کالم

نئی وفاقی کابینہ اور عوامی توقعات

adaria

وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے 20 رکنی وفاقی کابینہ کی منظوری دیدی ہیجس میں 15 وزرا اور 5 مشیر شامل ہیں۔ تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے بتایا ہے کہ وزیراعظم نے 20 رکنی وفاقی کابینہ کی منظوری دے دی ہے جس میں 15 وفاقی وزیر اور 5 مشیر شامل ہیں۔ وفاقی کابینہ پیر کو حلف اٹھائے گی۔نئی کابینہ میں شاہ محمود قریشی وزیرِ خارجہ، اسد عمر وزیرخزانہ، شفقت محمود وفاقی تعلیم و قومی ورثہ جبکہ پرویز خٹک وزارتِ دفاع کا قلمدان سنبھالیں گے۔وزارتِ اطلاعات پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان بیرسٹر فواد چوہدری اور وزارتِ قانون ایم کیوایم کے رہنما بیرسٹر فروغ نسیم کے حوالے کی گئی ہے۔ شیریں مزاری کو وزیر انسانی حقوق، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو وزیر ریلوے، نورالحق قادری کو وزارتِ مذہبی امور بنایا گیا ہے۔غلام سرور خان وزیر پٹرولیم، زبیدہ جلال وزیر دفاعی پیداوار، فہمید ہ مرزا وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی، عامر کیانی وزیر نیشنل ہیلتھ سروسز اور طارق بشیر کو وزیر سیفران بنایا گیا ہے۔امین اسلم کو مشیر ماحولیات بنادیا گیا ہے اور معروف صنعت کار عبدالرزاق داود مشیر کامرس ہوں گے۔ بابر اعوان کو پارلیمانی امور کا مشیر جب کہ عشرت حسین کو مشیر برائے ادارتی اصلاحات بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔عمران خان نے وزیرداخلہ کا قلمدان اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارتِ داخلہ میں معاونت کے لئے دو مشیر رکھے جائیں گے جن کے لئے سابق انسپکٹر جنرل پولیس شعیب سڈل اور ناصر درانی کے نام زیرِ غور ہیں۔ پاکستان کے نومنتخب وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ اور پاکستان کی خاتون اول نے عمران خان کے حلف اٹھانے کے بعد عوام کے نام پہلا پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرسی آنی جانی چیز ہے، آج میں خوش نہیں ڈری ہوئی ہوں۔ اللہ پاک نے ہم پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالی ہے۔خاتونِ اول نے کہا عمران خان کا مقصد ملک سے غربت کا خاتمہ، صحت اور تعلیم کے نظام کو بہتر کرنا ہے۔ عوام نے ہمیں منتخب کیا ہے انشا اللہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے۔ نئی 20رکنی وفاقی کابینہ سے عوام کی بہت سی توقعات وابستہ ہیں اور یہ توقع کی جارہی ہے کہ نئی کابینہ ملک کو مسائل اور چیلنجز سے نکالنے کیلئے ٹھوس اقدامات بروئے کار لائے گی، پی ٹی آئی کی حکومت اپنے منشور اور عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی، اس وقت ملک کو کئی چیلنج کا سامنا ہے ایک طرف کمزور معیشت کا رونا رویا جارہا ہے اوردوسری طرف اندرونی و بیرونی خطرات سر پر منڈلارہے ہیں، کرپشن کا ناسور بھی پھیلا ہوا ہے جس نے ترقی کے راستوں کو مفلوج کررکھا ہے ، بیروزگاری اور مہنگائی کا آمڈتا سیلاب ہے، عمران خان سماجی انصاف اور عوام کو ریلیف دینے میں کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم عوام الناس نے جو بھاری مینڈیٹ دیا ہے اس کا یہ تقاضا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت اپنے منشور پر عمل پیرا ہوکر ملک کو بحران سے نکالے ، عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے ،بیروزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ کرے ، لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور کڑا احتساب کرکے لوٹی گئی دولت کو واپس لایا جائے۔ جمہوری حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہوا کرتی ہے امید کی جانی چاہیے کہ عمران خان قوم سے کیے گئے عہد کو پورا کرینگے اور اس ملک اور قوم کو ترقی کے راستے پر گامزن کرکے نئے خواب کی تعبیر کا عملی ثبوت دینگے۔جمہوریت کو مستحکم کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کرچلنا اور ان کے تحفظ دور کرنا بھی حکومت کا فرض قرار پاتا ہے، عدم برداشت کا رویہ جمہوریت کیلئے سود مند نہیں ہے، اپوزیشن بھی ذمہ دارانہ سیاست کو فروغ دے اور برداشت کے جمہوری کلچر کو اپنائے، تاکہ جمہوریت مستحکم ہو اور ملک مسائل اور درپیش چیلنجز سے نکل پائے۔ عوام نئی کابینہ سے جو توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے اس پر پورا اترنا وفاقی کابینہ کا فرض قرار پاتا ہے، نیا پاکستان کانعرہ اسی وقت سچ ثابت ہوسکتا ہے جب واضح تبدیلی دیکھنے کو ملے۔ عوام کی امیدیں برآئیں اور یہ مسائل کے گرداب سے باہر نکل پائیں۔

صدارتی انتخابات کیلئے جوڑ توڑ
صدارتی انتخابات کے الیکشن شیڈول کا اعلان ہوتے ہی جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، تحریک انصاف نے ڈاکٹر عارف علوی کو صدر کے انتخاب کیلئے اپنا امیدوار نامزد کردیا ہے جبکہ ان کا مقابلہ ن لیگ کے امیدوار سے متوقع ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں بتایا ہے کہ اگلے ماہ ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے ڈاکٹر عارف علوی پی ٹی آئی کی جانب سے امیدوار ہوں گے۔ موجودہ صدر ممنون حسین کی مدت صدارت 8 ستمبر 2018 کو ختم ہوجائے گی جب کہ ملک کے 13 ویں صدر کے لیے انتخاب 4 ستمبر کو ہوگا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے صدارتی انتخاب کے لیے شیڈول پہلے ہی جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 27 اگست ہے اور 29 اگست تک امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہوگی، امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی 30 اگست تک واپس لے سکیں گے۔امیدواروں کی حتمی فہرست 30 اگست کو ہی جاری ہوگی جب کہ صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ 4 ستمبر کو قومی اسمبلی، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک ہوگی۔تحریک انصاف قومی اسمبلی اور دو صوبوں میں اکثریت رکھتی ہے جب کہ بلوچستان میں پی ٹی آئی مخلوط حکومت میں شامل ہے اور سینیٹ میں بھی اسے اتحادیوں کا تعاون حاصل رہے گا۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان صدارتی انتخاب کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں مقابلہ کانٹے دار ہوسکتا ہے۔

ایس کے نیازی کی وزیراعظم عمران خان کو مبارکباد
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پاکستان کے22ویں وزیراعظم ، عہدے کاحلف اٹھالیا ، صدرمملکت ممنون حسین نے عمران خان سے حلف لیا۔تقریب حلف برداری میں چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوزپیپرزاورچیئرمین روزنیوز ایس کے نیازی نے خصوصی شرکت کی۔سردارخان نیازی نے وزارتِ عظمیٰ کامنصب سنبھالنے پرعمران خان کودلی مبارکباد دی اورکہا وزیراعظم ہماری دعاہے آپ عوام کی امیدوں پرپورااتریں جس پروزیراعظم عمران خان نے ایس کے نیازی کاشکریہ اداکیااورکہا نیازی صاحب آپ کو بھی مبارک ہو،یہ سب میانوالی کیلئے باعث فخرہے۔ واضح رہے کہ پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور چیئرمین روز نیوز ایس کے نیازی نے پروگرام سچی بات میں اپنے تجزیے میں عمران خان کے وزیراعظم بننے کا اشارہ دیا تھا جو بے کم و کاست ثابت ہوا اور عمران خان وزیراعظم منتخب ہوگئے ، ایس کے نیازی کے تجزیے سیاسی افق پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں جن کو ناظرین بڑی دلجمعی کے ساتھ دیکھتے ہیں اور عوام میں یہ مقبول عام ہیں۔

پاکستان میں ’جمعیت علمائے ہند‘ کی باقیات کودھچکا

مان لیجئے ہم جس دنیا میں بس ہوئے ہیں حقائق کی دنیا ہے حقائق کی دنیا میں طلسمات کے سہارے ہمیشہ زندہ نہیں رہا جاسکتا جوشخص حقائق کی دنیا میں طلمسات کے سہارے ہمیشہ تادیرناموری اورشہرت کے ساتھ ‘حبِ دنیا’ کا بھی آرزومند ہوتا چاہتا ہے کہ وہ یونہی اپنے ماحول میں متکبر رہے’ دھکاوے کی اْس کی شان بان طلسماتی دنیا میں جگمگاتی رہے اْسے خبر ہونی چاہیئے کہ وہ سحر اور طلمساتی دنیا چھوڑکر اپنی پسند کی دنیا کہیں خود آباد کر لے’ فطرت کا بھی یہی اصول ہے مختصرسی تمہید کا مطلب یہ ہے کہ ہم ا پنے اردگرد نظریں دوڑائیں کہ ہمارے ہاں کیا ہو رہا ہے’ ہم طلسماتی سہاروں کی اصطلاح میں بات کیوں کرنے لگے ہیں ‘ طلسماتی سہارے’ جادو کے اعصاؤں پر ٹکی شخصیات جب اسلام کے نام پر اسلام فروشی کے ٹھیکیدار بننے لگیں تو وہ دین کی کوئی ادنیٰ سے بھی خدمت نہیں کررہے ہوتے، دین اور ایمان کا خوف دلاکر ذاتی فوائد کا کاروبار کرنے لگ جاتے ہیں جس میں اْنہیں کبھی کوئی گھاٹا نہیں ہوتا وہ اپنی کمریں کس کر سیاست میں کود پڑتے ہیں جناب فضل الرحمان نے گزشتہ دِنوں الیکشن کمیشن اسلام آباد کے سامنے سپریم کورٹ آف پاکستان اور پاکستانی مسلح افواج کے نام لے کر بڑی واہیات گفتگو کی ہے افواجِ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے ہم یہاں اْن کی لعن وطعن کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عرض کرنا چاہ رہے ہیں کہ 25جولائی کوعام انتخابات مکمل ہوگئے 13 اگست کونئی پارلیمنٹ کے منتخب اراکین قومی وصوبائی اسمبلیوں نے حلف بھی اْٹھالیئے’ملک میں تسلسل سے جاری جمہوریت کا تیسرا عہد شروع ہو چکا 18 اگست کو پاکستان کے نئے وزیر اعظم کا حلف تحریکِ انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اٹھا لیا ہے بلا کسی تعطل کے ملک میں تیسر ا جمہوری دور شروع ہوچکا ہے ہم بحیثیتِ قوم نئے ترقی یافتہ پُرجوش اقرباء پروری اور ’زیرو ٹالنس کرپشن سے پاک جمہوریت‘ میں نئے عزم سے داخل ہوچکے ہیں، قوم نے جولائی کے الیکن میں ’جمعیت علمائے ہند‘ کی پاکستانی باقیادت کو سبق سکھا دیا ہے 25 جولائی 2018 کے عام انتخابات میں صرف ایک مولانا فضل الرحمان نے اپنی دو سیٹیں نہیں ہاری ہیں بلاول زرداری لیاری کراچی سے منتخب نہ ہوسکے، مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف’ اسفندیارولی اورمولانا سراج الحق جیسے لیڈرمنتخب نہ ہوسکے ملک میں تبدیلی کی نئی لہر آئی جس میں نجانے اور کون کون اپنی سیٹوں سے ہاتھ دھو بیٹھا فضل الرحمان کواِس موقع پر بلاوجہ کی آہ وبکا کرنے کی بجائے دیکھنا چاہیئے کہ اْنہوں نے کیا واقعی اپنے اقتدار کے 13 برسوں میں اپنے حلقے کے عوام کو مسائل کوحل کرنے کی طرف کوئی توجہ دی ہے یا نہیں؟ گزشتہ13 برسوں کے دوران قومی اسمبلی کی کشمیر کے کمیٹی کے وہ چیئرمین رہے اْنہوں نے’عہدِ رزداری’ میں یا’عہدِ شریف’ میں بحیثیت چیئرمین کشمیر کمیٹی اپنی آئینی ذمہ داریوں سے انصاف کیا یا نہیں؟ جب وہ کشمیرکمیٹی کے چیئرمین تھے اْن دنوں میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں شہید مظفراحمدوانی کی قیادت میں تحریکِ آزادیِ کشمیرمیں ایسی ہی ایک بڑی موثر تحریک نمایاں ہوئی تھی، جس تحریک کاسلسلہ تادمِ تحریر جاری ہے، کشمیر میں بھارتی قابض افواج نے ظلم وستم کے کیسے کیسے المناک و دردناک پہاڑ ڈھا ئے اْس دورکی قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی نے کیا کشمیریوں پر بھارتی فوج کے ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف کوئی لائحہ عمل اپنایا تھا ؟ کشمیری عوام تک پاکستان کی اخلاقی ومادی ہمدردی کا کوئی ٹھوس اور جاندار پیغام پہنچایا؟ کوئی بڑا احتجاجی قدم اْٹھا یا؟ مولانا فضل الرحمان ویسے تو بڑی برھکیں مارتے ہیں عملاً دیکھا جائے تو سوائے حکومتی مراعات کیلئے فوراً آگے آنے کے علاوہ کہیں وہ نظر نہیں آتے اگر گزشتہ13 برسوں کے دوران بحیثیت چیئرمین کمشیر کمیٹی وہ خود بھارت کوللکارتے تواْن کی یہ آواز بیس کروڑ پاکستانی عوام کی ترجمان بن جاتی’وائے افسوس!کاش وہ اپنی گزشتہ آئینی کارکردگیوں کا تنقیدی جائزہ ہی لے لیتے لیکن یہ پاکستان ہے جہاں جس کا دل چاہتاہے دل کھول کر سیاست بھی کرتا ہے قومی اسمبلی میں پہنچ کر اللہ تعالیٰ کو حاضروناظر جان کر حلف بھی اْٹھاتا ہے آئینِ پاکستان کے تحفظ کا عہد بھی کرتا ہے اور ’حلف کی پاسداری‘ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے میں بھی سبقت لیجاتا ہے قرآنِ حکیم میں پروردگارِ عالم کا ارشاد ہے ‘جوعہد کرو اْسے پورا کرو ‘ اپنے عہد سے منہ نہ موڑو’آئینِ پاکستان کہتا ہے ملکی اعلیٰ عدلیہ اور مسلح افواج کے خلاف کوئی لفظ ادا نہ کیا جائے مگر’مولاناؤں’ کو کون سمجھائے وہ تو خود کو ہر آفاقی ودنیاوی قوانین سے بالاتر سمجھتے ہیں شائد ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے جیسے بعض اوقات اپنی ذاتی اغراض ومقاصد کے زیراثرآکراْن سے واقعی غلطیاں سرزد ہوجایا کرتی ہوں اوراپنی پہاڑ جیسی غلطیوں پر نادم ہونے کی بجائے وہ اتنے نخوت اور غرور پرست ہوجائیں کہ اْنہیں اپنی غلطیوں کی قیمت خود ادا کرنی پڑے واہ کمال ہے جنابِ والہ! فضل الرحمان جیسی شخصیت یہ فراموش کردے یعنی اپنی آئینی کوتاہیوں کو پس پشت ڈال کر اپنی کوتاہیوں کا ملبہ کسی دوسرے پر ڈالنے کیلئے کسی اورکی پیٹھ تلاش کرنے لگ جائے اور ملک کی اعلیٰ معززعدالت پراور ملکی افواج پرکیچڑاْچھالنے لگے جائیں کرپش میں ملوث سابق حکمران کا نام لئے کر سرعام یہ دعویٰ کرنے لگیں کہ’ہم آپ کو جیل کی سلاخوں سے باہر لے آئیں گے’کیااْن کا دماغ تونہیں چل گیا؟پاکستان ایک آئینی ریاست ہے’ کہیں مولانا ایسی ریاست کے خواہش مند تو نہیں جہاں کوئی آئین نہ ہو عدلیہ نہ ہو پولیس کا محکمہ نہ ہو سرحدوں کے تحفظ کیلئے افواج نہ ہوں’ دنیا میں کسی ایسی مادرپدرآزاد ریاست کی مثال مولانا فضل الرحمان اور اْن کے حمایتی پیش کرسکتے ہیں جمہوریت کے علاوہ دنیا میں بہترین حکمرانی کا کوئی سسٹم لائقِ تقلید نہیں ہے اور جمہوریت کا بنیادی اصول عوام کی خدمت اوراْن کے جان ومال کے تحفظ کے علاوہ کچھ اورنہیں ہے جمہوریت میں ‘جوابدہی’ بنیادی نکتہ ہواکرتا ہے’ عوامی جوابدہی کے اِسی اہم نکتہ نے آپ کوآج بْری طرح کی ناکامی سے دوچار کیا ہے اقتدار کے حصول کی بے لگام خواہش نے آپ کی عقل کو کند آپ کے کانوں کوبند کردیا ہے آپ کو دکھائی دیتا ہے لیکن آنکھوں کی حقیقی بصیرت نجانے آپ کہاں گنوا بیٹھے ہیں’ لہٰذا آپ اپنی عقلی وفکری اصلاح کی جانب فوری توجہ دیں ورنہ قوم آپ کومیرجعفر اور میرصادق کے نام سے پکارنے لگے گی کیونکہ قوم کو اپنے دوست دشمنوں کی بخوبی پہچان ہے آپ کے اُن بزرگوں کو ہم کیسے فراموش کردیں جنہوں نے قیامِ پاکستان کی راہ میں کانگریسیوں سے زیادہ روڑے اٹکائے، آپ کو والدِ محترم مرحوم مفتی محمود اکثر کہا کرتے تھے’پاکستان بنانے کے گناہ میں ہم شریک نہیں تھے یہاں اور بھی اِ سی تاریخی حوالے سے اور بھی بہت سے حقائق پیش کیئے جاسکتے ہیں ’ہند‘ کے پاکستان دشمنوں سے آپ کی راہ ورسم سے قوم بہت کچھ جانتی ہے پاکستان کے ساتھ آپ کے بزرگوں سمیت حالیہ کردار کی تلخ تاریخ کے واسطوں بند ہی رہنے دیں جناب! ہم تو صرف اتنا ہی عرض کریں گے جمعیت علمائے ہند کے بطن سے نکلنے والی ’جماعتوں ‘ کی باقیات سے اب پاکستانی قوم نے’ جمہوری لاء اینڈ سپرمیسی ‘کی طاقت کے ذریعے نبٹنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے اب بھی اگر آپ چاہئیں تو اپنی اصلاح کرسکتے ہیں۔
*****

عمران خان کے وژن کے مطابق تبدیلی کی ابتدا

بلا آخر ۲۲؍ سال کی جد وجہد کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین نے میدان مار لیا۔ مرکز میں اکثریت حاصل کی۔ وزیر اعظم کاحلف اُٹھالیا ۔ کہاں پیپلز پارٹی کے آصف علی زردای کا اپنی صدارت کے وقت ایوان صدر کے کچن پر صرف تزین و آرائش کیلئے ۲۷؍کروڑ روپے کا خرچہ اور کہاں اب عمران خان کی حلف برداری کی تقریب میں حاضرین کی صرف چائے او ر بسکٹ سے تواضع۔ فرق صاف ظاہر ہے۔ اُدھر کل سندھ کے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کے موقع پرپُرتکلف کھانوں کی خبر بھی الیکٹرونک میڈیا میں گردش کر رہی ہے۔ زرداری صاحب کے گھوڑے بھی تو مربے کھاتے رہے ہیں۔ کیانا اہل وزیر اعظم ان سے پیچھے تھے کہ لاہور میں زرداری صاحب کی جب جاتی امرا میں کھانے کی دعوت کی تھی تو ستر( ۷۰) قسم کے کھانے پیش کیے گئے تھے۔ رزداری صاحب کو پاکستان کے پراپرٹی ٹائکون ملک ریاض صاحب نے لاہور میں اربوں روپے سے تیار کیا گیابنگلہ تحفے میں پیش کیا تھا۔ کیا پبلک کے پیسے سے یہ بندر بانٹ نہیں تو کیا ہے؟ان حالات میں عمران خان وزیر اعظم پاکستان نے قائد اعظم ؒ کی یاد تازہ کر دی ہے۔ جب پاکستان کی پہلی کابینہ کا اجلاس تھا تو قائد اعظمؒ سے ان کے اے ڈ ی سی نے معلوم کیاکہ کابینہ کے ممبران کو چائے پیش کی جائے یا کافی۔ تو قائدؒ محترم نے فرمایا تھا کہ کیا یہ حضرات گھر سے چائے کافی پی کر نہیں آئیں گے۔ قائد اعظم ؒ نے خلیفہ دومؓ کی یاد کی تھی کہ جب وہ مملکت کے کاموں سے فارغ ہو کر ذاتی کام کرتے تھے تو بیت المال کے پیسے کا چراغ گل کر دیتے تھے اور ذاتی پیسہ کا چراغ چلاتے تھے۔ کیا خلفائے راشدینؓ نے سنت رسول ؐ پر عمل کر کے نہیں دکھایا تھا کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ مدینہ کیاسلامی ریاست کے سربراہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے گئے تو وہ ایک چٹائی پر سوئے تھے۔ ان کے جسم پر چٹائی کی نشان ظاہر ہو رہے تھے۔ حضرت عمرؓ بے ساختہ رونے لگے۔ رسولؐ اللہ کے معلوم کرنے پر بتایاکہ دنیا کے بادشاہ تو عیش اور آرام سے زندگی گزار رہے ہیں اور آپ مدینہ کی اسلامی ریاست کے سربراہ ہو ایک چٹائی پر سوتے ہیں۔دوسری تبدیلی بھی بڑی تاریخی ہے کہ خاتون اوّل بشریٰ بی بی صاحبہ بھی اسلامی پردے میں ملبوث وزیر اعظم کی حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوئی۔ اس میں مغرب میں زندگی گزارنے والے وزیر اعظم پاکستان عمران اور پہلی دو بے پردہ، بلکہ مغربی زندگی میں غرق دو سابقہ بیویوں کے مقابلے میں اتنی بڑی تبدلی کو قبول کرنے پرعمران خان کی ہمت اور اسلام سے محبت کی داد نہ دینا ان کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ کیا انہوں نے علامہ اقبال ؒ کی روایات کو زندہ کیا ہے۔ حکیم امت علامہ شیخ محمد اقبالؒ کو انگریز حکومت نے’’سر‘‘ کے خطاب سے نوازا ہوا تھا۔ ایک موقع پر انہیں حکومت انگلیشیہ کی طرف سے افریقہ میں اپنا نمائندہ بنا کر تعینات کیا ۔ ساتھ ایک شرط بھی رکھی کہ حکومت کے پروگروموں میں اپنی اہلیہ کو پردہ نہیں کرائیں گے۔ حکیم لا امت نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ ایک عہدے کیلئے اسلام کی احکامات پر عمل سے اپنی اہلیہ کو قطعاً نہیں روک سکتا۔ اس موقع پر ان کا مغربی تہذیب پر تنقید کا ایک شعر یاد آ گیا۔ شاعر اسلام علامہ اقبال ؒ نے کیا خوب کہا تھا:۔

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کے گی
جو شاخ نازک پہ آشانہ بنے گا نا پائیدار ہو گا۔
وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اپنی الیکشن مہم اور اس سے قبل ہر تقریر میں علامہ اقبالؒ اور قائد ؒ کے وژن کے مطابق چلنے کا کہتے رہے ہیں۔ آج اپنی حلف برداری میں انہوں نے اس پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔ یعنی تبدیلی آ گئی ہے۔ اب جن صوبوں میں ان کی حکومت بن رہی ہے ۔ ان میں بھی ایسی روایات کو برتنا چاہیے۔عمران خان نے ۲۲؍سال سے کرپشن کے خلاف مہم چلائی ہے۔پارلیمنٹ میں اپنی پہلی تقریر جس کوکچھ لوگوں نے تنقید کا حصہ بنایا ہم ان سے اختلاف کرتے ہوئے یہ کہیں گے کہ انہوں نے کون سی انہونی بات کی ہے۔اگر ان کو پہلی تقریر ہی نہ کرنے دی جائے اور ان کے سامنے عورتیں دوپٹے پھینکیں اور مرد شور شرابا کریں۔ تو ان کو شاباش دیں کہ آپ اپنا حق جمہورت ادا کر رہے ہیں۔کیا ملک میں اپنے منشور کے مطابق عمل کرنے والوں کو چھوڑ دیں اور اپوزیش کی بات مانیں۔ انہوں نے صحیح کہا کہ کسی بھی ڈاکو کو اب این اور آر نہیں ملے گا۔ ہر کرپٹ شخص کا احتساب ہو گا۔ الیکشن جینے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس میں نہیں بیٹھوں گا۔ چاروں گورنر ہاؤسوں کو بھی کسی اور استعمال میں لاؤں گا۔ اس پر بھی عمران خان وزیر اعظم پاکستان کو عمل درآمد کرنا چاہیے۔ اسلامی روایات کے مطابق حکومتی اخراجات میں بھی کفایات شعاری برتنی چاہیے۔ بیرونی قرضوں پر بھی ایک قومی پالیسی بنانی چاہیے۔ عمران خان نے یہ بھی کہا تھا کہ سب سے پہلے میرا احتساب ہونا چاہیے۔ پھر میری کابینہ کا۔ اس کے بعد کسی اور کا۔ یہ اعلان بھی خوش آئند ہے۔ جس کی بھی دولت اس کی آمدنی سے زیادہ ہے اس پر مقدمے قائم کیے جائیں۔ اگر ان لوگوں پر کرپشن ثابت ہو جائے ان سے عوام کے خزانے کا لوٹا ہوا پیسا واپس لے کر قرضے ختم کیے جائیں۔ عمران خان نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ جس بھی حلقے میں بقول اپوزیشن دھاندلی ہوئی ۔ اس کو حکومت کھولنے میں پس پیش نہیں کرے گی۔ اس پر عمل ہونا چاہیے۔ اپوزیشن کو مطمئن کرنا چاہیے۔ اس سے پارلیمنٹ کی کارروائی صحیح سمت میں چلے گی۔ عوام کے حق میں قانون سازی ہو سکے گی۔ عمران خان نے حکومت کے نظام کو مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست اور قائدؒ کے اسلامی اور دو قومی نظریہ کے وژن کے مطابق کرنے کا بھی کہا تھا۔ اب عمران خان کو چاہیے کہ آئین پاکستان کی بنائی ہوئی اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایک کر کے پاکستان کے سارے غیر اسلامی قوانین کوقرآن و سنت کے مطابق بنانے کا آغاز کریں۔ ملک کی ساری دینی جماعتیں اور ملک کی خاموش اکثریت جو اس کام کا اکتر(۷۱) سال سے انتظار کر رہی ہے۔ ان کا ساتھ دے گی۔ پاکستان اللہ کے نام سے وجود میں آیا تھا۔ اگر لا الہ الا اللہ کا نظام رائج کر دیا ہوتا تو مشرقی پاکستان ہم سے قومیت کی بنیاد پر دشمن پاکستان شیخ مجیب اور بھارت کی فوج کشی سے علیحدہ نہ ہوتا۔ اگر مسلمان ایک ہزار سال تک دنیا کے ایک بڑے حصے پر خلافت کے نظام کے تحت سیکڑوں قوموں، زبانوں، تہذیبوں اورثقافتوں والے لوگوں کو ایک مرکز پر جمع کے کامیاب حکومت چلا سکتے ہیں تو کیا وجہ تھی کہ بنگالی قومیت کو پاکستان کے ساتھ ملا کر نہ ر کھ سکے۔ ہمارے نزدیک حکمرانوں نے آزادی کے وقت اللہ سے جو وعدہ کیا تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا ’’لا الہ الا اللہ‘‘ اس پر عمل نہیں کیا۔ جس وجہ سے دشمن نے ہمارا ایک بازو ہم سے کا ٹ دیا۔ اللہ کرے عمران خان اپنے وعدے پورا کرے اور پاکستان کو بانی پاکستان کے وژن کے مطابق مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست بنائے۔ آغاز تواچھا ہے اللہ انجام بھی اچھا کرے گا ۔آ مین۔
****

ٹرمپ…ام الخبائث

ام الخبائث کا لفظ عمومی طور پر شراب کیلئے استعمال ہوتا ہے کہ اس کا عادی جس گھر میں ہو وہ پورے محلے کیلئے وبال بنا رہتا ہے،میں اس لفظ کو ٹرمپ کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہوں کیونکہ حالیہ ایک دو برسوں میں بعض ممالک کے مابین اور امریکہ سے براہ راست تناو کا ذمہ دار خود ڈونلڈ ٹرمپ ہیں،ان کا وجود جہاں خود امریکہ کیلئے وبال بن رہا ہے وہاں دنیا کے امن کیلئے بھی وبال بن چکا ہے،جب سے امریکی اقتدار کی باگ ڈور ٹرمپ کے ہاتھ آئی ہے اب تک وہ درجنوں ممالک سے سینگ پھنسا چکے ہیں،آتے ہی روس پر الزام تراشی شروع کر دی تھی کہ اس نے امریکی انتخابات میں مداخلت کی جبکہ شمالی کوریا سے ایٹمی ہتھیاروں کا تنازعہ اٹھا دیا۔چین سے اقتصادی جنگ چھیڑی تو اب یہ حربہ ترکی کے خلاف بھی استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ایران اور شام پہلے ہی کسی امریکی حکمران کو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ افغانستان پر پچھلے دو عشروں سے قابض ہے اسی آڑ میں پاکستان بھی اس کے نشانے پر رہتا ہے۔پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہونے کے باوجود امریکی چکر بازیوں اور ریشہ دوانیوں سے محفوظ نہیں رہا ہے۔بازو مروڑ کر کام نکلوانا امریکی حکام کا پرانا وطیرہ رہا ہے اور اب بھی یہ حربہ استعمال ہو رہا ہے۔کبھی ایک امدادی فنڈ روک لینا کبھی دوسرے کی کٹوتی کر لینا تو کبھی براہ راست دھمکیاں دینا , کیا کچھ نہیں کیا گیا پاکستان کے خلاف یا آئندہ نہیں کیا جائے گا،ابھی چند دن قبل ٹرمپ انتظامیہ نے خاموشی کے ساتھ ایسے باہمی فوجی تربیتی اور تعلیمی منصوبوں کو ختم کردیا جو گزشتہ دو دہائیوں سے بھی زائد عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط عسکری تعلقات کی بنیاد تھے۔پاکستان کے لیے انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام (آئی ایم ای ٹی) کے تحت رواں سال 66 پاکستانی عسکری افسران کو تربیت فراہم کرنا تھی جو امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اب یہ مواقع یا تو استعمال نہیں ہوں گے یا کسی اور ملک کو فراہم کردیئے جائیں گے۔امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کو رواں سال صدر ٹرمپ کے ان اقدامات کے تناظر میں سمجھا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے پاکستان کی جانب سے ڈومور پر مزید عمل نہ کرنے پہ امریکی سیکیورٹی مدد ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔امریکی انتظامیہ کے فیصلے کو ماہرین کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان کے مطابق یہ پریشان کن فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کیلئے شدید نقصان دہ ہے۔ عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے عسکری اہلکاروں کی اعلیٰ تربیت کیلئے چین اور روس سے رجوع کرسکتا ہے۔پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکہ کے سابق نمائندہ خصوی، ڈین فیلڈ مین نے اس اقدام کو بہت تنگ نظری قرار دیتے ہوئے اس سے دونوں ممالک کے مستقبل پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکی اور پاکستانی عسکری حکام آئی ایم ای ٹی سے الگ رہتے ہوئے کس طرح کے اعلی سطح تعلقات قائم رکھ سکیں گے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان اور امریکی فوجی تعاون ہمیشہ سے سیاسی دباؤ اور تعلقات سے آزاد رہا ہے آج یہ بھی ٹرمپ کی جارحانہ پالیسی کی زد میں آ چکا ہے۔یہ اقدام بھارتی لابی کی کوشش سے ہوا ہے جو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا ایک اقدام ہے۔ ماضی میں بھی جب پاکستان پر ایٹمی حوالے سے امریکی پابندیاں عائد کی گئیں تو تب بھی اس پروگرام کے تحت پاکستانی فوجی افسروں کی امریکہ میں ٹریننگ بند کر دی گئی تھی۔بعد ازاں غلطی کا احساس ہونے پر بحال کردیا گیا۔ یقیناًاب پاکستان متبادل ایونیو تلاش کرے گا جو روس اور چین ہو سکتا ہے جس پر پیشرفت بھی سامنے آ چکی ہے۔یہ پیشرفت گزشتہ ہفتے ہی روس اور پاکستان میں فوجی تربیت کے ایک معاہدے پر دستخط کی شکل میں ہوئی ہے جس کے تحت پاکستانی فوجی افسران روسی اداروں میں تربیت حاصل کریں گے۔اس موقع پر روسی نائب وزیر دفاع نے پاکستانی سیکرٹری دفاع، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی سے ملاقاتیں بھی کیں۔اس دوران پاکستانی فوجیوں کی روس میں تربیت کے تاریخی معاہدے کے علاوہ روس نے پاکستان کو ایس یو 35 لڑاکا طیارے دینے کی پیشکش بھی کی۔پاکستان اور روس کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے جو خوش آئند ہے۔ایک خطے میں ہونے کے باوجود ماضی میں یہ تعلقات دوستی میں نہ ڈھل سکے تو اس کی بنیادی وجہ پاکستان کا امریکہ کی جانب جھکاؤ اور روس کا بھارت کی طرف جھکاؤ تھا۔ یہ جھکاو دونوں کو کتنا مہنگا پڑا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔روس افغانستان میں سینگ پھنسا کر دو لخت ہوا تو دوسری جانب امریکہ مطلب نکلنے کے بعد پاکستان کو افغانستان کی دلدل میں تنہا چھوڑ کے چلتا بنا اس کے بعد جس بربادی نے جنم لیا اس نے ہمارے درودیوار ہلا کر رکھ دیئے۔حالیہ افغان جنگ میں اگر پاکستان کنارہ کش ہو رہا ہے تو اس کی وجہ ماضی کا تلخ تجربہ ہے۔ اس لیے صرف امریکہ پر تکیہ کی بجائے روس سے بھی مستحکم تعلقات کوفروغ دینا چاہیے۔چین سے تو پہلے تعلقات مثالی ہیں۔روس کے ساتھ فوجی جوانوں کی تربیت کا معاہدہ دونوں ممالک کو مزید قریب ہونے کا موقع فراہم کرے گا۔ قبل ازیں پاکستان اور روس مشترکہ مشقیں کر چکے ہیں۔ روس کے پاکستان کی طرف جھکاؤ سے خطے میں طاقت کا توازن بہتر اور بھارت کی علاقے کا تھانیدار بننے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔پاکستان کے لیے یہ اچھا موقع پیدا ہو رہا ہے کہ ترکی بھی روس کے بہت قریب ہو چکا ہے جبکہ ترکی اور پاکستان پہلے ہی یکجان دو قالب ہیں۔ترکی کے خلاف حالیہ امریکی اقدامات پر پاکستان تشویش کا اظہار کر چکا ہے ۔دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کسی بھی ملک کی جانب سے دوسرے ملک پر عائد کی جانے والی یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے پاکستان ترک حکومت اور عوام کے ساتھ ہے۔پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم عمران خان بھی وزیراعظم منتخب ہونے سے قبل ہی امریکی پابندیوں کی شکار ترک قوم سے اظہار یکجہتی کر چکے ہیں۔عمران خان نے اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں ترک صدر رجب طیب اردوان اور ترک عوام کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستانی عوام دعا گو ہیں کہ ترکی درپیش معاشی چیلنجز سے چھٹکارا حاصل کرلے گا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ترکی نے جس طرح ماضی میں کامیابی سے مشکلات کا مقابلہ کیا، وہ اب بھی درپیش مصائب سے نبرد آزما ہوگا۔ترکی اور امریکہ کے جاری تنا کی وجہ سے ترک کرنسی کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں 16 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مزید معاشی دہشت گردانہ حملوں کی دھمکی دے رہا ہے۔ چند روز قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں دھمکی دی کہ ترک کرنسی لیرا کی قیمت ہمارے مضبوط ڈالر کے مقابلے میں کم ہونے کے باعث ایلمونیم کی درآمدات کی قیمت کو 20 فیصد تک جبکہ اسٹیل کی درآمدات کی قیمت کو 50 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔پاکستان اور ترکی کے درمیان قیام پاکستان سے برادرانہ تعلقات ہیں۔ رواں سال فروری میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف(گرے لسٹ) فنانشل ٹاسک فورس کی فہرست میں ڈالنے کے امریکی اقدام کی مخالفت صرف ترکی نے کی تھی۔پاکستان کیلئے بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں چین روس ترکی ایران کے ساتھ ملکر دفاعی تعاون کو فروغ دینا وقت کا تقاضا ہے۔آخر کب تک امریکی دھونس سے مرعوب ہوتے رہیں گے ۔امریکہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ خطے میں پاکستان کو تنہا کر لے گا تو وہ مغالطے کا شکار ہے،الٹا خود امریکہ اس خطے کے اہم ممالک کے تعاون سے محروم ہو کر تنہا ہو رہا ہے۔

*****

تبدیلی ضرور آئے گی

ترقی یافتہ ممالک کی ترقی میں سب سے اہم کردار ان کے حکمرانوں کا ہے جو فضو ل پروٹوکول کو اپنے لئے ناجائز سمجھتے ہیں اور کئی ممالک کے وزراء اور وزیر اعظم تک سائیکلوں پر سفر کرتے ہیں عوامی بسوں اور ٹرینوں میں کھلے عام سفر کرتے ہیں نہ ان کی جان کو خطرہ ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے عوام کا پیسہ اور وقت ضائع ہوتا ہے ایسے میں ان کے عوام بھی ان سے خوش ہوتے ہیں ان ترقی یافتہ ممالک میں جو بھی منصوبے بنائے جاتے ہیں چاہے وہ ترقیاتی ہوں یا غیر ترقیاتی ان میں یہ بات سامنے رکھی جاتی ہے ک عوام کو ان کی کس حد تک ضرورت ہے کوئی بھی حاکم صرف اور صرف اپنی پبلسٹی کیلئے نہ تو کوئی منصوبہ لگا سکتا ہے اور نہ ہی اس کو ایسے منصوبے کی منظوری مل سکتی ہے وجہ ہے ان کی عوام دوستی۔ اب پاکستان میں نئی حکومت بننے جا رہی ہے اور جب تک یہ کالم آپ لوگوں تک پہنچے گا تب تک شاید یہ حکومت بن چکی ہو مگر ایک بات جو حوصلہ افزاء ہے وہ ہے کہ نئے آنے والے متوقع وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پروٹوکول لینے سے انکار کر دیا ہے اور اس کی مثال ہم گزشتہ روز دورہ پشاور میں دیکھ بھی چکے ہیں اور جس سے یہ امید پیدا ہو چکی ہے کہ شاید اب کی بار حقیقی تبدیلی آ سکے کیونکہ ماضی میں ہم دیکھتے رہے ہیں کہ پہلے سو دنوں میں حکومت جو وعدے کر کے آتی رہی ہے وہ پہلے دس دنوں میں ہی ردی کی ٹوکری میں پڑے ہوئے ملتے تھے لیکن اب لوگوں کو ایک نئی امید عمران خان کی جانب سے دلوائی گئی ہے اور یہ بات ان کے مخالفین بھی جان چکے ہیں کہ خان جب کسی کام کی ٹھان لیتا ہے تو وہ پھر واپس نہیں دیکھتا اسی لئے پوری قوم پر امید ہے ساتھ ساتھ انھوں نے تمام وزراء پر چیک رکھنے اور ان کو مانیٹر کرنے کی بات کر کے ان لوگوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے جو کہتے تھے کہ خان کے ساتھ وہ لوگ جارہے ہیں جو کرپشن کیسزمیں مطلوب ہیں لیکن خان کے ارادوں سے لگتا ہے کہ آخری فیصلہ اس کا اپنا ہو گا گزشتہ پانچ سالوں کی کارکرودگی کو اگر سامنے رکھا جائے تو خیبر پختونواہ میں حقیقی تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے اور ناقدین بھی اس تبدیلی کو محسوس کر کے خان کے گڈ گورننس کی داد دینے پر مجبور ہیں ساتھ ساتھ پاکستانی پولیس کو ٹھیک کرنے کی بات بھی خیبر پختونوا ہ میں دیکھی جا سکتی ہے بھلے وہاں پر یہ نظام پوری طر ح فعال نہیں ہوا لیکن بہتری تو ہوئی ہے اور اس بات کا اعتراف وہاں کی عام عوام کرتے ہیں عمران خان کیلئے سب سے بڑا چیلنج مہنگائی کو کنٹرول لوڈشیڈنگ سے نجات ہو گا اس پر بھی عمران خان کے ارادے پہاڑ کی طرح اونچے نظر آ رہے ہیں جبکہ دوسری طرف مفاد پرست ٹولہ اپنی ناکامی کو دھاندلی کے گھسے پھٹے نعرے میں رنگ کر یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ عمران خان کی حکومت کو بلیک میل کر لے گا لیکن شاید اب عوام بھی جان چکے ہیں کہ ہارے ہوئے مہرے جب اقتدار میں تھے تو کسی ایک معاملے پر کھبی بھی ایک نہ ہو سکے لیکن اب ایک سیاسی طاقت پاکستان تحریک انصاف سے پٹنے کے بعد ایک ہو چکے ہیں اب ان کو پاکستان تحریک انصاف اپنے راستے کی سب سے بڑی دیوار نظر آ رہی ہے تمام ہاری ہوئی جماعتوں کا وہ مکروہ چہرا عوام کے سامنے آ چکا جو کھبی بھی سامنے نہ آ سکا کوئی مذہبی چورن بیچ کر ووٹ لیتا تھا تو کوئی سٹرکوں کے نام پر کوئی ڈیمز بنانے یا نہ بنانے کے نام پر مگر اب شاید یہ ممکن نہیں رہا اسی لئے دیگر تمام جماعتوں کو اپنی ہار سامنے نظر آنے کے بعد اور آئندہ مستقبل میں جس جماعت سے خوف نظر آرہا ہے وہ بلا شبہ پاکستان تحریک انصاف ہے پاکستان تحریک انصاف نے عوام کو وہ شعور دیا جو سب سے پہلے قائد اعظم کے ولولہ انگیر خطابات سے عوام کو ملا بعد ازاں جب ملک مارشل لا کے ادوار میں چلا گیا تو یہ شعود پھر کہیں عوام کی پریشانویوں میں گم سم ہو گیا جسے بعد ازاں شہید ذولفقار علی بھٹو نے جگایا اور اس کے بعد آج اکیسویں صدی میں پاکستان تحریک انصاف کے کپتان عمران خان نے عوام کو بتایا کہ کس طرح ان کا پیسہ چوری ہو ا کس طرح ان کو بے دردی سے لوٹا گیا کس طرح ان کے دیے گے ٹیکس پر ڈاکا ڈالا گیا اب یہ احتساب کا عمل رکنے والا نہیں اس میں وہ چار سو لوگ ضرور آئیں گے جن کا نام پاناما میں ہے پاکستان میں اگر پاکستان تحریک انصاف نے صرف کرپشن اور مہنگائی پر قابو پا لیا تو یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہو گی اور اگر جو منصوبے عمران خان کی طرف سے پیش کیے گئے ہیں ان میں سے پچاس فیصد پر بھی کام ہو گیا اور تو پھر اگلے بیس سالوں تک دیگر کسی جماعت کا پاکستان میں حکومت بنانے کا خواب ادھورا ہی رہے گا اس وقت پاکستان کو اندرونی اور بیرونی طور پر بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے اندرونی طور پر دہشت گردی اور توانائی بحران ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال اور قرضوں کی ادائیگی سب سے بڑا چیلنج ہیں ان پر قابو پانے کیلئے عمران خان کو جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا ایسے میں کپتان کی قیادت میں پاکستانی عوام ایک بہتر کل کی متلاشی ہے اور عوام کو امید ہے کہ خان کچھ اچھا ہی کرے گا خان کی ٹیم کیلئے ضروری ہے کہ وہ عوام کے بنیادی مسائل کو اولین ترجیح دے اور ان کے مسائل کے تدارک کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں ملک میں مہنگائی بیروز گاری کو کنٹرول کر کے عوام کو ریلیف دینے سے ہی استحکام آ سکتا ہے بلا شبہ عوام نے خان کو ووٹ صرف تبدیلی لانے کیلئے دیا ہے۔ اب یہ عمران خان کا کام ہے کہ وہ اس تبدیلی کو سامنے لائے اور لوگوں کو وہ کر دیکھائے جس کا اس نے وعدہ کیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ عمران خان اپنے وعدے کو پورا کرنے کیلئے آخری حد تک جائے گا باقی عوام کا اگر اس کے ساتھ تعاون رہا تو وہ ضرور تبدیلی لائیگا۔
*****

عمران خان اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بائیسویں وزیراعظم منتخب

adaria

انتقال اقتدار کااہم پارلیمانی مرحلہ مکمل ہوگیا ، وزیراعظم کاانتخاب جیتنے کے بعد تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان انتخابات کیلئے ہونیوالی رائے شماری کے نتیجے میں ملک کے بائیسویں وزیراعظم منتخب ہوگئے ،عمران خان 176ووٹ لئے جبکہ شہبازشریف کو 96ووٹ ملے، اس طرح کپتان میچ میں فاتح قرارپائے ، عمران خان نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے ،صدرمملکت ممنون حسین نے ان سے حلف لیا، عمران خان کی زندگی میں کئی نشیب وفراز آئے مگر انہوں نے جدوجہد جاری رکھی ،کرکٹ کیریئرکاآغاز 1971ء میں کیا، 1992 میں ورلڈکپ جیتنے کے بعد اسے خیبرباد کہہ دیا1996میں پی ٹی آئی قائم کی جو بائیس سال کی طویل کوشش کے بعد سب سے بڑی جماعت بن کرابھری، عمران خان چاربہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں اور میانوالی میں پیدا ہوئے آکسفورڈ میں گریجویشن کی اوران کاتبدیلی کانعرہ معروف بیانیہ رہا۔وزیراعظم کے چناؤ کے بعد سپیکر کی جانب سے انتخابی نتائج کے اعلان کے وقت بھی مسلم لیگ ن نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی اور ایوان کی کارروائی کو آگے نہ چلنے دیا یہی نہیں بلکہ سپیکر کو صرف عمران خان کے حاصل کردہ ووٹ ہی بتانے کا موقع ملا کہ مسلم لیگ ن نے سپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کر لیا اور شدید نعرے بازی کی جس کے جواب میں پی ٹی آئی ممبران اسمبلی اور گیلری میں بیٹھے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حاضرین نے بھی سخت نعرے بازی کی ۔عمران خان نے منتخب ہونے کے بعد اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ گزشتہ 10 سال میں 28 ہزار ارب روپے کا قرض لیا گیا ٗلوگوں کی تعلیم کا پیسہ لوٹا گیا ٗہم قوم سے پیسہ اکٹھا کریں گے، کسی سے بھیک نہیں مانگیں گے اور میں ہر مہینے میں دو بار ایوان میں کھڑا ہو جواب دوں گا۔انہوں نے کہاکہ آج دھاندلی کا شور مچانے والوں نے 4 حلقے نہیں کھولے تھے ٗ ہمیں عدالتوں دمیں جانا پڑا ٗہم نے جوڈیشل کمیشن میں جاکر چالیس پوائنٹس پیش کیے۔اگر یہ ایکشن لے لیتے تو ہمارا الیکشن ٹھیک ہوجاتا۔ ہم نے جدوجہد کی تو مجھے برا بھلا کہا گیا ہم سب کچھ ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کے لیے کر رہے تھے لیکن اس جدوجہد میں مجھے کہا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ میرے پیچھے ہے۔انہوں نے کہا کہ کرکٹ کی 150 سالہ تاریخ میں میری وجہ سے نیوٹرل امپائر آئے ٗاب پاکستان کی سیاست میں بھی نیوٹرل فیصلے ہوں گے، سیاست میں ایسے فیصلے کریں گے کہ ہار جیت والے دونوں قبول کریں گے اور انتخابی عمل کو بہتر بنائیں گے۔نومنتخب وزیر اعظم نے دھاندلی کی شکایت کرنے والوں کو الیکشن کمیشن جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات میں تعاون کریں گے، ہمیں معلوم ہے ہم نے دھاندلی نہیں کی، کسی قسم کی بلیک میلنگ میں آیا نہ آؤں گا۔ وہ احتجاج کیلئے کنٹینر سپلائی کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن آپ ہمارے خلاف احتجاج کریں کھانا بھی ہم سپلائی کریں گے ٗ وہ جو چاہے کرلیں ایک ماہ بھی دھرنا نہیں دے سکیں گے۔ آپ الیکشن کمیشن کے پاس جائیں سپریم کورٹ جائیں ہم آپ کو کچھ نہیں کہیں گے۔ہم 43 حلقوں میں پنجاب میں تین ہزار ووٹوں سے ہارے تو پھر اتنے سے ووٹوں کے لیے کسی نے ہماری مدد کیوں نہیں کی؟ آپ جس عدالت میں جائیں گے ہم آپ کی مدد کریں گے کیوں کہ ہمیں پتہ ہے ہم نے دھاندلی نہیں کی ۔مجھے ایک لیڈر پر فخر ہے جس نے مجھ زیادہ جدوجہد کی وہ میرے ہیرو قائداعظم محمد علی جناح ہیں۔ ہاؤس میں ڈبیٹ کریں گے، کیسے قرضہ چڑھا اس کا جائزہ لیں گے ٗ ملک میں ایک ایسا نظام بنائیں گے کہ ہمیں کسی باہر کی قوم کے سامنے جھکنا نہ پڑے۔ نوجوانوں کو پیغام دے رہا ہوں کہ ان کی وجہ سے میں یہاں ہوں، ان کیلئے حالات کار بہتر بنائیں گے۔عمران خان کو اس وقت حکومت ملی جب معیشت زبوں حالی کاشکار ہے اندرونی اوربیرونی خطرات بھی دکھائی دے رہے ہیں خارجہ امور درستی کے متقاضی ہیں اور عوام الناس کو ریلیف بھی کسی چیلنج سے کم نہیں ان کیلئے حکمرانی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے لیکن امید کی جاسکتی ہے کہ عمران خان کی وضع داری ثابت قدمی ان چیلنج سے ملک اور قوم کو نکالے گی،ملکی معیشت اس وقت 95ارب ڈالر کے قرضوں تلے دبی ہوئی ہے درآمدات وبرمدات میں تفاوت نصف سے بھی زیادہ ہے خط افراد سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد اوربیروزگاری میں بتدریج اضافہ ہورہاہے ان حالات میں اگرچہ چین اورسعودی عرب پاکستان کی امداد کیلئے آگئے ہیں تاہم یہ ناکافی ہے اس حوالے سے نئی منتخب حکومت کو دوست ممالک پرزیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے سسٹم کوٹھیک کئے بغیر مسائل پرقابونہیں پایاجاسکتا۔ عمران خان کووہ سب کچھ دکھاناہے جو وہ جلسوں میں کہتے رہے ہیں۔ آئین وقانون کی بالادستی قائم کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کامعیارزندگی بلند کرنا ،کرپشن کاخاتمہ ، اورنیا پاکستان بنانے کاعہدان کو پوراکرناہوگا۔یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کرعمران خان ملک کو مسائل سے نکال سکتے ہیں اپوزیشن کوساتھ لیکرچلنا ضروری ہے۔اپوزیشن بھی برداشت کے جمہوری کلچر کوفروغ دے تاکہ جمہوریت مستحکم ہو۔
پنجاب میں حکومت سازی کاآخری مرحلہ
پنجاب میں حکومت سازی کا آخری مرحلہ شروع ہوگیا، قائد ایوان کے انتخاب کیلئے ووٹنگ 19اگست کو ہوگی۔پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر تو منتخب ہوگئے، اب گلا مرحلہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا ہے،18اگست کو شام 5بجے تک وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے کاغذات نامزدگی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع ہوں گے جبکہ وزیراعلیٰ کا انتخاب 19اگست کو ہوگا۔(ن) لیگ کی جانب سے حمزہ شہباز وزیراعلیٰ کے امیدوار ہیں جبکہ عمران خان نے سردار عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کیا ہے۔ سردار عثمان بزدار کا تعلق سب سے پسماندہ علاقے سے ہے وہ جس علاقے کے ہیں وہاں وسائل نہیں ہیں۔ وہ اس علاقے میں ایسے رہ رہے ہیں جیسے پرانے زمانے میں رہ رہے ہوں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس ملک کا غریب آدمی کیسے رہتا ہے ۔ وہ چیف منسٹر بنیں گے تو انکو پتہ ہوگا کہ اس ملک کے غریب لوگوں پر کیا گزررہی ہے۔ یہ وہ واحد ایم پی اے ہے جس کے گھر میں بجلی نہیں ہے۔انہوں نے2008کا الیکشن مسلم لیگ (ق) جبکہ2013کاالیکشن (ن) لیگ کے ٹکٹ سے لڑا عثمان بزدار 2018 کے انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی 286 ڈیرہ غازی خان 2 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر 26 ہزار سے زائد ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔مسلم لیگ نون اورتحریک انصاف نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کیلئے جوڑ توڑ کاسلسلہ شروع کررکھا ہے دونوں جماعتیں ایڑی چوٹی کازورلگارہی ہیں تاہم پی ٹی آئی کی پوزیشن واضح ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ پی ٹی آئی کے سردارعثمان بزداروزیراعلیٰ کاانتخابی معرکہ مار لیں گے۔

 

 

 

بھارتی بچوں کی زبوں حالی

نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن بھارت کا ایک سرکاری ادارہ ہے۔ اس ادارے نے بھارت کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ یہاں کم سن بچوں پر جو ظلم ہو رہے ہیں وہ بہت افسوسناک اور شرمناک ہیں۔ معاشرہ ان پر کوئی توجہ دینے کی بجائے نظر انداز کیے ہوئے ہے۔ ایک سرکاری ادارہ ہونے کی وجہ سے ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ بھارت میں بچوں کی زبوں حالی کی جو تصویر پیش کی گئی ہے اس کی بنیاد کسی قسم کے تعصب یا پروپیگنڈے کی بنیاد پر رکھی گئی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ہر سال بھارت میں گیارہ ہزار سے زائد کم عمر بچے اغوا کر لئے جاتے ہیں۔ جو کبھی بھی اپنے والدین کے پاس واپس نہیں آسکتے۔ اس کے علاوہ تقریباً چھ کروڑ کے لگ بھگ ایسے بچے ہیں جن سے انتہائی کم عمری میں اتنی مشقت کرائی جاتی ہے کہ اس کا تصور بھی کوئی مہذب انسانی معاشرہ نہیں کر سکتا۔صنعتکار اور کارخانہ دار چھوٹی عمر کے بچوں کو اپنے کارخانوں میں بطور مزدور بھرتی کر لیتے ہیں۔ ان سے سخت کام کرواتے ہیں اور ان کو مزدوری بھی بہت کم دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کو جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ مگربھارتی حکومت یہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس سے نظریں چرا رہی ہے۔ بھارت میں بچوں کی خرید و فروخت کیلئے کشمیر کے ایک ضلاع اودھم پور میں ایک منڈی لگائی گئی جس میں سینکڑوں بچے فروخت کیلئے لائے گئے۔ ان بچوں کی عمریں 8 سے 15 سال تک تھیں اور ان کی قیمتیں 5 ہزار سے 20 ہزار تک رکھی گئی تھیں۔ حد تو یہ کہ ان بچوں نے پوسٹر اٹھائے ہوئے تھے جن پر لکھا تھا کہ آپ ہمیں خرید لیں۔ اس منڈی میں فروخت ہونیوالے بچے مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندو خاندانوں سے بھی تعلق رکھتے تھے۔ ہندوخاندانوں کے سربراہوں کا کہنا ہے کہ غربت اور مفلسی سے تنگ آکر وہ اپنے بچوں کو فروخت کر رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان بچوں میں سے 80 بچوں کو عمر 8 سے 12سال تک کی تھیں جبکہ 8 سے 15 سال تک کی عمر کی بچیاں بھی یہاں فروخت ہونے کیلئے آئی تھیں۔ کیمپ سے تقریباً 20 سے25 بچوں کو خرید اور بیچا گیا۔ غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی جمہوریت کے چرچے ایک عالم میں ہیں اور کہا جاتا ہے کہ وہاں انسانی حقوق کے احترام کی صورتحال مثالی ہے۔ بھارتی اخبارات کے مطابق خاوند کی موت کے بعد اس کی بیوی کو زبردستی اس کی چتا میں جلا دیا گیا۔ بھارت میںیہ رسم ستی کے نام سے مشہور ہے۔ اس بدقسمت خاندان کی15 اور 12 سالہ بیٹیوں نے تحقیقاتی کمیشن کو بتایا کہ ہماری ماں کسی بھی قیمت پر مرنا نہیں چاہتی تھی اور ستی ہونے کیلئے ہرگز تیار نہ تھی مگر ہمارے والد کے بھائیوں نے اسے ڈنڈوں سے مارا پیٹا اور پھرزبردستی آگ میں ڈال دیا مگر پورے گاؤں میں سے کوئی بھی اسے بچانے نہ آیا۔ اس سانحہ کا ان ایسا اثر ہوا کہ خوف اور صدمے سے وہ اپنا ہوش کھو بیٹھیں۔ بڑی بیٹی تو ابھی تک سکتے کی حالت میں ہے اور کیوں نہ ہو بھلا جن معصوم بچوں کے سامنے چند گھنٹے قبل ان کے باپ نے دم توڑا اور پھر ان کی بد نصیب ماں کو بھی بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر شوہر کی لاش کے ساتھ ہی زندہ جلنے پر مجبور کردیا جائے بھلا ان بچوں کی ذہنی حالت کیا ہوگی۔ سانحہ کے بعد یہ دونوں بچیاں لاوارث ہو گئیں۔ اگر ایساکوئی واقعہ پاکستان میں رونما ہوجاتا تو انسانی حقوق کے خود ساختہ چیمپئن ایسی ایسی دور کی کوڑی لاتے کہ خدا کی پناہ۔ کہیں معاشرے کو اس کا ذمہ ٹھہرایا جاتا تو کہیں مذہب کو۔ مغربی دنیا کے کچھ نام نہاد انسانی حقوق کے ادارے پاکستان کوایک ناکام ریاست ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے۔ مگر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ میں ایسے سانحے روز کا معمول ہیں لیکن وہاں تو سب ادارے اپنی مصلحتوں کے تحت جان بوجھ کر خواب خرگوش میں مبتلا رہتے ہیں۔ بھارت میں خواتین اور بچوں کی زندگی اس قدر خطرناک رخ اختیار کر چکی ہے کہ ملک کے بعض علاقوں میں بچوں کی خرید و فروخت کو ایک رسم کا درجہ حاصل ہے۔بھارت میں انسانی حقوق کی جو پامالیاں ہو رہی ہیں خصوصاً بچوں اور خواتین سے جو سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ رونگٹے کھڑنے کردینے والا ہے۔ جنوبی ایشیاء کی سب سے بڑی معاشی طاقت کہلانے والے بھارت کو معصوم بچوں کی خرید و فروخت کا یہ رستا ہوا ناسور نظر نہیں آرہا۔ بھارت کے چہرے پر یہ بدنما داغ اس کی منافقانہ پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں سالانہ سات ہزار دو سو سے زائد بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں اور اس سے نمٹنے کیلئے حکومتی انتظامات کافی نہیں۔82 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی گھروں، سکولوں اور بچوں کیلئے بنائی گئی پناہ گاہوں میں جنسی استحصال ’ تشویشناک حد تک عام‘ ہے اور ایسے بچوں کو اکثر پولیس کی بدسلوکی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔بھارتی حکومت کی ایک تحقیق سے پتا چلا تھا کہ جائزے کے دوران جب بارہ ہزار تین سو بچوں سے بات کی گئی ان میں سے 53 فیصد کو کسی نہ کسی طرح کے جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق حکام بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے اور اس کا شکار ہونے والوں کی مدد دونوں ہی شعبوں میں ناکام رہے ہیں۔تنظیم کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا کا کہنا ہے کہ جو بچے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنسی استحصال کی شکایت کرتے بھی ہیں، پولیس، طبی عملہ اور دیگر حکام اکثر ان کی شکایات نظرانداز کر دیتے ہیں۔اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے بھارتی حکومت کی کوششیں جیسے کہ نئے قوانین کا نفاذ اس وقت تک کارگر نہیں ہوگا جب تک بچوں کے تحفظ کا نظام پوری طرح نافذ نہیں کیا جاتا اور نظامِ قانون میں اصلاحات کر کے جنسی استحصال کے مجرموں کو سزائیں نہیں دلوائی جاتیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنسی استحصال کا شکار بچوں کو طبی معائنوں اور پولیس اور دیگر حکام کی تفتیش کے دوران دوبارہ بدسلوکی کا سامنا ہوتا ہے اور یہ لوگ ان بچوں کی بات سننا یا اس پر یقین کرنا نہیں چاہتے۔حقوقِ انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بچوں کو ان کے رشتہ داروں یا ہمسایوں کے ہاتھوں یا پھر سکول اور یتیم بچوں کو پناہ گاہوں میں جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بھارت کے روایتی معاشرے کی وجہ سے ان میں سے زیادہ تر معاملات سامنے ہی نہیں آتے۔

 

 

 

پاکستان روس تعلقات

امریکی صدرٹرمپ کی گوشمالی کرنے کی جتنی ضرورت دنیا کے امن پسند سنجیدہ طبقات میں آج محسوس کی جا رہی ہے، شائد ہی مستقبل میں کبھی امریکی اعلی مقتدرحلقوں کے بارے میں اِس قدر سراسیمگی کی تشویشناکی کا اظہارکیا گیا ہو؟’ ایسی آراوں اور افکارکا اور ایسے جائز تنقیدی تحفظات کے بارے میں دنیا نے کبھی سوچاہو؟ صدرٹرمپ نے اپنے غیر ذمہ دارانہ طرزِعمل کی وجہ سے خود کو کہیں خطرناک حد تک سوالیہ نشان بنا دیا ہے جنوبی ایشیا میں پاکستان کو پے درپے دھمکیوں سے نجانے وہ کون سے ‘بیش بہا’ امریکی مفادات حاصل کرنا چاہ رہے ہیں؟ دیکھا جائے تو پاکستان کو امریکہ نے کہاں کہاں پر استعمال نہیں کیا، پاکستانی حکام نے اپنے کروڑوں عوام کی مرضی و منشا کو بالائے طاق رکھ کر ہمیشہ امریکیوں کی ضرورتوں کو پورا کیا اور اپنے عوام کی تنقید کا وہ خود نشانہ بنے’ جبکہ امریکا نے ہرکڑے وقت میں پاکستان کی پیٹھ میں چھرا ہی گھونپا، پاکستان بحیثیت ایک مسلم ایٹمی ریاست کے امریکا کو اب تک ہضم نہیں ہوا ہے پاکستان کے ساتھ امریکی ملٹری ٹریننگ معاہدہ ختم کر دیا گیا چلیں یہ تو بہت اچھا ہوا خود امریکی اقدام نے پاکستان کے کروڑوں عوام کو دوست دشمن کے فرق کا احساس دلادیا قوم کوسوچنے سمجھنے کا ایک سنہری موقع فراہم کردیا کہ وہ اپنی علاقائی خود مختاری’ اپنی آزادی’ اپنی سیاسی جمہوریت کی تیز رفتار ترقی اور اپنے ملک کے اندر انسانی حقوق کے خوابوں کی تعبیریں تلاش کرنے میں اپنے لئے ایشیائی ترقیِ یافتہ سپرپاور اپنے پڑوسی ممالک چین اورروس کے ساتھ تعلقات کی نئی جہتیں قائم کرسکتے ہیں اورچین اورروس جیسے ممالک کے ساتھ مضبوط بنیادوں پربا اعتماد تعلقات استوارکر سکتے ہیں اور ایران کے ساتھ پہلے سے قائم برادرانہ تعلقات کو اور پائیدار مقام پر لاسکتے ہیں پاکستانیوں نے یقیناًاب یہی کرنا ہے’امریکا کے سامنے پاکستانی قوم اب بلیک میل ہونے کے لئے تیارنہیں ہے’امریکا نے پاکستانی عوام کے صبر و حوصلے کوجتنا آزمانا تھا آزما لیا ہے’پاکستان امریکا ملٹری ٹریننگ کورس معاہدہ صدر ٹرمپ کی جانب سے منسوخ ہوا ہے امریکی صدر کے اِس متعصبانہ اقدام نے پاکستانی عوام کے ضمیروں کو جھنجھوڑ دیا ، نئی سیاسی جمہوری قیادت کو عوامی ترجمانی کے مقام پر پہنچا دیا ہے کہ یہی وقت ہے کہ ملکی نئی جمہوری قیادت’ نام نہاد امریکی سپرمیسی پیرامیٹرز’کے جمود اور حصار سے فوری طور پر باہر نکل جائے، عوام پاکستان کو ورلڈ بنک اور دیگر مغربی مسلم دشمن مالیاتی اداروں کے چنگل سے نکلنے میں ہر قسم کی قربانیاں دینے کے لئے کمربستہ ہو چکے ہیں۔اب نئی ملکی قیادت ایک قدم آگے بڑھائے قوم کئی قدم آگے بڑھانے کو تیار ہے امریکا اپنے آپ کو دنیا کا طاقتورملک سمجھتا ہے، سمجھا کرئے، مگر ہم پاکستانی سمجھتے ہیں کہ وہ امریکا کے سامنے اب گھٹنے ٹیکنے والے نہیں’قوم کو بخوبی ادراک ہے کہ’طاقتوردوغلے دشمن سے انصاف کی اپیل کرنا ایسا ہی ہے جیسے پتھر سے کہا جائے کہ وہ پانی کا چشمہ جاری کر دے’روس اورپاکستان کوفطری معروضی حالات نے ایک دوسرے کے بہت قریب کردیا ہے اوریہ قربت بہت پہلے ہوجانی چاہئے تھی۔ روس اورپاکستان کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں کے تاریخی دستاویز پر دستخط ہوچکے ہیں یقین کیجئے پاکستان کے علاقائی اورعالمی سازش کارایجنٹوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہونگی کیونکہ پاکستان کے درمیان سے امریکا کے ہٹتے ہی روس کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات قابلِ بھروسہ بااعتماد اور مضبوط ہونے لگے ہیں اس دفاعی معاہدے نے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے نئے مواقع کے درکھول دئیے دونوں اطراف کی خواہشوں سے پہلے ہی اقتصادی اورسیاسی تعلقات کو بڑھانے میں ہرنئی صبح کے ساتھ تیزی دیکھی جا رہی ہے اب ظاہر ہے کہ امریکہ اوربھارت کی سفارتی بدحواسیوں میں’اضطرابی کیفیات میں بڑی سراسیمگی پھیلے گی امریکا اور بھارت خاطر جمع رکھیں پاکستان علاقائی امن میں توازن قائم رکھنے کیلئے ہر وہ اقدام اٹھائے گا جس کے نتیجے میں علاقائی امن کواستحکام ملے اب ذرا بات ہوجائے کہ لے دے کے پاکستان کو دباو اور پریشر میں رکھنے کیلئے امریکا کی سوئی بھی بھارت کی طرح سے ایک ہی مقام پراٹکی ہوئی ہے’ ہائے پاکستان کے ایٹمی ہتھیار ہائے پاکستان کے ایٹمی ہتھیارپاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی بلاوجہ فکرمیں پینٹاگان اور وائٹ ہاوس کو دبلاہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے پاکستان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں ہیں ان تک رسائی ناممکنات میں سے ہے امریکا ذرا اورخودساختہ تفکرات کی دنیا سے باہرنکلے اور جواب دے۔ ‘امریکی حکومتی احتساب آفس’ کے اس اہم مراسلہ کا جو اِس اہم آفس نے پانچ برس پیشتر پینٹاگان کو لکھا تھا آج کتنے برس بیت گئے محکمہِ دفاع نے تادمِ تحریر’نیوکلیئر احتساب ادارے’کوجواب مگر نہیں دیا کہ امریکا نے دوسرے ممالک کو جوہری پلاٹونیم کتنی مقدار میں کب کب دیا؟پلاٹونیم اور گریڈ یورینیم کی فراہمی کی مستند فہرست نیوکلیئر امریکی احتساب ادارے’ نے طلب کی ہے ریاست کے اندر ریاست قائم رکھے ادارے پینٹاگان نے یہ حساس فہرست فراہم نہیں کی’ اب کیا کہیں گے۔ امریکی اعلی مقتدرحلقے اِس انکشاف کے متعلق؟ دوسرے ترقی پذیر ممالک کے ایٹمی ڈیٹرنس کی بلاوجہ فکرکرنے والے اپنے گریبانوں میں کیوں نہیں جھانکتے؟ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے مستحکم پائیدار اور ناقابلِ تسخیرتحفظ کے سسٹم کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے زیراہتمام قائم عالمی ایٹمی نگرانی کی تنظیم نے سابق امریکی صدر اوبامہ کے عہد میں تسلیم کرلیا تھا کہ پاکستان نے اسٹرٹیجک پلاننگ ڈیویڑن کا بے مثال سسٹم تعارف کرایا ہے جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں مل سکتی لہذایہ کہنا وقت کا ضیاع ہوگا کہ کوئی پاکستان کے ایٹمی ڈیٹرنس پر انگلی اٹھائے یہ بالکل منفی پروپیگنڈا کے سوا اور کچھ نہیں ہے’ایٹمی حادثات کے زیروامکانات کے لائق تعریف اقدامات کے بعد کسی کو ایسی صورت میں یہ نہیں سوچنا چاہیئے کہ (خدانخواستہ)پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں تک دہشت گرد پہنچ سکتے ہیں اب توخود امریکا میں آئے روزکسی نہ کسی سکول اور کالج میں جنونی عیسائی نوجوان بلاوجہ فائرنگ کرکے خوف اور دہشت کی فضا پھیلادیتے ہیں کئی افراد کو اجتماعی قتل کردیا جاتا ہے ایسے میں امریکا کو اپنی سلامتی کے حساس ترین مقامات کی تحفظ کی جانب بلاتاخیر فوری توجہ دینی چاہئے ناکہ وہ پاکستان اور ایران کی ایٹمی حصار بندیوں کی فکروں میں مبتلا رہے۔

 

 

 

Google Analytics Alternative