کالم

ایک روحانی محفل میں پروفیسر ڈاکٹر قاضی سلطان سکندر سے ملاقات

شاعر اور شہنشاہ روز روز پیدا نہیں ہوتے ۔ شاعر بنی نوع انسان کے لئے باعث عزت و افتخار ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ نوعِ انسانی کے اولین استاد شاعر ہی تھے ۔ ارسطوکہتا ہے کہ شاعری میں نثر سے زیادہ فلسفہ اور تاریخ سے زیادہ جان ہوتی ہے ۔ برجستہ شعر چلتا ہوا جادو اور بولتی ہوئی تصویر ہے ۔ آسکر وائیلڈ کی بات بھی بڑی بات ہے کہ جذبہ جب الفاظ کا پیکر اختیار کرتا ہے تو شاعری کہلاتا ہے اور جب عمل میں ڈھلتا ہے تو مقصدِ حیات بن جاتا ہے ۔ جو لوگ خواہشات کے بوجھ تلے دبے جارہے ہیں دھرتی اُن سے پناہ مانگتی ہے اور وہ زلزلوں کی صورت میں اظہار بھی کرتی ہے اور بستیوں کی بستیاں وہ اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے ۔ حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے اور یہ جہاں سے بھی ملے اسے لے لو ۔ اس دنیا میں لا تعداد لوگوں کا جمِ غفیر ہر روز دیکھتا ہوں اُن میں انسان کو تلاش کرتا ہوں تو بہت مشکل سے چند ایک نظر آتے ہیں کیونکہ غالب نے بھی کہا تھا کہ

آدمی کو بھی میسرنہیں انساں ہونا

لاہور میں ایک ایسی مجلس قائم ہے جو ربع صدی سے لوگوں کو انسان بنا رہی ہے ۔ جہاں خیال و فن، فکر و نظر اور قلب و روح کی حقیقتوں سے روشناس کیا جاتا ہے ۔ ایسے خوبصورت خیالات کی مملکت کے فردِ فرید تنہا نہیں ہوتے جن کے امیر ملکوتی تخیل کے حامل ہوں جن کے سالار کارواں سوز دروں کی دولت سے مالا مال ہوں ، جن کے قائدین بلند جذبوں کے امین ہوں اِن اوصاف سے متصف حضرت مولانا عبدالرءوف ملک کی ذاتِ گرامی کا وجود ہمارے درمیان موجود ہے ۔ جن سے مل کر روحانی مسرت کی بے پناہ دولت ہاتھ آتی ہے ۔ آپ کی رہائش گاہ پر ہر سوموار کی شام کو ایک ایسی ہی مجلس برپا ہوتی ہے جہاں ماضی، حال اور مستقبل کی تقسیم سے بے نیاز حاضرین کو دیکھا جاسکتا ہے جہاں آپ کو مشاہدات و حقائق کے موتیوں کی مالا آپ کے گلے میں ڈال دی جاتی ہے ۔ تلاوت قرآن کریم کثرت سے اور ہدیہ نعت، کلام اقبال آپ کی سماعتوں میں رس گھول دیتا ہے ۔ اس دفعہ عنوان تھا کہ انسان کہاں ہے;238; پروفیسر ڈاکٹر قاضی سلطان سکندر کی 25 منٹ کی گفتگو میں قرآن ، حدیث اور اقبال کا کلام موجود تھا ۔ مولائے کریم نے آپ کو تقریر و گفتگو کا وہ ملکہ دیا ہوا ہے کہ میں آپ کی قوتِ اظہار و بیان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا کیونکہ

سینہ روشن ہو تو ہے سوزِ سخن عین حیا ت

ہو نہ روشن تو سخن مرگِ دوام اے ساقی

کسی قوم کی دولت کپڑا، لوہا اور سونا نہیں بلکہ قابل انسان ہیں یہ قول ماءوزے تنگ کا ہے آدمی پیدا ہوتا ہے انسان تہذیبی عمل سے بنتا ہے جہنم سے بچنا چاہتے ہو تو انسانیت کی خدمت کرو ۔ مغز سر میں ہوتا ہے نہ کہ پگڑی میں ، انسانیت انسان میں ہوتی ہے نہ کہ جبہ و دستار میں ۔ پروٖفیسر ڈاکٹر قاضی سلطان سکندر نے سامعین سے پوچھا کہ انسان کہاں ہے ;238; آپ کا خطاب بڑا بصیرت افروز اور فکر انگیز تھا آپ نے چالیس احادیث کی فضیلت بیان کی ۔ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص میری امت کے دینی امور سے متعلق چالیس احادیث کا اہتمام کرے تو قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اسے فقیہہ اُٹھائے گا اور میں اس کی شفاعت کروں گا ۔ اللہ تعالیٰ پروفیسر سلطان سکندر کو اس کا اجر عظیم کثرت سے دے ۔ بہت عرصے کے بعد ایک ایسے داعی کی ابلاغی قوتوں کا اعتراف کرنا پڑا ہے کہ ہمار ے درمیان ایسے سلیقہ شعار اور قرینے سے گفتگو کرنے والے حلیم اور سلیم انسان دور دور تک دکھائی نہیں دیتے ۔ حضرت مولانا عبدالرءوف ملک صاحب کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ ایسے نابغہ روزگار انسانوں کی صلاحیتوں سے فیض یاب کرتے ہیں ۔ پروفیسر قاضی سلطان سکندر پر میرا ایک مفصل کالم آئے گا کیونکہ اُن کے نام میں ہی کشش موجود ہے ۔ یہ لوگ واقعی قسمت سے ملتے ہیں قیمت سے نہیں جنہوں نے حیرت انگیز انقلاب اپنی ذات پربرپا کیا اور پھر دوسروں میں بھی یہ خوبی پیدا کرنے کی جہد مسلسل ہورہی ہے ۔ یہ مہینہ نومبر کا ہے اس میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال پیدا ہوئے اور بابائے صحافت مولانا ظفر علی خاں کی وفات ہوئی دونوں پنجاب میں پیدا ہوئے اس لئے

حاسدانِ تیرہ باطن کو جلانے کے لئے

تجھ میں اے پنجاب اقبال و ظفر پیدا ہوئے

پروفیسر ڈاکٹر سلطان سکندر نے اقبال کو ہر جلوے میں کلیم، شعلے میں خلیل، غبار میں سوار، مشتِ خاک میں پارہَ الماس، جسدِ خاکی میں انگارہ، خاکستر میں چنگاری اور چنگاری میں فروغ جاوداں ڈھونڈتے پایا گیا اور اقبال بحضور سرور کائنات

گرچہ دانا حال باکس نگفت

از تو درد خویش نتوانم نہفت

عقلمند اگردہ کسی سے دل کا حال نہیں کہتا لیکن یا رسول اللہ ﷺ میں آپ سے حالِ دل چھپا بھی نہیں سکتا ۔

تا غلام در غلام زادہ ام

ز آستان کعبہ دور افتادہ ام

میں آپ کے غلاموں میں ہوں اور آپ کی غلامی میں پروان چڑھا ہوں ۔ آپ کا آستانہ جو رشک کعبہ ہے اس سے دور پڑا ہوا ہوں ۔

چونِ بنام مصطفی خوانم درود

از خجالت آب می گردد وجود

جب میں نام مصطفی پر درود پڑھتا ہوں تو ندامت کی وجہ سے میر ا وجود پانی پانی ہوجاتا ہے ۔

عشق میگوید کہ ای محکوم غیر

سینہ توا از بتان ماننددیر

عشق مجھے پکار کر کہتا ہے کہ اے غیروں کے غلام ۔ تیرا سینہ تو دَیر کی مانند بتوں سے بھرا پڑا ہے ۔

تانداری از محمد رنگ و بو

از درود خود میالانام او

جب تک تیرا ظاہری اور باطنی تعلق محمد ﷺ سے مضبوط نہیں ہوجاتا ۔ اپنے درود سے ان کے نام کو آلودہ مت کر ۔

ہست شاَن رحمت گیتی نواز

آرزو دارم کہ میرم در حجاز

آپ کی شانِ رحمت کا مظہر کائنات کو نوازتا ہے ۔ اس لئے حضور میں خواہش رکھتا ہوں کہ مجھے حجاز میں موت آئے ۔

ای بصیری راردا بخشندہ ئی

بربط سلما مرا بخشندہ ئی

اے بصیری کو چادر بخشنے والے ۔ ذی سلم کا ساز مجھے بھی عطا فرما ۔

ریاض آسی کی دلوں میں زلزلے ڈال دینے والی آواز کی لے نے بھی جادو اثر چھوڑا ہے ۔ ریاض آسی کا ترنم اجسام و ابدان میں ایک لرزش خفی پیدا کر دیتا ہے :

تاثیر برق حسن جواں کے سخن میں تھی

اک لرزش خفی میرے سارے بدن میں تھی

پروفیسر ڈاکٹر سلطان سکندر نے صلوٰۃ کے معنی و مفہوم بھی بیان کئے ۔ صلوٰۃ کے لغوی معنی دو ہیں ۔ کسی کو دعا دینا اور نظام زندگی اور اس پر عمل کرنے کا طریقہ ۔ ہمارے پیامِ رحمت کے امیر خواجہ محمد اسلم صاحب نے صلوٰۃ اور اُس کے تقاضے قرآن حکیم اور اسوہَ حسنہ کی روشنی میں لکھے ہیں ۔ و ہ آئندہ ملاقات پر ہی نہیں انہیں بذریعہ پوسٹ کر دیئے جارہا ہیں ۔ آج کل نامہ پر اعتبار اٹھ گیا ہے اور جدید عہد کے ابلاغی ویپن کا استعمال ہو رہا ہے جس طرح ریاض آسی نے علامہ اقبال کا کلام اپنے لحن داءودی میں سنایا تو وہ دہلی میں ممتاز شاعر و ادیب الیاس انجم بھی سماعت فرما رہے تھے اس لئے اب وہ تجسس وہ حیرت وہ تحیر نہیں رہا اور نامہ پر کی اب وقعت ختم ہوگئی ہے ورنہ لوگ جو انتظار کرتے تھے اور جہاں نامہ برملتا لوگ اپنے پیاروں کے پیغام کا پوچھتے تھے

نامہ بر تو ہی بتا تونے تو دیکھے ہوں گے

وہ کیسے ہوتے ہیں نامے جن کے جواب آتے ہیں

خدارا فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے

دنیا بھر میں صوبائی اور وفاقی دارالخلافے ہمیشہ سے عالمی سازشوں اورمقامی احتجاج کا مرکز رہے ۔ جب جب عالمی طاقتوں کی حکومتوں کو گرانے کیلئے تمام سازشیں ناکام ہو جاتیں تو لانگ مارچ، احتجاج اور دھرنا ہی وہ راستے رہ جاتے تھے جن سے حکومتوں کا دھڑن تختہ کیا جاتا جس کے بعد اس ریاست یا سلطنت کو سنبھلنے میں کئی دہائیاں اور بعض اوقات صدیاں لگ جاتیں اور پھر عالمی سازشوں کے بعد پیدا شدہ بگاڑ کے خاتمے کیلئے کوئی قوم فیصلہ کر لیتی تو پھر انہی راستوں پر انقلاب بھی تلاش کیے جاتے رہے جن میں بہت کم ایسے مارچ اور احتجاج ہیں جن میں مطلوبہ کامیابی پرامن انداز میں حاصل کی گئی ہو ورنہ تو اکثر احتجاج اور دھرنوں نے ملکوں اور ریاستوں کو تباہی اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں دیا ۔ تاریخ گواہ ہے کہ لانگ مارچ،دھرنے اور احتجاج کے پیچھے جب بھی غیر ملکی طاقتیں کارفرما رہیں تب تب دنیا کا نقشہ تبدیل ہوا اور ایسا بگاڑ پیدا ہوا جوہمیشہ دنیا میں فسادکا موجب بنتا ہی چلا گیا ۔ حالیہ چند صدیوں میں یورپ، سلطنت عثمانیہ،برصغیر سمیت ایران،عراق،لیبیا،شام،مصر،چین،افغانستان سمیت متعدد ممالک،ریاستیں اور عالمی طاقتیں انہی اقسام کے احتجاج کا شکار ہوئیں ۔ مملکت خداداد ریاست پاکستان کا دارالخلافہ اسلام آباد کا بھی کنٹینرز کیساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے کیونکہ وفاقی دارالحکومت میں بھی احتجاج ،مارچ اور دھرنے عام سی بات بن چکے ہیں اور ان احتجاج ،مارچ اور دھرنوں کو جمہوریت کا حسن قرار دیا جاتا ہے جو میری ناقص رائے میں جمہوریت کا حسن نہیں بلکہ قانون ساز ایوانوں کی ناقص کارکردگی کا شاخسانہ ہیں ۔ آج کل بھی اسلام آباد میں ایک احتجاج کے نتیجے وجود میں آنیوالے مارچ کے بعد دھرنا جاری ہے اور یہ دھرنا دائیں بازو کی جماعت جمیعت علماء اسلام (ف) کی جماعت دے رہی ہے اور اسکا دعویٰ ہے کہ ہمارے ساتھ اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتیں شامل ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ احتجاج کرنیوالی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اصل مطالبات کبھی بھی سامنے نہیں آئے کیونکہ ہر زیشعور انسان جانتا ہے کہ سامنے رکھے جانیوالے مطالبات آئین و قانون کی روح کے خلاف ہوتے ہیں مگر پھر بھی ہم ان کو جمہوری لباس پہنا کر ڈھٹائی کیساتھ پیش کر دیتے ہیں ۔ یہ بات طے ہے کہ احتجاج کرنیوالی جماعتوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کس کیخلاف احتجاج کر رہی ہیں ۔ یہاں پر پنجابی کی یہ کہاوت بالکل درست ثابت ہوتی ہے جس کا اردو میں کچھ اس طرح مطلب نکلتا ہے کہ کہنا بیٹی کو اور سنانا بہو کو ۔ اپنے آپ کو جمہوری اور آئین کا پاسدار کہنے والے خود آئین کے برخلاف مطالبات کر رہے ہوتے ہیں اور انکو شائد معلوم نہیں ہوتا کہ وہ غیر آئینی مطالبات کر رہے ہوتے ہیں یا پھر جان بوجھ کر ایسا کیا جا رہا ہوتا ہے اور اگر یہ جان بوجھ کر کیا جا رہا ہوتا ہے تو پھر یہ عمل بہت خطرناک ہے ۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ اور دو رائے نہیں کہ جب ایک پاکستانی فوجی وردی زیب تن کرتا ہے تو وہ ملک کی آن ،بان اور شان بن جاتا ہے،فوجی وردی پہننے سے پہلے وہ ایک عام آدمی ہوتا ہے لیکن جب وہ فوجی وردی پہن لیتا ہے تو قوم کا بچہ بچہ اس کی اپنے پاس موجودگی کو ایک غیر متزلزل تحفظ سمجھتا ہے ۔ پاکستانی قوم ہر قربانی دے سکتی ہے،ہر بات برداشت کر سکتی ہے مگر اپنے فوجی کیخلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہوتی جس کی بڑی وجہ فوج کا اپنا کردار ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جس نے فوج کیخلاف بات کی اسکی اپنی بقاء خطرے میں پڑ گئی کیونکہ قوم کے دلوں میں صرف اور صرف پاک فوج بستی ہے اور اس قوم کا ہر فرد خواہ وہ بوڑھا ہو یا جوان،مرد ہو یا عورت سب اپنی فوج کے سپاہی اور محافظ ہیں ۔ وفاقی دارالحکومت میں جے یو آئی ف کا دھرنا ایک سیاسی سرگرمی ہے اور سیاسی سرگرمی میں ملک کے دفاعی ادارے فوج کو گھسیٹنا کسی صورت درست نہیں بلکہ میں اس حد تک کہوں گا کہ ملکی ادارے کیخلاف جانا سوچی سمجھی سازش ہی ہوتی ہے ورنہ کون بیوقوف اپنے محافظ کیخلاف جانے کا سوچ سکتا ہے;238;کیا پاک فوج پر تنقید کرنے والے یہ نہیں سوچتے کہ جو ادارہ پاکستان کی نظریاتی اساس کا ضامن ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کی داخلی خود مختاری اور اقدار اعلیٰ کا محافظ ہے ۔ ملک کا پہلا اور آخری دفاعی حصار بھی ہے اس کیخلاف بات کرنے سے ملکی سلامتی کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ،کیا ایسے لوگ دشمن کو ہم پر انگلیاں اٹھانے کا موقع فراہم نہیں کر رہے ہوتے;238;اس وقت سراپا احتجاج جے یو آئی،ن لیگ ،پیپلز پارٹی اور اے این پی گزشتہ 10سال میں وفاق اور صوبوں میں برسراقتدار رہی ہیں یہ کوئی ایک ایسا لیٹر قوم کو دکھائیں جس میں فوج نے عام انتخابات اپنی زیر نگرانی کرانے کی خواہش کا اظہار کیا ہو اور اگر سراپا احتجاج سیاسی جماعتیں ایسا نہ کر سکتیں تو فوج پر تنقید کرنے پر انھیں قوم سے معافی مانگنی چاہئے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمیشہ اپوزیشن جماعتوں نے فوج کی زیر نگرانی انتخابات کی مطالبہ کیا جس کے باعث نگران حکومتیں فوج کی زیر نگرانی انتخابات کرانے کیلئے فوج کو خط لکھتی ۔ فوج کی زیر نگرانی انتخابات میں بھی حکومت وقت ہی فوج کا کردار بھی تعین کرتی رہی لیکن اس سب کے باوجود ہمارے ملک کے قابل فخر ادارے کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے تو غیر آئینی اور غیر قانونی عمل ہے جس کیخلاف قانونی چارہ جوئی ہونی چاہئے اور الزام لگانے والوں کو عدالتوں میں لے جایا جائے اور مطالبہ کیا جانا چاہئے کہ عدالتوں میں اپنا الزام ثابت کرو ورنہ سزا بھگتو ۔

کرتارپور راہداری ۔ ۔ سکھوں کی مراد پوری ہوئی

ال;200;خر سکھ برادری کو اس خواب کی تعبیر مل گئی جو وہ برسوں سے دیکھتے ;200; رہے تھے ۔ کل9نومبر کو کرتارپور میں گرو دوارہ دربار صاحب کا باضابطہ افتتاح بابا گرونانک کے 550ویں یوم پیدائش کے موقع پر کیا جا رہا ہے ۔ یہ دن شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا142واں یوم پیدائش بھی ہے ۔ پاکستانیوں اور سکھ دونوں کےلئے یہ دن بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ دربار صاحب گرودوارہ کا بھارتی سرحد سے فاصلہ کم و بیش تین چار کلومیٹر کا ہی ہے مگر اسکی مسافت سات عشروں پر محیط رہی ۔ اس مسافت کو طے کرانے کا سہرا انڈین کرکٹر نوجوت سدھو کے سر جاتا ہے جس نے وزیراعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں ;200;رمی چیف قمر جاوید باجوہ سے اس بابت بات چیت کی جس کا نوجوت سدھو کو حوصلہ افزا جواب ملا ۔ ;200;ج اس حوصلہ افزا جواب کا عملی نمونہ زمین پر اپنی شان و شوکت دکھا رہا ہے ۔ کرتار پور میں سکھ مذہب کے بانی گرو نانک نے اپنی زندگی کے ;200;خری ایام گزارے تھے ۔ پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس یہ بھارتی سرحد کے قریب ایک دور دراز گاؤں کوٹھے پنڈ میں ہے ۔ یہیں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے ۔ تقسیم ہند کے وقت یہ گرودوارہ پاکستان کے حصے میں جبکہ ڈیرہ بابا گرونانک بھارت کے حصے میں ;200;یا ۔ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں کے کشیدہ تعلقات کے سبب یہ گرودوارہ عرصہ دراز تک یاتریوں کا منتظر رہا ۔ کرتار پور راہداری کے حوالے سے اس سے قبل پہلی بار1998 میں دونوں ممالک میں بات چیت ہوئی تھی جو ;200;گے نہ بڑھ سکی ، مگر اب20برس بعد بات شروع ہوئی اور ایک سال کے مختصر عرصہ میں پایہ تکمیل کو بھی پہنچ گئی ۔ یقینا دنیا بھر میں موجود سکھ برادری کےلئے یہ بہت ہی عظیم دن ہے اور وہ حکومت پاکستان کے تہہ دل سے شکر گزار بھی ہیں کہ جس کی پر خلوص کوششوں سے راہداری کا منصوبہ ایسے ماحول میں مکمل کیا گیا ہے جب بھارت ایکطرف پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کر چکا ہے تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کو اسکی الگ شناخت دلانے والی شق 370 کو بھی ہڑپ کر گیا ہے ۔ اگر پاکستان اس کشیدگی کو پس پشت ڈالتے ہوئی خلوص دل سے ;200;مادہ نہ ہوتا تو بھارت اس راہداری کے لیے قطعاً تیار نہ تھا بلکہ اس نے اس منصوبے کو ناکام بنانے کےلئے اپنے تئیں کئی بار تاخیری حربے اپنائے ۔ بارہا اجلاس التواء کے شکار رکھے ۔ سچ پوچھیئے تو مودی جیسے ہٹ دھرم ، کم ظرف اور اقلیت دشمن وزیراعظم کی موجودگی میں راہداری کا کھل جانا کسی معجزے سے کم نہیں ہے ۔ لہٰذا سکھ اس حوالے سے خصوصی مبارک باد کے مستحق ہیں اور پورا پاکستان ان کی اس خوشی میں برابر کا شریک ہے ۔ خوشی کے اس موقع پر پاکستان نے سکھ زائرین کےلئے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ اور سکہ بھی جاری کیا ہے ۔ ڈاک ٹکٹ میں گرو دوارہ، جنم استھان،گرو نانک صاحب کی تصویر ہے ۔ اس ڈاک ٹکٹ کی قیمت پاکستانی ;200;ٹھ روپے رکھی گئی ہے ۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے اور امن کی جانب عملی پیش قدمی کے طور پر وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر اس منصوبے کا ;200;غاز کیا گیا ۔ منصوبے کی تعمیر پر اُٹھنے والے تمام اخراجات حکومت پاکستان نے ادا کئے ۔ یہ منصوبہ کئی مراحل میں مکمل کیا جائے گا، تاہم ابتدائی مرحلے پر دریائے راوی پر پل سمیت عمارت کھڑی کی گئی ہے ۔ دوسرے مرحلے میں عمارت میں توسیع ، زیادہ سے زیادہ یاتریوں کی رہائش کے لیے ہوٹل اور رہائشگاہیں تعمیر کی جائیں گی جبکہ زائرین کی سہولت کےلئے بازار بھی قائم کیا جائے گا ۔ اس منصوبے کیلئے کل 800 ایکڑ اراضی مختص کی گئی ہے ۔ جس میں سے104ایکڑ اراضی پر مرکزی عمارت اور اس کا صحن ہے ۔ اس سے پہلے گرودوارہ محض 4 ایکڑ اراضی تک محدود تھا ۔ کل اس مقام پر ایک بڑی تقریب منعقد ہو گی جس میں وزیراعظم عمران خان سمیت پاکستان کی عسکری قیادت بھی موجود ہو گی ۔ بھارت سے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ کی شرکت بھی متوقع ہے ۔ پاکستان نے سکھ کمیونٹی کےلئے ایک اور اہم اعلان بھی کیا ہے ۔ اب یاترا کیلئے سکھ یاتریوں کو پاسپورٹ ہمراہ لانے کی زحمت نہیں کرنا ہوگی اور پاکستان میں داخلے کیلئے محض درست اور قابل اعتماد شناخت ہی کافی ہوگی ۔ یاتری سرحد پر ;200;ئیں گے جہاں سے انہیں بائیومیٹرک اندراج کے لیے ٹرمینل لایا جائے گا جنہیں بعد میں بسوں کے ذریعے گرودوارے منتقل کیا جائے گا ۔ ایسے یاتری جو پیدل گرودوارہ جانا چاہیں گے انکے لیے الگ راہداریاں تعمیر کی گئی ہیں داخلی مقامات پر کچھ کیبن بھی بنائے گئے ہیں جن میں یاتری اپنا سامان رکھ سکیں گے ۔ بتایا گیا ہے کہ مرکزی گرودوارے میں جگہ کی قلت کے پیش نظر ایک اضافی دیوان بھی تعمیر کیا گیا ہے تاکہ رہ جانے والے یاتریوں کو مناجات و عبادت کیلئے جگہ مہیا کی جاسکے جبکہ ایک بڑا مہمان خانہ بھی تعمیر کیا گیا ہے جس میں یاتریوں کیلئے شب بسری یا قیام کی گنجائش فراہم کی گئی ہے ۔ علاوہ ازیں ایک بڑا لنگر خانہ بھی تعمیر کیا گیا ہے جو ایک وقت میں دو اڑھائی ہزار یاتریوں کو سہولت فراہم کرسکتا ہے ۔ جذبہ خیرسگالی کے طور پر لنگرخانہ ابتدائی10ایام کے دوران مفت کھانا فراہم کرے گا ۔ طے شدہ معاہدے کی رُو سے ابتدائی مرحلے میں بھارتی یاتری دن میں اپنی یاترا مکمل کرکے شام کو واپس لوٹ جانے کے پابند ہوں گے ۔ یاتریوں کی سہولت کیلئے گائیڈز بھی تعینات ہونگے ، انتظامی عملہ دن بھر موجود رہے گا اور ہیلپ ڈیسک بھی قائم کئے جارہے ہیں ۔ یاتریوں کی کثرت کے پیش نظر عارضی قیام گاہیں تعمیر کی گئی ہیں ۔ گرودوارہ پورا سال کھلا رہے گا اور یاتری365دنوں میں سے جب چاہیں دربار صاحب زیارت کیلئے ;200; سکیں گے ۔ پاکستان کا اقلیتوں کے حوالے یہ جذبہ خیرسگالی قابل تحسین ہے جبکہ دوسری طرف نام نہاد اِن کریڈیبل انڈیا کا دعویدار ملک اور اس کی انتہا پسند حکومت ہے جس نے اقلیتوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ۔ مذہبی ;200;زادی اور دیگر معاشرتی حقوق مکمل ناپید ہو چکے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال تو اور بھی زیادہ بد ترین ہے ۔ تین ماہ سے زائد عرصہ سے پوری وادی جیل کا منظر پیش کر رہی ہے ۔ کشمیریوں کو ان کی الگ شناخت دینے والا ;200;رٹیکل 370 بھی مودی ازم کی بھینٹ چڑھ چکا ہے ۔ حق خودارادیت کی ;200;واز دبانے کےلئے تمام حریت قیادت حراست میں ہے ۔ نوے روز سے جاری کرفیو کی وجہ سے کشمیری مردے بھی گھروں میں دفنانے پر مجبور ہیں ۔ مودی جی اِن کریڈیبل انڈیا بننے سے پہلے پاکستان کی طرح اِن کریڈیبل سوچ اپناوَ اور مسلم اقلیت کو جینے کا حق دو، کشمیریوں کےلئے وہ راہداری کھولو جو یو این کی قراردادوں کی طرف جاتی ہے اگر ہمت ہے تو ۔

آزادی مارچ ۔ ۔ ۔ !

صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنےا بھر میں احتجاج ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی حکومت غلط اقدام اٹھائے تو ےقےنا احتجاج ہونا چاہیے ۔ پاکستان اور دےگر ممالک کے احتجاج میں واضح فرق ےہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے احتجاج وغےرہ میں جانی ومالی،نجی وسرکاری املاک کو نقصان پہنچتا رہتا ہے جبکہ دےگر ممالک میں عموماً احتجاج پرامن ہوتا ہے ۔ عمران خان نے بھی احتجاج کیا تھا اور126دنوں کا دھرنا دےا تھا اور اب مولانا فضل الرحمن بھی سراپا احتجاج ہیں ۔ عمران خان جذباتی ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن جذباتی نہیں ہیں ۔ دونوں کے احتجاج میں اب تک فرق ےہ نظر آےا کہ عمران خان کے احتجاج میں گانے بجانے جبکہ مولانا فضل الرحمن کے احتجاج میں قرآن مجےد کی تلاوت ہوتی رہی ہے ۔ عمران خان کے احتجاج میں سےاسی پارٹی ورکرز خود صفائی نہیں کرتے تھے جبکہ مولانا فضل الرحمن کے احتجاج میں سےاسی پارٹی ورکرز خود صفائی کررہے ہیں ۔ عمران خان کے احتجاج کے دوران پی ٹی وی پر حملہ ہوا، پولیس کو لہولہان کردےا گےا اور سپرےم کورٹ کی عمارت کے جنگلے پر گندے کپڑے لہرائے گئے جبکہ مولانا فضل الرحمن کے احتجاج میں ابھی تک یہ چےزےں نظرنہیں آئیں ۔ ٹرےفک رواں دواں ہے اور کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی گئی ۔ عمران خان کے احتجاج کی وجہ سے ہمساےہ اور دوست ملک چےن کے صدر کا اہم دورہ ملتوی ہوگےا تھا جبکہ مولانا فضل الرحمن کے احتجاج کی وجہ سے دنےا کی توجہ مقبوضہ کشمےر کرفےوسے ہٹ کر آزادی مارچ پر مرکوز ہوگئی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے اوقات کا انتخاب درست نہیں ہے ۔ آزادی مارچ کو آگے پیچھے مہینوں میں کےاجاتاتو زےادہ بہتر ہوتا کیونکہ اس وقت بھارت مقبوضہ کشمےر کی عوام پر ظلم وستم کے تمام پہاڑ توڑے جارہاہے ۔ مقبوضہ کشمےر کے باسی گذشتہ تےن ماہ سے اپنے گھروں میں مقےد ہےں ۔ لوگ بھوک سے نڈھال ہیں ، بےمار ہیں لیکن ادواےات نہیں ہیں ۔ کاروبار بند ہے ۔ مظلوم کشمےری غم و الم میں مبتلا ہیں ۔ اس وقت اندورنی اختلافات بھلاکر سب کو کشمیر کےلئے جدوجہد کرنی چاہیے ۔ عمران خان کے احتجاج کے دوران بھی اداروں کا ذکر ہوتا رہا اور اب مولانا فضل الرحمن کے احتجاج کے دوران بھی اداروں کا ذکر ہورہا ہے جوکہ غلط ہے ۔ ےہ ادارے ہمارے ہیں اور اگر خدا نخواستہ ان میں کوئی بھی خامی ہو تو اس کو دور کرنے کےلئے طرےقے بھی موجود ہیں ۔ جلسوں میں کھلے عام اپنے اداروں پر تنقےد درست نہیں ہے ۔ عمران خان ہو ےا فضل الرحمن ےا کوئی اور ہو، ان سب کو اپنے قومی اداروں پر کھلے عام تنقےد نہیں کرنی چاہیے ۔ قومی اداروں کے چےک اےنڈ بےلنس کےلئے سسٹم موجود ہے ۔ اگر اس سسٹم میں کوئی خامی ہے تو اس کو دور کرےں اور بہتر سسٹم بنائےں ۔ مارچ ےا دھرنوں سے حکومت کی تبدےلی کی کوشش مناسب نہیں ہے ۔ حکومتی ارکان ےا اداروں میں غلطی ہو تو الیکشن کمیشن ےا عدالتوں میں جانا چاہیے ۔ پاکستان میں ہر وقت بے ےقےنی کی صورت حال رہتی ہے اور اےسے حالات میں پاکستان میں کوئی بھی سرماےہ کاری کےلئے آمادہ نہیں ہے ۔ عمران خان کے اخلاص پر کسی کو شک نہیں ہے لیکن معذرت کے ساتھ ان کے آس پاس لوگ بڑی بڑی باتےں کرتے ہیں لیکن کام نہیں کرتے ۔ عمران خان کی معےشت کی ٹےم کو دےکھےں ۔ عمران خان کو آئی اےم اےف اور قرضوں کی طرف مائل کیا ۔ پی ٹی آئی دور میں مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ ہوا ۔ عمران خان کی معےشت ٹےم کے غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میں ہر طبقے کے لوگ پرےشان ہےں ۔ پاکستان میں ہربچہ ٹےکس دےتا ہے لیکن پھر بھی ےہ کہا جارہا ہے کہ پاکستانی ٹےکس نہیں دےتے ہیں ۔ معےشت عمران خان کی موجودہ ٹےم کے بس کا روگ نہیں ، ےہ آئی اےم اےف اور دےگر مالیاتی اداروں سے قرض لے سکتے ہیں لیکن ےہ مہنگائی کم اور لوگوں کو سکھ نہیں دے سکتے ہیں ۔ معےشت میں صرف اعداد وشمار، ٹےکس لگانا اور قرضوں کا حصول نہیں ہوتا ہے بلکہ عام اور کاروباری طبقے کی حالت کوعملاً دےکھنا ہوتا ہے ۔ عمران خان کی خارجہ امور کی ٹےم کی کارکردگی بھی بہترےن نہیں ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفےو کے تےن ماہ سے زےادہ عرصہ بےت گےا لیکن ےہ سفارت کاری کے ذرےعے بھارت پر پرےشرڈال کر کرفےو ہٹوانہ سکے ۔ ےہ سعودی عرب، اےران اور خلیجی ممالک کے ذرےعہ بھی بھارت پر دباءو ڈالو سکتے ہیں لیکن معاملات باتوں سے حل نہیں ہوتے ۔ بلاشبہ عمران خان مخلص اور دےانتدار ہےں لیکن حقےقت ےہ ہے کہ ان کی ٹےم تگڑی نہیں ہے ۔ عمران خان اور انکی ٹےم کے پاس اب بھی وقت ہے ۔ آئی اےم اےف اور دےگر مالیاتی اداروں سے قرضوں کا سلسلہ بند کرےں ۔ توانائی کے ذراءع کی قےمتوں میں کمی کرےں ، ٹےکس کم کرےں اور سےل کو زےادہ کرےں تاکہ ملک میں کاروبار شروع ہوجائے ۔ تاجر طبقے کو سہولےات دےں ۔ عمران خان نے ےو ٹرن لےنے میں سنچری بنائی ہے ۔ اگرپاکستان کےلئے اےک اور ےو ٹرن لیں تو کوئی فرق نہیں پڑھے گا ۔ وزےراعظم عمران خان حکومت ، اپوزےشن،تمام چھوٹی بڑی سےاسی پارٹےوں کے سربراہان،سپرےم کورٹ کے چےف جسٹس ، ہائی کورٹس کے چےف جسٹس صاحبان، افواج پاکستان کے سربراہان اور افسر شاہی سب کی اےک مشترکہ مےٹنگ کال کرےں اور جس میں اپنی نسل کے مستقبل اور پاکستان کےلئے فےصلے کرےں ۔ مثلاً (الف)سب کو بلاتفرےق عام معافی دےں جس طرح ہمارے نبی کرےم ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر د ی ۔ سب چھوٹے بڑے پر مقدمات ختم کرےں ۔ سب کو رضاکارانہ طور پر لوٹی ہوئی رقم واپس کرنے کو کہہ دےں ۔ سب کو باہر سے واپس بلائےں اور ان کو کھلے دل سے خوش آمدےد کہیں ۔ (ب) آئےن میں سے برطانوی دور کے قوانےن کو ختم کرےں اور اےسے قوانےن بنائےں جس میں عوام کو فوری ،سہل اور سستا انصاف ملے اور قانون سب کےلئے ےکساں ہو ۔ عدالتی نظام کی پیچےدگےاں ختم کرےں ، عدالتی نظام بہتر کرےں (ج)تمام اداروں کےلئے بلاتفرےق اورغےر جانبدارانہ چےک اےنڈ بےلنس کاسسٹم بناےا جائے ۔ (د) اےسا سسٹم بنائےں کہ تمام ادارے اپنے دائرے میں کام کرےں اور تجاوزات نہ کرےں ۔ (ر)طبقاتی نظام کو ختم کرےں اور لوگوں کو بلاتفرےق ترقی اور آگے بڑھنے کے مواقع دےں ۔ ہر شہری کو بلاتفرےق عزت دےں ۔ (س)پاکستان میں غےر ےقےنی صورت حال کو ہمیشہ کےلئے ختم کرےں ۔ ہر تےن ےاچار سال بعد پالیسی تبدےل نہ کرےں ۔ سب مل کر جامع اور ہمیشہ کےلئے واضح پالیسی بنائےں ۔ (ش)اشےاء خرےد وفروخت کے رےٹ مقرر ہونے چاہیےں ۔ اشےاء کی قےمتوں میں ہرروز، ہر ہفتہ ےا ہر ماہ کمی وبےش کے بجائے سالانہ بنےادوں پر روودبدل ہونا چاہیے ۔ اشےاء کی قےمتوں کےلئے چےک اےنڈ بیلنس کا موثرنظام ہونا چاہیے ۔ (ص)وی آئی پی پروٹوکول کوہمیشہ کےلئے ختم کرےں اور اس کو جرم سمجھا جائے ۔ (ض)عوام کی اخلاقی تربےت کا مناسب انتظام کیاجائے ۔ سکولوں ، کالجوں اور ےونےورسٹےوں میں اخلاقی تعلیم کو لازمی اور عملی قرار دےا جائے ۔ (ط)تمام پاکستانےوں مسلمان، ہندو، سکھ ےا کوئی بھی ہو ےا کسی بھی مذہب ےا فرقے کا پروکارہوتوسب کو عملاً ےکساں اور مساوی مقام دےا جائے ۔ (ظ)کسی پر غدار ےا کافر وغےرہ کا الزام کسی فرد واحد کے اختےار میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کےلئے مناسب طرےقہ کار ہونا چاہیے ۔ (ع) ہرپاکستانی کو ذمہ دار شہری بنانے کےلئے اقدامات اٹھانے چاہییں ۔ قارئےن کرام!ہر چےز باتوں سے نہیں بلکہ عمل سے ممکن ہے ۔ پاکستان خوبصورت اورقدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے لیکن بہتر اور پڑےکٹےکل سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں ہر شخص پرےشان ہے ۔ وزےراعظم عمران خان کو مولانا فضل الرحمن سمےت سب کے ساتھ معاملات بطرےق احسن سلجھانے چاہئیں ۔ ہم سب کوپاکستان اور نئی نسل کے مستقبل کےلئے سعی کرنی چاہیے ۔

آزادی مارچ،فضل الرحمان بھی لچک کامظاہرہ کریں

بقول مولانافضل الرحمان کے کہ وہ اپنے مطالبات منوانے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں نیزانہیں اشتعال نہ دلایاجائے ورنہ یہ ہجوم کنٹینرز کو ماچس کی ڈبیاں کی طرح اٹھاکرپھینک دے گا،ساتھ ہی انہوں نے کمیشن بنانے کے حوالے سے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے نئے انتخابات کے مطالبے پربھی قائم رہنے کاعزم کیاہے ،چودھری برادران سے بھی ان کی ملاقات ہوئی صحت خراب ہونے کی وجہ سے مولانافضل الرحمان وفد کے ہمراہ چودھری برادران کے پاس خود چل کرگئے وہاں انہوں نے حلوہ کھانے کی خواہش کے اظہار کے ساتھ یہ بھی کہاکہ اللہ کرے حلوہ اچھابنا ہو، یہ خواہش اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اب مولانابھی چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح دھرنا ختم ہوجائے، انہوں نے کہاکہ حکومت ہمارے مطالبات کوتسلیم کرے تاکہ عوام کوبھی سکھ آئے اوردھرنے والے بھی واپس چلے جائیں جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ وہ استعفے کے سوا تمام آئینی مطالبات تسلیم کرنے کو تیارہیں ،اب اصل مسئلہ فیس سیونگ کاہے ،جے یو آئی ف کے سربراہ بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ دھرنے والے اب گھرچلے جائیں ،چلابھی جاناچاہیے ،حکومت کافی حد تک مفاہمت کرنے کے سلسلے میں آگے جاچکی ہے جبکہ کپتان نے کہہ دیا کہ وہ تمام آئینی اورقانونی مطالبات ماننے کے لئے تیار ہیں تو پھررہبرکمیٹی اورفضل الرحمان کوبھی چاہیے کہ وہ بھی ایک قدم پیچھے ہٹیں ، ادھروفاقی دارالحکومت میں تندوتیزبارش ہونے کے بعدسردی کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیاہے گوکہ دھرنے کے شرکاء کھلے آسمان تلے پڑے ہیں جبکہ رہنما کنٹینر میں محفوظ اورسردی سے بھی بچے ہوئے ہیں ،دیکھنے کی بات یہ ہے کہ عوام شدید سردی میں مررہے ہیں اوراس وجہ سے اموات بھی واقع ہورہی ہیں انسانی ہمدردی کے باعث دھرنے کو ختم ہوجاناچاہیے ۔ آج تک کی تاریخ کوکھنگالاجائے تو کہیں بھی اس بات کے ثبوت نہیں ملتے جہاں مورخ نے لکھا ہو کہ پاکستان میں کوئی بھی حکومت دھرنے کی وجہ سے ختم ہوئی ہو ۔ ہم تو یہاں کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت کوچاہیے کہ وہ برطانیہ کی طرح اسلام آباد میں ہائیڈپارک کے طرز کی طرح ایک جگہ مختص کرے جہاں دھرنے والے اپنے دل کی بھڑاس بھی نکالیں اورمطالبات بھی منوائیں اوربھلے مہینوں تک بیٹھے بھی رہیں ،یہ کہاں کا اصول یاجمہوریت کاطرہ امتیازہے کہ دھرنوں سے عوام کوذلیل وخوار کیاجائے خودرہنماسکون سے رہیں اس کے لئے باقاعدہ قومی اسمبلی وسینیٹ میں قانون سازی ہوناچاہیے تاکہ آئندہ آنے والے وقتوں میں دھرنامافیا چاہے وہ کوئی بھی ہواس کے شر سے کم ازکم عوام محفوظ رہے ۔ وزیراعظم نے کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ مولانافضل الرحمان صرف اپنے مسائل بتا رہے ہیں جبکہ اصل مسئلہ مہنگائی کاہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ عوام اس وقت روٹی کوترس رہی ہے اس کابنیادی مسئلہ ہی روٹی اورروزگار کا ہے ۔ تحریک انصاف نے جووعدے وعید کئے ہیں انہیں وہ ہرصورت پوراکریں جبکہ وزیراعظم یہ جان چکے ہیں کہ اصل مسئلہ کیاہے اورپھرانہیں حل کرنے میں کیوں تاخیر ہے جب مسائل حل ہوجائیں گے تو دھرنوں اوراحتجاج کے جوازبھی ختم ہوجائیں گے اس سلسلے میں کپتان کی ٹیم کو کرداراداکرناہوگا تاکہ آئے روز اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کوکنٹرول کیاجاسکے جہاں تک وزیراعظم نے کرپٹ مافیا کی جانب سے افراتفری پھیلانے کی بات کی ہے تو وہ اس سلسلے میں بھی حکومت کو ہی مساوات کی بنیاد پر اقدامات اٹھاتے ہوئے کردار ادا کرنا ہوگا جو بھی کرپٹ لو گ ہیں چاہے ان کاتعلق کسی جماعت ،بیوروکریسی یابا اثرشخصیات سے ہے ان پربلا امتیاز ہاتھ ڈالنا ہوگا ۔ تب ہی ان مسائل کو ختم کیاجاسکتاہے ۔ جبکہ وفاقی کابینہ نے گزشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی ۔ وفاقی کابینہ نے پہلی الیکٹرک وہیکل پالیسی سی ڈی اے کی تنظیم نو ، باباگرونانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کیلئے آنے والوں کےلئے2دن کی فیس معافیویزاپالیسی میں نرمی پاسپورٹ کی شرط ایک سال کے لیے ختم کرنے کی منظوری دی ہے سیاحوں کیلئے ویزا پالیسی میں نرمی کےلئے موجودہ پالیسی پر نظرثانی کی جائے گی کابینہ نے میجر جنرل محمد عامر حمید کو ڈی جی رینجرز پنجاب سید علی جاوید ہمدانی کو چیف ایگزیکٹیو آفیسر نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی تعینات کرنے کی منظوری دی ۔ وزیر اعظم نے وزرا کو بعض تر جیحات اور اہداف بتائے اور اگلے تین ماہ کیلئے روڈ میپ دیا ۔ وزیر اعظم خود ان کی کارکردگی کی مانیٹرنگ کریں گے ۔

پاکستان نے انسداد دہشت گردی بارے امریکی رپورٹ مسترد کردی

پاکستان نے انسداد دہشت گردی سے متعلق امریکی رپورٹ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات اور افغان مفاہمتی امن کے کردار کو نظر انداز کیا گیا ،پاکستان کی کوششوں سے خطے سےالقاعدہ کا خاتمہ ہوا ، نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں کے اثاثے منجمد اورفنڈزروکنے جیسے اقدامات کیے ۔ ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل نے کہا کہ اس رپورٹ میں زمینی حقائق اور 2 دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو نظر انداز کیا گیا، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں خطے سے القاعدہ کا خاتمہ ہوا اوردنیا کو محفوظ مقام بنا دیا گیا ۔ پاکستان نیشنل ایکشن پلان کے تحت ٹھوس اقدامات کرنے کا پابند ہے، پاکستان نے دہشت گردوں کے اثاثے منجمد کرنے اور فنڈز روکنے کے لیے وسیع قانونی اورانتظامی اقدامات کیے ہیں ، ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پرمکمل عمل درآمد کےلئے بھی اقدامات جاری ہیں ۔ پاکستان کو متعدد گروہوں کی طرف سے دہشت گردی کے خطرے کا سامنا ہے ۔

پاک بحریہ کابحری جہاز کو نشانہ بنانے والے میزائل کا کامیاب تجربہ

پاک بحریہ نے خشکی سے بحری جہاز کو نشانہ بنانے والے میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے ۔ میزائل نے اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ۔ پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے بھی میزائل فائرنگ کا مشاہدہ کیا ۔ امیر البحر نے میزائل تجربے کو کامیاب بنانے پر متعلقہ یونٹس، سائنسدانوں اور انجینئرز کی کاوشوں کو سراہا ۔ پاک بحریہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے ۔ پاک بحریہ کے جوان اور آفیسرز ملک کی سمندری سرحدوں اور بحری اثاثوں کے تحفظ کےلئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔ پاک بحریہ کی جانب سے کامیاب تجربہ ملکی دفاع میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا اورتجربہ اس بات کی غمازی کرتاہے کہ وطن عزیزکادفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اوراگردشمن نے کوئی بھی مذموم کوشش کی تو اس کومنہ تو ڑ جواب دیاجائے ،تمام مسلح افواج وطن کے دفاع کے لئے ہمہ تن تیارہیں ۔

حوثیوں کے ساتھ معاہدہ،

امن کی جانب قدم

یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان امن معاہدہ طے پاگیا جس کے تحت باغیوں کو حکومت میں برابر کی نمائندگی دی جائے گی، سعودی عرب نے معاہدے کی توثیق کردی ۔ معاہدے کا باضابطہ اعلان خود محمد بن سلمان نے سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی پر کیا اور اس معاہدے کو معاہدہِ ریاض کا نام دیا ۔ محمد بن سلمان نے اسے یمن میں خونریز جنگ بندی کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا ہے جس میں یمنی حکومت اور جنوب میں موجود حوثی باغی ایک عرصے کشت و خون میں رہنے کے بعد امن معاہدے کی جانب بڑھے ہیں ۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے یمن میں چارسال سے جاری خانہ جنگی اور سیاسی چپقلش کا خاتمہ ہوگا اور اس مسئلے کا سیاسی حل برآمد ہوگا ۔ سعودی شہزادے نے کہا کہ، یہ معاہدہ امن میں استحکام کا ایک نیا عہد شروع کرے گا اور اس موقع پر سعودی ریاست آپ کے ساتھ کھڑی ہے ۔ انہوں نے اسے سعودی عوام کے لیے ایک مسرت کا دن بھی قرار دیا ۔

کچھ نہ کچھ تو ہو گا گھبرائےں کےا

مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کو دو دن کا وقت دےا جو گزر چکا ۔ بعد ازاں مزےد وقت دے دےا گےا ۔ اس حوالے سے عوام تجسس کا شکار اور متذبذب کہ مولانا کا آئندہ کا لاءحہ عمل کےا ہو گا;238; آےا ےہ سب کچھ سےاسی سٹنٹ ہے ،حکومت کو دباءو مےں لانا مقصود ہے ےا پھر ےہ نعرہ اور پروگرام کسی اگلی تارےخ ےا اگلے لاءحہ عمل پر موخر کر دےا جائے گا ۔ وطن عزےز کا عام شہری ےہ سوچنے مےں حق بجانب ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اپنی ذات کے بل بوتے پر عمران خان کا استعفیٰ چاہتے ہےں ےا پھر سےاسی لےڈر کہلا کر بھی سےاسی جمہوری نظام کو تسلےم کرنے سے گرےزاں ہےں اور بغےر الےکشن کے ہی بزور استعفیٰ کے خواہاں ہےں جبکہ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزےر اعظم کےوں استعفیٰ دےں ۔ ہم پانچ سال کےلئے منتخب ہو کر آئے ہےں ۔ اےسے لوگ ملک کا کچھ نہےں بگاڑ سکتے ۔ چند ہزار لوگوں کو کروڑوں پاکستانےوں کا مےنڈےٹ تبدےل کرنے کا حق نہےں ۔ مولانا فضل الرحمٰن عمران خان سے مستعفی ہونے کا جس طرےقہ کار کو اپنا کر مطالبہ کر رہے ہےں اس کی آئےن مےں کوئی گنجائش نہےں ہے اور مولانا خود ماضی مےں اپنے موجودہ رویے کی طرح حرکات کو جمہورےت کش قرار دے چکے ہےں ۔ ان کا دعویٰ کہ مارچ مےں پندرہ لاکھ افراد شرکت کرےں گے لےکن ےہ لاکھوں پر مشتمل مارچ ہزاروی ہی ثابت ہوالےکن ےہ بھی سچ ہے کہ مولانا کے آزادی مارچ کے شرکاء کی تعداد تحرےک انصاف اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے دھرنے اور مارچ سے کہےں زےادہ ہے ۔ گو ن لےگ اور پےپلز پارٹی کے قائدےن نے سٹےج پر آ کر مولانا سے اظہار ےکجہتی کےا مگر دونوں جماعتوں کے کارکنوں نے مارچ مےں شمولےت اختےار نہےں کی ۔ آزادی مارچ کے دھرنے کے آغاز پر مولانا فضل الرحمٰن بظاہر جنگ پر آمادہ دکھائی دےتے تھے لےکن شہباز شرےف مفاہمت کی راہ پر چلتے نظر آئے ۔ آج جبکہ کشمےرےوں کی جدو جہد آزادی فےصلہ کن مرحلے مےں داخل ہو چکی ہے ان حالات مےں اور پھر اسی روز کا آزادی مارچ کےلئے انتخاب کرنا جس دن پاکستان سمےت دنےا بھر مےں کشمےری ےوم سےاہ مناتے ہےں حےران کن تھا ۔ احتجاج کرنا ،دھرنا دےنا ےا پھر تحرےکےں چلانا جمہورےت کا حصہ ہے لےکن ان کا اصل مقصد مطلوبہ نتاءج کا حصول ہوتا ہے ۔ 70کی دہائی سے ملک مےں بھرپور احتجاجی تحرےکےں چلےں ،نتاءج بھی حاصل کئے کم از کم حکومتوں کو چلتا ضرور کےا ۔ ان تحرےکوں مےں مذہبی جماعتےں ہمےشہ ہراول دستہ رہےں ۔ ان کے کارکنوں نے قربانےاں دےں ،جےلےں کاٹےں لےکن منزل انہےں ملی جو شرےک سفر نہ تھے ۔ ذوالفقار علی بھٹو جن کے خلاف مخلوط اپوزےشن تحرےک کو بڑی تےزی سے نظام مصطفیٰ مےں بدل دےا گےا تھا وطن عزےز پاکستان کے عوام مذہب کے نام پر جس شدت اور جذبے سے اکٹھے اور متحرک کئے جا سکتے ہےں کوئی دوسرا محرک کارگر نہےں ہوسکتا ۔ پاکستان قومی اتحاد نے ذوالفقار علی بھٹو جےسے ہر دلعزےز لےڈر کو رخصت کےا ۔ اس تحرےک کی کوکھ سے ضےاء الحق کے مارشل لاء نے جنم لےا ۔ گےارہ برسوں تک انہوں نے بلاشرکت غےرے کروڑوں پاکستانےوں کو لاٹھی سے ہانکا ۔ اسلام کے مقدس نام پر ملائےت کا اےک اےسا عفرےت کھڑا کےا کہ کئی عشروں کی رےاضت ،قربانےوں اور شہادتوں کے بعد اب جا کر اس مائنڈ سےٹ سے نجات ملی ۔ مولانا کے آزادی مارچ کے مطالبے پر وزےر اعظم استعفیٰ دےنے والے نہےں ۔ ن لےگ اور پےپلز پارٹی مولانا کے پرتشدد احتجاج مےں شامل ہونے کو تےار نہےں مولانا پسپائی پر بھی تےار نہےں تو دےکھےں کونسا تےسرا راستہ نکالا جاتا ہے ۔ اگر ماضی کا مطالعہ کےا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب جنرل مشرف ن لےگ اور پےپلز پارٹی کے خلاف برسر پےکار تھے تو مولانا فضل الرحمٰن ان کے ساتھ تھے ۔ جب ےہ دو جماعتےں جنرل پروےز مشرف کا قصر اقتدار گرا رہی تھےں تو مولانا ان کے ساتھ تھے ۔ پےپلز پارٹی اور ن لےگ اےک دوسرے کے خلاف لڑ رہی تھےں تو جب تک پےپلز پارٹی کا پلڑا بھاری رہا مولانا اس کے ساتھ رہے لےکن جب ن لےگ نے حکومت بنا لی تو مولانا اس کا حصہ بن گئے عمران خان کو چاہیے تھا وہ بھی مولانا کو اپنی حکومت مےں شامل کر لےتے تو نوبت ےہاں تک نہ آتی ۔ اس وقت مقتدر قوتوں کی حماءت مولانا اور حزب اختلاف کے ساتھ نظر نہےں آتی البتہ افواہوں کا بازار گرم ہے اور خواہشات کو خبر اور تجزےہ بنا کر پےش کرنے کا کاروبار زوروں پر ہے ۔ مولانا نے جوش خطابت مےں حکومتی اداروں کو خبردار کےا کہ حکومت کا ساتھ نہ دےں جو فراڈ الےکشن کے ذرےعے وجود مےں آئی ۔ افواج پاکستان کے ترجمان مےجر جنرل آصف غفور نے مولانا کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آخر وہ کس ادارے کے خلاف باتےں کر رہے تھے اس کی نشاندہی کرےں اگر ان کا اشارہ الےکشن کمےشن ےا دوسرے اداروں کی طرف تھا تو اس سے رجوع کرےں ۔ جہاں تک فوج کا تعلق ہے تو انہےں ےہ کہنے مےں کوئی جھجک نہےں کہ افوج پاکستان نے انتخابات مےں اپنا آئےنی اور قانونی فرض ادا کےا ۔ فوج کسی بھی سےاسی جماعت کی حماےت نہےں کرتی وہ صرف اور صرف جمہوری طور پر منتخب ہونے والی حکومت کا ساتھ دےتی ہے ۔ مولانا فضل الرحمٰن نے فوجی ترجمان کو جواب الجواب دےتے ہوئے کہا کہ ڈی جی اےس پی آر نے کہا کہ بتائےں کونسا ادارہ ہے ان کی بات مےں ادارہ خود سامنے آگےا ۔ مولانا فضل الرحمٰن کے اداروں سے ٹکراءو پر مبنی رویے کو ملک کی اکثرےت نے پسندےدہ قرار نہےں دےا ۔ اےک طرف مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت تحرےک انصاف کے دھرنے کی مقلد دکھائی دےتی ہے لےکن دوسری طرف ان کا کہنا ہے کہ ان کی 126دن والے دھرنے سے کوئی مماثلت نہےں ان کے اپنے مطالبات ہےں مولانا فضل الرحمٰن نے جس جارحانہ انداز سے دو دن کے اندر اندر استعفیٰ مانگا اور مطالبہ نہ ماننے کی صورت مےں زبردستی کرنے کا عندےہ دےا ۔ ےہی کچھ تو موجودہ وزےر اعظم عمران خان 2014ء کے دھرنے کے دوران بار بار کر چکے ہےں ۔ عمران خان کے ہی ےہ الفاظ تھے کہ مےرا دل چاہتا ہے وزےر اعظم کو گرےبان سے پکڑ کر پھےنک دوں ،سونامی وزےر اعظم ہاءوس اور پارلےمنٹ ہاءوس بھی جا سکتا ہے ،پولےس روک سکتی ہے نہ فوج لےکن آج افسوسناک حقےقت ےہی ہے کہ عمران خان اور ان کے حواری مولانا کے رویے کو تو غلط اور جمہورےت کش قرار دے رہے ہےں مگر ےہ ماننے کےلئے تےار نہےں کہ ماضی مےں مولانا کی طرح کا روےہ اختےار کر کے انہوں نے کوئی غلطی کی تھی ۔ آزادی مارچ سے در حقےقت کسے نقصان اور کسے فائدہ ہو رہا ہے ۔ راقم کے خےال مےں مےاں نواز شرےف ،آصف علی زرداری اور دشمن قوتوں کو ۔ مےاں صاحب تو آزادی مارچ کے ثمرات سے مستفےد ہونا شروع بھی ہو چکے ۔ اگلا نمبر زرداری صاحب کا ہے ۔ اس آزادی مارچ سے کچھ سرکردہ لےڈر تو مستفےد ہو گئے لےکن ملک ہمےشہ کی طرح کامےاب نہےں ہو سکا ہر کوئی اپنے اپنے ذاتی مفاد کی طرف بھاگ رہا ہے اور قومی مفاد ہمےشہ کی طرح کسی نظر التفات کا حقدار نہےں ٹھہرا ۔ تادم تحرےر اسلام آباد مےں مولانا فضل الرحمٰن کی اقتدا مےں آزادی مارچ کا اجتماع جاری ہے ۔ اس مشق کے حال احوال سے تو راقم کماحقہ آگاہی نہےں رکھتا کےونکہ براہ راست مشاہدے اور روبرو رسائی سے محروم ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہی پوشےدہ حقائق منظر عام پر آئےں گے اس حقےقت سے صرف نظر نہےں کےا جا سکتا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپوزےشن کے ساتھ طوےل مشاورت کے بعد اپنی زندگی کا سب سے بڑا سےاسی طاقت کا مظاہرہ کےا ۔ ان کےلئے واپسی بھی مشکل دکھائی دےتی ہے ۔ اگر وہ اپنے مطالبات سے دستبردار ہوتے ہےں تو نہ صرف اپوزےشن کی سےاست پر منفی اثرات پڑےں گے بلکہ خود مولانا فضل الرحمٰن کو بھی سےاسی طور پر نقصان ہو گا ۔ آزادی مارچ کے آغاز پر تو مولانا کا موقف سخت تھا کہ وہ استعفیٰ لئے بغےر واپس نہےں جائےں گے ۔ اب اچانک ہی ان کے موقف مےں تبدےلی نظر آئی کہ ہمارا تو دھرنے کا ارادہ ہی نہےں تھا ،صرف مارچ تھا اور اس کے بعد ملک بھر مےں مارچ ،جلسے اجتماعات کرےں گے ۔ مولانا نے ڈی چوک اور وزےر اعظم ہاءوس پر ےلغار کے ارادے کی نفی کر دی ہے ۔ اور اب دےکھنا ےہ ہے کہ مولانا اپنی اے پی سی سے کےا اعلامےہ برآمد کرتے ہےں ۔ بظاہر ان کے دھرنے کا ڈراپ سےن ہوتا نظر آتا ہے ۔

خود فریبی کا شکار انڈیا

بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے ۔ یہ درست ہے کیونکہ اِس کی آبادی دنیا کی دوسری بڑی آبادی ہے اور چین میں چونکہ جمہوری حکومت نہیں اس لیے بھارت یہ اعزاز اپنے سرلے لیتا ہے لیکن اگر بھارت کی اقلیتیں اِس کی آبادی میں سے منہا کر دی جائیں ، کم ذات ہندو، مسلمان،سکھ، عیسائی، بدھ، جین، پارسی سب نکال دیں تو بھارت باقی ماندہ ہندءوں کے لیے ایک جمہوری ملک ہے ۔ اِس جمہوریت کے بھی ہندو مذہب میں انسانوں کے درجات کی طرح درجے ہیں یعنی کسی کے لیے اعلیٰ جمہوریت کسی کے لئے کمتر اور کسی کے لیے کمترین جمہوریت ۔ آج کل سب سے زیادہ جمہوریت ہندو شدت پسندوں کے لیے ہے وہ جس کو چاہے قتل کردیں اورجس کی چاہے عزت اُچھال دیں انہیں مکمل آزادی حاصل ہے ۔ گائے ایک عام دودھ دینے والا جانور ہمیشہ سے ان کی گاوَ ماتا ہے میں نے پاکستان میں بھی سندھ کے زیادہ ہندو بسنے والے علاقوں میں گائے کو آزاد پھرتے دیکھا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں ہندوَں کو کتنی مذہبی آزادی حاصل ہے لیکن بھارت میں اسی جانور کی وجہ سے انسان آزادی کا سانس نہیں لے سکتے اور آج کل تو وہ بیچاری بے زبان ماتا سے خدا بن چکی ہے ۔ بھلے اِن کے دیش میں بسنے والی انسان ماں کو یہ جانور ماں پیروں تلے روند دے یا سینگوں میں اُچھال دے اُس کو مکمل اختیار حاصل ہے اور یہ اختیار اِس بے زبان کو وزیر اعظم بھارت کی طرف سے تقویض ہوا ہے ۔ گاوَ موترآج کل پسندیدہ مشروب اور ہر مرض کی دوا ہے ۔ بھارت اپنی ترقی کے تمام دعووَں کے باوجود آج بھی اپنے دقیانوسی خیالات سے جڑا ہوا ہے، زیادہ توجہ ریسرچ، محبت انہی معاملات پر ہے اور اس کے شہر کوڑے کے ڈھیر بنتے جا رہے ہیں ۔ اسی شائنگ انڈیا کے بے شمار شہر مختلف عالمی سرویز کے مطابق گندے ترین شہروں کی فہرست میں شامل ہیں ۔ گوگل پردس گندے ترین شہروں کی فہرست نکالیں یا بیس کی ہر ایک میں بھارت کا ہی نام جگمگاتا ہے ۔ شائنگ انڈیا میں لُدھیالہ، پٹنہ ،گوالیار اور پٹیالہ جیسے درمیانے شہر بھی اِس میں شامل ہیں جبکہ دہلی ،لکھنواور ممبئی کے نام تو مستقل اِس فہرست کا حصہ ہیں ۔ بھارت اِس وقت روزانہ ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن کے حساب سے ٹھوس کچرا یعنی سولڈ ویسٹ پیدا کررہاہے اوراسے ٹھکانے لگانے سے قاصر ہے ۔ اِس کے شہر گندے، گلیاں ، سمندر، دریا آلودہ غرض گند ہی گند کے ڈھیر ہیں جو بڑھتے جارہے ہیں ۔ چندصاف آبادیاں بنا کر اس کی حکومت سمجھتی ہے کہ اُس نے عوام کی فلاح کر لی ۔ بھارت اِس وقت اپنی تاریخ کی بدترین غیر مساویانہ معاشی تقسیم سے گزر رہاہے ۔ امیر ہے تو مکیش امبانی جیسا اور غریب ہے تو دو نہیں ایک وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے اور کوڑے کے ڈھیر سے چن کر کھارہاہے ۔ بھارت اپنے غریبوں کے لیے باتھ روم تک مہیا نہیں کر پا رہا ، اِس کے وزیر اعظم کے لیے یہ بڑا چیلنج ہے اور وہ اقوام متحدہ میں بھی اپنے اس کارنامے کا ذکر کرنا نہیں بھولتا تو اِس کا معیار کیاہوگا اور وہ اپنے لوگوں کی معاشی بحالی کےلئے کیا کر رہاہوگا ۔ بیروزگاری اِس وقت ایک عفریت کی طرح بھارت کے لوگوں پر مسلط ہے اِس کے کروڑوں لوگ یا تو بے روزگار ہیں یا انتہائی کم آمدنی والی نوکریاں کر رہے ہیں جو اُن کی گزر اوقات کے لیے ہر گز کافی نہیں اِس کے ہاں بے روز گاروں کی تعداد کروڑوں میں ہے اور وہ اسلحے کے ڈھیر لگانے میں لگا ہوا ہے ۔ وہ اپنے پھیلے ہوئے ملک کو مزید پھیلانے کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے جبکہ پہلے ہی اُس کے ہاں درجن بھر سے زیادہ آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں جن میں سے کچھ مذہب، کچھ نسل، کچھ علاقائیت اور کچھ نظریے کی بنیاد پر شاید جلد ہی آزادی حاصل کر لیں گی لیکن بھارت اور ملکوں پر قبضے کی سوچتا رہے گا اور گھر کے اندر کی خرابیاں نہ اُس کو نظر آئیں گی نہ انہیں ختم کرنے کی کوشش کر ے گا ۔ اسی لیے اُس کے اندرونی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور اِس وقت وہ نہ صرف اقلیتوں کے لیے سب سے خطرناک ممالک میں شامل ہے بلکہ خواتین چاہے اِس کی اپنی ہے یا بیرونی ملک سے آئی سیاح اِن سب کے لیے یہ ایک غیر محفوظ ملک بن چکا ہے ۔ خواتین کے ساتھ بد سلوکی کے لاکھوں واقعات ہر سال رونما ہو رہے ہیں غرض اِس وقت بھارت بہت سارے میدانوں میں بد سے بد تر ین کی سطح پر آچکا ہے اور صرف بڑی طاقتوں کی بڑی منڈی ہونے کی وجہ سے اِن کا منظورِ نظر بنا ہو اہے اور اِس کو اِس کی اصل حیثیت سے زیادہ حیثیت دی جا رہی ہے لیکن اب نہ صرف اِن معاملات میں جن کا میں نے ذکر کیا ہے بلکہ دوسرے کئی میدانوں میں بھی دنیا پراُس کا راز آشکار ہو رہا ہے اور مختلف بین الاقوامی مطالعوں اور سرویز کے نتیجے میں اُسے کئی معاملات میں دنیا کے بد ترین ممالک میں شامل کیا جارہا ہے مثلاََ اِس وقت وہ خواتین اور اقلیتوں کے لیے بد ترین ملک ہونے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی اور ماحولیاتی بچاءو کے بارے میں بدترین سطح پر رکھا جا رہا ہے ۔ اِس کے کسان پچھلے اٹھارہ سالوں میں کم ترین قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں اِس کا روپیہ ایشیا کی بدترین کرنسی کے طور پر جانی جا رہی ہے ۔ اِس کی تاریخ میں پہلی بار اِس کے اہم ادارے آپس میں ٹکرا رہے ہیں کیونکہ اِس کا وزیر اعظم خود اپنے ہاتھ اِن سب کا اختیار لینا چاہ رہا ہے ۔ اِس عظیم جمہوریت کی تاریخ میں پہلی بار اِس کے چار ججوں نے پریس کانفرنس کر کے اِس خدشے کا اظہار کیا کہ اِن کے ملک میں جمہوریت خطرے میں ہے ۔ یہ تو کچھ گوشے تھے جو دنیا کے سامنے آچکے تھے لیکن اگر بھارت نے اپنی توجہ دوسرے ملکوں کے خلاف سازشوں سے ہٹا کر خود اپنے مسائل کی طرف نہ کی تواِسے اِس سے بڑے اور کہیں زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

نہتے کشمیری عوام بھارتی فوج کے مظالم سے خوفزدہ

مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارت کی جبری پابندیوں کو93 روز گزر چکے ہیں ۔ فاشسٹ مودی حکومت نے جنت نظیر وادی کشمیر کو جیل میں بدل کر رکھ دیا ہے ۔ کشمیریوں کی زندگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے ۔ بزدل قابض فوج نے کرفیو لگا کر کشمیریوں کو گھروں میں بند کررکھا ہے ۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں با الخصوص مریضوں اور ڈاکٹروں کو ہسپتال پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اورمقبوضہ علاقے میں بھارت کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف خاموش احتجاج کے طور پر دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلاف احتجاج کرنے کی وجہ سے بچوں کو غیر قانونی شکل میں گرفتار کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ حراست میں لئے گئے بچوں کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کو غیر قانونی نظر بندیوں میں رکھا اور ان پر تشدد کیا جا رہا ہے ۔ متاثرہ بچوں میں سے 14 سالہ 10 ویں جماعت کے طالبعلم عفان کے والد منظور احمد غنی نے کہا ہے کہ اس کے بیٹے کو دیگر قیدیوں کے ہمراہ ایک چھوٹے سے سیل میں رکھا گیا ۔ رہائی کے بعد بچے کو پورے جسم میں درد محسوس ہو رہا تھا اور اس کی پشت پر زخموں کے نشان تھے ۔ کئی دن تک جیل میں رہنے کے بعد بچہ شدید ڈپریشن کا شکار تھا اور ذہنی حوالے سے اس کی حالت بے حد خراب تھی ۔ گیارہ دن تک پولیس کی حراست میں رہنے والے 15 سالہ عمر نے بھی بتایا ہے کہ اسے مارا پیٹا گیا اور جذباتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ بھارت کی نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن نامی سول سوساءٹی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے لے کر اب تک علاقے میں 13 ہزار بچوں کو حراست میں لیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت، خوف اور دھمکیوں کی کہانی جاری ہے ۔ بھارتی صحافی اشوک سوائین اس کے چشم دید گواہ ہیں ۔ انہوں نے بھارتی اخبار دی ہندو میں رپورٹ دی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ جوانوں ، بزرگوں ، بچوں پر تشدد اور گرفتاریاں روز کا معمول بن گئی ہیں ۔ بھارتی سرکار نے عوام سے تشدد اور بربریت کی شکایت کا حق بھی چھین لیا ہے ۔ کشمیری عوام کو میڈیا سے دور رکھنے کے لیے دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر کسی نے بھی میڈیا سے بات کی تو اس کا برا حشر کیا جائے گا ۔ جنوبی کشمیر میں وامہ، شوپیاں کے عوام بھارتی فوج کا نشانہ ہیں ۔ شمالی کشمیر میں باندی پورا، سوپور میں بھی صورت حال مختلف نہیں ۔ تشدد اور دباوَ کے نت نئے طریقے متعارف کرائے جا رہے ہیں ۔ شوپیاں میں گرفتار 26 سالہ نوجوان کو جیپ سے باندھ کر گھسیٹا گیا ۔ راشٹریہ راءفل کیمپ میں نوجوان کو برہنہ کر کے یخ بستہ پانی میں غوطے دیے گئے ۔ اس کے بعد اسے ایک بد بودار سیال مادہ پینے پر بھی مجبور کیا گیا ۔ ایک نوجوان کو بجلی کے کھمبے سے باندھا گیا ۔ نوجوان کو تشدد کے ساتھ کرنٹ بھی لگایا جاتا رہا ۔ چیل پورہ، ترن کے علاقوں میں بھی ایسی کہانیاں عام ہیں ۔ نہتے اور مظلوم لوگوں نے خوف کے مارے اپنے لب سی رکھے ہیں ۔ پنجورا نامی گاؤں میں لوگوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ لوگ ذہنی مریض بن رہے ہیں ۔ پلواما میں تاجر بھی میڈیا سے بات کرنے سے ڈرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہ میں بھی دھمکی دی گئی کہ اگر میڈیا سے بات کی تو تمھارے بچوں کو ہزار کلو میٹر دور عقوبت خانوں میں بھیج دیا جائے گا ۔ ستم یہ کہ یہ دھمکیاں پبلک سیفٹی جیسے ڈراوَنے قانون کے نام پر دی جاتی ہیں جس کے تحت بغیر مقدمہ چلائے 6 ماہ سے 2 سال قید رکھا جا سکتا ہے ۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابقہ مستقل مندوب، سفارتکار ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ بھارت کے قبضے میں کشمیری عوام کی زندگی ;39;ایک قبرستان کی خاموشی میں مسلح پنجرے میں رہنے;39; جیسا ہے ۔ پاکستان نے مظلوم کشمیریوں کی ترجمانی کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اجاگر کیا ۔ ملیحہ لودھی نے دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ مقبوضہ کشمیر میں تشدد اور زبردستی گرفتاریوں کی داستانیں وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہیں کہ کس طرح بچوں سمیت ہزاروں لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے گھر سے لے جایا گیا ۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بچوں کو درپیش اس ;39;سنگین حقیقت;39; پر توجہ دلوائی، جو 2 ماہ سے زائد عرصے سے سخت لاک ڈاوَن میں موجود ہیں ۔ رات میں چھاپوں کے دوران بڑی تعداد میں بچوں کو اٹھالیاجاتا ہے ۔ ساتھ ہی عالمی برادری اور یونیسیف، اقوام متحدہ کی بچوں کی ایجنسی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی امداد کے لیے آئیں ۔ بھارتی فورسز کے ظلم و ستم اور کشمیر کی تقسیم کے خلاف کشمیری عوام بڈگام‘ شوپیاں ‘ پلوامہ‘ کلگام سمیت کئی اضلاع میں سڑکوں پر نکل آئے اور بھارت کے ظالمانہ اقدامات پر شدید احتجاج کیا ۔ بھارتی فورسز نے احتجاج کرنے والوں پر پیلٹ گن چلائی جس سے بیسیوں نوجوان زخمی ہو گئے ۔ مظاہرے کی کوریج پر آئے صحافیوں پر قابض فورسز نے تشدد کیا جس سے تین صحافی زخمی ہوگئے ۔ ایک فوٹو جرنلسٹ کے مطابق وہ سرینگر کے علاقے خانیار میں بھارت مخالف مظاہرے کی تصاویر بنا رہا تھا کہ بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں نے اس پر پیلٹ بندوق تان لی اور اسے مارا پیٹا ۔ ایک خاتون رپورٹر کے مطابق پولیس اہلکاروں نے اسے بھی سخت توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا ۔ جب سے بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اس خطے کو دو مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ان دونوں علاقوں وادی اور لداخ کو مرکزی حکومت کے تحت قرار دیا ہے، کشمیری عوام اس صورتحال پر سراپا احتجاج ہیں ۔ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں فوج کی نفری بڑھا دی ہے ۔ دوہزار کے قریب سیاسی و سماجی شخصیات کو گرفتار کرلیا گیا یا انہیں نظربند کردیا گیا ہے ۔ عام سرگرمیوں اور نقل و حرکت کو محدود کرکے شہریوں کے حقوق کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اب یہ بہت ضروری ہوگیا ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں سویلین راءٹس کے تحفظ اور سلامتی کی صورتحال کو بہتر بنانے اور امن عمل بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے ۔

Google Analytics Alternative