کالم

پلی بارگین پر سپریم کورٹ کے ریمارکس

نیب کی پلی بارگین پالیسی پر تنقیدکا سلسلہ جاری ہے ،سیاسی و سماجی حلقوں کے بعد اب نیب سپریم کورٹ کے زیر عتاب ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے گزشتہ روز نیب کے رقوم کی رضاکارانہ واپسی سے متعلق قانون پر حکومت کا موقف طلب کر لیا ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے معزز جج صاحبان نے کہا کہ نیب کرپشن کرنے والوں کا سہولت کار بنا ہوا ہے، جس کی وجہ سے بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔احتساب بیور وقانون کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ عدالت نے کیس کو تین رکنی بینچ کے سامنے سماعت کیلئے مقرر کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو قانون پر وفاق کا موقف ایک ہفتے میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے نیب کے قانون کی درگت بناتے ہوئے درست کہا کہ ایک نائب قاصد کو اڑھائی سو روپے رشوت لینے پر جیل بھیج دیا جاتا ہے، اڑھائی کروڑ روپے رشوت لینے والے کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔جبکہ جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیے کہ قانون نیب نے نہیں بنایا لیکن غلط استعمال ضرور کر رہا ہے، نیب کسی بڑے آدمی کو کیوں نہیں پکڑتا۔ادھر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون نے نیب آرڈیننس پر نظرثانی کی سفارش کردی ہے۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں نیب کے پلی بارگین اور لوٹی ہوئی رقم کی رضا کارانہ واپسی کے اختیارات پر گرما گرم بحث ہوئی۔پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اجلاس میں نیب آرڈیننس 1999 کے پلی بارگین اور رقم کی رضاکارانہ واپسی کے حوالے سے سیکشن 25 پر نظرثانی کا معاملہ اٹھایا۔جبکہ ڈپٹی چیئرمین نیب امتیاز تاجور، ڈی جی آپریشنز ظاہر شاہ اور دیگر حکام نے بیورو کے ان اختیارات کا دفاع کیا۔ فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ ’یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ نیب کرپشن کو ختم کرنے کے بجائے اسے فروغ دے رہا ہے ۔جس پروزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ ’نیب آرڈیننس کا ازسرنو جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی جلد تشکیل دے دی جائے گی، جبکہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کو اس حوالے سے چیئرمین سینیٹ کی نامزدگیاں مل گئی ہیں۔زاہد حامد نے کہا کہ ’حکومت خود یہ سمجھتی ہے کہ نیب آرڈیننس پر نظرثانی کی ضرورت ہے اور یہ کام پارلیمانی کمیٹی کرے گی۔نیب کے پلی بارگین قانون پر جو صورتحال پید اہوچکی ہے اس پر ضروری ہوگیا ہے کہ اس کا ازسر نوجائزہ لیا جائے تاکہ نیب پر عوام کا اعتماد بحال ہوسکے۔اس وقت تو نیب کی ساکھ بری طرح برباد ہوچکی ہے۔یہ تو ایک مسلمہ اصول ہے کہ جمہوریت اور احتساب لازم و ملزوم ہیں۔اگر جمہوریت سے احتساب کو نکال دیا جائے تو پھر شخصی ڈکٹیٹر شپ کا راج ہوجاتا ہے جیسے کہ ان دنوں ہمارے ہاں ہے۔ کرپشن، جس نے پاکستان کو کھوکھلا کر دیا ہے کے انسداد کی کوئی صورت بھی نظر نہیں آتی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ قانون ہے تواس کے اطلاق کیلئے ادارہ سازی ناپید ہے۔ضروری ہے کہ قانون بھی بنائے جائیں اور ادارے بھی۔ہمارے ہاں نیب کا ادارہ اور اسکے ہاتھ میں نیب آرڈیننس کی تلوار ہے۔ اس کے علاوہ ایف آئی اے ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو بھی وجود رکھتے ہیں توپھر ان اداروں کی موجودگی میں پاکستان کو کھوکھلا کرنیوالے کیوں دندناتے پھرتے ہیںیہ ادارے جن مقاصد کے لئے بنائے گئے ان سے اس کے برعکس مقاصد حاصل کئے جا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ریمارکس کے بعد کیا شک باقی رہ گیا ہے کہ نیب عملاً انسداد کرپشن نہیں بلکہ اس کی حوصلہ افزائی اور فروغ کا ادارہ ہے۔مگر نیب نے جو سالانہ کارکردگی رپورٹ 2016جاری کی ہے اس میں اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے کہ ’’نیب نے اپنے قیام سے اب تک 285ارب روپے کی لوٹی رقم واپس لی ہے۔یہ اعدادوشمار حوصلہ افزا ہیں لیکن یہ نہیں بتایا گیاکہ اب تک کرپشن کی کل کتنی لوٹی رقم کی نشاندہی ہوئی ہے اور ریکور رقم کل مطلوب رقم کا کتنے فیصد ہے۔ نیب کو چاہیے کہ وہ اپنے اصل کردار کی طرف لوٹے اور قوم کی امنگوں پر پورا اترے۔ کرپشن اور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی ۔پاکستان کے قومی ادارے جب تک اپنی آئینی ذمہ داریوں پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد نہیں کرتے تب تک پاکستان میں حقیقی جمہوریت کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ۔
جناح ہسپتال میں افسوسناک واقعہ
لاہور کے جناح ہسپتال میں بستر نہ نہ ملنے پر 60 سالہ خاتون ایمرجنسی وارڈ کے ٹھنڈے فرش پر دم توڑ گئیں۔قصور کی رہائشی 60 سالہ زہرہ بی بی کو دل میں اچانک تکلیف اٹھی تو انہیں پہلے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی لایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے معائنے کے بعد کہا کہ انہیں دل کی تکلیف نہیں ہے لہٰذا کسی جنرل فزیشن سے ان کا معائنہ کرایا جائے۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی کے ڈاکٹرز نے مریضہ کو سروسز ہسپتال ریفر کردیا جہاں لے جانے پر انہیں معلوم ہوا کہ یہاں مزید مریضوں کے لیے جگہ دستیاب نہیں ہے۔ سروسز ہسپتال کے عملے نے اسے جناح ہسپتال ریفر کردیا اور جب وہ ہسپتال پہنچیں تو یہاں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں تھی۔ جناح ہسپتال میں بھی مریضہ کے لیے بستر نہ ہونے کی وجہ سے اسے ایمرجنسی وارڈ کے فرش پر ہی لٹادیا گیا۔ ٹھنڈ لگنے سے ضعیف خاتون کی طبیعت مزید بگڑ گئی جبکہ اس کی بیٹی ہسپتال کے عملے سے گزارش کرتی رہی کہ انہیں بیڈ پر منتقل کردیا جائے تاہم کسی نے اس کی نہ سنی اور معمر خاتون وہیں دم توڑ گئیں۔اس واقعے کی خبر میڈیا پر چلنے کے بعد سب کی دوڑیں لگ گئیں نوٹس بھی لے لیا گیا ۔ہوگا کیا اسکا سب معلوم ہے۔جن مقتدر ہستیوں نے نوٹس لیا ہے ان سے گزارش ہے کہ اگر نوٹس لینا ہے تو اپنے دعووں کا لیں جو عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے کئے جاتے ہیں۔نوٹس لینا ہے تو اپنی نااہلیوں کا لیں جن کے باعث روز عوام سسک سسک کر مررہے ہیں ۔نوٹس لینا ہے تو اس بات کا لیں کہ قومی خزانے کے استعمال کی اصل ضرورت ہسپتالوں کو ہے کہ میٹرو ٹرینوں کو۔ ارباب اختیار اپنی ترجیحات کا از سر نوجائزہ لیں اور عوام کو اپنا منہ دکھانے کے قابل بنائیں۔
پاک بھارت آبی تنازعہ میں امریکہ کی ثالثی کی پیشکش
معلوم ہوا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے از خود پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری آبی تنازع کا پرامن حل تلاش کرنے کے عمل کا آغاز کردیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ٹیلی فون کرکے تنازع کے دوستانہ حل سے متعلق مختلف آپشنز پر بات کرچکے ہیں جبکہ فون کال کے بعد امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے اسلام آباد میں اسحاق ڈار سے ملاقات میں تبادلہ خیال بھی کیا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری حالیہ تنازع 2 ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹس کشن گنگا اور رتلے کی تعمیر کے باعث سامنے آیا ہے، ہندوستان یہ دونوں پلانٹس دریائے نیلم کے پانی پر تعمیر کررہا ہے جو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کو خدشہ ہے اگر یہ قضیہ طول پکڑتا رہا تو سندھ طاس معاہدہ متاثر ہوگا۔سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ثالثی میں 19 ستمبر 1960 کو طے پایا تھا، اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے باہمی اصول طے کیے گئے تھے۔ معاہدے میں ورلڈ بینک کو مرکزی ثالث مقرر کیا گیا تھا جو دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کے حل کے لیے غیر جانبدار ماہرین اور ثالثی عدالت کا تقرر کرے گا۔یہ آبی تنازعہ سنگین صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔امریکی انتظامیہ نے اگر اسے حل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے تو اسے خوش آمدید کہا جا سکتا ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ بھارت کوپہلے ان دھمکیوں پر شٹ اپ کال دی جائے جو آئے روز اس حوالے سے پاکستان کو دیتا رہتا ہے۔

۲۰۱۶ء میں کیا کھویا، کیا پایا،۲۰۱۷ء کی تیاری

قارئین حضرات قائد اعظم ؒ کی مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قوم نے ۲۰۱۶ء میں کتنے اہداف حاصل کیے کتنے نہ کرسکی اور ۲۰۱۷ء میں کون سے اہداف حاصل کرنے کا عزم کرنا ہے۔ ہمارا یہ مضمون اسی خیال کے متعلق ہے۔پاکستان دو قومی نظریہ کے تحت وجود میں آیا تھا۔ پاکستان کے خالق بھی پہلے ہندو مسلم اتحاد کے ماننے والوں میں تھے۔ انگریزوں سے آزادی کی جدو جہد کرنے والی ہندو مسلم مشترکہ سیاسی تنظیم کانگریس میں شریک تھے۔ پاکستان کا خواب دیکھنے والے علامہ اقبال ؒ بھی ہندو مسلم اتحاد کو سامنے رکھ کر انگریز سے آزادی حاصل کرنے میں شامل تھے۔ ہندوستان کی محبت میں گیت بھی لکھتے رہے۔ مگر ہندوؤں کی اکثریت نے یہ سوچ رکھا تھا کہ آزادی کے بعد رائج مغربی انتخابی طریقہ سے اپنی اکثریت کی بل بوتے پر مسلمانوں پر حکومت کر کے اپنے ہزار سالہ مسلمانوں کی غلامی کا بدلہ چکا لیں گے۔ اس سوچ کی بنیاد پر کانگریس انگریزوں سے ساز باز کر رہی تھی۔ ہندوؤں کی اس ذہنیت کو قائد اعظم ؒ اورعلامہ اقبال ؒ نے فوراً بھانپ لیا۔ چنا نچہ ہندوؤں کی اسی سوچ کی مخالفت کی بنیاد پر دو قومی نظریہ کی بنیاد رکھی گئی۔ قائد ؒ نے ایک جمع ایک۔ برابر دو۔ کے حساب سے جمہوری طریقہ سے ثابت کیا کہ ہندوستان میں دو قومیں رہتی ہیں۔ ایک ہندو اور دوسری مسلمان۔ جس کے ہیرو الگ، تہذیب الگ ہے، تمدن الگ ہے ، دونوں کے کھانے کے طریقے الگ، ایک قوم بتوں کی پوچا کرتی ہے ایک واحد خدا کو مانتی ہے ۔ مسلمانوں کے اس کے آباء بت شکن تھے۔ صاحبو! آزادیِ پاکستان کے وقت دنیا دو نظاموں میں بٹی ہوئی تھی ایک سیکولر نظام جس میں سرمایادارانہ نظام کا چلن تھا ۔دوسرا کمیونسٹ نظام، جس میں انسانوں کی نام نہادبرابری کی بنیاد پرمزدوروں کی بات کرتا تھا۔ قائد اعظم ؒ نے ان دونوں کے مقابلے میں اسلامی نظام کی بات کر کے تمام مسلمانوں کوایک ایجنڈے پر جمع کیا اور ہندوستان میں ایک ذبردست تحریکِ آزدی پاکستان کے نام سے برپاہ کی۔ پورے برصغیر میں یہ نعرے گونج رہے تھے۔ کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ۔ لے کے رہیں گے پاکستان ۔ بن کے رہے گا پاکستان۔ ہندوستان کے جن علاقوں میں پاکستان نہیں بننا تھا ان علاقوں کے مسلمانوں نے بھی پاکستان کے حق میں اپنی رائے دی۔ دنیا کی تاریخ میں اتنی بڑی جمہوری آزادی کی تاریخ پہلے نہیں دیکھی گئی۔ کمیونسٹ، قادیانی، سرمایہ دار، چوہدری، سردار اور وڈیرے، کوئی وقتی مصلحت ،کوئی مجبوری اور سارے کے سارے م عام مسلمانوں کی برپا کردہ تحریک آزادی میں قائد ؒ کی لیڈر شپ میں آ گئے۔ ۱۴ ؍اگست ۱۹۴۷ء کو مملکت پاکستان وجود میں آ گیا۔ مملکت کے وجود میں آتے ہی قائد ؒ نے اپنے وعدوں کے مطابق خود اگست۱۹۴۷ء میں ہی ایک واحد ڈیپارٹمنٹ قائم کیا تھا جس کا نام ’’ ڈیپار ٹمنٹ آف اسلامک ڈیکرلیشن‘‘ ہے اس ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ مشہور نو مسلم علامہ محمد اسد ؒ کو بنایا گیا تھا۔ اس ادارے کا کام پاکستان کا فلاحی اسلامی آئین بنانا تھا۔ جس میں اسلامی معاشیات، اسلامی تعلیم اوراسلامی سوشل سسٹم ہو۔ اس ڈیپارٹمنٹ کے لیے بجٹ کے لیے قائد اعظم ؒ نے خود خط پاکستان کے مالیاتی ادرے کو بھی لکھا تھا۔ جو اب بھی ریکارڈ کے اندر موجود ہے اس ڈاکومنٹ کی کاپی اس خط کے ساتھ منسلک تھی جبکہ حکومت میں موجود اسلام دشمن قوتوں( قادیانیوں) نے اکتوبر۱۹۴۸ء میں ریکارڈ کو آگ لگا کر اس ڈاکومنٹ کو ضائع کر دیا تھا۔ مگر خوش قسمتی سے اس ڈاکومنٹ کی ایک کاپی جو اس خط کے ساتھ منسلک تھی جو قائد اعظم ؒ نے اس پروجیکٹ کیلئے بجٹ مہیا کرنے کیلئے خط لکھا تھا وہ اوریا مقبول جان نے ریکارڈ سے حاصل کی جو حوالے کیلئے ان کے پاس موجود ہے۔ اوریا مقبول جان نے اس ڈاکومنٹ کو ایک نجی ٹی وی پروگرام میں قوم کو دکھایا بھی تھا۔پاکستان میں اسلامی نظام کے حوالے سے قائدؒ کی ایک اور بات جو ڈاکٹر پروفیسر ریاض علی شاہ کی ڈائری کا صفحہ کے حوالے سے قائد اعظم کی گفتگو جو ڈاکٹر پروفیسر ریاض علی شاہ اور کرنل الہٰی بخش کی موجودگی میں قائد اعظم ؒ نے موت سے دو دن پہلے کہا تھا’’آپ کواندازہ نہیں ہو سکتاکہ مجھے کتنا اطمینان ہے کہ پاکستان قائم ہو گیا اور یہ کام میں تنہا نہیں کر سکتا جب تک رسول ِؐ خدا کا مقامی فیصلہ نہ ہوتا اب جبکہ پاکستان بن گیا ہے اب یہ لوگوں کا کام ہے کہ خلفائے راشدینؓ کا نظام قائم کریں۔‘‘اسی تسلسل میں ایک مزیدثبوت کہ پاکستان بننے کے فوراً بعد قائد اعظم ؒ نے مولانا مودودیؒ کے ذمے یہ کام لگایا تھا کہ وہ قوم کے سامنے اسلام کے عملی نفاذ کا نقشہ ریڈیو پاکستان کے ذریعے بیان کریں۔ مولانا مودودیؒ نے قائد اعظم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اسلام کے عملی نفاذ کیلئے ریڈیو پاکستان سے کئی تقریں نشر کی تھیں جو ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ میں اب بھی موجود ہیں اور ہزاروں پاکستانیوں نے اسلام کے عملی نفاذ کے لیے یہ تقریریں سنی بھی تھیں ۔ہماری دعا ہے کہ اللہ اس ریکارڈ کی حفاظت کرے کہیں اس ریکارڈ کو بھی جلا نہ دیا جائے۔ قارئین! ان واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ قائد اعظمؒ نے جو مسلمانان برصغیر کے لیے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ کے نعرے سے حاصل کیا اس مقصد کے ساتھ کتنے پر خلوص تھے۔ اسلام سے الرجک لوگ قائد اعظمؒ کو سیکولر ثابت کرنے کے لیے جھوٹ کے پہاڑ بھی کھڑے کر دیں۔ مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قائد اعظم ؒ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانا چاہتے تھے۔قائد ؒ کی سوچ کے مطابق کی بنیاد پر اسلام کی شیدائیوں نے پاکستان میں دستوری مہم چلائی۔۱۹۴۰ء کی قرارداد پاکستان کو پاکستان کے آئین کا حصہ بنایا۔ ۱۹۷۳ء میں پاکستان کی ساری سیاسی مذہبی جماعتوں کی منظوری سے پاکستان کی پارلیمنٹ نے اسلامی آئین منظور کیا۔ جس میں مملکت کانام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا۔ آئین کے مطابق پاکستان میں رائج تمام قوانیں کو بتدریج اسلامی بنایا جائے گا۔ اس کام کے لیے ایک اسلامی نظریاتی کونسل بھی بنائی گئی جو قوانین کی جانچ پڑتال کر کے پارلیمنٹ کو سفارش کرے گی کہ فلاں فلاں قانون اسلام کے خلاف ہے اسے تبدیل کیا جائے۔ آئین کے مطابق ایک شہریت کورٹ بھی بنائی گئی۔ اس شہریت کورٹ نے بہت پہلے پاکستان میں سود کو حرام قرار دے کر ختم کر کے بغیر سود کے نظام کو رائج کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ مگر نواز شریف حکومت کے پہلے دور میں اس پر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جو اب تک موجود ہے۔ضرورت اس امر کی تھی کہ قائد ؒ کی مسلم لیگ جن حضرات کے قبضے میں ہے وہ قائدؒ کے وژن کے مطابق سارے کے سارے قانون اسلام کے مطابق بناتے۔ ملک میں آئین کے مطابق اسلامی نظام حکومت قائم کرتے ۔مگر آئی ایم ایف اور مغربی آقاؤں کے منشا کے مطابق مسلم لیگی حکمران الٹے چل رہیں۔وہ پاکستان کو سیکولر دیکھنا چاہتے ہیں۔ قائد اعظمؒ نے ۲۳؍ مارچ ۱۹۴۰ء میں لاہور میں کہا تھاہم مسلمان ہندو سے علیحدہ قوم ہیں۔ ہماری کلچر،ہماری ثقافت،ہماری تاریخ، ہمارا کھانا پینا، ہمارا معاشرہ،سب کچھ ان سے مختلف ہے۔ جبکہ مسلم لیگی حکمران نواز شریف صاحب وزیر اعظم پاکستان ۲۳؍ اگست ۲۰۱۱ء کولاہور ہی میں فرماتے ہیں ہم مسلمان ہندو ایک قوم ہیں ہمارا ایک ہی کلچر، ایک ہی ثقافت ہے ہم کھانا بھی ایک جیسا کھاتے ہیں صر ف درمیان میں ایک سرحد کا فرق ہے۔ صاحبو! یہ کچھ ہم نے ۲۰۱۶ء یہ کھویا ہے۔ پاکستان کاچہرا بدنام کرنے والی شرمین چنائے کو وزیر اعظم ہاؤس میں بلا کر نظریہ پاکستان کی نفی کی گئی۔ سیکولر حضرات جن کو قائدؒ نے شکست دی تھی ان کو حکومت میں شامل کیا گیا۔ جوپاکستان میں افغانیہ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بھارت نواز سیکولرز حضرات کو حکومت کے اہم منصب پر بٹھایا گیا ہے۔ پاکستان کی اساس اور پاکستان کے آئین کے خلاف لکھنے والوں کو۲۰۱۶ء کے سالانہ قومی ایوارڈ کے لیے چنا گیا ہے۔ حسب عادت ۲۰۱۶ء میں بھی پاکستان کی محافظ فوج کے ساتھ اختلافات جاری رکھے گئے۔فوج کے خلاف ایک انگریزی روزنامے نے خبر نشر کی۔ صرف ایک وزیر سے وزارت اطلاعات واپس لے لی مگر خبر لیک کرنے والوں کو ۲۰۱۶ ء میں سزا نہیں دی گئی۔۲۰۱۶ء میں ہمارے ازلی دشمن نے ہماری زمینی،بحری اور بری سرحدوں کی خلاف ورزیاں کیں۔ مگر ہم نے ازلی دشمن کے ساتھ معذرتانہ پالیسی جاری رکھی۔ ۲۲ ؍اگست کی پاکستان مخالف تقریر کے باوجود غدارِ پاکستان الطاف حسین کی پارٹی پر عوامی رائے کے مطابق پابندی نہیں لگائی۔ بین لاقوامی طور پر سامنے آنے والی پاناما لیکس کے موقع پر قوم سے تین دفع وعدے کے باوجود اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش نہیں کیا۔مقبوضہ کشمیر میں ۲۰۱۶ء میں مظفر وانی کی شہادت پر کشمیر میں زبردست تحریک آزادی کشمیر شروع ہوئی۔ جو انشا اللہ ۲۰۱۷ء میں تکمیل کو پہنچے گی۔ مشہور سماجی کارکن عبدلستارایدھی فوت ہوئے ۔ انہیں فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔ امجدصابری قوال کودہشت گردوں نے ہلاک کر دیا ۔ پاکستانی فوج کی کمان تبدیل ہوئی۔ صاحبو! ہمیں ۲۰۱۷ء میں اپنے مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سیکولر، لبرل اور روشن خیالوں سے بچا کر پاکستان کے اسلامی آئین کے مطابق تحریک چلا کر تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کیا دینی اور سیاسی جماعتیں جو نظریہ پا کستان پر کامل یقین رکھتی ہیں کہ لیے وقت نہیں آ گیا کہ تحریکِ پاکستان طرزکی ایک بار پھر عوام کی طاقت سے ایک تحریک پھر سے برپاہ کریں اور جس طرح سیکولرز، لبل لبرلز اور روشن خیال حضرات کو قائدؒ نے جمہوری طریقے سے شکست دے کر اسلامی پاکستان بناکر دیا ۔ اسلامی پاکستان کو آئین پر عمل کرانے کے ۲۰۱۷ء میں پروگرام ترتیب دیں ۔ اللہ ہمارے پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین۔
*****

موجودہ سیاست اور عبادت

سندھ تک محدود ایک وفاقی پارٹی کے ایک رہنما ٹی وی شو میں بیٹھے فرمارہے تھے سیاست عبادت ہے اور ہم عبادت کر رہے ہیں یہ سن کر ہمارا آج تک تھوڑا بہت پڑھ لکھ جانا بھی ہیچ نظر آیا ہم بڑی دیر تک لفظ عبادت اور اس کے اس کے مفہوم پر غور کرتے اور موجودہ ملکی سیاست کا عبادت سے تعلق تلاش کرتے رہے کہ یہ صاحب جو علم و آگہی کے دریا بہا رہے ہیں لگتا ہے کہ یہ زہد کے کسی اعلی مقام پر فائز ہیں۔ سچی بات ہے ہمارے ناقص علم میں یہ نہیں تھا سبحان اللہ یعنی آج جو کچھ سندھ میں ہورہا ہے اور سندھیوں کے ساتھ ہو رہا ہے وہ عبادت ہے یہ کیسی عبادت ہے کہ عبادت زدہ غریب کے تن پر کپڑے تک نہیں جوتی تو دور کی بات ہے۔ عبادت زدگان ہسپتالوں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں اس عبادت کے مارے نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لئے نوکریوں کی تلاش میں سڑکوں پر جوتیاں چٹخاتے پھر رہے ہیں کوئی پرسان حال نہیں مزدور ہیں مزدوری نہیں سڑکوں پر گٹر ابل رہے ہیں گندا پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو رہا ہے۔ گٹر ملا پینے کا پانی لوگوں کو مہیا کیا جا رہا ہے جس سے پورا معاشرہ بیماریوں جکڑ میں آیا لگتا ہے عبادت کا یہ ماڈل پولیس میں بھی خاصہ مقبول ہے اس کا اندازہ اور مشاہدہ تو پولیس سے واسطہ پڑنے پر ہی کیا جا سکتا ہے کہ وہ کیسے تہجد گزار ہیں اور کیسی کیسی صلواتیں پڑھاتے ہیں اس عبادت سے کراچی واٹر بورڈ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بھی پوری طرح متمتع ہے فشری کے محکمے نے بھی اس ضمن میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی وہ بھی بڑے زہد و تقویٰ والے ہیں ایک بڑے امام کینیڈا میں بیٹھ کراچی میں ہونے والی عبادت کی ریموٹ کنٹرول سے امامت فرمارہے ہیں اور ان کوتو آج بھی ہرے ہرے نوٹوں کی صورت میں ثواب پہنچایا جا رہا ہے لمبی چھٹی پر گئے وزیر اطلاعات بھی اس نوع کی عبادت میں پیچھے نہیں رہے اپنی ڈھب کی عبادت گاہ سے نکلتے ہوئے کسی دل جلے کی جانب سے ان کی عزت افزائی کی ویڈیو آج بھی یو ٹیوب پر موجود ہے وہ بھی خاصے بڑے امام ثابت ہوئے ہیں ہم بڑی دیر تک لفظ عبادت اور اس کے اس کے مفہوم میں غوطہ زن ہوکر مفاہیم تلاش کرنے نکلے تو سوائے چند چھینکوں کے کچھ نہ پایا موجودہ ملکی سیاست کا عبادت سے تعلق تلاش کرتے رہے پھر سوچا کہ اگر عام عابد کے ثقہ بند عابد ہونے کا یہ مقام ہے تو بڑے امام کس درجے پر فائز ہوں گے جو پچھلے اٹھارہ ماہ سے ملکوں ملک گھومتے ہوئے چلے کاٹتے پھرے اور ہیلری کلنٹن تک کو آداب درویشی سے آگاہی کے محاضرے دیتے پھرے کہ شکست کی صورت میں موصوفہ تزکیہ نفس کے گر جان سکیں جو صدمات برداشت کرنے کی سکت پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور جیسے ایک جنگل میں ایک ہی شیر ہوتا ہے اور دوسرا شیر جو سب پر بھاری بھی کہلاتا ہے اسی اصول کے احترام میں 18 ماہ تک جنگل واپس نہیں آیا جیسے ہی پہلے شیر نے بن چھوڑا دوسرے نے آنے میں دیر نہیں لگائی کہ بادشاہت یا ریاضت کی گدی خالی نہیں چھوڑی جاتی ویسے بھی لوگوں کے بقول وہ بھی بہت بڑے امام بلکہ اماموں کے امام ہیں اور مستند طور پر اپنی گدی کے سب سے بڑے اور ثقہ بند امام ہیں اور ان کے بقول بڑے بڑے جغادری ان کی بیعت کر چکے ہیں اس بات کی ہم بھی تصدیق کر سکتے ہیں کہ جن لیڈروں کی زندگیاں سیاست کی نذر ہو گئیں انہیں ایک نوجوان کے سامنے طفل مکتب بنا کے بٹھا دیا گیا ہے ہم چونکہ نہ عالم ہیں نہ زاہد اور سوچتے رہے کہ یہ کیسی عبادت ہے اور کس کی عبادت؟ مسلمان تو ایک ہی معبود کی عبادت کرتا ہے کیا غبن، لوٹ مار،سرکاری ٹھیکوں میں کمیشن بھی عبادت ہے کیا 100 کا مال ہزار میں خرید کر ریاست کو 900 کا چونا لگانا بھی عبادت کے زمرے میں آتا ہے ملک میں بننے والی بکتر بند گاڑیاں جو بلاشبہ دنیا کی بہترین اور مضبوط ترین گاڑیوں میں سے ایک ہیں اور قیمت ایک تہائی اس سے تین گنا سے بھی زیادہ قیمت میں غیر ملکی گاڑیاں خریدنا اور اس پر متعلقہ اداروں کے شدید مالی اور فنی تحفظات کے باوجود انہیں گاڑیوں کے خریدنے پر اصرار بھی کیا عبودیت کے تقاضوں کے ہم آہنگ ہے پھر تو سستے تندور کے معاملات بھی عین عبادت ہی شمار ہوں گے کہ چلو اس میں کچھ لوگوں کو سستی روٹی ملی نندی پور میں بھی اسی عبادت و ریاضت کے معاملات کارفرما نظر آتے ہیں اس عبادت کی مشق نے قوم کو صرف 450 ارب کا ٹیکہ لگایا سنتے ہیں کہ میٹرو بس منصوبے میں اسی زہد و تقویٰ کی جلوہ فرمائیاں کارفرما رہیں بلکہ پنڈی میٹرو کے منصوبے میں تو کمال ہی ہو گیا جہاں یہ عبادت گزاری زہد کی منزلوں سے کہیں اوپر چلی گئی ہے اور اس میں سب سے بڑے متقی تو صاحب اتقان عباسی صاحب بھی ٹھہریں گے جن کو امامت بھی ان کے بڑے امام کی جانب سے تفویض کی گئی گو ہمارے کنوارے شیخ صاحب کی اٹھکیلیاں ماضی میں جاری رہا کرتی تھیں یوں پردہ اخفا کی باتیں خلوت سے نکل کر جلوت میں آجاتیں اور لوگوں کو علوم حاضرہ سے خاصہ افاقہ ہوتا لیکن آج کل ان کا ہتھ ذراہولا ہی ہے اور ان کی عبادت گزاری کی ذرا سی تحقیق و تفتیش ہوئی وظیفوں اور چلوں کی وہ وہ پرتیں کھولیں گی یہاں بیٹھے لوگ یا جنگلوں میں ہونگے یا جیلوں میں ایسا ماہرین فن کہتے ہیں اور ہمارا ان سے اتفاق ضروری بھی نہیں ہے ہمارے لیڈر حضرات جس کو عبادت کہتے ہیں دنیا اس کو کسی اور نام سے پکارتی ہے یہ بے ثبات دنیا دل لگانے کی جگہ نہیں اور جو نظر آ رہا ہے اسے قرآن کریم” متاع الغرور” یعنی یا دھوکے کا سامان کہتا ہے پتہ نہیں ہم ان اہل و عیال کی خاطر اپنی قبریں بھاری کر رہے ہیں جن سے شاید بعد از مرگ ایک فاتحہ کی امید بھی نہ ہو ۔کیونکہ یہ دور ہی نفسا نفسی کا ہے جس کے مظاہر ہمیں جگہ جگہ نظر آتے ہیں کبھی ضعیف والدین گھر میں باعث برکت سمجھے جاتے تھے آج بوجھ سمجھے جاتے ہیں تبھی تو اولڈ ایج ہوم بڑھتے جا رہے ہیں قرآن مجید کہتا ہے ” آنکھوں والو عبرت پکڑو” اللہ ہمیں حرام و حلال میں تمیز حق اور نا حق کی پہچان کی توفیق عطا فرمائے اور پاکستان اور اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین۔

دیوار۔۔۔۔۔شوکت کاظمی
قیمت کو نہیں شوقِ خریدار کو دیکھو
خواہش کو نہیں ذوقِ طلب گار کو دیکھو
سستانے کو دو پل کیلئے بیٹھ گئے ہو
سائے کو نہیں حالتِ دیوار کو دیکھو

بھارت تباہ کن ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف

ایک طرف دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی باتیں ہوتی ہیں، معاہدوں پر دستخط ہوتے ہیں ، تحریکیں چلتی ہیں اور دوسری طرف اسی دنیا میں کچھ انسانی دماغ مزید ہتھیار ڈیزائن کر رہے ہوتے ہیں اور بہت سے کارخانے انہیں ڈھال رہے ہوتے ہیں اور یوں انسانی تباہی کے منصوبے تکمیل پاتے رہتے ہیں اگرچہ دعویٰ ہر ایک انسانیت کی فلاح کا کرتا ہے۔
ایسا ہی ایک تجربہ 2016ء کے جاتے جاتے ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے ایک اور ایٹمی میزائل کی صورت میں کیا ،اگنی سیریز میں ایک اور میزائل کا اضافہ ہو گیا اور وہ ہے اگنی۔5 ۔ بھارت نے اپنی آزادی کے ساتھ ہی جس میدان کو سب سے زیادہ توجہ دی وہ یہی اسلحہ سازی تھی اور یہی وجہ ہے کہ کسی بھی دوسری صنعت سے زیادہ اُس نے اسی صنعت میں ترقی کی اور بے تحاشہ اسلحہ بنایا ۔اُس نے اپنے ایٹمی پروگرام کو بڑی تیزی سے آگے بڑھایا اور 1974ء میں ایٹمی دھماکہ کیا پھر 1998ء میں اُس نے مزید ایٹمی دھماکے کر کے باقاعدہ اپنی ایٹمی صلاحیت کا اظہار اور اعلان کیا۔ اُس نے کئی طرح کے ایٹمی ہتھیار بنائے انہی میں ایک اگنی سیریز بھی ہے جس میں سے وہ نیوکلیئر وار ہیڈ لے جانے والے چار میزائل بنا چکا ہے اور اگنی۔5 کا تجربہ اُس نے 2016 کے آخر ی ہفتے میں کیا۔ اگنی ہندوؤں کا آگ کا دیوتا ہے اور ایٹمی آگ لیے یہ بیلسٹک میزائل اسی کے نام سے موسوم کئے گئے ہیں یہ میزائل درمیانی سے لے کر بین ا لبراعظمی فاصلے تک مار کر سکتے ہیں۔اگنی۔I کی رینج 700 کلومیٹر ہے جب کہ اب بھارت کے مطابق اگنی ۔5کی مار 5500 سے5800 کلومیٹر تک ہے لیکن چین کا کہنا ہے کہ یہ میزائل 8000 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے اور اس کا وزن 4900 کلو گرام ہے۔ یہ میزائل بھارت کے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نے ڈیزائن کیا اور بھارت ڈائنامکس نے اسے بنایا۔ بھارت تباہ کن ہتھیاروں کی تیاری میں مسلسل مصروف ہے اور اس کے اسی شوق کی قیمت پورا خطہ دے رہا ہے اسی کی وجہ سے ہتھیاروں کی دوڑ لگی ہوئی ہے ،جنگ کے بادل ہر وقت علاقے پر منڈلاتے رہتے ہیں بھارت روایتی اور غیر روایتی دونوں طریقوں سے جنگ کا ماحول بنائے رکھتا ہے یارکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستانی سرحدوں پروہ اپنی وحشت و بربریت کا مظاہرہ کرتا ہی رہتا ہے اور روایتی ہتھیاروں کا بے تحاشا استعمال کرتا ہے۔ اسے دراصل انسانیت سے کوئی واسطہ نہیں جس کا مظاہرہ وہ کشمیر میں کرتا رہتا ہے اور کشمیر پر ہی کیا موقوف اپنے ملک میں ایسے واقعات کرنا اس کا معمول ہے اور پھر الزام پاکستان پر رکھ کر ایک فساد اور طوفان کھڑا کر دیتا ہے۔ اس کا یہ رویہ بے شک کہ پاکستان کے خلاف بہت زیادہ اور جارحانہ ہوتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ا س کے شر سے اس کے دوسرے پڑوسی محفوظ ہیں سر ی لنکا اس کے ہاتھوں دہائیوں تک لہو لہان رہا، نیپال سے پانی کا تنازعہ ،بنگلہ دیش سے پانی پر مسئلہ سب چلتا رہا ہے اور چل رہا ہے یہ تو چھوٹے ممالک ہیں لہٰذا دب جاتے ہیں لیکن پاکستان چونکہ مقابلے پر آتا ہے اسی لیے نشانے پر زیادہ رہتا ہے یہی حال چین کا ہے کہ کبھی بھارت کی ’’گڈبکس‘‘ میں نہیں رہا اور اسی لیے چین نے بھی اگنی5- کے تجربے کے بعد تشویش کا اظہار کیا دراصل یہ اظہار تشویش اگنی سے زیادہ بھارت کے رویے پر ہے اور بھارت جیسے ملک سے یہ بھی بعید نہیں کہ کسی وقت اپنے غیر روایتی ہتھیاروں کا استعمال کر لے جس کی وقتاً فوقتاً وہ دھمکی دیتا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ دوسرے ممالک بغیر کسی جنگ کے اُس کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے ۔اگنی سیریز کے چھٹے میزائل پر بھی بھارت کام کر رہا ہے جس کی رینج دس ہزار کلومیٹر ہوگی۔ اگنی میزائل انتہائی تیز ی سے اپنے ٹارگٹ پر پہنچتا ہے یعنی آس پاس کے تمام ممالک اس کی پہنچ میں ہیں بھارت کو اپنے ملک میں بھوکے ننگے عوام نظر نہیں آتے لیکن دوسرے ملکوں کی سرحدوں اور اُس کے پار حملوں کی تیاری پر اربوں خرچ کرتا ہے ااس کے اس طرز عمل ہی کی و جہ سے خطے میں نہ تو امن قائم ہو رہا ہے اور نہ ہی اُن مسائل پر کام ہو رہا ہے جن پرہونا چاہیے یعنی غربت،بھوک افلاس کو مٹا نے کے لیے جو کچھ ہونا چاہیے وہ نہیں ہورہا اور اُس پر خرچ ہونے والی رقم اسلحہ اور جنگی سازو سامان پر خرچ ہو رہی ہے ۔صحت، تعلیم، صفائی سب ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔حیرت انگیز امریہ بھی ہے کہ بڑی طاقتیں جو مسلمان ملکوں اور خاص کر پاکستان کے کسی بھی ایسے پروگرام پر بڑے لمبے لمبے اعتراضات اٹھاتی ہیں وہ بھارت کے اسلحہ سازی کے شوق پر خاموش رہتی ہیں۔پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بھارت کے اس طرح کے اقدامات پر رائے عامہ کو بدلنے کے لیے کام کرنا اور یہ احساس دلانا ہوگا کہ بھارت خطے میں دہشت گردی اور جنگی جنون کا ذمہ دار ہے اور اگنی، پر تھوی، تریشول،آکاش اورناگ قسم کا تمام ایٹمی اسلحہ بھارت ارادوں کا غماز ہے ۔1974 سے اب تک کا اس کا سفر اپنے دفاع سے زیادہ دوسروں کی تباہی کے لیے ہے لہٰذا اُس کی پوچھ ضروری بھی ہے اور یہ پوچھ فوری طور پر بھی ہونی چاہیے تا کہ مزیدکسی خراابی سے پہلے اُس کو قابوکیا جاسکے اور خطے میں اسلحے کی دوڑکو روکا جا سکے۔
****

بھارتی پنجاب ۔ ۔ممکنہ انتخابی منظر نامہ ؟

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے موجودہ وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے ہندوستان کی سیاسی بساط پر اپنے لیے بہت ہی کم وقت میں ایک کامیاب اورمخصوص کردار تیار کرلیاہے۔2015 میں دہلی کے 2 کروڑعوام کو لبھا کر 70 میں سے67سیٹ جیت لینا،ان کی بڑی کامیابی تھی۔ حالانکہ جس طرح وہ اور ان کے ا رکان اسمبلی لگاتارتنازعوں میں پھنس رہے ہیں،وہ دہلی کی ترقی میں مکمل طور پر رکاوٹ ڈال رہاہے اورجگہ جگہ مبینہ طور پر عام آدمی پارٹی کی کرکری ہورہی ہے۔کجریوال نے گزشتہ مہینوں دہلی کی ذمہ داری منیش سسودیاکو سونپ دی ہے اوراپنا زیادہ تر وقت پنجاب کے اسمبلی انتخاب کی تیاری میں لگا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ عام آدمی پارٹی پنجاب اور گوا میں اگلے کچھ مہینوں میں ہونے والے اسمبلی انتخاب کے لیے سبھی سیٹوں پرامیدوارکھڑی کررہی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں ریاستوں میں عام آدمی پارٹی کی جیت کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتاہے۔بی جے پی اور کانگریس پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت بھی عام آدمی پارٹی کے ان ریاستوں میں بڑھتے ہوئے قدم کو تکلیف دہ محسوس رہی ہیں۔ آخرکجریوال کاانتخابی فارمولا کیا ہے؟ عوام کی ایسی کون سی نبض انھیں معلو م ہوگئی ہے کہ جس کوپکڑکر وہ اپنی پارٹی کو روز بروز آگے بڑھاتے جا رہے ہیں۔مبصرین کے مطابق سب سے پہلے، کجریوال کی حکمت عملی ان ریاستوں میں انتخاب لڑنے کی ہے جن میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان آپسی لڑائی رہتی ہے۔ یہ کجریوال کاپہلا انتخابی گُر ہے۔دہلی میں عام آدمی پارٹی کی فروری 2015 میں مثالی جیت کی سب سے اہم وجہ اسی سچائی کو مانا جاسکتا ہے۔ایسی ریاستوں میں عوام کے پاس کوئی تیسرا مضبوط متبادل نہیں ہوتاہے۔ایسی ریاست میں باری باری سے یا تو بی جے پی کی سرکار بنتی رہی ہے یا کانگریس کی سرکار۔ ایساہر5۔10 سال میں ہوتا رہتا ہے۔ راجستھان، پنجاب، اتراکھنڈ وغیرہ ریاستیں اس کی مثال ہیں۔ سال 2012 میں پنجاب کے گزشتہ اسمبلی انتخاب میں اکالی دل، جوکہ بی جے پی کی ایک طویل عرصہ سے اتحادی پارٹی رہی ہے، کوریاست میں اکثریت ملی۔ کانگریس کو صرف 46 سیٹیں ہی ملیں۔ جہاں اکالی دل۔ بی جے پی کا ووٹ تناسب تقریباً 42 فیصد تھا، وہیں کانگریس کو 40 فیصد ووٹ ملے تھے۔لیکن 2014 کے پارلیمانی انتخاب میں عام آدمی پارٹی نے بڑھ چڑھ کراپنے امیدوار اتارے۔ بھارت کے تمام حصوں میں تو عام آدمی پارٹی کے زیادہ تر امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوگئی لیکن بھارتی پنجاب میں غیر متوقع طور پرکجریوال کو کامیابی ملی۔ ’’ آپ ‘‘ کو پنجاب میں پارلیمانی انتخاب میں24.4 فیصد ووٹ ملے۔ جہاں کانگریس کاووٹ فیصد 12.5 فیصد گرا،اکالی دل کاتقریباً 7.5 فیصد ووٹ گرا اور بی جے پی کا 1.5 فیصد ووٹ گرا۔ غور طلب ہے کہ آپ کو جوووٹ پنجاب میں ملے، وہ ان ہی پارٹیوں کے ووٹ بینک میں نقب لگاکر حاصل ہوئے۔ لوک سبھا میں13 میں سے 4 سیٹیں جیتنے کے بعد کجریوال کا حوصلہ کافی بڑھا اور اب2017 میں عام آدمی پارٹی انڈین پنجاب کی سبھی 117 اسمبلی سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کررہی ہے۔گجرات،مدھیہ پردیش،چھتیس گڑھ میںیوں تو کانگریس پارٹی سرگرم ہے لیکن گزشتہ تین لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو لگاتار بڑھت ملی ہے۔ پنجاب اور گوا کے بعدکجریوال کی منشا ان ہی ریاستوں میں پیر پسارنے کی ہے۔ان ریاستوں کے عوام کو لبھاناکجریوال کے لیے آسان ہے کیونکہ عوام ایک نئی تبدیلی کے لیے پُرامید خواب دیکھنا چاہتے ہیں۔پنجاب میں کسانوں کے پرانے قرض معاف کرانے کا وعدہ، شراب اور ڈرگ مافیاسے آزادی کا وعدہ اور ٹیکس دہندگان کے بوجھ کو ہلکا کرنے کا وعدہ،اسی لبھانے والی حکمت عملی کے تحت عام آدمی پارٹی پنجاب میں کررہی ہے۔کجریوال کا دوسرا گُر مودی جی کی پالیسیوں کی ہر ممکن مخالفت کرناہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے مطابق میڈیا میں بنے رہنے کے لیے کجریوال کیلئے یہ سب سے آسان طریقہ ہے۔کجریوال کا تیسرا انتخابی گُر ان کااپناایک الگ سماجی،اقتصادی طبقہ بنانا ہے۔ اقتصادی طور پر کمزورطبقہ کی نبض پر ان کی اچھی پکڑ ہے۔ ریہڑی پٹری والے چھوٹے کاروباری،یومیہ مزدوری کرنے والے مزدور اور کاریگر طبقہ کے لوگ پورے زور شور سے ان کی تقریر کا لطف اٹھاتے ہیں اوران کی پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2015 میں دہلی اسمبلی انتخاب میں77 فیصد مسلم ووٹروں اور57 فیصد سکھ ووٹروں نے عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا۔ان کا چوتھا، پانچواں اور چھٹا گُر چیزوں کو مفت بانٹنا،بڑے وعدے کرنااورموجودہ سرکارکے لیڈروں کے خلاف بدعنوانی کا الزام لگاناہے۔ جس طرح دہلی میں انھوں نے مفت پانی او رمفت انٹرنیٹ دینے کا وعدہ کیا اسی طرح پنجاب میں بھی کسانوں کے پرانے قرض کومعاف کرنے کا وعدہ زور شور سے کیا جارہاہے۔حالانکہ کسانوں کیلئے سر چھوٹو رام ایکٹ 1934 کو پھر سے نافذ کرنے کاپلان کجریوال کی ایک اچھی پہل ہے جس کے تحت سود کی رقم کبھی بھی اصل قرض سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بھارتی پنجاب کے 85 فیصد کسان قرض میں ڈوبے پڑے ہیں اور ریاست میں کسانوں پر تقریباً 70,000کروڑ کا قرض ہے۔ کل قرض کی رقم میں سے 13000 کروڑ کی رقم نجی سودخوروں کی ہے جو سود وقت پر نہیں ملنے پر شہ زوری کے ذریعہ کسانوں کی زمین آسانی سے ہڑپ سکتے ہیں۔بھارتی پنجاب میں ہرچھوٹے کسان پرتقریباً پونے تین لاکھ روپے کاقرض ہے اور متوسط طبقے کے کسانوں پر ساڑھے پانچ لاکھ روپے کا قرض ہے۔ جس طرح دہلی میں کجریوال نے شیلا دیکشت کے اوپرالزام لگائے یاپھر ارون جیٹلی پرڈی ڈی سی اے میں ہورہی بدعنوانی میں ملوث ہونے کے الزام لگائے، اسی طرح اب پنجاب میں بھی اکالی دل نیتا مجیٹھیا اور نائب وزیر اعلیٰ سکھ بیرسنگھ بادل پربھی الزام لگائے جارہے ہیں اور انھیں جیل بھیجنے کا اعلان ہر تقریرمیں کیا جارہا ہے۔ یہی کجریوال کا فارمولہ ہے جس کا استعمال وہ انڈین پنجاب اسمبلی انتخاب میں کررہے ہیں۔کجریوال کاساتواں گُر ان کی تنظیمی صلاحیت ہے۔2014 میں عام آدمی پارٹی نے پورے ملک میں 432 امیدوار کھڑے کیے تھے۔ امیدواروں کی یہ تعداد بی جے پی اور کانگریس کے امیدواروں سے بھی زیادہ تھی۔ لوک سبھا انتخابات میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد غالباً کجریوال کی سمجھ میں آگیا تھاکہ صرف میڈیا کے زور پر چناؤ نہیں جیتا جا سکتا ۔ انتخاب جیتنے کے لیے ایک مضبوط سیاسی تنظیم کا ہونا ضروری ہے۔اس لئے اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ عام آدمی پارٹی انڈین پنجاب میں حکومت سازی کے قریب پہنچ سکتی ہے ۔
*****

نیشنل ایکشن پلان قومی سلامتی کیلئے انتہائی ضروری ہے

وزیر اعظم محمد نوازشریف نے میں خارجہ پالیسی کے متعلق اجلاس میں پاکستان کے پڑوسی ممالک اور سٹرٹیجک پارٹنرز کے ساتھ تعلقات کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ملکی سلامتی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ نیشنل ایکشن پلان قومی سلامتی کیلئے انتہائی ضروری ہے ، ہم اس منصوبے کی ایک ایک شق پر من و عن عمل کر رہے ہیں اور اسی منصوبے کی وجہ سے ملک میں قیام امن کو ممکن بنایا جا سکا۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق رائے کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے پاکستان پر غیرمعمولی انسانی‘ طبعی قربانیوں کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں اور انہیں عالمی طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ بقول وزیر اعظم پاکستان خطے کے تمام ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے اور ان کے ساتھ باہمی طور پر مفید مضبوط تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے۔ پرامن بقائے باہمی احترام اور معاشی طور پر مربوط خطہ ہم سب کا مشترکہ مقصد ہونا چاہئے اور اس مقصد کے حصول کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب ہم امن‘ ترقی اور خوشحالی کے احساسات کے ساتھ ٹھوس وابستگی ظاہر کریں۔
دہشت گردی کیخلاف مسلح افواج نے بے مثال قربانیاں دیں جسے پوری دنیا نے سراہا۔ پاکستان خطے کے تمام ملکوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کا خواہاں ہے۔ تمام ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر مضبوط معاشی و باہمی تعلقات ہماری ترجیح ہے۔ خطے کے تمام ممالک کو اس مقصد کے حصول کے لئے ملکر کاوشیں کرنا ہوں گی اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم امن‘ ترقی اور خوشحالی کو اپنی ترجیح بنائیں گے۔قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ دہشتگردی جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے۔ نیشنل ایکشن پلان دہشتگردی کے خاتمے کا روڈ میپ ہے۔ بلا تفریق من وعن عمل ہو رہا ہے۔اجلاس میں ملک بھر میں کومبنگ اپریشن مزید تیز کرنے اور صوبائی ایپکس کمیٹی کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد اور دہشت گردی کے خاتمہ سے متعلق قوانین مزید سخت کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اجلاس کے فیصلہ کے تحت سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کو مزید اختیارات دیئے جائینگے جس کے تحت سکیورٹی فورسز ملک بھر میں کہیں بھی بغیراجازت کے چھاپے مار سکیں گی۔ اجلاس میں تحفظ پاکستان بل میں مزید توسیع اور ترامیم کا فیصلہ بھی کیا گیا جبکہ ملک بھر کے مدارس کی رجسٹریشن اور انکی اصلاحات کا بھی فیصلہ کیا گیا جس کیلئے علماء کرام کو اعتماد میں لیا جائیگا۔
پاک چین اقتصادی راہداری علاقائی رابطہ اور مشترکہ خوشحالی کی مقصد کے لئے سنگ میل ہے۔ سی پیک خطے کی خوشحالی کا منصوبہ ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری ہمارے لئے خطے کو جوڑنے کا وسیلہ ہے۔سی پیک کے تحت چاروں صوبوں میں کام جاری ہے۔2013کے مقابلے میں پاکستان معاشی طورپرآج زیادہ مضبوط اور محفوظ ہے۔(ن) لیگ کی حکومت نے ملک کو معاشی طور پر بھی درست سمت میں ڈال دیا ہے اور ملک معاشی طور پر مستحکم ہو رہا ہے۔ سی پیک کا منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کیلئے ایک گیم چینجر ہے چین کا46ارب ڈالرز سے زائد کا یہ منصوبہ پاکستان سے بھی دوستی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خود سی پیک کے تحت چاروں صوبوں میں جاری منصوبوں کی نگرانی کر رہا ہوں سی پیک کے تحت گودار سی پورٹ اور اےئر پورٹ بھی بن رہا ہے اور اس سے پاکستان کی بھی قسمت بد ل جا ئیگی اور اس سے ترقی کی نئی راہیں کھولیں گی۔
دہشت گردی کی جنگ میں قوم کے علاوہ ہماری سکیورٹی فورسز نے بھی بلاشبہ بے بہا قربانیاں دی ہیں اس لئے ان قربانیوں کو ضائع نہیں جانے دینا چاہیے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشیدشاہ اور پی ٹی آئی کے مخدوم شاہ محمود قریشی نے دہشت گردی کے تدارک کے مؤثر اقدامات اٹھانے کیلئے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کا تقاضا کیا ہے۔ بے شک یہ کام بھی کرلیا جائے مگر اب خالی خولی نعروں اور زبانی جمع خرچ سے قوم کو مزید مایوس نہ کیا جائے۔ آج ضرورت ایک عزم کے ساتھ ٹھوس قدم اٹھانے اور نیشنل ایکشن پلان کو پوری فعالیت کے ساتھ عملی جامہ پہنانے کی ہے۔ اب محض گفتند‘ نشستند‘ برخاستند سے کام نہیں چلے گا۔

بجلی اورگیس کی فری پیڈ میٹر کی ضرورت

آج کل دوسرے اہم مسائل کے ساتھ ساتھ وطن عزیز بجلی اور گیس لو ڈ شیڈنگ کا سامنا کر رہا ہے ۔پنجاب کے مقابلے میں خیبر پختون خوا میں انتہائی لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ یہاں پر رہتے ہوئے ایسے لگتا ہے کہ ہم پاکستان میں نہیں ایتھوپیا یا افریقہ کے کسی پسماندہ ملک میں رہ رہے ہیں۔ نواز شریف کو عمران خان کے ساتھ دشمنی کرنی چاہئے مگر نواز شریف خیبر پختون خوا کے لوگوں سے الیکشن ہارنے کا بدلہ لے رہے ہیں ۔ اور یہ بات میری سمجھ سے باہر کے پاکستان مسلم لیگ کے صوبائی صدر امیر مقام وزیر اعظم نواز شریف اس سلسلے میں بات کیوں نہیں کرتا۔ اور اُسکو بتاتا کیوں نہیں کہ وفاقی حکومت کے بجلی اور گیس کے اداروں واپڈا اور سوئی گیس نے بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ کرکے اور غریب صا رفین کو بلاجواز بھاری بھر بل بھیج کرکے پی کے کے لوگوں کی زندگی کو غذاب بنا یا ہوا ہے۔مگر نہ مسلم لیگ(ن) کے ورکروں کو اور نہ انجینیر امیر مقام کو یہ بات سمجھ آتی ہے ۔ اس وقت پاکستان میں بجلی چو ری35سے40 فی صد تک جبکہ گیس چو ری 25 سے30 فی صد تک ہے ۔ گرمی میں جو ن جولائی، اگست ستمبر میں جب بجلی استعمال 18 اور19 ہزار میگا واٹ تک بڑ ھ جاتا ہے تو 40 فی صد کے حساب سے 6 ہزار میگا واٹ اور سر دیوں میں جب بجلی کاکل خرچہ 12 یا 13 ہزار میگا واٹ ہوتا ہے، تو سر دی میں 4یا ساڑھے چار ہزار میگا واٹ بجلی چو ری ہوتی ہے۔ اسی طر ح گیس کی 25اور 30 فی صد کے درمیان چو ری ہو تی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ تمام خرچہ ایک غریب صا رف دیتا ہے اور اسی طر ح اسکے بھاری بھر بل آتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ بجلی اور گیس چو ری کو کیسے روکا جائے ۔ اگر ہم کسی بھی مذہب کے ماننے اور اس پر عمل کرنے والے ہوں تو پھر تو ہمیں کسی قانون اور ضابطے کی ضرورت نہیں مگر بد قسمتی سے ہم برائے نام مسلمان ، سکھ ، عیسائی ہیں جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا کوئی ایمان دین نہیں اور ہم اللہ سے زیادہ ڈنڈے سے ڈرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کو نسا راستہ اختیارکیا جائے کہ بجلی اور اور گیس کی 30 سے 40 فی صد بجلی چو ری کو قابو کر کے غریب پر انکا بو جھ کم کیا جائے ۔ میرے خیال میں اس سلسلے میں ہمیں پری پیڈ میٹر استعمال کو رواج دینا چاہئے۔ جس طر ح ہم میں موبائیل میں کا رڈ یا ازی لو ڈ کرتے ہیں۔ اسی طر ح ہمیں پری پیڈ بجلی، پانی اور گیس میٹر کو استعمال کر کے بجلی چو ری کے واقعات کو کم کر سکتے ہیں۔ جس سے ملک میں کا فی حد تک لو ڈ شیڈنگ اور بجلی چو ری روکنے پر قابو پایا جائے گا۔اور ہمارے بجلی کے وزیر عابد شیر علی جو دوسرے صوبوں کے لوگوں پر بجلی چو ری کے جو الزامات کگاتے ہیں کم از کم اس کا تدارک تو ہوجائیگا اور یہ بھی پتہ چلے کا کہ کونسا صوبہ کتنا چور ہے۔ اس وقت جن جن ممالک میں پری پیڈ میٹرکا نظام رائج ہے اُن میں امریکہ ، بر طانیہ، آئر لینڈ، ساؤتھ افریقہ، نیوزی لینڈ، بھارت، ارجینٹینا، اور اسکے علاوہ بُہت سارے ترقی پذیر ممالک شامل ہیں ۔پائک ریسر چ نے پو ری دنیا میں 30 ملین پری پیڈ میٹر لگائے گئے ہیں اور سال 2017 تک انکی تعداد 500ملین تک پہنچ جائے گی۔پا ئک ریسر چ کے مطابق پری پیڈ میٹر کی ما رکیٹ 2016 تک 500 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور آئندہ سالوں میں یہ ما رکیٹ700 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ در اصل ا سے نہ صرف ملک میں بجلی اور گیس چوری میں مدد ملے گی بلکہ اس سے ہمارے بُہت سارے سماجی، اقتصادی اور کلچرل مسائل حل ہو نگے۔ہم اکثر اپنے مکان اور دکان کو کسی کو کرائے پر دیتے ہیں ۔ بعض اوقات یا تو کرایہ دار بھاگ جاتا ہے اور یا بجلی اور گیس بل کسی وجہ سے متنا زعہ ہو جاتا ہے۔میں نے یہ بات نو ٹ کی ہے کہ آج کل واپڈا ملازمین اور واپڈا صا رفین کا سب سے بڑا مسئلہ غیر مُنصفانہ بل پری پیڈ میٹر لگانے سے کم ازکم مالک مکان اور کرایہ دار کے درمیان بجلی اور گیس بل پر جو مسائل اور چپقلش ہوتی ہے اُس میں زیادہ حد تک کمی آئے گی۔ ایک صا رف کو پتہ ہو گا کہ مُجھے بجلی کس وقت ، کس طرح بجلی استعمال کرنی چاہئے۔ علاوہ ازیں ا سے اقتصادی سر گر میوں میں اضافہ ہو گا اور بجلی کی صنعت پر واپڈا یا مزید چند حکومتی کمپنیوں کا قبضہ ہے وہ ختم ہو جائے گا۔ اس پاکستان میں واپڈا کے تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ صا رفین ہیں اگر اس کام کو پرائیویٹا ئز کیا جائے تو اس سے لاکھوں لوگوں بلواسطہ اور لاکھوں کو بلا واسطہ جابز ملنے کے روشن امکانات ہیں ۔علاوہ ازیں اس سے پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے درمیان اہم اور مُثبت اور مقابلے کا رُحجا ن پیدا ہو گا اور ملک اور باہر کے صنعت کار بجلی اور گیس لو ڈ شیڈنگ پورا کر نے میں اپنا حصہ کر دار ادکر تے رہینگے۔ لہٰذاء ضرورت اس امر کی ہے کہ مو وجودہ حکومت کو ملک میں زیادہ سے زیادہ پری پیڈ بجلی، پانی اور گیس کے میٹرز کو رواج دینا چاہئے تاکہ بجلی، گیس اور پانی چوری پر قابو پایا جاسکے۔میں نے یہ بات نو ٹ کی ہے کہ آج وطن عزیز میں جائینٹ فیملی سسٹم میں بہن بھائی اور رشتہ داروں میں لڑائی بجلی اور گیس بل پر ہوتی ہے ۔ جب پری پیڈ میٹر لگائے جائیں گے تو جائنٹ فیملی سسٹم میں گھر کے افراد اور واپڈا اور صا رفین کے جھگڑے ختم ہوجائیں۔

نیانَودن پراناسَودن

سیانے کہتے ہیں کہ نیا نو دن پراناسو دن اور عربی کاایک مقولہ بھی ہے ہر چیز اپنے اصل طرف لوٹتی ہے لیکن یہاں معاملہ واپس لوٹنے کا نہیں بس حالات اپنے مقاصدکو آگے بڑھانے کے لئے سازگار ہوتے ہی ہے اپنا ملمع اتار کر پوری بے شرمی سے اپنا ایجنڈے کوآگے بڑھایاجارہاہے جب سے خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے اور جس طرح پی ٹی آئی کی حکومت نے انتظامیہ کی اصلاحات کی ہیں مثلا ٹریفک کا نظام بہتر بنایا ہے اور قانون کا سختی سے نفاذ ہونے لگا ہے بڑے سے بڑے سرکاری عہدے کے حامل شخص کے ساتھ بھی وہی رویہ رکھا جاتا ہے جس کا عام آدمی بھی مستحق قرار پاتا ہے کوئی ایم پی اے یاایم این اے دھمکی نہیں دیتا اور نہ کسی سے ناجائز رعایت برتی جاتی ہے تعلیم کے نظام میں مثبت تبدیلیاں کی گئی ہیں نتیجتا پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھنے والے ہزاروں بچے سرکاری اسکولوں میں شفٹ ہوئے اسپتالوں کا انتظام وانصرام بہتر بنانے سے جس طرح اسپتال کے عملے کے رویے میں تبدیلی آئی ہے کہ لوگ کے پی کے، کے ہسپتالوں کا موازنہ دبئی کے ہسپتالوں سے کرنے لگے ہیں جہاں علاج اور دوائیں ہمہ وقت دستیاب ہوتی ہیں پٹواری جو سابق ادوار میں خود کو کوئی خلائی مخلوق سمجھا کرتے تھے اور اپنے ڈیروں اور بنگلون میں بیٹھ کر شاہانہ انداز سے پٹوار چلایا کرتے تھے اب اپنی اصل اوقات میں آکر دفتری اوقات میں سرکاری دفتر میں بیٹھ کر لوگوں کے مسائل حل کرتے ہیں اور رشوت کو شجر ممنوعہ کہتے ہیں موجودہ حکومت نے پولیس کلچر میں بنیادی اصلاحات کی ہیں اور اس سے جس طرح عام انسان کو راحت ملی ہے سابق ایزی لوڈ حکومت نیکی کے پی کے میں بے مثال کار کردگی دکھائی اور اپنی گڈگورننس سے اوج ثریا کو جا لیااور کارگزاری سے ثابت کیا کہ کسی صوبے کا اس طرح سے بھی بیڑہ غرق کیا جا سکتا ہے اور جہاں معیارہی روکڑا (نقد)ہو تو پھر پرانی سرخیاں دھوڈالنے میں کس بات کی دیر تقریبا ایک صدی کا موقف بھی چند ملین ڈالر کی مار ہی نکلا سرخ کو سبز کرنے میں امریکہ کا ایک پھیرا اور چند منٹ ہی لگے بزرگوں کی ارواح بھی حیران ہوکر سوچتی ہوں گی کہ ٹھیک ہے سودا ہوتا ہی بیچنے کے لئے ہے لیکن اتنا سستا کچھ بارگین ہی کر لیتے تو چار چھلڑ(نقد) زیادہ ہی مل جاتے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بے اوقات بندہ بھی سوچتا ہے کہ ضمیر کی بولی روز تو لگتی نہیں پتہ نہیں پھر کبھی بولی لگانے والا ملے نا ملے جو قیمت ملتی ہے تو بیچ ڈالو ضمیر کوئی گائے بھینس تو ہے نہیں جو کوئی بھی خرید لے اصولی موقف اور پرانا موقف اور اٹل موقف محض قیمت بڑھانے کی چالیں ہوتی ہیں سرکاری اداروں بشمول وزیراعلی کے ایزی لوڈ دفتر میں دل و دماغ کو تازہ رکھنے والی بھینی بھینی مہک سے فضا میں مخموری کی کیفیت برقراررہتی ہر کار پرداز سکون سے بیٹھے ہوتے تھیدفتروں میں دھوئیں کے مرغولے اٹھتے دیکھ کر لگتا تھا کہ کچھ ملنگ نما حضرات بابا شاہ گودڑا کے دربار پر حال مست بیٹھے ہیں ریلوے کا تو یہ حال تھا انجن ہانپ اور کانپ رہے ہوتے تھے کہیں دھکا دیکر کسی ٹرین کے آگے لگا بھی دیا جاتا تو تھک کر کہیں کسی جنگل میں لیٹ جاتے کئی مرتبہ راستے میں ڈیزل ختم ہوجاتا کیونکہ یہ ڈیزل راہنماؤں کی بسیں پی جاتیں مفاہمت کے شہنشاہوں نے سرخوں اور اپنے والدین کے پرانے تعلق کو خوب نبھایا اور وہ کچھ بھی دے دیا جو کبھی سنجیدگی سے مانگا ہی نہیں گیا مطالبے محض خود کو زندہ رکھنے کے لئے تھے فوجی قیادت کی تبدیلی کے بعد لوگ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ اب شاید حالات ان کے ڈھب کے ہو گئے ہیں جو محض خام خیالی ہی کہی جاسکتی ہے کہ فوج میں کسی کی انفرادی نہیں بلکہ ادارے کی سوچ ہوتی ہے حکومتی لوگوں کو بھی اگر فوج سے کوئی شکایت ہے تو وہ اس وقت کے سربراہ سے بجا طور پر ہوسکتی ہے لیکن فوج حکومت اور ریاست کے ماتحت ادارہ ہے اور یہ ہر وہ حکم بجالاتا ہے جس کا اس کو حکم دیا جاتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ لے دے کر فوج ہی ایک ایسا ادارہ جو ابھی تک اپنے مینڈیٹ کے مطابق نہ صرف خود درست کام کر رہا ہے بلکہ دیگر تمام اداروں کا دست و بازو بنا ہوا ہے سیلاب ہو انتخابات ہوں کوئی قدرتی یا غیر قدرتی آفت ہو گھوسٹ اسکول ہوں واپڈا ہو اندرونی امن و امان کی صورتحال نہروں کی کھدائی ہو یا دشوار گزارسڑکوں کی تعمیر ہو موٹر وے کا انتظام و انصرام حالانکہ اصولا یہ فوج کے کام نہیں ہیں اور آج کے حالات میں جب ہم نے سی پیک جیساعظیم منصوبہ شروع کیاجس سے انڈیا کو اپنی موت مغربی یورپ کو ہاتھوں سے نکلتا گاہک امریکہ کے خطے میں مفادات کا ضیاع اسرائیل کی سیادت کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں دنیا کی 54 ایجنسیاں ریاست پاکستان سے بر سر پیکار ہیں اپنے پرائے سبھی اس کار شر میں شامل ہیں دوسری جانب وہ تمام عناصر جو تاریخی طور پر ان خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو قیام پاکستان کے شدید مخالف تھے اور قائداعظم کو کافر اعظم قراردیتے تھے لیکن جب پاکستان بن گیا تو یہ لوگ اپنے ناپسندیدہ ملک آ براجے اور پرانی شراب نئی بوتلوں ڈال کر حب وطن کے چورن کے ساتھ بیچنے لگ گئے خاندان کے خاندان اقتدار میں آجانے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے سرکاری حلوے مانڈے وزارتیں مشاورتین چیر مینیاں اورصدارتیں بھی خوئے خباثت نہیں بدل سکیں آج جب ان کے مطابق اپنی خباثت اور اپنے مربیوں کیایجنڈے پر عمل درامد کے لئے حالات سازگارلگنے لگے تو کوئی پارلیمنٹ میں متحرک ہے تو کوئی کسی غدار وطن کی برسی پر اندر کی غلاظت باہر لے آتا ہے کسی کو فاٹا کے عوام کا غم کھائے جارہا ہے کسی کو الگ صوبہ چاہئے لگتا ہے یہ خطہ ان کے ابا جی سسرال سے تحفہ میں لے آئے تھے اگر کل ملا کر پڑھا جائے یہ کسی کی آشیرواد سے متحرک ہو چکے ہیں بظاہر دو انتہاؤں کے موقف رکھنے والے دینی اور بے دینی اپنے پرکھوں کی آتما کی شانتی کی خاطر پھر سے اکٹھے ہوگئے ہیں اور ہدف وہی جو ان کے پرکھ انہیں دے گئے تھے لیکن وہ بھول رہے ہیں تو یاد دہانی کروادیں کہ یہ ملک پاکستان بے شمار قربانیوں اور آپ کے پرکھوں کی مخالفت کے باوجود بن گیا ہے تو اللہ کے نام پر بننے والا ملک تا ابد قائم رہنے کے لئے بنا ہے آپ کی درفنطنیاں محض میاں صاحب کی ذات کی مرہون منت ہیں آپ کی حیثیت کل بھی صفر تھی آج بھی صفر اور کل بھی صفر ہی رہے گی حلوے مانڈے تمتع فرمائیے نہ جانے کب تک اللہ منہ کالا فرمائے ان کا جو جس ڈال پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹنے کی کوشش میں ہیں اللہ انہین دنیا اور اخرت میں رسوا کرے گا اللہ اس وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے آمین۔
****

Google Analytics Alternative