کالم

انڈین آرمی ۔۔۔گرتا مورال، بڑھتے عزائم !

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارتی افواج اپنا مورال اور پروفیشنلزم تیزی سے گنوا رہی ہے۔ آئے روز کسی نہ کسی بھارتی فوجی کی خودکشی سکہ رائج الوقت بن کر رہ گئی ہے ۔ بھارتی فوجیوں کی جانب اپنے ساتھی اہلکاروں کا قتل اور ان سے لڑائی کی خبریں بھارتی میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ ابھی چند روز قبل 24 جون کو بھارتی ریاست ناگالینڈآ کے دیما پور میں تعینات انڈین آرمی کے حاضر سروس میجر نکھل ہانڈا نے دہلی میں اپنے ساتھی میجر امیت ترویدی کی بیوی شیلجا ترویدی کی اس سفاکانہ انداز میں جان لی کہ اسے قتل کرنے کے بعد بھی کئی بار اپنی گاڑی سے کچلا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انڈین آرمی اپنا پروفیشنلزم کس تیزی سے گنوا رہی ہے اور اس طرح کے واقعات بھارتی فوجیوں کے مورال پر کس خطرناک طریقے سے اثر انداز ہوتے ہیں، اس کے بارے میں خود بھارت کے دفاعی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ انڈین آرمی میں ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کے زیراثر خودکشی اور ساتھی اہلکاروں کے قتل کے واقعات خطرناک حد تک بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ بھارتی فوجیوں کے مابین افسران کے امتیازی سلوک، ناکافی تنخواہ، چھٹی نہ ملنے، مظالم سے ضمیر پر بوجھ، ٹوٹتے اعصاب، تحقیر آمیز رویے کی وجہ سے ڈپریشن اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہے، جس کی وجہ سے بھارتی فوجیوں کی غیر طبعی اموات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ اتنے بھارتی فوجی چھڑپوں اور آپریشن کے دوران نہیں مرتے جتنے خود اپنے ہاتھوں موت کو گلے لگا لیتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں ، اس سے دیگر فوجیوں کے مورال میں گراوٹ آتی ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ہر مہینے 10 سے 15 بھارتی فوجی خودکشی کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ گذشتہ چند مہینوں میں بھارتی سپاہیوں کے علاوہ نو افسران اور 19 جونیئر کمیشنڈ آفیسر بھی خودکشی کر چکے ہیں۔ یوں آپریشن اور جھڑپوں میں مرنے والے فوجیوں کی تعداد سے 12 گنا زیادہ دوسری وجوہات سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستانی سپاہیوں میں اپنے ساتھی اہلکاروں کو قتل کرنے کے واقعات ایک رجحان کی شکل اختیار کر چکے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دیگر شعبوں کی مانند بھارتی افواج میں بھی خاتون اہلکاروں کا استحصال ہر سطح پر جاری ہے۔ بہت سے افسران اور اہلکار ساتھی خواتین اہلکاروں کی عصمت دری کے مرتکب ہوتے ہیں اور ایسی خواتین ٹراما کا شکار ہو کر اہل خانہ کی بدنامی کے ڈر سے خودکشی کر لیتی ہیں۔ یاد رہے کہ 26 جون کو معروف عالمی ادارہ ’’تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن‘‘ نے کہا ہے کہ ’’بھارت خواتین کے رہنے کے لئے دنیا کا بدترین ملک بن چکا ہے‘‘۔ مذکورہ فاؤنڈیشن نے اپنے سروے میں کہا کہ بھارتی خواتین کی بہت بھاری اکثریت کسی نہ کسی طور سے جسمانی استحصال کا شکار ضرورہوتی ہے۔ مزید ستم ظریفی یہ کہ ان خواتین کو انصاف کے لئے بھی بھارتی ججز، پولیس اور ڈاکٹروں کی جانب سے مزید جنسی و اخلاقی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یوں مذکورہ سروے کے مطابق ایسے واقعات میں 70 فیصد سے زائد معاملات رپورٹ ہی نہیں کئے جاتے۔ بہرحال بات ہو رہی تھی بھارتی فوجیوں کے گرتے مورال کی۔ یہ امر اہم ہے کہ بھارت کے کثیر الاشاعت ہندی اخبار ’’نو بھارت ٹائمز‘‘ کے مطابق گذشتہ ماہ بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے انڈین آرمی میں دگردوں صورتحال کا اعتراف کرتے کہا کہ قریباً دو بٹالین جتنے بھارتی فوجیوں کے ہر سال غیرطبعی اموات کا شکار ہونے پر سخت تشویش ہے ۔ یہ بھی ایک کھلا راز ہے کہ بھارتی وزیردفاع نرملا سیتا رمن کے عہدہ سنبھالنے کے بعد 100 سے زائد ہندوستانی افواج کے افسران بھارتی سپریم کورٹ جا کر انڈین آرمی میں امتیازی سلوک سے متعلق پٹیشن دائر کر چکے ہیں۔ ان سو سے لیفٹیننٹ کرنل اور میجروں کی قیادت کر رہے ’’لیفٹیننٹ کرنل پی کے چوہدری‘‘ نے کہا کہ انڈین آرمی کے مابین شدید گروہ بندی موجود ہے اور افسران کو پروموشن کے ضمن میں بھی امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس سے افسران میں مایوسی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ سنجیدہ حلقوں کی رائے ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انڈین آرمی کے غیر انسانی مظالم ۔۔۔بھارتی فوجیوں میں بڑھتے ڈپریشن اور خودکشی کے رجحانات کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہیں۔ نہتے عوام پر غیر انسانی مظالم کی وجہ سے سپاہیوں کے ضمیر پر ایک مسلسل بوجھ رہتا ہے جس سے نجات کے لئے انھیں خودکشی کا راستہ ہی نظر آتا ہے۔ پیلٹ گنز کا بے دریغ استعمال،نہتے کشمیریوں پر بد ترین تشدد اور کشمیری خواتین کی عصمت دری کے کچھ عرصے بعد بھارتی فوجی ایک ٹراما کی سی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں ۔دوسری طرف پاکستان کے اندر صورتحال قطعی مختلف بلکہ متضاد ہے اور پاک افواج اور عوام کے درمیان باہمی احترام و اعتماد کا مضبوط رشتہ قائم ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ بھارت کی ناردرن کمانڈ کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل دپیندر سنگھ ہوڈا نے حالیہ بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر (مقبوضہ) کا مستقل سیاسی حل نکالے جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ جنرل ڈی ایس ہوڈا نے کہا کہ یہ صرف میرا ماننا نہیں بلکہ جموں و کشمیر (مقبوضہ) میں تعینات بھارتی فوج کے افسران کی اکثریت کا ماننا ہے کہ انسانی حقوق کی اپنی اہمیت ہے اور بھارت کو (مقبوضہ) کشمیر میں جاری جبر و تشدد کی پالیسی کو ترک کر کے عوام کے ساتھ دوستانہ رویہ پیدا کرنا ہو گا۔یاد رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا محض ڈیڑھ سال قبل تک بھارت کی ناردرن کمانڈ کے سربراہ تھے ۔ اسی دوران بھارت کی جانب سے نام نہاد ’’سرجیکل سٹرائیک ‘‘ کا ڈرامہ بھی رچا گیا تھا ۔ اس تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ انڈین آرمی نہ صرف بدترین اخلاقی بحران میں مبتلا ہے بلکہ اس کے اعصاب بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ ایسے میں بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ بھارتی افواج ’’گرتے مورال اور بڑھتے عزائم ‘‘ کی جیتی جاگتی مثال بن چکی ہے۔

ممبئی حملے کا ڈرامہ پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے رچایا گیا

جرمن مصنف ڈیوڈسن نے لندن انسٹی ٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممبئی حملے بھارت کا خود ساختہ ڈرامہ تھا۔ ڈیوڈسن نے بھارت کے مکروہ پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا۔” دی بیٹرائل آف انڈیا ” کے مصنف کی لندن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا بھارت نے ممبئی حملے کا ڈرامہ پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے رچایا تھا۔بقول ڈیوڈسن کہ ان حملوں سے بھارت کو اسرائیل اور امریکہ سے تعلقات بڑھانے کا موقع ملا۔ برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے رکن لارڈ نذیر احمد نے عالمی اداروں سے ممبئی حملوں کی شفاف تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اپنے مقاصد کیلئے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگائے لیکن ڈیوڈسن کی تحقیقات نے بھارت کے پروپیگنڈے کا پردہ چاک کر دیا ہے۔مصنف نے واضح کیا کہ انہوں نے مذکورہ کتاب تمام حقائق ،دستاویزات اورمشاہدے کے بعد ہی تحریر کی ہے ۔ حملوں کے مقامات کا جائزہ لینے اوراخبارات کے تراشے اور مشمولات کے معائینے کے بعد ہی کتاب تحریرکی گئی ہے۔ایلس ڈیوڈسن اس سے قبل امریکہ کے 9/11حملہ پر بھی کتاب لکھ چکے ہیں۔امریکا نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ پاکستان ممبئی حملوں کے ذمہ داروں خاص کر حافظ سعید کے خلاف کارروائی کرے۔ ٹرمپ کی ٹویٹ کے بعد پاک امریکا تعلقات میں جوخلیج پیدا ہوئی ہے اس کے تناظر میں دیکھا جائے تو ممبئی دہشت گرد حملوں کے معاملے پر بھارت کی زبان بولنے کے امریکی طرز عمل میں چند ہفتوں سے تیزی آنے کی وجوہ کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں۔مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ممبئی حملوں کو لے کر پاکستان کو دبا ؤمیں لانے کے پرانے حربے کو پھر سے استعمال کرنے کے غبارے سے ہوا خود بھارت میں شائع ہونے والی تحقیقاتی کتاب Betrayal of India Revisiting the 26/11 Evidence نے ہی نکال دی ہے۔ میڈیارپورٹ کے مطابق ممبئی حملوں سے متعلق ہوش ربا انکشافات اور حقائق پر مبنی تجزیے پر مشتمل یہ کتاب بھارتی پبلشر فروز میڈیا، نیو دہلی کی شائع کردہ ہے۔ مصنف معروف تحقیقاتی صحافی ایلیس ڈیوڈسن کی، جن کا تعلق یہودی مذہب اور جرمنی سے ہے، غیرجانبداری نے سامنے لائے گئے حقائق کو مصدقہ اور قابل بھروسہ بنا دیا ہے۔2017 میں سامنے آنے والی اس کتاب میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دہلی سرکار اور بھارت کے بڑے اداروں نے حقائق مسخ کیے۔ بھارتی عدلیہ انصاف کی فراہمی اور سچائی سامنے لانے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی۔ ممبئی حملوں کے مرکزی فائدہ کار ہندو انتہا پسندو قوم پرست رہے کیوں کہ ان حملوں کے نتیجے میں ہیمنت کرکرے اور دوسرے پولیس افسران کو راستے سے ہٹایا گیا۔ انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ ساتھ نہ صرف بھارت بلکہ امریکا اور اسرائیل کے کاروباری، سیاسی اور فوجی عناصرکو بھی اپنے مقاصد پورے کرنے کیلیے ان حملوں کا فائدہ پہنچا جب کہ صحافی ایلیس ڈیوڈسن اپنی تحقیقات میں اس نتیجے پر بھی پہنچا کہ ممبئی حملوں کا پاکستانی حکومت اور فوج کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔مصنف ایلیس ڈیوڈسن کی تحقیقات کے مطابق ممبئی دہشت گرد حملوں کے حقائق چھپانا بھارتی سیکیورٹی و انٹیلی جنس اداروں کی نااہلی نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت حقائق میں جان بوجھ کر کی گئی ہیرا پھیری تھی۔ اس کیس کی عدالتی کارروائی بھی غیرجانبدار نہیں تھی بلکہ اہم ثبوت اور گواہوں کو نظرانداز کیا گیا۔تحقیقاتی صحافی کے نزدیک ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی و عمل درآمد کی سازش میں بھارت کے ساتھ ساتھ امریکا اور اسرائیلی کردار بھی پنہاں ہے۔ مصنف نے ممبئی حملوں کو خفیہ آپریشنز طرز کے حملے قرار دیا جس سے یہ تاثر قائم کیا گیا کہ بھارت کو دہشت گردی سے مستقل خطرہ ہے۔ اس سے بھارت کو دہشت گردی کی عالمی جنگ کے لیڈنگ ممالک کے ساتھ کھڑا ہونے میں مدد ملی۔ ممبئی حملوں میں ہیمنت کرکرے اور دوسرے پولیس افسروں کے قتل کے حوالے سے اہم اطلاعات کو بھی چھپایا گیا۔مصنف نے اجمل قصاب والے پہلو پر بھی بھرپور توجہ دی۔ ایلیس ڈیوڈسن کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ممبئی حملوں کے ان متاثرین اور گواہوں کے بیانات نہیں لیے گئے جو واقعے کے سرکاری بیانیے کو اپنانے پر تیار نہ ہوئے۔ ان گواہوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے نریمان ہاوس میں حملوں سے دو روز قبل اجمل قصاب اور چند دیگر افراد کو اکٹھا ہوتے دیکھا۔ کچھ مقامی دکاندار اور رہائشیوں نے یہ گواہی بھی دی کہ شدت پسند کم از کم پندرہ دن نریمان ہاوس میں رہتے رہے۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کئی گواہوں کو سکھایا گیا کہ کس طرح انہیں سرکاری مقف اختیار کرنا ہے۔ بھارتی اور اسرائیلی حکومتیں نریمان ہاس واقعے سے متعلق ثبوت گھڑتی رہیں اور مرضی کی گواہیاں حاصل کرنے میں ملوث نظر آئیں۔ دہشت گردوں کے سہولت کار فون نمبر 012012531824 استعمال کرتے رہے جو امریکا میں تھا۔اجمل قصاب کے اقبالی بیان کے مطابق وہ ممبئی سے حملوں سے بیس دن پہلے گرفتار کیا گیا اور پھر ملوث کیا گیا۔ بعد ازاں اجمل قصاب اپنے اس بیان سے مکر گیا۔ مصنف نے اپنے تجزیئے میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ دعوی کیا گیا کہ قصاب پورے تاج ہوٹل کو اڑانا چاہتا تھا، تاہم اس مقصد کیلیے اس کے پاس آٹھ آٹھ کلو کے محض چار بم تھے جو بہت ہی ناکافی تھے۔

وعدہ کریں ووٹ دینے ضرور جا ئیں گے …!

اِدھر 25جولائی 2018ء کو مُلک میں خدشات ، مخمصوں اور تحفظات سے پاک پُرامن ہونے والے عام انتخابات کے انعقاد کو ایک ماہ سے بھی کم کا عرصہ رہ گیاہے۔ تو اُدھر الیکشن میں حصہ لینے والے اُمیدواروں کی اہلیت اور نااہلیت کا سلسلہ بھی جارہی ہے۔ جس کی ایک بہت لمبی فہرست ہے؛ کوئی اِس عمل کے ردِ عمل پر خطرناک دھمکیوں اور نوشتہء دیوار کہہ کر ڈرارہاہے۔ تو کوئی اِس چھلنی نما عمل کو مُلک اور قوم کی بہتر راہ پر گامزن کرنے کی روشن کرن اور دلیل سے تعبیرکررہاہے۔ غرضیکہ، آج الیکشن کے حوالے سے جو چھلنی لگی ہوئی ہے۔ اِس سے اچھے بُرے ، نیک اور بدسا منے آرہے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے ؛اور قوم چاہتی ہے کہ اَب چھلنی کا یہ سلسلہ چل ہی نکلا ہے تواِسے رکنانہیں چاہئے۔ بہر کیف ،آج جہاں یہ کچھ سب ہورہاہے تو ایسے میں مُلک کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے بھی اپنی انتخابی مہم بھر پور طریقے سے شروع کردی ہے ۔تو وہیں ووٹرزبھی تذبذب کے شکار ہیں کہ کیسے ووٹ دیں ؟ کیسے نہ دیں؟ اگر کسی کو دیں تو کیوں دیں؟اور کسی کو نہ دیں تو کیوں ؟ یہی وہ سوالات ہیں۔آج جن کی وجہ سے ایک ووٹر شدیدذہنی تناؤ کا شکارہے۔کیوں کہ انتخابات میں یہی ایک ووٹرز ہی تو ہیں ۔ جنہیں سب سے ہم کردار ادا کرنا ہے۔ ویسے اِس مرتبہ بھی حسبِ معمول سیاستدان الیکشن میں اپنے حلقے کے ووٹرز کو طرح طرح کے سبزباغ دِکھا کر اپنا چورن بیچیں گیں۔جیسا کہ یہ بیچ رہے ہیں۔بھڑکیاں ماررہے ہیں اور لنترانیاں ہانک رہے ہیں شیخیاں بھگاررہے ہیں۔ مگر ایسے میں اَب دیکھنایہ ہے کہ ووٹرز کس سیاستدان کا چورن پسند کریں گے؟ اورکس کا چورن کس مقدار میں ووٹ سے خریدیں گے؟ اور کس کے چورن کے عوض کیسے مسندِ اقتدار پر بیٹھائیں گے؟ اور اپنے مسائل کی بدہضمی کس کے چورن سے ختم کرنے کا سامان کریں گے؟اِس کے لئے بھی سب کو بڑی بے چینی سے انتظار ہے۔فی الحال، تو ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ چوں کہ ابھی توسارے سیاسی بازی گراور چورن فروش اپنے خریدارکی دہلیز پر جا کر ناک رگڑ کراورطرح طرح کی آوازیں جیسے’’مجھے کیو ں نکالا؟ ، ووٹ کو عزت دو، قوم کو روٹی، کپڑااور مکان ہم دیں گے، توانا ئی بحران کے خاتمے کی کنجی میرے پاس ہے، ہم مزدور کی تنخواہ 20ہزار ماہوارکردیں گے، مُلک و قوم کو مسائل کے دلدل سے نکال کر خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کا فارمولا میری پارٹی کے منشور میں ہے، قو م کی ترقی کا دارومدار موٹرویز میں ہے۔ ہم کل بھی ایک تھے ہم آج بھی ایک ہیں ، نہ ہم پہلے بٹے تھے نہ آج بٹے ہیں، ہمارے اور ووٹرز کے دل ایک ہیں جو ایک ساتھ دھڑکتے ہیں ‘‘غرضیکہ ، ایسی انگنت بازگشت متواتر بلند ہورہی ہیں اور زوراور شور سے سُنی بھی جارہی ہیں ۔یعنی کہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے بہروپیئے الیکشن میں اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے وعدوں اور دعووں پر قلعی چڑھاتے ہوئے اپنے دلکش اور دلفریب منشوروں کی گٹھڑی کو بھی اپنے سروں پر اُٹھائے گلی، محلوں ، بازاروں ، شاہراہوں اور چھوٹے بڑے عوامی اجتماعات میں اپنے عوامی خدمات کے ماضی ، حال اور مستقبل کے کارناموں پر گلے پھاڑرہے ہیں۔ اِن سیاسی جوکروں کا بس ایک مقصد ہے کہ مُلک کے با ئیس کروڑ عوام اِن کے بہکاوے میں آجا ئیں اور اِنہیں ووٹ دے کر اقتدار کی خوبصورت چڑیااِن کے ہاتھ میں قید کردیں تو پھر یہ جو چاہیں کریں۔ کو ئی اِن کے سا منے بندنہ باندھے ، یہ مدرپدر آزاد ہوں ۔ قومی خزا نہ ہو اور اِن کا ہاتھ اور دامن ہو، یہ قومی خزا نے سے جیسے چا ہیں اللے تللے کریں ، جمہوریت کی آڑ میں ووٹرز کے سر گن کر اقتدار کے مسندِ خاص پر اپنے قدمِ ناپاک رنجافرما نے والے پھراپنے ہی غریب ووٹروں کے بنیادی حقوق غضب کریں ، ڈاکہ ڈالیں اور غریب ووٹروں کے سرکاٹ کر اپنے لئے امارات کے محلات تعمیر کریں ۔ تو اِس پر بھی کو ئی اِنہیں کچھ نہ کہے۔سُنیں جی ، بہت ہو چکاہے ،اَب ایسے کام نہیں چلے گا، کچھ بھی ہوجائے ، ستر سال سے ظالم فاسق و فاجر اشرافیہ کو اقتدار سجا کردینے والے میرے مُلک کے غریب ، مفلوک الحال، ننگے بھوکے ، ایڑیاں رگڑتے ، بلکتے سسکتے ووٹروں کو اِس مرتبہ اپنی خودساختہ ستر سالہ پرانی روایت کو پسِ پست ڈال کر اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے ہر حال میں اپنے گھروں سے اپنی نیک اور ایماندار ، نڈر اور بیباگ قیادت کے چناؤ کے لئے ضرور نکلناہوگا؛ ورنہ پھر کوئی یہ شکایت نہ کرے کہ ’’ہم ووٹ ڈالنے بھی نہیں جاتے ہیں۔ مگر ہمارا ووٹ ڈل جاتاہے‘‘یاد رکھو !اگر تم اپنا ووٹ کاسٹ کرنے نہ نکلے تو پھر ایسے ہی کرپٹ اور آف شور کمپنیوں ، اقامے اور سوئس بینکوں میں 770ہزار ارب رکھنے والے قومی چور ہی ہی حکمران بنیں گے۔ تاہم آج ضرورت اِس امر کی ہے کہ حکمرانوں کی شکل میں مُلک اور قوم پر مسلط قومی لیٹروں اور کرپٹ عناصر سے چھٹکارہ پانے کے لئے ووٹرز اپنی اِس سوچ کو ہر حال خود بدلیں کہ میں نہ بھی گیاتو ووٹ پڑ ہی جا ئے گا‘‘ اَب جب تک ووٹر اپنی اِس سوچ کو اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق خود نہیں بدلیں گے ، مُلک اور قوم میں کسی بھی صورت میں مثبت تبدیلی نہیں آسکتی ہے ۔یاد رکھیں کہ ووٹرز ووٹ کاسٹ کرنے نہ جا کر بوگس ووٹنگ کر نے والے شیطان کے چیلے چانٹوں کے لئے خود راہ ہموار کرتے ہیں ۔ پھر خود ہی کہتے پھرتے ہیں کہ ہم نہ بھی جا ئیں تو ہمارا ووٹ ڈل جاتا ہے اور ہم پر کرپٹ حکمران قا بض ہوکر مُلک اور قوم کو لوٹ کھا تے ہیں ۔ آج اگر ایک لمحے کو آپ یہ سوچ لیں کہ بوگس ووٹنگ کے برابر کے شراکت دار وہ ووٹرز بھی ہیں۔ جو اپنا ووٹ کاسٹ کرنے نہیں جاتے ہیں۔ اگر یہ اپنا ووٹ ڈالنے یا کاسٹ کرنے جا ئیں۔ تو کسی ما ئی کے لعل میں کیا ہمت اور مجال پیداہو؟ کہ کوئی کسی کے نام کا بوگس ووٹ کاسٹ کرے۔اِس لئے ووٹرز آپ پر لازم ہے کہ آپ اپنا ووٹ قومی فریضہ سمجھ کرادا کریں یا ڈالنے جا ئیں ۔ اِس طرح آپ اپنے اِس طاقتور اختیار کا استعمال کرکے نہ صرف اپنی بلکہ اپنے مُلک اور اپنی قوم کی بھی تقدیر بدلیں گے بلکہ مُلک سے دھاندلی اور بوگس ووٹنگ کے ستر سالہ کلچرکے خاتمے کے لئے بھی اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔ توپھر آئیں ۔ اللہ کو حاضر و ناظر جان کر وعدہ کریں کہ ہر حال میں اپنا ووٹ قومی فریضہ سمجھتے ہوئے۔ اپنی پسند کے کسی بھی اُمیدوار کو ضرور دینے جا ئیں گے۔ کیو ں کہ اِسی میں مُلک اور قوم اور ہماری آنے والی نسلوں کی بھلا ئی ہے۔(ختم شُد)

ڈیموں کی تعمیر ملکی بقاء کیلئے ناگزیر

عدالت عظمیٰ نے پانی کی قلت کے پیش نظر کالا باغ ڈیم سمیت ملک میں ڈیمں کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے دوران سماعت کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر انا کی نذر ہوگئی ہے، ہم نے چاروں بھائیوں کو توڑنا نہیں جوڑنا ہے اگر کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے وفاقی اکائیوں کے اتحاد پر برے اثرات پڑتے ہیں تو دوسری جگہوں پر ڈیم بنانے کے آپشنز پر غور کرنا ہوگا ، پانی پاکستان کی بقاء کا مسئلہ بن چکا ہے اس معاملے کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے ۔ گزشتہ روز چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس منیب پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی اس موقع پر درخواست گزار وطن پارٹی کے سربراہ بیرسٹر ظفر اللہ نے عدالت کے روبرو پیش ہوکر موقف اپنایا کہ پہلے تمام صوبوں نے کالا باغ ڈیم پر اتفاق کیا تھا تاہم بعد میں اس ڈیم کی تعمیر پر اختلافات پیدا ہوگئے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کالا باغ کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے اس لئے ہم نے سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک اور اعتزاز احسن کو اس کیس میں معاونت کرنے کا کہا ہے۔ چیف جسٹس نے بجا فرمایا ڈیم ملکی بقا کیلئے انتہائی ناگزیر ہیں، ڈیم نہیں بنائیں گے تو پانچ سال بعد پاکستان میں پانی کی صورتحال انتہائی گھمبیر شکل اختیار کرلے گی، زمینیں بنجر ہونے سے بچانے اور کسانوں کو خوشحالی کے راستے پر ڈالنے کیلئے ڈیمز کی تعمیر ازحد ضروری ہے۔ چیف جسٹس نے یہ درست فرمایا کہ سابقہ حکومتوں نے ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے کچھ نہیں کیا اور ان کی کارکردگی ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے ۔ پانی انسانی زندگی کا اہم جزو ہے قلت آب کے مسئلے پر سنجیدہ کوشش کی ضرورت ہے،سابق حکومتیں بے اعتنائی اور غفلت کا مظاہرہ نہ کرتیں تو کالا باغ ڈیم تعمیرہوچکا ہوتا۔ بھارت ڈیموں کی دھڑا دھڑ تعمیر کررہا ہے اور ہم ہیں کہ ایک ڈیم کی تعمیر پر اتفاق رائے نہیں ہو پارہا۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے چاروں صوبوں کو اس ضمن میں سوچنا ہوگا، ڈیم ہماری ترقی و خوشحالی کا ذریعہ قرار پائیں گے۔بھارتی آبی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ ڈیمز تعمیر کرنے ہونگے۔ چیف جسٹس کے ریمارکس لمحہ فکریہ ہیں ۔ سابقہ حکومتیں اپنے فرائض کو بطریق احسن پورا کرنے میں ناکام رہیں جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے اور آبی قلت پیدا ہوتی جارہی ہے جو بحرانی کیفیت کا ذریعہ بن کر عوام الناس کیلئے پریشان کن بن سکتی ہے، پانی کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پرحل کرکے ہی پانی کی قلت اور عدم دستیابی سے بچا جاسکتا ہے اگر آج سنجیدگی سے کام نہ لیا گیا تو پھر قلت آب کا مسئلہ سر اٹھا کر ہمارے لئے درد سر بن جائے گا پانی کے بحران سے بچنے کیلئے ڈیموں کی تعمیر کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ اس مسئلہ سے کورچشمی قومی مفاد کے برعکس قرار پائے گی،ڈیم ملکی بقاء کیلئے ضروری ہیں۔
آزادانہ و منصفانہ انتخابات کیلئے عسکری تعاون
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملکی سلامتی آپریشن ردالفساد، افغانستان کی سرحدوں پر باڑ لگانے اور ملک میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کی تیاری کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا کور کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی درخواست پر پاک فوج ملک میں عام انتخابات2018ء کے آزادانہ صاف اور شفاف انعقاد کیلئے اپنی خدمات پیش کرے یگ تاہم اس دوران سب سے اہم اور اولین ذمہ داری قومی سلامتی پر حرف نہیں آنے دیا جائیگا، ہم اپنے ملک کی سرحدوں کے دفاع سے غافل نہیں کور کمانڈرز کانفرنس میں آرمی چیف کو ملک میں جاری آپریشن ردالفساد کی کامیاب کارروائیوں سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی گئی جبکہ افغان بارڈر پر باڑ لگانے اور کراچی میں قیام امن سے متعلق کیے گئے اقدامات کی بریفنگ بھی دی گئی ۔ آرمی چیف نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جوانوں اور افسروں کی جرأت بہادری اور پیشہ وارانہ مہارت کی تعریف کی کانفرنس کے دوران خطے کی مجموعی سیکورٹی کی صورتحال اور آپریشن ردالفساد کے تحت کاررائیوں کاجائزہ لینے کے ساتھ ساتھ خطے میں قیام امن کی کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ۔ آرمی چیف نے بجا فرمایا فوج کی اولین ذمہ داری قومی سلامتی ہے۔ پاک فوج اس پر حرف نہیں آنے دینے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے وہ اس امر کا عکاس ہے کہ پاک فوج اپنی قومی ذمہ داری کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ الیکشن کو صاف و شفاف اور پرامن انعقاد کو یقینی بنانے میں بھرپور تعاون کرے گی ۔ پاک فوج کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ یہ سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کیخلاف بھرپور کردار ادا کررہی ہے جس کی وجہ سے بدامنی امن میں بدل رہی ہے پاک فوج کی قربانیوں کے نتیجہ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کردئیے گئے ہیں اور کئی علاقے بھی ان سے واگزار کروائے جاچکے ہیں پاک فوج کی زیر نگرانی انتخابی عمل شفافیت کا آئینہ دار قرار پائے گا پاک فوج کی مدد سے ہی پرامن انتخابات کا انعقاد ہوسکتا ہے۔
شاہد خاقان عباسی آبائی حلقے سے تاحیات نااہل
الیکشن ایپلٹ ٹربیونل نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے آبائی حلقے این اے 57 مری سے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے انہیں اس حلقے سے الیکشن لڑنے کیلئے تاحیات نا اہل قرار دے دیا، فوادچوہدری ، سردار غلام عباس، نثار کھوڑو، منظور وسان، عالمی بگٹی سمیت متعدد امیدواروں کے بھی کاغذات نامزدگی مسترد جبکہ مولانا احمد لدھیانوی، اعجاز چیمہ، سائرہ افضل تارڑ آفتاب شیرپاؤ و دیگر الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی ۔ گزشتہ روز ایپلٹ ٹربیونل معیاد ختم ہونے پر تحلیل ہوگئے ، راولپنڈی کے الیکشن ایپلٹ ٹربیونل کے جج جسٹس عباد الرحمن لودھی نے تحریک انصاف کے کارکن مسعود احمد عباسی کی درخواست کے نتیجہ میں شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر اپیل پر سماعت مکمل کرکے دوروز قبل اس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جسٹس عباد الرحمن لودھی نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتے فیصلے کے مطابق سابق وزیراعظم نے کاغذات نامزدگی میں اثاثے چھپائے وہ 62 ون ایف کی روشنی میں اہل نہیں ہیں ۔ دوسری طرف سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کیخلاف لاہورہائیکورٹ کے ڈبل بنچ میں اپیل کریں گے مخالفین اوچھے ہتھکنڈوں کے بجائے انتخابات میں ہمارا مقابلہ کریں تو انہیں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا ۔ نیب کو ساری خرابیاں (ن) لیگ میں کیوں نظر آتی ہیں، انجینئرڈ الیکشن کے نتیجہ میں قائم ہونے والی حکومت عوام کے مسائل حل نہ کرسکے گی۔ شاہد خاقان عباسی کو اپیل کا حق ہے ان کیلئے یہ بہتر راستہ ہے کہ وہ عدالت پر بے جا تنقید ک رنے کے بجائے تاحیات نا اہلی کا آئین اور قانون کے مطابق دفاع کریں اثاثے چھپانے کی سزا سے کوئی نہیں بچ سکا اگر سابق وزیراعظم اپنے اثاثے ظاہر کردیتے تو ان کو آج اس رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑتا ، بہرحال اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنا اپیل کا حق استعمال کریں عدالتی فیصلے پر حرف گیری سے گریز کرے ۔ عدالت جو فیصلے دیتی ہے وہ آئین و قانون کے تناظر میں ہوا کرتا ہے ۔ شاہد خاقان عباسی اور دیگر اپنے خلاف فیصلوں کیخلاف ہائیکورٹ سے رجوع کریں اور یہ ثابت کریں کہ ان کی نا اہلی کا فیصلہ نظر چاہتا ہے۔

نہ جانے کیا اس کے جی میں آئی

سوچ رہا ہوں کے بات کہاں سے شروع کروں اور یہ سوچنے والی بات ہے بھی کیونکہ یہ کوئی اچانک کی ملاقات نہیں جو چند دن مہینے یا سال پہلے ہوئی ہو ۔ یہ تو دہائیوں پر پھیلاقصہ ہے بلکہ قصے کہانیاں اصلیت اور افسانے ہیں یاد نہیں پڑتا تھا کہ پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی لیکن اتنا یاد پڑتا ہے کہ سوچنے سمجھنے کی کچھ سمجھ آنے کے دور میں میری اس سے پہلی ملاقات پیپلز پارٹی کے ایک جلسہ میں ہوئی جس کا انتظام بھی ہم سب نے مل کر کیا یہ وہ زمانہ تھا جب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے ملکی سیاست اور اس کے اصول بدلنے ، عوام کو جمہوریت اورجمہوری اصولوں سے متعارف کروانے کا انقلاب برپا کرنے کا علم بلند کیا تھا بالکل اسی طرح جس طرح آجکل عمران خان کے چرچے ہیں اور ملک میں دیانت اور ایمانداری کا ، رشوت سفارش سے پاک معاشرے کا انقلاب لانے کے نعرے ہیں۔پیپلز پارٹی کے اس جلسہ کے بعد وہ میرا شناسا ہوا اور پھر یہ شنا سائی دوستی میں تبدیل ہو گئی اور بچھڑنے سے ایک روز قبل تک میرا اس سے رابطہ رہا اس نے موت کا مہمان بننے سے قبل زندگی کے ہر لمحے کو خوب سے خوب تر انجوائے کیا وہ ایک ہمہ صفت ، ہمہ جہت انسان تھا ۔ شاعری ، ادب ، صحافت، سیاست ، سماجیت اس کے اندرسمائی ہوئی تھی وہ بیک وقت صحافی بھی ہوتاتھا اور سیاسی ورکر بھی ، شاعر بھی ہوتا تھا اور منصف بھی کوئی شخص جان بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ سوچوں کے کس سمندر میں غوطہ زن ہے بس جہاں اس کی ضرورت محسوس ہوتی وہاں وہ اپنی شخصیت کے ایک نئے روپ میں کھڑا ہوتا اور کھڑا بھی کچھ اس اندا ز سے ہوتا کہ اپنے آپ کو منوائے بغیر پیچھے نہ ہٹتا۔ اس نے زندگی کو گزارنے کے بڑے جتن کئے کبھی وہ کسی اخبار میں سب ایڈیٹربن کر کام کرنے لگتا اور کبھی دل بھر جانے پر وہ پراپرٹی ڈیلر بن جاتا ۔کبھی دنیا دیکھنے کے شوق میں پڑتا تو ملکوں ملکوں ، گھاٹ گھاٹ کے پانی پیتا ۔ حجازمقدس کے سفر پر رک کر اپنی قلبی ، ذہنی اور مذہبی تسکین میں کچھ اس طرح لگ جاتا کہ عرب کی روایات معاشرت اور زبان پر عبور حاصل کرتے کرتے سالہا سال وہیں گزار دیتا ۔ وہ جب بھی مجھے ملتا مجھے یہ جان کر حیرت ہوتی کہ میں اس کا دوست ہونے کے باوجود اس کے کئی اوصاف سے ناواقف ہوں ایک روز پنجابی شاعری پر بات ہو رہی تھی تو اس نے اپنا کلام سنانا شروع کیا پنجابی ادب سے منسلک اور دوست بھی بیٹھے تھے وہ اپنا کلام سنا رہا تھا اور ہم سب ورطہ حیرت میں تھے کہ ایک اردو زبان کا شاعر پنجابی میں اس قدر کمال کیسے حاصل کر سکتا ہے۔ وہ جو میں نے کہا ہے ناں کہ وہ ہمہ صفت،ہمہ جہت انسان تھا تو تقریباً میں نے ٹھیک ہی کہا ہے ۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں اس کی اردو ، پنجابی شاعری کا گواہ ہوں اور مجھے یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ میں نے اس کی سیاسی زندگی کا سفر بھی بہت قریب سے دیکھا ہے ۔ زندگی نے کتنے ہی موڑ لئے حالات کہاں سے کہاں تک پہنچ گئے مگر وہ اپنے سیاسی نظریات پر ڈٹا رہا ۔ پہلے دن بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو اس کا سیاسی لیڈر اور رہنما تھا اور مرتے دم تک بھی وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا سیاسی سپاہی تھا اور شاہد اسی لئے موجودہ دور میں جب پنجاب میں پیپلز پارٹی کو کارکنوں اور عہدہ داروں کا کچھ فقدان ہے وہ پاکستان پیپلز پارٹی وزیر آباد کے صدر کی حیثیت سے سرگرم عمل تھا اور وہ بلاول بھٹو زرداری سے لیکر آصف علی زرداری تک اور قمر زمان کائرہ سے لیکر نیر بخاری تک تمام پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے دل سے قریب تھا ۔ اس کی دنیا داری کے قصے صحافت ، ادب، شاعری میں تو شاہد بہت عرصہ تک ہوتے رہیں گے لیکن مذہبی طور پر وہ کمال کا انسان تھا ۔ اللہ تعالیٰ اور پنجتن پاک سے اس کی محبت و عقیدت کسی سے چھپی ہوئی نہ تھی اور مذہبی عقیدت نے اسے غم حسین ؑ میں سیاہ پوش بنا دیا تھا ۔کوئی بھی موسم، کوئی بھی وقت ہو کالا لباس زیب تن کرتا ۔ شادی بیاہ خوشی غمی کی تقریبات سے لیکر زندگی کے ہر موڑ پرکالا لباس پہنتا ۔ وہ کمال کا شعلہ بیاں مقرر بھی تھا کسی تقریب میں جب وہ اظہار خیال کرتا تو اس کے بعد آنیوالے مقرر سب پھیکے لگنے لگتے ۔الفاط اس کی قلم اور زبان کے اشاروں کے منتظر رہتے اور وہ ان کا خوب خوب استعمال کر کے اپنی بات منوانے میں کامیاب رہتا۔ گزشتہ روزقبرستان کشمیریاں میں اس دولہے کا انتظار کرتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ ابھی تو اسے بہت سے کام کرنا تھے۔ ابھی تو اسے پیپلزپارٹی کا الیکشن لڑنا تھا ۔ ابھی تو اسے پریس کلب کی تنظیم نو میں اپنے حصے کا کر دار ادا کرنا تھا ابھی تو قاسم ادریس اور علی ادریس کے ماتھے پر سہرے سجانے تھے ۔ ابھی تو اس نے اپنی گڑیا بیٹی کی خوشیاں دیکھنی تھیں تو پھر اسے ایسی کون سی جلدی پڑ گئی تھی کہ وہ ہم سبکو غمگین اور اداس چھوڑ کرچلا گیا اور بقول ناصر قاظمی نجانے کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھرگیا وہ ۔میں یادوں کی بارات کی آخری سطرپر تھا کہ میری نظر ایک خبر پر پڑھی کہ 12رمضان المبارک کو سچل سر مستؒ کا سہ روز عرس شروع ہو رہا ہے اور ساتھ 12رمضان المبارک کے حوالے سے دوسری خبر پڑھی کہ بارہ رمضان المبار ک کو دوبج کر پندرہ منٹ پر سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہو گا اور اس سے دنیا بھر میں سورج کی سمت کا تعین ہو سکے گا اور بارہ رمضان المبارک کو ساڑھے چار بجے میرا دوست ادریس فاروق بٹ سرپرست اعلیٰ پریس کلب ، صدر پاکستان پیپلز پارٹی وزیر آباد کی نماز جنازہ ادا ہو رہی تھی وہ زندہ تھا تو بھی کمال کا تھا وہ بچھڑا تو بھی اس نے بارہ رمضان المبارک کے خوبصورت دن کا انتخاب کیا ۔حق مغفرت کرے عجیب ازاد مرد تھا آئیں سورۃ الاخلاص اور سورۃ الفاتحہ پڑ ھکر اسے اپنے دوست ہونے کا احساس دلاتے ہوئے اسکا ثواب اسکے نام کریں۔

ہندو دہشت گرد تنظیموں کے بیرونی لنکس

اگر ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں دہشت گرد ہندو تنظیموں کے ارتقا کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آ جاتی ہے کہ محمد غوری کی فتوحاتِ ہند، سلاطینِ دہلی اور مغلیہ سلطنت کے دور میں شہنشاہ ہند کا لقب اختیار کرنے والے مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر سے لیکر اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے تک مسلم حکمرانوں اور ہندو راجوں مہاراجوں کے درمیان سیاسی چپقلش کے نتیجے میں جنگوں میں قتل و غارتگری تو ہوتی رہی لیکن مسلمان حکمرانوں کے آٹھ سو سالہ دور میں ہندو مسلم سماجی زندگی غیر ضروری ٹینشن اور فرقہ وارانہ فسادات سے محفوط رہی ۔ حقیقت یہی ہے کہ مسلم بادشاہوں اور ہندو راجوں مہاراجوں کے درمیان جنگوں کے دوران بھی بیشتر ہندو مسلم سول آبادیوں کے درمیان پُرامن سماجی توازن بدستور قائم رہا۔ البتہ یہ سماجی توازن اُس وقت بگاڑ کا شکار ہوا جب مغلیہ سلطنت کے زوال پزیر ہونے پر بنگال اور میسور سے سراج الدولہ ور ٹیپو سلطان کی شکست سے انگریز ایسٹ انڈیا تجارتی کمپنی کے اقتدار کا سورج طلوع ہونا شروع ہوا۔ چنانچہ 1857 میں تخت دہلی پر قبضے کے بعد انگریزوں اور ہندوؤں کے درمیان سیاسی اشتراک نے مضبوط جڑیں پکڑ لیں تو ہندوستان میں نہ صرف ہندو دہشت گرد تنظیموں کا آغاز ہوا بلکہ بیشتر ہندو اکثریتی خطوں میں مسلم آبادیوں کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات نے بھی جنم لینا شروع کیا۔ 1827 میں راجہ رام موہن نے برہمو سماج نامی تنظیم قائم کی جبکہ اُن کے جانشین دینانند سرسوتی اور ڈاکٹر مونجے نے اِسے آریا سماج کا نام دیااور مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دیکر انہیں ملک سے نکالنے یا زبردستی شدھی کرنے اور افغانستان تک کے علاقے کو بھارت ماتا میں شامل کرنے کا نعرہ بلند کیا گیا۔ دریں اثنا، 1882 میں آریا سماج نے گائے ماتا کی حرمت کا نعرہ بلند کیا جو فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ بنی جبکہ 1893 میں گنگا دھر تلک نے اسلامی مذہبی روایات کے برخلاف گنپتی جلوسوں کے ذریعے مساجد کے سامنے دھرنے دینے اور بینڈ باجے بجانے کا سلسلہ شروع کیا۔
اِسی اثنا میں برطانوی حکومت ہند کے دور میں 1886 انگریزوں کے تعاون سے مستقبل میں ہندوؤں کی اقتدار میں شراکت کے حوالے سے انڈین نیشنل کانگریس پارٹی کا ارتقا ہوا تو 1921 میں کانگریس حمایت یافتہ انتہا پسند ہندو مہا سبھا پریشر گروپ کی شکل میں سامنے آئی۔یہ درست ہے کہ ہندو مہا سبھا تقسیم ہند کے بعد سنگھ پرایوار کی دیگر جماعتوں میں تقسیم ہو گئی جن میں ورلڈ ہندو آرگنائزیشن ، بجرنگ دل/ ہندو یونیٹی ، شیو سینا، ہندو توا سولجرز، زاعفرانی ٹائیگرز وغیرہ شامل ہیں خطے میں سنگھ پرائیوار کے نام سے پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان کو اکھنڈ بھارت میں شامل کرنے کی فکر پر قائم ہیں۔ ہندو مہا سبھا کے مقابلے میں 1925 میں ڈاکٹر کے بی ہیڈ گیور نے ہندو نسلی برتری کے نام پر خفیہ دہشت گرد تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ RSS یعنی آر ایس ایس کی داغ بیل ڈالی یہی وہ تنظیم ہے جس نے تقسیم ہند کے موقع پر انتہا پسند بھارتی وزیر داخلہ سردار پٹیل کی آشیر باد سے سکھ دہشت گردوں کیساتھ مل کر کراچی میں قائداعظم کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی ، دہلی سے کراچی جانے والی پاک ون ٹرینوں پر حملے کئے ، بھارت و کشمیر میں مسلمانوں کے قتل عام میں حصہ لیا اور اِسی تنظیم کے انتہا پسند ہندو دانشور نتھو رام گوڈژی نے دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات روکنے کا مطالبہ کرنے پر مہاتما گاندہی کو دن دھاڑے موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا ۔ تقسیم ہند کے بعد آر ایس ایس انتہا پسند ہندو جماعت کی حیثیت سے بھارتی پولیس اور فوج میں اپنے انتہا پسند ارکان کو بخوبی داخل کرتی رہی جبکہ وقت گزرنے کیساتھ ہندوستان میں اِس کے تربیت یافتہ رضاکاروں کی تعداد ایک محتاط اندازے کیمطابق 10 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ 1972 میں بھارت کے مشہور سیاسی و سماجی دانشور آنجہانی جے پرکاش نرائن نے پٹنہ میں آر ایس ایس کے تربیتی کمپ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ بھارت میں اگر کوئی طاقت پاکستان اور بنگلہ دیش کو بھارت کے ساتھ ملا کر اکھنڈ بھارت بنا سکتی ہے تو وہ صرف آر ایس ایس ہے ۔ 2005 میں آر ایس ایس چیف سدھرشن جی نے وجے دشمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی حکومت کو براہ راست دھمکی دی تھی کہ وہ آر ایس ایس کو معمولی تنظیم نہ سمجھیں کیونکہ اِس تنظیم کے ہمیشہ سے ہی بھارتی فوج کے ساتھ خصوصی تعلقات رہے ہیں۔ یہ آر ایس ایس کے رضاکار ہی تھے جو ڈوگرہ فورس کیساتھ کشمیر میں متحرک تھے اور جنہوں نے دن رات ایک کر کے1947 میں جموں اور سری نگر کے ہوائی اڈوں کو بحال کیا تھا تاکہ بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہو سکے اور یہ کہ بھارت کے ساتھ الحاقِ کشمیر کے لئے آر ایس ایس کے سابق چیف گروجی نے ہی مہاراجہ کشمیر کو عارضی الحاق کی دستاویز پر دستخط کرنے پر مجبور کیا تھا۔ سدھرشن نے من موہن سنگھ کو باور کرا یا کہ 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ میں آر ایس ایس نے بھارتی فوج اور مکتی باہنی کی مدد کی تھی۔ اِس موقع پر سدھرشن کی صدارت میں ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کسی بھی پیش رفت سے گریز کرے کیونکہ سیاچین پر کنٹرول بھارت کی اسڑ یٹیجک ضرورت ہے ، کپواڑہ اور بارہ مولہ کو غیر فوجی علاقہ قرار دینا ، وادی میں کھلی سرحدوں اور مشترکہ انتظامیہ کی بات کرنا بھارتی مفادات کے منافی ہے اور یہ کہ سیاچین سے بھارتی فوج کو واپس بلانا بھارت کے ساتھ غداری کے مترادف سمجھا جائے گا ۔
درحقیقت، آریا ہندو سماج کے ماننے والے جو افغانستان کے راستے بّرصغیر ہندوستان میں داخل ہوئے تھے نے موہنجو داڑو اور ہڑپہ کی دراوڑی نسل کی تہذیب کو تباہ و برباد کرنے کے بعد ہندوستان میں غلبہ حاصل کیا تو گزشتہ ڈھائی ہزار برس میں ہندوستان کو بھارت ماتا بنا کر دیگر قوموں کو شودر یا اچھوت بناکر خطے میں ہندو سماج کی برتری کو منوانے کیلئے دیگر قوموں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اِس اَمر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ذات پات اور چھوت چھات کے نظام نے ہندوازم کے ہاتھ میں جذب و امتزاج کا ایک ایسا سماجی ہتھیار ضرور تھما دیا تھا جس نے ہندوستان آنے والے بیرونی فاتحین کے مذاہب اور تہذیبوں کو وقت گزرنے کیساتھ ہندو ازم میں ضم کرلیا۔ لیکن جب مسلمان فاتحین کے طور پر ہندوستان میں داخل ہوئے تو دیگر مذاہب و تہذیبوں کے مقابلے میں اسلام نہ صرف ہندوازم میں جذب نہیں ہوسکا بلکہ ہزاروں و لاکھوں ہندو بھی اسلامی تہذیب و تمدن کا حصہ بن گئے۔ ہندوستانی مورخ،، نرد چوہدری،، اپنی کتاب ہندوازم میں لکھتے ہیں کہ ماضی میں ہندوازم میں دیگر مذاہب کو جذب کرنے کی صلاحیت بڑھتی چلی گئی حتیٰ کہ ہندوستان آنے والی بیرونی حملہ آور قومیں بتدریج ہندو معاشرے میں جذب ہوتی چلی گئیں اور برتر برہمن حکمرانی کا معاشرہ وجود میں آتا گیا۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ہندوازم کی امتزاج کی قوت نے ہزاروں برس تک بیشمار قوموں کو اپنے اندر جذب کیا لیکن مسلمانوں کی شکل میں ایک خطرناک دشمن سامنے آگیا جس نے پہلے تو اپنی سماجی قوت کو منوایا اور پھر تاریخ میں پہلی مرتبہ ہندو تہذیب کو ایک ایسے خطرے سے دوچار کر دیا جو تاریخ میں اِس سے پہلے کبھی ہندو سماج کو پیش نہیں آیا تھا۔ پروفیسر بینی پرساد اپنے مقالے میں لکھتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے آنے کے بعد اِس اَمر کی وضاحت ہوگئی کہ ہندو کلچر مسلمانوں کو اپنے اندر نہیں سما سکتاجیسا کہ اُس نے اِس قبل دیگر مذاہب کو اپنے اندر سمایا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) اے آئی اکرم اپنے تجزیاتی مقالے India Revisited میں لکھتے ہیں کہ ہندو مت کی مضبوطی اور سب کچھ اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت اِس اَمر سے ظاہر ہوتی ہے کہ جو کوئی ہندوستان فتح کرنے آیا اُسے ہندو دھرم نے اپنے اندر جذب کر لیا لیکن اسلام کیساتھ ایسا نہیں ہوا بلکہ اسلام نے ہندوازم کے بیشتر پیروکاروں کو اسلامی جذبے سے متاثر کر کے اپنے اندر سمو لیا۔ یہ درست ہے کہ جو بھی ہندو مسلمان ہوا وہ پھر ہندو سماجی بائیکاٹ کی پالیسی کے باوجود اسلامی اقدار پر ہی قائم رہا جس نے ہندوازم کے ماننے والوں کی فکر میں ایک نا ختم ہونے والی نفسیاتی جھنجلاہٹ کا عنصر پیدا کر دیاجس کے باعث دین اسلام کے خلاف ہندوازم میں شدت پسندی کے جذبات پیدا ہوئے ۔چنانچہ ہندوانتہا پسند تنظیمیں آر ایس ایس اور ورلڈ ہندو آرگنائزیشن اپنا چولہ بدل بدل کر تقسیم ہند کا بدلہ لینے کیلئے نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف اپنے غم و غصے کو ظاہر کرتے رہتے ہیں بلکہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف بھی متحرک ہیں۔ اندریں حالات ، پاکستانی اداروں کو ہندو انتہا پسند تنظیموں کے بیرونی لنکس اور سیاسی جماعتوں میں در آنے والے اثرات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی جو آر ایس ایس کے فدائی کے طور پر RSS چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کی حمایت سے بھارت کے وزیراعظم بنے ہیں اور بھارتی اسٹیل ٹائیکون سجن جندال جن کی تاجرانہ منافقت اور چالاکی سے مسلم لیگی قیادت میں در آنے والے اثرات پر ضرور غور و فکر کرنا چاہیے جس کا تذکرہ بل خصوص نواز شریف ، مریم نواز صفدر اور سینیٹر پرویز رشید کے حوالے سے کابینہ کے دو سابق وزراء چوہدری نثار علی خان اور عبدالغفور نے اپنے حالیہ بیانات میں کیا ہے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

فاشسٹ بھارت ۔ سکھوں کے لئے ایک جہنم

بھارتی دیش کی گزشتہ71 سالہ جمہوری تاریخ کے تناظرمیں’فرداوراقلیت’ کے حقوق کی ضمانت کل بھی ایک سنگین سوال تھی ‘آج بھی وہاں پرصورتحال بدلتی ہوئی یا بہترہوتی دکھائی نہیں دیتی ہے ‘کثیرالنسلی’کثیرالمذاہب اورچھوٹی بڑی ہمہ جہتی ثقافتی اکائیوں کے ٹکراؤکے ساتھ ‘ہندوتوا’ کی راہ پرچل نکلا یہ دیش نجانے کب تک یونہی متشدد جنونی ہندوؤں کی اکثریت کے بل پر ‘ آمرانہ طرزکی جمہوریت’ کے نا م پرچلتا ر ہے گا، مودی ٹائپ کے عیار سنگدل حکمران نئی دہلی کے مرکزی سنگھاسن پرقبضہ جمائیدیش کی چھوٹی بڑی اقلیتوں کے بنیادی حقوق ریاستی طاقت کے زورپرزیرنگیں رکھنے کی اپنی پالیسیاں جاری رکھیں گے اگر ‘فرداوراقلیت کے حقوق’کوغصب کرنے والے ایسیکسی جمہوری سماج کی تعریف کرتے ہوئیکوئی سوال یوں ترتیب دیا جائے کہ’ کیا کسی ایسے سماج میں جہاں بلا کسی تعطل کے مسلسل ایک ہی ڈگرپرجمہوریت کوسسٹم کے نام پرچلایا جاتا رہے گا اوراْس جمہوری سماج میں رفتہ رفتہ ایک ہی مخصوص قسم کے جنونی متشدد نظرئیے کوفروغ ملتا رہے گا ،جبکہ دیگرثقافتی نظرئیے اپنی عددی کمی کا شکارہوتی رہیں گی توکیا ایسی جمہوریت کسی ایک مقام پرپہنچ کرخود بخود اختتام پذیرتو نہیں ہو جائے گی؟ضرورایسی جمہوریت اختتام پذیر ہوگی مطلب یہ کہ ایسے سماج میں استحصال کاخطرہ کسی اورسے نہیں ہواکرتا بلکہ ایسی’یک نظری جمہوریت ‘خود ہی اپنے سماج کیلئے ایک سوہانِ روح بن جاتی ہے’یعنی ہم یوں سمجھ لیں اور ہمارے متذکرہ بالا سوال کا لبِ لباب یہی نکلا ہے کہ ‘اکثریت کی مطلق العنانی عالمی پیمانے پر تسلیم شدہ معروف جمہوریت کو کبھی بھی پنپنے نہیں دیتی’ جس کا ایک نظارہ زندہ جاوید نظارہ ہم اپنے پڑوسی ملک بھارت میں دیکھ سکتے ہیں، بھارت میں ‘فرداوراقلیت’کے حقوق کا کیسا بھونڈا مذاق اْڑیا جاتا ہے کوئی ایسا روز نہیں گرزتا، جب دیش کے کسی علاقے میں صرف اِس بات پر کسی مسلمان کو قتل کردیا جاتا ہے کہ اْس پر کسی گائے کو ذبح کرنے کا الزام ہے، مسلمان بھارت کی بڑی اقلیت میں شمار ہوتے ہیں، ابتداء میں جیسا عرض ہوا ہے کہ بھارت میں کئی مذاہب کے ماننے والے کروڑوں افراد آباد ہیں، عیسائیوں کی ایک اہم تعداد ہے ماؤنواز بدھسٹ ہیں، خود ہندوؤں کی کئی ذاتیں ہیں اور ادھرمشرقی پنجاب میں نئی دہلی کی اقلیت مخالف سرکار سے ناراض سکھوں کی اپنی ایک علیحدہ قومی وملی شناخت ہے، جن کی نظریں ہمہ وقت پاکستانی پنجاب کی جانب لگی رہتی ہیں، اْن کے تقریبا سبھی اہم مذاہبی مراکزاور عبادت گاہیں جو پاکستان میں ہیں غالبا یہی وجوہ ہے کہ پاکستانی پنجاب کیلئے اْن کے قلب ونظرمیں ہمیشہ احترام کاساجذبہ پایا جاتا ہے’آرایس آیس سے وابستہ بھارت کی بڑی سیاسی جماعتوں کے خفیہ لیڈروں نے کہیں ڈھکے چھپے کہیں کھلے بندوں سکھ مذہب کے ماننے والوں کوہمیشہ ترچھی‘ تیکھی اورچبھتی ہوئی نظروں سے دیکھا ہے’ہندوتواکے غنڈے پر چار کوں نے بھارت کے سیکولرآئین کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں، سنگھ پریوار کے نام پر غیر ہندوؤں کو ‘گھرواپسی’ پر آمادہ کرنے کی اپنی سی لاکھ کوششیں کر ڈالیں ‘خاص کر بدھسٹ مذہب کے پیرو کاروں کو اِن جنونی ہندوؤں نے اپنا شکار بنایا اب وہ سکھوں کو ‘غدار’ قرار دینے کی بڑی بھر پور سازشیں کررہے ہیں یہاں ہم اپنے قارئین کے ساتھ یہ شیئر کرتے چلیں کہ بھارت اور دنیا بھر میں آباد سکھ کمیونٹی کے اہم اور ممتاز لیڈرآسٹریلیا اور کینیڈا میں بڑی تعداد میں مستقل رہائش پذیر ہیں اِن ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کے سبھی شعبوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ سکھوں اپنا حصہ بقدرِ جسہ ڈالا جن میں کئی سکھ لیڈروہاں کی مقامی انتظامیہ میں اوراِن ممالک کی اعلیٰ سطحی سیاست میں بھی بڑا فعال کردار اداکررہے ہیں بیرون ملک آباد سبھی سکھ رہنماؤں نے عالمی سطح کے فورموں پربھارت میں بڑے پیمانے پرریاسی سرپرستی میں روارکھے جانے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنا صدائےِ احتجاج بلند کیا ہے اور دنیا کو بھارت کو وہ خونریز چہرہ دکھادیا ہے جو کبھی بھی جاذبِ نظر اور شاندار نہیں تھادنیا کو دھوکہ دینے کیلئے ہمیشہ بھارت نے جھوٹی جمہوریت کے راگ الاپے جنونی ہندوؤں کی اکثریت بھارت میں اقلیتوں کیلئے کل بھی ہمیشہ عذاب بنی رہی اور آج بھی اْس دیش میں ایسی ہی بدترین صورتحال ہے بین الااقوامی شہرتِ یافتہ بھارتی ادیب وصحافی خوشونت سنگھ کو اِس جہانِ فانی سے گزرے کئی برس بیت چکے ہیں اپنی عمر کے آخری ایام اْنہوں نے بہت دکھی ہوکر بسر کیئے اْنہیں جنونی ہندوؤں کی بڑھتی ہوئی تنگ نظری تعصب اور اقلیتوں کے ساتھ روارکھنے جانے والے انسانیت کش وطیرے پر ہمیشہ بڑا صدمہ رہا، خاص کر سکھوں اور بھارت میں آباد مسلمانوں پرہونے والے مظالم وہ آخری دم تک نہ بھلاسکے اْنہوں نے اپنی تصنیف’بھارت کا خاتمہ’لکھ کر جنونی متشددآرایس ایس کے کالے بہیمانہ کرتوں کو بڑی جرات مندی سے بے نقاب کیا خوشونت سنگھ لکھتے ہیں کہ ‘سیکولرازم کا راستہ ترک کرکے بھارت نے اپنے اندرونی انتشار اور ثقافتی شکست وریخت کا ازخود فیصلہ کرلیا ہے‘ اگر آج خوشونت سنگھ جی بقیدِ حیات ہوتے تو وہ دیکھتے کہ آرایس ایس کے ایک جنونی کارسیوک نریند را مودی نے مذہبی تعصب پسندی کی آڑمیں دیش کی ایکتائی کو کتنا بڑانقصان پہنچادیا ہے بھارت بربادی کا شکار ہوچکا ہے یہ وہی خوشونت سنگھ تھے جنہوں نے اپنی کتاب ‘بھارت کا خاتمہ’ کے تعارف میں 1990 میں ہی صاف لفظوں میں واضح کردیا تھا کہ واجپائی ہوں ‘ایڈوانی’ منوہر جوشی ‘اوما بھارتی اور نریندرا مودی جیسے متعصب لیڈروں نے بھارت کی سر زمین میں زہریلی نفرتوں کے بیج بوئے ہیں، اب ہرایک ہوش مند بھارتیوں کا فرض ہے کہ وہ ہندو جنونیوں کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دے ‘ یقیناًاُنہوں نے بالکل صحیح نشاندہی کی ہے ہماری نظروں آج کا بھارت ’فاشسٹ بھارت‘ بن چکا ہے‘ نریندرا مودی ’بھارتی فاشزم کی پہچان ہے جہاں جنونی متشدد اور انسانی لہو کے رسیا ہندوؤں کے علاوہ کسی اور رنگ‘ نسل یا مذہب کے ماننے والے کی کوئی جگہ نہیں‘ سکھ ہوں یا مسلمان‘عیسائی ہوں یا بدھسٹ یا سیکولر ازم کے پیروکارپورا بھارت انتہائی غیر منطقی قسم کے نسلی تعصب کی بدترین شکل اختیار کرچکا ہے۔

آبی دہشت گردی

پاکستان اور افغانستان باہمی کشیدگی کم کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔خوش آئند امر یہ ہے کہ بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوئے ۔سرکاری سطح پر بات چیت کے علاوہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔اس سلسلے میں اگلے روز اسلام آباد میں بات چیت ہوئی۔پاکستان اور افغانستان نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان مختلف سطحوں پر ہونیوالے مذاکرات اور اس ضمن میں ہونیوالی پیش رفت کو میڈیا پر نہیں لایا جائیگا اور نہ ہی اس حوالے سے دونوں ملکوں کے ترجمان ایسے بیانات دینگے جس سے غلط فہمیاں پیدا ہوں، یہ تجویز پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس کی افغان وفد کی طرف سے مکمل تائید کی گئی۔دونوں ممالک کی حکومتوں نے دوطرفہ تعلقات میں مزید بہتری کیلئے نئے فریم ورک پر آمادگی کا اظہار کیا ہے جسے افغانستان، پاکستان ایکشن پلان برائے امن ویکجہتی کا نام دیا گیاہے، اجلاس میں یہ بھی طے پایا گیا ہے کہ کسی بھی غیر معمولی حالات میں دونوں ممالک محاذ آرائی کی بجائے فور طور پر رابطہ بحال کرکے صورتحال کو سازگار بنائیں گے ۔بلاشبہ باہمی غلط فہمیوں کو کم کرنے کا یہی ایک بہترین طریقہ ہے کہ میڈیا کے ذریعے الزام تراشی کی بجائے بات چیت کے ذریعے مغالطوں کو حل کریں۔پاکستان اور افغانستان کے مابین حکومتی سطح پر موجود سردمہری دور کرنے اور دوستانہ تعلقات کے فروغ کے لیے ٹریک ٹو ڈپلومیسی ایک اچھا انتخاب ہے اور میڈیا کے ذریعے الزام تراشی سے گریز کی پالیسی وقت کا تقاضہ ہے لیکن دوسری جانب عملی طور ایسا دکھائی نہیں دیتا۔پاکستان میں عدم استحکام کو ہوا دینے کیلئے بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں مداخلت جاری ہے۔پشتون تحفظ موومنٹ کے نام سے جس جتھے کو اچانک منظم کیا گیا ہے اور اسے میڈیا کے ذریعے مشتہر کیا گیا پاکستان اس کے ماسٹر مائنڈوں سے بے خبر نہیں ہے۔چند دنوں میں سوشل میڈیا اکاونٹس کی بھر ماراور ایک ہی ڈیزائن کی لال ٹوپیاں جو پہلے ٹی ٹی پی کی دہشت گردوں اور ان کے حمائتیوں کے سر پر سجی نظر آتی تھیں پشتون تحفظ موومنٹ کے چند گمراہ بے روزگار نوجوانوں کے سر پر سجا دی گئیں۔وہ مذموم مقصد جس کیلئے افغانستان نے لاجسٹک سپورٹ اور بھارت نے ٹی ٹی پی پر سرمایہ کاری کی تھی میں ناکامی کے بعد اسے پورا کرنے کے لیے پی ٹی ایم کو کھڑا کیا گیا ہے۔ آخر سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ مٹھی بھر بے روزگار اور گمراہ نوجوانوں میں ایسی کیا خوبی تھی کہ عالمی میڈیا انہیں ہاتھوں ہاتھ لینے لگا ہے۔افغان صدر انہیں شاباشیاں دیتے ہیں۔اب تو ان کی رسائی جنیوا کے شیطانی ایوانوں کے سامنے تک ہو گئی ہے۔چند روز قبل پشتون تحفظ موومنٹ کے بینر تلے جنیوا میں اسی طرز کا ایک پاکستان مخالف مظاہرہ ہوا جو قبل ازیں بھگوڑے بلوچ کرتے آ رہے ہیں۔اس احتجاجی مظاہرے سے بھارت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی ایک اور سازش بھی بے نقاب ہوتی ہے، اس کا ثبوت مظاہرے میں نام نہاد بلوچ قوم پرست تنظیموں کے ساتھ ساتھ بھارتی اور افغان جھنڈے تھے جو لہرائے گئے۔ مظاہرے میں بھارت کی مدد سے چلنے والی دیگر پاکستان مخالف تنظیمیں بھی شریک ہوئیں۔یقیناًیہ کام مفت میں تو نہیں ہوا ہو گا۔کسی نے ان انتظامات اور اخراجات کیلئے فنڈنگ بھی کی ہوگی۔ جو اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ پی ٹی ایم کو اسکے بیرونی آقا چلا رہے ہیں،بین الاقومی ذرائع کے مطابق فنڈز کے علاوہ مظاہرے میں شرکاکی تعداد بڑھانے کیلئے بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیوں نے پشتون تحفظ موومنٹ کو افرادی قوت بھی فراہم کی تاکہ پاکستان کو دباو میں لایا جا سکے۔ مظاہرے میں پاکستان کا کوئی جھنڈا نہ لہرایا گیا بلکہ مظاہرین نے اپنے آقاؤں کے اشارے پر پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے۔غیرجانبدار مبصرین کے مطابق جینوا میں پشتون تحفظ موومنٹ کے پاکستان مخالف مظاہرے سے پاکستان کی حساس ترین ایجنسی آئی ایس آئی اور پاک فوج کا یہ موقف سچ اور درست ثابت ہوگیا ہے کہ پی ٹی ایم کو بیرونی آقاؤں کی سرپرستی حاصل ہے اور اس کے کرتا دھرتا پاکستان دشمن عالمی ایجنڈے کا حصہ بن چکے ہیں۔اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کی مالی مدد کرنے میں مودی غنی گٹھ جوڑ پیش پیش ہے۔چونکہ کابل حکومت پر بھارتی لابی کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ صدر اشرف غنی از خود اسلام آباد کی جانب ایک قدم بھی اٹھانے کے قابل نہیں ہیں۔ہوتا وہی ہے جس کا انہیں اشارہ ملتا ہے۔ٹریک ٹو ڈائیلاگ اچھی کوشش ہے لیکن جو چیزیں کشیدگی کا باعث بن رہی ہیں ان کی بھیروک تھام کی جائے تب کہیں جا کر خلیج کم ہو گی۔اس طرح دو رنگی سے بات چیت آگے نہیں بڑھے گی۔پاکستان نے تو ہمیشہ یہی چاہ ہے کہ افغانستان امن کا گہوارہ بنے کیونکہ سرحد کے اس پار کی بدامنی سے پاکستان کا امن تباہ ہو رہا ہے۔یہ افغان حکام ہیں جو پاکستان کے ازلی دشمن بھارت سے پینگیں بھی بڑھاتے ہیں اور پاکستان سے تعاون بھی چاہتے۔دو کشتیوں کے سوار کب اور کیسے منزل پر پہنچ پاتے ہیں اس کا جواب ہر کس و نا کس کو معلوم ہے۔

Google Analytics Alternative