کالم

کلبھوشن کیس ، ہمارے موَقف کی پذیرائی

گزشتہ روزعالمی عدالت انصاف نے بھارتی دہشت گرد جاسوس کلبھوشن جادیو کا فیصلہ سنادیا جس کے مطابق اس بات پر تصدیقی مہر ثبت ہو گئی کہ بھارت اپنے و پرائے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی وارداتیں کرواتا ہے ۔ کلبھوشن جادیو کو قانون نافذکرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو بلوچستان کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا ۔ اس پر پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کے سنگین الزامات ہیں اور بھارتی جاسوس نے تمام الزامات کا مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا تھا جس پر اس کوفوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی ۔ عالمی عدالت انصاف میں بھارت خود یہ کیس لے کر گیا اور اس نے 5 مطالبات کیے تھے جو مسترد کردیے گئے ۔ بھارتی مطالبہ تھا کہ ملٹری کورٹ کی سزا کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جائے ۔ ملٹری کورٹ کی سزا کو ختم کیا جائے ۔ کلبھوشن کو رہا کیا جائے اور اس کو واپس بھارت بھیجا جائے ۔ ان تمام مطالبات پر عالمی عدالت نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا ۔ بھارتی مطالبہ ’ اگر کلبھوشن کو رہا نہیں کیا جاتا تو ملٹری کورٹ کی سزا کو ختم کرکے سول کورٹ میں مقدمہ چلایا جائے ‘ پر عالمی عدالت نے اسے رہا نہیں کیا اور نہ ہی ملٹری کورٹ کے فیصلے کو ختم کیا ہے ۔ عالمی عدالت نے ہمارا موَقف کہ کلبھوشن جادیو نیوی کمانڈر ہے ، تسلیم کیا ۔ اسی طرح ہمارا یہ کہنا کہ وہ دہشتگرد ہے، بھی درست ثابت ہوا ۔ عالمی عدالت میں ہمارے کلبھوشن کے پاسپورٹ کے حوالے سے موقف کو بھی تسلیم کیا گیا اور پاکستان کی ملٹری کورٹ کی جانب سے دی جانے والی سزا کو بھی قانون کے مطابق قرار دیا ہے ۔ یہ پاکستان کی عدلیہ اور پاکستان کی فتح ہے کیونکہ عالمی عدالت نے کلبھوشن کے کیس میں کہا ہے کہ پاکستان اس کو جس طریقے سے بھی چاہتا ہے اس کو دیکھے ۔ جب بھی کسی ملزم کو عدالت موت کی سزا دیتی ہے تو اس پر نظر ثانی اسی سسٹم کے اندر ہوتا رہتا ہے ۔ عدالت نے فیصلہ سنا یا کہ کلبھوشن جادیو پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا ۔ عدالت نے کلبھوشن جادیو کو قونصلر رسائی کا حق دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اور بھارت ویانا کنونشن کے فریق ہیں اور بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی مانگی تھی ۔ پاکستان نے بھارتی موقف کے خلاف 3اعتراضات پیش کیے ۔ پاکستان کا موقف تھا کہ کلبھوشن جعلی نام پر پاسپورٹ کے ساتھ پاکستان میں داخل ہو تا رہا ۔ بھارت کلبھوشن کی شہریت کا ثبوت دینے میں ناکام رہا ۔ کلبھوشن نے پاکستان میں جاسوسی کے ساتھ دہشت گردی کی ۔ عالمی عدالت نے کلبھوشن کا حسین مبارک پٹیل کے نام سے بھارتی پاسپورٹ اصلی قرار دے دیا ۔ پاسپورٹ اصلی ، تصویر اصلی مگر نام جعلی ہے ۔ عالمی عدالت نے کہا کہ کلبھوشن جادیو اسی پاسپورٹ پر17 بار بھارت سے باہرگیا اور واپس آیا ۔ عدالت کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کو کلبھوشن جادیو کے شہریت کے دستا ویزات نہیں دکھائے اور پاکستان کے مطالبے کے باوجود کلبھوشن جادیو کا اصلی پاسپورٹ بھی پاکستان کو نہیں دکھا یا گیا جبکہ بھارت پاکستان کے دو پاسپورٹ کی موجودگی کا جواز پیش کرنے میں ناکام رہا ۔ کلبھوشن جادیو بھارتی شہری ہے اور اس بات کو پاکستان اور بھارت دونوں نے تسلیم کیا ۔ عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن جادیو کیس میں ایڈ ہاک جج تصدق جیلانی کا اختلافی نوٹ سامنے آگیا ۔ جس میں ان کا کہنا تھا کہ بھارتی درخواست ناقابل سماعت قرار دی جانی چاہیے تھی کیونکہ ویانا کنونشن کا اطلاق جاسوس پر نہیں ہوتا ۔ ویانا کنونشن لکھنے والوں نے جاسوسوں کو شامل کرنے کا سوچا بھی نہیں ہو گا ۔ کلبھوشن جادیو نے ’’را‘‘کا جاسوس ہونے کا اعتراف کیا ۔ بھارت مقدمے میں حقوق سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا مرتکب ہوا ہے ۔ کلبھوشن جادیو کیس کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت انصاف نے ایک شاندار فیصلہ دیا ہے جس میں پاکستان کی واضح جیت ہوئی ۔ شکر کا مقام یہ کہ اللہ پاک نے پاکستان کو ایک ملک کے طور پر سرخرو کیا ہے ۔ اس کامیابی پر پاکستانی قوم عدلیہ کا سسٹم، اٹارنی جنرل اور ان کے وکلا کی ٹیم اور دفتر خارجہ سمیت سب خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔ اس اہم مقدمے کا فیصلہ سننے کیلئے اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور کی قیادت میں پاکستانی ٹیم بھی ہالینڈ پہنچی ۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل بھی اس ٹیم کا حصہ تھے ۔ کلبھوشن کیس کی آخری سماعت 18 سے 21 فروری تک ہوئی تھی جس میں بھارتی اور پاکستانی وفود نے شرکت کی تھی ۔ بھارت کی جانب سے جوائنٹ سیکرٹری دیپک متل جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کی تھی ۔ عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن جادیو سے متعلق کیس کا فیصلہ 21 فروری کو محفوظ کیا تھا ۔ مکران کے ساحلی علاقہ سے را کے بھارتی ایجنٹ کمانڈر کل بھوشن جادیوکی گرفتاری پانسہ پلٹنے والا ایسا واقعہ ثابت ہوا جس نے باہمی تعلقات کے اتار چڑھاوَ میں بھارت کو دفاعی اور پاکستان کو بالادست پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے ۔ پاک چین معاشی راہداری کے خلاف نہ صرف بھارتی نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا بلکہ یہ شواہد بھی ملے ہیں کہ ایران کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہورہی ہے ۔ ابتدائی معلومات کے مطابق کل بھوشن جادیو بھارتی بحریہ کا افسر ہے جس کی خدمات را نے مستعار لی ہیں اور وہ پاک چین معاشی راہداری کے بری و بحری راستوں اور گوادر کی بندرگاہ کی تعمیر و ترقی کے بارے میں خفیہ معلومات جمع کرنے کیلئے نیٹ ورک کی تشکیل اور اس نیٹ ورک کی تربیت کے مشن پر تھا ۔ کل بھوشن جادیو کی گرفتاری سے پاک چین معاشی راہداری کے خلاف بھارتی سازشوں کی بعض جزئیات سامنے آنے کی توقع ہے

شہبازشریف کی للکار ۔۔۔حقیقت یا افسانہ

شہبازشریف پر مبینہ کرپشن چارجز سے متعلق برطانوی جریدے میل ;200;ن سنڈے یا ڈیلی میل نے جو تحقیقاتی رپورٹ شاءع کی ہے اس کے تناظر میں کئی گریں کھولنے کی ضرورت ہے اس سے قبل شریف خاندان کی برطانیہ میں جائیدادوں کے حوالے سے کئی رپورٹس شاءع ہوچکی ہیں جس میں اسی اخبار ڈیلی میل کی24 جون 2018 کی رپورٹ بھی شامل ہے جس میں میاں نواز شریف اور انکے بیٹوں کی 32 ملین پونڈز کی برطانیہ میں جائیدادوں کا انکشاف ہے شریف خاندان نے اس سے پہلے ان رپورٹوں کے بارے میں کوئی قانونی کارروائی نہ کرکے اخبار کی رپورٹس پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے ۔ ;200;ج بھی ایسا ہی لگ رہا ہے کہ پوری مسلم لیگ ن اور پھر شہبازشریف کا برطانوی اخبار کے خلاف جارحانہ انداز محض بیان بازی ہے یا چیخ وپکار ہے جو وقتی طور پر اپنے خلاف برپا ہونے والے بھونچال کو صرف زبانی کلامی روکنا ہی ہے ۔ برطانیہ میں کسی بھی شخص کی ہرزہ سرائی یا اس کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانے والوں کے لئے قانون کی تلوار موجود ہے اور برطانیہ کا ہتک عزت کا قانون تمام دولت مشترکہ کے ممالک میں بھی اسی طرح لاگو ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ شہبازشریف عدالت کا دروازہ کٹھکائیں گے یا نہیں شہبازشریف کا موقف ہے کہ انکے خلاف اخبار میں یہ من گھڑت کہانی وزیراعظم پاکستان عمران خان اور انکے مشیر شہزاد اکبر کی ملی بھگت ہے ۔ اور کہانی کا رپورٹر ڈیوڈ روز عمران خان سے ملاقات کرچکا ہے اس حوالے سے شہادت کے طور پر مسلم لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ایک تصویر وزیراعظم کے ساتھ صحافی کی دکھائی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک سال پرانی ہے ۔ اخبار کا بنیادی الزام یہ ہے کہ برطانوی ڈیپارٹمنٹ ;200;ف انٹرنیشنل اینڈ فارن ٹریڈ جو امداد ی رقم زلزلہ زدگان کے لئے فراہم کی اس کو زاتی ضرورتوں کے لئے استعمال کیا گیا اور اس رقم کو ہنڈی اور ٹی ٹی کے زریعے واپس منتقل کیا گیا اور یہاں اسی رقم سے شہبازشریف فیملی نے مختلف جائیدادیں خریدیں یہ بھی سننے میں ;200;یا ہے کہ اس برطانوی اخبار کے انکشافات کے بعد پاکستان میں پاکستان میں شہباز شریف کئی جائیدادیں نیپ نے تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ لوٹی ہوئی دولت واپس لینے کا ;200;غاز ہوگیا ہے ۔ برطانیہ میں ہتک عزت کا قانون 1207 سے موجود ہے 2014 میں باقاعدہ پارلیمنٹ نے اس قانون کو ایک بل کی صورت میں پاس کیا تھا یہ ;200;زادی اظہار رائے کے متعلق بھی ہے ہتک عزت کا دعویٰ ہر وہ شخص ہائی کورٹ میں جاکر کر سکتا ہے جس کی شہرت، تجارت یا عزت پر کسی کے عمل سے اسے نقصان ہو -شہبازشریف اگر ڈیلی میل کے خلاف ہتک عزت کا دعوی کریں اور اخبار کے خلاف مقدمہ جیت جائیں تو نہ صرف انکی اپنی نیک نامی ہوگی بلکہ پاکستان ہمارے ملک کی جو بدنامی ہوئی ہے جو دھبہ لگا ہے ان کے اس عمل سے ملک کا امیچ بہتر ہوگا لیکن قانونی پیچیدگیوں کے باعث لگتا نہیں کہ شہبازشریف واقعی اخبار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے لندن میں مقیم برطانوی ماہر قانون اور پہلے برٹش پاکستانی کوئین کونسل کے رکن بیرسٹر صبغت اللہ قادری کا کہنا ہے کہ شہبازشریف اخبار کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کریں گے چونکہ اخبار کے پاس سارے ثبوت موجود ہونگے اور اگر مقدمہ ہوا تو شہباز شریف کی اہلیہ بیٹا، داماد اور دیگر تمام افراد عدالتی کارروائی کا حصہ ہونگے جن کا زکر اخبار میں موجود ہے جن پر جج جرح کرے گا قانونی طور پر اس مقدمے کا فیصلہ ;200;نے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں مقدمہ ہائی کورٹ کا جج سنے گا جج پبلک جیوری تشکیل دینے کا بھی ;200;رڈر کرسکتا ہے فیصلہ شواہد کے تحت اور الزامات کو غلط ثابت کرنے کی بنیاد پر ہوگا ;34;یاد رہے کہ ماضی میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان پر 96-1995 میں سابق انگلش کرکٹرز اور کپتان ;200;ئن بوتھم اور ایلن لیمب نے ہتک عزت کا ایک دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان پر الزام یہ عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے انگلش کرکٹرز کو نسلی تعصب برتنے اور بال ٹمپرنگ کرنے والے کہا تھا عمران خان نے اپنا دفاع برطانوی عدالت میں ڈٹ کر کیا تھا اور عدالت نے انگلش کرکٹرز کو جھوٹا قرار دیا تھا اور عمران خان کو صادق اور ;200;مین قرار دیا تھا یہ کرکٹ کی تاریخ کا مہنگا ترین مقدمہ تھا جس پر پانچ لاکھ پونڈز خرچ ہوئے تھے مقدمے کا فیصلہ 15 اگست 1996 میں ;200;یا تھا مقدمہ ڈھائی ہفتے مسلسل چلا تھا ۔ میری دعا ہے کہ شہبازشریف مقدمہ برطانوی عدالت میں ضرور کریں لیکن شاید وہ ایسا نہیں کریں گے برطانوی معاشرہ انصاف کی بنیاد پر قائم ہے یہاں نہ کوئی ملک قیوم ہے نہ جسٹس سعید الزمان صدیقی ہے ۔

دینی علوم سے دوری۔۔۔!

کسی بھی معاشرے میں خاندان کا اہم اور کلیدی کر دار ہوتاہے ۔ خاندان میں جو لوگ شامل ہیں اُن میں والدین اور بچے ہیں ۔ خاندان کسی ملک کے بنانے اور سُنوارنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہوتا ہے ۔ اگر کسی ملک کا خاندانی نظام مختلف معاشرتی، سماجی اور اقتصادی وجوہات کی وجہ سے خراب ہو جائے تو وہ معا شرہ اور ملک تباہ و بر باد ہو جاتا ہے ۔ مشرقی خاندان میں ماں باپ، خاوند بیوی اور بچوں کا اہم کردار ہو تا ہے مگر بد قسمتی سے آج کل ہمارے معا شرے میں دوسری کئی سماجی برائیوں کی طر ح طلاق کا رواج زیادہ عروج پر جا ر ہا ہے جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اپنے معا شرے کو وہ موثر خاندانی نظام مہیا نہیں کر سکتے جو ایک فلا حی معاشرے اور ریاست کی بنیا د اور آساس ہو تا ہے ۔ نپولین کا قول ہے کہ آپ مجھے اچھی مائیں دیں میں آپکو بہترین قوم دوں گا ۔ اگر ہم وطن عزیز میں طلاق کے اعداد و شمارپر نظر ڈالیں تو بد قسمتی سے پاکستان میں طلاق کے اعداد و شمار انتہائی تکلیف دہ ہیں ۔ اگر ہم ما ضی میں مغربی ممالک سے مشرقی اور اسلامی ممالک کی طلاق کی شرح کا موازنہ کریں تو ما ضی میں مسلمان ممالک میں اسلامی تعلیمات ، مشرقی اقدار اور روایات کی وجہ سے طلاق کی شرح انتہائی کم تھی مگر بد قسمتی سے فی الوقت اسلامی اور مشرقی ممالک میں طلاق کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ ما ہرین سماجیات کہتے ہیں کہ پاکستان میں گذشتہ دو دہائیوں میں طلاق کی شرح میں انتہائی اضافہ ہوا ۔ ایک مختاط اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ 2 لاکھ 55 ہزار عورتوں کو طلاق ہو جاتا ہے ۔ ایک مشہور سماجی سائنس دان اور شادی سے متعلق امور کے ماہر ویلیم ایج ڈونی کہتے ہیں کہ امریکہ میں پہلی شادی کی 40 سے 50 فیصد تک اور دوسری شادی کی 60 فیصد شادیوں کا خاتمہ طلاق پر ہو تا ہے، ڈاکٹر صاحب نے معاشرے میں طلاق کی بُہت ساری وجوہات بیان کی ہیں جن میں چھو ٹی عمر میں شادی، کم تعلیم، کم آمدنی، طلاق یافتہ خاندان سے تعلق رکھنا، مذہب سے دوری اور نا وابستگی، شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی آپس میں اکٹھا رہنا، اللہ کی ہستی سے انکار، خاوند اور بیوی کا ایک دوسرے سے توقعات رکھنا، میاں بیوی کے اقتصادی لحا ظ سے ناہمواری اور غیر مسا ویانہ بر تری، شادی سے پہلے دونوں خاندانوں کے ایک دوسرے کے بارے میں صحیح معلومات نہ رکھنا،امریکہ اور اکثر یو رپی ممالک میں شادی سے پہلے ایک تہائی یعنی 40 فیصد بچوں کو جنم لینا ، میڈیا کردار اور اسکے علاوہ دیگر اور بھی عوامل شامل ہیں ۔ پاکستان کے ایک مشہور ماہر اقتصادیات اور سماجی علوم کے ماہر رءوف احمد کہتے ہیں کہ پاکستان میں طلاق کی شرح 2001 میں مسلم فیملی قانون میں تبدیلی ، این جی اوز کے منفی کر دار ، الیکٹرانک میڈیا پر بے ہودہ فیشن شو اور فضول پروگرام دکھانا،، حد سے زیادہ غُربت ، بھارت اور پاکستانی چینلز سے بے ہو دہ ڈرامےاور پروگرام دکھانا ، دلہن کی طرف سے جہیز کانہ ہونا وغیرہ ۔ اُنہوں نے کہا کہ وطن عزیز کے کئی این جی اوز اور الیکٹرانک میڈیا کے چینلز اسلامی معاشرتی آساس کو نہ جا نتے ہوئے بغیر عورتوں کے حقوق کے نام پر معصوم عورتوں کو expolite کرتے ہیں ، جسکی وجہ سے وطن عزیز میں طلاق کی شرح ، خلعہ اور ماں بیوی کے درمیان علیحدگی میں اضافہ ہوا ۔ گیلانی سر وے کے مطابق پاکستان میں طلاق کی شرح میں اضافہ صبر اور بر داشت کی کمی اور الیکٹرانک میڈیا پر غیر اخلاقی ، غیر اسلامی چیزوں کے دکھانے کی وجہ سے ہوا ۔ گیلانی سروے کے مطابق پاکستان میں طلاق کی شر ح میں زیادتی کی وجوہات میں 60 فیصد دین سے دوری اور 40فیصد مغرب اور مغربی میڈیا کا اثر رسوخ ہے ۔ مگر جب میں اپنے ارد گر د پر نظر ڈالتا ہوں تو میرے خیال میں ہمارے معاشرے میں طلاق کی تین بڑی وجوہات ہیں 1) اسلام اور مذہب سے دوری2) الیکٹرانک میڈیا کی یلغار اور اس پر پیش کی جانی والے بے ہو دہ اور فضول پروگرام 3) تیسری بڑی وجہ غُر بت اور افلاس جس سے ہمارے پیغمبرحضرت محمد ﷺ نے بھی پناہ مانگی ہے اور چو تھی سب سے بڑی وجہ جہیز ہے ۔ مگر اس میں سب سے زیادہ تیزی الیکٹرانک میڈیا ، کیبلز ، انٹرنیٹ اور موبائیل کی وجہ سے آئی ۔ اگر ہم جا ئزہ لیں تو الیکٹرا نک میڈیا نے نہ صرف ہ میں مذہب، کتابوں اور مُثبت سر گر میوں سے دور کیا بلکہ الیکٹرانک میڈیا پر ملک کے ٹی وی چینلز کے مالک اور پر و ڈیو سرز مغربی اور یہودی ایجنڈے کے تحت ایسے پروگرام ، ڈرامے ٹی وی ٹاک بچوں کے لئے کارٹون کے بیہو دہ پروگرام اور ایسے فیشن شو دکھاتے ہیں جو ہماری نئی نسل اور آئندہ آنے والی نسل کی اخلاقی قدروں اور مشرقی روایات کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں ۔ مُجھے وطن عزیز کے اہل دانش اور اہل علم اور صا حب قلم لوگ بتا دیں کہ جس گھر میں بیٹا بیٹی، بہن بھائی ماں باپ اور خاندان کے دوسرے افراد اور رشتہ دار ڈراموں ، بیہو دہ فیشن شوز اور فلموں میں لڑکے لڑکیوں کے گھر سے بھاگنے، عدالتوں میں اپنی مر ضی سے شادی کر نے ، فیشن کے نام پر عریاں لباس اور بیہو دہ لباس زیب تن کر رہے ہو نگے اُس معاشرے میں طلاق جیسا فعل معیوب کب سمجھا جائے گا ۔ میں پھر ایک یہودی سکالر اور نوبل انعام یا فتہ ابلاع عامہ کے اس بات کو دہراءوں گا کہ ہماری نسل کی تباہی اور بر بادی کے ذمہ دار ، میڈیا موبائل فو ن اور سگریٹ نوشی ہے ۔ اس کالم کے تو سط سے میری مذہبی سکالروں ، تمام سیاسی پا رٹیوں کے راہنماءوں اور اس معاشرے کے درد رکھنے والے لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ حکومت کو اس بات پر مجبور کر دیں کہ وطن عزیز میں کم ازکم اپنے ٹی وی چینلز پر ایسے پروگراموں سے گریز کیا جائے جو وطن عزیز میں مشرقی اسلامی اخلاقی اقدار کےلئے نُقصان دہ ہو ۔ ہ میں ایک مشرقی ملک ہونے کے ناطے ;74;oint ;70;amily systemیعنی مشترکہ خاندان کو رواج دینا چاہئے ۔ بد قسمتی سے آج کل ہم دنیاوی علوم سیکھنے پر حد سے زیادہ زور دے رہے ہیں ۔ مگر بد قسمتی سے ہم اپنی دینی علوم سیکھنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے ۔

پرا نے دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات

بھارت میں ہونے والے لوک سبھا چناءو میں نریندرامودی ایک بار پھر پانچ برس کےلئے دیش کے وزیر اعظم منتخب ہوئے دنیا کو یہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ اْنہوں یعنی مسٹر مودی;39;بی جے پی اورآرایس ایس سمیت بھارت کی تمام ہندو فرقہ ورانہ علبردار شدت پسند تنطیموں نے ;39;بھارت کو ایک ہندو دیش;39; بنانے کے کیسے کیسے جنونی نعرے نہیں لگائے مسلمانوں کے خلاف انتخابی ریلیوں میں بھارتی نڑاد مسلمانوں اور بالخصوص پاکستان دشمنی میں کیا کیا بڑکیں نہیں ماری گئیں جس کی ابتدا مودی اور اْن کے حواریوں نے عین انتخابات کے آغاز پر بھارتی خفیہ ادارے ;39;را;39; کو استعمال کرکے پلوامہ خود کش حملے کا الزام میں پاکستان کو کیسے ملوث کیا گیا;238; پلوامہ خود کش حملہ کی اب تک شفاف اورغیر جانبدار تحقیقات صرف اس وجہ سے نہیں کرائی جارہی ہیں کہ کہیں نہ کہیں اس حملہ کی مشکوک کڑیاں بھارتی انتظامیہ کے اندر کے یقینا جاملتی ہیں آج یہاں ہمارا مدعا یہ ہے کہ اگلے پانچ برس کے لئے دوبارہ منتخب ہونے والے وزیراعظم مودی نے اب تک ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل نہیں آج بھی دنیا کے غیر متعصب اور غیر جانبدار میڈیا کے ذراءع یہی کہہ رہے ہیں کہ آر ایس ایس ایک کثیر المذاہب;39;کثیر الثقافتی;39;کثیر النسلی اور ذات پات کے غیر انسانی ماحول کے شکنجے میں دبے ہوئے ملک کو;39;ایک ہندو راشٹریہ دیش;39;بنانے کے اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کی دوبارہ سے کیل کانٹوں سے لیس ہوکر کوششیں شروع کردی گئی ہیں ہم پاکستانی اور دنیا کے پْرامن طبقات آج تک نہیں بھولے کہ آرایس ایس کے ایک جنونی قاتل ;39;گوڈسے;39; نے دیش کے سب سے پہلے عدم تشدد کی علامات سمجھنے والے گاندھی جی کو کس بیدردی سے گولی مار کر شہید کردیا گیا تھا حس ہوگئی جناب، گزرے ان انتخابات میں بی جے پی نے بھارت میں بدنام ترین جنونی اور عدالتوں سے ضمانت پر رہا ہونے والی ایک ساگھویہ پرگیہ دیوی کو کو بھی لوک سبھا کا ٹکٹ دیدیا اور جو چناو جیت چکی ہیں جن کا نعرہ یہی ہے کہ بھارت صرف ہندووں کا دیش ہے غیر ہندووں کو بھارت کی سرزمین فورا چھوری دینی چاہیئے یوں تو اس منافرانہ زہریلی سوچ رکھنے والے سبھی جنونی کارسیوک برصغیر کی آزادی سے پہلے ہی اس دیش کو ;39;ہندوراشٹریہ دیش;39;بنانے کے خواب دیکھ رہے تھے لیکن اْن کا یہ خواب آج تک خواب ہی رہا یہ بڑا المیہ ہے کہ دنیا میں مذاہب کی تفریق کے نام پر ابھرنے والے ہر جنونی تشدد کو غیر انسانی رویہ کہہ کر اس کی کھلی مذمت کی جارہی ہے دنیا کے پْرامن طبقات جو عالمی سطح کی سیاسی وسفارتی چوکیداری کرنے میں ہمہ وقت اپنے آپ کو نمایاں رکھتے ہیں وہ نریندرامودی جیسے انتہا پسند جنونی مذہبی منافرت رکھنے والی سوچ کے حامل شخص کے بھارت میں دوبارہ انتخاب جیتنے پر جہاں اْس کی ہلہ شیری کررہے ہیں یا اْسے ;39;مبارک باد;39; دے رہے ہیں اْس سے یہ سوال نہیں کریں گے کہ وہ پاکستان کے مشرقی بارڈر پار اپنے ملک میں مذہبی عدم رواداری کے بڑھتے ہوئے رجحانات کو مزید بڑھاوادے گا یہ ایسے غیر انسانی سانحات اور المیوں سے بھارت کو آئندہ کےلئے محفوظ بنانے کی کوئی اپنی انسانی ذمہ داری نبھائے گا یا نہیں ;238; دنیا کوشش کرلے مگر ہم پاکستانیوں کو اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کو ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا بھارت میں صدیوں سے رہنے والے کروڑوں مسلمان اگلے پانچ برس کےلئے ہونے والے لوک سبھا کے چناءو کے بعد مودی کو دوبارہ وزیراعظم بننے پر شدید خوف وہراس کی کیفیت میں مبتلا ہیں اْس کی کچھ بنیادی وجوہات ہم پاکستانیوں سے زیادہ بھارت میں آباد مسلمان برابر محسوس کررہے ہیں اگلے پانچ برس مودی صاحب کیا اقدامات کریں گے یہ تو وقت بتائے گا کیونکہ اْنہوں نے اپنے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بھارتی مسلمان جو ایک واضح اکثریتی ;39;اقلیت;39; ہے اْن کے ساتھ امتیازی برتاو کتنا برتا جارہا ہے ایک اندازے کے مطابق مودی کی حکومت نے اپنے گزشتہ پانچ برس سب سے پہلے آر ایس ایس سے ہمدردی رکھنے والوں کو اہم عہدوں پر فائز کیا مودی کابینہ میں سادھو اور سادھوی شامل ہوئے;39; بی جے پی نے انڈین کونسل آف ہسٹو ریکل ریسرچ، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا، فلم اینڈٹیلی ویڑن انسٹیٹیوٹ آف انڈیا، جیسے اہم اداروں کے اہم عہدوں کے علاوہ مختلف ریاستوں کے گورنروں کے عہدوں پر سو یم سیوکوں کو فائز کیا گزشتہ پانچ برس کے دوران وزیراعظم کے علاوہ ان کی کابینہ کے سات ارکان ایسے تھے جن کی پوری جوانی آر ایس ایس کے سرگرم سیوک کی حیثیت سے گزری ہے مودی حکومت کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ آر ایس ایس کو خوش کرنے کےلئے دریائے سرسوتی کی محکمہ آثار قدیمہ کی مدد سے تلاش کروا رہی ہے جس کا اب تو نام و نشان تک مٹ گیا ہے اس دریا کا ذکرصرف ہندووَں کی کتابوں میں موجود ہے مودی حکومت اپنے گزرے اقتدار کے برسوں میں سب سے پہلے ملک کی 31اسمبلیوں کے منجملہ کم سے کم 20پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں رہی اْس وقت 11پر اسکا قبضہ تھا اس کام کو پوراکرنے کیلئے آر ایس ایس کی تمام ذیلی تنظیموں نے اپنے کیڈر کو ضرورت سے زیادہ متحرک کر دیا تھا گزشتہ70برسوں کے دوران پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ملک میں مسلم ووٹوں کی اہمیت ختم ہوتی جارہی ہے کوئی جماعت اگر مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کو اسطرح ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اقلیتوں کو خوش کر رہی ہے نتیجہ میں اس پارٹی کو اکثریتی ووٹوں سے محروم ہونے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلے میں آر ایس ایس اور بی جے پی نے دو مرحلوں کی حکمت عملی بھی تیار کی ایک تو قومی سطح پر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا(جو حاصل کی جاچکی ہے)اور دوسرے یہ کہ ریاستوں کی اسمبلیوں پر قبضہ کر کے ایوانِ بالا یعنی راجیہ سبھا میں بھی اکثر یت حاصل کرنا ضروری ہوگا ملک میں سیاسی، سماجی، تہذیبی تبدیلی لانے کےلئے صرف مرکز پر اقتدار کافی نہیں ہے اس کےلئے ریاستوں میں بھی اقتدار پر ہونا ضروری ہے آر ایس ایس کے جنرل سیکرٹری نے راءٹر کو بتایا کہ 2014کی فتح صرف ایک شروعات ہے اور ہمارے طویل مدتی مشن کا نقطہ آغاز بھی ہے جیسے اْوپر بیان ہوا کہ چاہے بھارت کی مرکزی حکومت ہو یا ریاستیں حکومتیں یہ جگہ یہ پوائنٹ بہت سختی سے نوٹ کیا جاتا ہے کہ پولیس کے محکمہ میں کسی مسلمان تو درکنار کسی بھی غیر ہندو اور جو آرایس ایس کی سفارش لائے صرف اْسی کو پولیس اور نیم پیرا ملٹری فورسنز میں بھرتی کیا جائے یہ ہے آرایس ایس کا نیابھارت جہاں اب نئی دہلی سے لیکر واہگہ تک اور واہگہ سے لیکر;39;سیون سسٹر ریاستوں اور بنگال تک اور لداخ سے ممبئی کے ساحلوں تک ایک فرقہ ورانہ ہندو دیش کے قیام کو ممکن بنانے کی مذموم کوشش;238;جس کی ایک تازہ جھلکیاں بطور نمونہ اب آہستہ آہستہ سامنے آنا شروع ہوچکی ہیں نئی دہلی سے منسلک پرانی دہلی کے علاقے لال کنواں محلہ،جامع مسجد محلہ، چاندنی چوک اور ان سے جڑے ہوئے دیگر علاقوں میں گزشتہ ہفتہ سے تادم تحریر ایک بہت ہی معمولی سے اختلاف کو بہانہ بناکر ;39;ہندومسلم کشیدگی;39; پیدا کی گئی جہاں ایک مسلم نوجوان نے 30 جون کی رات اپنی موٹر سائیکل غلط پارک کی جسے وجہ بناکر بجرنگ دل کے غنڈے جو رات گئے تک گلیوں اور چوراہوں پر بیٹھے رہتے ہیں ہر آنے جانے والے مسلمانوں پر جملے کستے ہیں دوہفتے ہونے کو ہیں مقامی پولیس نے اب تک کئی شکایات اْن تک پہنچائی جانے کے باوجود بجرنگ دل کے ہندو غنڈوں کی غنڈہ گردی اور مسلمان نوجوانوں کو تشدد کرنے کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی ہے پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اورلال کنواں سمیت پرانی دہلی کے ان علاقوں کے مسلمان عوام خوف وہراس کے عدم تحفظ کا شکار ہیں اگر دہلی حکام نے یونہی مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی اور علاقہ میں کشیدگی اور خوفزدگی کا یہی مہیب ماحول برقرار رہا چونکہ یہاں کا کاروبار ایک ہفتے سے بند ہے اور تنازعہ بڑھا تو علاقہ میں فسادات کی آگ بھڑک سکتی ہے چونکہ اب دوسرے علاقوں سے بھی مسلمان اس علاقہ میں آنا شروع ہوگئے ہیں دونوں اطراف سے پْرجوش مذہبی نعرے بازیاں ہورہی ہیں اور دہلی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی جسے وہ بھنگ پئے ہوئے ہو اور;39;مودی زندہ باد ۔ ہندوایکتا زندہ باد;39; کے نعروں کی تپش کے جواب میں کبھی بھی مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑے گا لہٰذا نئی دہلی کی حکومت فوراً ہوش کے ناخن لے کیونکہ پرا نے دہلی میں ایک ;39;فرقہ ورانہ فسادات کے شروع ہونے کےلئے ماحول پوری طرح پک چکا ہے ۔

سابق حکمرانوں کی شاہ خرچیاں ، بے نامی جائیدادیں ، احتساب جاری

ماضی میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ قومی خزانے کو ہر آنے والے حکمران نے اپنا ذاتی خزانہ سمجھا اور وہاں سے مال نکال کر خوب گلچھرے اڑائے اس میں چاہے علاج معالجے کیلئے رقم درکار ہو ، بیرون ممالک کے دوروں کیلئے رقم درکار ہو، خریدوفروخت کیلئے رقم درکار ہو یا دیگر ذاتی اخراجات کیلئے رقم درکار ہو، سرکاری خزانے کے دروازے ان کیلئے ہمیشہ ’’وا ‘‘رہے ۔ یوں عوام کے خون پسینے کی کمائی سابقہ حکمران اللے تللوں میں اڑاتے رہے اور عوام مہنگائی کی چکی میں پستی رہی ۔ اب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ گزشتہ دس سالوں کے دوران جن حکمرانوں نے قومی خزانے کو اپنا ذاتی خزانہ سمجھ کر اڑایا ان سے اس کاحساب کتاب لیا جائے گا ۔ ملک کی کمزور ترین معیشت قرضوں میں ڈوبی رہی اور یہ ظالم حکمران عوام کے حقوق پر ڈاکے ڈالتے رہے اپنی طرز زندگی شاہانہ گزاری، عوام کسمپرسی کی زندگی گزارتی رہی ۔ جس کے ہاتھ جتنا چڑھا اسی نے اس کو اپنے لئے حلال اور جائز سمجھا اب چونکہ حکومت پاکستان کو فری کرپشن کرنے کی خواہاں ہے اسی وجہ سے وہ تمام حساب کتاب لے رہی ہے ۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیاکوبریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ کابینہ نے گزشتہ 10 سال کے دوران سابق صدور آصف زرداری، ممنون حسین، سابق وزراء اعظم نواز شریف ،یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی کی سکیورٹی، انٹرٹینمنٹ اور کیمپ آفسز پر عوام کے پیسے کو بےدردی سے خرچ کرنے کی روش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ ان سابقہ حکمرانوں سے ذاتی اخراجات وصول کئے جائیں گے وفاقی کابینہ نے ریکوڈک معاملہ پر عالمی عدالت کے فیصلہ کے جائزہ اور ذمہ داران کے تعین کیلئے وزیر قانون کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی کے قیام، 14 اگست سے پلاسٹک بیگز پر پابندی کے قانون، اسلام آباد ہیلتھ کیئر فیسیلیٹیز مینجمنٹ ایکٹ، خوردنی تیل پر عائد ٹیکس سات فیصد کو کم کرکے 2 فیصد کرنے، ای کامرس پالیسی فریم ورک، سکوک بانڈ اور یورو بانڈ کے اجراکیلئے لیگل ایڈوائزر کی تعیناتی، توصیف ایچ فاروق کو چیئرمین نیپرا محمد شہباز جمیل کو صدر زرعی ترقیاتی بینک اورڈاکٹر ناصر خان کو نیوٹیک کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقررکرنے کی منظوری دےدی وزیراعظم عمران خان نے آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں اضافہ کا نوٹس لیتے ہوئے وزرا اعلی اور چیف سیکرٹریز سے مہنگائی پر وضاحت طلب کرلی ہے، وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ حکومت تاجروں سمیت تمام اسٹیک ہولڈروں سے ان کے مسائل اور مشکلات بارے بات چیت کیلئے تیار ہے لیکن رجسٹریشن کے معاملہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ کابینہ کو برطانوی اخبار میں شاءع ہونے والی رپورٹ کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا ۔ کابینہ نے اس بات کا سخت نوٹس لیا کہ بعض عناصر کی جانب سے ضروری اعداد و شمار کی تفصیلات فراہم کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے ۔ کابینہ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف آئندہ سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ ادھر معاون خصوصی وزیراعظم شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ حسن نواز، حسین نواز، سلیمان شہباز اور علی عمران اشتہاری ملزم ہیں ان کی جائیدادیں ضبط کی جائیں گی وہ وزیر بحری امور علی زیدی اور حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کررہے تھے ۔ شہزاد اکبر نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے بے نامی جائیدادیں سیل کرنے کی سفارش کی تھی اور اب تک کارروائی کے دوران 32 کمپنیوں کے اثاثے سیل کردئیے گئے ہیں ۔ ان کمپنیوں میں شوگر ملز اور سیمنٹ فیکٹریاں شامل ہیں ، اومنی گروپ کیس میں بہت سی جائیدادوں کو منجمد کیا گیا ۔ ٹھٹھہ سیمنٹ سمیت مختلف کمپنیوں کے بے نامی شیئرز بھی فریز کردئیے گئے ۔ زرداری کی بے نامی کمپنیوں کی تعداد 32 ہے جن میں شوگرملز، اور سیمنٹ فیکٹریاں شامل ہیں ۔ 60دن میں جائیدادوں کی ملکیت کے ثبوت پیش نہ ہوئے تو ضبط کرلی جائیں گی اور ان بے نامی جائیدادوں کوفروخت کردیا جائے گا ان سے حاصل ہونے والا پیسہ سرکاری خزانے میں جمع کرایا جائے گا ۔ ہم نے اربوں روپے کی بے نامی جائیدادیں پکڑی ہیں ، پاکستان میں ایک بے نامی بینک بنایا گیا ، عارف بینک اور اٹلس بینک کوضم کرکے سمٹ بینک بنایا گیا، سمٹ بینک کے شیئرز کو بھی سیل کردیا گیا ہے اب اگلی باری حدیبیہ کی ہے وہ بھی بے نامی ہے ۔ حکومت کے یہ اقدام بہترین ہیں صرف ان کو یہاں تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے ہر جانب اور بلا تفریق تحقیقات ہونی چاہیے جس کی بھی بے نامی جائیداد ہو 60 دن کے اندر اندر ضبط کرکے نیلام کردی جائیں ۔

شرح سود میں ایک فیصد اضافہ،مہنگائی کی نوید

اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے ساتھ ہی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہہ دیا کہ مہنگائی میں اضافہ ہوگا صرف مہنگائی میں ہی نہیں اس سے معیشت اور صنعتیں بھی تباہ حال ہوں گی کیونکہ اس خطے میں سب سے زیادہ شرح سود ہمارے ملک میں ہے جس سے معیشت مضبوط نہیں ہوسکتی ۔ اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کا اضافہ کردیا جس کے باعث قرضوں پر چلنے والی صنعتوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کی پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہوجائے گا، اس بات کا اعلان گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے اسٹیٹ بینک ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس میں کیا، ان کا کہناہے کہ مہنگائی اندازے سے زیادہ ہے، اگلے سال نیچے آئے گی، شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا جو 13;46;25فیصد ہوگئی، پالیسی ریٹ 100بی پی ایس بڑھ گیا،رواں مالی سال مہنگائی میں 12فیصد تک اضافے کا خدشہ ہے،آئندہ 2، 3ماہ میں گیس، بجلی اور دیگر کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافے کا امکان ہے،مالی سال 19 میں مہنگائی بڑھ کر 7;46;3 فیصد ہوگئی ۔ دوسری طرف حکومت نے اسٹیٹ بینک سے قرض لینے کا سلسلہ بھی ختم کرنے کا عزم کیا ہے جس سے مہنگائی کے منظرنامے میں معیاری بہتری آئے گی ۔ دوم، آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ سہولت کے تحت پہلی قسط کی موصولی، تیل کی سعودی سہولت کے بروئے کار آنے اور کثیر طرفہ و دوطرفہ شراکت داروں کی جانب سے امداد کے دیگر وعدوں کے نتیجے میں بیرونی مالکاری کا منظر نامہ مزید مضبوط ہوا ہے ۔ جاری کھاتے کا خسارہ مسلسل گھٹ رہاہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی دباءو میں کمی آتی جارہی ہے ۔

ملک کو معاشی مسائل درپیش

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوزکے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام’ ’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت معاشی مسائل بھی درپیش ہیں ،حالات کی بہتری میں موجودہ حکومت کو بھی کریڈٹ جاتا ہے، یہاں تو نہ سزا ہے اور نہ جزا ہے اس ملک کے اندراندھیر نگری ہے، غریب آدمی تو مر رہا ہے ،عمران خان بھی چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کرے، شرح سود میں اضافہ سے کاروبارپر اثرپڑے گا،اس وقت معاشی مسائل درپیش ہیں ،کسی کی بھی ویڈیو ریکارڈ کرنا زیادتی ہے،اگر شہباز شریف سچے ہیں تو انہیں قانونی چارہ جوئی کرنی چائیے، تاجر تو ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں ،تاجر کرپٹ نہیں ادارے کرپٹ کرتے ہیں ،ہم کہتے ہیں مدینہ کی ریاست ہوگی ،مدینہ کی ریاست میں سود کانظام تو نہیں ہوتا ۔

جنگلی حیات کا تحفظ اولین ترجیح

ہمار وطن عزیز پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے چار موسموں سے نوازا ہے ۔ یوں تو سال میں دو مرتبہ خزاں اور بہار کے شروع میں شجر کاری کا موسم آتا ہے جس میں بڑے اہتمام سے شجرکاری مہم کا آغاز کیا جا تا ہے ۔ لاکھوں پودے لگانے کے وعدے کئے جاتے ہیں ۔ سینکڑوں پودے بھی لگائے جاتے ہیں لیکن ان پودوں کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام نہ ہونے کے سبب وہ تناور درخت بننے قبل پہلے سال ہی ختم ہوجاتے ہیں ۔ اسی وجہ سے پاکستان میں کل رقبے کا صرف4 فیصد حصہ پر جنگلات ہیں جو انتہائی کم اور قابل تشویش ہے ۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے کل رقبے کا 25 فیصد حصہ پر جنگلات کا ہونا بیحد ضروری ہے کیونکہ ایک تو درخت صدقہ جاریہ ہیں ۔ دوسرا درخت نہ صرف سایہ فراہم کرتے ہیں بلکہ یہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ درخت سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچاوَ اور زمین کے کٹاوَ کو روکنے کا اہم ذریعہ ہیں ۔ مزیدار شیریں پھل ان سے ہی حاصل کیے جاتے ہیں ۔ درختوں کی لکڑی فرنیچر ،مکانوں کے شہتیراور دیگر مقاصد کیلئے استعمال میں لائی جاتی ہے درختوں ہی کی بدولت بارش کا موجب بننے والے بادل وجود میں آتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے شجر کاری مہم کا آغاز کرتے ہوئے ہدایت کی کہ پنجاب کو سر سبز و شاداب بنانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی ۔ وزیر اعلی پنجاب کے اس ویژن کو آگے بڑھانے کے لئے محکمہ زراعت مکمل اور بھر پور حصہ لے رہا ہے ۔ اس موسم بہار میں راولپنڈی میں صاف ،سر سبز و شاداب اور تجاوزات سے پاک پنجاب کی آگاہی مہم کے حوالے سے واک اور تقریب کا انعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت پر قابو پانے کے لیے درخت لگانا انتہائی ضروری ہے ۔ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے ۔ ہم سب کو شجر کاری مہم میں انفرادی طور پر حصہ لینا چاہیئے ۔ پنجاب کی مختلف تفریح گاہوں اور جنگلات میں 25 ہزار پودے لگائے جا چکے ہیں ۔ شجر کاری مہم میں ہرمحکمہ کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے ۔ اس مہم میں ہر فرد حصہ لے اور اپنے حصے کا ایک ایک پودا ضرور لگائے ۔ وزیر اعظم پاکستان کے وژن کے مطابق پا کستان بھر میں پانچ سال کے دوران 10ارب پودے لگائیں جائیں گے ۔ اپریل تک جاری رہنے والی شجرکاری مہم کے دوران پنجاب میں 1کروڑ20لاکھ پودے لگائے گئے ۔ عوام کو صحت مند انہ ماحول کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ شجر کاری مہم کو کامیاب بنانے کیلئے عوام کا تعاون کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔ حکومتی اداروں کیساتھ ساتھ سول سوساءٹی کو بھی مشترکہ طور پر اس نیشنل کاذکیلئے کام کرنا ہوگا ۔ ماحولیاتی آلودگی روکنے کا کام انسانیت کی خدمت ہے ۔ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے درخت لگانا نہایت ضروری ہے ۔ ہر علاقے میں زمین اور موسم کی مناسبت سے درخت لگائے جائیں ۔ صاف ستھرا و سر سبز پنجاب کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مہم میں سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ عوام کی شرکت کو بھی یقینی بنایا جائے تا کہ اجتماعی کوششوں سے جلد مطلوبہ نتاءج کو حاصل کیا جا سکے ۔ اس منصوبے کی کامیابی آنیوالی نسلوں کیلئے اچھے ماحول کی ضمانت ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ۔ روایتی پودوں کو ترجیح دی جائے لیکن آرائشی پودے بھی لگانے کے بعد ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے تا کہ وہ پروان چڑھ سکیں ۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی سست روی کی وجہ سے سالانہ ڈیڑھ کروڑ روپے کی لاگت سے شکار کے لیے بننے والے ہزاروں لائسنسوں کے باوجود غیرقانونی شکار کا سلسلہ صوبہ بھر میں جاری ہے ۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے زیر اہتمام فیزنٹ، تلور، تیتر، مرغابی، چنکارہ ہرن کے شکار کے لائسنس جاری ہوتے ہیں جس میں ملکی سمیت غیر ملکی شکاری بھی بڑی تعداد میں حصہ لیتے ہیں ۔ محکمہ جنگلی حیات پنجاب کی تیار کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غیر قانونی شکار بھی جنگلی حیات کیلئے بڑا چیلنج ہے ۔ اس سے نمٹنے کیلئے محکمہ جنگلی حیات پنجاب نے سزاؤں اور جرمانوں میں نمایاں اضافہ کرنے کیلئے قانون تیارکیا ہے ۔ مجوزہ قانون میں ‘‘پنجا ب و ائلڈ لاءف ایکٹ 2007 ’’ کے سیکشن 21 میں ترمیم کرتے ہوئے قید بامشقت کی سزا کی زیادہ سے زیادہ مدت 2 سال سے بڑھا کر 5 سال اور کم سے کم سزا کی مدت 3 سال مقرر کرنے اور جرمانہ کی کم سے کم رقم 10 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے اور زیادہ سے زیادہ جرمانہ کی حد 1 لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کی ہے جبکہ غیر قانونی شکار میں استعمال ہونے والے اسلحہ کا لائسنس 10 سال کیلئے معطل کیا جائے گا ۔ صبح سویرے درختوں پر چہچہانے والی چڑیاں بھی ماحول اور کسان دوست پرندوں میں شمار ہوتی ہیں ، جو فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑے مکوڑے کھا کر نیچرل کلینر کے طور پر کام کرتی ہیں ، مگر گزشتہ کچھ عرصے سے ان کاشکار کرکے ان کو مختلف مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ پنجاب بھر میں پرندوں اور جانوروں کے شکار کے خلاف کریک ڈاوَن اور سزاؤں میں اضافہ کی تجویز دی گئی ہے جس سے شہریوں میں آگاہی آئے گی ۔

وےڈ ےو اسکےنڈلز ،درست سمت پےش رفت

وےڈےو لےکس نے ملکی سےاست مےں بھونچال پےدا کر دےاہے ۔ وےڈ ےو کے بارے مےں مرےم نواز نے جو پرےس کانفرنس کی اس کی تفصےل ٹےلی وےژنوں اور اخبارات مےں چھپ چکی ہے اور اس پر ہنوز تبصرہ آرائی ہو رہی ہے ۔ نواز شرےف کو جج محمد ارشد نے تقرےباً آٹھ ماہ پہلے ساڑھے سات سال قےد اور بھاری جرمانہ کی سزا سنائی تھی ۔ مرےم نواز کے مطابق اس کے کچھ عرصہ بعد جج نے مبےنہ طور پر دےرےنہ شناسا ناصر بٹ کو گھر بلا کر اپنے فےصلے پر دکھ اور پچھتاوے کا اظہار کےا تھا ۔ وےڈےو کے بارے مےں کانفرنس مےں ن لےگ کے منتخب صدر شہباز شرےف ،خواجہ آصف ،پروےز رشےد اور پارٹی کے دوسرے مرکزی رہنما بھی موجود تھے لےکن خاموش تھے ۔ پارٹی کے صدر شہباز شرےف کی خاص انداز مےں خاموشی اور چہرے کی ناگوار کےفےت ان کی مصلحت پسندی کے راستے پر سےاست کو ترجےح دےنے کی غمازی کر رہی تھی جبکہ مرےم نواز نے جارحانہ سےاست کا راستہ اختےار کرنا مقصد قرار دےا ہے ۔ احتساب عدالت نمبر 2کے جج محمد بشےر نے مرےم نواز کو جعلی ٹرسٹ ڈےڈ کے بارے مےں 19جولائی کو عدالت طلب کےا ہے ۔ عدالت کی طلبی پر مرےم نواز نے طےش مےں آ کر کہا کہ اپنے رسک پر مجھے بلاءو ،تم مےری باتےں نہ سن سکو گے ،نہ سہہ سکو گے ،سر پےٹتے رہ جاءو گے ۔ ذراءع کے مطابق مرےم نواز نے فوری طور پر ن لےگ کے اہم رہنماءوں کا اجلاس طلب کےا اور بتاےا کہ وہ عدالت کا بائےکاٹ کرےں گی اور اگر گئی تو باقاعدہ بڑے لشکر کے ساتھ جائےں گی ۔ اطلاعات کے مطابق ن لےگ کے اکثر رہنماءوں نے اس طرز عمل کی مخالفت کی اور سمجھاےا کہ اس سے حالات بہت خراب ہو سکتے ہےں اور جمہورےت بھی ختم ہو سکتی ہے ۔ اس پر مرےم نواز غصے مےں آ گئےں اور کہا کہ آپ خاموش رہےں مےں وہ کچھ کر رہی ہوں جس کا مجھے نواز شرےف نے حکم دےا ہے ۔ ےہ کچھ کر کے رہوں گی ۔ اجلاس مےں تمام لوگ چپ ہو گئے ۔ اس مےں کوئی دورائے نہےں کہ مبےنہ وےڈ ےو لےک جس کی اگلی اقساط بھی آنے کا عندےہ دےا گےا ہے ےہ ہتھےار ماضی مےں بھی اعلیٰ شخصےات کی کردار کشی کےلئے استعمال ہوتے رہے ہےں اور آج کے جدےد دور مےں بھی ٹوٹے جوڑ کر فلمےں بنانا کوئی مشکل کام نہےں ۔ ماضی مےں بھی ن لےگ کی طرف سے عدلےہ پر دباءو ڈالا گےا اور ملک کی سب سے بڑی عدالت پر حملہ بھی ہوا ۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس وےڈ ےو کا نواز شرےف کو کوئی فائدہ ہو سکتا ہے ےا نہےں لےکن نےب کے چےئر مےن کی مبےنہ وےڈےو کے بعد احتساب عدالت کے جج کی وےڈےو لےک ہونا بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے ۔ سوال ےہ ہے کہ احتساب عدالت کے جج کی وےڈےو سے حکومت کےوں پرےشان ہے ۔ مرےم نواز نے خان صا حب پر تو کوئی الزام نہےں لگاےا کہ انہوں نے جج پر دباءو ڈالا کہ نوازشرےف کے خلاف فےصلہ دےں ۔ پوری حکومتی مشےنری اچانک حرکت مےں دکھائی دی ۔ پرےس کانفرنس اور جواب در جواب مےں حکومت کی طرف سے کہا گےا کہ وےڈےو جھوٹی ہے ۔ حکومت نے جوش جذبات مےں اس کا فرانزک آ ڈٹ کرانے کا اعلان کےا اور چند گھنٹوں بعد ہی ’’ےو ٹرن‘‘ لے کر معاملہ عدلےہ پر ڈال دےا ۔ وےڈ ےو سامنے لانے والی مرےم نواز تو کہہ رہی ہےں کہ حکومت پہلے ہی وےڈ ےو فرانزک کرا چکی ہے جس کی رپورٹ کے مطابق وےڈ ےو بالکل درست ہے ۔ بعض شاءع شدہ اندرونی حقائق کے مطابق مرےم نواز اور نواز شرےف کے کار خاص ناصر بٹ نے جےل مےں دو بار نواز شرےف سے ملاقات کر کے اس منصوبے کے بارے مےں نواز شرےف سے ہداےات لےکر ےہ وےڈےو اور کچھ اضافی وےڈےوز تےار کی گئےں ۔ پرےس کانفرنس سے دو دن پہلے ناصر بٹ کو ملک سے باہر بھےج دےا گےا ۔ وہ برطانوی شہری ہے اور برطانےہ مےں نواز شرےف کی املاک اور کاروبار سنبھالتا ہے ۔ اس کے خلاف پاکستان مےں قتل وغےرہ کے 14مقدمات بتائے گئے ہےں ۔ لندن مےں وہ اےک کےس مےں پولےس کی تحوےل مےں رہ چکا ہے ۔ وفاقی وزےر قانون و انصاف فروغ نسےم اور وزےر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر خان نے اےک مےڈےا کانفرنس سے خطاب مےں کہا کہ جج ارشد ملک نے اپنے بےان خلفی مےں کہا ہے کہ 16سال پرانی وےڈےو دکھا کر کہا گےا کہ وارن کرتے ہےں کہ تعاون کرےں ۔ جج ارشد ملک کا کہنا ہے کہ سماعت کے دوران ان کی ٹون دھمکی آمےز ہو گئی ۔ مجھے جاتی عمرہ بھی لے جاےا گےا اور نواز شرےف سے ملاقات کرائی گئی ۔ نواز شرےف نے کہا کہ جو ےہ لوگ کہہ رہے ہےں اس پر تعاون کرےں مالا مال کر دوں گا ۔ جج کا کہنا ہے کہ ناصر بٹ اور اےک دےگر شخص مسلسل رابطے مےں رہے ۔ فےملی کو بھی بتاےاشدےد دباءو مےں ہوں ۔ دھمکےاں دی جا رہی ہےں ۔ فےصلے کے بعد بھی مجھے دھمکےاں دی گئےں ۔ عمرے کےلئے گےا تو حسےن نواز سے ملاقات کرائی گئی ۔ حسےن نواز نے کہا ےہاں ےا کسی اور ملک مےں سےٹ کر دےں گے ۔ حسےن نواز نے پہلے 25کروڑ اور پھر 50کروڑ کی پےشکش کی ۔ حسےن نواز نے کہا ےہاں ےا کسی اور ملک رہنا چاہےں ،دستاوےز بنا دےں گے ۔ بےان خلفی مےں جج ارشد ملک کا کہنا ہے کہ اظہر بٹ کی خفےہ ملاقات کی رےکارڈنگ کی جاتی رہےں ۔ کہا جاتا تھا کہ چار پانچ قتل کر چکا ہوں مزےد بھی کر سکتا ہوں ۔ بچوں سے متعلق بھی دھمکےاں دی گئےں ۔ پرےس کانفرنس کے چھ روز بعد اسلام آباد ہائےکورٹ کے قائم مقام چےف جسٹس عامر فاروق نے وزارت قانون و انصاف کو اےک مراسلہ بھجواےا جس مےں جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹا کر اس کی خدمات وزارت کے سپرد کر دےں ۔ ہائےکورٹ نے ےہ فےصلہ درست اور حالات کے تناظر مےں بروقت کےا ۔ سپرےم کورٹ کا اےک تےن رکنی بنچ 16جولائی کو اس اس کےس کی سماعت شروع کر رہا ہے ۔ جہاں تک کسی فےصلے پر اثر انداز ہونے کےلئے رشوت کی پےشکش ےا دباءو کا معاملہ ہے تو اکثر جج ان مراحل سے گزرتے ہےں ےہ ان کی زندگی کا معمول ہے ۔ اسی طرح وکلاء کو بھی با اثر ملزمان کی طرف سے دھمکےاں ملتی ہےں لےکن وہ اس کی پرواہ نہےں کرتے لےکن اگر اےک جج متنازعہ ہو جائے تو اس سے ساری عدلےہ کی ساکھ داءو پر لگ جاتی ہے ۔ وےڈےو نشر ہونے کے آغاز مےں جج ارشد ملک نے صرف ےہ تسلےم کےا تھا کہ وہ اس وےڈےو کے مرکزی کردار ناصر بٹ سے ملتا رہا ہے لےکن جب مےڈےا پر طرح طرح کے سوال اٹھنے لگے تو موصوف نے اےک طوےل بےان مےں اےک نےا پنڈورا باکس کھول دےاتاہم جج ارشد ملک نے اپنے بےان خلفی مےں جو الزامات لگائے ہےں وہ تحقےقات کے متقاضی ضرور ہےں لےکن ان کے بطور جج فراءض کے حوالے سے ان پر بھی کچھ سوالات اٹھتے ہےں کہ آےا جج صاحب ججوں کے ضابطہ اخلاق سے لاعلم تھے;238; وہ نہےں جانتے تھے کہ اےسی باتوں کے منظر عام پر آنے سے ان کی عدالتی زندگی اور پوری عدلےہ پر کےا ناگوار اثرات مرتب ہو سکتے ہےں ۔ جج ارشد ملک نے اےک کےس کے ملزم نواز شرےف سے جاتی امراء مےں جا کر کےوں ملاقات کی;238; اےک مقدمہ کے ملزم سے جج کا ملاقات کرنا بجائے خود جرم نہےں ۔ انہوں نے سعودی عرب جا کر اےک مقدمہ کے سزا ےافتہ مجرم کے بےٹے سے ملاقات کےوں کی;238;جج اتنا عرصہ خاموش اور پر سکون کےوں رہے اور اطمےنان کے ساتھ عدالتی امور انجام دےتے رہے ۔ جج ارشد ملک نے اس بارے مےں اسلام آباد ہائےکورٹ کے چےف جسٹس سے شکاےت کےوں نہ کی اور سپرےم کورٹ کے مقرر کردہ نگران جج کو رشوت اور دھمکےوں کے بارے مےں آگاہ کےوں نہ کےا ۔ اسلام آباد ہائےکورٹ کے قائم مقام چےف جسٹس کی طرف سے لئے گئے اقدام کے بعد رد عمل مےں ن لےگ کی نائب صدر مرےم نواز کا کہنا ہے کہ جج کو فارغ کرنے کا مطلب ہے کہ اعلیٰ عدلےہ نے حقائق کو تسلےم کر لےا ہے اور ےہ کہ نواز شرےف کے خلاف فےصلہ واپس لےا جائے ۔ شہباز شرےف نے بھی مطالبہ کےا ہے کہ جج کے تحرےری بےان سے ثابت ہو گےا ہے کہ نواز شرےف کو سزا دےنے کا فےصلہ غلط تھا ۔ اس لئے نواز شرےف کو فوری طور پر جےل سے رہا کےا جائے حالانکہ کسی عدالت کے کسی بھی جج کا فےصلہ اس کا ذاتی نہےں ہوتا ۔ ےہ فےصلے ججوں کے نام سے دیے جاتے ہےں اور نہ کسی کی ذات اور کردار کے حوالے سے بلکہ انہےں قانون کے حوالے سے پرکھا جاتا ہے ۔ اگر ن لےگ کی قےادت کی ےہ خواہش ہے کہ اس پر مزےد کارروائی کی جائے تو اس کےلئے انہےں قانونی راستہ اختےار کرنا ہو گا ۔ فےصلے اےسے بےانات سے واپس نہےں ہوتے ۔ ملک کی عدالتی تارےخ مےں ہائی کورٹوں کے تےن جسٹس اخلاق احمد ، جسٹس شوکت علی اور جسٹس صدےقی بر طرف کئے گئے مگر ان کے سابق کئے گئے فےصلے تبدےل نہےں ہوئے بدستور برقرار اور موثر ہےں ان کے خلاف اگلی عدالت مےں اپےل کی جا سکتی ہے ۔

خواہشات کا سیراب !

شاعر پیر مغاں غالب نے کہا تھا

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

کہاں مے خانے کا دروازہ غالب! اور کہاں واعظ

پر اِتنا جانتے ہیں ، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

کے مصداق انسان کی خواہشیں لامحدود ہیں اگر کسی شخص کی ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو اسکی جگہ نئی خواہش آ جاتی ہے اور خواہشات کا یہ لامتناہی سلسلہ چلتا رہتا ہے حتیٰ کہ اکثر انسانوں کو جائز یا ناجائز طریقوں کے ذریعے دولت، اقتدار، طاقت، شہرت سبھی کچھ حاصل ہو جاتا ہے مگر پھر بھی ان کا احساس کمتری دور نہیں ہوتا ہے ۔ لوگ پیسے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور اس بھاگ دوڑ میں حرام اور حلال کی تمیز ختم ہوگئی ہے ۔ ہمارے سیاست دان، بیورو کریٹس اور منظور نظر فرنٹ مین تاجر اور صنعتکار، لینڈ مافیا، سٹاک ایکسچینج بروکرز، حتیٰ کہ ڈرگ ڈیلرز جن کے اباءو اجداد قیام پاکستان کے وقت انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے تھے آج اربوں اور کھربوں کے اثاثے اور جائیدادوں کے مالک بننے کے باوجود انکی بھوک کیوں نہیں مٹتی ۔ خواہشات کے سیراب کے پیچھے دوڑنے والے ھل من مذید کی تمنا میں بے چین اور بے قرار پھر رہے ہیں اور ایک دوسرے سے سبقت حاصلکر رہے ہیں جب بھی احتساب کی بات کی جاتی ہے تو ہر طرف سے واویلا شروع ہوجاتا ہے ۔ ننانوے فیصد عوام محرومیوں اور بھوک کا شکار ہیں غذاور ، دوا ور تعلیم سے محروم ہیں اور ان محرومیوں اور نسلوں کی بھوک ہے جس نے انہیں عدم تحفظ کا شکار کیا ہوا ہے ۔ اورآج کا نام نہاد طبقہ اشرافیہ جن کے آباءو اجداد کی اکثریت یا تو بے حد مفلس اور غربت کا شکار تھی یا جاگیر دارانہ پس منظر کی وجہ سے انگریزوں کیلئے گھوڑیوں اور شکاری کتوں کے پالنے والے غداران ملت تھے جنہیں ننگِ وطن اور ننگِ دین ہونے پر انگریزوں نے اپنی وفاداریوں اور خدمات کے صلے میں لاکھوں ایکڑ زمینیں عنایت کیں ۔ ہمارے ملک کے امراء اپنا موازنہ امریکہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں کی دولت اور انداز حکمرانی بلکہ فرعونیت سے کرتے ہیں تو تب وہ پاکستان کے امیر ترین انسان ہونے پراللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے مزید احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں ، وہ سوچتے ہیں کہ ہمارے اثاثے تو اتنے نہیں ہیں جتنے کویت، برونائی، سعودی عرب کے شہنشاہوں کے پاس ہیں ان مقابلے میں تو وہاپنے آپ کو فقیر سمجھتے ہیں ، اور یہ بھی ایک المیہ ہ کہ ہمارے ہاں کے امیر عرب شیخوں کے شکاری باز اور کتوں کی زنجیریں پکڑ کر انہیں پاکستان کے صحراءوں میں نایاب نسل کے پرندوں اور جانوروں کا شکار اسی طرح کرواتے ہیں جس طرح قیام پاکستان سے پہلے میر جعفر اور میرصادق غدار کے اولاد انگریزوں حکمرانوں کے گھوڑوں کی نکیل پکڑ کر یا کتوں کی زنجیریں ہاتھ میں پکڑ کر انگریز بہادر کے آگے آگے بھاگا کرتے تھے اور اس خدمت کے عوض انہیں القاب و آداب اور زمینوں کے مربعے اور بڑی بڑی جاگیریں انعام کے طور پر حاصل ہوتی تھیں آج بھی ان کے حقیقی اور روحانی اولاد اسی ڈڈگر پہ ہیں ۔ رحیم یار خان اور ملک کے دیگر صحراءوں سے نایاب پرندوں کا خاتمہ کیا جارہا ہے ہمارے حکمران عرب شیخوں کو خوش کرنے کیلئے نہ صرف سہولتیں فراہم کرتے ہیں بلکہ رنگ وخوشبو، راگ وسرور، رقص اور اودھم ، دلربائی اوردل آرائی کا خوب اہتمام کرتے ہے ۔ جتنی عیاشیاں یہ خود کرتے ہیں اور یا بچوں کو اونٹوں سے باندھ کر مزے لینے والے کو خوش کرنے کیلئے سامان ہوس و کباب کا اہتمام کرتے ہیں اس سرمایہ سے بھوک مٹانے کیلئے کرتے تو افلاس کا خاتمہ کیا جاسکتا تھا ۔ اور اگریہ مال کے پجاری اربوں روپے رقومات ناجائز ذراءع سے پاکستان سے باہر منتقل نہ کرتے تو آج پاکستان کے غریب عوام کو بے تحاشہ بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ برداشت نہ کرنا پڑتا اور پاکستان کے ننانوے فیصد عوام کی کسمپرسی اتنی ذیادہ نہ ہوتی ۔ عوام کی کمر غربت نے توڑ دی ہے اور ایک فیصد طبقہ کے اثاثے بڑھ رہے ہیں اورمسلسل ان کے اثاثوں میں دن دوگنا اور رات چوگنا اضافہ ہورہا ہے ۔ ملک میں کرپشن عروج پر ہے اور اگر معاشی ضرب عضب اور احتساب کی بات کی جاتی ہے تو سب ایک جان دو قالب ہوجاتے ہیں ِ، آج سیاست کاروبار بن چکی ہے، بدعنوانی کا ناسْور ہمارے سماج، معیشت اور سرکاری اداروں کی رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے ۔ احتکار و اکتناز کا دور دورہ ہے اور دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہے امیر اور غریب کے درمیان فاصلے بڑھتے جارہے ہیں ۔ کرپشن مزید کرپشن کو جنم دیتا ہے ۔ دیکھا دیکھے غریب اور متوسط طبقے کے افراد بھی رشوت اور بے ایمانی پر مجبور ہو جاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کیوں نہ ہم بھی اپنی ضروریات کرپشن سے پورے کریں کیوں کہ اشیائے صرف مہنگے ہونے کی وجہ سے اپنا اور اپنے خاندان کا معاشی بوجھ اٹھانے سے قاصر ہو جاتے ہیں لہٰذا وہ بھی رشوت کا بازار گرم کرتے ہیں اور عوام کو اپنے جائز کاموں کیلئے بھی رشوت دینا پڑتی ہے ۔ وگرنہ ان کی فائلیں سرخ فیتے کا شکار ہو جاتی ہیں اور جب تک انہیں روپوں کے پہیے نہ لگائے جائیں وہ جمود کا شکار ہوتی ہیں اس لئے عام آدمی رشوت لیتا بھی ہے اور دیتا بھی ہے ۔ لوگ ہیں کہ خواہشات کے سیراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔ آخر انجام گلستاں کیا ہوگا;238;! ۔

Google Analytics Alternative