کالم

بھارت میں ہندو انتہا پسندی کا جن بے قابو

بھارت میں مذہبی جنونیت اور انتہا پسندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی میں بھارت دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف پائی جانے والی انتہا پسندی برسوں سے حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہے۔ پورے ملک میں بدامنی اور بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ہندو انتہا پسندی کی انتہا تویہ ہے کہ اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے راج میں ان کی کرسی اور صوفہ کا رنگ پہلے بھگوا ہوا، پھر سرکاری عمارتوں میں یہی رنگ چڑھا اور اب بھگوا رنگ بریلی کے ایک کالج تک پہنچ گیا ہے۔ بھگوا بیگ کالج میں آتے ہی اس کی مخالفت بھی شروع ہو گئی ہے۔ بریلی کالج میں سیلف فنانس کورس کے طلبا کو تقسیم کرنے کے لیے بھگوا رنگ کا بیگ تیار کیا گیا ہے۔ بیگوں کا رنگ دیکھ کر طلبا کے ایک گروپ نے ہنگامہ آرائی کی اور بیگوں کو نذرِ آتش کرنے کی دھمکی بھی د ی۔ بریلی کالج میں اتوار کو طلبا کے دو گروپ پہنچے اور دونوں نے خوب ہنگامہ کیا۔ دونوں گروپ نے پرنسپل کا محاصرہ بھی کیا۔ ’سماجوادی چھاتر سبھا‘ نے بھگوا رنگ کے بیگ تقسیم کیے جانے کی مخالفت کی جب کہ اے بی وی پی نے بھگوا بیگ تقسیم کیے جانے کی حمایت میں آواز اٹھائی۔ ہنگامہ بڑھتا ہوا دیکھ کر کالج میں پولیس کو بلانا پڑ گیا لیکن پولیس کے پہنچتے ہی طلبا کا غصہ مزید بڑھ گیا۔ سماجوادی چھاتر سبھا کا مطالبہ ہے کہ بیگ کا رنگ بدلا جائے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو وہ سبھی بیگوں کو آگ کی نذر کر دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر بار نیلے رنگ کا بیگ طلبا کو دیا جاتا تھا، لیکن اس بار بھگوا رنگ کا بیگ دیا جا رہا ہے۔ بریلی کالج کے بی بی اے، بی سی اے، ایم لب، بی لب اور ڈپلوما کورس سمیت سبھی سیلف فنانس کورس کے طلبا کو ہر سال کالج کی طرف سے بیگ دیا جاتا ہے۔ سرکاری فرمان کی تعمیل کرنے کو مجبور پرنسپل اجے شرما کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ ’’ہر سال بچوں کو بیگ دیے جاتے ہیں، اس بار بھی بیگ دینے کے لیے منگائے گئے ہیں۔ اس میں کوئی ایسی وجہ نہیں ہے کہ احتجاج کیا جائے۔‘‘ہندو انتہا پسندی کی ایک اور مثال تاج محل میں توڑ پھوڑ ہے۔ بھارتی انتہا پسند تنظیم وشوا ہندو پریشدکے ایک گروہ کی جانب سے مغل حکمران شاہجہاں کے تعمیر کردہ شاہکار تاج محل کا مغربی دروازہ تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ انتہا پسندوں کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ آرکیالوجیکل سروے انڈیا (اے ایس ائی) کی جانب سے تاج محل کے لیے کی جانے والی ایک تعمیر سے 400 سال پرانے شیو مندر کا راستہ بند ہورہا ہے۔ وی ایچ پی کے کارکنوں نے ہتھوڑے اور لوہے کی سلاخیں ہاتھوں میں لیے تاج محل کی مغربی داخلی راستے پر موجود بسائی گیٹ پر توڑ پھوڑ کی۔مشتعل افراد نے اے ایس آئی کی جانب سے نصب کردہ گھومنے والا دروازہ اکھاڑ پھینکا اس دوران وہ شدید نعرے بازی بھی کرتے رہے، جبکہ پولیس نے انہیں آگاہ بھی کیا کہ بسائی گیٹ سے سدہیشور مہادیو مندر جانے کے لیے متبادل راستہ موجود ہے، لیکن مشتعل افراد اس وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئے۔ اے ایس آئی نے توڑ پھوڑ کرنے والے وشوا ہندو پریشد کے 5 افراد سمیت معاونت فراہم کرنے والے 20 سے 25 افراد کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا، جس کے مطابق مشتعل افراد نے سرکاری اہلکاروں کو ان کے فرائض کی انجام دہی سے روکنے اور پبلک پراپرٹی کونقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہیں تاج محل کی حفاظتی پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی اور مشتعل افراد کو مزید توڑ پھوڑ کرنے سے روک دیا۔ ملزمان نے کہا کہ اے ایس آئی تاج محل کے اطراف سے ہندو ثقافت سے منسلک تمام چیزیں ختم کررہی ہے جس کے باعث ہم نے یہ قدم اٹھایا۔ان کا کہنا تھا کہ آج سے 15 سال قبل مغربی دروازے پرساتسنگ ہوا کرتا تھا جسے روک دیا گیا، جبکہ تاج محل کے قرب و جوار میں دسہرے کی تقریبات سے بھی منع کردیا گیا، جبکہ پہلے لوگ تاج محل کے قریب موجود آملہ کے درخت پر آملہ نوامی کی رسم ادا کرتے لیکن اے ایس آئی نے اس درخت کو بھی کاٹ دیا۔ملزمان کا مزید کہنا تھا کہ مذکورہ علاقے میں آج سے 14، 15 سال قبل بہت سی چیزیں ہوتی تھیں، لیکن سماج وادی پارٹی، اور بہوجن سماج پارٹی کی حکومت میں سب ختم کردیا گیا، لیکن ہم مزید ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اے ایس آئی دعوی کررہی ہے کہ مندر جانے کا متبادل راستہ موجود ہے، جبکہ وہ انتہائی تنگ پگڈنڈی ہے جس پر پیدل سفر بھی دشوار ہے، اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور اے ایس آئی میں بات چیت جاری ہے ہمیں امید ہے کہ کوئی حل نکل آئے گا۔یہ حقیقت ہے کہ ہندو انتہا پسندوں کا ہدف صرف مسلمان اور سکھ نہیں نچلی زات کے ہندو اور مسیحی بھی نشانے پر ہیں۔ مدھیہ پردیش، کیرالہ، کرناٹکہ، اوڑیسہ، گجرات میں مسیحیوں پر زندگی تنگ کی جارہی ہے۔ وشواہندو پریشد کے غنڈے مسیحی آبادیوں پر حملے کر رہے ہیں اور چرچ اور مسیحیوں کی املاک کو تباہ کر رہے ہیں مگر ان کو روکنے والا کوئی نہیں۔ 2014 میں عین کرسمس کے دن کھرگون، کھنڈوا اور ہرہانپور کے مسیحیوں پر منظم حملے کئے گئے۔ کشمیری مسلمانوں کا قتل عام ساری دنیا دیکھ رہی ہے مگر پوری دنیا کے ممالک نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ بھارت اس وقت مکمل انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں جا چکا ہے اور بھارت کا سیکولرازم کا چہرہ مسخ ہو چکا ہے۔ حیرت ہے کہ پوری دنیا کو پرامن بنانے کی جدو جہد کا دعوی کرنے والا ملک امریکہ جس نے کل تک تو نریندر مودی کو اس کی انتہا پسندی کی بنا پر امریکہ کا ویزا دینے سے انکار کیا تھا آج وہی امریکہ بھارت کے کہنے پر کشمیر میں آزادی کی جدو جہد کرنے والے فریڈم فائٹر سید صلاح الدین کو دہشت قرار دیتا ہے۔ دنیا کا امن اسی صورت قائم رہ سکتا ہے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسندی کے جن کو بوتل میں بند کیا جائے۔ مذہبی اقلیتوں پر تشدد، ان سے ناروا سلوک زبردستی مذہب کی تبدیلی اور ان کو خوف وہراس کا نشانہ بنانا کوئی نئی بات نہیں۔ اس حقیقت کو آشکار کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے کہ اس کا ذمہ دار بھارت کا غیر مستعد عدالتی نظا م ہے جہاں ان قوانین کو عمل پیرا نہ کروانے میں حکومتی سرکار ملوث ہے۔ اسکے باوجود بھارت دنیا کے سامنے سیکولر ملک ہونے کا دعوی کرتا ہے۔ بھارت کی سیاسی جماعتیں اور میڈیا دنیا کے سامنے اقلیتوں کو ان کے حقوق کی فراہمی کا پرچار کرتی ہیں جبکہ پاکستان کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہاں اقلیتوں کو انکے بنیادی حقوق فراہم نہیں کیے جا رہے۔ حقوقِ انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی اور مذہبی اقلیتوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔تنظیم کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ورلڈ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت میں حکومت کے ناقد سول سوسائٹی کے گروپوں کو نہ صرف فنڈنگ کی بندش بلکہ بڑھتی ہوئی پابندیوں کا بھی سامنا ہے۔ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے تنقید کو دبانے کی کوشش ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی کی قدیم روایت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ بھارت میں حکمران جماعت کے کچھ رہنماؤں کی جانب سے مسلم مخالف بیانات کا چلن تشویش ناک ہے اور اس سے مذہبی اقلیتوں میں عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے۔جب بھارت میں چار مسلمانوں کو گائے مارنے کے شبہ میں ہلاک کیا گیا تو اس کے خلاف مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے آواز اٹھائی لیکن بی جے پی کے کچھ رہنماؤں نے اس پر مشتعل ہو کر جو بیان دیے اس سے آواز اٹھانے والے افراد کو بھی دھمکی آمیز پیغامات ملنے لگے۔رپورٹ میں گرین پیس انڈیا کا حوالہ دے کر کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے مذکورہ تنظیم کے علاوہ فورڈ فاؤنڈیشن سمیت کئی دیگر تنظیموں کو نشانہ بنایا ہے اور ان کی غیر ملکی امداد روک دی گئی ہے۔

 

متنازعہ کشن گنگا ہائیڈروالیکٹرک پراجیکٹ

بیس بائیس کروڑپاکستانیوں کو پانی کی بوند بوند سے ترسادینے کی دھمکیاں دینے والامودی بھارت میں بیٹھا ہواپاکستان دشمنی کی اپنی مذموم پالیسیاں اور چالیں چل رہا ہے اْسے تو ہم بعد میں پوچھ لیں گے دیکھ لیں گے، لیکن ہم اپنی آستینوں میں چھپے ہوئے اْن زہریلے سانپوں سے پہلے نمٹ لیں جو پاکستان میں رہتے بستے ہیں یہاں کاروبار بھی کرتے ہیں اْس پر طرہّ یہ کہ وہ یہاں کی صوبائی اور قومی سطح کی سیاست میں بھی حصہ لیتے رہیں کسی کا بھائی بلوچستان میں گورنر ہے دیگررشتہ دار بلوچستان کی صوبائی کابینہ میں وزیر رہے ہیں پوچھنا قوم یہ چاہتی ہے قیامِ پاکستان سے اب تک خیبرپختونخواہ صوبے کے کچھ ایسے سیاست دان بھی آجکل مودی جیسی ہی زہریلی بولیاں کیوں بول رہے ہیں جو پاکستان میں میگا ڈیم بنانے والوں کونشانِ عبرت بنانے کی دھمکیاں دیں پاکستانی قوم سنے ‘قیامِ پاکستان سے ا ب تک ذراکوئی بتائے توسہی ہمیں گزرے حکمرانوں نے (چاہے وہ فوجی عہد کے حکمران ہوں یا جمہوری دورکے) دوبڑے ڈیمز کے علاوہ کوئی اورنیاڈیم پاکستان کے کسی حصہ میں کیوں نہیں بنایا گیا مودی بھی ہمیں پانی کی بوند بوند کے لئے تراسے گا اور ہمارے ناعاقبت اندیش غیروں کے آلہِ کار ملکی مقتدر عہدوں پر فائز ہونے والے سیاست دان بھی پاکستان کی قومی زندگی کا دانہ پانی بند کرنے جیسی غیرانسانی پالیسیاں اختیار کریں اور ہمیں آنکھیں دکھائیں واہ بھئی واہ یہ خوب رہی؟جدید سانئس نے پانی اور توانائی کو ایک دوسرے سے مشروط کرکے دنیا بھر میں انسانوں کی فلاح کے کیسے کیسے محیرالعقل ترقی یافتہ میگا منصوبہ کھڑے کردئیے ہم ہاتھوں پر ہاتھ دھرے تماشائی بنے بیٹھے ہوئے ہیں جنہیں ہم حکمرانی کا حق تفویض کریں اقتدارمیں آنے کے بعدوہ ہی حکمران پاکستانی قوم سے اْن کی زندگیوں کے بنیادی حقوق سے اْنہیں محروم کردینے کی سازشوں میں شریک ہو جائیں کیا ایسا ممکن ہے جی ہاں!پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے یہی عجب انسانیت کش تماشا جاری ہے دریاقوموں کی ثقافتی تہذیب کے ہمیشہ امین کہلائے کسی قوم نے کبھی اپنے دریاؤں کا سودا نہیں کیا اگر کہیں بین الااقوامی اصولوں کے تقاضوں کومدِ نظررکھ کسی غیرممالک کے سرحدوں سے بہہ کرقدرتی بہاؤ کی جانب آنے والے دریاؤں کے پانی کے تقسیم کا کوئی معاملہ درپیش آیا بھی تواْوپر سے آنے والے دریاؤں کے زیریں حصے کے حق کوزیادہ تسلیم کیا گیا لیکن افسوس صدہا افسوس! ہمارے ماضی کے حکمرانوں نے دریاؤں کے پانی کی تقسیم میں متذکرہ بالاآبی قوانین کے عالمی اصول و قواعدآبی پرپاکستانی مفادات کے پیشِ نظرجتنے گہرے وعمیق تحفظات رکھنے تھے نہیں رکھے گئے جس کا خمیازہ پاکستانی قوم آج تک بھگت رہی ہے’ کہتے ہیں دوسری جنگِ عظیم میں اتحادی افواج کوفتحیاب کرانے میں واشنگٹن اسٹیٹ میں جولائی 1933 سے تعمیرہونے والے’گرینڈکولی ڈیم’کا کلیدی رول تھا ریٹائرڈ کرنل عبدالرزاق بگتی نے اپنی کتاب’پاکستان کے آبی وسائل’میں لکھا ہے’4 اکتوبر1941 میں دوسری عالمی جنگ میں امریکا کی شمولیت سے دوماہ قبل ‘گرینڈلی کولی ڈیم’مکمل ہوگیا تھا ڈیم کی پن بجلی گھر کی پیداکردہ بجلی کواستعمال کرکے ایٹمی پروگرام کو ترقی دی اور امریکا ایٹمی قوت ملک بن گیا گرینڈلی کولی ڈیم نے ابتداء ہی میں 8609 میگاواٹ بجلی پیداکرنا شروع کردی تھی امریکا کی معیشت میں امریکی زراعت میں گرینڈلی کولی ڈیم نے تاریخ ساز کرداراداکیا ہے ذراہم اپنے پڑوسی ممالک پرہی ایک نگاہ ڈال لیں بھارت نے اپنے قیام کے بعد سے اب تک 400سے زائد ڈیم بنائے ہیں20 سے زیادہ طویل القامت بڑے ڈیم بنائے ہیں بھارت چونکہ ہمارا ازلی بدترین دشمن پڑوسی ملک ہے جوپاکستان کوہمہ وقت پریشان و ہراساں کئے رکھنے کی دشمنی کی اپنی پالیسی کو چھوڑنانہیں چاہتا،لہٰذانئی دہلی سرکارنے مقبوضہ کشمیر کے اہم مسئلہ کو پسِ پشت ڈالنے کیلئے پاکستان کے ساتھ مختلف نوعیت کے گنجلک پیچیدہ سرحدی تنازعات اور آبی مسائل کھڑے کرد ئیے ہیں مسئلہِ کشمیر پر مذاکرات تو نئی دہلی نے کرنے نہیں انڈس واٹرٹریٹی کی کھلی خلاف ورزی کا بھارت اورمرتکب ہوگیا بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے نکل کر پاکستان میں داخل ہونے والے دیگر دریاؤں کے علاوہ دریائےِ نیلم کے پانی کے تیز بہاؤکو بھی روک کرایک ایسی نہر نکال لی ہے جس پربھارت نے کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کا متنازعہ پراجیکٹ شروع کیا ہوا ہے بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق بھارت کا یہ متنازعہ منصوبہ پایہِ تکمیل کو پہنچ چکا ہے یہاں کوئی یہ نہ بھلائے کہ مقبوضہ کشمیر کا دوطرفہ علاقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے رْو سے تاحال ’اسٹیٹس کو‘ کی حالت میں ہے رواں برس18 فروری کومقبوضہ کشمیر کے’اسٹیٹس کو’کی حیثیت کومزید دیدہ دلیری سے مجروح کرنے کی نیت سے عالمی ثالثی عدالت میں کشن گنگا ہائیڈروالیکٹرک پراجیکٹ کے تنازعہ پراْٹھائے پاکستان کے اعتراض پرکوئی موثرجواب داخل نہیں کرایاعالمی ثالثی کورٹ میں اپنے فرسودہ بہانوں کی حیلہ سازیوں کاسہارا لیااور یہ جواز گھڑا کہ اْسے کشمیرمیں انسانی استعمال کیلئے توانائی کی ضرورت ہے، عالمی ثالثی عدالت کا پاکستان نے احترام کیا اِس کی اتھارٹی کو تسلیم کیا ہے، عالمی عدالت کی غیر جانبدارمعائنہ ٹیم کے معزز اراکین کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے وہ معلوم کرئے کہ کشن گنگا ہائیڈروالیکٹرک پراجیکٹ سے پیدا کی جانے والی 330 میگاواٹ بجلی کی کھپت کیا کشمیر کی حدود میں ہی استعمال ہورہی ہے یا مقبوضہ کشمیر کی حدود سے باہر کشمیر کے قیمتی پانی سے بنائی جانے والی بجلی کا استعمال تو نہیں کیا جارہا ؟مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا قبضہ بھی ناجائز ہے ،مقبوضہ کشمیر کے وسائل کو بھارت اپنے فائدوں اور اندرونی مفادات کیلئے بھی استعمال نہیں کرسکتاکشن گنگا ہائیڈروالیکٹرک پراجیکٹ ایک متنازعہ منصوبہ ہے جو دریائے نیلم میں اُوپر سے نیچے آنے والے علاقوں کیلئے پانی کا واحد ذریعہ ہے ،نئی دہلی کو حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اِس انسانی مسئلہ پر پاکستان کے آبی مسائل کی آڑ میں اپنی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم چلائے’را‘ نے بیرونِ ملک بھی پاکستانیوں کو پانی جیسی انسانی ضروریات سے تہی دست کرنے کے مذموم مقاصد کیلئے اپنے آلہِ کار کھلے چھوڑے ہوئے ہیں اور ’را‘خود بھی عالمی ثالثی عدالت کے روبرو تسلیم شدہ فیصلوں کے کھلی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہے یہاں پاکستانی جمہوری سیاست دان اپنے ہی ملک کے عوام کو ’ڈیم‘ جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھنے کی مذموم سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

 

 

 

اگست بانی پاکستان کی تقریر،مذہبی آزادی اور پاکستان

syed-rasool-tagovi

’’آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی یہ الفاظ اس تقریر کا ایک طرح خلاصہ ہیں جو انہوں نے 11اگست 1947 کو پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی سے اپنے صدارتی خطبے میں کہے تھے۔قائد اعظم ؒ کی اس تقریر کو بعض مخصوص مائنڈ رکھنے والے دانشور اس زاویے سے پیش کرتے ہیں کہ جیسے قائداعظم پاکستان کو ایک سیکولر سٹیٹ بنانے کے خواہاں تھے لیکن بدقسمتی سے وہ آپؒ کی دیگر تقاریر خطابات اور مراسلات کو یکسر نظر انداز کر کے نئی نسل کو ابہام اور تشکیک کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔قائداعظم ؒ کا یہ فرمانا کہ تمہارے شخصی طور پر اپنی عبادت گاہوں میں جانے سے ریاست سے کوئی تعلق نہیں، اس کا مطلب ہے کہ تم مندر میں جاؤ یا چرچ میں اس میں تم آزاد ہو، ریاست تمہیں اس معاملہ میں نہیں روکے گی۔اپنے دین پر شخصی اعتبار سے عمل کرنے میں تم آزاد ہو۔آج کیا ریاست نے ملک میں کسی اقلیت پر ایسی قدغن لگا رکھی ،تو ایسا بالکل نہیں ہے۔پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 20 میں بھی اس بات کی مکمل ضمانت دی گئی ہے۔پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں میں سب سے زیادہ تعداد ہندوؤں کی ہے۔ مسیحی آبادی کے اعتبار سے دوسری بڑی اقلیت ہیں جبکہ انکے علاوہ سکھ، پارسی، بودھ اورکیلاشی نمایاں ہیں۔سب اپنی اپنی رسومات آزادانہ طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ ہولی اور کرسمس جیسی تقریبات آزادانہ منعقد ہوتی ہیں حتیٰ کہ کئی ملکی شخصیات ان میں شریک بھی ہوتی ہیں۔تاہم جو مائنڈ سیٹ اس کا پروپیگنڈا کرتا ہے وہ کسی ذاتی مفاد کے ہاتھوں مجبور ہے اور ایک عام آدمی بھی انہیں پہچانتا ہے۔ہماری ان سے صرف اتنی گزارش ہے کہ آپ جس اپنے’ ماسٹر‘ کی خوشنودی کے لیے ایساکرتے ہیں ذرا ادھر بھی جھانک لیں کہ وہاں اقلیتوں کیساتھ ہو کیا رہا ہے۔ سرکاری سرپرستی میں گاؤ رکشا مہم کو ہی لیں تو انسانیت کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔بھارت میں مذہبی آزادی پر قدغنوں پر عالمی ادارے بھی تنقید کرتے ہیں ۔مگر وہاں کا میڈیا چپ رہتا ہے جو بولتا ہے اس کی بولتی بند کردی جاتی ہے۔رواں برس اپریل کے اواخر میں رپورٹرز وِدآٹ بارڈرز نے پریس فریڈم انڈکس 2018ء جاری کیا تھا، جس میں دنیا کے 180ممالک میں میڈیا کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے درجہ بندی کی گئی تھی۔ جس کے مطابق ناروے پہلے سویڈن دوسرے اور ہالینڈ تیسرے نمبر ہے۔انڈکس کے مطابق جنوبی ایشیائی ممالک کی درجہ بندی میں بہتری کم دکھائی دیتی ہے اور میڈیا مشکلات سے دوچار ہے۔سب سے بدترین صورتحال بنگلہ دیش اور بھارت میں ہے۔انڈکس میں اس حوالے سے بھارت کی دو درجے تنزلی دکھائی گئی ہے جبکہ پاکستان کی سابقہ پوزیشن برقرار ہے یعنی بین الاقومی رپورٹ اس تاثر کو مسترد کرتی جو مقامی طور میڈیا کے ایک سیکشن نے کسی ایجنڈے کے تحت آزادی صحافت پر زبان بندی کا شور مچا رکھا ہے۔رپورٹ میں سیلف سینسر شپ کی بات کی گئی ہے گئی ہے جسے منفی معنوں میں لیا جا رہا ہے۔یہ سیلف سینسر شپ در حقیقت احساس ذمہ داری ہے جسے یورپ اور مغرب میں پریکٹس کیاجا رہا ہے۔دوسری طرف ہمارے پڑوسی ممالک بھارت اور بنگلہ دیش میں آزادی صحافت سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے۔بلاشبہ چند برس میں بھارتی میڈیا انڈسٹری نے تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ اس پر سیاسی دبا ؤمیں اضافہ ہو رہا ہے،خصوصاً مودی حکومت میں میڈیا پرسن کو بی جے پی کے انتہا پسندوں کے ہاتھوں شدید خطرات لاحق ہیں ۔ح ال ہی میں’ اے بی پی‘ ایک نیوز چینل سے وابستہ دو معروف صحافیوں نے استعفے دے کر کئے سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق چینل چھوڑنے والوں میں کھانڈیکر اور پنیا پراسون باجپائی شامل ہیں۔یہ نیوز شو ’ماسٹر اسٹروک‘ کے میزبان تھے۔ان دونوں کے استعفیٰ دینے کی وجہ ایک رپورٹ بنی جو گزشتہ ماہ اس چینل نے نشر کی تھی۔رپورٹ میں بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ایک گاؤں کے رہائشی کی کہانی سنائی گئی تھی جس نے بتایا کہ حکومتی اہلکاروں نے اسے یہ جھوٹ بولنے کو کہا تھا کہ اس نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی دیہاتیوں کیلئے شروع کردہ ایک اسکیم سے فائدہ اٹھایا تھا۔ رپوٹ نشر ہونے کے بعد حکمران جماعت بی جے پی اس ٹی وی چینل پر اتنا آگ بگولہ ہوئی کہ دو میڈیا پرسن کو الگ ہونا پڑا۔پاکستان میں ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہوا۔بتایا جاتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی اس چینل نے اینکر ابھیشر شرما کو بھی اس لیے آف ایئر کر دیا تھا کیوں کہ انہوں نے بھی مودی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی میڈیا کو جس دباؤ کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔بھارت میں صحافتی حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ رجحان پریشان کن ہے ۔سیاسی جماعتوں کے کارکن اور سوشل میڈیا ونگ صحافیوں کو منظم انداز میں ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ایسے ماحول میں غیر جانبدارانہ صحافت کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ ادھراپوزیشن پارٹیوں نے مودی حکومت پر ملک میں میڈیا کا گلا گھونٹنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اے بی پی نیوز کے دو سینئر صحافیوں کے استعفیٰ کے معاملہ کو پارلیمنٹ میں اٹھا دیا۔اس سے معاملے کی لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ملک ارجن نے حکومت پر میڈیا کو دھمکا نے کاالزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چند برسوں میں حکومت کی جانب سے میڈیا کا گلا دبانے کے متعدد معاملات سامنے آچکے ہیں اور خاص کر بی جے پی حکومت کی کارکردگی کو دکھایا جاتا ہے تو میڈیا کو دھمکایاجاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں اظہار رائے کی آزادی نہیں رہے گی تو ہم کیسے بولیں گے ؟تاہم حکومت کی طرف سے جواب دیتے ہوئے اطلاعات و نشریات کے وزیر راج وردنے سنگھ راٹھور نے اس کی تردید کی اور کہا کہ اے بی پی نیوز غلط خبر نشر کرتا ہے ۔جبکہ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اس مسئلہ پرمودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناچکے ہیں ۔مختصر یہ کہ ہمارے لبرل حلقے خوامخواہ آزاد خیالی کے چکر میں ہلکان نہ ہوں بلکہ اللہ کا شکر کریں کہ وہ ایک ایسے ملک میں ہیں جہاں مذہبی آزادی ہو یا میڈیا کی آزادی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔آج 11اگست ہے،لبرل دانشوروں سے عرض ہے کہ وہ تعصب کی عینک ایک طرف رکھ کر بانی پاکستان کے جملہ فرمودات کا مطالعہ فرما لیں،ہو سکتا ہے کہ کوئی بہتر رہنمائی مل جائے۔

ملکی ضرورت

Mian-Tahwar-Hussain

ہم ماشاء اللہ ایسی قوم ہیں جو کسی بھی مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی مشکلات ناگہانی سرپر پڑ جائیں تو پھر عمل کی بجائے پہلے دعاؤں کا سہارا لیتے ہیں کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے اور ہمیں اس مشکل سے نکال لے عمل کی طرف آنے میں کتراتے ہیں ۔ کھابے کھانے سے فرصت نہیں ملتی پورے ملک میں اتنی فوڈ سٹریٹس قائم ہوچکی ہیں کہ حلال جانور بھی پناہ مانگتے ہونگے کہ کیا مصیبت ہے یہ قوم روزانہ ہماری نسل کی واضح تعداد نگل کر فضلہ بناتی رہتی ہے۔ ہنسی مذاق قہقہے اور کھانا زندگی کا اہم مشغلہ بن چکا ہے ، پانی جو زندگی کی بنیاد ہے اسکے کم ہونے یا ضیاع ہونے یا پھر سیلاب کی صورت اختیار کرنے پر کوئی توجہ ہی نہیں دیتے نہ وافر پانی کو ذخیرہ کنے کی سہولتیں قائم کیں اور نہ ہی اس نعمت خداوندی کے کم ہونے کی صورت میں لائحہ عمل مرتب کیا گیا۔ اللہ کے خزانوں میں کبھی کمی نہیں آسکتی زمین پانی پر ہی قائم ہے لیکن جب اس کا بے دریغ استعمال کیا جائے تو پانی کی سطح کئی کئی فٹ نیچے چلی جاتی ہے ، میں نے پہاڑی علاقوں میں دیکھا ہے خواتین کئی کئی میل دور جاکر مشکل راستوں سے گزر کر دو گھڑے پانی سر پر رکھ کر گھر لاتی ہیں مجھے یقین ہے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں رہنے والے جی بھر کے پانی بھی نہیں پیتے ہونگے کیونکہ اسکا انتظام کرنا دودھ کی نہر بہانے سے کم نہیں ، کسی چیز کیلئے ہمارے بڑے جن کو اللہ نے عقل سمجھ بوجھ اختیارات دے رکھے ہیں وہ بجلی پانی اور ڈیمز بنانے کیلئے کئی کئی گھنٹے کی میٹنگ کرتے ہیں اور ان شعبوں میں نہ ختم ہونے والی کمی پر قابو پانے کیلئے تجاویز پر مشتمل موٹی موٹی کتابیں چھاپ دیتے ہیں لیکن نہ تو ان تجاویز پر عمل ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ان زخم سفارشات کو غور سے پڑھنے کی زحمت گوارا کرتا ہے۔ اکثر معاملات سیاسی رنگ اختیار کرلیتے ہیں اورپھر صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے بیانات آنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ کالا باغ ڈیم اسکی ایک واضح مثال ہے، کئی ممالک نے بجلی پانی اور ڈیمز جنکا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے خصوصی توجہ اور وسائل کو مختص کرنے کے بعد ملکی معیشت کو استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا ، ہمارے ہاں ماہرین اگرچہ پانی کو ذخیرہ کرنے اور ڈیمز بنانے کی ضرورت پر توجہ مبذول کراتے رہے ہیں لیکن حکومتی بے بسی اور غفلت کی وجہ سے صوتحال خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ اگرچہ حکومتیں بڑے بڑے دعوے کرتی رہیں لیکن حقیقی اقتصادی ترقی دیکھنے کو نہ ملی تاکہ زراعت اور صنعت مضبوط ترین ہوکر عوامی زندگی میں ترقی اور خوشحالی کے بند دروازے کھول سکتی ۔ غربت کی لکیر سے نیچے جانے والوں کی تعداد کم ہوتی ، تعلیم صحت کی وافر سہولتیں ہر فرد کو میسر آسکتیں ، آپکو یقیناً یاد ہوگا کچھ عرصہ ہوا ایک رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ ملک میں ڈیمز کی تعداد نہ بڑھنے کی وجہ سے اور پانی کی سطح تیزی سے کم ہونے کی صورت میں ملک میں ایسے حالات پیداہونے کے خدشات ہیں جسکی وجہ سے سرسبز اور شاداب علاقے ریگستان میں تبدیل ہوسکتے ہیں ۔ حکومتی عدم دلچسپی اور توجہ نہ دینے کی روش نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو بھی پریشان کردیا اور انہوں نے اسے انسانی بنیادی حقوق اور اجتماعی مفاد عامہ کے تحت خصوصی توجہ دی ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بجلی پانی اور ڈیمز کی تعمیر جیسے معاملات ملک کی سلامتی اور بقاء کے موضوع ہیں ۔ ہندوستان جو پاکستان کا ازلی دشمن ہے اس نے ہمیشہ فوجی جارحیت کا ارتکاب تو کیا ہی ہے لیکن اب وہ پانی کو روک کر پاکستان کے علاقوں کو بنجر بنانے کی کوشش میں ہے۔ اس دشمن ملک کی جارحیت اب ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ دریائی پانی کے حوالے سے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی ناکام کوششیں بارشوں کے پانی کو ذخیرہ کرنے میں ہماری غلطیوں اور عدم توجہی نے اور مشکلات پر قابو پانے کی بجائے بڑی حد تک اضافہ کیا ہے اب ہم اس مقام پر آچکے ہیں جہاں نہ صرف ہماری زرخیز زمینیں بنجر ہونے کے خدشات سے دوچار ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انسانوں اور جانوروں کیلئے بھی پانی کی کمی کے خوفناک سائے منڈلا رہے ہیں، کراچی اس صورتحال کی ایک واضح تصویر ہے جہاں پانی کا ایک برتن بھرنے کیلئے لوگ مارے مارے پھرتے ہیں۔ واٹر مافیا منہ مانگی قیمت وصول کررہا ہے کوئٹہ میں زیر زمین پانی کم ترین سطح پر ہے ایسی صورتحال میں بجلی پیدا کرنے میں بھی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں ، پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کے نرخ دو روپے فی یونٹ ہوسکتی ہے اوردیگر ذرائع سے حاصل کی گئی بجلی کی قیمت فی یونٹ گیارہ روپے کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ کالا باغ ڈیم جوکہ ملکی ضرورت ہے اسے سیاست کے غلاف سے الگ کرکے دیکھنا ہوگا سیاسی راہنماؤں کو صوبائی سیاست سے آگے بڑھ کر ملکی معیشت اور اسکے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ امریکہ اوربھارت کی مشترکہ کوششوں سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے ایسی صورتحال سے نہ صرف سفارتی بلکہ عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہے تاکہ ایسے الزامات کا واضح اور مثبت توڑ کیا جائے ۔ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے اور دشمنوں کے عزائم ہمیشہ خاک میں ملتے رہیں۔

 

 

مکڑی کا زہر بچوں کی مرگی کے علاج میں مددگار ثابت

برسبین: ایک قسم کی مکڑی میں پایا جانے والا زہربچوں کی ایک خاص مرگی کےعلاج میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بچوں میں پائی جانے والی مرگی کی ایک خاص اورنایاب قسم ’ڈراوٹ سنڈروم‘ کا علاج بہت مشکل ہوتا ہے لیکن مکڑی کے زہرمیں موجود ایک پیپٹائیڈ ’ایچ ایم ون اے‘ اس کیفیت کو دورکرنے میں اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

اگرچہ بہت کم بچوں میں یہ مرض ہوتا ہے لیکن بہت چھوٹی عمرمیں لاحق ہونے والی یہ کیفیت کئی دوائیوں کو بے اثر کرکے بچوں اوروالدین کی پریشانی کی وجہ بن رہی ہے۔

ڈراوٹ سنڈروم کے ساتھ پیدا ہونے والے بچے شروع میں صحتمند ہوتے ہیں لیکن اپنی پیدائش کےچند ماہ بعد پانچویں یا آٹھویں مہینے میں ان پرمرگی کے دورے پڑنے لگتے ہیں اورپورا جسم جھٹکوں سے نڈھال ہوجاتا ہے۔ اس سے بچوں کی نیند متاثرہونے کے علاوہ اچانک موت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

15 سال سے کم عمرمیں مرگی کے شکارڈیڑھ فیصد بچے ڈراوٹ سنڈروم سے متاثرہوتے ہیں۔ ان میں سے 80 فیصد بچوں کے جین ’ایس سی این ون اے‘ میں تبدیلی ہوتی ہے۔ اس طرح دماغ میں سوڈیم چینل متاثر ہوتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ کے ماہرین نے چوہوں کو پہلے ڈراوٹ سنڈروم جیسی کیفیت سے بیمار کیا اوران پرٹوگو اسٹاربرسٹ ٹورنٹیولا مکڑی کے زہر میں موجود ایچ ایم ون اے پیپٹائیڈ کو آزمایا تو اس سے برآمد ہونے والے نتائج سے سائنسداں حیران رہ گئے۔

مکڑی کے پیپٹائیڈ نے دماغ میں سوڈیم چینل پر اثر کیا اور دماغی خلیات کی کارکردگی بڑھائی جس کے بعد چوہوں میں مرگی کے جھٹکے بند ہوگئے۔ واضح رہے کہ تمام چوہوں میں ایس سی این ون اے جین کو تبدیل کرکے انہیں مرگی کا شکار بنایا گیا تھا۔

اس کے بعد مسلسل علاج سے نو میں سے چھ چوہوں میں مرگی کے دورے مکمل طور پر بند ہوگئے کیونکہ پیپٹائیڈ نے مؤثر انداز میں انہیں بہتر کردیا تھا۔ اس تحقیق کی تفصیلات پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسِس میں شائع کرادی گئی ہیں۔ ماہرین پرامید ہیں کہ اس دریافت کےبعد انسانوں میں ڈراوِٹ مرگی روکنے کی مؤثر دوا بنائی جاسکے گی۔

عمران خان کاپنجاب کی پارلیمانی پارٹی سے مدلل خطاب

adaria

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور نامزد وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب تیار رہیں کیونکہ نئے پاکستان کا آغاز پنجاب سے ہوگا، صوبے میں ایسا نوجوان اور کلین وزیراعلیٰ لاؤں گا جس پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہوگا، پنجاب میں حالیہ انتخابات پانی پت جنگ جیسے تھے لیکن اس انتہائی مشکل انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے پر میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہمیں پنجاب کے لوگوں کو ریلیف دینا ہے جبکہ پنجاب پولیس کو غیر سیاسی اورخودمختار بنائیں گے، چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ قابلیت اور اہلیت ریاست مدینہ کا پہلا اہم جزو تھا، قانون کی بالا دستی ریاست مدینہ کا دوسرا اہم جزو تھا، انہوں نے مزید کہا مجھے کیوں نکالا کا پورا خلاصہ یہ ہے کہ مجھ سے پوچھنے کی ہمت کیسے ہوئی۔ 1970ء کے بعد پہلی مرتبہ عوام نے نظریے کو ووٹ دیا۔ پنجاب میں پی ٹی آئی اور ن لیگ کا مقابلہ تھا۔ کئی لوگوں کو ٹکٹ نہیں دیے اور وہ آزاد جیت گئے۔ملک میں دو قسم کی سیاست ہے، پہلی ذاتی سیاست جو صرف پیسہ کمانے کیلئے ہے، اس نے لوگوں کو ذلت دی کیونکہ لوگ عوام کا نام لے کر اقتدار میں آ کر اپنی ذات کا سوچتے ہیں۔ دوسری سیاست وہ ہے جو پیغمبروں نے کی، سارے پیغمبر انسانیت کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، میں لوگوں سے وعدہ کر کے آیا ہوں کہ مدینہ کی ریاست بنانی ہے۔ عمران خان نے کہاکہ میں چاہتا ہوں پی ٹی آئی ایک ادارہ بنے، ہمیں ٹکٹ دینے کے عمل کو بہتر بنانا ہو گا، ہم میرٹ پر ابھی سے آئندہ الیکشن کی تیاری کریں گے جبکہقائم مقام امریکی سفیر جان ایف ہوور کی قیادت میں امریکی سفارتی وفد نے بنی گالہ میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاک امریکا تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی سفیر جان ہوور کا ملاقات میں کہنا تھا کہ پاک امریکا تعلقات کو مزید بہتر بنائیں گے۔اس موقع پر عمران خان نے کہاکہ پاکستان افغانستان میں مکمل استحکام کا خواہش مند ہے، میں نے ہمیشہ افغانستان میں سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ جنگ اور قوت کا استعمال افغانستان کے مسئلے کا حل نہیں، افغانستان کا استحکام پاکستان، امریکا اور خطے کے مفاد میں ہے، خوشی ہے کہ آج امریکا سے بھی سیاسی حل کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔پاک امریکا تعلقات نے تاریخ میں کئی اتار چڑھا دیکھے، تعلقات میں اتار چڑھا کی بنیادی وجہ دونوں ممالک میں باہمی اعتماد کا فقدان ہے، تحریکِ انصاف امریکا کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات کیلئے پرعزم ہے، ہم امریکا کے ساتھ مستحکم تجارتی اور معاشی تعلقات کو نہایت اہم سمجھتے ہیں، پاکستان کے امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات میں مزید سرگرمی وقت کا تقاضا ہے۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے وزارت عظمی کے عہدے کیلئے نامزد عمران خان کو ٹیلی فون کرکے پاک ایران تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان اور ایران محض ہمسائے ہی نہیں مذہبی اور ثقافتی بندھن سے جڑے ہیں جب کہ پاک ایران تعلقات میں مزید پختگی اور اضافے کے خواہاں ہیں۔حسن روحانی کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف کو ایران کے دورے کی دعوت دی گئی جسے قبول کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ انتقالِ اقتدار کا عمل مکمل ہوتے ہی دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ دورے کو حتمی شکل دے گی۔ پاکستان ایران سے خصوصی تجارتی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے اور پاکستان ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات میں مزید پختگی کا بھی خواہشمند ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ اس امر کے عکاس ہیں کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ کرپشن سے پاک پاکستان بنا کر دم لیں گے، بیروزگاری اور مہنگائی کے خاتمے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس وقت عوام کی نظریں نئی حکومت پر لگی ہوئی ہیں اور ان سے بہت سی توقعات وابستہ کیے بیٹھے ہیں۔ امید ہے کہ نئی حکومت اپنے منشور پر عمل پیرا ہوکر ملک و قوم کو ترقی اور خوشحالی کی طرف گامزن کرنے میں کامیاب قرار پائے گی ۔
دھاندلی کیخلاف اپوزیشن کا احتجاج
الائنس فار فری اینڈ فیئر الیکشن نے عام انتخابات 2018ء میں مبینہ دھاندلی کیخلاف الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے لیگ ن کے صدر شہباز شریف، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، امیر جماعت اسلامی سرج الحق اور اے این پی کے قائد اسفند یارولی شریک نہ ہوئے ، مظاہرین تمام رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے ریڈ زون میں داخل ہوئے اور انتخابات نہ منظور الیکشن نہ منظور کے نعرے لگائے، اپوزیشن رہنماؤں اچکزئی، شیری رحمان، ظفر الحق، سید یوسف رضا گیلانی، مولانا فضل الرحمن، احسن اقبال اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کٹھ پتلی وزیراعظم قبول ہے نہ عمرا ن خان کی حکومت چلنے دینگے ، الیکشن کے نام پر جو ناٹک رچایا گیا اسے زمین بوس کرینگے ، اداروں کو اپنے رویوں سے دستبردار ہونا ہوگا۔دوسری جانب مبینہ دھاندلی کے خلاف جے یوآئی کی جانب سے بلوچستان اور کے پی کے مختلف شہروں میں بھی مظاہرے کئے گئے، بنوں، مستونگ اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں کارکنوں نے احتجاج کیا ۔ احتجاجی سیاست جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں، الیکشن کی شفافیت پر اپوزیشن کا احتجاج اپنی جگہ لیکن انتخابی نتائج کو قبول کرلینا ہی سیاسی تدبر اور بصیرت ہے۔دھاندلی کی گردان کو اب ختم ہو جانا چاہیے۔
گلگت بلتستان آرڈر 2018 ء کی بحالی
سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان آرڈر 2018 بحال کر دیا ہے، عدالت نے وفاقی حکومت کی اپیل منظور کرتے ہوئے گلگت بلتستان کی عدالت کافیصلہ معطل کردیا۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سر براہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس پاکستان آف پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو دوسرے شہریوں کو ہیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ حکومت یقینی بنائے کہ گلگت بلتستان کے شہریوں کوبھی بنیادی حقوق میسرہوں۔سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کی عدالت کے خلاف وفاقی حکومت کی اپیل منظورکرتے ہوئے اس کافیصلہ معطل کر دیا۔گلگت بلتستان آرڈر 2018کا نفاذ رواں سال کیا گیا ہے جس کے تحت گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی اب گلگت بلتستان اسمبلی کہلائے گی۔گلگت بلتستان میں آئین پاکستان کے تحت سٹیزن ایکٹ 1951 بھی لاگو کردیا گیا ہے، 5سال کیلئے اسے ٹیکس فری زون قرار دیا گیا ہے جبکہ گلگت بلتستان چیف کورٹ کا نام تبدیل کرکے گلگت بلتستان ہائیکورٹ رکھ دیا گیا ہے۔گلگت بلتستان آرڈر 2018کے نفاذ سے گلگت بلتستان اسمبلی کو صوبائی اسمبلیوں کی طرح قانون سازی سمیت تمام اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔گلگت بلتستان آرڈر 2018کے تحت گلگت بلتستان کونسل کے مکمل خاتمے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے اسے مشاورتی کونسل کی حیثیت دیدی گئی، وزیر اعظم پاکستان کو گلگت بلتستان پر وہی اختیارات ہوں گے جو دیگر صوبوں سے متعلق حاصل ہیں۔گلگت بلتستان آرڈر کے بعد گلگت بلتستان چیف کورٹ گلگت بلتستان ہائی کورٹ میں تبدیل ہوگئی اور اس کے ججوں کی تعداد 5سے بڑھا کر 7ہو گئی جبکہ اب گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ کا چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کا ریٹائرڈ جج ہوگا۔

 

 

بھارت ، خواتین کیلئے غیر محفوظ ملک قرار

دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریہ بھارت میں خواتین کا جینا دوبھر ہوگیا۔ بھارت کو دنیا میں خواتین کیلئے سب سیزیادہ غیرمحفوظ ملک قرار دے دیا گیا۔خواتین پرتشدد اور حراساں کیے جانے والے ممالک کی فہرست میں بھارت پہلے نمبرپرہے جہاں خواتین کا استحصال سب سے زیادہ کیا جاتا ہے۔ جہاں خواتین کو ذہنی ، جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کم عمر بچیوں کے استحصال میں بھی بھارت سب سے آگے ہے جبکہ مذہبی جنونیت میں مبتلا انتہا پسند دیگرمذاہب کی خواتین کو نشانہ بنانے سے بھی نہیں چوکتے۔غیر ملکی میڈیا کو موصول پولیس ڈیٹا کے مطابق دہلی میں ہر 2 گھنٹے کے اندر ایک خاتون کو اغوا کیا جاتا ہے۔ رواں سال جون 15 تک شہر بھر میں 1ہزار 802 اغوا کے کیسز رجسٹرڈ کئے گئے۔حکومتی اعدادوشمار کے مطابق 2007 سے 2016 کے دوران بھارت میں خواتین سے جنسی واقعات میں 83 فیصد اضافہ ہوا ہے، جہاں ہر گھنٹے میں جنسی زیادتی کے 4 کیسز ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں بھارت میں ہونے والے جنسی زیادتی کے واقعات 2012 میں طالبہ کے ساتھ ہونے والے گینگ ریپ کے بعد سب سے بڑے واقعے ہیں۔بھارتی خواتین اب دارالامان میں بھی غیر محفوظ ہوگئیں۔ ہوا یوں کہ ریاست بہار میں خواتین کے ساتھ زیادتی اور گمشدگی کی اطلاعات کے بعد پولیس نے 2دارالامان بند کرادیئے۔ بھارت کی مشرقی ریاست بہارکے شہر پٹنا میں پولیس نے بے گھر خواتین کیلئے قائم دارالامان کو 11 خواتین کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات کے بعد بند کردیا۔اسی خیراتی ادارے کی جانب سے چلایا جانے والا ایک اور دارالامان نوجوان لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات پر جون میں بند کیا جاچکا ہے۔ خیراتی ادارے کے ڈائریکٹر اور9ملازمین کو زیادتی کے الزامات پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ریاستی اور وفاقی حکومتیں خیراتی ادارے کو خواتین اور لڑکیوں کیلئے دارالامان چلانے کیلئے سالانہ ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالرز فراہم کرتی ہیں۔خیراتی ادارہ چلانے والے راجیش ٹھاکر 1987 سے اس ادارے کوچلارہے ہیں اور انہیں اس سال جون کے آغاز ہی میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ممبئی میں قائم ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کو خیراتی ادارے کے آڈٹ کے دوران کچھ گڑ بڑ محسوس ہوئی جس کے بعد ریاستی تفتیش کاروں نے دارالامان کی لڑکیوں کا انٹرویو کیا اور ان میں سے زیادہ تر لڑکیوں نے جنسی زیادتی کا الزام لگایا تھا۔ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمز کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں خواتین سے متعلق سنسنی خیز انکشافات ہوا کہ 48ارکان اسمبلی خواتین سے زیادتی، زبردستی شادی، اور اسمگلنگ کے مکروہ دھندے میں ملوث نکلے اور اس میں سب سے آگے ہندو انتہا پسند ہیں۔ 12ارکان کا تعلق حکمران جماعت بی جے پی سے ہے جبکہ 7ارکان کا تعلق انتہا پسند شیو سینا سے ہے۔ بھارت میں خواتین کے خلاف زیادتیوں پر عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی ڈائریکٹرکرسٹین لیگارڈ بھی پھٹ پڑیں اور واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نریندر مودی سے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کر دیا۔ بھارت میں بے گھر بچیوں کے ایک شیلٹر ہاؤس میں تیس سے زائد لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اب بھارتی وزیر برائے اطفال نے بچوں کے ایسے شیلٹر ہاوسز میں مدد کیلئے فون اور آگاہی پوسٹر لگانے کا اعلان کیا ہے۔بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے وکیل آننت کمار کا کہنا تھا، ’’فون اور ہیلپ لائنز اس مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ یہ ایک واضح مثال ہے کہ موجودہ نظام کس قدر کمزور ہے۔صرف پوسٹر اور ٹیلی فون نمبر دے دینا ناکافی ہے۔ بچوں کو مسلسل یہ خوف رہے گا کہ وہ جونہی کال کریں گے تو شیلٹر ہاوس انتظامیہ کا پتا چل جائے گا۔ہمیں اس طرح کے بچوں کو لاحق خطرات کو تسلیم کرنا ہوگا۔‘‘ اس طرح کے چائلڈ کئیر سینٹرز میں بچوں کو بند کر دیا جاتا ہے اور ان کی مدد کے لیے کوئی ادارہ موجود نہیں ہوتا۔ نہ تو ایسے بچوں کو اپنی مرضی کے مطابق کچھ کرنے دیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی مناسب حفاظت کی جاتی ہے۔ بھارت کے حفاظتی مراکز میں جنسی اور جسمانی تشدد عام ہے۔ اس ملک کے چائلڈ کئیر ہاؤسز میں لاوارث یا پھر انتہائی غریب والدین کے بچوں کو لایا جاتا ہے۔بہار کے شیلٹر ہاؤس کو جون میں بند کر دیا گیا تھا۔ مقامی پولیس نے شیلٹر ہاؤس کے مالک سمیت دس افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔ پولیس کے مطابق جن لڑکیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، ان میں سے ایک کی عمر صرف سات برس ہے۔ عدالت میں پیش ہونے والی لڑکیوں کے مطابق انہیں باقاعدگی سے مارا پیٹا جاتا تھا اور نشہ دینے کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ ایک لڑکی کے مطابق جب اس نے انکار کیا تو اسے بھوکا پیاسا رکھا جاتا تھا جبکہ دیگر لڑکیوں کو کھانے کے بدلے کسی ایک شخص کے ساتھ برہنہ سونے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ خوف اور سزا کی وجہ سے متاثرہ لڑکیاں کسی کو شکایت کرنے سے باز رہیں۔اس سلسلے میں بھارتی حکومت نے ایک نیا قانون متعارف کروایا تھا جس کے تحت بارہ برس سے کم عمر لڑکی سے جنسی زیادتی کرنے والے کو سزائے موت دی جا سکے گی۔2016 کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں روزانہ ایک سو سے زائد خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں جنسی زیادتی کی شکار خواتین میں بچوں کی تعداد چالیس فیصد ہے۔ خواتین کے غیر محفوظ ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2016 میں ریپ کے 40 ہزار کیسز درج کیے گئے اور مودی کے دور حکومت میں ریپ کے واقعات میں ساٹھ فیصد اضافہ ہوا۔ 2012 میں دارالحکومت نئی دہلی میں ایک طالبہ کو چلتی بس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، بعدازاں طالبہ دوران علاج دم توڑ گئی تھی۔اجتماعی جنسی زیادتی کا ہدف بننے والی میڈیکل کی طالبہ پر چلتی بس پر چھ افراد نے اس وقت حملہ کیا تھا جب وہ دسمبر 2012 میں اپنے ایک مرد دوست کے ساتھ بس میں سفر کر رہی تھی۔وہ بعد ازاں اس حملے کے دوران نازک اعضا پر لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئی تھی۔ بھارت میں مسئلہ صر ف یہ نہیں ہے کہ لڑکیوں اور خواتین کو جنسی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان واقعات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔دہلی میں قائم جرائم کے اعدادوشمار کے قومی ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2016 میں جنسی زیادتی کے 1996 مقدمات درج کرائے گئے۔ یہ تعداد ایک سال پہلے کی تعداد 1893 کے مقابلے میں زیادہ ہے۔خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والے گروپس کا کہنا ہے کہ سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ اب اس ملک میں خواتین کی آزادی اور ان کے تحفظ کیلئے اٹھے والی آوازیں زیادہ بلند ہو گئی ہیں جہاں جنسی جرائم سے متعلق بات بدنامی کے خوف سے نہیں کی جاتی تھی۔ بھارتی حکومت نے شہروں کو محفوظ بنانے کی غرض سے خفیہ نگرانی کے کیمرے نصب کیے ہیں اور فوری مدد کے لیے ہیلپ لائن کے مراکز قائم کر دیے ہیں لیکن سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور خواتین ، لڑکیوں اور حتی کہ بچیوں کے خلاف جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

 

 

کشمیر کو بھارت میں جذب کرنے کی سازش

rana-biqi

بھارت میں (2014) میں انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے نئے چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کی سرپرستی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی لیڈرشپ نریندرا مودی کی قیادت میں منتقل کئے جانے کے بعد جب سے انتہا پسند ہندو توا مرکزی حکومت قائم ہوئی ہے کشمیری مسلمانوں پر بل خصوص ظلم و استبداد کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا ہے۔ وادیء کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم پیلٹ گنوں سے کشمیری نوجوانوں ، طالب علموں ، خواتین و بزرگ شہریوں کے چہروں کو مسخ کرنے اور بیشتر کو اندھا بنانے اور غیر انسانی سلوک کی انتہا کئے جانے کے باوجود ہر نئے ظلم کیساتھ کشمیریوں کا جذبہ آزادی بلند تر ہی ہوتا جا رہا ہے۔ جبکہ نریندرا مودی حکومت بھارتی فوج کے غیر معمولی ظلم و ستم کے باوجود کشمیریوں کی آزادی کی اُمنگ کوختم کرنے میں ناکامی کا شکار ہے اور اب نِت نئے ہتھکنڈوں سے وادیء کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے اور کشمیرکو بھارت میں جذب کرنے کیلئے بھارتی آئین میں وادیء کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے درپے ہے چنانچہ اب بھارتی آئین کے آرٹیکل 35A کو ختم کرکے بھارتی شہریوں کو کشمیر میں زمینیں خریدنے اور کشمیر میں بسانے کی اجازت دینے کی آڑ میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش میں مصروف عمل ہے۔ چنانچہ گزشتہ دنوں یعنی پانچ اگست 2018 کے دن بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے وادی کشمیر میں بھارتی آئین کے آرٹیکل 35A کے تحت غیر کشمیریوں کو زمین خریدنے کی اجازت دینے کے حوالے سے متوقع فیصلے کے خلاف وادی کشمیر میں بھارتی فوج کی ظالمانہ کاروئیوں کے باوجود عوامی ریلیاں نکالی گئیں اور مکمل ہڑتال کی گئی جسے محسوس کرتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کو 27 اگست تک موخر کر دیا ہے۔اگر تاریخ کے جھروکوں سے جھانک کر دیکھا جائے تو تقسیم ہند کے ایجنڈے میں نا انصافیوں کی داستان رقم کرنے کیلئے بھارت کے پہلے وزیراعظم آنجہانی جواہر لال نہرو اور برطانوی حکومت ہند کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے گٹھ جوڑ نے مسئلہ کشمیر کو جنم دیا تھا۔ برطانوی حکومت ہند کی بیان کردہ تقسیم ہند کی پالیسی کے مطابق جب مسلمانان کشمیر نے نئی قائم ہونے والی ریاست پاکستان کے ساتھ کشمیر کے الحاق کی خواہش کا اظہار جموں کشمیر میں مسلمانوں کی نمائندہ جماعت آزاد جموں کشمیر مسلم کانفرنس کی قیادت میں سرینگر میں 19جولائی 1947 کو ایک بڑی عوامی ریلی منعقد کرکے ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کیساتھ الحاق کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی تو نہرو ماؤنٹ بیٹن سازش کے تحت کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونے سے روک دیا گیا۔ جبکہ تقسیم ہند کے برطانوی فارمولے کے تحت کشمیر کا مستقبل جغرافیائی ، مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے نئی قائم ہونے والی مسلم مملکت پاکستان کے ساتھ وابستہ تھا۔ پاکستان میں بہنے والے تمام دریا وادئ کشمیر کی مختلف جھیلوں اور گلیشیئز کے مرہون منت ہیں اور پاکستان کی زراعت کا تمام تر دار ومدار انہی دریاؤں سے نکلنے والی نہروں پر ہے۔ تقسیم ہند کے وقت ریاست جموں و کشمیر ، وادی کشمیر ، لداخ اور جموں پر مشتمل تھی ۔ سب سے زیادہ آبادی والا علاقہ وادی کشمیر تھا جہاں مسلمان کل آبادی کا 95%فی صد تھے۔ لداخ میں تقریبا 51%فی صد بدھ مت کے پیروکار تھے 46%فی صد مسلمان اور ہندو محض 3%فی صد تھے ۔ جموں کے علاقے میں مسلم اکثریت کے علاقوں ڈوڈ اور راجوڑی کو چھوڑ کر ہندو اور سکھ اکثریت میں تھے۔ اس طرح مجموعی طورپر مسلمان، ریاست جموں و کشمیر کی کل آبادی کا 78%فی صد تھے اور یقینی طور پرتقسیم ہند کے ایجنڈے کے مطابق ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے منتظر تھے۔
حقیقتاً ڈاکٹر موہن بھگوت کشمیر کو بھارت ماتا میں جذب کرنے کیلئے جنونی کیفیت کے مالک ہیں اور عرصہ دراز سے اکھنڈ بھارت کی فکر پر عمل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ چنانچہ انتہا پسند ہندو توا کے حوالے سے اکھنڈ بھارت کی فکر کو مہمیز دینے کیلئے اُنہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے عسکری ونگ آر ایس ایس ( جس کے مسلح رضاکاروں کی تعداد بھارت میں دس لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی ہے) کے سابق چیف سدرشن سنگھ کے سبکدوش ہونے پر جب ڈاکٹر موہن بھگوت نے آر ایس ایس کی باگ دوڑ سنبھالی تو 2013 کی وجے دشمی کانفرنس میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ سنگھ پریوار کی تمام انتہا پسند تنظیموں بشمول شیو سینا ، وشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل ، ہندو توا سولجرز، زعفرنی تائیگرز اور ہندو توا یونیٹی کی شکل میں اکھٹا کیا جائیگا تاکہ الیکشن 2014 کے ذریعے بھارت کو ہندو ریاست بنانے اور بھارتی مسلمانوں اور کشمیر کو طاقت کے زور پر بھارت میں جذب کرنے کی حکمت عملی اپنائی جاسکے۔ اِس سلسلے میں ڈاکٹر موہن بھگوت نے 2013 میں ہندو توا کی سفارشات مرتب کرنے اور سنگھ پریوار کی جماعتوں کے اتحاد کو مضبوط بنانے کیلئے اِن تنظیموں کے مفکرین کی حمایت سے خفیہ حکمت عملی کا تعین کرنے کیلئے کولکتہ ، نئی دہلی، بنگلور اور احمدآباد میں چار سیمینار منعقد کئے جن میں صحافیوں کو آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ چنانچہ پہلے مرحلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی پرانی قیادت بشمول اٹل بہاری واجپائی ، ایل کے ایڈوانی اور جسونت سنگھ کو سائڈ لائین کرتے ہوئے ڈاکٹر موہن بھگوت نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت اپنے وفادار شاگرد راج ناتھ سنگھ کے حوالے کردی جبکہ 2014 کے انتخابات میں اینٹی پاکستان اور اینٹی مسلم منشور کو آگے بڑھانے کیلئے گجرات احمد آباد میں مسلمانوں کے قاتل نریندرا مودی کو مرکزی قیادت سونپ دی گئی ۔ ڈاکٹر موہن بھگوت کی اِسی اینٹی پاکستان اور اینٹی مسلم ڈاکٹرائین کے تحت نریندرا مودی نے الیکشن 2014 میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی چنانچہ نریندرا مودی نے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد وادی کشمیر میں ظلم و ستم کی انتہا کردی۔ بھارتی افواج نے تواتر سے پیلٹ گنوں کے ذریعے کشمیری نوجوانوں ، خواتین اور بزرگوں کے چہرے چھلنی کرنے شروع کئے جبکہ ٹارچر سیلوں میں نہ صرف کشمیری نوجوانوں کا قتل عام اور بدترین انسانی تشدد کا بازار گرم کیا گیا بلکہ کشمیری خواتین کیساتھ بھی انتہائی غیرانسانی اور غیر اخلاقی سلوک کیا گیا ۔گو کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو کشمیر میں رسائی نہیں دی جارہی ہے لیکن مستند ذرائع کی مدد سے انسانی حقوق کی تنظیم ایشیا واچ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے اپنی تحقیقی رپورٹوں میں بل خصوص کشمیری خواتین اور نوجوانوں پر ہونے والے جن انسانیت سوز مظالم کی تفصیل بیان کی ہے اُسے پڑھ کر تو شیطان بھی شرماتا ہے جس کے بارے میں بھارتی صحافی اور سیاسی دانشور خشونت سنگھ نے اپنے ایک کالم،، شرم سے جھکے سر،، میں لکھا تھا کہ کشمیریوں کے پاس اِس بات پر یقین کرنے کے ٹھوس شواہد ہیں کہ ہندوستان گذشتہ کئی دھائیوں سے اپنی ساکھ کھوتا جا رہا ہے ۔ گذشتہ 14 برسوں میں 75 ہزار کے قریب کشمیری ہلاک کئے جا چکے ہیں ، چھ ہزار کے لگ بھگ نوجوان گمشدہ ہیں جبکہ تین لاکھ سے زیادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں ۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ کشمیری عوام بھارت کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں تو آپ حمیرہ قریشی کی کتاب The untold story کا مطالعہ کریں ۔ یہ جرأت مند خاتون ہر دو ماہ بعد وادی کا دورہ کرتی رہی اور وہاں کے متاثرہ اور عام لوگوں کے تاثرات اور خیالات قلم بند کرتی رہیں ۔ اُن کی بیان کردہ روداد کو میں نے پڑھا تو ظلم و تشدد کا ہر منظر میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے ۔ آپ یقین کیجئے کہ آج ہمارے سر شرم سے جھکے ہیں ۔
حیرت کی بات ہے انسانی حقوق کی انجمنوں اور بھارتی شہریوں کی جانب سے کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں کی پُر زور مذمت کئے جانے کے باوجود گزشتہ چند برسوں میں بھارت سے تجارت کے سامنے ہر کور ایشو کو بھلا دینے کی تاجر ذہنیت کے مالک سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے جو اپنے آپ کو کشمیری کہلانے سے بھی گریز نہیں کرتے تمام تر صورتحال کا علم ہونے کے باوجود 2014 میں نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حلف وفاداری کی تقریب میں نہ صرف خصوصی طور پر شرکت کی بلکہ لندن پوسٹ کی مستند رپورٹ کیمطابق میاں نواز شریف نے نریندر مودی کی حلف وفارادی کی تقریب کے بعد بھارتی اسٹیل ٹائیکون سجن جندال کی فیملی کی جانب سے دی گئی چائے کی ایک خصوصی دعوت میں شرکت کی جس کی فیملی فوٹو بھی لندن پوسٹ نے ڈیٹ لائین 16 جون 2014 کے حوالے سے شائع کی ۔ لندن پوسٹ نے چائے کی اِس دعوت کے حوالے سے یہ سوال کوئی جواب دئیے بغیر شائع کیا تھا کہ “Why Sharif skipped meeting Hurriat leaders but attended steel baron tea party.” ۔ یعنی جناب نواز شریف نے کشمیری حریت قیادت کو چھوڑ کر بھارتی اِسٹیل ٹائیکون کی چائے کی دعوت میں کیونکر شرکت کی۔ اِسی طرح سارک کانفرنس کے موقع پر نیپال میں نواز مودی مبینہ خفیہ ملاقات کا تذکرہ معروف بھارتی صحافی برکھا دت نے کیا تو یہی سجن جندال کھٹمنڈو میں بھی موجود تھے۔ 25 دسمبر 2015 میں بھارتی وزیراعظم نریندو مودی اچانک لاہور تشریف لائے تو بھی سجن جندال اپنی فیملی کے ہمراہ وزیراعظم کی نواسی کی شادی میں شرکت کیلئے لاہور میں موجود تھے۔ اندریں حالات، بھارتی لکھاری برکھا دت کی کتاب میں نیپال میں سارک کانفرنس کے موقع پر نواز مودی خفیہ مذاکرات کے حوالے سے دی گئی تفصیلات بھی کافی معنی خیز ہیں ۔ اِن تفصیلات کے حوالے سے یہ اَمر حیران کن ہے کہ سارک کانفرنس سے قبل بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے مبینہ طور پر وزیراعظم نواز شریف سے نیپال میں خفیہ ملاقات کرانے کا اہتمام کرنے کا ٹاسک بھی سجن جندال کو ہی دیا تھا جس کیلئے لندن میں مقیم اُن کے صاحبزادے نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ صد افسوس کہ ایک ایسے مرحلے پر جبکہ کشمیر میں بھارتی مظالم اپنی انتہا کو پہنچ چکے تھے اور کشمیر کنٹرول لائین پر فائر بندی کی خلاف ورزی روزمرہ کا معمول بن چکی تھی نواز شریف حکومت اور کشمیر کمیٹی کے مولانا فضل الرحمن کی خاموشی نہ صرف پاکستان کے علاقائی مفادات کے منافی رہی بلکہ ڈان لیکس اور نواز شریف کے فوج اور عدلیہ کے خلاف بیانات خطے میں بھارتی ایجنڈے کی حمایت کے مترادف ہی رہے۔چنانچہ بھارت کشمیر کو بھارت میں جذب کرنے کی وحشیانہ پالیسی پر آج بھی گامزن ہے۔ البتہ پاکستان الیکشن 2018 کے متوقع وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی وزیراعظم کے تہنتی فون کے جواب میں یہ کہناکہ بھارت اگر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ایک قدم آگے بڑھائے گا تو ہم دو قدم آگے آنے کیلئے تیار ہیں، خوش آئند بات ہے۔ ۔۔ختم شد۔۔

 

 

Google Analytics Alternative