کالم

پولیس نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے

ملک میں ڈکیتیاں ہو رہی ہیں ،لوگ گلے کاٹ رہے ہیں ،پولیس کہاں ہے;238;ملک بھر میں پولیس نظام فلاپ ہو چکا ۔ سب نہیں زیادہ تر پولیس اہلکار رات کو ڈکیتیاں کرتے ہیں ،پولیس اور سرکاری افسران تنخواہ الگ لیتے ہیں اور عوام سے الگ لیتے ہیں ،سرکاری افسران دفاتر میں بیٹھ کر حرام کھا رہے ہیں ،بھاری تنخواہیں لیکر بھی دو نمبریاں کی جاتی ہیں ،صرف اس بات کی فکر ہے کہ اپنے الاوَنس کیسے بڑھانا ہیں ،ملک میں پولیس نام کی کوئی چیز نہیں ،پولیس آخر ایسا کیا کر رہی ہے جو تنخواہ بڑھائی جائے;238;یہ ریمارکس سپریم کورٹ کے معزز جسٹس گلزار احمد نے پنجاب کے ٹریفک وارڈنز کی تنخواہوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دئیے ۔ معزز جسٹس صاحبان عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہیں جو کہ روٹین کی بات ہے ،ریمارکس کو ہم فیصلہ نہیں کہ سکتے ،ریمارکس اور فیصلے میں فرق ہوتا ہے مگر میرے آج قلم اٹھانے کی وجہ جسٹس گلزار احمد کے ریمارکس نہیں بلکہ انکے ریمارکس کے نتیجے میں آنے والا ردعمل ہے ۔ سوشل میڈیا پر بے ہنگم اور کھلے عام توہین عدالت کی جار ہی ہے،معلوم نہیں ایف آئی اے کا سائبر کرائم سیل کیا کر رہا ہے ۔ اگر ایف آئی اے کا سائبر کرائم کچھ کر رہا ہوتا تو آج کسی میں جرات نہ ہوتی کہ کوئی توہین عدالت کر سکتا ۔ سوشل میڈیا پر جب پولیس کو قوم کا مسیحا بنا کر پیش کرتے دیکھا تو سوچا کہ ان عناصر کو جواب دیا جائے جو کسی نہ کسی آڑ میں اپنے پرانے زخموں کا حساب چکتاکرنے کی کوشش میں ہر دم مصروف عمل رہتے ہیں ۔ 2014ء میں اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کو ایک درخواست دی گئی جو کہ فارورڈ ہو کر تھانہ کوہسار میں ایس ایچ او کے پاس آگئی ۔ اس وقت ایس ایچ او عابد تعینات تھے ۔ ایس ایچ او نے تمام ضروری کارروائی اور تفتیش کر کے اس وقت کے تفتیشی اے ایس آئی رئیس کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ۔ اے ایس آئی رئیس نے ایف آئی آر کے اندراج کیلئے بلیو ایریا کے کسی ہوٹل میں کھانا کھانے کی شرط رکھ دی،سائل نے بلیو ایریا کے ہوٹل میں اے ایس آئی رئیس کو کھانا کھلایاجس کے بعد اے ایس آئی رئیس نے بتایا کہ وہ جائے وقوعہ پر گیا ہے اور حالات و اقعات کا جائزہ لیا ہے ،درخواست درست ہے اس لیے جلد ہی ایف آئی آر درج کر دی جائیگی ۔ چند دن بعد ایف آئی آر درج ہوتی ہے جس کا نمبر296;47;14تھا مگر نامزد ملزمان گرفتار نہیں کیے جاتے ۔ سائل کے ہر دوسرے دن معلوم کرنے کے باوجود اے ایس آئی رئیس نامزد ملزمان کو گرفتار نہیں کرتا اور پھر چند ماہ بعد بغیر کسی وجہ ایف آئی آر کا اخراج بنا کر ڈی ایس پی کو فارورڈ کر دیتا ہے جہاں سے اعتراض لگ کر واپس درخواست تھانے آجاتی ہے،سائل کے معلوم کرنے پر رئیس اے ایس آئی نے کہا کہ آپ کی ایف آئی آر خارج کر دی گئی ہے،اگر من و عن رئیس کے الفاظ بیان کیے جائیں تو یہ تھے کہ اوپر سے بہت پریشر تھا جس کے باعث ایف آئی آر خارج کر دی ۔ سائل نے ڈی ایس پی اشرف شاہ کو ایف آئی آر کی بحالی کی درخواست دی،مگر جلد ہی ڈی ایس پی اشرف شاہ کی تحقیقات سے اندازہ ہو گیا کہ اس تحقیقات کی سمت درست نہیں جس پر سائل نے اعظم تیموری صاحب کے جو کہ اس وقت ڈی آئی جی تھے کو درخواست دی اور کہا گیاکہ برائے مہربانی اس سارے معاملے کی کسی سی ایس پی آفیسر سے انکوائری کرائی جائے تاکہ انصاف ہوسکے،معاملہ اس وقت کے ایس پی رضوان گوندل کو ریفر کر دیا گیا مگر رضوان گوندل نے ڈی ایس پی اشرف شاہ سے ہی انکوائری کرائی جس پر تمام ملزمان کو باعزت بری کرنے کا پروانہ درج تھا،بہر حال کیس عدالت میں چلا اور پھر وہاں سے بھی خارج ہو گیا کیونکہ ڈی ایس پی کی انکوائری جو شامل تھی،رئیس کی تبدیلی کے بعد یہ معاملہ تھانہ کوہسار کے دو تین تفتیشی افسران کے پاس رہا جن میں دو کے الفاظ یہ تھے کہ پیسہ بہت چلا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ انصاف نہیں ہو رہا مگر ڈی ایس پی کی انکوائری کو ہم چیلنج نہیں کر سکتے ۔ اور پھر اس طرح سائل کو انصاف نہیں ملا اور شائد چند روپوں کی خاطر انصاف کا گلا گھونٹ دیا گیا ۔ تھانہ کوہسار کے ہی ایک دوسرے واقعے میں تفتیشی اے ایس آئی منشا کو دو درخواستیں دی گئیں مگر اے ایس آئی منشا نے دونوں پر کارروائی نہیں کی اور من پسند پارٹی کو عدالت جانے کا مشورہ دیا جس پر ایک پارٹی عدالت چلی گئی جو کہ اسکا حق تھا مگر اے ایس آئی منشا نے عدالت کو غلط بیانی کی جس پر دوسری پارٹی کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے کا عدالتی حکم آگیا ۔ اے ایس آئی منشا کو چاہئے تھا کہ وہ دوسری پارٹی کو بھی آگاہ کرتا کہ دوسری پارٹی عدالت میں ہے آپ اپنے ثبوت پیش کریں تاکہ عدالت کو حقائق سے آگاہ کیا جا سکے مگر ایسا تو تب کیا جاتا کہ اگر نیت صاف ہوتی اور انصاف فراہم کرنا مقصود ہوتا ۔ جس پارٹی کیخلاف ایف آئی آر درج کی گئی اس سے کھانے کے نام پر الگ پیسے لیے جاتے رہے،دونوں پارٹیوں کا معاملہ آفس سے متعلق تھا مگر ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت مظلوم کو مقدمے میں پھنسا دیا گیا اور طاقتور طبقے کو پھر پیسے کے بلبوتے فتح نصیب ہوئی ۔ ایسے ان گنت واقعات روز مرہ تھانوں میں انصاف کے حصول کیلئے جانیوالوں کیساتھ پیش آرہے ہیں جن کو درج کیا جانے لگے تو کتابوں کی کتابیں لکھی جائیں ، نیب اور آئی جی آفس کو چاہئے کہ اے ایس آئی رئیس اور منشا کے اثاثوں کی جانچ پڑتا ل کی جائے اور انکی اور انکے اہلخانہ کے نام جو جو پراپرٹی ہے کا حساب مانگا جائے اور اگر کچھ گڑ بڑ نکلتی ہے تو پھر دونوں کو قانون کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا جائے تاکہ دوسروں کو کچھ نصیحت ہو سکے ۔ محکمہ اینٹی کرپشن کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔ پولیس میں سی ایس پی کیڈر کے افسران اخلاقیات اور قانون کی عملداری پر عمل کرتے ہیں مگر نچلی سطح پر پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ہر روز انصاف کا قتل ہو رہا ہے اور مظلوم کیساتھ نئی نئی ظلم کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں ۔ لہٰذا سپریم کورٹ کے معزز جسٹس گلزار نے پولیس کے بارے بالکل درست ریمارکس دئیے ہیں کیونکہ ایف آئی آر سے تفتیش تک پولیس کا نچلہ طبقہ ہی عام سائلین کو ڈیل کرتا ہے اور یہیں پر سب کچھ طے ہو جاتا ہے ۔ مظلوم اور ظالم دونوں ہی پولیس کی نظر میں برابر ہوتے ہیں دونوں سے ہی مال پانی لیا جاتا ہے ۔ تمام پولیس ملازمین ہی خراب نہیں مگر تفتیشی افسران کی سطح پر متعدد افسران کرپٹ اور بہت کم افسران خداترس ،نیک اور قانون پر عمل کرتے ہوئے انصاف فراہم کرنے کی روش اپنائے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اس لیے جو پولیس کے حق میں توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں اور اس ضمن میں الٹی سیدھی پوسٹیں اپ لوڈ کر رہے ہیں برائے مہربانی عدالتوں کے باہر جا کر مقدمات میں پھنسے لوگوں سے پولیس رویے بارے معلومات لیں سب پتا چل جائیگا کہ پولیس سائلین کیساتھ کیا کر رہی ہے ۔

کشمیر اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ(2)

گزشتہ سے پیوستہ

مسلمان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک ہوتا ہے ۔ مسلمان سرکاری نوکری نہ ملنے پر چھاپڑی ،دکان اور چھوٹاموٹا کارخانہ لگاتے تو مذہبی ہنگامے کرواکر مسلمانوں کے کاروبار کو خاکستر کر دیا جاتا ہے ۔ کشمیر میں تو سفاک بھارت کی نسل پرست فوج کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہے ۔ پہلے کشمیری نوجوان کو گرفتار کرتے ہیں ۔ مسنگ پرسن قرار دے دیتے ہیں ۔ ازیتیں دے دے کر قتل کر دیتے ہیں ۔ پھر جھوٹا انکاءونٹر ظاہر کرکے لاش ویرانے میں پھینک دیتے ہیں ۔ اگر وادیوں کی تلاش میں گھر گھر کی تلاشی لیتے ہیں ۔ گھروں کا گھیراءو کر کے عورتوں کے ساتھ زیادتیاں کرتے ہیں ۔ اب تک دس ہزار سے زائد کشمیریوں بے گناہ محصوم عورتوں کی اجتماعی آبروزیزی کرچکے ہیں ۔ ہزاروں نوجوانوں کو غائب کر دیا ہے جسے عام زبان میں مسنگ پرسن کہتے ہیں ۔ کشمیر میں درجنوں اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں ۔ ہزاروں کشمیری بھارت کی جیلوں میں سٹر رہے ہیں ۔ جیلوں سے جوکشمیری رہا ہوئے، ان کو عبرت بنا کر زندہ لاشیں بنا کر چھوڑاجاتا، تا کہ باقی کشمیری نوجوان خوف زدہ ہو کر اپنی آزادی کے نعرے نہ لگائیں ۔ ۷۴۹۱ء کے بعدایک لاکھ کشمیری شہید کر دیے گئے ۔ اس سے قبل مہاراہہ کی غلامی کے دوران پانچ لاکھ کشمیری شہید کیے گئے ۔ کشمیر شہیدوں کے قبرستانوں سے بھر گیا ہے ۔ آزادی کی بات کرنے والے کئی کشمیری سیاسی لیڈروں کو شہید کر دیا گیا ۔ سیاسی لیڈروں کو آزادی کی جنگ لڑنے والوں کی رہبری سے روک کر جیل ڈال دیا جاتا ہے یاہاءوس اریسٹ رکھا جاتا ہے ۔ کشمیری لیڈرشبیر شاہ کو دنیا نے ضمیر کا قیدی مانا ۔ کالج کی بچیاں جب آزادی کے مظاہروں میں شریک ہوتی ہیں تو ان کو گرفتار کر کے ان کی چوٹیاں کاٹی جاتی ہیں ۔ کشمیری نوجوان کو فوجی جیب کے بونٹ سے باندھا جاتا ہے کہ پتھر اس پر پڑھیں اور بھارت فوجی سورما بچے رہیں ۔ کشمیریوں پر بلیٹ گنیں چلا کر کشمیریوں اندھا کیا جا رہا ہے ۔ مسلمانوں کی زرعی زمینوں ، پھلوں کے باغوں اور دوکانوں پر گن پاءوڈر چھڑک کر خاکستر کر دیا جاتا ہے ۔ مکانوں میں باردو رکھ کر انہیں اُڑا دیا جاتا ہے ۔ ظلم کی ایک لمبی داستان ہے کتنی بیان کی جائے ۔ دنیا کی آزادی کی تاریخوں کا اگر مطالعہ کیا جائے تو کشمیری پر بھارتی قوم پرست فوجیوں کے مظالم سر فہرست ہو ں گے ۔ کسی بھی صحافی اور انسانی حقوق کی تنظیم کو کشمیر میں داخل ہی نہیں ہونے دیا جاتا ۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھارتی فوجیوں کے کچھ مظالم کے واقعات اپنی رپورٹ میں آشکار کیے ہیں ۔ جس کو ساری انصاف پسنددنیا نے ظلم مانا ہے ۔ مگر بھارت تو حکومتی سطح پر کشمیریوں کو ہمیشہ غلام رکھنے کے بھارتی آئین کی اسپیشل دفعہ ۰۷۳ اور۵۳a ،جس کے تحت کشمیر میں کوئی غیر کشمیری جائیداد نہیں خرید سکتا، اے ختم کرنے کا پروگرام بنا رہا ہے ۔ تقسیم ہند کے فارمولے کے مطابق، پاکستان مسئلہ کشمیر کا تیسرا فریق ہے ۔ کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ ان حالات میں کشمیر کے مسئلہ کا صرف ایک ہی حل ہے ۔ وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔ کشمیر کے مسلمان ذبح کیے جارہے ہیں ۔ اس لیے ان کی مدد کرنا مسلمانوں کا مذہبی بھی فریضہ ہے ۔ پاکستان کی حکومت کو بھارت کے خلاف جہاد کا اعلان کرنا چاہیے ۔ علماء قرآن و حدیث کی روشنی میں حکومت کی تائید کرنے کا اعلان کریں ۔ کیا دنیا کا کوئی قانون اس کی اجازت دیتا کی ایک قوم کسی قوم کو ختم کرنے کا اعلان کرے اور دوسری قوم اس کے سامنے اپنے سر رکھ دے کہ آءو اور ہ میں ختم کر دو ۔ اگر ایسا نہیں ہے اور یقینا نہیں ،تو پاکستان کو بھارت کے خلاف اپنے دین کے مطابق جہاد فی سبیل اللہ کا عام کا اعلان کر دینا چاہیے ۔ سسک سسک کر مرنے سے بہتر کہ میدان جہاد میں جان دے دی جائے ۔ ورنہ بھارت کشمیر تو کجا، قوم پرست ہندو، پاکستان کو ختم کر کے اکھنڈ بھارت بنانے کے اپنے پرانے منصوبے پر اپناعمل کر کے رہے گا ۔ مودی خود دہشت گرد تنظیم ،انتہاپسند،قوم پرست آر ایس ایس تنظیم کا بنیادی رکن ہے ۔ مودی نے الیکشن مہم کے دوران بھارت عوام میں پاکستان سے جنگ کا سماں پیدا کیا ۔ پاکستان کو سبق سکھانے کے منشور پر الیکشن جیت کر اقتدار میں آیا ہے ۔ مودی حکومت کوآر ایس ایس اور دوسری ہندو انتہا پسندوں کی حمایت حاصل ہے ۔ سیاسی محاذ پر،پاکستان کے وزیر اعظم کو مودی سے بار بار امن کی درخواست کرنے کے بجائے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے ۔ جب تک بھارت کشمیر کو متنازعہ مسئلہ تسلیم نہیں کرتا مذ اکرات کی بات نہیں کرنا چاہیے ۔ بھارت کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف نہرو ۔ لیاقت معاہدے کے بات کرنی چاہیے ۔ ہ میں یاد رکھنا چاہیے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے ۔ بھارت گلگت اور بلوچستان میں کھلے عام دہشت گردی کرو ارہا ہے ۔ اپنی عوام کو اعتماد میں لے کرکشمیر میں جاری تکمیل پاکستان کی تحریک کی مکمل پشتہ بانی کرنی چاہیے ۔ پاکستان اور کشمیر کے عوام ایمنسٹی انٹرنیشنل کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس تنظیم نے اپنا انسانیت دوست منشور کے مطابق کشمیر میں بھارت کے مظالم کو مہذب دنیا کے سامنے پیش کیا ۔ کشمیر کے مظالم ایک نہ ایک ضرور ختم ہونگے اور کشمیری آزادی کا سانس لیں گے ۔ انشاء اللہ ۔

یورپی پارلیمان اورمقبوضہ کشمیر مےں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

گزشتہ ماہ مئی میں یورپی پارلیمان کے چند ارکان جن میں اکثریت بھارتی نژاد ممبران کی تھی نے وزیر اعظم عمران خان کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی بند نہ کی گئی، تو پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدے ختم کرنے کی سفارش کی جائے گی ۔ اراکین پارلیمنٹ نے اپنے خط میں من گھڑت الزام تراشی کرتے ہوئے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ۔ خط میں احمدیوں کے خلاف اِکا دُکا پرتشدد واقعات اور مسیحی خاتون ;200;سیہ بی بی کے حوالہ سے امتیازی قوانین کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے قوانین کی بدولت انتہا پسندوں کو بلا روک ٹوک مذہبی اقلیتوں پر حملے کرنے کی طاقت ملتی ہے ۔ یہ بھی الزام تراشی کی گئی کہ ان قوانین کے مسلسل غلط استعمال کے باوجود انہیں ختم کرنے کی کوشش نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست ان کے حق میں ہے ۔ مذکورہ خط میں جس طرح قیاس پر مبنی اور اِکا دُکا واقعہ کے تحت پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی گئی ہے وہ حقائق کے سراسر منافی اور بھارتی لابنگ کا کیا دھرا ہے ۔ اس پر اگلے کسی کالم میں تفصیل سے بات ہو گی، تاہم یورپی پارلیمان کے ان چند بھارتی نژاد اور بھارت نواز ارکان سے سوال ہے کہ جو کچھ مودی کے بھارت میں ہو رہا ہے یا کشمیر میں جو خون بہہ رہا ہے کبھی اس طرف بھی دھیان گیا ہے ۔ مقبوضہ وادی میں کیا ہو رہا ہے وہاں تو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں معمول ہےں ۔ ذراءع ابلاغ مےں آنےوالی خبریں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی وقتاً فوقتاً آنےوالی رپورٹس تصدیق کرتی ہےں لےکن بھارتی ہٹ دھرمی اور بین اقوامی برادری کی چشم پوشی کہ مودی اےک جانب ان انسانی حقوق کی ان پامالیوں سے انکار کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بار بار مطالبہ کرنے کے باوجود ان خلاف ورزیوں کی تحقیقات کےلئے کسی انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کو مقبوضہ وادی کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دےتا ۔ ابھی حال ہی کی بات ہے کہ اےمنسٹی انٹرنےشنل نے مقبوضہ وادی مےں اےک تقریب کے انعقاد کی اجازت مانگی تومودی حکومت نے حسبِ معمول اجازت دےنے سے انکار کردیا ۔ اےمنسٹی انٹر نےشنل مقبوضہ وادی مےں نافذکالے قانون ;808365;کے استعمال سے ہونےوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے جائزہ پر مبنی اےک رپورٹ جسکا عنوان;3484;yranny of a ;39;lawless law;3958; ;68;etention without charge or trial under the ;74;&;75; ;80;ublic ;83;afety ;65;ct;34; کو جاری کرنے کے سلسلے مےں سرینگر مےں اےک تقریب منعقد کرنا چاہتی تھی ۔ اس رپورٹ مےں 2010مےں ;808365; کے تحت گرفتار کئے گئے کشمیریوں کے2012سے 2018کے دوران چلائے جانےوالے مقدمات کے حقائق کو سامنے لایا گیا ہے ۔ ;808365; وہ ایکٹ ہے جسکے تحت مقبوضہ کشمیر مےں دو سال تک کسی بھی مشکوک فرد کوکوئی مقدمہ چلائے بغےر زےرِ حراست رکھا جاسکتا ہے حتی ٰکہ بچے بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں ۔ اےمنسٹی انٹر نےشنل کی مذکورہ رپورٹ مےں چالیس بیالیس سال سے نافذ العمل ;808365;کے کالے قانون کا تفصیلی جائزہ لیا گےا ہے کہ یہ کالا قانون کس طرح انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی وجہ بن رہا ہے ۔ اےمنسٹی انٹر نےشنل نے اسے فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کررکھا ہے ۔ مذکورہ رپورٹ بارے معلوم ہواہے کہ یہ زےر ِحراست افراد کے مقدمات سے متعلق انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کئی ثبوت فراہم کرتی ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ بالا رپورٹ مےں ;808365;کی دفعات لگا کر قائم کئے گئے اےسے71 مقدمات کاتفصیلی جائزہ لیاگےا ہے جن مےں کشمیریوں کو ;82;evolving-door detention کی پالیسی کا استعمال کرتے ہوئے کبھی اےک ہی مقدمے مےں بار بار ےا مختلف الزامات کے تحت الگ الگ مقدمات مےں گرفتارکیا جاتارہا ہے ۔ اس جائزہ سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ 90فیصد مقدمات مےں گرفتار افراد کواےک ہی الزام مےں پی ایس اے اور فوجداری مقدمات کا بےک وقت سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اےمنسٹی انٹر نےشنل کےلئے یہ تحقیقاتی رپورٹ تےار کرنےوالے ظہور وانی کا کہنا ہے کہ مقامی وکیلوں کےساتھ کی جانےوالی بات چیت سے معلوم ہوا ہے کہ ریاستی پولیس زےرِ حراست کشمیریوں کےخلاف ;808365;کی دفعات لگا کر مقدمات چلانے کو ترجیح دےتی ہے اوران کےخلاف فوجداری مقدمات کی حماےت نہیں کرتی کیونکہ فوجداری مقدمات مےں ملزم کےخلاف پےش کئے جانےوالے ثبوت کےلئے اعلیٰ اور بےن الاقوامی معےار کو ےقینی بنانا ضروری ہوتا ہے اور یہ بھی کہ فوجداری مقدمات مےں اس بات کو بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ ملزم اس وقت تک معصوم گردانا جاتا ہے جب تک کہ اسکا جرم ثابت نہ ہو جائے ۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ2018مےں ;808365; مےں کی گئی ترمیم کی وجہ سے زےرِ حراست افراد کو انکے گھروں سے دوردراز جےلوں مےں قےد کیا جاتا ہے جو انسانی حقوق کے عالمی معےار کی صریحاً خلاف ورزی ہے ۔ اسی طرح یہاں یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کشمیریوں کی غےر قانونی حراستوں کو تو منسوخ کرتی رہتی ہے لےکن اس کالے قانون کے تحت انتظامیہ اور بھارتی پولیس کو حاصل کھلی چھوٹ کے معاملے مےں کچھ نہیں کر پاتی ۔ اےمنسٹی انٹر نےشنل کی مذکورہ رپورٹ مےں مقبوضہ جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو کئی سفارشات بھی دی گئی ہےں اسے فوری منسوخ کرنے کے مطالبے کے علاوہ کہا گیا ہے کہ انتظامی حراست مےں لئے گئے تمام افراد کی جلد از جلد رہائی کو بھی ےقینی بناےا جائے،غیر قانونی زےرِ حراست افرادکے نقصانات کی مکمل تلافی کی جائے، دورانِ حراست ان پر کئے گئے غےر انسانی تشدد اور بدسلوکی کی فوری، شفاف اور آزاد تحقیقات کرائی جائے اورانسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنےوالوں کو قانون کے کٹہرے مےں لایا جائے ۔ رپورٹ کے آخر مےں کہا گےا ہے کہ مقبوضہ وادی کی انتظامیہ کوان تمام سفارشات پر عمل درآمد کرنے کےلئے ماضی سے باہر آنا ہو گا اور کشمیریوں پر یہ ثابت کرنا ہو گا کہ انکے بنیادی انسانی معنی رکھتے ہےں ۔ یورپی پالیمارن کے وہ ممبران جنہوں نے پاکستان کو مخاطب کیا ہے اگر ان کے ضمیرمردہ نہیں ہوگئے تو بھارت جا کر مسلمانوں اور دلتوں کی کسمپرسی کا جائزہ لیں کہ وہاں انسانی جان کی حرمت کے مقابلے میں ایک گائے کی حرمت کس طرح زیادہ ہے ۔ اگر یقین نہیں آتا تو وہاں جا کر کسی آوارہ پھرتی گائے کو ذبح کرنے کی بات کر کے دیکھیں ،پھر دیکھیں کہ کس طرح ہندوانتہا پسند ان کی جان کو آتے ہیں ۔

چیف جسٹس آف پاکستان کا جوڈیشل اکیڈمی میں فکر انگیز خطاب

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے موجودہ سیاسی حالات کے بارے میں سوفیصد صحیح عکس پیش کیا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان کو بولنے ہی نہیں دیا جاتا تاہم اچھی خبریں صرف عدلیہ سے آرہی ہیں ، معیشت آئی سی یو سے باہر آئی یا نہیں لیکن صورتحال خراب ہے ۔ یہ بات بالکل درست ہے، قومی اسمبلی ، سینیٹ، پنجاب اسمبلی، سندھ اسمبلی ان میں تو بالکل سیاسی انارکی پھیلی ہوئی ہے، ایک دوسرے پر فقرہ بازی، تندوتیز طعنوں کے نشتر اور ذاتیات پر بیانات داغے جاتے ہیں ، عوام بھی انگشت بدانداں ہے کہ یہ آخر ہو کیا رہا ہے، انہی حالات کو دیکھتے ہوئے جب گزشتہ روز جوڈیشل اکیڈمی میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں چیف جسٹس آف پاکستان نے ماڈل کورٹس کے ججوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ دیکھیں تو ڈپریشن،چینل بدل کر کر کٹ لگائیں تو مایوسی،معیشت کی خبریں بھی مایوس کن اور عالمی سطح پر بھی بری خبریں مل رہیں ،ملک میں عدلیہ کے سوا کوئی اچھی خبر نہیں ہے،پارلیمنٹ کی کارروائی دیکھتے ہیں تو اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان کو بولنے نہیں دیا جاتا،معیشت کا سنتے ہیں وہ آئی سی یو میں ہے، اچھی خبریں نظر نہیں آرہی ہیں ، عوام کو سستا اور تیز رفتار انصاف فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے، فوجداری ماڈل کورٹس نے 48 دنوں میں 5800 مقدمات کے فیصلے کئے، اب سول، فیملی، خواتین، بچوں ، کرایہ اور مجسٹریٹ کی ماڈل عدالتیں بنا رہے ہیں ،قتل اور منشیات کے مقدمات کے جلد از جلد فیصلے کرنے کیلئے ماڈل کریمنل کورٹس کی کارکردگی ناقابلِ یقین ہے، اب مقدمات کا التوا اور جھوٹی گواہی کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جائیگا ،مجھے ماڈل عدالتوں کے لئے سرگرم اور فعال ججوں کی ضرورت ہے،ان عدالتوں میں مجھے ملک بھر سے ایسے چیتے (جج)چاہئیں جوکہ مقدمات کو جلد از جلد نمٹا سکیں ، آئین کے آرٹیکل 37ڈی کے تحت عوام کو سستا اور تیز رفتار انصاف فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے ، سپریم کورٹ میں اس وقت 2019کی 100 کے قریب اپیلیں ہی زیر التوا ہیں ، اور وہ دن زیادہ دور نہیں جب یہاں پر ایک فوجداری اپیل بھی زیر التوا نہیں ہوگی ،اور وکیل سوچیں گے کہ اب کیا کریں ;238; جبکہ جج بھی انتظار کریں گے کہ کب کوئی اپیل آئے اور وہ زنجیر عدل کو ہلائیں ۔ نظام انصاف میں فوجداری اور سول مقدمات کی صورت میں دو اہم شعبے ہیں ،سول مقدمات میں فریقین اپنے گھروں میں اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ ہوتے ہیں جبکہ فوجداری مقدمات میں ملوث ملزم سالہا سال تک جیل میں بند رہتا ہے اور کوئی اسکے بیوی بچوں کا نہیں سوچتا اور وہ بیچارے جرم نہ کرنے کے باوجود ملزم کے ساتھ ساتھ سزا بھگت رہے ہوتے ہیں ،غربت جرائم کا سبب بنتی ہے ،جب گھر کا کفیل کوئی جرم کرکے جیل میں بند ہو تو اسکی اہلیہ کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہوتا ہے اور عام طور پر وہ ان پڑھ ہوتی ہیں اسلئے ان عورتوں کو لوگوں کے گھروں میں کام کاج پر لگا دیا جاتا ہے اور اس دوران انہیں بدسلوکی اورتشدد تک کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ اس سے بھی آگے بعض اوقات جسم فروشی جیسے قبیح دھندے پر لگا دیا جاتا ہے ،ایسے ماحول میں بڑے ہونے والے بچے بھی بعد میں جرائم پیشہ انسان ہی بن سکتے ہیں ۔ اس لئے نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے اجلاس میں سب سے پہلے فوجداری مقدمات کے نظام کو ٹھیک کرنے کا فیصلہ کیا ۔ سب سے پہلے پنجاب میں ماڈل کورٹس کا تجربہ کیا گیا ،جس کے بعد ان کا دائرہ کار پورے ملک تک پھیلا دیا گیاہے ،اس وقت ملک کے 6اضلاع میں قتل اور منشیات کے زیر التواء مقدمات صفر پر آگئے ہیں جبکہ آئندہ ماہ تک مزید 10اضلاع میں بھی نمٹا دیئے جائینگے اور بتدریج ملک بھر سے ہی انہیں نمٹا دیا جائیگا ، اسکے بعد ان عدالتوں کا دائرہ کار دیگر مقدمات تک پھیلا دیا جائیگا ۔ تقریب کے آغاز سے قبل جب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ جوڈیشل اکیڈمی آئے تو اس موقع پر ان کی پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی سے ملاقات ہوئی ۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے ایس کے نیازی کی خیریت دریافت کی ۔ ایس کے نیازی نے چیف جسٹس کی جانب سے فوری اور سستے انصاف کیلئے اقدامات کی تعریف کی ۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ یہ سب کچھ ایس کے نیازی کی مدد اور تعاون سے ممکن ہوا ۔ ایس کے نیازی کا کہنا تھا کہ ماڈل کورٹس کا قیام چیف جسٹس کا بہترین کارنامہ ہے،چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ نیازی صاحب یہ سب آپ کی دعاءوں کا نتیجہ ہے، اس موقع پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایس کے نیازی کو جوڈیشل اکیڈمی میں ماڈل کورٹس کے ججز کے ہمراہ وہ گروپ فوٹو بھی دکھایا جس میں ایس کے نیازی بھی موجود تھے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہاکہ نیازی صاحب اور عدلیہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے، ملاقات کے دوران چیف جسٹس نے ایس کے نیازی کو تفصیلی ملاقات کی دعوت دی ۔

آخر کار حکومت اپوزیشن میں معاملات طے پاگئے

قومی اسمبلی میں آخر کار حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ابتدائی طورپر معاملات طے پا گئے اور اپوزیشن لیڈر کو تقریر کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ۔ شہباز شریف نے تقریر کرتے ہوئے وفاقی بجٹ کو مسترد کرکے حکومت کو میثاق معیشت کرنے کی پیشکش کی اور انہوں نے کہاکہ اس میں اسپیکر قومی اسمبلی اہم کردارادا کرسکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں اسپیکر قومی اسمبلی نے بھی مثبت جواب کا اظہار کیا ۔ شہباز شریف نے کہاکہ بجٹ میں ترمیم نہ کی گئی تو حکومت کو نہیں چلنے دیں گے، چاہے ساری اپوزیشن کو گرفتار کرلیا جائے ، بجٹ کی ڈٹ کر مخالفت کریں گے ۔ ملک کو معاشی جہنم بنا دیا گیا ہے ۔ قرضوں کا حساب دینے کیلئے تیار ہیں ، ادھر حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر برائے توانائی نے شہباز شریف کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ ن لیگ کی پانچ سالہ حکومت میں نوٹ چھاپنے میں 101فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ سے آج مہنگائی قابو سے باہر ہے ۔ ادھر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزارت قانون کی رائے کے بعد پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کردئیے ہیں ۔ پروڈکشن آرڈر ایڈیشنل سیکرٹری محمد مشتاق کے دستخطوں سے جاری کیے گئے ۔ واضح رہے کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ دونوں پارٹیوں کی جانب سے اپنے اپنے رہنماءوں کے پروڈکشن آرڈرجاری کرنے کا مطالبہ تھا اور اسی ضمن میں پیپلزپارٹی کئی روز سے سپیکر چیمبر کے سامنے دھرنے بھی دے رہی تھی ۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے خورشید شاہ کو فون کرکے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے فیصلے بارے آگاہ کیا ۔ آصف علی زرداری اجلاس میں بھی شریک ہوئے ۔ آصف علی زرداری کو اسلام آباد نیب سے پارلیمنٹ ہاءوس لایا گیا ۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدام قابل ستائش ہے کہ کم ازکم ایوان میں انارکی تو نہیں پھیلے گی ایسے میں پروڈکشن آرڈر کے تحت لائے جانے والے ممبران اور حکومتی ممبران کو بھی چاہیے کہ وہ مفاہمتی پالیسی اختیار کریں نہ کہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالیں ۔ تنقید برائے تنقید نہیں جمہوریت کا حسن تنقید برائے تعمیر ہوتا ہے ۔ ایوان کا تقدس برقرار رکھنا اپوزیشن حکومت دونوں کا فرض ہے تاہم اس میں حکومت پر زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کیونکہ وہ اقتدار کی کرسی پر براجماں ہوتی ہے اپوزیشن کا کام تو تنقید کرنا ہی ہوتا ہے اور یہی جمہوریت کا حسن ہے ۔

افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی ضروری

پاکستان میں پناہ حاصل کرنے والے افغان مہاجرین کی زیادہ تعداد 1979 میں سوویت یونین کے حملے کے بعد آئی جبکہ 9;47;11 کے امریکی حملے کے بعد بھی افغان مہاجرین پناہ کی تلاش میں پاکستان میں داخل ہوئے ۔ عالمی ادارہ برائے مہاجرت نے ایک اعشاریہ چار ملین افغان مہاجرین کی پاکستان سے ملک واپسی کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے ۔ یو این ایچ سی آر اور افغان کمشنریٹ کے اعداد وشمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں ڈیڑھ ملین رجسٹرڈ اور ایک ملین سے زائد غیر قانونی افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں ۔ ان کی باعزت اپنے وطن واپسی کےلئے 30 جون 2019 آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے ۔ اس سے قبل بھی بہت دفعہ افغان مہاجرین کو وطن واپس بھیجنے کےلئے ڈیڈ لائن دی گئی مگر اس پربہت سی وجوہات کی بنا پر عمل درآمد نہ ہو سکا ۔ مگر اب کہا جا رہا ہے کہ آٹھویں بار ڈیڈ لائن پر سختی سے عمل ہوگا ۔ پاکستان نے چالیس سال تک اپنے افغان بھائیوں کی بہترین میزبانی کی ۔ اسی لئے یو این ایچ سی آراور اقوام متحدہ نے چالیس برس تک افغان مہاجرین کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ۔ اب تک 43لاکھ افغان مہاجرین پاکستان سے افغانستان جا چکے ہیں جس کی واپسی رضا کارانہ طور پر ہو ئی ۔ اصل میں یہ افغانستان کا فرض ہے کہ واپس آنے والے افغانیوں کو تحفظ فراہم کرے ۔ ایسا سازگار ماحول دے جس میں ان کی واپسی اور اپنے گھروں میں بسنے کا عمل سکون سے طے پا سکے ۔ اس سلسلے میں پاکستان، ایران ، افغانستان اور اقوام متحدہ مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کی ڈیڈ لائن پر سختی سے قائم رہنے کا اعادہ بھی کیا گیا ۔ مناسب ماحول میں مہاجرین اپنے ملک میں رہائش کے ساتھ ساتھ دیگر مشاغل ، روزگار سے بھی بھرپور لطف اندوز ہو سکتے ہیں ۔ بین الاقوامی برادری رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے افغان مہاجرین کو مالی امداد فراہم کررہی ہے مگر مہاجرین کےلئے کیش ادائیگی کم ہو رہی ہے ۔ خیبرپختونخوا حکومت نے افغان مہاجرین کے پاکستان میں مزید قیام کی مخالفت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے سفارش کی کہ افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کی ڈیڈ لائن 30 جون کو ختم ہورہی ہے اس میں مزید توسیع نہ کی جائے اور ان کی وطن واپسی کے انتظامات مکمل کرے ۔ اب وقت آگیا ہے وہ واپس افغانستان چلے جائیں ۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو رہنے کیلئے جگہ دی ان کے ساتھ پاکستان میں بھائیوں جیسا سلوک کیا گیا ۔ وزیر مملکت برائے سیفران شہریار خان آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے کہ افغان مہاجرین کو باعزت وطن واپس بھیجا جائے ۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پیغام بھیجا ہے کہ میرا مقصد تب تک پورا نہیں ہوتا جب تک افغان مہاجرین وطن واپس نہیں آتے ۔ افغان وزیر برائے مہاجرین سید حسین علمی بلخی نے کہا کہ چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کی خدمت کرنے پر پاکستانی عوام اور حکومت کے شکر گذار ہیں ۔ پاکستان اور ایران سے افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی جلد ہوگی ۔ یہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ رضاکارانہ طور پر افغانستان جانیوالے چار لاکھ افغانوں میں سے ایک لاکھ سے زیادہ واپس آ گئے ہیں کیونکہ وہاں کے حالات ایسے نہیں کہ کوئی کاروبار کیا جاسکے ۔ افغان حکومت اور بین الاقوامی ادارے واپس جانے والے افغان باشندوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ناکام رہے ہیں ۔ پشاور میں تعینات افغان قونصل جنرل پروفیسر معین مرستیال کا کہنا تھا کہ صدر اشرف غنی نے پاکستان سے جانے والے افغان باشندوں کی آباد کاری اور بحالی کیلئے گھر ،پانی ،صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بارے میں جامع منصوبہ تیار کیا تھا لیکن بدامنی کی وجہ سے اس منصوبے پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ۔ اب حکومت نے تجویز دی ہے کہ واپس جانیوالوں کو پہلے مرحلے میں زمین دی جائے اور دوست ممالک سے انہیں گھر بنانے میں تعاون کے لیے کہا جائےگا ۔ ایک بار انہیں سر چھپانے کیلئے جگہ مل جائے تو دیگر سہولیات کی فراہمی آسان ہوگی ۔ پاکستان اور با الخصوص خیبر پختونخوا میں قیام پذیر زیادہ تر افغان باشندے تجارت کے پیشے سے وابستہ ہیں جنہوں نے یہاں بھاری سرمایہ کاری کی ہوئی ہے ۔ پشاور کے مصروف ترین تجارتی مرکز کارخانوں مارکیٹ میں تاجروں کی اکثریت کا تعلق افغانستان سے ہے ۔ مہاجرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن ہو تو ایک دن یہاں نہیں رہیں گے ۔ کاروبار وہاں شفٹ کیا تھا لیکن بدامنی میں اضافے کی و جہ سے وہاں رہنا مشکل ہے تو پھر کاروبار کیسے کریں گے ۔ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے جون میں ختم ہونے کے فیصلے کے پیش نظر ان کی ڈیڈ لائن میں مزید توسیع نہ کرنے کےلئے بھی چاروں صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لیا جارہا ہے ۔ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کی ڈیڈلائن میں مزید توسیع نہ ہونے پر صوبائی حکومتوں سے بھی مشاورت شروع کر دی ہے ۔ چاروں صوبائی حکومتوں نے پہلے بھی توسیع کی مخالفت کی تھی کیونکہ دہشت گردی کے بعض واقعات میں افغان مہاجرین ملوث پائے گئے ہیں ۔

کےا واقعی بجٹ عوام دوست ہے ۔ ۔ ۔?

موضوع تو کوئی اور سوچ رکھا تھا لےکن پچھلے دنوں دو احباب ملک عدم کو سدھارگئے ۔ دل آزردہ اور طبیعت افسردہ رہی اسی کارن کالم وقفے کی نذر ہوئے ۔ باب علم حضرت علی ;230; کا فرمان اےک بار پھر اپنی پوری سچائےوں سے منطبق ہوا کہ’’ مےں نے اپنے خدا کو ارادوں کے ٹوٹ جانے اور نےتوں کے بدل جانے سے پہچانا‘‘ ۔ پاک بھارت کرکٹ مےچ کی اجتماعی نظارگی کا نتےجہ بھی ماےوسی اور دل گرفتگی کا باعث بنا ۔ لڑ کر ہارتے تو ہار مےں بھی عزت ہوتی اور ےوں شرمندگی و خفت کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ اسی دوران وطن عزےز مےں بجٹ کا نزول ہوا جس نے قلم اٹھانے پر اکساےا ۔ بجٹ سال مےں اےک بار آتا ہے لےکن سارا سال وقفے وقفے سے منی بجٹوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے ۔ جس طرح سر منڈوانے سے اولے پڑنے کے خطرات بڑھ جاتے ہےں اسی طرح بجٹ آ جائے تو مہنگائی کی ژالہ باری ہونے کے اندےشہ ہائے گوناگوں مےں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ اس بار بجٹ کی آمد سے اشےائے خوردونوش کی قےمتوں مےں اضافے کا جو طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے اس پر قابو پانا محال دکھتا ہے ۔ ےوں تو ہمارے ملک مےں مہنگائی کے جھکڑ اور گرانی کے طوفان ہر وقت چلتے رہتے ہےں لےکن اس بجٹ نے ہماری روز مرہ کے اقتصادی معاملات کو تہہ و بالا ہی نہےں بلکہ تہس نہس کر کے رکھ دےا ہے ۔ ہر بجٹ کے اعلان پر عوام کی آنکھوں اور دل و دماغ مےں امےد کے دیے کی جو موہوم سی لو ٹمٹمانے لگتی ہے وہ مہنگائی کے طوفان کے سامنے چراغ سحری کی طرح بجھ جاتی ہے ۔ ہمےں تو بجٹ مےں عوامی مسائل کا حل نظر آتا ہے اور نہ پاکستان کی تقدےر بدلنے کی کوئی امےد جو اپنی کرن سے ہماری کم فہمی کی تارےکی روشنانے مےں کامےاب ہوتی نظر آ ئے ۔ کروڑوں چولہے ٹھنڈے پڑ گئے تو کےا غم ۔ آئیے ناظرےن موجودہ حکومت کی طرف سے پےش کئے گئے بجٹ کا طائرانہ جائزہ لےتے ہےں جس کے سبب عوام کے تبدےلی سرکار کی طرف سے لگائے گئے امےدوں کے محل شکست و رےخت کا شکار ہےں ۔ 7306ارب روپے کے وفاقی بجٹ مےں 3151ارب روپے کاخسارہ ظاہر کےا گےا ہے ۔ آمدنی کا تخمےنہ 6716ارب روپے ہے ۔ جاری اخراجات 6192ارب روپے ہوں گے ۔ ٹےکس رےونےو کا ہدف 5555ارب روپے رکھا گےا ہے ۔ اس رےونےو مےں سے 3255ارب روپے ساتوےں اےن اےف سی اےوراڈ کے تحت صوبوں کو دیے جائےں گے ۔ بجٹ مےں 1120ارب روپے کے نئے ٹےکس لگائے گئے ہےں ۔ نئے بجٹ مےں کھانے پےنے کی اشےاء مہنگی کر دی گئی ہےں جس مےں چےنی ،گھی،خوردنی تےل ،گوشت ،خشک دودھ ،پنےر ،کرےم، منرل واٹر ، مشروبات ،سےمنٹ ،سگرےٹ ،گاڑےاں ، زےورات، فلےورڈ جوسز، سی اےن جی ، سکوائشز، چمڑے کی اشےاء،قالےن،کھےلوں کا سامان ، آلات جراحی، سٹےل راڈ اور بلٹ شامل ہےں ۔ سنگ مر مر کی صنعت ،مرغی ،مٹن ،بےف اور مچھلی کی سےمی پراسےسڈاور پکی ہوئی اشےاء پر 17فےصد سےلز ٹےکس لگانے کی تجوےز ہے ۔ تنخواہوں اور پنشن مےں اضافہ ہو گا ،تنخواہ دار طبقے کےلئے ٹےکس کی چھوٹ 12لاکھ روپے سالانہ سے کم کر کے 6لاکھ سالانہ کر دی گئی ہے ۔ 50ہزار روپے ماہوار سے زےادہ تنخواہ پر ٹےکس لگے گا ۔ اےک طرف حکومت کفاےت شعاری کی پالےسی کو شعار بنانے کا دعویٰ کرتی ہے ،دوسری طرف موجودہ پارلےمانی سےکر ٹرےوں کی تعداد سے زائد کےلئے بجٹ تجوےز کر دےا گےا ہے ۔ اس وقت پارلےمانی سےکرٹرےوں کی تعداد 23ہے جبکہ 42کےلئے بجٹ تجوےز کےا گےا ہے اور ان کی تنخواہوں مےں 19فےصد اضافے کی تجوےز دی گئی ہے ۔ ےہ تحرےک انصاف کا کےسا انصاف ہے کہ اےک جانب کفاےت شعاری کا درس دے کر اپنے صدر اور وزےر اعظم ہاءوس کا پچھلا خرچہ 98کروڑ سے زےادہ کر ڈالا اور آئندہ کے بجٹ مےں مزےد اضافہ بھی کر لےا ۔ ڈےم فنڈ مےں کمی کر کے حکومت نے اپنی ہی ترجےحات کو غلط ثابت کر دےا ۔ صحت اور تعلےم کے بجٹ مےں کمی کر دی گئی ہے ۔ تعلےمی بجٹ 97ارب روپے سے کم کر کے 77ارب روپے اور صحت کا 13ارب روپے سے کم کر کے 11ارب روپے کر دےا گےا ہے ۔ اس کمی کے ساتھ ساتھ ڈالر کے مقابلے مےں روپے کی قدر مےں کمی کے تناظر مےں دےکھا جائے تو ےہ رقم مزےد کم ہو جاتی ہے ۔ حکومتی وزراء کہہ رہے ہےں کہ بجٹ غرےب دوست ہے ، کوئی ان سے پوچھے کہ جب چےنی ،خوردنی تےل ، آٹا اور گھی مہنگے ہوں گے تو کون سا غرےب ہے جو ان سے متاثر نہےں ہو گا ;238; گھرےلو ،کمرشل اور صنعتی صارفےن کےلئے گےس پر اےکسائز ڈےوٹی مےں اضافہ کےا گےا ہے ،جس کے نتےجے مےں کمرشل اور صنعتی اشےاء کی پےداواری لاگت مےں اضافے کا بوجھ بھی بالآخر صارفےن پر ہی منتقل ہو گا ۔ وہ امےر اور غرےب سبھی خرےدےں گے ۔ سےمنٹ کی بوری25روپے مہنگی ہونے سے ہر طبقہ متاثر ہو گا ۔ ملک کے کروڑوں غرےب عوام جو بجلی ،گےس اور پٹرولےم مصنوعات کی آئے روز بڑھتی ہوئی قےمتوں کے بوجھ تلے پہلے ہی دبے ہوئے تھے حکومت نے ان پر اربوں کے نئے ٹےکسوں کا نفاذ کر کے انہےں مزےد غربت کے پاتال مےں اتار دےا ہے ۔ تنخواہ دار طبقے کو رواں برس جو رےلےف مےسر رہا وہ بھی واپس لے لےا گےا ہے اور اب 5oہزار روپے ماہوار آمدنی بھی ٹےکس کی زد مےں آئے گی جبکہ اتنے پےسے کمانے والے تو پہلے ہی بچوں کی فےسےں تک ادا نہےں کر سکتے ۔ گےس اور بجلی کے بھاری بلوں کی ادائےگی کے بعد وہ بمشکل کھانے پےنے کی اشےاء خرےد سکتے ہےں ۔ تنخواہ دار طبقے کی تنخواہوں مےں اضافہ تو اےسے دکھائی دےتا ہے جےسے اےک ہاتھ سے لےنے اور دوسرے ہاتھ سے واپس دےنے کا طرےقہ وضع کےا گےا ہے ۔ اس تنخواہ دار طبقے کو اےسے خوبصورت طرےقے سے زہر کی گولی دی گئی ہے کہ وہ نہ رو سکتے ہےں نہ ہنس سکتے ہےں ۔ اےک طرف ان کی تنخواہو ں مےں اونٹ کے منہ مےں زےرے کے مترادف معمولی اضافہ کےا گےا ہے تو دوسری طرف ان پر انکم ٹےکس مےں غےر معمولی اضافہ کر کے عملی طور پر ان کی تنخواہوں مےں کمی کر دی گئی ہے اس پر اےک واقعہ ےاد آ رہا ہے ۔ واقعہ کی تفصےل کچھ ےوں ہے کہ اےک روز راقم کے اےک ملنے والے اپنی ڈےوٹی آف کر کے اپنے گھر جا رہے تھے ۔ وہ وےگن کی سب سے پچھلی سےٹ ،جس پر تےن آدمی بمشکل بےٹھتے ہےں ،پر چوتھی سواری کے طور پر ٹھنسے ہوئے تھے ۔ کنڈےکٹر نے کراےہ طلب کےا تو انہوں نے کہا کہ ساتھی مسافروں مےں سے کوئی اٹھتا ہے تو وہ کراےہ دے دےں گے کےونکہ ان کا پرس انڈر گراءونڈ ےعنی شلوار کی جےب مےں ہے تھوڑی دےر کے بعد ساتھ بےٹھی چار سوارےوں مےں سے اےک نےچے اتر گئی تو انہوں نے اپنا پرس نکالنے کےلئے جےب مےں ہاتھ ڈالا ،انہےں پرس تو مل گےا لےکن انہوں نے دےکھا کہ جےب کٹی ہوئی ہے ۔ پرس کھولا تو اس مےں سب کچھ موجود تھا لےکن پےسے نہےں تھے ۔ ہوا ےہ تھا کہ جےب تراش نے ان کی جےب کاٹ کے اس مےں سے پرس نکالا اور پرس مےں پڑی رقم اپنے قبضے مےں کرنے کے بعد خالی پرس واپس ان کی جےب مےں رکھنے کی دےدہ دلےری بھی کی تھی ۔ راقم جب بھی بجٹ مےں کئے گئے وعدوں ،عوام کو دیے گئے دلاسوں اور روشن مستقبل کی باتےں سنتا ہے تو مجھے ےہ واقعہ ےاد آ جاتا ہے ۔ حکومتےں ہر سال بجٹ مےں لوگوں کو رےلےف دےنے کے اعلان کرتی ہےں لےکن عوام کو دی گئی رےلےف کے ساتھ ساتھ مختلف حےلوں بہانوں سے ان کی جےبوں سے کچھ اور رقم بھی اتنی صفائی سے اڑا لے جاتی ہےں جتنی صفائی سے اس جےب تراش نے جےب کاٹی تھی ۔ بجٹ دراصل گونگے بلکہ بے جان ہندسوں کی شمار کاری کا نام نہےں ےہ ہندسوں کے ہاتھوں سے قوم کے مسائل کی گرہ کھولنے کی تدبےر کا نام ہے ۔ عوام زندگی کی نبض جاری رکھنے کے حسرت زدہ بجٹ کے ڈھےر مےں سے مسائل کے حل نہےں مشکلات کے سنگرےزے ہی دامن مےں ڈالےں گے ۔ ہم اےسے روشن خےال قصےدے کو کےا کرےں جو ہماری بھوک مٹاسکے نہ پےاس بجھا سکے ۔ ماضی کی طرح اس بار بھی بجٹ کہانی دہرائی گئی ۔ اس کہانی کو بشمول امےر،غرےب سب نے سنا ۔ کچھ لوگ اس سے محظوظ ہوئے ہوں گے لےکن اکثرےت کے منہ لٹک گئے ۔

کشمیر اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ(1)

خطہ جنت نظیر کشمیر کے مسلمانوں پر بھارتی سفاک اوروحشی فوج مظالم کے پہاڑ توڑے رہی ہے ۔ کیا کیا جائے، اس وحشت بھری ہندو قوم پرستی کے جن نے، انسانیت کے مصنوعی روپ میں شیطان کا کردار ادا کرنے کی ٹھان لی ہے ۔ اسی قومیت کومحسنِ انسانیت پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علی و سلم نے اپنے آخری خطبہ حجۃ الودع میں یہ کہہ کر اپنے پیروں تلے روند دیا تھا کہ کالے کو گورے پر، عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں ۔ انسانیت کی برتری تو صرف تقویٰ کی بنیاد پر ۔ کوئی بھی غیر مذہب کا پیرو مسلمان ہو کر برابر کا حق دار بن سکتا ہے ۔ قرآن کے مطابق قو میں تو صرف اور صرف پہچان کے لیے ہیں ۔ مسلمانوں نے جب تک ان الٰہی تعلیمات پر عمل کیا تو عرب کے چرواہوں کو اللہ نے دنیا کی مہذب ترین قوم بنا دیا ۔ دنیا کی ساری قو میں ان کے طریق ِزندگی پر عمل کرنا شروع کر دیا ۔ اپنے رہن سہن تہذیب تمدن اور معاشرت میں مسلمانوں کی مثالیں دی جاتی تھیں ۔ فتوحا ت کی بات کی جائے توبنو امیہ کے دورخلافت کے ۹۹ سال کے اندر اندر دنیا کے اُس وقت کے معلوم چار براعظموں کے غالب حصہ پر مسلمانوں نے اپنی سلطنتیں قائم کر دیں تھیں ۔ اگر بھارت کی وحشت بھری قوم پرستی کی بات کی جائے، تو سفاکیت کا مظاہرہ کرنے والے کوئی اور نہیں ۔ کشمیری مسلمانوں کے ہم وطن ہیں ۔ جن کی مسلمانوں سے ہزاروں سالوں کی شناسائی ہے ۔ جن پر خود مسلمانوں نے ایک ہزار سال سے زائد مدت تک حکمرانی کی تھی ۔ وہ اکثریت میں تھے اورمسلمان اقلیت میں تھے ۔ مگر اسلام کے بتائے ہوئے طرز حکمرانی پر عمل کرتے ہوئے مسلمان بادشاہوں نے اکثریت کو مطمئن کررکھا تھا ۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا میں اتنی طویل مدت تک کسی بھی قوم نے حکمرانی نہیں کی ۔ کیا انگریز اپنے کم تر نظام ِ حکومت اور عوام پر مظالم کی انتہا کی وجہ سے ہندوستان پر صرف دو سو سال حکمرانی کرنے کے بعد ملک ِ ہندوستان نہیں چھوڑ گئے تھے;238;کیا انگریز کے دور میں ہوٹوں کے بورڈوں اورپارکوں کے دروازوں یہ الفاظ نہیں لکھے ہوتے تھے کہ اس میں صرف انگریز داخل ہو سکتے ۔ کسی کتے( ہندستانی) کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ۔ کیا فرانس کے باشاہ نے حکم نامہ نہیں جاری کیا تھا کہ موروں (مسلمانوں ) کو قتل کرو اور ہنددءوں کو حکومت میں ملازم رکھو ۔ کیا مسلمانوں کی طرف سے لڑی گئی ۷۵۸۱ ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کو توپوں کے سامنے باندھ کر اُڑا نہیں دیا گیا تھا;238;مسلمانوں کی جائیدادیں ضبط نہیں کی گئیں ;238; کالے پانی کی سزائیں نہیں دی گئیں ;238; یہ ہی وجوہات تھیں کہ عوام میں انگریزوں سے نفرت پیدا ہوئی اور بلا آخروہ ہندوستان سے بھاگ گئے ۔ اس کے برعکس مسلمانوں نے ہنددءوں کو آزادیاں اور بنیادی انسانی حقوق دیے ۔ اسی وجہ سے مسلمانوں نے ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک ہندوستان پر حکمرانی کی ۔ بلکہ ہندو مسلمانوں سے نفرت کرنے کے بجائے کروڑوں کی تعداد میں ہندو مہذب چھوڑ کر مسلمان ہو گئے ۔ ہم نے مودی سرکار کو اپنے ایک کالم میں مشورہ دیا تھا کہ مسلمانوں پر مظالم بندکروورنہ تمہاری حکومت ختم ہو جائی گی ۔ اوراللہ کے قانون کے مطابق کوئی عادل حکمران آجائے گا ۔ کالم کا عنوان تھا’’ مودی ہم نے تم پر ایک ہزار حکمرانی کی، تم سو سال تو پورے کرو‘‘ ۔ کیا بھارت کے قوم پرست حکمران بھارت میں اتنے زیادہ مظالم کے بعد دیر تک حکمرانی کر سکتے ہیں ;238;کیا وہاں بھارت میں مسلمانوں پران مظالم کی وجہ سے ایک اور پاکستان بننے کی زمین ہموار نہیں ہو رہی;238;َتاریخ کاتو ہی سبق ہے کہ کفر کی حکمرانی تو چل سکتی ہے ظلم کی حکمرانی نہیں چل سکتی ۔ اس فارمولے کے تحت بھارتی حکمران بھارت کو ہندو ریاست بنا کر تو حکومت کر سکتے ہیں ۔ یہ ہندو قوم کا حق ہے کہ اپنے مذہب کو اپنے ملک میں راءج کرے ۔ مگر بھارت کے قوم پرست حکمرانوں کو یہ بات پلے باندھ لینی چاہیے کہ وہ بھارت کے مسلمانوں کی قیمت پر حکومت بل لکل نہیں کر سکتے;238; یہ تاریخ کا سبق ہے اگر بھارت کے قوم پرست حکمران اسے پڑھ لیں تو ان کے لئے اچھا ہوتا ۔ اور ایک خاص بات بھی عرض کر دو کہ بھارت اور پاکستان کے مسلمانوں کو جس وقت بھی اپنا بھولا ہوا سبق یاد آگیا ۔ تو بھارت کے مظالم کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے ۔ پھر بھارت کیا بھارت کے حمایتی بھی مسلمانوں کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں گے ۔ وہ سبق جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔ بھارت کیا، دنیا کا جابر سے جابر ظالم بھی مسلمانوں کے سامنے نہیں ٹھہر سکے گا ۔ مسلمانوں کے دور حکومت کی یہ خوبی تھی کہ مسلمانوں نے اکثریت کے دھرم یعنی ہندو مذہب کوبل لکل نہیں چھیڑا گیا ۔ ہندوءوں کو اپنے مذہب عمل کرنے کی مکمل اجازت تھی ۔ انسانی حقوق میں مسلمان اور ہندو برابر تھے ۔ مغل مسلمان بادشا ہ بابر نے اپنے بیٹے ہمایوں کو نصیحت کی تھی کہ ہنددءوں کے مذہب کا ا حترام کرنا ۔ اسی مغل بادشاہ بابر کی بنائی ہوئی، بابری مسجد کو انتہاپسند ہندوءوں نے حکمرانوں کی آشیر آباد پر صفحہ ہستی سے مٹا دیا ۔ اب عدل جہانگیر راءج کرنے والے مغل بادشاہ کے بنائے ہوئے، دنیا کے آٹھویں عجوبہ، تاج محل آگرہ کو مسمار کرنے کی مہم چلائے ہوئے ہیں ۔ ہمایوں کے بیٹے مغل اعظم اکبر نے ہندوءوں کو حقوق سے کچھ زیادہ ہی دیاتھا ۔ شیر شاہ سوری نے جرنیلی روڈ پر ہندو اور مسلمان سرائیں تک علیحدہ علیحدہ بنائیں تھی ۔ اورنگ زیب عالم گیر ;231; عوام کے خزانے سے خرچہ لینے کی بجائے ٹوپیاں سی کر اپنا خرچ چلاتا تھا ۔ ہندوستان سارے مسلمان بادشاہوں نے ہندوءوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا ۔ اسلام امن اور شانتی کا دین ہے ۔ اس میں کسی کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا جا سکتا ۔ مسلمانوں نے ہندوستان میں کہیں بھی مندر کو توڑ کر مسجد یں نہیں بنائیں ۔ یہ بھارتی سیاستدانوں کے چھوڑے ہوئے شوشے ہیں ۔ ہندوءوں کو مسلمانوں کے خلاف اُکسا کر ووٹ حاصل کرنے کے حربے ہیں ۔ یہ مسلمان بزرگانِ دین تھے کہ جنہوں نے اسلام کے پر امن اور شانتی والے مذہب کی اپنے خانقاءوں میں بیٹھ کر تبلیغ کی اور کروڑوں ہندو مسلمان ہو گئے ۔ مسلمان حکمرانوں نے ہندوءوں کے مقامی راجاءوں کو بھی عوام پر مظالم سے روکے رکھا ۔ ہندو راجاءوں کو صرف سیاسی غلبہ کے بعد مکمل مذہبی آزادی تھی ۔ اسی لیے وہ اپنے ہندو عوام کو مسلمان بادشاہوں کی اطاعت پر راضی کرتے رہے ۔ اس کے برعکس بھارت میں مسلمانوں کو کہا جاتا ہے کہ واپس شدھی ہو جاءو ورنہ پاکستان چلے جاءو ۔ مسلمان کو پاکستان کا ایجنٹ کہا جاتا ہے ۔ گائے کا گوشت کھانے کے شک میں بے دردی سے شہید کر دیا جاتا ہے ۔ کہا جاتا کہ مسلمان ہندو ءوں کی طرح اپنے مردوں کو جلائیں ۔ بھارت میں مسلمانوں کے لیے قبرستانوں کی جگہ نہیں ۔ اذان پر پابندی لگائی جاتی ہے ۔ کشمیر میں جمعہ کی نماز پر ہوتی ہے ۔ مزاروں کو آگ لگا دی جاتی ہے ۔ مسلمان کو باندھ کر مارا جاتا اور جے شری رام کہنے کو کہا جاتا ۔ مسلمانوں کوبھارت کے آئین کے مطابق نہ نوکریاں ملتی ہیں نہ ہی تعلیمی ادروں میں داخلے ملتے ہیں ۔ سچر رپورٹ اور دوسری رپورٹیں مسلمان کی خستہ حالی کا رونا رو رہی ہیں ۔

(جاری ہے)

آصف زرداری اور سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری

ماضی میں جب پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت ایک دوسرے پر کرپشن کے الزام لگاتے تھے تو ان پر زرا بھی یقین نہیں آتا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ صرف اور صرف سیاسی مقاصد حاصل کرنے اور قوم کو بے وقوف بنانے کیلئے ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سیاستدانوں کیخلاف بہت سے لطیفے مشہور ہوئے ۔ پی پی اور ن لیگ کی قیادت جب ملک کو پیرس بنانے کی بات کرتی تھی تو تب بھی یقین نہیں آتا تھا کہ یہ ایسا کریں گے ،قوم کی اکثریت جانتی تھی کہ ہمارے سیاستدان صرف اور صرف اقتدار کے مزے لوٹنے اور اپنے کاروبار کو تقویت دینے کی خاطر سیاست کر رہے ہیں اور پھر وقت نے بار بار ثابت کیا کہ سیاسی قیادت نے قوم کیساتھ دھوکہ کیا اور ملک کو ترقی یافتہ بنانے کے بجائے قرضوں کا وہ بوجھ لاددیا جو اتارے نہ اتر رہا ہے ۔ اگر کوئی پڑھا لکھا اور نیک انسان سیاست میں آتا تھا تو لوگ کہتے تھے کہ سیاست گندا کھیل ہے اس میں نا پڑو ۔ غرض قوم کے دل و دماغ میں بیٹھ گیا تھا کہ سیاست ذاتی خواہشات کا وہ بازار ہے جن کو حاصل کرنے کیلئے تمام اخلاقیات اور قوانین کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے جس کے باعث قوم کی اکثریت سیاست دانوں کو ووٹ نہیں ڈالتی تھی اور عام انتخابات والے دن کو بطور چھٹی والا دن منایا جاتا تھا ۔ اور پھر گندی سیاست کے ماحول میں پی پی اور ن لیگ کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف سر اٹھانے لگی،لوگوں کو ایک امید پیدا ہوئی کہ پی ٹی آئی والے شائد کوئی نیا ٹرینڈ سیٹ کریں اور ملک میں راءج گندی سیاست کا نظام ختم کریں ،قوم کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی شکل میں ایک مسیحا نظر آنے لگا ،قوم عمران خان کے پیچھے لگ گئی اور چیئرمین پی ٹی آئی کے کہنے پر قوم اس وقت کی حکومت کیخلاف سڑکوں پر آنے لگی،چیئرمین پی ٹی آئی کے جلسوں میں لوگ جوق در جوق آنے لگے ،لاہور جلسے کے بعد کچھ سیاستدانوں نے پی ٹی آئی کی طرف رخ کرنا شروع کر دیا اور پھر آہستہ آہستہ پی ٹی آئی کا گراف اوپر جانے لگا اور یکا یک تحریک انصاف تیسری بڑی پارٹی بن کر ایسی ابھری کے پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے جس سیاستدان کو اپنی قیادت سے اختلاف پیدا ہوتا وہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو جاتا ۔ 2013کے عام انتخابات کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت قائم ہو گئی جس نے کے پی عوام کی خدمت کی اور 2018کے عام انتخابات میں مزید اکثریت کیساتھ دوسری بار نہ صرف کے پی میں حکومت قائم کی بلکہ مرکز اور پنجاب میں بھی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔ پاکستان مسلم لیگ ن نے نہ صرف پنجاب اور بلوچستان میں اپنی اکثریت کو گنوایا بلکہ مرکز میں بھی حکومت قائم کرنے میں کامیابی نہ ملی اور اس طرح پنجاب اور مرکز میں اپوزیشن بن کر رہ گئی،پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت 2013ء کے انتخابات میں ہی مرکز سے ختم ہو کر سندھ تک محدود ہو گئی تھی اور یہ روایت 2018ء کے انتخابات میں بھی قائم رہی اور سندھ میں پی پی نے حکومت بنا لی ۔ مرکز میں حکومت قائم کرنے سے قبل تک چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے قوم سے جو کہا قوم نے آنکھیں بند کر کے اسے سچ تسلیم کیا،2014کا طویل دھرنا ختم کرنا ہو یا بنی گالہ کا احتجاج روکنے کا اعلان ہو،35پنکچر ہوں یا پاناما لیکس کا معاملہ ہو،سول نافرمانی کا حکم ہو یا ملک بھر میں مرحلہ وار احتجاج کرنا ہو،قومی اسمبلی و سینیٹ سے استعفوں کی بات ہو یا پی پی کیساتھ ملکر حکومت کیخلاف لاہور میں احتجاج ہو،بلوچستان کی حکومت گرا کر نئی آزاد حکومت کا قیام ہو یا سینیٹ کے چیئرمین کی تبدیلی کیلئے انڈر ہینڈ پی پی کیساتھ ہاتھ ملانا ہو ۔ پی ٹی آئی کارکنوں کی لاشیں گرتی رہیں ،لوگ زخمی ہوتے رہے مگر قوم عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑی رہی اور وہ لوگ بھی سڑکوں پر سراپا احتجاج نظر آئے جنھوں نے عام انتخابات میں کبھی کسی کو ووٹ تک نہ ڈالا تھا ۔ پی ٹی آئی میں دوسری جماعتوں کے لوگ شامل ہوئے مگر پھر قوم کی امیدوں کا محور عمران خان ہی تھا،پاکستان تحریک انصاف میں کئی نظریاتی لوگ بیک ڈور چلے گئے مگر عوام نے عمران خان پر ہی یقین کامل رکھا اور اسے ہی مسیحا سمجھا ۔ غرض چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کا ستارہ عروج پر رہا اور پھر2018ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں پی ٹی آئی نے مرکز اور پنجاب میں حکومت قائم کرنے کیساتھ ساتھ دوبارہ کے پی میں بھی حکومت قائم کر دی ۔ حکومت قائم کرنے کے بعد وزیراعظم عمران خان اپنے فیصلوں کی خود ہی تصحیح کرتے رہے جس کو اپوزیشن نے بطور سیاسی ٹول استعمال کیا اور یوٹرن یوٹرن کا شور مچا کر وزیراعظم عمران خان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی مگر قسمت کو تو کچھ اور ہی منظور تھا ،اپوزیشن کے کسی نعرے نے کام نہ کیا اور وزیراعظم کی شہرت میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا اور نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی وزیراعظم عمران خان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا جس کے باعث پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا اور تارکین وطن کا ملک پر اعتماد بڑھنے لگا ۔ پی ٹی آئی کی کامیابی اور پی پی و مسلم لیگ ن کی ناکامی کی بڑی وجہ قیادت کی جانب سے انکے قول و فعل میں تضاد تھا،پی پی اور ن لیگ کی قیادت جو کہتی تھی اس پر عمل نہیں کرتی تھی جس کے باعث قوم نے تیسری سیاسی قوت کی جانب دیکھنا شروع کیا اور پھر عمران خان کو حقیقی لیڈر ماننا شروع کر دیا ۔ قوم وزیراعظم عمران خان کوایک مسیحا اور اس ملک کی تقدیر بدلنے اور اپنی امیدوں کا محور سمجھتی ہے اس لیے وزیراعظم عمران خان کو اپنے قول و فعل میں تضاد کو اپنی زندگی سے دور رکھنا ہو گا ۔ مانتا ہوں کہ اس وقت سوشل میڈیا پر حکومت کے مخالفین بہت شور مچا رہے ہیں مگر اس کی بڑی وجہ پی ٹی آئی کارکنوں کی خاموشی ہے اس لیے مخالفین کا شور زیادہ محسوس ہو رہا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ قوم تنگ ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے،عام لوگ پی پی اور ن لیگ کی قیادت سے بہت تنگ تھے اور وہ اب بھی عمران خان پر ہی بھروسہ کر رہے ہیں مگر قول و فعل میں تضاد کی روش اگر وزیراعظم عمران خان نے اپنائی تو پھر قوم کو مایوسی ہو گی اور وزیراعظم عمران خان اس بات کو بھی مدنظر رکھیں کہ پی پی اور ن لیگ سے تنگ قوم کی صرف وہی امید ہیں اور یہ امید شائد آخری امید ہو ۔ اگر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے قوم کو ڈلیور نہ کیا تو قوم مایوس ہو کر گھر بیٹھ جائے گی اور پھر دوبارہ سے اسے پولنگ بوتھ تک لانے میں بہت وقت لگے گا ۔ پیر17جون2019ء کو حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتوں نے بھی شرکت کی ۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن والے چور ڈاکو ہیں اور دنیا میں کہیں مجرم پروڈکشن آرڈر پر ایوان میں آکر حکومت اور وزیراعظم کیخلاف تقریریں نہیں کرتے،آصف زرداری سمیت کسی کے بھی پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہونگے مگر ٹھیک دو دن بعد 19جون کو آصف علی زرداری اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دئیے گئے ۔ پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی حکومتی مجبوری ہو سکتی ہے مگر وزیراعظم ایسا بیان نہ دیں جس سے قوم کو ایسا لگے کہ یہ سیاسی بیان تھا کیونکہ قوم ماضی کی سیاست کو دوبارہ گلے نہیں لگانا چاہتی ۔

Google Analytics Alternative