کالم

تیسری دنیا میں تیسرے درجے کے لوگ

بھارت کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے ساتھ پاکستان میں، بالخصوص پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایک بحث شدومد کے ساتھ جاری ہے کہ پاکستان کس چیز میں کس نمبر پر ہے۔ زیادہ تر تو بھارت اور پاکستانی کی دفاعی صلاحیت اور جنگی سازوسامان ہی کا موازنہ کیا جا رہا ہے مگر اس بحث و تکرار سے میرے ذہن میں کچھ اور سوال ابھرے ہیں۔ ہمارے لیے یہ فخر کا باعث ہے کہ اس وقت، ہماری فوج بھارت کی فوج سے بدرجہا بہتر ہے اور اس کے پیچھے اس کی دس سالہ مسلسل اور پیہم جنگ ہے جو ملک کے مغربی بارڈر پر دہشت گردوں کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔ اس کے بعد ہمیں اپنے سائنسدانوں پر بھی فخر ہے کہ آج ہم حربی سامان کے حوالے سے بھی بھارت سے بہت آگے ہیں۔بھارت ہی کے قریبی اتحادی جاپان کے ایک اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کرنے والا بھارت دراصل ایسی کسی سٹرائیک کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا مگر ہمیں لیے یہ باعثِ فخر ہے کہ پاکستانی فوج اپنے جدید حربی سازوسامان اور دہشت گردوں کے خلاف طویل گوریلا جنگ کے باعث سرجیکل کی سٹرائیک کی بھرپور صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔ جو کام بھارت نہیں کر سکا وہ پاک فوج بخوبی کر سکتی ہے۔کم از کم میری نظر میں یہ بحث عبث ہے کہ پاک فوج بہتر ہے یا بھارتی فوج؟ مجھے پاک فوج کی صلاحیتوں پر پورا ایمان کی حد تک اعتبار ہے مگر مجھے ہم پاکستانی قوم اور پاکستانی سیاستدانوں پر چنداں اعتبار نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاک فوج کی صلاحیتوں اور پاکستان کے حربی سامان کی بجائے یہ بحث پاکستانی قوم کی مجموعی سوچ اور کردار پر ہونی چاہیے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو میرے خیال میں ہم تیسری دنیا کے ممالک میں بھی تیسرے نمبر پر آئیں گے۔ عوام کی بات ہی کیا کریں۔ یہاں خودساختہ قائداعظموں اور نیلسن مینڈلوں کی سوچ ہی اس قدر انحطاط کا شکار ہے کہ پاکستان کے متعلق بھارتیوں کی سوچ کا انحطاط بھی ان کے آگے پانی بھرتا ہو گا۔ ایک دو فقرے تحریر کرتا ہوں۔ فیصلہ آپ خود کر لیجیے۔ لاہور جلسے کی تیاریوں کے دوران تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’’میں رائیونڈ ’’رشتہ‘‘لینے نہیں جا رہا، پتا نہیں اپوزیشن کیوں پس و پیش کا شکار ہے۔‘‘جلسے کے دوران سٹیج سیکرٹری نے نواز شریف کا جنازہ تک نکال دیا اور وہ کچھ بول دیا جو یہاں میں لکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔مسلم لیگ کے طلالوں اور دانیالوں کی بدزبانی کے تو چرچے تھے ہی، یہ کون سی زبان ہے جو خود عمران خان اور ان کی موجودگی میں ان کے حواری بول رہے ہیں؟ ایک طرف تحریک انصاف کی شیریں مزاری پارلیمنٹ میں خواجہ آصف کی بدزبانی پر ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر چکی ہیں جو خیر سے مسترد بھی ہو چکی ہے اور دوسری طرف عمران خان اپنے مخالفین کیلئے ایسے الفاظ بول رہے ہیں جو ہمارے جیسے معاشروں میں سب سے غلیظ گالی سمجھے جاتے ہیں اور عوامی سطح پر ایسے الفاظ ادا کرنے والے کا انجام بسااوقات بہت بھیانک ہوتا ہے۔گزشتہ روز کیا ہوا، عمران خان نے نواز شریف کو وزیراعظم تسلیم کرنے اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت سے ہی انکار کر دیا۔ ابھی ایک روز پہلے وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں تحریک انصاف نے بھرپور شرکت کی تھی۔ شاہ محمود قریشی نے وہاں بڑی اعلیٰ گفتگو کی جسے ہر سطح پر سراہا گیا۔ آخر ایک ہی رات میں ایسا کیا ہو گیا کہ عمران خان اس درجہ پیچھے ہٹ گئے؟ پانامہ لیکس تو بہت پرانی بات ہو چکی، کرپشن بھی بہت پہلے کا قصہ ہے۔ اس ایک رات میں ایسا کیا ہوا تھا؟ عمران خان کو بہرحال اس سوال کا جواب دینا ہو گا۔ ملک پر یہ وطن بہت کٹھن ہے۔ ایسے میں ذاتی بغض و عناد چہ معنی دارد؟ مشرق اور مغرب دونوں اطراف سے پاکستانی بارڈر غیرمحفوظ ہے، جنگ کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے۔ تمام سیاسی و فوجی قیادت سر جوڑکر بیٹھی اور اور ایک اکیلے عمران خان دندناتے پھر رہے ہیں اور وزیراعظم کی حیثیت اور پارلیمنٹ کے وجود سے ہی مکر رہے ہیں۔ کیا پیغام دے رہے ہیں وہ دنیا کو؟ کرپشن کے خلاف ہم بھی بولتے اور لکھتے رہتے ہیں۔ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ کرپشن کی تحقیقات نہ ہوں، مگر وقت کی بھی تو کوئی اہمیت ہوتی ہے۔ جوں جوں نریندرمودی کا پاگل پن عروج کو پہنچ رہا ہے ادھر عمران خان کی زبان کی تندی بڑھتی جا رہی ہے۔عمران خان نے دو روز قبل بھارتی جارحیت پر وزیراعظم کے ساتھ مل کر چلے کا عہد کیا تھا، دو دن بعد ہی نواز شریف کو وزیراعظم ماننے سے ہی انکار کر دیا۔ ایسے حالات میں اس یوٹرن کا کیا مطلب؟ گزشتہ روز دو اجلاس ہوئے، پوری سیاسی قیادت اور فوج جن میں شریک تھی۔ بھارتی جنگی جنون اور نیشنل ایکشن پلان جیسے امور زیرغور تھے۔ عمران خان مدعو ہونے کے باوجود وہاں نہ پہنچے۔ اس کی بجائے مری میں دوستوں کے ساتھ موسم سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ خدارا خان صاحب! یوٹرن آپ نے پہلے بھی بہت لیے، بعد میں بھی لیتے رہیے گا۔ یہ وقت ایک ہونے کا ہے۔ پاکستان ہے تو آپ کے یوٹرن ہیں۔ یہ وقت پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے جس کے وزیراعظم میاں نواز شریف ہیں۔ وہ کیسے وزیراعظم بنے، یہ فیصلہ آپ پہلے بھی کرتے آئے ہیں، بعد میں بھی کرتے رہیے گا۔ یہ وقت سیاست کا نہیں، دشمن کو اتحاد و یگانگت دکھانے کا ہے۔ ایسے وقت میں آپ منہ بنا کر اپنی ہی قسمت کھوٹی کر رہے ہیں کیونکہ قوم ایسے وقت میں آپ کی ان باتوں سے جو معنی اخذ کر رہی ہے وہ آپ کو لے ڈوبیں گے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو 2018ء کے انتخابات کے بعد بھی ’’دھاندلی‘‘ کے

بھارتی جنگی جنون ۔۔۔اَجے شُکلا کے انکشافات

بھارت اس وقت جنگی جنون میں مبتلا ء ہے ایسا صرف اب نہیں ہمیشہ سے ہے لیکن بھارت کا دہشت گرد مودی اس وقت ذہنی مریض بن چکا ہے اور محسوس ہو رہا ہے کہ بہت ساری حرکات وہ دیوانگی میں کر رہا ہے کشمیر میں اس کی افواج جو انسانیت سوز مظالم کر رہی ہیں اُس کی کوئی توجیہہ اس کے پاس نہیں ۔کشمیر میں آزادی کی تحریک میں خود بھارت سرکار اور مودی نے جو روح پھونکی ہے اب اُسے قابو کرنے میں وہ بری طرح ناکام ہے یہ جوش جو برہان مظفر وانی کی نوجوان شہادت نے آزادی کشمیر کی تحریک میں پیدا کیا وہ مودی اور اس کے ساتھی ہندو شدت پسندوں اور حکومت کی توقعات سے بہت زیادہ تھا ، پھر کشمیریوں کے احتجاج کو قابو کرنے کے لیے اُس نے جس بر بریت کا اندھا دھند مظاہرہ اور اسلحے کا جوبے دریغ استعمال کیا اس کا خیال تھا کہ وہ کشمیریوں کے جوش کو ٹھنڈا کر سکے گا لیکن یہاں بھی اُسے ناکامی ہوئی اور یہ قدرت کا اصول بھی ہے کہ ہر عمل کا مخالف سمت میں اتنا ہی رد عمل ہوگا پھربھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ بھارت سینکڑوں کشمیریوں کو شہید اور اندھا کرے اور جواباََ وہ خاموش بیٹھ جائیں، اپنے جوانوں کو دفن کریں اور دشمن کے جوانوں کو سلامی دیں اور اُن کی حفاظت کریں یا اس کے پرچم کوتعظیم دیں، ایسا محبوبہ مفتی یا اُس جیسے چند غدار تو کر سکتے ہیں دوسرے نہیں لہٰذا اڑی بریگیڈ کے اوپر حملے کو غیر متوقع ہر گز نہیں سمجھا جانا چاہیے تھا لیکن بھارت نے حسب معمول اور حسب توقع اس حملے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی حالانکہ یہ بات بھی خارج از امکان نہیں کہ مکار ہندو نے اپنے گھناؤ نے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ایک بنیاد بنانے کی کوشش کی ،وہ اور اس کا جنونی وزیراعظم ایک اور جنگ لڑنے پر آمادہ ہیں دراصل اُسے خطے میں اپنے کمزور ، چھوٹے اوربھوٹان جیسے طفیلی ہمسائے کی عادت ہے جو بیچارہ اپنی آٹھ لاکھ آبادی اور چھوٹے سے رقبے کے ساتھ تین اطراف سے بھارت سے گھرا ہوا ہے اور مجبوراََ اس سے جُڑا ہوا ہے اور اسی وجہ سے اس بار بھی وہ بھارت کے حق میں بولا اگرچہ اُس کے بولنے کی بین الاقوامی سطح پر کوئی اہمیت تو نہیں لیکن بھارت اس حمایت پر بھی خوش ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ بھارت نے شاید سمجھا کہ پاکستان بھی بھارت سے چھوٹا ملک ہے اس لیے وہ بھی اس کے قابو میں آجائے گا لیکن اُس کی بد قسمتی کہ پاکستان نے اپنی قوت و طاقت میں مسلسل اضافہ کیا اور بھارت کے عزائم کی راہ میں دیوار تو وہ پہلے ہی دن بنا تھا اب اس دیوار میں ہر گزرے دن کے ساتھ مضبوط اور سنگین پتھر لگائے گئے جس سے بھارت سر تو پھوڑ سکتا ہے اسے توڑ نہیں سکتا۔بھارت نے پاکستان کے خلاف اپنی طرف سے ایک’’ شاندار منصوبہ بندی‘‘ کی جس کا انکشاف اَجے شُکلا نے ایک انڈین بلاگ میں اپنے مضمون میں کیا اور معلوم ہوتا ہے کہ اُڑی حملہ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ ہے۔ اس منصوبے کے مطابق پہلے وہ ایل او سی پر فائرنگ کرے گا لیکن اسے پار نہیں کرے گا جبکہ ابھی اُس نے بڑہانگ لی ہے اور سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کر لیا ہے یعنی اُسے خود بھی نہیں معلوم کہ اُس نے کیا کرنا ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ جنون کے عالم میں سب کچھ کر رہا ہے اور یہ دعویٰ اس کی بو کھلا ہٹ کا ایک اور ثبوت بن گیا کیونکہ کم از کم کشمیر میں یا پا ک بھارت سرحد کے آس پاس کہیں بھی ایسے آثار موجود نہیں جہاں سرجیکل سٹرائیک کا گمان ہو۔ بھارت کے ڈی جی ایم او نے کہا کہ اُنہوں نے ہیلی کاپٹر سے پیرا ٹروپر اتارے گئے معلوم نہیں اس قدر خاموش ہیلی کاپٹر بھارت نے کب ایجاد کیے اور پھر وہ پیرا ٹروپرز کہاں اور کیسے واپس گئے۔ جب یہ حربہ نہ چلا تو کہہ دیا گیا کہ انہوں نے اپنی سپیشل سروسز کی مدد سے ایسا کیا جو رینگتے ہوئے سرحد کے اندر داخل ہوئے اور دوسو لوگوں کو مار گئے تو کیا پاکستانی فوجی سو رہے تھے۔ اقوام متحدہ کے مبصر گروپ نے بھی کہہ دیا ہے کہ ایسے کوئی شواہد موجود ہی نہیں اور صحافیوں کے جس گروپ کو ایل او سی کا دورہ کرایا گیا وہ بھی کچھ نہ دیکھ سکے ویسے ایسے جھوٹ پر تو بھارت کو اپنے ڈی جی ایم او کو فارغ کر دینا چاہیے تھا اگر اس نے یہ جھوٹ اپنی مرضی سے بولا تھا لیکن لگتا ہے اس میں مودی کا دہشت گرد دماغ بھی شامل ہے اس لیے وہ اپنی نوکری پر بحال ہے۔ یوں بھارت اپنے چار اقدامی منصوبے کے پہلے حصے میں بُری طرح نا کام ہوا۔ اس منصوبے کے مطابق وہ پہلے مرحلے میں اندر نہیں آئے گا اور وہ کہہ رہا ہے کہ وہ اندر آیا اس کی اس بڑ کا تو پول کھل چکا لیکن ایل او سی پر اُس کی فائرنگ کا بھی بھر پور جواب دیا جا رہا ہے اور مجبوراََ اُسے فائرنگ روکنا پڑتی ہے۔ دوسرے مرحلے میں اس کا ارادہ ایل او سی پار کرنا ہے لیکن بقول اس کے وہ کسی علاقے پر قبضہ نہیں کرے گا یعنی اُس کے خیال میں ہماری افواج اُسے ایسا کر لینے دیں گی وہ جانتا ہے وہ ایل او سی عبور نہیں کر سکتا لیکن اس کی افواج مودی کے دہشت گرد مزاج کی تشفی کرنے کے لیے اسے دلاسہ دے رہی ہیں کیونکہ ظاہر ہے اُس کے جرنیلوں کی نوکری اور ترقی بھی اُس کے ہاتھ میں ہے اور انہیں اس لیے اُسے خوش رکھنا ہے۔ منصوبے کے تیسرے مرحلے میں اُس کے خیال میں وہ ایل او سی عبور کرکے زمینی قبضہ کرے گا اسے یاد ہونا چاہیے کہ پہلے بھی پاکستان نے اس سے اپنا علاقہ واپس لیا تھا اور آج تک خدانخواستہ آزاد کشمیر میں سے کبھی بھی بھارت سے محبت کا اظہار نہیں کیا گیا جبکہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی پرچموں کی بہار بھارت سرکار کے ہوش اڑا دینے کو کافی ہوتی ہے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے ان کی راتوں کی نیند حرام رکھتے ہیں۔ کشمیر کی آزادی کے متوالوں کا جوش و خروش دیکھ کر بھارت کی درجن بھر آزادی کی تحریکیں بھی جان پکڑ لیتی ہیں جیسے سکھ برادری کو ہمت ملی اور انہوں نے اپنا خا لصتان کا مطالبہ کم کم سہی دہرانا شروع کر دیا ہے لہٰذا کشمیر پاکستان کے لیے تو ایک کشمیر ہے بھارت کے لیے اکیلا نہیں رہتا یہاں تک کہ اس کے نچلی ذاتوں اور اچھوتوں کو بھی اپنی محرومیاں یاد دلادیتا ہے، برہمن کی خدائی پر بھی شدید ضرب پڑ جاتی ہے، پہلے اگر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو بھارت فتح کر لے تو پھر تواس کی سوچ کی پرواز کا ایل او سی کے پار آنے کی شاید کوئی تُک بنے۔ پہلے وہ اپنی کٹھ پتلی کشمیری حکومت کو تو سہارا دے ، مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے لہراتے پر چموں کو تو لہرانے سے روک لے پھر کوئی اور بات کرے اور بات کرنے سے پہلے پھر بھی ہزار بار سوچے کہ اس طرف جو بیٹھے ہیں وہ قوت میں تو اُس سے کم ہے ہی نہیں لیکن ان کا ایمان تو انہیں ماورائی مخلوق بنا دیتا ہے ۔ بھارت کی سات لاکھ فوج سے ایک کشمیر نہیں سنھبل رہا لیکن یہاں اتنی ہی فوج نے بھارت ،اس کے پالتو دہشت گردوں اور اس کے بہکائے ہوئے افغانستان سب کو سنبھالا ہوا ہے اور بقول ڈی جی آئی ایس پی آر دنیا میں کامیابی کے سب سے بڑے تناسب کے ساتھ سنبھا لا ہوا ہے۔ اب ذرا بھارتی منصوبے کے چوتھے مرحلے کی طرف آئیے جس میں وہ کہتا ہے کہ وہ ’’ نام نہاد ریڈ کلف لائن‘‘ عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوگا۔ بلا شبہ 1965 کو اکیاون سال گزر چکے ہیں لیکن اس کے بہت سے گواہ ابھی زندہ ہیں اور کتابوں میں لکھا تو کوئی مٹا نہیں سکتا کہ بھارت نے اُس وقت بھی لاہور جم خانہ میں دوپہر کا کھانا کھانے کا پروگرام بنایا تھا اور اب تو یقیناًاس کے علم میں ہے کہ آج کا پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے جس کے ہتھیاروں کی صلا حیت اس سے بہت بہتر ہے ۔بھارت خطے میں حالات کو جس طرف لے کر جا رہا ہے وہ کسی بہت بڑے المیے کو جنم دے سکتا ہے لہٰذا اُس کو اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے اور یہ سوچ لینا چاہیے کہ جنگ کی ذمہ داری اُس پر ہوگی اور بھارت کے لیے اُس کے پر دھان منتری اور دنیا کے لیے دہشت گرد مودی کو اپنا جنگی جنون بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔ بھارت کا میڈیا بھی جس غیر ذمہ داری کا ثبوت دے رہا ہے وہ بھی قابل غور ہے اُس کو شاید اپنی فوج نے یہ نہیں بتایا ہے کہ پاکستان بھی ایک ایٹمی ملک ہے اور اُس کا مقابلہ اتنا آسان نہیں جتنا اُس کے اینکرز اور اداکار سمجھ رہے ہیں اور نہ ہی یہ لالی وڈ کی کوئی فلم ہے جس کا اختتام اُس کے پروڈیوسر کی مرضی کے مطابق ہوگا۔ بھارت کو اپنے جنگی جنون کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، منصوبے بنانا آسان ہے لیکن اس کے نتائج کو سمجھنا اور ان پر غور کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے ۔ اس وقت تو بھارت صرف ایک کام کرے اور وہ یہ کہ کشمیر میں استصواب رائے کرائے اور اُسے آزاد کر دے کیونکہ رائے شماری کے نتائج کے بارے میں دنیا جانتی ہے اور سب سے بڑھ کر بھار ت جانتا ہے کہ نتیجہ کیا ہوگا اور یہی کشمیر کے مسئلے کا سب سے آسان، موثر،دیرپا اور قابل

سیاسی وعسکری قیادت کا ملکی دفاع ہرقیمت پر یقینی بنانے کا عزم

قومی سلامتی کمیٹی نے مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ قوم اور مسلح افواج کسی بھی خطرے کا جواب دینے کیلئے مکمل طورپر تیار ہے ۔ ملک کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا ۔ پاکستان کو کھوکلے دعوؤں اور جارحانہ عزائم سے مرعوب نہیں کیا جاسکتا ۔ خطے میں دیرپا امن کیلئے بھارت کشمیریوں کا دیرینہ مسئلہ حل کرے ۔ قومی سلامتی کمیٹی کا یہ اجلاس بڑی اہمیت کاحامل قرار پایا اس میں بھارت کو واضح پیغام دیا گیا پاکستان اس کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا اور مادر وطن کے دفاع کیلئے تیار ہے۔ اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر روشی ڈالی گئی اور حکومت نے اس ضمن میں کہا کہ وہ اس پر مکمل طورپر عملدرآمد کیلئے پرعزم ہے ۔ سیاسی و عسکری قیادت نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد تیز کرنے پر اتفاق کیا اور انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی کو سراہا گیا ۔ وفاق اور صوبوں کے مابین موثر رابطوں کو مضبوط بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے لیکن بھارت کا جارحانہ انداز خطے کے امن کیلئے خطرات پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ پاکستان کے اندر ’’را‘‘ کے ذریعے دہشت گردانہ کارروائیاں پاکستان کیلئے پریشان کن ہیں ۔’’را‘‘ کے ایجنٹوں کی گرفتاری نے بھارتی عزائم کا پول کھول کے رکھ دیا لیکن پھر بھی بھارت مگر مچھ کے آنسو روتے دکھائی دیتا ہے ۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اس وقت فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے اور بھارت جیسے دہشت گرد ملک کی کارروائیاں آئے دن بڑھتی چلی جارہی ہیں ایک طرف وہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے ہوئے ہے تو دوسری طرف سرحدی خلاف ورزیاں اس کا معمول بن چکی ہیں۔ کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ نے دونوں ملکوں کے درمیان فاصلوں کو بڑھا دیا ہے۔ عالمی برادری بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیوں پر دم بخود ہے اور اس کی چپ اس کے کردار کو سوالیہ نشان بنا رہی۔ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کو حل کروانے کا وعدہ آخر کب پورا کرے گا ۔ برسوں سے سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادیں بھارت نے سرد خانے کی نذر کررکھی ہیں اور کشمیری حق خودارادیت کیلئے سراپا احتجاج ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں 89 روز سے مسلسل کرفیو بھارتی سفاکی کا آئینہ دار ہے۔ پاکستان ہر سطح پر ان مظالم کے خلاف آواز بلند کررہا ہے اور کشمیریوں کی اخلاقی سفارتی اور سیاسی حمایت کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے ۔ بھارت کی گیدڑ بھبکیوں سے پاکستان کبھی بھی خوفزدہ نہیں بلکہ اس کی مسلح افواج ہر وقت ، ہر لمحہ دشمن کو دندان شکن جواب دینے کیلئے تیار ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی میں جس عزم کا اعادہ کیا گیا وہ وقت کی ضرورت اور تقاضا تھا ۔ بھارت کو جب تک دو ٹوک جواب نہیں دیا جائے گا اس وقت تک مکار دشمن اس طرح کی کارروائیاں کرتا رہے گا۔ ملکی دفاع کیلئے پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے ۔ بھارت نے جارحیت کرنے کی غلطی کی تو اس کو منہ کی کھانا پڑے گی اور وہ مدتوں اس غلطی کو یاد رکھے گا۔ بھارت کا جنگی جنون خطے کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ مودی ہوشن کے ناخن لے اور اس طرح کے رویہ سے اجتناب کرے ۔ کشمیر کے مسئلے کا سیاسی حل نکالے بغیر خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔ پاکستاان کی سیاسی و عسکری قیادت کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے پرعزم ہے اور عوام پاک افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔
مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پی ٹی آئی کے تمام ارکان کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم خود کو پانامہ سے بچانے کیلئے مشترکہ اجلاس بلا رہے ہیں ۔ نواز شریف کو وزیراعظم ماننے سے انکار کردیا اور دو شرائط پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مستعفی ہو جائیں ن لیگ کا کوئی اور رکن وزیراعظم بن جائے یا وزیراعظم پھر نواز شریف اپوزیشن کے ٹی او آرز کے تحت فوری طورپر اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کردیں ۔ نواز شریف وزیراعظم رہنے کا حق دار نہیں ہے وہ وزارت عظمیٰ کا اخلاقی جواز کھوچکے ہیں ۔ تحفظات کے باوجود ہم نے مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں شاہ محمود قریشی کو بھیجا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کا مقصد یہ ہے کہ ہم بھارتی جارحیت کے خلاف متحد ہیں ۔ کشمیریوں کے حقوق سے متعلق ہم سب متحد ہیں ۔ دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات نشریات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ عمران خان نے قومی مفادات پر ذاتی سیاست کو ترجیح دی کیونکہ وہ قومی معاملات کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ پانامہ لیکس پر اٹھنے والا طوفان بڑھتا ہی چلا جارہا ہے اب تو عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کرکے سیاسی حلقوں کو ہکا بکا کرکے رکھ دیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے جن دو شرائط کا ذکر کیا ہے ۔ حکومت ان کو تسلیم کرے تو سیاسی بھونچال ختم ہوسکتا ہے لیکن حکومت اپنی جگہ ڈٹ گئی ہے اور عمران خان اپنی جگہ اڑے ہوئے ہیں ۔ سیاسی جماعتیں بھی بلا امتیاز احتساب کا ورد کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ملکی سرحدوں پر جنگی ماحول ہے تو دوسری طرف سیاسی کھینچا تانی کا منظر ہے ۔ سیاسی جماعتیں بھارت کے خلاف متحد ہیں لیکن پی ٹی آئی اور دیگر جماعتیں وزیراعظم کا احتساب چاہتی ہیں ۔ دوطرفہ لچک دکھائی نہیں دے رہی جس سے فاصلے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ حکومت پانامہ لیکس پر خود کو احتساب کیلئے پیش کرنے میں لیت و لعل کا مظاہرے کرنے کی بجائے اپنے آپ کو پیش کردے اس طرح سیاست میں اچھی روایت جنم لے گی اور سیاسی تناؤ بھی ختم ہو جائے گا ۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک بلا امتیاز احتساب کا عمل شروع نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملک سے کرپشن کا خاتمہ ناممکن ہے ۔ حکومت سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے اور برداشت کے جمہوری کلچر کو اپنائے یہی وہ راستہ ہے جو جمہوریت کیلئے نیک شگون ہے۔
کوئٹہ میں بس پر فائرنگ
کوئٹہ میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے قمرانی روڈ پرجانے والی بس پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں 4 خواتین جاں بحق ہوگئیں اس دل خراش واقعہ کے بعد علاقے میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی حکومت اس واقعہ کی فوری تحقیقات کرائے اور اس میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے ۔ ریاست کی ذمہ داری قرار پاتی ہے ۔ بیگناہ لوگوں کو خون میں لت پت کرنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا یہ دہشت گردی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ کوئٹہ میں اس طرح کے واقعات کا پھر ہی رونما ہونا قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ کوئٹہ واقعہ پر جتنے آنسو بہائے جائیں کم ہیں جتنا ماتم کیا جائے کم ہے ۔ خداوند کریم اس واقعہ میں جاں بحق افراد کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کے پسماندگان کو صبروجمیل عطا فرمائے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ متاثرین کی مالی امداد کو یقینی بنائے تاکہ ان کے دکھوں کامداوا ہوسکے۔

آخری جھٹکا

میمنے نے ادھر ادھر دیکھا ، کسی کو نہ پاکر ندی کے کنارے آیا اور پانی پینا شروع کردیا ، ابھی ایک گھونٹ ہی پیا ہوگا کہ جنگل کا بادشاہ (شیر)بھی ادھر آنکلا ، شیر نے جب دیکھاکہ پانی بڑا صاف ہے اوروقت کی ضرورت بھی تو اس نے سوچاکیوں نہ اس پانی کو قیمتاً دیا جائے ، جوان میمنے کو دیکھ کر اس کا جی تو ویسے ہی للچا گیا تھا، اس نے اسے خوراک بنانے کا ارادہ کرلیا ،مگر اس کے لیے کوئی بہانا بھی تو چاہیے تھا ، اس نے میمنے کو دیکھا ، غرایا اور بولا کہ تم نے سارا پانی گدلا کردیا ہے ، میمنے نے عرض کی بادشاہ سلامت !پانی تو آپ کی طرف سے میری طرف بہہ رہا ہے ، شیر نے جب دیکھا کہ وار خطا ہو گیا ہے تو بولا تونے دو سال پہلے مجھے گالی دی تھی اور بھاگ گئے تھے، اس کی سزا ملے گی ، میمنے نے عرض کیا حضور ! میں تو ابھی ڈیڑھ سال کا ہوا ہوں ،دو سال پہلے تو میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا ،اب شیر کا غصہ آسمان چھونے لگاتھا ، اس نے کہا تم نہیں تھے تو پھر وہ تمہارا باپ ہو گا ، یہ کہا، میمنے پر جھپٹا اور اس کی تکا بوٹی کردی ۔آپ اس کہانی کو سامنے رکھ کر سرکاری سکولوں کا تجزیہ کریں گے ، ان کے مسائل ، اسباب اور ذمہ داران کا تعین کریں تو آپ پر تمام کردار واضح ہو جائیں گے کہ شیر کون ہے ، میمنا کون ہے اور قصور کس کا ہے ؟ دریا سے مراد سرکاری سکول ہیں ،پانی سے مراد علم ، میمناسکول ٹیچر کی نمائندگی کررہاہے اور شیر سے مراد وہ لوگ ہیں جو پالیسیاں بناتے ہیں، اگر اس دریا کا پانی گدلا ہورہا ہے تو ذمہ دار کون ہے ؟اور اس دریا کو صاف کون کرے گا؟یہ سب کیسے ہوا؟
کوئی دور تھاکہ یہ دریا بڑی شدومد سے بہ رہا تھا،اس کا پانی کتنا صاف تھا ؟ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اس سے پیاس بجھانے والوں میں قائداعظم محمد علی جناح ، علامہ اقبال ، سرسیداحمد خان ، مولانا شوکت علی ، مولانا محمد علی جوہر، شیربنگال مولوی فضل حق ،پطرس بخاری ، نصرت فتح علی خاں جیسے لوگ شامل تھے ، جس کو طلب ہوتی وہ آتااور مفت پیاس بجھا لیتا، پھر یوں ہوا کہ کچھ لوگوں کے من میں خیال آیا کہ کیوں نہ اس پانی کو بیچا جائے ، پس انہوں نے پہلے دریا کے مقابلے میں ایک اور دریا بنایا،اس کا پانی جدت اور ماڈرن ازم کی بوتلوں میں پیک کرکے بیچنے لگے مگر کچھ خاص فائدہ نہ ہوا، آخر کار انہوں اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے شیر کی خدمات حاصل کرلیں، شیر نے پہلے دریا کو اجاڑنے کے لیے دن رات ایک کردیا ، سب سے پہلے اس نے اس دریا کے کچھ رکھوالوں کو ساتھ ملایا، انہیں آفرکی کہ کیوں نہ پرائیویٹ سطح پر پانی کا کاروبارشروع کیا جائے ؟لالچ میں کچھ لوگ اس کے ساتھ مل گئے اور یوں اس عمل کا آغاز ہو گیا، اس کے بعد شیر نے اگلے مرحلے کاآغاز کیا، اس مرحلے میں شیر نے پہلے دریا میں گند ڈالنا شروع کردیا، سیاسی مداخلت کا دروازہ کھول دیا، عملے کی کمی کر دی گئی ، سہولیات کا فقدان کردیا گیا، پہلے دریا کی خوب تضحیک کی جانے لگی ، نئے در یا کی خوب تشہیر کی گئی ، اردو کو پسماندگی کا ذمہ دار قراردیاگیا، انگلش کو ترقی کا ضامن ٹھہرادیاگیا، اس مقصد کے لیے میڈیا کی خدمات بھی حاصل کر لی گئیں ، دوسرے دریاکے کنارے کچھ ایسے فنکشن کا اہتمام کیا گیا جن میں نوجوانوں کے جذبات کی تسکین تھی ، شلوارقمیص(قمیض۔ غلط لفظ ہے )کو اجڈپن سے تعمیر کیا جانے لگا، پینٹ کوٹ کو تہذیب کی علامت سمجھاجانے لگا، یوں آہستہ آہستہ لوگ دوسرے دریا کی طرف جانے لگے۔
جب لوگ کم ہوگئے تو شیر نے اگلے مرحلے کی طرف قدم بڑھایا، اس نے میمنے کوبلایااور اسے کہاکہ لوگوں کی کمی کو پوراکیا جائے ، میمنے نے کہاحضور! تمام ریاستی وسائل آپ کی شہہ پر دن رات اس دریا کی تضحیک کررہے ہیں ، آپ کی فیملی بھی اس دریا پر نہیں آتی ، اب ان حالات میں تعداد بڑھانے کے لیے ہمیں آپ کا تعاون درکارہوگامگر میمنے کی اس بات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا، اس کے بعد میمنے کو کہا گیا کہ حاضری کو 92% کیاجائے ، میمنے نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے لوگوں پر سختی کی تو شیر نے اس سے بھی روک دیا، نتیجہ یہ نکلا کہ اگر لوگ نہ آتے تو بھی میمنا قصوروارتھااوراگر وہ لوگوں کو لانے کے لیے سختی کرتا تو بھی میمنے کی ہی غلطی تھی،اب شیر نے تابوت میں ایک کیل ٹھونکی ، اس نے کہاداخلے کا ٹارگٹ پچھلے سال کی نسبت 10% زیادہ ہونا چاہیے ، میمنے نے عرض کی بادشاہ سلامت ! اس تناسب سے تو ہمارے ملک کی آبادی بھی نہیں بڑھتی، مگر شیر نے اس کی بات نہ سنی کیونکہ مقصد اس دریا کی صفائی نہیں بلکہ اس دریا کا خاتمہ تھا، یوں دریا گدلاہوتاچلاگیا، اب سوال اٹھایاگیاکہ اسے صاف کون کرے گا؟
اس سوال کا جواب یہ تھا کہ اس دریا کو وہی صاف کرے گا جس نے یہاں سے پانی لینا ہے ،مگر ٹریجڈی یہ ہوئی ہے کہ جن لوگوں کا تعلق دوسرے دریا سے ہے ، ان کوپہلے دریا کی صفائی کا نگران بنادیا گیاحالانکہ یہی لوگ اس کی آلودگی کا سبب تھے ،وہ کبھی اس دریا کی طرف آئے ہی نہیں تھے، انہوں نے کبھی اس دریا کا پانی پیا ہی نہیں تھا، نہ ان کے گھر والوں کا اس دریا سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہے اور نہ ان کے بچے کبھی اس دریا کے قریب سے گزرے ہیں ، لہذا ان کو اندازہ ہی نہیں کہ دریا میں کدورت کی مقدار کیا ؟ اس کا سبب کیا ، سدباب کیا اور طریقہ کار کیا ؟ لہذا کام مزید بگڑتاگیا کیونکہ دریا کی گہرائی معلوم کرنے کے لیے اس میں اترنا لازمی تھا ،وہ دور سے پتھر پھینک کر اندازہ لگاتے رہے ،یوں اندازہ بھی غلط ہوااور دریا میں آلودگی بھی بڑھتی گئی،صفائی کا طریقہ کار وہ لوگ طے کرتے رہے جو کنارے پر کھڑے تھے ، انہوں نے اس بندے کو گھاس بھی نہیں ڈالاجو دریا کے اندر تک جھانک چکا ہے ۔
اب رہ گیایہ سوال کہ دریا صاف کیوں نہیں ہو رہا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسے کوئی صاف کرنا ہی نہیں چاہتا،کیوں؟ کیونکہ میمنے کو شکار کرنا ہے ،لہذاپالیسی شیر بنائے ، منزل کا تعین بھی وہی کرے گا ، میمنے سے کوئی مشورہ بھی نہیں لیا جائے گا ، اس کے ہاتھ بھی باندھے جائیں گے ، اسے بے بس بھی کیا جائے گا ، وہ کسی بھی گند ڈالنے سے روک بھی نہیں سکتااور گند پھیلتا ہے تو ذمہ دار بھی وہی ہوگا،اگر وہ نہیں تو اس کا باپ ذمہ دار ہو گا ، شیر نے جھپٹا مارنا ہے کیونکہ وہ جنگل کا بادشاہ ہے ، میمنے نے شکار ہونا ہے کیونکہ وہ رعایا ہے ، سب کچھ ہوچکا ، دریا خوب گندہ ہو چکا، کدورت حد سے بڑھ چکی ، شیر کھڑا غرارہا ہے ، وہ چھلانگ لگانے کے لیے پوزیشن لے چکا ہے ، فیصلہ ہو چکا کہ شکار کس کا ہونا ہے ، یہ بحث لاحاصل ہے کہ قصور کس کا تھا ؟اب بس ایک جھٹکے کی دیر ہے ۔

سی پیک اور حکومتی چالاکیاں

قائد اعظمؒ نے جب مسلمانوں کیلئے برصغیر میں ایک علیحدہ ملک پاکستان بنانے کا سوچا تو ہمیں بالکل نہیں لگتا کہ انہوں نے صرف پنجاب ہی کو پاکستان سمجھا ہوگا ان کا اپنا وژن نہایت واضح تھا وہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے جس میں تمام اکائیاں برابر کے حقوق کی مستحق ٹھہریں گی اور تمام وسائل پر سب کا یکساں حق ہوگا پنجاب اگر اناج پیدا کرتا ہے تو کے پی کے بجلی سندھ اگرگیس اور تیل پیدا کرتا ہے تو بلوچستان کے پاس گیس اور معدنی ذخائر ہیں پنجابی وزیراعظم نے بڑے عرصے سے سی پیک معاہدے خاص طور پر اس کے نئے بننے والے روٹس کے پلان کو تاش کے پتوں کی طرح سینے سے لگا رکھا ہے جب کبھی معاملہ اٹھا کہ ہمیں اصل پلان دکھایا جائے تو ن لیگ کے باریش دانشور احسن اقبال ایک ہی بات کہتے کہ روٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تو وہ سچ کہتے تھے کہ جب معاہدہ ہی لاہور اور چین کے درمیان ہے تو تبدیلی کیسی آج چین کے سفیر برائے پاکستان نے واضح کردیا کہ مغربی روٹ تو سرے سے ہے ہی نہیں نہ حکومت پاکستان نے ہم سے اس موضوع پر کوئی بات کی تو یہ نون لیگی حکومت کی جانب سے نرم ترین الفاظ میں بد دیانتی ہی ہے جس کے ملکی سالمیت پر مضر اثرات ہو سکتے ہیں انہیں حرکتوں کی وجہ سے چھوٹے صوبے پنجاب سے شاکی رہتے ہیں جس سے نفرتوں میں اضافہ ہی ہو اہے انہیں چالاکیوں کی وجہ سے شبہات پیدا ہوئے اور کالاباغ ڈیم لٹک گیا اور سی پیک جیسے قومی منصوبے کو بھی اس طرح پلان نہ کیا جائے کہ فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کی طرح ہر چیز پنجاب کے گرد گھوم کے آگے جائے ورنہ یہ تو بہت زیادتی کی بات ہوگی سبھی جانتے ہیں کہ ہمارے دیگر تینوں صوبے خاص کر بلوچستان اور کے پی کے نہایت پسماندہ ہیں مغربی روٹ کی وجہ سے وہاں ترقی آتی بے روزگاری ختم ہوتی جرائم اور نفرتیں دونوں کم ہوتیں آپ کی اس ہاتھ کی صفائی سے آپ کے ملک کی سالمیت کو خطرہ ہوگا لہٰذا حسب وعدہ مغربی روٹ پر عملدرآمد ہو بلکہ مغربی روٹ پہلے بنے جس کا فاصلہ اور سفر کا دورانیہ مشرقی روٹ سے بہت کم ہوگا اور یہ روٹ زیادہ منافع بخش ہوگا جس سے وقت اور فاصلے کی بچت ہوگی۔ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ ہمارے ہاں لیڈر پیدا ہونا بند ہو گئے ہیں اور قوم دکانداروں اور ٹھگوں اور مستند نوسربازوں کے نرغے میں آگئی ہے یہ چور اور ڈاکو قوم کی گردنوں پر مسلط ہو گئے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے بھیجا گیا ایک عذاب ہے جو ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے اس قوم کو روزانہ کے حساب سے بیچا جارہا ہے کوئی شہیدوں کے نام پر لوٹ رہا ہے تو کوئی ایٹمی دھماکے کا کریڈٹ لے رہا ہے وہ تو بھلا ہو ڈاکٹر عبدالقدیرخان اور ان کی ٹیم کا جنہوں نے دکانداروں کو کھلے طور پر بتا دیاتھا کہ دھماکے نہ کرنا ملک و ملت سے غداری ہوگی اور خمیازہ آئندہ نسلیں صدیوں تک بھگتتی رہیں گی اور دھماکے نہ کرنے کی صورت میں مستعفی ہونے کی دھمکی دے دی تھی اور دیگر متعلقہ پروگرام کے محافظ حلقوں کا بھی شدید دباؤ تھا دکانداروں کی نہ چل سکی اور دھماکے کرکے ملکی سلامتی محفوظ کر لی گئی وقت نے ثابت کیا کہ یہ فیصلہ نہایت صائب اور درست تھا۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اب تک جمہوری معاشرہ نہیں بن سکے جس ووٹر کو ایک قیمہ نان کے عوض 5 سال تک اپنی اور اپنے خاندان کی کھال اتروانے پر راضی کر لیا جاتا ہو تو وہاں ہزار برس تک بھی کچھ نہیں بدلے گا یہاں ہر چیز بکتی ہے یہاں ایمان اور دین بھی بکتا ہے پیسے ہونے چاہئیں۔ اب جہاں 37 سال بعد بھی بھٹو زندہ ہو کارکردگی کی بجائے شہیدوں کے نام پر ووٹ مانگے جائیں جہاں ہسپتالوں میں دوائیاں نہ ہوں مریض برآمدوں میں لیٹے ہوں اسکولوں میں جانور بندھے ہوں جہاں عوام کو گدھے کھلا دیئے جائیں جہاں لوگ صحت کی بنیادی سہولتوں تعلیم اور پانی بجلی سے محروم ہوں میٹرو کے نام پر بیوقوف بنایا جاتا ہو جہاں لاہور کے ثقافتی ورثے کو تباہ کرکے نارنگی ٹرین جیسی شعبدہ بازیاں ہو رہی ہوں جہاں پیٹ پھاڑنے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کے نام پر ووٹ مانگے جاتے ہوں جہاں پرمٹوں کے عوض دین بیچ دیا جاتا ہو اپنے رشتہ داروں کی منافع بخش پوسٹنگ کیلئے ڈاکوؤں کا ہمنوا بن جانا اور مالی مفادات کا حصول ملک اور دین کی خدمت گردانا جا تا ہو جہاں لوگ ملک کی پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکرمادروطن کو گالی دینے کے عوض ڈالر پاتے ہوں جہاں وفاداری کا معیار بیرون ملکی ڈالروں کی وصولی پرمنحصر ہو جہاں منی لانڈرنگ کے ذریعے ملکی دولت لوٹ کر بیرون ملک جمع کی جارہی ہو وہاں خیر کی توقع کیونکر کی جا سکتی ہے جب اس گناہ عظیم میں حکمرانوں سے زیادہ عوام ملوث ہوں اور تباہی کے براہ راست ذمہ دار ہوں تو اجتماعی خودکشی سے کس طرح بچا جاسکتا ہے ۔ان حالات میں ہزار سال تک بھی سب کچھ ایسا ہی رہے گا آج بھی جو کچھ ہورہا ہے وہ اس مذاق جمہوریت جو دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے درمیان طے پایا تھا جس کی آشیرباد اور ضمانت سابق سی آئی اے چیف جان نیگرو پونٹے نے دی ہوتو اس سے انحراف کیونکر ہو سکتا ہے ۔شاید اسی میثاق جمہوریت کی برکت ہے کہ پانامہ لیکس کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہا عمران خان ایک طرف اور پوری سیاسی قیادت دوسری طرف ٹی اور آر کا ڈول ڈالا گیا جس کا نتیجہ نہیں نکلے گا اور نہ کچھ ہونے کا امکان ہے سپریم کورٹ نے نہایت خوبصورتی سے گیند حکومت کے کورٹ میں واپس پھینک دی لیکن ٹائم فریم نہیں دیا وزیراعظم قومی امور پر مہر بہ لب ہیں انڈیا کے معاملے میں نہایت محتاط ہیں ڈال میں کچھ کالا ہے کہ ورلڈ بینک دھڑا دھڑ قرضے دیے جا رہا ہے ہانامے، مے فیر، نارمنڈی، اور مشرق وسطی ٰآباد ہو رہا ہے اور ملک اجاڑ رہا ہے انتظار ہے کہ جیسے ادھار 80 بلین ڈالر کے آس پاس پہنچے چٹے بیل کے سائیں آموجود ہوں کہ بیل ہمارا ہے کہیں یہی میثاق جمہوریت تو نہیں تھا کہ تانے بسنے ملتے دکھائی دیتے ہیں۔ حکمرانوں کا کیا ہے ان کی اڈاری کی تیاریاں مکمل ہیں قوم و ملک سے انہیں کیا لگاؤ،یہ اپنی ڈیوٹی دینے آئے ہیں ڈیوٹی دیکر چلے جائیں گے۔ ادھر جنرل صاحب بھی اپنی رخصتی پر خوش ہیں قوم و ملک جائے بھاڑ میں سوچ کر حول آتا ہے ۔گو ہماری آواز کا صدا بہ صحرا ہونے کا قوی امکان ہے پھر بھی اپنے حصے کی اذان دیئے دیتے ہیں کہ حق حقداروں تک پہنچنا چاہئے مغربی روٹ پر آنیوالے علاقوں

سامراجی طاقتیں

انسانیت پر جب وحشت کا غلبہ ہوجاتا ہے تو انسانی سماج کے ترقی کے درووازے بند ہوجاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں انسان سماجی حیوان قرار پاتا ہے اور سماج کی تشکیل پھر نظریہ حیوانی کی اصول پر ہوتی ہے اور ایک ایسا معاشرہ وجود میںآتا ہے جسمیں انسان اور حیوان کی تمیز ختم ہوجاتی ہے انسانی اصول پامال ہوجاتے ہیں بے شعور لوگوں کے بھیڑجمع کرنے کو مقدس عنوان دیا جاتا ہے افرا تفری کے عالم میں قوم کی وحدت ختم ہوجاتی ہے اور اسکی سزا پوری قوم کو بھگتنا ہوتی ہے ۔انسانی سماج انسانوں کے آپس میں تعلقات اور معاہدات اور آپس میں ملنے جلنے کا نام ہے انسانیت کی بنیاد پر سماج کی تشکیل ہوتی ہے ایک ایسا سماج جس میں انسانیت کو پہلا درجہ حاصل ہوتا ہے اور انسان کی نسل،علاقے اور زبان کو فوقیت نہیں دی جاتی اور انسانوں کے معاشرتی حقوق یکساں متعین ہوتے ہیں اور دوسرا درجہ انسان کی آزادی کا ہے یعنی صالح سماج وہ ہوتا ہے جوہر انسان کو مکمل آزادی دیتا ہو اور انسان کی غلامی سے وہ آزاد ہو اور پھر اس سے اور اس سماج میں ایک ایسے معاشی نظام کا ڈھانچہ قائم ہو جس میں انصاف کا بول بالا ہو اورمعاشرے کے تمام افراد کے ضروریات پوری ہوتی ہواور یہ نظام اجتماعیت کے اصول پر قائم ہو جس میں طبقاتیت اور انفرادیت پسندی کو کوئی عمل دخل نہ ہو اور اس نظام سے ہر انسان کو مستفید ہونے کے مواقع حاصل ہو۔دیکھا جائے تو اس وقت ہر فرد انفرادیت کے نشے میں مبتلا ہے نوجوان نسل مایوسی کا شکار ہے انہیں کوئی رہنما نہیں مل رہا ہے فرقہ واریت کو فروغ حاصل ہے اور مسلمان مسلمان کو کافر بنانے پر تلا ہوا ہے نظریہ انسانیت کو چھوڑکر عوام کو فرقہ واریت کی اندھیر نگری میں دھکیلا جارہاہے ، چند شہزادوں اور بیبیوں جو جاگیرداراور سرمایہ اور مراعات یافتہ طبقہ کہلاتے ہیں امت مسلمہ کو انہوں نے اپنے قبضے میں جکڑا ہواہے عوام بیچارے خوف اور افلاس کی بیماری میں مبتلا ہیں اور ان پر جہالت اور بھوک مسلط ہے ۔نوجوان نسل جس پر قووموں کی ترقی کا انحصار ہوتا ہے وہ مایوسی کا شکار ہے ۔نوجوانوں کو جو تاریخُ پڑھائی جاتی ہے ا س سے مایوسی پھیلتی ہے اور تاریخ کاہرباب خون سے رنگین ہوتاہے اور اس کا سارا مواد قتل اور غارت گیری سے بھرپورہوتاہے اس طرح ان میں نفرت کے جراثیم نشوونماں پاتے ہیں اورقنوطی ذہنیت کو فروغ ملتا ہے ، اس محدود نظریہ نے عوام نفرت ،انفرادیت پسندی اور مفاد پرستی کاسبق دیا ھے قومی سوچ ختم ھوگئی ہے اور قومی جذبہ کا فقدان ہے حالانکہ اصل طاقت قومی جذبہ ہے جس سے دشمن کو مرعوب کیا جاسکتا ہے ۔ چائنا ہم سے دو سال بعد آزاد ہوا ور آج وہ ہم سے سائنس اور ٹیکنالوجی میں ایک سو سال آگے ہے چونکہ وہاں قومی سوچ کو فروغ دیاگیا ہے اور وہاں کود غرضی، فرقہ پرست اورانفرادیت پسندی جیسے برے اخلاق نہیں پھیلے ہیں۔ اس لئے آج کے دور کا طاقت ور ترین سامراج اس سے ڈرتا ہے اور اعلانیہ اس کا سامنا کرنے سے کتراتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ طبقاتی نظام اور اور مذہبی فرقہ وریت سے مایوس نوجوانوں کے شعور کوجگایا جائے اور ان کے سامنے سچے اور حریت پسند اسلاف کا تعارف پیش کیا جائے آج کے نوجوان کو سچائی کی تلاش ہے اور وہ سچ کا پیاسا ہے ، انہیں کوئی رہنما نہیں مل رہا ہے اور انہیں اس فلسفہ سے روشناس کرانا بھی ہے جس کے ذریعے مسلمانوں نے گیارہ سو سال تک دنیا کی قیادت کا فریضہ ادا کیا ،دین کا وہ اعلا فلسفہ جو انسانیت دوستی اور جزبہ حریت پر مبنی اب مفقود ہے اور جو رہنمائے قوم ہیں وہ انسانی حقوق، سماجیاتاور معاشیات کے بنیادی اصولوں سے نابلد اور کورے ہیں ، ہر طرف فرقہ واریت کی آگ جل رہی ہے اور اسے بجھانے والا کوئی نہیں ہے۔اسلام تو ظلم توڑنے اور مظلوم کی حمایت کا درس دیتا ہے اور یہ تعلیم دیتا ہے ظلم کرنے والا ظالم ہے خواہ اسکا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو ،یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ظالم کو ظالم نہ کہنا جرم ہے اور پیغمبر اسلام ﷺنے جو خطوط اس وقت کے دو سامراجی طاقتوں روم اور فارس کے سربراہوں کے نام روانہ کئے تھے ان میں بھی مظلوم مجوسی اور مظلوم کاشتکار کی حمایت کی بات کی تھی اور آپﷺنے جو جماعت صحابہؓ تیار کی تھی وہ ایک انسان دوست جماعت تھی اور سچائی اس جماعت کا امتیازی نشان تھا جس میں خاندانی، نسلی،قومی یامذہبی تعصب نہیں تھا ۔وہ ظلم کے مٹانے کے جذبے سے سرشار تھے اور ان کی قربانیوں کی بدولت دنیا سے ظلم کا خاتمہ ہوا اور اسلام کو گیارہ سو سال تک مسلمانوں کے اقلیت ہونے کے باوجود غلبہ حاصل رہا اور مسلمان صدیوں تک ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچاتے رہے ۔

سب نامنظور۔۔۔۔۔شوق موسوی
نیب کیا چیز ہے اور ریونیو بورڈ ہے کیا
سینٹرل بینک کی اوقات بھی سب جانتے ہیں
ہے نواز اُن کو نہ تسلیم وزیراعظم
وہ سپیکر کو سپیکر بھی نہیں مانتے ہیں

پاکستان اپنے دفاع سے غافل نہیں

بھارتی فوج اور میڈیا اڑی واقعہ کے بعد جنگی جنون میں مبتلا ہو گیا ہے۔بھارت کا میڈیا اپنی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ اس واقعہ کو الزام پاکستان کے سر لگایا جائے اور کسی نہ کسی طرح پاکستان کو اس میں ملوث کیا جائے۔ بھارت کے تمام چینلز اور اخبارات اس واقعہ کے بعد پاکستان دشمنی میں اس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف آپریشن اور جنگ کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان کو یہ معلوم نہیں کہ پاکستان بھی ایک ایٹمی طاقت ہے جو کسی صورت اپنے دفاع سے غافل نہیں اور ان کو منہ توڑ جواب دے گا۔ اس واقعہ کے بعدجنگی جنون میں مبتلابھارتی میڈیا حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں پر نشان لگا کر ان کو پاکستانی ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ میڈیا نے اپنی حکومت کو تین آپشنز دے دئیے ہیں۔پہلا آپشن یہ ہے کہ پاکستان پر فضائی حملہ کیا جائے دوسرا یہ ہے کہ پاکستان پرکروز طیاروں سے حملہ کیا جائے۔ آخری آپشن یہ ہے کہ پاکستان میں موجود عسکریت پسندوں کے کیمپوں پر حملہ کیا جائے۔ پٹھان کوٹ حملے کے بعد بھی بھارتی میڈیا نے پاکستان پر الزامات کی بھرمار کر دی تھی لیکن جب حکومت کی جانب سے پاکستان کو کلیئر کیا گیا تو اس میڈیا کو چپ لگ گئی تھی۔ بھارتی میڈیا کا پاکستان پر بغیر ثبوت الزام لگانا اسے مہنگا پڑ گیا۔ اڑی سیکٹر حملے کی رپورٹنگ پر سنسر شپ عائد کردی گئی۔بھارتی وزارت دفاع نے میڈیا کو حکم دیا ہے کہ کوئی بھی خبر شائع یا نشر کرنے سے پہلے وزارت دفاع سے تصدیق کرالی جائے ۔بھارت کی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سبکی کے بعد خبریں سنسر کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تمام بھارتی اخبارات اور ٹی وی چینلوں نے اڑی حملے میں برآمداسلحے پر ’میڈ ان پاکستان‘ کی مہر لگی ہونے کی خبر ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ کے حوالے سے دی تھی۔ انڈیانے پاکستان کے دریاؤں کا پانی روکنے اور سندھ طاس معاہدہ توڑنے کی دھمکی بھی دے دی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے کئی مقامات پر بوفرز توپیں سمیت بھاری اور درمیانے ہتھیار پہنچانے شروع کردئیے ہیں اور انتہا پسند بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا پورا دن ملٹری آپریشن میں گزارنا جہاں جنگی جنون کا آئینہ دار ہے وہاں بھارت کے مذموم عزائم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اوڑی حملے کے بعد بھارتی فوج کی غیر معمولی سرگرمیاں اور پاکستان پر بے سروپا اور من گھڑت الزمات اس کے مخاصمانہ رویے کا ثبوت ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں فوجی نقل و حرکت تیزکردی ہے اور دوسری طرف پاکستان کی فضائیہ نے ملک کے شمالی حصے کی فضائی حدود اور موٹر ویزے کو بند کر کے جنگی مشقیں مکمل کر لی ہیں۔لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی طرف سے بھاری اور درمیانے توپے خانے کی نقل و حرکت کی بھارت کے اعلی دفاعی اہلکاروں نے بات چیت میں تصدیق بھی کی۔ بوفرز توپوں اور 105 درمیانی رینج کی دوسری توپوں کو اوڑی کے چڑی میدان، موہرا اور بونیار میں نصب کیا جا رہا ہے۔ سونہ مرگ میں بھی بڑے ہتھیاروں کی تنصیب ہو رہی ہے۔ ان مقامات سے آزاد کشمیر مِیں پاکستان کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے موسم سرما شروع ہونے اور برف پڑنے سے پہلے اس کی ہر سال کی معمول کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ لیکن اس بار کی تیاری میں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کنٹرول لائن پر بوفرز توپوں، اور دیگر طرح کا جنگی ساز و سامان سرحد پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ بھارتی فوج کے دعوے کے حوالے سے کہاگیاکہ فوج کو اطلاع ملی ہے کہ شدت پسند مبینہ طور پر سرحد پار سے دراندازی کی تیاری میں ہیں۔شمالی کشمیر کے مختلف حصوں میں اگلے مورچوں پر تعینات مسلح افواج کے دستوں کو متحرک اور ضروری جنگی مواد پہنچانا شروع کر دیا گیا تھا۔ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیرمیں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ کنٹرول لائن کے ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر میں بھارت اور پاکستان کی حقیقی سرحد پر دو جگہوں پر فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ اڑی حملے کے بعد بھارت میں پاکستان کے خلاف فوجی کاروائی کے شدید مطالبوں کے پس منظر میں کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب جنگی طرز کی فوجی نقل و حرکت سے سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس کی لہر پھیل گئی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہاہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کے ہرصورت میں دفاع کے لیے تیا ر ہیں ،پاکستانی فوج اور قوم ملکی سا لمیت پر کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔اڑی حملے کے بعد بھارت نے بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزام لگایا ۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے پیدا ہونے والی صورتحال خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ دنیا کی توجہ حاصل کر چکا ہے۔ ا قوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم نے کشمیر کا مقدمہ مضبوط انداز میں پیش کیا۔مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ثبوت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو دئیے ۔ فیکٹ فائنڈنگ مشن مقبوضہ کشمیر بھیجنے کا مطالبہ کیا۔اقوام متحدہ اور او آئی سی کے سیکریٹری سمیت دنیا کے دیگر ممالک نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم کی مذمت کی۔ بھارت خوش فہمی میں نہ رہے۔ پاکستان کسی بھی حملے کا جواب دینے کیلئے تیار ہے اور پاک فوج وطن کے دفاع سے غافل نہیں ہے اور بھارت کا جنگی جنون کو ہوش میں لانے کیلئے پاک فوج کے بہادر سپاہی تیار ہیں۔ مکار دشمن خطے کے امن کو تباہ کرنے اور بھارتی مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان پر جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے لیکن پاکستان اس کیلئے تیار ہے۔ بھارتی وزیرتیل کا کہنا ہے کہ بھارت جنگی مقاصد کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے 15لاکھ ٹن تیل خریدنے جا رہا ہے جوبھارتی شہر مینگلور و دیگر جگہوں پر ذخیرہ کیا جائے گا اور فوج کے استعمال میں لایا جائے گا۔ اس کے علاوہ بھارت ایران سے بھی تیل خرید رہا ہے۔ پاکستان پر الزامات لگانا بھارت کی عادت بن چکا ہے بلاجواز الزامات لگانا غلط ہے اب اس نے سوپور واقعہ کی ذمہ داری بھی پاکستان پر ڈال دی ہے۔ پاکستان دہشتگردی کی بھاری قیمت چکا رہا ہے ۔دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔پاکستان امن کا داعی ہے۔ اب تک ہونے والی تمام ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا۔ وزیراعظم کے دورے کا مقصدصرف مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا تھا۔ امریکہ اور اقوام متحدہ کو کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کے ثبوت دئیے گئے۔

یہ ہمارے بزرگ شہری

انگریزی پرو ورب ہے’’ A man is as old as he thinks‘‘ انسان اتنا ہی بوڑھا ہوتا ہے جتنا وہ خیال کرتا ہے لیکن حقیقت بہرحال حقیقت ہے جس سے صرف نظر ممکن نہیں ۔ بڑھاپا بذات خود ایک بیماری کا نام ہے جو اپنے دامن میں کمزوری ، توانائی اور کسمپرسی لیے ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی کمیشن برائے بڑھاپا کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بڑھاپے کی چار اقسام ہیں ان میں عمر کے بوڑھے ، رویوں کے بوڑھے ، سوچ کے بوڑھے اور وہ جو وقت سے پہلے ہی اپنے پر بڑھاپا طاری کرلیتے ہیں لیکن راقم کے مدنظر اس کالم میں عمر کے بوڑھے ہی ہیں۔ بوڑھوں کا ماسوائے ان کی بیویوں جو خود بھی بڑھاپے کی منزل میں رہتی ہیں کوئی غم خو ار نہیں ہوتا وہ بھی اگر بقیہ حیات ہوں اس عمر میں بوڑھے بچوں جیسی حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں اور ان میں چڑچڑا پن پیدا ہو جاتا ہے ۔ بوڑھوں کا من پسند کام نصیحت کرنا اور اپنی گزشتہ زندگی کو کارناموں کی شکل میں متعدد بار دہرانا ہوتا ہے ان باتوں کو گھر کے افراد ، دوست احباب اور اقرباء سینکڑوں مرتبہ سن چکے ہوتے ہیں ۔ میرے واجب قدر ناظرین حقوق انسانی کا استحصال کوئی نئی بات نہیں فرد کی سطح سے لیکر مجموعی زندگی تک انسانیت اور انسانی حقوق کی پامالی مختلف اشکال لئے ہر روز ہمارے سامنے آتی ہے جس قدر انسان مادی ترقی کی منازل طے کررہا ہے اسی قدر تیزی سے وہ سچے اور خوبصورت جذبوں سے دورہوتا جارہا ہے ہر سال بوڑھوں کیلئے عالمی دن منایا جاتا ہے ان کیلئے رہائش اور خوراک کی سہولتوں کا بندوبست کرنے کا عہد کیا جاتا ہے انہیں صحت کی سہولتیں بہم پہنچانے کے پروگرام مرتب کیے جاتے ہیں لیکن ہرگزرتا دن ، ماہ اور سال یہ کہتا ہوا گزر جاتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو جنم دینے والوں کو بھولتا جارہا ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ اپنے ہی بچے والدین کو اندھیروں میں دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ جاتے ہیں۔ آج کے اس افراتفری کے دور میں ہر انسان کی سوچ صرف اس کے اپنے بیوی بچوں کے گرد گھومتی ہے ۔ وہ بھول جاتا ہے کہ کوئی ہے جس نے اسے جنم دیا، پروان چڑھایا اور اس قابل کیا ۔ ہمارا معاشرہ اپنی سماجی اقدار اور مذہبی اقدارو اعتقادات پر فخر کرتا ہے لیکن عملی زندگی میں ہمار ارویہ بوڑھوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے ۔ کسی بزرگ نے کہا تھا کہ آدم کے ماں باپ نہیں تھے صرف اولاد تھی اس لئے جذبات کا بہاؤ آگے کی طرف تھا ۔ سوبنی نوع انسان کی یہ مجبوری ہے کہ جو محبت اولاد کیلئے ہوتی ہے وہ ماں باپ کیلئے نہیں ۔ روز مرہ زندگی میں ہمیں کئی بوڑھے گندے کپڑوں اور چیتھڑوں میں نظر آتے ہیں اور ناکافی لباس میں جسم کی پوشیدگی قائم رکھنے سے بھی عاجز و قاصر دکھائی دیتے ہیں ۔ ان کے بال گندے اور گردوغبار سے اٹے ہوئے اور دکھائی ایسا دیتا ہے کہ ان بالوں کو تیل کنگھی سے آرائش کیے کافی عرصہ بیت چکا ہے۔ ایسی خبریں بھی میرے ناظرین کی نظروں سے گزری ہوں گی کہ ایک بیٹے نے باپ کی زرعی زمین اپنے نام ٹرانسفر کرانے کے بعد باپ کو اس کے اپنے ہی گھر سے نکال باہر کیا ۔ بدقسمت انسانوں کی ایسی لرزا دینے والی کہانیاں ہمارے لئے اور سماج کیلئے باعث شرم ہیں۔ جب یہ بوڑھے چارپائی پر حیات و زیست کی کشمکش میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی زیادہ نگہداشت اور خبر رکھنے کی بجائے ان کو تنہا کردیا جاتا ہے ۔ جب گھر میں کوئی رشتہدار یا مہمان آتا ہے تو ایسا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بوڑھے کی بہت زیادہ دیکھ بھال کی جارہی ہے حالانکہ حقیقت میں اس کو وقت پرکھانا پہنچانے سے بھی محروم رکھا جا رہا ہوتا ہے ۔ بوڑھے لوگوں کے مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ تنہائی کاکرب ہے جس سے وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ایک سروے کے مطابق وطن عزیز میں لاکھوں مزدور و ملازمین ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا بڑھاپا کسمپرسی میں گزار رہے ہیں ۔ جہاں گھروں میں بوڑھوں سے تضحیک آمیز سلوک ہوتا ہے وہاں معاشرے میں بھی ان کو عزت و احترام دینے کی بجائے پنشن کا حصول بھی ان بوڑھوں کیلئے کسی امتحان سے کم نہیں ہتا ۔ بینک کے متعلقہ اہلکار ان کو تیسرے درجے کی مخلوق سمجھتے ہیں اور یہاں بڑی عمر کے پنشنروں سے ایسا سلوک ہوتا ہے جیسا عام طورپر پیشہ ور بھکاریوں سے کیا جاتا ہے ۔ ان کی عمر کا خیال کیے بغیر انہیں ڈانٹ پلائی جاتی ہے اور عموماً اس قسم کے فقرے کسے جاتے ہیں ۔ بابا کیا کرتا ہے ، پیچھے ہٹو ، بینک کے اہلکار پنشن کے موقع پر لین دین کے حوالے سے اپنے صارفین سے عام طورپر یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ آپ دو بجے کے بعد آئیں پنشن کا یہ گند ختم ہو جائے۔ مغربی ممالک میں بوڑھوں کو عزت و احترام دیا جاتا ہے ، آسٹریا، اور بحرین میں بڑھاپے کو خوشگوار بنانے کیلئے پنشن اور انشورنس کا نظام مضبوط بنایا گیا ہے۔ جرمنی ، فرانس اور ہانگ کانگ سمیت متعدد مغربی ممالک میں بوڑھوں کو بیروزگاری الاؤنس دیا جاتا ہے ۔ چین میں بوڑھوں سے بدتمیزی کو فوجداری جرم قرار دیا گیا ہے کینیڈا میں شادی شدہ بوڑھے کو 1459کینیڈین ڈالر ماہانہ ملتے ہیں ۔ کینیا میں بوڑھوں کی انجمن تھوک میں اشیاء خرید کر پرچون کے نرخ پر فروخت کرتی ہے۔ اسلامی ممالک نے بھی اس میں کافی پیشرت کی ہے۔ سعودی عرب ، انڈونیشیاء اور ایران سمیت متعدد اسلامی ممالک میں بھی بوڑھوں کو کافی مراعات دی جاتی ہیں ۔ مغرب کی تقلید میں وطن عزیز میں کبھی کبھار مختلف سطحوں پر مختلف طبقوں کے حقوق کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہیں لیکن یہ موہوم اور نحیف صدا صرف صدا تک ہی محدود رہتی ہے اور کوئی عملی اقدام سے قبل ہی فضائے بسیط میں بکھر کر دم توڑ دیتی ہے۔ پاکستان میں بوڑھوں کیلئے پہلا اہم قانون 1972ء میں بھٹو دور میں جاری کیا گیا تاہم اس پر عملدرآمد نہ ہوسکا ۔ اس وقت پاکستان میں بوڑھوں کی فلاح و بہبود کیلئے جو اہم قوانین نافذ ہیں وہ 1976 میں جاری کیے گئے تھے جس میں سوشل انشورنس سکیم کی نگرانی کرنے والے ادارے ای او بی آئی میں اربوں روپے کے گھپلے سامنے آئے ۔ ورلڈ اسمبلی آف بیجنگ نے تجویز پیش کی تھی کہ دنیا بھر میں سینئر سٹیزن ایسوسی ایشن بنانی چاہیے ۔ پاکستان میں اس سمت میں 1985ء میں پیشرفت ہوئی تھی جب بوڑھوں کے مختلف گروپ بھی بنا دئیے گئے تھے ۔ حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ ہر کالونی میں پانچ فیصد مکانات مخصوص کیے جائیں تاہم اس تجویز پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔ ماضی کے ضیاء الحق اور نواز شریف ، زرداری ، مشرف اور موجودہ نواز شریف دور میں بھی اس سلسلے میں صرف اعلانات کیے گئے لیکن کوئی مثبت پیشرفت نہیں ہوسکی ۔ بوڑھوں کے علاج معالجے اورقوانین کی میٹرنٹی کے بعد بھی 1962ء میں ایک نیشنل لاء جاری کیا گیا اس پر بھی کبھی عملدرآمد کی نوبت نہیں آئی ۔1999ء کو نواز شریف نے سینئر سٹیزن کو ایک ریلیف پیکیج دیا لیکن وہ اس پرتاحال عملدرآمد کرانے سے محروم ہیں ۔ آج بوڑھے پنشنروں کو راحت دینے کی بجائے حکومت نے نیشنل سیونگز کی شرح منافع کم کرکے ان کی مشکلات و مصائب میں اضافہ کردیا ہے۔ معاشرے کا ہر فرد زبانی تو اس کا اعتراف کرتا ہے کہ بوڑھے ہماری متاع بے بہا ہیں لیکن عملی طورپر انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے ۔معزز قارئین اگر ہم ان بوڑھے لوگوں کا خیال نہیں کرتے تو اس کا حساب ہمیں دینا ہوگا ۔ ایسے بے بس ، مجبوراور مظلوم لوگوں سے محبت کرنا اور ان لوگوں کی تکالیف کا ازالہ کرنا ہی روحانی و مذہبی اقدار کی پاسداری کرنا ہے اور یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ آج بوڑھے جس دور سے گزر رہے

Google Analytics Alternative