کالم

یہ فسادی دہشت گرد ۔۔۔!

اس بات سے بھلا کس ذی شعور کو انکار ہو سکتا ہے کہ پاکستان اپنے قیام کے روز اول سے ہی ہر ممکن سعی کرتا آیا ہے کہ بقائے باہمی کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے خطے کے ممالک کے ساتھ خوشگوار ہمسائیگی پر مبنی تعلقات استوار رکھے جائیں مگر بدقسمتی سے اس ضمن میں تاحال اسے جزوی کامیابی ہی حاصل ہوئی ۔ اس حوالے سے یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ حالیہ چند دنوں میں کچھ اندرونی اور بیرونی حلقے ملک عزیز کے خلاف زہر افشانی اور افواہ سازی کو اپنا مستقل چلن بنائے ہوئے ہیں اور اس تناظر میں شیطانی عزائم کی تکمیل کی خاطر کسی بھی حد تک جانے پر آمادہ نظر آتے ہیں ۔ وزیرستان میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کو دلیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے ۔ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ملک کے اندر بھی بعض حلقے اس حوالے سے انتہائی منفی روش اپنائے ہوئے ہیں اور انھیں راء، این ڈی ایس اور کئی بیرونی ایجنسیوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ یہ حلقے اپنے شر انگیز رویوں سے اجتناب برتیں گے کیونکہ اگر انھوں نے اپنی روش نہ بدلی تو اس کا خمیازہ بہرحال انھیں بھگتنا ہو گا ۔ سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ۔ اس امر میں کسی کو ذرا سا شبہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام نے عالمی دہشتگردی کے خاتمے میں جو کردار ادا کیا ہے ، اس کا عشرِ عشیر بھی کسی دوسرے نے نہیں کیا ۔ غیر جانبدار مبصرین نے واضح کیا ہے کہ اس بات سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے کہ پاک قومی سلامتی کے اداروں نے دہشتگردی کے اس ناسور کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے حالانکہ اس حوالے سے خود پاکستانی قوم اور افواج کو اس ضمن میں جانی اور مالی دونوں لحاظ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا، کیونکہ یہ امر کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ ستر سے اسی ہزار کے مابین پاکستانیوں نے اس حوالے سے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ یہ امر اور بھی توجہ کا حامل ہے کہ عالمی دہشتگردی کے خاتمے کی اس جدوجہد میں تقریباً 8 ہزار ان افراد نے بھی اپنی جان جانِ آفرین کے سپردکی جن کا تعلق پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں سے ہے ۔ واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے ۔ اس ضمن میں قدرے تفصیل سے جائزہ لیتے انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی، ہر لحاظ سے ایک دوسرے سے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور ان کے برادرانہ روابط تاریخی حوالوں سے بہت مضبوط ہیں ۔ البتہ اس بابت سبھی آگاہ ہیں کہ بھارت، امریکہ اور بعض دیگر قوتیں اپنے سطحی مفادات کی خاطر ان دونوں ممالک کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کرتی آئی ہیں اور یہ سلسلہ ہنوذ پوری شدت سے جاری ہے ۔ مگر توقع کی جانی چاہیے کہ پاکستان اور افغانستان کے مخالف اپنی سازش میں کامیاب نہیں ہوں گے ۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کی جری افواج نے بیتے چند برسوں میں دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے جو شبانہ روز قربانیاں دیں ، ان کا معترف ہر ذی شعور ہے ۔ ایسے میں ہونا یہ چاہیے تھا کہ پوری عالمی برادری اس امر کا اعتراف کرتی اور وطن عزیز کی قربانیوں کو خاطر خواہ ڈھنگ سے سراہا جاتا مگر عملاً اس کے الٹ ہو رہا ہے اور الٹا پاکستان کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے ۔ یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ٹرمپ، مودی اور این ڈی ایس نے ڈو مور کی گردان کو اپنا دُم چھلا بنا رکھا ہے اور اٹھتے بیٹھتے اسی کا ورد کرتے رہتے ہیں ۔ حالانکہ ’’کلبھوشن یادو ‘‘ جیسے دہشتگرد کی گرفتاری کے بعد بھی اگر دہلی اور این ڈی ایس اپنی پارسائی کے دعوے سے باز نہ آئیں تو اسے جنوبی ایشیاء کی بد قسمتی کے علاوہ بھلا دوسرا نام کیا دیا جا سکتا ہے مگر آفرین ہے بھارتی حکمرانوں اور این ڈی ایس پر کہ اپنی شرانگیزیوں پر بجائے نادم ہونے کے وہ اپنی چالبازیوں سے باز آنے کا نام ہی نہیں لے رہے ۔ ایسے میں اسے عالمی امن کی بد قسمتی ہی قرار دیا جانا چاہیے کہ بھارت ،اسرائیل اور کچھ امریکی حلقے تسلسل کے ساتھ وطن عزیز کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرتے چلے آ رہے ہیں اور یہ سلسلہ رکنے کی بجائے ہر آنے والے دن کے ساتھ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ دشمن ان دنوں بھی پاکستان کے خلاف وہ تمام حربے اور چالیں استعمال کر رہا ہے جس کے نتیجے میں ہمارے ملک کی جڑوں کو (خدانخواستہ) کھوکھلا کیا جا سکے اور مذہبی، لسانی، نسلی و جغرافیائی تعصبات کو ابھار کر ایسا ماحول قائم کیا جائے جو ان کے مکروہ عزائم میں معاونت کا سبب بن سکے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاک افواج اور قوم نے ہر قدم پر یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان خدا کے فضل سے قائم رہنے کے لئے وجود میں آیا ہے اور ہر آنے والا دن اسے مضبوط سے مضبوط تر بنائے گا اور پاکستان کے ازلی مخالفین اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود بالآخر ناکام اور نامراد ہوں گے ۔ سنجیدہ مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے سبھی جانتے ہیں کہ اصل حقائق اس بھارتی، امریکی اور اسرائیلی پراپیگنڈے سے مختلف ہی نہیں بلکہ قطعاً متضاد ہیں اور اصل حقیقت تو یہ ہے کہ را، این ڈی ایس، موساد اور سی آئی اے پاکستان کے اندر تخریب کاری کو ہر ممکن ڈھنگ سے فروغ دینے کے لئے کوشاں ہےں اور اس ضمن میں ہر وہ حربہ آزمایا جا رہا ہے جس کا تصور بھی کسی مہذب معاشرے میں نہیں ہونا چاہیے ۔ امریکہ بھی ہمہ وقت ’’ڈو مور‘‘ کی اپنی راگنی الاپتا رہتا ہے ۔ دوسری جانب نہتے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا سلسلہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے مگر عالمی برادری کا ضمیر ہے کہ جاگنے کے لئے تیار نہیں ۔ ایسے میں امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان کے سبھی سماجی ،سیاسی و دیگر طبقات اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ کا فریضہ سرانجام دیں گے اور آنے والے دنوں میں پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی ان بلندیوں پر پہنچانے کا عزم ضمیم کریں گے جس کا خواب بانی پاکستان اور تحریک پاکستان کے دیگر زعماء نے دیکھا تھا ۔ اس بابت میڈیا اور سول سوساءٹی کے سبھی حلقے بھی اپنی ذمہ داریوں کو زیادہ موثر ڈھنگ سے نبھانے کی کوشش کریں گے اور عالمی برادری اپنی وقتی مصلحتوں کو خیرباد کہہ کر اپنا

حوصلے بلندہیں

لمحہ موجود;39; پاکستان کےلئے ایک اہم وقت ہے سازگار لمحہ بھی ہے ہمارا ملک جو ناخوشگوار‘ مشکل اور پیچیدہ مالیاتی مراحل طے کرنے کے بعد اپنی معاشی ہیءت ِ قلبی کے عمل سے گزر کر قدم بہ قدم اپنی ترقی یافتہ منزل کو بس پہنچا ہی چاہتا ہے ایسا لمحہ پْرعزم ہے جو پاکستان کوابھرتی ہوئی معیشتوں کی صف میں کھڑاکرسکتا ہے حیران اور متعجب ہونے کی کیا ضرورت‘ کئی ترقی پذیر ایسی اقوام ہیں جو اُبھریں ، گریں اور اتھاہ گہرائیوں میں گرکر دوبارہ اُبھری ہیں ،فیصلہ کن قیادت کے مالیاتی فیصلوں کا جتنا تمسخر اُڑانا تھا ہم یہ سب نازبیا تماشا کرچکے لیکن کیا ہ میں ہم پاکستانیوں کو اس طرح سے سوچنے کا بھی کوئی حق نہیں یہی حقیقت نہیں ہے دنیا جسے اب ماننے لگی ہے عالمی مالیاتی اداروں میں یہ بحث ہورہی ہے کہ عالمی بنک نے پاکستان کو گزشتہ برسوں میں جو اربوں کھربوں کے ترقیاتی منصوبوں کےلئے قرضے دئیے تھے کیا وہ قرضے واقعی پاکستان میں انسانی فلاح وبہبود کے منصوبوں پر لگائے گئے یا اُن قرضوں کا بڑاحصہ ’کک بیکس‘ کی صورت میں پاکستان کے ماضی کے حکمرانوں کے غیر ملکی اکاونٹس میں منتقل ہواجبھی تو آج کی سنجیدہ ملکی قیادت سخت امتحان کی گھڑی میں کھڑی ہے پاکستانی قوم کے سامنے یہی سلگتے سوالات اُن کمروں کو دہراکئے جارہے ہیں کیا قوم ہاتھوں پر ہاتھ دہرکر کسی غیبی امداد کی منتظر ہوجائے جو ناممکن ہے تحریک انصاف کے قائد اورملکی وزیر اعظم عمران خان کے ان سوالوں کا جواب اُن کے سیاسی مخالفین کے پاس تو نہیں ہے اُ ن کے ذاتی مخالف میڈیا منیجر اپنی ’معاندانہ پُرزورلہجوں ‘ میں عوام کے ذہنوں میں ڈھونس رہے ہیں مگر عوامی طبقات میں یہ رائے مضبوط ہے کہ قوم کی واضح اکثریت نے تحریک انصاف کی اعلیٰ حکومتی قیادت کے حالیہ کٹھن اور مشکل فیصلوں کو قبول کرکے قومی محنت کے نتاءج کے اور معاشی اصلاحات کے سنگ میل تک پہنچنے کا عزم و ارادہ کرلیاہے کئی معاشی چیلنجز کے لڑکھڑاتے ہوئے پل عبورکرنے کے بعد عالمی معیشت کے میدان میں اقتصادی حرکیات کی بتدریج تبدیلی کو پاکستان میں عمیق اور تجزیاتی تحقیق کی نظر سے دیکھنے کے عمل کے بعد پتہ چلتا ہے کہ پاکستان اگر یونہی نئے سرے سے اپنے معاشی ترقی کے میدان میں محوسفر رہا تو پھر یہ کہنا بے جانہ نہ ہوگا کہ پاکستان عالمی معیشتی منظرنامہ میں اگلے دس پندرہ برسوں میں اپنا نمایاں اور اہم مقام بنانے میں ضرور کامیاب رہے گا، آج اگر پاکستان میں معاشی ترقی کے امتحانات درپیش ہیں توہم بحیثیت قوم یہ کیوں فراموش کردیں کہ’ہ میں ترقی کرنے کے مواقع کیا کبھی میسر نہیں آئیں گے;23839;عالمی بنک کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ گروپ ایم ایس سی آئی نے ایک حالیہ سروے میں ان ہی خطوط پر واضح نشاندہی کردی ہے کہ پاکستان میں چندبرس پیشتر ہر سال دو ملین سے زائد نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں یہ نمو معاشی ترقی کےلئے زبردست مواقع کی اہمیت رکھتی ہے لیکن اس کی وجہ سے چیلنجز اپنی جگہ ضرورآئیں گے، عالمی معیشت اتنی سست رفتار ہو تو نئے روزگار کے متلاشی لوگوں کو کہاں کھپایا جاسکتا ہے;238; ظاہر ہے اِس ابھرتے ہوئے ماحول میں پاکستان کو مزید نمو اور روزگار پیدا کرنے اور متحرک ابھرتی ہوئی معیشتوں کے گروپ میں شامل ہونے کےلئے اپنی مالیاتی پالیسیوں کی مضبوطی پر انحصار کرنا ہوگا یہاں سے تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے فیصلوں پر انحصار کرنا ہوگا جس کے حوصلہ افزاء اشارے عالمی مالیاتی کی جانب سے آرہے ہیں کوئی اورنہیں یہ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ اگلے 28 سالوں میں پاکستان کو 2 کروڑ ڈالر ٹراوَن کی معیشت کی بنیادوں پر لاکھڑا کیا جاسکتا ہے اگر ملک اپنے معاشی اصلاحات میں ثابت قدم رہتا ہے اور اس کی آبادی کی شرح میں 1;46;2 تک کم کرنے کا تشفی انتظام ہوجاتا ہے ورلڈ بینک کے ڈائریکٹرکاماننا ہے کہ ;34;مسلسل اصلاحات کے ساتھ پاکستان اگلے 28 سالوں میں 100 سے ایک ٹریلین ڈالر سے زائد کی معیشت بن کر عالمی مالیاتی صفوں میں اپنا منفرد مقام بنالے گا اس نکتہ نظر سے پاکستان کی معاشی ترقی کے گراف کی جانچ پڑتال کرنے والوں کی اس ٹھوس دلیل سے مفر نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان دنیا کی چھٹی بڑی آبادی والا ملک ہے ،جہاں 20;245;35 سال عمر رکھنے والے افراد 60 فیصد سے زیادہ ہیں اس پر غوروخوض کیئے بناء فی کس آمدنی کے اعداد وشمار کے صحیح اندازے سامنے نہیں آسکتے ساتھ ہی یہ نکتہ بھی یکسر نہیں بھلایا جاسکتا کہ پاکستان ترقی پذیر ملک ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے اور پاکستان فی الحال اقتصادی لبرلائزیشن کے عمل سے بھی گزر رہا ہے ،جس میں نجکاری بھی شامل ہے جس کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کرنا بجٹ کے خسارہ کو یوں کم بھی کیا جاسکتا ہے’چین پاکستان اقتصادی کوریڈور‘ ایک بہت اہم معیشتی ترقی کا سنہری موقع پاکستان کے پاس ہے یہ منصوبہ $ 62 بلین ڈالرکا ہے سعودی عرب نے اسی منصوبے میں 20 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جس کے تمام تر امیدافزاء اشارے پاکستانی اقتصادی استحکام کی طرف بڑھتے نظر آرہے ہیں دیگر ممالک میں اگر چین اور بھارت کی شرح فیصد کی ترقی کو دیکھیں توہ میں علم ہوگا کہ چین اور بھارت7;245;6 فیصد کی شرح سے ترقی ہورہی ہے جبکہ برازیل اور روس میں شدید کساد بازاری کی ایک مدت کے بعد وہاں بہترین علامات دکھائی دے رہی ہیں اشیاء خصوصا تیل کی کم قیمتوں نے اشیاء کے برآمد کنندہ ممالک پر شدید ضرب لگائی ہے اور مشرق وسطی کے ممالک جاری تنازعات اور دہشت گردی سے مسلسل نبردآزما ہیں ایسی صورتحال میں ہم کیوں نہ تسلیم کریں کہ ابھرتی ہوئی معیشتیں اپنے ہاں بھی عبوری تبدیلی سے گزر رہی ہیں یہ وہ تبدیلیاں ہیں جو چیلنجز پیدا کررہی ہیں لیکن مواقعوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا ان میں سے دو ممالک میں سے ایک کا تعلق خاص طورپر پاکستان سے بنتا ہے زیرنظر کالم کے اعداد وشمار اور پاکستان کی معاشی پیش بندیوں کے اشارے ہم نے عالمی بنک کی جاری کردہ جامع رپورٹ کی مدد سے پیش کیئے ہیں عالمی بینک نے پاکستان کے اقتصادی مستقبل کے بارے میں ڈیڑھ برس قبل ایک جامع رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو اپنے قیام کی سوویں سالگرہ تک یعنی آئندہ28 سال میں اوپر کی سطح کے متوسط آمدنی والے خوشحال ملکوں میں شامل ہونے کے لئے ابھی مزید سخت فیصلے کرنا ہوں گے، یاد رہے کہ عالمی بنک کی یہ رپورٹ پاکستان کے لئے ایک معاشی روڈ میپ ہے ‘جو اسلام آباد میں ہونے والی انسانی سرمایہ کاری کانفرنس میں جاری کی گئی تھی اس میں کئی مفید اور قابل عمل مشورے شامل ہیں جن پر عمل کرکے پاکستان نہ صرف موجودہ مالی بحران پر قابو پا سکتا ہے، بلکہ ایک قابل لحاظ اقتصادی قوت بھی بن سکتا ہے رپورٹ میں اعداد وشماردے کر بتایا گیا ہے کہ اپنے قیام کے ابتدائی تیس برسوں میں پاکستان میں ترقی کی رفتار موجودہ سست اور غیر متوازن رفتار سے کہیں زیادہ تھی لوگوں کا معیار زندگی بلند ہو رہا تھا مگر بعد کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے دستیاب وسائل کا موثر استعمال نہیں کیا گیا اور بہانہ بازی کی پالیسیاں چلتی رہیں اور اس وقت کے کمزور اور کرپٹ ریونیو نظام کی وجہ سے ملک کے نا اہل معاشی مینیجرز معاشی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہ ہوسکے عالمی بینک کی رائے میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ عشرے میں کئے جانے والے مالیاتی پالیسی فیصلے پاکستان کے اقتصادی مستقبل کا فیصلہ کریں گے بینک کی سفارشات 8نکاتی ایجنڈے پر مبنی ہیں جس کے مطابق خوشحال ملک بننے کےلئے پاکستان کو پہلے مرحلے میں آبادی پر کنٹرول کرنا، ٹیکس اصلاحات لانا اور تعلیم و صحت کا بجٹ بڑھانا ہوگا آبادی میں اضافے کی موجودہ شرح 2;46;4فیصد سے کم کرکے2047تک اسے 1;46;2 فیصد تک لانا ہوگا ٹیکس ریونیو کی شرح جی ڈی پی کے 13فیصد سے بڑھا کر 20فیصد کرنا ہوگی علاقائی تجارت کا حجم ساڑھے 18ارب سے بڑھا کر 58ارب ڈالر تک پہنچانا ہوگا کاروبار میں آسانیوں کے حوالے سے اس وقت پاکستان دنیا کے ملکوں میں 136ویں نمبر پر ہے ملک کو50ویں نمبر تک لانا ہوگا پاکستان کے معاشی بحران کی بڑی وجہ ڈھانچہ جاتی چیلنجز ہیں ترقیاتی اخراجات کےلئے بیرونی قرضوں ، غیر ملکی امداد اور ترسیلات زر پر انحصار کیا گیا ہے زرعی شعبے کا ملکی جی ڈی پی میں حصہ 20فیصد ہے عالمی بینک نے تجویز دی ہے کہ موجودہ صورت حال پر قابو پانے کےلئے کاروباری ماحول بہتر بنایا جائے وفاقی اور صوبائی سطح پر شفافیت کو یقینی بنائی جائے علاقائی روابط بڑھانے کےلئے سی پیک میں توسیع کی جائے شفافیت اور احتساب کے متواتر عمل سے گورننس اور اداروں کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائے، یہ سب ممکن کیوں نہیں ہوسکتاعوام نے اپنے آپ کو قومی یکجہتی کے ترقی پذیر اس دھارے میں یونہی منسلک کئے رکھا اور دہشت گردی کے خلاف اپنی افواج کے ہم قدم رہے مذ ہبی فرقہ ورانہ تعصبات کےخلاف سینہ سپر رہے تو پھرکوئی وجہ نہیں ہے کہ ابھرتی ہوئی علاقائی معیشتوں میں پاکستان شامل ہونے سے پیچھے رہ جائے ہے ’ہمت ِ مرداں مدد ِ خدا‘ ۔

ایمنسٹی اسکیم………..فائدہ اٹھانے کا آخری موقع

وزیراعظم نے بالکل درست کہا کہ ایک فیصد لوگوں کے ٹیکس پر 99فیصد کی خدمت نہیں کی جاسکتی ۔ ایمنسٹی اسکیم اسی لئے لائی گئی ہے کہ اس سے عوام بھرپور فائدہ اٹھائے مگر اس کیلئے ایک وقت مقرر کردیا گیا ہے اس کے بعد فائدہ نہیں اٹھایا نہیں جاسکتا، ملک اور بیرون ملک سے پاکستانیوں کے اثاثوں کی معلومات آچکی ہیں یہ بات تو وزیراعظم نے ایک خصوصی پیغام کے ذریعے قوم سے کہی لیکن من حیث القوم ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ اگر ہم ملک کی ترقی چاہتے ہیں تو ٹیکس ادا کریں لیکن ہمارے یہاں حکومت سے ایک گزارش ہے کہ وہ ٹیکس ضرور حاصل کریں مگر اس ادائیگی کا آغاز اوپر سے ہونا چاہیے، قومی اسمبلی، سینیٹ، چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی ایک ٹیکس ڈائریکٹری شاءع کی جائے جس میں سب کے بارے میں معلومات ہوں کہ کس نے کتنا ٹیکس ادا کیا اور کتنا چوری کیا ہے ۔ اگر حکومت یہ طریقہ اپنا لیتی ہے تو ٹیکس ادائیگی اتنا بڑا مسئلہ ہی نہیں رہتا، بیچاری قوم تو ہمیشہ ہی قربانی دیتی رہی ہے اور جب بھی باغبان کو لہو کی ضرورت پڑی تو اسی غریب عوام نے دیا ۔ قانون سب کیلئے برابر ہوتا ہے چاہے وہ غریب ہو یا امیر یہ نہیں ہوسکتا کہ اربوں اور کھربوں پتی صرف چند لاکھ روپے ٹیکس ادا کریں اور غریب عوام کا خون نچوڑا جاتا رہے ۔ جب تک کام اوپر سے شروع نہیں ہوگا اس وقت تک نظام درست نہیں ہوسکتا ۔ ملک کے دگرگوں معاشی حالات کے پیش نظر ہی حکومت ایمنسٹی اسکیم لے کر آئی ہے لیکن چونکہ ماضی میں جس طرح ایمنسٹی اسکیم آئی اس کو دیکھتے ہوئے عوام کا اعتماد اتنا زیادہ بحال نہیں ہوا جس کی وجہ سے وہ زیادہ فائدہ اٹھانے کے موڈ میں نہیں ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹیکس نادہندگان کو سہولیات فراہم کرے اور نادہندگان کیلئے کڑی سے کڑی سزائیں مقرر کرے ۔ بلکہ ہمارا یہاں یہ بھی مشورہ ہے کہ حکومت ٹیکس دہندگان کے حوالے سے باقاعدہ کارڈ ایشو کرے جس میں مختلف کیٹاگریز ہوں اور اس اعتبار سے سہولیات بھی دی جائیں ۔ بڑے بڑے سٹوروں اور بڑی بڑی جگہوں پر ٹیکس دہندگان کیلئے سہولت چینل کا بھی آغاز کیا جائے ۔ جب ایسی بنیادی سہولیات دی جائیں گی جس میں زندگی کے مسائل حل ہونا شروع ہوجائیں تو پھر لوگ خود بخود لوگ ٹیکس دینا شروع ہو جائیں گے ۔ حکومت نے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم متعارف کرائی ہے، تمام لوگ ملک کی خدمت کریں ،اپنے پیسوں کو ظاہر کریں کیونکہ ہم اثاثے ظاہرکر کے ہی ملک کامستقبل بہتر کرسکتے ہیں ، آپ ٹیکس نہیں دیں گے توکوئی ملک عوام کی خدمت نہیں کرسکتا،جب آپ اثاثے ظاہر کریں گے توآپ کوکوئی فکربھی نہیں ہوگی اور کوئی ادارہ بھی آپ کو تنگ نہیں کرے گا، آپ کا یہ اقدام ملک کو معاشی مشکلات سے بھی نکال سکتا ہے ۔ وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ ٹیکس کاپیسہ عوام اورملک پر خرچ کیاجائےگا اور ضمانت دی کہ کسی کا پیسہ چوری نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ بیرونِ ملک میں غیر قانونی اثاثے رکھنے والے پاکستانیوں کو ایمنسٹی سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا ۔ ٹیکس کی ادائیگی نہ ہونے سے اسپتال ،اسکول،انفراسٹرکچر کے نظام کو حکومت ٹھیک نہیں کرسکی ۔ ٹیکس نہ دینے کی وجہ سے ملک کےلئے قرضے لینے پڑتے ہیں ، حکومت نے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم متعارف کرائی جس کی معیاد 30 جون تک ہے اور یہ ایمنسٹی بہت آسان ہے ۔ بیرونِ ممالک میں بے نامی جائیدادیں رکھنے والوں کے پاس نادر موقع ہے کہ وہ اپنے اثاثے ظاہر کردیں کیونکہ 30 جون کے بعد انہیں یہ موقع نہیں ملے گا ۔ اداروں کے پاس تمام معلومات جمع ہوچکیں جبکہ بیرون ممالک سے بھی مزید معلومات جمع کی جارہی ہیں ، لہذا ایسے لوگ جو بے نامی جائیدادیں رکھتے ہیں وہ ملک کی خدمت کریں اور اپنے پیسوں کو ظاہر کریں کیونکہ اثاثے ظاہرکرنے سے ملک کامستقبل ٹھیک ہوسکتا ہے ۔ جب آپ اثاثے ظاہر کریں گے توآپ کوکوئی فکربھی نہیں ہوگی اور کوئی ادارہ بھی آپ کو تنگ نہیں کرے گا، آپ کا یہ اقدام ملک کو معاشی مشکلات سے بھی نکال سکتا ہے ۔ وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ ٹیکس کاپیسہ عوام اورملک پر خرچ کیاجائےگا اور ضمانت دی کہ کسی کا پیسہ چوری نہیں ہونے دیا جائے گا ۔

اب احتساب سب کا بلا امتیازہوگا

اب ملک میں باقاعدہ احتساب شروع ہوچکا ہے جو جرم کرے گا چاہے اس کا تعلق کسی بھی طبقے یا کسی بھی ادارے سے ہو، چاہے وہ کتنا ہی اہمیت کا حامل نہ ہو اس کو اپنے کیے کے جرم کی قرار واقعی سزا ملے گی ۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کو کسی عہدے یا خاص ادارے کے سبب چھوٹ مل جائے گی تو یہ اس کی خام خیالی ہے ۔ اس کی واضح مثال آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جاسوسی کے جرم میں گرفتار مجرمان کی سزا میں توثیق کرتے ہوئے کردی ہے چیف آف آرمی سٹاف نے 2سابق فوجی افسران اور ایک سول آفیسر کو جاسوسی کرنے اورحساس معلومات غیر ملکی ایجنسیوں کو فراہم کرنے کے الزام میں سزاءوں کی توثیق کردی ، بریگیڈیئر(ر)راجہ رضوان کو مذکورہ الزامات کے تحت سزائے موت جبکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر)جاوید اقبال کو 14سال قید کی سزا سنا دی گئی ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق ان افسران پر پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت علیحدہ علیحدہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے تحت کاروائی مکمل کی گئی، لیفٹیننٹ جنرل (ر)جاوید اقبال کو 14سال قید کی سزا سنائی گئی، بریگیڈیئر (ر)راجہ رضوان کو سزائے موت سنائی گئی اس کے علاوہ ڈاکٹر وسیم اکرم جو کہ حساس ادارے میں تعینات تھے انہیں بھی سزائے موت سنائی گئی ۔

او آئی سی کے جموں وکشمیر رابطہ گروپ سے وزیر خارجہ کا خطاب

پاکستان نے ہمیشہ سے کشمیریوں کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی اور بین الاقوامی سطح پر جہاں بھی موقع ملا کشمیریوں کی موثر انداز میں آواز اٹھائی ۔ وزیر خا رجہ نے اسلامی تعاون تنظیم کے چودھویں سربراہی اجلاس میں او;200;ئی سی کے جموں وکشمیر پر رابطہ گروپ سے خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ جموں وکشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر دیرینہ ترین تصفیہ طلب مسئلہ ہے،کشمیری نسلوں نے ان وعدوں کو ٹوٹتے اور اپنے خوابوں کو بکھرتے دیکھا ہے،انتہاپسند ہندءوں کی جانب سے کشمیریوں کو نشانہ بنانے کی رفتار اورواقعات میں اضافہ ہوگیا ہے،سینئر کشمیری قیادت مسلسل نظربندیوں اور قید کا نشانہ بن رہی ہے، چھاپے، کرفیو، نظربندیاں ، محاصرے، گرفتاریاں ، جلاءوگھیراءو، لاپتہ کیاجانا اور جعلی مقابلوں میں شہادتیں معمول بن چکا ہے،بھارتی افواج جو دل میں ;200;ئے کرنے میں ;200;زاد ہیں جسے ;200;پریشن ;200;ل ;200;ءوٹ کانام دیاگیا ہے، 20 فروری 2019کو پلوامہ واقعے کے بعد انتہاپسند ہندوءوں کی جانب سے کشمیریوں کو نشانہ بنانے کی رفتار اورواقعات میں اضافہ ہوگیا ہے اور بھارتی فوج کے اضافی دستے مقبوضہ جموں وکشمیر میں فوری طورپر تعینات کردئیے گئے ۔ ہم یہ بھی توقع کرتے ہیں کہ گروپ او;200;ئی سی ۔ ;200;ئی پی ایچ ;200;ر سی کا حقائق معلوم کرنے والے مشن کو بھجوانے کے اپنے مطالبے کو دہرائے کہ وہ مقبوضہ جموں کشمیر جاکر وہاں انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں کا جائزہ لے ۔ جموں وکشمیر کے عوام او;200;ئی سی اور امت مسلمہ کے اپنے بھائیوں کی طرف امید سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ ان کے حق خودارادیت کے حصول میں ان کی حمایت جاری رکھیں گے مجھے کوئی شک نہیں کہ ہم انہیں مایوس نہیں کریں گے ۔

بھارت کے خطرناک عزائم

نریندر مودی کادوبارہ بھارتی وزیراعظم کی حیثیت سے آنا ہمارے لیے فائدہ مند اور بھارت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے کیونکہ اس سے نظریہ پاکستان مضبوط ہوا ہے اور مزید مضبوط ہو گا ۔ بھارت افغانستان میں موجود اپنے قونصل خانوں کے ذریعے امریکی شہ پر سازشیں کر رہا ہے اور علیحدگی پسند تحریکوں کو منظم کررہا ہے ۔ یہ بھارت کی کشمیر، مشرقی پاکستان والی سازشوں کا ہی تسلسل ہے اور ہ میں ان سازشوں سے محتاط رہنا اور ان کا تدارک کرنا ہو گا ۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ روز اپنے عہدے کا دوبارہ حلف اٹھایا اور اسی دن سے بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و تشدد کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ۔ شیوسینا اور آر ایس ایس جیسی ہندو انتہا پسندی تنظی میں پہلے سے زیادہ فعال ہونا شروع ہوگئیں ۔ نریندرمودی جوکہ چائے والا کے نام سے مشہور ہے لیکن اس کی اصل وجہ شہرت گجرات میں ہونے والے فسادات ہیں جن میں ہزاروں مسلمانوں کو قتل کیا گیا ۔ گجرات میں ریاستی حکومت نریندر مودی کی تھی الزام مسلمانوں پر لگایا گیا کہ انسانی سماجی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ریاستی حکومت کی درپردہ اجازت اور سرپرستی میں منظم منصوبہ بندی سے فسادات کروائے گئے ۔ آج بلوچستان کے حالات آپ کے سامنے ہیں ۔ بھارت افغانستان میں بیٹھ کر بلوچستان میں دہشت گردی کر رہا ہے ۔ اب گلگت بلتستان،قبائلی علاقوں اور اس خطے کو گھیرنے کیلئے ایک اور خوفناک سازش تیار ہورہی ہے ۔ امریکہ اور بھارت مل کر ایک سازش کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان موجود شاہراہ ریشم کو کاٹ کر دونوں ممالک کا زمینی رابطہ منقطع کرنا چاہتے ہیں ۔ بھارت کے پاس افغانستان اور مشرق وسطیٰ تک پہنچنے کا پاکستان کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ افغانستان کے علاقے واخان میں بھارتی قونصل خانے کھولے گئے ہیں تاکہ اس منصوبے پر عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے ۔ اس خطے کیلئے سب سے خطرناک منصوبہ بن رہا ہے ۔ بھارت کے ہر منصوبے کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے ۔ گزشتہ چند سالوں سے اگرچہ پوری مسلم دنیا کو دہشت گرد کہا جا رہا ہے،تاہم امریکہ اور اْس کے اتحادیوں کا سب سے زیادہ نشانہ پاکستان بنا ۔ دنیا کی پہلی اسلامی جوہری مملکت کو ’’سبق‘‘ سکھانے کے لئے دہشت گردی کا سارا ملبہ اس پر ڈال دیا گیا ۔ امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے اسرائیل اور بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر ایسا ڈرامہ رچایا کہ دنیا میں دہشت گردی کی ہر کارروائی کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا جانے لگا ۔ اسرائیل اور بھارت کو خاص طور پر پاکستان کے خلاف کام کرنے،اْسے بدنام کرنے اور داخلی طور پر اْسے غیر مستحکم کرنے کا ایک ایسا موقع میسر آ گیا جسے وہ کبھی بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے ۔ بھارت کی طرف سے اس موقف پر عملدر آمد کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ کہ جہاں جہاں پاکستان کی کمزوری ہوگی ہم فائدہ اٹھائیں گے ۔ درحقیقت بھارت پاکستان کو ان معاملات میں الجھا کر وہ تعمیری قدم اٹھانا ہی نہیں چاہتا جس سے خطے میں امن قائم ہو ۔ بھارت عملاً ’’کوتلیا‘‘ کے نظریات کی پیروی کرتا ہے ۔ جس کے تحت ریاستوں کو کمزور کرنا، ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا، علیحدگی پسند گروہوں کی تربیت کے ذریعہ مدد کرنا ۔ راز دارانہ انداز میں مداخلت، توڑ پھوڑ اور طاقت کا استعمال بھارت کا طریقہ کار رہا ہے ۔ کسی علاقے پر قبضہ کی بجائے مختلف طریقوں سے، معیشت، دفاع اور خارجہ پالیسی پر کنٹرول ہی قوت کا مظاہرہ ہے ۔ بھارت نے اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے جو خطرناک عزائم کا اختیار کئے ہیں ان میں زہریلے پروپیگنڈا بھی شامل ہے ۔ بھارت نے ایک طرف امن کا پرچار کیا اور دوسری طرف توسیع پسندانہ عزائم اور ہمسایہ ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا سلسلہ جاری رکھا ۔ کسی بھی ریاست کی طرف سے جب دیگر ریاستوں پر بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ ریاستیں اپنی قوت اور ذراءع سے فیصلہ کرتی ہیں کہ وہ رد عمل کا اظہار کریں یا جھک جائیں ۔ صرف پاکستان اس خطے کا واحد ملک ہے جو بھارتی روئیے کے سامنے نہیں جھکا لہٰذا ایک طرف تو پاکستان اور بھارت کے درمیان قیام پاکستان سے لے کر اب تک ایک نفسیاتی کشمکش ہے ۔ دوسری طرف بھارت باڈر پر بلا اشتعال فائرنگ سے اس کشمکش میں اضافے کے باعث بنا ہے ۔ ایل او سی کی خلاف ورزیاں اور معصوم لوگوں کو شہید کرنا اس کے لئے معمول کی بات بن گئی ہے ۔ آج کا پاکستان 1971ء والا نہیں ، ہم ایک ایٹمی قوت ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمرانوں کی سوچ صحیح ہو جائے اور وہ انڈیا کے ساتھ دوستی کی باتیں چھوڑ دیں ۔ ان دوستیوں نے ہ میں بہت نقصان پہنچایا ہے ۔ ہم یہ نہیں کہتے ان سے دشمنی کرو لیکن ہم کہتے ہیں اپنا حق ان سے لو اور حق کی بات کرو

قوم فیصلے کی منتظر

زیرنظر کالم کی سطریں آپ کی نظروں سے جب گزر رہی ہونگی تو یقینا راقم کی طرح آپ بھی ملکی اندرونی سیاسی واقتصادی حالات کی نظرآنے والی بدترین اور ناگفتہ بہ صورتحال سے پہلے ہی دلبرداشتہ پریشانیوں میں گھرے پاتے سوچ رہے ہونگے کہ ہمارا ابنائے وطن آجکل کن مشکلات میں آن گھرا ہے جس کے چہارسو ایک شورہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا عوام کی واضح اکثریت جن میں نچلے درجہ کے کروڑوں عام مزدور;39;کسان اورمڈل کلاس کی اکثریت شامل ہے چند بے پناہ دولت مند ایلیٹ کلاس کے سوا تقربیا ً سبھی اپنی نودس ماہ سے برسراقتدار موجودہ حکومت کی اقتصادی اور انتظامی پالیسیوں سے نالاں نظرآتے ہیں ;238; مختلف النوع شکوک وشبہات میں مبتلا ہیں ;238; ابنائے وطن پر نا امیدوں ;39;مایوسیوں اورمالی پریشانیوں کے اندوہناک موسموں کا تسلسل نجانے کبھی بدلے گا بھی یا نہیں ;238; امریکی کرنسی ڈالرکی روزبروز کی پھرتیلی اْڑان کے خوف میں وہ عام پاکستانی بھی مبتلا نظرآتا ہے جس نے اپنی زندگی میں امریکی ڈالر دیکھا تک نہیں ہے ;39;اْسے کیا پتہ کہ ;39;اسٹاک ایکسچینج ;39;کس بلا کانام ہے;238; اس میں ;39;مندی;39; اور ;39;تیزی;39; سے اْسے کیا نقصان اور کیا فائدہ ملتا ہے;238;لیکن الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے رجے ہوئے صحافی اور اینکرز ملکی عوام کوخوف اوردہشت زدہ خدشات کے شکنجہ کے ;39;نشہ;39; میں ڈھالے رکھنے کا باریک ملکی سماج دشمن رویہ چھوڑنے پر آمادہ ہوتے دکھائی نہیں دیتے ملک بھر میں کنسٹریکشن انڈسٹریز یکدم زمین بوس ہوگئی ملک کے سبھی بڑے شہروں میں تعمیراتی شعبہ میں محنت مزدوری کرنے والے سڑکوں کے کناروں پر مزدوری کے انتظار میں شام ڈھلے تک بیٹھے رہتے ہیں یہی افسوس ناک صورتحال دیگر بڑی انڈسٹریز کا بھی ہے ملک بھر کے بے پناہ دولت مند طبقات نے اپنی دولت کے خزانوں کا منہ بند کرکے معاشرے میں دولت کی ریل پیل کے سسٹم کو بریک لگادیا اور عوام کی اکثریت اشیائے صرف کی ہوش ربا گرانیوں ;39; افراط زر کی فتنہ سامانیوں بلواسطہ اور بلاواسطہ سرکاری ٹیکسوں کی بھرمار اور مختلف مدوں میں دی جانے والی سبسڈیز کو واپس لیئے جانے کے سرکاری فرمان سننے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتی نظرآتی ہے کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب شام گئے آجکل ویسے ہی رمضان المبارک کے ٓآخری ایام چل رہے ہیں پاکستان کے کروڑوں مزدورں کے گھروں میں مزدوری نہ ملنے کی باتیں نہ ہوتی ہوں درمیانی طبقات کے گھروں میں طوفان خیز مہنگائی پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا نہ جاتا ہواوراس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے انتخابی ریلیوں میں جہاں عوامی مسائل اْٹھائے وہاں اس حکومت نے نیا نعرہ بھی دیا تھا کہ پاکستان کو غیر ملکی قرضوں کی گرفت میں ماضی کی حکومتوں نے بہت بْری طرح سے جکڑاہے عمران خان کی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد اپنے پہلے فیز میں ماضی کے کرپٹ سیاسی حکمرانوں کا کڑا احتساب ضرور کریں گے ;39;بلینئرزآف ڈالر;39; کے بیرونی قرض جس جس دور حکومت میں بھی لیئے گئے اْن کی شفاف چھان بین کی جائے گی اور قومی خزانے سے لوٹی جانے والی بیرون ملک پڑی ہوئی دولت واپس ملک میں لائی جائے گی نودس ماہ ہوچکے ہیں احتساب ہو تورہا ہے مگر نیم دلانہ اس احتساب کی سست رفتاری نے عوام کو بہت مایوس کیا ہوا ہے پہلے کہا گیا کہ;39;عمران خان خود کشی کرلئے گا لیکن آئی ایم ایف کے سامنے وہ کشکول لے کرکسی صورت نہیں جائے گا;39;لیکن آٹھ نوماہ بعد ملک میں اچانک کیا سے کیا ہوگیا;238;لگتا ہے گزشتہ 35;245;30 برسوں تک بلاشرکت غیرے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب پر مسلسل اور وفاق میں تین بار حکومت کرنے والے ایک ;39;تجارت پیشہ خاندان;39; نے ملکی تجارت پیشہ گروہوں کی ایک ;39;یونین;39; تشکیل دی ہوئی ہے اور سندھ کے ;39;بھٹو شہید فیکڑ;39; کے نام پر ووٹ بٹورنے والے خاندان کے ایک گروہ نے اْسی;39;تجارت پیشہ حکمران طبقہ کی یونین میں ;39;باریوں ;39; کے نام پر شمولیت اختیار کرلی ہے کبھی باہم سیاسی گالیاں ;39;الزامات اور مخا لفتیں اور کبھی باہم افطاریاں ;39;کھانے اور کھابے یوں پاکستانی حکمرانی کے جمہوری گھن چکروں کے نام پر تجارت پیشہ ;39;دولت بناو بیرون ملک جمع کرو;39;کے اصولوں پر باہم اتفاق واتحاد;238;آپ نے سنا کیسے ببانگ دہل سابق صدرزرداری نے احتساب عدالت سے باہر نکلتے یہ کہہ دیا کہ ;39;یا تو ملک میں معیشت چلے گی یا احتساب چلے گا;39;مطلب یہ ہوا کہ چوروں کو پکڑوگے تو چوروں کا اتحاد ملکی معیشت کو چلنے نہیں دئے گاعالمی سطح پر کسی حد تک دنیا ;39;مالی بحران;39;کا شکار ضرور ہوئی مگر جناب والہ،قوم محسوس کرتی ہے کہ پاکستان کا مکمل اقتصادی ڈھانچہ ملک کا اقتصادی سخت پہیہ جام ہوگیا ہے پاکستان کے بازاروں کی رونقیں مدھم پڑگی ہیں پاکستانی دولت بے انتہا اورانتہا سے زیادہ لامحدود انبار رکھنے والے ملکی آبادی کے یہ ڈیڑھ فی صد افراد جنہیں ;39;اشرافیہ;39; کہیں ;39;بدمعاشیہ;39; کہیں وہ سب نجانے کن کونے کدھروں میں جادبکے ہیں اب کوئی پیش قیاسی کرئے تو کیا کرئے;238; اگلے مہینے جون میں بجٹ آنے والا ہے اس حکومت کے پاس کیا ہے جو وہ عوام کو دے پائی گی;238; تنخواہ دار طبقہ اور پینشنرز کے گھروں کیا گفتگوچل رہی ہے اس کا اندازہ کسی کوہے;238; بجٹ کا پہلا مطلب یہی ہے کہ آمدنی اور خرچ میں توازن پیدا کیا جائے;39; سوال یہ ہے کہ پاکستان میں آمدنی کے ذراءع کیا ہیں ;238; پاکستان کی برآمدات کی صورتحال کیا ہے جب صنعتیں نہیں چل رہیں تو پاکستانی پراڈکٹس بننے کا سوال کیسا ٹیکسوں کی مختلف صورتیں اور سبسڈیز واپس لے لیناغیر ملکی قرضوں کا بوجھ الگ اگر یہی کچھ کرنا ہی تھا تو شریف فیملیز اور زرداری فیملیز کیا ٹھیک نہیں تھیں ;238;اْن کا کرپٹ ہونا، قومی دولت کے حصار میں نقب زنی کرنا،اْن کا ٹیکس چور ہونا،اقرباء پرور ہونا،سرکاری ملازمتوں میں میرٹ کا ستیاناس کرنا،پولیس اور سرکاری اداروں کوسیاسی بنادینا اْن کی یہ ;39;تعریفیں ;39; اپنی جگہ;238;مگرپی ٹی آئی کی حکومت وہ فوری اقدامات کرنے سے گریزاں دکھائی کیوں دیتی ہے مثلاً ملک بھر میں لگی ہوئی ملیں صنعتی یونٹس فنگشنل کیوں نہیں کی جارہیں ;238; عام ہنرمند مزدور رل کیوں رہا ہے;238; مطلب یہ کہ ملک میں احتساب کے شعبے کا بوریا بسترہی گول کردیا جائے یعنی احتساب ختم ہوگا تو سوئی ہوئی پڑمردہ ملکی معیشت یکایک انگڑائی لے کر اْٹھ کھڑی ہوگی;238; وزیراعظم عمران خان کے بارے میں کیا قوم یہ سمجھ لے کہ وہ بھی تھک ہارچکے کیا اْنہوں نے پاکستان کی قومی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود کے نام پر لیئے جانے والے بیرونی قرضوں کی طوفان خیز لوٹ مار کرنے والوں کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے ہیں ;238;یاد رہے قارئین حکومت سے بڑی طاقت کوئی نہیں ہوتی ہے ہم کب سے سن رہے ہیں کہ ;39;وزیراعظم عمران خان کی نیت صاف ہے نیک ہے وہ ملک کے لئے کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں ;39; عوام کب تک عمران خان کی جوشیلی تقریریں سنتی رہے ;39;کردیا جائے گا،فیصلہ ہوچکا ہے، چوروں کو نہیں چھوڑا جائے گا;39;یہ ;39;مستقبل;39; کے صیغے سنتے سنتے عوام عاجز آچکے ہیں عوام ;39;عملاً;39;کچھ ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستانی عوام کوتلقین کرتے ہوئے کہا کہ وہ صبر;39;عزم اور اتحاد کا دامن مضبوطی سے تھام لیں ہم یہاں اپنے سپہ سالار کے اس موقف سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے اْن کی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستانی فوج نے اپنے عوام کے اعتماد کو مزید جلا بخشی ہے، واقعی ماضی میں آج سے زیادہ چیلنجز تھے اب مالی وانتظامی چیلنجز قوم کو درپیش ہیں ، پاکستانی قوم صبر بھی کرے گی پاکستانی قوم میں عزم بھی موجود ہے اور قوم کا اتحاد بھی ناقابل تسخیر ہے ،بس حکومت مصلحت پسندی کوخیرباد کہہ دے پاکستان دشمن عوام دشمن کرپٹ سیاسی اشرافیہ کو نشان عبرت بنانے میں اب تحریک ِ انصاف کی حکومت اپنے قدم آگے بڑھائے یہی وقت ہے وزیراعظم عمران خان صاحب اب دیر نہ کریں ۔

طاقت امن کی ضمانت،پاک فوج ہمارا فخرہے

26مئی 2019کو چند شرپسند عناصر نے ہماری پاک فوج کے جوانوں پر فائرنگ کی اور اس قوم کے 5سپوتوں کو زخمی کر دیا،ہماری حفاظت کیلئے شمالی وزیرستان کے علاقے خارقر میں قائم پاکستانی فوجی چوکی پر تعینات اہلکاروں کا جس بے دردی سے خون بہایا گیادل تو کرتا ہے کہ اس ملک کے محافظوں پر گولی چلانے کی جرات کرنے والے تمام افراد کو ڈی چوک پر سرعام پھانسی دیدی جائے مگر بدقسمتی سے ہمارے آئین و قانون میں سرعام پھانسی دینے کا قانون موجود نہیں حالانکہ سعودی عرب میں سرعام سر قلم کیے جاتے ہیں ۔ ایسا اس لیے کہا کیونکہ پاک فوج ہمارا فخر ہے اور ہمارے جسموں میں موجود خون کا ایک ایک قطرہ ملک اور عوام کی حفاظت کرنیوالوں کامقروض ہے ۔ میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ اگرپاک فوج کے جوانوں پر گولی چلانے والوں میں سے ایک آدھ ملک کے غدارکو سرعام پھانسی دی جائے تو کوئی مائی کا لعل ہمارے فوجی جوانوں پر دوبارہ گولی چلانے کی جرات نہ کرے اور نہ ہی معصوم لوگوں کو اپنی سازش کی بھینٹ چڑھائے چاہے وہ کوئی ممبر قومی اسمبلی ہی کیوں نہ ہو ۔ جی ہاں میں نے یہاں جان بوجھ کر ممبر قومی اسمبلی کا ذکر کیا کیونکہ 26مئی 2019کو ہمارے فوجی جوانوں پر براہ راست گولیاں چلانے والوں میں دو ممبران قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر بھی شامل تھے گوکہ علی وزیر فوجی چیک پوسٹ پر حملے کے وقت ہی اور محسن داوڑ کوجمعرات 30مئی 2019کو شمالی وزیرستان سے ہی گرفتارکیاگیا اور آفرین ہے اس ملک کی سیاسی قیادت کی جو یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ محسن داوڑ اور علی وزیرپارلیمنٹیرینز ہیں اس لیے معاملہ پارلیمنٹ میں لایا جائے بلکہ بلاول بھٹو نے تو علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے تک کا مطالبہ کر دیا شائد وہ محسن داوڑ کے پروڈکشن آرڈر کا بھی مطالبہ کر دیتے لیکن اس وقت تک محسن داوڑ گرفتار نہیں ہوا تھا ۔ اگر اس ملک کے غداروں اور انکے سہولت کاروں کو سرعام پھانسی دی جائے تو شائد ہ میں عقل آ جائے اور ہم سوچ سمجھ کر بیان دینا شروع کر دیں تاہم شکر ہے ملک میں پی ٹی آئی کی حکومت موجود ہے جس نے فوجی چیک پوسٹ پر حملے کی نہ صرف مذمت کی بلکہ ملکی سلامتی کیخلاف چلنے والوں کو کوئی رعایت نہ دینے کا بھی فیصلہ کیا یہی وجہ ہے کہ حکومت نے بلاول بھٹو کا علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ یکسر مسترد کر دیا ویسے بھی ملکی سلامتی کیساتھ کھلواڑ کرنیوالوں کیساتھ کوئی رعایت نہیں ہونی چاہئے ۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس وقت یہ خطہ بھرپور سازشوں کاگڑھ بنا ہوا ہے اور وطن دشمن عناصر کسی نہ کسی طرح پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جیسی طاقتیں ہر وقت پاکستانی فوج کو کمزور کرنے بارے سازشوں میں مصروف عمل رہتی ہیں مگر سلام ہے ہماری ایجنسیوں اور افواج پاکستان کو جو بیک وقت کئی محاذوں پر کامیابی سے دشمنان اسلام و پاکستان کا مقابلہ رہی ہیں ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آج کل ففتھ جنریشن وار کے ذریعے پاک فوج کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کو ہماری ایجنسیاں اور فوج کامیابی سے ناکام بنارہی ہیں مگر ہم عوام پر بھی فرض ہے کہ ہ میں اپنی فوج کیساتھ ڈٹ کر کھڑا ہونا چاہئے اور ہم اپنی فوج کیساتھ سینہ سے سینہ ملائے دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے ڈٹ کر کھڑے ہیں لیکن ہمارے درمیان ہی ایسے لوگ موجود ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ فوج جو کر رہی ہے اس کی تنخواہ لیتی ہے یا پھر کچھ اس انداز میں فوج کوبدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ساری فوج ٹھیک ہے مگر چند فوجی افسران پوری فوج کو بدنام کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ اس لیے ہ میں اپنی اپنی جگہ چھوٹے چھوٹے محاذوں پر ایسے چھوٹے شرپسند عناصر کیخلاف بھی آواز بلند کرنی چاہے اور ایسے عناصر جونہی فوج کیخلاف بات کریں انھیں اسی وقت جواب دینا چاہئے ۔ یہ ایسے بدبخت لوگ ہیں جو یہ بھی کہتے ہیں کہ آج کل اکانومی کا دور ہے فوجی طاقت کے زمانے گئے،اب میں ان کو کم عقل یا کم لاعلم تو نہیں کہوں گا کیونکہ فوج کیخلاف بولنے کیلئے ان کے پاس تمام دلیلیں موجود ہوں اور ان کویہ معلوم نہ ہو کہ صومالیہ، شام، برما،یمن،عراق،لیبیا اور افغانستان کیوں بدحال اور خانہ جنگی کا شکار ہیں اس لیے میں واضح اور واشگاف الفاظ میں کہوں گا کہ پاک فوج کیخلاف بولنے والے ملک دشمن ہیں اور یہ پاکستان کو ختم یاکمزور کرنیکی سازش کا حصہ ہوتے ہیں ۔ ان کو سب معلوم ہوتا ہے منظور پشتین کہاں سے آیا،فاٹا میں امن قائم ہو چکا ہے،اچکزئی نظریے کی کیوں تشہیر ضروری ہے،منظور پشتین اسلام آباد، لاہور،کراچی اور بیرون ممالک کیوں فوج کیخلاف احتجاجی مظاہرے کر رہا ہے،سوشل میڈیا پر ملک دشمن عناصر کیوں سازش کے تحت منظور پشتین کو پروموٹ کر رہے ہیں ورنہ کوئی محب وطن یہ جاننے کے باوجود ملک دشمن سازش کا حصہ نہیں بنتا کہ پی ٹی ایم ایپلی کیشن افغانستان سے چلائی جا رہی ہے،پی ٹی ایم کا فیس بک پیج بھارت سے آپریٹ کیا جا رہا ہے اورپی ٹی ایم کی آفیشل ویب ساءٹ بھارتی شہر ممبئی سے چلائی جا رہی ہے،پی ٹی ایم کا ٹویٹر اکاوَنٹ سی آئی اے ہینڈل کر رہی ہو ۔ یہ سب جاننے کے باوجود اندرون ملک کسی پراکسی وار کے شروع کرنے کی سازش کا حصہ بننے کا مطلب ہے کہ یہ لوگ کسی نہ کسی طرح دشمن کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہوتے ہیں اس لیے ہ میں اپنے درمیان موجود ایسے عناصر کو بھرپور جواب دینا چاہئے ۔ فوج کو تنخواہ کا طعنہ دینے والوں کو ضرور علم ہو گا کہ پاکستانی فوج پرتقریبا ساڑھے تیرہ ہزار ڈالر فی کس خر چ کیا جا رہا ہے جبکہ امریکہ410000،برطانیہ 314000،فرانس 250000،اسرائیل 100000اور روس82000ہزار ڈالر فی کس اپنی فوج پر خرچ کر رہے ہیں ۔ امریکہ ، برطانیہ،فرانس،اسرائیل اور روس معاشی طور پر مضبوط ممالک ہیں مگر بھارت ،بنگلادیش اور افغانستان بھی ہم سے کہیں زیادہ اپنی فوج پر خرچ کر رہے ہیں ۔ بنگلادیش 17500،افغانستان 60000اور ہمارا روایتی دشمن بھارت 42000ڈالرز فی کس اپنی فوج پر خرچ کر رہا ہے جبکہ پاک فوج نے اسی مختصر سے بجٹ میں نیوکلیئرمیزائل پروگرام،جنگی لڑاکا طیارے،جدید ترین ٹینک ،ڈرون طیارے بنائے ۔ خیر پاک فوج کو تنخواہ کا طعنہ دینے والوں کی اولادیں آج تک اتنی تنخواہ پر بارڈر پر ڈیوٹی دینے ایک دن بھی نہیں گئے حالانکہ یہ برطانوی شاہی خاندان سے آگے تو نہیں ہونگے ۔ مسلمان ممالک کو زیر کرنے کیلئے عالمی طاقتیں بیک وقت بہت سے بیانیے پر کام کر رہی ہوتی ہیں انہی میں مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دینے کا بھی بیانیہ ہے حالانکہ ہٹلر عیسائی تھا،جوزف اسٹالن بھی مسلمان نہیں تھا جس نے 20ملین انسانوں کو موت کی وادی میں دھکیل دیا،ماوَزے تنگ نے بھی 18ملین کو مار دیا وہ بھی مسلم نہیں تھا اور نہ ہی مسولینی مسلمان تھا جس نے 4لاکھ جیتے جاگتے انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا اسی طرح اشوکا نے بھی 1لاکھ افراد کو مار دیا اور اب جو امریکہ عراق ،افغانستان اور شام میں کر رہا ہے اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد مر رہے ہیں اسی طرح پہلی جنگ عظیم میں 17ملین جبکہ دوسری جنگ عظیم میں 55ملین لوگ لقمہ اجل بنے کیا اس میں کسی مسلمان کا ہاتھ تھا ۔ نہیں بالکل نہیں بلکہ ان سب کے پیچھے غیر مسلم ہی تھے مگر بدنام مسلمانوں کو کیا جا رہا ہے کہ یہ دہشت گردی پھیلا رہے ہیں جبکہ یہ حقیقت نہیں مگر ہاں یہ بیانیہ مسلم ممالک کو کمزور کرنیکی سازش کی ایک کڑی ہے ۔ اس لیے ہ میں ان سازشوں کو ناکام بنانا ہے کیونکہ جن ممالک کی فوج کمزور تھی یا رہی ان کو بڑی طاقتیں کھا گئیں ویسے بھی کمزور کبھی امن کی ضمانت نہیں دے سکتا ہمیشہ طاقتور ہی امن کی ضمانت ہوتا ہے ،ہ میں اپنی فوج کی طاقت میں مزید اضافہ کرنا ہے اور اپنے شیر جوانوں کیساتھ ہر دم کھڑا رہنا ہے ۔

اپوزیشن جماعتوں کا اَچارحکومت کی چٹنی بنائے گا

آج ہمارے سیاست دانوں اور اشرافیہ کے ماتھے پر جتنا بڑا نشان نام نہاد جمہوری پاسداری کا ہے ۔ اُس سے کہیں زیادہ بڑا اور گہرا سیاہ نشان اُن کے دل و دماغ پرقومی خزانہ لوٹ کھا نے اور عوام کو بے وقوف بنا کرآف شو رکمپنیا ں اور جعلی بینک اکاونٹس سے خود کو باعزت ظاہر کرکے حکمرانی کرنے اور آگے بڑھتے رہنے کا ہے ۔ پچھلے سالوں کے مقابلے میں کچھ ماہ سے مُلک میں کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قدر اتنی بڑھ گئی ہے کہ سارے دیس میں مہنگائی کانہ تھمنے والا طوفان آگیاہے ۔ آج ڈالر کے ساتھ غربت کی اُونچی اڑان بھی اپنی مثال آپ ہے ۔ ہر طرف مہنگائی منہ کھولے زبان نکالے قوم کو نگل لینے کو تیار کھڑی ہے ۔ اِسے بے لگام کرنے والے ہمارے یہی سیاست دان ہیں ;234; جنہوں نے جمہوریت کی مالا تو جپی ہے ۔ مگر مُلک سے حقیقی معنوں میں غربت کے خاتمے کے لئے کچھ نہیں کیا ہے ۔ آج عالم یہ ہے کہ قومی ادارے عوام کو بھوک و افلاس اور کسمپرسی کا تصدیق نامہ جاری کرکے دوست ممالک سے امداد وصول کرتے نہیں تھک رہے ہیں ۔ اگر یہی ٹھیک ہوتے تو مُلک بھی درست جانب گامزن ہوتا اور قرضوں کے بوجھ تلے دب کرپستی اور بھوک و افلاس کی دلدل میں غرق نہ ہوتا ۔ ہماری سترسالہ تاریخ بتاتی ہے کہ اِس عرصے میں مُلک پر زیادہ تر وردی والوں اور دوسول سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی پلٹ پلٹ کرباریاں لگا حکمرانی قائم رہی ہے ۔ سب نے اپنے لئے سوچا اور ٹائم پاس کیا اور چلتے بنے ۔ مگر کبھی کسی نے مُلک سے غربت اور مہنگائی کے خاتمے کے لئے اپنے حصے کا کوئی بھی تعمیری اور مثبت کام اُس طرح سے نہیں کیا ۔ اُنہیں جس طرح کیا جانا چاہئے تھا ۔ آج جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مُلک میں ٹاپ ٹین مسائل میں غربت اور مہنگائی سرفہرست ہے ۔ اگرچہ ایسا نہیں ہے ۔ مگر کچھ دیر کو فرض کرلیتے ہیں کہ حکمران جماعت سے حکومت چلائی نہیں جارہی ہے;234; تو اِس میں اپوزیشن کا بھی بڑا کردار ہے ۔ اگر حزبِ اختلاف حکومتی کاموں میں رغنہ نہ ڈالے، تو سوفیصد اُمید ہے کہ حکومت بہتر طریقے سے اپنے کام انجام دے کر مُلک کو معاشی او ر اقتصادی بحرانوں سمیت دیگر مسائل سے نمٹ سکتی ہے ۔ مگر اپوزیشن ایسا کیوں کرے گی;238;اِس نے تو سوچ رکھا ہے کہ حکومت کے لئے مشکلات اور پریشانیاں پیدا کرنی ہے ۔ اپوزیشن کا حکمران جماعت سے رویہ نہ صرف غیر سیاسی بلکہ غیر مذہب بھی ہے ۔ آج اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جماعتیں پچھلے الیکشن میں اپنی شکست کی سُبکی حکومت کے خلاف گندی زبان استعمال کرکے نکال رہی ہے ۔ اور حکومت کے کاموں میں ٹانگیں آڑاکر جمہوریت کا ٹیکہ ماتھے پر سجانے کی نوٹنکی کررہی ہیں ۔ دراصل اِن کا ایسا کرنا جمہوریت اور جمہوری روایات کے بھی برخلاف ہے ۔ اِس سے اِنکار نہیں ہے کہ اپوزیشن جماعتوں (پی ایم ایل ن اورپی پی پی) کے قائدین قومی خزانے سے لوٹ مار اور سیاہ کرتوتوں کی وجہ سے احتساب کے قومی اداروں کی کڑی گرفت میں ہیں ۔ جو اپنی لوٹ مار کے باعث کڑے احتسابی عمل سے گزررہے ہیں ۔ جس سے اِن سب کے اوسان خطا ہیں ۔ اِنہیں کچھ سمجھ نہیں آرہاہے کہ اِن کا کون سا عمل اِن کے لئے بہترہے اور کونسا اِنہیں پریشانیوں سے دوچار کرسکتاہے ۔ اِس صُورتِ حال میں آج کل احتساب سے بچنے او ر بچانے کے لئے دونوں کرپٹ سیاسی جماعتوں کے قائدین کی اولادیں (جو نہ چاہتے ہوئے بھی ) ہاتھ میں ہاتھ ڈالے نیا اتحاد بنا چکے ہیں ۔ جنہوں نے اعلان کیا ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں مل کرحکومت مخالف تحاریک چلائیں گیں ۔ غرض یہ کہ عید بعداپوزیشن کی مختلف جماعتوں کا اَچارکی طرح بنا اتحادواقعی حکومت کی چٹنی بنا ڈالے گا;4646; !! حکومت مخالف اپوزیشن اتحادسڑکوں پر آنے کی تیاریوں میں یوں مصروفِ عمل ہے کہ جیسے یہ سڑکوں پر آکر حکومت کا تختہ اُلٹ ہی دے گا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ عید بعد شکست خوردہ اپوزیشن کی جماعتیں حکومت مخالف تحاریک سڑکوں پر چلا کر کیا ;238;واقعی اُس طرح سے اپنا جمہوری حق اداکریں گیں ۔ جس کا جمہوراور جمہوریت تقاضا کرتے ہیں ۔ یا یہ سب حکومت مخالف پروپیگنڈوں سے اپنی مردہ سیاست میں جان ڈالنے اور اپنے کرپٹ سربراہان کی کرپشن کے بعد سخت احتساب اور عبرت ناک انجام سے بچنے کے لئے ڈھونگ رچا کر مُلک میں انارکی پھیلا کر غیر جمہوری قوتوں کے لئے راہیں ہموار کررہے ہیں ;238; اِس میں کچھ بھی ہے مگر اتنا ضرورواضح ہوچکاہے کہ اپوزیشن جماعتیں اپنے معصومانہ مگر غیر جمہوری طرزِ عمل سے خودکو جمہوریت مخالف ثابت کرانے پر تلی ہوئی ہیں ۔ ایک جانب جہاں اپوزیشن عیدبعد حکومت مخالف تحاریک چلانے کے لئے کمر کس چکی ہے ۔ تو وہیں حکمران جماعت اِن سے نبردآزما ہونے کے لئے اپنے تئیں تیار ہے ۔ جیسے گزشتہ دِنوں وزیراعظم عمران خان سے سندھ کے شہر اور مُلک کے تجارتی و معاشی حب کراچی سے تعلق رکھنے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے ۔ جس میں وزیراعظم نے ایم کیو ایم پاکستان کو پی ٹی آئی کا سب اہم اتحادی قراردیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ سندھ کے شہری علاقوں کی محرومیاں ختم کی جائیں گی ۔ اُنہوں نے اِس موقع پر اِ ن کی محرومیوں کا جلد ازجلد ہر ممکن ازالہ کیئے جانے کا وعدہ بھی کیا ہے ۔ اور ساتھ ہی دُہراتے ہوئے کابینہ میں شامل ایم کیو ایم کے دونوں وزراء کی کارکردگی کو بھی سراہتے ہوئے کہاہے کہ وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم کی کارکردگی تمام وزراسے بہت بہتر ہے‘‘ یہاں یہ ماننا پڑے گاکہ 71سالوں میں کوئی وزیراعظم ہے جو اپنی اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اپنے وزراء کی اِس طرح کھلے عام تعریف کررہاہے ۔ جس سے اتحادی جماعتوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے ۔ اِس سے انکار نہیں کہ وزیراعظم عمران خان سے قبل کسی بھی وزیراعظم نے کبھی بھی اتنی جرات اور ہمت نہیں پیداہوئی تھی کہ جو اپنے اتحادی وزراء کی یوں تعریف کرتا اور وہ بھی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے تعلق رکھنے والے وزراء کی ۔ یقینا یہ کریڈیٹ ایم کیوایم پاکستان اور وزیراعظم عمران خان کو ہی جاتا ہے جو اپنی حکومت کی مدت ختم ہونے تک مُلک میں حقیقی جمہوری تقاضوں کی پاسداری کرتے ہوئے وطن عزیر کو متحدہ جیسی باشعور اور محب وطن سیاسی اتحادی جماعت کے ساتھ مل کر قرضوں اور معاشی بحرانوں سے نکال کر ترقی اور خوشحالی کی جانب لے جانا چاہتے ہیں جس کے لئے پاکستانی قوم ستر سالوں سے منتظرتھی ۔

معاشی بحران سے نکلنے کیلئے وفاق اور صوبوں کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی

حکومت نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس وقت غیر معمولی معاشی بحران کا سامنا ہے کیونکہ جب پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تو اس وقت خزانے کی حالت کوئی بہت زیادہ بہتر نہیں تھی کیونکہ ن لیگ سے جو حکومت ملی تو اس وقت زر مبادلہ کے ذخائر بھی انتہائی کمزور تھے جس کی وجہ سے حکومت کو آتے ہی معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور آج اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی انہی مسائل کا سامنا ہے اسی لئے وزیراعظم نے اجلاس میں کہاکہ معاشی بحران سے نکلنے کیلئے وفاق اور صوبوں کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی ۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ جب تک دیگر صوبوں کی جانب سے بھی خاطر خواہ تعاون حاصل نہیں ہوگا اس وقت تک اس بحران سے نکلنا ناممکن ہے ۔ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں متعدد منصوبوں کی منظوری دی گئی،سندھ کی جانب سے کچھ شکوے بھی سامنے آئے تاہم ان کو ختم کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے ۔ وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا مقصد ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا سو اسی کے لئے ہم کوشاں ہیں اور انشاء اللہ جلد ملک معاشی بحران سے نکل جائے گا ۔ قومی اقتصادی کونسل نے ;200;ئندہ مالی سال کے لئے جی ڈی پی گروتھ ریٹ 4 فیصد، وفاق اور صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 1837 ارب روپے رکھنے کی منظوری دی گئی ،وزیراعظم کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں بارہویں 5 سالہ منصوبے کی بھی منظوری دے دی گئی کونسل نے زراعت کے شعبے میں ترقی کی شرح ساڑھے 3 فیصد صنعت میں 2;46;2 فیصد خدمات کے شعبے میں 4;46;8 فیصد مقرر کرنے کی منظوری دی ۔ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کا اس موقع پر کہنا تھا کہ جب حکومت ملی تو پاکستان ملکی تاریخ کے شدید معاشی بحران کا شکار تھا اور ہماری تمام تر کوشش ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانا تھا ۔ ہم وہ تمام کام کر رہے ہیں جو پہلے کئے جانے چاہئے تھے وزیراعظم نے کہا کہ معاشی بحران سے نکلنے کیلئے وفاق اور صوبوں کی مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے وزیراعظم نے صوبوں کو ایف این سی ایواڈ میں سے فاٹا کیلئے حصہ دینے پر بھی زور دیا ۔ صوبے این ایف سی ایوارڈ سے فاٹا کو حصہ دینے کا وعدہ پورا کریں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ معاشی بحران سے نکلنے کیلئے مرکز اور صوبوں کو مشترکہ اقدامات کرنے ہوں گے ، حکومت نے پنجاب اور خیبر پی کے میں مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کرایا ہے،نظام سے اجلاس میں گزشتہ مالی سال کے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام اور آئندہ مالی سال کے لئے تجویز کردہ ترقیاتی پروگرام کا بھی جائزہ لیا گیا آئندہ مالی سال کے پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام میں زراعت آئی ٹی اعلی تعلیم سائنس و ٹیکنالوجی اور فنی تعلیمی پر زیادہ توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لانے کیلئے خصوصی منصوبے شروع کیے جائیں گے،فاٹا کے ضم شدہاور لائن آف کنٹرول کے متاثرہ علاقوں میں خصوصی منصوبے شروع کئے جائیں گے ۔ اجلاس کے دور ان سابق فاٹا علاقوں میں تیز رفتار بحالی اور تعمیر نو کے اسپیشل فورم کی توسیع اور وفاقی دارالحکومت کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کیلئے ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے قیام کی منظوری دی گئی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ معاشی بحران بھی ایک طرح کا موقع ہے ،جو کام پہلے نہیں ہو سکے انکو اب مکمل کیا جائیگا ۔ اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم نے صوبوں پر زور دیا کہ وہ فاٹا کی تیز رفتار ترقی کیلئے مالی وسائل فراہم کریں ۔ اجلا س میں مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ ،وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار ،مشیر تجارت عبد الرزاق داءود ،گور نر کے پی کے شاہ فرمان ،وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار ، وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ ، وزیر اعلی کے پی کے محمود خان ،وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان ، وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جوان بخت ، نثار کھوڑو ،مسز ناہید درانی ،وزیر خزانہ کے پی کے تیمور سلیم ، جان محمد جمالی ،وزیر اعلی آزاد کشمیر فاروق حیدر خان اور وزیر اعلیٰ بلوچستان حافظ الرحمن و دیگر شریک تھے ۔ علاوہ ازیں ایم کیو ایم کے وفد نے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصلی تبادلہ خیال کیا گیا ایم کیو ایم کے وفد نے بتایا کہ گزشتہ 10 برسوں میں کراچی ، حیدر ;200;باد میں جعلی ڈومیسائل پر نوکریاں دی گئیں بڑے شہروں کے شہریوں کو سرکاری نوکریوں کے جائز حق سے محروم رکھا گیا اس بدعنوانی اور غیر قانونی عمل کی تحقیقات کرائی جائیں صوبائی مالیاتی کمیشن کے قیام پر عملدر;200;مد یقینی بنایا جائے کراچی اور حیدر ;200;باد کا ترقیاتی فنڈز میں جائز حق یقینی بنایا جائے ۔ وفد میں خالد مقبول صدیقی فروغ نسیم کنور نوید وسیم اختر امین الحق اور فیصل سبزواری شامل تھے اس موقع پر وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار اور معاون خصوصی نعیم الحق بھی موجود تھے ۔

بلاول کی نیب میں پیشی۔۔۔ اسلام آباد میں گھمسان کا رن

اسلام آباد میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی نیب میں پیشی کے وقت جیالوں اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں ، اس دوران پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی ، واٹر کینن کا بھی استعمال کیا گیا ۔ متعدد جیالوں کو گرفتار کرنے کے بعد رات گئے انہیں رہا کردیا گیا ۔ سارا دن وفاقی دارالحکومت میں گھمسان کا رن مچا رہا ، پیپلزپارٹی، ن لیگ اور دیگر جماعتوں کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے کارکنوں پر تشدد کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ پی ٹی آئی اپنے دور میں کنٹینر پر کھڑی رہی ،پورا اسلام آباد بلاک کیے رکھا ، بیرون ملک دوروں کو سبوتاژ کیا گیا اب وہ یہ کہتے تھے کہ اپوزیشن مظاہرہ کرے تو کنٹینر بھی دیں گے اور کھانا بھی دیں گے لیکن ان سے ذرا سا مظاہرہ بھی برداشت نہیں کیا گیا ۔ اپوزیشن کی اس بات میں خاطر خوا وزن ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ معاملات افہام و تفہیم سے حل کرے نہ کہ ایک مسئلہ حل کرنے کے ساتھ دوسرا مسئلہ بھی پیدا کردیا جائے اس حالات اور گھمبیر ہوں گے ۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری جعلی اکاءونٹس کیس میں نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوگئے ۔ اس موقع پر اسلام آباد انتظامیہ نے جیالوں کے اسلام آباد میں داخلے پر پابندی لگا دی ،دیگر شہروں سے آنے والے پی پی کارکنوں کو روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے اسلام آباد انتظامیہ نے نوٹیفکیشن میں کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے اسلام آباد میں داخلے سے حالات خراب ہو سکتے ہیں ۔ پابندی کے باوجود اپنے لیڈر کے استقبال اور ان سے اظہار یکجہتی کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کے کارکن بڑی تعداد میں نیب ہیڈکوارٹر پہنچے، انہوں نے اپنے لیڈر بلاول کے حق میں نعرے لگائے ۔ بلاول بھٹو زرداری کی ہمشیرہ آصفہ بھٹو زرداری سمیت پارٹی رہنما راجہ پرویز اشرف،سید نوید قمر،مصطفی نواز کھوکھر، مرتضی وہاب، نیئربخاری بھی نیب ہیڈکوارٹر پہنچے ۔ پولیس اور پی پی کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی، ادھر چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہ میں سلیکٹڈ حکومت نامنظور ہے یہ چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ججز، اپوزیشن ا ور جرنلسٹ بھی سلیکٹڈ ہوں ،عید کے بعد سڑکوں پر نکلیں گے ۔

Google Analytics Alternative