کالم

کشمیریوں کی جلا وطن حکومت کا قیام

گزشتہ ماہ 5 اگست کو بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرتے ہوئے ریاست کو 2 حصوں میں تقسیم کردیا جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گی جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی ۔ وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ اور لداخ کو وفاق کا زیر انتظام علاقہ بنادیا گیا جس کی قانون ساز اسمبلی نہیں ہوگی ۔ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل جیسے ہتھکنڈے اختیار کررہی ہے ۔ آرٹیکل 370 ختم ہونے سے فلسطینیوں کی طرح کشمیری بھی بے وطن ہوجائیں گے کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیرمسلم ، غیر کشمیری کشمیر میں آباد ہوجائیں گے جو ان کی زمینوں ، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے ۔ وادی میں پہلے ہی بھارت کی سات لاکھ سے زائد فوج تعینات تھی اب حالیہ اقدامات سے قبل ہی ہزاروں کی تعداد میں بھارتی فوجیوں کو مقبوضہ وادی میں تعینات کر دیا گیا تھا ۔ گویا کشمیری عوام کی بجائے ہر طرف فوج ہی فوج نظر آتی ہے کیونکہ پانچ اگست سے آج تک وادی میں سخت کرفیونافذ ہے اور کشمیری اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔ کشمیری قیادت پابند سلاسل کردی گئی ہے ۔ روزانہ نہتے کشمیریوں کو شہید اور زخمی کیا جا رہا ہے ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک میں اضافے کی حالیہ لہرا اٹھنے کے بعد اسرائیل سے مزید تعاون مانگا جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے اسرائیل نے مزید اڑھائی سوکمانڈوز اور پروفیشنلز مقبوضہ کشمیر بھیج دیئے ۔ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے حق میں حالات کنٹرول کرنے اور حریت پسند مزاحمت کار تنظیموں کی سرگرمیوں سے نمٹنے کےلئے اسرائیل نے سینکڑوں جاسوسوں کے علاوہ 350 کمانڈوز مقبوضہ کشمیر میں بھیجے تھے ۔ بھارت کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ساڑھے تین سو اسرائیلی کمپنیاں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں ، جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی معاونت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی فوجی تنصیبات کی جاسوسی میں ملوث ہیں ۔ مقبوضہ علاقے میں دیکھا جا رہا ہے کہ اسرائیلی سیاحوں کی کثیرتعداد اب لیہہ کے سارے علاقہ میں سڑکوں سے لے کر ہوٹلوں تک اور ریستورانوں سے بودھ راہبوں کی خانقاہوں تک ہر جگہ موجود ہیں ۔ لیہہ کے بازاروں اور عام مقامات پر جگہ جگہ لداخی اور عبری (اسرائیلی) زبانیں بولی اور سنی جارہی ہیں ۔ اکثر دکانوں کو بھی اسرائیلی سیاحوں اور گاہکوں کے مزاج کے مطابق ضروریات کے ساز و سامان سے آراستہ کیا گیا ہے ۔ مودی حکومت نے اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ہندو آبادکاری کا منصوبہ تشکیل دیا ہے ۔ جس کے مطابق جموں و کشمیر میں دو سے تین لاکھ ہندوَوں کو نہ صرف رہائش بلکہ مکمل سیکیورٹی بھی فراہم کی جائے گی ۔ مقبوضہ وادی کے مسلم اکثریتی علاقے میں ہندو بستیاں آباد کی جائیں گی ۔ اس کے علاوہ مودی نے عرب ممالک کو مقبوضہ کشمیر میں سرمایہ کاری کی دعوت کی ہے تاکہ بیرونی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک سے لوگ بھی آ کر یہاں آباد ہوں گے ۔ اس کےلئے بہانہ یہ بنایا گیا ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری سے علاقے میں ترقی ہوگی اور مقامی افراد کو روزگار ملے گا ۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو مودی کشمیر پر اپنا قبضہ جمانے اور اسے براہ راست بھارت کے زیر اثر لانے کےلئے کر رہا ہے ۔ مگر ہ میں فوری طورپر اس کا توڑ کرنا چاہیے ۔ اس کےلئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ مقامی کشمیری قیادت کی مد د سے ہ میں ایک جلا وطن کشمیری حکومت کا قیام عمل میں لانا چاہیے اور فوری طورپر اس کو تسلیم بھی کرنا چاہیے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم کا بھی کہنا ہے کہ تحریک حریت کشمیر سے مشاورت کے بعد آزاد کشمیر میں کشمیریوں کی جلا وطن حکومت قائم کر کے پوری دنیا سے کشمیریوں کی قیادت کو اس حکومت میں شامل کیا جائے اور فوری طور پرعالمی برادری سے اس حکومت کو تسلیم کرنے کی اپیل کی جائے ۔ کشمیر اب ایک متنازع نہیں جنگ زدہ علاقہ ہے اور اقوام متحدہ کا چارٹر جنگ زدہ علاقے کو ہر طرح کی مدد دینے کا پابند کرتاہے ۔ اب بھارت کے مقابلے میں صرف پاکستان اور کشمیر نہیں بلکہ امن اور انصاف پسند دنیا فریق ہے ۔ دنیا کے ہر امن پسند کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق مظلوم کشمیریوں کی مدد کرنا ہوگی ۔ اگر ہم نے کشمیر کی جلا وطن حکومت کو پوری طرح فعال کر لیا تو دنیا اسے تسلیم کرے گی اور پھر بھارت میں خالصتان سمیت آزادی کی دوسری تحریکیں بھی کامیاب ہوں گی ۔ ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے اقدامات کی وجہ سے جہاں کشمیر میں تحریک آزاد ی کو جلا ملی ہے وہیں پر بھارت سمیت دنیا بھر میں سکھوں نے اپنے الگ وطن خالصتان کی علیحدگی کی تحریک زور و شور سے شروع کر دی ہے ۔ دنیا بھر میں سکھ اپنے وطن کے قیام کیلئے اْٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔ 2020ء میں آزادخالصتان کےلئے ہونے والے عالمی سطح کے ریفرنڈم سے سکھوں کےلئے نئے دور کا آغاز ہوگا اور یہ ریفرنڈم آزاد خالصتان کا سبب بنے گا ۔ بھارت آئین میں ترمیم کر کے غیر کشمیریوں کو کشمیر میں آبادکاری کی دعوت دے رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرونی سرمایہ دار بھی کشمیر میں آئیں گے ۔ اگر یہ سب کچھ ہوگیا تو کشمیری زمین کشمیریوں کے علاوہ بیرونی آبادکاروں میں تقسیم ہوگی اور وہاں ان کی آبادیاں بنیں گی ۔ جائیدادیں خریدی جائیں گی ۔ یوں کشمیر کی اکثریت اقلیت میں بدل جائےگی ۔ بالکل فلسطین والا حال ہوگا ۔ ابھی وقت ہے کہ ہم کشمیر کو فلسطین بننے سے روک سکتے ہیں ۔ اس کےلئے فوری طور پر ہ میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اقوام عالم میں کشمیریوں کی حمایت زور شور سے جاری رہنی چاہیے اور دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں کو اس کےلئے سرگرم کرنا ہوگا ۔ کشمیر سے باہر کے کشمیری ایک جلاوطن حکومت قائم کریں تو اس سے ایک تو کشمیریوں کو وادی سے باہر عالمی سطح پر ایک پلیٹ فارم میسر آجائے گا اور دوسرا بھارتی حکومت کا دعویٰ کہ کشمیر میں سب اچھا ہے، جھوٹا پڑ جائے گا ۔

دولت کی غیر مساویانہ تقسیم

اگر ہم موجودہ دور میں عالمی اور پاکستان کے مسائل پر نظر ڈالیں تو وہ بُہت سارے ہیں مگر ان میں جو سب سے اہم مسئلہ بھوک اور افلاس ہے ۔ اگر عالمی شما ریات پر طا ئرانہ نظر ڈالی جائے تو اس سے یہ بات ظاہر ہے کہ دنیا کے 6 ارب لوگوں میں ایک ارب لوگ خوراک نہ ہونے کی وجہ سے متا ثر ہو رہے ہیں ۔ جن میں 98 فیصد لوگ ایشیاء میں سکونت پذیرہیں ۔ بالفا ظدیگر کرہ ارض پر 6ارب انسانوں میں سے ایکارب بھوک اور افلاس کا شکار ہے ۔ اگر ہم افریقی ممالک پر نظر ڈالیں تو افریقی ممالک میں بھوک اور افلاس کی شرح اور بھی زیادہ ہے یعنی وہاں پر 4 میں سے ایک انسان انتہائی بھوک اور افلاس کا شکار ہے ۔ بد قسمتی سے ترقی پذیر ممالک میں 100 ملین بچے کم وزن کے پیدا ہوتے ہیں ۔ اور 66 ملین سکول کے ایسے بچے بھی ہیں جنکو مناسب خوراک کی عدم دستیابی کا سامنا ہے ۔ اگر ہم نے ان 66 ملین یعنی 6;46;6 کروڑ بچوں کو مناسب خوراک دینی ہے تو اس کام کے لئے 3;46;2 ارب ڈالر درکار ہوں گے ۔ اگر ہم غُربت کو ایک ڈالر کی شرح سے تصور کر تے ہیں تو جنوبی ایشیاء جو ڈھائی ارب لوگوں کا مسکن ہے اور جس میں بھارت، پاکستان ، نیپال، سری لنکا، بھوٹان، مالدیپ شامل ہیں تو اس وقت بھارت میں 44 فیصد لوگ خطر ناک غُربت کی سطح سے نیچے رہنے پر مجبو ر ہیں ، نیپال میں 38 فیصد ، پاکستان میں 31 فیصد، اور بنگلہ دیش میں 29 فیصد لوگ با لفاظ دیگر 6 ارب انسانوں کی آبادی میں 1;46;4 ارب انسان انتہائی غُربت کا شکار ہے ۔ اگر ہم غُربت کی شرح کو دو ڈالر کی تناسب سے کرتے ہیں تو پھر چین میں غُربت کی لکیر سے نیچے رہنے لوگوں کی تعداد 30 فی صد، بنگلہ دیش میں 77 فیصد، بھارت میں 69 فیصد، سری لنکا میں 29 فیصد ، نیپال میں 57 فیصد فلپائن میں 41 فیصد اور پاکستان میں 70 فیصد لوگ انتہائی غُر بت کا شکار ہے ۔ دنیا کا دوسرا بڑا مسئلہ خو راک کا ضیاع ہے ۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ دنیا میں خوراک بڑی وافر مقدار میں ضائع ہو تی ہے ۔ امریکہ خوراک ضائع ہو نے کی فی کس شرح 760 کلوگرام ، آسڑیلیا میں 690 کلوگرام فی کس، ڈنمارک میں 660 کلوگرام فی کس، سوئزر لینڈ میں 650 کلوگرام فی کس اور ہالینڈ میں 610کلوگرام سالانہ خوراک فی کس ضائع کیا جا رہا ہے ۔ اگر ان خوراک کو ضا ءع ہونے سے بچایا جائے تو اس سے اُن غریبوں کی خوراک کی ضرو ریات پو ری کی جا سکتی ہیں جو خوراک کی کمی کا شکار ہیں ۔ اقوام متحدہ کے مطابق پو ری دنیا میں ایک تھائی خوراک ضائع کیا جا رہا ہے ۔ اگر ہم غذا کی سیکیو رٹی یعنی ذخیرہ کرنے کے نظام کو دیکھیں تو پاکستان اپنی ضروریات کا خوراک ذخیرہ کرنے والے 105 ممالک میں 77ویں نمبر پر ہے جبکہ اسکے بر عکس سری لنکا خوراک ذخیرہ کرنے والے ممالک میں 105 ممالک میں 60 ویں نمبر پر ، بھارت 67 ویں نمبر پر شامل ہے جبکہ اسکے بر عکس ترقی یافتہ ممالک میں امریکہ خوراک ذخیرہ کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر ، کنیڈ ا 7 ویں نمبر پر، اور بر طانیہ 15 ویں نمبر پر ہے ۔ تیسرا بڑا مسئلہ جس سے پوری دنیا پریشان ہیں وہ غریب اور امیر کے درمیان فر ق ہے ۔ آج کل دنیا میں 10 فیصد مالداروں کے پاس 90 فیصد دولت ہے جبکہ 90 فیصد لوگوں کے پاس 10 فیصد ہے ۔ دنیا میں موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ غریب اور امیر کے درمیا فر ق حد سے بڑھ گیا اور بد قسمتی سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بھی غریب اور امیر کے درمیان حد سے بڑھ گیا ۔ یا تو لوگ حد سے زیادہ امیر ہے اور یا حد سے غریب ۔ موجودہ دور میں درمیانہ اور سفید پو ش طبقہ آخری سانسیں لے رہاہے ۔ اگر ہم پاکستان میں غُربت بھوک اور افلاس کو دیکھیں تو ان مسائل میں پاکستان کی فضول پالیسیاں ، کرپشن اور بد عنوانی، زمینوں کی نامناسب تقسیم، ملاک جمع کر نے کی سعی، علم اور تعلیم کی کمی، بڑے پیمانے پر امپورٹ ، لیڈر شپ کی کمی اور نج کا ری جیسے مسائل شامل ہیں ۔ دنیا میں غُربت افلاس اور بھوک کا سب سے بڑا مسئلہ دولت کا غیر مساویانہ تقسیم ، غیر پیداواری اخراجات اور کسی حد تک دفا عی اخراجات بھی ہیں ۔ سی آئی اے اور دوسرے مقتدر اداروں کے مطابق دنیا میں ٹوٹل دفا عی اخراجات تقریباً 1747 بلین ڈالر ہے جس میں سب سے زیادہ دفا عی اخراجات امریکہ کی ہے جو اپنی دفا ع پر تقریباً 700 بلین ڈالر خر چ کر رہا ہے ۔ جبکہ بر طانیہ کی دفا عی اخراجات 60 ارب ڈالر، جاپان کی 56ارب ڈالر، چین کی 166 ارب دالر اور روس کی دفاعی اخراجات 90 ارب ڈالر ہے ۔ اور پاکستان جیسے غریب ترقی پذیر ملک بھی دفا ع 7 ارب ڈالر سالانہ خرچ کررہا ہے ۔ اگر ہم مندر جہ بالا دفاعی اخرا جات پر نظر ڈالیں تو اس سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا کے سارے ممالک اپنے وسائل کا ایک بڑا حصہ دفا ع پر فضول خرچ کر رہا ہے جو ایک پاگل پن کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ لہٰذا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہ میں مندرجہ بالا فضول معاملات سے اپنے آپکو بچا نا چاہئے اور پو ری توجہ لوگوں کے س مسائل اور بالخصوص بھوک افلاس کو ختم کرنے پر دینا چاہئے ۔ اس کے علاوہ جب تک غریب اور امیروں کے درمیان فرق کو کم نہیں کیا جائے گا اُ س وقت تک غُربت ، بھوک اور افلاس پر قابو نہیں پایا جاسکتا ۔ میں اس کالم کے تو سط دنیا کے ہر مذہب کے عالموں ، سکالروں ، شاعروں ، ادیبوں ، دانا لوگوں ، اہل علم و دانش سے استد عاکرتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں پریشر گروپ بنائیں اور حکومتوں کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ اپنے علاقائی مسائل بات چیت کے ذریعے حل کریں اور دفاع اور دوسرے غیر پیداواری چیزوں پر جو رقم خرچ کر رہے ہیں اُنکو اپنے لوگوں کے فلا ح و بہبود پر خرچ کریں ۔ تاکہ دنیا میں امن آشتی کو فروع ہو ۔ جب تک دنیا میں امن نہیں ہوگا اُس وقت تک ترقی ناممکن ہے ۔ مسلمان ممالک سے استد عا ہے کہ وہ اپنے ممالک میں اسامی اقتصادیاتی نظام اور بینکاری کو فروع دیں کیونکہ اسلامی نظام اقتصادیات میں سارے اقتصادی مسائل کا حل موجود ہے ۔ دنیا کا کوئی اور اقتصادی نظام دنیا میں اقتصادی خو شحالی کی گارنٹی نہیں دے سکتا ۔

عام آدمی پریشان

لگتا ہے کہ معاشی حوالے سے حالات سخت ہوں گے موجودہ حکومت کیلئے چیلنج ہے کہ آئی ایم ایف کو قسطیں کیسے ادا کی جائیں یہ ایک مسئلہ ہے جوں جوں وقت گزرے گا حالات گھمبیر ہوں گے ۔ عام آدمی دست بہ دعا ہے کہ یا اللہ خیر ۔ پہلے جب خوشحالی کا دور تھا تو ہمارے شعرا لب کی نازکیوں کا رونا روتے تھے بڑی باریک بینی سے ہجر ووصال کے قصے بیان کیئے جاتے اور غزالی آنکھوں تذکرے ہوتے اور خد وخال کا ذکر ہوتا اور عنبری زلفوں کو یاد کیا جاتا کیونکہ ملک میں خوشحالی تھی اور لوگ پیٹ کے غم سے آزاد تھے تو اس قسم کے شعر گنگناتے تھے

پھول کی ہیں پتیاں یہ لب ترے

اور تری آنکھیں شرابی نیم باز

اور کہتے تھے

یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھور

یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار

یہ تیرے لب یہ دیارِ یمن کے سْرخ عقیق

یہ آئینے سی جبیں ، سجدہ گاہِ لیل و نہار

مگر اب ایسا نہیں ہے ، سب قصہ پارینہ ہے ۔ اب صرف پیٹ کا رونا ہے ہر طرف سے یہ آواز آرہی ہے کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے بحرانی کیفیت نے ہر شخص کو مایوسی میں مبتلا کیا ہے خوشحالی اب قصہ پارینہ بن گئی ہے ایک عام آدمی بے یقینی کا شکار ہے اور تشویش میں مبتلا ہے اور ملک کی ابتری کا رونا رو رہا ہے ایک بحران ختم ہوتا ہے تو دوسرا جنم لیتا ہے ملک پے درپے فسادات کے زد میں ہے اور اس کیفیت میں دوست دشمن کی تمیز ختم ہوگئی ہے اور یہ سمجھنا مشکل ہے کہ دوست کون ہے اور دشمن کون ہے;238; اس حالت میں غریبوں کا غارت ہوگیا ہے سرمایہ داروں اور اداروں کی جنگ میں عوام کا وہ حشر ہو رہا ہے جو ہاتھیوں کی جنگ میں چیونٹیوں کا ہوتا ہے آٹا، چاول، دال، گوشت، سبزی اور گھی جو عام روز مرہ کی چیزیں ہیں ان کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے ۔ ملک میں جس معاشی بحران نے جنم لیا اس نے قوم کو ایک اور پوری قوم کو متاثر کیا اور ہر فرد بے یقینی اور مایوسی کا شکار ہوگیا مراعات یافتہ طبقہ تو اپنا الو سیدھا کرتا ہے مگر عام آدمی بدترین بحرانوں سے دوچار ہے اور پریشان حال ہے اور لوگ نفسیاتی مریض بنتے جارہے ہیں اور ذہنی الجھنوں کا شکار ہیں اور ملک میں ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ملک کو سیاسی،معاشی، معاشرتی اور سماجی طور پر انہوں نے اپنی بے تدبیروں ، غلطیوں اور خطاءوں کی وجہ سے ناکارہ کردیا ہے اور ان کے اقدامات سے لوٹ کھسوٹ ہمارہ طرہ امتیاز بن گیا ہے مگر پھر بھی ایک بار پھر عوام کے سامنے میدان میں ہیں اور عوام ہیں کہ ان ہی سے بھلائی کی امید پر دھوکہ کھانے کیلئے تیار ہیں

میرکیا سادہ ہیں کہ بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

المیہ ہمارا یہ ہے کہ میر جعفر کا پوتاہمارا پہلا صدر بنا تھا اور کچھ عرصہ یہ گورنر جنرل کے منصب پر بھی فائز رہا انہوں نے جو بویا ہے اس کی تیار فصل آج کھایا جارہا ہے اور اس کے نتیجے میں حرام خور طبقہ توندیں نکال رہا ہے اور عام آدمی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے اور پھر بھی عوام کو سبز باغ دکھائے جارہے رہے ہیں عوام کو الیکشن کے دنوں میں بےوقوف بنایا جاتا ہے اور ملک کا باشعور طبقہ سوچتے سوچتے کڑھتا ہے ۔ یہ بحران اچانک نہیں پیدا کئے جاتے بلکہ اس کیلئے باقاعدہ پلاننگ کی جاتی ہے اور کوئی بحران آخری بحران نہیں ہوتا ہے آگے دیکھئے اور بحرانوں کا تماشا کریں کیونکہ نظام بد موجود ہے اس کے آنے والے بد اثرات مزید اذیت ناک ہونگے اور ہمارے شاعر حضرات لب ورخسارکو بھول کر صرف نوحے لکھیں گے اور یہ کہنا بھول جائینگے ۔ ۔ !

مودی کو منہ توڑ جواب دینے کا ارادہ،اینٹ کاجواب پتھر سے دیں گے وزیراعظم کامظفرآباد میں تاریخی جلسہ سے اہم خطاب

ہندوستان کے تازہ ترین جارحانہ اقدامات کے بعد پاکستان کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیاگیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے مظفرآباد میں کشمیری قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے جلسہ کیا جس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کشمیر میں پانچ اگست کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتحال سے دنیا کو آگاہ رکھنا ضروری ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کوختم کرنے کے لئے مودی سرکار نے جو قدم اٹھایا ہے وہ سراسرغیرآئینی اورغیرقانونی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے جذبہ ایمانی کے حوالے سے کہاکہ مسلمان موت سے نہیں ڈرتا، وزیراعظم عمران خان نے اس بات سے دنیا کو آگاہ کیاکہ مودی پوری دنیا کا امن خطرے میں ڈال رہاہے ۔ ہندوستان کی ماضی کی عیارانہ پالیسیوں اور پاکستان پرالزام تراشی کے رویے کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کے مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لئے جھوٹا الزام لگاکر اگر ہندوستان نے چالاکی دکھانے کی کوشش کی اور دہشت گردی کاڈھونگ رچایا تو اینٹ کاجواب پتھر سے دیں گے ۔ وزیراعظم نے ہندوستان کے دنیا کے سامنے سیکولر ہونے کے دعویٰ کی حقیقت کھولتے ہوئے کہاکہ وہ ہندوستان کو ہندوءوں کی ریاست بنانا چاہتے ہیں جہاں کسی اور مذہب کے لوگوں کو آزادی کے ساتھ رہنے کے لئے زمین تنگ ہے ۔ مظفرآباد کے جلسہ میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی خطاب کیا اور کہاکہ پاکستان کے وزیراعظم کھلے میدان میں عوام سے مخاطب ہیں مگر یہ جرات ہندوستان کے مودی میں نہیں ہے کہ وہ اس کھلی آب وہوا میں جلسہ کرکے اس عوام کاسامنا کرسکے ۔ شاہ محمودقریشی نے مزید کہاکہ جیسے اس نے کرفیولفٹ کیا تو حالات اس کے قابو سے نکل جائیں گے، لہٰذا اس موقع پردنیا کو چاہیے کہ وہ بھارت پر مزید دباءوڈالے تاکہ نہتے کشمیریوں پرظلم وستم کو روکا جا سکے ۔ پاکستان کا شروع دن سے ےہ موقف رہا ہے کہ کشمےر اےک حل طلب مسئلہ ہے لےکن بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے اپنی ہٹ دھرمی کی بنا پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں سمےت کسی بھی طاقتور ملک کی ثالثی کےلئے بھی تےار نہےں ،اگر بھارت کی ےہ ہٹ دھرمی قائم رہی تو پاکستان دنےا پر پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اب بھارت کو سبق سکھانے کا وقت آگےا ہے ،پاکستان کی افواج‘ حکومت‘ اپوزےشن اور عوام مسئلہ کشمےر کےلئے دنےا اور انسانی حقوق کے علمبردار ادارے اقوام متحدہ کی جانب دےکھ رہی ہے اگر مسئلہ کا حل دنےاڈھونڈنے مےں ناکام رہی تو پھر افواج پاکستان ‘ حکومت اور عوام مےدان مےں اتر کر بھارت کو ہمےشہ کےلئے عبرت کا نشان بنا دےگی ، بھارت کی ہٹ دھرمی کی پالےسی خطے اور دنےا کی امن و سلامتی کےلئے شدےد خطرہ بنتی جارہی ہے دونوں ممالک کے درمےان اس مسئلہ کشمےر پر تےن جنگےں ہو چکی ہےں اےسا نہ کہ دو جوہری ممالک کے درمےان ممکنہ جنگ دنےا کو کسی بڑی تباہی سے دوچار کر دے ۔ بھارتی حکمرانوں کی ہٹ دھرمی کی انتہا دیکھیں کہ اقوام متحدہ کی واضح قراردادکی موجودگی کہ کشمیر متنازع علاقہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام آزادانہ حق رائے دہی سے کریں گے کے باوجود کشمیریوں کا اُنکا بنیادی حق نہیں دیا جارہا ۔ مقبوضہ کشمیر میں تباہی و بربادی کو دیکھ کردل خون کے آنسو روتا ہے، کشمیری بھائیوں پر برا وقت ہے ۔ بھارت کشمیر کے عوام کو اتنا کمزور اور ڈرپوک نہ سمجھے کیونکہ انہوں نے پچھلے بہتر سالوں میں صرف لاشیں ہی اٹھائی ہیں اور ایسی قوم کو پسپا نہیں کیا جا سکتا ۔ پاکستان اس برے وقت میں اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھتا ہے ۔ بھارت پچھلی سات دہائیوں سے خون کی ہولی کھیل رہا ہے اور اسے یہ بند کرنی ہی پڑے گی ۔ یہ بات اب عیاں ہے کہ یہ معاملہ اب کسی کنارے لگنے والا ہے کیونکہ کشمیری عوام نے جتنی قربانیاں اس مقصد کےلئے دی ہیں وہ کسی قوم نے تاریخ میں نہیں دیں ۔ کشمیری اب موت سے نہیں ڈرتے، بھارت جان لے کہ صبر جب حد سے گزرتا ہے تو تباہی لاتا ہے اور اس دفعہ یہ تباہی بھارت کو بہا کرلے جائے گی ۔ مظفرآباد میں وزیراعظم عمران خان کے جلسہ کے بعد یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ہندوستان کے جارحانہ عزائم کے خلاف پوری کشمیری عوام اور پاکستانی قوم متحد ہیں اور دنیا پر بھی ایک مرتبہ پھر یہ واضح کردیا گیا ہے کہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے پاکستانیوں کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ، ہرمشکل وقت میں پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے ،مودی کے ظلم وستم پر آج پوری دنیا بول رہی ہے اور یہ محض اس وجہ سے ہورہاہے کہ اس سلسلے میں پاکستان کامیاب سفارتکاری کی ہے ،مقبوضہ وادی میں پانچ اگست سے لیکرآج تک جاری ظلم وستم اور استبدادیت کابھارت نے سرکاری طور پر خود اعتراف کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت نے وادی میں کرفیولگارکھا ہے، نظام زندگی معطل ہے ،اشیائے خوردونوش کاقحط ہے ، ادویات ناپید ہیں ، زندگی مفلوج ہے ،تاحال 3800افراد کو حراست میں لیاجاچکا ہے جن میں صرف 2600کوتفتیش کے بعد رہا کیاگیا،دو سابق وزرائے اعلیٰ سمیت200 سیاستدان پابندسلاسل ہیں ان میں سے 100 سے زائد سیاستدانوں کاتعلق بھارت کے مخالف حکمران سیاسی جماعتوں سے ہے جن افراد کو گرفتار کیاگیا اُن پرپتھراءو اور دیگر شرپسند کارروائیوں کا الزام ہے ،غیرملکی میڈیا نے یہ بھی بتایا کہ بھارتی فوج محض ذہنی تسکین کی خاطر کشمیریوں کوگرفتار کررہی ہے ،دن کے وقت نوجوانوں کواٹھالیاجاتا ہے ، رات کے اندھیرے میں گرفتار کو گرفتار کیا جاتا ہے ،اہلخانہ کے سامنے نوجوانوں پر تشدد کیا جاتاہے ، خواتین کی عصمت دری کی جارہی ہے ، پوری دنیا کے سامنے فاشسٹ مودی کاچہرہ بے نقاب ہوچکاہے ۔

آرمی چیف کا سدرن ہیڈ کوارٹرزکوءٹہ کادورہ

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ دیرپا امن واستحکام کاسفرجاری ہے، طلبہ مستقبل کی تیاری کریں ،سدرن ہیڈکوارٹرزکوءٹہ کے دورہ کے موقع پرطلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے امن وامان کے حوالے سے پاک فوج اوردیگرسیکیورٹی اداروں کی کوششوں کو سراہا، اس موقع پر آرمی چیف اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے نسٹ کیمپس کا افتتاح بھی کیا،کیمپس میں پہلے مرحلے میں 550طالب علم انجینئرنگ اور کمپیوٹرسائنس کی تعلیم حاصل کریں گے، جنرل قمرجاویدباجوہ نے خطاب میں یہ بھی کہاکہ طلبہ آنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے خود کو تیار کریں ، بلوچستان کے طالب علم بہت باصلاحیت ہیں پاکستان امن وامان کی راہ پر گامزن ہے ، پاکستانی نوجوان قومی جذبے کے تحت درست سمت میں سفرجاری رکھیں گے مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کےلئے تمام طبقوں کو توانائیاں یکجاکرنا ہوں گی، آرمی چیف کی یہ بات بالکل درست ہے کیونکہ آج کانوجوان ہی کل اس وطن عزیز کامحافظ اورترقی کاسبب بنے گا، لہٰذا انہیں اپنی سمت درست رکھنے اورتگ ودو جاری رکھنے کی ہمہ تن ضرورت ہے ۔

پنجاب کابینہ میں اکھاڑپچھاڑ،

بیوروکریسی میں بھی تبدیلیوں کے امکانات

پنجاب میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے نتیجے میں وزیراعلیٰ کے ترجمان شہبازگل نے استعفیٰ دے دیا ہے جبکہ مشیر عون چوہدری کو بھی عہدے سے ہٹادیا گیا ہے ۔ چند روز قبل شہبازگل نے ایک بیان دیا تھا کہ جسے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی شکل پسند نہیں تو وہ پارٹی چھوڑ دے، کیونکہ جو لوگ عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ رکھیں گے وہی اس پارٹی میں رہیں گے اورشایدیہ شکل شہبازگل کو ہی اچھی نہیں لگی، کہاجارہاہے کہ انہوں نے ترجمان وزیراعلیٰ کے فراءض نبھانے کی بجائے دیگر امور میں مداخلت شروع کردی تھی، ادھر ملک اسدکھوکھر کو بھی وزیر بنادیاگیا ہے ، ان سے قائمقام گورنر پرویزالٰہی نے حلف لے لیا جبکہ چون محمدچودھری کی جگہ آصف محمود وزیراعلیٰ کے مشیرہارٹیکلچر وسیاحت مقررکردیئے گئے ہیں ، آئندہ دنوں میں کابینہ سمیت بیوروکریسی میں بھی وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کا امکان ہے ۔ وزیراعلیٰ تبدیلی کا مشن پورا نہ کرنے والے وزیروں کے بارے میں نو ٹالرینس پالیسی اپنائیں گے اور وزرا کی کارکردگی کی سخت جانچ پرکھ کر کے کابینہ میں ردوبدل کیا جائے گا ۔ بعض وزرا بارہا مواقع ملنے کے باوجود تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے اور اپنے محکموں میں عوامی توقعات کے مطابق تبدیلیاں لانے میں ناکام رہے، نا اہلی کامظاہرہ کرنے والے وزیروں کی کارکردگی حکومت پنجاب کی ساکھ کو متاثر کررہی ہے ۔ عوام کی فلاح وبہبود کے تقاضے پورے نہ کرنے والے وزرا اپنے منصب پر برقرار نہیں رہ سکیں گے اور وزیراعظم عمران خان کے تصور کے مطابق کام نہ کرنے والے وزرا کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

RSSپر پابندی کیوں ضروری

اسے کسی حد تک پاکستان کے سبھی مقتدرحلقوں کی لاعلمی سے ہی تعبیر کیا جانا چاہیے کہ تقریباً ہر سطح پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جیسے ;828383; نامی تنظیم ابھی ابھی وجود میں آئی ہے اور یکایک عالمی امن اور پاکستان کیلئے خطرہ بن گئی ہے، گویا یہ کوئی بہت بڑا ’’انکشاف‘‘ ہے ۔ ہر سطح پر سٹیریو ٹاءپ ’’تجزیے‘‘ جاری ہیں ، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وقت پر حقیقی خطرات کا بروقت ادراک نہ کرنا، بہرحال سنگین نتاءج ہی مرتب کرتا ہے ۔ اس تناظر میں مبصرین کہا کہنا ہے کہ ایک جانب بین الاقوامی سطح پر داعش جیسی دہشتگرد تنظی میں عالمی امن کےلئے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں تو دوسری طرف اسرائیل ، بھارت کے حکمران طبقات اور ;828383; جیسی انتہا پسند تنظیم اپنی کاروائیوں سے داعش جیسی قوتوں کو بالواسطہ اور براہ راست دونوں طرح تقویت پہنچانے کا سبب بن رہی ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل مہاراشٹر کے سابق آئی جی پولیس’’ ایس ایم مشرف ‘‘ نے کہا تھا کہ ;828383; دنیا کی سب سے بڑی دہشتگرد جماعت ہے ‘‘ ۔ انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ’’ اسی دہشتگرد تنظیم نے مہاراشٹر کے اینٹی ٹیرارسٹ سکواڈ کے سابق چیف ’’ ہیمنت کرکرے ‘‘ کو قتل کیا کیونکہ ’’ کرکرے ‘‘ نے دہشتگردی کی بہت سی ایسی وارداتوں کا سراغ لگا لیا تھا جو ;828383; کے ایما پر کی گئی تھیں ۔ ‘‘ماہرین نے کہا ہے کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی اور عدم برداشت کی موجودہ صورتحال کو تب تک سمجھنا خاصا مشکل ہے جب تک اس کے اصل منبع یعنی ;828383; کے ارتقائی مراحل کا جائزہ نہ لیا جائے ۔ ;828383; داراصل ’’ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ‘‘ کا مخفف ہے جس کا مطلب قومی رضا کار تنظیم ہے ۔ 1925 میں ڈاکٹر ہیگواڑ نے ;828383; کی بنیاد رکھی ،1940 میں موصوف نے گرو گول والکر کو اپنا جانشین نامزد کیا جو 1973 تک اپنے عہدے پر قائم رہے ۔ در حقیقت ’’ گولوالکر‘‘جنہیں سنگھ پریوار میں گرو جی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ) نے ہندو انتہا پسندی کو موجودہ سطح تک پہنچانے میں فعال کردار ادا کیا ۔ ان کی 33 سالہ قیادت کے دوران ہی ;828383; کے ایک رکن ’’ ناتھو رام گوڈسے ‘‘ نے تیس جنوری 1948 کو مہا تما گاندھی کو قتل کیا جس کی وجہ سے تقریباً ڈیڑھ سال کےلئے یہ تنظیم کالعدم قرار دے دی گئی البتہ نہرو حکومت نے اسے دوبارہ کام کرنے کی اجازت دےدی ۔ ;828383; کے تیسرے سربراہ ’’ بالا صاحب دیو رس ‘‘ تھے جو 1973 تا 2000 تک اس منصب پر قائم رہے ۔ اسی دوران جب جون 1975 میں اندرا گاندھی نے بھارت میں ایمر جنسی نافذ کی تو چند ماہ کےلئے اس تنظیم کو کام کرنے سے روک دیا گیا ۔ ;828383; کے چوتھے سربراہ ’’ راجندر کمار عرف راجو بھیا ‘‘ تھے جس کے بعد ’’ کے سی سودرشن ‘‘ نے ;828383; کی قیادت سنبھالی اور 2009 سے موہن بھاگوت اس تنظیم کے سربراہ ہیں جو مصدقہ ذراءع کے مطابق سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں بھی بالواسطہ طور پر ملوث تھے ۔ اپنے قیام کے روزِ اول سے اور 1947 میں بھارت کی آزادی کے بعد سے ہی ;828383; اور اس کے حمایتیوں کا موقف مسلسل یہ رہا ہے کہ وہ بھارت کو بہرصورت ہندو نظریات کی حامل ریاست بنائیں گے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ سیاسی اقتدار حاصل کیے بغیر ان میں سے کسی ہدف کا حصول ممکن نہیں ۔ اسی مقصد کےلئے ;828383; نے 1951 میں اپنے سیاسی ونگ کے طور پر ’’ بھارتی جن سنگھ‘ نامی پارٹی کی بنیاد رکھی ۔ شیاما پرشاد مکر جی اس کا بانی صدر تھا ، بعد میں دین دیال اپادھیا اور بلراج مدھوک اس عہدے پر رہنے والوں میں نمایاں تھے ۔ جن سنگھ نامی یہ سیاسی انتہا پسند گروہ بتدریج 1980 میں ;667480; کی شکل اختیار کر گیا ۔ یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ 1947 میں بھارت کی آزادی کے بعد کے ابتدائی چار سال تک ;828383; نے بھارت کے قومی پرچم کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کیے رکھا کیونکہ اس کا موقف تھا کہ اس کا رنگ مکمل طور پر زعفرانی ہونا چاہیے ۔ بہر کیف مہا راشٹر کے سابق پولیس سربراہ ’’ مشرف ‘‘ کے علاوہ خود بھارتی تحقیقی ادارے ماضی قریب میں ثابت کر چکے ہیں کہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس ، مالیگاءوں بم دھماکے ، حیدر آباد دکن کی مکہ مسجد اور اجمیر شریف کی در گاہ میں ہونے والے دہشتگردی کے سنگین واقعات کے علاوہ ;828383; شدت پسندی کی بہت سی وارداتوں میں ملوث ہے ۔ سوامی اسیما نند اس حوالے سے بھارتی عدالت میں اقبالی بیانات بھی ریکارڈ کروا چکا ہے ، اسی وجہ سے اعتدال پسند حلقوں نے یو این کے جنرل سیکرٹری کے ساتھ ساتھ تمام عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ اقوام متحدہ باقاعدہ طور پر ;828383; کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کیونکہ ;828383; اور اس کے کٹھ پتلی نریندر مودی اعلانیہ اس عزم کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ ;828383; کے قیام کے سو سال پورے ہونے یعنی 2025 تک پورے بھارت کو ہندو ریاست کا روپ دینے کی کوشش کریں گے اور اگر اس تنظیم کو عالمی برادری نے فوری طور پر دہشت گرد قرار نہ دیا تو اندیشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ بین الاقوامی امن کے لئے داعش سے بھی بڑا خطرہ ثابت ہو ۔ ‘‘

پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی لمحہ فکرےہ

دنےا مےں آدم اور حوا دو انسان آئے ۔ دو انسانوں سے بڑھ کر ےہ آبادی سات ارب سے زائد انسانوں تک پہنچ چکی ہے ۔ اس آبادی کی افزائش مےں ہمار ے ملک نے خاطر خواہ حصہ ڈالا ہے اور ےہی وہ واحد شعبہ ہے جس مےں ہم تےزی سے خود کفالت کی منزلےں طے کر رہے ہےں ۔ قےام پاکستان کے وقت ملک کی آبادی سوا تےن کروڑ تھی جو اب 21کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ۔ آبادی مےں اضافے کے اعتبار سے بھارت دنےا مےں سب سے آگے ہے اور ہر سال اس کی آبادی مےں اےک کروڑ ستر لاکھ کا اضافہ ہوتا ہے ۔ پاکستان اب آبادی کے اعتبار سے دنےا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے جبکہ انسانی وسائل کی ترقی کے حوالے سے 182 ممالک مےں پاکستان کا نمبر 141ہے اسی وجہ سے 40ملےن لوگ غربت کی سطح سے نےچے زندگی بسر کر رہے ہےں ۔ معزز قارئےن وطن عزےز خدا داد پاکستان مےں آبادی مےں خطرناک اضافے کو پسند کر کے ہم نے اپنے کو پرےشانےوں کی لامحدود دلدل مےں دھکےل دےا ہے ۔ ےہ پرےشانےاں دن بدن خود رو بےل کی طرح اُگ اور پھل پھول رہی ہےں ۔ کوئی بھوک کے ہاتھوں شکستہ و بے جان ہے تو کوئی مالی تنگی سے دلبرداشتہ ،کوئی چھت کی فکر مےں ہے تو کوئی مردم گزےدہ مصائب سے نجات کا آسان اور ارزاں راستہ موت کی پناہ مےں ڈھونڈ رہا ہے کےونکہ کٹھن حالات انسانوں سے قوت عمل چھےن لےتے ہےں اور ہر سو چھائے ماےوسی کے بادلوں مےں بدقسمت افراد موت کو گلے لگانے مےں ہی عافےت سمجھتے ہےں ۔ زندگی جےسی قےمتی متاع سے چھٹکارا حاصل کرنے کےلئے کوئی مےنار پاکستان کا انتخاب کرتا ہے تو کوئی نہر مےں چھلانگ لگا کر ،کوئی خود سوزی کر کے تو کوئی چھت سے جھول کر ۔ ذہنی کرب ،نفسےاتی ہےجان ،انتہا پسندی اور دہشت گردی جےسی بےمارےوں کا اےک بڑا سبب شرح آبادی مےں روز افزوں اور بے لگام اضافہ بھی ہے ۔ ےہ مجبورےاں ہی ہوتی ہےں جو انسان کو ناگفتنی حرکات و اعمال پر مجبور کرتی ہےں ۔ افراط زر کی شرح سے بھی کئی گنا آبادی کے تےزی سے بڑھنے کے باعث خوشحالی بھی بدقسمت انسانوں سے اسی تےز رفتاری کے ساتھ دور،دور اور بہت دور بھاگ رہی ہے ۔ آبادی مےں خطرناک شرح سے اضافہ غرےب ،محروم اور مظلوم انسانوں کی تعداد مےں بھی مسلسل اضافہ کا سبب ہے ۔ ےہی وہ سب سے بڑی وجہ ہے جس کے باعث اخلاقی ،معاشی اور سماجی بحرانوں کے اندھے طوفانوں نے ہمےں چارسو گھےر لےا ہے اور دنےا مسائل کا گھر اور انسانی زندگی مشکلات کا شکار ہو گئی ہے ۔ آج نادار افراد معصوم بچوں کی گردنوں مےں برائے فروخت کی تختےاں لگا کر سر بازار نظر آتے ہےں ۔ شاہ محمود غزنی نے اسی کو موضوع سخن بناےا ۔ ان کی نظم کا ےہ شعر کتنا کرب اور المناکی لئے ہوئے ہے ۔

بےچ دےا ہے بھوکی ماں نے اپنا بھولا بھالا بچہ

سارے گھر کی خوشےوں کی بنےا اسی بکنے پر ہے

ماضی مےں کثرت اولاد فوبےا کا اکثرےت شکار تھی لےکن آج کے دور مےں بچے امےر نہےں غرےب ہی پےدا کرتے ہےں ۔ امراء کو اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ بچے زےادہ پےدا ہوں گے تو ان کے اثاثے بندر بانٹ سے کم ہو جائےں گے جبکہ غرےب اپنے بچوں کو ہی اپنا اثاثہ سمجھتا ہے اور اس اثاثے مےں اضافہ سے اس کی آمدنی مےں اضافہ کی حکمت پنہاں ہوتی ہے ۔ اسی طرح آج دنےا کے امےر ترےن ملک تو آبادی پر کنٹرول کر رہے ہےں لےکن تےسری دنےا کے غرےب ممالک آبادی مےں تےز رفتاری سے اضافہ پر ہی کمربستہ ہےں ۔ غرےب والدےن کو خط غربت سے نےچے جانے والی اکانومی کو مستحکم کرنے کےلئے لےبر فورس کی ضرورت ہوتی ہے ۔ غرےب کا بال ابھی صحےح بال و پر بھی نہےں نکالتا کہ والدےن اسے کسی جگہ چھوٹے کی حےثےت سے بھرتی کروا دےتے ہےں ۔ والدےن کے معاشی حالات اےسے ہوتے ہےں کہ بچوں سے حاصل ہونےوالی پانچ سات سو روپے کی کشش انہےں اپنے ہی لخت جگروں کو مشکل کاموں مےں لگائے رکھنے پر اکساتی رہتی ہے ۔ معزز قارئےن ذرا غور کرےں وہ کےسے سنگےن حالات ہوں گے جن کے زےر اثر والدےن اپنے معصوم بچوں کو چند ہزار کے عوض دےنے پر مجبور ہوتے ہےں اور بعض گردش حالات کے ستم رسےدہ اپنے جسمانی اعضاء گردے تک فروخت کرنے پر رضا مند ہو جاتے ہےں ۔ ماضی مےں ےورپی ممالک کو لےبر فورس کی کمی پوری کرنے کےلئے تےسری دنےا کے غرےب ممالک پر ہی انحصار کرنا پڑتا تھا لےکن 9-11کے بعد حالات بدل گئے اب ےہ ممالک غےر اسلامی ممالک پر ہی بھروسہ کر رہے ہےں ۔ وطن عزےز کو اس وقت مختلف قسم کے سےلابی رےلوں کا سامنا ہے جن مےں مہنگائی کا سےلاب ،بھےک منگوں کا سےلاب ،غربت کا سےلاب ،بے روزگاری کا سےلاب ،الغرض کس کس کا ذکر کےا جائے فہرست طوےل ہے لےکن ان تمام سےلابوں کی وجہ آبادی کے سےلاب کی طغےانی ہی ہے ۔ ہم حکومت کو تو تمام معاشی بےمارےوں ،بے روزگاری ،مہنگائی ،گےس اور بجلی کی ناےابی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہےں لےکن کبھی اس پہلو پر غور کرنے کی کوشش ہی نہےں کرتے کہ ہم سب ان تمام بحرانوں کے کسی حد تک خود ذمہ دار ہےں ۔ ہم نے آبادی مےں ہوش ربا اضافہ مےں ہی ترقی کو اپنا مطمع نظر ٹھہرا لےا ہے ۔ ہم اپنی لغزشوں اور ذاتی حماقتوں کے ساتھ جب سنگےن مسائل کا شکار ہوتے ہےں تو پھر نا انصافی اور محرومی کا نام لےکر ماتم شروع کر دےتے ہےں ۔ ےہ اےک حقےقت ہے کہ آبادی کے بڑھنے سے معےشت پر منفی اثرات ہی مرتب ہوتے ہےں ۔ آبادی مےں اضافہ سے اشےاء و خوراک کی رسد پر برا اثر پڑتا ہے ۔ بچتےں ، زرمبادلہ اور انسانی ذراءع کی ترقی متاثر ہوتی ہے ۔ سرماےہ کاری مےں کمی اور ادائےگےوں کے توازن پر دباءو پڑتا ہے ۔ زر مبادلہ مےں قلت محسوس ہونے لگتی ہے ۔ وسائل کی کمی سے بدحالی ،بے روزگاری ، ناخواندگی ،ماحولےاتی آلودگی اور بےمارےاں ہی مقدر بنتی ہےں ۔ کوئی بھی ملک ترقی صرف اسی صورت کر سکتا ہے جب اس کے وسائل کے بڑھنے کی رفتار آبادی مےں اضافہ کی رفتار سے زےادہ ہو ۔ مسلم دنےا مےں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے دو مختلف نقطہ نظر ہےں ۔ اےک طبقہ فکر کے مطابق بچوں کی پےدائش کے قدرتی عمل کو روکنا جرم ہے اور ےہ بہبود آبادی کو خدائی امور اور اس کے فےصلوں مےں مداخلت قرار دےتے ہےں اور مسائل غربت کو ا;203; تعالیٰ کی رضا کے کے ساتھ منسلک کر دےتے ہےں ۔ دوسرے مکتبہ فکر کا کہنا ہے بہبود آبادی جائز ہے عوام کی اکثرےت نے اسے تسلےم کر لےا ہے اور اس کے مختلف دلائل کو کوئی اہمےت نہےں دےتی اور چھوٹے کنبے کی افادےت سمجھتی ہے ۔ اےران ،ملائےشےاء اور بنگلہ دےش نے اورعوام نے عوامی طور پر اسی فکر کو قبول کر کے آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح کو نہ صرف روک لےا ہے بلکہ اس مےں کمی بھی واقع ہوئی ہے ۔ دنےا مےں چےن اےسا ملک تھا جس کی آبادی دنےا مےں سب سے زےادہ تھی تاہم انہوں نے اس پر بڑی حد تک قابو پا لےا ہے جس کے باعث ان کی اقتصادےات کےلئے مستقبل مےں کوئی خطرہ نہےں رہا ۔ وطن عزےز مےں 66ملےن لوگوں کو پےنے کا صاف پانی مےسر نہےں ،88ملےن لوگوں کو صحت اور صفائی کی سہولت مےسر نہےں ،68ملےن لوگ اےک گھر کے کمرے مےں زندگی گزارنے پر مجبور ہےں ۔ ہمارے پاس دنےا کے 70فےصد قدرتی وسائل ہےں ان کے باوجود ہمارا ترقی نہ کر سکنا ہماری آبادی کا تےز رفتاری کے ساتھ بڑھنا ہی ہے ۔ وطن عزےز مےں خاندانی منصوبہ بندی کی افادےت اور تشہےر کا کام ساٹھ کی دہائی سے شروع ہوا تھا ۔ اس وقت ےونےسیف کے صحت کی ےونٹ کی جانب سے خواتےن اور بچوں کی صحت کےلئے خشک دودھ ،دلےہ،صابن ، گھی اور مقوی ادوےات مہےا کی جاتی تھےں ۔ بھٹو دور مےں ےہ سلسلہ چلتا رہا لےکن ضےاء الحق کے دور حکومت اور بعد کے ادوار مےں ےہ محکمہ بے توجہگی کا شکار رہا ۔ ہمارے ہاں فےملی پلاننگ کا محکمہ بھی صحےح نہج پر پلاننگ کرنے سے محروم اور اپنے اہداف حاصل کرنے مےں سخت ناکام رہا ۔ اگر ہم نے وطن عزےز مےں شرح آبادی مےں اضافہ پر قابو پانے کےلئے موثر پالےسےاں نافذ نہ کےں تو نہ صرف معاشی زندگی کی رفتار مزےد سست ہو جائے گی بلکہ معےار زندگی بھی مزےد انحطاط کا شکار ہو جائے گا ۔

اَب تو قوم کو سچ بتایاجائے

اَب اِسے کیا کہا جائے ;238;اور اِس کا ذمہ دار کون ہے;238; مگرسچ تو یہ ہے کہ جرمن کمپنی اے بی سی ڈی کی تحقیق کے مطابق پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی دنیا میں سب سے زیادہ کینابس (چرس) استعمال کرنے والے شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آگیاہے یعنی کہ پچھلے کچھ عرصے میں شہرکراچی نے شعبہ ہائے زندگی کے کسی میدان میں کوئی پوزیشن لی ہو یا نہ لی ہو، مگر اَب ہ میں گردن تان کر اور اپناسینہ پھولا کر یہ یقین کرلینا چاہئے کہ بدبواور کچرا کنڈی میں بدلتا کراچی چرس پینے والا دنیا کا دوسرا بڑاشہر بھی بن گیاہے ۔ اِس فہرست میں امریکا کا شہر نیویارک پہلے نمبر پر ہے ۔ جبکہ تحقیق کے مطابق کراچی میں مکمل غیر قانونی ہونے کے باوجود 42ٹن چرس استعمال کی جاتی ہے ۔ شہرکراچی جو پہلے ہی کئی گھمبیر مسائل کی دلدل میں دھنس چکاہے،اِس کے باوجود بھی چرس استعمال کرنے والے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے نیویارک جیسے شہر کے مقابلے میں کراچی شہر کا دوسرا نمبر حاصل کرنا انتہائی افسوس کی بات ہے ۔ اِسے اِس درجے پر تو آنا ہی نہیں چاہئے تھا ۔ مگر اَب آگیاہے ۔ تو پھر برداشت کریں ۔ اور سب کو مل کر کوشش کرنی چاہئے کہ اِس کی یہ پوزیشن بہت جلد تبدیل ہو جائے ۔ بہر کیف، کراچی کو اخلاقی اور سیاسی طور پر بہت سے مسائل اور برائیوں سے دوچارکرنے والے حکمران اور ادارے اپنی ذمہ داریوں سے منہ چرارہے ہیں ،کراچی کوچرس کے استعمال میں دوسرے نمبر تک پہنچانے والے عمل سے لے کر شہرکراچی کو کچرے کا ڈھیر میں تبدیل کرنے میں برسوں لگے ہیں ۔ اِن دِنوں جیسا کراچی نظرآتاہے ۔ اِسے یہاں تک پہنچانے میں کوئی ایک دو دن کا کام نہیں ہے ۔ آج کراچی کو اِس حال تک پہنچانے میں کراچی کی مقامی سیاسی اوروفاقی و صوبائی حکومتوں کے کرتادھرتاؤں نے ہی ثوابِ دارین سمجھ کر اپنا حصہ بڑھ چڑھ کرڈالاہے ۔ تاہم اِس کے وسائل کو سب نے لوٹاہے، سب نے ہی اِس کے ٹیکس سے اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد حاصل کئے ہیں ، اور تو اورلمحہ فکریہ ، یہ بھی ہے کہ جو کبھی قومیت کے نام پر پاؤں میں دوپٹے کی چپل پہن کرشہرکے ٹھیکیدار بن کرآئے تھے،آج وہ کروڑوں کی ذاتی جائیدادوں کے مالک کیسے بن گئے;238;ترقی و خوشحال کے لحاظ سے قریب آسمان کی بلندیوں کو چھوتے کراچی کو کچرے کے ڈھیر پر اِن ہی لوگوں نے ہی لا کھڑاکیا ہے ۔ 40;47;35 سال سے کراچی کے جو لوگ قومیت کے نام پر ٹھیکیدار بنے ہوئے تھے ۔ اہلیانِ کراچی سب سے پہلے تو اِن سے پوچھیں کہ اِنہوں نے اِس شہر کو دیا ہی کیا ہے ;238; اُلٹا اِنہوں نے اپنی سیاسی کھینچاتانی اور اقتدار و اختیار کی ذاتی لڑائیوں میں پڑ کر کچرے کے ڈھیر میں بدل کراِس شہرِ قائد کا بیڑاغرق ہی کیا ہے ۔ کوئی پوچھے تو سندھ کی صوبائی حکومت نے شہر کے ترقیاتی بجٹ پر قبضہ کرکے اِسے روک کرشہرقائد کراچی کوسیاسی ٹھیکیداروں سے چھیننے کے چکر میں اِسے کیوں کچرے کے ڈھیر میں بدل کر رکھ دیاہے ;238; بات اصل میں یہ ہے کہ سیاسی چالبازوں اور مکاروں کے نزدیک کراچی کی ترقی تو محض بہانہ تھی ۔ اِس میں صوبائی حکومت اور شہرکی سیاسی قیادت کو ترقیاتی بجٹ کو اپنے ذاتی بینک بیلنس بڑھانے اور اپنی عیاشیوں میں اڑاناتھا ۔ صوبائی صاحب اقتدار کو لوٹ مار کی ایسی لت لگی کہ یہ شہر کراچی کے ترقیاتی منصوبوں اور انفرا اسٹریکچرکی بہتری کو ہی بھول گئے ۔ چنانچہ چند سالوں میں ہی شہرکراچی کچرے کے ڈھیر میں بدل گیا ۔ اَب سیاسی بہروپیوں کا اِس پر بھی الزام تراشی کا گھمسان کا رن جاری ہے ۔ عرض یہ کہ آج ذمہ داریوں سے کنی کٹاتے سیاسی بازی گروں اور ڈرامہ بازوں کی شہر کراچی میں مکھیوں کی افزائش سے زیادہ ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کی بہتات ہے ۔ لگتاہے کہ وفاق سے لے کر صوبائی ذمہ داروں اور شہرکراچی کی سیاسی کرتادھرتاؤں کے پیچ جیسی آئینی اور قانونی لڑائی جاری ہے یہ لڑائی کراچی کو پوری طرح کچراکنڈی میں بدل کر بھی کہیں جاکر رکنے والی نہیں ہے ۔ اِن کی ذمہ داریوں کی بٹوارے کی لڑائی میں کراچی شہر کچرے کے ڈھیر میں پوری طرح بدل کردنیا کا پہلے نمبر پر گندا ترین شہر کا درجہ بھی پالے گا ۔ خیر ،قوم کو بہتر ی کی اُمید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے ، اچھے دن بھی جلد آئیں گے بس صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھنا ہوگا ۔ مسائل اور بحرانوں میں دھنسی جس قوم کو 72سال سے یہی پتہ نہ ہو کہ اِس کا وجود اپنے اورزمانے والوں کے لئے کتنا کارآمد ہے، کسی کو اِس کی کسمپرسی اورحالاتِ ذار پر کبھی تراس نہ آیا ہو، مگر کبھی نہ کبھی خالقِ کائنات کو اِس قوم کو حالت بدلنے کے لئے تراس آہی جاتا ہے اور پھر وہ ہی ربِ کائنات اِس ہی قوم میں سے اِسے مسائل اور بحرانوں سے نکالنے کے لئے وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ جیسے افراد کو ذمہ داری سونپ کر اِس کی تقدیر بدلنے کا خود ہی سامان پیدا کردیتا ہے ۔ الحمد اللہ، آج جب یہ برسوں بعد اپنی حیثیت کا لاشہ اُٹھائے اپنے بہتر مستقبل کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔ تو دنیا اِس کی صلاحیتوں اور امن و خوشحالی والی پالیسی کو تسلیم کرنے کو تیار کیوں نہیں ہے ;238;یہ وہ سوال ہے ۔ اَب جس کا جواب اِسے اپنے قومی لٹیروں ، قو می چوروں نواز و زرداری جیسے سابق نا اہل حکمرانوں ، سیاستدانوں اور اِن کے چیلے چانٹوں سے لینا لازمی ہوگیاہے ۔ پاکستانی قوم سے اِس کے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے ہمیشہ مذاق کیا ہے اور سچ کو چھپا یا ہے،اُنہوں نے اپنے ہم وطنوں کو غربت ، مفلسی اور لاچارگی کے دلدل میں جکڑے رکھا اور قوم کی مفلوک الحالی کا دنیا کو چہرہ دکھا کر قرضے لیئے ۔ وہ خود توقرضوں سے بھرے قومی خزانے سے اللے تللے کرتے رہے ،مگردوسری طرف مُلک اور وقوم کو اربوں ، کھربوں کے بوجھ تلے دبا کر چلتے بنے ۔ مگر اَب وقت آگیاہے کہ قوم کو پچھلے قومی لٹیرے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے کارناموں کے بارے میں سچ بتایا جائے، وہ سچ جِسے لٹیرے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے نصف صدی سے چھپارکھا ہے، جس سے قوم کی ترقی اور خوشحالی کے راستے بند ہوگئے ۔ مگر اَب ایسا نہیں ہوگا کیوں کہ قومی لٹیرے اور قومی چور احتساب کے کڑے عمل سے گزر کر زمین سے دوہاتھ اُوپر اُٹھ کر ڈھائی ہاتھ نیچے جانے والے ہیں ۔ اِس کے بغیر کڑے احتساب کا عمل پورا بھی نہیں ہوگا اور آئندہ آنے والوں کے لئے نشانِ عبرت کاسخت سبق بھی یہی ہوگا ۔ یہ ٹھیک ہے کہ ماضی میں میری قوم کو حکمرانوں نے اقوا م عالم سے قرضے لے کر مصنوعی خوبصورتی کا نقاب پہنا کر پیش کیا ۔ جِسے دیکھ کر ایسا لگتاتھا کہ جیسے غربت اور لاچارگی کی چکی میں پسی کوئی حسینہ مسائل اور بحرانوں کی آگ کے آسمان کی بلندیوں تک اُٹھتے شعلوں کے بیچو بیچ بیٹھ کر پلاسٹک سرجری پر سولہ سنگھار کررہی ہے، اور اسمارٹ دکھائی دینے کے خاطر بھوک و افلاس کی وجہ سے خالی پیٹ اور پچکے گالوں کے ساتھ غنودگی کے عالم میں محو رقص ہے ۔ جِسے اپنے اردگرد کی اقوام کی ترقی و خوشحالی سے کچھ لینا دینا نہیں تھا ۔ مگر اَب جب اِسے اپنے لٹیرے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی لوٹ مار اور قومی خزانے سے کی جانے والی عیاشیاں دِکھائی دے کر اِن کے کارنامے سمجھ آرہے ہیں ۔ تو یہ اِن کے شکنجے سے آزاد ہوکر اپنی خود ی کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی ہے ۔ بیشک، دنیا کو یہ سچ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستانی قوم دنیا کی ایک باشعور اور غیور قوم ہے،جہاں یہ ہر قسم کے اچھے بُرے حالات کا مقابلہ کرنا بھی جانتی ہے ،تو وہیں اقوام عالم کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں اپنے قلیل وسائل میں رہتے ہوئے ۔ اِسے اپنی کامیابیوں کا لوہا منوانا بھی خوب آتاہے ۔ بہرحال، قوم کی مفلسی اور فاقوں کی برسوں سے لال فیتوں سے بندھی بوسیدہ کالی الماری میں پڑی فائل کی گرد قوم خودچھاڑے گی ۔ اور اپنے موجودہ حکمرانوں اور افواج پاک کے ساتھ مل کر بہت جلد بحرانوں اور 72سالوں کے مسائل سے نجات پا کر اپنا ترقی و خوشحالی کا حق ضرور حاصل کرے گی ۔

ٹاک شوز میں سیاسی ورکروں / رہنماءوں کی آمد

ہمارا ملک درحقیقت اسوقت ہند و پاک کشمیر تنازع کے انتہائی نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کی ;200;نکھ میں ;200;نکھیں ڈالے کھڑی ہیں ۔ بارڈر پر دونوں جانب سے روزانہ بڑے پیمانے پر گولہ باری تسلسل سے جاری ہے ۔ اموات اور بڑے پیمانے پر لوگ زخمی ہو رہے ہیں ۔ معاملے کی نزاکت دیکھیں کہ بزدل دشمن نے انتہائی چالاکی سے اسوقت ہماری شہ رگ ہی دبا رکھی ہے ۔ ادھر نفرت کا دھواں شعلوں میں تبدیل ہوا ہی چاہتا ہے اور جہاں بحثیت قوم ہ میں اس انتہائی نازک وقت میں یک جان ہوکر ۔ ۔ ایکتا ۔ ۔ کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ہماری طرف سے اپنے مجبور و محصور کشمیری مسلمانوں سے یکجہتی کا بھرپور پیغام جانا چاہیے وہیں دوسری طرف نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ریٹنگ کی اندھی دوڑ میں ہمارے اکثر ٹی وی چینل روزانہ شام سے لیکر رات گئے تک نفرت اور قدورتوں کا وہ بازار لگاتے ہیں کہ دشمن ہم پر ہنستا ہے، اسکے تمام کے تمام چینلز ہمارے لیڈروں کے کہے ہوئے فرمودات بطور تمثیل پیش کر کے نہایت حقارت سے کہتے ہیں یہ جو ایک دوسرے کے بال نوچ رہے ہیں یہ لوگ کشمیر کو ;200;زاد کروائیں گے ۔ ہمارے بے لگام اور ناسمجھ لیڈران جو اس وہم میں مبتلا ہیں کہ پورا ملک شاید انکے ہی کندھوں پر کھڑا ہے وہ بغیر سوچے سمجھے اپنے اندر سلگتی سیاسی نفرت کی ;200;گ میں جو منہ میں ;200;تا ہے کہہ دیتے ہیں ، ،، کوء سندھو دیش کی بات تو کوء پختونستان کی دھمکی دے کر مودی کے کلیجے میں ٹھنڈ ڈال رہا ہے ۔ اور انکے چمچے شام ڈھلتے ہی انکے دفاع میں وہ وہ تاویلیں پیش کرتے ہیں کہ عقل کو بھی غش پڑ جاتا ہو گا ۔ ملکی ہمدردی کی کوء بات نہ ایک دوسرے سے غمگسار ی کا کوء پیغام ۔ واہ رے لیڈرو واہ، عمران حکومت کی نفرت میں یہ سارے اپوزیشن والے دوست ملکی وحدت، اتحاد و تنظیم کا شاید سبق ہی بھول چکے ہیں ۔ ;200;جکل کون سے حالات جا رہے ہیں ، کشمیریوں پر کیا بیت رہی ہے ۔ سب جائے جھاڑ میں ،،بس کام چک کے رکھنا ہے، بات وہ کرنی ہے جو میرے ادے،ادی، چھوٹے وڈے، خان مہربان کو بھلی لگے ۔ ایک سے ایک ۔ ۔ بھڑاکو کارکن ۔ ۔ کو مدعو کیا جاتا ہے جو سر شام ہی اپنے لیڈروں کی بدمعاشیوں ، چوریوں اور دغابازیوں کے حق میں وہ وہ تاویلیں پیش کرتے ہیں کہ جھوٹ بے چارے کو چھپنے کو کوء جگہ نہیں ملتی ۔ جھوٹ بھی کما ل کے اور ڈھٹائب بھی نہایت ہی اعلیٰ ۔ پوری قوم جیسے بے وقوف اور یہی افلاطون قوم کو شاید پہلی بار کوئی سچی بات بتا رہا ہے ۔ ایک دوسرے کو گالیاں اور تھپڑ تک جڑ دیتے ہیں ، اور کئی ایسے بدنما واقعات ہر چینل ۔ کے پاس محفوظ ہیں ۔ یقین کریں اس انتہائی کریٹیکل وقت میں جبکہ ہماری افواج میدان جنگ میں تقریبا صف ;200;را ہی سمجھیں ، تو ایسے میں شام کا یہ ڈرامہ ہر روز کسی بھی سنجیدہ شہری کےلئے بہت بڑی سبکی اور مایوسی کا باعث ہوتا ۔ زرا کھل کے بات کرتے ہیں ، پیپلز پارٹی والے ملک میں چاہے کچھ بھی ہو جائے، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وفاقی سطح کی یہ پارٹی صرف دو نعروں ، جئے بھٹو، اک زرداری سب پہ بھاری تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ جیسے یہ انکے کیلئے کوئی ;200;فاقی فلسفہ ہے ۔ ن لیگ والے چاہے سامنے سے کوئی گدھا یا الو کا پٹھا ہی کیوں نہ چلا ;200;رہا ہو، اسے دیکھتے ہی ،،، دیکھو دیکھو کون ;200;یا، شیر ;200;یا شیر ;200;یا کی تھاپ پر بریانی کا خمار اتارنے کے علاوہ انکے نزدیک شاید یہی ایک مقدس ترین کام ہے ۔ کوئی ;200;ئی ;200;ئی ۔ ۔ پی ٹی ;200;ئی کے بے مقصد اور بے تکے نعرے لگا کر دیوانہ وار اپنے نمبر بڑھاتا دکھائی دیتا ہے ۔ یہ سب باتیں اپنے پارٹی پروگراموں یا جلسوں میں تو سوٹ کرتی ہیں لیکن ایک طرف جہاں جدوجہد ;200;زادی کشمیر اپنے حتمی اور فیصلہ کن موڑ پر ;200;ن پہنچی ہے تو ان لوگوں کا یوں روزانہ قومی چینلز پر ;200;کر ایسا ایسا ڈرامہ لگانا کس کشمیر یا کشمیری کاز کو یہ تقویت پہنچا رہے ہیں یا الٹا جتنا یہ لوگ اس طرح ;200;جکل نقصان پہنچا رہے ہیں اتنا شاید مودی بھی نہ پہنچا رہا ہو گا ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ایک طرف ملک میں ;200;گ لگی ہوئی ہے لیکن ان میں سے کوئی شخص پارٹی پالیسی سے باہر بات بھی نہیں کرسکتا ۔ انہی جیسے لوگوں کیلئے ایک لطیفہ پیش کرتاہوں ۔ کسی بھائی صاحب کا گدھا گم ہو گیا، مارا مارا پھرتا اور تلاش کرتا رہا،کہ اتنے میں جنگ لگ گء، لوگوں نے اسے کہا کہ بھاء صاحب ملک میں جنگ لگ گء ہے اور تم اپنا گدھا تلاش کر رہے ہو، اسنے بڑی بے پرواہی سے جواب دیا ۔ مڑا،،،جنگ شنگ کو دفع کرو، خو خر والی بات کرو ۔ یہ جو ;200;جکل نجی چینلز پر روزانہ جو حالات چل رہے ہیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ لوگ بھی اسی بھائی صاحب جیسی سوچ رکھتے ہیں ۔ ملک میں چاہے جو کچھ ہو جائے ان کی تو صرف ایک ہی خواہش ہوتی ہے ۔ کہ بس میں جیواں تے ہک میڈا یار ۔ چونکہ ہم اسوقت چومکھی جنگ لڑ رہے ہیں اور میدان جنگ سے ذیادہ میڈیا وار اسوقت اپنے پورے عروج پر ہے اسلیئے وقت کا تقاضہ ہے کہ ہ میں بحیثیت قوم دشمن کو ایسا سخت پیغام دیں کہ اسکی روح تک کانپ جائے ۔ ذرا تصور فرمائیں ۔ ۔ یہ جو ڈرامے روز لگتے ہیں ہمارے کشمیری مسلمانوں کے دل پر کیا گزرتی ہو گی جو موت کو گلے لگاتے اور پاکستانی پرچم میں دفن ہونا اپنا اعزاز سمجھتے ہیں ۔ اس لیئے میری تجویز ہے کہ ;200;جکل کے مخصوص حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے جبکہ جدوجہد ;200;زادی کشمیر کا معرکہ اپنے حتمی انجام کو پہنچنے ہی والا ہے ۔ جب تک ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس امتحان سے مکمل سرخرو نہ ہو پائیں نفرت بھری ان شاموں کا یہ سلسلہ ٹی وی چینلز پر بند ہونا چاہیے اور تمام سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں ،سربراہوں پر پابندی لگائیں کہ وہ ;200;کر نیشنل ٹی وی پر اپنے گندے کپڑے دھوئیں ،، ملک سے ہٹ کر اپنی اپنی پارٹی کا پرچار کریں ۔ اسکی جگہ ملک کے نہایت ہی سنجیدہ، پڑھے لکھے پرفیسرز، ڈاکٹرز،سائنس اور ٹیکنالوجی پر بات کرنے ماہر حضرات، پانی، ہوا زراعت، گیس کے ماہرین، عسکری اور سول تجزیہ نگار اور ٹیکنوکریٹس کو ہی ان پرائم ٹائمز پر مدعو کیا جائے جو قومی مفاد میں صرف اور صرف حالات حاضرہ پر ہی تبصرہ نگاری کریں ، لہٰذا سیاسی پوائنٹ سکورنگ پر ۔ ۔ نیشنل انٹرسٹ ۔ ۔ میں عارضی پابندی لگائی جاوے اور ہم سیاسی جماعتوں کو یقین دلاتے ہیں جب زمانہ امن ;200;یا تو ضرورپھر سے ہم اپنے ان سیاسی جغادریوں کے فرمودات اور اقوال پوری دلجمعی اور توجہ سے سنیں گے ۔ بلکہ ۔ ان پر عمل کرنیکی بھی کوشش کریں گے ۔

Google Analytics Alternative