کالم

غوری میزائل کا کامیاب تجربہ

پاکستان نے اپنا نیوکلیائی پروگرام 1970ء کی دہائی میں شروع کیا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے کرم سے تیزی سے ترقی کی منازل طے کیں اورآج پاکستان نہ صرف ایک نیوکلیائی طاقت ہے بلکہ اس کے نیوکلیائی میزائل بھی دنیا میں بہترین ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ پاکستان کی نیوکلیائی اور میزائل ٹیکنالوجی خطے میں بہترین ہے۔گزشتہ روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری اعلامیے کے مطابق آرمی اسٹریٹجک فورسز کمانڈ نے غوری میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔ یہ میزائل روایتی اور نیو کلیئر وار ہیڈ لے جانے سمیت 1300 کلو میٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔تجربے کا مقصد آرمی اسٹرٹیجک فورسز کمانڈ کی آپریشنل اور ٹیکنکل تیاری تھا۔ اس کامیاب تجربے کے بعد صدر عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان اور چیف آف جنرل سٹاف جنرل زبیر محمود حیات نے متعلقہ حکام کو علیحدہ علیحدہ تہنیتی پیغامات دیے۔ نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا ہے کہ امریکہ، روس کے بعد پاکستان کا میزائل سسٹم تیسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان دنیا کی چھٹی ایٹمی طاقت ہے ۔دشمن پاکستان کیخلاف مہم جوئی سے پہلے ہزار بار سوچتا ہے۔حتف میزائل ایک ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل ہے۔آئی ایس پی آر کاکہناہے کہ یہ ایک ملٹی ٹیوب بلیسٹک میزائل ہے یعنی لانچ کرنے والی وہیکل سے ایک سے زائد میزائل داغے جا سکتے ہیں۔حتف نبی کریم ؐکی تلوار کانام تھا لہٰذا پاک فوج نے اس راکٹ کا نام حتف رکھا۔یہ ایک آرٹلری راکٹ ہے اور بہت عمدہ ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ غزنوی ایک ہائپر سانک میزائل ہے جو زمین سے زمین تک مار کرتا ہے جبکہ اس کی رینج 290کلومیٹر تک ہے۔اس کی لمبائی 9.64میٹر،چوڑائی 0.99میٹر اور وزن 5256کلوگرام ہے۔ ابدالی بھی سوپر سانک زمین سے زمین تک مار کرنے والا میزائل ہے جبکہ اس کی رینج 180 سے 200کلومیٹر تک ہے۔غوری میزائل کا نام عظیم فاتح محمد غوری کے نام پر رکھا گیا ہے۔یہ میڈیم رینج کا میزائل ہے جو زمین سے زمین تک مارکرتا ہے اور700کلوگرام وزن اٹھا کر 1500 کلومیٹر تک جاسکتا ہے۔شاہین Iبھی ایک سپر سانک زمین سے زمین تک مار کرنے والابلیسٹک میزائل ہے جو روایتی اور نیوکلیائی مواد 750کلومیٹر تک لے جاسکتا ہے۔ غوری II ایک میڈیم رینج بلیسٹک میزائل ہے جس کی رینج 2000کلومیٹر ہے۔اس کی موٹائی 18میٹر، موٹائی1.35میٹراورلانچ کے وقت وزن 17800کلوگرام ہے۔ شاہین II زمینی بلیسٹک سپر سانک میزائل ہے جو زمین سے زمین تک مار کرتا ہے اور اس کی رینج بھی 2000کلومیٹر ہے۔یہ دوسٹیج والاراکٹ ہے جس کا وزن 25 ٹن، لمبائی17.5میٹراور چوڑائی 1.4میٹر ہے۔ شاہین IIIمیزائل 9مارچ2015ء کو ٹیسٹ کیا گیا۔اس کی مار 2750کلومیٹر تک ہے اور اس کی بدولت پاکستان کا ہر دشمن اب پاک فوج کی رینج میں آگیاہے۔یہ زمین سے زمین تک مار کرنے والا میڈیم رینج کا بلیسٹک میزائل ہے۔بابراس کا نام مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے نام پر رکھا گیا ہے۔یہ پاکستان کاپہلا کروزمیزائل ہے اور اس کی رینج 700کلومیٹر ہے۔ یہ دشمن کے ریڈار سے بچ کر اس کے ائیڑ ڈیفنس کو تہس نہس کرسکتا ہے۔ پاکستان نے لانگ رینج کے علاوہ شارٹ رینج میزائل سسٹم بھی بنارکھا ہے جو بھارت کے جوہری روایتی ہتھیاروں میں بھارت سے بہتر ہے۔ اس کے باوجود جنوبی ایشیا پر ایٹمی جنگ کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں۔ بھارتی عسکری ماہرین اور تجزیہ کار تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے میزائل سسٹم اگنی میں ابھی وہ آگ نہیں جو پاکستان کا مقابلہ کرسکے۔ بھارت کا آکاش، ترشول اور پرتھوی میزائل سسٹم بھی مقابلتاً تکنیکی طور پر پیچھے ہیں۔ پاکستان کے ریڈار سرویلین سسٹم میں نظر آئے بغیر بھارتی فضائیہ کے طیارے پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کرکے واپس جانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ ہندوستان کو پاکستانی میزائلوں سے چوکنا رہنا ہے۔ کسی جارحیت کی صورت میں پاکستان کی شکست کی نہیں ہندوستان کی بقا کا مسئلہ درپیش ہوگا۔ حتف میزائل کا سلسلہ غزنوی، ابدالی، غوری، شاہین، بابر سے ہوتا ہوا 2750 کلومیٹر رینج کے حامل شاہین 3 تک پہنچ چکا ہے جو بھارت کے مشرق میں خلیج بنگال تک مارکرسکتا ہے اور رعد کی بات کریں تو بحر ہند کے پانیوں میں پاکستان نہ صرف اپنے تحفظ کی اہلیت رکھتا ہے بلکہ سمندری حملے کی اتعداد بھی حاصل کررہا ہے۔پاکستان کا میزائل پروگرام بیلسٹک اور لانچنگ دونوں لحاظ سے بہتر ہے۔ نیشنل کمانڈاتھارٹی اور سٹریٹجک پلاننگ ڈویڑن کے اشتراک عمل سے کمانڈ اینڈ کنٹرول سپورٹ سسٹم وضع ہوچکا ہے۔ بھارت کو پاکستان کی ایٹمی صلاحیت پر شک بھی نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے پاس گو ایٹمی ہتھیار مقدار میں زیادہ ہوسکتے ہیں لیکن پاکستان کے پاس بھارت کے تناظر میں ایٹمی ہتھیاروں کی کمی نہیں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس کو بہتر طریقے سے استعمال کیا جاسکے۔الحمداللہ پاکستان ایٹمی طاقت بھی ہے، میزائلوں سے بھی لیس ہے۔ ایک بہترین پیشہ ور فوج بھی موجود ہے، اس لحاظ سے کسی جارح کیلئے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت نہیں ہونی چاہیے۔ ہر ملک کی طرح پاکستان کو بھی اپنے دفاعی تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کا پورا پورا حق حاصل ہے اور پاکستان نے پچھلے چند عشروں میں اس حق کو کامیابی اور ذمہ داری سے استعمال کیا ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر یہ پراپیگنڈہ کیا جاتا رہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہے اور دہشت گردوں یا انتہاپسندوں کی اس تک رسائی ہو سکتی ہے تاہم پاکستان نے ایک طرف تو کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کی تشکیل کی ہے اور دوسری طرف کئی اقدامات کر کے دنیا کا منہ بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کا جوہری اور میزائل پروگرام صرف اور صرف پاکستان کی دفاعی ضروریات کیلئے ہے۔ پاکستان کے نہ تو کوئی استعماری عزائم ہیں اور نہ ہی پاکستان اپنی سرحدوں سے باہر کسی دوسرے ملک کی خاطر ہتھیار اٹھانے کے شوق میں مبتلا ہے۔ پاکستان کی دفاعی طاقت اور صلاحیت سے جارحیت کے جنون میں مبتلا قوموں کی از خود حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔

’’حساس فیصلہ‘‘۔بڑا اہم قدم

انسانوں میں محبت کی طلب’انسانوں میں علم کی جستجو اور پھر دکھی انسانیت کیلئے بے پناہ اورناقابل برداشت جذبہ ترحم کی سرشاری یہ تابندہ وایثارکیش احساسات ہوتے ہیں جس سے کسی بھی قوم کے افراد کی زندگیوں میں توانائیاں اْبھرتی ہیں ایسے سماج میں ثولیدہ فکری کی کوئی جگہ نہیں ہوتی، ایسی اقوام کا شعورہمہ وقت بیداررہتا ہے اورایسے معاشروں میں باہمی اتحاد ویگانگت کا انسانیت پرورماحول کبھی ماند نہیں پڑتا، انسانیت پرورایسے سماج کا ہرایک فرد اپنے عزیزرشتہ دار واحباب تودرکنارکسی دوسرے فرد کیلئے بھی کچھ نہ کچھ اپنے تیءں کرگزرنے کی فکرمیں رہنے کو اپنی عبادت تصورکرتا ہے’بحیثیت مسلمان ہمیں بلارنگ ونسل علاقائی حدودوقیود کے تعصبات سے بالا تر ہو کر انسانوں کے ساتھ یکساں جذبہ ہمدردی کی تعلیم ہمارے آفاقی دین اِلٰہی اسلام کے بنیادی احکامات میں دی گئی ہے کون انکارکرسکتا ہے’ قرآن حکیم فرقان مجید براہ راست عالم انسانیت کومخاطب کرتا ہے مثلاً ‘کسی کی زبان اورکسی کے ہاتھ سے کسی دوسرے انسان کوکوئی تکلیف نہ پہنچے’ اسلامی تعلیمات کاخلاصہ یہ بھی ہے کہ جس نے ایک انسان کی بھی جان بچائی ہے گویا اْس نے تمام عالم انسانیت کومحفوظ کردیا’ انسانی ترقی کے متذکرہ بالا ثمرات انسانوں کے سبھی طبقات تک دنیا کے ترقی یافتہ اورترقی پذیرممالک تک پہنچانے کے فرائض اپنی جگہ اہم سہی! لیکن یہاں آج ہمارا مدعا یہ ہے کہ ترقی یافتہ مغربی دنیا نے جس کی باگ ڈور آج کل امریکا کے ہاتھوں میں ہے، مغرب کو بھی امریکا نے باورکرایا ہوا ہے اورخود بھی اسی راہ پر گامزن ہے انسانیت کی فلاح وبہبود کی آڑ میں ترقی پذیر ممالک اور خصوصا مسلم دنیا اور بالخصوص مسلم دنیا کے واحد ایٹمی ریاست پاکستان میں’ انسانیت کی بقاء کے لیئے ترجیحی بنیادوں پر جتنا زیادہ کام ہوسکے وہ بلاتاخیر کیا جائے اوراس کام کو پائیہ تکمیل پہنچانے کیلئے’غیرریاستی ادارے’ قائم کیئے جائیں ‘ عرف عام میں ان اداروں کو ‘این جی اوز’ کہا جاتا ہے’ مسلم دنیا میں اور خصوصا پاکستان میں مغربی و امریکی امداد سے قائم ہونے والی این جی اوز کے مذموم عزائم آج ہمارا موضوع ہیں کاش! یہ موضوع آج سے 35 ۔30 برس قبل ہمارے پیش نظر ہوتا‘ 35 ۔30 برس ایک عمرہوتی ہے، امریکی ومغربی ڈالرزکی بیساکھیوں پر چلنے والی ان ‘این جی اوز’ نے ہمارے سماجی وثقافتی کلچر میں جو تباہ کن بربادیاں ڈھانی تھیں وہ کب کی ڈھائی جاچکی ہیں، جناب! امریکا’برطانیہ اوردیگرمغربی ممالک کی نقد امداد نے پاکستان کی نظریاتی وفکری اساس کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچانا تھا پہنچا ضروردیا ہے ہمارے نہایت ہی قریبی ایک دوست نے جو بڑے لائق فائق دنیا گھومے ہوئے ہیں اْنہوں نے ہماری آنکھیں ہی نہیں کھول دیں اُنہوں نے یہ مزید انکشاف کر کے ہمیں دنگ کردیا اْنہوں نے کہا کہ ‘بہت دیرکی مہرباں آتے آتے’ شائد کسی کو یاد ہو کہ حبیب سوئیکارنوکے خوشحال انڈونیشیا کی معاشی تباہ کاری کی ابتداء میں امریکی ومغربی امداد پرقائم ہونے والی این جی اوزکا ہاتھ تھا جیسے وزیراعظم مہاتیرمحمد کے برسراقتدار آنے سے قبل ملائیشیا کے مالیاتی اداروں کی تباہی ہوئی تھی پُراعتماد فیصلہ کن قوت ارادی کے سچے‘کھرے اور دوٹوک لب ولہجے کے جذبوں سے لیس زمین سے خالص لگن وانسیت اوروالہانہ اپنائیت رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ نیک نیت و نیک سیرت شخصیت نے تباہ ہوتے ہوئے ملائیشیا کوترقی یافتہ جدید دنیا کا خوش حال ترین ملک بنانے میں اپنے دن اور اپنی راتیں ایک کردی تھیں اُنہو ں نے اس سفر میں کہیں سمجھوتہ نہیں کیا ملائیشیا کی سرزمین سے ہراْس غیر ملکی ادارے کو فی الفورنکال باہر کیا جس پررتی برابر کوئی شک وشبہ ہوا کئی مسلم ممالک کی اندرونی انتظامی بدحالیوں میں امریکی ومغربی امداد پرچلنے والی این جی اوز نے بڑا بدنام رول ادا کیا ہے جیسے افروایشیائی ممالک میں انسانی فلاح وبہبود کے نا م پروجود میں آنے والی این جی اوز نے اپنے خطے کو غیرملکی خفیہ ایجنٹس کا تقریباً گڑھ بنادیا یا اب بھی وہاں وہ خفیہ ایجنٹس اپنے دفاتر قائم کیئے بیٹھے ہیں جنہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ‘ کہیں غربت کے خاتمہ کا نام’کہیں اظہاررائے کی آزادی کا نام‘کہیں عورتوں کے بنیادی حقوق کی بحالی کا نام ‘کہیں صحت کے بنیادی مراکز کا نام‘کہیں دوردراز پسماندہ علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے دلفریب نعروں اورمختلف سیاسی وسماجی تنظیمی بحالی کے ‘دستاویزی پیپرزورک’ کے رنگین و خوشنما چارٹس کی بریفنگ تیارکی جاتی ہیں ملکی اعلیِ تعلیم یافتہ شرطیہ’بہترین انگریزی ڈرافٹنگ کرنے پڑھنے اور فرفربولنے والے مفادپرستوں کی دستیابی میں غیر ملکی خفیہ عزائم رکھنے والوں کو کوئی مشکل پیش نہیں آتی ہے ایسے مطلوبہ افراد باآسانی بعض اوقات حکومتی کارندوں میں ہی سے اُنہیں مل جاتے ہیں، لیجئے جنابِ والہ!’این جی او’ بن گئی؟ بیرون ملک سے نہ صرف فنانسنگ کا آغاز ہوگیا بیرون ملک سے اْن کے ‘باسنز’ اور دیگر کارندے بھی ملک میں آنے جانے لگے اور کسی نے پوچھا تک نہیں‘ یہ این جی او جیسے بے پناہ مالی فوائد پہنچانے والے ادارے کون لوگ قائم کرتے ہیں؟ بیرون ملک سے اْن کے رابطوں میں کون کون ہوتا ہے ؟ان اہم تفصیلات کی جانچ پڑتال کون کرتا ہے؟ جناب والہ! یہ اہم ذمہ داری وفاقی وزارت داخلہ کی ہوتی ہے، گزشتہ 71 برس تو چھوڑیں 25۔20 برسوں میں این جی اوزکے نام پر ملک میں ایسی اَنت مچی کہ رہے نام اللہ کا‘جہاں کہیں اگر آج یہ احساس ہواہے تو اسے بروقت اور بڑا اہم فیصلہ سمجھیں دیکھتے ہیں سی آئی اے اور ایم آئی 6 اور ایم آئی 5 سمیت موساد اور را کے خفیہ ایجنٹس جو ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں ملک کے ا ہم اداروں میں گھسے ہوئے ہیں ان کا ‘مکو’کیسے ٹھپاجاتا ہے؟ آج کی وفاقی وزارت داخلہ کو ترجیحی بنیادوں پر اپنے دن اور رات ایک کرنے ہونگے یہ معمولی کام نہیں ہے ،ملک غیر معمولی حالات و واقعات سے دوچارہے، لہٰذا غیر معمولی اقدامات فی الفور اْٹھانے ہونگے، یقیناً7 اکتوبر کو وفاقی وزارت داخلہ نے ایک بڑاہم فیصلہ کیا ہے جس کی بڑے شدومد سے ضرورت تھی 18 عالمی این جی اوز سے وابستہ غیرملکی افراد کو 60 دنوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا گیا ہے شکر ہے کئی دہائیوں میں شاید یہ پہلا موقع ہوگا کہ قوم یہ سن رہی ہے کہ’’ امریکیوں اور ‘برطانوی سمیت کئی مغربی ممالک کے افراد کو پاکستان کی سرزمین چھوڑنے کا حکم دیا جارہا ہے ‘‘ 72 عالمی این جی اوز پر پابندی عائد کرنے کا بڑا احسن فیصلہ کیا گیاجبکہ 141 این جی اوزکو جہاں ملک میں اپنے امور نمٹانے کی اجازت دی گئی ہے، وہاں اْن این جی اوزکو نئے حکومتی قواعدو ضوابط پوری کرنے کے بعد اپنے آپ کو پاکستان میں رجسٹرڈ کرانے کا بھی پابند کیا گیا ہے انسانی فلاح وبہبود کے نام پر قوم اپنے ملک میں غیرملکی خفیہ ایجنٹس کی مذموم سرگرمیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں کافی عرصہ سے قوم ایسے ہی ’’حساس اقدامات‘‘ کی منتظر تھی ‘

سید مولانا ابوا لاعلیٰ موددیؒ

مولانا موددیؒ اپنی خود نوشت سوانح میں تحریر فرماتے ہیں’’خاندان موددیہ کی جس شاخ سے میرا تعلق وہ نو یں صدی ہجری کے اواخر میں ہندوستان آیا تھا۔اس شاخ کے پہلے بزرگ جنہوں نے ہندوستان میں مستقل سکونت اختیار کی وہ ابو ا لاعلیٰ موددی تھے‘‘مولانا موددی ؒ کے اسلاف افغانستان کے علاقہ ہرات کے مقام چشت سے پہلے بلوچستان منتقل ہوئے۔ جہاں کئی پشتوں تک مقیم رہے۔ پھرمولانا موددیؒ کے خاندان کے پہلے بزرگ شاہ ابو ا لاعلی جعفرؒ ہندوستان تشریف لائے۔ ان کے نام پر مولانا موددی ؒ کا نام ابوا لاعلیٰ رکھا گیا۔تاریخی طور پر ہجرت اور جہاد اس خاندان کا طرّہ امتیاز رہا ہے۔ سکندر لودھی نے 6رمضان 912 ھ جس فوج کے ساتھ راجپوتوں کے مضبوط قلعہ تھنکر پر چڑھائی کی تھی اس فوج کے لشکر کے ہمراہ شاہ ابو الاعلیٰ جعفرؒ اپنے مریدان با صفا کے ساتھ شریک تھے ۔ اس لشکر نے راجپوتوں کے مضبوط قلعہ تھنکر کو فتح کیا تھا۔ مولانا موددیؒ نے بھی اپنے خاندان کی روایت قائم رکھتے ہوئے علامہ اقبالؒ کے کہنے پر حیدر آباد دکن سے ہجرت کر کے پنجاب کے علاقہ پٹھان کوٹ میں اسلام کی خدمت کے لیے منتقل ہوئے تھے۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد مولانا موددیؒ کو قائد اعظم ؒ نے کہا کہ پاکستان میں اسلامی نظام کے قائم کرنے کے طریقے بتائیں۔مولانا موددیؒ نے ریڈیو پاکستان سے کئی دن تقریر نشر کر کے اسلامی نظام حکومت کے قیام کی تشریح تھی ۔یہ تقاریر اب بھی ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔ جو لوگ مولانا کو موددیؒ پر ناجائز بہتان لگا کر ان کو قائد اعظمؒ کا مخالف کہتے ہیں وہ اس بات کو بھی نوٹ کر لیں۔ مولانا موددیؒ جماعت اسلامی کی تشکیل سے پہلے مسلمانان برصغیر کے سامنے ایک عرصہ تک اس کی افادیت اپنے رسالے ترجمان القرآن میں بیان کرتے رہے۔ ان کے نزدیک جماعت اسلامی اسلام کے کسی جزوی کام کیلئے نہیں بلکہ پورے کے پورے اسلام کے نفاذ کیلئے بنائی گئی۔ دنیا میں رائج اللہ سے باغی نظام کو تبدیل کر کے حکومت الہیا، اسلامی نظامی، نظام مصطفےٰ، نام کوئی بھی ہو، اللہ کی زمین پر اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کیلئے قائم کی گئی۔ اسی پالیسی پر جماعت اسلامی اب تک قائم ہے اور انشاء اللہ جب تک اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم نہیں ہوتا اس کی جدو جہد جاری رہے گی۔ جب کچھ لوگ اس کام کیلئے تیار ہو گئے تھے تو ۱۹۴۱ء لاہور میں ۷۵؍ افراد اور ۷۵ روپے کچھ آنے کی رقم کے ساتھ جماعت اسلامی قائم ہوئی۔جماعت اسلامی نے عصری تقاضے کے مطابق پر امن جمہوری جدو جہد کر کے اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو قائم کرنے کی جو پالیسی شروع میں میں منتخب کی تھی اس پر ہی کام کر کے تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ چاہے اس کیلئے کتنی ہی مدت درکار ہو۔اس عصری طریقہ یعنی بالغ رائے دہی کے ذریعے انتخابات میں شریک اور کامیاب ہو کر جمہوری طریقہ سے اسلامی نظام قائم کر نے کی جماعت اسلامی کے مؤقف سے اختلاف کر کے کچھ بنیادی ارکان جماعت اسلامی سے علیحدہ ہو گئے۔ مگر مولانا موددیؒ نے تحریک اسلامی کے آئندہ لائحہ عمل کتاب میں جماعت اسلامی کی پالیسی واضح کر دی۔ جو اب بھی کتاب کی شکل میں موجود ہے۔اس میں مولاناموددیؒ نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی انڈرگراؤنڈرہ کر کوئی کام نہیں کرے گی۔مروجہ جمہوری انتخابات کے لے ذریعے نظام حکومت کو تبدیل کرے گی۔ اس کیلئے جماعت اسلامی نے شروع دن سے چار نکاتی پروگرام طے گیا۔جس کے تحت تطہیر افکار، تعمیر افکار، صالح افراد کی تلاش اور ان کی تربیت، اصلاح معاشرہ کی کوشش، آخر میں نظام حکومت کی تبدیلی۔ اس پروگرام کے تحت جماعت اسلامی ترقی کے منازل طے کر رہی ہے۔ جو تجزیہ کار جماعت اسلامی کے کام کو اس کے واضح کردہ پروگرام کے صرف انتخابی جز کو سامنے رکھ کر اس کو انتخاب میں کامیابی یا ناکامی پر پر کھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید وہ ادھورا تجزیہ کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی صرف مروجہ انتخابی جماعت نہیں بلکہ یہ ایک نظریاتی جماعت ہے جوبتدریج اپنی منز ل کی طرف گامزن ہے۔مولانا موددیؒ کے نظریات نے پوری دنیا مسلم دنیا میں ہلچل مچا دی۔ صاحبو!۱۹۲۴ء میں جب مسلمانوں کی خلافت ختم کر کے صلیبیوں نے مسلم دنیاکو درجنوں راجوڑوں میں تقسیم کر کے اپنے پٹھو حکمران مسلم امت پر ٹھونس دیے ۔ یہ پٹھوحکمران اب تک صلیبیوں کے مفادات کا خیال رکھتے ہیں۔ اُس وقت امریکا کے وزیر دفاع نے کہا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں کی خلافت یعنی سیاسی حکومت قائم نہیں ہونے دی جائے گی۔جب الجزائر اور مصرمیں جمہوری طریقے سے جیت کر اسلامی سیاسی حکومتیں قائم کرنے کے کوشش کی گئی تو وہاں مسلم دنیا کی فوجوں کو اپنے مقصد کیلئے استعمال کرکے جمہوری حکومتوں کوختم کرادیا گیا اور ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ہمارے ہی لوگوں کے ہاتھوں ایسا کیا گیا۔ مولانا موددیؒ کے افکار پوری مسلم دنیا میں تسلیم کر لیے گئے ہیں۔پوری مسلم دنیا کے عوام امریکی پٹھو حکمرانوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے اپنے ملکوں میں اسلامی نظام قائم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی اسلام کے نام سے حضرت قائد اعظم ؒ کی لیڈر شپ کے اندر جمہوری جدو جہد کے ذریعے قائم ہوا تھا۔ انشاء اللہ جمہوری طریقے سے ہی پاکستان میں اسلامی نظام حکومت بھی قائم ہو گا۔ اللہ نے قائد اعظمؒ کو جلد بلا لیا۔ قائد اعظمؒ کی وفات کے بعد مولانا موددیؒ نے دوسرے اسلام پسند لوگوں کے ساتھ مل کر اسلامی نظام رائج کرنے سے پہلے دستور کو اسلامی بنانے کے لیے دستوری مہم چلائی تھی۔اسی مہم کے نتیجہ میں ہی ۱۹۷۳ء میں پاکستان کا اسلامی آئین بنا۔ گو کہ آج تک اس آئین کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا گیا۔ اگر قائد اعظم ؒ کے وژن اور مولانا موددیؒ کے بتائے ہوئے طریقہ پر عمل کر کے پاکستان میں اسلامی نظام قائم کر دیا جائے تو اللہ کے حکم کے مطابق آسمان سے رزق نازل ہو گا۔ زمین اپنے خزانے اُگل دے گی۔ ملک میں امن آمان ہو گا۔ دہشت گردی ختم ہو جائے گی۔پڑوسی ملک پاکستان میں ناجائز مداخلت ختم کر دیں گے۔ نہ بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ ہو گی۔ نہ مہنگائی ہو گی اور نہ ہی بے روز گاری ہو گی۔رسولؐ اللہ کی ایک حدیث کے مطابق جب تم میری لائی ہوئی شریعت نافذ کر دو گے تو کوئی زکوٰۃ لینے والا تمھیں نہیں ملے گا۔ یعنی سب خوش حال ہو جائیں گے۔ ۲۲ ؍ ستمبر ۱۹۷۹ء کو مولانا موددیؒ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اللہ ان کی سعی کو قبول فرمائے ان کو کروٹ کروٹ سکھی رکھے آمین۔ جہاں تک مولانا مودددیؒ کی اسلام کی خدمات کا تعلق ہے تو لاکھوں لوگ ان کے یاد کرائے گئے سبق سے مستفیض ہو کر اللہ کے دین کو قائم کرنے کی جدو جہد میں شریک ہوگئے

دیانت و امانت کی قحط سالی کیوں۔۔۔؟

اخلاقی اقدار کی قحط سالی اور منفی جذبات کی فراوانی میں دیانت و امانت ،انصاف و قانون ،ایثار و اخوت محض الفاظ ہیں جنہیں سماج کی طاقتور اشرافیہ کی منافقت نے اپنے ضمیر کے جرائم اور اپنی نیت کے فتور کو چھپانے کیلئے اپنے ہی تصرفمیں رکھا ہے ۔آج ہمیں سماج میں بہت کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔کردار کے زوال کا سلسلہ جاری ہے ،مذہبی اور اخلاقی اقدار اپنی اہمیت کھو چکی ہیں ۔آج سماج کا عام فرد جس دوراہے پر کھڑا ہے وہاں اس کی عزت و آبرو کے تحفظ کے مکینوں نے ان ایوانوں کی روح کو اپنی روح میں سمونے سے احتراز ہی کیا بلکہ ان ایوانوں کی آڑ میں وہ قانون شکنی کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتا ۔تہذیب و شائستگی ،دیانت وامانت ،اخلاقی و مذہبی اقدار شائد دکھاوے کی چیزیں رہ گئی ہیں ۔مذہب صرف زبان تک اظہار کا نام رہ گیا ہے ۔اخلاقیات اور مذہبی بیگانگی کے سبب سماج کی حالت زار ناقابل بیان نہج تک پہنچ چکی ہے ۔بد دیانتی کے سمندر میں کبھی بھی کنول کے پھول نہیں لہلہاتے ۔بد مزاجی کے صحراؤں میں گلاب کے پھول نہیں کھلا کرتے ۔نمائندگان ،اشرافیہ اور اعلیٰ عہدوں پر متمکن بدنیتی ،حفظ نفس اور مطلب پرستی پر اتر آئیں تو سماج میں جرائم پیشہ افراد سے کسی خیر کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے ؟ جب بادشاہ کے ہرکارے پرائے باغ سے پھل توڑنے کو روا رکھیں گے تو پھر رعایا اس باغ کو اجاڑنے سے گریز کرے گی؟یہ عوام کا اثاثہ ،عوام کیلئے رول ماڈل جن کے فرائض وطن عزیز میں انصاف کا بول بالا کرنا ،عدل کو یقینی بنانا اور دیانت داری کی مثال بننا ہے ان سے ایسے رویوں کا اظہار بہت افسوس ناک ہے ۔شائد تلقین شاہ سچ ہی کہتے تھے کہ خدا کی بستی کو پڑھے لکھوں نے برباد کیا ،ان پڑھوں نے نہیں۔عہدہ، اختیار ،قیادت و استحقاق اجارہ داری نہیں یہ تو ایک مقدس امانت ہوتی ہے جو کہ قوم ذمہ داران کو سونپتی ہے ۔معزز قارئین واقعہ کوئی نیا نہیں ،واقعات کا ایک تسلسل ہے ۔ہر چند ماہ بعد ارباب اختیار سے سرزد اخلاقی اقدار کی تنزلی اور قانون شکنی کا کوئی نہ کوئی واقعہ میڈیا کی زینت بنتا ہے ۔مار کٹائی ،ہنگامہ اور پھر معذرت آئے روز کا معمول بن چکا ہے ۔مجرمانہ ذہنیتوں کی پہچان بھی آسان نہیں رہی۔ہمارے ہاں مجرمانہ ذہنیت کے ایسے صاحب عزت بھی ہیں جن کا لباس عالمانہ باطن جاہلانہ ،حال حلیہ رنگ ڈھنگ شریفانہ لیکن اندرون عیارانہ ،ظاہر کچھ بناوٹ کچھ اور حقیقت کچھ۔وقت ،اعتبار اور عزت ایسے پرندے ہیں جو اڑ جائیں تو واپس نہیں آتے ۔جیسا کی معزز قارئین جانتے ہیں کہ انہی دنوں وطن عزیز کے بیسویں گریڈ کے ایک افسر پر کویتی وفد کے مندوب کا بٹوہ چوری کرنے کا الزام لگا اور اس کے اس عمل کو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا ۔یہ سمجھنے اور جاننے کی ضرورت ہے کہ سول سروس کا تصور کیا ہے اور اس کی قابلیت ،اہلیت اور استعداد کیا ہونی چاہیے ؟ بیورو کریسی سے مراد اعلیٰ پیشہ وارانہ اہلیت کے حامل وہ ذمہ داران افسران ہیں جن میں پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کرنے کی صلاحیت اور استعداد موجود ہو اور وہ دیانت داری اور امانت داری کا پیکر ہوں ۔وطن عزیز میں نئی وجود میں آنے والی حکومت نے اقتصادی حالات کی بہتری کیلئے دوست ممالک سے رابطے شروع کئے تو اسی سلسلہ میں کویت کا اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان آیا ۔اقتصادی ڈویژن حکومت پاکستان کے اعلیٰ ترین افسران کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور ختم ہوا تو کویتی وفد میں شامل ایک شخص نے اپنا پرس تلاش کرنا شروع کیا ۔کویتی مہمان کا پرس اتنی ہائی پروفائل میٹنگ میں جہاں اندر آنے والوں کیلئے سیکورٹی چیک لگا ہو کون لے جا سکتا ہے ۔چھوٹے ملازمین کی تلاشی لی گئی لیکن پرس نہ ملا ۔آخر سی سی ٹی وی سے فوٹیج دیکھنے پر نظر آیا کہ کوئی چھوٹے گریڈ کا ملازم نہیں بلکہ گریڈ بیس کا ایک اعلیٰ افسر جس کی ریٹائر منٹ میں فقط دو سال باقی رہ گئے تھے وہ پرس اٹھا کر جیب میں ڈال رہا تھا ۔مذکورہ افسر اس اہم میٹنگ میں شریک تھے جنہیں پرس کی برآمدگی کے بعد معطل کر دیا گیا ۔اب اس معاملہ کا کیا بنا ہے کچھ خبر نہیں۔اسے چھوٹے ملازمین کی خوش بختی کہیے کہ پرس مل گیا وگرنہ انہیں اس ناکردہ جرم کی پاداش میں ہماری پولیس سے کتنی اذیت سہنی پڑتی۔شائداب مذکورہ افسر کو ذہنی بیمارثابت کر دیا جائے اور وہ دوبارہ اپنے فرائض منصبی سنبھالنے پر قادر ہوں۔کلپٹو میناایک نفسیاتی بیماری میں مریض دوسروں کی چیزیں چوری کر لیتا ہے ۔ایسا فرد بظاہر صحت مند دکھائی دیتا ہے۔تمام لوگوں کی طرح سوشلائز بھی کرتا ہے لیکن جہاں اس پر کلیپٹومینا کا دورہ پڑ جائے وہ اپنے ساتھیوں ،دوستوں یہاں تک کہ مہمانوں کی چیزیں تک چرا کر اپنی تسکین کرتا ہے۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ اگر مذکورہ افسر کلیپٹومیٹک ہی تھے تو پھر ان پر یہ دورہ اکثر و پیشتر پڑتا ہوگا اور ان کے ساتھی ان کی اس بیماری سے ضرور آگاہی رکھتے ہوں گے لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ کیس کلیپٹو مینا بیماری کا نہیں بلکہ ہوس زر،لالچ کا ہے ۔وطن عزیز کے باسی جانتے ہیں کہ ماضی میں پنجاب اسمبلی کی ممبر شمائلہ رانا کریڈٹ کارڈ کی چوری میں مبینہ طور پر ملوث پائی گئی ۔اپنی ہی ایک دوست کا کریڈٹ کارڈ چوری کر کے اسی ہزار روپے کی خریداری کر ڈالی ۔بھلا ہو انگریز کی ایجاد ہائی ٹیک( سی سی ٹی وی) کا کہ جس نے چور کو رنگے ہاتھوں پکڑوا دیا اور خاتون کیلئے انکار کی کوئی گنجائش نہ رہنے دی ۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ترکی کے صدر طیب اردگان کی اہلیہ نے سیلاب زدگان کی امداد کیلئے ایک ہار بطور عطیہ دیا تھا اور مبینہ طور پر وہ قیمتی ہار اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیہ نے سیلاب فنڈ میں دینے کی بجائے خود رکھ لیا ،میڈیا میں اس کا چرچا بھی رہا ۔متعلقہ حکام نے ہار کو آکشن کر کے خطیر رقم سیلاب زدگان کی امداد پر خرچ کرنے کا ارادہ کیا تو ہار ندارد ۔ایف آئی اے کی تحقیقات پر کھرا چلتے چلتے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے گھر تک جا پہنچا ۔گیلانی صاحب نے اعتراف کیا کہ ہار ان کی ملکیت ہے اور اس کی توجیہہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ طیب اردگان کے خاندان کے ساتھ ہمارے قریبی مراسم ہیں ۔اس وقت بھی پاکستان کی خوب بدنامی ہوئی اور ترکی جیسے برادر ملک سے خفت و شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ۔وطن عزیز میں اخلاقی زوال کی مثالوں کے آئینہ میں مجھے مغرب کا وہ فقیر یاد آ رہا ہے ۔ایک دفعہ ملکہ برطانیہ کے پاس ایک مانگنے والے فقیر نے بھیک مانگنے کیلئے ہاتھ پھیلایا ملکہ نے اپنے بٹوے سے کچھ سکے نکال کر فقیر کو دیے ،فقیر چلا گیا بعد میں جب ملکہ نے بٹوے میں اپنی ہیرے کی انگوٹھی نکالنے کیلئے اسے کھولا تو اسے معلوم ہوا کہ ریزگاری کے ساتھ وہ ہیرے کی انگوٹھی بھی فقیر کو دے دی گئی ہے ۔قیمتی انگوٹھی کھونے کا صدمہ بہر حال ملکہ کو برداشت کرنا پڑا جو کہ ہزاروں ڈالرز کی مالیت پر مشتمل تھی ۔گھر جا کر جب فقیر نے اپنی جیب سے ریز گاری نکالی تو اسے معلوم ہوا کہ ملکہ کی ہیرے کی انگوٹھی بھی اس ریز گاری میں شامل تھی ۔وہ ملکہ کے پاس گیا اور اسے انگوٹھی واپس کر دی ۔ملکہ اس کی دیانت سے بہت متاثر ہوئی اور اسے کہا کہ تمہیں معلوم تھا کہ یہ ہیرے کی انگوٹھی اتنی قیمتی تھی کہ تمہاری زندگی کو امارت میں تبدیل کر سکتی تھی ۔فقیر نے کہا کہ ملکہ عالیہ مجھے معلوم تھا لیکن میں ایک فقیر ضرور ہوں لیکن بددیانت نہیں ہوں ۔اس کی دیانت سے متاثر ہو کر اسے ہیرے کی انگوٹھی سے بھی زیادہ انعام و اکرام سے نوازا گیا ۔لیکن ہمارے ہاں تو اقتدار و اختیار پر وہی آتا اور جلوہ گر ہوتا ہے جس کا مقصد لوٹ کھسوٹ ہو۔ معزز قارئین اگر ہم حقیقت میں تبدیلی لانے کے خواہش مند ہیں تو پھر سابقہ ادوار کے تجربات کو مد نظر رکھ کر منفی روایات پر عمل کرنے سے گریز کرنا ہو گا وگرنہ مکافات سے دنیا کی کوئی طاقت ہمیں نہیں بچا سکتی۔اصولی سیاست تو یہی ہے کہ جرم کرنے پر معافی کسی کیلئے نہ ہو ۔تبدیلی،قربانی اور قانون پر عمل داری کا آغاز ہمیشہ گھر سے ،خود سے اور پارٹی سے کیا جاتا ہے ۔کسی قوم کے ارتقاء کا انحصار اس کی عمدہ اخلاقی حالت پر ہوتا ہے ۔اگر اکابرین وذمہ داران قوم کی اخلاقی حالت کا معیار گر جاتا ہے تو ریاست کا تنزل یقینی بن جاتا ہے۔

حکومت کاآئی ایم ایف سے رجوع کرنے کافیصلہ

adaria

عمران خان نے حکومت میں آنے سے قبل قوم سے یہ وعدہ کیاتھا کہ وہ آئی ایم ایف کسی صورت نہیں جائیں گے لیکن اقتدار میں بیٹھ کراوراقتدار سے باہر رہ کر بالکل مختلف حالات کاسامنا ہوتا ہے۔اس وجہ سے کچھ کٹھن فیصلے کرناپڑتے ہیں مگر ان فیصلوں کو کرتے وقت ہرحکومت کو ایک بات ملحوظ خاطررکھناچاہیے کہ آیا جو وہ فیصلے کرنے جارہی ہے وہ عوام کے مفاد میں ہیں بھی یانہیں ۔اول تو یہ روایت آج تک ختم ہی نہ ہوسکی کہ ہرآنیوالی حکومت سابقہ حکومت کو روتی پیٹتی رہتی ہے کہ اسے خزانہ خالی ملا ہے۔سواب بھی یہی تاریخ دہرائی جارہی ہے یاتو بلندوبانگ دعوے نہیں کرنے چاہئیں اوراگر کئے جائیں تو پھر اس کامتبادل حل لازمی ہوناچاہیے۔ یہ بات درست ہے کہ آئی ایم ایف سے رجوع کئے بغیر حکومت شدید ترین معاشی بحران کاشکار ہوجائے گی مگر آئی ایم ایف نے جو شرائط عائد کی ہیں جن میں اس نے ڈالر کی قیمت میں اضافہ پندرہ روپے فی ڈالر اور بجلی کے فی یونٹ میں اکیس روپے تک رکھاہے ۔ کیا حکومت نے حساب کیاہے کہ اگر ڈالر ڈیڑھ سو روپے کاہوگیا تو قرضے کہاں تک جائیں گے اور بجلی کے یونٹ میں متعلقہ اضافہ کردیاگیا تو عوام کتنا کسمپرسی کی شکارہوگی۔پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے پوری قوم جکڑی ہوئی ہے دووقت کی روٹی مشکل ہوتی جارہی ہے ۔حکومت کوچاہیے کہ وہ اپنے عنان اقتدار کے معاملات ضرور چلائے مگرجن لوگوں نے انہیں ووٹ دیئے ہیں ان کی زندگی کو بھی سہل بنانے کے لئے اقدامات کرے۔وزیراعظم نے آئی ایم ایف جانے کی منظوری دیدی ہے ان کی شرائط پر غوروخوض جاری ہے۔ عالمی بنک اور آئی ایم ایف کا سالانہ اجلاس رواں ہفتے کے آخر میں شروع ہو رہا ہے۔ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد ملک کی معاشی صورتحال پر سنگین تشویش ظاہر کی تھی اور اس پر قابو پانے کیلئے تمام دستیاب آپشن کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔ حکومت کو 6.6فیصد مالی خسارہ ورثہ میں ملا ہے۔ ایک ہزار ارب روپے سے زائد توانائی سیکٹر کے نقصانات کو حسابات میں لیا ہی نہیں گیا تھا، کرنٹ اکانٹ کا خسارہ 2ارب ڈالر ماہانہ ہے۔ حکومت نے معاشی میکرو اکنامک استحکام کیلئے منی بجٹ منظور کرایا اور سٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں اضافہ کیا۔ حکومت نے اس حوالے سے دوست ممالک سے بھی صلاح مشورہ کیا۔ دوست ممالک سے انگیجمنٹ بھی جاری رکھی جائے گی۔ نئی حکومت آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کیلئے مجبور ہو رہی ہے۔ پاکستان کو 8سے 10ارب ڈالر کے پروگرام کی ضرورت ہے۔پروگرام پر بات چیت مکمل ہونے میں 8 سے 10ہفتے لگیں گے۔پاکستانی قوم نے ہمیشہ ملک حالات کا کامیابی سے مقابلہ کیا مشکل معاشی حالات کا پوری قوم کو ادراک ہے۔ ہمیشہ سابق حکومتیں نئی حکومت کیلئے معاشی بحران چھوڑ کر گئیں۔دوسری جانب آئی ایم ایف نے قرضے کیلئے پاکستان کے سامنے 20 شرائط رکھ دیں ،روپے کی قدرمیں کمی اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ کرنے کی شرط سرفہرست ہے۔ آئی ایم ایف کی شرط ہے کہ ڈالر کی قیمت میں 15 فیصد تک اضافہ کیا جائے۔ اضافے سے ڈالر کی قیمت 150 روپے تک پہنچ جائے گی۔ آئی ایم ایف نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے اور شرط رکھی ہے کہ بجلی کی فی یونٹ قیمت 21 روپے تک کی جائے۔ مطالبہ پورا کرنے کیلئے چار روپے یونٹ تک اضافہ کرنا ہو گا۔ آئی ایم ایف کی شرط ہے کہ دیا گیا قرض سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی میں استعمال نہیں ہو گا۔ اس وقت سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کابحران ہے سوانڈیکس میں 1328پوائنٹس کی کمی ہوگئی جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے 238ارب ڈوب گئے ہیں روپے کی قدر میں بھی کمی ہوئی ہے۔ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کہ ملک معاشی طورپراپنے پیروں پرکھڑا ہوسکے اور عوام کو بھی ریلیف ملے۔
غوری میزائل کا کامیاب تجربہ
پاکستان نے غوری میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کیا جس میں غوری میزائل روایتی اور جوہری ہتھیاروں کے ساتھ1300کلو میٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، پاکستان کے اس کامیاب تجربے سے دشمن کی نیندیں اڑ گئیں ہیں چونکہ گزشتہ دنوں بھارت اور روس کے مابین جدید ترین میزائل کا معاہدہ ہوا جس کے تحت خطے میں امن و امان کی صورتحال ڈنواڈول ہونے کا خدشہ تھا، روس نے ایک دفعہ پھر بھارت کی جانب اپنے جھکاؤ کا اظہار کیا ہے لیکن پاکستان بھی کسی طرح کسی سے پیچھے نہیں ، جوہری صلاحیت کے اس میزائل کے تجربے سے ملکی استحکام کو مزید مضبوطی ملی ہے، صدر، وزیراعظم اور مسلح افواج کی قیادت نے آرمی اسٹرٹیجک فورسزکمانڈ کو سراہا اور مبارکباد پیش کی۔ پاکستان ٹیکنالوجی کے اعتبار سے بہت زرخیز ملک ہے اور ہر قیمت پر خطے میں امن و امان کے قیام کا داعی ہے لیکن ملکی استحکام پر کسی بھی قسم کی سودے بازی نہیں کی جاسکتی۔
سچی بات میں ایس کے نیازی کے بے لاگ تبصرے
شہبازشریف کی گرفتاری کابغورجائزہ لیاجائے تو پتہ چلتا ہے کہ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کاکیس سابقہ دور حکومت میں ہوا البتہ اداروں نے اب ان پرہاتھ ڈالا ہے اس گرفتاری سے قبل رانامشہود کاخود ساختہ بیان جس میں انہوں نے کہاتھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات طے ہوگئے ہیں اورآئندہ جلدآنیوالے وقت میں پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت ہوگی۔ ایک تو وہ میڈیا سے کچھ دور تھے اس لئے انہوں نے ایک ایسا بے سروپابیان داغ دیا جس کو خودنون لیگ نے بھی تسلیم نہیں کیا۔شہبازشریف کی گرفتاری کے حوالے سے روز نیوز کے پروگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور سینئر اینکر پرسن ایس کے نیازی نے کہا کہ آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کیس پی ٹی آئی حکومت سے پہلے کا ہے،انتقامی کارروائی تب ہوتی اگر اس حکومت میں کیس شروع ہوتا،رانا مشہود نے جان بوجھ کر ایک شوشہ چھوڑا،شہباز شریف نے کتنے کا کام کتنے میں کیا سوال یہ ہے۔چیئرمین نیب سوچ سمجھ کر کام کرتے ہیں،،نیب ریفرنس پر بابر اعوان کو بھی اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا،بلوچستان میں پانی کا بہت مسئلہ ہے،پینے کا صاف پانی نہیں،بلوچستان توجہ طلب معاملہ ہے،وہاں بہت معدنیات ہیں۔سچی بات میں اس موضوع پرسیرحاصل گفتگو کی گئی کہ شہبازشریف کی گرفتاری کوئی انتقامی کارروائی نہیں اورحقیقت بھی یہی ہے اس میں انتقام کہاں سے،اگرکرپشن کی ہے تو سزالازمی ملناچاہیے صرف شہبازشریف ہی نہیں تحریک انصاف کو اپنی صفوں میں بھی اس حوالے سے آپریشن کرناہوگا جب تمام ترمفادات ،تعلقات اوراقرباپروری سے بالاترہوکرکرپٹ افراد کے خلاف گھیراتنگ کیاجائے گا تب ہی نظام ٹھیک ہوگا۔ جب اس ملک کے ادارے آزاد ہوں گے تو پھر نظام خود بخود ٹھیک ہونا شروع ہو جائے گا، حکومت نے اس جانب قدم اٹھانا شروع کردئیے ہیں، امید واثق ہے کہ بہتر نتائج برآمد ہوں گے،ایس کے نیازی کایہ خاصا رہا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ان موضوعات کوزیربحث رکھا جوکہ وقت کی ضرورت ہو اور عوامی مسائل کوحل کرنے کا بھی خاطرخواہ ذکرکیا،پانی کامسئلہ ہویاملک میں کرپشن کا،ایس کے نیازی کاہمیشہ بے لاگ اورسچے تبصرے زبان زدعام رہے۔

نہتے بے گناہ کشمیریوں پر بھارتی فورسز کی بربریت

کشمیریوں پر بھارتی فورسز کی بربریت کی انتہا ہو گئی ہے۔ فورسز آزادی کا اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حق مانگنے والوں کے خلاف ظلم و جبر کا ہر ہتھکنڈا اور حربہ آزما رہی ہیں۔جولائی 2016ء میں برہان مظفر وانی کی بہیمانہ تشدد میں شہادت کے بعد جہاں کشمیریوں کی تحریک حریت کو مہمیز ملی وہیں بھارتی فورسز بھی انسانیت کی دھجیاں اڑاتی نظر آئیں۔نہتے کشمیریوں کیخلاف پیلٹ گنوں کا استعمال کیا گیا جس سے سینکڑوں کشمیری شہید‘ بچوں اور خواتین سمیت دس ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ان میں سینکڑوں عمر بھر کیلئے بینائی سے محروم ہو گئے۔ دنیا نے پیلٹ گنوں کے استعمال کی مذمت کی تو فوج نے مرچی گیس کا استعمال شروع کر دیا اور کچھ عرصہ بعد پیلٹ گنیں پھر استعمال ہونے لگیں۔ اس کے ساتھ ہی کیمیائی ہتھیاروں کے نہتے کشمیریوں کیخلاف استعمال کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترش اور او آئی سی کے سیکرٹری جنرل یوسف بن احمد العثیمین بھی بول پڑے۔ نیویارک سے جاری بیان میں سیکرٹری جنرل گوترش نے کہا ہے کہ کشمیر میں حالات دیکھ رہے ہیں، وہ بہت تشویشناک ہیں۔ غزہ کے شہری ہوں یا کشمیر کے، ان کی حفاظت ہونا چاہیے۔ ہلاکتیں کہیں بھی ہوں ان کی تحقیقات ہونا چاہیے۔ انہوں نے عالمی ادارے کے ارکان ممالک پر زور دیا کہ مسائل حل کرنے کیلئے راستے تلاش کریں۔دوسری جانب او آئی سی کے سیکرٹری جنرل یوسف بن احمد العثیمین نے کہا ہے کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کا پر امن حل نکالنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ بھارت فیکٹ فائنڈنگ مشن کو کشمیر جانے کی اجازت دے۔ کشمیری عوام سے یکجہتی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہی بھارتی مظالم کے خلاف او آئی سی نے انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایک قرارداد منظور کی ہے۔ بھارت کشمیریوں کیخلاف جس طرح مظالم ڈھا رہا ہے یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں‘ کشمیریوں کی نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ بھارت صرف مذمتی قراردادوں سے براہ راست پر نہیں آ سکتا۔ معصوم کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کررہا ہے۔گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کی تاریخ اب مقبوضہ کشمیر میں دہرائی جارہی ہے۔ بھارتی حکومت دہشت گردی بدترین کی مثال قائم کررہی ہے۔ بھارتی حکمرانوں کی پشت پناہی سے ایل او سی پر حالات خراب تر ہو رہے ہیں۔اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے خون سے کھیلی گئی ہولی کا فوری نوٹس لے اور اسے لگام ڈالے۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیرپرمتحدہیں جبکہ برادر اسلامی ممالک نے کھل کر پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔اقوامِ متحدہ کی نمائندہ تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو عالمی دہشتگرد قرار د یتے ہوئے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں یو این مشن کی نمائندوں تنظیموں کو جانے کی اجازت دی جائے تاکہ بھارت کا بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے آسکے۔ گزشتہ روزسانحہ پلوامہ اور شوپیاں میں بھارتی فوج کی درندگی ،سرچ آپریشن کے دوران 20سے زائد افراد کی شہادت جبکہ غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے والوں پر فائرنگ کے سلسلے میں 20سے افراد شہید ہوگئے جبکہ 24گھنٹوں میں دو سو سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔بھارتی فوج نے شوپیاں میں ایک درجن سے زائد مقامات کو آگ لگا کر اپنی دہشتگردی کا ثبوت پیش کردیا ہے۔ اقوامِ متحدہ بھارتی حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے پر عالمی عدالت میں مقدمہ درج کریں ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نریندرمودی کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا اور اْنہوں نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں یو این مشن کی نمائندوں تنظیموں کو جانے کی اجازت دی جائے تاکہ بھارت کا بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے آسکے۔بے پایاں اور صبرآزما جدوجہد کے دوران کشمیری عوام اب تک لاکھوں پیاروں کی جانوں کے نذرانے پیش کرچکے ہیں اور ہر بھارتی ہتھکنڈے پر انکے دلوں میں آزادی کی نئی تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ مودی سرکار کے دور میں تو کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا سلسلہ اور بھی تیز ہوگیا ہے جبکہ مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کے علاوہ پاکستان سے ملحقہ آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات پر بھی غاصبانہ تسلط کے منصوبے بنانا شروع کر دیئے ہیں جس کے تحت مودی سرکار پاکستان پر عملاً جنگ مسلط کرنے کی تیاریوں میں ہے۔ پہلے شوپیاں اور اسلام آباد (اننت ناگ) میں خون کی ندیاں بہائی گئیں اور اب کولگام میں بدترین دہشت گردی کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ شکست خوردہ بھارتی فوج کشمیریوں کی جدوجہد آزادی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر بدترین دہشت گردی کا ارتکاب کر رہی ہے۔ دختران ملت سے وابستہ خواتین کو گرفتار کرنے اور ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرنے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ بھارتی فوج کی وحشیانہ قتل و غارت گری ساری دنیا دیکھ رہی ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار اداروں اور ملکوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان کشمیریوں کے صحیح وکیل ہونے کا کردار ادا کرے اور سفارتی سطح پر بھرپور تحریک چلاتے ہوئے بھارتی دہشت گردی کو عالمی دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔ او آئی سی مضبوطی سے اس کیس کو بااثر ممالک کے سامنے رکھے اور بھارت کی بربریت سے روکنے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کا حل تجویز کر دیا‘ اس پر عمل کرانے کی ضرورت ہے۔ کشمیریوں کوبے رحم بھارتی بھیڑیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ آج پوری قوت سے کشمیریوں پر ہونیوالے بھارتی مظالم عالمی برادری کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔

حقیقی اور اصلی تابعدار

سوچ ہی رہا تھاکہ آج کالم کیلئے کس موضوع کا انتخاب کیا جائے ۔وطن عزیز کے مسائل پر لکھ لکھ کر تو قلم کی سیاہی خشک ہو گئی بھلا لکھنے سے بھی کہیں مسائل حل ہوئے ہیں۔ بقول شاعر
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتااچانک ذہنی افق پر ایک لفظ ’’ تابعدار‘‘ کا نزول ہوا سوچا چلو اس پر ہی قلم آرائی کر لیتے ہیں ۔معزز قارئین آپ بھی لفظ’’ لوٹا‘‘ کی تکرار سے یقیناًاکتا چکے ہیں ۔وطن عزیز میں لوٹا کریسی کی اصطلاح اتنی قدیم ہے کہ بار بار اسے استعمال میں لاتے ہوئے خود بھی ایک طرح کی شرمندگی کا احساس ہوتا ہے اپنے قارئین کے تفنن طبع ،ذائقے کی تبدیلی اور ایک ہی لفظ لوٹا پر مرکوزیت سے انہیں نجات دلانے کیلئے اس کے متبادل لفظ ’’ تابعدار‘‘ ہی من کو بھایا ۔چونکہ تابعدار بھی لوٹے کی تمام صفات کا حامل ہوتا ہے عرف عام میں وفاداریاں تبدیل کرنے والے کو لوٹا کہتے ہیں ۔یہ صفات تو تابعدار میں بھی بدرجہ اتم موجود ہوتی ہیں ۔ریا کاری ،عیاری مکاری اور بد عہدی کی خصلتیں دیکھنی ہوں تو صرف ایک تابعدار کو ہی دیکھ لیں ۔ویسے بھی لوٹا چونکہ طہارت کیلئے استعمال ہونے والا برتن ہے اور بے ضمیروں کو اس برتن سے نسبت دینا لوٹے کی توہین ہے ۔انگریز کا نو آبادیاتی نظام جو ابھی تک یہاں جاری و ساری ہے اس وقت سے آج تک سرکاری عہدے داروں کو خطوط اور درخواستیں ارسال کی جاتی ہیں ان کے آخر پر لفظ آپکا تابعدار لکھا جاتا ہے ۔احساس کمتری کی نشانی اور قول و فعل کے تضاد کا مظہر یہ لفظ ہمیں بطور انگریز کی نشانی ورثے میں ملا ۔کبھی تابعدار لکھنے سے بھی انسان کسی کا تابعدار ہوا ہے ۔ہماری عوام آزادی کے بعد بھی بیداری سے محروم رہی اور ابھی تک خود کو غلامانہ سوچ کا ہی خادم بنا رکھا ہے ۔یہ زندگی کے جمود کی علامت ہے ۔معزز قارئین بات کدھر چلی گئی ۔اگر تابعدار کا باس کہے کہ اس نے رات کے وقت سورج کو اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتے دیکھا ہے اور ساتھ یہ دعویٰ بھی کرے کہ اس نے اس سمے تاروں کی بارات بھی جاتے ہوئے دیکھی ہے تو تابعدار جھٹ سے کہے گا کہ میں خود اس کا چشم دید گواہ ہوں ۔حقیقی تابعدار کبھی بے وفا نہیں ہوتا ،کبھی دھوکہ نہیں دیتا ،وفاداری تو انسانیت کا جوہر خاص ہے۔مرزا غالب نے بھی وفا داری کو موضوع سخن بناتے ہوئے کہا

وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے
مرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو
وطن عزیز میں تابعداروں کی فصل بہتات سے تو ہے لیکن بے میل محبت،بے ریا ارادت اور بے غرض عقیدت رکھنے والے تابعدار یہاں حال حال ہی نظر آتے ہیں ،برعکس اس کے غرض کے تابعدار کثرت میں ہیں ۔وفاداری بشرط استواری پر کامل ایمان رکھنے والے تابعدار سرد و گرم موسم کی چیرہ دستیوں کے باوجود کبھی وفاداری نہیں بدلتے ۔ اکثریت ہوا کے رخ کی طرح اپنا قبلہ تبدیل کرتی رہتی ہے ۔بعض عالم و فاضل سیاسی مدبر اپنے لیڈر کے سفرو خضر کے ساتھی ،خلوت و جلوت کے رازداں کبھی خدمت گزارانہ ،جاں نثارانہ اور تابعدارانہ اوصاف سے متصف تھے لیکن ان کے جی میں کیا آئی کہ وہ تابعدار نہ رہے حلیف سے رقیب بن گئے ۔یہ بھی تو انسانی فطرت ہے کہ انسان بدلتے حالات کے ساتھ خود کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے ہم انہیں الزام نہیں دے سکتے ان سے بے وفائی کا گلہ بھی نہیں کر سکتے کیونکہ جو بدلتے حالات کی پرواہ نہیں کرتے وہ دنیاوی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں چونکہ تابعدار ان حالات کی نزاکت سے غافل نہیں ہوتے وہ آندھی اور طوفان سے قبل ہی اپنی چیزوں کو سمیٹنے کی خو رکھتے ہیں اور اپنے نقصان سے قبل ہی موقع محل کو جانچ لیتے ہیں ۔جس لیڈر کی گود میں بیٹھ کر یہ تابعدار پروان چڑھتے اور جوان ہوتے ہیں وقت پڑنے پر اسے بھی کک لگانے سے دریغ نہیں کرتے کوئی انہیں فصلی بٹیرے کہتا ہے اور کوئی موقع پرست سے تشبیہ دیتا ہے ،کوئی کچھ کہتا پھرے ۔تاہم تابعدار کی معراج ذہانت کی داد دینا پڑتی ہے ان کو اپنے مقاصد ہی عزیز ہوتے ہیں اس لئے پانسے پلٹنا ان کی مجبوری خیال کی جانی چاہیے ،انہیں دوش دینا ،ان پر الزام دھرنا ناانصافی ہو گی ۔تابعدار ہمیشہ پیارے وطن میں مارشل لاء لگوانے کا سبب رہے اور جنرلوں کے ساتھ مل کر نئی پارٹیوں کی داغ بیل ڈالنے میں ان کا کردار مسلمہ رہا ۔ان کے سروں پر ہمیشہ جنرلوں کا دست شفقت رہا۔یہ اپنے لیڈر کے ہم خیال تابعداری کے حلقے سے بغاوت کر کے آمروں کی ہم نوائی میں جا بیٹھتے ہیں اور ان کے اتنے نزدیک ہو جاتے ہیں کہ لیڈر کے بیٹھنے کے بھی جگہ نہیں رہتی کئی دیار غیر سے آمدہ یعنی امپورٹد تابعدار شان و شوکت سے وطن عزیز میں نزول فرما کر طلوع ہوتے لیکن غروب کے وقت بھی دیار غیر کا انتخاب کرتے ہیں اور ایسے پسپا ہوتے ہیں کہ دوبارہ وطن عزیز کی طرف مڑ کر دیکھنے کے روادار بھی نہیں رہتے۔ہم ان تابعداروں کے تصوراتی کردار تلاش کرنے والے یہ نہیں جانتے کہ یہ کردار بھی آمد کی طرح ہوتے ہیں اپنے لیڈر سے پیمان وفا توڑ کر یہ ڈکٹیٹر کی راہ میں آنکھیں بچھاتے ہوئے اس طرح بچھ جاتے ہیں کہ انہیں اچھے لگتے ،پسند آتے اور من کو بھاتے ہیں ۔انہوں نے ہی ایوب خان کو جواز دیا ،اس کے ہاتھ مضبوط کئے ،حکمرانی کے گر سکھائے اور یہی یحیےٰ خان کے دست و بازو ٹھہرے ۔اسی نوع اور افتاد طبع کے تابعداروں نے ضیاء الحق کو طاقت فراہم کی اس سے وزارتیں ،مراعات اور الطافات بٹورے ۔اسی قماش کے تابعداروں نے نوز شریف کی چھتر چھاؤں ،سرپرستی اور پشت بانی میں پرورش پائی اور جب ان پر آزمائش کی گھڑی آئی تو یہی تابعدار جنرل پرویز مشرف کی الفت اور زلف گرہ گیر کے اسیر بن گئے ۔کہتے ہیں کہ ضرورت مند دیوانہ ہوتا ہے اسی اصول کے تحت کبھی تو تابعداروں کی بڑی آؤ بھگت ہوتی ہے اور کبھی ان سے سخت بیزاری اور نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے اپنی وابستگیاں اپنی قربان گاہ پر لٹکانے والے ان تابعداروں کے ڈسے ہوئے لیڈر اصولوں پر سودے بازی نہ کرنے کے عہد و پیمان باندھتے نظر آتے ہیں اور کبھی بے وفا تابعداروں کو اپنا اغوا شدہ گروپ ثابت کرنے کی بھرپور ترجمانی کرتے ہوئے خود بھی تابعداروں کی صف میں شامل ہو جاتے ہیں پھر عوام کو ان کے انقلاب کے نعرے صرف ان کے اپنے اقتدار کی بقاء کے نعرے ہی نظر آتے ہیں ۔کبھی ان تابعداروں کی تمام بہاریں وردی کے تحفظ سے مربوط ،معمون ،موسوم اور منسوب تھیں لیکن پھر ان بے وفاؤں کو سابقہ لیڈر نے گلے لگا لیا ۔یہ سلسلہ اسی طرح چلتا جا رہا ہے۔معزز قارئین ہم بھی کتنے احمق ہیں کہ بے وفاؤں سے وفاؤں اور اصولوں کی توقع رکھتے ہیں انہوں نے مشرف بہ قاف ہو کر وزارتوں کے مزے بھی لوٹے اور پھر اپنا مستقبل روشن اور مامون بنا لیا ۔آج پھر وہی نقشہ ابھر رہا ہے ۔ نواز شریف اور اب شہباز شریف کی گرفتاری پر چند ایک سیاسی رہنماؤں نے باہر نکل کر احتجاج کیا باقی سب نے چپ کا روزہ رکھ لیا ۔اب وہ حیرانگی و سراسیمگی کا شکار ہیں کہ کیا کریں ۔

افغانستان میں سویلین ہلاکتوں پر تشویش

حالیہ کچھ عرصے میں پڑوسی ملک افغانستان میں طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے . یہ تازہ اور بڑے پیمانے پر حملے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں، جب چند دن بعد افغانستان میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔ افغانستان میں موجود اقوام متحدہ کے مشن کا ماننا ہے کہ رواں برس کے پہلے نو ماہ کے دوران خودکش حملوں کے نتیجے میں ہونے والی شہریوں کی ہلاکتوں میں گزشتہ برس کے مقابلے چھیالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ افغان اور امریکی سکیورٹی فورسز کی گرفت کتنی مضبوط ہے.تمام تر کوششوں کے باوجود کامیابی کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔عالمی ادارہ پیو ریسرچ بھی اسی قسم کے خدشات ظاہر کر رہا ہے.مذکورہ ادارے کا کہنا ہے کہ 17 سالہ طویل جنگ بھی امریکہ کو افغانستان میں کامیابی نہیں دلا سکی ہے ،اتنے سال گزرنے کے باوجود امریکہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکا ہے ۔پیو ریسرچ سینٹر کے حالیہ سروے کے مطابق امریکیوں کے خیال میں امریکہ افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ میں ناکامی سے دوچار ہوا ہے۔گزشتہ ماہ کے سروے کے مطابق 49 فیصد افراد نے رائے دی کہ امریکہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ۔35 فیصد کے مطابق امریکہ اپنے زیادہ تر مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے ۔16 فیصد کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ امریکا کو کامیابی ملی یا ناکامی ملی۔امریکیوں کو تو اپنی کامیابی کی فکر ہے مگر اصل تشویش ناک بات سویلین کی ہلاکتیں ہیں۔کئی عالمی ادارے اس پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔افغان پارلیمنٹ نے بھی معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ایوان زیریں کے سپیکر عبدالرؤف ابراہیمی نے اقوام متحدہ کے مشن یو این اے ایم اے(UN Assistance Mission in (Afghanistan کی رپورٹ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے ہوائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکتیں تشویش ناک ہیں ان کی روک تھام ہونی چاہیے۔اقوام متحدہ کے 15 فروری کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس 3438 عام افغان شہری ہلاک جب کہ سات ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔ ان میں سے دو ہزار تین سویلین باشندے ہلاک ہوئے تھے۔اقوام متحدہ کا یہ آفس2009 سے ایسے معاملات کا ریکارڈ مرتب کر رہا ہے۔اسی طرح اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے کہا ہے کہ رواں برس کی پہلی سہ ماہی کے دوران دہشت گردانہ حملوں اور عسکری کارروائیوں کے دوران افغان شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور 763 افغان شہری مارے گئے اور 1500کے قریب زخمی ہوئے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں شدت پسندوں کے حملوں کے علاوہ شہری ہلاکتوں کی بڑی وجہ امریکی فوج کے فضائی حملے بھی بنے۔امریکی اتحاد کے فضائی حملوں کے سبب شہری ہلاکتوں کی شرح چھ فیصد رہی اور مجموعی طور پر2017 میں ایسے فضائی حملوں میں 295 عام شہری ہلاک ہوئے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس اگست میں افغانستان سے متعلق اپنی نئی پالیسی کے تحت اس ملک میں فضائی حملوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی فضائی حملوں میں اضافے کے جواب میں شدت پسند جنگجووں نے افغان دار الحکومت کابل پر اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا تھا۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کابل میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔یہ صورتحال یقیناًافغان سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کیلئے باعث تشویش ہے۔چونکہ 2015 سے زیادہ آپریشن اب افغان سکیورٹی فورسز کر رہی ہیں اس لئے ان کے خلاف تنقید کا سلسلہ بھی بڑھ گیا ہے.عوامی سطح پر بھی احتجاج دیکھنے میں آ رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال امریکی انتظامیہ اور غنی انتظامیہ کے حق میں نہیں ہے۔عوامی غیض و غضب بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔پارلیمنٹ سے بھی اگر آوازیں بلند ہو رہی ہیں تو اس سے واضح مراد یہی ہے کہ سترہ سالہ کوششوں پر پانی پھرنے جا رہا ہے۔نئے پارلیمانی انتخابات اگر خونی ہوتے ہیں کہ جس کا شدید خطرہ ہے تو پھر افغان عوام یک آواز ہو کر نیٹو اور امریکی افواج کے خلاف اٹھ کھڑی ہو گی.طالبان قیادت انتخابات کو روکنے کی دھمکی دے چکی ہے۔پیر کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں طالبان قیادت نے اپنے جنگجووں کو انتخابی عمل انجام دینے والے سرکاری اہلکاروں اور سکیورٹی فورسزپر حملوں کا حکم دیا ہے۔طالبان نے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور عوام سے انتخابات کے بائیکاٹ کی بھی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ انتخابی عمل کا مقصد “محض ان کٹھ پتلیوں کو قانونی جواز فراہم کرنا ہے جنہیں قابض قوتوں نے افغانستان پر مسلط کیا ہے۔”بیان میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ سکیورٹی فراہم کرکے انتخابی عمل کو کامیاب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں نشانہ بنایا جانا چاہیے اور طالبان اس امریکی سازش کو روکنے اور ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔طالبان کی اس دھمکی کے بعد 20 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل اور دوران سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

Google Analytics Alternative