کالم

کیا پاکستان 14 اگست کو معرضِ وجود میں آیا؟

2000px-Flag_of_Pakistan.svg

asifاگست کے ان مبارک اور خوشی بھرے لمحات میں اس دعاکے بعد کہ خدا ہماری پاک دھرتی کو خوشیوں کا گہوارہ بنائے، سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان چودہ اگست کو قائم ہوا تھا؟اس سوال کے تعاقب میں جو شواہد مجھے دستیاب ہوئے وہ میں اپنے قارئین کے سامنے رکھتا ہوں۔
1 ۔ہمارے نظام تعزیر کی اہم ترین کتاب کا نام ’تعزیرات پاکستان‘ ہے۔اس کی دفعہ (a) 123کے مطابق پاکستان 15اگست کو قائم ہواتھا۔
2۔Indian Independance Act 1947 وہ قانون ہے جس کی روشنی میں بر صغیر کی تقسیم ہوئی۔اس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ 15اگست 1947کو پاکستان معرض وجود میں آئے گا۔
3۔حضرت قائد اعظم سے زیادہ معتبر گواہی کس کی ہو سکتی ہے۔حضرت قائد اعظم کا اپنا بیان ہے : ’’ 15اگست آزاد پاکستان کا جنم دن ہے‘‘۔اور یہ بیان 15اگست 1947کو شائع ہونے والے اخبارات کے صفحات پر موجود ہے۔(کسی کو چاہییں تو یہ اخبارات مجھ سے لے کر دیکھ سکتا ہے)۔پاکستان آرکائیوز میں بھی سارا ریکارڈ موجود ہے۔
4۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ریڈیو سے پاکستان کے قیام کا اعلان 14اور15اگست کی درمیانی رات کو اس وقت کیا گیا جب کیلنڈر پر پندرہ شروع ہو چکا تھا۔1997میں جب آزادی کے پچاس سال کا جشن منایا گیاتو ایک جعلی ٹیپ تیار کی گئی جس میں ایک جعلی اعلان سنایا گیا اور ظاہر کیا گیا کہ یہ اعلان 13اور14اگست 1947کی درمیانی رات کا ہے۔یقین نہ آئے تو ریڈیو پاکستان کا ریکارڈ جا کر دیکھ لیجئے۔حقیقت واضح ہو جائے گی۔
5۔کہا جاتا ہے کہ پاکستان 14اگست 1947کو27رمضان کوجمعہ الوداع کے دن قائم ہوا۔اس وقت 1947کا نوائے وقت،ڈان،پاکستان ٹائمز سمیت درجنوں اخبارات میرے سامنے رکھے ہیں اور ان کی پیشانی پر چھپی تاریخ کے مطابق 14اگست کو 26رمضان المبارک تھااور جمعرات کا دن تھا۔27رمضان اور جمعہ الوداع 15اگست کے دن تھا۔گویا پاکستان 14کو نہیں 15اگست کو قائم ہوا۔
6۔اسٹینلے والپرٹ معروف محقق ہیں۔خود حکومت پاکستان نے ان سے کہہ کر قائد اعظم پر کتاب لکھوائی۔’جناح آف پاکستان‘ نامی یہ کتاب قائد اعظم پر لکھی گئی معتبر کتابوں میں سے ایک ہے۔اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان15اگست کو قائم ہوا۔
7۔اسٹینلے والپرٹ ہی کی ایک اور کتاب ہے جس کا نام ہے “A New History Of India”,۔اس کے صفحہ 349پر وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان 15اگست کو بنا۔
8۔خود پاکستان کے سابق وزیر اعلی چودھری محمد علی کی گواہی بھی یہی ہے۔اپنی کتاب “Emergence Of Pakistan”جس کا اردو ترجمہ’ظہور پاکستان‘ کے نام سے مارکیٹ میں موجود ہے، کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ پاکستان 15اگست کو معرض وجود میں آیا۔
9۔وکٹوریہ شیفلڈ کی کتاب ہے’”Kashmir In The Crossfire”۔اس کے صفحہ 132پر وہ لکھتی ہیں کہ پاکستان 15اگست 1947کو معرض وجود میں آیا۔
10۔کے کے عزیز کی کتاب ہے “Briton and Muslim India”۔اس کے صفحہ 183پر لکھا ہے کہ پاکستان 15 اگست کو وجود میں آیا۔
11۔عائشہ جلال اور سجاتا پوش کی مشترکہ کتاب”Modern South Asia”کے صفحہ 188اور210پر قیام پاکستان کی جو تاریخ درج کی گئی ہے وہ 15 اگست 1947ہے۔
12۔ایس ایم برکی اور سلیم الدین قریشی کی کتاب “The British Raj in India”کے صفحہ 609,622,642اور518پر لکھا ہے کہ پاکستان 15اگست کو معرض وجود میں آیا۔
13۔پنجاب یونیورسٹی کی ریسرچ سوسایٹی آف پاکستان نے جناب لیاقت علی خان کی تقاریر کا ایک مجموعہ 1975میں شائع کیا۔اس میں لیاقت علی خان کی کچھ تقاریر کے اقتباسات پڑھیے۔اس کتاب کے صفحہ 117پر لیاقت علی خان کی وہ تقریر درج ہے جو انہوں نے دستور ساز اسمبلی میں قومی پرچم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کی۔وہ کہتے ہیں؛’’یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ 15اگست کو جب پاکستان قائم ہو تو اس کا اپنا قومی پرچم ہی نہ ہو‘‘۔
14۔اس کے صفحہ 115پر لیاقت علی خان کی وہ تقریر ہے جو انہوں نے اس وقت کی جب وہ اسمبلی میں پرچم پیش کر رہے تھے اور قوم کو دکھا رہے تھے کہ یہ اس کا قومی پرچم ہے۔انہوں نے کہا:’’یہ پرچم پاکستان کا پر چم ہے۔یہ پاکستانی قوم کا پرچم ہے۔یہ اس ریاست کا پرچم ہے جس نے 15اگست کو معرض وجود میں آنا ہے‘‘۔
15۔بابائے قوم نے قوم کو آزادی کی مبارک 15اگست کو دی تھی۔لیاقت علی خان نے بھی قوم سے پہلا خطاب 15اگست کو کیا ۔صفحہ 185پر یہ خطاب بھی موجود ہے۔وہ کہتے ہیں؛’’کل جب 14اگست کا سورج غروب ہوا تھا تو پاکستان نام کی کوئی چیز بین الاقوامی سطح پر موجود نہ تھی مگر آج 15اگست سے ہم ایک حقیقت ہیں‘‘۔
16۔پاکستان ٹائمز، نوائے وقت ،دان سمیت 1947کے کئی اخبارات میرے سامنے رکھے ہیں۔سب کے مطابق پاکستان 15اگست کو وجود میں آیا تھا۔10اگست 1947کے نوائے وقت میں مسلم لیگی قیادت کی جانب سے قوم سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ 15اگست کو قیام پاکستان کے موقع پر چراغاں کریں ، نوافل پڑھیں اور غریبوں کا کھانا کھلائیں۔13اگست1947کے نوائے وقت میں شائع ہوا کہ سردار شوکت حیات اور ممتاز دولتانہ نے قوم سے اپیل کہ ہے کہ 15اگست کوقیام پاکستان کے موقع پر چراغاں نہ کریں بلکہ صرف نوافل ادا کیے جائیں۔
17۔چودہ اگست کے پاکستان ٹائمز کی نمایاں سرخی تھی’’Independance Tomorrow‘‘۔اور 15اگست 1947کے پاکستان ٹائمز کا اداریہ ان الفاظ کے ساتھ شروع ہوتا ہے’’ آج پندرہ اگست ہے۔آج طلوع آفتاب نے جہاں دنیا کو ایک نیا دن دیا ہے وہیں ہمارے لوگوں کو ان کی کھوئی ہوئی آزادی بھی لوٹا دی ہے۔‘‘ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس اداریے کو عنوان ہی “August 15″تھا۔برطانوی ترانے “God Save the King”پر 15اگست کو پابندی عائد کر دی گئی۔چودہ اگست رات گئے تک چونکہ ابھی پاکستان نہیں بنا تھا اس لئے یہ ترانہ بجتا رہا۔
اب سوال یہ ہے کہ یوم آزادی 15اگست کی بجائے14اگست کیوں کیا گیا؟کس نے کیا؟ کب کیا؟یاد رہے کہ جب قیام پاکستان کے ایک سال بعد حکومت نے نامعلوم وجوہات کہ بنیاد پر 15کو 14کر دیا تو بابائے قوم اس وقت شدید بیماری کے عالم میں معاملات سے لاتعلق ہو چکے تھے۔
سابق وزیر اعظم محمد علی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ایسا نجومیوں کے کہنے پر کیا گیا کیونکہ نجومیؤں نے لیاقت علی خان کو بتایا کہ 15اگست منحوس دن ہے۔
ایک عذر یہ تراشا جاتا ہے کہ وائسرائے نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کو اقتدار 14اگست ہی کو سونپ دیا تھا جب کہ بھارت کو 15کوسونپا گیا۔اس لیے ہم بھارت سے ایک دن پہلے دن مناتے ہیں۔یہ بات بھی درست نہیں ہے۔15اگست 1947کے اخبارات میرے سامنے پڑے ہیں۔ان میں ساری رپورٹنگ موجود ہے۔وائسرائے نے 14اگست کو کراچی میں کہا تھا:’’آج میں آپ سے وائسرائے کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں ۔کل کا دن طلوع ہوتے ہی ایک ریاست پاکستان کی زمام کار آپ کے ہاتھوں میں ہو گی‘‘
ہم یہ تو کر سکتے ہیں کہ جشن جس روز چاہے منائیں کیونکہ یہ ہمارا اپنا فیصلہ ہے کہ ہم نے یہ آزادی کی خوشی کس دن منانی ہے مگر ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ پاکستان بنا ہی 14کو تھا۔ہم تاریخ نہیں بدل سکتے۔یہ جرم ہے۔اب تو میں یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ ابھی کل کی تاریخ بدل دی گئی ہے اور ڈھٹائی سے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔تو باقی کی تاریخ جو ہمیں پڑھائی جا رہی ہے کس حد تک درست ہے۔مثال کے طور پر حضرت اورنگ زیب عالمگیر جنہوں نے نہ کوئی نماز چھوڑی نہ کوئی بھائی چھوڑا کیا واقعی اتنے نیک اور متقی تھے کہ ٹوپیاں سی کر گزارا کرتے تھے؟

فوجی عدالتوں پر حکومت اور پارلیمنٹ کے فیصلے کی توثیق۔۔۔ضمیر نفیس

سپریم کورٹ نے21 ویںترمیم کی منظوری کو درست اور آئین کے مطابق قرار دے کر اس پارلیمانی فیصلے کی تصدیق کر دی کہ خصوصی فوجی عدالتیں قائم کی جاسکتی ہیں جو دہشت گردی کے مقدمات کو جلد نپٹائیں گی21ویں ترمیم میں خصوصی عدالتوں کے قیام کے دورانیہ کو دوسال قرار دیاگیاہے اس کے بعد یہ ترمیم غیر موثر ہوجائے گی اگر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے اس میں توسیع کی منظوری نہ دی یہ امر قابل ذکرہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں کا نظام پہلے سے موجود تھا لیکن اس میں مسلح افواج سے وابستہ افراد سے متعلق ہی مقدمات کی سماعت کی جاتی تھی اب21ویں ترمیم کے تحت آرمی ایکٹ میں توسیع کر دی گئی ہے اس کی رو سے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سمیت سنگین نوعیت کے مقدمات بھی خصوصی فوجی عدالتوں میں چلیں گے وطن عزیز کے عوام نے پارلیمنٹ سے21ویں ترمیم کی منظوری پر جس مسرت اور اطمینان کا اظہار کیاتھا اسی اطمینان کااظہار انہوں نے سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے پر کیاہے عوام میں یہ خدشات موجود تھے کہ اگر خدانخواستہ سپریم کورٹ نے آئینی ترمیم کو آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم قرار دے کر کالعدم قرار دے دیا تو دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے حکومت اور پاک فوج کی کوششوں کو دھچکا لگ سکتاہے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس قسم کے خدشات ختم ہوگئے ہیں وزیراعظم نوازشریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران سپریم کورٹ کے فیصلے کو آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی سند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے دہشت گردی کی حوصلہ شکنی ہوگی انہوں نے کہا کہ18ویں اور21ویں ترمیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے اس سے آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی قائم ہوئی ہے وزیراعظم نے کہا کہ فوجی عدالتیں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے ضروری ہیں سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخ میں مثبت اثرات مرتب کرے گا مسلح افواج کو دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ میں بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں فوج پولیس اور رینجرز دہشت گردی کا خاتمہ کر کے دم لیںگے وزیراعظم نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کے سلسلے میں ارکان اور پارٹیوں کے تحفظات تھے ہم نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے یہ قدم اٹھایا تھا کیونکہ غیر معمولی حالات کے لئے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے عدالت عظمےٰ نے غیر معمولی اقدام کی توثیق کر دی ہے اس سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو تقویت ملے گی وزیراعظم نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب نیشنل ایکشن پلان اور اقتصادی راہداری کے لئے اتفاق رائے سے فیصلے کر کے ہم نے نیا کلچر پروان چڑھایاہے اس کلچر کو محفوظ رکھناہے اور اسے فروغ دیناہے مسائل چھوٹے ہوں یا بڑے ان کا حل اس ایوان میں ہے جب مسائل کے حوالے سے بات سڑکوں اور چوراہوں پر کی جائے تو اس کی ضرب پارلیمنٹ اور جمہوریت پر بھی پڑ ے گی مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے ان کامیابیوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی وزیراعظم نے بجا طور پر کہاکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ قوم کو حاصل کامیابیوں کے استحکام کا باعث بنے گا اس فیصلہ کے بعد اب حکومت فوج اور عدلیہ دہشت گردی کے خاتمہ کے سلسلے میں ایک صفحے پر آگئی ہیں حقیقت یہ ہے کہ خصوصی فوجی عدالتوںکے قیام کا فیصلہ وقت کی آواز اور ضرورت تھا کل جماعتی کانفرنس میں تمام جماعتوں نے اس فیصلہ کی ضرورت محسوس کی اور اس کی حمایت کی چنانچہ حکومت نے اے پی سی کے فیصلے کی روشنی میں خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام کے سلسلے میں21ویں ترمیمی بل کا مسودہ تیار کیا اور پارلیمانی جماعتوں سے اس کی حتمی منظوری حاصل کی جس کے بعد اسے دونوں ایوانوں سے منظور کروایا گیا تاہم بعض وکلاء تنظیموں کو اس ترمیم پر اعتراض تھا عدلیہ کے بعض حصوں سے بھی یہی تاثر آرہاتھا کہ عدالتی نظام کی موجودگی میں متبادل نظام لانے کی ضرورت نہیں البتہ اس پر سب ہی متفق تھے کہ مروجہ عدالتی نظام کی خامیاں وہ نتائج نہیں دے سکتیں جو قوم کی ضرورت اور وقت کا تقاضاہے عدالتوں میں برسہا برس تک مقدمات التواء میں رہتے ہیں چنانچہ غیر معمولی حالات کے لئے غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے بلاشبہ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کے فیصلے کی توثیق کر کے یہ واضح کیاہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں حکومت اور پارلیمنٹ نے درست فیصلہ کیاہے وزیراعظم نوازشریف نے یہ کلیدی بات کہی ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاصل کامیابیوں کو استحکام ملے گا

آزاد میڈیا ۔۔۔ یا بی جمالو؟

ایان علی کی رہائی کا وقت تھا، وہ ابھی جیل میں تھیں اور جیل کے باہر آزاد میڈیا جملہ اعضائے ریئسہ کی ساری قوت لگا کر چیخ رہا تھا’’ ہے جمالو‘‘۔چینل تبدیل کیا وہاں بھی یہی منظر تھا، ایک بی جمالو مائیک پکڑے عالم وجد میں تھی’’ ہے جمالو‘‘۔اگلا چینل لگایا ، وہاں بھی وہی شور تھا’’ ہے جمالو‘‘۔چینل پر چینل بدلتا گیا، ڈھیروں بی جمالو دھمال ڈالے ہوئے تھیں اور ایک ہی صدا تھی’’ ہے جمالو‘‘۔
جی میں اس وقت اڈیالہ جیل کے گیٹ کے سامنے کھڑا ہوں ابھی ایان علی یہاں سے نکلیں گی۔۔۔۔۔۔۔ہے جمالو۔
جی یہ میرے پیچھے ایان علی باہر آتی دکھاتی رہی ہیں انہوں نے فلاں رنگ کے کپڑے پہن رکھے ہیں،غور سے دیکھیے وہ تین دفعہ مسکرائی بھی ہیں۔۔۔۔ہے جمالو۔
میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ایان علی کا قافلہ جیل سے روانہ ہو چکا ہے۔۔۔۔۔۔ہے جمالو۔
جی ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ ایان علی نے گاڑی میں تین جماہیاں لی ہیں۔۔۔۔ہے جمالو۔
ایان علی کی گاڑی اس وقت فیض آباد چکی ہے۔میں آپ کو بتاتا چلوں ایان کی گاڑی اس وقت سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے۔۔۔۔۔ہے جمالو۔
ڈھیروں بی جمالو ایک ساتھ، دھمال اور شور۔۔۔ ہے جمالو، میں نے سوچا اس انسپکٹر کے گھر کا عالم کیا ہو گا جو اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ایان علی کے لیے تو لطیف کھوسہ صاحب خصوصی شاپنگ کی نوید دے رہے تھے، عید پر مر حوم انسپکٹر کے بچوں سے بھی کوئی پوچھے گا۔ ’’ تمہیں کسی نے عیدی دی؟ تمہیں نئے کپڑے پہننے کو ملے کہ نہیں ۔۔۔ ‘‘ ذہن میں آندھی چل رہی تھی۔آ زاد میڈیا باجماعت دھمال ڈالے ہوئے تھا ’ہے جمالو‘۔
کیا وجاہت مسعود بتائیں گے، یہ کس کا شعر ہے؟
دیکھتا کیا ہے میرے منہ کی طرف
قائد اعظم کا پاکستان دیکھ

پاک سعودی تعلقات میں اہم پیش رفت

Azam-Khan

پاکستان میں تعینات کے جانے والے نئے سعودی سفیرعبداللہ بن مرزوق الزیروی اپنی سفارتی ذمہ داریاں نبھانے کیلئے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں اوران سطورکے شائع ہونے تک وہ اپنی اسناد سفارت ایوان صدرمیں صدرمملکت ممنون حسین کوپیش کرچکے ہوں گے نئے سفیرایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اورمنجھے ہوئے سفارت کارہیں تقریباً ایک سال تک سعودی عرب کا سفارت خانہ قائم مقام سفیرجاسم خالدی کے ذریعہ چلاجاتا رہا ہے جنہوں نے اپنا فریضہ نہایت کمال مہارت سے سرانجام دیا ۔نئے سفیرپاکستان میں تعینات کئے جانے سے قبل لبنان میں سعودی سفارت خانے میں ڈپٹی چیف آف مشن کے طورپر اپنی ذمہ داریاں نبھارہے تھے کہ انہیں پاکستان میں سفارت کافریضہ سونپ دیاگیا ان کے پیشرو ڈاکٹرابراہیم القدیر جب اپنی مدت مکمل کرکے وطن واپس لوٹے توعلی سعیداسیری کو پاکستان میں نیاسفیرتعینات کرنے کا فیصلہ اعلان کیاگیا تھا اس وقت لبنان میں سعودی عرب کے سفیرکافریضہ سرانجام دے رہے تھے ۔علی سعید اسیری کے سفیرنامزد کئے جانے کاپاکستانی حلقوں میں خوش دلی سے خیرمقدم کیاگیا تھا کیونکہ اس سے قبل پاکستان میں بطورسفیرتعینات رہ چکے تھے اوریہاں کے سیاسی عسکری سفارتی اورصحافتی حلقوں میں وہ خاصے پاپولر تصورکئے جاتے تھے نئے تعینات ہونے والے سفیرعبداللہ بن مزروق الزہروی بھی اس سے قبل پاکستان میں بطورڈپٹی ہیڈآف مشن کے طورپر کام کرچکے ہیں اس لئے پاکستان کے سیاسی صحافتی اورعسکری حلقوں میں یہ بھی اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں سعودی عرب کوپاکستان کی خارجہ پالیسی میں نہایت اہم اور معتبرمقام حاصل ہے سعودی عرب کے سفیرکوعمومی طورپر خادم حرمین شریفین کا سفیر تصور کیا جاتا ہے چنانچہ عوامی سماجی سیاسی ثقافتی اورمذہبی حلقوں میں اسے نہایت عقیدت اوراحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مملکت سعودی عرب کے دنیا بھرمیں غالباً198کے لگ بھگ سفارت خانے موجود ہیں مگرسعودی حکمران پاکستان اورواشنگٹن میں موجود اپنے سفارتخانے کواہم قراردیتے ہیں یہی حالت پاکستان کی بھی ہے کہ اسلام آباد میں غالباً 183کے لگ بھگ غیرملکی سفارتخانے قائم ہیں مگرسب سے زیادہ اہمیت کا حامل سفارت خانہ سعودی عرب کاتصورکیاجاتا ہے پاکستانی حکمران اور یہاں کے مقتدراورموثرحلقے ہوسکتا ہے کہ کسی سپرپاورکی بات کوکونال دیں مگر ان کی بات کو ٹالنا ممکن نہیں۔بردارملک سعودی عرب پاکستان تعلقات ہمیشہ سے بہتر ہے ہوں دونوں ممالک میں حکومتی اورعوامی سطح پرجوگرجوشی چلی آرہی ہے وہ کسی اورمملکت کے ساتھ دکھائی نہیں دیتی سعودی حکمرانوں سابق شاہ خالد شاہ فیصل شاہ فہدشاہ عبداللہ کے ادوارمیں پاکستانیوں کے ساتھ جومحبت اورخلوص کاسلسلہ روارکھا گیا وہ بھی اپنی مثال آپ ہے اوراب تاریخ کاحصہ بن چکا ہے موجودہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کواپنے سابقہ پیشروحکمرانوں کوبھی ایک قدم پیچھے چھوڑگئے اورانہوں نے مارچ 2015ء میں سعودی عرب کادورہ کرنے والے پاکستانی وزیراعظم میاں محمدنوازشریف کا خود ایئرپورٹ پر آکر استقبال کرکے سعودی عرب کی تاریخ کی تمام روایات توڑڈالیں یقیناً یہ بھی پاکستان قوم کیلئے ایک بہت بڑا اورتاریخ سازاعزاز ہے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کیلئے بھی پاکستان ایک اہم ملک تصورکیاجاتا ہے اسلام آباد کی شاہ فیصل مسجدرہتی دنیا تک پاک سعودی عرب دوستی کی ایک اہم مثال کے طورپر جانی جاتی رہے گی سعودی عرب پاکستان میں اسلام کے فروغ کیلئے بھی اپناکردارسرگرم طریقے اوراداکرتا چلاآرہا ہے سعودی ادبی عالم اسلامی نامی این جی اوز کے ذریعہ پینے کا صاف پانی شاہراہوں کی تعمیرپلوں کی تعمیرمساجد کی تعمیرکے علاوہ دیگررفاعی کاموں میں مددکرتا چلاآرہا ہے۔ اس وقت 10لاکھ سے زائد پاکستانی سعودی عرب کے مختلف شہروں میں مقیم ہیں اورہرسال کروڑوں روپے قیمتی زرمبادلہ کی صورت میں وطن عزیز کوبھجوارہے ہیں پاکستانی عوام نے 1977ء اپنے تیسرے بڑے شہرلائل پورکانا سعودی حکمران شاہ فیصل کے نام سے موصوم کرکے اپنی محبت کا ثبوت فراہم کیا۔یہ شہرفیصل آبادکے نام جانا اورپہچاناجاتا ہے 1957ء میں سعودی عرب نے ایک پاکستانی ماہرمعیشت انورعلی کوسعودی عرب مانیٹرنگ فنڈ(سما)کاگورنرنامزد کیا وہ اس عہدے پر1947ء تک فائزرہے سعودی عرب کی کامیاب سفارت کاری کی ایک اہم مثال اس وقت سامنے آئی جب جنرل(ر)پرویز مشرف نے وزیراعظم نوازشریف کی منتخب آئینی حکومت کاتختہ الٹ کرانہیں برطرف کرایا اورکئی سال کیلئے جیل بھجوادیا اس موقعہ پرسعودی سفارت خانہ متحرک ہوا اوران کی جلاوطنی کی درخواست کی ہیں پرفی جی حکمرانوں نے انہیں سعودی شہزادوں کے حوالے کردیا جوانہیں اپنے ساتھ سعودی عرب لے گئے جہاں وہ 8سال تک باعزت مہمان کے طورپر مقیم رہے اس طرح جب 1979ء میں شرپسندوں نے حرم مکہ پرقبضہ کرلیاتو اسے سرپسندوں سے چھڑوانے کیلئے سعودی افواج کی مدد کیلئے پاکستانی فوجی دستہ بھجوایاگیا تھا جس نے کامیاب آپریشن کرکے حرم مکہ بیت اللہ کوشرپسندوں کے قبضہ سے واگزارکرایا پاکستان میں اب تک جتنے بھی سعودی سفیرتعینات رہے ان کا اپنا الگ احترام رہا مگرچند سفیرایسے بھی تعینات رہے جنہیں عوامی سماجی صحافتی وسیاسی اورعسکری حلقوں میں بے حد پذیرائی مسلمان ہیں ریاض الخطیب علی سعید اسیری اورڈاکٹرابراہیم الفویرشامل پہنچنے تک جاسم الخالد نے قائم مقام سفیرکے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیئے یمن کی جنگ کے حوالے سے دونوں ممالک کے مابین فوجی دستے سعودی عرب بھجوانے کے معاملے پرکچھ ناخوشگوارلمحات بھی آئے جنہیں جاسم الخالدی نے اپنی بہترین سفارتی صلاحیتوں کوبروئے کار لاتے ہوئے حل کررہا ہے نئے سعودی سفیرکی تعیناتی سے پاکستان کے تمام حلقوں میں خوشی ایک لہردوڑی ہے کہ یمن کے مسئلہ پرپیداسفارتی مہارت کوبروئے کارلاتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کا کرداراداکریں گے ۔

اور کچھ سوالات میرے بھی۔۔۔

خبر چربہ، کالم تعصبات کی جگالی، اسلوب جیسے بیوہ کا بڑھاپا، تدبر غائب، علم عنقا اور ادار یہ مرغ کے وظیفۂ زوجیت کی طرح مشق مستعجل۔ شورش کاشمیری نے لکھا تھا ، ’’اخبار ہیں یا خواجہ سراؤں کا غول‘‘۔ غیر سنجیدگی، غیر ذمہ داری اور جہالت کے آسیب نے گلیاں سونی کر دی ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ آج کسی سنجیدہ آدمی کے لیے اردو صحافت سے وابستہ رہنا یا فیض یاب ہونا ممکن نہیں رہا۔ تنہائی اسے آغوش میں لے لیتی ہے اور اوسط سے کم تر ماحول میں وہ بالکل اجنبی ہو جاتا ہے ۔۔۔ اس عالم میں وجاہت مسعود اگر بہار رتوں کا کوئی سندیسہ بھیجتے ہیں تو مضمحل امیدوں کے مقفل کواڑ گو یا کھل سے جاتے ہیں ۔
وجاہت ،حق الیقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے ،اردو صحافت کے جملہ عوارض سے بخوبی آگاہ ہیں۔یہ بات ان سے کہنا کسی طائر جواں کو درس پرواز دینے کے برابر ہوگا کہ اس غول کا حصہ بننے سے کیا حاصل؟ ردی کا ڈھیر جتنا اونچا ہو جائے، ہمالہ نہیں بن سکتا۔ آج سنجیدہ مباحث کے متلاشی اور یونیورسٹیوں کے وہ نوجوان جو کچھ تفہیم کے آرزو مند ہوں، انگریزی صحافت کے تعاقب میں نظر آئیں گے۔ زمانہ طالبعلمی کے سارے ساون اردو صحافت میں بھیگ کر گزاریں گے ۔مگر جیسے ہی مقابلے کے امتحان کی تیاری شروع ہوئی یا انٹرویو کا مرحلہ درپیش ہوا، انگریزی اخبار کامطالعہ شروع ہو گیا۔ یہ آج کی ارد و صحافت پر خوفناک عدم اعتماد ہے۔ بزرگان مجھے معاف رکھ سکیں تو اردو کے اخبارات اب گرم حماموں اور نیم خواندہ معاشرے کی زخمی انا اور تعصبات کے لیے سامان آسودگی کے سوا شاید ہی کچھ فراہم کر رہے ہیں۔
مستثنیات یقیناًموجود ہیں مگر عمومی صورت حال یہی ہے کہ لوگ تفنن طبع کے لیے اردو اور تفہیم کے لیے انگریزی اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ ایک ہی ادارے کے اردو اخبار میں شائع کسی خبر کا اسی ادارے کے انگریزی اخبار میں چھپی خبر کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھ لیں ،آپ کو معلوم ہوگا کہ اردو کی خبر سطحیت اور سنسنی خیزی کا مرقع ہے جبکہ انگریزی میں معقولیت کی جھلک غالب ہے ۔
اردو اخبارات کے اداریے تو شاید ہی کوئی پڑھتا ہو ،ان میں خوفناک حد تک غیر معیار ی اسلوب و دلائل ملتے ہیں۔ اداریہ ایک رسم ہے جو نباہی جا رہی ہے۔ افادیت کے باب میں ان کا کوئی اعتبار نہیں۔ خبر اپنی صحت کے اعتبار سے مجسم سوال ہے اور کالم خواہشات و جہالت کا دیوان۔ متن پڑھنے کی ضرورت نہیں رہی۔ تصویر ہی سے پتا چل جاتا ہے کس معزز کالم نگا ر نے کس کا نمک حلال کرنا ہے۔ صحافت کو لاحق اس تازہ عارضے کو پالتو صحافت کہتے ہیں۔ اور یہ عارضہ کسی ناسور کی طرح پھیلتا جا رہا ہے۔ المیہ یہ کہ جو کھو نٹے سے نہیں بندھا، اس کی آنکھیں کشکول ہو جاتی ہیں، گداگرانِ سخن ہجوم در ہجوم پھرتے ہیں۔
درد اس وقت کچھ اور بڑھ جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس خطے میں صحافت کی تاریخ خا ص تا بناک رہی ہے۔
ابو لکلام آزاد سے لے کر چراغ حسن حسرت تک ایسے ایسے لوگ اس شعبے سے وابستہ رہے ہیں، اردو جن کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی رہتی تھی۔ سترہ سال کی عمر میں ابو الاعلی مودودی مدھیہ پردیش کے ’’تاج‘‘کے مدیر بنے اورآخر تک صحافت کو وجۂ افتخار جانا۔ پاسپورٹ پر کبھی علامہ ،مولانا یا مذہبی سکالر نہ لکھا۔ ہمیشہ خود کو صحافی لکھا۔ اسلوب، متانت اور علم! ہم نے سب کچھ گنوا ڈالا۔
وے ’گہر‘ تو نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے
ان حالات میں وجاہت مسعود ایک نیا اخبار بلکہ یوں کہیے کہ آن لائن اخبار لارہے ہیں۔جس اخبار کی پیشانی پر وجاہت کا نام چھپے ،آدمی اگر اس اخبار سے امید یں وابستہ نہ کریں تو کیا کرے ۔علم کی دنیا کا وہ آدمی ہے، مکالمے کے فن سے بھی آشنا کہ اختلاف رائے اس وسعت ظرفی سے برداشت کرتا ہے گا ہے آدمی ششدررہ جاتا ہے ۔خبر کیا ہے اسے معلوم ہے۔ اسا لیب سے خوب آگاہ اور شورش کے ’’زاغوں‘‘ سے بے زار۔ ایک سنجیدہ اور باوقار اخبار نکالنے کے لیے جو خوبیاں درکار ہوتی ہیں ،میری شہادت پر اگر کوئی اعتبار کرسکے تو ان میں موجود ہیں ۔
ادھر معاملہ یہ ہے کہ طلاق بائن کے بعد رجوع نہیں ہوتا اور واقعہ یہ کہ اردوکے قاری اور سنجیدگی میں طلاق بائن کبریٰ ہو چکی۔ پاپولر جرنلزم کی قباحتیں اوڑھنے سے اجتناب کی بہرحال ایک قیمت ہوتی ہے اور ہمارے نیم خواندہ معاشرے میں یہ قیمت خاص بھاری ہو سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دانش اور بازار کے تقاضوں کو وجاہت کیسے لے کر چل سکتے ہیں ۔ لیکن یاد رہے کہ آدمی صرف اسی چیز کا مکلف ہوتا ہے جو اس کی استطاعت میں ہو ۔اس پیمانے سے دیکھیں تو وجاہت کا اصل امتحان اور ہے ۔ سنجیدہ اور باوقار اخبار تو وہ دیں گے ہی کہ مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، سوال تو یہ ہے ’’دنیا پاکستان ‘‘لاہور کے صفحات ایک خاص فکر کے تر جمان بن جائیں گے یا آزاد اور باوقار مکالمے کی بنیاد فراہم کریں گے۔۔۔ جس وجاہت کو میں جانتا ہوں، میرا حسن ظن ہی نہیں، اعتبار بھی ہے کہ’ ’دنیا پاکستان ‘‘ میں کسی مخصوص سوچ کی ترجمانی نہیں ہو گی، مکالمے کو فروغ دیا جائے گا۔
میری دعائیں اجمل شاہ دین کے ہم رکاب اور میری تمنائیں اپنے دوست کے دامن گیر رہیں گی۔

جب ایچی سن کالج میں میرٹ تھا ،تب کون سی توپ چلائی تھی؟

نیوز کاسٹر کے لہجے میں ایک جہاں کا دکھ سمٹ آ یا تھا۔ کیا اب ایچی سن کالج جیسے ادارے میں بھی میرٹ پر عمل نہیں ہو گا؟ کیا یہ ظلم نہیں کہ ایچی سن کالج کے پرنسپل کو اس لیے عہدے سے ہٹا دیا گیا کہ اس نے اشرافیہ کے نالائق بچوں کو میرٹ سے ہٹ کر داخلہ دینے سے انکار کر دیا تھا؟
متعفن اشرافیہ کے خلاف ایک لمحے کو میری ’ غیرت ایمانی‘ بھی جوش میں آئی لیکن فورا ہی ایک اور خیال آیا۔ جب ایچی سن کالج میں میرٹ پامال نہیں ہوا تھا تب اس ادارے نے کون سی توپ چلا لی تھی۔اس سماج میں کتنے رجال کار ایسے ہیں جو ایچی سن سے پڑھ کر آئے ہوں؟کوئی بڑا دانشور،کوئی سائنسدان، کوئی باکمال آدمی؟سماج میں حقیقی معنوں میں کوئی ایک صاحب قدرو منزلت جس کی فکری اٹھان اس ادارے سے ہوئی ہو؟وڈیروں ، نوابوں ، سرداروں، سیٹھوں، جاگیرداروں اور نودولتیوں کے فرزندوں کے علاوہ یہاں کون داخلہ لے سکتا ہے؟کیا یہ درست نہیں کہ اس ادارے کی بنیاد ہی میرٹ کی پامالی پر رکھی گئی ہے؟کیا یہ غلط ہے کہ یہاں داخلے کے لیے قابلیت نہیں، با پ کی تجوری کا سائز شرط اول ہے؟ یہاں پاکستانی بچوں کو قابلیت پر نہیں، حسب نسب کی بنیاد پر داخلہ ملتا ہے اور اس ادارے کا مقصد حکمران خانوادوں کی آبیاری کرنا ہے۔ میاں منشا، ایاز صادق اور یوسف رضا گیلانی کی اولاد کو یہاں داخلہ نہ مل سکا تو کیاقیامت آ گئی۔کیا داخلہ لینے والوں میں سے کسی خیر دین، نور دین یا اللہ رکھے کا کوئی لائق اور قابل بیٹا بھی تھا؟
چنانچہ پورے ادب سے عرض کی: بی بی میری بلا سے ،مجھے اشرافیہ کے معاملات سے کچھ لینا دینا نہیں۔ برہمنوں کے معاملات پر جگالی کرنا بند کرو، کبھی ٹیلی ویژن سکرین پر بیٹھ کر شودروں کی بات بھی کیا کرو۔ایچی سن اور اس کا میرٹ، میری طرف سے جائے بھاڑ میں۔۔۔ مجھ سے کسی ٹاٹ سکول کا دکھ پوچھو ،جہاں چاردیواری ہوتی ہے نہ گیٹ، بجلی ہوتی ہے اور نہ چھت۔ ایچی سن کالج کا میرٹ جائے بھاڑ میں ۔۔۔ ہمارے شیخوپورہ کے بیٹے نے پھلوں کی ریڑھی پر بیٹھ کے خربوزے اور امرود بیچتے ہوئے بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ ایچی سن کالج کے معاملات، مائی فٹ۔۔۔

Google Analytics Alternative