کالم

سوات سے دہشت گردی کا خاتمہ

گزشتہ برس سوات میں دہشت گردی کے خاتمے اور فوجی آپریشن کے نتیجے میں امن کی بحالی پر 11 سال بعد پاک آرمی نے تمام اختیارات سول انتظامیہ کے سپرد کر دیئے ۔ سوات میں اب آرٹیکل 245 کا نفاذ بھی نہیں ہے تاہم سوات میں پْرامن حالات پر نظر رکھنے کیلئے ایک بریگیڈ فوج یہاں تعینات ہے ۔ سوات ایک خوبصورت اور پْرامن وادی تھی ۔ مذہبی دہشت گرد اس علاقے میں اپنے باطل نظریات کی عملداری چاہتے تھے ۔ انہوں نے دیگر مسالک کے رہنماءوں کو کھلے عام پھانسیاں دیں اور کئی نعشوں تک کو قبروں سے نکال کر چوکوں میں لٹکا دیا ۔ یہ ظلم کی انتہا تھی جس پر قابو پانا سول انتظامیہ کے بس کی بات نہیں تھی ۔ پاک فوج کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیلئے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت اختیارات دیئے گئے ۔ دہشت گردوں کا صفایا ہونے میں 11سال لگ گئے ۔ اس دوران پاک فوج کے پانچ سو سے زائد اہلکار جن میں جوان اور افسران شامل ہیں ‘ شہید ہوئے ۔ اس کے علاوہ ایف سی کے 150 جبکہ پولیس فورس کے 200 سے زائد اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا ۔ شدت پسندی کے دوران سوات کے 3 ہزار سے زائد شہری شہید ہوئے ۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کا کہنا تھا کہ وہ سوات میں ہونے والے ظلم کے عینی شاہد ہیں لیکن اللہ کے فضل سے پاک فوج کے کامیاب آپریشن اور دیگر سکیورٹی اداروں اور یہاں کی عوام کی لازوال قربانیوں کی بدولت اب سوات میں مثالی امن قائم ہے ۔ دیگرکئی علاقوں میں بھی پاک فوج آپریشن کے ذریعے امن قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ۔ عوام کے چہروں پر مسکراہٹ لانے پر پاک فوج کے مشکور ہیں ۔ ان علاقوں میں بھی بے گھر ہونے والوں کی جلد از جلد بحالی کی ضرورت ہے ۔ جو علاقے سول انتظامیہ کے حوالے کئے گئے ہیں ‘ان میں امن کو اس صورت یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ مشکوک لوگوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور فرقہ واریت کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کا مظاہرہ کیا جائے ۔ آج کا سوات ایک مختلف سوات ہے ۔ امن لوٹ چکا ہے ،تجارت اور ترقی کا آغاز ہوچکا ہے ۔ آج سوات کی بنیادی ذمے داری انتظامیہ کے حوالے کردی ۔ 80 فیصدچیک پوسٹوں کو ختم کردیا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ تمام سیکیورٹی ذمے داریاں بھی انتظامیہ کے حوالے کریں گے ۔ سوات میں حقیقی معنوں میں ایک کامیاب آپریشن کیا جس کے بعد یقین دلاتاہوں سوات سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا گیا ۔ اب صورتحال اس قدر اچھی ہے کہ اگر سوات سے پاک فوج واپس چلی جائے تو پولیس علاقے میں امن و امان کی ذمہ داری سنبھالنے کیلئے تیار ہے ۔ خیبر پختون خواہ پولیس دہشت گردی کامردانہ وار مقابلہ کر رہی ہے اور قیام امن کے بعد صوبے کے مختلف شہروں سے 184 پولیس چیک پوسٹیں ختم کر دی گئی ہیں ۔ پشاور کے نواحی علاقوں میں بھی دہشت گردوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا گیا اور ان کو مار بھگایا ۔ صوبہ سرحد کی وادی سوات میں امن معاہدے کے بعد امن و امان کی صورتحال تو بہتر ہوئی ہے لیکن علاقے کے باشندوں کے معاشی حالات میں بہتری آنے میں تھوڑا وقت لگے گا ۔ سوات کی تقریباً پچاس فیصد سے زائد آبادی کا انحصار سیاحت پر ہے ۔ قدرت کی حسین اور سرسبز وادیوں سے مالامال اس علاقے کی سیر کے لیے ہر سال دنیا بھر اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے لاکھوں لوگ آتے ہیں لیکن سوات میں کشیدگی کی وجہ سے سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ سوات میں وادی کالام کو سب سے اہم سیاحتی مرکز تصور کیا جاتا ہے ۔ دریائے اوشو اور دریائے اتروڑ کے سنگم پر واقع اس چھوٹی سی وادی کا شمار پاکستان کے خوبصورت ترین علاقوں میں ہوتا ہے اور اس وادی کو سیاحوں کا بیس کیمپ بھی کہا جاتا ہے ۔ کالام میں رہنے والے تمام لوگوں کا روزگار سیاحوں کی آمد سے وابستہ ہے ۔ کالام میں تقریباً تین سو کے قریب چھوٹے اور بڑے ہوٹل قائم ہیں جن میں کاروبار نہ ہونے کے باعث اسّی فیصد ہوٹل بند پڑے ہیں ۔ اس کے علاوہ کالام کے بازار میں بھی لگ بھگ پانچ سو دکانیں قائم ہیں جن میں سے چالیس، پچاس دکانوں کے علاوہ باقی ماندہ پر تالے لگے ہوئے ہیں ۔ بحالی امن کے بعد امید غالب ہے کہ سیاحت کو فروغ ملے گا ۔ سوات وادی میں امن کی بحالی کے بعد سے کاروبار پھل پھول رہا ہے ۔ تاریخ دان، شالوں کے کاروبار کو سوات وادی میں قدیم ترین کاروباروں میں سے ایک خیال کرتے ہیں اور سلام پور کے 80 فیصد سے زیادہ مقامی افراد براہ راست یا بالواسطہ اس سے منسلک ہیں ۔ شالوں اور کپڑوں کو روایتی مشینوں پر بْنا جاتا ہے جسے مقامی افراد کھڈی کہتے ہیں ۔ مقامی مرد و خواتین کاری گر، شالوں پر تخلیقی نمونے بناتے ہیں ۔ بعض اوقات وہ ایک شال پر کئی ہفتے بھی خرچ کرتے ہیں ۔ خواتین کے لیے شالیں بنانے کے علاوہ، اسلام پور کے کاریگر مردوں کے لیے چادریں بھی بناتے ہیں ۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ بہت سے سیاح مردوں کے لیے ان خصوصی چادروں کو پسند کرتے ہیں ۔ خواتین اور مردوں کے لیے بھیڑ کی کھال کی گرم شالیں ، نہ صرف پاکستان بھر اور علاقے میں مشہور ہیں بلکہ وہ بین الاقوامی منڈیوں میں بھی بھیجی جاتی ہیں ۔ اسلام پورکے شہری کم از کم گزشتہ صدی سے شالیں بن رہے ہیں ۔ تاہم یہ کاروبارسوات وادی میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کی طویل لہر جو کہ 2007 میں اپنی انتہا پر تھی، کے باعث خاتمے کے قریب تھا ۔ آپریشن راہِ راست جو کہ 2009 میں ہوا اور اس کے بعدآپریشن ضربِ عضب جو کہ 2014 میں ہوا اور اس وقت جاری آپریشن ردالفساد کے بعد بحال کیا گیا جنہوں نے سوات کی سر سبز وادی میں امن و امان کو بہتر بنانے اور سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کو ممکن بنایا ۔

جعل سازی

ملک بھر میں افرا تفری اور انارکی کا عالم ہے ۔ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا کوئی شیڈول کوئی ٹائم نہیں ، بجلی کب آتی ہے اور کب جاتی ہے کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ، البتہ جب بجلی جاتی ہے تو لوگ گالیاں ضرور دیتے ہیں جس کے باعث لوگوں کے اخلاق پر منفی اثر پڑ رہا ہے ۔ لوڈشیڈنگ کے باعث ہماری صنعت اور معیشت پر ناقابل تلافی مضر اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ فیکٹریاں ، ملیں اور کارخانے بند ہوتے جا رہے ہیں جس کا نتیجہ بیروزگاری کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے ۔ بیروزگاری سے غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور غریب کے خودکشیوں اور بچوں کو موت کے حوالے کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ دیکھا جائے تو اس وقت ملک و قوم کو دو شدید اور گھمبیر مسائل کا سامنا ہے، ان میں سرفہرست دہشت گردی ہے، جس پر قابو پانے کیلئے فوجی اور سیاسی قیادت ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو چکی ہے اور قوم کی دعائیں شامل حال ہیں انشاء اللہ اس کے اچھے نتاءج بر آمد ہوں گے ۔ دوسرا اہم ترین مسئلہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا ہے جس نے ملک کی معیشت کو ٹھپ کر دیا ہے ۔ گزشتہ ادوار میں حکومتوں نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمے کے وعید اور بلندو بانگ دعوے بھی کئے گئے لیکن مقام افسوس ہے کہ حکومت نے اس بحران کو ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی تین سال حکومت کرنے کے بعد حکومت بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنا تو دور کی بات ہے اس بحران میں اضافہ ہی ہوا ہے ۔ ورنہ یہ کوئی ایسا بحران نہیں جس پر قابو نہ پایا جاسکے ۔ اس کے علاو ہ پاکستان میں خالص مصنوعات کا تصور اب ایک خواب بنتا جا رہا ہے، دودھ ، مشروبات، تیل، گھی، مصالحہ جات، آٹے سمیت دیگر کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کل وقتی کاروبار بن چکا ہے اوراس کاروبار سے وابستہ افراد ناقص اشیاء کے استعمال کے نتیجے میں صارفین کی صحت کو لاحق شدید خطرات کی قطعاً پرواہ نہیں کرتے ملک بھر بالخصوص بڑے شہروں میں کھلے عام فروخت کی جارہی ہیں اور شہریوں کی بڑی تعداد لاعلمی میں اپنے لیے بیماریاں خرید رہی ہیں ۔ کھانے کی اشیاء میں ملاوٹ کے علاوہ دیگر غیر معیاری مصنوعات بھی مارکیٹ میں فروخت کی جارہی ہیں محکمہ خوراک کے مطابق ملاوٹ شدہ مصالہ جات، مٹھائیاں ، شہد اور بیکری کی مصنوعات کی تیاری اور فروخت تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہیں ۔ پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول کے ادارے میں کرپشن کی وجہ سے موجود قوانین پر عمل نہیں کیا جارہا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ متعلقہ حکام کی اس خطرے سے نمٹنے میں نہایت کم دلچسپی ہے ۔ ملک کے ایک بڑے بزنس مین نے اعلانیہ یہ اعتراف کیا تھا کہ میں رشوت دیتا ہوں مطلب کہ یہاں کوئی کام بغیر رشوت کے نہیں ہوتاکام بھی چاہے کتنا ہی سیدھا کیوں نہ ہو بغیر رشوت کے نہیں ہوتا ،کیا سب سے ;234;پہلے حکومتوں کا کام یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ایسی لعنت سے ملک کو پاک کریں ۔ جو ہمارے ملک میں تو ہونی ہی نہیں چاہئے ۔ لیکن شاید اب سب سے زیادہ ہم ہی اس کا شکار ہیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا کے کچھ ممالک میں سمندری پانی کو ابال کر بھاپ سے بجلی پیدا کی جاتی ہے اوربھاپ زدہ پانی کو شہریوں کے استعمال میں لایا جاتا ہے اور پھر اسی پانی کو ٹریٹمنٹ پلانٹ کے ذریعے کاشتکاری کے قابل بنا دیا جاتا ہے مگر ہماری گنگا ہی الٹی ہے ۔ کالاباغ ڈیم کو ہم نے شجر ممنوعہ بنادیا ہے ۔ چھوٹے ڈیم بنانے سے ہم احتراز برت رہے ہیں ۔ ایران گیس دے رہا ہے ہم معاہدہ کرکے بھی پلنٹی دینے کو تیار ہیں مگر گیس خریدنے سے گریزاں ہیں کیونکہ عالمی سامراج کے ناراض ہونے کا قوی احتمال ہے ۔ حالانکہ فری انرجی کے تحت چھوٹے پیمانے پر بھی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جس پر کوئی ذیادہ لاگت نہیں آتی ۔ یہ ایک المیہ ہے کہ عوام کو ملاوٹ سے پاک اشیاء تک رسائی ناممکن سی بات ہے ۔ دو دْکانوں سے خالص مرچ، ہلدی اور مصالحوں کا ملنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ قصائیوں کی چھریاں تیز ہیں اخبا ارات میں اکثر خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ عوام کو بیمار، کمزور ، لاغر جانوروں کا گوشت بیچا جارہا ہے یہا ں تک کہ کتوں اور گدھوں کا گوشت بھی کھلایا جارہا ہے اور نرخ بھی ان کے مرضی کے ہوتے ہیں ۔ دودھ تو شاید ایک لاکھ گوالوں میں سے کوئی ایک ہی خالص فراہم کرتا ہو گا، ہمارے ایک ڈاکٹر دوست کے بقول ہوٹلوں میں بظاہر بہترین نظر آنے والا دہی کیمیکل سے تیار کردہ ہوتا ہے ۔ ہر چیز میں ملاوٹ ہر چیز دو نمبر، جو ایک نمبر بیچنا چاہتے ہیں ان کو بھی سیل مین بے وقوف بنا دیتے ہیں ۔ پورے مارکیٹ میں فروخت ہونے والا پانی اکثر ناقص ہوتا ہے اور ذائقہ بھی عجیب ۔ کولڈ ڈرنکس پہلے ریلوے سٹیشنوں اور بس اڈوں پر جعلی ملتی تھیں اب محلے اور گلی کی دکانوں پر موجود ہیں ۔ یہ جعل سازی ہماری شناخت بنتی جارہی ہے ۔ ہماری اپنی شناخت کہاں ہے ;238;ہم نے کبھی اپنی شناخت کو توجہ نہیں دی کہ اگر ہم مسلمان پاکستانی پہلے اور باقی سب کچھ بعد میں ہوتے تو شاید یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ۔ آج جس طرح کی باتیں سوشل میڈیا پر اور میڈیا پر دکھائی جا رہی ہیں وہ ہ میں سر جھکانے پر مجبور کرتی ہیں کہ یہ سب ہمارے لوگ ہیں جنہوں نے ہماری دھرتی ماں کو ماں کہہ کہہ کر لوٹ بھی لیا اور بر باد بھی کر دیا ۔ اور اس کی شناخت کو بھی مٹادیا ۔ انسانی زندگی سے کھیلنے والوں کو میڈیا اور ہمارے ادارے کیوں نظر انداز کر رہے ہیں ۔ سب بول رہے ہیں مگر انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے مجرموں کے خلاف بولتے کیوں ہماری زبانیں تھرتھرا رہی ہیں ۔ اب نوبت اس تک پہنچ گئی ہے کہ میوں اور سبزیوں میں کیمیکل اور کاشت شدہ زمین، اس کو دیئے گئے پانی اور کھادوں وغیرہ کے اثرات بھی شامل ہوتے ہیں جن کے انسانی صحت پر مثبت اور منفی اثرات ضرور مرتب ہوتے ہیں ۔ شہروں کے قرب و جوار کے کھیتوں میں پورے شہر کا گندا پانی لگایا جاتا ہے، اس پانی میں کیمیکلز بھی ملے ہوتے ہیں ۔ صابن، پاءوڈر کریم کاسمیٹکس کی ہر چیز میں ملاوٹ ہوتی ہے ۔ ادویات کا بھی یہی حال ہے ۔ حکومت کہاں اور اسکی رٹ کہاں ہے;238; تجاوزات ہی کو دیکھ لیں ۔ دودھ کو خدا کا نور کہا جاتا ہے جس میں بدبخت لوگ زہر آلود قسم کے کیمیکل ملا دیتے ہیں ۔ ایسا کرنے میں معاونت کرنے والے حکام اور اہلکارانسانیت کے دشمن ہیں ۔ ان باداعمالیوں کے نتیجے میں لوگوں کی صحت بھی خراب ہورہی ہے اور ان کے اخلاق بھی بگڑ رہے ہیں اور بیماریاں بڑھ رہی ہیں اور لوگ کمزور سے کمزور تر ہوتے جارہے ہیں البتہ جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ طاقت ور ہورہا ہے اور بڑے تاجروں کی توندیں باہر نکل رہی ہیں ۔ ہ میں اپنے کردار پر نظر ثانی کرنا پڑے گی ۔ ہم عملی طور پر اور اخلاقی طور پر بہت گرے ہوئے لوگ ہیں ۔ صرف اپنے آپ کو مسلمان کہنے سے کچھ نہیں ہوگا، مسلمان بن کر دکھانا ہوگا ۔ اور اس کا تعلق عمل سے ہے، قول سے نہیں ، رسول ﷺنے بڑے واضح الفاظ میں فرما دیا ہے کہ ’’رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔ دوسری جگہ آپﷺ نے فرمایا: ملاوٹ کرنیوالا ہم میں سے نہیں ‘‘ ۔ گویا ان دو باتوں کا تو فیصلہ ہو گیا کہ رشوت لینے والا، رشوت دینے والا اور ملاوٹ کرنیوالا، یہ تینوں مسلمان ہی نہیں ، لہٰذا یہ لاکھ کلمہ پڑھتے رہیں ۔ نمازیں پڑھتے رہیں ، روزے رکھتے رہیں یا حج کرتے رہیں ، یہ لوگ رسول پاکﷺ کی امت میں شامل ہی نہیں ۔ ان کا ٹھکانہ صرف اور صرف جہنم ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ادارے اپنے فراءض پورا کریں اورملاوٹ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف بھی موثر آپریشن شروع کریں تا کہ ان جرائم کا قلع قمع ہو سکے اور اور عوام کو ان کے حقوق مل سکیں ! ۔

مسلمان امن کے پجاری ہیں

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو جہاں پر مسلمان بستے نہ ہوں ۔ دنیا کے اکثر ممالک میں مسلمان مستقل شہری ہونے کے علاوہ کئی ممالک میں باسلسلہ روزگار بھی مقیم ہیں ۔ تقریباً دنیا کے ہر خطے میں اپنی موجودگی کو اپنے کرداراورا پنی صلاحیتوں سے جلا بخشنے والے مسلمان کسی بھی ملک اور اس کے معاشرے کیلئے کبھی بھی بازحمت نہیں رہے ۔ ہر معاشرے کو اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں سے چار چاند لگانے والے مسلمان اپنی اسلامی تعلیمات کے زیر اثر کسی کو بھی نقصان پہنچانے کے روادارنہیں ۔ امن اورآشتی صلح و شانتی سے رہنا اوردوسروں کیلئے آسانی پیدا کرنا اور اپنے حق سے برتر دوسرے کا حق ادا کرنا مسلمانوں کاشیوا رہا ہے ۔ مسلمان ہمیشہ فساد برپا کرنے سے گریز کرتا ہے اورچاہتا ہے کہ کسی طرح بھی فساد کا سبب نہ بنے کیونکہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اے ایمان والو زمین میں فساد برپا نہ کرو ۔ اگر وہ کوئی ایسا کام کرتا ہے تو وہ اللہ کے حکم عدولی کا مجرم بنتا ہے ۔ اس لیے مسلمان اکثر اس وجہ سے بھی مار کھا جاتا ہے کہ وہ اللہ کے حکم کی پابندی اور اسلامی تعلیمات کی تقلید کر رہا ہوتا ہے ، نہ وہ بزدل ہوتا ہے اور نہ ہی کمزور لیکن شریعت اسلامی کے تحت وہ کوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد کا سبب نہ بنے اس پریہ سمجھا جاتا ہے کہ مسلمان کمزور یا بزدل ہے اپنا حق نہیں لے سکتا ۔ میں ماضی کا حوالہ نہیں دیتا بلکہ حال میں موجود مفلوک الحال مسلمانوں کی امثال سے یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ مسلمان بزدل نہیں بلکہ امن کے پجاری ہیں ورنہ چاہیں تو دنیا میں ہر طرف فساد ہی فساد برپا ہو جائے ۔ اس خام خیالی کی مثال کیلئے چیچن مسلمانوں کی مثال کافی ہو گی ۔ جب حق لینے کی ٹھان لیں تو پھر دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت ان کے پاءوں کی دھول بن جاتی ہے ۔ اس معاملے میں طالبان نے بھی ثابت کیا کہ جب مسلما ن ضد پر آجائے تو اپنا آپ اجاڑ لیتا ہے لیکن دشمن کو بھی سر کے بال اور پاءوں کی جوتی میں فرق محسوس نہیں ہوتا ۔ افواج پاکستان نے بھی اپنی دلیری اور اپنے ہم وطنوں کی حفاظت کیلئے ہر قربانیاں دے کر ثابت کیا ہے کہ اپنے سے کئی گنا بڑی طاقت سے بھی ٹکرا نا ہم جانتے ہیں ۔ میں مثال دیتا ہوں اپنے میانمار کے مسلمانوں کی جن کے خلاف بدھ بھکشوں نے کیا کیا ظلم نہیں کیے لیکن انہوں نے اس کے بدلہ میں معاشرے میں فساد برپا نہیں کیا ۔ دنیا نے دیکھا کہ بوسنیا کے مسلمانوں کے ساتھ کیا نہیں بیتی لیکن انہوں نے مزاحمت میں حد سے گذر جانے کی کبھی کوشش نہیں کی ۔ فلسطین کے مسلمان ظلم پر ظلم برداشت کر رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی عام اسرائیلی یہودی کو اس طرح نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی وہ صرف عسکری و حربی یہودی فوجیوں کے خلاف کوئی کاروائی کرتے ہیں ۔ کشمیر میں مسلمان کیا کچھ نہیں سہ رہا لیکن وہاں پر چند فیصد ہندوءوں کو کبھی انہوں نے تنگ نہیں کیا اور نہ ہی ان کیلئے زندگی کو تنگ کیا ۔ دنیا میں کئی مذاہب کے پیروکار ہیں جن میں اکثریت کے ساتھ عیسائی ہندو بدھسٹ سکھ یہودی ہیں ۔ ان کے علاوہ بھی دیگر جو غیر مسلم مذاہب کے پیروکار ہیں وہ مسلمانوں سے نفرت کرنے میں ان بڑے مذاہب کے تقلید کار ہیں ۔ یہ اپنی فطرت نہیں بدلتے اور مسلمان اپنے اللہ کے قانون سے اغراض نہیں برتا ۔ تو اپنی خو سے باز نہیں آتا تو ہم اپنی فطرت کیسے بدل لیں ۔ مسلمان تو اللہ کی رضا اور اس کے حکم پر راضی برضا ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا حکم زمین میں فساد نہ پھیلانے کا ہے تو ہم اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں ۔ جہاد فی سبیل اللہ کا حکم بھی اللہ تعالیٰ کا ہی ہے اور جب حالات اس نہج پر پہنچ جائیں گے تو جہاد کا حکم بھی فرض ہو جائے گا ۔ جب جہاد غیر مسلم اقوام کے مظالم کے جواب میں فرض ہو گیا تو پھر اس کی ادائیگی کیلئے ہر مسلمان کوشش کرے گا تو ایسے میں مزاحمت کی ایک لہر اٹھے گی جس میں چھوٹے مذاہب کی کیا اہمیت ہوگی وہ خود انہیں معلوم ہے ۔ چھوٹے مذاہب کے پیروکاروں میں وہ طاقت نہیں کہ وہ مسلمان اقوام کی کسی بھی جہادی لہر کا سامناکر پائیں ۔ موجودہ صدی میں چیچن مجاہدین نے ثابت کیا کہ روس جیسی طاقت کے دانت کیسے کھٹے کیے جاتے ہیں ۔ طالبان کی مزاحمت کی تحریک کو تو دنیا تسلیم کرتی ہے ۔ ایسے میں اگر مسلمان ممالک نے اتحاد کر لیا اوروہ واقعی متحد ہو گئے تو پھر ہند و مت اور جین مت کے ساتھ سکھا شاہی کے ماننے والے کہاں جائیں گے ۔ اسرائیل کی سازشیں اور اس کے حمایتی آخرکب تک مسلمانوں کے غضب سے بچ پائیں گے ۔ دنیا کے ان جابر اور فرعون صفت لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ وہ خود ہی دوسروں کو مجبور کررہے ہیں کہ ان کیلئے وہ مزاحمت کی کوئی تحریک برپا کریں ۔ جب مسلمانوں نے جوابی کارروائی کرنی ہے تو میں یہ نہیں کہتا کہ دنیا والے منہ دیکھتے رہیں گے یا ان کے ہاتھ پاءوں بندھے ہیں اور وہ بے بس ہیں ۔ ان کا جوابی ردعمل جو بھی ہو اس سے جنگ کی ہولناکی کو ہوا ملے گی جس سے دنیا میں ہر طرف آگ و خون ہوگا ۔ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کے جواب میں مسلمانوں میں جذباتی لوگ بھی ہیں جو جواب دینا چاہیں گے ۔ اسے امت مسلمہ کا جواب قراردے کر امت مسلمہ کے خلاف اقوام عالم ضرور اتحاد بنانا چاہیں گی ۔ یہاں پر یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ اقوام عالم لاکھ چاہیں اور کوشش کریں کہ مسلمانوں کو چن چن کر مارنے کی ہر کوشش کربھی لیں تو وہ نہ تو مسلمان ختم کر سکتے ہیں اور نہ ہی وہ اسلام کو سرنگوں کر سکتے ہیں ۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو سچ ہو کر رہے گا ۔ شکست کفار کامقدر ہے خواہ وہ آج فاتح اور مسلمان مفتوح ہیں لیکن وہ دن دور نہیں جب کفار سرنگوں ہو کر شکست سے دوچار ہو جائیں گے ۔ انہیں اللہ اوررسول اللہ ﷺ کو تسلیم کر کے ان کے آگے سرنگوں ہونا پڑے گا ۔ قیامت کی زیادہ دور کی بات نہیں قیامت اب قریب ہے ۔ کیونکہ اقوام عالم کا کردار مسلمانوں کی حالت زار سے یہ نظر آ رہا ہے کہ قیامت قریب ہے ۔ اقوام عالم مسلمانوں کو رد عمل کیلئے مجبور کر رہی ہیں جس کے جواب میں آج نہیں تو کل تو ضرور کچھ نہ کچھ ہو گا ۔ چنگاری کو جب اور جیسے ہوا ملے گی تو وہ اس کے مطابق بھڑکے گی ۔ اس بھڑک میں کوئی شعلہ پیدا ہو کر وہ آگ پیدا کرے گا جو بجھائے نہ بجھے گی ۔ چھوٹے اسلحہ کے استعمال سے درمیانے درجے کے ہتھیار اور پھر بھاری ہتھیاروں کے استعمال سے بات جوہری اسلحہ کے استعمال تک جائے گی کیونکہ روایتی اسلحہ جب ختم ہونے کو آئے گا تو جوہری اسلحہ پھر لازمی استعمال ہوگا ۔ استعمال اپنے بچاءو کیلئے ہی ہوگا لیکن استعمال ضرور ہوگا ۔ اقوام عالم کے راہنماءوں کو چاہیے کہ کوشش کریں کہ مسلمانوں کے خلاف رنجش کو اپنے معاشروں میں کم کرنے کیلئے بیان بازی سے گریز کریں ۔

امریکا افغانستان کی دلدل سے جلد نکلنا والاہے(1)

افغانستان دنیا کا غریب ترین ملک ہے ۔ نہ اس کی سرحد سے سمندر لگتا ہے اور نہ ہی کوئی قابل ذکرہائی ویز یا ریلوے کا انتظام ہے ۔ ہر طرف برف پوش پہاڑ ہی پہاڑ ہیں اور صحرا ہے ۔ اس کے عوام کی زندگی سخت کوشی میں گزرتی ہے ۔ اگر اس کا جغرافیہ دیکھا جائے تو مسلمانوں کے سمندر کا ایک حصہ ہے ۔ اس کی ساری کی ساری آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے ۔ مگر دشمنوں نے اپنے اپنے مفادات کے پیش نظر اسے ہمیشہ پاکستان مخالف بنائے رکھا ۔ اس کو اگر تاریخی حوالے سے ثابت کریں تو کچھ اسطرح ہے ۔ جب بانی پاکستان کی زیر قیادت تحریک پاکستان د و قومی نظریہ کے تحت زوروں پر تھی تو ہندولیڈرپریشان ہوتے تھے ۔ انہوں نے اپنی ہندو قوم کو یہ ڈاکٹرائن دیا کہ جب ہم قائد اعظم ;231; کے دو قومی نظریہ کو آہستہ آہستہ کمزور کرتے جائیں گے اور پاکستان کو پھر سے اکھنڈ بھارت میں شامل کر لیں گے ۔ مشرقی پاکستان کو فوجی مداخلت سے جب بنگلہ دیش بنایا تو بھارت کی وزیر اعظم نے تاریخی بیان دیا تھا کہ ہم نے قائد اعظم;231; کا دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے ۔ مسلمانوں سے ایک ہزار سالی حکمرانی کا بدلہ بھی لے لیا ہے ۔ اکھنڈ بھارت کے متوقعہ نقشے پر اگر نظر ڈالیں تو اس میں ، برصغیر کے سارے ممالک کے ساتھ ساتھ افغانستان بھی شامل ہیں ۔ اسی ڈاکٹرائن کے مطابق مہاتما گاندھی نے اپنی ہندو قوم کو پیغام دیا تھاکہ ’’ میں پاکستان بننے سے زیادہ پریشان نہیں ہوں ۔ بلکہ اس بات سے پریشان ہوں کہ جب پاکستان بن جائے گا اور افغانستان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے سمندر میں مل جائے گا تو پھر پاکستان سے مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا ۔ اس ڈاکٹرائن پر عمل کرتے ہوئے بھارت نے شروع سے ہی افغانستان میں بہت بڑی انوسٹمنٹ کی اور اب بھی کر رہا ہے ۔ جبکہ مسلمان ہونے کے ناطے افغانستان ، پاکستان کا فطری اتحادی ہے ۔ اس کے اسلام لانے کا واقعہ بھی عجیب غریب ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ افغانستان کے ایک شخص قیس عبدلرشید نے مدینہ میں رسول;248; اللہ کے پاس حاضری دی اور اسلام قبول کیا ۔ پھر واپس آکر اپنی قوم میں اسلام پھیلایا;238;ا یک مغربی صحافی اور’’ آئی ایم ملالہ ‘‘ کتاب کی مصنفہ کرسٹینا لیمب کے مطابق افغان قوم اپنے مقصد کی دھنی ایک اُجھنڈ قوم ہے ۔ افغان پشتون کہتے ہیں جب اللہ ساری خوبصورت دنیا بنا چکا تو اس کے پاس کچھ پتھر اور سنگریزے بچ گئے ۔ اللہ نے ان کو زمین میں پھینک دیا جس سے افغانستان وجود میں آیا ۔ حوالہ اردو ترجمہ(کتاب طالبان کا افغانستان) مصنفہ کرسٹینا لیمب ۔ کیا فطرت نے قوموں کے زوال و عروج کےلئے افغانستان جیسے خطے بنائے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ افغانستان کبھی بھی کسی قوم کا غلام نہیں رہا ۔ اس نے برطانیہ جس کے عروج کے دوران اس کی سلطنت میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا، کو شکست دی ۔ اپنے وقت کی دنیا کی سب سے بڑی مشین سویٹ رشیا، جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ جب یہ جس ملک میں داخل ہو گیا اسے اس ملک سے کوئی بھی نہیں نکال سکتا، کو بھی شکست فاش دی ۔ بلکہ سوویت یونین ٹکڑے ٹکڑے ہوا ۔ اس کے بطن سے چھ اسلامی ریاستیں ، قازقستان، کرغزستان، اُزبکستان، ترکمانستان، آذربائےجان ، اور تاجکستان کی شکل مےں آزاد ہوئےں ۔ مشرقی یورپ آزاد ہوا ۔ دیور برلن ٹوٹی ، مشرقی اورمغربی جرمنی یکجان ہوئے ۔ اب نیو ورلڈ ڈ آڈر والے امریکا کے ساتھ دنیا کے49 ملکوں کی نیٹو افواج کو شکست فاش دی ۔ امریکا اپنی بچی کچی فوج افغانستان سے نکالنے کےلئے محفوظ راستے کی تلاش میں امن معاہدے کی بھیک مانگ رہا ہے ۔ کیا فاقہ مست افغان اتنے بہادر ہیں کہ اللہ ان سے بڑی بڑی طاقتوں کو شکست سے دوچار کر تا رہا ہے;238; اگر کسی کو تحقیق کرنی ہے تو یہ کچھ بڑی راکٹ سائنس نہیں ہے ۔ فلسفی شاعر علامہ شیخ محمد اقبال;231;کے ایک شعر سے یہ بات اہل خرد کو سمجھ آ سکتی ہے ۔ اقبال;231; فرماتے ہیں : ۔

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی

یا بندہ صحرائی یا مرد ِ کوہستانی

اگر تاریخ پر غور کیا جائے تو تیں بڑی طاقتوں کے اپنے اپنے مقاصد تھے جس کےلئے افغانستان پر چڑھا ئی کی اور شکست سے دوچار ہوئے ۔ اللہ کا اپنا ایک نظام ہے ۔ جس کے تحت وہ قوموں کے عروج و زوال کا فیصلہ کرتا رہتا ہے ۔ کمزوروں سے طاقت وروں کو شکست دیتا ہے ۔ برطانیہ میں بادشاہت تھی جب وہ ہندوستان پر قابض ہوا تھا ۔ اس کا نظام حکومت سرمایادارنہ تھا ۔ سوویت یونین کیمونزم نظام کے تحت دنیا میں بڑھ رہا تھا ۔ وہ سوویت یونین کی سرحدافغانستا ن کے دریائے آمو تک بڑھا چکا تھا ۔ وہ اپنے لیڈر ، ایڈورڈ کے ڈاکٹرائن کے مطابق گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا تھا ۔ حوالہ کتاب (روس میں مسلمان قو میں آباد شاہ پوری) ۔ برٹش ہندوستان اور سوویت رشیا کے درمیان افغانستان بفر زون کی حیثیت رکھتا تھا ۔ انگریزوں نے اپنے سلطنت کی مغربی سرحد کو سوویت یونین کے کیمونزم سے محفوظ کرنے کےلئے افغانستان پر حملہ کیا تھا ۔ انگریز افغانستان کو، لڑ کر تو زیر نگین نہیں رکھ سکے مگر مذاکرات کا ڈھول ڈال کر افغانستان اور برٹش ہندوستان کے درمیان ایک لکیر کھینچنے میں کامیاب ہو گئے تھے جسے ڈیورنڈ لین سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ یہ معاہدے افغانستان کے بادشاہ امیر عبدالرحمان اور سر ڈیورنڈ کے درمیان ہوا تھا ۔ اس معاہدے کی توثیق بعد کی کئی افغان حکومتوں نے کی ۔ ڈیورنڈ لین کو سابق صوبہ سرحد موجودیہ خبیر پختونخواہ کے( مرحوم) سرخ پوش، قوم پرست، سرحدی گاندھی غفار خان نے قیام پاکستان کے وقت با نیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح;231; سے ریفرنڈم میں شکست فاش کھانے کے بعد بھی مسئلہ بنائے رکھا ۔ پاکستان توڑ کر پشتونستان بنانے کی کوششیں کرتا رہا ۔ قوم پرست افغانی اسے با بائے پشتونستان کے خطاب سے پکارتے تھے، اس نے پاکستان میں دفن ہونے کے بجائے افغانستان کے شہر جلال آباد میں دفن ہونا پسند کیا ۔ افغانستان کی ساری قوم پرست سیکولر حکومتوں نے ڈیورنڈ لین کے مسئلہ کو پاکستان کے ساتھ بھارت اور روس کی شہ پر اُٹھائے رکھا ۔ افغانستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ افغان طالبان کی اسلامی حکومت نے اسے ختم کیا تھا ۔ اس سے پاکستان کی مغربی سرحد محفوظ ہو گئی تھی ۔ سوویت یونین نے ظاہر شاہ کی حکومت کے دوران افغانستان میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانا شروع کیا تھا ۔ جیسے اُوپر بیان کیا گیا ہے کہ گرم پانیوں تک آنے کے ڈاکٹرائن پر عمل درآمد کر تا رہا ۔ امداد کے نام پر افغانستان کے نوجوانوں اپنے عزائم کی تکمیل کےلئے کیمونزم کو افغانستان میں پھیلایا ۔ ظاہر شاہ کا تختہ سردار داءود کو استعمال کر کے اُلٹایا ۔ جب سردار داءود سے بھی کام لے چکا تو اپنے ہاں تربیت پانے والے کیمونسٹ لیڈر ببرک کارمل کو بلا آخر ٹینکوں پربٹھا کر افغانستان کی سرحدپار کر کے افغانستان پر قبضہ کر لیا ۔ افغانوں نے سوویت یونین کے خلاف درے کی بندوقوں سے جہاد شروع کیا ۔ پھر پاکستان میں (مرحوم) ذوالفقار علی بھٹو صاحب سے مدد کےلئے رابطہ کیا ۔ بھٹو جہاندیدہ سیاستدان تھا ۔ اُس نے افغانوں کی ڈائریکٹ مدد کی بجائے اسلحہ کےلئے رقم مہیا کی ۔

نواز شریف کی پارٹی رہنماؤں کو عید کے بعد حکومت کے خلاف احتجاج کی ہدایت

لاہور: سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو بےروزگاری ، ایمنسٹی اسکیم اور مہنگائی پر حکومت کے خلاف احتجاج کی ہدایت کردی ہے۔

کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف سے پارٹی کے اہم رہنماؤں نے ملاقات کی، ملاقات کرنے والے رہنماؤں میں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال ،خواجہ آصف، پرویز رشید، رانا تنویر، طلال چوہدری، سائرہ افضل تارڑ اور عباس آفریدی شامل تھے۔ پارٹی رہنماؤں نے نواز شریف سے ان کی صحت سے متعلق دریافت کیا، جس پر نواز شریف نے جواب میں کہا کہ کہ الحمداللہ ٹھیک ہوں اور روزے بھی اچھے جارہے ہیں۔

نوازشریف نے جیل واپسی پر لاہور کی تاریخی ریلی پر کارکنوں کا شکریہ ادا کیا اور نئے پارٹی عہدیداران کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد بھی دی۔ پارٹی رہنماؤں نے نواز شریف کو ملک کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کی ملکی معیشت کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو عوام رابطہ مہم تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی سے عوام پریشان ہیں اور ہمیں عوام کی آواز بننا ہے، اخبارات میں مہنگائی اور ڈالر کی اڑان کا پڑھ کر بہت پریشان ہوتا ہوں، آئی ایم ایف پیکیج کے بعد ڈالر کی قیمت میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے تھا، کسان اس مہنگائی میں پس چکا ہے، پیٹرول ،ڈیزل اور کھاد کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، حکومت نے عوام کے ساتھ جو رویہ اپنایاہے وہ کسی صورت قبول نہیں، مسلم لیگ (ن) اب مہنگائی پر مزید خاموش نہیں رہے گی۔

ذرائع کے مطابق (ن) لیگ ڈالر کی بڑھتی قیمت، بےروزگاری ، ایمنسٹی اسکیم اور مہنگائی کے خلاف عید الفطر کے بعد بھرپور تحریک کا آغاز کرے گی، نواز شریف نے پارٹی کو احتجاج کی اجازت بھی دے دی ہے تاہم احتجاج کس نوعیت کا ہوگا، اس حوالے سے آئندہ ملاقات میں نوازشریف کو بریفنگ دی جائے گی۔ نوازشریف نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو ہدایت کی کہ وہ حکومت کے خلاف لائحہ عمل بنائیں، شاہد خاقان عباسی مرکزی اور صوبوں میں پارٹی میٹنگز بلائیں گے۔

ایمنسٹی اسکیم………..موقع سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے

آج حکومت کو جن معاشی حالات کا سامنا ہے وہ یقینی طورپر ماضی کی حکومت کے فیصلوں کی وجہ سے ہے اور ان نتاءج کو پوری قوم مہنگائی کی صورت میں بھگت رہی ہے، معیشت کمزور ہونے کی وجہ سے بھی یہ سارے مسائل درپیش ہیں اب حکومت نے ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دی ہے، اسکیم سے استفادہ حاصل کرنے والوں کو ٹیکس فائلر بننا ہوگا، بیلنس شیٹ دوبارہ بناسکیں گے، سیلز ٹیکس نظام سے تاجر فائدہ اٹھا کر ماضی کی ذمہ داریوں سے بری الزمہ ہو جائیں گے ۔ یہ نہایت احسن اسکیم ہے ، بے نامی اثاثوں کو بھی سفید کرایا جاسکے گا تا ہم سرکاری اور عوامی عہدیدار اس سے مستفید نہیں ہوسکیں گے، یہ اسکیم لانا کوئی انہونی بات نہیں دنیا بھر میں ایمنسٹی اسکیم لائی جاتی ہے تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سے کتنے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ، بقول حکومت کے سابقہ حکومت کی جانب سے لائی جانے والی اسکیم میں کچھ خامیاں تھیں اب موجودہ اسکیم میں ان کو دور کیا گیا ہے ۔ وفاقی حکومت نے ملک کے اندر اور بیرون ملک رو پے، غیر ملکی کرنسی اور پراپرٹی کی شکل میں موجود کالا دھن سفید کرنے کےلئے ایمنسٹی سکیم کا اعلان کر دیا ہے، نئے یا سابق ,پبلک آفس ہولڈرز کے سوا تمام پاکستانی جن کے پاس کالا دھن موجود ہے ایک مخصوص شرح سے ٹیکس ادا کر کے اسے قانونی بنا سکیں گے، نقدکالا دھن پہلے بینک اکاءونٹ میں جمع کرانا ہو گا اور اس کی رسید کی بنیاد پر ٹیکس ادا کر کے اسے سفید کیا جا سکے گا، بے نامی اکاءونٹس اور جائیداد والے بھی سکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے، سکیم سے استفادہ کرنے والوں کو فائلر بننا لازمی ہو گا ۔ وفاقی کابینہ نے وزیر اعظم کی صدارت میں اجلاس میں سکیم کی منظوری دی اور مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ایف بی آر ہیڈ کواٹرز میں سکیم کے نکات کا اعلان کیا ۔ سکیم کو آرڈی نینس کا اجرا کرکے نافذ کیا جائے گا ،ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا مقصد ریونیو اکٹھا کرنا نہیں بلکہ سکیم کا مقصد کالے دھن کو سفید کرنے کا موقع دینا ہے اور معیشت کو ڈاکیومنٹڈ کرنا ہے تاکہ معیشت تیز رفتاری سے چل سکے اور جو ڈیڈ اثاثے ہیں انہیں معیشت میں ڈال کر اسے فعال بنایا جاسکے ۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ یہ سکیم سمجھنے اور عمل درآمد کرنے میں بہت آسان ہو، اس کو حقیقت پسندانہ رکھا ہے اور اس میں ریٹ بھی زیادہ نہیں رکھے گئے ہیں ، لوگوں کو ڈرانا نہیں بلکہ کاروباری لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ صحیح طریقے سے حصہ ڈالیں ۔ 30 جون تک سکیم میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا ہے اور اس کی میعاد میں توسیع نہیں کی جائے گی، اس سکیم میں ہر پاکستانی شہری حصہ لے سکے گا، تاہم وہ لوگ جو حکومت میں عہدے رکھ چکے ہیں یا موجود ہیں وہ اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے،سکیم کے تحت پاکستان کے اندر اور باہر تمام اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے اور رئیل اسٹیٹ کے علاوہ دیگر تمام اثاثوں کو 4 فیصد کی شرح دے کر اثاثے ظاہر کیا جاسکتا ہے، نقد رقم جو روپے یا ڈالر کی صورت میں ملک کے اندر یا بیرون ملک بے نامی اکاءونٹس میں پڑی ہوں ظاہر کرنے پر 4فیصد کی شرح سے ٹیکس ادا کرنا ہو گا ۔ ملک یا بیرون ملک موجود نقد اثاثے ظاہر کرنے پر شرط یہ ہے کہ انہیں کسی بینک اکاءونٹ میں رکھا جائے جبکہ ریئل اسٹیٹ کے معاملے میں اس کی قیمت ایف بی آر کی مقرر کردہ قیمت سے ڈیڑھ فیصد زیادہ ہوگی تاکہ وہ مارکیٹ کی قیمت کے قریب آسکے ۔ دوسری جانب وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیاکوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ نے ٹیکس ایمنیسٹی سکیم کو طویل مشاورت کے بعد منظور کیا ہے اور کوشش کی ہے کہ کوئی مجرم اور مراعات یافتہ طبقہ فائدہ نہ اٹھائے، اس پر بل صدر پاکستان کو منظوری کے لئے بھیج دیا جائے گا، بیرون ملک قیدیوں کو قانونی سہولتیں فراہم کرنے حوالے سے سمری تبدیلی کے بعد منظور کی گئی، ملائیشیا میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لئے فوری اقدامات کی منظوری دی گئی، ماضی کی حکومتوں نے عالمی معاہدوں کے وقت قومی مفادات کو مدنظر نہیں رکھا، تنازعات کی وجہ سے اب تک 100ملین ڈالر عالمی عدالت میں کیسز کی فیسیں ادا کرنے میں خرچ ہوئے، وزارتوں کو ہدایت کی ہے کہ میکنزم بنائیں تا کہ معاہدے کرنے سے پہلے مکمل پلاننگ کریں ، آئندہ اس طرح کے مقدمات اور رسوائی سے بچا جا سکے، وزیراعظم نے مہنگائی کو روکنے کیلئے صوبائی حکومتوں سے مل کر روڈ میپ بنانے کی ہدایت کی تا کہ قیمتوں کی مانیٹرنگ کی جائے اور قیمتوں کو بلا جواز بڑھنے سے روکا جائے، ادویات کی قیمتوں کو کم کرنے اور ڈریپ میں اصلاحات کے حوالے سے وزیر صحت تفصیلی بریفنگ دیں گے، ماہ رمضان میں منافع خوری کے تدارک کیلئے میکانزم تجویز کیا گیا ہے، کابینہ میں 18 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا ۔ حکومت عوام کے مسائل کے حل کےلئے پُرعزم ہے ۔ وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کو اہم ہدایات دی ہیں ۔ مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی نے حکومتی ایمنسٹی اسکیم کو مسترد کردیا ہے، ہم یہاں یہ کہیں گے کہ ن لیگ بھی یہ اسکیم لائی تھی تاہم مخالفت برائے مخالفت سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ، اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ معاشی حالات درست کرنے میں حکومت کا ساتھ دے نہ کہ ہر تعمیری چیز میں ٹانگ اڑا کر حالات کو خواہ مخواہ خراب کیا جائے ۔

امریکہ ایران تنازع،پاکستان کا غیر جانبدار رہنے کاعندیہ

پاکستان نے دوٹوک انداز میں واضح کردیا ہے کہ وہ امریکہ ایران تنازع میں کسی کیمپ میں نہیں جائے گا کیونکہ پی ٹی آئی کی حکومت نے پہلے دن ہی کہہ دیا تھا کہ پاکستان کی سرزمین کسی کیخلاف استعمال نہیں ہوگی ۔ لہٰذا ایسے کسی بھی درپیش حالات میں پاکستان کو اپنا جھکاءو کسی جانب ظاہر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ماضی میں افغانستان کا مسئلہ سب کے سامنے ہے جس کے نتاءج آج تک پاکستان بھگت رہا ہے ۔ وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے خارجہ امور کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکا نے ویزوں پر پابندیاں نہیں لگائیں ، بڑی تعداد میں پاکستانیوں کی بیدخلی کی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں صرف ان افراد کو واپس بھیجا جارہا ہے جو 70 سے 80 کی دہائی میں غیرقانونی طریقے سے امریکا گئے تھے، امریکا میں مقیم عام پاکستانیوں پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑے گا، امریکی ایران تنازع میں کسی کیمپ میں نہیں جائیں گے،ہم پاک ایران گیس پاءپ لائن میں پیش رفت کے خواہاں ہیں لیکن امریکی پابندیوں کی وجہ سے کوئی ملک اس میں فنڈنگ کے لیے آمادہ نہیں ،ہم نہیں چاہتے ایران سے تعلقات کو ٹھیس پہنچے،مودی سوچے ہمارے ریڈار کام نہیں کررہے تھے تو 2طیارے گرا ئے ،میرا مودی سے سوال ہے کہ ہمارے ریڈار کام کررہے ہوتے تو پھر بھارت کے ساتھ کیا ہوتا وہ ذرا یہ سوچ لیں ، چینی شہریوں کی پاکستانی خواتین سے شادیوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم اس سارے معاملے کو دیکھ رہے ہیں وزارت خارجہ کا پاکستان میں چینی سفارتخانے سے بھی رابطہ ہے لیکن اس کے ساتھ ہ میں ان قوتوں کے عزائم کو بھی دیکھنا ہوگا جو اس ایشو پر پاکستان اور چین کے تعلقات کو ہوا دے رہے ہیں ۔ ایران ہمارا پڑوسی اور خطے کا اہم ملک ہے یقینا ہم امریکا اور ایران کے درمیان تنازع میں فریق نہیں بنیں گے ،پاک ایران گیس معاہدہ معاشی طور پر ایک مستحکم منصوبہ ہے لیکن امریکاکی جانب سے پابندیوں کے علاوہ یورپی یونین، مشرق وسطی اور بعض دیگر ممالک کے بھی اس منصوبے پر تحفظات ہیں ،یہ ایک حساس معاملہ ہے ہم کوشش کررہے ہیں کہ ایسی حکمت عملی وضع کی جائے کہ خطے میں حالات غیرمستحکم نہ ہوں اور پاکستان اور ایران کے تعلقات کو بھی ٹھیس نہ پہنچے ۔

’’پْرامن فکری معاشرہ‘‘ ۔ ترقی یافتہ پاکستان کا ضامن

پاکستانی معاشرے کو پْرامن اور متوازن معاشرہ کہنے اور ماننے سے اگر اپنے ملک ہی میں بہت زیادہ حلقے معترض ہیں تو ہ میں من حیث القوم فکرمندی اور دلسوزی کے احساسات سے اس جانب فوری توجہ دینی ہوگی سوچنا ہوگا کہ ;39;ہم بحیثت قوم پْرامن کیوں نہیں ہوسکتے;238; ہمارا معاشرہ متوازن معاشرہ کیوں نہیں کہلایا جاسکتا;238; ہمارے معاشرے میں فرقہ وارانہ ہم آھنگی پروان کیوں نہیں چڑھ پاتی;238; رواداری کے ساتھ تحمل اور برداشت کے رویوں کا فقدان یا کمی یا پھر سرے سے انسانیت پرور احساسات کی ناپائیداری ہ میں اپنے سماج میں اور اپنے معاشرے میں جگہ جگہ کیوں نظرآتی ہے;238; معمولی معمولی باتوں پر ایک دوسرے کے گریبانوں تک ہمارے ہاتھ کیوں پہنچ جاتے ہیں ;238; یہی نہیں بلکہ اکثروبیشترزیادہ تر ہم پر عدم برداشت کی ہیجانی کیفیتیں غالب رہتی ہیں مرنے مارنے پرہم اترآتے ہیں ہمارے ہاتھوں لوگ قتل ہوجاتے ہیں یوں انسانیت دشمن صورتحال دوطرفہ بن جاتی ہے سماج اور معاشرے میں بداعتمادی کی ناخوشگوار فضاء اورفاصلے کم ہونے کی بجاءَے بڑھتے جارہے ہیں ، سماج میں دشمنیاں پلنے لگی ہیں ، سماج اور معاشرے کی یکجہتی;39;ہم آھنگی اور ایک دوسرے پر اعتماد کے بھروسے کا انسان دوست ماحول اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی بجائے کھوکھلا ہوتا جارہا ہے، سماجی انارکی کے تضادات کی شدت کو ختم کرنے یا کم کرنے کی ذمہ داری کسی نا کسی ;39;ذمہ دارشعبہ;39;کی تھی کیا اْس ;39;ذمہ دارشعبہ;39; نے اپنی یہ ذمہ داری نبھانے میں کوئی کوتاہی کی یا وہ سماجی شعبہ اپنی یہ اہم ترین ذمہ داری کو سمجھ نہیں سکا بحمداللہ!ہم پاکستانی مسلمان قوم ہونے کے ناطے سے مختلف مذہبی طبقات میں منقسم ہیں فخریہ اپنے اپنے آپ کو مسلمان کہلواتے ہیں اس کے باوجود فکری اعتبار سے ہم اور کچھ نہیں تو کم ازکم اپنے ملک اور اپنے سماج ومعاشرے کے ابھرنے والے مسائل پر گفت وشنید کے مواقعوں پر تحمل اور بردبادی سے ایک دوسرے کے نکتہ نظر کو سن لیں تو اس میں کیا بْرائی ہے ہم ایک دوسرے کے نکتہ نظرکو برداشت کریں ملکی سماجی طبقات کے مابین افہام وتفہیم کے معروف متعدل رویوں میں انسانی احترام کی قدروں کو اولیت دیں یہ ہ میں اگر سمجھائے تو کون سمجھائے گا اگر بحیثیت قوم ہم ان متذکرہ بالا انسانی اصولوں کو سمجھنا چاہئیں تو یہ حق ہ میں کس نہ کسی کو دینا پڑے گا یہاں ذرا غورکجیئے کہ پاکستان میں کتنے فرقے ہیں اورکتنی زبانیں بولنے والے افراد بستے ہیں اورپاکستانی مسلمانوں کے فرقوں کے اندر مزید اور کتنی تقلیدی اور غیر تقلیدی متشدد منافرت نے بہت دوریاں پیدا کی ہوئی ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک ہی فرقہ کے مسلمانوں میں کئی ایسے بھی ہیں جو اپنے ہی فرقہ کے پیش نماز کی اقتداء میں ہونے والی جماعت میں شامل ہونے سے احترازکرتے ہیں وہ علیحدہ ;39;فرادہ;39; نمازیں ادا کرتے ہیں فرقہ واریت کا ہونا کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے پہلے ہم اس پر متفق ہوجائیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ایک ہی آفاقی دین اسلام برحق ہے اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اْن پر ایک آخری آفاقی کتاب قرآن مجید نازل ہوئی ہے جو روز محشر تک کے لءَے ہدایت کا واحد سرچشمہ ہے یہ فرقہ وغیرہ سب بعد میں مسلمانوں کے علمائے نے اپنے اپنے فکری استدلال سے شریعت کی اصلاح کے نام پر تشکیل دئیے دیکھا جائے تو ہر مسلم فرقہ کا ماخذ تقریبا ایک ہی ہے مگران بعض فرقوں میں درآنے والی ’’جبروقہرکی جنونیت‘‘نے کل بھی بہت سے اہم سوال اْٹھائے جو آج صدیوں پر صدیاں بیت گئیں وہ سوالات اپنی جگہ موجود ہیں ماضی بعیدکی طوالت کی مباحث سے بچتے ہوئے ہ میں آگے بڑھنا ہوگا آج دنیائے اسلام میں فرقہ واریت کی خونریز جنونیت نے کہیں عراق میں کہیں شام میں کہیں یمن میں ترکی اور ایران سمیت پاکستان اور افغانستان میں مسلمانوں کا لہو جس شقاوت قلبی سے بہایا اوراب تک بہایا جارہا ہے کوئی دن نہیں جاتا جب افغانستان;39; ملک شام;39;عراق اور ترکی سے خود ہمارے اپنے ملک پاکستان کے کسی حصہ سے فرقہ وارانہ دہشت گردی کی افسوس ناک خبرجو ہمارے ذہنوں کی چولیں ہلادینے والی خبرہو وہ ہم نہ سنتے ہوں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات نے پاکستان کی وحدت کو ہلا کر رکھ دیا ہے بقول مولانا عطا اللہ شہاب کے جنہوں نے;39;پرامن معاشرے کے قیام میں علماء کا کردار;39; کے موضوع پر جون 2011 میں اسلام آباد میں ہونے ایک سیمینار سے اپنے خطاب میں فرمایا تھا ;3939;چونکہ کسی بھی ریاست میں یاکسی بھی ملک میں وحدت کی دو صورتیں ہوتی ہیں یا تو اس ریاست میں مذہبی وحدت ہویا پھر سیاسی یا نسلی وحدت;39; جس ریاست میں مذہبی وحدت ہوگی وہاں فرقہ واریت پیدا نہیں ہوگی بلکہ اس سے جنم لینے والے خدشات اور تصادم کی صورتیں بھی پیدا نہیں ہونگی جن سے آج ہم اور آپ دوچار ہیں قومی اور نسلی وحدت کی صورت میں سیاسی ونسلی انتشار بھی پیدا نہیں ہوگا ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں نہ مذہبی وحدت ہے نہ قومی ونسلی وحدت;3939;راقم کا یہاں سوال ہے آپ بھی سوچ رہے ہونگے’’ وحدت اورایکتا‘‘ کسی بھی ملک یا ریاست کے نزدیک کس قدر اہمیت کا حامل سوال بنتا ہے جس کا سیدھا سادا جواب یہی ذہن میں آتا ہے عوام کی رہنمائی کا فریضہ ادا کرنے میں جوکمیاں رہ گئیں اس میں سمجھانے والے والدین;39;پڑھانے والے اساتذہ اور دینی تعلیم دینے والے علماء نے قوم پر قوم کے نونہانوں پر وہ خصوصی تکنیکی توجہ دے نہیں پائے یا اْنہوں دی اور قوم کے نونہال سمجھ نہیں سکے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ;39;تعلیم;39;چاہے وہ دینی ہو ہا دنیاوی صرف;39;تعلیم;39; نہیں ہوتی بلکہ یہ پورا لفظ;39;تعلیم وتربیت;39; ہے مطلب یہ کہ جس نے تعلیم دینی ہے اْس نے تربیت کا فریضہ بھی ادا کرنا ہے اور یہیں سے برداشت;39;صبراورتحمل مزاجی کے اسباق معصوم ذہنوں میں نقش کرادئیے جاتے ہیں پھر یہیں سے معاشرے کے افراد کی نوعمری میں ہی کردارسازی کا عمل شروع کرادیا جات ہے وہ صبر کرنا سیکھ جاتے ہیں اْن کے غصے کنٹرول ہونا شروع ہوجاتے ہیں ;39;پْرامن فکری معاشرہ;39; انتشار وافتراق سے پاک فکری معاشرہ خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کے لئے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی اہمیت وافادیت کا احساس دلارہا ہے پاکستان کے بیرونی دشمنوں نے اور اْن دشمنوں کے آلہ کار اندرونی سماج دشمن عناصر نے مذہبی فرقہ واریت کے نام پر پاکستان میں دہشت گردی پر منی انتشار کی جولہو اگلتی آگ پھیلائی ہے جس میں شدت پسند جنونی تنظیم داعش ملوث ہو یا لسانی متشدد تنظی میں پِی ٹی ایم یا بی ایل اے ملوث ہوں پاکستان مخالف ان تنظیموں نے اور کچھ کیا یا نہ کیا ہولیکن افسوس ہے ان دہشت گردوں کے تنازعات کی دہشت گردی کی لہر نے دین اسلام کے شعائراللہ سے;39;بیزاری;39; کے ایک ناپسندیدہ ماحول کومعاشرے میں جگہ فراہم کردی ہے اب ہمارے علمائے برحق کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے مقدس محراب ومنبر سے قوم کی رہنمائی کا اہم فریضہ ادا کرنے کی اپنی ایمانی ذمہ داریوں کو بجا لائیں تاکہ ملکی معاشرے میں فرقہ وارانہ ہم آھنگی کو نمایاں فروغ مل سکے ۔

دہشت گردی کی حالےہ لہر

مادی و سماجی مسائل سے گھبرا کر روحانی سکون کی تلاش مےں سر گرداں عامتہ المسلمےن کی پناہ گاہ سےد ہجوےری مخدوم امم کے مزار کو اےک بار پھر قتل گاہ مےں تبدےل کر کے اس کے احاطے کو خون مےں لت پت کر دےا گےا ۔ صوفےائے عظام کے مزارات تو مرجع خلائق ہےں ۔ ان کا ہندو اور سکھ بھی احترام کرتے ہےں لےکن ےہ کےسے لوگ ہےں جو مزارات پر حملے کر کے خون کی ندےاں بہا رہے ہےں اور ان روحانی دولت کے حزےنوں کو ہدف بنا رہے ہےں ۔ صوبائی دارالحکومت لاہور مےں معروف صوفی خانقاہ داتا دربار کے باہر اےلےٹ فورس کی گاڑی پر خود کش حملہ کے مناظر دےکھنے پر بے اختےار آنسو امڈ پڑے ۔ آنسو حساس ہوتے ہےں اس لئے ہی باعث احساس ہوتے ہےں لےکن افسوس بے حس دلوں مےں احساس کی کوئی چنگاری روشن نہ ہو ،ٹھنڈی رگوں مےں کوئی ہمدردی ،پچھتاوا پےدا نہ ہو ،آتش بے وجہ سرد نہ ہو ۔ اس خود کش حملے مےں پانچ پولےس اہلکار وں سمےت دس فراد شہےد ہو گئے جبکہ تےس افراد زخمی ہوئے ۔ ےہ شہداء ان کے گھر والوں کےلئے دوجہانوں سے بھی زےادہ قےمتی تھے لےکن گمراہ دہشت گردوں کے نزدےک ےہ صرف اےک تعداد ۔ معزز و محترم قارئےن سپرانتو زبان کے اےک دانشور نے انسانےت کی عظمت کی تعرےف و توصےف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر روز محشر خدا وند تمام انسانوں کو جنت مےں بھےجنے کےلئے اےک شرط عائد کر دے کہ اےک شخص کو مصلوب کر دو تو ہم جنت کو مسترد کر دےں گے ۔ فطرت ےزداں نے اےک انسان کے خون ناحق کو پوری انسانےت کا قتل قرار دےتے ہوئے رواداری، امن ، مساوات اور ےکجہتی کی پےروی کو اظہر من الشمس قرار دےا ہے کےونکہ امن و امان اور قانون و انصاف سے تہی داماں معاشروں مےں انسان حےوان بن کر انسانےت کی عظمت کو پاش پاش کرتے ہےں ، انسانےت کی کوکھ سے وحشت جنم لےتی ہے اور وحشی خونخوار درندوں کے روپ مےں بے گناہوں کا خون کرتے ہےں جس سے خدا کی خدائی بھی اشک بار ہو جاتی ہے ۔ ےہ دشمنان دےن و ملت امن کی فاختہ کو اپنی بندوق کی سنگےن سے لہو لہان کر کے قلبی تسکےن محسوس کرتے ہےں ۔ ےہ نےم خواندہ لوگ تنگ دل، تنگ نظر اور کوتاہ فکر ہےں ۔ ان پڑھ آدمی کے عقائد جو بھی ہوں ان مےں عالی ظرفی اور فراخ دلی ہوتی ہے ۔ ان کے دل مےں ےہ حناس نہےں سماےا ہوتا کہ مےں ہی حق پر ہوں اور باقی سب مشرک اور کافر ہےں ۔ ان کے دل مےں کسی کے عقےدے سے نفرت نہےں ہوتی ۔ ان کا دل محبت و اخوت کا گہوارہ ہوتا ہے ۔ نےم خواندہ لوگ ہی گمراہ ہےں جو اےسے بد بخت انسان پےدا کر رہے ہےں ۔ جذبات کا عروج جنون اختےار کر کے دےوانگی کی سرحدوں تک پہنچ جاتا ہے ۔ تشدد و وحشت ،جوش اور جنون درندگی ہے ۔ تنگ نظری ،تعصب ،نفرت کےنہ ،عناد روحانی افلاس ہے جو ظلم و جور پر مائل کرتا اور تشدد و نفرت کو اےمان کا درجہ دےتا ہے ۔ سووےت ےونےن کے خلاف امرےکہ اور ضےاء الحق کے نام نہاد جہاد کے ساتھ عرب سے آنے والی اسلام کی جس نئی تعبےر و تشرےح نے ہمارے ہاں رواج پاےا اور ہماری دےنی درسگاہوں کے ساتھ عام سکولوں ،کالجوں اور ےونےورسٹےوں تک کی تعلےم مےں سراءت کر گئی،بلآخر جس کے نتاءج ہم بھگت رہے ہےں ۔ جامد فکر کے ےہ دہشت پسند ہی ہےں جو نوعمر معصوم لڑکوں کو اپنے مسلک کے نام پر خودکش حملوں پر آمادہ کرتے ہےں ۔ ہمےں ان آستےن کے سانپوں پر ہاتھ ڈالنے کی ضرورت ہے جو وطن کے بے گناہ اور نہتے مسلمانوں کا خون بہا کر پاکستان دشمنوں کے اےجنڈے پر عمل پےرا ہےں ۔ ان کا مقصد ےہاں لسانی ،نسلی تعصبات کی آگ بھڑکانے کے ساتھ فرقہ وارانہ فسادات کی راہ ہموار کرنا ہے اور اس نصب العےن کے حصول پر وہ اپنی تمام تر منفی توانائےوں سے عمل پےرا ہےں ۔ وہ عوام کو مشتعل کر کے سڑکوں پر لانے ،اتحاد و ےگانگت کی فضاکو سبوتاژ کر کے ملک مےں انارکی پےدا کرنے کی ہمہ گےر سازش مےں مصروف ہےں ۔ ےہ مسلک اور فرقے کی تفرےق و تقسےم کو تقوےت دے کر اسے مزےد گہرا کرنے کی سازش کر رہے ہےں ۔ پاکستانی قوم نے طوےل جدو جہد اور عظےم قربانےوں کے بعد امن کےلئے لڑی جانے والی جنگ مےں کامےابی حاصل کی ہے ۔ دہشت گردی کے سخت عذاب مےں اب تک 70ہزار جانوں کا نذرانہ دےا جا چکا ہے ۔ قوم کے بھرپور اعتماد ،حماےت اور مدد کی بنےاد پر افواج پاکستان ،سےکورٹی فورسز ،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ تےن سال مےں امن دشمن عناصر کو سرزمےن پاکستان سے فرار ہونے پر مجبور کر دےا ۔ لاہور مےں ہونے والے خودکش حملے کو محض اےک واردات کے طور پر نہ لےا جائے اس سے پہلے کوءٹہ مےں ہونے والی دہشت گردی ،گوادر کے قرےب سےکورٹی فورسز کے جوانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور وزےرستان مےں افغانستان سے پے در پے دہشت گردوں کے حملوں کو سامنے رکھا جائے تو تصوےر کے تمام پہلو سامنے آ جائےں گے ۔ دراصل پاکستان کی داخلی سلامتی کے خلاف خطے مےں موجود بعض قوتےں پھر سے متحرک ہو رہی ہےں ۔ خےبر پختونخواہ ،بلوچستان اور اب پنجاب مےں دہشت گردی کے واقعات دراصل اسی گھناءونی سازش کی کڑےاں ہےں ۔ باخبر حلقے اس حقےقت سے آگاہ ہےں کہ افغانستان کی سرزمےن اےران اور افغانستان کے اندر شر انگےزی کے ذرےعے بھارتی حکمران خطے پر مرضی کا کھےل کھےلنے کی سوچ سے پےچھے نہےں ہٹ رہے ۔ گو کہ دہشت گردانہ کارروائےوں مےں اب اتنی شدت نہےں رہی ۔ 2017ء اور2018ء مےں بھی دہشت گردی کے اکا دکا واقعات پےش آتے رہے جس سے عوام مےں پرےشانی کی لہر پےدا ہوتی رہی ۔ گزشتہ اےک دو برس سے رمضان المبارک ،عےدےن ،عاشورہ محرم ،عےد مےلاد النبی اور دوسرے اہم موقعوں پر بہتر سےکورٹی کے سبب دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما نہ ہونے پر پوری قوم ا;203; کی شکر گزار اور خاصی مطمئن تھی کہ دہشت گردی کے عفرےت سے جان چھوٹ گئی لےکن دہشت گردی کے اس اس درد ناک واقعہ نے ثابت کردےا کہ ملک مےں دہشت گردوں کی سفاکی اور سنگدلی کا باب ابھی بند نہےں ہوا اور رےاست کی جانب سے مسلسل دہشت گردی کے آپرےشنز کے باوجود بے لگام تنظےمےں تا حال قومی سلامتی کےلئے خطرہ ہےں ۔ اس بار جو خود کش حملہ کےا گےا وہ داتا دربار کی ہائی الرٹ صورتحال کا پوری بارےک بےنی سے جائزہ لےنے کے بعد گےٹ نمبر2پر ہوا جہاں خواتےن کا دربار کے اندر جانے کا راستہ ہے ۔ 2010ء مےں بھی داتا دربار پر ہولناک بم دھماکے مےں متعدد افراد شہےد اور زخمی ہوئے تھے ۔ شدت پسند تنظےم حزب الاحرار نے داتا دربارمےں ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی تنظےم کے ترجمان عبد العزےز ےوسفزئی نے اعلان کےا کہ اس آپرےشن شانزئی کا ہدف پولےس اہلکار ہی تھے ۔ تحقےقی رپورٹ مےں بتاےا گےا ہے کہ خود کش بمبار کو قرےبی علاقے ےا ہوٹل مےں خودکش جےکٹ پہنائی گئی تھی ۔ انٹےلی جنس ادارے نے ےہ انکشاف کےا ہے کہ دہشت گردوں کا داتا دربار کے گرد کسی ہوٹل ےا سرائے مےں ٹھکانہ تھا ۔ اس دہشت گرد دھماکے مےں تےن افراد ملوث تھے ۔ انہوں نے اسی ہوٹل ےا سرائے مےں رہتے ہوئے ٹارگٹ کی مانےٹرنگ کی اور سخت سےکورٹی کے باعث انہوں نے گےٹ نمبر 2پر پولےس والوں کی تعداد اور وقت کا تعےن کر کے خودکش حملہ کرواےا ۔ حملہ آور شےش محل کی طرف سے آےا تھا لہٰذا سےکورٹی ادارے اس کے ٹھکانے اور سہولت کاروں کا پتا چلانے کی کوشش کر رہے ہےں ۔ ےہ تفتےش کی جا رہی ہے کہ دہشت گرد بمبار کے سہولت کار علاقے کے کس ہوٹل ےا سرائے مےں مقےم تھے ۔ ےہ بھی اےک قابل افسوس حقےقت ہے کہ سب ہوٹل اور سرائے والے پولےس کو منتھلی دےتے ہےں اور سب اچھا کی رپورٹ حاصل کرتے ہےں ۔ ملک کے مختلف شہروں مےں اب اےک تسلسل کے ساتھ جو دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہےں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمےں اپنس لاءحہ عمل تبدےل کرنے کی ضرورت ہے اب وقت کا تقاضا ہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحہ کے بعد سےاسی و فوجی قےادت کے اتفاق رائے سے وضع کئے گئے نےشنل اےکشن پلان مےں طے کئے گئے اقدامات پر عملدرآمد کا از سر نو جائزہ لےا جائے ےہ طے ہے کہ شہری آبادےوں مےں اب بھی دہشت گردوں کے حماےتی اور سہولت کار موجود ہےں ان کا مکمل خاتمہ نہےں کےا جاسکاہے اس لئے منظم ہونے کی ضرورت ہے ۔ سانحہ ہونا کسی کی غلطی نہےں کےونکہ ےہ اےک اندھی جنگ ہے ۔ خود کش حملہ اےک اےسی ٹےکنالوجی ہے جس کا توڑ تا حال ناممکن نظر آتا ہے ۔ سر پر کفن باندھ کر نکلنے والا جان دے کر ہی اپنا ٹارگٹ پورا کرتا ہے جو جان دےنے پر بضد اور آمادہ ہو اس کا کےا کےا جا سکتا ہے ۔ دہشت گردی کی ےہ جنگ ابھی تک ختم نہےں ہوئی ۔ اسے ہم نے لڑنا ہے ۔ انشاء ا;203; اس کا جڑوں سے خاتمہ ہو گا اور فتح ہماری ہو گی ۔

Google Analytics Alternative