کالم

لطیف اللہ محسود کا اعتراف اور پاکستان میں دہشتگردی

آج کے کالم کیلئے موضوع تو پانی و توانائی کا بحران اور پاکستانی دریاﺅں پر بھارتی ڈاکے چنا تھا کیونکہ بھارت بڑی تیزی سے پاکستان کے حصے کے پانی پر قبضہ کرتا جارہا ہے جبکہ اس آبی تنازعے پر وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت کوئی بات سننے اور ماننے بھی کو تیار نہیں اور روایتی ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے لہذا پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کو جلد از جلدورلڈ بنک تک لے جائے کیونکہ سندھ طاس معاہدے کا ثالث ورلڈ بنک ہی ہے ۔ یہ ایک تفصیلی موضوع ہے اس پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے لیکن اس دوران حکیم اللہ محسود کے بھائی لطیف اللہ محسود کے اعترافی بیان کی ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے جسمیں انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی، بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ اور افغانستان ایجنسی NDS کے گہرے مراسم اور روابط ہیں ۔ لطیف اللہ محسود 2013ءسے گرفتار ہے اسے امریکی فورسز نے اس وقت گرفتار کرلیا تھا جب وہ افغان فوج کے ایک قافلے میں خفیہ طریقے سے اس وقت کے صدر حامدکرزئی کی ایما پر افغان خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ حکام سے ملنے جارہے تھے۔ بعدازاں امریکی فورسز نے اسے پاکستان کے حوالے کردیا تھا لیکن حامد کرزئی نے اس پر امریکی حکام سے خوب احتجاج کیا تھا۔ لطیف اللہ محسود کا یہ اعترافی بیان یقیناً نہایت ہی اہم ہے۔ انہوں نے وہی کچھ کہا ہے جو پاکستان ایک عرصہ سے کہتا آرہاہے کہ پاکستان میں ہونے والی تمام دہشت گردی کے پیچھے بھارتی اور افغان ایجنسی این ڈی ایم کا مشترکہ ہاتھ ہے۔ محسود نے برملا کہہ دیا ہے کہ یہ دونوں ایجنسیاں پاکستان میں دہشت گردی کراتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”را“ مہمند ایجنسی میں تحریک طالبان کے عبدالولی کو پیسہ اور تربیت فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ اغواءکیلئے لوگوں کو ٹیلی فون پر دھمکیاں دیتا تھا ۔ یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پٹھان کوٹ حملے کے بعد پاکستان پر دباﺅ بڑھایا جارہا ہے کہ وہ بھارت کو مطلوب دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے ٹھوس شواہد اورخودبھارتی آلہ کاروں کے اعتراف کے باوجود کسی کے کان پر جوں نہیںرینگتی ۔ پاکستان کی بھارتی سازشوں کےخلاف دہائی پر عالمی طاقتوںکا گونگا اور بہرہ ہو جانا پاکستانی عوام میں ان طاقتوں کے خلاف نفرت کو مہمیز دیتا ہے ۔کئی پاکستانی سیاسی حلقے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور نیٹو حکام سے عدم تعاون پر زور دینا شروع کردیتے ہیں۔ لطیف اللہ محسود کا یہ بیان امریکی حکام کے کان کھول دینے کیلئے کافی ہے جو پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ اٹھتے بیٹھتے کرتے رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ دنیا نے یہ کیوں طے کرلیا ہے کہ خطے میں ہونے والی ہردہشت گردی کی کارروائی کے پیچھے پاکستان کاہاتھ ہے۔ افغانستان میں کوئی واقعہ ہوتو الزام پاکستان کے سر، اور بھارت میں کوئی دہشت گردی ہوتو ذمہ دار پاکستان کوٹھہرا دیا جاتا ہے ۔کیا بھارت جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے جہاں صرف فرشتوں کا بسیرا ہے کیا دنیا نہیں جانتی کہ بھارت میں کتنی علیحدگی پسند تحریکیں مودی کے بھارت سے الگ ہونے کیلئے جدوجہد کررہی ہیں۔ کیا سکھوں کو گولڈن ٹیمپل میں زندہ جلا دینا اور ٹیمپل کو ان کا قبرستان بنا دینا کیا کبھی سکھ برادری بھول سکتے ہیں کبھی نہیں ۔ خالصتان تحریک ایک بار پھر منظم ہورہی ہے ۔بھارت کو اپنے دشمن اپنے گھر سے ڈھونڈنے ہونگے۔ پرائی منجی تلے ڈانگ پھیرنے سے معاملہ حل نہیں ہوگا۔ عالمی برادری خصوصاً امریکی حکام کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ حقائق کو نظر انداز کرکے صرف پاکستان کا بازو مروڑنے کی کوشش میں لگے رہیں۔یہ رویہ پاکستان کو بلاجواز دباﺅ میں رکھنے کے مترادف ہے جبکہ بھارت کے پاکستان کے خلاف ارادے اور کارروائیاں تسلیم شدہ ہیں مگر امریکی حکام پھر بھی اس تاثر کو ہوا دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر آئندہ بھارت میں دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ ہوا تو پاک بھارت جنگ بھڑک سکتی ہے۔ ابھی گزشتہ ماہ امریکی ڈپٹی سیکرٹری آف انتھونی بلنکن نے دورہ بھارت میں ایک بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کو انٹرویو میں یہی کچھ کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک غیر ارادی جنگ کا امکان ہے اور امریکہ کو اس پر تشویش ہونی چاہیے۔ امریکی اہلکار نے ارادی طورپر اس تاثر کوہوا دی ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کی وجہ پاکستان کی طرف سے ہونے والی دہشت گردی ہوگی لیکن کیا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف کوئی دہشت گردی نہیں ہوسکتی ۔ بھارت نے براستہ افغانستان جو سلسلہ شروع کررکھا ہے وہ پاکستان کے صبروتحمل کے امتحان سے کم نہیں ہے۔ لہذا امریکی حکام معاملے کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے حقائق کوTwist نہ دیں اور ایسا ماحول نہ پیدا کریں کہ جس سے بھارت کو کسی قسم کی ہلہ شیری ملے۔ یہ دو ایٹمی قوتوں کا معاملہ ہے جبکہ تیسری ایٹمی قوت چین سے بھی بھارت کی کشیدگی بھی ڈھمکی چھپی نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں بھارت کو ذرا سی بھی ہلہ شیری یا تھپکی پورے جنوبی ایشیاءکو ایٹمی جہنم میں دھکیل سکتی ہے۔ بھارت خطے کا وہ ملک ہے جس کی جارحیت پسند سوچ کے باعث اپنے تمام پڑوسیوں سے بیسیوﺅں تنازعات ہیں ۔پاکستان کا وجود تو اسے قیام پاکستان سے ہضم نہیں ہوتا اوروہ اسے ختم کرنے کے درپے رہتا ہے۔ حالیہ دنوں میں مودی حکومت کے کئی وزراءکھلم کھلا دھمکی دے چکے ہیں کہ پاکستان کے پہلے دو ٹکڑے کیے تھے تو اب چار اور پھر اسے ہمیشہ کیلئے ختم کردیں گے۔ اسی ناک پاک سوچ کو لے کر ہر حربہ آزماتا رہتا ہے چاہے وہ سیاسی ہو ، معاشی ہویا سرحدی۔ مشرقی سرحد پر گولہ باری اور اشتعال انگیزی کے ساتھ ساتھ مغربی سرحد پر دہشت گردی کروانا اور کشمیر میں پاکستان کی آبی ناکہ بند ی کرنا اس کے مذموم عزائم کا حصہ ہیں جو وہ برسوں سے پال رہا ہے۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردی تو ٹی ٹی پی کے ذریعے کرواتا ہے مگر آبی دہشت گردی کو وہ براہ راست خودکروارہاہے ۔پاکستان میں آنے والے تمام دریاﺅں کے منبعے مقبوضہ کشمیر میں ہیں جنہیں وہ پاکستان کےخلاف استعمال کررہا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعہ بھی پچھلے پچاس سال سے چل رہا ہے۔سندھ طاس معاہدے کے باوجود بھارت پوری ڈھٹائی کےساتھ پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کے لئے بڑے بڑے ڈیم بنا رہا ہے جبکہ بعض دریاﺅں سے پانی نہروں کے ذریعے موڑ کر دوسرے دریاﺅں میں ڈال رہا ہے۔ جس سے دریائے چناب اور جہلم کا دامن خشک ہوچکا ہے۔ کشن گنگا ہائیڈروپراجیکٹ اور ریٹلے ہائیڈرو پروجیکٹ ایسے منصوبے ہیں جو سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔پاکستان اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہشمند ہے اس سلسلے میں پاکستان بھارت کا منتظر ہے لیکن اب جب بھارت اس سلسلے میں تعاون کرنے کو تیار نہیں ہے تو پھر حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ فوری طورپر یہ کیس ورلڈ بنک تک لے جائے،یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ڈبلیو بی کی ہی نگرانی میں طے ہوا تھا اور وہی اسکا ضامن بھی ہے۔ حکومت مزیدکسی قسم کی تاخیر نہ کرے ورنہ پانی سر سے گزر جائے گا اور آنے والی نسلیں پیاسی مر یں گی۔

بابری مسجد کی شہادت

بھارت کے صدر پرناب مکھرجی نے اپنی نئی کتاب میں سنسنی خیز انکشافات اور سیاسی شخصیات پر کھل کر تنقید کی ہے۔ انہوںنے کہا ہے کہ ایودھیا میں رام جنم بھومی مندر کھولنا راجیو گاندھی کا غلط فیصلہ تھا اور بابری مسجد کو شہید کرنا ایسی غداری تھا جس پر تمام بھارتیوں کے سرشرم سے جھک جانے چاہئیں۔ مسجد شہید کرکے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی۔ 1980ءسے 1996ءکے دور کا احاطہ کرنے والی پرناب مکھرجی کی کتاب ”دی ٹربولینٹ ڈائیرز“ میں لکھا ہے کہ بابری مسجدکی شہادت اس دورکے صدرنرسیما راو¿ کی سب سے بڑی ناکامی تھی۔ انہوں نے نرسیما راو¿سے کہا تھا کہ کیا انہیں کسی نے بھی خطرے سے خبردار نہیں کیا تھا کہ بابری مسجدکی شہادت کے عالمی اثرات بھی ہوں گے۔ انہیں سینئر رہنماو¿ں سے مشاورت کرنی چاہیے تھی۔ انہیں ایک اسلامی ملک کے وزیر خارجہ نے کہاکہ اس طرح مسجد تو اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں بھی شہید نہیں کی۔ ایک اور مقام پر پرناب مکھرجی نے لکھا ہے کہ جنگ عظیم دوم کی فتح کی تقریبات میں شرکت تحریک آزادی کی بے عزتی کے مترادف ہے۔مسجد کی شہادت سے قبل نرسمہا راو¿ سارے ملک کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے رہے کہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا۔ سپریم کورٹ میں بھی مسجد کی برقراری اور نقصان نہ پہنچانے کا حلف نامہ نرسمہا راو¿ نے اپنے دوست کلیان سنگھ سے داخل کروایا اور جس وقت مسجد شہید کی جارہی تھی ،نرسمہا راو¿ سوتے رہے۔ کارسیوکوں کو من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل تھی۔ پولیس اورنیم فوجی دستوں کو مداخلت سے روک دیا گیا اور نہ صرف مسجد شہید کردی گئی بلکہ اس کی جگہ عارضی مندر کی تعمیر تک نرسمہا راو¿ کی مجرمانہ لاعلمی برقرار رہی ہے ۔اس لئے بابری مسجد کی شہادت کا کلیدی مجرم نرسمہا راو¿ کو کہا جاتا ہے۔مسجد کی شہادت یقینی طورپر دنیا بھرکے مسلمانوں کے لیے اشتعال انگیز اقدام تھا اس لیے پوری دنیا میں مسلمان ہندوﺅں کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ حکومت وقت نے مسجد کی شہادت کے وقت فوج اورپولیس کومشتعل ہندوﺅں کے کیخلاف مسجد کو شہید ہونے سے بچانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا وہی حکومت مسجد کی شہاد ت کے بعد مسلمانوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتی رہی اوراندرون خانہ ہندو انتہا پسندوں کی سپورٹ کرتی رہی۔ بعد میں بھارت کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے بابری مسجد پراپنی سیاست چمکائی لیکن کسی میں اس مسجد کو تعمیر کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ بابری مسجد کی شہادت کے واقعے کی تحقیقات کا وقت آیا تودوران تحقیقات یہ بات سامنے آئی کہ مسجد کی شہادت میں اس وقت کی حکومت کا بہت بڑا عمل دخل تھا۔ رپورٹ میں ایل کے ایڈوانی منوہر جوشی اورکاٹھیا کومسجد کی شہادت کے منصوبے میں براہ راست ملوث پایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مرلی منوہر جوشی اورایڈوانی نے اپنی نگرانی میں تمام انتظامات کو حتمی شکل دی اورمسجد کی شہادت کے وقت یہ دونوںلیڈر مسجد کے سامنے واقع ”رام کتھا کنج“ کی عمارت میں موجود تھے جوبابری مسجد سے صرف دوسومیٹر دورتھا اس رپورٹ نے جہاں ہندوﺅں کے سکیولر ازم اورلبرل ازم پر سے پردہ اٹھایا وہاں بھارتی لیڈروں کا اصل چہرہ بھی دنیا کے سامنے عیاں ہوگیا ۔بابری مسجد کی شہادت کے الزام میں ایل کے ایڈوانی اعترافی بیان بھی دے چکے ہیں لیکن بھارتی ایوان انصاف کوان کے اندرموجود مجرم دکھائی نہیں دے رہا اس لیے وہ اب تک آزاد پھر رہے ہیں۔ہندوو¿ں کا الزام ہے کہ مسلمانوں نے ظہیر الدین بابر کی بادشاہت کے زمانے میں رام کی پیدائش کے مقام پر مندر کو تباہ کرکے مسجد بنادی تھی۔اس واقعے کے بعد ہندو ستان میں ایک تنازعہ اٹھا اورواقعے عدالتی تحقیق کا کام الہ آباد ہائی کورٹ کے سپرد کردیا گیا۔ 30 ستمبر 2010 ءکو الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنا تاریخی فیصلہ سنایا جس کے مطابق بابری مسجد زمین کی ملکیت کے تنازع کے حوالے سے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ بابری مسجدکی اراضی وفاق کی ملکیت رہے گی اور اس تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔بابری مسجد شہید کرنے کے واقعہ کے دس دن کے بعد جسٹس لبراہن کمیشن کا قیام عمل میں آیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر یعنی 16 مارچ 1993ءتک اس بات کا پتہ لگا کر اپنی رپورٹ دینی تھی کہ کن حالات کے نتیجے میں بابری مسجد مسمار کی گئی۔ لیکن یہ ہندوستان کی تاریخ کا سب سے طویل انکوائری کمیشن ثابت ہوا اور اس کی مدت کار میں ریکارڈ 48 مرتبہ توسیع کی گئی اورکمیشن میں متعدد مرتبہ توسیع دیے جانے کے باعث لیبرہان کمیشن کافی عرصے سے تنازعات کا شکار رہا اور بالاخر17 سال بعد جسٹس لیبرہان نے 30 جون 2009 ءکو رپورٹ ہندوستانی وزیراعظم کو پیش کردی اور یہ رپورٹ نومبر2009ءکو ہندوستانی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی۔ تاہم اس دوران بابری مسجد کی عدالتی کارروائی بھی جاری رہی اور دونوں فریقوں کی جانب سے15 ہزار صفحات پر مشتمل دستاویزات بھی پیش کی گئیں ۔اس وقت سب کی نظریں اس ملک کی سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں اور فیصلے کے انتظار میں ہیں۔ تاہم آج دنیا بھر میں عدالتیں متعلقہ مقدمات کو مقررہ وقت پر نمٹا کر مظلوم کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن ہندوستان کی عدلیہ نے ایک انتہائی اہم نوعیت کے مقدمہ کو گزشتہ 22 سال سے لٹکا کر رکھا ہوا ہے اور اس عرصے میں قتل و غارت میں ملوث کئی اہم مجرم اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں جبکہ کئی دندناتے پھر رہے ہیں۔اگر بھارتی صدر یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو وہ اپنے منصب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عدالت میں حقائق بیان کریں تاکہ عدالت کو بھی فیصلہ کرنے میں آسانی ہو اور حق دار کو حق مل جائے ۔

جنرل راحیل شریف قوم اورپاکستان کو آپکی ضرورت ہے

اس میں شک کوئی نہیں کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت ختم ہونے میں ابھی10مہینے باقی ہیں ۔ مگرراحیل شریف نے سیاسی لیڈروں کے بیانات اورگر دشی افواہوں کے پیش نظر اس بات کی وضا حت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی دوران ملازمت میں تو سیع کے خواہاں نہیں۔ ملک کے مختلف سیاسی پا رٹیوں،جس میںپاکستان پیپلز پا رٹی، پی ایم ایل (ن)،تحریک انصاف ،اور ایم کیو ایم شامل ہے ،انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی اس بیان کو سراہا اور اس کو جمہور یت اور ملکی جمہوری نظام کے لئے نیک شگون قرار دیا۔ایک معقولہ ہے کہ بغل میں چھری اور مُنہ پہ رام رام۔ پاکستان پیپلز پا رٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کسی صورت راحیل شریف کی مدت ملازمت کی تو سیع کی حق میں نہیں۔وہ ملک میں اپنی مر ضی کی حکومت کرنا چاہتے ہیں جسکی راہ میں بڑی رکا وٹ فوج اور موجودہ سپہ سالار ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ فوج کا ماضی میں کردار زیادہ اچھا نہیںرہا اور اُس سے ایسے ایسے غلطیاں سر زد ہوئی ہیںجو نا قابل معافی ہے۔ مگر ملک میںدہشت گردی اور انتہا پسندی کے پسے پاکستانی ،راحیل شریف کے ماضی قریب کے اقدامات سے متا ثر ہوکرآس لگائے بیٹھے ہیں کہ سپہ سالار وطن عزیز میں امن وآمان بحال کرنے میںضرور کامیاب ہوگا ۔ مسلح افواج اور سپہ سالار نے وطن عزیزمیں بحالی امن کے لئے جو اقدامات کئے ہیںعوام اُس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ مختلف سیاسی پا رٹیوں کے قائدین جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں تو سیع چاہیں یا نہ چاہیں مگر 90 فی صد عوام، مختلف سیاسی پا رٹیوں کے قائدین کی اس بات کی قطعاً حمایت نہیںکرتے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی جنگ سپہ سالار کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے پایہ تکمیل کو نہ پہنچے۔عوام چاہتے ہیں کہ ملک میں دہشت گردی ، انتہا پسندی کی جنگ کو جاری رکھنے اور امن و آمان کی بحالی تک چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی دوران ملازمت میں تو سیع کرنی چاہئے۔ پا کستانیوں کاعوامی ر د عمل، اپنے 90 فی صد منتخب نمائندوں اورسیاست دانوں سے قطعاً مختلف ہے۔ 90 فیصد سیاست دانوں کے مطابق فو ج ایک ادارہ ہے اور فوج کی اداراتی سٹرکچر میں کسی کے آنے یا جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ الحمد اللہ اس میں کوئی شک نہیں کہ راحیل شریف کی قیادت میں مسلح افواج ایک مضبوط اور منظم ادارہ ہے۔سیاست دانوں کی اس بات سے اتفا ق نہیں کیا جا سکتا ،کیونکہ جس طرح ہاتھ کی تمام انگلیاں ایک برابر نہیںہیں اسی طر ح فوج کے سارے جنرلز بھی ایک جیسے نہیں ۔ اُنکے مزاج، سوچ ، فکر اور لائن آف ایکشن میں ہمیشہ فرق ہوگا اور رہے گا۔ میں ایسے بُہت سارے اداروں کی مثالیں دے سکتا ہوں کہ ایک سربراہ کے دور میں اسکی کا رکر دگی ایک ہوتی ہے اور دوسرے سربراہ کے دور میں اسکی کا رکر دگی کچھ اور ہو تی ہے ۔ پاکستان سٹیل ملز ما ضی میں منا فع بخش ادارہ ہوا کرتاتھا مگر اب نا اہل سربراہوں کی وجہ سے یہ مل بند پڑا ہے۔ اسی طر ح ہم پی آئی اے کی مثال بھی دے سکتے ہیں۔ جنرل نو ر خان کے دور میں پی آئی اے ایک منافع بخش ادارہ ہوا کرتا تھا اور پی آئی اے نے دنیا میں کئی ایر لائن کھڑے کئے جس میں بنگلہ دیش کی بو جا ائر لائن اور متحدہ امارات کی امیرٹ ائر لائنEmirat Air Line شامل ہے۔ مگر پی آئی اے اب خود نارمل قیادت کی وجہ سے تباہی اور بر بادی کے دہانی پرہے اور کئی سو ارب روپے خسارے میں ہے۔ ہم اپنی ملک کی مثال بھی دے سکتے ہیں جس وقت ما ضی میںوطن عزیز کو اچھی اور مخلص قیا دت میسر تھی تو اُس دور میں پاکستان بیلجیم، انڈونیشیائ، جرمنی اور دوسرے کئی ممالک کو قرضے دیا کرتا تھا مگر اب وہی پاکستان ناا ہل قیادت کے ہاتھوں میں ہے جسکی وجہ سے پاکستان 100 ارب ڈالر کا مقروض ہے اور اپنی جی ڈی پی کا 50 فی صد قرض اور سود کی ادائیگی میں دے رہا ہے۔ ان تمام باتوں سے میرا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں ترقی یافتہ ممالک کی طر ح ادارے اُ س مقام تک نہیں پہنچے جو کسی کے آنے اور جانے سے نہ بدلے ۔ خداوند لا عزال نے پاکستا ن کو جنرل راحیل شریف کی شکل میں ایک بھر پور صلاحیت والا اچھا لیڈر عطاکیا ہے اور وطن عزیز کو جتنے بھی اندرونی اور بیرونی مسائل درپیش ہیں اُسکو موثر انداز سے حل کر سکیں۔ وطن عزیز کاسب سے بڑا مسئلہ دہشت گر دی اور انتہا پسندی ہے جسکی وجہ سے ۰۶ ہزار پاکستانیوں کی قیمتی جانوں کی ضائع ہونے کے علاوہ پاکستان کو اقتصادی طورپر ۰۰۱ ارب ڈالر کا نُقصان بھی پہنچا ہے۔ اللہ کے فضل وکرم سے جنرل راحیل شریف کی قیادت میں مسلح افواج نے دہشت گر دی اور انتہا پسندی پر بڑی حد تک قابو بھی پالیا ہے۔ اگر موجودہ سپہ سالار کی مدت ملازمت میں تو سیع کی جائے تو پو را یقین کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں اس نا سو ر پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قابو پالیا جائے گا۔پاکستانی سیاست دان بڑے بڑے دعوے کر تے ہیں مگر سیاسی پا رٹیوں اور قیادت کی نااہلی اور بد انتظامی کی وجہ سے پاکستان کی سماجی، اقتصادی اور بد حالی ہمارے سامنے ہیں۔ اُس وقت تک ملک میں بے روز گاری، لاقانونیت، مہنگائی قابو کرنے میں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ترغیب اورپاکستانی وسائل سے استفادہ نہیں کیا جا سکتاجب تک ملک سے دہشت گر دی کو جڑ سے نہیں اُکا ڑا جائے گا۔ اگر ہم موجودہ چیف آرمی سٹاف کی شخصیت پر نظر ڈالیں تو میرے خیال میں راحیل شریف واحد سپہ سالار ہے جو ملکی مسائل کو سمجھنے اور انکو حل کرنے کا ادارک رکھتے ہیں۔ اب تک پاکستان اورپو ری دنیا میں پاکستان کے موجودہ مقبول ترین کے بارے میں سروے کئے جا چکے ہیں اوران سروے اوررائے عامہ کے رپورٹس کے مطابق جنرل راحیل شریف پاکستان کے مقبول ترین جنرل اور لیڈر ہیں۔ میرے خیال میں یہ واحد پاکستانی جنرل یا لیڈر ہے جنکو پاکستانی عوام نے دور اقتدار اُنکی زندگی میں انتہائی پسند کیا ۔ میں پاکستانی عوام اور مختلف سیاسی پا رٹیوں کی لیڈران سے استدعا کرتا ہوں کہ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے اورفی ا لوقت مسلح افواج کی کمان کسی اور کو دینے سے پاکستان کی پالیسیوں کی تسلسل میں رکا وٹ ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک میں کسی کے آنے یاجانے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر پاکستان میں اداروں کی حالت وہ نہیں جو ترقی یافتہ اقوام میںہے یہاں جنرل راحیل شریف کے جانے سے اور دہشت گر دی کے خلاف جنگ کی تسلسل پر ضرور اثر پڑے گا۔ جنرل راحیل شریف شاید پاکستانی سیاست دانوں اور حکمرانو کو آپکی ضروت نہ ہو مگر ملک اور قوم کو آپکی ضروت ہے۔

مریم نوازاور ان کا انقلابی ویژن

مریم نواز کے بارے میں لکھناکچھ اس لئے بھی مشکل ہے کہ ان کے والد اس ملک کے اقتدار اعلیٰ کے سربراہ ہیں ۔ حکومت میں شامل کسی فرد کے حوالے سے اگر اچھی بات لکھی جائے تو اسے خوشامد کہا جاتاہے اور اگر تنقید کی جائے تو الزام لگتا ہے کہ اپوزیشن سے مفاد حاصل کیے جارہے ہیں میں کافی دن پہلے مریم نوازکے حوالے سے لکھنا چا رہا تھا مگر اسی گومگو کا شکار تھا کہ لکھوں یا نہ لکھوں بالآخر فیصلہ کیا کہ جو اچھی بات ہے اسے اچھا کہنا چاہیے کیونکہ اگر اچھا نہ کہا جائے تو یہ بھی قلم کا حق ادا نہ کرنے کے مترادف ہوتاہے ۔ ایک عام کہاوت ہے کہ بڑے درخت کے نیچے کوئی نیا پودا نہیں پنپ سکتا اور نہ ہی اس کا قد کاٹھ بلند ہوسکتا ہے مگر برصغیر پاک و ہند میں کچھ خاندان ایسے ہیں جن سے وابستہ افراد نے اپنی الگ پہچان بنائی ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بینظیر بھٹوایک طویل جدوجہد کے بعد اپنا مقام بنایا اوروزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچیں اور پھر اسی مقام کی حق دار ٹھہری جہاں ان سے قبل ان کے والد اور دوبھائی پہنچ چکے تھے ۔ اسی طرح گجرات کے دو بھائیوں نے ایک ہی دائرے میںرہتے ہوئے اپنا الگ الگ سیاسی مقام بنایا۔ بات مریم نواز شریف کی ہورہی تھی کہ برسبیل تذکرہ ان افراد کا ذکر بھی آگیا۔ مریم نواز وزیراعظم کی صاحبزادی ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سیاسی و اخلاقی اقدار کی بھی مالک ہیں ان کا اپنا ایک ویژن ہے اور ایک اپنی الگ سوچ ہے ۔ مریم نواز سے میری پہلی
ملاقات برادرن مظہر برلاس نے برسوں قبل کروائی تھی اور یہ ملاقات صرف تعارف تک ہی محدود تھی اور یہ بھی اتفاق ہے کہ میری ان سے دوسری ملاقات بھی مظہربرلاس کے توسط سے ہوئی۔ اس ملاقات کا پھر کبھی بیان کرینگے ۔ زیر نظر تحریر میں مریم نواز شریف کی جانب سے شروع کیے جانے والے ان انقلابی اقدامات کا تذکرہ کرناہے کہ جن پر وہ عمل کرنا چا رہی ہیں۔ مریم نواز کو پہلی بار جب موجودہ حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا سربراہ بنایا تو پاکستان سے غربت کے خاتمے کیلئے ان کے ذہن میں ایک طویل پروگرام تھا جس پر اگر عمل کیا جاتا تو پاکستان میں بسنے والا کوئی بھی غریب ہاتھ نہ پھیلاتا بلکہ وہ اپنے پیروں پر خود کھڑا ہوکر معاشرے کی خدمت کرتا۔ ایک نشست میں مریم نواز شریف نے اس بارے میں تفصیل سے بات کی میری خوش قسمتی تھی کہ میں بھی اس نشست میں موجود تھا۔ بھلا ہو میرے ساتھی اخبار نویسوں اور کالم نگاروں کا کہ جب انہیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا سربراہ مقرر کیا گیا تو ان کے خلاف کچھ کالم لکھے گئے اور خدشہ یہ ظاہر کیا گیا کہ کھرب پتی باپ کی بیٹی جو غیر منتخب ہے وہ اس ادارے کا سربراہ بنا کر ظلمِ عظیم کردیا گیا ہے کہ اب اس فنڈ کی رقم غریبوں پر صرف ہونے کی بجائے رائیونڈ پہنچ جائے گی، الزام شدید تھا چنانچہ مریم نواز نے اس عہدے سے استعفیٰ دینے میں ہی عافیت سمجھی۔ میرا بسیرا اسلام آباد میں ہے اور کئی سالوں سے یہ میرا جائے مسکن بھی ہے۔ یہ شہر مجھے اچھا بھی لگتا ہے کہ میرے بچپن ، میرے لڑکپن اور میری جوانی کی بہت ساری یادیں اس شہر بے مثال سے وابستہ ہیں اس لئے ہر وہ شخص مجھے اچھا لگتا ہے جو اس شہر کی بہتری کیلئے کوئی قدم اٹھاتا ہے یا اس بارے میں سوچتا ہے ۔ اسلام آباد شہر اقتدار ہے مگر یہاں کم آمدنی والے طبقہ کی بھی اکثریت ہے اور اسلام آباد کے فیڈرل ایریا میں جا کر یقین نہیں آتا کہ یہ وفاقی دارالحکومت کا حصہ ہے ۔ مریم نواز نے یہاں دو انقلابی اقدامات شروع کیے ہیں جن کی ستائش لازم ہے ۔ ایک روز وہ وزیراعظم ہاﺅس سے چادر اوڑھے بغیر کسی پروٹوکول سے نکلیں اور انہوں نے اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں قائم لڑکیوں کے تمام پرائمری، مڈل اور ہائی سکولوں کا خودجاکر معائنہ کیا اور ان کی حالت زار کو خود اپنی آنکھ سے دیکھا۔ وزیراعظم کی سیکورٹی پر مامور عملے کو جب علم ہوا کہ وزیراعظم کی صاحبزادی فیڈرل ایریا میں سکولوں کے دورے کرتے پھر رہی ہیں اس سے پہلے کہ سیکورٹی سٹاف الرٹ ہوتا وہ اپنا دورہ مکمل کرکے واپس وزیراعظم ہاﺅس پہنچ چکی تھیں اب انکا ارادہ ہے کہ وفاق کے دیہی علاقوں میں جتنے بھی لڑکیوں کے پرائمری ، مڈل اور ہائی سکول ہیں انہیں اپ گریڈ کیا جائے اس اقدام کی بدولت وفاقی علاقے میں کوئی بچی تعلیم حاصل کیے بغیر نہ رہے گی ۔ مریم نواز کا دوسرا انقلابی اقدام صحت کے حوالے سے ہے انہوں نے ایک روز اچانک پمز ہسپتال کا دورہ کیا اور وہاں یہ حالت زار دیکھی اس پر انہوں نے ڈاکٹر مصدق ملک سے مل کر ہیلتھ انشورنس کا پروگرام بنایا کہ وہ تمام لوگ جو غربت کی زیرو لائن پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کیلئے سوشل سیکورٹی کے ذریعے علاج معالجہ کا اہتمام کیا جائے ۔ اس ضمن میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کرائے جانے والے غربت کے سروے میں شامل تمام افراد کا ڈیٹا اٹھا لیا گیا ہے اور ان کے قریب ترین ہسپتالوں کو پینل پر شامل کرلیا گیا ہے ۔ اسلام آباد کے دو بڑے معروف ہسپتال اس پروگرام کے تحت اب غرباءکا علاج بھی کریں گے۔ ابتداءمیں یہ پروگرام اسلام آباد سے شروع ہوگا اور پھر ملک بھر میں پھیل جائے گا۔ کسی غریب کو ہنگامی حالت میں علاج کیلئے اگر 6لاکھ روپے کا آسرہ مل جائے تو اس سے بڑی نیکی کیا ہوگی ۔ اگر پرویز الٰہی اپنے دور میں 1122 پولیس وارڈن نظام اور پٹرولنگ پولیس کا نظام بنائے اور مریم نواز صحت عامہ اورتعلیم کے حوالے سے کوئی انقلابی اقدام کرے تو اس کی ستائش بھی ملک گیر سطح پر ہونی چاہیے۔ میں نے گزشتہ روز اس پروگرام کے حوالے سے اپنے دوست اور بھائی ڈاکٹر عاشر سے بات کی تو وہ حسب عادت مسکرایا اور کہا ۔
آﺅ ریت کی دیوار پر وہ نقش قدم چھوڑ چلیں
جس کی آتی ہوئی نسلوں کو ضرورت ہوگی

گریٹر پختونستان، ملکی سالمیت کیخلاف سازش!

امریکہ، برطانیہ اور بھارت کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان میں پختونستان تحریک زندہ کرنے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ اس مرتبہ تحریک کو یورپ سے سپورٹ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد یورپ اور امریکہ میں قائم ”مشال“ اور ”دیوا“ ریڈیو سمیت بعض ٹی وی چینلز نے زہریلا پروپیگنڈہ شروع کر دیا ہے ۔ جس سے یورپ میں مقیم اس تحریک کےلئے کام کرنے والے پختونوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جا رہی ہے کہ جب تک پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ اور فوج موجود ہے ان کا قتل عام جاری رہے گا۔ پاکستان کے ساتھ رہتے ہوئے خیبر پختونستان میں امن نہیں آسکتا۔
ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر باچا خان یونیورسٹی پر حملے کو باچا خان کے فلسفے پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔باچا خان یونیورسٹی میں شہید ہونے والے پختونوں کی یاد میں پکتیا اور مشرقی افغانستان میں قوم پرستوں کی جانب سے مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ ان مظاہروں کو بھارتی قونصل خانوں کی حمایت حاصل ہے۔ پکتیا میں ہونے والے ایک مظاہرے میں پاکستان کے خلاف اور آزاد پختونستان بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ آرمی پبلک سکول پشاور کے بعد چار سدہ میں باچا خان یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا تاکہ پختونوں میں مزید اشتعال پھیلے۔ باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد پختونوں کے حقوق کی بات کی جا رہی ہے۔
باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد برطانیہ میں مظاہرے کئے گئے جن میں پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے بارے میں سوال اٹھائے گئے۔ میڈیا پر ’عسکری نہیں نظریاتی جنگ کی ضرورت ہے‘ کے عنوان سے یہ تھیوریاں پیش کی جا رہی ہیں کہ نظام تعلیم کو تبدیل کیا جائے اور نصاب میں جہاد کے اسباق کو نکال دیا جائے۔ پختونستان تحریک کےلئے امریکہ اور یورپ کی جانب سے قائم کئے گئے ”ریڈیو مشال“ میں کام کرنے والوں کی اکثریت خیبر پختون کے ان افراد کی ہے جن کا تعلق اے این پی کے اسٹوڈنٹ ونگ سے ہے اور وہ ماضی میں پختونستان تحریک میں بڑے سرگرم رہے ہیں۔ ریڈیو مشال سے پشتو زبان میں خبریں اور زہریلے تجزیے نشر کئے جا رہے ہیں۔ پختونستان تحریک کے حوالے سے ریڈیو مشال اور بعض ٹی وی چینلز کے پروپیگنڈہ پروگرامز کو ویب سائٹس پر شیئر کر کے افغانستان اور پاکستان کے پشتون علاقوں میں پھیلا جا رہا ہے۔ یہ ریڈیو امریکہ نے افغان طالبان کے خلاف قائم کیا تھا جسے اب پختونستان تحریک کو دوبارہ زندہ کرنے کےلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ملالہ یوسف زئی اور اس کے والد کی کوششوں سے اے این پی کے کارکنوں کو بڑی تعداد میں لندن بلایا جا رہا ہے ۔ لندن میں اے این پی کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں ۔ انہیں دفاتر بھی مہیا کیے گئے ہیں اور انہوں نے مظاہرے بھی شروع کر دیے ہیں۔لندن کے تعلیمی اداروں میں بڑے پیمانے پر پختونوں کو داخلے دیئے جا رہے ہیں جن کی سفارش قوم پرست جماعتوں کے قائدین کرتے ہیں۔ پختونستان تحریک کے حوالے سے سابق افغان صدر حامد کر زئی اور بعض پختون قوم پرستوں کے درمیان رابطے بھی جاری ہیں۔
امریکہ برطانیہ اور بھارت نے خیبر پختون میں پختونستان تحریک پر توجہ اس لئے بھی مرکوز کی کہ اقتصادی کوریڈور خیبر پختون کے ہزارہ ڈویژن، ضلع کوہستان اور ڈی آئی خان سے گزرے گا۔ جبکہ یہاں سے گلگت بلتستان اور چین کی سرحد بھی لگتی ہے۔ اسی لئے یہاں یہ منصوبہ زیادہ قابل عمل لگ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لندن، افغانستان اور امریکہ میں موجود بعض قوم پرستوں کو اقتصادی کوریڈور کے جعلی نقشے تھما کر بتایا گیا ہے کہ اصل نقشے یہ ہیں۔پاکستان میں ایک قوم پرست جماعت کی کانفرنس میں یہ نقشے دکھائے گئے تو وفاقی وزیر احسن اقبال حیران رہ گئے اور انہوں نے کہا کہ وہ ہر فورم پر ان نقشوں کو چیلنج کریں گے۔ اے این پی اور دیگر قوم پرستوں کے پاس جو نقشے ہیں وہ جعلی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختون کے جن علاقوں میں کوریڈور تعمیر ہوگا، ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اقتصادی کوریڈور ضلع کوہستان سے ہوتا ہوا ہزارہ ڈویژن سے اسلام آباد اور پھر ڈی آئی خان سے ہوتا ہوا ژوب میں داخل ہوگا۔ اس روٹ میں تبدیلی ممکن نہیں کہ اس روٹ کا نقشہ چین نے خود بنایا ہے۔ لیکن خیبر پختون میں ایسے جعلی نقشے گردش کر رہے ہیں اور جو انٹر نیٹ پر بھی ڈالے گئے ہیں جن کے ذریعے لوگوں میں اشتعال پھیلا کر پختونستان تحریک میں جان ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے سینیٹ میں جمعیت علمائے اسلام کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر مولانا گل نصیب خان نے کہا ہے کہ صوبہ سرحد میں منظم منصوبے کے تحت گریٹر پختونستان کی تحریک دو ماہ سے جاری ہے۔ صوبہ میں کئی مقامات پر بڑے چوکوں میں ایسے بورڈ نصب کئیے گئے ہیں جن پر خیبر پختونستان کو افغانستان کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے اور افغانستان کے جھنڈے کے رنگوں سے بنا ایک درخت دکھایا ہے۔ ڈیورنڈ لائن کو ختم کر نے کی سازش کی جارہی ہے۔
افغانستان پر روسی قبضے کے بعد ہندوستان نے پاک افغان سرحد کے ساتھ کئی قونصل خانے قائم کرکے پاکستان دشمن عناصر اور ”را“ کے ایجنٹوں کے ذریعے ہمارے قبائلی علاقے اور صوبہ سرحد میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی راہ ہموار کی۔ اس مقصد کیلئے غیر ملکی عناصر کو بڑے پیمانے پر پاکستانی کرنسی دے کر پاکستان میں دہشت گردی‘ تخریب کاری اور خودکش حملوں کیلئے بھیجا جا رہا ہے۔ ایسے عناصر کو امریکی افغان حکومت اور بھارتی حکمرانوں کی سرپرستی حاصل ہے ۔ بھارت کی سرتوڑ کوشش اور خواہش ہے کہ سرحد میں گریٹر پختونستان اور بلوچستان میں گریٹر بلوچستان کے ناپاک منصوبوں کی راہ ہموار کی جائے۔
حکومت کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ ان ناپاک منصوبوں کا فی الفور نوٹس لے اور ایسے عناصر کی سرگرمیوں کو پوری طرح منظرعام پر لائے تاکہ کسی غیر ملکی طاقت کی شہ پر یا اس کی درپردہ حمایت حاصل کرکے ہمارے ازلی دشمن ہمارے وجود کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرسکیں۔ خیبر پختون کی صوبائی اسمبلی‘ ہماری سینیٹ اور قومی اسمبلی کو بھی اس مسئلے پر توجہ مرکوز کرکے ان تمام کرداروں کو سامنے لانا چاہئے‘ جو وطن عزیز کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔

افغانستان، دہشت گردی اور بھارت

قارئین کرام ! افغانستان میں جنم لینے والی دہشت گردی کے حوالے سے کچھ دانشور افغانستان کی زمینی صورتحال کو جانے بغیر بار بار تکرار کرتے ہیں کہ پاکستان افغان سرحد کو مکمل طور پر بند کردیا جائے جبکہ ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔دراصل پاکستان افغان سرحد جسے تاریخ میں ڈیورنڈ لائین سے منسوب کیا جاتا ہے چین کی سرحد یعنی کوہ قراقرم سے شروع ہوتی ہے اور واخان کوریڈور سے لیکر کوہ ہندوکش کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں، خطرناک کھائیوں اور سبزہ زار وادیوں سے ہوتی ہوئی ایران کی سرحد سے جا ملتی ہے چنانچہ پاکستان افغان سرحد جس کی کل لمبائی تقریباً 2416 کلو میٹر تک محیط ہے کو مکمل طور پر کبھی بند نہیں کیا جاسکتا۔ افغانستان کا تقریباً تین چوتھائی سے زیادہ رقبہ پہاڑی سلسلوں پر مثتمل ہے جبکہ ایک چوتھائی سے کچھ کم سرسبز وادیوں، جنگلات ، ریگستان ، ویرانوں اور دلدلی علاقے پر مثتمل ہے۔ پامیر ریجن سے ازبکستان تک آمو دریا افغانستان کی قدرتی سرحد کے طور پر افغانستان کی سرحد کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہوا، ازبکستان کی جانب چلا جاتا ہے۔ افغانستان ، دریائے ہاری رد جسے دریائے نیل سے تشبیہ دی جاتی ہے کے علاوہ دریائے ہلمند ، دریائے ارگند اور دریائے کابل کے علاوہ چھوٹے چھوٹے کئی دریاﺅں اور ندی نالوں کی ایسی سرزمین ہے جہاں دریائے کابل کے سوا تمام شوریدہ دریا اور ندی نالے ، ڈیورنڈ لائین کے پار افغان وادیوں، ویرانوں اور ریگستانوں میں بڑی بڑی جھیلیں بناتے ہیں اور دلدلی علاقوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ صرف دریائے کابل ہی ایک ایسا دریا ہے جو پاکستان میں داخل ہوتا ہے لیکن وہ بھی اپنی شناخت دریائے سندھ میں گم کردیتا ہے۔ درحقیقت پہاڑی سلسلوں پر محیط افغان سرزمین جہاں بڑے بڑے دریا اور شوریدہ سر ندی نالے ویرانوں اور دلدلوں میں گم ہوجاتے ہیں یقینا ً عسکریت پسندوں اور افیون کی کاشت سے منسلک ڈرگ مافیا کےلئے ایک قدرتی پناہ گاہ بن جاتی ہے جنہیں اِن ویرانوں اور سرنگوں سے بچھے پہاڑی سلسلوں کے جال میں تلاش کرکے جڑ سے ختم کرنا ایک ناممکن اَمر بن گیا ہے ۔ یہ اَمر یقینا افسوس ناک ہے کہ امریکی سرپرستی میں افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف کامیاب افغان جہاد کے پیش منظر میں امریکہ نے افغان جہادی قوتوں کی افغانستان میں مستحکم حکومت قائم کرنے میں مدد دینے کے بجائے افغان جنگی گروپوں کو مخصوص مفادات کے تحت عالم تنہائی میں چھوڑ دیاتھا جس نے افغانستان میں مختلف طاقت ور جنگجوﺅں (War Lords) ڈرگ مافیا ، اور قبائل کے درمیان اقتدار کی کشمکش نے خانہ جنگی کی شکل اختیار کر لی تھی۔ ملا عمر کی قیادت میں طالبان نے پُرامن جدوجہد کے ذریعے اِس خانہ جنگی کو ختم کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی لیکن ملا عمر کی کوششیں اُس وقت ناکام ہوئیں جب افغانستان میں بن لادن کی آمد کےساتھ ہی دہشت گردی کی سیاست نے امریکی مفادات کے خلاف ٹرن لیا۔چنانچہ یہی وہ لمحہ تھا جب امریکیوں کی جانب سے افغانستان میں ملا عمر کی حکومت کو ختم کرنے کےلئے طالبان کے مضبوط علاقوں پر تاریخ کی بدترین بمباری ، تباہی اور وسیع پیمانے پر افغانوں کی ہلاکتوں کے سبب نہ صرف بےشمار افغان شہری ہمسایہ ممالک میں ہجرت کر گئے جبکہ بیشتر عسکریت پسندوں نے افغانستان کے ناقابل عبور پہاڑی سلسلوں ، ویرانوں ، سرنگوں اور دلدلی علاقوں کا رُخ کیا اور اِن ناقابل تسخیر پناہ گاہوں میں بیٹھ کر امریکہ و نیٹو اتحادیوں کو دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ ایسی ہی صورتحال نے پاکستان میں ڈیورنڈ لائین سے منسلک وزیرستان اور سوات کے دشوار گزار علاقوں میں جنم لیا جس نے وقت گزرنے کےساتھ دہشت گردی کے عفریت کی شکل اختیار کرلی۔درج بالا تناظر میں افغانستان پر امریکہ نیٹو اتحاد کے قبضے کے بعد امریکہ نے افغانستان میں افغان طالبان مخالف عبداللہ عبداللہ کی قیادت میں نادرن اتحاد کو منظم کیا جبکہ حامد کرزئی کو عبوری مدت کےلئے صدر بنایا گیا ۔ بہرحال امریکہ نے کٹ پتلی افغان حکومت کی سیاسی مدد کےلئے بھارت کو اہم کردار کےلئے منتخب کیا ۔ چنانچہ نئے آئین کے تحت اپریل 2014 میں نئے انتخابات ہوئے لیکن صدارتی انتخابات میں 27 اُمیدواروں میں عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی بل ترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر آئے لیکن کامیابی کےلئے کسی کو مطلوبہ ووٹ حاصل نہ ہوسکے چنانچہ جون 2014ءمیں اِن دونوں اُمیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ ہوا جس میں اشرف غنی نے کامیابی حاصل کی لیکن بھارت حمایت یافتہ نادرن اتحاد کے عبداللہ عبداللہ نے نتائج کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔اِس مرحلے پر امریکہ نیٹو اتحاد نے مداخلت کی اور اشرف غنی کی صدارت میں عبداللہ عبداللہ کو افغانستان کا چیف ایگزیکٹو بنا دیا گیا۔لیکن اِن تمام سیاسی حربوں اور 15 برس سے زیادہ عرصہ پر محیط نیٹو امریکہ اتحادی افواج کی موجودگی اور بھارت کو اہم کرادار دئیے جانے کے باوجود افغانستان میں دہشت گرد گروپوں پر قابو نہیں پایا جا سکا چنانچہ بیشتر صوبوں میں افغان طالبان بدستور مضبوط پوزیشن میں ہیں جس کا اظہار گذشتہ برس افغانستان کے کچھ صوبوں میں طالبان کے مسلح حملوں ، عارضی قبضے اور پھر پسپا ہو جانے کے حوالے سے محسوس کیا گیا ہے ۔ البتہ جب تحریک طالبان پاکستان TTP نے دہشت گردی کی وارداتوں کے ذریعے اِسکول کے بچوں اور بےگناہ شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے عزم صمیم نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے قبائلی علاقوں میں صورتحال کو بہت حد تک کنٹرول کیا تو دہشت گرد عناصر اور ڈرگ مافیا نے سوات اور وزیرستان سے نکل کر ڈیورنڈ لائین کے پار افغانستان میں اپنی کمین گاہیں بنانا شروع کیں تو بھارت نے نادرن اتحاد کی مدد سے پاکستانی سرحدی علاقوں کے نزدیک قائم بیشتر بھارتی قونصل خانوں میں تعینات بھارتی انٹیلی جنس RAW کے آپریٹرز کے ذریعے TTP میں اپنے ایجنٹ داخل کرنے اور پاکستان میں تخریب کاری کرنے کا موقع مل گیا چنانچہ سوات اور وزیرستان میں ملٹری آپریشن اور آپریشن ضرب عضب کے دباﺅ سے متاثرہو کر ڈیورنڈ لائین پار جانے والے TTP کے ایجنٹوں نے بھارتی حمایت یافتہ تحریک طالبان بھارتیہ یعنی TTB کی شکل اختیار کر لی ہے ۔

راحیل شریف کا تاریخی فیصلہ

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ وہ رواں برس نومبر میں اپنی تین سالہ مدت ملازمت کی تکمیل پر اپنے عہدے سے سبک دوش ہو جائیں گے اور اسمیں کوئی توسیع نہیں چاہیں گے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف کا اپنے موجودہ عہدے کی مدت میں اضافے سے متعلق حکومت سے کوئی درخواست کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائیاں پوری شدومد سے جاری رہیں گے اور ان میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔جنرل راحیل شریف نے 2013ء میں فوج کی کمان سنبھالی تھی۔یہ بات اہم ہے کہ ان سے قبل پاکستان کے دو فوجی سربراہوں نے اپنی مدت ملازمت کی تکمیل پر سبک دوش ہونے کی بجائے اس میں توسیع لی تھی۔کافی عرصہ سے میڈیا پر یہ چہ مگوئیاں کی جا رہی تھیں کہ ممکنہ طور پر ماضی میں فوجی سربراہان کی طرح وہ بھی اپنی مدت ملازمت میں توسیع کروا سکتے ہیں،مگرافواج پاکستان کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کا اعلان کرکے توسیع کے حوالے سے پھیلنے والی بے بنیاد افواہوں کا خاتمہ کردیا ہے ۔ جنرل راحیل شریف نے ریٹائرمنٹ سے دس ماہ قبل مقررہ وقت پر ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے ان تمام قیاس آرائیوں کی تردید کردی ہے کہ جو اس حوالے سے کی جارہی تھیں۔ فوج کے ادارہ تعلقات عامہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افواج پاکستان کے سپہ سالار اپنی ملازمت میں توسیع کے خواہشمند نہیںہیں۔ جنرل راحیل شریف کا یہ اعلان نہ صرف تاریخی ہے بلکہ آئین پاکستان کے عین مطابق بھی ہے کیونکہ افواج پاکستان آئین پاکستان سے وفاداری اور اس پرکلی عملدرآمد کا حلف اٹھاتی ہیں چنانچہ جنرل راحیل کا یہ اعلان پاکستان میں جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے کے مترادف ہے اور اس عزم کا اظہار ہے کہ مسلح افواج ملک میں آئین اور جمہوریت کی بالا دستی پر مکمل طورپر یقین رکھتی ہےں اور وہ ملک کے سیاسی معاملات میں مداخلت کا کوئی عزم یا ارادہ نہیںرکھتیں۔ پاکستان آرمی کی روایات ہمیشہ سے تاریخی رہی ہیں۔ راحیل شریف کے استعفیٰ سے قبل جنرل اسلم بیگ، جنرل وحیدکاکڑ، جنرل کرامت جہانگیر نے اپنی مدت سے بڑھ کر کوئی توسیع نہیں لی کیونکہ یہ ادارہ پاکستان کا واحد مضبوط ادارہ ہے جس کی بنیادیں مستحکم اور روایات شاندار ہیں اس کا ایک ایک سپاہی فولاد کے مانند ہے اور اپنے فرائض سے بخوبی آگاہ ہے اسے علم ہے کہ اس نے کس طرح ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی پاسبانی کرنی ہے یہی وجہ ہے کہ سیلاب ہو ، زلزلہ ہو یہ کوئی ناگہانی آفت ہو عوام کی نظریں فوج کی جانب ہی اٹھتی ہیں حتیٰ کہ سیاست دان بھی اس بات متفق ہیں کہ فوج میں ہیرا پھیری کی کوئی گنجائش نہیں یہی وجہ ہے کہ جب عام انتخابات کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے تو اس وقت بشمول حکومت تمام سیاستدانوں کا مطالبہ یہی ہوتا ہے کہ یہ انتخابات فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں۔جنرل راحیل شریف پاکستان کی عسکری تاریخ میں پہلے جرنیل ہیں جنہیں عوامی سطح پر بے پناہ مقبولیت ملی ہے۔انہوں نے ایک ایسے وقت میں افواج پاکستان کی کمان سنبھالی جب ملک دہشت گردی کی شدید ترین لپیٹ میں تھا اور افواج پاکستان حالت جنگ میں تھی۔انہوںنے پوری قوت کےساتھ دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے کیلئے مخلصانہ اقدامات کیے جنکے نتیجے میں دہشت گرد جو پاکستان کے اندر دہشت گردی اور خوف و ہراس پھیلانے میںمصروف تھے وہ سرپر پاﺅں رکھ کر بھاگے ۔ جنرل راحیل شریف کے ان اقدامات کی بدولت شہروں کی رونقیں واپس لوٹ آئیں اور کراچی جسے عروس البلاد کہا جاتا تھا ،ایک بار پھر امن و سکون کا گہوارہ بن گیا ہے،گو کہ اس منزل تک پہنچنے کیلئے افواج پاکستان کو بے پناہ قربانیاں بھی دینا پڑی مگر جب ایک سپہ سالار کسی کام کو کرنے کا عزم کرلیتا ہے تو پھر یہ قربانیاں بھی معمولی نظر آتی ہیں۔ جنرل راحیل شریف کے اس اقدام کو ملک کے سیاسی حلقوں میں تحسین کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور خاص طورپر ان کے پیش رو جرنیلوں نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیا ہے، مگر عوامی حلقوں اور سابق جنرل پرویز مشرف نے اس فیصلے کو مناسب قرار نہیں دیا۔ دراصل جس بہادری اور جرا¿ت کے ساتھ جنرل راحیل شریف نے ملک بھر سے دہشت گردی اور لاقانونیت کا خاتمہ کیا ہے قوم انہیں ایک نجات دہندہ کے روپ میں دیکھ رہی تھی اور عوامی حلقے یہ توقع کررہے تھے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنرل راحیل شریف اپنی وردی پہنے رکھیں گے مگر جنرل راحیل شریف جو دو نشان حیدر پانے والے شہداءکے وارث ہیں انہیں اپنے ادارے پر اس قدر یقین واثق ہے کہ ان کے بعد آنے والا سپہ سالار ان کے پروگرام کو اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھے گا جس جذبے کے ساتھ انہوں نے کمان سنبھالی تھی، چونکہ راحیل شریف ایک پروفیشنل فوجی پس منظر رکھنے والے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اسلئے وہ اپنی ذمہ داریوں کا تعین بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کا اعلان کرکے انہوں نے نہ صرف فوج کے اندر بلکہ بیرونی طورپر بھی اپنے قد کاٹھ میںاضافہ کیا ہے۔ قوم ان کی خدمات کو سراہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جہاں قوم دہشت گردوں کیخلاف کی جانے والی کارروائیوں ، افواج پاکستان کو مضبوط بنانے جیسے اقدامات کو یاد رکھے گی وہاں یہ بھی یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے جمہوری استحکام اور آئینی بالا دستی کیلئے دس ماہ قبل ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان کرکے آئین اور جمہوریت کی بالا دستی پر مہر ثبت کردی تھی ۔

عوام کیا چاہتے ہیں؟

اگر یہ کہا جائے کہ دنیا بھر میں دو طرح کے انسان پائے جاتے ہیں، ایک حاکم اور دوسرے محکوم یا ایک حکمران اور دوسرے عوام، تو غلط نہ ہو گا۔ بہت سوچ بچار کے بعد میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان دونوں طبقات کے انسانوں کے سوچنے کا انداز یکسر مختلف ہے، ان کی ترجیحات ایک دوسرے کے برعکس ہیں اور ان کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ پاکستان کے عوام اور حکمران طبقے پر سوچ کے مزاج اور ترجیحات پر سوچ بچار کے دوران دیگر ممالک کے حکمرانوں اور عوام کے اطوار و افعال بھی ذہن کے کینوس پر چھائے رہے۔ سوال ایک ہی تھا کہ آخر دنیا بھر کے عوام اپنے لیے کس طرح کے حکمران چاہتے ہیں؟ پاکستانی عوام چاہتے ہیں کہ ہمارے حکمران ایماندار ہوں، خلوص نیت کے ساتھ ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کریں، کرپٹ اور چور نہ ہوں، قوم کا پیسہ لوٹ کر باہر منتقل نہ کریں بلکہ اپنے باہر موجود اثاثے اور کاروبار بمعہ اولادیں ملک میں لے کر آئیں۔ بھارت سمیت تمام دنیا کے ساتھ بہتر تعلق استوار کریں، تجارت کو فروغ دیں اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر لے جائیں۔ جب بھارت کا ذکر آیا تو ذہن کھٹکا کہ وہاں کے عوام نے تو مسلمانوں کے قاتل اور پاکستان کے شدید مخالف نریندر مودی کو وزیراعظم منتخب کر لیا ہے، اس کا مطلب تو یہ ہوا وہ پاکستانی عوام کے بالکل برعکس سوچتے ہیں اور اپنے حکمرانوں کے حوالے سے ان کی پسند پاکستانیوں کی پسند کے برخلاف ہے۔ پاکستان میں موجود بھارت مخالف قوتیں اور سیاسی جماعتیں جلسے جلوس تو بہت بڑے بڑے کرلیتی ہیں مگر جب عوام کے ووٹ ڈالنے کا مرحلہ آتا ہے تو وہ بمشکل چند ہی نشستیں حاصل کر پاتے ہیں۔ آج تک کوئی بھی ایسی جماعت پاکستان تو کیا پاکستان کے کسی ایک صوبے میں بھی حکومت نہیں بنا سکی۔ اس کے برعکس بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی حامی اور نسبتاً معتدل مزاج جماعتیں بار بار اقتدار کے مزے لے چکی ہیں۔ میں نے پاکستانی اور بھارتی عوام کی پسند کے اس تضاد پر سوچنا شروع کر دیا۔ اس حوالے سے چند بھارتی دوست صحافیوں سے بھی گفتگو کی اور گتھیاں سلجھانے کی کوشش کی۔ بھارتی دوستوں نے بتایا کہ بھارتی عوام نے نریندر مودی کو پاکستان اور مسلم دشمنی کے معیار کو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعظم منتخب نہیں کیا۔ نریندر مودی جب ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے ریاست کی تعمیروترقی کے لیے ایسے شاندار کام کیے جنہیں بھارت کی باقی ریاستوں کے عوام رشک کی نظر سے دیکھتے تھے۔ جب نریندر مودی وزیراعظم کے امیدوار بنے تو عوام کو اپنی خواہش کی تکمیل کا موقع مل گیا اور انہوں نے نریندرمودی کو وزیراعظم منتخب کر لیا۔ میں نے سوال کیا کہ آپ کی اس توجیح کو کیونکر سچ مان لیا جائے؟ فرمانے لگے کہ اگر نریندر مودی کو مسلم اور پاکستان دشمنی کی بنیاد پر ہی منتخب کیا گیا ہوتا تو ریاست بہار و دیگر ریاستوں کے الیکشن میں نریندرمودی اور ان کی
جماعت بی جے پی کی جو درگت بنی ہے وہ نہ بنتی، ان ریاستوں کے انتخابات کی مہم کے دوران بھی خود نریندر مودی اور ان کی جماعت کے رہنماﺅں نے پاکستان اور مسلم دشمنی کا کارڈ کھل کر کھیلا تھا مگر بے کار گیا۔ بتایا گیا کہ بھارتی عوام جان چکے ہیں کہ وزیراعظم نریندرمودی وہ نریندرمودی نہیں رہے جو گجرات کے وزیراعلیٰ تھے، اب ان کی ترجیحات کچھ مختلف ہیں، اس لیے عوام کی رائے بھی مختلف ہو گئی۔ ایران کی بات کی جائے تو ہمارے یہاں یہ بات یقین سے کہی جاتی ہے کہ سابق ایرانی صدر احمدی نژاد ایرانی عوام کے دلوں میں بستے تھے، اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ امریکہ و دیگر مخالف طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے تھے اور ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کا عزم صمیم کیے ہوئے تھے۔ مگر یہاں سوال اٹھا کہ اگر یہ تمام باتیں درست ہیں تو احمد نژاد گزشتہ الیکشن کیوں ہار گئے؟ اور آج صدر حسن روحانی جو احمدی نژاد کی پالیسیوں کے بالکل الٹ چل رہے ہیں وہ بھی ایرانی عوام میں اسی قدر کیوں مقبول ہیں؟ تحقیق پر معلوم ہوا کہ احمدی نژاد اپنی اس لڑنے بھڑنے کی پالیسی کی وجہ سے مقبول نہیں تھے، انہوں نے ایران بھر کے بے گھر عوام کو گھر دیئے تھے، ان نے کہا تھا کہ عوام کو گھر دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان کے دور میں کوئی ایسا ایرانی نہیں رہا جس کے پاس اپنا گھر نہ ہو۔ بالکل وہی سبب جس کے باعث ہمارے ذوالفقار علی بھٹو آج بھی عوام کے دلوں میں موجود ہیں۔ آج بھی پیپلزپارٹی کو اگر کچھ ووٹ ملتے ہیں تو ان میں زیادہ تر ووٹ 5مرلہ سکیم کے باسیوں کے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد احمدی نژاد عوام کے لیے مہنگائی الاﺅنس کا اعلان کر دیا مگر ان کی یہ سکیم انہیں مہنگی پڑی، 90فیصد ایرانیوں نے اس سکیم سے فائدہ اٹھایا مگر اس کے باعث ایرانی معیشت کا بیڑہ غرق ہو گیا، مہنگائی اور بیروزگاری کا طوفان آ گیا اور یہی طوفان احمدی نژاد کی مقبولیت کو اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ آج حسن روحانی دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کے خواہاں ہیں، انہوں نے مغربی ممالک کے ساتھ معاہدہ کرکے اپنے ایٹمی پروگرام پرعالمی پابندیوں سے چھٹکارے، عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی خوشحالی کو ترجیح دی ہے تو لوگ انہیں بھی پسند کر رہے ہیں۔ اس سب کے بعد میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دنیا بھر کے عوام امن کے متلاشی ہیں، انہیں صحت، تعلیم اور روزگار چاہیے، پاکستانیوں کو بھارت سے، بھارتیوں کو پاکستان سے، ایرانیوں کو سعودی عرب سے اور سعودیوں کو ایران سے دشمنی سے کوئی غرض نہیں۔ یہ سب حکمرانوں کی ترجیحات ہیں۔اگر کسی ملک کے عوام کسی دوسرے ملک کے خلاف نفرت کا جذبہ رکھتے ہیں تو یہ ان کی لاعلمی کا قصور ہے، ان کے ملک کے میڈیا اور حکمرانوں کا قصور ہے جو انہیں دوسرے ملک کی غلط تصویر دکھاتے ہیں۔ ہم بھارتیوں کے متعلق یہی رائے رکھتے ہیں کہ وہ پاکستان سے نفرت کرتے ہیں، بہت حد تک یہ سچ بھی ہے، مگر آج آپ بھارتی میڈیا اور حکمرانوں کو لگام دے دیجیے، بھارتیوں کو پاکستان اور پاکستانیوں کے متعلق حقائق سے آگاہ کر دیجیے، یہی بھارتی ہوں گے جو پاکستان اور پاکستانیوں کے متعلق اچھے جذبات اپنے دل میں رکھیں گے۔ میری رائے تو یہ ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں؟

Google Analytics Alternative