کالم

احتجاج، آزادی مارچ،دھرنا اور بی پلان

دھرنا بار آور ہوا ،ثمر کا حاصل مولانا کے نہےں کسی اور کے حصے مےں آےا ،چھوٹے مےاں کی محنت رنگ لائی ،مرےم نواز اور مرےم اورنگ زےب بھی خاموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں مےری پر عمل کرتی نظر آئےں ۔ مولانا فضل الرحمٰن ابھی تک اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہےں کہ بغےر استعفیٰ احتجاج جاری رہے گا ۔ مولانا سے مذاکرات مےں دھرنا کب اور کےسے ختم کرانے پر تو کوئی پےش رفت دکھائی نہےں دےتی لےکن مولانا ساتھ اگلے راءونڈ کی تےاری کرتے نظر آ رہے ہےں ۔ مولانا نے دھرنا تو ختم کردیا لےکن کن شرائط پر ختم کیا;238; وےسے دھرنے کے مقاصد بڑی حد تک پورے ہو چکے جو تھوڑے بہت رہ گئے وہ بھی پورے ہو جائےں گے ۔ جاتی امراء اور بلاول ہاءوس بھی اس دھرنے ثمرات سمےٹ چکے ۔ اتنا ضرور ہوا کہ نواز شرےف کا ووٹ کو عزت دو کا بخار بھی 60دن کی جےل ےاترا نے رفو کر دےا ۔ نےب نے نواز شرےف کا نام ای سی اےل سے نکالنے کےلئے وزارت داخلہ کو جواب بھجوا دےا کہ وفاقی حکومت کسی بھی شخص کا نام ای سی اےل سے نکالنے کی مجاز ہے ۔ نےب کے جواب پر معاملہ اےک بار پھر وزارت داخلہ کے پاس چلا گےا ۔ نےب کا کہنا ہے کہ مختلف کےسز مےں وفاقی حکومت پہلے بھی صوابدےدی اختےا ر استعمال کر چکی ہے ۔ وفاقی حکومت صوابدےدی اختےار کے تحت اپنے اختےارات استعمال کرے ۔ بالآخر وفاقی کابےنہ نے نواز شرےف کا نام ای سی اےل سے نکالنے کےلئے مشروط منظوری دے دی ۔ اب نواز شرےف کو ملک سے باہر جانے کےلئے سےکورٹی بانڈ جمع کرانا ہو گا ۔ عمران خان کہتے تھے کہ وہ مر جائےں گے اےن آر او نہےں دےں گے ۔ وہ کبھی واشنگٹن مےں کھلے عام ببانگ دہل فرماتے تھے کہ وہ پاکستان لوٹتے ہی مےاں نواز شرےف سے اے سی اور ٹی وی کی سہولت واپس لے لےں گے ۔ وزےر اعظم جو اپوزےشن سے ہاتھ ملانے کے بھی روادار نہےں تھے وہی ارکان اسمبلی کو تسلی دےتے نظر آتے ہےں کہ معاملہ افہام و تفہےم سے حل ہو جائے گا ۔ آپ لوگ پرےشان نہ ہوں ۔ عمران خان کے وہ حامی جو ان کی طرف سے اےن آر او نہےں دوں گا کے نعروں کے جوش سے اچھلا کرتے تھے اب خود ثابت کر رہے ہےں کہ کوئی ڈےل نہےں ہوئی ۔ نواز شرےف نے چودہ ارب ڈالر کے عوض رہائی پائی کےسی خود فرےبی ہے ۔ عمران خان اب کسی کو نہےں چھوڑ نے کی خو سے بےگانہ دکھائی دےتے ہےں ۔ مولانا کے دھرنے نے کرسی کو جھنجوڑا تو احتساب اور اصول کا بخار بھی ےکلخت اتر گےا اور ےو ٹرن مےں ہی عافےت سمجھی ۔ چند روز قبل تک نواز شرےف کے حامی جو سوشل مےڈےا پر انہےں جمہورےت اور نظریے کا سرخےل قرار دے رہے تھے اب جان ہے تو جہان ہے جےسی باتوں کے ساتھ ان کی بےرون ملک روانگی کو کامےابی قرار دے رہے ہےں ۔ ےہ بھی اب زبان زد عام ہے کہ چودھری برادران بھی شاید پنجاب مےں اس دھرنے کی بدولت کامےاب ہو جائےں ۔ چودھری شجاعت حسےن کی کہی ےہ بات سچ دکھائی دےنے لگی کہ مولانا آپ نے مےلہ لوٹ لےا ہے ۔ شاید سےاست حصہ بقدر جثہ ثمرات بانٹ رہی ہے ۔ مولانا نے اپنا بنےادی مطالبہ تو ابھی تک ےہی رکھا ہوا ہے کہ وزےر اعظم مستعفی ہوں ،حکومت ختم ہو جائے اور نئے انتخابات کرائے جائےں ۔ وزےر اعظم کا استعفیٰ تو کسی طور نظر نہےں آتا ۔ الےکشن کا بھی بظاہر امکان نہےں ان کا پلان اے تو فلاپ نظر آتا ہے ان کا پلان بی کےا ہے وہ کب بروئے کار آئے گا ۔ اس کے متعلق کوئی واضح بات نظر نہےں آئی ۔ اس حوالے سے مختلف قےاس آرائےاں کی جا رہی ہےں کےونکہ ابھی تک مولانا بی پلان کے بارے مےں کو ئی واضح حکمت عملی ظاہر نہےں کر رہے ۔ مولانا نے اسلام آباد میں چودہ دن گزارے ۔ آےا صورت حال تصادم کی طرف بڑھتی ہے ۔ مولانا ملک کی اہم شاہراءوں کو بلاک کر کے پورے ملک کو مفلوج کرنا تو نہےں چاہ رہے ۔ ان کے دھرنے سے بھی لوگ آہستہ آہستہ کم ہو رہے ہےں ۔ دےکھنا ےہ ہے کہ مولانا اپنا اگلا لاءحہ عمل کےا اختےار کرتے ہےں اور اس چےلنج سے کےسے نبر آزما ہوتے ہےں ۔ مولانا سےاست کے داءو پےچ سے بخوبی آگاہ ہےں ۔ جمہورےت اور مولانا کا ساتھ قدےمی ہے حکمران کوئی بھی ہو ،کسی بھی پارٹی کا ہو مولانا اس کا حصہ رہے ہےں ۔ ےہ پہلا موقع ہے کہ وہ اقتدار سے باہر ہےں ۔ اےک دفعہ مولانانے کہا تھا کہ پاکستان مےں کوئی بھی حکومت ان کی شرکت کے بغےر نہےں چل سکتی ۔ مولانا نے اسے سچ ثابت کر دکھاےا ۔ مولانا کے ناقدےن سوال اٹھاتے ہےں کہ دھرنے کے سفر وطعام پر اخراجات جو ےقےناً کروڑوں ےا اربوں ہو سکتے ہےں اس فنانس کی ذمہ داری کس نے اٹھائی ہے اور ےہ ساری رقم کہاں سے آئی ہے ۔ مولانا کا لہجہ دن بدن سخت ہوتا دکھائی دےتا ہے ۔ ان کی ابھی تک ےہی رٹ ہے کچھ بھی ہو جائے استعفیٰ لئے بغےر احتجاج ختم نہیں ہوگا ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا مطالبہ دو سے تےن ماہ مےں شفاف الےکشن ہےں ۔ سےنٹ الےکشن سے سےکھ لےا کہ تحرےک عدم اعتماد کا کوئی فائدہ نہےں ،مذاکرات نہےں ہو رہے ،ہم گولےاں کھائےں گے ،شہادتےں حاصل کرےں گے ،لاشےں اٹھائےں گے لےکن استعفیٰ لئے بغےر واپس نہےں جائےں گے ۔ بعض اہل دانش کا خےال ہے کہ مولا نا کو مزےد طوےل اور بور دھرنا نہےں کرنا چاہیے کےونکہ ملک کی جن بڑی پارٹےوں نے انہےں آکسےجن فراہم کرنا تھی انہوں نے ہاتھ اٹھا دےا ہے ۔ چونکہ مولانا اےک زےرک ،پختہ کار اور تجربہ کار سےاستدان ہےں اس لئے وہ ان پارٹےوں کی سرد مہری پر ناراضگی ظاہر نہےں کر رہے ۔ ےہ پارٹےاں ان کو لےڈر شپ دےنے کےلئے بھی تےار نہےں ۔ مولانا کی استعفیٰ لے کر ہی جاءوں گا ،والی ضد انہےں بند گلی مےں لے گئی ہے اس ملک مےں جو بھی آےا بغےر آکسےجن کے نہےں آےا ۔ عمران خان کو بھی آکسےجن مہےا کی گئی لےکن مولانا کے پےچھے کوئی آکسےجن دکھائی نہےں دےتی ۔ چھوٹی پارٹی ہونے کے باوجود وہ مرضی کی ٹرم ڈکٹےٹ کرانے مےں کامےاب رہے ۔ ناکامی مولانا کی ضد کی وجہ سے ہے کوئی بھی اپنے راستے بند نہےں کرتا ان کے دھرنے مےں ان کے مذہبی پےروکار موجود ہےں ان کی حےثےت اےک چھوٹی پارٹی کی ہے اور بنےادی طور پر ےہ صرف دو صوبوں تک محدود ہے ۔ وہ عوامی توجہ کا مرکز بن گئے ہےں ۔ وزےر اعظم کی استعفیٰ والی بات تو ممکن دکھائی نہےں دےتی لےکن کوئی اےسا معاہدہ ہو جائے جو لوگوں کو مطمئن کر سکے اور دکھائی دے کہ مولانا نے احتجاج سے کچھ حاصل کےا ہے ۔ بہر حال اےک بات تو واضع ہے مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنا بہت سوں کو کمزور کرنے کا باعث بنا ۔ اس مارچ نے انہےں مرکزی رہنما بنا دےا ۔ جو لوگ مولانا فضل الرحمٰن کو اےزی لے رہے تھے انہےں اپنی رائے پر نظر ثانی کرنا پڑی ۔ انہوں نے بہت لوگ اکٹھے کر کے اےک بڑا اجتماع کےا ۔ ساتھ ان کو کرےڈٹ جاتا ہے کہ ان کا دھرنا ابھی تک پر امن رہا ہے ابھی تک مولانا کے دھرنے نے نہ سڑکےں بند کےں ،نہ املاک کو نقصان پہنچاےا ،نہ کاروبار زندگی مےں خلل ڈالا ،نہ پولےس پر حملے ہوئے اور نہ گندگی پھےلائی ۔ جے ےو آئی نے نہ صرف اپنا ووٹ بےنک مضبوط کےا بلکہ جن علاقوں مےں اس کی موجودگی نہےں تھی وہاں بھی کچھ نہ کچھ جگہ حاصل کر لی ۔ دارالحکومت اسلام آباد مےں دھرنوں کی رواےت نئی نہےں ہے ان دھرنوں کے مطالبات اور مقاصد مےں فرق ہو سکتا ہے لےکن ان مےں اےک بات مشترک ہے ۔ عوام کی مشکلات اور معےشت کا نقصان ۔ ظاہر ہے کہ ان دھرنوں سے کاروبار تو متاثر ہوتا ہے جو اقتصادی اور معاشی نقصان دہ اثرات ضرور ڈالتا ہے ۔ موجودہ دھرنا بھی عوام کےلئے مشکلات کا باعث ضرور بنا ہے ۔ مولانا فضل الرحمٰن جن کے بارے مےں ےہ مشہور ہے کہ وہ اےک زےرک سےاستدان ہےں اور واپسی کا راستہ بند نہےں کرتے بلکہ کھلا رکھتے ہےں اور سےاسی ےو ٹرن لےنے مےں بھی عار نہےں سمجھتے ۔ ےہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پلان بی پر غور کےا جا رہا ہے جو سراسر تصادم والی ہے جس مےں پورے ملک کی اہم شاہراہوں کو بلاک کر کے پورے ملک کو مفلوج کرنا ہے کےونکہ انہےں اندازہ ہو چکا ہے کہ اسلام آباد وہ کئی دن بےٹھے رہے تب بھی کچھ نہےں ہوا ۔ ان کےلئے آگے کوئی راستہ نہےں ،واپسی کا راستہ موجود ہے ۔ مولانا نہےں جانتے تو کون جانے گا کہ عدم تشدد ہمارا دےن ہے ،ےعنی امن ہمارا اےمان ہے اور سلامتی ہی اسلام ہے ۔ ہر کس و ناکس کو اس کا دراک ہے کہ آزادی کےا ہے اور اس کی خواہش رکھتے ہوئے دوسروں کی آزادی کا احترام کرتا ہے ۔ ان سے امن ،متانت اور دانائی کے مظاہرے کی ہی توقع کی جاسکتی ہے ۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے اور مہنگائی کا نوٹس

وفاقی کابینہ نے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کےلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دیدی جبکہ کابینہ نے قرضوں کی انکوائری کے حوالے سے قائم تحقیقاتی کمیشن سے متعلق میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید اور مذمت کی ،کابینہ نے الیکشن 2018کی شفافیت کی جانچ کے حوالے سے حکومت کے کردار کے بارے میں منفی پروپیگنڈا پرتشویش کا اظہار کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت الیکشن کے بارے میں کسی بھی قسم کا ابہام دور کرنے کے ضمن میں ہر طرح کا تعاون کرنے کےلئے پُرعزم ہے ۔ کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ حکومت نواز شریف کے باہر جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال رہی، دھرنے والوں کا غصہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ وہ بند گلی میں داخل ہو گئے ہیں ، حکومت نے کامیابی سے اپنے معاشی ا ہداف کو حاصل کرلئے، ہم صحت مند معیشت کی جانب سے بڑھ رہے ہیں ،پاکستان کی صحت مند معیشت پر مہر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک بھی لگارہے ہیں ۔ کابینہ اجلاس میں سات نکاتی ایجنڈے کی منظوری دی گئی ،مثبت معاشی اشاریے اقتصادی استحکام کی علامت ہیں جس کے ثمرات عوام تک پہنچیں گے، پاکستان مشکل حالات سے نکل ;200;یا ہے اور مشکل معاشی چیلنجز پر قابو پارہا ہے، اسٹاک مارکیٹ میں تیزی حکومت کی مثبت پالیسیوں کا مظہر ہے جبکہ پاکستان کے مستحکم حالات کے عالمی ادارے بھی معترف ہیں ۔ کابینہ اجلاس میں ملک میں مہنگائی میں کمی کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف موَثر اقدامات کے ساتھ شہر اور تحصیل کی سطح پر ہفتہ وار قیمتوں کی اتارچڑھاءو کی تفصیل وزیراعظم آفس کو بجھوائی جائے ۔ کابینہ کو آٹا،گھی ، چاول ،دالیں کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن کو مہیا کئے جانے والے 6ارب روپے اور اس فیصلے کے قیمتوں پر اثرات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا ۔ معاون خصوصی نے کہا کہ صوبوں نے مہنگائی کےخلاف چھاپوں ، جرمانوں اور گرفتاریوں کو معیار بنا رکھا ہے، تاہم چھاپوں سے غرض نہیں ، قیمتوں پر نظر رکھی جائے گی، جبکہ صوبوں سے کہا ہے کہ اسٹاک رکھنے والوں پر نظر رکھی جائے ۔ موجودہ حالات کا تقاضا یہی ہے کہ حکومت کو اپنا کام کرنے دیا جائے بہتری اسی میں ہے کہ وطن عزیز جس درست سمت کی جانب گامزن ہے اِس میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیا جائے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج پاکستان جن مشکلات کا شکارہے ایسے حالات میں پوری قوم کو متحد ہو کر وطن عزیز کیلئے کام کرنا ہوگا، بحیثیت قوم ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو اقوام عالم میں وہ مقام دلوائیں جسکا یہ حقدار ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کی پوری کوشش ہے کہ بیرون ملک سے سرمایہ وطن عزیز میں لایا جائے ۔ حکومت معاشی بہتری کیلئے ہر طرح کی رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے مسلسل کوشاں ہے ۔ اس لئے موجودہ حالات کا تقاضایہی ہے کہ تمام جماعتیں حکومت کو صحیح طور پر کام کرنے دیں ۔ اس وقت ملک میں سب سے بڑا مسئلہ ہی مہنگائی کا ہے ۔ وزیراعظم کی مسلسل کوشش ہے کہ وہ مہنگائی کو کم کریں مگر مافیا پوری طرح متحرک ہے اور وہ مختلف حربوں سے اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی کرکے قلت پیدا کردیتا ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اس حوالے سے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو حرکت میں آنا ہوگا کیونکہ جب تک ذخیرہ اندوزوں کولگام نہیں ڈالی جائے گی اس وقت تک اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہے گا ۔ لہٰذا پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو پوری طرح متحرک کیاجائے اور روزانہ کی بنیاد پر دکانوں پرریٹ لسٹ چیک کی جائے ۔

حریت چیئرمین سید علی گیلانی

کا وزیراعظم کو خط

مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کشمیر کاز کی بھرپور حمایت اور مظلوم کشمیریوں کےلئے قربانیوں پر پاکستان کے وزیر اعظم اورعوام کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ حریت چیئرمین نے وزیر اعظم پاکستان کے نام اےک خط میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ وہ وزیر اعظم کواپنی عظیم ذمہ داریاں پوری کرنے کی طاقت اورہمت عافرمائے کیونکہ اللہ ہی نے انہیں اسلامی جمہورےہ پاکستان کی قیادت کےلئے چناہے ۔ سید علی گیلانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں مظلوم کشمیریوں کی حمایت میں اورجموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت غیرقانونی طریقے سے تبدےل کرنے کے بھارتی فیصلے کے خلاف وزیر اعظم عمران خان کے خطاب کی تعریف کی ۔ غیر قانونی فیصلہ کشمیریوں پر مسلط کرنے کی بھارتی کوشش کے نتیجے میں خطے میں بڑے پیمانے پر کرفیو لگایا گےا ۔ لوگوں کی مجموعی مزاحمت کی وجہ سے بھارت جدوجہد آزادی کو دبانے میں ناکام ہوگیا ہے ۔ مقبوضہ علاقے میں فون اور انٹرنیٹ سمیت مواصلات کے ہرقسم کے ذراءع منقطع کردیے گئے ہیں ۔ بچوں ، بزرگوں ، نوجوانوں ، تاجروں ، وکلاء، طلباء اورحریت قیادت اوران کے عزیزوں سمیت ہزاروں لوگوں کوشدید تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ 2010ء سے نوجوانوں کو اندھا کرنا کا سلسلہ جاری ہے اورجدوجہد کے اس مرحلے میں بھی سینکڑوں نوجوانوں کو پیلٹ گن کے ذریعے زخمی کیا گیا ہے ۔ خواتین کے ساتھ بدسلوکی ، جنسی ہراسانی اور زیادتی کو لوگوں کو دبانے کےلئے مسلسل ریاستی پالیسی کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے ۔ قابض بھارتی فورسز اب بھی گھروں میں داخل ہوکر خواتین کے ساتھ بدسلوکی کررہی ہیں ۔ لداخ کے مسلمانوں کو ظالم بھارتی فورسز کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے کیونکہ اس خطے کے لوگ بھی بھارت کے غیر قانونی اقدام کی مخالفت کررہے ہیں ۔ حریت چیئرمین نے وزیراعظم عمر ان خان سے اپیل کی کہ وہ تاشقند، شملہ اور لاہور معاہدوں سمیت بھارت کے ساتھ تمام معاہدوں سے علیحدہ ہونے کا اعلان کریں کیونکہ بھارت نے یکطرفہ طوپر ان معاہدوں کو ختم کردیا ہے ۔ انہوں نے عمران خان پر زوردیا کہ وہ کنٹرول لائن کو دوبارہ جنگ بندی لائن کا نام دے دیں کیونکہ بھارت مقبوضہ علاقے کی صورتحال کو 1947اور48 سے پہلے والی پوزیشن پر واپس لے گیا ہے ۔ اگر بھارت کشمیریوں کو انکا ناقابل تنسیخ حق دینے سے انکار کرتا ہے تو پاکستان کو اسکے خلاف پابندیاں عائد کرانے کیلئے کوششیں کرنی چاہئیں ۔

بارودی سرنگ کے دھماکے

میں تین جوان شہید

شمالی وزیرستان میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں پاک فوج کی پٹرولنگ ٹیم کے تین جوان شہید اور ایک زخمی ہو گیا ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ضلع شمالی وزیرستان میں دیسی ساختہ بارودی سرنگ کا دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں پاک فوج کی پٹرولنگ کرنے والی ٹیم کے تین جوان ساجد، ریاست اورسجاد شہید جبکہ بابرزخمی ہوگیا ۔ مسلح افواج ،سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر وطن عزیز میں امن وامان قائم کیا اور دہشت گردی سے قوم کو نجات دلائی ۔ پاک فوج کے قافلے پربارودی سرنگ کا حملہ افسوسناک ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ان حملوں سے جوانوں کے حوصلے پست نہیں ہوں گے ۔ پاک فوج کے آپریشن ہی کی وجہ سے آج ملک میں امن وامان کی صورتحال قائم ہے لیکن بچے کھچے دہشت گرد کہیں نہ کہیں موجود ہیں جو اپنی مذموم کارروائیاں کرتے ہیں ۔ بزدل دشمن کی کارروائی ہمارے جوانوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتی ہمارے جوانوں کا عزم و استقلال جر ات و بہادری جواں مردی کی دُنیا معترف ہے ۔ اللہ تعالیٰ جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔ آمین

علامہ اقبال اور آج کا پاکستان

حضرت علامہ شیخ محمداقبال ;231; مفکر پاکستان، شاعر اسلام، شاعر مشرق،فلسفی شاعر، حکیم الامت پر ان کے یوم پیدائش پر مضمون لکھنے کےلئے لیپ ٹاپ آن کیا ۔ اپنی بہو سے کہا کہ سامنے الماری سے علامہ اقبال ;231; سے متعلق کتابیں اُٹھا لاءو ۔ اُس نے نصف درجن سے زائد کتابیں اُٹھا کر میرے پلنگ کے سرہانے رکھ دیں ۔ اصل میں میرے سونے کے کمرے میں ہی میری لا ئبریری ہے ۔ میں کمرے میں سامنے رکھے کمپیوٹر کو کرسی پر بیٹھ کر استعمال کرنے کے قابل کرنے نہیں رہا ۔ کالم لکھنے ، نیٹ سے مواد تلاش کرنے اورخبریں سننے کےلئے لیپ ٹاپ ہی استعمال کرتا ہوں ۔ کمر میں تکلیف ، چلنے پھرنے سے معذور اور دوسری بیماریوں کی وجہ سے دونوں ہاتھوں سے لکھنے میں دشواری ہوتی ہے ۔ صرف سیدھے ہاتھ کی شہادت انگلی سے لکھ سکتا ہوں ۔ میں اپنے پلنگ پر دونوں ٹانگیں لمبی کرکے ، کبھی سمیٹ کے، کبھی ایک ٹانگ سیدھی طرف کر کے، کبھی دوسری سمت طرف کر کے لکھتا رہتا ہوں ۔ دوسرسے لفظوں میں پلنگ کا قیدی ہوں ۔ خیراللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس قابل بھی ہوں ۔ کالم لکھنے کیلئے نصف درجن سے زائد کتابوں کے اوراق اُلٹ پلٹ کرتا رہا ۔ کبھی علامہ اقبال;231; کے خطوط کی کتاب ، کبھی ان کی شاعری، کبھی قرآن اور اقبال وغیرہ کا مطالعہ کیا ۔ پھر کالم لکھتے لکھتے سارا دن اسی میں گزر گیا ۔ اس دوران تین مرتبہ لیپ ٹاپ آف ہوا ۔ اسی دوران ظہر، عصر اور مغرب کی نماز کی نمازیں ادا کیں ۔ جب شیخ عطا اللہ، مسلم یونیورسٹی بھارت کی کتاب’’ اِقبال نامہ ،مجموعہ مکاتیبِ اِقبال‘‘ الٹ پلٹ کی تو پتہ چلا کہ علامہ اقبال;231; نے سردار عبدلرب خان ،شبلی نعمانی،سید سلیمان ندوی، مولانا شوکت،شیخ عبداللہ کشمیری،پیر سید مہر علی شاہ گو لڑوی،بابائے اردو مولوی عبدالحق،پنڈت جواہرلعل نہر اورقائد اعظم محمد علی جناح;231; سمیت سو سے زیادہ حضرات کو خطوط لکھے ۔ ان میں مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے جگانے ، جذبہ جہاد سے سرشار کرنے، خانکاہوں سے نکل کر رسم شبیری پر آمادہ کرنے ، غلامی سے بیزار ہونے، شاندار ماضی پر فخر کرنے اور فرقہ بازی سے اجتناب کرکے آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے اور آخر میں بانی ِپاکستان کی قائدانہ صلاحیتوں کو استعمال کر کے مسلمانانِ برعظیم کو دوقومی نظریہ پر متحد کرکے فرنگیوں اور ہندوءوں کی سازشوں کا مقابلہ کر کے آزادی حاصل کرنے ، ایک مثل مدینہ مملکت اسلامی جمہوریہ سلطنت دلیل اور قانون کی بنیاد پر حاصل کرنے پر اُبھارا ۔ پھرعلامہ اقبال;231; کی سوچ اور قائد اعظم;231; کے وژن کے مطابق کلمہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کی بنیا پر ۷۴۹۱ء میں پاکستان وجود میں آیا ۔ علامہ اقبال;231; نے اپنی ۴ اردو۶ فارسی پر مشتمل شاعری کی کتابوں میں درج ، تفسیر و حدیث پر مشتمل اپنے جہادی کلام اور نثری خطبات اور عملی جد وجہد سے سوئی ہوئی مسلمان قوم کو جگا کر یہود و ، ہنود اور نصارا کے مقابلے پر کھڑا کر دیا تھا ۔ اے کاش! پاکستان بننے کے بعد اگر مقتدر حلقے اللہ تعالیٰ کی طرف سے برعظیم کے مسلمانوں کے نعرہ مستانہ ، پاکستان کا مطلب کیا’’لا الہ الا اللہ‘‘ کو قبول کرتے ہوئے عطیہ کے طور پر ایک تشتری میں رکھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان مسلمانان برعظیم کو پیش کر دی تھی اگر مقتدر حلقے مدینہ کی اسلامی فلاحی جہادی ریاست کے نمونے کے طور پر نظام ِحکومت قائم کر دیتے تو آج پاکستان کی موجودہ حالت نہ ہوتی ۔ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے پاکستان کی شہ رگ کو بھارت میں ضم کر لیا ہے ۔ آزاد کشمیر پر حملہ کرکے اس کوبھی بھارت میں ضم کرنے کےلئے سرحد پر بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری کر کے سرحدی مسلمانوں کو شہید کر رہا ہے ۔ وقت کے حکمران بھارت کے ان اقدام کے مقابلے میں اگر اقوام متحدہ میں اس ایک زور دار تقریر کے علاوہ کوئی ٹھوس عملی اقدامات کرتے تو آج تین ماہ سے لگے کرفیو کی قید میں تکمیل پاکستان کی جنگ لڑنے والے کشمیریوں کو حوصلہ ملتا ۔ وہ اپنے نوجوانوں کو پاکستان کے سبز ہلالی پرچموں میں لپیٹ کر دفناتے ہیں ۔ کشمیری کی عورتیں کرفیو کی نرمی کے دوران اپنے مکانوں کے دروازے کھول کر کسی محمد قاسم ;231;کا انتظار کر رہیں ہیں ۔ حکومت تو ایک طرف پاکستان کی اپوزیشن پارٹیاں دارلخلافہ اسلام آباد میں بے وقت کی راگنی گا کر پاکستان کے وزیر اعظم سے استعفیٰ نئے انتخابات اور اپنی فوج پر الزام تراشی میں مصروف ہیں ۔ کیا یہ تاتاریوں کے اسلامی د نیا پر حملے کے وقت علماء کے کوّا حلال ہے یاحرام والی باتیں تو نہیں ۔ دوسری طرف حکمرانوں نے پہلے لاڈ میکالے کا نظام تعلیم جو غلامی کی تعلیم دیتا ہے ابھی ختم نہیں کیا ۔ بلکہ جو کچھ قرآن میں بیان کی گئی جہادی اور علامہ اقبال;231; کی تعلیمات پر مبنی مواد نصاب تعلیم میں کسی مسلمان حکمران نے ڈالا تھا وہ بتدریج نکال دیاگیا ۔ اُردو زبان کا نفاذ جو پاکستانیوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرتا،جو پاکستان کے سارے آئینوں میں بیان کر دیا گیا ہے آج تک راءج نہیں کیا گیا ۔ ملک میں تین قسم کے نظام تعلیم چل رہے ہیں جو قوم میں اتحاد اتفاق نہیں انتشار پھیلانے والے ہیں ۔ یوم اقبال;231; پر چھٹی ختم کر کے مسلمانوں کے دلوں سے علامہ اقبال;231; کی مسلم قومیت،جہادی ، غیرت اور اپنے پاءوں پر کھڑے ہونے کی تعلیمات سے غافل کرنے کی بنیاد ڈالی گئی ۔ بھارت شروع سے پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دیتا رہا اعلانیہ دہشت گردی کرتا رہا ہے ۔ اُس کے سامنے سابقہ حکمران بھیگی بلی بنے رہے ۔ آلو پیاز کی تجارت کرتے رہے ۔ دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنے کےلئے اپنی ہی فوج سے لڑتے رہے ۔ دنیا کے سینئر صحافی جو سیاستدانوں کی کرپشن پکڑنے میں مصروف رہتے ہیں ۔ انہوں نے دنیا کے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ۶۳۴ لوگوں کے نام آف شور کمپنیوں کے ذریعے دنیا کے سامنے لائے تھے ۔ ان آف شور کمپنیوں میں سابقہ حکمران کے خاندان کے نام بھی سامنے آئے تھے ۔ پریشانی کے عالم میں دو دفعہ الیکٹرونک میڈیا اور ایک دفعہ پارلیمنٹ میں عوام کے سامنے صفائی پیش کی ۔ پارلیمنٹ میں بیان دیا’’ جناب اسپیکر یہ ہیں ہماری آمدنی کے ذراءع‘‘مگر جب اپوزیشن کے دباءو پر مقدمہ قائم ہوا تو آمدنی کے ذراءع کی منی ٹریل نہ پیش کر سکے ۔ سپریم کورٹ کے پانچ معزز ججوں نے پہلے سیاست سے ہمیشہ کیلئے نا اہل قرار دیے گئے ۔ پھر کورٹ میں منی ٹریل نہ پیش کرنے پر سزا کے مستحق ہوئے ۔ فیصلہ خلاف آنے پر پاکستان کی عدلیہ اور فوج کےخلاف سارے ملک میں ہنگامہ بر پا کیا ۔ کہا ’’مجھے کیوں نکالا گیا‘‘ ۔ ذرءع کہتے ہیں آپ نے خود سپریم کورٹ سے کہا کہ مقدمہ سن کرفیصلہ دیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوئے ۔ جب فیصلہ آپ کیخلاف آیا تو پھر طیش میں آکر ملک کو داءو پر لگا دیا ۔ ذراءع تو یہاں تک کہتے سنے گئے کہ ایک شخص جو اپنی ملک کی فوج کے خلاف سازش کرے، پاکستان کا ازلی دشمن بھارت، پاکستان میں دہشت گردی کر کے اسے ختم کرنے کی اعلانیہ دھمکیاں دے، اس دہشت گرد مودی اور را کے چیف اجیت دوول کے ساتھ غیر قانونی ذراءع کے اپنے گھرجاتی امرا لاہور میں بلاکر اسے تحاءف پیش کرے ۔ بھارت کے اسٹیل ٹائیکون اور پاکستان کےخلاف اعلانیہ سازشوں کے تانے بانے جوڑنےوالے کو بغیر ویزے پاکستان آنے اور مری میں ملاقات کا موقع دے ۔ نہ جانے اس نے دہشت گرد مودی کاکیا پیغام پہنچایا ہو گا ۔ پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے، دہشت گردوں کوفنڈنگ کرنےوالے ، کراچی اور بلوچستان کے دہشت گردوں سے رابطے کا ویڈیو میں اعتراف کرنے والے،بھارت کی نیوی فوج کے حاضر سروس کمانڈر رینک کے کل بھوشن یادیو جاسوس جس کو پاک فوج نے رنگے ہاتھوں رفتار کیا، اس کےخلاف زبان نہ کھولنے ۔ اس سارے پاکستان مخالف اقدامات پر ذراءع کے مطابق پاکستان سے غداری کا مقدمہ بنتا تھا ۔ پاکستان کے شہروں شہر کہتے پھرتے رہے کہ ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ ۔ ارے بھائی آپ کو کسی فرد یا ادارے نے نہیں نکالا ۔ آپ کے ا ن کالے کرتوں کی وجہ سے، مثل مدینہ اسلامی ریاست کی نگرانی کرنے والے اللہ تعالیٰ نے نکالا ۔ صاحبو! مفکر پاکستان کے یوم پیدائش پر پاکستان کے یہ حالات ہیں ۔ کیا پاکستانی قوم کوعلامہ اقبال;231; کی روح سے معافی نہیں مانگنی چاہیے ۔ یہ عہد نہیں کرنا چاہیے اور اس بات عزم نہیں کرنا چاہیے کہ ہم پھر سے تاریخ پاکستان جیسی تحریک اُٹھا کر ویسے ہی حالات پیدا کر کے ملک میں آپ ;231;اور بانی ِ پاکستان;231; کے وژن کے مطابق مدینے کی اسلامی فلاحی جہادی ریاست کے قیام کا پرزور مطالبہ کریں گے ۔ ایٹمی اور میزائل طاقت والے پاکستان کے حکمرانوں کو آگے بڑھ مظلوم کشمیریوں کی مدد کرتے ہوئے، بھارت سے اپنی شہ رگ واپس لنے پر مجبور کریں گے ۔ اللہ ہماراحامی ناصر ہو آمین ۔

مصطفی ﷺجان رحمت پہ لاکھوں سلام

حقائق پر مبنی ایک عالمگیراور بھرپور کہاوت ہے کہ ٹھنڈک کا کوئی وجود نہیں حدت کی غیر حاضری کو ٹھنڈک کہتے ہیں کہ جب حدت آتی ہے تو ٹھنڈک کہاں چلی جاتی ہے دراصل ٹھنڈک کا کوئی وجود نہیں ہوتا بعینہ تاریکی کابھی کوئی وجود نہیں جب روشنی آتی ہے تو تاریکی بھی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح جب سرزمین عرب پرکفر کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے تو احمد مجتبیٰ محمد مصطفیﷺ اسلام کی روشن اور منور کرنوں کا پاکیزہ اور مطاہر پروگرام لے کر آئے تو دنیائے عرب سے کفرو الحاد کے تاریک سائے ختم ہوگئے یہ وہ زمانہ تھا جب دنیائے عرب جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا معمولی معمولی باتوں پر قبائل میں جنگیں اور دشمنی جوسالہا سال چلتی اور سینکڑوں لوگ ہلاک ہو جاتے ایسے میں آمنہ کے لعل نے اللہ رب العزت کے آفاقی پیغام قرآن کریم سے اہل عرب کو روشناس کرایا اور انہیں احترام انسانیت و آدمیت کی تلقین و تبلیغ کی ان پر حق وباطل کی تفریق واضح کی انہیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے قادر مطلق ہونے کا درس دیا عدل وانصاف اور مساوت کا سبق دیا انہیں قرآنی تعلیمات ان کی افادیت اور اہمیت سے آگاہ کیا اور عرب کا استحصالی معاشرہ جو صدیوں سے جہالت میں ڈوبا ہوا تھا اسے کرن کرن منور کردیا اور پھر وہ وقت آیا کہ وہی جہالت والا معاشرہ بنی نوع انسان کی رہنمائی کا معتبر ذریعہ ٹھہرا ۔ حضور کریم ﷺ کی آمد سے پہلے اپنے اوصاف حمیدہ اور اخلاق جلیلہ کی بدولت صادق و امین کے لقب سے یاد کئے جاتے تھے یہاں اس واقع کا ذکر مناسب ہوگا کہ تاجروں کا ایک قافلہ جو مال تجارت لے کر دوسرے شہر جارہا تھا قافلہ اپنی منزل مقصود سے ذرا فاصلے پر تھا کہ بارش شروع ہوگئی اور اونٹوں پر لدا ہوا سامان تجارت بھیگنے لگا منزل تک پہنچتے پہنچتے آدھا مال تجارت بھیگ چکا تھا ۔ منڈی پہنچ کر تاجروں نے مال اتارا تاجروں میں ایک معصوم چہرے والا نوجوان تاجر بھی موجود تھا اسی نوجوان تاجر نے اپنے مال کو دو حصوں میں تقسیم کردیا خشک اناج ایک طرف اور بھیگا ہوا اناج دوسری طرف ۔ جب خریدو فروخت شروع ہوئی تو نوجوان تاجر بھیگے ہوئے مال کابھاءو کم بتاتے جبکہ خشک مال کا بھاءو پورا گاہک حیران ہوکر پوچھتا کہ ایک جیسے مال کا الگ الگ بھاءو کیوں ;238; تو وہ بتاتے کے مال بھیگنے سے اس کا وزن زیادہ ہوگیا ہے اور خشک ہونے کے بعد اس کا وزن کم ہوجائے گا اگر میں دونوں کا ایک ہی بھاءو پر بیچوں گا تو یہ بدیانتی ہوگی ۔ لوگوں کےلئے یہ نئی بات تھی پوری منڈی میں اس نوجوان تاجرکی دیانتداری کا چرچا ہوگیا لوگ جوق در جوق اس تاجر کے گرد جمع ہونے لگے اور ان کے اخلاق اور ایمانداری کے گرویدہ ہوگئے وہ معصوم اور خوش شکل نوجوان تاجر ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ تھے حضور اکرم دیانتداری ، اخلاق ، غریب پروری، انصاف ، مروت ، چھوٹوں سے محبت بڑوں کا احترام کا ایک اعلی ترین اور فقید المثال نمونہ تھے آپﷺ نے زندگی بھر بحث تمحیض سے انحراف کیا ۔ ایک یتیم اور تنہا عظیم المرتبت ہستی نے دنیا کو اسلامی طرز کا ایک بہترین نظام حیات عطا کیا کہ جس کے سامنے دنیا بھر کے نظام ہیچ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام اس تیزی سے پھیلا کہ دنیائے عرب سے نکل کر پوری کائنات پر محیط ہوگیا اور دنیا کے بڑے بڑے غیر مسلم دانشور بھی اسلام کی تعریف اس کی افادیت اور اہمیت میں رطب اللسان ہیں ۔ آپﷺ کی حیات طیبہ کے آخری چند ایام کا تذکرہ یوں ہے کہ جب آپ عمر کے 63ویں سال میں تھے تو بارگاہ الٰہی سے اشارہ ہوا کہ پیغام انسانیت مکمل ہوا اب آپ کی واپسی کا سفر ہوگا ۔ حجتہ الوداع کے بعد 11ہجری ماہ صفر میں آپ جنت البقیع تشریف لے گئے دعا کی اور فرمایا کہ ہم جلد ہی تم سے آ ملنے والے ہیں قبرستان سے واپسی پر سر میں ہلکا ہلکا درد شروع ہوا ۔ مرض کی شدت بڑھنے پر ازواج مطہرات کو جمع کیا اور استفسار فرمایا کہ علالت کہ دن حضرت عائشہ ;230; کے گھر گزارلوں ;238; مثبت جواب پر اٹھنا چاہا لیکن اٹھ نہ پائے حضور کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا صحابہ کرام ;230; نے آپ ﷺ کو اس حال میں دیکھا تو گھبرا گئے ۔ مسجد نبویﷺ میں شور بڑھنے لگا آپ ﷺ کے دریافت کرنے پر بتایا گیا کہ لوگ آپﷺ کی حالت سے خوفزدہ ہیں ۔ ارشاد ہوا مجھے ان کے پاس لے چلو اٹھنے کا ارادہ فرمایا مگر اٹھ نہ سکے آپﷺ پر سات مشکیزے پانی بہایا گیا، تب سہارا لے کر منبرپر تشریف لائے یہ رسالت مآبﷺ کا آخری خطبہ تھا فرمایا تمہیں شاید میری موت کا خوف ہے اور فرمایا اے لوگو! اب تم سے میری ملاقات دنیا میں نہیں حوض کوثر پر ہوگی لوگو کو مخاطب کرتے ہوئے تلقین فرمائی ۔ لوگو نماز اور عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرنا اور میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنانا اس کے بعد ارشاد ہوا اللہ نے اپنے بندے کو اختیار دیا اس نے وہ اختیار کر لیا جو خدا کی بار گاہ میں ہے سیدنا ابوبکرصدیق;230; سمجھ گئے اور اشک بار ہوگئے اور کہنے لگے ’’میرے ماں باپ اور بچے آپﷺ پر قربان اور پھر احمد رسلﷺ نے امامت کےلئے حضرت ابو بکر ;230; کو مقرر فرمایا اور ارشاد ہوا کہ میں نے سب کے بدلے چکا دئیے ہیں اور ابوبکر;230; کا بدلہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے مسجد نبوی ﷺ کے سارے دروازے بند کر دئیے جائیں سوائے ابوبکر کے دروازے کے اور فرمایا کہ اے لوگو قیامت تک آنے والے میرے ہر امتی کو میرا سلام پہنچا دینا پھر آپﷺ کو سہارا دے کر گھر لے جایا گیا ۔ 12ربیع الاول پیر کے روز نماز فجر کے وقت پردہ اٹھا کر صحابہ کرام کو دیکھا چہرے پر بشاشت آگئی حضرت ابو بکر;230; پیچھے ہٹنے لگے تو اشارے سے منع کیا اور ایک دلربا تبسم کے ساتھ پردہ چھوڑ دیا ۔ دن چڑھا تو سیدہ فاطمہ;230; کو بلایا انکے کان میں کچھ کہا جس پر وہ زاروقطار رونے لگیں تو پھر کچھ ارشاد فرمایا تو ان کے چہرے پر رونق آگئی سیدہ عائشہ ;230; فرماتی ہیں وصال کے بعد میں نے پوچھا وہ کیا بات تھی جس پر آپ پہلے روئیں اور پھر مطمئن ہوگئیں تو انہوں نے بتایا کہ پہلے فرمایا کہ میں آج کوچ کرنے والا ہوں ۔ دوسری بار کہا کہ تم خاندان میں سب سے پہلے مجھے سے آکر ملو گی ۔ آپﷺ نے سب کو بھیج دیا اور سیدہ عائشہ ;230;سے فرمایا کہ میرے قریب آءو تو آپﷺ نے اپنی زوجہ مطاہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی ہاتھ مبارک آسمان کی طرف بلند کئے اورفرمایا یا اللہ مجھے آپ کی اعلیٰ رفاقت پسند ہے اس مرحلہ پر جبرائیل ;174; حاضر ہوئے اور کہا یارسول اللہ ﷺ ملک الموت آنے کی اجازت طلب کررہا ہے کبھی اس نے کسی سے اجازت نہیں مانگی فرمایا آنے دو ملک الموت اندر آئے اور کہا کہ اللہ نے آپ کی خواہش معلوم کرنے بھیجا ہے آپ ﷺ دنیا میں رہنا چاہتے ہیں کہ اللہ کے ہاں جانا چاہتے ہیں ۔ فرمایا اللہ میرا عمدہ رفیق ہے ملک الموت سرہانے کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے اے پاکیزہ روح اللہ کی رضا اور خوشنودی کی طرف روانہ ہوجا سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ کا ہاتھ نیچے آنے لگا سر مبارک بھاری ہونے لگا میں سمجھ گئی کہ آپ کا وصال ہوگیا ہے ۔

مصطفیﷺ جان رحمت پہ لاکھوں سلام

مولانا فضل الرحمن کا دھرنا،کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے

پاکستان کا دارلحکومت ایک بار پھر دھرنے کی زد میں ہے اور دھرنے والے فخر سے کہہ رہے ہیں کہ وہ لاکھوں کا مارچ لائے ہیں اور لاکھوں کا مجمع بٹھانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ اس کے اثرات ملکی ترقی پر کیا پڑ رہے ہیں اس سے ان کو غرض نہیں اور اس سے اسلام آباد کے عام شہریوں کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے یہ بھی ان کا درد سر نہیں ،میٹرو سٹیشنوں پر ان کا قبضہ جائز ہے یا ناجائز اس کی بھی ان کو پرواہ نہیں ۔ ان کا مسئلہ ایک ہی ہے مجمع بڑا ہواور تعداد زیادہ ہو، شاید یہ بات اُن کےلئے ان کے مطالبہ نمبر ایک یعنی وزیر اعظم کے استعفیٰ سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ وہ جس فخر سے اپنی تعدادکا ذکر کر رہے ہیں وہ اسی بات کی گواہی ہے ۔ یہاں عوام کا ایک سوال ہے کہ جو پارٹی ہمیشہ سے سیاست کا بارہواں کھلاڑی ہے یعنی حکومت میں کوئی رخنہ پڑا کوئی مسئلہ پیدا ہوا تو پانی لے کر دوڑتا ہوا میدان میں اترا پانی پلایا اور دوبارہ سے چست ہو کر سٹینڈ میں بیٹھ رہا کہ ضرورت پڑنے پر فوراََ مدد کو پہنچ سکے، اُس نے اتنے لوگ کیسے جمع کر لیے اس کے تو شاید تمام ووٹر کی تعداد بھی کچھ لاکھ سے زیادہ نہیں وہ ملین مارچ کا دعویٰ کیسے کر رہی ہے ۔ وہ بھی جب دوسری بڑی اپوزیشن جماعتوں نے اُس کے دھرنے میں بیٹھنے سے بھی انکارکر دیا تو پھر اتنا ہجوم کیسے جمع ہو گیا اوران کو یہاں تک کیسے لایا گیا ۔ کیا پاکستان کے عوام اتنے خوشحال ہو گئے کہ کشمیر، سندھ، بلوچستان، کے پی کے اور پنجاب کے دور دراز علاقوں میں اپنے خاندانوں کو مہینوں کی نیت سے اکیلا چھوڑ آئے ہیں ان کے کھانے کی فکر نہ پینے کی بس وہ اپنے سیاسی لیڈر کو خوش کرنے چل پڑے اس ایمان پر کہ ان کے گھروں میں من وسلویٰ اترے گا اور فکر کی کوئی بات نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ آخر اتنا پیسہ کہاں سے آیا ۔ جب مولانا فضل الرحمان صاحب سے ایک ٹی وی اینکر نے یہی سوال کیا تو کہنے لگے ہ میں خود نہیں معلوم کہاں سے سب کچھ آرہا ہے لیکن بس آرہا ہے اور انتہائی کھلا آرہا ہے بالفاظ دیگر ریل پیل ہے سوال اور بھی بہت سارے ہیں لیکن ایک بڑا سوال یہ ہے کہ دھرنے میں کتنے افغان مہاجرین شامل ہیں جنہوں نے شروع کے کئی دن تو طالبان کے جھنڈے بھی لہرا دیے تھے اور جب انہیں نوٹ کیا گیا تو جھنڈے ہٹا دیے گئے لیکن کیا افغان شہری بھی واپس چلے گئے ،یہ ناممکن نظر آتا ہے ، کہنے کو یہ بھی کہا گیاکہ اس مارچ میں مدارس کے طالبعلم نہیں آئیں گے لیکن ایسے بے شمار نوجوان نظر آرہے ہیں جو دیکھنے سے طالبعلم ہی لگتے ہیں ۔ اس سے پچھلے دھرنے میں بھی یہ نوجوان اور بچے نظر آتے رہے ۔ بات تو یہ ہے کہ سکول کالج کی عمر کے لڑکوں کو پڑھائی سے نکال کر کیوں سیاست میں گھسیٹا جاتا ہے کیوں ان کے مستقبل کو اپنے حال اور حکومت کےلئے قربان کر دیا جاتا ہے اور ہمارے لیڈران اسی میں خوش رہتے ہیں کہ بوڑھے، جوان سب ان کے دھرنوں میں موجود ہیں ۔ مارچ کیا جلوس نکالا اور اگلے دن اپنا بستہ کتابیں لے کر اپنے تعلیمی ادارے کو چل دیے تو پھر تو بے دلی سے قابلِ قبول ہے لیکن دھرنوں میں ہفتوں مہینوں ان کو بٹھانا کہاں کا انصاف ہے ۔ موجودہ دھرنے میں تو جیسا کہ سننے میں آرہا ہے کہ افغان شہری اور افغان نوجوان بھی موجود ہیں تو آخر کیوں ہم اپنے ملک کے اختیار میں دوسروں کو مداخلت کی اجازت دے رہے ہیں ۔ اس سے پہلے یہی افغان باشندے منظور پشتین کے جلسے جلوسوں میں شرکت کر کے مسائل پیدا کرتے رہے ہیں ۔ کیا ہمار ا ہر دم جاگتا ہو میڈیا اس مسئلے کو سامنے لائے گا تاکہ لوگوں کو ’’بہت بڑی کامیابیوں ‘‘ کی اصل معلوم ہو سکے اور کیا ہماری عدالتیں اپنا کوئی آزادانہ فیصلہ دے کر اس قسم کی غیر ملکی مداخلت والی سیاسی سرگرمیوں پر کسی قسم کی پابندی نہیں تو قد غن ہی لگا ئیں گی ،کسی قانون کی کوئی شق ہی اٹھائیں گی کہ اپنے ملکی معاملات میں دوسروں کو مداخلت کی اجازت کسی طور نہ دی جائے توقارئین کرام آپ دیکھئے گا کہ ہمارے ملک میں امن و امان کے کئی مسائل خود ہی حل ہو جائیں گے ۔ یہاں یہ بھی گزارش ہے کہ ملکی سیاست کو کسی قانون قاعدے کا پابند کیا جائے اور اٹھارہ سال سے کم عمر نوجوانوں کو اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو چھوڑ کر دھرنوں اور طویل احتجاجوں کا حصہ بننے سے روکا جائے اور سیاسی جماعتوں پر بھی یہ پابندی لگائی جائے کہ ان بچوں کو اپنے مقاصد کےلئے استعمال نہ کریں ۔ میں نے ایسے کئی لائق فائق نوجوانوں کو دیکھا ہے جو ان معاملات میں پڑ کر نہ صرف اپنے والدین کےلئے پریشانی کا باعث بنتے ہیں بلکہ اپنا مستقبل بھی تاریک کر لیتے ہیں ۔ لہٰذا معاشرے، والدین، سیاستدانوں ، میڈیا اور عدالتوں سب سے التماس ہے کہ اپنے ملک و قوم کا مستقبل تاریک نہ کریں اور انہیں صحتمندانہ سر گرمیوں کی طرف مائل کریں ۔ انہیں تعلیم کی اہمیت سے آگا ہ کریں ان کا مستقبل سنواریں نہ کہ انہیں استعمال کرکے اپنا اور اپنے خاندان کا ماضی،حال اور مستقبل عظیم کریں ۔ دوسری درخواست یہ کہ اپنی قومی سیاست اور ملکی معاملات میں کسی غیر کو مداخلت نہ کرنے دیں اور انہیں اتنا با اختیار نہ بنائیں کہ وہ آپ کے مالک بن بیٹھیں اور آپ کے فیصلے کرنے لگیں ۔ یہ ملک آپ کا ہے اسے اپنا ہی رہنے دیں نہ اسے دوستوں کے ہاتھ فروخت کریں نہ دشمنوں کے حوالے کریں کیوں کہ ہر دو صورتوں میں آپ خود مختار نہیں ہو سکتے اور سیاست بھی کریں لیکن اپنے زورِ بازو پر نہ کہ دوسروں کے جو کہ ہمارے کوچہء سیاست کا ایک رواج بن چکا ہے لیکن اس رواج کو اب ختم کرنا ہو گا اور اپنا اختیار دوسروں کو دینے کی بجائے اپنے ہاتھ میں رکھنا ہو گا ۔

جنوبی ایشیاء میں بڑھتے چند مسائل !

احتجاجی دھرنوں میں نو عمر افغان بچوں کی شمولیت قابل تشویش ہے ۔ اس ضمن میں اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اعلیٰ عدلیہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے تا کہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جا سکے ، یہ ایک ایسا امر ہے جسے کسی بھی طور قابل رشک قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس سے معاشرتی سطح پر بہت سے ایسے مسائل جنم لے سکتے ہیں جو آگے چل کر پیچیدہ صورتحال کا سبب بن سکتے ہیں ۔ دوسری جانب یہ انتہائی تشویش ناک امر ہونا چاہیے کہ بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں کے مطابق بھارت کی ایٹمی معلومات کو ’’ ہیک ‘‘ کر لیا گیا ہے ۔ مبصرین کے مطابق اس قدر حساس اور قیمتی معلومات کا افشاں ہونا ظاہر کرتا ہے کہ بھارتی کا ایٹمی پروگرام کس قدر غیر محفوظ ہاتھوں میں ہے، حالانکہ بھارتی حکمران اس کے برعکس دعوے کرتے ہیں مگر اس جانب بھی عالمی سطح پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے کیونکہ اس کا اثر نہ صرف بھارت پر پڑے گا بلکہ پورا جنوبی ایشیائی خطہ اس سے متاثر ہو سکتا ہے ۔ اسی کے ساتھ ساتھ دہلی سرکار کی جانب سے مقبوضہ اور آزاد کشمیر کا نیا نقشہ جاری کیا گیا جس میں انتہائی اشتعال انگیزی کا ثبوت دیتے ہوئے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ہندوستان کے حصے کے طور پر ظاہر کیا گیا ۔ یہ ایسی روش ہے جسے بھارتی خبثِ باطن کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا ، اس صورتحال کے لئے مذمت جیسے الفاظ بھی چھوٹے پڑ جاتے ہیں ۔ علاوہ ازیں یوں تو دنیا کے اکثر خطوں میں ماحولیاتی تغیر ایک بڑے چیلنج کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے مگر اس ضمن میں بھارت کی حالت سب سے دگردوں ہے ۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ چار سال پہلے کلائمنٹ چینج سمٹ ہوا تھا مگر چند روز قبل ٹرمپ نے خود کو اس سے الگ کر لیا، انھوں نے کہا کہ امریکہ اس ضمن میں کوئی خرچہ نہیں کرے گا ۔ ہندوستان میں ایئر کوالٹی اس قدر گر چکی ہے کہ بچوں کو تعلیمی اداروں سے چھٹیاں دے دی گئیں اور تمام فارماسیوٹیکل کمپنیز کے پاس ’’ماسک‘‘ کی قلت ہو چکی ہے ۔ علاوہ ازیں ماہرین کے مطابق سیاچن گلیشیئر کے پگھلنے کا سلسلہ بھی خطرناک حد تک تیز ہو چلا ہے، جس سے ماحولیاتی تبدیلی تباہ کن شکل بھی اختیار کر سکتی ہے ۔ یہاں یہ امر بھی خاصی توجہ کا حامل ہے کہ عرصہ دراز سے عالمی سطح پر ایک بے بنیاد پراپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی روز بروز فروغ پا رہی ہے حالانکہ اگر حقیقت حال کا جائزہ لیں تو بہت سے انسان دوست ہندوستانی حلقوں نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کی بہ نسبت ہندوستان کے طول و عرض میں انتہا پسند ہندو تنظی میں غلبہ حاصل کر رہی ہیں ۔ اسی تناظر میں کچھ عرصہ پہلے ایک برطانوی نژاد بھارتی مصنف ’’آتش تاثیر‘‘نے اپنی تحریر ’’ ;84;he ;82;ight ;87;ing ;65;ttack on ;73;ndian ;85;niversities ‘‘ میں ’’سندیپ پانڈے‘‘ کا حوالہ دیتے لکھا تھا کہ ’’ مسٹر سنڈیپ پانڈے بنارس ہندو یونیورسٹی کے ایک اچھی شہرت کے حامل ٹیکنیکل ادارے سے وزٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے نکالے گئے، انھوں نے مجھے (مصنف) کو بتایا کہ بھارت کی اکثر یونیورسٹیوں کی مانند بنارس ہندو یونیورسٹی پر بھی ;828383; غلبہ پا چکی ہے اور یہ لوگ معمولی سے اختلاف رائے کو بھی برداشت نہیں کرتے‘خصوصاً جب سے مودی کی زیرقیادت 2014 مئی میں ;667480; کی سرکار قائم ہوئی تھی تب سے یہ سلسلہ مزید شدت اختیار کر چکا ہے ۔ یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ;828383; نے جیسے زندگی کے دوسروے شعبے میں اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں ، اسی طرح تعلیم و تربیت کے شعبے کو خصوصی طور پر ٹارگٹ بنایا گیا ہے اور اپنے نظریات کے فروغ کیلئے اکھل بھارتی شکھشا سنستھان قائم کر رکھی ہے جسے مختصر طور پر ودیا بھارتی کا نام دیا جاتا ہے ۔ یہ ایک غیر سرکاری ادارہ ہے جس کے تحت بھارت کے اندر ہزاروں کی تعداد میں تعلیمی ادارے چلائے جاتے ہیں ۔ اس کا رجسٹرڈ دفتر یوپی کی راجدھانی لکھنءو میں جبکہ فنکشنل ہیڈ کوارٹر دہلی میں اور ذیلی مرکز ’’کورو کھشیتر‘‘ (ہریانہ) میں واقع ہے ۔ 2003 تک اس کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں کی تعداد 14000 تھی جہاں 17 لاکھ سے زائد طلباء زیر تعلیم تھے جبکہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس کے زیر اہتمام چلنے والے تعلیمی اداروں کی تعداد 25000 ہو چکی ہے جہاں 30 لاکھ سے زائد طالب علم زیر تعلیم ہیں ، ان میں بیسوں یونیورسٹیاں ، ہزاروں کی تعداد میں کالجز، درجنوں ووکیشنل اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس شامل ہیں ، انہی کے ذریعے ہندو انتہا پسند نظریات کو ہر ممکن ڈھنگ سے فروغ دیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ نصابی کتابوں میں اپنی مرضی کا نصاب شامل کرنے کیلئے نصاب ترتیب دینے والے سرکاری اداروں پر بھی گرفت مضبوط کر لی گئی ہے اور ان کتابوں میں ’’اکبرِ اعظم‘‘ جیسی شخصیت کو بھی غیر ملکی حملہ آور قرار دیا گیا ہے، حالانکہ کسے معلوم نہیں کہ اکبر اعظم نے تو ہندوءوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ’’ دین الٰہی‘‘ کے نام سے ایک علیحدہ مذہب تک متعارف کروا دیا تھا ۔ یہ ایک علیحدہ بات ہے کہ وہ نام نہاد مذہب اکبر کی موت کے ساتھ ہی ختم ہو گیا ۔ ;828383; نے بھارت کی تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کیلئے ;667480; کے تحت چلنے والی طلباء تنظیم، اکھل بھارتی ودیارتھی پریشد (;65668680; ) کے ذریعے اکثر طلباء یونینز پر قبضہ کر رکھا ہے اور یوں ہندوستان کے طول و عرض میں اپنے من پسند نظریات کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔ امید کی جانی چاہیے عالمی سطح پر ان چیلنجز پر قابو پانے کیلئے موثر اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔

حکومتی اقدامات۔۔۔ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن

عالمی اداروں کی جانب سے پاکستان کی معاشی صورتحال پر اظہار اعتماد، سرمایہ کاروں کیلئے سہولیات کا اعلان، تجارتی خسارے میں بتدریج کمی یہ تمام چیزیں اپنی جگہ تاہم اصل مسئلہ مہنگائی کا ہے جب ملک میں 400 روپے سے زیادہ کلو ٹماٹر فروخت ہورہے ہوں تو اس کی اصل وجوہات معلوم کرنے کی ضرورت ہے، عوام کے بنیادی مسائل مہنگائی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اتار چڑھاءو ہے جب تک اس کو کنٹرول نہیں کیا جائے گا اس وقت تک نہ تو معیشت مضبوط ہوگی اور نہ سرمایہ کاری آئے گی، نہ عوام خوشحال ہوگی، معاشی ٹیم کو انتہائی سطحی اعتبار سے اقدامات اٹھانے ہوں گے تب اس کے ثمرات عوام تک پہنچیں گے ۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے حکومتی معاشی ٹیم کے دیگر ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت کے موثر اقدامات کی وجہ سے معیشت کو سنبھالا ملا ہے،تجارتی خسارے میں بتدریج کمی ہو رہی ہے جبکہ مجموعی قومی خسارے میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی، زر مبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے،بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کےلئے حکومت بھرپور کوشاں ہے،ورلڈ بینک کے صدر نے پاکستان کی معاشی اصلاحات کو سراہا ہے جبکہ آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کو 45کروڑ ڈالر کی دوسری قسط دینے کی سفارش کر دی،تاجر برادری کو ٹیکس نیٹ میں لانے سے ٹیکس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،ایکسچینج ریٹ مستحکم ہوا ہے، ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اسٹاک ایکسچینج تیزی سے بہتری آرہی ہے،سابق حکومت کی ایکسچینج ریٹ پالیسی سے 20 سے 25 ارب ڈالر کا نقصان ہوا،نئے کرنسی نوٹ نہیں چھاپے جائیں گے ۔ تاجروں کو مختلف مراعاتر دینے سے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں ،آئی ایم ایف وفد نے پاکستانی معیشت پر ایک رپورٹ جاری کی اور پاکستانی معیشت اور اہداف پر اطمینان کا اظہار کیا ، ورلڈ بینک کے صدر نے بھی پاکستانی معاشی اصلاحات کو سراہا ہے ۔ ڈالر کے ذخائر بڑھ رہے ہیں اور روپے کی قدر مستحکم ہوئی ہے ، ایف بی آر کی وصولیاں 16فیصد بڑھی ہیں ، ٹرسٹ ریٹ کا بوجھ حکومت برداشت کرے گی ، اسٹیٹ بینک کو قرضوں میں 108ارب کا اضافہ کیا جائے گا ، اسٹیٹ بینک کو اضافی رقم سے برآمدی شعبے کو 300ارب اضافی ملیں گے ،ایسے اقدامات سے پیداوار بڑھے گی اور برآمدات میں اضافہ ہوگا ۔ ایسے اقدامات سے روزگار کی فراہمی میں اضافہ ہوگا ، سرکلر ڈیٹ کم کرنے کےلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ، معیشت اس وقت بہتر ہوگی جب زیادہ ڈالر کمائیں گے ، کاروباری حضرات کو لیکوڈٹی کی فراہمی کےلئے 130ارب روپے دیں گے ، سٹاک مارکیٹ گزشتہ ہفتوں سے اوپر جا رہی ہے ، حکومت بنیادی اشیا کی قیمتوں میں کمی کےلئے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے ، گندم کی قیمت کم کرنے کرنے کےلئے فوری 6;46;5لاکھ ٹن گندم فراہم کی ، حکومت خسارے میں کمی کےلئے کفایت شعاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ یف بی ;200;ر میں انتظامی اصلاحات ہوں گی ،نیا عملہ اور ٹیکنالوجی بھی لائی جائے گی،ایف بی ;200;ر میں اصلاحات ابھی ابتدائی سطح پر ہیں ابھی پوری جزیات طے نہیں ہوئی ۔ سابق حکومت کے اقدامات کے باعث عوام کو تکلیف ہوئی، وزیرا عظم عمران خان کی حکومت جب تک موجود ہے قیمتوں پر کنٹرول رہے گا ۔ دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز غیرمعمولی تیزی ریکارڈ کی گئی اور کے ایس ای 100انڈیکس کی 9بالائی حدیں بحال ہوگئیں اور کے ایس ای 100انڈیکس 36800کی سطح پر آ گیا، تیزی کے نتیجے میں سرمایہ کاری مالیت میں ایک کھرب99کروڑ روپے سے زائدکا اضافہ ہوا ، کاروباری حجم گزشتہ روزکی نسبت 34;46;08 فیصد زائد جبکہ80;46;53فیصد حصص کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ ملکی معاشی اشاریوں میں بہتری اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈکمپنیوں کے اچھے مالیاتی نتاءج کے باعث حکومتی مالیاتی اداروں ، مقامی بروکریج ہاءوس سمیت دیگرانسٹی ٹیوشنز کی جانب سے بینکنگ،ٹیلی کام ،سیمنٹ ، توانائی، کیمیکل، فرٹیلائزراور فوڈزسمیت دیگرمنافع بخش سیکٹرکی پرکشش قیمتوں پرخریداری کی گئی، جس کے نتیجے میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای 100 انڈیکس 36817پوائنٹس کی بلندسطح پر بھی ریکارڈ کیاگیاتاہم سیاسی افق پر بے یقینی کی کیفیت کے باعث مقامی سرمایہ کارگروپوں نے نئی سرمایہ کاری سے گریز کیا،جس کے نتیجے میں کے ایس ای100انڈیکس مذکورہ سطح پر برقرار نہ رہ سکاتاہم اتارچڑھاءو کاسلسلہ سارادن جاری رہا ۔ مارکیٹ کے اختتام پرکے ایس ای 100 انڈیکس 824;46;94 پوائنٹس اضافے سے 36803;46;10 پوائنٹس پر بندہوا ۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے جابرانہ قبضے کے 100دن!

مقبوضہ وادی میں بھارت کی جانب سے ظلم و ستم کے 100دن مکمل ہوچکے ہیں لیکن بین الاقوامی برادری ابھی تک بھارتی دہشت گردی کو روکنے میں ناکام رہی، پاکستان ہر طرح سے صورتحال کو مذاکرات اور بات چیت سے حل کرنے کا خواہاں ہے، عملی اقدامات سے بھی اس بات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت خطے کے حالات بہتری کی جانب گامزن ہوں ، کرتا رپور راہداری کا کھولنا اس کا واضح ثبوت ہے لیکن اس کے مخالف بھارت نے بابری مسجد کیخلاف فیصلہ دیا اور فی الفور اس جگہ مندر بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ انتہائی نا انصافی بلکہ انصاف کا قتل عام ہے ۔ مودی کو شاید علم نہیں کہ وہ خطے میں کس نوعیت کی دہشت گردی کا بیج بو رہا ہے جس کو سب سے پہلے وہ خود کاٹے گا، آر ایس ایس کے دہشت گردوں نے انتہا کررکھی ہے ، وادی میں ہر قسم کی بنیادی انسانی سہولت مفقود ہوچکی ہے، طبی سہولیات ناپید ہیں ، تمام معاملات زندگی جمود کا شکار ہیں ۔ وادی میں مسلم اکثریتی علاقوں کے لوگوں کو بدستور شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ مودی سرکار نے گزشتہ سو روز سے 80 لاکھ نہتے کشمیریوں کو محصور بنارکھا ہے، مظلوم کشمیری بھارتی جبر و استبداد کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ معصوم بچوں اور عورتوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، مسلسل کرفیو کے باعث خوراک اور ادویات تک رسائی حاصل نہ ہونے کے سبب ہر طرف موت کے سائے منڈلا رہے ہیں ۔ ایک طرف پاکستان محبتوں کی راہداریاں کھول رہا ہے تو دوسری طرف جمہوریت اور رواداری کی جھوٹی دعویدار بھارتی سرکار کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں نماز جمعہ اور نماز عید کی ادائیگی پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں ، محرم الحرام اور عید میلاد النبی کے جلوس تک نہیں نکلنے دیئے گئے، بھوکے پیاسے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے نہتے کشمیریوں کے عزم و ہمت کو سلام ہے جو سو روزسے بھارتی جبربرداشت کررہے ہیں جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق انہیں ان کا حق خودارادیت حاصل نہیں ہوجاتا پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کی قانونی، اخلاقی اور سفارتی معاونت جاری رکھے گا ۔ لاکھوں نہتے، مظلوم کشمیریوں کو بھارتی استبداد سے نجات دلانے کےلئے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی علمبردار بین الاقوامی تنظیموں کو آگے بڑھ کر موثر اقدامات کرنا ہونگے ۔ ادھر ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اوغلو نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے ترک حکومت کی طرف سے اس ضمن میں ممکنہ تعاون کا یقین دلایا ۔ بھارتی حکومت کشمیر میں فوری موبائل سروس اور انٹرنیٹ بحال کرتے ہوئے نہتے کشمیریوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بند کرے ۔ مودی ہوش کے ناخن لے اور نہتے ومظلوم کشمیریوں پرغیرقانونی محاصرے کو فوری طورپرختم کرے ۔

حکومت مخالف مارچ اور دھرنوں کی سیاست!

ملک میں حکومت مخالف مارچ،اپوزیشن اتحاد اور دھرنوں کی سیاست نے پورے ملک کے باشعور اورفکرمندلوگوں کو ہلاکررکھ دیاہے ، دوستی اوردشمنی کامعیارذاتی مفادبنتا جارہا ہے ۔ سیاست کی ڈوری جن کے ہاتھ میں ہے وہ دوستی اور رشتے ناتے چمک کودیکھ کرہی آگے بڑھتے ہیں ، تشدد کی سیاست کا دور دورہ ہے اور رواداری معدوم ہے اور اب تک تاریخ یہی بتاتی ہے کہ سب کی سوچ تنگ نظری پر مبنی ہے جب کہ جو کچھ وسیع القلب واقع ہوئے ہیں ان پر فتوے کا ٹھپہ لگادیا جاتا ہے ۔ مسلکی بنیادوں پر کافی دوریاں محسوس کی گئی ہیں اواسلامی تہذیب کے جملہ راہ ورسم یہاں ہوا ہوتے نظرآرہے ہیں ۔ لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھاہے ۔ تمام فرقے اپنے آپ کو ہی سچا مسلمان اور محب وطن تصورکرتے ہیں جبکہ باقی سب ہی یہود و ہنود اور استعمار کے ایجنٹ قرار دئے جاتے ہیں ۔ انا و لا غیری کے فارمولے پر ہر فرقہ کے پیروکار عمل کرتے ہیں جس کے نتیجے میں مخالف فرقے کا ردعمل بھی شدید اور نہایت سخت اورجارحانہ ہوتا ہے جبکہ بہت لوگوں کو لوگوں کو اعتدال پسند کہاجاسکتاہے اور مگر ان کی حب الوطنی کو شکوک سمجھا جاتا ہے اور فتوے لگا کر ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ ہمارا ملک اب تک ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں کیوں شامل نہیں ہوسکا ا س کی سب سے بڑی وجہ کچھ لوگ یہاں ناخواندگی کو قرار دیتے ہیں ، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صحت کی ناگفتہ بہ حالت نے اس ملک کو آگے بڑھنے سے روک رکھا ہے،ایک حلقہ غربت کو قصوروارگردانا جاتاہے، ایک گروہ ایسابھی ہے جن کا خیال ہے کہ اس ملک کو آگے بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت ہے ۔ لیکن ایک بہت بڑاطبقہ وطن عزیز کی ترقی میں بدعنوانی اورچوربازاری کو سب سے بڑی رکاوٹ قراردیتاہے لیکن راقم الحروف کا خیال ہے کہ ملک کی تعمیر وترقی کی راہ میں فرقہ واریت کا ایک جنونی بھوت کھڑاہے جو بظاہرنظرنہیں آتا لیکن وہ گھن کی طرح اس ملک کے تمام سماجی رشتوں کے تانے بانے کو تباہ کرنے پر مصرہے، فرقہ واریت کی آگ اس ملک کی اسلامی اقدار و تہذیب کو مٹانے پر آمادہ ہے اوراگر جلد ا س پر توجہ نہیں دی گئی توپھر یہ آگ جھونپڑیوں کو بھی جلائے گی اورقصرسلطانی کوبھی ۔ اگرہم جائزہ لیں تو اندازہ ہوتاہے کہ کچھ سیاست دانوں نے ووٹوں کی صف بندی کےلئے الفت ومحبت کو تاراج کر دیا اور اس میں سبھی سیاسی جماعتیں یکساں طورپر ذمہ دار ہیں ، اسی طرح فرقہ وارانہ فسادات نے بھی لوگوں میں دوریاں پیداکی ہیں ۔ فسادات کا دور ملک میں جنرل ضیاء کے عہدسے زیادہ فروغ پکڑ چکا ہے اور فرقہ وارانہ فسادات کی جڑیں مستحکم ہوئی ہیں اور فرقہ واریت کی ایک نئی تاریخ رقم کردی گئی طرفین کے بڑے بڑے لیڈر بھی مارے گئے اور ایسی دوریاں شروع ہوئی جو مٹنے کانام نہیں لے رہی ہیں ۔ اگرہم انتخابی سیاست کاجائزہ لیں تواندازہ ہوتاہے کہ عیار اور مکار سیاست دان نہایت تکنیک سے ووٹروں کی فرقہ وارانہ صف بندی کرتے ہیں اور ووٹروں کے درمیانفرت کی لکیرکھینچ کر مفادات پورے کرتے ہیں ۔ ظاہرہے کہ ووٹوں کےلئے اس قسم کی کوششیں دوفرقوں میں دوریاں ہی پیداکرسکتی ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ ووٹروں کی فرقہ وارانہ صف بندی کےلئے صرف مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے سرگرم ہیں بلکہ اس کام میں دیگر جماعتوں کے لیڈران بھی کچھ کم نہیں ہیں ، انہوں نے بھی کہیں لسانیت کے نام پر توکہیں ذات برادری کے نام پر ووٹروں کی صف بندی کی ہے ۔ مسلمانوں کے غلبے کے دور کے ایک ہزار سال کی اسلامی تاریخ میں کبھی ایسی کیفیت دیکھنے کو نہیں ملی جن سے آج ہمارا ملک دوچارہے ۔ برصغیر میں مسلمانوں کی حکمرانی کے وقت بھانت بھانت کے نظریات اور زبان والے لوگ آپس میں متحد تھے ۔ گزشتہ پون صدی کی تاریخ گواہ ہے وطن عزیز میں حقیقی سیاسی قیادت موجود نہیں رہی ابتدا ء سے لے کر آج تک سیاست کے سنگھاسن پر براجمان جمہوریت اور ملک و قوم کا نام تو لیتے رہے لیکن ملک و قوم کی تعریف ان کے ہاں ذاتی جاگیر اورخاندان و گروہ ہوتا تھاقومی سیاست کے نام پرذاتی مفادات کا حصو ل اولین ترجیح ہوتی تھی اور جب بات ذاتی مفادات کی ہوئی تو اس میں لڑائی و جھگڑے کا کھیل لازمی عنصرکی حیثیت اختیارکر گیا یہ کھیل اُسوقت اور مظبوط ہو گیا جب امریکی سامراج نے یہاں کے مقتدر طبقات کو اپنے زیر اثر کر لیا ۔ یہاں ہر اچھے عمل کو سبوتاژ کرنابھی ایک روایت ہے اوریہ ایک بھی حقیقت ہے کہ یہاں آئین میں ترمیمات ہوتی رہتی ہیں اور بل وغیرہ پاس کئے جاتے ہیں لیکن کیا ان آئینی ترامیم کے نتیجے میں ملک میں موجود سامراجی استحصالی نظام تبدیل تبدیل ہوتا ہے;238; اور کیا ان ترمیمات کے ذریعے جاگیرداریت اور سرمایہ داریت کو کوئی خطرہ درپیش ہوتا ہے ;238;یقینا اس کا جواب نفی میں ہے اور کیا ان آئینی ترامیم کے نتیجے میں مزدوروں کے معیار ذندگی میں کوئی فرق آیا اورغریبوں کی غربت اور امیروں کی کی عمارت میں کوئی کمی ہوئی ہوئی ہے اور کیا طبقاتی نظام کا خاتمہ ہوا ہے;238; اور کیا ججوں کے تقرر کے جھگڑے چکانے میں عد ل و انصاف کا بول بالا ہوا اور کیاقوم کے حقیقی مجرم کیفر کردار کو پہنچے ;238; عدالت اگر مافیا کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو عدلیہ کو دھمکیاں دی جاتی ہے اور چنے چبوانے کی بات کی جاتی ہے اور پھر ان کے گھروں پہ فائرنگ کروائی جاتی ہے مگر نظام عدل کےلئے آواز اٹھائی گئی ہے;238; ایک آدمی کو بار بار وزیر اعظم بنانے اور ایک نا اہل کو اہل کرنے کیلئے تو قانون سازی کی جاتی ہے مگر کیا عوام کا خیال بھی کسی کو ہے;238; اور کیادہشت گردی اور بنیاد پرستی ختم ہوئی یامذہبی و سیاسی فرقہ واریت کے جراثیموں کا خاتمہ ہوا;238;آخر یہ دھرنے اوربلیک میلنگ کی سیاست کب تک;238; ۔

Google Analytics Alternative