کالم

یہ NGOs ، دوست یا۔۔۔؟

asgher ali shad

سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان نے ٹھوس معلومات کی بنیاد پر قومی سلامتی کے لئے خطرات کا باعث بننے والی 18 عالمی این جی اوز کو دو ماہ میں ملک چھوڑنے کا حکم جاری کیا ہے ،ان میں 9 کا تعلق امریکا، تین کا برطانیہ، 2 کا ہالینڈ جبکہ دیگر این جی اوز کا تعلق آئرلینڈ، ڈنمارک، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ سے ہے۔اس کے علاوہ کئی تنظیموں کو اپنی سرگرمیاں محدود کرنے کا کہا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ پاکستان نے 72 انٹرنیشنل این جی اوز پر پابندی برقرار رکھتے ہوئے کاغذات مکمل کرنے کیلئے مہلت دے دی جبکہ 141 این جی اوز کو گرین سنگل دیتے ہوئے 66 اداروں کو باقاعدہ کام کرنے کی اجازت دی ہے۔اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ اس کھلے راز سے بھلا کسے آگاہی نہیں کہ دہلی کے حکمران طبقات نے پاکستان کو کبھی بھی دل سے تسلیم نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ گاہے بگاہے وہ وطن عزیز کے اندر مختلف نو کے تعصبات کو فروغ دینے کی ہر ممکن سعی کرتے آ رہے ہیں۔ اس معاملے کا قدرے تفصیل سے جائزہ لیتے سنجیدہ حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ 1965 کی جنگ کے بعد جب ہندوستانی حکمرانوں کو حسب خواہش نتائج نہ ملے تو وہاں کی حکومت نے مسلمان قوم کی نفسیات پر ریسرچ کے لئے اپنے یہاں کئی نئے ادارے قائم کئے جن میں سر فہرست ریسرچ اینڈ انیلے سس ونگ (RAW ) ہے۔ اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کی قدرے تفصیل کا جائزہ لیں تو یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ دہلی سرکار نے مسلمان خصوصاً پاکستانی قوم کے مختلف زاویوں سے تجزیے کئے جن کے تحت سبھی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، اس مقصد کے لئے درگاہ پرشاد دھر (ٹی پی دھر) کی قیادت میں بھارتی ماہرین تقریباً دو برس تک اندلس (سپین) کی لائبریریوں کو کھنگالتے رہے اور ان اسباب و عوامل کے مطالعے میں مصروف رہے جن کے تحت اندلس میں صدیوں سے قائم مسلمان حکومت کا نہ صرف خاتمہ ہوا بلکہ اس خطہ زمین سے مسلمان قوم کا نشان ہی کسی حد تک مٹا دیا گیا۔ تجزیہ کا یہ سارا عمل حکومت ہند اور راء کی باقاعدہ نگرانی میں انتہائی سائنٹیفک بنیادوں پر عمل میں لایا گیا اور اسی تحقیق کی بنیاد پر مرحوم مشرقی پاکستان یعنی بنگلہ دیش کے آپریشن کا آغاز کیا۔ اس کے انجام سے ہم بخوبی آگاہ ہیں !واضح رہے کہ اونچی ذات کے عیار ہندو ذہن نے اپنا یہ مشن تاحال جاری رکھا ہوا ہے اور تقریباًہم سبھی شعوری یا غیر شعوری طور پر شکست و ریخت کے اس عمل میں حصہ بقدر جثہ ڈالتے چلے آ رہے ہیں۔ بھارت میں اسی مقصد کے لئے 20 سے زائد ایسے ادارے قائم ہیں جو ’’پاکستان سٹڈیز‘‘ کے بہانے ہمارے ہر عمل پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور راء اور انڈین آئی بی کے یہ ادارے ایسا کھلا راز ہیں جو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ دوسری جانب اس ضمن میں ہماری ’’باخبری ‘‘کا عالم یہ ہے کہ اگرچہ ہم اپنی تمام تر پالیسیاں بالعموم بھارت کو مد نظر رکھ کر ہی ترتیب دیتے ہیں مگر تلخ زمینی حقیقت یہ بھی ہے کہ بھارتی امور کے ماہر ہمارے بہت سے دانشور بھارت کے تمام صوبوں کے نام بھی پوری طرح سے نہیں جانتے حالانکہ ہندو ازم بہت سے گروہوں پر مبنی مجموعہ اضداد ہے۔ ان کے یہاں بھی بہت سے ایسے تضادات ہیں جن کی جڑیں ان کے کلچر میں بہت گہرائی تک موجود ہیں، ایسے میں اگر ہم جواب آں غزل کے طور پر ان بھارتی تضادات کو ایکسپلائٹ کر سکتے ہیں مگر اس ضمن میں تاحال ہم اپنی ذمہ داریاں کم حقہ ہو پوری نہیں کر پا رہے، حالانکہ اس بدیہی حقیقت کو بخوبی سمجھنا ہو گا کہ اگر ہمیں اپنے قومی وجود کو مستحکم بنانا ہے تو اپنے مد مقابل کے مزاج کی ساری جہتوں سے پوری طرح آگاہ ہونا ہو گا وگرنہ کوئی بیرونی طاقت ہماری بقا کی ضامن نہیں ہو سکتی اور قانون فطرت میں جرم ضعیفی کی سزا تو بہرحال طے ہے۔ اس پیرائے میں یہ بات بھی خصوصی اہمیت کی حامل ہے کہ بھارتی راء اور این ڈی ایس نے موساد اور سی آئی اے کی پیروی کرتے ہوئے اپنے یہاں بہت سی خوبصورت خواتین کو بھی اپنے اداروں میں سمویا ہوا ہے جو ان کیلئے خدمات انجام دے رہی ہیں، کیونکہ اس ضمن میں راء نے اپنے طویل مشاہدے کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ایک سو مرد بھی وہ کام نہیں کر سکتے جو ایک خاتون بشرطیکہ وہ خوبصورت اور پڑھی لکھی ہو، انجام دے سکتی ہے۔ یوں بھی ہندو مذہب میں عورت کی عصمت کا تصور ہمارے یہاں سے قدرے مختلف ہے اور دھرتی ماتا کی سیوا کے لئے روٹھے ہوئے یار کو ’’نچ ‘‘ کے منانا وہاں کوئی اتنی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی۔ بہرحال یہ تو شاید جملہ معترضہ ہو ۔ اگرچہ ملک کے اندر این جی او ز کی خاصی تعداد ایسی بھی ہے جو حقیقی طور پر شاید انسانیت کی خدمت انجام دے رہی ہو مگر اس ’’تعداد‘‘ سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا جو خواتین، بچوں، اقلیتوں کے حقوق اور جمہوریت کے نام پر اپنی دکانداریاں سجائے بیٹھے ہیں اور قومی سلامتی تک کو داؤ پر لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ سبھی متعلقہ ادارے اس ضمن میں اپنا فریضہ زیادہ موثر ڈھنگ سے انجام دیں گے۔

*****

بلوچستان کی پسماندگی دور کرنے کا عزم

adaria

وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے سرکاری دورہ بلوچستان کے موقع پر اس عزم کا اظہار کیاکہ عوام کی فلاح و بہود، ترقی و خوشحالی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی کے لئے پُرعزم ہے اور بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا اجتماعی کوششوں سے انشااللہ ملک اور صوبے کو صحیح منزل کی جانب گامزن کریں گے،اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے درخواست کی کہ وہ ہمارے تشکیل کردہ بلدیاتی نظام کو اپنے صوبے میں رائج کریں اور گاؤں کی سطح پر کونسل بنائیں تاکہ متعلقہ حق دار تک وسائل کی ترسیل ممکن ہو سکے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ بلوچستان میں ووٹ بینک بنانے کے لیے صوبے میں ترقیاتی منصوبے نہیں چاہتے،ماضی میں بلوچستان کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔بلوچستان سونا، تانبا، کوئلہ اور کرومائیڈ کے بڑے ذخائر رکھتا ہے لیکن کسی نے ان پر توجہ نہیں دی۔بلوچستان کا بینہ کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے صوبے کی پسماندگی کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی ترقی سے پاکستان کی ترقی وابستہ ہے کچھی کینال کی تکمیل سے بلوچستان میں زرعی انقلاب آئے گا۔ایسا کوئی وعدہ نہیں کریں گے جو پورا نہ کرسکیں،بلوچستان حکومت کی تجاویز کی روشنی میں بلوچستان کی ترقی کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کریں گے۔انہوں صوبائی حکومت کو یقین دلایا کہ بلوچستان حکومت کو درپیش مالی بحران کے حل کے لیے وفاق ہر ممکن تعاون کرے گا۔ بلوچستان کے قدرتی وسائل کو صحیح معنوں میں بروئے کار لاکر غربت و پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہے۔انہوں نے اراکین بلوچستان اسمبلی پر زور دیا کہ وہ صوبے کے عوم کو درپیش مسائل کے حل کے لیے موثر قانون سازی کے لئے کام کریں۔وزیراعظم نے سی پیک کے حوالے سے پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے بلوچستان کے تحفظات کا ازالہ کیا جائے گا۔ اس دورے کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ جام کمال نے وزراء کے ہمراہ سدرن کمانڈ ہیڈکواٹرز کا دورہ کیا، جہاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بلوچستان کو صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی۔عمران خان نے صوبے میں جاری ترقیاتی کاموں اور سیکیورٹی کی صورتحال بہتر کرنے پر سیکیورٹی فورسز کے کردار کو سراہا۔ وزیر اعظم کو سی پیک پراجیکٹ، پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کے منصوبے اور خوشحال بلوچستان پروگرام پر بھی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا معاشی اقتصادی مستقبل ہے، خیبرپختونخوا میں استحکام کے بعد ہماری ترجیح بلوچستان ہے۔ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کی ایک ساتھ بلوچستان میں موجودگی اس بات کا اظہار ہے کہ صوبہ پولیٹیکلی و سٹریٹجیکلی کتنی اہمیت کا حامل ہے۔ماضی میں بلوچستان کی ترقی کے لیے بلند بانگ تو بہت ہوئے لیکن زمین پر کسی ترقی کے آثار نظر نہیں آتے اس کی بنیادی وجہ کرپشن ہے۔وزیراعظم نے بجا طور پر بدعنوانی کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے صوبے کی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کرے۔ان کا کہنا تھا کہ چین نے بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات کیے جس کے باعث وہ تیزی کے ساتھ ترقی کر رہا ہے۔ پچھلے چند سال کے دوران چین میں چار سو سے زائد وزیروں کو پکڑا گیا اور ان کا احتساب کیا گیا، اسی طرح بڑی تعداد میں بیوروکریٹس کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کی وجہ سے پاکستان کے قرضے گذشتہ دس سال کے دوران چھ ہزار ارب سے بڑھ کر 28 ہزار ارب روپے تک پہنچ گئے۔وزیرِ اعظم نے بلوچستان حکومت پر زور دیا کہ وہ بدعنوانی کے خلاف محکم انسداد بدعنوانی کو مضبوط کرے۔ اگر بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے گئے تو وسائل یہاں کے لوگوں پر خرچ ہونے کی بجائے دبئی اور دیگر ممالک منتقل ہو جائیں گے۔وزیراعظم کا تجزیہ سو فیصد درست ہے کہ جب بدعنوانی جڑیں پکڑ لیتی ہے تو پھر ملک کا ہر ادارہ تباہ ہو جاتا ہے۔وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد عمران خان پہلی مرتبہ بلوچستان کے دورے پر کوئٹہ پہنچے تھے۔جہاں صوبائی حکومت کی طرف سے گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔اپنے دوران کے دوران وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ مربوط قومی جدوجہد، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون اور آرمی کی مدد سے بلوچستان کے تمام مسائل دور کیے جائیں گے۔

مقبوضہ کشمیر میں بلدیاتی انتخابی ڈرامے کا بائیکاٹ
مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد بلدیاتی انتخابی ڈرامہ آج 8 اکتوبر سے شروع ہونے جا رہا ہے۔حریت قیادت کے بائیکاٹ کے بعد اب مقبوضہ کشمیر کی سکھ کمیونٹی نے بھی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سکھ تنظیموں سکھ انٹلیکچول سرکل،انٹرنیشنل سکھ فیڈریشن اورسکھ سٹوڈنٹس فیڈریشن کا ایک مشترکہ اجلاس ایس نریندر سنگھ خالصہ کی قیادت میں جموں میں منعقد ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ جموں وکشمیرمیں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، شہریوں کے قتل ، غیر قانونی نظر بندیوں، دفعہ 35اے کو ختم کرنے کی کوششوں اور سکھوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف نام نہاد بلدیاتی اور پنچایت انتخابات کابائیکاٹ کیا جائے گا۔اجلاس میں شریک سکھ رہنماؤں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کو اپنی پاس کردہ قراردادوں کے ذریعے حل کرانے کے لیے کردار ادا کرے ۔ انہوں نے حریت قیادت کی ہڑتال کی کال کی حمایت کا بھی اعلان کیا۔حریت قیادت نے پہلے ہی بائیکاٹ کے ساتھ ہڑتال کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اس روز پورے مقبوضہ علاقے میں سول کرفیو رہے گا۔ میرواعظ نے کہا کہ 10،13 اور16 اکتوبر کو جن جن علاقوں میں نام نہاد انتخابی عمل ہوگا ، وہاں ہڑتال کی جائے گی۔کشمیری صرف اور صرف اپنے پیدائشی حق، حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور نام نہاد انتخابی ڈراموں سے انکا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری حق خود ارادیت کے سوا کوئی اور چیز ہر گز تسلیم نہیں کریں گے۔حریت قیادت کے بائیکاٹ کے بعد سکھ کمیونٹی کی طرف سے انتخابی عمل سے دور رہنے کے اعلان سے مودی سرکار کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے کہ وہ جبر سے زمینی قبضہ تو برقرار رکھ سکتی ہے لیکن دلوں پر راج ممکن نہیں۔کشمیری عوام بھارت سے الگ ہونا چاہتے ہیں،یہی ان کا پہلا اور آخری مطالبہ ہے۔یو این کی قراردادیں ان کا یہ حق تسلیم کرتی ہیں۔بھارت کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو دبانے کیلئے گزشتہ ستر برس سے جبر و استبداد کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔مگر کشمیریوں نے بھارتی مظالم، مشکلات اورمصائب کے باوجود حق خود ارادیت کی تحریک کو زندہ رکھا ہوا ہے۔آخر ایک دن کشمیری اپنا حق لے کر رہیں گے۔

 

طاقتور قبضہ مافیا کیخلاف آپریشن کامیاب بنانا ہوگا

آج کل کلین اور گرین پنجاب کے نام سے پنجاب میں تجاوزات کا خاتمہ اور قبضہ گروپ سے اراضی واگزار کروانے کا پروگرام شروع ہے۔ صوبہ پنجاب میں عمران خان کے 100روزہ ایجنڈے پرروزانہ کی بنیاد پر کام ہو رہاہے اورپنجاب نئے پاکستان میں تبدیلی کے سفر میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور 100 روز کے اند ر عوام کو بدلا ہوا پاکستان نظر آئے گا۔ پنجاب میں میرٹ سے ہٹ کر کوئی کام نہیں ہوگا۔پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں قبضہ مافیا اور تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار نے کہا کہ قبضہ گروپوں اور تجاوزات کے خلاف آپریشن طاقتور مافیاسے شروع کیا جائے گا اور آپریشن بلاامتیاز اور بلا رورعایت ہوگا۔ زمینوں پر قبضے اور تجاوزات کرنیوالوں کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی ہو گی۔

حکومتی فیصلے کے بعد گوجرانوالہ میں تجاوزات، سرکاری زمینوں پر قبضے اور اسموگ کا باعث بننے والی فیکٹریوں کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا۔ کرینوں کے ذریعے سڑکوں اور بازاروں میں غیر قانونی ٹھیلے، دکانیں اور دیواروں گرادی گئیں۔فیصل آباد اور سرگودھا ڈویژن کے 8 اضلاع میں بھی تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع ہوا۔ گرین اینڈ کلین پنجاب مہم کے تحت ملتان کی ضلعی انتظامیہ کا بھی تجاوزات کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں سامان قبضے میں لے کر پختہ تعمیرات گرادی گئیں۔ اسی طرح ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان، بہاولپور اور دوسرے شہروں میں بھی تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا گیا۔
لاہور ڈویژن کے 4اضلاع میں 250ایکڑ سے زائد سرکاری اراضی پر قبضہ ختم کرایاگیااورواگزار کرائی گئی اراضی کی مالیت 7ارب روپے سے زائد ہے۔ اربوں روپے کی سرکاری اراضی کو چند روز میں واگزار کرانا متعلقہ محکموں کی مربوط او رموثر کوآرڈینیشن کا نتیجہ ہے۔ قبضہ مافیااور تجاوزات کے خلاف موثر انداز میں آپریشن جاری رکھا جائے اور عام آدمی کو اس مہم میں تنگ نہ کیاجائے۔

قبضہ مافیا بہت عرصہ سے سرکاری اراضی پر قبضہ جمائے بیٹھا تھا۔ عوام سب کچھ جانتے ہوئے بھی چپ تھی کہ کس نے اس کی بات سننی ہے۔ مگر موجودہ حکومت نے عوامی مفاد میں انقلاب لانے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ قبضہ مافیا اور تجاوزات کے خلاف آپریشن سے قبل چند باتوں کا جاننا ضروری ہے۔ سب سے پہلے قبضہ مافیا اورتجاوزات کے خلاف آپریشن کے حوالے سے عوام میں بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے کیونکہ اس ناسور کا خاتمہ عوام کے اپنے مفاد میں ہے۔ کسی بھی قسم کے دباؤکو بالائے طاق رکھ کرآپریشن کرنا ہو گا۔ آپریشن کو کامیاب بنانے کیلئے تمام ادارے آپس میں قریبی رابطہ رکھیں۔ سب سے پہلے بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالا جائے۔ آپریشن کے دوران واگزار کرائی گئی اراضی کو زیر استعمال لانے کیلئے پلان مرتب کیا جائے۔
تجاوزات آپریشن جہاں بڑے بڑے مگر مچھوں کے خلاف ہے وہاں چند جگہوں پر اس کی زد میں غریب محنت کش بھی آگئے ہیں۔ تجاوزات کیخلاف مہم میں محنت کشوں اور غریب عوام سے ان کے روزگار کے مواقع چھیننا ہرگزمقصد نہیں بلکہ مہم کا مقصد بااثر افراد سے قیمتی اراضی واگزار کرانا ہے لہٰذا عام آدمی کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی تو متعلقہ افسروں سے باز پرس ہوگی۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف مہم میں غریب اورعام آدمی کے خلاف کارروائی کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی ہیں کہ اس مہم میں عام آدمی ،ریڑھی بان اور محنت کشوں کو تنگ نہ کیا جائے جبکہ تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف مہم میں طاقتور اوربااثر افراد کیخلاف موثر کارروائی پوری قوت سے جاری رکھی جائے۔ تحریک انصاف عام آدمی کی جماعت ہے اور وزیر اعلیٰ خود قبضہ مافیا اور تجاوزات کے خلاف آپریشن کی خود مانیٹرنگ کررہے ہیں۔ عام آدمی کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی تو متعلقہ ا فسران سے بازپرس ہوگی۔
کرپشن کے ناسور نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کیا ہے اورملک کے پیچھے رہ جانے کی وجہ کرپشن اورصرف کرپشن ہے۔ 22کروڑ عوام کو کرپشن فری پاکستان دیں گے۔ عمران خان نے کرپٹ عناصر کے خلاف زیروٹالرنس کی پالیسی اپنائی ہے۔ ملک کو لوٹنے والے عناصرپی ٹی آئی کی حکومت سے خوفزدہ ہیں لیکن ہم نے ملک کوکرپشن سے پاک کرنا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں ہر سطح پر میرٹ اورشفافیت کو فروغ دیا گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نئے پاکستان کی تعمیر کیلئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔نیا پاکستان خود مختار ، معاشی طور پر مضبوط اور ترقی یافتہ و خوشحال ہو گا۔ وزیر اعظم عمران خان کا وژن پاکستان کے پر امن، روشن اور خوشحال مستقبل کا ضامن ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر قبضہ مافیا اور تجاوزات کرنیوالوں کے خلاف شروع کی جانے والی مہم ہر صورت کامیاب ہونی چاہیے۔ متعلقہ محکمے اورادارے مربوط کوآرڈینیشن کے تحت مہم کا آغاز کریں۔ عوام بھی اپنے اردگردعلاقوں میں موجود قبضہ مافیاکی نشاندہی کریں تاکہ ان کے خلاف کارروائی ہو سکے۔
***

عالمی سامراج!

عالمی سامراج سے سی پیک ہضم نہیں ہو رہا ہے۔جب سے سی پیک پر کام شروع ہوا ہے اسی وقت سے منفعت اور عدم اعتمادی کی فضا قائم رکھنے کی کوشش ہو رہی ہے، نقاد اور حوصلہ شکن لوگ نہیں چاہتے کہ ملک ترقی نہ کرے، میڈیا پر دانشور جو عالمی سامراج کیلئے راہ ہموار کرنے کیلئے منہ ٹیڑھا کر کے جذباتی بیانات اور من گھڑت کہانیاں پیش کر رہے ہیں حالانکہ یہ ان کو بھی پتہ ہے کہ سی پیک جو پاکستان اور چائنا دونوں کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کسی بھی صورت میں یہ منصوبہ رکھنے والا نہیں ہے،نام نہاد دانشور اس منصوبے میں نقائص نکالنے مفروضے اور قیاس آرائیاں کرنے میں مصروف ہیں۔ قومی مفاد کے منصوبے کے خلاف تشدد بھڑکانا ، تعصب کو جنم دینا ، نفرت کی مہم چھیڑنا انسانیت سوز حرکتیں کرنا یہ سب حرکتیں کرنے کا مقصد ملک دشمن قاؤں کو خوش کرناہے۔چونکہ ہمارا ذہن مغربی میڈیا بناتا ہے اور مغربی پروپگنڈے نے ہمارے آنکھوں پر ایسی پٹی باندھی ہے کہ ہم وہی کچھ یاد کرتے ہیں جو ہمیں یہ میڈیا پڑھاتا ہے در اصل ہم نے خولوں میں بند ہوکر سوچنا شروع کیاہے اور کنویں کے مینڈک بنے ہوئے ہوئے ہیں اور آٹے کی تلاش اور روٹی کے چکر نے سب کو چکرادیا ہے یہاں تک کہ ہم آذادی سے واقفیت تک بھول گئے ہیں جب پورے ملک کے وسائل پر چند خاندان قابض ہو اور ملک کے دفاع تک سامراجی بیساکھیوں کی ضرورت ہو ملک کا اسی فیصد چند خاندانوں کے ہاتھ میں ہو اور پھر بھی عوام کی اور ملک کی ترقی کی بات کی جائے تو اس سے حسین مذاق اور کیا ہو سکتا ہے؟عام طور پر سننے میں آتا ہے کہ عوام کی بہت بڑی اکثریت شعورسے نابلد اور اپنے شہری فرائض سے بالعموم بے بہرہ ہے اور ساراقصور عوام کا ہے اگر وہ اپنا ڈیڑھ فٹ ٹھیک کر لیں تو ملک کو درپیش تمام مسائل حل ہوجائیں گے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عوام کی غلطیوں کی وجہ سے معاشرہ بڑی تیزی سے روبہ زوال ہے اور قومی شیرازہ بکھرتا جا رہا ہے۔ بادی النظر میں یہ تمام باتیں درست معلوم ہوتی ہیں لیکن گہرائی کے ساتھ اْن کا تجزیہ کرنے سے اصل حقیقت بے نقاب ہوجاتی ہے۔ اصل خرابی خراب سسٹم کی ہے کیوں کہ عوام کی کردار سازی اْن کی قیادت اور قومی ادارے کرتے اور ادارے عوام کے ٹیکسز سے چلتے ہیں۔ عوام سے ٹیکس تو وصول کیا جاتا ہے مگر عوام کو کیا دیا جاتا ہے؟آج کے دور کا اہم مسئلہ سماجی نا انصافی ہے عام آدمی معاشی جبر کا شکار ہے اور یہ سرمایہ دارانہ نظام لوٹ کھسوٹ کو روا رکھتا ہے اور ا س نظام نے انسانیت کو بھیڑیوں کے حوالے کردیا ہے محنت کش، مذدور اور کم آمدنی والے لوگ حیوانوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان پر ناجائز ٹکسیز تو لگائے جاتے ہیں مگر ایک زرعی ملک ہوتے ہوئے بھی عوام چینی اور آٹے کی تلاش میں ایسے زلیل ہوتے نظر آتے ہیں گویا وہ افریقہ کے کسی قحط ذدہ علاقے کے باشندے ہو۔وصول تو یہ ہونا چائیے کہ جو چیز بیچتا ہے وہ ٹیکس ادا کرے مگر ہمارے ہاں جو سرمایہ داریت ہے اس کا اصول نرالہ ہے یہاں جو چیز خریدتا ہے وہ ٹیکس ادا کرتا ہے اور وہ بھی دوہرا ور تہرا ٹیکس،ایک مہنگائی اور پھر دوہرا ٹیکس یہ مظلوم انسانیت کیلئے عذاب ہے اس کے نتیجے میں غریب آدمی کی کمر جھکتی چلی جاتی ہے اور سرمایہ دار کی توند بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ عوام کے سامنے میڈیا کے ذریعے جمہوریت کا ڈھنڈورہ بھی پیٹا جاتا ہے لیکن یہ جمہوریت کے نام پر سرمایہ داروں کا سٹیج ڈرامہ ہے جو عوام کو طفل تسلی کے طور پر کھیلا جاتا ہے ۔ حالانکہ دیکھا جائے تو تو جمہوریت میں اولین چیز عوام کا باشعور ہونا ہے،ووٹر کو معاشی طور پر مضبوط ہونا چائیے اور ان کی سوچ آذاد ہونی چائیے جس قوم کو دو وقت کی روٹی نہ ملے اور حکمران عیاشیاں کریں ان کی کیا رائے ہوگی اور ان کی رائے کو کیسے آذاد کہاجاسکتا ہے اور ان کا شعور کیسے بلند ہوسکتا ہے ؟اور ان کی ووٹ کی حیثیت ہی کیا ہے؟چونکہ ہم نے اپنے دروازے ہر دور میں سامراج کیلئے کھولے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ترقی کا راستہ رک گیا ہے اور عوام کی حالت گرتی چلی جارہی ہے اور معیشت، تجارت اور سیاست سب کچھ تباہی کے دہانے پر ہیں سرمایہ دارانہ ذہنیت نے ہر شخص کو سرمایہ پرست بنادیا ہے اور سرمایہ پرستی کی خوب نشوونما ہوئی ہے جب سے امریکہ نے پاکستان کو امداد اور قرضہ کا موقعہ فراہم کیا ہے تب سے پاکستانی عوام اور پاکستان کی معیشت کی پٹڑی الٹے سمت چلنا شروع ہوئی ہے اور رفتار بھی اس کی خاصٰ تیز ہے جس طرح امریکہ نے افغانستان، لیبیا اور عراق میں جنگ اپنے مفادات کیلئے چھیڑی اور اور شام میں مفادات کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اسی طرح 1950 ؁اور 1951 ؁ امریکہ نے کوریا کی جنگ چھیڑی تھی اس دوران امریکہ نے پاکستان پر مہربانی کی اور پہلی بار پاکستان میں امریکی تجارتی سرمایہ داروں کو مواقع فراہم کئے اور تب سے یہاں امریکی تجارتی مفادات کی نشوونما ہوئی۔یہ بات ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کوریا کی جنگ میں امریکی افواج کی امداد کیلئے پچاس ہزار ٹن گندم امداد کے طور پر بھیجی تھی اور اس کے بعد ملک میں گندم کا ایک مصنوعی قحط پیدا کیا گیا تھا اور بعد ازاں امریکہ نے کمال مہربانی سے پاکستان پر امداد کے دروازے کھول دئے اور جو اونٹ امریکی گندم بندرگاہ سے گاڑیوں تک لاتے تھے ان پر ان کے گلے میں ’’امریکہ تیرا شکریہ‘‘کے تختیاں لٹکا کر امریکہ کا استقبال کیا گیا اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور اس طرح پاکستان کی آذادی کو امریکی امدادکے بدلہ میں گروی کے طور پررکھ دیا گیا اور اس دن سے پاکستان کی معیشت اور پاکستانی قوم کی حالت بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے اور جو آنے والے دن ہیں پاکستان کے حوالے سے وہ بڑے بھانک ہیں کیونکہ امریکیوں کی سوچ اور ان کی ادائیں بڑی خطرناک ہیں۔یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ امریکہ نے ہر اس منصوبے کی پاکستان میں مخالت کی جو قومی نوعیت کا ہوتا ہے گوادر کے منصوبے کو فیل کرنے کیلئے اس نے وہاں خطرناک خونی کھیل کھیلا اسی طرح اس نے سٹیل مل جیسے بھاری منصوبے کی مخالفت کی اور اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی اور اسی طرح فولاس اور لوہا کی مشینری لگانے کی بھی اس نے مخالفت کی اور پاکستان کو مشینری بھاری گاڑیوں ، کھادوں،کیڑے مار ادویات ، پیپسی اور کوکا کولا، چائے اور سگریٹ اور گاڑیوں کے پرزوں اور سامان تعیش کی خرید اور فروخت کیلئے ایک صارف ملک بنا دیا اور اب یہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کیلئے ایک بہترین منڈی ہے اور اسی نظریہ کے تخت امریکہ ایران اور پاکستان کے درمیان سوئی گیس پائپ لائن منصوبے کو ناکام بنایااور اسی طرح اسے اقتصادی راہداری کا منصوبہ بھی ہضم نہیں ہو رہا ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ پاکستان کا تعلق اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدہ رہے اور اس کے مزموم عزائم پورے ہوتے رہے۔ایسے میں ضروری ہے کہ مغربی میڈیا اور اس کے آلہ کار ذرائع کی گمراہ کن پروپگنڈے پر گہری نظر رکھی جائے اور اور امریکہ کی طے شدہ حکمت عملی کے مطابق سفر کرنے کی بجائے وسیع النظر قومی سوچ کی آبیاری کی جائے اور یہ حقیقت بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ آج کے دنیا کے مسائل کا حل سرمایہ دارانہ جمہوریت میں نہیں بلکہ جمہوریت میں ہے سرمایہ جمہوریت کا تماشا امریکہ میں ہوتا ہے وہاں پارٹیوں کی حکومتیں بدلتی ہیں مگر ان کی داخلہ اور خارجہ پالیسیاں نہیں بدلتی ہیں ۔ امریکہ میں ری پبلکن ہو یا ڈیموکرٹیک اور برطانیہ میں لیبر آجائیں اور یا کنزرویٹو پالیسیاں ان کی وہی رہتی ہے ۔ یہ اس لیئے کہ وہاں جمہوریت کے آڑ میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سرمایہ دارانظام کے تحفظ کیلئے ہوتا ہے اور یہ کھیل وہ یہاں بھی کھیل رہا ہے اور اس کے نتائج عوام کے سامنے ہیں اور عوام کی بے چارگی دیدنی ہے۔

امریکی کانگریس

امریکا ماضی میں کبھی فراخ دل رہا نہ ہی حقیقت پسند’ہمیشہ امریکا نے صدیوں کی اپنی تنگ نظری کی پالیسی کل بھی اختیار کیئے رکھی آج جب دنیا انسانی ترقی کی انتہاؤں کوچھورہی ہے امریکا’ بڑی عالمی کرنسی کے اجارہ دار کا علم تھامے وہیں پہ کھڑا ہے’ڈالرکے استحقاق کے زعم میں وائٹ ہاؤس اپنے آپ کو’عالمی سرمائے’کا جیسے کوئی آقا سمجھتا ہو؟’بہت تکبرہے امریکا کے علاوہ دنیا کی ان چند منہ زور سامراجی چلن رکھنے والی طاقتوں کوجودنیا کے ترقی پذیر ممالک کو زمین پررینگنے والے حشرات الاارض سمجھنے کی عادتوں میں مبتلا ہیں ، جبکہ اصل میں وہ صریحاً غلطی پر ہیں افسوس! اکیسیویں صدی کا دوسرا عشرہ ختم ہونے کو آرہاہے امریکا مگرمکمل انسان پروری کی راہ پرنہیں آیا’ بلیوں’ کتوں’خچروں’پرندوں سے تواس کی محبتیں سنبھالی نہیں جاتیں مگرکمزوراوربے بس انسانوں سے ا مریکا نفرت ہی نہیں کرتا بلکہ ترقی پذیر ممالک کے اقوام کے بنیادی حقوق غصب کرتا ہے، ان کے قدرتی وسائل کومختلف حیلے بہانوں سے لوٹتا ہے اورانکی زیرزمین دولت کوچھینے کے جواز کا متلاشی رہتا ہے ۔پاکستان کی نئی منتخب حکومت کے متوقع سربراہ کے نرم دمِ گفتگو کا نپا تلا اورکچھ کردکھانے کے انداز سے دنیا یہ نتیجہ اخذ کرلے کہ اب اسلام آباد میں وہ ہی کچھ ہوگا جو پاکستان کے کروڑوں عوام چاہیں گے قوموں کی زندگیوں میں اکثروبیشتر ایسے تازہ’جوشیلے اور امیدافزاخوشگوارسیاسی وثقافتی فضاؤں کے مقبولیت کی انتہاؤں کو چھونے والے مواقع آتے ضرور ہیں دیرآید درست آید کے مصداق امریکی حکام کوبہرحال تسلیم کرنا ہوگا کہ ماضی کے برعکس اب پاکستان کے تجارت پیشہ حکمران طبقات میں پروان چڑھنے والی کرپشن آلودہ جمہوریت کے نام پر’جمہوری ملوکیت’کا ناپسندیدہ سلسلہ منقطع ہوچکا ‘ پاکستان چلے گا’ملک میں ترقی ہوگی اور پاکستان میں آج کے بعدخالص عوامی پائیدار جمہوری راج اور زیادہ مستحکم ہوگا جیسا امریکا چاہے گا پاکستان میں ویسا اب نہیں ہوگا امریکا کوپاکستان کی آزادی پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرنا ہوگا پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہونگے۔ امریکی کانگریس کے منظورکردہ بل کے تحت پاکستان کو150 ملین ڈالرکی دفاعی امداد کینسل کی گئی۔ واہ سبحان اللہ پاکستان پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کاعندیہ بھی دیاگیا ، پینٹاگان’ وائٹ ہاؤس اورادھرنئی دہلی کے ایوانِ اقتدارمیں نجانے کس مفادی نے اپنے کس مذموم ایجنڈے کے گھناؤنے تصورات کوعملی جامہ پہنانے کی بد نیتی سے مفروضہ پھیلایا تھا کہ پاکستان میں دومخصوص سیاسی پارٹیوں کے بغیرجمہوریت کا سسٹم قائم نہیں رہ سکتا لہٰذاکبھی ‘اے’ اورکبھی’بی’ پارٹی ہی کی حکومتیں جمہوریت کے نام پرچلتی رہیں گی اورعوام کی اکثریت ہرپانچ سال تک اِن ہی کے اشاروں پر ووٹ بکس بھرتے رہیں گے پاکستان میں اعلیٰ عدالتیں کیا متحرک ہوئیں کروڑوں عوام کی سنی گئی، پاکستان کے اقتدار کو جواپنے گھروں کی لونڈی سمجھتے تھے آج کہاں ہیں؟ پاکستان کو اپنی وراثت اور جاگیر سمجھنے والے نشانِ عبرت بن گئے کچھ بننے والے ہیں، اب پکڑ نیچے سے نہیں اوپر سے ہوگی، پاکستانی قوم کی عوامی شعور میں بیداری کی لہر نے جنوبی ایشیا میں امریکی چھتری تلے بھارتی بالادستی کے خواب کے تاروپود کو قوم نے منتشرکرکے رکھ دیا اب افغانستان میں امن ہوگا اور بھارت کو مسئلہِ کشمیر کے پرامن حل کیلئے اپنے قدم بڑھانے ہونگے، حقیقی عوامی طاقت اپنے حکمرانوں کی پشت پر موجود رہے تو سامراجی عزائم کے حامل ممالک ایسی بیدار صفت اقوام کا بال تک بھی بیکا نہیں کرسکتیں ،یقیناًامریکی اور بھارتی فیصلہ ساز جان گئے ہونگے کہ پاکستان میں دوپارٹی سسٹم کی ریت روایت قائم کرنے والے غلط تھے ‘را، موساد اورسی آئی اے’کی مشترکہ پروپیگنڈا مشنری ناکام ہوئی ہے، پاکستانی عوام کے جمہوری شعورکے رجحانات اور میلانات کا متذکرہ بالا تینوں خفیہ ایجنسیوں نے غلط من گھڑت اور بے سروپا مفروضات پر رپورٹیں مرتب کیں ایسی بوگس ڈیسک رپورٹس ٹرمپ اورمودی جیسے ناتجربہ کارجنونی اورانتہا پسندوں نے مان لیں وائٹ ہاؤس اورنئی دہلی سمیت پینٹاگان بھی اِسی فرضی نکتہ نظر کے اسیرمعلوم دئیے ،جنہوں نے پاکستان کی سابقہ کرپٹ حکمران طبقات کے منہ میں اپنے متعصبانہ الفاظ دے کر انہیں انکے انجام تک پہنچا دیا،یوں پاکستان میں حقیقی جمہوریت کا روشن سورج طلوع ہوا اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ منتخب حکمران جماعت کوملک میں درپیش اقتصادی چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا،آئی ایم ایف سے انہیں اپنے محدودمالیاتی انفراسٹرکچرکے دائرے میں اپنی مہارت’ صلاحیت’جرات اورپیشہ ورانہ حکمتِ عملی سے باعزت مذاکرات کرنے ہونگے’بیس پچیس برس کی اختیار کردہ گمراہ کن غلط اقتصادی پالیسیوں نے پاکستان پر بیرونی قرضوں کاحجم بڑھا کر قوم اورملک کو آج اِس بد حالی پر لا کھڑا کیا ہے پھر بھی مایوسی کا مقام نہیں آئی ایم ایف کے دیوہیکل قرضوں کی ضمانت اب پاکستان کے بہادر اور محبِ وطن عوام کے علاوہ کوئی اور نہیں دے سکتا، پاکستان کی قیادت اگر جرات مند ہو’بے داغ ہو’صاحبِ کردار ہو’ ایمان داراورصالح ہو’ تویہ کوئی مشکل مرحلہ نہیں عمران خان کی مقبولِ عام شخصیت نے پاکستان کی جمہوری قیادت کی تاریخ میں یقیناًایک نیا باب رقم کیا ہے، عوام نے ان پر بھروسہ کیا خان کہتا ہے کہ وہ سادگی اپنائیں گے قوم سادگی اپنائے’قومی سیاست کے مفلوج زدہ جسم میں عمران خان نے ‘لیکجز’ کا کھوج لگا کر انہیں اگر بند کر دیا لوٹی گئی قومی دولت بیرونِ ملک سے واپسی کیلئے انہوں نے فوری ہنگامی اقدامات اٹھانا شروع کردئیے اور دنیا کے سامنے جرات مندی اور دلیرانہ سچائی سے پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کا تاریخ ساز فیصلہ کرلیا تو بھاڑ میں جائیں امریکی کانگریسی کی بلیک میلنگ اور خطہ میں بھارتی بالادستی کے عزائم جنوبی ایشیا میں پاکستان کی بھی اپنی ایک حقیقی جغرافیائی حیثیت ہے عمران خان نے یہ حقیقت دنیا سے منوانی ہے پاکستان کا مالیاتی بحران چٹکیوں میں حل ہوگا کئی ایشیائی ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے امریکی اور آئی ایم ایف کی مالی مداخلتوں کے بغیر بھی پاکستان ترقی خوشحالی اور امن کی نعمتوں سے مالا مال ہوسکتا ہے ۔

تھوڑاوقت تودیں

جدیدجمہوری مملکتوں کو صحیح سمت میں چلانے کیلئے مملکت کے چارستونوں میں میڈیا ایک اہم ستون ہے۔میڈیا اگر حقیقت پسندی سے کام لے اور مملکت کو دوسرے کاموں پر فوقیت دے تو مملکت میں مطلوبہ مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ مگر کیا کیا جائے بیرونی دنیا کے مقروض ترقی پسند ممالک کا کہ جس میںآزاد میڈیا کہاں ہے؟پاکستانی میڈیا کے محب وطن عناصر اس کی نشان دہی برسوں سے کرتے آئے ہیں۔امریکا نے پاکستان کو اپنی مرضی سے چلانے کیلئے میڈیا کیلئے کثیر رقم اپنے بجٹ میں رکھی تھی۔ جس کا ایک بڑا حصہ پاکستانی میڈیا کو ملتا رہا ہے۔ امریکی امداد لینے والے میڈیا کو پاکستان کے محب لوگ امریکی فنڈڈ میڈیا لکھتے آئے ہیں۔ امریکا بہادر مختلف طریقوں سے ملک کے نظاموں کو تبدیل کرنے کے لیے مختلف ناجائز حربے استعمال کرتا رہتا ہے۔ مثلاً کیری لوگر بل کو ہی لے لیجیے ۔اس امداد کے ذریعے پاکستان کو اپنی پالیسیاں کے تحت چلاتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ غریب ملکوں کو قرضے دینے والے ادارے اس کے کنٹرول میں ہیں۔ اسلحہ بنانے والے بڑے بڑے اداروں پر اس کی اجاراداری ہے۔ وہ گریٹ گیم کے دوسرے ملکوں کے ساتھ ملا کر ملکوں کے نظاموں کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتا ہے۔پاکستان کی ہی مثال لیں۔ امریکا بھارت کی طرفداری کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی خاموشی سے حمایت کرتا رہا ہے۔پاکستان کی معیشت کو پہلے دہشت گردی سے تباہ کیا۔ پھر بھاری قرضے دلوا کر اس کو پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ ڈو مور کیلئے کہتا رہتا ہے۔اب بھی عمران خان کی نئی حکومت کو ڈو مور کا پیغام اپنے وزیر خارجہ کے ذریعے دیا ۔ سابقہ حکومت کی ساری برائیاں عمران خان وزیر اعظم پاکستان کے کھاتے میں ڈال دی گئیں ہیں۔ عمران خان نے ملک میں تبدیلی کیلئے22 سال سے کوششیں کیں۔ بلا آخر اللہ نے اسے ۲۰۱۸ء کے انتخابات میں کامیابی دی۔عمران خان نے پاکستان میں بین لااقوامی معیار کے فلاحی ادارے قائم کر کے انہیں کامیابی سے چلایا۔ اس سے پاکستان کے عوام میں اس کے لیے ہمدردی پیدا ہوئی۔ ۲۰۱۳ء کے انتخابات میں ووٹو ں کے لحاظ وہ نون لیگ کے بعد دوسرے نمبر پر اور پیپلز پارٹی تیسرے نمبر پر تھی۔مگر سیٹیں زیادہ لینے کی وجہ سے پیپلز پارٹی پاکستان کی پارلیمنٹ میں حزب اختلاف بنی۔گو کہ سیاست میں تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے عمران خان کی پرانی پارلیمنٹ میں کارکردگی اچھی نہیں رہی تھی۔ پارلیمنٹ میں حاضری بھی کم تھی۔ پارلیمنٹ کیلئے نازیبا الفاظ بھی استعمال کرتے رہے۔ مگر پاکستان کے اسلای تشخص، یعنی علامہ اقبال ؒ کے خواب اور قائدؒ کے وژن، اپنی ذات میں کرپشن سے پاک ہونے، خیبر پختونخواہ میں بہتر کارکردگی، اپنے کرپٹ ممبران کے خلاف سخت ایکشن ، کرپشن سے پاک انداز میں اپنے قائم کردہ ادارے چلانے کی وجہ سے پاکستان کے عوام نے عمران خان کے الیکشن میں کامیاب کیا۔ اصل میں کرپشن کی ماری پاکستانی عوام کسی مسیحا کی تلاش میں تھی جس کو عمران خان مل کیا۔ صاحبو! کم لوگوں کا دھیان اس طرف گیا ہے کہ سیاسی لیڈروں کے عام سیاسی وعدوں سے ہٹ کرعمران خا ن نے اپنی مہم کے دوران پاکستان کی 90 فیصد خاموش آبادی کو ملک کے سب سے بڑے مسئلہ کرپشن کے ساتھ ساتھ ان کی اسلام سے محبت کی امنگوں کے مطابق پالیسی اختیار کی۔ اس نے کہا کہ میں علامہ اقبال ؒ کے خواب اور بانی پاکستان قائد اعظم ؒ کے وژن کے مطابق پاکستان کی حقیقی منزل مدینہ کی فلاحی اسلامی ریاست قائم کرنے کی کوشش کروں گا۔ جبکہ سیاست دانوں نے پاکستانی عوام کو کبھی روٹی کپڑا مکان اور اسلامی سوشلزم کے پر فریب نعرے لگا کر اس کی اصلی منزل سے دور کیا۔ کبھی طباء آزما فوجی ڈکٹیٹروں نے جابرانہ حکومت کی۔ ایک ڈکٹیٹر نے تو امریکا کا ساتھ دے کر ملک کا بیڑا غرق کیا۔ اس نے ملک کو پٹے ہوئے سلوکن روشن خیال کے تحت چلانے کی ناسود کوشش بھی کی۔ اس ملک کی اسلام سے محبت کرنے والی ۹۰ فی صد آبادی نے وہ سبق سکھایا کی آج مکافات عمل کے تحت ملک کا بھگوڑابن کر بیرون ملک چھپا ہوا ہے۔نواز شریف نے بانی پاکستان قائد اعظم ؒ کے دو قومی نظریہ کی کھل کر مخالفت کی اور کہا کہ میں سیکولر ہوں۔ اس نے پاکستان کے بنیادی نظریہ کی مخالفت اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے کی۔ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے۔ مودی نے بنگلہ دیش میں بیان دیا تھا کہ بھارت نے پاکستان توڑا ہے۔ اس کا وزیر داخلہ کہتا ہے کہ پہلے پاکستان کے دو ٹکڑے کیے اب دس ٹکڑے کریں گے۔پورے بھارت میں دہشت گردمودی نے پاکستان مخالف جنگی جنون پیدا کیا ہواہے۔نواز شریف اسے ریڈ کارپٹ دے کر بغیر ویزے کے لاہور اپنی ذاتی رہائش گاہ جاتی عمرہ بلایا۔بھارت کے اسٹیل ٹائکون کو بغیر ویزے کے مری میں بلایا۔ عوام کی خواہشات کے برعکس مغرب کی خوشنودی کیلئے عاشق رسول ممتازقادریؒ کو پھانسی پر پڑھایا۔ آج نواز شریف بھی ان ہی غلطیوں کی وجہ سے، مکافات عمل سے گزر رہا ہے۔سیاست دانوں کو اس بات کو پلے باندھ لینا چاہیے کہ پاکستان میں وہ ہی سیاست دان کامیاب ہو سکتاے جو پاکستان کے ۹۰ فی صد خاموش آبادی کی نمائندگی کرے۔پاکستان کاخواب دیکھنے والے علامہ اقبالؒ اور اس خواب میں رنگ بھرنے والے پاکستان کے بانی قائداعظمؒ کے وژن کے مطابق اسے مدنیہ کی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی طرف گامزن ہو۔عمران خان نے اسے نعرے پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس نے اپنی پہلی تقریر میں اس وژن کا اعادہ بھی کیا ہے۔ملک سے محبت رکھنے والے ساری مذہبی اور دو قومی نظریہ اور مدینہ کی فلاحی اسلامی ریاست سے محبت کرنے والے سارے عناصر کو عمران خان کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہئیں۔اس وقت عمران خان کے پاس وہ ہی پرانے سیاسی لوگ ہیں۔ ان سے غلطیاں سر زد ہو رہی ہیں۔وقت آنے پر جلد ہی عمران خان ان لوگوں تبدیل کر دے گا۔ پھر وہی لوگ رہ جائیں گے جن کو عمران خان کے وژن سے مکمل لگاؤ ہوگا۔مملکت کے چوتھے ستون میڈیا کو بھی مثبت تنقید ضرور کرنی چاہیے ۔ تنقید سے ہی ملک صحیح سمت چلا کرتے ہیں۔اگر تنقید پاکستان کے آئین اور اس کی احساس مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کیلئے ہو گی تو سر آنکھوں پر۔ اگر میڈیا کے کچھ سیکولرعناصر اپنی پرانی روش پر چلیں گے تو یہ مناسب نہیں۔ اس سے پاکستان کی منزل دور ہو جائیگی۔ اب پاکستان اس کیلئے تیار بھی نہیں۔ مملکت کا چوتھا ستون میڈیا، عمران خان کی حکومت کو کم از کم تین ماہ کا عرصہ دے تاکہ وہ اپنی منزل کا راستہ متعین کر لے۔ پھر آپ کھل کر تنقید کریں۔ اللہ پاکستان کی منزل آسان کرے ۔ آمین

*****

آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل میں شہبازشریف کی گرفتاری

adaria

قومی احتساب بیورولاہور نے آشیانہ اقبال سکینڈل میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب وقومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف شہبازشریف کوگرفتارکیا،شہبازشریف پانی کمپنی سکینڈل میں نیب کو بیان ریکارڈ کرانے گئے تھے انہیں آشیانہ اقبال سکینڈل کے تحت گرفتار کرلیاگیا،ان کی گرفتاری فواد حسن فواد کے بیان کی روشنی میں کی گئی ہے، نیب نے شہبازشریف کی گرفتاری کے حوالے سے سپیکر قومی اسمبلی کو بھی آگاہ کردیا ہے۔ادھروزیراطلاعات فواد چودھری نے کہاکہ کرپشن کے خلاف ابھی یہ پہلی گرفتاری ہے اوربھی اہم گرفتاریاں ہوں گی نیز حکومت کرپشن کے حوالے سے زیروٹالرنس کی پالیسی پرگامزن ہے ، یہ بات بالکل درست ہے کہ کرپشن کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کرناچاہیے چاہے وہ کوئی بھی شخص کرے اس کاتعلق عنان اقتدار سے ہو یا اپوزیشن سے، ٹارگٹڈ احتساب نہیں ہوناچاہیے نون لیگ اس وقت یہ الزام عائد کررہی ہے کہ ضمنی انتخابات ہونے جارہے ہیں اس وجہ سے حکومت یہ کارروائی کررہی ہے جبکہ حکومت نے یہ واضح کیا ہے کہ یہ تمام ترکارروائی ادارے کررہے ہیں نیب بالکل آزاد ہے ہونابھی ایسے چاہیے، حکومت کومزید ایک قدم بڑھ کر یہ مثال پیش کرنا ہوگی کہ اگر اس کی صفوں میں بھی کوئی ایسے شخص موجود ہیں تو ان کے خلاف بھی اسی انداز میں کارروائی کرنی چاہیے نون لیگ کے سربراہ اوراپوزیشن لیڈر کی گرفتاری کوئی معمولی اقدام نہیں مگر بات یہ ہے کہ جب کسی بھی کرپٹ افراد پرہاتھ ڈالاجائے تو یہ صرف الزام تک محدود نہیں ہوناچاہیے ایسا نہ ہوکہ صرف ایک فلم کاٹریلر چلے اور اس کے بعد کہانی کسی اورموڑ پرچلی جائے۔ مضبوط ہاتھ ڈالنا ہوگا تب ہی یہ کرپشن ختم ہوسکے گی ۔چونکہ اس گرفتاری میں فواد حسن فواد کو شہبازشریف کے سامنے بٹھایاگیا اورانہوں نے بھی احد چیمہ کی طرح یہ کہاکہ مجھے جوشہبازشریف کہتے رہے میں وہی کرتا رہا اس میں میرا کوئی قصورنہیں۔ فواد حسن فواد کی بات کافی حد تک درست بھی ہے لیکن وہ بھی اس گناہ میں برابر کے شریک ہیں قوم کاپیسہ لوٹا گیا خزانے کو ناتلافی نقصان پہنچایا گیا اس کو بھگتنا تو پڑے گا۔جب تک کوئی مثال قائم نہیں ہوگی اس وقت تک کرپشن کارکناناممکن ہے سترسا ل سے بگڑے ہوئے اس نظام کو ٹھیک کرنے کے لئے بہت صبر سے کا م لینا ہوگا حکومت اپنی صفوں میں بھی ایسی کالی بھیڑوں کو تلاش کرے جو اس کے لئے سبکی کاباعث بن رہی ہیں یا بن سکتی ہیں۔ سب کے ساتھ برابر کاسلوک کیاجائے جس نے قومی خزانہ لوٹا اس کوفی الفورسزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسا قدم اٹھانے کی جرات نہ کرسکے۔اس حوالے سے اپوزیشن جواحتجاج کررہی ہے اس کو بھی دیکھناچاہیے کہ کیا وہ اس احتجاج کیلئے حق بجانب ہے یانہیں کہیں ایسا تو نہیں ہورہا کہ ایک دوسرے کو بچانے کے لئے یہ میوزیکل چیئرکاکھیل شروع کردیاگیا ہے اب جب کہ ادارے مضبوط اور آزاد ہونے جارہے ہیں تو اس کے لئے سیاسی رہنماؤں سمیت عوام کو بھی برداشت کی پالیسی اپنانا ہوگی یہ کیسے ممکن ہے کہ اگر کسی نے لاکھوں کروڑوں نہیں اربوں کھربوں کی کرپشن کی ہو اور وہ پرتعیش زندگی گزار کے عوام کو بھوک وافلاس اورغربت کاتحفہ دے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین اوروزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاداکبرنے بتایا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی میں مسلم لیگ(ن) کے دور میں دی گئی ترقیوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے، ہمارا موقف ہے کہ پی اے سی میں نواز شریف دور کے منصوبوں کا آڈٹ موجودہ حکومت جبکہ ہمارے دور کے منصوبوں کاآڈٹ اپوزیشن کرے۔ لندن اور دبئی میں پاکستانیوں کی 10 ہزار سے زائد جائیدادیں ہیں، دبئی میں تین ہاسنگ سوسائٹیوں کی مکمل تفصیل آچکی ہے۔ 10 ہزار میں سے 895 جائیدادوں کی فہرست الگ کرلی ہے اور تحقیقات ہو رہی ہے۔ بہت سے لوگوں نے جائیدادیں اپنے نام کی بجائے اپنے رشتہ داروں یا ملازمین کے ناموں پر الاٹ کروا رکھی ہیں۔موجودہ حکومت کی معاشی پالیسی کے تین بنیادی ستون ہیں جن میں بدعنوانی کیخلاف کریک ڈاؤن، بیرونی سرمایہ کاری پر خصوصی توجہ اور کاروباری طبقہ کو سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔ حکومت نے ایک ماہ میں جس تیزی سے کام کیا ہے اس کی مثال 70 سالوں میں نہیں ملتی۔ ناجائز تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں ساڑھے 4 ہزار کنال اراضی واگزار کرائی گئی ہے۔ وزیر اعظم کے واضح احکامات ہیں کہ غریب کی جھونپڑی نہیں گرانی تاہم بااثر افراد کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی میں مسلم لیگ (ن) کے دور میں دی گئی ترقیوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔ احتساب کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ سسٹم شفاف ہو گا تو ملک کو فائدہ ہو گا۔ چند لوگوں کی وجہ سے پارلیمنٹ بدنام ہوتی ہے ، اگر کوئی مجرم ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے۔بیرون ملک سے بھی لوٹی ہوئی دولت لازمی لاناچاہیے مگر اس سے قبل حکومت یاخودمختاراداروں کوچاہیے کہ وہ ملک کے اندر جوکرپٹ مافیا موجود ہے اس کے گردگھیراتنگ کریں ان سے لوٹی ہوئی دولت برآمدکریں ناجائزجائیدادیں قبضے میں لیکرفروخت کردی جائیں اس کے ساتھ ساتھ بیرون ملک کے چیپٹرپربھی کام کرناچاہیے جو اچھے اقدام ہیں انہیں ہمیں سراہناہوگا اوراگرکوئی کمی بیشی ہے تو حکومت کافرض ہے کہ وہ اسے پورا کرے اورکسی بھی انگلی کواپنی جانب اٹھنے کاموقع نہ دے۔

نیوٹک کے سربراہ کااحسن اقدام
نیشنل ووکیشن ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ(نیوٹک) کے سربراہ ذوالفقاراحمدچیمہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیاہے۔وزیراعظم سے ملاقات میں انہوں نے اس حوالے سے بات بھی کہ ان کابھائی نون لیگ کی طرف سے ایم این اے ہے لہٰذا حکومت اپنی مرضی سے کسی بھی شخص کو نیوٹک کاسربراہ مقرر کردے لیکن عمران خان نے کہاتھا کہ وہ انہیں بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور ان کی ایمانداری پربھی کوئی شک نہیں لیکن ذوالفقارچیمہ اس بات پربضد رہے کہ وہ نیوٹک سربراہ کے طورپراپنی خدمات کوجاری نہیں رکھ سکتے۔ذوالفقارچیمہ کایہ ایک احسن اقدام ہے کیونکہ آج نہیں تو کل یہ الزام عائد ہوناتھا کہ ایک بھائی نون لیگ میں موجود ہے اور دوسرا حکومتی ادارے کاسربراہ ہے جس طرح کہ ماضی میں بھی ایسی مثال قائم رہی ہے کہ ایک بھائی گورنرسندھ تھا تو دوسراتحریک انصاف کارہنماتھا۔ذوالفقارچیمہ کے اس فیصلے کوسراہناچاہیے اور قابل تقلیدبھی ہوناچاہیے اس طرح کے صاف دامن والے لوگ کبھی بھی ایسی سربراہی قبول نہیں کرتے جس کی وجہ سے ان کے دامن پرکسی قسم کی چھینٹ آئے ۔ذوالفقارچیمہ کاماضی بتاتا ہے کہ وہ بالکل اصولوں کے پابنداورقانون کے تحت چلنے والی شخصیت کے حامل تھے وہ نیوٹک کے سربراہ کے طورپرڈیڑھ لاکھ کی تنخواہ پرکام کرتے رہے جبکہ ان کی تنخواہ چھ لاکھ کے لگ بھگ تھی ایسے ہی لوگ دراصل قوم کے ہیروہوتے ہیں جن کی پیروی کرناضروری ہوتاہے۔

کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال عالمی قوانین کی خلاف ورزی

کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم اور نوجوانوں کی شہادت کوئی نئی بات نہیں۔ جب سے کشمیریوں نے آزادی کی تحریک شروع کی ہے تب سے وہ بھارتی تشدد برداشت کر رہے ہیں۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے میں ناکامی پر قابض بھارتی فوج نے ظلم و ستم کے نئے سے نئے حربے آزمانے شروع کر دیے۔ کبھی کشمیری نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور بعض کو شہید کرکے جعلی مقابلوں کا ڈرامہ رچایا جاتا۔پاکستان نےبھارت پر مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے قصبہ بانڈی پورہ میں بھارتی فورسز نے کیمیائی ہتھیار استعمال کئے جو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ برس بھی بھارتی فورسز کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ اٹھایا تھا اوریہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت نے کبھی اس الزام کی تردید نہیں کی۔ ترجمان دفتر خارجہ مقبوضہ کشمیرمیں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کااستعمال بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی خبروں کی تصدیق لازمی ہونی چاہیے۔ نئی دہلی معاملے کی تحقیقات کے لئے بین الاقوامی مبصرین کو وادی تک رسائی دے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ تہاڑ جیل میں تامل ناڈو پولیس نے کشمیری نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس پر پاکستان نہتے کشمیری نوجوانوں پر بھارتی مظالم کی بھر پور مذمت کرتا ہے۔ کشمیریوں کی نسل کشی حق خود ارادیت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی ضمیر کو جاگنا چاہئے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین کارروائیوں کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ کشمیر جنوبی ایشیا کا فلیش پوائنٹ ہے۔ بھارت طاقت اور قوت کے ذریعے کشمیروں کی آواز کو دبا نہیں سکتا۔ آج کشمیریوں کی تیسری نسل میدانِ عمل میں موجود ہے۔پیلٹ گنز کے استعمال کے ذریعے نوجوانوں کو اندھا کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی تہاڑ جیل میں قید سید صلاح الدین کے بیٹے سمیت 18 بے گناہ قیدیوں کو بھارتی خصوصی پولیس ٹیم نے بری طرح زودوکوب کیا جس کے نتیجے میں تمام قیدی بری طرح زخمی ہوگئے۔ سر اور کندھے پر چوٹیں آئیں۔ اہلخانہ نے بتایا انہیں کینسر ہے۔ دہلی ہائیکورٹ نے بھی جیل حکام کو ہدایت کی کہ شاہد یوسف سمیت تمام متاثرہ قیدیوں کو طبی معائنے کیلئے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ سید علی گیلانی نے بھارتی وزیراعظم مودی کے بیان کہ ’’ہمیں مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہیے‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو ختم کریں گے، کی رٹ لگانے سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا۔ پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ دہشت گردی کیا ہے اور کون اسے بڑھاوا دے رہا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوام متحدہ میں پیش کردہ اپنی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی پوری طرح عکاسی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بدترین دشمنی کی مثال قائم کررہا ہے۔رپورٹ میں یہ چشم کشا انکشاف بھی کیاگیا ہے کہ بھارتی فوجی اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ’’موساد‘‘ کی مدد سے آزادی کے لیے جدوجہد کرنے اور بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف احتجاج کرنے والے کشمیری نوجوانوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاراستعمال کررہا ہے۔ اسرائیل غزہ اور لبنان میں فاسفورس بم استعمال کرتا رہا ہے۔مودی کے دورہ اسرائیل کے بعد نہتے کشمیریوں پر فاسفورس بم استعمال کیا گیا۔ گزشتہ روز بھارتی فوج نے پلوامہ میں 4 گھروں کو کیمیائی ہتھیاروں سے اْڑا دیا۔ 3 کشمیری شہید ہو گئے۔گزشتہ سال سے بھارتی فوج نے کشمیریوں کے خلاف پیلٹ گن کا استعمال کر کے بربریت کی نئی تاریخ رقم کی اور سیکڑوں کشمیریوں کو پیلٹ گن سے نشانہ بنا ڈالا۔ افسوسناک امر تو یہ ہے کہ بھارتی فوج کے اس مظالم پر عالمی برادری نے کوئی نوٹس نہیں لیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اپنے لب سیے رکھے۔ گزشتہ سال جولائی میں بھارتی فوج نے حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان مظفر وانی کو شہید کر دیا۔ برہان وانی سوشل میڈیا پر بھارتی مظالم کو منظرعام پر لانے کے باعث کشمیریوں میں بہت مقبول تھا۔بھارتی ظلم و ستم کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے میں ناکام ہو چکا ہے۔ بھارتی فوج کی تشدد کی ہر کارروائی کے بعد کشمیری پہلے سے زیادہ جوش و جذبہ سے گھروں سے باہر نکل آتے اور بھارتی فوج پر پتھراؤ شروع کر دیتے ہیں۔ بھارت کا ظلم و تشدد امن کی عالمی قوتوں کیلئے ایک چیلنج بن چکا ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ مغربی دنیا میں کہیں بھی کوئی المیہ رونما ہو جائے تو یہ امن پسند قوتیں آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں لیکن کشمیر میں ہونے والے ظلم و تشدد پر یہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔بھارت نے 1948میں خودمختار ریاست کشمیر کے غالب حصے پر اپنا تسلط جمانے کے بعد حق خودارادیت کیلئے آواز اٹھانے والے کشمیری عوام پر مظالم کا جوسلسلہ شروع کیاتھا وہ آج بھی جاری ہے۔ گزشتہ 70 برس کے دوران بھارتی فوجوں کے ظلم و جبر سے بچوں اور خواتین سمیت لاکھوں کشمیری عوام جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود بھارت کشمیری عوام کو ان کی آزادی کی جدوجہد کے راستے سے نہیں ہٹا سکا اور نہ ہی ان کی آواز خاموش کراسکا ہے۔کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی اور تنازع کا کلیدی محرک ہے۔ اس تنازع کو حل کرنے کیلئے دونوں ممالک نے جنگوں سے لے کر مذاکرات تک ہر مرحلہ طے کیا مگر اس کا کوئی حل نہ نکل سکا اور یہ جوں کا توں چلا آ رہا ہے بلکہ اب کشمیریوں کی تحریک آزادی میں شدت آنے کے ساتھ ساتھ بھارتی ظلم و تشدد میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ پاکستان کو ان بھارتی مظالم کے خلاف اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے پلیٹ فارم پر بھرپور آواز اٹھانی چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ کئی کشمیری نواجونوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ بھارت کشمیریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کررہا جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔پوری امت مسلمہ کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے۔ عالمی برادری کا اس کا نوٹس لینا چاہیئے۔

*****

Google Analytics Alternative