کالم

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ

adaria

وزیر داخلہ احسن اقبال قاتلانہ حملے میں زخمی ہوگئے،نارووال کی تحصیل کنجروڑ میں انتخابی جلسے میں شریک حملہ آور کی فائرنگ سے گولی بازو سے گزرتی ہوئی احسن اقبال کے پیٹ میں چلی گئی، ملزم کو موقع واردات سے گرفتار کرلیا گیا، تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور منتقل کردیا گیا اس واقعے کی تفتیش شروع کردی گئی ہے، حملہ آور نے وزیر داخلہ کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ خطاب کے بعد گاڑی میں بیٹھ رہے تھے، ملزم عابد حسین جلسہ گاہ میں موجود تھا اور باور کیا جاتا ہے کہ خطاب کے وقت وہ فرنٹ لائن میں بیٹھا تھا۔ حملہ آور نے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ اس نے ختم نبوت کے معاملے پر احسن اقبال پر حملہ کیا ہے اور یہ میرا ذاتی فیصلہ ہے، وفاقی وزیر داخلہ پر حملہ بزدلانہ اقدام ہے، سیاسی و عسکری قیادت نے اس کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ پرامن فضا کوخراب نہیں ہونے دینگے۔ اختلاف کا اظہار تشدد کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے عدم برداشت کے رویے نے تلخیوں کو جنم دیا ہے اور اس کی ذمہ دار وہ تمام سیاسی پارٹیاں ہیں جو اپنے جلسے ، جلوسوں میں مخالفین پر نہ صرف لفظی گولہ باری کرتی ہیں بلکہ گالم گلوچ اور تشدد کے جذبات ابھارتی ہیں، یہ رویہ خطرناک ثابت ہورہا ہے، الیکشن سے پہلے سیکورٹی کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے، احسن اقبال پر کیا جانے والا حملہ سیکورٹی پر سوالیہ نشان ہے، انتشار کی ہر کوشش کو کچلنے کیلئے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ورنہ تشدد کا یہ رجحان بڑھتا چلا جائے گا جس کے سیاسی اُفق پر منفی اثرات مرتب ہونگے، حالیہ واقعہ نے سیاسی ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے اور لوگ عدم تحفظ کا شکار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں،پاکستان میں سیاسی تشدد اور سیاسی محرکات کے منظر اور پس منظر پر نگاہ ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کئی عام سیاسی شخصیات پر ماضی میں حملے ہوئے جن کی وجہ سے وہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، سابق وزیراعظم لیاقت علی خان کو1951 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک عوامی جلسے سے خطاب کررہے تھے ان کے قاتل سید اکبر کو اسی وقت ایک پولیس آفیسر نے گولی مار کر ہلاک کردیا جس سے قتل کے محرکات سامنے نہ آسکے ، پاکستان کی تاریخ کا دوسرا اہم سیاسی قتل سابقہ وزیراعظم بینظیر بھٹو کا تھا جنہیں 27دسمبر2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گولی ما ر کر شہید کردیا گیا اسی طرح حیات خان شیرپاؤ ایک سیاسی جلسہ میں دھماکے میں قتل کیے گئے، خواجہ محمد رفیق، نواب احمد خان بھی قتل کی بھینٹ چڑھے، نواب احمد خان قصوری کے قتل کی بنیاد پر1970ء میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کیا گیا، عدالت عظمیٰ نے انہیں سزائے موت دی اور جنرل ضیاء الحق کے فوجی دور میں انہیں پھانسی دیدی گئی، خود ضیاء الحق 17اگست 1988ء فضائی حادثے میں جاں بحق ہوگئے جبکہ 1991ء سابق گورنرفضل حق کو بھی قتل کردیا گیا اسی طرح چوہدری ظہور الٰہی بھی قتل ہوئے اور 1988ء میں حکیم سعید قتل کردئیے گئے ،ممتاز صحافی صلاح الدین اور سابق وزیر مملکت صدیق خان کانجو کو بھی قتل کیا گیا۔ سابق وزیراعلیٰ و گورنراکبر علی بگٹی کو بھی قتل کیا گیا، سیاسی مخالفین کو سیاسی مہم کے دوران قتل کیا جاتا رہا، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ کسی سیاسی شخصیت پر تازہ ترین حملہ ہے اس سے قبل سیاستدانوں پر جوتے پھینکنا اور سیاہی گرانے کے واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں، سیاست میں عدم برداشت کا رویہ خطرناک ہے، سیاست میں بردباری اور برداشت کے جمہوری کلچر کو اپنانے کی ضرورت ہے، وفاقی وزیر داخلہ پر قاتلانہ حملہ جہاں سیکورٹی معاملات کے لئے سوالیہ نشان ہے وہاں اس امر کا آئینہ دار بھی ہے کہ آمدہ الیکشن میں سیاسی رہنماؤں کو سیکورٹی معاملات کو فعال بنانا ہوگا۔ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کے ملزم کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے اور اس کوعبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی اس طرح کی مذموم کوشش نہ کرے پائے۔سیاسی لیڈروں پر حملے سیکورٹی پر جہاں سوالیہ نشان ہے وہاں تشدد کے رویے کے آئینہ دار بھی، یہ صورتحال کسی بھی لحاظ سے سودمند نہیں ہے ، سیاست میں برداشت ازحد ضروری ہوا کرتا ہے ، سیاسی رہنماؤں کو جلسے اور کارنر میٹنگ میں اشتعال انگیز تقریروں سے گریز کرنا ہوگا اور اپنے پارٹی منشور کو عوام کے سامنے رکھنا چاہیے، ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ تلخ رویوں کو جنم دیتا ہے جس سے اشتعال انگیزی پیدا ہوتی ہے اور ناخوشگوار واقعات رونما ہونے لگتے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ کالعدم تنظیموں پر بھی کڑی نظر رکھے اور انتہا پسندانہ سوچ کو روکنے کیلئے فوری اقدامات بروئے کار لائے، اسلام ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قراردیتا ہے ، سیاسی تلخ رویے لچکدار رویوں میں تبدیل ہونے چاہئیں تاکہ تشدد کا رجحان دم توڑ پائے اور مثبت سوچ پروان چڑھے۔ وزیر داخلہ پر قاتلانہ حملہ قابل مذمت ہے، حملہ آور کو سخت سے سخت سزا دے کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جاسکتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی
مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید 10کشمیریوں کو شہید کردیا، شہداء میںیونیورسٹی پروفیسر سمیت طلباء بھی شامل ہیں ، گزشتہ 36گھنٹوں میں شہید افراد کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے،پانچ نوجوانوں کو شوپیاں کے علاقے باڈیگام میں محاصرے اور سرچ آپریشن کے دوران شہید کیا گیا جبکہ پانچ دیگر نوجوان بشمول یونیورسٹی پروفیسر کو مظاہرین پر فائرنگ کے دوران نشانہ بنایا گیا ، نوجوانوں کی شہادت کیخلاف وادی بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے اور ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ، او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف قرارداد منظور کی ہے اور کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر تمام مسلمانوں کے ساتھ ہیں، مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی بھارتی بربریت اور سفاکی عالمی برادری کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے، بھارت ایک طرف کشمیریوں پر مظالم ڈھاتا چلا آرہا ہے تو دوسری طرف سرحدی قوانین کی خلاف ورزی بھی اس نے اپنا معمول بنالیا ہے اور ’’را‘‘ کے ذریعے پاکستان کے اندر اس کی دہشت گردانہ کارروائیاں بھی خطے کے امن کیلئے خطرے کا باعث بنتی جارہی ہیں، بھارتی ریاستی دہشت گردی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور چاہتا ہے کہ تمام متنازعہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے لیکن پاکستان کی امن کاوشوں کو بھارت سبوتاژ کررہا ہے جس سے خطے کا امن خراب ہوتا جارہا ہے، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا اس وقت خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا، بھارت پاکستان کی امن کاوشوں کو کمزوری نہ گردانے ، پاکستان بھارتی جارحیت کا منہ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، بھارت سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کو سردخانے میں ڈالے ہوئے ہے جو لمحہ فکریہ ہے ، عالمی برادری کو بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لینا چاہیے اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے موثرکردار ادا کرنا چاہیے، یہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے۔

دشمن عالمی ایجنسیوں کے’نئے ملکی ترجمان‘

جمہوریت کی حق تلافیوں کی بے مقصد اورلایعنی باتوں کا طومار’جمہوریت کے خلاف سازشوں کے مفروضوں کی تکرار’ووٹ کوتقدس دو’ کے آزمودہ پْرفریب نعرے’ملک کی اعلیٰ عدلیہ اور ملکی سیکورٹی اداروں کے خلاف سرعام ہرزہ سرائیاں اوردیدہ ودانستہ قابلِ گرفت چرب زبانیاں’سادہ لوح عوام کوباربارجمہوریت کے نام پر بنیادی حقِ ملکیت سے محروم کیئے رکھنے کے شاہانہ طورطریقے’ملک کے سیاہ وسفید کواپنے ذاتی اغراض ومفادات کے حصول کا ذریعہ بنائے رکھنے والوں نے پاکستان کواپنے اقتدار کے دنوں میں انارکی اور معاشی بدحالی کے جس آخری مقام پر لا پہنچایا ہے اپنی جگہ یہ امر بہت ہی شرمناک ہے’گزشتہ10 ماہ کے دوران اعلیٰ مقتدرعہدوں پر فائزحکومتی شخصیات کی کرپشنزکیسزکے عدالتی فیصلوں کے بعد ملک بھر میں عجب سی طوفان نماِ بدتمیزیوں’تضحیک آمیزرویوں اور مضحکہ خیزتماش بینیوں جیسا ایک شورمچاہوا ہے’ لگتا ہے جیسے پاکستان دنیا کی کوئی باوقارریاست نہ ہو’نظام سقہ کی کوئی ریاست ہویا ‘بھان متی کا کوئی کنبہ ہو؟’اور کنبہ بھی ایسا، جس میں ہرایک کے ہاتھ میں اپنا اپنا ڈنڈا سوٹا ہے’کسی کوکسی کی پرواہ ہی نہیں ‘ بکھرے ہوئے ریوڑ کی مانند، کسی چرواہے بغیر منتشراورانتشار زدہ سا سماج’جس کے منہ میں جو آر ہا ہے، بغیر سوچے سمجھے وہ’پدی’ ملک کے قابلِ احترام آئینی اداروں کے تقدس اوروقار کو پائمال کیئے چلا جارہا ہے!قیامِ پاکستان کے بعدغالبا پہلا موقع ہوگا کہ ملک کے سب سے بڑے صوبہِ پنجاب کے اقتدارپر برسہا برس سے براجمان سیاسی قائدین’جنہیں گزشتہ 30۔25 برسوں سے پنجاب کے عوام نے صوبائی سطح پر پراوروفاقی سطح پر حقِ حکمرانی کا آئینی مینڈیٹ دیا وہ ایک ہی خاندان ہے’کبھی اْس خاندان کے بڑے بھائی پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کی کرسی کوسنبھالے رہے دس برسوں سے ‘جاتی اْمراء خاندان’ سے وابستہ اِ سی چھوٹے بھائی نے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کی زمام اپنے ہاتھوں میں تھامی ہوئی ہے’بڑے بھائی تین بار ملک کے وزیراعظم کے مقتدر عہدے پر فائز رہ چکے ہیں ذراآج کے ملکی جمہوری و سیاسی منظر نامہ کادردمندی اورایمانداری سے جائزہ تو لیجئے’ لاہورکے ‘جاتی اْمراخاندان’ کے انتہائی احمقانہ اورکھلی سرکشی پرمبنی کرتوں’نے دنیا بھرمیں پاکستان میں جاری جمہوری سسٹم کوکیا ایک مذاق بنا کر نہیں رکھ دیا؟ آجکل جاتی امرا کا خاندان 80 کی دہائیوں سے منی لانڈرنگ کی کرپشنز اورلاکھوں روپے کے ٹیکسوں چوریوں کے بارے میں کی جانے والی ہیراپھیری کے کیسوں میں پھسنے کے بعد عدالتوں سے سزایافتہ ہونے کے باوجود بے گناہ ثابت کرنے کی ناکام کوششوں میں جو کچھ بھی’ اناب شناب’ کہتاپھررہا ہے’ کیاماضی کے حکمران خاندان کی یہ اپنی زبان ہے یا وہ ملک دشمنوں کی زبانیں استعمال کررہے ہیں؟ کرپشنز کے الزامات ثابت ہونے اور صادق اور امین نہ ہونے کی بناء پر سپریم کورٹ آف پاکستان سے نااہل ہونے کے بعد لغویات پرمبنی بے تکی کہانتیں ملک بھر میں سناتے پھررہے ہیں’ کیا اِن کے یہ اپنے الفاظ ہیں اگر یہ الفاظ اِن کے اپنے ہیں تو بھی اور اگریہ ‘صاحبان’ملک دشمنوں کا کوئی مخفی ایجنڈا پیش کرنے کی حد تک گر چکے ہیں پھر تو اوربھی زیادہ یہ لوگ ملکی آئین کے حلف کی کھلی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہیہیں’ملک کی اعلیٰ عدلیہ پراس قدر دیدہ دلیری سے سنگین الزامات اورگھٹیا شکوک شبہات کا اظہار؟کیا وہ بھول گئے’کل یہی سپریم کورٹ تھی’سابق چیف جسٹس مرحوم نسیم حسن شاہ اْن سے قبل ہونے والے سپریم کورٹ کے نوازشریف خاندان کے حق میں ہوئے فیصلوں کے متعلق’جاتی اْمراخاندان’ کی رائے آج کیاہے؟وہ فیصلے کس نے کرائے تھے؟ اگرکل کے سپریم کورٹ کے فیصلے صحیح اورانصاف پر مبنی تھے توجنابِ والہ!آپ کوآج کے فیصلوں کو بھی غیر متعصبانہ نکتہِ نظر سے قبول کرنا ہی ہوگا،آج آپ کے خلاف ٹھوس اورمصدقہ شہادتوں کی بنیاد پرہونے والے فیصلوں میں آپ کوجزبزہونے اور زچ ہوکرملک کی سپریم عدالت کو یوں لکارتے ہوئے ذرا بھی شرم نہیں آرہی؟ دنیا بھر کے غیرجانبدارمعتبرعالمی میڈیا میں آپ کے عہدِ حکمرانی کی مالی کرپشنز’بدعنوانیاں’ اقرباء پروری’ نا اہلیت پرچلائی جانے والی بیڈ گورنس ‘ اور شہنشاہیت کی طرزِ حکمرانی پرتبصرے اور تجزئیے ہورہے ہیں توآپ خوداورآپ کے قریبی سیاسی اعزاء واقارب اورساتھی اتنے سیخ پا کیوں ہورہے ہیں کیا دنیا میں اپنے ملک کے عوامی خزانے کو لوٹنے والوں کے ساتھ ایسا پہلی مرتبہ ہورہا ہے’ ہاں مگرپاکستان میں ایسا پہلی مرتبہ یقیناًہورہا ہے کیونکہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ’ پاکستان اوراعلیٰ حکومتی سطح پر ہونے والی کرپشن اب ایک ساتھ نہیں چل سکتیں’ آج آپ کو ذوالفقارعلی بھٹویادآرہے ہیں جبکہ ریکارڈ پر ہے کہ آپ نے اپنی پہلی وزارتِ اعظمیٰ کے زمانے میں ایک بارنہیں بارہا مختلف موقعوں پرپبلک میٹنگوں میں ریمارکس دئیے ہیں کہ ذوالفقارعلی بھٹو اورمجیب الرحمان نے ملک توڑا تھا آج یہ کہنا ’ مجیب الرحمان کواگراقتداردیدیا جاتا توملک دولخت نہ ہوتا‘ ملک کی مجموعی سلامتی کومدِنظر رکھتے ہوئے’ جاتی اْمراخاندان’ کیاپنائے گئے اِس ‘ نئے متنازعہ بیانئے’ میں یہ تبدلی فکرمندانہ حیرت کا اور بڑی ہی تشویش ناک روش کا پتہ دیتی ہے جو گزشتہ دِنوں نااہل سابق وزیراعظم نے اپنایا اور یہ عندیہ دیاکہ ملکی سیکورٹی ادارے ‘جانبدارانہ کردار’ ادا کرنے میں اْن کے خلاف سازشوں کے مرتکب ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اب یہ کہا جارہاہے کہ’پاکستان میں’ان دیکھی طاقتیں’متحرک ہیں؟’ موصوف کواب’خلائی مخلوق’ بھی دیکھائی دینے لگیں ‘ جہاں تک مجیب الرحمان کو 1971 کے الیکشن کے بعد حکومت دینے یا نہ دینے کی بات ہے وہ تاریخ کا حصہ سمجھتے ہوئے یہ ذمہ داری حمود الرحمان کمیشن پر چھوڑئیے، ہم صرف یہ مدعا بیان کریں گے کہ کاش!برصغیرپاک وہند کی تاریخ کا ایک باب یا ایک ورق موصوف نے کبھی پڑھ لیا ہوتا؟یہی بڑا المیہ ہے 30۔35 برسوں سے اقتدارمیں آنے والے’جلدبازوں’نے لکھنا تورہا درکنار کبھی اپنی تاریخ کو پڑھنا تک گوارا نہیں کیا زیڈ اے بھٹومرحوم جیسے لیجنڈ کے سوا اور(بی بی مرحومہ) کو چھوڑ کر آج کے کسی ایک سیاست دان کا تاریخی فکروآگہی’تاریخی شعور و وبصیرت اوردیگر سیاسی ‘سماجی و معاشرتی علوم کی دنیا سے دور دورکا بھی کبھی کوئی واسطہ ہی نہ رہا ہو،یہ بڑی ہی بدقسمتی کا مقام ہے،(ماسوائے چند ایک کے) ہمارے پارلیمنٹرینزکی اکثریت نے اگرکوئی بات سنجیدگی سے تسلیم نہیں کی وہ یہ مانتے ہی نہیں کہ ‘تعلیمی قابلیت’بھی کسی چڑیا کا نام ہے وہ تو بس’سیاسی شخصیت کے گلیمرکے گرد گھومنے والے ہیں اْنہیں یہ تک علم نہیں ہے کہ جمہوریت کی بنیاد ہی وسیع علمیت’کئی نوع کی تعلیمی قابلیت پرہی موقف نہیں ہوتی بلکہ جمہوریت شعوری بصیرتوں کے عمیق تجربوں کے ٹھوس اور مضبوط افکارپر اپنے ہونے کی توانا شہادت فراہم کرتی ہے’جہاں تک ملکی سیکورٹی اداروں بشمول آئی ایس آئی کا نام لیئے بغیرملک کے عوام کو’خلائی مخلوق’سے تشبیہ دینے کی روایت عام کی جارہی ہیں، یہ کس کا ایجنڈا ہے؟ملک دشمن اِن عزائم کے پشت پر کون ہے؟ دنیا کی کون کون سی خفیہ ایجنسیوں کے جاتی امرا والے ایجنٹ بن گئے ہیں؟ کون سے سرکاری راز افشا کرنے کی باتیں کررہے ہیں؟ اِن کے سینے میں ایسے کون سے راز پوشیدہ ہیں؟ پاکستانی سیکورٹی ادارے بشمول آئی ایس آئی کیا ایسوں کی لایعنی عامیانہ باتوں سے بلیک میل ہو جائے گی ؟ ‘را موساد اور سی آئی اے’ کی پاکستان مخالف’ ملکی ایٹمی ڈیٹرنس مخالف اور ملکی فوج سمیت آئی ایس آئی مخالف ازلی بد روحیں جاتی امرا والوں کے ذہنوں اور قلوب میں یقیناًپر سرایت کرچکی ہیں، یہی وجہ ہے غیرممالک کے چند پرنٹ میڈیا نے بھی پاکستانی سیکورٹی اداروں کو بے توقیر اوربے وقار کرنے کی مہم چلا ئی ہوئی ہے، تین مرتبہ وزیراعظم کے عہدے پر فائزہونے والا ایک شخص ملکی سلامتی کیخلاف جب کمربستہ ہوجائے’ملکی اعلیٰ عدالتوں کی دھجیاں سربازار اْڑائی جانے لگیں توپھرغیرملکی پاکستان دشمن میڈیا کسی سے پیچھے کیوں رہ جائے؟۔
*****

سپریم کورٹ میں حسین حقانی کی طلبی اور امریکہ

rana-biqi

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں وطن عزیز سے غداری کرنے والوں سے نمٹنے کیلئے آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کی جا سکتی ہے لیکن سیاست دانوں کی عجب سیاسی موشگافیوں کے سبب بیرونی ممالک کے خفیہ ایجنڈوں پر کام کرنے والے غدارنِ وطن اہم ملکی منصبوں پر فائز ہوتے ہیں اور وطن عزیز کے بجائے اغیار کے ایجنڈے پر عمل درامد کر کے اپنی جیبوں کو گرم کرتے ہیں اور پھر کچھ مفاد پرست افراد دہری شہریت حاصل کرکے غیر ممالک میں بیرونی تھنک ٹینک سے وظیفہ حاصل کرکے اپنے ملک کے خلاف مذموم سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ حسین حقانی ایک ایسی ہی شخصیت کا نام ہے جسے امریکی خفیہ ذرائع سے پاکستانی سیاسی قیادت پر اثر و رسوخ کے ذریعے وزارتِ خارجہ کو بائی پاس کرتے ہوئے امریکہ میں پاکستان کا سفیر بنوایا گیا اور پھر خطے میں مخصوص امریکی مفادات کے تحفظ کیلئے سی آئی اے کی کنٹریکٹ ایجنسی بلیک واٹر کے سینکڑوں ایجنٹوں کو سیکورٹی کلیئرنس کے بغیر ویزے جاری کرکے پاکستان میں تخریب کاری کیلئے کھلا چھوڑ دیا گیا۔حسین حقانی بہرحال صورتحال کی سنگینی کے سبب اپنے سفارتی عہدے سے مستعفی ہونے پر مجبور ہوئے اور سپریم کورٹ کے سامنے طلبی پر پیش ہونے کا وعدہ کرکے اپنے عہدے کا چارج دینے کیلئے امریکہ چلے گئے لیکن پھر نہ تو واپس پاکستان آئے اور نہ ہی سپریم کورٹ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ جب گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے وفاقی ادارے ایف آئی اے کو ایک ماہ کے اندر پیش کرنے کا حکم جاری کیا تو بھی نہ تو حسین حقانی سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوئے اور نہ ہی ریڈ وارنٹ کے حوالے سے کوئی حتمی رائے سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی گئی ۔ البتہ میڈیا میں اِس رائے کا اظہار کیا گیا ہے کہ امریکی حکومت نے حسین حقانی کی پاکستان کو حوالگی کے حوالے سے تعاون کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ انٹر پول نے ریڈ وارنٹ جاری کرنے سے انکار کیا ہے۔ ایف آئی اے کے کمزور موقف کو دیکھتے ہوئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انٹر پول سے پاکستان کے ہر ممکن تعاون کے باوجود حسین حقانی کے بارے میں انٹر پول کی خاموشی کیا معنی رکھتی ہے۔ کیا اِس کے پس پردہ امریکا اور اسرائیل کے مشرق وسطیٰ میں مخصوص مفادات ہیں ؟ درحقیقت پاکستان کیلئے پریشان کن بات یہی ہے کہ امریکی سی آئی اے ایک گریٹر گیم پلان کے ذریعے خطے میں افغانستان اور بھات کو مضبوط تر اور پاکستان کو اندرونی خلفشار میں مبتلا دیکھنا چاہتی ہے ۔ بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے نزدیک امریکی بحریہ کی موجودگی میں سی پیک کے حوالے سے چین کی گوادر میں بھرپور طریقے سے آمد امریکا کے خلیج کے علاقے میں تیل کے مفادات کیلئے ایک نئی اُلجھن کے طور پر سامنے آئی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ حسین حقانی کے امریکہ جانے کے بعد بھی حسین حقانی پاکستان مخالف سرگومیوں سے باز نہیں آئے اور بھارتی و یہودی لابی کی ایما پر افواجِ پاکستان کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے میں مصروف رہے۔ چنانچہ وہ اپنے نام نہاد ریسرچ مضامین کے ذریعے امریکی کانگریس کو یہ یقین دلاتے رہے کہ پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فروخت مناسب نہیں ہے کیونکہ یہ طیارے دہشت گردوں کے خلاف نہیں بلکہ بھارت کے خلاف ایٹمی ہتھیار لے جانے کیلئے استعمال کئے جائیں گے۔ ماضی میں امریکی کانگریس نے کچھ ایف والہ طیاروں کی پاکستان کو سپلائی روک دی تھی اور اب حسین حقانی نئے امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کے حاشیہ نشین بن کر ایک مرتبہ پھر امریکی ایف سولہ طیاروں اور دہشت گردی کے خلاف اتحادی فنڈ کے روکے جانے کے حوالے سے بھارتی ایجنسی را کے پروپیگنڈے کو ہوا دینے میں مصروف ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی قومی دانشور ہی نہیں بلکہ غیر جانبدار امریکی دانشور بھی حسین حقانی کی پاکستان مخالف سرگرمیوں سے حیرت زدہ ہیں کہ کیا کوئی پاکستانی جو اہم قومی منصبوں پر فائز رہا ہو خود اپنے ملک کے خلاف انتہائی معاندانہ پروپیگنڈے میں ملوث ہونے کا سوچ بھی سکتا ہے ۔ حسین حقانی کی کتاب خوبصورت دھوکے بازی پر تبصرہ کرتے ہوئے واشنگٹن پوسٹ کے سینئر صحافی رچرڈ لیبی (Richard Leiby) نے لکھا تھا : ” حسین حقانی کی کتاب پڑھیں تو آپ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ حسین حقانی جو 2008 سے 2011 تک واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر رہے ہیں ، اپنے وطن کے دوست نہیں ہیں ۔ (اُن کی تحریر) سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی لیڈر جھوٹے ہیں اور لین دین کا دوغلا اور منافقانہ معیار رکھنے والے فنکار ہیں ۔ وہ امریکا کیساتھ کافی عرصہ سے ایسا کر رہے ہیں ۔ حقانی نے دستاویزات کیساتھ ثابت کیا ہے کہ امریکا اکثر مواقع پر پاکستان کی دھوکہ بازی کا شکار ہوتا رہا ہے۔ حیرت ہے کہ حسین حقانی کے میمو گیٹ سے مفرور ہو جانے کے باوجود ہماری سیاسی قیادت گزشتہ کئی برسوں سے حسین حقانی کے خلاف قانونی کاروائی سے پرہیز کرتی رہی ہے، چنانچہ یہ کام بھی اب سپریم کورٹ آف پاکستان کو میمو گیٹ کیس کھولنے کے حوالے سے ہی کرنا پڑا ہے لیکن پھر بھی حسین حقانی کو پاکستان واپس نہیں لایا جا سکا ہے۔ امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کے حوالے سے ایک خفیہ یاداشت میں ایڈمرل مائیک مولن کی جانب سے جب زرداری دورِ حکومت میں سیاسی حکومت کے تحفظ کیلئے امریکی فوج کی مبینہ مدد کی ضرورت کا تذکرہ ہوا تو عوام الناس حیرت زدہ ہو گئے ۔ گو کہ حسین حقانی کی تردید کے فوراً بعد امریکہ کی معروف پاکستانی نژاد شخصیت منصور اعجاز نے ڈھول کا پول کھول کر رکھ دیا جب اُنہوں نے انکشاف کیا کہ مجوزہ حساس دستاویز جو ایڈمرل مولن کو بھیجی گئی تھی اُسے صدر زرداری سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک سنیئر پاکستانی آفیشل نے ڈکٹیٹ کرایا تھا (حیرت ہے کہ اِسی نوعیت کی بے حکمتی اظہار نواز شریف دور میں ڈان لیکس کے حوالے سے مبینہ طور پر نواز شریف کے ٹیم ممبر پرویز رشید کی قیادت میں پی ایم ہاؤس سے کیا گیا)۔ بہرحال میمو گیٹ کے حوالے سے میڈیا رپورٹ کے مطابق منصور اعجاز نے اپنے ایک بیان میں پاکستانی دفتر خارجہ ، صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر اور صدر زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اُنہیں جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اُن کے پاس اِس دستاویز سے متعلق مکمل اور شفاف ثبوت موجود ہیں ۔ منصور اعجاز کے انکشافات کے بعد یہ حیران کن اَمر کھل کر سامنے آجاتا ہے کہ مخصوص سیاسی مفادات کی خاطر اعلیٰ منصبوں پر بیٹھیے ہوئے ہمارے اپنے آفیشل ہی امریکیوں کو یہ سب کچھ باور کرانے میں مصروف ہیں جس کا واحد مقصدپاکستانی فوج کو بدنام کرنا ہے ۔ حیرت ہے کہ فوج کی جانب سے ملک کیلئے بے مثال قربانیاں دئیے جانے اور حالیہ دور میں ملکی آئین و قانون میں دی گئی ذمہ داریوں سے بخوبی عہدہ برا ہونے کے باوجود نا پختہ سیاسی لیڈرشپ خفیہ ذرائع سے امریکی حکام کو فوج کے خلاف ورغلانے میں کیوں مصروف ہے ؟ اگر ایسا شعوری طور پر کیا جا رہا ہے تو ایسا کرنا پاکستانی آئین کی صریحاً خلاف ورزی اور آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت یہ معاملہ غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ حسین حقانی نے سابق امریکی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائیزر جنرل (ریٹائرڈ) جیمز ایل جونز کے ایجنڈے پر عمل درآمد کرتے ہوئے پاکستان کی سلامتی کے مفادات کو یکسر بھلا دیا تھا۔ چنانچہ امریکی اداروں کیلئے آج بھی حسین حقانی ہی پاکستان کے سیاسی معاملات میں رابطے کیلئے موزوں ترین شخص مانا جاتا ہے جسے اب پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے ۔ دراصل میمو گیٹ سازش کیس کوئی معمولی بات نہیں بلکہ یہ پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے ایک اہم معاملہ ہے جس میں اپنے دوستوں کی مدد کیلئے امریکہ کی نامی گرامی شخصیتیں جو اِس سے قبل میمو کیس کے بارے میں نہ ماننے کی پالیسی پر قائم تھیں اب حسین حقانی کی حمایت میں بیانات دینے کیلئے تواتر سے سامنے آ رہی ہیں جبکہ وقت کی ضرورت یہی ہے کہ میمو گیٹ سازش کے حوالے سے سویلین اور عسکری قوتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جائے اور ملک کے خلاف ہونے والی سازشوں کا قلع قمع کیا جائے۔

*****

مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی

کشمیر میں بھارتی فوج کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے مگر بھارت اکثر پاکستان کو اس کا ذمہ دار قرار دیتا ہے، جبکہ چند ہی روزقبل پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کے طور ایک بیمار بھارتی قیدی کو رہا کیا گیا اور اس سے قبل بھی ایک بھارتی شہری کو واپس بھیج دیا گیا تھا جو غلطی سے سرحد پا رکر آیا تھا۔پاکستان کے حالیہ مثبت اشاروں کے باوجود اس وقت دونوں ممالک کے درمیان سنجیدہ بات چیت کا عمل بحال ہونے کی امید پیدا نہیں ہو رہی۔کشمیر پر پاکستان کا اصولی موقف ہے اور بھارت بھی ایک ہی ضد پر اَڑا ہے مگر دنیا میں دیگر ممالک کے درمیان بھی تنازعات ہیں جواپنا موقف تبدیل کیے بغیر بات چیت کے ذریعے اکٹھے کام کر رہے ہیں،خود بھارت اور چین ہی کو دیکھ لیجیے،دونوں کے سرحدی تنازعات بھی ہیں اور دونوں اپنے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے بات چیت بھی کر رہے ہیں پھر بھارت کو پاکستان کے حوالے کیا ایشو ہے ۔پاکستان کا موقف گذشتہ دس پندرہ برس سے یہی ہے کہ دہلی اور اسلام آباد کو کشمیر سمیت تمام مسائل بات چیت سے حل کرنا چاہئیں ۔کیا بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان ہر طرح کے مطالبات سے پیچھے ہٹ جائے تب بات ہو گی تو ایسا ممکن نہیں ہے ۔مقبوضہ وادی میں بھارتی بربریت پر پاکستان کیسے خاموش رہ سکتا جہاں روز درجنوں لاشیں گر رہی ہیں ۔ابھی دو روز قبل مقبوضہ کشمیر کے علاقے شوپیاں میں قابض بھارتی فورسز نے ریاستی دہشت گردی کرتے ہوئے چوبیس گھنٹے کے دوران بارہ بے گناہ کشمیریوں کو شہید کردیا۔کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹس کے مطابق ضلع شوپیاں میں بھارتی فورسز کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف احتجاج کے دوران بھارتی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کیا اور اس دوران فائرنگ کرکے ایک کم عمر لڑکے سمیت چھ کشمیری نوجوانوں کوقتل کردیا۔علاوہ ازیں فورسز نے علاقے میں ایک مکان کو بھی تباہ کردیا۔مذکورہ شہادتوں کے بعد علاقے میں کشمیری مظاہرین اور فورسز کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور فریقین کے درمیان جھڑپیں بھی ریکارڈ ہوئیں۔اسی عرصہ میں کشمیر یونیورسٹی کے پروفیسر محمد رفیع بٹ جو ضلع گندرپال سے جمعہ کے روز سے لاپتہ تھے ان کی بھی لاش ملی ہے ۔کشمیری پروفیسر محمد رفیع بٹ کے جاں بحق ہونے سے متعلق خبروں پر مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ بھارتی حکمرانوں کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔عمر عبداللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ سانحہ کشمیر کی کشیدہ صورت حال کے دوران پیش آنے والے سانحات میں ایک اضافہ ہے۔دوسری طرف بھارتی پولیس کی جانب سے مظاہروں میں شرکت سے روکنے کے لیے کشمیری حریت پسند رہنماؤں سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو گھروں میں نظر بند کردیا جبکہ یاسین ملک کو کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن میں بند کردیا۔گزشتہ ہفتے بھی بھارتی فورسز نے ضلع شوپیاں میں 5کشمیری نوجوانوں کو قتل کردیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ نوجوان مسلح مقابلے میں مارے گئے۔نوجوانوں کو ٹارگٹ کر کے مارنے کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ ایک سال سے مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کیخلاف ایسی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق رواں سال اب تک ہونے والی کارروائیوں میں 90 سے زائدکشمیری شہید ہوئے ہیں ۔اگر بھارت سمجھتا ہے کہ یوں چن چن کر مار دینے سے کشمیریوں کے دلوں سے جذبہ آزادی ماند پڑ جائے گا تو یہ اس کا وہم ہے ۔مودی حکومت کے گزشتہ چار برس میں بھارت کو کیا ملا،جتنا خون بہتا ہے مزاحمت اس سے دگنی شدت سے سامنے آ رہی ہے۔مودی کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کہ اس طرح گذشتہ 70 برس سے تصادم اور چار جنگوں کے باوجود کشمیر سمیت سیاچن تک کسی مسئلے کا حل نہیں نکل سکا ہے۔ اگر آئندہ سو برس بھی یہی صورتحال رہی تومسائل کم ہونیکی بجائے بڑھتے جائیں گے۔اس لیے دیکھنا یہ ہے کہ بھارت کہاں تک اس کشیدگی کو لیکر جاتا ہے اور بین الاقومی برادری کب تک محو تماشہ رہتی ہے ۔ حیرت امریکہ شمالی اور جنوبی کوریا کو ایک میز پر لا بٹھاتا ہے مگر بھارت کو شٹ اَپ کی کال دینے کی کوشش نہیں کرتا شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ یہاں خون صرف مسلمان کا بہہ رہا ہے جسکی انسانی حقوق کے رکھوالوں کے نزدیک قدر و قیمت نہیں ہے ۔

*****

یہ بھارتی درندگی اور عالمی خاموشی ۔۔۔!!!

اگرچہ دور حاضر کو بہت سے حلقے انسانی تہذیب و تمدن اور انسانی حقوق کے احترام کے حوالے سے مثا لی قرار دیتے نہیں تھکتے، مگر زمینی حقائق پر نگاہ ڈالیں تو اس تاثر کی تائید کرنا خاصا مشکل ہو جاتا ہے، خصوصاً آج بھی دنیا میں ایسے بہت سے بد قسمت خطے موجود ہیں جہاں انسانی حقوق کی پامالیوں کا بدترین سلسلہ اپنی پوری شدت اور تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور ایسے علاقوں میں یقیناً مقبوضہ کشمیر اور فسطین سر فہرست ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی جانب سے گزشتہ 70 سالوں سے غیر انسانی مظالم کی انتہا ہو چکی ہے مگر اسے عالمی ضمیر کی بے حسی ہی کہا جا سکتا ہے کہ اس جانب عالمی برادری نے ہنوذ خاطر خواہ توجہ نہ دی اور اسی وجہ سے اس علاقے میں کشمیریوں کی نسل کشی کا قبیح عمل نہ صرف جاری ہے بلکہ ہر آنے والے دن کے ساتھ اس کی شدت میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم درندگی کی انتہاؤں کو چھو رہے ہیں۔ بربریت و سفاکیت کا یہ سلسلہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اس کے بارے میں محض سن کر ہی دل و دماغ سن ہو جاتے ہیں مگر آفرین ہے انسانی حقوق کے ان نام نہاد علمبرداروں پر جو اس صورتحال میں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ صرف چوبیس گھنٹوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں 14 نہتے کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔ قابض بھارتی فوج نے بے گناہ مظاہرین پر پیلٹ گنز سے فائرنگ بھی کی جس سے کئی کشمیریوں کی بینائی جزوی یا کلی طور پر متاثر ہوئی۔ اس کے علاوہ آنسو گیس کا استعمال بھی بے تحاشا کیا گیا اور کئی دکانوں و مکانات کو مسمار کر دیا گیا۔ شہید ہونے والے افراد میں پروفیسر ڈاکٹر محمد رفعی بٹ، صدام احمد ، بلال احمد مہند، عادل ملک اور توصیف احمد شیخ شامل ہیں۔ گاندر بل میں ڈاکٹر رفعی بٹ کے جنازے سمیت تمام جنازوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ کشمیری عوام نے اس بربریت کے خلاف شدید احتجاج کیا جس پر مظاہرین اور قابض بھارتی فوج کے درمیان سنگین چھڑپیں بھی ۔ احتجاج کے دوران قابض فوج کی گولیوں کا نشانہ بننے کے بعد شہید ہونے والے نوجوانوں میں آصف احمد میر، عادل احمد شیخ، سجاد احمد راتھر، ناصر احمد کمار اور زبیر احمد نگرو شامل ہیں ۔ قابض بھارتی فوج نے نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران گھروں کو بھی تباہ کردیا۔مسلسل بڑھتی ہوئی بھارتی بربریت اور مظالم پر حریت رہنما سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک کی جانب سے ہڑتال کی کال دی گئی ۔شٹر ڈاون ہڑتال کے باعث سری نگر سمیت مختلف شہروں میں بازار مکمل طور پر بند ہیں اور ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔علاقے میں شدید کشیدگی کی فضا واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں بہت سے حلقوں کی یہ رائے خاصی وزن اختیار کر گئی ہے کہ پچھلے پچیس برسوں سے جس بڑے پیمانے پر جموں کشمیر کی مقبوضہ ریاست میں انسانی اقدار کی دھجیاں اڑائی گئیں اور جس شدت سے یہ سلسلہ جاری ہے، ہزاروں افراد کو زندہ رہنے کے حق سے محروم کر دیا گیا،ان جرائم کے مرتکب بھارتیوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قائم جنگی جرائم کے ٹربیونل میں مقدمات کیوں نہ چلائے جائیں؟ مقبوضہ کشمیر میں دہلی کے انسانیت سوز مظالم کا جائزہ لیں تو حیرانگی اور بے پناہ افسوس ہوتا ہے کہ اس جدید دور میں بھی زمین کے کسی خطے پر اس قدر مظالم روا رکھے جا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ جنوری 1989 سے لے کر 30 اپریل 2018 تک مقبوضہ کشمیر میں 94,985 بے قصوروں کو شہید کر دیا گیا جبکہ 7,105لوگ حراست کے دوران شہید ہوئے۔ 108,733دکانوں اور مکانوں کو مسمار یا نذر آتش کر دیا گیا۔ 107,707 بچوں کے سروں سے والدین کا سایہ چھین لیا گیا اور 22,871 خواتین کو بیوگی کے لق و دق صحرا میں دھکیل دیا گیا۔ 11,071 خواتین کے ساتھ اجتماعی بے حرمتی کے واقعات پیش آئے۔ جبکہ محض اپریل 2018 میں 33 کشمیریوں کو جرمِ بے گناہی میں شہید کر دیا گیا اور مئی کے ان چند دنوں میں بھی بیسوں کشمیری جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ دنیا بھر میں مسلمانوں خصوصاً نہتے فلسطینیوں اور کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کو جس برے طریقے سے مجروح کیا جا رہا اسے ایک ستم ظریفی ہی قرار دیا جا سکتا ہے! اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ دہلی سرکار کے قول و فعل میں ہمیشہ بد ترین قسم کا تضاد رہا ہے اور انسان دوستی اور ترقی کے تمام دعوے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ بھارتی وزیراعظم مودی دعوے کرتے ہیں کہ بھارت میں اقلیتیں خوشحال ہیں اور ان سے برابری کا سلوک ہوتا ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ مودی کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ خواتین کی بہتری اور تحفظ کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں جبکہ وقتاً فوقتاً مختلف اداروں کی رپورٹ دہلی سرکار کے ان دعوؤں کا منہ چڑاتی نظر آتی ہیں۔ خود دہلی پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 8 مہینوں میں دہلی میں ہر دن 5 سے زائد خواتین جنسی استحصال کا شکار ہوئی ہیں۔ رواں برس 15 اپریل تک صرف دہلی میں عصمت دری کے 578 معاملے درج کیے گئے ہیں جبکہ پچھلے برس اسی مدت کے دوران 563 معاملے درج ہوئے۔ واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار وہ ہیں جو رپورٹ کیے گئے ہیں جبکہ اصل اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں کیونکہ ایسے معاملات میں لوگوں کی اکثریت کیس درج نہیں کراتی ۔ دہلی پولیس کے مطابق اس مدت کے دوران دست درازی کے 883 معاملے درج کیے گئے۔ ایسے میں امید ہی کی جا سکتی ہے کہ خاموش تماشائی بنی عالمی برادری اس صورتحال کے تدارک کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ مبصرین کے مطابق بڑے بڑے ناموں کے حامل انسانی حقوق کی علمبردار ان شخصیتوں اور اداروں کے ضمن میں یہی کہا جا سکتا ہے۔۔۔
تو قد و قامت سے شخصیت کا اندازہ نہ کر
جتنے اونچے پیڑ تھے اتنا گھنا سایہ نہ تھا

اداروں سے ٹکراؤ جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں

adaria

وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے پسرور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان میں سیاستدانوں کے سوا کسی کااحتساب نہیں ہوتا ، جرنیل اور جج جیسی عزت سیاستدان کو بھی ملنی چاہیے، پاکستانی عوام اپنے ووٹ سے جوفیصلہ کریں اس کی عزت ہونی چاہیے، کسی دوسرے ملک کاویزہ لینے پر سیاستدان کو تاحیات نااہل قراردینا ملک کیلئے اچھا نہیں ، ہم نے عدالتی فیصلے سرآنکھوں پررکھے ،ملک میں کہیں بھی جائیں نون لیگ کے منصوبے نظرآئیں گے، وسائل مشرف اور زرداری کے پاس بھی یہی تھے جن کو ہم نے استعمال کیا۔ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک چلانا عدلیہ کاکام نہیں سیاستدان شیشے کے گھر میں رہتا ہے اس نے شرافت ،خدمت کی سیاست کو پروان چڑھایا عوام ہرپانچ سال بعد احتساب کرتی ہے اداروں کو قانونی دائرہ کار میں رہ کرکام کرناچاہیے ۔ وزیراعظم نے درست فرمایا عدلیہ کاکام حکومت چلانا نہیں لیکن جب حکومت اپنا کام بطریق احسن نہ کررہی ہو عوام بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہوں، لوگ عدم تحفظ کاشکار ہوں ،نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں اٹھائے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھررہے ہوں، خودساختہ مہنگائی نے عوام کاجینا حرام کررکھا ہو، عوام کامعیار زندگی مسلسل گرتا جارہا ہو ،ملاوٹ ،ذخیرہ اندوزی ،اقرباپروری ہورہی ہو، تعلیم وصحت کی سہولتوں کافقدان ہو،ملک میں بدامنی کے بادل سروں پرمنڈلا رہے ہوں ،بدعنوانی کاناسور پھیلتا جارہا ہو، ہر ادارہ کرپشن زدہ بنتا جارہا ہو، مقننہ قانون سازی کی بجائے ترقیاتی کاموں پر لگی ہو، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئے دن بڑھ رہی ہوں ،مزدوروں کو گولیوں سے چھلنی کیا جارہا ہو اور عوام پر ٹیکس کابوجھ ڈالا جارہا ہو،امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جارہا ہو ،تعلیم نظام انحطاط کاشکار ہو، غریب کابچہ تعلیم سے محروم ہو ملک میں طبقاتی نظام ہو ،بجلی وگیس کی لوڈشیڈنگ ہو اور لوگ پینے کے پانی کے صاف پانی سے محروم ہوں، سکول وہسپتال مسائل زدہ ہوں تو اس عالم میں چیف جسٹس مسیحائی کاکردار ادا نہ کریں تو پھر کیا کریں حکومت اپنے فرائض نبھاتی تو عدلیہ انصاف کی فراہمی تک خود کو محدود رکھتی حکومت لوگوں کے جان ومال کے تحفظ میں ناکام قرار پائے تو پھر عدلیہ نے ہی کردار ادا کرناہے۔ ہاں جہاں تک احتساب کاتعلق ہے یہ بلاامتیاز ہوناچاہیے جب تک ملک میں کڑااحتساب نہیں ہوگا ملک ترقی نہیں کرپائے گا ۔بدعنوانی ملکی ترقی میں رکاوٹ ہے عدلیہ کے خلاف سیاستدان جو بیان بازی کررہے ہیں ہماری نظر میں وہ درست نہیں ہے عدالتیں جو فیصلہ دیتی ہیں وہ آئین وقانون کے تناظر میں دیتی ہیں۔بہتر یہی ہے کہ اداروں سے ٹکراؤ کاراستہ اختیارنہ کیاجائے چیف جسٹس جہادکررہے برائی کے خلاف ،کرپشن کیخلاف عوامی حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں حکومت کو داد دینی چاہیے آج ملک کو کئی چیلنجز کاسامنا ہے ایک طرف مکار دشمن دہشت گردی کے ذریعے اس کو کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری طرف عدم سیاسی استحکام پریشان کن ہے حکومت اپناکام کرے عدلیہ انصاف کی فراہمی اور بنیادی انسانی حقوق کیلئے جو کردار ادا کررہی ہے وہ عوام کی امنگوں کاترجمان ہے ملک کو کرپشن سے پاک کئے بغیر ترقی کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ آج علامہ اقبالؒ اورقائداعظمؒ کاپاکستان ہم سے یہ سوال کررہا ہے کہ قیام پاکستان کے مقاصد کہاں گئے اورکب فلاحی ریاست بنے گا ۔ آئیے مل کر اس وطن کی تعمیروترقی وخوشحالی کیلئے کردار ادا کریں یہ وطن ہمارا ہے اور ہم ہیں پاسباں اس کے۔ حکومت اپنا کام کرے عدلیہ اپنا کام کررہی ہے انصاف لوگوں کوملتادکھائی دے رہا ہے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے بھی عدلیہ کاکردار قابل فراموش قرارپائے گا۔

دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ نے 11دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ہے ان دہشت گردوں کوملٹری کورٹ نے سزا دی تھی جبکہ عدالت کی جانب سے تین دیگردہشت گردوں کو مختلف مدت کی سزا بھی سنائی گئی جملہ دہشت گردوں کاتعلق کالعدم تنظیموں سے ہے یہ دہشت گرد سنگین کارروائیوں میں ملوث تھے سزا پانے والے دہشت گرد مسلح افواج قانون نافذ کرنے والے اداروں، مالاکنڈ یونیورسٹی پرحملوں اور شہریوں کے قتل میں بھی ملوث ہیں دہشت گردوں نے مجسٹریٹ کے سامنے خیبرپختونخوا کے صوبائی رکن اسمبلی عمران خان مہمندسمیت مجموعی طورپر60شہریوں کو قتل اور36افراد کو زخمی کرنے کااعتراف بھی کیا ۔سزائے موت پانے والوں میں عارف اللہ، بخت محمد، برہان الدین،محمدزیب، سلیم، عزت خان، محمدعمران، یوسف خان، شہیرخان، گل خان اورنادرخان شامل ہیں۔ ملٹری کورٹ کی سزائیں دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانے کاذریعہ قرار پارہی ہے دہشت گرد ملک وقوم کے دشمن ہیں ان کو عبرت کانقصان بنا کرہی انصاف کے تقاضے پورے ہوسکتے ہیں دہشت گردی کیخلاف پاک فوج اورملٹری کورٹ کاکردار داد بیداد ہے ۔ دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں آئین وقانون کے تناظر میں فیصلہ سنارہی ہیں جن سے فوری انصاف کی فراہمی دیکھنے کو مل رہی ہے دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کوناقابل تلافی جانی ومالی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے لیکن عسکری قیادت دہشت گردی کے ناسور کوجڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پرعزم ہے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی رو کے مطابق عملدرآمد کیاجاتا تو موثر نتائج سامنے آتے دہشت گرد امن کے دشمن ہیں دنیا کا کوئی مذہب دھماکوں اور خود کش حملوں کے ذریعے معصوم شہریوں کو اڑانے کی اجازت نہیں دیتا ملٹری کورٹ کادہشت گردی کے خاتمے میں کردار انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔ دہشت گرد اپنے کئے کی سزا پارہے ہیں اور عبرت کانشان بن رہے ہیں۔
کوئٹہ کے دل خراش واقعات
کوئٹہ کے دولرزہ خیزواقعات نے ایک بارپھر عوام میں خوف وہراس پھیلادیا ہے ، پہلے واقعہ میں چھ مزدوروں کو ابدی نیندسلادیا گیا ہے جبکہ دوسرے واقعہ میں کوئلے کی کانیں بیٹھ جانے سے 18افراد موت کی وادی میں چلے گئے۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے بلوچستان کے ضلع خاران میں6 مزدوروں کے قتل اورضلعی چیئرمین کے اغوا کاازخودنوٹس لیتے ہوئے کیس کو سماعت کیلئے مقرر کرنے کاحکم دیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز نامعلوم افراد کی اندھادھندفائرنگ کے نتیجے میں یہ مزدور دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے میڈیا پرخبرنشر ہوتے ہی چیف جسٹس نے اس دلخراش واقعہ کافوری نوٹس لے لیا اور آئی جی بلوچستان ، چیف سیکرٹری کو نوٹسز بھی جاری کئے مذکورہ کیس کی سماعت11مئی کو ہوگی دوسری جانب چیف جسٹس نے کوئٹہ چرچ دھماکے کے زخمیوں اورلواحقین کو حکومتی امدادنہ ملنے کابھی نوٹس لے لیا ہے۔ عدالت نے چیف سیکرٹری سے اس سلسلہ میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔ عوام الناس کے جان ومال کی حفاظت حکومتی ذمہ داری ہے لیکن صدافسوس حکومت اپنے فرائض میں بے اعتنائی کررہی ہے جس سے عدلیہ کو نوٹس لینا پڑ رہا ہے کوئٹہ کے دونوں واقعات پرجتنا افسوس کیاجائے کم ہے خداوند کریم مرنے والوں کو جنت الفردوس میں جگہ عطافرمائے اور ان کے لواحقین کو صبرجمیل دے ۔

بھارتی فوج کی مزید درندگی

مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کے لیے جنت نظیر وادی میں بڑے پیمانے پر نئے فوجی آپریشن کا آغاز کردیا۔ مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نے تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کے لیے نہتے کشمیریوں کے خلاف جاری ظلم و جبر میں تیزی آگئی ہے۔ قابض فوج نے ضلع شوپیاں کے 20 سے زائد دیہات کو گھیرے میں لیکر گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کردیاجب کہ آپریشن میں ہیلی کاپٹرز کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے ظلم و ستم کی انتہا کرتے ہوئے اشتعال انگیز فائرنگ کر کے4 کشمیری نوجوان طلباء کو شہید کر دیا۔ درجنوں کشمیریوں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔تین نوجو۲انوں کو سرینگر کے علاقے چھتہ بل میں محاصرے اور تلاشی کی ایک پرتشدد کارروائی کے دوران شہید کیا گیا۔ شہادت کے بعد احتجاج کا سلسلہ وسیع ہوتا گیا۔کشمیری مظاہرین نے بھارتی فوج کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔حریت پسند رہنما بھی گھروں میں نظر بند ہیں۔اس سے بھارتی فوج کا ایک اہلکار بھی اسی علاقے میں ایک حملے میں زخمی ہوا تھا۔ چھتہ بل اور اس کے مضافات میں لوگوں نے زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔بھارتی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔ سرینگر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران بھارتی فورسز کی ایک گاڑی نے جان بوجھ کر ایک اور نوجوان عادل احمد کو ٹکر مار کر شہید کر دیا۔ عادل کو زخمی حالت میں ایس ایم ایچ ایس ہسپتال لے جانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ راستے ہی میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ ہسپتال کے باہر بھارتی پولیس نے لوگوں سے نوجوان کی میت چھین لی ۔ قابض انتظامیہ نے لوگوں کو صورتحال کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ کرنے سے روکنے کیلئے سرینگر میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی۔ اسلامی کانفرنس تنظیم کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹرنے کہا ہے کہ ہندوستانی حکومت نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم فوری بند کرائے۔ او آئی سی کے رکن ممالک کشمیر کاز کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ کشمیر کا تنازعہ اوآئی سی کے ایجنڈے پر بہت پرانا ہے۔تنازعہ کشمیر حل کرنے کیلئے ہندوستان کو چاہئے کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کرتے ہوئے اہل جموں و کشمیر کو انکا جائز حق دے تاکہ خطے میں دیر پا امن قائم ہو سکے۔ سیکریٹری جنرل نے اس امر کی بھی یقین دہانی کروائی کہ او آئی سی اہل کشمیر کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی۔ گزشتہ 70 برسوں سے جموں و کشمیر میں نہتے عوام پر ہندوستانی مسلح افواج نے ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ ہندوستانی افواج اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے اہل کشمیر پر انسانیت سوز مظالم ڈھارہی ہیں۔عالمی حقوق انسانی کی تنظیمیں ان مظالم کو روکنے کے لئے فوری مداخلت کریں۔ نہتے کشمیریوں پر ہندوستانی افواج کی جانب سے جو ظلم و ستم ڈھایا جا رہا ہے وہ کسی سے چھپا ہو ا نہیں۔ ہندوستان نے اپنے ناجائز قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے لاکھوں کی تعداد میں مسلح افواج کو جموں و کشمیر میں تعینات کیا ہوا ہے۔ 70 برس گزر جانے کے باوجود وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر رہا کہ اہل کشمیر اس کے ظالمانہ قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ ہندوستان نے 27 اکتوبر 1947 کو اپنی مکارانہ چال سے جموں و کشمیر پر غیرقانونی قبضہ کر نے کے بعد وہاں کی آبادی کو بزور قوت اپنا مطیع بنانے کی ہر ممکن کو شش کی مگر اسے ہر محاذ پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ جب ہندوستان نے اقوام متحدہ میں قضیہ کشمیر کی دہائی دی تو وہاں بھی اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اقوام متحدہ میں واضح طور پر قرار داد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ یہ کشمیریوں کا حق ہے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ اقوام متحدہ نے متفقہ طور پر منظور شدہ قرار داد میں کہا کہ ہندوستان کشمیریوں کو انکا حق خوداردیت دے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا تعین کر سکیں۔ مگر ہندوستان نے آج تک اس پر عمل نہیں کیا۔ ہندوستان کی جانب سے نہتے کشمیریوں کو پابند سلاسل کر نے کیلئے جموں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ مرتب کیا گیا جس کے تحت وہ کسی بھی آزاد شخص کو بغیر کوئی وجہ بتائے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیتے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیمیں اس سیاہ قانون کو ختم کروائیں جس کی وجہ سے ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو انکے گھروں سے غائب کر دیا گیا ہے۔ بھارتی ظلم و ستم کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو سرد نہیں کر سکتا۔ آرپار کشمیریوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہے اور جدوجہد آزادی کومنطقی انجام تک پہنچانے کے لئے اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ ہیں اور اس کے لئے کسی قر بانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ کشمیری عوام حق خود ارادیت کے حصول کے لئے قر بانیوں کی لازوال تاریخ رقم کر رہے ہیں۔مقبول بٹ ،افضل گورو اور بر ہان وانہ شہید سمیت لاکھوں کشمیری شہدا نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے حق خود ارادیت کی تحریک کو ایک نئی جہت عطا کی ان عظیم شہدا کی قر بانیوں سے مقبو ضہ کشمیر کے عوام کو ایک نیا عزم و حو صلہ عطا کیا۔کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ممتاز مجاہد کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد پورے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے باوجود احتجاجی مظاہرین پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں اور اس خونی ھولی میں سینکڑوں کشمیری نوجوان شہید اور بے شمار زخمی ہو چکے ہیں اور ظلم کی انتہا یہ ہے کہ زخمیوں کو ہسپتال لے جانوں والوں پر بھی تشدد کیا جاتا ہے۔ اس ظلم و ستم کے باوجود لوگ ہزاروں کی تعداد میں ریلیاں نکال رہے ہیں کشمیرکی آزادی کے لئے پر عزم ہیں ہم آزادی کے ان متوالوں کو سلام پیش کرتے اور ان نہتے کشمیریوں پر بھارتی فوج کے ظلم و ستم کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔
*****

مسلم دنیا پر دباؤ

حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم ہے اہلِ ایمان کی مثال ایک ایسے جسدِ واحد کی سی ہے جسے ایک دوسرے سے پیوست اور باہم متصل ہونا چاہئے اور جسے دوسروں کی طرف سے پیش آنی والی مزاحمتوں اور انکی عداوتوں کے مقابل متحد ہونا چاہئے یہ نکتہ قرآنِ کریم کی اِس آیت مبارکہ کی جانب اپنی توجہ مبذول کراتا ہے جس میں صاف کھلے لفظوں میں یوں بیان کیا گیا ہے جب یہ بیرونی مخالفین کے سامنے ہوتے ہیں تو تم اِنہیں مضبوطمستحکم اور باہر کوئی منفی تاثیراور منفی اثر قبول نہ کرنے والا پاوگے لیکن یہ خود آپس میں انتہائی مہربان ہیں کیونکہ اِن کے درمیان دھڑے بندیاں نہیں ہیں اور اِس عظیم جسدِ پیکرِ اسلامی کے اعضا ایک دوسرے پر ایمانی تاثیر ڈالتے ہیں وہ سب ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں سب ایک دوسرے کو خیر اور بھلائی کی طرف بلاتے ہیں سب ایک دوسرے کو حق کی زیادہ سے زیادہ پیروی کی وصیت کرتے ہیں سب ایک دوسرے کو راہِ حق میں زیادہ سے زیادہ ثابت قدمی کی نصیحت کرتے ہیں اخوت کے ملی جذبے سے سرشار ہوکر ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں کیا ہم بحیثیتِ مسلمان متذکرہ بالا الٰہی تعلیمات پر قائم ہیں بھی یا نہیں ؟ یہ مقامِ افسوس ہے اِتنی بڑی مسلم امہ جن میں کئی اہم ممالک کو اللہ تعالیٰ نے زیرِ زمین بیش بہا قیمتی وسائل سے مالامال کیا ہوا ہے، اِسی سوال کو آگے بڑھاتے ہوئے کیا ہمیں غور و فکر کرنے کیلئے متجسس نہیں ہونا چاہئے کہ من جملہ ایک امت کی سطح پر نہ سہی لیکن علیحدہ علیحدہ خود مختار سطحوں پر ہماری مسلم ریاستوں کے حکمرانوں میں ایسی وہ کون سی اہلیت وقابلیت اور قائدانہ صلاحیتوں کی کمی پائی جاتی ہے کہ مسلم دنیا کے تقریبا سبھی ممالک کے عوام اپنے آپ کو عالمی دہشت گردی کے شکنجے میں پھنسنے سے روک کیوں نہیں پائے ؟ اِس سوال کا کسی کے پاس کوئی وافی وشافی تسلی بخش جواب کیوں نہیں ہے اور مسلم دنیا میں موجود اِسی قائدانہ صلاحیتوں کی کمی کا نقد فائدہ ا سلام کے نام پر دہشتگردی پھیلانے والے گروہوں نے جنہیں آپ داعش کہہ لیں یا کوئی اور نام دے لیں بے لگام اورسرکش دوڑنے والے درندہ نما جانوروں کی مانند اِن ظالم دہشت گرد وں نے خوب اٹھایا اور اب تک اٹھا رہے ہیں دنیا بھر میں جہاں چاہتے ہیں خونریز دہشت گردی کی آگ لگاتے چلے جا رہے ہیں عالمِ اسلام کی نمایاں رہبری کرنے والا عالم باعمل قائد کی جہاں دیکھئے ایک واضح کمی ہر کسی کو دکھائی دے رہی ہے ہر کوئی مسلمان برابر محسوس بھی کررہا ہے نام کی حد تک مسلم امہ موجود ہے کوئی ٹھوس کارکردگی صفر امریکا یک قطبی طاقت کے نشے میں چور دنیا بھر میں یہ تاثر پھیلا رہا ہے کہ اس نے ہر خطے میں اپنے منحوس پنجے گاڑھے ہوئے ہیں؟ مسلم امہ اسکے سامنے خرگوش کی مانند دکھائی نہیں دیتی؟ بچی کچی القاعدہ کا ذکر توکیا کریں داعش کے بڑھتے ہوئے عفریت کا زور پھر توڑا جائے تو کیسے توڑا جائے یہ بڑا اہم سوالیہ نکتہ اہلِ اسلام کی موجودہ قیادت کے سامنے ہمہ وقت رہنا چاہیئے ، عراق اور شام سے اٹھنے وا لی داعش کی دہشت گردی نے مسلم دنیا کے امن وامان اور جدوجہدِ آزادی کے درمیان ایسا فرق ڈال دیا اور ہم مسلمانوں نے اپنا سرِتسلیمِ خم بھی کرلیا دیکھ نہیں رہے آپ؟ مسلمان دشمن عالمی طاقتوں کے پھیلائے ہوئے اِسی وحشت زدہ کنفیوژن میں آزادیِ فلسطین اور جدوجہدِ آزادیِ کشمیر سمیت دیگر مسلم اقوام کی غلامی کی ستم زدہ زبوں حالی پر کیسے اور کیوں ہم مہر بہ لب رہیں یعنی اب تصور کر لیا جائے کہ ہم نے امریکا اسرائیل اوربھارت سمیت چند مسلم دشمن مغربی دنیا کے پروپیگنڈے پر صاد کرلیا ہے؟ کہ دہشت گردی اور جدوجہدِ آزادی میں کوئی فرق نہیں ہے؟ نہیں یہ بالکل غلط اورگمراہ کن پروپیگنڈا ہے مسلم دنیا کے دواہم ممالک عراق اور شام میں داعش کی دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی مجرمانہ سفاک وارداتوں نے کچھ کہنے سننے کیلئے باقی چھوڑا؟ کاش کہ مسلمان دنیا کے ممالک کسی پلیٹ فارم پر اکھٹا ہوتے کسی بھی مسلم ملک میں کوئی بااثرموثر پاک وصاف نیک نیت و باحلاحیت جرات مند وبہادر ایمانی جذبوں سے لیس کوئی قیادت کسی کو دکھائی دیتی جو امن کے نام نہاد بے لگام اور ہمہ وقت مسلم دنیا پر دباؤ اور پریشر بڑھانے والی عالمی طاقتوں کو انکی گمراہ کن حرکات وسکنات پر شٹ اپ کال دے سکتی؟ ایسی ایمان افروز استقامت کی حامل مسلم قیادت جو فلسطین اورمقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ریاستی سرپرستی میں ڈھائے جانے والے اندوہناک مظالم پرعالمِ اسلام کا بھی کوئی پوائنٹ آف ویوو پیش کرسکتی لیکن واے افسوس! یہ کیسا مقام آ پہنچا ہے دنیائےِ اسلام میں ہمیں کہیں بھی ایسا کوئیمردِ حرنظرنہیں آرہا یہی وجوہات ہیں عالمِ اسلام کوداعش جیسی سفاک تنظیموں سے تشبہیہ دی جارہی ہے یہ مقام رونے اور افسوس کرنے کا نہیں سیاسی ماتم اور سفارتی آہ وبکا کرنے کا نہیں بلکہ گہری سوچ وفکر کی دعوت ہر ایک مسلمان کردے رہا ہے جس کے دل میں واقعی پختہ ایمان کے چراغ روشن ہیں انہیں سوچنا ہوگا حزبِ شیطانی کے ہاتھوں ہمارے انسانیت نواز دین کی پے درپے بے حرمتی کے تماشے بے گناہ انسانوں کے لہو اچھال کر کہاں کہاں نہیں کیئے جارہے؟ حال ہی میں داعش جیسی انسانیت کش تنظیم نے ‘عالمی طاقتوں’ کی ایما پر فلسطین میں حماس کیخلاف کھلی جنگ کا اعلان کیا آج کتنے دن بیت گئے کسی ایک بھی مسلم دنیا کے اہم نے حماس کے خلاف داعش کی اِس دھمکی کا کوئی جواب دیا گیا؟ کہیں سے بھی آزادیِ فلسطین کے عزمِ صمیم سے سرشار اسلامی تنظیم حماس کو دی جانے والی دالی داعش کی دھمکی کی مذمت تک تاحال نہیں کی گئی ہے۔داعش اور پاکستان میں کالعدم ٹی ٹی پی نے اپنی سفاکانہ دہشت گردی کی دہشت ووحشت کی بربریت سے پرامن دینِ اسلام کی جڑوں میں کیسی کیسی کاری ضربیں لگائیں؟ جس کے نتیجے میں آج کہیں مسلمانوں کی حرمت باقی رہی’ اور نہ اسلام کی حرمت کی بقا کا خیال کہیں ہے ، مسلم حکمرانوں کی سطح پر خصوصا دینِ اسلام کی پاسداری کرتا ہوا کوئی پیش روا ہمیں کہیں بھی دکھائی نہیں دیتا۔ مسلمانوں کا ‘عالمی دشمن’ اپنے باطل پرست کیل کانٹوں سے لیس ہمارے ایمان کے روحانی جذبات واحساسات کے قلعوں کو ڈھانے کے منصوبے روبہِ عمل لانے کیلئے تیار ہے۔ وقت کی مہلت کو ذہن نشین کرکے سورِ الانفال کی آیتِ مبارکہ کے مطابق اے مومنین! جتنی طاقت اکھٹی کرسکتے ہو کرو جتنی اسطاعت وقدرت ہے جتنا ممکن ہے اپنے دشمن اور ہرکسی دشمنِ خدا سے مقابلہ کیلئے تیاری کرو اور ہر طرح کی قوت وطاقت اکھٹی کروجو دشمن کے مقابلے میں چاہیئے۔ ایسے گھمبیر موقع پر علامہ اقبال کے ایک شعر کی تشریح ہی ہماری رہنمائی کیلئے کافی سمجھی جائے جس گرم خون میں انا الحق کے نعرے میںآگ کی سی حرارت پیدا کردی تھی، تیری رگوں میں اب بھی وہ ہی لہوگردش کررہا ہے اٹھ اللہ کے حکم سے اور عمل کر۔ کیا نوائےِ اناالحق کو آتشیں جس نے۔تری رگوں میں وہ ہی خوں ہے قم باذنِ اللہ۔
*****

Google Analytics Alternative