کالم

عید قرباں

عالم اسلام کے موضوعی حالات میں ، اپنے جلو میں ہزاروں سوچیں، صدہا فکریں ، بے انتہا کرب لیکر عیدالاضحی پھر آگئی۔تا قیامت وقت کی گردش جاری رہے گی ۔ مسرور ایام دوڑتا رہے گا ، صبح و شام اپنا سفر مکمل کرتے رہیں گے اور وقت گزرتارہے گا ۔
 وقت گزراں ہے کسی طورگزر جائے گا
 تہوار اور رتیں اسی طرح آتے رہیںگے لیکن ہر بار نئے انداز ،نئے طور اور نئی طرح سے حالات و واقعات ، حادثات احساس کو نیازاویہ ، فکر کو نیا وزن اور خیال کو ایک نئی جہت عطا کرتے رہیں گے۔ عید قرباں ایک اشاریہ ہے اللہ سے محبت کا، اس کیلئے ہر چیز کو تجنے کا اور اس کی راہ میں عزیز ترین شے کو قربان کرنے کا، قربانی ایک جذبہ صادقہ ہے اور یہی جذبہ ہے جس کے تحت کائنات کا یہ نظام رواں دواں ہے ۔ وطن عزیز کی بنیادوں میں بھی قربانیوں کی ایک طویل داستان رقم ہے ۔ ہمارے ہاںہر آنے والی حکومت غریب عوام سے قربانیوں کی طلبگار رہی اور لاچار عوام کو مسلسل یاد دلاتی آرہی ہے کہ قربانی دیں اپنے لئے ، قوم کیلئے لیکن اکابرین اقتدار نے خود ہمیشہ غریب عوام کیلئے قربانی دینے سے گریزاں رہنے کی پالیسی ہی اپنائی ، برعکس ان کے قوم نے کبھی ان اکابرین اقتدار کو مایوس نہیں کیا ۔ موجودہ دور میں بھی بعض حکمرانوں اور سیاسی زعما نے اپنی قوم کو ، اپنے قبیلے اور کمیونٹی کو قربانی کی بھینٹ چڑھایا اورقوم کو ناکردہ جرم کی پاداش میں قربانی کا بکرا بننا پڑا ۔ ایسی قربانیاں قوم کیلئے تباہی و آفت کا سبب بنتی ہیں ۔ اپنے سماج کا مشاہدہ کریں ہر فرد دوسرے فرد کو ہی قربانی کا درس دیتا نظر آئے گا لیکن خود قربانی کیلئے ہرگز آمادہ نہیں۔ مولانا حضرات مساجد اور جلسوں میں آقا اور اہلبیت و صحابہ کی ناموس پر قربانی کیلئے ہمہ وقت تیار لیکن جب کہا جائے کہ آپ اپنی اس تقریر کو ہی آپ پر نچھاور کردیں اور اس کا معاوضہ نہ لیں تو ہرگز تیارنہیں۔ حالیہ بلدیاتی الیکشن میں ایک امیدوار کا سپورٹر اپنے امیدار پر کڑا وقت آنے کی صورت میں اپنے بچے قربان کردینے کا تذکرہ جذبات کی رو میں بہہ کر رہا تھا لیکن جب راقم نے اسے کہا کہ محترم آپ اپنے امیدوار کا صرف ایک دن کے خرچ بمعہ مٹھائی کے قربان کردیں ، اپنے بچوں کی قربانی رہنے دیں تو پھر ان کی ساری جذباتی روانی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی ، بات کدھر چلی گئی تو قارئین رہنما قربانی دیتے ہیں قوم کیلئے ، والدین قربانی دیتے ہیں اولاد کیلئے ، بھائی بہن ، رشتے دار ، دوست احباب ، الغرض تمام رشتوں کے قائم و دائم رہنے کی بنیاد اور ان میں استحکام و پائیداری جذبہ قربانی پر ہی منحصر ہے ۔ فلسطینی اور کشمیری عوام اپنی آزادی کیلئے کئی دہائیوں سے مسلسل قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کی نئی لہر کو جاری و ساری ہوئے دو ماہ کے قریب ہوچکے ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام 64 ارب کا معاشی خسارہ برداشت کرچکے ہیں ۔ مقبوضہ وادی میں خوراک ، ادویات اور ایندھن کی شدید کمی ہے، بچوں کیلئے دودھ ناپید ہے، سوسے زائد افراد کو شہید کیا جاچکا ہے ، سات ہزار سے زائد مکانات کو منہدم کردیا گیا ہے، ایک ہزار سے زائد افراد نابینا ہوچکے ہیں۔18 لاکھ سے زائد پیلٹ گن کے چھرے فائر کیے جاچکے ہیں۔ کشمیریوں کی قربانیوں کی ایک طویل تاریخ رقم ہورہی ہے۔ اس بار عیدقربان نے مسلمانوں پر فکر کے کتنے دریچے واکردئیے ہیں۔ اس موقع پر انفرادی اور اجتماعی سطح پر اُمت کو بہت کچھ سوچنا ہے، عمل کی ایک راہ متعین کرنی ہے۔ مسلمان تمام ذرائع کے حامل ہونے کے باوجود جس حالت سے گزر رہے ہیں،عید قربان ہمارے لئے پھر اخوت کا، اللہ کی رضا کے حصول کا اور قربانی کا پیغام لیکر آتی ہے ۔ کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ عالم اسلام اس نئے اسلامی سال میں حکمت عملی کی ایک نئی جہت اپنائے ۔ اپنا تاج و تخت اور اقتدار بچانے کیلئے مسلمان بادشاہ اور حاکم کس کس کا دامن تھامے ہوتے ہیں، صاحبان خیر کو سب اندازہ ہے لیکن بدلتے ہوئے زمانے میں وہر کی اس صدی میں اب کسی اور سہارے اقتدار قائم رکھنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ آج عام آدمی جاگ چکا ہے ۔ ذرائع ابلاغ نے دنیا کے کونے کونے کو حالات حاضرہ سے آگاہی بخش دی ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان صاحبان اقتدار و اختیار اپنے عوام کے بارے میں سوچیں ۔ یہی سوچ ان کی قربانی ہوگی اور عوام کی فلاح کیلئے اٹھایا جانے والا ان کا ہر قدم ایثار ہوگا اور یہ قربانی اور ایثار دراصل ان کے اقتدار کیلئے نیک فال ہوگا ۔ شخصی حکومتیں ، خاندانی بادشاہتیں اب زیادہ چلنے والی نہیں ہیں، سازشوں اورحکمت عملیوں کی بنا پر اقتدار کو کسی حدتک طول دیا جاسکتا ہے لیکن بغیر جذبہ قربانی کے دلوں پر حکومت نہیں کی جاسکتی ۔ آج عید قرباں پکار پکار کر جذبہ قربانی کا اعادہ چاہتی ہے ۔ صاحبان اقتدار سے بھی اور عوام سے بھی ، مسلم امہ کو بہتر سنجیدگی سے سوچناہے کہ آج مسلمان ہونا ”جرم“ کیوں قرار دیا جا رہا ہے ؟ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ مغرب کے بہت سے ملکوں میں عام مسلمان خود کو ظاہر کرنے میں ایک طرح کاہر اس محسوس کرتا ہے ۔ دہشت گردی ، بغاوت، شدت پسندی ، وحشت انگیزی ، ہر ناپسندیدہ عمل مسلمان سے وابستہ کردیا گیا ہے آخر کیوں؟ غالباً ہم نے اللہ کی رضا کو پس پشت ڈال دیا ہے اور قربانی کے اس جذبے کو فراموش کردیا ہے جس نے مسلمانوں کو عالم کی سروری عطا کی تھی ۔ جو قومیں اپنے وجود، قومی تشخص اور ملی سربلندی کیلئے قربانی دیتی ہیں وہی عالم میں سرفراز ہوتی ہیں۔ تاریخ ایسی قوموں کے تذکرے سے پروقار بھی ہے اور سبق دہندہ بھی ۔ عید قرباں مسلم اُمہ کو ایثار اور قربانی کا یہ سبق پھر حرز جاں بنانا ہے اور عہدکرنا ہے کہ نفس امارہ کی قربانی دے
کر ثابت کیا جائے گا کہ امت مسلمہ آج بھی ایثار و قربانی سے تہی نہیں ہے۔
 عید قرباں پر کریں یہ عہد ہم
 خیر کی اب ہوگی ارزانی بہت
 اور دنیا سے کہیں ملت میں ہے
 جذبہ ایثار وقربانی بہت
 ہم ایثار و قربانی کے جذبے کے خالق اس معبود برحق سے عالم اسلام کیلئے خیر کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضرت ابراہیمؑ کو ان کی قربانی قبول کرکے سرخرو کیا ۔ مسلم اُمہ کو ان کی قربانیوں کاصلہ عطا فرمائے ۔ تیرے نام لیوا اس کرہ ارض کے مختلف خطوں ، عالم انسانیت کی سرفرازی کیلئے جو قربانیاں دے رہے ہیں انہیں شرف قبولیت عطا فرمائے ۔ کاش اگلی عید قرباں مسلمانوں کیلئے خیر و امن و آشتی ، سرفرازی اورسرخروئی کا پیغام لائے ، تیری رحمت سے توکچھ بھی بعید نہیں۔

ایک بلند کردار میرِ کارواں!

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا( علامہ اقبالؒ)
تاریخ شاہد ہے کہ کسی قوم کے کارہائے نمایاں کے پس منظر میں جہاں افراد کے ذاتی اوصاف، افکار کی پاکیزگی، عزم و ہمت کا تسلسل او ر نصب العین کے حصول کے لئے سچی لگن کا کارفرما ہونا ضروری ہے، وہاں ایک ایسے رہبر کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جو نہ صرف اعلیٰ خوبیوں کا مالک ہو بلکہ اپنے قافلہ میں شامل تمام افراد کی قوت کو یکجا کرنے ، اس سے کام لینے اور اسے درست سمت میں رواں دواں رکھ کر منزلِ مقصود سے ہمکنار کرنے کا جوہر بھی رکھتا ہو۔ بلا شبہ قائد اعظم محمدعلی جناح برِ صغیر کے مسلمانوں کے ایک ایسے رہنما تھے، جنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسے جوہر عطا کر رکھے تھے جن سے کام لے کر انہوں نے برصغیر کے 10کروڑ مسلمانوں کی ،جو غلامانہ زندگی بسر کر رہے تھے ، ثابت قدمی اور اولوالعزمی کے ساتھ قیادت کی ۔علامہ اقبال ؒنے برِ صغیرکے مسلمانوں کی غلامی کی زنجیروں کو پاش پاش کرنے کے لئے جہاں مسلمانوں کے حقوق کی محافظ ”آل انڈیا مسلم لیگ“ کی قیادت کا تاج قائد اعظم محمد علی جناح ؒکے ماتھے پر سجانے کا عندیہ دیا وہاں ان کے کردار کی خصوصیات کی نشاندہی بھی کی”1936ءمیں ایک روز علامہ اقبال کے ہاں قائد اعظم محمد علی جناح ؒکی دیانت، امانت اور قابلیت کا ذکر ہو رہا تھا تو آپ نے فرمایا ”مسٹر جناح کو خدا تعالیٰ نے ایک ایسی خوبی عطاکی ہے جو آج ہندوستان میں کسی مسلمان میں مجھے نظر نہیں آتی“۔ حاضرین میں سے کسی نے پوچھا وہ خوبی کیا ہے؟ آپ نے انگریز ی میں جواب دیا
 “He is incorruptible and un-purchasable”. (نہ تو وہ بد عنوان ہیں اور نہ انہیں خریدا جاسکتا ہے) ۔ علامہ اقبالؒ نے اس مختصر جملے میں ©”دریا کو کُوزے میں بند کرنے“ کے مصداق ،قائد اعظم کی سیرت و کردار کی اس طرح توصیف کی ہے جو کسی شخصیت کی خوبیوں پر مشتمل ہزاروں صفحات پر مبنی کتاب سے زیادہ بھاری اور بامقصد محسوس ہوتا ہے۔ جب قائد اعظم محمد علی جناح ؒ دوبارہ انگلستان چلے گئے تو علامہ اقبال ؒنے انہیں وطن واپس آنے اور ”مسلم لیگ “ کی قیادت سنبھالنے کے لئے اپنے مکتوب میں لکھا کہ” ہندوستان میں صرف آپ ہی ایک ایسے مسلمان ہیں جو اپنی قوم کو اس طوفان سے بچا سکتے ہیں ،جو شمال مغربی علاقے او ر شاید سارے ہندوستان پر ٹوٹنے والا ہے۔ اس لئے قوم کو حق حاصل ہے کہ وہ آپ کی رہنمائی کی اُمید رکھے ۔
نگاہ بلند سخن دلنواز جان پُر سوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کےلئے
 علامہ اقبال ؒکے اس ولولہ انگیز شعر پر قائد اعظم محمدعلی جناح کی شخصیت کی مناسبت سے غور کیا جائے تو نہ صرف یہ حرف بحرف قائد اعظم کی شخصیت پر صادق آتا ہے بلکہ اس کی مکمل تشریح ذہن و دل میں اُجاگر ہوجاتی ہے ۔ اچھے حالات ، خوشگوار لمحات اور فتح و کامرانی کے بعد اقتدار کے سنگھاسن پر برا جمان ہو کر ہر کوئی قوم کا ناخدا بننے کا دعوے دار ہوتا ہے لیکن جب آزادی کی بات کرنا کانٹوں پر چلنے کے مترادف ہو….جب حق و صداقت کا ساتھ دینا جان کی بازی لگاناہو….جب مکرو فریب کے خلاف سینہ سپر ہو کر، علم آزادی بلند کرنا جیتے جی موت کو دعوت دینے کے مساوی ہو…. جب پوری قوم غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہو تو ایسے وقت میں قوم کی قیادت کی باگ ڈور سنبھالنا گویا سر پر کفن باندھنے کے مترادف ہوتا ہے۔ جب برصغیر کے مسلمانوں کی کشتی گرداب میں گری ہوئی تھی، طوفانوں اور آندھیوں سے نبرد آزماہو کر اسے ساحل مراد تک پہنچانے کا فریضہ ادا کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ کوئی معمولی قوتِ ارادی کا مالک انسان ایسا عظےم کارنامہ سر انجام نہےں دے سکتاتھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ایسے گھمبیر حالات میں مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی ۔اُس وقت مسلم لیگ برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی، معاشی، معاشرتی اور مذہبی حقوق و مفادا ت کے تحفظ کا فریضہ ادا کرنے کیلئے اپنے کٹھن سفر کا آغاز کر چکی تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒکی قیادت میں ”مسلم لیگ “ نے جوں جوں آزادی کے بلند نصب العین کی طرف بڑھنا شروع کیا توں توں مخالفت کی آندھیوں اور طوفانوں میں شدت آتی گئی تاکہ مسلم لیگ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر کے نہ صرف اسکی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو روکا جاسکے بلکہ اسے برصغیر کے مسلمانوں کے مقدر کا فیصلہ کرنے اور انہیں آزادی کی منزل مقصود پر پہنچانے کے پختہ عزم سے برگشتہ کیا جاسکے۔ ایسے وقت میں جب انگریز حکمران اپنی حکمرانی کی قوت سے ،ہندو اپنی عدد ی برتری اور انگریز حکمرانوںکی کا سہ لیسی کی طاقت کے بل بوتے پر اور کچھ مسلمان ان دونوں کی فریب کاری کا شکار ہو کر ”قائد اعظم محمد علی جناحؒ“ کے عزم و ہمت کے سفر میں رکاوٹوں پر رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے ….قائد اعظم محمد علی جناح نے ”مسلم لیگ“ کی شمع کو ایک باشعور ، باکردار ، باوقار ، باہمت ، باوفا، خوددار، صداقت پسند، نفاست اور عزم و ہمت کا پیکر بن کر اپنے خون ِ جگر سے ایسی تابندگی بخشی جس کی چمک دمک سے مخالفین کی نگاہیں بے نور ہو گئیں اور قافلہ ¿ حریت کے مسافروں کی نظر یںجگمگانے لگیں…. قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے مشکل ترین حالات میں اپنی خداداد صلاحیتوں کو عمل میں لا کر غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے مسلمانوں کو ایک نیا عزم و حوصلہ بخشتے ہوئے ان کے سینوں میں اتحاد و اتفاق کی ایک سچی تڑپ پیدا کردی۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے برِ صغیر کے منتشر مسلمانوں کو ”مسلم لیگ“ کے پرچم تلے اس طرح متحد و منظم کر دیا کہ برصغیر کے کونے کونے سے ”لے کے رہیں گے پاکستان “ …….. ”بن کے رہے گا پاکستان“ ……..”پاکستان کا مطلب کیا ؟لا الہ الا اللہ “ کے رُوح پرور نعرے بلند ہونے لگے۔قائد اعظم نے 1945ءمیں فرنٹیئر” مسلم لیگ کنونشن“ میں قیام پاکستان کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے فرمایا! ”مسلمان پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ خود اپنے ضابطہ حیات، اپنے تہذیبی ارتقائ، اپنی روایات اور اسلامی قانون کے مطابق حکمرانی کر سکیں“۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے ایک ”بلندکردا ر میرِ کارواں“ کی حیثیت سے انتہائی روح فرسا حالات کا انتہائی بے جگری اور اعلیٰ حکمتِ عملی سے مقابلہ کر کے ،قیامِ پاکستان کے تمام مخالفین کے حربوں کو خاک میں ملاتے ہوئے نہ صرف نا ممکن کو ممکن کر دیا بلکہ پوری دنیا کو انگشت بد نداں کر دیا اور 14اگست1947ءکو برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کی نعمت سے سرفراز کیا۔ بلا شبہ پاکستان کا قیام قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کا ایک عظےم ملی اور تاریخی کارنامہ تھا ۔یہ کارنامہ سر کرنے کے بعد انہوں نے فرمایا!” پاکستان کا قیام تاریخ عالم کا ایک اہم ترین واقعہ ہے۔ ہم نے جو مملکت قائم کی ہے اس کی آزادی ، اس کی ترقی اور اس کے استحکام کو وحشت و بربریت کے واقعات متزلزل نہیں کر سکتے۔ پاکستان ایک روشن حقیقت ہے۔ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ ہم اس عظےم مملکت کے مسائل کو آئین و ضبط ، صبر و تحمل اور عدل و انصاف سے حل کریں گے۔ ہم اس آزاد اور خود مختار مملکت کو دنیا کی عظےم ترین ترقی یافتہ مملکت بنا دیں گے“۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے قوم کے ایک دیدہ ور رہنما کی حیثیت سے ایمان، اتحاد اور تنظیم کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ،برصغیر کے مسلمانوں کو غلامی کے اندھیروں سے نجات دلا کر انہیں آزادی کی روشنی سے منور کیا۔قائد اعظم محمد علی جناحؒ پاکستان کو جمہوری ، خوشحال، فلاحی اور دنیا کی اقوام میں ایک مضبوط اسلامی ریاست بنانے کے آرزو مند تھے۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان دنیا کی ساتویں اور عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی اور میزائل سازی کی صلاحیت رکھنے والی ریاست ہے۔ آج پاکستان کی دفاعی سرحدیں قائد اعظم کی تمنا ¶ں کے مطابق ،سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانندمضبوط و مستحکم ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی نمایاں ترقی کی ہے ، با ایں ہمہ آزادی کی نعمت سے مستفید ہونے کے 70برس گزرنے کے باوجود پاکستان کا اندرونی نظام کما حقہ‘ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی تمنا ¶ں کے مطابق ڈھالا نہیں جاسکا۔قائد اعظم کی برسی مناتے ہوئے جہاں پوری پاکستانی قوم، بانی ¿پاکستان کو خراجِ عقید ت پیش کرتی ہے وہاں” من حیث الملت“ ہمیں اپنے آپ سے بھی یہ پوچھنا چاہیے کہ جن مقاصد کی تکمیل کے لئے پاکستان کے حصول کی خاطر ،قائد اعظم کی باکردار شخصیت کی قیادت میں، ہمارے آبا ¶ اجداد نے جدوجہد کی تھی کیا ہم انہیں عملی جامہ پہنا چکے ہیں؟ ہمیں اس امر پر بھی غور و فکر کرنی چاہیے کہ پاکستان کا نظام زندگی قائد اعظم ؒ کے افکار ِ عالیہ کی روشنی میں منظم کرنے میں کون کون سی دشواریاں ہیں؟ بانی پاکستان کی یادمنانے کے موقع پر ہمیں اپنی کامیابیوں اور ترقی کی منازل طے کرنے پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہوئے اپنی ناکامیوں پر غور و فکر کرتے ہوئے اپنی کوتاہیوں اور خامیوں کو دور کرنے کا عہد بھی کرنا چاہیے۔قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے”قیا م پا کستان “کی خا طر اپنی پو ر ی زند گی کی تما م تر تو انائیاں وقف کر تے ہو ئے ،اپنا عظیم قو می اور ملی فر یضہ ادا کر نے کے بعد 11ستمبر 1948ءکو اس جہا ں فا نی سے کو چ کر گے۔ بانی ¿ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی یا د منانے ان کے ملی اور تارےخی کارناموں کو خراجِ عقید ت پیش کرنے کا بہترین اندا ز یہ ہے کہ ہم بانی پاکستان کے افکار ایمان، اتحاد اور تنظیم کو مشعلِ راہ بنا کر مملکتِ خداداد کو اہلِ پاکستان کیلئے امن ، سلامتی ، ترقی ، خوشحالی اور عدل و انصاف کا گہوارہ اور پوری دنیا کیلئے ایک ماڈل ریاست بنانے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے میاں محمد نواز شریف کو یہ موقع عطا کیا ہے کہ وہ ”علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒاور قائد اعظم محمد علی جناح ؒکے افکار ِ عالیہ کی روشنی میں نا صرف پاکستان کے دفاع کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی عملی جدوجہد کریں بلکہ اہلِ پاکستان کے مسائل حل کر کے انہیں پُر امن ، خوش حال اور باوقار زندگی گزارنے کے قابل بنا کر ان کی دعائیں ، تعاون ، ہمدردیاں حاصل کر یں اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے پھولوں سے اپنا دامن لبریز کریں۔ بقول شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدرکا ستارہ

دہشت گردی کے خلاف کومبنگ آپریشن وقت کی ضرورت

پنجاب ، بلوچستان سرحد پر کومبنگ آپریشن کے نتیجہ میں 8 دہشت گرد مارے گئے جبکہ ایک اہلکار نے جام شہادت نوش کیا ۔ سیکورٹی فورسز نے راجن پور کے علاقے بالگیاں، گند باری اورپڑکری میں انسانیت کے دشمنوں کو نشانہ بنایا اس آپریشن میں بھاری اور جدید خودکار ہتھیار استعمال کیے گئے اور ہیلی کاپٹر سے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے اس آپرینش میں درجنوں دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پنجاب میں آپریشن کے شروع ہوتے ہی دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے اوسان خطا ہوگئے اور وہ انتہائی ذہنی کوفت کا شکاردکھائی دیتے ہیں۔ کاش نیشنل ایکشن پروگرام پر کماحقہ عمل درآمد کیا جاتا تو آج ملک بھر سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوچکا ہوتا لیکن ہماری سیاسی مصلحت پسندی نے اس میں بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا حالانکہ عسکری قیادت ایک تواتر سے ملک بھر میں بلا امتیاز آپریشن پر زور دیتی آرہی ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے نتیجہ میں اب تک سینکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے اور ان کے ٹھکانے بھی تباہ کیے جاچکے ہیں کئی علاقے ان کے تسلط سے واگزار کروائے جاچکے ہیں ۔ پاک فوج کی قربانیوں کے صلے میں امن کی فضا واپس لوٹتی دکھائی دینے لگی ہے۔ نیشنل ایکشن پروگرام پر اس کی روح کے مطابق عمل نہ کیا گیا تو ملک بھر سے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو پائے گا ۔ پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی سے دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کو روکا جاسکے گا ۔ دہشت گرد اور ان کے سہولت کار کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ۔ اسلام امن کا دین ہے اور سلامتی کی تعلیم دیتا یہ کیسے طالبان ہیں جو دھماکوں اور خودکش حملوں سے انسانیت کو بے جرم و بے خطا مارے جارہے ہیں ۔ اسلام ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرا ردیتا ہے اور یہ اسلام کی ہی تعلیم ہے جس نے اقلیتوں کو بھی تحفظ دینے کا درس دیا ہے۔ پاک فوج کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف دن رات لڑ رہی ہے اور ان کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کررہی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کا کردار قابل صد تعریف ہے اور دنیا کیلئے قابل تقلید بھی ہے۔ دہشت گردی میں پڑوسی ملک بھارت کا ہاتھ ہے جو ”را“ کے ذریعے پاکستان کے اندر عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کررہا ہے ۔ پاکستان کئی بار عالمی برادری کی توجہ اس طرف مبذول کرواچکا ہے لیکن کوئی ٹس سے مس نہ ہوا جو لمحہ فکریہ ہے پاک فوج کسی بھی اندرونی و بیرونی سازش کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اس کی نظر سرحدوں کے علاوہ ہر سو ہے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے یہ پرعزم ہے اور عوام اس کی قربانیوں پر رشک کررہی ہے اور وہ ان قربانیوں کو کبھی بھی فراموش نہ کرپائے گی۔ کومبنگ آپریشن کے نتائج سامنے آنے شروع ہوگئے ہیں اس کے اہداف پورے کرکے ہی ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔ ملک بھر میں آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جاسکتا ہے ۔ پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف جو جنگ لڑ رہا ہے اس میں اسے کافی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن اس کی عسکری و سیاسی قیادت نے یہ تہیہ کررکھا ہے کہ جب تک دہشت گردی کا ناسور پاک سرزمین سے ختم نہیں ہوتا اس وقت تک جنگ جاری رہے گی۔کومبنگ آپریشن وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے اس کے ذریعہ مطلوبہ مقاصد اور اہداف پورے ہو پائیں گے۔
 نادرا اہلکاروں کیخلاف کریک ڈاﺅن
 وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے حکم پر جعلی شناختی کارڈز کے اجراءمیں ملوث نادرا ملازمین کے خلاف کریک ڈاﺅن کے نتیجہ میں 18 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان میں سے 8 کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ دس ملازمین کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں ۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ نادرا کو جعل سازوں اور پاکستان کی شہریت بیچنے والوں سے پاک کردیا جائے گا اور اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ یا سفارش قبول نہیں کی جائے گی۔ یہ انتہائی حساس اور قومی سلامتی کا مسئلہ ہے اس میں عوام اور میڈیا کی معاونت کا شکر گزار ہوں انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قانونی دباﺅ کے تحت 1700 افراد نے رضا کارانہ طورپر اپنے جعلی کارڈ واپس کیے اس سے پہلے اس قسم کی کوئی مثال نہیں اس عمل کو 6ماہ سے پہلے مکمل کرلیا جائے گا ۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بجا فرمایا یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے اور اس پر کسی قسم کی رو رعایت نہیں ہونی چاہیے ۔ جعلی شناختی کارڈ کی روک تھام کیلئے وزارت داخلہ نے جو اقدام اٹھایا ہے لائق تحسین ہے اس سے جہاں جعل سازی رکے گی وہاں دیگر قباحتیں بھی دم توڑیں گی۔ جعلی شناختی کارڈز کی بھرمار نے حکومت کیلئے مسائل پیدا کردئیے ہیں افغانیوں نے تو دھڑا دھڑ اس بہتی گنگا سے ہاتھ دھوئے نادرا کو کرپٹ اہلکاروں سے چھٹکارا دلوا کر ہی اس ادارے کی تطہیر کی جاسکتی ہے ۔ جعلی شناختی کے ذریعے پاکستان کی ساکھ اوروقار کو دھچکا لگا جس کا ازالہ اسی طرح ممکن ہے کہ بدعنوان اہلکاروں کو قانونی شکنجے میں لایا جائے اور ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ اس مکروہ دھندے کی روک تھام ممکن ہو ۔ چوہدری نثار مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے نادرا کو کرپٹ اہلکاروں سے پاک کرنے کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔
 الطاف حسین کیخلاف ریفرنس
 برطانوی حکومت نے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کے خلاف پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس کا باضابطہ جواب دے دیا جس میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین کے خلاف ریفرنس میٹروپولیٹن پولیس اسکاٹ لینڈ یارڈ کو بھیج دیا گی ہے مزید ضرورت پڑی تو پاکستان سے رابطہ کیا جائے گا ۔برطانوی حکومتکا جوابی مراسلہ اس امر کا عکاس ہے کہ برطانوی حکومت پاکستان کی طرف سے بجھوائے گئے ریفرنس پر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔ الطاف حسین نے جس ہرزہ سرائی کا مظاہرہ کیا قابل گرفت ہے اس کے خلاف انضباطی کارروائی عمل میں لاکر ہی انصاف کے تقاضے پورے کیے جاسکتے ہیں ۔ پاکستان مخالف نعرہ نہ صرف قابل برداشت ہے بلکہ قابل جرم بھی حکومت اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچا کر ہی اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوسکتی ہے الطاف حسین کی حب الوطنی کا پول کھل چکا ہے اس غدار کے خلاف سخت کارروائی کرکے اس کو عبرت کا نشان بنانے کی ضرورت ہے ۔ برطانوی حکومت پاکستان سے اس ضمن میں ہر ممکن تعاون کرے ۔ جو جماعت صحت مندانہ سرگرمیاں سے عاری ہو اس کیخلاف کارروائی ضروری ہوا کرتی ہے ۔ ایم کیو ایم کے بانی نے جس ہرزہ سرائی کا مظاہرہ کیا اس پر پوری قوم سراپا احتجاج ہے اور اس کی یاوہ گوئی پر ماتم کناں ہے ۔ الطاف کی اس طرح کی کارروائیاں اس کا معمول بن چکی ہیں ان کو لگام دینا ضروری ہے۔ پاکستان کی طرف سے بھیجا گیا ریفرنس پر برطانوی حکومت ایکشن لے اور چھان بین کے بعد ضروری کارروائی عمل میں لائے۔ الطاف چونکہ برطانوی شہریت کا حامل ہے اس لئے برطانوی حکومت کو اس کیخلاف ایکشن لینا چاہیے ۔اگر اس ضمن میں برطانوی حکومت نے کوئی کارروائی نہ کی تو یہ پاکستان کیلئے باعث تشویش ہوگی۔

گیارہ ستمبر اور میڈیا

سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے کہ ایک قومی اخبار نے گیارہ ستمبر کوبابائے قوم کا یوم پیدائش قرار دے دیا ۔ اب میرا دکھ یہ ہے کہ میڈیا نے صرف بابائے قوم کے یوم وفات کو ان کا یوم پیدائش قرار دینے کی غلطی نہیں کی بلکہ اس نے فہم قائد کے حوالے سے بھی ایسا ہی طوفان اٹھا رکھا ہے۔بابائے قوم کی یوم وفات ہو یا یوم پیدائس ان کی فکر کے حوالے سے ہر دو ایام پر احباب مضامین باندھتے ہیں اور موضوع سخن ہوتا ہے گیارہ اگست کا خطاب۔
 اک شور مچتاہے: دیکھیے صاحب ! قائد اعظم تو سیکولر پاکستان چاہتے تھے۔۔۔۔شور سے مجھے اقبال یاد آ گئے ۔روایت ہے جب آ غا حشر کاشمیری لاہور میں پہلی دفعہ آئے تو یہاں کی بزم ادب نے استقبالیہ مجلس منعقد کی۔وقت مقررہ پر حاضرین نے شور مچانا شروع کر دیا ” آغا حشر کو بلاﺅ “ ۔اقبال بھی اس محفل میں موجود تھے۔اٹھے اور فی البدیہہ یہ شعر پڑھ دیا:
” شور ایسا ہے قصابوں کی ہو جیسے بارات
آ ئیے لاہور کی یہ بزم ما تم دیکھیے“
خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم، میں یہ دعوت تو نہیں دے سکتا کہ آئیے لاہور کی یہ بزم ماتم دیکھیے لیکن شور ایسا ہی ہے قصابوں کی ہو جیسے بارات۔” گیارہ اگست کی تقریر ، سیکولرزم سیکولرزم، ہائے سیکولرزم وائے سیکولرزم “ ۔تو جناب سوال یہ ہے کہ گیارہ اگست کی تقریر میں سیکولرزم کہاں سے آ گیا؟ ذرا سمجھا دیجیے، غالب کے الفاظ مستعار لوں تو ”حضرت ناصح گر آئیں،دیدہ و دل فرش راہ “
یہ بنیادی بات گذشتہ کالموں میں بیان کی جا چکی ہے کہ ریاست کی نظری شناخت کا تعین اس بات سے نہیں ہو گا کہ قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے۔علم کی دنیا میں یہ دلیل اجنبی ہے۔پاکستان کی فکری شناخت کے تعین کی دو صورتیں ہیں۔ اول مذہبی بیانیہ، اس میں حتمی فیصلہ قرآن و سنت کا ہے کسی اور شخصیت کا جتنا بھی احترام ہو اس کی رائے کو دینی احکامات پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔دوم: سیکولر بیانیہ ،اس میںصرف عوام الناس فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے کس شناخت کے ساتھ زندگی گزارنا ہے ۔اس میں پارلیمان اگر اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیتی ہے تو پھر کوئی شخصی رائے اسے سیکولر نہیں بنا سکتی۔پاکستان کی فکری شناخت کے باب میں حجت بنائے بغیر البتہ قائد کی فکر کا مطالعہ ہونا چاہیے کہ وہ کس رجحان کے آدمی تھے۔
اب آئیے گیارہ اگست کی تقریر کی جانب۔دو سوال بہت اہم ہیں۔اول، کیا اس تقریر سے اس تاویل کی کوئی گنجائش نکلتی ہے کہ قائد اعظم سیکولر پاکستان چاہتے تھے؟۔دوم،کیا قائد شناسی کے باب میں ہم مجبور ہیں کہ صرف گیارہ اگست کی تقریر کو دیکھیں ؟کیا یہ قائد اعظم کا واحد دستیاب خطاب ہے اور ان کی فکر سے آ گہی اور ریاست کی نظریاتی شناخت کے تعین کا واحد ذریعہ ہے؟
پہلے سوال کے جواب میں ہم گیارہ اگست کو دستور ساز اسمبلی سے قائد اعظم کے خطاب کے متعلقہ اقتباسات دیکھتے ہیں۔قائد نے فرمایا: ” آپ آزاد ہیں۔آپ اس معاملے میں آزاد ہیں کہ ریاست پاکستان میں آپ مندر مسجد یا کسی بھی عبادت گاہ میں جائیں۔ریاست کے معاملات سے اس بات کا کوئی تعلق نہیں کہ آپ کس مذہب ،ذات یا نسل سے تعلق رکھتے ہیں “۔
” آپ دیکھیں گے کہ عنقریب یہاں نہ ہندو ہندو رہیں گے اور نہ مسلمان مسلمان۔دین کے اعتبار سے نہیں ،اس لیے کہ وہ ہر شخص کا انفرادی عقیدہ ہے بلکہ سیاسی مفہوم میں، ریاست کے شہریوں کی حیثیت سے “
یہ اہم ترین دو اقتباسات ہیں جن کی بنیاد پر سیکولرزم کا مقدمہ کھڑا کیا جاتا ہے۔ان اقتباسات میں سے سیکولرزم برآمد کرنے والے حضرات کا یا تو فہم اسلام ناقص ہے یا وہ فکری دیانت سے کام نہیں لیتے۔ان حضرات کے نزدیک کیا اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ ہندوﺅں کو اپنے مندروں میں جانے کی اجازت نہ دی جائے؟ اسلام کب یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اسلامی ریاست میں موجود غیر مسلموں کو رسوا کر دیا جائے ؟انہیں مندروں اور گرجوں میں جانے سے روک دیا جائے اور شعبہ ہائے زندگی کے دروازے ان پر بند کر دیے جائیں؟ہم جانتے ہیں کہ اسلامی ریاست میں اقلیتوں کا تعین دو طرح سے ہوتا ہے ۔ایک وہ غیر مسلم جو جنگ کے بعد مفتوح کی حیثیت سے ریاست کے شہری بنے ہوں۔ انہیں ذمی کہا جاتا ہے۔دوسرے وہ غیر مسلم جو کسی معاہدے کے نتیجے میں ریاست کے شہری بنے ہوں۔انہیں معاہد کہتے ہیں۔انہیں مسلم شہریوں کے برابر حقوق حاصل ہوتے ہیں۔پاکستان کے غیر مسلم ذمی نہیں ۔ان کی حیثیت معاہد کی ہے۔انہیں اسلام وہ تمام حق دیتا ہے جن کا ذکر قائد اعظم نے اپنی تقریر میں کیا۔اس بات کو میثاق مدینہ سے سمجھا جا سکتا ہے۔میثاق مدینہ وہ معاہدہ تھا جو رسالت مآب ﷺ نے مدینہ کی ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے یہودی قبائل کے ساتھ کیا۔اس معاہدے میں لکھا گیا کہ تمام تنازعات میں فیصلہ کن حیثیت اللہ اور اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہو گی۔اور بنی عوف کے یہود سیاسی حیثیت میں مسلمانوں کے ساتھ ایک امت تسلیم کیے جائیں گے۔رہا دین کا معاملہ تو یہودی اپنے دین پر رہیں گے اور مسلمان اور ان کے موالی اپنے دین پر۔میثاق مدینہ کے ان نکات کی روشنی میں اب قائد اعظم کے گیارہ اگست کے خطاب کو دیکھیے۔میثاق مدینہ نے بنی عوف کے یہودیوں کو سیاسی اعتبار سے امت تسلیم کیا اور قائد اعظم کہہ رہے ہیں کہ سیاسی حیثیت سے نہ ہندو ہندو رہیں گے نہ مسلمان مسلمان۔میثاق مدینہ کہہ رہا ہے کہ یہودی اپنے دین پر رہیں گے اور مسلمان اپنے دین پر اور گیارہ اگست کی تقریر کہہ رہی ہے کہ دین کے اعتبار سے نہیں کہ وہ ہر شخص کا انفرادی عقیدہ ہے۔ چنانچہ ہیکٹر بولیتھو نے ” جناح۔دی کری ایٹر آف پاکستان “ میںگیارہ اگست کی تقریرپر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا : ”الفاظ جناح کے تھے۔خیالات اور عقائد رسول اللہ ﷺ سے لیے گئے تھے “۔ہا ئیڈل برگ یونیورسٹی سے فلسفے میں نام کمانے والے کانسٹنٹ ورجل جیورجیولکھتے ہیں: ” ہمیں ماننا پڑے گا کہ محمد ﷺ نے اس قانون اساسی میں جو تمام مذاہب کو آزادی دی ہے وہ قرآن سے الہامی طور پر ماخوذ ہے۔۔۔سابق ادیان کے بانیوں میں سے کوئی بھی محمد ﷺ کی نسبت رواداری اور مدارات کاقائل نہیں گذرا۔آپ کی یہ اعلی کوشش تھی کہ دوسرے مذاہب کے لوگ مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ پوری آزادی کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔مزید اطمینان ان کو دلایا گیا کہ کوئی ان کے مزاحم نہ ہو گا“۔ میثاق مدینہ میں جو اصول طے کر دیے گئے تھے قائد اعظم کی تقریر انہی اصولوں کا ابلاغ تھی۔وہ جانتے تھے کہ ایک ایسی ریاست وجود میں آ رہی ہے جسے وہ اسلام کی تجربہ گاہ بنانا چاہتے ہیں اس لیے انہوں نے طے کر دیا کہ غیر مسلموں کے ساتھ اسی حسن سلوک سے معاملہ کیا جائے گا جو میثاق مدینہ میں کیا گیا۔اب جنہیں اس تقریر میں سیکولرزم نظر آتا ہے وہ اپنے فہم اسلام کے بارے میں متفکر ہوں۔
اب آتے ہیں دوسرے نکتے کی طرف ۔کیا قائد شناسی کے باب میں واحد ذریعہ گیارہ اگست کی تقریر ہے؟کیا یہ قائد اعظم کا واحد دستیاب خطاب ہے اور ان کی فکر سے آ گہی اور ریاست کی نظریاتی شناخت کے تعین کا واحد ذریعہ ہے؟اس کا جواب نفی میں ہے۔قائد کی ڈھیروں تقاریر موجود ہیں جن میں انہوں نے واضح طور پر اسلام کی بات کی ہے۔تاہم سیکولر نفسیات کی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف ان تقاریر سے چند حوالے پیش خدمت ہیں جو گیارہ اگست کے بعد کی گئیں تا کہ سیکولر احباب یہ نہ کہیں کہ گیارہ اگست کے خطاب میں قائد اعظم نے اپنی ابتدائی رائے سے رجوع کر لیا تھا۔گیارہ اگست کی تقریر کے چھ ماہ بعد قائد اعظم نے فروری 1948میں سبی دربار سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ” یہ میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات ان سنہری اصولوں پر عمل کرنے میں ہے جو ہمیں ہمارے عظیم قانون ساز پیغمبر اسلام نے دیے۔آئیے ہم اپنی جمہوریت کی بنیادیں صحیح اسلامی تصورات اور اصولوں پر رکھیں“ ۔تذکیر کے طور پر عرض کروں کہ قائد کے الفاظ تھےGolden rules set for us by our great law giver. the prophet of Islam. ۔ان الفاظ میں عشق رسول ﷺ ±کاجو والہانہ پن موجود ہے ذرا اس پر غور فرمائیے۔کیا یہ سیکولرزم ہے؟
قائد کی زندگی کی آخری تقریب وہ تھی جب وہ یکم جولائی 1948کوسٹیٹ بنک آف پاکستان کے افتتاح کے لیے تشریف لے گئے۔آپ نے اس موقع پر فرمایا:” سٹیٹ بنک مملکت کے لیے ایک ایسا ٹھوس اقتصادی نظام وضع کرے گا جو اسلامی اصولوں کے مطابق ہو گا۔میں اشتیاق اور دلچسپی سے معلوم کرتا رہوں گا کہ آپ کی مجلس تحقیق بنکاری کے ایسے طریقے کیسے وضع اور اختیار کرتی ہے جو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات کے مطابق ہوں “ ۔مقام حیرت ہے کہ قائد کا اشتیاق اور دلچسپی اسلام میں ہے لیکن سیکولر حضرات فرماتے ہیں قائد رحلت فرما گئے تودستور ساز اسمبلی میں بیٹھے سازشیوں نے قرارداد مقاصد منظور کرا لی۔
دستور ساز اسمبلی کے حق دستور سازی پر انگلیاں اٹھانے والے سیکولر حضرات کو قائد اعظم کے امریکی عوام کے نام پیغام کو توجہ سے پڑھ لینا چاہیے۔آپ نے فرمایا” پاکستان کا آئین ابھی آئین ساز اسمبلی نے ترتیب نہیں دیا ۔میں نہیں جانتا یہ آئین کون سی حتمی شکل اختیار کرنے جا رہا ہے لیکن میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک جمہوری آئین ہو گا جو اسلام کے اہم اصولوں کے مزین ہو گا “۔
سیکولر احباب سے گذارش ہے کہ وہ شور بے شک مچائیں۔لیکن فکری دیانت ملحوظ خاطر رکھیں۔جس رویے کا وہ ابلاغ فرما رہے ہیں علم کی دنیا میں اسے اجنبی تصور کیا جاتا ہے۔

امریکی ڈومور،ترکی کا یورپی بلاک کی طرف جھکاو اور پاکستان

اگلے روزامریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے پاکستان پر کسی قسم کی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز کو تو مسترد کردیاگیالیکن ساتھ ڈومور کی گردان ضرور الاپی۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان مارک ٹونر نے نیوز بریفنگ کے دوران پاکستان پر پابندیوں سے متعلق صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ”نہیں“ اسکا جواب یہ ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور اس حوالے سے ہم نے اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے کہ اسلام آباد کو اپنی سرزمین پر چھپے ہوئے تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے“۔مارک ٹونر کا مزید کہنا تھا کہ کافی وقت سے یہ ہمارا واضح موقف ہے، ہمیں اس میں کچھ بہتری نظر آئی ہے، لیکن مزید بہتری بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ہم پاکستان کی حکومت سے مذاکرات میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں پر زور دیتے رہیں گے، ان دہشت گردوں کے خلاف بھی جو پڑوسی ممالک کو نشانہ بناتے ہیں“۔امریکہ بہادر کی طرف سے یہ الزام تو لگایا گیا ہے کہ پاکستان سے دہشت گرد دوسرے ممالک میں دہشت گردی کرتے ہیں لیکن کبھی انہیں یہ توفیق نہیں ہوئی کہ پاکستان کے پڑوسی خصوصاً افغانستان بھارت کےساتھ مل کر کیا کھلواڑ کررہے ہیں۔کیا افغانستان کی سر زمین سے روزانہ پاکستان کو گلِ داودی بھیجے جاتے ہیں۔کیا اوبامہ انتظامیہ نے کبھی اشرف غنی حکومت سے پوچھا کہ اس کی سرزمین پر ملا فضل اللہ کس کی چھتری تلے آزادانہ گھومتا پھرتا ہے۔کیا کبھی مسٹرغنی سے پوچھا گیا ہے کہ وہ بارڈر منیجمنٹ کےلئے پاکستان کےساتھ کیوں تعاون نہیں کررہے۔کیا سرحدوں کی نگرانی صرف پاکستان کی ذمہ داری ہے۔کیا اتنا کہہ دینے سے مسئلہ حل ہو جائے گا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن اور انہیں جڑ سے اکھاڑ دینا پاکستان اور افغانستان کے مفاد میں ہے اور امریکا خطے میں امن کا خواہاں ہے۔نہیں ایسا نہیں ہے اگریہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے تو پھر دونوں کو ملکر آگے بڑھنا ہوگا۔پاکستان اپنے حصے کا کام کررہا ہے جبکہ اس پار صرف ایسے حکم جاری کیے جاتے ہیں جیسے پاکستان اس کی کوئی طفیلی ریاست ہے۔ہاں افغانستان بھارت کی کٹھ پتلی ضرور بن چکا ہے۔امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا مذکورہ بیان 8ستمبر کو ہونے والے اہم اجلاس سے قبل سامنے آیا۔ کانگریس کے اس اجلاس کے دوران پاکستان کے حوالے سے کچھ مصالحتی رویہ دیکھنے میں آیا کیونکہ اجلاس میں کئی ارکان نے بھارت کی بے جا حمایت پر اعتراضات اٹھا دیے تھے جبکہ اس سے قبل جون میں ہونے والے اجلاس میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے پر پاکستان کی فوجی امداد میں 30 کروڑ ڈالر کی کمی کردی گئی تھی۔ 8 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں امریکی سینیٹرز نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امداد میں کمی سے پاکستان کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلیوں پر مجبور نہیں کیا جاسکتا،ایک تھنک ٹینک کے چیئرمین روبرٹ ایل گرینیئر نے نشاندہی کی کہ پاکستان نے 1990 میں شمالی کوریا اور ایران سے ا ±س وقت رابطہ کیا، جب امریکا نے اس پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنا جوہری پروگرام ہندوستان کی جانب سے ممکنہ لاحق خطرات کی وجہ سے جاری رکھنا چاہتا ہے۔وہ روایتی ہتھیاروں سے ہندوستان کا مقابلہ نہیں کرسکتا لہٰذا انھوں نے یہ راستہ اختیار کیا۔گرینیئر نے امریکا پر زور دیا کہ وہ بہت زیادہ محتاط رہے اور حقانی نیٹ ورک پر اختلافات کے باوجود پاکستان کےساتھ تعلقات برقرار رکھے۔انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ہم ان سے ایک اچھوت کی طرح سے سلوک کریں گے تو وہ بھی ایک اچھوت کی طرح ہی برتاو ¿ کریں گے۔گرینیئر نے اوبامہ حکومت کو درست مشورہ دیا ہے کہ وہ بے جا دباو ¿کی پالیسی سے گریز کرے۔انہوں نے نوے کی دہائی میں اقتصادی پابندی کے حربے کی درست مثال دی کہ کس طرح پاکستان نے متبادل آپشن استعمال کر کے اپنا دفاع مضبوط کر لیا تھا۔
کوئی بھی ملک اپنی سالمیت پر سمجھوتا نہیں کرسکتا،پھرایسی صورت میں جب بھارت جیسا جارح ملک اسکے پڑوس میں روایتی اور غیر روایتی اسلحے کے انبار لگا رہا ہو۔امریکی پالیسی سازوں کو اوبامہ انتظامیہ کی گرفت کرنی چاہیے کہ وہ کس ڈگر پر چل نکلی ہے۔اس طرح وہ اپنے اتحادی تیزی کے ساتھ کھو سکتا ہے۔ابھی حالیہ دنوں میں ترکی کے ساتھ ڈبل گیم کھیلی تو ترکی نے تیزی کے ساتھ اپنا جھکاو ¿ یورپی بلاک کی طرف دکھانا شروع کردیا ۔آج ترکی اور روس بہت کم وقت میں ایک دوسرے کے قریب آ گئے ہیں۔ترکی نے امریکہ پر الزام عائد کیا جو درست بھی ہے کہ اس نے گولن کے ذریعے اسکی خودمختاری کو چیلنج کیا جو ناقابل برداشت ہے۔ترکی میں ہونے والی فوجی بغاوت نے استنبول اور واشنگٹن کے فاصلے بڑھا دیئے اور امریکہ کا برسوں سے نیٹواتحادی اس سے دور جا کھڑا ہوا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ترکی نے بروقت اور درست فیصلہ کیا۔اس سے یقینا امریکہ کو ایک دھچکا لگا ہے اور اس نے مشرق وسطیٰ میں ایک اہم اتحادی کھو دیا ہے۔ترکی کی نئی پالیسی میں پاکستان کےلئے بھی ایک پیغام ہے کہ وہ کب تک امریکی ڈومور کی منافقانہ پالیسی کا شکار ہوتا رہے گا۔پاکستان تو واشنگٹن کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں رہا ہے مگر وہاں کاطرز عمل کبھی بھی مناسب نہیں رہا۔بوقتِ ضرورت پاکستان کو استعمال کیا اور مطلب نکل جانے کے بعد چلتا بنا، جس سے پاکستان کےلئے شدید مشکلات پیدا ہوئیں۔ایک بار پھر امریکی طرز عمل ماضی سے مختلف نہیں ہے۔ایک ایسے ماحول میں جب پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کےلئے ایک بڑا آپریشن شروع کررکھا ہے اور ہر طرح کے گروہوں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ امریکہ کا پاکستانی فوجی امداد میں بھاری کٹوتی کرنا اور اس پر یہ بھی کہنا کہ وہ مطمئن نہیںمزید کارروائی کی جائے سمجھ سے بالا تر ہے۔یہ رویہ جنوبی ایشیا میں ایک با اعتماد اتحادی کے لیے یورپی بلاک جس میں روس چین ابھرتی ہوئی طاقتیں ہیں میں جانے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ویسے بھی امریکہ اس خطے میں تیزی کےساتھ ساکھ کھورہا ہے جبکہ چین اور روس اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ترکی کا مختصر عرصہ میں روس کے ساتھ جا کھڑا ہونا خطے کے دیگر ممالک کے لیے ترغیب بن سکتا ہے۔پاکستان کے ساتھ امریکی طرزعمل ناقابل برداشت ہوتا جاتا رہا ہے۔قرائن بتا رہے ہیں کہ وہ خطے میں اپنا ایک اتحادی کھو سکتا ہے۔ اگرچہ امریکہ اور بھارت بڑی تیزی کےساتھ قریب آرہے ہیں لیکن امریکی پالیسی سازوں کو دیکھنا ہو گا بھارت اس کا قابل اعتبار اتحادی کیسے ہوسکتا کہ وہ برکس (BRICS) کا ایکٹو ممبر بھی ہے۔برکس وہ اقتصادی بلاک ہے جو روس اور چین کی طرف سے امریکی اجارہ داری کے توڑ کے لیے بنایا گیا ہے۔ امریکہ ڈبل گیم کا ماہر ہے نجانے اسے بھارتی ڈبل گیم کیوں سمجھ نہیں آرہی۔امریکی گیم اسی ڈگر پر چلتی رہی تو پھر آنے والے کچھ عرصہ میں خطے میں امریکہ کا کردار نظر نہیں آتا۔

یہ بھارتی بربریت ۔ ۔کب تلک ؟

غیر جانبدار مبصرین نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ جب تک دہلی سرکار کے ظالم حکمران مقبوضہ کشمیر میں ظلم و سفاکی کا سلسلہ بند نہیں کرتے تب تلک دنیا میں پائیدار امن کا قیام مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے ۔ اسی حوالے سے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ۔ انسان دوست حلقوں نے کہا ہے کہ دہلی کے سفاک حکمران جس ظالمانہ روش کو چھیڑے ہوئے ہیں ، اس اکا انجام آنے والے دنوں میں بھارت کے لئے انتہائی سنگین ہو سکتا ہے کیونکہ ظلم و جبر کی بہر حال کوئی نہ کوئی آخری حد ضرور ہوتی ہے ۔ اسی پس منظر میں حریت رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت وادی میں ظلم روک دے امن خود ہی ہوجائے گا کیونکہ بدامنی کی ذمہ دار بھارت سرکار ہی ہے ۔ ایک بڑی ریلی سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ ہم اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد چاہتے ہیں ، بھارت وادی میں ظلم روک دے امن خود ہی ہوجائے گا ۔ امن لانے کی بات کرنے والی بھارتی سرکار ہی بے امنی کی ذمے دار ہے۔بھارتی وزیرداخلہ بیس روز کے اندر دو بار کشمیرآئے لیکن انھوں نے مسئلہ کشمیرکے حل کی کوئی با ت نہ کی ۔ سید گیلانی کا کہنا تھا کہ ہم کبھی مذاکرات کے مخالف نہیں رہے،نہ ہوں گے البتہ کسی بھی بے معنی کوششوں کاحصہ نہیں بن سکتے جن سے کشمیر کا مسئلہ منصفانہ طور پر حل نہ ہو ۔دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح شواہد موجود ہیں۔یاد رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں ایک ہی ملک ہے جو کہ خطے میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔جی – 20 فورم پر بات کرتے ہوئے پاکستان کی جانب واضح اشارہ کرتے ہوئے نریندر مودی نے انتہائی اشتعال انگیز لہجے میں کہا تھا کہ ایک ہی ملک ہے جو ہمارے خطے میں دہشت گردی کے عناصر پھیلا رہا ہے ۔ ان کی اس لغو بیانی پر پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے مدلل لہجے میں کہا کہ انڈیا ہی وہ ملک ہے جو خطے میں دہشت گردی کا ذمہ دار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی ایجنسی را کے ایجنٹ کلبھوشن یادو کے اقبالی بیان سے واضح ہوتا ہے کہ کون سا ملک دہشت گردی پھیلا رہا ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ کہ مقبوضہ کشمیر میں 62 دنوں سے مسلسل بھارتی فوجیوں کی جارحیت پاکستان کے لیے انتہائی تشویش کی بات ہے۔انھوں نے بتایا کہ چھرّوں والے کارتوسوں کے استعمال سے 90 بے گناہ افراد ہلاک اور 700 زخمی ہوئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ میاں نواز شریف نے سبھی پارٹیوں کے مندوبین کا ایک وفد بیرونِ ملک بھیجا ہے تاکہ بھارت کی کشمیر میں جارحیت اور مظالم کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا جا سکے۔انڈیا کے زیرِ اثر ممالک کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پارلیمان کے اراکین کی مدد سے پیغام پہنچانا انتہائی موثر ہوگا۔انھوں نے پاکستان کا موقف دہرایا کہ شملہ معاہدے کی وجہ سے اقوام متحدہ کی قراردادیں منسوخ نہیں ہو جاتیں اور بہر طور بھارت کو یہ مسئلہ حل کرنا ہو گا ۔ مبصرین نے اس پاکستانی موقف کو انتہائی بر وقت اور وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا ہے۔

ملکی مسائل پر یکدم حملہ آور ہونے کا بہترین وقت

ہماری نظروں سے یہ حقیقت کیسے اوجھل رہ سکتی ہے بحیثیت ِ پاکستانی قوم ہم کیسے اور کیونکر دھوکے میں آئیں پاکستان کی مخالفت میںاپنی حدوں کی نچلی سطحوں کو چھوجانے والے بعض ہمارے ملکی اور بعض غیرملکی، خصوصاً مغربی ‘ یہودی اور بھارتی میڈیا کے یہ سرپرست، آپریشن ضرب ِ عضب کی تاریخ ساز اور ناقابل ِ یقین شاندار کامیابیوں کو نام نہاد ورلڈ آرڈر کی دھول کی گرد میں جتنا چاہئیں چھپائیں لیکن ایسے ہر گمراہ کن مواقعوں پر ناکامی اُن کا مقدر بنے گی ہمارا یہ کہنا کل بھی تھا آج بھی ہم یہی کہہ رہے ہیں تاریخ اور وقت یہ ثابت کردئے گا کہ پاکستان نے ہمیشہ علاقہ میں اسٹرٹیجک تعلقات کے بیانئیے کو زمینی حقائق کے آئینے میں دیکھا اور جنوبی ایشیا میں حقیقی امن کے لئے اپنی اسٹرٹیجک ذمہ داری کو بڑی سچائی کے ساتھ بڑی نیک نیتی سے ادا کیا ساتھ ہی پاکستانی قوم کو اپنی بہادر ‘جاں نثار اور سرفروش افواج کے ادا کردہ کارناموں پر بڑا پختہ یقین رہا، بھارتی اور صہیونیتی سامراج کے اُس خفیہ گٹھ جوڑ کا کچھا چھٹا پاکستانی سیکورٹی اداروں نے وقت سے بہت پہلے کھول کر رکھ دیا ،جبکہ اُن کے مذموم عزائم کے سازشی غباروں میں سے رہی سہی ہوا پاکستانی افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پے درپے اپنے اہم غیر ملکی دوروں میں عالمی زعماو ¿ں سے اپنی موثر اور بامقصد ملاقاتو ں میں نکالنے کا اپنی ملکی فرض بڑی خوبی سے ادا کیا ہے، تجز یہ کاروں ‘ تبصرہ نگاروں اور سیاسی و سفارتی پیش بینی کرنے والوں کے تجزئیے ‘ تبصرے اُس وقت دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جب کبھی اچانک سے پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف ایسے متذکرہ بالا ’تقدیر پرست ‘ جلد باز پاکستانی سیاسی وسفارتی حلقوں کو حیران وپریشان پاو ¿ں کے نیچے آئے کنکروں کی مانند اُن پر یہ ثابت کردیتے ہیں کہ وہ یقینا ستاروں کو دیکھ ضرور سکتے ہیں، مگر ستاروں کا وہ خاک علم نہیں رکھتے، یوں اُن کی یہ خود ساختہ پیش بینیاں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں، اگر کوئی ہم سے آج یہ سوال کرئے کہ پاکستان کو موجودہ علاقائی اور عالمی حالات میں کن مشکلات کا سامنا ہے ؟ تو یہ بات یقینی طور سے کہہ دی جائے گی ’پاکستان کے اندر چھپے ہوئے دہشت گرد اور اُن کے سہولت کاروں کا صفایا کیئے بغیر پاکستان اپنے گنجلک مسائل کا 70% مسئلہ حل نہیں کرسکتا ،یعنی ملکی امن وامان کی ترجیح کی بات ہوئی کسی حد تک یہ صحیح، ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا جائے نا کہ ’جب تک پاکستان کے ساتھ ملنے والی مغربی سرحدوں پر سختی کی نگرانی کا کوئی موثر اور ٹھوس انتظام بروئے ِ کار نہیں لایا جا ئے گا !چونکہ یہ واقعی بات دنیا بھر کے غیر متعصب حلقے گزشتہ تین برسوں سے عالمی فورموں پر مختلف انداز میں کہہ چکے ہیں جس کی بازگشت اب تک بھی سنی جارہی ہے اگر کسی نے تعصب میں اپنے کان بند کرلیئے ہوں تو اِس کا علاج پاکستان کے پاس کیسے ہوسکتا ہے ؟ امریکا کو پہلی فرصت میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی تاریخ ساز کامیابیوں کو تسلیم کرنا ہو گا بھارتی اور یہودی پروپیگنڈے کے اثرات سے نکل کر دہشت گردی کا سرکچلنے کے لئے اُن ناگزیر تقاضوں کے حقائق پر غور وفکر کرنا بہت ضروری ہے، جو بھارتی اور یہودی پروپیگنڈے نے پاکستان اور مسلم دنیا کو اپنے نشانے پر لے کر مذموم مہم چلا ئی ہوئی ہے، امریکا کے لئے پاکستانی مسلح افواج کے سربراہ نے یقینا ایک گائیڈ لائن ضروری مہیا کردی ہمارا خیال ہے بلکہ دنیا بھر کے باشعور حلقے بھی ایسا ہی سوچتے ہیں کہ9/11 کے بعد بعض امریکی فیصلوں کے نتیجے میں دہشت گردی کو ہوا ملی تقویت ملی چونکہ امریکی فیصلے یکطرفہ تھے، متعصبانہ فیصلے تھے، بعض مسلمان ممالک بالخصوص پاکستان کے گرد گھیرا ڈالنے کی بڑی منفی اور ظالمانہ طرز کی انسانیت کش پالیسیاں اپنائی گئیں، تقریباً کتنے برس ہوگئے’ امریکی ڈومور ‘ کا مطالبہ ہم آج بھی سن رہے ہیں، جون2014 سے قبل جب شمالی وزیر ستان تا وادی ¾ ِ شوال تک جواں مردی اور والہانہ جاں نثاری سے پاکستان کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کردینے والا آپریشن شروع نہیں ہوا تھا ذرا یاد ہے کسی کو ؟‘ خوف ووحشت ناکی کا کیا عالم تھا ملک بھر میں؟‘بہت افسوس ہوتا ہے بڑا دل دکھتا ہے بڑی ندامت ہوتی ہے جب ہم کہیں یہ بات سن لیتے ہیں کہ پاکستان کے ’سیٹلیڈ ایریا‘ میں فاٹا سے پَرے افغان بارڈر کے علاقے تک پاکستانی فوج سے بنرد آزما آئین شکن دہشت گردوں کی سرپرستی میں بعض ایسی سیاسی شخصیات ملوث ہیں، جو کھلے عام میڈیا میں تو دہشت گردی کی مذمت کرتی ہیں مگر اندر خانے اُن کے دہشت گردوں سے رابطے ہیں تعلقات ہیں یہ معززین اُن کے لئے سہولت کار ی کے امور انجام دیتے ہیںایسے نازک بلکہ انتہا ئی قسم کی نازک ترین حساس صورتحال میں دہشت گردوں پر حقیقی آہنی شکنجہ کسنے کے حوالے سے ایک ’انتظامی خلائ‘ پیدا ہوگیا تھا جسے کسی نہ کسی ’وطن پرستانہ جذبے کی طاقت ‘سے پُر کرنا تھا سُو یہ اہم انتہائی اہم آئینی فرض جنرل راحیل شریف نے اپنے عہدہ ِ منصب کے دوران بخوبی پورا کیا ہے جسے دنیا نے تسلیم کیا پاکستانی قوم نے اِن اقدامات پر اپنے تاریخ ساز سپہ سالار کو خراج ِ تحسین پیش کیا کاش ملکی سیاسی قیادت بشمول ملکی اپوزیشن بھی بدگمانی کا شکار ہوئے بغیر اُن کے ساتھ ہم قدم ہوتی ؟ چند دن پیشتر ملک بھر میں 6 ستمبر کو ’یوم دفاع ِ پاکستان ‘ کی تقریب جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوئی تھی اپنی نوعیت کی اِس اہم تقریب میں جنرل راحیل شریف نے کلیدی خطاب کیا اُس پر ملک میں مختلف انداز سے بحث ہوئی ہورہی ہے کہ جنرل راحیل شریف نے ’ سیاسی خطاب‘ کیوں کیا؟ کوئی یہ نہیں سوچ رہا کہ جوکچھ جنرل راحیل شریف نے اپنے خطاب میں کہا اُس میں کیا ’غلط ‘ تھا بقول عالمی مبصرین کے ‘ جنہیں نہ کشمیر سے کوئی تعلق ہے نہ پاکستان کی سلامتی سے ‘ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ جنرل راحیل کے خطاب نے ملکی خارجہ، داخلہ اور سکیورٹی پالیسیاں سب واضح کر دیں کہ’ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور سی پیک اس وقت کی ملک کی اہم ترین ضرورت‘ جس کے لیے کسی دشمن کی ہینکی پینکی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی ‘ کسی کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا یہ کہنا اچھا لگے یا بُرا‘ مگر یہ تو مان لیں کہ اُن کی پیشہ ورانہ بصیرت میں اِتنی ہمت و جراّت اور دانائی پائی جاتی ہے وہ ملکی مسائل پر یکدم حملہ آور ہونے کی جراّت وصلاحیت رکھتے ہیں نیک نیت مرد ِ مومن ‘ جس کا اپنا دامن دنیاوی لالچ و خواہشات سے پاک ہووہ ہی تو مضبوط ایمانی قوت ِ ارادی کے محرکات کا مجسم پیکر ہو تا ہے اُنہوں نے راولپنڈی جی ایچ کیو میں منعقد ہونے والی یوم ِ دفاع ِ پاکستان کی تقریب سے اپنے تاریخی کلیدی خطاب میں پاکستان کے دشمنوں کو دوٹوک تنبیہ کی یقینا ملکی ترقی وخوشحالی کی راہ میں بیرونی رکاوٹ پیدا کرنے والے اب خوب سمجھ چکے ہونگے اور اپنے طور پر سمجھ بھی چکے ہونگے کہ بھارتی خواہشات ہوں یا مغربی اور امریکی تمنائیں کبھی بھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتیںملکی سیاسی قیادت کو بھی ملکی مسائل سے خوف زدہ ہونے کی بجائے صرف اور صرف ملک کی خاطر کمر ٹھوک کر اب میدان میں آنا ہی ہوگا ۔

وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس

وزیراعظم محمدنوازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس بڑی اہمیت کاحامل قرار پایا۔ اس اجلاس میں ملک میں رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کے قیام کی مدت میں مزید تین ماہ کی توسیع کافیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اس توسیع سے قبل افغانی دسمبر تک پاکستان میں رہ سکتے تھے اب مارچ تک رہ سکیں گے۔ اجلاس میں دیامر بھاشا ڈیم کیلئے اراضی اور معاوضہ کی منظوری دی گئی۔ اس موقع پر وزیراعظم کاکہناتھا کہ ڈیموں کی تعمیر سے نہ صرف ملک کی توانائی کی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ سیلاب کے خطرات میں بھی کمی آئے گی۔ جبکہ حکومت توانائی کے مسائل حل کرنے کیلئے پرعزم ہے کئیدرمیانے اور طویل المدتی منصوبوں پرکام جاری ہے ۔ حکومت داسوڈیم کیلئے عالمی بنک سے فنانسنگ کاانتظام کررہی ہے ۔ کابینہ کے اجلاس میں پاک انڈونیشیا دفاعی تعاون کے معاہدے کی منظوری اور بیلاروس کے ساتھ کسٹم ٹریڈ ڈیٹا کے تبادلے کیلئے بات چیت کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے ای سی سی کے چار سال میں ہونیوالے فیصلوں کی بھی منظوری دی اوراسٹیٹ بنک اور اردن کے مرکزی بنک میں ماہرین کے تبادلوں کے سمجھوتے کی منظوری سمیت نجکاری کمیٹی کے مختلف اجلاسوں کیلئے فیصلوں کی توثیق کی گئی اس کے علاوہ دوہرے ٹیکسوں کے بچاﺅ کے سارک معاہدے پردستخط کی منظوری بھی دی گئی ۔کابینہ نے الیکٹرانک جرائم کی تحقیقات کااختیار ایف آئی اے کو دے دیا۔ حکومت عوام کو مسائل سے نکالنے کیلئے کوشاں ہے۔ وفاقی کابینہ نے جن18 فیصلوں کی توثیق کی ہے وہ اس امر کی عکاس ہے کہ حکومت توانائی پر قابو پانے کیلئے عملی اقدام کررہی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کے متاثرین کو معاوضہ کی تقسیم میں شفافیت کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ جب ملک میں ڈیموں کی تعداد بڑھے گی تو توانائی بحران بھی کم ہوگا اور توانائی کی ضرورت پوری ہوگی اس وقت توانائی بحران نے عوام الناس کاجینا دوبھرکررکھا ہے دن رات کئی کئی گھنٹوں برقی روبند رہتی ہے او رلوڈشیڈنگ کاغیراعلانیہ سلسلہ صارفین کیلئے پریشان کن بنا ہوا ہے ۔ حکومت2018ءتک لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی نوید ایک تواتر سے ستاتی چلی آرہی ہے۔ عوام بھی وضع دار اور ثابت قدم ہے ہرمشکل اور ہرمصیبت کو جھیلنے کے عادی ہوچکے ہیں ان کی ثابت قدمی دادبیداد ہے۔ لیکن اس عاجز عوام کا اتنا بھی امتحان نہ لیاجائے کہ یہ پھٹ پڑے اور اس کی آہیں ہرسو پھیل جائیں۔ جہاں تک افغان پناہ گزینوں کو توسیع دینے کامعاملہ ہے یہ حیران کن بنتا جارہا ہے حکومت توسیع پہ توسیع کرتی جارہی ہے۔ حکومت نے جو توسیع دی ہے اس کے اندر افغان پناہ گزینوں کاانخلاءیقینی بنایاجائے پاکستان نے برسوں سے ان کی مہمان نوازی کی ہے جو لائق ستائش ہے لیکن افغانیوں نے پاکستان کیلئے کئی مسائل پیدا کئے ہیں اوربعض تو دہشتگردی کی کارروائیوں میں بھی ملوث پائے گئے اور انہوں نے غیرقانونی شناختی کارڈ بنواکر خود کو پاکستانی ظاہر کیا ہوا ہے۔وفاقی کابینہ کافیصلہ اپنی جگہ بے کم وکاست سہی لیکن اس توسیعی مدت کو مزید بڑھانے کی حماقت نہ کی جائے ۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی زبوں حالی کاشکار چلی آرہی تھی اوپر سے افغانیوں کے آجانے سے مزید بوجھ پاکستان نے برداشت کیا اب افغان حکومت او رعالمی ادارے افغان پناہ گزینوں کی ہرممکن مدد کریں اور ان کو واپس افغانستان ایڈجسٹ کیاجائے۔سائبرکرائمز کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کرنے کافیصلہ خوش آئند ہے اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ وفاقی حکومت نے جو فیصلے کئے ہیں ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی
حکومت نے پنجاب میں دہشت گرد کالعدم تنظیموں کیخلاف مخصوص علاقوں میں آپریشن کیلئے رینجرز کو طلب کرلیا ہے ۔صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ پنجاب میں دہشت گردوں، کالعدم تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف برسرپیکار انسداد دہشتگردی کی فورس کی مدد کیلئے رینجرز کو تعینات کیا جائے جگہ اور وقت کاتعین اپیکس کمیٹی کرے گی ۔یہ ایک مستحسن اقدام ہے اور وقت کی ضرورت بھی کیونکہ پنجاب میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات عوام الناس میں عدم تحفظ کااحساس پیدا کرنے کاباعث قرارپارہے ہیں نیشنل ایکشن پلان پرکماحقہ عملدرآمد کیاجاتا تو ملک بھر سے کب کا دہشت گردی اورر ان کے سہولت کاروں کاخاتمہ ہوچکا ہوتا لیکن اس میں تساہل کامظاہرہ کیا گیا ۔ پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے۔ دہشت گردی نے ملک میں خوف وہراس پھیلا رکھا ہے اور جب ملک میں لوگوں کی جان ومال محفوظ نہ رہے اور وہ خود کو غیرمحفوظ گردانیں لگیں تو یہ حکومتی بے اعتنائی قرار پاتی ہے حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنائے اور ملک میں امن قائم کرے دہشت گردوں نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے ۔ آپریشن ضرب عضب دہشت گردی پر قابو پانے کاذریعہ ہے اب ملک بھر میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی کے ناسورکا خاتمہ ہوسکے۔ پنجاب بھر میں رینجرز کو آپریشن کرنے کااختیار دینے کی ضرورت ہے۔
وادی تیراہ میں8 دہشت گردوں کی ہلاکت
خیبرایجنسی کی وادی تیراہ میں پاک فوج کا دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کامیابی سے جاری ہے۔ گزشتہ روز جیٹ طیاروں نے پاک افغان سرحد کے قریبی علاقوں میں دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں 9 دہشت گرد ہلاک اور ان کے چار ٹھکانے تباہ ہوگئے پاک فوج دہشت گردوں کیخلاف دن رات برسر پیکار ہے اور اس کی قربانیوں نے اب تک سینکڑوں دہشت گردوں کو مارا جاچکا ہے اور ان کے نیٹ ورک اور ٹھکانے بھی تباہ کئے جاچکے ہیں کئی علاقے ان سے واگزار کروالئے گئے ہیں آپریشن ضرب عضب اپنے اہداف پورے کرتے دکھائی دے رہاہے ۔ آپریشن کی کامیابی سے ہی ملک کو امن کاگہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے ملک بھر میں آپریشن کی ضرورت ہے اب تک کی کارروائیوں کے نتائج قابل ستائش ہیں عسکری قیادت دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کاتہیہ کئے ہوئے ہے جس پر قوم کو فخر ہے اور یہ دہشت گردی کیخلاف پاک فوج کے کردار کو کبھی بھی فراموش نہیں کرپائے گی دہشت گرد ملک وقوم کے دشمن ہیں ان کو منطقی انجام تک پہنچا کر ہی ملک میں امن قائم کیاجاسکتا ہے ۔وادی تیراہ میں فورسز کی کامیاب کارروائی نے دہشت گردوں کے حوصلے پست کردیئے ہیں اس کا تسلسل جاری رہناچاہیے
Google Analytics Alternative