کالم

پلوامہ دہشت گردی کا پس منظر کیا ہے؟

rana-biqi

بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی سنٹرل ریزرو سیکورٹی فورس کے بڑے کانوائے پر جس میں ڈھائی ہزار سے زیادہ اہلکار ،ستر سے زیادہ فوجی گاڑیوں اور بسوں میں سوار تھے، دہشت گردوں کے حملے میں درجنوں بھارتی فوجی اہلکار ہلاک اور بہت سے زخمی ہوگئے ہیں ۔یہ کہا گیا ہے کہ بارود بھری ایک کار نے کانوائے کی بس پر خودکش حملہ کرکے اِس بھیانک کاروائی کا ارتکاب کیا ہے جبکہ دہشت گردوں کی جانب سے دستی بموں کے استعمال کی بات بھی کی گئی ہے ۔ حیرت کی بات ہے کہ جگہ جگہ چیک پوسٹوں اور سیکیورٹی بیرئیرز کی موجودگی میں کنٹرول لائین سے تقریباً سو کلو میٹر دوراتنی بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد کس طرح پہنچ گیا اور کیونکر ہائی سیکیورٹی کانوائے کو نشانہ بنا لیا گیا؟ دنیا بھر کے سیکیورٹی ادارے اِس اَمر سے اچھی طرح واقف ہیں کہ امن اور حالت جنگ کے دوران جب بھی بڑے پیمانے پر سیکیورٹی یا فوجی کانوائے متاثرہ علاقے میں چلتے ہیں یا موو کرتے ہیں تو علاقے سے متعلقہ سٹرکوں کو دیگر ٹریفک کیلئے بند کر دیا جاتا ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کنٹرل لائین پر چپہ چپہ پر پھیلی ہوئی بھارتی فوج، رینجرز ، ریزرو سیکیورٹی پولیس اور مانیٹرننگ کیمروں کی موجودگی میں اتنا بڑا دھماکہ خیز مواد کس طرح ہائی پروفائل سیکیورٹی ذون میں پہنچ گیا؟ حیرت ہے کہ اِس ریڈی میڈ حملے کے فواً بعد ہی کالعدم نام نہاد تنظیم جیش محمد جس سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے کی جانب سے ذمہ داری قبول کرانے کے اعلان کیساتھ ہی اِس حملے کے فوراً بعد بھارت نے اسلام آباد سے اپنے ہائی کمشنر کو واپس نئی دہلی بلا لیا ہے جبکہ سفارتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کرکے کسی ثبوت کے بغیر پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔لہٰذا ایک ایسے وقت جبکہ حکومت پاکستان بھارت سے تعلقات بحال کرنے کیلئے پاکستان میں سکھوں کے مقدسہ مقام کو عام سکھ زائرین کیلئے کھولنے کیلئے کرتار پور کوریڈور پر معاہدے کیلئے بھی گفتگو میں مصروف ہیں بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک مرتبہ پھر معاندانہ پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔چنانچہ پاکستانی وزارت خارجہ نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے بغیر تحقیقات کے الزامات لگانے پر بھارت سے شدید احتجاج کیا ہے۔ نام نہاد پلوامہ دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی انتہا پسند وزیراعظم نریندرا مودی اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اِس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں کہ اُنہوں نے ایک اور غیرر سفارتی دھمکی آمیز بیان میں کہا ہے کہ پڑوسی ملک (پاکستان) کو سزا بھگتنی ہوگی جس کیلئے بھارتی فوج کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ حیرت ہے کہ بھارت ایک جانب تو کشمیر کنٹرول لائین اور سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر روزمرہ کی خلاف ورزی میں مصروف ہے تو دوسری جانب پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور سابق فاٹا کے علاقے میں دہشت گردی میں ملوث ہے جس کی ایک ٹھوس شہادت بھارتی ایکسٹرنل انٹیلی جنس RAW سے منسلک بھارتی سروننگ نیوی کمانڈرکل بھشن جادیو کی جعلی نام سے سفری دستاویزات کیساتھ بلوچستان میں رنگے ہاتھوں گرفتاری عمل میں آ چکی ہے جس کی آزادی کیلئے بھارتی سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت کمار ڈوّل اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی سخت مضطرب ہیں اور جس کی سماعت اب بھارتی درخواست پر بین الاقوامی کورٹ آف جسٹس میں ہونے والی ہے۔ چنانچہ کسی معقول ثبوت کے بغیر بھارت اقوام متحدہ کی عدالت کی توجہ کل بھشن کیس سے ہٹانے کیلئے پلوامہ دہشت گردی کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں مصروف ہے۔اِسی دوران کالعدم تنظیم جیش محمد جس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے، کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آیا ہے جس میں اُنہوں نے ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر حریت کانفرنس نے وضاحت سے کہا ہے کہ پلوامہ حملہ کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو کچلنے کی سازش کا حصہ ہے ۔ سابق کشمیری لیڈر شیخ عبداللہ مرحوم کے صاحبزادے سابق وزیراعلی مقبوضہ کشمیر فاروق عبداللہ جنہیں بھارت میں سابق مرکزی کانگریس حکومت کا حامی سمجھا جاتا ہے، نے اِس واردات کے بعد بھارتی چینل پر انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ اِس نوعیت کے حملوں سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ موجودہ تحریک آ زادئ کشمیر بھارتی ظلم و تشدد کے خلاف کشمیری نوجوانوں نے شروع کی ہے۔ جب بھارتی اینکر نے اُن سے بھارتی تھیم کے مطابق پاکستان کے خلاف کچھ کہلوانے کی کوشش کی تو فاروق عبداللہ نے لائیو انٹرویو کے دوران واک آؤٹ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ درج بالا تناطر میں جمہوری دنیا اِس اَمر سے اچھی طرح واقف ہے کہ امن و امان قائم کرنا ہر جمہوری ریاست کی آئینی ذمہ دار ی میں شامل ہے جبکہ پلوامہ دہشت گردی جس میں اِس اَمر کا ابھی تک تعین نہیں ہوسکا ہے کہ آیا دہشت گردی کا یہ واقعہ بھارت میں پھیلی ہوئی متعدد مقامی عسکریت پسند تنظیموں کاکام ہے یا اِسے بھارتی الیکشن 2019 میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کیلئے آر ایس ایس کی جانب سے کیا گیا ہے ، کیونکہ دہشت گردی کے اِس حملے کے فوراً بعد آر ایس ایس اور ہندو توا تنظیموں سے منسلک انتہا پسند ہندوؤں نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع جموں اور دیگر ہندو اکثریتی علاقوں میں کشمیری مسلمانوں کی پچاس سے زیادہ مقبوضہ کشمیر نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو چن چن کر نذر آتش کرنے کے علاوہ کشمیری مسلمانوں کی جان و مال کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ طریقہ کار وہی ہے جس طرح سابق وزیر اعلی گجرات احمد آباد نریندرا مودی (موجودہ وزیراعظم بھارت) کے زمانے میں ہندو یاتریوں کی چلتی ٹرین کے ایک ڈبے میں آگ لگنے پر دیگر ڈبوں تک پھیل گئی جس کے نتیجے میں پچاس کے قریب ہندو یاتری ہلاکت کا شکار ہوئے جس کا الزام گجرات احمد آباد کے مسلمانوں پر لگا کر سابق وزیراعلی نریندرا مودی کے اشارے پر گجرات ، احمد آباد میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے ذریعے لیا گیا جبکہ اُن کی مساجد اور رہائشی مکانوں اور تجارتی دکانوں کو آگ لگا کر تباہ و برباد کر دیا گیا تھا ۔ س اَمر کے خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ پلوامہ دہشت گردی کا ملبہ بھارتی مسلمانوں پر ڈالنے کیلئے بھی آر ایس ایس چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کی مشاورت سے بی جے پی اور آر ایس ایس کے مسلح رضاکار ایک مرتبہ پھر سے بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعے بھارتی مسلمانوں کو انتقام کا نشانہ بنا سکتے ہیں کیونکہ بھارت میں مسلم ووٹ بھارتی الیکشن 2019 میں نیریندرا مودی کی اینٹی اسلام الیکشن مہم جوئی کے بعد دیگر بھارتی سیاسی جماعتوں کو ووٹ دینے پر متفق ہوتے جا رہے ہیں۔ اندریں حالات یہی محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ ہفتے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے آر ایس ایس کے انتہا پسند کارکنوں کے ہمراہ سری نگر کے دورے میں حریت کانفرنس کی اپیل پر سری نگر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور نریندرا مودی کے خطاب کا بائیکاٹ ہونے پر آر ایس ایس چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کی مشاورت سے بظاہر دو مقاصد کیلئے یہ حملہ انجینئرڈ کیا گیا تھا، ایک تو یہ کہ نریندرا مودی کی بھارت میں گرتی ہوئی ساکھ کوسہارا دیا جائے اور دوسری جانب پاکستان پر الزامات کا بوجھ منتقل کرکے پاکستان کی جانب سے بابا گرونانک دربار تک حالیہ رسائی دینے پر بھارتی سکھوں اور پاکستانیوں کے درمیان کرتار پور کوریڈور کھولنے کے حوالے سے پیدا ہونے والے محبت کے جذبات کو نہ صرف معدوم کیا جائے بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف ایک دہشت گرد ریاست ہونے کے پروپیگنڈے کو مہمیز دی جاسکے۔ جبکہ قرائین یہی کہتے ہیں کہ پاکستان پر الزام لگانے کیلئے ہندو انتہا پسندوں نے بھارتی فوج کی اعانت سے محدود دہشت گردی کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن سازش سے منسلک متعلقہ افراد کی غفلت کے باعث یہ اَمر ممکنات میں شامل ہے کہ حملے میں استعمال کی گئی کار مقررہ بس کے بجائے بھارتی ایمونیشن سے لیس بس سے ٹکرا کر بڑے نقصان کا سبب بن گئی ۔ چنانچہ یہ دعویٰ کرنا کہ خود کش حملے کیساتھ ہی دستی بموں سے بھی کانوائے پر حملہ کیا گیا حقائق کے منافی ہے جس کیلئے فکری تھنک ٹینک حلقوں کو ماضی میں بھارتی ایجنٹوں کے طریقہ واردات سے متعلق مزید پرت کھولنے کی ضرورت ہے ۔(۔۔۔جاری ہے)

باتوں سے خوشبو آئے

Mian-Tahwar-Hussain

ایک بزرگ کسی درویش کی زیارت کیلئے گئے صبح کی نماز کا وقت تھا اور وہ بزرگ جن کے ہاں یہ گئے تھے انہوں نے جماعت کرائی،مہمان بزرگ پہلی صف کے آخر میں کھڑے تھے انہوں نے محسوس کیا کہ جو بزرگ جماعت کروا رہے ہیں انکا تلفظ صحیح نہیں ۔ مہمان بزرگ نے نیت توڑی اور الگ ہوکر نماز پڑھنے لگے کیونکہ امامت کروانے والے بزرگ جو ہوسٹ تھے انہوں نے عربی زبان کے صحیح الفاظ ادا نہیں کیے تھے یعنی قرات صحیح اور درست نہیں تھی اور پھر وہ بزرگ جنہوں نے الگ ہوکر نماز ادا کی تھی ہوسٹ بزرگ سے ملے بغیر چلے گئے ۔ وہ جنگل کے راستے سے گزررہے تھے کہ ایک شیر انکی طرف آتا ہوا محسوس ہوا وہ بزرگ بہت گھبرا گئے اتنے میں وہی بزرگ جو امات کروارہے تھے ان کے پاس پہنچے اور شیر پر ہاتھ پھیر کر کہنے لگے انکی خدمت اور دیکھ بھال کرتے ہیں شیر نے انکی باتیں سنیں اور سر جھکا غراتا ہوا ایک طرف چل دیا۔ مہمان بزرگ میزبان بزرگ سے پوچھنے لگے سرکار یہ طاقت کہاں سے ملی کیا وظائف کیے کتنے چلے کاٹے۔ میزبان بزرگ فرمانے لگے تجھے طاقت اور چلوں سے کیا غرض تم اپنا تلفظ درست رکھو اور اپنی نماز الگ پڑھو یہ مہمان بزرگ حضرت داتا گنج بخشؒ تھے ۔ بات یہ ہے کہ روح کا تلفظ اور ہے قلب کا اورزبان کا بہت ہی مختلف ۔ یہ واقعہ میں ایک اللہ والے کی محفل میں مودب بیٹھا سن رہا تھا کہنے لگے اللہ تو تمہاریپاس ہے تم اسے تلاش کرنے کہاں جاتے ہو جہاں تم ہووہیں اللہ بھی ہے تم جتنا اس کے قریب جاتے وہ اتنا ہی وہ قریب ہے۔ جہاں دعا کرنے والا ہے وہیں دعا سننے والا بھی موجود ہوتا ہے ۔ دعامانگنا اللہ کا قرب ہے۔ اللہ کے قرب کو تم لوگ ترک کئے بیٹھے رہتے ہو جب مشکل پڑی تو اللہ کو یاد کرلیا جب ضرورتیں بڑھیں تب اللہ کو یاد کرلیا،ہم اللہ سے مانگتے ہی رہتے ہیں کبھی انہی خواہشات کی حد بندی کی ہے ہمیں دنیا کی ساری ضرورتیں چاہئیں ایک بندہ اللہ سے تمام دنیاوی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے لمبی چوڑی دعائیں مانگ رہا تھا ایک فرشتے کا اس کے قریب سے گزر ہوا اس نے بندے سے کہا میں فرشتہ ہوں اور اللہ کی بارگاہ میں عرض کردوں گا کہ آپ کا فلاں بندہ یہ دعا کررہا تھا کہ مجھے اپنے سوا سب کچھ عنایت کردے۔ انسان بس یہی کچھ مانگتا رہتا ہے۔ وہ پیسہ مانگتا ہے مرتبہ عزت اولاد اسکی ترقی ، خوشحالی چار آدمی اسے سلام کرتے رہیں اسکی انا کی تسکین ہو ہر طرح کی آسودگی اسے ملتی رہے یعنی دنیا علوم ملتے رہیں سکون قلب کا علم چاہے ملے یا نہ ملے ۔ اللہ ایسا وقت کبھی لائے کہ وہ مالک کل پوچھے بولو کیا چاہیے تو اس وقت یہی زبان سے ادا ہوکہ مالک تیرا قرب اسکے علاوہ مجھے کچھ چاہیے جب مل جائے تو پھر کس چیز کی کمی رہ جائے گی۔ تمنا اور خواہش سے دامن چھڑاؤ ،حاصل کے اندر رہو جتنا اس نے عطا کردیا اس پر شکر کرو خواہشات کو سمیٹو پھر آپ حاصل سے بڑھنے کی تمنا کم سے کم کرتے جاؤ طلب کم ہوگی تو حاصل کا شکر ہوگا۔ دعا کرنا فرض ہے اور جو شعور میں ذہن میں آتا ہے جس کا علم ہے وہی مانگا جاتا ہے جس کے بارے میں علم ہی نہ ہو اسے طلب کے دائرے میں نہیں لایا جاتا اللہ سے اللہ کو مانگو اس کے محبوبؐ کی محبت مانگو جو مانگنے والی چیز ہے اسے تم محسوس نہیں کرتے اسکے علاوہ لمبی لسٹیں تیار کی ہوئی ہوتی ہیں ۔ انسان کی آنکھ میں جب بے ساختہ آنسو آنے لگ جائیں تو دعا کا سلیقہ بتایا یا سکھایا نہیں جاتا۔ کسی کا ماں کا بچہ خدانخواستہ بیمار ہو جائے تو ماں خودبخود اللہ کے حضور پہنچ جاتی ہے دعا کا سلیقہ اسے خود بخود آجاتا ہے۔ دعا مانگنا بھی بہت صحیح ہے اور ایک مقام آتا ہے جب دعا نہ مانگنا بھی درست ہوتا ہے وہ مقام ان کیلئے ہے جو اپنا سب کچھ اللہ کے سپرد کردیتے ہیں اس مالک کل کے حوالے کردیا اتا اپنا سب کچھ۔ اپنا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہوجاتا ہے وہ سکھی رکھے تب خوش وہ ہم دے تب مطمئن وہ سب کچھ عطا کرکے واپس لے لے پھر بھی اسکا شکر وہ نہ دے کر خوش تب بھی کوئی فکر نہیں وہ ایک دن کی بادشاہت بھی عطا کردے تو اسکی کائنات اسی طرح اس کے حوالے نہ طلب اورنہ ہی ضرورت بس اسکی اور اس کے محبوبؐ کی محبت حاصل زندگی ۔ سب کچھ چھوڑ کر چلے جانا ہے بہت بڑا مکان بنالو بڑی گاڑی لے لو اربوں، کھربوں روپے جمع کرلو چھن تو سب کچھ جائے گا بیوی بچے عزیز، اقارب ، بہن ، بھائی ،دوست احباب سب سے بچھڑ جانا ہے دنیا کا مال و متاع یہیں رہ جانا ہے اور خالی ہاتھ آئے اور خالی ہاتھ واپس یہاں کا جمع کیا ہوا سب کچھ یہیں رہ جاتا ہے ساتھ صرف اور صرف اعمال جاتے ہیں اس جانب کتنی محنت کی ہے وہاں حساب تو اپنا اپنا ہی دینا ہے کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا کوئی سفارش نہیں چلے گی ، دولت کام نہیں آئے گی صرف سرکارؐ کا سہارا ہوگا ان کی سفارش بگڑی بنائے گی ان کی خوشنودی کیلئے کیا کچھ کیا ۔ ا یک بھی بات ان کی پسند کی ہوئی۔ اللہ نے کہا میں اور میرے فرشتے سرکارؐ پر درود بھیجتے ہیں اے مومنو تم بھی ان پر درودو سلام بھیجو، یہ اللہ کاحکم ہے کیا ہم اس مالک کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں کیا چوبیس گھنٹوں میں کچھ وقت اس قادر مطلق کے حکم کی تعمیل میں صرف ہوتا ہے ۔ ہم تو انواع ، اقسام کے کھانے تناول فرمانے دور دور کا سفر نئے نئے ہوٹلوں کی کھوج میں خر چ کرتے ہیں لیکن تنہائی میں بیٹھ کر اللہ کے حکم کی تعمیل کیلئے وقت صرف نہیں ہوتا ۔ اپنی زندگی معاشرے اور اپنے بھائی بندوں پر نگاہ ڈالیں کیا ہمارا کوئی عمل سرکارؐ دوعالم کو خوش کرنے کیلئے ہوا۔ کسی یتیم مسکین بیوہ معذور محتاج کی مدد کی۔ آج کی خوشیاں ہی کل کا غم بنتی ہیں۔ غم ہوتا کیا ہے خوشی کے رخصت ہونے کا نام غم ہے ۔ بیٹی پیدا ہوتی ہے اور غم دے کر رخصت ہو جاتی ہے خوشی بھی بیٹیوں کی طرح ہوتی ہے۔ ہم سب اشیاء کے حصول کے دام میں گرفتار ہیں۔ لذت وجود کے ساتھ کام ، دہن کی لذت کا شکار ہیں مال کی گنتی میں لگے ہوئے ہیں۔ بھئی ہمیں اتنا حاصل کرنا چاہیے جسے چھوڑنے کا غم نہ ہو۔ اللہ سے و ہ چیز مانگو جو اسے پسند ہو ہماری پسند ہمیں نقصان دتی ہے، خواہشات کی لوڈشیڈنگ کرتے رہو زندگی آسان ہو جائے گی حاصل پر اطمینان سے شکر کرو زندگی بہت آسان ہو جائے گی ۔ سرکارؐ سے مبت کرتے ہو لیکن ویسی زندگی گزارنا مشکل لگتا ہے چلو اتنا تو کرو کہ آپؐ نے اپنی بیٹی بی بی فاطمہ زہرہ کو شادی پر جو سامان عطا فرمایا اتنا بھی اپنی بیٹیوں کو رخصت کرتے و قت دو۔ ایسا نہیں کرسکتے دعوے زیادہ عمل کم۔ تقلید مغرب کی آخرت مشرقی اور اسلامی ۔ ہم کیا کررہے ہیں سوچنے کا مقام ہے اللہ اپنی رحمت سے کسی کو اگر توبہ کی توفیق عطا فرمائے تو یہ خوش نصیبی ہے۔ ان بزرگ کی باتیں سن کر میں اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ میں کیا کررہا ہوں زندگی کے شب و روز کیسے گزررہے ہیں اس کے حکم کی بجائے ضرورتوں کے تابع ہوچکے ہیں۔

*****

پرندوں کا قتل عام،شکار اور محکمہ وائلڈ لائف

انہی دنوں ایک قومی روزنامے میں پرندوں کے قتل عام کے عنوا ن سے ایک خبر پڑھنے کو ملی۔خبر کے مطابق محکمہ جنگلی حیات پنجاب نے حال ہی میں 200سے زائد انتہائی خوبصورت اور نادر پرندے جن کو انگریزی میں فیزنٹ اور اردو میں منال یا دراج کہا جاتا ہے ،چڑیا گھر سے چکوال کے ایک علاقے میں ’’آزاد‘‘ کئے ۔اس کے ساتھ ساتھ شکاریوں کو اکٹھا کیا اور قتل عام کی دعوت دی ،مفت میں نہیں ،شکاریوں سے قتال کی فیس لی گئی ۔ اس قتال سے محکمہ جنگلی حیات نے ساڑھے سات لاکھ روپے کمائے ۔یہ وہ فیس تھی جو شکاریوں نے یہ خوبصورت پرندے مارنے کیلئے ادا کی ۔حکومت پنجاب نے اس شرمناک قتال کی جو قیمت وصول کی وہ ان 200پرندوں کی زندگی کی قیمت کے سامنے کچھ بھی نہیں ۔حکومت ساڑھے سات لاکھ روپے کی’’ خطیر‘‘ رقم سے کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ؟کوئی ڈیم تعمیر ہو گا ،کوئی موٹر وے بنے گی یا کوئی قرض اتارا جائے گا؟ معزز قارئین دنیا بھر میں جنگلی حیات کا دن منایا جاتا ہے ۔وطن عزیز میں بھی این جی اوز کے زیر اہتمام آگاہی واکس اور تقریبات منعقد ہوتی ہیں جس میں ماہرین جنگل کے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں ہمارے ہاں جانوروں اور پرندوں کے تحفظ سے متعلق بھی کئی تنظیمیں قائم ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ نہ جانے کیوں چکوال کے علاقے میں پرندوں کے اس قتل عام پر کسی طرف سے کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی پاکستان میں ہر دن دنیا بھر سے آنے والے پرندوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہو رہی ہے ۔ جب انسان کے پاس بے تحاشا اور زائد ازضرورت آمدنی ہو تو وہ نت نئے مصارف دریافت کر لیتا ہے ۔دور جدید نے دنیا بھر میں جہاں ارتکاز دولت کو عام کیا وہاں نت نئے مصارف بھی دریافت کرائے ۔ایسے ہی مصارف میں ایک شکار بھی ہے ۔انسان پرانے وقتوں ہی سے شکار کرتا آیا ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ یہ شکار صرف غذائی ضروریات کیلئے یا کسی موذی سے نجات پانے کیلئے ہوا کرتا تھا ۔تفریح کیلئے شکار کرنے والے شاذ ہوا کرتے تھے ۔آج حال یہ ہے کہ تفریح اور کھیل تماشے کے طور پر جانوروں اور پرندوں کو ہلاک کرنا ان کی گردنیں اور کھال اتار کر بطور ’’ٹرافی ‘‘ اپنے گھروں کی زینت بنانا مشغلے کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔امیر لوگ شکار کیلئے غریب اور پسماندہ ممالک کا رخ کرتے ہیں ان کا سر اور کھالیں بطور’’ٹرافی‘‘ اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ۔19ویں صدی سے قبل اس کا رواج نہ تھا ۔شکاریوں نے ہاتھی دانت کے حصول کیلئے اس کی نسلیں ختم کر ڈالیں ۔اس تمام کھیل تماشے کو ’’ دا بگ گیم ‘‘ کا خوبصورت نام دیا گیا ہے۔بہیمیت کو خوشنما الفاظ کے جامے میں ملفوف کر دینا رواج پا گیا ہے۔ابن صفی نے کہا تھا

آدمی کیوں ہے وحشتوں کا شکار
کیوں جنوں میں کمی نہیں ہوتی
جنوں میں کمی نہ ہونے کا سبب شائد یہ بھی ہے کہ آج ہر چیز کیلئے جذبہ محرکہ ،پیسہ یا تفریح اور لذت خوشی قرار پا چکا ہے ۔شکار کا بگ گیم ایک جانب ملین ڈالر انڈسٹری ہے تو دوسری جانب پیسے والوں کی تفریح وتسکین کا سامان۔افریقہ میں اسے بگ گیم کا نام دیا گیا ہے ۔وہاں شیر ،ہا تھی گینڈے ،بھینسے اور چیتے کے شکار کیلئے شکاری آتے ہیں ۔ہزاروں ڈالر لٹا کر شکار کرتے ہیں اور اپنی ٹرافی سمیٹ کر چلتے بنتے ہیں اور اپنی ہلاکتوں پر فخر کرتے ہیں ۔اگلے زمانے میں بادشاہ سلامت یا شہزادی ذیشان شکار کو نکلنے والے سوار ،پیادے ،کارندے ،محافظ اور خاصہ بردار بھی اپنے شوق ،استعداد اور توفیق کے مطابق ذوق شکار کی تسکین کرتے تھے ۔کئی شکار کے شائقین چیتے یا کسی خونخوار درندے کے شکار کا خطرہ مول نہ لیتے ہوئے محکمہ جنگلی حیات سے ہی پرندے منگوا کر اور ان پرندوں کو نشانہ بنا کر ہی سامان آسودگی کر لیتے ہیں ۔اصل مسئلہ اس جبلت کا ہوتا ہے جو شکار کو نکلنے والے ہر فرد کے دل میں ہوتی ہے ۔کسی پرندے کو تاک کر نشانہ لگانا ،اس کا زخمی ہو کر پھڑپھڑاتے ہوئے گرنا ،اس کے جسم سے لہو کے فوارے پھوٹنا ،اس کا تڑپنا اور پھر آہستہ آہستہ اس کے اعضاء کا ڈھیلے پڑ جانا اور بلآخرکھلی آنکھوں کے ساتھ ساکت و صامت ہو جانا شکاری کیلئے قلبی راحت کا باعث ہوتا ہے۔معزز قارئین جنگلی جانور اور خوبصورت پرندے قدرت کا حسین تحفہ ہیں ۔ان کی حفاظت کرنا تو ہم سب کا فرض ہے ۔خداوند کریم کی طرف سے بنائی گئی یہ دنیا صرف انسانوں کیلئے نہیں بلکہ کیڑوں مکوڑوں ،چرند پرنداور جانوروں کا رہنا بھی اتنا ضروری ہے جتنا خود انسانوں کیلئے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ انسانوں نے ان حشرات الارض اور طرح طرح کے پرندوں کو اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھانا شروع کر رکھا ہے ۔ہمارے ہاں انسانوں کے تحفظ کیلئے جو قوانین و ضوابط بنائے گئے ہیں ان پر کسی نہ کسی طریقہ سے عمل درآمد ہو ہی جاتا ہے لیکن ان بے چارے جانوروں کیلئے کوئی ایسے اقدامات نہیں کئے جاتے کہ ان کی نسلیں محفوظ رہ سکیں ۔کہنے کو تو حیوانات کے تحفظ کیلئے وائلڈ لائف کا محکمہ قائم ہے اور ناپید ہونے والے جانوروں کی نسلوں کے تحفظ کیلئے مختلف قوانین بھی بنائے گئے ہیں اور ان پر عمل درآمد کیلئے محکمہ وائلڈلائف میں ہزاروں کی تعداد میں ملازمین کو کھپایا بھی گیا ہے لیکن یہ ملازمین جانوروں کا تحفظ کرنے کے بجائے اپنے افسروں کو خوش کرنے اور مقتدر شخصیات کے علاوہ بڑے بڑے سیاستدانوں کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے خود ہی ان قیمتی اور نایاب جانوروں کے خاتمہ کا سبب بن رہے ہیں ۔محکمہ ’’وائلڈ لائف‘‘ کے ملازمین کی ’’آشیر باد ‘‘ سے ہونے والے غیر قانونی شکار نے خوبصورت جانوروں اور پرندوں کو نایاب کر دیا ہے جبکہ ان ملازمین کی مبینہ ملی بھگت سے دکانداروں نے اپنی دکانوں اور لوگوں نے گھروں کے اندر خوبصورت پرندے چھوٹے چھوٹے پنجروں میں قید کر رکھے ہیں ۔وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی مبینہ ملی بھگت سے صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع میں موسم سرما میں سائبیریا سے آنے والے پرندوں کا بے دریغ شکار کیا جا رہا ہے جبکہ بنوں ، کوہاٹ اور ڈی آئی خان کے ریگستانی علاقوں میں باز پکڑنے کا کاروبار بھی زوروں پر ہے جبکہ راقم کا علاقہ ہیڈمرالہ سیالکوٹ ہزاروں نایاب پرندوں کیلئے موت کی آماجگاہ بن گیا ہے علاقہ میں نہروں کے کناروں کے قریب شکاریوں نے اپنے ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں اور محکمہ کی چشم پوشی کے باعث پرندوں کی نایاب نسلیں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔دیکھا گیا ہے کہ یورپ سے آنے والے پرندوں کا شکار کرنے کیلئے اکثر اوقات اعلیٰ شخصیات ان شکار گاہوں کا رخ کرتی ہیں اور ان کی آمد پر سیکورٹی کے بھی خصوصی انتظامات کئے جاتے ہیں۔دنیا بھر کے یخ بستہ خطوں اور ممالک کے علاوہ روس کے سرد علاقے سائبیریا میں سردیاں شروع ہوتے ہی ہر سال لاکھوں خوبصورت پرندے طویل اڑانیں بھرتے اور شور مچاتے پاکستان اور بھارت میں سردیاں گزارنے آتے ہیں ۔ان میں زیادہ ترپرندے سائبیریا کے علاوہ کینیڈا ،آسٹریلیااور نیوزی لینڈ سے آتے ہیں جبکہ 70فیصد پرندے افغانستان سے تین فضائی راستوں کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں لیکن اس سال پرندوں کی بڑی تعداد نہ جانے کیوں نہیں آئی۔محکمہ جنگلی حیات کے اجازت نامے سے ہر سال پرندوں اور جانوروں کے قتل عام کے مقابلے افسوس ناک ہیں۔کیا موجودہ حکومت جو ملک کوگرین، خوبصورت اور سیاحوں کیلئے پر کشش بنانے کا کئی بار عندیہ دے چکی ہے محکمہ وائلڈ لائف کے خلاف غیر قانونی شکار کرانے ،قیمتی اور نایاب جانوروں کے قتل عام کے علاوہ شکار کا لطف اٹھانے والے سیاستدانوں اور امراء کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی اور جگہ جگہ دکانوں میں مقیدخوبصورت پرندوں کو رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

*****

بھارت کشمیریوں کے دل نہیں جیت سکتا

adaria

14 فروری کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے خود کش دھماکے بعد بھارتی دھمکیوں اور الزام تراشیوں کے ردعمل میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بار پھر پاکستان کے اصولی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے بھارت سرکار سے کہا ہے کہ تشدد ہماری حکومت کی پالیسی نہیں۔جرمنی کے شہر میونخ میں سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو واقعہ ہوا ہے میں اس کی مذمت کرتا ہوں لیکن بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے فوری طور پر پاکستان پر الزام لگا دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پر الزام لگانا ایک منٹ کی بات ہے، آپ اپنا ملبہ بھی ہم پر پھینک دیجیے لیکن دنیا اس سے قائل نہیں ہوگی، دنیا نے اس کی مذمت کی ہے اور کرنی بھی چاہیے تھی کیونکہ جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔تاہم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت سے آوازیں آرہی ہیں، جیسا کے جموں اور کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے کہا کہ پاکستان پر الزام لگانا آسان راستہ ہے لیکن بھارتی انتظامیہ یہ بھی تو دیکھے کے مقبوضہ کشمیر میں کیا ہورہا ہے‘۔بلاشبہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی رویے کی وجہ صورتحال پیچیدہ اور تشویش ناک ہو چکی ہے بجائے اسکے کہ بھارت سرکار بے قابو ہوتے حالات پر سرپکڑ کر بیٹھے اور کوئی راستہ نکالے وہ پاکستان پر الزام لگا کر جلتی پر تیل ڈال رہا ہے۔ وزارتِ خارجہ ان الزام تراشیوں کو پہلے ہی مسترد کرتے ہوئی کہہ چکی ہے کہ تفتیش کئے بغیر واقعہ کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنا بھارتی وتیرہ ہے ،اور یہ کہ پاکستان دنیا میں کسی بھی جگہ ہونے والے ایسے واقعات کے خلاف ہے ان کی مذمت کرتا ہے اور پلوامہ کے دھماکے کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔قابض بھارتی فوج پر ہونے والا حملہ گذشتہ 20 سالوں میں سب سے بڑا حملہ تھا جس میں بھارتی قابض فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے ،لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔آخر کشمیر میں یہ نوبت کیوں آن پہنچی ،کب بھارت کی آنکھیں کھلیں گی۔مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے سوفیصد درست کہا ہے کہ اس معاملے میں آگے چلنے کا راستہ نہ ڈھونڈا گیا تو پلوامہ جیسے واقعات مستقبل میں بھی ہوتے رہیں گے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی بھارتی مظالم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں اور روز جنازے اٹھ رہے تو کیا اس کا ردعمل نہیں آسکتا؟انہوں نے اس بات کے خدشے کا بھی اظہار کیا کہ میں روس کے وزیر خارجہ سمیت کئی وزرائے خارجہ سے ملا اور کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ بھارت میں انتخابات سے پہلے سیاسی مقصد کے لیے کوئی واقعہ ہوسکتا ہے۔اس میں اب دو رائے نہیں ہے کہ بھارت میں الیکشن جیتنے کیلئے پاکستان دشمنی ایک خاص حربہ بن گیا ہے،اب جب بھارت میں چند ماہ بعد الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور مودی سرکار پر شکست کے بادل منڈلانے لگے ہیں، پاکستان کے سنجیدہ حلقے اس بات کا خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ ’’مودی دول‘‘ گٹھ جوڑ رائے عامہ کو اپنے حق میں ڈھالنے کیلئے کشمیر میں کوئی بڑا کھیل رچا سکتا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود نے بھی اپنی گفتگو میں اس جانب اشارہ کیا ہے۔پلوامہ واقعہ کی اب تک جزیات کے تجزیے سے اس خدشے کو تقویت ملتی دکھائی دیتی ہے۔پھر اہم بات یہ ہے مودی انتظامیہ کے موقف کو تمام جماعتوں کی تائید بھی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔پلوامہ واقعہ پر گزشتہ روز نئی دہلی میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس اس مقصد کیلئے بلائی گئی تھی تاکہ تمام جماعتوں کی تائید حاصل کی جا سکے لیکن مذکورہ کانفرنس اختلافات کا شکار ہو گئی۔سماج وادی پارٹی اور پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی سمیت کئی جماعتوں نے اے پی سی میں شرکت نہیں کی ۔مسلم کانفرنس کے فاروق عبداللہ فلائٹ کا کہہ کر کانفرنس کے درمیان سے ہی اٹھ کر چلے گئے ۔اسی طرح قرارداد میں پاکستان کا نام شامل کرنے پر بھی اتفاق نہ ہوسکا ۔سابق وزیراعلیٰ نے کل جماعتی قرارداد کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کل جماعتی اجلاس کے بعد امن کی اپیل کی توقع کررہے تھے۔یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ جب پاکستان کے حق میں عالمی رائے بہتر ہونے لگتی ہے یا کوئی اہم پیش رفت ہونے والی ہوتی ہے تو کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ بھارت میں رچا دیا جاتا ہے کہ جس کی آڑ میں بھارتی حکومت پاکستان پرالزام تراشی شروع کر دیتی ہے۔ کلبھوشن کیس کی عالمی عدالت انصاف میں سماعت جو دو روز بعد شروع ہونے والی ہے اور سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ایسے معاملات ہیں جوبھارت کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہیں ہو رہے ہیں۔ جہاں تک بھارت کی گیدڑ بھبکیوں کا تعلق ہے تو وہ کسی مغالطے نہ رہے۔اسے ایک ایٹمی قوت اور پروفیشنل آرمی سے واسطہ ہے جس کا ایک ایک سانس ملک کی سالمیت کے لیے وقف ہے۔اسی طرح مودی کی یہ دھمکی کہ وہ سفارتی طور پر پاکستان کو تنہا کردے گا تو یہ اسکی خام خیالی ہے،یہ کوشش وہ پہلے بھی کر چکے اور ناکام ہوئے،اب بھی کوشش کرکے دیکھ لے ناکام ہوں گے۔وزیر خارجہ نے یہ درسیت کہا کہ بھارت کو دیکھنا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں کیا ہورہا ہے اور آج یہ نوبت یہاں تک کیوں پہنچی، آج کشمیری ان سے نالاں ہیں تو اسکی کیا وجہ ہے، کیا ہزاروں عورتیں جو احتجاج کرتیں ہیں،جو شہدا کے جنازوں پر ہزاروں کا مجمع ہوتا کیا یہ پاکستان کرتا ہے۔ایسا ممکن نہیں ہے ۔ہندوستان اپنے جابرانہ رویے اور اپنی پالیسیوں کی وجہ سے کشمیر کو کھو چکا ہے اس کا قبضہ صرف جغرافیہ تک محدودرہ گیا ہے کشمیریوں کے دل و دماغ اسکے قبضے سے نکل چکے ہیں۔مودی انتظامیہ ہوش کے ناخن لے وہ اپنی توانائی پاکستان مخالف پروپیگنڈہ پر صرف کرنے کی بجائے کشمیریوں کی آواز سننے پر صرف کرے۔پاکستان دشمنی سے ہو سکتا ہے وہ الیکشن جیت جائے مگر کشمیریوں کے دل نہیں جیت سکتا۔

ویزہ فیس میں نمایاں کمی۔شکریہ سعودی عرب
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد سے قبل ہزاروں پاکستانیوں کیلئے یہ خوشخبری سامنے آئی ہے کہ اب پاکستانی شہریوں کیلئے ’وزِٹ ویزا‘کی فیسوں میں کمی کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کا اطلاق15 فروری2019سے ہوگا۔اس سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ سنگل انٹری وزٹ ویزا فیس2 ہزار سے کم کر کے338 ریال، جبکہ ملٹی پل انٹری وزٹ ویزا فیس3ہزار سے کم کے675 ریال کر دی گئی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قبل ازیں خطے دیگر کئی ممالک کے مقابلے یہ فیس بہت زیادہ تھی۔مثلاًبھارت کیلئے یہ 200ریال اور انڈونیشیا کے لیے یہ 250ریال تھی مگر پاکستان کیلئے فیس 2000ریال تھی۔جس سے ہزاروں پاکستانیوں خصوصاً کاروباری افراد کے سفری اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا تھا۔اب جب سعودی حکومت نے اس میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے تو اس سے جہاں باہمی تعلقات میں وسعت آئے گی وہیں باہمی کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو گا۔موجودہ حکومت نے سعودی حکومت سے اپنے اچھے تعلقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ویزہ فیس میں کمی کروا لی ہے تو یہ ایک قابل تحسین کوشش ہے۔ہمیں امید ہے کہ ولی عہد کے دورے سے بڑے بڑے معاہدوں کے علاوہ اس قسم کے کئی دیگر چھوٹی چھوٹی رکاٹوں اور مسائل کو بھی حل کر لیا جائے گا۔پوری پاکستانی قوم کی نظریں اس دورے پر لگی ہیں کیونکہ سعودی ولی عہد کے دورے میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف شعبوں میں کئی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے جبکہ دونوں ممالک، دوطرفہ تعاون کے مختلف شعبوں میں موثر اور فوری پیشرفت یقینی بنانے کے مختلف طریقوں پر بھی بات چیت کریں گے۔

سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان آزاد کیوں

فروری 2007 کو لاہور اور دہلی کے مابین چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں نئی دہلی سے 100 کلومیٹر دورسونی پت کے قریب دیوانہ ریلوے سٹیشن پر بم دھماکوں کے بعد آگ لگی۔ یہ آگ ٹرین کی پچھلی دو بوگیوں میں لگی جو فائر بریگیڈکے پہنچنے سے قبل جل کر راکھ ہوگئیں اور اس کے نتیجے میں 67 افراد جاں بحق اور بہت سے زخمی بھی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں اکثریت پاکستانی مسافروں کی تھی۔

دہلی سے لاہور آنے والی ٹرین میںآتشزدگی سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ منظم دہشت گردی اور تخریب کاری ہے جس میں ہندوؤں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے بعد پایہ تکمیل تک پہنچایا بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کی تفتیش کے دوران اس بات کاانکشاف ہوا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس، حیدر آباد کی مکہ مسجد اور درسگاہ خواجہ حسین الدین چشتی پر بم دھماکوں میں بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس ملوث ہے۔ ایک انتہا پسند ہندو اندریش کمار کے مطابق حیدر آباد کی مکہ مسجد میں بم دھماکہ آر ایس ایس نے کرایا ۔ اندریش کمار کے بیان کی روشنی میں ایک اوردہشت گرد ہندو سوامی آسم نند کو حراست میں لیا گیا ہے جو سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جا رہا ہے۔ اب تک تو بھارتی حکام ان سانحات کی ذمہ داری مسلمانوں پر ڈالتے چلے آرہے تھے مگرپھر معلوم ہوا ہے کہ اس میں ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس ملوث تھی۔ راجیو گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ مسلمانوں سے زیادہ خطرناک تو ہندو انتہا پسند تنظیمیں ہیں۔ سمجھوتہ ایکسپریس کے چلنے سے قبل اس کی ایک ایک چیز چیک ہوتی ہے اوراس کی حفاظت اٹاری تک بھارتی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ٹرین چلنے سے قبل اسے تمام ایجنسیاں چیک کر کے کلیئر کرتی ہیں۔ یہ ٹرین راستے میں بھی کسی جگہ نہیں رک سکتی۔اسطرح یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرین میں دھماکہ خیز مواد دہلی ہی میں رکھا گیا جو راستے میں سونی پت کے علاقہ میں موضع دیوانہ کے قریب پھٹ گیا۔ اس سے بہت سے سوال جنم لیتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ چلنے سے قبل ٹرین کو چیک نہ کیا گیا اور پھر بھارتی ایجنسیوں نے اسے کیسے کلیئر کر دیا؟

سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین میں آتشزدگی کے بارے میں پاک بھارت دونوں ملکوں کی مشترکہ ٹیم کی جانب سے تحقیقات سے گریز سے یہ بات سامنے آئی کہ بھارتی حکومت ہرگز یہ پسند نہیں کرتی کہ اس آتشزدگی میں جو خفیہ ہاتھ کارفرما تھے وہ بے نقاب ہوں اور ساری دنیا سمجھوتہ ایکسپریس کی آتشزدگی میں ملوث انتہاپسند ہندو تنظیموں بشمول بجرنگ دل کا بھیانک چہرہ دیکھے۔بھارت اپنی دہشت گرد تنظیموں کے گھناؤنے کردار پر پردہ ڈالنا چاہتا تھا۔ بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیموں’ آر ایس ایس اور بجرنگ دل‘ نے سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکوں اور آتشزدگی کی ذمہ داری قبول کی اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا لیکن اس کے باوجود بھارتی حکومت انتہا پسند ہندو تنظیموں کے چہرے سے نقاب ہٹانے سے انکار کر رہی ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحہ کو لگ بھگ گیارہ سال گذر چکے ہیں عدالتی کمشن اور تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق ملزم بھی نامزد ہو چکے ہیں مگر ابھی تک کوئی گرفتاری یا سزا نہیں ملی کیوں؟ بھارت کے خود ساختہ ممبئی حملوں کے بعد تو بھارت نے پاکستان پر دباؤ ڈالے رکھا اور نام نہاد اجمل قصاب کو پھانسی تک دے دی مگر سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان کا کیا کیا؟

بھارت صرف پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ چاہے وہ سفارتی سطح پر ہو یا زمینی سطح پر۔ ہماری وزارت داخلہ کے مطابق بھارت بلوچستان میں دخل اندازی کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحد سے اسلحہ بھی دہشت گردوں کو سپلائی کر رہا ہے۔ کیا ہم میں اتنی سی سکت بھی نہیں کہ ہم اپنی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے ایسے خطرناک دشمن کے ہاتھ روک سکیں؟
سمجھوتہ ایکسپریس کے بعد پاکستانی ایجنسیوں کا نام لیا جانے لگا جبکہ بعد میں اس سانحے کا کرتا دھرتا فوج کا حاضر سروس لیفٹیننٹ کرنل پروہت نکلا جس نے کرائے کے چند افراد کے ساتھ یہ کارروائی کی تھی۔ عجیب بات ہے کہ اس سانحے کی تحقیقات کرنے والے اور بھارتی فوجی کو بے نقاب کرنے والے افسر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
بھارت کا تو یہ حال ہے کہ وہ ممبئی حملے کرنے والے دس دہشتگردوں کوبھارتی نیوی نہ روک سکی اور نہ سیکورٹی ایجنسیاں حالانکہ انہیں دو ماہ قبل اس کارروائی کا علم ہو چکا تھا۔ دس آدمیوں پر تین ہزار بھارتی کمانڈوز سر توڑ کوشش کے باوجود قابونہ پا سکے۔ اگر دس لوگ بھارت کے قابو میں نہیں آسکے تو 13 صوبوں میں چلنے والی آزادی کی تحریکیں کیا قابومیںآئیں گی۔ اگر یہ لوگ بھارت کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کر لیں تو پھر بھارت کا کیابنے گا۔ ممبئی دہشت گردی سے بھارتی سیکورٹی کی قلعی کھل گئی ہے۔ ساری دنیا کو معلوم ہوگیا ہے کہ ناکام ریاست کون ہے؟ پاکستان ، جس کا دہشت گردی کے خلاف کردار دنیا نے مانا ہے یا بھارت جو صرف دس دہشت گردوں کو نہ روک سکا۔
پاکستان نے بھارت کی طرف سے سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات میں غیر ضروری تاخیرپر تشویش کا اظہار کیا جس میں 42معصوم پاکستانی شہری شہید ہوگئے تھے۔ بھارت کی جانب سے واقعہ میں ملوث کچھ ملزمان کو بلاجواز بری کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس نے ضروری قانونی کارروائی اور انصاف کی فراہمی کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے ۔ پاکستان نے بھارتی حکومت سے دہشت گرد حملے کی تحقیقات سے متعلق معلومات کا پاکستان سے تبادلہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
*****

دلی کے جبر سے پلوامہ تک۔۔۔؟

ہندوستان نے سات لاکھ ریگولر فوج مقبوضہ کشمیر میں تعینات کررکھی ہے جبکہ تین لاکھ پیرا ملٹری بھی ہے پاکستان کی کل فوج کی تعداد چھ لاکھ ہے کشمیر میں ہندوستان کی کل دس لاکھ فوج کے روزانہ کے اخراجات کا تخمینہ اربوں میں ہے ہندوستانی افواج کا کام کشمیریوں کی نسل کشی کرنا اور روازانہ کی بنیادوں پر ان کو ٹارچر کرنا ہے ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کی سیز فائر یا لائن آف کنٹرول پر ان تمام راستوں کو خار دار تاروں سے بند کررکھا ہے جنکے اندر بجلی کا کرنٹ ہے اور چھونے سے انسان کی فوری طور پر موت واقع ہو جاتی ہے آزاد کشمیر کے ساتھ ملنے والے تقریباً تمام راستوں پر دیواریں تعمیر کر رکھی ہیں تاکہ آزاد کشمیر سے انسان تو کیا کوئی پرندہ بھی مقبوضہ علاقے میں داخل نہ ہو سکے جب کہ سیز فائر لائن پر جگہ جگہ بھارتی افواج کی چوکیاں بنائی گئی ہیں آزاد کشمیر سے اگر کوئی مقبوضہ کشمیر پہنچ جائے تو اسے نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی بلااشتعال فائرنگ سے آر پار کشمیریوں کی شہادتیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کشمیر کے دونوں اطراف میں کشمیریوں کی نسل کشی کرنے کا لائنس ہندوستان نے لے رکھا ہے جبکہ شہری آبادی میں کرفیو لگا رہتا ہے اور ساری کشمیری قیادت تقریباً پابند سلاسل رہتی ہے ان کی نقل وحرکت پر پابندی ہے ایسے حالات میں پلوامہ میں ہندوستانی فوجیوں پر تازہ حملہ اور بڑے پیمانے پر ہلاکتیں بظاہر کوئی بہت بڑی پلاننگ لگتی ہے یہ کھلم کھلا دہشت گردی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے مودودی حکومت نے پلوامہ میں دہشت گردی کے اس حملے کے دس منٹ بعد ہی الزام حسب معمول پاکستان کے سر تھوپ دیا ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی افواج کی موجودگی میں ہندوستانی فوجیوں پر حملہ اگر کیا گیا تو نریندرمودی کو پاکستان کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنی فوج کو کھیتی باڑی پر لگا دینا چاہئے دوسری طرف ہندوستانی میڈیا پاکستان کے خلاف زہر اگل رہا ہے پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو بلا کر دفتر خارجہ نے نہایت مناسب جواب دے دیا ہے کہ پاکستان کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جرمنی کے شہر میونخ میں مودی حکومت کو خوب آڑے ہاتھوں لیا ہے کہ ہندوستان کو چاہیئے کہ پہلے تحقیقات کرلے یوں ہی پاکستان پر الزام نہ لگائے شاہ محمود قریشی نے ایک نہایت اہم بات یہ کی ہے کہ انہوں نے اپنے روس کے دورے کے دوران یہ انکشاف کیا تھا کہ ہندوستانی الیکشن سے پہلے اس طرح کا کوئی واقعہ خدانخواستہ رونما ہوسکتا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے وقت میں جب پاکستان میں سعودی کراون پرنس محمد سلیمان دورہ کر رہے ہیں اور تیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سعودی عرب پاکستان میں کرنے جارہا ہے اور دنیا کا مرکز اور محور اس وقت پاکستان ہی ہے پاکستان کی اہمیت بڑھ گئی ہے پاک چین اقتصادی راہداری، قطر ملائیشیا اور متحدہ عرب امارات سے سرمایہ کاری پاکستان آ رہی ہے پاکستان ترقی کی منزلیں طے کرنا چاہتا ہے اور وزیراعظم عمران خان نے غربت جہالت کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے وہ پورے برصغیر میں غربت کے خاتمے کے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے ہیں وہ امن اور پیار کی بات کرتے ہیں اور اپنی محبت کا عملی طور اظہار کرتارپور کا بارڈر کھول کر دیا ہے اسی لئے وزیراعظم نے اپنی الیکشن میں کامیابی کے بعد پہلے خطاب میں ہی امن کی بات کی اور بھارت کو مفاہمت اور مزاکرات کی دعوت دی تھی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی عالمی سطح پر جس بھی فورم پر گئے ہیں انہوں نے پاکستان کی جانب سے پاکستان کا موقف کو واضح کیا اور امن اور مفاہمت اور مذاکرات کے ایجنڈے کو آگئے بڑھایا پاکستان کو اس حملے سے فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوا ہے تو پھر پاکستان یہ حملہ کیوں کروائے گا۔ بھارت مقبوضہ وادی میں اپنا کنٹرول کھو چکا ہے اپنے تمام تر مظالم کے باوجود کشمیریوں نے بھارتی تسلط کے آگئے سر جھکانے سے صاف انکار کیا ہوا ہے بھارت عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے پر حمایت کھو رہا ہے ڈائسپورہ بیرون ملک پوری طرح متحرک ہے اور آئے دن پرامن مظاہرے ہوتے ہیں اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جاتا ہے بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا جاتا ہے جون 2018 میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے متعلق جو رپورٹ شائع کی ہے اس سے بھارتی جمہوریت اور اس کا سیکولرزم چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے دوسری جانب پاکستان کی افواج نے کراچی، فاٹا خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی پر قابو پالیا ہے سیکورٹی بہتر ہونے اور سیاسی استحکام کے ساتھ ہی دنیا کی ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں اپنا اپنا نیٹ ورک قائم کرنے جا رہی ہیں۔پلوامہ کا واقعہ جس نے بھی کروایا نْقصان کشمیر کی تحریکِ آزادی کو پْہنچا اور فائدہ بھارت اور مودی کی سیاست کو ہوا ،جموں میں ابھی تک مْسلمانوں کی تو پچاس کے قریب گاڑیاں جلا دی گئی مسلمانوں کی املاک پر پورے ہندوستان میں حملے کئے گئے آر ایس ایس اور دیگر انتہا پسند ہندوستانی اس اشتعال کو بڑھاوا دیں گے لندن میں ہفتے کے روز پاکستان کے ہائی کمیشن کے باہر مودودی کے پیروکاروں نے ایک مظاہرہ بھی کیا اور یہ مظاہروں کا یہ سلسلہ شاید دیگر یورپین ممالک میں بھی پھیلے جس سے لگتا ہے کہ نریندرمودی کے چیلوں نے یہ پہلے سے پلان کیا ہوا تھا لگتا یہ ہے کہ پلوامہ کے حملے سے نریندرمودی اپنے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور لوگوں کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے لیکن جس طرح ہندوستان سے کشمیر کی تحریک کو کچلا نہیں جاسکا ویسے ہی ہندوستان پاکستان کی ترقی کا راستہ نہیں روک سکتا۔

افغانستان اور امریکی فوج۔۔۔۔!

khalid-khan

افغانستان غیر ملکی افواج کیلئے دلدل ہے۔جس لشکرنے بھی اس دلدل پر قدم رکھا ،وہ دھنستا چلا گیا۔افغانستان سے کو ئی بھی عسکر فاتح یاب ہوکر اپنے ملک واپس نہیں لوٹا۔برطانیہ ، روس اور امریکہ سمیت سب نے قسمت آزمائی کی لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔امریکہ اور اتحادیوں کی افواج کم وبیش انیس سالوں سے ہر قسم کا اسلحہ استعمال کرنے کے باوجود اپنے اہداف حاصل کرنے کے قریب ہی نہ پہنچ سکی۔ افغانستان میں روس کے سفیر الیگزنڈرمیئنسکی نے حالیہ ایک انٹرویو میں بتایا کہ افغانستان کے کم ازکم پچاس فیصدعلاقوں پرابب بھی طالبان کاقبضہ ہے۔ طالبان کا قبضہ ان علاقوں میں زیادہ ہے جہاں افغانی حکومت کی مکمل رٹ نہیں ہے اور یہ علاقہ پچاس فیصد ہے۔ افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان کرنل ڈیوڈبٹلر نے کہا کہ امریکی فوج ابھی افغانستان سے نہیں جارہی اور نہ ہی امریکی فوج کی تعداد میں کمی کی جارہی ہے۔ ہماری سپورٹ افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی یہی کہا ہے کہ ابھی ہم افغان سیکورٹی فورسز کی معاونت کررہے ہیں۔امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ ہم یہاں پر ہیں اور افغانستان فورسز کے ساتھ روز جنگ میں حصہ لے رہے ہیں اور امریکی فوج کی تعداد میں کمی کرنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغان عوام کے ساتھ ہمارے مشترکہ مفادات وابستہ ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ، افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان کرنل ڈیوڈبٹلر اور امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے بیانات سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ افغان حکومت کو صرف تسلی دے رہے ہیں کیونکہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک اور انٹرویو میںیہ واضح کیا ہے کہ ” میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے لوگوں کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ میں نے دیکھا کسی کی ٹانگ نہیں ، کسی کا ہاتھ نہیں اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ انکی دماغی حالت کیا ہوئی ہے کیونکہ وہاں انھوں نے ایسے حالات کا سامنا کیا کہ واپس آکر وہ ذہنی طور پر بالکل ہی مفلوج ہوچکے ہیں۔ جن کی بیویاں اور والدین ہم سے کہتے ہیں ہائے! ہمارے بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ یہ کیا ہو گیا۔ یہ خوفناک صورت حال ہے۔ہم وہاں انیس سال سے حالت جنگ میں ہیں۔اب وقت آگیا ہے ۔اب طالبان امن چاہتے ہیں۔ وہ تھک گئے ہیں۔ہم سب تھک چکے ہیں۔ میں کھبی نہ ختم ہونی والی جنگ نہیں چاہتا۔”اس انٹرویو سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں بری طرح پھنس چکا ہے اوراس جنگ سے ان کانا قابل تلافی نقصان ہورہا ہے۔اب امریکہ اس جنگ سے کسی نہ کسی صورت میں جان چھڑانا چاہتا ہے اور افغانستان سے نکلنے کی تگ و دو کررہا ہے۔اسی سلسلے میں امریکہ نے افغانستان کے طالبان سے مذاکرات کا تسلسل جاری رکھا ہے ۔ اس سلسلے میں قطر میں امریکہ کے ساتھ حتمی مذاکرات کے لئے علامہ شیر محمد عباس استاکز ئی کی سربراہی میں مولوی ضیاء الرحمن مدنی ، مولوی عبدالسلام حنفی ، شیخ شہاب الدین دلاور، ملا عبدالطیف منصور، ملا عبدالمنان قمری ، مولوی عامر خان ، ملا محمد فضل مظلوم ، ملاخیر اللہ، مولوی مطیع اللہ ، ملا محمد انس حقانی ، ملانور اللہ نوری،مولوی محمد نبی عمری اور ملا عبدالحق واثق پر مشتمل افغان طالبان کی چودہ رکنی ٹیم ہے۔ان مذاکرات کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے؟ سب کو مثبت نتائج کا انتظار ہے کیونکہ افغانستان گذشتہ چالیس پچاس برس سے جنگ کی حالت میں ہے۔ افغانستان تباہ حالی کا شکار ہے۔افغانستان کے باسی پریشانی کے عالم میں ہیں۔ افغانستان کے لاکھوں مہاجرین در بدر ہیں۔پاکستان میں کم وبیش پچاس لاکھ افغانی مہاجرین رہتے ہیں ،گوکہ پاکستان ان کی ہرقسم کی مدد کرتا ہے۔ان کو آزادنہ گھومنے پھرنے اور کاروبار کی اجازت دے رکھی ہے۔جو افغانی خالی ہاتھ آئے تھے ،اب وہ کروڑوں اور اربوں روپے کی بزنس کرتے ہیں ۔ افغان مہاجرین پاکستان میں خوش ہیں۔ وہ پاکستان میں امن و سکون سے رہ رہے ہیں لیکن پشتو کا ایک قول ہے کہ دوسروں کے بستر پر سونے والے کو آدھی رات بستر چھوڑنا پڑتا ہے۔افغان مہاجرین اس شش وپنچ میں ہیں کہ کسی بھی وقت ان کو افغانستان واپس بھیجا جاسکتا ہے۔وہ اس اضطراب میں مبتلا ہیں کہ وہ کسی بھی گھڑی اپنے ملک واپس جاسکتے ہیں۔ وہ اس سبب یہاں اپنے مستقبل کیلئے بہتر منصوبہ بندی نہیں کرسکتے ۔علاوہ ازیں افغان مہاجرین سے پاکستان اور پاکستانیوں کو بھی معاشی اور معاشرتی مسائل سمیت متعدد پریشانیوں کا سامنا ہے۔سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کا سلسلہ بہت زیادہ طویل ہوگیا ہے۔اب افغان مہاجرین کواپنے ملک واپس جاکر افغانستان کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرناچاہیے اور اپنا قیمتی وقت مزید ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ قارئین کرام! امریکہ اور طالبان کے کامیاب مذاکرات کی صورت میں افغانستان میں قیام امن کا امکان پیدا ہوجائے گا۔ افغانستان میں قیام امن کی صورت میں افغانیوں کے مسائل کم ہوجائیں گے۔امن سے خوشحالی اور ترقی کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ پاکستان کی ہمیشہ یہی خواہش رہی ہے کہ افغانستان اوردیگر پڑوسی ممالک میں امن اور شانتی ہو۔

سرمایہ پرستی کا شاخسانہ !

دیکھا جائے تو زندگی کے ہر شعبے میں انقلابی اصطلاحات کی ضرورت ہے اگر چہ اس دور میں عام آدمی ان اصطلاحات کو ایک فریب ہی سمجھتا ہے لیکن موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں یہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور تقاضا بھی ۔جس طرح غریبی دور کرنے کے افسانے سنائے جاتے ہیں سماجی برائیوں کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کے استحکام کیلئے غریبی دور کرنے کے نام پر دنیا کے غریب ممالک کو زبردستی سرمایہ دارنہ نظام کے سرکل میں داخل کیا جارہا ہے ۔سرمایہ دارانہ نظام انسانوں کو ایسے حال پر رکھتا ہے کہ دیکھنے میں وہ معزز انسان نظر آئے لیکن اندر سے وہ کھوکھلا ہو چنانچہ اس سلسلے میں وقتاًفوقتاً غریبی دور کرنے کے اعلانات بھی ہوتے رہتے ہیں لیکن عملی اقدامت اٹھانے سے عموما گریز کیا جاتا ہے اور یہ اعلانات اپنی جگہ صحیح ہیں کہ غربت کی وجہ سے انسان کے جسم میں خون ہی نہ رہا تو اسے چوسا کس طرح جائیگا ؟ اس ظاہری طور پر غریبی دور کرنے کے اعلانات اور ہمارے سیاسی لیڈروں اور حکومتی اعلانات وغیرہ سب عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی حصہ معلوم ہوتاہے اور ایسی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں کہ عام آدمی اپنی معاشی ضروریات اور اخراجات پورا کرنے کیلئے وہ جانور وں کی طرح محنت کرتا ہے اور وہ خوشحالی کی چمک حاصل کرنے کیلئے اپنی ذندگی کی انتہائی ئی قیمتی لمحات کچھ ایسے طریقے سے ضائع کرتا ہے کہ وہ سوچنے اور شعور حاصل کرنے کے لمحات کو کو بھی اپنے پاس نہیں پاتا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ زندگی ایک بار ملتی ہے اس لئے اس کا لطف اٹھانا چایئے اور کامیاب لوگ بھی وہ ہوتے ہیں جو بھر پور انداز میں زندگی گزارنے کا ہنر جانتے ہیں جیسے ہمارے لیڈر حضرات اور خواتین جو سیاست میں ہیں جن کے پاس دولت بھی ہوتا ہے اور شہرت بھی ، زندگی کی حرکت ان میں بھرپور نظر آتی ہے اور یہ ذہین اور فطین بھی ہوتے ہیں ان کا دماغ کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے اور الیکشن کے دنوں میں ان کو عوام کی بھیڑ اچھی لگتی ہے یہ موقع شناس ہوتے ہیں اور اپنی زبان اور بیان سے عام آدمی کو اپنا گرویدہ بنالیتے ہیں اور معاملہ فہمی اور روشن دماغی کی وجہ سے وہ مشہور ہوتے ہیں اور عام آدمی بے چارہ تو ہمیشہ دھکے اور سرمایہ داروں کے مکے کھاتا ہے اور ووٹ کا حق استعمال کرتے ہیں اور ضرورت پڑ نے پر سرمایہ داروں کی کال پر سڑکوں پر نکلتے ہیں اور اس نشے میں بعض اوقات وہ خود کش بمبار کا نشانہ بن کر ان کے پرخچے بھی اٹھ جاتے ہیں ۔ سرمایہ داریت جسے کمرشلزم کا نام دیا جاتا ہے اس نے عام آدمی کیلئے خوش مزاجی اور زندہ دلی کو معدوم جنس بنادیا ہے ، بس اب تو نفسا نفسی ہے اورافراتفری ہے اور ہنگامہ خیزی ہے اور تیز رفتار زندگی کے دوڑ نے اکثریت کیلئے خوش دلی کو نایاب اور کمیاب بنادیا ہے اور سرمایہ دار کی قسمت میں کامیابی ہی کامیابی ہے۔عام آدمی تو نہ خوشی سے شادی کرسکتا ہے اور نہ بیوی کو رکھ سکتا ہے ا ور نہ چھوڑ سکتا ہے اسی ضرورت کو مد نظر رکھ کر ویانا میں طلاق میلے کی داغ بیل رکھی گئی ہے اور اسی طرز ممکن ہے کہ اس نوعیت پر آسان اور سستے طور پر خودکشی کرنے کے طریقے سکھانے کیلئے بھی میلے منعقد کئے جائینگے جس کے نتیجے میں ذندگی کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔چونکہ انسان فطری طور پر جدت پسند ہے اور وہ نئی نئی ایجادات کرتا ہے اور اختراعات کا عمل کرتا ہے اور جدید نظریات کی بنیاد رکھ کر ذندگی کی گاڑی چلاتا ہے اور یہ بھی فطری تقاضہ ہے کہ انسان امیر ہو یا غریب وہ کچھ رومانی طبیعت بھی رکھتا ہے اور صنف مخالف کیلئے محبت کے معاملے میں بھی وہ سیلانی طبیعت کے مالک ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کے دل میں دوسری شادی کی خواہش بھی پیدا ہوتی ہے ، عام طور پر اس فطری خواہش کو پورا کرنے کیلئے وہ شادی بھی عموما جلدی کرلیتا ہے اور ذندگی کی گاڑی چلانا شروع کرلیتا ہے اور اگر کوئی اچھی سے بیوی صابر اور شاکر بیوی مل گئی تو پھر وارے نیارے ہیں ۔ اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ نئے دور کے تقاضوں کا انکار ممکن نہیں ہے اور تخلیقی صلاحیتوں کے اندر نکھار پیدا کر کے ترقی کے منازل کو طے کیا جاسکتا ہے لیکن دور حاضر میں سائنسی ترقی اور مادی ضروریات اور معاشی اور اقتصادیات کے نئے نئے ڈھنگ اور ذرائع ابلاغ کے تنوع کے ساتھ دنیا میں اب کافی تبدیلی آگئی ہے اور اس تبدیلی کے ساتھ انصاف اور عدل کے معیار بھی بدل گئے ہیں ذندگی کی برق رفتاری نے انسان کو شارٹ کٹ راستہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے انسان مشینی دور میں مشین کی گراری کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور جو حقائق ہیں وہ بھت تلخ ہیں اقتصادی ترقی کی بجائے تباہ کاری کا گراف بلند ہوا ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو چھپانے سے چھپنے والا نہیں ہے ، انسانیت غربت کی چکی میں پس رہی ہے ایسے حالات میں اگر کنواروں کے گھر میں اگر ایک کنوارے نے شادیانے بجا بھی دئے تو کیا ؟ کل اسے مہنگائی کا عفریت، ٹیکسوں کا جدید بظام،غیرملکی سرمایہ کاری کے نام پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کا عمل دخل ،نجکاری کے نام پر قومی دولت کو ہڑپ کرنے کے منصوبے، برآمدات کو بڑھانے کے نام پر ملکی کرنسی کی قیمت کم کرنے کے اعلانات ،اور عالمی اداروں سے قرض لے کر ملک چلانے کے کے طور وطریقے؟اور ایسی صورت میں کیا وہ ترقی کی منازل اور رفعت کی مکو پالے گا؟ یہ ایک کڑوا سوال ہے جس کا جواب آپ نے دینا ہے!۔

Google Analytics Alternative