کالم

نگران وزیر اعلیٰ پنجاب سے بزم اقبال ؒ کی توقعات

پنجاب کی صوبائی اسمبلی 31 مئی کو اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کرنے کے بعد تحلیل ہو گئی تھی۔ اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی اس وقت وزیرِاعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود الرشید کے درمیان ملاقات میں نگران وزیراعلٰی کے لیے ناصر کھوسہ کے نام پر اتفاق ہوا تھا۔لیکن بعد میں تحریک نے انصاف نے یہ نام واپس لے لیا تھا جس کے بعد اختلافات کے باعث نگران وزیر اعلٰی کی تقرری کا معاملہ پھر سیاست دان خود حل نہ کر سکے۔

آئین کے مطابق اگر وزیراعلی اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان اتفاق نہ ہو سکے تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیا جاتا ہے اور اگر وہاں بھی فیصلہ نہ ہو سکے تو پھر الیکشن کمیشن دونوں جانب سے تجویز کردہ ناموں میں سے کسی ایک کو اس منصب کے لیے نامزد کر دیتا ہے۔یوں الیکشن کمیشن نے پروفیسر حسن عسکری رضوی کو نگران وزیر اعلی پنجاب نامزد کیا ہے۔
پروفیسر حسن عسکری ایک نامور پروفیسر اور مستند کالم نگار ہیں۔انہوں نے 1980 میں یونیورسٹی آف پنسلوانیا سے پی ایچ ڈی کیا، جہاں انہیں فل برائٹ اسکالر شپ دی گئی۔پروفیسر حسن عسکری پنجاب یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کے پروفیسر رہ چکے ہیں اور تعلیم اور ریسرچ کے شعبے میں اہم تجربہ رکھتے ہیں۔وہ جنوبی ایشیا، خارجہ پالیسی اور سیکیورٹی امور پر دسترس رکھتے ہیں۔ پروفیسر حسن عسکری کا شمار پاکستان کی نامور علمی شخصیات میں ہوتا ہے اور وہ ملکی اور غیر ملکی درسگاہوں میں شعبہ علم و تدریس سے منسلک ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مختلف اخبارات، جرائد اور ٹی وی چینلز پر اہم موضوعات پر ایک مایہ ناز مبصر تصور کیے جاتے ہیں۔پروفیسر حسن عسکری کئی اہم کتابوں کے مصنف ہیں۔انہوں نے پاکستان میں جمہوریت اور سیاست پر کئی کتب لکھی ہیں، ان کی اکثر تصانیف کا موضوع سول ملٹری تعلقات رہا ہے۔ پروفیسر حسن عسکری اخبارات اور جرائد میں آرٹیکل بھی لکھتے رہے ہیں۔23 مارچ 2010 کو صدر پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا تھا۔ نامزد نگران وزیراعلیٰ پنجاب پروفیسر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ صاف شفاف انتخابات ترجیح ہوگی۔ کوئی سیاسی ایجنڈا تھا نہ ہوگا۔ غیر جانبداری سے انتخاب کراؤں گا۔ مخالفین دوسروں کے بارے میں رائے دیتے رہتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) بھی رائے دے رہی ہے اگر انہوں نے میری تقرری کو چیلنج کرنا ہے تو کردیں۔ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
پروفیسر حسن عسکری نے مزید کہا کہ میں اپنے منصب کا غلط استعمال نہیں کروں گا ۔ مجھے الیکشن کمیشن نے نگران وزیر اعلی مقرر کیا ہے اور آئینی طور پر اس عہدے پر مقرر کیا گیا ہے۔ مختصر اور پروفیشنل افراد پر مشتمل کابینہ ہوگی۔ میرا کبھی کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رہا۔ پنجاب بڑا صوبہ ہے یقیناًبھاری ذمہ داری عائد ہوئی ہے۔ انتخابات صاف اور شفاف کرواں کا۔ کوئی جماعت پریشان نہیں ہو۔ میں اپنی آئینی ذمہ داری پوری کروں گا۔ ان پر جن لوگوں نے اعتماد کیا ہے وہ ان کے شکر گزار ہیں اور پوری کوشش کریں گے کہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں۔
جہاں تک مختلف سیاسی جماعتوں کا ان کی تقریری پر تحفظات کا سوال ہے تو ان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق یا تنازعہ نہیں ہے۔ وہ بے لاگ تبصرے کرتے ہیں۔ ان کے تبصرے حکومت وقت کی ناقص کارکردگی پر ہوتے ہیں نہ کہ سیاسی جماعت پر۔ پنجاب میں ن لیگی حکومت کی کرپشن اور بے ضابطگیوں پر وہ ہمیشہ بولے ہیں۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کی سندھ میں ناکام حکومت کے بارے میں بھی تبصرے کیے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ کے پی کے میں پی ٹی آئی حکومت کے نامکمل اور مہنگے منصوبوں اور دیگر امور پر بھی انہوں نے آئینہ دکھایا ہے۔ لہذا اس بنا پر ان کی تقرری پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ پی ٹی آئی نے ان کا نام تجویز کیا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ حسن عسکری محب وطن اور پڑھے لکھے شخص ہیں۔سیاسی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ وہ بہت احسن طریقے سے معاملات کو چلا ئیں گے۔ قوم کو ان سے بہت توقعات ہیں۔ ان کا سب سے بڑا کام تو صاف شفاف انتخابات کرانا ہے۔ اس کے علاوہ روز مرہ کے امور بھی سر انجام دینے ہیں۔ پاکستان اور اکابرین پاکستان سے بڑی محبت رکھتے ہیں۔ اقبالؒ اور قائدؒ کے پرستار ہیں۔ ان سے توقع ہے کہ وہ اقبال ؒ کے افکار کے فروغ کیلئے سرکاری امور کے ساتھ ساتھ ذاتی دلچسپی بھی لیں گے۔
علامہ اقبال نے سب سے پہلے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا اس عظیم تصور کی تجسیم پاکستان کی صورت ہوئی علامہ اقبال نے اصرار کرکے قائداعظم کو واپس بلایا اگر یہ سب نہ ہوتا تو شاید پاکستان دنیا کے نقشہ پر نمودار نہ ہوتا۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیے محض ملک کا تصور ہی پیش نہیں کیا بلکہ ایک ایسی مملکت کا نقشہ پیش کیا جو حقیقی معنوں میں ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست ہو۔ اسی کا نام فکر اقبال ہے اسی فکر اقبال کو فروغ دینے کے لیے حکومت پنجاب کے محکمہ اطلاعات کے تحت ادارہ بزمِ اقبال کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ ادارہ نے علامہ کی زندگی‘ شاعری اور فلسفیانہ سوچ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے والی کتابیں شائع کیں اس کے علاوہ ادارہ کے تحت ایک ماہنامہ میگزین بھی شائع کیا جاتا ہے جس میں علامہ اقبال پر تحقیقی مضامین شائع ہوتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے توجہ نہ ملنے کی وجہ سے بزم اقبال اتنا فعال نہیں ہو سکا۔
راقم الحروف جو پہلے ادارہ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل تھا حال ہی میں ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ صورتحال یہ ہے کہ اس وقت ادارہ بزم اقبال گرانٹ سے محروم مفلوک الحالی کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ عمار ت اور دیگر امور کیلئے ادارہ کو فنڈز کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ادارہ بزم اقبال کے زیر اہتمام ایک لائبریری قائم کرنے کا منصوبہ ہے جس میں اقبالؒ کی تصانیف اوردنیا بھر میں اقبالؒ پر لکھے جانے والے مقالات کا ذخیرہ محفوظ کیا جائے گا۔ عبداﷲسنبل کمشنر لاہور ڈویژن نے کمال مہربانی سے دس لاکھ کی گرانٹ فراہم کی مگر ادارہ کے منصوبہ جات اور دیگر امور کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بہت کم ہے۔
نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب پروفیسر حسن عسکری سے امید ہے کہ وہ اقبالؒ سے اپنی محبت کا ثبوت دیتے ہوئے بزم اقبال کیلئے ضروری فنڈز فراہم کریں گے جس سے ایک شاندار لائبریری کا قیام عمل میں لایا جا سکے گا۔ فکرِ اقبال کا فروغ اس لیے بھی ضروری ہے کہ آج مغربی تہذیب کے منفی اثرات ہماری نئی نسل کو اپنے اقدار و روایات سے غیر محسوس انداز سے دور کررہے ہیں اس سے محفوظ رکھنے کا یہی ایک موثر طریقہ ہے۔
*****

فلسطین ، بلفور سے ڈونلڈ ٹرمپ تک(2)

rana-biqi

برطانیہ اور چند دیگر یورپی ملکوں میں بل خصوص امریکہ میں یہودیوں کی آبادی محض پانچ چھ فی صد ہونے کے باوجود یہودی لابی امریکی میڈیا اور اقتصادی اداروں پر اپنی مضبوط گرفت قائم رکھے ہوئے ہے جس کے اثرات امریکا کے صدارتی انتخابات پر بھی ثبت ہوتے ہیں چنانچہ 1947 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقسیم فلسطین کی غیر منصفانہ قرارداد کی منظوری میں بھی کچھ امریکی شہریوں کی بد نیتی کا تذکرہ امریکی کانگریس میں بھی ہوا جب امریکی کانگریس کے ایک باضمیر امریکی رکن پارلیمنٹ لارنس ایچ سمتھ نے 18 دسمبر 1947 میں کانگریس میں اپنے خطاب میں کہا کہ کچھ امریکی شہریوں ( یہودی لابی) نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اِس متنازعہ قرارداد کی منظوری کیلئے فلپائن ، لائبیریا اور ہیٹی کے حکومتوں پر دباؤ ڈالا تھا کیونکہ اِس سے قبل ہونے والی رائے شماری میں اِن حکومتوں نے اسرائیل کے قیام کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے پیش نظر گذشتہ تقریباً تیس برسوں سے ہر منتخب امریکی صدر مسئلہ فلسطین حل کرانے کے نام پر اسرائیلی حکومت اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان بات چیت کا ڈول لٹکا کر فلسطینی لیڈر شپ پر دباؤ کا حربہ استعمال کرتے ہوئے اُنہیں اسرائیلی مطالبات تسلیم کرنے پر زور دیتا ہے لیکن فلسطینی قیادت کی جانب سے متعدد معاملات پر نرم رویہ اختیار کرنے کے باوجود اسرائیل جدید اسلحہ کے بل بوتے پر فلسطینی آبادی کے خلاف شدت پسند فوجی اقدامات میں مصروف ہے جبکہ سفارتی بہانہ سازی سے آج بھی اقوام متحدی کی سیکورٹی کونسل میں امریکی ویٹو فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے قیام میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

درحقیقت گزشتہ کئی عشروں سے اسرائیل فلسطین تنازعہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں فلسطین کے حق میں قراردادوں کو امریکا کی جانب سے ویٹو کئے جانے کے باعث دو آزاد ملکوں کی بنیاد پر مستقل حل کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اِسی حوالے سے گزشتہ روز مشرق وسطیٰ کے اہم ملک کویت کی جانب سے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے سبب بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کے قتل عام کے خلاف پیش کی جانے ولی قرارداد کو امریکا نے نہ صرف ویٹو کردیا بلکہ اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے اسرائیل کو نام نہاد مظلوم قرار دیتے ہوئے اسرائیل کے حق میں نئی قرارداد پیش کی جسے سیکیورٹی کونسل کے بیشتر اراکین نے مسترد کر دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ مسائل کو بات چیت سے حل کرنا ہمیشہ ہی سے ایک بہتر آپشن ہے۔ پا پا ئے روم بھی اپنے حالیہ بیانات میں مسلمانوں ، عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان بقائے باہمی اور بات چیت کے ذریعے غلط فہمیوں کے تدارک پر زور دیتے رہے ہیں۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ظہور اسلام کے وقت سے ہی عربوں اور یہودیوں کے مابین ایک قسم کا سماجی توازن قائم ہو گیا تھا۔ فلسطین میں بنو امیّہ کے دور میں بھی عیسائیوں اور یہودیوں کی مذہبی رسومات میں مداخلت نہیں کی گئی اور وہ اپنے اپنے مذاہب کے ضابطہ اخلاق کے مطابق اپنی سماجی زندگی گزارتے رہے۔ بنو عباس کے زمانے میں یہودیوں نے اہم حکومتی منصبوں پر کام کیا۔ بہت سے یہودی دانشوروں نے عربی زبان پر بھی عبور حاصل کیا اور اپنی تخلیقات کے زریعے نام پیدا کیا۔ ان دانشوروں میں موسی میمونائڈز کا نام قابل ذکر ہے۔ عربوں اور یہودیوں کے مابین شمالی افریقہ اور مسلم سپین میں بھی دوستانہ تعلقات عروج پر رہے۔ یہودیوں پر سپین اور یورپ میں مظالم ہوئے تو مشرق وسطی کے ممالک ہی اُن کے لئے بہترین پناگاہ سمجھے جاتے تھے۔ لیکن دونوں مذاہب کے مابین صدیوں سے قائم یہ سماجی رابطہ اُس وقت ٹوٹ گیا جب یہودیت پر صیہونیت کے سائے منڈلانے لگے۔ یہودیوں پر ظلم و ستم تو یورپ میں فاشسٹ نازی جرمنی نے کیا لیکن اُس کا بدلہ فلسطین میں لیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں یہودی لابی اینگلو امریکن حوصلہ افزائی کے باعث دو واضح گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک سماجی فکر و نظر رکھنے والے وہ یہودی ہیں جنہوں نے دنیا بھر کے مختلف ملکوں میںیہودی مذہبی ضابطہ اخلاق کو قائم رکھتے ہوئے اِن ملکوں کے قوانین اور رسم و رواج کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لیا ہے اور دوسرے وہ جنہوں نے صیہونیت یا سیاسی یہودیت یعنی صیہونی فلاسفی کی فاشسٹ نظیروں کے مطابق فلسطین میں ایک انتہا پسند مذہبی ریاست اسرائیل کے قیام کے لئے شدّت پسند سیاسی تحریک شروع کی تھی۔پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت برطانیہ نے صیہونی اداروں کی سیاسی اور مالی حمایت حاصل کرنے کے لئے فلسطین میں یہو دیوں کا قومی گھر بنانے کا اعلان کیا جس کے باعث مشرق وسطیٰ میں شدت پسندی کو فروغ حاصل ہوا ۔ اس لئے 1917 کے اعلانِ بلفور کے ساتھ ہی عربوں اور یہودیوں کے درمیان دوستی کے بجائے دشمنی کے جذبات بیدار ہونے شروع ہو ئے۔ چنانچہ صیہونی تحریک نے فلسطین میں برطانوی انتداب کی فوجی موجودگی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے جس ظالمانہ انداز میں فلسطینیوں کو اُن کی ز مینوں سے بے دخل کرنے اور اوریہودیوں اُنکی جگہ بسانے کا سلسلہ شروع کیااُس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔
درج بالا تناظر میں مشرق وسطیٰ میں امریکی گیس و تیل کے مفادات کے پیش نظر گذشتہ تقریباً تیس برسوں سے ہر منتخب امریکی صدر مسئلہ فلسطین حل کرنے کے نام پر اسرائیلی حکومت اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان بات چیت کا ڈول لٹکا کر فلسطینی لیڈر شپ پر دباؤ کا حربہ استعمال کرتے ہوئے اُنہیں اسرائیلی مطالبات تسلیم کرنے پر زور دیتا ہے لیکن فلسطینی قیادت کی جانب سے متعدد معاملات پر نرم رویہ اختیار کرنے کے باوجود اسرائیل جدید اسلحہ کے بل بوتے پر فلسطینی آبادی کے خلاف انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کرتے ہوئے بہیمانہ فوجی اقدامات میں مصروف ہے جبکہ سفارتی بہانہ سازی کی آڑ میں امریکی صدور بل خصوص ڈونلڈ ٹرمپ آج بھی امریکی ویٹو کو اسرائیل کے حق میں سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے فلسطین میں دو ریاستی حل کے حوالے سے فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے قیام میں ایک بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
(۔۔۔۔۔۔جاری ہے)

سکھ ریاست خالصتان ۔ حق بجانب ڈیمانڈ

غالبا 2014 کے آخری دِنوں میں برطانیہ کی سیکرٹ سروس نے اپنی اہم دستاویزات ‘ڈی کلاسیفائڈ’کی تھیں’اْن میں یہ انکشاف سامنے آیا تھا کہ 6 اور7 جون 1984 کی شب میں بھارتی ہندوفوجیوں کی’مخصوص’ جنونی قیادت میں جس دستہ نے امرتسرمیں واقع سکھوں کی مقدس ترین عبادت گاہ’گولڈن ٹمپل’پرجوشب خون مارا تھا،وہ بہیمانہ فوجی کارروائی برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی کی طرف دی گئی ایک اطلاع پرنئی دہلی نے کی تھی جس کی براہِ راست نگرانی اْس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے خود کی تھی اور جنہیں پل پل کی اطلاعات اْس وقت کے ‘را’کے چیف دے رہے تھے’برطانوی ڈی کلاسیفائڈ’ہونے والی اِن ہی دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ اْس وقت کے بی بی سی اردوکے صحافی جگتارا سنگھ نے گولڈن ٹمپل پر بھارتی فوجیوں کی یلغار سے کچھ دن قبل سکھوں کے ممتازمزاحمت پسند سکھ رہنما جرنیل سنگھ بھنڈراں والا سے ملاقات کی تھی اِس ملاقات کے کتنے دیرپا‘ ضرررساں اورخونریزنتائج برآمد ہونگے ،شائد جگتارا سنگھ کے وہم وگمان میں بھی نہ ہوگا، اْنہیں احساس ہی نہیں تھا کہ سکھوں کی دہلیز پرجو ہندو درندے غرارہے ہیں، اْن کے آئندہ عزائم کیا ہیں وہ خونریزی کی کس حد تک جاسکتے ہیں’گولڈن ٹمپل پرحملہ آور بھارتی فوج کے دستہ کے کمانڈ جنرل کلدیپ برارکررہے تھے، جو اندراگاندھی کے سکھ باڈی گارڈز کے ہاتھوں قتل ہوجانے کے بعد خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی برطانیہ میں بسرکر نے پر مجبور ہوئے، جن پر اکتوبر 2012 میں ایک جان لیوا حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہو ئے اُن کا کہنا ہے اْن پر حملہ سکھ علیحدگی پسندوں نے ہی کہا تھا، اْنہوں نے بتایا کہ اْنہیں وہ سب کچھ نہیں کرنا چاہیئے تھا جونئی دہلی کی قیادت نے بھارتی فوج کو استعمال کرکے کرایا’بے گناہ اورمعصوم سکھ جن میں بڑی تعداد چھوٹے چھوٹے چھوٹے پھول جیسے بچوں کی تھی’عورتوں کی تھی’نوجوان سکھ ا و ربڑی عمر کے سکھ شامل تھے، ہماری پلاٹون نے اْنہیں بڑی بیدردی سے پلک جھپکتے ہی اْن کے اپنے لہو میں اْنہیں نہلا دیا تھا، دربارصاحب کے سفید براق نما وسیع وعریض صحن میں واقع پورا تلاب سکھوں کے لہو سے’لہو رنگ’میں تبدیل ہوگیا تھا، اْس وقت ہمار ے اندرسکھوں سے بے پناہ نفرت کی جنونیت نے گویا ایک آگ سی لگارکھی تھی، جس کا کہیں نہ کہیں اظہارتوہونا ہی تھا، ایسا لگ رہا تھا جیسے بھارت دیش میں ہندوؤں کے علاوہ کسی اورمذہبی اقلیت کو زندہ رہنے کا کوئی حق ‘فرقہ ورانہ یہ قتلِ عام شائد اب بھارت میں روکے گا نہیں اب بڑھتا جائے گا (نجانے جنرل برارفی زمانہ زندہ ہیں؟اگرزندہ ہیں توآج وہ دیکھ لیں کہ 1984 میں جیسا وہ سوچ رہے تھے سنگھ پریوار آجکل بھارت میں برسراقتدارہے، پورا بھارت غیرہندوؤں کے لئے انسانیت کش مقتل گاہ کا درندہ صفت منظر پیش کررہا ہے) جنرل برارکہتے ہیں دربارصاحب کی دیواریں پھاند کرنے جب ہم گولڈن ٹمپل میں داخل ہوئے توہماری آنکھوں پرنسلی اور فرقہ ورانہ منافرت کی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں بڑاکریہیہ المنظر خوناک سماں تھا ،ہم بھارتی فوجی تاک تاک کرنہتے سکھوں کواپنی مشین گنوں کا نشانہ بنا رہے تھے’نتائج سے بالکل بے پرواہ ہوکر’ہم انسانیت کش درندے بن چکے تھے اگر میں آج یہ تسلیم کروں تو بے جانہ ہوگا ہم نے گویا یہ تہیہ کیا ہوا تھا کہ ‘نسلی صفائی’ کے حوالے سے ہمیں نازی ہیٹلر کے نظرئیے کوگولڈن ٹمپل امرتسر میں سکھوں کی لاشوں کے انبار لگاکر ہر صورت میں مات دینی ہے’ مجھے احساس ہوتا ہے واقعی بھارتی فوج میں تیزی کے ساتھ پروان چڑھنے والے راسخ ہوجانے والے’سنگھ پریوار’کے نفرت اور تعصب پرمبنی غیر انسانی میلانات اوررجحانات نے بھارت دیش کے مستقبل پرکئی سنگین سوالات اْٹھادئیے ہیں بقول ریٹائرڈ جنرل کلدیپ برار کے’اگرمیں یہ کہوں کہ خالصتان کی ڈیمانڈ بالکل حق بجانب ہے توپھرمیں کیا غلط کہہ رہا ہوں؟ کاش!ہماری یہ آوازجنرل ریٹائرڈ کلدیپ برار تک پہنچے وہ کچھ غلط نہیں کہہ رہے ہمیں وہ سب بخوبی یاد ہے ہم پاکستانی تو ہر دور کی بھارتی قیادت کے ڈسے ہوئے ہیں6 اور 7 جون کے علاوہ ہم پاکستانیوں کو دسمبر1971 کے وہ لہو رلا دینے والے ایام بھی یاد ہیں جب ایسی ہی مسلم دشمنی میں انسانیت کی انتہائی حدوں سے گری ہوئی اُس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے مشرقی پاکستان کے ہزاروں مسلمانوں کو دیکھتے ہی دیکھتے نفرت کے شعلوں کی نذر کرنے میں ایک خونریز تاریخ رقم کی تھی ہمیں برابر یاد ہے کہ ’را‘ کے بدنامِ زمانہ چیف آر این کاؤ (غالباً سانحہِ گولڈن ٹمپل میں بھی را کا چیف یہی بدنام شخص تھا) مکتی باہنی کے نظریئے کا بانی‘مکتی باہنی کو آسام اور کوکلتہ کی گنجلک گھاٹیوں اور پیچ دار مشکل سرحدوں سے باآسانی مشرقی پاکستان میں بھیجنے والا یہ شخص کتنا گرا ہوا تھا اِس کا اندازہ لگالیں جب تک بھارتی اقتدار کے سنگھاسن پر مسلم دشمن اندراگاندھی بیٹھی رہی ہے یہی شخص ’را‘ کے چیف کی حیثیت سے اُس کے جوتے چاٹتا رہاجون 1984کے پہلے ہفتے میں جب اندراگاندھی نے سکھ قوم کو ذلت آمیز خونی طور طریقے غیر انسانی ہتھکنڈوں سفاکانہ حربوں کو استعمال کر کے ملیامیٹ کرنے کا اپنا آخری تباہ کن فیصلہ کیا تو اُسی ضدی اور ہٹ دھرم حکمران عورت نے اپنی سیکنڈ اینڈ کمان اِسی آر این کاؤ کو سونپ ہوئی تھی ’را‘ نے اپنی بغلی جاسوسی تنظیم ’تھرڈ ایجنسی ‘ کے ساتھ مل کر بھارت کی زمین عظیم سکھ قوم کی نسلوں کیلئے یقیناًتنگ کر نے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے یہی ہے بھارتی جمہوریت ؟جو کبھی سیکولر ہوجاتی ہے، کبھی خالص ہند و جاتی پر یقین رکھنے والی فرقہ ورانہ جمہوریت کا روپ دھار لیتی ہے، اِسی دوغلی بھارتی’ جمہوریت‘ کے نام پر کانگریس نے یا بی جے پی نے بھارت میں آباد کروڑوں اقلیتوں پر مظالم ڈھانے میں کوئی کمی نہیں کی آج بھی بھارت بھر میں مسلمانوں کو کھلے عام میدانوں میں نمازِ جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں ہے جہاں ہندوتوا کے نام پر غنڈوں کے گروہ یکدم جمع ہوجاتے ہیں اور نمازیوں پر ڈندوں‘چاقوؤں اور مختلف ہتھیاروں سے حملہ آور ہوجاتے ہیں ’نمازیں پڑھنی ہیں تو پاکستان جاؤ کے نعرے لگائے جاتے ہیں آج کی بھارتی نژاد مسلمان اور سکھ نسل دیگر بھارتی اقلیتوں کی طرح بے حد مظلومیت کا شکار ہے تو مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال کو بھی صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا ایسے سوال اب اُٹھنے لگے کہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کی طرح اب سکھوں کی آزاد ریاست ’خالصتان‘ کا مطالبہ نئی دہلی کی فاشسٹ حکومت کے سامنے کل کی بہ نسبت زیادہ جوش وجذبے کے ساتھ اگر اُٹھایا جارہا تواُن کا یہ مطالبہ حق بجانب ہے جائز ہے۔

****

جاؤں کدھر کو میں۔۔۔؟

زندگی ہر لمحہ تغیر پذیر ہے اس کے لوازمات بدل رہے ہیں جو کل تھا وہ آج نہیں اور جسے آج ضروری خیال کیا جاتا ہے شائد کل اس کی ضرورت نہ رہے سائنس نے طویل فاصلوں کو سمیٹ کر پوری دنیا کو ایک گلوبل ویلج میں بدل دیا ہے ۔راقم جب اپنے ماضی کی طرف نگاہ دوڑاتا ہے تو آج کے زمانہ کو ماضی سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہے ۔آج کے ننھے نو نہالوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ موبائل اور کمپیوٹر کے استعمال میں اتنے تاک ہیں تو راقم ان کے سامنے حیرانگی کا شکار ہی نہیں بلکہ سراسیمہ ہو جاتا ہے لیکن اپنی یہ دلی کیفیت ان پر ظاہر نہیں ہونے دیتا ۔کبھی بچوں کو سمجھانے کیلئے کوئی حکم جاری کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو اس سوچ کا غلبہ و اندیشہ بھی ہوتا ہے کہ آیا یہ حکم اس جدید دور سے میل بھی کھاتا ہے،کہیں حکم کے پس پردہ پشیمانی و شرمندگی تو حاصل نہیں ہوگی ۔مرزا غالب نے کہا تھا
اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو
جو مے و نغمہ کو اندوہ و ربا کہتے ہیں
ان مواقع پر راقم کو باب حکمت حضرت علی علیہ السلام کا یہ فرمان ڈھارس بندھاتا ہے کہ ’’ اپنی اولاد کی تربیت اپنے زمانے کے طور طریقوں کے مطابق نہیں بلکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق کرو کیونکہ وہ تمہارے زمانے سے مختلف زمانے کیلئے پیدا کئے گئے ہیں ‘‘۔دور جدید کی نئی ایجادات نے عقل و خرد کو دنگ کر دیا ہے ۔ان ایجادات کی بدولت ہماری زندگی میں دو بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ایک تیزی اور دوسری سہولت ۔ایک زمانہ تھا جب یہ آسانیاں اور سہولتیں بادشاہان وقت کو بھی میسر نہیں تھیں جن سے آج کا عام انسان مستفید ہو رہا ہے ۔مثال کے طور پر اگلے وقتوں میں سفر کیلئے گھوڑے ،ہاتھی یا اونٹ تھے ،آج ہوائی جہاز،گاڑیاں،کاریں اور موٹر سائیکلیں ہیں ۔خدا بھلا کرے ان ایجادات کے موجدوں کا ،ان کی ایجادات سے ہم قلیل وقت میں بہت سا کام کرنے کے قابل تو ضرورہوگئے ہیں اور ہم پر ہی کیا موقوف پوری دنیا کمالات ایجاد کی ذہنی و عملی معترف بھی ہے یہ الگ بات ہے مادیت کی فراوانی میں سچے جذبے کہیں کھو گئے ہیں جس پر شاعر مشرق علامہ اقبال کو بھی کہنا پڑا
ہے دل کیلئے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
ان ایجادات نے زندگیوں کو آرام دہ تو بنا دیا لیکن آج کا انسان مشقت سے جان چھڑا کر اور آسانیوں کی فراوانی میں مختلف النوع بیماریوں کا شکار بھی ہو گیا ۔نئے دور کی سہولتوں اور آسائشوں نے نئی تہذیب کی ان بیماریوں کی شرح میں بھی بے تحاشا اضافہ کر دیا ۔زمانہ قدیم میں رؤسائے مملکت نے گرمی کی حدت و شدت سے بچاؤ کیلئے ہاتھ کے پنکھے چلانے یا چھت کے ساتھ بندھے بڑے پنکھے کی ڈوری ہلانے کیلئے ملازم رکھے ہوتے تھے لیکن آج ایک بٹن دبائیں تو ائر کنڈیشنڈ اور پنکھے ٹھنڈی ہوا دینا شروع کر دیتے ہیں ،نہ ملازم رکھنے کی زحمت نہ ہاتھ سے پنکھا ہلانے کی مشقت لیکن اس کا ایک نقصان یہ ہوا کہ ہمارے جسم گرمی برداشت کرنے کی قوت سے محروم ہو گئے۔بجلی کی لوڈشیڈنگ پر ہم بلبلا اٹھتے ہیں ۔ہمارا حال توبقول شاعر کچھ اس طرح ہو تا ہے
چمکی ذرا سی دھوپ تو سائے میں آگئے
دوسری طرف ماضی محفوظ اور سادہ زندگی کا غماز تھا ۔نہ زندگی اس قدر پر خطر کہ گارڈ رکھنے کی ضرورت پڑے ،نہ یہ اندیشہ کہ کہیں دہشت گردی کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں نہ یہ خدشہ گھر سے باہر نکل کر سلامتی سے گھر واپس آنا ممکن ہو گا بھی یا نہیں ،ہر چیز خالص،فاصلے تو کم ہو گئے ،میڈیا نے دنیا کو سکیڑ کر ایک گاؤں تو بنا دیا ،سائنس ترقی کر گئی ،زندگی کی رفتار بہت تیز ہو گئی لیکن مادیت کی چکا چوند میں زندگی قلبی سکون سے محروم ہو گئی ۔ان مشینوں نے انسان سے محبت و الفت اور اخوت و ہمدردی کے جذبات بھی چھین لئے ۔زمانہ کیا بدلا ،انداز بدل گئے ،وہ لوگ کہاں چلے گئے ،کیسے لوگ تھے ،ایسے محتاط کہ لفظوں کو موتیوں کی طرح ٹانکنا ،کیا مجال کہ درست عبارت کا اہتمام نہ ہو ،کہیں بھولے سے بھی غلطی ہو ،ہجے غلط ہوں ،کسی بھول چوک کا امکان نہیں ۔کتابت اورپروف کی کوئی غلطی نظر نہیں آتی تھی ،وہ اہتمام،وہ توجہ ،وہ دھیان کمپیوٹر کی رفاقت میں ناپید ہوگیا ،غلطیوں کی بھرمار ،وہ صحت لفظ کی خاطر مشقت اٹھانے کی رسم ہی جیسے اٹھ گئی ۔ہمارا آج کا دور لاکھوں کی تعداد میں چھپنے والے اخبارات کا زمانہ ہے ،جدیدیت کا دور ہے ۔ہم جیسے لوگ آج کے زمانہ میں زندگی تو بسر کر رہے ہیں لیکن ہماری ذہنی اپروچ اور افتاد طبع زمانہ قدیم سے ہی منسلک ہے یا پھر ہم دلی طور پر اپنے زمانہ سے جدا ہونا ہی نہیں چاہتے ۔یہ انسان کے انفرادی و مجموعی رویے ہی ہیں کہ وہ ماضی سے کسی نہ کسی صورت جڑا رہتا ہے ۔ہم جیسے لوگوں نے ہی نئی ایجادات کے آغاز پر انہیں تسلیم اور قبول کرنے میں پس و پیش سے کام لیا ۔ریل کا نظام آنے پر ریل گاڑی میں بیٹھ کر سفر کرنا گوارا نہ کیا ۔لاؤڈ سپیکر کی سہولت کو کفر کی جکڑ بندیوں میں مقید کیالیکن بعد ازاں مستقبل کے لوگوں کی زندگی کا یہ لازمی جزو بن گئیں ۔معزز قارئین و ناظرین آپ حیران ہوں گے کہ راقم ماضی قریب تک اس دور جدید میں بھی زمانہ ماضی کا ایک حصہ،اپنے زمانہ میں ہی سر گرداں اور اسی فرسودہ نظام کے طلسم گرہ گیر کا اسیر تھا ۔اپنے ہاتھ اور قلم سے لکھا کالم بذریعہ ڈاک ہی اپنے اخبار کے ایڈیٹر کو بھیجتا اور ساتھ یہ خام توقع بھی رکھتا کہ خط مقررہ وقت پر ایڈیٹر صاحب کے پاس پہنچ کر اخبار میں شائع ہو گا لیکن شومئی قسمت کہ ایسا ہوتا نہیں تھا اس لئے بارہا اخبار کے ایڈیٹر اور میرے محسن سید رسول ترگوی صاحب مجھے کمپیوٹر اور ای میل کے استعمال کا مشفقانہ مشورہ عنائت کر تے رہتے تھے لیکن کیا کرتا کہ طبیعت ادھر نہیں آتی تھی ۔ہمارے زمانے میں تو ڈاک کے نظام پر ہی دور دراز کے متعلقین کی خریت اور غمی خوشی کے حالات معلوم کرنے کا دارومدار تھا۔پیشے سے دیانت اور فرائض کی لگن بنیادی وصف خیال کیا جاتا ۔ڈاک کا بروقت پہنچنا اور پہنچانا اخلاقی ،قانونی اور پیشہ وارانہ تقدس سمجھا جاتا ۔راقم بھی محکمہ ڈاک کی ستم ظریفی کا ایک طویل عرصہ شکار رہا ۔اسی کارن کئی بار لکھنے لکھانے کے جنون سے جدائی اختیار کی اور ہمیشہ کرنٹ افئیرز پر لکھنے سے احتراز کی پالیسی ہی اپنائی کیونکہ جب کالم بذریعہ ڈاک راقم کے ایڈیٹر کو وصول ہو کر پرنٹ میڈیا کی زینت بنتا وہ واقعہ باسی اور اس کی اہمیت ختم ہو چکی ہوتی ۔معزز قارئین کے علم میں ہے کہ خبر کی بھی ایک عمر ہوتی ہے ۔اکثر خبروں کی عمروں کا دورانیہ 24گھنٹوں پر محیط اور کچھ ذرا لمبی ہوتی ہیں ۔یہی خبریں اور خبروں پر مبنی واقعات کالم کی بنیاد بنتے ہیں ۔خبر یا واقعہ کی جزویات ،پس منظر ،اہمیت اور متعلقہ معلومات کالم کیلئے مطلوب ہوتی ہیں تب ہی کالم عوامی جذبوں کی نمائیندگی کا ذریعہ بنتا ہے لیکن جب خبر اپنی عمر کا سفر طے کر لے ،واقعات کی حدت و شدت سرد ہو کر ماند پڑ جائے تو پھر لکھا گیا کالم اپنی جاذبیت کھو دیتا اور اس کے پس پردہ مقاصد کا حصول ناممکن ہو جاتا ہے ۔ہر تخلیق کار اپنی تخلیق کو دیکھ کر دلی راحت محسوس کرتا ہے ،جیسے ایک کاشتکار اپنی فصل، موجد اپنی ایجاد ،مصور اپنی تصویر ،انجنئیر اپنی عمارت ،شاعر اپنا دیوان اور مصنف اپنی تصنیف دیکھ کر نازاں ہوتا ہے اسی طرح کالم نگار کالم کی بروقت اشاعت پر اسے دیکھتا اور تسکین محسوس کرتا ہے ۔کئی مضامین جو راقم بڑی عرق ریزی اور محنت سے لکھتا تھا وہ صرف ڈاک کی بروقت ترسیل نہ ہونے کے سبب مرحلہ اشاعت سے محروم رہتے۔جس سے راقم کو ذہنی اذیت اور ناخوشگوار تکلیف دہ احساس سے دوچار ہونا پڑتا اگرچہ راقم کی نسل برقی آلات سے نابلد اور اسے مہارت سے چلانے سے قاصر ہے لیکن قلم پر نکھار سے تو یہ چیزیں نہیں روک سکتیں۔بلآخر خدا خدا کر کے ڈاک کے سسٹم سے جداہو کر پی ٹی سی ایل انٹر نیٹ کی آغوش میں پناہ لی لیکن یہاں بھی ڈاک خانے والی صورت حال کا سامنا کرنا پڑااور ذہن و قلب اسی سوچ و فکر کا شکار ہے کہ جاؤں کدھر کو میں؟راقم ضلع سیالکوٹ کے ایک تاریخی قصبہ چٹی شیخاں کا رہائشی ہے جو شہری اور دیہاتی ملی جلی ثقافت کا آئینہ دار ہے ۔خیال اغلب تھا کہ ڈاک کے بجائے کمپیوٹر اور انٹر نیٹ بقول شاعر تنہائی کا بہترین ساتھی ثابت ہو گا۔تم میرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا شومئی قسمت کہ ہمارا پی ٹی سی ایل نیٹ سسٹم ہر ما ہ دس سے بارہ دن تک خراب یعنی چلنے سے انکاری ہو جاتا ہے ۔دوسرے بل کی ترسیل کا نظام بہت ابتر ہے کسی ماہ بل ہی نہیں پہنچتا۔کئی بار نیٹ کی خرابی کی شکایات اسلام آباد کرا چکا ہوں لیکن ازالے میں دس بارہ دن ضرور لگ جاتے ہیں ایک ہی کام محکمہ والے باقاعدگی سے کرتے ہیں کہ دس بارہ دن نیٹ استعمال نہ کرنے کے باوجود بل دوگنا ڈال دیتے ہیں ۔ارباب اختیارسے ازالے کی گزارش ہے۔

بروقت انتخابات، جمہوری اور پارلیمانی نظام کیلئے ضروری

adaria

عدالت عظمیٰ نے عام انتخابات 2018ء میں حصہ لینے والے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کے فارم میں تبدیلی سے متعلق لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق وغیرہ کی اپیلوں کی سماعت کے دوران عبوری حکم جاری کرتے ہوئے امیدواروں کو کاغذات نامزدگی کے علاوہ تین روز کے اندر اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ ایک بیان حلفی بھی جمع کرانے کاحکم جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بیان حلفی میں امیدوار کے اثاثوں سے متعلق تمام تر تفصیلات درج کی جائیں گی، سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی فارم کے ساتھ امیدواروں کی جانب سے جمع کرایا جانے والا بیان حلفی کا مسودہ جاری کردیا ہے۔ اس میں اثاثوں ، قرضوں ، بیرونی شہریت ، جرائم کیسز، ٹیکس تفصیلات دینی ہوں یگ، ذرائع آمدن ، بیرونی دوروں بحیثیت رکن اسمبلی امیدوار کو حلقے کے فائدے کیلئے کیے گئے کام کی تفصیل بھی فراہم کرنا ہوگی اور یہ بھی بتانا ہوگا کہ امیدوار یا فیملی کا کوئی فرد ، 20 لاکھ یا زائد مالیت کا نادہندہ نہیں یا قرضہ معاف نہیں کرایا ، یوٹیلٹی بلز کا 10 ہزار یا زائد بل واجب الادا نہیں امیدوار کو سیاسی جماعت کی پارٹی ٹکٹ کیلئے ادا یا وصول شدہ رقم کی تفصیلات دینی ہوگی اور تصدیق شدہ بیان کاغذات نامزدگی کے ساتھ جمع کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جھوٹ بولا تو توہین عدالت اور جعلسازی کی کارروائی ہوگی ، ملک کیلئے صاف ستھرے لوگ چاہئیں الیکشن کمیشن کا پیش کردہ حلف نامہ عدالت نے منظور کرلیا ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ قانون بنانے والوں نے چالاکیاں کرکے قوم کو مصیبت میں ڈالا الگ بینچ بنائیں گے جو دیکھے گا الیکشن کیسے کرانا ہے انہوں نے کہاکہ انتخابات کی تاریخ پر سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔ دوسری طرف نگران وزیراعظم (ر) ناصر الملک سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات بھی الیکشن کے حوالے سے بڑی اہمیت اور دوررس نتائج کی حامل قرار پائی اس ملاقات میں آرمی چیف نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی کہ الیکشن کیلئے سیکورٹی فراہم کی جائے گی ، سپریم کورٹ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کا ہدف صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد ہے الیکشن کمیشن نے جو حلف نامہ تیار کیا ہے امیدواروں کیلئے اب اثاثوں کا چھپانا ناممکن ہے۔ اگر کوئی امیدوار جھوٹ بلے گا اور اپنے اثاثہ جات اور دیگر معلومات کی تفصیلات میں غلط بیانی سے کام لے گا تو توہین عدالت کے زمرے میں آئے گا اور قانون گرفت سے نہیں بچ پائے گا قانون بنانے والوں نے بڑی ہوشیاری اور چالاکی سے کام لیا لیکن عدالت عظمیٰ نے ان کی چالاکی پر پانی پھیر دیا اور الیکشن کمیشن کا تیار حلف نامہ امیدواروں کیلئے کسی امتحان سے کم نہیں ، ہم سمجھتے ہیں کہ عدالت کا عبوری حکم وقت کے تقاضوں کے مطابق اور آئین و قانون کی روشنی میں صحیح سمت کا تعین کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔ اب وہی امیدوار انتخابات میں حصہ لے سکیں گے ۔ جن کا کردار بے داغ ہوگا کرپٹ لوگ بھان متی کی سیڑھیوں پر نہ چڑھ پائیں گے، ہمارا المیہ یہ ہے کہ انتخابات میں کرپٹ لوگ کامیاب ہو جاتے ہیں جو قومی دولت کا نہ صرف ضیاع کرتے ہیں بلکہ ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں جس سے مسائل جوں کے توں ہی رہ جاتے ہیں۔ عوام مسائل پر آہ وزاری کرتے کرتے تھک جاتے ہیں مگر ان کی مرادیں تشنہ تکمیل رہتی ہیں ۔ الیکشن 2018ء میں اہل امیدوار ہی الیکشن لڑ سکیں گے جب اہل امیدوار ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے تو وطن عزیز درپیش چیلنجز سے نکل پائے گا ۔ نگران حکومت کا ہدف بروقت اور صاف و شفاف الیکشن ہیں ہمیں امید ہے کہ عدالت عظمیٰ، الیکشن کمیشن اور آرمی کے تعاون سے پرامن اور صاف انتخابات عوام کا مقدر ٹھہرے گا اور آرٹیکل 63,62 پر پورے اترنے والے ہی الیکشن میں حصہ لے سکیں گے ۔ چیف جسٹس نے انتخابات کی تاریخ پر سمجھوتہ نہ کرنے کا عزم کا اعادہ کرکے یہ باور کرادیا ہے کہ انتخابات اپنے مقررہ تاریخ پر ہی ہونگے ، نئے کاغذات برقرار کھنے اور امیدواروں کو اثاثوں ، غیر ملکی شہریت سمیت تمام اضافی معلومات کا بیان حلفی دینا لازم قرار دینا ایک مستحسن اقدام ہے اب کوئی امیدوار جھوٹ و فریب دہی سے کام نہیں لے سکے گا، الیکشن کمیشن کا پیش کردہ حلف نامہ امیدواروں کیلئے امتحان بھی ہے اور وقت کے تقاضوں کا آئینہ دار بھی۔ انتخابات کا بروقت انعقاد ہی جمہوری اور پارلیمانی نظام کو مستحکم بنا سکتا ہے، نگران حکومت الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ صاف و شفاف الیکشن کیلئے پرعزم ہیں یہ اس امر کا عکاس ہے کہ آمدہ الیکشن صاف و شفاف ہونگے۔نگران حکومت کا بھی یہ ہدف ہے کہ الیکشن وقت پر ہوں ، انتخابی اصلاحات کا قانون حکومت اور اپوزیشن نے بڑی عرق ریزی کے بعد منظور کیا تھا، لاہورہائیکورٹ کے حکم کے بعد کاغذات نامزدگی وصولی کا عمل رک گیا تھا جوسپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد شروع ہوا ،الیکش کمیشن کا حلف نامہ بھی صاف و شفاف الیکشن کا ذریعہ قرار پائے گا۔

کرپشن،اختیارات کاناجائزاستعمال ،نیب تحقیقات
نیب نے ایل این جی کیس میں میاں نواز شریف ، شاہد خاقان عباسی کیخلاف انکوائری کی منظوری دیدی ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے ان پر الزام ہے کہ من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا 15 سال کیلئے ٹھیکہ دیا گیا جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ۔ نیب نے شہباز شریف اور سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ، کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سابق چیئرمین وائس ایڈمرل (ر)احمد حیات، بریگیڈیئر(ر) سید جمشید زیدی ، سابق صوبائی وزراء بلوچستان شیخ جعفر خان ، عبیداللہ بابت کیخلاف بھی بدعنوانیوں کے الزامات میں کارروائی کا فیصلہ کیا ۔ نیب ایگزیکٹو بورڈ نے خواجہ سعد رفیق کو پیراگون ہاؤسنگ سابق اسپیکر ، ڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی کیخلاف الزام پر کارروائی کی منظوری دیدی ، قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر صدات نیب ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں بدعنوانی کے الزامات میں مختلف سیاسی شخصیات کیخلاف تحقیقات کی منظوری دی گئی ۔ نیب کا شکنجہ سیاستدانوں کے گرد تنگ ہوتا جارہا ہے ،نیب کو چاہیے کہ وہ احتساب کے عمل کو صاف و شفاف بنانے کے ساتھ ساتھ بلا امتیاز احتسابی عمل کو بڑھائے تاکہ بدعنوانی کی روک تھام ممکن ہو سکے ، اس وقت کوئی ادارہ ایسا نہیں جس میں کرپشن نہ ہو اور کرپشن کا ناسور ہی ترقی و خوشحالی کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ ماضی میں بھی احتساب احتساب کی گونج سنائی دیتی رہی لیکن کسی کرپٹ کیخلاف احتسابی گرفت کمزور رہی جس سے بدعنوانی کا رجحان بڑھتا ہی چلا گیا ۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ نے اب جو قدم اٹھایا ہے اس کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی ذمہ داری ہے ۔ چیئرمین نیب نے بدعنوانی کی روک تھام کے سلسلہ میں انکوائری کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے ، یہ وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے جب تک بلا تفریق اور کڑا احتساب نہیں ہوگا ، کرپشن کی روک تھام نہیں ہوسکے گی جن شخصیات کیخلاف تحقیقات شروع کی جارہی ہیں ان میں شفافیت ازحد ضروری ہے اورملک و قوم کے مفاد میں ہے ، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کیخلاف سخت کارروائی ہی انصاف کے تقاضے پورے کرسکتی ہے۔

عالمی بینک کا دوہرا معیار

عالمی بینک کی جانب سے پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کشن گنگا ڈیم کے تنازع پر عالمی ثالثی عدالت میں جانے کے اپنے موقف سے دستبردار ہوجائے اور بھارت کی غیر جانبدار ماہر کی تعیناتی کی پیشکش قبول کرے۔ 5 اپریل کو بھارت کی جانب سے متنازع کشن گنگا ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے کی تصدیق کے بعد پاکستان نے ورلڈبینک سے اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے 2 بڑے بھارتی منصوبوں پر اسلام آباد کے تحفظات کو 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت دور کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ جس پرگزشتہ دنوں ہونے والی بات چیت میں عالمی بینک کے صدر جم یونگ کم نے پاکستانی حکومت کو تجویز دی وہ اس معاملے کو آئی سی اے میں لے جانے کے موقف سے دستبردار ہوجائے۔پاکستان کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں کے پانی کا بھاؤ اور سطح کم ہوجائے گی۔دوسری جانب بھارت نے اس معاملے کو ڈیم کے ڈیزائن پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اسے چند غیر جانبدار ماہرین کے ذریعے حل کرنا چاہیے ۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ اس معاملے پر بھارت کی تجویز کو تسلیم کرنا یا اپنے موقف سے دستبردار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے لیے ثالثی کے دروازے بند کرنا اور عالمی عدالت میں جانے سے قبل ہی ایک تنازع سے پیچھے ہٹ جانا ہے۔اس کے علاوہ یہ ایک مثال بن جائیگی کہ جب بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع پیدا ہو تو اس کے حل کیلئے غیر جانبدار ماہرین کا انتخاب کیا جائیگا۔ 12 دسمبر 2016 کو عالمی بینک کے صدر کی جانب سے پاکستان کے اس وقت کے وزیر خزانہ اسحق ڈار کو بذریعہ خط آگاہ کیا گیا تھا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ آئی سی اے کے چیئرمین کے ساتھ ساتھ غیر جانبدار ماہر کی تقرری کے عمل کو روک دیا جائے تاہم اس وقت اسحق ڈار کی جانب سے اس معاملے پر سخت احتجاج کیا گیا تھا اور عالمی بینک کو بتایا گیا تھا کہ پاکستان ان کے روکنے کے عمل کو تسلیم نہیں کریگایہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ عالمی بینک اس معاملے میں اپنا بقیہ کردار ادا کرے۔پاکستان کا موقف تھا کہ ایک جانب عالمی بینک اس تنازع کو ثالثی عدالت میں اٹھانے سے اپنے ہاتھ باندھتا ہے تو دوسری جانب وہ بھارت کی ڈیم تعمیر کرنے کی کوششوں کو بھی نہیں روکتا۔گزشتہ برس فروری میں عالمی بینک کی جانب سے اس عمل روکنے کے معاملے میں اس وقت تک توسیع کی گئی جب تک دونوں ممالک کے سیکرٹری سطح پر مذاکرات میں کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ۔ اس کے بعد فروری، اپریل، جولائی اور ستمبر میں واشنگٹن میں 4 مذاکراتی دور ہوئے جس میں عالمی بینک نے سندھ طاس معاہدے کے تحت معاملے پر عالمی عدالت کی تقرری کی امید ظاہر کی تھی تاہم بھارت نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا۔ پانی کی شدید کمی کی وجہ سے فصلوں کے لئے پانی دستیاب نہیں اور کاشت کی گئی فصلیں سوکھنے لگی ہیں۔ نہروں میں صرف پینے کے لئے پانی چھوڑا جارہا ہے۔ پانی کی قلت کے خلاف مختلف علاقوں میں لوگ احتجاج کررہے ہیں۔ سکھر، گدو اور کوٹری بیراج سے زرعی مقاصد کے لئے پانی نہیں چھوڑا جارہا ۔ بدین، نواب شاہ، میر پور خاص اور دیگر علاقوں میں صورت حال زیادہ خراب ہے۔ سیکرٹری آبپاشی سندھ کا کہنا ہے کہ 15 جون کے بعد پانی کے مسئلہ میں بہتری آئے گی۔ یہ صورت حال صرف سندھ کی نہیں، بلوچستان کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی پانی کی کمی پر کاشتکاروں اور زمینداروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ دریائے ستلج کئی سال پہلے خشک ہوچکا ہے۔ چناب اور راوی کے بارے میں گزشتہ پانچ چھ برسوں سے یہ رپورٹ آچکی ہے کہ ان دریاؤں میں پانی بہت کم رہ گیا ہے، اور بیشتر اوقات یہ دریا نہیں نالے کی شکل میں بہتے ہیں۔ دریاؤں میں پانی کی کمی کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ پچھلے کئی سال سے بارشیں بہت کم ہورہی ہیں ۔ ہر سال منگلا اور تربیلا ڈیم کے ساتھ ساتھ دیگر چھوٹے ڈیموں میں پانی قبل از وقت ہی ڈیڈ لیول تک پہنچ جاتا ہے، جس سے ایک طرف تو بجلی کی پیداوار متاثر ہوتی ہے، دوسری جانب شہریوں کو پینے کے پانی کی قلت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس خوفناک صورت حال کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کے لئے دریائی پانی کے بہاؤ کو اپنی حکمت عملی کے تحت بہت کم کردیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کئی بار پاکستان کو آبی جارحیت کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے بگلیہار ڈیم بنانے پر اعتراضات کئے جاتے رہے ہیں،مگر بات نہیں بن سکی۔بھارت گزشتہ چند عشروں سے مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی جانب آنے والے دریاؤں پر ڈیم تعمیر کر رہا ہے جن میں سے دریائے نیلم پر اس نے کشن گنگا ڈیم تعمیر کر لیا ہے۔ بھارت اس ڈیم سے 330 میگاواٹ بجلی پیدا کر سکے گا۔ اس منصوبے کی تکمیل میں اس دوران ہی جب ورلڈ بینک نے 2016ء میں پاکستان کے حق میں حکم امتناع پر مبنی فیصلہ سناتے ہوئے بھارت کو ڈیم کے ڈیزائن میں تبدیلی کا حکم دیا تھا۔اس سے پیشتر فروری 2013ء کو دی ہیگ میں عالمی عدالت نے پاکستان کے اعتراض کو صحیح قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں واقع کشن گنگا ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کی طرف پانی کے بہاؤ میں غیرمعمولی اثر پڑے گا۔ پاکستان کے عالمی عدالت میں جانے کے باوجود بھارت نے کشن گنگا ڈیم کے ڈیزائن میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور عالمی عدالت کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا۔یہ صورت حال اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاکستان کو عالمی عدالت انصاف میں جانے کے باوجود کوئی فائدہ نہیں ہوا اور بھارت نے عالمی قوانین کو پاؤں تلے روندتے ہوئے آبی جارحیت کا عمل جاری رکھا۔ اب کشن گنگا ڈیم کی تعمیر کے بعد صورت حال یہ ہے کہ دریائے جہلم ایک خشک میدان دکھائی دینے لگا ہے۔ بھارت دریائے چناب پر 850 میگاواٹ کا رتلے پن بجلی کا منصوبہ بنا رہا ہے‘ اس ڈیم کی تعمیر کے بعد دریائے چناب میں بھی پانی کے بہاؤ پر غیرمعمولی اثرات مرتب ہوں گے۔گزشتہ دنوں بھارتی وزیر مملکت برائے ٹرانسپورٹ و پانی ناتھ کڈکری نے ایک تقریب کے دوران پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اترکھنڈ کے دریاؤں پر تین ڈیم بنا کر پاکستان جانے والے پانی کو روک لیں گے تاکہ برسات نہ ہونے کے باعث پیدا ہونے والے پانی کے بحران کے وقت ان ڈیموں کا پانی استعمال کیا جا سکے۔بھارت جس تیزی سے ڈیموں کے منصوبے بنا رہا ہے ان کی تکمیل کے بعد پاکستان میں پانی کا بحران شدت اختیار کر جائے گا اور جہلم اور چناب جو پہلے ہی خشک ہو رہے ہیں مزید خشک ہو کر چٹیل میدان بن جائیں گے۔پاکستان بھارت کے خلاف متعدد بار عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹا چکا ہے اب ایک بار پھر اس نے عالمی بینک سے رابطہ کیا ہے لیکن ماضی کی صورت حال دیکھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ جیسے پہلے بھی عالمی عدالت انصاف بھارت کو آبی جارحیت سے روکنے میں ناکام ہوئی اب بھی ورلڈ بینک کو خط لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ بھارت 1960ء میں تشکیل پانے والے سندھ طاس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے اور عالمی ادارے پاکستان کے احتجاج کے باوجود بے حسی اور بے بسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

فلسطین ، بلفور سے ڈونلڈ ٹرمپ تک(1)

برطانوی وزیر خارجہ لارڈ بلفور کی جانب سے نومبر 1917 میں فلسطین میں یہودیوں کا قومی گھر بنانے کے اعلان سے شروع ہونے والی فلسطینی عربوں پر ظلم و ستم کی داستان امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی رائے عامہ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے امریکی سفارت خانہ یروشلم ( بیت المقدس) منتقل کرنے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے جس بہیمانہ طور پر فلسطینی بچوں ، عورتوں اور مردوں کا قتل عام شروع کیا ہے اُس سے دنیا یہ سمجھنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ جمہوری آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق کے موجودہ جدید دور میں نازی جرمنی کے فاشسٹ ایجنڈے پر عمل کرنے والی اگر کوئی دوسری قوت ہے تو وہ صیہونی فاشسٹ قوت اسرائیل ہی ہے جسے قتل و غارت گری سے روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ البتہ اسرائیلی بہیمانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ترکی کی حکومت نے اسلامی سربراہ کانفرنس میں اسرائیلی فاشسٹ اقدامات کی شدید مذمت کی ہے ۔ برطانوی حکومت نے 1917 میں اعلان بل فور کے ذریعے فلسطین میں یہودیوں کا قومی گھر بنانے کا وعدہ کیا اور اِس اعلان کیساتھ ہی صیہونی لابی نے دنیا بھر سے یہودیوں کو فلسطین میں لا کر بسانے کا سلسلہ شروع کیا ۔ بین الاقوامی امور میں مغربی ملکوں کی بدنیتی اور منافقت اِس اَمر سے واضح ہو جاتی ہے کہ برطانیہ نے ماضی میں سازشی ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے تو اپنے ایک سیکریٹ ایجنٹ لارنس آف عربیا کے ذریعے پہلی جنگ عظیم کے دوران 1915/1916 میں عرب رہنماؤں سے بات چیت کے ذریعے ایک خفیہ معاہدے کیمطابق عثمانی ترک سلطنت کے خلاف مزاحمت کرنے کے وعدے پر عرب ملکوں کو آزادی دینے کا وعدہ کیا لیکن اِس کیساتھ ہی برطانیہ نے یورپ کی دوسری بڑی قوت فرانس کیساتھ ایک اور خفیہ معاہدہ کیا جسے تاریخ میں سائیکی پیکٹ معاہدے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس کے تحت عثمانی ترکوں کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کی صورت میں فتح یاب عرب علاقوں میں عربوں کو آزادی دینے کے بجائے عرب ریاستوں کی آپس میں بندر بانٹ کر لی گئی۔چنانچہ سائیکی پیکٹ معاہدے کیساتھ ساتھ برطانیہ نے پہلی جنگ عظیم میں یہودیوں کی صیہونی تحریک کی جانب سے برطانیہ کی مالی اور اخلاقی حمایت کی بنیاد پر نومبر 1917 میں فلسطین میں یہودیوں کا قومی گھر بنانے کا اعلان بھی کر دیا ۔
درحقیقت یہودیوں کی مالی امداد اتنی تیر بہدف ثابت ہوئی کہ عرب علاقوں کو آزادی دینے کے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بل خصوص فلسطین میں برطانیہ نے لیگ آف نیشنز کی حمایت سے برطانوی مینڈیٹ ( انتداب )کے حوالے سے اپنا قبضہ جاری رکھا تاکہ برطانوی سرپرستی میں فلسطینی عربوں کو صیہونیوں کے پُر تشدد واقعات کے ذریعے زمینوں سے بیدخل کرکے دنیا بھر سے لائے جانے والے یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا جائے جو فلسطینی علاقوں میں ظلم و ستم کی کیفیت میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے آج بھی جاری و ساری ہے ۔ بہرحال فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی غیر قانونی قبضے ، قتل و غارت گری اور بے پناہ ظلم و ستم سہنے کے باوجود فلسطینی عربوں نے بیت المقدس کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے آزادی کی اُمنگ کو بدترین حالات میں زندہ رکھا ہے اور بے پناہ قربانیوں کے باوجود فلسطینی اتھارٹی دریائے اُردن کے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر اندرونی خود مختاری کو قائم رکھے ہوئے ہے ۔
فلسطین کی تاریخ میں 29 نومبر 2012 فلسطین کی سرزمین کیلئے ظلمات کے گہرے اندھیروں میں اُمید کی نئی کرن لیکر آئی جب امریکہ اور اسرائیل کی پُرزور مخالفت کے باوجود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 9 ووٹوں کے مقابلے میں 138 ووٹوں کی کثیر اکثریت سے فلسطین کو نان ممبر مبصر ریاست کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں نشست دینے کا اعلان کیا ۔ جنرل اسمبلی میں ووٹنگ سے قبل اسرائیل کے چند اتحادیوں جن میں امریکہ اور برطانیہ پیش پیش تھے فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس پر شدید دباؤ ڈالتے ہوئے قرارداد کے ڈرافٹ میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا جن میں اسرائیل کیساتھ غیر مشروط گفتگو کرنے کی حامی بھرنے اور اسرائیلی مشاورت کے بغیر اقوام متحدہ کے دیگر سب سڈیری اداروں کی ممبر شپ کیلئے درخوست نہ دینے کے مطالبے شامل تھے ۔ اسرائیل کے حامی مغربی ممالک فلسطین کی قرارداد کے متن میں اِن تبدیلیوں کے اِس لئے بھی خواہش مند تھے کیونکہ اِن ممالک کو یہ خدشات تھے کہ اقوام متحدہ میں فلسطینی مبصر ریاست کے تاریخ ساز جنم لئے جانے کے بعد فلسطینی مبصر ریاست ، فلسطین کی علاقائی حدود کے تعین کیلئے 1967 سے قبل کی حدود بحال کرانے کی جدو جہد کو مہمیز دینے کے علاوہ فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اور وقتاً فوقتاً تباہ کن ہتھیاروں بشمول فاسفورس دھماکہ خیز مواد کے ذریعے بمباری سے بے گناہ فلسطینیوں جن میں شیر خوار بچوں، طلباء و طالبات سے لیکر عمر رسیدہ خواتین بھی شامل ہیں کے قتل عام کے خلاف اقوام متحدہ کے اداروں میں قانونی جنگ لڑنے کے قابل ہو جائیگی لہٰذا ، امریکہ اور اسرائیل کیلئے یہ اَمر انتہائی پریشان کن ہے کہ فلسطینی نان ممبر مبصر ریاست اب اسرائیل کی اِن انسانیت سوز کاروائیوں کو منظر عام پر لانے کیلئے اقوام متحدہ کے اداروں میں داد رسی کیلئے آواز بلند کر سکتی ہے ۔ یہ درست ہے کہ فلسطین کو مبصر ریاست کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں ووٹ دینے کا حق تو حاصل نہیں ہوگا لیکن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مبصر ریاست کی حیثیت سے فلسطینی نمائندے کی موجودگی اسرائیل کیلئے اقوام متحدہ کے اداروں میں اچھائی کی آواز بلند کرنے کا ایک ذریعہ ضرور بن چکی ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یکطرفہ طور پر امریکی سفارت خانہ بیت المقدس میں منتقل کرنے کے بعد اسرائیلی فوج کی جانب سے نہتے فلسطینوں کے سینے حساس اسلحہ سے چھلنی کرنے پر جس میں سینکڑوں فلسطینی بچے مرد اور عورتیں شہید ہوچکی ہیں اور ہزاروں زخمی دنیا کے ضمیر کو جگانے کے منتظر ہیں پر کچھ مغربی یورپی ملکوں کا ضمیر ضرور جاگا ہے جنہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے دباؤ کے باوجود اپنے سفارت خانے بیت المقدس منتقل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
اندریں حالات فلسطین کے حوالے سے اِن بنیادی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئیے کہ 1917 میں جب برطانوی فوجیں فلسطین میں داخل ہوئیں تو اُس وقت فلسطین کی کل آبادی تقریباً سات لاکھ افراد پر مثتمل تھی جن میں پانچ لاکھ چوہتر ہزار فلسطینی مسلمان ، ستر ہزار فلسطینی عیسائی اور صرف چھپن ہزار فلسطینی یہودی تھے ۔ تیس برس تک فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جانے ، اُنکی پراپرٹی پر حیلے بہانوں سے قبضہ کرنے اور دنیا بھر سے لائے گئے یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کے بعد بھی 1947 میں بھی مسلمان اکثریت میں تھے جبکہ یہودی کل آبادی کا محض 33 فی صد تھے ، اِس کے باوجود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے نومبر 1947 کی قرارداد میں تقسیم فلسطین کے حوالے سے فلسطین کے بہترین بڑے حصے پر یہودی ریاست بنانے اور کم تر حصے پر چند ٹکڑوں میں بٹی فلسطینی ریاست بنانے کا اعلان کیا لیکن اقوام متحدہ کی منظور کی گئی اِس قرارداد کے تحت بھی فلسطینی ریاست کو قائم نہیں ہونے دیا گیا اور اسرائیل نے طاقت کے زور پر فلسطین کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا چنانچہ امریکی ویٹو آج بھی اسرائیلی وجود کیلئے اہم ترین بین الاقوامی فیکٹر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ (۔۔۔۔۔۔جاری ہے)

آبی دہشت گردی

 

ہزاروں سال قبل مصر کے خدیو (بادشاہ) نے ایک رات عجیب و غریب خواب دیکھا کہ ایک طرف سے سات موٹی تازی گائیں نمودار ہوتی ہیں پھر اسی سمت سے سات کمزور اور لاغر گائیں باری باری آتی ہیں جو پہلے والی گائیوں کو ایک ایک کر کے کھا جاتی ہیں ۔خدیو اس خواب کی تعبیر کیلئے بے تاب ہو گیا ۔اس دور کے تمام ستارہ شناس اس خواب کی تعبیر بتانے سے عاجز رہے ۔ایک دن ایک انتہائی خوبصورت اور وجیہہ جوان دربار شاہی میں پہنچا ۔اس نے خواب کی تعبیر کیلئے بے قرار بادشاہ کو خواب کی تعبیر اس طرح بتائی ۔’’ سات موٹی گائیں خوشحالی کی علامت ہیں یعنی پہلے سات برس خوب بارش برسے گی اگلے سات برس قحط سالی کے ہوں گے،سات کمزور و ناتواں گائیں اسی خشک سالی کو ظاہر کرتی ہیں ،یہ خواب اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر تم نے خوشحالی کے سات برسوں کے دوران غلہ جمع کر لیا تو تم عوام کو بھوکوں مرنے سے بچا لو گے ‘‘۔ بنی اسرائیل کے یہ خوش گفتار، حسین و جمیل نوجوان حضرت یوسف علیہ السلام تھے جنہوں نے خدیو کو اپنی مدد آپ کا قانون سمجھایا جس کے سبب مصری عوام قحط سالی کا شکار ہونے سے بچ گئے ۔خدا کی تخلیق کردہ حیات و کائنات اس کے بنائے ہوئے غیر متبدل اصولوں کے تابع ہے جو قومیں ایڈہاک کی بنیاد پر پالیسیاں مرتب کرتی ہیں ،عوام کو ریلیف دینے کے جز وقتی سامان کرتی ہیں ،حقائق سے چشم پوشی کر کے آنکھیں موند ھ لیتی ہیں ان کا مستقبل ہمیشہ گہرے منفی اثرات لئے ناقابل تلافی نقصان کا آئینہ دار ہوتا ہے ،پھر اس تالیف کا ابھرنا کوئی معنی نہیں رکھتا کہ کاش ہمیں وقت پر اس کا ادراک ہوتا اور ہم پیش بندی کیلئے کچھ نہ کچھ کر لیتے۔خشک آبی کا بھیانک رقص جاری ہے ۔خوفناک حقائق اپنے آگ اگلتے جبڑے کھولے تیزی سے ہماری طرف محوسفر ہیں لیکن ہم نے ایڈہاک ازم اپنا لیا ہے جس کے کارن کمزور گائیں ہی ہمارا مقدر بنتی نظر آرہی ہیں ۔آج اگر جنگیں تیل پر ہو رہی ہیں تو مستقبل میں جنگوں کی بنیاد پانی ہو گا ۔ایک دوسرے کے آبی وسائل پر قبضہ سنگین صورت حال اختیار کر جائے گا اور یہ آبی ہتھیار ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ تباہی کا باعث ہو گا ۔ساؤتھ امریکہ میں پانامہ کینال، مڈل ایسٹ میں نہر سویزو دجلہ فرات کے دریا اور ترکی،عراق اور شام کے درمیان پانی کے مسائل موجود ہیں لیکن ہر ملک اپنے حصے کا پانی عالمی اقدار و قوانین کے مطابق حاصل کر رہا ہے کسی بھی ملک کی معیشت تباہ کرنے کیلئے اسے لق و دق صحرامیں تبدیل کرنے والا ہتھیار پانی ہے اور بد قسمتی سے یہ ہتھیار ،ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی ترجیحات میں پہلے نمبر پر ہے ۔چینی جنرل سن زور لکھتا ہے کہ ’’عسکری برتری یہ ہے کہ جنگ کئے بغیردشمن کی قوت کمزور کر دی جائے‘‘۔اس فارمولے پر بھارت پاکستان کے خلاف پوری طرح عمل پیرا ہے ۔پاکستان کا کسان بھارت کے رحم و کرم پر ہے ۔لاکھوں ایکڑ اراضی ہر سال بنجر ہو جاتی ہے ۔سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے پانی کا بڑا حصہ بھارت منتقل ہو گیا ۔قیام پاکستان کے وقت ہمارے مغربی حصے میں چھ دریا آئے تھے۔ستلج ،بیاس، راوی ، چناب، جہلم اور سندھ ،پہلے تین دریا ؤں کا ہم نے بھارت سے سودا کر لیا ۔اب بھارت پاکستانی حصے کے دریاؤں پر نقب لگانے کی پالیسیوں پر گامزن ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اب ہمارے دریاؤں کے چہرے رونقوں ،تابانیوں ،روانیوں اور جولانیوں سے محروم ہو چکے ہیں ۔بھارت ہمارے دریاؤں پر بندباندھ کر ڈیم تعمیر کر کے اپنے ریگستانوں کو سیراب کر کے سونا بنا رہا ہے اور یہاں پاکستان میں حالت یہ ہے کہ ہمارے گیارہ ہیڈ ورکس خشک ہونے کو ہیں ہمارے صوبے پانی کیلئے آپس میں دست و گریباں ہیں ۔بھارت نے سندھ طاس معاہدے ،بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کو بلڈوز کرتے ہوئے دریائے چناب ،جہلم،سندھ اور ان کے معاون ندی نالوں کا پانی غیر قانونی تعمیر کئے گئے ڈیموں کے ذریعے اپنی حدود میں روک لیا ہے ۔ دریائے سندھ میں صرف بیس فیصد پانی آ رہا ہے جبکہ چناب اور جہلم سوکھ چکے ہیں اس وجہ سے پنجاب کی 19بڑی ،2791چھوٹی نہریں ، 11050 ڈسٹری بیوٹریزاور ایک لاکھ چھ ہزار کھال بند پڑے ہیں اس سے لاکھوں ایکڑ کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔یہ اعدادوشمار راقم کی طرف سے نہیں بلکہ ماضی قریب میں سندھ طاس واٹر کونسل کے چیئر مین اور عالمی واٹر اسمبلی کے چیف کوآرڈینیٹر حافظ ظہورالحسن نے حقیقت حال کی نشاندہی کی تھی ۔انہوں نے کہا تھا کہ بھارت پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں پر 62 ڈیم مکمل کرنے کے قریب ہے اور مزید 31ڈیموں کی تعمیر شروع کر رہا ہے ۔بھارت ناردرن کینال لنک کے ایک بڑے منصوبے پر عمل پیرا ہے جس پر 230ارب ڈالر لاگت آئے گی ۔اس منصوبے کو پاکستان کے دریاؤں کے ساتھ لنک کیا جا رہا ہے ۔ ایک چھوٹا دریا جو بھارتی علاقے میں کشن گنگا اور پاکستان میں نیلم کہلاتا ہے یہ میر پور کے مقام پر دریائے جہلم کا حصہ بنتا ہے اس دریا پر بھارت نے ڈیم تعمیر کیا ہے یہ ایک متنازع ڈیم ہے مگر حال ہی میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان عالمی بینک کو اس مسئلے پر ثالثی کیلئے آمادہ کرنے میں ناکام رہا ہے اس سے قبل بھی بھارت دریائے جہلم پر بگلیار ڈیم بنا چکا ہے یہ ہماری حکومت کی بے بصیرتی اور مجرمانہ غفلت کا مظہر ہے۔زرعی پیداوار میں اضافے کیلئے آبی وسائل کی فراہمی بنیادی اہمیت رکھتی ہے ۔وطن عزیز کی معیشت کا زیادہ تر انحصار بھی زراعت پر ہے پاکستان کی 80فیصد آبادی زراعت اور 20فیصد صنعتوں سے منسلک ہے ۔انڈسٹری بجلی کی کمی کے باعث سخت متاثر ہے ۔بھارت نے ڈیموں کی تعمیر کر کے سندھ طاس معاہدے کو توڑا ہے لیکن دکھائی ایسا دیتا ہے کہ متعلقہ وزارت ،محکمے اور افراد اس تشویش کو دور کرنے کیلئے کوئی ٹھوس اقدام اٹھانے سے معذور رہے ہیں ۔کیا کسی نے کبھی سوچا ہے کہ ملکی بقا اور سلامتی داؤ پر لگ چکی ہے اور آئندہ پنجاب کے دریا اور نہریں خشک ہو کر صومالیہ اور سوڈان کا منظر پیش کریں گی ۔کبھی کبھار کسی وزیر،مشیر یا اعلیٰ افسر کی جانب سے معاہدہ سندھ طاس کے تحت پاکستان کے حصہ میں آنے والے دریاؤں کا پانی روکنے پر بھارت کے خلاف اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا جاتا ہے یا ملک میں کسی بڑے آبی ذخیرے کی تعمیر کا قوم کو عندیہ دیا جاتا ہے لیکن اس کے بعد طویل خاموشی چھا جاتی ہے اس اہم ایشو پر ہمارے ہاں سیاست تو کی جاتی رہی لیکن کسی عملی اقدام سے ہمیشہ محرومی ہی نظر آئی ۔چین ہماری مانند پانی کے مسئلے سے دوچار تھا لیکن آج وہ تاریخ انسانی کا سب سے بڑا ڈیم بنا رہا ہے لیکن ہمارے ہاں کالا باغ ڈیم جیسے آبی ذخائر کی تعمیر سیاست کی نذر کر کے ملکی مفاد کو نقصان پہنچانے کی تدبیر ہی کی گئی ۔کالا باغ ڈیم کا منصوبہ 1963ء میں منصہ شہود پر آیا لیکن یہ کھٹائی میں پڑتا چلا گیا ۔اس سچ کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ ڈیموں کی تعمیر سے نظریں چرانا ایتھوپیا کے عوام کی طرح پاکستانی عوام کا مقدر بھوک اور پیاس کے ہاتھوں مر جانا بنانا ہو گا ۔آبادی میں اضافے کے ساتھ آبی ضروریات کی تکمیل کرنے والے منصوبوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہو تو قحط نہ ٹلنے والی تقدیر کا روپ دھار لیا کرتے ہیں ۔ہر سال لاکھوں کیوسک پانی جو سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے جس سے اربوں کا نقصان ہو جاتا ہے ۔بدقسمتی سے زندگی کے بہت سے اہم شعبوں کی طرح وطن عزیز میں تجاہل و تغافل آبی وسائل کے شعبے میں بھی جاری و ساری رہا ۔ساری دنیا اپنے آبی وسائل کی بہتر تنظیم اور استعمال پر اپنی تمام توانائیاں وقف کئے ہوئے ہے لیکن ہم نے اس کے خلاف اپنا پورا زور اور توانائیاں صرف کر دیں ۔بھارت نے بھا ئرہ ڈیم بنا کر راجستھان کی لاکھوں ایکڑ زمین بھی آباد کر لی ہے اور بہت بڑی نہر سے دفاعی بند کا کام بھی لے رہا ہے ۔دوسری طرف پاکستانی ریگستان تھر اور چولستان کے ایک کروڑ سے زائد انتہائی زرخیز رقبے پر ریت اڑ رہی ہے جو پانی ملتے ہی سونا اگل سکتا ہے ۔مستقبل کے چیلنج اس بات کے متقاضی ہیں کہ پاکستان کے دریاؤں پر جابجا بند باندھے جائیں ۔پورا دریائی پانی حاصل کرنے کے ٹھوس اقدامات سے اجتناب اور غفلت نہ کی جائے ۔اگر مستقبل کی منصوبہ بندی سے آنکھیں چرا لی گئیں تو وطن عزیز کو مستقبل میں بڑے قحط سے بچانا ممکن نہیں ہو گا اور کمزور گائیں ہمارا مقدر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ بھارت تو ہمیں پہلے ہی بنجر بنانے پر تلا بیٹھا ہے ۔ سوچنا تو ہمیں ہے کیونکہ

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

Google Analytics Alternative