کالم

افغانستان کا استحکام ہی پاکستان کا استحکام

پاکستان اور افغانستان اےک اےسے مضبوط رشتے مےں بندھے ہوئے جسے دنےا بھائےوں کے رشتے سے تعبےر کرتی ہے ماضی مےں بھی اور آج بھی پاکستانی افغانوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہےں لےکن ہمارے افغانی بھائی غےروںکی سازشوں کا شکار ہو کر آج پاکستان کو ناصرف بدنام کر رہے ہےں بلکہ وہ غےروں کا آلہ کار بن کر ہمےں کمزور کرنے کی سازش مےں پےش پےش ہےں۔ دونوں ملک اس حد تک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں کہ ان کے داخلی معاملات بھی ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہی ےہی وجہ ہے کہ پاکستان 35 سال سے افغانستان کے لئے قربانیاں دے رہا ہے۔تارےخ گواہ ہے کہ جب بھی افغانستان پر کڑا وقت آےا پاکستان نے اس کی بھر پور مدد کی پاکستان آ ج بھی لاکھوں افغانےوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے جنھےں اس وقت پاکستان نے پناہ دی جب پوری دنےا ان سے نظرےں پھےرے ہوئے تھی ۔افغانستان اب اگر ترقی کی راہ پر گامزن ہے تو بلا شبہ اس کی ترقی مےں پاکستان اےک معاون کا کردار ادا کر رہاہے خطے کے دےگر ممالک کی نسبت پاکستان افغانستان کے لئے لازم و ملزوم ہے کےونکہ افغانستا ن کی جغرافےائی حالت اےسی ہے کہ اسے ہر جگہ پاکستان کی ضرورت پڑتی ہے ان تمام باتوں کے باوجود افغانستان پاکستان کی طرف سے اپنا ذہن صاف نہےں کر سکا اس کی دو وجوہات ہےں اےک تو ہمارا پڑوسی بھارت جس کے وہاں پر اپنے مفادات ہےں جو ےہ کھبی بھی نہےں چاہتا کہ افغانستا ن اور پاکستان ماضی کی طرح اسی محبت اور بھائی چارے کے رشتے مےں بندھ جائےں دوسرا وہ افغانستان مےں بےٹھ کر پاکستان کو کنٹرول کرنے کے خواب دےکھ رہا ہے انھےں حالات کو سامنے رکھتے ہوئے بھارت وہاں بڑے بڑے پروجےکٹس مےں سرماےہ کاری کر رہا ہے تاکہ افغانوں کے دلوں مےں اپنے لئے دوستی اور محبت کا رشتہ پروان چڑھا کر وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمےل کر سکے اس مےں افغانی مےڈےا اس کا آلہ کار بنا ہوا ہے ا فغان میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ مہم زوروں پر ہے کوئی بھی واقعہ ہوجائے بھارت کی طرح افغان مےڈےا بھی کہےں کہ کہےں سے اسے پاکستان سے جوڑ ہی لےتا ہے اےسی خبرےں دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی فضا کو بری طرح متاثر کرتی ہیں اور مفاہمت کی کوششوں پر منفی انداز سے اثر ڈالتی ہیں پاکستان کے خلاف وال چاکنگ ، مےڈےا پروپگنڈا سمیت نفرت پھیلانے کی جو مذموم کارروائیاں ایک منظم مہم کے انداز میں چلائی جارہی ہیں ےہ سب اسی ہندو کی سازش ہے بھارت ےہ نہےں جانتا کہ آخر کار افغانستان کو ہی اپنی ترجیحات اور آئندہ کے راستے کا تعین کرنا ہے جس کے لئے اسے ہر حال مےں پاکستان کی ضرورت ہے۔ افغانستان مےں چونکہ طالبان کا اےک لمبے عرصے تک اثر رسوخ رہا ہے اور اب بھی بعض علاقے ان کی عملداری مےں ہےں اےسے مےں اگر افغان طالبان کی طرف سے افغان حکومت کے خلاف کوئی زمےنی کاروائی کی جاتی ہے جس مےں کچھ علاقوں پر قبضہ کر لےا جاتا ہے تو افغانستان خواہ مخوہ کسی کہ کہنے پر اس مےں پاکستان کو گھسےٹ کر لے آتا ہے حالانکہ دنےا جاتی ہے کہ ےہ مسائل طالبان اور افغان حکومت کا اندرونی معاملہ ہےں اےسے مےں اگر افغان حکومت اےسے سوچتی ہے تو ا س سے باہمی برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے واقع قندوز جو کہ افغان سےکےورٹی کا لےپس کہا جائے ےا سےکےورٹی فورسسز کی ناکامی واقعے کے چند دن بعد اس کو پاکستان سے جوڑنا کسی بھی طور پر درست نہےں ہے اےسے مےں جب پاکستان مےں آپرےشن ضرب عضب اپنی پوری شدو مد سے جاری ہے اور قوی امےد ہے کہ اس سے ناصرف پاکستان بلکہ افغانستان مےں دہشت گردی ختم کرنے مےں بھر پور مدد ملے گی افغانستان کی طرف سے اےسے بے ڈھنگے الزامات سے ان اقدامات کو نقصان پہنچ سکتاہے جن کی وجہ سے آج خطہ دہشت گردی سے پاک ہو نے جا رہا ہے پاکستان اور افغانستان مےں ماضی مےں بھی کئی بار ےہ طے ہوا ہے کہ اےسی کوئی غلط فہمی ہوئی تو براہ راست رابطوں کے ذریعے اسے دور کرنے کی کوشش کی جائے گی مگر اس کے برعکس اےسے معاملات کو میڈیا کے ذریعے اچھالا جاتا ہے اور بات کا بتنگڑ بناےا جاتاہے میڈیا کے ذریعے شکایات اور الزامات کا طریقہ کار ہرگز دوستوں کے درمیان نہیں ہوتا یہ طریقہ کار وہاں اختیار کیا جاتا ہے جہاں رنجش ہوتی ہے اور معاملات کو اچھالنا اور کشیدگی پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تعلقات میں ہرگز رنجش نہےں ہے کہ میڈیا کا سہارا لیا جائے اور معاملات کو بگاڑ کی طرف لے جاےا جائے ۔ےہ بات دونوں ملکوں کو ےاد رکھنی چاہےے کہ کچھ دوست نماءدشمن ہےں جوافغان دوستی کا دم بھرتے ہےں لےکن در پردہ افغانستان اور پاکستان مےں دراڑ ڈالنے کی کوشش مےں ہےں بہرحال یہ امر خوش آئند ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت کا احساس کیا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کسی بھی واقعہ کی صورت میں ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور بیان بازی سے گریز کیا جائے گا اور براہ راست ملاقاتوں اور رابطوں کے ذریعے کسی قسم کی غلط فہمی اور ابہام کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی جہاں تک افغانستان کی بہتری کا تعلق ہے پاکستان اس کے لئے بھرپور کوششیں کرنے کا عزم رکھتا ہے افغان عوام کی طرح پاکستانی عوام کی بھی یہی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہو کیونکہ افغانستان کا استحکام ہی دراصل پاکستان کا استحکام ہے۔

افغان بھارت گٹھ جوڑ پاکستان کے لئے خطرناک

ترجمان دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ پاکستان نے بلوچستان و فاٹا میں بھارت کی مداخلت اور تحریک طالبان پاکستان کی مدد کے بارے میں تین ڈوزیئر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے حوالے کئے ہیں۔ اب یہ ثبوت امریکہ کو دیئے جائیں گے۔ بھارت کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات ہمیشہ جھوٹے نکلے۔ عالمی برادری جانتی ہے کہ بھارت کے ریاستی ادارے ہمسایہ ممالک اور پاکستان میں عدم استحکام کا شکار کرنے اور دہشتگردی پھیلانے میں ملوث ہیں۔
تازہ صورتحال یہ ہے کہ نئی دہلی میں رہنے والا افغان شہری آزاد بلوچستان کے لئے رائے عامہ ہموار کر رہا ہے جو کہ بھارتی حکومت کی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں۔ پارولی نامی افغان شہری کا معاملہ افغانستان کی حکومت سے اٹھایا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغان حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ بھارت میں بسنے والا اس کا شہری پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا نہ دے سکے۔بھارت اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے واقعات کا ڈرامہ رچا کر پاکستان کو بدنام کرتا ہے۔ بھارت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنی چاہیے۔پاکستان پر عسکریت پسندوں کی حمایت کا افغان الزام بے بنیاد ہے۔ اپنی سرزمین افغانستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کیلئے پرعزم ہیں۔ پارولی نامی شخص افغان باشندہ ہے۔ افغان حکومت سے توقع ہے کہ وہ یہ معاملہ بھارت کے سامنے اٹھائے گی۔
وزیراعظم نوازشریف نے چند روز قبل کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں مذاکرات کیلئے کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن و سلامتی کی حمایت کرتا ہے اور پاکستان نے مذاکرات کے پہلے دور میں سہولت دی اور اگر افغانستان کی خواہش ہو تو دوسرے دور میں مدد کیلئے تیار ہے۔ افغانوں کے درمیان مذاکرات افغانستان میں پائیدار امن کیلئے آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔افغانستان کے یہ الزامات بے بنیاد ہیںکہ پاکستان افغان طالبان کی مدد کر رہا ہے۔ کابل کے امور میں عدم مداخلت پاکستانی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔
بھارت پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے ہر حربہ آزماتا ہے۔ افغانستان کے ذریعے بلوچ علیحدگی پسندوں کی مالی اور اسلحی مدد کی جاتی ہے۔ افغانستان میں بھارت کے قونصل خانے دہشتگردوں کی تربیت کا کام کرتے ہیں۔ کراچی میں بھارت کی مداخلت ثابت ہو چکی ہے پاکستان نے بھارت کی پاکستان میں دہشتگردوں کی پشت پناہی کے ثبوت اقوام متحدہ کو پیش کر دیئے ہیں۔ بھارت کالاباغ ڈیم کی مخالفت کیلئے ہر سال فنڈز مختص کرتا ہے۔ پاک چین راہداری کیخلاف ”را“ بھی متحرک ہو چکی ہے۔ بھارت پاکستان کیخلاف وسیع نیٹ ورک کے ساتھ مصروف عمل ہے۔بھارت بے شک کراس بارڈر دہشت گردی کا پروپگنڈا کرتا رہے مگر شواہد اس کے برعکس ہیں۔ بھارت و پاکستان کی ہی نہیں بلکہ دنیا اور خطے کی بھی یہ کم نصیبی ہے کہ بھارت کا وزیراعظم ایک ایسا شخص ہے، جو دنیا کا تسلیم شدہ انتہا پسند اور دہشت گرد ہے۔ ایسے آدمی سے خیر کی توقع کیا ہے؟
بھارتی و افغان خفیہ ایجنسیاں مل کر پاکستان کے اندر دہشت گردی کروا رہی ہیں۔ شاطر بھارت نے افغانستان کے ساتھ مل کر پاک افغان سرحد کے قریب فرقہ وارانہ دہشت گردی کے لئے ٹریننگ کیمپ بنائے۔ شدت پسند مذہبی گروہوں کے جنگجو دہشت گردوں کو نہ صرف دہشت گردی کی ٹریننگ دی بلکہ انھیں ٹارگٹ بھی دیئے گئے۔ہم نے سوات میں ملا صوفی محمد اور مولوی فضل اللہ جیسے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا۔ مگر افغان حکومت نے انہیں پناہ دی۔
سانحہ پشاور کے بعد افغان صدر کو بتایا گیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی نہ صرف افغانستان میں ہوئی بلکہ ہمارے مجرم بھی افغانستان میں پناہ گزین ہیں، انھیں فوراً ہمارے حوالے کیا جائے۔ افغان صدر نے وہی سفارتی جوابات دیا کہ ہم اپنی سرزمین کسی بھی ملک اور بالخصوص برادر اسلامی ملک پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ یہ مگر سفید جھوٹ ہے۔پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کے لئے جو آگ برساتی ہوائیں آئیں، وہ افغانستان سے ہی آئی ہیں۔ پاکستانی ریاست کے مخالف عناصر دھائیوں سے افغانستان میں نہ صرف پناہ گزین ہیں بلکہ وہاں انھیں باقاعدہ دہشت گردی کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔ افغان صدر ایک طرف کہتے ہیں کہ ہم اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے تو دوسری طرف ملا فضل اللہ کو پناہ دینے سے لے کر سپاہِ صحابہ، لشکر جھنگوی اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ افغانستان ہی رہی، اب بھی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ سانحہ بڈھ بیر حملے میں ملوث دہشت گرد ماسٹر مائنڈ کا تعلق افغانستان سے ہے۔جس کا سراغ لگا لیا گیا وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ افغان حکام کو یہ شواہد دیں گے کہ سرغنہ افغانستان میں تھا، ہم نے اپنی طرف کو کنٹرول کیا ہے، جنگجو دوسری طرف ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ آج کل افغان صدر اشرف غنی کے منہ میں موددی کی زبان ہے؟ افغانستان یا بھارت میں پٹاخہ بھی پھٹ جائے تو بلا جھجک دونوں ممالک الزام پاکستان پر لگا دیتے ہیں، مگر افغانستان یہ بھول جاتا ہے کہ لاکھوں افغانیوں کو پاکستان نے اپنے ہی شہریوں کی طرح کی سہولیات دے رکھی ہیں؟ پاکستان کے شہر کراچی سے لے کر کوئٹہ تک اور کوئٹہ سے لے لاہور و پشاور سمیت ہر بڑے شہر میں ہونے والی دہشت گردی کی واردات کے تانے بانے ”را اور افغان خفیہ ایجنسی“ سے جا کر ملتے ہیں۔ طے شدہ بات تو یہی ہے کہ کئی ایک خطرناک دہشت گردوں نے پاکستان میں دہشت گردی کے لئے دہشت گردوں کو افغانستان میں ٹریننگ دی، جبکہ را نے مالی و تکنیکی معاونت کی۔بے شک پاک افغان بارڈر طویل ہے، مگر پاکستان اب ڈرون بنا چکا ہے، اسے مزید بہتر کرکے پاک افغان سرحدی نقل و حرکت کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔ ہماری پہلی ترجیح بھارت اور افغانستان کا پاک مخالف مکروہ گٹھ جوڑ توڑنا ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے، جب دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ شہروں میں چھپے دہشت گردوں کے وائٹ کالر ہمدردوں پر بھی ہاتھ ڈالا جائے۔ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے اور ملک میں امن چاہتی ہے۔ پاک فوج پاکستانی عوام کی مدد اور حمایت سے مٹھی بھر دہشت گردوں اور ان کے وائٹ کالر ہمدردوں کو ناکوں چنے چبھوا دے گی۔

بے لگام جنونی پاگل پن۔ اپنی انتہا پر

بھارت میں برسہا برسوں سے نفرت بھری خشمگیں آنکھیں موندے چھوت چھات اور غیر ہندو بھارتی با شندوں کے ساتھ پرلے درجہ کی آلودگی کے تعصب میں لتھڑے اپنے بہت سے ہاتھوں اور بازوں والے آکٹوپس نے آرا یس ایس تنظیم کے سفاک و قصاب نما حکمرانوں کے اِس بدترین عہد میں ایک مرتبہ پھر بڑی بہیمانہ انگڑائی لی ، اور دنیا کو یہ باور کرادیا کہ کوئی اِس غلط فہمی میں نہ رہے کہ آج کا بھارت جدید انسانیت نواز سائنسی عہد میں بھی ویسا ہی دیش ہے جیسے وہ کل خالص’ہندوتوا ’ کا پر چارک تھا آج بھی ہمارے بھارتی حکمران چاہے اُن کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہو یا کسی اقتصادی نظرئیے سے، مگر ‘ وہ اپنی اُسی ’انسانیت کش ‘ ڈگر سے ایک انچ ادھر سے اُدھر ہونے پر آمادہ نہیں ہوسکتے ،ہمیں اِس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ ہم پر کوئی کتنی لعن طعن کرتا ہے ’ہندوتوا‘ کی فرقہ واریت ہمارے رگ وپے میں سرایت کرچکی ہے، یہ کہیں پہ رکھنے کا نام نہیں لے گی ہم میں نہ کل عدم برداشت نام کی کوئی چیز تھی نہ ہم رواداری ‘تحمل مزاجی ‘ انسانی ٹھہراو¿ یا ملائمیت کے کسی ’بزدلانہ ‘ جذبے کو خاطر میں لانے والے ہیں نرنیدرا مودی کو ہم اقتدار میں لائے اگر اُس نے ہماری راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش یا دنیا کو دکھاوے کا دیش میں ’امن بھائی چارگی ‘ کا کوئی لبادہ اُڑھنے کی جسارت بھی کی تو پھر اُس کا ا نجام بھی ’کلکرنی ‘ جیسا ہی ہوگا، بھارت میں تیزی سے ابھرتی ہوئی ’ہندوتوا‘ کی فرقہ واریت کے زعفرانی پرچم بردار جو ہمہ وقت زعفرانی لباسوں میں ملبوس دیش بھر میں مسلمانوں پر انتہا درجہ کے تعصبانہ سفاکیت کا ستم روارکھے ہوئے ہیں نہ اُن کی نظروں میں بھارتی نژاد عیسائیوں کے لئے کوئی جگہ ہے اور نہ سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے سکھوں کو و ہ دیش میں اپنی مذہبی و ثقافتی سرگرمیاں جاری رکھتا ہوا دیکھنا پسند کرتے ہیں یہ خیال بھی وہ حلقے اپنے دل ودماغ سے نکال دیں کہ اگر آج بھارت میں بی جے پی کی نئی دہلی کی مرکزی حکومت ختم ہوجائے تو ’ہندوتوا ‘ کی بڑھتی ہوئی متعصبانہ فرقہ واریت کا خطرناک مسئلہ ختم ہوجائے گا نہیں یہ ہماری اور آپ کی خام خیالی ہوگی ’ہندوتوا ‘ کا مسئلہ اِس سے کہیں زیادہ بڑا ہے ہاں کسی حد تک یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ نریندرا مودی جیسے نچلے درجے کے آر ایس ایس کے ’کار سیوک ‘ کی سربراہی میں دہلی کی مرکزی حکومت کی باگ دوڑ اُس کے ہاتھوں آجانے کے بعد ’ہندوتوا ‘ کے دہشت ووحشت کے آکٹوپس نے غالباً 30-35برس بعد ایک لمبے عرصہ کے لئے’ نئی زندگی‘ ضرور پا لی ہے، کون جانے اِس کا انجام کیا ہو گا ،ہمیں بحیثیت ِ جنوبی ایشیائی فرد کے یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ آر ایس ایس اور اِس کی ذیلی متشدد انتہا پسند تنظیموں کے ایک کے بعد ایک کے لبادے تیزی سے اترنا شروع نہ ہوجائیں بھارت کی یہ مسلح متشدد پھیلے ہوئے جنونی گروہ اور ’متحد‘ نہ ہو جائیں ،چونکہ بھارت پاکستان کا پڑوسی ایٹمی ملک ہے اُس کے ا یٹمی ہتھیار پاکستان جیسے کسی مضبوط ومستحکم کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے ’نارسا‘ حصار میں نہیں اور نہ ہی نئی دہلی والوں کو اِس کی فکر ہے نہ ہی بھارتی افواج کو، بس صرف ایک ہی نکتہ یعنی پاکستان دشمنی اُن سب کا مطمع ِ نظر ‘اِن کا ’حال ‘ کتنا بدحال ‘ پاکستان کے ساتھ آر ایس ایس والوں کے تعصب کی نہج کہاں پہنچ گئی کسی ’صاحب ِ فکر ہندو دانشور ‘ کو فکر نہیں اگر اُنہیں اِس کی فکر ہوتی تو اُن کے معاشرے میں بگاڑ او ر دنگا فساد کا یہ انتہائی رویہ کبھی نہ اِس قدر پنپتا ،پاکستان کے ایک سابق وزیر ِ خارجہ محمود قصوری کی ممبئی میں اُن کی کتاب کی تقریب ِ رونمائی نے دیش بھر کو لاحق خطرناک خطرے کی گھنٹی بجادی، کوئی لاکھ اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لے، اب بھارتی معاشرے میں جلد یا بادیر ثقافتی تحمل وبردباری ‘اتفاق و سماجی برداشت اور باہمی ملن ساری کے سدھار کی بات بنتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی ،خود ملاحظہ کرلیں ’سد ھیندار ا کلکرنی‘ کے بارے میں اُن کی حب الوطنی کے بارے میں بھارتی وزیر ِ ثقافت مہیش شرما کا کیا خیال ہے ؟ اُن کے منہ پر کالک کیوں ملی گئی ؟ سدھیندار ا کلکرنی‘ آبزور ریسرچ فانڈیشن کے سربراہ ہی نہیں بلکہ خود بھی ایک زمانے میں بی جے پی کے ممتاز لیڈر رہے، جنہیں اُن کے علمی مرتبہ کی وجہ سے دنیا بھر میں بڑا مقام حاصل ہے کئی کتابوں کے مصنف ہونے علاوہ وہ ایک جانے مانے ماہر تعلیم بھی ہیں بروکنگز انسٹی ٹیوشن چیہٹم ہاو¿س ‘ رینڈ کارپوریشن ‘ کے عالمی سطح کے مفکروں میں کلکرنی کا شمار ہوتا ہے، ممبئی کے شیوسینا کے غنڈے کلکرنی کے علمی مرتبہ کو پہنچانتے ہی نہیں ،جنونی متشدد ‘انتہا پسند ممبئی کی ایک ’گروہ نما ‘ بھتہ خور مافیا جماعت کے رکن نے اُن کی اپنی منعقد کردہ ایک پاکستانی سیاست دان کی کتاب کی تقریب ِ رونما ئی میں اُن کے منہ پر ’کالک ‘ مل کر کیا کوئی کمال کردیا ؟ یوں کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ شیوسینا نے اصل میں اپنے ہی منہ پر کالک مل لی اعتدال پسند بھارتی سول سوسائٹی نے واقعی بہت دیر کردی ‘کیا وہ اتنی جلد بھول گئے امریکی صدر اوبامہ نے اپنے دورہ بھارت میں کیا انتباہ کیا تھا بھارت بھر میں آج تک اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچنے والی کسی ایک ایسی جماعت کا نام بتا دیں جس کے ہاتھ بھارتی اقلیتوں کے لہو سے رنگیں نہ ہوں ولبھ بھائی پٹیل سے شاستری تک ‘ اندراگاندھی سے گجرات کے قصاب نریندرا مودی تک سبھی کے سبھی بھارتی نژاد مسلمانوں ‘ سکھوں اور عیسائیوں سے کسی نہ کسی شکل میں نبرد آزما رہے افسوس صدہاافسوس ! گزشتہ67-68 برسوں میں جب بھی بے گناہ انسانوں کا بھارت میں بے دریغ خون بہا،بھارت کے انصاف پسند قلم خاموش رہا اور اعلیٰ معتدل تعلیم یافتہ بھارتی سول سوسائٹی کی زبانیں بھی بند رہیں معدودے چند ایک کے ‘ جن میں نامور اور ممتاز قابل ِ احترام انسانیت نواز ارون دھتی رائے کا نام لیا جاسکتا ہے اور کچھ بھی ہونگے مثلاًخوشونت سنگھ جیسے مرد ِ میدان ‘ جن پر یہ بھارتی متشدد جماعتیں ’پاکستان ایجنٹ ‘ ہونے کا جھوٹا اور بے سروپا الزام دیتی چلی آئیں، مگر اِن کے قدموں میں ذر ا ڈگمگاہٹ نہیں آئی، انسانیت کے احترام اور اُس کی بقاءکے لئے یہ کل بھی لڑتے رہے کچھ دنیا سے اُٹھ گئے جو باقی ہیں انسانیت اُنہیں آج بھی خراج ِ تحسین پیش کرتی ہے کل بھی کرئے گی یہ کسی ایک ہندو ‘ مسلمان ‘ سکھ ‘ عیسائی ‘ بدھ مت یا پھر کسی ایک سیکولر کی بقاءواحترام کی بات نہیں ‘مختلف نسلوں ‘ مذاہب ‘ زبانوں اور کلچروں سے الگ ہوکر بھارت میں جڑ پکڑتے ہوئے انسانی سماجی میں نفرتوں کی تناو¿ کی اِن کیفیتوں کو کیسے ختم کیا جائے؟ یہ سوچنا ہے آج کی باشعور بھارتی سول سوسائٹی کا ایک اوّلین فریضہ ہونا چاہیئے بھارت کی جن قابل ِ احترام قدآورشخصیات نے گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پھیلا کر محمد اخلاق کو قتل کرنے پر اور ممبئی میں ایک پاکستانی سیاستدان کی کتاب کی تقریب ِ رونمائی میں جناب کلکرنی پر سیاہی نما تیل ملنے پر اپنا جس طرح کا اپنا بے باکانہ و جراّت مندانہ شدید اور پُرزور احتجاج ریکارڈ کرایا ہے بھارتی ہندوتوا کے جنونی پاگل پن کے اِس عہد میں یہ ایک بہت بڑا تاریخی انسانیت نواز قدم ہے، جس کی جتنی پذیرائی کی جا ئے وہ کم ہے ۔

میٹروبس اور گردہ فروش

نواز شریف نے کرپشن سے 140ارب روپے بنائے عمران خان کے اس الزام کے جواب میں وفاقی وزیر برائے دفاع وزیر اعظم پرویز رشید نے الزامات کی فہرست جاری کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان جھوٹا! غدار دشمنوں کا آلہ کارہے۔عمران خان کیلئے مناسب نہیں ہے کہ موجود ہ حکمرانوں پر الزام لگائیں! کیونکہ موجودہ حکمران جب وہ آپ کی طرح اپوزیشن میں تھے تو حکمرانوں کو چوروں کے سربراہ اور سردار کہتے تھے آ ج اقتدار میں آئے ہیں تو انہی چوروں کے اتحادی بن کر نظام جمہوریت بچانے میں مصروف ہیں ۔ عمران آپ الزامات لگا کر موجود ہ حکمرانوں کے ساتھ مک مکا ﺅ پر آگئے تو قوم جمہوریت پسندوں اور جمہوریت پرستوں کو جھوٹ اور فراڈ پسند اور پرست کے طورپر یا دکرے گی! آپ کے پاس کیا ثبوت ہیں کہ نواز شریف نے 140ارب روپے کرپشن سے کمائے ہیں؟ بلکہ آپ کے پاس کیا ثبوت ہیں کہ نواز شریف 140ارب روپے کا مالک ہے بھی سہی! رات ایک جرنیل بات کررہا تھا کہ میں نے اپنی آنکھوں اور ہاتھوں سے میاں نوا ز شریف کے دور میں قوم کی دولت کو لٹتے لٹاتے دیکھا ہے۔ وہیں کہا گیا کہ لاہور ،راولپنڈی ، اسلام آباد اور ملتان کے میٹرو روڈ جن پر دو کھرب روپے لاگت آرہی ہے!حالانکہ اسلام آباد ،راولپنڈی روڈ یا ملتان کو ابھی بنے تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا ۔ ان کو توڑ کر میٹرو بنانا حماقت جہالت تھی ۔ہاں اگر کسی نے اپنے مقاصد اور مفادات کے لیے تعمیرکیا ہے تو پھر یہ عوامی ضرورت کے منصوبے نہ تھے! دوکھرب کے یہ تین منصوبے اپنے آپ کو بادشاہ کہلانے والے تو بنا چلا سکتے ہیں۔ کیونکہ بادشاہ جو کچھ سوچیں کر گزریں کوئی ان سے پوچھنے والا ہوبھی نہیں سکتا! ورنہ پورا پنجاب سڑکوں ،نالیوں ، گلیوں کے مسئلے کا شکار ہے۔ پنجاب کے جس ضلع پر تبصرہ کیا جائے ممکن ہے ا س کے مین روڈ بنادیئے گئے ہوں یا ان پر کام جاری ہو مگر اس کے تمام علاقائی روڈ پر ضلع کی اندر کی تصویر پیش کرتے ہیں نہ روڈزہیں ، نہ گلیاں پختہ اور نہ نکاسی آب کا نظام موجود ہے۔ ہر قصبہ اور ہر دیہات اور ہر گلی گندگی اور جوہڑ کا منظر پیش کررہی ہے۔ پنجا ب کے درجنوں اضلاع کا رابطہ کے نظام سڑکیں ہیں اور یہ درجنوں اضلاع سڑکوں ،گلیوں ، نالیوں اور نکاسی آب جیسے مسائل سے نہ صرف دوچار ہیں بلکہ ہر سال ناکارہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے بہانے اربوں روپے اوپر نیچے ہوجاتے ہیں اور یہ رقم حکومتی ٹیم کی بیوروکریسی ٹھیکیداروں کے ساتھ ملکر ہضم کرجاتی ہے۔ اس طرح پورے پنجاب کے چھوٹے اضلاع کی تعمیر و مرمت کیلئے اربوں روپے کی رقم کھاپی جانے کے بعد حکمران سب اچھا کے نعر ے لگارہے ہیں ۔ ایک طرف راولپنڈی ،اسلام آباد کے درمیان حال ہی میں تعمیر ہونے والی اربوں روپے کی مر ی روڈ کو توڑ کر راولپنڈی اسلام آباد کے درمیان میٹر و بنادی گئی اور دوسری طرف اسلام آباد کوئٹہ جانے والی روڈ کئی برس سے ڈھک کی پہاڑی میانوالی میں ہر سال درجنوں افراد کی زندگیوں کا سودا کرلیتی ہے۔ ہر ماہ کئی کئی روز ٹریفک بند ہوجاتی ہے۔ مگر نہ صوبے کے حکمرانوں کو اس کی خودہی تعمیر کا خیال آیا ہے اور نہ مرکز کے حکمرانوں کی اس مسئلہ پر توجہ مبذول کرائی جاتی ہے۔حالانکہ اسی روڈ پر ڈیرہ سے واپسی پر اسلام آباد جاتے ہوئے مولانا فضل الرحمن صاحب ٹریفک جام میں کیا پھنسے کہ وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کا وقت بھی گنوا بیٹھے! اسلام آباد سے کوئٹہ اور کراچی کیلئے جانے والی روڈ میانوالی سے ڈھک پہاڑی سے گزرتی ہے ۔ اس روٹ پر نصف پنجاب کے پی کے ، بلوچستان اور مکمل سند ھ کوڈھک پہاڑی کو استعمال کرنا پڑتا ہے۔ مگر کسی بھی حکمران کو ڈھک پہاڑی کے چھوٹے سے منصوبے کو مکمل کرنے کی سمجھ نہ آسکی۔ ادھر راولپنڈی میٹرو بس میں بھرتی کرانے کا جھانسہ دیکر لاہور کے ایک نوجوان کا بایاں گرد ہ نکال لیا گیا۔ بھرتی کے خواہشمند نوجوان کو میڈیکل کرانے کے بہانے نشہ دیکر اس کا گردہ نکال لیا گیا ۔ مظلوم بابر بشیرنے پولیس کو شکایت لگائی مگر گردوں کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف مقدمہ تک درج نہ ہوا۔ ادھر بڑے بڑے شہروں میں کھر بوں روپے مالیت کی میٹرو چلاکر حکمران اپنے آپ کو سلطان محمود غزنوی اور شیر شاہ سوری کی طرح اپنا نام تاریخ میں لکھوانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور دوسری طرف انہی بڑے شہروں میں انسانی اعضا ءکی چوری اور پھر ان کے کاروبار میں لوگ مصروف ہیں اور حکمران ایسے مظلوموں کی داد رسی تک قانون کو حرکت میں لانے سے قاصر ہیں۔ ملک کے حکمرانوں عوام کو میٹرو روڈ اورسنگتری ریل کی ضرورت نہ ہے۔ ملک میں نظام اور انصاف کی ضرورت ہے۔ جس طرح وفاقی وزیر پرویزرشید صاحب نے عمران خا ن پر الزامات لگائے ہیں کہ وہ جھوٹا ہے ،غدار ہے اور دشمن کا آلہ کار ہے۔ اگر وہ واقعی ایسا ہے تو ایسے سیاستدان کے خلاف قانون کو حرکت میں لایا جائے۔

این اے 122میڈیا کا کردار؟

Asif-Mehmood

این اے ایک سو بائیس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔اس الیکشن کے ایک ایک زاویے پر بات ہوچکی ہے لیکن جو پہلو اس کا تشنہ ہے وہ اس سارے معرکے میں میڈیا کا کردار ہے۔
الیکشن کے روز صبح ایسی ہی تھی جیسے بالعموم ہوتی ہے۔پر سکون۔اتوار کا روز تھا۔اور یہ دن بچوں کے نام ہوتا ہے۔کارٹون کی تلاش میں میری بیٹی نے ٹی وی آن کیا تو ایک اینکر صاحب میک اپ تھوپے، ٹائی کوٹ لگائے ، پھولی ہوئی سانس کے ساتھ ضمنی انتخاب پر ڈگڈگی بجائے جا رہے تھے۔وہ چینل بدلتی گئی اور جب تک نیوز چینلز کی سیریز ختم نہ ہوئی کم و بیش ہر چینل پر ایک عدد اینکر اور تین چار سینیر تجزیہ کار قوم کی سماعتوں کا امتحان لے رہے تھے۔ایک معمول کی انتخابی مشق کو عذاب بنا کر قوم کے سر پر سوار کر دیا گیا۔ایک ہیجان بپا تھا اورر اینکر اور اینکرنیاں بد حوواس ہرنوں کی طرح قلانچیں بھر رہے تھے۔اس لمحے مجھے نوابزادہ نصر اللہ کان بہت یاد آئے، ایسے موقعوں پر مسکرا کر کہا کرتے تھے:” اگے بھابھو نچنی اتوں ڈھولاں دے گھمکار۔۔۔۔۔۔تو جناب کبھی میڈیا اپنی اداﺅں کو بھی موضوع بنائے گا یا اسے صرف دوسروں کے گریباں کی دھجیاں اڑانے میں مزہ آتا ہے۔؟اہلِ سیاست کے این آر اوز کو تو ہم روز تنقید کا نشانی بناتے ہیں لیکن کیا میڈیا نے خود بھی ایک این آر او نہیں کر رکھا۔اہل صحافت کے جن کرتوتوں سے شہر میں تعفن پھیل چکا ہوتا ہے وہ کرتوت بھی اہلِ صحافت کے ہاں کبھی زیر بحث نہیں آئے۔خاموش مفاہمت۔کبھی کسی نے سوچا کیوں؟کاش کوئی سوچے۔
اب چونکہ سوشل میڈیا ان کے بارے میں سوال اٹھارہا ہے۔اہل سیاست تو ان سے ڈرتے ہیں سوشل میڈیا ان سے نہیں ڈرتا۔چنانچہ میڈیا کے حضرات منہ بنا کر سوشل میڈیا کو دشنام دیتے پائے جاتے ہیں۔ خود اینکروں اور کاالم نگاروں اور ایڈیٹروں کے جو کارنامے میڈیا کی دنیا کو ہلا ئے ہوئے ہیں ان پر میڈیا میں کبھی بات نہیں ہوئی۔یعنی میڈیا صرف دوسروں کی پگڑی اچھالنے میں آزاد ہے۔اپنی برادری کی بات آ جائے تو یہ گونگا بہرا اور اندھا بن جاتا ہے۔
سوشل میڈیا اصل میں اسی ردعمل کا عکاس ہے۔اب لوگ سوال اٹھا رہے ہیں۔لوگون کے گریبانوں پر ہاتھ ڈال کر ریٹنگ کے مزے لینے والے اہلِ صحافت کے اپنے گریبانوں تک خلقِ خدا کا ہاتھ پہنچاتو پہلے ہی مرحلے میں احباب کی چیخیں نکل گئیں۔چنانچہ باجماعت سوشل میڈیا کی مذمت شروع کر دی گئی۔
ارشاد ہو ا :یہ غیر ذمہ دار ہے۔فرمایا گیا: یہاں جاہل بیٹھے ہیں۔فیصلہ سنا دیا گیا: ان کی معلومات ٹھیک نہیں۔طعنہ دیا گیا: ان کو کیا پتا۔کوئی پوچھے حضور یہ تو غیر ذمہ دار ہے آپ کتنے ذمہ دار ہیں ،بکری بکرے کو سینگ مار دے تو آپ بریکنگ نیوز دے کر پھولی سانسوں سمیت اس پر ماہرانہ تجزیے شروع کر دیتے ہیں۔یہ جاہل ہیں تو آپ کون سا علم و ادب کی آبرو ہیں۔ان کو کچھ پتا نہیں تو آپ کون سا ایران توران کی خبریں لاتے ہیں،ذرا اپنے خبرناموں کا معیار تو دیکھئے۔اردو کا بھی ستیاناس کر دیا گیا ہے۔سنجیدگی اور ذوقِ سلیم کی تو بات ہی نہ کریں کہ یہ تو جنس کمیاب ہے۔
سوشل میڈیا میں یقینا کچھ خامیاں ہوں گی لیکن خامیاں کہاں نہیں ہوتیں؟خود میڈیا کا کیا حال ہے یہ سب کو معلوم ہے۔سوشل میڈیا میں بات کہنے کا اپنا ایک ڈھنگ ہے۔بے ہودہ بھی اور غیر سنجیدہ بھی لیکن یہ ادھوری تصویر ہے۔مکمل تصویر یہ ہے کہ سوشل میڈیا بعض اہم سوالات بھی اٹھا رہا ہے۔آپ اس کی غیر سنجیدگی کا رونا روتے ہیں لیکن آپ اس کے سوالات کا جواب نہیں دے رہے۔رمشا سے لے کر ملالہ تک سوشل میڈیا کے کچھ سوالات میں بہت وزن ہے۔میڈیا کے پاس ان کا جواب نہیں ہے ۔وہ جواب میں سوشل میڈیا کو طعنے اور کوسنے دے کر کام چلا رہا ہے مگر دیانت کی دنیا میں اس رویے کا کوئی اعتبار نہیں۔گدھا گاڑی کسی بیل گاڑی کو چھو کر گزر جائے تو یہ میڈیا کی بریکنگ نیوز ہوتی ہے لیکن سوشل میڈیا مہینہ بھر سے سوالات اٹھا رہا ہے اور میڈیا ان کا جواب نہیں دے رہا۔۔کیوں؟ یہ خبط عظمت ہے یا اندر کا چور؟آپ سوشل میڈیا کے سوالات کو موضوع بحث تو بنائیے۔اگر یہ سوالات غیر سنجیدہ ہیں تو یہی کہ دیجئے۔لیکن ایسی بے اعتنائی؟حیرت ہوتی ہے۔ٹاک شوز میں مرغوں کی طرح مہمانوں کو لڑا کر ریٹنگ تلاش کر کے سماج کی اقدار کو برباد کر دینے والے اینکر ز سوشل میڈیا سے گلہ کر رہے ہیں کہ وہ غیر ذمہ دار ہو گیا ہے۔
حیرت ہے۔ہے کہ نہیں؟

تحریک انصاف کا ” دلِ ناتواں“

Asif-Mehmood

کل میں نے لکھا تھا:
عمران خان کا اعتماد معاشرے کی اخلاقی قوت سے اٹھ چکا ہے۔یہ اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔انہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ لوگ صرف تجوری کا سائز دیکھ کر ووٹ نہیں دیتے۔کچھ اور چیزیں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔پارٹی کے نظریات اور خان صاحب کی افتاد طبع آمنے سامنے ہیں۔ایک عام سفید پوش آدمی پر پارلیمنٹ کے دروازے اگر تحریک انصاف بھی نہ کھول سکی تو یہ بہت بڑا المیہ ہو گا۔تحریک انصاف ایک امیدکا نام ہے۔یہ امید بھی اگر صاحبان ثروت کی تجوریوں میں گھٹ کے مر گئی تو بہت برا ہو گا۔فی الوقت عمران خان نے تجوری کو ترجیح دی ہے۔ان کا یہ فیصلہ کامیاب رہا اور علیم خان جیت گئے تو آئندہ کے لیے ہر حلقے میں تجوری ہی فیصلہ کن عامل ہو گا۔لیکن اگر علیم خان ہار گئے تو عمران خان کو پارٹی کے اندر نظریاتی لوگ یہ کہہ سکیں گے کہ خان صاحب ٹکٹ دیتے وقت تجوری ہی نہ دیکھا کریں نظریاتی کارکن کا چہرہ بھی دیکھ لیا کریں۔ایک نشست کی قربانی دے کر اگر عمران خان کا سماج کی اخلاقی قوت پر اعتماد بحال کیا جا سکے تو کیا یہ گھاٹے کا سودا ہو گا؟
لیکن آج جب علیم خان ہار چکے ہیں خود احتسابی کا کوئی عمل تا حال شروع نہیں ہو سکا ۔سونامی کی شوریدہ سر لہریں اب ساحل کی بھیگی ریت پر،کسی تھکے ہارے مچھیرے کی طرح ،پڑی ہیںاو ر ڈوبتی آواز میں ایک دوسرے کو دلاسہ دے رہی ہیں: مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا۔۔۔
سارے اہتمام سے آپ میدان میں اترے،پوری رعونتوں سے آپ صف آراءہوئے، پورے اعتماد سے دھاندلی کی ڈفلی بجائی گئی ،ساری حکمت سے ایک بھاری بھرکم تجوری کو چن کر میدان میں اتارا گیا،تجوری کے حجم پر اتنا ناز تھا کہ صاحب کو کپتان کا ’ خفیہ ہتھیار‘ کہا گیا،تمام تکبر کے ساتھ خود کو سونامی کی وہ بے اماں لہر کہا گیا جو سب کو بہا لے جانے کو تیار تھی،پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا،سلطان راہی اور گبر سنگھ کی طرح آپ نے مخالفین کو للکارا،چودھری سرور سے لے کر جہانگیر ترین تک تحریک انصاف کے جملہ’ اعضائے رئیسہ‘ اپنے جاہ و حشم کے ساتھ میدان میں اترے۔۔۔۔پھر بھی شکست ہوئی لیکن اس شکست کے اسباب پر غور کرنے کی بجائے ارشاد ہوا جا رہا ہے: مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا۔اب سوال یہ ہے علیم خان اور ان کے ساتھ تحریک انصاف کی گردن میں طوق کی مانند ڈال دیے جانے والے ’ نومولود قائدینِ انقلاب‘ کیا ’ دلِ ناتواں ‘ تھے؟
خود فریبی کی بھی حد ہوتی ہے۔کرکٹ کی زبان میںسیاست کرنے والوں کو اتنا بھی معلوم نہیں رہا کہ شکست صرف شکست ہوتی ہے اور فتح کم مارجن سے حاصل ہو تو نشہ دو آشتہ ہو جاتا ہے۔جاوید میانداد نے شرما کو آخری اوور میں چھکا مارا تھا ۔کیا اس پر خوشیاں مناتے کھلاڑیوں کے پاس کسی بھارتی کھلاڑی، کوچ یا کپتان نے آ کر کہا کہ یہ کون سی فتح ہے، ہمت تھی تو پچیسویں اوور میں میچ جیت کر دکھاتے؟’عمران خاں دے جلسے اچ نچنے‘ کو تو آپ کا بڑا دل کرتا تھا، شکست کے اسباب جاننے کو آپ کا دل نہیں کرتا؟

علیم خان یا تحریک انصاف؟

Asif-Mehmood

لاہور میں آج انتخابی معرکہ برپا ہے۔ایک سوال حلقے کے تمام ووٹرز کے سامنے رکھا ہے: ن لیگ یا تحریک انصاف؟اس سوال کا جواب عوام نے دینا ہے۔لیکن آج کے معرکے کا یہ واحد سوال نہیں ہے۔ایک سوال اور بھی ہے اور یہ سوال آج تحریک انصاف کے ہر مخلص کارکن کے دل و دماغ پر دستک دے گا۔سوال یہ ہے: علیم خان یا تحریک انصاف؟۔۔۔۔تحریک انصاف کے وابستگان اس کا جو بھی جواب دیں گے اس کے اثرات محض ایک حلقے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ تحریک انصاف کے نظریاتی وجود کی غارت گری یا صورت گری کا فیصلہ بھی کر دیں گے۔تحریک انصاف کے رومان پسند کارکنان کو معلوم ہونا چاہیے یہ عرفان ِ ذات کا لمحہ ہے۔فیصلہ جو بھی آ ئے لیکن فیصلہ آج شام تک ہو جائے گا کہ تحریک انصاف کے کارکنان کی ترجیح کیا ہے، ایک حلقے کی نشست یا پارٹی کا اخلاقی اور نظریاتی وجود؟
تحریک انصاف کی نظریاتی صفوں ایک اضطراب ہے۔کوئی بھلے اسے مان کر نہ دے لیکن صف نعلین سے آوازیں اٹھتی ہیں کہ ہمارے وہ نظریات کیا ہوئے جن کو زادِ راہ بنا کر ہم نے سفر شروع کیا تھا۔لیلائے اقتدار سے ہم آغوش ہونے کی آرزو نے عمران خان کو بے قرار کر دیا یا وہ افتاد ِ طبع کے ہاتھوں مجبور ہوئے، معلوم نہیں ،لیکن اتنا معلوم ہے تمام آدرش اور نظریات ایک ایک کر کے پامال کر دیے گئے۔ایسے ایسے لوگ ڈھونڈ ڈھونڈ کر پارٹی میں شامل کیے گئے سماج کا اجتماعی شعور جنہیں ٹھکرا چکا تھا۔نام لینے کی ضرورت نہیں ہر حلقہ اس آلودگی کا شکار ہو چکا ہے۔اول اول نظریاتی کارکنان نے احتجاج کیا تو عمران خان انہیں یہ کہہ کر چپ کرا دیتے کہ ابھی پارٹی تشکیل کے مراحل سے گزر رہی ہے ابھی آپ خاموش رہیں اور مجھ پر اعتماد رکھیں میں ایسے لوگوں کو یا تو ٹھیک کر دوں گا یا وقت آنے پر انہیں نکال باہر کیا جائے گا۔وہ وقت لیکن پارٹی میں نہیں آ سکا۔اب پی ٹی آئی مقبول جماعت بن چکی تھی اور خان صاحب کے مزاج بدل چکے تھے۔اب تنقید انہیں توہین محسوس ہوتی ہے۔کرپشن کے خلاف اکبر ایس بابر بولے تو انہیں نکال دیا گیا اور جسٹس وجیہ الدین نے آواز بلند کی تو ان کا ناطقہ بند کر دیا گیا۔الیکشن سے پہلے جب ادھر ادھر سے ” لوٹے“ اکٹھے کیے جانے لگے تو آوازیں اٹھیں۔عمران خان نے یہ کہہ کر سب کو چُپ کرا دیا کہ :” کیا آپ کو مجھ پر اعتماد نہیں، پارٹی میں جو آنا چاہے آ جائے لیکن آپ لکھ کر رکھ لیں ٹکٹ صرف اس کو ملے گا جس کا چہرہ پارٹی کے منشور سے ملتا ہو گا“۔۔۔۔۔پھر ایسے ایسے چہرے آئے کہ احباب پھٹی آنکھوں سے کبھی انہیں دیکھتے اور کبھی منشور کو۔
تحریک انصاف اس وقت ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔عملیت پسندی کا مرض اسے لاحق ہو چکا ہے۔اب ہر وہ آدمی معتبر ہے جو مروجہ سیاسی تقاضوں کو نبھا سکتا ہے۔اخلاقی قوت اب زادِ راہ نہیں رہی۔پارٹی میں فکری کشمکش اور اضطراب عروج پر ہے۔پرانے کارکنان ڈسٹ بن میں پھینکے جا رہے ہیں اور ظلم یہ ہے کہ ان کے ساتھ ہی نظریات بھی۔اب لوٹے بھی ہم رکاب ہیں ، اور جعلی ڈگریوں والے بھی۔خان صاحب میڈیا پر طلوع ہوتے ہیں تو دائیں بائیں براجمان لوگوں میں ایک بھی ایسا نہیں ہوتا جو خان کا پرانا رفیق ہو۔کوئی ق لیگ سے آیا ہوتا ہے کوئی ن سے تو کوئی پی پی پی سے۔ہر وہ فصلی بٹیرہ عمران کی شاخ پر آ بیٹھا ہے جسے کہیں اور جگہ نہ مل پائی۔موقع پرستوں کا بلال گنج بنا کے رکھ دیا گیا ہے اس جماعت کو۔جعلی ڈگری کی وجہ سے عدالت کے حکم پر نشست سے محروم ہونے والے شخص کو کے پی کے میں اہم ذمہ داری دے دی جاتی ہے،مشاورت اب وجیہہ الدین احمد جیسوں سے نہیں شیخ رشید جیسوں سے ہوتی ہے۔علیم خان کو جب ٹکٹ دیا گیا اس وقت بھی یہی سوال اٹھا ، اسی اضطراب نے جنم لیا۔ جواب دیا گیا:” لاہور میں ن لیگ کے اقتدار کی قوت کا مقابلہ کرنے کے لیے دولت مند آدمی کی ضرورت ہے“۔ اب یہ دولت مند آدمی میدان میں ہے۔اگر تحریک انصاف نے یہی کرنا ہے اور اس کے انتخاب میں یہی عوامل کارفرما رہنے ہیں تو شاہ محمود قریشیوں، جہانگیر ترینوں، خان سروروں، علیم خانوں کے ساتھ عمران خان کبھی اقتدار میں آ بھی گئے تو وہ کسی معنوی تبدیلی کی بنیاد نہیں رکھ پائیں گے۔
سوال یہ ہے کہ عمران خان ایسا کیوں کر رہے ہیں؟حسن ظن اپنے کمال پر پہنچ جائے تو اس کا جوااب یہ ہے کہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ پاکستانی قوم کی اخلاقی قدریں بہت کمزور ہیں۔جب تک دولت مند لوگ ساتھ نہیں آئیں گے عوام ووٹ نہیں دےں گے۔ عوام طاقت اور تجوری دیکھ کر ووٹ دیتے ہیں۔سیاست کے لیے محض اخلاقی قوت کافی نہیں اس کے لیے مروجہ تمام خرابیاں یا خوبیاں بندے میں ہونی چاہییں۔چنانچہ وہ مروجہ تقاضوںکے مطابق امیدوار میدان میں اتارتے ہیں۔
عمران خان کا اعتماد معاشرے کی اخلاقی قوت سے اٹھ چکا ہے۔یہ اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔انہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ لوگ صرف تجوری کا سائز دیکھ کر ووٹ نہیں دیتے۔کچھ اور چیزیں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔پارٹی کے نظریات اور خان صاحب کی افتاد طبع آمنے سامنے ہیں۔ایک عام سفید پوش آدمی پر پارلیمنٹ کے دروازے اگر تحریک انصاف بھی نہ کھول سکی تو یہ بہت بڑا المیہ ہو گا۔تحریک انصاف ایک امیدکا نام ہے۔یہ امید بھی اگر صاحبان ثروت کی تجوریوں میں گھٹ کے مر گئی تو بہت برا ہو گا۔فی الوقت عمران خان نے تجوری کو ترجیح دی ہے۔ان کا یہ فیصلہ کامیاب رہا اور علیم خان جیت گئے تو آئندہ کے لیے ہر حلقے میں تجوری ہی فیصلہ کن عامل ہو گا۔لیکن اگر علیم خان ہار گئے تو عمران خان کو پارٹی کے اندر نظریاتی لوگ یہ کہہ سکیں گے کہ خان صاحب ٹکٹ دیتے وقت تجوری ہی نہ دیکھا کریں نظریاتی کارکن کا چہرہ بھی دیکھ لیا کریں۔ایک نشست کی قربانی دے کر اگر عمران خان کا سماج کی اخلاقی قوت پر اعتماد بحال کیا جا سکے تو کیا یہ گھاٹے کا سودا ہو گا؟
ن لیگ یا ایاز صادق نے نہ پہلے دودھ اور شہد کی نہریں نکالی ہیں نہ ان سے آئندہ ایسی کوئی توقع ہے۔ن لیگ اور پی پی پی ایسی برسات کا نام ہیں جن کے آنے سے پہلے کوئی گھٹا اٹھتی ہے نہ آنے کے بعد کوئی روئیدگی پیدا ہوتی ہے۔۔اس ضمنی الیکشن کی میرے نزدیک کوئی اہمیت ہے تو وہ یہی ہے کہ تحریک انصاف کیا فیصلہ کرتی ہے۔
آج ساری قوم فیصلے کی منتظر ہے: ایاز صادق یاعلیم خان؟۔۔۔میں مگر ایک اور سوال لیے کھڑا ہوں: علیم خان یا تحریک انصاف؟
( آخر میں برادر مکرم امیر العظیم کو مبارک کہ صالحین کو بالآخر ایک ایسا امیدوار مل گیا جو آئین کی دفعہ باسٹھ تریسٹھ پر پورا اترتا ہے۔زہے نصیب)

موت کا وقت اور جگہ متعین ہے

uzairahmedkhan

کوئی کسی کے گھر میں مرضی کے بغیر داخل نہیں ہوسکتا ۔اگر دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد گھرکا مالک دروازہ نہ کھولے اور آنیوالے کو ا ندر آنے کی اجازت نہ دے تو وہ یقینی طور پر واپس چلا جائیگا ۔پھر ایک یہ بھی طے ہے کہ جس کا وقت جہاں کالکھا ہوا ہو ۔وہ وہیں پر تمام ہوتا ہے ۔جہاں کی مٹی ہو وہیں جاکر مدفن ہوتا ہے ۔ان دونوں باتوں پر کوئی دوسری رائے نہیں ۔آج دنیا سانحہ منیٰ اور حرم پاک میں کرین حادثے کے حوالے سے طرح طرح کی آوازیں اٹھارہی ہے ۔کوئی کچھ کہہ رہا ہے ،کوئی کچھ کہہ رہا ہے جبکہ مفتی اعظم نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اللہ کے کاموں میں کسی طرح مداخلت نہیں ہوسکتی لہذا یہ بات بھی طے ہے کہ جو واقعہ وقوع پذیر ہونا ہو اس نے ہونا ہی ہوتا ہے ۔حرم پاک جانیوالا ہر شخص یہ دعا کرتا ہے کہ اگر اس کی زندگی کے دن پورے ہورہے ہوں تو خدا تعالیٰ اسے مکہ مدینہ میں ہی عزیز کرلے اوروہیں پر جاکر دفن ہوجائے ۔اللہ تعالیٰ اس کو جنت البقیع میں جگہ عطا فرمائے تو یقینی طور پروہاں پر وفات پانیوالے خوش نصیب ہی ہوتے ہیں ۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ حرم پاک اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اور جس کو وہ چاہتاہے وہاں بلاتا ہے کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے نہیںجاسکتا ۔جب اس کاحکم ہوتا ہے تب ہی ایسے وسیلے بنتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حج جیسی مبارک سعادت سے نوازتا ہے ۔حج کے دوران ماضی میںبھی مختلف حادثات ہوتے رہے ہیں ۔سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ موجودہ ہونیوالے حادثات کے حوالے سے تحقیقات ہورہی ہیں اور جوبھی حقیقت ہوگی اس کو سامنے لایا جائیگا ۔یہ حادثہ کیوں پیش آیا،کس وجہ سے پیش آیا یہ ایک طویل بحث ہے اس میں دیکھنا یہ ہے کہ کیا آیا وہاں پرجانیوالے حجاج کرام کا بھی کوئی قصور ہے یا نہیں ۔اس بات سے ماوراءکہ عازمین حج قصوروار ہیں انہیں قصور وار قرار نہیں دیاجاسکتا ۔ہونا تو یہ چاہیے کہ جوبھی ممالک ہیں اور جہاں سے حاجی صاحبان حج ادا کرنے جاتے ہیں وہاں پر ان کی اس حوالے سے باقاعدہ تربیت ہو اور گروپ لیڈر ہمیشہ تجربہ کار ہونا چاہیے ۔جس نے کم از کم دو یا تین بار حج ادا کیا ہو ۔اسے وہاں کے حالات اور واقعات کے بارے میں پوری طرح علم ہو اور جب وہ اپنے گروپ کو لیکرنکلے تو گروپ اپنے امیر کی قطعی طور پرپابندی کرے ۔ہمارے وطن پاکستان میں ایک بات بہت اہم ہے کہ جب بھی ہم پچاس سال کی عمر کراس کرتے ہیں تو اس وقت یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے تو اب حج کرلینا چاہیے ۔دراصل حج باقاعدہ ایک جسمانی مشقت بھی ہے اور بہتر تو یہ ہے کہ اس کو چالیس سال سے پہلے کی عمر میں ہی ادا کیاجائے ۔اس وقت انسان کی جان اور صحت اس قابل ہوتی ہے کہ وہ احسن طریقے سے مناسک حج ادا کرسکتا ہے ۔جب وہ پچاس سال سے زیادہ کی عمر میں پہنچ جاتا ہے تو اس وقت اس کی جسمانی قوت میں خاصا فرق آچکا ہوتا ہے چونکہ وہاں پر دنیا بھر سے مسلمانوں کی آمد ہوتی ہے،ہر شخص اپنی طبیعت کا مالک ہوتا ہے ،رش لاکھوں میں ہوتاہے اگرخدانخواستہ کوئی دھکم پیل ہوجائے تو زیادہ عمر کے جو عازمین ہوتے ہیں وہ اس کو برداشت نہیں کرسکتے ۔اس وقت ایک آواز اور بھی اٹھ رہی ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے کیے گئے انتظامات پر سوالیہ نشان لگایا جارہا ہے ۔تو راقم یہاں یہ واضح کرناچاہتاہے کہ وہاں پر خود متعدد بار گیا سعودی حکومت کے انتظامات پر کوئی دو رائے نہیں ۔وہاں کے انتظامات انتہائی اعلیٰ ترین ہوتے ہیں ،باقاعدہ سیکورٹی کیلئے فوج موجود ہوتی ہے اور حاجیوں کی رہنمائی کیلئے بھی جگہ جگہ عربی اہلکار موجود ہوتے ہیں ۔گو کہ زبان کا ضرور فرق ہے لیکن وہ اشاروں سے واضح کرتے رہتے ہیں کہ اس جانب روانہ ہوں اور اب اس جانب روانہ ہوں ۔میدان عرفات میں فرمانروا کی جانب سے لاکھوں حجاج کرام کی دعوت ہوتی ہے ۔جو کہ پوری دنیا میں ایک اپنی مثال ہے ۔پھر وہاں پر جس وافر مقدارمیں کھانے پینے کی اشیاءعازمین حج کو فراہم کی جاتی ہیں اس کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی ۔پانی سے لیکر ٹوتھ پیسٹ تک ہر چیز پیکنگ میں موجود ہوتی ہے ۔جگہ جگہ منرل واٹر کی سبیلیں اور وہاں پر ”لبن“لسی وافر مقدار میں فراہم کی جاتی ہے ۔اس کے علاوہ بھی بہت ساری کھانے پینے کی دنیاوی نعمتیں بالکل مفت دی جاتی ہیں ۔دھوپ سے بچنے کیلئے چھتریاں تک فری فراہم کی جاتی ہیں ،اس کے علاوہ بھی بہت سارے ایسے انتظامات ہیں جن کے بارے میں اگر یہاں تحریر کیا جائے تو شاید کالم میں جگہ تھوڑی پڑ جائے لہذا خوامخواہ مورد الزام ٹھہرانا کوئی جواز نہیں ۔ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم خود اپنے آپ کو درست کریں اب اللہ تعالیٰ نے اگر کسی کا وقت کہیں پر لکھ دیا ہے تو وہ یقینی طور پر وہاں پر ہی پہنچے گا ۔حضرت سلیمان ؑ کے دربار میں ایک مرتبہ ایک شخص ایک دوسرے شخص کو گھورے جارہا تھا جب وہ چلا گیا تو اس شخص نے حضرت سلیمان ؑ سے پوچھا کہ یہ کون تھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ موت کا فرشتہ تھا ۔تو اس شخص نے کہا کہ آپ مجھے ایسی جگہ پہنچا دیں جہاں یہ نہ آسکے ۔حضرت سلیمانؑ نے ہوا کو حکم دیا کہ وہ اسے کہیں دور پہنچا دے ۔اس شخص کو ہوا نے فوراً وہاں پہنچا دیا ۔جیسے ہی وہ وہاں پہنچا تو وہی شخص پہلے سے وہاں موجود تھا تو اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا کہ اس کی روح اس جگہ قبضے میں لی جائے ۔میں سوچ رہا تھا کہ تو کس طرح اس جگہ پہنچے گا سو تو پہنچ گیا اور اس کی وہاں پر زندگی تمام ہوگئی ۔لہذا جن کی اموات حرم پاک یا منیٰ میں لکھی جاچکی تھیں ان کی جانیں وہاں ہی جانی تھیں ۔کسی پر انگشت نمائی کرنے کی بجائے ہمیں اپنے گریبان میں دیکھنا ہوگا ۔

Google Analytics Alternative