کالم

مولاناسمیع الحق کی شہادت پاکستان اورعالم اسلام کے لئے ناقابل تلافی نقصان

adaria

مولاناسمیع الحق ایک جیدعالم اوردارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اعلیٰ تھے، مولانافضل الرحمان نے بھی ان کے مدرسے میں آٹھ سال تک تعلیم حاصل کی، اس طرح فضل الرحمان کاشمار بھی ان کے شاگردو ں میں ہوتا ہے۔مولاناسمیع الحق کوفادرآف طالبان سمجھاجاتاتھا وہ افغانستان سے غیرملکی فوج کے انخلاء کے حامی تھے انہوں نے کبھی بھی پرتشدد کارروائیوں کی حمایت نہیں کی اور جب بھی پاکستان پر کوئی ایساوقت آیا تو ہمیشہ انہوں نے امن ہی کی بات کی اور پاکستان کی حمایت میں بولے ۔تحریک طالبان پاکستان اور افغانستان میں انہیں انتہائی قدرومنزلت سے دیکھاجاتاتھا۔ گزشتہ تین پشتوں سے ان کاخاندان پارلیمنٹ میں نمائندگی کررہاتھا مولاناسمیع الحق کے والدمحترم عبدالحق قومی اسمبلی کے رکن رہے بعدازاں 1985ء سے 1991 اور 1991 سے 1997تک مولاناسمیع الحق سینیٹ کے رکن رہے ان کے صاحبزادے حامدالحق بھی قومی اسمبلی کے رکن رہے ۔مولاناسمیع الحق کو پاکستان میں امریکہ مخالف تصور کیاجاتاتھا وہ ساری عمرکسی نہ کسی صورت میں دینی جماعتوں سے وابستہ رہے ،متحدہ مجلس عمل کے قیام میں ان کابڑاعمل دخل تھا وہ دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ تھے ۔مولاناسمیع الحق ایک ایسی آواز تھی جس کو امن کاداعی کہاجائے توغلط نہ ہوگا ۔ایسے وقت میں ان کی شہادت جب ملکی حالات نا گفتہ بہ تھے بہت سے معنی خیزسوال چھوڑ جاتی ہے۔ گزشتہ روز راولپنڈی میں وہ اپنی رہائش گاہ میں مقیم تھے کہ نامعلوم افراد نے انہیں چھریوں کے وارکرکے شہید کردیا اور قاتل موقع واردات سے فرار ہوگئے ۔ کمال حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جہاں پر مرحوم قیام پذیرتھے وہاں پر سیکیورٹی کا انتہائی اعلیٰ انتظام ہے لیکن تاحال کوئی ایسی بات سامنے نہیں آسکی جس سے پتہ چل سکے کہ ان کے قتل میں کون ملوث تھا البتہ وقوعہ کے روز مولاناسمیع الحق اپنی رہائش گاہ پرآرام کررہے تھے کہ دو افراد ان سے ملاقات کرنے کے لئے آئے ۔مولانانے خود ہی اپنے خدمت گار اورگن مین کومہمانوں کے لئے سوداسلف لینے کے واسطے باہربھیجا جب یہ واپس آئے تومولاناسمیع الحق بیڈ پرشدید زخمی حالت میں پڑے ہوئے تھے انہیں فوری طورپر قریبی نجی ہسپتال پہنچایاگیا لیکن زخم اتنے شدید تھے کہ وہ راستے ہی میں شہید ہوگئے اور جانبرنہ ہوسکے۔ پولیس نے ذاتی ملازمین کو حراست میں لے لیا ہے کہاجارہاہے کہ مبینہ قاتل پہلے بھی ملنے کے لئے آتے رہتے تھے۔وزیراعظم عمران خان نے فوری تحقیقات کاحکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے مولاناکی شہادت کے بعد مثبت سیاست کاایک باب بن ہوگیا ہے ان کی آواز کو کس نے اور کیوں دبایا اس کے بارے میں قبل ازوقت کہنا کچھ بھی درست نہیں یہ تو ابھی تحقیقات ہوں گی ،ملازمین سے تفتیش ہوگی اس کے بعد پتہ چلے گا کہ کون سی قوتیں ان کے قتل میں ملوث ہیں۔

حکومت اورتحریک لبیک کے مابین کامیاب معاہدہ
آسیہ ملعونہ کے حوالے سے ملک بھرمیں جو احتجاج چل رہاتھا اور سارا ملک بند پڑا ہواتھا، دھرنوں کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج تھی دھرنا دینے والے اس بات پر بضد تھے کہ آسیہ ملعونہ کو پھانسی دی جائے اس کے بغیر وہ کسی نکتے پررضامندنہیں ہونگے،حکومت نے اس سلسلے میں اہم کردارادا کرتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے جاکر دھرنے والوں سے کامیاب مذاکرات کئے اوراس کے نتیجے میں دھرناختم ہوگیا باقاعدہ معاہدہ طے کیاگیاجس میں کہاگیا کہ حکومت نظرثانی درخواست پراعتراض نہیں کرے گی،نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لئے کارروائی کی جائے گی اس موقع پرتحریک لبیک کی جانب سے جو بیانات دیئے گئے جن سے کسی کی دل آزاری ہوئی اس پرمعذرت بھی کی گئی، معاہدے پر حکومتی ٹیم کے نورالحق قادری، راجہ بشارت، تحریک لبیک کے پیرافضل قادری اور وحیدنور نے دستخط کئے،یہ پانچ نکاتی معاہدہ ہے جس کے تحت آسیہ بی بی کے مقدمے میں نظرثانی کی اپیل دائرکردی گئی ہے جو مدعاعلیہان کا قانونی حق واختیار ہے جس پرحکومت اعتراض نہیں کرے گی ،آسیہ مسیح کانام فوری طورپر ای سی ایل میں شامل کرنے کیلئے قانونی کارروائی کی جائے گی، آسینہ کی بریت کے خلاف تحریک میں اگرکوئی شہادتیں ہوئی ہیں ان کے بارے میں فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے گی، آسیہ کی بریت کے خلاف تیس اکتوبر اور اس کے بعد جوگرفتاریاں ہوئیں ان افراد کو رہا کردیاجائے گا، معاہدے میں آخری اورپانچواں نکتہ یہ ہے کہ اس واقعہ کے دوران جس کسی کی بلاجواز دل آزاری یاتکلیف ہوئی تو تحریک لبیک معذرت خواہ ہے۔یہ ایک انتہائی خوش آئند اقدام ہے اور حکومت نے جو بھی اس حوالے سے قدم اٹھایا وہ لائق تحسین ہے کیونکہ کسی بھی ناخوشگوارواقعہ کے پیش آنے سے قبل ہی اس مسئلے کو انتہائی خوش اسلوبی سے حل کرلیاگیاہے اور اب امید کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی انتہائی زیرک انداز سے اس مسئلے کو حل کیاجائے گا اورآئندہ کے لئے ایسا لائحہ عمل طے کیاجائے کہ کوئی بھی شخص آپﷺ کی شا ن میں گستاخی کرنے کی جرات نہ کرسکے ۔
عمران خان کی چین کے صدر سے ملاقات
وزیراعظم عمران خان چین کے دورے پر موجود ہیں جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے علیحدہ اور وفود کی سطح پر مذاکرات کیے۔ وزیراعظم عمران خان نے چینی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرلی، اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ آپ کا ویژن اور قیادت رول ماڈل ہے، غربت اور کرپشن جیسے مسائل سے جس طرح چین نے نمٹا یہ اپنی مثال آپ ہے۔ چینی صدر کا بات چیت کے دوران کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط تعلقات مزید مستحکم ہورہے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات نہ صرف باہمی بلکہ خطے کے دیگر ممالک کیلئے بھی فائدہ مند ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے سٹرٹیجک تعلقات مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے پاکستان کو ملنے والے مالیاتی پیکج پر بات چیت کی۔چونکہ اقتدار میں آنے سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اورموجودہ وزیراعظم عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں قوم سے کہاتھا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے اس سلسلے میں وہ سرگرداں ہیں اور اس وقت وہ اس ملک کے دورے پرہیں جس کی دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے زیادہ گہری ،شہدسے زیادہ میٹھی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہرمشکل وقت میں چین پاکستان کے ہم قدم نظرآیا ہے جہاں پاکستان نے چین کاساتھ دیاہے اور سب سے پہلے دنیا میں چین کے معر ض وجود کوپاکستان نے ہی تسلیم کیاتھا یہ وہ لمحہ تھا جس وقت دونوں ممالک کے درمیا ن دوستی اورمحبت کی داغ بیل پڑی اورآج وہ اپنے مکمل عروج پرہے ۔سی پیک کامعاہدہ گوادر بندرگاہ اور دیگرمعاہدات اس بات کاثبوت ہیں ۔اب جبکہ وزیراعظم وہاں دورے پرموجود ہیں تو ایسے میں واضح طورپر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ چین پاکستان کو کسی صورت بھی مایوس نہیں کرے گا اور وہ ایک بھاری امداد فراہم کرے گا جس سے پاکستان معاشی طورپراپنے قدموں پرکھڑاہونے کے قابل ہوجائے گا پھر سی پیک کا منصوبہ بھی پاکستان کو مزید چارچاندلگادے گا اس کی پایہ تکمیل تک پہنچنے کے بعد ہمارے معاشی زون میں دن دگنی را ت چوگنی ترقی ہوگی معاشی اعتبار سے ہٹ کردفاعی حوالے سے بھی ہمیشہ چین پاکستان کے ہم قدم ہی رہا اور بین الاقوامی سطح پربھی اس نے کھل کرپاکستان کی حمایت کی ہے۔

یہ کیسا عشقِ رسولؐ ہے؟

تین روز قبل سپریم کورٹ نے توہین رسالت کیس میں سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا حکم دیا ۔ 56 صفحات پر مشتمل محفوظ فیصلہ چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید خان کھوسہ اور جسٹس مشیر عالم نے جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جب تک کوئی شخص گنہگار ثابت نہ ہو وہ بے گناہ تصور ہوتا ہے۔ کسی بھی فرد کو ریاستی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ توہین مذہب کا جرم ثابت کرنا گروہ یا افراد کے ہاتھوں میں نہیں۔ آسیہ کی رہائی کے فیصلے کے خلاف چند دینی جماعتوں اور تنظیموں نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع کر دیئے۔ ریلیاں دھرنے دئیے گئے۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ کی طرف سے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بھرپور احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ ملک کی اکثر بڑی شاہراہیں بند کر دی گئیں۔ تحریکِ لبیک کے رہنما نے سپریم کورٹ کے تین ججوں کو ’واجب القتل‘ قرار دیا۔ جنرل باجوہ کو ’کافر‘ کہا اور فوج کے جنرلوں کو ’بغاوت‘ پر اکسایا۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیسا عشقِ رسول ہے۔اس طرح یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ ان کی مرضی کا فیصلہ نہیں کرتا تو فیصلے کو نہیں مانتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سڑکوں پر آ جائیں اور ملک کو روک دیں گے؟ سڑکیں بند کرنے کا نقصان غریبوں کو ہے۔ بیماروں کو ہسپتال تک پہنچنا مشکل ہوگیا ہے۔ بچوں کو سکول جانا نا ممکن ہے۔ یہ ملک سے دشمنی ہو رہی ہے۔ جہاں تک پاک فوج اور سپہ سالار کا تعلق ہے تو اس عدالتی فیصلے میں فوج کہاں سے آگئی۔فوج نے ہمیں دہشتگردی کی مشکل جنگ سے نکالا ہے۔ انہوں نے قربانیاں دی ہیں۔ اس طرح فوج کو بدنام کرنے اور بغاوت پر اکسانے سے نقصان کس کا ہے اس سے فائدہ دشمنوں کا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کیس میں فیصلہ دیاہے اور سپریم کورٹ کافیصلہ ایک لیگل پروسیس ہے۔ دینی جماعتوں سے درخواست ہے لیگل پروسیس کا حصہ بنیں۔ نظرثانی درخواست دائر ہوگئی ہے۔ لیگل پروسیس مکمل ہونے دیں اس کے بعد اپنا فیصلہ دیں۔ کیس کو عدالت میں چلنے دیں ۔ افواج پاکستان چاہے گی امن وامان کی صورتحال کا معاملہ پرامن طریقے سے حل ہو۔ آئین اور قانون کے مطابق حد بندیاں دی گئی ہیں ان کا احترام کیا جائے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر توہین رسالت کے مقدمے سے بری کیے جانے کے فیصلے کے بعد ہونے والی تنقید اور احتجاج پر اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ ججز میں سے ایمان کسی کا کم نہیں ہے ۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر جان بھی قربان ہے لیکن کسی کے خلاف کیس نہ بنتا ہو تو کیسے سزا دیں؟ فیصلہ دینے والے ججز کسی سے کم عاشق رسولؐ نہیں۔ نبی پاک کے ناموس پر ہم بھی اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ رسول پاک کی توہین کسی کے لیے قابل برداشت نہیں۔ ایمان کسی کا کم نہیں ہے۔ ہم صرف مسلمانوں کے قاضی نہیں ہیں۔ بینچ میں بیٹھے کئی ججز درود شریف پڑھتے رہتے ہیں۔ عشق کا تقاضا یہ نہیں کہ کیس نہ بھی بنتا ہو تو پھر بھی بنا دیں۔ ہو سکتا ہے ہم ان سے زیادہ عاشق رسول ہوں۔ توہین قران پاک و ناموس رسالتؐ میں1987 سے اب تک 633مسلم ، 494 احمدی ، 187مسیح اور 21 ہندؤں کیخلاف مقدمات درج کیے جا چکے ہیں تاہم ان میں سے زیادہ تر توہین قرآن پاک کے مقدمات ہیں جبکہ توہینِ رسالت کے قدر ے کم ہیں۔ توہینِ مذہب کے قوانین پہلی مرتبہ برصغیر میں برطانوی راج میں 1860 میں بنائے گئے پھر 1927 میں ان میں اضافہ کیا گیا۔ 1980 سے 1986 کے درمیان جنرل ضیا الحق کی فوجی حکومت میں متعدد شقیں ڈالی گئیں۔1980کی دہائی میں توہینِ مذہب کے قوا نین میں اضافہ کیا گیا۔ 1980 میں اسلامی شخصیات کیخلاف توہین آمیز بیانات کو بھی جرم قرار دیدیا گیا تھا جس میں تین سال قید کی سزا مقر ر کی گئی۔1982 میں ایک اور شق شامل کی گئی جس میں قرآن کی بیحرمتی کی سزاء پھانسی جبکہ 1986 میں پیغمبر اسلام کی توہین کی سزا بھی مو ت یا عمر قید رکھ دی گئی۔ آسیہ بی بی کیس کے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اِس فیصلے پر ایک چھوٹے سے طبقے نے جو ردعمل دیا ہے اور اْس کے متعلق جو زبان استعمال کی ہے اِس کی وجہ سے وہ عوام سے مخاطب ہونے پر مجبور ہوئے۔ عوام سیاست چمکانے والے بعض عناصر کی باتوں میں نہ آئیں یہ لوگ اسلام کی خدمت نہیں،بلکہ ووٹ بینک میں اضافے کے لئے عوام کو اْکسا رہے ہیں۔جھوٹ بول کر لوگوں کو اکسایا جائے گا تو فائدہ پاکستان کے دشمنوں کو ہو گا ریاستی اداروں اور سربراہوں کے خلاف بیانات ناقابلِ قبول اور افسوس ناک ہیں۔ ریاست کا نظام ایک ضابطہ کار کے تحت چل رہا ہے جو ملک کے دستور میں موجود ہے اور دستور پاکستان کی بنیاد اس کی دفعہ2الف کے تحت قرآن و سنت ہے۔ یہ ملک خدا داد اسلام کے نام پر قائم ہوا اور بانی پاکستان قائداعظمؒ نے قیام پاکستان کے بعد کتابِ ہدائت قران مجید کو ہی پاکستان کا آئین قرار دیا تھا۔ حرمتِ رسول کی پاسداری کی ضمانت بھی آئین پاکستان میں فراہم کی گئی ہے جبکہ آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفیٰؐ کی حرمت و تقدس پر کوئی حرف نہ آنے دینا اور اس کی خاطر جانیں تک نچھاور کر دینا ہر مسلمان کے عقیدے کا حصہ ہے۔ فی الوقت ملک میں امن و آشتی کی فضا استوار کرنے اور عاشقانِ رسول ؐ کے جذبات ٹھنڈے رکھنے کی ضرورت ہے جس کیلئے بلاشبہ تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے بنیادی کردار ادا کرنا ہے۔ اسی طرح قومی سیاسی اور دینی قائدین بھی اپنی اناؤں، سیاستوں اور مفادات کو تج کر قومی اتحاد و یکجہتی کیلئے میدانِ عمل میں آئیں اور اس ارضِ وطن کو پارہ پارہ کرنے کی اس کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی تمام سازشیں ناکام بنا دیں۔

امریکہ کے سامراجی عزائم

امریکا ماضی میں کبھی فراخ دل رہا نہ ہی حقیقت پسند’ہمیشہ امریکا نے صدیوں کی اپنی تنگ نظری کی پالیسی کل بھی اختیار کیئے رکھی آج جب دنیا انسانی ترقی کی انتہاؤں کوچھورہی ہے امریکا’ بڑی عالمی کرنسی کے اجارہ دار کا علم تھامے وہیں پہ کھڑا ہے’ڈالرکے استحقاق کے زعم میں وائٹ ہاؤس اپنے آپ کو’عالمی سرمائے’کا جیسے کوئی آقا سمجھتا ہو؟’بہت تکبرہے امریکا کے علاوہ دنیا کی ان چند منہ زور سامراجی چلن رکھنے والی طاقتوں کوجودنیا کے ترقی پذیر ممالک کو زمین پررینگنے والے حشرات الاارض سمجھنے کی عادتوں میں مبتلا ہیں ، جبکہ اصل میں وہ صریحاً غلطی پر ہیں افسوس! اکیسیویں صدی کا دوسرا عشرہ ختم ہونے کو آرہاہے امریکا مگرمکمل انسان پروری کی راہ پرنہیں آیا’ بلیوں’ کتوں’خچروں’پرندوں سے تواس کی محبتیں سنبھالی نہیں جاتیں مگرکمزوراوربے بس انسانوں سے ا مریکا نفرت ہی نہیں کرتا بلکہ ترقی پذیر ممالک کے اقوام کے بنیادی حقوق غصب کرتا ہے، ان کے قدرتی وسائل کومختلف حیلے بہانوں سے لوٹتا ہے اورانکی زیرزمین دولت کوچھینے کے جواز کا متلاشی رہتا ہے ۔پاکستان کی نئی منتخب حکومت کے متوقع سربراہ کے نرم دمِ گفتگو کا نپا تلا اورکچھ کردکھانے کے انداز سے دنیا یہ نتیجہ اخذ کرلے کہ اب اسلام آباد میں وہ ہی کچھ ہوگا جو پاکستان کے کروڑوں عوام چاہیں گے قوموں کی زندگیوں میں اکثروبیشتر ایسے تازہ’جوشیلے اور امیدافزاخوشگوارسیاسی وثقافتی فضاؤں کے مقبولیت کی انتہاؤں کو چھونے والے مواقع آتے ضرور ہیں دیرآید درست آید کے مصداق امریکی حکام کوبہرحال تسلیم کرنا ہوگا کہ ماضی کے برعکس اب پاکستان کے تجارت پیشہ حکمران طبقات میں پروان چڑھنے والی کرپشن آلودہ جمہوریت کے نام پر’جمہوری ملوکیت’کا ناپسندیدہ سلسلہ منقطع ہوچکا ‘ پاکستان چلے گا’ملک میں ترقی ہوگی اور پاکستان میں آج کے بعدخالص عوامی پائیدار جمہوری راج اور زیادہ مستحکم ہوگا جیسا امریکا چاہے گا پاکستان میں ویسا اب نہیں ہوگا امریکا کوپاکستان کی آزادی پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرنا ہوگا پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہونگے۔ امریکی کانگریس کے منظورکردہ بل کے تحت پاکستان کو150 ملین ڈالرکی دفاعی امداد کینسل کی گئی۔ واہ سبحان اللہ پاکستان پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کاعندیہ بھی دیاگیا ، پینٹاگان’وائٹ ہاؤس اورادھرنئی دہلی کے ایوانِ اقتدارمیں نجانے کس مفادی نے اپنے کس مذموم ایجنڈے کے گھناؤنے تصورات کوعملی جامہ پہنانے کی بد نیتی سے مفروضہ پھیلایا تھا کہ پاکستان میں دومخصوص سیاسی پارٹیوں کے بغیرجمہوریت کا سسٹم قائم نہیں رہ سکتا لہٰذاکبھی ‘اے’ اورکبھی’بی’ پارٹی ہی کی حکومتیں جمہوریت کے نام پرچلتی رہیں گی اورعوام کی اکثریت ہرپانچ سال تک اِن ہی کے اشاروں پر ووٹ بکس بھرتے رہیں گے پاکستان میں اعلیٰ عدالتیں کیا متحرک ہوئیں کروڑوں عوام کی سنی گئی، پاکستان کے اقتدار کو جواپنے گھروں کی لونڈی سمجھتے تھے آج کہاں ہیں؟ پاکستان کو اپنی وراثت اور جاگیر سمجھنے والے نشانِ عبرت بن گئے کچھ بننے والے ہیں، اب پکڑ نیچے سے نہیں اوپر سے ہوگی، پاکستانی قوم کی عوامی شعور میں بیداری کی لہر نے جنوبی ایشیا میں امریکی چھتری تلے بھارتی بالادستی کے خواب کے تاروپود کو قوم نے منتشرکرکے رکھ دیا اب افغانستان میں امن ہوگا اور بھارت کو مسئلہِ کشمیر کے پرامن حل کیلئے اپنے قدم بڑھانے ہونگے، حقیقی عوامی طاقت اپنے حکمرانوں کی پشت پر موجود رہے تو سامراجی عزائم کے حامل ممالک ایسی بیدار صفت اقوام کا بال تک بھی بیکا نہیں کرسکتیں ،یقیناًامریکی اور بھارتی فیصلہ ساز جان گئے ہونگے کہ پاکستان میں دوپارٹی سسٹم کی ریت روایت قائم کرنے والے غلط تھے ‘را، موساد اورسی آئی اے’کی مشترکہ پروپیگنڈا مشنری ناکام ہوئی ہے، پاکستانی عوام کے جمہوری شعورکے رجحانات اور میلانات کا متذکرہ بالا تینوں خفیہ ایجنسیوں نے غلط من گھڑت اور بے سروپا مفروضات پر رپورٹیں مرتب کیں ایسی بوگس ڈیسک رپورٹس ٹرمپ اورمودی جیسے ناتجربہ کارجنونی اورانتہا پسندوں نے مان لیں وائٹ ہاؤس اورنئی دہلی سمیت پینٹاگان بھی اِسی فرضی نکتہ نظر کے اسیرمعلوم دئیے ،جنہوں نے پاکستان کی سابقہ کرپٹ حکمران طبقات کے منہ میں اپنے متعصبانہ الفاظ دے کر انہیں انکے انجام تک پہنچا دیا،یوں پاکستان میں حقیقی جمہوریت کا روشن سورج طلوع ہوا اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ منتخب حکمران جماعت کوملک میں درپیش اقتصادی چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا،آئی ایم ایف سے انہیں اپنے محدودمالیاتی انفراسٹرکچرکے دائرے میں اپنی مہارت’ صلاحیت’جرات اورپیشہ ورانہ حکمتِ عملی سے باعزت مذاکرات کرنے ہونگے ‘بیس پچیس برس کی اختیار کردہ گمراہ کن غلط اقتصادی پالیسیوں نے پاکستان پر بیرونی قرضوں کاحجم بڑھا کر قوم اورملک کو آج اِس بد حالی پر لا کھڑا کیا ہے پھر بھی مایوسی کا مقام نہیں آئی ایم ایف کے دیوہیکل قرضوں کی ضمانت اب پاکستان کے بہادر اور محبِ وطن عوام کے علاوہ کوئی اور نہیں دے سکتا، پاکستان کی قیادت اگر جرات مند ہو’بے داغ ہو’صاحبِ کردار ہو’ ایمان داراورصالح ہو’ تویہ کوئی مشکل مرحلہ نہیں عمران خان کی مقبولِ عام شخصیت نے پاکستان کی جمہوری قیادت کی تاریخ میں یقیناًایک نیا باب رقم کیا ہے، عوام نے ان پر بھروسہ کیا خان کہتا ہے کہ وہ سادگی اپنائیں گے قوم سادگی اپنائے’قومی سیاست کے مفلوج زدہ جسم میں عمران خان نے ‘لیکجز’ کا کھوج لگا کر انہیں اگر بند کر دیا لوٹی گئی قومی دولت بیرونِ ملک سے واپسی کیلئے انہوں نے فوری ہنگامی اقدامات اٹھانا شروع کردئیے اور دنیا کے سامنے جرات مندی اور دلیرانہ سچائی سے پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کا تاریخ ساز فیصلہ کرلیا تو بھاڑ میں جائیں امریکی کانگریسی کی بلیک میلنگ اور خطہ میں بھارتی بالادستی کے عزائم جنوبی ایشیا میں پاکستان کی بھی اپنی ایک حقیقی جغرافیائی حیثیت ہے عمران خان نے یہ حقیقت دنیا سے منوانی ہے پاکستان کا مالیاتی بحران چٹکیوں میں حل ہوگا کئی ایشیائی ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے امریکی اور آئی ایم ایف کی مالی مداخلتوں کے بغیر بھی پاکستان ترقی خوشحالی اور امن کی نعمتوں سے مالا مال ہوسکتا ہے ۔

پرامن افغانستان خطے کی ضرورت

Naghma habib

افغانستان برادر اسلامی ملک ہے لیکن دشمن کے ریشہ دوانیوں کے باعث اکثر اس کے تعلقات پاکستان سے نا خوشگوار ہو جاتے ہیں ۔ وہی پاکستان افغان حکمرانوں کے الزامات کی زد میں آجاتا ہے جو ہمیشہ مشکل حالات میں افغانوں کی پُشت پر جم کر کھڑا ہوا ہے چاہے اس کے لیے اسے پوری دنیا کی مخالفت لینا پڑی اور مشکلات برداشت کرنا پڑی اُس نے کیں۔دہائیوں تک خود اپنے ملک سے نکالے گئے افغانوں کو اپنی سر زمین پر پناہ دی اور دہشت گردی کے بے شمار واقعات میں ملوث ہونے کے باوجود بھی انہیں بے یار و مدد گار نہیں چھوڑا ،انہیں روس اور امریکی بموں کی زد میں آنے سے بچائے رکھاورنہ دنیا میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جب پڑوسی ممالک نے بے یارو مدد گار مہاجرین کے لیے اپنے ملک کی سرحدیں بند کیں اور انہیں گولہ بارود کی بارش میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔لیکن پھر بھی افغانستان میں حالیہ حکومتیں پاکستان کے بارے میں ایک منفی تاثر پھیلاتی رہی ہیں اور منفی رویے کو افغان عوام تک بھی پہنچا رہی ہیں اگرچہ پاکستان میں دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ افغانستان میں بد امنی ہے کہ وہاں کے جنگجو گروہ جب اپنی حکومتوں کے خلاف بر سر پیکار ہو جاتے ہیں تو افغان حکومت بجائے انہیں قابو کرنے کے پاکستان کے قبائلی علاقوں سے بالخصوص اور پورے ملک سے بالعموم اپنے مطلب کے لوگ تلاش کر کے انہیں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے لگ جاتی ہے اور پچھلے چالیس سال میں تو اُسے مزید سہولت یوں حاصل ہو گئی ہے کہ اُس کے لاکھوں باشندے مہاجرین کی صورت میں پاکستان میں موجود ہیں اور وہ سب نہیں تو اُن میں ایک اچھی خاصی تعداد اپنی حکومت کی مدد پر آمادہ ہو جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ افغان حکومت اپنے ملک میں امن قائم کرنے میں ہمیشہ سے ناکام ہے کیونکہ وہ اپنے دوست دشمن کی پہچان کرنے کی کوشش نہیں کرتی ہے۔ افغانستان بھارت جیسے مسلم دشمن ملک سے احکامات وصول کرتا ہے اور پاکستان کے مسلمانوں پر آزماتا ہے لیکن خود اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے سے مکمل طور پر معذور ہے۔ اس بار تو خود اس کی اپنی پارلیمنٹ نے اس بات پر اعتراض اٹھایا ہے اور افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے ایک اپنی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق افغان پارلیمنٹ نے اس بات پر اعتراضات اٹھائے ہیں کہ سیکیورٹی ایجنسیاں اپنا طریقہ کار بدل لیں اور اپنے لوگوں کی حفاظت کی طرف توجہ دیں اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت تک افغانستان میں اس سال کے پہلے چھ ماہ میں UNAMA یعنی اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کے پاس فضائی جنگی کاروائیوں میں 353 شہریوں کے متاثر ہونے کی رپورٹ آئی ہے جس میں 149 ہلاک اور204 زخمی ہوئے اور یہ تعداد پہلے کی نسبت بہت زیادہ ہے جس پر افغانستان کے اندر سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔قانون بنانے والے اداروں نے بھی اس پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے کہ اتحادی افواج سول آبادی کے ساتھ ناروا سلوک کر رہی ہے۔ اگرچہ افغان پارلیمنٹ اس سلسلے میں اتحادی افواج کو موردِ الزام ٹھہرا رہی ہیں لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ 2015کے بعدزیادہ تر دہشت گردی کے خلاف کاروائیاں افغان افواج خود کر رہی ہیں لہٰذا اس جانی نقصان کی ذمہ داری بھی زیادہ تر اُسی پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہی شہریوں کو نشانہ بنارہی ہے۔ناتجربہ کار یا ہنگامی بنیادوں پر اٹھائی گئی کسی غیر تر بیت یا فتہ فوج سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ کسی بھی آپریشن کیلئے وہ منصوبہ بندی اور تیاری نہیں کر پاتی جو درست طریقے سے ٹارگٹ کو نشانہ بنائے اور یہی وجہ ہے کہ افغان شہری آبادی اپنی ہی فضائی افواج کا نشانہ بن رہی ہے جس سے اُن کی ساکھ بھی بُری طرح متاثر ہو رہی ہے اور اگر ایک مخصوص طبقے میں اُن کی کچھ مقبولیت تھی وہ بھی ختم ہو رہی ہے اور یہ سب افغان حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے یوں تو اُس کی فوج کو نیٹو میں شامل ترقی یافتہ ممالک کی افواج نے تر بیت دی ہے جن میں امریکہ اور برطانیہ بھی شامل ہیں لیکن ابھی تک وہ ان غیر ملکی افواج کی مدد سے ہی چل رہی ہے اور اس کے سینئر ترین عہدوں پر پہنچنے والے بھی اُس معیار تک نہیں پہنچے جہاں کامیاب منصوبہ بندی ممکن ہوتی ہے۔ یہی حال اس کی فضائی افواج کا ہے جس کے پائیلٹ بغیر کسی تحقیق کے فضائی حملہ کر دیتے ہیں جس سے عام بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور انہی ہلاکتوں کی تعداد کو افغان فضائی افواج اپنی کامیابی کے پیمانے کے طور پر استعمال کر رہی ہے جس پر ہیومن رائٹس واچ نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ افغان ائیر فورس کو مزید تربیت کی ضرورت ہے دوسری طرف خود امریکی فضائی تربیتی افسران کے مطابق ہر سال افغانیوں کی بڑی تعداد کو فوجی تربیت کیلئے امریکہ بھی لایا جاتا ہے لیکن ان کی اکثریت مفرور ہو جاتی ہے۔ ان میں سے جو تربیت مکمل بھی کر لیتے ہیں وہ اس معیار تک نہیں پہنچ پاتے جو کامیاب کاروائیوں کے لیے ضروری ہے ورنہ اسی سال سول ہلاکتوں کے اعداد و شمار ہی اس معیار کو جانچنے کے لیے کافی ہیں۔ امریکی فضائیہ کے بریگیڈئیر جنرل فلپ اے سٹیورٹ کے مطابق اُن کے سینکڑوں فوجی ان افغا ن ہوا بازوں کی ذہنی تربیت پر بھی مامور ہیں لیکن اگر نتائج دیکھیں جائیں تو معیار سے انتہائی کم ہیں۔ یہاں معاملہ افغان حکومت کی نیت کا بھی ہے کہ وہ اپنے مغربی آقاؤں اور بھارتی اشاروں کے مطابق زیادہ توجہ پاکستان پر الزام تراشی اور یہاں دہشت گردی کرانے پر مرکوز رکھے ہوئے ہیں دوسرا یہ کہ وہ اپنی افواج کی وہ ذہنی تربیت نہیں کر رہی ہے جس کے مطابق وہ دوست اور دشمن کی پہچان کرے اور یہ بھی کہ اپنے اصل ٹارگٹ کو پہچانے نہ کہ مجمع دیکھ کر اس پر حملہ آور ہو ۔

ندائے مظلوماں اور عدالت انسانی

معزز قار ئین نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر سے کماحقہ آگاہی و شناسائی دلانے کیلئے ضروری ہے کہ تاریخی سیاق و سباق کے حوالے سے اس کا مختصر سا تعارف اور معلوماتی خاکہ پیش کیا جائے کشمیر دنیا کی ایک حسین ترین برف پوش وادی ہے جہاں مسلمانوں نے پانچ سو سال تک حکومت کی برصغیر میں مسلمانوں کے اقتدار کا سورج غروب ہوا تو سکھوں نے یورشیں کر کے اس جنت نظیر وادی کو چھین لیا انگریزوں نے ہندوستان پر تسلط جمانے کے بعد سکھوں پر یلغار کردی اور سکھوں کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے اس برف پوش وادی کو گلاب سنگھ ڈوگرا کے ہاتھ 76لاکھ کے عوض فروخت کر دیا ایک صدی کے طویل عرصہ تک مسلمان سکھوں اور ڈوگروں کے ظلم کی چکی میں پستے رہے ۔1931ء میں اس ظلم اور بربریت کے خلاف جموں و کشمیر کے مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے ۔ایک انگریز مصنف کی تصنیف ’’ دی ویلی آف کشمیر‘‘ کے مطابق اس زمانے میں ساڑھے تین سو مجاہدین پر مقدمات چلائے گئے اور 13جولائی 1931ء کے خون آشام واقعہ میں بائیس مسلمان شہید ہوئے ۔1947ء میں تقسیم ہند کے بعد اس وادی فردوس نظیر کا فیصلہ یہاں کے رہنے والے باشندوں کے سپرد کیا گیا کہ وہ اپنی رائے کے مطابق اس کا الحاق ہندوستان یا پاکستان سے کر سکتے ہیں ۔24اکتوبر1947ء کو اس وادی کا حکمران ہری سنگھ ڈوگرہ جموں بھاگ گیا ۔اس الحاق ہندوستان کے معاہدے پر دستخط کر کے ہندو فوج طلب کر لی۔معاہدے کے فوراً بعد ہندوستان نے اپنی فوجیں سرینگر بھیج دیں ۔مسلمانوں کا قتل عام از سرنو شروع کر دیا گیا ۔1947ء سے تا حال اہل کشمیر اسی استصواب رائے کا انتظار کرتے رہے اور اپنے خون نا حق کی قربانی دیتے رہے ۔معزز قارئین 5جنوری 1947ء کو اقوام متحدہ میں ایک قرار داد پاس ہوئی جس کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کے ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کا معاملہ جمہوری طرز فکر کے تحت آزادانہ اور غیر جانبدارانہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی منعقد ہونے والی رائے شماری کے ذریعے طے کیا جائے گا ۔اقوام متحدہ کی اس قرار داد پر بھارت کے سابق آنجہانی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے یہ اعلان کر کے مہر تصدیق ثبت کر دی کہ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کشمیر کے لوگ کریں گے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارا یہ عہد نہ صرف کشمیریوں سے بلکہ پوری دنیا سے ہے اور ہم اس عہد کی پاسبانی کریں گے ۔بعد ازاں بھارت اس تسلیم شدہ حقیقت سے منحرف ہو گیا بلکہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنا شروع کر دیا اور تا حال اس نے اپنے ایجنڈے میں سر مو فرق نہیں آنے دیا ۔بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ کے فیصلے اور بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے وعدے کے باوجود بے گناہ کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے ۔1950ء کے عشرے میں اس مسئلے کے حل کیلئے پاکستان نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر دوبارہ کوشش کی جموں کشمیر میں استصواب رائے کیلئے قرار دادیں پاس کیں لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا ۔1965ء کی پاک بھارت جنگ اسی تنازعہ کا شاخسانہ تھی ۔1966ء میں معاہدہ تاشقند ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ مسئلہ کشمیر دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا لیکن کوئی مثبت پیش رفت نہ ہو سکی ۔1971ء کی پاک بھارت جنگ کی بڑی وجہ یہی مسئلہ تھا ۔بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کے ذریعے خفیہ آپریشن پروان چڑھایا ،بنگالیوں کے احساس علیحدگی کو تقویت دی اور ان کے احساس محرومی کو مزید پانی دے کر مغربی پاکستان کے خلاف بطور ایک کامیاب حربہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں پاکستان دو لخت ہو گیا پاکستان کو شملہ معاہدے پر دستخط کرنا پڑے اس کے بعد عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک مسئلہ کشمیرمذاکرات کے ذریعے حل کریں ۔ہر بار ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور میں نہ مانوں کی پالیسی آڑے آئی ۔1988ء میں مجاہدین کشمیر نے اپنی آزادی کے حصول کیلئے مسلح جدوجہد شروع کی ۔اس جدوجہد نے ہندوستان کی سات لاکھ فوج کو کشمیر میں بے بس کر کے رکھ دیا ۔ہندوستان کی سیاسی و عسکری طاقت مجاہدین کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کا نام دے کر پاکستان پر عالمی دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتی ہے ۔ معزز قارئین آج کشمیر کے ہر مجاہد اور اس کے خاندان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ۔اسلام کی بیٹیاں ہندو لٹیروں کے ہاتھوں لٹ رہی ہیں ،والدین کے سامنے ان کی عزت برباد کی جارہی ہے ۔ٹارچر سیلوں میں بے گناہ کشمیریوں کو اذیت ناک اور ناقابل فراموش سزائیں دی جا رہی ہیں ۔ہندو درندوں کی بر بریت اور ظلم کے ہاتھوں کوئی گھر محفوظ نہیں ۔مسلمانوں کے گھر جلا دیے گئے ،پیلٹ گنوں کے استعمال سے سینکڑوں مظلوم کشمیریوں کو بینائی سے محروم کر دیا گیا ،مساجد کو مندروں میں تبدیل کر دیا گیا لیکن

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو تھم جاتا ہے
خون پھر خون ہے بہتا ہے تو جم جاتا ہے
مظلوم کشمیریوں پر ظلم کی یہ تاریک رات ختم ہو جائے گی اور ظلمتوں کی اس تاریک رات سے ایک دن ضرور سپیدہ سحر نمودار ہوگا ۔مسلمانوں پر بھارتی ظلم و ستم کی یہ صورت حال بھی پاکستان کے کشمیر پر موقف کی حقانیت کا واضح ثبوت ہے اور ساتھ اس حقیقت کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ کشمیری عوام پاکستان کے کشمیر پر اصولی اور درست موقف کے پر جوش حامی ہیں ۔بھارت پاکستان سے کشیدگی بڑھانے کی کوئی نہ کوئی مہم شروع رکھتا ہے ۔مسئلہ کشمیر سمیت باہمی تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی پاکستانی پیشکش کے جواب میں بھارتی حکومت نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے اور حسب عادت پاکستان پر الزام تراشی کا ڈھول پیٹتے ہوئے مذاکرات کی دعوت قبول کرنے کے اگلے روزہی راہ فرار اختیار کرلی ۔بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے بڑھک لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج سے بدلہ لینے کا وقت آگیا ،اس کو ان کی زبان میں جواب دیا جائے گا ،ہم اپنی اگلی کاروائی کی تفصیل نہیں بتا سکتے ،پاکستان کو سرپرائز دیں گے ۔پاک فوج کی جانب سے اس بد زبانی کا جواب موثر، معقول اور نپی تلی زبان میں دے دیا گیا۔جب خطے میں پاک چین بڑھتی ہوئی قربت ،بھارت کو الگ تھلگ اکائی بنا دینے کی پوزیشن میں ہو اور بھارتی دفاعی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے دفاعی سودوں میں بد عنوانی کے سکینڈل طشت از بام ہو رہے ہوں ،مخالف سیاسی جماعتیں اور مفلوک الحال عوام اس پر انگشت بدنداں ہوں تو پھر ایسے مخالفانہ بیانیے جاری کرنا مودی حکومت کی مجبوری ہے۔اس قسم کا ایک تازہ سکینڈل 2016ء میں فرانس سے 36رافیل طیاروں کی خریداری میں بدعنوانی کا ہے ۔چند روز قبل فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے ایک انٹرویو میں اس حقیقت سے پردہ اٹھایا تھا جس کے بعد نریندر مودی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ۔اس صورت حال میں پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دینا بھارتی جنتا پارٹی کی مودی حکومت بچاؤ مہم کا حصہ ہے۔بھارت نے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع کر رکھی ہے ہر دوسرے دن میزائلوں کے نئے نئے تجربات کر رہا ہے ۔آج عالمی برادری اور سپر طاقتوں کو جنوبی ایشیاء میں جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کا جو بھارت کی ہٹ دھرمی،مذاکرات سے پہلو تہی اور اسلحہ کے ڈھیر لگانے سے پیدا ہوئے ہیں نوٹس لینا چاہیے اور بھارت کو مجبور کیا جائے کہ وہ پر امن حالات پیدا کرے اور تمام مسائل کے حل کیلئے پاکستان کے ساتھ مذاکرانہ طرز عمل اختیار کرے۔ہمارے حکمرانوں کی ہمیشہ یہ کوشش اور خواہش رہی ہے کہ بھارت کے ساتھ تنازعہ کشمیر سمیت تمام اختلافی امور خوشگوار ماحول اور پر امن مذاکرات کے ذریعے طے پا جائیں اور دونوں ملک اپنے بجٹ کا کثیر حصہ دفاع پر خرچ کرنے کی بجائے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی پر خرچ کریں لیکن افسوس کہ بھارت نے پاکستان کو نہ ہی دل سے قبول کیا ہے اور نہ ہی تسلیم اور ابھی تک اس نے حق خود ارادی کے وعدے پورے کرنے کی بجائے ڈھٹائی کے ساتھ اسے اپنا اٹوٹ انگ کہنے کی رٹ لگا رکھی ہے ۔یہ سب باتیں دنیا پر بھارت کی اصلیت کو اچھی طرح بے نقاب کر چکی ہیں ۔مسئلہ کشمیر کا قطعی اور سر بسر منصفانہ حل ساری دنیا کے سامنے موجود ہے ۔یو این او اس حل پر مہر توثیق ثبت کر چکی ہے خود کشمیر کے عوام اور اس کی نمائندہ جماعتیں اس حل کے سوا کوئی حل قبول کرنے کیلئے تیار نہیں اور جب مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے متفق علیہ اور طے شدہ بنیاد موجود ہے اور ساری دنیا اس کی گواہ ہے تو آج بھارت اپنی تازہ مصلحتوں کی بنا پر استصواب رائے سے رو گردانی کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ ایسے نئے اور متبادل حل تلاش کئے جائیں جو بھارت کے مفاد میں ہوں ۔اگر عالمی برادری کو امن عزیز ہے تو کشمیر کا مسئلہ حق وا نصاف کے اصولوں کے مطابق حل کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

وقت نازک ہے، جوش نہیں ہوش سے کا م لیا جائے

adaria

پاکستان کو ایک بار پھر نازک صورتحال درپیش ہے۔ ہوش کی بجائے جوش کا غلبہ ہے۔ آسیہ بی بی کیس کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں صورتحال خاصی کشیدہ ہے اور جلاؤ گھراؤ سے کاروبارِ زندگی معطل ہو کر رہ گئی ہے۔اس پس منظر میں وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے آسیہ بی بی کیس کے فیصلہ کے بعد سڑکوں پر آنے احتجاج کرنے والوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کے اکسانے میں نہیں آنا ہے، یہ کوئی اسلام کی خدمت نہیں ہو رہی ہے انہوں نے یہ اپیل بھی کی کہ ریاست سے نہ ٹکرائیں،ورنہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی اور لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کی جائے گی، ہم توڑ پھوڑ اور سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے، ریاست کو اس سطح پر نہ لے جائیں کہ وہ ایکشن لینے پر مجبور ہو جائے۔ وزیراعظم نے آسیہ مسیح کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو ملکی آئین وقانون کے مطابق قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلہ کے بعد ردعمل میں جس طرح کی زبان استعمال کی ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان وہ ملک ہے جو مدینہ کی ریاست کے بعد اسلام کے نام پر بنا ہے، اسلام کے نام پر بننے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا، سپریم کورٹ کے ججز نے جو فیصلہ دیا وہ آئین کے مطابق ہے اور ملک کا آئین قرآن و سنت کے تحت ہے۔انشااللہ جب پاکستان عظیم ملک بنے گا تو وہ مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چل کر بنے گا۔ جس مقصد کیلئے پاکستان بنا اور جب تک وہ فلاحی ریاست نہیں بنتا اس کا کوئی مستقبل نہیں۔ موجودہ حکومت نے عملی طور پر وہ کام کیا جو آج تک کسی حکومت نے نہیں کیا۔ جب ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی والے خاکے بنوائے تو پاکستان وہ واحد ملک تھا جس نے فارن منسٹرز سے بات کی اور اس ڈچ رکن پارلیمنٹ سے خاکے واپس کرائے۔ پاکستان نے پہلی مرتبہ او آئی سی میں جا کر اس مسئلے کو اٹھایا اور ملک کے وزیرخارجہ نے پہلی بار اس ایشو کو اٹھایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہیومن رائٹس کورٹ نے قرار دیا کہ حضورﷺ کی شان میں گستاخی کرنا آزادی اظہار رائے کے زمرے میں نہیں آتا۔ ہم باتیں نہیں کرتے ہم نے عملی طور پر کام کر کے دکھایا۔ ہم واقعی نبی ﷺکی شان میں کسی قسم کی گستاخی نہیں دیکھ سکتے ۔وزیراعظم نے یہ یقین بھی دلایاکہ ہم مشکل معاشی بحران سے نکل سکتے ہیں، میں اور میری کیبنٹ نے ایک دن کی بھی چھٹی نہیں کی، مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ اپنی قوم کو بحران سے نکالیں، پسے ہوئے غریب آدمی کے لئے حالات کو بہتر کریں، دوست ممالک سے بھی بات کر رہے ہیں کہ یہاں سرمایہ کاری کریں، مقصد یہ ہے کہ یہاں بے روزگاری کم ہو۔ سڑکیں بند کرنے کا نقصان غریبوں کو ہے، میں اپنے عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ کسی صورت میں آپ کو ان عناصر کے اکسانے میں نہیں آنا ہے، یہ ملک سے دشمنی ہو رہی ہے۔ عوام سے درخواست ہے انتشار پھیلانے والوں کے فریب میں نہ آئیں۔ فوج نے ہمیں دہشتگردی کی مشکل جنگ سے نکالا ہے، انہوں نے قربانیاں دی ہیں، نقصان کس کا ہے اس سے فائدہ دشمنوں کا ہے۔ وہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ ملک کی خاطر ان عناصر کی باتوں میں نہیں آئیں ، میں ان عناصر سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ ریاست سے نہ ٹکرانا، اپنی سیاست چمکانے اور اپنا ووٹ بینک بڑھانے کیلئے اس ملک کو نقصان نہ پہنچائیں آگے اچھا وقت آ رہا ہے۔ درپیش حالات کا یہ تقاضا ہے کہ ریاست بھی سوجھ بوجھ سے کام لے ایسے میں ذرا سا بھی کوئی غلط اقدام خدانخواستہ کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے، حکومت اور دوسرے فریق کیلئے ضروری ہے کہ معاملات کو سڑکوں کے بجائے آپس میں بیٹھ کر حل کریں۔
آصف زرداری کی حکومت کو پیشکش
آصف علی زرداری جنہیں مفاہمت کا بادشاہ کہا جاتا ہے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح طورپر کہہ دیا کہ ہم حکومت سے تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں ان کا یہ بیان نہایت خوش آئند ہے کیونکہ جمہوریت کے دور میں ہی ملک اور قوم پھلتے پھولتے ہیں، یہ الزام تراشیوں کی سیاست جو دہائیوں سے ہم وراثت میں لیکر چلتے آرہے ہیں اس کو ختم کرنا ہوگا ، آخر کوئی تو ہوگا کہ جو پہلا قدم بڑھائے گا ، حکومت کی جانب سے بھی زرداری کے بیان کو سراہا گیا ہے انہوں نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش کردی ۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیارہیں، 5 سال کے دوران ہم حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے، میاں صاحب کے ساتھ بھی کام کرنے کو تیارتھے بالکل اسی طرح اس حکومت کے ساتھ بھی تیارہیں لیکن شرط یہ ہے کہ جوکام کا پیمانہ ہووہ صرف انصاف پرمبنی ہو۔ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، جمہوریت میں کمزوریاں ضرورہیں، سب بیٹھ کرایک حل تجویزکریں جس سے ہم پاکستان کومسائل سے نکال سکیں، اگرہم توجہ نہیں دیں گے تومسائل بڑھتے جائیں گے۔ میں نے سی پیک کا نظریہ سوچا، اگرگوادرپورٹ کونکال دیں تو آگے سی پیک کیا بنتا ہے، پاکستان کی ترقی کا سب سے چھوٹا راستہ سی پیک ہے، ہمیں پاکستان کو مضبوط بنانا ہے لیکن شارٹ ٹرم ٹرانزیشن سے نہیں۔ پانی کا مسئلہ بنیادی طور پر انسانی حقوق کا معاملہ ہے، کراچی کی آبادی 3 کروڑ ہے، جس میں ایک کروڑ بہاری، بنگالی اور خیبر پختونخوا سے آنے والے دوست ہیں۔ پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو گندم اور چینی درآمد کی جارہی تھی، ہم نے سندھ میں دراوڑ ڈیم بنایا، ایک ایکڑ پر تقریباً ایک لاکھ 24 ہزار گیلن پانی ہر فصل کو دیتے ہیں، اگر اتنا پانی فصل کو دیا جاتا ہے تو کتنا پانی بچایا جاسکتا ہے، ملک کو درپیش مسائل کے حل کیلئے بہترین فارمولا آپس میں مفاہمت ہی ہے اور مل جل کر ہی مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
تیل مصنوعات کی قیمتوں میں نا مناسب اضافہ
حکومت نے دگرگوں حالات کے دوران ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا، عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبتی جارہی ہے مگر چونکہ حکومت نے کہا ہے کہ مزید مہنگائی ہوگی سو وہ اسی فارمولے پر گامزن ہے، دوسری جانب وزیراعظم آئی ایم ایف جانے کے بجائے دیگر ممالک سے رابطے میں ہیں جن سے مالی امداد کیلئے مذاکرات جاری ہیں ، سعودی عرب نے تو قابل ذکر مدد کردی ہے دیگر ملکوں کی جانب سے ابھی جواب آنے کا انتظار ہے ، حکومت ایسے میں مزید مہنگائی کرنے کی بجائے اسے کنٹرول کرنے کی منصوبہ بندی کرے کیونکہ صرف ایک پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے دیگر تمام زندگی سے متعلق ضروری اشیاء مہنگائی کے آسمان چھونے لگتی ہیں ایسے میں جب عوام کو دووقت کی روٹی اور بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا مشکل ہو تو ہوشربا مہنگائی کی وجہ سے مزید مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔

پاک فوج کیخلاف ہرزہ سرائی

عدلیہ کے خلاف ہرزہ سرائی کے جرم میں سزا یافتہ مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی باز نہ آئے اور پاک فوج کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کردی۔انہوں نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے پاک فوج اور بھارتی اشتعال انگیزی کی روک تھام کے لیے یقینی سمجھے جانے والے ملک کے دفاعی اثاثوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں لا حاصل قرار دیا ۔ انہوں نے اس حقیقت کو بھی نظر انداز کیا کہ پاکستان نے کبھی بھی جارحیت کا راستہ نہیں اپنایا بلکہ اپنے دفاع کو یقینی بنانے کیلئے یہ اثاثہ جات تیار کیے ہیں۔ پیمرا نے (ن) لیگ کے سابق سینیٹر نہال ہاشمی کی متنازعہ تقریر کا نوٹس لیتے ہوئے تقریر دکھانے والے چینلز سے جواب طلب کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ غیر تسلی بخش جواب پر ٹی وی چینلز کی نشریات معطل یا جرمانہ کیا جائے گا۔نہال ہاشمی کی ریاستی اداروں کے خلاف تقریر کیوں نشر کی گئی ۔ متنازعہ بیانات دینا نہال ہاشمی کی روایت رہی ہے۔ چینلز بتائیں متنازعہ تقریر پر کیوں نہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ نہال ہاشمی نے ایک بار پھر ریاستی اداروں کے خلاف ایک بار پھر ہرزہ سرائی کی تھی ۔ مسلم لیگ ن نے بھی نہال ہاشمی کے پاک فوج کے خلاف بیان کو ان کی ذاتی رائے قرار دیتے ہوئے اظہارِ لاتعلقی کردیا ہے اور کہا کہ ان کا بیان پارٹی موقف سے موافقت نہیں رکھتا۔نہال ہاشمی کی ہرزہ سرائی پر مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیرقانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ فوج ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہوتی ہے لہذا ایسی ہرزہ سرائی درست نہیں ہے۔ عدلیہ کے خلاف ہرزہ سرائی کے بعد سے نہال ہاشمی مسلم لیگ ن کا حصہ نہیں ہیں اور نہ ہی اب تک ان کی پارٹی رکنیت بحال کی گئی ہے۔ اداروں سے گلہ ہوسکتا ہے لیکن شکوہ کرنے کا یہ انداز درست نہیں ہے۔ نہال ہاشمی اس سے قبل بھی ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے خلاف دھمکی آمیز گفتگو کرنے کے سبب توہینِ عدالت کے جرم میں ایک مہینے کی سزا کاٹ چکے ہیں۔جذبات میں بیان دینے کے بعد نہال ہاشمی عدالت سے معافی بھی مانگتے رہے تھے۔نہال ہاشمی کی پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی جے آئی ٹی کے ارکان اور ججز کے خلاف دھمکی آمیز تقریر کے خلاف کراچی کی مقامی عدالت نے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کرنے کی ہدایت کردی تھی۔نہال ہاشمی نے جے آئی ٹی کو کھلے عام سنگین دھمکیاں دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم تمہارا یوم حساب بنا دیں گے۔نہال ہاشمی کی متنازعہ تقریر کے بعد ان کی مسلم لیگ ن سے رکنیت بھی خارج کردی گئی تھی۔نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ بطور وکیل عدالت سے معافی مانگنا میرے لیے اعزاز ہے۔ اپنی تقریر میں کسی جج یا جے آئی ٹی رکن کا نام نہیں لیا۔ بطور شہری عدلیہ کا احترام کی۔ سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کا ازخود نوٹس لیا تھا جس میں انھیں پاناما لیکس کیس میں تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کو دھمکیاں دیتے سنا جا سکتا تھا۔ پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے سینیٹر نہال ہاشمی کو توہینِ عدالت کے جرم کا مرتکب پاتے ہوئے ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔انھیں پانچ برس کے لیے کسی بھی عوامی عہدہ سنبھالنے کے لیے نااہل بھی قرار دیا گیا ۔نہال ہاشمی وہ دوسرے رکنِ پارلیمان ہیں جنھیں توہینِ عدالت کے کیس میں سزا سنائی گئی ہے۔ اس سے قبل 2012 میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی توہینِ عدالت کا مرتکب ہونے پر سزا ہوئی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کے سابق سینیٹر سید نہال ہاشمی نے ملکی ترقی میں سیاست دانوں کے کردار کا دفاع کرتے ہوئے مسلح افواج پر الزام عائد کیا کہ مسلح افواج نے ملک کی ترقی اور بہتری کیلئے کچھ نہیں کیا اور دفاع کی خاطر حاصل کیا گیا اسلحہ ’’محض شو پیس‘‘ ہے۔ پاکستان کی آٹھ لاکھ فوج نے ایک انچ زمین حاصل نہیں کی۔ آپ کے وسائل پر کوئی اور عیش کر رہا ہے۔ دفاعی لائن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایٹم بم اور ایف 16 طیارے صرف دکھاوے کیلئے ہیں۔ استعمال نہیں کر سکتے۔ پاک فوج کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ پاک فوج کے ہوتے ہوئے کسی میں جرات نہیں کہ پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھے۔ کیا ماضی میں جنگیں نہال ہاشمی نے لڑی تھیں۔ پاک فوج کی قربانیوں کی پوری دنیا معترف ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی کارروائیوں سے دنیا سیکھ رہی ہے۔ پاک فوج ہماری محافظ ہے اس کے خلاف ایسی گفتگو کسی کو زیب نہیں دیتی۔ پاک فوج کا مقصد ملک و قوم کی حفاظت ہے ، کسی کی زمین پر قبضہ کرنا نہیں۔ پاک فوج ملکی سرحدوں کی احسن طریقے سے حفاظت کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ کہاں ہے؟

اکیسیویں صدی کواگر’ہوس ملک گیری’ ہوس زمین’ہوس بالادستیوں کی دوڑ اورکمزوروبے بس لاچاروناتواں ترقی پذیراقوام پراْن کی سرزمینوں پرطاقتوں کے نشے میں بدمست‘ بے لگام اورسرکش طاقتوں کی لشکرکشیوں کی صدی کہا جائے تو یہ کیا بے جا بات ہوگی آج دنیا اکیسیویں صدی کے دوسرے عشرے کے اختتام پر پہنچ چکی ہے اور تیسرے عشرے میں داخل ہونے کو جارہے ہیں لیکن وائے افسوس دنیا میں خاص کر مسلم ممالک کے خطوں میں سراسر ناانصافیاں اورظلم وزیادتیاں بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں چاہے مشرق وسطی میں شام ہوعراق ہو’یمن ہو اور تشویش ناک حدتک فلسطین کی سرزمین ہوبے گناہ مجبورو نہتے انسانوں کے لہو سے رنگین ہورہی ہے‘ ادھرہمارے جنوبی ایشیا میں ملک گیری کے ہوس میں مبتلا امریکی اور مغربی طاقتوں کے ‘پالتو’ مسلم دشمن ملک بھارت نے اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں لاکھوں کشمیریوں کے حق آزادی کو اپنی طاقت کے زورپر دبارکھا ہے ا ب سوال پیدا ہوتا ہے ‘اقوام متحدہ کہاں ہے؟’ہمیں بحیثیت مسلم اقوام سامراجی عزائم کی عالمی طاقتوں کی پے درپے ناانصافیوں کے زمانے پر زمانے جھیلنے پر کیا یہ دہائی دینا نہیں بنتا کہ ہم دنیا سے پوچھ لیں کہ ’اقوام متحدہ نامی اگر کوئی ادارہ ہے تو وہ کہاں ہے ؟ 73 برس قبل دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر 25 اپریل 1945 سے 26 جون 1954 تین ماہ تک سان فرانسسکو امریکا میں 50 ملکوں کے نمائندے دنیا میں آئندہ جنگ نہ ہونے کے معاملہ پر غوروفکرکرنے کے لئے سرجوڑ کر بیٹھے اورتقریبا دوماہ کے دوران اْنہوں نے فیصلہ کیا کہ ‘لیگ آف نیشن’ دنیا میں امن قائم کرنے میں بْری طرح سے ناکام ہوئی لہذاء ایک نیا عالمی ادارہ قائم کیا جانا چاہیئے ،چنانچہ’عالمی بزرجمہروں’کے متفقہ فیصلے کے نتیجے میں 24 اکتوبر1945 کو’اقوام متحدہ’یونائیڈ نیشنز آرگنائزیشن’کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم ہوا ’اقوام متحدہ’کو قائم ہوئے 73 برس مکمل ہوچکے ہیں ۔ اقوام متحدہ کی 73 ویں سالگرہ کے موقع پراقوام متحدہ نے کیا دنیا کو امن دیا جسے واقعی امن کہا جاسکے؟ دنیا میں سروے کرالیں، ترقی یافتہ خطوں کے ممالک مثلا امریکا روس’ برطانیہ’ فرانس’ چین’مغربی ممالک یورپی ممالک پوری دنیا کے اربوں انسانوں کی رائے معلوم کرلیں سب تسلیم کریں گے کہ اقوام متحدہ بھی ماضی کی’لیگ آف نیشن’کی طرح بلکہ اْس بھی زیادہ بڑھ کر ناکام ہوئی ہے اقوام متحدہ کے منشور اورمقاصد کا کلیدی نکتہ کہہ لیں مرکزی وجہ تخلیق کہہ لیں وہ یہی ہے کہ ‘اقوام متحدہ کے قیام کا پہلا مقصدیہی بنایا گیا تھا کہ یہ عالمی ادارہ دنیا کی آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچانے کے لئے اپنی ہر ممکن عملی کوششوں کو بروئے کارلاکر جنگ نہیں ہونے دے گا اقوامِ عالم کے مابین ہر سنگین سلگتے تنازعات کو اقوام کے مابین بات چیت اور باہمی مذاکرات کے ذریعے سے طے کرانے کا پابند ہوگا اقوام متحدہ کے ادارے کے قیام کے وقت فیصلہ ہوا تھا کہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ بلاتعصب’رنگ ونسل سے بالاتر ہوکر مذہبی فرقہ واریت کی جنونیت سے ماوراء ہوکرانسانوں کے بنیادی حقوق کی پاسداری کو پائمال نہیں ہونے دے گا، کوئی قوم کسی دوسری قوم سے بڑی قوم کا درجہ نہیں رکھے گی، اقوام کے مابین ‘عہد ناموں’ کو پوراکرنے کی ذمہ داری اقوام متحدہ کو ہر قیمت پرنبھانی ہوگی آزادی ہر قوم کا بنیادی حق متصور ہوگی دنیا کا کوئی بھی طاقتورملک اپنے کمزور ہمسایہ ملک پر اپنی علاقائی بالادستی ٹھونسنے کی کوشش نہیں کرسکتا اور تمام اقوام عالم اپنی اپنی اقتصادی اوراجتماعی ترقی کی خاطر بین الااقوامی ذرائع اختیار کریں گے انسانیت پروری کے اور انسانی ترقی وفلاح وبہبود کے علاوہ انسانی آزادیوں’ اقوام کی معاشی واقتصادی ترقیوں اورفلاح وبہبود کے ارفع واعلی مقاصد سے مزین اقوام متحدہ کے آرٹیکلز لکھنے اور پڑھنے کی حد تک دنیا کا ہر فرد پڑھ سکتا ہے دیکھ سکتا ہے ا ورنیویارک میں قائم اقوام متحدہ کی عظیم الشان بلڈنگ کے سامنے کھڑے ہوکر سوال کرسکتا ہے کہ آج دنیا جب اقوام متحدہ کے قیام کا 73 واں برس مکمل ہونے پرمتعجب وتذبذب کے عالم اگریہ سوال کررہی ہے کہ اقوام متحدہ نے سماجی وثقافتی تعصب سے بالاترہو کیا واقعی دنیا کی ہرقوم کے ساتھ وہ انصاف کیا ہے ،جس کا وعدہ 73 برس قبل 24 اکتوبر1945 کواقوام متحدہ نے اپنے قیام کے وقت کیا تھا اقوام متحدہ نے اپنے اولین مقاصد میں یہ شق رکھی ہے کہ’عالمی وعدوں’ کے ایفاء کی ذمہ داری اقوام متحدہ کی ہوگی؟ اقوام متحدہ اپنے قیام کے بنیادی مقصداور منشور پر عمل درآمد کرنے میں بْری طرح سے دنیا کو ناکام نظرآتا ہے، بڑی طاقتوں نے خصوصا امریکا اوربرطانیہ نے باہمی ملی بھگت سے ا قوام متحدہ کواپنا یرغمال ادارہ بنایا ہوا ہے امریکا اور برطانیہ نے فرانس کو ابھی اپنے مذموم مفاداتی مقاصد کے لئے جب چاہا امریکا نے استعمال کیا، چین اور روس جیسے ممالک سے چند تحفظات کے سوا دنیا کی غیر ترقی یافتہ اقوام جن میں خاص کر مسلم دنیا کا ذکر ضروری ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فلور پر مسلم دنیا کے حق میں اپنی آوازیں بلند کی ہیں یقیناًروس اور چین کا انسان دوستی کا اقدام لائق تعریف ہے لیکن امریکا نے مسلم دنیا کا بڑا بہیمانہ استحصال کیا اقوام متحدہ کے قیام کے صرف تین ساڑھے تین برس بعد جنوبی ایشیا میں قائم ہونے والی دو نئی ریاستیں ‘پاکستان اور بھارت’ کے مابین تسلیم شدہ اصولوں کی بھارت نے خلاف ورزی کی کشمیر کی واضح مسلم اکثریتی ریاست پر اپنی فوجیں اتار دیں ایک تنازعہ پیدا ہوگیا جس کے نتیجے میں 1948 میں بھارت اور پاکستان کے مابین جنگ ہوگئی بھارت اقوام متحدہ میں جنگ رکوانے کی دہائی لے کر گیا اقوام متحدہ کے حکم پر جنگ بندی ہوگئی معاملہ اْن ہی ایام میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش ہوا جہاں بھارت نے تسلیم کیا تھا کہ تقسیم ہند کے لندن پلان کی رْو سے کشمیر کی واضح مسلم اکثریت کا موقف برحق تھا بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تسلیم کیا تھا کہ کشمیر میں جنگی حالات کے معمول پر آتے ہی وہاں اقوام متحدہ کی نگرانی میں کشمیریوں کی مرضی ومنشا کے مطابق حق استصواب رائے کے انتظامات کرادئیے جائیں گے مگر 71 برس ہوچکے ہیں سلامتی کونسل کی منظورکردہ اس قرارداد پر لیکن ہنوز اقوام متحدہ بھی خاموش ہے اور بھارت اس عالمی اقرارداد سے صاف مکر گیا ہے، اقوام متحدہ نے کیا بگاڑ لیا ہے بھارت کا، کشمیر میں بھارتی فوج اور بھارت کے دیگرسیکورٹی ادارے انسانی آزادی کی مانگ کرنے والوں پربدترین سفاکانہ ظلم وستم ڈھارہے ہیں پاکستان اوربھارت اب تسلیم شدہ ایٹمی ڈیٹرنس سے لیس ملک ہیں، بھارت کی پشت پر دنیا کی سب سے بڑی سامراجی قوت امریکا نے ہا تھ رکھ دیا ہے ،گزشتہ 73 برسوں سے د نیا کے ممالک کشمیر اور فلسطین میں مسلمانوں کی لاشیں گرتی ہوئی دیکھ رہے ہیں یہ سب امریکا کی کارستانیاں سمجھیں، امریکا اور دیگر عالمی مسلم دشمنوں کا اقوام متحدہ نے کیا بگاڑ لیا ‘افغانستان’عراق اورشام کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی، ایران کے گرد گھیراتنگ سے تنگ کیا جارہا ہے، مسلم ملک انڈونیشیا کا ایک علاقہ تھا’مشرقی تیمور’ عیسائی آبادی کی اکثریت تھی دنیائے عیسائیت کے گرو امریکا کی مرضی سے اقوام متحدہ نے منٹوں سیکنڈوں میں وہاں اقوام متحدہ کے چارٹرپرعمل درآمد کرادیا ،جبکہ فلسطین اور کشمیر پر امریکا بات نہیں کرتا اسرائیل اور بھارت کی کھل کر سرپرستی کی جاتی ہے ،فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ متحرک نظر نہیں آتا ایسی ہی عالمی سطح کی ناانصافیاں دیکھ کر دنیا اگر یہ کہنے لگی ہے تو غلط نہیں کہتی کہ امریکا کی پے درپے ملکِ ہوس گیری نے اقوام متحدہ کی مسلمہ بنیادی ہیت ترکیبی کو یکسر تبدیل کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا دنیا میں اقوام متحدہ کو ’انٹرنیشنل ڈبیٹنگ کلب’کا نام دیدیا گیا ہے جبکہ یہ غلط نہیں عین صحیح ہے۔

Google Analytics Alternative