کالم

حد ہوگئی ہے۔۔۔؟

عنقریب مُلکی سیاست میں ایک بھونچال آنے والاہے اور ہماری سیاست احتجاجی تحاریک کے ایک نئے اور انجانے راستے کا رخ اختیار کرنے والی ہے کیو ں کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز میں فیصلے محفوظ کرلئے ہیں ۔یہ فیصلے 24 دسمبر کو سُنائے جانے کا قوی امکان ہے جبکہ سپریم کورٹ کے حکم پر سابق صدر زرداری کی میگا منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات پر مبنی جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ مکمل کرکے سُپریم کورٹ میں جمع کرادی ہے کہاجارہاہے کہ اِسی روز سماعت بھی شروع ہوگی ۔اِس صُورتِ حال میں کہا جا سکتا ہے کہ نوازاور زرداری کے اچھے دن ختم ہونے کو ہیں،اِس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ دونوں نے خود کو اپنے لحاظ سے کرپشن کا شہنشاہ سمجھ رکھا تھا۔ آخر بکرے کی مَیں کب تک خیر مناتی اِسے ایک نہ ایک دن توقصائی کی چھری کی نیچے آنا ہی ہوتاہے۔ اِیسی ہی صُورتِ حال سے اِن دِنوں نواز اور زرداری بھی دوچار ہیں کیوں کہ اِن کی ظاہر او باطن کرپشن کب تک احتسابی اور اِنصاف فراہم کرنے والے اداروں کی گرفت سے چھپی رہتی آخر کار وقت گزرنے کے ساتھ نواز و زرداری خود ہی قانون کی گرفت میں پھنستے جارہے ہیں۔ آگے آگے دیکھتے ہیں کہ یہ اَب اپنی جانیں کس طرح چھڑاتے ہیں یا جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہ کر اپنی زندگیاں گزارتے ہیں۔تاہم ہمارایہ المیہ رہاہے کہ وطنِ عزیز میں پُل اور پَل کا کوئی بھروسہ نہیں ہے، پُل کب گر جائے ؟ اور پَل میں کیا ہوجائے ؟الغرض یہ کہ دونوں کب روٹھ جا ئیں کچھ نہیں کہاجاسکتا ہے، اَب یہ کِسے معلوم تھا کہ پچھلے دِنوں پَل بھر میں پاکستا نی روپے کی قدر اتنی گرجائے گی کہ ڈالر بے لگام ہوجائے گا، غرض یہ کہ آج پاکستانی روپے کی ڈالر کے مقابلے میں اتنی بے قدری کیا ہوئی؟ بھلاسارا نظام زندگی ہی تہہ بالا ہوگیاہے ۔ایسا آناََ فاناََ توہونا ہی تھا،پچھلوں کے کارنامے ہی کچھ ایسے تھے، وہ ہوگیا جس کا خدشہ ظاہر کیاجارہاتھا ،ڈالر نے روپے کو ایسی پٹخی دی کہ یہ چکراکر رہ گیاہے تب سے اَب تک روپے کی قدراور کمر پر جتنے خم آئے ہیں۔ وہ تو نظر آرہاہے، بیچارہ ہماراروپیہ ابھی تک کھڑا نہیں ہوپارہاہے۔ اِس کی ایک وجہ یہ سمجھ آئی ہے کہ ماضی کے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور اِن کے خوشامدیوں نے اپنی لوٹ مار میں مگن رہنے کی وجہ سے اِس جانب توجہ ہی نہیں دی کہ ڈالرکے مقابلے میں پاکستا نی روپے کی قدر کس حد تک گرنے کو ہے ۔آج پاکستا نی روپے کا جو حال ہوا ہے۔ یقیناًاِس کے ذمہ دار ماضی کے حکمران نوازشریف اور آصف زرداری اور اِن کی حکومتی پالیسیاں اور حکومتی وزراء ہیں۔ جنہوں نے اپنے اللے تللے اور اپنی رنگ ریلیوں میں گم رہ کرپاکستانی روپے کی بے قدری میں اپنا حصہ ثوابِ دارین سمجھ کر ڈٖالا ہے۔ آج جس کا خمیازہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کواپنے سودِنوں میں دوست ممالک سے اربوں ڈالر ز کی مددلے کراوراپنے مُلک کے غریب عوام پر بے لگام مہنگائی کے پہاڑ ڈھا کر بھگتاناپڑرہاہے ۔ جبکہ آج ڈالر ہے کہ اِس نے پاکستانی روپے کے مقابلے میں ایسی اُڑان بھری ہے کہ کم بخت آسمان کی بلندیوں کو چھوئے چلاجارہاہے کہیں روکنے کا نام ہی نہیں لے رہاہے اور ہمارا روپیہ ہے کہ جو زمین کی دھول چاٹ کر اپنا وجود برقرار رکھنے کی کوشش کررہاہے۔اِس پرافسوس یہ کہ ساری صُورتِ حال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے نیپرا نے بھی بجلی ٹیرف میں اضافے کا بم عوام پر گرانے کا عندیہ دے دیاہے۔ جس کا کہنا ہے کہ ماہانہ تین سو یونٹس استعمال کرنے والے کے سِوایکساں پاور ٹیرف نظام کا اطلاق کیا جائے گا۔اِس اقدام سے بجلی مزید مہنگی کردی گئی ہے، یعنی کہ نیپرانے بجلی کی قیمت میں یکمشت ایک روپے 27پیسے فی یونٹ اضافے کا فیصلہ کرلیاہے۔خیال کیا جارہاہے کہ نیپراکا یہ فیصلہ بجلی کی ترسیلانی کمپنیوں کے مستحکم اکاؤنٹس کی بنیاد پر کیا گیاہے۔مزید یہ کہ مہنگا ئی کے بوجھ تلے دبتے چلے جانے والے غریبوں کے لئے وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر کا قائمہ کمیٹی کو بریفنگ کے دوران یہ کہنا بھی اپنے اندر سخت تشویش لئے ہوئے ہے کہ بجلی مزید مہنگی اور 130ارب کا بوجھ بڑھے گا۔ اُنہوں نے وثوق سے ساتھ یہ بھی کہہ دیاہے کہ نیپرا کا فیصلہ مالیاتی خسارہ پوراکرنے کیلئے آئندہ ماہ منی بجٹ لانے اور ٹیکسوں میں اضافے پر غوکیا جارہاہے‘‘ یقیناًیہ تلوار بھی تنخواہ دار غریب سرکاری اور نجی ملازمین پر بھی چلائی جائے گی۔ کیوں کہ یہ تنخواہ دار غریب طبقہ ایسے مواقع پرہمیشہ حکومتوں کی گرفت میں آسا نی آجاتاہے اِسی لئے حکومتیں جتنے بھی ٹیکسوں میں اضافے کا پروگرام مرتب کرتی ہیں، یہ اپنے ٹیکسوں کے اہداف اور بجٹ خسارہ اِس مظلوم طبقے پر ٹیکسوں کے اضافی بوجھ ڈال کر پورا کرتی ہیں۔ پھر سینہ چوڑا کرکے اور گردن تان کر دعوے کرتی پھرتی ہیں کہ ہم نے مالیاتی خسارہ اور ٹیکسوں کے اہداف اپنی حکمت سے پورا کرلیا ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں ستر سال سے جتنی بھی (سِول یاآمر) حکومتیں آتی رہی ہیں۔ سب نے ہی اکثر و بیشترتنخواہ دار طبقے کی آمدن میں سالانہ میزانئے بجٹ میں قلیل (چند سو یا چند ہزارروپے کا) اضافہ کرکے اربوں، کھربوں کا ٹیکس وصول کیااور اپنامالیاتی خسارہ ختم کیا ہے۔آج وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں بھی سارے مالیاتی خسارہ تنخواہ دار طبقے پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر پوراکیا جائے گا ، پھرہمارے وزیراعظم عمران خان اوروفاقی وزیرخزانہ اسد عمر بھی لہک لہک کر گاتے پھریں گے کہ ہم نے اپنی حکومت کا مالیاتی خسارہ یوں پورا کیا تویوں اور پوں پوراہے۔بہر کیف ،یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہمارے یہاں بہت سے معاملات کچھ سے کچھ بنا کر پیش کئے جاتے رہے ہیں اور کئے جارہے ہیں۔گرچہ، آج کل بدلاتوکچھ زیادہ نہیں ہے۔ مگر تبدیلی اور بہت کچھ بدلنے کے دعوے بہت کئے جارہے ہیں ۔ہاں! اَب ایسا بھی نہیں ہے کہ اگلے وقتوں میں بدلا ہوا پاکستان نظرنہیں آئے گا۔بس قوم حوصلہ رکھے کہ آئندہ وقتوں میں جو کچھ بھی ہوگا ،بہت اچھا ہوگا۔آج مُلک اور قوم اپنے اور اغیار کی وجہ سے مشکل وقت سے ضرور گزررہاہے۔ مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم سُرخرو نہ ہوں ۔ہمارے بھی اچھے دن آنے والے ہیں ،اور ہم بھی دنیا کے نقشے پر نئی آب و تاب سے ٹمٹماتے اور جگمگاتے ستارے کی طرح نمودار ہونے کو ہیں۔اگر آج ہمیں آگے بڑھانا ہے۔ تو نواز اور زرداری اور اِن جیسے اِدھر اُدھر کے دوسرے قومی لیٹروں سے چھٹکارہ ضرور پانا ہوگا۔ اِن سے جان چھڑائے بغیر ہمیں ہماری منزل نہیں مل سکتی ہے ۔اِس سے اِنکار نہیں ہے کہ آج بھی بعض اداروں میں اپوزیشن کے پٹھو کلیدی عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ جو رواں حکومت کی تبدیلی اور نئے پاکستان کی راہ میں گاہے بگاہے رغنہ ڈالنے کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔نئی تبدیلیوں کے ساتھ نئے پاکستان کا نعرہ لگا کر اقتدار حاصل کرنے والی حکومت قومی اداروں میں چھپے بیٹھے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے عناصر کو راہ راست پر لائے۔ تو پھر نئی تبدیلیوں والے پاکستان کی راہ ہموار کرنے میں بہتری لا ئی جاسکے گی ور نہ سب محض سیراب اور خواب ہی رہ جائے گا۔اِس سے اکثر محب وطن پاکستا نی ضرور متفق ہوں گے کہ آج بھی ذراسنبھل کر وہی سب کچھ کیا جارہاہے۔ جیسا کہ پہلے ہواکرتا تھا ، ایسے میں سسٹم بدلنے والوں کی سعی تو بہت ہے کہ کچھ نیااوربہت کچھ بہت اچھاہوجائے ۔ مگر یہ بیچارے بھی کریں تو کیا کریں ؟ کو ئی کام کرنے کا اِنہیں موقع ہی نہیں دے رہاہے۔ اگر میدانِ سیاست کے پرانے کھلاڑی سیاسی کھلواڑ سے باز آجائیں۔ تو نظام بدلنے والوں کو بھی کچھ موقع ہاتھ لگ جائے گا، اور یہ اپنے پروگرام کے تحت مُلک میں کچھ مثبت تبدیلیوں کے ساتھ نمایاں تبدیلیاں بھی لے آئیں گے ۔مگر ہائے رے افسوس کہ سیاست کو عبادت کا درجہ دینے کے بجائے، مُلکِ پاکستان میں کھوسٹ سیاسی پیترے بازوں نے سیاست کو کھیل بنالیا ہے۔ آج جس کا جو جی چاہتا ہے۔ سیاست کا اپنا مطلب لے کر خود ہی معنی نکال رہاہے۔ اور سیاست جیسی صاف ستھری عوامی خدمت کی عبادت کواپنے سیاہ کرتوتوں سے داغدار کررہاہے۔ہمارے مُلک میں سیاہ کار سیاسی چالبازوں کے کالے اور گھناؤنے ، فعلِ شنیع سے سارا سیاسی نظام مکروہ چہرے کے ساتھ بدنماداغ بن چکاہے۔غرض یہ کہ ماضی کے کرپٹ حکمرانوں ، سیاستدانوں اور اِن کے اِدھر اُدھر کے خوشامدی چیلے چانٹوں کے گناہِ عظیم کی وجہ سے سیاسی پُل سے پانی بہت اُونچا ہوگیاہے ۔ احتساب اور اِنصاف فراہم کرنے والے اداروں کا صبرکا پیمانہ بھی لبریز ہوگیاہے۔ ایسے میں قبل اِس کے کہ جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کرنے والے کرپٹ عناصر اپنی بچاؤ کے لئے کوئی نیا اتحاد بنائیں۔ مُلک کا بنابنایا اچھا بھلا سیاسی و جمہوری پُل کسی دھماکے سے گرجائے، اور سارا جمہوری شیرازہ چند قومی چوروں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بکھر جائے ۔ اَب اِس نازک گھڑی میں لازمی ہے کہ مُلک میں احتساب،آئین و قانون کا نفاذ اور اِنصاف فراہم کرنے والے اداروں کو متحرک ہو کر قومی لٹیروں کا ( 24دسمبر کو اعلیٰ عدالت سے حتمی فیصلہ آنے سے پہلے) کسی اتحاد بننے سے قبل ہی اِن سب کا قلع قمع کرناہوگا ور نہ ؟ مُلک میں نوازاور زرداری کی گرفتاریوں پر اِن کے چیلے انارگی اور اشتعال انگیزی کاکوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے ، تب حکومت کے دامن میں کچھ نہیں آئے گا۔ اِس لئے مُلک میں احتساب اور آئین و قانون کا نفاذ کرانے اور اِنصاف فراہم کرنے والے قومی اداروں کے سربراہان کو سنجیدگی سے کرپٹ قومی عناصر سے نمٹنا ہوگا ، یاد رہے کہ اگر قومی لیٹروں کو متحد ہونے کا موقعہ دیاگیاتو پھر یہ بھی ذہن میں رہے کہ ہمارے یہاں تو پہلے ہی پُل اور پَل کا بھروسہ نہیں ہے۔ کیوں کہ اکثر دیکھا گیاہے اور کھلی آنکھوں یہ مشادہ رہاہے کہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ایک اشارے پر پَل بھر میں سیاسی کارکن مشتعل ہوجاتے ہیں اور پُل پر دھرنا دے کرپُل اور شاہرائیں بلاک کرکے سارا نظامِ زندگی مفلوج کردیتے ہیں۔
*****

عمران خان ،مدینہ کی اسلامی ریاست، اس کے وزیر

اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ وزیر اعظم، مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان ، مثل مدینہ اسلامی ریاست، عمران خان صاحب جب سے سیاست میں آئے ہیں وہ پاکستان کی اساس کو سامنے رکھتے ہوئے اور کرپشن فری پاکستان پر اپنی سیاست کرتے رہے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے 35 برس سے پاکستان پر مسلط ، پاکستان کی بنیادی اساس اور قائد اعظم ؒ کے وژن کی مخالف، سیکولر روشن خیال پیپلز پارٹی اور دوقومی نظریہ سے اعلانیہ منحرف ،نواز لیگ کے مقابلے میں2018ء کے عام انتخابات میں کامیابی دی۔ وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان منتخب ہو کر پاکستانی قوم کے سامنے اپنے پہلے خطاب میں بھی کھل کر پاکستان کو مدینہ کی فلاحی اسلامی ریاست بنانے کے اپنے نیک ارادوں کا اظہار کیا۔ آتے ہی نظام حکومت میں بھی بتدریج مثبت اقدامات کرنے شروع کر دیے۔ وزیر اعظم ہاؤس،گورنرہاؤس کے اخراجات کو کم کیے اوران کو عوام کیلئے کھول دیا۔ابھی کچھ دن پہلے پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بین الاقوامی سیرت کانفرنس میں عمران خان نے اپنی زندگی کی اسلامی کی سمت بڑھنے کا ذکر بھی خوش اسلوبی سے کیا۔ پاکستان کی تین یونیورسٹیوں میں دانشوروں کو، سیرت کے اس پہلو پر کہ کس طرح دنیاکے عظیم شخصیت حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح دبے ہوئے جاہل عربوں کو تبدیل کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ روم اور ایران کی دو سپر طاقتوں کو شکست دے کر دنیا پر غالب ہو گئے۔ اپنی سیاسی جدو جہد کے ۲۲ سال کے دوران،انہوں نے ہمیشہ حکیم الامت علامہ شیخ محمد اقبال ؒ کی فکر اور قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے عملی اقدامات کو پیش نظر رکھتے ہوئے علانیہ کہتے رہے کہ وہ اس ملک میں مدینہ کی فلاحی اسلامی ریاست بنا کررہیں گے۔عوام کے سامنے وہ اپنے جلسوں میں اسٹیج پر نمازیں بھی پڑھتے دیکھے گئے۔ سیاسی جلسوں اور ہر خطاب سے پہلے اللہ تعالی سے سیدھے راستے پر چلنے کی دعائیں بھی کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔ تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان کے عوام اُن کے نیک عزم پر شک کریں۔ کیا کسی کو کسی کے دل کاحال معلوم ہے۔ یہ تو صرف اللہ ہی کو معلوم ہے۔ برعظیم کے مسلمانوں نے پاکستان ’’لا الہ الااللہ‘‘ کے اللہ سے سے وعدہ پر حاصل کیا تھا۔ مگر مقتدر حلقوں نے عوام کی امنگوں کے مطابق پاکستان میں اسلامی ریاست نہیں بنائی۔ عمران خان نے۷۱سال سے مدینہ کی اسلامی ریاست کے لیے ترستے ہوئے پاکستان کے عوام کی ترجمانی کی۔ پاکستانیوں اور اسلام سے محبت رکھنے والے حلقوں نے عمران خان کی حمایت کی۔ خود عمران خان بھی اپنے ارادے کے پکے ہیں۔ ملک میں مدینہ کی فلاحی ریاست قائم کرنے اور پاکستان کو کرپشن فری پاکستان کرنے کے اپنے ایجنڈے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔جن دو پارٹیوں کو عمران خان نے شکست سے دوچار کیاآج وہ اس کے راستے میں کھڑے ہو گئے ہیں۔ نیب ایک خود مختیار ادارہ ان ہی دو پارٹوں کے مشورے سے بنا تھا۔ اسی نیب نے دونوں پارٹیوں کے سربراہوں پر کرپشن کرنے پر مقدمے قائم کئے تھے۔ اب اگر ملک کے قانون کے مطابق عدالتیں ان کے مقدمے سن رہے ہیں اور تو جمہوریت کو کیا خطرہ درپیش ہے کہ دونوں یک جان ہوکر عمران خان کی حکومت کے خلاف مہم چلانے اور اپنی کرپشن کو بچانے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ ان کو عدالتوں میں اپنے پوزیشن کو صاف کرنا چاہیے۔ رہا پاکستان میں مدینہ کی فلاحی اسلامی ریاست کے قیام کا پروگرام توعمران خان صاحب کو اگر تاریخ اسلام پر نظر دوڑائیں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اس سے قبل جب بنو اُمیہ کے دور میں مدینہ کی فلاحی ریاست ختم ہو کر بادشاہت میں داخل ہو گئی تھی تو اُسی بنی اُمیہ کے ایک اسلام کے شیدائی حضرت عمر بن عبدلعزیزؒ نے بھی پھر سے مدینہ کی فلاحی ریاست کو بحال کرنے کے لیے کوشش کی تھی ۔ مگر بادشاہ ہونے کے باوجود اس کے اعمال اس کے راستے میں کھڑے ہو گئے تھے۔ خاندان کے لوگوں نے اس نیک شخص کو راستے سے ہٹا دیا دیا۔ لہٰذا عمران خان صاحب آپ اپنے وزیروں پر بھی کڑی نظررکھیں۔ وہ آپ کے اس نیک کام میں روکاوٹی کھڑی کر رہے ہیں۔ پہلے پاکستان کے آئین کے ایک باغی ایک قادیانی کو آپ نے اپنی کابینہ میں رکھا۔ پھر آپ کی قومی اسمبلی کی ایک ممبر نے پارلیمنٹ کے اندر تقریر کی کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دشمن اسلام و پاکستان اسرائیل کی ناجائز جبری حکومت کو تسلیم کر لیا جائے۔ آپ کے مرکزی وزیر اطلاعات نے ایک غیر مسلم ممبر کی پارلیمنٹ شراب پر پابندی کی بات پر کہا کہ یہ سستی شہرت کے لیے کر رہے ہیں۔ قانون سے کیا ہوتا ہے۔جو شراب پیے گا پیتا رہے گا۔ پارلیمنٹ میں اس بل کو روک دیا گیا۔ اب پنجاب کے وزیر اطلاہات نے کہا ہے کہ غیر اسلامی تہور بسنت منائیں گے۔ جب کہ آپ کو معلوم ہے کہ سپریم کورٹ نے اس پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔ اس کے خلاف لوگ عدالت میں بھی پہنچ چکے ہیں۔ ایسی اور بہت سے باتیں ہیں جو اسلامی فلاحی ریاست کے خلاف جاتیں ہیں۔پاکستان کی اکثریت کو آپ کی نیت پر شک نہیں کرتی۔ بلکہ اسلام سے محبت کرنے والوں کو آپ کی حمایت کرتے ہیں۔آپ اپنے وزیروں پر مکمل گرفت کریں کہ وہ اسلام دشمن اقدامات نہ کریں۔ ورنہ پاکستان کے عوام آپ کے مخالف ہو جائیں گے۔جس سمت پر آپ پاکستان کو لے جانا چاہتے ہیں آپ کے وزیر اس میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ اپنی کرپشن بچانے کیلئے احتجاج کرنے والی دونوں پارٹیوں سے ملکی قانون کے مطابق نپٹیں۔ ملک میں مدینہ کی فلاحی اسلامی ریاست کے عزم پر ڈٹے رہیں۔ ملک کے عوام آپ کے ساتھ ہیں۔ مدینہ کی فلاحی اسلامی ریاست اور دو پارٹیوں کی کرپشن کے اپنے ایجنڈے پر کسی سے بھی کوئی نرمی نہ کریں۔ پاکستان سے محبت کرنے والے سارے حلقے آپ کے ساتھ ہیں۔ اپنے وزیروں کے غلط مشوروں کو بھی زیادہ اہمیت نہ دیں۔ جس سمت کاآ پ نے ۲۲سال پہلے سفر جاری کا تھا اس پر عمل کرتے رہیں۔ اس نیک کام میں اللہ آپ کے ساتھ ہے۔

اقوام متحدہ کی ناکامی۔۔۔!

اقوام متحدہ کے جنیوا چارٹرکی رْو سے انسانی حقوق کی تفصیلی دستاویز ی نکات پر عمیق نظر رکھنے والے کہتے ہیں کہ ‘اُن ریاستوں میں جو جمہوری نظام حکومت کی دعویدار ہیں، اگروہاں واقعی جمہوری سسٹم رواں دواں ہے تو جنیوا چارٹر کے مطابق ہمیں یہ دیکھنا انتہائی ضروری ہے کہ ایسے چلتے ہوئے جمہوری سسٹم میں بعض اوقات ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ وہاں پر لگاتار متواتر ایک پارٹی اپنی جڑیں مضبوط کرلیتی ہے وہ ‘بظاہر’ایک اصول اپنالیتی ہے اُس اصول کوحزرجاں بنالیتی ہے یہ سمجھے جانے بغیرکے اْس ‘یکطرفہ’ اپنائے ہوئے اْن کے اصول سے ملک کے کسی حصہ میں عوام کی ایک بڑی اکثریت کے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہورہے ہیں، بڑی تفصیلی بحث ہے قارئین کی توجہ ہم اپنے بیان کردہ اِن سطورکا سہارا لیتے ہوئے بھارتی جمہوریت کے حوالے سے مقبوضہ جموں وکشمیر’ دنیا جسے بھارتی جغرافیہ کا حصہ تسلیم نہیں کرتی ہے’اْس مقبوضہ وادی کیلئے بھی گزشتہ 71 برسوں سے نئی دہلی سرکارنے یہی اپنا متنازعہ سیاسی اصول اپنایا ہوا ہے، جسے اقوام متحدہ کے جینوا چارٹرز کے باب 5 میں انسانی حقوق سے متصادم اصول قراردیا گیا ہے یقیناًیہ ایک پارٹی کی بات نہیں ہے یہاں ایک اْصول کی بات کی گئی ہے نئی دہلی کا آخر یہ کیا اصول ہے ؟یہی کہ ’مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اْن کا پیدائشی حق آزادی نہ دینا‘ نئی دہلی کے ریاستی جبروستم کو اپنا کر کشمیریوں کے حق کو غصب کیئے رکھنا ‘ نئی دہلی میں کانگریس برسراقتدارہو یا بی جے پی یا کوئی بھی پارٹی بھارت میں برسراقتدار ہو بھارت نے 71 برسوں سے انسانی حقوق سے متصادم یہی انسان دشمن رویہ اپنا رکھاہے جس پر عالمی تنقید وتنقیص کا سلسلہ جا رہی ہے مگرنئی دہلی کوکوئی پرواہ نہیں’کشمیر کو اپنا’اٹوٹ انگ’ قرار دینے والے بھارت کے پہلے وزیراعظم مسٹرنہرو جب تک زندہ رہے اْنہوں نے کشمیر کی جب بھی کہیں بات کی تو اْن کا اتنا ماننا ضرور تھا کہ ’ کشمیر میں ‘حالات نارمل ہوتے ہی اقوام متحدہ کی نگرانی میں کشمیریوں کو حق استصواب رائے دینے کے انتظامات کرادئیے جائیں گے‘مقبوضہ کشمیر کے عوام‘ پاکستان اور بھارت اس مسئلہ کے یہ تین فریق ہیں، اقوام متحدہ اْس نے 1948 میں انسانی حقوق کے عالمی منشورکی منظوری دی تھی اْن ہی ایّام میں کشمیر کا قضئیہ سلامتی کونسل کے سامنے پیش ہوا اور متفقہ قراردادوں پر پاکستان اور بھارت متفق ہوئے تھے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان اوردنیائے اسلام کو عالمی تعصب کا سامنا کرنا پڑا دنیا ئےِ اسلام اورپاکستان کے خلا ف غیر مسلم دنیا کے روارکھے جانے والے پے درپے متعصبانہ رویوں نے زورپکڑا، مسلم مخالف عالمی طاقتوں نے بھارت کی ایماء پر ناانصافی پر مبنی اپنی انسان دشمن رائے بنالی اوریوں پاکستان اور بھارت کی تین جنگیں ہونے کے باوجود کشمیرکا مسئلہ ہنوزطے نہیں ہوسکا، اس دوران میں بھارت نے اپنی مکارانہ زہریلی سازشوں کو بروئے کار لاکر دسمبر 1971 میں پاکستان کے مشرقی حصہ کو (مشرقی پاکستان) پاکستان سے علیحدہ کرنے میں اپنا بدترین بدنام کردارادا کیا اورمسئلہ کشمیر سے منسلک مزید کئی سنگین انسانی مسائل پیدا کرکے پاکستان کو اس مقام پرلاپہنچایا کہ پاکستان کو بھی اپنی جغرافیائی اور نظریاتی سلامتی‘تحفظ اوربقاء کیلئے اپنے انتہائی محدودمالی وسائل میں مسلم دشمن عالمی اور مغربی طاقتوں کی انتہائی مخالفتوں کے با وجود خود کوایٹمی ڈیٹرنس سے لیس کرنا پڑا بھارت اور پاکستان جنوبی ایشیا کے پڑوسی ممالک جدید ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں پاکستان اوربھارت کے مابین مقبوضہ کشمیر’سیاچن’ سرکریک اورخاص کر پانی جیسے اہم انسانی مسائل پربڑی کشیدگی’ تناوکی کیفیت اور باہمی سنگین عدم اعتماد کی فضا پائی جاتی ہے، اب کوئی بتائے کہ کہاں ہے اقوام متحدہ اور اْس کی سلامتی کونسل کی قراردادیں؟مقبوضہ کشمیر میں کوئی روز ایسا نہیں گزرتاجب وہاں اپنے انسانی حقوق کی مانگ’آزادی’ کے لئے کشمیریوں کی لاشیں نہ گرتی ہوں، بھارتی افواج کے ظلم وستم کی خبریں غیر جانبدار میڈیا کے ذریعے بخوبی سنی جاسکتی ہیں، سنی جارہی ہیں بھارت سے کوئی یہ نہیں پوچھ رہا ہے کہ بھارت جوکہ اقوامِ متحدہ کا رکن ملک ہے اقوام متحدہ کی تقریباً سبھی تنظیموں پر بھارت نے دستخط کررکھے ہیں سوائے ایٹمی ہتھیاروں کی عالمی تنظیم کے ‘ پاکستانیوں کا یہ سوال دنیا کے بااثر دانشوروں سے ہے کہ کوئی اقوام متحدہ کا منشور ‘ چارٹر اور مقاصد کا ذراجائزہ تولے تو اْنہیں علم ہوگا کہ آج اقوام متحدہ اپنے منشور اور مقاصد سے کتنی دورنکل چکی ہے، مقبوضہ وادی کا معاملہ دنیا کے امن کے لئے ‘فلش پوائنٹ’ بن چکا ہے، جہاں بڑی بے دردی سے کشمیریوں کے بنیادی حقوق کو پائمال کیا جارہا ہے کشمیریوں کے انسانی اقدار کو لہورنگ کیا جارہا ہے کشمیریوں کی عزت وقدرمنزلت بھارتی فوجیوں نے ملیامیٹ کررکھی ہے اوریہ شیطان فطرت بہیمانہ کارروائیاں نئی دہلی کی مرکزی حکومت کی ایماء پر جموں وکشمیر کی کٹھ پتلی ریاست کے مقامی پولیس اہلکار ٹیموں اوربھارتی سیکورٹی افواج کی ملی بھگت کی کارستانیاں ہیں ‘دنیا کو’ بھارت نوازعالمی طاقتوں کومسلم دشمن اورخاص کر پاکستان کو ہمہ وقت گھیر نے والی عالمی تنظیموں کوشاید علم نہیں اگرعلم ہے بھی تو وہ کبوتروں کی مانند ریت میں سردئیے ہوئے ہیں جان بوجھ کر انجانے بنے کشمیر میں ہونے والی انسانیت کی تذلیل کا تماشا دیکھ رہے ہیں بھولے بیٹھے ہوئے ہیں کہ 8 جولائی 2016 کو شہید برہان مظفروانی نے آزادی کشمیر کی تحریک میں اپنا جواں سال لہوشامل کرکے جو تازہ لہرپیدا کی تھی وقت کے ساتھ ساتھ آزادی کشمیر کی یہ توانا لہرمزید پروان چڑھتی جارہی ہے، اب کشمیر کی آزادی کے لئے اہل کشمیر کو اقوام متحدہ کی’ نام نہاد سلامتی کونسل‘ کی کوئی ضرورت نہیں ہے ‘ آزادی کشمیر کی تحریک میں اب اعلیٰ تعلیم یافتہ کشمیری طبقات نے بھی جوق درجوق حصہ لینا شروع کردیا ہے ‘شہید حنان وانی’ جیسے جواں سال دانشورنے 26 سال کی عمرمیں فیصلہ کیا کہ اْن کے وطن کی آزادی اب مزید اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بھروسہ پر چھوڑی نہیں جاسکتی، اب ہم جیسوں کو میدان عمل میں آنا پڑے گا تبھی وادی کی آزادی کا یہ سفر اپنی منزل سے ہم کنار ہوگا اہل کشمیراورفلسطینی مسلمانوں نے بہت صبرآزما انتظارکرلیا ہے ا قوام متحدہ کا ادارہ ظالم و جابر غاصب قوتوں کے شکنجوں سے کروڑوں انسانی جانوں کو تحفظ دینے میں کیسے بُری طرح سے ناکام ہوا ہے اور یہی سامراجی شیطانی طاقتیں 71 برسوں سے اس کا منہ چڑارہی ہیں یقیناًاقوام متحدہ کیلئے یہ لمحہ ‘لمحہ فکریہ’ہونا چاہیئے۔

افغانستان مسئلہ۔۔۔آرمی چیف اورزلمے خلیل زادکی ملاقات

adaria

خطے میں امن کیلئے مسئلہ کشمیر کے ساتھ ساتھ افغانستان کا بھی مسئلہ حل ہونا انتہائی ضروری ہے، امریکہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ پاکستان اس میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ گاہے بگاہے اس سلسلے میں پاکستان سے نہ صرف رابطے میں رہ رہا ہے بلکہ بعض اوقات اس نے باقاعدہ طالبان سے مذاکرات کرانے کے حوالے سے پاکستان سے درخواست بھی کی ہے۔ اسی سلسلے میں گزشتہ روز امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی اور خطے کے مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی گئی جس میں آرمی چیف نے کہاکہ افغان امن اور علاقائی سلامتی کی کوششیں جاری رکھیں گے تاہم طالبان یہ چاہتے ہیں کہ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء ہو۔ اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اتحادی فوجوں کے انخلاء کے بعد خطے کی کیا صورتحال ہوتی ہے یہ بات بھی واضح ہے کہ امریکہ کو بھی روس کی طرح افغانستان میں خاطر خواہ کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور اب وہ کوئی نہ کوئی ایسا ذریعہ چاہتا ہے جس سے اس کی جان چھوٹ جائے۔ اسی وجہ سے وہ دائیں بائیں ہاتھ پاؤں ماررہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح طالبان سے مذاکرات کامیاب ہو جائیں، اسی وجہ سے اس نے پھر پاکستان سے باقاعدہ رابطہ کیا ہے۔بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان کیلئے بہت اہم ہے، پاکستان خطہ میں قیام امن اور استحکام کیلئے کوششیں جاری رکھے گا۔ امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاکستان کے دورے پر آئے امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی جس میں افغان مفاہمتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آرمی چیف کے ساتھ ملاقات میں امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے افغان امن عمل کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔دوسری طرف افغان طالبان اور امریکہ کے مابین ابوظہبی میں جاری امن مذاکرات ختم ہو گئے ہیں امریکہ کا کہنا ہے کہ بات چیت مفید رہی، جبکہ طالبان کے مطابق مذاکرات کا محور افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہے۔ امریکہ نے افغان مصالحتی عمل میں پاکستان کی حالیہ کوششوں کی تعریف کی ہے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ امن مذاکرات کیلئے اپنی بھرپور کوشیش جاری رکھے گا۔ طالبان نے ابوظہبی میں ہونے والی بات چیت کے مکمل ہونے پر ایک بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات کا محور افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا رہا۔ اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ایک ٹوئٹر بیان میں خلیل زاد نے کہا متحدہ عرب امارات میں افغان تنازعہ کے خاتمے کیلئے افغانوں کے درمیان بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کیلئے افغان اور بین االاقوامی شراکت داروں کیساتھ ان کی ملاقاتیں مثبت رہیں۔ تاہم افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر ایک یبان میں کہا ہے کہ جنگ بندی، کابل انتظامیہ سے بات چیت، نگران حکومت، انتخابات کے بارے میں افغان طالبان کی پالیسی سب پر عیاں ہیں، اور ان کے بقول، اس بارے میں بات نہیں ہو سکتی ہے۔اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے طالبان ترجمان نے کہا کہ ان تمام مسائل کی جڑ اور افغانستان میں امن کی راہ میں رکاوٹ افغانستان میں قابض فوج کی موجودگی ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے۔طالبان ترجمان نے کہا کہ مذاکرات کے دوران عام شہریوں کے خلاف مبینہ بمباری روکنے، قیدیوں کی رہائی اور ان سے روا رکھے جانے والے سلوک کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔افغان طالبان کے ترجمان کے بیان پر امریکی حکام اور ناہی افغان حکومت کو کوئی ردعمل سامنا آیا ہے۔تاہم، امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نیابوظہبی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ٹوئٹر پر جاری ایک مختصر بیان میں کہا کہ مذاکرت کو مفید قرار دیا ہے۔

مقبوضہ کشمیرمیں صدارتی نظام کانفاذقابل مذمت
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کو ہمیشہ کی طرح اب بھی ہزیمت کا ہی سامنا ہے، لاکھوں قابض فوج نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھارہی ہے لیکن وہ ابھی تک اپنے مذموم مقاصد میں کسی صورت کامیاب نہیں ہوسکی اب آخر کار بھارت نے تنگ آکر مقبوضہ کشمیر میں صدارتی راج نافذ کردیا ہے، دراصل بھارت جمہوریت کے ماتھے پر ایسا کلنگ کا داغ ہے جس کو کسی صورت بھی دھویا نہیں جاسکتا، اپنے اندرونی بھارتی حالات انتہائی دیگر گوں ہیں مگر مقبوضہ کشمیر میں اس نے ظلم کی انتہا کررکھی ہے۔مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں میں آزادی کیلئے اٹھی آزادی کی شدید لہر اور اس سے پیداشدہ خراب حالات پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد گزشتہ روز وادی میں صدر راج نافذ کر دیا۔ اس حوالے سے نئی دہلی میں بھارتی کابینہ کا خصوصی اجلاس وزیراعظم نریندر مودی کی زیرصدارت ہوا جس میں گورنر مقبوضہ کشمیر این این ووہرہ کی صدارتی راج نافذ کرنے کے حوالے سے سفارشات پر مبنی رپورٹ پیش کی گئی۔ کابینہ نے صدارتی راج کی اصولی منظوری دی جس کے بعد صدر رام ناتھ کووند نے اس حوالے سے حکمنامہ جاری کر دیا۔ اس کے تحت مقبوضہ کشمیر میں قانون سازی سے متعلق اختیارات بھارتی پارلیمنٹ استعمال کرے گی جبکہ گورنر ستیاپال ملک صدر اور وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے مقبوضہ کشمیر کا انتظام و انصرام چلاتے رہیں گے۔ شہدائے پلوامہ کی غائبانہ نماز جنازہ وادی کے مختلف علاقوں میں ادا کی گئی۔ وادی کے مختلف علاقوں میں احتجاج کے دوران فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ بھارتی مظالم کے خلاف گزشتہ روز بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔ دنیا کو اب جان جانا چاہیے کہ کشمیریوں کو آزادی کے حصول سے کوئی طاقت بھی نہیں روک سکتی ، صرف بھارت کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے۔
ایس کے نیازی کی سچی بات میں مدبرانہ بات چیت
نیب قطعی طورپر آزادانہ کام کررہا ہے اور اس کی کارکردگی پورے ملک میں عیاں ہے، دیگر سیاسی حالات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، موجودہ ملکی حالات پر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے اس پر حکومت اور عدلیہ کا کوئی دباؤ نہیں، دوست ممالک کی جانب سے مدد کا یقین اچھی علامت ہے،بسنت منانا گناہ نہیں لیکن طریقہ کار وضع ہونا چاہئے۔ مسائل آتے رہتے ہیں،اکانومی بہت بڑا ایشو ہے،سعودی عرب سے پیسے ابھی تک مل جانے چاہیے تھے،ابھی پتا چل رہا ہے کہ ہمارا تو دیوالیہ ہوا ہے،دوست ممالک کی جانب سے مدد کا یقین اچھی علامات ہیں،لوکل بزنس مین بینکوں میں فنڈز نہیں رکھتے،لوکل بزنس مین فائلر نہیں،اسے سب ظاہر کرنا ہوگا،اگر کرپشن ثابت نہیں ہوئی تو78پیشیوں کا کیا ازالہ ہوگا،جس کیخلاف فیصلہ آتا ہے تو وہ یہی کہتا ہے میرٹ پر نہیں ہے،نیب آزاد ادارہ ہے،اس پر حکومت اور عدلیہ کا کوئی دباؤ نہیں،نیب کام کیسے کررہا ہے وہ الگ بحث ہے مگر وہ آزاد کام کررہا ہے،عاصمہ جہانگیر نے انسانی حقوق کیلئے بہت کام کیا،اقوام متحدہ کی جانب سے عاصمہ جہانگیر کی خدمات کو سراہنا بڑی بات ہے،وڈیروں اور بھتہ خوروں کی جانب سے لوگوں کو اٹھانا بہت کم ہوگیا،بسنت کو بالکل ایسا نہیں منانا چاہیے جیسے منائی جاتی تھی،بسنت منانا کوئی گناہ نہیں لیکن طریقہ کار وضع ہونا چاہیے،بسنت منانا ویسے فضول خرچی ہے،قیمتی جانیں بھی جاتی ہیں۔

ہنڈی کے ذریعے رقم بھجوانا غیر قانونی ہے

رقوم کی غیر رسمی منتقلی کے خفیہ و قدیم کاروبار کو حوالہ یا ہنڈی کہا جاتا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور ایشیائی ممالک میں ہنڈی کا کاروبار بہت پھیلا ہوا ہے۔دنیا بھرکے کروڑوں خصوصاً ایشیائی ممالک میں رہنے والے لوگ اپنے گھروالوں کو پیسے بھیجنے کیلئے اسی کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ کاروبار تیز رفتا ر اور سستا ہوتا ہے۔ روایتی طریقوں سے رقوم کی منتقلی میں 10 سے 15 فیصد تک خرچہ ہوتا ہے جبکہ ہنڈی میں دو سے تین فیصد خرچ اٹھتا ہے۔چونکہ یہ سارا کار وبار زبانی جمع خرچ اور زیر زمین چل رہا ہے لہٰذا اس کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوانین کے مطابق بینکوں میں جمع شدہ رقوم نکلوانا اور ہنڈی کے ذریعے بھجوانا غیر قانونی اقدام اور ملک دشمنی ہے۔ کروڑوں پاکستانی جو بیرون ملک روزگار کے سلسلہ میں موجود ہیں وہ اربوں ڈالر سالانہ بینکوں کے ذریعے قانونی طورپر پاکستان بھجواتے ہیں لیکن کچھ پاکستانی ہنڈی کے ذریعے رقم بھجواتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں زر مبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ پاکستانی وطن واپس آتے ہوئے غیر ملکی کرنسی لے آتے ہیں جو مقامی منی چینجرز سے تبدیل کرا لی جاتی ہے۔قانونی طورپر کرنسی کا کاروبار کرنے والے ڈیلرز کی تعداد بہت کم ہے مگر غیر قانونی طورپر ہزاروں ڈیلر کرنسی کا کاروبار کررہے ہیں جس کی وجہ سے معیشت تنزلی کا شکار ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غفلت اور سیاسی پشت پناہی سے یہ کاروبار روز بروز پھیل رہا ہے۔ کرنسی ڈیلرز غیر ملکی کرنسی کے لین دین میں کوڈ ورڈز کا استعمال کرتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر ملک کے بڑے بڑے ایئرپورٹس سے کرنسی کے بنڈلز بیرون ملک جاتے اور آتے ہیں۔ خاص طورپر دوبئی غیر ملکی کرنسی کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ اگر حکومت پاکستان آنے اور جانے والے زر مبادلہ پر چیک اینڈ بیلنس رکھے تو آئی ایم ایف سے قرضے نہ لینے پڑیں۔ ملک کے بڑے بڑے ایئرپورٹس کی نگرانی کر کے روزانہ کی بنیاد پر غیر قانونی زر مبادلہ باہر جانے اور ملک میں آنے سے روکا جا سکتا ہے۔ ایک ہی شخص کے ہر دوسر ے تیسرے روز باہر جانے کی کڑی تلاشی لی جائے۔ غیر ملکی کرنسی پر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے ملکی معیشت زوال پذیر ہے۔ بینکوں میں غیر ملکی کرنسی کے اکاؤنٹس میں بہت سا پیسہ پڑا ہے ۔ ایف آئی اے کو ان لوگوں سے پوچھ گچھ کرنی چاہیے کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا، کیسے آیا۔ حوالے یا ہنڈی کے کاروبار کے متعلق ایک تشویش یہ بھی ہے کہ اس سے منتقل ہونے والا پیسہ دہشت گردی میں بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے جب اس پیسے کو بھیجنے والے اور لینے والے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوگا تو یہ کسی بھی غلط جگہ استعمال ہو سکتا ہے۔ جس کاروبار کی سرگرمیاں شفاف نہ ہوں اس کا امکان ہوتا ہے کہ یہ دہشت گردوں اور مجرموں کے استعمال میں آرہی ہیں۔اس ضمن میں سابقہ حکومت نے 16 دسمبر کے سانحہ پشاور کے بعد دہشت گرد اور عسکریت پسند تنظیموں کو فنڈنگ روکنے کے لئے سخت جدوجہد کا مظاہرہ کیا۔ حکومت نے سٹیٹ بنک اور متعلقہ دوسرے محکموں سے کہا کہ وہ کالعدم تنظیموں کے بنک اکاؤنٹس اور ہر قسم کی ٹرانزیکشن کی نشاندہی کرکے انہیں بلاک کرے۔ اس ضمن میں یہ بات بھی درست ہے کہ ہنڈی یا حوالے کے کاروبار سے ملک دشمن عناصر بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اقتصادی بحران سے دوچارپاکستان میں معاشی دہشت گردی کیلئے کرنسی کے غیرقانونی کاروبار اورحوالہ ہنڈی کے ذریعہ رقوم بیرون ممالک منتقل کرنیوالے پاکستانی گروہوں کو بھارت اورافغانستان کی سرپرستی حاصل ہونے کا انکشاف ہواہے۔ حال ہی میں وفاقی وزارت داخلہ کوارسال کی جانے والی ایک حساس ادارے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کرنسی کے غیرقانونی کاروبار میں ملوث کراچی اور کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے گروہوں کو بھارتی ایماء پرافغانستان کے پاسپورٹ فراہم کیے گئے ہیں جبکہ بعض ایجنٹوں کے پاس ایرانی پاسپورٹس کا انکشاف ہوا ہے جومنی لانڈرنگ کیلئے متبادل چینل کے طورپر استعمال کیے جارہے ہیں اوربڑے پیمانے پر پاکستان سے سرمایہ بیرون ممالک منتقل کیا جارہا ہے۔ اسی طرح افغانی پاسپورٹ حاصل کرنے والے کرنسی کے غیرقانونی کاروبار سے منسلک افراد میں پاکستانی نژاد افغانی اورایرانیوں کی بڑی تعداد شامل ہے جن کے نیٹ ورک سے منسلک ارکان کراچی سے براستہ کوئٹہ کابل اورکراچی سے براستہ گوادر،مندشہر سے چاہ بہار تک زمینی راستہ استعمال کرتے ہیں۔ افغانستان اورایران میں داخلے کے بعد افغانستان اورایران کا پاسپورٹ استعمال کرتے ہوئے فضائی اورسمندری راستے سے سرمایہ براستہ دبئی یا نئی دہلی امریکہ آسٹریلیا اورمختلف یورپی ممالک میں منتقل کیا جارہا ہے۔ منی لانڈرنگ کے خلاف حکومت کے سخت ترین اقدامات کے بعد کرنسی کے غیرقانونی کاروباراورمنتقلی میں ملوث گروہوں کوبھارتی مداخلت پرافغانستان کے پاسپورٹ جاری کیے گئے ہیں جوگروہ کے ارکان کابل سے نئی دہلی اوروہاں سے دبئی سمیت مختلف ممالک کے فضائی سفرکیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اب وزیراعظم عمران خان نے ہنڈی اور غیر قانونی کاروبار کرنے والوں پر کریک ڈاون کا حکم صادر فرمایا ہے۔ حکومت کو اپنے ارادوں میں بھرپور طریقے سے پرعزم رہنا چاہیے۔ ہنڈی اور حوالے کا غیرقانونی کاروبار مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت ہنڈی یا منی لانڈرنگ کی حوصلہ شکنی کر کے ملک کو خود کفیل بنا سکتی ہے۔ہنڈی، منی لانڈرنگ یا سرکاری خریداریوں میں سے کسی ایک شعبہ میں بھی بہتری لانے سے ملک کو آئی ایم ایف سمیت کسی ملکی یا غیر ملکی قرضے کی ضرورت نہیں رہے گی جبکہ سارا ملکی و غیر ملکی قرضہ بھی ادا ہو جائے گا۔ تارکین وطن ہر سال قانونی ذرائع سے بیس ارب ڈالر پاکستان بھجوا رہے ہیں افسوس تو یہ ہے کہ اتنی ہی رقم ہنڈی کے ذریعے بھجوائی جا رہی ہے۔اگر بنکنگ چینل کو بھی ہنڈی کی طرح سستا اور فعال بنا دیا جائے تو حکومت کی آمدنی میں سالانہ بیس ارب ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

تم پاکستانی ہومگر….. !

ائیرپورٹ میں داخل ہوا ۔کلیئرنس کے لئے کاؤنٹر جا پہنچا۔ایک خوشنما دوشیزہ نے پوچھا: آپ کہاں سے؟ میں نے اشارے سے اس سیٹ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں بیٹھا ہوا تھا۔اس نے ایک نظر ادھر دیکھا لیکن کچھ نہ سمجھتے ہوئے مجھے کہا :لایئے اپنا پاسپورٹ مجھے دیجیے تاکہ میں ضروری کارروائی کرسکوں۔میں نے کہا : میڈم! میں اس ملک کے ائیرپورٹ سے سوار ہورہا ہوں۔میرے خدوخال ، زبان اورلہجے سے آپ کو نہیں لگتاکہ میں کون ہوں؟اس نے میری سنی بات کو ان سنی کرتے ہوئے ذرا اونچی لیکن متحمل آواز سے کہا: آپ پاسپورٹ چیک کرائیے کیونکہ یہ معمول کا چیک اپ ہے اورووچر کے لیے ضروری بھی ہے۔میں نے ایک بار پھراسے سمجھاتے ہوئے جواب دیا: میڈم ! میں یہاں ہی کا باشندہ ہوں۔ پاسپورٹ چیک کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں اس بات کا ثبوت بھی دے سکتاہوں۔ذراایک نظر ادھر دیکھئے جہاں میں بیٹھا ہواتھا۔آپ کو میری سیٹ کے دائیں بائیں بکھرے ہوئے شاپنگ بیگ نظر آرہے ہیں؟کیا وہ بتانے کے لیے کافی نہیں ہیں کہ میں کون ہوں؟ وہاں بسکٹ کا ایک خالی پیک بھی تو پڑا ہوا ہے؟ سیٹ کے بالکل آگے مونگ پھلی کے چھلکے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔میں مزید کچھ کہنا چاہتا تھالیکن پیچھے والے مسافر نے مجھے کہنی مار کر یہ احساس دلانا چاہا میں نہ صرف اپنا بلکہ دوسروں کا بھی وقت برباد کررہا ہوں۔میں نے اسے جواب دینا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی میڈم کی سریلی آوازایک بارپھر کانوں میں پڑی: پاسپورٹ پلیز!۔میں نے اپنا رخ بارے دیگر میڈم کی طرف کیااورکہا: میڈم ایک منٹ !پہلے ٹافیوں کے وہ ریپرز بھی دیکھ لیں جو میری سیٹ کے آگے پیچھے بکھرے پڑے ہیں اور چمک رہے ہیں۔ اب بھی پاسپورٹ دکھاناپڑے گا؟ اگراب بھی یقین نہیں آیا تو آپ میری سیٹ کے دائیں طرف پان کی پچکاریاں بھی ملاحظہ فرماسکتی ہیں۔اگر پھربھی یقین نہ آئے توشاید بائیں طرف تھوکوں کا بہتا ہوا دریاآپ کو کسی نتیجے پر پہنچا سکتا ہے۔اگر پھر بھی یقین نہ آئے تو چلیں میرے ساتھ اور جا کر دیکھ لیں میرے سامنے والی سیٹ ۔اس سیٹ پر لگا کیچڑ بھی چیخ چیخ کربتارہاہے کہ میں کون ہوں؟آپ سوچ رہی ہوں گے وہ کیسے؟ اس میں سوچنے والی کیا بات ہے؟ میں اپنی سیٹ پر بیٹھا توسستانے کیلئے اپنے پاؤں سامنے والی سیٹ پر رکھ دیے ۔ذرا سوچ کر بتائیں یہ حرکت کون کر سکتا ہے؟میں نے محسوس کیا کہ آس پاس کھڑے لوگ بھی لطف محسوس کررہے تھے۔اگرچہ اکا دکا لوگوں کے چہروں سے ناگواری کا تاثر ابھر رہا تھا لیکن بہرحال وہ خاموش کھڑے تھے۔میں نے ایک بارپھر میڈم کی طرف رخ کیا اور کہا:بو رنگ کا وقت بھی قریب ہے لیکن یہ لوگ جو تھوڑی دیر پہلے بڑی جلدی میں تھے اب کیوں خاموش ہیں؟ اگر نیکی یا بھلائی کا کام ہوتا تو کیا تب بھی یہ لوگ اتنی دیر کھڑے رہتے ؟یہ اس لیے کھڑے ہیں کیونکہ لڑائی ہورہی ہے ۔لڑائی کے موقع پر صلح صفائی کی بجائے تماشادیکھنا کس قوم کا شیوہ ہو سکتا ہے؟ اب بھی آپ کو میری پہچان کی ضرورت ہے؟ میڈم نے سرہلایاتومیں نے کہا : میں آپ کو اتنی نشانیاں بتا چکاہوں لیکن آپ کو پھر بھی ضرورت ہے؟یہ ضرورت ہے یا ترقیاتی کام جوکبھی پورے ہی نہیں ہوتے۔آپ نے دیکھا ہے کہ جب میں اور آپ تکرارکررہے تھے تو میری آواز نیچی تھی لیکن جونہی ہمارے اردگرد لوگ جمع ہوتے گئے تو بجائے شرمندہ ہونے کی میری آواز مزید بڑھتی گئی اورمیں شیر بنتاگیا۔بھلا یہ عادت کس کی ہے؟میں نے محسوس کیا کہ کچھ لوگ تو میری گفتگو سے محظوظ ہورہے تھے جبکہ چند ایک کا رویہ ایسا تھا گویا وہ یہ سب کچھ جانتے ہوں اوربتائی گئی نشانیوں سے انہیں کوئی دلچسپی نہ ہو۔سچی پوچھیں تو مجھے ان پر غصہ آرہاتھا کہ اگر وہ اتنا ہی گاڑھاعلم رکھتے ہیں کہ یہ نشانیاں کس قوم میں پائی جاتی ہیں تو خاموش کیوں ہیں؟یہ میڈم کو بتا کیوں نہیں دیتے کہ میں کون ہوں؟ پس میں نے ایک بار پھر کوشش کی اورمیڈم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:میں نے آپ کو اتنی نشانیاں بتائیں لیکن شاید آپ کا کامن سینس کام ہی نہیں کررہا۔چلیں کوئی بات نہیں ۔میں آپ کو ابھی اور اسی وقت ایک پریکٹیکل کرکے دکھاتاہوں۔ یہ کہہ کر میں اپنے بیگ کی طرف بڑھا ، اسے کھولا، آئس کریم کاایک پیک نکالا، اس کا ڈھکنا کھولا، اسے میڈم کے سامنے لہرایا،اس پر لگی کریم کی طرف اشارہ کیااورپھر بڑے مزے سے چاٹنا شروع کر دیا ۔ جب اس پر لگی تمام آئس کریم صاف ہوگئی تو اسے بڑی اداسے ایسے پھینکا کہ وہ پرکٹے کبوتر کی لہراتاہواایک گنجے کے سر پر جا لگا۔ اس نے کچھ کہنا چاہالیکن میں نے پہلے ہی زور لگا کرکہا:آپ کی نظرکمزورتونہیں ہے بڑے میاں۔ یہ کارنامہ سرانجام دے کر میں نے کچھ ایسی نظروں سے میڈم کی طرف دیکھاجیسے اب تو وہ لازمی سمجھ گئی ہوں گی کہ میں کون ہوں؟لیکن یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ اس کی قاتل نظروں میں ابھی تک لاعلمی کا احساس جھلک رہاتھا۔میں نے شدید جھنجھلاہٹ کے عالم میں اپنا سرہلایا۔جواب میں میڈم نے بھی اپنا سراتنی ہی زورسے ہلایا۔یہ دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ اب مجھے کوئی ایسا مظاہرہ کرنا ہوگا جس سے یہ تمام بکھیڑاختم ہو۔ میں نے اپنی جیب سے جوس کاایک ڈبا نکالا اور ایک ہی سانس میں اسے چڑھا لیا۔لوگ بڑے اشتیاق سے مجھے دیکھ رہے تھے ۔ میں نے خالی ڈبے کو دوبارہ منہ سے لگایااوراس میں پھونک بھرنا شروع کی۔جب ڈبے کا پیٹ بھینس کی طرح پھول گیاتو اسے زمین پر رکھااورسٹرنگ کے نوجوان کی طرح گھوم کر اپنی دائیں لات کسی کھوتے کی طرح اتنی قوت سے ڈبے پر ماری کہ وہ ایک زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ فارغ ہوکر میڈم کی طرف دیکھا اور کہا: اب بھی پاسپورٹ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ میں پاکستانی ہوں؟ اتنے میں ایک انکل آگے بڑھے اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے:پتر! یہ تمہاری حرکتیں ہیں پاکستان کی نہیں۔پاکستان نے تمہیں ایک شناخت دی ہے ۔اگر تم خود ہی اس شناخت کو بدنام کرو تو اس میں پاکستان کا کیا قصور؟ ان کی بات سن کر سب نے اپنے اپنے سر جھکا لیے ۔

*****

قائد اعظم ؒ امت مسلمہ کا عظیم لیڈر اور25د سمبر 2018ء

کچھ لوگ اپنی اپنی قوموں میں واقعی عظیم ہوتے ہیں۔ امت مسلمہ کے لئے بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جنا ح ؒ عظیم لیڈرہیں۔ دوسری طرف شاعر اسلام ،علامہ شیخ محمد اقبالؒ ،جو جدید تعلیم یافتہ تھے، نے امتِ مرحومہ کو جگانے کے لئے، مسلمانوں کی دنیا اور آخرت کی ترقی کے ماخذ، جسے اللہ کے پیغمبر حضرت محمد صلہ اللہ علیہ وسلم، اللہ کی طرف سے ،اللہ کے بندوں تک لائے تھے، یعنی، قرآن وحدیث اور مسلمانوں کے شاندار دور حکمرانی کو سامنے رکھ کر مسلمانوں کو بھولا ہوا سبق یاد کرا کے جگایا۔تو قائد اعظم ؒ نے عملی جمہوری قانونی جنگ لڑ کر بر عظیم ہند و پاک کے مسلمانوں کے لئے پاکستان حاصل کر کے امت مسلمہ کے شاندار دور حکمرانی کی تاریخ کی دوبارہ ابتدا کی۔ کیا قائد اعظمؒ کے قیادت میں برعظیم کے مسلمانوں نے اجتماہی طور پر اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ نہیں کہا تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا’’ لا الہ الا اللہ‘‘ کیا اللہ زندہ جاوید ہستی نہیں ہے؟ ہے یقیناً ہے۔پھر سوال یہ ہے کہ کیا اللہ نے انگریزوں اور ہندوؤں کے جبر تلے دبی ہوئی برعظیم پر ایک ہزار سال حکمرانی کرنے والے مسلمانوں کو’’ لا الہ الااللہ‘‘ کے وعدہ پر پاکستان تشتری میں رکھ پرپیش نہیں کر دیا تھا؟ جواب ہے!ہاں کر دیا تھا۔ اسی لیے مورخ، پاکستان کو دنیا کی پہلی مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست سے جوڑ کراسے اللہ کی طرف سے امت مسلمہ کیلئے مثل مدینہ ریاست، اللہ کی طرف سے ایک عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہ مثلِ مدینہ اسلامی فلاحی ریاست پاکستان قائد اعظم ؒ کے دو قومی نظریہ کے وژن کی جس اِساس پر قیام پذیر ہوئی تھی اگر اسی وژن پر چلتی تو اب تک وہ ایک موثر قوت بن جاتی اور مسلم دنیا کی پشت بانی بھی کرتی۔ مگر بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ اللہ نے قائداعظم ؒ کو جلدہی اپنے پاس بلا لیا۔ اس کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان اپنی اِساس کھو بیٹھا۔ رفتہ رفتہ اپنی اسلامی اساس مٹاتا گیا۔ قائد اعظمؒ جب سخت بیمارتھے توبات چیت پر ڈاکٹروں نے پابندی لگائی ہوئی تھی۔ ڈاکٹروں نے دیکھا کہ قائداعظم ؒ کچھ کہنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اس واقعہ کو قائد اعظمؒ کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض صاحب اپنی ڈائری میں لکھا ہے۔ ڈاکٹر ریاض فرماتے ہیں کہ ہم نے یہ سوچ کر کہ قائد اعظمؒ کے آخری الفاظ قوم کی امانت ہیں۔ اس لیے ہم نے قائد اعظمؒ کو ایسی دوائیاں دیں کہ جو کچھ وہ کہنا چاہتے ہیں کہہ لیں۔ امت مسلمہ کے عظیم لیڈر نے مرگ بستر پر بھی وہی کچھ کہا جو تحریک پاکستان کی جد و جہد کے دوران اپنی ساری تقریروں میں مسلمانوں کو عظیم قوم بنانے کے لئے کہتے رہے۔ قائد اعظم ؒ نے جو فرمایا ،وہ اخبار جنگ کی ااستمبر ۱۹۸۸ء کی چالیسویں برسی کے موقع پرشائع ہوا تھا۔ ڈاکٹر پروفیسر ریاض علی شاہ اور کرنل الٰہی بخش صاحبان کی موجودگی میں قائد اعظم ؒ نے موت سے دو دن پہلے کہا تھا’’آپ کو اندازہ نہیں ہو سکتاکہ مجھے کتنا اطمینان ہے کہ پاکستان قائم ہو گیا اور یہ کام میں تنہا نہیں کر سکتا تھا جب تک رسول ِؐ خدا کا مقامی فیصلہ نہ ہوتا اب جبکہ پاکستان بن گیا ہے اب یہ لوگوں کا کام ہے کہ خلفائے راشدینؓ کا نظام قائم کریں۔‘‘ قائد اعظم ؒ کے بعد صاحبان اقتدار جن کے ہاتھ میں یہ کام کرنے کی ذمہ داری تھی نے پاکستانی قوم پر کیا کیا ظلم نہیں کیا؟ قائد اعظم ؒ نے نو مسلم علامہ اسدؒ کوپاکستان میں اسلامی قوانین کو اَزسرے نو ترتیب دے نفاذ کرنے کے کام پرلگایا تھا۔ علامہ اسدؒ نے باقاعدہ ایک ڈیپارٹمنٹ قائم کیا تھا۔ قائد اعظم ؒ نے اس ڈیپارٹمنٹ کیلئے پاکستان کی فائنس منسٹری کو خود خط بھی لکھا تھا۔یہ تو اُس وقت پتا چلا جب پاکستان سے محبت کرنے والے سابق بیوروکریٹ موجودہ ٹی وی اینکر اُوریامقبول جان صاحب نے پرانے ریکارڈ میں سے ڈھونڈ کر اس خط کو الیکٹرونک میڈیا میں پیش کیا۔ اُس خط میں قائداعظمؒ نے پاکستان کی منسٹری آف فائنس کو ہدایات دیں تھیں کہ علامہ اسد ؒ کے محکمہ کیلئے فنڈ مختص کیے جائیں۔ علامہ اسدؒ کی ساری محنت اُس وقت ضائع ہو گئی جب ایک قادیانی بیوروکریٹ نے آگ لگا کر انہیں جلادیا۔ پھر صاحبِ اقتدار نے علامہ اسدؒ کو قائد اعظم ؒ کو اِس کام سے ہٹا کر بیرون ملک سفیر لگا دیا۔ ساتھ ہی ساتھ علامہ اسدؒ کی مدد کے لئے، مولانا ابو اعلیٰ موددیؒ کو قائد اعظمؒ نے کہا تھا کہ وہ طریقے بتائیں جس سے پاکستان میں اسلامی طرز حکومت قائم ہو سکے۔ مولانا مودودیؒ ریڈیو پاکستان پر تقریریں کیں کہ اس طرح بتدریج اقدامات کر کے پاکستان میں اسلامی نظامِ حکومت قائم ہو سکتا ہے۔ یہ تقریریں کتابی شکل میں اب بھی موجود ہیں اور ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ میں موجود ہونی چاہئیں۔( اسلام دشمن لابی جومولانا مودودیؒ کو قائد کا مخالف کہتے آئے ہیں اُن معلوم ہونا چاہیے کہ قائد اعظم ؒ اپنے مخالف کو اسلام کے عملی نفاذ کے لئے کیسے لگاتے) بلکہ یہ تاریخ سے ثابت کر دیا ہے کہ مولانا مودودیؒ کی قائم کردہ جماعت اسلامی قائداعظم ؒ کے دو قومی نظریہ کی صحیح وارث ہے۔جماعت اسلامی پاکستان میں حکومت الہیا، نظام مصطفےٰ ، اسلامی نظام حکومت یا مدینہ کے فلاحی ریاست ،کچھ بھی کہہ لیں قائم کرنے والی ہراول دستہ ہے۔اُس نے پاکستان کو پچانے کے مشرقی پاکستان میں پاکستان کی فوج کا ساتھ دیا۔ تکمیل پاکستان کی کشمیر میں جاری جنگ آزادیِ کشمیر کی جنگ لڑنے والی جماعت اسلامی ہی ہے۔ افغانستاں میں سوویت یونین کو شکست دینے میں افغان مجاہدیں کے شانہ بشانہ حصہ لیا۔دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں پر صلیبیوں کے مظالم کے خلاف توانا آواز اُٹھانے والی تواناجماعت اسلامی ہی ہے۔ اس وقت قائد اعظمؒ کے دو قومی نظریہ کی مخالف اور پاکستان کی ازلی دشمن بھارتی حکومت جودہشت گرد مودی کے وزیر اعظم بننے پر متشددہندو مذہبی حکومت میں بھی تبدیل ہو گئی نے ایک طرف بھارت کے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے اور دوسری طرف علانیہ پاکستان کو مزید دس ٹکڑوں میں توڑنے کی دھمکیا ں دے رہی ہے۔ صلیبیوں نے پاکستان کو دہشت گرد ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زورلگایا ہوا ہے۔ہمارا دوست نما دشمن امریکا بار بار دہشت کے اڈوں کا جھوٹ بول کر پاکستان پر دباؤ ڈالتا رہتا ہے۔ ان حالت میں ایٹمی اور میزائل طاقت پاکستان اپنی بقاء قائم رکھ سکتا کہ ملک میں قائد اعظم ؒ کے وژن کے مطابق فوراً اسلامی نظامِ حکومت کر دیا۔25 دسمبر2018 ء یوم پیدائش پاکستان کے قاعد اعظمؒ کے موقع پر مقتدر حلقوں کو، مدینہ کی اسلامی ریاست کو71سال سے ترستے ہوئے مظلوم پاکستانی عوام اور تاریخ کا یہی پیغام ہے۔ دوسری طرف اس سے قائد اعظم ؒ امت مسلمہ کے عظیم لیڈر کی روح کو سکون ملے گا۔

****

تنگ نظری تباہی کا راستہ

بھارت کی تنگ نظر مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں جہاں اب صدر راج نافذ کردیا گیا ایک حکم نامے کے ذریعے سرکاری دفاتر میں کشمیریوں کے قومی لباس پھیرن پہننے پر پابندی لگا دی ہے۔پھیرن کشمیریوں کا قومی لباس اور ان کی ثقافت کی پہچان ہے جو سردیوں میں پہنا جاتا ہے۔ اتوار سولہ دسمبر کو حکم نامہ جاری ہوا جس کے تحت محکمہ تعلیم کے انتظامی دفاتر اور سول سیکریٹریٹ میں افسروں، ملازمین اور سائلین کے پھیرن پہننے کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔اس حکم نامے کا جواز یہ دیا گیا ہے کہ دفاتر میں غیر رسمی لباس سے بے ضابطگی کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔اس پابندی سے قبل پھیرن کو سیکورٹی رسک قرار دیا گیا جسکے بعد فوجی اداروں اور پولیس کیمپوں میں عام لوگوں اور صحافیوں کے پھیرن پہن کر داخل ہونے پر پابندی عائد تھی۔اس فیصلے کو سیاسی و سماجی حلقے کشمیریوں کی ثقافت اور تمدن پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔ مودی جس جماعت کا رہنما ہے اس کا خمیر کٹر ہندو سوچ سے اٹھا ہے۔بی جے پی کی اصل طاقت اس سے منسلک ہندو نظریاتی تنظیموں میں پنہاں ہے۔آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، بن واسی کلیان سمیت کئی دیگر چھوٹی بڑی تنظیمیں اسکی پشت پر کھڑی ہیں جن کا پورے ملک میں جال پھیلا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ساڑھے چار سال کے عرصہ کے دوران ہندوستان کا سیکولر چہرہ دھندلا گیا ہے۔مقبوضہ کشمیر اور خود بھارت کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی سیکولر ریاست میں ممکن نہیں ہوتا۔ایک لباس جو کشمیر کی ثقافت اور پہچان ہے وہ سکیورٹی رسک قرار پا کر دفاتر میں اس کے پہننے پر مکمل پابندی لگ جائے تو اسے مسلم تعصب ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔یہ نسلی اور قومی تعصب ہی تھا جو ہندوستان کی تقسیم کا باعث بنا تھا۔ایک وقت تھا کہ اقبال اور قائد اعظم ؒ متحدہ ہندوستان کے حامی تھے مگر جب بنیے کی تنگ نظری اور تعصب حد سے گزرا تو الگ وطن کی ٹھان لی جو سو فیصد درست فیصلہ تھا۔آج بھارت میں پچیس سے تیس کروڑ مسلمان یقینی طور پچھتا رہے ہیں کہ کاش وہ پاکستان کے ساتھ ہو لیتے۔مہاتما گاندھی جو اس وقت اپنے نام نہاد نظریات کی وجہ سے معروف تھے سکھ کمیونٹی بھی ان کے نظریات کے چکمے میں آ گئی مگر آج وہ بھی کف افسوس مل رہے ہیں۔مہاتما گاندھی 20 ویں صدی کے مقبول رہنماؤں میں سے ایک تھے۔نوجوانی میں وہ جنوبی افریقہ میں بھی رہے۔ اگرچہ انھوں نے کافی دنیا کو متاثر کیا لیکن سیاہ فاموں کیلئے انکے بیانات متنازع تھے۔اپنی ابتدائی تحریریوں میں انھوں نے سیاہ فاموں کو ایک افریقی گالی سمجھے جانے والا لفظ قرار دیا۔ وہی متنازع بیان اب گزشتہ دنوں گھانا یونیورسٹی سے مہاتما گاندھی کا مجسمہ ہٹانے کا باعث بنا۔یونیورسٹی کو گزشتہ دو سال سے شکایات موصول ہورہی تھیں کہ گاندھی افریقی قوم کے خلاف نسل پرستی کے خیالات رکھتے تھے۔بھارت کے سابق صدر پرناب مکھرجی نے 2 سال قبل اکارا میں واقع یونیورسٹی آف گھانا میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کی نشانی کے طور پر اس مجسمے کی نقاب کشائی کی تھی۔تاہم گاندھی کا مجسمہ نصب کیے جانے کے کچھ عرصے بعد ستمبر2016میں یونیورسٹی کے ایک لیکچرار نے اسے ہٹائے جانے کے لیے پٹیشن دائر کر دی تھی۔اس پٹیشن میں مہاتما گاندھی کی تحریروں کے ان اقتباسات کا حوالہ دیا گیا جسمیں انہوں نے بھارتیوں کو افریقیوں سے بہتر قرار دیا تھا۔انسٹیٹوٹ آف افریقن اسٹڈیزکے سربراہ او بادلے کامبون کا کہنا ہے کہ گاندھی کے مجسمے کو ہٹایا جانا عزت نفس کا مسئلہ تھا۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم اپنے ہی قومی ہیرو کیلئے عزت نفس کا اظہار نہیں کریں گے تو دنیا ہماری عزت کیسے کرے گی؟ یہ افریقیوں کی عظمت اور عزت نفس کی فتح ہے، ہماری مہم نے اپنا حق ادا کردیا ہے۔یونیورسٹی طلبہ کے مطابق یہ اقدام طویل عرصے سے التوا کا شکار تھا۔اس مجسمے کا سفارتی تعلقات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ گھانا کے تمام افراد کے لیے ایک بڑی فتح ہے۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ سیاہ فام لوگوں نے گاندھی کے رویے کیخلاف بات کی، ماضی میں بھی ان پر اس طرح کے الزامات لگتے رہے ہیں۔موہن داس کرم چند گاندھی کی سوانح حیات لکھنے والے ان کے پوتے راج موہن گاندھی کا کہنا ہے کہ ان کے دادا نے پہلی بار جب افریقہ کا دورہ کیا تو وہ24برس کے تھے۔ان کے مطابق عام انسانوں کی طرح بلا شبہ وہ بھی جنوبی افریقہ کے سیاہ فام لوگوں کے متعلق جاہلانہ اور کئی بار تعصبانہ رویہ رکھتے تھے۔اس پٹیشن میں گاندھی کےُ اس خط کی بھی مثال دی گئی جو انھوں نے1893 میں اس وقت کی جنوبی افریقہ کی پارلیمان کو لکھا تھا۔ اس میں گاندھی نے لکھا تھا کہ کالونی میں اب یہ عام خیال غالب ہوتا نظر آتا ہے کہ وحشیوں یا پھر مقامی افریقی لوگوں کے مقابلے میں انڈین تھوڑا بہتر ہوتے ہیں۔غرض یہ کہ بھارتی لیڈروں میں خبط عظمت پرانا مرض ہے جس کی گاہے گاہے جھلک آج بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔اگرچہ بھارتی آرمی چیف بپن راوت کوئی پولٹیکل لیڈر نہیں لیکن نسلی خباثت تو سر جانے سے ہی جاتی ہے۔گزشتہ دنوں انہوں نے فرمایا تھا کہ پاکستان سے دوستی تب ممکن ہے اگر وہ خود کو سیکولر ریاست بن جائے۔اس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے درست جواب دیا تھا کہ بھارت پہلے خود کو تو سیکولر ثابت کر لے۔اگلے روز پلوامہ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں شہادتوں پر ندامت اور شرمساری کے بجائے بپن راوت نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ پتھراؤ کرنے والے مظاہرین کو پتھر کا جواب گولی سے دیا جائے گا۔ ایک امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے جنرل بپن راوت نے بے حسی اور سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور پتھراؤ کرنے والے مظاہرین کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ادھر سے پتھر آئے تو ان کا مقابلہ پیلٹ گن کی گولیوں سے کیا جائے گا، میں اپنے سپاہیوں کو پتھروں سے نہیں مرنے دوں گا۔ انہوں نے فخریہ انداز میں بتایا کہ جب میرے سپاہی یہ پوچھتے ہیں کہ ہم پتھر کا جواب کس طرح دیں تو میرا جواب یہی ہوتا ہے کہ بندوق استعمال کریں اس لئے اب وہ ایسا ہی کر رہے ہیں۔ہفتہ 15دسمبرکو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ، بھارتی فوجیوں نے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرچ آپریشن کے دوران تین نوجوانوں کو شہید کر دیا تھا۔جسکے بعد احتجاج کیلئے نکلنے والے نہتے شہریوں پر بھی فائرنگ کی، پیلٹ چھرے اور آنسو گیس شیل برسائے گئے جس سے مزید آٹھ افراد شہید ہو گئے۔بے گناہ کشمیری جوانوں کی شہادت پر انڈونیشیا میں بھی احتجاج کیا گیا،جبکہ اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشمیر کے تنازع کے دائمی اور منصفانہ حل کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے۔
*****

Google Analytics Alternative