کالم

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیرخارجہ کا شاندار خطاب

adaria

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73ویں سالانہ اجلاس سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی الزام تراشیوں اور اس کی امن دشمن پالیسی کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ ہونا خطے میں امن کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جبکہ منفی رویے کی وجہ سے مودی حکومت نے تیسری مرتبہ امن کے حصول کے لیے موقع گنوادیا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کا خیر مقدم کرتا ہے جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ پاکستان اس پر عمل کا مطالبہ کرتا ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آزاد کمیشن کے قیام کو خوش آمدید کرے گا۔قبل ازیں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں وہی گھسا پٹا راگ الاپا اور وزرائے خارجہ کی ملاقات کی منسوخی کا ذمہ دار الٹا پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا سراسر جھوٹ ہے کہ یہ ہماری وجہ سے ہوا ہے۔سشما سوراج نے ایک بار پھر نجانے کس منہ سے یہ دعویٰ کر ڈالا کہ مختلف بھارتی حکومتوں نے امن کے لیے قدم اٹھائے لیکن ہر بار پاکستان کے رویے کی وجہ سے یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا، حالانکہ ابھی ایک ہفتہ قبل ہی بھارت ایک دن’’ ہاں‘‘ اور دوسرے دن’’ ناں‘‘ کر کے رسوا ہوا ہے۔اپنی تقریر میں سشما سوراج نے ایک دفعہ بھی کشمیر کا ذکر نہیں کیا جو کہ اس ریجن کا کور ایشو ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسی لیے اپنی تقریر کا فوکس مسئلہ کشمیر رکھا اور کہا کہ بھارت نے اقوام عالم کے سامنے کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کو فروغ دیا ہے جس کے سبب سات دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام انسانی حقوق کی پامالی سہتے آرہے ہیں۔انہوں نے لائن آف کنٹرول پر بھارت کی مسلسل خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے دنیا اور بھارت کو آگاہ بھی کیا کہ اگر اس نے اسے عبور کرنے کی کوشش کی تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ اتنے بڑے پلیٹ فارم یہ بھارت کو مسکت جواب دیا گیاہے۔شاہ محمود قریشی کا پورا خطاب قوم کی آواز ثابت ہوا کہ پہلی بار ایک بین الاقومی پلیٹ فارم پر سانحہ اے پی سی میں دہشت گردی اور کلبھوش یادیو کو کھل کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔انھوں نے دو ٹوک الفاظ میں بتایا کہ پاکستان میں حالیہ برسوں میں ہونے والے بڑے دہشت گردی کے واقعات جیسے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ اور مستونگ میں بم دھماکے کے تانے بنانے بھارت سے ملتے ہیں۔اسکا جیتا جاگتا ثبوت پاکستان کے زیر حراست انڈین نیوی کا اہلکار کلبھوشن یادیو بھی ہے جس نے ایسے شواہد فراہم کیے ہیں جس سے واضح ہو گیا ہے کہ انڈیا کا پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے مکمل ہاتھ ہے۔ساتھ ساتھ شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ بھارت بین الاقوامی برداری کے سامنے کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی دہشت گردی کھلے عام کر رہا ہے اور یہ بات تمام عالمی برادری کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے کہ وہ کس طرح انسانی حقوق سلب کر رہا ہے۔دوسری جانب شاہ محمود قریشی نے مسئلہ افغانستان پر بھی سیر حاصل گفتگو کی اور کہا افغانستان اور پاکستان کافی عرصے سے بیرونی قوتوں کی غلط فہمیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔انھوں نے ایک بار پھر اس عزم کو دوہرایا کہ اسلام آباد امن عمل کے لیے کابل میں ہونے والی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے غیرملکی پناہ گزینوں کو پناہ دیتا آ رہا ہے جبکہ دوسری جانب دیگر ممالک پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا خواہاں ہے۔اس سلسلے میں دنیا کو پاکستان کی مدد کرنی چاہیے کیونکہ پاکستان ہمیشہ یواین کا ممد و معاون رہا ہے۔پاکستان اقوام متحدہ کے سب امن مشن دستے حصہ لیتا ہے۔آزادی سے لے کر اب تک اقوام متحدہ کے منشور کا پاسدار اور فعال رکن ہے ۔عالمی حالات کے بدلتے تناظر میں شاہ محمود قریشی نے نہایت جامع اور فکر انگیز تقریر کی،خصوصاً بھارت کے جارحانہ رویے اور اسکے جنوبی ایشیاء پر پڑنے والے منفی اثرات سے عالمی برادری کو بروقت آگاہ کیا ہے۔

چین کا امریکہ کو صائب مشورہ
چینی وزیرخارجہ وانگ ای نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کی سائیڈ لائنز پر کونسل آن فارن ریلیشنز سے خطاب کے دوران امریکہ صائب مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ امریکی سمجھتے ہیں کہ چین عالمی تسلط قائم کرنے جا رہا ہے، وہ امریکہ کی جگہ لے گا یا اسے چیلنج کرے گا، یہ سنگین غلطی ہے جو امریکی مفادات کو شدید نقصان پہنچائے گی۔چینی وزیر خارجہ نے مغرب کی سطحی اور فاسد سوچ سے پردہ اٹھاتے ہوئے درست کہا کہ پچھلے چندسو برسوں کے دوران مغرب میں ہوتا یہ رہا ہے کہ جو ملک مضبوط ہو جاتا ہے، وہ دوسرے ملکوں پر تسلط جمانے کی کوشش کرتا ہے، اب امریکی دوست بھی یہ سمجھتے ہیں کہ چین بھی ایسا ہی کرے گا، وہ امریکی طاقت کو ہٹا دے گا یا اسے چیلنج ضرور کرے گا۔انہوں نے اس سوچ اور نظریے کو قطعی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظریہ ایک سنگین اسٹریٹیجک غلطی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ گمراہ کن قیاس آرائی امریکی مفادات اور خود امریکہ کے اپنے مستقبل کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوگی۔چینی وزیرخارجہ نے کہا کہ افسوس ہے کہ یہ خودساختہ اندیشہ پھیلایا جا رہا ہے اور اسے تقویت بھی دی گئی ہے، اس سے نئے شکوک و شبہات جنم لے سکتے ہیں اور اہم مسائل کے حل میں مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔یہ بات سو فیصد درست ہے کہ عالم مغرب برس ہا برس سے اسی غاصبانہ پالیسی پر کار بند رہا ہے کہ جس ملک نے معاشی طور طاقت حاصل کی اس نے خطے کے پڑوسی ممالک میں مداخلت کی اور اسے عدم استحکام سے دوچار کردیا۔اس کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔بلاشبہ چین معاشی استحکام حاصل کرچکا ہے مگر اس کی پالیسی نہ جارحانہ نہ غاصبانہ، جو یورپ اور مغرب کا طرہ امتیاز ہے۔چین چاہتا ہے کہ اس کے اقتصادی استحکام کے فوائد خطے کے دیگر ممالک تک بھی پہنچیں ،یہی وجہ ہے کہ وہ ون بیلٹ ون روڈ کے ذریعے ریجن کو ایک لڑی میں پَرو رہا ہے۔یہ بات بھی درست ہے اس گیم چینجر منصوبے کے دور رس نتائج سے امریکہ اور اس کے حواری ملک خصوصاً بھارت کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں اور وہ منفی پروپیگنڈہ میں مصروف ہیں،چین نے بے بنیاد خدشات کی نفی کر کے امریکہ کو صائب مشورہ دیا ہے کہ گمراہ کن قیاس آرائیاں خود امریکہ کے مفاد میں نہیں ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا احسن فیصلہ
حکومت نے اکتوبر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھا کر ایک اچھا فیصلہ کیا ہے جبکہ اوگرا نے تو پٹرولیم ڈویژن کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں4روپے فی لیٹر اضافے کی سمری بھیجی تھی ۔گزشتہ روز وزیر خزانہ اسد عمر نے اعلان کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے وزیر خزانہ اسد عمر سے ملاقات کی اور انہیں ہدایت کی کہ پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں برقراررکھی جائیں تاکہ عوام پر بے جا بوجھ نہ پڑے،تیل مصنوعات میں جب بھی اضافہ ہوتا ہے اسکا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑتا۔پی ٹی آئی حکومت سے یہی توقع ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کو عوامی مفاد کے مطابق ڈھالے گی۔

بھارتی عدالتوں کے فیصلے صرف ہندوؤں کے حق میں

بھارتی سپریم کورٹ نے جمعرات کو بابری مسجد کیس میں عدالت عظمی کے ماضی میں ایک کیس میں ‘نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد لازمی نہیں’ کے فیصلہ پر نظر ثانی کے لیے لارجر بینچ بنانے کی درخواست مسترد کر دی۔عدالت نے یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں زیرالتواء بابری مسجد کی زمین کے تنازعے میں کچھ مسلم فریقوں کی جانب سے 1994 کےسپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل سننے کے لیے لارجر بنچ بنانے کی درخواست پر دیا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کر کے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ بینچ میں چیف جسٹس دیپک مشرا کے علاوہ جسٹس اشوک اور جسٹس عبدالنذیر شامل تھے، فیصلہ 20 جولائی کو محفوظ کیا گیا تھا۔1994 کے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے رولنگ دی تھی کہ نماز پڑھنے کے لیے مسجد ضروری نہیں، نماز کہیں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ مسلم فریقین کا خیال تھا کہ مذکورہ رولنگ بابری مسجد کیس میں ان کے موقف پر اثرانداز ہو سکتی ہے اس لیے لارجر بنچ بنا کر اس پر نظر ثانی کی جائے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مذکورہ فیصلہ محدود تناظر میں زمین حاصل کرنے کے ایک کیس میں دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس اشوک کی جانب سے دیے گئے اکثریتی فیصلہ میں قرار دیا گیا کہ تمام مساجد، گرجے اور مندر کمیونٹی کے لیے اہم ہیں۔ تیسرے جج جسٹس عبد النذیر نے فیصلہ سے اختلاف کیا۔عدالت نے اعلان کیا کہ بابری مسجد کیس کی سماعت 29 اکتوبر سے شروع کی جاِئے گی۔ ایودھیا میں قائم قدیم بابری مسجد کو موجودہ حکمران جماعت بی جے پی اور اتحادیوں نے 1992 میں شہید کر دیا تھا۔ بابری مسجد کو سولہویں صدی عیسوی میں اس وقت کے حکمراں نے تعمیر کرایا تھا۔ مسجد کی شہادت کے افسوسناک واقعہ سے قبل اور بعد میں انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کے خلاف پرتشدد اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔بابری مسجد شہید کرنے والے لاکھوں انتہا پسند ہندوؤں کا موقف تھا کہ مسجد کو شہید کیا جانا لازم ہے تاکہ یہاں ہندو دیوتا رام کا مندر بنایا جا سکے۔ انتہا پسندوں کے مطابق رام نامی دیوتا یہیں پیدا ہوا تھا۔سپریم کورٹ پہنچنے والے مسلمانوں کا موقف ہے کہ ایک دہائی قبل دیا گیا فیصلہ منصفانہ نہیں ہے۔ اس فیصلہ ہی کی وجہ سے الہ آباد ہائی کورٹ نے 2010 میں بابری مسجد کی زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے مرکزی حصہ ہندوؤں کے حوالے کر دیا تھا۔الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ مختلف پارٹیوں کی جانب سے چیلنج کیا گیا تھا۔نماز کے لیے مسجد ضروری ہے یا نہیں کا فیصلہ ایودھیا کی متنازعہ زمین کی ملکیت کے متعلق مقدمہ کو روکنے کی وجہ بن سکتا ہے۔ جب تک نماز کے لیے مسجد کی اہمیت کا تعین نہیں ہو جاتا زمین کی تقسیم کا مقدمہ معطل رہے گا۔ بھارت کی انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی نے اپنے ووٹرز سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر ضرور تعمیر کیا جائے گا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ 2019 الیکشن کے لیے موجودہ وزیراعظم نریندرا مودی اور بی جے پی کی انتخابی مہم کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ جبکہ ہندو انتہا پسند جماعت نے بہانہ تراشتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ بابری مسجد دراصل بھگوان رام کی جائے پیدائش پر قائم ہے۔ مغل بادشاہ بابر نے مندر کو گرا کر اپنے نام سے بابری مسجد تعمیر کی تھی۔ یہ ہندوؤں کے مذہبی مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم انتہا پسند جماعت کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکی تھی۔ اس سے واضح پتہ چلتا ہے کہ عدالتی فیصلہ ہندوؤں کے حق میں تھا۔ بھارتی ہائیکورٹ سے اسی قسم سے فیصلہ امید کی جا رہی تھی۔ پانچ سو سالوں تک غیر متنازعہ رہنے والی بابری مسجد کے تین دعویدار تسلیم کر لئے گئے۔ یوں مسجد کے ساتھ مند ربننے سے اور اذان کے وقت مندر میں گھنٹیاں بجنے سے امن وامان کا مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔ بھارتی سرکار اور بھارتی عدالتیں متعصب ہندوؤں کے ہاتھوں یرغمال ہو چکی ہیں ۔ ممبئی کیس ہو ، گودھرا کیس ہو یا کشمیر کی کوئی عدالت، ہر کیس کا مجرم صرف مسلمان ہی کیوں ٹھہرایا جاتا ہے ہر کیس کا فیصلہ صرف مسلمانوں کے خلاف ہی کیوں آتا ہے؟ کیا ہندو جرم نہیں کرتے؟کیا اس فیصلہ سے بھارت میں بسنے والے 25 کروڑ مسلمانوں کی دل آزاری نہیں ہوئی۔ کیا یہ فیصلہ سیکولر بھارت کے منہ پر طمانچہ نہیں؟ متعصب ججوں کے فیصلے نے آج بھی دو قومی نظریے کی اہمیت واضح کر دی ہے۔ ہندوستان میں متعصب ہندوؤں نے صرف بابری مسجد ہی شہید نہیں کی بلکہ انہوں نے بعد میں پھوٹنے والے مسلم کش فسادات میں ہزاروں مسلمان شہید کئے۔ چنانچہ مسلمانوں پر یہ حقیقت اشکارا ہو گئی کہ ان کا مستقبل اب بھارت میں غیر محفوظ ہو گیا ہے اور بھارت کی ہر حکومت چاہے وہ کانگریس کی ہو یا بی جے پی کی، اسکا سیکولر ازم کا نعرہ صرف ڈھونگ ہے اور انتخابات میں مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے ایک بہانہ ہے۔ بھارتی مسلمانوں نے اپنی پہچان، علیحدہ تشخص اور اپنی ثقافت کی بقاء کیلئے بریلی کی خصوصی عدالت سے انصاف طلب کیا اور عدالتی فیصلے سے یہ بات سامنے آئی کہ بابری مسجد کی شہادت میں ہندو انتہا پسند ملوث تھے اور ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت بابری مسجد شہید کی گئی۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد اس بات کا تعین ہو سکے گا کہ ایودھیا میں مندر بنایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ یہ فیصلہ بھارتی چیف جسٹس دیپک مشرا کی ریٹائرمنٹ سے قبل کا آخری فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

*****

’سی پیک‘۔ اور’یہودوہنودارسٹوکریٹک ذرائع ابلاغ ‘

پاکستانی فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ستمبر کے آخری دِنوں میں عوامی جمہوریہ چین کا تین روزہ دورہ کیا،، جس میں پاکستانی سپہ سالار نے چین کی عسکری قیادت اور چین کے صدر شی ژی پنگ سے خصوصی ملاقات میں پاکستانی عوام کا ’گرم جوش‘پیغام چینی قیادت اور چینی عوام تک پہنچا یا اُنہیں پُرخلوص دوستانہ ماحول میں باورکرادیا ہے کہ پاکستان اور چین کے مابین جاری ’سی پیک ‘ منصوبے کی راہ میں پاکستان کسی بھی عالمی سازش کے ’ بہیمانہ سازشی عزائم ‘ کو کامیاب نہیں ہونے دے گا پاکستانی فوج کے سربراہ نے اپنے دورہِ چین میں اپنے ہم منصب سے ملاقات میں ’سی پیک ‘ کی ترجیحات کو مزید جامع مقاصد سے مزین کرکے پیش کردیا ہے، یہاں یاد رہے گزشتہ دِنوں اور حالیہ دِنوں میں’ یہودوہنودارسٹوکریٹس‘کی سازشی شراکت داری کوکسی پہلوچین نہیں آرہا ہے’سی پیک ‘کے معاہدے کی وجوہ سے عالمی ’یہودو ہنود ارسٹو کریٹک افکاروخیالات’کی دنیا میں بڑا فکری ونظری انتشار سا پھیلاہوا ہے پاکستان مخالفوں میں بہت ہی ژولیدہ فکر ہیجان خیزاضطرابی ماحول گرم ہے اوراْن کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کریں توآخرکیا کریں؟ کیونکہ من گھڑت اور بے سروپا لغواسٹوریاں گھڑگھڑکر عالمی یہودوہنودذرائع ابلاغ پل بھرکوابھی مطمئن ہونہیں پاتے کہ پاکستان اورچین کی حکومتوں کی جانب سے جواباً اور اعلیٰ مقتدرسطحوں سے کی جانے والی سفارتی و سیاسی سرگرمیوں کے نتیجے میں اْن کے نرے جھوٹ کے پول کھل جاتے ہیں، پاکستان چین اقتصادی راہداری کیخلاف گھڑی جانے والی اْن کی ڈیسک خبروں کودنیا فوراًرد کردیتی ہے، یہودوہنود کے سازشی حربے دھرے کے دھرے ناکام ہوجاتے ہیں، گزشتہ ماہ ستمبرکے آخری عشرے میں لگاتار اور تواترکے ساتھ عالمی میڈیا کی زینت بننے والی ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں تھی جن میں نجانے کہاں کہاں کی ‘گپیں’ خوب ہانکی گئی تھیں مثلاً کہ’ پاکستان میں قائم ہونے والی عمران خان کی نئی حکومت چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے معاہدے پرنظرثانی کرنے کا کوئی رادہ رکھتی ہے ؟‘ یہ بالکل سفید وسیاہ جھوٹ تھا جو مسلسل اور لگاتار بولا گیا، لکھا گیا اور دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام کو بھی سنایاجاتا رہا ہے یہ سلسلہ ابھی تھما نہیں کہیں نہ کہیں جاری وساری ہے، یہودوہنود میڈیا میں اگربات نہیں کی جاتی تووہ دنیا کویہ بتانا پسند نہیں کرتے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ نے چین کے اپنے دورے میں اْن دشمن حلقوں تک یہ بات زوردے کرپہنچا دی ہے جنہیں یقیناًیہ بات پسند نہیں آئی ہوگی کہ’سی پیک’ پاکستان کا معاشی مستقبل ہے اورکوئی بیدار قوم اپنے معاشی مستقبل پراپنی قومی سلامتی پر اوراپنے تحفظ پرکبھی سمجھوتہ نہیں کرسکتی تو پاکستانی قوم کیسے اورکیونکرکسی سے پیچھے رہ سکتی ہے چینی قیادت نے بھی پاکستانی آرمی چیف کویقین دلایا ہے کہ چین کا اب پہلے سے زیادہ پختہ ارادہ ہے کہ وہ پاکستان کی دفاعی اورسیکورٹی سمیت تمام شعبوں میں اپنے دوطرفہ تعلقات کو اور بھی زیادہ مستحکم کرئے گا ‘سی پیک’ کے موضوع پر برطانوی اخبار کے من گھڑت دعویِ کو یکسررد کرتے ہوئے چینی اعلیٰ قیادت نے پاکستانی فوج کے سربراہ پرواضح کردیا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین سمجھتا ہے کہ پاکستان نے’سی پیک منصوبہ’ کی تکمیل کے انفراسٹریکچرز کے تحفظ کیلئے قرارواقعی سیکورٹی فراہم کی ہے، جس پرچینی حکام کوبھرپوراعتماد اور یقین ہے، کیونکہ چینی عوام اورحکومت سمجھتے ہیں کہ پاکستانی فوج نے گزشتہ برسوں میں فاٹا کے قبائلی علاقوں میں دنیا کے بدترین اور سفاک دہشت گردوں کا صفایا کرکے ثابت کردیا ہے کہ پاکستانی فوج اپنی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت واہلیت کی بنیاد پردنیا کی صف اول کی افواج میں شمارہوتی ہے پاکستانی فوج کے سپہ سالار کے دورہ چین کے موقع پر چین کی اعلیٰ سیاسی وعسکری قیادت کی جانب سے پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے اعتراف نے چین اور پاکستان کے دوستانہ تعلقات کی گرمجوشی میں جہاں اورزیادہ’گرم جوشی’کونمایاں کردیا وہاں بھارتی مخاصمت اور عداوت نے نئی دہلی کی سیاسی چال بازیوں کی سفارتی رقابتوں کووقت سے پہلے بے نقاب کرنے میں دیر نہیں کی پاکستان اورچین کواورمزید قریب کردیا ہے ،یقیناًیوں دونوں پڑوسی ممالک پاکستان اورچین کا باہم شیروشکرہوجانا ایک بڑا اہم فطری امرسمجھا جائے تو یہ بے جانہ ہوگا ‘سی پیک’ کے علاقائی اور عالمی مخالفین ذرا روکیں ابھی تو ابتداء ہوئی ہے ابھی سے بلاوجہ کی من گھڑت افواہوں اوربے سروپا الزامات کی آہ وپکار کے کیا معنی؟ کسی سیاسی وسفارتی موضوع کو زیر بحث لانے سے قبل اْس موضوع کے پس منظرکو سمجھنے کی ضرورت پر غورتوکرلیں پاکستان اور چین کی بے مثال دوستی’دیرینہ تعلقات کی شاندار تاریخ پر نظر تودوڑا لیں ہر کوئی جان لے گا کہ پاکستان کو مشکل اور کٹھن مصائب کے عالم میں کبھی چین نے اکیلا نہیں چھوڑاپاکستان کی معاشی مشکلات کی گھڑیاں ہوں یادفاعی تعاون کے گہرے مسائل بین الااقوامی معاملات ہوں یابھارت کی سرحدی ریشہ دوانیاں پاکستان کے ثقافتی امور ہوں یا تعلیم کا شعبہ دنیا کو چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ ہی کھڑا نظرآیا ہے پاکستان اور چین کے درمیان’سی پیک’ کے حوالے سے بدگمانیاں پیدا کرنے کی مذموم کوششیں پنپنے سے قبل ہی دم توڑ گئی ہیں ہو نہ ہو پاکستان کی ترقی وخوشحالی کی کوئی کوشش بھارت سے کبھی ہضم نہیں ہوتی’را’ کا دُم چھلا ایسی ہرکسی مذموم اورگھٹیا سازش کا حصہ ضرورہوتا ہے’دنیا خود دیکھ لے’سی پیک’ کا یہ منصوبہ کہاں سے کہاں تک کیلئے شروع ہوا تھا، اب کہاں تک پہنچ گیا ہے اورآنے والے دنوں میں’علاقائی ترقی وخوشحالی کا یہ میگا منصوبہ’ادھر ایشیاکے اور کس کس علاقہ کو اپنے معجزنما ثمرات سے فیضاب کرئے گااندازہ ہے دنیاکو؟پاکستانی سپہ سالار جنرل قمرجاوید باجوہ نے پاکستان اور چین کے سیاسی وسفارتی اوردفاعی تقاضوں کی معروضیت کی دوربینی کو پیش نظر رکھ کر عوامی جمہوریہ چین کی مقتدرقیادت کو اپنے اعتماد میں لینا ضروری جانا اورپاکستان نے سعودی عرب تک یہ خوش آئند پیغام پہنچادیا ہے کہ سعودی عرب جیسے اہم اسلامی ملک کا اور پھر خاص کر پاکستان کے برادر دوست ملک کا ‘سی پیک’ جیسے اہم منصوبہ میں شامل ہونے سے پاکستان اور چین سمیت اب روس بھی مشرق وسطیِ تک ‘ون بیلٹ ون روڈ’کا حصہ بن سکتے ہیں ‘ ملکی آرمی چیف کا دورہ چین مکمل ہوچکا ہے جبکہ غالب امکان ہے کہ اگلے ماہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان چین کا سرکاری دورہ کریں گے پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل باجوہ کے دورے سے ‘سی پیک’ پر اْٹھنے والے تشنہ سوالات کی تپش پر سمجھیں اب ٹھنڈپڑگئی ہے مشترکہ اعلامیہ میں دنیا کو پتہ چل گیاہے کہ اقتصادی راہداری کی تعمیرمیں دیگرممالک کی شمولیت کی رضامندیوں سے بھارتی فرسودہ تصورات اپنی موت آپ ہی مرگئے کہ’بھارت پاکستان کوکبھی تنہا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گا؟’ہاں !بھارت البتہ پیچھے ضرور رہ گیا ہے اور یہی ہے آج کا سچ ۔

*****

بھارت ہوش کے ناخن لینا کیوں بھول رہا ہے

سبھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکیاں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہیں، اگلے روز ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے بپن راوت نے کہا کہ جنگ ڈھونڈورا پیٹ کر نہیں حکومت کی اجازت ملتے ہی شروع کریں گے۔جبکہ قبل ازیں بھی موصوف نے پاکستان کوبراہ راست دھمکیاں دیتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات اور دہشت گردی ساتھ نہیں چل سکتے، پاکستان سے بدلہ لینے کا وقت آگیا ہے۔ہم پاکستان کوسرپرائز دیں گے، انھیں بھی وہی تکلیف محسوس ہونی چاہیے، جو ہم نے برداشت کی۔ان کا کہنا تھا کہ حالات تیزی سے اسی جانب جا رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ دشمن ملک کو سبق سکھانے کیلئے ایل او سی کے پار آزاد کشمیر میں مجاہدین کے لانچنگ پیڈزپر ایک اور سرجیکل حملہ ضروری ہوگیا ہے۔پاکستان کی حمایت یافتہ مبینہ دہشت گردی بھارت کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ دہشت گردی اور در اندازی سے نمٹنے کیلئے صرف سرجیکل اسٹرائیک نہیں، بلکہ بھارت کے پاس کئی اور آپشن بھی ہیں۔ دوسری طرف بھارت کی خاتون وزیر دفاع نرملا ستھارمن نے ایک چینل کو انٹریو دیتے ہوئے سرجیکل سٹرائیک کی طرح افسانوی دعویٰ کر ڈالا ہے کہ وہ پاکستانی فوجیوں کے سر کاٹ رہے ہیں مگر دکھا نہیں رہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسے بے تکے دعووں کو پہلے قبولیت ملی نہ آئندہ ملے گی۔تاہم یہ اشتعال انگیزی ہے جو کشیدگی کو بڑھاوا دے رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان نے ایسا کیا کیا ہے کہ بپن جی بپھرے ہوئے ہیں۔دیکھا جائے تو پاکستان سے شاید یہ غلطی ہوئی ہے کہ اس نے بھارت کی طرف امن کا ہاتھ بڑھایا، جسے اس نے دور اندیشی سے کام نہ لیتے ہوئے جھٹک دیا۔اس بلنڈر پر مودی انتظامیہ کو داخلی سطح پر خاصی سبکی اٹھانا پڑ رہی ہے،اوپر سے رفال طیاروں کے سیکنڈل نے بھی مودی حکومت کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔تجزیہ نگاروں اور سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ سب کچھ مودی انتظامیہ اپنی اندرونی ناکامی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے کر رہی ہے جیسا کہ بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما ششی تھرور کا کہنا ہے کہ حکومت بھارتی فوج کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ششی تھرور نے مودی حکومت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کادن منانے کے اعلان پر کہا کہ مودی حکومت نے سیاست کا ٹھیکہ فوج کو دیدیا ہے اور اب تک مودی حکومت نے اپنی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا ہے۔

اس ساری صورتحال پر پاک آرمی نے بڑے تحمل سے جواب بھی دیا ہے اور بھارت کو تنبیہ بھی کی ہے کہ کسی قسم کی مہم جوئی خطرناک ہو سکتی ہے۔ ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی آرمی چیف کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی نے ہمارے صبر کا امتحان لیا تو پاک فوج قوم کو مایوس نہیں کرے گی،کسی بھی قسم کی کارروائی ہوئی تو پاکستان اس کا بھرپورجواب دے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت نے اب بھی مذاکرات کی دعوت دی ہے جبکہ بھارت ہمیشہ مذاکرات سے بھاگا ہے، بھارتی فوج سرجیکل اسٹرائیک کا جواب اپنی پارلیمنٹ میں اب تک نہیں دے سکے، بھارتی فوج توجہ ہٹانے کیلئے جنگ کی طرف رخ موڑ رہی ہے۔بھارتی آرمی چیف امن وامان کی صورتحال خراب نہ کریں، ہم جنگ کی تیاری پوری رکھ کر امن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔گزشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی یو این جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا اور بھارت کو بتایا کہ اگر اس نے ایل او سی پار کرنے کی کوشش کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ششی تھرور نے بجا طور پر درست کہا کہ مودی حکومت آرمی کو سیاست کے لیے استعمال کر رہی ہے ،اس تاثر کو تقویت بپن کے تازہ انٹریو سے ملتی ہے۔جیسا کہ جنرل راوت نے کہا کہ خطے میں استحکام اور امن صرف اسی وقت آئے گا، جب ہمسایہ ممالک کی سول حکومتیں اور افواج اپنا کردار ایمانداری سے ادا کریں گی۔پاکستانی حکومت فوج کے زیر اثر رہی تو خطے میں امن کا قیام ایک خواب ہی رہے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ وہ پاکستانی ہم منصب جنرل قمر جاوید باجوہ سے کبھی بھی نہیں ملے ہیں۔جنرل باجوہ پراکسی جنگ کے خاتمے،اوربھارت کیلئے ہر قسم کی پریشانیوں کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جنرل بپن نے پاکستان کیساتھ مذاکرات منسوخ کرنے کے حکومتی فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھارتی فوج غیر سیاسی ہے ۔ رافیل طیارہ اسکینڈل کے معاملے پر بھارتی جنرل نے کہا کہ اس طرح کے سودوں میں معاملات حکومتی سطح پر نمٹانا ضروری ہیں، تاکہ مڈل مین کی ضرورت ہی نہ رہے ۔یہ سارا انٹریو مکمل طور پر اس بات کی چغلی کھا رہا ہے کہ اسے مودی حکومت نے سکرپٹ دیا تاکہ پاکستان دباؤ میں آجائے اور اس کی اپنی قوم اسی گھن چکر میں الجھی رہے۔ بھارتی آرمی چیف بپن راوت کے انٹرویو پر رد عمل میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ترکی کی اناطولیہ نیوز ایجنسی سے کہا کہ پاکستان امن بات چیت اور بھارت کے کسی بھی ممکنہ حملے کو روکنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ پاکستان20 برس سے خطے میں امن و استحکام کیلئے مثبت کوششیں جاری رکھے ہوئے۔ ہم امن کی قدر جانتے ہیں اور بدامنی کو واپسی کی اجازت نہیں دیں گے ۔پاکستان بقائے باہمی اور امن پر یقین رکھتا ہے ۔ پاکستان نے امن کی پہل کاری کا ہمیشہ مثبت جواب دیا، لیکن یہ بھارت ہی ہے جو بات چیت سے ہٹ جاتا ہے ۔بھارتی حکومت اپنے معاشی ایجنڈے کی ناکامی اور کرپشن کے متعدد اسکینڈلز کی وجہ سے ملک کے اندر خود پر ہونے والی تنقید کا رخ موڑ کر جنگی جنون کو ہوا دے رہی ہے۔ مختصر یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا ان میں ایک خدشہ یہ بھی تھا کہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھے گی جو کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔اس خدشے کے پیچھے ریجن میں بی جے پی جیسی متشدد سوچ کی حامل حکومت کا پہلے سے موجود ہونا تھا۔اس پر سونے پہ سہاگہ یہ کہ بی جے پی کی قیادت بھی مودی کے ہاتھ ہے جسکے ہاتھ ہزاروں بے گناہ انسانوں سے رنگے ہوئے ہیں اور اس پرامریکہ میں داخلے پر پانندی بھی اسی وجہ سے تھی۔ دوسرے لفظوں یوں کہا جائے تو غلط نہ ھو گا کہ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔آج اگر مودی انتظامیہ آگ اُگل رہی اور جنگ کی دھمکیاں دے رہی ہے تو اسکے پیچھے ٹرمپ انتظامیہ کی کھلم کھلا ہلا شیری ہے۔شاید امریکہ سمجھتا ہے کہ جنگ چھڑی تو صرف پاکستان تک محدود رہے گی مگر ریجن پر گہری نظر رکھنے والے ایسا نہیں سمجھتے،مودی حکومت کو بھی

معاشی نظام

معیشت کے موضوع کو مسلم معاشروں میں زیر بحث نہیں لایا جاتا اور نہ ہی اس پر گفتگو کی جاتی ہے کہ کیا اسلام کا کوئی معاشی نظام بھی ہے ۔ اسلام انسانی ضروریات کو پورا کرنے کا کوئی تصور دیتا ہے؟ اس وقت دنیا میں 56اسلامی ممالک ہیں لیکن کہیں پر بھی اسلام کا معاشی نظام عملی طور پر رائج نہیں ہے ۔ پاکستان میں عقیدے کے اعتبار سے 98فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے لیکن نظام اور سسٹم کے حوالے سے سرمایہ داری کو اپنی ترقی کی بنیاد قرار دے رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ سترسال گزرنے کے باوجود ہم بحیثیت قوم ذلت و پستی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ افلاس نے ہمارے معاشرے پر ڈیرہ ڈالا ہوا ہے اور پھر اوپر سے ایک اور ظلم یہ ہے اسلام اور مذہب کے نمائندے غربت و افلاس کو تقدیر کا لکھا ثابت کر کے ہمیں اس ظالمانہ سرمایہ داری نظام کی پیدا کردہ خرابیوں کے ساتھ صلح کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔ بنیادی طور پر اگر غور کیا جائے کہ اسلام کا منشاء کیا ہے ؟ اسلام چاہتا کیا ہے ؟ دین اسلام چونکہ انسانی فطرت کا ترجمان ہے تو انسان کی زندگی کے دو رُخ ہیں جس سے جنم لینے والی انسان کی احتیاجات اور ضروریات ہیں ۔ دوسرا اس کا روحانی اور اخلاقی رخ ہے ۔ اب انسان کی اخلاقی زندگی کی تکمیل اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک اس کی معاشی ضروریات کو پورا نہ کر لیا جائے ۔ اس حوالے سے معیشت انسانی زندگی اور انسانی معاشرہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اب سوال یہ ہے معاشی نظام ہم کیوں قائم کر تے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے وسائل دولت اس دنیا میں پیدا کر دئیے ہیں ۔ اب معاشی نظام قائم کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو وسائل پیدا فرمائے ہیں اس سے استفادے کا ایک ایسا میکنزم بنایا جائے کہ جس سے انسانی احتیاجات کی تکمیل ہو اب انسانی ضروریات کو پورا کرنے کا مقصد صرف یہ نہیں کہ جس طرح حیوانوں کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے اس مادی دنیا کے اندر ہونے والے تجربات اور ترقیات کے نتیجے میں دور کے حالات کے مطابق انسانی ضروریات کا تعین فطرت انسانی کے مطابق سیٹ کیا جائے گا ۔ اب ہم زوال کے دورمیں ہیں تو ہمارے ہاں دو نقطہ نظر پائے جاتے ہیں ۔ ایک طبقہ وہ ہے جو معیشت کو انسانی زندگی کی ضرورت قرار نہیں دیتا ۔ وہ صرف آخرت کو اور اُخری زندگی کو انسانی زندگی کا منتہا اور مقصود مانتا ہے ۔ دنیا کے امور اس کی لغت سے خالی ہیں ۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو معیشت کو مانتا ہے لیکن معاشی نظام کو نہیں مانتا بلکہ معیشت کے حوالے چند ایک آیات اور تعلیمات کو اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ان کو مانتا ہے ۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا اگر باقاعدہ اسلام کا کوئی معاشی نظام نہیں تو حل یہ نکلا کہ رائج سرمایہ داری نظام کی اصطلاحات اور میکینزم کو اسلامائز کیا جائے ۔ ہمارے ملک میں ایک مذہبی طبقہ ایسا ہے جو سرمایہ داری کو مسلمان کرنے پر تلا ہوا ہے ۔اس نے سرمایہ داری کے اندر اسلام کی پیوند کاری شروع کی اور بڑے مربوط انداز میں اسلام بینکاری کے نام سے یہاں پر پورا ایک ہواکھڑا کیا اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ اگر اسلام کا کوئی معاشی نظام ہے تو وہ یہ ہمارا بینکاری سسٹم ہے ۔ اس بینکاری کے اندر سود کے عنوانات کو دیگر شکلوں سے رائج کرنے کی کوشش کی گئی اور اسلام کے معاشی نظام کے ساتھ ایک بہت بڑا مذاق کیا گیا کہ اس کو عملی سرمایہ داری نظام کا طفیلہ ثابت کر کے انسانی حقوق پر ڈھاکہ ڈالنے کی عالمی حکمت عملی ترتیب دی گئی ۔ اب دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام کے معاشی نظام اور سرمایہ داری میں فرق کیا ہے ۔ اس کو سمجھنے کیلئے ہمیں پہلے سرمایہ داری نظام کے پورے دور کا تاریخی جائزہ لینا پڑیگا ۔ سرمایہ داری کا اصل اصول سرمایہ ہے ۔ ان کی تمام بلکہ سیاسی اور عمرانی سرگرمیاں بھی سرمایہ کے گرد ہونگی ۔ اب سر مایہ داری نظام قائم ہی اس لئے کیا گیا تاکہ سرمایہ کو اور پھر سرمایہ کے ذریعے سرمایایہ داری نظام کو تحفظ دیا جائے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سرمایہ داری نظام کیسے Developہوا ۔ سرمایہ داری نظام کی بنیاد پڑی یور پ میں ۔ یورپ میں تین بنیادی اور پرانی اقوام ہیں ۔ اٹالین ، جرمن ، فرنچ پھر برطانیہ آگیا ۔ اس کے اندر شامل ہو گیا پھر یہی سرمایہ داری نظام آگے چل کر جاپان اور امریکہ میں رائج ہوا ۔ جب ہم تاریخ کے تناظر میں سرمایہ داری کے یہاں تک کے سفر کو دیکھتے ہیں تو یورپ کے تمام مسائل پر اسی مفاد پرست طبقے کا تسلط رہا ہے ۔ اب ایک دور یورپ کے اندر شہنشاہیت کا ہے ۔جس کی بالادستی بھی موجود ہے ۔ پھر بنیادی عامل پیدائش دولت کا اس دور کے اندر ہے ۔اور اس پرایک جاگیردار طبقہ ہے قابض ہے ۔8 صدی عیسوی سے لیکر 15صدی عیسوی تک یورپ میں جو نظام رہا ہے وہ فیوڈل ازم کا تھا ۔ فیوڈل ازم میں فیوڈل لارڈ جس کو جاگیر کہا جاتا ہے اور اس جاگیردار طبقہ نے جو نظام متعارف کرایا وہ صرف اور صرف زمین سے پیدا ہونے والے تمام تر خزانوں کا مالک اس طبقہ کو ہی قرار دیتا ہے ۔ اس فیوڈل ازم کی عمر 700سال ہے یورپ کے اندر ۔15 صدی عیسوی میں یورپ کے اندر علوم پیدا ہوئے ۔ یورپ اپنے فیوڈل دور سے نکل کر تجارتی دور میں داخل ہوا ۔ اب وہ فیوڈل لارڈ تھے ۔ جب وہ تجارت کے عمل میں آئے تو انہوں نے تجارت کو اپنے قبضے میں لے لیا ۔ اب اس کے دور کے اندر ذر بنیادی عامل پیدائش قرار دیا ۔ اب جسے زرعی دور میں زمین پر ایک طبقہ قابض تھا ۔ اسی طرح تجارتی دو رمیں زر پر وہی طبقہ قابض ہو گیا ۔ چھوٹی چھوٹی جو دستکاریاں وجو د میں میں آگئی تھیں اسکو اس طبقے نے اپنے قبضے میں لے لیا ۔ اس کو ہم تاریخی اصطلاح میں مرکنٹا ئلزم بھی کہتے ہیں ۔ اب جب تجارتی عمل نے فروغ پایا تو اس کیلئے سب سے پہلی چیز جس کی ضرورت محسوس کی گئی وہ ہے “منڈی” تو منڈیوں کی تلاش وہ تجارتی عمل کے اندر ہی شروع ہو چکی تھی ۔ دنیا میں نئے علاقے تلاش کئے جائیں ۔اون کا کاروبار اس وقت زوروں پر تھا ۔ جہاں تک کلیسا کا کردار تھا ۔ اس کو انہوں نے ختم کر دیا اور 16صدی میں ا سٹیوٹ نامی ایک خاندان تھا جسکی عمل داری انہوں نے ختم کر کے یہ جو زر دار طبقہ تھا تما م کے تمام تجارتی عمل اور وسائل دولت پر قابض ہو گیا ۔ استحصال کا عمل جو یورپ کی نشاط ثانیہ سے پہلے وہاں موجود تھا وہ پندرہویں اور سولہویں صدی عیسوی میں بھی جاری و ساری رہا ۔اور 150سال میں دستکاری کی صنعت ترقی کرکے مشین کی ایجاد پر منتج ہوئی اور نئے پیداواری رشتے قائم کرنے کی بات کی گئی اور پیدائش دولت کے عمل میں زر کے بجائے سرمائے کی اصلاح کو متعارف کرایا گیا ۔ اس میں مشین کو بھی سرمایہ کے تابع کر دیا گیا ۔ تو یوں اٹھارہویں صدی عیسوی کے اندر سرمایہ داری نظام کا آغاز ہوتا ہے ۔ اب سرمایہ داری نظام کا اصل سرمایہ ہے اب وہی طبقہ جو تجارتی دور میں زر پر اجارہ دا ر تھا وہی طبقہ مشین کی ایجاد کے بعد مشین کا مالک بن گیا ۔ اب اس سے ایک طرف تو پیداور ی عمل میں اضافہ ہو گیا اس کو Mantianکرنے کیلئے دو چیزوں کی ضرورت محسوس کی گئی ۔۱۔ وسائل جس کو ہم زمین کہتے ہیں معیشت کی اصطلاح میں ،۲۔ منڈی جہاں پر آپ کو کنزومر چاہیے ۔اس مشین نے جو مسائل پیدا کئے وہ یہ کہ ایک طرف جو دستکار تھا وہ بے روز گار ہو گیا اور اس بات پر مجبور ہوا کہ وہ اپنا پیٹ بھرنے کیلئے ان سرمایہ داروں کی لگائی گئی فیکٹریوں میں ملازمت اختیار کرے ۔ حقوق کی پاسداری کا تو کوئی نظام موجود نہیں تو انہوں ایک طرف سرمایہ پر تسلط حاصل کر لیا اور دوسری طرف مزدورں کی محنت کا استحصال شروع کر دیا ۔ اورساتھ ہی منڈیوں کی تلاش میں عالمی مہم جوئی پر نکل پڑے ایک طرف افریقہ میں گئے تو وہاں کے نظام کی کمزوریوں کو بھاپنتے ہوئے وہاں پر اپنی نو آبادیات قائم کی ۔ دوسری طرف ہندوستان میں آئے تو وہاں پر سسٹم کی کمزوریوں کو دیکھا اور آپنی نو آبادیات قائم کی اور یہاں کے وسائل کو لوٹنا شروع کر دیا ۔ کارل مارکس تو یہاں تک لکھا ہے کہ اگر یورپ ہندوستان کو فتح نہ کرتا اور یہاں کے وسائل اس کے ہاتھ میں نہ جاتے تو سرمایہ داری نظام اپنی کساد بازاری کی وجہ سے خود بخود ختم ہو جاتا ۔1930 میں جو کساد بازاری کا بحران آیا ۔وہ بہت پہلے آ چکا ہوتا ۔ اب یورپ نے اس سارے سفر میں یہاں تک پہنچنے میں جس سسٹم کو وجود میں لایا وہ ہے سرمایہ داری جہاں پر انہوں نے اپنا قومی نظام سرمایہ داری کی اساس پر قائم کیا ۔ہاں پر انہوں نے اپنی نوآبادیوں میں بھی سرمایہ داری نظام قائم کر دیا ۔اب سر مایہ داری نظام میں عاملین پیدائش چار ہیں زمین ، سرمایہ ، محنت ، تنظیم ۔ اب زمین کو Captial قرار دیا ۔ مشین کو سرمایہ قراردیا ۔ تنظیم کو سرمایہ قرار دیا محنت تو پہلے ہی ان کے گھر کی لونڈی ہے تو نتیجہ یہ نکلا کہ پیدائش کے عمل میں بنیادی عامل سرمایہ ہے تو تقسیم کے عمل میں بھی سرمایہ کو بنیادی عنصر قرار دیا ۔ اس کے نتیجے میں محنت کا استحصال ہوا اور اس ہی سرمایہ کی تقسیم کے تنازعے پر دنیا کو دو عالمی جنگیں بھی دیکھنی پڑیں ۔ آج دنیا میں سرمایہ داری نظام کا سرغنہ امریکہ ہے جو نیو کلاسیکل سرمایہ داری کو اپنے ہاں رائج کر چکا ہے جس میں اسٹیٹ کو سرمایہ داری کے تابع کر دیا ہے سرمایہ کا یہ جو سفر آج امریکہ کی بالادستی کی شکل میں موجود ہے اسکا اگر اسلام کے ساتھ مواز نہ کیا جائے تو فرق واضح ہو جائیگا ۔ب اس فرسودہ اور انسانیت دشمن نظام کو ہم اسلام کے قریب قرارد یں تو یہ کتنا بڑا جرم ہو گا ۔ اور زیادتی ہو گئی ۔آج ہمارامذہبی طبقہ اپنی بے شعوری یا مفادات کی وجہ سے بڑی بڑی مراعات لیکر کتابیں لکھتا ہے اور سرمایہ داری کو عین اسلام ثابت کرنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے ۔اب اگر یورپ کے دور عروج تک اور اسلام کے دور عروج کا موازنہ کریں تو اسلام نے جو نظام قائم کیا تھا اس میں زمین کو State کی ملکیت قرار دیکر لوگوں میں تقسیم کیا اس سے انتفاع کا تمام لوگوں کو یکساں حق دیا گیا ۔

سیاسی وعسکری قیادت کی ملاقات،سرحدی صورتحال پرغور

adaria

بھارت کی گیدڑبھبھکیوں کی وجہ سے خطے کی صورتحال دگرگوں ہے شاید بھارت اپنے ماضی کو بھول گیا ہے جب 1965ء کی جنگ میں پاکستان کے سپوتوں نے بھارتی بنیوں کوناکوں چنے چبوادیئے تھے انہیں فرار ہونے کاراستہ نہیں مل رہاتھا جب ہمارے جوانوں نے دشمن کوایسا سبق سکھایا تھا جورہتی دنیا تک یاد رہے گا ۔اب مودی اور بھارتی آرمی چیف پھر سے شہر کی جانب آرہے ہیں اور جب گیدڑ شہر کی طرف آتا ہے تو یقینی طورپر اس کی موت واقع ہوتی ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ بھارتی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا اور دشمن کی توپوں کامنہ بند کردیا ۔گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان عمران خان اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی اس ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجودتھے۔ خطے میں امن وامان قائم رکھنے کیلئے مثبت کردار جاری رکھنے اور ملکی سلامتی کیلئے موثراقدامات کافیصلہ بھی کیاگیا۔ ملاقات کے دوران خطے کی مجموعی صورتحال اور سکیورٹی کے حوالے سے گفتگو ہوئی جبکہ بھارتی آرمی چیف کے بیان،وزیراعظم کے دورہ چین اور وزیرخارجہ کے دورہ اقوام متحدہ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان وزیراعظم ہاؤس کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ملاقات میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ، ملاقات کے دوران ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدوں کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا، عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں پیش رفت پر وزیراعظم کو آگاہ کیا ، ملاقات کے دوران نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا ، ملاقات میں بھارتی دھمکیوں کے بعد کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا،ملاقات میں سیاسی اور عسکری قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطہ کی سلامتی کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ فاٹا ریفارمز کے حوالے سے حکومت نے جو حکمت عملی مرتب کی ہے کہ وہاں پر ترقیاتی کام فوری طور پر شروع ہو سکے۔ اس پر بھی میٹنگ میں تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔ سیاسی وعسکری قیادت کے مصمم عزم او رباہمی اتحاد نے دشمن کے دانت کھٹے کرکے رکھ دیئے ہیں مودی ہرممکن کوشش کررہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح سرحد کے حالات خراب ہوں اور وہ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرکے نہ صرف انتخابات میں کامیابی حاصل کرسکے بلکہ جہازوں کی خریداری کے سکینڈلز پر بھی پردہ ڈالناچاہتا ہے لیکن شاید اب وقت گزرچکا ہے یہ نام نہاد جمہوریت کادعویدار، گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث بھارتی وزیراعظم کے اصل چہرے سے دنیا واقف ہوچکی ہے مقبوضہ کشمیر میں جو بھارت ظلم ڈھارہاہے وہ بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔ پاکستان قیام امن کے سلسلے میں اہم کردار ادا کررہاہے لیکن بھارت کی جانب سے ہمیشہ منفی جواب رہا کبھی وہ ایل او سی پربلااشتعال فائرنگ کرتا ہے تو کبھی پانی کی دہشت گردی مچاتا ہے غرض کہ وہ کوئی موقع ہاتھ نہیں جانے دیتا مگر ہرموقع پر اسے منہ کی کھاناپڑتی ہے ۔ ادھر دوسری جانب وزیراعظم نے فاٹا اصلاحات کو بھی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ سابق فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کیلئے کوئی تاخیر نہیں کی جانی چاہیے اس سلسلے میں سبک رفتاری سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔پشاور میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو کے پی کے حکومت کی کارکردگی اور 100روزہ منصوبے پرعملدرآمد کے حوالے سے بھی آگاہ کیاگیا جہاں حکومت فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کیلئے پرعزم ہے وہاں پر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے حوالے سے بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ دونوں حکومت کے بنیادی وعدوں میں شامل تھے اور اپنے سوروزہ پلان میں ان کی تکمیل بہت ضروری ہے۔
ایک اورپٹرول بم تیار
منی بجٹ کے بعد ایک مہنگائی کاطوفان برپا ہوا ہے، آنیوالاوقت توکچھ اس طرح کی نوید سنارہاہے کہ شاید قوم دووقت کی روٹی کھانے سے بھی محتاج ہوجائے گی۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے بہت زیادہ خبریں سرگرم ہیں جس میں تجویز دی گئی ہے کہ پٹرول 4.50 ،ہائی سپیڈ ڈیزل4 اور مٹی کاتیل ساڑھے تین روپے مہنگاکرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کو قیمتیں بڑھانے سے پہلے یہ اچھی طرح سمجھنا ہوگا کہ پہلے ہی منی بجٹ میں مہنگائی کاجن قابو سے باہر ہے اور اب اگر پٹرولیم مصنوعات میں مزید اضافہ کردیاگیا تو پھرمہنگائی آسمان تک جاپہنچے گی کیونکہ ایک پٹرول مہنگا ہونے سے تمام چیزوں کی قیمتیں بڑھ جائیں گی ۔عوام کو سہولیات فراہم کرناحکومتی اقدامات کی اولین ترجیح ہوناچاہیے ۔یہ بات درست ہے کہ ایک کروڑ نوکریاں اورپچاس لاکھ مکان بنانے کے حوالے سے بھی ترجیحی بنیادوں پرکام کیاجارہاہے مگر دوسری جانب اگر اسی طرح مختلف اشیائے خوردونوش ودیگراشیاء کی قیمتیں بڑھتی رہیں توآنیوالاوقت بہت مشکل ہوجائے گا اور سودن کے بعداپوزیشن سمیت سب کی توپوں کارخ حکومت کی جانب ہوگا۔یہ بھی عنان اقتدار میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں کوسوچنا ہوگا کہ اوپرتلے ان اقدامات سے جوکہ عوام کے حق میں نہیں اس سے ضمنی انتخاب میں کتنا منفی اثرپڑے گا۔
اندرون سندھ میں بچوں کااغواء لمحہ فکریہ
کراچی اوراندرون سندھ میں معصوم بچوں کااغوا سندھ حکومت کے لئے ایک سوالیہ نشان بنتاجارہاہے ،سی سی ٹی وی سے فوٹیج بھی سامنے آرہی ہیں لیکن ملزمان کے گردگھیراتنگ کرنے کے سلسلے میں حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے، لوگوں میں خوف وہراس کاماحول ہے ان معصوم بچوں کے اغواء کاکون ذمہ دار ہے کیا حکومت صرف سیاست ہی کرتی رہے گی یاعوامی مسائل پربھی توجہ دے گی پولیس مقابلے کے دوران بھی ایک کم سن ننھی پری کوگولی لگی اورقیمتی زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھی ۔بات یہا ں تک ہی نہیں ٹھہرتی خورا ک کی کمی کی بھینٹ بھی بچے چڑھ رہے ہیں بڑے بڑے محلات میں بیٹھے حکمرانوں کے سامنے انواع اقسام کے کھانے دسترخوان پرسجے ہوتے ہیں جو شاید کوئی غریب کھاناتودرکنارساری عمر انہیں دیکھ بھی نہیں سکتا مگران کو کیاخبر جو سونے کاچمچہ لیکر منہ میں پیدا ہوئے کہ غریب کابچہ کس طرح کسمپرسی کے معاشرے میں پلتا اوربڑھتا ہے جب تک عوام کو بنیادی حقوق حاصل نہیں ہوں گے اس وقت تک کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا اندرون سندھ کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے وڈیرے کااپنابچہ تو بیرون ملک جاکرتعلیم حاصل کرتا ہے عیش وعشرت سے زندگی بسر کرتا ہے لیکن غریب ہاری کابچہ بھوک وافلاس سے سسک سسک کرایڑیاں رگڑتے ہوئے جان دے بیھٹتاہے پھرجب ووٹ لینے کی باری آتی ہے تو غریب عوام کو سبزباغ دکھائے جاتے ہیں اس کے بعد اسی عوام کو حکمران روندتے ہوئے گزرجاتے ہیں، ان کے اکاؤنٹس اربوں کھربوں میں اور غریب کوڑی کوڑی کومحتاج ہوجاتا ہے اس جانب بھی احتساب کی ضرورت ہے ۔سپریم کورٹ نے اس حوالے سے جن تحفظات کااظہارکیاانہیں ترجیحی بنیادوں پرحل کرناہوگا۔

بھارت میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے ملک بھارت میں پہلی بار مجموعی آبادی میں ہندوؤں کا تناسب اسّی فیصد سےکم ہو گیا ہے جبکہ مسلمانوں کی تعداد قریب ایک فیصد اضافے کے ساتھ اس وقت چودہ فیصد سے زائد ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق 1947ء میں بھارت کی آزادی سے لے کر اب تک ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ملک کی مجموعی آبادی میں ہندوؤں کا تناسب 80 فیصد سے کم ہو گیا ہے۔اس سلسلے میں بھارتی ذرائع ابلاغ میں یہ دعوے بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں کہ نئی دہلی میں گزشتہ ملکی حکومت نے قومی سطح پر پچھلی مردم شماری کے نتائج جاری کرنے میں اس لیے دانستہ طور پر تاخیر کر دی تھی کہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے اس بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس جنوبی ایشیائی ملک میں سب سے بڑی اقلیت کے طور پر مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔مردم شماری کے نتائج کے مطابق 2011ء میں جب بھارت کی مجموعی آبادی 1.2 ارب تھی، ہندوؤں کا تناسب کم ہو کر 79.8 فیصد ہو چکا تھا حالانکہ اس سے ایک دہائی قبل یہی شرح 80.5 فیصد بنتی تھی۔ قریب چار سال قبل مکمل کی جانے والی اس مردم شماری کے نتائج کے مطابق 2001 میں بھارت میں مسلم آبادی کا تناسب 13.4 فیصد تھا، جو 2011ء تک 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 14.2 فیصد ہو چکا تھا۔اس کے برعکس دیگر بڑے مذہبی گروپوں سے تعلق رکھنے والے بھارتی باشندوں میں سے مسیحیوں کی آبادی میں تو کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہ آئی جبکہ سکھوں کی آبادی ایک عشرہ پہلے کے مقابلے میں دراصل کم ہوئی ہے۔ 2011ء میں اس سے دس سال قبل کی طرح بھارتی مسیحیوں کی آبادی 2.3 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ اسی عرصے کے دوران سکھوں کی مجموعی آبادی 1.9 فیصد سے کم ہو کر 1.7 فیصد رہ گئی۔ برصغیر سے 1947ء میں برطانوی راج کے خاتمے کے بعد، جب پاکستان اور بھارت کی خود مختار ہمسایہ ریاستیں وجود میں آئی تھیں، بھارت میں کرائی جانے والی پہلی پہلی مردم شماری میں ہندو آبادی کا تناسب 84.1 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔تازہ مرد شماری میں مغربی بنگال اورآسام میں سب سے زیادہ مسلم آبادی میں اضافہ پر سیاست شروع ہوگئی ہے۔ایک طرف جہاں کانگریس اور ترنمول کانگریس نے اس اضافہ کو حسب معمول قرار دیا ہے تو بی جے پی نے بنگلہ دیشی شہریوں کے دراندازی کا مسئلہ اٹھا کر اس اضافہ پر سوالیہ نشان اٹھایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ سول یونیفارم کوڈ نافذ کیا جائے۔ اور فیملی پلاننگ مسلمانوں پر بھی نافذ کی جائے۔ 2011کی مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق آسام میں سب سے زیادہ مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔2001 کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی کل آبادی 30.9فیصد کے قریب تھی اب یہ ایک دہائی میں بڑھ کر 34.2فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ آسام کے 27ضلعوں میں 9ضلعوں میں مسلم اکثریتی آبادی ہے جب کہ 2001میں صرف 6اضلاع میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ آسام کے بعد مغربی بنگال میں سب سے زیادہ مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔2001کی مردم شماری میں ریاست میں مسلم آبادی 25.2فیصد تھی جو اب بڑھ کر 27فیصد تک پہنچ گیا ہے۔یہاں مسلمآبادی میں 1.8فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ یہ قومی سطح پر مسلم آبادی میں اضافہ کے اعتبار سے دوگنا ہے۔جموں و کشمیر میں بھی مسلمان آبادی کی شرح میں 2فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔کل 1.25کروڑآبادی میں مسلمانوں کی تعداد 85.6 لاکھ ہے۔2001کی مردم شماری میں جمو ں کشمیر میں مسلم آبادی 67فیصد تھی جو اب بڑھ کر 68.3فیصد تک پہنچ گیا ہے۔اس کے بعد اترا کھنڈ میں بھی مسلم آبادی میں 2فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔2001کی مردم شماری میں یہاں مسلم آبادی کی شرح 11.9فیصد تھی جو بڑھ کر 13.9فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ دوسری ریاستوں میں کیرالہ میں پہلے مسلم آبادی 24.7فیصد تھی جو بڑھ کر 26.6فیصد ہوگئی ہے ،گوامیں 6.8فیصد سے بڑھ کر 8.4فیصد ، ہریانے میں 5.8فیصد سے بڑھ کر 7فیصد اور دہلی میں 11.7فیصد سے بڑھ کر 12.9فیصد ہوگئی ہے۔مغربی بنگال کی کل آبادی 9.12کروڑ پر مشتمل ہے جس میں ہندووں کی آبادی 6.4 کروڑ کل70.53 فیصد ہے۔مسلم آبادی 27.01فیصد ہے اس طرح کل مسلم آبادی 2.4کروڑ ہے۔ایک دہائی قبل یہاں ہندو آبادی 5.8کروڑ تھی جب کہ مسلم آبادی 2کروڑ تھی اس وقت ریاست کی کل آبادی8.01 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 9.12کروڑ ہوگئی ہے۔مغربی بنگال کی اکثریتی مسلم اضلاع مرشدآباد میں 47لاکھ مسلم اور 23لاکھ ہندو، مالدہ میں 20لاکھ مسلم اور 19لاکھ ہندو آبادی اور شمالی دیناج پور میں 15لاکھ مسلم اور 14لاکھ ہندو آبادی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ نریندر مودی کی حکومت پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں سرد مہری برت رہی ہے کیونکہ تعصب پسندی میں ڈوبی مودی سرکار جب بھی اپنے ونگ میں کھیلی خون کی ہولی ہی کھیلی۔ کسی بھی انسان کے کردار کو پرکھنے کے لیے ایک بہترین نسخہ یہ ہے کہ اس کے ماضی کے بارے میں جانا جائے۔ نریندر مودی کا ماضی سیاست کے حوالے سے ہندو مسلم تعصب کے زہر سے تحریر ہے وہ آج بھی ہندوستان میں بسنے والے اٹھارہ فیصد مسلم آبادی سے پریشان ہیں اقلیت کا اٹھارہ فیصد زہر 70 فیصد ہندوآبادی پر اتنا بھاری ہے کہ سازشوں کے جال بنے جا رہے ہیں۔
*****

پاکستان کا سپاہی بھارتی جرنیلوں سے زیادہ تجربہ کار ہے

Naghma habib

بھارت کے آرمی چیف بپن راوت نے بھڑک ماری اور بے سوچے سمجھے ماری کہ پاکستان کو سبق سکھانے کا وقت آگیا ہے جنرل صاحب بھول گئے کہ پاک فوج اور پاک عوام کو پہلے ہی پورا سبق یاد ہے اُسے معلوم ہے کہ دشمن چاہے اُس سے کئی گنا بڑی فوج رکھتا ہے ہتھیار بھی ہر سال خریدتا ہے اور ڈھیروں ڈھیر خریدتا ہے اُس سے کیسے نمٹناہے اُس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے وہ یہ بھی بھول گیا کہ پاکستان کا نوجوان افسر اور سپاہی اْسی یعنی بھارت کی سازشوں کے نتیجے میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ لڑکر اُس کے جرنیلوں سے زیادہ تجربہ کار ہو گیا ہے وہ تو چھپے دشمن سے بڑی کامیابی سے لڑ رہا ہے تو جانے پہچانے سے جنگ تو اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ۔ وہ اِس دشمن کی ہر چال سے آگاہ ہے کہ آگے سے کیسے وار کرتا ہے اور پیچھے سے کس طرح چوروں کی طرح آتا ہے کیونکہ یہ سب ہی جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں دہشت گردی کامنصوبہ ساز کون ہے ہاں بپن کو یہ بھی یاد دلانا ہے کہ پاکستان بھوٹان اور سکم نہیں جو بھارت کی گود میں جا گرے گا ایک مسلمہ اور مصدقہ ایٹمی قوت ہے اور بھارت کا دور ترین شہر بھی ہمارے ایٹمی میزائلوں سے بس چند منٹ کے فاصلے پر ہے دلی، امرتسر اور چنائے جیسے شہر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں اور جہاں تک بپن راوت یہ بولا ہے کہ پاکستان کو درد محسوس کرانا ہے تو بپن صاحب جو کچھ آپ نے پاکستانی عوام کے ساتھ کیا ہے اور جس دہشت گردی میں اُسے جھونکا ہے اپنے جتنے پالتو تم نے افغانستان میں لا کر بٹھائے ہیں اور وقتاََ فوقتاََ وہ تمہاری پکار پر دم ہلاتے ہوئے نکل کھڑے ہوتے ہیں اگر یہ سب انسانی حقوق کے کسی حقیقی اور منصف ادارے کے سامنے رکھ دیا جائے اور غیر جانبدار فیصلہ ہو تو بھارت یقیناًانسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والا بہت بڑا مجرم قرار دیا جائے گا۔ بھارت ساری دنیا میں پاکستان کے خلاف یہ پروپیگنڈا کرتا ہے کہ وہ اس کے ملک میں دراندازی کر رہا ہے اب بھی اُس نے ایک ایسے ہی واقعے کو بہانہ بنا کر مذاکرات سے انکار کیا ان کے ایک پولیس آفیسر کا کشمیری مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوا ہے اور پھر اس کی لاش کی بے حرمتی کی گئی ہے دراصل مودی سرکار نے غلطی سے مذاکرات کی دعوت قبول تو کر لی جو وزیراعظم عمران خان کی طرف سے دی گئی تھی لیکن بعد میں اُس نے اِن مذاکرات سے انکار کیا اور یوں بین الاقوامی اصولوں کی دھجیاں بکھیر دیں اور ساتھ ہی دو کام کیے ایک یہ کہ اپنی سرحدوں کے اندر ہونے والے ایک واقعے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا دوسرا یہ کہ اُس کے آرمی چیف نے پاکستان کے لیے دھمکی آمیز لہجہ اور الفاظ استعمال کیے بغیر یہ سوچے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ۔بھارت کی طرف سے یہ رویہ کوئی پہلی مرتبہ سامنے نہیں آیا وہ اکثر اوقات اپنی طاقت کے زعم میں بہک کر ایسی باتیں کرتا ہے اور خود کو خطے کا چودھری تسلیم کروانے کی کوشش کرتا ہے پاکستان کے بارے بھارت یہ پروپیگنڈا کرتا پھرتا ہے کہ وہ کشمیر میں تحریک آزادی کو مالی، عددی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہا ہے بلکہ اس تحریک کو چلارہا ہے اور آئی ایس آئی ہی وہ ادارہ اور قوت ہے جو مجاہدین کشمیر کو بھارت کے خلاف آمادہ پیکار رکھتاہے چلیں مان لیا کہ ایسا ہے لیکن درجن بھر آزادی کی دیگر تحریکوں کے بارے میں بھارت کا کیا خیال ہے وہ کس کی ایما پر چل رہی ہیں کیا اُدھر بھی پاکستان کا ہاتھ ہے اور کیا وہ سب بھی پاکستان کے اشارے پر چل رہے ہیں اگر ایسا ہے تو کیا پھر بہتر نہیں کہ بھارت کی حکومت پاکستان کے حوالے کر دی جائے۔ دراصل جب بھی بھارت سے اپنے مسائل نہیں سنبھلتے تو اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے وہاں کی حکومت یا کوئی بڑا عہدہ دار پاکستان کے خلاف کوئی بیان دے دیتا ہے اور پورا بھارتی میڈیا جنونی انداز میں اسے موضوع بحث بنا لیتا ہے معلوم نہیں بپن بچارے نے کس کیفیت میں یہ بیان دیا اور بھارت کے جنونیوں نے اسے سنجیدگی سے لے لیا اُس کی حکومت نے بھی مذاکرات سے انکار کر دیا لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ پاک فوج نے بڑی متانت اور سنجیدگی سے بڑا کرار جواب بھارت کو دیا اور اُسے یاد دلایا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور اس کی فوج دنیا کی بہترین اور بہادر ترین افواج میں سے ہے اور یہ بھی کہ بحیثیت بہترین مسلمان فوج اور ایٹمی قوت کے وہ ایسی گری ہوئی حرکت نہیں کر سکتا کہ ایک لاش کو خراب کرے لہٰذا اُس کا الزام سراسر بے بنیاد ہے ہم جنگ کے لیے تیار ہونے کے باوجود امن کی خواہش رکھتے ہیں لیکن امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔بھارت کو پہلے بھی جب بھی جنگی جنون ہوا ہے اور اُسے یہ یاد کرو ا دیا گیاکہ وہ کسی معمولی ملک سے بات نہیں کر رہا بلکہ ایٹمی قوت سے مخاطب ہے تو اُس کے غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے لیکن پھر کمزور یاد داشت کے باعث کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ کسی ایسی حرکت کا مرتکب ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ بسا اوقات اُس کے اندرونی مسائل اور ناکامیاں ہوتی ہیں۔ اس وقت بھی بھارت وہ ملک ہے جس میں ترقی کے بے شمار دعوؤں کے باوجود غربت انتہا درجے پر پہنچی ہوئی ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ غریب یعنی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے اسی ملک میں بستے ہیں، پورے پورے خاندان فٹ پا تھوں پر زندگی گزار رہے ہیں۔ حکومت اسی بات سے پریشان ہے کہ ان کے لیے لٹرین کیسے بنائے جائیں گھر اور چھت تو دور کی بات ہے۔ حکومت بد عنوانیوں کے الزامات اور اقدامات میں الگ بُری طرح جکڑی ہوئی ہے عوام اس سب کچھ پر سراپا احتجاج ہیں۔ علحدگی کی تحریکیں اس کا سب سے بڑا درد سر ہے تری پورہ کو بھگتے تو خالصتان وہاں سے فرصت ملے تو نا گا لینڈ وہاں سے جان چھوٹے تو جھارکنڈکس کس کو بھارت روئے ایسے میں وہ بچارہ یہی کر سکتا ہے کہ کشمیر اور پاکستان پر سارا غصہ نکالے لہٰذا ایسے میں بپن اپنے عوام کو کسی اور رُخ لگائے گا اور یہی اُس نے کیا اور پاکستان کو دھمکی دیتے وقت اس نے اپنی سیاسی حکومت کے نمائندے کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی تا ہم پاکستانی عوام سیاسی جماعتوں اور حکومت سب نے جس طرح بیک زبان اُسے جواب دیا وہ اُسے آئینہ دکھانے کو کافی تھا۔ بپن کے لیے تجویزیہ ہے کہ اپنی حکومت کی ناکا میوں کو چھپانے کی کوشش نہ کرے بلکہ اُسے اپنے وسائل کو عوام کے مسائل پر خرچ کرنے کا مشورہ دے نہ کہ اُسے خطے میں بدامنی پر خرچ کرے اور اسلحے کے ڈھیر لگائے۔ اسلحے کے ڈھیر کی بجائے وہ فٹ پاتھوں پر کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے خاندانوں کیلئے کوئی گھر بنادے تو زیادہ بہتر ہوگا ورنہ پاکستان کو دھمکیاں دیتا رہے گا جو کہ اُس کے لیے مہنگا سودا ثابت ہو گا۔

Google Analytics Alternative