کالم

ملکی سلامتی کیلئے خطرناک

azam_azim

مُلک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے میاں نوازشریف ممبئی حملے کے حوالے سے گمراہ کن بیان دینے کے بعد مُلکی سلامتی اور بقا ء کیلئے اتنے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں اِس کا تو کسی کوگمان بھی نہیں تھااتنا ضرورتھا کہ نوازشریف کا جھکاؤ بھارت کی طرف زیادہ ہے اور مودی سے اِن کے اچھے یارانہ ہیں مگرایسا کبھی بھی کسی نے نہیں سوچا تھا کہ نواز شریف یہ بھی کرسکتے ہیںآج ایسالگتا ہے کہ جیسے نوازشریف ممبئی حملے پر بیان دینے کے بعدہم تو ڈوبے ہیں صنم تمہیں بھی لے ڈوبیں گے کی مثال پر کار بند ہیں؛آج نوازشریف کے اِس بیان میں کتنی صداقت ہے ابھی اِس کی تحقیقات ہونی باقی ہے مگرپھر بھی ..؟ اَب اِس میں کوئی دورائے نہیں کہ یہ میر جعفر اور میر صادق کے روپ میں کھل کر سا منے آرہے ہیں نوازشریف کا ممبئی حملے پر دیا جا نے والا حالیہ بیان سراسر مُلک دُشمنی کے مترادف ہے، آج اگر اِنہیں ابھی لگام نہ دی گئی تو ممکن ہے کہ کہیں یہ اپنی آف شور کمپنیوں ، اقامے اور کرپشن کے سیاہ کرتوتوں کے عیاں ہونے کے بعد اپنی نااہلی کی سُبکی کو دورکرنے اور اِس کا داغ دھونے اور دنیا کی ہمدردیاں حا صل کرنے کیلئے اِسی طرح’’دنیا میں ماضی و حال اور مستقبل میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کے واقعات رونما ہوں گے ‘‘سب کے ڈانڈے سرزمینِ پاک سے نہ ملادیں ؛قبل اَزوقت یہ کہ میاں صاحب قانونی گرفت سے آزاد رہیں اور پھر یہ کوئی ایسی بڑی اور خطرناک حرکت کربیٹھیں جس سے مُلک اور قوم کا وقار مجروح ہو اور پاکستان دنیا بھر میں دہشت گرد مُلک کے روپ میں مقبول ہوجائے لازمی ہے کہ مُلک میں سیکیورٹی اور آئین و قانون کی پاسداری کرنے والے ادارے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ممبئی حملے والے بیان کا فی الفور جائزہ لیں اور صاف وشفاف تحقیقات کے بعد فوری گرفتاکریں اور اِنہیں اڈیالہ جیل کی راہ دکھا ئیں اِس کے علاوہ اِنہیں لگام دینے والے مُلک دُشمنی پر مبنی بیان دینے سے روکنے کا کو ئی چارہ نہیں ہے کیوں کہ اَب یہ متوقع انتخابات سے پہلے اور بعد میں جتنے دن بھی آزاد رہیں گے اِن سے مُلک اور قوم کے لئے اچھا ئی کی اُمید رکھنا فضول ہے اِس لئے کہ ممبئی حملے کے حوالے سے دیئے جانے والے بیان کے بعد اِن سے مُلک و قوم کیلئے سب کچھ غلط کرنا ممکن ہوگیاہے۔آج اِس میں کو ئی شک نہیں ہے کہ پچھلے ستر سالوں کے دوران ارضِ مقدس پاکستا ن میں ذاتی اور سیاسی مفادات کے دلدادہ حکمرانوں اور سیاست دانوں نے سیاست جیسے عوامی خدمت کے شعبے کوبند گلی میں لا کھڑاکیا ہے؛ غرضیکہ ہمارے یہاں پُون صدی سے مٹھی بھر اشرافیہ نے سیاست کو اندھیراکنواں اور عوام کواِس کنوئیں کے مینڈک بنا کر رکھا ہوا ہے، آج جیسا حکمران اور سیاستدان عوام سے کہتے ہیں اور جو کرنے کو کہتے ہیں عوام اِس پر آنکھیں بند کرکے یقین کرلیتے ہیں ۔ تب ہی میاں نواز شریف اپنی نااہلی کے بعد مجھے کیوں نکالا؟ کی راگنی چھیڑ کر عوام کو سڑکوں پر لارہے ہیں اور اِنہیں اداروں کے خلاف اُکسارہے ہیں مگر بیچارے عقل سے اندھے تو عوام ہیں کہ یہ میاں صاحب کے سیاسی عزائم کی تکمیل کے خاطر اِن کے دُم چھلا بنے ہوئے ہیں؛ وہ تو اللہ بھلا کرے،کہ ابھی تک پاکستان کے عوام جہالت اور جذباتیت اور شخصیت پرستی کے کڑے احصار میں ہیں ورنہ یہ حکمرانوں اور سیاست دانوں اور افسر شاہی کا وہ حشر کرتے کہ اِنہیں کہیں منہ چھپانے کیلئے کوئی جگہ بھی نہیں ملتی ۔ بہر کیف ،اِس میں شک نہیں کہ اپنی نااہلی کے بعد سابق وزیراعظم نوازشریف اداروں سے محاذ آرائی پر تلے ہوئے ہیں کیایہ پہلے ہی اداروں کے خلاف اپنے بیانوں کی وجہ سے اپنے گردگھیراتنگ کرتے جارہے تھے کہ اَب اِن کے حالیہ انٹرویو میں ممبئی حملے کے حوالے سے آنے والے بیان نے بھارت جیسے پاکستان کے ازلی دُشمن کے منہ میں پاکستان مخالف منفی پروپیگنڈوں کو حقیقی رنگ دینے اور سچ ثابت کرنے کیلئے زبان دے دی ہے کہ ممبئی حملے کے اصل ڈانڈے کہاں سے ملتے ہیں آج جِسے پکڑ کر بھارت نے چیل کی طرح چیخ چیخ کر ساری دنیا کو سر پر اُٹھا لیا ہے؛جبکہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے پیداکردہ اِس گمراہ کن صورتِ حال میں اہل دانش وسیاسی تجزیہ کاروں اور بتصرہ نگاروں کا خام خیال یہ ہے کہ یقیناًنوازشریف نے ممبئی حملے کے حوالے جو کہا ہے یہ اِن کا دیدہ دانستہ ذاتی بیان ہے چوں کہ یہ اپنی نااہلی کے بعد بُری طرح مایوس ہوچکے ہیں اور آستینیں چڑھاکر قومی اداروں سے پنجہ آزمائی پر اُتر چکے ہیں اور سینہ کو بی اور آہ وفغان کرتے مجھے کیوں نکالا؟ کے بعد نادیدہ قوتوں اور خلائی مخلوق کا استعارہ استعمال کرکے قومی اداروں سے پنگا لے رہے ہیں جیسا کہ یہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ نادیدہ قوتیں اور ستر سالوں سے مُلک پر قابض خلائی مخلوق مُلک میں جمہوریت کے خلاف ہیں اِسی لئے یہ نظر نہ آنے والی طاقتیں مُلک سے جمہوریت اور اِنہیں راستے سے ہٹانا چاہتی ہیں اِس لئے اِنہیں انتقام کا نشا نہ بنا رہی ہیں عوام میرے ساتھ ہیں اور میں عوام کے ساتھ ہوں نادیدہ قوتیں اور خلائی مخلوق سُدھر جائیں ورنہ میں بھی اِنہیں بے نقاب کر دو ں گااور اَب جب نوازشریف نے سمجھا کہ اِنہیں زیادہ دیر نہیں کرنی چاہئے اِس لئے اِن کے سینے میں جو راز دفن ہیں یہ وقت آنے پر سب ایک ایک کرکے باہر نکالیں گے سو اَب میاں صاحب، اپنی نااہلی اور اپنی کرپشن کے داغ اور اپنی سُبکی کو مٹانے کیلئے اپنے سینے میں دفن رازوں کو نکالنے کی راہ پر چل پڑے ہیں اَب آگے آگے دیکھئے قانونی گرفت سے آزاد نوازشریف کیا کیا گل کھلاتے ہیں۔

سیاستدانوں سے سرکاری گاڑیوں کی واپسی ایک مستحسن اقدام

adaria

عدالت عظمیٰ نے سرکاری افسروں اور وزراء کی جانب سے لگژری گاڑیوں کے غیر مجاذ استعمال کیخلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ان سے گاڑیاں واپس لینے اور چیئرمین ایف بی آر کو ضبط کی گئی گاڑیوں سے متعلق بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 جون تک ملتوی کردی ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے دئیے ہیں کہ کسی سیاستدان کو سرکاری گاڑیوں ر انتخابی مہم نہیں چلانے دیں گے وہ اپنی حفاظت کا انتظام خود کریں ، شہریوں سے ٹیکس اکٹھا کرنے کے ذمہ دار ادارہ ایف بی آر کے اندر اپنے لئے کوئی احتساب نہیں ہے سمگل شدہ گاڑیوں کی وجہ سے مقامی آٹو انڈسٹری بیٹھ گئی ہے خدا کا واسطہ ہے اس قوم کو بددیانتی سے بچائیں ملک کو کدھر لے کر جارہے ہیں ، سرکاری گاڑیاں جمع نہ کرانے والے سیاستدانوں کو ایک ہفتہ بعد2لاکھ یومیہ جرمانہ ہوگا، چیف جسٹس کے ریمارکس لمحہ فکریہ ہیں ،غریب ملک میں افسر شاہی اور وزیروں کے موج میلے نے اداروں کی ساکھ کو نہ صرف کاری ضرب لگائی ہے بلکہ ان کی عیاشیوں سے قومی خزانے کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے لگژری گاڑیوں کے اخراجات قوم برداشت کرتی ہے یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے۔ سیاستدانوں کو سرکاری گاڑیوں پر انتخابی مہم چلانے سے روکنے کیلئے سپریم کورٹ نے جو حکمدیا ہے وہ وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے بیوروکریسی صحیح ڈگر پر چلتی تو ملک کو بیرونی قرضوں پر انحصار نہ کرنا پڑتا۔ سابق حکومت نے ترقیاتی کاموں کیلئے اربوں روپے اراکین اسمبلی کو تفویض کیے جنہوں نے اپنے من پسند ٹھیکیداروں کے ذریعے اس قومی پیسے کو مال غنیمت سمجھ کر لگایا ورک آرڈرز کے تحت بہت کم کام دیکھنے میں آئے کمیشن مافیا نے جڑیں مضبوط کیں اور کرپشن کی صدائیں ہر طرف سنائی دیتی ہیں، کرپشن نے ترقی و خوشحالی کی راہیں مفلوج کررکھی ہیں جس کے خلاف عدالت عظمیٰ ازخود نوٹس کیسز میں اس کی روک تھام کیلئے قابل ستائش احکامات صادر کررہی ہے چیف جسٹس ایک طرف انصاف کی فراہمی کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور دوسری طرف بنیادی انسانی حقوق کیلئے کوشاں ہیں جس سے غریب و عاجز عوام کو آس لگی دکھائی دینے لگی ہے حکومت اپنا فرض نبھاتی عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے اقدامات کرتی ، ملک سے بیروزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ کرتی اور لوگوں کے جان و مال کا تحفظ کرتی اور ملک میں امن و امان قائم کرنے کیلئے موثر اقدام کرتی ، تعلیم و صحت کی سہولتیں بہم پہنچاتی ، بجلی گیس ے بحران پر قابو پاتی لیکن صد افسوس صد افسوس حکومت صاف پانی بھی فراہم نہ کرسکی جو بدن کا اہم جزو ہے ، پانی کے فقدان نے حکومت کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔ چیف جسٹس کا کردار اس امر کا آئینہ دار ہے کہ وہ عاجزو بے بس عوام کو مسائل کی دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں لیکن مسائل و مصائب اتنے ہیں کہ جن کو دیکھ کر ابن آدم رونے لگتا ہے ۔ چیف جسٹس ایک مسیحا کے روپ میں برسرپیکار ہیں عوام کی نگاہیں بھی سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔ کاش زمام اقتدار پر براجماں سابق اشرافیہ اپنے فرائض میں کوتاہی نہ کرتی تو آج یہ حال نہ ہوتا لوگوں کو صاف پانی میسر نہیں علاج کی سہولتوں کا فقدان ہے ملاوٹ زدہ چیزوں کی بھرمار ہے ، عطائی موت کے سوداگر بنے ہوئے ہیں اس صورتحال میں سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس کیسوں سے باقاعدگی اور بے ضابطگی رکے گی اور اصلاح احوال دکھائی دے گا سرکاری افسران اور وزراء سے سرکاری گاڑیوں کی واپسی ایک مستحسن اقدام ہے جس کے دوررس نتائج برآمد ہونگے۔

چھ رکنی نگران کابینہ نے حلف اٹھالیا
چھ رکنی نگران وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ، صدر ممنون حسین نے وفاقی کابینہ سے حلف لیا ایوان صدر میں ہونے والی تقریب حلف برداری میں نگران وزیراعظم جسٹس(ر) ناصر الملک سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی ، حلف اٹھانے والوں میں عبداللہ حسین ہارون، بیرسٹر علی ظفر، روشن خورشید، محمد اعظم خان اور محمد یوسف شامل ہیں ، چھ رکنی کابینہ کو وزارتوں کے قلمدان سونپ دئیے گئے ہیں ، عبداللہ حسین ہارون کو وزارت خارجہ اور نیشنل سیکورٹی جبکہ وزارت دفاع و دفاعی پیداوار کا اضافی چارج ڈاکٹر شمشادا ختر کو دیا گیا ، وزارت خزانہ، شماریات اور وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ وزارت تجارت اور وزارت انڈسٹری و پیداوار کا اضافی چارج اعظم خان اور وزارت داخلہ وزارت کیڈ اور وزارت نارکوٹکس کنٹرول کے ساتھ وزارت بین الصوبائی رابطہ کا اضافیہ چارج بھی ہوگا، سید علی ظفر کو وزارت قانون و انصاف اور وزارت پارلیمانی امور اور وزارت اطلاعات ، یوسف شیخ کو وزارت تعلیم پروفیشنل ٹریننگ کے ساتھ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز اوروزارت مذہبی امور کا اضافیہ چارج بھی دیا گیا ، روشن خورشید کو وزارت انسانی حقوق ، کشمیر ،گلگت بلتستان امور اور وزارت سیفران کا قلمدان دیا گیا ہے۔ نگران وزیراعظم ناصر الملک نے ملک میں جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے لیا ہے۔نگران وزیراعظم نے بدترین لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے کر عوام الناس کے دل جیت لئے ہیں لیکن سابق وزیراعظم کا لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار نگران حکومت کو قرار دینا مضحکہ خیز ہے، یہ ہمارا المیہ ہے کہ جانے والی حکومت آنے والی پر ملبہ ڈال دیتی ہے اور خود اپنی ناقص کارکردگی کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے لیکن عوام اتنے بے سدھ لاشہ نہیں ہیں کہ وہ یہ نہ بھانپ سکیں کہ اقتدار کے مزے لوٹنے والوں نے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر مقدم رکھا جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے ، نگران حکومت نے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے سابق حکومت نے صرف عوام کو خوش کن نعروں اور وعدوں پر ٹرخایا امید ہے کہ نگران حکومت صاف و شفاف انتخابات کروا کر اپنی ذمہ داری سے بطریق احسن سروخرو ہوگی۔
ایس کے نیازی کی پروگرام سچی بات میں گفتگو
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیاز ی نے روزنیوز کے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے کہا ہے کہمیرے میڈیا گروپ کا فوکس پانی کی قلت پر ہے،اگرکہیں پانی میسر ہے تو وہ بھی گندا ہے،وفاقی دارالحکومت میں فلٹریشن پلانٹ خراب پڑے ہیں،پانی کا نہ ہونا اورصاف پانی نہ ہونا یہ بڑا مسئلہ ہے،چیف جسٹس پاکستان کے نوٹس کا خیر مقدم کرتے ہیں،چیف جسٹس سپریم کورٹ لوگوں کے مسیحا بن گئے ہیں،چیف جسٹس دن رات کام کرتے ہیں،چھٹی بھی نہیں کرتے،ن لیگ،پی پی اور تحریک انصاف کی ترجیحات نہیں ہیں،سیاسی جماعتوں کی ترجیحات بنیادی ضروریات نہیں رہی،کالا باغ ڈیم کیوں نہ بنے،یہ تو سیاسی دکان چمکانے والی بات ہے،فاٹا کے انضمام میں فوج نے اہم کردار ادا کیا ہے،مطیع اللہ جان کی اپنی رائے ہے اور میری اپنی رائے ہے،میرے خیال میں الیکشن صاف و شفاف ہوں گے، میرے مطابق الیکشن التوا کا شکار نہیں ہوں گے،چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن بروقت انتخابات چاہتے ہیں،مسلم لیگ(ن)کے دور حکومت میں بجلی بحران کم ہوا،جس طرح ن لیگ نے دعوے کیے تھے ویسا نہیں ہوا،مسلم لیگ(ن)اور پیپلز پارٹی ایک ہی جماعت ہے،ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے مسائل اور پریشانیاں ایک ہیں۔انتخابات الیکشن کمیشن اور نگران حکومت نے کرانے ہیں،فوج کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں ہے،رینجرز کا کام امن کا قیام اور واپسی ہے ۔ ایس کے نیازی کی گفتگو بڑی اہمیت کی حامل ہے انہوں نے جوسیاسی منظر کشی کی ہے وہ بے کم و کاست ہے۔

نام نہاد سیکولر بھارت کا دہشت گرد چہرہ

بھارت کے اہم ترین عہدے مسلمان دشمنی کے لئے مشہور، ہندوتوا کے کٹر حامیوں کے پاس ہیں جن میں بھارتی وزیراعظم نریندرمودی، بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت کْمار دوؤل، بھارت کے ایڈیشنل پرنسپل سیکرٹری پی کے میشرا اور پرنسپل سیکرٹری ناریپندرا مسرا کے علاوہ بھارتی ریاست اْتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدیتیہ ناتھ سمیت سب ‘‘انتہا پسند ہندوتوا’’ کی تھالی کے چٹے پٹے ہیں۔ ان کے علاوہ بھارتی افواج اور بیوروکریسی میں بھی ‘‘ہندوتوا فلسفے’’ کے پیروکارخاصی تعداد میں موجود ہیں۔درحقیقت ‘‘ہندوتوا’’ ہے کیا؟ مفکرین کے مطابق نہ تو یہ نظریہ ہے نہ فلسفہ۔ نہ یہ کوئی نظامِ زندگی ہے اورنہ ہی کوئی دستور العمل؟ بلکہ یہ صرف ایک ‘‘نعرہ’’ ہے۔ ایک ایسا نعرہ جو بھارتی ‘‘سیکولرازم کے نعرے’’ کو سراسر رد کرتا ہے۔مگر تحقیق کے میدان میں اس پر مختلف زاویوں سے پیش رفت ہو رہی ہے اور نیپال سے بھی اس سوچ کے تانے بانے ملتے معلوم ہوتے ہیں۔ اور یہی سوچ سیفرون ٹیررازم کی بھی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ اصطلاح ایسے تشدد پسندانہ خیالات و واقعات کے لئے استعمال ہوتی ہے جو ’’ہندوتوا’’ کے نظریے سے متاثر شدہ ہو۔ ہندوتوا ایک ایسے بھیانک نظریے کا نام ہے جو کہ بھارتی ثقافت کو ہندو مذہب کے آئینے میں متعارف کراتا ہے۔ اور جس سے یقیناً سیکولر بھارت کے نام نہاد نعرے اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔اس انتہا پسند نظریے کے تحت ہندو برصغیر پاک وہند (افغانستان سے انڈونیشیا تک تمام ممالک) کو ہندوؤں کا مادری وطن تصور کرتے ہیں۔ اور بعد ازاں، ان علاقوں پر مشتمل ہندو ریاست (ہندو راشٹرا) کے قیام کو یقینی بنانے کے علاوہ، سنسکرت زبان کو لازمی مضمون کی حیثیت دلوانے اور گائے کے ذبیحہ پر مکمل پابندی لگانے جیسے دیگر شدت پسند اقدامات اسی نظریے میں مشمول سمجھے جاتے ہیں۔ اس نظریے کی بانی تنظیم ‘‘راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ’’ یعنی آر ایس ایس ہے۔ اور یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ برطانوی حکومت کے دور میں اس پر ایک بار اور بعد از آزادی اس پر تین بار پابندی لگ چکی ہے۔سنگھ پریوار کے بینر تلے ہندوتوا تنظیمیں اور ان کے نیٹ ورکس اس ہولناک نظریہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مسلسل سرگرمِ عمل ہیں اور اسی لئے سنگھ پریوار میں لگ بھگ باون (52) شدت پسند تنظیمیں شامل ہیں۔ جن میں آر ایس ایس، بھارتیا جنتا پارٹی، ویشوا ہندو پریشد، شیو سینا اور بجرنگ دل نمایاں ہیں۔ اور ان سب کی مشترکہ حکمتِ عملی ہے نفرت کا ماحول تیار کرنا۔ لوگوں کو جذبات میں لا کر اشتعال دلانا تاکہ ان سے سیاسی اور سماجی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ (1969) احمدآباد فسادات، (1979) جمشید پور فسادات، بابری مسجد کے انہدام کے علاوہ حیدرآباد مکہ مسجد، اجمیر اور سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکے انہی تنظیموں کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کی کڑی ہیں۔بلاشبہ مودی سرکار میں انتہا پسندوں ہندوؤں کی آج اکثریت ہے۔ اور بھارت میں ان انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کی زندگی یقینی طور پرمْحال کر رکھی ہے۔ ماضی میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں جب مسلمانوں کو بے رحمی سے کچلا گیا اور اقوامِ عالم خاموش تماشائی بنی رہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں ہونے والے فسادات (2002) مسلمانوں کی کْھلم کْھلا نسل کشی تھے جن میں تقریباً 2500 سے زائد مسلمان قتل کیے گئے اور سینکڑوں مسلمان خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ مگر مجال ہے کہ کسی ہندو کے خلاف کوئی عدالتی کارروائی کی گئی ہو۔ حتیٰ کہ یورپی یونین سمیت تمام عالمی تنظیموں نے بھی مسلمانوں کی اس بے رحم نسل کشی پر کوئی احتجاج ریکارڈ نہیں کرایا اور نہ ہی بھارت سے کسی قسم کی کوئی بازپْرس کی۔ اور کچھ ایسا ہی طرزِ عمل امریکہ کا بھی تھا۔یہی منفی سوچ اور غیر مساوی رویہ آج نام نہاد سیکولرازم کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بھارت میں انتہاپسندی اور لاقانونیت کے راج کی بنیاد بنتا دکھائی دے رہا ہے جہاں مسلمانوں سے زیادہ گائے محفوظ ہے۔ اور مسلمان دوسرے درجے کے شہری بن کر رہنے پر مجبور ہیں۔ مگرافسوس کی بات تو یہ ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی بھارتی ظلم وستم پر چپ سادھے بیٹھی رہتی ہیں۔گو کہ اب بھارت کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات ملک میں مذہبی برداشت، نسلی امتیاز کے خاتمے اور آزاد خیالی کے لیے آواز بلند کرنے لگی ہیں۔ بھارتی دانشوروں نے ہندو قوم پرست وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت میں تنوع اور سیکولرازم کی حفاظت کی جائے۔ یہ مظاہرین ملک میں لادین افراد اور اقلیتوں کے خلاف شروع ہونے والی تشدد کی نئی لہر پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ بھارت میں سو سے زائد سائنسدانوں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ بھارت میں سائنس اور منطق کو خطرات لاحق ہوتے جا رہے ہیں۔ ان سائنسدانوں میں بھارت کے چوٹی کے جوہری طبعیات دان، ریاضی دان اور خلائی سائنسدان بھی شامل ہیں۔ اس بیان میں کہا گیا، ’’ہم مشاہدہ کر رہے ہیں کہ اہم حکومتی عہدیداروں کی طرف سے غیر منطقی اور نسلی امتیاز پر مبنی سوچ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔‘‘بھارت کے درجنوں مصنفین نے مذہبی عدم برداشت اور نسلی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے قومی انعامات و اعزازات واپس کر دیے ہیں۔ بھارتی معاشرے کے دانشور طبقے میں بے چینی کی یہ لہر اس وقت پیدا ہوئی تھی، جب ہندوؤں کے ایک مشتعل ہجوم نے ایک مسلمان کو مار مار کر ہلاک جب کہ اس کے بیٹے کو شدید زخمی کر دیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ گائے ذبح کرنے کے مرتکب ہوئے تھے۔ بعد ازاں معلوم ہوا تھا کہ اصل میں اس مسلمان کنبے نے گائے نہیں بلکہ ایک بکرا ذبح کیا تھا۔یہ امر اہم ہے بھارت کے کئی حلقوں میں یہ خطرہ اسی وقت پیدا ہو گیا تھا کہ بھارت کے سیکولر تشخص کو خطرہ ہو سکتا ہے، جب ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی نے گزشتہ برس پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد مودی نے بھارتی معاشرے میں ’برداشت اور تنوع‘ کے موضوع پر بیانات کم ہی جاری کیے ہیں۔

*****

مجھے عورت اور دولت نے کہیں کا. . . !!

ایک دن اچانک گھر کے مین دروازے کی گھنٹی بجی تومیں نے جا کر دیکھا کہ باریش اور خوبصورت چہرے والے ایک صاحب سر پر سفید عمامہ پہنے کھڑے ہیں، اُنہیں میں تو فوری طور پر پہچان نہ سکامگر اُنہوں نے فوراََ مجھے پہچان کر میرے نام کے ساتھ مخاطب کیا جیسے ہی اِ ن کی آواز میری سماعت سے ٹکرا ئی جو آج بھی ویسے ہی تھی جیسے کہ 30سال پہلے تھی، میں پہچان گیا۔ میرے سا منے میرا یار جگری دوست کھڑاہے میں لپک کر اِس کے اتنے قریب ہوگیاجیسے قوسین۔ہم بغل گیر ہوگئے کافی دیر تک ایسے ہی رہے۔ پھر ذراسنبھلے، تو میں نے اُسے اندر ڈرائینگ روم میں بٹھایا ۔ اِس دوران اُس سے میں نے کہا کہ یار تم تو یکدم ہی بدل گئے ہو میں نے تو تمہیں تمہاری آواز سے پہچاناہے لوگ ٹھیک کہتے ہیں کہ عمراورحالات کے ساتھ اِنسان کا ظاہری حلیہ تو چاہئے جتنا بدل جا ئے مگر اِس کی آواز اور بولنے کا انداز کبھی نہیں بدلتا ہے میں بتاتا چلوں کہ یہ میرا جگری دوست عبدالحق بلوچ ہے جو30سال پہلے لندن چلاگیاتھا مگراَب جو ایک لمباعرصہ لندن میں گزار کر اپنے دیس پاکستان واپس آگیاہے اور اِن دِنوں شہر کراچی میں مستقل سکونت اختیار کرچکاہے ۔اِس کی یوں اچانک آمد کی مجھے کو ئی خبر نہ تھی اِس کی وجہ یہ تھی کہ میں بھی اپنی ذمہ داریوں میں کچھ ایسا مصروف ہواہوں کہ پچھلے چند سالوں سے سِوائے اپنی فیملی اور چند قریبی عزیزوں کے اورکسی سے رابطہ بھی نہیں ہو پاتا ہے۔ اِس لئے عبدالحق بلوچ کے گھروالوں سے بھی میرا رابطہ منقطع رہاہے اِسی لئے مجھے اِس کی لندن سے وطن واپسی سے متعلق آگاہی نہ ہوسکی۔بہرحال،باتوں ہی باتوں میں عبدالحق نے مجھے اپنے اچانک لندن سے پاکستان آنے کی وجہ کچھ اِس انداز اور لہجے میں بتا ئی کہ میں کیا جو بھی سُنے گا وہ بھی ششدر رہ جا ئے گااِس نے کہا کہ ’’ اَزل سے ہر زما نے کی ہر تہذیب کے ہر معاشرے میں عورت اور دولت سے متعلق ایک غلط کلیہ اور نظریہ رائج ہے کہ عورت اور دولت صغیرہ اور کبیریٰ گناہوں اور بُرائیوں کی بنیاد ہیں مگر میرا خیال یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے اگر نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل، یکدم اِسی طرح عورت اور دولت میں کو ئی برا ئی نہیں ہے یہ ہمارا اِن کا استعمال ہے کہ ہم اِنہیں کیسے ؟ اور کن مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ آج سے لگ بھگ کوئی پچاس سال پہلے میں نے جس گھر انے میں آنکھ کھولی وہ قدیم روایات کا امین تھا،جہاں ہر بڑے چھوٹے پر لازم تھا کہ وہ ایک دوسرے کے مرتبے اور رتبے کا احترام رکھے گا، باالفرض اگر کسی سے کو ئی غلطی ہوجاتی تو بات بڑوں تک پہنچتی تو گھر کے بڑوں کی پنچایت میں صلاح صفائی اور سزاو جزا کے فیصلے ہوتے، سزاوار کو کئی دِنوں تک گھرانے کے اندر ہوتے ہوئے بھی ظاہراور باطنی لحاظ سے گمنا می کی سی زندگی گزارنی پڑتی تھی دراصل یہ بھی تربیت کاہی ایک عمل تھا ۔ مگرآج جب میں یورپ کی اپنی30سال کی زندگی کا سوچتا ہوں تو مجھے بھی دوسروں کی طرح اپنا دامن پاکیزہ اور بااخلاق زندگی سے خالی نظر آتا اگر میں پہلے ہی دن عورت کی خوبصورتی اور دولت کی چمک سے بہک جاتا، مجھ پراللہ کا لاکھ لاکھ کرم ہے کہ اِس نے مجھے وہاں کی غلیظ اور بدبودار زندگی سے بچایا؛ میری دنیا اور آخرت کو سنوارامیں اِس کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔ آج لندن اور یورپ سے دوررہنے والوں کووہاں کی زندگی میں جتنی چمک اور رانائیاں دِکھا ئی دیتی ہیں یہ سب آنکھ کا فریب ہے وہاں کچھ نہیں ہے یہاں دنیا کی ساری اخلاقی بُرائیاں مخمل میں لپیٹ کر خوبصورت بنا کر پیش کی جا تی ہیں۔غرضیکہ، وہاں کی زندگی اور اخلاقی پستی کی مثال ایسی ہے کہ جیسے گوبر پر چاندی کا ورق چڑھا کر اِسے حسین بنا کر دنیا کو دکھایا اور بتایا جاتا ہے کہ یہاں کے لوگوں کی زندگی تیسری دنیا کے لوگوں کے مقابلے میں کئی گنازیادہ اُصول پسند ، ملاوٹ سے پاک ایک صاف اور شفاف زندگی ہے۔ مگر درحقیقت مدر پدرآزاد یورپ کے آزاد خیال لبرل معاشرے میں تمام اخلاقی اور سماجی برائیوں کو سجا کر خوشبولگا کرہر عمرکے اِنسانوں کیلئے خوبصورت بنا کر پیش کیا جاتاہے جو اُس معاشرے میں رہ کر اُس آزاد خیال معاشرے کی بے راہ روی اور برائیوں سے بچ گیااور اپنی نسل کو بچاگیا آج وہ اللہ کے کسی ولی سے کم نہیں ہے۔ عبدالحق نے ایک ٹھنڈی آہ بھری ..!! اور ایک مرتبہ پھر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے بولا، یار لندن کی چکا چوند زندگی میں بہک تو میں بھی جا تا جب مجھے پہلی بار تنخواہ ملی تھی اور میں خوشی سے پاگل ہوئے جارہاتھا اور اِس عالمِ خوشی میں، میں پہلی مرتبہ مئے خا نے جا نے کے لئے گھر سے نکالاتھا۔ ابھی میرے قدم اُس جا نب بڑھ رہے تھے مگر اللہ کا خوف، ضمیر کی ا یک آواز( اور والدین کی وہ ساری نصیحتیں تھیں جو اُنہوں نے مجھے وطن سے لندن روانگی کے وقت کیں تھیں)یہ سب مجھے بوجھل کئے جا تی تھیں مگر ایک جوا نی اور مدرپدر آزادی کا خمار تھا کہ مجھے مسلسل مئے خا نے کی جا نب بڑھنے کو اُکسا ئے جارہاتھا ۔ یار! ابھی میں مئے خا نے سے چند ہی قدم دور تھا کہ ایک بزرگ نے پیچھے سے مجھے بازوسے پکڑ ا اور میں رک گیا۔ پھر وہ باریش بزرگ مخاطب ہوئے کہ ’‘ نو جوان کس گمرا ہی کے دروازے کی جانب جارہے ہو، کسی شریف خاندان کے چشم و چراغ معلوم دیتے ہوئے‘‘ بس یہی ایک لمحہ تھا کہ ا للہ نے مجھے وہاں رہ کر بھی ہر اُس برائی سے بچایا جو لندن میں برائی تو ہے مگر وہاں رہنے والے اِسے برا ئی تصورہی نہیں کرتے ہیں ہمارے بعض نوجوان یہاں آکر سب کچھ بھول بھال کر پہلے ہی روزمئے خانوں اور جواکے اڈوں کا رخ کرتے ہیں اور پھریہ بہکتے بہکتے اتنا بہک جا تے ہیں کہ اِنہیں شراب و شباب سب کچھ حلال اور جائز لگنے لگتا ہے ۔تاہم، جن بزرگ نے مجھے پہلے دن شراب خا نے میں داخلے سے روکا تھا اُنہوں نے میری ہر قدم پر رہنمائی کی ؛ پھر بعد میں اُنہوں نے مجھ سے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی بھی کی۔ آج اپنی اُسی پہلی و آخری نیک سیرت بیوی اور اپنی تین چھوٹی بیٹیوں کی برکت سے میرے پاس دولت بھی ہے تو عزت بھی ہے آج اگر میںیہ کہوں کہ ’’ مجھے عورت اور دولت نے کہیں کا تو چھوڑا‘‘ ورنہ تو دنیا کے مردوں اور معاشروں میں یہی مشہور ہے کہ ’’ مجھے عورت اور دولت نے کہیں کا نہیں چھوڑا‘‘ یہ محاوہ اور یہ جملہ میں نے غلط ثابت کردیاہے یہ تو اِنسان کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ وہ برا ئی میں رہ کر خود کو سنبھالے یا خود کو تباہ کرلے۔ اگر میں خود کو سنبھالنا نہیں چاہتا تو میرے سُسر جی لاکھ مجھے سمجھاناچاہتے میں اُن کی ایک نہ سُنتا مگر چونکہ ہر اِنسان کے اندر ایک بچہ ہوتا ہے جو ہر عمر کے اِنسان کے اندر قبر کی آغوش میں جانے تک بچہ ہی رہتاہے بس اُسے جس نے سمجھا لیا وہی دنیا اور آخرت میں سُرخرو ہوگیاورنہ ؟ نہ اِدھر کا رہانہ اُدھرکارہے گا‘‘ دوست نے بتایاکہ آج میری بیٹیاں بڑی ہورہی ہیں ویسے تو وہاں کا معاشرہ بیٹیوں تو بیٹیوں بلکہ بیٹوں کیلئے بھی ٹھیک نہیں ہے سو میں اپنی پاک سرزمین پاکستان میں آگیاہوں اَب میری خواہش ہے کہ یہاں میں اپنی بیٹیوں کی مذہبی تعلیمات کے مطابق پرورش اور تربیت کروں گا اورآئندہ اپنی پاکستا نی قوم کے بچوں کواپنی بیٹیوں کی صورت میں پڑھی لکھی اور باشعور مائیں دوں ‘‘ میں دوست کی باتیں سُن رہاتھا اور سوچ رہاتھا کہ یہ کتنا عظیم انسا ن ہے جو لند ن کی چکاچوند زندگی کو ٹھوکر مار آگیاہے اور اپنے دیس میں اپنی باقی زندگی گزارنے کو ترجیح دے رہاہے۔

دہشتگردی ۔۔۔نئے روپ میں !

asgher ali shad

ایک جانب دہلی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے تو دوسری جانب خود بھارت میں اقلیتوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی انتہا پسندی سے ہر ذی شعور آگاہ ہے۔ مودی کے دورِ حکومت میں اقلیتوں خصوصاًً مسلمانوں کے خلاف جو بدترین استحصال کا سلسلہ جاری ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ آئے دن بھارت کے طول و عرض میں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جو بھارتی سیکولرازم اور جمہوریت کے دعووں کی قلعی پوری طرح کھول دیتے ہیں۔ دنیا بھر اور خود بھارت کی انسان دوست شخصیات وقتاً فوقتاً خط لکھ کر اور دوسرے طریقوں سے دہلی سرکار کی توجہ بھارت میں بڑھ رہی زعفرانی دہشتگردی کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کرتی ہیں۔

اسی تناظر میں چند روز قبل دہلی کے آرک بشپ انل کاؤٹے نے کہا ہے کہ بھارت میں زعفرانی دہشتگردی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ بھارت کے آئین سے سیکولرازم کا لفظ (جو در حقیقت لفظ سے زیادہ کوئی وجود نہیں رکھا) بھی ختم ہو جائے گا۔ ہندوستان کے شورش زدہ اور زعفرانی سیاسی ماحول پر آرک بشپ نے دہلی آرکڈائسیس کے تمام پادریوں اور مذہبی اداروں کو خط لکھا۔ انھوں نے تشویش ظاہر کرتے کہا کہ بھارت میں جو حالات درپیش ہیں اور جیسا ماحول پنپ رہا ہے ان میں سدھار کیلئے دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ شاید اس سے کوئی بہتری آ جائے۔انھوں نے کہا کہ بھارت کا مخصوص ماحول جمہوریت اور نام نہاد سیکولر تانوں بانوں کے لئے شدید خطرہ بن چکا ہے۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار بھارت میں صورتحال یہ ہے کہ 20 مئی کو بھارتی صوبے گجرات کے شاپور قصبہ کے قریب ایک دلت شخص کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ 35 سالہ مکیش وانیا اپنی بیوی کے ساتھ کوڑا چننے کا کام کرتا تھا۔ زعفرانی ہندو تنظیم کے جنونی ہندوؤں نے انھیں پکڑا اور ان پر انسانیت سوز تشدد کیا۔ اس پر ستم ظریفی یہ کہ انھیں مارتے ہوئے کی ویڈیو بنا کر فخریہ طور پر سوشل میڈیا پر ڈال دی گئی۔ بدترین تشدد کے نتیجے میں دلت جوان موقع پر ہی دم توڑ گیا ۔ اس کے علاوہ 20 مئی کو ہی بھارتی صوبے مدھیہ پردیش میں گائے ذبح کرنے کے ’’الزام‘‘ میں مسلم نوجوانوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ نام نہاد گؤ رکھشکوں نے 45 سالہ درزی ریاض خان کو امگرا قصبہ میں تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ موقع پر ہی داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔ اس کے ایک دوست شکیل سے بھی مارپیٹ کی گئی اور وہ تاحال کومہ میں ہے۔ علاقے میں کشیدگی پھیلنے کے بعد سینکڑوں پولیس اہلکاروں کو وہاں تعینات کر دیا گیا۔ ماہرین نے اس پس منظر میں کہا ہے کہ بھارت میں ایسے واقعات روز مرہ کا معمول ہیں اور مسلمانوں، دلتوں و دیگر اقلیتوں کے خلاف ایسی وارداتیں کرنے والے ہندو جنونیوں کو کوئی سزا نہیں ملتی بلکہ اس کی بجائے انھیں حکومتی سطح پر بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے اور عدالتوں تک پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اس کی مثال سوامی آسیم آنند، پرگیہ ٹھاکر، کرنل پروہت کے علاوہ خود اترپردیش کے وزیراعلیٰ اور ہندو جنونی رہنما ’’یوگی ادتیہ ناتھ‘‘ ہیں جنھوں نے ’’ہندو یووا واہنی‘‘ نامی تنظیم بنائی جس نے یو پی کے گورکھپور میں مسلم کش فسادات کا بازار گرم کیا۔ یاد رہے کہ یوگی نے بذات خود بھی مسلمانوں کی اس نسل کشی میں بھرپور حصہ لیا تھا ۔وہ اب بھی اس کا فخریہ طور پر اعتراف کرتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی تقریروں کے ذریعے مسلم مخالف فضا کو ہوا دیتے ہیں۔ قابلِِ ذکر امر یہ ہے کہ اس تمام انتہا پسندی کے باوجود بھی بھارت میں RSS کی سوچ رکھنے والا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو سمجھتا ہے کہ مسلمانوں، عیسائیوں و دیگر اقلیتوں کے ضمن میں نسبتاً نرم رویہ رکھا گیا ہے، جسے ترک کے بھارت سے فوراً غیر ہندوؤں کا خاتمہ شروع کر دینا چاہیے اور بھارت کو اکھنڈ بھارت اور رام راجیے بنا کر اپنا دیرینہ خواب مزید جلد پورا کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ یوگی ادتیہ ناتھ ابھی بھی وقتاً فوقتاًً مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتا رہتا ہے ۔ حالیہ دنوں میں اس نے ایک ریلی سے خطاب کرتے کہا کہ ’’میں عید کیوں مناؤں، میں شُدھ (خالص) ہندو ہوں‘‘ ۔ یوگی کی بنائی گئی ’’ہندو یووا واہنی‘‘ کئی حصوں میں بٹ چکی ہے۔ اس کے سابق لیڈر سنیل سنگھ نے پرانی واہنی سے الگ ہو کر اسی نام کی تنظیم قائم کر کے خود کو اس کا قومی صدر قرار دے دیا ہے۔ یوگی کی پرانی واہنی کے جنرل سیکرٹری پی کے مل نے کہا ہے کہ ہماری تنظیم پرانی واہنی ہی ہے اور ہمارا سنیل سنگھ کی واہنی سے کوئی تعلق نہیں۔ سنیل سنگھ کا کہنا ہے کہ ہم پورے بھارت میں ہندوتوا کے فروغ کیلئے اپنی تمام توانائیاں صرف کریں گے اور اپنے گرو ادتیہ ناتھ کی ہمیں پوری آشیر باد حاصل ہے۔ اسی کے مقابلے پر پی کے مل کا کہنا ہے کہ رام راجیے کا قیام ہر صورت میں یقینی بنایا جائے گا۔ یوں بھارت کو اکھنڈ بھارت میں تبدیل کرنے کیلئے نت نئے ناموں سے تنظیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں اور ان سب کا ایک ہی نعرہ ہے ’’بھارت سے غیر ہندوؤں کا خاتمہ‘‘۔ اب ایسی صورتحال پر بھلا کیا تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔
*****

بروٹس

موت اس کے سر پر کھڑی تھی اور سانسیں آخری بار لبوں پرتڑپ رہی تھیں اس نے مڑ کر دیکھا اس کا اپنا ہی جگری یار اسے قتل کرنے کو تیار کھڑا تھا تو اس نے وہ تاریخی الفاظ کہے جو رہتی دنیا تک محاورے کی شکل میں بدل گئے ۔اہل روم نے چار سو سال سے زائد عرصے تک جمہوری نظام کو برقرار رکھا ۔اس جمہوریت کا آخری سنہری دور طبرئیساور گرینسگریگائی نامی دو بھائیوں کا دور تھا ۔انہوں نے نئے طبقات کے ظہور سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل کیلئے شاندار اصلاحات کیں ۔زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیر داروں کی زمینوں کی حد مقرر کی گئی ۔بے زمین کسانوں اور ہاریوں کو سرکاری زمینوں پر آباد کیا گیا۔ روم کے غریبوں کو غلہ کی فراہمی کیلئے حکومت سبسڈی دینے لگی ۔گریگائی بھائیوں کی اصلاحات سے مراعات یافتہ طبقات اور فوجی جرنیل ان کے مخالف ہو گئے اور یہ مخالفت اس حد تک بڑھی کہ پہلے بڑے بھائی طبرئیس گریگائی کو بیدردی سے قتل کر دیا گیا ۔اس دوران اس کے 300کارکن اور جانثار ساتھی بھی ہلاک کر دیے گئے اور پھر 12سال بعد دوسرے بھائی گرینس کو بھی خطرناک حالات میں گھیر کر خود اس کے ہی ملازم کے ہاتھوں اسے قتل کروا دیا گیا ۔ اس زمانے میں جرنیل دولت مند بالائی طبقات سے مل کر نت نئی فتوحات کیلئے طا لع آزمائی کرتے تھے اور نئے علاقوں کو فتح کر کے محاصل و خراج اور غلاموں کی خرید و فروخت کے ذریعے دولت کمانے کے مواقع پیدا کرتے تھے ۔روم میں فاتح فوجوں کے شاندار جلوس نکلتے ۔اس طرح طاقت اور دولت کے ارتکاز سے بیش قیمت اشیاء کے ذخیرے کو دیکھ کر اہل روم کی آنکھیں چندھیا جاتی تھیں مگر اب ساڑھے چار سو سالہ جمہوریت کمزور ہو چکی تھی اور اس کی جگہ فوجی آمریت اپنا راستہ ہموار کر رہی تھی ۔ماریوس کو آپ روم کا پہلا آمر کہہ سکتے ہیں۔اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 108سال پہلے روم کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا ۔اب روم جمہوریت سے آ مریت کی راہ پر چل پڑا تھا ۔طاقت کے نشے میں بد مست فوجی حکمرانوں نے چار سو سالہ جمہوریت کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ اب روم فوجی آمریت سے شہنشاہیت کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا ۔دنیا کا پہلا بادشاہ جولیس سیزر کی شکل میں نمودار ہوا ۔جولیس سیزر ایک بہادر سپاہی تھا ۔اس کی بہادری نے صدیوں بعد ولیم شکسپئیر جیسے عالمی شہرت یافتہ برطانوی ادیب کو ’’جولیس سیزر‘‘ نامی ڈرامہ لکھنے کی ترغیب دی اور اس ڈرامے کے ذریعے ہی جولیس سیزر،قلو پطرہ اور انتھونی کے عشق کی تثلیث کو عالمگیر شہرت نصیب ہوئی ۔اس وقت رومی سلطنت فرانس،برطانیہ ،اٹلی ، یونان ،ترکی اور مصر پر مشتمل ایک عظیم سلطنت کہلاتی تھی ۔اپنے عروج کے زمانے میں ساٹھ ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلی اس سلطنت کے اثرات ، تہذیب، ثقافت، قوانین، طرز حیات اور طرز تعمیر کے نمونے آج بھی یورپ میں جا بجا نظر آتے ہیں ۔ جولیس سیزر ایک ایسا جرنیل تھا جس نے رومی سلطنت کو افریقہ کے صحراؤں سے یورپ کی وادیوں تک پھیلا کر معلوم دنیا پر اپنی دھاک بٹھا دی ۔ جولیس سیزر 42سال کا ہوا تو سینٹ نے ایک بل کے ذریعے اسے گورنر فرانس مقرر کر دیا ۔وہ بیلجیم،لکسمبرگ ، سوئٹزر لینڈ اور اسپین کی فتوحات کرتا ہوا برطانیہ کے دروازوں تک جا پہنچا ۔اگر فرانس اور برطانیہ کے درمیان واقع سمندر میں طوفان نہ آیا ہوتا تو برطانیہ پر جولیس سیزر کا قبضہ ہو چکا ہوتا ۔طاقتور جرنیل نے عوامی اداروں سے گورنری کا تقرر نامہ لیکر یورپ میں فتوحات حاصل کی تھیں مگر اب وہ جمہوریت اور فوجی آمریت کو لپیٹ کر بادشاہت قائم کرنے کا ارادہ کر چکا تھا ۔ جولیس سیزر نے اپنے حریف جرنیل پامپے کو شکست دے کر زخم چاٹنے پر مجبور کر دیا ۔پامپے وہ جرنیل تھا جس نے صرف پچیس برس کی عمر میں فوج کی کمان کرتے ہوئے سسلی میں فارس کی فوج کو شکست دی تھی ۔اس کے کارنامے ہسپانیہ کی سر زمین پر بھی نقش ہوئے۔یہ وہ جرنیل تھا جس نے بحیرہ روم کو ڈاکوؤں سے پاک کر کے سمندری راہ گزاروں کو محفوظ بنایا ۔پامپے کی بہادری اور جواں مردی دیکھ کر جولیس سیزر نے اسے اپنا داماد بنا لیا ۔چنانچہ کچھ ہی عرصہ بعد جب جولیس کی بیٹی وفات پا گئی تو سسر اور داماد کے رشتے میں گہری لکیر آگئی ۔وہ پھر ایک دوسرے کے مقابل آ گئے ۔آخر جولیس نے اپنے داماد کو شکست دی اور وہ بھاگ کر مصر چلا گیا جہاں بعد میں وہ قتل ہو گیا ۔جولیس سیزر نے جزیرہ رہوڈس جا کر مشہور مقرر مولون سے تقریر کرنے کا فن سیکھا ۔جولیس کہتا تھا میں نے بہادروں سے بہت سیکھا اور بزدلوں کو سکھا نہ پایا ۔میری زندگی کی ایک کامیابی اور ایک ناکامی نمایاں ہے۔ایک وسیع سلطنت کا بادشاہ بننے کے دن قریب تھے کہ اس کے انتہائی قریبی دوست ،ساتھی،ہم راز بروٹس نے خفیہ طور پر بغاوت کر دی ۔اگرچہ بروٹس اس سے قبل جولیس کے خلاف پامپے کی حمائت کا گناہ بھی کر چکا تھا لیکن بروٹس سے اس کی یاری ایسی تھی جس نے جولیس کو معاف کرنے پر مجبور کر دیا ۔ چنانچہ اس یاری اور گہری دوستی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بروٹس نے جولیس سیزر کو ایک وسیع رومی سلطنت کا تاج سر پر رکھنے سے روکنے کا ارادہ کیا۔ اس نے ایک ٹیم تیار کر لی جسے بلآخر قاتلوں کا گروہ بن جانا تھا ۔کہا جاتا ہے کہ جولیس سیزر کے سر پر فاتح عالم بننے کا جنون سوار تھا ۔وہ مرگی جیسے مرض میں مبتلا تھا جب اسے دورہ پڑتا تو یوں لگتا کہ ’’فاتح عالم‘‘ اب کے لوٹ نہ سکے گا ۔کئی دفعہ وہ تخت پر بیٹھے بیٹھے مرگی کا شکار ہو جاتا ۔ایک مرتبہ جب وہ اس مرض کے دورے سے بحال ہوکر بیٹھا تو اس کے منہ سے بے اختیار نکلا ’’ تخت کسی کا دوست نہیں ہوتا اور تخت کی محبت سب رشتے اور تعلقات ختم کر دیتی ہے ‘‘۔بسا اوقات جولیس سیزر یسی باتیں کرتا کہ لوگوں کو ایک بہادر جرنیل کے روپ میں ایسا فلسفی نظر آتا جو وقت کی نبضوں پر ہاتھ رکھ کر آنے والے دور کی پیشن گوئی کرتا ہے اس کے یہ الفاظ تاریخ میں زندہ رہیں گے کہ’’ اقتدار کے تخت ملکوں کی زمینوں پر نہیں لوگوں کے دلوں میں بچھانے والے امر رہتے ہیں ۔اگر آپ لوگوں کے دلوں میں زندہ نہیں بستے تو طاقت کے زور پر ان کے کند ھوں پر سوار بھی نہیں رہ سکتے‘‘۔وقت بدلا جولیس سیزر بھی اپنے اقوال کی تعبیر بننے لگا ۔وہ طاقت ور تھا لیکن عوام کے دلوں سے نکلتا چلا گیا ،وہ دلیر تھا لیکن بغاوتوں کا مقابلہ نہ کر سکا ،وہ مقابلہ کرنا جانتا تھا لیکن سازشیوں اور حاسدوں کے سامنے بے بس ہو گیا ۔جولیس سیزر 56سال کا ہو چکا تھا ، جمہوریت اور فوجی آمریت کا نظام ختم کیا جا رہا تھا ،سینٹ ،عوامی اسمبلی اور قبائلی اسمبلی کو تحلیل کر دیا گیا تھا ۔ جولیس سیزر شہنشاہ روم کا تاج سر پر سجانے کیلئے سینٹ کی عمارت میں پہنچا ،اس کے سر پر تاج سجایا جانے والا تھا کہ اس عمارت میں قاتلوں کا گروہ داخل ہوا ۔تلبوس سیمبر نے آگے بڑھ کر جولیس سیزر سے کہا کہ میرے بھائی کی جلاوطنی کا حکم واپس لیا جائے ۔جولیس سیزر نے یہ درخواست مسترد کر دی ،اس کے چار طرف سے خنجر نکل آئے ۔قاتل اس کی طرف بڑھے اس گروہ کا سربراہ اس کا وہی جگری یار تھا ۔اس کی نظر بروٹس پر پڑی تو اس کے منہ سے بے اختیار نکلا’’Brutus you too‘‘ بروٹس تم بھی ؟ پھر اس نے کہا ’’ بروٹس بھی اگر قاتلوں کا ساتھی ہو تو پھر جولیس سیزر کو مر ہی جانا چاہیے‘‘ وہ قتل ہو گیا قت ،خانہ جنگی شروع ہوئی اور رومی سلطنت آگ میں دہکنے لگی ۔بروٹس کے سارے ساتھی قاتل مارے گئے اور بروٹس نے بھی خود کشی کر لی ۔یہ اقتدار تاج و تخت بھی کیا بری بلا ہے ۔جب انسان اس کے اندر ہوتا ہے اسے کچھ نظر نہیں آتا اور جب باہر نکالا جاتا ہے تو اسے دنیا اندھیر لگتی ہے ۔کبھی یہ بھائی کو بھائی کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے ،کبھی سیزر کو پامپے کے سامنے اور کبھی بروٹس کو سیزر کے سامنے خنجر تھام کر کھڑا کر دیتا ہے ۔کوئی کچھ نہیں کر پاتااور کہنے کا موقع ملے تو حیرت سے صرف اتنا کہہ پاتا ہے ’’ بروٹس یو ٹو‘‘۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس،ملک دشمن لابی کو تنبیہ

adaria

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفورنے پیر کے روز پریس کانفرنس میں ملک دشمن لابیز کو تنبیہ کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں،ہم ہر وہ کام کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں ہوگا،ہم پاکستان کیلئے سب کچھ برداشت کریں گے لیکن جب ملک کے نقصان پہنچانے کی بات ہوگی تو کچھ برداشت نہیں کریں گے۔انہوں یہ بھی کہا کہ عوام کی محبت فوج کیلئے پچھلے 10 سال میں زیادہ ہوئی ہے، کم نہیں ہوئی،الزام لگانے سے ہم پر فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی ہر چیز کا جواب دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں امن لانے کیلئے اپنی حکومت اور فورسز پر یقین رکھنا چاہیے،افواج پاکستان نے اپنی زندگی ملک کے نام لکھی ہوتی ہے،ہمیں کچھ نہیں چاہیے، صرف چاہتے ہیں اپنے ذاتی مفاد میں ملک کے مفاد کو پیچھے نہ چھوڑیں۔ اگر فوج کو گالیاں دینے سے آپ کا قد بڑا ہوتا ہے تو دیں لیکن اگر ایسا کرنے سے پاکستان کا قد چھوٹا ہوتا ہے تو یہ نہ کریں۔میجر جنرل آصف غفور نے سوشل میڈیا پر اینٹی پاکستان اور اینٹی آرمی مہم پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک ہماری ذات کی بات ہے اسے ہم برداشت کرتے ہیں لیکن ملک کے خلاف بات کو برداشت نہیں کرتے اور متعلقہ اتھارٹی کو آگاہ کرتے ہیں، ہمارے پاس صلاحیت ہے کہ سوشل میڈیا کو دیکھ سکیں کہ کون کیا کررہا ہے ،سوشل میڈیا پر جو تصویر پیش کی جاتی ہے وہ حقیقت نہیں ہوتی۔اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے اندرونی چیلنجز، فاٹاکے انضمام، پی ٹی ایم، سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف سرگرمیوں،عام انتخابات 2018 ،اسد درانی کی کتاب , بھارتی جارحیت ،افغانستان،ایران صورتحال اور امریکا کی افغانستان سے واپسی جیسے امور پر تفصیل سے بات چیت کی خصوصاً بھارتی رویے اور حالیہ سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر واضح الفاظ میں میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے 2018 میں 1577 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی جبکہ 2017 میں ایک ہزار 881 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی گئیں جس سے 52 افراد جاں بحق اور 254 افراد زخمی ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور بھارت کے ساتھ فائر بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کرنا چاہتے ہیں۔ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم بھارت کی جانب سے کیے گئے ایسے پہلے فائر کو نظر اندازکرتے ہیں جس سے شہریوں کا جانی نقصان نہ ہو تاہم دوسری مرتبہ کیے گئے فائر کا اسی طرح جواب دیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ بھارت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کہاں جانا چاہ رہا ہے کیونکہ ہم دونوں جوہری طاقت ہیں۔انہوں نے افغانستان پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے زیادہ کسی کی خواہش نہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو۔محفوظ سرحد پاکستان اور افغانستان کے حق میں ہے اور اس حوالے سے افغانستان کے وفد کے ساتھ بہت مثبت بات چیت ہوئی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ مل کردہشت گردی کے مشترکہ چیلنج سے نمٹنا چاہتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کسی بھی کالعدم تنظیم کا منظم نیٹ ورک پاکستان میں موجود نہیں ہے۔اسددرانی کی کتاب اور ان کے خلاف انکوائری کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فوج سے ریٹائرمنٹ بھی قبل از وقت ہوئی اور اس کی وجہ بھی سیاسی تھی ،انہیں ریٹائرڈ ہوئے 25سال ہوگئے،جتنے واقعات کی بات کی وہ سب ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کے ہیں،پاک فوج میں آج تک کسی کو غلطی پر معاف نہیں کیا خواہ وہ سپاہی ہو یا جنرل،اسد درانی نے این او سی لئے بغیر کتاب لکھی ،ادارے نے خود نوٹس لیا اور انکوائری شروع کی ،جلد فیصلہ بھی آئے گا۔افواج پاکستان کی طرف سے تازہ میڈیا بریفنگ اس بات کی مظہر ہے کہ وہ ملک کو درپیش چیلنجز سے پوری طرح آگاہ ہے اور ہر چیلنج سے نمٹنے کی پوری صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔خصوصاً وہ عناصر جو سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان اور سکیورٹی اداروں کے خلاف مہم چلا رہے ان کو مانیٹر کیا جا رہا ہے جو حد سے گزرتے ہیں ان کے خلاف قانونی ایکشن بھی لیا جاتا ہے،بھارت اور افغانستان کے حوالے سے بھی پالیسی اور عزم کو دوہرایا گیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے،امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنے والے کسی مغالطے کا شکار ہیں۔

کالاباغ ڈیم ۔۔۔اب نہیں تو پھر کب
سپریم کورٹ نے ملک بھر میں پانی کی قلت اور نئے ڈیموں کی تعمیر سے متعلقہ ایک آئینی درخواست کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت سے تحریری جواب طلب کر تے ہوئے اس حوالے سے زیر سماعت تمام تر مقدمات کو یکجا کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کیس کو ہفتہ کے روز کراچی برانچ رجسٹری میں لگانے کی ہدایت کی ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پانی کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، پانی کی فراہمی ہمارے بچوں کا بنیادی حق ہے، بھارت کے کشن گنگا ڈیم کے باعث دریائے نیلم اور دریائے جہلم خشک ہوگئے ہیں، اگرہم نے اپنے بچو ں کو پانی نہ دیا تو اور کیا دیں گے؟چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل بنچ اس کیس کی سماعت کررہا ہے۔ڈیمز سے متعلق کیس مقرر ہونے پر ایک امید کی کرن پیدا ہوئی ہے کہ شاید اب کی بار سیاسی رکاٹوں کا کوئی حل نکالا جا سکے۔کالاباغ ڈیم ملک کا ایک عظیم پروجیکٹ ہے جو مٹھی بھر سیاسی عناصر کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔حیرت ہے پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اسکی ترقی کا تمام تر انحصار پانی پر ہے لیکن پچھلی نصف صدی سے ملک میں کوئی ڈیم نہیں بناہے۔اس سے بھی زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ڈیمز کی تعمیر ہماری ترجیحات سے نکل گئی ہے۔ان دنوں سوشل میڈیا پر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے بھر پور آواز بلند ہو رہی ہے۔یہ آواز خلق ہے پاکستان کے ان پولیٹیکل عناصر کو اسے سمجھنا چاہیے جو کالاباغ ڈیم کی مخالفت میں جتھہ بندی کئے ہوئے ہیں۔یہ ایک سنہری موقع ہے سپریم کورٹ اس ایشو کو ہمیشہ کیلئے طے کر دیں۔سیدھی بات ہے کہ یہ ڈیم اب نہیں تو پھر کب بنے گا کہ پانی کا بحران ملک کو بنجر کرنے کے در پے ہے۔
صوبائی نگران سیٹ اپ میں تاخیر،اعتماد کے فقدان کی دلیل
آئینی مدت پوری ہونے کے پیش نظر ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیاں اور قومی اسمبلی تحلیل ہوچکی ہیں، لیکن وفاق اور صوبہ سندھ کے علاوہ کسی دوسرے صوبے کے نگران وزیراعلیٰ کے نام پر فیصلہ نہیں ہوسکا تھا،تاہم گزشتہ روز ’’کے پی کے‘‘ کیلئے جسٹس (ر) دوست محمد خان کو چنا گیا ہے۔خیبر پختونخوا کی پارلیمانی کمیٹی بھی نگران وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق رائے کرنے میں ناکام ہوئی تویہ معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بھیجا گیا جس نے انکا انتخاب کرلیا ہے ۔اسی طرح مسلم لیگ (ن)اور تحریک انصاف کی جانب سے پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کے انتخاب کا کام بھی پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔بلوچستان کی صورتحال بھی مختلف نہیں وہاں بھی کسی ایک نام پر اتفاق رائے نہیں ہو پایا ہے۔یہ ایک افسوسناک امرہے کہ سیاسی جماعتیں اس معاملے پر روایتی رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔الیکشن شیڈیول جاری ہو چکا ہے،دیے گئے پچپن دنوں میں سے پانچ دن مزید گزر گئے ہیں۔نگران حکومتوں کے ذمہ بہت سے کرنے والے کام ابھی باقی ہیں.یہ کام اسمبلیوں کی تحلیل سے قبل ہو جانا چاہیے تھا۔

امریکہ بھارت گٹھ جوڑ اور پاکستان

ایک کہاوت ہے’بڑی مچھلی کب تک چھوٹی مچھلیوں کونگلتی رہے گی؟ بڑی مچھلی اس وقت تک چھوٹی مچھلیوں کونگلتی رہے گی جب تک چھوٹی مچھلی اپنے آپ کواتنا بڑانہ کرلے کہ بڑی مچھلی کے منہ میں وہ نہ آسکے’ چھوٹی مچھلیوں کواب اِس کا فیصلہ کرنا ہے کب تک اپنے شکار کی تلاش میں سمندروں کے بیچوں بیچ چھوٹی مچھلیوں کا تعاقب کرنے والی بڑی مچھلیاں ادھر سے ادھرمنہ کھولے پھنکارتی پھریں انہیں کوئی شکار ہی نہ ملے’ سمندروں کی چھوٹی مچھلیاں اب ‘بڑی’ ہوگئی ہیں نا’سمندروں کی ‘بڑی مچھلیوں’کی سفاکانہ خونریزیوں کی مثال پیش کرنے کا یہاں ہمارا مدعا صرف اتنا ہے کہ بعض انسانی اقوام جو خود کو ‘بڑا’ سمجھتی ہیں ان کی فطری جبلت میں بھی بڑی مچھلیوں جیسی انسانیت کش خوبو نے انہیں حیوانوں سے بھی بدتر نچلی سطح پرلاکھڑا کیا ہے وہ لالچی ہوگئے ہیں’لالچ’طمع اورحرص وہوس کی سرکشی میں ایسے حیوان نما انسانوں نے اپنے گردوپیش میں رہنے والے پرامن انسانوں کے فطری بنیادی حقوق پرشب خون مارنے میں اپنی ‘اخلاقی’ حدیں انہوں نے عبورکرلیں’بحیثیتِ پاکستانی ہم یہاں قارئین کی توجہ اپنے ازلی دشمن بھارت کے مسلم کش جدال وقتال کی سیاسی وسفارتی بدقماش حکمت عملیوں کی جانب مبذول کرانا چاہ رہے ہیں مثلا جیسے بحیرہِ ہند کی’آدم خورمچھلیوں’کا سا روپ دھار کربھارت نے بحیرہِ ہند اورخلیجِ بنگال میں سفاکانہ وحشت وبربریت پھیلا رکھی ہے’ اجمالا اگریوں کہا جائے توزیادہ قرینِ تصور ہوگا کہ انسانی لہوکا ذائقہ بھارت کی پسندیدہ لذت بن چکا ہے’اعلی ترین سفارتی اصولوں پربھارت کبھی بھی کاربند نہیں رہا’ہمہ وقت اس کی توجہ پڑوسی ممالک کی اندرونی انتظامی وسیاسی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے پرلگی رہیں ‘بنگلہ دیش’ بھوٹان’ سری لنکا’مالدیپ اورنیپال کووہ چھوٹی چھوٹی مچھلیاں سمجھتاہے’جنوبی ایشیا کے اِن ممالک میں انڈیا کی مداخلتیں روزکا معمول بنتی جارہی ہیں بھارت کے پاس پڑوس کے سبھی ملکوں کی قومی خود مختاری اوران کی مجموعی سلامتی کوبھارت سے ہمیشہ خطرات لاحق رہے، جیسا کہ پاکستان کی مشرقی سرحدیں بھارت سے ملتی ہیں’ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سے ہٹ کر پاکستان نے بہت ہی مشکل ترین حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرکے اپنے آپ کو ایٹمی ڈیٹرنس سے لیس کیا اوربھارت کو یہ پیغام دیا کہ جنوبی ایشیا میں بھارت اپنے دیگر پڑوسی ممالک کی طرح پاکستان کو ‘ہلکا’ نہ سمجھے’پاکستان اس کیلئے ‘ترنوالہ’ نہیں رہا اِس کے باوجود بھارت اوراس کی فوج سمیت دیگر ملٹری اورسویلین دفاعی ادارے پاکستان کوعدم استحکام کیئے رکھنے کے مذموم عزائم سے کسی صورت باز نہیں آرہے’بھارتی سامراجی سفاکیت کی وسعت بڑھتی ہی چلی جارہی ہے’بھارت کی پشت پرامریکا جیسی بڑی سامراجی قوت کی شہ اورہلاشیری سے انکارنہیں کیا جا سکتا، جس عالمی سامراجانہ شہ اورہلا شیری کی اکٹرفوں اورتکبرپربھارت نے ماضی کے اپنے آزمودہ حیلے سازیاں جوکبھی کی فرسودہ ہوچکی ہیں ان فرسودہ حیلے بازیوں پربھارت اب تک قائم ہے9/11 کا ایک واقعہ کیا رونما ہوابھارت کی توجیسے لاٹری نکل آئی ہوامریکی چھتریوں تلے بلی کی طرح سہمتے گھبراتے ہوئے بھارت بھی افغانستان میں یوں جا براجمان ہوا جیسے یہ’ ناقابلِ تسخیرسرزمین’اس نے فتح کی ہو؟ اگر پاکستان امریکیوں کو افغانستان تک ‘راہداری’ نہ دیتا ماضی کے ہمارے حکمران ذرا ہمت پکڑتے عوام کی منشاکوترجیح دیتے توامریکا پاکستان کا کیا کرلیتا؟ لیکن افسوس ہے! ہمارے حکمرانوں کی اس وقت کی ترجیحات پر’کتنے سبق آموز نتائج آج ہمارے سامنے ہیں پاکستان پربھارت کو فوقیت دے کر امریکا نے کچھ کیا یا نہیں کیا اس نے بھارت جیسے مسلم دشمن ملک کو افغانستان میں اپنا جانشین بناکر اپنی تاریخی شکست کے تابوت میں آخری کیل ضرورٹھونک لی امریکا اوربھارت کوایک ساتھ آج نہیں تو کل افغانستان کی سرزمین چھوڑنا ہی پڑے گی اوریہ بھی یادرہے کہ روس کو کوئی ‘ایویں’ ہی نہ سمجھے، روس اورچین کے مابین تقویت پاتے ‘نظریاتی اتحاد’ کی ایک بہت ہی گہری فطری ٹھوس تاریخ ہے اوربھارت کی تاریخی بد نصیبی یہ ہے کہ وہ چاہتے ہوئے بھی لاکھ کوشش کے باوجود’ایشیا ئی پیسفک خطہ’ میں ہی نہیں جنوبی ایشیا بلکہ ایشیا میں کبھی تواناو سرخرونہیں ہوسکتا،اس کے اپنے اندرونی گھمبیر مسائل اِس حد تک تشویش ناک ہوچکے ہیں جس کا اندازہ نئی دہلی کو بخوبی ہے بھارت سے اوپرعوامی جمہوریہِ چین مستقبل کی ابھرتی ہوئی ایک ایسی معاشی ودفاعی طاقت ہے جس کے سوتے آج کے روس کی ترجمانی کررہے ہیں کسی کے چاہنے یا نہ چاہنے سے بے پرواہ ہوکر افغانستان سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں اورخاص کر جنوبی ایشیا میں سامراجیت کے بتوں کو پاش پاش کرنے کے عزم سے سرشار چین اپنی عالمی حیثیت کو منواچکا ہے، اور یہی پاکستان کی جیت ہے پاکستان نے گزشتہ15-10 برسوں کے دوران دنیا پرثابت کردیا کہ اگرنیت صاف اور نیک ہو خالص ہو تودہشت گردی چاہے وہ کسی بھی نوعیت کی ہو،کتنی ہی سفاک’ظلم وبربریت کی ہیبت ووحشت رکھتی ہو، وہ پختہ ارادوں اوردوٹوک فیصلوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے، پاکستانی افواج نے ایسی دہشت گردی کا میدانِ عمل میں اتر کر کیسے صفایاکردیا، جبکہ بھارتی سماج کی مجموعی’متھالوجی تو خود تشدد اورجنونیت کی پرچارک ہے ،جنہوں نے انسانی امن کی تاریخ کا شاید ہی کبھی کوئی ورق پڑھا ہو؟اوریہی بھارتی سفارتی’سیاسی وثقافتی جبلتوں کا المیہ ہے’بھارت کو کبھی چین کا ہم پلہ قرار نہیں دیا جاسکتا، یہ حقیقت اب تسلیم کی جائے کہ پاکستان میں قومی سلامتی کا تصور محض عسکری طور پرریاست کی جغرافیائی سرحدوں کوتحفظ دینے کا نام ہی نہیں بلکہ اِس سے بڑھ کرعلاقائی امن وامان کی شکل میں ایک ہمہ گیر اقتصادی تصور ہے ۔

*****

Google Analytics Alternative