تو یہ ہے کہ را، این ڈی ایس اور سی آئی اے پاکستان کے اندر تخریب کاری کو ہر ممکن ڈھنگ سے فروغ دینے کے لئے کوشاں ہیں اور اس ضمن میں ہر وہ حربہ آزمایا جا رہا ہے جس کا تصور بھی کسی مہذب معاشرے میں نہیں ہونا چاہیے۔اسی تناظر میں بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر گذشتہ چند مہینوں سے جاری ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی اسی سلسلے کو پھیلایا جا رہا ہے۔ہندوستان نے ہتھیار اور اسلحہ کی خریداری کے جو بڑے بڑے معائدے کیے ہیں ان کا سیدھا مقصد ہی بھارت کے جنگی عزائم کی معاونت ہے۔ حالانکہ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کی جری افواج نے بیتے چند برسوں میں دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے جو کارنامے انجام دیئے۔ ان کا معترف ہر ذی شعور کو ہونا چاہیے۔ اس بدیہی حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ 7000 سے زائد افسر و جوان اپنی جانیں وطن کی حفاظت کے لئے نثار کر چکے ہیں اور ان کے ساتھ لگ بھگ 65000 سویلین پاکستانی شہری لقمہ اجل بنے۔ ایسے میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پوری عالمی برادری اس امر کا اعتراف کرتی اور وطن عزیز کے کردار کو خاطر خواہ ڈھنگ سے سراہا جاتا مگر عملاً اس کے الٹ ہو رہا ہے اور الٹا پاکستان کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ٹرمپ، مودی اور کابل انتظامیہ نے ڈو مور کی گردان کو اپنا دُم چھلا بنا رکھا ہے اور بیٹھتے اسی کا ورد کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ ’’کلبھوشن یادو‘‘ جیسے دہشت گرد کی گرفتاری کے بعد بھی اگر دہلی اور این ڈی ایس اپنی پارسائی کے دعوے سے باز نہ آئیں تو اسے جنوبی ایشیاء کی بد قسمتی کے علاوہ بھلا دوسرا نام کیا دیا جا سکتا ہے مگر آفرین ہے بھارتی حکمرانوں اور کابل انتظامیہ پر کہ اپنی شرانگیزیوں پر بجائے نادم ہونے کے وہ اپنی چالبازیوں سے باز آنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔اس امر سے بھی سبھی آگاہ ہیں کہ بھارت اور چند دیگر ہمسایہ ممالک کی معاونت سے پاکستان میں بعض حلقے بھی اپنے مخصوص ایجنڈے کے تحت بلوچستان اور دیگر پاک علاقوں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر نسلی و لسانی تعصبات کو ابھار کر باہمی منافرت کو پھیلانے میں عرصہ دراز سے سرگرم ہیں۔ اگرچہ پاک افواج ردالفساد اور ضرب عضب کے ذریعے اس کے تدارک میں بڑی حد تک کامیاب رہی ہیں مگر اس کے باوجود مخالفین اپنے مکروہ عزائم میں کبھی کبھار بوجوہ کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ایسے میں دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ خدا وطن عزیز کو دہشت گردانہ ذہنیت کے حامل گروہوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس ضمن میں عالمی برادری اپنی وقتی مصلحتوں کو خیرباد کہہ کر اپنا انسانی فریضہ نبھائے گی۔ علاوہ ازیں قوم کے سبھی سوچنے سمجھنے والے حلقے اپنی قومی ذمہ داریوں کا بروقت احساس کرتے ہوئے نئے سرے سے قومی شیرازہ بندی کو ایک مضبوط و مربوط مہم کی شکل دیں گے۔
*****

فائدہ مند اور نقصان دہ یا نا اہل وزیر

وزیراعظم عمران خان نے بعض وزراء کو ادھر ادھر کر دیا ہے اور بعض کو گھرروانہ کر دیا ہے۔ اس کے بعد ضلع اورکزئی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ میں نے بعض وزراء کو تبدیل کیا ہے۔مزید تبدیلیاں بھی کروں گا۔جو وزیر فائدہ مند نہیں ہوگا وہ میری ٹیم میں نہیں رہے گا۔وزیراعظم نے کے پی کے اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ کو اس جلسہ سے پیغام دیا کہ وہ دونوں بھی اپنے وزراء پر نظر رکھیں۔مطلب یہ کہ جن وزراء کو ان کی وزارتوں سے ہٹایا گیا ہے وہ فائدہ مند نہیں بلکہ نقصان دہ تھے اگر نقصان دہ نہیں تھے تو نا اہل ضرور تھے۔یہ تمام وزراء عمران خان کے چہیتے تھے۔تب ہی تو تحریک انصاف کے تمام اراکین قومی اسمبلی میں صرف ان کو وزارتوں کے لئے چنا گیا تھا۔ اتحادی وزراء کو فائدہ مند سمجھتے ہوئے نہیں ہٹایا گیا۔البتہ (ق) لیگ کے بشیر چیمہ کو نقصان دہ یا نا اہل سمجھتے ہوئے فارغ کر دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ بشیر چیمہ کو فارغ کرنے میں چوہدری برادران کی رضامندی شامل تھی تاکہ چوہدری برادران کے چشم و چراغ کو متبادل کے طور پر ایڈجسٹ کیا جائے جن کو ہاؤسنگ کا وزیر بنایا جا رہا ہے۔اعظم سواتی کو دوبارہ وزیر بنایا گیا۔شاید وہ نہ نا اہل ہے نہ نقصان دہ ہے۔ویسے تو اب وزراء اور معاونین میں اکثریت پیپلز پارٹی دور کے وزراء کی ہے لیکن دو اہم وزارتیں جن کے حوالے کی گئی ہیں ان میں پیپلز پارٹی کے وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ اور پیپلز پارٹی اور مشرف کابینہ کی وزیر فردوس عاشق اعوان بھی شامل ہیں۔بعض وزراء اور معاونین جو جنرل پرویز مشرف کے قریبی وزراء میں شامل تھے اب وہ عمران خان کے قریبی وزراء ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بہت اہم بات کی ہے جو نہایت قابل غور ہے۔انھوں نے گزشتہ روز ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ اگر قیادت ایماندار ہو تو وہ کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکتی۔یعنی اگر قیادت ایماندار اور ملک کے ساتھ مخلص نہ ہو تو اس کو جھکنا پڑتا ہے اور اس ضمن میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کو یو ٹرن لینا پڑتا ہے۔یو ٹرن کا مطلب یہ ہے کہ صبح جو بات کرو شام کو اس سے منکر ہو جاؤ۔اگر وزراء کے پہلے والے اور موجودہ انتخاب کو دیکھا جائے تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ قیادت جھکنے والی نہیں ہے۔ملکی معیشت کو تباہ کرنے، ڈالر، پٹرول، ڈیزل، گیس،بجلی اور روز مرہ اشیاء کو عوام کی پہنچ سے دور کرنے والے کون ہیں؟ جن وزراء کو نقصان دہ اور نا اہل بتا کر وزارتوں سے ہٹایا گیا ان کو وزراء بنانے کا ذمہ دار کون ہے۔ان نقصان دہ وزراء کی وجہ سے اگر ملک کو نقصان پہنچا ہے تب ہی تو ان کو وزارت سے ہٹایا گیا ہے۔ان وزراء کے خلاف کیا کارروائی ہوگی بھی یا نہیں؟ جو یقیناًکبھی بھی نہیں ہو گی۔تو آخر کون ذمہ دار ہے؟ اور اگر وہ فائدہ مند نہیں تھے تو ان کو دوسری وزارتیں کیوں حوالے کر دی گئیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اب وہی نقصان دہ، بے فائدہ اور نا اہل وزراء دوسرے شعبوں کا بھی بیڑہ غرق کر دیں۔یہ کیا تماشہ ہے جو اس ملک میں لگایا گیا ہے۔عمران خان ہر وقت کرکٹ کی اصطلاح میں بات کرتے ہیں۔جناب یہ کرکٹ کا میدان ہے نہ یہ کرکٹ میچ ہو رہا ہے نہ وہ خود کرکٹ ٹیم کے کپتان ہیں نہ وزراء کھلاڑی ہیں۔ یہ ملک ہے جناب یہاں 22 کروڑ عوام رہتے ہیں۔وزیراعظم اس ملک اور عوام کے سربراہ ہیں۔ دوسروں کو ملکی معیشت کی بربادی کا ذمہ دار قرار دینے والے وزیراعظم عمران خان بھی ہر نقصان کے ذمہ دار ہیں۔وہ جوابدہ ہیں یا وہ سمجھتے ہیں کو وہ بھی پرویز مشرف معین قریشی اور شوکت ترین وغیرہ کی طرح سوٹ کیس اٹھا کر چلے جائیں گے۔اعظم سواتی اگر اہل اور اتنا ایماندار اور فائدہ مند تھے تو سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ پھر کہاں گیا وہ ریمارکس کہاں گئے۔اور اگر وہ اتنے اہل، ایماندار اور فائدہ مند تھے تو ان کو وزارت سے فارغ کیوں کیا گیا تھا۔اس طرح ندیم بابر کو پٹرولیم کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔یہ صاحب خود سوئی ناردرن گیس کے 86کروڑ روپے کے نا دہندہ ہیں۔ عدالت نے فیصلہ بھی دیا ہے کہ ان سے مذکورہ رقم کی وصولی کی جائے لیکن ان کے اثرو رسوخ کی وجہ سے نہ تو ان سے اس خطیر رقم کی وصولی ہو سکی ہے نہ ہی تا حال ان کی کمپنی کی گیس سپلائی منقطع کی جا سکی ہے۔ اب تو خیر سے ندیم بابر جس ادارے کا اتنی بڑی رقم کا نا دہندہ ہے وہ اس ادارے کے مشیر یعنی سربراہ بنا دیئے گئے ہیں جبکہ غریب آدمی کے گیس کا بل چند ہزار ہو تو نہ صرف میٹر اتارا جاتا ہے بلکہ جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے اور اس کو ایک عرصے تک سوئی گیس کے دفتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔لیکن عمران خان نے اتنی خطیر رقم کے نا دہندہ کو اس اہم ادارے کا مشیر مقرر کر دیا ہے۔کچھ ہی دن قبل سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے مسلم لیگ (ن) کے روحیل اصغر کا ذکر اپنے روز مرہ کی ایک پریس کانفرنس میں کیا تھاجبکہ وہ نا دہندہ بھی نہیں ہیں۔اسی طرح خسرو بختیار بھی وفاقی وزیر ہیں جن کے خلاف نیب میں کچھوے کی رفتار سے تحقیقات چل رہی ہیں۔اسی طرح ایماندار اور اہل اور بھی وفاقی وزراء اور مشیر موجودہ حکومت کا حصہ ہیں۔اسی حکومت کی ایک وفاقی وزیر مملکت زرتاج گل بھی ہے جو وزیراعظم عمران خان کے صدقے واری جاتی ہے کہ عمران خان کبھی سفید شلوار قمیض پہن کر قومی لباس کو عزت بخشتے ہیں۔معیشت کے ناکارہ ہونیوالے انجن کو کارآمد بنانے کے لیئے معاشی ہنرمند عبدالحفیظ شیخ کو مقرر کیا گیاہے۔اب دیکھنا ہے کہ وہ شیخ فارمولا لائے ہیں یا ڈار اور یا اسد فارمولا کے مطابق معاشی انجن کو کارآمد بناتے ہیں۔اس طرح پرانے وزیر اور مشیر اب نیا پاکستان بنائیں گے۔ قوم نہ گھبرائے کیونکہ اب ان کو مزید تجربوں، نااہلیوں،ناکامیوں اور مزید مہنگائی اور بیروزگاری کو برداشت کرنا پڑے گا۔ اور آخر کار ملک میں کوئی غریب نہیں رہے گا۔

نیرو کے حالات زندگی

’’روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا‘‘ یہ محاورہ عرصہ دراز سے استعمال ہوتا ہے۔کالموں میں موضوع سخن کے طور پر بھی برملا استعمال کر لیا جاتا ہے ،کبھی حکمرانوں تو کبھی سرکاری محکموں کی کج ادائیوں پر روم کو جلا کر نیرو سے بانسری بجوا دی جاتی ہے ۔آئیے ناظرین نیرو کے حالات زندگی سے نقاب اٹھاتے ہیں ۔نیرو کو اپنے مشاغل کی بنا پر رسوا کرنے والی شہرت دوام ملی۔نیرو اقتدار کا رسیا تھا اور اس نے لگ بھگ 20,19سال سلطنت روم پر حکمرانی کی ۔نیرو شہنشاہ روم سیزر آکسٹس کا نواسہ تھا ۔وہ ابھی بچہ ہی تھا کہ اس کے ماموں شہنشاہ غیوث کالی گولا نے اسے اور اس کی ماں ایگری پینا کو جلا وطن کر دیا ۔دونوں ماں بیٹے کو ٹینی پونیتان کے جزیرے میں بھجوا دیا گیا تھا جہاں اپنے شہر ،اپنے گھر ،اپنی گلی اور اپنے دوران پر پل پل گراں گزرا۔دو سال کی جلا وطنی کے بعد شہنشاہ روم نے اپنی بہن اور بھانجے کو واپس بلوا لیا مگر نیرو ماموں کو ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ماں نے بھائی کے بگڑے تیور دیکھ کر اپنے بیٹے کو تعلیم حاصل کرنے کیلئے یونان بھجوا دیا ۔ادھر ایگری پینا بیٹے کو یونان بھجو ا چکی تھی ،ادھر اس کے رشتے کے چچا کلاؤ ڈےئس نے اس کے بھائی غیوث کالی گولا کے تخت کا تختہ نکال کر اسے موت کے حوالے کر دیا اور خود اقتدار پر قبضہ کر لیا ۔نیرو کی ماں نے موقع غنیمت جان کر نئے بادشاہ سے ڈیل کرتے ہوئے اسے شیشے میں اتار کر اس سے شادی کر لی اور اپنے بیٹے کو ولی عہد نامزد کرا دیا۔بیٹے کی نامزدگی کے بعد ماں نے کھمبی (مشروم) کا سالن پکایا ،اس لذیذ سالن میں زہر ملا کر نئے شہنشاہ کو کھلا دیا ،شہنشاہ اگلے جہان سدھار گیا اور نیرو روم کا نیا شہنشاہ بن بیٹھا ۔ایگری پینا نے شہنشاہ کا درجہ حاصل کرتے ہی بیٹے کے سر پر سہرا باندھنے کی حسرت پوری کی مگر جلد ہی اس کا بیٹا اپنی بیوی سے اکتا گیا اور وہ پوپائیا نامی نئی لڑکی کے عشق میں مبتلا ہو گیا لیکن وہ جانتا تھا کہ وہ اپنی ماں کے ہوتے ہوئے شہنشاہ ہو کر بھی اپنی محبت نہیں پا سکتا لہذا اس نے من کی مراد پانے کیلئے ماں کو ابدی نیند سلا دیا اور راستہ ہموار ہونے پر اس نے اکتاویا کو طلاق دی اور پوپائیا سے بیاہ رچا لیا ۔نیرو کلاسیکی رومن موسیقی کا دلدادہ تھا ،وہ بانسری بجانے کے ہنر میں یکتا تھا اور ایک منجھا ہوا پختہ کار بانسری نواز تھا ۔وہ بانسری پر اپنی دھنیں خود ہی بناتا تھا ۔وہ گیتوں کے بول بھی خود ہی لکھتا تھا ،وہ گاتا بھی خود تھا ۔وہ لوگوں کا بہت بڑا ہجوم جمع کرتا تھا پھر تالیوں کے شور میں بے تابانہ انداز میں ادھر ادھر دیکھتا تھا اور پھر اپنی ہی ترتیب دی ہوئی دھنوں پر بانسری بجا کر خود بھی وجد میں آ جاتا تھا اور سامعین کو بھی وجد میں لے آتا تھا۔نیرو اپنے پرائیویٹ تھیٹر میں بانسری بجا رہا تھا ۔نیرو کے عہد کے واقعات لکھنے والا مورخ طوسی طس رومی سینٹ کا ممبر لکھتاہے کہ اس کے مہمان نیم دراز ہو کر عالم سرور میں نیم وا آنکھوں سے نیرو کو بانسری بجاتا دیکھ رہے تھے ایسے میں نیرو کا ایک منہ چڑھا ملازم فاؤن دوڑتا ہوا آیا اور چیختے ہوئے بولا ’’ اے شہنشاہ روم، اے دیوتاؤں کے دیوتا، اے عظیم نیرو میں اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھتا ہوا آ رہا ہوں کہ روم جل رہا ہے ‘‘۔نیرو نے لمحہ بھر ٹھہر کر پوچھا کہ’’ کیا میں اس دھن کو یہیں پر ہی چھوڑ دوں اور اگر میں اس دھن کو یہاں پر ہی چھوڑ دوں تو کیا میں جلتے ہوئے روم سے اٹھتے ہوئے شعلوں کا نظارہ کر سکوں گا‘‘۔ اسے تو آگ کے شعلے کہیں نظر نہیں آ رہے۔فاؤن نے چلا کر کہا ’’ عالم پناہ پورا شہر شعلوں کا سمندر بن چکا ہے ،دھویں نے ماحول میں گھٹن پھیلا دی ہے ۔دھویں کے بادلوں میں گھر کر لوگ دم گھٹنے سے مرتے جا رہے ہیں ۔روم کے باشندے جس طرف بھی منہ کرتے ہیں ،آگے آگ ہی آگ ہوتی ہے‘‘۔ آتشزدگی کے ساتھ ہی روم نے لوٹ مار کے دلدوز مناظر دیکھے ۔پہلی صدی عیسوی کی عالمی سپر پاور روم نے دنیا کے کونے کونے سے لوٹ مار کر کے جس قدر دھاتیں جمع کی تھیں سب پگھل رہی تھیں اور سب لٹتی جا رہی تھیں ۔دنیا بھر کے مختلف مقامات سے آئے ہوئے لوگ اہل روم کو جلتے اور کراہتے ہوئے دیکھ رہے تھے ۔اب شہر میں آگ پھیل رہی تھی ،جنگ پھیل رہی تھی اور شعلوں کی لپیٹ سے بچنے والوں کے قتل عام کی وبا پھیل رہی تھی ۔ مورخین کہتے ہیں کہ عظیم آتشزدگی کے دوران قتل عام خود شہنشاہ نیرو کرا رہا تھا ۔شہر میں قتل عام ہونے والے جتھوں کی کمان نیرو کے ہاتھ میں تھی ۔شہنشاہ روم نے تگلی نس سے شکایت بھرے لہجے میں کہا ’’ میں نے شعلے تو دیکھے نہیں ، مجھے آگ تو نظر نہیں آئی اور مجھے یہ ماننے پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ میں شہر کو آتش زدہ قرار دوں‘‘۔ جب نیرو یہ جملے ادا کر رہا تھا تو اس کے لہجے سے محض شکایت نہیں چھلکتی تھی بلکہ اس کی شکایت میں حقارت ،توہین ،تضحیک اور بد لحاظی بھی امڈ امڈ کر چھلک رہی تھی ۔مورخین آج بھی کہتے ہیں کہ ہاں وہ نیرو ہی تھا جس نے روم کو آگ کے شعلوں میں دھکیل دیا تھا ۔مورخین کے مطابق اگر یہ درست ہے کہ شہر میں آگ نیرو نے لگوائی تھی تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس روز لاکھوں لوگوں کا قتل عام بھی اس نے ہی کرایا تھا ۔یہ ایک مہیب، کریہہ، سفاکانہ اور بے رحمانہ حقیقت ہے کہ نیرو نے سوچ سمجھ کر ،جان بوجھ کر ،مکمل ہوش و حواس میں روم کو آگ لگوائی تھی اور یہ شرمناک داغ بھی نیرو کے ماتھے پر سجا ہے کہ روم میں اس روز موجود وحشت،غیض وغضب اور جنون بھی نیرو کا پیدا کردہ تھا جو قتل عام کی صورت میں ظاہر ہو رہا تھا ۔ شہر کا نشیبی حصہ دھویں میں ڈھک چکا تھا ،دھویں کے دیو ہیکل بادل زمین کو ڈھانپے ہوئے تھے ۔وادی کے اوپر پل کی شکل میں ستونوں کے سہارے بنائی گئی آبی گزرگاہیں ،محلات ،مکانات ، باغات اور درخت دھویں کے بادلوں میں گھر کر چکے تھے اور اس ہولناک منظر کے پیچھے پہاڑیوں پر آگ کے شعلے لپک لپک کر لوگوں کو اور ان کے گھروں کو اور زندگی کی ساری علامتوں کو مٹاتے جا رہے تھے ۔وہ آگ ہر چیز کو راکھ کرنے کے بعد خود ہی بجھتی ہے جس کے بجھانے والا کوئی نہ ہو۔بالآخر یہ آگ خود بجھ گئی۔نیرو نے روم کو کیوں جلایا ۔عالمی سپر پاور کے حکمران کو کیا سوجھی تھی کہ اس نے اپنے انتہائی طاقتور دارالحکومت کو نذر آتش کر دیا ۔مورخین کہتے ہیں کہ اس کے عظیم ترین منصوبوں میں سب سے بڑا منصوبہ یہ تھا کہ وہ پورے روم کے ایک تہائی حصے کو ملیا میٹ کر کے اس پر اپنے محلات تعمیر کرائے گا جنہیں دنیا نیرو پولس(نیرو کے محلات) کے نام سے جانے گی ۔ فاؤن پھر چلایا ’’ شہنشاہ اعظم ،عالم پناہ ،ظل الٰہی ، آقائے ولی نعمت روم راکھ کا ڈھیر بنتا جا رہا ہے ، ہر چیز جل رہی ہے ،نیرو نے فاؤن کا آخری جملہ سن کر ہونٹوں پر بانسری رکھ لی اور گزشتہ رات اپنی بنائی گئی دھن پر بانسری کے سر بکھیرنے لگا ۔ تالیوں کے شور میں بانسری کے سر جاگ رہے تھے ، روم جل رہا تھا ،نیرو بانسری بجا رہا تھا۔نیرو کی لگائی گئی آگ نے آدھے روم کو جلا کر خاکستر کر ڈالا۔روم کے 14 میں سے 10اضلاع متاثر ہوئے 4اضلاع کا تو نام و نشان مٹ گیا ۔یہ آگ تقریباً 9دن تک جلتی رہی اور پھر خود ہی بجھ گئی ۔ نیرو نے عیسائیوں پر آگ لگانے کا الزام لگا کر ان پر بہت ظلم ڈھائے ۔انہیں ہولناک سزائیں دیں کئی بدنصیبوں کو کتوں کے آگے زندہ پھینک کر موت کی سزا دی گئی اور کئی ایک کو زندہ آگ میں پھینک کر جلا دیا گیا ۔پھر اس نے روم کی تعمیر نو کے نام پر امیر اور غریب کی تخصیص کئے بغیر ان پر یکساں ٹیکس لگا دیے ۔ پورے روم میں جگہ جگہ بغاوتیں شروع ہو گئیں ۔ نیرو کی اپنی فوج نے اس کے خلاف بغاوت کر دی کیونکہ جب مکافات سے سیاہ بختی وارد ہوتی ہے تو ساتھی بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور سایہ تک بھی انسان سے جدا ہو جاتا ہے ۔نیرو کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا ۔اس کی فوج نے اس کا تعاقب کیا ۔ 31برس کی عمر میں اس نے خود کشی کر لی ۔روم کے مشرقی صوبوں میں یہ بات زبان زد عام تھی کہ نیرو مرا نہیں وہ واپس آئے گا لیکن مرنے والے بھلا کب واپس آتے ہیں ۔اس طرح تاریخ کا ایک کردار اور اپنی ماں اور دو بیویوں کا قاتل نیرو اپنے انجام کو پہنچا۔
*****

کپتان کاپنجاب اورکے پی کے میں بھی بیٹنگ آرڈرتبدیل کرنے کاعندیہ

adaria

کپتان نے اپنی ٹیم کو عندیہ دیدیاہے کہ اگر غلط فیلڈنگ کی تو وہ ٹیم سے بھی ہوگا، انہوں نے اپنے دواہم وکٹ کیپرکے پی کے اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ کو متنبہ کردیاہے کہ وہ بھی اپنی اپنی ٹیم پرنظررکھیں ، سب سے اہم اور بڑی بات یہ ہے کہ عمران خان نے کہاکہ میں نے اپنے ملک پاکستان کو جتواناہے ، یقینی طورپر کپتان پریہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی صورت میں اپنی ٹیم کو جیت سے ہمکنارکریں۔ چاہے اس کے لئے کچھ بھی کرناپڑے ، یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ کپتان کی جانب سے کھلاڑیوں کی تبدیلیوں پرکسی کھلاڑی نے کوئی قابل ذکرناراضگی کااظہارنہیں کیا، یہ بات اس چیز کی غمازی کرتی ہے کہ کیپٹن کا ٹیم پر مکمل طورپرہولڈ ہے گوکہ انہوں نے وزیرخزانہ کی جگہ حفیظ شیخ کو مشیرخزانہ برائے وزیراعظم تعینات کیاہے، امید کی جارہی ہے کہ اب حالات مزید بہتر ہوں گے،جیسے ہی اسدعمرکی روانگی ہوئی اور حفیظ شیخ کی آمد ہوئی تو پاکستان سٹاک ایکسچینج کارجحان مثبت کی جانب رواں دواں ہوگیاہے ، گوکہ یہ بات درست ہے کہ ایک دم حالات اچھے نہیں ہوتے لیکن اب امیدضروربندھ رہی ہے کیونکہ جس طرح دنیابھرمیں ہوتاہے کہ حکومت ٹیکنوکریٹس چلاتے ہیں اسی ماڈل پرعمران خان نے کام شروع کردیاہے ۔گزشتہ روزوزیر اعظم عمران خان نے اورکزئی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جو وزیر ملک کیلئے فائدہ مندنہیں ہوگا اسے تبدیل کردوں گاٹیم کا بیٹنگ آرڈر تبدیل کیا ہے آئندہ بھی کروں گا، اس وزیر کو لاؤں گا جو ملک کیلئے فائدہ مند ہوگاخیبرپختونخوا اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ اپنی ٹیم پرنظر رکھیں ،کوئی کھلاڑی صحیح پرفارمنس نہیں دے رہا تو بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کیلئے تیار ہونا چاہیے پی ٹی ایم کی بات ٹھیک لہجہ غلط ہے اپنی فوج کیخلاف بات کرنے اور نعرے لگانے سے ملک کا نقصان ہو گا مسائل کا حل پیش کئے بغیر لوگوں کو بھڑکانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگاقبائلی علاقوں کی تباہی میں فوج کا کوئی قصورنہیں پی ٹی ایم والے لوگوں کے زخموں پر نمک نہ چھڑکیں بلکہ ان کی مرہم پٹی کریں بطور کپتان اپنی قوم کو جتوانا میرا مقصد ہے شہباز شریف کی کرپشن بھی سامنے آگئی ہے ،تینوں خاندان امیر اور ملک مقروض ہوگیا، زرداری اور اس کا بیٹا کہتے ہیں ہم حکومت ہٹادیں گے، فضل الرحمان بھی حکومت ہٹانے کا کہتے ہیں، ہمیں 8 ماہ ہوئے ہیں، ایسا کیا جرم کیا جو یہ حکومت گرادیں گے اپوزیشن والوں کو ڈر ہے عمران خان دو سال بھی رہ گیا تو سب جیلوں میں چلے جائیں گے، اس لیے جمہوریت خطرے میں آگئی ہے ،جمہوریت مضبوط ہورہی ہے اور ان کا چوری کیا ہوا پیسہ خطرے میں آگیا ہے حکومت کا سب سے بڑا چیلنج نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کرنا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ قبائلی علاقوں کی تباہی کے بارے میں یہاں سے باہر موجود لوگوں کو نہیں پتہ، اس میں پاک فوج کا کوئی قصور نہیں تھا بلکہ اس حکمران کا تھا جس نے امریکا کے کہنے پر فوج کو قبائلی علاقے میں بھیجا،کسی وزیر اعظم کو قبائلی علاقے کی اتنی سمجھ نہیں جتنی مجھے ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ ایک نئی تنظیم ہے، جو پشتونوں اور قبائلی علاقوں کی تکلیف کی بات کرتی ہے، وہ ٹھیک بات کرتی ہے کہ لوگوں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑ ا لیکن جس طرح کا وہ لہجہ اختیار کررہے ہیں وہ ہمارے ملک کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ اس وقت تکلیف سے گزرنے والے لوگوں کو اپنی فوج کے خلاف کرنا، اس طرح کے نعرے لگانا، لوگوں کے دکھ و درد پر نمک چھڑک کر بھڑکانا اور کوئی حل پیش نہ کرنا ، اس سے پاکستان اور قبائلی علاقے کو کیا فائدہ ہوگا؟۔تعلیم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ مدرسے کے بچے میرے بچے ہیں اور ہم تمام مدرسوں کی ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر ان پر توجہ دیں گے۔مدرسے کے بچوں کی تعلیم کیلئے ہم پورازور لگانے لگے ہیں، مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کو روزگار دیں گے۔

اورنج لائن ٹرین منصوبہ مقررہ وقت پرمکمل ہوناچاہیے
اورنج لائن ٹرین منصوبہ کے حوالے سے سپریم کورٹ نے برہمی کااظہارکرتے ہوئے اس کیلئے ایک ڈیڈ لائن مقرر کردی ہے اگر اس ڈیڈ لائن کے دوران یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتا اورکنٹریکٹرکام نہیں کرتے تو سپریم کورٹ نے کہاہے کہ کنٹریکٹرز کوجیل بھجوادیں گے، یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ منصوبہ عوامی مفادعامہ کامنصوبہ ہے لیکن لگاتاراس میں تاخیرہوتی جارہی ہے ، یقینی طورپر تاخیرہونے کی وجہ سے اس کی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا کیونکہ اس وقت ڈالر اپنے عروج پر جارہاہے مہنگائی بھی آسمان کو چھورہی ہے اسی وجہ سے سپریم کورٹ نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کی تکمیل کے لئے بیس مئی کی ڈیڈ لائن دے دی، عدالت نے تین تعمیراتی کمپنیوں سے ایک ایک کروڑ کی گارنٹی طلب کرتے ہوئے کہامقررہ وقت میں کام مکمل نہ ہواتوگارنٹی ضبط کرلی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ کیس کی سماعت کی عدالت نے 3 تعمیراتی کمپنیوں سے ایک ایک کروڑ کی گارنٹی طلب کرتے ہوئے کہا 20 مئی تک کام مکمل نہ ہوا تو گارنٹی ضبط کر لی جائے گی۔عدالت نے جسٹس ریٹائرڈ جمشید اور جسٹس عبد الستار اصغر میں سے کسی ایک کو ٹیکنیکل کمیٹی کا سربراہ بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا موجودہ سربراہ جسٹس زاہد حسین کام جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ پنجاب حکومت اس پر بھی غور کرے۔عدالت نے پراجیکٹ ڈائریکٹر فضل حلیم پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا پراجیکٹ ڈائریکٹر کی وجہ سے کام تاخیر کا شکار ہوا ہے۔جسٹس گلزار احمد کنٹریکٹر کام نہیں کرتے تو انہیں اٹھا کر پھینک دیں جیل میں ڈال دیں۔جسٹس گلزار احمد نے کہا پراجیکٹ ڈائریکٹر تعمیراتی کمپنیوں سے بلیک میل ہورہے ہیں، تینوں تعمیراتی کمپنیاں ایک ارب کی گارنٹی دیں، مقررہ تاریخ تک کام مکمل نہ ہونے پر گارنٹی ضبط ہوگی۔جسٹس گلزار نے اورنج ٹرین منصوبے کی رفتار پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا آپ کچھ کر نہیں رہے،ڈیڈ لائن پرڈیڈ لائن مانگ رہے ہیں، آپ نے پہلے بھی گارنٹی دی اوربیان حلفی پورانہیں ہوا، تو نعیم بخاری نے کہا اگر اب ڈیڈلائن مکمل نہ ہوئی تو جیل بھیج دیں، جس پر جسٹس گلزار نے کہا منصوبے کے حوالے سے بہت زیادہ فکر مند ہوں۔وکیل تعمیراتی کمپنی نے کہا ایک ارب کی گارنٹی نہیں دے سکتے، آپ میرے موکل کو جیل بھیج دیں، دو ارب کی گارنٹی پہلے دے چکے ہیں، ڈیڑھ ارب روپے کے واجبات باقی ہیں، میٹرو ٹرین پر خطیر رقم خرچ ہوئی ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں کہا یہ قومی مفاد کا منصوبہ ہے، جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا منصوبے پر تعمیراتی کام کی کوالٹی چیک کرنے کا کوئی میکنزم ہے یا نہیں، ایسا نہ ہو کہ پراجیکٹ دھڑام سے نیچے آگرے، جس پر پراجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا ہمارے کنسلٹنٹ تعمیراتی کام کی نگرانی کر رہے ہیں،بعدازاں عدالت نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کی تکمیل کے لئے بیس مئی کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتے تک ملتوی کردی۔

ووٹ دو ، کشمیر میں پلاٹ لو

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے عام انتخابات کے لئے اپنے انتخابی منشور میں 75 مختلف وعدے کئے جن میں بھارتی آئین میں جموں و کشمیر کے متنازعہ خطے کی خصوصی حیثیت ( آرٹیکل 35 اے ) کو ختم کرنے کا وعدہ بھی شامل ہے۔ مودی کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی مسلسل وکالت کرتے رہے ہیں۔ بھارتی آئین میں دی گئی ’خصوصی حیثیت ‘ کی شق کے تحت غیر مقامی باشندوں پر جموں و کشمیر میں اراضی خریدنے پر پابندی ہے۔ بی جے پی کے منشور میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے خیال میں آئین کا آرٹیکل 35 اے ریاست کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔‘انڈیا کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کشمیر میں سیاسی لیڈران نے متنبہ کیا ہے کہ اس قانوں میں کوئی بھی تبدیلی ریاست میں بڑے پیمانے پر بے چینی اور انتشار کا سبب بن سکتی ہے۔ فاروق عبدللہ نے کہا ہے کہ اس کے خاتمے سے کشمیر کا بھارت سے الحاق ختم ہو جائے گا جب کہ محبوبہ مفتی نے تنبیہ کی ہے کہ بھارت آگ سے مت کھیلے۔‘‘35A کے تحت 1921 میں بنائے گیے قانون کو قائم رکھا گیا تھا کہ ریاست کشمیر میں کوئی غیر کشمیری جائیداد نہیں خرید سکتا۔ سرکاری نوکری نہیں کر سکتا اور ووٹ نہیں ڈال سکتا۔ اسی طرح مواصلات، دفاع اور خارجہ امور کے سوا تمام معاملات میں کشمیر کی ریاستی اسمبلی کو بااختیار قرار دیا گیا تھا۔ اس موقع پر پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے، پنڈت جواہر لعل نہرو کا کہنا تھا، ’’اتفاق رائے کے مطابق، کشمیر کی اسمبلی کو ریاست کے مستقل شہریوں کے حقوق اور مراعات کی تعریف متعین کرنے کا اختیار ہو گا خصوصا جائیداد کی خرید، سرکاری ملازمتوں کے حصول اور اس نوعیت کے دیگر معاملات کے حوالے سے۔ ‘‘اس کے ساتھ ہی بی جے پی نے ووٹ حاصل کرنے کیلئے ایک اور نعرہ بھی لگایا ہے کہ آپ ووٹ کا صحیح استعمال کرنے پر کشمیر میں پلاٹ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ نعرہ آرٹیکل 370 اور 35A کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ جب آئین کہتا ہے کہ غیر کشمیری کشمیر میں آباد نہیں ہو سکتا ، زمین خرید نہیں سکتا تو بی جے پی کے نعرے کا کیا مقصد ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ برسراقتدار آکر بی جے پی سب سے پہلے اس آرٹیکل کو ختم کرے گی اور اپنے ووٹروں کو کشمیر میں پلاٹ دے گی۔ کیونکہ 370 اور 35A کی موجودگی میں تو ایسا ممکن نہیں۔ بی جے پی کے منشور میں آرٹیکل 370 اور 35a کے خاتمے اور کانگریس کے منشور میں ’آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ‘ میں ترمیم کا اعلان کیا گیا ہے۔ بظاہر سیکولرزم اور ہندوتوا کے دوراہے پر نو سو ملین بھارتی ووٹر حواس باختہ کھڑے ہیں۔کانگریس کی جانب سے ’آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ‘ (افسپا) اور شورش زدہ علاقوں کے خصوصی ایکٹ (1976) میں ترمیم کے انتخابی وعدے کی انسانی حقوق کے کارکنوں اور جمہوریت پسند حلقوں نے پذیرائی کی ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی اور ہندوتوا کا پرچار کرنے والی تنظیموں نے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے منشور کے مطابق ’افسپا‘ میں ترمیم کی جائے گی تاکہ ’سکیورٹی فورسز کے اختیارات اور شہریوں کے انسانی حقوق کے مابین توازن قائم ہو اور جبری گمشدگیوں، جنسی تشدد اور ماورائے قانون جسمانی تشدد کے حوالے سے سکیورٹی فورسز کو حاصل، قانون سے بالاتر اختیارات کا خاتمہ ہو سکے۔ بی جے پی اس قانون میں ترمیم کے حق میں نہیں۔ چھتیس گڑھ کے انتخابی جلسے سے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا، ’’کانگریس دہشت گردوں کو چھوٹ دینے کیلئے چناؤ لڑ رہی ہے اور ہم انہیں سزا دینے کے لیے۔ کانگریس نے دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والی بہادر فوج کے محافظ قانون کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔‘‘بی جے پی پلوامہ واقعہ کے بعد پیدا ہونے والی قوم پرستی کی لہر کو اپنی انتخابی حکمت عملی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے قوم سازی کے ایک ایسے تصور کا پرچار کر رہی ہے جو سیکولر بھارت کے لیے سزائے موت کا اعلان ہو گا۔ دوسری جانب کانگریس کے منشور میں افسپا اور غداری ایکٹ میں ترمیم کے ساتھ ساتھ نیشنل سیکیورٹی ایکٹ، پبلک سیکیورٹی ایکٹ اور غنڈہ ایکٹ سمیت اس نوعیت کے کئی قوانین میں ترامیم کا اعلان کیا ہے۔بلدیاتی، صوبائی اور قومی سطح پر خواتین کی تینتیس فیصد نمائندگی، معلومات کے حصول کا حق، صحافیوں کے تحفظ کے خصوصی قوانین، بپھرے ہجوم کے ہاتھوں بے گناہوں کے قتل عام کے خلاف قانون سازی اور مذہبی منافرت پر مبنی جرائم کے خلاف پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں قانون سازی کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد مودی نے ’نیشنل سیکیورٹی‘ کو اپنی جماعت کی انتخابی مہم کا اہم حصہ بنا دیا ہے۔بقول مودی نے کہا کہ ’نیشنلزم ‘ ہمارا جذبہ ہے۔بی جے پی نے دوبارہ منتخب ہونے کی صورت میں بھارتی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لئے 33 فیصد کوٹہ مختص کرنے کا بھی وعدہ کیا۔جبکہ بی جے پی کے منشور میں دوسرا متنازعہ وعدہ الیکشن جیتنے کی صورت میں پورے ملک کیلئے ایک واحد دیوانی قانون کا نفاذ بھی ہے۔ موجودہ آئین کے تحت مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا الگ دیوانی قانون ہے خصوصاً خاندانی اور وراثت کے قوانین کے حوالے سے۔آج کل کشمیر میں آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے کیلئے بھارتی حکومت کوشاں ہے۔ اس مسئلے پر نیشنل کانفرنس نے سبھی اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کیلئے ایک میٹنگ کی۔ میٹنگ کا مقصد ریاست کے اسپیشل اسٹیٹس سے کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ پر مشترکہ طور پر آواز اٹھانا ہے۔اس دوران نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت کو اس معاملہ میں وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں آرٹیکل 35 اے کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی گئی تو کشمیر میں وہ ہو گا جو کبھی نہیں ہوا۔چندماہ پیشتر مودی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں اس مسئلہ پر موقف پیش کیا گیاتھا جس کی سخت مخالفت کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ہندوستانی یونین میں کسی بھی ریاست کے انضمام اور ریاست کو اسپیشل اسٹیٹس دیا جانا، ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ اگر آرٹیکل 35 اے پر بڑے پیمانے پر بحث ہوتی ہے تو اس کے ہر قانونی پہلو پر بحث ہونی چاہئے۔ اس کے تحت کشمیر کے الحاق پر بھی بحث کی جانی چاہئے۔ ریاست کے اسپیشل اسٹیٹس سے چھیڑ چھاڑ کی صورت میں مکمل اپوزیشن متحد ہے اور ہم سب ایک ساتھ اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ ہندوستانی آئین میں کشمیر کے خصوصی اسٹیٹس کو باقاعدہ رکھا گیا ہے۔ اسے کسی بھی حال میں چھیڑا یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھروسے اور اعتماد کی قانونی دفعہ ہے۔

*****

وزیراعظم عمران خان کا دورہ ایران

پاک ای تعیران تاریخلقات کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر وزیر اعظم پاکستان “عمران خان”جنہوں نے گزشتہ سال اگست میں وزرات عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا، اپنے 10ویں غیر ملکی دورے پر آج 21 اپریل سے ایران کا دو روزہ دورہ کر رہے ہیں۔ اس دورے کی دعوت انہیں ایرانی ہم منصب نے دی تھی۔ اس موقع پر دونوں وزرائے اعظم کے مابین ون آن ون میٹنگ کے علاوہ وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے جن میں دونوں ملک دوطرفہ تجارت بڑھانے مذہبی سیاحت کو فروغ دینے مشترکہ سرمایہ کاری، پاک ایران گیس پائپ لائنز کی تکمیل اور سی پیک جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے اور پاک ایران دوطرفہ معاہدوں کے علاوہ مفاہمت کی یاداشتوں پر بھی دستخط ہوں گے۔ دونوں ملک دہشتگردی اور افغانستان میں پائیدار امن بارے میں متفقہ اقدامات کرنے کا جائزہ بھی لیں گے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اقتدار میں آنے کے بعد اب تک انہوں نے تین دفعہ متحدہ عرب امارات اور دو دفعہ سعودی عرب کے دوروں سمیت چین، ملیشیا، ترکی اور قطر کا دورہ کیا ہے۔ وزیر اعظم آج ایران کے دورے پر ہیں اور دورہ ایران کے اختتام کے بعد وہ چین کے دوسرے دورے پر روانہ ہوجائیں گے۔ پاکستان اور ایران صرف پڑوسی ہی نہیں اسلامی اخوت کے رشتوں میں بھی جڑے ہوئے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان اگر سرحد نہ ہوتی تو پاکستان اور ایران کو بطور دوالگ ملک پہنچنا بہت دشوار ہوجاتا تھا کیونکہ ثقافتی، تہذیبی او تاریخی ہم آہنگی کی وجہ سے یہ دونوں ملک ایک دوسرے کو برادر ملک کے طور پر مانتے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کا دورہ ایران، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پربہت بڑی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان گہرے قریبی تعلقات صرف دو ہمسایہ ممالک کے درمیان سیاسی اور اسٹریٹجک تعلقات پر منحصر نہیں ہیں بلکہ یہ سیاسی اور اقتصادی تعلقات سے کہیں زیادہ آگے ہیں اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان محبت اور دوستی پر مبنی تعلقات، انتہائی مضبوط ہیں،چونکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات اونچی سطح پر ہیں تو وزیر اعظم عمران خان کے دورہ ایران کے موقع پر فریقین کے درمیان علاقائی اور بین الاقوامی مسائل سمیت مختلف موضاعات بشمول انسداددہشت گردی، سرحدوں کے مسائل اور ، ثقافتی شعبوں پر تبادلہ خیال کے علاوہ حالیہ معاشی صورتحال کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ باہمی اقتصادی تعاون کا فروغ دونوں کی ترجیحات میں سرفہرست رہیگا۔ پاکستان اور ایران کے درمیان قریب ایک ہزار کلومیٹر مشترکہ سرحد جسے دوستی اور امن کی سرحد ہونا چاہئیے،لیکن بدقسمتی سے بعض قوتیں دونوں ممالک میں خلیج پیدا کرنے کے درپے ہیں،لہٰذا عمران خان کے دورہ ایران کے موقع پر سب سے اہم مسئلہ جس پر فریقین کے زیادہ بات چیت کریں گے وہ مشترکہ سرحدوں پر پائیدار امن کا قیام ہے تاکہ پاک ایران دوستانہ تعلقات میں جو دڑاریں ڈالنا چاہتے ہیں وہ اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہوں،پاکستان اور ایران یک قالب ویکجان ہیں، وہ دوایسے پڑوسی ملک ہیں جو دوستی کے لازوال رشتے میں بندھے ہوئے ہیں دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے سے گہرا لگاو رکھتے ہیں ۔ اگرچہ پاک ایران تعلقات کے درمیان کئی نشیب و فراز آئے جن کی کئی وجوہات علاقے کی خاص جغرافیائی پوزیشن اور تیسری قوتوں کی جانب سے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات میں دڑاریں ڈالنے کی کوششیں رہی ہیں لیکن اس عرصہ کے دوران باہمی تعلقات، دوستانہ اور برادرانہ رہے اور کسی طرح کا خلل نہ پڑا،یہ باہمی دوستانہ تعلقات تاریخی نوعیت کے ہیں،1947 میں ایران سب سے پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کو تسلیم کیا اسی طرح ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد پاکستان وہ پہلا ملک تھا جس نے اسلامی جمہوریہ ایران کی آزادی کو تسلیم کیا۔پاکستان اور ایران بیک وقت معاشی حالات کے فروغ کے لئے خطے کی دو اہم اور اسٹریٹجک بندرگاہوں کی توسیع کے حوالے سے اقدامات اٹھا رہے ہیں،اسلام آباد اور تہران کے نقطہ نظر میں یہ دونوں بندرگاہیں ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ معاونت کریں گے۔علاوہ ازیں ایران اور پاکستان کی معاشی صورتحال کے فروغ سمیت، جنوبی پانیوں اور قفقاز اور وسطی ایشائی ممالک کے درمیان ٹرانزٹ کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں یہ بندر گاہیں کلیدی کردار ادا کریں گی۔دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں بشمول توانائی، صنعت، اقتصادی، تجارتی، سرحدی تجارت، زراعت، صحت، ٹرانسپورٹیشن، کھیل اور دفاعی شعبوں میں بہت بڑی صلاحتیں موجود ہیں۔ پاکستان کئی سالوں سے توانائی بحران کا شکار ہے لہٰذا پاکستان سب سے آسان اور سستے طریقے سے اپنی توانائی ضروریات کو ایران کے ذریعے پورا کر سکتا ہے۔ ایران کیساتھ گیس پائپ لائن(آئی پی)کا معاہدے پر پہلے ہی دستخط ہو چکے ہیں جبکہ ایران پانچ سال پہلے 2 ارب ڈالر سے زائد لاگت کیساتھ گیس منصوبے سے متعلق اپنی حدود میں پائپ لائن بھی بچھا چکا ہے اس منصوبے کو مکمل ہونا چاہیے یہ گیس پائپ لائن منصوبہ دسمبر 2014تک مکمل ہونا تھا۔ دوسری طرف سے ایران بھی زارعت کی مصنوعات، کھانے پینے کا سامان، کھیل کی مصنوعات اور طبی سہولیات کی ضروریات کے اکثر حصے کو پاکستان سے درآمد کر سکتا ہے۔خدا کرے یہ دورہ باہمی مغالطوں کو دور کرنے کا باعث بنے اور دونوں ملک ہر مشکل گھڑی میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کا عزم نو کریں۔

*****

وفاداری

سیاستدان چونکہ براہ راست عوام کے نمائندہ ہونے کے دعویدار ہیں اس لیے و ہ عوامی تنقید کا بھی براہ راست نشانہ بنتے ہیں ۔ خادم ہونے کے دعویدار جب بادشاہانہ کردار ادا کرنے لگتے ہیں تو ان پر تنقید کے نشتر برسائے جاتے ہیں تاکہ انہیں یاد دلا یا جا سکے کہ ماضی میں انہوں نے خادم ہونے کا دعویٰ کیا تھا ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ دعویٰ تو خادم ہونے کا کرے اور عمل بادشاہوں والے کرے ۔ جب منتخب لوگ عوام سے بھائی ہونے کا دعویٰ کر کے ووٹ لیتے ہیں تو پھر وہ عوامی نمائیندہ ہونے اور اس پر فخر کرتے اچھے نہیں لگتے ۔ بھائی تو بھائی ہوتے ہیں اور انہیں بحیثیت بھائی ووٹ دئیے گئے تھے تو وہ عوامی نمائیندہ ہونے کے دعویٰ میں ہی جھوٹے ہیں اور اس جھوٹ کی اور کذب دھوکہ دہی کی وجہ سے آئین کی آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نا اہل قرار دئیے جانے چاہئیں ۔ بات مخالفت برائے مخالفت کی نہیں بلکہ راستگی کی طرف اشارہ کرنے سے متعلق ہے ۔ تحریک انصاف کے کارکن اگر اپنی پارٹی کے ساتھ وفاداری میں برداشت کریں تو یہ ان کی وفا کا امتحان بھی ہے ۔ اگر دوسری پارٹیوں کے ووٹر مخالفت کریں تو یہ ان کا استحقاق ہے کیونکہ ان کے دور حکومت میں اپوزیشن یہی کردار ادا کرتی رہی تھی ۔ ماضی اور حال کو مستقبل سے جدا نہیں کیا جا سکتا ۔ جو بو گئے وہ کاٹو گے ۔ پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کے کارکن اگر تحریک انصاف کے کارکنوں سے بحث کر رہے ہوتے ہیں یا انہیں طنز کر رہے ہوتے تو وہ وہی کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں جو ماضی میں تحریک انصاف کے کارکن ادا کر چکے ہیں ۔ اس پر سیخ پا ہونے یا غصہ کرنے کی بجائے ٹھنڈے دماغ اور دل سے سوچنا چاہیے کہ سیاسی کارکن کا کردار کیا بس یہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کا گریبان پکڑے رکھے یا اپنی جماعت کی خاطر مخالف نظریہ کی جماعت کے کارکنوں کیلئے زندگی کا دائرہ کم کرتا رہے ۔ نہ تو یہ مہذب معاشرہ کے رکن کا کردار ہے اور نہ ہی کسی طرح بھی معاشرہ کیلئے سود مند کردار ہے ۔ چونکہ ہماری لیڈر شپ کو اقتدار کے حصول کیلئے اپنی کوشش کو کامیاب بنانا ہوتا ہے اس لیے وہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے اپنے کارکنوں کو جذباتی طور ابھاررکھیں تاکہ وہ ہر حال میں ان کے ساتھ وفاداری نبھائیں ۔ وہ یہ نہ سوچیں کہ ہم کس کی تقلید کررہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں ۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس شخص کو ہم اپنا لیڈر مان کر اس کے پیچھے چلنے کو تیار ہیں اور اپنا حال اور مستقبل اس کے سپر د کر رہے ہیں خود اس کا ماضی کیسا ہے۔ لیڈر کا ماضی اس کے معاشرے کا مستقبل بن سکتا ہے ۔جو لیڈر کم تعلیم یافتہ اور باتوں کا دہنی ہے وہ کیا مستقبل میں اس پر وحی نازل ہونا شروع ہو جائے گی کہ وہ راست فیصلے کر سکے گا ۔ ویلسا پولینڈ کا مزدور لیڈر تھا اس نے پولینڈ کی مزدور یونین کے لیڈر سے قومی لیڈر کی منازل طے کیں ۔وہ بہت اچھا احتجاجی لیڈر تھا لیکن اس معاشرے کی درست سمت میں راہنمائی کیلئے ضروری صلاحیتیں نہیں تھیں ۔ ناکام ہو گیا اور وہی احتجاج اس کے خلاف شروع ہو ا جو وہ دوسروں کے خلاف کیا کرتا تھا ۔ غیرت مند تھا مستعفی ہو کر واپس اپنی جگہ پر آگیا۔ نیلسن مینڈیلا نے سیاہ فام لوگوں کے حقوق کیلئے احتجاج کیا اور پھر اس مقصد کی خاطر ایک طویل قید بھی کاٹی ۔ قوم کی راہنمائی کا وقت آیا تو اس میں ناکام ہو کر واپس ہو گیا ۔احتجاج کرنا کوئی آسان کا م نہیں کہ فرعون کے دربار میں کلمہ حق کہنے کی سعادت موسی ؑ کے سوا کسی کو حاصل نہ ہوئی ۔ زبردست کے سامنے زیر دست نہ ہونے والے معمولی لوگ نہیں ہوتے لیکن کسی بھی معاشرے کو درست سمت میں لے جانے کا کردار ادا کرنا کچھ اور معنی رکھتا ہے ۔ میں اپنے بابائے قوم جناب حضرت قائد اعظم کی مثا ل پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے احتجاجی سیاست نہیں کی بلکہ قوم کی راہنمائی کی ۔قائد اعظم حقیقی معنوں میں قومی راہنما ہیں جنہوں نے قوم اورمعاشرے کی صحیح سمت میں راہنمائی کر کے انہیں منزل شناس کیا ۔چیئرمین ماؤزے تنگ قومی راہنما ہیں کہ ایک افیون زدہ قوم کو کھڑا کرکے منزل کی طرف رواں دواں کیا ۔ حقوق کی جنگ لڑنا اور بات ہے اور کسی قوم کو حقیقی معنوں میں قوم بنا کر یکجا کر کے ایک سمت میں لے جانا اور بات ہے ۔ سیاسی رہنما کسی ایک نکتہ پر احتجاج کی راہ اپنا کر یا اس کو اپنا موقف بنا کر کسی گروہ کے نمائندہ بن جاتے ہیں ۔ وہ اسی گروہ کے مقاصد کو اگے لے کر چلتے ہیں ۔ انہیں معاشرے کے دیگر گروہوں سے کوئی خاص لگاؤ نہیں ہوتا ۔ وہ جہاں دیکھتے ہیں کہ دوسرا گروہ ان کے مقاصد کے حصول میں ممدد ہو سکتا ہے تو وہ اس کے ساتھ وقتی طور پر دوستی کا ہاتھ بڑھا کر اجتماعی شراکت داری کے اصول کے تحت چل پڑتے ہیں ۔ جہاں انہیں اپنے مقصد میں رکاوٹ دکھائی دیتی ہے تو فورا اپنے ساتھی شراکت دار کو دھمکی دیتے ہیں کہ وہ ان کے مقصد کی طرف توجہ دے یا اس کی حمایت میں بھی بولے ورنہ وہ اس سے علیحدگی اختیار کر نے لگے ہیں ۔ یہ ہماری سیاست میں کولیشن پاٹنر شپ تقریبا ہر سیاسی گروپ کرتا ہے اور اپنے مقاصد کیلئے دوسرے گروپوں کو اپنی عددی طاقت سے سپورٹ مہیا کرتا ہے ۔ مذہبی گروہ اور لبرل سیکولر گروہ تک ایک دوسرے کو اپنی عددی طاقت سے حکومت سازی میں کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ پریشر گروپ کی صورت میں اپنے مخصوص مقاصد کی تکمیل کیلئے گروہ بندی کر کے کسی بڑے گروپ کو توڑا یاکسی کمزور گروپ کی عددی طاقت کو اس سے تقویت دیکر طاقتور گروپ سے عددی اکثریت چھین لی جاتی ہے ۔معاشرہ کے پچاس فیصد گروہوں کے نمائندے گر خدمت کے جذبہ سے کام کریں تو وہ معاشرہ کچھ ہی عرصہ میں فلاح وبہبود کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرنے لگتا ہے ۔ اس کے ترقی تیز رفتار نہیں ہوتی لیکن وہ معقولیت کے ساتھ اگے بڑھنے لگتا ہے ۔ جس معاشرے کی انتظامیہ ہی لوٹ کھسوٹ اور اختیارات کا استعمال ذاتی اور گروہی مقاصد کیلئے کرے تو وہ ذات اور گروہ طاقتور ہو کر یکجہتی کیلئے ناسور بن جاتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں یہی کردار زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں ۔ انہیں کمزور کرنے کیلئے کسی قومی رہنما کی ضرورت ہے ۔ جو قومی مقاصد کو آگے لے کر آئے ۔ ہماری گروہی مقاصد کو قومی مقاصد میں ضم کر کے گروہوں کو قومی عضو بنائے ۔سیاستدان جب بھی بات کرتے ہیں تو کسی کو جنوبی پنجاب کے حقوق کی بات کرنی ہوتی ہے تو کوئی اردو سپیکنگ کا نمائندہ ہے تو کسی کو سندھی ہونے پر فخر ہے تو کوئی قوم پرست لیڈر بن کر قومی سیاست میں بلیک میلنگ کا کردار ادا کر کے مطمئن ہے ۔ ہمارے رہنماؤں نے 65کی جنگ میں ایک قوم بنے معاشرہ کو اپنے مقاصد کیلئے گروہوں میں تقسیم کر دیا ۔ ہم سینتالیس میں ایک قوم تھے پھر بکھر گئے ۔پینسٹھ میں ایک قوم ہوئے پھر بکھیر دئیے گئے ۔اس کے بعد ہم آج تک کبھی قومی لڑی میں پروے نہیں جا سکے ۔ بیشک کہنے اور کہلانے کو ہم پاکستانی ہیں لیکن ہم بنتے نہیں ہیں ۔ جیسے ہم کہنے اور کہلانے کو کلمہ گو مسلمان تو ہیں لیکن عملاً ہم مسلمان ہونے کا حق ادا کرنے سے قاصر ہیں ۔ جیسے ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم حضور پاک ﷺ کے سچے عاشق اور ان کے غلام ہیں لیکن جب کردار ادا کرنے کی باری آئی تو سب نے دیکھا کہ ہمارا عشق اور غلامی کا دعویٰ بس زبانی تھا۔ ہم صرف شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول کیلئے پاکستانی کہلاتے ہیں ۔ ہم جائیداد بنانے اور اس کے وارث کہلانے کیلئے پاکستانی بنتے ہیں ورنہ جس کا دا لگتا ہے وہ گرین کارڈ لے کر پاکستان کو یوں خیر آباد کہتا ہے جیسے جیل سے روبکار آنے پر قیدی رہا ہو کر بھاگتا ہے ۔

دوست ملک اقتصادی ترقی کے ہم سفر

اس حقیقت سے مفرنہیں کہ ترقی پذیر ممالک کی اکثریت پر بیرونی قرضوں کی لٹکتی ہوئی تلواراْن ممالک کی معاشی ترقی کی کوششوں کو سبوتاژکرنے کا سلسلہ پچھلی کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے اوراب تک یہی افسوس ناک صورتحال برقرار دکھائی دیتی ہے وہ یہ کہ قرضوں کی ادائیگی ترقی پذیرممالک کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ کھا جاتی ہے جس کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کے سماجی اورترقیاتی شعبے کی ترقی کیلئے نہایت ہی کم بجٹ باقی رہ جاتا ہے اور یہ صورتحال اْس وقت اور بھی گھمبیر ہوجاتی ہے جب درآمدات کی جانے والی اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور برآمدات سے آمدن میں کمی ہوجاتی ہے اوپر سے سونے پہ سوہاگہ بہت ہی ستم رسیدہ اگرکسی ترقی پذیر ممالک میں ریاستی سطح پر حکمران طبقات یعنی کہ ملک کی اشرافیہ بمعہ وہاں کی بیوروکریسی کی حجم کا بڑاحصہ کرپشن کی آلودگی میں لتھڑجائے تو ایسے متاثرہ ممالک کی بنیادیں دوسرے لفظوں میں دیمک زدہ معاشتی بنیادیں ہی کہلائی جاسکتی ہیں ایسے ممالک میں غریب اور امیر طبقات میں تیزی رفتاری سے فرق نمایاں ہوتا ہے وہاں غربت ختم نہیں ہوتی بے روزبروز بڑھتی جاتی ہے اور روزگاری کاعفریت بے قابو ہوجاتا ہے وہاں کے نوجوان طبقات میں تساہل پرستی کا رجحان بڑھتا ہے جس کی وجہ سے جرائم کا تناسب وسیع ہوتا ہے ایسے ممالک کے بدعنوان حکمران طبقات کے غلط فیصلوں سے اْن کے ذاتی منفعتوں اور اقربا پروری برتنے کے احمقانہ فیصلوں کے منفی اثرات براہ راست ملک کی گورننس پر پڑتے ہیں کیونکہ گڈگورننس ہی ایک بہترمالیاتی اور ترقی یافتہ تجارتی نظام کی شفافیت کی ضامن ہوتی ہے پاکستان کیلئے بدقسمتی کا یہی وہ مقام ہے گزشتہ تین دہا ئیوں کے درمیان بیڈ گورنس اورملک کی عدالتوں میں گھن چکر کی طرح سے اپنی مالیاتی کرپشنز کی پیشیاں بھگتنے والوں نے نہ صرف ملک کی جمہوریت کو خاندانی میراث بناکررکھ دیا ہے بلکہ قانون کی بالادستی کو گلی محلوں میں رسواکردیا ہے قومی خزانوں پر دل کھول کر شب خون مارا گیا ہے ایسی انتشارزدہ معاشی صورتحال میں جولائی دوہزاراٹھارہ میں منتخب ہونے والی تحریک انصاف کی حکومت کو ورثے میں ملنے والے مالیاتی خسارے کو سنبھالا دینے کیلئے بڑی جاندار توڑ کوششیں بروئے کار لانی پڑ رہی ہیں پاکستان تحریک انصاف کے قائد اور وزیراعظم عمران خان گوملکی اقتدار کی لابیوں میں پہلی بار آئے ہیں اْنہیں عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے دیگر آئینی اداروں بشمول ملکی سیکورٹی اداروں کا آئینی تعاون اور معاشی واقتصادی قومی معاملات میں درکار ہم آہنگی کے احساس کا بھرپور اعتماد برابر حاصل ہے ایسے میں ایک طرف جن ماضی کے جانے والے حکمرانوں نے ملکی خزانے کو مال دولت سمجھ کر لوٹا اْس کا قانونی وآئینی احتساب ہورہا ہے دوسری جانب ملکی ٹوٹے پھوٹے منتشر مالیاتی انتظام وانصرام کو پائیدار اور مضبوط بنیادوں کو ازسرنو کھڑاکرنے کیلئے علاقائی اور عالمی دوست ممالک کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر مذاکرات کے دور جاری ہیں جن کے فوری ثمرآور نتائج برآمد ہوتے ہوئے اب دیکھے جاسکتے ہیں یہاں اس سلسلے میں پاکستان کی موجودہ قیادت نے ایک بڑا اہم قدم اْٹھایا جس کے تحت پاکستان نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کا رکن ملک ہونے کے ناطے ملائشیا کے ساتھ مشترکہ معاشی و اقتصادی ترقی کے ثمرات حاصل کرنے کیلئے اہم قدم اْٹھایا پاکستان جوکہ جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم آسیان کے علاقائی فورم کا باضابطہ رکن ملک ہے مارچ میں ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر بن محمد نے پاکستان کا تین روزہ دورہ کیا پاکستان کے قومی دن تئیس مارچ کی خصوصی تقریب میں بطور مہمان خصوصی اْنہوں نے شرکت کرکے دنیا کو بتادیا ہے کہ پاکستان دنیائے اسلام کا کلیدی ملک ہے، پاکستانی عوام میں وہ تمام خصوصیات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں جو قومیں اپنے مستقبل کو پائیدار بنانے کا عزم کرلیتی ہیں، وزیراعظم پاکستان عمران خان کے اندر اس درد اس کسک کا احساس جہاں دیدہ ڈاکٹرمہا تیر نے برابر محسوس کرلیا ہے جو برسہا برس قبل ملائشین قوم کو ایشین ٹائیگر بنانے کے لئے خود اْن کے اندر پیدا ہوا تھا اپنے پاکستان کے دورے کے دوران مہاتیر محمد نے افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور وہ خود جے ایف تھنڈر بمبار طیارے سے بے حد متاثر ہوئے اور ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر بن محمد نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری شروع کرنے کے پہلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کرنے کا اعلان کردیا ملائشیا اور پاکستان کے درمیان آٹھ سو سے نوسوملین ڈالر کے معاہدات پر دستخط کیئے گئے جن کی تفصیلات کے مطابق ملائشین پروٹون کاروں کو اب پاکستان میں اسمبل کیا جاسکے گا یہ امید کی جارہی ہے کہ سن دوہزار بیس میں ملائشین گاڑیاں پروٹونز پاکستان کی سڑکوں پر آجائیں گی ملائشیا کی قومی کارساز فیکٹری پروٹون ملائشیا کی قومی ترقی میں ایک نمایاں علامت تصور کی جاتی ہے ا س معاہدے کے تحت جہاں ملک میں معاشی ترقی کا گراف بہت تیز رفتاری بلند سے بلندتر ہوگا وہاں ملک میں بے روزگار ی پر قابو پایا جائے گا ہنرمندوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے یہی ہوتے ہیں وہ مواقع جب ویژنری قیادت اپنی نسلوں کے لئے نہیں بلکہ اپنے ملک اور اپنے عوام کی بہتری اور اُن کی فلاح وبہبود کو ہمہ وقت اپنے پیش نظر رکھتی ہے یہی وجوہ رہی ہے کہ جنوبی ایشین ممالک کی تنظیم آسیان میں ترقی تیز رفتار ہوئی اور جی ڈی پی گروتھ کی شرح نمو بڑھی ہے ملائشیا کی اسمبل کردہ پروٹون نامی کار دیکھنے میں خوبصورت دلکش اور مضبوط باڈی کی حامل یہ پروٹون کاریں جاپانی اور کورین کاروں سے بہت سستی ہیں، دنیا کے پچیس کے لگ بھگ ممالک جن میں برطانیہ سنگاپور اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں پروٹون کاریں خریداروں کی دلچسپی کا مرکز بنی ہوئی ہیں لہٰذا پاکستان کے قومی اداروں نے پاکستان کی پارلیمنٹ نے پاکستان کی جمہوریت نے اور خاص کر ملکی وزیراعظم عمران خان نے اب فیصلہ کرلیا ہے کہ ملک اب معاشی واقتصادی ترقی کی شاہراہ پر گامزن رہے گا۔ یہاں یہ سوال ہمارے ذہنوں سے محو نہ ہو کہ جس طرح ڈاکٹر مہاتیر نے تعلیم،دفاع،خارجہ و داخلہ اور دیگر اداروں کو بلا تعصب ترقی کی راہ پہ گامزن کیا اپنے ،پرائے کی پرواہ کئے بغیر اپنے قبلہ کو درست رکھا، پاکستانی عوام یقین رکھے وزیراعظم عمران خان بھی معاشی واقتصادی ترقی کے اسی راستہ کے راہی بن کر ضرور دکھائیں گے ۔

Google Analytics Alternative