کالم

جرائم کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟ ایک تجویز

جکل میڈیا پر معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ ۔ درندگی کے واقعات جس تسلسل سے سامنے ;200;رہے ہیں ۔ اس پر انسانیت نوحہ کناں ہے ۔ لگتا ہے ظلم کی جتنی تشہیر کی جارہی ہے اتنا ہی پنپ رہا ہے ۔ شاید مظلوم کی چیخیں ظالم کو تسکین دیتی ہیں ۔ دیکھا جائے تو اس سلسلے میں ٹی وی پروگرام ،سوشل میڈیا،ادبی تحریریں ،المناک اور درد میں ڈوبی شاعری ۔ ۔ یہ واویلا کس کے سامنے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ;238; حیوانیت کی سطح سے بھی گری ہوئی،عقل سے عاری ۔ ۔ بے حس اور ابنارمل مخلوق پر ۔ ۔ ۔ ان کا کیا اثر ہوگا;238;

ہمارے کچھ لکھنے والے اپنے ;200;پ کو بہت بے باک ثابت کرنے کےلئے اس طرح کی سیچویشن کو اپنی شناخت کےلئے استعمال کرتے ہیں ۔ جسم کے ایک ایک حصے کو ننگا کر کے اس طرح بخیے ادھیڑے جاتے ہیں کہ ذہنی پسماندگی کے شکار لوگوں کو اور تحریک ملتی ہے ۔ کیا یہ مسئلے کا حل ہے;238; کیا کسی نے ان باتوں کا اثر لیا ہے;238; کیا ان واقعات میں کمی ہوئی ہے;238;

اس کےلئے ماتم، نوحے، بین کرنا کیا ایک زندہ قوم کا عمل ہونا چاہیئے ۔ ;238;کیا ہم اتنے بے بس اور لاچار ہیں ;238; کہ کسی ایک بیمار شخص کی ہوسناکی پر ;200;نسو بہائیں ، ماتم کریں اور کچھ کر نہ پائیں ;238; ہمارے اداروں کا حال سب کے سامنے ہے ۔ ذرا موقع ملنے پر وار کر دیتے ہیں ۔ آخر شنوائی کےلئے کون سا در کھٹکھٹا نا پڑے گا ۔ ;238; حکومتوں نے تو اسی پیٹرن پر چلنا ہے ۔ جو اِن کےلئے مختص ہے ۔ وہ گندے پانی کے جوہڑ میں صاف پانی کی چند بالٹیاں ڈال بھی دیں گے تو کیا ہو گا ;238; فی الوقت ایسے اداروں کی مکمل تطہیر کی ضرورت ہے ۔ لیکن یہ کیسے ہوگا ۔ ;238;کون مجرم ہے کون بے گناہ;238; یہ فیصلہ کون کرے گا;238;ہوگا یہی کہ ہوشیار اور چالاک مجرم بے گناہوں کو سزا کے پھندے میں پھنسا کر دندناتے پھریں گے ۔ توپھر ۔ ۔ ہوسناکی، درندگی، بھوک، اور ظلم کا خاتمہ کیسے ہوگا;238; کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ وجوہات تلاش کی جائیں اور ان کا خاتمہ کیا جائے;238;وجوہات کیا ہیں ;238;

جہالت، غربت، بےروزگاری ۔ یہ وجوہات کسی بھی معاشرے کےلئے زہر قاتل ثابت ہو سکتی ہیں ۔ نوجوانوں میں تعلیم وتربیت کا فقدان اچھائی اوربرائی کی تمیز ختم کر دیتا ہے ۔ غربت اور بے روزگاری جرم پر اکساتی ہے اور انتقامی رویے پروان چڑھتے ہیں ۔ فراغت اور تجرد پن کی وجہ سے ڈپریشن اس طرح کے انسانیت سوز واقعات کا سبب بنتی ہے ۔ ان کی بیخ کنی کےلئے کیا کیا جائے;238; چند مجرموں کو پہانسی کے پھندے پر لٹکا کردلوں کو تسکین تو ہوگی ۔ لیکن اس مستقل خوف وہراس کی کیفیت سے نکلنے کےلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے ۔ حکمران ٹولے اپنی ہوس زر و اقتدار کے نشے سے باہر نکلیں اور عوام کی حالت پر توجہ دیں تو کچھ سکتا ہے لیکن ان کے پاس بھی ان مسائل کے حل کیلئے کوئی قابل عمل سٹریٹجی نہیں ہے ۔ حال ہی میں پناہ گاہ کے نام سے مراکز قائم کر کے غریب لوگوں کو کھانا کھلانے کا بندوبست کیا گیا ہے اور لنگرز کے افتتاح کیے جا رہے ہیں ۔ اوہ خدا کے بندو!ہماری قوم کا مسئلہ بھوک نہیں فراغت ہے ۔ ۔ ۔ ان کا پیٹ بھر جائے گا پھر وہ کیا کریں گے ۔ اور ;200;سائشیں ڈھونڈنے کےلئے پھر جرائم کی طرف راغب ہونگے ۔ ہم خیرات کرتے وقت کسی کی مدد کرتے وقت اپنی دوم سوم کی کتابوں میں لکھا ہوا واقعہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی للہ علیہ والہ وسلم نے کس طرح ایک شخص کو کلہاڑی اور رسی دے کر فرمایا کہ محنت کرو اور کھاوَ ۔ اسی خیرات کے پیسے سے ان کےلئے سکول، کارخانے اور کام کرنے کے کئی مواقع مہیا کیے جا سکتے ہیں ۔ ان افراد کے کواءف اکٹھے کر کے ان کی استعداد کے مطابق انہیں مصروف کیا جا سکتا ہے ۔ بچوں کو سکولوں میں داخل کروایا جائے ان کو فیس ، کتابیں اور یونیفارم مہیا کیا جائے ۔ کھانا بھی ان کی پڑھائی کے ساتھ مشروط ہو ۔ نوجوانوں کو کارخانوں اور روزگار فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ذریعے ملازمت دلائی جائے ۔ عورتوں کےلئے بھی گارمنٹس اور دیگر کاموں کے علاوہ کمپنیز کے ذریعے گہروں میں ملازمت کا بندوبست کیا جائے ۔ اس سلسلے میں مخیرحضرات کو خیرات دینے کے طریقے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔ انفرادی مدد کی بجائے اجتماعی طور پر فلاح وبہبود کا عمل جاری رکھا جائے تاکہ محنت کی عادت کے ساتھ عزت نفس جیسی دولت جس سے ہماری قوم یکسر محروم ہو چکی ہے بحال کی جا سکے ۔ کسی کے سامنے پلیٹ رکھ کر کھانا ڈالنا ;200;سان ہے لیکن کسی کو مستقل بنیادوں پر اپنے پاں پر کھڑا کرنا کافی محنت طلب کام ہے ۔ اس سلسلے میں ہ میں پہلے سے موجود وسائل سے بھی فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ نہ کوئی نئی بلڈنگ نہ سٹاف نہ کوئی نئے عہدے ۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے مسلم معاشرے میں مساجد کی صورت میں اصلاح کے ادارے قائم ہیں ۔ میں یہاں مذہبی مدارس کی بات نہیں کر رہی بلکہ وہ مسجد جہاں ایک محلے کے لوگ پانچ مرتبہ ملتے ہیں ایک دوسرے سے واقفیت رکہتے ہیں ۔ ہر گھر میں سے کوئی نہ کوئی باپ، دادا ، بھائی، بوڑھا جوان مسجد میں ضرور جاتا ہے ۔ ان بزرگوں ریٹائرڈ لوگوں کی مدد سے بہت بڑا کام کیا جا سکتا ہے ۔ اس کےلئے کوئی جگہ ،دفاتر عملے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ سب کچھ پہلے سے موجود ہے صرف ایک ترتیب پر لگانے کی ضرورت ہے ۔ مساجد کے امام صاحبان ایک ایسا طبقہ ہے جو عزت و احترام اور لوگوں کے مسائل حل کرنے کے سلسلے میں سب سے زیادہ موثر کردار ادا کر سکتا ہے ۔ جسے انگریز نے اپنے مقاصد کےلئے کم مایہ کر دیا اور رہی سہی کسر انگریز کے گماشتوں نے ان کے کردار کو اس طرح سے تبدیل کر کے پوری کی کہ اب کوئی ان سے خیر کی توقع نہیں رکھتا ۔ لیکن پھربھی یہاں حالات اتنے خراب نہیں ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے محلوں گلیوں میں جگہ جگہ مساجد ہیں ۔ نیک کام کا ;200;غاز نیک نیتی کے ساتھ اللہ کے گھر سے کیا جائے ۔ جہاں اربوں کھربوں روپے بے بنیاد مقاصد کےلئے خرچ کیے جاتے ہیں وہاں مساجد کے امام صاحبان کی تعلیمی قابلیت اور کام کرنے کی استعداد کے مطابق تنخواہ مقرر کی جائے ۔ نماز کے ساتھ ایک اور اہم ذمہ داری انہیں سونپی جائے کہ وہ اپنے علاقے ،محلے کے ان پڑھ ، بےروزگار افراد کے ساتھ ساتھ ایسے نوجوانوں کا بھی ریکارڈ رکہیں جو شادی کے بغیر رہ رہے ہیں ۔ کچھ بے غرض اور دیانت دار افراد کی ایک ٹیم بنا لیں جو اس سلسلے میں ان کی مدد کرے ۔

1 ۔ جو بچے تعلیم حاصل نہیں کر رہے ۔ انہیں تعلیم دلوانے کا بندوبست کریں ۔

2 ۔ بےروزگار افراد کو روزگار دلوانے کا بندوبست کریں ۔

3 ۔ غریب نوجوانوں کے نکاح بھی بغیر اخراجات کے مساجد میں کرائیں ۔

4 ۔ ان کے روزگار کے بندوبست تک مناسب مشاہرہ انہیں دیا جائے ۔

جس کےلئے حکومتی ادارے فنڈزمہیا کریں ۔ ہر کام ممکن ہے اور بہترین نتاءج کا حامل ہو سکتا ہے بشرطیکہ دیانتداری ، خلوص اور دانشمندی سے کیا جائے ۔ خیرات، زکو اۃ اور سوشل ویلفیئر کے ادارے ایک ہی سمت پر کام کریں تو نتاءج مثبت نکل سکتے ہیں ۔ اس معاملے میں مذہبی امور کی وزارتوں کو ذمہ داری بہی سونپنے کی ضرورت ہے ۔ کسی سیاسی عہدےدار ، پولیس یا اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کے شوقین افراد کو اس عمل سے باہر رکھا جائے ۔ ان میں سے کوئی فلاحی جذبے سے مدد کرنا چاہیے اور مقررکردہ ٹیم کا حکومتی اداروں سے رابطے کے سلسلے میں مددکریں تو درست ہے لیکن وہ اس دائرہ کار میں دخل اندازی نہ کریں ۔ اس کےلئے مذہبی وزارت میں جید علمائے کرام اور سکالرز پر مشتمل ایک ٹیم ہو جو ایک مکمل لاءحہ عمل تیار کرے ۔ صوبائی سطح پر بھی ایسے علمائے کرام کا انتخاب کیا جائے جو اس کام کےلئے سرگرم ہو سکتے ہوں ۔ وہ علما اپنے اپنے علاقے میں مساجد کے علما سے رابطے کریں اور انہیں یہ ذمہ داری سپرد کریں ۔ اس سلسلے صوبائی وزارت کی مرکزی وزارت کے ساتھ میٹنگ ;200;ن لائن ہونی چاہیئے اور جتنی بہی کاروائی طے پائے وہ بذریعہ ای میل سب تک پہنچ جائے ۔ اسی طرح صوبائی وزراء کی میٹنگ بھی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ;200;ن لائن ہونی چاہیئے تا کہ زیادہ سے زیادہ وقت اصل کام کو دیا جائے ۔ مرکزی رہنماؤں سے میٹنگ کےلئے سفر اور رہائش کے اخراجات اور وقت کے ضیاع سے اجتناب کیا جائے ۔ ضلعی سطح پر مقرر کردہ علما شہروں اور دیہاتوں کے علما کے ساتھ بھی فون ، نیٹ اور ;200;ن لائن رابطہ رکہیں اور انہیں کام تفویض کر کے رپورٹ کےلئے پابند کیا جائے ۔ اس طرح اپنی اپنی جگہ پر ہر علاقے سے تعلق رکھنے والے علما اپنے علاقوں کی ذمہ داری سنبھال لیں ۔ شرط یہ ہے کہ اس کام کو سادگی سے ایک ڈیوٹی سمجھ کر انجام دیا جائے ۔ ہر قدم پر نتاءج مرتب کئے جائیں اور مقررہ ہدف کو پانے کے سلسلے میں مکمل تفصیلات طے کر کے انہیں فالو اپ کیا جائے ۔ چیک اور بیلنس کا سسٹم ساتھ ساتھ چلتا جائے ۔

اس طرح ایک بہت بڑی تعداد میں علما کو کسی سسٹم کے تحت کام کرنے کا موقع ملے گا اور وہ اپنی کوشس کے نتاءج دیکھ کر مطمئن بھی ہونگے ۔ معاشرے کے اندر ایک بڑی تعداد فعال ہو سکتی ہے اور جرائم کا سد باب بھی ہو سکے گا ۔ یہ کام اپنے اپنے علاقوں میں امام صاحبان خود بھی کر سکتے ہیں لیکن وسائل کی کمی کے باعث ہر ایک کےلئے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ حکومت اس سلسلے میں واضح حکمت عملی سے کام لے اور اس کام کو بھی اپنی باقی ترجیحات کے ساتھ صف اول پر رکھے ۔ یقین کیجیے کہ غربت ، بےروزگاری اور جہالت کے خاتمے کے بغیر جرائم سے معاشرے کو پاک نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی بھی شعبے میں ترقی کا خواب پورا ہو سکتا ہے ۔

اپوزیشن اور حکومت مخالف ٹولے کاوایلا….!!

بھوک کا احساس بھوکے کے سِوا اُسے ہوتا ہے ۔ جو اِس تکلیف سے کبھی گزرچکاہو ، یا اُسے ہوتاہے جس میں اِنسانیت سے ہمدردی اور محبت کا جذبہ ہوتاہے ۔ کیوں کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہی بھوک تو ہے ۔ جس نے اِنسانوں کو دہکتے انگارے پر چلنے پر مجبور کردیاہے ۔ آج بھوک نے اِنسان کو ایک ایسی بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے ۔ جہاں ہرجائز اور ناجائز کی تمیز ختم ہوکررہ گئی ہے، گویاکہ صحیح وغلط اور ضمیر اوربے ضمیر کا فرق بھی ختم ہوگیاہے ۔ یہ وہ بند گلی ہے ۔ جس کادوسرا راستہ مجبور اِنسان کو گمنامی اور ایسے اندھیرے کی راہ پر لے جاتا ہے ۔ جس میں اِنسان اور اِنسانیت ختم ہو جاتی ہے ۔ مگر آج بھی اللہ کی زمین پر ایسے بنی نوع اِنسان موجود ہیں ۔ ابھی جن میں اِنسانیت زندہ ہے ۔ جن میں ہر وہ حس بھی بیدار ہے ۔ جو بھوک کی وجہ سے بندگلی میں جاتے اِنسانوں کو بھٹکنے سے بچانے کے لئے بے چین ہیں ۔ آج جب اِسی عظیم جذبہ احساسِ اِنسانیت کو وزیراعظم عمران خان بھی لے کر چلیں ہیں ;234;توگزشتہ دِنوں ہمارے مُلک میں وزیراعظم عمران خان کے ہی ہاتھوں احساسِ سیلانی لنگر خانہ کے ایک ایسے پروگرام کی ابتداء ہوگئی ہے ۔ جس کا سلسلہ آنے والے دِنوں میں کراچی سے خیبر تک پھیل جائے گا ۔ اِس سلسلے میں مُلک کے غریب اور نادار افراد کو روزانہ کی بنیاد پر مفت تینوں وقت کا کھانا مہیاکیا جائے گا ۔ بیشک، حکومت کا یہ احسن پروگرام مُلک سے غربت کے خاتمے کے لئے جہاں خوشگوار احساس ثابت ہوگا;234; تووہیں مُلک کے غریب اور نادار افراد کو اپنے پیروں پر کھڑاکرنے کا بھی ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوگا ۔ تاہم اِس منظر میں عوام کا اعتمادبھی حکومت پر بحال ہونا چاہئے کہ یقینا آہستہ آہستہ حکومت عوام سے اپنے کئے ہوئے وعدے اور دعوے پورے کرتے ہوئے اپنی کامیابیوں کے مراحل طے کرتی جارہی ہے ۔ اَب اُمید کی جاسکتی ہے کہ اِسی طرح وزیراعظم عمران خان اور اِن کی حکومت آئندہ بھی عوامی خواہشات اور امنگوں پر پورا اُترے گی، بیشک، ابھی حکومت کو اقتدار سنبھالے تیرہ ماہ ہی تو ہوئے ہیں ،ماضی میں تو کم و بیش اتنے عرصے حکومتیں اپنا ہنی مون پریڈہی منانے میں اپنا اور قوم کا قیمتی وقت ضائع کردیاکرتی تھیں ۔ مگر رواں حکومت نے تو اپنا ایک دن بھی بطور ہنی مون منانے میں قطعاََ وقت ضائع نہیں کیاہے ۔ پھر بھی اپوزیشن اور حکومت مخالف ٹولہ ہے کہ اپنے سیاہ کرتوتوں کو بھلا نے کےلئے اِس عرصے میں حکومت سے ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی ضد پر تُلا بیٹھا ہے ۔ آج اِسی لئے ہارے ہوئے ۔ اپنے سیاسی مستقبل سے مایوس سارے سیاسی گھوڑوں نے حکومت مخالف سرگرمیاں تیز سے تیز تر کردی ہیں ۔ جیسا کہ پچھلے دِنوں وزیراعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پہلے غریب اور ضرورت مندافراد کو مفت کھا نا فراہم کرنے کےلئے احساس سیلانی لنگرخانہ اسکیم جس سے روزانہ 600غریب اور نادار افراد کھانا کھا سکیں گے کا افتتاح کردیاہے ۔ اِس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ’’بے صبرے عوام 13ماہ بعد پوچھتے ہیں ، کدھر ہے نیا پاکستان;238; ریاست مدینہ پہلے ہی دن نہیں بن گئی تھی، آہستہ آہستہ لوگ تبدیل ہوئے ‘‘عوام کو بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے ۔ اِسے سوچنا چاہئے کہ آج جن اندر اور باہر کی پیداکردہ مشکلات اور نازک دور سے رواں حکومت گزررہی ہے ۔ اِس کی مثال ماضی کی کسی بھی حکومت میں مشکل ہی سے ملتی ہے ۔ مگر پھر بھی ہماری حکومت کی پوری کوشش ہے کہ عوامی مسائل اور تکالیف کا فوری مداوا کیا جائے تاکہ عوام کا حکومت پر اعتماد بحال ہواِس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں مزید کہاکہ ’’مستحق ،ناداراور کمزور طبقات کو سہولتوں کی فراہمی سے نئے پاکستان کی فلاحی ریاست کا قیام عمل میں آئے گا، نیا پاکستان ایک فلاحی ریاست کا قیام ثابت ہوگا، کوشش ہے کہ لوگ بھوکے نہ رہیں ،آج جب ہم کمزور طبقے کی مدد کریں گے پاکستان بھی بدلے گا، پولیس کے نظام اور اسپتال میں تبدیلی آرہی ہے یہ لنگر خانہ اسکیم سیلانی انٹرنیشنل اور حکومت کے احساس پروگرام نے مشترکہ طور پر شروع کیا ہے، بیشک، آنے والے دِنوں میں اِس کا دائرہ کار پورے مُلک میں پھیلایا جائے گا‘‘اگر اُسی طرح احساسِ لنگر خانہ پروگرام چلتارہا;234;جس طرح حکومت نے مُلک کے غریبوں کی فلاح اور بہبود سے متعلق سوچ رکھاہے ۔ تو اُمیدرکھی جاسکتی ہے کہ اِسے کامیابی سے اپوزیشن اور حکومت مخالف کوئی سازش روک نہیں سکتی ہے ۔ مگر جب حکومت نے ہی کسی کے دباوَ اور بے جا تنقیدوں کی وجہ سے اِس پروگرام سے خود ہی اپنی توجہ ہٹادی یا کم کردی تو پھر یہ احساسِ سیلانی لنگر خانہ منصوبہ بھی ماضی کے کسی غریبوں اور نادار افراد کے حکومتوں کے شروع کئے گئے ۔ سلسلوں کی طرح سُر خ فائل کے سُرخ فیتے کی نظر ہوکر منوں مٹی کی تہہ تلے دب کر دفن ہوجائے گا ۔ بہر کیف ،جس طرح کوئی بھی احمق سانپ کو بطور ازاربند استعمال کرسکتاہے ۔ اِسی طرح کوئی بھی مایوس سیاست دان اور قومی لٹیرا جمہوریت اور دینِ اسلام کو اپنی سیاست چمکانے اور اپنا سیاسی قدم اُونچا کرنے کےلئے استعمال کرکے اپنے اُوپر چڑھی مایوسی اور ناکامی کی دھول جھاڑ سکتاہے ۔ اِس لئے حکومت اور عوام کو اِن سیاسی بہروپیوں کی ہر چال اور سازش سے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کےلئے ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا ۔ ہارے اوربھٹکارے ہوئے عناصر کی عیاریوں اور مکاریوں پر نظررکھ کر آئندہ کا لاءحہ عمل مرتب کرناہوگا ۔ ویسے آج کل اپوزیشن اور حکومت مخالف ٹولے کی جانب سے حکومت کی مخالفت میں اِتنا کچھ کہا جارہاہے کہ اِن کی سُننے او سمجھنے کوکو ئی تیار نہیں ہے ۔ اَب ایسے میں جب سامنے والا کچھ کہے بغیرسرہلارہاہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ اپنی بکواس اور بگ بگ بند کرنے کا وقت ہے ۔ قبل ازگفت معذرت کے ساتھ یہاں یادرہے کہ یہ نسخہ نیک عمل صرف اُن غیرت مندوں کےلئے ہے ۔ جن میں ذراسی بھی غیرت باقی ہے ۔ اُن کےلئے نہیں ہے ۔ جو اِس دائرے میں نہیں آتے ہیں ۔ اگر آپ اِس دائرے میں آتے ہیں ۔ تو یقینا آج نہیں تو کل ضرور عمل کریں گے ۔ مگر آپ جب اِس دائرے میں ہی نہیں آتے ہیں توپھر!! ۔ اِن دِنوں جس طرح اپوزیشن اور حکومت مخالف عناصرغیر یقینی پن کا شکار ہیں ۔ اِس عالم میں اِن کا ہر قدم مُلک اور عوام کی ترقی و خوشحالی کےلئے ہرگز کارآمد ثابت نہیں ہوسکتاہے ۔ اِس لئے لازمی ہے کہ عوام کی جان و مال اور قومی و نجی املاک کو سیکیورٹی اور اِنصاف فراہم کرنے والے قومی اداروں کو حکومت سے منحرف عناصر کی حرکات و سکنات کی کڑی نگرانی کرنی ہوگی تاکہ حکومت مخالف ہر گھناوَنے فکروعمل اور اقدام کو پوری حکومتی مشینری کے ساتھ آئین و قانون کے مطابق اقدامات کرکے کچل کر ناکام بنایا جاسکے ۔

فلاحی ریاست کی جانب پہلاعملی قدم

وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز ’احساس سیلانی لنگر‘سکیم کا افتتاح کر دیا ہے، پروگرام کے تحت نادار اور ضرورت مند افراد کو مفت کھانے کی سہولت میر ہوگی،لنگر سکیم حکومت کی جانب سے جاری کردہ سماجی و فلاحی بہبود کے جامع پروگرام احساس کا اہم جزو ہے، اسلام ;200;باد سے شروع کی جانے والی اس سکیم کو ملک بھر میں پھیلایا جائے گا ۔ پاکستان تحریک انصاف نے ’احساس سیلانی لنگر‘سکیم کا آغاز کرکے یقینی طورپرایک غریب شخص کے احساس کرنے کاثبوت دیاہے ،اس پروگرام پر عملدرآمد سے ملک بھر میں غربت کاخاتمہ ہوگا، گوکہ بظاہرحالات یہ بتارہے ہیں کہ وقت مشکل ہے لیکن اس مشکل وقت کے بعد اچھے وقت کی امید ہے ،کیونکہ گزشتہ حکومتوں کی کارکردگی دیکھی جائے تومحسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپناذاتی مفاد زیادہ اور ملکی وقومی مفاد کوپس پشت ڈال کررکھا، وزیراعظم عمران خان نے نادار افراد کا معیار زند گی بلند کرنے کےلئے ’احساس سیلانی لنگر‘ پروگرام کے تحت غربت میں کمی کی حکمت عملی کا ;200;غاز کیاہے ۔ دنیا کے ننانوے فیصد عوام کا بنیادی مسئلہ روٹی کا ہے،روٹی کے حصول کیلئے عوام مارے مارے پھر رہے ہیں اور نوالے کی تلاش میں ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور نوالہ ہے کہ ان کے ہاتھ نہیں آتا ہے ۔ خاص کرپاکستانی نظام کے سیاسی مسخروں نے عوام کو مہنگائی خوف اور بھوک کے تحفے کے اور کچھ نہیں دیا ہے جب بھی انہیں ضرورت ہوتی ہے وہ عوام کے سڑکوں پر نکلنے کی بات ضرور کرتے ہیں لیکن ان کے پاس عوام کے بنیادی مسائل کا کوئی حل نہیں ہے اس بنا پر عوام نہ سڑکوں پر نکلتے ہیں اور نہ جمہوریت اور آمریت میں ان کی دلچسپی ہے ان کیلئے وہی لیڈر اچھا ہے جو ان کے بنیادی مسائل حل کرسکے ۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ لوگ صبر نہیں کرتے اور13 ماہ میں کہتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان، شروع میں ریاست مدینہ کے بھی مشکل حالات تھے، حکومت کاروباری، صنعتی اور امیر طبقے کی مدد کر رہی ہے، ان سے ٹیکس اکٹھا کرکے غریبوں پر خرچ کریں گے، پاکستان بدلے گا لیکن تبدیلی آہستہ آہستہ آئے گی ، پولیس کا نظام تبدیل کررہے ہیں تاکہ تھانوں میں ظلم نہ ہو ۔ نیکی کے کام سے دل میں سکون پیدا ہوتا ہے، پہلے فیز میں 112 لنگر خانے شروع کئے گئے ہیں ، احساس پروگرام غربت کم کرنے کا پروگرام ہے ۔ یہ ملک کی تاریخ کا غربت میں کمی کا سب سے بڑا پروگرام ہے جسے چھوٹے شہروں تک بھی پہنچایاجائے گا ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے امریکی ارکان سینیٹ کرس وان ہولین اور میگی حسن نے ملاقات کی جس میں امریکی رکن کانگریس طاہر جاوید، ناظم الامور پال جونز بھی شامل تھے ۔ ا مریکی وفد نے آزاد کشمیر کے دورے کے بعد ذاتی مشاہدے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا ۔ وزیراعظم نے مسئلہ کشمیرپرتعاون کرنے پرسینیٹرز سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ بھارت نہیں جو میں سمجھتا تھا، مودی نے بھارت کا چہرہ پوری دنیا میں تبدیل کردیا ہے، میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا سب سے بڑا حامی تھا لیکن اب جب تک بھارت کشمیر کے حالات بہتر نہیں کرتا مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ سکتے ۔ بھارت ہندو سپرمیسی کی جانب بڑھ رہا ہے جس کے خطرناک نتاءج ہوسکتے ہیں ۔ دونوں ملک ایٹمی طاقت ہیں ، معاملات کسی بھی سطح پر جا سکتے ہیں اور اگر معاملات خراب ہوئے تو دنیا کے لیے پریشانی ہوگی ۔ افغان امن عمل پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس پر مرحلہ وار بات چیت ہونی چاہیے، طالبان چاہتے ہیں کہ امن ہو اور امریکا بھی چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن ہو ۔ اس موقع پرامریکی سینیٹرز کا کہنا تھا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ پر کشمیراورافغان امن عمل آگے بڑھانے پرزوردیں گے ۔ وزیراعظم نے بالکل واضح اوردوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے سینیٹرز کا اس حوالے سے شکریہ بھی ادا کیاکہ انہوں نے مسئلہ کشمیر سے متعلق آوازاٹھائی اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ اگر خدانخواستہ مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا تو پوری دنیا کے لئے یہ ایک ہولناک مسئلہ ثابت ہوگا چونکہ عمران خان نے کہاتھا کہ وہ کشمیریوں کے سفیربنیں گے انہوں نے یہ حق ادا کردیا ۔ پوری دنیا کے سامنے ہٹلر کے پیروکار فسطائیت پرعمل کرنے والے دہشت گرد نام نہاد جمہوریت کے دعویدار مودی کاچہرہ بے نقاب کردیا ہے اوربھارت کابھی وہ مکروہ چہرہ دنیا کو دکھایا ہے جہاں پراقلیتوں کی زندگیاں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں گزررہی ہیں دہشت گرد تنظیم آرایس ایس کے مقاصد اوراس کی مناظرکے حوالے سے دنیا کوآگاہی کرائی اوربتایا کہ مودی فاشسٹ کس طرح اکھنڈبھارت بنانے کے فارمولے پرعمل پیرا ہے لیکن بھارت اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا اب صرف کشمیر ہی آزاد نہیں ہوگابھارت کے اندربھی آزادی کی تحریکوں کا آغاز ہوچکا ہے مودی جواپنے تئیں کوئی نئی تاریخ لکھنے کے لئے کوشاں ہیں لیکن مورخ لکھے گا کہ اس مودی ہی کی وجہ سے بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اوراس ایک بھارت میں سے کئی نئی ممالک ابھریں گے ۔ ادھروزیراعظم نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ری اسٹرکچرنگ پلان کی منظوری دےدی ۔ وزیر اعظم نے پلان حتمی منظوری کےلئے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ ترقیاتی اتھارٹی کی تنظیم نو کا مقصد خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے ۔ چیئرمین سی ڈی اے نے گذشتہ چھ ماہ کی پیشرفت رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی ، بریفنگ میں بتایاگیاکہ پہلی بار ، سی ڈی اے کے مالی حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے سیکٹر کی ترقی تعطل کا شکار رہی،سی ڈی اے اب تعطل کا شکار شعبوں میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ وزیراعظم کو اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں پیشرفت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا ۔ ماسٹر پلان میں نظرثانی کے لئے کمیشن کی رپورٹ کابینہ اجلاس میں پیش کی جائے گی ۔ وزیر اعظم نے دارالحکومت میں مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بروقت منصوبہ بندی کی ہدایت کی ۔ وزیراعظم نے دارالحکومت کے ماسٹر پلان کا جائزہ لینے کے لئے کمیشن کی کوششوں کو سراہا ۔ شہری آبادی میں اضافے کے پیش نظر نئے بلڈنگ کوڈ پر جلد عملدرآمد کیا جائے، بڑھتی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کےلئے پانی کی دستیابی یقینی بنائے جائے ۔ دارلحکومت کے گرین بیلٹس کو محفوظ بنانے کےلئے اقدامات بھی کئے جائیں ۔

آزادی مارچ،جے یو آئی کی جانب سے مثبت قدم

مولانافضل الرحمن ایک زیرک سیاستدان ہیں انہوں نے ہمیشہ اپنی سیاست حالات اورواقعات کومدنظررکھتے ہوئے کی اور جیسے ہی وہ سیاسی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں توانہیں بخوبی علم ہوجاتا ہے کہ سیاسی مہرے کیاچال چل رہے ہیں ، آزادی مارچ کا اعلان کیا اس سے قبل بیک ڈورڈپلومیسی کی، سب کوراضی کیامگر آخر میں نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے تحفظات سامنے آگئے انہی تمام معاملات کو سامنے رکھتے ہوئے رہبرکمیٹی کے تحت اے پی سی اجلاس بلانے پراتفاق کیاگیا اور اس کے بعدجمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اکرم درانی نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کی جماعت کا اسلام آباد کے لاک ڈاوَن یا دھرنے کا کوئی پروگرام نہیں ، لاک ڈاوَن اور دھرنے کے الفاظ جلتی پہ تیل کا کام کر رہے ہیں ، جمعیت علمائے اسلام کے احتجاج کا نام صرف ’آزادی مارچ‘ ہے، یہ مارچ کتنا طویل ہونا چاہیے اس کا فیصلہ وقت اور حالات کے مطابق کیا جائے گا، ہم اپنے پَتے وقت سے پہلے شو کرنا نہیں چاہتے ۔ ;200;مدن سے زائد اثاثہ جات کی تحقیقات اور ہاءوسنگ فاونڈیشن کے دو منصوبوں ٹھیلیاں اور بہارہ کہو پراجیکٹ سے متعلق سابق وفاقی وزیر اکرم خان درانی سے نیب راولپنڈی کی ٹیم نے چار گھنٹوں سے زائد وقت تک پوچھ گچھ کی گئی، اکرم خان درانی کو نیب کی جانب سے سوالنامہ بھی تھما یا گیا ہے، اکرم خان درانی کا کہنا تھا کہ جس انکوائری میں انھیں طلب کیا گیا ہے اس کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ،نیب جب بلائے گا پیش ہوں گے، ;200;زادی مارچ پر بات کرتے ہوئے اکرم خان درانی کا کہنا تھا کہ ہم ;200;زادی مارچ ضرور کرینگے، کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے 27 اکتوبر کی تاریخ رکھی گئی ہے،لاک ڈاون اور دھرنا کی بات ہم نے نہیں میڈیا نے کی، تمام اپوزیشن جماعتوں کا احترام کرتے ہیں ،مولانا فضل الرحمان کی مشاورت کے بعد دو تین روز میں رہبر کیمٹی کا اجلاس بلایا جاسکتا ہے، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر سے حکومت کیخلاف اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق 27 اکتوبر سے اسلام آباد کی طرف مارچ شروع ہوجائے گا، ملک بھر سے قافلے اس مارچ میں شریک ہوں گے، مولانا کے مطابق اس حکومت کو چلتا کرکے دکھائیں گے ۔ 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں مولانا فضل الرحمان سمیت کئی بڑے ناموں کو شکست ہوئی جس کے فوراً بعد جے یو آئی ف، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی و دیگر جماعتوں نے آل پارٹیز کانفرنس بلائی اور انتخابی نتاءج کو مسترد کرتے ہوئے شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا ۔ 19 اگست 2019 کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس اسلام آباد میں ہوئی جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے ۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کمر کے درد اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پارٹی دورے کے باعث اے پی سی میں شریک نہیں ہوئے تھے ۔ مولانافضل الرحمن کاکہناہے کہ حکمرانوں کو مزید وقت دیا گیا تو وہ ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیں گے ۔ ہماری جنگ ملک دشمن پالیسی سازوں سے ہے، احتجاج آئین و قانون کے دائرے میں پرامن ہوگا، آئین کی اسلامی شقوں کا تحفظ، دوبارہ انتخابات اور وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا مشترکہ ومتفقہ بیانیہ ہے ۔

ایف اے ٹی ایف،بھارت کوایک اورہزیمت کاسامناکرناپڑے گا

پاکستان نے بھارتی وزیر دفاع کا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق بیان مسترد کر دیا ۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا بھارت ایف اے ٹی ایف کو پاکستان کے خلاف سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے ۔ بھارت ایف اے ٹی ایف کی پاکستان سے متعلق کارروائی پر اثر انداز ہو رہا ہے ۔ بھارت ایشیا پیسفک گروپ میں اپنی معاون چیئرمین شپ کا غلط استعمال کر رہا ہے، پاکستان اس سلسلے میں اپنے تحفظات رکن ممالک کے سامنے رکھ چکا ہے ۔ توقع ہے کہ ارکان بھارت کی ان گمراہ کن سازشوں میں نہیں آئیں گے اور ارکان بھارت کی معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں کو مسترد کر دیں گے ۔ بھارتی وزیر دفاع کا ایف اے ٹی ایف پر بیان حقائق کے منافی ہے ۔ بھارت کے اس جانبدار طرز عمل کو ٹاسک فورس کے سامنے رکھیں گے ۔ یاد رہے کہ بھارتی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا تھا پاکستان کسی بھی وقت بلیک لسٹ ہو جائے گا ۔ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے بھارتی خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا پاکستان اس حوالے سے تمام وہ شرائط جو ملک وقوم کے مفاد میں ہوں انہیں پورا کرنے کے لئے ہمہ تن گوش ہے تاہم چونکہ بھارت ہمارا اذلی دشمن ہے اوروہ کبھی بھی ،کہیں بھی یہ نہیں چاہتاکہ پاکستان کو کسی طرح کوئی بھی فائدہ حاصل ہو ۔ گزشتہ تاریخ کامطالعہ کیاجائے تو ہر فورم پر اس نے پاکستان کی مخالفت کی لیکن اس کو ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی اب بھی وہ ایف اے ٹی ایف میں پوررا زورلگارہاہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان شکنجے میں آجائے لیکن تاحال ایسا ہوتانظرنہیں آرہا ۔ البتہ اس امر پر ضرورفکرمندی ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے جوشرائط پاکستان کے سامنے رکھی تھیں اس کو مکمل طورپرپایہ تکمیل تک نہ پہنچانے کی وجہ سے فیٹف نے بھی تحفظات کا اظہار کیاہے ۔ امیدقوی ہے کہ پاکستان انہیں ہرممکن پورا کرلے گا اور یہاں پربھی حسب روایت بھارت کو ایک اورہزیمت کاسامناکرناپڑے گا ۔

ےہ قےاس آرائےاں کےوں ۔ ۔ ۔

زلزلے ہمےشہ اچانک آتے ہےں ۔ ان کے بارے مےں قبل از وقت کوئی حتمی پےشن گوئی نہےں کی جا سکتی ۔ ماہرےن کے بقول دنےا مےں 50فےصد زلزلے سرسبز پہاڑی علاقوں مےں ،40فےصد ساحلوں پر اور10فےصد صحراءوں ےا عام مےدانی علاقوں مےں آتے ہےں ۔ سائنسی ترقی سے پہلے قدےم زمانے کے انسان زلزلے کے بارے مےں الگ الگ نظرےات کے پےروکار تھے لےکن تازہ ترےن تحقےق کے مطابق زمےن اندر سے چھ بڑی پلےٹوں ےا ٹکڑوں پر مشتمل ہے ۔ ےہ ٹکڑے الگ الگ ہوتے ہےں وہ اےک دوسرے سے ٹکراتے ےا اچانک دور چلے جاتے ہےں تو زمےن ہلنے لگتی ہے ۔ ےہ چھ پلےٹےں اےشےاء افرےقہ ،شمالی اور جنوبی امرےکہ اور آسٹرےلےا تک پھےلی ہوئی ہےں ۔ ےہ مسلسل حرکت مےں رہتی ہےں ۔ بعض اوقات ان کے ٹکرانے سے سمندروں کے اندر بڑے بڑے پہاڑ ابھر آتے ہےں ۔ تحقےق کے مطابق کوہ ہمالےہ،قراقرم اور ےورپ وغےرہ کے پہاڑوں کی جگہ پہلے سمندر تھے ۔ زمےن کی پلےٹوں کے ٹکرانے سے پہاڑ ابھر آئے ۔ حالےہ زلزلہ جو آزاد کشمےر مےر پور سے اےک کلو مےٹر دور جاتلاں مےں آےا کافی جانی و مالی نقصان کا باعث بنا ۔ اس زلزلے کے آفٹر شاکس ابھی تک نقصان کر رہے ہےں ۔ انہی دنوں حالےہ زلزلے کی تباہی کے حوالہ سے مختلف قےاس آرائےاں سامنے آئےں کہ ےہ خدا کا عذاب ہے ،ےہ ہمارے گناہوں کی سزا ہے ،ےہ ہماری شامت اعمال ہے ،ہمےں اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہئیے ۔ معزز قارئےن گو، اس نازک موضوع کو ماضی مےں بھی عنوان بنا چکا ہوں اےک بار پھر اس موضوع پر قلم آرائی کر رہا ہوں ۔ موضوع کے حوالہ سے اےک طبقہ فکر کا نظرےہ بےان کر چکا ہوں دوسرے طبقہ فکر کے خےال مےں عذاب اور سزا تو مجرموں کےلئے ہےں اس زلزلہ مےں کچھ معصوم بچے بھی جان سے گزر گئے ہےں وہ کےوں ناکردہ گناہوں کی سزا کے مستحق ٹھہرے ےہ تو خدا کے قانون عدل کے بھی خلاف ہے ۔ اس زلزلہ کو انسانی اعمال کے ساتھ منسلک کرنا قرےن انصاف نہےں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ےہ زمےن کی طبعی صورتحال کی تبدےلی ہے اور زلزلے کے نقصانات سے بچاءو ممکن نہےں لےکن پھر بھی انہےں بڑی حد تک کم کےا جا سکتا ہے ۔ ہم اپنے اعمال کی سزا صاف ستھری زندگی گزارنے والے پہاڑوں کے جفا کش باسےوں پر نہےں ڈال سکتے ۔ معزز قارئےن راقم نہ تو کسی قسم کی مناظرانہ جنبہ داری مےں پڑنا چاہتا ہے اور ساتھ ہی اپنے محدود ناقص علم کے سبب خود کو اس قابل پاتا ہے کہ اس نازک موضوع پر حاشےہ آرائی کر سکے ۔ باب شہر علوم حضرت علی کرم ا;203; وجہہ کا بھی فرمان ہے کہ ’’ جس چےز کی گہرائےوں تک نگاہ نہ پہنچ سکے اور فکر کی جولانےاں عاجز رہےں اس مےں اپنی رائے کو کار فرما نہ کرو‘‘باوجود اس کے اس موضوع پر اپنی حقےر سوچ کے مطابق سعی کی ہے جو ناظرےن کے پےش خدمت ہے ۔ معزز قارئےن ہماری نگاہوں کے سامنے جو حادثات و واقعات ظہور پذےر ہوتے ہےں ہم ابھی تک ان کے اسباب کو ہی نہےں جان سکے اشےائے کائنات کا علم کلی تو صرف خدائے بصےر کو ہے ۔ آفات ارضی و سماوی کے آگے انسان آج بھی اتنا ہی بے بس ہے جتنا کئی سو برس پہلے تھا ۔ زلزلے کے دو جھٹکے ہی ےہ فلک بوس عمارتےں اور ڈےم زمےن بوس کرنے کےلئے کافی ہےں اور ابھی زلزلے پر قابو پانا بھی انسان کے بس مےں نہےں ۔ پنسلےن کے موجد سر الےگزنڈر فلےمنگ نے کہا تھا کہ سائنس دانوں کی بلندی پر نگاہ دوڑائےں تو اےٹم بم کو پھاڑتے دکھائی دےتے ہےں ان کی بے بسی دےکھےں کہ وہ سب مل کر آج تک معمولی زکام کا علاج نہےں کر پائے ۔ سائنس کی دنےا ےہ بھی تسلےم کرتی ہے کہ قدرت کی طرف سے بعض حسےں جو جانوروں کو ودےعت کی گئی ہےں انسان کو ان سے محروم رکھا گےا ہے زلزلہ کی آمد سے قبل پرندوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے گھونسلوں سے نکل کر پرےشانی کے عالم مےں اڑنے لگتے ہےں ۔ سائنسدانوں کا خےال ہے کہ جانوروں کی چھٹی حس اےسے مواقع پر جلدی بےدار ہو جاتی ہے اور وہ آنے والے خطرے کی بو پہلے سونگھ لےتی ہے اگست1976ء مےں سی چوان (چےن) مےں ہی زلزلہ آنے سے پہلے رےنگنے والے جانور 40مےٹر دور اےک گڑھے مےں اکٹھے ہو گئے ۔ سونامی آنے سے قبل سری لنکا سے ہاتھی بھاگ کر دور دراز مقامات پر چلے گئے ۔ کچھ چےزےں اےسی بھی ہےں جو قدرت کی طرف سے پردہ غےب مےں لپےٹ دی گئی ہےں جن کا علم خدائے بزرگ و برتر نے صرف اپنے پاس رکھا ہے ۔ قرآن مجےد کی سورہ لقمان کی آخری آیت مبارکہ مےں اس کا ذکر کےا گےا ہے ان کی تفصےل مےں اےک قےامت کا علم ہے انسان نہےں جانتا کہ ےہ کب آئے گی وہ ےہ بھی نہےں جانتا کہ وہ کس سرزمےن پر مرے گا بارش کب ہو گی کوئی شخص کل کےا کرے گا اور ماں کے پےٹ مےں بچہ خوبصورت ہے ،ےا بد صورت ہے ۔ قارئےن انسانی علم کا انحصار تجربہ ، مشاہدہ اور اےمان پر ہے ہم اس نسبت سے اشےائے کائنات سے متعلق اپنی حتمی طور پر رائے قائم کرنے کے قابل ہوتے ہےں ا;203; کے قوانےن غےر متبدل ہےں قرآن مجےد مےں تسخےر کائنات کے سلسلہ مےں بہت سی قرآنی آےات نازل ہوئےں جن مےں شمس وقمر کی تسخےر ،لےل و نہار کی تسخےر ،سمندروں اور درےاءوں کی تسخےر حتیٰ کہ ارضی و سماویٰ تسخےر شامل ہے اس مےں مومن و کافر کا بھی فرق نہےں ہوتا جو انسان ےا قوم بھی چاہے ان قوتوں کو مسخر کر کے اپنی مرضی کے مطابق کام لے سکتی ہے ۔ کائنات کا متعےن کردہ راستہ علم و فکر کی وادےوں اور فہم و شعور کی پگڈنڈےوں سے گزرتا ہے جس کسی نے علم کا راستہ پا لےا اس نے دنےا مسخر کر لی ۔ ان قوتوں کی تسخےر انسانی علم کی ترقی اور وسعت کے ساتھ بڑھتی رہتی ہے فطرت کی قوتےں بے باک ہونے پر تباہی لاتی ہےں اور جب انسان انہےں اپنا تابع فرمان کر لےتا ہے تو پھر مرضی کے نتاءج برآمد ہوتے ہےں زلزلے اور سےلاب کا تعلق بھی نظام فطرت سے ہے جو قومےں ان قوانےن کا علم حاصل کر کے حفاظتی تدابےر اختےار کر لےتی ہےں ان کے ہاں ےہ حوادث اتنی تباہی نہےں مچاتے آج ترقی ےافتہ اقوام فطرت کے ان حوادث کا مقابلہ کرتی ہےں اور بچاءو مےں بڑی حد تک کامےاب بھی ہوتی ہےں ترقی ےافتہ قوموں نے تسخےر کائنات کا راز سمجھ لےا ہے جس کے باعث وہ فطرت کے ان حوادث کا مقابلہ اور ان کی روک تھام کے قابل ہو گئی ہےں ۔ ہالےنڈ ،پورے کا پورا ملک ساحل سمندر پر واقع ہے اور سطح سمندر سے بھی کتنے فٹ نےچا لےکن انہوں نے اےسا انتظام کر رکھا ہے کہ سمندر کا اےک قطرہ پانی بھی ان کے ملک مےں نہےں آسکتا چےن مےں درےائے زرد کا نام ہی ’’بلائے موت‘‘ تھا ےہ ہر سال ہزاروں چےنےوں کی جانےں لےنے کے ساتھ ساتھ ان کے بے حد و حساب مال و متاع اور موےشےوں کے نقصان کا سبب بنتا لےکن آج بند باندھنے اور جدےد انتظامات کے باعث ےہ اسی راستہ پر سفر کرنے پر مجبور ہے جو اس کےلئے مقرر کر دےا گےا ہے ۔ جاپان دنےا کا اےسا ملک ہے جہاں سب سے زےادہ زلزلے آتے ہےں لےکن اس کے ادارے مضبوط ہےں جو حالات کا مقابلہ کرنا جانتے ہےں انہوں نے اےسے مکانات بنا لئے ہےں جن کا زلزلے سے نقصان نہےں ہوتا ۔ اےک معتبر کالم نوےس نے واضع کےا کہ ےہ ہماری لاعلمی کی سزا ہے لاعلمی کی سزا کا اندازہ اس سے لگاےا جا سکتا ہے کہ 1976ء مےں چےن مےں آنے والا زلزلہ پانچ لاکھ سے زےادہ انسانی جانوں کے ضےاع کا باعث بنا جبکہ سان فرانسسکو مےں بھی اسی سکےل کا زلزلہ آےا مگر اس مےں صرف اےک انسان مرا وجہ صرف ےہ تھی کہ اس دور کا چےن اس وقت آفت سے بچنے کےلئے تےار نہےں تھا جبکہ امرےکہ نے اس مےں پکے مکانات کی تعمےر پر پابندی لگا رکھی تھی ۔ 1970ء مےں خلےج بنگال کے طوفان مےں ساڑھے تےن لاکھ بنگالی لقمہ اجل بن گئے جبکہ امرےکہ مےں آنے والا طوفان رےٹا اس سے بڑا تھا لےکن جانی نقصان نہ ہونے کے برابر ہوا کےونکہ انہوں نے وارننگ کے باعث پہلے سے اپنی بچت کا اہتمام کر لےا تھا ۔ مجھ جےسا گناہ گار انسان تو بس سن سکتا ہے کہ جان سکے کہ ا;203; کا عذاب کےونکر اور کےسے نازل ہوتا ہے اس لئے اپنے مضمون کا اختتام مشہور اور جےد عالم دےن مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد کے اس بےان پر کر رہا ہوں جو انہوں نے اکتوبر2005ء کے زلزلے کو گناہوں کی سزا قرار دےنے والے بعض دانشوروں کے جواب مےں اےک لےکچر مےں کہے تھے انہوں نے کہا تھا زلزلوں مےں ہونے والی تباہی ہمارے اعمال کا نتےجہ نہےں ہے ، گناہوں کی سزا کےلئے وہ دن مقرر ہے جب قےامت کے بعد سب خدا کے حضور پےش ہوں گے ، کراچی اور لاہور بداعمالےوں کے سب سے بڑے اڈے ہےں ۔ انہوں نے زلزلے کو فطرت کا اےک تسلسل قرار دےا آج جو لوگ قدرتی آفات کو گناہوں کی سزا قرار دے رہے ہےں وہ عمل سے رو گردانی علم و تحقےق کے دروازے بند کر رہے ہےں ۔

ایک اور سازش ناکام

پاکستان مدتوں دہشت گردی کا شکار رہا سالوں عوام اس عذاب سے گزرتے رہے بلکہ اب بھی کسی نہ کسی صورت میں گزر رہے ہیں اور وقتا فوقتا دھماکے اور دہشت گردی کی خبریں آتی رہتی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ دشمن اب بھی سرگرم عمل ہے اور اس کے کارندے کسی نہ کسی صورت میں ملک کے اندر موجود ہیں اور اپنے آقاءوں کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل اور پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں سے ہم اس عفریت سے نپٹنے میں کافی تک کامیاب ہو چکے ہیں اور ملک میں معمول کی سر گرمیاں معمول پر آ چکی ہیں ۔ اس دہشت گردی نے جہاں ہ میں بے انتہا جانی نقصان پہنچایاوہاں معاشی، معاشرتی بلکہ مذہبی معمولات کو بھی بے اندازہ نقصان پہنچایا اور تو اور کھیل بھی اس کی زد میں آیا ۔ پاکستان رواےتی کھیلوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی طور پر کھیل کے میدان کا ایک اہم رکن رہا ہے اور مختلف کھیلوں میں اپنا لوہا منواتا رہا ہے اور ہاکی، کرکٹ، سکواش، ریسلنگ اور مختلف اوقات میں دیگر کھیلوں میں وکٹری سٹینڈ کا حصہ بنتا رہا ہے لیکن کرکٹ کی مقبولیت عوامی سطح پر سب سے بڑھ کر ہے اور اسی لیے دہشت گردوں نے اسی کھیل کو خاص کر نشانہ بنایا اور مارچ 2009 میں جب سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر تھی اور دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کے کھیل کے لیے قذافی سٹیڈیم صدارتی لیول کی سیکیورٹی کے ساتھ جارہی تھی کہ لیبرٹی چوک کے قریب دہشت گردوں نے اس کی ایک بس پر حملہ کیا ،پولیس نے ڈٹ کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا جبکہ ڈرائیور مہر محمد خلیل بس کو برسٹ ٹائروں کے ساتھ تقریباََ ایک کلو میٹر سے زیادہ بھگا کر لے گیا اور مہمان ٹیم کو محفوظ سٹیڈیم تک پہنچادیا ۔ اس حملے میں مہمان ٹیم کے چھ ارکان کو ہلکے زخم آئے تاہم وہ مجموعی طور پرمحفوظ رہے ۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی مغربی ٹی میں پاکستان نہ آنے کےلئے کئی طرح کے بہانے اور تو جیہات ڈھونڈتی تھیں لیکن اس کے بعد تو باقاعدہ طور پر پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بند ہو گئی اور جن مقابلوں کی میزبانی کی ذمہ داری پاکستان کو دی جاتی انہیں دُبئی میں کھیلا جاتا اورمدتوں کرکٹ کے روایتی ملک میں اس کے میدان ویران اور سنسان پڑے رہے یہاں تک کہ ڈومیسٹک کرکٹ بھی متا ثر ہوئی اور کچھ حالات اورکچھ سازشیں دشمن کا کام آسان کرتی گئیں پاکستان کی متعد د یقین دہاےنوں کے باوجود غیر ملکی ٹی میں پاکستان آنے سے انکاری رہیں اور اس بات کو بھارت خاص کر اُچھالتا رہا اور اپنے طے شدہ دورے کو کرنے سے ابھی تک انکاری ہے ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی مسلسل کوششوں سے جب پی اس ایل کا انعقاد شروع ہوا تو بھی غیر ملکی کھلاڑیوں کے پاکستان آنے سے انکار پر مجبورا اسے دبئی اورشارجہ کے گراونڈوں میں کرانا پڑا لیکن اس کے باوجود اسے شاندارکامیابی ملی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کی بھر پور شرکت سے مزید پزیرائی بھی ملی اگرچہ اس کے کچھ میچز اور فائنل پاکستان تک پہنچ چکے ہیں لیکن پورا پی ایس ایل ابھی تک پاکستان نہیں لایا جا سکا تاہم کرکٹ پاکستان کے دشمنوں کو ایک بڑی ناکامی اب ہوئی ہے جب سری لنکا کی قومی ٹیم اپنی ایک روزہ اورٹی ٹونٹی میچوں کی سیر یز کھیلنے پاکستان پہنچی اور اب تک سیر یز بفضل خدا بڑی کامیابی سے جاری ہے اس دورے کےلئے جہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کامیابی پر مبارکباد کی مستحق ہے وہیں سری لنکا کرکٹ بورڈ کی ہمت کی بھی داد دینا پڑے گی جس نے اپنی ٹیم کو دوبارہ پاکستان بھیج کر پاکستان کے حالات ،سیکیورٹی اور کرکٹ بورڈ پر اعتماد کا اظہار کیا اور پھر ان میچوں میں تماشائیوں کی کثیر تعداد اور بھر پورلچسپی نے بھی ظاہر کر دیا کہ پاکستانی کھیلوں سے محبت کرنے والے پرامن لوگ ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن مسائل پر قابر پا چکے ہیں جن کو بنیاد بنا کر اور بڑھا چڑھا کر پیش کر کے پاکستان سے کرکٹ کو ختم کر نے کی کوشش کی گئی اور سمجھا گیا کہ اب پاکستان کے کھیل کے میدان کبھی آباد نہیں ہو سکیں گے ۔ سری لنکا کی ٹیم کے کامیاب دورے کے بعد کوئی وجہ نہیں رہتی کہ دنیا کی دوسری ٹی میں پاکستان نہ آئیں ۔ اس بار بھی سری لنکن ٹیم کے کھلاڑیوں کو جس طرح آئی پی ایل سے نکالنے کی دھمکی دے کر روکا گیا وہ بھی اپنی جگہ ایک مجرمانہ فعل ہے جس پر بھارت کی کھیل میں سیاست کو داخل کرنے پر شنوائی ہونی چاہیے ۔ دوسری طرف پاکستان کرکٹ بورڈ کو پاکستان میں غیر ملکی ٹیموں کو لانے کے لیے نہ صرف اپنی کوششوں کو جاری رکھنا ہے بلکہ انہیں تیزتر کرنا ہو گاتاکہ جو سلسلہ ایک دفعہ چل پڑاہے اُسے جاری رکھا جائے ہم نے دنیا کو باور کرانا ہوگا کہ پاکستان بدامنی پر قابو پا چکا ہے اور یہ دوسرے ملکوں کی طرح بلکہ کئی ایک سے زیادہ محفوظ ہے ۔ یہاں جس طرح عام غیر ملکی باشندے پرامن طور پر رہ رہے ہیں اُسی طرح کسی بھی کھیل ک غیر ملکی کھلاڑی اپنے کھیل کے یادگار لمحات پاکستان میں گزار سکتے ہیں ۔ کرکٹ کامنقطع سفر جو دوبارہ شروع ہوا ہے اسے ہر صورت جاری رہنا چاہیے اور اُمید ہے کہ انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا اور ایک بار پھر ان میچوں کو دیکھنے کے لیے ہمارے سٹیڈیم اسی طرح بھرے اور بھرپور ہونگے جیسے دہشت گردی کی عفریت کے حملے سے پہلے ہوتے تھے ۔

تے فیر چاپیءو

میرے چند دوستوں نے 2اکتوبر کوپاکستان اخبار میں شالا خیر تھیوے کے عنوان سے کالم پڑھا توفون پر کہنے لگے میاں صاحب آپ نے بھی جھولی چک کالم نویس بننے کی کوششیں شروع کردیں میں نے جواباً عرض کیا بھائی آپ دوستوں کو جن کے ساتھ عمر کا بیشتر حصہ گزارا ہے انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ میں ہمیشہ دوسروں میں خامیاں نہیں تلاش کرتا بلکہ اچھی بات کو اچھا اوربری بات کو منہ پر برا کہنے والاہوں ۔ من حیث القوم ہمارا کام دوسرو ں میں خامیاں تلاش کرنا ہی ہے ۔ کسی کے اچھے کام پر اگر تعریف کرنا ہو تو دندل پڑ جاتی ہے اور اگر برا کہنا ہوں تو زبان بتیس دانتوں کے قابو میں نہیں رہتی ۔ تبصرہ کرنے والوں کو اپنی تحریر میں توازن ضرور رکھنا چاہیے ۔ گزشتہ حکومتوں کے اچھے کاموں کو ضرورسراہا لیکن کرپشن پر میں نے دل کھول کر بھی لکھا ۔ کسی بھی سیاسی جماعت کی طرف میری تحریر کاجھکاءو نہیں رہا ۔ لکھنے والوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے وہ رائے عامہ ہموارکرنے والے ہوتے ہیں اس لئے درباری لکھاری بننے کی بجائے عوامی لکھاری بننا چاہیے عوام کے مسائل حکومت وقت تک پہنچانا نہ صرف اسکا صحیح معنوں میں تجزیہ کرنا بلکہ اپنی رائے کا اظہار بھی ضروری ہوتا ہے ۔ یہ ذمے داری ہرلکھاری کی ہے اور پھر ہر شخص کی سوچ کا اندازہ مختلف ہے کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے آپ کو کسی خاص جماعت کے ساتھ منسلک کرلے اورہر کام پر تعریف کے ڈونگرے برساتا رہے ۔ بہرحال اپنی اپنی سوچ کا انداز ہے ۔ موجودہ حکومت کرپشن کے خاتمے کیلئے کوششوں میں مصروف ہے لیکن کرپٹ افراد کے گرد گھیرا تنگ کرنے سے رشوت کے ریٹ میں اضافہ بھی ہوگیا ہے ۔ ابھی تک تبدیلی کے اثرات واضح طورپرسامنے نہیں آسکے کچھ تو ناتجربہ کار وزراء کی کارکردگی جو قطعی طورپر تسلی بخش نہیں رہی اور پھر یہ کہ کئی وزارتوں میں سیکرٹری تعینات نہیں کیے گئے ایڈیشنل چارج کے ذریعے کام چل رہا ہے اسی طرح دیگر ماتحت اداروں کا بھی یہی حال ہے ۔ سرکاری دفاتر میں جب تک تجربہ کار سربراہ نہیں لگائے جاتے انکی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہوسکتی ۔ بیورو کریسی دلجمعی سے کام نہیں کررہی کیونکہ انہیں یہ خوف ہے کہ اگر وہ اپنے اختیارات کے ذریعے کام کریں گے یا فیصلے تحریر کردیں گے تو کہیں نیب ان کے پیچھے نہ پڑ جائے جن وزارتوں میں برانڈ نیو وزراء ہیں ان کو پالیسی سازی کا تجربہ نہیں وہ تو سیکرٹری کے رحم کرم پر ہوں گے اور اگر سیکرٹری وزیر کو کسی غیر قانونی کام سے روک دے تووہ یہ سمجھتا ہے کہ سیکرٹری کی جراَت کیسے ہوئی کہ وزیر کوڈکٹیٹ کرے ۔ لہذا سیکرٹری کی تبدیلی ناگزیر ہے ۔ یونس ڈھاگا جیسے قابل ایماندار محنتی سیکرٹری کا حال یہ ہے کہ اس نے قبل ازوقت ریٹائرمٹ کیلئے اپلائی کردیا اسکی قابلیت اور صلاحیتوں سے ہم کوئی فائدہ اٹھانے کے موڈ میں نہیں ۔ ایف آئی اے کے بشیر میمن کا بھی یہی حال ہوا وہ اب گھر بیٹھا ہے ان کے علاوہ کئی ہیں جو گمنام رہنا زیادہ پسند کررہے ہیں ۔ بیورو کریسی حکومت کی پالیسیوں سے نہ تو مطمئن ہے اور نہ ہی بلا خوف و ہراس کام کررہے ہیں ، مہنگائی کا جن قابو سے باہر ہے ابھی تک حکومت اس پر قابو نہیں پاسکی ۔ بجلی کی قیمت میں اضافے سے اور پٹرول ، ڈیزل کی ڈیمانڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں کا مناسب تعین نہ ہونا بھی مہنگائی کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے عوام کی مہنگائی کیوجہ سے سانس بند ہونے کے قریب ہے ۔ ہر دور کی حکومت نے یہی دعویٰ کیا کہ ان سے پہلے کی حکومتوں نے ملک کی معاشی حالت کا برا حال کردیا ، اسکو سدھارنے کیلئے وقت لگے گا ۔ سات دہائیوں سے یہی کچھ سننے کو مل رہا ہے لیکن ملک کی اور لامحالہ عوام کی معاشی حالت ہر آنے والے دن میں کمزور سے کمزور ترین ہوتی چلی گئی ۔ اب تو ہر شہری نے اس تبدیلی کو کوسنا شروع کردیا ہے ۔ وزیراعظم کو تو صرف اعدادوشمار ہی سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں انہوں نے خود تو شاپنگ بیگ ہاتھ میں لیکر گھر کا سودا خریدنے کیلئے مارکیٹوں میں نہیں جانا پیسے والوں کو تو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ مہنگائی کس شے کا نام ہے ۔ ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم ہے ۔ سرکاری زمینوں پر قبضے سرکاری اہلکار ہی کرواتے ہیں اور ماہانہ بھتہ وصول کرتے ہیں ۔ اسلام آباد کی مارکیٹوں کو دیکھ لیں یا نرسریز والوں کوچیک کرلیں انہیں اگر چند گز زمین برائے نرسری دی جاتی ہے تو وہ کچھ ہی عرصے میں نرسری اتنی پھیلا دیتے ہیں کہ چار کنال تک تو کم سے کم کہہ لیں زیادہ سے زیادہ انکی ہمت اور سرکاری اہلکاروں کے تعاون کی گیم ہے ۔ اسی طرح ریلوے کی زمین پر قبضہ عام بات ہے ۔ ملاوٹ ، ذخیرہ اندوزی کے ناسور اپنی جگہ بدبو پھیلا رہے ہیں ۔ اخلاقیات نام کی کوئی چیز معاشرے میں نہیں ۔ کچھ ہی عرصہ پہلے پولیس ریفارمز کی بات ہورہی تھی ۔ کے پی کے کی پولیس کا چرچہ تھا مثالی پولیس بن گئی پھر کمیٹی نے جو سفارشات دیں ان پر عملدرآمد نہ ہوسکا ۔ پورے پاکستان کی پولیس کی یونیفارم سے لیکر قوانین تک ایک ہونے چاہئیں ۔ اسی طرح تعلیم کا سسٹم ہر صوبے میں الگ ہے مدارس کے بچے مین سٹریم سے باہر ہیں تعلیمی نظام اور نصاب ہر صوبے میں ایک ہی ہو بچوں کی یونیفارم بھی ایک ہونی چاہیے ۔ کس کس چیز کا رونا رویا جائے ہمارے ملک کے مسائل الجھے ہوئے دھاگے کی طرح ہیں جسکا کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا ۔ تحریک انصاف کی حکومت جس سے لوگوں کی امید بندھی ہیں مایوسی کی طرف جارہی ہے ۔ تاجر برادری ، وزارت تجارت ، وزارت خزانہ کے وزیروں ، مشیروں سے ملنے کی بجائے چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملنے پر مجبور ہوئے ۔ لوگ اب کیوں آرمی کی طرف دیکھ رہے ہیں ان کو مسائل سے آگاہ کررہے ہیں ۔ آرمی چیف نے بھی تو وزیراعظم سے ہی بات کرنا ہے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کا مشورہ دینا ہے ۔ آرمی براہ راست تو کچھ نہیں کرسکتی انہیں اس وقت صرف سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے سرحدوں پر خصوصی طورپر بھارت سے جوکشیدہ تعلقات ہیں ان پر نظر رکھنی ہے انہیں دوسرے کاموں میں گھسیٹنا درست نہیں سول حکومت اگرملکی مسائل کو حل نہیں کرسکتی تو پھر فوجی حکومت بہتر ہے ۔ ملک کیلئے ان کی خدمات ترقی معاشی پالیسیاں تاریخ کا حصہ ہیں سیدھے سادے الفاظ میں یوں کہیے فوجیوں نے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں شب و روز محنت کی ایوب خان ، ضیاء الحق اور مشرف کے ادوار کو ذہن میں لائیں تو سول حکومتوں کی کارکردگی مایوس کن لگتی ہے ۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے اگرچہ اچھے بھی کام کیے لیکن مجموعی طورپر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کرپشن بھی عروج پر رہی جسکا خمیازہ قوم اب بھگت رہی ہے ۔ ہمارے رونے سے کچھ بنے گا نہیں نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے ۔ مجھے حضرت واصف علی واصف ;231; کا ایک واقعہ یاد آگیا آپ کو بھی سناتاہوں ۔ ’’ ان سے ایک صاحب ملنے کیلئے آئے اور کچھ ہی دیر بعدبہت سنجیدہ اور متفکر لہجے میں کہنے لگے واصف صاحب ملکی حالات بہت خراب ہیں خطرات منڈلارہے ہیں معاشی طورپر ملک بہت کمزور ہوتا جارہا ہے ۔ آپ ان صاحب کو باتیں سنتے رہے ۔ پوچھا چائے پیءو گے اثبات میں جواب پر آپ نے چائے منگوالی اور پھر گویا ہوئے بھئی یہ حالات تم نے خراب کیے ہیں وہ صاحب بولے نہیں پھر کہنے لگے ان برے حالات کو تم ٹھیک کرسکتے ہوں وہ صاحب بولے نہیں واصف صاحب نے فرمایا ’’ تے فیر چاپیءو‘‘ ۔ یہی حال ہمارا ہے ملکی حالات پر لکھتے لکھتے تھک گئے ہیں کچھ فرق نہیں پڑ رہا بس اب چائے ہی پی رہے ہیں ۔ اللہ کرے ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ ملک ترقی کی راہ پر چلتے ہوئے ویلفیئر سٹیٹ بن جائے ۔ چلئے اتنا تو ہے کہ اب حکومت وقت کو احساس ہے کہ ملک سنوارو کی سوچ غالب ہونی چاہیے بے خبر زندگی میں باخبر ہوجانا منزل کا احسان اول ہوتا ہے ۔ ہمارے حکمران خود کو گریٹ لیڈر کے طورپر منوانے کی دوڑ میں لگے رہے گریٹ وہ ہوتا ہے جسے اللہ بنائے پھر اس میں تحمل مزاجی ہوگی اور جو خود ساختہ گریٹ ہوگا وہ بڑا مفرور ہوگا اس طرح جہنم کا ایندھن بننے کا خطرہ ہوتا ہے جو ہمارے لیڈر ملک کی دولت لوٹ کر بیرونی دنیا میں مسکن بناتے ہیں وہ پاکستان کے وفادار نہیں ۔

ڈینگی اورحکومتی اقدامات

اقوام متحدہ کے ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال پانچ کروڑ سے زائد افراد ڈینگی بخار کا شکار ہوتے ہیں اور سالانہ بیس ہزار سے زائد افراد اس کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ دنیا کے ایک سو کے قریب ممالک میں ڈینگی وائرس پھیلانے والے اڑتیس اقسام کے مچھر ہیں جس میں سے پاکستان میں ان میں سے صرف ایک قسم کا مچھر پایا جاتا ہے ۔ ڈینگی فیور سے بچاءو کی نہ تو کوئی دوا ہے اور نہ ہی کوئی ٹیکہ ۔ ڈینگی بخار کو صرف حفاظتی تدابیر سے روکا جا سکتا ہے ۔ پاکستان سمیت ایشیا میں ڈینگی بخار کا خطرہ بڑھ رہا ہے ۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ایشیا میں ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسوں کی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ کئی علاقوں میں شدید بارشیں سیلاب اور بڑھتی ہوئی آبادی ہے ۔ پاکستان میں ڈینگی بخار پھر سر اُٹھا رہا ہے ۔ اگست، ستمبر میں کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی میں ڈینگی کے سینکڑوں کیس رپورٹ ہوئے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی کے لیے اسپیشل وارڈ بنا دیئے ہیں ۔ پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی ڈینگی مچھر سے متاثرہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔ 2010-11ء میں ڈینگی بخار کرنے والے مچھر نے پنجاب میں عموماً اور لاہور میں خصوصاً تباہی مچائی ۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب نے دل جمعی سے ڈینگی کے خلاف مہم چلائی ۔ سری لنکا اور انڈونیشیا سے ڈاکٹروں کی خصوصی ٹی میں لاہور آئیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اس حد تک ڈینگی کے خلاف منہمک تھے کہ انہیں اس وقت ’’ڈینگی برادران‘‘ کا طعنہ دیا گیا ۔ ہمارے دوست ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے ڈینگی کے حوالے سے بہت سے معلومات بہم پہنچائیں جنہیں میں آپ سے شیئر کررہا ہوں ۔ ڈینگی بخار کا باعث بننے والا مچھر بہت نفیس اور صفائی پسند ہے ۔ یہ خطرناک مچھر گندے جوہڑوں میں نہیں بلکہ بارش کے صاف پانی گھریلو واٹر ٹینک کے آس پاس صاف پانی کے بھرے ہوئے برتنوں ، گھڑوں اور گلدانوں ، گملوں وغیرہ میں رہنا پسند کرتے ہیں ، جو گھروں میں عام طور پر سجاوٹ کے لیے رکھے جاتے ہیں ۔ یہ مچھر انسان پر طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت حملہ آور ہوتے ہیں ۔ اس بخار کا علم تین سے سات دن کے اندر ہوتا ہے ۔ عام سے نزلہ بخار کے ساتھ شروع ہونے والا بخار شدید سر درد پٹھوں میں درد اور جسم کے جوڑ جوڑ کو جکڑ کر انسان کو بالکل بے بس کر دیتا ہے اسی وجہ سے اس بخار کو ہڈی توڑ بخار بھی کہا جاتا ہے جسم کے اوپری حصوں پر سرخ نشان ظاہر ہوتے ہیں ۔ نوعیت شدید ہو جائے تو ناک اور منہ سے خون بھی جاری ہو جاتا ہے ۔ ڈینگی کی بیماری کی ابتدائی علامات میں بخار، کمزوری پسینہ آنا اور بلڈ پریشر کم ہو جانا شامل ہیں ۔ آہستہ آہستہ یہ جسم کے سارے نظاموں پر اثر کرتا ہے ۔ خون کی باریک نالیاں پھٹنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ جسم کے جس حصہ پر یہ دھبے نمایاں ہوں وہ حصہ نمایاں ہوتا ہے ۔ جب یہ بیماری دماغ اور حرام مغز پر حملہ کرتی ہے تو مریض کی موت بھی ہو سکتی ہے لیکن زیادہ تر مریض ایک یا ڈیڑھ دن میں بہتر ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ بہتری نہ ہونے کی صورت میں بخار، سر درد، پٹھوں ، جوڑوں میں درد، بھوک کم لگنا، الٹی آنا، پسینہ زیادہ آنا، جسم ٹھنڈا ہو جانا جیسی علامات ہوتی ہیں ۔ مریض کا بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے نبض ۔ آہستہ آہستہ اور کمزور ہو جاتی ہے ۔ جسم پر دھبے پڑ جاتے ہیں اور جگر بڑھ جاتا ہے ۔ جب بیماری دماغ اور حرام مغز پر حملہ کرتی ہے تو فالج بے ہوشی، لقوہ جیسی علامات ہوتی ہیں یا تو مریض کے جسم کا کوئی حصہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے یا وہ بے ہوش ہو جاتا ہے ۔ اس بیماری کی تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ اور ایکسرے کیے جاتے ہیں ۔ دماغ اور حرام مغز میں پہنچنے والی بیماری کی تشخیص سی ٹی ;6784; اور ایم آر آئی ;778273; سکین سے کی جاتی ہے ۔ پہلے مرحلے میں ہی مریض کی حالت قابل رحم ہو جاتی ہے جس کی وجہ شدت کا بخار اور درد ہے ۔ تین سے چار دنوں میں بخار میں کمی آ جاتی ہے اور مریض کی حالت سنبھلنے لگتی ہے ۔ اس مرض کا بچاءو صرف اور صرف ڈینگی مچھر سے بچاءو ہے ۔ جہاں جہاں یہ مچھر پیدا ہو وہاں اس کے لیے مچھر مار دواءوں کا استعمال کثرت سے کرنا چاہیے ۔ مارکیٹ میں ایسے تیل بھی ہیں جو جسم اور ہاتھوں کے کھلے حصے پر لگانے سے مچھر آپ کو نہیں کاٹتا ۔ اس بیماری کا علاج مندرجہ ذیل طریقوں سے کیا جا سکتا ہے ۔ بیماری کے دوران مکمل آرام کیا جائے ۔ پینے والی اشیاء صاف پانی، مشروبات فریش فروٹ جوس سوپ کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے ۔ تازہ پھلوں اور سبزیوں کے سوپ کا استعمال بھی مریض کی توانائی بحال کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔ بہرحال پرہیز علاج سے بہتر ہے اس مچھر سے ;65;edes ;65;egypti کو پھلنے پھولنے سے مکمل طور پر روکا جائے ۔ سب سے اہم بات ایسی جگہوں پر اسپرے ہے جہاں مچھر پیدا ہوتے ہیں اسی طرح سے جہاں بھی پانی کھڑا ہو جائے وہاں پانی کو کھڑا نہ ہونے دیا جائے ۔ جہاں ایسا ممکن نہ ہو وہاں فوراً اسپرے کیا جائے ۔ گھروں میں مچھر کے بچاءو کی تدابیر کرانی چاہئیں جن میں مچھر دانی یعنی ;77;osquite net کا استعمال بہت ضروری ہے ۔ ڈینگی کے علاج کے لیے کوششیں جاری ہیں ۔ اس سلسلے میں کسٹمز ہیلتھ کیئر سوساءٹی کے تحت چلنے والا فلاحی ہسپتال میں ’’پپیتہ‘‘ کے پتوں کا جوس نکال کر اس میں چند دوسری مفید جڑی بوٹیاں شامل کر کے ’’شربت پپیتہ‘‘ تیار کیا گیا ہے ۔ پپیتہ کے پتے ڈینگی کا بخار ختم کرنے، جسم میں مدافعت پیدا کرنے اور بیماری کی حالت میں خون کی ’’پلیٹلٹس کی مقدار‘‘ نارمل رکھنے میں بے حد کارآمد ہیں ۔ پپیتہ کے پتوں میں ایک انزائم ’’پاپین‘‘ پایا جاتا ہے ۔ جس میں 212 امائنو ایسڈ ہوتے ہیں ۔ یہ انزائم جسم میں داخل ہو کر ڈینگی وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا کرتا ہے جس سے وائرس کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ وائرس کے ختم ہونے سے خون میں پلیٹلٹس کی مقدار بھی نارمل ہو جاتی ہے ۔ گزشتہ سالوں میں میں ڈینگی کے خلاف شربت پپیتہ کا وسیع پیمانے پر ا ستعمال کیا گیا ۔ لاہور میں ہزاروں لوگ اس شربت کی بدولت شفایاب ہوئے اور ہزاروں ڈینگی سے محفوظ رہے ۔

چیئرمین نیب کا واضح اوردوٹوک موقف

ملک کا نظام اسی وقت درست انداز میں چل سکتا ہے جب ادارے آزاد اور اپن حدود میں رہ کر کام کرتے ہوں ، یہی جمہوریت اور جمہور کیلئے فائدہ مند ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا یہ بنیادی خاصا ہے کہ اس نے اداروں کو آئین و قانون کے مطابق آزادی دی اسی وجہ سے آج کرپشن کیخلاف وسیع بنیادوں پر کام ہورہا ہے، ادارے آزاد ہیں عدلیہ آزاد ہے، آئین و قانون کے مطابق فیصلے ہورہے ہیں ، سب اپنی اپنی حدودو قیود میں رہ کر کام کررہے ہیں ، تاجروں نے آرمی چیف سے ملاقات میں جن تحفظات کا اظہار کیا ان کوچیئرمین نیب نے واضح اور دوٹوک انداز میں پریس کانفرنس کے دوران مسترد کردیا ۔ چیئرمین نیب نے کہا نیب اپنے دائرہ کار میں کام کررہا ہے اور جو کام جس ادارے کا ہے وہی کرے گا، نیب کسی صورت کسی کے کام میں مداخلت نہیں کرے گا ۔ یہ بات بالکل درست ہے سب کو اپنا اپنا کام کرنا چاہیے، دراصل ہمارے ملک کا کلچر 70سال سے بگڑا ہوا ہے اس کو درست کرنے میں وقت تو درکارہوگا پھر ہماری عادت ہی نہیں کہ ہم کسی کے سامنے جوابدہ ہوں ، اگر حکومت نے اس جانب کوئی مثبت قدم اٹھائیں ہیں تو ہم سب پر فرض ہے کہ اس سلسلے میں تعاون کریں ۔ اس وقت جو نیب کام کررہا ہے اس سے قومی خزانے کو لوٹی ہوئی رقوم خاصی تعداد میں واپس مل رہی ہیں ۔ ہ میں نظام کو مزید بہتر بنانے اور اصلاحات پر عملدرآمد کرنے کیلئے قربانی دینا ہوگی ۔ چیئرمین نیب نے کہاکہ نیب کا کوئی افسر اب کسی تاجر کو کال نہیں کرے گا ۔ نیب آج کے بعد ٹیکس کے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا ۔ ٹیکس ریفرنسز واپس لے لیے جائیں گے ۔ یقین کریں کہ نیب کی کبھی سعودیہ ماڈل کی خواہش نہیں رہی ۔ ادارہ الزامات کی زد میں آئے گا تو بطور سربراہ خاموش نہیں رہ سکتا ۔ پالیسیاں بنانے میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہے ۔ بینک ڈیفالٹ کا معاملہ بھی نیب نہیں بلکہ متعلقہ بینک یا سٹیٹ بینک دیکھے گا ۔ ملک میں قانون کی حکمرانی ہے، ہر طبقہ قانون کی حکمرانی کو زندہ رکھے ۔ ہاءوسنگ سوساءٹیز کے مالکان 8 ہفتوں میں متاثرین کی شکایات کا ازالہ کردیں ، قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے ۔ اگر ادارے پر بلا جواز تنقید ہوگی تو اس کا جواب دینا ضروری ہے ۔ چند دن پہلے لاہور میں بزنس کمیونٹی سے ملاقات ہوئی اور ان کو نیب کی جانب سے کاروباری طبقے کی بہتری کے لیے اب تک کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ان اقدامات سے کیا نتاءج نکلے ہیں ۔ ملک کی تین بڑی کاروباری شخصیات نے نیب کو خط لکھے ہیں جن میں نیب کی کارکردگی کی تعریف کی گئی ہے ۔ نجی ہاءوسنگ سوساءٹیوں کے مالکان کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں کیونکہ انہوں نے غریب لوگوں سے ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی لوٹی ہے ۔ انہوں نے لوگوں کو نہ پلاٹ دیے اور نہ ان کی رقوم واپس کی ہیں جس کے باعث وہ دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ غریبوں کی خون پسینے کی کمائی کے اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک بھاگ جانے والوں کو نیب کسی صورت نہیں چھوڑے گا ۔ اگر ہاءوسنگ سوساءٹی کے مالکان 8 ہفتوں میں متاثرین کو ان کے پلاٹ، مکان دے دیں یا پیسے واپس کردیں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی نہیں کی جائے گی ۔ ہاءوسنگ سوساءٹی کی جانب سے لوٹے گئے اربوں روپے وصول کر کے متاثرین میں تقسیم کیے جبکہ رقوم اور پلاٹ واپس دلائے ہیں ۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کو وجود میں آئے21 سال ہو چکے جبکہ بطور چیئرمین میری تقرری کو 22 ماہ ہوئے ہیں اور اس دوران میں نے دیانتدارانہ کوشش کی ہے کہ نیب کا امیج بہتر ہو، اس کے قیام کے مقصد پر خصوصی توجہ دی ہے جو کہ کرپشن کا خاتمہ ہے ۔ وطن عزیز میں کرپشن کی تاریخ نئی نہیں ، اکتوبر 1947 میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بھی فرمایا تھا کہ بدعنوانی اور اقربا پروری پاکستان کے دو بڑے مسئلے ہیں ۔ کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے معیشت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کیونکہ جب معیشت مضبوط ہو گی تو دفاع مضبوط ہوگا اور ملک مستحکم ہوگا،مستحکم معیشت کے بغیر نہ دفاع مضبوط ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی ملک ۔ نیب کے کسی اقدام سے تاجر برادری کیلئے مشکلات پیدا نہیں ہوئیں اور نہ ہوں گی ۔ بینک نادہندگی کے مقدمات میں نیب براہ راست کارروائی نہیں کرتا، سٹیٹ بینک یہ کیس نیب کو بھجواتا ہے، جب بینک اور صارف کے درمیان بات چیت ناکام ہو جاتی ہے تو وہ اس پر کارروائی شروع کرتے ہیں ۔ نیب نے بینک نادہندگی کے مقدمات میں بینک کی شکایت کے بغیر کوئی اقدام نہیں اٹھایا اور نہ ہی اٹھائے گا، ایسے مقدمات بینکنگ کورٹس میں بھیجے جائیں گے ۔ نیب نے گزشتہ 22 ماہ کے دوران 71 ارب روپے بدعنوان عناصر سے بر;200;مد کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے جبکہ نیب کے 1230 بدعنوانی کے ریفرنس مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی مالیت 900 ارب روپے بنتی ہے ۔ نیب کی جانب سے بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کا مطلب مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے، قانون میں درج ہے کہ ان ریفرنسز کا فیصلہ 30 دن میں ہو ۔ نیب میگا کرپشن مقدمات کی تحقیقات کرتا ہے، یہ مقدمات پیچیدہ ہوتے ہیں ، یہ مقدمات لاہور سے شروع ہوتے ہیں اور ان کا سرا خلیجی ممالک میں جا کر ملتا ہے، ایسے ممالک میں بدعنوان عناصر نے املاک بنائی ہوتی ہیں جن سے پاکستان کا کوئی معاہدہ نہیں ہوتا، صرف مفاہمت کی یادداشت کے ذریعے معلومات حاصل نہیں کی جاسکتیں ۔ نیب مختلف ممالک سے میوچل لیگل اسسٹنس کے تحت معلومات حاصل کرتا ہے، نیب کو بعض مقدمات میں بعض بڑے اور کچھ چھوٹے ممالک نے معلومات فراہم نہیں کیں ، یہ معلومات دو طرفہ معاہدوں کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ نیب مقدمات کی تفتیش کے دوران کسی کی عزت نفس کو مجروح نہیں کرتا، عزت و احترام اور وقار سے انہیں نیب میں بلایا جاتا ہے ۔ ملکی مفاد، ضمیر، پاکستان کی بہتری، معیشت کی بہتری، دیانتداری سے کام کرنے والے اور ہزاروں مزدوروں کو روزگار دینے والی بزنس کمیونٹی کو کسی صورت بھی ہراساں نہیں کیا جائے گا ۔ نیب کا کوئی بھی افسر کسی بزنس مین کو ٹیلی فون پر کال نہیں کرے گا اگر بلانا ضروری ہوا تو ڈائریکٹر جنرل ذاتی طور پر اس حوالے سے مطمئن ہوں گے تو نوٹس بھیجا جائے گا اور نوٹس بھیجنے کی وجوہات لکھی جائیں گی، نوٹس کا جواب دینا آپ کی ذمہ داری ہے، جواب میں تشنگی اور درست نہ ہونے پر بھی بزنس مین کو نہیں بلائیں گے بلکہ سوالنامہ بھیجیں گے ، سوالنامے کا جواب درست نہ ہوا تو پھر جواب دینے کیلئے بلائیں گے ۔ نیب میں مقدمات کو شروع اور ختم کرنے سے پہلے ان کے قانونی پہلوءوں پر غور کیا جاتا ہے ۔ میں ذاتی طور پرنیب آرڈیننس کے تحت کام کرنا اور بدعنوانی کا خاتمہ چاہتاہوں جس کو نیب افسران قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں ۔

ایف اے ٹی ایف

کی شرائط اور پاکستان

ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے پاکستان کوشاں ہے ک اس سلسلے میں سرخرو ہو گوکہ بھارت پاکستان کے مخالف سرگرم ہے لیکن ابھی تک اسے ایف اے ٹی ایف میں قابل ذکر کامیابی نہیں ملی ہے ۔ مجموعی طورپر دیکھا جائے تو پاکستان کی کارکردگی بہتر ہے ۔ جن نکات پر ایف اے ٹی ایف نے تحفظات کا اظہار کیا ان پر بھی پاکستان کوشاں ہے کہ عملدرآمد کیا جائے تاہم ایشیاء پیسفک گروپ نے کہا ہے کہ ریگولیٹرز میں سوجھ بوجھ میں کمی ہے ۔ 40 سفارشات میں سے ایک پر مکمل عملدرآمد کیا گیا ہے ۔ 26 پر جزوی عمل کیا گیا ۔ چارسفارشات کو نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ یہ باتیں درست لیکن حکومت پاکستان تگ و دو کررہی ہے کہ جو بھی شرائط ملک و قوم کےلئے فائدہ مند ہوں ان پر قطعی طورپر عملدرآمد کیا جائے ۔ نیز ادھرایشیاپیسفک گروپ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 40 میں سے 36نکات پر پیشرفت کی جبکہ جوائنٹ ورکنگ گروپ نے واضح کیاکہ پاکستان نے 27 میں سے 10نکات پر مکمل، 10 نکات پر جزوی عمل درآمد کیاجبکہ 7نکات پرکچھ بھی عملدر آباد نہیں ہوا ۔ نیکٹا کی ویب ساءٹ فعال کرنا،نو یوئر کسٹمرز سے متعلق اسٹیٹ بینک کے اقدامات، ٹیرر فنانسنگ کیخلاف ڈومیسٹک ایجنسیوں کا موثر استعمال، اسٹیک ہولڈرز کو آگاہی مہم جیسے نکات پر پاکستان نے مکمل عمل درآمد کیا،ایشیا پیسفک گروپ نے مچوئل ایویلویشن رپورٹ 2019 جاری کردی ۔ رپورٹ ایف اے ٹی ایف کے آئندہ ہفتے اجلاس میں اہم کردار ادا کریگی ۔ ایشیاء پیسفک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے اہم نکات پر مکمل، جزوی اور بڑے پیمانے پر پیشرفت دکھائی، 228صفحات پر مبنی رپورٹ بعنوان مچوئل ایویلویشن رپورٹ 2019ایف اے ٹی ایف کے13سے 18اکتوبر تک پیرس میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی درجہ بندی کا تعین کرنے کے حوالےسے فیصلہ کرنے میں کردار اداکرے گی ۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ پاکستان نے 40 میں سے جن 4نکات پر عمل درآمد نہیں کیا ان میں لیگل انتظامات کی بی او اینڈ ٹرانسپیرنسی شامل ہے ۔ آئندہ ہفتے پیرس میں ہونےوالے ایف اے ٹی ایف کےاجلاس میں پاکستان کی جانب سے وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کی سربراہی میں 5 رکنی وفد شرکت کریگا جبکہ اعلی فوجی حکام، ڈی جی ایف ایم یو اور دفتر خارجہ کا ایک نمائندہ بھی ان کے ہمراہ ہوگا ۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ ایشیا پیسفک گروپ کی میچوئل ایویلویشن اور جوائنٹ ورکنگ گروپ کے ذریعے جاری ایف ٹی ایف کے جائزوں میں تفریق کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ دونوں پروسس علیحدہ چل رہے ہیں ۔ پاکستان نے گزشتہ 4سے12ماہ کے دوران اچھی کارکردگی دکھائی اورایسا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان نے کامیابی کیساتھ ایف اے ٹی ایف کے جوانٹ ورکنگ گروپ سطح کے تشخیص کاروں کو قائل کرلیا ہے ۔ ہماری کوششوں نے اس بھارتی لابی کو بے نقاب کردیا جو پاکستان کیخلاف پروپیگنڈے کےلئے ایف اے ٹی ایف کو استعمال کر رہی تھی،انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی ایف اے ٹی ایف میں درجہ بندی کم نہیں ہوگی،اگر میرٹ پر بات کی جائے تو پاکستان نے جوائنٹ ورکنگ گروپس کے 27ایکشن پلان میں سےکم و بیش 20 نکات پرعمل درآمد کیا ،لہذا حکام چاہئیں گے کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال کر گرین یا سفید لسٹ میں ڈالا جائے ۔

آزادی مارچ

اپوزیشن میں رابطے تیز

فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے اپنی اپنی جگہ تحفظات موجود ہیں کیونکہ یہ جماعتیں اس مارچ کی تاریخ کو آگے بڑھانا چاہتی ہیں نیز پیپلزپارٹی نے کہا ہے کہ وہ مارچ کی تو حمایت کرے گی لیکن وہ دھرنے کی حمایت نہیں کرے گی ۔ فضل الرحمن کو چاہیے کہ ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے وہ اپنے اس مارچ اور دھرنے کے حوالے سے فیصلہ کریں اور وہی قدم اٹھائیں جس سے ملک اور قوم کو فائدہ ہو ۔ گوکہ اس حوالے سے اپوزیشن متحرک ہے اور ان کی ملاقاتیں بھی جاری ہیں ۔ ادھرپیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اورعوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی میں ملاقات ہوئی ہے جس میں آزادی مارچ سے قبل آل پارٹیز کانفرنس یا رہبر کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے پراتفاق کیاگیا ۔ دونوں رہنماءوں کا کہنا تھا کہ وہ مولانا کا ساتھ دینگے ۔ فرحت اللہ بابر اور میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں ملکر حکومت کو گھربھیجیں گی، شفاف الیکشن وقت کی ضرورت ہے، موجودہ سیٹ اپ قبول نہیں ،فوج کی نگرانی کے بغیرالیکشن کرائے جائیں ۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمن کا کہناہے کہ آزادی مارچ کیلئے دی گئی تاریخ حتمی ہے، 27اکتوبر کو ملک بھر سے قافلے اسلام آباد کی طرف روانہ ہونگے،اسلام آبادجانے سے روکاگیاتو پورا ملک جام کر دینگے ۔ پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اورعوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی میں ملاقات ہوئی ہےجس میں آزادی مارچ سے قبل آل پارٹیز کانفرنس یا رہبر کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے پراتفاق کیاگیا ۔ ملاقات میں رہبر کمیٹی یا اے پی سی بلانے پر اتفاق کیا گیا ہے، آزادی مارچ کو کیسے لےکرچلنا ہے یہ دیکھنا ہوگا،دیکھنا ہے ہم کس حدتک جا سکتے ہیں ،اپوزیشن متحدہے اور اس متحد رہنا ہوگا، شفاف انتخابات وقت کی ضرورت ہے اور انتخابات میں فوج کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے 27 اکتوبر حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کی تاریخ بن جائیگی اور وہ مولانا فضل الرحمن کا ساتھ دینگے ۔

Google Analytics Alternative