کالم

حسینہ واجد کی جماعت اسلامی سے دشمنی

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد کی پاکستان دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ انہوں نے سانحہ سقوط ڈھاکہ کے وقت پاکستان اور پاکستانی افواج کا ساتھ دینے والے افراد اور جماعتوں کو خاص طور پر نشانہ بنا رکھا ہے۔ابھی چند روز قبل بھی جماعت اسلامی کے جن4ارکان کو سزائے موت دی گئی ان پر نام نہاد جنگی جرائم کے الزامات لگائے گئے تھے۔ جبکہ اصل میں ان کا جرم پاکستان کی حمایت کرنا تھا۔بنگلہ دیش میں 2010 سے دو مختلف ٹریبونل جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔ان عدالتوں کی تشکیل وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے احکامات پر کی گئی تھی اور ان کا کام جنگ آزادی کے دوران کیے جانے والے جرائم کا جائزہ لینا ہے۔ 2010 سے اب تک ان عدالتوں نے 13 افراد کو مجرم ٹھہرایا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق حزب اختلاف کی پارٹی جماعت اسلامی ہے۔بنگلہ دیش میں عوامی سطح پر جنگی جرائم میں ملوث افراد کو سزائیں دینے کے حق میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں،جبکہ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ حکومت جنگی جرائم کے ٹریبونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔اس کے علاوہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ بھی کہہ چکی ہے کہ اس عدالت کا طریق کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔اقوامِ متحدہ بھی اس ٹربیونل کو تسلیم نہیں کرتی۔بنگلہ دیش کی حکمران اور سیکیولر نظریات رکھنے والی جماعت عوامی لیگ نے 2010 میں جنگی جرائم کا ٹریبیونل بنایا تھا جس نے 1971 میں پاکستان سے آزادی کی جنگ کے جرائم کے حوالے سے تحقیقات اور سزاؤں کا تعین کرنا تھا مگر اس ٹریبیونل کی کارروائی کو عالمی سطح پر قبول نہیں کیا گیا اور اس کو انتہائی متنازع قرار دیا گیا لیکن بنگلہ دیش کی حکومت نے یہ ٹریبیونل ختم نہیں کیا اور سزاؤں کا سلسلہ تاحال جاری ہے جبکہ بنگلہ دیش میں عمومی تاثر ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی حکومت اس ٹریبیونل کو مخالفین کے خاتمے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کے وقت لاکھوں انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ بنگلہ دیش میں اس وقت شیخ حسینہ کی حکومت ہے۔ وزیر اعظم حسینہ کا کہنا ہے، ’’ جنگ میں تین ملین کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بہت سے قتل قابض پاکستانی افواج کے بنگلہ دیشی اتحادیوں نے کیے تھے۔‘‘حسینہ واجد کو یہ نہیں یاد کہ ان کے والد نے بھارت سے مکتی باہنی سے الحاق کر لیا تھا اور بھارتی دہشت گردوں نے نہتے اور غریب بنگالیوں کو چن چن کر مارا اور الزام پاک فوج پر لگا دیا۔ پہلے شیخ مجیب الرحمن بھارت کے ہاتھوں میں کھیلتے تھے اب حسینہ واجد بھارتی گود میں بیٹھ کر محب وطن اور خصوصاً اپوزیشن جماعت اسلامی کے بزرگ رہنماؤں کو خود ساختہ جنگی ٹربیونل کے ذریعے ختم کر رہی ہیں۔ کیا وہ سمجھتی ہیں کہ ایسا کرنے سے بھارت خوش ہو کر انہیں مزید اقتدار دلوادے گا۔؟ میر جعفر کے خاندان سے تعلق رکھنے والے غدار مجیب الرحمان کی بیٹی حسینہ واجد اپنے باپ سے زیادہ بھارت کی وفادار ہے اور پاکستان سے اپنی نفرت کو کھلے عام ظاہر کرتی ہے۔ حسینہ واجد جو بھارت کی وفاداری میں میرجعفر کا روپ دھار کراپنے ہی لوگوں کو پھانسی چڑھارہی ہے اور پاکستان سے اپنی نفرت کا اظہار کرنے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑتی چاہے وہ کرکٹ کا میچ ہی کیوں نہ ہو، اقتدارمیں آنے کے بعد سے حسینہ واجد پاکستان دشمنی میں پیش پیش ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی جب بنگلہ دیش کے دارلحکومت ڈھاکہ میں اپنی بہن بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد سے سے ملنے پہنچا تو وہ بہت جذباتی تھا، دونوں بہن بھائی میں ایک قدر جو مشترک ہے وہ ہے پاکستانی دشمنی۔اس مشترکہ دشمنی کا اظہار کرنے کیلئے حسینہ واجد نے نریندر مودی کے دورہ بنگلہ دیش کے دوران ایک تقریب میں سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو انتہائی قابل احترام سیاستدان قرار دیا اور نہ صرف بنگلہ دیش کی جنگ میں اْنکے “فعال کردار” کا ذکر کیابلکہ پاکستان توڑنے اور غیرمستحکم کرنے کے اعتراف میں واجپائی کو “فرینڈز آف بنگلہ دیش لبریشن وار ایوارڈ” دیا گیا جو نریندر مودی نے وصول کیا۔ اس سے قبل حسینہ واجد 2012ء میں اندرا گاندھی کو بھی اسی ایوارڈ سے نواز چکی ہے جسے کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی نے وصول کیا تھا۔ جماعت اسلامی نے 1971ء کی جنگ میں پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے بھارت کی مدد سے چلائی۔ مکتی باہنی کی پاکستان توڑو تحریک کی مزاحمت کی تھی۔ اس پر بنگلہ دیش کے قیام کے بعد جماعت اسلامی کے قائدین کو اسی جرم میں غدار قرار دیا گیا اور انہیں انہی الزامات پر پھانسی دی جا رہی ہے جو عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اسکے خلاف پاکستان کو عالمی سطح پر موثر آواز بلند کرنے کے علاوہ بنگلہ دیش سے بھی احتجاج کرنا چاہئے۔ تا کہ دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں بنگلہ دیش حکومت کو بے گناہ لوگوں کو سیاسی اختلاف رائے رکھنے کے جرم میں موت کے گھاٹ اتارنے سے روکنے کیلئے کردار ادا کر سکیں اور پھانسی دینے کا یہ سلسلہ ختم ہو۔ بنگلہ دیشی وزیر اعظم کا پاکستان مخالف جنون حد سے بڑھ رہا ہے۔اس سے قبل کہ وہ مزید کسی بے گناہ کو پھانسی پر لٹکائیں حکومت پاکستان یہ معاملہ باضابطہ طور پر عالمی فورموں پر اٹھائے۔بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی جس ابتلا و آزمایش سے گزررہی ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ عوامی لیگ خود دہشت گردانہ کارروائیاں کرکے، ان جرائم کا الزام جماعت اسلامی پر دھر رہی ہے۔ بنگلہ دیش میں فی الواقع جماعت اسلامی ہی وہ منظم قوت ہے، جو بھارت کی بڑھتی ہوئی دھونس اور مداخلت کو روکنے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت نے بنگالی صحافیوں، سیاست دانوں، قلم کاروں کو خرید رکھا ہے، لیکن وہ جماعت اسلامی کو خریدنے میں ناکام رہا ہے۔بنگلہ دیش جماعت اسلامی درحقیقت اْس نام نہاد ’امن کی آشا‘ کے سامنے ایک آہنی چٹان ہے، جسے ڈھانے کیلئے برہمنوں ، سیکولرسٹوں اور علاقائی قوم پرستوں کے اتحادِ شرانگیز نے ہمہ پہلو کام کیا ہے۔ بھارتی کانگریس کے لیڈر سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کو بے دست وپا کرنے، مولانا مودودی کی کتابوں پر پابندی عائد کرنے اور دو قومی نظریے کی حامی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو دیوارسے لگانے کیلئے حسینہ واجد حکومت کی بھرپور سرپرستی کی۔ دوسری جانب خود بھارت میں مسلم نوجوانوں کو جیل خانوں اور عقوبت کدوں میں سالہا سال تک بغیر کسی جواز اور عدالتی کارروائی کے ڈال دینے کا ایک مکروہ دھندا جاری رکھا ہے۔ افسوس کہ پاکستانی اخبارات و ذرائع ابلاغ اس باب میں خاموش ہیں۔پاکستانی قوم بنگلہ دیش کی موجودہ سیاسی جماعت کے اس بہیمانہ طرز عمل پر شدید اور سراپا احتجاج کرتی ہے یعنی اب ہم بنگلہ دیش کو بھی ’بھارتی صوبہ ‘ یا بھارتی ریاست تصور کریں چونکہ بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد ’را‘ کے بتائے ہوئے نقش قدم پر چلنے سے باز آتی دکھائی نہیں دیتیں ہماری حکومت کیلئے یہ لمحات ’لمحہِ فکریہ ‘ ہیں۔

کشمیریوں کی گونج یورپی یونین کی پارلیمنٹ تک جاپہنچی

کشمیر ایک سادہ سامعاملہ ہے اور وہ یہ کہ یہ مذہبی لحاظ سے ایک مسلمان ریاست ہے اور جغرافیائی لحاظ سے بھی پاکستان سے جڑا ہوا ہے ثقافتی لحاظ سے بھی اس کا ہندوثقافت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ایک مکمل اسلامی ثقافت ہے ا ورسب سے بڑھ کر یہ کشمیری ذہنی طور پر کسی بھی طرح بھارت کا باشندہ ہ نہیں،اُس نے اس بات کو تسلیم ہی نہیں کیا کہ وہ بھارت کا حصہ ہے ۔ آج بھی ڈوگرہ راجہ ہری سنگھ اُس کا مجرم ہے جس نے بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھا۔ تقسیم ہند کے ابتدائی منصوبے میں ایسا کوئی نکتہ نہیں ہے کہ کشمیر کو بھارت کے حوالے کیا جائیگا لیکن اسکے باوجود بھارت کشمیر کے اوپر قابض ہے اور اس قبضے کو قائم رکھنے کیلئے اُس نے آٹھ لاکھ فوج تعینات کر رکھی ہے۔ 101387 مربع کلومیٹر کے اس علاقے میں دنیا کے کئی ممالک سے زیادہ فوج کو رکھاگیاہے جسے ہر قسم کے اختیارات حاصل ہیں بلکہ اسے قانونی طور پر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی سزاؤں سے استثنیٰ دیا گیا ہے اور وقتاً فوقتاً ان قوانین کو کشمیریوں کیلئے سخت اور قابض فوج کیلئے وسیع کیا جا رہا ہے یہ اور بات ہے کہ جوں جوں یہ سختی بڑھتی جاتی ہے توں توں کشمیریوں کا جذبہء آزادی بڑھتا جاتا ہے۔ انتہاتو یہ ہوئی کہ بھارتی قابض فوج نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے کیمیائی اسلحے کا کھلم کھلا استعمال بھی کیا اور کئی نہتے کشمیریوں کی آنکھوں کی بینائی چھین لی۔پیلٹ گنوں کے استعمال سے بے شمار کشمیریوں کو اندھا کردیاگیا،یاد رہے ان میں بچے بھی شامل تھے۔ ان کے جسموں پر نکلے ہوئے سرخ چھالے بھارت کے بے انتہامظالم کے گواہ تھے۔ یہ کوئی ایک طریقہ واردات نہیں جو بھارت نے اختیار کیاکئی ملنے والی اجتمائی قبروں میں دفن کشمیری کس طریقے سے مارے گئے ان کی کہانیاں بھی سامنے آتی رہتی ہیں اور تاریخ نا معلوم اور کتنے مظالم کو طشت ازبام کرے گی۔ لیکن ساتھ ہی کشمیریوں کی جدوجہدآزادی میں اتنے ہی ہیرو شامل ہوتے جائیں گے اور کشمیریوں کا احتجاج بڑھتا جائے گا لیکن اس فہرست کو آخر کتنا طویل کیا جائے گا،کشمیر کو کتنی بار بیچا اور خون میں نہلایاجائے گا، اقوام متحدہ کب تک سوتا رہے گااور دکھ کے ساتھ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ مسلم اُمہ کو کب ہوش آئے گا بلکہ مزید دکھ یہ ہے کہ بہت سارے اسلامی ممالک بھی کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کی تائید نہیں کرتے یا کرنے سے ہچکچاتے ہیں اور کئی تو بھارت کی دوستی میں پاکستان کے خلاف اس کے ساتھ کھلم کھلا جا کھڑے ہوتے ہیں۔ آجکل ہمارے مسلمان پڑوسی ممالک اسی رویے کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان اور کشمیر تن تنہا بھارت کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں اور کشمیریوں کے جسم ہیں کہ بھارت کے آٹھ لاکھ درندہ صفت فوجیوں کے گولوں کے سامنے جمے اور تنے کھڑے ہیں اوران پر ہر قسم کے اسلحے کا کھلم کھلا استعمال ہو رہاہے نشانہ جو بھی بنے چاہے بچہ ہو یا بڑا عور ت ہو یا مرد اور اب تو یہ سب کچھ کیمرے کی آنکھ سے دنیا کی آنکھوں کے سامنے آہی جاتاہے۔ بھارت نے پیلٹ گنوں کا جو بے دریغ استعمال کیا اور جس طرح کشمیرکو اندھا کرنے کی کوشش کی گئی اس نے عالمی ضمیر کو بھی ہلاکر رکھ دیا اور کشمیریوں کے اس درد کی گونج اس باریورپی یونین کی پارلیمنٹ تک پہنچی جہاں کی پالیمنٹ کے تقریباََ پچاس ارکان نے مغربی انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے لیبر پارٹی کے ممبر واجد خان کے لکھے ہوئے خط پر دستخط کیے جس میں انہوں نے کشمیرمیں بھارتی مظالم پر احتجاج کیا ہے اور خاص کر پیلٹ گن کے استعمال کو بین الاقوامی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس پر فوری پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے استعمال نے کشمیر میں سینکڑوں لوگوں کو نہ صرف شہید کیا بلکہ ان کی بینائی چھین لی اور انہیں شدیدصدمے سے بھی دوچار کیا۔ خط میں خاص طور پر 19 ماہ کے ایک بچے کا ذکر کیا گیاہے جو بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پیلٹ گن کے استعمال سے شدید زخمی ہوا۔ اس خط میں بھارتی فوج کو حاصل استثنیٰ پر بھی احتجاج کیا گیا اور آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ(1990 AFPSA)اور جموں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ 1978پر شدید تحفظات کا بھی اظہار کیا ہے اور انہیں فی الفور ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیاہے۔ یا د رہے کہ اس خط پر تمام پارٹیوں کے ارکان نے دستخط کئے ہیں۔ خط لکھنے والے مسٹر واجد خان نے اس خط پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ مختلف ممالک اور مختلف سیاسی خیالات رکھنے والے ان کے ساتھ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف اکٹھے ہوئے اور اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ پیلٹ گنوں کا استعمال مکمل طور پر ایک وحشیانہ عمل ہے لیکن بین الاقوامی برادری طویل عرصے سے اس پر خاموش ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کشمیر میں ایک نئی صبح طلوع ہورہی ہے جہاں سب لوگ ایک آزاد اور خوشحال کشمیر کے لیے مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ مسٹر مودی پہلے قدم کے طور پر پیلٹ گنوں کا استعمال بند کروا دیں۔

عوام اُمید کا دامن تھامے ہوئے ہیں

وزیراعظم عمران خان جو اپنے قول وعزم کے پکے اور ثابت قدم سنجیدہ شخصیت کے حامل بھلے اِنسان ہیں یہ جو کہہ دیں اور جس پر اڑجا ئیں وہ کرکے ہی رہتے ہیں جیسا کہ یہ با ئیس سال پہلے مُلک سے کرپشن اور کرپٹ عناصر کے خاتمے، اداروں کو آزاد اور خود مختاربنانے کے ساتھ نئے پاکستان کے خواب ا ور اعلان کو لے کر چلے تھے یہ اِس پر ابھی قا ئم ہیں آج اِسی بنیاد پر اِنہیں عوام نے اقتدار کی کُنجی سونپ دی ہے مگر اِن کی حکومتی ٹیم میں شامل کئی گُھسر پُھسرکرتے وفاقی وزراء اور صوبائی حکومتوں میں شامل بہت سے ذمہ داران کا غیر سنجیدہ رویہ اِن کی حکومت میں مشکلات کا باعث بن رہاہے جس سے وزیراعظم کو بہت سے فیصلے کرنے میں پریشانی کا سامنا ہے اِس کی خام وجہ کئی اہم وفاقی وزراء بالخصوص اور حکومت میں شامل دیگر اہم اشخاص بھی ہیں جو وقت سے پہلے بول کر سارا کھیل خراب کررہے ہیں تب ہی کچھ دِنوں سے اہلِ سیاست کا پاکستان تحریک اِنصاف اور اِس کی موجودہ حکومت سے متعلق یہ خیال یقین میں بدلتا جارہاہے کہ پی ٹی آئی کی جدوجہد کا سفر سے صِفر تک کا دورانیہ ہے،اگرابھی وزیراعظم عمران خان نے اپنے اِردگرد ایسے افراد کا احتساب نہ کیا تویہ پھر بھول جا ئیں کہ یہ قومی خزانہ لوٹ کھانے والے سابق حکمرانوں اور سیاستدانوں کا کڑا احتساب کرکے مُلک سے کرپشن کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوپا ئیں گے۔بیشک ،جب پچھلے انتخابات میں پی ٹی آئی کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور اِس کے سر پر اقتدار کا تاج سجا تو اِس کے چاہنے والوں کو ایسا لگا کہ آنے والا کل اِن کے آج سے بہتر ہوگا،مُلک میں چار سو تبدیلی کا رقص ہوگا، پرانا فرسودہ نظام منوں مٹی تلے دفن ہوجائے گا، اِنصاف کا بول بالا ہوگا، کرپشن اور کرپٹ عناصرکا منہ کالا ہوگا، مہنگائی مُلک سے غرق ہوجائے گی، ہر طرف سستائی کا راج ہوگا، روز مرہ کی اشیا خوردونوش ملاوٹ سے پاک دستیاب ہوں گی، ڈالر ز زمین کی خاک چاٹے گا اور پاکستا نی کرنسی آسمان کی بلندیوں کو بوسے دے گی، لوڈشیڈنگ ختم ہوجا ئے گی ، بجلی کی فراوانی ہوگی ،جمہوریت کا لبادہ اُوڑھ کر قومی خزا نہ لوٹ کھانے والوں کا کڑا احتساب ہوگا ، سب اپنے کئے کی سزا پائیں گے مگر اَب جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت سات ماہ کی ہوچکی ہے، پی ٹی آئی کی جدوجہدکا سَفر سے سفرتک کا دورانیہ صِفر معلوم دیتا ہے ،آج سب کچھ عوامی توقعات کے اُلٹ ہی ہوتاجارہاہے، عوامی ریلیف کا خیال حکومت کے پروگراموں میں کہیں نظر نہیں آرہاہے ، اگر کچھ ہے تو بس اتناہے کہ عوام قربانیوں کیلئے تیار رہیں، ابھی سخت امتحانات اور کڑی آزمائشوں سے عوام کو گزرنا ہوگا بس عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبنے کو تیار رہیں یہ عوام کے امتحان اور آزمائش کا وقت ہے اِس کے بعد سب بچ گئے یا کوئی بچ گیا تو نیاپاکستان دیکھے گا حکومت نے سیراب نما خوابوں میں عوام کو بہلا رکھاہے، عرض یہ کہ ابھی تک پی ٹی آئی کی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک رتی کی بھی قانون سازی نہیں کی ہے ، اِدھر اُدھر کے بے جا احکامات اور اقدامات سے لگتا یہی ہے کہ ابھی تک پی ٹی آئی کی حکومت کو یقین نہیں آیا ہے کہ یہ حکمران جماعت ہے اَب اِسے دھرنا سیاست اور احتجاجی جلسے جلوسوں والی سیاست سے نکل کر حقیقی معنوں میں سنجیدگی سے ایسے چلنا ہوگا جیسے حکمران جماعت اپنے اندرونی اور بیرونی اقدامات اور منصوبوں سے سنجیدگی سے چلاکرتی ہیں مگر افسوس یہ ہے کہ آج پی ٹی آئی کی چھ ماہ کی اچھی یا بُری جیسی بھی حکومتی کارکردگی ہے اِس نے اِس کے ووٹروں کو مایوسی اور نااُمیدی کی چادر میں جس طرح ڈھانپ رکھاہے،اِس موقع پر اِس کا کیا تذکرہ کرنا؟جو بھی ہے سب کے سامنے ہے، ہاں اِتنا ضرور ہے کہ عوام مایوسیوں کے سمندر میں غوطہ زن رہ کر بھی اُمید کا دامن تھامے ہوئے ہیں کہ اَب کوئی انہونی ہوجائے، تو اِس کے ووٹرز کا اِس پر اعتماد بحال ہو ورنہ ؟ ایسا کچھ اچھا ہوتا دور دور تک دِکھائی نہیں دے رہاہے کہ حکومتی ذمہ دارن اور وزراء کچھ سنجیدگی کا مظاہر ہ کریں تو آنے والے وقتوں میں کچھ بہتری کے اثار نمودار ہوں اور پی ٹی آئی کے ووٹرزمایوسیوں اور نااُمیدوں کے سیاہ اندھیرے سے نکل جائیں اور حکومت کے اقدامات اور کا رکردگی پر خوشی کا اظہار کریں اور جب کبھی اپنے ووٹرز کو حکومت ایک آواز دے تو یہ اِس پر لبیک کہیں ،اِس کے شانہ بشانہ آکھڑے ہوں جیسا کہ اَب لگتا ہے کہ اپنی کرپشن سے منہ چراتی ا پوزیشن کے اتحاد ہونے کی صورت میں بہت جلد یہ لمحہ آنے والا ہے جب پی ٹی آئی کے وزراء اپنے وجود کو قائم رکھنے کیلئے اپنے ووٹرز سے مدد طلب کرنے والے ہیں مُلکی شاہراہوں، چوکوں چراہوں پر دونوں جانب سے دمادم مست قلندر کا اکھاڑا سجنے والا ہے۔ قبل اِس کے کہ ایسی نوبت آئے حکومت کو اپنے وجود میں سنجیدگی کا لاوا بھرتے ہوئے ایسے اقدامات اور احکامات کرنے ہوں گے جس سے اپوزیشن کو سمجھ آجائے کہ حکومت پر حکومتی رنگ چڑھ گیاہے اور اَب اِس سے پنگے بازی مہنگی پڑ سکتی ہے حزبِ اختلاف کو لگ پتہ جائے ابھی تک یہ بھی مذاق مذاق میں اپوزیشن کا رول اداکرتی رہے ہے مگر اَب اِسے اپنے اندر بھی سنجیدگی کا مظاہرہ پیدا کرتے ہوئے اپنا کردار سنجیدگی سے ادا کرنا ہوگا۔ بہر کیف لگتاہے کہ پی ٹی آئی 22سال سے جس سفر میں سرگرداں ہے یہ آج بھی وہیں کھڑی ہے جہاں سے چلی تھی اِس سے بھی اِنکار نہیں کہ بائیس سال سے مُلک میں کرپشن سے پاک نظام کی تلاش میں سرگرداں پی ٹی آئی کو منزل مل کر ابھی تک یہ اپنے خواب کی تعبیر سے کوسوں دور لگتی ہے، گو کے ابھی اقتدار پا کر بھی اِسے اپنے مقاصد کے حصول کی راہ میں کڑے امتحانات اور آزمائشوں کی ندی کا سامنا ہے جسے عبور کئے بغیر تحریک انصاف اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتی ہے ۔جیسا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھرکہا ہے کہ منتخب نمائندوں کو کرپشن کا لائسنس ملنا ہی اِن کی جمہوریت ہے، کسی کی کرپشن کو چھپانے کیلئے پارلیمنٹ کو استعمال نہیں ہونے دینگے ، احتساب پر کسی کا سمجھوتہ نہیں ہوگا، اپوزیشن کا واک آوٹ این آر اُو کیلئے ہے، پارلیمنٹ پر عوام کے کروڑوں خرچ ہوتے ہیں، اپوزیشن کا بائیکاٹ جیسے کام دبا ؤڈالنے کا گھناؤنا حربہ ہے اور ایسے بہت سے سُنہرے الفاظ اور جملے کہے ہیں جو ہر بار کی طرح حقیقی عمل سے عاری مگراِن کے چاہنے والوں کے نزدیک تاریخی اہمیت کے حامل ہیں ارے بھئی بے عمل کے تاریخی جملے سُن سُن کر قوم کا اعتبار حکومت پر سے ختم ہوتا جارہاہے اَب بہت ہو چکی ہے وزیراعظم صاحب، اپنی ٹیم کیلئے عملی مظاہرہ بھی کردکھائیے ورنہ قوم حکمران جماعت کو بھی تاریخ کا حصہ بنانے میں دیرنہیں کرے گی۔ جبکہ اُدھر اپنے گردنوں کے گرد تنگ ہوتے احتساب کے طوق سے خوفزدہ اور اپنی کرپشن کے نشیب وفراز کے تھپڑے کھاتی اپوزیشن نے تُرنت اپنے مفاد کا تحفظ مقدم جانتے ہوئے اتحاد قائم کیا حکومت کیخلاف احتجاجی تحاریک چلانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے لگے ہاتھوں حکومت کو دھمکی آمیز لہجے میں یہ عندیہ بھی دے دیاہے کہ اَب حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے، اپنے ذاتی مفادات کی کشتی میں سوار کرپشن کی گُھٹی میں سر سے پیر تک ڈوبے کرپٹ سیاسی ٹولے نے یہ بھی باور کردیاکہ فوجی عدالتوں سمیت اہم معاملات پر مشترکہ حکمت عملی کیلئے کمیٹی قائم کردی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی اپنی توپوں کا رخ حکومت کی طرف کرتے ہوئے یہ گولہ بھی داغ دیاہے کہ منتخب حکومتیں گرانے کے رویے کی شدید مذمت جبکہ فنانس بل پر بھر پور مزاحمت کا فیصلہ کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا کرپشن کی دلدادہ اپوزیشن کا قائم ہونے والا اپنی نوعیت کا یہ انوکھا اتحاد حکومت کیلئے پریشانیاں پیدا کرنے کیلئے کیا کیا گُل کھلا ئے گا؟آج شاید حکومت کو پتہ بھی نہیں ہے مگر اَب موجودہ صورتحال میں حکومت کو چاہئے کہ یہ اپنے اندر اتحاد برقرار رکھے اور اپنے غیر سنجیدہ پن سے چھٹکارہ پاتے ہوئے سنجیدگی سے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کرپٹ عناصر کے ذاتی مفادات اور سیاسی اتحاد کا ڈٹ کر مقابلہ کرے تو ممکن ہے کہ حکومت کی ثابت قدمی اِس کے کچھ کام آسکے کیونکہ اَب عوام کی کرپشن سے پاک پاکستان کی آخری اُمیدیں حکومت سے ہی لگی ہوئیں ہیں اگر اَب نہیں تو پھر کبھی بھی سرزمین پاکستان کرپشن اور کرپٹ عناصر سے پاک نہیں ہوسکے گا۔

کھلی کچہریاں اوراحساس محرومی

کسی بھی معاشرے میں قوانین اور ضوابط وضع کرنے کا بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے کہ معاشرہ کے باسیوں کی مشکلیں آسان کرتے ہوئے معاشرتی مسائل حل کئے جائیں ۔کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے بنیادی ضرورت انصاف کی فراہمی اور امن و امان کا قیام ہے جس میں بنیادی کردار قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے ۔قانون سازی اپنی جگہ اہم ہے لیکن اس پر عملدرآمد کرنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہوتا ہے کیونکہ اگر قوانین پر عمل نہ ہو تو قانون مذاق بن کر رہ جاتا ہے اور معاشرے کی اساس پہلے سے بھی زیادہ کمزور ہو کر رہ جاتی ہے ۔ بد قسمت عوام جن کی آواز کبھی سرکار تک نہیں پہنچ پاتی تھی اگر کبھی پہنچ بھی جاتی تو اپنے مسائل کے حل سے محرومی ہی مقدر ٹھہرتی ۔یہ تو بھڑاس تک نہیں نکال سکتے تھے ۔ یہ اسی خواب و خیال میں زندگی کے دن پورے کر رہے ہوتے کہ دیوا رگریہ اک بنانا چاہیے جو سب کا غم بانٹ سکے ۔محروم لوگوں کی سرد آہیں جب لفظوں کا روپ دھارتی ہیں تو پھر قرطاس ابیض کو بھی سیاہ کر دیتی ہیں ۔ایسی روسیاہ عرضداشتوں کو امن بھرے محلات میں بھلا کون جانے دیتا ہے؟ داروغوں کو اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں یہ آہ و فغاں کی خاموش آواز پر سکون صاحبان اختیار کی طبع نازک پر گراں نہ گزرے اور ان کے خوشگوار مزاج کو مکدر نہ کر دے ۔زمانہ قدیم میں انصاف کی زنجیریں ہوا کرتی تھیں جن کو ہلا کر فریادی اپنی فریاد سنا دیا کرتا تھا ۔اب اس ترقی یافتہ دور میں بے شمار زنجیریں ہیں جو جذبات و احساسات صاحبان اختیار تک پہنچانے میں کوشاں ہیں ۔ان میں سے ایک زنجیر کا نام ’’ کھلی کچہریاں‘‘ ہیں جہاں براہ راست عرضداشتیں متعلقہ افسران کی خدمت میں پہنچ کر لوگوں کی حالت زار اور مسائل سے واقفیت کا ذریعہ بنتی ہیں ۔امن و امان کا قیام اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے ۔عام آدمی میں تحفظ پیدا کرنا،تھانہ کلچر میں تبدیلی ،تھانوں میں عوام سے شائستہ رویہ ،تشدد و ناجائز حراست کا حاتمہ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔یہ ہمارے ہاں دستور رہا ہے کہ تھانے جرائم اور مجرموں کی بہتات پر نیلام ہوتے رہے ہیں ۔یہ بات ہے سمجھنے کی ،آگے کہوں میں کیا ۔ جہاں آوے کا آوا ہی بگڑ جائے وہاں شاہیں تراشنے ،وارننگ دینے سے کچھ نہیں ہوتا ۔برائی ختم کرنے کیلئے جڑوں تک پہنچنا پڑتا ہے ۔ان کا گزاراصرف تنخواہ میں نہیں ہوتا اور بھی کچھ سلسلے کام آتے ہیں ۔ امن و امان کے قیام اور ناجائز حراست کا خاتمہ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔پولیس کا محکمہ امن و امان کے قیام اور معاشرے سے جرائم کی بیخ کنی اور قانون کی بالا دستی کو یقینی بنانے کیلئے وجود میں آیا ۔اس محکمہ کے افسرواہلکار اس مقصد کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور کوششوں کو بروئے کار تو لائے ہوں گے لیکن عوام میں اس محکمہ کا تاثر بہتر نہیں ہو سکا اور مجموعی طور پر وہ پولیس سے نالاں ہی نظر آئے۔اسی مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے عوام کے مسائل کے حل کیلئے ضلعی پولیس سربراہان (ڈی پی او) اور انتظامی سربراہان (ڈی سی)کو اپنے اضلاع میں کھلی کچہریاں لگانے کا حکم صادر فرمایا۔عوام کی شکایات کے ازالہ کیلئے ضلعی افسران کا روزانہ اپنے دفاتر میں شہریوں کے مسائل سننااور کھلی کچہریوں کا انعقاد حکومت کی ایک بہتراور قابل تعریف حکمت عملی ہے ان کھلی کچہریوں کا ایک خاص مقصد تھانہ کے روایتی کلچر میں تبدیلی اور عوام پولیس کے مابین فاصلے کم کرنا ہے۔اس سے وہ زیادہ توجہ اور دلجمعی سے عوام کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات کر سکیں گے ۔ان کھلی کچہریوں سے چٹ سسٹم کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی ۔شہر سیالکوٹ کے مختلف علاقوں میں مختلف جرائم کا غلبہ ہے ۔کسی علاقے میں چوری کی وارداتوں کی کثرت ہے ،کوئی غنڈہ گردی کیلئے مشہور ہے اور کوئی علاقہ ناجائز فروشوں کے نام سے جانا جاتا ہے ۔یہاں ڈکیتیاں اور ناجائز قبضے کے جرائم بھی ہوتے ہیں لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ ناجائز قبضوں کے معاملات میں پولیس اپنا حصہ وصول کر کے ایک طرف ہو جاتی ہے جبکہ معاملہ دو گروپوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ معاشرے میں جہاں دیگر تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں وہاں جرائم پیشہ افراد کے طریقہ واردات میں بھی تبدیلیاں آ رہی ہیں ۔سٹریٹ کرائم جس میں موبائل فون ،زیورات ونقدی چھیننے کا رجحان پایا جارہا ہے ۔ان واقعات کے تدارک کیلئے سائنسی خطوط پر ایک جامع سروے کرا کر زیادہ جرائم والے علاقوں کی نشاندہی کرنا ضروری ہے وہاں ایسے علاقوں میں موثر پٹرولنگ اور اضافی نفری تعینات کرنا بھی ضروری ہے ۔موجودہ حکومت نے کھلی کچہریوں کا سلسلہ شروع کروا کر ایک خوش آئند قدم اٹھایا ہے یہ سلسلہ مفیدہے اور اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ان کھلی کچہریوں میں سینکڑوں سائلین شرکت کر کے اپنی شکایات پیش کرتے ہیں جس سے افسران کا نہ صرف عوام سے رابطہ رہتا ہے بلکہ ان کے مسائل کو جاننے میں بھی مدد ملتی ہے ۔ مشاہدہ میں آیا ہے کہ ان کھلی کچہریوں میں عوام کا سراپا احتجاج نظر آنا اور مختلف سرکاری محکموں کے خلاف شکایات کے انبار لگا دینا سرکاری محکموں کی ناقص کارکردگی اور بد عنوانی کا ثبوت ہے حکومت کی طرف سے شہریوں کی شکایات کے ازالے کیلئے زور دیا جا رہا ہے اور جہاں شہریوں کو انصاف بھی پہنچایا جا رہا ہے وہاں محکموں میں تعینات بدعنوان اہلکار اور بعض افسران عوامی مشکلات میں اضافہ اور حکومت کی بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر پولیس اور انتظامی سربراہان کا عوام کی دہلیز پر جا کر عوامی مسائل کا خود جائزہ لینا اور ان کی شکایات کی روشنی میں محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے ۔ان کھلی کچہریوں میں دیہی علاقوں کو ترجیح دینی چاہیے کیونکہ شہریوں کا ضلعی دفاتر میں رابطہ کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ دیہی علاقوں کے رہائشی افراد کیلئے شہروں میں آنا اتنا آسان نہیں ۔ بہرحال ان کھلی کچہریوں میں لوگوں کی کثیر تعداد شرکت کرتی ،اپنی شکایات پیش کرتی ہے جس پر نہ صرف موقع پر احکامات صادر کئے جاتے ہیں بلکہ موقع پر ہی درخواستیں متعلقہ افسران کے حوالے کر دی جاتی ہیں ۔ان کھلی کچہریوں پر نہ صرف عوام اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں بلکہ ان میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت شاید محکموں کی کار کردگی بھی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو اور محکموں کا مجموعی تاثر بہتر ہو سکے۔راقم کے خیال میں ان کھلی کچہریوں کے انعقاد سے عام آدمی میں تحفظ کا احساس ضرور پیدا ہوا ہے۔راقم کی رائے ہے کہ اس وقت تک کسی بھی شکایت کنندہ کی فائل داخل دفتر نہ کی جائے جب تک سائل کو مکمل ریلیف نہیں ملتا اس سے کھلی کچہریوں کے حقیقی مقاصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔
*****

بھارتی جہازوں کو F-16 نے یاJF-17نے نشانہ بنایا۔۔۔ یہ سوال بے معنی ہے

adaria

بھارت کوپاکستان نےایل او سی کی فضائی خلاف ورزی پر وہ سبق سکھایا جس کووہ ابھی تک بھول نہیں پارہا، ایک ڈراؤنے خواب کی طرح روز اس کو یہ نظرآتا ہے کہ پاکستان نے اس کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیاہے، بین الاقوامی سطح پربھارت کو علیحدہ سبکی کاسامناکرناپڑرہاہے ،وہ تاحال اس سحر سے ہی نہیں نکل پایا کہ اس کے جنگی جہازوں کوجے ایف 17تھنڈریاایف16نے گرایا،جبکہ پاکستان نے کئی مرتبہ واضح کیاکہ دشمن کے جہازوں کو جے ایف17تھنڈرنے نشانہ بنایا۔ گزشتہ روز بھی ترجمان پاک فوج نے کہاکہ بھارت کی یہ بات ماضی کاحصہ بن چکی ہے ، پاکستان نے اپنے دفاع میں بھارتی جہازوں کو مارگرایاہے۔ ظاہرہے جس وقت دشمن نے حملہ کیااس وقت پاک فضائیہ کے تمام جنگی جہاز بشمول ایف16 فضاء میں بلندتھے ۔نیزترجمان پاک فوج نے یہ بھی واضح کیاکہ ملکی سالمیت اورسرحدوں کے دفاع کے لئے پاکستان اپنی ہرصلاحیت کامرضی سے استعمال کرنے کاحق رکھتاہے،مودی اپنے گریبان میں خودجھانک لے کہ اس نے بھارت کو کس طرح ناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے ،رفال طیاروں کاسکینڈل اس کاپیچھاکررہاہے ہرآئے دن وہ اپنی انتخابی مہم میں پاکستان کے خلاف بے سروپاہرزہ سرائی کرتارہتاہے مگراب اسے کچھ بھی حاصل ہونے والانہیں ہے ۔اس کی اپنی عوام حتیٰ کہ فوج بھی مودی کی پالیسیوں اوراس کے اقدام سے تنگ آمدبجنگ آمد ہے۔آئے دن بھارتی فوجی خودکشیاں کرتے رہتے ہیں ملک کے اندر غربت وافلاس کادوردورہ ہے انسانی حقوق کاپیاسا بھارتی نریندرمودی صرف انتخابات جیتناچاہتاہے اس کے لئے چاہے اس کچھ بھی کرگزرناپڑے ۔اس سلسلے میں پرنیکاگاندھی اورراہول گاندھی بھی واضح طورپرکہہ چکے ہیں کہ آخرکارمودی اورکتنے انسانوں کی جان لے گا،سرحدی حالات کو خراب کرنابھارت کی جانب سے معمول کاوطیرہ ہے۔ آئے روز ایل او سی کی خلاف ورزیاں اورپھرجب پاکستان کی جانب سے بھرپورانداز میں جواب دیاجاتاہے تو بھارتی دشمن نہ صرف بھاری جانی ومالی نقصان اٹھاتاہے بلکہ کہیں چھپ کردبک کربیٹھ بھی جاتاہے اوراس کی توپیں خاموش ہوجاتی ہیں۔بھارت کی جانب سے فضائی کارروائی کے حوالے سے آئے دن الزام تراشیوں کے جواب میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر پاک فضائیہ نے دو بھارتی جہازوں کو نشانہ بنایا ،بھارتی جہازوں کو ایف سولہ نے نشانہ بنایا یا جے ایف17نے، یہ سوال بے معنی ہے، پاک فضائیہ نے دونوں بھارتی جہازوں کو اپنے دفاع میں مار گرایا ، بھارت اپنی خواہش کے مطابق کوئی بھی جہاز چن لے نتیجے پر فرق نہیں پڑتا۔ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران کسی پاکستانی ایف سولہ طیارے کو نشانہ بنانے اور ایف سولہ کے استعمال کے معاملہ پر آئی ایس پی آر نے کہا کہ 27 فروری کا واقعہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، لائن آف کنٹرول کے پار کارروائی پاکستانی فضائی حدود کے اندر سے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے کی، بعد میں جب دو بھارتی جہازوں نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی تو انہیں پاک فضائیہ نے نشانہ بنایا۔ پاک فضائیہ نے دونوں بھارتی جہازوں کو اپنے دفاع میں مار گرایا ، جب بھارتی جہاز آئے تو فضائیہ کے تمام جہاز بشمول ایف 16 فضا میں موجود تھے۔بھارت اپنی خواہش کے مطابق حتیٰ کہ ایف 16 چن لے اس سے کوئی جہاز چن لے نتیجے پر فرق نہیں پڑتا، اگر ایف 16 استعمال ہوا تب بھی دو انڈین جہاز ہی نشانہ بنے، پاکستان اپنے دفاع کیلئے اپنی ہر صلاحیت کا مرضی کے مطابق استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے۔

بڑھتی مہنگائی۔۔۔حکومت کے لئے توجہ طلب مسئلہ
معیشت تومعلوم نہیں مضبوط اورمستحکم ہورہی ہے یانہیں، البتہ مہنگائی منہ پھاڑے عوام کوآئے دن نگلتی جارہی ہے ،پاکستان شماریات بیورو کی جانب سے حال ہی میں جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت مہنگائی پانچ سال کی بلند ترین شرح پرموجود ہے ،مارچ دوہزاراٹھارہ کی نسبت مارچ دوہزارانیس میں مہنگائی 9.41فیصد بڑھی ،اپریل 2014ء میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 9.1فیصد ہے ۔اعداد وشمار کے مطابق رواں سال جولائی تامارچ مہنگائی 6.7فیصد بڑھی جبکہ فروری کی نسبت مارچ میں مہنگائی1.42فیصدبڑھی ،مارچ 2019ء میں2018 کی نسبت ٹماٹر315فیصد ، سبز مرچ 151 فیصد، مٹر 54 فیصد اورکھیرے 45فیصدمہنگے ہوئے،یہ توتین ،چاروہ بنیادی چیزیں جو روزمرہ معمول کی زندگی میں استعمال ہوتی ہیں ان کے بغیر گزاراممکن نہیں کیونکہ گوشت اپنی جگہ مہنگا ہے سبزیاں اس سے زیادہ مہنگی ہیں۔دالوں کی جانب جایاجائے تووہ بھی مصداق اس کے کہ یہ منہ اورمسورکی دال ، کوئی اب دال بھی نہیں کھاسکتا،ذرائع آمدن نہ ہونے کے برابرہیں روزگارکے مواقع مفقود ہیں ،دولقمے حاصل کرنامحال ہوچکا ہے ،حکومت مہنگائی پرقابو پانے میں تاحال ناکام نظرآرہی ہے ،ہرتاجرنے اپنے اپنے ریٹ آویزاں کئے ہوئے ہیں ،کوئی پرسان حال نہیں، چیک اینڈبیلنس کانظام موثرنہیں پھرخوشی اورآنے والے اچھے وقت کی نویددینا، ثمرات عوام تک پہنچانا یہ ایک عجیب وغریب سابیان نظرآتاہے ابھی تک عوام ان سہولیات کو ترس رہی ہے ادویات تک کی قیمت آسمان تک پہنچادی گئی ہے ۔آئے روز چیزوں کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافے سے عام آدمی کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ اس جانب توجہ دے تاکہ غریب عوام سکھ کاسانس لے سکے۔
عمران خان کے لئے دوسال اہم
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو پاکستان سے سیکھنا چاہیے،آئندہ کوئی ایسی غلطی نہ کرے ، بھارت سے کشیدگی کے دوران آئی ایس پی آر نے بہت اچھے طریقے سے مسائل کو ہینڈل کیا، ہم جنرل قمر جاوید باجوہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی قیادت میں فوج نے کامیابیاں سمیٹیں،سب لوگ آئی ایس پی آر کی تعریف کررہے ہیں ، میڈیا نے بھی آئی ایس پی آرکے ساتھ بہت تعاون کیا،سوشل میڈیا ہو،پرنٹ میڈیا ہو،الیکٹرانک میڈیا سب کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے، سابق صدر پرویزمشرف کی طبیعت خراب ہے،ان کو وہ بیماری ہے جو دنیا میں بہت کم لوگوں کو ہے،میں تو کہتا ہوں پرویزمشرف کی ملک کیلئے بہت خدمات ہیں،میری تو خواہش ہے کہ پرویز مشرف کو ریلیف ملے ، اگرعمران خان2سال گزار گئے تو پھرہم انہیں اگلے10سال تک دیکھ رہے ہیں،عمران خان نے گھوٹکی میں پہلی دفعہ کہا کہ جو باہر جانا چاہتا ہے پیسے دے اور چلا جائے،پٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے عام آدمی متاثر ہوگا۔ اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی نے پروگرام میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ اصل میں انٹرنیشنل مارکیٹ میں14فیصدپٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں،حکومت نے ٹیکسز کم کئے ہیں،اس حکومت کو کریڈ ٹ دینا چاہیے،پٹرول کی قیمتیں بڑھانا کسی کے اختیار میں نہیں ہے یہ انٹرنیشنل لیول پر ہوتا ہے۔پرویزمشرف کے وکیل سلمان صفدر نے پروگرام سچی بات میں کہا کہ پرویز مشرف کی اس وقت صحت کافی خراب ہے،اس وقت پرویز مشرف کا واپس نہ آنا ان کی اپنی مرضی نہیں ہے،ان کی ہرروزکیموتھراپی ہوتی ہے اوران کی ادویات تبدیل کی جاتی ہیں۔

پڑھے لکھے کشمیریوں کی تحریک آزادی میں عملی شرکت

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے جاری ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع پلوامہ میں مزید چار کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ ان نوجوانوں کو ضلع کے علاقے لاسی پورہ میں فوجی محاصرے اور آپریشن کے دوران شہید کیا گیا۔اسی دوران ضلع اسلام آباد کے علاقوں قاضی گنڈ اور ویری ناگ علاقوں کو بھارتی فوج نے محاصرے میں لیکر گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کردی ۔ضلع پلوامہ کے علاقے اونتی پورہ کے رہائشی 29سالہ سکول پرنسپل رضوان اسد کوبھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کے اہلکاروں نے 17مارچ کو گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لیا اور اسے بدنام زمانہ انٹروگیشن سینٹر کارگو کیمپ میں نظربند کردیا جہاں وحشیانہ تشدد کے باعث وہ شہید ہوگئے۔ بھارتی پولیس رضوان اسد کے دوران حراست قتل کی رپورٹ ابھی تک جوڈیشل آفیسر کو پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔امریکی اخباراشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم عروج پر ہیں جہاں تعلیم یافتہ افراد اور دانشوروں کو بھی ہتھیار اٹھانے پر مجبور کردیا گیا ہے۔چند روز قبل کشمیر یونیورسٹی کے پروفیسر محمد رفیع اچانک لاپتہ ہوگئے جس کے بعد ان کی لاش ملی ۔ استاد کی موت پر پڑھے لکھے تمام افراد احتجاج میں ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ 31 برس کے پروفیسر رفیع نے کشمیر یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی تھی جن کے سامنے شاندار مستقبل تھا لیکن انہوں نے بھارت کے خلاف مزاحمتی تحریک میں شمولیت اختیار کی۔پروفیسر تمام طلبہ کے پسندیدہ استاد تھے اور وہ ایسے دانشور تھے جنہوں نے صارفین پر نمایاں تحقیق کی تھی۔ پروفیسر کی درس و تدریس کے شعبے سے مزاحمتی تحریک میں شمولیت نئے رجحان کا حصہ بنی۔ کشمیری انجینئر کے قتل کے بعد نوجوان اپنے والدین سے پوچھتے ہیں کہ اسلحہ کے مقابلے میں ڈگریوں کا کیا فائدہ۔ اخبار کی تحقیق کے مطابق 2008 کے بعد سے مزاحمتی تحریک میں شامل ہونیوالے نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جب کہ چند برس پہلے تک کمزور ہوتی مسلح جدوجہد میں نئی توانائی آگئی ہے۔2013 میں مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد صرف 16 فیصد تھی جبکہ 2017 کے مقابلے میں مزاحمتی تحریک میں نوجوانوں کی شرکت 2018 میں 52 فیصد رہی۔ 2018 میں 191 کشمیری نوجوانوں نے مزاحمتی تحریک میں شمولیت اختیار کی۔امریکی اخبار کے مطابق بھارت نے پچھلے برس سے غیر ملکی صحافیوں پر کشمیر میں رپورٹنگ کی پابندی لگا دی ہے یہاں تک کہ واشنگٹن پوسٹ کو سری نگر تک محدود رہنے اور بھارت مخالف افراد سے نہ ملنے کی شرط پر اجازت دی گئی ہے۔ فرانسیسی صحافی پاول کامیٹی کی ڈاکومنٹری فلم ’’وار آن دا روف آف ورلڈ ‘‘ نشر کردی گئی ہے جس میں نہتے کشمیریوں پر بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم، پیلٹ گن کے بے دریغ استعمال اور متاثرین کے بینائی سے محروم ہونے سمیت زیرحراست بہیمانہ تشدد کی عکاسی کی گئی ہے۔فلم میں جنگی جنون میں مبتلا ہندوستان کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ اس فلم کی تکمیل 18 ماہ میں ہوئی اور فلم کی تمام تر ریکارڈنگ مقبوضہ کشمیر میں ہی کی گئی ہے۔فلم سازی کے دوران فرانسیسی صحافی کو 2017ء میں بھارتی فورسز نے حراست میں بھی لیا تھا۔ پاول کامیٹی اپنی ٹیم سمیت 3 ہفتے تک بھارتی فورسزکی حراست میں رہے گرفتاری کے بعد 5 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا بعد ازاں فرانسیسی صحافی اور 8 رکنی ٹیم کو بھارت میں بلیک لسٹ کر دیا گیا تھا۔فرانسیسی صحافی اور ٹیم نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا بھی دورہ کیا۔ آزاد کشمیر کے حالات بھی فرانسیسی ڈاکیو مینٹری کا حصہ بنائے گئے ہیں۔ فرانسیسی صحافی آزاد کشمیرمیں روزمرہ زندگی کے نارمل حالات دیکھ کرحیران ہوگئے تھے جب کہ بھارتی وزیر دفاع نے فرانسیسی صحافی کی مقبوضہ کشمیر میں ڈاکیو منٹری کیلئے فلم سازی کی درخواست کو بھی مسترد کردیا تھا۔ یورپی پارلیمنٹ کے 50 ارکان نے نریندر مودی کو ارسال خط میں کشمیر میں بھارتی جارحیت بند کرنے کامطالبہ کیا گیا ہے۔ یورپی پارلیمنٹیرینز نے مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن کے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق سے متصادم قوانین کا خاتمہ اوربھارت پیلٹ گنز سے متاثرہ افراد کی بحالی کیلئے اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔قابض انتظامیہ جان بوجھ کرکشمیری نوجوانوں کو بے بنیاد کیسوں میں پھنسا کر ان کی غیر قانونی نظربندی کو طول دے رہی ہے۔ یوں بھارت طاقت کے استعمال سے کشمیریوں کی آواز خاموش نہیں کراسکتا۔ آزادی پسندوں کی آواز دبانا اور پرامن سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کرنا بہادری نہیں بلکہ شرمناک اوربزدلی ہے۔ انتخابات کو جمہوری عمل کا ایک اہم ترین حصہ مانا جاتا ہے۔ جس خطے کے عوام کو جمہوریت کا ہلکا سا عکس بھی دکھایا نہیں گیا ہو، جن کو ہر وقت جمہوریت کی قبا میں چنگیزیت اور سفاکیت کا ہی سامنا کرنا پڑا ہو، جہاں ہر جمہوری اقدام کو یہاں کی قابض طاقتوں نے صرف اور صرف اپنے غیر قانونی قبضے کو مضبوط بنانے کیلئے ہی استعمال کیا ہو، جہاں پہلے سے موجود دس لاکھ بندوق بردار فوج سے اس نہتی قوم کو زیر کرنے میں ناکامی کے بعد اس ’’جمہوری عمل‘‘ کیلئے مزید سینکڑوں بٹالین منگائی گئی ہوں، وہاں بندوقوں کے سائے میں اس زبردستی مسلط کئے ہوئے وسیع فوجی آپریشن کو انتخابات کے خوبصورت لباس میں پیش کرنے سے اس کی خصلت اور اس کی اصلیت تبدیل نہیں ہوسکتی ہے۔

عوام ،وعدے اور تبدیلیاں

معیشت زبوں حال۔عوام بے حال اور مہنگائی میں روز افزوں اضافہ شاید تبدیلی سرکار کی نظروں سے اوجھل ہے یا حکومت کو نان ایشوز سے فرصت نہیں ہے۔ابھی تک حکومت کی کوئی معاشی پالیسی نظر نہیں آئی۔کشکول توڑنے کے وعدے کرنے والے بیرون ممالک سے قرضہ ملنے پر عوام کو مبارک بادیں دیتی ہے۔بجلی اور گیس کے بل جلانے والوں نے اقتدار میں آکر عوام کو مہنگائی کے تاریخی اور بدترین طوفان میں پھنسا دیا ہے۔ بجلی ،گیس اور پٹرولیم مصنوعات کو مہنگا کرنے کا عمل ہفتہ وار حساب سے جاری ہے۔مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ وزیر خزانہ لوگوں کی چیخوں کی آوازیں سننا چاہتے ہیں گویا غریبوں کی یہ فریاد وزیر خزانہ کے لیئے دلچسپ موسیقی کے مانند ہے۔وزیراعظم کے بقول تیل کے نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں لیکن شاید حکومت چاہتی ہے کہ جب تک وہاں سے تیل نہیں نکلتا تب تک عوام کا تیل نکالا جائے۔اقتدار میں آنے سے قبل جو وعدے اور دعوے کیئے گئے تھے وہ سب ہوا ہو گئے گویا وہ تما نعرے کھوکھلے اور بے بنیاد تھے۔معیشت کا ستیاناس ہو رہا ہے۔لیکن حکومت بکری،مرغی اور انڈوں کے ذریعے معیشت کو مظبوط کرنا چاہتی ہے۔یہ عوام کے ساتھ کیا مذاق ہو رہاہے۔بے روزگاری عروج پر ہے۔کہاں گئی حکومت کی وہ ٹیم جو ماہرین پر مشتمل تھی اور تمام مسائل کا حل جن کے پاس تھا۔جب وزیرخزانہ کی کارکردگی ایسی ہو جیسے نظر آرہی ہے تو ماہرین کی ٹیم کا کیا سوال۔ اقتدار میں آنے سے پہلے یہ بھی دعویٰ کیا گیاتھا کہ پاکستانیوں کے بیرون ملک دو سو ارب روپے پڑے ہیں جو غیر قانونی طور پر منتقل کیئے گئے ہیں اقتدار میں آکر تین ماہ کے اندر وہ واپس لے آئیں گے۔ ٹیکس وصولی کو موثر بنا کر ملک کو قرضوں سے نجات دلائیں گے۔اقتدار میں تو آئے ہیں لیکن ان دعوؤں اور وعدوں میں ایک بھی وفا نہیں ہوا۔ حکومت نے ابتداء میں سو روزہ پلان بھی دیا اس کا نتیجہ بھی سفر رہا۔اب وزیراعظم صاحب نواز شریف اور آصف علی زرداری پر زور دے رہے ہیں کہ پلی بارگیننگ کر لیں۔کراچی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف اور زرداری پیسہ واپس کر دیں تو انھیں چھوڑ دیا جائے گا۔اس کے بغیر نہیں چھوڑوں گاوزیراعظم صاحب تھوڑا یہ بھی وضاحت فرما دیتے کہ پلی بارگیننگ کا فیصلہ ملزم کی درخواست پر چیئرمین نیب کرتے ہیں یا اب یہ اختیار ان کے پاس ہے۔ایک طرف وفاقی وزیر اطلاعات اور دیگر وزراء کہتے ہیں کہ نیب آزاد اور خود مختار ادارہ ہے اور کسی کے خلاف کسی بھی کاروائی یا گرفتاری سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔دوسری طرف نوازشریف،آصف علی زرداری کو نہیں چھوڑوں گا جبکہ ان دونوں کے کیس عدالتوں میں چل رہے ہیں۔حکمرانوں کو سمجھ نہیں آرہی یا عوام کی سمجھ سے یہ سب باہر ہے۔عجیب طرز حکمرانی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم ختم کرنے کی تیاری ہے۔اپوزیشن میں صرف پیپلز پارٹی اور اے این پی ہیں جو اس کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں جبکہ اپوزیشن کی بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) اس معاملے میں چپ سادھ لیئے بیٹھی ہے۔اٹھارہویں ترمیم صوبوں کے لیئے آصف علی زرداری کا تحفہ تھا۔ اب اگر یہ ترمیم ختم کر دی گئی تو صوبے پہلے کی طرح پھر وفاق کے رحم و کرم پر ہوں گے۔صوبائی سطح کے بہت سے معاملات میں صوبے مفلوج ہو جائیں گے۔سیاست بھی عجیب کھیل ہے۔اپنے مفاد کے لیئے عوامی مفاد کو داؤ پر لگانا اور ہمیشہ عوام کو بیوقوف سمجھنا سیاست کی کامیابی سمجھ جاتا ہے۔ جیسا کہ یو ٹرن کامیابی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔بات یہاں تک آگئی کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کیا جا رہا ہے۔اتنا تو حکمران سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ سے یہ کام کرانا نا ممکن نہیں ہے اس لیئے کہا جا رہاہے کہ یہ نیک اور تاریخی کام آرڈیننس کے زریعے سرانجام دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ ا س نان ایشو کو ایشو بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ سندھ میں تحریک انصاف کیلئے جگہ بنانے کا بس یہی ایک کامیاب طریقہ ہے۔ دوسری طرف جی ڈی اے والوں کو سندھ میں پذیرائی ملنے کی راہ میں یہ پروگرام بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ پیپلز پارٹی بینظیرکا نام استعمال کرنے کیلئے اس پروگرام کا سہارا لیتی ہے۔بلکہ اس کو سیاسی رشوت کے طور پر بھی استعمال کرتی ہے۔کیا سوچ ہے۔حکمرانوں کو یہ سوچنا اور سمجھنا چاہیئے کہ ہر سندھی اس پروگرام سے فائدہ حاصل نہیں کرتا۔یہ تو بیواؤں اور ناداروں کی فلاح کا پروگرام ہے۔علاوہ ازیں سندھی اس پروگرام کے ذریعے ملنے والی رقم کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں دیتے۔پیپلز پارٹی کے ساتھ سندھیوں کی جذباتی وابستگی ہے۔ بینظیر شہید کا نام ہٹانے کا سندھیوں پر منفی اثر پڑے گا۔یہ تو وہاں نفرت پیدا کرنے کی کوشش ہوگی۔کیا معلوم کل اس پر بھی یو ٹرن لے لیا جائے۔ملک میں جہاں بھی لوگوں کی پیپلز پارٹی سے جذباتی وابستگی ہے وہ کبھی ختم نہیں ہوئی۔مردان کے خانزادہ خان کی مثال دیکھیں کہ وہاں پیپلز پارٹی کی کیا پوزیشن ہے اور وہ کس طرح پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔اس طرح اور بھی مثالیں موجود ہیں۔اس لیئے بینظیر شہید کا نام ہٹانے سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا البتہ سیاسی نقصان بہت ہو سکتا ہے۔گورنر پنجاب نے گزشتہ روز کبیر والا کے قریب موٹر وے کا افتتاح کیا۔ عبدالحکیم سے لاہور تک 230 کلو میٹر طویل یہ موٹروے سے وہاں کے عوام کیلئے میاں نواز شریف کا تحفہ ہے۔اس منصوبے کا سنگ بنیاد انھوں نے رکھا تھا۔وہاں ان کے نام کی تختی لگی تھی۔جب گورنر صاحب افتتاح کے وہاں جارہے تھے تو اس سے قبل نواز شریف کے نام کی تختی پر ایک کاغذ چپکایا گیا جس پر گورنر پنجاب کا تحریر تھا۔یہ ان موٹر ویز کا ایک حصہ ہے جس پر تحریک انصاف والے نواز شریف پر لعن طعن کرتے تھے ایسے منصوبوں کا پیسہ ضائع کیا جارہاہے اور اب دوسرے کے نام اور تختیوں پر اپنی تختیاں لگا کر تبدیلیاں لا رہے ہیں۔

*****

سٹوڈنٹس یونین اور طلبا

طلبا کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں ۔ قوم کا یہ سرمایہ وقت کے ساتھ علم سے سرفراز ہو کر آنے والے وقتوں میں معاشرے کی باگ ڈور سنبھالتا ہے ۔اس لیے کسی بھی معاشرے کو اگر درست کرنا ہو تو اس کے طلبا پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔جتنے بھی مہذب معاشرے ہیں ان میں طلبا کی سرگرمیوں کو اچھی طرح مانیٹر کیا جاتا ہے ۔ مہذب معاشروں میں طلبا کا نصابی سرگرمیوں کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا ضروری سمجھا جاتاہے ۔ اس کیلئے باقاعدہ طورپر طلبا کی دلچسپی اور ان کی استعداد کار کو دیکھا جاتا ہے ۔ مہذب مغربی معاشروں میں طلبا کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ان کے مستقبل کا فیصلہ کیا جاتا ہے ۔طلبا کو زیادہ تر نصابی سرگرمیوں اور غیر نصابی سرگرمیوں میں کھیلوں کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ جو طلبا کھیل کے شعبے میں بہتر کارکردگی کا مظاہر ہ کرتے ہیں انہیں کھیلوں کی تربیت دی جاتی ہے ۔جو طلبا آرٹس کے مضامین میں بہتر ہوتے ہیں آرٹس کے شعبے میں تربیت دی جاتی ہے ۔ کبھی بھی ایسا نہیں ہوتا کہ کھلاڑی بننے کے خواہش مند طالبعلم کو بیالوجی پڑھنے پر مجبور کیا جائے ۔ مہذب معاشروں میں اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے اپنے طلبا کی تربیت کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔ جاپان میں بچوں کو سب سے پہلے اخلاقیات اور معاشرتی آداب سکھا ئے جاتے ہیں ۔ اس کے بعد ان بچوں کو سکول کی ایجوکیشن دی جاتی ہے ۔ جاپان کے لو گ آج بھی اپنی روایات سے جڑے ہیں جس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اپنے مستقبل کو بچپن سے ہی ان روایات کا آسیر بنایا ہے ۔ بیشک ایسا نہیں ہے کہ وہاں کے سارے ہی طلبا کامستقبل محفوظ ہوتا ہے لیکن ان کی اکثریت اپنے مستقبل کو بہتر سمت میں لے جانے میں کامیاب ہو جاتی ہے ۔ انہیں معلو م ہوتا ہے کہ ان کی منزل کیا ہے ۔ وہ مستقبل میں کیا کرنا چاہتے ہیں یا ان کا مستقبل کہاں ہے ۔ پاکستان دنیا کے ان خوش قسمت ترین معاشروں میں سے ایک ہے جہاں پر نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے بچوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ معلو م نہیں ہوتا ۔ وہی روایتی طورپر زیادہ ذہین بچہ جو بہت اچھے نمبر لے لیتا ہے کو ڈاکٹر بنا دیا جاتا ہے اور جو اس سے کم لے رہا ہے وہ انجینئر اور جو اس سے کم اسے کمیشن میں اپلائی کرادو ۔ یہ فارمولا ہم پہ بھی اپلائی ہوا تھا ۔ نہ ہم ڈاکٹر بن پائے نہ کمیشن حاصل کیا ۔ اس کے بعد زندگی کی راہ مسدود ہی نظر آئی ۔ بہت کوشش کی کہ کاروبار میں مہارت کا م دکھا پائیں لیکن کاروبار ہم سے نہ ہو سکا ۔ ذہن کی صلاحیتوں کو نہ ہم جان سکے اور نہ کسی نے ہمیں سمجھانے اور راہ دکھانے کی کوشش کی ۔ تجربے کرتے کرتے عمر بیتا دی لیکن منزل آشنا نہ ہو پائے ۔ جو طالبعلم ہائی سکول میں فرسٹ ڈویژن لے رہا ہے لیکن زندگی کے امتحان میں فیل ہو رہا کے بارے میں ہمارے ماہرین عمرانیات اور ایجوکیشن سے متعلق اتھارٹیز کوئی جواب دے پائیں گی ۔ اس کاسبب سکول کے ماحول سے کالج کاماحول ایک دم مختلف ہونا ہے ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہائی سکول میڑک تک نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے انٹر میڈیٹ تک ہونا چاہیے ۔طلبا کو انٹرمیڈیٹ کے بعد یونیورسٹی لیول سے بھی ایک دم متعارف نہیں کرانا چاہیے ۔ اس کیلئے گریجویشن کالج لیول میں اور ماسڑز یونیورسٹی لیول میں ہونا چاہیے ۔ ماہرین تعلیم شاید میری بات سے اتفاق نہ کریں لیکن تجرباتی طور پر کسی جگہ یہ تجربہ کر کے اس کے نتائج کو عام دوسرے نتائج سے تناسب میں چیک کیا جا سکتا ہے ۔پرائمری میں ہم تو کچی اور پکی والے ہیں اب تو مونٹیسری اور پتہ نہیں کیا کیا ہے ۔بچوں کو سکول میں کتب سے متعارف کرانے سے پہلے معاشرتی آداب جیسے سلام اور اس کاجواب ۔ بڑوں کے آداب کھانے پینے اٹھنے بیٹھنے کے طریقوں سے متعارف کرایا جانا چاہیے ۔ بچوں کو بولنا کھانا پینا اور پہننا وغیرہ سے واقفیت دلانی چاہیے ۔ اس کے بعد بچوں کو نصابی کتب میں سب سے پہلے قرآن اور اسکی تعلیمات سے متعارف کرایا جائے ۔ باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے ساتھ بچوں کو شروع سے ہی اسلامی معاشرت سے روشناس کرایا جائے اور انہیں قرآن حفظ کرایا جائے ۔ بچوں کی بڑھوتی کو دیکھتے ہوئے ان کو دیگر معاشرتی علوم سے واقفیت دلائی جائے ۔ اس کے بعد انہیں حساب و سائنس اور دیگر علوم سے متعارف کرایا جائے ۔ جو بچے جس علم میں دلچسپی کا مظاہرہ کریں انہیں اسی علم سے متعلق ہی سکھلایا اورپڑھایا جائے ۔ جوبچے سائنس میں دلچسپی لیں انہیں سائنس اور جو حساب میں دلچسپی لیں انہیں حساب پڑھایا جائے ۔ جو کھیلوں کو ترجیح دیں انہیں کھیلوں اور عام علوم پڑھائے جائیں تاکہ وہ مطلق ان پڑھ نہ رہیں بلکہ ان کے پاس بھی اچھا علمی خزانہ ہو ۔ کھیلوں کی باریکیاں اور ان کی سپرٹ سے انہیں آشنا کیا جانا ضروری ہے ۔ میڑک کر کے ہمارے طلبا جیسے ہی کالج کا رخ کرتے ہیں تو کالج کے مین گیٹ پر لگائے ہوئے سٹوڈنٹ یونین کے سٹال ان کے منتظر ہوتے ہیں ۔سمجھ سے بالا ہے کہ ان سٹالز کا طلبا کے داخلہ میں کیا اور کیوں عمل دخل ہے ۔ مکہ کی راہ میں کھڑے بدو حاجی کو مکہ کی بجائے طائف روانہ کر دیں کی مثال طلبا تنظیم کے سٹال طلب علم کی توجہ اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیتے ہیں ۔ ہماری سیاست میں طلبا تنظیموں سے کتنے فیصد لیڈر شپ عملی سیاست میں کامیاب ہو کر آئی ہے ۔ اس تناسب کو دیکھتے ہوئے حقیقت میں قوم کے اس نقصان کا ازالہ کوئی نہیں کر پائے گا ۔ان تنظیموں نے کتنے ہی جوانوں کا مستقبل تاریک کیا ہے ۔ حقیقت میں کالج کی سطح پر طلبا کا سیاسی مقاصد سے آگاہ ہونا سمجھ سے بالا ہے کیونکہ اسے تو یہ بھی ابھی صحیح طور معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی اپنی منزل کیا ہے ۔ ایسے میں اسے سیاسی طور پر استعمال کرنے سے وہ اپنے مستقبل سے غافل ہو کر غیر نصابی سرگرمیوں کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے ۔جس سے اس کی توجہ بٹ جاتی ہے اور وہ نہ تو کوئی خاص سیاسی کام کر پاتا ہے اور نہ ہی وہ تعلیم کی طرف توجہ دے پاتا ہے ۔ایک میٹرک پاس بچے کو سیاست کی آگ میں جھونکنے کا مقصد میری سمجھ سے بالا ہے ۔ ابھی یہی چیز ایم اے سیاسیات کرنے والا ایم اے عمرانیات اور سوشیالوجی کے طالبعلم کیوں سیاست میں حصہ نہیں لیتے ۔ سیاست میں بالغ لیڈر شپ کا حصول تب ہی ممکن ہے جب ہم اعلیٰ تعلیم یافتہ لیڈر شپ کو قوم کی نمائندگی کا موقع دیں گے ۔ اگر ہم نے اپنا مستقبل محفوظ بنا نا ہے اور اپنی نسلوں کو بہتر مستقبل دینا ہے تو اس کیلئے ہمیں اپنے بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی ۔گورنمنٹ کے سکول اور کالجز ہر جگہ موجود ہیں ۔ ان سکولوں کے تعلیمی ماحول کو بہتر بناکر پرائیویٹ سکولوں کی لوٹ مار سے عوام کو بچانا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ حکومت ان تجاویز کی روشنی میں ماہرین تعلیم اور ماہرین عمرانیات اور سوشیالوجسٹ کے تعاون سے ایسی منصوبہ بندی کر سکتی ہے جس سے بچوں کو تعلیم سے دلچسپی اور اپنے مستقبل سے آشنائی حاصل ہو سکتی ہے ۔ہم اس طرح بہتر سائنسدان تیار کر سکتے ہیں اور ہمیں اسی طریقے سے اچھے کھلاڑی بھی حاصل ہو سکتے ہیں ۔ اسی سے طریقہ سے ہم اسلامی اور مشرقی روایات کو بھی آنے والی نسلوں کو منتقل کر سکتے ہیں ۔ تعلیم انگریزی میں ہو یا اردو میں اس کا مقصود مہذب معاشرتی آداب سے آشنا پڑھا لکھا کارآمد شہری ہوتا ہے ۔ منہ ٹیڑھا کر کے اردو یا انگریزی بولنے والا ادب و آداب میں بھی ٹیڑھا ہوتا ہے ۔ جس سے معاشرے میں ٹیڑھے پن کے اثرات زیادہ ہو کر معاشرہ ٹیڑھا ہوجاتاہے ۔

*****

Google Analytics Alternative