کالم

جنوبی پنجاب کے مسائل

yasir-khan

ملک میں مسائل اس قدر زیادہ ہیں کہ کسی ایک مسئلے کے حل کی جانب پیش رفت سے قبل ہی نئے مسائل جنم لینے لگتے ہیں اور یوں مسائل کے یہ انبار بحرانوں کی کی صورت ہمارے سامنے پھن پھیلائے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔کافی عرصہ سے نئے صوبوں کی ضروت و اہمیت کو نہ صرف محسوس کیا جارہا ہے بلکہ اب تو آئے دن نئے صوبوں کی تشکیل سےصرف نظر ہمیں مزید مسائل میں دھکیل رہا ہے۔پنجاب کی اگر بات کی جائے تو یہ صوبہ سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے،سہولیات اور وسائل کی اضلاع کے درمیان غیر منصفانہ اور غلط تقسیم کی وجہ سے جنوبی پنجاب کے اضلاع کی محرومیاں ہیں کہ بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں ۔خادم اعلیٰ کا پنجاب اتنا بڑا ہے کہ سوائے محض چند بڑے اضلاع جن میں ،لاہور،روالپنڈی،فیصل آباد ،ملتان اور چند قریبی اضلاع کے علاوہ دور دراز کے اضلاع کے مسائل کی طرف کسی کی توجہ ہی نہیں جاتی۔لاہور ہی کو لے لیجئے،کیا ہم اس کا مقابلہ جنوبی پنجاب کے کسی ضلع سے کسی بھی میدان میں کر سکتے ہیں ۔تمام سہولیات،فنڈز اور آسائشیں کیا پنجاب کے چند بڑے اضلاع کا ہی مقدر ہیں تو پھر دور دراز کے ان اضلاع کے مسائل کو کون حل کرے گا ،جن کا کل سالانہ بجٹ محض ،میٹرو بس اور، اورنج ٹرین منصوبے سے بھی کم ہو تا ہے۔ تمام کی تمام تعلیمی اور دوسری بنیادی سہولیات جن میں صحت اور صنعت و حرفت شامل ہیں کیا صرف انہیں کا مقدر ہیں ۔گزشتہ دنوں جنوبی پنجاب کی محرومیوں اور مسائل سے متعلق خود حکومتی رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے دس پسماندہ ترین اضلاع تمام کے تمام جنوبی پنجاب سے ہی ہیں ۔ ان اضلاع کی درجہ بندی میں خوراک کی کمی،صاف پانی کی فراہمی نکاسی آب ،صحت اور تعلیم کو معیار بنا یاگیا ہے۔جنوبی پنجاب کے ان پسماندہ ترین اضلاع کی درجہ بندی میں سب سے غریب راجن پور،ڈی جی خان ،مظفر گڑھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ٹھہرے ۔جبکہ بہتر سہولیات لاہور،راولپنڈی گجرات،چکوال فیصل آباد جیسے اضلاع کے عوام کا مقدر ٹھہریں ۔یہ تو خود حکومتی رپورٹ کے اعداد و شمار ہیں ۔جنوبی پنجاب کے ان اضلاع کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کوئی آج کی بات نہیں بلکہ یہ تو خادم اعلیٰ صاحب جو گزشتہ چھبیس سال سے پنجاب کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں کو خود بڑی اچھی طرح پتا ہے کہ جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا ذمہ دار کسی اور کو کیوں ٹھرایا جائے ،بلکہ ان حقائق اور اعداد و شمار کی روشنی میں بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان اضلاع کے عوام کے مقدر میں ،غربت،بیروزگاری وسائل و سہولیات کی عدم دستیابی کے پیچھے کار فرما عوامل میں سے سب سے بنیادی چیز پنجاب میں نئے صوبوں کی عدم تکمیل ہی ہے۔اتنی بڑی آبادی کے صوبے کو لاہور میں بیٹھ کر کنٹرول کرنا ،ہے تو مزے کی بات مگر ،ان تمام خواہشات اور بڑے صوبے پر حکمرانی قائم رکھنے کی جد و جہد میں ان پسماندہ اور دور دراز کے اضلاع کو ہی ہمیشہ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں کیوں نظر اندازکر دیا جاتا ہے۔حالت یہ ہے کہ میانوالی،راجن پور،مظفر گڑھ ،لیہ،ڈی جی خان،لودھراں اور اس جیسے کئی اضلاع گزشتہ کئی دہائیوں سے بنیادی سہولیات سے محرومی کا رونا روتے چلے آرہے ہیں ۔تمام کے بڑے ہسپتال،میٹرو بسیں،اورنج ٹرین ، میڈیکل کالجز ،یونیورسٹیز اور سیف سٹی پراجیکٹس صرف ان چند بڑے اضلاع کا ہی مقدر ہیں ۔تمام کے تمام فنڈز ان چند بڑے اضلاع میں تقسیم کر کے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی بنیاد رکھ دی جاتی ہیں ۔کیا جنوبی پنجاب کے اضلاع کے عوام اور ان کے بچوں کو یہ حق نہیں کہ بحثیت پنجاب کا حصہ ہوتے ہوئے انھیں بھی وہی سہولیات،وسائل اور آسانیاں فراہم کی جائیں جو کہ محض پنجاب کے چند بڑے اضلاع کا مقدر ٹھہرا دی گئی ہیں ۔ان اضلاع میں صحت اور تعلیم کے مسائل پر ہی کچھ توجہ دی جاتی تو آج ان اضلاع کے عوام لاہور اور راولپنڈی کی طرف دیکھنے کی بجائے خود اپنے مسائل حل کر نے کی پوزیشن میں ہوتے۔جنوبی پنجاب کے ان اضلاع کے بچوں کو تعلیم جیسی بنیادی ضرورت کی خاطر ان بڑے اضلاع کی طرف دیکھنا پڑتا ہے جہاں ایک نہیں بلکہ بیسیوں کالجز اور یو نیورسٹیز موجود ہیں نتیجتا،اکثریتی غریب عوام نہ تو ان اضلاع میں تعلیم حاصل کر نا افورڈ کر سکتے ہیں اور نہ ان تک رسائی کیلئے سفری اور رہائش کی مہنگی ترین صعوبتیں بر داشت کر سکتے ہیں ،کیا ان اضلاع کے بچوں کا یہ بھی حق نہیں کہ ہر ضلع میں مکمل یو نیورسٹی،میڈیکل کالج اور لاہور راولپنڈی طرز کے کسی ایک جدید ترین ہسپتال کی سہولیات فراہم کر دی جاتیں ۔تمام کے تمام بڑے بڑے ہسپتال چونکہ انہی چند شہروں میں ہے اس لئے پیچیدہ امراض کے علاج کیلئے ان پسماندہ اضلاع کے عوام بیچارے ان شہروں کی طرف دوڑتے ہیں اکثریت تو مریضوں کی راستے میں ہی دم توڑ دیتی ہے اور جو خوش قسمتی سے اپنے مریضوں کے ان اضلاع کے مہنگے ترین ہسپتالوں میں پہنچابھی دے، اخراجات اور دوسری ضروریات پوری کرتے کرتے انکی پوری کی پوری معیشت دم توڑ دیتی ہے۔یہ ظالمانہ،غیر منصفانہ اور عدم مساوات کا رویہ آخر پنجاب کے حکمرانوں کا ان پسماندہ اضلاع کے ساتھ کب تک چلتا رہے گا۔ان کی محرومیاں کب ختم ہونگی،انھیں کب لاہور راولپنڈی جیسے اضلاع کی طرز پر بنیادی سہولیات تک فراہمی ممکن ہو سکے گی۔رنگ روڈ،میٹرو بس،اورنج ٹرین فلائی اوورزاور پتا نہیں کیا منصوبہ جات اور اربوں کھربوں کے فنڈز محض ان چند اضلاع میں خرچ کر نے کے ساتھ ساتھ کچھ رحم کی نظر جنوبی پنجاب کے اضلاع کے عوام کی محرومیوں پر بھی کی جائے۔مگر یہ شائد اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پنجاب کو انتظامی طور پر مزید تین یا چار صوبوں میں تقسیم نہیں کر دیا جاتا ،کیونکہ ان مسائل کو دیکھنے کیلئے تخت لاہور والوں کے پاس نہ تو وقت ہے اور نہ اضلاع کی سڑکیں اس قابل ہیں کہ ان پر سفری صعوبتیں بر داشت کر کے یہ ان مسائل کی جان کاری لینے یہاں تک پہنچ سکیں ۔ نئے صوبوں کی تشکیل کا یہ کڑوا گھونٹ انھیں نگلنا ہی پڑے گا۔

*****

چیف جسٹس کاجوڈیشل اکیڈمی پشاور میں فکرانگیزخطاب

adaria

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پشاور میں ضلعی بارکے صدور سے خطاب اورصاف پانی کی فراہمی سے متعلق کیسوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کی سب سے کم ترجیح عدلیہ ہے تو اس کا ذمہ دار میں نہیں اور میں تنہا اس نظام کو درست نہیں کر سکتا اور ہمارے بارے میں کوئی یہ نہ کہے کہ ہم نے ذمہ داری پوری نہیں کی، انصاف تول کر دیا جانا چاہیے، کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی، ججز کی ذمہ داری انصاف کی فراہمی ہے، سچ جھوٹ کا فیصلہ کرنا ججز کا کام نہیں۔ لوگ تنقید کرتے ہیں ہم فیصلہ جلد اور قانون کے مطابق نہیں کررہے۔ میں قانون بنانے والا نہیں اسے نافذ کرنے والا ہوں۔ 1861 اور 1872کا قانون تبدیل نہ ہونے کی ذمے دار سپریم کورٹ نہیں۔عدالتیں نہیں بنائی گئیں، ججز نہیں دئیے گئے اور اگر ریاست کی سب سے کم ترجیح عدلیہ ہے تو اس کا ذمہ دار میں نہیں۔ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا ہے لیکن میں تنہا اس نظام کو درست نہیں کر سکتا۔ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ۔ سچ جھوٹ کا فیصلہ کرنا ججز کا کام نہیں۔ مسائل حل کرنا تمام ججز کی ذمہ داری ہے اور جیسے بھی مصائب ہوں گے اس میں رہتے ہوئے کام کرنا ہے۔ نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے جو قانون کے ساتھ آتی ہیں اور میں قانون بنانے والا نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کرانے والا ہوں۔ چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک کو طلب کر لیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا پی ٹی آئی کے بارے میں سنا تھا کہ یہاں کی گڈگورننس بہت مشہور ہے۔ یہاں آ کر معلوم ہو رہا ہے کہ عوام بہت ساری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ وزیراعلیٰ عدالت میں پیش ہو کر بتائیں کہ اب تک انہوں نے یہاں کے عوام کو کیا دیا ہے۔ لوگوں کو گندا پانی دے رہے ہیں۔ صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے پی سی ون کب بنے گا؟ چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ گندگی کہاں پھینک رہے ہیں تو اس پر چیف سیکرٹری نے بتایاگندگی دریاں میں پھینک رہے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا آپ یہ پانی پینے کیلئے کیسے دے رہے ہیں؟ آپ لوگوں کو گندا پانی دے رہے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ گندگی کو ڈمپ کرنے کیلئے کیا کر رہے ہیں۔ آپ کا اس حوالے سے کوئی پروگرام ہی نہیں۔ آپ نہ کریں ہم کرا لیں گے۔ چیف جسٹس نے سکولوں میں طلباکو سہولیات کی عدم فراہمی پر بھی اظہاربرہمی کیا اور کہا کہ طلباکو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ممکن کیوں نہیں بنایا گیا۔عدالتوں میں جھوٹ کا نظام ختم کرنا ہوگا۔ دنیا کے آئین میں عدلیہ اہم ستون ہے، جج کیلئے قانون جاننا ضروری ہے۔ انصاف فراہم کرنا ججز کی ذمہ داری ہے۔ فیصلے قانون کے مطابق ہونے چاہئیں۔ عدلیہ کی موجودگی کے بغیر ریاست کا وجود ممکن نہیں۔ سپریم کورٹ فیصلے کی آخری جگہ ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ ایگزیکٹو اور تمام عدالتوں پر لاگو ہوتا ہے۔سب کو قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہیں۔ سب سے زیادہ اہم چیز انصاف ہے۔ ہمارے دین میں انصاف پر زور دیا گیا ہے۔ قاضی اور جج میں فرق ہوتا ہے۔ جج کو تنازع کا حل قانون کے مطابق نکالنا ہوتا ہے۔ قانون کی مکمل معلومات ہوں تو صحیح فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ انصاف کرتے ہوئے خوف دل سے نکالیں اور سفارش نہ مانیں۔ چیف جسٹس نے بجافرمایا ہے خوف اورمصلحت معاشرے کیلئے زہرقاتل ہوا کرتی ہے ججز کی ذمہ داری انصاف کی فراہمی ہے موجودہ عدلیہ انصاف کی فراہمی کیلئے لائق ستائش اقدام کررہی ہے حکومت اگر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتی تو چیف جسٹس کو اس طرح کے اقدامات نہ اٹھاناپڑتے ججوں کاکام قانون بنانا نہیں بلکہ اس پرعمل کراناہے عدلیہ کے فیصلے قانون اورآئین کے تناظرمیں ہوا کرتے ہیں ۔چیف جسٹس کے انصاف کی فراہمی اوربنیادی انسانی حقوق کیلئے اقدام کے دور رس نتائج برآمد ہونگے اور یہ اقدامات لائق تحسین ہیں۔

پاکستان اپنے دفاع سے غافل نہیں
ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ پاکستان میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے خصوصاً سوات کے علاقے میں کئی سالوں کے بعد عوام نے خوشیاں منارہے ہیں، میڈیا کو پاکستان کا مثبت چہر ہ دکھانا چاہیے۔بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی گیدڑ بھبھکیوں سے نہیں ڈرتے ، امریکہ کے ساتھ سفارتکاروں کی نقل وحرکت کو محدود کرنے کے معاملے میں بات چیت جاری ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے تیا رکی جاتی ہے۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہا ہے اور کلبھوشن اس کا بین الاقوامی ثبوت ہے۔بھارت نے کلبھوشن یادیو کے کیس کے سلسلے میں بین الاقوامی عدالت میں اپنا بیان داخل کیا ہے جو پاکستان کو موصول ہوگیا ہے۔اس پر تفصیل سے اپنا جواب داخل کرینگے۔ گزشتہ ہفتے کرم ایجنسی میں افغانستان سے ہماری افواج پربلا اشتعال فائرنگ کی گئی جس سے 5 جوان شہید ہوئے جب کہ ایک سپاہی کو اغوا کر لیا گیا۔ پاکستان نے اس مرحلے پر انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیااور ہمسایہ ملک کے ساتھ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ہم خطے میں امن وامان کی فضا کوقائم رکھنا چاہتے ہیں۔ افغانستان میں منشیات کی کاشت دہشتگردی کیلئے استعمال ہوتی ہے جو خطے کی صورتحال پر اثرانداز ہوتی ہے۔نریندرمودی کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی پر رد عمل میں ترجمان کا کہنا تھا پوری دنیا جانتی ہے دہشت گرد اور ان کا سرغنہ کون ہے، بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہاہے، پاکستان کی حراست میں کمانڈر کلبھوشن جادیو ثبوت ہے کون دہشت گردی کررہا ہے۔پاکستان ایک امن پسندملک ہے اوربھارت کے ساتھ تمام تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے کاخواہاں ہے لیکن بھارت پاکستان کی امن کاوشو ں کو سبوتاژکررہاہے جس سے خطے کاامن خطرے میں پڑتادکھائی دے رہاہے مسئلہ کشمیرحل کئے بغیر خطے کاامن قائم نہیں ہوسکتا پاکستان اپنے دفاع سے غافل نہیں ہے بھارتی گیڈربھبکیاں پاکستان پراثراندازنہیں ہوسکتیں۔

نیوایئرپورٹ پرڈرون کاواقعہ
ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس نے نیو اسلام آباد ایئرپورٹ پر اڑنے والا ڈرون کیمرہ مار گرایا اے ایس ایف اہلکار نے فائرنگ کرکے ایئرپورٹ کی فضامیں ڈرون دیکھا تو اسے فائرنگ کرکے گرادیا جسے قبضے میں لے لیا گیا علاقے میں یہ ڈرون کیمرہ وہاں کام کرنے والے چینی باشندوں نے اڑایا تھا جس پر اے ایس ایف نے تین چینی باشندوں کو حراست میں لے لیا جن سے ائرپورٹ پر ڈرون کیمرہ اڑانے کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے حساس علاقے میں ڈرون اڑانے سے سیکیورٹی انتظامات کی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ چینی باشندوں نے ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ وہ ایئرپورٹ کی ویڈیو بنا رہے تھے ۔نیوایئرپورٹ پرڈرون واقعہ کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائے سیکیورٹی معاملات کو موثربنانا حکومتی ذمہ داری ہے۔اس مسئلے میں کسی تساہل پسندی کامظاہرہ نہ کیاجائے ۔

کشمیری بھارتی جارحیت سامنے سینہ تان کر کھڑے ہیں

برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے کشمیر میں جدوجہد آزادی میں خاصی تیزی آئی ہے جس سے بھارت سرکار مزید سٹپٹا اٹھی ہے۔ بھارت ابھی تک اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ وہ کشمیریوں پر ظلم کر کے شاید ان کے حوصلے پست کر دے گا اور اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو جائے گا۔بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کشمیریوں کے جذبہ آزادی میں کمی نہیں لا سکتا۔کشمیری عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حق خودارادیت کے حصول کے لیے جد وجہد کر رہے ہیں۔کشمیریوں کی بے تحاشا قربانیوں کی بدولت آزادی کا سورج جلد طلوع ہونے والا ہے۔ آزادی کی حرمت کے لیے کٹ مرنے کو ہزاروں لاکھوں کشمیری ہمہ وقت تیار ہیں۔ بھارت کو یہ بات جتنی جلد سمجھ آ جائے اس کے لیے اتنا ہی بہتر ہے کہ بھارت کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کو نہیں روک سکتا ہے۔ بھارت کو جلد یا بدیر معلوم ہو جائے گا کہ فوجی طاقت سے آزادی کی خواہش ختم نہیں کی جاسکتی۔ بھارتی فورسز نے ہر طرح کا ظلم کشمیری عوام پر کیا، مگر کشمیری عوام پیچھے نہیں ہٹے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم روز بروز بڑھتے چلے جا رہے ہیں تو دوسری جانب کشمیری بھی آزادی کی تحریک کو زندہ رکھنے کے لیے شہادتوں کی تاریخ رقم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ بھارتی فوج نے کشمیریوں پر ہر قسم کا ظلم وستم آزما کر دیکھ لیا۔ یہاں تک کہ پیلٹ گن کا بھی بے دریغ استعمال کر کے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے کا حربہ آزمایا مگر ہر کشمیری کا لہو ایندھن بن کر آزادی کی اس شمع کو مزید فروزاں کرتا چلا جا رہا ہے۔بھارتی نواز کٹھ پتلی حکومت نے سید علی گیلانی کو پچھلے 8 برسوں سے اپنے ہی گھر میں محصور کر رکھا ہے اور اب ان کے ساتھ کسی کو ملنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔حریت قائد یاسین ملک نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کو حقائق سے موڑنے والا ہی اسے غیرسیاسی قرار دے سکتا ہے۔ 1947ء کے بعد سے ہی کچھ ایسے ضمیر فروش پیدا ہوتے رہے ہیں جنہوں نے تحریک مزاحمت و آزادی کو محض لانچنگ پیڈ کی طرح استعمال کیا اور بالا آخر اپنے حقیر ذاتی مفادات کیلئے بھارتی سیاست میں شامل ہوئے۔ انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ لفظوں کی ہیر پھیر اور جملہ بازیوں سے تاریخی حقائق کو بدلا نہیں جاسکتا۔ برہان وانی کی شہادت کے بعدکشمیری مزید عزم و ہمت کے ساتھ بھارتی جارحیت کے سامنے سینہ تان کر اور ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ بھارت کی موجودہ انتہاپسند حکومت کی غلط فہمی تھی کہ چند ایک کشمیریوں کی شہادتوں کے بعد اس تحریک کی شدت میں کمی آ جائے گی اور کشمیری بھارتی حکومت کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے، مگر کشمیریوں نے جذبہ حریت کے علم کو بلند رکھ کر بھارتی حکومت کی غلط فہمی دور کردی۔ بھارت نے قیام پاکستان کے بعد سے ہی کشمیریوں کے جذبہ کو کچلنے کی کوشش کی۔ لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا ، ہزاروں کشمیری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی۔ بچوں و بوڑھوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، لیکن کشمیریوں کے دلوں سے آزادی کے جذبے کو نہیں نکال سکا۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و دہشت گردی کی آندھی کے ساتھ تحریک آزادی بھی ایک مرتبہ پھر تیز ہو چکی ہے۔بھارت کی جانب سے کشمیری پنڈتوں کو مقبوضہ کشمیر میں خصوصی شہر بنا کر بسانے کے خلاف کشمیری قوم برسر میدان تھی تو قائد کشمیر سید علی گیلانی کی نئی دہلی سے سرینگر آمد کے موقع پر ان کے استقبال کیلئے حیدرپورہ میں ہزاروں کشمیری جمع ہوئے۔ان میں سے کئی نوجوانوں نے پاکستانی پرچم اٹھا رکھے تھے تو کئی شرکاء نے پاکستانی پرچم سے مشابہ لباس زیب تن کر رکھے تھے۔ اس جلوس اور ان نعروں نے بھارت میں ایک بھونچال کی کیفیت پیدا کر دی اور پھر حریت رہنماؤں پر غداری کے مقدمے درج کر کے انہیں نظربند کر دیا گیا۔ اس کے بعد سارے مقبوضہ کشمیر میں لامتناہی مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جن میں کئی نوجوان شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ احتجاج کرنے والے کشمیریوں نے بھارتی پرچم جلائے تو ساتھ ہی کشمیری قائدین کو گرفتار کر کے سات دن کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا تو اگلے اقدام کے طور پر ان پر کالا قانون لگا کر کوٹ بلوال جیل جموں منتقل کر دیا گیا۔اس سے قبل بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ نے کھل کر کہا تھاکہ کشمیریوں کو اب جیل میں ہی رہنا پڑے گا۔ یہ سب کچھ اس مقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے جو گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب سے پہلے ہی بری طرح تباہ و برباد ہوا پڑا ہے، جہاں اتنی بڑی سیلابی تباہی کے بعد نئی دہلی قابض حکومت نے کشمیریوں کی ذرہ بھر مدد نہیں کی، البتہ ہر لمحہ، ہر وقت ظلم و جبر اور تشدد ان کے لئے تیار رہتا ہے۔ سیلاب سے لٹے پٹے ان کشمیریوں پر اندھا دھند مظالم ڈھائے جا رہے ہیں لیکن پاکستانی دفتر خارجہ کے علاوہ ارباب اقتدار و اختیار ہی نہیں حکومت کیلئے تڑپتی مرتی سیاسی پارٹیوں میں سے بھی کسی کو توفیق نہیں کہ کشمیریوں کے حق میں ایک بیان ہی دے دیں۔ یہ وہی کشمیری ہیں کہ جو پاکستان کی محبت میں جانوں کے نذرانے اس حال میں دے رہے ہیں کہ ان کی جنت نظیر وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل کا منظر پیش کر رہی ہے۔ وہ دس لاکھ بھارتی فورسز کی موجودگی میں جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے پاکستانی پرچم لہراتے اور پاکستان سے الحاق کے نعرے بلند کرتے ہیں لیکن پاکستان میں صورتحال اس کے بالکل الٹ ہے۔ ہمیں حیرانی اقوام عالم، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے نام پر بنے اداروں پر نہیں کہ وہ تو بنے ہی اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی اور خاتمے کیلئے ہیں۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد تحریک آزادی کشمیر کو نئی سوچ ملی ہے۔ بھارتی فوج کتنے برہان وانی کو شہید کرے گی۔ کشمیر کے ہر گھر سے برہان وانی نکلے گا۔آٹھ لاکھ بھارتی افواج اتنے سال گزر جانے کے باوجود تحریک آزادی کشمیر کی نئی اور حالیہ لہر کو ٹھنڈا نہیں کر سکی۔کشمیر کا بچہ بچہ کشمیر کی آزادی کانعرہ بلند کر کے اپنے حق خودارادایت کیلئے بھارتی افواج سے نمبردآزما ہے۔

*****

اِنسانوں کے معاشرے میں جنگل کا قانون . .. . !!

آج یہ بات تسلیم کرنی پڑی گی کہ ہمیں بیرونی دُشمنوں اور بدمعاشوں سے نہیں بلکہ اپنے مُلک کے بیوقوفوں سے زیادہ خطرات لاحق رہتے ہیں اَب اِسی کو ہی دیکھ لیجئے کہ ایک خبرکے مطابق اِس کا قوی امکان ہے کہ سندھ حکومت نے جامعات کے بعد پولیس کو بھی اپنے کنٹرول میں لینے کیلئے منصوبہ بنالیاہے۔ جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ سندھ حکومت نے نیا پولیس ایکٹ 2018ء لانے کافیصلہ کرتے ہوئے پہلے مسودے کی منظوری دے دی ہے جبکہ حتمی مسودہ رواں ہفتے میں تیار کیاجاسکتاہے اور مجوزہ مسودہ کسی بھی وقت سندھ اسمبلی میں پیش کیا جاسکتاہے سندھ حکومت کے اِس اقدام کے برعکس اہلِ دانش اور تجزیہ کاروں کا یہ کہنا اصل حقائق سے پردے اُٹھاتاہے کہ سندھ حکومت ہر ادارے کو تباہ کرکے ہوجمالو کی دھمال ڈالنے پر تلی ہوئی ہے یعنی کہ اگر ایسا ہو گیا تو پھر آنیوالے وقتوں میں صوبہ سندھ میں سیاستدان پولیس نظام چلا ئیں گے یقیناًتو پھراِن پر یہ مثل صادق آئے گی کہ’’ جب سائیاں ہوئیں کوتوال تو ڈرکاہے گا‘‘ اور پولیس سیاستدانوں کی ہوکر رہ جائے گی سیاستدان پولیس کو اپنے مخالفین کے خلاف جس طرح چاہیں گے استعمال کریں گے پھر تو لا محالہ حقیقی معنوں میں صوبہ سندھ میں جنگل کا قانون چلے گا یا شایدیہاں اِس سے بھی بُری حالت رونما ہو جائے، یہ تو سندھ حکومت کی بیماری ہے کہ یہ ٹاپ ٹو باٹم ہر ادارے کو اپنے زیراثر اور کنٹرول میں رکھنے کی عادی ہے اپنی اِس خصلت کے ہاتھوں مجبور سندھ حکومت کو اِس سے کو ئی مطلب نہیں ہے کہ ادارے تباہ ہوں تو ہوں مگر اِس کی اداروں پر اجارہ داری ہرصورت میں قائم رہے آج کو نسا ایسا ادارہ نہیں ہے جس پر صوبہ سندھ میں سندھ حکومت نے اپنی مرضی چلاکر اِسے تباہی کے دہانے پر نہ پہنچادیاہو۔الغرض یہ کہ آج سندھ میں کرپشن کو بے لگام کرنے سے لے کر جنگل کا قانون لانے تک سندھ حکومت نے اپنے حصے کا کام بڑھ چڑہ کر کیا ہے اور اِس حوالے سے مزید سندھ حکومت سارے ریکارڈ توڑنے کے لئے پرعزم ہے سندھ حکومت اپنے جابرانہ طرزعمل سے عام شہری کو غلام بنا کر رکھنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے یہ اپنے اِس عمل سے یہ سمجھتی ہے کہ اہلیت اور قابلیت کی کوئی اہمیت نہیں ہے اِن کی جگہہ تو ردی کی ٹوکری ہے اہلیت اور قابلیت کو کچرے کی کنڈی میں ڈالو، مگر من پسند اور خوشامدی افراد کواداروں میں تعینات کرکے اپنا کام نکالو، یہی حکومت کا انداز ہے اور یہی عمل اقتدار کی کامیابی کا زینہ ہے اور آج سندھ حکومت اِس پر پوری کاربند ہے اِس پر ہماری تو اللہ سے بس یہی ایک دُعا ہے کہ اللہ سندھ حکومت کو ہدایت دے اور اِسے ایسا کو ئی کام کرنے سے روکے جو بعد میں خود اِس کے اپنے ہی پیروں کی بیڑی بن جائے ۔بہر حال ،ہرزمانے کی ہرتہذیب سے معاشرے تشکیل پاتے ہیں اور معاشرے اِنسانی اقتدار کا نمونہ ہوتے ہیں جس طرح ہر تہذیب اہمیت کی حامل ہوتی ہے اِسی طرح معاشرے اور اِنسان بھی تاریخی اہمیت اختیار کرتے ہیں اِس سے اِنکار نہیں کہ معاشرے اور اِنسانوں کی اہمیت اچھی یا بُری دوطرح کی ہوتی ہیں آج دنیا میں جو معاشرے اپنی اہمیت کے اعتبار سے اچھی شہرت کے حامل ہیں وہ دوسروں کیلئے مشعل راہ کادرجہ پاتے ہیں اور جس معاشرے کے حصے میں بدنامی آئی ہے اَب یہ رہتی دنیا تک اِس کلنک کے ٹیکے سے چھٹکارہ نہیں پا سکتے ہیں ۔بیشک، آج جہاں 21 ویں صدی میں دنیا نے سائنسی ترقی میں بڑے بڑے جھنڈے گاڑے ہیں تو وہیں افسوس ہے کہ اِسی صدی میں دنیا کے بہت سے ممالک میں اِنسانوں کے معاشرے میں جیسے جنگل کا قانون رائج ہے جدید ترقی ایک طرف ہے مگر دوسری جانب آسائشوں کے مارے اِنسانوں کے ہاتھوں اِنسانوں کا ہی قتلِ عام بھی ہورہاہے چار دانگِ عالم میں طاقتور کمزور کو کچل رہاہے اِنسان کا مقدس خون پانی کی طرح بہایا جارہاہے مگر کوئی اِس پر رونے والانہیں ہے ذاتی ، سیاسی اور معاشی مفادات میں بٹے اِنسان نما طاقتور آدمخورکمزوروں پر ظلم کئے جارہے ہیں اور کمزور اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر ظلم سہے جا رہے ہیں آخر ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟ کسی کو کچھ نہیں پتہ ہے کہ طاقتوروں کا کمزوروں پر ڈھایا جانے والا ظلم کون کب اور کیسے روکے گا؟سب طاقتور لوٹ کھسوٹ کرنے اور اِنسانوں کے ایک ایک قطرے خون کو نچور کرپینے میں مگن ہیں سب اپنے حصے کا یہ کام ثوابِ دارین سمجھ کر کرہے ہیں۔ آج میں حیران ہوں کے جس معاشرے میں ،میں سانس لے رہاہوں بظاہر تو یہ اِنسانوں کا معاشرہ نظرآتاہے مگر افسوس کی بات ہے کہ اِس میں اِنسانیت کا فقدان ہے اِس لئے کہ یہاں اِنسانوں کا قانون توقال قال ہے مگر جنگل کے قانون پر جا بجاعمل ہوتا دکھائی دیتاہے یہاں طاقتور فاسق وفاجر اپنی مرضی کے قانون کا اطلاق ڈنڈے کی زور پر کرواتاہے اور اپنے آگے پیچھے جانوروں کی طرح خوشامدیوں کے ریوڑوں اور جھنڈ کو لے کر چلتاہے اِس کا جو جی چاہتاہے کرتاپھرتاہے یوں معصوم اور مجبوروبے کس عوام جنگل کے قانون میں ایسے جکڑے جا چکے ہیں کہ اَب اِنہیں یہی اِنسانوں کا قانون لگتاہے تب ہی طاقتور اپنی مرضی سے اپنے ہم خیال گروپ سے اپنا قانون بناتااوربگاڑتارہتاہے۔

کسی سے کوئی بھی ڈیل نہ کرے

پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے پا نچ معز زججوں میں دو ججوں کی طرف سے نا اہل قررار دیے جانے اور تین ججوں کی طرف سے مزید تحقیق کر لینے کے فیصلے پر نواز لیگ نے مٹھائیاں تقسیم کی تھیں۔دیکھو تین جج صاحبان فیصلہ لکھا ہے کہ مزید تحقیق کر لی جائے۔ اُس فیصلہ میں کسی بھی جج نے نواز شریف کو صادق و امین تو قرار نہیں دیا تھا۔ صرف اتنا کہا تھا کہ مزید تحقیق کر لی جائے۔ دوسرے لفظوں میں ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے نواز شریف کو ایک موقع فراہم کیاتھا کہ وہ اپنی بریت کیلئے ثبوت فراہم کر سکے۔مگر نواز شریف منی ٹریل پیش نہ کر سکے ۔ صرف قطری شہزادے کا ایک مہمل سا خط پیش کیا تھا۔قطری شہزادہ گواہی دینے کیلئے تیار نہ ہوا تھا۔ اور بلاآخر پورے بینچ نے متفقہ طور پر نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا۔ اگر نواز شریف ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلہ پر من وعن رضا مندی سے عمل کرتے تو ان کے ہی حق میں بہتر ہوتا۔ مگر نواز شریف اور اس کی ٹیم نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت، کرپشن میں جاری مقدمات کے دوران فوج اور عدلیہ کے خلاف بھرپور طریقے سے مہم جاری رکھی۔ کچھ کو آئین پاکستان کے مطابق عدلیہ کے فیصلوں کے خلاف ہرزہ سرائی پر سزا بھی ہو چکی ہے اور کچھ کے مقدمے زیر سماعت ہیں۔ نوازشریف کی سوچ تھی کہ فوج کے کہنے پر عدلیہ نے ان کے خلاف پہلے سے طے شدہ فیصلہ دیا ہے۔ فوج کے خلاف بولتے ہوئے انہوں نے کہا اب کٹھ پتلیوں کا ڈرامہ نہیں چلنے دیا جائے گا۔ فوج مارشل لا لگانے والی ہے۔ جمہوریت کو ختم کرنے والی ہے۔ ۷۰ سال سے ایسا ہی کیا جارہا ہے۔ شیخ مجیب کے مینڈیٹ کو نہیں مانا گیا تو ملک ٹوٹ گیا۔ عدلیہ نے دورا معیار اپنا رکھا ہے۔ عدلیہ کسی کو لاڈلا سمجھتی ہے اور میرے خلاف جانبدارنہ فیصلے دیتی ہے ۔ہم نے نوازشریف کے سارے الزامات پر تجزیہ کرتے رہے اور عوام کو بتاتے رہے ہیں کہ مسئلہ نہ فوج نے نہ ہی عدلیہ نے پیدا کیا ہے۔ دنیا کی آزاد صحافیوں کی تنظیم نے پانا پیپر کا کھوج لگایا۔جس میں حسن اتفاق کہ نواز شریف کی فیملی کا نام بھی آف شور کمپنیاں رکھنے والے لوگوں میں نکل آیا۔ جدیدجمہوری حکومتوں میں حزب اختلاف حکمرانوں کی کرپشن پر سوال اُٹھاتی رہتی ہیں اور حکمران اس کا جواب دیتے رہتے ہیں۔ اس ہی حق کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی اپوزیشن نے نواز شریف کے خلاف پارلیمنٹ میں سوال اُٹھایا گیا۔دنیا کے دوسرے ملکوں نے اپنے اپنے آئین کے مطابق کیس نپٹا دیے۔ کسی ملک کے وزیر اعظم نے استعفیٰ دے دیا تو کسی نے عدالتی کارروائی کا سامنا کیا۔ مگر نواز حکومت نے عدلیہ کے حکم کے مطابق ٹی او آر بنانے میں پس و پیش کیا۔ اس دوران تنگ آکر اپوزیش کی تین جماعتوں نے سپریم کورٹ میں مقدمہ درج کروایا ۔ اس سے قبل نوازشریف نے حق صفائی استعمال کرتے ہوئے دو دفعہ الیکٹرونک میڈیا اور ایک دفعہ پارلیمنٹ میں اپنی صفائی پیش کی۔ نواز شریف نے ملک کی اعلیٰ عدلیہ کو خط لکھا کہ وہ کیس سن کر فیصلہ دیں۔ نواز شریف کے کہنے پر عدلیہ نے مقدمہ سنا۔ نواز شریف نے عدالت میں جعلی ڈاکو منٹ جمع کروانے،مہمل سا قطری خط پیش کرنے، پاکستان کا وزیر اعظم ہوتے ہوئے غیر ملک کا اقامہ حاصل کرنے اور اپنے بیٹے کی باہر ملک کمپنی کا عہدیدار ہوتے ہوئے تنخواہ نہ لینے اور اپنے انکم ٹکیس گوشوارے میں ظاہر نہ کرنے اورغیر ملک میں اسٹیل مل لگانے کی منی ٹرائیل کے ثبوت نہ پیش کر سکنے پر آئین پاکستان کی دفعہ ۶۲۔۶۳ کے تحت نواز شریف کو صادق و امین نہ ہونے پر نا اہل قرار دے دیا۔ کیا یہ نواز کے ساتھ انہونی ہوئی تھی۔ کیا اس سے قبل پیپلز پارٹی کے دو وزیر اعظموں کو ملک کی اعلیٰ عدلیہ نا اہل قرار نہیں دے چکی۔لہٰذا نوازشریف کی عدلیہ خلاف مہم ہر حالت میں ناجائز ہے۔نواز شریف ہمیشہ اپنے ملک کی فوج کے خلاف حرکتیں کرتے رہے ہیں۔ ایک دفعہ فوج کے خلاف الزامات پر اپنے ایک سینیٹر ، بعد میں ڈان لیکس پر اپنے وزیراطلاعات اور کچھ بیورو کریٹ کیخلاف کاروائی کرتے ہوے برطرف کیا۔ نا اہل ہونے پر فوج پر شک کیا اور فوج کے خلاف اب خود بولنے لگے ۔فوج نے واضح بیان دیا کہ ملک کے حالات خراب ہیں۔ ملک حالت جنگ میں ہے۔ ملک میں کہیں بھی مارشل لا نہیں لگے گا۔فوج ملک میں جمہوریت کے حق میں ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق سول حکومت کے ہر حکم پر عمل کیا جائے گا۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ فوج کے سپہ سالار ایوان بالا میں گئے اور اپنی پوزیشن واضح کی۔ ملک میں آئین کے مطابق نواز شریف کے بعد نون لیگ کے شاہد خاقان عباسی صاحب کو ملک کی پارلیمنٹ نے نیا وزیر اعظم چن لیا۔ نوازشریف کے جانے سے نہ آسمان گرا ،نہ زمین پھٹی ملک میں جمہوری کا نظام چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔ہاں کرپشن نہیں چلے گی۔ نواز شریف کی فوج کے خلاف مہم بھی ناکام ہو گئی۔ نواز شریف نے کہا کہ شیخ مجیب کے عوامی مینڈیٹ کو فوج نے تسلیم نہیں کیا تو پاکستان ٹوٹا۔دبے لفظوں میں میرے مینڈیٹ کو بھی تسلیم نہیں کیا جارہا تو خدانخوستہ پاکستان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جناب! شیخ مجیب کے پاس اصلی مینڈیٹ نہیں تھا۔ وہ انتخابات بنگالی قومیت، بدمعاشی، جبر، ظلم اور بھارت کی مدد سے انتخابات جیتے تھے۔ غدار پاکستان کے اپنے بیان کے مطابق کہ وہ ۱۹۴۸ء سے ہی بنگلہ دیش بنانے کے پرگروام پر عمل کرتا رہا ہے۔ اصل میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق نیب عدالت میں نوازشریف کی کرپشن کے مقدمے چل رہے ہیں جن کا فیصلہ آنیوالا ہے۔ کرپشن سے دباؤ ہٹانے کیلئے نواز شریف ملک کی سالمیت کوبھی دباؤ پر لگانے کی عظیم غلطی کرتے رہے ہیں۔نواز شریف اپنی کرپشن چھپانے کیلئے ملک کے محب وطن حلقوں اور عوام سے ہمدردی حاصل کرنے کیلئے یہ سب کرتے رہے ہیں۔پہلے مرحلے میں وہ دباؤ ڈال کر ہمدردی حاصل کر چکے۔ اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے بعداب مقتدر حلقوں کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈال رہے ہیں۔ ان کے حامیوں کے نزدیک پہلا مرحلہ کامیابی سے سر کرلیا گیا ہے۔ اب اگلے مرحلے کی تیاری ہے۔شہباز شریف نون لیگ کی صدارت سنبھالنے کے بعد فوج کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات میں مذاکرات کی بات کی ہے۔ جس پر انہیں جواب دیا گیا کہ ملک کی فوج کو سیاست سے کچھ واسطہ نہیں۔ آپ اپنے معاملات پاکستان کے آئین کے مطابق حل کریں۔اب مذاکرات کی کوشش بھی نواز شریف کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی۔عوام کا مطالبہ ہے کہ کرپشن جس بھی نے بھی کی ہے اس سے پیسے واپس لیکر خزانے میں جمع کیے جائیں۔ اب اگر نواز شریف کے ساتھ رعایت کی گئی تو پاکستان میں کرپشن کرنے والے مزید کرپشن کریں گے۔ کسی سے کوئی بھی ڈیل نہ کرے۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔

*****

کشمیری مظالم لمحہ فکریہ۔۔۔!

اقوامِ متحدہ بحیثتِ عالمی ادارہ کسی کو کہیں دکھائی دیتا ہے ؟ امریکی سامراج ‘یہودی سامراج اور جنوبی ایشیا میں بھارتی سامراج کے سیاسی‘سفارتی اور اقتصادی مفادات کا’’مجاور‘‘ بنے ہوئے اقوامِ متحدہ دنیا بھر کی مظلوم ومحکوم اقوام کا جیسے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے بھارتی ظلم وستم کی چکی میں پسے ہوئے کشمیریوں کا ’غیر متحرک‘ اقوامِ متحدہ سے یہ سوال کس قدر حق بجانب ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں اقوامِ متحدہ کے وہ عالمی فوجی مبصرین کہاں ہیں؟ جنہیں مسئلہِ کشمیر کے سنگین تنازعہ پر پاکستانی اور بھارتی فوجوں کے مابین 1948 کی پہلی جنگ کے بعد بھارتی ایماء پر جب جنگ بندی ہوئی تھی توعالمی فوجی مبصرین کی ایک ٹیم بھارتی زیر انتظام کشمیر میں بھیجی گئی تھی کیا وہ’غیرجانبدار’فوجی مبصرین عالمی ادارے کے طے کردہ اپنے فرائض مقبوضہ کشمیر میں اب تک کی صحیح’ زمینی حقائق کی آتشیں اور جگہ جگہ آگ پھیلاتی روشنی میں بجا لارہے ہیں یا نہیں؟ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ 70 برسوں کے بعد بھارتی سیکورٹی فورسنز نے اب کتنے کشمیریوں کو شہید کیا؟کشمیریوں کی کتنی املاک کو جلا کرخاکستر کیاکشمیر میں اب تک کتنی گمنام قبروں کا انکشاف ہوا؟کتنی ایسی کشمیری مسلم خواتین کے ساتھ بھارتی سیکورٹی فورسز کے سفاک درندے اہلکاروں اور افسروں نے اجتماعی بے حرمتی کی؟کتنے معصوم بچوں اور نوجوان کشمیریوں کو شہید کیا؟اقوامِ متحدہ نے کبھی اپنے ہی تعینات ‘غیر جانبدار’ عالمی فوجی مبصرین کے کشمیر میں تفویض کیئے ہوئے فرائض پر اْن سے کسی قسم کے سوال وجواب کرنا ضروری سمجھے اْن کسی بھی رپورٹ کو عالمی میڈیا کے سامنے پیش کیا اقوامِ متحدہ نام کا ادارہ باقی رہ گیا ہے اقوامِ متحدہ کی عالمی حیثیت پر دنیا کے پْرامن اور غیر جانبدار انصاف پرور حلقے سوالات اْٹھانے لگے ہیں اگر اقوامِ متحدہ نے اب بھی اپنی آنکھوں پر مصلحت پسندیوں کی پٹی باندھے رکھی تو کچھ عجب نہیں ہے کہ عالمِ اسلام کے کئی ممالک جن مقبوضہ جموں وکشمیر ‘شام‘یمن ‘عراق اور خاص طور پر فلسطین سمیت دنیا بھر میں جہاں بھی انسانی حقوق کو ریاستی جبرواستبداد کے ظلم جور سے دبایا جارہا ہے ایسے استبدادی ریاستوں کی طرف سے کیا جانے والا یہ انسانیت دشمن ظلم وستم اگر مزید اور طول پکڑتا گیا اور وقت اقوامِ متحدہ کے ہاتھوں سے نکل گیا تو پھر اقوامِ متحدہ کے اب تک سبھی ذمہ داروں کا چاہے وہ بقیدِ حیات ہیں یا مرچکے ہیں اْن کا یقیناًآنے والی نسلیں کڑا احتساب ضرور کریں گی جنہوں نے ‘لیگ آف نیشن’ کی نااہلیت جیسے اور غیر ذمہ داریوں کا رویہ اپنا یا تھا اور جس کے نتیجے میں ’لیگ آف نیشن‘ اپنی موت آپ ختم ہوگئی تھی‘ اور اب دنیا کی محکوم ومظلوم قوموں کو امن وانصاف مہیا کرنے میں ایک بار پھر اقوامِ متحدہ جیسا عالمی ادارہ اپنی ’عالمی ذمہ داریوں‘ کو بحسن وخوبی ادا کرنے میں بالکل ناکام نظرآرہا ہے اور ہماری یہ دنیا امریکا جیسی سامراجی طاقت کے مفاد پرستانہ شکنجہ میں پھنس کر نسلی اور مذہبی نکتہِ نظر کا شکارہے، انسانیت چیخ رہی ہے چلا رہی ہے اور تڑپ رہی ہے غیرجانبدارعالمی میڈیا انسانیت کی کرب ناک آہ وبکا کی دردناک سسکیوں کی خبریں مسلسل اور تواتر کے ساتھ نیویارک امریکا میں اقوامِ متحدہ تک برابر پہنچا رہا ہے جہاں کے اعلیٰ اور مقتدر ذمہ دار خاموش تماشائی بنے نشے میں مست ہیں ، جس کے نتیجے میں ظالم اور متکبر دنیاوی طاقتیں جہاں چاہتی ہیں جدید اور مہلک ہتھیاروں سے لیس اپنی فوجیں بے جھجک اتار دیتی ہیں دوعالمی جنگوں کے بعد ویت نام میں لاکھوں انسانوں کا رات دن کئی برسوں تک امریکا قتلِ عام کرتا رہا، افریقہ کے کئی ممالک میں اب تک لاکھوں انسان اپنی جانوں کی بازی ہارتے رہے’انڈونیشیا میں لاکھوں انسانوں کو چند ہفتوں میں بدنامِ زمانہ سہارتو کی ایما پر موت کی اندھی وادیوں میں دھکیل دیا گیا اقوامِ متحدہ ٹس سے مس نہیں ہوا انسانی حقوق میں کیا زندگی کا تحفظ کوئی معنی نہیں رکھتا؟ تازہ ترین احوال افغانستان میں امریکی فوج کشی’شام میں امریکی مداخلتیں’ عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی’ اقوامِ متحدہ مگر مہر بہ لب’70 برس ہونے کو آئے 71 واں برس گزررہا ہے اگر پاکستانی قوم کا یہ ماننا ہے تو کیا غلط ہے؟ کہ اقوامِ متحدہ کے’غیر جانبدار’عالمی فوجی مبصرین بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے انسانیت کش ظلم وبربریت اور بہیمانہ سفاکیت میں بھارتی نکتہِ نظر کے طرفدار ہوچکے ہیں’ جنہوں نے خاموشی بلکہ ‘مجرمانہ خاموشی’ اختیار کی ہوئی ہے اگر وہ واقعی ‘غیر جانبدار’ ہوتے اور سال بہ سال بھارتی زیر انتظام کشمیر میں غیر قانونی وغیر اخلاقی قابض بھارتی فوج کے کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ظلم وستم کی مصدقہ رپورٹیں عالمی ادارے کو ارسال کرتے رہتے تو کسی جانب سے اْن پر ‘جانبدار’ ہونے کا کوئی الزام عائد نہ کرتا اور افسوس صدہا افسوس! اقوامِ متحدہ نے بھی تو اْن کی کارکردگی یا اْن کے تفویض کردہ عالمی کردار میں مقبوضہ کشمیر سے تاحال تازہ ترین کشمیر کو لہو رنگ کردینے کی بھارتی فوج کی ظالمانہ کارروائیوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا ہے نتیجہ کیا برآمد ہوا؟ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 70 برسوں سے انسانیت کو لہولہان کردینے میں بھارتی فوج دن بدن سرکش ہوتی جارہی ہے اقوامِ متحدہ سمیت دنیا بھر کے حصوں میں انسانی حقوق کے نام پر یا نام نہاد امن قائم کرنے کی آڑ میں یا پھر عوامی جمہوریت رائج کرنے کا پرچم اْٹھاکر جو بھی استبدادی اور سامراجی طاقتیں سرگرمِ عمل ہیں اْن کے دماغوں کے بند اورمفلوج زدہ خلیوں کو بیدار کرنے کیلئے بحیثیتِ پاکستانی ہی نہیں بلکہ مقبوضہ وادی میں تعینات مقامی پولیس حکام کیا کہتے ہیں؟ ذرا وہ سن تو لیجئے’مقبوضہ کشمیر کے اعلیٰ ریاستی حکام کے مطابق 2 اپریل بروزپیر گزشتہ دِنوں میں ایک ہی دن میں بھارتی سیکورٹی فورسنز کے ہاتھوں 20 کشمیریوں کی جاں بحق ہونے والا یہ افسوس ناک واقعہ پہلی مرتبہ رونما ہوا ہے جبکہ سینکڑوں شدید زخمیوں کی تعداد علیحدہ ہے کیا اقوامِ متحدہ کیلئے مقامِ لمحہ فکر نہیں ہے ؟ بقول بھارتی ممتاز میڈیا کے’جو ‘را’ کی ایک نہیں سنتے’جو حق وہ جرات مندی کے ساتھ لکھ رہے ہیں اگر وہ کہیں ‘ڈنڈی’ ماریں گے تو پھر بھارتی عوام تک کہیں اور سے بالاآخر ‘سچ‘ پہنچنے لگے گا ‘ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں 2 اپریل بروز پیر سب سے بڑے فوجی آپریشن کے بعد کشمیری مزاحمت کاروں پر بھارتی اندھی فوج نے جدید مشین گنوں سے اندھا دھند فائرنگ کی بوچھاڑ کردی یہ مزاحمت کار کشمیری نہتے تھے بھارتی ظلم وبربریت کے خلاف’ریاست میں نئی دہلی کی ناجائزہ اور غیر اخلاقی زبردستی کی حاکمیت کے خلاف سراپا احتجاج کررہے تھے تھکی ہوئی’ مسلسل ناگواریت کے بوجھ تلے اکتاہٹ اور بوکھلاہٹ کا شکار موقع پر موجود بھارتی فوج کے کمانڈروں نے یہ دیکھنا تک گوارا کیا ہی نہیں کہ اُن کے سامنے نہتے لوگ ہیں فائرنگ کا حکم دیدیا گیا پہلے’سرچ آپریشن’ کے نام پر سری نگر کے جنوبی علاقے کو بھارتی فوج نے محاصرے میں لیا گھر گھر تلاشی لی گئی، جب فوج سری نگر کے جنوبی علاقے میں عورتوں کو بھی گھسیٹ کر باہر نکالنے لگی تو کشمیری نوجوان بپھر گئے اْن کے تیور بگڑنے لگے وہ احتجاج کرنے لگے یوں کشمیریوں میں اشتعال پھیل گیا اور اْنہوں نے جدید اسلحہ سے لیس بھارتی فوج پر پتھر برسانے شروع کردئیے دنیا کی کسی بھی جمہوری ملک کی جدید اسلحہ سے لیس فوج کو زیب دیتا ہے کہ وہ موقع کی نازکتوں کو پل بھر میں بالائے طاق رکھ دے؟مگر یہ تو بھارتی فوج تھی جو نہ مہذب ہے نہ متمدن اور نہ ہی عوامی جمہوریت کے بنیادی اسباق سمجھتی ہے پھر اْس کے سامنے تو مزاحمت کار کشمیری’مسلمان‘ ہی تھے’ بھارتی فوج سے کچھ بھی بعید نہیں ہے پاکستانی فوج کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے صحیح کہا ’بھارت مقبوضہ وادی میں جاری تحریکِ آزادی کو اب دبا نہیں سکتا‘‘۔

نیب کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت

adaria

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے پی اے سی کو ان کیمرہ بریفنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کی ڈوریاں ہلانے والا آج تک کوئی پیدا نہیں ہوا اگر ڈوریاں ہلیں تو بریف کیس اٹھا کر گھر چلا جاؤں گا۔نوازشریف کو ملک سے باہر جانے کیلئے روکنا میرا کام نہیں ہے، احتساب عدالت بہتر بتا سکتی ہے کہ کیا کرنا ہے کیا نہیں۔ الیکشن ہونے یا نہ ہونے کا تعلق بھی احتساب سے نہیں ہے۔ علی جہانگیر صدیقی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے اقدامات کئے ہیں لیکن عدالت نے روک دیا ہے قوم نیب پر مکمل اعتماد رکھے۔ پبلک اکانٹ کمیٹی نے نیب کی کارکردگی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور نیب حکام کی تعریف اور حوصلہ افرائی کرتے ہوئے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ نیب کے اختیارات کسی پر مسلط کئے جا رہے ہیں یا نیب خاص طور پر کسی کے خلاف انتقامی کارروائی کررہا ہے۔ پاکستان میں کرپشن کی بات اب حجم سے باہر نکل چکی ہے حجم کی بات اس وقت ہوتی ہے جہاں پر حجم کم ہو ۔ نیب نے تو امریکہ کیلئے نامزد سفیر علی جہانگیر صدیقی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے اقدامات کئے ہیں لیکن عدالت نے روک دیا ہے تو ہم کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔ نیب میں زیر التوا کیسز کو جلد سمیٹ رہے ہیں اور اس میں کافی کامیابی بھی مل رہی ہے پوری قوم نیب پر اعتماد رکھے قوم کے اعتمادکو نقصان نہیں پہنچنے دینگے۔ وزیر داخلہ اتنے بااختیار نہیں ہیں کہ وہ لوگوں کو دوسرے ملک کے حوالے کریں یہ کام بااختیار لوگوں کا ہے۔ نوازشریف کے علاوہ جن لوگوں کے بھی پانامہ میں نام آئے ان کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں۔برطانیہ سے نیب کو مطلوب افراد کی واپسی کے لئے کارروائی جاری ہے قوم دیکھے گی ان لوگوں کو پاکستان واپس لایا جائے گا۔ ریڈنوٹسز جاری کر چکے ہیں، پبلک اکانٹس کمیٹی کو نیب کی کارکردگی سے آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا پاکستانیوں کو دوسرے ملکوں کے حوالے کرنے کے حوالے سے پاکستان کے بااختیار لوگوں سے پوچھا جائے۔ پاکستان کا کوئی وزیر داخلہ اتنا بااختیار نہیں ہوتا جو کہ اتنی بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو غیرملکوں کے حوالے کر سکے۔ بلاامتیاز کرپٹ افراد کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ملک میں کرپشن کے خاتمے کیلئے کچھ لوگوں کیخلاف کارروائی شروع ہو چکی ہے، نیب کی کارروائی شواہد کی روشنی میں کی جا رہی ہے، ایسی تمام باتیں بے بنیاد ہیں کہ نیب کسی کے خلاف انتقامی کارروائی کر رہا ہے۔کرپشن کی بنیاد پر کچھ لوگوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جا چکا ہے، کچھ کو معطل کیا گیا، کچھ برطرف ہوئے ہیں اور چند افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، اس تمام عمل میں کچھ وقت لگے گا لیکن قانون کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔نیب کی کوشش ہے زیرالتوا کیسز کا جلدازجلد فیصلہ سنائے۔ نیب نے اس کیلئے 10 ماہ کا وقت مقرر کیا ہے تاہم کچھ کیسز ایسے بھی ہیں جن میں اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ نیب کے تمام کیسز کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ جن لوگوں کیخلاف انکوائری شروع ہو چکی مزید بھی ہونگی۔ جب شیشے کے گھر میں ہوں تو پھر پتھر تو آئیں گے۔ نیب چیئرمین نے بجا فرمایا ہے کرپٹ لوگوں کیخلاف بلا امتیاز احتساب وقت کی ضرورت ہے جب تک کڑا سے کڑا احتساب نہیں ہوگا، ملک سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہو پائے گا، کرپشن کے ناسور نے ترقی کے راستے کو متاثر کررکھا ہے، اداروں سے کرپشن کی تطہیر ضروری ہے، کرپٹ لوگ انتخابات سے پہلے بھی جوابدہ ہیں اور بعد میں بھی یہ درست ہے، چیئرمین نیب نے جس عزم کا اعادہ کیا ہے وہ عوام کے امنگوں کا ترجمان ہے۔ نیب کے جملہ کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے تاکہ کرپشن کے مرتکب عناصر اپنے کیے کی سزا بھگت سکیں۔

خورشید شاہ کی سچی بات میں ایس کے نیازی کیساتھ گفتگو
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما و اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی خورشید شاہ نے روز نیوز کے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں ایس کے نیازی کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ میری زندگی سیاست میں گزر گئی ہے،ایسے ڈراؤنے حالات میں نے پہلے نہیں دیکھے،لوگ پیش گوئیاں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں،میں نے زندگی میں جمہوریت کیلئے بہت کچھ کھویا اور پایا ہے،جمہوریت لفظ چھوٹا ہے مگر اس کے معنی بہت بڑے ہیں،جمہوریت میں اظہاررائے اور اداروں کی آزادی بھی آتی ہے،ملک کو ترقی کی راہ پرلے کر چلنا ہے تو اس کا راستہ جمہوریت ہے،ہمیشہ کوشش کی ہے کہ جمہوریت کو رول ماڈل بنائے،ہماری حکومت میں بہت سے مسائل تھے مگر ہم آگے بڑھتے رہے،ہر شخص کی عزت مجھ سے زیادہ ہے،ہر شخص کی عزت کرتا ہوں،موجودہ حالات کے ذمہ دار نواز شریف ہیں،نیازی صاحب!آپ بڑے میڈیا ہاؤس کے مالک ہیں،نیازی صاحب!آپ کے اخبارات بھی ہیں،کالم بھی لکھتے ہیں،نیازی صاحب!آپ کو کن باتوں کا علم نہیں ہوگا،الیکشن ہورہے ہیں اور الیکشن اپنے وقت پر ہونے چاہئیں،ہم اس لیے سوچتے ہیں شاید ایک دن سورج طلوع ہو جائے ،66سال بعد حکومت نے مدت پوری کرکے اقتدار منتقل کیا،عدالت کے پیچھے پارلیمنٹ کی بہت بڑی طاقت کھڑی ہے،پہلی بار اپوزیشن نے مثبت سیاست کی،پیپلز پارٹی گالم گلوچ کی نہیں،ایشو کی سیاست کرتی ہے،نگران و زیراعظم کے لئے فیصلہ نہیں ہوا،نام فائنل نہیں ہوا،نگران وزیراعظم کے نام کا فیصلہ15مئی تک ہو جائے گا،نہیں چاہتے ہیں کسی شریف آدمی کا نام لیکر اسے سوالات میں ڈالیں،نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاق نہ ہوا تو معاملہ الیکشن کمیشن جائیگا،وزیراعظم شاہد خاقان عباسی،نواز شریف کا فالو اپ ہے،چیف جسٹس پاکستان بہت محنت کررہے ہیں،نیت پر شک نہیں،چیف جسٹس کوجوکرسی پر ملی ہے وہاں بیٹھ کربھی کام کرسکتے ہیں،چیف جسٹس جو دوریکرتے ہیں وہ مسئلہ سیاست میں آجاتا ہے،چیف جسٹس اپنی کرسی پر بیٹھ کر بھی وزیراعظم کو بلا سکتے ہیں،کچھ غلط ہو تو چیف جسٹس وزرا کو بھی اپنے پاس بلا سکتے ہیں،2،2حکومتیں چل رہی ہیں،اس سے ادارے کمزور ہوتے ہیں،فوج کو بیچ میں نہیں لانا چاہیے،انہیں نارمل لینا چاہیے،آئین و قانون موجودہے ،فوج اپنی حدود میں رہتی ہے،جیے بھٹو کا نعرہ جمہوریت کا نعرہ ہے،عوامی حق ہے،لوگوں کو دیکھنا چاہیے کہ سیاستدان کیا کیا قربانی دیتا ہے ،میرا ایمان ہے جمہوریت اور پارلیمنٹ ملکی سلامتی کی ضمانت ہے ،پارلیمنٹ نے آئین دیا،لوگوں کو چلنے کیلئے کتاب دی،بھٹو اکیلا کیا کرتا،لوگوں نے ووٹ کے ذریعے اسے طاقت دی،اداروں اور وزیراعظم کے پیچھے پارلیمنٹ ہے،پیپلز پارٹی انتخابات میں کسی سے اتحاد نہیں کرے گی۔ خورشید شاہ کی باتیں دوررس کی حامل ہیں، چیف جسٹس کے اقدامات لائق تحسین ہیں، قانون کے تناظر میں ان کے فیصلے اور عوامی حقوق کے آئینہ دار ہیں، انصاف کی فراہمی میں ان کا کردار تاریخ کے سنہری حروف میں لکھا جائیگا۔خورشید شاہ کاکہنااپنی جگہ بجاہے نگران وزیراعظم کے انتخاب میں سیاسی تدبرکی ضرورت ہے۔ حکومت اوراپوزیشن اتفاق رائے سے نام فائنل کرلیں۔

کشمیری پنڈت آج بھی گوشت خور ہیں

بھارتی حکومت کی طرف سے پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ ملک بھر میں گائے اور اس کی نسل کے مویشیوں کی تصاویر لی جائیں اور ان کی ہر تھانے میں فائل تیار کی جائے تاکہ گائے کی ذبیح سے روکا جاسکے۔تصاویر کے ساتھ گائے کے مالک کو اس کے رنگ ،عمر، قد اور دیگر منفرد خدوخال کی تفصیلات پولیس اسٹیشن میں دینی ہوگی۔دوسری طرف بھارتی وزیر داخلہ نے بی ایس ایف جوانوں پر زور دیا ہے کہ بھارت بنگلا سرحد پر گائے کی اسمگلنگ کو روکی جائے تاکہ بنگالیوں کو گائے کا گوشت کھانے سے روکا جاسکے۔ ہرسال اوسطاً25لاکھ مویشی بنگلادیش اسمگل ہو جاتے ہیں۔بھارت گائے کے گوشت کی کھپت کے اعتبار سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ ہندو گائے کو مقدس سمجھتے ہیں۔مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے گائے کے تحفظ کی مہم چلا رکھی ہے۔ بھارت کی گیارہ ریاستوں اور دو یونین علاقہ جات میں گائے کے ذبیحے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ ان میں مقبوضہ کشمیر ،ہماچل پردیش، پنجاب، ہریانہ، اترکھنڈ، اتر پردیش، راجستھان، گجرات،مدھیا پردیش، مہارشٹرا،چیتیش گڑھ،دہلی اور چندی گڑھ ہیں۔ وسطی ریاست چتیس گڑھ میں بھینس کے ذبیحے پر بھی پابندی ہے حالانکہ وہ اسے مقدس نہیں گردانتے۔ ہریانہ میں گائے کے ذبیحے پر دس سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہے۔آٹھ ریاستوں اور چار یونین علاقہ جات میں میں گائے اور بچھڑے کے ذبیحے پر پابندی ہے تاہم بیل، بھینس کے ذبیح کے لئے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت ہے۔آٹھ ریاستوں اور ایک یونین علاقے میں گائے کے ذبیح پر کوئی قانون سازی نہیں کی گئی۔آسام اورمغربی بنگال میں میں کسی بھی جانور کو ذبیح کرنے کی قانون اجازت دیتا ہے۔ بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے شہر مالیگاوں میں پولیس نے گائے اور بیلوں کے مالکان سے کہا ہے کہ وہ اپنے جانوروں کی تصاویر تھانے میں جمع کرائیں۔ریاست میں گائے ذبح کیے جانے پر پہلے سے پابندی تھی تاہم اب بیل یا بچھڑے ذبح کرنے پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔ گائے کے ذبیحے پر پابندی کے قانون کے تحت پہلا معاملہ مالیگاؤں میں درج ہوا تھا۔نئے قانون کے تحت اگر کوئی شخص گائے، بیل یا بچھڑے کو ذبح کرنے کا قصوروار پایا جاتا ہے تو پانچ سال تک سزا ہوسکتی ہے۔ گیارہ کروڑ آبادی کی بھارتی ریاست مہارشٹرا رقبے کے اعتبار سے اٹلی کے برابر ہے اس میں گائے، بیل اور بچھڑے کے گوشت کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے گائے کے ذبیح پر پابندی عائد کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ایپکس کورٹ نے اس سے قبل مویشیوں کی غیر قانونی نقل و حرکت سے متعلق اقدامات کو روکنے کا حکم دیا تھا۔ مہاراشٹرا کے آس پاس کے علاقہ جات میں گائے کے گوشت کے 36 ڈیلرز کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد سپریم کورٹ اس پابندی کو چیلنج کرنے پر مجبور ہو گئی۔اس سے قبل گذشتہ برس ہائیکورٹ نے بھی اس پابندی سے متعلق سماعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ بھارت میں گائے کے گوشت پر پابندی کے خلاف احتجاجا دلت کمیونٹی نے بنگلور شہر میں کھلے عام گوشت کھانے اہتمام کیا۔ بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں گزشتہ ماہ گائے ذبیح کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی ، جس پر مسلمانوں اور دلت ہندوؤں نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ تاہم حکومتی فیصلے سے ناراض دلت کمیونٹی نے احتجاجاً ریاست کرناٹکا کے شہر بنگلور میں گائے کا گوشت کھانے کا اہتمام کیا۔ ایونٹ میں معروف رہنماؤں اور نامور شخصیات کو بھی دعوت دی گئی تھی۔ اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی نے اسے ہندو عقائد کی بے حرمتی قرار دیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت میں گائے کے ذبیح پر صرف مسلمانوں پر ظلم کرنا اور انہیں ہی نشانہ بنانا درست نہیں۔ بھارت گائے کا گوشت فروخت کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ اب ظاہر ہے بھارت سے برآمد کیا جانے والا گائے کا گو شت گائے کاٹ کر ہی حا صل کیا جا تا ہے لیکن معاملہ کثیر زرمبادلہ کا ہے جس کے سبب بھارت کے سلاٹر ہاؤس میں دھڑا دھڑ گائے ذبحہ ہو کر بیرون ملک ایکسپورٹ کیجا رہی ہیں لیکن بھارت میں گائے کی فروخت پر پابندی اور گائے کے گو شت کھانے پر مسلمانوں کا قتل بھارتی حکومت کی تنگ نظری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔پروفیسر کانچا ایلیا ہندوؤں کی نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے ہندوتوا فلسفے، ثقافت اور سیاسی اقتصادیات کے ایک تجزیہ نگار ہیں۔انہوں نے اپنی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ’’میں ایک ہندو کیوں نہیں؟‘‘ میں کہا کہ یہ خاص طور پر قبائلیوں اور دلت کی طرز کے دیہی گروہوں پر یقیناً ایک ثقافتی پابندی ہے۔ تاریخی طور پر برہمن سمیت تمام ہندو عوام ویدک اور ویدک کے بعد کے ادوار میں گائے کا گوشت کھایا کرتی تھی۔ کشمیری پنڈت آج بھی گوشت خور ہیں۔ بنگالی برہمن مچھلی بھی کھاتے ہیں اور گوشت بھی۔ گوتم بدھا نے اس روایت کے خلاف بغاوت کی تھی، اس لیے کہ ان کے دور میں پروہت طبقے میں گائے کا گوشت بہت بڑی مقدار میں استعمال کیا جاتا تھا۔ بدھا نے لوگوں سے کہا کہ گائے کو ذبیحہ کے لیے ہلاک نہ کرو، وہ استعمال کیلئے ہیں،نہ کہ ہلاک کرنے کے لیے۔پروفیسر کانچا ایلیا نے کہا کہ آر ایس ایس کی دلیل یہ ہے کہ گائے کو تحفظ دینا چاہیے اس لیے کہ یہ ہندوستانیوں کو دودھ فراہم کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان گائے کے دودھ پر زندہ نہیں ہے، بلکہ ہندوستان بھینس کے دودھ پر زندہ ہے۔ چنانچہ کیا وجہ ہے کہ آرایس ایس بھینس کے تحفظ کا سوال کیوں نہیں کھڑا کرتی۔اگر آپ گجرات کے قانون کو دیکھیں تو اس میں گائے کے ذبیحہ کے ساتھ ساتھ بیل اور سانڈ کے ذبیحہ پر بھی پابندی عائد ہے، لیکن یہ بھینس کے گوشت کے معاملے میں خاموش ہے۔ نریندرا مودی کی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں گائے کا دودھ، دودھ پیک کرنے والی فیکٹریوں کو فراہم کرنا شروع کردیا گیا تھا، جبکہ بھینسوں کو ذبح کرکے اس کے گوشت کی برآمدات شروع کردی گئی۔گائے بیلوں کے ذبیحہ پر پابندی کے حوالے سے پورے ہندوستان میں بحث و مباحثہ جاری ہے۔ ہندوستانی ریاست مہاراشٹر میں گائے کے ذبیحہ اور گوشت کی خریدو فروخت پر لگائی گئی۔ پابندی نے ریاست کی زرعی معیشت کو شدید بحران سے قریب کردیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ایسے ہی قدم دیگر تمام ریاستوں میں بھی اٹھائے جانے لگے تو اس طرح کی پالیسی پورے ہندوستان کی زرعی معیشت کیلئے مشکلات کھڑی کر سکتی ہے۔

Google Analytics Alternative