کالم

امریکہ ایران کشیدگی

جوہری معاہدے سے امریکہ کا انحراف امریکہ ایران کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے ۔ اس کے پس پردہ حقائق میں ایران کی طرف سے اسرائیل مخالف سخت موقف اور مشرق وسطیٰ میں ایران کی پالیسی کو بھی امریکہ ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ فارسی کا ایک مقولہ ہے کہ خوئے بد را بہانے بسیار ۔ سفارتی نقطہ نظر کے مطابق بعض اوقات ممالک کے درمیان تنازعہ کی وجہ کو سامنے لائے بغیر کوئی بہانہ بنا کر کشیدگی کی صورتحال پیدا کی جاتی ہے ۔ سابق امریکی صدر اوباما نے ایک سال تک بات چیت اور تحقیق کی جس کے بعد جولائی 2015 ء میں ایک معاہدہ طے پایا ۔ اور امریکہ نے ایران کے خلاف مالی اور تیل کی خرید و فروخت کی پابندیاں ہٹا دیں ۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے تحت ایران نیو کلیئر پیش رفت کو محدود کرنے کا پابند بنایا گیا ۔ جبکہ امریکہ نے معاہدے کے مطابق مالی اور تیل سے متعلق عائد پابندیوں کو نرم کیا ۔ تین سال بعد 8مئی 2018 ء کو امریکی صدر ٹمپ نے اس ڈیل کو بدترین قرار دیا ۔ اور کہا کہ امریکہ اس ڈیل کا دوبارہ جائیزہ لے گا ۔ 8 اپریل 2019 ء کو صدر ٹرمپ نے ایرانی فوج پاسداران انقلاب کو دہشت گرد گروپ قرار دیا ۔ ایران نے امریکہ کو ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے امریکی فوج کو دہشت گرد قرار دیا ۔ 21 اپریل 2019 ء کو امریکی انتظامیہ نے دھمکی آمیز انداز مین بیان جاری کیا کہ ایران سے تیل خریدنے والا ہر ملک امریکی پابندیوں کو بھی ضرور مد نظر رکھے ۔ 5 مئی 2019ء کو امریکہ نے بحرین میں لنگر انداز بحری بیڑہ ابراہام لنکن کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ امریکہ کا پانچواں بحری بیڑہ ہے ۔ جس پر 50 ہوائی جنگی جہاز اور چھ ہزار فوجی موجود ہیں ۔ یہ بیڑہ بحرین کے قریب لنگر انداز رہتا ہے ۔ امریکہ کے اس ٹاسک فورس بیڑے کی بحرین کی سمندری حدود میں موجودگی کا مقصد قریبی ممالک خصوصاً ایران پر نظر رکھنا اور بوقت ضرورت فوری طور پر حرکت میں لانا ہے ۔ ادھر ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں سخت کر دِیں تو ایران آبنائے ہورمز کو بند کر دے گا ۔ جس کی تیاریاں کر لی گئی ہیں ۔ اس کے علاوہ ایران نے جوہری معاہدے نے نکلنے کا بھی اعلان کیا ہے ۔ اور نیوکلیئر تیاریاں دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی بھی دی ہے ۔ واضح رہے کہ آبی گزرگاہ ہورمز یورپی اور بعض دیگر ممالک کے لئے تیل کی درآمد اور ترسیل کا واحد اور کم لاگت والا آسان راستہ ہے ۔ اس کے علاوہ آبنائے ہورمز سعودی عرب، کویت،متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے جو یورپی اور دیگر ممالک کو اسی راستہ سے تیل برآمد کرتے ہیں ۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہورمز کا آبی گزرگاہ امریکہ،یورپ،اور تیل برآمد کرنے والے عرب ممالک کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اور یہ شہ رگ ایران کی دسترس میں ہے ۔ ایران نے دوبارہ امریکی پابندیوں کو ایران کے خلاف معاشی دہشت گردی اور نفسیاتی جنگ قرار دیا ہے ۔ امریکہ نے آبی گزرگاہ ہورمز کو ہر صورت کھلا رکھنے ،ایران کو نیوکلیئر تیاریوں سے باز رکھنے اور اسے سبق سکھانے کے لئے ہر طریقہ استعمال کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔ اس وقت ایران کے معاشی حالات خراب ہو رہے ہیں ۔ ایرانی کرنسی کی قدر ڈالر کے مقابلے میں ناقابل یقین حد تک کم ہو گئی ہے ۔ ایران میں مہنگائی کی شرح میں 40 فیصد اور بے روزگاری و غربت میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ ایرانی کرنسی کی قیمت میں گراوٹ اور مہنگائی میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے ۔ جو ایرانی حکومت کے لیئے سخت تشویش کا باعث ہے ۔ ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار چِین ہے ۔ بھارت بھی ایرانی تیل کا خریدار ہے ۔ ایران کو توقع ہے کہ چِین اس مشکل گھڑی میں اس کا ساتھ دے گا ۔ تعلقات کی بنیاد پر ایران کو روس سے بھی یہی امید ہے ۔ لیکن امریکی پابندیوں کی صورت میں چِین کی کمپنیاں ایران سے تیل کی خریداری نہیں کر سکیں گی ۔ کیونکہ پابندیوں کے باعث ان کمپنیوں کو امریکہ اور یورپ میں مالی مشکلات کا سامنا ہو گا ۔ وہ یورپی ممالک جو ایران سے تیل خریدتے ہیں وہ عرب ممالک سے بھی تیل درآمد کرتے ہیں ۔ لیکن امریکی پابندیوں اور ایران کی طرف سے آبنائے ہورمز کو بند کرنے کی دھمکی پر عمل درآمد کی صورت میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ہورمز کو بند کرنے سے باز رہے ورنہ ایران کے ساتھ کیئے گئے معاہدوں کو ختم کر دیا جائے گا ۔ امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف پابندیاں اسی سال 6 نومبر سے یا اس سے قبل کسی بھی وقت لاگو کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ تیل کے بعد ایران کی سب سے بڑی برآمد اور معاشی زریعہ مختلف دھات کی برآمد ہے ۔ گزشتہ دنوں امریکہ نے اس پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ اگر امریکہ ایران کے خلاف مذکورہ پابندیاں عائد کرتاہے تو اس سے نہ صرف پوری دنیا میں تیل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو جائے گا بلکہ تیل کے زبردست بحران کا بھی سامنا ہو سکتا ہے ۔ ان پابندیوں کے اثرات سے ایران میں بدترین معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ان پابندیوں کے اثرات سے پوری دنیا متاثر ہو سکتی ہے ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر پاکستان کی نظر ہے ۔ اور پاکستان نے اس پر تشویش بھی ظاہر کی ہے ۔ پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ ایران تنازعہ مزید نہ بڑھے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعات باہمی گفت و شنید سے حل کیئے جائیں ۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی جنگ کی صورت اختیار کر لے تو اس کے اثرات سے کئی ممالک اور عوام بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں ۔ اور شاید پھر یہ دو ممالک فریق نہ رہیں بلکہ اس جنگ کے اور بھی کئی فریق بن جائیں ۔

سیاسی مفادات

سیاستدان چونکہ براہ راست عوام کے نمائندہ ہونے کے دعویدار ہیں اس لیے و ہ عوامی تنقید کا بھی براہ راست نشانہ بنتے ہیں ۔ خادم ہونے کے دعویدار جب بادشاہانہ کردار ادا کرنے لگتے ہیں تو ان پر تنقید کے نشتر برسائے جاتے ہیں تاکہ انہیں یاد دلا یا جا سکے کہ ماضی میں انہوں نے خادم ہونے کا دعویٰ کیا تھا ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ دعویٰ تو خادم ہونے کا کرے اور عمل بادشاہوں والے کرے ۔ جب منتخب لوگ عوام سے بھائی ہونے کا دعویٰ کر کے ووٹ لیتے ہیں تو پھر وہ عوامی نمائندہ ہونے اور اس پر فخر کرتے اچھے نہیں لگتے ۔ بھائی تو بھائی ہوتے ہیں اور انہیں بحیثیت بھائی ووٹ دئیے گئے تھے تو وہ عوامی نمائیندہ ہونے کے دعویٰ میں ہی جھوٹے ہیں اور اس جھوٹ کی اور کذب دھوکہ دہی کی وجہ سے آئین کی آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نا اہل قرار دئیے جانے چاہئیں ۔ بات مخالفت برائے مخالفت کی نہیں بلکہ راستگی کی طرف اشارہ کرنے سے متعلق ہے ۔ تحریک انصاف کے کارکن اگر اپنی پارٹی کے ساتھ وفاداری میں برداشت کریں تو یہ ان کی وفا کا امتحان بھی ہے ۔ اگر دوسری پارٹیوں کے ووٹر مخالفت کریں تو یہ ان کا استحقاق ہے کیونکہ ان کے دور حکومت میں اپوزیشن یہی کردار ادا کرتی رہی تھی ۔ ماضی اور حال کو مستقبل سے جدا نہیں کیا جا سکتا ۔ جو بو گئے وہ کاٹو گے ۔ پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کے کارکن اگر تحریک انصاف کے کارکنوں سے بحث کر رہے ہوتے ہیں یا انہیں طنز کر رہے ہوتے تو وہ وہی کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں جو ماضی میں تحریک انصاف کے کارکن ادا کر چکے ہیں ۔ اس پر سیخ پا ہونے یا غصہ کرنے کی بجائے ٹھنڈے دماغ اور دل سے سوچنا چاہیے کہ سیاسی کارکن کا کردار کیا بس یہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کا گریبان پکڑے رکھے یا اپنی جماعت کی خاطر مخالف نظریہ کی جماعت کے کارکنوں کیلئے زندگی کا دائرہ کم کرتا رہے ۔ نہ تو یہ مہذب معاشرہ کے رکن کا کردار ہے اور نہ ہی کسی طرح بھی معاشرہ کیلئے سود مند کردار ہے ۔ چونکہ ہماری لیڈر شپ کو اقتدار کے حصول کیلئے اپنی کوشش کو کامیاب بنانا ہوتا ہے اس لیے وہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے اپنے کارکنوں کو جذباتی طور ابھاررکھیں تاکہ وہ ہر حال میں ان کے ساتھ وفاداری نبھائیں ۔ وہ یہ نہ سوچیں کہ ہم کس کی تقلید کررہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں ۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس شخص کو ہم اپنا لیڈر مان کر اس کے پیچھے چلنے کو تیار ہیں اور اپنا حال اور مستقبل اس کے سپر د کر رہے ہیں خود اس کا ماضی کیسا ہے ۔ لیڈر کا ماضی اس کے معاشرے کا مستقبل بن سکتا ہے ۔ جو لیڈر کم تعلیم یافتہ اور باتوں کا دہنی ہے وہ کیا مستقبل میں اس پر وحی نازل ہونا شروع ہو جائے گی کہ وہ راست فیصلے کر سکے گا ۔ ویلسا پولینڈ کا مزدور لیڈر تھا اس نے پولینڈ کی مزدور یونین کے لیڈر سے قومی لیڈر کی منازل طے کیں ۔ وہ بہت اچھا احتجاجی لیڈر تھا لیکن اس معاشرے کی درست سمت میں راہنمائی کیلئے ضروری صلاحیتیں نہیں تھیں ۔ ناکام ہو گیا اور وہی احتجاج اس کے خلاف شروع ہوا جو وہ دوسروں کے خلاف کیا کرتا تھا ۔ غیرت مند تھا مستعفی ہو کر واپس اپنی جگہ پر آگیا ۔ نیلسن مینڈیلا نے سیاہ فام لوگوں کے حقوق کیلئے احتجاج کیا اور پھر اس مقصد کی خاطر ایک طویل قید بھی کاٹی ۔ قوم کی راہنمائی کا وقت آیا تو اس میں ناکام ہو کر واپس ہو گیا ۔ احتجاج کرنا کوئی آسان کا م نہیں کہ فرعون کے دربار میں کلمہ حق کہنے کی سعادت موسی ;174; کے سوا کسی کو حاصل نہ ہوئی ۔ زبردست کے سامنے زیر دست نہ ہونے والے معمولی لوگ نہیں ہوتے لیکن کسی بھی معاشرے کو درست سمت میں لے جانے کا کردار ادا کرنا کچھ اور معنی رکھتا ہے ۔ میں اپنے بابائے قوم جناب حضرت قائد اعظم کی مثا ل پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے احتجاجی سیاست نہیں کی بلکہ قوم کی راہنمائی کی ، قائد اعظم حقیقی معنوں میں قومی راہنما ہیں جنہوں نے قوم اورمعاشرے کی صحیح سمت میں راہنمائی کر کے انہیں منزل شناس کیا ۔ چیئرمین ماءوزے تنگ قومی راہنما ہیں کہ ایک افیون زدہ قوم کو کھڑا کرکے منزل کی طرف رواں دواں کیا ۔ حقوق کی جنگ لڑنا اور بات ہے اور کسی قوم کو حقیقی معنوں میں قوم بنا کر یکجا کر کے ایک سمت میں لے جانا اور بات ہے ۔ سیاسی رہنما کسی ایک نکتہ پر احتجاج کی راہ اپنا کر یا اس کو اپنا موقف بنا کر کسی گروہ کے نمائندہ بن جاتے ہیں ۔ وہ اسی گروہ کے مقاصد کو آگے لے کر چلتے ہیں ۔ انہیں معاشرے کے دیگر گروہوں سے کوئی خاص لگاءو نہیں ہوتا ۔ وہ جہاں دیکھتے ہیں کہ دوسرا گروہ ان کے مقاصد کے حصول میں ممدد ہو سکتا ہے تو وہ اس کے ساتھ وقتی طور پر دوستی کا ہاتھ بڑھا کر اجتماعی شراکت داری کے اصول کے تحت چل پڑتے ہیں ۔ جہاں انہیں اپنے مقصد میں رکاوٹ دکھائی دیتی ہے تو فورا اپنے ساتھی شراکت دار کو دھمکی دیتے ہیں کہ وہ ان کے مقصد کی طرف توجہ دے یا اس کی حمایت میں بھی بولے ورنہ وہ اس سے علیحدگی اختیار کر نے لگے ہیں ۔ یہ ہماری سیاست میں کولیشن پارٹنر شپ تقریباً ہر سیاسی گروپ کرتا ہے اور اپنے مقاصد کیلئے دوسرے گروپوں کو اپنی عددی طاقت سے سپورٹ مہیا کرتا ہے ۔ مذہبی گروہ اور لبرل سیکولر گروہ تک ایک دوسرے کو اپنی عددی طاقت سے حکومت سازی میں کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ پریشر گروپ کی صورت میں اپنے مخصوص مقاصد کی تکمیل کیلئے گروہ بندی کر کے کسی بڑے گروپ کو توڑا یاکسی کمزور گروپ کی عددی طاقت کو اس سے تقویت دیکر طاقتور گروپ سے عددی اکثریت چھین لی جاتی ہے ۔ معاشرہ کے پچاس فیصد گروہوں کے نمائندے گر خدمت کے جذبہ سے کام کریں تو وہ معاشرہ کچھ ہی عرصہ میں فلاح وبہبود کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرنے لگتا ہے ۔ اس کے ترقی تیز رفتار نہیں ہوتی لیکن وہ معقولیت کے ساتھ اگے بڑھنے لگتا ہے ۔ جس معاشرے کی انتظامیہ ہی لوٹ کھسوٹ اور اختیارات کا استعمال ذاتی اور گروہی مقاصد کیلئے کرے تو وہ ذات اور گروہ طاقتور ہو کر یکجہتی کیلئے ناسور بن جاتے ہیں ۔ سیاستدان جب بھی بات کرتے ہیں تو کسی کو جنوبی پنجاب کے حقوق کی بات کرنی ہوتی ہے تو کوئی اردو سپیکنگ کا نمائندہ ہے تو کسی کو سندھی ہونے پر فخر ہے تو کوئی قوم پرست لیڈر بن کر قومی سیاست میں بلیک میلنگ کا کردار ادا کر کے مطمئن ہے ۔ ہمارے رہنماءوں نے 65کی جنگ میں ایک قوم بنے معاشرہ کو اپنے مقاصد کیلئے گروہوں میں تقسیم کر دیا ۔ ہم سینتالیس میں ایک قوم تھے پھر بکھر گئے ۔ پینسٹھ میں ایک قوم ہوئے پھر بکھیر دئیے گئے ۔ اس کے بعد ہم آج تک کبھی قومی لڑی میں پروے نہیں جا سکے ۔ بیشک کہنے اور کہلانے کو ہم پاکستانی ہیں لیکن ہم بنتے نہیں ہیں ۔ جیسے ہم کہنے اور کہلانے کو کلمہ گو مسلمان تو ہیں لیکن عملاً ہم مسلمان ہونے کا حق ادا کرنے سے قاصر ہیں ۔ جیسے ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم حضور پاک ﷺ کے سچے عاشق اور ان کے غلام ہیں لیکن جب کردار ادا کرنے کی باری آئی تو سب نے دیکھا کہ ہمارا عشق اور غلامی کا دعویٰ بس زبانی تھا ۔ ہم صرف شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول کیلئے پاکستانی کہلاتے ہیں ۔ ہم جائیداد بنانے اور اس کے وارث کہلانے کیلئے پاکستانی بنتے ہیں ورنہ جس کا دا لگتا ہے وہ گرین کارڈ لے کر پاکستان کو یوں خیر آباد کہتا ہے جیسے جیل سے روبکار آنے پر قیدی رہا ہو کر بھاگتا ہے ۔

قومی اسمبلی کا تاریخی اقدام………قبائلی نشستیں بڑھانے کے بل کی منظوری

قومی اسمبلی میں تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے 26 واں آئینی ترمیمی بل متفقہ طورپر منظور کرلیا ہے، بل کی مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا، وزیراعظم نے 26 ویں آئینی ترمیم کی حمایت کرنے پر تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ اس سے قبائلی عوام کو نمائندگی ملے گی، ہم ملکی ترقی میں پیچھے رہ جانے والے علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانا چاہتے ہیں ، دہشت گردی کیخلاف جنگ کے دوران قبائلی علاقوں میں جس طرح تباہی ہوئی اور ان سے جو مسائل سامنے آئے قوم چاہتی ہے کہ یہ مسائل حل ہوں اور ان لوگوں کی آواز سنی جائے ۔ یہاں پر وزیراعظم نے یہ بھی کہاکہ مجھے ادراک ہے کہ معاشی مشکلات کی وجہ سے صوبوں کو بعض خدشات موجود ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ فاٹا میں جو تباہی ہوئی ہے اس تباہی کا ازالہ کے پی کا صوبہ اپنے فنڈ سے نہیں کرسکتا اس سلسلے میں باقی صوبوں کو بھی اپنا کردارادا کرنا چاہیے ۔ مشرقی پاکستان کے سانحے کابڑا واقعے کی بنیادی وجہ بھی احساس محرومی تھا، یہ بات وزیراعظم نے بالکل درست کہی کہ جب حقوق کی حق تلفی ہوتی ہے تو پھر لوگ اپنا حق لینے کیلئے نکلتے ہیں ، اس حق کیلئے شکست و ریخت ہوتی ہے ۔ قومی اسمبلی میں تاریخ میں پہلی بار پرائیویٹ ممبر بل پر26ویں آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ۔ آئینی ترمیم کے حق میں 288ارکان نے ووٹ دیا جبکہ کسی رکن نے بل کی مخالفت نہیں کی ۔ بل کے تحت آئندہ مردم شماری تک سابقہ فاٹا کی قومی اسمبلی میں 12نشستیں دوبارہ بحال کر دی گئیں ہیں جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی کیلئے سابقہ فاٹا کی نشستیں 16سے بڑھا کر24کر دی گئی ہیں ، بل کے تحت بل کے نفاذ کے بعد 18ماہ کے دوران الیکشن کروائے جائیں گے ۔ قومی اسمبلی سے منظور ی کے بعد 26ویں آئینی بل سینیٹ میں پیش کیا جائیگا ،سینیٹ کی منظوری کے بعد صدر مملکت عارف علوی کے دستخط سے بل آئین کا حصہ بن جائیگا ۔ قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا جس میں آزاد رکن محسن داوڑ نے26ویں آئینی ترمیم کا بل (دستور ترمیمی بل 2019)پیش کرنے کےلئے تحریک پیش کی، سپیکر نے تحریک پر رائے شماری کروائی، بل کی شق 2 کے حق میں 281 اور شق 3کے حق میں 282ارکان نے کھڑے ہو کر ووٹ دیئے، بل کی شق وار منظوری کے بعد بل کی حتمی منظوری کےلئے ایوان کی تقسیم کا طریقہ کار اپنایا گیا ۔ سپیکر نے ایوان میں ارکان کو بل کی حتمی رائے شماری کے طریقہ کار سے متعلق ارکان کو آگاہ کیا ، بل پر رائے شماری کے بعد سپیکر اسد قیصر نے آئینی ترمیم کے نتاءج کا اعلان کیا ،پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار نجی ;200;ئینی ترمیمی بل کو حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا، قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ فاٹا کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے ۔ تمام صوبے این ایف سی میں 3 فیصد فاٹا کو دیں گے، صوبوں کو اس میں کچھ تحفظات کم ہوں گے کیونکہ مالی مسائل ہیں ،لیکن سابقہ فاٹا میں دہشت گردی کیخلاف جنگ کے باعث بہت نقصان ہوا، فاٹا میں ترقیاتی منصوبے کیلئے بڑی رقم کی ضرورت ہے ۔ خیبرپختونخوا کے ترقیاتی فنڈ سے فاٹاکے ترقیاتی منصوبے مکمل نہیں ہوسکتے، مشرقی پاکستان کی علیحدگی بہت بڑا حادثہ تھا، مشرقی پاکستان کے لوگوں کو نمائندگی نہیں دی گئی، ہ میں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے، کسی کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان ان کوحق نہیں دے رہا اورجب کوئی علاقہ پیچھے رہ جائے تو ہم سب کو مل کر اٹھنا چاہیے ۔ پسماندہ علاقوں کو ترقی دے کرمرکزی دھارے میں لایا جائے، پاکستان کے دشمن احساس محرومی کو منفی مقاصد کیلئے استعمال کرسکتے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ فاٹا کے عوام نے بہت مشکلات کا سامنا کیا ہے، فاٹا کی آوازاب ہر جگہ سنی جائے گی، فاٹا کو مرکزی دھارے میں لانے کےلئے وہاں سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں بھی بڑھائی جارہی ہیں ، فاٹا کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے، تمام جماعتیں فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے متفق ہیں ۔

کوءٹہ دھماکہ، دہشتگرد مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتے

کوءٹہ میں ایک دفعہ پھر دہشت گردی سر اٹھا رہی ہے، خصوصی طورپریہاں پولیس کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے، گوادر پر حملہ، لاہور میں داتا دربار کے باہر حملہ اور اب پھر کوءٹہ میں ہونے والا حملہ ایک ہی سلسلے کی کڑیاں نظر آتی ہیں اور اس کے پیچھے یقینی طورپر’’را‘‘ ملوث ہوگی، کیونکہ لاہور کے خودکش بمبار کا جوتا بھی بھارتی برانڈ کا تھا، یہ بات خصوصی طورپر دیکھنے میں آئی ہے کہ جیسے ہی ایف اے ٹی ایف کا مسئلہ شروع ہوتا ہے تو بھارت اپنی مذموم سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتا ہے لیکن پاکستان اور اس کی قوم بھارتی عزائم کو کسی صورت بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچنے دے گی ۔ کوءٹہ میں ہونے والے دھماکے میں 4 پولیس اہلکار شہید اور 11 افراد زخمی ہوگئے ۔ ریسکیو ذراءع کے مطابق کوءٹہ کے علاقے منی مارکیٹ میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا ہوا ۔ ڈی ;200;ئی جی نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد موٹر سائیکل پر نصب تھا، دہشت گردوں کا نشانہ پولیس اہلکار ہی تھے ،کرائم سین کو محفوظ کرلیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے سیٹلاءٹ ٹاءون میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں ہونے والے جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے ۔ گھناءونی سازش کے تحت امن کی صورتحال خراب کرنےکی کوشش کی جارہی ہے، عدم استحکام پیدا کرنے والوں کا مقابلہ پوری طاقت سے کیا جائےگا ۔ سیکیورٹی انتظامات کا از سر نو جائزہ لے کر مزید بہتر بنایا جائے گا ۔ خیال رہے کہ ہفتے کے روز بلوچستان کے ضلع گوادر کے فائیو اسٹار ہوٹل پر 3 دہشت گردوں نے حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں ایک نیوی اہلکار سمیت 5 افراد شہید اور 6 زخمی ہوگئے تھے ۔

سچی بات میں ایس کے نیازی کی زیرک گفتگو

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ جب تک ہم آئی ایم ایف کی طرف دیکھتے رہیں گے تومجبوری اورلاچاری بڑھتی رہے گی،ہ میں اپنے اداروں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، ہ میں اپنے ملک کے اندر وسائل کو بروے کار لانا ہوگا،آئی ایم ایف سے ڈیل میں دیر نہیں ہونی چاہیے تھی یہ کام پہلے ہوجانا چاہیے تھا،وزیراعظم اسد عمر کے ہوتے ہوئے بھی آئی ایم ایف سے ملے ہیں ،اسد عمر ایک ایماندار آدمی ہے اورپی ٹی آئی کا اثاثہ ہے، اپوزیشن کو آئی ایم ایف کی ٹرم اینڈ کنڈیشن پر اعتراض ہے،جو ٹیکس دے رہے ہیں ان کو تنگ نہ کریں بلکہ ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھائے،حکومت کو چاہیے کہ ٹیکس بیس کو بڑھانا چاہیے، مجھے تو شبر زیدی کی باتوں سے کوئی ایسا نہیں لگتا ہے کہ وہ کوئی نئی بات کررہے ہیں ،حکومت کو چاہیے کہ اپنے محکمے ٹھیک کرے ،ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھائیں ،حکومت کو چاہیے کہ کاروباری لوگوں کو سہولتیں دے،اوگرا اورنیپرا کے اپنے محکمے ان کی مانتے ہی نہیں ۔

امریکہ و افغانستان ، داعش کے مددگار

عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر غلبہ پانے کے بعد شدت پسند تنظیم داعش نے افغانستان کا رخ کر لیا ہے اور اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اب افغانستان کے 34 میں سے 25 صوبوں میں داعش کے ہمدرد پائے جاتے ہیں ۔ تحریک طالبان پاکستان کے سابق عناصر اب افغانستان کی سرحد کی جانب داعش کے سیاہ جھنڈے تلے جمع ہو رہے ہیں ۔ یہ ایک نیا ابھرتا ہوا خطرہ ہے ۔ افغانستان میں وہ گروپ یا جنگجو جنہوں نے داعش کی حمایت کا اعلان کیا اْن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ افغان طالبان میں سے تقریباً 10 فیصد داعش کے حمایتی بن چکے اور اور اس حمایت میں وقت گزرنے کا ساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ داعش کے حامی گروپ اکثر علاقوں میں سرکاری افواج پر حملے کر رہے ہیں جبکہ ننگر ہار صوبے میں منشیات کے دھندے پر کنٹرول کے لئے ان کی لڑائی طالبان کے ساتھ بھی ہو رہی ہے ۔ داعش کے حامی مشرقی صوبہ ننگر ہار میں اکٹھے ہو گئے ہیں اور کافی مضبوط ہوگئے ہیں ۔ اب یہ طالبان کے علاوہ حکومتی فوجوں پر بھی حملے کر رہے ہیں ۔ افغان حکومت کے لئے چیلنج وہی ہے کیونکہ یہ طالبان ہیں ۔ انکاصرف پلیٹ فارم تبدیل ہوا ۔ ابھی تک کوئی بڑا کمانڈر داعش میں شامل نہ ہوا ہے ۔ سٹنگہار پہاڑ کے ایک طرف پاکستان ہے اور دوسری طرف مشرقی صوبہ ننگر ہار ہے ۔ یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ طالبان کے سابق امیر ملا امیر کے سابق مشیر عبد الروَف خادم اب افغانستان میں داعش کے سرکردہ رہنما بن چکے ہیں ۔ وہ 2014 میں عراق گئے اور اب افغانستان کے ہلمند اور فرح صوبہ میں اپنا علیحدٰہ گروپ قائم کر چکے ہیں اور ہلمند اور فرح صوبے میں متحرک ہیں ۔ عبد الروَف خادم کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ بھاری رقوم ادا کر کے لوگوں کو داعش میں بھرتی کر رہے ہیں اور افغانستان میں داعش کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھا رہے ہیں ۔ داعش کے افغانستان میں قدم جمانے سے پاکستان کو محتاط ہونے کی ضرورت ہے اور اگر داعش کو پاکستان میں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑہانے کا موقع دیا گیا تو پاکستانی فوج کی ملک کو طالبان سے پاک کرنے کی کوششوں کے ملیا میٹ ہو جانے کا خدشہ ہے ۔ یہ ایک دہشتگردوں کا نیا برانڈ ہے ۔ داعش کے لوگ وہی ہیں اور یہ لوگ طالبان کو چھوڑ کر داعش میں شامل ہوئے ہیں ۔ اگر داعش ، افغانستان میں طالبان کی جگہ لے لیتی ہے تو یقینا ،اگلی باری پاکستان کی ہو گی اور یہ پاکستان کےلئے بہت بڑا خطرہ ہو گا ۔ ابھی بھی پاکستان پر حملہ آور دہشت گرد داعش کے تربیت یافتہ نکلتے ہیں ۔ ابھی تک پاک فوج اور عسکری اداروں کی بہتر حکمت عملی اور آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے داعش پاکستان میں اپنے قدم نہ جما سکی مگر ہ میں مستقبل میں داعش کا راستی روکنے کے لئے ایسی ہی مستعدی دکھانا ہو گی ۔ پاکستان کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ داعش کا ملک میں کوئی وجود نہیں البتہ متعلقہ ادارے اس شدت پسند گروپ کے خطرے سے آگاہ ہیں ۔ داعش افغانستان کی سیاسی حکومت اور پاکستان کے لئے مشترکہ دشمن کے طور پر سامنے آ رہی ہے ۔ دونوں کو مل کر اس برائی کو ابتدا سے ہی روکنے کی کوشش کرنی چاہئیے ۔ داعش ایک ناسور ہے اورکسی صورت میں بھی اْسے پاکستان میں پذیرائی نہیں ملنی چاہئے ۔ افغان سفیرکا کہنا ہے کہ داعش سے وابستہ جنگجو افغانستان کے صوبے ننگرہار میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہے ہیں ، لیکن ان کے بقول ان عناصر کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے ۔ داعش اپنا پروپیگنڈہ اور اپنا نکتہ نظر اس خطے بشمول پاکستان میں پھیلا رہا ہے ۔ دہشت گردی اور غیر ریاستی عناصر کی کارروائیوں کے باعث یہ علاقہ گزشتہ 15 سالوں کے دوران بہت متاثر رہا ہے اور ان کے بقول اگر ہم مزید ایک دہائی تک ان عناصر سے نہیں لڑنا چاہتے تو ہ میں فورا فیصلہ کرنا ہو گا ۔ شدت پسند گروپ داعش عراق اور شام میں سرگرم ہے، جہاں اس نے وسیع علاقے میں قبضہ کر رکھا ہے ۔ امریکہ کی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد کی طرف سے داعش کے خلاف شام اور عراق میں کارروائیاں جاری ہیں ۔ داعش نے کئی افغان جنگجوں کو اپنی طرف راغب کیا ہے اور افغانستان میں اپنی جگہ بنائی ہے، جس سے افغان طالبان کے اثرورسوخ میں بظاہر کمی آئی ہے ۔ افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگر ہار میں موجود داعش کے جنگجوں اور طالبان کے درمیان لڑائی کی اطلاعات بھی ملتی رہی ہیں ۔ داعش سے تعلق رکھنے والے کئی مشتبہ جنگجو افغانستان میں ڈرون حملوں میں مارے جا چکے ہیں ۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے بھی کئی شدت پسندوں کی طرف سے داعش میں شمولیت کا اعلان کیا گیا تھا ۔ روس نے کہا ہے کہ اس کے اندازے کے مطابق شدت پسند تنظیم داعش کے لگ بھگ دس ہزار عسکریت پسند افغانستان میں موجود ہیں اور کیونکہ شام اور عراق سے فرار ہونے والے جنگجو بھی جنگ سے تباہ حال اس ملک کا رخ کر رہے ہیں تو یہاں ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ماسکو خاص طور پر تاجکستان اور ترکمانستان کے ساتھ واقع شمالی افغانستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی آماجگاہوں پر فکر مند ہے ۔ روس ان اولین آوزوں میں شامل ہے جس نے افغانستان میں داعش سے متعلق خطرے پر آواز اٹھائی داعش نے حال ہی میں اس ملک میں اپنی قوت خاطر خواہ طور پر بڑھائی ۔ روسی نمائندہ خصوصی نے الزام عائد کیا کہ بغیر کسی شناخت والے;34; ہیلی کاپٹر ان جنگجووں کو منتقل کر رہے ہیں اور اس شدت پسند تنظیم کی افغان شاخ کو مغربی آلات فراہم کر رہے ہیں ۔ داعش خوارج قاتلوں ، ٹھگوں اور گمراہوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے اور اسلام کے نام پر امت مسلمہ کو تباہ کر رہا ہے ۔ داعش طالبان سے کہیں زیادہ ظالم ہیں اور مسلمانوں کا کوئی فرقہ بھی ان کی سفاکی سے محفوظ نہ ہے جیسا کہ ان لوگوں سے شام اور عراق میں کیا ہے ۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں ۔

حکومت مہنگائی پر کنٹرول کرے

بالآخر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان قرضے کیلئے مذاکرات کامیاب ہوگئے، معاہدے کے مطابق آئی ایم ایف پاکستان کو 39 ماہ میں 6 ارب ڈالرز کا قرضہ دے گا ۔ معاہدے کی اصل شرائط تو معلوم نہیں کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے کن شرائط پر قرضہ لیا تاہم جو اعلامیہ جاری کیا گیا اسکے مطابق ٹیکسوں کا بوجھ تمام شعبوں پر یکساں ڈالا جائے گا ۔ اسٹیٹ بنک کی خودمختاری قائم اور شرح سود میں اضافے کے ساتھ ساتھ ڈالر کے مقابلے میں روپے کا تعین مارکیٹ کرے گی ا سکے ساتھ ساتھ بجلی و گیس بھی مہنگی ہوگی لیکن عوام کو دلاسہ دیا جارہا ہے کہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا حالانکہ بجلی کی قیمت جس سطح پر بھی بڑھائی جائے گی بوجھ عام آدمی پر ہی پڑے گا کیونکہ حکومت میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث اشیاء خوردونوش سمیت دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے دے اوپر سے حکومت میٹروبس کے کرایوں میں بھی اضافہ کرنے جارہی ہے جوکہ خالصتاً عام آدمی پر ڈائریکٹ اثر ڈالے گا اگر حکومت عام آدمی پر خرچ کیے جانے والے چند ارب روپے برداشت نہیں کرسکتی تو پھر ریاست مدینہ کا نعرہ نہ لگایا جائے ۔ دوسری جانب اسٹیٹ بنک کو خودمختار کرکے ڈالر کو اوپن مارکیٹ کے سہارے چھوڑنے کی بات ہورہی ہے جبکہ ایسا ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے جس ملک کی برآمدات بہت کم ہوں وہاں پر ڈالر کی قیمت مارکیٹ تعین کرے گی تو مہنگائی کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور ہمارے ملک میں تو روایت ہے کہ جس میں زیادہ منافع نظر آرہا ہو اس میں ملک کے چند ارب اور کھرب پتی اپنی سرمایہ کاری شروع کردیتے ہیں اور پھر مارکیٹ کو اپنے مطابق کنٹرول کرتے ہیں اگر ڈالر کی قیمت کا تعین مارکیٹ پر چھوڑا تو چند سرمایہ دار ڈالر قیمت کو کنٹرول کرنا شروع کردینگے جوملکی معیشت کیلئے خطرناک ہوگا اس لئے اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے ۔ اسٹیٹ بنک کی مکمل خودمختاری کے فیصلے پر بھی دوبارہ سوچ بچار کی ضرورت ہے کیونکہ غریب ممالک کی معیشت اس طرح کنٹرول ہوتی ہے ۔ عوام کو جھوٹے دلاسے نہ دئیے جائیں کیونکہ شاید وزیراعظم عمران خان یہ بات نہیں جانتے کہ جنہوں نے انہیں ووٹ دیا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم کرنے میں جانیں قربان کیں انکے لواحقین وزیراعظم عمران خان اور انکی کابینہ کے وزراء سمیت تقریباً ہر پی ٹی آئی رہنما کی باتوں کو سنجیدہ لیتے ہیں اور انکی ہر کہی بات پر یقین کرتے ہیں جس کی وجہ وزیراعظم عمران خان کا بے داغ دامن ہے ۔ سب سے پہلے وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ اپنے وزراء اور پی ٹی آئی رہنماءوں کو غیر ضروری بیانات سے روکیں ۔ وزیراعظم عمران خان بے شک سیاسی بیانات سے نہ روکیں لیکن ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو عوام کے زخموں پر وقتی طورپر تو مرہم رکھ دیں لیکن بعد میں بیانات جھوٹے یا غلط ثابت ہوں ایسی صورتحال میں عوام کو مایوسی ہوگی اور اس بار اگر عوام مایوس ہوئے تو ملک میں انارکی بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان سے قوم کو بہت امیدیں وابستہ ہیں اور انہی امیدوں کے سہارے قوم مہنگائی در مہنگائی کی کڑوی گولی بار بار نگل رہے ہیں ۔ ملک میں جاری موجودہ مہنگائی صرف ا ور صرف حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے، مانا کہ ماضی کی حکومتوں کے شروع کے ادوار میں اسی طرح کی مہنگائی ہوتی آئی ہے لیکن مہنگائی کے اتنے بڑے بڑے جھٹکے قوم کو بار بار پہلی بار لگ رہے ہیں اوپر سے وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں صبر سے کام لیں یہ مشکل وقت ہے جو جلد گزر جائے گا لیکن وزیراعظم عمران خان اس بات کا جواب نہیں دے رہے کہ جس غریب آدمی کے بچوں کو آج بھوک لگی ہے وہ کیسے صبر کریں ، بھوک تو زیادہ سے ایک وقت کا ہی صبر کرنے کی مہلت دیتی ہے اس سے زیادہ نہیں اور پھر جب ایک مجبور شخص نے اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرنے کیلئے کسی کے آگے ہاتھ پھیلا دئیے اور اپنی عزت نفس کو تار تار کردیا تو اس کا ازالہ کون کرے گا اور جب کسی کا کوئی چارہ نہ بن پائے اور وہ گلی ، محلوں یا چوراہوں پر بھیک مانگنا شروع کردے یا پھر چوری وغیرہ جیسے جرائم کا ارتکاب کرے تو کیا اس ساری صورتحال کی ذمہ داری حکومت لے گی ۔ کیا حکومت انکے بڑھتے مسائل کے حل کیلئے کچھ کرے گی ۔ وزیراعظم عمران خان صاحب یہ بھوک ہی ہے جو والدین کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو سکولوں سے ہٹا کر کمانے کیلئے بھیجنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ حکومت جو بھی معاشی پالیسی بنائے لیکن اس کی اتنی رٹ ہونی چاہیے کہ وہ شتر بے مہار بڑھتی اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرسکے ۔ یہاں پر قابل غور امر یہ ہے کہ کیا حکومت نے بڑھتی مہنگائی میں انتہائی غریب افراد کیلئے فوری ریلیف کیلئے کچھ کیا;238; اس پر حکومت یوٹیلٹی سٹورز پر دی جانے والی سبسڈی اور سستے بازاروں کے انعقاد جیسے اقدامات کو بطور جواز پیش کرتی ہے حالانکہ سستے بازاروں میں بھی حکومت کی مقرر کردہ نرخوں سے زائد اشیاء خوردونوش کی قیمتیں وصول کی جارہی ہیں اور یوٹیلٹی سٹورز پر جو حالت ہے وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، سستے بازاروں میں پھلوں کا جو معیار ہے کیا کسی حکومتی نمائندے نے اس پربھی کبھی غور کیا یا پھر موقع پر جاکر عام آدمی بن کر قیمتوں اور معیار کو پرکھا ہے;238; حکومتی دعوے ایک طرف لیکن وزیراعظم عمران خان صاحب آن گراءونڈ بہت بری حالت ہے ایسا لگتا ہے کہ پرانی حکومت اور آج کی حکومت میں کوئی فرق نہیں ۔ وہی غیر معیاری اشیاء مہنگے داموں سستے بازاروں میں فروخت ہورہی ہیں وہی دھوکہ دہی کا بازار گرم ہے جبکہ عوام توقع کررہی تھی کہ ضلعی انتظامیہ اپنے ہونے کا ادراک کرائے گی مگر بالکل بھی تبدیلی نہیں آئی جبکہ یہ وہ تبدیلی تھی جوکہ آسانی کے ساتھ حکومتی رٹ قائم کرکے اچھے اور نیک لوگوں کی تعیناتی کے ذریعے لائی جاسکتی تھی مگر افسوس کہ ہم نے موجودہ حکومت کے منہ سے بھی وہی جھوٹے دلاسے اور سیاسی نعرے ہی سنے حالانکہ یہ تبدیلی والی حکومت تھی ۔ بہرحال اب آئی ایم ایف کا پروگرام بھی لے لیا اور دوست ملکوں کی امداد بھی آچکی ۔ ایشیائی ترقیاتی بنک بھی قرضہ دے گا اب معاشی استحکام آنا چاہیے اور اس معاشی استحکام کے دوران ہی حکومت نے ملکی بہتری کیلئے جو کرنا ہے کر گزرے مگر عام آدمی کیلئے بھی کچھ کرے کیونکہ فوری طورپر تو عام آدمی ہی حکومتی پالیسیوں سے متاثر ہوتا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان اور انکی ٹیم کو ملکی بہتری کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ان سے کس سطح پر اور کہاں کہاں غلطیاں ہوئیں جس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوا ۔ کارخدارا حکومت مہنگائی پر کنٹرول کرے ۔

دہلی سرکارناکامی کے زخم چاٹنے پرمجبور

سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت میں برطانوی پارلیمانی نظام راءج ہے، یقینا اس نظام میں بہت سی خوبیاں بھی ہیں مگر غالباً اس کی بنیادی خامی یہ ہے کہ الیکشن سے محض دو ماہ پہلے انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوتا ہے یوں کہا جا سکتا ہے کہ 5 سال کے عرصہ میں سے باقی کے 4 سال 10 ماہ میں اس امر کی کھلی آزادی ہوتی ہے کہ جس کے جو جی میں وہ کہتا اور کرتا پھرے ۔ اسی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نے 26 مئی 2014 کو اپنے منتخب ہونے کے بعد سے وطن عزیز کی بابت تسلسل کے ساتھ جو زہر افشانی کی وہ تاریخ کا حصہ ہے ۔ اس تناظر میں سنجیدہ مبصرین نے کہا ہے کہ مودی اور ;828383; کو برسر اقتدار آنے کے فوراً بعد سے ہی اندازہ تھا کہ وہ اقتصادی محاذ پر کوئی بڑی پیش رفت نہیں کر پائیں گے لہٰذا انھوں نے اپنی ساری توانائیاں پاکستان اور اس کے قومی سلامتی کے اداروں خصوصی طور پر آئی ایس آئی کو نشانہ بنانے میں صرف کیں جس کا انھیں بھارتی داخلی سیاست میں فائدہ بھی ہوا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ دوسری جانب وطن عزیز میں بھی کئی حوالوں سے صورتحال زیادہ مختلف نہیں رہی اور عمران خان کی زیر قیادت معاشی اور اقتصادی محاذ پر ابھی تک خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ تاحال ہم ترقی کی جانب اپنی سمت متعین نہیں کر پائے تو بے جا نہ ہو گا ۔ ایسے میں پاک بھارت عوام بجا طور پر پریشان ہیں کہ ’’ اچھے دنوں ‘‘ اور ’’ تبدیلی‘‘ کے نام پر انھوں نے ووٹ تو دیئے مگر تاحال اچھے دن اور تبدیلی دور بین لگانے سے بھی نظر نہیں آ رہی ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں لوک سبھا چناءو کے شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے ۔ نریندر مودی کی قیادت میں ;667480; ایک بار پھر ’’ناممکن کو ممکن ‘‘ بنانے میں جٹ گئی ہے ۔ ایک زمانہ ایسا تھا جب مودی کا نعرہ ’’ اچھے دن ‘‘ تھے‘وہ چونکہ نہیں آ سکے اس لیے اب انھیں ’ناممکن اب ممکن ہے‘ کا نعرہ لگانا پڑا ۔ چند روز قبل ;667480; نے اپنے امید واران کی فہرست جاری کی تو اس میں ایل کے ایڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کا نام تک شامل نہیں ۔ اڈوانی جی نے زندگی بھر ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھ کر رتھ یاترا کی لیکن اپنی منزل مقصود سے محروم رہے جبکہ مودی کے چائے پلاتے پلاتے ’’اچھے دن ‘‘آ گئے ۔ شاید قدرت کو یہی منظور تھا ۔ بھارتی عوام کو یہ غلط فہمی ہوگئی تھی کہ ان کے اچھے دن آنے والے ہیں لیکن اس خوش فہمی کو دور ہونے میں تقریبا ًچارسال لگ گئے ۔ پہلے تو مودی نے دنیا بھر کی سیر کی اور اس دوران مالیا، چوکسی اور نیرو مودی جیسے لوگوں نے بھارتی بنکوں کو خوب جی بھر کے لوٹا ۔ مودی لوٹ کر آئے تو یہ سب ایک ایک کر کے رفو چکر ہو گئے ۔ پہلے جیسے نریندر مودی یورپ کی فضاوں میں تیرتے پھرتے تھے اسی طرح آج کل لندن میں وجئے مالیا اور نیرو مودی آتے جاتے ہیں ۔ فی الحال مودی پر انتخابات کا دباو اتنا زیادہ ہے کہ وہ غیر ملکی دورے تک بھول چکے ہیں ۔ 2016 ;247; میں مودی نے ہندوستانی عوام کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے بجلی کا پہلا جھٹکا دیا اور اس کا نام نوٹ بندی رکھا ۔ 2017 ;247; میں دوسرا جھٹکا جی ایس ٹی تھا ۔ اس سے درمیانی درجہ کا اعلیٰ اور نچلا طبقہ ہل کر رہ گیا ۔ نیوٹن کے تیسرے اصول کے مطابق ہر عمل کا یکساں اور مخالف ردعمل اترپردیش میں نہ سہی تو گجرات اور پنجاب میں ہوگیا ۔ 2017 نے جاتے جاتے مودی جی کو دو جھٹکے دیئے ۔ ایک تو گجرات جیسے مودی کے گڑھ میں انتہائی مشکل جیت اور دوسرے بھارتی پنجاب کی صاف سیدھی شکست ۔ 2018 ;247; مودی پر گویا ایک قہر بن کر نازل ہوا ۔ کرناٹک میں لکشمی دیوی (دولت)بھی حکومت نہیں بنواسکی اور دیکھتے دیکھتے راجستھان سے لے کر چھتیس گڑھ تک تینوں صوبے کانگریس کی جھولی میں چلے گئے، یہ کوئی انہونی نہیں تھی ۔ اس کے پیچھے بیروزگاری کی شرح میں 52 سالوں کا ٹوٹنے والا ریکارڈ کارفرما تھا ۔ اس کےلئے پٹرول کے نرخ کی آگ اور مہنگائی کے آسمان کو چھونے والے شعلے ذمہ دار تھے ۔ بھارتی کسانوں کی خودکشی میں روز افزوں اضافہ ہونے لگا تھا ۔ رافیل کی بدعنوانی نے ’’چوکیدار ‘‘کو ’’چور ‘‘بنادیا تھا ۔ پرینکا گاندھی آندھی اور طوفان بن کر نمودار ہوئی ۔ یوپی میں مایا اور اکھلیش ساتھ ہوگئے ۔ ایسے میں بی جے پی کو نیا نعرہ ایجاد کرنا پڑا ۔ ’‘ ناممکن اب ممکن ہے‘‘ ۔ اس نعرے میں یہ اعتراف توتھا کہ اب انتخابات میں کامیابی نا ممکن ہے لیکن وہ ممکن میں کیسے ہوگی ;238; اس کی وضاحت نہیں تھی ۔ اس دوران پلوامہ واقعہ ہوگیا ۔ ہمدردی کی زبردست لہر اٹھی اور ایک لمحہ کےلئے ایسا لگنے لگا کہ ہاں ’ناممکن اب ممکن ہے‘ لیکن یہ کیفیت دیرپا نہیں رہی ۔ جب پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا تو بھارت میں سوال ہونے لگے کہ حملے کے وقت مودی کہاں تھے;238; کیا کررہے تھے;238; اور ردعمل میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی;238; تو جواب ملا فلمی شوٹنگ میں مصروف تھے، یہ جان کر پورا بھارت سناٹے میں آگیا ۔ ناممکن پھر سے ممکن بنانے کےلئے بھارت نے دوسری ایئر سٹرائیک کی جسارت کی ، بھارت میں عوام کا دھیان اس طرف ہوا کہ شاید ناممکن پھر ممکن ہو گیا ۔ لیکن تاریخ کا حصہ ہے کہ جب جئے للیتا نے اٹل سرکار کو تیرہ ماہ بعد گرادیا تھا تو پوکھرن میں ایٹمی دھماکہ کیا گیا جس کا کوڈ تھا ’smiling budha‘ لیکن جواب میں پاکستان نے پانچ ایٹمی دھماکے کردیئے ۔ اسی طرح بھارت میں سرجیکل اسٹرائیک کاجشن ابھی جاری تھا کہ دو بھارتی جہاز گرانے کے بعد پاک افواج نے انڈین ونگ کمانڈر ابھی نندن کو گرفتارکر لیا ۔ بہر کیف بھارتی حکمران تو اپنی دیرینہ روش پر قائم ہیں اور ان سے کسی بہتری کی توقع غالباً عبث ہو گی، البتہ ایک جانب یہ خیال رکھنا ہو گا کہ دہلی سرکار اپنی ناکامی کے زخم چاٹنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی مہم جوئی کی مرتکب ہو سکتی ہے، ضرورت وقت ہے کہ اس طرف سے ہوشیار رہا جائے اور وطن عزیز کی معیشت کے ضمن میں ’’ترقی معکوس ‘‘ کو روکنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے ۔

صحت مند معاشرے کے خد وخال!

ایک ڈاکٹر جنھیں ہم اکثرمریضوں کے بھیڑ دیکھتے تھے اور اوپی ڈی ہی میں ان سے ہماری ملاقات ہوتی تھی ، ان کے ساتھ تھوڑی سی ملاقات سے ہ میں بہت خوشی ہوتی تھی ،وہ صرف نسخے ہی نہیں لکھتے تھے بلکہ وہ ایک اچھے شاعر بھی تھے اکثراوپی ڈی میں بھی مریضوں کیلئے نسخہ لکھتے لکھتے بھی ان پر شعروں کا نزول شرو ع ہوجاتاتھا اور اچھا خاصا شعر لکھ لیتے تھے ،ملاقات پر ایک ادھ غزل ہ میں بھی پکڑادیتے تھے ،غیر مطبوعہ شکل میں ان کا کلام اب بھی ہمارے پاس موجود ہے جو ان کی یاد دلاتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے ’’ڈبلیو ایچ او کی تعریف کے مطابق صحت صرف جسمانی صحت کا نام نہیں بلکہ کسی بھی انسان کے جسمانی ، معاشی، معاشرتی اورروحانی طور پر ٹھیک ٹھاک ہونے کے عمل کا نام ہے اور محض بیماری کا نہ ہونا صحت مند ہونے کی دلیل نہیں ہے ۔ اس تعریف کو مد نظر رکھا جائے تو ہم میں سے ہر دوسرا شخص مریض ہے ، کیونکہ ہمارے معاشرے میں تو اس شخص کو بیمار کہا جاتا ہے جسمانی طور پر کوئی بیماری یا معذوری لاحق ہو اور جب ہم صحت کی بات کرتے بھی ہیں تو ہ میں ان چار نکات میں سے کسی نہ کسی طور پر ضرور واسطہ پڑتا ہے ،کیونکہ ہم خود کسی نہ کسی طرح اس کے ظالم شکنجوں کا شکار ہیں مگر جذباتی اور روحانی صحت یامعاشرتی صحت پر تو کبھی بھی غور نہیں ہوتا حالانکہ جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ معاشی، معاشرتی اور روحانی طور پر بھی انسان کو صحت مند ہونا چائیے ۔ اب اگر ہم صحت مند معاشرے کی بات کرتے ہیں تو سوچنا یہ ہے کہ کس کونے سے شروع کیا جائے جب یہ نکتہ لوگوں کے سامنے رکھا گیا تو بیشتر نے یہ کھا کہ جب تک جسمانی صحت نہ ہو ہم کچھ نہیں کرسکتے مگر اس نکتہ کو پرکھنے کیلیئے جب ہم نے عام مشاہدہ کیا تو بڑے موٹے تازے اور صحت مندافراد کو معاشی ناہمواریوں اور روحانی بگاڑ کے باعث پاگل ہوتے دیکھا ہے اور یا کسی معاشرتی برائی کے ھاتھوں ختم ہوتے دیکھا ہے اسی طرح معاشرتی صحت سے جسمانی صحت تو خریدی جاسکتی ہے لیکن روحانی صحت ایک ایسی شے ہے جسے خریدا نہیں جاسکتا ہے اسی طرح بے پناہ دولت خود ایسی برائیوں اور جذبات کو جنم دیتی ہے کہ جس سے جسمانی صحت اور معاشرتی صحت بمع روحانی صحت زوال پزیر ہو جاتے ہیں کیونکہ یا تو خود صاحب زر نے یا جام و مئے یا غرور کا نشہ کرنا ہے اور یا لوگوں نے روحانی اور جذباتی طور پر اسے اکیلے چھوڑ دینا ہے اسی طرح اگر کوئی بھت صحت مند بھی ہو تو اسے باقی تین کھٹکے لاحق رہتے ہیں البتہ اگر جذباروحانی طور پر کوئی انسان توازن رکھتا ہو تو وہ اوروں کی بہ نسبت کم خطرے میں ہوتاہے ۔ ہمارے ملک میں جتنی بھی تنظی میں کام کررہی ہیں سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر ان میں صحت کی شروعات جسمانی صحت سے کی جارہی ہے ، حالانکہ ہمارے جیسے معاشرے کو اس سے ذیادہ باقی نکات کی بیماریاں لاحق ہیں کیاہمارے پاس کوئی ایسا ظابطہ حیات نہیں ہے کہ جس سے ہم ان تمام نکات پربیک وقت کام کرسکیں ;238; ایک معاشی صحت ہماری قوم کو دیمک بن کر جسمانی ،معاشرتی اور روحانی طور پر ہلاکے رکھ دیگی اور ہم ایک ایسی نفسا نفسی کا شکار ہوجائینگے کہ ہماری صحت کی باقی تین کونے صحت مند ہونے کے باوجود چوتھے ایک کونے کی وجہ سے تباہ ہوجائینگے ،کیا یہ ہمارے لیئے لمحہ فکریہ نہیں ہے ;238; ۔ ہماری قوم کی یہ بھی عادت بن چکی ہے کہ ہر کام دوسروں سے شروع کرتے ہیں اگر وہ معاشی حیثیت کانہ ہو تو ;238464646464646;آج اگر ہم یہ چوکور اپنے سامنے رکھیں اور خود سے خود آگاہی کا سفر شروع کریں اور اپنی اصلاح کریں صحت کے حوالے سے ِتو کیا ہمارا معاشرہ صحت مند معاشرہ نہیں بن سکتا;238;جب ہم خود بھی خود آگاہ ہوجائینگے تو ہم معاشرے کے کاریگر فرد بن جائینگے جن پر معاشرہ فخر کر سکے گا کیونکہ فرد ہی سے تو معاشرہ وجود میں آتا ہے اور جب ہم میں ہماری خوداگاہی پیدا ہوجائیگی اور شعور بیدار ہوجائیگا تو ہ میں پھر کسی فارن ایڈ کی ضرورت نہیں رہیگی ہم صرف خود کو روحانی اور جذباتی طور پر صحت مند رکھیں اور اپنے عزیزوں کی بھی اس پیرائے میں مدد کریں تو اس سے معاشرتی اور جسمانی صحت حاصل کی جاسکتی ہے کیونکہ آدھی بیماری تو تیماداری اور حوصلے سے ٹھیک ہوجاتی ہے اور اگر یوں ہم سب ایک ہوجائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم معاشی طور پر پسماندہ رہ جائیں کیونکہ انقلاب کے بعد معاشرے کا ہر فرد جو معاشرہ وجود میں آتا ہے اس کا ہر فرد صحت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق ٹھیک ٹھاک ہوتا ہے اور وہ فارن ایڈ کا انتظار نہیں کرتا ہے بلکہ وہ عالمی برادری کا ایک ذمہ دار ملک بن کر بین الاقوامی دنیا کی مدد کرتا ہے! ۔

پاکستان اورآئی ایم ایف کے مابین معاہدہ طے پاگیا

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے عمران خان کی قیادت میں معاشی حالات پرقابوپاناشروع کردیا ہے ، کپتان کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ جو بھی کام کرتاہے عزم مصمم سے کرتا ہے اور آخر کار کامیابی کی منزل اس کے قدم چوم لیتی ہے، گوکہ حکومت آنے سے قبل پی ٹی آئی نے کہاتھاکہ وہ کسی صورت بھی آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائے گی لیکن جانے والی حکومت نے قومی خزانے کو اس کوبری طرح خالی کیاکہ کپتان کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ، گوکہ آئی ایم ایف نے جو سٹاف لیول پر قرضہ دینے کی شرائط عائد کی تھیں وہ جب وزیراعظم عمران خان کے پاس گئیں تو انہوں نے اس شرائط کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ عالمی مالیاتی فنڈ کو مزید مراعات دینے پررضامندکیاجائے اس کے بعد دودن مزیدمذاکرات چلتے رہے اورآخری یہ حتمی مراحل میں داخل ہوگئے اور کامیابی کے بعد آئی ایم ایف نے باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا ۔ جس کے مطابق پاکستان کو 6 ارب ڈالر 39 ماہ میں قسطوں میں جاری کیے جائیں گے ۔ اعلامیے میں کہا گیاکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا تعین مارکیٹ کے طے کرنے سے مالی شعبے میں بہتری آئیگی ۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ حکومت پاکستان نے اسٹیٹ بینک کی خود مختاری قائم رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک غریبوں پر اثر انداز مہنگائی کم کرنے پر توجہ دیگا، اسٹیٹ بینک کو پاکستان کے مالی استحکام پر توجہ دینا ہوگی، مارکیٹ کی جانب سے شرح تبادلہ کے تعین سے مالی شعبہ میں بہتری آئیگی اور معیشت کیلئے بہتر وسائل مختص ہوسکیں گے ۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان آئندہ 3 سالوں میں پبلک فنانسگ کی صورتحال میں بہتری اور انتظامی اصلاحات سے ٹیکس پالیسی کے ذریعے قرضوں میں کمی لائیگا، حکومتی اداروں اور شعبہ توانائی میں خرچے کم کرنے سے وسائل و مالی خسارہ کم ہوگا ۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ ٹیکسوں کا بوجھ تمام شعبوں پر یکساں لاگو ہوگا ۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ حکومت غریبوں کی مدد کے پروگرام بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اضافہ کر سکتی ہے جبکہ سبسڈی کا نظام صرف غریبوں تک محدود کرنا ہو گا ۔ اعلامیہ کے مطابق مالیاتی شعبے کی بہتری کیلئے مارکیٹ کی طرف سے تعین کردہ ایکسچینج ریٹ طریقہ کار اپنایا جائیگا ۔ اعلامیہ کے مطابق ملک میں معاشی ترقی کیلئے ایک ڈھانچاتی اصلاحات پروگرام پر اتفاق کیا گیا ہے ،پروگرام کی ترجیحات سرکاری اداروں کی انتظامی کارکردگی بہتر بنانے، اداروں کی گورننس بہتر بنانے، انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کا خاتمہ کرنا اور تجارت کے فروغ کیلئے اقدامات کرنا ہے ۔ مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوگیا ہے ۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے شرائط میں نرمی کرنے کے لئے کہا لیکن آئی ایم ایف نے انکار کردیا، وزیراعظم نے آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ کاسٹاف لیول معاہدے کا مسودہ مسترد کردیا تھا لیکن گزشتہ روز آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ میں بریک تھرو ہوا ، مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں کچھ اضافہ کرنا پڑے گا 75فیصد صارفین کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا، غریب عوام کے لئے شروع کئے گئے پروگراموں کے لئے بجٹ میں 180ارب روپے رکھے جا رہے ہیں ۔ پچھلے چند سالوں کے دوران ملک کی معاشی حالت خراب ہوئی ہ میں اپنی چادر کے مطابق اخراجات کرنے کے لئے کہا ہے، ہم آئی ایم ایف کے پروگرام پر عمل درآمد کرنا چاہتے ہیں ، گزشتہ حکومتوں کے ;200;ئی ایم ایف پروگرامز میں نقص تھا،;200;ئی ایم ایف سے اس سے قبل کے پروگراموں میں اسٹرکچرل ریفارمز نہیں کی گئی تھیں ۔ پاکستان کو پائیدار خوشحالی کی طرف لیکر جانا چاہتے ہیں تو اسٹرکچر تبدیلی کرنا ہوگی ۔ گوکہ عالمی مالیاتی فنڈ سے چھ ارب ڈالرملیں گے تاہم حکومت کو چاہیے کہ اس مہنگائی کے دور میں وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرے اور ایسے پیکج متعارف کرائے جن کی وجہ سے آسانی سے عوام ٹیکس نیٹ میں آسکے،مشیرخزانہ نے تو کہہ دیاہے کہ وہ ٹیکس دینے والے کی عزت کریں گے اورمزید ٹیکس نیٹ میں اضافہ کریں گے ۔

دہشتگردوں کے مذموم عزائم پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتے

وزیراعظم عمران خان نے گوادر میں فائیو سٹار ہوٹل پر دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے پاکستانی قوم اور اس کی سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کو شکست سے دوچار کریں گی، بلوچستان میں دہشت گردوں کے حملوں کا مقصد ملک کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، ملک میں اس طرح کے ایجنڈے کی تکمیل کسی صورت میں نہیں ہونے دیں گے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایسی کارروائیاں پاکستان کی خوشحالی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں ۔ کسی صورت ایسے ایجنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیاجا ئے گا ۔ پاکستان کے امن و ترقی کے دشمن اپنے مذموم عزائم میں ناکام اور نامراد رہیں گے ۔ دوسری جانب ;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ماءوں کے عالمی دن پر شہدا کی ما ءو ں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب تک وطن پر بیٹے قربان کرنے کا حوصلہ رکھنے والی مائیں موجود ہیں ، اس ملک کو کوئی شکست نہیں دے سکتا ۔ آرمی چیف نے کہا کہ ان ماءوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنکی قربانی کی بدولت ہم ;200;ج اس مقام تک پہنچے ہیں ۔ جب تک بہادر سپوتوں کی مائیں موجود ہیں ، کوئی ہ میں شکست نہیں دے سکتا ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی ماءوں کے نام سوشل میڈیا پیغام جاری کیا گیا جس میں انھوں نے تمام ماءوں خصوصا شہدا کی ماءوں کو سلام پیش کیا ہے ۔ ماں پیار، خیال، حفاظت اور بے لوث ہونے جیسے لافانی احساسات کا نام ہے ۔ ماں صرف رشتے کا نام نہیں ، ایسا ہوتا تو ان کے جانے سے یہ رشتہ ختم ہو جاتا ۔ قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے، کچھ منفی عناصر بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے پر عمل پیرا ہیں ، دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے ۔ گوادر کے ہوٹل پر حملے کا مقصد سی پیک منصوبے کو ناکام بنا نا ہے، مگر سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے ۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارتی را اور افغان این ڈی ایس کا گٹھ جوڑ ہے ۔ بھارتی ایجنسی را ہمیشہ بی ایل اے کا ماسٹر مائنڈ رہی ہے ۔ وزیراعظم مودی پہلے ہی بلوچستان میں دہشت گردوں کی معاونت کا سرعام اقرار کر چکا ہے ۔ بھارت ہمسایہ ممالک میں امن خراب کرنے میں ملوث ہے ۔ بھارت کے ساتھ ساتھ افغانستان کی این ڈی ایس بھی پاکستان میں امن وامان کی صورتحال خراب کرنے میں ملوث ہوجاتی ہے جبکہ پاکستان نے اعادہ کیاہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیگا ۔

Google Analytics Alternative