کالم

بھارت میں ہندو اکثریت ، اقلیت میں بدلنے لگی

مردم شماری کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی آبادی اب ایک ارب اکیس کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ بھارت میں گزشتہ ایک عشرے میں اٹھارہ کروڑ دس لاکھ کی آبادی کا اضافہ ہوا ہے یعنی کہ گزشتہ عشرے میں بھارت کی آبادی میں تقریباً برازیل ملک کی آبادی کا اضافہ ہوا ہے۔بھارت کی اس وقت کی آبادی امریکہ، انڈونیشیاء، برازیل، پاکستان، جاپان اور بنگلہ دیش جیسے چھ ممالک کی کل مجموعی آبادی کے برابر ہے۔آبادی کے لحاظ سے تازہ اعداد و شمار سے یہ بات منظر عام پر آئی کہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان سمیت تمام برادریوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن تمام کمیونٹیز کی آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی تھی اس میں کمی آئی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہندوؤں کے مقابلے میں زیادہ ہواہے۔بھارت میں پہلی بار مجموعی آبادی میں ہندوؤں کا تناسب اسّی فیصد سے کم ہو گیا ہے جبکہ مسلمانوں کی تعداد قریب ایک فیصد اضافے کے ساتھ اس وقت چودہ فیصد سے زائد ہے۔بھارت کے نائب وزیر خارجہ نے اسمبلی انتخابات کے موقع پر کہا تھا کہ ہندوؤں کی آبادی گھٹ رہی ہے اور اقلیتیں بڑھ رہی ہیں۔وزیر کا بیان شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے متعلق تھا جہاں گذشتہ چند سالوں میں عیسائی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ مسلمانوں نے اسے اپنے اوپر لاگو کر کے کہا کہ مسلمانوں کے گھر مسلمان پیدا ہوتے ہیں اور باقیوں کے گھر بچے۔ سنگھ پریوار سے وابستہ لوگ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں، کبھی اس کی وجہ مسلمان عورتوں کا دس بچے پیدا کرنا بتایا جاتا ہے تو کبھی بنگلہ دیشی دراندازی۔آبادی کا دباؤ ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن سنگھ سے وابستہ لوگ صرف مسلم آبادی کو مسئلہ بتاتے ہیں، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو بار بار ہندوؤں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کا مشورہ نہیں دیتے۔یہ ایک ایک کھلا سچ ہے کہ بھارتی مسلمانوں میں پسماندگی ہے۔ تعلیم اور روزگار کا فقدان ہے جس کا براہ راست تعلق آبادی میں اضافے سے ہے۔ کاشتکاری اور ہنر کے کاموں میں لگے خاندانوں میں زیادہ بچے عام ہیں کیونکہ جتنے ہاتھ اتنی آمدن۔ ملک کے زیادہ تر مسلمان کچی آبادیوں میں رہتے ہیں۔ ان میں خواندگی کی شرح ہندوؤں سے کم ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں ان کی شرکت آبادی کے تناسب سے بہت کم ہے۔1947ء میں بھارت کی آزادی سے لے کر اب تک ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ملک کی مجموعی آبادی میں ہندوؤں کا تناسب 80 فیصد سے کم ہو گیا ہے۔اس سلسلے میں بھارتی ذرائع ابلاغ میں یہ دعوے بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں کہ نئی دہلی میں گزشتہ ملکی حکومت نے قومی سطح پر پچھلی مردم شماری کے نتائج جاری کرنے میں اس لیے دانستہ طور پر تاخیر کر دی تھی کہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔بھارت کے ایک ہندو پنڈت سکشی مہاراج نے اس سال کے اوائل میں یہ کہہ کر ایک بڑا ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا کہ ہر ہندو خاتون کو چار بچوں کو جنم دینا چاہیے تاکہ ہندو مت کی بقاء کو یقینی بنایا جا سکے۔بھارت کود کو ہندو ملک کہتا ہے مگر کیسی اچھنبے کی بات ہے کہ اس ملک میں ہندوؤں کی تعداد باقی اقلیتوں کے مقابلے صرف 30فیصد ہے۔ حقیقت کیا ہے اور بھارت کیوں اس اصلیت کو دنیا سے چھپا رہا ہے۔ ایک تاثر عام ہے کہ سبزی خور، گوشت خوروں سے کم طاقتور ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کے بچے بھی کم ہوتے ہیں۔ ہندوؤں کی اکثریت گوشت نہیں کھاتی جبکہ مسلمانوں کی خوراک کا اہم حصہ گوشت ہے۔ لہٰذاکچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گوشت خور ہونے کی وجہ سے مسلمانوں میں آباد ی بڑھانے کی صلاحیت سبزی خور ہندوؤں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2011 میں بھارت کی کل آبادی ایک ارب 21 کروڑ 9 لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل تھی۔ دس برسوں میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 13.8 کروڑ سے بڑھ کر 2011 تک 17.22 کروڑ 22 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ ان دس سالوں میں ملک کی مجموعی آبادی میں ہندوؤں کی تعداد 0.7 فیصد کم ہوکر 96 کروڑ 63 لاکھ سے زائد ہے۔ بھارت میں عیسائیوں کی آبادی 2 کروڑ 78 لاکھ، سکھوں کی آبادی 2 کروڑ 8 لاکھ، بودھ مت کے ماننے والے 84 لاکھ جب کہ جین مذہب کے ماننے والوں کی آبادی 45 لاکھ ہے۔ ان کے علاوہ دیگر مذاہب اور مسلک کے ماننے والوں کی تعداد 79 لاکھ ہے۔2001 سے 2011 کے درمیان بھارت میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کی شرح 24.6 فیصد جب کہ ہندوؤں میں اضافے کی شرح 16.8 رہی۔ بھارت میں آبادی کے لحاظ سے ہندوؤں کی تعداد 79.8 فیصد، مسلمانوں کی آبادی 14.2 ہے، اس کے علاوہ بھارت میں آباد 2.3 فیصد لوگوں کا مذہب عیسائیت، سکھ مت کے ماننے والے 1.7 فی صد، بودھ مت کے ماننے والے 0.7 فیصد ہیں اور جین مذہب کے ماننے والے 0.4 فیصد ہیں۔ 1947 میں انڈیا کی پہلی مردم شماری ہوئی تھی اور اس وقت ہندو آبادی کا تناسب 84.1 فیصد تھا۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق 2022 میں بھارت کی آبادی چین سے بھی تجاوز کرجائے گی۔

*****

انڈین پارلیمنٹ حملہ۔’نائین الیون سیریز‘ کا پارٹ

9/11کے رونما ہونے کے بعد دنیا کے ایک بڑے حصہ میں کئی صدیوں بعد یہ اِحساس اُجاگرہو عیسائی دنیا کوان زاویوں سے سوچنے پر مجبوراً لاکھڑا کیا گیا کہ صرف ‘عیسائی دنیا’ ہی مہذب ہے اور متمدن ہے دنیا کے اور مذاہب تورہے ایک طرف’اْن سے بعد میں بھی نمٹا جاسکتا ہے لیکن مسلم دنیا سے پہلے نمٹنابہت ضروری ہے جو ماضی کی اپنی ’فتوحات‘ پر ہمیشہ اہمیت دیتی آئی ہے ’یہ خیال عیسائی دنیا کا اپنا گھڑا ہوا تھا ‘ لہٰذا مسلم دنیا کے حوالے ے عیسائی دنیا کے اپنے طورپر تسلیم کیئے گئے اس نام نہاد تصورکی ‘اکٹرفوں’ اور ‘نخوت’کو ‘مائیٹ ازرائٹ’ کے اصول پر ’نائین الیون واقعہ‘ کی آڑ میں سرنگوں کر نے پر بش انتظامیہ کو ٹاسک دیدیا گیا‘ عیسائی دنیا کے واحد سرخیل امریکا ‘بہادر’ نے اِسی سوچ سے مغلوب ہوکر اپنی کمر کس لی اور’آپریشن اینڈورنگ فریڈم‘ کے نام پر ‘نائین الیون’ کا ذمہ دار بن لادن کو قراردیدیا گیا جو بقول امریکا کے افغانستان کی اُس وقت ’طالبان حکومت‘ کے مہمان تھے یہاں یہ یادرہے کہ اُس وقت افغانستان اقوام متحدہ کا ایک رکن ملک تھا لیکن اس کے باوجود افغانستان پر لشکر کشی کردی گئی امریکااکیلا افغانستان میں نہیں آیا مغربی دنیا کے40 ممالک کی افواج ‘نیٹو’ کی صورت میں برسہا برس سے تباہ حال ملک افغانستان پر7 اکتوبر2001 کو چڑھ دوڑیں ذرا کڑیاں ملائیں 11 ؍ستمبر کو ‘نائین الیون’ہوتا ہے اور 7 اکتوبر2001 کو امریکا نیٹوافواج کی قیادت کرتا ہوا دنیائے اسلام کے واحد ایٹمی ملک پاکستان کی مغربی سرحد پار مسلم ملک افغانستان کو فتح کرنے آپہنچتا ہے اورپھر صرف ڈھائی ماہ بعد پاکستان کی مغربی بارڈر کے پار نئی دہلی کی پارلیمنٹ کی عمارت پر13 دسمبر2001 کو چند دہشت گرد حملہ آور ہوتے ہیں اور اس دہشت گردی کا الزام نئی دہلی حکومت کسی معتبر تفتیش کا انتظار کیئے بغیر پاکستان پرتھونپ دیتی ہے، یاد ہے ہم پاکستانیوں کو وہ دن بھی جب 13 دسمبر 2001 کی صبح بھارتی میڈیا اچانک سے یکدم بے قابو ہوکر چیخنے چلانے لگا بھارت سمیت پاکستان بھر میں حیران کن سراسیمگی کی سی کیفیت پیدا ہوگئی پڑوسی ممالک کے شہری گھروں سے باہر نکل آئے معلوم ہوا کہ مسلح دہشت گردوں نے نئی دہلی پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بول دیا ہے عمارت کے اندرگھسے دہشت گردوں سے بھارتی سیکورٹی فورسنز کا دوبدومقابلہ ہورہا ہے اس موقع پربھارتی افواج الرٹ ہوگئیں لمحہ بھر میں کروڑوں افراد ہکا بکا سے رہ گئے کیونکہ نئی دہلی میں ہوئی اس دہشت گردی کا الزام بھارتی سیکورٹی اداروں نے بلاسوچے سمجھے پاکستانی تنظیموں پر لگا دیا جس کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ۔یادرہے2001 وہ ہی سال ہے جس میں ‘نائین الیون’ کا عالمی شہرت یافتہ واقعہ رونما ہوا تھا جس واقعہ کی شہرت نئی دہلی میں پارلیمنٹ پرہونے والے واقعہ جیس ہی بدنام ترین شہرت بعد میں تسلیم کی گئی بھارتی وزارت داخلہ کے’ریٹائرڈ’ انڈر سیکرٹری ایس مانی نے نئی دہلی پارلیمنٹ کی عمارت پر حملہ کی تفتیش کے دورا ن 2013 میں عدالت میں راز افشا کیا کہ’ انڈین پارلیمنٹ کی عمارت پر ہوئے دہشت گردی کے حملہ میں بھارتی حکومت ملوث تھی ہم کردار بھارتی خفیہ ادارے ‘را’ کا تھا بقول مسٹرایس مانی کے ‘یہ حملہ کسی ممکنہ دہشت گردی کے خلاف دیش کی فورسنز کو الرٹ رکھنے کے الارم کے طور پرپلان کیا گیا تھا، تاکہ بھارت میں بھی دنیا کے اور ممالک کی طرح سے دہشت گردی کے خلاف پارلیمنٹ سے سخت سے سخت قوانین پاس کروائے جاسکیں لیکن بھارتی میڈیا نے وزارتِ داخلہ کی ادارہ جاتی منصوبہ بندیوں کو نجانے کس کی اجازت سے باقاعدہ دہشت گردی کا نام ہی نہیں دیا پہاڑ جیسی بیوقوفی کی انتہا یہ اورکردی گئی جس میں نئی دہلی حکومت بھی جانے انجانے میں عالمی ایجنسیوں کی ’ٹول‘ بن گئی یعنی پڑوسی ایٹمی ملک پاکستان کو اس میں ملوث کرکے خطہ میں تاریخ کی بدترین سرحدی کشیدگی پیدا کرنے کا جنگی ماحول بنا دیا گیا تھا نائین الیون سیریز کے واقعات کے تسلسل سے چاہے ایسے افسوس ناک واقعات’افسوس ناک‘ اس لئے کہ ان پے درپے واقعات میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں یہ واقعات ‘امریکا میں یا برطانیہ میں ہوئے فرانس میں ہوئے یا بھارت سمیت دنیا کے کسی اور ملک میں دہشت گردی کے ایسے مشکوک واقعات رونما ہوئے ہوں یہاں ذرارکیں اْن متعصب اور فکری پسماندگی سے آلودہ طبقات کو اپنے غصیلے جذبات سے ہٹ کر انسانی عقل کے ترحمانہ احساسات سے کام لینا ہوگا سوچنا ہوگا کہ ‘نائین الیون سیریز’ کے پے درپے واقعات سے مسلمانوں کا نقصان زیادہ ہو یا اْن عالمی معاشی تباہ کاروں کو ناقابل تلافی زک پہنچی ؟جو عالم اسلام کے اہم ممالک کو مفتوح بنانے کی نیت سے جدید اسلحوں سے لیس ہوکر اپنے براعظموں سے بلاسوچے سمجھے نکل کھڑے ہوئے ایسوں کو اُن سے سوال کرنا چاہیئے جنہوں نے اُنہیں عالمِ اسلام کے خلاف اکسایا ‘بھڑکایا اُن میں تعصب بھرا اُن میں نفرت بھردی یہاں تک پہنچ کر ہم یوں سوچیں توکیا ہم صحیح راہ پر ہیں نا کیونکہ ہمیں تو پختہ یقین ہے کہ امریکا سمیت مغرب کے پاس مستقبل میں اپنی تہذیب کو زندہ رکھنے کیلئے اپنی تمدن کی بقاء کیلئے انسانی توانائیوں کے وسائل کی کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، سابقہ سوویت یونین کے منتشر ہونے کے بعد امریکا نے ’یونی پولرطاقت‘ ہونے پر ایک ’بردبارعالمی سپرپاور‘ہونے کا موقع ضائع کردیابھارت اور اسرائیل کو اپنا ’دُم چھلا‘ بناکر مسلم دنیا کی ’فتوحات‘ اُس کیلئے یعنی امریکا کیلئے اب بلی کے خواب ہی بن گئے جہاں تک مسلم دنیا پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرکے مختلف اقسام کی پابندیاں کھڑی کرکے پریشربڑھانے کا تعلق ہے وہ پریشر اب امریکا اور اُس کی حلیفوں پر آچکا ہے امریکی خفیہ ایجنسی’ سی آئی اے ‘اور بھارتی خفیہ ایجنسی’را‘مسلم دشمن ان خفیہ اداروں کے کروڑوں ڈالر کے خفیہ منصوبے دنیا بھر میں نجانے کہاں کہاں ردی کے ڈھیروں میں تبدیل ہوچکے ہونگے‘ عراق کا بغدادآج بھی جگمگا رہا ہے ایران میں آفتاب کے غروب ہونے کے بعد آج بھی ہر گھر میں روشنی ہوتی ہے مسلم دنیا میں کسی نوع کی ندامت یا شکست خوردگی کی خجالت کہیں پائی نہیں جاتی، کل جب افغانستان سے امریکا چلا جائے گا تو اُس کے ’دُم چھلوں ‘کو بھارت اوراسرائیل کو بھی افغانستان کی سرزمین ہرقیمت پر چھوڑنا پڑے گی مگر ! خطہ میں پاکستان اسی آب وتاب کے ساتھ اپنی ٹھوس نظریاتی وجغرافیائی سلامتی کے ساتھ ہمیشہ موجود رہے گا انشاء اللہ ۔

تذبذب کی کیفیت

Mian-Tahwar-Hussain

آجکل اس بات کا بہت چرچہ ہے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف قرضہ حاصل کرنے سے بہتر ہے کہ میں خودکشی کرلوں۔ لیکن یہ سوچنا چاہیے کہ یہ بات انہوں نے الیکشن جیتنے سے پہلے کہی تھی الیکشن میں کامیابی کے بعد جب پی ٹی آئی کی حکومت بنی تو انہیں اندازہ ہوا کہ پاکستان میں حکومت کرنا کانٹوں کی سیج پر بیٹھنا ہے۔ اتنے گمبھیر مسائل ہیں کہ انکو پلک جھپکتے حل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کوئی جادو کی چھڑی ہاتھ میں ہے کہ منتر پڑھکر چھڑی گھمائیں اور مسئلہ حل ہوجائے۔ ایک طویل عرصے سے ملک قرضوں کی تہہ در تہہ لپیٹ میں ہے قرضوں کو اتارنے کیلئے بھی قرضے لیے جاتے ہیں اور پھر خوشنما دعوؤں اور سنہرے خواب قوم کو دکھانے کے باوجود اس عذاب سے نجات کا راستہ نظر نہیں آتا۔ آئی ایم ایف سے قرضے تو ہر حکومت لیتی رہی اور پھر قرض دینے والا ہمیشہ اپنی شرائط پر رقم مہیا کرتا ہے۔ قرض لینے والا تو کچھ کہنے کے قابل ہی نہیں ہوتا۔ ملک کیوں کہ قرض کی لہروں پر ہچکولے کھا رہا ہے لہذا عوام پر ٹیکس لگا کر ہی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کے بس میں نہیں ہوتا کہ وہ عام آدمی کو فوری ریلیف پہنچانے کیلئے فیصلے کرے۔ حکومت کیلئے مشکل یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف عوام کے غصے کا سامنا ہوتا ہے اور دوسری طرف قرض دینے والے ادارے اپنے نخرے دکھا رہے ہوتے ہیں۔ وزیرخزانہ نے صحیح کہا کہ ڈار صاحب بھی مجبورا یہی کچھ کر رہے تھے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ایک طویل عرصے سے ملک حالت جنگ میں ہے روزانہ کروڑوں روپے کا خرچہ اپنے دفاع کی جنگ میں لگا رہا ہے اس فریضے سے غافل نہیں رہا جا سکتا اگرچہ بیرونی امداد بھی ملتی رہی لیکن پاکستان بھی اسمیں حصہ دار ہے۔ لامحالہ ملک کے خزانے پر اس کا بوجھ پڑرہا ہے۔ وہ پیسہ جو ترقیاتی اسکیموں پر خرچ ہوسکتا ہے مجبورا جنگ میں جھونکنا پڑ رہا ہے۔ ملک کی معاشی حالت اسی وجہ سے کمزور ترین ہے۔ بنگلہ دیش جو پاکستان سے الگ ہو کر ہندوستان کی مدد سے معرض وجود میں آیا اس کی معاشی حالت اور ریزرو اس لیے بہتر ہیں کہ ان کے کندھوں پر جنگ کا بوجھ سوار نہیں۔ ملک کی اندرونی اور بیرونی تجارت کابل رشک بھی اسی وجہ سے ہے کہ انہیں زرکثیر افراتفری کے حال میں صرف نہیں کرنا پڑ رہا۔ تحریک انصاف کی غلطی یہ ہے کہ یہ ملک کی معاشی حالت کا صحیح معنوں میں احاطہ کیے بغیر کنٹینر پر بیٹھ کر ٹی وی ٹاک شوز میں بڑھکیں مارتے رہے۔ اس وقت ملکی قرضے اربوں تک جا پہنچے سونا کی اب فی تولہ قیمت باسٹھ ہزار روپے ہے۔2016ء میں ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر جوبیس ارب ڈالرز تھے اب آٹھ ارب ڈالرز ہیں۔ سرمایہ دار اپنے پیسے کا تحفظ چاہتا ہے اور اسی غیریقینی صورت حال کو دیکھتے ہوئے وہ اپنا پیسہ مختلف طریقوں سے ملک سے باہر منتقل کرنا ضروری سمجھتا ہے ایسی صورتحال اس وقت ہے۔ حکومت نے اگرچہ دوست ممالک کے سامنے جھولی پھیلائی لیکن اس سمت میں کی جانے والی کوششوں کے حوصلہ افزا نتائج سامنے نہیں آئے۔ تذبذب کی کیفیت ہے۔ مہنگائی کا گراف اوپر ہی اوپر جا رہا ہے۔ عام آمدنی والا پریشان حال ہے۔ آمدنی اور اخراجات میں تناسب نہیں۔ بیل آؤٹ پیکج کی اشد ضرورت ہے ورنہ تین ماہ کے ریزرو کے ساتھ ملک چلانا حکومت کیلئے مشکل ہوگا۔ اس صورت حال میں حکومت کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن کی جماعتوں سے معاشی ماہرین کے ساتھ ایک ٹیم تشکیل دے اور ملک کو معاشی بے یقینی سے جلد از جلد نکالنے کا طریقہ تلاش کیا جائے حکومت کی کچھ پالیسیوں سے انتقام کی بو بھی آرہی ہے اس کیفیت سے حالات اندرونی طور پر مزید الجھنے کا سبب بنیں گے۔ گاڈ فادر کے جیل جانے کے بعد بڑی بڑی سیاسی شخصیتوں کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے سیاسی کٹھ جوڑ بننے کے مواقوں میں اضافہ ہوگیا۔ حکومت کو جیسے تعاون کی امید اپوزیشن سے ہوسکتی ہے وہ فرینڈلی فضا نہیں بن پا رہی راستے دھندلا رہے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ جونوجوان پی ٹی آئی کی چھتری تلے قومی اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے ان میں ابھی تک میچورٹی نہیں جذباتی تقاریر اور ٹی وی بیانات وہ اپنی شناخت سمجھتے ہیں جو مناسب بات نہیں۔ تنقید برائے تنقید نہ ہو بلکہ برائے اصلاح ہونی چاہیے۔ کسی کے اچھے یا برے کارنامے بیان کرنے کیلئے بھی الفاظ کا مناسب انتخاب ضروری ہوتا ہے۔ کسی کے سر پر لٹھ مارنے کی بجائے زبان سے الفاظ کا اظہار مناسب طریقے سے ہونا چاہئے۔ حکومت کو یہ یاد رکھنا چاہیے اقتدار کے دن سدا نہیں رہتے جو کجھ یہ دوسروں کیلئے کر رہے ہیں ان کو بھی انہی راہوں پر چلنا پڑے گا۔ عوام اسی تاثر میں ہیں کہ موجودہ حکومت کے پاس ایک اچھی اور باصلاحیت معاشی مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے والی ٹیم موجود ہے لیکن انکی امیدوں کے برعکس حالات منظر پر ابھرے۔ حکومت میں آنے سے بہت پہلے اس ٹیم کو ملک کے معاشی حقائق کا بخوبی علم ہونا چاہیے تھا اور حل بھی آنے چائیں تھے لیکن معلوم ہوتا ہے انہوں نے ہوم ورک نہیں کیا وزیراعظم نے بیرون ملک پاکستانیوں سے یہ اپیل کی تھی کہ فی کس ایک ہزار ڈالر بھجوائے جائیں تاکہ ملک کی معاشی اور آبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ڈیمز بھی تعمیر کیئے جا سکیں اس جانب کیا حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے قوم کو معلوم ہوناچاہئے۔ قوم جانتی ہے عمران خان بہت کچھ کرنے کا عزم لیئے ہوئے ہیں اور بہت کچھ کرنے کی داغ بیل ڈالدی ہے لیکن تمام حالات سے قوم کو باخبر رکھنا بھی ضروری ہے بیرون ملک سے سرمایہ کاری بھی ایسے حالات میں متاثر ہوتی ہے۔ ہمارے سفارتخانوں کو اور کمرشل اسٹاف کو ہدایت دینے کی ضرورت ہے کہ وہ ملکی تجارت کو بڑھانے کی بھرپور کوششیں کریں اپنی کارکردگی کی معمول کے مطابق ہرماہ رپورٹ وزارت تجارت کو نہ بھیجیں بلکہ تجارت کا توازن ہوسٹ ملک میں بڑھانے کی بھرپور کوشش کریں جو نظر بھی آئے اور ملک کے زرمبادلہ میں اضافے کا سبب بن سکے۔ لہذا عوام کو خوشحال بنانے کے اور ملک کو کنگال سے مالا مال بنانے کیلئے جو خواب پی ٹی آئی نے دکھائے تھے انہیں پورا کرنے کی کوشش میں مزید اضافے کی ضرورت ہے۔ ورنہ عوام یہی کہیں گے کہ سانوں خوشحالی دیاں اڈ یکاں لائیاں تے تہاڈ یاں مراداں برآیاں۔ مختصرا یہ کہ قرض لینے سے اگرچہ ملکی قرضوں میں اضافہ ہو جائیگا لیکن کوئی قیامت نہیں آ جائیگی۔ آنے والا وقت بہترین ہوسکے گا۔ آج دکھ ہے تو کل انشاللہ سکھ بھی ہوگا۔ حوصلہ رکھیں ملائیشیا، ترکی، چین اور کوریا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

پھٹاپوسٹر نکلا ہیرو

مُلا احمد جیون ہندوستان کے مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے استاد تھے۔جب اورنگ زیب ہندوستان کے بادشاہ بنے تو انہوں نے اپنے غلام کے ذریعے استاد کو پیغام بھیجا کہ وہ کسی دن دہلی تشریف لائیں اور خدمت کا موقع دیں۔اتفاق سے وہ رمضان کا مہینہ تھا اور مدرسہ کے طالب علموں کو بھی چھٹیاں تھی۔چنانچہ انہوں نے دہلی کا رُخ کیا۔رمضان کا سارا مہینہ اورنگ زیب اور استاد نے اکھٹے گزارا۔عید کی نماز اکھٹے ادا کرنے کے بعد مُلا جیون نے واپسی کا ارادہ ظاہر کیا۔بادشاہ نے جیب سے ایک چونی نکال کر اپنے استاد کو پیش کی۔استاد نے بڑی خوشی سے نذرانہ قبول کیا اور گھر کی طرف چل پڑے۔ اورنگ زیب دکن کی لڑائیوں میں اتنے مصروف ہوئے کہ چودہ سال تک دہلی آنا نصیب نہ ہوا۔جب وہ واپس آئے تو وزیر اعظم نے بتایاکہ مُلا احمد جیون ایک بہت بڑے زمیندار بن چکے ہیں۔اگر اجازت ہو تو اُن سے لگان وصول کیا جائے۔یہ سن کر اورنگ زیب حیران رہ گئے کہ ایک غریب استاد کس طرح زمیندار بن سکتا ہے؟انہوں نے استاد کو ایک خط لکھا اور ملنے کی خواہش ظاہر کی۔مُلا احمد جیون پہلے کی طرح رمضان کے مہینے میں تشریف لائے۔مُلا احمد کا لباس بات چیت اور طور طریقے پہلے کی طرح سادہ تھے۔ اس لیے بادشاہ کو ان سے بڑا زمیندار بننے کے بارے میں پوچھنے کا حوصلہ نہ پاسکا۔ایک دن مُلا صاحب خود کہنے لگے:آپ نے جو چونّی دے تھی وہ بڑی بابرکت تھی۔میں نے اس سے بنولہ خرید کر کپاس کاشت کی خدا نے اس میں اتنی برکت دی کہ چند سالوں میں سینکڑوں سے لاکھوں ہو گئے۔اورنگ زیب یہ سن کرخوش ہوئے اور مُسکرانے لگے اور فرمایا:اگر اجازت ہو تو چونّی کی کہانی سناؤں؟اجازت ملنے پراورنگ زیب نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ چاندنی چوک کے سیٹھ‘‘اتم چند’’کو فلاں تاریخ کے کھاتے کے ساتھ پیش کرو۔سیٹھ اتم چند ایک معمولی بنیا تھا۔اسے اورنگ زیب کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ ڈر کے مارے کانپ رہا تھا۔اورنگ زیب نے نرمی سے کہا:آگے آجاؤ اور بغیر کسی گھبراہٹ کے کھاتہ کھول کے خرچ کی تفصیل بیان کرو۔سیٹھ اتم چند نے اپنا کھاتہ کھولا اور تاریخ اور خرچ کی تفصیل سنانے لگا۔مُلا احمد جیون اور اورنگ زیب خاموشی سے سنتے رہے ایک جگہ آ کے سیٹھ رُک گیا۔یہاں خرچ کے طور پر ایک چونّی درج تھی لیکن اس کے سامنے لینے والے کا نام نہیں تھا۔اورنگ زیب نے نرمی سے پوچھا:ہاں بتاؤ یہ چونی کہاں گئی؟اتم چند نے کھاتہ بند کیا اور کہنے لگا: اگر اجازت ہو تو درد بھری داستان عرض کروں؟بادشاہ نے کہا: اجازت ہے۔اس نے کہا: اے بادشاہِ وقت! ایک رات موسلا دھاربارش ہوئی میرا مکان ٹپکنے لگا۔مکان نیا نیا بنا تھا اور تما م کھاتے کی تفصیل بھی اسی مکان میں تھی۔میں نے بڑی کوشش کی، لیکن چھت ٹپکتا رہا۔میں نے باہر جھانکا تو ایک آدمی لالٹین کے نیچے کھڑا نظر آیا۔ میں نے مزدور خیال کرتے ہوئے پوچھا، اے بھائی مزدوری کرو گے؟وہ بولا کیوں نہیں۔وہ آدمی کام پر لگ گیا۔اس نے تقریباً تین چار گھنٹے کام کیا۔ جب مکان ٹپکنا بند ہوگیا تو اس نے اندر آکر تمام سامان درست کیا۔ اتنے میں صبح کی اذان شروع ہو گئی۔وہ کہنے لگا:سیٹھ صاحب! آپ کا کام مکمل ہو گیا مجھے اجازت دیجیے۔میں نے اسے مزدوری دینے کی غرض سے جیب میں ہاتھ ڈالا تو ایک چونّی نکلی۔میں نے اس سے کہا:اے بھائی! ابھی میرے پاس یہی چونّی ہے یہ لے،اور صبح دکان پر آنا تمہیں مزدوری مل جائے گی۔وہ کہنے لگا یہی چونّی کافی ہے۔ میں نے اور میری بیوی نے اس کی بہت منتیں کیں لیکن وہ نہ مانا اور کہنے لگا دیتے ہو تو یہ چونّی دے دو ورنہ رہنے دو۔میں نے مجبور ہو کر چونّی دے دی اور وہ لے کر چلا گیا۔اور اس کے بعد سے آج تک وہ نہ مل سکا۔آج اس بات کو پندرہ برس بیت گئے۔ میرے دل نے مجھے بہت ملامت کی کہ اسے روپیہ نہ سہی اٹھنی دے دیتا۔اس کے بعد اتم چند نے بادشاہ سے اجازت چاہی اور چلا گیا۔بادشاہ نے مُلا صاحب سے کہا:یہ وہی چونّی ہے۔کیونکہ میں اس رات بھیس بدل کر گیا تھا تا کہ رعایا کا حال معلوم کرسکوں۔سو وہاں میں نے مزدور کے طور پر کام کیا۔مُلا صاحب خوش ہو کر کہنے لگے۔مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ چونّی میرے ہونہار شاگرد نے اپنی محنت سے کمائی ہوگی۔ اورنگ زیب نے کہا: ہاں واقعی‘ اصل بات یہ ہے کہ میں نے شاہی خزانہ سے اپنے لیے کبھی ایک پائی بھی نہیں لی۔ہفتے میں دو دن ٹوپیاں بناتا ہوں۔ دو دن مزدوری کرتا ہوں۔ میں خوش ہوں کہ میری وجہ سے کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری ہوئی یہ سب آپ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔کسی دور میں مسلمانوں کے حکمران اس منش کے ہواکرتے تھے ۔نبی کریمﷺ نے ہمیں یہی درس دیاتھا کہ حاکم وہی ہے کہ اگر رعایا کے پیٹ پر بھوک سے ایک پتھر بندھاہواہوتو اس کے پیٹ پر دو پتھر ہوں۔ صدیق اکبرنے بھی یہی بتایا کہ میری تنخوا مدینے کے مزدور کی تنخواکے برابر ہوتاکہ مجھے اس کے دکھ درد کا احساس ہو۔لیکن اب حالت یہ ہے کہ جوچیرووہی لال ۔نہ وہ بدلتے ہیں اورنہ ہی ہمیں پھونک پھونک کر پینے کی عادت ہوئی ہے۔ہم اس قدردیوانگی کے ساتھ ان کے وعدوں کے گلوں کی گل بوسی کرتے ہیں کہ زخمی ہونے پر ہی یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ گل نہیں کانٹا تھا۔یہ سفرقیام پاکستان سے شروع ہوااوربھٹو، بینظیراورنوازشریف سے ہوتا ہواتبدیلی تک آن پہنچاہے۔اس عرصے میں کئی حکمران بدلے لیکن عوام آگے جانے کی بجائے الٹاپیچھے ہی لڑھکی ہے۔اس بار تو ہمیں بتایاگیاتھا کہ بس تبدیلی آنے کی دیر ہے زندگیاں جنت بن جائیں گی ۔

*****

اصل حقائق

پاکستان کی حکومت اور عوام نے عالمی دہشت گردی کے خاتمے میں جو کردار ادا کیا ہے ، اس کا عشرِ عشیر بھی کسی دوسرے نے نہیں کیا۔ اس بات سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے کہ پاک قومی سلامتی کے اداروں نے دہشت گردی کے اس ناسور کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے حالانکہ اس حوالے سے خود پاکستانی قوم اور افواج کو اس ضمن میں جانی اور مالی دونوں لحاظ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا، کیونکہ یہ امر کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ ستر سے اسی ہزار کے مابین پاکستانیوں نے اس حوالے سے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔یہ امر اور بھی توجہ کا حامل ہے کہ عالمی دہشتگردی کے خاتمے کی اس جدوجہد میں تقریباً 8 ہزار ان افراد نے بھی اپنی جان جانِ آفرین کے سپردکی جن کا تعلق پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں سے ہے۔پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے ۔ اس ضمن میں قدرے تفصیل سے جائزہ لیتے انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی، ہر لحاظ سے ایک دوسرے سے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور ان کے برادرانہ روابط تاریخی حوالوں سے بہت مضبوط ہیں۔ البتہ اس بابت سبھی آگاہ ہیں کہ بھارت، امریکہ اور بعض دیگر قوتیں اپنے سطحی مفادات کی خاطر ان دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کرتی آئی ہیں اور یہ سلسلہ ہنوذ پوری شدت سے جاری ہے۔ مگر توقع کی جانی چاہیے کہ پاکستان اور افغانستان کے مخالف اپنی سازش میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کی جری افواج نے بیتے چند برسوں میں دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے جو شبانہ روز قربانیاں دیں، ان کا معترف ہر ذی شعور ہے۔ ایسے میں ہونا یہ چاہیے تھا کہ پوری عالمی برادری اس امر کا اعتراف کرتی اور وطن عزیز کی قربانیوں کو خاطر خواہ ڈھنگ سے سراہا جاتا مگر عملاً اس کے الٹ ہو رہا ہے اور الٹا پاکستان کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ٹرمپ، مودی اور این ڈی ایس نے ڈو مور کی گردان کو اپنا دُم چھلا بنا رکھا ہے اور اٹھتے بیٹھتے اسی کا ورد کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ ’’کلبھوشن یادو ‘‘ جیسے دہشتگرد کی گرفتاری کے بعد بھی اگر دہلی اور این ڈی ایس اپنی پارسائی کے دعوے سے باز نہ آئیں تو اسے جنوبی ایشیاء کی بد قسمتی کے علاوہ بھلا دوسرا نام کیا دیا جا سکتا ہے ۔اورآفرین ہے بھارتی حکمرانوں اور این ڈی ایس پر کہ اپنی شرانگیزیوں پر بجائے نادم ہونے کے وہ اپنی چالبازیوں سے باز آنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ ایسے میں اسے عالمی امن کی بد قسمتی ہی قرار دیا جانا چاہیے کہ بھارت،اسرائیل اور کچھ امریکی حلقے تسلسل کے ساتھ وطن عزیز کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرتے چلے آ رہے ہیں اور یہ سلسلہ رکنے کی بجائے ہر آنے والے دن کے ساتھ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔دشمن ان دنوں بھی پاکستان کے خلاف وہ تمام حربے اور چالیں استعمال کر رہا ہے جس کے نتیجے میں ہمارے ملک کی جڑوں کو (خدانخواستہ) کھوکھلا کیا جا سکے اور مذہبی، لسانی، نسلی و جغرافیائی تعصبات کو ابھار کر ایسا ماحول قائم کیا جائے جو ان کے مکروہ عزائم میں معاونت کا سبب بن سکے مگر یہ حقیقت ہے کہ پاک افواج اور قوم نے ہر قدم پر یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان خدا کے فضل سے قائم رہنے کیلئے وجود میں آیا ہے اور ہر آنے والا دن اسے مضبوط سے مضبوط تر بنائے گا اور پاکستان کے ازلی مخالفین اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود بالآخر ناکام اور نامراد ہوں گے۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے سنجیدہ مبصرین نے رائے ظاہر کی کہ سبھی جانتے ہیں کہ اصل حقائق اس بھارتی، امریکی اور اسرائیلی پراپیگنڈے سے مختلف ہی نہیں بلکہ قطعاً متضاد ہیں اور اصل حقیقت تو یہ ہے کہ را، این ڈی ایس، موساد اور سی آئی اے پاکستان کے اندر تخریب کاری کو ہر ممکن ڈھنگ سے فروغ دینے کیلئے کوشاں ہیں اور اس ضمن میں ہر وہ حربہ آزمایا جا رہا ہے جس کا تصور بھی کسی مہذب معاشرے میں نہیں ہونا چاہیے۔ مودی سرکار کا جنگی جنون انتہاؤں کو چھو رہا ہے اور امریکہ ہمہ وقت ’’ڈو مور‘‘ کی اپنی راگنی الاپتا رہتا ہے۔ دوسری جانب نہتے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا سلسلہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے مگر عالمی برادری کا ضمیر ہے کہ جاگنے کیلئے تیار نہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان کے سبھی سماجی ،سیاسی و دیگر طبقات اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ کا فریضہ سرانجام دیں گے اور آنے والے دنوں میں پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی ان بلندیوں پر پہنچانے کا عزم ضمیم کریں گے جس کا خواب بانی پاکستان اور تحریک پاکستان کے دیگر زعماء نے دیکھا تھا۔ اس ضمن میں میڈیا اور سول سوسائٹی کے سبھی حلقے بھی اپنی ذمہ داریوں کو زیادہ موثر ڈھنگ سے نبھانے کی کوشش کریں گے اور عالمی برادری اپنی وقتی مصلحتوں کو خیرباد کہہ کر اپنا انسانی فریضہ نبھائے گی ۔

وفاقی کابینہ کااجلاس۔۔۔وزیراعظم کاوزراء کی کارکردگی پراظہاراطمینان

adaria

حکومت کے سو روزپایہ تکمیل تک پہنچنے کے بعد سب سے اہم ایشووفاقی وزراء کی کارکردگی کے حوالے سے تھا اس پرجہاں پوری قوم کی نظر تھی وہاں پراپوزیشن نے بھی بہت توجہ مرکوز کررکھی تھی۔ متعلقہ وفاقی کابینہ کااجلاس ہونے سے قبل بہت سی افواہیں ملک میں گھومتی پھرتی رہیں کسی نے کہاکہ وزارتیں تبدیل ہونگی ،کسی نے کچھ خبردی ہرایک نے نئی اختراع پیش کی دیکھتے ہیں کہ کون جاتا ہے ایسے میں ایک مخصوص خبربھی منظرعام پر آئی جس میں ایک وفاقی وزیرنے دوسرے کے بارے میں کچھ تحفظات کااظہارکیا اور وزیراعظم سے خصوصی ملاقاتوں کے حوالے سے بھی خبریں سرگرم رہیں لیکن کچھ دیرکے بعد ہی اس حوالے سے وضاحتیں بھی آنا شروع ہوگئیں گوکہ یہ قدم کوئی اتناخوش آئند نہیں تھا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے قبل ہی ایسی خبریں سامناآناجس سے وزارتوں کی کارکردگی کے بارے میں ابہام پیدا ہونا شروع ہوجائے لیکن اس کے برعکس جب وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کاطویل ترین اجلاس ہوا جوکہ کم وبیش نوگھنٹوں پرمحیط تھا اس کے دوران تمام وزراء سے تین ، تین سوالات کئے گئے اوربریفنگ کے لئے دس منٹ دیئے گئے تاکہ اپنی کارکردگی کے حوالے بتاسکیں تاہم جو بات چل رہی تھی کہ وزارتیں تبدیل ہونگی ایسا کچھ دیکھنے میں نہیں آیا اوروزیراعظم نے تقریباً وزراء کی کارکردگی پراطمینان کااظہارکیا مگر ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی کیاگیا کہ ہر تین ماہ بعد وزراء کی کارکردگی کاجائزہ لینے کے لئے اجلاس بلایاجائے گا۔اجلاس میں 26 وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ، وزارتوں اور ڈویژنز نے رپورٹس پیش کیں، ہر وزارت اور ڈویژن کو بریفنگ کیلئے 10 منٹ دیئے گئے۔ وزارتوں کو عملدرآمد کیلئے مخصوص اسٹرٹیجک پلان سونپنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔ اجلاس میں شیخ رشید کی کارکردگی کو سب سے بہترین قرار دیا گیا اور انہیں ڈیسک بجا کر خراج تحسین پیش کیا گیا ، وزیر مملکت برائے مواصلات مراد سعید کی بھی تعریف کی گئی اور انہیں مکمل وفاقی وزیر بنائے جانے کا عندیہ بھی دیا گیا ۔ وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی گئی ہے، عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے محنت اور کوششیں تیز کریں۔ کارکردگی کا جائزہ لینے کا مقصد حکومت کی سمت کو درست رکھنا ہے ، وزارتیں گزشتہ 100 دنوں میں طے کئے جانیوالے اہداف کے حصول کیلئے لائحہ عمل مرتب کرکے ان اہداف کا حصول یقینی بنائیں۔ وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کی کارکردگی پراظہار اطمینان کرتے ہوئے فی الحال کسی رکن کو تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔اگر بین السطور وزراء کی کارکردگی کاجائزہ لیاجائے تو یقینی طورپرکچھ نہ کچھ سوالات ضرور اٹھتے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اب کابینہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائے اور وزراء کوچاہیے کہ وہ اپنی اپنی وزارتوں اورڈویژنوں کے حوالے سے ماہانہ رپورٹ مرتب کرے ۔ہرمہینے کے بعد وزیرکوچاہیے کہ اپنی متعلقہ وزارت کاایک اجلاس طلب کرے اوراپنی کارکردگی کاخود احاطہ کرے تب کوئی مثبت نتائج برآمد ہوسکیں گے۔ ایسانہ کہ جب تین ماہ کے بعد پھراجلاس ہوتو اس میں کوئی خاص آؤٹ پٹ سامنے نہ آسکے کیونکہ اب عوام نتائج چاہئیں ہیں سودن ہوچکے ہیں کابینہ کی کارکردگی بھی سامنے آچکی ہے گوکہ کپتان نے مجموعی طورپراظہاراطمینان کیاہے مگر اس حوالے سے ابھی بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے اتنے زیادہ مسائل ہیں کہ وزراء جتنا بھی اپنے حلقے میں وقت دیں وہ کم ہے ۔ڈویلپمنٹ کے حوالے سے خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے عوام کوان کے بنیادی مسائل کاحل چاہیے ہے اور یہی کسی بھی وزارت کی بنیادی کارکردگی ہوتی ہے۔

بین الاقوامی مسائل کاواحدحل صرف مذاکرات
پاکستان ہمیشہ تمام مسائل کے حوالے سے مذاکرات کاداعی رہا ہے اس بات کو بین الاقوامی برادری نے بھی تسلیم کیا کیونکہ کسی بھی مسئلے کاحل فوجی نہیں ہوتا نہ ہی جنگ کے ذریعے معاملات طے کئے جاسکتے ہیں جب بھی کسی خطے پربلاوجہ ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جائے تو پھر وہاں سے دہشت گردی پنپ کرنکلتی ہے اوراس تمام کی ذمہ داری بین الاقوامی برادری پرعائد ہوتی ہے ۔اس وقت دنیا کو متعدد مسائل درپیش ہیں۔ خاص کرجنوبی ایشیاء کے حوالے سے پاکستان کا بہت اہم کردار ہے امریکہ کو بھی بخوبی علم ہے کہ پاکستان کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں۔پاکستان واحد ملک ہے جس نے ہمیشہ مذاکرات کاعَلم بلند کیا۔اسی سلسلے میں قومی اسمبلی میں وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنا صرف ہماری ذمہ داری نہیں،پاکستان نے ہمیشہ امت مسلمہ کے مابین امن و مفاہمت کے لئے کوششیں کی ہیں، یمن تنازع کے حل کے لئے بھی پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور یمن تنازع کے حل کیلئے تمام فریقین کے مابین مذاکرات کرائے جائیں گے۔ دونوں جانب سے قابل قبول ہونے کی صورت میں ہم دو برادرانہ ممالک کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔دنیاکی سپرپاورز کوچاہیے کہ وہ اس حوالے سے پاکستان کی صلاحیتوں سے استفادہ کرے جن خطوں میں بیہمانہ ظلم وستم ہورہاہے انہیں ختم ہوناچاہیے خصوصی طورپرمقبوضہ کشمیرمیں جو بھارت نے معصوم نہتے کشمیریوں پر ظلمم کرنے کی اندھیرنگری مچارکھی ہے اس کے آگے بندباندھنے کی انتہائی ضرورت ہے اسی طرح مسئلہ فلسطین ،شام، عراق، یمن، افغانستان ،روہنگیاحتیٰ کہ بھارت کے اندرجومسلمانو ں کے ساتھ ترجیحی سلوک کیاجارہاہے اس کو روکنا بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے۔
ایس کے نیازی کی سچی بات میں مدبرانہ گفتگو
چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز ایس کے نیازی نے روز نیوز کے پروگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر کوئی آواز نہیں اٹھاتا تھا،لاپتہ افراد کا معاملہ روزنامہ پاکستان اور ڈیلی پیٹریاٹ نے اٹھایا، عدالتوں میں سماعت کے بعد متعدد افراد بازیاب ہو چکے ہیں، چیئرمین نیب جاوید اقبال انتہائی ایماندار شخص ہیں وہ کرپشن کیخلاف جنگ لڑرہے ہیں، میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ فواد چوہدری کو تبدیل نہیں کیا جائیگا،شیخ رشید اور فواد چوہدری ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ انسانی حقوق پر کچھ تنظیموں نے کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے، انسانی حقوق پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔سندھ میں وڈیرے لوگوں کو غائب کردیتے تھے،اغوا برائے تاوان کا معاملہ کافی حد تک رک چکا ہے،آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو چھوڑنا بڑی زیادتی ہوگی،اپنی گفتگو میں ایس کے نیازی نے مزید کہاکہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ فواد چوہدری کو تبدیل نہیں کیا جائیگا،شیخ رشید اور فواد ایک ہیں،ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں،وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں شیخ رشید اور فواد چوہدری کی تعریف کی،کس وزارت نے بہترین اچھا کام کیا یہ2یا3ماہ میں فیصلہ نہیں ہوسکتا،وزیر تعلیم شفقت محمود کا کوئی خاص کام نظر نہیں آرہا،وزیر تعلیم شفقت محمود سست رفتار سے کام کررہے ہیں،وزیراعظم عمران خان کی اسٹاک مارکیٹ کی طرف توجہ ہے،حکومتی توجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں کچھ بہتری نظر آئی ہے،وزارت خزانہ کو روزانہ کی بنیاد پر اسٹاک مارکیٹ پر کام کرنا چاہیے،ڈالر پر ڈیمانڈ اور سپلائی کو قائم رکھنا بہت مشکل کام ہے،اسٹاک مارکیٹ اتنی نیچے آگئی ہے کہ متواتر کام کی ضرورت ہے،اسٹاک مارکیٹ پر3سے4ماہ کام کیا جائے گا تو بہتر ہوگی۔

دہشت گردی کے واقعات بھارت کے خود ساختہ ڈرامے

دہشت گرد ی کا مرکز پاکستان نہیں بھارت ہے جہاں مسلمانوں کے علاوہ سکھ، عیسائی اور نچلی ذات کے ہندو بھی ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔ بھارتی وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ خود اس بات کا اقرار کرچکے ہیں کہ بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کے تربیتی کیمپ موجود ہیں جہاں مسلمانوں پر حملوں کے لئے ہندووں کو بم دھماکوں اور دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے۔ بھارت اس طرح کا جھوٹا پروپیگنڈہ اور بے بنیاد الزام تراشی کرکے اپنا دہشت گردی والا مذموم چہرہ چھپانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ کچھ عرصہ قبل بھارتی وزارت برائے داخلہ کے ایک سابق افسر نے انکشاف کیا کہ پارلیمنٹ اور ممبئی حملے حکومت نے خود کروائے تھے۔وزارت داخلہ کے سابق افسر آر وی ایس مانی نے یہ انکشاف عدالت میں جمع کرائے گئے ایک حلف نامے میں کیا۔آر وی ایس مانی نے تفتیشی ٹیم کے افسر کے حوالے سے بتایا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے کروائے گئے دونوں حملوں کا مقصد دہشت گردی کے قوانین میں سخت ترامیم کے لئے ماحول سازگار کرنا تھا۔ 2001ء میں نئی دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والا حملہ ملک میں رائج بدنام زمانہ قانون ’’پوٹا‘‘ جب کہ 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے حملے ’’یو اے پی اے ‘‘ قانون میں ترامیم کرکے اسے مزید سخت بنانے کے لیے کرائے گئے تھے۔اس انکشاف کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ انڈیا نے ہمیشہ پاکستان پر الزام تراشی کی۔ بھارت کی انسانی حقوق کی معروف کارکن اور ممتاز مصنفہ ارون دھتی رائے نے 13دسمبر 2001ء کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بارے میں ایک کتاب کے تعارفی نوٹ میں حکومت سے اس حملے سے متعلق 13 سوالات پوچھے ہیں۔ پہلے سوال میں کہا ہے کہ اس حملے سے 4 ماہ قبل حکومت اور پولیس نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوسکتا ہے۔ 12 دسمبر 2001ء کو اس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے باضابطہ طور پر ایک اجلاس طلب کیا تھا جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ پارلیمنٹ پر حملہ ہوسکتا ہے اور 13دسمبر کو یہ حملہ ہوگیا۔ سخت سکیورٹی حصار کے بیچ کس طرح ایک کار جس میں بم نصب تھا، پارلیمنٹ کمپلیکس کے اندر داخل ہوئی اور دھماکے سے پھٹ گئی؟ حملے کے چند دنوں بعد دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے یہ کہا تھا کہ یہ مشترکہ طور پر لشکر طیبہ اور جیش محمد نامی جنگجو تنظیموں کی کارروائی ہے۔ ارون دھتی رائے کا کہنا تھا کہ دلی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ’محمد‘ نامی شخص جو IC۔814 ہوائی جہاز کو اغوا کرنے میں بھی ملوث تھا، اس حملے میں ملوث ہے جسے بعد میں سی بی آئی نے بری کر دیا تھا۔ پولیس نے ان ثبوتوں کو مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ عدالت میں بطور ثبوت کیوں پیش نہیں کی گئی اور عوام کو بھی یہ ریکارڈنگ کیوں نہیں دکھائی گئی۔ بھارتی حکومت نے پارلیمنٹ پر حملے کی آج تک سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں دکھائی، جس سے لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔بھارتی پولیس نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان اور جہادی تنظیموں پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کر دیا اور بھارتی حکومت نے پارلیمنٹ میں اس حوالے سے بحث بھی نہیں ہونے دی۔ آج تک بھارتی حکومت نے پارلیمنٹ حملے میں ملوث ان پانچ حملہ آوروں کے نام نہیں بتائے۔ ان سوالات کے بعد پارلیمنٹ کا اجلاس کیوں ملتوی کردیا گیا۔ چند دن بعد حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس اس حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ہیں اورحکومت نے 5 لاکھ بھارتی فوجیوں کو پاکستان بھارت سرحد پر تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ بھارتی فوجیوں کو 13دسمبر سے قبل ہی تعینات کر دیا گیا تھا؟ پارلیمنٹ پر حملے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا افضل گورو سابق عسکریت پسند تھا جس سے بھارتی فوجیوں خاص طور پر ٹاسک فورس کا باقاعدہ رابطہ تھا۔ سکیورٹی فورسز اس حقیقت کی کیسے وضاحت کریں گی کہ انکی زیر نگرانی ایک شخص اتنی بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کیسے کر سکتا ہے۔ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیمیں اتنی بڑی کارروائی کیلئے ایک ایسے شخص پر کیسے اعتماد کرسکتی ہیں جو بھارتی سپیشل ٹاسک فورس سے رابطے میں ہو۔ بھارتی پولیس کے کمشنر ایس ایم شنگری نے حملے کے چھ دن بعد ہلاک ہونیوالے ایک حملہ آور کی شناخت محمد یاسین فتح محمد عرف ابوحمزہ کے طور پر کی اور اس کا تعلق لشکر طیبہ سے بتایا گیا تھا۔ جبکہ یاسین کو نومبر 2000ء میں ممبئی میں گرفتار کر کے اسے کشمیر پولیس کے حوالے کر دیا گیاتھا۔ اگر وہ پولیس کی حراست میں تھا تو وہ حملے کے دوران کیسے ہلاک ہوا۔ ممبئی حملوں کے حوالے سے بھارت جانے والے تحقیقاتی کمیشن نے بھی پاکستان واپسی پر واضح طور پر یہ بات کہی ہے کہ انڈیا کے الزامات میں سرے سے کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس، مالیگاؤں اور مکہ مسجد دھماکوں سمیت دہشت گردی کی تمام وارداتوں میں خود ہندو انتہا پسند تنظیمیں ملوث رہی ہیں۔ یہ سب باتیں حقائق منظر عام پر آنے کے بعد انڈیا کس منہ سے پاکستان کے خلاف الزام تراشی کرتا ہے۔بھارت چانکیائی سیاست پر عمل پیرا ہے۔وہ دنیا کو دکھانے کیلئے پاکستان سے دوستی کا ڈھونگ رچا رہا ہے لیکن دوسری طرف انڈیا میں سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے۔بھارتی حکومت نے پارلیمنٹ اور ممبئی حملوں کے سلسلہ میں پاکستان کے خلاف پوری دنیا میں بے پناہ پروپیگنڈہ کیا اور پاکستانی حکمرانوں پر دباؤ ڈال کر مذہبی رہنماؤں کو جیلوں میں قید کروا دیا جو ابھی تک سزائیں بھگت رہے ہیں لیکن اب ساری باتیں کھل کر دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔ایک بار پھر یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ بھارت خود اپنے ملک میں تخریب کاری اور دہشت گردی کرواتا ہے اور پھر پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ شروع کر دیا جاتاہے۔ حکمرانوں کو کسی قسم کے دباؤکا شکار ہونے کی بجائے ملکی خودمختاری کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دینی چاہئی۔

****

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا لامتناہی سلسلہ جاری

asgher ali shad

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا لامتناہی سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے اور اس میں کمی آنے کی بجائے مزید شدت آتی جا رہی ہے۔ بچوں اور حاملہ خواتین سمیت کئی کشمیری اس بھارتی بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ سبھی جانتے ہیں کہ سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق ، یاسین ملک ، شبیر شاہ اور سبھی حریت قیادت ہر چند دنوں کے بعد گرفتار کر لی جاتی ہے اور ’’ بر ہان وانی ‘‘ کی شہادت بعد سے تو یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا بلکہ ہر آنے والے دن کے ساتھ تحریک آزادی کشمیر اک نئے مرحلے میں داخل ہوتی محسوس ہو رہی ہے ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ کشمیریوں نے بھارت کی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نامنظوری پر ایک اور مہر ثبت کر دی ہے اور مقبوضہ کشمیر کے جعلی بلدیاتی انتخابات میں 95.73 فیصد کشمیریوں نے بائیکاٹ کر کے بھارت اور دنیا بھر کو روز روشن کی طرح واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ ہر قیمت پر آزادی حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ یوں عالمی سطح پر کم سے کم ووٹ حاصل کرنے کا شرمناک ترین ریکارڈ بھی قائم ہو گیا ہے۔ کشمیریوں نے ان انتخابات کا ایسا بائیکاٹ کیا کہ امیدوار اپنے آپ کو خود ووٹ ڈالنے بھی نہیں آئے، ایک امیدوار تین ووٹ حاصل کر کے جیتا جبکہ بارہ مولا میں ایک امیدوار صرف ایک ووٹ حاصل کر کے جیتا، سری نگر کے ایک وارڈ میں کوئی امیدوار اپنے آپ کو بھی ووٹ ڈالنے نہ آیا جس کے بعد مقابلہ صفر، صفر، صفر سے برابر ہو گیا اور عالمی سطح پر کم سے کم ووٹ حاصل کرنے کا نیا ریکارڈ قائم ہو گیا۔ یاد رہے کہ بلدیاتی انتخابات کا ٹرن آؤٹ مقبوضہ وادی میں 1951 کے بعد اب تک کا کم ترین ریکارڈ ہے۔اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ قابض بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و زیادتی کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اس سے بھلا کون آگاہ نہیں ۔ درندگی کی انتہا یہ کہ حالیہ مہینوں میں پیلٹ گنوں کے استعمال سے سینکڑوں نہتے کشمیریوں سے ان کی بینائی مکمل طور پر چھین لی گئی ۔ ایسی وحشت انگیز صورتحال کے اظہار کیلئے لفظ بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی جانب سے گذشتہ 71 سالوں سے غیر انسانی مظالم کی انتہا ہو چکی ہے مگر اسے عالمی برادری کی بے حسی ہی کہا جا سکتا ہے کہ اس جانب عالمی برادری نے ہنوذ خاطر خواہ توجہ نہ دی اور اسی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم میں ہر آنے والے دن کے ساتھ مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ دوسری جانب قابض دہلی سرکار نے مقبوضہ وادی کے زیادہ تر حصے میں کرفیو نافذ کردیا ہے جبکہ انٹرنیٹ ، فون سروس بھی معطل ہے اور تعلیمی ، تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہیں ۔ماہرین کے مطابق مقبوضہ ریاست میں بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کی ہلاکتیں کچھ عرصے سے ایک معمول سا بنتی جا رہی ہیں۔مظاہرہ کر رہے افراد پر بھارتی فوجیوں کی گولیوں کی بوچھاڑ روز مرہ کا معمول بن چکی ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ اس سلسلے میں شدت جولائی 2016 میں مقبوضہ وادی میں حریت رہنما برہان وانی کی شہادت کے بعد آئی تھی، اس دن کے بعد سے آج تک صورتحال کسی بھی وقت دہلی سرکار کے قابو میں نظر نہیں آئی۔ ہر دن کشمیری آزادی کی راہ میں اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کر رہے ہیں۔ بھارتی صحافی رام شرن تیاگی نے ایک بھارتی ٹی وی چینل کھوج خبر پر اظہار خیال کرتے کہا کہ دہلی سرکار دعویٰ تو کرتی ہے کہ وہ کشمیری نوجوانوں کے مستقبل کے لیے فکر مند ہے مگر دوسری طرف کشمیر (مقبوضہ) میں نسل کشی جاری ہے۔ حالانکہ اگر دو حریت پسند شہید ہوتے ہیں تو 10 نوجوان دہلی کی روش کے خلاف بندوق تھامنے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے جسے حکومت ہند اپنی بیوقوفی سے مسلسل نظرانداز کر رہی ہے۔ سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں زعفرانی دہشتگردی روز افزوں بڑھ رہی ہے۔ انتہا پسند ہندو رہنما اور مودی کے وزیر مملکت گری راج سنگھ کا کہنا تھا کہ ’’مسلمان مغلوں کے نہیں بلکہ رام کے جانشین ہیں، اس لیے انہیں بھی رام مندر کی حمایت کرنی چاہیے۔ اگر وہ رام مندر کی حمایت نہیں کریں گے تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا حشر کیا ہو گا۔ مسلمان ان نتائج کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔‘‘ یاد رہے کہ وزیر موصوف بابری مسجد کی جگہ پر رام مند ر کی تعمیر کی ضرورت پر خطاب کر رہے تھے۔ اس نے مزید کہا کہ ’’اس وقت رام مندر کا معاملہ دوسرے مرحلے میں پہنچ جانے والے کینسر کی طرح بن چکا ہے۔اگر اس کا علاج ابھی نہیں کیا گیا تو پھر یہ مستقبل میں لاعلاج ہوجائے گا اس لئے ہندوؤں کو اس ضمن میں ہر حد تک جانا چاہیے۔‘ ۔ ایسے میں امید کی جانی چاہیے کہ عالمی برادری کے ایک ’’بڑے حلقے‘‘ کا سویا ہوا ضمیر کشمیر میں جاری ریاستی دہشتگردی کیلئے اپنی اخلاقی اور انسانی ذمہ داریاں پوری کرنے کے حوالے سے فعال کردار ادا کرے گا۔

*****

Google Analytics Alternative