کالم

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

یہی کوئی چند روز پہلے کس قیامت کی گرمی تھی خلق خشک زبان باہر آ رہی تھی اور پھر پری مون سون میں ہی بارشیں کچھ اس طرح جم کر برسیں بلکہ برس رہی ہیں کہ ہر طرف جل تھل ہے بلکہ ہر طرف پانی ہی پانی ہے ۔ ماہرین موسمیات نے وارننگ جاری کر رکھی ہے کہ 2025تک وطن عزیز میں سوکھا پر جائے گا وجہ محض یہ کہ ہمارے گزشتہ بلکہ گزشتہ سے پیوستہ سبھی حکمرانوں پانی جمع کرنے پر توجہ ہی نہیں دی ۔ایوب خان کے ڈیموں پر ہی گزارا چل رہا ہے اور پاکستان کا کھا کر پاکستان سے دشمنی کرنے والوں نے کالا باغ جیسا زبر دست ڈیم غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر صوبائیت کا مسئلہ بنا ررکھا ہے لیکن اس میں اُن مخالفین کے ساتھ ساتھ ہمارے حکمرانوں کا بھی اتنا ہی قصور ہے جو محض اپنی حکومتیں بچانے بلکہ اپنا عرصہ اقتدار لمبا کر نے کے لئے اس ڈیم پر کمپورومائز کرتے تھے ورنہ یہ حکمران کوئی اتنے کمزور تو نہیں تھے کہ یوں گھٹنے ٹیک دیتے جو راتوں رات اسمبلیوں میں اپنی تنخواہوں مراعات اور صادق و امین والی 62/63اور سب سے بڑھ کر یہ ختم نبوت جیسے قانون میں ترمیم کرنے میں بھی گناہ عظیم لینے تک پہنچ سکتے تھے ۔ وطن عزیز کی خاطر کالا باغ بھی بنانے پر قادر تھے مگر ان سبھی نے اسے نہ بنا کر ملک و قوم کے ساتھ جرم عظیم کیا ہے اور یوں ہم ہرسال کڑوڑں کیو سک میٹھا پانی اپنی زرخیز زمینوں کے منہ سے چھین کر سمندر کی نذر کر تے رہے جو اب بھی کر رہے ہیں جبکہ اس عرصہ میں دنیا بھر میں چھیالیس ہزار جبکہ چین میں دس ہزار اور بھارت میں سینکڑوں ڈیم بنا کر ان ممالک نے اپنی ذراعت ، معیشت اور توانائی کو محفوظ بنا لیا ہے اور ہم ایک ڈیم کی تعمیر پر تقسیم ہیں خوشی کی بات یہ ہے کہ اب کی بار سپریم کورٹ نے ڈیم بنانے کا عندیہ دے دیا ہے اور خوشی کی بات یہ بھی ہے کہ عام آدمی میں شعور اور آگاہی آگئی ہے اور 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں دفاعی فنڈ کے لئے ٹیڈی پیسہ ٹینک والا جذبہ کالا باغ ڈیم کے لئے اُ بھر چکا ہے بس اب اگر ضرورت ہے تو محض اتنی کہ اعلان کیا جائے اور فنڈ جمع کرنے کا حکم دیا جائے یہ قوم بڑی بہادر اور شجاع قوم ہے جو اپنی آنے والی نسلوں اور اپنے وطن کو بچانے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہے بات چند روز پہلے پڑ نے والی قیامت خیز گرمی سے شروع ہو کر پری مون سون بارشوں سے موسم میں قبل از وقت تبدیلی پر پہنچی تھی یہ تبدیلی محض موسم تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ ملکی سیا ست میں بھی کچھ اسی طرح کی تبدیلی کے آثار ہیں ۔ ہم پر پے در پے حکومتیں کر نے والی جماعتیں اور حکمران آج کل برائے راست عوام کی زد میں اور کچھ عدالتوں، نیب اور دیگر احتسابی اداروں کے ٹارگٹ پر ہیں لوٹی ہو ئی دولت اور مال اُ گلوائے جانے کے امکانات روشن ہو رہے ہیں اور وہ جو خود کو قانون سے ماورا سمجھتے تھے قانون کے شکنجے میں آرہے ہیں جبکہ آئندہ انتخابات کی گہما گہمی بھی چل رہی ہے ۔ ارب پتی اُمید وار غریبوں کی بستیوں اور گھروں میں اپنی قیمتی گاڑیوں سمیت پہنچ کر اُنھیں نئی اُمیدیں سنہرے خواب اور خواہشات دے رہے ہیں لیکن یوں لگتا ہے کہ اس مرتبہ اگر عوام نے صحیح نمائندوں کو چن کر اسمبلیوں میں بھیجا تو گزشتہ کئی دہائیوں سے چلنے والی اپنی نوعیت کی واحد جمہوریت میں تبدیلی بھی آئے گی اور احتساب کا عمل بھی اپنی اصل شکل میں لاگو ہو گا ۔ رشوت، سفارش، اقربا پروری ،لوٹ مارکو بھی لگام ملے گی اور ریاستی وسائل کے ثمرات بھی عوام تک پہنچے گے۔ اس کالم کی وساطت سے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ ان سیا ست دانوں کی جائیدادوں کو اُن کی بتائی ہوئی قیمتوں پر بلکہ کچھ منافع دے کر خرید کر ان میں اولڈ ایج ہوم،یتیم خانے اور فلاحی ادارے بنا کر ملک کو فلاحی ریا ست بنانے کے لئے پہلا قدم اُٹھا یا جائے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اکیلا سپریم کورٹ کیا کیاکرے پے در پے ہم پر راج کر نے والے راجوں مہا راجوں نے ملک و قوم اور سرکاری اداروں کو کچھ اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ جہاں معا ملات کو درست کر نے میں بھی دہائیاں لگے گی ۔ آخر میں ایک لطیفہ سن لیں ۔ نگرانوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے واپڈا نے بجلی کے فی یونٹ قیمت بڑھا دی ہے اور گیس کمپنی نے بھی گیس قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان اضافوں پر سب سے زیادہ احتجاج مسلم لیگ نو ن اور پیپلز پارٹی کر رہی ہے جو کہ خود ان اضا فوں کا سبب ہیں اگر وہ اپنے ادوار میں بہتر منصوبہ بندیاں کر تے لُوٹ ماراور عیاشیوں سے پر ہیز کر تے تو آج نگرانوں کو یہ سب کچھ نہ کرنا پرتا لیکن قیمتوں میں اضافوں سے ہو گا کیا مہنگا ئی کا طوفا ن آئے گا ڈالر اور اوپر جائے گا بے روز گاری مہنگائی اور جرائم کی شرح بڑھے گی خود کشیوں اور خود سوزیوں میں کچھ اضافہ ہو گا باقی آپ خود سمجھدار ہیں اندازہ لگا لیں کہ اور کیا کچھ ہو سکتا ہے البتہ ایک شعر پیش خدمت ہے ۔
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے
آگے دیکھئے ہو تا ہے کیا

 

 

یہ امریکی و بھارتی روش ۔۔۔کب تلک؟

asghar-ali

ایک جانب امریکی کانگرس نے اپنی دیرینہ منفی روش کو قائم رکھتے ہوئے پاکستان کی امداد میں ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی بیک جنبش قلم کمی کر دی ہے حالانکہ کسے معلوم نہیں کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں اتنے بڑے پیمانے پر قربانیاں دی ہیں جس کا عشر عشیر بھی کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔ ایسے میں اس مجوزہ امریکی امداد کو اونٹ کے منہ میں زیرہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے بھارت کو غیر معمولی رعائتیں دیتے ہوئے بہت سے ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جن کا واحد مقصد بھارت کو فائدہ پہنچانا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس کی تنقید کے لئے الفاظ ڈھونڈ پانا بھی خاصا مشکل ہے۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے انسان دوست حلقوں نے بجا طور پر کہا ہے کہ اسے عالمی امن و سلامتی کی بد قسمتی ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی تمام تر کاوشوں کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں اور پاکستان کی بابت تاحال اس نے ڈومور کا وطیرہ اختیار کر رکھا ہے ۔ اس صورتحال کے منطقی نتائج کا اندازہ لگانا غالباً کسی کیلئے مشکل نہیں ہونا چاہیے مگر امریکہ کو بہرکیف یہ ذہن نشین ضرور رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے اس عمل سے انتہا پسند طبقات کو بالواسطہ اور بلاوسطہ دونوں طریقے سے تقویت پہنچا رہا ہے ۔ دوسری جانب پاک سالار اعلیٰ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ وطن عزیز سے انتہاپسندی و دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہے، ریاست پاکستان نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کا تہیہ کیا ہے اور ان شاء اللہ ہم اس میں کامیاب رہیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ آج جنگ کی نوعیت اور کردار بدل چکے ہیں، ہائبرڈ وار میں نوجوان اب ہمارے دشمنوں کا بڑا ہدف ہیں۔ اسی تناظر میں اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ان کا کہنا تھا کہ مجھے پورا اعتماد ہے کہ پاکستان کے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو محسوس کر رہے ہیں، نوجوان پاکستان کو امن اور ترقی کے نئے دور کی طرف لے جائیں گے۔ نوجوان اب ہمارے دشمنوں کا بڑا ہدف ہیں مگر نوجوان پر عزم رہ کر ایسے تمام خطرات کو شکست دیں گے۔مبصرین نے اس صورتحال کا جائزہ لیتے رائے ظاہر کی ہے کہ بلاشبہ کسی بھی قوم کے نوجوان اس کا ہراول دستہ ہوتے ہیں اور پوری امید رکھی جانی چاہیے کہ پاکستان کے سبھی سماجی ،سیاسی و دیگر طبقات اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ کا فریضہ سرانجام دیں گے اور آنے والے دنوں میں پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی ان بلندیوں پر پہنچانے کا عزم ضمیم کریں گے جس کا خواب بانی پاکستان اور تحریک پاکستان کے دیگر زعماء نے دیکھا تھا۔ یہاں یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ دشمن ان دنوں بھی پاکستان کے خلاف وہ تمام حربے اور چالیں استعمال کر رہا ہے جس کے نتیجے میں ہمارے ملک کی جڑوں کو (خدانخواستہ) کھوکھلا کیا جا سکے اور مذہبی، لسانی، نسلی و جغرافیائی تعصبات کو ابھار کر ایسا ماحول قائم کیا جائے جو اس کے مکروہ عزائم میں معاونت کا سبب بن سکے مگر یہ حقیقت ہے کہ پاک افواج اور قوم نے ہر قدم پر یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان خدا کے فضل سے قائم رہنے کیلئے وجود میں آیا ہے اور ہر آنے والا دن اسے مضبوط سے مضبوط تر بنائے گا اور پاکستان کے ازلی مخالفین اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود بالآخر ناکام اور نامراد ہوں گے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس ضمن میں میڈیا اور سول سوسائٹی کے سبھی انسان دوست حلقے اپنی ذمہ داریوں کو زیادہ موثر ڈھنگ سے نبھانے کی کوشش کریں گے۔

 

 

انتقال اقتدار کیلئے حتمی نتائج

adaria

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کردئیے تاہم 27 قومی و صوبائی حلقوں کے نوٹیفکیشن روک دئیے گئے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی کامیابی والے دو حلقوں این اے 53اور این اے 131 کے نتائج روک دئیے گئے جبکہ تین حلقوں کے مشروط نوٹیفکیشن جاری کیے گئے ۔ ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق 2 حلقوں میں عمران خان کی کامیابی کے نوٹیفکیشن روک لئے گئے ہیں، جن حلقوں میں چیئرمین تحریک انصاف کی کامیابی کے نوٹیفکیشن روکے گئے ان میں این اے 53 سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر اور این اے 131 میں ان کے مدِمقابل مسلم لیگ(ن)کے سعد رفیق کی جانب سے دوبارہ گنتی کی درخواست کا فیصلہ آنے تک روکا گیا ہے۔عمران خان نے 25 جولائی کو عام انتخابات کے روز ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ووٹ کی رازداری کا خیال نہیں رکھا تھا اور سب کے سامنے بلے کے انتخابی نشان پر مہر لگائی جس پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا تھا اور ان کا کیس زیر سماعت ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے عمران خان کے دیگر 3 حلقوں سے کامیابی کے مشروط نوٹیفکیشن جاری کردیے ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا کیس زیر سماعت ہے جس کے فیصلے سے مشروط تین حلقوں سے کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کیے گئے تاہم اگر فیصلہ عمران خان کے خلاف آیا تو تینوں نوٹیفکیشنز منسوخ کر دئیے جائیں گے۔ عدالتی فیصلوں کے باعث 840 میں سے 26 قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے نوٹیفکیشن روکے گئے ہیں، قومی اسمبلی کے جن 9 حلقوں کے نوٹیفکیشن روکے گئے ان میں این اے 53 اسلام آباد، این اے 90 اور این اے 91 سرگودھا، این اے 108 فیصل آباد، این اے 112 ٹوبہ ٹیک سنگھ ،این اے 131 لاہور، این اے 140 قصور، این اے 215 سانگھڑ اور این اے 271 شامل ہیں۔ ایک طرف حکومت سازی کا عمل تیزی سے جاری ہے تو دوسری طرف الیکشن کمیشن کی طرف سے نوٹیفکیشن روکنے کا عمل کامیاب امیدواروں کیلئے پریشان کن بنا ہوا ہے،الیکشن کمیشن کی طرف سے نوٹیفکیشن روکنے سے انتقال اقتدار سوالیہ نشان بنتا جارہا ہے، الیکشن سے متعلقہ کیسوں کو التواء میں ڈالنے کی بجائے ان کو جلدازجلد نمٹانا ہی بہتر قرار پاسکتا ہے، الیکشن پر متحدہ اپوزیشن اپنے تحفظات کا اظہار کررہی ہے اور اس نے مبینہ دھاندلی کیخلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کررکھا ہے حالانکہ غیر ملکی مبصرین کی نظر میں انتخابات کا مرحلہ صاف و شفاف قرار پایا تاہم معمولی بے ضابطگیاں دیکھنے میں آئیں جن کا دھاندلی سے کوئی تعلق نہیں بنتا، ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ جب بھی الیکشن ہوتے ہیں ہارنے والے اپنی شکست کے محرکات ڈھونڈنے کی بجائے اس کو دھاندلی سے مشروط کردیتے ہیں جس سے الیکشن متنازع بن جاتے ہیں، حالیہ الیکشن کو بھی متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے حالانکہ حقائق یہ ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کو انتخابات میں ناکامی درحقیقت سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا عدلیہ کیخلاف بیانیہ ہے جس نے عوام کو متنفر کیا اور عوام نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا ، اپوزیشن کو مثبت کردار ادا کرنا چاہیے ، احتجاجی سیاست جمہوریت کیلئے سودمند قرار نہیں پاتی ، ماضی کے دریچوں میں جھانکا جائے تو دھاندلی کا شورشرابا اور اس کے اثرات جمہوریت پر ہی کاری ضرب کا باعث بنے۔جمہوری تسلسل کو جاری رکھنے کیلئے الیکشن میں ہارنے والی پارٹیوں کو اپوزیشن بنچوں پر بیٹھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، دھاندلی دھاندلی کی گردان ملک و قوم کیلئے درست نہیں ہے، آخر کب تک ہم دھاندلی کے چکروں میں پڑے رہیں گے،ہار کو تسلیم کرلینا ہی سیاسی تدبر اور بصیرت کا حامل قرارپاتا ہے، الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ روکے گئے حلقوں کے نوٹیفکیشن جلد جاری کرے تاکہ انتقال اقتدار کا مرحلہ بروقت انجام پائے۔ انتخابی نتائج کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو بھانپتے ہوئے الیکشن کمیشن اور عدالتوں کو فوری فیصلے دینے چاہیے تاکہ حکومت سازی کا مرحلہ مکمل ہو پائے۔ الیکشن میں آر ٹی ایس سسٹم کی ناکامی الیکشن کمیشن کے لئے سوالیہ نشان ہے جس کے بارے میں گزشتہ روز چیف جسٹس نے ایک کیس کے دوران ریمارکس میں کہا ہے کہ انتخابات کے روز میں نے چیف الیکشن کمشنر سے تین دفعہ رابطہ کیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا میرے خیال سے شاید وہ اس دن سو رہے تھے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اچھا بھلا انتخابی عمل جاری تھا لیکن الیکشن کمیشن نے مہربانی فرما دی، میں نے چیف الیکشن کمشنرسے تین دفعہ رابطہ کیا کوئی جواب نہیں آیا، میرے خیال سے شاید وہ اس دن سو رہے تھے، اس روز تو ان کاسسٹم ہی نہیں چل رہا تھا۔ یہ عدالتی ریمارکس الیکشن کمیشن کیلئے توجہ طلب ہیں۔الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ آر ٹی ایس سسٹم کی ناکامی کے بارے میں فوری تحقیقات کرے تاکہ سیاسی جماعتوں میں پایا جانے والا ابہام ختم ہو، الیکشن کمیشن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بروقت نتائج اور کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کرے تاکہ حکومت سازی کا مرحلہ آگے بڑھ پائے۔
آرمی چیف سے روسی نائب وزیر دفاع کی ملاقات
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور روسی نائب وزیر دفاع کی ملاقات نہایت اہمیت کی حامل قرار پائی ، ملاقات میں دوطرفہ تعلقات پر گفتگو کی گئی اور خطے کی سلامتی کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور بھی زیر غور آئے ، وزیر دفاع نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج کی کاوشوں کو سراہا ہے۔ روس اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات وقت کی ضرورت ہے، پاکستان پڑوسی ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے،پاکستان چاہتا ہے کہ اڑوس پڑوس کے ملکوں سے اچھے تعلقات رہیں، پاکستان حق ہمسائیگی سے بے نیاز نہیں ہے تاہم پاکستان کے ساتھ چند ممالک کا رویہ مخاصمانہ اور متعصبانہ ہے لیکن پاکستان پھر بھی دوستی کا ہاتھ بڑھائے ہوئے ہے، پاک فوج کی دہشت گردی کیخلاف قربانیوں کو روسی نائب وزیردفاع کا خراج تحسین اس امر کا عکاس ہے کہ پاک فوج کی کارکردگی کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے یہ حقیقت ہے کہ پاک فوج نے دہشت گردی کیخلا ف جو قربانیاں دیتی چلی آرہی ہے وہ تاریخ کے سنہری اوراق میں لکھے جائیں گے، دہشت گردی کی جنگ میں پاک فوج کا کردار ملک اور غیر ملکی سطح پر لائق ستائش ہے اور یہ عالمی سطح پر بھی قابل تقلید ہے۔ دہشت گرد مشترکہ دشمن ہیں ان کیخلاف مل جل کرلڑنا ہی دنیا کے امن کیلئے ضروری ہے۔
العزیزیہ اسٹیل ملز و فلیگ شپ ریفرنسز کی دوسری عدالت منتقلی
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف ،مریم نواز اور کیپٹن(ر)صفدر کیخلاف احتساب عدالت میں زیر سماعت العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کی دوسری عدالت میں منتقلی کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ریفرنسز کا ٹرائل یہی سے آگے بڑھایا جائے گا۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اب دونوں ریفرنسز کی سماعت نہیں کرینگے۔ نواز شریف کی درخواست منظوری کے بعد مسلم لیگ(ن) کو اب اطمینان کرلینا چاہیے کہ عدالتیں جو فیصلہ کرتی ہیں وہ آئین اور قانون کے تناظر میں کرتی ہیں، نواز شریف کیلئے یہی سودمند قرارپاسکتا ہے کہ وہ اپنے خلاف دائر ریفرنسز کا دفاع قانونی لحاظ سے کریں، یہی ان کی سیاسی ساکھ اور وقار کیلئے بہتر ہے۔

 

 

کشمیریوں کی اکثریت بدلنے کی بھارتی سازش

کشمیر جنت نظیر وادی کوکشمیریوں کی مقتل گاہ بنانے کے بعد بھی بھارت کو سکون نہ آیا تو بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی گھناؤنی سازش شروع کر دی۔ 1954ء میں بھارتی صدر کے ایک حکم کے بعد آرٹیکل 35 اے کو آئین میں شامل کیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے جموں کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ حاصل ہے۔آرٹیکل 35 اے کے مطابق کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں کشمیر کا شہری ہو سکتا ہے اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہو۔ کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا اور نہ ہی یہاں کا مستقل شہری بن سکتا ہے نہ ہی ملازمتوں پر حق رکھتا ہے۔آرٹیکل 35 اے جموں و کشمیر کے لوگوں کو مستقل شہریت کی ضمانت دیتا ہے۔ اسے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ بھارت کشمیر کے خصوصی ریاست کے درجے کو ختم کر رہا ہے۔ اس کے منسوخ ہونے کی صورت میں بھارت مقبوضہ وادی میں نئی ہندو بستیاں آباد کر سکے گا۔ کشمیری اس بھیانک سازش کے خلاف سینہ سپر ہیں۔ وادی میں اس مذموم سازش کے خلاف ہڑتال جاری ہے۔مقبوضہ کشمیر میں حریت فورم کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے بھارت کو خبر دار کیا ہے کہ اگر اس نے آئین کی دفعہ 35۔اے کو ختم کرنے کی کوشش کی تو کشمیر ی ایک زبردست احتجاجی تحریک چلائیں گے۔ دفعہ 35۔اے کے تحت جموں کشمیر کو خصوصی درجہ حاصل ہے۔ بھارتی آئین کی دفعہ 35۔ اے کو ہر کشمیری حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو یہاں کا ہر فرد سڑکوں پر ہو گا۔ کشمیرعالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ مسئلہ ہے اور کشمیری عوام 1947ء سے اپنے پیدائشی حق ، حق خود ارادیت کے حصول کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بھارت گزشتہ ستر برس سے بالعموم جبکہ پچھلے 30 برسوں سے کشمیریوں کو اپنا یہ حق مانگنے کی پاداش میں سخت مظالم کا نشانہ بنا رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ کشمیرکی متنازعہ حیثیت تبدیل کرنے کے لیے بھی بھر پور کوششیں کر رہا ہے۔ بھارت دفعہ 35۔اے کو ختم کر کے یہاں غیر کشمیریوں کو بسانا چاہتا ہے تاکہ آبادی کے تناسب کو تبدیل کیا جاسکے۔ میر واعظ کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو اوچھے ہتھکنڈوں سے نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تناظر میں پاکستان ، بھارت اور کشمیریوں پر مشتمل سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کا ترجمان ہے اورکشمیری امید کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے ایک فریق کی حیثیت سے پاکستان مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کیلئے اپنی سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔آرٹیکل A-35منسوخ کرنے کے مذموم بھارتی منصوبے کے خلاف جہاں کشمیری عوام سراپا احتجاج ہے وہاں کشمیری تاجروں اور ٹرانسپوٹروں کی مختلف تنظیموں کے ارکان کی ایک بڑ ی تعدا د نے سرینگر میں زبردست احتجاجی مظاہر ہ کیا۔ ٹریڈرز اینڈ منی فیکچرز فیڈریشن ، کشمیر اکنامک الائنس اور فیڈریشن آف چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے ارکان سرینگر کے لال چوک میں گھنٹہ گھر کے نزیک جمع ہوئے اور زبردست احتجاج کیا۔انہوں نے پلے کارڑ ز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو نقصان پہنچانے کے بھارتی منصوبوں کے خلاف اور آرٹیکل 35۔اے کے تحفظ کے حق میں نعرے درج تھے۔ سرینگر اور دیگر قصبوں میں ٹرانسپوٹروں نے اپنی گاڑیوں پر پوسٹر چسپاں کیے جن پر آرٹیکل 35۔ اے کے حق میں مختلف نعرے درج تھے۔ مثلاً ’’ اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے ہم اپنی زندگیاں قربان کر دیں گے‘‘’’ہم آرٹیکل 35۔اے کی منسوخی کے بھارتی منصوبے کے خلاف مشترکہ حریت قیادت کی دو روزہ کال کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 35۔A کی منسوخی کے بھارتی منصوبے کے خلاف کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیر اہتمام اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیاکہ وہ بھارت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور آرٹیکل 35۔A کی منسوخی سے روکے۔حریت رہنماؤں نے کہاہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت آرٹیکل 35۔A ختم کر کے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ آرٹیکل 35۔A ختم ہونے کے بعد غیر ریاستی باشندے مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکیں گے جس سے بھارت رائے شماری کو اپنے حق میں استعمال کرسکے گا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے ایسے اقدامات کررہا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ فوجی قوت سے آزادی کی تحریک دبانے کی کوشش میں ناکامی کے بعد عدالت کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھر پور کوشش کررہا ہے۔ اس بھارتی سازش کا بھی بھر پور مقابلہ کریں گے اور اس کو اس سازش میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماؤں کو گرفتار کیا ہوا ہے اور ان پر بے بنیاد مقدمات بنا رہا ہے مگر اس سے تحریک آزادی نہیں روکے گی۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں شرمناک جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ایک انکوائری کمیشن قائم کرے جوان تمام چیزوں کی تحقیق کرے۔آرٹیکل 370 کی وجہ سے صرف تین ہی معاملات بھارت کی مرکزی حکومت کے پاس ہیں جن میں سیکیورٹی، خارجہ امور اور کرنسی شامل ہیں۔ باقی تمام اختیارات جموں و کشمیر حکومت کے پاس ہیں۔ بھارت اب عدالتوں کے ذریعے اس آرٹیکل کو ختم کر کے کشمیریت کی پہچان ختم کرنا اور اس متنازعہ علاقے میں غیر کشمیریوں کو لانا چاہتا ہے۔ اس لیے ہم تمام کشمیری بھارت کے اس عمل کی مذمت کرتے ہیں۔آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست ایک غیر سرکاری تنظیم وی، دی سٹیزنز نے 2014 میں دائر کی تھی جسے ہندو تنظیم راشٹریہ سوئیم سیوک سنگھ کی پشت پناہی حاصل ہے۔آر ایس ایس کے ایک تھنک ٹینک گروپ جموں کشمیر سٹڈی سینٹر نے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 35 اے کو چیلنج کیا تھا۔ یہ معاملہ اس وقت سے سپریم کورٹ میں چل رہا ہے ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ میں آرٹیکل 35 اے سے متعلق کیس کی سماعت ایک جج کی غیر حاضری کی وجہ سے 27 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اس آرٹیکل کے خاتمے کے بعد اقوام متحدہ کی جموں کشمیر کے حوالے سے ان قرار دادوں کی رہی سہی اہمیت ختم ہونے کا بھی اندیشہ ہے جن کے مطابق جموں کشمیر کو متنازعہ قرار دیا گیا تھا اور پاکستان اور بھارت کو کہا گیا تھا کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے رائے شماری کا ماحول بنا کر دیا جائے۔بھارت اب اپنی مرضی کا ماحول بنانا چاہتا ہے۔

 

 

 

دُوہری شہریت ،عوام اور قومی سلامتی

rana-biqi

گزشتہ سے پیوستہ
پاکستان میں دوہری شہریت کا مسئلہ اِس لئے بھی گھمبیر شکل اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ دوہری شہریت کے حامل افراد کیلئے بیرونی ممالک میں ذاتی اکاؤنٹ کھولنا اور اِن اکاؤنٹس میں پاکستان سے رقومات منتقل کرنا کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے جبکہ دوہری شہریت کے حامل افرادکی حمایت میں ایسی سیاسی شخصیتیں پیش پیش نظر آتی ہیں جو بیرونی ممالک کے ایجنڈے پر عمل درامد کے حوالے سے نظریہ پاکستان کے حامی عام لوگوں کو قومی سلامتی سے بدظن کرنے کیلئے قانون و آئین کے منافی نِت نئی سیاسی موشگافیاں استعمال کرنے میں پیش پیش ہیں حتیٰ کہ ملک میں الیکشن 2018 کے بعد عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے بجائے دھاندلی کی سیاسی موشگافیوں میں اُلجھانے میں مصروف رہے ہیں۔ درحقیقت مسلمہ جمہوری روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کسی بھی عام انتخابات میں ماضی کی حکومت کی کارکردگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے ووٹ کے ذریعے تبدیلی لانے یا ماضی کی حکومت کو دوبارہ مینڈیٹ دینے کے حوالے سے ہی فیصلہ کرتے ہیں ۔البتہ جمہوری ملکوں میں ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ سیاسی جماعتیں عوام کے مینڈیٹ کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کریں۔ حقیقت یہی ہے کہ ملک میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی ڈیل کی پالیسی کے دس سالہ پُرآشوب دورِ حکومت میں حکمرانوں نے سیاست کو کرپشن ، بدعنوانی اور اقربہ پروری کا کاروبار ہی بنا کر رکھ دیا تھا ۔ جبکہ وقت کی بیداری کی لہر کو سمجھتے ہوئے عوام جان چکے ہیں کہ حکمران طبقے نے ملکی آئین و قانون کو موم کی ناک بنا کر ملک میں جمہوری نظام کو مافیائی اجارہ دار اشرافیہ Aristocracy میں تبدیل کر کے عوامی مینڈیٹ کو ہی مسخ کرکے رکھ دیا تھا جہاں ملکی قومی سلامتی کو پس پشت ڈالتے ہوئے یہ مافیائی حکومت دھونس زبردستی اور حکومتی صفوں میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کو اشرافیہ کے گلے کا ہار بنا کر بار بار اقتدار کی غلام گردشوں پر قبضہ کرنا ہی اپنا مقصد حیات سمجھتی ہے۔ چنانچہ موجودہ انتخابات کے مکمل نتائج ظاہر ہونے سے قبل ہی اِس مافیائی اجارہ دار اشرافیہ نے انتخابی سیاسی ہار کو تسلیم کرنے کے بجائے جے یو آئی کے مولانا فضل الرحمن ، اے این پی کے اسفند یار ولی، بلوچستان کے محمود اچکزئی ، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ اور ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار پیش پیش تھے جنہوں نے عوامی مینڈیٹ کے خلاف ملک میں احتجاج اور خلفشار کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی جسے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی سیاسی قیادت کی بھرپور حمایت حاصل رہی۔ بہرحال عوام الناس نے سابق حکمرانوں اور اُن کے اتحادیوں کے طاغوتی سیاسی حربوں کو سمجھتے ہوئے ایسی کسی تحریک میں شمولیت سے گریز کیا چنانچہ عوامی عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے اِن جماعتوں نے بل آخر اسمبلیوں میں جانے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے۔
درحقیقت پاکستانی عوام اپنے وطن کیلئے جان قربان کرنے والی فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول پولیس کے شہیدوں کو کبھی نہیں بھلا سکیں گے جن کے شانہ بشانہ پاکستان کے ستر ہزار سے زیادہ عوام نے بھی جام شہادت نوش کیا ہے۔ پاکستانی عوام اپنے ملک سے محبت کرنے والے لوگ ہیں چنانچہ موجودہ انتخابات میں عوامی ردعمل کرپٹ مافیائی اجارہ دار نظام اور وطن فروشوں کے ایجنٹوں کیخلاف اچھائی کی آواز کے طور پر بلند ہوا ہے۔ عوام ہی نہیں بلکہ ملک کے مقتدر ادارے بھی ملک میں سیلابی پانی کی چادر کی طرح پھیلتی ہوئی کرپشن ، بدعنوانی اور اقربہ پروری سے حیران پریشان رہے ہیں۔ اجارہ دار مافیائی اشرافیہ کی کرپشن کے سامنے قومی نظامِ حکومت کا تسلیم شدہ دائرہ کار (Established State Crafts) ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا اور ہر سطح پر یہ محسوس کیا جانے لگا تھا کہ ریاستی نظام اندھیر نگری چوپٹ راج کے محاورے سے بھی آگے نکل گیا ہے لیکن جمہوری ملکوں میں عوام کی رائے سے ہی تبدیلی ممکن ہوتی ہے لہٰذا چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے ملکی دگرگوں حالات کو محسوس کرتے ہوئے حکومتی اقدامات کو انتہائی زنگ آلود پاتے ہوئے صحت، ہسپتالوں کی حالت زار، صاف پانی، تعلیم اور ریاستی تعلیمی اداروں کی حالت زار ، بیرونی اور گردشی قرضوں کی بد انتظامی ، ڈیموں کی تعمیر سے پہلو تہی اور پنجاب میں سرکاری سرپرستی میں 56 پرائیویٹ کمپنیوں میں کرپشن کی بھرمار کو دیکھتے ہوئے اپنی آبزرویشن دینی شروع کی تو عوام کیلئے یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ اِس مافیائی ریاستی نظام نے ہی ملک میں غربت و افلاس کو آخری حدوں تک پہنچا دیا ہے جسے آنے والے انتخابات کے ذریعے ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے چنانچہ یہی وہ فکر تھی جس نے عمران خان کی تسلسل سے جاری جدوجہد عوامی سطح پر مقبولیت کا سبب بنی اور بل آخر الیکشن 2018 میں اب یہ تبدیلی ممکن ہوتی نظر آ رہی ہے۔
درج بالا تناظر میں مولانا فضل الرحمن ، اسفند یار ولی، محمود خان اچکزئی اور دیگر ہارے ہوئے سیاست دان انتخابی نتائج موصول ہونے کے باوجود عوامی مینڈیٹ اور اپنی شکست کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ وہ یہ بھی ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کی کرپشن، منی لانڈرنگ پر مبنی مافیائی پالیسیوں کے انکشافات نے غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزانے والی جمہوری اکثریت کو خدائی قوتوں کی حرمت نے خوابِ خرگوش سے جگا دیا ہے اور اُنہوں نے وزیرستان سے لیکر کراچی تک اپنی ووٹ کی قوت سے اشرافیہ کی اجارہ دار مافیائی طاقت کو شکست دے دی ہے۔درحقیقت ، یہی وہ غربت و افلاس کی ماری ہوئی جمہوری اکثریت ہے جس نے قومی یکجہتی کیساتھ قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی تحریک پاکستان کا دست و بازو بن کر پاکستان بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان کے یہ غیور عوام جانتے ہیں کہ مولانا مفتی محمود کی قومی سیاسی بصیرت کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمن نے اپنی ساری سیاسی زندگی میں قوم اور ملک کی بہتری کے بجائے محض ذاتی مفادات کی سیاست کو ہی ترجیح دی ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ اسفند یار ولی پاکستان کی سربلندی کیلئے کام کرنے کے بجائے بھارتی ایجنڈے پر ہی کام کرتے رہے ہیں ۔ پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ وہ کالا باغ ڈیم کو اپنی لاشوں پر بنانے کی بات تواتر سے کرتے رہے ہیں جبکہ پاک افغان بارڈر (ڈیورنڈ لائن) کے حوالے سے اُن کا موقف بھارت اور شمالی اتحاد کی افغان حکومت کے حوالے سے پاکستان میں سیاسی خلفشار پیدا کرنے کے مترادف ہی رہا ہے ۔اُن کا یہ کہنا کہ ڈیورنڈ لائن کا صفایا کرکے خیبر پختون خواہ ، وزیرستان ، بلوچستان اور افغانستان کے پختون علاقوں پر مثتمل پختونوں کی علیحدہ ریاست قائم کی جائے درحقیقت پاکستان کو توڑنے کے مترادف ہی سمجھا جائیگا ۔ یہی وہ ایجنڈا ہے جس پر نواز شریف کے خاص اتحادی محمود خان اچکزئی بھی اسفند یار ولی کے ہمراہ پاکستان دشمن فکر کو ہوا دیتے رہے ہیں ، دراصل پاکستان کو توڑنے کے بھارتی ایجنڈے کے ممکنہ نقصانات کو سمجھتے ہوئے پختون نوجوانوں نے جو پاکستان کیلئے بیشمار قربانیاں دے چکے ہیں خیبر پختوں خواہ اور بلوچستان میں اپنے ووٹ کی طاقت سے پاکستان دشمن ایجنڈے کو بل آخر شکست فاش سے دوچار کر دیا ہے۔ شریف فیملی کی کرپشن کے منکشف ہونے پر سپریم کورٹ اور قومی احتساب بیورو کی کرپشن کے خلاف اجتمائی کوششیں اپنی جگہ مستحسن ہیں۔ پنجاب میں دھیلے کی کرپشن پر مستعفی ہونے کا بار بار اعلان کرنے والے خادم پنجاب کے گرد آشیانہ و صاف پانی کی اسکیموں کے علاوہ سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والی56 کمپنیوں میں ہونے والی اربوں کی کرپشن کے حوالے سے گھیرا ہوتا جا رہا ہے جبکہ آصف علی زرداری اور اُن کی ہمشیرہ منی لانڈرننگ انکوائری میں ایف آئی اے کے سامنے اپنی بیگناہی ثابت کرنے کے بجائے انقوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے ہی گریز کر رہے ہیں۔ چنانچہ اِن تمام حقائق کے سامنے آنے پر عوام نے اپنے وطن کی محبت میں سرشار ہوکر قومی سلامتی کے منافی دوہری شہریت کے بیرونی ایجنڈے کو پشاور سے کراچی تک اپنے ووٹ کی قوت سے شکست فاش دیکر قومی اداروں پر اپنے اعتماد کو بحال کر دیا ہے اب یہ عمران خان کی قیادت میں آنے والی نئی مرکزی حکومت کاکام ہے کہ وہ عوام کی اُمنگوں پر پورا اُترتے ہوئے قائداعظم کے فلاحی ریاست کے آدرشوں پر عمل درامد کرتے ہوئے ملک میں امیر و غریب کے درمیان فاصلوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق کم کرکے نہ صرف ملک سے غربت و افلاس کا خاتمہ کرے بلکہ کرپشن و بدعنوانی کے سبب بیرونی قرضوں میں ڈوبی ہوئی مملکت خدادا د پاکستان میں مساواتِ محمدؐی کا بول بالا کر دے بقول اقبال ……… ؂
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائیگی
پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغام سجود
پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہو جائیگی

 

پی ٹی آئی کی جیت

malik-lateef-khokhar

اور بالآخر 26 جولائی کی ایک خوشگوار اور روشن صبح لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں کیلئے ایک نئے پاکستان کی نوید کے ساتھ طلوع ہو ہی گئی۔آخری اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے مرکزمیں سادہ اکثریت حاصل کرنے کے بالکل قریب پہنچ چکی ہے۔ کراچی کے علاوہ تختِ پنجاب میں بھی حیرت انگیز کامیابی کے ساتھ ساتھ کے پی کے میں پہلے سے زیادہ سیٹیں لینے پر پاکستان تحریکِ انصاف نے سب کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا ہے جس پر پی ٹی آئی کی پوری ٹیم خصوصی مبارکباد کی مستحق ہے۔ مجموعی طور پر انتخابات انتہائی پُرامن اور صاف شفاف تھے۔ وہ جو کل تک کہتے تھے کہ عمران خان کو سیاست نہیں آتی، ان میں سے آج سارے کے سارے تقریباً ناک آؤٹ ہو کر ایک دوسرے سے نظریں ملائے بغیر اپنے اپنے زخم چاٹ رہے ہیں اور انکا گُروجی جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے۔ مجھے کیوں نکالا۔ارے مار ڈالا۔کا وہی گیت بڑے ہی المیہ انداز میں گاتا نظر آ رہا ہے۔ اس جماعت کی کامیابی میں اسکی جہدِ مسلسل کے ساتھ ساتھ چٹان جیسی ثابت قدمی کا بہت بڑا ہاتھ ہے، بڑے بڑے نازک مواقع پر بھی عمران خان ،کسی بھی نتیجے کی پرواہ کیے بغیرا پنی لائن سے ذرا بھر ادھر اُدھر نہ ہوا اور آج اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت بڑی کامیابی سے سرفراز کیا۔ عمران سچ کہتا تھا، تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ چکی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ عمران خان نے نتائج بڑے ہی اطمینان اور صبر سے سُنے، اچھی خاصی لیڈ ہونے کے باوجود اس نے ماضی کے حکمرانوں کی طرح رات 11:05منٹ پر کسی کوٹھے کی منڈیر پر چڑھ کر۔۔پیشگی مبارکبا دیں ۔۔ لینے دینے سے قطعی اجتناب کیا بلکہ واضح طور پر ایک عمدہ سپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ کھیل کے آخری گیند تک دیکھے گا اور اگر جب اللہ نے موقع د یا تو جیت کا اعلان بھی مناسب موقع پر ہی کریگا۔ عمران کا یہ انداز نہایت ہی صوبر اور شائستگی کی نظر سے دیکھا جارہا ہے اور امید ہے کہ عنانِ حکومت سنبھالنے کے بعد بھی وہ قدم قدم پر اسی میچورٹی ، معاملہ فہمی اور رواداری کا مظاہر ہ کریگا۔ عمران کے خلاف دنیا کے ہر کونے سے سازشوں کے تانے بانے بننے کی پوری تیاری ہو چکی ہے۔ الیکشن کی رات سے ہی بھارت میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔ اس کی جیت پر انڈین چینلز مسلسل آہ و فغاں بپا کیے بیٹھے ہیں اور انکی گریہ زاری سے لگتا ہے کہ یہاں نون لیگ نہیں جیسے انکا مودی ہار گیا ہو۔ شریف برادران جو ہماری نظر میں انتہائی وطن پرست لوگ ہیں، انکو اب اپنے رویے پر نظر ثانی کرنی پڑے گی کہ بھارت سے محبت کی پینگیں بڑھانا ، کیا ان کیلئے گھاٹے کا سودا ثابت نہیں ہوا، شریف برادران کو اس بات کا بھی جواب دینا چاہیے کہ بھارت کیوں یہ کہتا چلا آ رہا ہے کہ نواز شریف پر اس نے انویسٹمنٹ کی ہوئی ہے۔ اسکا کیا مطلب ہے، وضاحت آنی ضروری ہے۔ عمران خان کو ہرانے میں ہمارے اپنے چند ناعاقبت اندیشوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ جسکا بڑا ماؤتھ پیس ۔انڈین میڈیا۔ ہے نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہوا ہے، ہمارے خفیہ اداروں کو ٹارگٹ کرنے کے ساتھ ساتھ، عدلیہ کو بھی بدنام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جا رہی ہے۔ عمران کی کا میابی کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے خفیہ اداروں کی طرف سے۔ سلیکشن۔ کا نام دے کر انتخابات کی کریڈیبیلٹی پر سوالیہ نشان لگایا جا رہا ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ عمران خان جیت چکا ہے اور ان تمام طاغوتی قوتوں نے آخر کار ہارنا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ملک کے باشعور لوگوں نے عمران خان کو آئینی اور قانونی طریقے سے حقِ خدمت یا حقِ حکمرانی دے دیا ہے جس کی راہ میں اندرونی یا بیرونی طاقتوں کا روڑے اٹکانا بالکل بلا جواز اور بے معنی لگتا ہے جسکی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اسکا سدِ باب آہنی ہاتھوں سے ہونا چاہیے، ان حالات میں تمام بڑے اداروں خصوصاً عدلیہ ،الیکشن کمیشن اور فوج جو ملک کا سب سے طاقتور ادارہ ہے، انکا فرض ہے کہ وہ ان تمام سازشوں کے خلاف آنیوالی نئی حکومت کو پورا پورا تحفظ دیں تاکہ پی ٹی آئی اقتدار سنبھالتے ہی اپنے انقلابی منشور کے مطابق اپنے پروگرام پر عملدرآمد شروع کرے ۔

 

 

اب پیش خدمت ہے عیسائی طالبان

Naghma habib

امریکہ اس وقت دُنیا کی واحد سُپر پاور مانا جاتا ہے،وہ خود کو عالمی امن کا ٹھیکیدارسمجھتا ہے اور امن کی بحالی کے نام پر نجانے کتنے ملکوں کو خون میں نہلا چکا ہے وہ چاہے جو کہے کہ وہ پاکستان، افغانستان، عراق اور دوسرے ملکوں میں دہشت گردی کے خلاف لڑنے گیا تھا حقیقت یہ ہے کہ وہ خود دہشت گردی کا سب سے بڑا حامی بلکہ اس کی وجہ ہے۔وہ جس ملک میں بھی گیا وہ ملک دہائیوں کی کوشش کے باوجود بھی اس عفریت سے نجات نہیں پا سکا نہ تو وہاں دھماکے بند ہوتے ہیں نہ معیشت بحال ہوتی ہے، نہ انفرا سٹرکچر اپنی پُرانی حالت پر آتا ہے اور امریکہ یہ ساری تباہ حالی چھوڑ کر چلتا بنتا ہے اور کسی اور ملک پر حملہ آور ہو جا تا ہے جو کہ عموماََ اسلامی ممالک ہوتے ہیں ۔خود کو انتہائی لبرل کہنے والا امریکہ دل میں اسلام کے لیے جو تعصب رکھتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، اس میں کسی صدر کی کوئی تخصیص نہیں اگر ٹرمپ علی الاعلان یہ تعصب کرتا ہے تو باقی دل میں اسلام سے خوفزدہ ہو کر اس کے مخالف ہیں۔ امریکہ کبھی ایک نام سے دہشت گردوں کی نشونما کرتا ہے اور کبھی دوسرے سے، انہیں مالی اور تکنیکی مدد بہم پہنچاتا ہے اور جب ایک گمراہ گروہ کو اندازہ ہو جاتا ہے یا ہونے لگتا ہے کہ وہ کس بُری طرح استعمال ہو رہا ہے اور خود کو امریکی اثر سے آزاد کرنے کی کوشش شروع کر دیتا ہے تو وہ دوسرے کو سامنے لے آتا ہے جسے امریکہ نے پہلے ہی تیار کرنا شروع کیا ہوتا ہے۔مجاہدین کے ذریعے روس تڑوایا تواُس کا خیال تھا کہ یہ مجاہدین ہمیشہ اُس کے تابع فرمان رہیں گے جب ایسا نہ ہوا تو انہیں دہشت گرد قرار دے کر اُن کے خلاف جنگ شروع کر دی اور ایک اور گروہ تیار ہوا، افغان طالبان ہاتھ نہ آئے تو پاکستانی طالبان بنا کر اپنا مقصد پورا کرنے لگے۔ جب پاک فوج نے ان کے کمر توڑی اور یہ قریب المرگ ہوئے تو امریکہ نے داعش یعنی آئی ایس آئی ایس بنا ڈالی اور دہشت گردوں کے سروں پر سے اپنا دستِ شفقت نہ اُٹھایا، کچھ شام میں کچھ عراق میں کچھ افغانستان اور پاکستان میں سر گرم عمل ہو گئے۔ اُس سے افریقہ بھی فارغ نہیں مصر میں اُس کی مداخلت، عرب سپرنگ کے نام سے عرب ممالک میں جو خونریزی ہوئی سب امریکہ کے دم سے ہے یعنی جہاں فساد ہے وہاں امریکہ کا ہاتھ موجود ہے۔
آیئے اب امریکہ کے اندر کی خبر لیتے ہیں۔امن امریکہ میں بھی نہیں اور انہی ’’امن پسند‘‘ امریکیوں کے ہاتھوں نہیں ۔امریکہ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ عوامی اسلحہ رکھنے والا ملک ہے اور ایک اندازے کے مطابق یہاں 265 ملین بندوقیں عوام کے پاس موجود ہیں یعنی ہر بالغ امریکی کے پاس ایک سے زیادہ بندوق ہے یہ تعداد اور تناسب دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں ۔یہ بندوقیں پہلے بھی دہشت پھیلانے کے لیے نکلتی تھیں لیکن اب بڑے تسلسل سے اس میں اضافہ ہو رہا ہے اور پچھلے پانچ سال میں اس میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور عوامی مقامات پر قتلِ عام یا کھلے عام اجتماعی قتل کی وارداتیں مسلسل بڑھی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 1870 دنوں میں 1624 ایسے واقعات ہوئے یہ واقعات قتلِ عام کی اس تعریف کے مطابق ہوئے جس میں کہا جاتا ہے کہ حملہ آور کے علاوہ چار یا چار سے زائد افراد کو گولیاں لگیں لہٰذا اگر حملہ ہوا اور خوش قسمتی سے حملہ آور کو چار افراد کو گولیاں مارنے میں کامیابی نہ ہوئی تو وہ واقعات اس میں شامل نہیں۔اب اگر حملوں کی یہ تعداد کسی اور ملک میں ہوتی تو امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مزید قتلِ عام کے لیے پہنچ جاتا اور کارپٹ بمباری کر کے بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور مردوں سب کو خون میں نہلا دیتا لیکن امریکہ کے اندر کے لیے اس کے سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس دہشت گردی کے خلاف کسی کاروائی کی ضرورت نہیں بلکہ وہ اس کو دہشت گردی کہنے کو بھی تیار نہیں اور اس کو مختلف نام دینے میں مصروف ہے کبھی اس کو نفرت انگیزی پھیلانے والا جُرم کہتا ہے اور کبھی شیطانی افعال۔بہر حال یہ واقعات جو بھی کہلائیں اس میں زیادہ تر امریکی ہی ملوث ہیں اور یو ایس اکاونٹیبیلٹی آفس کے مطابق پچھلے سولہ سال میں ہونے والے ایسے واقعات میں سے 74% میں خود امریکی ملوث ہیں ۔یہ سولہ سال یعنی 2001سے2017 تک امریکہ میں اسلامی تشدد پسندی کے سال شمار کیے جاتے ہیں لیکن پھر بھی اکثر ایسے واقعات میں امریکی ہی مجرم پائے گئے یعنی ایسا کرنے والے ’’عیسائی طالبان‘‘ ہیں ناکہ’’ مسلمان طالبان‘‘ ویسے یہ مسلمان طالبان خاص کر پاکستانی مسلمان طالبان بھی امریکہ ساختہ ہیں۔یہ عیسائی طالبان کبھی حقوق کیلئے جدوجہد کے نام پر قتلِ عام کرتے ہیں ،کبھی سیاست کے نام پر، کبھی مذہب کے نام پر اور کبھی قومیت کے نام پر ایسا ہوتاہے۔اِن عیسائی طالبان میں ہمارے ہاں کے امریکی ساختہ طالبان کی طرح بچے اور نوجوان بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔جیسے ہمارے ہاں ملنے والے خود کش سر پندرہ سے بیس بائیس سال کی عمر تک کے ہوتے ہیں اور کچھ تعلیم یافتہ یا تعلیمی اداروں کے طلباء بھی امریکہ کے ہاتھوں استعمال ہو جاتے ہیں اسی طرح امریکہ میں بھی اسی عمر کے افراد حملہ آور ہو کر کئی ایک کی جان لے لیتے ہیں بلکہ وہاں تو وہ اپنے ہی سکول کالج یا یو نیورسٹی کے طلباء کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ہمارے ہاں کہیں اور سے یہ خود کش جیکٹ پہن کر آتے ہیں اور خود کو دوسروں کے ساتھ ہی اُڑادیتے ہیں جبکہ امریکہ میںیہ دوسروں کو مار کر خود کو بھی گولی مار دیتے ہیں خودکشی بہر حال دونوں کا مقدر بنتی ہے لیکن ایک طرف یہ دہشت گرد کہلاتے ہیں تو دوسری طرف ذہنی مریض۔ سن 2000 میں ایک ایسے ہی بچے کی عمر صرف چھ سال تھی جس نے اپنے چھ سالہ ہم جماعت کو گولی ماری یہ کوئی بھی کم عمرترین قاتل ہے جس نے سکول کے اندر قتل کیا اور اسے مانا۔اسی طرح ان تعلیمی اداروں کے دیگر بالغ طلباء اور اساتذہ نے بھی ایسے کئی حملے کیے ہیں ایک بیس سالہ طالبعلم نے ایک حملے میں پہلی جماعت کے بیس بچوں کو قتل کیا جن کی عمریں چھ اور سات سال تھیں۔ صرف 2017-18 میں ایسے تقریبا جالیس واقعات ہوئے۔کہنے کو امریکی بچہ بہت محفوظ ماحول میں پڑھتا ہے لیکن خود انہیں بچوں میں دہشت گردی کے رجحانات اتنے زیادہ ہیں اور مسلسل پرورش پا رہے ہیں کہ امریکہ جیسی سُپر پاور کے لیے بھی اس پر قابو پانا مشکل ہے اور اس میں یقیناًزیادہ ہاتھ لفظ دہشت گردی کی اُس گردان کا ہے جو وہ اپنی حکومت سے سنتے ہیں۔یہ بھی یاد رہے کہ سوائے چندغیر ملکی حملہ آوروں کے یہ سب امریکی تھے لیکن پھر بھی امریکی دہشت گرد نہیں ہیں اور نہ ہی اُن کی حکومت اُنہیں دہشت گرد کہنے کو تیار ہے۔ یہ واقعات وہاں کی ہر ریاست اور معاشرے کے ہر حصے میں موجود ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ اوپر درج شدہ اعداد و شمار میں کوئی بھی واقعہ دشمنی کا نہیں بلکہ تمام کے تمام شدت پسندی اور دہشت گردی کے ہیں لیکن امریکہ پھر بھی ’’ شدت پسند‘‘ نہیں ۔امریکی نکتہء نظر کو تو چھوڑیے ہمارے عام لوگوں سے لے کر دانشوروں تک سب امریکی لبرل ازم کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔ ہم نے اپنی ہونہار طالبہ سبیکہ شیخ کی لاش وصول کر کے بھی اسے دہشت گردی نہیں بلکہ صرف جُرم ہی کہا جبکہ نہ صرف پاکستان کو بلکہ امریکی دہشت گردی سے متاثر ممالک کو اس امریکی رویے پرشدید احتجاج کرنا چاہیے اور اسے اس بات پر مجبور کرنا چاہیے کہ وہ ان تمام بقول خود جرائم کو دہشت گردی کے واقعات اور ان تمام حملہ آوروں کو جن کو وہ ذہنی مریض یا مجرم کہتا ہے دہشت گرد بلکہ ’’عیسائی طالبان‘‘ قرار دے کر ان کے خلاف اسی طرح کی جنگ کا اعلان اور آغاز کرے جس طرح کی جنگ کا اعلان اُس نے پوری دنیا خاص کر اسلامی ممالک میں کر رکھا ہے۔

جعلی بنک اکاؤنٹس کیس, پورے نیٹ ورک کی بیخ کنی ضروری ہے

adaria

پیر کے روز جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ پیسہ چوری کا ہے، حرام کا ناپاک پیسہ ہے، ہم اس پیسے کو ہضم کرنے نہیں دیں گے۔انہوں مزید کہا کہ جن کینام کیس میں آئے ہیں وہ انکوائری میں شامل ہو کر خود کو کلیئر کرائیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے تجویز دی کہ اس معاملے پر ہم جے آئی ٹی بنا دیتے ہیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ملک کی مالیاتی تاریخ کا یہ سب بڑا سکینڈل ہے جو گزشتہ ماہ جولائی میں اس وقت سامنے آیا جب منی لانڈرنگ اسکینڈل سے متعلق سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کی سماعت شروع ہوئی تھی۔عدالت عظمیٰ نے اس وقت تین بینکوں کے سربراہوں اور جعلی اکاؤنٹس سے فائدہ اٹھانے والے دیگر افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا حکم دیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے سٹیٹ بینک کو بھی اسیکنڈل میں ملوث ایک بینک کی سات ارب روپے کی زرضمانت بھی منجمد کرنے کا حکم دیا تھا۔اس کیس کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں سابق آصف علی زرداری اور انکی بہن فریال تالپور کا بھی نام لیا جا رہا ہے۔گزشتہ روز چیف جسٹس ثاقب نثار نے جعلی بینک اکاؤنٹس اور ان کے ذریعے ہونے والی منی لانڈرنگ کی تحقیقات کیلئے پانامہ کیس کی طرز پر جے آئی ٹی بنانے کی تجویز دی ہے جو ہر حوالے سے صائب ہے۔ ملک جو معاشی بد حالی کا شکار ہے کرپشن کے ایسے کیسوں میں ملوث افراد کو جامع تحقیقات کے بعد قرار واقعی سزا دلوا کر ملک کو ان سے نجات دلوانا وقت کا تقاضا ہے۔بنیادی طور پر اس سکینڈل کی تحقیقات 2010 میں شروع ہوئی تھی۔ اس وقت چار اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی تھی جو اب بڑھ کر29 ہو گئے ہیں۔ان اکاؤنٹس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ سب جعلی ہیں اور انکے ذریعے 35ارب روپے سے زائد کی ٹرانزیکشن ہوچکی ہے۔پانامہ کیس کے بعد یہ دوسرا اہم کیس ہے جس سے جہاں سیاست میں ایک بار پھر مدوجزر کا امکان ہے وہاں اربوں روپے ملکی خزانے میں واپس آنے کی امید ہے۔سپریم کورٹ کو اس معاملے پر جے آئی ٹی تشکیل دے کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے میں دیر نہیں لگانی چاہیے۔ملکی معاشی ڈھانچے کو جونکوں کی طرح چمٹے ہوئے اس نیٹ ورک کی بیخ کنی کیے بغیر چارہ نہیں ہے۔کرپشن ملک کے رگ و پے میں سرایت کرتی جا رہی ہے۔اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی تو دنیا میں ہماری ساکھ کا جنازہ نکل جائے گا۔اس وقت بھی کرپشن کے لحاظ سے180ملکوں میں پاکستان کا نمبر 117واں ہے۔ کرپشن جیسی لعنت قیام پاکستان کے کچھ سالوں بعد ہی شروع ہو گئی تھی۔اس سلسلے میں اگرچہ اس پر قابو پانے کیلئے 1950 اور 1958 میں انسداد بد عنوانی ایکٹ نافذ کئے گئے۔ مگر مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن میں کمی نہ آسکی۔پھر 1999 میں قومی احتساب بیورو کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ اس جن پر قابو پایا جا سکے۔اس سب کچھ کے باوجود صورتحال جوں کی توں نظر آتی ہے۔اس کی بنیادی وجہ سیاسی اشرافیہ کا کرپشن میں خود ملوث ہونا ہے۔اعلیٰ سیاسی منصب پر براجمان ہونے کے باعث احتساب بیورو بھی عضو معطل بنا رہاجس کے باعث ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو94 ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ کرپٹ عناصر کو بالعموم بااثر لوگوں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ مواخذے سے بچے رہتے ہیں جیسے جعلی بنک اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر اور اسکے قریبی دوستوں کا نام سامنے آیا ہے۔ یہ تو اب تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہو گا کہ جن لوگوں کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے وہ مجرم ہیں یا نہیں،لیکن سوال پیدا ہوتا ہے اتنے بڑے پیمانے پر جعل سازی بااثر نیٹ ورک کے بغیر ممکن نہیں ہے۔یہ تحقیقاتی اداروں اور عدلیہ کیلئے پانامہ کے بعد ایک اور ٹیسٹ کیس ہے۔ہمیں امید ہے کہ عدلیہ مکمل انصاف کے ساتھ اس کیس کی تہہ تک پہنچ کر ایک اور مثال قائم کرے گی۔
یورپی یونین کے سفیر کی عمران خان سے ملاقات
25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی نمایاں کامیابی کے بعد اس کے سربراہ عمران خان سے مختلف ممالک کے سفرا کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔اب تک ترکی، بھارت اور افغانستان کے سربراہان کی جانب سے عمران خان کو فون پر مبارکباد دی جاچکی ہے، جبکہ چین، جاپان، سعودی عرب اور برطانیہ کے سفیر بھی عمران خان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کر چکے ہیں۔گزشتہ روز پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر جین فرانکوئز کاوٹن نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی اور انتخابات میں کامیابی پرمبارکباد دیتے ہوئے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔سفیر یورپی یونین کا کہنا تھا کہ یورپی یونین فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے پاکستان کی مدد کو تیار ہے۔خوش آئند امر یہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ کام کرنے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے اور سیکورٹی، معیشت، جی پی ایس، تعلیم اور دیہی ترقی کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ اشتراک کیلئے تیار ہے۔ یورپی یونین کے سفیر نے بتایا کہ رکن ممالک سے پاکستان کیلئے سرمایہ کاری حاصل کرنے میں بھی نومنتخب حکومت کی معاونت کریں گے۔ عمران خان نے یورپی یونین کی سفیر کی پاکستان میں ترقی و استحکام کی خواہش کا خیر مقدم کیا۔یورپی یونین کے سفیر کی عمران خان سے ملاقات کو دیکھا جائے تو یہ حوصلہ افزا ہے خصوصاً پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے شکنجے گرے لسٹ سے نکالنے میں مدد دینے کی یقین دہانی بہت اہم ہے۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے امریکی اور بھارتی دباؤ پر ماہ جون سے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال رکھا ہے جس سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔یورپی یونین کے سفیر کی ہر طرح یقین دہانی سے امید کی جا سکتی ہے آنے والی حکومت اس سلسلے میں جلد کامیابی حاصل کر لے گی۔یورپی یونین اس وقت ایک بہت بڑا معاشی بلاک ہے جس کے ساتھ اچھے تعلقات ممد و معاون ثابت یو سکتے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف جلد حکومت بنانے جا رہی ہے جس کے بعد امید کی جانی چاہیے کہ نئی منتخب حکومت سفارتی سطح پر بھی تبدیلیاں لائے گی۔
آرمی چیف کا انٹرن شپ کرنے والے نوجوانوں سے خطاب
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پیر کے روز آئی ایس پی آر ڈائر یکٹور یٹ کا دورہ کیا جہاں پر انہوں نے انٹرن شپ کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ تعارفی سیشن رکھا ۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے نوجوان طلبا وطالبات کو مبارکباد پیش کی اور کہاکہ پورا اعتماد ہے کہ پاکستان کے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو محسوس کر رہے ہیں، نوجوان پاکستان کو امن اور ترقی کے نئے دور کی طرف لے جائیں گے۔ ریاست نے انتہاپسندی و دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ اس امر کی درست نشاندہی کی کہ آج جنگ کی نوعیت اور کردار بدل چکے ہیں، ہائبرڈ وار میں نوجوان اب ہمارے دشمنوں کا بڑا ہدف ہیں۔تاہم سپہ سالار کو قوی امید ہے کہ نوجوان اس کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔بلاشبہ پاکستان کا مستقبل نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ذہین اور متحرک نوجوانوں سے نوازا ہے۔نوجوان ملک کوامن اور ترقی کی راہ پرلیکر جائیں گے۔آرمی چیف نے کہا کہ وہ اپنی نوجوان نسل سے مایوس نہیں بلکہ بھرپور اعتماد ہے۔تعلیم کو ہماری قومی ترجیح ہونا چاہیے اور پاک آرمی اس قومی مقصد کیلئے مکمل تعاون کرنے کیلے تیار ہے۔

 

 

 

Google Analytics Alternative