کالم

بھارتی ہٹ دھرمی

پاکستان میں بہنے والے متعدد دریام قبوضہ کشمیر کے متعدد علاقوں سے گزر کر آتے ہیں۔ بھارت نے ان دریاؤں کے پانی پر اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اور اس نے متعدد منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی دریاؤں کے پانی سے1800 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہاہے۔ وہ تین درجن کے لگ بھگ ڈیم تعمیر کررہاہے۔ ان ڈیموں اور پن بجلی کے منصوبوں کی تکمیل کے بعد پاکستان کو بہت کم پانی حاصل ہوسکے گا۔ بھارت کا کشن گنگا منصوبہ3600 کروڑ روپے مالیت کاہے جس سے اسے330 میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی۔ اس پراجیکٹ کے تحت بھارت دریائے نیلم کا رخ موڑ کر اس کا پانی اوڑی کے مقام پر دریائے جہلم میں شامل کریگا جس سے پاکستان کا نہ صرف نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک کا منصوبہ متاثر ہو گا بلکہ جہلم اور نیلم میں پانی کی کمی سے لاکھوں افراد اور بڑے پیمانے پر پاکستان میں زرعی اراضی بھی متاثر ہو گی۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلسل مختلف نوعیت کے ڈیم بنا رہاہے اور اس کے بیشتر منصوبے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔ ان منصوبوں کے نتیجے میں پاکستان اپنے حصے کے پانی سے محروم ہوجائے گا پاکستان کی طرف سے اس کے بعض منصوبوں پر پہلے ہی اعتراضات کئے جا چکے ہیں جنھیں اس نے عالمی بنک میں بھی چیلنج کر رکھاہے لیکن بھارت نے ان پر بدستور کام جاری رکھا ہواہے۔ اب اقوام متحدہ کی دستاویزات کے حوالے سے جن مزید سترہ ڈیموں کے منصوبوں کا انکشاف ہواہے، حکومت پاکستان کو سختی سے اس کا نوٹس لیناچاہیے لیکن موجودہ حکومت نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی اقدام کیوں نہیں کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں ڈیموں کی بھرمار پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت کی ایک مخصوص شکل ہے۔ بھارت پاکستان کوبنجر کرنے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے اور اسے معاشی طور پر نقصان پہنچانے کا خواہاں ہے جبکہ اس کے برعکس ہم اس کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے جنون میں مبتلا ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ رابطوں اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کا فروغ درست ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنے قومی مفادات کو نظر اندازکر دیاجائے۔حال ہی میں سترہ ڈیم بنانے کے جو بھارتی عزائم سامنے آئے ہیں ان پر پاکستان کی اعلیٰ ترین سطح سے بھارت کے ساتھ رابطہ ہوناچاہیے اور اس سے وضاحت حاصل کی جانی چاہیے کہ کسی صورت بھی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہو گی۔ اس معاملے میں مزید تاخیر قومی مفادات سے مجرمانہ چشم پوشی کے مترادف ہوگی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے مطابق دریائے سندھ ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کو ملنا تھا جبکہ بھارت کے حصے میں دریائے راوی، ستلج اور بیاس آیا تھا۔ دریائے سندھ کا 20 فیصد پانی بھی بھارت کو ملنا تھا مگر شرط یہ تھی کہ اس پر کوئی ڈیم نہیں بنے گا ۔ اس کے برعکس بھارت اس وقت دریائے سندھ پر تین ڈیم بنا رہا ہے۔ ان میں سے پہلا ڈیم نیمو باز گو، دوسرا ڈمخار اور تیسرا ڈیم لیہ خالصی باٹالیک ہے۔ ان ڈیموں سے بھارت 200 میگا واٹ بجلی پیدا کریگا۔ بھارت کی مکاری ملاحظہ کیجئے کہ وہ پاکستان کی جانب بہنے والے ندی نالوں کا رخ اپنی طرف موڑ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں قحط سالی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ جب فصلیں نہیں ہوں گی تو خوراک کی کمی واقع ہوگی او ر بجلی سے بھی بڑا بحران ہوگا۔ زراعت کی بات تو الگ رہی اب تو ہمارے بڑے شہروں میں پینے کے پانی کی قلت بھی پیدا ہوچکی ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ بھارت ڈیم بناتا جا رہا ہے اور ہم خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ پاک بھارت کے درمیان اصل آبی تنازعہ چناب پر بننے والے بگلیہار ڈیم سے شروع ہوا ۔ بھارت نے بگلیہار ڈیم کا منصوبہ بنیادی طور پر بجلی پیدا کرنے کیلئے ہی بنایا تھا اور اس حد تک پاکستان نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ لیکن بھارت نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس ڈیم پر پانی روکنے کیلئے واٹر گیٹ لگا دیے تاکہ دو لاکھ کیوسک پانی روک سکے۔ آبی ماہرین کا خیال ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے بھارت 25 روز تک پاکستان کو دریائے چناب کے پانی سے محروم رکھنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔ڈیم کی ورکنگ سے موسم ربیع کے دوران حاصل ہونے والے پانی میں روزانہ سات ہزار سے آٹھ ہزار کیوسک پانی کی کمی واقع ہوگی۔ پاکستان میں کاشت ہونے والی فصلوں کو تربیلا اور منگلا ڈیم کے ذخائر سے آب پاشی کیلئے پانی مہیا کیا جاتاہے۔ بگلیہار ڈیم کی تعمیر سے تربیلا اور منگلا میں جمع ہونے والے پانی میں تخفیف ہوگی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ موسم ربیع میں گندم کی فصل کو معمول کے مطابق پانی نہیں ملے گا۔ گندم کی فی ایکڑ پیداوار کم ہوجائے گی۔ بگلیہار ڈیم کا ڈیزائن دربار نما تعمیرات پر مشتمل ہے۔ اس طرز تعمیرات کے باعث دریائے چناب کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ آنا لازمی ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے مطابق بھارت کو دریائے چناب کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈال کر اسے روکنے کا کوئی حق نہیں۔ پاکستان نے اس بارے میں عالمی بنک سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ۔عالمی بنک کے غیر جانبدار ماہر نے بگلیہار ڈیم کے بارے میں پاکستان کے اعتراض کو درست تسلیم کیا اور انہوں نے آبی ذخیرے کی سطح سے اوپر ڈیم کی اونچائی کے بارے میں پاکستانی مؤقف کی حمایت کی ہے۔ مگر بھارت نے عالمی بنک اور عالمی عدالت کا فیصلہ بھی نہ مان کر اپنی ہٹ دھرمی ثابت کر دی۔ارباب اختیار کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ بھارت ایک ایک کر کے تمام دریاؤں پر قبضہ کر لے گا تو ہمارا کیا بنے گا؟ ہم فصلوں کیلئے تو ایک طرف ، پینے کیلئے پانی کو بھی ترس جائیں گے۔بھارت دریائے چناب پر مکمل قبضہ کر چکا ہے اب دریائے جہلم پر قبضہ کرنے کیلئے 54 غیر قانونی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ اگر بھارتی آبی جارحیت کے آگے بند نہ باندھا گیا تو ہمارا انحصار صرف باران رحمت پر ہی رہ جائیگا اور جس سال باران رحمت نہ ہوگی یا کم ہوگی تو خشک سالی ہمارا مقدر بن جائے گی۔

فرمانروائےِ بحیرہِ عرب۔پاک بحریہ

ستمبر1965 کی جنگ میں پاکستانی عسکری حکمتِ عملی نے بھارت کو’فاتح’ بننے کاموقع توکجا؟’فتح’ کے قریب آنے کاکوئی ذرا سا فکری تصوریا کوئی مبہم خیال بھی اْس کے ذہن میں اْبھرنے دیا ہی نہیں’ بھارت نے جنگ تو شروع کردی، مگر‘جنگ پر ابتداء ہی ساری کمانڈ پاکستان نے اپنے ہاتھوں میں تھام لی بھارت نے جو محاذ بھی کھولا وہ ہی محاذاْس کیلئے مزیدعسکری پشمانی کاسامان بن گیا، ستمبر1965 کی جنگ میں پاکستان کی عسکری حکمتِ عملی بڑی کامیاب رہی مطلب یہ ہے کہ پاکستان نے ایسیا کون سا منصوبہ اپنایا کہ بھارت کوپاکستان پر حتمی وارکرنے کی کوئی راہ سجھائی ہی نہ دی، جارح قوموں کی یہی تو وہ مشکلات ہوتی ہیں جب وہ اپنے آپ کو تنہا میدان کا ‘مرد’ سمجھنے لگ جاتے ہیں اورجانتے نہیں کہ فریقِ مخالف کون سا ایسا ترپ کا پتہ نجانے کب چل جائے کہ جارح خود اپنا ہی سرپیٹنے بیٹھ جائیں؟ پاکستان نے ستمبر1965 کی جنگ میں وہ تمام ممکنہ میدان اور متعلقہ میدانوں کے تمام ممکنہ مناسب مقامات پہلے سے اپنے ذہنوں میں بیٹھا لیئے تھے جس کی بناء پر پاکستان نے دشمن کو اپنی مرضی کے مطابق دل کھول کر گھماتے اور پھراتے ہوئے تھکا تھکا کر ایسا ہلکان کیا کہ بھارت کو دن کی روشنی میں تارے دکھا دینے لگے اور یہ کسی کے ذہن میں بھی نہیں تھا کہ پاکستانی آسمانوں پر اپنا مکمل کنٹرول حاصل کرنے والے پاکستانی فضائیہ کے سکوارڈنز کو اپنی آوازوں سے غیر توازن کرنے والے ممبئی کے قریب خلیجِ بنگال میں قائم ایک بھارتی فضائی اڈا مسلسل رخنہ اندازی کررہا ہے تو ایسی تشویش کی صور تحال کا پاکستان نیوی نے فوری نوٹس لیا کیونکہ اِس بھارتی جنگی سازش کے نتیجے میں پاک فضائیہ کے آپریشنز متاثر ہورہے تھے ،ممبئی کے قریب خلیجِ بنگال میں قائم ‘دوارکا’ نامی بھارتی فضائی اڈے کو خاموش کرنا پاکستانی نیوی کے لئے بہت ضروری ہوچکاتھا اْس وقت کے پاکستانی بحریہ کے نیول چیف ایڈمرل افضل رحمان خان نے فوری فیصلہ کیا اورپاک بحریہ کے لڑاکا یونٹس کو ساحل کے قریب اپنی دفاعی پوزیشن لینے کا حکم دیدیا 2 ستمبر کو بحریہ کی پہلی طویل رینج آبدوز ‘پی این ایس ایم غازی کو کموڈورنیازی کی کمان میں بھارتی بحریہ کی نقل و حرکت اور مشکوک اجتماع پرنظررکھنے اورانٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے کے لئے تعینات کردیا گیا اْسے ہدایت کی گئی کہ بھارتی فریگیٹس’میزائیل کشتیاں اورکورو یٹٹیس کو مشغول کرنے کے علاوہ ‘طیارہ بردار جہاز ‘وکرانت’ کی طرف سے درپیش خطرات سے بھی نپٹنے کے لئے ہمہ وقت اپنے آپ کو مزید چوکس اور تیار کردیا گیا7اور8 ستمبر کی رات ایک پاکستانی سکواڈرن کے چارتباہ کن‘( ڈیسٹرائر)ایک فریگیٹ’ ایک کروزراورایک آبدوزپہ مشتمل تھا، جسے کموڈورایس ایم انور کے زیر کمان بھارتی فضائیہ کے دوارکا کے ساحلی قصبے میں موجود ریڈار بیس پرحملہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا، بھارتی نیوی کے ذہنوں کے کسی خانے میں بھی یہ تصور نہیں تھا کہ پاکستانی نیوی خلیجِ بنگال میں ایسی بڑی تباہ کن کارروائی کی متحمل ہوسکتی ہے، کیوں نہیں ہوسکتی تھی؟ جنابِ والہ! جنگ جاری تھی ‘جنگ طاقت کے ایک مقابلے کا نام ہے ‘دوارکا’ کے حفاظت بردار بھارتی اہلکار 7اور8 ستمبر1965 کی شب شراب کے نشے میں ڈوبے ہوئے تھے آرام طلب دشمن کو پاکستان نیوی نے سوچنے اور سمجھنے کا بلکہ سنبھلنے موقع ہی نہیں دیا اور یوں ‘دوارکا’ پر پاکستان نیوی کا یہ حملہ ایک تباہ کن طوفان بن کرایسا گرا کہ ’دوراکا‘ پر موجودسبھی بھارتی سیلرزموت کی وادی میں جا پہنچے اورایک بہت خصوصی اہمیت حامل کا بھارتی ریڈارپاکستانی نیوی نے تباہ کردیا، خلیجِ بنگال میں یہ پہل پاکستان نیوی نے کی، توبھارتی بحریہ منہ تکتی کی تکتی رہ گئی اورکارروائی کے فورابعد پاکستانی نیوی سکواڈرن تیزی سے دوارکا سے باحفاظت نکل کر پاکستانی پانیوں میں آگیا ‘آپریشن دوارکا’ نے پاک بحریہ کاوقارعالمی بحری جنگوں میں بہت بڑھادیا بھارتی بحری کمانڈروں نے پاک بحریہ کی طرف سے امڈنے والی مشکلات کو بھانپ کر اپنے قدم پیچھے ہٹا لیئے ا وراپنی بحریہ کی پست حوصلہ کی ناکامی کو عالمی میڈیا کے سامنے تسلیم کیا ہر سال کی طرح اِس سال بھی 8 ستمبر کو پاکستانی قوم اپنی بحریہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے خصوصی دن منا رہی ہے قارئین کے ساتھ یہاں ہم یہ تاریخی حقائق شیئر کرتے چلیں کہ پاک نیوی پاکستان کی 1,046 کلومیٹر (650 میل) لمبی ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ بحیرہ عرب اوراہم شہری بندرگاہوں اورفوجی اڈوں کے دفاع کی ذمہ دار ہے، پاک بحریہ 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے بعد وجود میں آئی’پاک بحریہ پاکستان کی حکومت کی پالیسیوں کی حمایت میں ملکی اورغیرملکی خدمات سرانجام دے رہی ہے، پاکستان کے دفاع کے لئے پاک بحریہ کا موجودہ اور بنیادی کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے، اکیسویں صدی میں پاک بحریہ نے محدود پیمانے پر بیرون ملک کئی فی الوقت بھی اور ہمہ وقت بھی کئی کامیاب آپریشنز کیئے پاک بحریہ جدت وتوسیع کے مراحل سے گزر رہی ہے ا وریہی نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی پاک بحریہ کا بڑااہم کردار رہا ہے‘2001ء سے پاک بحریہ نے ا پنی آپریشنل گنجائش کو مزیدبڑھایا اورعالمی دہشت گردی’ سمندر میں منشیات کی سمگلنگ اوربحری قزاقی کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں پاکستان نیوی کی علاقائی اورعالمی خدمات کو بھی ہمیشہ دنیا بھر میں تحسین کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے’بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے مارچ1948 کو پاکستان نیول اکیڈمی منوڑہ میں پاکستانی ملاحوں اور افسروں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا ‘آج پاکستان کے لئے ایک تاریخی دن ہے’خاص کران لوگوں کے لئے جوبحریہ میں ہیں’ مملکتِ پاکستان اوراس کے ساتھ ہی ایک نئی پاکستان بحریہ وجود میں آگئی ہے’مجھے فخرہے کے مجھے اس کا سربراہ اورآپ کے ساتھ مل کراس کی خدمت کے لئے مقرر کیا گیا ہے’یہ میرا اورآپ کا فرض ہے کہ آنے والے مہینوں اور برسوں میں ہم سب مل کر پاکستانی بحریہ کوایک مستعد اور چاک وچوبند بحریہ بنا ئیں گے ‘وہ دن ہے اور آج کے گزرتے ہوئے لمحات!پاک بحریہ قوم کے شانہ بشانہ پاک سرزمین کے دفاع کے لئے ہر لمحہ چوکس اور تیار رہنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے یہ ہمارا پختہ یقین ہے پاکستانی قوم کا اپنی بحریہ پر مکمل بھروسہ بھی‘ تبھی تو قوم کے ہر باشعور فرد کی یہ آواز کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں کی آواز بن چکی ہے ۔’’ فرمانروائےِ بحیرہِ عرب۔پاک بحریہ‘‘۔

******

حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ

عبداللہ شاہ غازی ؒ کا عرس ہر سال20 سے22ذوا لحج کو سالوں سال سے منایا جا تا ہے۔ ان کا مقبرا کراچی کے ساحل سمندر کلفٹن میں واقع ہے۔ ان کے بھائی سید مصری شاہ کا مقبرا بھی تھوڑے فاصلے پر ساحل سمندر کے قریب میں واقع ہے۔ عبداللہ شاہ غازی کا مقبرا پورے پاکستان میں مشہور ہے۔ ان کا مقبرا بھی سندھ کے دوسرے بزرگوں کے مقبروں کی طرح بہت ہی خوبصورت ہے۔ ان کے عرس میں عقیدت مند مسلمان سارے سندھ اور ملک کے دوسرے علاقوں سے بڑی تعداد میں شرکت کے لیے حاضر ہوتے ہیں ۔اس عرس میں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی بڑی تعداد میں حاضری دیتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ کے نیک بندوں نے اپنے وطن سے دور اس وقت کے ہندوستان کے کفرستان میں اللہ کے دین کو پھیلانے کی غرض عرب کی سر زمین سے تشریف لائے اور دین اسلام کی تبلیغ کی اور لوگوں کو اس امن اور شانتی والے مذہب اسلام میں داخل کیا جو ایک تاریخی کام ہے۔ ہماری اللہ سے دعاء ہے کہ اللہ ان نیک سیرت بزرگوں کی قبروں کو اپنے نور سے بھر دے۔ ان کے درجات کو بلند کرے اور لوگ رہتی دنیا تک ان نیک سیرت بزرگوں کے کارناموں کو یاد رکھیں۔ ان نیک سیرت بزرگوں نے تو انتھک محنت کر کے غیر مسلموں کو کلمہ پڑھا کرمسلمان کر دیا۔ ان کو محبت اور پیار کا درس دیا جس وجہ سے 1400 سال گزر گئے مگر لوگ اب بھی ان کی محبت میں گرفتار ہیں اور ہر سال تین دن کے لیے حاضر ہو کر ان سے عقیدت اور محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ اب اس وقت کے مسلمانوں کا کام ہے ان سیدھے سادے مسلمان لوگوں کو مذید دین اسلام کی تبلیغ کر کے بہتر مسلمان بنائیں تا کہ یہ سیدھے سادے مسلمان اللہ کے دین کو عملاً قائم کرنے کے انبیاء کے نیک مشن میں شامل ہو جائیں۔ دکھی دنیا کو راحت نصیب ہو۔ اللہ کی زمین پر اللہ کے کلمے کا بول بالا ہو۔ اللہ مسلمانوں سے راضی ہو۔ اللہ کی طرف سے آسمان سے رزق نازل ہو۔ زمین اپنے اندر کے خزانے باہر اگل دے۔ امن وامان ہو انسان اور انسانیت کی قدر ہو عدل قائم ہو حق دار کو حق ملے۔ مظلوم کی داد رسی ہو خوش حالی ہواور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ آخرت میں ان کو جنت میں داخل کر ے۔ آمین ۔ سندھ کے مشہور تاریخ دانوں نے عبدللہ شاہ غازیؒ کے سندھ میں تشریف لانے کے متعلق دو باتیں تاریخ میں نقل کی ہیں۔ ایک بات سہیل ظہیر لاری نے بیان کی کہ عبداللہ شاہ غازیؒ نفس ذکیہ کے فرزند ہیں یہ مدینے میں سن720 ؁ ء میں پیدا ہوئے اور یہ سندھ میں سن760 ؁ ء میں تشریف لائے۔ اُس وقت وہ گھوڑوں کا کاروبار کرتے تھے اور سندھ آتے وقت انہوں نے کوفہ دمشق سے عربی نسل کے کثیرے تعداد میں کھوڑے خریدے اور ان کے تجارت کیلئے سندھ تشریف لائے۔ مسلمان داعی الا للہ ہوتا ہے تجارت کے ساتھ اللہ کے دین کو پھیلانا اور اللہ کی مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی واحدنیت کی تعلیم دینا ان بزرک ہستیوں کے مشن میں ہمیشہ سے شامل رہا ہے۔ اس لیے عبداللہ شاہ غازی نے سندھ میں لوگوں کودین اسلام کی تبلیغ کرنا بھی شروع کی اور لا تعداد لوگوں کو اسلام کے امن وشانتی والے مذہب میں شامل کیا۔سادات فیملی سے تعلق کی وجہ سے لوگ ان سے بہت ہی محبت اور عقیدت رکھتے تھے اور ان کی باتوں پر توجہ دیتے تھے ۔دوسری بات مشہور تاریخ دان جناب ڈاکٹر عمر بن داؤد پوتا کے حوالے سے مشہور ہے کہ عبداللہ شاہ غازی کا اصل نام عبداللہ بن نبحان ہے اوریہ اسلام فوج کے جرنل تھے اور وہ حجاج بن یوسف والی بصرہ کے حکم سے راجہ داہر والی سندھ سے باز پرس کیلئے اپنے کمانڈر بادل بن طوحافہ کے ساتھ سندھ تشریف لائے تھے ۔مشہور واقعہ ہے کہ لنکا سے مسلمان تاجر خواتین کے ساتھ بحری جہاز میں عرب کی طرف جا رہے تھے کہ دیبل کی بندرگاہ کے قریب بحری ڈاکووں نے انہیں لوٹ لیا اور مسافروں کو قید کر دیا اس پر ایک مسلمان عورت نے بصرہ کے حاکم حجاج بن یوسف کو اپنی رہائی کے لیے خط لکھا تھا۔ حجاج بن یوسف نے سندھ کے حکم راجہ داہر کر ایک خط لکھا کہ عرب مسافروں کو رہا کرو اور ان کو بحفاظت روانہ کر دو مگر راجہ دہر نے واپس خط لکھا کہ بحری ڈاکو میرے کنٹرول میں نہیں ہیں میں مسافروں کو بحفاظت روانہ نہیں کر سکتا۔ حجاج بن یوسف نے اسی سلسلے میں عبداللہ شاہ غازی کو سندھ بھیجا تھا۔بعد میں حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم کو راجہ داہر کے خلاف جنگ اور مسلمان قیدیوں کی رہائی کے لیے روانہ کیا تھا اور محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو سندھ میں شکست دی اور مسلمان قیدیوں کو رہا کروایا اور سند ھ کو باب الاسلام ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ اس کے بعد عبداللہ شاہ غازیؒ سندھ میں مستقل آباد ہو گئے اوردین اسلام کی تبلیغ کرنی شروع کر دی ۔عبداللہ شاہ غازیؒ کو شکار کا بھی بڑا شوق تھا وہ شکار کیلئے اپنے مرکز سے دور دراز علاقوں میں تشریف لے جاتے تھے۔ ایک دفعہ ان کی دشمنوں سے مٹھ بیڑ ہو گئی۔ دشمن زیادہ تعداد میں تھے عبداللہ شاہ غازی نے صلح کی بجائے ان سے جنگ کی اور ان کو شکست دی۔ اس بہادری کی وجہ سے سندھ کے عوام نے انہیں غازی کا خطاب دیا یعنی جنگ جیتنے والا۔ عبداللہ شاہ غازیؒ کی وفات773 ؁ء میں کراچی کے قریب ہوئی اور ان کو موجودہ جگہ کلفٹن میں موجودہ پہاڑی پر دفن کیا۔ یاد رہے کہ اس پہاڑی کے نیچے میٹھے پانی کا چشمہ موجود ہے ۔ راقم نے خود اس چشمہ کا مشاہدہ ۱۹۶۴ء میں کیا تھا۔ شاہد لوگوں کے زیادہ رش کی وجہ سے اب مزار کی انتظامیہ نے چشمہ کو سامنے سے بند کر دیا گیا ہے۔عبداللہ شاہ غازیؒ کا سندھ میں آنے کا سبب کچھ بھی ہو مگر ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مسلمان چائے جنرل ہو ، کمانڈر ہویا تاجر ہو،بادشاہ ہو، کسی علاقے کاحاکم ہو، استاد ہو کچھ بھی ہو داعی الااللہ ہوتا ہے۔ اس کا کام اللہ کے دین کو اللہ کی زمین پرقائم کرنا ہو تا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا کہ میں نے انسان کو زمین میں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے اور خلیفہ کے ذمے یہ کام لگایا ہے کہ اللہ کی کبریائی بیان کرے۔ اللہ کے بندوں کو اللہ کا بندہ بنائے۔ ان کو وحدت کی لڑی میں پروئے۔ اس ذمہ داری کو عبد اللہ شاہ غازیؒ نے خوش اسلوبی سے پورا کیا ۔ لا تعداد لوگوں کو اسلام کی دعوت دی۔ لوگ اسلام لائے ۔اللہ نے ان کاذکر اس دنیا میں بھی بلند کیا آخرت میں اپنے نیک بندوں سے جنت کا وعدہ تو ہے ہی ۔

وزیراعظم کی اولین ترجیح

اِس میں کو ئی دورا ئے نہیں ہے کہ کراچی اور مُلک کی ترقی وخوشحالی کیلئے پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم پاکستان کا نونکاتی تاریخی معاہدہ اور عمران و مقبول بڑھتی قربتیں مُلک کی تاریخ میں ایک نئے باب کے اضافے کے ساتھ کراچی کو حقیقی معنوں میں اِس کی محرمیوں سے نجات دلا کراِسے دنیا کا ترقی یافتہ شہر بنانے اور مُلک کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کیلئے کارآمد ثابت ہوگا ؛آج جو لوگ عمران خان اور خالد مقبول صدیقی کی بڑھتی قربتوں پر پرانے مردے اُکھاڑ کر دوریاں پیدا کرناچاہ رہے ہیں۔ اِنہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جو دونوں پر رنگ چڑھا ہے؛ وہ 22اگست2016ء کے بعد نمودار ہونے والی دوسالہ تبدیلی کا ثمر ہے ۔اِس موقع پر سمجھنے والوں کیلئے اتناہی اشارہ کافی ہے، مگر جو پھر بھی کچھ نہ سمجھے تو جو جی چاہئے سوچے اور سمجھے اور کرتا پھرے؟۔تاہم اِس سے بھی انکار نہیں ہے کہ ہمارے ماضی کے (31مئی 2018ء سے پہلے والے) حکمرانوں نے قومی خزانے سے اللے تللے کرنے کے بعد اِسے خالی چھوڑ دیاپھر اِسے بھرنے کیلئے عالمی مالیاتی اداروں سے بے لگام قرضے لینے کا سلسلہ شروع کیا۔ جو آخری دن تک جاری رہا ،اِس طرح اِن عیارو مکاروں نے نہ صرف قوم کو قرضوں کے بوجھ تلے دبایا،بلکہ قرضوں کو اُتارنے کیلئے قوم پر ٹیکسوں کے پہاڑبھی توڑ ڈالے ،پھر اِن کا الیکشن میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا کر باشعور پاکستا نی شہری ووٹروں جو حشر کیاہے یہ بھی سب کے سامنے ہے ۔آج جانے والے قومی لیٹرے توچلے گئے مگرابھی تک یہ قوم کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں یہ تگڑم بازی سے دوبارہ اقتدار میں آنا چاہتے ہیں۔ جبکہ یہ کرپٹ اور قومی چور قوم کو ٹیکسوں کے عذاب تلے دباگئے ہیں ، کچھ ایسا نہیں ہے جس پر اِنہوں نے ٹیکس نہ لگایاہو، اگر انہیں یہ پتہ ہوتا کہ قوم اِن سے نجات اور جھٹکارے کا خواب دیکھتی ہے۔ تویقیناًیہ قوم کے خواب دیکھنے پر بھی ٹیکس لگا دیتے۔ وہ تو اچھا ہوا کہ اِنہیں معلوم ہی نہیں ہوسکاکہ قوم ایسا خواب بھی دیکھتی ہے۔ ورنہ سوچیں، کیا ہوتا؟بہر کیف ،آج اچھے خواب دیکھنے پر نہ تو پابندی ہے اور نہ ہی ٹیکس ہے اِس لئے جتنے چاہیں خواب دیکھیں،چاہئے یہ جانے والوں کے بُرے انجام سے متعلق ہوں، یا آنے والوں کے بارے میں اچھی اُمیدوں اور خواہشات سے متعلق ہی ہوں مگر کچھ بھی ہے اَب عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد قوم کے تمام غضب حقوق اور ثمرات ملنے اور تمام اچھی اُمیدوں اور اچھے خوابوں کی تعبیر پوری ہونے کو ہے ۔ اِسی لئے تو ہم کہتے ہیں کہ آج ستر سال سے مفلوک الحال ، مجبورو بے کس ، پریشا نیوں اور بحرانوں میں جکڑے اہل وطن سیراب کے پیچھے بھاگتے بھاگتے تھک چکے ہیں ،اَب اِن کے ڈراؤنے خوابوں کی ہولناک تعبیریں ختم ہو نے کو ہیں ، جلد ہی پاکستانی قوم کے اچھے دن آنے والے ہیں، کیو ں کہ پاکستان تحریک اِنصاف کے چیئرمین عمران خان وزیراعظم پاکستان نے منصب اعلیٰ کا عہدہ سنبھالاہواہے جن کی اولین ترجیحی مُلک کی چولوں سے کرپشن کے ناسُور کو نکال باہر پھینکنا ہے ، جس کے بارے میں گزشتہ دِنوں چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار بھی کہہ چکے ہیں کہ’’ قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور لیاقت علی خانؒ کے جانے کے بعد اِس مُلک میں صرف ایک چیز نے راج کیاوہ چیز ہے کرپشن ، کرپشن اور کرپشن جب تک اِس کرپشن سے مُلک کو صا ف نہیں کریں گے ہم ترقی اور خوشحالی کی منزلیں حاصل نہیں کرسکتے ہیں‘‘آج جس کے مُلک سے خاتمے کیلئے عمران خان نے کمر کس لی ہے،اُن کا کہنا ہے کہ اولین ترجیح مُلک سے کرپشن اور لوٹ مار کو ختم کرنااور کفایت شعاری اور سادگی کو مُلک میں پروان چڑھانا ہے ہم جس کی ابتداء اپنی کابینہ مختصر رکھ کر کریں گے ، جس کیلئے ہم نے وفاق اور صوبوں کیلئے حتمی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، چیئر مین عمران خان نے حکومت سازی کے بعد پہلے مرحلے میں 15سے 20وزراء پر مشتمل کابینہ تشکیل دی گئی ہے ، چاروں صوبوں کی نمائندگی ہوگی ، اتحادیوں کو بھی وزارتیں دی گئی ہیں،‘‘بس انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں ، ارضِ مقدس کے محب الوطن اور غیور پاکستا نی شہریوں کو عنقریب ماضی کے کرپٹ حکمرانوں، سیاستدانوں اور خوشامدی افسرشاہی کے کلچرسمیت راشی پٹواریوں کی شکل میں عوام پر ستر سال سے مسلط شیطان کے چیلے چانٹوں سے بھی نجات ملنے والی ہے۔اِس میں کو ئی شک نہیں ہے کہ کراچی اور مُلک کی ترقی و خوشحالی کیلئے عمران اور مقبول کی قربتیں،مُلکی تاریخ میں نئے اور سُنہرے باب کا اضافہ کریں گیں،پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو مُلک کا اگلا وزیراعظم بنانے کیلئے پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے ما بین ہونے والا 9نکاتی معاہدہ پورا کا پورا قابلِ عمل توہے ، مگراَب جس میں صوبہ سندھ میں پی پی پی اوربالخصوص کاسمیٹک اے پی سی میں شامل شکست خودہ جماعتیں اور اِن سے لفافے اوربھر بھر کر بریف کیس لینے والے نجی ٹی وی چینلز پر بیٹھے اینکرپرسنزاور خبرنویس صحافی اور کالم نگاروں کو معلوم ہے کہ آج اگر پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم پاکستان کے مابین ہونے والے نو نکاتی معاہدے میں مینگیناں نہ ڈالی گئیں اور وفا ق میں متحدہ کے اشتراک سے عمران خان کی حکومت مضبوط بنیادوں پر قائم رہ کر چل پڑی؛ توپھر کاسمیٹک اے پی سی میں شامل جماعتوں اور خان صاحب اور ایم کیو ایم کے خلاف قینچی کی طرح زبانیں چلاتے اورنشتر کی طرح قلم سے زخم لگانے والوں کی تو دال دلیہ بند ہوجائے گی ۔ اِس لئے جہاں کچھ لوگ اپنے خاص لب ولہجہ کے ساتھ معاہدے کو عمران خان اور پی ٹی آئی والوں کیلئے نعمتِ خداوندی اور تحفہ قرار دے رہے ہیں، تو وہیں ’’ معاہدہ میں متحدہ کیلئے کچھ نہیں ہے ‘‘ کہہ کر دراصل ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی دونوں پر طنز کرتے ہوئے ایک دوسرے کے درمیان دوریاں پیدا کرنے میں سینہ زور سر پھوڑ کوششوں میں مگن رہ کر اپنے لفافے کا حق ادا کررہے ہیں، حالانکہ اِنہیں ایسا نہیں کرناچاہئے کیو ں کہ اِن کا پیشہ اِنہیں ایسا کرنے کی قطعاََ اجازت تو نہیں دیتا ہے۔ مگرآج یہ ایسا کچھ نہیں کررہے ہیں۔جیسا کہ اِن کا پیشہ اِن سے کرنے کی تقاضا کرتاہے ۔اگرنہیں تو پھر یقیناًاِن کی بھی ادارتی کچھ مجبور یاں ہوں گی جو یہ چاہتے ہوئے بھی ادا کرنے پر مجبور ہیں، یا پھر اِس سے ہٹ کر اِن کی اپنی ذاتی دلچسپی یا مفادات وابستہ ہوں گے جس کی وجہ سے یہ اپنے ضمیر کی آواز کو بھی پسِ پشت ڈال رہے ہیں ۔جبکہ یہ حقیقت ہے کہ سیاست میں کل کے سیاسی دُشمن آج کے دوست اور آج کے دوست کل کے دُشمن بنتے بھی دیر نہیں لگتی ہے آج اگر اِس بنیاد پر پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم پاکستان والے ماضی کی کدورتوں اور رنجشوں کو بھلا کر قریب آگئے ہیں اور ساتھ مل کر کراچی کو اِس کا چھیناگیامقام دلانے اور مُلک میں جمہوراور جمہوریت کو مضبوط بنا کر مُلک کی تعمیروترقی اور خوشحالی کیلئے کچھ اچھا کرنا چاہتے ہیں، توپیٹ میں مروڑ پڑرہے ہیں۔

پاک امریکہ تعلقات ، باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر مستحکم کرنے کی ضرورت

adaria

پاکستان کی سول و ملٹری قیادت نے امریکی دھمکیوں اور ڈومور کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے ملاقات کیلئے آنے والے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی قیادت میں وفد پر واضح کردیا ہے کہ ماضی کی طرح دباؤ ڈال کر دھمکانے والا رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں، اسلام آباد اور و اشنگٹن کے باہمی تعلقات کو احترام اور اعتماد کی بنیاد پر مستحکم کیا جائے، ملکی مفاد ہر چیز پر مقدم ہے لہذا دھمکیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ وزیرِاعظم عمران خان نے مائیک پومپیو کے ساتھ ملاقات میں تمام پڑوسیوں کے ساتھ امن کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ اعتماد اور احترام کیساتھ تعلقات مضبوط بنانا چاہتا ہے، دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کیا جائے ۔وزیرِاعظم نے مائیک پومپیو کو بتایا کہ انسانی ترقی اور غربت کا خاتمہ ہماری حکومت کی ایجنڈا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے عمران خان کو حکومت کے قیام پر مبارک باد دی اور پاکستان کی ترقی کیلئے ان کے اقتصادی اور سماجی ترقی کے ایجنڈے کو سراہا۔مائیک پومپیو نے افغانستان سمیت خطے میں امن کیلئے پاکستان کیساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے ہم نے آج جو بنیاد رکھی وہ کامیابیوں اور آگے بڑھنے کا باعث بنے گی، عملی اقدامات سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مضبوط ہونگے۔امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ ملاقات میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ، آئی ایس آئی کے سربراہ اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی بھی شریک تھے۔امریکی وزیر خارجہ نے پاکستانی حکام سے ملاقات میں پاک امریکا تعلقات، مشترکہ مفادات کے شعبوں جیسا کہ دو طرفہ تجارت اور تجارتی تعلقات میں وسعت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے مشترکہ ترجیحات بشمول علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان اور امریکا کے مل کر کام کرنے کے امکانات اور اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان کئی دہائیوں کے ثقافتی و تعلیمی تبادلوں کے نتیجے میں قائم ہونے والے مضبوط تعلقات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔امریکی وزیر خارجہ نے آرمی چیف سے ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان انسداد دہشتگردی کے شعبے میں مزید گہرے تعاون کی امید کا بھی اظہار کیا۔امریکا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستانی حکام سے اپنی ملاقاتوں میں مائیک پومپیو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے قیام امن میں پاکستان اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔مائیک پومپیو نے پاکستانی حکام کو یہ پیغام بھی پہنچایا کہ پاکستان کو خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ بننے والے دہشتگردوں اور جنگجوں کیخلاف مستقل اور فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اورامریکا کو بہت سے مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے لہذا پر امید ہیں کہ نئی پاکستانی قیادت کے ساتھ مل کر مشترکہ مسائل حل کرنے کے لیے کام کیا جاسکے گا۔ شاہ محمودقریشی نے کہاکہ پاک امریکا تعلقات میں سرد مہری تھی، ہم نے امریکی وزیرخارجہ کے سامنے پاکستان کا موقف پیش کیا۔ امریکی وزیر خارجہ نے مجھے واشنگٹن آنے کی دعوت دی ہے، جب اقوام متحدہ کے اجلاس میں جاؤں گا تو ان سے ملاقات کروں گا، امریکا کے ساتھ بات چیت کو بڑھایا جائے گا، دونوں ممالک کے تعلقات میں جمی برف پگھل گئی ہے۔ امریکا نے اپنی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ افغانستان کا حل سیاسی مذاکرات میں ہے۔ وزیراعظم عمران خان برسوں سے یہی کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ہم نے مائک پومپیو سے ملاقات کے دوران پاکستان کا نقطہ نظر بردباری، خودداری اور ذمہ داری سے پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے تعلقات میں سرد مہری تھی اور تعطل تھا تاہم ملاقات کا ماحول یکسر بدلا ہوا تھا۔آج عندیہ ملا ہے کہ امریکا افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے ذہنی طور پر تیار ہے۔ملاقات کے دوران میں نے واضح کیا کہ اگر تعلق آگے بڑھانا ہے تو بنیاد سچائی پر ہونی چاہیے، ہمیں ایک دوسرے کو سننا ہو گا۔ امریکہ کو اپنی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے اور دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔ امریکی دھمکی اور ڈومور کا دباؤ پاکستان کو قابل قبول نہیں، دہشت گردی کیخلاف پاکستان بلا امتیاز کارروائیاں کررہا ہے، عالمی برادری کو تسلیم کرنا ہوگا۔ پاک امریکہ تعلقات کو باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کا انقلابی فیصلہ
وفاقی کابینہ نے کئی انقلابی فیصلے کیے ہیں جن کی منظوری وزیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں دی گئی ہے ان میںیکساں نظام تعلیم رائج کرنے، مدارس، سکولز،او لیول سسٹم کا خاتمہ، ایک نصاب سرٹیفکیٹ نافذ کرنے اورکابینہ کے 80 ارب کے صوابدیدی فنڈز ختم کرنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے بیرون ملک سے رقوم واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے ٹاسک فورس بنائی گئی ہے اور وزیراعظم ہاس میں شعبہ قائم کیا گیا ہے، وفاقی کابینہ نے اپنے 80 ارب کے صوابدیدی فنڈز بھی ختم کردیے ہیں جو پارلیمنٹ کے پاس واپس چلے گئے ہیں۔مشیر برائے احتساب اور ٹاسک فورس کے سربراہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ سوئس اکانٹس سے پیسہ واپس لانے کے لیے وزارت خارجہ کی اعلی سطح کی ٹیم تشکیل دی جائے گی جس میں ایف بی آر کے اہلکار بھی شامل ہیں، پاکستان سے پیسہ لوٹنے والے 100 بڑے مگرمچھوں کے خلاف آپریشن پر توجہ دی جائے گی ۔ ٹاسک فورس مدارس کے بچوں کیلئے بھی اقدامات کرے گی، ملک بھر میں تمام مدارس اور اسکولوں کے لیے یکساں بنیادی نصاب تعلیم کو نافذ کیا جائے گا۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اسکولوں میں مختلف طرح کے نظام تعلیم چل رہے ہیں، کہیں او لیول ہے تو کہیں میٹرک سسٹم جب کہ مدارس کے بھی اپنے نظام چل رہے ہیں، یہ تمام سرٹیفکیٹس ختم کرکے پورے پاکستان میں ایک ہی اسکول سرٹیفکیٹ سسٹم نافذ کیا جائے گا، مختلف طرح کے نظام تعلیم کی وجہ سے معاشرے میں کئی طبقات بن گئے ہیں جنہیں ختم کرنا ضروری ہے۔وزیراعظم نے اسکولوں میں جسمانی سزاں پر مکمل پابندی کی منظوری دے دی اور صوبائی حکومتوں کے ذریعے نجی اسکولوں کی فیسوں کو مناسب سطح پر لایا جائے گا، بچوں کے بنیادی حقوق کیلئے بھی حکومت نے اقدامات کی منظوری دی ہے اور چائلڈ لیبر روکنے کے لیے اقدامات کئے جائیں گے، اسٹریٹس چائلڈز کیلئے ملک بھر میں یتیم خانے بنائے جائیں گے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ دفتر خارجہ کو سمندرپار پاکستانیوں کے ساتھ رویہ بہتر بنانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے، مختلف ممالک کی جیلوں میں قید 10 ہزار پاکستانیوں کی رہائی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، ان کی معلومات مرتب کی جائیں گی اور دفتر خارجہ کو اس سلسلے میں فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، ایران میں 3 ہزار پاکستانی قید ہیں جنہیں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ نے جو فیصلے کیے ہیں وہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ان پرعملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان کے نتائج اور ثمرات عوام تک پہنچ پائیں، یکساں نصاب تعلیم انتہائی مستحسن اقدام ہے ، طبقاتی نظام سے چھٹکارا حاصل ہوگا اور تعلیمی ترقی کی راہیں کھلیں گی۔

ترقی و تبدیلی کے وژن کی ترویج کیلئے میڈیا کا بھرپور کردار

وزیراطلاعات و ثقافت پنجاب فیاض الحسن چوہان نے ڈی جی پی آر میں الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت اور وژن کی روشنی میں صحافیوں سمیت ہر طبقے کے مسائل حل کریں گے۔ وزیراطلاعات کی حیثیت سے میرے اور صحافیوں کے درمیان رابطے میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ صحافیوں کے اجتماعی اور انفرادی مسائل کے حوالے سے صوبائی وزیراطلاعات نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ورکنگ جرنلسٹ کی فلاح و بہبود وہ ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائیں گے۔ صحافیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانے کے لئے قانون سازی سمیت ہرممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ نیک نیتی اور حکمت کے ساتھ صحافیوں کے اجتماعی مسائل کا حل نکالیں گے۔میڈیا اینکرز سے گفتگو میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ میڈیا کے ارکان سے ہر مہینے باقاعدگی سے ملاقاتیں کروں گا۔ صحافیوں اور فنکاروں کی مشکل حالات میں مدد کے لیے نئی پالیسی لا رہے ہیں۔ پنجاب آئیڈل کے نام سے باصلاحیت نوجوان گلوکاروں کو تلاش کیا جائیگا۔ پاکستانی ثقافت کو اجاگر کرکے بھارت کی پاکستان مخالف فلموں کا توڑ کریں گے۔ پاکستانی ڈرامہ ، تھیٹر اور فلم انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی منصوبہ بندی کر لی۔ 65کے ہیرو سپاہی مقبول حسین کا ذکر کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ سپاہی مقبول حسین قوم کا ہیرو ہے جس نے شجاعت اور حب الوطنی کی عظیم داستان رقم کی۔بہادری کی اِن تمام داستانوں کوقوم میں اتحاد و یکجہتی کا جذبہ اْبھارنے کے لیے فلم اور ڈرامے کی صورت میں پیش کیا جائیگا۔ سپاہی مقبول حسین کی زندگی پر ڈرامے اور فلم کی منصوبہ بندی کر لی ہے اورپنجاب کی تمام آرٹ کونسلز میں سپاہی مقبو ل حسین کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے پروگرام ترتیب دیے جا رہے ہیں۔ کوشش کریں گے سپاہی مقبول حسین پر فلم بھی بنے کیونکہ نوجوان نسل کو اپنے قومی ہیروز کے بارے میں آگاہی دینا ضروری ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات اور الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز کے درمیان مسلسل رابطے کے لئے واٹس ایب گروپ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔انہوں نے میڈیا پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو پوری دیانتداری اور احساس ذمہ داری سے وزیراعظم عمران خان کے ترقی اور تبدیلی کے ویژن کو آگے بڑھانا ہوگا۔ صوبائی وزیر نے معلومات تک رسائی کے قانون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے رائٹ ٹو انفارمیشن کا ڈھیلا ڈھالا بل پاس کرایا اور اس پر بھی عملدرآمد نہیں کرایا۔پی ٹی آئی حکومت عوام کی سرکاری معلومات تک رسائی کا قانون خیبرپی کے کی طرز پر پنجاب میں بھی نہایت موثر طریقے سے نافذ کرے گی۔معلومات نہ دینے والے افسران کیخلاف سخت کارروائی ہوگی۔گزشتہ حکومت نے عام پاکستانی کو معلومات تک رسائی کا حق دینے کے لئے بل 2017ء ایوان سے متفقہ طور پر منظور کروایا تھا۔ بل کا مقصدحکومت کی تمام وزارتوں، ڈویژنوں اور خودمختار اداروں کے کام اور کارکردگی کے حوالے سے ہر قسم کی معلومات عام پاکستانیوں کو فراہم کرنا تھا۔ لیکن عام طو ر پر دیکھا یہ گیا ہے کہ بعض سرکاری ادارے عوام کو معلومات کی فراہمی سے خوش نہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے محکمہ کی کوئی بات بھی عوام تک پہنچے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تو کرپشن اور بدعنوانی اور اقربا پروری ہے۔ سرکاری محکموں کے کرپٹ افسران کیوں چاہیں گے کہ عوام کو ان کی کرپشن کے بارے میں پتہ چلے۔ حالانکہ اس بل کے مطابق عوامی مفاد کا تحفظ کیا گیاہے۔ 10 دن میں معلومات دینا ضروری ہیں ۔ معلومات روکنے کی صورت میں دو سال سزا اور جرمانہ ہے۔ متعلقہ حکام کو معلومات فراہم نہ کرنے کی وجوہات تین دن کے اندردینی ہوں گی۔ معلومات روکنے کی صورت میں 2 سال سزا اور جرمانہ ہو گا۔یہ درست ہے کہ ایسے اداروں کی معلومات تک رسائی ممکن نہیں جن کا تعلق براہ راست وطن کی سلامتی اور تحفظ سے ہے مگر بعض ایسے ادارے بھی معلومات کی فراہمی سے گریز کرتے تھے جن کا تعلق قومی سلامتی اور سکیورٹی سے دور دور تک بھی نہیں تھا۔ اہلکار اپنی صوابدید پر فیصلہ کرتے اور اپنے تعلقات ہی کو معلومات کی فراہمی کا قانون سمجھتے تھے۔ صرف بینکوں، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے ایسے اکاؤنٹس ضرور اخفا میں رکھے جائینگے جن کے افشا ہونے سے اداروں کی سکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے۔ موجودہ حکومت نے کرپشن، بدعنوانی کے خلاف جہاد کو اپنا وژن بنایا ہے۔ لہٰذا ہر محکمہ اور ہر ادارہ میں کرپشن کا خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ اسی لئے صوبائی وزیر اطلاعات وثقافت فیاض الحسن چوہان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پنجاب میں جہاں اب تک کرپشن کا دور دورہ تھا۔ اپنے من پسند افسران تعینات کئے جاتے تھے ، اب ایسا ممکن نہیں۔ میڈیا بھی حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مثبت اقدام کی نہ صرف تعریف کرے بلکہ اس کی مناسب تشہیر بھی کرے تاکہ عوام کو بھی معلوم ہو کہ ان کی من پسند حکومت ان کیلئے کیا کچھ کر رہی ہے۔ اسی طرح معلومات کے قانون پر مؤثر طورپر عمل درآمد سے بلیک میلنگ کا کلچر کم ہوگا۔ کیونکہ بلیک میلر معلومات عام کرنے کا خوف دلاکر بلیک میل کرتے ہیں۔چند بااثر اخباروں‘ میڈیا گروپس اور صحافیوں کی اجارہ داری ختم ہوگی اور کوئی بھی فرد بغیر رقم خرچ کیے ای میل پر بھی معلومات حاصل کرسکے گا۔اس بل کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیلئے ضروری ہے کہ اس کی مناسب انداز میں تشہیر کی جائے۔ عوام کو بتایا جائے کہ ان کے کیا حقوق ہیں۔ کن کن معاملات میں وہ کیا کیا معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیوکی پاکستان آمد…!

جیسے ہی پاکستان میں منتقلی اقتدار کا عمل صاف وشفاف انداز سے کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا؛تو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی ایک روزہ کیا؟ بلکہ چند گھنٹوں کے لئے پاکستان آمدہوئی ،اِس لمحے امریکیوں کے بقول پاکستان آمد نئی حکومت کو پاکستان سمیت خطے میں دہشت گردی کے حوالے سے دوبدو بیٹھ کرخاص لائن دینی تھی ۔ اگرچہ، امریکیوں کا پاکستان آنا’’ ری سیٹ‘‘ قرار دیاجارہاہے؛ مگر پھر بھی ابھی اِس میں بہت سے سوالات پوشیدہ ہیں۔ جن کے دونوں جانب سے تسلی بخش جوابات آنے باقی ہیں ۔تاہم جیسا بھی ہے؛ مگر اُمید ہے کہ آنے والے وقتوں میں سب سا منے آجا ئے گا۔ تاہم یہاں یہ امر قابلِ ستائش ہے کہ منگل چارستمبر کو مُلک کے نئے صدر مملکت کے لئے ہونے والے انتخاب کے نتیجے میں تحریک اِنصاف اور اتحادی جماعتوں کے صدارتی اُمیدوار ڈاکٹر عارف علوی353ووٹوں کی واضح اکثریت سے 13ویں صدر مملکت منتخب ہوگئے ہیں۔جن کی کامیابی کا باقاعدہ اعلان اگلے روز چیف الیکشن کمشنر نے کیا؛اور نوٹیفکیشن جاری کیا۔قوی امکان ہے کہ مملکتِ پاکستان کے نئے صدر 9ستمبر کو حلف اُٹھا ئیں گے ۔جبکہ نومنتخب صدرِ مملکت کے مدمقابل مسلم لیگ (ن) ، متحدہ مجلس عمل سمیت دیگر اتحادی جماعتوں کے اُمیدوار مولانافضل الرحمن کو185اور پاکستا ن پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن کو 124ووٹ مل سکے ۔اِس طرح 25جولائی 2018کومُلک میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد منتقلی اِقتدار کا جوعمل شروع ہوا تھا ؛اَب وہ حتمی طور پر مکمل ہو چکاہے ۔جس سے مُلک میں جمہوریت پنپے گی : اور اِس کے ثمرات عوام الناس تک پہنچتے نظر آئیں گے۔مذکورہ منتقلی اِقتدار کا عمل تبدیلی کے نعروں اور وعدوں کے ساتھ تو پا یہ تکمیل کو پہنچا ؛مگر ابھی اِس سارے عمل میں سیاسی ناقدین کی نظر میں کابینہ اراکین کی ذاتی ، اخلاقی ، سیاسی اور معاشی و اقتصادی حوالوں اوراِن کی صلاحیتوں کے اعتبار سے کئی مخمصے اور ابہام موجود ہیں۔ جن پر گاہے بگاہے؛ سیاسی ناقدین تنقیدوں کے نشتر چلاکر نشاندہی کرنے میں مصروفِ عمل بھی ہیں۔اگرچہ، یہ ٹھیک ہے کہ تنقیدیں کرنا ناقدین کا اپنا کام ہے؛ مگراَب یہ اپنے فرض و کام میں اتنے بھی آگے نکل کر بے لگام نہ ہو جا ئیں؛ کہ اِن کا کام حکومتی اچھائیوں پر پردہ ڈال کر صرف تنقیدیں ہی کرنارہ جائے!! ۔بہرکیف، اِس سے اِنکار نہیں ہے کہ آج نو منتخب وزیراعظم عمران خان اور اِن کی حکومت کے لئے اندرونی اور بیرونی لحاظ سے انگنت سیاسی اور معاشی و اقتصادی چیلنجز موجود ہیں،مگراِس کے باوجود یہاں یہ امر قابل تسائش ہے کہ اِس حال میں بھی مسائل پر جلد قا بو پانے کے لئے حکومت نے کفایت شعاری وخود انحصاری اور خارجہ پالیسیوں کو متعارف کرانے کے لئے اپنے تئیں ایسے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ جن کے مستقبل قریب میں بہتر نتا ئج اخذ ہونے کی اُمید پیدا ہوگئی ہے : خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک تاریخ ساز لمحہ اُس وقت دیکھنے کو ملا۔پچھلے دِنوں جب امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیواپنے لاو لشکر کے ہمراہ بشمول امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جوزف ڈن فورڈ جو ڈونلڈ ٹرمپ کے بہت زیادہ قابل اعتباراور پسندیدہ افراد میں شامل کئے جاتے ہیں،پاکستان آئے ، حسب روایت مہمان کی حیثیت سے آئے؛ امریکیوں نے اپنی آستین سے وہی پراناوالاڈومور کا خنجرنکالا اورنئی پاکستانی حکومت کو اِس سے گھائل کرناچاہا۔تو وزیراعظم عمران خان نے گھر آئے۔ امریکیوں کے ڈومور کے ہر وار سے بچتے ہوئے؛انتہائی بردباری اور خودمختاری سے اپنا دوٹوک موقف اختیار کیا ؛اور امریکیوں کی ڈومور کی فہرست کو اُنہیں ہی تھماتے ہوئے ؛ واشگاف انداز سے جیسے امریکیوں کو للکار تے ہوئے کہہ دیاکہ اَب مٹھی بھر ڈالرز کی بھیک یا امداد کے عوض پاکستان کسی کی لڑائی کا حصہ نہیں بنے گا؛اَب جِسے لڑائی کا شوق ہے؛ تو وہ اپنی لڑائی خود لڑے،جبکہ پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے یہ بھی واضح کردیاہے کہ پاک امریکا تعلقات خوشگوار ماحول میں چلنا چاہئے، اَب پاک امریکا تعلقات ڈومور کے لئے نہیں ہونے چاہئے۔ بلکہ نئی حکومت کے ساتھ پاک امریکا تعلقات آگے بڑھنے کی بنیاد پر ہی قائم رہ سکتے ہیں، ہمیں پتہ ہے کہ افغان امن سمیت خطے سے دہشت گردی کے متعلق امریکا پاکستان سے کیا چاہتاہے؟ مگر پاکستان امریکی مرضی اور اُس کی چاہت کے مطابق کام کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے،دوسروں کی لڑائی اور جنگ کا حصہ بن پر پاکستان نے اپنا تاریخی اور ناقابل تلافی جانی اور مالی نقصان کیا ہے۔ آج کا پاکستان دنیا میں امن کا خواہاں ہے۔ پاکستان کسی دباؤ کے بغیر برابری کی سطح پر امریکا سے اچھے تعلقات تو چاہتاہے؛ مگر امریکا سمیت کسی کے مفادات کی جنگ نہیں لڑسکتاہے۔ بالآخرامریکا سے آئے مہمانوں سے خوشگوار ماحول میں پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والا مذاکراتی کاعمل اختتام کو پہنچا؛تو امریکیوں نے بھارت کا رخ کیا۔وہاں کیا کچھ ہوا، یہ بھی سب کے سا منے ہے۔ راقم الحرف کی نظر میں بیشک ، ہماری نئی حکومت میں پاک امریکا تعلقات مفادات سے بالاتر ہو کر برابری اور خودمختاری بنیاد پر تو قائم رہ سکتے ہیں ، مگر امریکا پھر بھی پرا نی والی روش پر قائم رہ کر کسی دباؤ سے پاک امریکا تعلقا ت روارکھنا چاہتاہے؛ تو امریکا کو یہ ضرور سوچنا ہوگاکہ اَب وزیراعظم عمران خان اور اِن کی حکومت کے ساتھ ایساہونا ممکن ہی نہیں نا ممکن بھی ہے۔ کیوں کہ پاکستان کی نئی حکومت پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ اَب سب اپنی حدود ہی میں رہیں، ماضی میں جو کچھ ہواہے ،تبدیلی اور نئے پاکستان کا نعرہ لگا نے والی نئی پاکستا نی حکومت میں مُلک اور عوام کو نقصان پہنچا نے والی پالیساں ہرگز برداشت نہیں کیں جا ئیں گیں۔اِسی طرح نو منتخب وزیراعظم عمران خان اور اِن کی کا بینہ کے اراکین نے وفاق سمیت چاروں صوبوں کی حکومتوں کو واضح کردیاہے کہ سب اپنی حدود میں رہیں ،بیجا کسی ادارے کو کسی ادارے میں مداخلت کرنا ہی بگاڑ کا سبب بنتاہے ،اگرآئین اور قانون کی رو سے ادارے اپنے اختیارات سے تجاوز نہ کریں ۔ اپنی حدودو قیود میں رہ کر کام کریں؛تو ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں موجودہ حکومت حقیقی معنوں میں کئی مثبت تبدیلیوں کی نوید لئے نئے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے ساتھ آگے بڑھے گی ورنہ ؟یہ اپنے تبدیلی کے وعدوں اور دعووں پر خود ہی سوالیہ نشان لگا دی گی۔ (ختم شُد)

*****

۷ ستمبریوم ختم نبوت ؐ

رسولؐ اللہ ،ختم نبوتؐ اور ناموس رسالتؐ کے بے تیخ سپاہی اور قلمی جہاد میں ہمہ تن مصرف جناب محمد متین خالد صاحب نے نہایت مہربانی فرماتے ہوئے ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی اپنی نئی شہر آفاق کتاب’’ناموس رسالتؐ مغرب اور آزادی اظہار‘‘ مجھے بھیجی۔ اس سے قبل میں ان کی کئی کتابوں پر تبصرے کر چکا ہوں جو پاکستان میں پرنٹ میڈیا میں شائع ہو چکے ہیں۔۷؍ سمبر یوم ختم نبوتؐ کی موقع پر اس کتاب کے بھی مندرجات عوام تک پہنچانے کی جسارت کر رہا ہوں۔کتاب’’ ناموس رسالت مغرب اور آزادی اظہار‘‘ محمد متین خالد صاحب کی یہ پہلی کتاب نہیں اس سے قبل اس نہات ہی اہم مضمون پر درجنوں کتابیں تصنیف کر چکے ہیں۔کتاب پر تبصرے سے پہلے ۷ سمبر یوم ختم نبوتؐ پر بات کرتے ہیں۔یہ دن تاریخ اور خاص کر تاریخ اسلام میں سنہری حرفوں سے لکھنے جانے کے قابل ہے۔اس دن پاکستان کی پارلیمنٹ نے جمہوری طریقے سے مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کو قرآن حدیث کی روشنی میں باطل ثابت کیا۔پاکستان کی پارلیمنٹ میں ایک طرف مولانا محمود، پروفیسر غفور،مولانا شاہ احمد نورانی صاحبان اور دوسری طرف جھوٹی نبوت کے دعویدار کے نمائندے شریک ہوئے۔دونوں طرف سے کئی دن کی بحث کے بعدقادیانی ہار گئے اور پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانی جھوٹے نبی کی نبوت کو رد کر دیا۔ قادیانیوں کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے جمہوری طریقے سے بحث مباحثے کے بعد غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ اس دن سے پاکستان اور مسلم دنیا ۷؍ ستمبر کو یوم ختم نبوتؐ مناتی آرہی ہے۔ کاذب مرزا غلام محمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اور اپنی کتابوں میں لکھا کی صرف قادیانی مسلمان ہیں باقی ساری دنیا کے مسلمان غیر مسلم ہیں۔پھر عام مسلمانوں کودھوکہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ قادیانی بھی مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں۔جبکہ یہ بات نہیں قادیانی غیر مسلم اور کافر ہیں۔ہاں ان کو مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق حاصل ہیں۔مگر آج تک قادیانی عام مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہوئے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ اپنے آپ کو اقلیت نہیں مانتے اور ڈھٹائی باقی مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ عجیب قسم کی ڈھگی استعمال کر کے سادہ مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ قادیانیت کے سفید جھوٹ، دھوکہ اور ٹھگی سے عام مسلمانوں کو بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔محمد متین خالد صاحب نے اپنی نئی کتاب ’’ناموس رسالت مغرب اور آزادی اظہار‘‘ میں عیسائی ملکوں کی منافقت کا پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ اصل میں جب انگریزوں نے برصغیر میں مسلمانوں سے سازش کر کے حکومت پر قابض ہوئے تو مسلمانوں زیر نگین رکھنے کے لیے تدبریں کرتے رہتے تھے۔برصغیر سے انگریز کے نمائندے نے برطانیہ اپنی حکومت کو ایک تدبیر لکھی کہ برصغیر کے مسلمان پیرپرستی اور روحانیت کی طرف مائل ہیں۔ ان پر غلبہ مستحکم کرنے کے ان ہی میں سے بزور نبی پیدا کیا جائے تو برصغیر میں مسلمان کو قابو رکھا جا سکتا ہے۔ یہ تحریر آل انڈیا آفس لائبریری میں اب بھی موجود ہے۔ جو چائے اس کا مطالعہ کر سکتا ہے۔ عیسائی دنیا نے پوری دنیا میں اور برصغیر میں قادیانیوں کی ہر طرح سے مدد اور حمایت کا بیڑا اُٹھایا ہوا ہے۔ آج بھی برطانیہ میں قادیانیوں کا ہیڈ کواٹر ہے۔ قادیانیت پھیلانے کے لیے سیٹ لائٹ جینلز کام کر رہے ہیں۔ نیٹ پر لفظ اسلام کلک کریں تو سچے اسلام کے بجائے جھوٹی نبوت پر مبنی قادیانیوں کی کتابوں کی لسٹ مل جاتی ہے۔ اسرائیل میں قادیانی کا مشن اب بھی کام کر رہا ہے۔مصنف نے عرق ریزی ثابت کیا ہے کہ عیسائی ملک ہمارے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخیاں کرتے رہتے ہیں۔ آپ ؐ کے کارٹون بناتے ہیں اور بے شرمی سے کہتے ہیں کہ یہ اظہار آزادی ہے۔منافقت کی حد ہے کہ حضرت عیسیؑ کی شان میں گستاخی تو قابل جرم ہے۔ اس کے لیے قانون بھی ہے۔اسی طرح یورپ کے دس ملکوں میں یہودیوں کی جھوٹی گھڑی ہوئی ہولوکاسٹ کہانی پر بھی بات کی جائے تو قابل گرفت ہے اور اس پر سزا ہے ۔محمد متین خالد صاحب نے عیسائیوں کی منافقت اور اسلام دشمنی کا پردہ چاک کرنے کیلئے پاکستان میں رسول ؐ اللہ کے دفاع میں لکھے گئے کالم نگاروں کے سیکڑوں مضامین کو اس کتاب میں جمع کر کے پاکستانی عوام کیلئے ایک ذخیرہ اس کتاب میں جمع کر دیا ہے۔ مصنف نے اس کام کے لیے درجوں کتابوں کے مطالعے کا نچوڑ بھی بیان کر دیا ہے۔ مصنف نے یہ بھی گھوج لگایا کی کس طرح عیسائی اور یہودی کے نمائندے ’’مولی نورس‘‘ انٹر نیٹ پر جاری ۲۰۰ ؍ قسطوں کے پروگرام میں دوسرے لوگوں کے ساتھ پیارے پیغمبرؐ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔ مسلمان حکومتوں کو اس کی روک تھام کی کوشش کرنی چاہیے۔لکھتے ہیں اسرائیلی پارلیمنٹ نے قانون پاس کیا ہے کہ لوؤڈ اسپیکر پر آذان نہیں دی جاسکتی۔ کیا یہ مسلمانوں کی اظہار آزادی پر قدغن نہیں۔امریکا میں ٹرمپ کہتا ہے کہ مسلمانوں کو امریکا سے جانا ہو گا۔امریکا میں کوریئر کمپنی کے مسلمان ملازم کو ڈیوٹی کے دوران نماز پڑھنے پر ملازمت سے بے دخل کر دیا گیا۔مسلمان پولیس افسر کو داڑھی ختم نہ کرنے پر ملازمت سے معطل کر دیا گیا۔برطانیہ میں دو بچوں کو داڑھی نہ منڈوانے پر اسکول سے نکال دیا۔ جرمنی میں مساجد پر پٹرول بموں سے حملہ کیا گیا۔ ہالینڈ نے نے گستاخانہ شائع گئے۔کینیڈا کے شہر کھیوبک کیا میں ایک مسجد پر فائرنگ سے ۳۶ نمازی شہید ہوئے۔ گوانتاموبے جیل میں قرآن شریف کے اوراق کوفلش میں استعمال ی کیا گیا۔یورپ کے کئی ملکوں میں اسکاف پر پابندی لگائی گئی۔منصف لکھتا ہے کہ یہ مغرب کا اظہار آزادی ہے۔ مصنف نے اس قسم کے سیکڑوں واقعات اپنی کتاب میں درج کیے ہیں۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودیوں اورعیسایوں کامسلمانوں کے ساتھ تعصب کرتے ہیں۔صاحبو! ایک مختصر سے اخباری کالم میں محمد متین خالد صاحب کی سالوں کوشش کو سمویا نہیں جاسکتا۔مسلمان رسولؐ اللہ سے گہری محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔ رسولؐ اللہ سے دشمنی کرنے والوں کے عزاہم سے روشناس ہونے کے لیے محمد متین خالد صاحب کی کتاب ’’ ناموس رسالتؐ مغرب اور آزادی اظہار‘‘ کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ ہماری لائبریریوں کے اندر اس کتاب کا ہونا بھی انتہائی مفید ہو گا۔ اللہ تعالیٰ مصنف کو اس ایک عظیم کا پر اپنے اجر سے نوازے۔محمد متین خالد آئندہ بھی اپنے کام کو جاری رکھیں۔آمین

*****

Google Analytics Alternative