کالم

وزیراعظم کاقبائلی اضلاع میں صحت کارڈز کی تقریب سے خطاب

adaria

پاکستان معاشی مشکلات سے کافی حد تک نکل آیا ہے اور معیشت بنیادوں پرکھڑی ہونے جارہی ہے ، ملک کے دیگرعلاقوں کو سہولیات پہنچانے کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں پرحکومت کی خصوصی توجہ ہے اسی سلسلے میں وزیراعظم نے جب قبائلی علاقوں کا دورہ کیا تو انہوں نے وہاں پر سب سے پہلے متعلقہ اراکین اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ علاقے کے لوگوں سے رابطے رکھیں اور ترقی کے ثمرات کو بھی عوام تک پہنچانے کے لئے یقینی بنائیں۔ نیز انہوں نے صحت کی سہولیات کے حوالے سے بھی خصوصی طورپرکہاکہ ان علاقوں میں تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔یہ بات بالکل درست ہے کہ قبائل ہمارے ملک کے محافظ ہیں اورقائداعظمؒ نے بھی ان کے حوالے سے خصوصی طورپر کہاتھا کہ قبائلی لوگ ہماری سرحدوں کے محافظ ہیں ۔ان لوگوں نے ہمیشہ پاکستان کاساتھ دیا اور کوئی بھی مشکل وقت آیا تو شانہ بشانہ کھڑے رہے ۔یہاں پر ترقیاتی امور کا ہوناانتہائی ضروری ہے ،تعلیم،صحت جیسی بنیادی سہولیات ہوں گی تو علاقہ ترقی کرے گا۔وزیراعظم عمران خان نے قبائلی اضلاع میں صحت کارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد کے دورہ سے پاکستان میں تاریخی سرمایہ کاری ہو گی۔ ملکی دولت بڑھے گی تو قرضے ادا ہونگے، جب حکومت سنبھالی تو قرضوں میں ڈوبے ہوئے تھے تاہم اب مشکل وقت سے اس حد تک نکل چکے ہیں کہ سر پانی سے اوپر آگیا ہے۔ اب جس طرح کے حالات ہیں اور سعودی ولی عہد کا جو دورہ ہے وہ کسی بھی سعودی عرب یا کسی بھی سربراہ کا اتنا بڑا دورہ نہیں ہے جہاں اتنی بڑی سرمایہ کاری ہوگی، لوگوں کے لیے روزگار ہوگا اور عوام میں سرمایہ کاری سے دولت میں اضافہ ہوگا، ہمیں سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ اس مہینے کے آخر میں غربت کم کرنے کے لیے مکمل منصوبہ لے کر آرہے ہیں صحت کارڈ اس کا ایک حصہ ہے، پاکستان میں کبھی بھی اس طرح کا پروگرام نہیں آیا جس کا اعلان کروں گا جس میں غربت کو کم کرنے والے اداروں کو ایک ہی سربراہ کے تحت مل کر کام کریں گے۔ یہ پروگرام سب سے پہلے قبائلی علاقوں میں لے کر جائیں گے۔ یقین دلاتا ہوں قبائلی علاقے کے لوگوں پر جو مشکلات پڑی ہیں اس کا سب سے زیادہ احساس تحریک انصاف کو تھا کیونکہ میں بار بار کہتا گیا کہ قبائلی علاقے میں ہمیں ملٹری آپریشن نہیں کرنے چاہئیں اور مجبوراً جو کیے گئے مجھے پتہ تھا کہ جو نقصانات ہوں گے تو لوگوں پر مشکل پڑے گی۔ قبائلی عوام کی پاکستان کیلئے بے پناہ خدمات ہیں۔ بہادر قبائل نے دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے مشکل وقت گزارا۔ قبائلی عوام نے حکومت اور سکیورٹی فورسز کا بھرپور ساتھ دیا۔ قبائل کی بحالی اور بہتر سماجی حالات ریاست کی ذمہ داری ہے۔ قبائلی عوام کی بحالی کا وعدہ پورا کریں گے۔سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمدبن سلمان کے دورے کے موقع پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاع و سلامتی کے شعبہ میں مزید سمجھوتے کئے جائیں گے اور اربوں ڈالر کے معاہدے ہونگے۔ پاکستان کے اندر سعودی عرب کی مجوزہ سرمایہ کاری کے حجم سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ عمدہ معاشی ویژن رکھنے والے ولی عہد پاکستان میں سرمایہ کاری، معاشی تعاون اور اعانت اس انداز میں کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان جلد اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے۔ اس دورہ کے نتیجہ میں سعودی عرب باضابطہ طور پر پاک چین معاشی راہداری منصوبہ سی پیک کا شراکت دار بن جائے گا جس کی بدولت ایک طرف پاک سعودی تعلقات کے اقتصادیات پر استوار تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہو گا۔

بھار ت کے بے بنیادالزامات۔۔۔پاکستان کاشدیداحتجاج
بھارت نے روایتی انداز میں بغیرکسی ثبوت کے پاکستان پرنہ صرف الزام تراشی عائد کی بلکہ ہرزہ سرائی کرتے ہوئے پاکستان کاپسندیدہ ملک کادرجہ ختم کردیاہے ۔بھارت کی خوداپنی کیاحیثیت ہے اس نے یہ ایک انتہائی بھونڈا کھیل کھیلاہے وہ سوچ رہاہے کہ اپنے ہی فوجی خود مرواکرانہیں انتخابی مہم میں استعمال کرے گا۔یہ بھارت کاپراناوطیرہ رہاہے کہ جب بھی اس کے ملک میں کوئی بھی واقعہ پیش آئے تو بغیر سوچے سمجھے پاکستان پر الزام عائد کردیتاہے ۔ پلوامہ میں ہونے والے خود کش حملے کے بعد پاکستان نے احتجاج کرتے ہوئے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گورو آلو والیا کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کے حوالے کیا۔ احتجاجی مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے واقعہ کی تحقیقات بھی نہیں کی اور پاکستان پر الزام دھر دیا۔ احتجاجی مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ جیش محمد کالعدم جماعت ہے اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ کالعدم جماعت کے مبینہ حملہ آور بھارت کے زیرتسلط علاقے میں موجود تھے۔مبینہ حملہ آور کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ بھارت ہمیشہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرکے بغیر تحقیقات کے پاکستان پر الزام تراشی کرتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ بھارت سے مثبت بات چیت کی پالیسی رکھی ہے۔ پلوامہ میں بھارتی فوجی قافلے پر خودکش کار بم حملے کے بعد بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم نریندرا مودی نے ہمیشہ کی طرح اپنی انتظامی اور سکیورٹی کوتاہیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا جو کہ سراسرناانصافی ہے ۔ پاکستان ہمیشہ امن کاداعی رہاہے اور بھارت نے ہی ان کوششوں کو سبوتاژ کیا۔ بھارت نے وطیرہ بنا لیا ہے کہ واقعہ کر کے پاکستان پر الزام لگا دو ،کشمیرمیں بھارتی فوج ظلم ڈھارہی ہے۔ مقبوضہ کشمیرواقعہ مودی کی الیکشن جیتنے کی چال ہے، بھارت پاکستان کوعالمی سطح پرتنہاکرنیکی کوشش کر رہا ہے، مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے کشمیرکے حالات خراب ہیں۔اب بھارت کسی صورت بھی تحریک آزادی کشمیر کو روک نہیں سکتا اسے سمجھ جاناچاہیے کہ حالات کروٹ بدل چکے ہیں جب فاروق عبداللہ سے پاکستان کے خلاف زبردستی بیان لیناچاہا تو انہوں نے بھی مخالفت کی نووجوت سنگھ سدھو نے بھی پاکستان پرالزام عائد کرنے سے گریز کیا حالانکہ بھارتی میڈیا زبردستی پاکستان کو اس مسئلے میں گھسیٹنے کی ناکام کوشش کررہاہے اوپر سے مودی کایہ پاگل پن کہ فوج کو پاکستان سے بدلہ لینے کی مکمل آزادی ہے یہ مودی کی بھول ہے کہ اگر اس نے کوئی بھی مذموم قدم اٹھایا تو اس کو ایسا دندان شکن جواب ملے گاکہ بھارت کی نسلیں تک یاد رکھیں گی۔ پاک فوج کے جری جوان اور پوری قوم وطن کے استحکام ،سرحدوں کی حفاظت اور آزادی کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوارثابت ہونگی۔بھارت کی کوئی بھی ناپاک سازش کسی صورت بھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔اب بھارتی ڈرامے نہیں چل سکتے پوری بین الاقوامی برادری جان چکی ہے کہ بھارت جو خود کو کہتاہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑاجمہوری ملک ہے دراصل یہ جمہوریت کے ماتھے پرایک کلنک کاداغ ہے وہاں پرمذہبی،لسانی اورعلاقائی فسادات کی بھرمار ہے ۔دوسرو ں پرانگشت نمائی کرنے والامودی اپنے گریبان میں جھانکے،اس کادامن تارتارہے وہ کس منہ سے پاکستان پرالزام عائد کرسکتاہے۔

پلوامہ خود کش حملہ، کشمیریوں پر بھارتی جبر و تشدد کا ردعمل

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے انتہائی جبر و تشدد اور قتل و غارت کے ردعمل میں دو روز قبل مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پلوامہ میں خودکش کار بم حملے میں بھارتی فوجیوں کی بس کو نشانہ بنایا گیاجس سے 49 بھارتی فوجی ہلاک جبکہ 45 زخمی ہوگئے۔ تبا ہ ہونے والی بس میں 35 اہلکار سوار تھے۔ کار میں 350 کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا۔ قافلے میں 70 گاڑیاں جبکہ 2500 اہلکار شامل تھے۔ بھارتی حکام نے الزام لگایاکہ جیش محمد گروپ ملوث ہے۔ 2016 میں آرمی کیمپ پر حملے کے بعد مہلک ترین کارروائی ہے۔بھارت نے حسب معمول سارا الزام پاکستان کے سر ڈال دیا۔ بھارت ہمیشہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرکے بغیر تحقیقات کے پاکستان پر الزام تراشی کرتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ بھارت سے مثبت بات چیت کی پالیسی رکھی ہے۔ بھارت کو مذاکرات کی پیشکش، کرتارپور معاملے پر بات پاکستان کا مخلص ہونا ظاہر کرتا ہے۔ سفارتی کشیدگی بڑھانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ابھی گزشتہ ہفتے مودی انتخابی مہم کے سلسلے میں مقبوضہ کشمیر کے دورے پر گئے لیکن کشمیریوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر اپنے دروازے بند کردیئے۔ انتخابی ڈرامے کیلئے نریندر مودی کی ڈھٹائی مہم پر وادی سنسان رہی۔ اس کے فوراً بعد ہی پلوامہ کا واقعہ ہوگیا ۔بھارتی الیکشن سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں خود کش حملہ میں بڑے پیمانے پر بھارتی فوجی جوانوں کی ہلاکت سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بے جان الیکشن مہم میں رنگ بھرنے کا جواز ڈھونڈ نکالا۔ راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیا پردیش سمیت دیگر کئی ریاستوں میں شکست کے بعد بی جے پی کو عام انتخابات میں شکست سامنے نظر آ رہی تھی۔ ایسے میں سرجیکل سٹرائیکس کے گیڈر بھبکیوں سے بات نہ بنی تو مقبوضہ وادی میں حریت پسندوں کی کارروائی کا الزام پاکستان پر لگا دیا گیا۔ مقصد واضح ہے کہ کسی بھی قیمت پر مودی سرکار کو بھارت کے عام انتخابات جیتنے ہیں۔ پلوامہ میں بھارتی فوجی قافلے پر خودکش کار بم حملے کے بعد بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا ۔ اس نے پاکستان سے پسندیدہ ملک کا درجہ واپس لے لیا جبکہ پاکستانی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے حملے کا بے بنیاد الزام بھی دھر دیا۔وزیر اعظم مودی نے الزام لگایا کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے پڑوسی ملک نے بڑی غلطی کی ہے جس کی انہیں کڑی سزا بھگتنی ہوگی۔ مودی نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ اگر پڑوسی ملک یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس طرح کی حرکتوں اور سازشوں سے ہمارے ملک کو غیرمستحکم کر لے گا تو وہ یہ خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ بھارتی وزیراعظم کے اس بیان کی بڑی وجہ حالیہ انتخابات بھی ہیں جس میں بی جے پی کو شکست دکھائی دے رہی ہے اور وہ ہندو ووٹرز کے جذبات کو اپنے مقصد کے حصول میں استعمال کرتے ہوئے اپنی جیت یقینی بنانے کے پرانے حربے آزما رہی ہے۔ جہاں تک اس خود کش کار بم حملے کا تعلق ہے تو یہ کشمیریوں پر بھارتی فورسز کی طرف سے روا رکھے جانے والے انتہائی بہیمانہ سلوک کا ردعمل ہے۔ خودکش حملے میں49 بھارتی فوجیوں کو مارنے والا نوجوان عادل احمد تھا جو جنوبی ضلع پلوامہ کا رہنے والا تھا۔ حملے کے بعد عادل کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی جس کے آغاز میں ہی وہ کہتا ہے یہ ویڈیو آپ تک پہنچنے تک وہ جنت میں پہنچ چکا ہوگا۔ ایک سال قبل وہ جیش محمد کے فدائین دستے میں شامل ہوگیا تھا اور وہ آج کے دن کا ہی انتظار کررہا تھا۔خود کش دھماکہ کرنے والے کشمیری عادل احمد کے والد کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کے تشدد اور غیر انسانی رویے نے میرے بیٹے کو شدت پسند بنادیا۔ ہم بہت تکلیف میں ہیں۔ بھارتی فورسز نے میرے بیٹے اور اس کے دوستوں پر بہیمانہ تشدد کیا۔ ان پر پتھر پھینکنے کے الزامات لگائے اور ہراساں کیا۔ جس کی وجہ سے عادل احمد نے اسلحہ اٹھانے کی ٹھان لی۔ عادل کی والدہ نے بتایا کہ بھارتی فوجیوں کے تشدد کے باعث میرا بیٹا ان سے نفرت کرنے لگ گیا تھا۔ پاکستان نے بھارتی الزام مسترد کرتے ہوئے پلواما خود کش حملے پرگہری تشویش کا اظہار کیا ۔پاکستان نے دنیا کے کسی بھی حصے میں پرتشدد کارروائی کی ہمیشہ مذمت کی ہے۔ پاکستان کی جانب سے واضح کہا گیا کہ جیش محمد کالعدم جماعت ہے اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ کالعدم جماعت کے مبینہ حملہ آور بھارت کے زیرتسلط علاقے میں موجود تھے۔ مبینہ حملہ آور کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔بھارتی وزیر اعظم مودی نے اپنے ایک انتخابی جلسے میں تقریر کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ ایسی کارروائیوں سے بھارت میں خلفشار پیداکرنے کی پاکستان کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ہی بھارتی فوجیوں کو کشمیریوں کے عملاً قتل عام کی بھی ترغیب دی۔ چنانچہ ان کی بھڑکائی ہوئی اس آگ کے نتیجہ میں گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں نہیں‘ بھارت میں بھی مسلم کش فسادات شروع ہو گئے۔ان اعلانات اور بڑھکوں کے نتیجے میں ہندو انتہاپسندوں نے ان مظاہروں کے دوران مسلمانوں کی بیسیوں گاڑیاں اور دوسری املاک نذرآتشں کر دیں اور مختلف مکاتب زندگی کی مسلم شخصیات پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ چنانچہ مودی سرکار اس وقت مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف ہندو جنونیت کی آگ بھڑکا کر پاکستان کے ساتھ ہر سطح کے مذاکرات کے دروازے دوبارہ عملاً بند کر چکی ہے۔مقبوضہ کشمیر کے علاوہ پاکستان سے ملحقہ آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بھی انپا حق جتایا جا رہا ہے۔ اس طرح مودی سرکار نے لوک سبھا کے انتخابات سے پہلے پہلے پاکستان کے ساتھ دشمنی کی فضا اس قدر گرما دی ہے کہ اس کی کسی بھی جارحانہ حرکت سے علاقائی اور عالمی امن کی تباہی کی نوبت آسکتی ہے۔

ویانا کنونشن جاسوس یا دہشت گرد کے لئے نہیں

Naghma habib

بھارت نے پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا اور اپنی ساری توانائیاں اس کے خلاف صرف کرنے میں لگا ہوا ہے ۔بھارت کے حکمران الیکشن میں کامیابی کے لئے پاکستان مخالف نعرے استعمال کرتے ہیں، اس کا میڈیا پاکستان کے خلاف چیختا چنگھاڑتا ہے اوراس کے شدت پسند پاکستان کے خلاف لوگوں کو اُکساتے ہیں غرض وہاں کوئی پاکستان کے غم سے آزاد نہیں اور اِس کی جاسوس ایجنسی ’’را‘‘ تو گویا بنائی ہی پاکستان کے خلاف گئی ہے اور وہ بڑی تندہی سے اپنا کام کر رہی ہے۔بھارت مشرق سے اگر اپنی سرحد سے پاکستان کے اندر در اندازی کرتا ہے تو مغرب سے اُسے افغانستان کی سر زمین میسر ہے جسے وہ دھڑلے سے پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے۔بھارت ہر اُس جگہ سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے جہاں سے اُسے ذرہ برابر بھی موقع ملے۔اُس کی کوششوں کا ایک ایسا ہی مرکز بلوچستان بھی ہے جہاں کے سخت زمینی حالات اور سرداری نظام نے اسے وہ ترقی نہیں کرنے دی جو یہ صوبہ کر سکتا تھا اور اسی چیز کا نہ صرف بلوچستان کی سیاست میں فائدہ اٹھایا گیا بلکہ قومی سطح پر بھی اس بات پر سیاست کی گئی۔ اس چیز کا فائدہ دشمن نے بھی خوب اٹھایا اور بلوچستان میں بدامنی پیدا کرنے کی کاروائیوں میں مسلسل مصروف ہے۔ اُس نے یہاں شرپسندوں کو ہیرو بنانے کی کو شش میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا اور انہیں ریاست پاکستان کے خلاف ہر قسم کی مدد فراہم کی گئی،اسلحہ فراہم کیا گیا اور پھر افغانستان میں ان کی تربیت کا اہتمام بھی ہوتا رہتا ہے،ان کو معاوضہ دیا جاتا ہے اور ہر سہولت دی جاتی ہے۔ ان تمام کاموں کو سرانجام دینے کے لئے یقیناًبلوچستان میں اُس کے کئی کارندے موجود ہیں انہی میں سے ایک کارندہ حسین مبارک پٹیل جب پکڑا گیا تو اُس نے اعتراف کیا کہ اُس کا اصل نام مبارک پٹیل نہیں بلکہ کلبھوشن یادیو ہے اور وہ کوئی تاجر نہیں بلکہ بھارت کی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے۔کلبھوشن 3 مارچ 2016 کو پکڑا گیا اور اُس نے اُس وقت بتایا کہ وہ 2022 میں ریٹائر ہو گا یعنی اُس کی سروس کے آخری چھ سال بھی اُس نے یہی قتل و غارت گری کرنی تھی جو اُس نے بلوچستان اور کراچی میں کی لیکن اُس کی بد قسمتی کہ وہ پکڑا گیا اور اپنا مشن پایہء تکمیل تک نہ پہنچا سکالیکن اُس نے اعتراف کیا کہ اُس نے بلوچستان اور کراچی میں وارداتیں کرائیں اور ایسا کرنے والوں کو مدد فراہم کی ۔کلبھوشن کی گرفتاری اور اعترافی بیان کے بعد فوجی عدالت میں اُس پر مقدمہ چلا یا گیا جس نے دہشت گردی، قتل و غارت کرنے اور بد امنی پھیلانے کے جُرم میں اُسے موت کی سزا سنائی ۔کلبھوشن کو اپنی سزا کے خلاف پاکستان کی کسی بھی سول عدالت میں اپیل کا حق ہے تاہم بھارت اپنے جاسوس کے اقبالی بیان کے باوجود اس بات سے مکر گیا کہ وہ ایک جاسوس ہے۔پاکستان نے کلبھوشن کے ساتھ ایک فوجی افسر جیسا ہی سلوک کیا لیکن بھارت نے اُسے اپنا افسر ماننے سے ہی انکار کردیا۔یہ اور بات ہے کہ وہ اُس کا افسر ہے اسی لیے تو وہ اُس کی سزا کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں پہنچ گیا اور حسبِ معمول اپنے جرائم کا انکار کرنے لگا ۔کلبھوشن جو چاہ بہار ایران سے پاکستان میں براستہ بلوچستان داخل ہو ا اُس نے اقرار کیا کہ وہ بھارت کا جاسوس ہے اور عرصہ دراز سے اس کے لئے کام کر رہا ہے وہ جب یہ بیان دے رہا تھا تو اس وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اُس کے جسم پر نہ توکسی سختی کے نشانات تھے نہ تشدد کے جس کا مطلب یہ تھا کہ اُس نے یہ سب کچھ بغیر کسی دباؤ کے بتایا ہے لیکن اُس کا ملک اس بات سے انکاری ہو گیا اور اسے بے گناہ ثابت کرنے پر تل گیا ۔کلبھوشن ایک جاسوس ہے جس نے پاکستان میں دہشت گردی کے کئی واقعات کا بھی اعتراف کیا اور اس کے باوجود اس کی ماں اور بیوی سے اس کی ملاقات کا انتظام کیا گیا جس موقع پر بھارت کا ہائی کمشنر بھی موجود رہا اور ایسا کسی دباؤ کے بغیر صرف اور صرف انسانی بنیادوں پر کیا گیا لیکن اس کے ملک بھارت نے اس پر بھی اعتراض کیا یہ وہی بھارت ہے جس نے پاکستان کے جنگی قیدی مقبول حسین کو چالیس سال تک قید میں رکھا نہ اُس کے خاندان کو اس کی خبر دی نہ ملک کو، نہ صرف یہ بلکہ اُس کو بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اس کی زبان تک کاٹی گئی بھارت کو اُس وقت جنیوا کنونشن یا اُس کی کوئی شق یاد نہیں آئی لیکن اب جاسوس کے لئے اُسے ویانا کنونشن ضرور یا دآگیا اور اُس نے عالمی عدالت انصاف میں شکایت کی کہ کلبھوشن کو ویانا کنونشن کے تحت کونسلر تک رسائی دی جائے لیکن وہ یہ مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھول جاتا ہے کہ ویانا کنونشن جاسوس یا دہشت گرد کے لئے نہیں اور پاکستان کا یہ موقف بالکل بجا ہے کہ کلبھوشن کوئی عام شخص بھی نہیں جاسوس ہے لہٰذا کونسلر تک رسائی پر اُس کا کوئی حق نہیں اور نہ یہ توقع کی جانی چاہیے کہ کوئی ملک اپنے ہاں دہشت گردی کروانے والے کو معاف کر دے یہ اور بات ہے کہ پاکستان نے کلبھوشن کے ساتھ اب تک باعزت سلوک کیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں لینا چاہیے کہ اُسے اُن پاکستانیوں کا خون معاف کر دیا جائے جو اُس کے دہشت گردانہ منصوبوں اور کارروائیوں کی نذر ہو گئے یا اپنی جانوں سے گئے یا ان کی املاک واموال برباد ہوئے اور یہ کوئی ایسا الزام نہیں جو ثابت شدہ نہ ہو بلکہ مجرم نے خود اس کا اعتراف کیا اور ساری دنیا کے سامنے کیا ۔بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں اپنا جوموقف دیا وہ کسی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔عالمی عدالت انصاف میں بھارت نے یہ درخواست دی کہ اُسے ویانا کنونشن کے تحت کونسلر تک رسائی دی جائے جس پر عدالت نے سماعت کے لئے 18 تا 21 فروری 2019کی تاریخ دی ہے جس میں دونوں ممالک کے وکلاء اپنے دلائل دیں گے ۔عالمی عدالت انصاف میں پندرہ جج ہوتے ہیں جو نو سال کی مدت کے لئے منتخب ہوتے ہیں اور اس وقت ان میں ایک دلویر بھنڈاری کا تعلق بھارت سے ہے لیکن یہ اُمید کی جاتی ہے کہ پاکستان کے کیس کی مضبوطی کے لئے یہی کافی ہوناچاہیے کہ کلبھوشن کا اعترافی بیان موجود ہے جو اُس نے راضی برضا دیا ہے اور ابھی تک اس پر کسی قسم کے تشدد کا کوئی ثبوت بھارت بھی نہیں دے سکا ہے۔عالمی عدالت انصاف نے اگر پاکستان کو اس کی سزا پر علمدرآمد سے فی الحال روکا ہے تو کیا یہ عدالت اُن مرنے والوں کے ورثاء کو ان کے پیاروں کو واپس دلا سکتی ہے وہ بھی جب مجرم خود کھل کر بتارہا ہے کہ وہ قاتل بھی ہے اور دہشت گردی کا منصوبہ ساز بھی اُس نے ان لوگوں کے نام تک بتائے جن سے اُس نے رابطے بنائے اور ان کو استعمال کیا یا اُن سے مدد لی مثلا اُس نے خود بتایا کہ حاجی بلوچ سے اُس کے رابطے تھے جس نے بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کی، اُس نے خود یہ اعتراف کیا کہ سانحہ صفورا کے پینتالیس بے گناہ اُسی نے مارے،اُس نے یہ خود بتا یا کہ اُس کا خاص مقصد سی پیک کو سبوتاژ کر نا تھا یعنی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مستقبل کی ترقی کو بھی روکنا تھا اور اگر اُس نے یہ سارے اعترافات کئے تو کیا پھر بھی اُسے معاف کر دینا چاہیے۔اب تو توقع یہ بھی ہے کہ اگر کسی طرح کلبھوشن پاکستان میں سزاسے بچ جائے تو خود بھارت کے لئے وہ قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ دنیا کو بھی سب کے لئے معیار ایک رکھنا ہو گا اگر وہ دہشت گرد ہے جس کا وہ اعتراف بھی کر چکا ہے تو پاکستانیوں کا خون اس کی گردن پر ہے۔ لہٰذا اُس کی معافی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہو نا چاہیے اور اس کو یہ سزا بطور قاتل، بطور دہشت گرد اور بطور جاسوس ہر طرح سے ملنی چاہیے۔

*****

آج بھی کل کی طرح حکومت کے ہر فیصلے کے پیچھے

azam_azim

آج بھی کل کی طرح حکومت کے ہر فیصلے کے پیچھے شارپ مائنڈشاطر افسرشاہی کی شیطانی چال کارفرماہے، جس کا یہی کام ہے کہ جس طرح اور جب چاہے یہ حکومت کے لئے مشکلات پیدا کردے اور اِس کاجب جی چاہے یہ آسانیاں لے کر حاضر ہوجائے،گو کہ حکمران تو بس ایسے ہی ہوتے ہیں، اصل میں حکمرانوں کو چلانے والے بیوروکریٹس اور اِنہی کی طرح کے چیلے چانٹے ہوتے ہیں جو اقتدار میں آئے حکمرانوں کی گاڑی کو لے کر چلتے ہیں، بادلخواستہ ، اِن کے مشوروں سے کوئی ایک آدھا کبھی کام اچھا ہوجائے تو ہوجائے ورنہ ، اِن کے زیادہ تر حکمرانوں کو دیئے گئے مشورے ایوئیں ہوتے ہیں،بدقسمتی سے ستر سالوں میں وطن عزیز میں جتنی حکومتیں آئیں اور گئیں ہیں،اُن کی ناکامی کے ذمہ دارمیرٹ کا گلاگھونٹ کر افسر شاہی کی کرسی پرقابض ہونے والا خوشامدی ٹولہ ہی رہا ہے ،اگر کبھی کسی حکمران نے افسرشاہی کی قابلیت پرکھ لی ؛تو وہ حکمران سنبھل گیاہے۔ وہ اپنی صلاحتیں بروئے کار لایا؛ اورخود اپنی صلاحیت اور اپنی ٹیم کے صلاح مشوروں کے بل بوتے مُلک اور قوم کے لئے اچھے فیصلے کرگیا۔جس سے مُلک اور قوم میں بہتری آئی، مگر جو حکمران افسرشاہی اورنوکرشاہی کے ہی مرہونِ منت رہاہے؛ اِس کے سارے فیصلے حقیقت سے کوسوں دور کاغذ کے گھوڑے ثابت ہوئے ہیں۔ اِس سے اِنکار نہیں ہے کہ آج پاکستان تحریک اِنصاف کی حکومت میں حج جیسے مقدس فریضہ کے لئے سبسڈی کے خاتمے کا مشورہ بھی چاپلوس افسرشاہی طبقے کا ہی دیاہوا ہے یعنی کہ اَب قوم یہ تسلیم کرلے کہ آج وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں عوام کے لئے جتنی بھی مشکلات اور پریشانیاں پیدا ہو ئی ہیں ،ہورہی ہیں یا آئندہ ہوں گی ؛ یقینی طورپر تمام پریشانیوں اور مشکلات کو پیدا کرنے والے قومی اداروں میں جونک کی طر ح چمٹے رہنا والا نااہل افسرشاہی کاخوشامدی ٹولہ ہے۔ جس نے اپنے نمبر بڑھانے کے چکر میں اپنے فرسودہ و ناقص، پھٹے پرانے ناکارہ اور بے کار مشوروں سے نوزائیدہ رواں حکومت کو مشکلات میں دھکیل دیاہے، اور عوام میں حکومت کا بڑھتا ہواگراف گرادیاہے۔ حتیٰ کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے لئے نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ آج اِس سے نہ پارلیمنٹ چل پارہی ہے اور نہ ہی حکومت آگے بڑھ رہی ہے ۔افسرشاہی اور خدشہ یہ بھی ہے کہ نادیدہ قوتوں کے بے جا مشوروں پر عمل کرنے کے باعث حکومت قدم قدم پہ مسائل کے دلدل میں دھنستی جارہی ہے ابھی وقت ہے کہ سنبھل جائے ورنہ؟اگرچہ ،جب مُلک میں پی ٹی آئی کے دھرنوں کا عروج تھا،ہر طرف تبدیلی کے نعروں اور نغموں کی گونج تھی،کئی کئی دِنوں ، ہفتوں اور مہینوں کے دھرنوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری تھا،مُلک کے طولُ ارض میں نئے پاکستان اور تبدیلی کے چرچے تھے، نوجوانوں (لڑکے ، لڑکیوں )اور ہر عمرکے افراد کی بڑی تعداد پی ٹی آئی کے جلسوں، جلوسوں ، ریلیوں اور دھرنوں میں جوک درجوک نظر آتی تھی ، جب کہیں عمران خان کے جان نثاروں کا ہجوم اکٹھا ہوتاتوایک عجیب سماں بن جاتا تھا ،یہ دیکھ کر مخالفین کے کلیجہ میں حسد اور جلن کی آگ بھڑک اُٹھتی تھی ، سڑکوں، بازاروں، گلی محلوں اور شہر شہر گاؤں گاؤں رنگین جھنڈوں کی بہار آئی ہوئی تھی ،عمران خان کی قدآور تصاویر اور پارٹی لیڈروں کی تصویروں سے جلسہ گاہ بھرے ہوتے تھے ،لگتا تھا کہ جیسے پی ٹی آئی کی حکومت کے آتے ہی تبدیلیوں کا نہ رکنے والا دور شروع ہوجائے گا ،مُلک سے مہنگائی ، بھوک و افلاس اور کرپٹ عناصر اور کرپشن کاجڑ سے خاتمہ ہوجائے گا،(مگرآج سب خواب بن گیاہے) اِسی لئے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیاوالے دھرنے والوں کی خبروں کے لئے بھنورے کی طرح منڈلاتے پھرتے تھے،اِس دوران برقی اور کاغذی صحافت سے وابستہ بہت سوں نے اپنی صحافت کی ہاؤس جاب دھرنوں میں ہی مکمل کی اور بڑے نام کمائے ۔غرض یہ کہ آج بھی بہت سے ہیں۔جو پی ٹی آئی کے نام پر کما رہے ہیں اور میڈیاہاؤسز کے مالکان اپوزیشن والوں کی چٹکی کے اشاروں پر ناچ کر اپنا دال دلیہ چلارہے ہیں۔پاکستان تحریک اِنصاف کی قسمت میں اقتدار لکھا تھا؛ سو اِسے حکمرانی مل گئی ہے اور اللہ نے عمران خان کو سرزمین پاکستان کا وزیراعظم بنا نا تھا آج وہ اللہ کے حکم اور اِس کی مرضی سے وزارتِ عظمیٰ پر فائز ہوگئے ہیں،جن کاکل بھی مشن مُلک کو کرپشن اور کرپٹ عناصر سے پاک کرناتھا اور آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا، دُعا ہے کہ وزیراعظم عمران خان مُلک کو کرپشن اور کرپٹ عناصر سے پاک کرنے والے عزم پر قائم رہیں اورکامیاب ہوں آج ساری پاکستا نی قوم کی دُعائیں اِ ن کے ساتھ ہیں۔ابھی پی ٹی آئی کی حکومت کو اقتدار میں آئے چند ماہ ہی گزرے ہیں، جِسے اندازہ نہیں تھا کہ قومی خزانہ اِنتہاکا خالی ملے گا،پہلے والے مُلکی معیشت کو زمین بوس کرگئے ہیں، ڈالر کے مقابلے میں مُلکی کرنسی کی بے توقیری تو پچھلی حکومت کے دور سے ہی شروع ہوگئی تھی۔ بس آج پی ٹی آئی کی حکومت اِس سلسلے کو تو دل پر پتھررکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی گناہِ صغیریٰ سمجھ کر اداکررہی ہے تاکہ پچھلے والوں کو احساس ہوکہ یہ سب اُنہی کا کیا دھرا ہے کہ طاقتور ڈالر کے سامنے پاکستانی کرنسی کی حالت زخموں سے چُور کسی ادھ مرے جیسی ہو گئی ہے ،خاکم بدہن جو کسی بھی وقت سفرآخرت پرروانہ ہو نے کو ہے، مگر قوم حوصلہ رکھے اِسی حکومت میں مُلکی کرنسی میں ضرور استحکام آئے گا اور یہ عالمی منڈی میں پوری طاقت کے ساتھ نمودار ہوگی اوراپنے پیروں پر کھڑی ہوگی۔ آج ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کے بے قدری کی ذمہ دارسابقہ حکومت ہے جس نے جاتے ہوئے مُلکی کرنسی کی قدر اتنی گھٹادی کہ ابھی تک اِس میں استحکام نہیں آسکا ہے، جس کی بنیاد پر سیاسی عدم استحکام کا پیدا ہونالازمی قرار دیاجارہاہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پچھلی حکومت کے مقابلے میں اِس سال میں درآمدات کم برآمدات بڑھ گئیں ہیں ، رواں حکومت کی معاشی حکمتِ عملی دیرپاثابت ہورہی ہے اِسی طرح آئی ایم ایف نے بھی پاکستانی معیشت کو سہارادینے اور اِس میں استحکام لانے کے لئے پوزیشن بدل لی ہے یقیناً جس کا کریڈٹ وزیراعظم عمران اور اِن کی حکومت کو جاتا ہے ، جیسا کہ وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے بھی کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے قریب آگئے ہیں ، معیشت ڈینجرزون سے باہر آرہی ہے ٹیکس نہیں بڑھے گا، بجٹ میں ٹیکس نظام آسان بنا ئیں گے، سات ماہ میں تجارتی خسارہ دوارب ڈالرکم ہوا روپے کی بے قدری کا فائدہ آئندہ پانچ ماہ میں نظرآئے گا ، وزیراعظم عمران خان اور حکومتی وزراء لاکھ مُلک اور قوم کے لئے بہتر پالیساں بنالیں مگر یہ افسرشاہی کے بے جا مشوروں سے اجتناب برتیں تو اچھا ہے ورنہ؟۔

*****

پلوامہ میں خود کش کار بم حملہ

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ میں جموں و کشمیر شاہرہ پر جاتے ہوئے فوجی کانوائے پر خود کش کار بم حملہ ہوا ۔ اس حملہ میں ۴۰بھارتی فوجی ہلاک ہوئے اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔دھماکہ اتنا زرو دار تھا کہ اس کی آواز دس میل تک سنی گئی۔ کشمیر میں ۱۹۸۹ء سے جاری تحریک آزادی کے وقت سے پہلی بار ایسا خود کش حملہ کیا گیا جس کو جیش محمد نے قبول کیا۔بھارتی فوج نے علاقہ میں کرفیو لگا کر علاقہ میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ دوسری طرف بھارتی کابینہ کی دفاعی کمیٹی کی میٹنگ کے بعدبھارتی دہشت گرد وزیر اعظم نریندر مودی نے بغیر تحقیق کے حسبِ عادت پاکستان پر الزام لگا دیا۔ مودی نے پڑوسی ملک کہہ کر پاکستان پر دہشت گردی کا بھونڈاالزام لگا دیا۔مودی نے کہاتین دھائیاں قبل بھارت نے پاکستان کو دہشت گردملک قرار دینے کی بات کی تھی اب اس بات کو مکمل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ پاکستان یہ حملہ کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ اب اسے بڑے رد عمل کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اس حملے سے بھارتیوں کا خون کھول رہا ہے۔ اس وقت کچھ کر گرزنے کی سوچ بڑھ رہی ہے۔ دہشت گردوں اور ان کے مدد کرنے والوں کو بہت بڑے رد عمل کا انتظار کرنا چاہیے۔ ان کو بہت بڑی قیمت ادا کرنے پڑے گی ۔ حملے کے پیچھے طا قتوں کو ان کے کئے کی سزا ضرور ملے گی۔پاکستان دہشت گردی کر کے بھارت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اس کے منصوبے کبھی بھی پورے نہیں ہوں نگے۔ ایک سو تیس کروڑ بھارتی پاکستان کو منہ توڑ جواب دیں گے۔ پاکستان جس راستے پر چلا ہے وہ تباہی کا راستہ ہے۔ ہم امن کے راستے پر چل رہے ہیں یہ ترقی کا راستہ ہے۔ مودی نے کہا کہ کئی بڑے ملکوں نے اس کی دہشت گردی کی مزاحمت کی ہے۔ میں اور بھارتی عوام ان شکریہ ادا کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف سب ملکوں کو ایک ہو کر لڑنا ہو گا۔ دہشت گردوں کو سبق سکھانا ہو گا۔ اگر سب ایک ساتھ ہو نگے تو دہشت گردوں کے عزائم پورے نہیں ہوسکیں گے۔ ہم اپنے شہیدوں کی قربانی کابدلہ لیں گے۔ بھارتی فوج کو بدلہ لینے کی کھلی اجازت دے دی گئی ہے۔ مودی نے مقبوضہ کشمیر کی حریت کانفرنس کے لوگوں کو بھی دھمکی دی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے حمایتی ہیں۔ قابض بھارتی فوج پر پتھراؤ کرنے والے کو سزا بھی دے گی۔ اس موقع پرمودی نے بندے ماترم کا نعرہ بھی لگوایا۔مودی کی پریس کانفرنس کے بعد بھارتی میڈیا نے اس کی دھمکی کی قوالی کرنی شروع کر دی ہے۔ پہلے سے جاری جنگی ماحول کو مزید تیز کر دیا۔ میڈیا پر تبصرہ نگار کہتے ہیں کہ پاکستان ایٹمی طاقت کے کارڈ کو استعمال کر رہا ہے۔ بھارت کو اس کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ بھارت آگے بڑھ کر پاکستان کوسبق سکھائے۔ بھارت نے توپہلے سے ہی کنٹرول لائن کو گرمایا ہوا ہے مگر اس کا میڈیا کہہ رہا ہے کہ بھارت کواِسے مزید گرما دینا چاہیے۔ا مریکا سے ملے ہوئے ڈرون سے پاکستان پرحملے کرنے چاہئیں۔ اس وقت پاکستان کی معیشت کمزور ہے۔ اس سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ پاکستان کا پانی بھی بند کر دینا چاہیے۔بھارتی میڈیا کے مطابق جیش محمد نے افضل گورو کی برسی پر کارروائی کرنے کی دھمکی دی ہوئی تھی۔ بھارتی ایجنسیاں اس بات کی تحقیق کر رہی ہیں کہ کار میں بارود کیسے رکھا گیا۔ بھارتی وزیر داخلہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں۔ بھارت میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان نے تیس سال سے پراکسی جنگ شروع کی ہوئی ہے۔ کرفیو لگا کر کشمیر کے سارے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیاہے۔بھارت نے ۱۹۹۶ سے اپنی طرف سے پاکستان کو موسٹ فیورسٹ نیشن کا درجہ دیا ہوا ہے۔ بھارت کی تجارت کا ۳۵ فی صد حصہ پاکستان کے ساتھ ہے جس سے پاکستان کا فائدہ ہوتا ہے۔ اسے ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بھارتی اپوزیش نے بھی فوج اور مودی سرکار کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ کانگریس پارٹی نے پریس کانفرنس کر کے راہول گاندھی اور کانگریس پارٹی کے سپوک پرسن نے اس بات کا اعلان کیا ہے۔صاحبو!ساری دنیا جانتی ہے کہ بھارت میں دو د رجن علیحدگی کی مسلح تحریکیں چل رہی ہیں۔ بھارت ان کو فوج کے ذریعے بے دردی سے کچلنے کی حماقت کر رہا ہے۔ خالصتان تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے پہلے امرت سر میں سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹمپل پر فوج کشی کی۔ اس کے رد عمل میں بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو اس کے محافظ سکھوں نے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ تامل ناڈو کے حریت پسندوں نے اندرا گاندھی کے بیٹے راجیو کو خود کش حملہ میں ہلاک کیا۔تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کے لیے آٹھ لاکھ بھارتی فوج لگائی ہوئی ہے۔ ۱۹۴۷ء سے لے کر آج تک ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کر چکا ہے۔ کشمیریوں کی نسل کشی پر اُتر آیا ہے۔ جس اقلیتوں پر ظلم ڈھائے جائیں گے تو کیا یہ لوگ بھارت کی فوج اور حکمرانوں کو پھولوں کے گل دستے پیش کریں گے۔ بھارت کو سکھوں کے واقع سے سبق سیکھ کر ان کے جائز حق کو مان لینا چاہیے تھا۔ لوگ جب تنگ آتے ہیں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ آپ ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کریں۔ بین الاقوامی طور پر مانے جانے والی اور قوموں کو اقوام متحدہ کی طرف آزادی کی تحریک کو کو دہشت گردی قرار دے کر کشمیریوں کو اجتماہی قبروں میں دفنا دیں۔ ان کو اگر وادی قرار دے کر ان کی نسل کشی کریں۔آپ کی قابض فوج دس ہزار سے زائد کشمیریوں کی عزت مآب خواتین کی اجتماعی آبروریزی کرے۔ آپ کشمیر کی بچیوں کی چھٹیاں کاٹیں۔ آپ کشمیریوں کے باغات اور زرعی زمینوں پر گن پاؤڈر چھڑک کرخاکستر کر دیں۔ ان کے بزرگوں کے مزاروں کومسمار کر دیں۔ان کے گھروں کو بارود سے اُڑا دیں۔ اپنے پیاروں کے جنازوں میں شرکت کرنے اورپر امن احتجاج کا حق ادا کرنے پر گولیوں کی بوچھاڑ کریں۔ روزانہ کی بنیاد پر کشمیریوں کو سرچ آپریشن کے عذاب میں مبتلا کریں۔ ان کے ہیروں کو پہلے پھانسی پر چڑھائیں ۔ پھر تہاڑ جیل میں دفنا دیں۔ اُن کی میتیں مانگنے پر ان پر گولیاں چلائیں تو پھر کیا ان مظلوموں سے آ پ یہ توقع کریں کہ وہ آپ کی سفاک اور ظالم فوج پر خود کش حملے نہ کریں گے۔جناب ایک عرصہ سے لوگ سوچ رہے تھے کہ جب سب راستے بند ہو جائیں گے توکشمیری تنگ ہو کر خود کش حملے شروع کر سکتے ہیں جس کی یہ ابتداء ہے۔ دیکھئے آگے آگے ہوتاہے کیا؟ آپ کو پاکستان میںآپ کی جاری کی ہوئی اعلانیہ دہشت گردی کو یاد رکھنا چاہیے۔جس کا ثبوت آپ کا پھانسی کی سزا پانے والا حاضر سروس نیوی کا کمانڈر کلبھوشن یادیو کا مقدمہ بین الاقوامی عدالت انصاف میں بھگت رہا ہے۔دہشت گرد مودی صاحب! آپ کو چاہیے کہ گیڈر بھبکیوں دینے سے پہلے اپنی دہشت گردی کو ختم کرو۔ آزادی مانگنے والی قوموں کی نسل کشی کرنے کے بجائے ان کے حق کو تسلیم کرو۔ تمھارے وزیر اعظم جواہر لال نہرو صاحب نے کشمیریوں سے دنیا کے سامنے وعدہ کیا تھا کہ ان کو حق خودارادیت دے گا۔اپنے وعدے کا پاس رکھو اورکشمیریوں کی نسل کشی کرنے کی بجائے ان کو ان کا جائز حق دو ورنہ مکافات عمل کیلئے تیار رہو۔

*****

مقبوضہ کشمیرمیں خودکش حملہ۔۔۔بھارت کے لئے نوشتہ دیوار

adaria
پلوامہ میں خودکش کار بم حملے میں 44 بھارتی فوجی ہلاک جبکہ40زخمی ہوگئے۔دھماکہ میں بھارتی فوجیوں کی بس کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک بس اور 5 دیگر گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ کار میں 350 کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا۔ قافلے میں 70 گاڑیاں جبکہ 2500 اہلکار شامل تھے۔دھماکے بعد سرینگر جموں ہائی وے پر ٹریفک معطل ہو گئی ۔ بھارتی فوج نے پورے علاقے کا محاصرہ کر کے تلاشی کی کارروائی شروع کی ہے ۔بھارتی حکام نے الزام لگایا کہ حملے میں جیش محمد گروپ ملوث ہے۔ سینئر حریت رہنماؤں سیدعلی گیلانی اور حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر میں جاری اپنے الگ الگ بیانات میں کپواڑہ اور پلوامہ کے اضلاع میں پراسرار دھماکوں میں ایک لڑکے کے قتل اور 28طلباکے زخمی ہونے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے ۔ سیدعلی گیلانی نے پے درپے دھماکوں کو جدوجہد آزادی کشمیر کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش قراردیا ہے ۔ بھارت اپنے آئین کی دفعات 35Aاور370کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے ذریعے مقبوضہ علاقے کی بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے پر تلا ہوا ہے۔مقبوضہ کشمیرکے سابق وزیراعلی فاروق عبداللہ نے بھارتی ٹی وی چینل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہاہے کہ پلوامہ میں گزشتہ روز کے حملے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرنا غلط ہے۔ کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہدمقامی ہے لیکن بھارت نے کشمیرمیں تمام ترصورتحال کاہمیشہ پاکستان کوموردالزام ٹھہرایا۔ یہ درست اقدام نہیں ہے۔ اگر بھارت نے کشمیرکے دیرینہ تنازعہ کوحل نہ کیاتو اس طرح کے واقعات رونماہوتے رہیں گے۔ معاملہ طاقت کے اندھادھنداستعمال سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ تنازعہ کشمیر کاپائیدارحل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مقبوضہ کشمیر پلوامہ میں ہونیوالاخود کش حملہ بھارت کیلئے نوشتہ دیوارہے ، بھارت یہ جان لے کہ وہ کسی صورت بھی کشمیریوں کی حق آزادی کو سلب نہیں کرسکتا، تاریخ لکھی جاچکی ہے مقبوضہ کشمیر آزاد ہوگا ،دنیا کو بھی یہ بات سمجھ آجانی چاہیے کہ اب کشمیری مزید بھارتی جارحیت، ظلم وبربریت اور اس کی دہشت گردی کو برداشت نہیں کریں گے۔ مودی کو اپنے گریبان میں جھانک لیناچاہیے ۔ہمیشہ کی طرح روایتی انداز میں بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں ہونیوالے خودکش حملے کے بعد پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کردی ۔حالانکہ اس میں بھارت کااپناقصور ہے پاکستان تو ہمیشہ امن کاداعی رہا نامعلوم مودی کی آنکھوں پرکیوں دہشت گردی کاپردہ پڑا ہوا ہے ۔سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کابیان ہی اس کیلئے کافی ہے کہ بھارت اپنے گریبان میں جھانکے نہ کہ پاکستان پرالزام تراشیاں کرے ۔اس سے کشمیریوں سے مذاکرات کرنے پڑیں گے سات دہائیوں سے لگاتارمقبوضہ کشمیر کی زمین انسانی خون سے رنگین کی جارہی ہے ساڑھے سات لاکھ کے لگ بھگ بھارتی دہشت گرد فوج نے ظلم کی انتہاکررکھی ہے پیلٹ گنز کے استعمال کی وجہ سے ہزاروں کشمیری اپنی بینائی کھوچکے ہیں نہ وہاں بزرگ محفوظ ہیں نہ خواتین اوربچے اورنہ ہی جوان ،بھیڑبکریوں کی طرح دیکھتے ہی گولی مار دی جاتی ہے کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔بین الاقوامی برادری کی بھی آنکھیں بند ہیں جب ایک خطے پراتنی بربریت ڈھائی جائے گی تو وہاں آخرکارکیانتائج نکلیں گے یہی ہوگا جو گزشتہ روز مقبوضہ کشمیرمیں ہوا۔راج ناتھ نے جس طرح پاکستان کے خلاف زبان استعمال کی ہے اس پربھارت کو شرمندہ ہوناچاہیے خواہ مخواہ بھارتی حکا م نے بغیرتحقیقات کے حملے کی ذمہ داری جیش محمدپرڈال دی۔مودی حکومت کو اچھی طرح یاد ہوگا جب افضل گورو کو پھانسی دی گئی توبھارتی عدالت نے کہاکہ افضل گوروبے گناہ ہے ہم نے اپنی عوام کو مطمئن کرنے کے لئے اس کو پھانسی دیناہے ۔یہ بیان اس نام نہاد سیاہ چہرے والے بھارت کے لئے کافی ہے کہ اس نے صرف الزام تراشی کرناہوتی ہے اپنے گناہ دوسرے کے سرتھونپنے ہوتے ہیں اپنی کمزوریوں کو ڈھانپنا ہوتا ہے بھارتی اندرونی خلفشاراب بھارتی حکومت سے کنٹرول نہیں ہورہا یہ جو بھی دھماکہ ہوا ہے اس میں بھارت خود ملوث ہے جس طرح کہ اس نے ماضی میں سرجیکل سٹرائیکس کاڈرامہ رچایا، پارلیمنٹ پرحملہ خود کرایا، اجمل قصاب حملے کابھی یہ خود ہی ذمہ دار ہے ،سمجھوتہ ایکسپریس کاسانحہ بھی بھارت ہی کی جھولی میں جاتاہے چونکہ اس وقت آنے والے دنوں میں کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت ہونے جارہی ہے پھربھارتی الیکشن بھی سرپرآن کھڑے ہیں اس وجہ سے بھارت یہ تمام تر مذموم کارروائیاں خود کرکے ذمہ داری پاکستان کے سرپرتھونپنے کی ناکام کوشش کررہاہے لیکن اسے اس میں کسی صورت بھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکے گی۔بھارتی بنیے کو یہ جان لیناچاہیے کہ اگر اس نے کوئی بھی ایساناپاک قدم اٹھایا تو پاک فوج اسے ایسامنہ توڑ جواب دے گی کہ اس کی آنے والی نسلیں تک یادرکھیں گی اور یہ ان کیلئے ایک بھیانک خواب بن جائے گا۔لہٰذا مودی کو کسی بھول میں نہیں رہناچاہیے اپنے گریبان میں جھانکے ،اپنے ملک کے ا ندرونی حالات خودٹھیک کرے جتنی دہشت گردی آج بھارت میں اوربھارت سے ہورہی ہے اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔مقبوضہ کشمیرمیں یہ سب کچھ دہشت گردی کے زمرے میں آتاہے کشمیریوں نے کسی صورت بھی بھارت کو تسلیم ہی نہیں کیا اور انشاء اللہ وہ وقت قریب آنے والاہے جب کشمیری آزاد فضاء میں سانس لیں گے اب بھارت کی یہ ہرزہ سرائیاں کام آنیوالی نہیں ہیں۔
وفاقی کابینہ،سعودی عرب سے کھربوں کے منصوبوں کی توثیق
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعظم عمران خان خود سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کا استقبال کریں گے، سعودی ولی عہد کا دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ سعودی ولی عہد کا یہ دورہ اور اس دوران ہونے والے معاہدے گزشتہ دس سالوں کی بیرونی سرمایہ کاری سے زیادہ ہیں، صرف آئل ریفائنری کا 8ارب ڈالر کا منصوبہ ہے، پاکستان نے خارجہ محاذ پر بے پناہ کامیابیاں حاصل کی ہیں، سعودی عرب کیلئے ویزہ پالیسی میں بھی نرمی کر دی ہے۔ سعودی وفد میں کاروباری افراد، بڑی کمپنیوں کے سربراہان شامل ہوں گے پاکستان مسلم امہ کے حوالے سے مثالی کردار ادا کر رہا ہے۔ نیزوفاقی کابینہ کے اجلاس میں چیئرمین گوادرپورٹ، ای او بی آئی ، صدر زرعی بنک کی تعیناتیوں، آزاد کشمیر کوواٹرچارجز دینے کے لئے قائم کمیٹی کی سفارشا ت کی منظوری بھی دی گئی۔ سعودی عرب کے ساتھ معاہدوں کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ سعودی عرب سے 4.18کھرب کے پانچ منصوبوں کی توثیق بھی کی گئی، سٹیٹ لائف کی تنظیم نو کافیصلہ اوریونین سرگرمیوں پر پابندی بھی عائد کرنے کی منظوری دی گئی۔کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے تمام سفارتکاروں کو ہدایت کی کہ معمولی جرائم میں قائد پاکستانیوں کی رہائی کے لئے اقدامات کئے جائیں۔مجموعی طورپر کابینہ کے فیصلے مستحسن ہیں۔اجلاس میں گزشتہ فیصلوں پرعملدرآمدکی پیشرفت کابھی جائزہ لیتے ہوئے اطمینان کااظہارکیاگیا۔

عالمی عدالت غیرجانبداری کا ثبوت دے

سی پیک جنوبی ایشیاء میں معاشی محرومی سے نجات اور امن و خوشحالی کے نئے دور کا آغازہے ۔ سی پیک پاکستان کے ساتھ ساتھ پورے خطے کیلئے ’’گیم چینجر ‘‘ ثابت ہوگا۔اسی وجہ سے پاکستان اور چین اس منصوبے کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ سی پیک اوراس پر کام کرنے والوں کی حفاظت کا ذمہ پاک فوج نے لیا ہے ۔ جہاں اس منصوبے سے پاکستان، چین اور دیگر ممالک فائدہ حاصل کریں گے وہاں کچھ ممالک جن میں بھارت سرفہرست ہے ، سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اس ضمن میں بھارت نے سی پیک منصوبہ کے خلاف ’’را‘‘ کے ماتحت ایک سیل قائم کیا ہے۔ بھارت کا مقصد ہی یہ ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو پاکستان کو غیرمستحکم کیا جائے۔ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جیت بھی بھارت کیلئے ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ پاکستان اور چین کو خدشہ ہے کہ بھارت بلوچستان میں موجود حکومت مخالف عناصر کو استعمال کر کے سی پیک منصوبے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس ضمن میں چین نے بھارت کو واضح الفاظ میں خبردار بھی کیا کہ اگر اس نے بلوچستان یا پاک چین اقتصادی راہداری کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو چین بلا تاخیر اسے منہ توڑ جواب دیگا۔ کچھ عرصہ سے ہمارا بڑا مسئلہ دہشت گردی رہا ہے جس میں بھارت پیش پیش ہے اور اس کے متعددثبوت بھی ہمارے پاس موجود ہیں۔ اس بات کے بھی ثبوت ملے ہیں کہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے را سے رابطے ہیں اور ان کو بھارت سے فنڈنگ ہوتی ہے۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا ایک ٹھوس ثبوت جو آج بھی ہمارے پاس موجود ہے وہ بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو ہے جو سی پیک کے خلاف دہشت گردی کی غرض سے پاکستان میں داخل ہوا اور پاک حساس اداروں کے ہاتھوں پکڑا گیا۔ کلبھوشن گزشتہ کئی سالوں سے تخریب کاری کی کارروائیوں میں مصروف تھا۔ وہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں سے بھی رابطوں میں تھا۔ گرفتاری کے بعد کلبھوشن نے اعترافی بیان میں کہا ’’ میں کلبھوشن یادیو اعتراف کرتاہوں کہ میں ہندوستان نیوی کا حاضر سروس افسر ہوں اور بطور کمیشنڈ افسر میری ریٹائرمنٹ 2022 میں ہوگی۔میں نے 1987 میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی اور 1991 میں بھارتی نیوی میں شمولیت اختیار کی جہاں دسمبر 2001 تک فرائض انجام دیئے۔میں نے 2003 میں انٹیلی جنس آپریشنز کا آغاز کیا اور چاہ بہار(ایران )میں کاروبار کا آغاز کیا۔میں نے 2004 اور 2005 میں کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد ’’را‘‘ کیلئے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا۔2013 کے آخر میں ’’را‘‘کیلئے ذمہ داریاں پوری کرنا شروع کیں۔میں 2016 میں ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوااور فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقاتیں کیں اور گھناؤنی کارروائیوں میں انکی مددکرتارہا۔اگر آپ ہندوستان کو میری گرفتاری کا بتانا چاہتے ہیں تو انہیں خفیہ کوڈ ’’your monkey is with us‘‘ (آپ کا بندر ہمارے پاس ہے) بتائیں تو وہ سمجھ جائیں گے کہ کون گرفتار ہوا ہے۔ہندوستان، پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے اور میری گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے۔ ریاستی دہشت گردی کا اس سے بڑا ثبوت کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ میں گوادر میں چینی انجینئرز کے ہوٹل پر بم دھماکے اور مہران بیس پر حملے میں ملوث ہوں۔سی پیک اور گوادر بندرگاہ میرے بڑے اہداف تھے۔ میں ’’را‘‘ کیلئے دہشت گردی کا نیٹ ورک بنانے، اپنے کارندوں کو فنڈنگ اور اسلحہ مہیا کرنے میں بھی ملوث ہوں‘‘۔دوران تفتیش کلبھوشن نے انکشاف کیا ہے کہ ’’را‘‘سی پیک منصوبے کو تباہ کرنے کیلئے گوادرپورٹ کو نشانہ بنا نا چاہتی ہے۔ اسی لئے مکران کوسٹ کی ساحلی پٹی پر دہشت گردانہ کارروائیوں کیلئے30 سے 40 را اہلکاروں کو گھسانا اس کے ذمہ تھا۔ ‘کلبھوشن یادیو کا حسین مبارک پٹیل کے فرضی نام سے بھارتی پاسپورٹ نمبر L9630722 بناہوا ہے اور اس پر ایران کا ویزا لگا ہوا ہے۔ پہلے پہل تو بھارت نے اسے اپنا ایجنٹ ماننے سے ہی انکار کر دیا مگر اس کا پاسپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد بھارتی دفتر خارجہ نے بھارتی شہری اور بحریہ کا سابق اہلکار تسلیم کیا۔ مگر ساتھ ہی یہ کہہ کر الٹا الزام پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی کہ کلبھوشن بلوچستان سے نہیں پکڑا گیا بلکہ اسے ایران سے گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتاری کے بعد کلبھوشن کیخلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی طرف سے پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء کی دفعہ 59 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923ء کی دفعہ 3 کے تحت مقدمہ چلایا گیا جس میں اسے تمام الزامات کا مرتکب قرار دیاگیا اور اس کیلئے سزائے موت تجویز کی گئی۔ سزائے موت سنائے جانے کے بعد بھارت آگ بگولہ ہوگیا اور کیس عالمی عدالت انصاف میں لے گیا۔ بھارت نے دی ہیگ میں واقع عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی تھی۔ جس پر عدالت نے اپنے ابتدائی حکم میں کہا تھا کہ اس معاملے کا فیصلہ آنے تک کلبھوشن جادیو کو پھانسی نہیں دی جا سکتی۔ بھارت کی قانونی ٹیم نے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کی سزائے موت رکوانے کا مطالبہ کیا۔ بھارتی قانونی ٹیم نے دلائل کاآغازکرتے ہوئے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کی سزائے موت رکوانے کا مطالبہ کیا۔ قید کے دوران پاکستان نے کلبھوشن یادیو کی اہلیہ کو اس سے ملاقات کی پیشکش خالصتاً انسانی بنیاوں پر اور اسلامی روایات کے تحت کی لیکن بھارت نے حسب معمول پاکستان کے جذبہ خیرسگالی کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی۔ بھارتی میڈ یا نے اس معاملے کو غلط رنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی عدالت کے دباؤ پر کلبھوشن یادیو کو بیوی سے ملاقات کی اجازت دی ہے۔ جبکہ ہمارے دفتر خارجہ کے مطابق عالمی عدالت کا اس پیشکش سے متعلق پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔ پاکستان نے صرف انسانی ہمدردی اور اسلامی اقدار کے تحت بھارتی جاسوس کی والدہ اور اہلیہ کو ملنے کی اجازت دی۔رواں ماہ 18 تاریخ کو عالمی عدالت انصاف مقدمے کی سماعت کررہی ہے۔ کیس میں 18 فروری کو بھارت اور 19 فروری کو پاکستان دلائل دے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں 20 کو بھارت اور 21 فروری کو پاکستان دلائل دے گا۔ جرح کی مکمل کارروائی بین الاقوامی عدالت انصاف کی ویب سائٹ پر براہِ راست نشر کی جائیگی۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس کلبھوشن کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں اورامید ہے کہ ہم یہ مقدمہ جیت لیں گے۔ لیکن ساتھ ہی یہ خیال بھی رہے کہ ہمیں بھرپور تیاری اور دلائل کے ساتھ اپنا مؤقف بیان کرنا ہے۔ کیونکہ ہمارے مقابل بھارت ہے جس کا ماٹو ہے کہ جھوٹ اتنا بولو کہ سچ لگے۔ لہٰذا ہمیں نہ صرف عدالت کو اپنے حق میں مطمئن کرنا ہے بلکہ بھارت کے منہ پر بھی طمانچہ مارنا ہے اور دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھانا ہے جو صرف اور صرف تخریب کاری اور دہشت گردی کا چہرہ ہے۔

امریکا طالبان امن مذاکرات اور پاکستان (2)

rana-biqi

گزشتہ سے پیوستہ
اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں پشتون قومیت کے حوالے سے حالیہ غیر سفارتی متنازع ٹویٹ اور وزیرستان میں حالیہ دنوں میں اُبھرنے والی پشتون تحفظ تحریک کی قیادت کی جانب سے نام نہاد خیرمقدم کئے جانے کے بعد خطے میں بھارتی ایجنسیوں کی مداخلت مزید واضح ہوکر سامنے آئی ہے جس سازش کا انکشاف بھارتی ایجنسی RAW سے تعلق رکھنے والے تخریب کار ایجنٹ نیول کمانڈر کل بھشن جادیو کے بلوچستان کے علاقے سے رنگے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ہوا تھا۔ چنانچہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے اشرف غنی کے متنازع ٹویٹ کی مذمت کئے جانے کے بعد طالبان امریکا مذاکرات کے محرک زلمے خلیل زاد اور امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف کئے جانے پر اشرف غنی بھارت گٹھ جوڑ کو یقیناًضعف پہنچا ہے چنانچہ اشرف غنی نے گزشتہ روز طالبان کو قندھار یا ننگرہار میں دفتر کھولنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ طالبان کے نمائندے نے وضاحت سے کہا ہے کہ کیونکہ امریکا افغانستان میں امن مذاکرات چاہتا تھا اِس لئے طالبان نے کسی ملک کے دباؤ کے بغیر براہ راست امریکا سے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے چنانچہ قطر میں طالبان امریکا مذاکرات میں پیش رفت کے بعد طالبان کے نمائندے نے اشرف غنی کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال طالبان کا دفتر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہی قائم رہے گا ۔ اِسی حوالے سے یہ اَمر انتہائی خوش آئند ہے کہ طالبان کے نمائندے ذبیح اللہ مجاہد نے اِس اَمر کی بخوبی وضاحت کی ہے کہ ضرورت پڑنے پر طالبان، کابل، قندھار یا ننگرہار میں دفتر کھول سکتے ہیں لیکن افغانستان میں امن کے معاملات کو آگے بڑھانے کیلئے قطر کا دفتر اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے جبکہ طالبان افغانستان میں اقتدار میں آنے پر پاکستان کیساتھ پڑوسی ملک ہونے کے ناتے باہمی مفادات پر مبنی جامع تعلقات قائم کریں گے۔ دریں اثنا مغربی سرحدو ں پر افغان شمالی اتحاد اور اشرف غنی کی حمایت سے بھارتی ایجنسیوں کے مداخلت کار افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے مغربی سرحدی علاقوں میں جو تخریب کاری کر رہے ہیں اُسکا معروضی جائزہ لینا ضروری تھا چنانچہ پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے قبائیلی علاقوں میں انتشار پیدا کرنے کیلئے بیرونی مداخلت کو ختم کرنے کیلئے نہ صرف یہ کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جو سال کے اختتام تک مکمل ہو جائیگا، بلکہ سرحدی علاقوں میں تخریب کاری کو روکنے کیلئے پاکستانی قبائل کو برطانوی حکومت ہند کے سیاہ قوانین سے نجات دلانے اور پاکستانی آئین و قانون کے تحت اُن کے سیاسی و سماجی حقوق کو بحال کرنے کیلئے اُنہیں قومی دھارے میں لایا جا رہا ہے۔ حالیہ فیصلوں کے مطابق قبائلی علاقوں میں سپریم کورٹ کی حاکمیت بحال کی گئی ہے اور پہلے مرحلے میں ڈسٹرکٹ سیشن اور سول کورٹس کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جبکہ قبائلی عوام کو خیبر پختون خواہ میں سیاسی نمائندگی دیتے ہوئے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔ ا،س حکمت عملی کے باعث ملکی خارجہ پالیسی اور قبائلی عوام کی خواہشات کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو پاٹا جا رہا ہے کیونکہ اِس سیاسی تضاد کے باعث قومی یکجہتی کو ضعف پہنچ سکتا تھا ۔ اِس امر پر بھی غور کیا جانا چاہئے کہ مغربی سرحدوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل کی اِس کڑی دھوپ میں ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ ہمارے عوام یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں اِن قومی اُلجھنوں سے نکلنے کیلئے ہمارے اربابِ اختیار مزید کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ پشتون تحفظ تحریک کو بیرونی اثرات سے پاک کرنے اور قومی دھارے میں لانے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے ؟ یہ درست ہے کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بیرونی قوتوں کی پیدا کردہ داخلی خلفشار کی کیفیت کو کنٹرول میں لانے کیلئے افواج پاکستان کے جوانوں اور آفیسرز نے قربانیاں دیکر اپنے دشمنوں پر یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کے غیور عوام ایک ہیں اور پاکستان کی مغربی سرحدوں پر بھی دشمن کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے ۔ سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان کی کچھ سیاسی قوتیں اور اُن کے حاشیہ بردار چند مادر پدر آزاد صحافی پاکستانی عوام کے اتحاد میں رخنہ ڈالنے کیلئے ڈان لیکس جیسی بھارت نواز پیلی صحافت کے ذریعے عوام کے ذہن پراگندہ کرنے میں کیوں مصروف ہیں؟ البتہ پاکستانی عوام حیران پریشان اور مضطرب ہیں کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی نئی حکومت اور عسکری قیادت کے ایک پیج پر ہونے کے باوجود بیرونی اثرات اور بدعنوانی میں ملوث چند سیاستدان ملک میں بے یقینی کی کیفیت کو مہمیز دینے میں کیوں مصروف ہیں؟ خطے میں امن و امان قائم کرنے کیلئے پاکستان کی جانب سے بھارت کو بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی دعوت دئیے جانے کے باوجود بھارت ، پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بچھا رہا ہے۔ اگر سوچ کے دھاروں کو کھولا جائے تو بھارتی RAW ایجنٹ کلبھوشن جادیو کی گرفتاری کے حوالے سے ایسے ہی عوامی محسوسات 1971 میں اگرچہ سازش کے حوالے سے سابق مشرقی پاکستان میں بھی دیکھنے میں آئے تھے جب کچھ سیاستدان اندرونی طور پر بھارت کیساتھ ملے ہوئے تھے یہی کھیل بھارت کے موجودہ مسلم دشمن وزیراعظم نریندرا مودی نے نواز شریف کیساتھ دوستی کا کھیل ،کھیل کر پاکستان فوج اور عدلیہ کے خلاف ڈان لیکس ایسے پروپیگنڈے کو ہوا دینے کی کوشش کرکے کی تھی جسے پاکستانی عوام نے الیکشن 2018 میں اپنے ووٹ کی قوت سے شکست دیکر ناکام بنا دیا تھا۔اِس اَمر کو بھلانا نہیں چاہیے کہ مغربی سرحدوں پر تخریب کاری کو ہوا دینے کیلئے بھارت نے افواج پاکستان کو مشرقی سرحدوں پر مصروف رکھنے کیلئے نہ صرف ایک تسلسل کیساتھ وادئ کشمیر میں ظلم و تشددکا بازار گرم کیا ہوا ہے بلکہ کشمیر کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر روزمرہ کی خلاف ورزی اور بھارتی سیاسی قیادت باالخصوص بھارتی آرمی چیف کی جانب سے بار بار سرحد پار فوجی آپریشن کرنے اور جنگ کی دھمکیوں دینے کی سامراجی پالیسی اپنائی ہوئی ہے ، جس کا افواج پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا ہے۔البتہ بھارت افغانستان میں طالبان امریکا امن پیشرفت کے باوجود افغان شمالی اتحاد اور اشرف غنی کی مدد سے مغربی سرحدی علاقوں میں اپنے نئے گیم پلان کے تحت کچھ بدگمان سیاسی افراد میں ڈالر کی تقسیم کے ذریعے پاکستانی سرحدی علاقوں میں نہ صرف اندرونی خلفشار کو ہوا دینے کیلئے تخریب کاری کو ہوا دے رہا ہے بلکہ کچھ بدگمان قبائلی حلقوں اور فوج کے مابین تصادم کی حوصلہ افزائی کرنے کی پالیسی پر بدستور گامزن ہے ۔ چنانچہ بھارت کے معروف تھنک ٹینک اور ریاستی حمایت یافتہ کچھ بھارتی کالم نگار اپنی تحریروں میں ایک منظم ڈِس انفارمیشن مہم کے ذریعے پاکستان میں بے چینی پھیلانے کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ حیرت ہے کہ اِن پاکستان مخالف سرگرمیوں میں کچھ پاکستانی صحافی بھی ملوث ہیں جبکہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی جو آج بھی میمو گیٹ اسکینڈل میں سپریم کورٹ آف پاکستان کو مطلوب ہیں اور جنہیں سابق صدر آصف علی زرداری اورسابق وزیراعظم نواز شریف کی حمایت حاصل تھی، عدالت کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنے کے بجائے ایک مرتبہ پھر بھارتی ٹیلی یژن چینلز پر پاکستانی فوج اور عدلیہ کے خلاف منظم پروپیگنڈے میں مصروف نظر آتے ہیں۔اندریں حالات، عوام کا اپنے قومی اداروں ، سیاسی و عسکری قیادت اور عدلیہ سے یہی سوال ہے کہ بھارت کی پاکستان دشمنی اپنی جگہ لیکن پاکستان مخالف تخریب کاری میں ملوث کچھ پاکستانی سیاسی تنظیموں اور ماضی میں اہم عہدوں پر کام کرنے والے حسین حقانی ایسے لوگوں کو کب قانون کے دائرے میں لایا جائیگا؟ (۔۔۔ختم شد)

Google Analytics Alternative