کالم

کرتارپورراہداری بڑی کامیابی

ہر کسی کو اپنے مذہب سے والہانہ لگاؤ ہوتا ہے۔اس طرح سکھ بھی اپنے مذہب سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔وہ پون صدی سے بھارت کے باڈر سے اپنے مذہبی پیشوا بابا گروناناک کے مزار، کرتارپور ناروال کو ایک دور بین سے دیکھ کر اپنے مذہبب سے لگاؤ کی پیاس بجایا کرتے رہے ہیں۔بابا گرو ناناک نے اس جگہ اپنی زندگی کے آخری ۱۸؍ سال گزارے تھے۔وہ اس جگہ کھیتی باڑی کرتے اور اپنی ماننے والوں کو تلقین کیا کرتے تھے’’ کرت کرو،نام جھپو اور ونڈھ کے کھاؤ۔یعنی محنت کرو اللہ کا نام لو اور آپس میں تقسیم کر کے کھاؤ۔ہندو خاندان سے ہونے کے باوجود، بابا گرو نانک توحید پرست انسان تھے۔ مسلمان بھی ان سے محبت کرتے تھے جب وہ فوت ہوئے تو مسلمان اُنہیں دفنانا چاہتے تھے اور سکھ جلانا چاہتے تھے۔ بابا گرو نانک کاناروال کرتار پور دریائے راوی کے کنارے کھتی باڑی کرنے کی جگہ پر ۲۲؍ ستمبر ۱۵۳۹ء کوانتقال ہوا تھا۔ راوی دریا کے کنارے کرتار پورناروال میں ہی گروناناک کا مزار واقع تھا۔ تاریخی طور پر یہ بات سامنے آئی کہ بابا گرونانک کے پہلے مزارکودریائے راوی کا پانی بہا کر لے گیا تھا ۔ پھر پٹیالہ کے ایک راجہ نے اس موجودہ مزار کو تعمیر کر کے باباگروناک کی یادگارقائم کی تھی۔یہ مزار گرداس پور، بھارت کی سرحد سے پاکستان کے اندر چار میل کے فاصلے پرناروال کرتار میں واقع ہے۔ مسلمان جیسے مدینہ سے محبت رکھتے ہیں اسی طرح سکھ بھی اس جگہ سے محبت رکھتے ہیں۔ گرداس پوروہی علاقہ ہے جسے انگریز اور ہندوؤں کی سازش سے پاکستان میں شامل کرنے کے بجائے بھارت میں شامل کر دیا گیا تھا۔ اس طرح بھارت کو کشمیر جانے کیلئے واحد زمینی راستہ فراہم کیا گیا۔جس کی وجہ سے بھارت نے تقسیم کے وقت سے مسلمان کے اکثریتی علاقے جموں و کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ ہندوؤں اور انگریزوں نے مسلمان دشمنی میں تقسیم کے متفقہ فارمولے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ کارنامہ کیا گیا تھا۔ سکھوں کے سارے مذہبی مقامات پاکستانی پنجا ب میں ہیں۔ مثلاً بابا گرونانک کی جائے وفات اور مزار، کرتار پورناروال، پنجہ صاحب حسن ابدال، گرو نانک کی جائے پیدائش ننکانہ صاحب، ننکانہ جس کا پرانا نام تلونڈی تھا۔ شاید اسی لیے قائد ا عظم ؒ نے تقسیم کے وقت سکھوں کی سیاسی لیڈر ماسٹر تارہ سنگھ کو پاکستان میں شامل ہونے کی پیش کش کی تھی۔ مگر تارہ سنگھ نے تاریخی غلطی کرتے ہوئے سیاسی ضرورت کے تحت اس مقدس ترین مذہبی پیش کش کو قبول نہیں کیاتھا۔ بعد میں اس کو پچھتاوا بھی ہوا تھا۔ ہندولیڈر شپ نے اپنی چانکیا کوٹلیا مکرانہ چالوں کو استعمال کرتے ہوئے تقسیم کے وقت پنجاب کے مسلمانوں پر سکھوں کو استعمال کر کے حملے کروائے تھے جو تاریخ کا ایک سیاہ ترین دور ہے جسے صدیوں یاد رکھا جائے گا۔ پھر بھارت کے سکھوں نے ہندوؤں کی زیادتیوں اور تنگ نظری کے خلاف کشمیر کے مسلمانوں اور بھارت کی دوسری قوموں کی طرح بھارت سے علیحدگی کا اعلان کر دیااور آزاد خالصتان کی تحریک شروع کی۔ اس تحریک میں نمایاں نام سنت جرنیل سنگھ بھنڈروالہ کا تھا۔ جسے بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دور حکومت میں آپریشن بلیو اسٹار میں گولڈن ٹمپل امرت سر پر فوج کشی کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔بعد میں بھارتی فوج کے سربراہ وزیر اعظم اندرا گاندھی کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔ بھارت کے سابق وزیر اعظم نہرو، جس نے کشمیریوں سے اقوام متحدہ میں ساری دنیا کو گواہ بنا کر وعدہ کیا تھا کہ ان کو اپنی آزاد رائے کاموقع دے گا کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ ۔ اس وعدے پر عمل نہ کر کے نہروبین الاقوامی طور پر وعدہ خلاف ثابت ہوا۔ اس کی بیٹی اور بھارت کی وزیر اعظم، اندرا گاندھی نے بھی تاریخی ظلم کر کے سکھوں کے مقدس اور مذہبی مقام گولڈن ٹمپل پر فوج کشی کر کے سنت جرنیل سنگھ بھنڈروالہ کو ہلاک کیا تھا۔ اس وقت سے سکھ قوم بھارت کے خلاف ہو گئی۔ متعصب ہندو مسلمانوں کی تاریخی بابری مسجد،جسے مغل بادشاہ ظہیر الدن بابر نے تعمیر کروایا تھاکو بھی ۱۹۹۲ء میں مسمار کر دیا ہے۔ جب ہند ؤں کی متعصب دہشت گرد اور کٹر مذہی تنظیم، راشٹریہ سیونگ سنگھ کے بنیادی رکن دہشت گرد وزیر اعظم مودی بھارت کے وزیراعظم بنے ہیں مسلمانوں کی زندگی اجیرن کر دی گئی ہے۔مسلمانوں کومذہبی عبادات سے روکا جاتا ہے۔ آذان پر پانبدی لگائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کو سر ڈھاپنے کیلئے ٹوپی پہننے سے روکا جاتا ہے۔ گائے کا گوشت کھانے کے شک میں مسلمانوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کو زبردستی اپنا مذہب اسلام چھوڑ کر ہندو بنانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت میں ہندو بن کے رہو یاپاکستان چلے جائے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق قوموں کی جنگ آزادی کو مانا گیا ہے۔ بھارت کشمیریوں کی پر امن جنگ کو دہشت گردی کہتا ہے۔کشمیر کے باڈر پور آہنی باڑلگا دی ہے۔اس میں بجلی کا کرنٹ چھوڑا ہوا ہے۔ بھارت فوجی اس پر24 گھنٹے پہرہ دیتے ہیں۔پھر بھی کشمیری نوجوانوں کو اگر وا دی کہہ کر ہلاک کر رہا ہے۔ کشمیریوں کی درجنوں اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں۔ پاکستان پر دباؤ ڈالا جاتا کہ وہ کشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی مدد بھی بند کر دیں۔ پہلے مشرقی پاکستان میں قوم پرستوں کی تنظیم مکتی باہنی بنا کر پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ کاروائیاں کروائیں۔ پھر اپنی باقاعدہ فوج داخل کر کے مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے علیحدہ کر دیا۔ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کو ذبح کیا جارہا ہے۔ کشمیریوں کی جنگ آزادی کشمیر کی عظیم تحریک پر سے دنیا کی نظریں ہٹانے کے لیے پاکستان کے علاقے ، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں علانیہ دہشت گردی کروا رہا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کو موجودہ حکمران وزیر اعظم پاکستان مدبرانہ فیصلہ کر کے بھارت کی سیاست میں ڈہنٹ ڈالنے کیلئے ایک عظیم کام کیا۔ بھارت کے ۱۲ ؍کروڑ سکھوں کے مذہبی رجانات کا خیال کرتے ہوئے ان کیلئے پون صدی سے بند راستہ کرتار پور کور ویڈ ور کھولنے کا اعلان کر دیا۔ جس سے بھارت کی سیاست میں بھونچال آ گیا۔بھارت نے اس مشترکہ انسانی ایونٹ میں شریک نہ ہو کر ایک طرف اپنی سکھ آبادی کو ناراض کرلیا دوسری طرف دنیا میں بھی بدنا م ہوا۔بھارت کے 20کروڑ مسلمان متعصب بھارت کے مظالم سے تنگ آ کرپہلے ہی سے پاکستان کے حمایتی تھے۔تو عمران خان کی کامیاب ڈپلومیسی نے بھارت میں 12 کروڑ سکھوں کی حمایت کا اضافہ بھی کر دیا۔سابق بھارتی کرکٹر بھارتی پنجاب ریاست کے وزیر سیاحت سندھو پاکستان کے سفیر بن کر اُبھرے اور اب کشمیر کے بعد بھارتی ریاست راجھستان میں نوجوت سنکھ سدھو کے جلسے میں بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کی اپوزیشن عمران خان دشمنی میں کہتی پھرتی ہے کہ عمران خان نے اپنے پہلے سو دنوں میں کیاکیا؟ عقل و دانش رکھنے والے پاکستانی حلقے تو کہتے ہیں کہ عمران خان کے وزیر اعظم بننے پرپاکستان میں کئی سالوں کے بعد فوج ، عدلیہ اور سیاست ایک پیج پر آئی ہے۔

Back to Conversion Tool

امرجیت سنگھ دلت کی بات سنو

کرتار پور راہداری کھولنے کی پاکستانی کوششیں اور پاکستان کے دیگر خیر سگالی اقدامات بھارت میں رائے عامہ بدلنے میں اہم کردار کر رہے ہیں۔یہ انہی اقدامات کا ہی نتیجہ ہے کہ بھارتی میڈیا پاکستان کی امن کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لے رہا ہے۔میڈیا کا ماننا ہے کہ نریندرمودی عمران خان کو سمجھنے میں غلطی کررہے ہیں جبکہ پاکستان کی طرف سے مذاکرات کی دعوت کا مثبت جواب نہ دینے کو حماقت قرار دیتے ہوئے مودی سرکار کومشورہ بھی دیا جا رہا ہے کہ سارک سے فرارکے بجائے بہترحکمت عملی اپنائی جائے ۔ بھارتی تجزیہ کاروں کے بعد سابق انٹیلی جنس چیف امرجیت سنگھ دلت بھی کپتان کے معترف نکلے ہیں اگلے روز انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت عالمی قوتیں ہیں۔ بات چیت ہی پیش رفت کا واحد راستہ ہے، عمران خان کو ارادوں پر عمل کا موقع دینا چاہیے۔

عمران خان خطے میں تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جیسا معقول آدمی نہیں دیکھا۔ چندی گڑھ میں ہونے والے فوجی لٹریچر میلے کے موقع پر جس میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے ممبئی حملہ کیس سے متعلق وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کے بعد بھارت عمران خان سے سب سے زیادہ توقع رکھ سکتا ہے۔امرجیت سنگھ نے پہلی بار اس قسم مشورہ نہیں دیا بلکہ وہ اپنی حکومت کو جنرل باجوہ کے لیے ریڈ کارپٹ بچھانے کی بات بھی کرچکے ہیں۔
اسی طرح لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ کمال داوڑ نے بھی کہا کہ عمران خان کو کونے میں نہ دھکیلیں۔ عمران خان خود دار انسان ہیں وہ جنوبی ایشیا میں چیزیں تبدیل کر سکتے ہیں۔بھارتی رائے عامہ میں یہ مثبت تبدیلی حوصلہ افزا ہے کیونکہ مودی سرکار جس ڈگر پر ملک کو لے جا رہی ہے وہ سرا سر تباہی کا راستہ ہے۔مودی اور بی جے پی نے ملک کے سیکولرزم کا ڈھانچہ بری طرح مجروح کیا ہے ۔ اقلیتوں کے حقوق کی صلبی اب بھارت کی پہچان بن چکی ہے جبکہ پڑوسی ممالک کیخلاف سازشوں کے علاوہ بے سروپا سنگین الزام تراشی سے دباو میں رکھنا بھارتی حکمرانوں کا وتیرہ رہا ہے۔خصوصا پاکستان کو اس معاملے میں کئی عشروں سے نشانے پر رکھا ہوا ہے۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بھارت میں گائے بھی مر جائے تو الزام پاکستان پر دھر دیا جاتا ہے۔بعض ایسے سنگین الزام دھرے گئے کہ بات جنگی تصادم تک پہنچتے پہنچتے رہ گئی۔ مثلا 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تو بلا تحقیقات آئی ایس آئی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔2001 میں بھارتی پارلیمان پر پانچ مسلح افراد نے حملہ کر دیا تھا جس میں بارہ افراد ہلاک ہوئے۔ بھارتی حکومت نے حملہ کا الزام پاکستان پر تھوپ دیا جس سے دونوں ملکوں کے درمیان سخت کشیدگی کی فضا پیدا ہو گئی اور دونوں ممالک حالت جنگ کے قریب آ گئے۔پاکستان نے اسے خود ساختہ ڈرامہ قرار دیتے ہوئے ان الزامات کی سختی سے تردید کی لیکن بھارت کی ایک ہی رٹ رہی۔پھر کیا ہوا کہ 2013 میں بھارتی وزارت کے سابق افسر انڈر سیکرٹری آر-وی-ایس مانی نے عدالتی بیان میں یہ راز افشا کیا کہ حملہ کے پیچھے خود بھارتی حکومت کا ہاتھ تھا تاکہ دہشت کے خلاف سخت قوانین پارلیمان سے منظور کروائے جا سکیں۔یہ بیان حلفی انہوں نے اعلی عدالت میں کسی اور کیس کی انکوائری کے سلسلے میں سماعت کے دوان دیا۔ آر وی ایس مانی نے اپنے بیان حلفی میں ایک ایسی بات کر دی تھی کہ ہلچل مچ گئی۔ انکشاف کیا گیا کہ بھارت سرکار بڑے مقاصد کیلئے اپنے ملک میں دہشتگردی کی مرتکب رہی ہے۔اس نے حوالہ دیا کہ 2001میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونیوالا حملہ ہو یا 2008میں ممبئی میں ہونیوالی دہشت گردی کی کارروائیاں , حکومت کے اپنے ادارے ملوث تھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان واقعات کے بعد بھارت میں POTA اور UAPA ایکٹ منظور ہوئے۔یوں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کو دہشت گردی قرار دے کر کچلنے کی راہ ہموار کر لی۔امرجیت سنگھ دلت چونکہ را کے سابق چیف رہے ہیں اور انہیں حقائق کا اچھی طرح علم ہے کہ ماضی میں بھارتی حکومتیں پاکستان کو دباو کا شکار رکھنے کے لیے امن کے ساتھ کیا کھلواڑ کراتی رہیں۔اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے تاکہ خطہ امن کی راہ اختیار کر سکے۔اے ایس دلت جیسے ذی ہوش اگر امن کی بات کے لیے بولتے ہیں اور مودی انتظامیہ کی حالیہ جارحانہ روش کو مسترد کرتے رہے تو پھر کوئی وجہ باقی نہیں رہتی کہ یہ کشیدگی دوستی میں نہ بدلے۔بس ضرورت صرف اخلاص کی ہے۔عمران خان تو عندیہ دے چکے ہیں کہ تم ایک قدم بڑھو ہم دو قدم بڑھائیں گے۔
*****

صدرمملکت اورچیئرمین نیب کاکرپشن کے حوالے سے فکرانگیزخطاب

adaria

کرپشن کے حوالے سے صدرمملکت اور چیئرمین نیب کا خطاب انتہائی قابل توجہ ہے، صدرمملکت نے اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ مشرقی پاکستان کرپشن کی و جہ سے الگ ہواتھا پھرچیئرمین نیب نے کہاکہ اگرکرپشن کے خلاف سزائے موت ہوتو آبادی کم ہوجائے گی یہ دونوں بیانات موجودہ حالات کے اعتبارسے انتہائی اہم ہیں ،ملک کادولخت ہوناکوئی چھوٹاسانحہ نہیں یعنی کہ کرپشن ایک ایسا ناسورہے جس سے ملکوں میں شکست وریخت کاعمل شروع ہوجاتا ہے پھرسونے پہ سہاگہ یہ کہ ہمارے ملک میں تو کرپشن اس قدرسرایت کرچکی ہے اس کاخاتمہ بہت مشکل نظرآتاہے ،مسئلہ دراصل یہ ہے کہ یہ معاملہ صر ف ہمارے ملک کاہی نہیں دنیابھرکاہے ہرسال بین الاقوامی سطح پرچھبیس کھرب ڈالرسالانہ کرپشن کی نذرہورہے ہیں ان کو کیسے روکاجاسکتاہے یہ ایک ایسی دردسری ہے جس سے کسی نہ کسی صورت جان چھڑانالازمی ہے ،کیا ہمارے ملک کا ہردوسراشخص کرپٹ ہے اس کاذمہ دارکون ہے؟ ہمیشہ الزام عائد ہوتا ہے کہ گزشتہ حکومت سے خزانہ خالی ملا،کرپشن میں مال ودولت بہادی گئی کیا یہ عوام کاقصورہے؟قطعی طورپرنہیں، غریب بے چاراتوچائے پیئے تو اس پربھی ٹیکس اداکرے ماچس کی ڈبی تک خریدی تواس کابھی ٹیکس دے گا لہٰذا کرپشن کے ذمہ داروہ بااختیارحکمران ہیں جو خزانے کو خالی کرتے ہیں غریب عوام توبھرتی ہی رہتی ہے۔گزشتہ روز انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر ایوان صدر میں منعقدہ نیب کے زیراہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہاہے کہ اربوں ڈالر چوری کر کے ملک سے باہر بھیجے گئے اور دو چار ارب کیلئے بھیک مانگتے پھرتے ہیں،خوف خدا ہو تو قانون اور عدالت کی ضرورت ہی نہ ر ہے، کرپشن کم کرسکتے ہیں مگر اس پر مکمل قابوپانا مشکل ہے، پاکستان سے کرپشن کا لیکج بند کرنا ہوگا اور بدعنوان عناصر کے اثاثوں کے حوالے سے پوچھا جانا چاہیے۔ پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بدعنوانی ہے، بدعنوانی پوری انسانیت پر حملہ ہے، کوئی معاشرہ بدعنوانی سے پاک ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ قانون پر عمل نہ ہونے سے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوئے ۔ آنے والی نسلوں کیلئے بدعنوانی سے پاک معاشرے کا ایجنڈا اہم ہے حکومت اورحکمران کوسچا اورامانت دارہونا چاہیے، اگر قانون ہوں اوراس پرعملدرآمد نہ ہو تو اس قانون کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔اس موقع پرچیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ95 ارب کہاں خرچ ہوئے یہ پوچھنا کون سی گستاخی ہوگئی، ڈکٹیشن لینگے نہ انتقام، جنکے پاس پہلے موٹر سائیکل تھی اب دبئی میں ٹاور ہیں، نیب نے پوچھ لیا تو کون سا جرم کیا، جو کریگا وہ بھگتے گا، یہ غیر اہم ہے کہ وہ وزیراعظم تھے یا وزیر اعلیٰ۔ حکومت اور ریاست میں بنیادی فرق ہے جو سب کو ذہن نشین کرنا چاہیے ، حکومتوں نے آئین کے تحت آنا ہے اور آئین کے تحت انہیں جانا ہے اسلئے کسی حکومت وقت کو یہ احساس ناگواری نہیں ہونا چاہیے کہ نیب میں تابعداری کا جزوذرا کم ہے یا یہ حکومت وقت کی طرف بھی کیوں دیکھ رہا ہے،اگر آپ گزشتہ ادوار کی کرپشن کو دیکھ سکتے ہیں تو آپ پر کوئی آئینی یا قانونی قدغن نہیں ہے کہ آپ حکومت وقت کی کسی کرپشن کو نہیں دیکھ سکتے یا اسکو نظر انداز کرنے کو ئی جواز آپکے پاس ہے، جب بھی کسی سے پوچھا ہے یہ گزارش سامنے رکھ کر پوچھا ہے کہ کسی کی عزت نفس کو ٹھیس نہ پہنچے لیکن اس میں اتنا حساس بھی نہیں ہونا چاہیے کہ اگر آپ سے ایک بات پوچھی گئی ہے تو جواب دینا آپ کے فرائض میں شامل ہے اور پوچھا بھی صرف اس وقت ہے جب دیکھا ہے کہ پانچ لاکھ کی جگہ50 لاکھ روپے خرچ ہوئے اور 50 لاکھ کی جگہ 50 کروڑ روپے خرچ ہوئے اور 50 کروڑ کی جگہ اربوں میں خرچ ہوا جس کا نہ تو کوئی جواز تھا اور نہ وجوہات تھیں کہ وہ مطمئن کر سکیں کہ ہم نے ایسا کیوں کیا۔ سوائے اسکے کہ ہم اس عہدے پر متمکن تھے اور ہم یہ کر سکتے تھے ،یہ غریب عوام کا پیسہ ہے،پاکستان کی عوام اتنی معصوم اور سادہ لوح نہیں ہے کہ وہ اب اچھے اور برے میں تمیز نہ کر سکیں۔ انہیں پتہ ہے اجالا کیا ہے ، اندھیرا کیا ہے، تیرگی کیا ہے، کون اجالا دور کر رہا ہے اور کون اندھیرے پھیلا رہا ہے،کون مایوسیوں کی گھٹائیں برسا رہا ہے اب ایسا نہیں ہو گا۔

ملکی ترقی میں کراچی کااہم کردار
وزیر اعظم عمران خان نے کراچی میں انتہائی مصروف دن گزارا اورمختلف لوگوں سے ملاقاتیں کیں جس میں شہرقائدکودرپیش مسائل پرسیرحاصل گفتگو کی گئی۔ یہ سب کومعلوم ہے کہ کراچی پاکستان کامعاشی حب ہے مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ایک مختلف سوچ لے کر آئی ہے بزنس اور سرمایہ کاری کوتحفظ دیں گے درآمدات اور برآمدات میں فرق کو کم کرنے پر بھر پور توجہ ہے کاروبارکی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی ایمنسٹی اسکیم سے استفادہ کرنے والوں کو نوٹس دیکر اب بلا یا یا ہراساں نہیں کیا جائے گاکرپشن کا مکمل خاتمہ کرکے رہیں گے بہت جلد اس مشکل وقت سے نکل آئیں گے دائمی امن ہی کراچی کو ترقی کی منازل پر لے جاسکتاہے ۔ صحت ، تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں بھی وفاق سندھ حکومت کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گا تجاوزات آپریشن میں کسی سے زیادتی نہیں ہوگی متاثرین کا ازالہ کیا جائے گا۔ پچاس سال پرانی لیز والوں کیلئے پٹیشن دائر کی جائے گی۔ انٹیلی جنس اداروں کے مابین معلومات کے تبادلے کے نظام کومضبوط بنایا جائے۔ دہشت گردوں کو ہر صورت بے نقاب کیا جائے گا کراچی کو امن کی طرف واپس لا کر جانا ہے اور کراچی کی روشنیوں کو بحال کرنا ہے۔
حج کوٹہ میں اضافہ خوش آئنداقدام
حج بیت اللہ ایک ایسی سعادت ہے جوہرمسلمان حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے ، حرم پاک اورمدینہ منورہ جانااللہ اور اس کے رسولﷺ کی جانب سے ایک خاص کرم ،مہربانی ،عنایت ہے جو بھی یہ حاصل کرتا ہے یقینی طورپراپنی آخرت کوسنوارتاہے تاہم یہ ضرور ی ہے کہ جب اللہ رب العزت حج مبرورعطافرمائے تو اس کے بعدبقیہ زندگی اسلامی احکامات اورقرآنی تعلیمات کے تحت گزارناچاہیے ،ہرسال حج مبارک آتاہے چونکہ پاکستان اورسعودی عرب کے خصوصی تعلقات ہیں اور الحرمین الشریفین کی حفاظت کے لئے مسلمان کابچہ بچہ کٹ مرنے کیلئے تیاررہتاہے ۔حج کے حوالے سے پا کستان اور سعودی عرب کے درمیان حج2019کا معاہدہ طے پا گیا ہے ۔ ترجمان مذہبی امور کے مطا بق حج معاہدہ پر پاکستان اور سعودی وزرا نے دستخط کر دئیے ہیں ۔ پاکستان کے حج کوٹہ میں5ہزار افراد کا اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ آئندہ سال ایک لاکھ 84 ہزار 210افراد حج ادا کریں گے،روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ میں پاکستانی حجاج کو مرحلہ وار شامل کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے، پاکستان سے آئندہ سال ایک لاکھ 84 ہزار 210 افراد حج ادا کر سکیں گے۔ ابتدائی طور پر صوبہ سندھ کے 35 ہزار حجاج مستفید ہونگے۔ منصوبے کے تحت حاجیوں کی تصدیق و امیگریشن کا عمل کراچی ایئرپورٹ پر ہو گا۔معاہدے کی رو سے پاکستانی حجاج کو ای ویزادیا جائے گا۔

10 دسمبر اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی

10 دسمبر انسانی حقوق کے دن کے طورپر یاد کیا ہے۔1948 میں اقوام متحدہ نے اس دن انسانی حقوق کے تحفظ اور آگاہی کیلئے عالمی منشور جاری کیا۔جنرل اسمبلی میں رائے شماری کے وقت اس کے حق میں 48 ممالک نے رائے دی جبکہ آٹھ ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ 30 دفعات پرمشتمل اس منشور کے تحفظ اورتجاویز کیلئے ایک مستقل کمیشن برائے انسانی حقوق بھی قائم کیا گیا، جو مختلف اوقات میں عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔اس منشور کی ہرہرشق میں انسانی آزادی ، مساوی حیثیت ، آزادانہ نقل و حرکت ،آزادی اظہار، باوقار زندگی ، سماجی تحفظ کا حق، مذہبی آزادی اور تشدد، ظلم و ستم ، غیر انسانی اورتوہین آمیز سلوک یا سزا کا نشانہ نہ بنائے جانے کو یقینی بنایا گیا ہے۔جس طرح انسانی حقوق کا عالمی منشور پوری شدومد کے ساتھ منظور کرایا گیا مگر دیکھنے میں آیاہے کہ اسی شدومدکیساتھ اس پر عملدرآمد نہیں کروایا جارہا ہے۔جہاں جس طاقتور ملک کا زورلگتا ہے وہ انسانی حقوق کی آڑ میں عالمی سیاسی مفادات کیلئے سب کچھ تج دیتا ہے۔اس دن کو منانے کا بنیادی مقصددنیا بھر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔یہ خلاف ورزیاں انفرادی سطح پر ہوں یا اجتماعی ہر دو سطح پرپورے کا پورا معاشرہ ظلم و جبر کا شکار ہو جاتا ہے۔ فلسطین اورمقبوضہ کشمیر اس کی نمایاں مثال ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے انسانیت سوز مظالم اور سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں کے ستائے کشمیری اقوام عالم کی بے حسی پر شکوہ کناں رہتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں تعینات سات لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں کو مختلف کالے قوانین کے تحت لامحدود اختیارات حاصل ہیں جن کی آڑ میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید کئے جا چکے ہیں جبکہ پندرہ ہزار کے قریب افراد لاپتہ ہیں جن کے عزیزو اقارب اپنے پیاروں کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی تسلط کی سیاہ ترین تاریخ کا ایک باب ہزاروں گمنام قبریں بھی ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل گمنام قبروں کی تحقیقات کے لیے بھارت سے آزاد تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ کرتی رہتی ہے لیکن اس پربھارت کے کان پرجوں تک نہیں رینگتی۔ دوسری جانب بلیک سیفٹی ایکٹ کے کالے قانون کے تحت قابض انتظامیہ نوجوانوں کو جیلوں میں ڈال کران کا مستقبل تباہ کررہی ہے۔ بھارتی فوج کے شر سے کشمیری بچے بھی محفوظ نہیں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایشین سینٹر فار ہیومین رائٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ وادی کی جیلوں میں بڑی تعداد معصوم بچوں کی ہے۔ آرمڈ فورسز سپیشل پارز ایکٹ کے بدنام زمانہ قانون کے تحت بھارتی فوج کیلئے کسی بھی کشمیری کی جان لینا معمولی بات ہے۔ اس غیر انسانی قانون کے خاتمے کا ہیومین رائٹس واچ سمیت متعدد بین الاقوامی تنظیمیں مطالبہ کرچکی ہیں لیکن سب بے سود۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کالے قانون افسپا کو انصاف کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے چکی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے پروگرام ڈائریکٹر ششی کمار ویلاٹھ کی طرف سے جاری بیان میں بھارتی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ افسپا 1958ء اور 1990ء کی فوری واپسی کیلئے اقدامات کرے۔ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اہم مسئلہ ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کروانا ہمارا فرض ہے۔ ہم نے دونمائندے مقبوضہ کشمیربھیجے۔ ان کی رپورٹس میں تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کونسل ان پر غور کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے ریاست جموں و کشمیر میں رائے شماری کیلئے کئی قراردادیں پاس کیں۔ مگر بھارت ان قراردادوں پر عمل کرنے کی بجائے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم بند کرائے۔ عالمی برادری بھی کچھ نہیں کر رہی۔ وہ دوہرے معیار پر عمل کر رہی ہے۔ جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور میں تو فوراً عمل ہو گیا۔ مگر کشمیر اور فلسطین میں مسلمان پس رہے ہیں اورعالمی برادری خاموش ہے۔عالمی برادری کو یہ روش ترک کرنا ہو گی۔ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک متنازعہ علاقہ ہے جس میں کشمیریوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔ یہ حق عالمی ادارے کی قراردادوں نے اسے دلا رکھا ہے لیکن بھارت آج تک حیلوں بہانوں سے استصواب رائے کو موخر کر کے شاید یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ کشمیر اس کا حصہ بن چکا ہے۔ حالانکہ کشمیریوں نے ہر موقع پر ثابت کیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ بھارتی یوم جمہوریہ کو کشمیری یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اور پاکستان کے یوم آزادی (14 اگست) کو وہاں جشن کا سماں ہوتا ہے۔ اسی سے کشمیریوں کے جذبات کا اندازہ ہو جاتا ہے اور اگر بھارتی قیادت کو اس میں کوئی شک و شبہ ہے تو استصواب رائے کا راستہ کھلا ہے، بھارت اس کا اہتمام کرے اسے اندازہ ہو جائے گا کہ کشمیری کیا چاہتے ہیں۔ کشمیر (مقبوضہ) میں جو انتخابات ہوتے ہیں کشمیریوں کی نمائندہ قیادت ان کا بائیکاٹ کرتی ہے۔ اس بائیکاٹ کے بعد جو چند فیصد ووٹ پڑتے ہیں ان کی بنیاد پر تو کشمیریوں کی رائے سامنے نہیں آتی۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لئے بھی بھارت کی مرکزی حکومت نے بہت سے پاپڑ بیلے جو کشمیری پنڈت کشمیر چھوڑ کر چلے گئے تھے انہیں واپس لا کر کشمیر میں آباد کرنے کے لئے پنڈتوں کی الگ بستیاں بنانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا۔ بی جے پی نے پہلی مرتبہ کشمیر کے پارلیمانی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے بھی بہت سے پاپڑ بیلے پانچ مرتبہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا حالانکہ ریاست کے گورنر نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا اس کے باوجود بی جے پی ریاستی انتخابات میں 25 سے زیادہ نشستیں جیت نہ سکی اور وہاں بی جے پی کی حکومت بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا تو ریاست میں گورنر راج لگا دیا گیا بالآخر بی جے پی کو مفتی محمد سعید کو وزیر اعلیٰ قبول کرنا پڑا اور پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی۔ کشمیر کے حالات بھی اس کے لئے ساز گار نہیں ہیں۔ کشمیری قیادت کی آواز کو اس وقت دنیا میں سنا جا رہا ہے۔ کشمیریوں نے اپنی جدوجہد کو کلی طور پر سیاسی جدوجہد کے قالب میں ڈھال لیا ہے۔ وہ سیاسی جدوجہد کے ذریعے کشمیریوں کے حق کے حصول کی کوشش کررہے ہیں جس پر دنیا کو کوئی اعتراض نہیں بلکہ کشمیریوں کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا ہو رہے ہیں۔ان حالات میں بھارت کے لئے یہی مناسب ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق کشمیر کے مستقبل کی منصوبہ سازی کرے۔ کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق دے جو بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے بھی تسلیم کیا تھا اور اقوام متحدہ میں کشمیر میں ریفرنڈم کا وعدہ کیا تھا۔ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیئے بغیر کشمیر میں بھارت کی کسی بھی سیاسی جماعت کی کوئی چال کامیاب نہیں ہو سکتی۔

*****

معیار حق کون ہے

میرے سامنے تبصرے کے لیے جو کتاب ہے اس کا پہلا نام’’کیا جماعت اسلامی حق پر ہے‘‘ جس کو مولانا عبدالرحیم اشرفؒ نے ۱۹۵۶ء کو فیصل آباد سے شائع کیا تھا۔ اسی نام سے اس کا دوسرا ایڈیشن ۱۹۶۵ء میں، مکتبہ تجلی دیو بند بھارت سے مولانا عامرعثمانی ؒ نے شائع کیا تھا۔ مولانا عامر عثمانی ؒ بھتیجے ہیں، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کے ،جو پاکستان کے بنانے میں بانیِ پاکستان قائد اعظم ؒ کے دست راس تھے۔ اسی کتاب کو’’ معیارحق کون ہے‘‘ کے نئے نام اور نئی ترتیب وحواشی کے ساتھ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد ،میں فقہ کے پروفیسر اورہائر انسٹی ٹیوٹ آف فتویٰ اسٹڈیز کے ڈاریکٹر جناب ڈاکٹر عبدالحی ابڑو اور شکیل عثمانی صاحبان نے شائع کیا ہے۔ہم نہ عالم ہیں اور نہ کچھ اور صرف قرآن و حدیث کے طالب علم ہیں۔ عرصہ نصف صدی سے اسی کام پر لگے ہوئے ہیں۔قرآن حدیث کے متعلق افادہ عام کے لیے ہمارے مضمون ملک کے اخبارات اور رسائل میں ایک عرصے سے شائع ہو رہے ہیں۔ اللہ ہم سب کو قرآن اور حدیث کے علم سے واقفیت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔تحریک آزادیِ پاکستان کی اُٹھان بانی پاکستان محمد علی جناحؒ نے دو قومی نظریہ کی وجہ سے ہوئی تھی۔ کانگریس کے علماء جن میں دیو بند کے مولانا حسین احمد مدنی ؒ پیش پیش تھے، نے ہنددؤں کے مؤ قف کی تاہید میں ،قومیں وطن سے بنتی ہیں کی وکالت کی تھی۔وہ متحدہ قومیت کا پرچار کرتے رہے ہیں۔ گو کہ اس مسئلہ کو شاعر اسلام علامہ اقبالؒ نے اپنے اس ایک شعر میں واضح کیا تھا۔ علامہؒ فرماتے ہیں:۔

اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومی رسولؐ عاشمی
تحریک آزادیِ پاکستان کے دوران ،مسئلہ قومیت پرمولانا موددیؒ نے مفکر پاکستان علامہ اقبال ؒ اور بانیِ پاکستان قائد اعظمؒ کی فکر کی تائید کرتے ہوئے پے در پے مضمون لکھ کر اپنے رسالے ترجمان قرآن میں شائع کیے تھے۔جس سے قائد اعظم ؒ کے تحریک پاکستان کے دوران دوقومی نظریہ کو تقویت پہنچی تھی۔یہ مضمون ’’تحریکِ آزادی ہند اور مسلمان حصہ اول دوم‘‘ کتابی شکل میں اب بھی موجود ہیں۔مسئلہ قومیت پر مولانا حسین احمد مدنیؒ نے مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ ،بانی پاکستانؒ قائد عظم ؒ اور حکومت الہیہ کا تصور پیش کرنے والے مولانا موددیؒ کے مخالف تھے۔ ان پر کفر کا فتوے جاری کیے تھے جس کے اثرات آج تک ان کے ماننے والوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ مولانا موددیؒ اپنی اصل فکر’’ حکومت الہیہ‘‘ کے قیام کے لیے بھی اپنے رسالے میں عام مسلمانوں کو دعوت دیتے رہے۔ پھر ۱۹۴۱ء میں لاہور میں جماعت اسلامی بنی۔ حکومت الہیہ یااسلامی نظام حکومت قائم کرنے کی جدو جہد کرنے والے کارکنوں کو جن اوصاف کی ضرورت ہیں اس کو جماعت اسلامی نے اپنے دستور میں عقیدے کے طور پر لکھا تھا۔ وہ یہ ہے۔’’اس عقیدے کے دوسرے جزیعنی رسولؐ اللہ کے رسولؐ اللہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ رسولؐ اللہ کے سوا کسی انسان کو معیار حق نہ بنائے۔کسی کو تنقید سے بالا تر نہ سمجھے۔ کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہ ہو، ہر ایک کو خدا کے بتائے ہوئے معیار کامل پر جانچے اور پر کھے اور جو اس معیار کے لحاظ سے جس درجہ میں ہو، اُس کو اُسی درجے میں رکھے‘‘ جماعت اسلامی اسی بنیادی دستور پر اپنے کارکنوں کو عمل کرنے کی پابند بناتی ہے۔ گو کہ جماعت اسلامی کے دستور پر عمل کرتے ہوئے حکومت الہیہ کو قائم کرنے والی جماعت اسلامی اب تناور درخت بن چکی ہے۔ اس کے اثرات ساری دنیا میں موجود ہیں۔ پھر بھی عام حضرات کی معلومات کے لیے ’’کتاب معیار حق‘‘ میں درج اس عقیدے پر ہم تبصرہ کرتے ہیں۔ کتاب کے مقدمہ میں مشہور معروف عالم دین جناب خلیل الرحمان چشتی نے صفحہ ۲۱ تا ۴۳ تک قرآن اور حدیث سے ثابت کیا اور اس کی تاہید،شیخ الہندؒ ، مفتی محمد شفیعؒ ، حضرت تھانوی ؒ اور مفتی محمد تقی عثمانیؒ نے کی کہ جماعت کے دستور میں درج یہ عقیدہ ہل سنت والجماعت کے عقیدے کے عین مطابق ہے۔جماعت اسلامی کے دستور میں درج معیار حق کتاب کے صفحہ ۱۳؍ دیباچہ میں لکھا ہے کہ’’ ۱۹۵۴ء جماعت اسلامی کی اس شق پر مولا نا حسین احمد مدنی، ؒ جماعت کو گمرہ اور اہل سنت سے خارج کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی صحابہؓ کرام رضوان اللہ علیہم اجمہین کی توہین کی مرتکب ہے۔بانیِ جماعت اسلامی نے اس کاجواب صفحہ ۱۷۰؍ پر اس طرح دیا کہ’’ تنقید کے معنی ایک جاہل آدمی تو سمجھ سکتامگر کسی صاحب علم آدمی سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اس لفظ کا یہ مفہوم سمجھے گا۔تنقید کے معنی جانچنے اور پرکھنے کے ہیں۔ یہ مطلب آخر کیسے نکل آیا کہ ’’ صحابہؓ کرام کے محادو فضائل، کتاب اللہ اوراحدیث نبویہ میں مذکورہ ہیں، وہ واجب التسلیم نہیں ہیں‘ ‘ تاب کے صفحہ ۹۶ میں امام ابو حنیفہ ؒ کا عقیدہ لکھا ہے’’ کہ جو بات ہم تک رسولؐ اللہ کی جانب سے آئے وہ سر آنکھوں پر اور جو بات صحابہؓ سے ہم تک پہنچے اُس میں ہم(بعض) کو پسند کریں گے‘‘ امام مالکؒ فرماتے ہیں’’ رسولؐ اللہ کے سوا، ہر شخص کی بات پر تنقید کی جائے گی اور ضرورت پڑے تو اسے رد بھی کیاجا سکے گا‘‘(حجۃ اللہ البالغہ) کتاب کی صفحہ ۱۲۲ پر درج ہے کہ کسی صاحب نے دارلعلوم دیوبند سے مولانا موددیؒ کے متعلق فتویٰ پوچھا۔جواب یہ ملا۔۱:۔جو لوگ موددی کہلاتے ہیں ان کو معاذ اللہ کافر نہ کہنا چاہیے،ان سے کچھ اختلاف ہو سکتاہے،مگر ایسے اختلافات سے کسی کو کافر بتلانے والا گنا گار ہے۔۲:۔مودد ی کو کافر کہنا غلط ہے، ان کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے۔( محمود احمد صدیقی صاحب،مفتی دارالعلوم دیو بند، ۸رمضان ۱۳۸۴ھ جنوری ۱۹۶۵ء)۔ ہمارے نذدیک یہ صحیح مؤقف ہے اور مولانا حسین احمد مدنیؒ کا فتویٰ غلط ہے۔ کتاب کے صفحہ ۱۲۶؍؍ تا۱۳۷؍ تک معیار حق کے بارے میں علمائے عرب جن میں مفتی اعظم فلسطین السید الحسینی،الشیخ عبداللہ کنون مراکش۔ الشیخ عبدالعزیز بن باز النجدی حجاز،الشیخ حسنین محمد مخلوف مصر اور الشیخ علی الطنطاوی دمشق شامل ہیں، سب نے جماعت اسلامی کے دستور میں درج عقیدے کو صحیح قرار دیا۔ صفحہ ۱۴۰ تا۱۴۷ تک علمائے ہند جن میں مولانا محمد سعید ندوی،مفتی دارلعلوم ندوہ العلمای لکھنو،مولانا ابو العرفان، شیخ الحدیث، دارلعلوم ندوہ العلماء لکھنو،مولانا محمد ظہورر ندوی،مولانا عبدلحفیط۔ فاضل دیوبند،مولانا محمد علیم عطا،مولانا عبدلرحمان چشتی، سابق صدر مدرس دارلعلوم خیلیہ ٹونک، مولانا مفتی عبدلعادی، قاضی ریاست بھوپال،مولانا عبدلودود ندوی، مولانا عبیداللہ رحمانی محدث مبارک پوری،مولانا عبدالماجد دریا بادی اور مولانا معین الدین احمد ندوی نے بھی جماعت اسلامی کے عقیدہ کو صحیح کہا ہے۔صفحہ ۱۴۹ سے۱۶۲ تک پاکستان کے ۸ ؍اور علمائے مشرقی پاکستان کے۵؍ نے بھی یہی تصدیق کی ہے۔ صفحہ ۱۶۹ سے۲۱۹ تک جماعت اسلامی کے بانی اور جماعت کا دستور مرتب کرنے والے ۸؍ علماء کی طرف سے وضاحت بھی پیش کر دی ہے کہ جماعت اسلامی کے دستور میں درج صحابہؓ کے متعلق وہی عقیدہ ہے جو امام ابو حنیفہؒ اور امام مالک ؒ کا ہے۔جماعت اسلامی کا وہی عقیدہ ہے عرب و عجم کے علماء اور پوری امت کا ہے۔ اس کا واضع ثبوت یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے مولانا حسین احمد مدنیؒ کے فتویٰ کی تحریر جسے انہوں نے اپنے مکتوب گرامی میں جماعت اسلامی کے کفر تک پہنچانے والے عقیدے کے ثبوت کی حیثیت سے پیش کیا تھا، علمائے عرب و عجم کو پیش کیا۔ ان سب علماء نے اس پر افسوس کا اظہار کیا اورجماعت اسلامی کے دستور میں درج عقیدے کو صحیح قرار دیا۔ کتاب کے آخر میں استدعا کی گئی ہے کہ اس تصریحات کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی دیانت دار اور خدا ترس اور عند اللہ مۂولیت پر یقین رکھنے والے شخص کے لیے اس امر کا امکان باقی نہیں رہ جاتا ہے کہ وہ جماعت اسلامی کے دستور کے وہ معنی بیان کرے جن سے انکار انبیاء اور توہین صحابہؓ کو کوئی پہلو نکلتا ہو۔ صاحبو!مولانا موددی ؒ نے پہلے حکومت الہیا کا تصور پیش کیا۔ پھر جماعت اسلامی بنائی جو آج تک اس کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ علامہ اقبال ؒ قائد اعظم ؒ اور موددی ؒ کے دوقومی نظریہ کی مخالفت کرنے والے مولاناحسین احمد مدنی ؒ علماء نے معیار حق کافتویٰ جاری کر دیا۔ اُس زمانے میں انگریز کی حکومت تھا اور علماء انحطاط میں ڈوبے ہوئے تھے۔ وہ اسلام کے اس تصور کو دیوانے کی بڑ کہتے تھے۔جب مولانا موددیؒ نے حکومت الہیا کا تصور دیا تو عام علماء نے یہ بھی فتویٰ جاری کہا تھا کہ یہ شخص امام مہدی بننا چاہتا ہے۔ آج اللہ کا شکرہے کہ مولانا موددیؒ کے اعلان اور پھر اسلامی دستور کو پاکستان میں منظور کرنے پر پاکستان کی سب پارٹیاں اپنے منشور میں نظامِ اسلامی کی شق رکھتیں ہیں۔ علماء کو چاہیے کہ فتوے دینا بند کریں ۔ اللہ سے دعاء ہے کہ وہ مسلمانوں کو اس انحطاط سے باہر نکالے اورہم سب مملکت اسلامیہ پاکستان جو ایک مثل مدینہ ریاست ہے، میں حکومت الہیا، نظام مصطفےٰ، مدینے کی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی کوشش میں موجودہ حکومت کا ساتھ دیں۔’’معیار حق ‘‘پر وہی ہے جو ارکانِ اسلام کا پابند ہے اور اللہ او رسولؐ اللہ کے لائے ہوئے نظامِ اسلام کو اس ملک میں نافذ کر نا چاہتا ہے۔ یہ ہی اس کتاب’’ معیار کون ہے‘‘ کا پیغام ہے۔

مثبت سمت متعین کر دی گئی

تحریک انصاف کی حکومت سو دن مکمل کر چکی ہے ان سو دنوں میں اگرچہ دودھ اور شہد کی نہریں تو نہیں بہائی جا سکیں مگر ایک مثبت سمت متعین کر دی گئی ہے جس سے اچھے کی امید قائم ہو گئی ہے کہتے ہیں کہ اگر خیالات اچھے ہوں سوچ مثبت ہو تو کامیابی ضرور ملتی ہے گو کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ بہت جلد بازی میں ہیں جن کا گمان ہے کہ آج پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی توکل حالات بدل جائیں گے ایسا ممکن نہیں ہے کیوں کہ ستر سالوں کی صفائی کے لئے کچھ تو وقت دینا پڑے گا ویسے بھی ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے جو تمام مسائل کی جڑ ہے اس جڑ کو ختم کرنے کیلئے تیزی سے کام جاری ہے بلا شبہ ایسا کام ستر سالوں میں نہیں ہو سکا اور اس احتساب سے جن لوگوں کی چیخیں نکل رہی ہیں ان کے پیٹ میں درد صرف اس بات کا ہے کہ اب پہلی بار ہمارے ادارے درست سمت میں بلا جبر غیر جانبداری سے اس لعنت کے خلاف بھر پور کام کر رہے ہیں اوراس بے رحم احتساب سے ان کے لوٹی دولت سے بھرے خزانے بھی سامنے آنے کی توقع ہے اب ہمارے امیر حکمرانوں کو یہ حساب دینا ہو گا جو سیاست میں سائیکل اور سکوٹر پر آئے تھے اور اب کئی گارڈ اور ملازمین کی ظفر موج ان کے آگے پیچھے ہوتی ہے ایسے کون سے ان میں سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ انھوں نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی کیا باقی پاکستانیوں کو یہ حق نہیں تھا کہ وہ بھی ترقی کرتے انکی نسلیں بھی آرام دہ زندگی گزارتی۔ آج ملک کے حالات انھیں گدھ نماء کرپشن سے لتھڑے لوگوں کی وجہ سے ہیں آج ملک کا بچہ بچہ قرض میں جھکڑا ہے جبکہ ان کوامیر حاکموں کو معمولی سا نزلہ و زکام بھی ہو جائے تو یہ لوگ امریکہ اور یورپی مما ک میں علاج کروانے پہنچ جاتے ہیں اور عیاشی کا عالم یہ ہے کہ ان کے نوکر بھی یہاں ہی سے صاحب بہادر کی خدمت کیلئے ساتھ جاتے ہیں کیا یہ ہے وہ پاکستان جس کا خواب علاقہ اقبال نے دیکھا تھا کیا یہ ہے وہ پاکستان جس کی تعبیر قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے دی تھی کیا ہمارے بزرگوں نے اس کیلئے قربانیاں دی تھیں کہ چند امراء اس اسلامی ریاست کو نوچیں اور بدلیں میں غربت افلاس دہشت گردی ،اور مجبور اور لاچار لوگوں کو سسک سسک کر مرتے اور لٹتے دیکھیں آج کے ملکی حالات کے ذمہ دار یہی کرپٹ لوگ ہیں ۔ اب عوام بھی جان چکے ہیں کہ ہارے ہوئے مہرے جب اقتدار میں تھے تو کسی ایک معاملے پر کبھی بھی ایک نہ ہو سکے لیکن اب تحریک انصاف سے پٹنے کے بعد ایک ہو چکے ہیں عوام کو بھی یہ بات باور ہو چکی ہے کہ یہ لوگ ان کیلئے کبھی ایک نہ ہوئے اور اپنے اقتدار کیلئے کیسے اے پی سی بلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اب ان ناکام و نامراد لوگوں کو تحریک انصاف اپنے راستے کی سب سے بڑی دیوار نظر آ رہی ہے تمام ہاری ہوئی جماعتوں کا وہ مکروہ چہرا عوام کے سامنے آ چکا جو کھبی بھی سامنے نہ آ سکا کوئی مذہبی چورن بیچ کر ووٹ لیتا تھا تو کوئی سٹرکوں کے نام پر کوئی ڈیمز کی نام نہاد مخالفت کے نام پر مگر اب شاید یہ ممکن نہیں رہاپاکستان تحریک انصاف نے عوام کو وہ شعور دیا جو سب سے پہلے قائد اعظمؒ کے ولولہ انگیر خطابات سے عوام کو ملا بعد ازاں شہید ذولفقار علی بھٹو نے عوام کے شعور کو جگایا اور اس کے بعد عمران خان نے عوام کو بتایا کہ کس طرح ان کا پیسا چوری ہو ا کس طرح ان کو بے دردی سے لوٹا گیا کس طرح ان کے دیے گے ٹیکس پر ڈاکا ڈالا گیا اب یہ احتساب کا عمل رکنے والا نہیں اس میں وہ تمام لوگ ضرور آئیں گے جنھوں نے دھرتی ماں کو لوٹ لوٹ کر اپنی تجوریاں بھر لی ۔اتنی لوٹ مار ہونے کے باجود اگر پاکستان تحریک انصاف نے صرف کرپشن اور مہنگائی پر قابو پا لیا تو یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہو گی اور اگر جو منصوبے عمران خان کی طرف سے پیش کیے گئے ہیں ان میں سے پچاس فیصد پر بھی کام ہو گیا اور تو پھر اگلے کئی سالوں تک دیگر کسی جماعت کا پاکستان میں حکومت بنانے کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ اس وقت پاکستان کو اندرونی اور بیرونی طور پر بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے اندرونی طور پر دہشت گردی اور توانائی بحران ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال اور قرضوں کی ادائیگی سب سے بڑا چیلنج ہیں ان پر قابو پانے کیلئے عمران خان کو جنگی بنیادوں پر کام کو جاری رکھنا ہو گا قرضوں کی ادائیگی اور معیشت کے بہتری کیلئے تحریک انصاف کی ٹیم نے یہ ناممکن کو ممکن بنانا ہے کپتان کی قیادت میں پاکستانی عوام ایک بہتر کل کی متلاشی ہے اور عوام کو امید ہے کہ خان کچھ اچھا ہی کرے گا بلا شبہ عوام نے خان کو ووٹ صرف تبدیلی لانے کیلئے دیا ہے اچھے کی امید رکھنی چاہیے اور اگر امید اچھے کی ہو تو اچھا ضرور ہوتا ہے ۔

*****

اساتذہ کے تبادلوں میں میرٹ کی پامالی

وطن عزیز کے تمام اداروں میں کرپشن اپنی انتہائی شکل میں گھر کر چکی ہے اور شائد ہماراسماج بھی اسے شرف قبولیت بخش چکا ہے ۔کرپشن کے متعلق بر صغیر کے قدیم ترین فلسفی چانکیہ نے ہزاروں برس قبل اس وقت کے حالات کی منظر کشی کرتے ہوئے اپنی کتاب ’’ آرتھ شاستر‘‘ میں لکھا تھا کہ ’’ خطے میں رعایا کی حالت بہت خراب ہے ،سرکاری عمال پیسہ لئے بغیر کوئی کام نہیں کرتے اس درجہ مالی کرپشن ہے کہ عام لوگ بدحال ہو چکے ہیں ،لگتا ہے کہ سرکاری ملازم کیلئے کرپشن ایسی اہم ہے جیسے مچھلی کیلئے پانی ‘‘۔چانکیہ جس کرپشن کا ذکر کر رہا تھا اگر آج وہ زندہ ہوتا تو شائد ہمارے حالات دیکھ کر باؤلا ہو جاتا۔ہمارے ہاں تو قانون و ضابطے کی دھجیاں اڑانا عام امر ہے ۔صاحب اختیار یہ دیکھنے سے عاجزہوتا ہے کہ میرٹ کا قتل کر کے وہ کتنے مستحق امیدواروں کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگ رہا ہے اور کتنوں کے حقوق غصب کر رہا ہے۔بے حساب ایسی ہی داستانیں ہیں جو ملکی تاریخ میں تواتر سے سامنے آتی رہتی ہیں ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے لوگ کسی طور اہم مناصب کے اہل قرار نہیں دیے جا سکتے جو دوسروں کا استحصال کر کے دھونس، دھاندلی سے کام لیتے ہوئے من مانی کریں ۔یہاں تو کوئی کام میرٹ پر نہیں ہوتا ،مستحق لوگ سڑکوں پر رلتے رہتے ہیں ۔اس بد نظمی اور بد انتظامی میں رشوت دینے سے قاصر اپنے حق سے محروم ہونے والے بدقسمت اسے ’’قسمت کی بات‘‘ کہہ کر اپنے تئیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔معزز قارئین اس تمہید کا مقصد و محور راقم کے ضلع سیالکوٹ میں اساتذہ کے بوجوہ الیکشن 2018ء رکے ہوئے تبادلوں سے پابندی ہٹنا اور حکومت کی طرف سے تعلیمی ٹرانسفر پالیسی کے تحت اس عمل کی انجام دہی تھا ۔ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ سید بلال حیدر نے عوام کی طرف سے محکمہ ایجوکیشن میں تبادلوں کے پراسیس میں گھپلوں اور رشوت کی متعدد شکایات سامنے آنے پر 4دسمبر 2018ء کو تبادلوں کے عمل کو فوری روکنے کا سرکولر جاری کیا ہے لیکن یاد رہے کہ ان احکامات کی آمد اور وصولی سے قبل ہی تھوک کے حساب سے سیکڑوں خواتین اور مرد اساتذہ کے تبادلے کر دیے گئے تھے ۔راقم کی معلومات کے مطابق ان تبادلوں کے عمل کے دوران لاکھوں روپے کا لین دین ہوا ۔ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری تبادلہ پالیسی پر عملدرآمد کہیں دور دور تک نظر نہیں آیا ۔وہ اساتذہ جنہوں نے ٹرانسفر کیلئے درخواستیں بھی نہیں گزاری تھیں ان سے کلرک بادشاہوں نے فوری نئی درخواستیں وصول کر کے ہزاروں روپے فی کس رشوت کے عوض ان کے تبادلے مطلوبہ فیورٹ سکولوں میں کر دیے ۔سالہا سال سے ایجوکیشن دفتر کی زینت بنے اور اپنے عہدوں پر براجمان رہنے والے یہ کلرک ان نئی درخواستوں کو لیگل کرنے کے ہنر میں بھی یکتا ہیں ۔یہ ڈائری رجسٹر کے خانے خالی رکھ لیتے ہیں اور بعد ازاں نوزائیدہ یعنی نئی درخواستوں پر ان خالی چھوڑے گئے خانوں پر نمبر لگا لیتے ہیں ۔اگر اس امر کی انکوائری کی جائے تو ٹرانسفر پالیسی پر میرٹ بنانے کیلئے مقرر کی گئی کمیٹیوں کو وصول کی گئی درخواستوں کی تفصیل مل سکتی ہے۔اساتذہ کی تبدیلی کے عمل کے دوران پالیسی کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے سائنس کی خالی ہونے والی آسامیوں پر آرٹس کے اساتذہ کوتعینات کر دیا گیا۔ماضی میں وطن عزیز کا یہ المیہ رہا کہ مختلف عہدوں پر اس عہدہ کیلئے مطلوبہ اہلیت و قابلیت سے محروم افراد کی تعیناتیاں کی جاتی رہیں ۔انہی دنوں ضلع میں PSTان سروس اساتذہ کو بطور ESTترقی دی گئی ۔انہیں بھی آرٹس اور سائنس کی تخصیص کے بغیر خالی اسامیوں پر تعینات کر دیا گیا ان خالی آسامیوں پر پہلے ہی اساتذہ نے تبادلے کیلئے درخواستیں جمع کروا رکھی تھیں ۔چاہیے تو یہ تھا کہ ان آسامیوں پر ترقی پانے والے اساتذہ کی تعیناتیاں نہ کی جاتیں ۔اگر کسی استاد کی ان سروس پروموشن ہوتی ہے تو دہائیوں سے اسی سکول میں تعینات استاد کو دو چار میل دور کے کسی بھی سکول میں تعینات کر دیا جاتا تو وہ بخوشی وہاں جانے کیلئے تیار ہوتالیکن یہاں بھی پیسے کی چمک کام دکھا گئی ۔حالیہ تبادلوں کے دوران راقم کو عجیب بد نظمی اور افراتفری نظر آئی ۔بعض اہلکار جیبیں بھرتے نظر آئے اور فقط ایک رات میں سیکڑوں کی تعداد میں پچھلی تاریخیں ڈال کر تبادلوں کی منڈی میں خریدو فروخت ہوتی رہی اس کی وجہ شائد سی او ایجوکیشن ٹرانسفر ہو چکے تھے اور وہ یہاں صرف ایک روز کے ہی مہمان تھے ۔عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اگر ٹرانسفر کیلئے ہزاروں روپے جرمانہ دینا ہی مقدر ہے اور یہ کام رشوت کے بغیر میرٹ پر نہیں ہو سکتا تو پھر رشوت کو جائز قرار دے کر اس کے ریٹ مقرر کر دینے چاہئیں تا کہ نہ دینے والے کو تکلیف ہو اور نہ لینے والے کو زحمت اٹھانی پڑے ۔ریٹ کارڈ پبلک کی سہولت کیلئے ضلعی ایجوکیشن کے آفس کے گیٹ پر چسپاں اور ساتھ رشوت وصولی کا ایک کمرہ بھی مختص کر دیا جائے۔آج سرکاری محکموں میں جو رشوت ،بدعنوانی اور افراتفری کی کیفیت دیکھنے کو ملتی ہے اس کی بڑی وجہ گورننس کے معاملہ میں برسوں سے برتی گئی غفلت ہے جو قوانین سے بلا امتیاز گریز اور میرٹ کی پامالی کی صورت میں نظر آتی ہے ۔حقیقت میں جب سرکاری دفتر سے کسی شہری کا کام قانون اور قاعدے کے مطابق بغیر رشوت کے ہوجائے تو یہ قابل ذکر بات ہوتی ہے ورنہ جائز کام نہ ہونا ،ناانصافی ،میرٹ کا قتل اور بلاوجہ تاخیر اور اس قسم کے دیگر حربے تو معمولات کا حصہ ہیں ۔خیال اغلب تھا کہ تبدیلی کی دعوے دار پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے سے مستقبل بمقابلہ ماضی اداروں سے کرپشن کا بتدریج خاتمہ کر دیا جائے گا ۔ماضی میں تو پریکٹس یہی تھی کہ حکومتی ایم این ایز اور ایم پی ایز ہمیشہ تبادلوں اور تقرریوں پر اثر انداز ہو کر میرٹ پالیسیوں کو سبو تاژ کرتے اور مختلف محکموں کے سربراہان بھی (حصہ بقدر جثہ) اگر ان کے دس غلط کام کرتے تو تین اپنے بھی اس میں شامل کر لیتے ۔ایک دیانت دار ذمہ دار افسر تو قانون اور ضابطوں کا پابند ہوتا ہے جبکہ اس کے بر عکس ایک سیاستدان ہر پابندی سے بے نیاز ہو کر اپنے ووٹروں کو خوش کرنے والے ضابطوں اور روایات کی ہی پابندی کرتا ہے یہیں سے اختلاف پیدا ہوتا ہے اور سرکاری افسر عموماً باوجود قانون اور ضابطوں کی پابندی کے سیاستدان کے مقابلے میں ہار جاتا ہے ۔ایسے سخت جان افسر بہت کم ہوتے ہیں جو اپنا ملازمانہ کیرےئر داؤ پر لگانے کو تیار ہو جاتے ہیں اور اس نظام میں ہمیشہ وہی اپنے عہدوں پر برقرار رہتے ہیں جن کو سیاسی اکابرین کی طرف سے جو حکم ملے ایک اچھے غلام کی طرح چپ چاپ اس پر عمل کریں ۔راقم کے ضلع میں قومی الیکشن میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کے صرف ایک ایم پی اے کامیاب ہوئے ۔اس ایک ایم پی اے نے ضلع میں حالیہ اساتذہ کے ہونے والے تبادلوں میں کتنی مداخلت کر لینی تھی ۔اس بار ضلعی افسران تعلیم تعلیمی ٹرانسفر پالیسی پر یقینی عملدارآمدکیلئے مکمل آزاد اور خود مختار تھے لیکن بجائے اس کے کہ اس بار کرپشن پر قابو پایا جاتا ،اساتذہ کی صلاحیت و قابلیت اور محنت کو ترجیح دیتے ہوئے ان کو اپنا جائز حق ملتا لیکن افسوس کہ سیاسی زعما کی طرف سے کسی قسم کی مداخلت کے نہ ہوتے ہوئے بھی ضلعی کارپردازان تعلیم نے میرٹ کو ایک طرف رکھتے ہوئے اپنا گھر ہی سنوارا۔ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ سید بلال حیدر کا فوری تبادلوں کے عمل کو روکنا ایک راست اقدام ہے۔راقم کی ڈی سی صاحب سے بالمشافہ تو ملاقات نہیں لیکن شنید ہے کہ وہ ایک منجھے ہوئے اور تجربہ کار ضلعی سربراہ ہیں ۔وہ ابھی ولولہ تازہ رکھنے والے نوجوان ہیں ۔سیالکوٹ کو اس نوجوان شخصیت کا عطا ہونا عطیہ خدا وندی ہے ۔امید ہے یہ یہاں اپنی تعیناتی کے دوران اصلاحی اقدامات سے تبدیلی کی مثبت لہر پیدا کریں گے ۔راقم کی ان سے استدعا ہے کہ ضلع سیالکوٹ میں حالیہ میرٹ کے برعکس ہونے والے تبادلوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے ایک بے لاگ انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے اور ایجوکیشن آفس میں دہائیوں سے تعینات کلرکوں کو فوری طور پر تبدیل کرنے کے احکامات صادر فرمائے جائیں تاکہ حقداران اساتذہ کو ان کا حق مل سکے اور مستقبل میں کرپشن کا خاتمہ ہو ،رولز کے مطابق میرٹ بنے اور اس میرٹ لسٹ کے مطابق اساتذہ کی ٹرانسفر اور ترقی ہو ،اس لسٹ میں اچانک کوئی شامل نہ ہو سکے اور کسی خاص پروسیجر کے بغیر فہرست سے خارج نہ ہو سکے۔

ہر طاقتور کو قانون کے دائرہ کار میں لانا خوش آئند اقدام

adaria

جمہوریت کی بقاء اور ملک میں امن و امان کیلئے اس وقت تمام ادارے بشمول عسکری و سیاسی قیادت ایک پیج پر ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کے حوالے سے جس خواہش کا اظہار کیا ہے اس حوالے سے بھی چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ہم اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ ہیں تاہم ایک انتہائی اہمیت کی حامل بات جو کہ چیف جسٹس نے اپنے خطاب کے دوران کہی کہ اب پارلیمنٹ میں بائیکاٹ یا واک آؤٹ کرنے کا وقت نہیں ، سب مل بیٹھ کر مسائل کا حل کریں۔ دراصل مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اقتدار میں بیٹھے ہوئے وزراء اپنی مرضی سے بھانت بھانت کی بولیاں بولتے رہتے ہیں، ہم نے ان سطور میں متعدد بار وزیراعظم کو یہ مشورہ دیاتھا کہ وہ حکومت کا ایک ترجمان مقرر کریں جوکہ حکومتی موقف کو واضح طورپر میڈیا اور عوام تک پہنچا سکے لیکن ہوتا یوں تھا کہ جس وزیر کے دل میں جو آیا وہی بیان اس نے داغ دیا۔ کرتارپور راہداری جوایک تاریخی واقعہ تھا اس کو بھی مختلف وزراء نے اپنے اپنے انداز میں بیان کیا جس سے حکومت پاکستان جو کریڈٹ حاصل کرسکتی تھی اس میں کچھ نہ کچھ کمی آگئی تاہم اب وزیراعظم نے حکومتی ترجمان مقرر کردیا ہے اور تمام وزراء محدود کردیا گیا ہے کہ وہ صرف اپنی وزارتوں سے متعلق ہی بیان دینگے، یقینی طورپر بین السطور میں دئیے گئے ہمارے مشورے پر وزیراعظم کی جانب سے عمل ایک خوش آئند اقدام ہے۔ گزشتہ روز ہونے والے سمپوزیم میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی لازم و ملزوم ہیں، قانون کی حکمرانی سے سے پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے، چیف جسٹس نے پاناما لیکس کا غیر جانبدارانہ فیصلہ کرکے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے، جو کام چیف جسٹس ثاقب نثار نے کئے وہ جمہوری حکومت کو کرنے چاہیے تھے، پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کیلئے کوششیں کرتے رہیں گے، ڈکٹیٹر ہمیشہ ڈیموکریٹ اور ڈیمو کریٹ ہمیشہ ڈکٹیٹر بننے کی کوشش میں لگا رہتا تھا، ڈیم منصوبہ 5سال میں کبھی نہیں بنتا، ہم نے سول، فوجداری قوانین میں تبدیلی کے لیے 6 نئی تجاویز تیار کی ہیں، پوری کوشش کر رہے ہیں کہ قانون سازی کے ذریعے پرانا نظام عدل تبدیل کریں۔ اسلام آباد میں بڑھتی آبادی پر فوری توجہ کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کا شکرگزار ہوں جنہوں نے پہلے وزیراعظم کو یہاں دعوت دی، نئے پاکستان کی بنیاد ہم نے رکھ دی ہے، وہ معاشرہ ترقی کرتا ہے جہاں قانون کی پاسداری ہو، کیوں کہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی لازم و ملزوم ہے، موجودہ حالات میں نئے پاکستان کے دور کا آغاز ہوا ہے، پانی کے مسئلے کو چیف جسٹس نے اجاگر کیا، ہمیشہ ہر حکومت نے اپنے 5سال کا ہی سوچا، ڈیم منصوبہ 5سال میں کبھی نہیں بنتا، ماضی میں جن ڈیمز اور پانی کے مسائل کے بارے میں سوچا گیا اس میں صرف پاکستان کی ترقی کیلئے ہی سوچا گیا تھا، اس وقت قوم کا احساس کیا جاتا تھا نہ کہ اپنے پانچ سالوں کا، بنگلہ دیش ہم سے آگے نکل چکا ہے، ماضی کی حکومت میں تمام ادارے حکومت کے مفلوج تھے، اب کے دور میں تمام ادارے آزاد ہیں اور ان کو کسی سے کوئی ڈر نہیں ہے، ا سرمایہ کاروں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش ہے، بڑے قبضہ گروپ صرف اس لئے بنتے ہیں کیونکہ سول مقدمات کا فیصلہ ہی نہیں ہوتا، اب کوئی اقتدار میں آ کر قانون کو پامال کرنے کا نہیں سوچ سکتا، لاہور میں راوی نہر کا میٹھا پانی پیا جاتا ہے، آج کا راوی سیوریج کا ڈمپ بن گیا ہے، آج کا لاہور کنکریٹ کا جنگل بن گیا ہے، بڑھتی آبادی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کو چیف جسٹس نے اجاگر کیا، اس حوالے سے اب ہم نے ٹاسک فورس بنا دی ہے، چیف جسٹس کو قوم کی جانب سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جمہوری حکومتیں صرف 5 سال کا سوچتی تھیں کہ اگلا الیکشن کیسے جیتیں، جب منگلا اور تربیلا ڈیم بنے تب پاکستان میں آگے کا سوچا جاتا تھا۔ عمران خان نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ قانون کی حکمرانی کی کوشش کر رہے ہیں جو بہت اچھی چیز ہے آپ ہر طاقتور کو قانون کے نیچے لاتے ہیں یہ سب پاناما سے شروع ہوا اس کا کوئی بھی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ برسراقتدار وزیراعظم قانون کے نیچے آ سکتا ہے۔ عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان میں سول اور کرمنل قانون فرسودہ ہو چکے ہیں قبضہ گروپ اسی وجہ سے بنے کہ سول مقدمات کا فیصلہ ہی نہیں ہوتا۔ ہم نے 6 نئے قوانین تیار کئے ہیں جو اسمبلی میں لا رہے ہیں۔ سول کرمنل پروسیجر کورٹ کا قانون بھی لا رہے ہیں جس میں کچھ وقت لگے گا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ 30 سال بعد آبادی 45 کروڑ ہو گی وسائل کم ہو رہے ہیں اور آبادی بڑھ رہی ہے۔ 21 صدی میں 19 ویں صدی کا قانون چلا رہے ہیں، ججز کی تعداد بڑھانی ہے اور عدالتی ڈھانچے کو اپ ڈیٹ کرنا ہے، وزیر اعظم معلوم کریں کہ گزشتہ چالیس سالوں میں ڈیم کیوں نہیں بنے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست مدینہ کے قیام کے لیے حکومت کے ساتھ ہیں، پارلیمنٹ سپریم ہے، وزیراعظم اور پارلیمنٹ کی معاونت کی بہت ضرورت ہے۔ ہم آنے والی نسلوں کو کچھ دے کر جانا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وسائل محدود اور ضروریات لامحدود ہیں، 60سال میں ہم نے آبادی کے کنٹرول پر کوئی توجہ نہیں دی جبکہ بڑھتی آبادی سے ہمارے وسائل مسلسل دبا کا شکار ہیں۔ ملک میں پانی کے بہتر استعمال کو فروغ دینا ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ سالانہ 7ارب گیلن پانی زمین سے نکالا جاتا ہے، زمین سے نکالے گئے پانی کا تین چوتھائی ضائع کر دیاجاتا ہے۔ اپنے علم کو بہتری کیلئے استعمال کرنے والی قومیں ترقی کرتی ہیں، آبادی پر قابو پانے کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کرنا ہوں گے اور آبادی پر کنٹرول کے لیے میڈیا کے ذریعے آگاہی دینی ہے۔جوڈیشل سسٹم پر صدیوں کا بوجھ ہے ایک سول جج کے پاس روزانہ 160 مقدمات آتے ہیں۔1850 کا قانون آج قابل عمل ہے؟ آج ہر پیدا ہونے والا بچہ ایک لاکھ 21ہزار روپے کا مقروض ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم اور پارلیمنٹ کی معاونت بہت ضرورت ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کا بائیکاٹ کرنا چھوڑ دیا جائے، پارلیمنٹیرینز اپنا کام قانون سازی کریں۔ وزیراعظم مدینہ کی ریاست قائم کرنے کی بات کرتے ہیں اس خواب اور تصور میں عدلیہ شانہ بشانہ ہے اور نیک نیتی سے وزیراعظم کے اس خواب کی تعبیر کو پانے کی کوشش کریں گے، عدلیہ کو وہ ٹولز دیے جائیں کہ وہ آج کے تقاضوں کو پورا کرسکے، عدلیہ اب اس بوجھ کو اٹھانے کی متحمل نہیں ہوسکتی کہ برسہا برس کیس چلتا رہے۔

پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے مابین معاہدہ
پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کا بینک اکاؤنٹس کی معلومات کے حوالے سے معاہدہ ہوگیا ہے، چار سے چھ ہفتوں میں پاکستان کے اکاؤنٹس کی تفصیلات سوئس حکام سے مل جائیں گی۔برٹش ورجن آئی لینڈ اورجرمنی سے بھی ایسے ہی معاہدے کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ رقوم کی واپسی کیلئے سوئس بینک کے دروازے دوبارہ کھٹکھٹائے جاسکتے ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہاکہ آصف زرداری کا کیس دوبارہ کھولا جاسکتا ہے جبکہ نواز شریف کیخلاف وی وی آئی پی طیارے کے غلط استعمال کاریفرنس دائر کیا جائے گا۔ سوئٹزرلینڈ نے پاکستان کے ساتھ معاہدے کی توثیق کردی ہے۔ پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان یہ معاہدہ خوش آئند ثابت ہوسکتا ہے ۔اگر پاکستان اپنے مقاصد حاصل کرسکے ۔

Google Analytics Alternative