کالم

اپنے عطیات ۔ حق داروں تک خود پہنچائیں

دنیا کے بھر ممالک خصوصا مسلم ممالک میں پاکستانیوں کی ایک اہم شناخت یہ بھی بن چکی ہے کہ اس ملک کے عوام اللہ تبارک و تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنے میں اپنے دلوں کو کھول کر مذہبی ایام مثلا رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں مسلمان اپنی سال بھر کی کمائی پر زاکوۃ نکالتے ہیں اپنی جھولیاں بھر بھر کر صدقہ اور خیرات دیتے ہیں مساجد، مدارس، یتیم خانوں بے آسروں کےلئے چھت فراہم کرنے والے اداروں ، ملک کے مختلف شہروں میں مفت علاج معالج کی سہولیات کے اداروں اور غربیوں مسکینوں کو تین وقت کا مفت کھانا فراہم کرنے والے اداروں پر اپنی مختص کی ہوئی رقومات دینے میں بہت آگے ہیں یقین جانئیے جب ہم اپنے ملک کے ان مخیراور سخی دل عوام کے بارے میں سنتے یا پڑھتے ہیں توبحیثیت پاکستانی ہمارے سر فخر سے بلند ہوجاتے ہیں ماہ مبارک رمضان کے ایام میں ہم اور آپ ہر برس نظارہ کرتے ہیں کہیں سینکڑوں ہزاروں غریبوں کو افطاریاں کرائی جا رہی ہیں ، دستر خوان لگائے جا رہے ہیں ، کہیں راشن کی تھیلیاں تقسیم کی جا رہی ہیں ، کہیں زکوٰۃ اور صدقے کی رقوم بانٹی جا رہی ہیں کہیں غریب بچیوں کی شادیاں کرائی جا رہی ہیں ، کہیں بے آسرا بچوں کے سکول کے اخراجات کی ذمہ داری لی جارہی ہے کہیں مفت ایمبولینس سروس اور دیوار مہربانی جیسے نوجوانوں کے اقدامات جن میں پرانے کپڑے، جوتے اور ضرورت کی اشیا غریبوں میں تقسیم کی جاتی ہیں ، کتنے ہی ایسے ادارے اور لوگ پاکستان میں آپ کو مل جائیں گے جو انسانیت کے احساس اور جذبہ خدمت سے لبریز ہیں کچھ جائزوں کے مطابق پاکستانی دنیا میں سب سے زیادہ صدقہ اور خیرات کرنے والے لوگوں میں شامل ہیں رحم دل مخیر حضرات ہمارے پاکستانی عوام اپنا مال اللہ تعالیٰ کے نام پرہرسال کے ہرماہ مبارک کے ایام میں دیتے ہیں ایک طرف اْن کے اس عمل خیر کا بے آسرا اور تنگ دست مفلس مسلمان عوام کو فائدہ پہنچتا ہے اور وہ دینے والوں کے حق میں دعاگو ہوتے ہیں یہاں ایک سوال یہ آن پڑا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم پر اپنا مال وزر دینے والوں پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک بڑی اہم ذمہ داری بھی عائد کی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا قیمتی عطیہ جب بھی کسی کو دیں تو ذرا یہ دیکھ لیں تحقیق کرلیں کہ جس شخص یا جس بھی ادارے کو صاحب حیثیت مسلمان اپنا مال وزراللہ تعالیٰ کے نام پر عطیہ کررہے ہیں کیا واقعی وہ اس کا حق دار ہے یانہیں ;238;یا اْس شخص یا ایسے کسی ادارے نے زکواۃ،خیرات، صدقات اور قربانی کی کھالوں کے حصول کےلئے کوئی اور لبادہ تو نہیں اْڑھا ہوا ہے;238;ہم اللہ تعالیٰ کے نام پر زکواۃ، خیرات صدقات اور قربانی کی کھالیں کسی ایسے شخص،گروہ یا تنظیمی ادارے کو تو نہیں دے رہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ کے نام پر حاصل کردہ مال و زرکو انسانیت کے خلاف اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کےلئے استعمال کرئے گا یا پہلے بھی کرتا رہا ہے اس کی تصدیق ازحد ضروری ہے اب یہ ذمہ داری ملک بھر کے شہروں کی چھوٹی اور بڑی مساجد کے پیش نمازوں اور خطیبوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کی نمازوں کے اجتماعات میں اپنے خطبات کے ذریعے سے یہ آگاہی اور یہ سوچ پیدا کریں کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر خیرات کی جانے والی رقم کا ایک ایک پیسہ حق دار تک پہنچنا چاہیئے ناکہ کوئی ناحق شخص یا تنظیمی گروہ اس خیراتی رقم سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی کھلی خلاف ورزیاں کرتے پھریں ، معبتر اور مصدقہ ذراءع سے یہ اعدادوشمار ملکی سیکورٹی اداروں تک پہنچے ہیں کہ یہ جو ملک میں گزشتہ کئی برسوں سے کہیں دہشت گردی ہوتی ہے خود کش حملوں کی وارداتیں ہوتی ہیں اس کے پیچھے مالی معاونت کے جو مشکوک ذراءع سامنے آئے ہیں اْن کا ایک بڑا ذریعہ کہیں مساجد کے نام پر چندا اکھٹاکرنا کہیں یتیم بے آسرا بچیوں کی شادیاں کروانا کہیں مفت علاج معالج کی سہولیات کی فراہمی کا بہانہ کہیں بھیک منگوانے کا نیٹ ورک خاص طور پر رمضان المبارک عید الفطر اور جیسا کہ ایک ہفتہ بعد عیدالضحیٰ قربانی کی عید کے موقع پر قربانی کی کھالیں جمع کرنا ان خیراتی ذراءع کو استعمال کرنے کی اطلاعات جب سامنے آئی ہیں تو ہم پاکستانی مسلمانوں کو پہلی فرصت میں اس جانب توجہ مبذول کرنی ہوگئی ایک ہفتے بعد بڑی عید آنے والی ہے ہاتھوں میں بوگس رسیدیں پکڑے تسبیح پکڑے شکل پر نام نہاد ایمانی ماسک چڑھائے ہر آنے والے پرجلد بازی میں بھروسہ نہ کریں آپ نے تو قربانی اللہ تبارک وتعالیٰ کا قرب اور اْس کی رضا حاصل کرنے کے لئے پیش کی ہے لیکن شعائر اسلامی کی رو سے کھالیں آپ نے کسی انجانے شخص،گروہ یا ادارے کو نہیں دینی دہشت گردوں کا یہ وہ نیٹ ورک ہے جو منشیات کے دھندوں میں ملوث ہے،یہ گروہ اسمگلنگ اورتجارتی برادری کے ممتاز افراد اور اْن کے بچوں کے اغوا کی وارداتوں سے اپنی مالیاتی ضروریات کو پوری کرتے ہیں اللہ کے نام پر بھکاریوں کا نیٹ ورک چلاتے ہیں بعض مقامات پر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مقامی پولیس کا انہیں تعاون حاصل رہتا ہے جدید ٹیکنالوجی کے اس تیزفتار عہد میں اس سلسلے میں ہماری ذرا سی بھی بھول چوک بہت مہنگی ثابت ہوسکتی ہے ملک بھر کی ہر اہم مساجد اور عیدگاہوں کے معزز خطیب حضرات پہلے سے متواتر ایسے خطبے دے چکے ہیں جن میں عام مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نام سے دئیے جانے والے عطیات حق داروں تک خود پہنچائیں دوقدم چل کر اْن تک پہنچیں گے تو ہر قدم کے عوض اللہ تعالیٰ اپنے مومن دیندار بندوں کو ہزارہا گنا نیکیاں عنایت فرمائے گا یہاں ہ میں اور آپ کو بغورجائزہ لینا ہوگا کہ پنجاب کے ہر بڑے شہروں کے اہم تجارتی مراکز کی بڑی شاپس پر خبیرپختونخواہ کے دوردراز اور پسماندہ علاقوں میں قائم مدارس یا مساجد کی تعمیر کے نام پر چندے کے ڈبے رکھے گئے ہیں بلوچستان خیبر پختونخواہ اور سندھ کے شہروں کی شاپس پر پنجاب کے گاوں اور دیہاتوں کی مساجد اور مدارس کے نام پر چندا اکھٹا ہوتا ہے اسی طرح سے بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے تجارتی مراکز کی شاپس پر سندھ کی مساجد اور مدارس کی مدد کرنے کی دہائیاں دی جاتی ہیں یہ سب ایک سوچا سمجھا مذموم منصوبہ ہے لوگ سوچتے نہیں جہاں اللہ تعالیٰ کا نام آیا اہل ایمان اپنی آنکھیں بند کرکے ہزاروں لاکھوں روپے ایسوں کو جانے بغیر دیدیتے ہیں اور سمجھتے ہیں اْنہوں نے اللہ تعالیٰ کے نام پر مخلوق خدا کی مدد کرکے اپنا دینی فرض نبھا دیا;238; یہ رقم جب یکجا ہوتی ہے تو لاکھوں کروڑوں میں بن جاتی ہے جو دہشت گردمافیا کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے ان ہی لاکھوں کروڑوں روپے کے عوض یہ دہشت گرد معصوم اور بے گناہ پاکستانی مسلمانوں ، اْن کے سویلین اور ملٹری حساس اداروں کی نگرانی کی چوکیوں کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہیں ہم نے سوچ وفکر کی راہ جو ترک کردی;238; اپنی عقلوں کے ساتھ ساتھ اپنی آنکھیں جو بند کرلیں ;238; کون اپنا ہے کون پرایا جو اللہ تعالیٰ کا نام لے رہا ہے اْس کے اندرونی تو کیا بیرونی احوال تک کا ہم نے جائزہ لیا ہی نہیں بلکہ یہ ورق ہی پھاڑ دیا ہے داعش افغانستان پہنچ چکی ہے خیر سے معصوم اور بے گناہ مسلمانوں کی گردنیں اتارنے کے ساتھ ‘‘شریعت اسلامی اور خلافت’’کی بھی وہ دعویدار ہے اب کیا کہیں گے ان کے خلاف جانچ پڑتال کرنے والے ہم پاکستان مسلمان;238; لیکن ہ میں اس سب کے باوجود انسانیت کے ان سفاک دشمنوں کی راہوں ہر صورت روکنا ہوگا ان کےلئے اپنے ملک میں آسانیوں کی کوئی جا باقی نہیں چھوڑنی،ہ میں اپنے اردگرد کے محلہ جاتی ماحول کا بڑی ہوشیاری سے چوکنا ہوکر پہرہ دینا ہے، ایک محفوظ،پْرامن ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کو یقینی بنانے کےلئے اب ہ میں اپنی بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ قدم بہ قدم چلنا ہے ۔

امریکی صدر کی مسئلہ کشمیرپرپھرثالثی کی پیشکش۔۔۔بھارتی ہٹ دھرمی برقرار

امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پردوبارہ سے ثالثی کی پیشکش کرکے دنیا کو یہ باور کرادیا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی سطح کامسئلہ ہے اوراس کاحل ہونا خطے میں قیام امن کے لئے انتہائی ضروری ہے، لیکن بھارتی ہٹ دھرمی بدستور قائم ہے اس نے امریکی ثالثی کونہ صرف مسترد کیا بلکہ مزیداٹھائیس ہزار فوج مقبوضہ کشمیربھیجنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وہاں پر مسلمانوں کواقلیت قراردینے کاعندیہ بھی دے دیاہے، ادھرٹرمپ کے مشیرساجدتارڑ نے کہاکہ بھارت بدحواسی کاشکارہوکرمقبوضہ کشمیر میں اضافی فوج بھیج رہاہے جس کا اسے امریکہ اور بین الاقوامی برادری کو جواب دینا ہوگا ۔ نیز صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے صدرٹرمپ نے کہاکہ وہ وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم نریندرمودی سے ملاقات کرچکے ہیں اور ان کے خیال میں دونوں ہی زبردست انسان ہیں ، مجھے لگتا ہے دونوں ایک ساتھ اچھے تعلقات قائم کرسکتے ہیں ،مسئلہ کشمیر سے متعلق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ بھارت نے اب تک مسئلہ کشمیر حل کرنے کی پیشکش قبول نہیں کی ہے، یہ مودی پر منحصر ہے جبکہ میں اس حوالے سے پاکستان سے بات کرچکا ہوں ، اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے درمیان مسئلہ حل کرنے کے لیے مدد کی جائے تو میں ثالثی کا کردار ادا ضرور کرنا چاہوں گا ۔ دوسر ی جانب بھارت نے ایک بار پھر مسئلہ کو کشمیر پاکستان اور بھارت کا معاملہ قرار د یتے ہوئے تیسرے فریق کی مداخلت کو مسترد کردیا، بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے بنکاک میں آسیان اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کی جس کا حوالہ دیتے ہوئے جے شنکر نے ٹوءٹر پر بیان جاری کیا،بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ کو واضح طور پر بتادیا ہے کہ کشمیر پر کسی بھی قسم کی بات چیت صرف پاکستان کے ساتھ ہی کی جائے گی ۔ ادھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت ایل او سی کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں نہتے لوگوں کو شہید کر رہا ہے، اقوام متحدہ کی قرارداد موجود ہے کہ کشمیر متنازع علاقہ ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ بھی سامنے آچکی ہے کہ بھارت خون کی ہولی کھیل رہا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کے حوالے سے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی بات خطے کے حالات کو سامنے رکھ کر کی ہے، ٹرمپ کی پیشکش پر ان کے شکر گزار ہیں ،پاکستان نے امریکی صدر کی پیشکش پر آمادگی ظاہر کر دی ہے لیکن بھارت کشمیر پر مذاکرات سے کترا رہا ہے،بھارت کہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر دو طرفہ معاملہ ہے لیکن بھارت مسئلہ کشمیر پر دوطرفہ نشست کے لیے بھی تیار نہیں ، بھارت مذاکرات کے لئے آسانی سے نہیں مانے گا، بھارت نے صدر ٹرمپ کی گفتگو پر ہی سوالیہ نشانہ کھڑے کر دیئے ہیں ، امریکا کے بھارت کے ساتھ خصوصی تعلقات ہیں اور انہیں مراعات بھی خصوصی دی گئی ہیں ، امریکا بھارت کو سمجھائے اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے، مقبوضہ کشمیر میں معاملات بگڑتے جا رہے ہیں ، پاکستان کی یہ خواہش رہی ہے کہ وہ خطے میں امن سے رہنا چاہتاہے اور اس وقت سارا فوکس افغانستان پر ہے، بھارت افغان امن عمل میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے تو اس سے خطے کا امن متاثر ہو گا ۔ وزیراعظم عمران خان نے منتخب ہونے کے بعد پیغام دیاتھا کہ بھارت ایک قدم بڑھائے ہم دو بڑھائیں گے ۔ اب ضروری ہے کہ امرےکہ اور عالمی طاقتیں تنازعہ کشمےر پر ثالثی مذاکرات شروع کرنے کےلئے بھارت پر دباءو ڈالےں ماضی کے برعکس اس وقت امرےکہ اور بھارت کے درمےان بہت اچھے تعلقات ہےں اور اگر امرےکہ چاہے تو مسئلہ کشمےر کے حل کےلئے بھارت پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرسکتا ہے تنازعہ کشمیر کاحل خطے میں امن اوراستحکام کےلئے ناگزیر ہے ،تنازعہ کشمیر بھارتی رویے کی وجہ سے توجہ کامرکز بن گیاہے ۔ امریکی صدرخطے میں امن واستحکام کے حوالے سے انتہائی فکرمند ہیں ۔

افغانستان میں امن عمل۔۔۔پاک امریکہ اتفاق

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد نے ملاقات کی جس میں افغانستان میں امن عمل کی کامیابی کی کوششوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں افغان امن عمل کے حوالے سے باہمی متفقہ مقاصد کے حصول پر اتفاق کیا گیا، زلمے خلیل زاد نے افغان امن عمل کیلئے پاکستان کے مخلصانہ تعاون کو سراہا اور توقع ظاہر کی کہ دیگر ممالک بھی افغان امن عمل کے معاملے پر پاکستان کی تقلید کریں گے ۔ ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کے حصول کیلئے کی جانے والی کوششوں کو تیز کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا ۔ بعد ازاں امریکی سفارتخانے نے زلمے خلیل زاد کے دورہ پاکستان کے حوالے سے ان کی مصروفیات اور ملاقاتوں پر مبنی اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ زلمے خلیل داد نے دورے کے دوران پاکستانی قیادت کیساتھ افغان امن عمل میں ہونے والی پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا،پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں میں مثبت پیشرفت اور مستقبل کے اقدامات، افغان مفاہمتی عمل میں پاکستان کے کردار پر بات چیت ہوئی ۔

سپیکرقومی اسمبلی کا ایس کے نیازی کواہم انٹرویو

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے روز نیوز کے معروف پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ حاصل بزنجو نے ڈی جی آئی ایس آئی سے متعلق مناسب بات نہیں کی ،پی آئی اے کے ملازمین کے حوالے سے حکومت گولڈن شیک ہینڈ بارے سوچ رہی ہے،جہاں تک تحریک عدم اعتماد میں ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے الزامات عائد کئے جارہے ہیں مجھے اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ملا ، تمام سینیٹرز نے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کیا ہے، چیئرمین سینیٹ قانون کے مطابق کام کررہے ہیں ، میں کہتا ہوں کہ چیئرمین سینیٹ کے کردار اور قانون کے مطابق کام کرنے کی وجہ سے لوگوں نے ان پر اعتماد کیا ہے اگر پارلیمنٹ میں ایسا ماحول بنائیں گے تو لوگوں کا اداروں سے اعتماد اٹھ جائے گا ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ چیئرمین سینیٹ میں کیا کوتاہی یا کمی تھی ، میرے خیال میں جو کچھ ہوا ہے یہ نہیں ہونا چائیے تھا،سینیٹ ایک مقدس ادارہ ہے،سینیٹ میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہے،سینیٹ میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو تھنک ٹینک کے طورپر کام کرتے ہیں ،سینیٹ جیسے ادارے کو بھی اگر متنازعہ بنایا جائے تو یہ ملکی مفاد میں نہیں ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ امریکہ افغانستان سے نکل آئے،کشمیر مسئلے پر پھر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں کشمیر مسئلے پرثالثی کےلئے تیار ہوں ،اس پر پاکستان کو تو کوئی اعتراض نہیں ہے،مگر بھارت بھی تو مانے نا،پروڈکشن آرڈر پرجو بھی قانون کے مطابق ہوگا ضرور کرونگا،انشا اللہ حکومت5سارے پورے کریگی،اس وقت جو بھی حالات ہیں وہ وقتی ہیں انشا اللہ بہتری ہوگی، آگے جتنا بھی وقت آئے گا ترقی اور خوشحالی کا دور ہوگا ۔

بابر ی مسجد کی شہادت مسلمانوں کےلئے اشتعال انگیز اقدام

ہندوقوم کبھی بھی مسلمانوں کے ساتھ مخلص نہیں رہی کیونکہ شیطانیت انکی فطرت میں شامل ہے اور یہی چیز انہیں مسلمانوں کے خلاف تعصب پر اکساتی رہتی ہے ۔ اس لیے انہیں جب بھی موقع ملتاہے اس تعصب اورنفرت کا اظہار کرتے ہیں ۔ اسی نفرت کے پیش نظر 6 دسمبر 1992 کو انتہا پسند ہندووَں نے قوم پرست ہندو تنظیموں کے اکسانے پربابری مسجد کو شہید کرکے عارضی طورپر ایک مندر بنادیا تھا ۔ جس کے بعدسارے ہندوستان میں فسادات پھوٹ پڑے جن میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے ۔ مارے جانے والوں میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی ۔ سپریم کورٹ نے مذہبی اعتبار سے نہایت حساس تنازع کے عدالت سے باہر حل کے لیے 9 مارچ کو ثالثی پینل تشکیل دیا تھا جو 2 مرتبہ معیاد میں توسیع کے باوجود تنازع پر فریقین کے درمیان رضامندی کرانے میں ناکام رہا تھا ۔ پینل کے سربراہ جسٹس خلیف اللہ اور اراکین میں رام شنکر اور ایڈوکیٹ سری رام شامل تھے ۔ لہٰذا بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین کے تنازع پر ثالثی کمیٹی کی ناکامی کے بعد 6 اگست سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مسجد کی شہادت سے قبل اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم نرسمہا راوَ سارے ملک کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے رہے کہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا سپریم کورٹ میں بھی مسجد کی برقراری اور نقصان نہ پہنچانے کا حلف نامہ نرسمہا راوَ نے اپنے دوست کلیان سنگھ سے داخل کروایا اور جس وقت مسجد شہید کی جارہی تھی نرسمہا راوَ سوتے رہے اور کارسیوکوں کو من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل تھی ۔ پولیس اورنیم فوجی دستوں کو مداخلت سے روک دیا گیا اور نہ صرف مسجد شہید کردی گئی بلکہ اس کی جگہ عارضی مندر کی تعمیر تک نرسمہا راوَ کی مجرمانہ لاعلمی برقرار رہی ہے ۔ اس لئے بابری مسجد کی شہادت کا کلیدی مجرم نرسمہا راوَ کو کہا جاتا ہے ۔ مسجد کی شہادت یقینی طورپر دنیا بھرکے مسلمانوں کےلئے اشتعال انگیز اقدام تھا اس لیے پوری دنیا میں مسلمان ہندوءوں کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے ۔ حکومت وقت نے مسجد کی شہادت کے وقت فوج اورپولیس کومشتعل ہندوءوں کے کیخلاف مسجد کو شہید ہونے سے بچانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا ۔ وہی حکومت مسجد کی شہاد ت کے بعد مسلمانوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتی رہی اور اندرون خانہ ہندو انتہا پسندوں کی سپورٹ کرتی رہی ۔ بعد میں بھارت کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے بابری مسجد پراپنی سیاست چمکائی لیکن کسی میں اس مسجد کو تعمیر کرنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ بابری مسجد کی شہادت کے واقعے کی تحقیقات کا وقت آیا تودوران تحقیقات یہ بات سامنے آئی کہ مسجد کی شہادت میں اس وقت کی حکومت کا بہت بڑا عمل دخل تھا ۔ رپورٹ میں ایل کے ایڈوانی منوہر جوشی اورکاٹھیا کومسجد کی شہادت کے منصوبے میں براہ راست ملوث پایا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق مرلی منوہر جوشی اور ایڈوانی نے اپنی نگرانی میں تمام انتظامات کو حتمی شکل دی اورمسجد کی شہادت کے وقت یہ دونوں لیڈر مسجد کے سامنے واقع ’’رام کتھا کنج‘‘ کی عمارت میں موجود تھے جوبابری مسجد سے صرف دوسومیٹر دورتھا ۔ اس رپورٹ نے جہاں ہندوءوں کے سکیولر ازم اورلبرل ازم پر سے پردہ اٹھایا وہاں بھارتی لیڈروں کا اصل چہرہ بھی دنیا کے سامنے عیاں ہوگیا ۔ بابری مسجد کی شہادت کے الزام میں ایل کے ایڈوانی اعترافی بیان بھی دے چکے ہیں لیکن بھارتی ایوان انصاف کوان کے اندرموجود مجرم دکھائی نہیں دے رہا اس لیے وہ اب تک آزاد پھر رہے ہیں ۔ ہندووَں کا الزام ہے کہ مسلمانوں نے ظہیر الدین بابر کی بادشاہت کے زمانے میں رام کی پیدائش کے مقام پر مندر کو تباہ کرکے مسجد بنادی تھی ۔ اس واقعے کے بعد ہندو ستان میں ایک تنازعہ اٹھا اورواقعے عدالتی تحقیق کا کام الہ آباد ہائی کورٹ کے سپرد کردیا گیا ۔ 30 ستمبر 20210 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنا تاریخی فیصلہ سنایا جس کے مطابق بابری مسجد زمین کی ملکیت کے تنازع کے حوالے سے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ بابری مسجدکی اراضی وفاق کی ملکیت رہے گی اور اس تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو لیکر سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں حصول حق کے لئے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا جو اصولی بھی ہے اور جمہوری بھی ۔ لیکن اس قضیے میں امریکہ بدنام زمانہ جاسوس تنظیم سی آئی اے اور ایک امریکی کمپنی کا نام سامنے آنے کے بعد کہ جس کا انکشاف ایودھیا کے مہنت یوگل کشور شاستری نے بابری مسجد شہادت کیس کی سماعت کے دوران اسپیشل جج وریندر کمار کی عدالت میں کیا، کم از کم ایک بات عیاں ہوگئی ہے کہ امریکی سی آئی اے انتہا پسندوں کو اکسانے، نوازنے اور پروان چڑھانے میں پیش پیش رہی ہے اور ویشو ہندو پریشد والوں اور اس وقت کی کانگریس حکومت سے اسے کوئی دلچسپی ہو نہ ہو، مسلمانوں کے ساتھ اسکی دشمنی بابری مسجد کی مسماری کا باعث بنی تھی ۔ بھارتی عدلیہ کے فیصلے کے بعد بھارت میں آباد 26 کروڑ سے زائد مسلمان شدید مایوسی اور اضطراب کا شکارہوئے جبکہ دوسری طرف انتہا پسند ہندو خوشی سے بھنگڑا ڈال رہے تھے کیونکہ عدالت کے اس فیصلے نے مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کردی ہے ۔ مسلمانوں کا عدالت سے رجوع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مسجد کی شہادت جو لوگ ملوث ہیں انہیں سزائیں دی جائیں اور مسجد کی ازسرنو تعمیر کی اجازت دی جائے نہ کہ مسجد کو 3 حصوں میں تقسیم کرکے 2 حصے ہندووَں کو دے دیئے جائیں ۔ بھارتی عدلیہ نے قانون کے بجائے مذہبی بنیاد پر فیصلہ کیا جوہندووَں کی قیاس آرائیوں پر مبنی ہے جن کے مطابق یہ جگہ رام کی جائے پیدائش تھی، جس کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملے ۔ فیصلے میں قانون اور انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کرکے انتہا پسند ہندووَں کی خوشنودی حاصل کی گئی ہے جبکہ دوسری طرف مسجد کا ایک حصہ مسلمانوں کو دے کر انہیں بھی خاموش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے ۔ بھارتی عدالت کا فیصلہ ایک سیاسی فیصلہ ہے جو قانون کے بجائے مذہبی بنیاد پر کیا گیا ہے ۔ عدالتوں کے فیصلے اگر سیاسی بنیاد پر ہونے لگیں تو پھر ان کا زوال شروع ہوجاتا ہے ۔ بابری مسجد کا متعصب اور انصاف سے مبرا فیصلہ آنے کے بعد ہمارے ان دوستوں کی آنکھیں بھی کھل جانی چاہیے جو بھارت اور دیگر غیر مسلم اقوام سے دوستی کی پینگیں بڑھانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ انہیں اب سمجھ جانا چاہیے کہ کفار کبھی ’’ امن کی آشا ‘‘ والی بھاشا نہیں سمجھتے بلکہ یہ صرف ڈنڈے کے سامنے ’’ رام رام ‘‘ کرنا ہی جانتے ہیں ۔ ہم اپنی طرف سے جتنے مرضی دوستی کی ٹرینیں چلائیں یا بسیں دوڑائیں ،چاہے تو انکے قدموں میں گریں یا پھران سے بغلگیر ہو کر دوستی نبھائیں لیکن یہ ’’ رام رام ‘‘ کے پجاری کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ یہ ہم نے نہیں بلکہ اللہ تعالٰی نے روز اول ہی سے طے کر دیا تھا کہ کافرکبھی مسلمان کا دوست نہیں ہو سکتا ۔

مقبوضہ کشمیر ،بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی

بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجہ میں اب مقبوضہ کشمیر میں امن و امان عزت و آبرو سمیت کچھ نہیں بچا ۔ جہاں ہر وقت جنگ جاری ہو، ظلم و بربریت کی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہوں وہاں امن و امان کیسے رہ سکتا ہے ۔ جو امن و امان کے دشمن ہوتے ہیں وہ عزت و آبرو کے بھی دشمن ہوتے ہیں ۔ کسی کی عزت و آبرو پر حملہ کرنا بدترین دہشت گردی ہے مگر کوئی بھی بھارت کے خلاف کارروائی کرنے والا نہیں ۔ وہاں زندگی کی رعنائیاں ختم ہو چکی ہیں اور صرف جنگ کا قانون نافذ ہے ۔ یہ بات تو تمام دنیا جانتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں زندگی کی تمام رعنائیاں ختم ہو چکی ہیں جہاں 70 سال سے جنگ ہو رہی ہو، قتل و غارت کا ہر وقت بازار گرم ہو وہاں زندگی کی رونقیں کس طرح قائم رہ سکتی ہیں ۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ اب تک بھارتی فوج 90 سے زائد کشمیری مجاہدین کو شہید کر چکی ہے اس کے علاوہ 35 عام شہریوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے ۔ ایک مسجد کو بھی بھارتی فوج نے نقصان پہنچایا ۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے حریت رہنما سید علی گیلانی نے اپنے قتل کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے جانشین نامزد کر دیئے ہیں اور خود بھارتی فوج نے بھی مجاہدین کے خلاف آپریشن تیز کر دینے کا اعتراف کیا ہے جو دراصل کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو کچلنے اور انہیں بھارتی غلامی میں جکڑے رکھنے کی کوشش ہے ۔

بھارتی فوج پچھلے70 برسوں میں بھارتی اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہے اور فوج کے ساتھ ساتھ بھارتی حکومت بھی اس عمل میں برابر کے شریک ہیں ۔ اس وجہ سے اب تک بھارت میں ہزاروں کی تعداد میں اقلیت کش فسادات ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے ۔ ہٹ دھرمی، میں نہ مانوں اور ظلم و ستم جیسے قانون صرف جنگ کے قانون میں ملتے ہیں ورنہ کوئی اسمبلی ایسا قانون پاس کرتی ہے تو وہ بھی کسی ملک کی نہیں بلکہ جنگل کی اسمبلی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج جسے چاہتی ہے قتل کر دیتی ہے اور جب چاہتی ہے انسانیت کا جنازہ نکال دیتی ہے ۔ اس سے بڑھ کر دہشت گردی اب کیا ہوگی کہ جسے چاہا قتل کر ڈالا اور جب چاہا عزت و آبرو کو پامال کر ڈالا ۔ مگرکسی کو بھارتی فوج کی دہشت گردی نظر نہیں آتی ۔ اس لئے اب وہاں مہذب معاشرے کا تصور ہی مفقود ہو چکا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں تہذیب اس وقت آئے گی جب یہاں امن قائم ہوگا ۔ کشمیر میں آزادی کی تحریک باہر سے نہیں بلکہ خود کشمیری بھارت کے تسلط سے آزادی چاہتے ہیں ۔ ایک تو ناجائز قبضہ اور پھر کہنا کہ در اندازی، بھارت خود دراندازی کے واقعات میں ملوث ہے ۔ بھارت کے فوجی معصوم کشمیری بچوں ، بوڑھوں اور خواتین کی عزتوں کو پامال کرنے میں مصروف ہیں ۔ بھارت کے فوجی وحشیانہ طریقے سے ظلم و ستم کے واقعات میں ملوث ہیں اور انسانی حقوق کی تنظی میں بھارت کی حکومت سے احتجاج کر رہی ہیں کہ وہ بھارتی فوج کے مظالم کو روکے ۔ کچھ عرصہ قبل بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے جو بھارتی فوجی پکڑے گئے تھے بھارت کی حکومت نے انہیں باعزت بری کر دیا تھا ۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت کے وزیر خارجہ کو ایک خط کے ذریعے احتجاج کیا تھا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ ان فوجیوں کو عدالتوں کے ذریعے سزا دلوائے لیکن تاحال اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ۔ اس سارے عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ کشمیر کی تحریک دن بدن زور پکڑتی جارہی ہے جسے دبانے کیلئے بھارتی سکیورٹی فورسز مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزیوں میں مصروف ہے اور کشمیری مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کر رہی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور اندرا گاندھی کی نافذ کردہ ایمرجنسی کے علاوہ وہاں کبھی جمہوری عمل میں تعطل پیدا نہیں ہوا مگر یہ جمہوریت بھارت کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو باعزت زندگی کا حق نہیں دے سکتی ۔ یہ جمہوریت اقلیتوں کو حکومت سازی تو دور کی بات، ایک انسانی کی حیثیت سے سانس لینے کی اجازت نہیں دیتی ۔

مقبوضہ کشمیر کے علاوہ پورے بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں ، عیسائیوں اور سکھوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے ۔ بھارت میں مسلم کش فسادات اس سے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں مگر احمد آباد میں جو کچھ ہوا وہ درندگی، بربریت اور سفاکی کا بدترین مظاہرہ تھا ۔ دو ہزار سے زائد افراد کو زندہ جلا دیا گیا ۔ سات ہزار بچے یتیم کر دیئے گئے اور عورتوں کے ساتھ وہ برتاوَ کیا گیا کہ انہیں اپنے عورت ہونے پر شرم آنے لگی ۔ موت کے اس ننگے ناچ پر سارا عالم چیخ اٹھا لیکن بھارتی حکمران، فوج اور سیاستدان اس درندگی پر نازاں ہیں ۔

جنیوا میں ہونے والے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں انصاف پسند ممالک کو مظلوم قوموں کے حقوق کی پامالی روکنے اور انہیں ظلم و ستم سے نجات دلانے کےلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اس طرح انسانی حقوق کمیشن کا اعتماد بحال ہوگا ۔ آج دنیا کی کوئی ایسی ہیومن راءٹس کی تنظیم دکھائی نہیں دیتی جس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم پر طویل تبصرے شاءع نہ کئے ہوں ۔ اقوام متحدہ اور دنیا کے ہر قابل ذکر فورم میں اس حوالے سے درجنوں مباحثے ہو چکے ہیں اور متعدد مرتبہ بھارتی حکومت کی طرف سے مظلوم کشمیریوں پر ظلم و ستم اور اقوام متحدہ میں کشمیر کے حوالے سے موجود قراردادوں پر عمل پیرا نہ ہونے کا رونا رویا جاتا ہے ۔

کرپشن کے خلاف حکومتی مہم

وہ سیاستدان جو مرکزی یا لوکل سیاست کے ماہر ہیں ، اپنی سیاست کے ساتھ دفن ہونے کے بالکل قریب پہنچ گئے ہیں ۔ اب تک جو مہنگائی کا شور اٹھا رکھا تھا ۔ اپنی خالی ہوتی ہوئی جیبوں کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں ۔ انکو یقین ہو چلا ہے کہ ریاست کی گرتی ساکھ بحال ہورہی ہے ۔ اتنا اودھم مچانے کے بعد بھی گرفتاریوں میں برق رفتار اضافہ جاری ہے ۔ ریاست کے پاس یہ پہلا موقع ہاتھ آیاہے کہ گندی سیاست کو صاف کرکے ۔ پاکستان کی سالمیت اور بقا کے ضامن بن سکیں ۔ پچھلے دس سال میں اداروں کو خیراتی ادارے بنادیا گیاہے ۔ مزید گنجائش انہوں نے قطعاً نہیں چھوڑی ۔ یہ ;82;uthless احتساب ہونے جارہا ہے ۔ چین ، ملائیشیا اور ترکی اس فیز سے گزر چکے ہیں ۔ ترقی اور کرپشن ضد ہے ۔ کرپشن سے چند با اثر افراد مہنگائی اور ریاستی بد انتظامی کو اپنے مفاد کےلئے استعمال کرتے ہیں ۔ اس کا نقصان کئی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ ایک شہری کے ناطے ۔ میری خواہش ہے کہ کرپٹ میرابھائی بھی ہو ۔ وہ سلاخون کے پیچھے ہو کیونکہ ایسی دولت جو بنامحنت کے حاصل ہوتی ہے ۔ وہ جرم کو تقویت دیتی ہے اور اخلاقیات کاجنازہ نکلالتی ہے ۔ سیاستدان کے علاوہ ہر شعبہ ہائے زندگی ۔ کرپشن کی چھتری تلے جی رہا ہے ۔ ادارے اور افراد ۔ اپنی اپنی جگہ منہ کالا کررہے ہیں ۔ باصلاحیت افراد ، کوئی جگہ نہیں پائے ۔ مجموعی ترقی کیسے ممکن ہو ۔ دوسرا ۔ گھر گھر والدین بچے اور سماج،اس رویے سے مسحور ہو رہے ہیں ۔ عوام بھی چادر سے پاؤں نکال چکے ہیں ۔ آمدن کم اور اخرجات زیادہ ہیں ۔ گویا پورا معاشرہ ایک ہی لت میں جی رہا ہے کہ کہیں سے اپنی ناجائز ضرورتوں کو پورا کیا جاسکے ۔ اور جو محروم طبقات ہیں انکے اس رویے سے ۔ جہنم کی زندگی گزارے رہے ہیں ۔ کبھی کبھی ایسالگتا ہے کہ لوگ ضرورتوں کےلئے نہیں بلکہ ناجائز ضرورتوں کےلئے جی رہے ہیں ۔ یہ راستہ انہی سیاستدانوں نے دکھایا ہے ۔ جو آجکل لوٹی ہوئی دولت کو واپس دینے کےلئے ہر گز تیار نہیں ۔ بلکہ انہی عوام کو جن کا بھر کس بھی انہوں نے ہی نکالا ہے ۔ انکو چھتر بناکر انکی آڑ میں جمہوری جمہوری کھیلنا چاہتے ہیں ۔ مگر اب ’’پٹھو گرم‘‘ تیار ہے ۔ اب تو مہنگائی کا راگ الاپنا بھول گئے ہیں ۔ ایک ہی سبیل دکھ رہی ہے ۔ ’’ میں کیہڑے پاسے جاواں ، میں منجھی کتھے ڈھاواں ‘‘ن لیگ، پیپلز پارٹی کے راہنماؤں کی گرفتاریاں جوں جوں تیز تر ہورہی ہیں ۔ اپوزیشن کی بدحواسیاں بھی تیز ہورہی ہیں ۔ نیب کی کاروائیاں لگ ایسے رہا ہے کہ مکمل ہوم ورک کے بعد درست نشانوں تک پہنچ رہی ہیں ۔ لازم ہے کہ اپوزیشن کی ان دو جماعتوں نے جس جدید انداز سے ملکی وسائل اور دولت کو جس بے دردی سے لوٹا ہے ۔ کوئی ملک دشمن ہی ایسا کرسکتا ہے ۔ پچھلے چالیس سے بُراجمان یہ اقتداری ٹولہ بلا شرکت غیرے باقاعدہ اپنی اپنی باریوں کے مطابق کرپشن سے اپنا منہ کالا کرتے رہے ۔ ’’میثاق جمہوریت‘‘ وہ تاریک معاہدہ ہے جس سے ان دونوں جماعتوں نے مستقبل کے پاکستان کو اندھیروں میں ڈبو نے کی ٹھانی ۔ ریاست کو کمزور کرنے والی یہ پارٹیاں ۔ بے نیازی سے وہ کچھ کرنے کےلئے تیار ہوگیءں ۔ جسے ’’ملک دشمن عزائم‘‘ کہتے ہیں ۔ ’’ڈان لیکس‘‘ اسکی ایک مثال ہے ۔ بلاول اور مریم چیخ چیخ کر یہ کہتے تھکتے نہیں کہ عمران خان ایک خلائی وزیر اعظم ہیں ۔ مگر ذوالفقار علی بھٹو سے نواز شریف تک ۔ ان کے آباء ’’آمروں ‘‘ کی کو کھ سے ہوتے ہوئے سیاست کے اُفق پر چھائے رہے نہ جانے یہ بات کرتے ہوئے ان کو اپنے مصنوعی خاندانی اور سیاسی وقار کا خیال کیوں نہ آیا ۔ دراصل ان خاندانوں کے سیاسی بچے جن کے پاس نہ اخلاقی اور نہ جمہوری جواز ہے جن سے وہ اپنے آباء کی خالص سیاسی حثیت کو وجود دے سکیں ۔ تھک ہار کے جب کچھ ہاتھ نہ آیا تو مہنگائی اور ڈالر کے الاپ گانا شروع کئے ۔ اس راگ کے وقت کا تعین ان سے ہو نہ سکا ۔ بے وقت راگ الاپنا ۔ مضر کیفیت پیدا کرتا ہے ۔ اور سُنے والے یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے گئے ۔ کہ یہ تو ’’بے راگی‘‘ ہیں ۔ بہترین قوم وہ ہوتی ہے جو اپنے جرائم کا اعتراف کرتی ہیں ۔ سیاست کا یہ دیوالیہ پن پچھلے دس سال جاری ہے ۔ عوام تک درست معلومات کا رواج قرین قرین فنا ہوچکا ہے ۔ چونکہ ان حکومتوں نے اپنی ذات کو مقصود بالذات سمجھا ۔ لہٰذا ان کی ترجیح عوامی مسائل کہاں رہتی ۔ بیرونی قرضہ جس کا حجم تیس ہزار ارب روپیہ ہے ۔ ان دو پارٹیوں کے اکاوَنٹس میں ٹی ٹی اور منی لارڈنگ کے ذریعے منتقل ہوتا رہا ہے ۔ ملکی معاشی صورتحال کو بدترین سطح تک پہنچایا ۔ سیاست کا یہ انداز ۔ کہ جمہوریت خطرے میں ہے ۔ اور جب بھی یہ دباوَ میں آتے ہیں ۔ یہ سچ کہنے سے گریز اں اس لئے ہیں کہ انکے اخلاقیات کا دیوالیہ نکل چکا ہے ۔ یہ احتساب کے نام سے بلبلاتے کیوں ہیں ۔ اس کو جمہوریت کے لیے گھنٹی کیوں تصور کرتے ہیں ۔ واضح ہے کہ جو لُوٹ مار یہ کرچکے ہیں ۔ اسکی بازیافت اب ریاست کی پہلی ترجیح ہے ۔ تیسری سیاسی قوت کے ابھرنے سے ۔ ریاستی اداروں سُکھ کا سانس لیا ۔ اگر ایسان نہ ہوتا تو ریاست ایک ایسے بحران سے دوچار ہوجاتا ۔ جسکی شکست وریخت سے ملکی سا لمیت اور بقا کا سوال پیدا ہوجاتا ۔ اگرچہ اس وقت ملک کی معیشت بدترین حالات سے گزرہی ہے ۔ اس کو توازن میں لانے کےلئے ’’کرپشن‘‘ کی اس چھیلنی کو درست کرنا پہلی ترجیح لازم ہے ۔ مہنگائی کی حالیہ لہر ۔ وہ اسباب ہیں جو ان دو جماعتوں کی نے غلط کاریوں کا سبب ہیں ۔ اور بیرون ملک اپنے املاک اور دولت میں اضافہ کرتے رہنا ان کا بہت بڑا جرم ہیں ۔ اور مہنگائی اسی سبب پھیلی ہیں ۔ میں سمجھتا ہو ں عمران خان معیشت کے لاش پر بیٹھا ہے اس میں جان پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ عوام اس بحرانی دور کا آزمائش کے طور برداشت کرے کیونکہ معاشرے کا ایک بھی فرد کسی جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو معاشرے کا ہر فرد ذمہ داری کا ثبوت دے یہ قانون قدرت ہے ۔ اپوزیشن کی آوازوں میں ودم خم نہیں رہا ۔ وہ اس لئے کہ اس بار ’’احتساب کی قوت‘‘ شدت سے متحرک ہے اور ان سب کونوشتہ دیوارپر لکھا نظر آرہا ہے ۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر انکا شور ضرور پھیل رہا ہے ۔ کیونکہ کرپٹ نظام کے بینفشری ہر ادارے میں موجود ہیں اور انکا مستقبل انہیں اندیشوں میں ڈولتا ہوا نظرآرہا ہے ۔ اس وقت بین الاقوامی طور پر حکومت اور ریاستی اداروں کی ’’کرپشن‘‘ کے خلاف تحریک کو اچھی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ۔ عمران خان ملکی تاریخ کے سخت ترین حالات کا مقابلہ کررہے ہیں ۔ ایک طرف عوام کو جلد از جلد ریلیف دینا ہے دوسرے ان مافیا کو شکست دینا ہے اور ان کے حلق سے لوٹی ہوئی دولت واگزار کرنی ہے ۔ جس کے سبب ملک او رعوام غربت کی چکی میں بے گناہ پس رہے ہیں ۔ 11 مہینوں کی اس کشاکش میں ایک بات ثابت ہوگئی ہے کہ عمران خان کے اعصاب مضبوط نکلے ۔ انہوں نے شدید دباوَ کے حالات میں اپنا حوصلہ قائم رکھا ہے ۔ باجود اس کے اُ نکی عددی اکثریت کم ہے ۔ مگر کرپشن کے خلاف ان کا مستحکم ارادہ ، ہر قسم کی رکاوٹ کو دور کئے جارہا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق شریف خاندان کے 150 اور زرداری گروپ کے درجنوں اکاوئنٹس منجمد کردیئے گئے ہیں ۔ اس ملک کو صرف ایک چیز کی ضرورت ہے وہ ہے قانون کی بالادستی کا قیام ۔ اب تک قانون ان اقتدار کے بھوکوں کی لونڈی بنی رہی ہے ۔ ایک عام انسان بھی قانون کا احترام نہیں کررہا اس لیے پاکستانی سماج کا رویہ فراءض سے فراریت کا شکار ہوچکا ہے ۔ اللہ کرے کہ کرپشن جو کہ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اپنے انجام تک پہنچے ۔ چین ، ملائشیا اور ترکی ہمارے سامنے وہ مثالیں ہیں ۔ جنہوں نے ابتداء ہی ان کرپٹ عناصر کے خلاف قانون کو متحرک کیا جس نے ان کے معاشروں کو دیمک کی طرح چاٹا ۔ یہ ایک پاکستانی شہری کے قلب اور فکر کی آواز ہے جس کا کسی سیاسی یا مسلکی گروپ سے تعلق نہیں بلکہ یہ تمنا رکھتا ہے کہ پاکستان بھی دیگر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں اپنا مقام پیدا کرے ۔ اور وہ تب ممکن ہے کہ پہلا قدم اور پہلا وار کرپشن کے خلاف شدید تر ہوکیونکہ یہ کینسر ہمارے سیاسی ، سماجی اور کلچر کے جسم میں پھیل چکا ہے اگر دیر کی یا مصلحت آڑے آئی تو خدانخواستہ قوم کے مٹنے میں دیر کہا ں لگتی ہے ۔

پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں پھر اضافہ ۔ ۔ ۔ !

پی ٹی آئی حکومت نے پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اےک بار پھر اضافہ کردےا ہے ۔ توانائی کے ذراءع کی قےمتوں میں اضافہ غرےب لوگوں پر بم گرانے کے مترادف سمجھاجاتاہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ وطن عزےز کی ستر فی صد آبادی خطِ غربت سے نےچے زےست بسر کررہی ہے ۔ لوگوں کےلئے دو وقت کا کھانا مُحال ہوگےا ہے ۔ لوگ سابق حکمرانوں سے انہی باتوں کی وجہ سے نالاں تھے ۔ سابق حکمران بھی ہر ماہ کے آغاز پر لوگوں پر مہنگائی کے بم گراتے رہے اور ساتھ ان کے زخموں پر نمک بھی چھڑکتے رہے ۔ کہتے تھے کہ اس سے عام آدمی پر اثر نہیں ہوگا ۔ ۔ ۔ ;238; اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان کہا کرتے تھے کہ ;34; ڈےزل عام آدمی استعمال کرتا ہے ۔ اگر ڈےزل مہنگا ہوجائے تو ساری چےزےں مہنگی ہوجاتی ہیں ۔ ڈےزل کی قےمت اڑتےس روپے ہونی چاہیے ۔ اگر ڈےزل کی قےمت اڑتےس روپے پر لے آئےں تو ہر چےز کتنی نےچے آجائے گی ۔ عمران خان نے دھرنے میں ےہ بھی کہا تھاکہ میں مہنگی بجلی کیوں خرےدوں ;238; میں اس لئے بجلی کا بل جلا رہاہوں ۔ پٹرول پر حکومت50فی صد ٹےکس لے رہی ہے ۔ ےہ آپ کی جےب سے جاتا ہے ۔ جبکہ اسد عمر کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں سب سے زےادہ ٹےکسز پٹرولیم منصوعات پر لگاےا گےا ہے ۔ ڈےزل پر اےک سو فی صد ٹےکس، مٹی کے تےل پر62فی صد ٹےکس، حکومت 19روپے فی کلو چےنی پر ٹےکس لے رہی ہے ۔ 30فی صد کھانے پکانے کے تےل پر ٹےکس لیا جارہا ہے ۔ پچھلے چھ ماہ میں پندرہ سے سولہ روپے کی قدر گرگئی ہے ۔ صرف روپے کی قدر گرنے سے اس وقت گذشتہ چھ مہینے میں ہر پاکستانی خاندان کی اوپر چالیس ہزار روپے قرض کا بوجھ بڑھ گےا ہے ۔ ;34; ےہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ عمران خان اور اسد عمر پہلے درست فرماتے تھے ےا اب ٹھےک کررہے ہیں ۔ ۔ ۔ ;238;حقےقت ےہ ہے کہ لوگوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے اور لوگوں کی زندگےاں کتنی اجےرن ہےں ۔ آپ اس سے مُلا حظہ فرمائےں کہ وزےراعظم عمران خان کے آبائی حلقے میں ایک چھوٹا سا قصبہ کالاباغ ہے ۔ ےہ ضلع میانوالی کا اےک تجارتی قصبہ ہے ۔ مضافاتی دےہات بلکہ ضلع میانوالی کے اکثر علاقہ جات کے لوگ سودا سلف کےلئے اسی شہر کا رخ کرتے ہیں ۔ خاکسار2010ء تک تقرےباً مغرب کی نماز کے فوراً بعد کھاناکھاکر اےک رفےق کے ہمراہ چائے پینے تنگ بازار جاتاتھا ۔ جہاں پر اےک اور دوست جس کی کرےانہ کی دکان ہے ۔ ہم تےنوں دوست چائے پینے سے لطف اندوز ہوتے تھے اور ساتھ گپ شپ بھی لگاتے تھے ۔ وہ دوست صاحبِ علم تھے تو مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی تھی ۔ دکاندار دوست ساتھ ساتھ اپنے گاہگوں پر اشےاء خردونوش بھی فروخت کرتا رہتا تھا ۔ وہاں پر زےادہ تکلیف دہ بات ےہ ہوتی تھی کہ بہت سے افراد عشاء کے نماز کے قرےب آتے تھے اور مشکل سے اےک ےا آدھا کلو آٹا خرےدتے تھے ۔ مدعا ےہ ہے کہ جب اےک شخص 2010ء میں اےک کلو آٹا مشکل سے خرےدتا تھا اور اب اس کی حالت کیا ہوگی;238;جس شخص کو دو وقت کا کھانا ملتا ہو اس کو بھوک کا اندازہ نہیں ہوتا ہے ۔ بھوک کا اندازہ صرف بھوکا ہی لگا سکتا ہے ۔ ےقےنا وزےراعظم عمران خان کو غرےبوں کا احساس ہوگا ۔ وہ اکثر رےاست مدےنہ کی بات بھی کرتے ہےں ۔ تاجدارِ مدےنہ اور ان کے رفقاء کی حالت ےہ تھی کہ غزوہ خندق کی کھدائی کے دوران صحابہ کرام;230; نے پیٹ پر اےک اےک پتھر باندھا تھا جبکہ حضور کرےم ﷺ نے دو پتھر باندھ رکھے تھے ۔ ےقےنا اس وقت پاکستان کی معاشی حالت درست نہیں ہے ۔ معاشی حالت کو درست کرنے کےلئے سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے لیکن وزےراعظم اوران کے ٹےم کو سرکاری تنخواہ اور دےگر مراعات نہیں لینی چاہئیں اوراےسے اقدامات سے قطعی گرےز کرنا چاہیے جس سے غربت میں مزےد اضافہ ہو ۔ غربت کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہوتا ہے ۔ لوگوں کو مزےد مشکلات میں ڈالنا دانش مندی نہیں ہے ۔ پاکستان میں کاغذی کاروائی میں ;34; ہوا;34;کے سوا ہر چےز پر ٹےکس ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ ;34;ہوا;34; پر بھی ٹےکس ہو لیکن اس کو کاغذوں میں دکھاےا نہیں جارہا ہے ۔ بچوں کے کھانے کی چےزوں سے لیکر ہر چےز پر ٹےکس ہے اور بعض چےزوں پر مختلف ناموں سے کئی کئی ٹےکس لگائے گئے ہیں ۔ مثلاًآپ بجلی کے بل دےکھےں ، اس میں مختلف ٹےکس لیے جارہے ہیں ۔ پاکستان میں تقرےباً پچاس اقسام کے ٹےکسلیے جارہے ہیں ۔ پاکستانی لوگ ٹےکس دےتے ہیں لیکن آوٹ پٹ زےرو ہے ۔ دنےا کے دوسرے ممالک میں لوگ ٹےکس دےتے ہیں لیکن اس کے بدلے میں لوگوں کو سہولےات بھی ملتی ہیں ۔ آپ پاکستان کے دو بڑے شہرکراچی اور لاہور کو دےکھیں ۔ کراچی کے لوگ پینے کے صاف پانی کےلئے ترستے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کی بڑی تعداد پینے کے صاف پانی سے محروم ہے ۔ شہری موٹر سائےکلوں اور گاڑےوں میں پینے کے صاف پانی کی تلاش میں دربدر ہیں ، کھبی اےک فلٹر پمپ پر جاتے ہیں تو کھبی دوسرے فلٹر پمپ پر جاتے ہیں ۔ اس سے نہ صرف پٹرول ضائع ہو جاتاہے بلکہ وقت بھی صرف ہوجاتاہے ۔ حکومت ان دو بڑے شہروں کے ہر چھوٹے بڑے محلے ےا ٹاءونز وغےرہ میں واٹر سپلائی کے پاءپ لائنوں کے ذرےعے گھر گھر پینے کا صاف پانی فراہم کرکے مناسب چارجز لے لیا کرےں اور اس سے نہ صرف شہرےوں کو پینے کا صاف پانی فراہم ہوگا بلکہ بڑی تعداد میں لوگوں کو ملازمت کے مواقع مل جائےں گے ۔ اسی طرح کراچی اور لاہور میں صفائی کی حالت ابتر ہے ۔ جس اےرےا میں اےلےٹ طبقہ رہتا ہے ، وہاں پر صفائی سمےت ہر چےز درست ہے لیکن جہاں عام لوگ رہتے ہیں ،وہاں پانی اور صفائی سمےت کسی چےز کی حالت ٹھےک نہیں ہے ۔ طبقاتی نظام ہی نقصان کاباعث ہے ۔ وزےراعظم کے آبائی حلقے ضلع میانوالی کے خٹک بےلٹ میں انسان حےوان اےک ہی جوہڑ سے پانی پےتے ہیں ۔ قارئےن کرام!وزےراعظم عمران خان اور اس کی حکومت کو چاہیے کہ وہ توانائی کے ذراءع کی قےمتوں میں اضافے نہ کرےں کیونکہ اس سے غرےب آدمی بہت زےادہ متاثر ہوتا ہے اور غرےبوں کی حالت انتہائی ابترہے ۔

شکیل آفریدی کی حوالگی،قومی عزت ووقارکامسئلہ

مشرف دور میں امریکہ کو مطلوب کچھ لوگوں کو امریکہ کے حوالے کیا گیا بلکہ در حقیقت بیچا گیا اوراپنے اس جرم کا اعتراف جنرل مشرف نے خود اپنی کتاب اِن دی لائن آف فائر میں بھی کیا ۔ ان لوگوں کے جرائم جو بھی تھے ان کی فروخت کسی بھی طرح درست نہیں تھی کیونکہ ان کے جرائم پاکستان کے خلاف نہیں امریکہ کے خلاف تھے اور انہی فروخت شدہ لوگوں میں سے ایک ڈاکٹر عافیہ صدیقی تھی ۔ عافیہ کا کس سے تعلق تھا یا خود وہ کون تھی، اُس کے ابتدائی جرائم کیا تھے یا نہیں تھے یہ سب سوالات اپنی جگہ لیکن اُسے جو پچاسی سال قید کی سزا سنائی گئی ، اُس کے ساتھ مقدمے کے دوران جو غیر انسانی سلوک کیا گیا اور اس سے پہلے اُس کو جس طرح نہ صرف حبس بے جا میں رکھا گیا اور بگرام جیل میں اُس کے ساتھ جو وحشیانہ رویہ رکھا گیا وہ سب اُس کو انتہائی قابل رحم بناتا ہے اور زیادہ افسوسناک عمل یہ ہے کہ اس تمام سزا کے لیے اُس کے جس جرم کو بنیاد بنایا گیا وہ یہ تھا کہ اُس نے ایک امریکی فوجی پر صرف بندوق اٹھائی تھی مارا نہیں تھا ۔ عافیہ کے ساتھ پاکستان میں عمومی طور پر ہمدردی کا ایک جذبہ پایا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف ایک مجرم ہے، جو پاکستان کا مجرم ہے، جس نے پاکستان کی عزت اور خود مختاری کا سودا کیا تھا ۔ امریکہ نے 2 مئی 2011 کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی مخبری پر ایبٹ آباد کے بلال ٹاءون میں ایک گھر پر ہیلی کاپٹروں کی مدد سے حملہ کرکے اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کا دعویٰ کیا یہ حملہ پاکستان کے کئی کلومیٹر اندر آکر پاکستان ملٹری اکیڈمی سے دوچار کلومیٹر کے فاصلے پر کیا گیا اور اس کا باعث خود پاکستان کا ایک شہری ڈاکٹر شکیل آفریدی بنا جس نے امریکیوں کی ہر طرح سے رہنمائی کی ۔ خوش قسمتی سے یہ غدارِ وطن پکڑا گیا اور تب سے اب تک امریکہ مسلسل اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ کسی طرح اپنے اس مخبر اور ہمارے اس غدار کو رہا کرواکر اپنے ملک لے جائے اور ظاہر ہے کہ وہاں اسے جس طرح نوازا جائے گا اُس کی تفصیل بیان کئے بغیر بھی سب کو معلوم ہے ۔ ابھی تک حکومت ِپاکستان نے عوامی دباءو کے تحت اس غیر ملکی دباءو کو برداشت کیا لیکن اب جو خبریں گردش کر رہی ہیں وہ یہی ہیں کہ ممکن ہے کہ حکومت شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کر دے اور شائد عوام کو مطمئن کرنے کے لیے اس سے عافیہ صدیقی کو پاکستان کو دے دینے کامطالبہ کیا جائے تا کہ یوں پاکستانیوں کے جذبات کو ٹھنڈا کیا جائے ۔ بات اگر دو عام قیدیوں کی ہوتی تو قابلِ قبول تھی لیکن یہاں بات ایک ایسے غدار کی ہے جس کی غداری نے پوری قوم کا سر جھکا دیا اور پاکستان کو ایک ایسا ملک ثابت کرنے کی پوری کوشش کی جو اپنی سرحدوں کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا اور جہاں دشمن جب چاہے سرحدوں کے بہت اندر آکر ہم پر وار کر سکتا ہے ۔ اگر وہ جانتا تھا کہ ایبٹ آباد کے ایک عام سے گھر کے اندر دنیا کا انتہائی مطلوب شخص اُسامہ رہتا ہے تو اُسے یہ راز اپنی حکومت کو دینا چاہیئے تھا نہ کہ ایک غیر طاقت کو اور وہ بھی ایک ایسی طاقت کو جو اسلامی ملکوں پر حملہ کرنا اپنا فرض اور اپنے سُپر پاور ہونے کی تسکین سمجھتا ہے ۔ شکیل آفریدی کوئی عام مجرم نہیں جسے قیدیوں کے تبادلے میں دوسرے ملک کے حوالے کیا جائے ۔ امریکہ اپنے مجرموں کو تو دُنیا کے لئے عبرت بنا دیتا ہے جیسا کہ اُس نے عافیہ کے معاملے میں کیا جب کہ اپنے لیے کام کرنے والوں کو وہ دُنیا کے سامنے ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے نہ صرف اپنے لیے بلکہ دنیا والوں پر بھی وہ ان کا ہیرو ہونا مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ وہ اس بات کا بھی قائل ہے اور اس پر مُصر بھی کہ اُس کے شہریوں کو دنیا میں کچھ بھی کرنے کا اختیار حاصل ہے اور وہ کسی بھی جرم کے بعد انہیں بزور بازو چھڑالے جاتا ہے ۔ دُنیا میں تو یقینا اس کی کئی مثالیں ہونگی جب اُس نے اپنے شہریوں کو دوسرے ممالک میں جرائم کے بعد چھڑا کر ہیرو بنا دیا ہوگا لیکن پاکستانیوں کے ذہنوں میں ابھی تک ریمنڈ ڈیوس کا رعونت زدہ چہرہ محفوظ ہے جو لاہور کی سڑکوں پر دو پاکستانیوں کے قتل کے بعد محفوظ و ماموں امریکہ پہنچ گیا تھا ۔ اب اگرچہ معاملہ اُن کے شہری کا نہیں لیکن یہ شخص یعنی شکیل آفریدی امریکہ کے لیے اُس سے بھی زیادہ قیمتی ہے اور پاکستان کے لیے انتہائی خطرناک ۔ حکومت پاکستان کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ ڈاکٹر آفریدی کی حوالگی کے اثرات کیا ہونگے، ایک ایسی قوم جس کے کچھ افراد اپنی غربت کے مارے بڑی آسانی سے غیر ملکی طاقتوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور کچھ اپنی اخلاقی پسماندگی اور طمع و لالچ اور حرص و ہوس سے مجبور ہوکر اپنے آپ کو بیچ ڈالتے ہیں کیا شکیل آفریدی کی حوالگی کے بعد اُن میں بہت سارے شکیل آفریدی بننے پر آمادہ نہیں ہو جائیں گے اور یہ نئے غدار پرانے سے بڑھ کر ہونگے کیونکہ پرانوں کے ذہن میں کہیں نہ کہیں تو سزا کا خوف ہوگا لیکن نئے تو ہر قسم کے اندیشے سے آزاد ہو کر جرم ِغداری کے مرتکب ہونگے اور بڑی تسلی سے بڑے بڑے قومی جرائم کریں گے ۔ لہٰذا حکومت اس قومی موقف پر جم جائے کہ ڈاکٹر آفریدی قومی مجرم ہے اور اگر پاکستان میں غداری کی سزا موت ہے تو یہی اُس کی سزا ہونی چاہیے ۔ ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ یقینا پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں اور پاکستان کا ہر فرد ان کی آزادی کا خواہاں ہے اور ان کی بے حرمتی پر ہر پاکستانی تڑپا بھی ہے لیکن اُن کی رہائی کے لیے کوئی دوسری سبیل کی جائے جو پوری قوم کو قابلِ قبول ہو ڈاکٹر آفریدی کی رہائی کے بدلے عافیہ کی رہائی بھی متنازعہ ہو جائے گی اور ایک کمزور عورت جو عرصہ دراز سے امریکیوں کے مظالم سہہ رہی ہے اپنے لیے قومی ہمدردی بھی کھو دے گی ۔ یہاں جذبات نہیں بلکہ ہوش اور فکر کی ضرورت ہے اور قوم یہ توقع کرنے میں حق بجانب بھی ہے کہ عافیہ اور اس کے اہل خانہ ایک غدار کے ساتھ پلڑے میں تُلنے کو راضی نہیں ہونگے، لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہر گز نہیں کہ عافیہ کی رہائی کی کوششیں ترک کر دی جائیں بلکہ اس رہائی کو باوقار طریقے سے ممکن بنایا جائے اور عافیہ کو پورے عزت و احترام کے ساتھ واپس اپنے ملک لایا جائے نہ کہ ایک غدار کے بدلے میں ۔ ڈاکٹر آفریدی کی امریکہ کو حوالگی ایک انتہائی حساس نوعیت کا معاملہ ہے اور اسے کسی صورت عمل میں نہیں آنا چاہیے ورنہ اُسکے فعل سے تو ملک کی جو سُبکی بین الا قوامی سطح پر ہوئی تھی سو ہوئی تھی اب کا معاملہ اس سے زیادہ سنجیدہ نوعیت کا ہوگا اگر ایسا کیا گیا تو دشمن اور شیر ہوگا اور ہر ایک اپنے کارندے نہ صرف بڑی تسلی سے پاکستان بھیجے گا بلکہ یہاں سے بھی اپنے مہرے ڈھونڈ نکالے گا ۔ پاکستانی حکومت ماضی میں بڑی آسانی سے امریکی دباءو میں آتی رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قوم اس خوف میں مبتلا ہے کہ ایک بار پھر قومی وقار اور عزت کا سودا کر لیا جائے گا لیکن حکومت کو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یوں آسانی سے ہتھیار ڈالنے کی روش نے ہ میں ایک مضبوط قوم نہیں بننے دیا اور تاریخ اور وقت شاید دوچار بار تومعافی دے بھی دیتی ہے ہر بار نہیں ، اور وقت کی پکڑنے بڑے بڑوں کو دنیا سے بے ننگ و نام رخصت کیا ہے لہٰذا موجودہ حکومت اپنی حب الوطنی کے بلندو بانگ دعوءوں کے باوجود اگر کوئی عامیانہ بلکہ غدارانہ قدم اٹھائے گی اور سستی شہرت خریدے گی تو یہ سودا اُسے بہت مہنگا پڑ سکتا ہے اورپھر اُسکی داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں ۔

سینیٹ میں حکومت کی فتح اور اپوزیشن کا بے معنی واویلا

سینیٹ میں حکومت کو فتح حاصل ہونے کے بعد اپوزیشن کو اپنی حیثیت کا علم ہو جانا چاہیے، تحریک عدم اعتماد لانا جمہوریت کا حسن ہے مگر نتاءج کو بھی تسلیم کرنا جمہوریت کا حسن کہلاتا ہے ۔ المیہ یہ ہے ہمارے ملک میں جو جیت جائے اس کیلئے نتاءج درست اور جو ہار جائے وہ دھاندلی کا الزام عائد کردیتا ہے ۔ اب اپوزیشن نے سینیٹ نتاءج کو ماننے سے انکار اور اے پی سی بلانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ن لیگ نے ایک اورتحریک عدم اعتماد لانے کا عندیہ دیدیا ۔ تحریک عدم اعتماد نہ ہوئی یہ کوئی میوزیکل چیئر کا کھیل ہوگیا ۔ حکومت کی فتح کو تسلیم کرنا چاہیے اور ایوان کو جمہوری انداز میں چلانا چاہیے نہ کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں وقت گزرتا جائے اور کوئی مثبت قانون سازی نہ ہوسکے ۔ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن اور ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے خلاف حکومتی تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گئی، چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے خلاف تحاریک عدم اعتماد کی کامیابی کےلئے مطلوبہ تعداد میں ووٹ نہیں مل سکے، سینٹ کی تاریخ میں پہلی بار چیئرمین سینٹ کو عہدے سے ہٹانے کی قرارداد پر رائے شماری ہوئی، ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے پولنگ ایجنٹس کے سامنے ووٹوں کی گنتی کی گئی، جماعت اسلامی کے دو ارکان سراج الحق اور مشتاق احمد نے ووٹ نہیں ڈالا جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر چوہدری تنویر خان علاج کےلئے بیرون ملک گئے ہوئے ہیں ۔ پریذائیڈنگ افسر بیرسٹر محمد علی سیف نے ووٹوں کی گنتی کے بعد اعلان کیا کہ آئین کے مطابق قرارداد کے حق میں 50 ووٹ پڑے جس کی وجہ سے یہ قرارداد ارکان کی نصف تعداد سے زائد ووٹ نہ حاصل ہونے کی وجہ مسترد ہو گئی ہے، تحریک عدم اعتماد کی مخالفت میں 45 ووٹ پڑے جبکہ 5 ووٹ مسترد ہو گئے، کامیابی کیلئے 55 ووٹ درکار تھے، چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد حکومتی اراکین نے ڈیسک بجا کر ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور حکومتی ارکان کی جانب سے ایک سنجرانی سب پر بھاری کے نعرے لگائے گئے، اسی طرح ڈپٹی چیئرمین سینٹ سلیم مانڈوی والا کے بھی خلاف حکومت کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی،سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد سینیٹ کے ارکان کی مجموعی تعداد سادہ اکثریت حاصل نہیں ہوسکی، پرایذاءڈنگ آفیسر نے کہا کہ سلیم مانڈوی والا کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کے حق میں 32 ووٹ آئے اپوزیشن نے ووٹ نہیں ڈالے، قبل ازیں سینٹ میں قائد حزب اختلاف راجا ظفر الحق نے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش کی جس کی تصدیق کے لیے ووٹنگ کرائی گئی اور 64ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر راجا ظفر الحق کی قرارداد کی حمایت کی، اپوزیشن کی جانب سے مسلم لیگ ن کے سینیٹر جاوید عباسی اور حکومت کی جانب سے نعمان وزیر کو پولنگ ایجنٹ مقرر کیا گیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے تحریک اعتماد کی ناکامی پر چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے ثابت کیا کہ آپ پر ایوان کا اعتماد ہے ۔ متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد میں حکومت پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام عائد کیا اور شکست کو قبول کرنے سے انکار کر دیا آئندہ سیاسی لاءحہ عمل تیار کرنے کے لئے ایک اور اے پی سی بلانے کا اعلان کر دیا ۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے اپنے ہی سینیٹرز نے انتشار کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے ۔

وزیراعظم کا دورہ امریکہ پر اظہار اطمینان

وزیراعظم عمران خان نے دور ہ امریکہ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں قیام امن کیلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ویژن کو قابل تعریف قرار دیا ہے وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر بحری امور علی زیدی، زلفی بخاری، علی جہانگیر صدقی، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر شریک تھے ۔ اجلاس میں دورہ امریکہ کا جائزہ لیا گیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان بہتر تعلقات علاقائی امن و استحکام میں معاون ثابت ہونگے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے کامیاب دورہ امریکہ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ کو سراہا اور کہا کہ پاک امریکہ تعلقات اور علاقائی امن سے متعلق ان کی سوچ قابل ستائش ہے، پاک امریکہ بہتر تعلقات دونوں ممالک کی قیادت کی خواہش ہے، دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات علاقائی امن و استحکام میں معاون ثابت ہونگے ۔ دریں اثنا وزیراعظم سے وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے ملاقات کی ۔ ملاقات میں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی تنظیم نو کے حوالے سے معاملات پر بات چیت ہوئی ۔ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے درخواست کی کہ ماہ اکتوبر کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا مہینہ قرار دیا جائے ۔ وزیراعظم عمران خان نے لاہورڈویلپمنٹ اتھارٹی کے وائس چیئرمین ایس ایم عمران کو ہدایت کی ہے کہ ایل ڈی اے میں کرپشن کے خاتمے اور میرٹ کی بالادستی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے اور تمام معاملات کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھتے ہوئے شہریوں کو بلا تفریق ریلیف فراہم کیا جائے ۔ ایل ڈی اے کے وائس چیئرمین ایس ایم عمران نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور انہیں وزیراعظم کے ویژن کے مطابق ایل ڈی اے میں کئے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا ۔

ایس کے نیازی کا اعزاز

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی کا دنیا ئے صحافت میں قدم رکھنے کے بعد یہ خاصا رہا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے قارئین اور ناظرین کو ہمیشہ قبل ازوقت خبر سے آگاہ کیا ۔ اس مرتبہ بھی سینیٹ میں پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے آگاہ کردیا تھا کہ صادق سنجرانی ہی فتح سے ہمکنار ہوں گے اور سو اسی طرح ہوا ۔ روزنامہ پاکستان اور روز نیوز کا ہمیشہ سے یہ اعزاز رہا اور اپنے قارئین اور ناظرین کو قبل ازوقت خبر سے ;200;گاہ رکھنے کا اعزاز برقرار رکھتا ہے اس سلسلے میں پاکستان گروپ ;200;ف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹراور روز نیوز کے چیئر مین ایس کے نیازی کا سنہرا کردار ہے ۔ چیئر مین سینٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ایس کے نیازی نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ فتح صادق سنجرانی کی ہی ہوگی ۔ سو اسی طرح ہوا اور اپوزیشن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ ایس کے نیازی نے کہا کہ میں نے اپنے روز نیوز کے پروگرام سچی بات میں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ صادق سنجرانی جیتے گئے ۔ اس موقع پر ایس کے نیازی سے تحریک انصاف کے رہنماء شوکت بسرا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیازی صاحب ;200;پ نے ایک جملے میں سمندر کو کوزے میں بند کردیا ہے ۔ ایس کے نیازی نے کہا تھا کہ میں نے پیپلز پارٹی کے دو تین لیڈروں کی بات سنی وہ کہے رہے تھے ووٹ ضرورت دینگے لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کس کو دینگے ۔ اس جواب پر شوکت بسرا نے ایس کے نیازی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ۔

Google Analytics Alternative