کالم

گمراہ کن انتخابی پروپیگنڈہ اور نواز شریف

میڈیا اطلاعات کیمطابق سزا یافتہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی مریم نواز ایک خصوصی نجی ہوائی جہاز میں لندن سے لاہور اور پھر جیل جا چکے ہیں۔ یہ اَمر حیران کن ہے اور پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے جب کوئی سزا یافتہ سیاسی شخصیت پُرامن طور پر گرفتاری پیش کرنے کے بجائے عوامی احتجاج کو بیساکی بناتے ہوئے ملک میں سیاسی خلفشار کو ہوا دینے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔نیب کورٹ کی جانب سے دی جانے والی سزا سے قانونی بنیاد پر اختلاف کیا جا سکتا ہے ۔جہاں تک عدالتوں میں آئینی و قانونی جدوجہد کا تعلق ہے سابق وزیراعظم کو دیگر شہریوں کی طرح یہ تمام حقوق حاصل ہیں لیکن ملک میں آئینی طور پر قائم نگران حکومتوں کی موجودگی میں ایک ایسے موقع پر جبکہ نئے عام انتخابات میں دس بارہ دن رہتے ہیں ملک میں سیاسی خلفشار پیدا کرنا دشمن طاقتوں کے سامنے قومی سلامتی کو کمزور کرنے کے مترادف ہی ہے۔ اندریں حالات ایک مجرم کی گرفتاری میں تعاون کرنے کے بجائے سابق مسلم لیگی حکومت کے اہم سیاسی رہنماؤں بل خصوص سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف اور سابق مسلم لیگی اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے ملک میں امن و امان قائم رکھنے کی کوششوں سے اتفاق کرنے کے بجائے پنجاب کے نگران وزیراعلی کو خوفناک نتیجے کی دھمکیوں سے نوازنا ناقابل فہم ہے۔ نگران حکومت چاہے چند ماہ کیلئے ہی آئی ہے لیکن ملک میں امن و امان قائم کرنا اُس کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے جسے عام انتخابات کے موقع پر کچھ بیرونی طاقتیں سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں چنانچہ مسلم لیگی حلقوں کی جانب سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں سزا یافتہ مجرموں کے استقبال کیلئے اشتہارات کے ذریعے ترغیب دینا ملک میں سیاسی خلفشار پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ کچھ بیرونی طاقتیں بھارتی انتہا پسند لیڈر شپ نریندرا مودی کے تعاون سے عام انتخابات کے موقع پر پاکستان میں سیاسی خلفشار پیدا کرنے میں پیش پیش ہیں ۔ میاں نواز شریف کا لندن سے روانگی کے وقت یہ کہنا کہ پاکستان میں جمہوریت کے تمام تقاضے کچل دئیے گئے ہیں، جیل ہو یا پھانسی اب قدم نہیں رکیں گے ، کون ہیں جو مرضی کے الیکشن نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں، کیا وہ بھول گئے کہ پاکستان دو ٹکڑے کیوں ہوا تھا؟ درحقیقت میاں نواز شریف کا یہ بیانیہ خطے میں امریکہ و بھارت کی خوشنودی سے جائز و ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ لندن میں ذاتی دولت کے تحفظ کیلئے ایک غیر اخلاقی حربے کے مترادف ہے۔ حیرت ہے کہ سابق وزیراعظم کی دولت کی ہوس نے پاکستان کی سلامتی کو ہی داؤ پر لگا دیا ہے جبکہ اِس سے قبل اپنی حکمرانی کے تینوں ادّوار میں کرپشن کی دولت کے تحفظ کیلئے وہ قومی اداروں کو کمزور کرنے میں ہی لگے رہے ہیں جس کا تذکرہ وقتاً فوقتاً قومی ، بین الاقوامی اور نجی میڈیا میں تواتر سے آتا رہا ہے۔درج بالا تناطر میں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل جہانداد خان مرحوم جو گورنر سندھ کے عہدے پر بھی فائز رہے تھے اور بعد میں دکھی انسانیت کی خدمت کے حوالے سے ملک کے مختلف شہروں میں انٹرنیشنل آئی ہسپتال کی بیلٹ کے چیئرمین بھی رہے نے اگست 2002 میں اپنی مشہور کتاب ” پاکستان میں قیادت کا بحران” میں لکھا: ” پاکستان کی تاریخ کی نصف مدت مطلق العنانی کی نذر ہوگئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آمرانہ انداز حکمرانی کو خوب فروغ حاصل ہوا ۔ اِس کی ایک وجہ حکمرانوں کا خیال خام تھا کہ اقتدار میں آ کر وہ خود کو تمام سیاہ و سفید کا مالک سمجھنے لگتے تھے۔یکے بعد دیگر ے جو حکومتیں اقتدار میں آئیں اُن میں معاشرے کی تشکیل و تعمیر کیلئے نہ جذبہ تھا نہ ہی سیاسی عزم۔ اُنہوں نے صاف ستھری ، دیانتدار اور کارگزار انتظامیہ کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی ۔ سیاسی قیادت نے جس غیر ذمہ داری اور مجرمانہ غفلت کا مظاہر کیا اُس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کی سیاسی کارگزاری کو پرکھنے کیلئے روک ٹوک اور احتساب کا کوئی داخلی نظام نہیں تھا… اِس کی ایک مثال 1988 سے 1999 تک بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے ادّوار حکومت ہیں جب اُن کے غیر دانشمندانہ اقدامات نے قوم کو مایوس کیا بلکہ اُن کے گیارہ سالہ عہد حکومت میں ملک کی معاشی تباہی ، رشوت ، بدنظمی ، اقربہ پروری ، شخصی احترام اور قومی اداروں کی بیخ کنی عروج پر تھیں جس کے نتائج قوم آج تک بھگت رہی ہے” ۔
جنرل جہانداد خان نے جو کچھ لکھا ہے اُس کی تائید 2004 میں نیو یارک ٹائمز کی جانب سے بیسٹ سیلر قرار دی گئی کتاب ،، گھوسٹ وارز،، کے امریکی مصنف،، اِسٹیو کُول،، نے اپنی کتاب کے صفحہ 438 پر نواز شریف کی قومی خزانے کو جوئے کے پانچے سے لوٹنے کے حوالے سے لکھا ہے: “Pakistan Prime Minister Nawaz Sharif lived in continued fear of his own army. Generals had invented the Sharifs as a political dynasty. They endorsed Nawaz as the civilian face of their favoured allince. Sharif was attentive to his self interest. He was presumed to be raking millions from Pakistan’s treasury for his family’s benefit.” حیرانی کی بات ہے کہ ایک جانب تو نواز شریف جنرل ضیاء الحق سے زمانے سے ہی فوج کی بیساکیاں بن کر قومی اداروں کو خوبصورت دھوکے بازی سے بے وقوف بنا کر قومی دولت سمیٹا رہا اور دوسری جانب غیر ملکی طاقتوں بل خصوص بھارت اور امریکا کو خود اپنی ہی فوج کے خلاف ورغلاکر ذاتی دوستی کو مہمیز دیتا رہا ۔ ماضی میں نواز شریف ون آن ون ملاقات کے دوران سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ پاکستان فوج نواز شریف کی ہدایت پر عمل نہیں کرتی ہے ۔ اِس کی تائید سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی کتاب مائی لائف میں بیان کردہ حقائق سے بھی ہوتی ہے جس میں اُنہوں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ کارگل جنگ کے دوران اپنی درخواست پر نواز شریف اپنی فوج کو دباؤ میں لانے کیلئے واشنگٹن کے دورے پر آئے تھے۔ سوال یہ بھی ہے نواز شریف نیپال میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی سے خفیہ ملاقاتوں میں کیا گفتگو کرتے رہے ہیں جبکہ بھارتی وزیراعظم سے ملاقاتوں کا یہ سلسلہ امریکہ میں بھی جاری رہا اور جسے بھارتی وزیراعظم نے اپنے ذاتی دوست سجن جندال جو افغانستان میں بھارتی را کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے رہے ہیں، کے ذریعے بخوبی جاری رکھا ،کا کیا مقصد تھا؟ اِس حقیقت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ اپنی ہر حکومت کے دوران سابق وزیراعظم میاں نواز شریف چیف آف آرمی سٹاف اور آئی ایس آئی چیف کو سینیارٹی کا لحاظ کئے بغیر اپنی مرضی سے ہی منتخب کرتے اور مستعفی ہونے پر مجبور کرتے رہے تھے تو پھر پاکستان فوج کے خلاف تواتر سے پروپیگنڈے کا کیا مقصد تھا؟ درحقیقت ، نواز شریف امریکا اور بھارت کی حمایت سے اپنی ہی فوج کے خلاف ڈان لیکس ، ممبئی حملوں پر پاکستان کے خلاف بیانیہ ، شیخ مجیب الرحمن کو قومی ہیرو قرار دینے اور کشمیر میں اُبھرتی ہوئی آزادی کی لہر کو دبانے کیلئے مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں پاکستان کشمیر کمیٹی کو مفلوج کرنے کی پالیسی پر ہی قائم رہے۔سوال یہی ہے کہ کیا نواز شریف بھارتی جنتا پارٹی کے بنگلہ دیش اور پاکستان کو اکھنڈ بھارت میں شامل کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں یا اِس کی کوئی اور وجہ ہے؟

دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیاں انتخابی عمل کو سبوتاژ نہیں کرسکتیں

adaria

انسانیت اور امن دشمن قوتیں انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کیلئے دھماکے اور خودکش حملے کروا کر اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کرنا چاہتی ہیں لیکن ان کی بزدلانہ کارروائیاں سیاسی و عسکری قیادت کے عزائم کو متزلزل نہیں کرسکیں گی۔ گزشتہ روز مستونگ اور بنوں میں دہشت گردی کے واقعات کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جن پر پوری قوم اشکبار ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں انتخابی ریلیوں پر بم حملوں کے نتیجہ میں 135 افراد شہید اور 170 سے زخمی ہوگئے ، انتخاب سے قبل دہشت گردی کی لرزہ خیز واقعات نے ایک بار پھر اضطراب پھیلا دیا ہے۔ بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں ہونے والے خودکش حملے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما حلقہ پی پی 35 مستونگ کی نشست سے نامزد امیدوار سابق وزیراعلیٰ اسلم خان رئیسانی کے چھوٹے بھائی نوابزادہ سراج خان رئیسانی سمیت 130 افراد شید اور 120 سے زائد زخمی ہوئے۔ حملہ آور نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ خطاب کیلئے اسٹیج پر آئے تو اس نے خود کو اڑالیا، خودکش حملے کے بعد ہر طرف انسانی اعضاء بکھر گئے قیامت صغریٰ کا منظر بپا ہوگیا، ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل غمگین، ہر طرف خوف و ہراس کا منظر دکھائی دیا۔ دہشت گردی کے ان واقعات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔سراج رئیسانی کو زخمی حالت میں علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔مستونگ دھماکے کے بعد کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، چھٹی پر موجود ڈاکٹروں اور طبی عملے کو واپس طلب کیاگیا ۔دھماکے کے بیشتر زخمیوں کو کوئٹہ کے اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ، مستونگ دھماکے کے 53 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔مستونگ واقعے میں شہادتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث سول اسپتال کوئٹہ کے مردہ خانے میں میتیں رکھنے کی جگہ کم پڑگئی ہے اور مردہ خانے کے علاوہ شعبہ حادثات میں بھی میتیں رکھی ہوئی ہیں۔یاد رہے کہ نواب زادہ سراج رئیسانی بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار تھے اور حلقہ پی بی 35 مستونگ سے الیکشن میں حصہ لے رہے تھے جبکہ وہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کے چھوٹے بھائی تھے۔بم ڈسپوزل اسکواڈ نے بھی مستونگ دھماکا خود کش قرار دیا ہے ،دھماکے میں 16 سے 20 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔دوسری جانب چیف الیکشن کمیشنر سردار محمد رضا نے مستونگ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان، آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری بلوچستان سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے تمام امیدواروں کو بلاامتیاز سیکیورٹی فراہم کرنے انتخابات کے ماحول کو پر امن اور سازگار بنانے کی ہدایت کی ہے۔بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ علا الدین مری نے مستونگ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات انتخابات کرانے کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے اور سانحہ درینگڑھ میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ شہید نوابزادہ سراج رئیسانی محب وطن سیاستدان تھے اور وہ ملک میں استحکام پیدا کرنے کے لیے کام کررہے تھے جب کہ وہ قومی اتحاد اور ملک کی سلامتی کے علمبردار تھے۔حکومت بلوچستان نے سانحہ مستونگ پر2 روزہ سوگ کا اعلان کیا جس کے باعث سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہیگا۔بلوچستان عوامی پارٹی نے سانحہ مستونگ پر 3 دن کے سوگ کا اعلان کرتے ہوئے انتخابی سرگرمیاں معطل کردیں۔ پارٹی کے سربراہ جام کمال کا کہنا تھا کہ کل کوئٹہ میں بلوچستان عوامی پارٹی کاجلسہ منسوخ کردیا گیا ہے جب کہ سراج رئیسانی محب وطن رہنما تھے۔ انتخابی عمل سے قبل دھماکوں اور خودکش حملوں کے ذریعے خوف و ہراس اور بدامنی پھیلانے کی کوشش ناکام قرار پائے گی، امن اور انسانیت کے دشمن اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں کرکے سیاسی و عسکری قیادت اورقوم کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتیں۔ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے آپریشنز میں تیز لانے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان اور بنوں کے واقعات نے سیکورٹی اداروں کی کارکردگی کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے اس ضمن میں خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انتخابی امیدواروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ان کیلئے سیکورٹی انتظامات کو فعال بنایا جائے تاکہ انتخابات کا عمل بخیر و خوبی انجام پائے۔
ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف اور مریم گرفتار
ایون فیلڈ ریفرنس کے سزا یافتہ سابق وزیرِاعظم میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔نواز شریف کو اسلام آباد لے کر جانے والے طیارے نے رات پونے گیارہ بجے نیوایئرپورٹ پر لینڈ کیا۔ نیب نے نواز شریف اور مریم نواز کے جوڈیشل وارنٹ جاری کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں سزا یافتہ مجرم ہیں، اس لیے جیل بھیجا جائے۔نیب پراسیکیورٹر نے کہا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر نواز شریف اور مریم نواز احتساب عدالت پیش نہیں کر سکتے، احتساب عدالت نے جوڈیشل وارنٹ کے لیے مجسٹریٹ مقرر کرتے ہوئے ان کی قید کا وارنٹ جاری کر دیا ہے، مجسٹریٹ مجرموں کو جیل انتظامیہ کے حوالے کریں گے۔اس کے بعد احتساب عدالت کے جج نے سابق وزیرِاعظم نواز شریف اور مریم کو جیل بھیجنے کا حکم دیا۔اس سے قبل سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے طیارے نے لاہور ایئرپورٹ کے حج ٹرمینل پر لینڈ کیا، ابوظہبی سے پرواز ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے لاہور پہنچی۔ اس موقع پر ایئرپورٹ کے اندر اور باہر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکار الرٹ رہے۔لاہور ایئرپورٹ پر گرفتاری کے لئے نیب بھی چوکس رہی اور اس کی دو دو ٹیمیں لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹس پر موجود تھیں۔ خواتین پر مشتمل نیب کی ٹیم طیارے کے اندر داخل ہوئی اور سابق وزیرِاعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم کے پاسپورٹس تحویل میں لے کر انھیں باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا، تاہم جہاز سے اترنے کے بعد نواز شریف گرفتاری دینے کی بجائے ٹرمینل کی جانب پیدل ہی چل پڑے اور گاڑی میں بیٹھنے سے صاف انکار کر دیا۔بعد ازاں نواز شریف اور مریم کو ایک خصوصی طیارے میں سوار کرایا گیا جس نے تھوڑی ہی دیر کے بعد اڑان بھر لی، یہ تمام مراحل آسانی سے انجام پائے اور سابق وزیرِاعظم کی جانب سے اپنی گرفتاری کے موقع پر کوئی مزاحمت سامنے نہ آئی۔نواز شریف اور مریم نواز کی لاہور آمد پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے، کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا کے لئے رینجرز نے لاہور ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھالے رکھا۔سیکیورٹی خدشات سے نمٹنے کے لئے داخلی راستوں پر بھی اہلکار الرٹ رہے۔ اس کے علاوہ موٹروے اور نیشنل ہائی ویز بھی کئی مقامات سے بند کر دی گئیں، لاہور کے کئی علاقوں میں موبائل نیٹ ورک بھی جام رہی،دوسری جانب یون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن صفدرکا ٹرائل جیل میں ہو گا اور آئندہ احتساب عدالت کی کارروائی اڈیالہ جیل میں ہوگی۔وزارت قانون نے جیل میں ٹرائل کانوٹیفکیشن جاری کردیا جس میں حکم دیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن صفدر کاجیل ٹرائل کیا جائے اور آئندہ احتساب عدالت کی کارروائی اڈیالہ جیل میں کی جائیگی۔ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی گرفتاری اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں مسلم لیگ (ن) کو انتہائی صبروتحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ شریف خاندان کو اپیل کا حق حاصل ہے وہ قانونی راہ اختیار کریں۔

مودی کے جارحانہ عزائم

نریندر مودی نہ صرف جارحانہ عزائم سے پورے جنوبی ایشیاء کا امن خطرے میں ڈال رہا ہے بلکہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں مصروف افواج پاکستان کو کسی اور محاذ پر الجھانے کی کوشش کر رہا ہے جس سے فائدہ دہشتگرد اٹھائیں گے۔ بھارت مت بھولے کہ پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے اور 20 کروڑ عوام افواج پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، کسی ایڈوینچر کا شوق بھارت کو مہنگا پڑ ے گا۔
گزشتہ سال بھارت کے پاکستانی علاقے میں سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کو پوری دنیا نے رد کر دیا۔ عالمی میڈیا نے بھی بھارتی دعوے کو بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا کیونکہ دنیا کو معلوم ہے کہ پاکستان ناقابل یقین حد تک متاثر کن فضائی دفاعی نظام کا حامل ہے اور اس طرح کی سرجیکل سٹرائیک کے لئے جس قسم کی مربوط پلاننگ اور تکنیکی مہارت درکار ہوتی ہے۔ بھارت ابھی اس حوالے سے ٹیسٹنگ اور تجربات کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ بھارت نے تاحال اس حملے کے حوالے سے کوئی ثبوت بھی فراہم نہیں کئے۔ بھارت اب تک الزامات کی جنگ کر رہا ہے۔ وہ پاکستان تو دور کی بات اپنے ہی ملک کے عوام کو مطمئن کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
بھارت نے سرجیکل سٹرائیک جیسا ایک اور دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی فوج کی طرف سے کنٹرول لائن پر پاکستانی فوج کی چوکی تباہ کردی ہے۔جنگی جنون میں مبتلا بھارتی فوج نے پاکستانی سول علاقے پر مارٹر گولوں اور آرٹلری سے حملہ کیاجس پر پاک فوج نے جوابی کارروائی کی اور دشمن کی چیک پوسٹیں تباہ کردیں۔ پاک فوج کی جانب سے بھارتی چیک پوسٹیں تباہ کرنے کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔ بھارتی میڈیا نے ہندوستانی فورسز کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ کنٹرول لائن پر پاک فوج کی جانب سے فائرنگ کا جواب دیتے ہوئے بھارتی فورسز نے راجوری کے مقام پر پاکستانی پوسٹ تباہ کردی ہے۔ بھارت کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا تھا کہ یہ پوسٹ راجوری میں ناوشیرا کے مقام پر قائم تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج کے دعوے غلط ہیں۔پاک فوج ایل او سی پر آبادی کو نشانہ نہیں بناتی۔ بھارتی فائرنگ کا بھرپور جواب دیتی ہے۔ کوشش ہو گی کچھ دن میں میڈیا کو سیکٹر کا دورہ کرایا جائے۔ بھارت نے سرجیکل سٹرائیک ٹو کی بھی بات کی تھی۔ سرجیکل سٹرائیک ٹو بھی جھوٹ کا پلندہ ہے۔ بھارت نے پاکستان کسی چوکی پر حملہ نہیں کیا۔ بھارت ایل او سی پر معصوم شہریوں کا نشانہ بناتا ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ پائیدار امن چاہتے ہیں۔ ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ سرحدوں پر کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ سیکورٹی فورسز قانون نافذ کرنے والے اداروں اور قوم کی بے شمار قربانیوں کے بعد ملک میں استحکام آرہا ہے ۔قوم کی قربانیوں سے پاکستان میں حالات معمول کے مطابق لائیں گے۔ آرمی چیف نے فوج کی آپریشنل تیاریوں‘ مورال اور خاص طور پر بھارت کی جانب سے حالیہ سرحدی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر موثر جواب دینے پر تعریف کی۔

بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کا دعویٰ کیا گیا تھا اور اب بھی کہا جار ہا ہے کہ سرجیکل اسٹرائیک کیا جائے گا اور اگر ایساہوا تو ایسا جواب دیں گے کہ وہ جعلی بھی بھول جائیں گے۔ بھارت نے سرجیکل اسٹرائیک کے نام پر اپنی عوام کو بے وقوف بنایا۔ بھارتی آرمی چیف نے بیان دیا ہے کہ وہ ایک اور سرجیکل اسٹرائیک کرسکتے ہیں حالانکہ بھارت کے پہلے سرجیکل اسٹرائیک کا دعویٰ بھی جعلی تھا۔ بھارت سرجیکل اسٹرائیک کا دوبارہ جعلی ڈراما رچاتا ہے تو ضرور رچائے لیکن اگر بھارت نے اصلی سرجیکل اسٹرائیک کی کوشش کی تو ہماری فوج ایسا جواب دے گی کہ بھارت جعلی بھی نہیں سوچے گا۔
بھارت کو جنگ کی فضا بنانے کا جنون تو ہے لیکن اس کی تیاری انتہائی ناقص اور کمزور ہے. اس کا انکشاف اکانومسٹ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا۔ بھارت سرکارکو جنگی جنون ختم کرتے ہوئے کشمیر کے مسئلے کے حل کی طرف آنا ہو گا۔ جنگیں مسئلوں کا حل نہیں۔ پاکستان کو کمزور سمجھنے کا خیال بھارت کو دل سے نکال دینا چاہیے۔ پاکستان جدید ایئر ڈیفنس سسٹم کا حامل ہے۔ بھارت کی کوئی بھی غلطی اسے تباہی سے دوچار کر سکتی ہے۔
کنٹرول لائن پر بھارتی افواج کی فائرنگ قابل مذمت اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بھارت کی طرف سے سرجیکل سٹرائک کا اعتراف اقبال جرم ہے۔ دنیا کو بھارت کے عزائم سے آگاہ کیا جائے۔ دفاع وطن کیلئے جان دینے والے جوانوں کی قربانیوں پر فخر ہے۔ بھارت خطہ میں جنگی جنون پھیلانے سے باز رہے۔ افواج پاکستان نے جرات مندی کے ساتھ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کیا ہے۔ افواج پاکستان کو دیگر محاذوں پر الجھانے کی کوشش کرنے والے دہشتگردوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

نئے ڈیمز کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت

بیس بائیس کروڑپاکستانیوں کو پانی کی بوند بوند سے ترسادینے کی دھمکیاں دینے والامودی بھارت میں بیٹھا ہواپاکستان دشمنی کی اپنی مذموم پالیسیاں اور چالیں چل رہا ہے اْسے تو ہم بعد میں پوچھ لیں گے دیکھ لیں گے، لیکن ہم اپنی آستینوں میں چھپے ہوئے اْن زہریلے سانپوں سے پہلے نمٹ لیں جو پاکستان میں رہتے بستے ہیں یہاں کاروبار بھی کرتے ہیں اْس پر طرہّ یہ کہ وہ یہاں کی صوبائی اور قومی سطح کی سیاست میں بھی حصہ لیتے رہیں کسی کا بھائی بلوچستان میں گورنر ہے دیگررشتہ دار بلوچستان کی صوبائی کابینہ میں وزیر رہے ہیں پوچھنا قوم یہ چاہتی ہے قیامِ پاکستان سے اب تک خیبرپختونخواہ صوبے کے کچھ ایسے سیاست دان بھی آجکل مودی جیسی ہی زہریلی بولیاں کیوں بول رہے ہیں جو پاکستان میں میگا ڈیم بنانے والوں کونشانِ عبرت بنانے کی دھمکیاں دیں پاکستانی قوم سنے ‘قیامِ پاکستان سے ا ب تک ذراکوئی بتائے توسہی ہمیں گزرے حکمرانوں نے (چاہے وہ فوجی عہد کے حکمران ہوں یا جمہوری دورکے) دوبڑے ڈیمز کے علاوہ کوئی اورنیاڈیم پاکستان کے کسی حصہ میں کیوں نہیں بنایا گیا مودی بھی ہمیں پانی کی بوند بوند کے لئے تراسے گا اور ہمارے ناعاقبت اندیش غیروں کے آلہِ کار ملکی مقتدر عہدوں پر فائز ہونے والے سیاست دان بھی پاکستان کی قومی زندگی کا دانہ پانی بند کرنے جیسی غیرانسانی پالیسیاں اختیار کریں اور ہمیں آنکھیں دکھائیں واہ بھئی واہ یہ خوب رہی؟جدید سانئس نے پانی اور توانائی کو ایک دوسرے سے مشروط کرکے دنیا بھر میں انسانوں کی فلاح کے کیسے کیسے محیرالعقل ترقی یافتہ میگا منصوبہ کھڑے کردئیے ہم ہاتھوں پر ہاتھ دھرے تماشائی بنے بیٹھے ہوئے ہیں جنہیں ہم حکمرانی کا حق تفویض کریں اقتدارمیں آنے کے بعدوہ ہی حکمران پاکستانی قوم سے اْن کی زندگیوں کے بنیادی حقوق سے اْنہیں محروم کردینے کی سازشوں میں شریک ہو جائیں کیا ایسا ممکن ہے جی ہاں!پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے یہی عجب انسانیت کش تماشا جاری ہے دریاقوموں کی ثقافتی تہذیب کے ہمیشہ امین کہلائے کسی قوم نے کبھی اپنے دریاؤں کا سودا نہیں کیا اگر کہیں بین الااقوامی اصولوں کے تقاضوں کومدِ نظررکھ کسی غیرممالک کے سرحدوں سے بہہ کرقدرتی بہاؤ کی جانب آنے والے دریاؤں کے پانی کے تقسیم کا کوئی معاملہ درپیش آیا بھی تواْوپر سے آنے والے دریاؤں کے زیریں حصے کے حق کوزیادہ تسلیم کیا گیا لیکن افسوس صدہا افسوس! ہمارے ماضی کے حکمرانوں نے دریاؤں کے پانی کی تقسیم میں متذکرہ بالاآبی قوانین کے عالمی اصول و قواعدآبی پرپاکستانی مفادات کے پیشِ نظرجتنے گہرے وعمیق تحفظات رکھنے تھے نہیں رکھے گئے جس کا خمیازہ پاکستانی قوم آج تک بھگت رہی ہے’ کہتے ہیں دوسری جنگِ عظیم میں اتحادی افواج کوفتحیاب کرانے میں واشنگٹن اسٹیٹ میں جولائی 1933 سے تعمیرہونے والے’گرینڈکولی ڈیم’کا کلیدی رول تھا ریٹائرڈ کرنل عبدالرزاق بگتی نے اپنی کتاب’پاکستان کے آبی وسائل’میں لکھا ہے’4 اکتوبر1941 میں دوسری عالمی جنگ میں امریکا کی شمولیت سے دوماہ قبل ‘گرینڈلی کولی ڈیم’مکمل ہوگیا تھا ڈیم کی پن بجلی گھر کی پیداکردہ بجلی کواستعمال کرکے ایٹمی پروگرام کو ترقی دی اور امریکا ایٹمی قوت ملک بن گیا گرینڈلی کولی ڈیم نے ابتداء ہی میں 8609 میگاواٹ بجلی پیداکرنا شروع کردی تھی امریکا کی معیشت میں امریکی زراعت میں گرینڈلی کولی ڈیم نے تاریخ ساز کرداراداکیا ہے ذراہم اپنے پڑوسی ممالک پرہی ایک نگاہ ڈال لیں بھارت نے اپنے قیام کے بعد سے اب تک 400سے زائد ڈیم بنائے ہیں20 سے زیادہ طویل القامت بڑے ڈیم بنائے ہیں بھارت چونکہ ہمارا ازلی بدترین دشمن پڑوسی ملک ہے جوپاکستان کوہمہ وقت پریشان و ہراساں کئے رکھنے کی دشمنی کی اپنی پالیسی کوچھوڑنانہیں چاہتا، لہٰذاء نئی دہلی سرکارنے مقبوضہ کشمیر کے اہم مسئلہ کو پسِ پشت ڈالنے کیلئے پاکستان کے ساتھ مختلف نوعیت کے گنجلک پیچیدہ سرحدی تنازعات اور آبی مسائل کھڑے کرد ئیے ہیں مسئلہِ کشمیر پر مذاکرات تو نئی دہلی نے کرنے نہیں انڈس واٹرٹریٹی کی کھلی خلاف ورزی کا بھارت اورمرتکب ہوگیا بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے نکل کر پاکستان میں داخل ہونے والے دیگر دریاؤں کے علاوہ دریائےِ نیلم کے پانی کے تیز بہاؤکو بھی روک کرایک ایسی نہر نکال لی ہے جس پربھارت نے کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کا متنازعہ پراجیکٹ شروع کیا ہوا ہے بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق بھارت کا یہ متنازعہ منصوبہ پایہِ تکمیل کو پہنچ چکا ہے یہاں کوئی یہ نہ بھلائے کہ مقبوضہ کشمیر کا دوطرفہ علاقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے رْو سے تاحال ’اسٹیٹس کو‘ کی حالت میں ہے رواں برس18 فروری کومقبوضہ کشمیر کے’اسٹیٹس کو’کی حیثیت کومزید دیدہ دلیری سے مجروح کرنے کی نیت سے عالمی ثالثی عدالت میں کشن گنگا ہائیڈروالیکٹرک پراجیکٹ کے تنازعہ پراْٹھائے پاکستان کے اعتراض پرکوئی موثرجواب داخل نہیں کرایاعالمی ثالثی کورٹ میں اپنے فرسودہ بہانوں کی حیلہ سازیوں کاسہارا لیااور یہ جواز گھڑا کہ اْسے کشمیرمیں انسانی استعمال کیلئے توانائی کی ضرورت ہے، عالمی ثالثی عدالت کا پاکستان نے احترام کیا اِس کی اتھارٹی کو تسلیم کیا ہے، عالمی عدالت کی غیر جانبدارمعائنہ ٹیم کے معزز اراکین کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے وہ معلوم کرئے کہ کشن گنگا ہائیڈروالیکٹرک پراجیکٹ سے پیدا کی جانے والی 330 میگاواٹ بجلی کی کھپت کیا کشمیر کی حدود میں ہی استعمال ہورہی ہے یا مقبوضہ کشمیر کی حدود سے باہر کشمیر کے قیمتی پانی سے بنائی جانے والی بجلی کا استعمال تو نہیں کیا جارہا ؟مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا قبضہ بھی ناجائز ہے ،مقبوضہ کشمیر کے وسائل کو بھارت اپنے فائدوں اور اندرونی مفادات کیلئے بھی استعمال نہیں کرسکتاکشن گنگا ہائیڈروالیکٹرک پراجیکٹ ایک متنازعہ منصوبہ ہے جو دریائے نیلم میں اُوپر سے نیچے آنے والے علاقوں کیلئے پانی کا واحد ذریعہ ہے ،نئی دہلی کو حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اِس انسانی مسئلہ پر پاکستان کے آبی مسائل کی آڑ میں اپنی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم چلائے’را‘ نے بیرونِ ملک بھی پاکستانیوں کو پانی جیسی انسانی ضروریات سے تہی دست کرنے کے مذموم مقاصد کیلئے اپنے آلہِ کار کھلے چھوڑے ہوئے ہیں اور ’را‘خود بھی عالمی ثالثی عدالت کے روبرو تسلیم شدہ فیصلوں کے کھلی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہے یہاں پاکستانی جمہوری سیاست دان اپنے ہی ملک کے عوام کو ’ڈیم‘ جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھنے کی مذموم سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

جاگ پاکستانی جاگ

آج اگر دنیا کی کسی بدعقل قوم کے لئے ایوارڈ ہوتا تو سب سے زیادہ یہ ایوارڈ پاکستانی قوم کے حصے میں آتے ، اَب میں مزید کیا کہوں ، اُمید ہے کہ آپ میرے اتنے کہے کو بہت جان کر میرا مقصد سمجھ چکے ہوں گے ۔ خیر چھوڑیں ، رہنے دیجئے ، بات کہیں کی کہیں نکل جا ئے گی، آگے چلتے ہیں، اور آگے کیوں نہ چلیں، ہمارے حکمران ، سیاستدان اور اِن کے چیلے چانٹے ہمیں ستر سال سے آگے ہی تو چلا رہے ہیں، اور ہم بھی کیسے سیدھے اور عقل سے پیدل ہیں؟ کہ ہم بھی اِن کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے چل پڑتے ہیں، مگرجب پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں۔ تو ہم خود کو وہیں کھڑاپاتے ہیں، ہم جہاں سے ستر سال پہلے چلے تھے۔ مگر ایک بات ضرور ہے۔ وہ یہ کہ جو ہمیں آگے چلنے کا کہتاہے۔ اَب آپ اِسے ہماری بدقسمتی کہیں یا اُس کی خوش قسمتی کہ وہ توہمیں آگے چلاکرخود بہت آگے چلا گیاہے۔ مگر بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم آج تک پیچھے ہیں۔ حالانکہ ہم ستر سال سے اپنے سے پیچھے والے سے آگے تھے۔ اور آگے چلنے کے عادی تھے۔ مگر نتیجہ ہماری کاوشوں کے برعکس نکلاہے ۔ ہم تو پیچھے رہ گئے۔ مگر ہمیں آگے ہانکنے والے جھوٹے، فریب، دھوکے باز، اقرباء پروری میں ماہر، لوٹ مار کرنے والے کرپٹ عناصر، قومی خزا نے سے اللے تللے کرنے والے ، ٹیکس چور،اقامے اور آف شور کمپنیوں والے خود تو امیر سے امیر تر ہوگئے ۔مگربیچارہ غریب ووٹر پانی، بجلی ،گیس اور توانائی بحرانوں اور سستا و معیاری نظامِ تعلیم ا ور سرکاری جدید صحت کے مراکز کی عدم دستیابی اورمہنگا ئی کے ہاتھوں بھوک و افلاس کی دلدل میں دھنستاہی چلا گیاہے۔ بہرکیف، آج ووٹرز جان چکے ہیں، کہ اَب کھوکھلے نعروں اور پرا نے منشوروں سے الیکشن نہیں جیتے جاسکتے ہیں۔ یہاں ستر سال بعدایک اچھی بات یہ ہورہی ہے کہ آج ووٹرزبیدار ہوچکے ہیں۔ اَب یقینی طور پرووٹرز کی بیداری چیخ چیخ کر بتارہی ہے کہ اگلے متوقع الیکشن 2018ء مُلک میں انقلابی تبدیلی کی نوید ثابت ہوں گے۔ تاہم مختصر یہ کہ اِس بارووٹرز کی دہلیز پر ووٹ کی بھیک مانگنے والے پرانے اور نئے سیاسی بہروپیوں ا ور ٹوپی ڈرا مے بازوں کو آنے سے پہلے اپنا محاسبہ کرناہوگا ؛ نہ صرف یہ بلکہ ووٹرز کے کسی جذباتی ردِ عمل کے نتیجے میں اپنے سر اور جسم کیلئے خود حفاظتی اقدامات کو یقینی بنا کے آنا ہوگا ۔کیو ں کہ آج کا ووٹرز باشعور ہو چکاہے۔ یہ جان چکاہے کہ اِس کے ووٹ کی پرچی کی اہمیت کیا ہے؟ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ اپنے ووٹ کی طاقت اور اپنے اختیار سے کیا کیا تبدیلیاں لاسکتا ہے؟سو، اَب الیکشن میں حصہ لینے والی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کوسنبھل کر عوام میں آنا ہوگا ۔ورنہ اپنے انجام کے خود ذمہ دار ہوں گے۔اِس میں کو ئی شک نہیں کہ دنیا میں پائیدار جمہوری نظام صاف و شفاف اور پُرامن انتخابی عمل کے ہی شکم سے پیداہوتاہے ۔ ارضِ مقدس میں متوقع اگلے انتخابات کے انعقاد کو بمشکل 10دن ہی باقی رہ گئے ہیں۔ مگر پھر بھی ابھی تک اِن کے بروقت انعقاد پر مخمصوں اور خدشات کی سیاہ چادر چڑھی ہو ئی ہے۔ اِس کی کیا وجہ ہے؟ یہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ بس ایک انجاناخوف ہے کہ جو کچوکے ماررہاہے کہ 25جولائی 2018ء کو ہونے والے انتخابات مقررہ تاریخ پر نہیں ہو پا ئیں گے۔ چلیں، بالفرض متوقع انتخابات بروقت ہوبھی گئے ۔ اِن کے نتیجے میں کوئی حکومت تشکیل پابھی گئی۔ تو اِس کی کل عمر دواڑھا ئی سال سے زیادہ نہیں ہوگی۔ اگر انتخابات اعلان کردہ تاریخ پر نہ ہوسکے تو پھر یہ کم از کم دس سال تک نہیں ہوپا ئیں گے۔اَب یہ اچھی اُمید ہی تو ہے کہ گزشتہ دِنوں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری بھٹو نے جھوم جھوم کر لہک لہک کرعالمِ دھمال میں یہ جملے کہتے ہوئے’’ بی بی کا وعدہ نبھاناہے، پاکستان کو بچاناہے‘‘کے نام سے اپنے کیرئیر کا پہلاپارٹی منشور اپنی زبانی پیش کردیاہے۔ جن کہناتھاکہ’’ ملاوٹ والی سنسر شدہ جمہوریت قبول نہیں ۔ آج کے پاکستان میں جس شعبے میں نظردوڑائیں وہ بدحالی کا شکار ہے۔‘‘اِس کے ساتھ ہی بلاول زرداری بھٹو نے اپنے منشور میں اپنے نانا اور امی کی پارٹی والے روحِ جان نظریئے’’ روٹی ، کپڑا، مکان ‘‘ کے ساتھ بھوک مٹاؤ پروگرام ، کسان کارڈ ،ڈیمز، طلبایونینز کی بحالی، پارلیمانی بالادستی، اداروں میں ہم آہنگی کو بھی نتھی کیا اور کہاکہ’’ پارلیمنٹ سے غیرحاضر رہ کر ووٹ کو عزت نہیں دی جاسکتی ، احتساب کے نام پر ادارے تباہ ہوگئے ، ہر طرف استحصال ہی استحصال ہے، خواہ تعلیم ہو یا صحت، قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوں یا اِنصاف کا نظام ، معیشت ہویا ماحولیات کا مسئلہ، بیورو کریسی ہویا خارجہ تعلقات ہر طرف مسائل کا ایک انبار کھڑاہے‘‘ غرضیکہ، منشور پیش کرنے کو تو بلاول زرداری بھٹونے پیش کردیا ہے مگر اِس منشور میں عوامی خدمت کا نعرہ بلند کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی نے روٹی ، کپڑا، مکان سے پہلے ملاوٹ والی سنسر شدہ جمہوریت کا تذکرہ کیا جو اِس بات کا غماز ہے کہ آج پارٹی کے نزدیک روٹی، کپڑا، مکان سے زیادہ جمہوریت کو اہمیت حاصل ہے اور جو روٹی ، کپڑا، مکان کو ہی لے کر بیٹھے رہیں گے۔ ویسے وہ ہیں تو ہمارے مگر اِنہیں جمہوریت کی بقا ء کیلئے بھی ہمہ وقت لبیک کہنا پڑے گا۔اَب پارٹی کو زندہ رکھنا ہے؛ تو پارٹی کے ہر جیالے کو ہر حال میں نظریہ زرداری مصالحت اور مفاہمت پسندی کے ساتھ جمہوریت کو بھی تقویت دینی ہوگی۔کیو ں کہ اَب پارٹی کا روٹی ، کپڑا، مکان کا نظریہ پرانا ہوگیاہے ۔ اَب پارٹی کے نئے سربراہ کے ساتھ نئے نظرے کو لے کر آگے بڑھنا ہوگا۔کچھ بھی ہے ۔مگراَب کوئی اِس گمان میں ہرگزنہ رہے کہ پرانے سیاسی شکاری نئے جال کے ساتھ ووٹرز کوبیوقوف بنالیں گے۔

باشعور،باخبر بلوچستان

یہ امر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ حالیہ ہفتوں میں بلوچستان کے بہت سے حلقوں نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ وہ بھارت کے پھیلائے ہوئے جال میں ہرگز نہیں آئیں گے بلکہ مستقبل میں اپنی ساری توانائیاں پاکستان خصوصاً بلوچستان کی حقیقی فلاح و بہبود کیلئے صرف کرنے کی بھرپور سعی کریں گے۔ اس پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے ملکِ عزیز کے اکثر حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ یہ بات بڑی اطمینان بخش اور حوصلہ افزا قرار دی جانی چاہیے کہ ’’ڈاکٹر جمعہ خان مری‘‘ اور ان کے ساتھیوں کی بڑی تعداد نے کھل کر اس امر کا اظہار کیا ہے کہ بھارت بلوچستان میں نام نہاد علیحدگی پسندوں کی ہر طرح سے معاونت کر رہا ہے اور بھارت کے ایما پر یہ عناصر بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں اپنی مذموم سازشوں کو پروان چڑھانے میں مصروف رہے ہیں مگر اب بلوچ عوام کی اکثریت کو اس بات کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے کہ ان بھارتی کے تانے بانے ’’را‘‘ ، این ڈی ایس اور کئی دیگر غیر ملکی قوتوں سے جا ملتے ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹر جمعہ خان جیسی موثر شخصیات کی جانب سے بھارتی عزائم کا پردہ چاک کیا جانا ، انتہائی حوصلہ افزا پیش رفت ہے جس کا ہر سطح پر خیر مقدم کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ امر کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ بھارتی حکمران گزشتہ دو ڈھائی برس سے ’’سی پیک‘‘ کے خلاف زہریلا پراپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں اور وہ برملا اس یہ کہتے رہتے ہیں کہ سی پیک کو نقصان پہنچانا ضروری ہے۔ اسی تناظر میں ماہرین نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ایک حالیہ اجلاس میں جس طرح مودی نے ڈھکے چھپے بلکہ کھلے الفاظ میں سی پیک کی بابت اپنی منفی سوچ کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے بعد تو ہندوستانی عزائم کی بابت کسی خوش فہمی کی گنجائش نہیں بچتی۔ لہٰذا پاکستانی میڈیا اور سول سوسائٹی کے سبھی انسان دوست حلقوں کو اس جانب خاطر خواہ ڈھنگ سے متوجہ ہونا چاہیے کہ بھارتی شر انگیزیوں سے ملک و قوم کو محفوظ بنانے کی کاوش ہر باشعور پاکستانی کا اولین فریضہ ہونا چاہیے اور یہ بات خاصی حد تک اطمینان بخش ہے کہ ملکی سلامتی کے تمام ادارے اس حوالے سے اپنا کردار احسن طریقے سے انجام دینے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ البتہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے ملک و قوم کے سبھی طبقات اپنے سیاسی مفادات سے بالا ہو کر اس ضمن میں اپنا مثبت کردار نبھائیں ۔ یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں میں منظور پشتین اور پشتون تحفظ موومنٹ نامی اس کی نام نہاد تنظیم جس طرح پاکستان کے خلاف ایک مخصوص پراپیگنڈے میں مصروف ہے ،اس صورتحال کے سد باب میں سبھی ملکی حلقوں کو مزید موثر کردار نبھانا چاہیے۔ ایسے میں ڈاکٹر جمعہ خان جیسی محب وطن شخصیات کی حوصلہ افزائی وقت کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں گلگت بلتستان، کراچی اور وطن عزیز کے دیگر حصوں میں بعض عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے جو بے سروپا زہریلے خیالات کی آبیاری کرنے کی مذموم روش پر عمل پیرا ہیں، ان کی بیخ کنی ٹھوس اور موثر ڈھنگ سے ہونی چاہیے اوراس کیلئے ایک مربوط لائحہ عمل ترتیب دیئے جانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب ’’را‘‘ نے پاکستان مخالف اور حقائق کو مسخ کرنے والی اشاعتوں کے ذریعے بھی زہریلے خیالات کے پرچار کو اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔ یاد رہے کہ دہلی میں قائم یہ ادارہ ہمہ وقت پاکستان مخالف تحریریں اور بے سروپا بیانات جاری کر کے بھارتی عوام کو بھی گمراہ کرتے ہوئے حقائق سے برعکس تصویر پیش کر رہا ہے۔اس ضمن میں ایسی ایسی بھونڈی اور مکروہ کوششیں جاری ہیں جن کی مذمت کیلئے الفاظ ڈھونڈ پانا بھی خاصا دشوار ہے۔ مبصرین کے مطابق اسے بھارتی عوام کی بد قسمتی بلکہ بد بختی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ دہلی کا حکمران ٹولہ اپنی تمام توانائیاں پراپیگنڈے کے محاذ پر صرف کر رہا ہے حالانکہ اگر وہ اپنے حقیقی مسائل کے حل کی طرف توجہ دے تو اس خطے میں امن و سلامتی قائم کرنے کا دیرینہ خواب کسی حد تک تعبیر پا سکتا ہے۔ اس ضمن میں عالمی رائے عامہ بھی اپنی اجتماعی ذمہ داریاں پوری کرنے کے حوالے سے دانستہ چشم پوشی کر رہی ہے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ انسانی حقوق کے عالمی ادارے اس بابت اپنا اخلاقی اور انسانی کردار نبھانے کی جانب توجہ مبذول کریں گے۔

سابق وزیراعظم کی وطن واپسی قانون کو ہاتھ میں نہ لیا جائے

adaria

ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی لندن سے وطن واپسی نے ایک بار پھر مسلم لیگ(ن) میں جان ڈالی ہے ایک طرف ان کے استقبال کیلئے کارکن پرجوش ہیں تو دوسری طرف گرفتاریوں کا عمل بھی جاری ہے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت نے انتظامات کرلئے ہیں۔ نواز شریف اورشہباز شریف کارکنوں کی گرفتاریوں کودھاندلی قرار دے ر ہے ہیں جبکہ چیئرمین نیب نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی گرفتاری یقینی بنائیں گے رکاوٹ ڈالنے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی گرفتاری کیلئے نیب کی 16 رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ رینجرز کی تعیناتی کردی ، اڈیالہ جیل میں انتظامات مکمل کیے جاچکے ہیں جبکہ پیمرا نے نواز شریف کی وطن واپسی پر براہ راست کوریج پر پابندی عائد کردی ہے، مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کٹھ پتلی اور نگران حکومت پی ٹی آئی کے ساتھ مل گئی ہر صورتحال اپنے قائد کا استقبال کریں گے جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نواز شریف کے استقبال کرنے والوں کو گدھا قرار دیدیا اور کہا ہے کہ جعلی منڈیلا کا استقبال کرنے والے بے ضمیر ہوں گے شہباز شریف اندر سے خوش ہیں کہ نواز شریف پکڑا گیا ، نواز شریف 300 ارب روپیہ باہر لے کر گئے تھے یہ لاہور میں ایسا ہسپتال نہیں بنا سکے جہاں شریف خاندان کا علاج ہوسکے ، پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ جیل اور پھانسی میرے قدم نہیں روک سکتے ۔ جیل کی کوٹھڑی اپنے سامنے دیکھ کر بھی ووٹ کو عزت دو کا وعدہ پورا کرنے کیلئے پاکستان جارہا ہوں ، قوم مشکل میں ہے اس کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا ۔نواز شریف ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں وہ ضرور وطن واپس آئیں اور اپنے خلاف فیصلہ پر اپیل کا حق استعمال کریں پانامہ کے ہنگامہ میں ان کو جو رسوائی ملی اس کا ازالہ ممکن نہیں نواز شریف بار ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے اور اپنی کرپشن کو چھپانے کیلئے عدلیہ اوردیگر اداروں کیخلاف مورچہ زن ہیں ان کا معاملہ چور مچائے شور والا ہے سابق وزیراعظم کا بیانیہ ان کے گلے میں پڑچکا ہے ۔ سابق وزیراعظم عدالت میں ثبوت پیش کرتے اور اپنی بے گناہی ثابت کرتے تو آج ان کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا لیکن یہ مکافات عمل ہے نواز شریف کے دورحکومت میں کرپشن میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور کوئی ادارہ ایسا نہیں جو کرپشن سے بچ سکا ہو بیرونی قرضے دھڑا دھڑ لئے گئے اور قومی خزانے کو بیدردی سے لوٹا گیا جس کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہوکر رہ گیا ، سابق حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ملک مسائل و مصائب کی دلدل میں پھنس گیا بیروزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ۔ امن و امان کی صورتحال غیر تسلی بخش رہی عوام کا معیار زندگی تنزلی کا شکار ہوا لوگوں کی جان و مال کی حفاظت بھی سوالیہ نشان بنی رہی ۔ تعلیم و صحت کے مسائل جوں کے توں رہے ۔ صاف پانی کی عدم دستیابی پٹرول و گیس کی قیمتوں میں آئے دن اضافہ ہوتا رہا جس نے لوگوں کی زندگی کو دوبھر کرکے رکھ دیا اس کیفیت کو بھانپتے ہوئے چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیے اور عوامی حقوق کی بحالی اور نا انصافی کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات کیے جس کے دوررس نتائج برآمد ہوئے چیف جسٹس نے مسائل زدہ لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کیلئے دن رات ایک کررکھاہے ۔ بلا شبہ چیف جسٹس کا کردار ایک مسیحا جیسا ہے عوام اس کو سراہا رہے ہیں فوری انصاف کی فراہمی سے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن صد افسوس کہ سابق وزیراعظم ایک آزاد و خودمختار عدلیہ پر بھی حرف گیری کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور عدلیہ کو متنازع بنانے کیلئے ہر حربہ استعمال کررہے ہیں اور اپنے خلاف سزا کو انتقامی قرار دے رہے ہیں لیکن عوام جانتے ہیں کہ حقائق کیا ہیں کس نے ملک کو لوٹا اور قومی مفاد کو نقصان پہنچایا ، عوام جانتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں معصوم بچوں اور شہریوں کے ساتھ کیا سفاکی کا کھیل کھیلا گیا ، لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ ختم نبوت قانون میں ترمیم کی سازش کس نے کی ذاتی مفاد کس نے حاصل کیا آج ملک ایک بحرانی کیفیت سے دوچار ہے جس کے ذمہ دار سابق حکمران ہیں جن کی ناقص پالیسیوں نے یہ حشر نشر کیا سابق وزیراعظم اور ان کی بیٹی سزا کیخلاف اپیل کریں اور سزا بھگتیں، عوام کو نہ اکسائیں اداروں کی ساکھ اور وقار کو مجروح نہ کریں۔ سابق وزیراعظم اگر مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنماؤں کے صائب مشوروں پر عمل کرتے تو آج بند گلی میں داخل نہ ہوتے انہوں نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری ہے، عوام صبروتحمل کا مظاہرہ کریں اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کریں یہی ان کیلئے بہتر ہے ، سابق وزیراعظم سزا یافتہ ہیں ان کا استقبال سمجھ سے بالاتر ہے ۔ خدارا کارکنوں کو اشتعال انگیزی نہ دلائیں یہ جمہوریت کیلئے نقصان دہ راستہ ہے ذوالفقار علی بھٹو عوام کی خاطر پھانسی چڑھ گیا مگر رویا نہیں اور نہ ہی صدر سے اپیل کی بینظیر بھٹو کو لاٹھی چارج عقوبت خانے قید و بند کی صعوبتیں ان کا راستہ نہ روک سکیں اور ملک و قوم کی خاطر انہوں نے اپنی جان قربان کردی لیکن ان کی سعی جمہوریت کیلئے تھی ، ڈکٹیٹروں کیخلاف تھی لیکن سابق وزیراعظم تو سزا یافتہ ہیں اس پر ان کے آنسو بہانا عجوبہ سے لگتے ہیں۔
آصف زرداری کو الیکشن تک شامل تفتیش نہ کرنے کاحکم
سپریم کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو الیکشن تک شامل تفتیش نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ عدالت نے سابق صدر اور ان کی ہمشیرہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیا نہ ہی ان کو ذاتی حیثیت ہیں طلب کیا گیا ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے آصف زرداری اور فریال تالپور کے علاوہ تمام ملوث افراد کو شامل تفتیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 6 اگست تک ملتوی کردی اور قرار دیا کہ الیکشن کے بعد ایف آئی اے دونوں کو تفتیش کیلئے طلب کرسکتی ہے چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پتہ نہیں یہ تاثر کیسے لیا گیا کہ ہم نے ان کا نام ای سی ایل میں شامل کرایا ہم نے تو پیراگراف نمبر 4 میں شامل نامزد ملزمان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا کہا لیکن اعتزاز احسن نے پریس کانفرنس کی اگر عدالت کے حکم میں ابہام تھا تو درستگی کیلئے عدالت سے رجوع کرلیتے جو عدالت کاحکم ہی نہیں تھا اس پر شور مچا ہواہے ہر شخص کا اپنا وقار ہے کسی کی تضحیک نہیں ہونے دیں گے ۔ ایسا حکم نہیں دیں گے جس سے کسی کا حق متاثر ہو ۔ عدالتی وضاحت کے بعد آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے تحفظات دور ہو جانے چاہئیں، عدالت آئین و قانون کے مطابق حکم دیتی ہے سپریم کورٹ نے جب ایسا حکم نہیں دیا تو پھر یہ تاثر دینا غلط ہے کہ عدالت نے سابق صدر آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا کہا ہے ۔ تاہم کرپشن ایک ناسور ہے اس کے خاتمے کیلئے بلا امتیاز کاررائی ازحد ضروری ہے اس کے بغیربدعنوانی کے مرتکب قانون کے شکنجہ میں نہیں آسکیں گے ۔ سپریم کورٹ کرپشن کیخلاف جو احکامات دے رہی ہے وہ ملک و قوم کے مفاد میں ہے کرپشن ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے جب تک اس کی روک تھام نہیں ہوگی اس وقت تک اداروں میں ترقی نہیں ہو پائے گی۔ کرپٹ مافیا کیخلاف موثر کارروائیوں کی ضرورت ہے ان کارروائیوں میں شفافیت ہونی چاہیے نیب اور دیگر ادارے بلا امتیاز کارروائیاں کریں قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔

کشمیر سب سے خطرناک فلش پوائنٹ

تیرہ جولائی 1931 کا دن بلا شبہ تحریک آزادی کشمیر کا سنگ میل ہے۔ اس روز کشمیری فرزندان توحید نے اسلام الائے کلمۃ الحق اور ملت کی سر بلندی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ تیرہ جولائی 1931سے لیکر آج تک لاکھوں کشمیری مسلمانوں نے کشمیر کی آزادی کیلئے بے مثال جانی قربانیاں پیش کی ہیں لیکن آزادی کے حصول کا یہ بلند نصب العین ابھی تک تشنہ تکمیل ہے۔
سابق امریکی سنیٹر چک ہاگل نے کشمیر کے بارے میں لکھا ’’سب سے خطرناک فوری فلیش پوائنٹ کیونکہ دونوں ممالک کی فوجیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں ‘‘ بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں میں بھی یہ ایک نہ ختم ہونے والے مسئلے کی صورت میں موجود ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ’’بھارتی فوج غیر قانونی حراست، تشدد اور دوران تفتیش ہلاک میں ملوث ہے‘‘ جبکہ عدالتی مقدمے کے بغیر ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مزید افسوسناک رپورٹ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو ہراساں کرنے کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت خواتین کی عصمتیں لوٹی جا رہی ہیں۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئر مین اور رابطہ عالم اسلامی کے رکن سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ کشمیری عوام نے آزادی کیلئے جو بے مثال اور عظیم قربانیاں پیش کی ہیں ان کے نتیجے میں کشمیر بھارتی تسلط سے ضرور آزاد ہوگا۔ ریاست کے اطراف و کناف میں حراستی ہلاکتیں، گرفتاری کے بعد نوجوانوں کو لا پتہ کرنے کی کاروائیاں اور بستیوں میں گھس کر خواتین کے ساتھ ناشائستہ سلوک کرنے کی کاروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے حریت پسندوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بے مثال قربانیوں کے طفیل مسئلہ کشمیر عالمی برادری کے سامنے اجاگر ہو رہا ہے۔کشمیری عوام کی عظیم قربانیوں کے ساتھ کسی کو بھی کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
قابض بھارتی فوج کشمیریوں کے ہنستے بستے گھروں کو دھماکہ خیز بارود سے اڑا کر قبرستان میں تبدیل کر رہی ہے۔ یوں پورا کشمیر لہو لہان ہو چکا ہے۔ کشمیریوں پر ان مظالم کے ساتھ ساتھ ان کے مال واسباب کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ صرف اس لئے کہ شائد وہ ڈر کر اپنے حق خودارادی کے مطالبہ سے دستبردار ہو جائیں لیکن جان و مال کی تباہی بھی ابھی تک کشمیریوں کے پائے استقلال میں لغزش تک پیدا نہیں کر سکی۔ بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجہ میں اب مقبوضہ کشمیر میں امن و امان عزت و آبرو سمیت کچھ نہیں بچا۔ جہاں ہر وقت جنگ جاری ہو، ظلم و بربریت کی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہوں وہاں امن و امان کیسے رہ سکتا ہے۔ جو امن و امان کے دشمن ہوتے ہیں۔ وہ عزت و آبرو کے بھی دشمن ہوتے ہیں۔ کسی کی عزت و آبرو پر حملہ کرنا بدترین دہشت گردی ہے۔ مگربھارت کے خلاف کارروای کرنے والا کوئی نہیں۔ وہاں صرف جنگ کا قانون نافذ ہے۔ یہ بات تو تمام دنیا جانتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں زندگی کی تمام رعنائیاں ختم ہو چکی ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں آٹھ لاکھ بھارتی فوج کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا رہی ہے۔ ان کے ہاتھوں نوجوان تو کیا بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کی عزت اور جان بھی محفوظ نہیں۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق چیئر مین میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان شروع ہوئے سفارتی، ثقافتی اور تجارتی تعلقات کی بحالی سے مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں آسانی ہو گی۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی مذاکرات کیلئے سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں اور اسطرح ایک سازگار ماحول پیدا ہو گا۔ جو مذاکرات کیلئے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ دونوں ملکوں کے وزائے اعظم کو ملاقات کر کے تمام امور بشمول مسئلہ کشمیر کے مذاکرات کے ذریعہ حل کرلینا چاہیے۔ لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ سیکرٹریوں کی سطح پر گفت وشنید کا آغاز کر کے سربراہ ملاقات کے لئے ماحول سازگار بنایا جائے جس سے سربراہ سطح کے مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔

Google Analytics Alternative