کالم

بھارت کامقبوضہ وادی کے حوالے سے فیصلہ!،خطے میں کشیدگی بڑھنے کاخطرہ

بھارت نے مقبوضہ کشمیرکے حوالے سے تاریخی غلط فیصلہ کرکے خطے میں وہ آگ لگائی ہے جس میں وہ خود جل کربھسم ہوجائے گا،مودی کی تاریخ دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کی جانب سے کسی بھی قسم کے اقدام کی توقع کی جاسکتی ہے ،پہلے اس نے گجرات میں بے گناہ مسلمانوں کے خون سے زمین کو رنگین کیا اوراس مرتبہ الیکشن مہم کے دوران اس نے کہہ دیاتھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اس قسم کا ناقابل یقین اورگھناءونا اقدام اٹھائے گا،اس بل کے پاس ہونے سے قبل مقبوضہ وادی کومکمل طورپر فوجی چھاءونی میں تبدیل کرکے کرفیوکاسماں پیدا کردیاگیا،تمام حریت قیادت کوپابندسلاسل کردیاگیا،نہتے کشمیریوں کی شہادت میں اضافہ ہوگیا،مقبوضہ کشمیرکادنیابھرسے رابطہ منقطع کردیاگیا،یہ تمام ترتماشہ بین الاقوامی برادری دیکھتی رہی، بھارت وادی کو اسرائیل ماڈل میں تبدیل کرنے کے لئے اوراپنے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے نہایت سُرت سے مصروف رہا اورآخرکاراس نے مقبوضہ وادی کی علیحدہ حیثیت کو ختم کرکے خطے میں ایک لحاظ سے اعلان جنگ کردیا،جس کی وجہ سے اس وقت حالات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں ۔ گزشتہ روز بھارت نے بین الاقوامی قوانین اورجموں وکشمیرکے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پامال کرتے ہوئے بھارتی آئین کی دفعات 370اور35;65; کومنسوخ کردیا اور آئین کے تحت مقبوضہ علاقے کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کردی،بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دوحصوں میں تقسیم کرکے وادی کشمیر اور جموں خطے کو یونین ٹیریٹوری قراردیا جس کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہوگی جبکہ لداخ قانون ساز اسمبلی کے بغیر مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہوگا، حکم نامے کے نفاذ سے بھارت مقبوضہ علاقے میں بھارتی شہریوں کو بساکرآبادی کا تناسب اور مقامی کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرسکتاہے،اس طرح بھارت نے جموں وکشمیر کے 92سالہ پرانے اسٹیٹ سبجیکٹ قوانین تبدیل کردیئے، بھارتی حکومت کی طرف سے دفعہ 370کو منسوخ کرنے کے یکطرفہ فیصلے سے مقبوضہ علاقے میں بڑھتی ہوئی غیریقینی صورتحال کے دوران قابض انتظامیہ نے وادی کشمیر اورجموں میں کرفیو نافذ کرکے لوگوں کی نقل وحرکت اورعوامی جلسوں اور ریلیوں کے انعقادپر مکمل طورپرپابندی عائد کردی ہے، تمام تعلیمی اداروں کو بند کردیاگیا ہے جبکہ پورے جموں وکشمیر میں انٹرنیٹ سروسز معطل اور تمام امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں ،وادی کشمیر اور جموں خطے میں اضافی فورسز تعینات کردی گئی ہیں ،سول سیکرٹریٹ، پولیس ہیڈکوارٹرز، ہوائی اڈوں اور دیگر سرکاری اداروں سمیت اہم تنصیبات کی سکیورٹی کیلئے بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد تعینات کردی گئی ہے، سرینگر اور دیگر شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر رکاٹیں کھڑی کردی گئی ہیں ، سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق سمیت تمام حریت قیادت کو گھروں اورجیلوں میں نظربند کردیا گیا ہے،بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے راجیہ سبھا میں پیش بل کے حق میں 125جبکہ مخالفت میں 61ووٹ آئے، بھارتی صدر رام ناتھ کووند نے مذکورہ بل پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد اسے قانون کا درجہ حاصل ہوگیا ،ہندو انتہا پسند بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے راجیہ سبھا میں خطاب کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کی گئی،امیت شاہ نے کہا کہ مناسب وقت آنے پر جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کردیا جائے گا تاہم اس میں وقت لگ سکتا ہے، کشمیر جنت تھا ، ہے ا ور رہے گا ۔ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے بھارت کی جانب سے وادی کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے برصغیر پر تباہ کن نتاءج برآمد ہوں گے،مودی سرکار کا فیصلہ مقبوضہ کشمیر کی لیڈر شپ کا 1947 کے بھارت سے الحاق نہ کرنے کے فیصلے سے متصاد م ہے، بھارتی حکومت کا یک طرفہ فیصلہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، بھارت کشمیر میں اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو گیا ہے، انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی لیڈرشپ کا دو قومی نظریہ ٹھکراتے ہوئے بھارت سے الحاق کا فیصلہ غلط ثابت ہوگیا، بھارتی حکومت جموں و کشمیر کو غزہ کی پٹی کی طرح بنانا چاہتی اور کشمیر کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہتی ہے جو اسرائیل فلسطین کے ساتھ کر رہا ہے،اس یکطرفہ فیصلے کے برصغیر پر دور رس اور تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے ۔ وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کی تبدیلی کا بھارتی اعلان سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی قرار دے دیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ملائشین ہم منصب مہاتیر محمد اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو ٹیلی فون کرکے مقبوضہ کشمیر میں حالیہ تبدیلیوں سے ;200;گاہ کیا ۔ ترک صدر نے یقین دہانی کرائی کہ ترکی کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا ۔ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیلی کا بھارتی اعلان سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے، بھارت کا یہ غیر قانونی اقدام خطے کے امن و سلامتی کو تباہ کردے گا ۔ پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا ۔ دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر اور کنٹرول لائن کی تشویش ناک صورت حال پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط لکھ دیا ۔ شاہ محمود قریشی نے خط میں لکھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کالے قانون کے تحت نہتے کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے، لائن ;200;ف کنٹرول پر بھارت کی طرف سے فائرنگ اور گولہ باری میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ;200;گاہ کیا کہ یہ رائے عام ہو رہی ہے کہ بھارت، ;200;رٹیکل 35 اے اور 370، جن کے تحت مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو خصوصی اسٹیٹس، حقِ ملکیت اور حقِ شہریت حاصل ہے، اسے ختم کرنے کے درپے ہے ۔ ;200;ئینی ترامیم سے بھارت عوامی رائے عامہ کو تبدیل نہیں کر سکتا،پاکستان مسئلے کو پر امن طور پر حل کرنے کا خواہشمند ہے ۔ آج بھارت خود ہی کشمیر ایشو کو عالمی دنیا کے سامنے لے آیا ہے،کشمیری رہنماءوں کی گرفتاری پر پاکستان مذمت کرتا ہے ۔

پاکستان عالمی برادری کومتحرک کرے

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری فوج اورفضائیہ تیار ہے،معاشی مشکلات ضرورہیں ، یہ مشکل وقت ہے ،قوم کو اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے، پاکستان کو چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر مسئلے کو سنجیدگی سے اٹھائے ، بھارت نے جو حد پارکرنی تھی وہ تو کردی ہے،بھارت کہاں سے جمہوری ملک ہے، لاپتہ افراد پر2005 میں میری خبر پر ایکشن ہوا تھا،آمنہ جنجوعہ کی خبر کوئی نہیں لگاتا تھا میں نے خبر لگائی ،لاپتہ افراد پر میں باقاعدہ طورپر عدالت میں پیش ہوتا رہا ہوں ،سینئر تجزیہ کار محمد مالک نے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ٹرمپ کارڈ ڈنلڈ ٹرمپ ہی ہیں ،پاکستان دنیا کو باور کرائے کہ بھارت خطے کو جنگ کی طرف لے جارہاہے، مشیر صدر ٹرمپ ساجد تارڑنے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا الیکشن میں 370کو ختم کرنا منشور میں تھا،جس طرح بھارت نے کشمیر میں مزید فوج بھیجی افسوسناک ہے،یہ ساری چیزیں دنیا دیکھ رہی ہے صدر ٹرمپ واحد امریکی صدر ہیں جنہوں نے مسئلہ کشمیر کوسنجید گی سے اجاگر کیا،امریکہ میں بھارتی لابی بہت زیادہ مضبوط ہے، ائیر مارشل (ر)مسعود اختر نے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ مودی نے اپنے پاؤں پرخود کلہاڑی ماری ہے،پاکستان کو پوری دنیا کو بتانا چاہیے کہ کشمیر میں کتناظلم ہورہاہے ۔

دہشت گرد تنظیموں کو قربانی کی کھالیں ہرگز نہ دیں

پاکستان میں ہر سال عید الضحیٰ کے موقع پر اربوں روپے مالیت کے جانور قربان کیے جاتے ہیں ۔ امسال بھی پاکستان میں 1 کروڑ 5 لاکھ جانور قربان کئے جانے کی توقع ہے ۔ ان جانوروں کی کھالیں بھی ثواب کی نیت سے لوگ مختلف امدادی تنظیموں ، دینی مدارس اور یتیم خانوں کو دیتے ہیں ۔ تاہم گزشتہ چند سالوں میں مختلف جہادی اور شدت پسند تنظیموں بھی کھالیں اکٹھی کرنے کے کام میں پیش پیش ہیں ۔ ذوالحج کی آمد کے ساتھ ہی فلاحی تنظیموں اور دینی مدارس نے چرم قربانی اکٹھے کرنے کیلئے بینر، پوسٹر اور تنظیمی پتے اور فون نمبرز والے شاپنگ بیگز تقسیم کرنا شروع کر دیئے ۔ حکومتی ہدایت کی روشنی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم تنظیموں کی ایسی سرگرمیوں کی نگرانی کا بھی پلان تیار کر لیا ہے تاکہ چرم ہائے قربانی کسی دہشت گردی کے مقصد کے لئے استعمال نہ کئے جاسکیں ۔ عید کے موقع پر بکرے یا دنبے وغیرہ کی ایک کھال پندرہ سو سے تین ہزار روپے جبکہ گائے یا بیل وغیر کی فی کھال پانچ سے لے کر دس ہزار روپے تک فروخت کی جاتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق قربانی کی کھالوں سے حاصل ہونے والی رقم کالعدم اور شدت پسند تنظیموں کے لئے آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہیں ۔ اسی لیے انتظامیہ نے عید الاضحی کے موقع پر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کالعدم اور نام بدل کر کھالیں جمع کرنے والی جماعتوں پر نظر رکھیں اور انہیں ہرگز کھالیں نہ دیں ۔ شہری ملک دوست تنظیموں اور جماعتوں کو کھالیں دیں اور انتہا پسند ، کالعدم اور فرقہ پرست جماعتوں کو کھالیں دینے سے گریز کیا جائے ۔ کھالیں جمع کرنے کی شکایات پر کالعدم جماعتوں کے خلاف رینجرز کارروائی کریگی ۔ عیدالضحیٰ کے موقع پر پاکستانی طالبان سمیت دوسری دہشت گرد تنظی میں قربانی کی کھالوں کو اکٹھا کر کے، ان سے حاصل کردہ رقم کو ،اپنی جہادی سرگرمیوں میں استعمال کرنے کیلئے کوشاں ہیں ۔ قربانی کی یہ کھالیں کالعدم دہشتگرد تنظیموں کیلئے فنڈز کی فراہمی و دستیابی کا بہت بڑا ذریعہ ہونگی ۔ قربانی کی کھالیں جمع کرنے والوں میں پاکستانی طالبان ، جماعت الدعوۃ ، تحریک غلبہ اسلام، حرکت المجاہدین، انصار الامہ ،جیش محمد اور اہل سنت والجماعت جیسی کالعدم تنظیموں شامل ہیں جو کھالیں جمع کرنے کے بعد ٹینریز کو فروخت کر دیتی ہیں ۔ مگر قانونی کارروائی سے بچنے کیلئے اپنے الحاقی یا ذیلی گروہوں کے ذریعے یہ عمل سرانجام دیتی ہیں ۔ دہشت گرد تنظیموں کے ارکان مختلف علاقوں میں گھوم پھر کر اپنے ہم خیال لوگوں کو اس بات پر تیار کرتے ہیں کہ وہ جہاد کے فلسفے کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کی کھالیں انہیں عطیہ کریں ۔ یہ تنظی میں پمفلٹ اور بینرز کے ساتھ ساتھ جمعہ کے اجتماعات میں بھی اپنی مہم چلاتے ہیں اور اکٹھا ہونے والا روپیہ پیسہ اپنی دہشتگردانہ سرگرمیوں کے اخراجات پورے کرنے کےلئے اور اپنی طاقت بڑہانے استعمال کرتی ہیں ۔ اس پیسے کے بل بوتے پر دہشتگرد اسلحہ خریدتے ہیں اور پھر خودکش حملوں اور بم دہماکے کرتے ہوئے پاکستان کے معصوم و بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں پر چڑھ دوڑتے ہیں ۔ وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ اور دیگر قانون نافذ کر نے والے اداروں نے قربانی کے جانوروں کی کھالیں اکٹھی کرنے والی تنظیموں کے کواءف کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے ۔ کسی بھی کالعدم تنظیم کو چرمہائے قربانی اکٹھی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ چرمہائے قربانی اور دیگر عطیات اور صدقات اکٹے کرنے والی تنظیمواں نے جا بجا بینرز اور پوسٹرز چسپاں کرنا شروع کر دیئے ہیں ۔ شہر میں اس ضمن میں کام کرنے والی تنظیموں کے کواءف اور ان کے مقاصد کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے تاکہ یہ عطیات دہشت گردی یا انتہا پسندی کے مقاصد کے لئے استعمال نہ ہوسکیں ۔ وزارتِ داخلہ نے پاکستان بھر میں قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر پابندی عائد کر دی اور اس سلسلے میں 65 کالعدم تنظیموں کی فہرست بھی جاری کر دی گئی ہے ۔ صرف وہ تنظی میں کھالیں جمع کر سکیں گی جنہیں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے این او سی جاری ہوگا ۔ عید الضحیٰ کے تینوں ایام میں اجازت نامہ حاصل کرنے والی تنظیموں پر یہ لازم ہوگا کہ ان کے رضا کار کھالیں جمع کرنے کے موقع پر اپنا اصل قومی شناختی کارڈ متعلقہ ادارے یا تنظیم کا کارڈ اور محکمہ داخلہ یا ڈپٹی کمشنر کاجاری کردہ اجازت نامہ اپنے ہمراہ رکھیں ۔ وفاقی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ عید الضحیٰ کے موقع پر کھالیں جمع کرنے والوں کی مکمل مانیٹرنگ ہوگی اور زبردستی کھالیں جمع کرنے والوں کےخلاف ’دہشت گردی ایکٹ‘ کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے ۔ ہ میں یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہم دہشتگردوں کے ہاتھوں اپنے ملک کومکمل تباہ وبرباد ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں یا پھر اس کوبچانا چاہتے ہیں ;238; یقیناً تمام پاکستانی، اپنے وطن پاکستان سے محبت رکھتے ہیں ۔ لہذا ہم سب کو چاہیے کہ وہ اپنے قربانی کے جانوروں کی کھالیں دہشتگرد تنظیموں کو ہر گز ہر گز نہ دیں بلکہ یتیم خانوں اور دوسرے مستحق اداروں اور خیراتی اداروں کو دیں اور وطن پاکستان کو دہشتگردوں سے بچانے کےلئے ایک دوسرے کا ساتھ دیں ۔

اب کا یوم آزادی پاکستان جنگ کے دہانے پر

آزادی منانے کےلئے ہمہ وقت تیار ہو گئے ہیں ۔ جیسے جیسے اگست کی۴۱;241; تاریخ کی طرف بڑھ رہا ہے جوش آزادی بھی اپنی انتہاءوں کو چھونے لگا ہے ۔ اگر ہم بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ;231; کی تحریک آزادی پاکستان کو دنیا کے سامنے پیش کریں تو قائد;231; نے جمہوری طریقے سے ہندوءوں اور انگریزوں کو اب بات پر قائل کیا تھا کہ برصغیر میں دو قو میں رہتی ہیں ۔ ایک ہندو اور دوسری مسلمان ۔ ان کا مذہب الگ، ان کی تہذیب، تمدن، ثقافت اور معاشرت الگ ۔ ان کی ہیرو الگ الگ ۔ یعنی ان دو قوموں میں کوئی چیز بھی مشترک نہیں ۔ تو پھر ان کو کیسے متحد رکھا جا سکتا ہے;238; لہٰذا انگریزاقتدار ایک قوم کے بجائے دو قو میں کو دے کر برصغیر سے نکل جائےں ۔ ہندوءوں سے کہا کہ برصغیر کا ایک چوتھائی حصہ مسلمانوں کو دینے سے نہ گھبراءو ۔ تمھارے پاس تین چوتھائی برصغیر پھر بھی رہ جائے گا ۔ کیونکہ کہ انگریز نے برصغیر مسلمانوں سے چھینا تھا ۔ مسلمان برصغیر پر ہزار سال سے زائد حکومت کر چکے تھے، لہٰذا وہ ہمیشہ مسلمانوں سے خاءف رہتے تھے ۔ جاتے جاتے دیگر بہت سی زیادتیوں کے ساتھ ساتھ کشمیر کو جانے والے واحد راستہ ضلع گرداس پور کو بھی سازش سے ہندوءوں کو دے گئے ۔ ہنددءوں کو اکثریت کے بخار نے مجبور کر رکھا تھا ۔ وہ مسلمانوں سے اکثریت کی بنیاد پر ہزار سالہ حکمرانی کا بدلہ لینا چاہتے تھے ۔ اس لیے سیکولرزم اور متحدہ قومیت کے پرچارک تھے ۔ ہنددءوں نے تحریک پاکستان کے دوران متحدہ قومیت کا بیانیہ عام کیا ۔ گانگریسی مسلمانوں نے بھی دو قومی نظریہ کی حمایت کی ۔ دیو بند کے سربراہ مولانا حسین احمد مدنی ;231; نے تو ایک کتاب بھی متحدہ قومیت پر تصنیف کر دی تھی ۔ یہ تو مولانا سید ابواعلیٰ مودودی;231; تھے کہ قومی نظریہ پر مضامین لکھ کر متحدہ قومیت کے نظریہ کے بیانیہ کو رد کیا ۔ آل انڈیامسلم لیگ نے سیدموددی;231; کے دو قومی نظریہ پر مضامین برصغیر میں پھیلائے ۔ یہ مضامین اب بھی کتابی شکل میں موجود ہیں ۔ یہ شاعر اسلام علامہ شیخ محمد اقبال;231; کے اس شعر کی تفسیر ہیں ۔ علامہ اقبال;231; فرماتے ہیں : ۔

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہا شمی ;248;

پھر اللہ کی معیشت کے تحت دنیا کے نقشے پر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان ظہور پذیر ہوا ۔ اگر ہم اس موقع پر پاکستان کی حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے جو تاریخ بیان کی تھی پاکستان کے عوام کے سامنے پیش کریں تو، بانی ِپاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ;231; نے انگریزوں اور ہندوءوں کی چالوں سے مسلمانا ن ہند کو بر وقت خبر دار کیا ۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ پٹنہ ۶۲ دسمبر ۸۳۹۱ء کو مسلمانوں کو پیغام دیتے ہوئے قائد;231; نے کہا کہ’’ابھی آپ کوقومیت اور قومی انفرادیت پیدا کرنی ہے ۔ یہ بڑا کام ہے اور ابھی آپ نے اِسے شروع کیا ہے جو ترقی ہو چکی ہے وہ معجزے سے کم نہیں ۔ لیکن اس کے باوجود ہنوز کام کا آغازہے‘‘ قائد نے۲۲;241; مارچ ۹۳۹۱ء کو کہا’’تم دونوں ’’ہندواور انگریز‘‘متحد ہو کر بھی ہماری کو فنا کرنے میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکو گے ۔ تم ایسی تہذیب کو کبھی مٹا نہیں سکو گے جو ہ میں ورثے میں ملی ہے ۔ ہمارا نور ایمان زندہ ہے ۔ ہمیشہ زندہ رہا ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا‘‘ پھر قائد;231; کے دو قومی نظریہ کے سامنے ہندوءوں کے متحدہ قومیت کے بیانیے نے شکست فاش کھائی اور دنیا تاریخ برصغیر کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہندو لیڈروں نے تقسیم ہندکو کبھی بھی دل سے قبول نہیں کیا ۔ تقسیم ہند کے دوران ہندو لیڈروں نے ایک پلان بنا یا تھا ۔ جب قائد اعظم محمد علی جناح ;231; کی زیر کمان دوقومی نظریہ پر مسلمان متحد ہو چکے اور ہر طرف پاکستان کا مطلب کیا’’لا الہ الا اللہ‘ کا مستانہ نعرہ برصغیر کی فضاءوں میں گونج رہا تھا ۔ پاکستان بننے جارہا تھا ۔ اور ہندءو مجبور ہوگئے تھے ۔ تو انہوں نے پلان بنایا تھا کہ پاکستان بننے کے بعد دوقومی نظریہ کو کمزور کر کے پاکستان کو دوبارہ بھارت میں شامل کر لیں گے ۔ بھارت کے اس پلان کا توڑ پاکستان میں لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر اسلامی نظام حکومت قائم کرنا تھا ۔ پاکستان تو بن گیا اور قائد اعظم;231; کو پاکستان میں لا الہ الا اللہ کا رنگ بھرنے کا موقع نہ ملا ۔ اللہ نے قائد اعظم;231; کو اپنے پاس بلا لیا ۔ اور بعد کے لوگ بھی پاکستان کی اساسی بنیاد سے منحرف ہو گئے ۔ بھارت جو قیام پاکستان کے وقت سے پاکستان کوختم کر کے اکھنڈ بھارت بنانے کے خواب میں مبتلا ہے ۔ اپنے پلان پر عمل کرتے ہوئے، کانگریس کے دور حکومت میں مشرقی پاکستان کو قائد اعظم ;231; کے دو قومی نظریہ کی نفی کرتے ہوئے غدار پاکستان مجیب کے ساتھ مل کر بنگلہ قومیت کی بنیاد پر فوجی مداخلت سے الگ کر دیا ۔ اُس وقت بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے بڑے غرور سے بیان دیا تھا کہ’’ میں نے قائداعظم;231; کے دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے ۔ مسلمانوں سے ہزار سالہ حکومت کا بدلہ بھی لے لیا ہے‘‘ ۔ مگر پاکستان کے مقتدر حلقوں کو اس وقت بھی خیرت نہیں آئی ۔ اور پاکستان کی بنیاد پاکستان کا مطلب کیا’’لا الہ الا اللہ کے تحت ملک میں اسلامی نظام حکومت راءج نہیں کیا ۔ بلکہ بھارت سے مار کھانے کے بعد بھی پاکستان میں دہشت گرد الطاف اور دوسرے قوم پرست لوگوں کو قومیت اور لسانیت کا زہر پھیلانے کا موقعہ دیتے رہے ۔ اس کے برعکس اِس وقت بھارت میں مسلمانوں کے اعلانیہ دشمن، دہشت گرد اور ہندوتوا کی پرچارک والی ہندءو تنظیم آر ایس ایس کے بنیادی رکن نریندرموددی بھارت کے حکمران ہیں ۔ موددی نے بنگلہ دیش میں بین لا اقوامی اصلوں کی پروا کیے بغیر اعلان کیا کہ بھارتی فوج نے مشرقی پاکستان پر حملہ کر کے پاکستان کے دو ٹکڑے کیے تھے ۔ اب بھی مودی پاکستان کو سبق سکھانے کی مہم چلائے ہوئے ہے ۔ بھارت میں جنگی ماحول پیدا کیا ہوا ہے ۔ اس کے وزیر داخلہ نے بیان دیا کہ بھارت نے پہلے پاکستان کے دو ٹکڑے کیے تھے اب دس ٹکڑے کریں گے ۔ بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر مودی نے کہا کہ مجھے بلوچستان اور گلگت بلتستان سے مدد کےلئے ٹیلیفون کال آرہی ہیں ۔ بھارت افغانستان کی امریکی پٹھو قوم پرست حکومت کی مدد سے اور ڈارئیکٹ اپنے نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان کو توڑنے میں اب بھی ملوث ہے ۔ اس کا ثبوت بھارتی نیوی کا حاضر سروس گلبوشن یادیو ہے ۔ جو پاکستان کے پاس موجودہے ۔ مودی اپنی دھمکیوں پر عمل کرتے ہوئے ایک دفعہ پاکستان پر ہوائی حملہ بھی کر چکا ہے ۔ گو کہ دوسرے ہی دن پاکستان کی فضائیہ نے بھارت پر جوابی حملہ کیا ۔ مودی نے منہ کی کھائی ۔ تین ہوائی جہاز پاکستان کی فضایہ نے مار گرائے ۔ ایک ہوائی جہاز پاکستان میں گرا اور پائلٹ گرفتار ہوا ۔ دو ہوائی جہاز بھارتی حصہ میں گرے ۔ پائلٹ بھی جہازسمیت غرق ہوئے ۔ بھارت نے ایل او سی پر بے اشتعال جاری فائرنگ میں اب کلسٹر بم استعمال کرنے شروع کر دیے ہیں ۔ کشمیر میں جاری تکمیل پاکستان جنگ آزادی کو دبانے کےلئے آٹھ لاکھ فوج کے ہوتے ہوئے، مزید اسی ہزار فوجی تعینات کر دیے ہیں ۔ بھارت کے آئین میں پہلے سے موجودکشمیر کی خصوصی دفعات ۰۷۳ اور ۵۳ اے کو ختم کرنے کےلئے لوک سبھا میں بھارت کے وزیر داخلہ نے بل پیش کر دیا ہے ۔ کشمیر میں جاری نسل کشی پر،کشمیر کے نوے سالہ قائد سید علی گیلانی صاحب نے دنیا کے مسلمانوں سے اپیل کر دی ہے کہ بھارت ہ میں ختم کرنے کے لیے آخری وار کرنے کی شروعات کرنے والا ہے ۔ اگر بھارت نے ہ میں ختم کر دیا اور آپ ہماری مدد کےلئے نہ پہنچے تو آخرت میں اللہ کے سامنے کیا عذر پیش کرو گے;238; ۔ ان حالت میں دونوں طرف بھارت اور پاکستان میں اپنی اپنی سلامتی کے اداروں کی میٹنگیں بھی منعقد ہوئیں ۔ پاکستان نے دوست ممالک اور او آئی سی اور اقوام متحدہ کو پوری طرح حالات سے آگاہ کر دیا ہے ۔ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ پاکستان نے کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی مدد کا اعلان کیا ۔ مگر کیا پاکستان ایسے ہی کمزور موَقف پر کب تک چلے گا ۔ بھارت نے شملہ معاہدے کی خلاف دردی کرتے ہوئے سیاچین پر قبضہ کیا ۔ جب ڈکٹیٹر مشرف نے اس کا بدلہ لینے کےلئے کارگل پر قبضہ کر کے سیاچن کا راستہ بلاک کر دیا ۔ تو پاکستان کی بودے حکمران نے اپنی ذاتی دشمنی کو پاکستان کے خلاف استعمال کرکے الٹا ڈکٹیٹر مشرف اس کو سزا دینے کی باتیں کیں ۔ اس سے قبل جب کشمیر میں تحریک تکمیل پاکستان کی جنگ آزادی زروں پر تھی ۔ حزب مجاہدین کے سید صلاح الدین صاحب نے پاکستانی مقتدر حلقوں سے ملاقات کر کے کہا تھا کہ بھارت سے مشرقی پاکستان کا بدلہ لیتے ہوئے ہم نے مقبوضہ کشمیر میں مشرقی پاکستان سے کئی گنا زیادہ حالات خراب کر دیے ہیں ۔ ہم توگوریلہ لوگ ہیں علاقوں پر قبضہ نہیں کر سکتےَ ۔ پاک فوج آگے بڑھے اور کشمیر پر قبضہ کر لے ۔ مگرانہیں جواب دیاگیا کہ اس طرح بھارت سے جنگ چھڑ جائے گی ۔ دوسری طرف جب مکتی باہنی نے مشرقی پاکستان کے حالات خراب کیے اور مجیب کی شہ پرمشرقی پاکستان پر حملہ کرتے ہوئے ایسی بزدلی تو نہیں دکھائی تھی;238; ۔ اب بھی بھارت جنگ چھیڑنے کا بہانہ ڈھونڈ رہا ہے ۔ اگر ہمارے مقتدر حلقے اس چیز کو سمجھ جاتے کہ بھارت تو پاکستان کو ختم کرنے کے ڈکٹرائین رکھتا ہے تو اُس وقت سنہری موقع ضائع نہ کرتے ۔ یاد رکھیں بھارت سے معذرتانہ رویے رکھ کر نہ پہلے حکمران صحیح راستے پر تھے اور نہ اب ہیں قائد اعظم;231; کے بنیادی اساس پر عمل کرنے کا دعویٰ کرنے والی عمران خان حکومت صحیح ہے ۔ ایٹمی مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بھارت کو اعلانیہ بتا دینا چاہیے کہ آپ پاکستان کو ختم کرنے کے اپنے ڈکٹرائین سے رجوع کریں ۔ کشمیر کو آزادی دے کر تقسیم ہند کے بین الا اقومی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے پاکستان نا مکمل ایجنڈے کو پورا ہونے دیں ۔ آپ بھی اور ہم بھی ایک اچھے پڑوسی کی طرح رہیں ۔ یاجس طرح بھارت اپنی عوام کو پاکستان کو ختم کرنے کی تیاری پر لگایا ہوا ہے ۔ اسی طرح مسلمانان پاکستان کو اعلانیہ جہاد فی سبیل اللہ پر تیار کریں ۔ اس بیانیے کو دنیا میں سفارتی طریقے سے پھیلائیں ۔ یاد رکھیں بھارت تار عنکبوت ہے ۔ جب پاکستان اُسے للکارے گا وہ اپنی اصل جگہ پر پہنچ جائے گا ۔ یہی دنیا میں زندہ رہنے کا وطیرہ ہے ۔ دوسری طرف ہم پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو خاص طور پر اور دنیا کے مسلمانوں کوعمومی طور واضح کر رہے ہیں کہ ایٹمی اور میزائل طاقت، مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان جو اسلامی دنیا کا فطری رہبر بھی ہے اس وقت مشکل میں ہے ۔ پاکستان کی سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی سیاست کو اس وقت ایک طرف رکھ دیں ۔ بھارت پاکستان کے خلاف جاری، گریٹ گیم جس میں پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے ، اسے تنہا کرنے اور اس کے اسلامی اور ایٹمی طاقت کو ختم کرنے کے پروگرام سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے پاکستان پر جنگ مسلط کرنے پر تلا ہوا ہے ۔ اس سال پاکستان کی آزادی کے موقع پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ اگر پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور اسلامی دنیا نے اس وقت پاکستان کی مدد نہ کی تو تاریخ مسلمانوں کو معاف نہیں کرے گی ۔ پہلے سے تباہی میں گہری ہوئی مسلمان قوم مزید تباہی کے گڑھے میں گر جائے گی ۔ اللہ پاکستان اور امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے آمین ۔

دہشت گردی اور شدت پسندی میں خواتین کے کردار پر ایک نظر

خواتین کا کردار کسی بھی معاشرتی اتار چڑھاوَ میں کسی تعارف کا محتاج نہیں یہ نہ صرف گھر کی اکائی کو متاثر کرتی ہیں بلکہ بڑی بڑی تحریکوں میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ موجود دہشتگردی اور شدت پسندی میں بھی یہ خواتین کسی نہ کسی طریقے سے ملوث ہوئیں اگرچہ اس کا عملی مظاہرہ بہت ہی کم دیکھنے میں آیا تا ہم اس بات سے انکار نہیں کہ خیالات اور نظریات کی ترویج میں یہ شامل رہیں ۔ سوات میں صوفی محمد کی تحریک تھی یا فضل اللہ کا فساد انہیں خواتین نے کچھ نہ ہوسکا تو زیورات ہی کی شکل میں مالی معاوت فراہم کی ۔ داعش میں بھی خواتین کا حصہ منظر عام پر آتا رہا اور بات انہی تحریکوں تک محدودنہیں کسی بھی مذہبی یا معاشرتی تحریک میں یہ شامل ہوتی ہیں جیسا کہ ہندو شدت پسند تحریکوں میں یہ بڑی فعال ہیں لیکن ایک بات ہے کہ پاکستان میں چلنے والی دہشت گردی میں ان کا عملی حصہ نہ ہونے کے برابر ہے اور اسی انتہائی کم تناسب میں ایک ڈیرہ سماعیل خان میں ہونے والا واقعہ ہے جس میں شبہ ہے کی برقعہ پوش بمبار عورت تھی ۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ دہشت گردی میں بڑے پیمانے پر ان کی شرکت کے کوئی شواہد موجود ہیں تاہم اس محاذ کو بھی خالی نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ ہمارے وہ علاقے جہاں دہشت گردوں کے ٹھکانے اور سہولت کار موجود ہیں ان میں تعلیم کی شرح باقی ملک کی مناسبت سے بہت کم ہے اور خواتین میں تو یہ تناسب اور بھی کم ہے لہٰذا خود علم نہ ہونے کی وجہ سے یہ سنی سنائی باتوں اور قصوں پر زیادہ یقین رکھتی ہیں ۔ انہیں ان کے علاقوں سے باہر کی دنیا کے بارے میں ایسی ایسی کہانیاں سنائی جاتی ہیں کہ ان کے خیال میں صرف وہی لوگ راہ راست پر ہیں اور نہ صرف غیرمسلم بلکہ مسلمان بھی اسلام کی تباہی کا باعث ہیں اور یوں ان کے ذہنوں میں وہ زہر بھرا جاتا ہے جو نفرت کی بنیاد بنتا ہے اور پھر یہی نفرت اور منفی نظریات و خیالات یہ عورتیں اپنی اگلی نسل کو منتقل کرتی ہیں ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہمارے معاشرے میں بحیثیت مجموعی بھی لیکن ان علاقوں میں تو خاص کر خواتین کو اپنے بارے میں بھی فیصلہ کرنے کاکوئی اختیار نہیں لہٰذا وہ دہشتگردی یا شدت پسندی کی کسی تحریک میں بھی اپنی مرضی سے شامل نہیں ہو سکتیں جب تک کہ انہیں اس کے لئے اجازت نہ دی جائے یا مجبور نہ کیا جائے ۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں عورت نہ صرف اپنے خاوند بلکہ اس کے پورے خاندان کی خدمت پر مامور اور مجبور ہے بلکہ ان کے ہر رویے کو چپ چاپ برداشت بھی کرے گی اور ان کے ہاتھوں مار اور موت کو بھی قبول کرے گی ۔ ایسی ہی ایک ادھیڑ عمر عورت جو ایک سرحدی گاؤں میں رہتی ہے کی حقیقی اور مختصر کہانی یوں ہے کہ اُس کو اُس کے پہلے خاوند نے طلاق دی، دوسرا افغانستان کے اندر جنگ میں مارا گیاتو اسے ایک گونگے اور بہرے شخص کے ساتھ بیاہ دیا گیا جہاں اُس کے دیور نے مار مار کر اُس کی پسلیاں توڑ دیں جب وقت نے زخموں کو جیسا تیسا مندمل کر دیا صحت یاب وہ پھر بھی نہیں تھی تو پورا خاندان افغانستان چلا گیا اور اپنے تمام مال مویشی اور گاؤں کے دس بیس گھروں کی رکھوالی کے لئے اُسے اپنے معذور شوہر سمیت چھوڑ دیا اور جب اُسے گاؤں چھوڑ کر علاج کے لیے باہر آنے کو کہا گیا تو اُس نے انکار کر دیا کہ اس میں مزید مار کھانے اور پسلیاں تڑوانے کی ہمت نہیں جو اُس کا خاندان واپس آکر اور اُسے گاءوں میں نہ پا کر کرے گا اب اس معاشرے میں اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کوئی عورت کیسے یہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ وہ کسی تحریک کا حصہ بن جائے ۔ ان کی کچھ ہی سہی پڑھی لکھی خواتین بھی اپنے شعور کی وجہ ایسے معاملات سے دور رہتی ہیں ۔ میں اس عنصر سے انکار نہیں کر رہی کہ خواتین کا شدت پسندی میں کوئی کردار نہیں یقینا ہے جیسا کہ میں نے شروع میں ہی کہہ دیا ہے تاہم اس چیز کو اس حد تک سمجھنا جتنا کہ اس کو ہوا دے دی جاتی ہے درست نہیں ہاں اس سے صرفِ نظر بھی نہیں کرنا چاہیے اور خواتین میں تعلیم کے ذریعے شعور بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ نہ صرف یہ کہ وہ اِن لوگوں کے ہتھے نہ چڑ ھیں بلکہ اپنی اولاد کو بھی حور وقصور کا اصل مفہوم سمجھا سکیں نہ کہ خودکشی جیسے فعل کو قبول کرکے یقینی جہنم کمائیں اگرچہ اس بات کے امکانات پھر بھی بہت کم ہیں کہ کوئی ماں اپنے لخت جگر کو یوں مرنے کے لئے بھیج دے بلکہ زیاوہ گمان یہی ہے کہ یہ لڑکے اغوا شدہ ہوتے ہیں اور یا گھر وں سے بھاگے ہوئے یا جہاد کے غلط تصور کو لے کر مختلف مدارس سے نکلے ہوئے جو خود کشی جیسے فعل پر آمادہ ہوجاتے ہیں ۔ لیکن ان تمام عوامل کے باوجود خواتین کا کردار خارج از امکا ن نہیں تاہم اسکو خوف کا اس قدر باعث نہیں بنانا چا ہیے کہ سمجھا جانے لگے کہ مستقبل میں عورتیں ہی اس مقصد کے لیے استعمال ہونگی لیکن ایک بار پھر عرض ہے کہ اس سے صرفِ نظر بھی نہیں کرنا چا ہیے بلکہ اگر ان خواتین پرہی کا م کیا جائے اور ان کو تعلیم دے کر انہیں با شعور اور با اختیار کیا جائے تو بنیادی سطح پر ایک بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ جہاں لڑکوں کے مدارس کا تجزیہ و جانچ ضروری ہے اُسی طرح لڑکیوں کے مدارس کا بھی معائنہ کیا جائے اور وہاں بھی نصاب کو صحیح اسلامی روح کے مطابق بنایا جائے اور ساتھ ہی جدید علوم کو بھی شامل نصاب کیا جائے یہاں سے اُٹھنے والی تبدیلی یقینا پورے معاشرے کو مثبت طور پر متاثر کرے گی ۔ دہشت گردی اور شدت پسندی میں خواتین کے کردار پر نہ صرف نظر رکھنی ہوگی بلکہ اس کے تدراک کابندوبست بھی کرنا ہوگا اور ایسا کرنے کے لئے ان کی درست سمت میں تعلیم، اختیار اور ساتھ ہی روزگار کا بھی بندوبست کر نا ہوگا ۔ ان ہنر مند خواتین کے ہنر کو ہی اگر اُجاگر کر دیا جائے اور انہیں اپنی اہمیت اور صلاحیت کا احساس دلوادیا جائے تو ان علاقوں میں بھی بہت بڑی تبدیلی آسکتی ہے جو ملک میں دوسری مثبت تبدیلیوں کے ساتھ شدت پسندی کو بھی قابو کرنے میں اہم ترین کردار ادا کرے گی ۔

بھارتی ففتھ جنریشن وارفیئر کا خاطر خواہ جواب دیا جائے

گزشتہ بہتر برسوں میں پاکستان اور بھارت کے آپسی تعلقات کیسے رہے ہیں یہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ۔ ہر کوئی بخوبی جانتا ہے کہ ان تعلقات کو اتار چڑھاءو کا نام دینا بھی مشکل ہے کیونکہ زیادہ تر ان دونوں ممالک میں تعلقات کشیدہ ہی رہے ہیں ۔ اگرچہ اس ضمن میں مختلف اوقات میں بہتری کی کوششیں متعدد بار ہوتی رہیں یوں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ مارچ 1977 میں جب مرار جی ڈیسائی نے بھارتی وزارت عظمی کا منصب سنبھالا تو اس کے بعد کے 27 ماہ کو ہی پاک بھارت باہمی تعلقات کا نسبتاً بہتر عرصہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بے جا نہ ہو گا کہ اسی دوران پاکستان کی جانب سے مرار جی ڈیسائی کو وطن عزیز کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ نشان پاکستان دیا گیا تھا ۔ یہ بات بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ موصوف واحد شخصیت ہیں جنھیں پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ نشان پاکستان اور بھارت رتن حاصل ہوئے ۔ یاد رہے کہ مرار جی ڈیسائی نے اپنے منتخب ہونے کے فوراً بعد راء کے بجٹ میں تقریباً نصف حد تک کٹوتی کر دی تھی ۔ اس کی وجہ انھوں نے بیان کی کہ را جنوبی ایشیا میں امن کے قیام میں رکاوٹ ہے اور اس کے طرز عمل کی وجہ سے بھارت کے تعلقات خطے کے ممالک سے بہتر نہیں ہو رہے ۔ بہرکیف بھارت میں انتخابات کا عمل مکمل ہوا ۔ نتاءج کے اعلان کے مطابق بی جے پی نے کامیابی حاصل کی ۔ پانچ سالوں میں تو مودی نے اقتدار سنبھالنے کے روز اول سے ہی گویا طے کر لیا تھا کہ ہندوستان کے اقتصادی مسائل چونکہ انتہائی زیادہ ہیں اس لئے اس ضمن میں کوئی بڑی پیشرفت ان (مودی)کےلئے تقریبا ناممکن ہے، لہٰذا عیاری پر مبنی سفارت کاری کے ذریعے دنیا بھر میں یہ تاثر دیا جائے کہ پاکستان ہی علاقے میں تمام تر مسائل کا ذمہ دار ہے ۔ اپنے اسی ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر مودی نے وزیراعظم منتخب ہونے کے چند گھنٹوں میں ہی پہلا حکم انڈین انٹیلی جنس بیورو کے سابق چیف اجیت ڈووال کو بھارتی قومی سلامتی کا مشیر مقرر کرنے کا جاری کیا اور پھر یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا گیا جو تاحال پوری شد و مد سے چل رہا ہے ۔ کسے معلوم نہیں کہ اجیت ڈووال ہی وہ شخصیت ہیں ، جنھوں نے افینسیو ڈیفنس کی اپنی نام نہاد تھیوری پر عمل پیرا ہونے کا فخریہ طور پر اعلان کیا اور اپنے قول و فعل سے اس پر عمل کر کے دکھانے کی بھی ہر ممکن سعی کی ۔ اس ضمن میں آنجہانی بھارتی وزیر دفاع منوہر پریارکر نے بھی ایک سے زائد مرتبہ کانٹے سے کانٹا نکالنے کی اپنی پالیسی کا اظہار کیا ۔ اس سے موصوف کی مراد یہ تھی کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کو منظم ڈھنگ سے فروغ دیا جائے گا ۔ علاوہ ازیں بھارتی وزیر مملکت برائے اطلاعات راجیو وردن اور سابق انڈین آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ اعتراف اور انکشاف کر چکے ہیں کہ پاکستان کو اندر سے ہی نقصان پہچانے کی ہر ممکن سعی کی جائے گی ۔ پچھلے چند سالوں میں جس طرح سے را اور این ڈی ایس کے ذریعے منگلا ڈیم سی پیک ، پولیو اور سابقہ فاٹا کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں ، یہ بھارت کی اسی مکروہ روش کا تسلسل ہے ۔ خطے کے بعض دیگر ممالک بھی وقتا فوقتا بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طرح سے اس ضمن میں اپنا حصہ ڈالتے چلے آرہے ہیں ۔ اس حوالے سے داعش کا نام بھی جس طرح سامنے آ رہا ہے، وہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ساری قوتیں مل کر وطن عزیز کے خلاف سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہیں اور یوں یہ بھارتی ریشہ دوانیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہیں ۔ حالانکہ کسے معلوم نہیں کہ پاکستان کی تمام تر حکومتیں کہہ چکی ہیں کہ پاکستان بھارت کیساتھ کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ پر کسی بھی سطح کے مذاکرات شروع کرنے پر ہمہ وقت تیارہے ۔ مگر چونکہ دہلی کا حکمران ٹولہ اس حوالے سے سنجیدہ نہیں لہٰذا یہ سلسلہ شروع ہونے کے بعد دہلی کی جانب سے کسی نہ کسی بہانے سے توڑ دیا جاتا ہے اور معاملات پھر جمود کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ مذاکرات کی کوشش کو اگرچہ جاری رکھا جائے مگر اس حوالے سے کسی مثبت نتیجے کی امید نہ رکھی جائے ۔ دوسری جانب پاکستان کے معاشی مسائل پر تمام تر توجہ مرکوز کی جائے ۔ اسی کیساتھ ساتھ بھارتی دیرینہ روش کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے قومی سلامتی کے تقاضوں کی جانب سے کسی قسم کی غفلت اور تساہل ہر گز نہ برتا جائے اور اس بھارتی ففتھ جنریشن وارفیئر کا خاطر خواہ جواب دیا جائے ۔

پاکستان کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا، کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ

بھارت کی کنٹرول لائن پر آئے دن بلا اشتعال خلاف ورزیاں بڑھتی جارہی ہیں صرف بات کنٹرول لائن تک ہی محدود نہیں ، مقبوضہ کشمیر میں بھی انتہا کررکھی ہے ۔ وادی میں کرفیو کا سما ہے تمام بڑے بڑے لیڈران کو نظربند کردیا گیا ہے، تمام قسم کی سہولیات بند ہیں ، پوری دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ وہاں پر بھارت کس طرح نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھارہا ہے ۔ پاکستان نے بھی اس سلسلے میں ہمیشہ بھرپور کردارادا کیا ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو اٹھایا اب بھی پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھی اس مسئلے کو اٹھانے کافیصلہ کیا ہے ۔ بھارتی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزیوں کے پیش نظر وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں مسلح افواج کے سربراہان بھی شریک ہوئے ۔ اجلاس کے دوران پاکستان نے واضح اور دوٹوک انداز میں فیصلہ کیا ہے کہ اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی جارحیت کی تو اس کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔ نیز پاکستان کشمیریوں کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑے گا، ایسے وقت میں بھارتی حکمت عملی قابل مذمت ہے جب پاکستان اور عالمی برادری افغان تنازع کے حل پر توجہ دے رہی ہے ۔ نیز مقبوضہ کشمیر میں کلسٹر بموں کا استعمال قابل مذمت ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سول و فوجی قیادت نے کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی آواز کو دبانے اور افغان مذاکرات خراب کرنیکی کوشش میں بھارت کے جارحانہ اقدامات کی شدید مذمت اور اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت جعلی فوجی آپریشن کر سکتا ہے، کسی پر خطر کارروائی سے دونوں ایٹمی ممالک میں آگ بھڑک سکتی ہے،پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے بہادر عوام کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودرادیت اور انصاف کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ، جموں و کشمیر دیرینہ، غیر تصفیہ شدہ بین الاقوامی تنازع ہے جو پرامن حل کا متقاضی ہے، قومی سلامتی کمیٹی نے کہا کہ قوم کی مکمل حمایت کے ساتھ بھارت کی کسی بھی جارحیت اور مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کیلئے تیار ہیں ۔ کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کی تیزی سے بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اوربھارت کو موثرجواب دینے کی حکمت عملی تیارکی گئی ۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ پاکستان ہر حالت میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑا رہے گا ، جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کا واحد راستہ صرف پرامن کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے،یہ وقت ہے کشمیر اور ایل او سی پر بھارتی جارحیت روکنے کیلئے کچھ کیا جائے ورنہ پورا خطہ متاثر ہوسکتا ہے ۔ اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کے ان اقدامات کا جائزہ لیا گیا جنکی وجہ سے مقبوضہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے ۔ اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور،وزیر داخلہ اعجاز شاہ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ایئرچیف، نیول چیف، ڈی جی آئی ایس آئی،ڈی جی آئی ایس پی آر، وزیراعظم آزاد کشمیر، وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ، سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان اور سیکرٹری قومی سلامتی ڈویژن نے شرکت کی ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے لائن ;200;ف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلسٹر بم کا استعمال بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ سماجی رابطے کی ویب ساءٹ پر ایک ٹوئیٹ میں عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے کلسٹر بم کو استعمال کر کے ;200;بادی کو نشانی بنایا جو عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ بھارت کلسٹر بم استعمال کر کے 1983 کے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے ۔ لہٰذا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھارتی جارحیت کا فوری نوٹس لے ۔

مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی منشاء کے مطابق حل کیا جائے،او آئی سی

او آئی سی نے بھی دنیا بھر سے کہا ہے کہ وہ بھارت کو ظلم و بربریت سے روکے اور مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی منشاء کے مطابق حل کیا جائے ۔ نامعلوم ایسی کیا وجوہات ہیں کہ دنیا بھر نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آنکھیں بند کررکھی ہیں ۔ مودی وادی میں خون کی ہولی کھیلنے کی تیاریاں کررہا ہے ۔ اگر اس کو نہ روکا گیا تو انسانی تاریخ کا ایک ایسا المیہ جنم لے گا جس کی شاید ماضی اور آنے والی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملے گی ۔ دنیا کو چاہیے کہ وہ قدم بڑھائے اور مودی کو اپنے اس انسان کش اقدامات سے روکے ۔ اسلامی تعاون تنظیم (او ;200;ئی سی)نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیاہے ۔ اور کہا کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کیلئے بھارت پر دباءو ڈالے او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر میں فوج کی تعداد بڑھانے اور کلسٹر بم کے استعمال پر بھی گہری تشویش ظاہر کی ہے ۔ سماجی رابطے کی ویب ساءٹ ٹوءٹر پر جاری بیان میں اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے کہا گیاہے کہ بھارتی فوج نے پابندی کے باوجود شہریوں پر کلسٹر بم کا استعمال کیا،ایل او سی پر بھارتی خلاف ورزیوں سے ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس ہے ۔ او ;200;ئی سی نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی کیاہے اور مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے کردار ادا کرے ۔ اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیئے ۔ اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف احمد العثمین سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انکے ساتھ کشمیر میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بھارت کی طرف سے نہتے کشمیریوں پر سفاکانہ طاقت کا استعمال انتہائی قابل مذمت ہے ۔ بھارت، نہتے کشمیریوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے ۔ ہندو یاتریوں اور غیر ملکی سیاحوں کو کشمیر سے نکلنے کے احکامات تشویش میں مزید اضافے کا سبب بن رہے ہیں ۔ ان حالات میں او ;200;ئی سی فوری طور اس گھمبیر صورت حال کا نوٹس لے ۔ ہندو یاتریوں اور غیر ملکی سیاحوں کو کشمیر سے نکلنے کے احکامات تشویش میں مزید اضافے کا سبب بن رہے ہیں ، ان حالات میں او ;200;ئی سی فوری طور اس گھمبیر صورت حال کا نوٹس لے ۔ سیکرٹری جنرل او ;200;ئی سی نے وزیر خارجہ کو صورتحال کا نوٹس لینے اور اس سلسلے میں اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ۔

مقبوضہ کشمیر ،بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی

بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجہ میں اب مقبوضہ کشمیر میں امن و امان عزت و آبرو سمیت کچھ نہیں بچا ۔ جہاں ہر وقت جنگ جاری ہو، ظلم و بربریت کی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہوں وہاں امن و امان کیسے رہ سکتا ہے ۔ جو امن و امان کے دشمن ہوتے ہیں وہ عزت و آبرو کے بھی دشمن ہوتے ہیں ۔ کسی کی عزت و آبرو پر حملہ کرنا بدترین دہشت گردی ہے مگر کوئی بھی بھارت کے خلاف کارروائی کرنے والا نہیں ۔ وہاں زندگی کی رعنائیاں ختم ہو چکی ہیں اور صرف جنگ کا قانون نافذ ہے ۔ یہ بات تو تمام دنیا جانتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں زندگی کی تمام رعنائیاں ختم ہو چکی ہیں جہاں 70 سال سے جنگ ہو رہی ہو، قتل و غارت کا ہر وقت بازار گرم ہو وہاں زندگی کی رونقیں کس طرح قائم رہ سکتی ہیں ۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ اب تک بھارتی فوج 90 سے زائد کشمیری مجاہدین کو شہید کر چکی ہے اس کے علاوہ 35 عام شہریوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے ۔ ایک مسجد کو بھی بھارتی فوج نے نقصان پہنچایا ۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے حریت رہنما سید علی گیلانی نے اپنے قتل کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے جانشین نامزد کر دیئے ہیں اور خود بھارتی فوج نے بھی مجاہدین کے خلاف آپریشن تیز کر دینے کا اعتراف کیا ہے جو دراصل کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو کچلنے اور انہیں بھارتی غلامی میں جکڑے رکھنے کی کوشش ہے ۔

بھارتی فوج پچھلے70 برسوں میں بھارتی اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہے اور فوج کے ساتھ ساتھ بھارتی حکومت بھی اس عمل میں برابر کے شریک ہیں ۔ اس وجہ سے اب تک بھارت میں ہزاروں کی تعداد میں اقلیت کش فسادات ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے ۔ ہٹ دھرمی، میں نہ مانوں اور ظلم و ستم جیسے قانون صرف جنگ کے قانون میں ملتے ہیں ورنہ کوئی اسمبلی ایسا قانون پاس کرتی ہے تو وہ بھی کسی ملک کی نہیں بلکہ جنگل کی اسمبلی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج جسے چاہتی ہے قتل کر دیتی ہے اور جب چاہتی ہے انسانیت کا جنازہ نکال دیتی ہے ۔ اس سے بڑھ کر دہشت گردی اب کیا ہوگی کہ جسے چاہا قتل کر ڈالا اور جب چاہا عزت و آبرو کو پامال کر ڈالا ۔ مگرکسی کو بھارتی فوج کی دہشت گردی نظر نہیں آتی ۔ اس لئے اب وہاں مہذب معاشرے کا تصور ہی مفقود ہو چکا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں تہذیب اس وقت آئے گی جب یہاں امن قائم ہوگا ۔ کشمیر میں آزادی کی تحریک باہر سے نہیں بلکہ خود کشمیری بھارت کے تسلط سے آزادی چاہتے ہیں ۔ ایک تو ناجائز قبضہ اور پھر کہنا کہ در اندازی، بھارت خود دراندازی کے واقعات میں ملوث ہے ۔ بھارت کے فوجی معصوم کشمیری بچوں ، بوڑھوں اور خواتین کی عزتوں کو پامال کرنے میں مصروف ہیں ۔ بھارت کے فوجی وحشیانہ طریقے سے ظلم و ستم کے واقعات میں ملوث ہیں اور انسانی حقوق کی تنظی میں بھارت کی حکومت سے احتجاج کر رہی ہیں کہ وہ بھارتی فوج کے مظالم کو روکے ۔ کچھ عرصہ قبل بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے جو بھارتی فوجی پکڑے گئے تھے بھارت کی حکومت نے انہیں باعزت بری کر دیا تھا ۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت کے وزیر خارجہ کو ایک خط کے ذریعے احتجاج کیا تھا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ ان فوجیوں کو عدالتوں کے ذریعے سزا دلوائے لیکن تاحال اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ۔ اس سارے عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ کشمیر کی تحریک دن بدن زور پکڑتی جارہی ہے جسے دبانے کیلئے بھارتی سکیورٹی فورسز مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزیوں میں مصروف ہے اور کشمیری مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کر رہی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور اندرا گاندھی کی نافذ کردہ ایمرجنسی کے علاوہ وہاں کبھی جمہوری عمل میں تعطل پیدا نہیں ہوا مگر یہ جمہوریت بھارت کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو باعزت زندگی کا حق نہیں دے سکتی ۔ یہ جمہوریت اقلیتوں کو حکومت سازی تو دور کی بات، ایک انسانی کی حیثیت سے سانس لینے کی اجازت نہیں دیتی ۔

مقبوضہ کشمیر کے علاوہ پورے بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں ، عیسائیوں اور سکھوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے ۔ بھارت میں مسلم کش فسادات اس سے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں مگر احمد آباد میں جو کچھ ہوا وہ درندگی، بربریت اور سفاکی کا بدترین مظاہرہ تھا ۔ دو ہزار سے زائد افراد کو زندہ جلا دیا گیا ۔ سات ہزار بچے یتیم کر دیئے گئے اور عورتوں کے ساتھ وہ برتاوَ کیا گیا کہ انہیں اپنے عورت ہونے پر شرم آنے لگی ۔ موت کے اس ننگے ناچ پر سارا عالم چیخ اٹھا لیکن بھارتی حکمران، فوج اور سیاستدان اس درندگی پر نازاں ہیں ۔

جنیوا میں ہونے والے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں انصاف پسند ممالک کو مظلوم قوموں کے حقوق کی پامالی روکنے اور انہیں ظلم و ستم سے نجات دلانے کےلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اس طرح انسانی حقوق کمیشن کا اعتماد بحال ہوگا ۔ آج دنیا کی کوئی ایسی ہیومن راءٹس کی تنظیم دکھائی نہیں دیتی جس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم پر طویل تبصرے شاءع نہ کئے ہوں ۔ اقوام متحدہ اور دنیا کے ہر قابل ذکر فورم میں اس حوالے سے درجنوں مباحثے ہو چکے ہیں اور متعدد مرتبہ بھارتی حکومت کی طرف سے مظلوم کشمیریوں پر ظلم و ستم اور اقوام متحدہ میں کشمیر کے حوالے سے موجود قراردادوں پر عمل پیرا نہ ہونے کا رونا رویا جاتا ہے ۔

مقبوضہ کشمیر ۔۔۔ کچھ ہونے والا ہے !

مقبوضہ کشمیر میں خوف و ہراس کی شدید لہر پائی جاتی ہے ۔ یوں تو یہ سلسلہ گذشتہ 72 سال سے ہی جاری ہے مگر پچھلے دو دنوں کے دوران مقبوضہ وادی میں صورتحال نے جو دھماکہ خیز شکل اختیار کی ہے، وہ اس سے قبل دیکھنے میں نہیں آئی ۔ جن شہریوں کے ہاں شادیوں کی تاریخیں طے تھیں ، انھیں منسوخ کیا جا چکا ہے ۔ سوشل میڈیا پر دہلی سرکار کا مقبوضہ کشمیر کے ضمن میں جو حکم نامہ وائرل ہوا اس میں ہدایات درج تھیں کہ اپنے گھروں میں راشن جمع کر رکھیں اور پیسے پاس رکھیں ۔ پیٹرول پمپ پر شہریوں کی طویل قطاریں اور راشن کی دکانوں کے باہر ایک جم غفیر جمع ہے، کیونکہ یہ حقیقی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مقبوضہ ریاست لمبے عرصے کیلئے زندگی معطل ہو کر رہ جائے گی ۔ سابق کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی، فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ سمیت ہر خاص و عام کی زبان پر یہ الفاظ ہیں ’’ 15 اگست تک یا اس کے فوراً بعد کچھ ہونے والا ہے‘‘ ۔ 2 اگست کو محبوبہ مفتی نے ساڑھے 8 بجے رات ہنگامی پریس کانفرنس کی اور کہا کہ ’’ میں نے ایسا خوفناک ماحول اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا، حالانکہ اسلام میں ہاتھ جوڑنا منع ہے‘ لیکن میں ہاتھ جوڑتی ہوں کہ ایسا کچھ نہ کیا جائے جس سے حالات ایسے بگڑیں کہ پھر سنور نہ پائیں ، مودی جی آپ تو کشمیریوں کے دل جیتنے کی بات کرتے ہیں پھر یہ کیا کیا جا رہا ہے، ہر فرد ہراس میں مبتلا ہے‘‘ ۔ بھارت کی 15 ویں کور کے کمانڈر ڈِھلوں نے سرینگر میں ایک روز قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 83 فیصد کشمیری لڑکے جو پتھر بازی کرتے ہیں وہ ’’دہشت گرد‘‘ بن جاتے ہیں ، حکومت کےخلاف ہتھیار اٹھانے والا 10 دنوں کے اندر مار دیا جاتا ہے ‘‘ ۔ یاد رہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں امر ناتھ یاترا کرنے والوں سمیت تمام سیاحوں کو فی الفور وادی سے نکل جانے کا حکم جاری کیا گیا ہے ۔ مبصرین کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا، ہمیشہ سے ;828383; اور بی جے پی کا دیرینہ ایجنڈا رہا ہے ۔ مگر مودی سرکاری تہیہ کر چکی ہے کہ 15 اگست سے قبل مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا جائے ۔ اس لئے وہاں 35 ہزار فوجی بھجوائے جا چکے ہیں اور ان کی تعداد کو مزید بڑھایا جائے گا، تا کہ آرٹیکل 35 ;65; پر حملے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں اٹھنے والی مزاحمت کی شدید لہر پر قابو پانے کی سعی کی جا سکے ۔ ممکن ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات کی سنگینی اور عوام کے غم و غصہ کو دیکھتے ہوئے دہلی کے حکمران اسے وقتی طور پر ملتوی کر دیں مگر بہرحال یہ ان کے ایجنڈے پر سرفہرست ہے اور وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے ۔ اسی وجہ سے 15 اگست سے قبل مقبوضہ کشمیر میں کسی خوفناک طوفان کی آمد محسوس کی جا رہی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دہلی کے حکمرانوں نے ہمیشہ یہ ثابت کی ہے کہ انہیں دوستانہ انداز میں کہی بات سمجھ نہیں آتی ۔ بدقسمتی سے بعض افراد اور گروہوں کی نفسیات ہی کچھ ایسی بن جاتی ہے کہ وہ محض طاقت کی زبان سمجھتے ہیں اور ولیل اور منطق کو سامنے والے کی کمزوری سے تعبیر کرتے ہیں ۔ ویسے تو یہ ایک ابدی حقیقت ہے کہ زیادہ تر لوگ قوت کو ہی سب سے بڑی دلیل قرار دیتے ہیں مگر اس ضمن میں ہندوستان کی تاریخ پر ذرا سی بھی نگاہ ڈالیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ وہاں کے حکمران طبقات ہمیشہ سے ہی قوت کے پجاری رہے ہیں ۔ اسی وجہ سے وہ ہر وہ شے جو نفع یا نقصان پہنچا سکتی ہے، کی پوجا شروع کر دیتے ہیں مثلاً آگ ، سانپ اور مختلف درندے وغیرہ، شاید ایسی وجہ سے ماضی میں سینکڑوں برس بھارت دوسری قوموں کے زیر نگیں رہا ہے ۔ مگر اب جبکہ 72 برسوں سے اسے آزادی میسر آئی ہے تو وہ اپنے چھوٹے ہمسایوں کو ڈرا دھمکا کر اور پاکستان اور چین کے خلاف بھی توسیع پسندانہ عزائم اختیار کر کے گویا اپنی صدیوں کی غلامانہ محرومیوں کی تسکین کا خواہش مند ہے ۔ مگر بھارت کے بالا دست طبقات اس تلخ حقیقت سے جانے کیوں صرف نظر کر رہے ہیں کہ اس روش کے نتاءج کبھی بھی کسی کے حق میں اچھے نہیں ہوتے ۔ اس تناظر میں موثر عالمی قوتیں بھی اپنی سطحی اور وقتی مصلحتوں کی بنا پر بھارت کی جرمانہ روش سے چشم پوشی کرتے ہوئے غالباً اجتماعی انسانی غلطیوں کی مرتکب ہو رہی ہے، اسی وجہ سے مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد خود بھارت کے اندر بھی بحرانی کیفیت پیدا ہو چکی ہے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی بھارتی تعلقات کسی طور قابل رشک نہیں ۔ اس تناظر میں غالباً ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک جانب وطن عزیز کی سول سوساءٹی سمیت تمام طبقات یک زبان ہو کر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کی جانب اپنی تمام تر صلاحتیں صرف کریں ، اس بابت محض یورپ اور امریکہ پر تکیہ نہ کیا جائے بلکہ خود بھارت کے اعتدال پسند حلقوں تک اپنی بات تسلسل اور مضبوط ڈھنگ سے پہنچائی جائے، تبھی توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ معاملہ منصفانہ ڈھنگ سے اپنے

Google Analytics Alternative