کالم

ملاوٹ سے اَٹا معاشرہ

موجودہ دور میں اپنے ملک کو خیر آباد کہ کر بیرونی ممالک کی جانب بغرض دال روٹی کی تلاش میں جانے والوں کو عام طور پر اب ان کے پیارے واپسی پر لیپ ٹاپ ،موبائل یادوسرے تحائف کی بجائے اکثر اوقات یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ واپسی پر یا وہاں جاکر یہ میڈیسن بھیجنی ہے ،اور شاید یہی ان کیلئے اب سب سے اہم اور پیاری چیز رہ گئی ہے۔کیونکہ باہر کی ہر پاڈکٹ چاہے وہ میڈیسن ہو یا پھر اس کا شمار اشیائے خورد و نوش کے زمرے میں آتا ہو۔ہمیں یقین ہوتا ہے کہ یہ اپنی اثر پذیری یا فعالیت کے لحاظ سے اتنی ہی ہمارے لئے اہم ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے یا جو فوائد و اجزاء اس پر تحریر ہیں وہی اس سے نکلیں گے۔پاکستان میں خاص طور پر ادویات کے معیاری یا ایک نمبر ہو نے کی حالت یہ رہ گئی ہے کہ بڑے شہروں میں محض ایک دو سٹورز کے علاوہ ملاوٹ سے پاک یا ایک نمبر دوائی دستیاب تک نہیں ہے۔ورنہ تو میڈیکل سٹورز پر پڑی ان ادویات کو ایک دو تو نہیں البتہ تین سے لیکر دس نمبروں تک کیٹگرائز کیا جاتا ہے۔وجہ کیا بنی کہ ایک بیمار انسان جو انتہائی مجبوری کے عالم میں ڈاکٹری نسخے کے مطابق دوائی خریدنے اس امید پر جاتا ہے کہ اسے اس تکلیف سے نجات مل جائے گی،مگر اسے کیا پتا کہ وہ دوائی کی صورت اپنے لئے زہر خرید رہا ہے۔ملاوٹ شدہ اور ناقص اشیاء سے متعلق قانون سازی اور اس کی بیخ کنی کیلئے ادارے تو موجود ہیں مگر اس مکروہ اور انسانیت قاتل دھندے میں ملوث لوگوں کے اپنے ہاتھ اس قدر مضبوط ہیں کہ تمام تر قانون سازی اور اداروں کی موجودگی کے باوجود یہ لوگ بڑے آرام سے دامن بچا کر نکل جاتے ہیں اور پھر سے اسی کام میں جت جاتے ہیں ۔پاکستان میں گلی گلی کھلے ادویات ساز ادارے کیا عالمی معیارات ،عالمی ادارہ صحت کے وضع کردہ احتیاطی تدابیر اور فارمولوں کے مطابق ادویات تیار کر رہے ہیں ،صفائی کے کیا انتظامات ہیں یا ادویات کی تیاری میں استعمال کی جانے والی اشیاع یا مشینری کیا وضع کردہ معیارات پورا اترتی ہے کسی کو کسی نہ تو سرو کار ہے اور نہ ہی کوئی خوف کہ یہ سب کچھ نہ کر نے کی صورت میں انھیں کیا سزا مل سکتی ہے۔ہماری حکومتیں گزشتہ کئی دہائیوں سے محض سڑکوں ،پلوں اور انڈر پاسز،رنگ روڈز،اورنج ٹر ین اور میٹرو بس جیسے منصوبوں کی تکمیل کو تو، ترقی کا پہلا زینہ سمجھتے ہیں مگر ملک میں اشیائے خوردونوش اور ادویات میں ملاوٹ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواکی’’کے مصداق اب تو ہر طرف ہر پاکستانی کو سوائے ملاوٹ کے کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔انہی ملاوٹ شدہ اشیاء کے استعمال کا ہی اثر ہے کہ اب تو ہمارے رویوں میں بھی سوائے ملاوٹ اور ظاہری نمود نمائش کے کچھ بھی خالص نہیں ملتا۔ہمارے تعلقات، رشتے، ناطے، دوستیاں، رو یے، رجحانات سب کے سب اس قدر ملاوٹ زدہ ہیں کہ ہمارے اندر سے انسانیت اس قدر مر چکی ہے ضمیر اس قدر نحیف ہیں اور احساس ذمہ داری اس قدر گھٹیا ہے کہ اس ملک کے ڈاکٹرز محض چند سو روپے تنخواہ بڑھانے کے اپنے مطالبے منوانے کیلئے ہسپتالوں میں تڑپتے مریضوں کو چھوڑ کر سڑک بلاک کر کے بیٹھ جاتے ہیں،اور اساتذہ جو اس ملک کی آنے والی نسلوں کو تو تیار کر نے جیسے عظیم اور قابل قدر فریضے سے منسلک ہیں ہڑتال کر کے محض چند ہزار مراعات کی خاطر سکولوں کو تالے لگا کر سڑک پر بیٹھ جاتے ہیں ۔مصیبت تو یہ ہے کہ اب خود جرم کر نے والا دھڑلے سے ،بے شرمی کی انتہا ہے کہ اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی خاطر سڑکوں پر آکر مطالبات منوانے کیلئے حکومت کو پریشرائز کرتے نظر آتے ہیں ، کوئی اربوں روپے ملکی دولت کو لوٹ کر مزے سے باہر چلا جائے ،تمام کے تمام ادارے اپنے تمام تر اختیارات کے باوجود کالے دھن کو ڈھونڈھ ہی نہیں پاتے۔ اس سے یہاں کی اشرافیہ یا ایلیٹ کلاس کو فرق نہیں پڑتا کہ اس ملک کا غریب شہری سر درد کی گولی کھا کر مرے یا پھر بخار کا سیرپ پی کر ،کیونکہ ان کے علاج معالجے کیلئے پوری دنیا کے بڑے سے بڑے ہسپتال موجود ہیں اور انھیں موسمی زکام کیلئے بھی باہر کی ادویات اور ڈاکٹرز کے پورے پینل حاضر ملتے ہیں ۔ اصل مسئلہ تو یہ ہے ،ان کرپٹ عناصر کے خلاف اگر حکومتی سطح پر سزاؤں میں اضافے یا ادویات ساز اداروں کی رجسٹریشن سے متعلق پائے جانے والے سقم دور کر نے کی کوشش بھی کی جاتی ہے تو پھر یہی لوگ باہر نکل کھڑے ہوتے ہیں اور اپنی اس ہٹ دھرمی کو پورے معاشرے کے سامنے آشکارا کرتے نظر آتے ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ ہمیں ایسا مکروہ دھندہ کر نے کی اجازت دی جائے۔

پاکستانی قوم کی اپنے خُوب سے خُوب ترکی تلاش..؟

آج کافی عرصے بعد موضوع کے اعتبار سے کالم لکھتے ہوئے ایک اجنبی سے خُوف کا احساس ہواہے ایسا احساس جو کبھی کبھی ہر کالم نگاراور لکھاری کو ہوتا ہے مگر پھر بھی لکھاری کسی خُوف کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے وہ سب کچھ لکھ ہی دیتا ہے جو وہ لکھنا چاہتاہے سومیں بھی کسی خُوف کی پرواہ کئے بغیراگلی سطورمیں وہ سب کچھ سچ لکھنے کی کوشش کروں گا جو اکثر لکھاری ڈرتے ڈرتے ہی سہی مگر سچ ضرور لکھ دیتے ہیں۔ عرض یہ ہے کہ آج میری پاکستانی قوم کو یہ بات ہرحال میں تسلیم کرنی پڑے گی کہ ہمیں اپنے قیام کے 70سال گزرجانے کے بعد بھی ایسی آزادی نصیب نہیں ہوئی ہے جس آزادی کے لئے ہم نے اپنا وطن پاکستان بنایا تھا اور اِسی کے ساتھ ہی ہمیں کھلے ذہن اور وسیع دل کے ساتھ یہ بھی ضرورماننا پڑے گا کہ ہم امریکی آقاؤں کے خُوف میں مبتلااور اُن کے مفادات کی سازشوں کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے ہیں اور آج ہم نے خود کو امریکی مفادات کے ہاتھوں گروہی رکھاہوا ہے امریکی جب اور جیسے چاہتے ہیں ہمیں مٹھی بھر چمکیلے ڈالر زدے کر اپنے مفادات کے خاطراستعمال کرلیتے ہیں اور ہم ہر بار لالچی لڈن پپو بن کر استعمال ہوجاتے ہیںیہی وجہ ہے کہ ہم اَب تک اپنی اہمیت اور صلاحیتوں کا اندازہ نہیں لگا سکے ہیں کہ ہم اگر امریکی آقاؤں کے چُنگل سے نکل جا ئیں یا آزاد ہوجائیں تو ہم نہ صرف اپنے مُلک اور خطے بلکہ دنیا کے لئے بھی کتنے کارآمد ہیں حالانکہ ہم بھی بڑے کام کے اِنسان ہیں مگر ہمیں اپنا وقار اور اپنی ویلیو کو سمجھنے کا کبھی چانس ہی نہیں ملا ہے۔ آج بھی اگر ہمیں اپنے مُلک اپنی قوم کے لئے کچھ اچھااور بہتر کرنا ہے تو ہمیں ہر صورت میں امریکی آقاؤں کے خُوف اور اُن کے مفادات کی جنگ اور سازش سے ضرور جھٹکارہ پانا ہوگا ہم جب تک امریکی آقاؤں کے عالمِ خُوف اور امریکی ڈالرز کی لالچ میں مبتلارہیں گے تب تک ہماری حیثیت امریکی آقاؤں اور دنیا کے نزدیک منگتے بھکاریوں جیسی ہی رہے گی۔ اِس سے کسی کو انکار نہ ہو کہ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں کے اِنسا نوں میں خُوف اور ڈرپنپتا ہے وہ کبھی بھی اپنی بقا ء و سلامتی سے متعلق آزادی سے فیصلہ نہیں کرسکتے ہیں یقیناًآ ج 21ویں صدی میں بھی ایسے انگنت مما لک کے بہت سے معاشروں میں ایسے بھی بے شمار اِنسان اور اِنسانوں کا ہجوم ضرور موجود ہے جو اپنے بارے میں کوئی بھی اچھایا بُرا فیصلہ خودسے کرنے میں آزادنہیں ہے۔اَب ایسے میں یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا وجہ یا وجوہات ہیں کہ آج کے دورِجدید میں بھی دورِجاہلیت کی ایسی ظالم روایات کیوں قا ئم ہیں ؟جب طاقتور اِنسانوں کا گروہ اپنے اردگرد کے کمزوراِنسانوں کو اپنے تسلط میں رکھاکرتاتھا آج بھی اِس گھناؤنی روایت کا جاری رہنا یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ آج کے جدید دور کا اِنسان بیشک لاکھ یہ دعوے کرلے کہ اِس نے بہت ساری ترقی کرلی ہے اور دورِ جدید میں داخل ہوکرماضی کی تمام جاہلانہ روایات کو دفن کرچکاہے تو یہ اِس کا کھراجھوٹ ہے۔کیو نکہ درحقیقت ایسا ہرگز نہیں ہے جس کا آج کا سائنسی دورکا جدید سوچ سے ہم آہنگ اِنسان دعویٰ کرتاہے بلکہ اصل سچ یہ ہے کہ ابھی آج کا آسمان پہ کمند ڈالنے والا اِنسان کسی نہ کسی بہانے ظاہر و باطنی لحاظ سے طاقتور انسانوں کے تسلط سے آزاد نہیں ہواہے یہ آج 21ویں صدی میں بھی کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی طاقتور ملک یا کسی بھی شکل میں کسی بھی طاقتوراِنسان کے شکنجے میں جکڑاہوا ہے۔ یہاں راقم الحرف اِس تمہید کے بعد اِس کا اقرار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کررہاہے کہ بدقسمتی سے میرے مُلک میرے معاشرے میری تہذیب میری ثقافت اور میرے اردگرد موجود اِنسانوں میں بھی خُوف اور ڈرکا عنصرکچھ اِس طرح موجود ہے کہ اِس ڈراور خوف نے ہماری تمام ترصلاحیتوں کو توڑموڑکر اور مسل کررکھ دیا ہے۔یقینی طور پر ہم پچھلے 70سالوں سے اپنے امریکی آقاؤں کے راعب اور دبدبے میں پھنسے ہوئے ہیں اوراِسی عالمِ خُوف میں ایسے زندہ ہیں کہ ہمیں اپنی صلاحیتوں کو پرکھنے اور جانچ نے کا موقعہ ہی کبھی نہیں مل پا یا ہے کہ ہمیں اندازہ ہوکہ ہم بحیثیت قوم اپنے مُلک اور خطے اور دنیا میں قیامِ امن کے لئے کتنے پاورفل اور طاقتورہیں اِس لئے کہ ہمیں کبھی کسی نے یہ سوچنے اورغوروتفکر کرنے کا توموقعہ ہی نہیں دیا ہے کہ ہم کیا ہیں ؟ ہماری حیثیت کیا ہے ؟اور ہماری اپنے خطے اور دنیا میں کیا اہمیت ہے؟ بلکہ ہمارے حکمرانوں، سیاست دانوں اور بعض اداروں کے سربراہان نے تواپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے خاطر دیدہ دانستہ ساری پاکستانی قوم کو اپنے امریکی آقاؤں کے شکنجے میں جکڑے رہناپسندکیا یہی وجہ ہے کہ اِن ہی میں سے بہت سوں نے اپنے آقا کے خوف کی وجہ سے نہ صرف خود کو اُس کے زیرطا بع کئے رکھاتوکسی نے کبھی کسی کی پتھر کے دور میں دھکیلی جانے والی ایک دھمکی آمیز فون کال کے خُوف کی وجہ سے ساری قوم کو دیدہ دانستہکسی کی جنگ میں جھونک کر مُلک اور قوم کا ستیاناس کرنے کا سامان پیداکردیا۔ آج بھی میرامُلک اور میری قوم اور میرے حکمران ، سیاستدان اور اداروں کے سربراہان امریکی آقاؤں کے خُوف میں مبتلاہیں اور ہم اِن سے ایسے خُوف زدہ ہیں کہ اِن امریکی آقاؤں کے نزدیک ہماری حیثیت سوائے سانس لیتی اور چلتی پھرتی زندہ لاش کے کچھ بھی نہیں ہے ۔آج میری پاکستانی قوم کا عالمِ خُوف میں زندہ رہنا خود کسی کرشمہ سے کم نہیں ہے،اور اِس پہ سونے پہ سُہاگہ یہ کہ ہم پھر بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں نہ صرف یہ کہ ہم خود کو آزاد اور خود مختار قوم ہونے کے دعویدار ہیں بلکہ ہم یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اپنے بہتر اور تاب ناک مستقبل کے لئے بھی گوشاں ہیں اور خُوب سے خُوف تر کی تلاش میں ہیں ۔اَب ایسے میں سوچیں بھلا کہ ہم کیسے آزاد ہیں ؟ جب ہماری سوچ اور قول و فعل پر امریکی آقاؤں کے خُوف کا پہراہے،ہم اِن کی سوچ سے ہٹ کر اپنے اچھے بُرے فیصلے نہیں کرسکتے ہیں اور تو اورہم اِ ن کی مرضی کے بغیراپنے زندہ رہنے کے لئے ہل بھی نہیں سکتے ہیں تو پھر ہماری قوم امریکی آقاؤں کے عالمِ خُوف میں مبتلارہ کر کیسے؟ اپنے خُوب سے خُوب ترمستقبل کی تلاش میں اپنی منزلِ مقصود کا تعین کرسکتی ہے۔؟

پانامہ کیس ، کسی کو التوا نہیں ملے گا

سپریم کورٹ نے پاناما کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ کیس میں کسی کو التوا نہیں ملے گا، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نوازشریف کے وکلا سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف پنجاب کے وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کب کب رہے،وزیراعظم نے 1997میں کہا تھا بزنس سے الگ ہورہا ہوں،وہ سیاست بھی کرتے رہے اور بزنس بھی،نوازشریف متحرک ہوکر اپنے سارے بزنس سنبھالتے رہے،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ 12ملین درہم رقم دودہائیوں تک کہاں رہی،نوازشریف کب سے کب تک جلاوطن رہے، اس بارے میں بتائیں،دیکھنا ہوگا کیا سرکاری عہدے کا غلط استعمال تو نہیں ہوا،1980سے 1997تک وزیراعظم کیا کرتے تھے،جسٹس اعجاز الحسن نے کہاکہ رقم منتقل کرنے سے متعلق شریف خاندان کو وضاحت کرنا ہوگی،جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ رقم منتقلی سے متعلق دبئی اور قطری کے قوانین کیا ہیں،خلاف وزری دوسرے ملک میں ہوتو کیا سزا پاکستان میں ہوسکتی ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل پانچ رکنی بینچ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کے افراد کی آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کے لئے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے پاناما کیس کی از سر نو سماعت شروع کی تو درخواست گزار طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ججز اور عدلیہ کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے،عمران خان کے احتجاج سے عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے، آف شور کمپنیاں تو جہانگیر ترین اور رحمان ملک کی بھی ہیں، اس لئے عدالت سے درخواست ہے کہ تمام افراد کے خلاف تحقیقات کی جائے اور معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنایا جائے۔بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ معاملے کی سماعت کے لیے نیا بینچ بنایا گیا جو تمام دستاویزات کاجائزہ لے گا۔ نعیم بخاری نے اپنے دلائل کے آغاز پر کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کے نئے بینچ پر کوئی اعتراض نہیں۔ جس پر جسٹس عظمت نے ریمارکس دیئے کہ بنچ پر اعتراض نہیں تو میڈیا پر بیان بازی سے گریز کریں۔ نعیم بخاری نے کہا کہ میں نے نئے بنچ سے متعلق میڈیا پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔دلائل کے دوران جب نعیم بخاری نے وزیر اعظم کی پارلیمنٹ میں تقریر کا متن پڑھ کر سنایا اور کہا کہ نواز شریف نے تقریر میں کہا کہ جدہ اسٹیل مل کی فروخت سے لندن فلیٹس لئے، ان کے پاس سعودی عرب اور دبئی میں سرمایہ کاری کے ثبوت ہیں لیکن یہ سچ نہیں، شریف فیملی کی جانب سے بینک ٹرانزیکشن کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا، طارق شفیع کاحلف نامہ جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حلف نامہ اور فیکٹری کے دستاویزات میں دستخط ایک جیسے نہیں، آئی سی آئی جے کی دستاویزات کو ابھی تک چیلنج نہیں کیا گیا۔ نواز شریف نے غلط بیانی کی، وہ صادق اور امین نہیں رہے ، اس لیے نوازشریف کو نااہل کیا جائے۔عمران خان کے وکیل نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ اثاثوں سے متعلق وزیراعظم اور ان کے بچوں کے بیانات میں تضاد ہے، وزیراعظم نے کہا کہ گلف اسٹیل کے بعد جدہ مل خریدی جب کہ بچوں نے کہا کہ گلف مل کے بعد قطر میں سرمایہ کاری کی۔ جس پر جسٹس اعجاز الحسن نے استفسار کیا کہ کیا قطر میں سرمایہ کاری کا ریکارڈ ہے ، نعیم بخاری نے جواب میں کہا کہ اس کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ قطر سے لندن تک کوئی بینک ٹرانزیکشن موجود نہیں، سب کام ہوا میں کیا گیا ہے ، فلیٹ نمبر 16 اور 16 اے 10 جولائی 1995 میں ایک ملین 75 ہزار پاؤنڈ میں خریدے گئے، دونوں فلیٹس نیلسن کمپنی نے خریدے۔ فلیٹ نمبر 17 اے 23 جولائی 1996 میں 2 لاکھ 45 ہزار پاؤنڈ میں خریدا گیا۔ لندن فلیٹس کی حقیقی مالک مریم صفدر ہیں اور وہ وزیراعظم کی زیرکفالت ہیں۔اس موقع پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ اب تک مختلف موقف سامنے آئے ہیں، دبئی سے قطر اور قطر سے جدہ اور جدہ سے لندن کے موقف سامنے آئے ہیں ، وزیراعظم نے کسی خطاب اور جواب میں قطری سرمایہ کاری کا ذکر نہیں کیا، ہمیں ایسا ریکارڈ نہیں دیا گیا کہ جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ فلیٹ 2006 سے پہلے قطری خاندان کے تھے۔ ملکیت ثابت کرنا اتنا آسان نہیں اور معاملہ ملکیت کا نہیں بلکہ ملکیت کی تاریخوں کا ہے، اگر جائیداد میاں شریف کی تھی تو اس کا بٹوارہ سب میں ہونا چاہئے تھا، قطر کے الثانی اورشریف خاندان کا معاملہ کسی فورم پر تو طے ہوا ہوگا، میاں شریف کی وصیت تھی تواس کوبھی سامنے آنا چاہئے۔ جسٹس اعجاز ا لحسن نے ریمارکس دیے کہ انصاف عدالت کے سامنے موجود شواہد کی بنیاد پر ہوتاہے۔سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتی احاطے کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنایا جائے ۔ عدالت نے بجا فرمایا جب کیس زیر سماعت ہے تو اس کے فیصلے کا انتظار کرلینا ہی سیاسی بصیرت اورتدبر ہے ۔ اس وقت عدالتی احاطہ سیاسی اکھاڑا بنا دکھائی دیتا ہے جس کا عدالت نے نوٹس لیا ہے۔ پانامہ کیس پر پوری قوم کی نظریں لگی ہیں پانامہ کا فیصلہ پاکستان کے سیاسی اُفق پر گہرے اثرات مرتب کرے گا ۔ قانون کی بالادستی اور عملداری سے ہی انصاف کے تقاضے پورے ہوسکتے ہیں۔
وزیراعظم کاسی پیک منصوبے پر اظہار اطمینان
وزیراعظم محمد نواز شریف نے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ جات پرپیشرفت پرمجموعی طور پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ کامیاب اقتصادی پالیسیوں کے باعث عالمی سرمایہ کاروں نے پاکستان کا رخ کرلیا ہے۔ اجلاس میں انہیں پاک چین اقتصادی راہداری کی چھٹی مشترکہ تعاون کمیٹی میں ہونے والی پیشرفت کے بارے میں آگاہ کیا گیا جو 29 دسمبرکو بیجنگ میں منعقد ہوئی تھی۔ اجلاس میں وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد اوردیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ 300 میگاواٹ بجلی کے منصوبے کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں اور یہ منصوبہ جلد شروع ہوگا، گوادر واٹرسپلائی منصوبہ ، ہسپتال، ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹس اورصوبائی ہیڈکوارٹرزمیں ماس ٹرانزٹ ریلوے منصوبہ پربھی جے سی سی میں بات چیت ہوئی۔ وزیراعظم نے وزارت پانی و بجلی کو سی پیک کے تحت 1.5ارب ڈالر مالیت کے مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن لائن منصوبے کے معاہدے پرمبارکباد دی اور اس پرعملدرآمد کیلئے سرگرمی سے پیروی کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے اس امرکو سراہا کہ سی پیک منصوبہ جات میں صوبوں کی نمائندگی ہوئی اور یہ امر اہم ہے تاکہ ان منصوبہ جات کے فوائد وفاقی اکائیوں میں مساوی طور پر تقسیم ہوں۔ سی پیک منصوبہ ملکی ترقی اور خوشحالی کا باعث قرار پائے گا اور اس کے ثمرات دوررس نتائج کے حامل ہوں گے۔ سی پیک منصوبہ جات کی جلد ازجلد تکمیل اور شفافیت ہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے۔

بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی اوروزارت داخلہ

گزشتہ چار سال سے کمسن بچی کے ہمراہ ایک پاکستانی خاتون روبینہ مقبوضہ کشمیر کی کوٹ بھلوال جیل میں قید ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستانی حیدر آباد کی رہائشی روبینہ 2012میں علاج کے سلسلے میں شوہر اور بچی کے ساتھ بھارت آئی جہاں روبینہ کا شوہر اسے چھوڑ کر فرار ہو گیا اور اپنے ساتھ روبینہ کا پاسپورٹ وغیرہ بھی لے گیا۔جسکی وجہ سے روبینہ کے پاس اب پاکستانی شناخت ثابت کرنے کا بھی کوئی ذریعہ نہیں ہے۔اس خبر کے سامنے آنے کے بعد وزیرداخلہ چوہدری نثار نے نوٹس لیتے ہوئے ذاتی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔وزیرداخلہ کا اس معاملے میں دلچسپی لینا خوش آئند ہے لیکن یہ معاملہ صرف ایک روبینہ کا نہیں ہے سینکڑوں ایسے پاکستانی ہیں جو بھارتی جیلوں میں بے یارومدد گار قید ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ابھی حالیہ دنوں میں بھارتی عدلیہ نے بھی ایسے پاکستانی قیدیوں کا نوٹس لیتے ہوئے سماعت کے بغیربھارتی جیلوں میں قید رکھنے پر تشویش ظاہر کی ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو ایک حلف نامہ داخل کر کے پاکستانی قیدیوں کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے حکومت سے یہ بھی بتانے کو کہا ہے کہ کتنے پاکستانی قیدیوں کے مقدمات زیر التوا ہیں،کتنے قیدیوں کو جیل میں رکھا گیا ہے اور کتنے قیدیوں نے سزائیں مکمل کرلی ہیں۔یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ سزائیں مکمل کر لینے والے قیدیوں کو واپس بھیجنے کا کیا طریقہ کار ہے؟ سپریم کورٹ نے یہ بھی معلوم کیا ہے کہ کتنے پاکستانی غیر قانونی طور پر بھارت میں داخل ہوئے اور آیا انہوں نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے؟ مودی حکومت کو دو فروری 2017 تک ان سوالوں کا جواب دینے کی مہلت دی گئی ہے۔مودی حکومت کیا جواب دیتی ہے یہ تو اگلی سماعت پر معلوم ہوگا تاہم یہ حقیقت ہے کہ بھارت میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد بے جرم و گناہ قید ہے۔پاکستانی رپورٹس کے مطابق بھارت کی مختلف جیلوں میں 505 پاکستانی شہری قید ہیں۔جبکہ بھارتی عدلیہ جس رٹ پٹیشن کی سماعت کررہی ہے اسکے مطابق254پاکستانی قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ان قیدیوں میں سے بعض 1965 سے مختلف بھارتی جیلوں میں قید ہیں لیکن ابھی تک کسی عدالتی کارروائی تک انہیں دسترس حاصل نہیں ہو سکی ہے۔اب بھارتی عدلیہ نے نوٹس لیا ہے جس میں معروف قانون دان بھیم سنگھ کی جانب سے مفاد عامہ میں دائر کی گئی ایک درخواست میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ بغیر کسی عدالتی کارروائی کے بھارتی جیلوں میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد قید ہے۔ سپریم کورٹ کے بنچ نے کیس کی کارروائی کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ ایک افسوسناک امر ہے کہ254 سے زائد پاکستانی شہریت کے حامل افراد بغیر کسی عدالتی کارروائی کے بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔عدالت کو بتایا گیا کہ ان قیدیوں میں سے زیادہ تر افراد کو جموں و کشمیرکے شمال مغربی علاقے کی جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ ان میں سے بیشتر اس جرم میں بند ہیں کہ وہ غلطی سے سرحد عبور کر کے بھارتی سرزمین میں داخل ہوئے تھے۔ بھارتی سپریم کورٹ کو مزید بتایا گیا کہ ان قیدیوں میں چار خواتین بھی شامل ہیں۔بینچ نے مودی حکومت کو تنبیہ کی ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور بھارتی جیلوں میں قید تمام غیر ملکی قیدیوں کے بارے میں مکمل معلومات عدالت کو فراہم کی جائیں۔یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر مزید کئی ایسے قیدی بھارت کی مختلف ریاستوں میں بغیر کسی عدالتی سماعت کے جیلوں میں قید ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ پچاس ایسے قیدی ہیں جو اپنی سزا کی مدت بھی پوری کرچکے ہیں لیکن مودی حکومت انہیں رہا کرنے کو تیار نہیں ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین قیدیوں کے تبادلے اکثر ہوتے رہتے ہیں تاہم ان قیدیوں میں زیادہ تعداد ان ماہی گیروں کی ہوتی ہے جو غیر دانستہ طور پربحری حدود کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔2005ء میں دونوں ممالک کے مابین قیدیوں کے مسئلے پر پہلی مرتبہ بات چیت ہوئی تھی۔ بعد ازاں قیدیوں کی رہائی کیلئے دونوں ممالک نے اپنے اپنے یوم آزادی 14 اور 15 اگست کی تاریخیں بھی طے کیں۔یہ سلسلہ کچھ عرصہ چلا مگر نومبر 2008ء میں ممبئی حملوں کے بعد یہ معاہدہ بھارت نے یکطرفہ طور پر معطل کردیا ۔ بھارت میں قید پاکستانیوں کے معاملے پر ایک کیس پاکستان میں بھی زیر سماعت ہے۔گزشتہ دنوں سندھ ہائی کورٹ میں معروف سماجی کارکن انصاربرنی کی جانب سے پاکستانی ماہی گیروں کی بھارت میں گرفتاری اوران کی رہائی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ 2008 کے معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان ہرسال جنوری اور جولائی میں گرفتار افراد کی فہرست کا تبادلہ کیا جاتا ہے، بھارت کو 505افراد کی فہرست فراہم کی گئی ہے جس میں 459 ماہی گیروں کے نام شامل ہیں لیکن بھارتی ہائی کمیشن نے270 ماہی گیروں کی تصدیق کی ہے جبکہ189پاکستانی ماہی گیرلاپتہ ہیں ۔ بھارت اور پاکستان کے مابین تعلقات میں کشیدگی کا خمیازہ جیلوں میں موجود میں وہ قیدی بھگت رہے ہیں، جنہوں نے اپنی سزائیں بھی کاٹ لی ہیں لیکن رہائی کے انتظار میں ہیں۔ جیسے کہ اوپر بتایا ہے پچاس پاکستانی رہائی کے منتظر ہیں۔ قیدیوں کی رہائی کیلئے 2008 میں ہی دونوں ملکوں کے سبکدوش ججوں پرمشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی تھی،جو ایک دوسرے کی جیلوں میں جا کر اپنے ملک کے قیدیوں کی صورت حال کا جائزہ لیتی ہے لیکن اب دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں سرد مہری کے سبب گزشتہ تین برسوں سے سبکدوش ججوں کی اس کمیٹی کا کوئی دورہ نہیں ہو سکا ہے۔نتیجتاً نقصان ماہی گیروں کو ہو رہا ہے، اس سلسلے میں سیاسی خیر سگالی کے جذبے کا مظاہرہ کرنے کیلئے پاکستان توعام قیدیوں اور ماہی گیروں کو رہا کرتا رہتا ہے مگر مودی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ 2016ء میں پاکستان نے 190بھارتی ماہی گیروں اور دو سویلین قیدیوں کو رہا کیا جب کہ بھارت نے اس کے جواب میں صرف نو ماہی گیراور چند عام قیدیوں کو رہائی دی۔

کرپشن کادور دورہ

سوشل میڈیا کا دور ہے اور اس سوشل میڈیا نے عوام کو ایک ایسا ہتھیار فراہم کر دیا ہے جس کو کہیں سے بھی چلایا جا سکتاہے ایسے میں میں بھی اس سے کئی ایک سبق سیکھ رہا ہوں اور کھبی کھبی وہ باتیں بھی سامنے آتی ہیں جو ہوتی تو سچ ہیں مگر ہوتی رسواء کرنے والی ہوتی ہیں ایسی ہی ایک تصویر چند دن پہلے میری آنکھوں کے سامنے سے گزری جس میں ایک تلور اپنا دھکڑا بیان کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ جمہوریت بچانے میں ہماری بھی قربانیاں ہیں اور اس کی یہ باتیں بلاشبہ سچ ہیں کیونکہ جس پرندنے کی نسل کوختم ہونے کا خطرہ ہے اس کے شکار کی ہم صرف اس لئے اجازت دیتے ہیں کہ اگر ہم نے اس کے شکار کی اجازت نہ دی تو خدانخواستہ جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی۔پاکستان میں کہنے کو تو جمہوریت ہے مگر جس طرح یہاں جمہوریت کا حسن سب دیکھ رہے ہیں اس سے کئی لوگوں کو یقین ہے کہ اگر یہی جمہوریت ہے تو پھر پتہ نہیں آمریت یا بادشاہت کیسی ہو گی پاکستان میں عوام کے لئے جمہوریت یا آمریت کھبی بھی فائدہ مند نہیں رہی ہیں بلکہ ان دونوں سے فائدہ صرف حکمرانوں نے اٹھایا ہے اور سب سے اہم بات کہ ان دونوں میں حکومت کرنے والے کئی چہرے ایک ہی جیسے ہیں مثلاً جو لوگ آمریت میں آمر کے اگے پیچھے اس کے مشیر بنے ہوتے ہیں وہی لوگ جمہوریت میں جمہور کے کرتا دھرتا ہوتے ہیں مطلب یہ کہ اس میں نفع تو حکمرانوں کا اور نقصان ہمیشہ سے ہی پاکستان یا پاکستانی عوام کا ہوتا آیا ہے اس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں مگر نام لینا شاید اچھا نہ لگے یہ وہ لوگ ہیں جو ہر فن مولا بنے ہوتے ہیں اور عوام اتنی سادہ ہیں کہ انھیں کو دیکھ کر امریت اور جمہوریت کے اچھے اور برے ہونے کا اندازہ لگاتی رہتی ہے یہی حال آج کے حکمرانوں ہے آپ ہسٹری دیکھ لیں کوئی بھی حکمران ایسا نہیں ہو گا جو آمریت کی کوک سے نہ نکلا ہو اَس وقت آمریت ان پر حلال تھی اور آج جمہوریت ان پر حلال ہے مطلب یہ کہ ان لوگوں کو اپنے فائدے کے لئے کچھ بھی کرنا ہے ضمیر کا سودا یا جو بھی وقت کی مناسبت سے کرنا پڑ جائے انھیں کی وجہ سے آج ہمارے معاشرے میں کرپشن اقرباء پروری اور اس جیسی کئی لعنتیں بری تیزی سے بڑھ رہی ہیں صوبوں میں اگر بات کی جائے پنجاب کی تو پنجاب پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے دس کروڑ سے زائد آبادی والے اس اہم ترین صوبے میں طویل عرصے سے ایک ہی جماعت کے اقتدار کے باجوود اس صوبے میں سوائے سیاسی محاذ ارائیوں، کے کوئی قابل ذکر کارنامہ سر انجام نہیں دیا جاسکا تعلیم کی مفت فراہمی ایک وعدے سے آگے نہیں بڑھ سکی دانش سکول تو کھل گئے مگر معیار ایسا کہ غریب دور اور امیر نزدیک کر لئے گئے۔جبکہ دیگر ریگولر سکولوں میں پلاننگ کا یہ حال ہے کہ صرف اشتہار ات شائع کر کے عوام کو بیوقوف بنانے کی مشقیں جاری ہیں دور نہ جائیں شہروں سے تیس کلو میٹر دور کے قصبات میں جا کر دیکھیں آپ کی آنکھیں کھل جائیں گے چند لمحوں کے لئے پنجاب کے کسی بھی ایک ضلع کی کسی بھی ایک مخصوص تحصیل کی مثال لیں، اس مخصوص تحصیل میں سے ایک ہسپتال، ایک سکول اورایک تھانہ سامنے رکھ لیںآپ پر ساری صورت حال واضح ہوجائے گی ۔آپ دوسری طرف آئیں پولیس کو سامنے رکھیں جو علاقے میں جرائم کے کنٹرول کرنے کی ضامن ہوتی ہیں اس کا کیا حال ہے۔ آپ پولیس اسٹیشن جا کر بخوبی دیکھ سکتے ہیں اینٹی کرپشن کے جائزوں کے مطابق پنجاب پولیس کا ادارہ پنجاب کے تمام اداروں میں سے سب سے زیادہ کرپٹ ہے پولیس کا کام خدمت سے زیادہ اذیت دینا بنا ہوا ہے کئی کیسوں میں اگر ڈکیتی یا چوری کی FIRدرج کروائی جائے تو پولیس مدعی کو کہتی ہے کہ اگر آپ کو اس ملزم کا پتا معلوم ہو تو ہمیں بتا دینا ہم اس کو گرفتار کر لیں گے اس پر بندہ ہنسے یا روئے پنجاب میں پولیس اتنی بدنام کیوں ہے اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا حال یہ ہے کہ اساتذہ، ڈاکٹر، پینشنرز، کسان سڑکوں پر براجمان ہیں ان کو سننے کے بجائے پولیس کا استعمال کرنا شاید حکمرا نوں کا خاصہ ہے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ملازمین کے لیے نامساعد حالات، کارِ سرکار میں سیاسی مداخلت، سیاسی بنیادوں پر عہدوں کی بندر بانٹ سب کے سامنے ہے میں جب بھی پنجاب کے حکمرانوں کو یہ کہتے ہوئے سنتا ہوں کہ یہ مسائل ہمیں ورثے میں ملے ہیں تو حیران ہوتا ہوں کہ ان کے اقتدار میں رہتے ہوئے پندرہ سال ہونے کو ہیں مگر ابھی تک وہ ان مسائل کو ختم کیوں نہیں کر سکے کیوں کہ اقتدار ایک ہی در کی باندی دو دہائیوں سے بنا ہوا ہے وہ بھی بلا شرکت غیرے ایسے میں اگر مسائل حل نہیں ہو رہے تو صاف ظاہر ہے کہ حکمران نااہل ہیں مگر ان کو ناہل کہنے والا شاید کوئی نہیں اور سب اچھا کہ رٹ لگانے والے بہت زیادہ ہیں ۔

نخلِ ثمر دار۔۔۔ شوکت کاظمی
بکتی ہے ہر اِک سوا جنسِ وفا کے
رونق کو نہیں گرمیءِ بازار کو دیکھو
یہ رنگ یہ خوشبوئیں ہیں دو چار گھڑی کی

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں ؟

قسمت بیگ کی بد قسمتی یہ تھی کہ وہ خوبصورت تھی اسکی دوسری بد قسمتی یہ تھی کہ وہ ایک گمنام خاندان سے تھی اسکی تیسری بد قسمتی یہ تھی وہ ابھی غریب تھی اور اتنی زیادہ امیر نہیں ہوئی تھی کہ امیروں والے تمام تحفظات بولٹ پروف گاڑی تجربہ کار محافظ اور وہ تمام حفاظتی سہولیات رکھتی کہ جن کے ہوتے ہوئے کوئی ایرا غیرا اس تک نہ پہنچ سکتا اس کی چوتھی بد قسمتی یہ تھی کہ وہ اس دیس میں پیدا ہوئی تھی جہاں حکمرانوں کی ترجیحات میں فنکاروں کا مکمل تحفظ شامل نہیں اس کی پانچویں بد قسمتی یہ تھی کہ وہ خطرات کا اداراک نہیں رکھتی تھی اسکی چھٹی بد قسمتی یہ تھی کہ وہ اس معاشرے میں فنکاری کر رہی تھی جہاں چاہنے والے یا تماش بین اپنی سفلی خواہشات میں ناکامی پر انتقام لینے اور قصائی بن جانے میں دیر نہیں لگاتے قسمت بیگ کی بد قسمتیاں تواس قدر زیادہ تھیں کہ شمار نہیں ہو سکتیں بس اتنا کافی ہے کہ اس کی بد قسمتی یہ تھی کہ وہ صوبائی دار الحکومت لاہور میں دن دیہاڑے سر عام ایک محفوظ سڑک پر واری گئی اور اب وہ بیچاری منوں مٹی کے نیچے پڑی سوچ رہی ہے کہ اس شہر نا پرساں میں جہاں قدم قدم پر ناقے اور گلی گلی میں پہرے اور ہر چوک میں کیمرے لگے ہیں اس کے ساتھ یہ سب کچھ کیوں ہوا یہ تو قسمت بیگ تھی اس سے پہلے ماڈل قندیل بلوچ کے ساتھ بھی تو یہی کچھ ہوا تھا اور آج اُس کی کہانی پر بھی دھول جم چکی ہے کون اس کی فائل کھولے گا کون اسکے مقدمے کی پیروی کرے گا اور کون ملزموں کو مجرم کے درجے پر لا کر انہیں سزا دلوائے گا یہ ہمارا معاشرہ ہے یہاں ایسی پتہ نہیں کتنی قسمت بیگیں اور کتنی قندیل بلوچیں روز جیتی اور روز مرتی ہیں اور جو بچ جاتی ہیں انیں ایان علی بنا دیا جاتا ہے جو دوسرون کے جرم میں کبھی جیل کبھی کچہری کبھی تفتیشی افسر کے کمرے اور کبھی کسی اور در پر ذلیل و رسوا ہوتی لا تعداد کہی اور ان کہی اچھی بری کہانیوں کو جنم دیتی سوچ رہی ہوتی ہے کہ یہ کیسا ملک اور معاشرہ ہے یہاں کون سان قانون اور کیسے ضابطے ہیں کہ تفتیش کاروں سے لیکر قاضی تک اور محکموں سے لیکر حکمرانوں تک سبھی کو حقیقت کا علم ہونے کے باوجود سب کے سب بے بس ہیں اور اپنی بے بسی پر پردہ ڈالنے اور اصل مجرموں تک رسائی پانے کی بجائے ایک بے بس اور مظلوم کی آڑ میں معاہدے طے کرنے اور اپنی کرسیاں بچانے میں لگے ہوئے ہیں بات صرف قسمت بیگ ، قندیل بلوچ یا ایان علی تک ہی محدود نہیں لگتا ہے کہ ہم ایک گونگے بہرے ، سفاک بلکہ قصائی معاشرے میں زندگیاں گزار رہے ہیں جہاں طاقتور اور کمزور دو طرح کے لوگ رہتے ہیں اور طاقتور طاقت کے زور پر جو چاہے کرے اسے کوئی پوچھنے والانہیں ہوتا اور کمزور کا جرم یہ ہوتا ہے کہ وہ چونکہ کمزور ہے لہٰذا اس کی جرم کمزوری ہی اس کے لیے سب سے بڑا جرم قرار پاتی ہے اور تو اور یہی کوئی ایک ماہ قبل ممبران پارلیمنٹ کے ہوسٹل چمبہ ہاؤس میں ایک ممبر قومی اسمبلی کے نام پر الاٹ کمرے میں بر سراقتدار پارٹی مسلم لیگ ن کی بہت خوبصورت ہر دلعزیز متحرک کارکن سمعیہ چوہدری پر اسرار طور پر جاں بحق ہوئی تھی سمیعہ چوہدری کو اکثر پارلیمنٹ گیلری ، لاؤنج اور ار د گرد دیکھا جاتا تھا سکی کئی ممبران پارلیمنٹ اور با اثر لوگوں تک رسائی تھی سمعیہ چوہدری کی سیاسی قوت کا اندازہ لگانے کیلئے کافی ہے کہ وہ ممبران پارلیمینٹ کے ہوسٹل میں مقیم ہوئی تھی جہاں کسی عام آدمی کی رسائی ممکن نہیں جس ممبر پارلیمینٹ کے کمرے میں وہ رہتی تھی سمعیہ کے موت کے بعد اس نے سمعیہ سے قطعی لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سمعیہ نام کی کس عورت کو جانتا تک نہیں تو تین روز سمعیہ کی موت اخبارات اور ٹیلی ویژن کی خبروں کا عنوان رہی اور پھر اس کی فائل پر بھی دھول جم گئی اور بڑی کوشش کے بعد میں نے جومعلومات حاصل کیں ان میں محض اس قدر بتایا گیا ہے کہ سمیعہ کے نرخرے نیل ، پھیپھڑوں پر سیاہ دھبے پائے گئے ہیں اور موت کی وجہ کا تعین فرانزک سائنس ایجنسی اور کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹس موصول ہونے کے بعد کیا جائے گا یہ کب آئیں گی، آئیں گی بھی یا نہیں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا بس اتنا کافی ہے کہ سمعیہ چوہدری مر گی و ہ قتل ہوئی یا نہیں اس کی موت بلکہ پر اسرار موت کا راز بھی پر اسرار ہی رہے گا اور یہ پر اسراریت بڑ ی ظالم ہے۔ پتہ نہیں کیوں یہ ہم جیسے ممالک میں ہی رہتی ہے ترقی یافتہ ممالک میں کیوں نہیں ملتی اس پر اسراریت کا پر اسرار راز معلوم کرنے کیلئے میرے کالم کا حجم نا کافی ہے میں اس کالم کا کیا عنوان رکھوں ؟
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
یاپھر
اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے
جس نے ڈالی بری نگاہ ڈالی

سیکولر ازم کا جنازہ

بنگلہ دیشی نژاد نامور اور ممتاز امریکی صحافی ودانشور محمد زین العابدین نے آن لائن امریکی نیوز ایجنسی’ اے بی‘ میں لکھے اپنے ایک مضمون میں بھارت کے چہرے پر پڑے دوغلے معیار کا سارا کچھا چھٹا کھول کر رکھ دیا اپنے مضمون میں بھارت نواز بنگلہ دیشی حکومت کی اُن مسلمان دشمن مذموم کارروائیوں پر بھی اُنہوں نے اپنے شدید غم وغصہ کا برملا اظہار کرتے ہوئے کھل کر احتجاج کیا اور اُن یکطرفہ حالات وواقعات پر بڑی سخت تنقید کی جو وزیر اعظم حسینہ واجد کی ذاتی مخاصمت کے نام پر اُن کی سازشانہ سرپرستی میں بنگلہ دیش میں تاحال جاری ہیں‘ یقیناًاِس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیئے کہ وہ یہ سب کچھ بھارت کو ہر حال میں خوش رکھنے کے لئے کررہی ہیں، بھارت جو کہ خود کو بڑا ’سیکولر‘ ملک کہلاتا ہے، جبکہ وہاں انسانیت کے ساتھ ’سیکولرازم‘ کے نام پر لسانی ‘ فرقہ واریت اور انتہا پسندی کی جنونیت کے سنگین اور تشویش ناک واقعات دیش میں جگہ جگہ کہاں نہیں ہورہے آرایس ایس کی ذیلی متشدد و جنونی تنظیموں، مثلاً بجرنگ دَل‘ سنگھ پریوار‘ بھاچپا‘ وشواہندو پریشد اور اِن ہی جیسی دیگر باطل پرستانہ مکروہات سے لیس مسلح جتھوں نے پورے دیش کو تقریباً یرغمال بنایا ہوا ہے 69 برس قبل تقسیمِ ہند کے دِنوں میں ہی آر ایس ایس بڑی فعال اور سرگرم تھی لیکن دنیا کو دکھانے اور دھوکہ دینے کے لئے بھارتی کانگریس نے نام نہاد ’سیکولر ازم ‘ کا لبادہ اُڑھ لیا اور یوں مغربی دنیا کٹر ہندوقائدین کے دھوکہ میں آگئی ،تقسیمِ ہند کے دوران جب آر ایس ایس کے کرتا دھرتا ولبھ بھائی پٹیل نے جوکہ اُس وقت بھارت کے وزیر داخلہ تھے اُنہوں نے سکھوں کو ورغلا کر اپنے ساتھ ملا یا اور ہندو غندوں کے مسلح دستوں کو کھلی چھوٹ د ی کہ وہ سکھوں کے ساتھ مل کر بھارتی پنجاب اور دیگر علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف کھل کر جو چاہئیں کریں، زبردستی مسلمانوں کو بھارت سے نکا لنے کی جنونی مہم شروع ہوئی مسلمانوں کے قافلوں کو جگہ جگہ ہندو بلوائی گروہوں نے نہ صرف لوٹا بلکہ مسلمانوں کا بے دریغ قتلِ عام کرایا گیا ایسے سبھی شرمناک جرائم سردار ولبھ بھائی پٹیل کی ملی بھگت اور اُن کی مرضی ومنشا سے کیئے گئے ’آر ایس ایس ‘1953 میں قائم ہوئی جس میں اُس وقت کے سبھی نامور ہندو قائدین شامل تھے ‘ یہ نریندرا مود ی تو کل کی پیدا وار ہے ، بعض لوگ یہاں تک کہتے ہیں’ جواہر لال نہرو خود اندر سے کٹر ہندو تھے وہ کبھی نہ تو سیکولر تھے نہ اعتدال او رروشن خیال ‘ اگر وہ 10% بھی سیکولر ‘ روشن خیال یا اعتدال پسند ہوتے تو کبھی وہ تقسیمِ ہند کے ’لندن پلان ‘ کی کشمیر اور حیدرآباد دکن سمیت جونا گڑھ میں یوں دھجیاں نہ اُڑاتے‘ جواہر لال نہر و سے آج نریندرا مودی تک سبھی ایک رنگ میں رنگے نظر آتے ہیں، تاریخ نے کسی کو کبھی معاف نہیں کیا جنہوں نے بھی تاریخ کو دل سے تسلیم کرنے سے انکار کیا اپنی من مانی کی جواہر لال نہرو کا شمار بھی اُنہیں میں ہوتا ہے جیساکہ آج بنگلہ دیشی نژاد امریکی صحافی ودانشور مسٹر زین العابدین مانتے ہیں کہ بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کیسی بدنامِ زمانہ ہوشیاری وچالاکی سے 2013 میں بھارتی انتخابات میں ’ہندو کارڈ‘ کھیل کر دیش کا وزیر اعظم بن بیٹھا اور اِس سے قبل2001 میں جب مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو اُسی وقت دیکھنے والوں نے بخوبی سمجھ لیا تھا کہ نریندرامودی نے بحیثیتِ وزیراعلیٰ ریاست گجرات کے گودھرا کیمپ میں بے قصور مسلمانوں کے خلاف کھلی اور سینہ ٹوک دیدہ دلیری سے مسلمانوں کا دن دھاڑے جس شرمناکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قتلِ عام کرا یا ‘ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو جلا کر خاکستر کیا اور اپنے اِن شرمناک مظالم پر ندام ہونے کی بجائے اور کھل کر ایسے شرانگیز اور نفرت آمیز متعصبانہ بیانات دئیے اُسی وقت بھارت بھر میں یہ ایک رائے قائم ہوگی تھی جو رفتہ رفتہ ا ور زیادہ پختہ ہو تی چلی گئی کہ یہ نر یندرامودی اب گجرات کی ریاست سے نئی دہلی کی مرکزی حکومت کی طرف پرواز کرئے گا، یعنی بقول محمد زین العابدین کے ‘ یوں سمجھا جائے کہ نریندرا مودی کو ایک سوچی سمجھی سازش کے ذریعے سے نئی دہلی کی مرکزی حکومت تک پہنچانے میں بھارتی اسٹبلیشمنٹ نے ایک اہم خفیہ کردار ادا کیا ہے، دوبر س قبل نریندرا مودی نے جب پہلی بار بنگلہ دیش کا سرکاری دورہ کیا تو اِس موقع پر منعقدہ تقریب سے اپنے خطاب میں مودی نے یہ کہہ کر’ نام نہاد بنگلہ دیشی آزادی‘ کے’ نام نہاد ہیروؤں‘ کی مٹی پلید نہیں کردی؟ اُس نے سینہ ٹھوک کر یہ اعتراف کیا کہ ’بنگلہ دیش کی آزادی میں بھارت نے اہم کردار ادا کیا ہم بھی اُس وقت جوان تھے بنگلہ دیش کی آزادی میں ہماری بھی محنتیں اور کاوشیں ہیں اُن لمحوں میں حسینہ واجد کا کیا حال ہورہا ہوگا جو اپنے باپ شیخ مجیب الرحمان کو بنگلہ دیشی آزادی کا ’بنگلہ بدھو‘ سمجھتی ہے ؟اور ہاں! یا د آیا چند برسوں قبل پاکستان کے بھی کچھ ’بد حواسوں نے ’فررینڈز آف بنگلہ دیش ‘ کے ایوارڈز بڑے فخر سے وصول کیئے بڑا شرمناک موقع تھا یہ کہ نریندرا مودی کے اِس اعتراف کے بعد کہ بنگلہ دیش کی آزادی بھارت کی مرہون منت ہے کیا اُن چند ’بدحواس پاکستانی شخصیات ‘ کا فخروانبساط سے یہ ایوارڈز وصول کرنا اُنہیں زیب دیتا تھا مودی کے اِس اعترافی بیانِ جرم کے بعد وہ کچھ شرمسار و نادم بھی ہوئے یا نہیں ؟بحرحال یہ چند متکبر پاکستانی ’بدحواس ‘ شخصیات جانیں تاریخ جانیں کہ وہ اِن کے بار ے میں اور کیا کیا کچھ القابات و انکشافات اپنے صفحات میں درج کرتی ہے؟ کالم کے اختتام پر یہاں یہ تذکرہ کرنے کوہمارا دل چاہ رہا ہے ہم مانتے ہیں بھارت میں ایک طبقہ بہت زیادہ روشن خیال اور اعتدال پسندی کے مزاج رکھتا ہے وہ ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ روشن خیال اور اعتدال پسند باشعور بھارتی نوجوان جو کہتے ہیں کہ ’ہم بھارت میں رہ کر اپنی فکری آزادی کی لڑائی خود لڑنے کی مکمل تیاری میں ہیں جو جنونی متشدد تنظیموں کے مسلح جتھوں کے سامنے کبھی کبھی اپنے سینے تان کر کھڑے بھی ہوئے ہیں گو اُن کی تعداد کسی حد تک ابھی بہت کم سہی ‘ لیکن یہ بات بھارتی اسٹبلیشمنٹ کے لئے ایک نہ ایک دن ضرور ایسا خطرہ بنے گی جو ثابت کرئے گی کہ بھارت کے اگلے وقتوں کے اور آج کے جنونی قائدین نے بڑا ملک ‘ بڑا جغرافیہ ‘ وسیع رقبہ کے حامل ملک کے لئے ملک کے مختلف حصوں میں آباد سماجی ومعاشرتی اور ثقافتی اکائیوں کے احترام کی پرواہ نہ کرکے کل بھی بہت بڑی غلطی کی تھی اور آج بھی وہ صحیح کو صحیح نہیں مان رہے لکیر کے فقیر بنے ’میں نہ مانوں کے اٹوٹ راگ ‘ الاپ رہے ہیں بھارت بھر میں آج کے تعلیم یافتہ روشن خیال اور اعتدال پسند طبقات کی نجی محفلوں میں یہ تذکرے عام سننے کو ملتے ہیں کہ اگر نئی دہلی کے جنونی اور متشدد حکمرانوں نے اپنی اِن متعصبانہ روش کو تبدیل نہیں کیا، تو اِس کا خمیازہ کئی نسلوں کو بھگتنا پڑ ے گا اور بدنصیبی کا یہ بدترین موقع بھارتی جغرافیہ کے وسیع وعریض رقبے کیلئے مستقبل قریب میں سوائے ’اسٹرٹیجک پشمانی ‘کے اور کوئی پیغام نہیں بن سکتا۔

صحت کے شعبہ میں پنجاب حکومت کے کارہائے نمایاں

عوام کو صحت و تعلیم کی سہولیات کی فراہمی حکومت کا اولین فرض ہے لیکن صحت کا معاملہ زیادہ حساس ہوتا ہے کیونکہ تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے صحت کا ہونا ضروری ہے۔ اس بنیادی ضرورت کو وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے جس ویژن کے ساتھ سمجھا ہے وہ انہی کا طرہ امتیاز ہے ۔ وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے صحت کی معیاری سہولیات عوام تک پہنچانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی اوراس شعبے کی ترقی پر پہلی مرتبہ بھرپور توجہ دی گئی یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں ہونے والی ترقی خصوصا صحت کے میدان میں ہونے والی گراں قدر پیش رفت کی دیگر صوبوں میں مثال دی جاتی ہے۔صوبہ پنجاب کیلئے صحت کے شعبہ میں 2016انتہائی کامیاب سال رہا ۔ وزیراعلیٰ کی رہنمائی اور محکمہ صحت کے افسران و پولیو ورکرز کی محنت کے نتیجہ میں پنجاب پولیو سے پاک صوبہ بن گیا ہے اور 2016میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا حالانکہ دیگر صوبوں میں پولیو کے 19کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ دیگر صوبوں سے روزانہ پنجاب آتے جاتے ہیں۔چیف منسٹر ہیلتھ روڈ میپ پروگرام پر عملدرآمد سے پنجاب میں بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کی روٹین ایمونائزیشن کوریج پچاس فیصد سے بڑھ چھیاسی فیصد تک پہنچ گئی جس کی انٹرنیشنل پارٹنرز نے بھی تصدیق کی ہے وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے میں بچوں کو اسہال کی بیماری سے بچانے کے لئے روٹا وائرس ویکسین تعارف کرانے کی منظوری دی۔ہر سال ہزاروں بچے اسہال کی بیماری سے موت کا شکار ہوجاتے تھے۔شہباز شریف دور میں کڈنی سینٹر ملتان مکمل ہوا ۔ سروسز ہسپتال کا نیا آؤٹ ڈور مکمل ہوا۔ انسٹیٹیوٹ آف نیوروسائنسز لاہورکا تیسرا فیز مکمل ہوا۔ واہ کینٹ جنرل ہسپتال 200بیڈز پر مشتمل تعمیر شروع ہوئی۔ میوہسپتال کے سرجیکل ٹاورکو مکمل کرنے کے لئے 7سو ملین روپے جاری کئے گئے۔ وزیراعلی نے ڈاکٹروں کے لئے تین ارب پچاس کروڑ روپے کا سپیشل الاؤنس پیکیج دیا۔ بی ٹی ایل لاہور اپ گریڈ کی گئی۔ درجہ چہارم کے ملازمین کے سروس سٹرکچر کی منظوری دی گئی۔نرسوں کو چار ہزار اور آٹھ ہزار روپے خصوصی الاؤنس کی منظوری دی گئی۔پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیٹو ٹ پر تیزی سے کام شروع ہوا چار ارب روپے فراہم کئے گئے۔2017میں پہلا فیز 3سوبستروں کا مکمل کرنے کا ٹارگٹ۔ویکسی نیٹرز کی حاضری کیلئے آئی ٹی سسٹم Evaccsمتعارف کروایا گیا جس سے حاضری چالیس فیصد سے بڑھ کر ستانوے فیصد تک پہنچ گئی۔حکومت نے ویکسی نیٹرز کو 26سو موٹرسائیکلیں فراہم کیں اور ویکسی نیٹرز کی پانچ سو آسامیاں پیدا کی گئیں۔ ویکسین اسٹوریج کے لئے لاہور اور ملتان میں سٹیٹ آف دی آرٹ ویئر ہاؤس قائم کئے گئے۔ سیالکوٹ، گوجرانوالہ ، ساہیوال اور ڈیرہ غازیخان کے میڈیکل کالجز کے ساتھ پانچ پانچ سو بستروں پر مشتمل ٹیچنگ ہسپتالوں کی تعمیر کا آغاز ہوا ۔ وزیرآباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ان ڈور مریضوں کا علاج معالجہ شروع ہوا۔ صوبے کے چالیس ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں کی ری ویمپنگ شروع کی گئی۔ میڈیسن کی خریداری کے لئے سینٹرل کنٹریکٹ سسٹم متعارف کرایا گیا اور ملٹی نیشنل و نینشل فرموں کو پری کوالیفائڈ کیا گیا۔ صوبے میں جعلی وغیرمعیاری ادیات کی تیاری و فروخت کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کیاگیا۔ڈرگ کورٹ سے مختلف کیسوں میں ملزمان کو مجموعی طور پر ستر سال کی سزائیں اور کروڑوں روپے جرمانہ کیا گیا۔ طیب اردگان ہسپتال مظفر گڑھ کی توسیع کی منظوری دی گئی جس میں مزید اڑھائی سو بستروں پر مشتمل بلاک تعمیر کیا جارہا ہے۔ چلڈرن ہسپتال لاہور کا توسیعی منصوبہ مکمل چھ سو بستروں کا اضافہ ہوا۔ گونمنٹ میاں میر ہسپتا ل کی تعمیر مکمل کی گئی۔ گورنمنٹ شہباز شریف ہسپتال بیدیاں روڈ آپریشنل کیا گیا۔ گورنمنٹ سمن آباد ہسپتال تعمیر و آپریشنل کیا گیا۔یہ پیپرلیس ہسپتال ہے۔ گورنمنٹ رانا عبدالرحمن ہسپتال سوڈیوال کوارٹرکا افتتاح ہوا۔ وزیراعلی پنجاب نے سو بستروں پر مشتمل تحصیل لیول ہسپتال مناواں کا سنگ بنیاد رکھا۔ چار ہزار نرسزپی پی ایس سی کے ذریعے بھرتی کی گئیں۔ پوسٹ گریجوایٹ ٹرینی ڈاکٹرز کے داخلوں کے لئے ٹرانسپیرنٹ اورمیرٹ پر مبنی آن لائن انڈکشن پروگرام متعارف کرایاگیا۔ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کا بل اسمبلی سے پاس ہوا۔ پنجاب بلڈٹرانسفیوژن اتھارٹی کا بل اسمبلی سے پاس ہوا۔ بیس ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ایمونائزیشن کی سروس فراہم کی گئی۔ ہسپتالوں میں مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کیلئے چودہ ارب روپے فراہم کئے گئے۔ گردے کے مریضوں کو ڈائلیسز کی سہولت فراہم کرنے کیلئے چھ سو ملین روپے فراہم کئے گئے۔ پنجاب میں چار بڑے ہسپتال جناح ہسپتال لاہور،الائیڈ ہسپتال فیصل آباد، بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی اور چلڈرن ہسپتال ملتان کی ری ریمپنگ کے منصوبہ پر کام کا آغاز کیا گیا۔یہ وہ چند چیدہ چیدہ جھلکیاں ہیں ان بہت سے کارہائے نمایاں کی جو وزیراعلی محمد شہباز شریف صحت کے شعبہ کی ترقی اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے سرانجام دے چکے ہیں۔
*****

Google Analytics Alternative