کالم

انڈیا اور پڑوسی ممالک (چوتھی قسط)

ہر طرح سے نیپال کی کلائی مروڑنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ نیپال پر اپنا تسلط برقرار رکھ سکے اور نیپال انڈیا کی طفیلی ریاست بنا رہے تاکہ انڈین حکومت اور انڈین کمپنیاں نیپالی وسائل کی لوٹ کھسوٹ جاری رکھیں جس میں معدنیات اور جنگلی وسائل شامل ہیں انڈیا کی نظریں نیپال کی ندی نالوں اور دریاﺅں پر ہے تاکہ وہاں پر ڈیم بنا کر بجلی پیدا کریں اور وہاں سے یہ بجلی انڈیا کے صنعتی سیکٹر کو دی جائے جس کی انڈیا میں شدید قلت ہے انڈیا میں توانائی کا بحران اس قدر شدید ہے کہ دارالحکومت دہلی تک میں گھنٹوں لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے نیپال میں دریاﺅں اور ندیوں میں بجلی ہیدا کرنے کی گنجائش کا اندازہ 42000 میگاواٹ کے قریب ہے انڈیا کی کوشش ہے کہ نیپال کو بلیک میل کر کے اس کی زراعت اور پانیوں کا پورا potential استعمال کریں اور نیپال کو کچھ نہ دیں اور بدستور اپنا دست نگررکھیں نیپال کے اندر مواصلات جس میں سڑکیں ٹرانسپورٹ اور دیگر نقل و حمل کے وسائل محدود ہیں اگر کوئی بیرونی طاقت نیپال میں ڈویلپمنٹ کرنا چاہتی ہے یا کوئی غیر ملکی بنک یا مالیاتی ادارہ سرمایہ کاری کرنا چاہے تو سب سے بڑی رکاوٹ انڈیا بن جاتا ہے جو نہیں چاہتا کہ نیپال خوش حال ہوکر ہمارے کنٹرول سے نکل جائے لیکن اب نیپال کی سیاسی قیادت میں پڑھے لکھے لوگ آرہے ہیں جن کا اپنا قومی vision ہے جو بالکل واضح ہے انہوں نے انڈین پالیسیوں کے خلاف احتجاج شروع کر رکھا ہے اور ہر روز انڈیا کے خلاف مظاہرے کرتے رہتے ہیں موجودہ نیپالی حکومت نے انڈیا کی جانب سے مکمل ناکہ بندی کے بعد اپنے ہاں ایندھن کی راشننگ شروع کر رکھی ہے جس میں عوام حکومت کے ساتھ بخوشی تعاون کر رہے ہیں کیونکہ وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ انڈیا نے یہ بحران پیدا کر رکھا ہے جس کا مقصد نیپالی حکومت کو مجبور کرکے نیپال دشمن اور انڈیا کے مفاد کی پالیسیاں بنائے اور اب نیپال کی جانب سے چین کے ساتھ اقتصادی روابط بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے چین سے رابطہ گو بہت دشوار گزار ہے اور خاصہ دور پڑتا ہے لیکن چین ان نیپالی رابطوں کا مثبت جواب دے رہا ہے کوشش کررہا ہے شمال مشرق کی جانب سے نیپال تک سڑک بنا دی جائے اور نیپال اپنی ساری تجارت انڈیا کی بجائے چین کے ساتھ کرے اور اگر اس سڑک کی تعمیر پر عمل درآمد ہو گیا تو نیپال انڈیا کی بلیک میلنگ سے نکل آئے گا جس سے نیپال ایک ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے عام نیپالی انڈیا کی ان حرکتوں سے جو کسی بھی بڑے ملک کے شایان شان نہیں انڈیا سے متنفر ہوتا جارہا ہے اور عوام حکومتی حلقوں پر دباﺅ ڈال رہی کہ انڈیا کی بلیک میلنگ میں نہ آئے اور عوام حکومت سے ہر طرح کا تعاون کر رہے ہیں سپلائی میں کمی اور راشننگ کو بخوشی برداشت کر رہے ہیں آئیے اب ایک نظر بھوٹان پر ڈالی جائے جو نیپال اور ہندوستان کی پڑوسی اور ہندوستان کے شمال میں واقع ریاست ہے وہاں بھی کم و بیش نیپال کی سی صورت حال ہے آس کارقبہ38394 مربع کلومیٹر ہے آبادی 742732 نفوس پر مشتمل ہے انڈیا نے TALA میں بہت بڑا ہائڈرو پاور پلانٹ قائم کر رکھا ہے جس کی مکمل سپلائی انڈیا کو جاتی ہے اور بھوٹان کو اصل قیمت کا عشر عشیربھی نہیں ملتا جو اس کا حق بنتا ہے یہاں کی بادشاہت بھی انڈیا کے رحم وکرم پر ہے وہاں کی سیاحت اور زراعت کا سب بڑا مستفید ہونے والا انڈیا ہی ہے انڈین کرنسی کو انڈیا نے وہاں کی سرکاری کرنسی کا درجہ دلا رکھا ہے اور مقامی کرنسی کہیں ہے کہ نہیں ہے اور اس کو بھی انڈین کرنسی سے منسلک کرکے رکھا گیا ہے تمام وسائل پر پہلا حق انڈیا کا ہی ہے ان کی اقتصادیات بھی براہ راست انڈین کنٹرول میں ہیں ان کی پارلیمنٹ میں بھی ارکان کی اکثریت ہندوستانی ہے اور انڈیا ہی کو جواب دہ ہے اب انڈیا وہاں نئے ڈیم بنانے جا رہا ہے جہاں 30000 میگا واٹ کی گنجائش ہے لیکن بجلی صرف انڈیا ہی کو جائے گی بادشاہ جگمے سنگھے نے انڈین خاتون کو ملکہ بنا رکھا ہے اور سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ خاتون کس کے لئے کام کر رہی ہوگی انڈیا اپنی سیاحت بڑھانے کے لئے دارالحکومت تھمپو تک ریلوے لائین لا رہا ہے جو آسام سے دارالحکومت تھمپو تک جائے گی اور 18کلومیٹرطویل ہوگی بھوٹان جنگلات اور انواع اقسام پھلوں پھولوں اور جڑی بوٹیوں کی پیداوار کا ملک نہایت خوبصورت خطہ زمین ہے کم آبادی وجہ سے اس کے تمام وسائل وافر ہیں اور فی کس آمدنی 2000 ڈالر سے زیادہ ہے مقامی وسائل مکمل طور پر انڈیا کے تصرف میں ہیں یہ ملک بھی بیرونی دنیا تک رسائی کے لئے انڈیا کا محتاج ہے مشرق میں چین ہے جس سے دوستی کی قیمت بہت بھاری ہوسکتی ہے ویسے بھی دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے ج?اں تھانزا کے مشرق میں گلیشیئر پہ چین سے کچھ سرحدی معاملات طے ہونا باقی ہیں جو انڈیا کی رضامندی سے مشروط ہے اور انڈیا بوجوہ اس مسئلہ کو زندہ رکھنا چاہتا ہے حالانکہ تھمپو چین کا موقف تسلیم کر چکا ہے معاملات فورا آگے بڑھ سکتے ہیں اور ایک معاہدہ طے پا سکتا ہے اور بھوٹان کا حال بھی نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن والا۔

ایک نئی انتہا پسندی

احباب کا اجتہادِ تازہ یہ ہے کہ سماج کو انتہا پسندی سے بچانا ہے تو اسے سیکولر خطوط پر استوار کرنا ہو گا۔ساتھ ہی دلیل دی جاتی ہے کہ سیکولرزم کا مطلب لادینیت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔یہ دونوں باتیں ، اس طالب علم کے نزدیک غلط ہیں۔جان کی امان پاﺅں تو عرض کروں:سیکولرزم عملا لادینیت ہی کا نام ہے اور یہ اعتدال بھی نہیں بلکہ مذہبی مُلائیت کے برعکس لادین مُلا ئیت کا نام ہے۔یہ رد عمل کی ایک کیفیت کا نام ہے جو اتنی ہی خوفناک ہے جتنی کہ مذہبی مُلائیت۔مُلائیت حلیے کا نہیں ، افتادِ طبع کا نام ہے۔چنانچہ اب اس سماج کو ایک طرف مذہبی انتہا پسندی کا سامنا ہے تو دوسری جانب سیکولر انتہا پسندی موجود ہے۔سماج نے اگر آگے بڑھنا ہے تو اسے ان دو انتہاوں کے بیچ اعتدال کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔میرے نزدیک مذہبی انتہا پسندی اور سیکولر انتہا پسندی کے درمیان اعتدال کا راستہ ، اسلام ہے۔
پاکستانی معاشرے کی اپنی نفسیات ہیں۔مذہبی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے معاملے میں جملہ کوتاہیوں کے باوجود جب مذہب کی بات آتی ہے تو ’دل ہے کہ کھنچتا سا چلا جائے ہے‘ والا معاملہ درپیش ہوتا ہے۔ایسے معاشرے میں مذہب کو عظوِمعطل بنانا آسان کام نہیں ہوتا۔چنانچہ اس حقیقت کو بھانپتے ہوئے سیکولرزم کی داعی قوتوں نے سماج کو یہ باور کرانا شروع کر دیا کہ سیکولرزم تو محض اخلاقیات، انسانیت اور محبت کا نام ہے جو کسی طرح بھی مذہب سے متصادم نہیں۔یہ الجھن اب ایک ہی صورت میں دور ہو سکتی ہے کہ ہم مغرب کے اپنے علمی ماخذ کی طرف رجوع کریں اور دیکھیں کہ سیکولرزم کا مطلب کیا ہے۔
انسائیکلو پیڈیا امریکانا کے مطابق:”سیکولرزم ایک ایسا اخلاقی نظام ہے جس کی بنیاد عام پندونصائح کے اصولوں پر رکھی گئی ہواور جو الہامی مذہب پر انحصار نہ رکھتا ہو۔سیکولرزم تمام اہم سوالات مثلا خدا کے وجود اور روح کے غیر فانی ہونے وغیرہ پر بحث و تمحیص کا حق دیتا ہے“
وبسٹرز نیو ورلڈ ڈکشنری آف دی امیرکن لینگوئج میں اس کی تعریف یوں کی گئی ہے:”سیکولرزم اعتقاد اور اعمال کا ایسا نظام ہے جو مذہبی عقیدے کی کسی بھی صورت کی نفی کرتا ہو۔“اسی ڈکشنری میں لفظ سیکولرائز کے معنی ہیں :”کسی چیز سے مذہبی کردار کو نکال دینا“۔اب آپ غور فرمائیے،مذہبی عقیدے کی کسی بھی صورت کی نفی کرنا،گویا مذہب کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیںاور مذہبی کردار کو نکالے بغیر کوئی چیز سیکولرائز نہیں ہو سکتی۔ یہ لادینیت نہیں تو کیا ہے؟
پھر بھی کوئی خوش فہمی باقی ہو تو انسائیکلو پیڈیا آف ری لی جن کھول لیجئے،اس کے مطابق:”سیکولرزم ایک ایسا نظریہِ حیات ہے جو غیر مذہبی اور مذہب دشمن اصولوں کی وکالت کرتا ہے۔مختصر یہ کہ سیکولرزم ایک ایسا طریقہِ عمل ہے جس میں مذہبی حساسیت،فعالیت اور مسلمہ مذہبی قوانین اپنی سماجی وقعت کھو دیتے ہیں“۔
انسائیکلو پیڈیا آف تھیالوجی کو بھی دیکھتے جائیے:”سیکولرزم ایک ایسا طریقہِ عمل بھی سمجھا جا رہا ہے جس کے ذریعے انسانی زندگی کے مختلف عناصر جیسے آراء، رسوم و رواج،سماجی طرزِعمل حتی کہ اشیاءاور انسانوں پر بھی اس بات کی پابندی ہو کہ وہ اپنا تعین مذہب کے ذریعے نہ کریں“
لرنر ٹائپ کنسائز انگلش ڈکشنری کے مطابق سیکولرزم وہ نظریہ ہے ”جو مذہبی عقیدے کی ہر شکل اور مذہبی عبادت کی ہر قسم کی نفی کر دے“۔
اب اسلام کے سارے قوانین آپ نے ایک طرف رکھ چھوڑے۔اس کا نظامِ تعزیر،اس کا قانونِ شہادت،اس کا معاشی ضابطہ،اس کے فیملی لاز،سب آپ نے چھوڑ دیے۔عقیدے کی کسی بھی صورت کی آپ نے نفی کردی،اپنی رائے،اپنی ذت،اپنے طرزِعمل اور اپنی پوری حیاتِ اجتماعی پر آپ نے قدغن لگا دی کی یہ اپنا تعین مذہب کے حوالے سے نہیں کر سکتے،آپ نے مذہب دشمن اصولوں کی وکالت کرنے والا طرزِحیات اپنا لیا،آپ نے مذہبی حساسیت،مذہبی فعالیت اور مذہبی قوانین کو معمولی سی اہمیت دینے سے بھی انکار کر دیااور آپ نے مذہبی عقیدے کی ہر شکل اور مذہبی عبادت کی ہر قسم کی نفی کر دی۔۔۔۔اگر یہ سب دین کی نفی نہیں ہے تو کیا ہے۔یہ لادینیت نہیں تو اور کیا ہے؟
دین کے ساتھ یہ مذاق نہیں ہوسکتا کہ اسے محض انفرادی معاملہ قرار دیا جائے۔دین محض انفرادی معاملہ ہے بھی نہیں۔قرآن واضح طور پر یہ کہ چکا ہے کہ ©©” ادخلو فی السلم کافة“، یعنی پورے کے پورے دین میں داخل ہو جاﺅ۔اب یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنی اجتماعی زندگی سے اس کو نکال باہر کریں اور اسے ایک فرد کی ذاتی زندگی تک محدود کر دیں۔اسلام کے قوانین محض عبادات تک محدود نہیں۔یہ تعزیر سے معیشت تک پھیلے ہوئے ہیں۔حیاتِ اجتماعی کا کون سا ایسا پہلوہے جس کے بارے میں اسلام نے رہنمائی نہ کی ہو؟اب ہمیں خود سے ایک سوال پوچھ لینا چاہیے: کیا ہم مسلمان ہیں؟اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو ہمیں اسلام کے احکامات پر من و عن عمل کرنا چاہیے۔دوسری صورت میں صاف کہ دینا چاہیے کہ ہمیں اسلام سے کچھ لینا دینا نہیں۔دین سے بیزار لوگوں میں اتنی جرات تو ہونی چاہیے کہ وہ کھل کر بات کریں بجائے اس کے کہ وہ لادینیت کی ایک نئی تشریح پیش کرنا شروع کر دیں اور سیکولرزم کو خوش کن لبادہ اوڑھا کر قابل قبول بنانے کی کوشش کریں۔
ایک آدی مسلمان ہوتے ہوئے سیکولر نہیں ہوسکتا۔اور اگر کسی کا یہ دعوی ہے کہ وہ مسلمان بھی ہے اور سیکولر بھی تو اس کی دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔یا وہ خود دھوکے میں ہے یا وہ دوسروں کودھوکہ دے رہاہے۔اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ سیکولرزم مذہب کی نفی نہیں کرتا تو وہ خود دھوکے میں ہے۔اور اگر وہ ایک اسلامی معاشرے میں اپنے نظریات کو خوش کن تصورات میں لپیٹ کر پیش کر رہا ہے تا کہ انہیں قبولیت مل سکے تو وہ دوسروں کو دھوکہ دے رہا ہے۔
احباب کہیں سیکولرزم کو اہلِ مذہب کے ناقص تصورات کے ردِ عمل میں ایک ناگزیر برائی کے طور پر تو نہیں لے رہے؟اگر ایسا ہے تو انہیں جان لینا چاہیے وہ ایک خوفناک غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔مغرب نے جب کلیسا کے خلاف بغاوت کی تو یہ ایک قابلِ فہم بات تھی کیونکہ مذہب کی تعبیر کے جملہ حقوق بحق پوپ محفوظ تھے اور یہ تعبیر اتنی ناقص تھی کہ کسی صاحبِ فہم آدمی کےلئے اس پر صاد کرنا ناممکن تھا۔اہلِ مغرب کے پاس حقیقی دین تک پہنچنا ناممکن تھا اس لئے کلیسا کی ناقص تعبیر کے رد عمل میں وہ سیکولر ہو گئے۔ہمارا مذہبی طبقہ بھی آج اپنے مقام پرنہیں۔ہمیںبھی حق حاصل ہے کہ ہم اہلِ مذہب کے ناقص تصورات کے خلاف بغاوت کر دیں۔لیکن ہمیں سیکولر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ مغرب کے بر عکس ہمارے پاس اپنا مذہب قرآن و سنت کی صورت میں حقیقی شکل میں موجود ہے۔ہم ملائیت کو رد کریں گے تو سیکولر نہیں ہوں گے بلکہ قرآن و سنت سے رجوع کریں گے ۔اور یہی اعتدال کا راستہ ہے۔ہم مذہبی ملائیت سے بیزار ہو کر سیکولر ملائیت کی لعنت میں گرفتار کیوں ہوں؟ہم قرآن اور سنت سے رہنمائی کیوں نہ لیں۔۔۔۔۔۔نومولود سیکولر احباب اس سوال پر غور فرما سکیں تو عین نوازش ہو گی۔

2040ءمیں اسلام امریکہ و یورپ کا بڑا مذہب بن جائےگا

اسلام دنیا کے مختلف غیر مسلم ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور تمام تر منفی پروپیگنڈا کے باوجود لوگ اب بھی اپنی زندگی میں تمام مسائل کا حل اسلام میں تلاش کرتے نظر آرہے ہیں اسی لیے ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر مسلمانوں کی تعداد اسی طرح بڑھتی رہی تو 2040 ءتک اسلام امریکا کا دوسرا بڑا مذہب ہوگا۔
امریکی تھنک ٹینک پیو ریسرچ سینٹر کا کہنا ہے کہ اس وقت امریکا میں 33 لاکھ مسلمان بستے ہیں اور ان کی تعداد 2050ءتک د±گنی ہوجائے گی جب کہ مسلمانوں کی تعداد اسی طرح بڑھتی رہی تو ان کی تعداد یہودیوں سے بھی بڑھ جائے گی اور اسلام 2040 ءتک امریکا کا دوسرا بڑا مذہب بن جائے گا۔ اسی طرح ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ مسلم امریکن آبادی کا تناسب بھی ایک فیصد سے بڑھ کر د±گنا ہوجائے گا۔
تحقیق کے مطابق 2010ءسے 2015ءکے درمیان مسلمان آبادی میں نصف اضافہ تارکین وطن کی آمد کی وجہ سے ہے جب کہ مسلمانوں میں پیدائش کا تناسب بھی دیگر مذاہب کی آبادیوں سے زیادہ ہے۔ تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ کچھ شہروں میں مسلمانوں کی تعداد ایک فیصد سے بھی زیادہ ہے تاہم مسلمانوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ہندوستان میں مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق ہندوستان میں مسلمان نوجوانوں کی آبادی 47 فیصد، ہندو 40 فیصد جبکہ جین کمیونٹی 29 فیصد ہے۔ ملک میں 19 سال کی عمر کے سب سے زیادہ مسلمان نوجوان ہیں۔ہندوستان میں بسنے والے اگر تمام مذاہب کی آبادی کو ملایا جائے تو یہاں رہنے والی 41 فیصد آبادی بیس سال کی عمر سے کم لوگوں کی ہے۔ 60 سال کی عمر سے اوپر کے لوگوں کی تعداد صرف 9 فیصد بنتی ہے۔ بیس سے پچیس سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد آبادی کا 50 فیصد ہے۔مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق ہندوستان میں مختلف مذاہب کے بچوں کے تناسب میں کمی آئی ہے اور بزرگوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ غور طلب ہے کہ 2001ءکی مردم شماری کے مقابلے میں نوجوان آبادی میں کمی آئی ہے۔ 2001 ءمیں ہندوستان کی کل 45 فیصد آبادی میں نوجوان شامل تھے جن میں 44 فیصد ہندو، 52 فیصد مسلمان اور 35 فیصد جین تھے۔ ان اعدودوشمار سے پتا چلتا ہے کہ ملک میں آبادی بڑھنے کی شرح میں کمی آئی ہے۔ سب سے زیادہ گرواٹ ہندو، عیسائی اور بدھ مت مذہب میں آئی ہے۔ اس کے بعد سکھوں اور جینوں میں یہ گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمان بزرگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ مسلمانوں میں 60 یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد آبادی کا صرف چھ اعشاریہ چار فیصد ہے جو قومی اوسط سے کم ہے۔ 2001ءمیں ان کی تعداد پانچ اعشاریہ آٹھ تھی۔ جین اور سکھ مذہب کے بزرگوں کی آبادی 12 فیصد ہے جو قومی اوسط سے 30 فیصد زیادہ ہے۔واشنگٹن کے پیو ریسرچ سینٹر کا کہنا ہے کہ اگلی چار دہائیوں میں عیسائی مذہب سب سے بڑا مذہبی گروہ بنا رہے گا لیکن کسی بھی مذہب کے مقابلے میں اسلام تیزی سے پھلے گا۔ اس وقت دنیا میں عیسائیت سب سے بڑا مذہب ، اس کے بعد مسلمان اور تیسری بڑی آبادی ایسے لوگوں کی ہے جو کسی مذہب کو نہیں مانتے۔اگلے چار عشروں میں دنیا کی آبادی 9 ارب تیس کروڑ تک پہنچ جائے گی اور مسلمانوں کی آبادی میں 73 فیصد کا اضافہ ہو گا۔اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو 2070ءتک اسلام سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔ جب کہ عیسائیوں کی آبادی 35 فیصد بڑھے گی اور ہندوو¿ں کی تعداد میں 34 فیصد اضافہ ہو گا۔اس وقت مسلمانوں میں بچے پیدا کرنے کی شرح سب سے زیادہ ہے یعنی اوسطاً ہر خاتون 3عشاریہ ایک بچوں کو جنم دے رہی ہے۔ عیسائیوں میں ہر خاتون اوسطاً 2عشاریہ 7 بچوں کو جنم دے رہی ہے اور ہندوو¿ں میں بچے پیدا کرنے کی اوسط شرح 2 عشاریہ چار ہے۔آنے والے عشروں میں عیسائی مذہب کو سب سے زیادہ نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔چار کروڑ افراد عیسائی مذہب اپنا لیں گے وہیں دس کروڑ 60 لاکھ لوگ اس مذہب کو چھوڑ دیں گے۔ اسی طرح ایک کروڑ 12 لاکھ لوگ اسلام کو اپنائیں گے وہیں تقریباً 92 لاکھ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائیں گے۔2010ءمیں پوری دنیا کی 27 فیصد آبادی 15 سال سے کم عمر کی تھی، وہیں 34 فیصد مسلمان آبادی 15 سال سے کم کی تھی اور ہندوو¿ں میں یہ آبادی 30 فیصد تھی۔ اسے ایک بڑی وجہ سمجھا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی دنیا کی آبادی کے مقابلے زیادہ تیز رفتار سے بڑھے گی اور ہندو اور عیسائی اسی رفتار سے بڑھیں گے جس رفتار سے دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے۔
اس وقت دنیا کی آبادی 7 ارب کے قریب پہنچ چکی ہے ،جس میں سے ایک ارب 60 کروڑ سے زائد آبادی مسلمانوں کی ہے۔ عالمی سطح پر اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے جب کہ دنیا کا ہر چوتھا فرد مسلمان ہے۔ دنیا کی آبادی کا25 فیصدحصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے جس میں آئندہ 20 برس میں 35 فیصد اضافہ ہو جائیگا اور 2030 ءتک مسلمانوں کی آبادی 2 ارب 20 کروڑ سے تجاوز کر جائیگی۔اس وقت دنیا کے 200 سے زائد ممالک میں سے 55 کے لگ بھگ ممالک مسلمان ہیں جب کہ دنیا کے 55 سے زائد ممالک میں اکثر مسلمان اقلیت کے طور پر رہتے ہیں۔ دنیا کے باقی ممالک میں مسلمانوں کو کم اقلیت میں شمار کیا جا تا ہے ،تاہم مختلف عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہور ہا ہے۔آئندہ 20 سال میں اسلام یورپ کا سب سے بڑا مذہب ہوگا اور مساجد کی تعداد گرجا گھروں سے تجاوز کرجائے گی۔

قومی تحفظ بذریعہ نےشنل اےکشن پلان

پاکستان مےں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی خاتمے کے لئے ملکی تاررخ میں پہلی بار دلجمعی سے آپریشن ہوا اور اس کے دور رس نتائج قوم کے سامنے آئے ملک سے لاقانونےت کا خاتمہ ہوا ساتھ ساتھ ان لوگوں کے خلاف گےرا تنگ ہوا جنھوں نے دہشت گردی لاقانونےت کو بڑھنے کا موقع فراہم کےا اور بعد ازاں اےسے اےسے نام سامنے آئے جن کا ظاہر اور باطن اور تھا اور وہ لوگ جو ہم پر حکمرانی بھی کرتے رہے ہےں اور اندر ہی اندر وہ ملک کو کھوکھلا کرنے مےں بھی مصروف عمل رہے ہےں اےسے لوگوں نے اپنے آپ کو اتنا امپاور کےا ہواہے کہ جب ان پر ہاتھ پڑا تو ملک کے کئی نامور لوگ ان کی پشت کے پےچھے کھڑے نظر آئے اگر ملکی اداروں کو آزادنہ تحقےقات کرنے کا موقع فراہم کےا جائے تو اےسے اےسے نام سامنے آئےں گے جنھےںعوام امن و اتشی کا مجسم سمجھتے ہےں ۔نیشنل ایکشن پلان کے بارے میں تمام جماعتوں کا اتفاق تھا اور سب کا ےہ واضح موقف تھا کہ اگر کسی بھی جگہ پر ان کی جماعت کا کوئی بھی کارکن ملک دشمن سر گرمےوں مےں ملوث ہوا تو اس کے خلاف بلا امتےاز کاروائی کی جائے تو انھےں کوئی اعتراض نہےں ہو گا اب جبکہ اس نیشنل ایکشن پلان کی وجہ سے بہت سے معاملات کافی حد تک بہتر ہو رہے ہےں اور دہشت گردی مےں بہت حد تک کمی آئی ہے اور بہت سے لوگ سلاخوں کے پےچھے جا چکے ہےں اےسے مےں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماءنیشنل ایکشن پلان کو غلط رخ دےنے کی کوشش مےںہےں ان کے بقول یہ وہ نیشنل ایکشن پلان نہیں جس پر سب متفق تھے یہ تو ن لیگ کا ایکشن پلان ہے یہ سراسر سیاسی انتقام ہے ۔ لےکن جو وہ کہہ رہے ہےں عوام اس کی تائےد کھبی نہےں کرےں گے کےونکہ انھوں نے اپنے دور حکومت مےں کےا کچھ کےا اس کا ادراک عوام کو خوب ہے سچ تو یہی ہے کہ کراچی کے ڈھائی کروڑ عوام نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت آپریشن پر سکھ کا سانس لیا ہے اب اس شہر میں بڑی حد تک امن وامان قائم ہو چکا ہے تاجر برادری اور کاروباری حلقے بے حد مطمئن ہیں ٹارگٹ کلنگ بھتہ خوری اور اغواءبرائے تاوان کی وارداتوں کا قلع قمع ہوچکا ہے دہشتگردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی گئی ہے جبکہ بچے کچے دہشتگردوں اور ان کی مالی امانت کرنے والوں کے خلاف رینجرز کی کارروائی جاری ہے کراچی آپریشن کی کامیابیوں پر سندھ بالخصوص کراچی کے عوام خوشی سے پھولے نہیں سما رہے وزیراعلیٰ سندھ نے بھی اپنے متعدد بیانات میں کہا ہے کہ کراچی آپریشن بہت کامیاب رہا ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف موثر کارروائیاں کی گئیں ہیں۔سوال ےہ ہے کہ وہ کون سے عوام ہیں جو نیشنل ایکشن پلان کو صوبوں کے خلاف سازش سمجھ رہے ہیں تحریک انصاف؟ مسلم لےگ ن ؟ اےم کےو اےم ؟ ےا کوئی اور کوئی بھی تو نہےں بلکہ تمام جماعتوں نیشنل ایکشن پلان کی حمایت کی ہے اور کراچی آپریشن کی کامیابیوں کو سراہا ہے جس ایکشن پلان پر سب متفق تھے یہ اسی پر عمل ہو رہا ہے اس میں یہ واضح ہے کہ دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی دہشتگردی ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی ان کی مالی مدد کرنے والے بھی اسی ایکٹ میں آتے ہیں ۔جب تک ڈاکٹر عاصم کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی تھی اس وقت تک سب کچھ ٹھیک تھا جوں ہی ان کے خلاف کارروائی شروع کی گئی نیشنل ایکشن پلان اور رینجرز کی کارروائیوں میں کیڑے نظر آنے لگے انکے ذاتی ہسپتال میں ٹارگٹ کلرز اور دہشتگردوں کا علاج کیا جاتا رہا اور قانون کی نظروں سے پوشیدہ رہنے میں ان کی مدد کی گئی یہی نہیں ڈاکٹر عاصم کے خلاف کرپشن کے بہت سے معاملات بھی سامنے آئے محض ایک فرد کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے پوری سندھ حکومت حرکت میں آگئی اگر رینجرز نے کوئی اقدام اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا ہے تو سندھ حکومت یا ڈاکٹر عاصم جن کے لواحقین کے پاس اعلیٰ عدلیہ میں جانے کا آپشن موجود ہے لیکن عدلیہ کے پاس جانے کے بجائے میڈیا کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں وزیراطلاعات پرویز رشید نے بجا طورپر سوال اٹھایا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اپنے دور میں نیشنل ایکشن پلان کیوں نہیں بنایا اور دہشتگردوں کے خلاف کیوں آپریشن نہیں کیا دانشمندی اور ملکی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے سلسلے میں سندھ حکومت رینجرز سمیت دیگر اداروں سے پہلے کی طرح اپنا تعاون جاری رکھے۔تاکہ ملک مےں جاری دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور مسلح افواج کی بے پناہ قربانےوں کی وجہ سے جو آپرےشن جاری ہے اس کو کامےاب و کامران بناےا جا سکے اور سےاسی لوگ جو پہلے ہی عوام کی نظروں مےں بدنام ہےں وہ اس نیشنل ایکشن پلان اور اس کے نتےجے مےں ہونے والے آپرےشن کو اپنے مقاصد کی تکمےل سے روک کر ےہ ثابت کر رہے ہےں کہ وہ صرف ااپنے لئے جےتے ہےں ملک و ملت کی ان کی نظر مےں کوئی اوقات نہےں ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت تمام تر دباﺅ کے باوجود اس مشن کو جاری رکھے جو ملک کے وسےع تر مفاد مےں ہے اور جس سے پاکستان کی بقاءاور سلامتی مشروط ہے خدانخواستہ اگر اس موقع پر اس آپرےشن کو نامکمل چھوڑ دےا گےا تو ےہ اےک اےسا ناسور بن جائے گا جس کا علاج شاےد پھر کھبی نہ ہو سکے ۔ کےونکہ قومی تحفظ بذرےعہ نےشنل اےکشن پلان سے ہی ممکن ہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن وقت اورملکی وسائل کے ضےاع کے سواءکچھ بھی نہےں ہے ۔

رینجرز آپریشن ۔۔۔حکومت سندھ خفہ لیکن شہری خوش

کراچی کو اگر پاکستان کا دل کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، یہ پاکستان کا وہ شہر ہے جہاں آپ کو بیک وقت اردوبولنے والے، پنجابی ، سندھی ، پٹھان ، بلوچی کشمیری، گلگتی، بلتی ہر ایک نظر آئے گا اور شہر کی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ بھی لے رہا ہوگا یہ اس شہرکا خاصہ ہے اور اس پر اللہ کی رحمت ہے کہ یہ دینے والا ہاتھ ہے۔ یہاں ہر ایک کو اپنا روز گار میّسر ہے اور سب کے رزق کا بھی اللہ نے یہاں بندوبست کیا ہوا ہے ۔ اس شہر کی اسی فراخدلی کا مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں نے خوب فائدہ بھی اٹھایا اور یہاں اپنے ناپاک ارادوں کو عملی جامہ بھی پہنایا، ان میں اندرونی اور بیرونی ہر طرح کے مجرم شامل ہیں۔ کراچی روشنیوں کے شہر سے مجرموں ، ڈاکوﺅں ، بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرز سٹریٹ جرائم میں ملوث لوگوں اور قاتلوں کا شہر بن گیا،گلیاں، سڑکیں، گھر، بازار ،سکول اور مساجد سب کچھ غیر محفوظ ہوگئے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہوتا رہا اور ہونے دیا جاتا رہا، سیاسی جماعتیں اپنا کھیل کھیلتی رہیں، اپنے اقتدار کے لیے سر گرداں رہیں، اپنے مسلح گروہ ترتیب دیتی رہیں اورمفادات کی جنگ چلتی رہی۔ زبان، نسل ، علاقہ، صو بہ سب کچھ اہم رہا غیر اہم تھا تو پاکستان حالانکہ بظاہر سب حب الوطنی کا دعویٰ بھی کرتے رہے۔ ایسے میںحکومتوں نے بھی وہ کردار ادا نہیں کیا جو کرنا چاہیے تھااگر چہ چھوٹے موٹے آپریشن بھی ہوتے رہے اور دوبارتو بڑے آپریشن بھی ہوئے، ناسور کا وقتی علاج بھی ہوتا رہا معاملہ کچھ دن تو دب جاتا تھا پھر حالات وہی پرآجاتے تھے۔ 1992ءسے 1994ءپھر 1996ءمختلف ادوار میں یہ آپریشن چلتے رہے لیکن ان کے اختتام پر کچھ عرصے کے سکون کے بعد پھر وہی نا معلوم افراد دوبارہ زندہ ہو جاتے تھے اور ٹارگٹ کلنگ شروع ہو جاتی تھی بھتہ پھر زور و شور سے وصول کرنا شروع ہو جاتا تھا۔ حالات میںآئی تبدیلی واپس بلکہ یہ پہلے سے بڑھ کر خراب ہو جاتے تھے۔
میں یہ نہیں کہتی کہ نیتوں میں کوئی فرق تھا نیت اس مسئلے کو ختم کرنے کی ہی تھی لیکن شاید بہت جلدی یہ سمجھ لیا جاتا تھا کہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ اس بار رینجرز نے کراچی میں انتہائی خراب حالات میں آپریشن شروع کیا۔ لیاری پرامن تو زمانہ دراز سے نہیں تھا لیکن اب تو باقاعدہ میدان جنگ بن چکا تھا،کراچی کے ہر علاقے میں چار چھ لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ تو کوئی بات نہیں تھی اور یوں پورے کراچی میں دس، پندرہ، بیس انسانوں کا مار دینا معمول کی بات تھی اور اس میں کسی طبقہ ءزندگی کی تخصیص نہیں تھی۔ ایسے میں اس آپریشن نے کراچی کے شہریوں کے لیے امید اور امن کے راستے کھولے اور وہ اپنے شہر میں کسی حد تک سہی بے خطر گھومنے پھرنے لگے لیکن ظاہر ہے یہ صورت حال ان لوگوں کے حق میں بالکل نہیں ہے جو کراچی میں موت اور خوف کا کھیل کھیل رہے تھے لہٰذا رینجرز کے اس آپریشن کی مخالفت میں بھی آواز اٹھتی رہی حالانکہ ہر ایک نے اس بات کا اقرار بھی کیا کہ کراچی میں نہ صرف قتل و غارت گری میں کمی آئی ہے بلکہ بھتہ خوری ، موبائل چھیننے، گلیوں میں دندناتے پھرتے ڈاکہ زنوں میں بھی کمی آئی ہے ۔ اگر ایسا ہے تو رینجرز کے اختیارات کی توسیع میں اتنی رد وکد کیوں کی گئی۔ پچھلے آٹھ سالوں میں اندازََا پندرہ ہزار شہری قتل کیے گئے ایسے میںسب کو رینجرز کے آپریشن کی کامیابی پر خوش ہونا چاہیے تھا تاکہ لوگ آزادی سے اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکیں اور حکومت اپنے وسائل استعمال کرکے عوام کی بہتری اور فلاح و بہبود کے کام کر سکے لیکن ہوا ایسا نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبائی حکومت رینجرز کو اختیار دینے اور نہ دینے کے معاملے کو جگ ہنسائی کا ذریعہ بنانے کی کوشش نہ کرے اور اس بات کو سمجھ لے کہ اگر اِس آپریشن کو بھی اور آپریشنوں کی طرح بیج میں چھوڑ دیا گیا تو کوئی بعید نہیں کہ تمام جرائم اور جرائم پیشہ افراد دوبارہ سراٹھا لیں اور کراچی جس کا امن بڑی مشکل سے بہتر کیا گیا ہے دوبارہ قتل بھتہ خوری اور چوری چکاری کا گڑھ نہ بن جائے۔ حکومت سندھ کو اِن تمام حقا ئق کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے اگر چہ اس وقت تو وفاقی حکومت نے ا پنے اختیارات استعمال کر کے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی ہے تاہم یہی کام حکو مت سندھ کو کرنا چاہیے تاکہ کراچی کے لوگ یہ محسوس کر سکیں کہ اُن کی اپنی حکومت بھی اُن کے بارے میں سوچتی ہے اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اس کا معاشی مرکز ہے تجارتی سرگرمیوں کی اہمیت بھی کچھ کم نہیں ۔اِن تمام حقائق کے باوجود اس کے امن کو سیاست اور مفادات کی نظر کر دینا قومی جرم سے کم نہیں۔ وفاقی حکومت کا اپنے اختیارات کا استعمال تو یقینا قابل تحسین ہے لیکن حکومت سندھ کو بھی مکمل ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ ہم روشنیوں کے اس شہر کی رونقیں پھر سے بحال کر سکیں۔

فنکار لوگ

معشوقِ ما بہ شیوہ ہر کس موافق است
باما شراب خورد و بہ زاہد نماز کرد
(ترجمہ: میرے محبوب کی عادتیں بھی ہر کس و ناکس سے موافقت رکھتی ہیں۔ ادھر وہ میرے ساتھ بیٹھ کر شراب پی لیتا ہے اور ادھر زاہد کے ساتھ نماز بھی پڑھ لیتا ہے۔)گماں ہوتا ہے کہ یہ شعر ہمارے سیاستدانوں کی غایت ہی لکھا گیا تھا۔ کس قدر صادق آتا ہے یہ شعر ہمارے بیشتر سیاستدانوں کے اعمال و خصائل پر۔ اس خصلت کے حامل ایسے شعبدہ باز ہیں کہ ان آنکھوں میں دھول جھونک کر مفاد حاصل کرنے کی مہارتِ تامہ دیکھ کر عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف میں نو کا آکڑہ ہے۔ مسلم لیگ ن مشرق میںہوتی ہے تو تحریک انصاف مغرب میں۔ پشاور حملے جیسے چند ایک واقعات کے سوا کبھی ان دونوں جماعتوں میں کسی معاملے پر اتفاق نہیں ہو پایا۔ ان چند واقعات پر ان کا ایک ہونا بھی مجبوری تھی کہ ان واقعات پر پورا پاکستان یکسو ہو گیا تھا اور کسی سیاسی پارٹی کا الگ موقف اختیار کرنا اس کی سیاسی موت پر موقوف ہوتا۔ دونوں جماعتوں کی اس قدر مخاصمت کے باوجود یہ ذاتی مفاد کے پجاری سیاستدان کس چالاکی اور ڈھٹائی بلکہ بے حسی سے دونوں طرف بیٹھے نظر آتے ہیں اور ہر طرف سے فیوض و برکات سمیٹ رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی۔ وہ جو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کو رگیدتے نہیں تھکتے تھے انہوں نے اس آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ ن کو وہ ”میٹھی مار“ دی کہ ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔یہ وہ بڑے فنکار ہیں جو ایک ہی وقت میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومتوں سے مفاد حاصل کر رہے ہیں۔ ان کی تعداد بہت مختصر ہے ۔ مگر ایسے لوگ جو ہر دور حکومت میں برسراقتدار جماعت کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ان کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ موجودہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں ایسے لوگوں کی بہتات ہے جو پرویزمشرف ساختہ ق لیگی حکومت میں اعلیٰ مراتب پر فائز رہے۔ اس وقت انہوں نے میاں نواز شریف اور ان کی 98ءکی حکومت پر جو تیراندازی اور دشنام طرازی کی اس کی ویڈیوز جب آج ان کے سامنے لائی جاتی ہیں تو شرمندہ تک نہیں ہوتے، کہ شرم تو ان کو چھو کر بھی نہیں گزری۔ الٹا اپنے ان کھلے بیانات کی انتہائی بھونڈے انداز میں تردید کرتے پائے جاتے ہیں گویا سننے والے احمق ہیں اور انہیں ویڈیو میں کھلے لفظوں میں ان کی میاں نواز شریف کو سنائی گئی صلواتیں سمجھ نہیں آتیں۔ اس وقت میاں نواز شریف کو کرپٹ تر اور نااہل ترین لیڈر گرداننے والے آج انہیں پاکستان کا سب سے بڑا ایماندار اور اہل ترین لیڈر منوانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اکثر سوچتا ہوں کہ ان کے کون سے بیانات کا یقین کروں، وہ جو انہوں نے ماضی میں دیئے یا جو اب دے رہے ہیں؟ مگر پھر خیال آتا ہے کہ ان کے ہر دو بیانات جھوٹ کا پلندہ ہیں کہ جھوٹے شخص سے سچ کی امید ہی عبث ہے۔ یہ صرف اپنے مفاد کے بندے ہیں، اس وقت پرویز مشرف کی تحسین اور ان کے دشمنوں کی تحقیر ہی باعث اجر و ثواب تھی، سو یہ کرتے تھے۔ آج میاں نواز شریف کی تحسین اوربشمول پرویز مشرف ان کے مخالفین کی تحقیر مفاد پرستی کا عین تقاضا ہے، پس یہ وہی کر رہے ہیں۔
یہ رویہ صرف سیاستدانوں ہی پر موقوف نہیں۔ ملک کے عوام بھی کچھ اسی نوع سے تعلق رکھتے ہیں۔ ملک میں حکومت کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں ، سکرین پرنٹنگ والوں اور پینٹرز کا کاروبار خوب بڑھتا ہے، کیونکہ حکومت کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں گاڑیوں کی نمبرپلیٹوں کے رنگ اور نشان بھی تبدیل ہوتے ہیں، گاڑی کی پچھلی سکرین پر سائیکل کی جگہ تیر اور پھر تیر کی جگہ شیر لے لیتا ہے۔ ق لیگ کی جگہ پی پی پی اور پھر پی پی پی کی جگہ پی ایم ایل این کے الفاظ لے لیتے ہیں۔ اس سے جہاں گاڑی کے مالک کی لوگوں پر ”دھاک“ بیٹھتی ہے وہیں ٹریفک پولیس سے بھی کچھ رورعایت مل جاتی ہے۔ حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ایک بار پانچ سو روپیہ لگا کے نمبرپلیٹ تبدیل کرو اور جب تک حکومت ہے سڑکوں پر من مانی کرو اور اس پر مستزاد یہ کہ ساتھ ساتھ ”تبدیلی“ کے نعرے بھی لگاتے جاﺅ اور ان ”باریاں“ لینے والے سیاستدانوں کا رونا بھی روتے جاﺅ۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے گا کہ جوتے کس کو پڑنے چاہئیں، دو چہروں والے سیاستدانوں کو یا کئی چہروں والے عوام کو؟آپ نے بھی دیکھ رکھا ہو گا کہ سڑک پر جیسے ہی ٹریفک پولیس کا اہلکار انہیں روکتا ہے، ان کا ہاتھ جھٹ سے جیب میں جاتا ہے اور ایک کارڈ برآمد ہوتا ہے، کسی سیاسی شخصیت کا دستخط شدہ وزٹنگ کارڈ، اکثر فون پر اہلکاروں کی کسی شخصیت سے بات کرواتے نظر آتے ہیں۔اگر چاہتے ہو کہ تم پر حکمران اچھے آئیں تو خود اچھے کیوں نہیں ہوتے؟ اگر تم نے کسی ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اپنا چالان کیوں نہیں کرواتے؟ اور اگر تم نے کوئی غلطی نہیں کی تو ڈر کاہے کا؟آپ کے بس یہی تک چلتا ہے، آپ اتنی ہی کرپشن کر سکتے ہیں۔ حکمران کا بس بہت دور تک چلتا ہے، وہ اسی حساب سے کرپشن کر رہے ہیں۔ آپ میں اور ان میں فرق؟ خود کو اس سوال کا جواب دیجیے اور مطمئن ہو کر بیٹھ رہیے۔

ہندوستان اور پڑوسی ممالک(حصہ دوم)

بھارت چاہتا ہے نیپال کی طرح مالدیپ اپنا control airspace بھی انڈیا کے حوالے کردے جس میں ٹریفک کنٹرول اورservices naviganal بھی شامل ہیں انڈیا چاہتا ہے کہ یہ تمام خدمات اس خطے میں انڈیا ہی فراہم کرے دوسرےلفظوں انڈیا آپ کے سروں پر superiority air چاہتا ہے اس کے علاوہ انڈیا وہاں اپنا ایک نیول بیس بھی بنانا چاہتا ہے بلکہ چاہتا ہے کہ ان تمام مطالبات کو مالدیپ کی مجلس (parliament ) سے قانونی اور آئینی تحفظ بھی دلایا جائے یوں انڈیا کا مالدیپ کے وسائل لوٹنا قانونی قرار پائے بارہا خیر سگالی کے نام پر بن بلائے ہندوستانی بحریہ کے جہاز مالے میں جا لنگر انداز ہوئے اس پر مالدیپ کی جانب سے باقائدہ احتجاج ہوا اور ایسا متعدد مرتبہ کیا گیا مالدیپ میں سیاسی opposition کو خریدنے کی کو شش کی گئی ناکامی کی صورت ایک زیادہ مرتبہ انڈین نیوی ان ہندوستانی مجرموں کو تلاش کرنے مالدیپ جا دھمکی جن کا کوئی وجود ہی نہیں تھا اور مالے حکومت سے اصرار کہ ہمارے مجرم ہمیں واپس کئے جائیں ان سے کہا گیا کہ پہلے آپ ان کا ہمارے یہاں داخلہ تو ثابت کریں وہ کب آپ کے ہاں سے نکلے جب کہ انڈیا اور مالے درمیان جہازرانی نہ ہونے کے برابر ہے کوئی ثبوت تو پیش کریں اس وقت پاکستانی نیوی جو علاقے میں گشت پر تھی مالدیپ کی مدد کو آئی اور یوں یہ مشکل وقتی طور پر ٹل گئی اپنے مجرموں کے مالدیپ میں داخل ہونے کے ثبوت مانگنے کے جواب میں اجمل قصاب کی نوعیت کی زبانی باتیں کر دی گئیں کہ اگر ہم یعنی انڈیا کہ رہا ہے اس کو سچ مانا جائے ہماری زبان کو ہی ثبوت مانا جائے یاد رہے اجمل قصاب نام کا کردار انڈیا کی ذہنی اختراع تھی انڈیا کبھی کسی آزاد ذریعہ سے اس کی تصدیق نہیں کراسکا یا آزاد میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا اور نہ اسکی اپنی کوئی وڈیو پیش کی گئی گھٹیا سیاست کے نام پر شاید کسی معصوم کی بلی چڑھا دی گئی انڈیا کی نظر وہاں موجود معدنی اور زیر زمین اور زیر آب ذخائر پر ہے اور انڈیا پوری کوشش میں ہے کہ کسی طرح وہاں اس کو کوئی سیاسی ہمنوا مل جائے جس کو استعمال کرکے مالدیپ میں سیاسی ہلچل پیدا کی جا سکے اور وہاں داخل ہوا جا سکے جس میں انڈیا آج تک ناکام رہا ہے ابھی حال ہی میں ہندوستانی وزیر خارجہ محترمہ سشما سوراج مالدیپ جا پہنچیں جس سرد مہری سے ان کا استقبال کیا گیا وہ انڈیا کے لئے نہایت شرم اور ذلت کی بات ہے اسی اثنائ میں مالدیپ کے صدر نے اقوام متحدہ سے باقائدہ شکایت بھی کی ریکارڈ پرہے کہ انڈیا ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے مالدیپ کو آسان قرضے اور انفراسٹرکچر کی ترقی کی پیشکش کی گئی جس سے مالدیپ کی جانب سے معذرت کر لی گئی لیکن انڈیا کی جانب سے کوششیں جاری ہیں تو ہمیں وہ میراثی یاد آ گیا جو اپنے رشتے کے لئے گاﺅں کے چوہدری کے گھر جا پہنچا اور چوہدری سے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگ لیا اس کے ساتھ جو ہونا تھا ہوا خوب مار کھانے کے بعد جاتے ہوئے چوہدری سے پھر پوچھنے لگا کہ چوہدری صاحب تہاڈے ولوں فیر ناں ای سمجھاں۔آئیے اب نیپال چلتے ہیں نیپال کو انڈیا نے اس کی جغرافیائی مجبوریوں کے باعث بڑی بری طرح جکڑ رکھا ہے ایک عرصے سے نیپالی ایراسپیس انڈین سول ایوی ایشن اتھارٹی کے براہ راست کنٹرول میں ہے PIA کی نیپال میں تباہ ہونے والی پرواز کے شواہد اسی جانب اشارہ کرتے ہیں 1947 کے بعد سے نیپال عملی طور پر انڈیا کے اقتصادی نرغے میں ہے نیپال چونکہ locked land ملک ہے جو درآمدات کے لئے مکمل طور پر انڈیا پر انحصار رکھتا ہے نیپال کو کوئی ایسی چیز باہر سے درآمد کرنے کی اجازت نہیں جو انڈیا میں دستیاب ہے یعنی تقریبا صفر اور انڈین مصنوعات کی قیمتیں بھی نیپال کو وہی دینی پڑیں گی جو ہندوستانی حکومت مقرر کرے گی یعنی پائے ماندن نہ جائے رفتن حالانکہ وہ دنیا بھر میں اکلوتی ہندو ریاست ہے جس کے آئین میں یہ بات لکھی ہوئی ہے جبکہ انڈیا خود کو مذہبی ریاست ہونے کے باوجود دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے خود کو سیکولر کہتا ہے انڈیا کی پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کو اس بات کی کھلی اجازت ہے کہ وہ نیپال کے اندر کہیں بھی گرفتاری سمیت کوئی بھی کار روائی کر سکتی ہیں جس کے لئے نیپالی اتھارٹیز کو اطلاع یا اجازت کی ضرورت نہیں جبکہ نیپالی ایجنسیوں کو انڈیا میں داخلے تک کی اجازت نہیں اجمل قصاب نامی شخص کو بھی نیپال سے ہی اٹھایا گیا تھا جس کا مقدمہ تاحال نیپالی سپریم کورٹ کے ریکارڈ پر ہے حال ہی میں نیپال میں نیا آئین تشکیل دیا ہے جس میں انڈیا کی مرضی کے نکات شامل نہ کرنے پر انڈیا سیخ پا ہے اور نیپال کے خلاف شدید پابندیاں لگائے بیٹھا ہے جو عملا نیپال میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد سے نافذ ہیں انڈیا نے نیپال کی تمام سپلائیز جن میں ایندھن دوائیاں خوراک آلات اور زندگی کی باقی ضروریات کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے جس کی پاداش میں برطانوی حکومت کی جانب سے دی جانے والی امداد ختم کردی گئی ہے جو انڈیا 1947ءسے برطانیہ سے حاصل کر رہا تھا (…. جاری ہے)

آصفہ بھٹوکی بلیاں اور بھوک سے بلکتے سسکتے مرتے بچے ؟

جب گزشتہ دِنوں مُلک کے سابق صدر اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے موجودہ صدرآصف علی زرداری کی صاحبزادی آصفہ زرداری بھٹو کی بلیوں کو بلاول ہا و¿س لاہور کا موسم راس نہیںآیا اور وہ بیمار پڑگئیں تو اِنہیں فوراََ چیک اَپ کے لئے جانوروں کے ماہر اور اسپیشلٹ ڈاکٹر کے پاس بھجوادیاگیا اور بلیوں کی دیکھ بھال کے لئے بھی تُرنت تربیت یافتہ عملہ تعینات کردیاگیا تاکہ آصفہ کی یہ بیمار بلیاں جلد ٹھیک ہوجائیںاور آصفہ خوش ہوجائیں۔
جیسے ہی آصفہ کی بلیوںکی بیماری کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پاکستان سمیت دنیا بھر میں پھیلی ہوگی تو یقینا آصفہ کی بیمار بلیوں کے لئے لاہور سے لے کر کراچی سمیت مُلک کے جن شہروں اور دنیا میں جہاں کہیں بھی بلاول ہاو¿س قائم ہیں وہاں آصفہ کی پیاری پیاری معصوم اور قیمتی بیمار بلیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دُعاو¿ں اور وظائف کے ورد شروع ہوگئے ہوں گے اور ایسے میں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کی اعلیٰ و ادنیٰ قیادت اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اِن کے جیالے حرکت میںآگئے ہو ں گے اِن کا تو بس نہیں چل رہاہوگا کہ یہ کب اُڑ کر بلاول ہاوس لاہور پہنچ جائیں اور آصفہ زرداری بھٹوکی بیمار بلیوں کی خدمت اور تیماداری کے لئے اپنی خدمات پیش کردیں ایک اندازہ ہے کہ ایسا کرنے کے لئے ہزاروں جیالے بیتاب ہوگئے ہوں گے و ہ تو بڑااچھاہواکہ لاہور کے جانوروں کے ماہر ڈاکٹر حضرات کی فوری خدمات بلیوں کو حاصل ہوگئیں اور آصفہ کی بلیوں کی طبیعت سنبھال گئی ورنہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز اور اِ س کی ہم خیال جماعتیں اِس پر بھی اپنی سیاست چمکاتیںکہ آصفہ کی بلیوں کی بیماری کی پیچھے بھی ن لیگ کی کوئی سازش ہوسکتی ہے یکدم اِسی طرح جیسے آج سندھ میں نیب اور رینجرز کے ہاتھوںبے لگام کرپشن اور کرپٹ عناصر کو بے نقاب کرنے پر پی پی پی یہ کہتی پھررہی ہے کہ اِس سارے عمل کے پسِ پردرہ ن لیگ اور وفاقی حکومت کی سازش کارفرماہے ہم اِس کا ہر طریقے سے مقابلہ کریںگے یہ انتقامی سیاست ہے جو جمہوریت کو ڈی ریل کردے گی ۔بہر کیف ، مگر یہاں یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ جب تھر میں غذائی قلت اور صحت کی سہولیات اور صاف وشفاف پینے کا پانی نہ ہونے اور کئی سالوں سے دیگر وبائی امراض پھیلنے کی وجہ سے بلکتے سسکتے بچوں کی اموات میںاضافہ ہو اور کراچی کی اہم اور انتہائی مصروف ترین شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر غیر اخلاقی اور غیر قانونی پروٹوکول کی وجہ سے لیاری کی بسمہ جیسی کوئی معصوم بچی کی موت ہوجائے توتب زبان کی نوک سے سوائے رسمی طور پر ہلکے پھلے افسوس اور ہمدردی کے دو جملوں کے نہ تو پاکستان پیپلز پارٹی پالیمنٹرئنز کے صدرآصف علی زرداری ، چیئرمین بلاول زرداری بھٹو اور سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ سمیت سندھ حکومت اور اِس کی انتظامیہ میں سے کسی بھی فرد کے کان پر جوںبھی نہ رینگیں اور اِس پر اُلٹا یہ سب سُکھ اور چین کی بانسری بجاتے رہیں اور اپنے اپنے معاملاتِ زندگی یوں ہی پروٹوکول پہ پروٹوکول کے ساتھ چلاتے رہیں کہ جیسے کچھ ہواہی نہیں ہے کیونکہ مرنا تو غریب اور اِس کے بچوں کا مقدر ہے یہ پیداہی مرنے کے لئے ہوئے ہیں، ہمارے نزدیک تو اِن کی اہمیت حشرات الارض جیسی ہے مگر ہم چونکہ اِنسان ہیں اِس لئے محفوظ اور لمبی زندگی کا حصول اوراِس کے مزے لے کر جینے کا حق تو ہمیں ہے اور ہمارے بچوں بلاول، بختاور، آصفہ زرداری بھٹواور اِن کی بلیوں کو ہی ہے یعنی کہ آج اگرتھر کے بچے قحط اور صحت کی سہولیات اور پینے کے پانی کی عدم فراہمی اور کوئی بسمہ ہمارے بلاو ل کے پروٹوکول کی وجہ سے مریں تو اِس سے اِنہیں کوئی سروکار نہیں ہے مگر اِن کے نزدیک تو بس بلاول ، بختاور، آصفہ زرداری بھٹواور اِن کی بلیوں کی حفاظت کرنا غریب پاکستانیوں اور ماہوار تنخواہ لینے والے سیکیورٹی پر معمور سرکاری اور نجی اہلکاروں کا قومی فریضہ ہے آج جب حکمرانوں، سیاستدانوں اور مُلک پر قابض اقتدار کے پجاریوں ( پی پی پی ، ن لیگ اور دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے سربراہان اور قیادت )کی ایسی سوچ اور ایسے خیالات ہوجائیں تو پھر قوم کے مستقبل کر مُرجھانے اور کمھلانے سے کوئی نہیں روک سکتاہے۔
چلیں ، میں اپنی اِسی بات اور نقطے کو شہیدرانی متحرمہ بے نظیربھٹو صاحبہ کے اِس قولِ عظیم سے آگے بڑھاتا ہوں کہ آپ ایک موقعے پر فرماتی ہیں کہ” صرف اچھے اور تعمیری اور اِنسان دوست خیال کی آزادی ہی کسی قوم کے مستقبل کو پیداکرسکتی ہے، فروغ دے سکتی ہ، پھیلاسکتی ہے اور اِس کی یقین دہانی و ضمانت فراہم کرسکتی ہے، مگر جب ایسے خیال مرجھانے اور کمھلانے لگے توقومیں سُوکھ کرکانٹاہوجاتی ہیں©“۔یقینا شہید متحرمہ بےنظیر بھٹوصاحبہ کا یہ قول اُس وقت تک اپنی جگہہ ٹھیک تھا جب تک یہ حیات تھیں کیوںکہ اِنہوں نے قوم کو اپنے اِسی قول زریں پر چلایا اور قائم رکھاتھااور قوم اور مُلک کو لے جانے کا عزمِ مصمم کیا اور وہ اِسی پر کاربندرہیں۔
مگر آج یہاں مجھے بڑے دُکھ کے ساتھ یہ کہناپڑرہاہوں کہ متحرمہ بینظیربھٹوصاحبہ کی شہادت کے بعدہی پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ و ادنیٰ قیادت اپنی ہی قائد کے اِس قول زریں پرعمل کرنا بھول گئی اور بینظیر بھٹوشہید کے شہادت کے بعد ہاتھ آئے اپنے پہلے ہی اقتدار کے پانچ سالوں میں پی پی پی والوں نے نہ صرف قوم بلکہ( اپنی ہی پارٹی کے منشور اور نعرے روٹی ، کپڑااور مکان کے) خیال کی آزادی کے ساتھ کیا کیا نہ کیا…؟آج اِسے بھی سب جانتے ہیں اور یہ بھی قوم کو معلوم ہے کہ متحرمہ بینظیر بھٹوشہید کے بعد ہی پی پی پی کے سربراہان کے خیال اور خیالات قوم کے خیال کی آزادی پر پابندی لگانے والے ہوگئے اوراِنہوں نے اپنے دورِ اقتدار کے پانچ سالوں میں قوم کی آزاد خیالی پر ایسے ایسے قدعن لگائے گئے کہ قوم کے خیال کی آزادی برسرِاقتدار پاکستان پیپلز پارٹی اور اِس کی قیادت کی جانب سے ملنے والے مسائل اور پریشانیوں کے شکنجے میں جکڑتے چلے گئے اور یوں آج تک قوم کے خیال کی روٹی کپڑااور مکان کے حصول کی آزادی پر مسائل اور پریشانیوں کے پہرے لگ گئے اور قول کی آزادخیالی پریشانیوں اور مسائل میں گھر کررہ گئی اور اِسی سلسلے کو موجودہ برسرِ اقتدار جماعت پاکستان ن لیگ آگے بڑھارہی ہے۔
آج بھی اگر بالخصوص پاکستان پیپلزپارٹی اور بالعموم پاکستان ن لیگ کی قیادت یہ چاہتی ہے کہ اِنہیں اپنا وقار اور مورال قومی اور عوامی سطح پر بلندکرناہے تو پھر اِنہیں اپنی حقیقی اور روحانی سیاسی قائد شہیدرانی متحرمہ بے نظیربھٹو کے اُوپری سطور میں بیان کردہ قول زریںپر پوراکا پورا ڈھالنا ہوگااور قوم کو بنیادی حقوق جیسے مسائل اور پریشانیوں میں پھنسا کر اِس کی خیال کی آزادی پر لگائی گئی پابندی کو خیال اور خیالات کی آزادی کے لئے آزاد کرناہوگا اور ایسا اُسی وقت ممکن ہوگا کہ جب پی پی پی اور ن لیگ کی قیادت قوم کے مسائل حل کریں اور قوم کو اِس کے بنیادی حقوق روٹی کپڑااور مکان دیں تاکہ قوم اچھے اور تعمیری اور اِنسان دوست خیال کی آزادی پروان چڑھے اور قوم اپنے اِس خیال سے اپنے مستقبل کو پیداکرسکے، فروغ دے سکے، پھیلاسکے اور اِس کی یقین دہانی و ضمانت فراہم کرسکے۔
ورنہ آج جس طرح قوم کو مسائل اور پریشانیوں کے دلدل میں دھنسا کر پی پی پی اور ن لیگ نے قوم کی خیال کی آزادی کو ختم کردیاہے یقینی طور پر اِس طرح تو قوم کے خیال مُرجھانے اور کمھلانے لگیں گے اور قوم سُوکھ کر کانٹاہوجائے گی جیساکہ آج کل مہنگائی ، ٹیکسوں کے بیجا لوڈ،کرپشن ، بھوک و افلاس اور دیگر مسائل اور پریشانیوں کی وجہ سے قوم سُوکھ کر کانٹاہورہی ہے۔
بہرحال،آج تھر میں غذائی قلت اور صحت کی سہولیات اور صاف وشفاف پینے کے پانی نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی اموات میں ہونے والے اضافے کی بھی اصل ذمہ دار پاکستان پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی قیادت اور سندھ اور وفاق کی حکومتیں ہی ہیں ، جن کی آپس کی سیاسی چپقلش اِن کی نااہلی اور غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں جو کہ ناقابلِ معافی جرم ہے، مگر پی پی پی کی قیادت اور سندھ اور وفاق کی حکومتیں ہیں کہ وہ یہ ذمہ داری لینے کو ہی تیار نہیںہے،ایسے میں سندھ حکومت وفاق کے روکھے پیکھے رویوں پر اپنی بے حسی کا رونا رو روکر زمین اور آسمان ایک کئے ہوئے ہے اور سندھ اور وفاقی حکومتوں کی اِس سیاسی لڑائی میں موت کا فرشتہ تھر کے معصوم بچوں پر اپنا ہاتھ صاف کررہاہے اور اِنہیں سندھ اور وفاق حکومتوں کی نااہلی کی وجہ سے غذائی قلت اور صحت کی سہولیات اور صاف وشفاف پینے کے پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنے غریب اور مفلوک الحال والدین سے کھینچ کر قبروں کی آغوش میں ابدی نیندیں سُلارہاہے اور معصوم بچوں کی موت پر اِن کے والدین کو تاحیات ماتم کرنے کے لئے چھوڑے جارہاہے تھرکی اِس صورتِ حال پر وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ کا یہ کہناہے کہ ”تھرمیں اگر قحط ہے تو مرداور عورتیں کیوں نہیں مرتیں وہاں صرف بچے ہی کیوں مرتے ہیں؟ بچوں کی ہلاکتیں قحط سے نہیں مریض کے دیر سے ہسپتال پہنچنے سے ہوتی ہیں،جبکہ اِن کہنا ہے کہ ہم نے توتھرپارکر میں چار سے پانچ ارب خرچ کرچکے ہیں “ مگردوسری طرف وفاق ہے کہ ابتک اِس نے تھرپارکر کی صورتِ حال موت کے منہ جاتے معصوم بچوں کے اضافے پرسنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے اُلٹاسندھ حکومت کی مظلومیت کاتماشہ دیکھ رہاہے ۔
آج اگر سندھ حکومت تھرکے قحط سے مرنے والے بچوں پر سیاست کرکے سروں کا مینا ربنارہی ہے تو کم از کم وفاقی حکومت کی تو یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تھر کے غذائی قلت اور صحت کی سہولیات اور صاف وشفاف پینے کے پانی نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی اموات میں ہونے والے اضافے پر سنجیدگی سے توجہ دے اور تھر سے قحط کو ختم کرانے کے اقدامات کرے تاکہ سندھ حکومت مرنے والے بچوں کے سروں پر سیاست نہ کرسکے اور وفاق اپنی ذمہ داریوں سے سُرخروہوجائے۔

محمداعظم عظیم اعظم azamazimazam@gmail.com

Google Analytics Alternative