کالم

اسلامی سزاءوں میں انسانیت کافائدہ

بد قسمتی سے مسلم دنیا اور بالخصوص پاکستان کا روشن خیال طبقہ جس کو اسلام اور مذہب کا دور دور سے واسطہ نہیں وہ بھی اسلامی سزاءوں تعزیرات اور قوانین کو جا ہلانہ اور ظالمانہ قرار دیتے ہیں ۔ اور اب یہی خا ص گروہ ناموس رسالت کے قانون اور اسلامی سزاءوں کوختم کرنے پر تُلا ہوا ہے ۔ وہ یہ بات سمجھنے سے قطعاً عاری ہے کہ وہ نام نہاد اور ترقی یافتہ ممالک جو اسلامی قوانین اور نظام کی مخا لفت کرتے ہیں وہاں اُنکی اپنی حالت کو نسی اچھی ہے ۔ اسلام ایک انتہائی دور اندیش مذہب ہے اور نغوذ باللہ اکیسویں صدی میں جب انسان چاند، مریخ اور دوسرے سیاروں پر قدم رکھ چکا ہے ، جدید سائنس اور ٹیکنالوجی ۴۱ سوسال پہلے قُر آن کی ایک آیت غلط ثابت نہ کر سکی ۔ جوں جوں سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کر تی جائی گی اسلام مزید نکھر تا جائے گا ۔ اگر ہم مختلف ممالک کے مجموعی جرائم کی تعداد دیکھیں تو اس میں 2کروڑ جر ائم کے ساتھ امریکہ سر فہرست، جبکہ دوسرے نمبر پر اُنکا حلیف بر طانیہ، تیسرے نمبر پر جرمنی اور دسویں نمبر پر دنیا میں دوسری بڑی جمہوری حکومت کا دعوہ کر نے والا ملک بھارت ہے ۔ یہاں یہ بات خوش آئند ہے کہ 50 ممالک کی اس فہرست میں کوئی مسلم ملک شامل نہیں ۔ اسی طر ح امریکہ میں عصمت دری کے سالانہ ایک لاکھ، کینیڈا میں 30 ہزار جبکہ اسکے برعکس اسلامی ممالک سعودی عرب اور قطر میں عصمت دری کے 12 اور30اقعات ہو تے ہیں ۔ اگر ہم کار چو رممالک کے 10 ٹاپ ممالک کی لسٹ کا تجزیہ کریں تو اس میں ایک بھی مسلم ملک نہیں ۔ اگرہم بین لاقوامی سطح پر طلاق کی شرح دیکھیں تو ٹاپ ٹین میں کوئی بھی مسلمان ملک شامل نہیں ۔ امریکہ جہاں پرطلاق کی شر ح یعنی 5 فی ہزار سالانہ، بر طانیہ میں 4فی ہزار جبکہ اسلامی ممالک میں سعودی عرب0;46;10 فی ہزار ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس طر ح اگر ہم دنیا میں قتل کی شرح دیکھیں تو قتل کی شرح امریکہ میں پانچ ہزار فی لاکھ ، بر طانیہ میں چار ہزارفی لاکھ جبکہ سعو دی عرب میں قتل کی شرح فقط ایک فی لاکھ ہے ۔ با وجودیہ کہ جہاں پر اسلامی قوانین اور شریعت سختی سے لاگو بھی نہیں ۔ اگر ہم مندرجہ بالا تناظر میں دیکھیں تو اس سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامی ممالک میں مختلف جرائم کی شرح وہاں پر راءج کسی حد تک اسلامی نظام اور اسلامی نطام کی وجہ سے اخلاقی، معاشی ، سماجی اور ثقافتی حدود کی وجہ سے ہے ۔ اگر ان اسلامی تعلیمات اورقدروں کو ختم کیا جائے تو مسلمان ممالک کی حالت ان کافروں سے بر تر ہو گی ۔ اور یہی وجہ ہے کہ اسلام میں سزاءوں کا جو نُقطہ نظر ہے وہ نہ صرف استدلالی بلکہ عقلی ہے ۔ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے ۔ بعض روشن خیال لبرل قصاص اور دیت کو فر سودہ اور غیر اسلامی سزا گر دانتے ہیں ، مگر سورۃ البقرہ 178 میں ارشاد خداوندی ہے اور اے اہل عقل قصاص میں تمھاری زندگانی ہے کہ تم خو نریزی سے بچو ۔ اگر مسلمان معاشرے میں قصاص اور دیت کا نُقطہ نظر نہ ہوتا تو آج امریکہ اور بر طانئے کی طرح مسلمان ممالک میں قتل کی شرح میں نمایاں اضافہ ہو تا ۔ مگر ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہ میں ایک ایسا مذہب ملا ہے جو دنیا میں امن ، رواداری اور بھائی چارے کو فروع دینے والا ہے ۔ سورۃ بنی اسرائیل (33) میں ارشاد خداوندی ہے اور جو شخص ظلم سے قتل کیاجا ئے ہم نے ان کے وارث کو اختیار دیا ہے کہ ظالم قاتل سے بد لہ لے تو اسکو چاہئے کہ قتل کے قصاص میں زیادتی نہ کرے ۔ پروفیسر محمد قطب کہتے ہیں کہ 400 سال کے بڑے عر صے میں صرف 6 لوگوں کے ہاتھ چوری کے جرم میں کاٹے گئے ۔ اگر اسکے بر عکس ہم یو رپ اور بالخصوص امریکہ اور انکے اتحادیوں کو دیکھیں تو انہوں نے بنی نوع انسانوں کو مارنے اور قتل کر نے کے لئے کیا کیا خو ف ناک اور خطر ناک ہتھیار نہیں بنائے ۔ کیا ناگاساکی ، ہیرو شیما ، افغانستان اور عراق میں اسلامی نظام یعنی قصاص، دیت اور چوری کی سزا کی وجہ سے لاکھوں لوگ لُقمہ اجل بن گئے ۔ کیا عراق میں لاکھوں بچے قصاص دیت اور چو ری کی سزا کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ جہاں تک اسلام کی سخت سزاءوں کا تعلق ہے اس سے تو جرائم میں انتہائی حد تک کمی ہوئی ہے ۔ اقوام متحدہ کے نیشنل کمیشن فار نار کا ٹکس کنٹرول کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں اور بالخصوص امریکہ میں ببچوں کے ساتھ بد فعلی،گا ڑیوں کے ایکسیڈنٹ ، قتل اور جنسی جرائم کی سب سے بڑی وجہ شراب نو شی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام نے شراب نو شی کی سخت سزا مقرر کی ہے ۔ سورۃ البقرہ (218) میں ار شاد خداوندی ہے اے پیغبر لوگ تُم سے شراب اور جوئے کے بارے میں پو چھتے ہیں کہہ دو کہ ان میں نُقصانات بڑے ہیں ۔ حضور ﷺ کے دور میں جب اسلامی حکومت پورے عروج پر تھا ایک معزز خاندان کی عورت چوری کے الزام پکڑی گئی ۔ چو ری کا یہ مقدمہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا ،کئی لوگوں نے سفارش کی کہ اس معزز خاندان کی عورت کو چوری کی سزا نہ دی جائے ،آقائے نامدار ﷺ نے فر مایاکہ آپ سے پہلی قو میں اسی وجہ سے تباہ ہوئی تھیں کیونکہ وہ عام لوگوں سزاتو دیتے تھے اور خواص کو کھلا چھوڑ دیتے ۔ خداکی قسم ۔ کہ اگر محمدﷺ کی بیٹی حضرت فا طمہ;230; پر بھی چوری کا جرم ثابت ہو جاتا تو اُسکا بھی ہاتھ کا ٹ دیا جاتا ۔ ا سطرح حضرت عمر ;230; کے دور خلافت میں سخت قحط تھا اور ایک آدمی نے چوری کی مگر حضرت عمر ;230; نے بھوک افلاس اور قحط کی وجہ سے چور کا ہاتھ کاٹنے کی سزا معاف کر دی ۔ اس طر ح اسلام میں زنا کی جو سزا رکھی گئی ہے وہ بھی غیر عقلی اور استد لالی مبہم نہیں ۔ خدارا ان سزاءوں کا مذاق نہ اُڑایا جائے بلکہ انہی سزاءوں اور اسلامی تہذیب و تمدن کی روایات کی وجہ سے دنیا کے اکثر اسلامی ممالک جرائم کی شرح کسی حد تک کم ہے ۔ حالانکہ انہی اسلامی ممالک میں کوئی آئیڈیل اسلامی نظام نہیں ۔

نیا پاکستان ہاءوسنگ منصوبہ، رجسٹریشن کا آغاز

پاکستان تحریک انصاف نے عوام سے جو سب سے بڑا وعدہ گھر دینے کا کیا تھا اس کی رجسٹریشن کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ نیا پاکستان ہاءوسنگ منصوبے کے تحت عوام کو گھر فراہم کیے جائیں گے کیونکہ پاکستان میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو گھر بنانے کی استطاعت رکھتے ہیں ، مہنگائی کا زور ہے، سیمنٹ ، سریا، اینٹوں کی قیمت قوت خرید سے باہر ہے، گھر بنانے کا سوچنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے، ہمارے ملک کے تین یا چار اہم ایشو ہیں جس میں سب سے پہلے روزگار، مکان، صحت اور تعلیم سرفہرست ہیں ۔ جہاں تک روزگار کا تعلق ہے تو حکومت اس پر منصوبہ بندی کررہی ہے ، آنے والے دنوں میں شاید یہ مسئلہ حل ہو جائے ۔ تاہم جہاں تک چھت کا مسئلہ ہے تو وزیراعظم عمران خان اس پر کافی حد تک عمل پیر ا ہیں ۔ نیا پاکستان ہاءوسنگ منصوبے کے تحت مختلف شہروں میں گھر بنانے کا آغاز کیا جارہا ہے اس کے تحت عوام الناس کو رہنے کیلئے چھت نصیب ہوگی ۔ گھر ایک ایسی بنیادی ضرورت ہے کہ کسی غریب کو اگر چھت میسر ہو جائے تو اس کی زندگی کے آدھے سے زیادہ معاملات حل ہو جاتے ہیں کیونکہ کرائے پر رہنا والا جو مہینے بھر میں کماتا ہے اس کی 75 فیصد آمدنی کرائے کی مد میں چلی جاتی ہے جو باقی بچتا ہے وہ پانی، گیس ، بجلی کا بل کھا جاتا ہے ایسے میں زندگی کے معاملات کو چلانا بہت مشکل ہو جاتا ہے ۔ تعلیم، صحت تو بعد کے مسائل ہیں جب کھانے کیلئے کچھ بچے گا تو بچے تعلیم حاصل کرسکیں گے لہذا یہ حکومت کا بڑا اقدام ہے اور اگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جو وعدہ کیا تھا خصوصی طورپر گھروں کے حوالے سے وہ مکمل کرپاتی ہے تو یہ اسکی بہت بڑی کاوش ہوگی اور یقینی طورپر اس کو عوام میں بھی پذیرائی ملے گی ۔ وزیراعظم عمران خان نے ضم شدہ قبائلی علاقوں ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت اورنیا پاکستان ہاءوسنگ و ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت آن لائن رجسٹریشن کے دوسرے مرحلے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی آمدن کا تقریباً نصف حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے ہر طرح کے کاروبار کا باقاعدہ اندراج اور ٹیکس نیٹ کی توسیع اقتصادی ترقی کےلئے ازحد ضروری ہے تاہم انضمام شدہ علاقوں میں ٹیکس کی شرح کے تعین میں علاقے کے عوام کی مشکلات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جائے گا معاشی استحکام کےلئے ضروری ہے کہ معاشی سرگرمیوں کو باقاعدہ دستاویزی شکل دی جائے اورٹیکس کے دائرہ کو بڑھا یا جائے کم آمدنی والے طبقات کو گھر بنانے کے لئے آسان شرائط پر قرضے ملیں گے اس بارے میں نیا آرڈیننس لا یاجارہاہے،ماضی میں پیسے والے لوگوں کے لئے ہاءوسنگ اسکی میں بنتی تھیں پہلی مرتبہ حکومت کم آمدنی والے طبقات کےلئے ہاءوسنگ اسکیم شروع کر رہی ہے، اندرون و بیرون ملک سے سرمایہ کاری کرنے والوں کو دعوت دے رہے ہیں چھوٹی کمپنیاں بنا کر کاروبار شروع کرنے والوں کی معاونت اور حوصلہ افزائی کی جائے گی ملک میں ایک کروڑنئے گھروں کی ضرورت ہے ۔

وادی نیلم میں قیامت صغریٰ

مظفر ;200;باد سے 60 کلو میٹر دور آزاد کشمیر کے علاقے لیسوا میں کلاوڈ برسٹ ہوگیا، جس کے نتیجے میں خوفناک گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلے سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ۔ علاقے میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا اور موبائل و انٹرنیٹ سروس معطل ہوگئیں ۔ سیلابی ریلے کی لپیٹ میں آکر 2 مساجد اور ڈیڑھ درجن سے زائد مکانات بہہ گئے اور 23 افراد جاں بحق ہوگئے ۔ جن کی لاشیں سیلابی ریلے میں بہہ کر دریائے نیلم میں چلی گئیں ۔ لینڈ سلائیڈنگ سے لیسوا بازار مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے ۔ صدر ;200;زاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے وادی نیلم میں قدرتی ;200;فت سے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ، رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے حکومت تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے متاثرین کی امداد کیلئے ان کی بھرپور ;200;بادکاری کریگی ۔ جبکہ تباہی کی اطلاع پر ;200;زاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر شاہ غلام قادر خبر سن کر راولپنڈی میں مصروفیات ترک کرکے وادی نیلم پہنچ گئے ۔ مزید بر;200;ں وزیراعظم عمران خان نے ;200;زاد کشمیر کی وادی نیلم میں طوفانی بارش اور سیلابی ریلے کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے بے گھر ہونے والے افراد کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ۔

نان فائلرز کو فائلرز بنانے کیلئے سہولیات دی جائیں

حکومت نے بجلی اور گیس کے کمرشل گیس کے حوالے سے احسن فیصلہ کیا ہے کہ ان افراد کو کنکشن دیا جائے جوکہ فائلر ہوں ، ہر شخص کو فائلر بننا نہایت ضروری ہے مگر یہاں یہ ہم کہیں گے کہ اتنی تیزی سے اقدام اٹھانا یقینی طورپر معیشت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا ۔ حکومت ایسی منصوبہ بندی کرے کہ پہلے لوگ زیادہ سے زیادہ فائلر بنیں اس طرح کی پابندیاں عائد کرنے سے کاروبار تباہ ہوگا، جو چھوٹے لیول کے کارخانے یا اس سطح کی دکانیں ہیں پانی، گیس، بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ممکن نہیں ہے کہ وہ معیشت میں اپنا حصہ ڈال سکے ۔ ایک دکان کھلنے سے اس کے پیچھے کتنے خاندان وابستہ ہوتے ہیں ، ایک چھوٹی سطح کا کارخانہ کھلنے کا بھی جائزہ لیا جائے کہ اس کے پیچھے کتنے خاندان بندھے ہوتے ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ گیس اور بجلی کے کنکشن نان فائلرز کیلئے بند نہ کرے بلکہ فارم میں ایک شق کا اضافہ کیا جائے جس میں باقاعدہ حلف نامے کی طرح کا بیان درج ہوکہ ایک مہینے کے اندر اندر فائلر بن جائے گا بصورت دیگر اس کے تمام پانی، بجلی،گیس کے کنکشن منقطع کردئیے جائیں گے ۔ ساتھ اس کے یہ شرط بھی عائد کی جائے کہ اگر وہ فائلر نہیں بنتا تو دکان اور کارخانے کے ساتھ ساتھ اس کے گھر کے کنکشن بھی کاٹ دئیے جائیں گے ۔ حکومت عوام کو سہولیات میسر کرے نہ کہ ان کیلئے زندگی اور کاروبار کو تنگ کرے ۔ چیئر مین ایف بی آر سید محمد شبرزیدی نے منسٹری آف پاور کو مراسلہ لکھا ہے جس میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 181;6565;پر عملدرآمد کےلئے تعاون کی درخواست کی ہے ۔ سیکشن181;6565;متعلقہ اداروں کو پابند کرتا ہے کہ بجلی اور گیس کی کمرشل و انڈسٹریل کنکشن درخواستوں پر اس وقت تک عملدرآمد نہ کیا جائے جب تک کہ درخواست گزار انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کراتا ۔ چیئرمین ایف بی آر نے مراسلے میں مزید لکھاہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں 2اگست 2019تک اس لئے توسیع کی گئی ہے تاکہ وہ افراد جنہوں نے ابھی تک کسی بھی وجہ سے ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے وہ اس توسیع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرالیں ۔ چیئر مین ایف بی آر نے منسٹری آف پاور سے درخواست کی ہے کہ وہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو اس سلسلے میں ہدایات جاری کریں اور ان کو مطلع کریں کہ تمام کمرشل اور انڈسٹریل بجلی اور گیس صارفین کے لئے لازم ہے کہ وہ ایکٹیو ٹیکس پیئر لسٹ ;658476;پر آجائیں ۔ چیئر مین ایف بی آر نے منسٹری آف پاور کا بجلی و گیس صارفین کا ڈیٹا فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ سیکشن 181;6565;کے عملدرآمد پر بھی ایسا ہی تعاون جاری رہے گا ۔

عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ

عالمی عدالت انصاف میں فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے ۔ عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن یادھو کیس کا فیصلہ 17جولائی کو دن 3 بجے ہیگ کے پیس پیلس میں سنایا جائے گا ۔ بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر کلبھوشن یادھو تسلیم کرچکا ہے کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را‘ کا ایجنٹ ہے جسے پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے لئے بھیجا گیا تھا ۔ فیصلہ پبلک سٹنگ کے دوران آئی سی جے کے جج عبدالقوی احمد پڑھ کر سنائیں گے ۔ پاکستانی وفد اٹارنی جنرل کی قیادت میں فیصلہ سننے کے لئے ہیگ روانہ ہو گیاہے ۔ رواں سال آخری سماعت کے دوران پاکستانی وفد کی قیادت اٹارنی جنرل انور منصور نے بطور ایجنٹ کی تھی جبکہ بھارتی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری دیپک میتَل کر رہے تھے ۔ 22فروری کو سماعت کے دوران پاکستانی وکیل خاور قریشی نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ بھارت نے پاکستان کے سوالوں کے جواب نہیں دیئے، بھارت میرے دلائل پر بے بنیاد اعتراضات کرتارہا ۔ بھارتی وکیل نے غیرمتعلقہ باتوں سے عدالتی توجہ ہٹانےکی کوشش کی ۔ بھارت نے میرے الفاظ سے متعلق غلط بیانی سے کام لیا ۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا تھا کہ ہم کلبھوشن کیس میں مثبت فیصلے کی توقع رکھتے ہیں ۔ امید ہے فیصلے سے یادیو کے ہاتھوں دہشت گردی کا شکار ہونے والے خاندانوں کو انصاف ملے گا ۔ بھارت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ پڑوسیوں کو عدم استحکام کا شکار کیا جائے ۔ بھارت نے پاکستان میں جاسوس بھیجے، ان سے دہشت گردی کرائی جس کے باعث ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے ۔ وہ پاکستان دشمن ملیشا کی فنڈنگ اور تربیت کر رہا ہے ۔ پاکستان نے بھارتی صحافی کیرن تھاپر اور پروین سوامی کی دی گئی رپورٹس کے حوالے دیئے اور کہا کہ پروین نے کلبھوشن کے ساتھ کام کرنے والے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کے انٹرویوز کے حوالے دیے ۔ بھارت بتائے قونصلر رسائی معاہدے کا کلبھوشن پر اطلاق کیوں نہیں ہوتا ۔ کلبھوشن یادیو کی شہریت سے متعلق ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا ۔ بھارت نے نہیں بتایا کہ وہ حسین مبارک پٹیل ہے یا کلبھوشن یادیو ۔ جب ایک شخص کی شناخت مصدقہ ہی نہیں تو قونصلر رسائی کیسی;238; ۔ عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کے وکیل نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے پاس مسلمان نام سے پاسپورٹ کیوں موجود تھا ۔ کوئی جواب نہ بننے پر آخر کار بھارتی وکیل نے بھی پاسپورٹ کے جعلی ہونے کا اعتراف کر لیا اور کہا ہے اس پر سزائے موت نہیں ہو سکتی ۔ ریلیف چاہتے ہیں لہٰذا یہ معاملہ سول عدالت کو بھجوا دیا جائے ۔ بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ کہ انہیں ’را‘ کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کےلئے منصوبہ بندی اور رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی ۔ کلبھوشن نے یہ بھی کہا تھا کہ 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد ;39;را;39; کے لئے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا ۔ ویڈیو میں کلبھوشن نے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا تھا ۔ اپریل 2017 کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنانے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کی توثیق 10 اپریل کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی تھی ۔ بھارت نے 9 مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کی پھانسی کے خلاف اپیل دائر کی تھی، اور درخواست کی تھی کہ آئی سی جے پاکستان کو بھارتی جاسوس کو پھانسی دینے سے روکے ۔ عالمی عدالت انصاف میں کی گئی درخواست میں بھارت نے پاکستان پر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیاتھا کہ ویانا کنونشن کے مطابق جاسوسی کے الزام میں گرفتار شخص کو رسائی سے روکا نہیں جا سکتا ۔ بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو ایک بے قصور تاجر ہے جسے ایران سے اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر زبردستی را ایجنٹ ہونے کا اعتراف کروایا گیا لیکن بھارت اغوا کیے جانے کے کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا تھا ۔ تاہم بھارت یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی بحریہ سے کب اور کس طرح ریٹائر ہوا کیونکہ پکڑے جانے کے وقت کلبھوشن کی عمر 47 برس تھی ۔ بھارت کو اس بات کی وضاحت دینے کی ضرورت ہے کہ کلبھوشن یادیو کے پاس جعلی شناخت کے ساتھ اصلی پاسپورٹ کیسے آیا جس کو اس نے 17 مرتبہ بھارت آنے جانے کے لئے استعمال بھی کیا اور اس میں اس کا نام حسین مبارک پٹیل درج تھا ۔ پاکستان نے انسانی ہمدردی کے طور پر دسمبر 2017 میں پاکستان نے کلبھوشن کے لئے ان کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کے انتظامات کیے تھے ۔ یہ ملاقات پاکستان کے دفترِ خارجہ میں ہوئی جہاں کسی بھی بھارتی سفیر یا اہلکار کو کلبھوشن کے اہلِ خانہ کے ساتھ آنے کی اجازت نہیں تھی ۔ اس ملاقات کے دوران کلبھوشن یادیو نے اپنی اہلیہ اور والدہ کے سامنے بھی بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لیے جاسوسی کا اعتراف کیا تھا ۔ بہرحال ہم نے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس بہت اچھا لڑالہٰذا امید ہے نتیجہ بھی اچھا آئے گا اور عالمی عدالت کا فیصلہ تسلیم کرینگے ۔

ملک مخالف انگریزی جریدے کی ۔ ’’کاسمیٹک رام لیلا‘‘

جولائی 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان کے نئے رجسٹرڈ ووٹروں کی نوجواں نسل نے لاہور ماڈل ٹاون کی رہائش پذیربدنام زمانہ تجارتی فیملی کا حکمرانی دھڑن تختہ کردیا 30;245;35 برسوں کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں پر جنہوں نے جمہوریت میں کرپشن کی سنگین مجرمانہ روایت کو پروان چڑھایا اور ملکی خزانہ کوبڑی بیدردی سے لوٹا لاہور کا یہ خاندان اور سندھ میں زرداری خاندان نے ;39;انت;39;مچارکھی تھی یہی تو نیا پاکستان ہے کہ جن بے انتہا مالدارسیاسی ;39;سیسیلین مافیا;39; کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا آج اْن کی ساری اکٹرفوں نکل گئی ماضی کے اْسی کرپٹ مافیا حکمران فیملی کے ;34;راءٹ اور لیفٹ;34; ساءڈ کی مجرمانہ سوچ رکھنے والے ان کے سبھی کے سبھی غلام زدہ طبقہ کے ;39;وفادار;39;ہکابکا سے رہ گئے اپنے ہاتھوں کو ملتے رہ گئے ہیں کیونکہ یہ سبھی بہت ادنیٰ سی اجرت اور معمولی سے عہدوں اوردیگر مالی مفادات کے اچانک چھن جانے پربڑے دل گرفتہ ہیں یہ مفاداتی گروہ اپنے ان ہی کرپٹ سرپرست حکمران فیملی کے افراد سے باہم پیوستہ ہوچکے تھے جن کا گزارا یوں کہیئے کہ روزہ مرہ کا گزارا ہونا اب بہت مشکل سے مشکل تر ہوتاچلارہا ہے اور یہ سب ہمارے آپ کے سامنے ہے کل جو صاحب اقتدار تھے اور اقتدار کے نشوں میں مست تھے آج اپنے مجرمانہ کرتوں کے باعث یاتووہ جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں یا عدالتوں میں اپنی چوری چکاریوں اور کرپشنز کی ہیراپھیریوں کے مقدمات کی تفتیشوں کو بھگت رہے ہیں اب وہ پکڑے گئے سب کچھ کررہے ہیں کچھ نہیں کررہے توماضی کے یہ سابقہ حکمران جنہیں مجرمان کہیں یا ملزمان;39; اندرون ملک اور بیرونی ملک کی جانے والی اپنی ;39;منی لانڈرنگ;39; کی قانونی ٹریل پیش کرنے سے تہی دست اور قاصردکھائی دیتے ہیں ماضی کے مجرمانہ ;39;نشان زدہ;39; حکمرانوں کو یقینا ہم بیس کروڑ پاکستانی ;39;تنہا;39; نہیں سمجھتے ان کے پیچھے انہیں بچانے کے لئے پاکستان کی قومی سلامتی کے لئے چیلنج وہ طاقتور عالمی خفیہ ایجسنیاں گزشتہ ستربرسوں میں اتنی زیادہ متحرک نہیں ہوئی ہونگی جتنی آج وہ ایکا کیئے متحرک ہیں پاکستان کے پرائیوٹ میڈیا سیکٹر میں سوشل میڈیا سیکٹر میں دولت پانی کی طرح بہائی جارہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ چاہے نون لیگ ہویا زرداری پارٹی ہو ڈی آئی خان کا مسترد شدہ مولوی گروہ ہو یا بلوچستان کا چادر پوش سیاسی لسانی تنظیم کا خاندان ہو ان سب کو پاکستان مخالف عالمی شیطانی طبقہ نے آگے لگایا ہوا ہے کہ کسی قیمت پر پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو بے بس کیا جائے ملکی دولت پر ان ہی مسترد شدہ سیاسی افراد کا کنٹرول ہے جوڈالروں کی سیاست کرتے ہیں ملکی مالیاتی اداروں کو اتھل پتھل کرنے میں اپنا شہرہ رکھتے ہیں جو کہ چاہتے ہیں کہ ملکی بیوروکریسی کوہمہ وقت خوفزدہ رکھا جائے پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت سے اْنہیں مایوس کردیا جائے تو وفاقی انتظامی کارسرکار کا سسٹم ;39;جام;39; ہوجائے یہ کیونکر ہوگا اس کے لئے پاکستانی میڈیا بشمول الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا کے مقامی آپریشنل سسٹم کو اْن کی ملک دشمن مخاصمانہ سوچوں سے زیادہ اْن کے منہ میں حرام سے کمائی گئی دولت دبادبا کر ٹھونس دی جائے ;34;گاڈ فادر اور سیسلین مافیا;34; کی تاریخ سے آگاہ باشعور پاکستانی عوام بخوبی جانتے ہیں جیسا کہاجاتا ہے کہ ;34;دنیا میں کوئی ایسا نہیں ہے جس کی کوئی قیمت نہ ہوبس وقت کا انتظار ضرور ہوتا ہے یہی انسانی کمزوری ہے جس سے ماضی سے لیکر آج تک ;3939;شیطان صفت حکمرانوں ;34; نے کمزوراور لاغرسوچ رکھنے والی قوموں کو کئی دہائیوں تک اپنا غلام بے دام بنائے رکھا تمہید ذرا طویل ہوگئی معذرت ۔ انگریزی زبان کے ایک ہفتہ روزہ جریدے میں شاءع ہونے والے بدنام زمانہ شہرت یافتہ ٹی وی اینکر اور صحافی کے اْس مضمون کے چند اقتباسات پر ہم نے یہاں اپنے قارئین سے بات کرنی ہے اپنے جس مضمون میں اسی مذکورہ بکاو ذہنیت نام نہاد صحافی نے پاکستانی سیاست میں گمراہی کا زہر پھیلانے کی اپنی سی بڑی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں موصوف پاکستان مخالف اپنے انگریز ی مضمون میں فتنہ پرور ہرزہ سرائی کرنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں اْن کا ہفت روزہ جریدہ پڑھنے والوں کی پاکستان میں کتنی تعداد ہوگئی یعنی ہمارا مطلب یہ کہ ماضی کے کرپٹ حکمران ٹولے کو عالمی خفیہ ایجسنیوں کی مکمل مصدقہ پشت پناہی ملی ہوئی ہے اور یہی موصوف ان جیسے مثلا ایچ حقانی، ڈاکٹرعائشہ صدیقی ٹاءپ کے پاکستانی سلامتی کے بدترین مخالف کردارمغربی دنیا میں پاکستان کے قومی کلچر کی غلط اور گمراہ کن تصویر پیش کرنے میں یوں جانیئے ;39;جتے;39;ہوئے ہیں امریکا ،برطانیہ اور مغرب میں موجودہ پاکستان مخالف عالمی طبقہ ظاہر ہے انگریزی سمجھتا ہے اور یہ سب پہلے انگریزی زبان میں زہر اگلتے ہیں مثال کے طور پر پی سی بی کے برطرف شدہ چیئرمین نما صحافی اپنے من گھڑت مفروضوں کے اختراع کے سہارے عالمی حلقوں کو مطمئن کرنے کے لئے اس قسم کی ;34;رام لیلا;34; شاءع کرکے اپنا خطیر ;34;حق زحمت;34; فورا وصول کرلیتے ہیں اس مرتبہ 28 جون تا 4 جولائی2019 کے اپنے ہفت روزہ شمارے میں ;39;چڑیانما;39; ذہنیت کی سوچ رکھنے والے اس صحافی نے ;34;ملٹی;34; اسٹبلیشمنٹ کی ایک اصطلاح گھڑی اس سے پہلے والے شمارے میں موصوف نے ;34;ملٹری ڈیکٹیٹڈ پولیٹیکل اکنومی آف پاکستان;34; جیسا خود ساختہ ایک انگریزی جملہ ایجادکیا تھا جس پر کالم لکھاجاچکا ہے اب براہ راست کھلا جملہ یعنی ;3939;ملٹری اسٹیبلیشمنٹ;34; لکھنے کی بجائے گمراہی کی ایک نئی راہ اپنائی گئی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک مضبوط ومستحکم اور ڈسپلن فوج اور فوج سے وابستہ قومی سلامتی کے ادارے جنہیں پاکستان کے عوام میں روزبروز پذیرائی کا گراف بڑھتا چلا جارہا ہے پاکستان کی قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ عوامی طبقات میں مکمل قلبی اور ذہنی وابستگی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے پاکستان مخالف مغربی خفیہ ایجنسیاں پاکستان کو اپنے مکروہ اور منتشرالخیال ڑولیدہ فکری سے مغلوب کرکے ;34;لیبیا وغیرہ;34; بنانا چاہتے ہیں ان کا مدعا اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے بقول مسٹر نجم سیٹھی کےپاکستان کو مثلا اگر نیپال، بھوٹان یا پھر مالدیپ کی شکل دیدی جائے تو توتب ہی کہیں جاکر امریکا یا اس کے عالمی مغربی اتحادی بھارت کو اس خطے میں چین اور روس کے مقابلے میں کھڑا کیا جاسکتا ہے;238; لیکن یہ درمیان میں پاکستان کا ;39;مکو;39; وہ کیسے ٹھپیں ;238; اس ملک کے ;34;جوہری اثاثہ;34; پر عالمی ڈکیتی کی واردات کیسے ڈالی جائے;238;یہ ایک اہم مدعا ہے جسے مکمل ہوتا ہوا دیکھنے کے لئے پاکستانی نجی میڈیا کو برابر نیا سے نیا چارہ ڈالا جارہا ہے کہ وہ ملکی عوام میں فوج اور پاکستانی عدلیہ کو اس حد تک متنازعہ بناکر اس قدر بے بس اورزچ کردیا جائے کہ عوام کی واضح اکثریت فوج پراعتماد اور بھروسہ کرنے اْن کے گن گانا چھوڑدے عوام کوازبس یقین ہوجائے کہ پاکستان کی اعلیِٰ عدلیہ اپنا عدالتی قومی وقارتک کھوچکی ہے;238; ذرا نظارہ کرلیں ناگزشتہ دس پندرہ دنوں سے ملک میں ازخود;34;معزز گری;34; نے کیسا مضحکہ خیز تماشا لگایا ہوا ہے سوچیں قوم کہاں ہے;238; پاکستان کہاں پہنچ گیا ہے;238; پی ٹی آئی کی حکومت کو امتحانات پر امتحانات دینے پڑرہے ہیں کہا جارہا تھا کہ بجٹ پاس ہونے نہیں دیا جائے گا پھر قوم نے دیکھا بجٹ پاس ہوگیا اور اب کسی سیاسی وجہ کی بنا سنیٹ کے چیئرمین کے خلاف ملی بھگت کرکے حکومت کو نیچا دکھانے کے لئے عدم اعتماد کی قرارداد سینٹ میں پیش کردی گئی ہے قومی خزانے کے ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھانے کے حکومتی اقدامات پر عوام کے خون پسینے کی کمائی پر آئے روز خصوصی طور پر رمضان المبارک میں پھلوں سبزیوں اور دیگر اشیائے خوردنوش کی قیمتوں پر ہوش ربا گرانی کرنے والے تاجروں کی ہڑتال کے دوران نعرے لگائے گئے جن میں مہنگائی کا رونا رویا گیا حکومت نے تاجروں سے صرف اتنا کہا ہے کہ وہ اپنا ہراسٹاک اپنے قومی شناختی کارڈ پر خریدیں گے اور اپنے تجارتی معاملات کو مصدقہ دستاویزی صورت میں متشکل کریں گے یہاں مہنگائی کہاں آگئی;238; کبھی تھوک اور پرچون کے کاروبار کرنے والے تجارت پیشہ طبقہ نے عام عوام جوکہ خریدار ہوتے ہیں اْن کے حق میں اپنے کاروبارکو بند کیا ہے;238; تاجروں کے آخر مسائل کیا ہیں ;238; انہیں کھلی لاقانونیت کے انداز میں چھوٹ دیدی جائے دنیا بھر کی مہذب جمہوری اقوام میں کاروبار کرنے والے روزبروز کی آمدنی پر ٹیکس دیتے ہیں پاکستان میں جاری جمہوریت کو دیوار سے لگانے کی کوشش میں پاکستان میں انتشار واضطراب اور انارکی پھیلانے کے یہی بنیادی اسباب ہیں جو ہمارے ازلی وابدی دشمنوں کی ’’ٹپس‘‘ پر اْن کے جسموں میں رواں خون کی مانند گردش کررہے ہیں اور پاکستان کا بکاونجی میڈیا ملک دشمن عناصر کے مقاصد کی بجا آوری میں ان سبھوں کا آلہ کار بناہوا ہے ۔

ماضی میں واپسی ۔ بلاول اور پیپلز پارٹی

ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان نے ماضی میں سفر شروع کر دیا ہے ۔ جبکہ دنیا آگے جا رہی ہے ۔ بعض اراکین پارلیمنٹ کی خرید و فروخت، وہی مخالف جماعتوں میں توڑ پھوڑ،وہی الزام تراشیاں ،وہی مخالف صوبائی حکومت کو گرانے کی باتیں ۔ کیا یہ ہے نیا پاکستان;238; کیا ہم نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا ہے ۔ اب تو بات اناء کی تسکین پر بھی آگئی ہے کہ مخالف جماعتوں کا سیاسی طو پر نیست و نابود کر دو ۔ مخالف سیاستدانوں کو کسی نہ کسی طرح پابند سلاسل کر دو ۔ الزامات کی بوچھار کرتے رہو ۔ حکمران جماعت کے ترجمانوں کی فوج ظفر فوج کی یہ ڈیوٹی لگا دی گئی ہے کہ صبح بستر سے بذریعہ ٹویٹ الزامات اور دشنام طرازی سے دن کا آغاز کرو ۔ اور پھر دن میں پریس کانفرنسوں اور بیانات کے زریعے سیاسی مخالفین کو گندہ کرتے رہو ۔ میڈیا کی تنقیدی زبان بند رکھو ۔ اور شام کو شاباش اسی کو ملے گی جس کی دن بھر کی کارکردگی سب سے بہتر ہوگی ۔ اس وجہ سے اگلے دن ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا مقابلہ پھر شروع ہو جاتا ہے اور رات تک جاری رہتا ہے ۔ ترجمانوں کے علاوہ بعض وزراء بھی تنخواہ اور مراعات کا حلال کرنے کی کوشش میں ترجمانوں سے آگے نکلنے کی تگ و دو کرتے ہیں ۔ تنخواہ او ر مراعات تو وزارتی ذمہ داریاں احسن طریقہ سے نبھانے اور عوام کے مسائل حل کرنے سے حلال ہوتی ہے ۔ لیکن یہاں تو سب کچھ الٹا چل پڑا ہے ۔ حکمرانوں کو ان باتوں سے فرصت ہو تو عوام کی مشکلات کے حل پر توجہ دیں ۔ ان کو کیا معلوم کہ عام آدمی کے کیا مسائل ہیں ۔ وہ کس طرح روٹی پوری کرتا ہے اور اس کے بچے پیٹ بھر کر روٹی کھا بھی لیتے ہیں یا نہیں ۔ دوائی خریدنے کی سکت نہ رکھنے والے مریض اور ان کے گھر والے کن کن اذیتوں سے گزرتے ہیں ۔ گیس اور بجلی کے روز بروز بڑھتے بل اور مکان کا کرایہ سفید پوش کیسے ادا کرتے ہیں ۔ حکمرانوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ پڑھے لکھے نوجوان روزگار اور نوکریوں کے حصول کے لیئے کس طرح در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ کیا ملک افراتفری اور بدامنی کی طرف نہیں بڑھ رہا ۔ یہ نہایت ہی توجہ طلب بات ہے ۔ ماضی میں ہارس ٹریڈنگ کا سنتے تھے ۔ کیا آج ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔ بجٹ پاس کرانا ہو یا اب چیئر مین سینٹ کا معاملہ کیا ہم ماضی میں واپس نہیں چلے گئے ہیں ۔ جب اپوزیشن نے بجٹ کے مسترد اور منظور نہ کرنے کی بات کی تو حکومت نے کس دھڑلے سے کہا کہ فکر کی کوئی بات نہیں بجٹ ضرور منظور ہوگا ۔ کیا سا دوران لین دین نہیں ہوا ۔ جس کے نتیجے میں بجٹ منظور کرایا گیا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کو چھوڑ کر بعض چھوٹی جماعتیں پوری کی پوری بِک گئیں ۔ اور اپنے مفادات حاصل کر لیئے ۔ اب یہی کچھ چیئر مین سینٹ کے معاملے میں ہو رہا ہے ۔ حکومت برملا چیئرمین سینٹ کو ڈٹ جانے کا کہہ چکی ہے ۔ اور بڑے وثوق سے کہتی ہے کہ صادق سنجرانی کو ہٹانے کی تحریک کامیاب نہیں ہوگی ۔ صادق سنجرانی کو کیوں ہٹایا جا رہا ہے یہ الگ بحث ہے لیکن یہ کیسا نیا پاکستان ہے یہ کیسی جمہوریت ہے کہ اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر کے اپنی مرضی کے فیصلے کیئے جائیں ۔ میر صادق اور میر جعفر تو ہر جماعت میں اور ہر وقت موجود ہوتے ہیں ۔ اپنے ضمیر کے سوداگر کہاں نہیں ہوتے لیکن کیا ریاست مدینہ میں ایسا ہوتا تھا جو آج نئے پاکستان میں ہو رہا ہے ۔ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت وفاقی حکومت کی آنکھ کا کانٹا ہے ۔ برسراقتدار آنے کے بعد تحریک انصاف کی یہ کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح سندھ کے عوام کے ووٹ کو بے تقدس کر کے پیپلز پارٹی کی حکومت کو ختم کیا جائے ۔ اس مقصد کے حصول کےلئے وہاں اراکین صوبائی اسمبلی کی خریداری کو کوشش کی گئی لیکن ناکامی ہوئی ۔ پھر متعدد رہنماءوں پر طرح طرح کے مقدمات بنائے گئے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ لیکن پیپلز پارٹی سندھ کے رہنماءوں اور اراکین قومی اسمبلی اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے ہی رہیں گے ۔ چند ایک کو چھوڑ کر باقی پیپلز پارٹی کی روایت ہے کہ جتنے بھی نا مساعد حالات ہو ں یہ جماعت کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ جمے رہتے ہیں اور ان کے قدموں میں لغزش نہیں آتی ۔ سندھ حکومت گرانے کی کوشش میں ایک وفاقی وزیر نے گورنر سندھ کو جادوگر بھی کہا ۔ کئی بار گورنر راج کی بھی بات ہوئی لیکن گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے واضح طور پر ان افواہوں اور دعوءوں کی تردید کی اور کہا کہ سندھ میں گورنر راج سے متعلق نہ کوئی تجویز زیر غور ہے نہ ہی ایسی ان کی سوچ ہے ۔ ویسے بھی آئینی طور پر گورنر راج نافذ کرنے کے لیئے بعض حالات و واقعات ضروری ہیں اور اس وقت صوبے میں ایسے کوئی عوامل نہیں ہیں جن کی بنیاد پر آئینی طور پر گورنر راج نافذ کیا جا سکے ۔ پاکستان کی سیاست میں اور موجودہ حالات میں بلاول بھٹو اور مریم نواز واقعتا ایک تبدیلی ہے ۔ بلاول بھٹو اور مریم نواز اگرچہ اس وقت ایک صفحے پر ہیں ۔ دونوں حکومت کے مخالف ہیں لیکن دونوں کی سیاسی سوچ میں بہت بڑا فرق ہے ۔ مریم نواز کی ساری توجہ میاں نواز شریف کی رہائی پر ہے ۔ ان کی تمام تقاریر اور بیانات کا محور نواز شریف ہیں ۔ جس کے لیئے وہ سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں ۔ یہ ان کا حق بھی ہے کہ وہ اپنے والد کی رہائی کے لیئے تمام تر کوششیں کریں لیکن اس کے لیئے اپنی جماعت کو استعمال کرنا خود ان کی سیاست کے لیئے نقصان دہ ہوگا ۔ دوسری طرف بلاول بھٹو کی تمام تقاریر اور بیانات میں عوام کی مشکلات میں اضافہ اور حکومتی کارکردگی پر تنقید شامل ہوتی ہے ۔ بلاول بھٹو کی سوچ ذولفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی سوچ کی عکاس ہے ۔ بلاول بھٹو اپنے نانا کی طرح غریب عوام اور عام آدمی کی بات کرتے ہیں ۔ اسی وجہ سے ان کے جلسوں میں لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اگر ان کا یہی طرز بیان اور یہی سیاسی سوچ اور کوششیں رہیں تو بلاشبہ سیاسی مستقبل بلاول بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی کا ہی ہوگا ۔

پاکستا ن عالمی عدالت کے فیصلے کا پابند نہیں

ماضی قریب میں بھارت کے دو فوجی افسر پاکستان میں پکڑے گئے ایک کو چائے کا کپ پلا کر اس لیے چھوڑ دیا گیا کہ وہ جنگی قیدی تھا اُسے پوری عزت دی گئی پاک فضائیہ کے میس میں رکھا گیا وغیرہ وغیرہ جو دوسرا افسر پکڑا گیا وہ ایک تاجر کے روپ میں مبارک حسین پٹیل کے نام سے آیاجبکہ اُس کا نام کلبھوشن جادیو تھا اور وہ تاجر نہیں بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر تھا اور پاکستان میں جاسوسی اور تخریب کاری کرنے آیا تھالہٰذا اُس کو جاسوس ہی کا درجہ دیا گیا یہ اور بات ہے کہ پاکستان نے اپنی اعلیٰ روایات کی پاسداری کی اور اُسے افسر کی ہی درجہ بندی کے مطابق رکھا گیا جب تک کہ اُس کا جُرم ثابت نہ ہوا ۔ پاکستانی اداروں نے پکڑا تو اُس کو مبارک حسین پٹیل کے نام سے تھاباقی کی کہانی اُس نے خود سنائی، اُس نے خود بتایا کہ وہ کون ہے کیسے ایران کی بندرگاہ چاہ بہار پر ایک تاجر کے روپ میں کام کرنا شروع کیا اور بلوچستان اور وہاں سے کراچی آنے جانے لگاجہاں اُس نے متعدد تخریبی کاروائیوں کا اعتراف کیا ۔ اُس نے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں اور شرپسندوں سے رابطے استوار کیے اور اعترافی بیانات میں اُن کے نام بھی بتائے اور اُس کے انہی اعترافی بیانات اور ثبوتوں کی بنیاد پر اُسے پھانسی کی سزا سنائی گئی اور چونکہ وہ ایک فوجی افسر تھا لہٰذا اُس پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور اس عدالت نے ہی اُسے پھانسی کی سزا سنائی ۔ اس سارے عمل میں کوئی نکتہ کوئی مرحلہ ایسا نہ تھاجسے مروجہ بین الاقوامی اصولوں کے خلاف کہا جاسکے ۔ ایک طرف تو یہ ساری کہانی چلتی رہی دوسری طرف بھارت اس بات کا ہی انکاری تھا کہ کلبھوشن اس کی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے جس کی خدمات ’’را‘‘ نے حاصل کی ہوئی ہیں لیکن جب اُسے سزا سنائی گئی تو اُس کے ملک نے اس پر احتجاج کیا اور عالمی عدالت انصاف کی طرف دوڑ پڑا ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ بھارت اپنے ہمسایہ ممالک میں جاسوسی، تخریب کاری، دہشت گردی اور بغاوتوں میں ملوث ہو اور پھر جھوٹ اور فریب کے ذریعے ان پر پردہ نہ ڈالے ۔ اسی بھارت کے سر بجیت سنگھ، سر جیت سنگھ ، کشمیر سنگھ اور روندرا کاوشک پاکستان سے پکڑے گئے ۔ اسی بھارت نے تیس سال تک سری لنکا کے تامل ٹائیگرز کو اسلحہ،تربیت اور ہر قسم کا تعاون بہم پہنچاکر اُن کے ذریعے سری لنکا کے امن کو داءو پر لگائے رکھا اور اس بہت چھوٹے سے ملک میں علحدگی کی تحریک چلاتا رہا ۔ پاکستان میں کبھی بلوچستان اور کبھی سندھ میں قوم پرست بناتا رہا اور کبھی شمال مغربی سرحد پر افغانستان کے راستے دہشت گردوں کو ہر قسم کی مدد پہنچاتا رہا بلکہ اب بھی کسی نہ کسی صورت میں سرگرم عمل ہے لیکن پھر بھی وہ پاکستان پر ہی دہشت گردی کے الزامات لگاتا ہے اور خود کو دہشت گردی کا شکارکہہ کر اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے ۔ اس بار بھی اس نے یہی کیا ہے اور کلبھوشن کا کیس لے کر عالمی عدالت انصاف پہنچا اور ایک جاسوس کے لیے کونسلر رسائی کی درخواست دائر کر دی اور یہ بھی یاد رہے کہ کلبھوشن صرف جاسوس ہی نہیں دہشت گرد بلکہ دہشت گردی کے کئی واقعات کا ماسٹر مائنڈ بھی ہے اور بھارت عالمی عدالت انصاف کی ساٹھ سالہ تاریخ میں پہلا ملک ہے جو ایک ایسے شخص کے لیے کونسلر رسائی چاہ رہا ہے جبکہ پاکستانی وکیل اس کے خلاف تمام ثبوت مہیا کر چکے ہیں لیکن پھر بھی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ بھارت کو یہ رسائی دے دی جائے گی اور اگر ایسا کیا گیا تو گویا کسی بھی ملک کو یہ اجازت دے دی جائے گی کہ وہ دوسرے ملک میں جو چاہے کرے اسے یہ تسلی رہے گی کہ اُس کے جاسوس بلکہ دہشت گرد کو بھی آئندہ یہ سہولت فراہم کی جایا کرے گی جبکہ اس اجازت سے دونوں ملکوں کے درمیان موجود معاہدے کی بھی نفی ہو جائے گی ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1982 اور2008 کو ہونے والے معاہدوں کی رو سے یہ طے پایا تھا کہ ایک دوسرے کے شہری قیدیوں کو کونسلر رسائی جُرم کی نوعیت دیکھ کر دی جائے گی تو اگر بالفرض ویانا کنونشن جس کی رو سے کسی بھی ملک کو دوسرے ملک میں اپنے شہریوں تک رسائی کا حق دیا گیا ہے یہ ممکن بھی ہو تو کیا دونوں فریق ممالک کے درمیان معاہدے کی حیثیت ختم کردی جائے گی اورکیا ایسا پھر دنیا کے کسی بھی ملک کے بارے میں کیا جائے گا یا یہ صرف پاکستان کے بارے میں ہو گا کیونکہ عالمی عدالت انصاف پر بھارتی دباءو ہے اور اس عدالت کے پندرہ رکنی بینچ میں ایک بھارتی جج کی موجودگی اس کی وجہ ہو سکتی ہے ۔ عالمی عدالت انصاف مقدمے کی سماعت مکمل کر چکی ہے اور 17جولائی2019کو اس انوکھے مقدمے کا فیصلہ سنایا جانا ہے اور اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ فیصلہ بھارت کی مرضی کے کافی حد تک مطابق ہو گا اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ پاکستانی وکیل خاور قریشی کے دلائل وزن دار نہیں تھے بلکہ بھارت کی مکرو فریب میں مہارت ہے ۔ بھارت نے پہلے پہل تو اس جاسوس کو اپنا نیوی افسر ماننے سے انکار کیا جبکہ وہ اس کا اقرار کر چکا تھا لیکن جب دنیا کے سامنے یہ حقیقت آگئی اور پورے ثبوتوں کے ساتھ آگئی تو پھر وہ متحرک ہو گیا اور شسما سوراج نے اُسے بھارت کا بیٹا قرار دے کر عالمی عدالت انساف کا رُخ کیا ۔ اب 17جولائی کو اس مقدمے کا جو بھی فیصلہ آئے اور اگرمتوقع طور پر بھارت کے حق میں بھی ہو تو بھی یہ یاد رہے کہ پاکستان اس فیصلے پر عملدرآمد کا پابند نہیں اور وہ بھی خاص کر دونوں ملکوں کے درمیان موجود معاہدے کی صورت میں ،جس کی رو سے گرفتار کرنے والا ملک جُرم کی نوعیت کے مطابق خود یہ طے کرے گا کہ کونسلر تک رسائی دی جائے یا نہیں اگرچہ ویانا کنونشن اس کی اجازت دے بھی دے ۔ بھارت نے اس کنونشن کے آرٹیکل 36کے مطابق رسائی مانگی جس میں کہا گیا ہے کہ بھیجنے والی ریاست کا کونسلر اُس کے گرفتار شدہ شہریوں کو مل سکتا ہے تو کیا جادیو کے تمام اقبالی بیانات کے بعد بھاریہ ایک حیرت انگیز خواہش ہے جس پر عالمی عدالت انصاف کو غور کرنا ہو گا ۔ ایک توقع یہ بھی ہے کہ عالمی عدالت انصاف یہ فیصلہ دے کہ کلبھوشن کا مقدمہ سول عدالت میں لڑا جائے اگرچہ یہ بھی پاکستان کی ہی عدالت ہو گی تاہم اس طرح بھارت مزید وقت حاصل کر لے گا اور دوسرا اعتراض اس فیصلے پر یہ ہے کہ فوجی عدالت کا فیصلہ بھی مکمل ثبوتوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے لہٰذا اس پر کسی شک کی نہ وجہ ہے نہ گنجائش ۔ اب دیکھئے عالمی عدالت انصاف واقعی انصاف پر مبنی فیصلہ کرتی ہے یا بھارت کے دباءو میں آجاتی ہے ۔ بہر حال پاکستان کو کسی بھی صورتِ حال کے لیے مکمل طور پر تیار ی کر لینی چاہیے تاکہ حالات کو اپنے مطابق قابو کیا جاسکے ۔ ت یہ مان رہا ہے کہ اس کو بھارت نے بھیجا تھا اور جبکہ وہ اعتراف کر چکا ہے کہ اُس نے دہشت گردی اور سبوتاژ کی کاروائیاں کیں ہیں ، کروائی ہیں ، یا اُن میں حصہ لیا ہے تو کیا یوں پورے بھارت کو ہی دہشت گرد ملک قرار نہیں دیا جانا چاہیے اور کیا عالمی عدالت انصاف ایسا کرنے کی ہمت رکھتی ہے جبکہ دوسرا نکتہ اس میں یہ ہے کہ یہ آرٹیکل جاسوس اور خاص کر دہشت گرد کے لیے نہیں اور آج کل جس طرح دہشت گردی نے دنیا کو مصیبت میں ڈالا ہوا ہے کیا میڈیا پر پوری دنیا کے سامنے اعترافِ جُرم کرنے والے دہشت گرد کو ایک پُرامن شہری سمجھ کر اُسے وہ سہولیات دی جائیں جو ایک عام شہری کو دی جاتی ہیں اور کیا پاکستان نے کلبھوشن کی والدہ اور بیوی کو اُس سے ملاقات کی اجازت دے کر کچھ زیادہ ہی انسانی ہمدردی اور شرافت کا ثبوت نہیں دیا اور کیابھارت نے کبھی ایسا کیا یا اس سے ایسی توقع کی جا سکتی ہے ۔ اُس کا رویہ پاکستانی قیدیوں کے ساتھ ہمیشہ انسانیت سے گرا ہو اہی رہا ہے چاہے وہ جنگی قیدی ہی کیوں نہیں تھے بلکہ 1971 کے جنگی قیدیوں کو تو فرار کی کوشش میں چند انچ کے فاصلے سے بھی گولی ماری گئی ۔ یہاں میں ایک بار پھر سپاہی مقبو ل حسین کا حوالہ دونگی جو 1965کی جنگ کا قیدی تھا اور چالیس سال تک قید رکھا گیا جہاں اس کی زبان کا ٹی گئی ۔ ابھی نندن کی رہائی کے بعد پاکستانی قیدی شاکر اللہ کی لاش پاکستان بھیجی گئی تو یہ ہے بھارت کا رویہ جنگی قیدی اور عام قیدیوں کے ساتھ لیکن وہ اپنے جاسوس ہی نہیں دہشت گرد قیدی کے لیے کونسلر رسائی اور معافی چاہ رہا ہے ۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی’’ عجب کرپشن کی غضب کہانی ‘‘

پاکستان میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کی کہانیاں زبان زدعام ہیں ، ایک کہانی ختم نہیں ہو پاتی کہ دوسری شروع ہو جاتی ہے، برطانوی اخبار ڈیلی میل نے توعجب کرپشن کی غضب کہانی بیان کی ہے جس میں متاثرین زلزلہ زدگان کی امداد کو بھی نہیں چھوڑا گیا اور اس نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ پیسہ شہباز شریف نے منی لانڈرنگ کے ذریعے اپنے اکاءونٹ میں ٹرانسفر کرایا لیکن ن لیگ اس حوالے سے تردید کررہی ہے جبکہ خبر دینے والا صحافی اپنی خبر پر قائم ہے کیونکہ ایک اکاءونٹ اچانک جس میں ڈیڑھ لاکھ پاءونڈ ہوں وہ کروڑوں تک پہنچ جائے تو یقینی طورپر شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں ۔ اب اس منی لانڈرنگ میں تو میاں برادران کا سارا خاندان ہی شامل ہوگیا ہے، داماد ،بیٹا ، شہبازشریف بھی، نواز شریف بھی اور ابھی تو پتہ نہیں کتنے کتنے رازوں سے پردہ واشگاف ہوگا ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کہانی کو اب منطقی انجام تک پہنچائے اور جس جس نے کرپشن کی ہے ان کے چہرے عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ ان سے لوٹا ہوا پیسہ ملکی خزانے میں واپس لایا جاسکے ۔ برطانوی اخبار نے شہباز شریف اور انکے اہل خانہ پر الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے زلزلہ زدگان کو دی گئی 500ملین پاونڈز کی امداد میں سے لاکھوں پاونڈز چرا کر اپنے اکاءونٹس میں ڈلوالی، شہباز شریف اور انکے خاندان نے برطانیہ کی جانب سے ملنے والی امداد میں خردبرد کر کے لاکھوں پاونڈز منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ منتقل کئے ہیں ، شریف خاندان پہلے ہی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے ۔ اخبار کے مطابق 2003 میں شریف فیملی کی دولت ڈیڑھ لاکھ پاءونڈ (2 کروڑ 97 لاکھ روپے) تھی جو 2018 میں 20 کروڑ (39 ارب 72 کروڑ روپے)تک پہنچ گئی، اخبار کے مطابق زیر حراست برطانوی شہری آفتاب محمود نے شہباز خاندان کیلئے منی لانڈرنگ کی، داماد نے امداد کے فنڈ میں سے 10 لاکھ پاءونڈ (19 کروڑ 86 لاکھ روپے) وصول کیے، رقم برمنگھم بھیجی گئی بعد میں شہباز کے خاندانی اکاءونٹس میں منتقل کر دی گئی، 2005 سے 2012 کے درمیان ایرا کو 54 کروڑ پاءونڈ (10 ارب 71 کروڑ روے) امداد دی، بڑا حصہ علی عمران اور شہباز کو منتقل ہوا، واضح رہے کہ اسی برطانوی اخبار نے گزشتہ سال نواز اور انکے بیٹوں کو پینٹ ہاءوس قذاق قرار دیتے ہوئے 32 ملین پاءونڈ (6 ارب 35 کروڑ روپے) کی جائیداد کی تفصیلات دی تھیں ۔ دوسری جانب سلیمان شہباز کا کہنا ہے کہ برطانوی اخبار کی رپورٹ میرے خاندان کیخلاف سازش ہے ۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل میں شاءع ہونے والی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی(ڈی ایف آئی ڈی) نے برطانیہ کے ٹیکس دہندگان کے پیسے سے شہباز شریف کی صوبائی حکومت کو 50کروڑ پاونڈز بطور امداد اس وقت دیے جب وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے ۔ تحقیق کاروں کے مطابق ڈی ایف آئی ڈی نے یہ رقم سیلاب متاثرین کی بحالی اور دیگر امدادی سرگرمیوں کیلئے دی گئی تھی تاہم شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ نے امدادی رقم میں سے لاکھوں پاونڈز کی خرد برد کی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے لاکھوں پاونڈز برطانیہ منتقل کئے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ منتقل کی گئی رقم امدادی رقم سے چرائی گئی ۔ روزنامے نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حوالے سے منی لانڈرنگ میں ملوث کئی افراد کے انٹرویوز کئے گئے ہیں جو ایک برطانوی شہری آفتاب محمود سمیت جیل میں بند ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے اعلی سطح کی تحقیقات کے دوران کرپشن ، خرد برد اور منی لانڈرنگ کا انکشاف ہوا ہے ۔ دوسری جانب ریکوڈک کیس میں بھاری جرمانے اور مالی نقصان کی تحقیقات کے لئے وزیر اعظم عمران خان نے کمیشن بنانے کی ہدایت کر دی ہے جبکہ پاکستان نے عالمی عدالت میں نظر ثانی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کمیشن تحقیقات کرے گا یہ صورتحال کیسے پیدا ہوئی اور پاکستان کو جرمانہ کیوں ہوا، کمیشن ملک کو نقصان پہنچانے والوں کا تعین بھی کرے گا ۔ واضح رہے انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ ;200;ف انوسٹمنٹ ڈسپیوٹس نے ریکوڈک کا معاہدہ منسوخ کرنے کی پاداش میں پاکستان پر 4 ارب 10 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا ہے جس پر ایک ارب 87 کروڑ ڈالر سود بھی ادا کرنا ہوگا ۔ عالمی بینک کے ثالثی ٹریبونل نے سات سال بعد ریکوڈک کیس کا فیصلہ سنا دیا ۔ ریکوڈک میں سونے اور تانبے کی تلاش کے لیے ٹیتھیان کمپنی کا لائسنس منسوخ کرنے پر پاکستان کو 59 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرناہو گا ۔ پاکستان ٹیتھیان کمپنی کو 58 لاکھ 40ہزار ڈالر ادا کرنے کا پابند ہے جس میں 17 لاکھ ڈالر سود بھی شامل ہے، 6 کروڑ 20لاکھ ڈالر سے زائد قانونی مدد میں بھی دینا پڑیں گے ۔ یاد رہے کہ 2011 میں چیف جسٹس پاکستان افتخار چوہدری نے ٹیتھیان کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا تھا ۔ وزارات قانون کے ذراءع کے مطابق فیصلے کا جائزہ لیا جا رہا ہے اسی ٹربیونل میں نظر ثانی درخواست دائر کی جائے گی جس پر فیصلہ ;200;نے میں دو سے تین سال لگ سکتے ہیں ۔

کرتارپور راہداری مذاکرات;224224; مثبت پیشرفت

کرتارپور راہداری پر مذاکرات میں پیشرفت کے بعد امید کی جارہی ہے کہ دونوں ممالک میں تعلقات مزید بہتر ہوں گے اور قربتیں بھی بڑھیں گی جس سے خطے میں امن و امان قائم ہوسکے گا ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری منصوبے پر مذاکرات میں اہم امور زیرغور ;200;ئے، بھارت سے ;200;نے والے سکھوں کیلئے کرنسی کی مقدار، رجسٹریشن اور ویزوں کی معیاد پر بات چیت ہوئی، منصوبے کے افتتاح کی تقریب کیلئے تاریخ کے تعین کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ کرتاپور راہداری منصوبے پر پاکستان اور بھارت میں مذاکرات کا دوسرا را ونڈ واہگہ بارڈ پر ہوا، بارہ رکنی پاکستانی وفد کی قیادت ترجمان ڈاکٹر فیصل نے کی ۔ بھارت کی جانب سے جوائنٹ سیکرٹری داخلہ ایس سی ایل داس ;200;ٹھ رکنی وفد کے ہمراہ شریک ہوئے ۔ منصوبے کی تعمیر کیلئے پاکستان کی جانب سے سڑک کی تعمیر اوردریا ئے راوی پر پل کا کام بھی کافی حد تک مکمل ہو گیا ہے ۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت اور وعدے کے مطابق پاکستان بابا گورونانک دیوجی کے 550 ویں جنم دن تک کرتار پور صاحب راہداری کو عملی شکل دینے کیلئے پرعزم ہے ۔ پاکستان کی حدود میں کام تیزی سے جاری ہے اور گوردوارہ کمپلیکس، ٹرمینل کی عمارت اور سڑک کا ستر فیصد سے زائد کام مکمل کرلیاگیا ہے ۔ کرتارپورراہداری مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے ، دونوں ممالک کے درمیان راہداری پر 80فیصدمعاملات طے پاچکے ہیں ، کرتارپورراہداری کھولنے کامقصدامن کاحصول ہے ۔ راہداری کے کھلنے کے بعد دونوں ممالک کے مابین جہاں قربتیں بڑھیں گی وہاں پر آپس میں تجارت بڑھنے کے ساتھ ساتھ کدورتیں ، خلش اور ایک دوسرے کیخلاف جو خیالات ہیں وہ بھی معدوم ہوں گے جب خطے کے حالات بہتر ہوں گے تو یقینی طورپر ترقی بھی ہوگی ۔ آخر کار پاکستان اور بھارت کب تک ایک دوسرے کے ساتھ کشیدہ ماحول میں زندگی بسر کرسکیں گے ۔ دنیا بھر کے ممالک ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں لیکن بھارت اس راستے پر آنے کیلئے تیار نہیں ، پاکستان نے ہمیشہ امن کی جانب قدم بڑھایا لیکن بھارت کو جب بھی موقع ملتا ہے تو وہ ڈسنے سے باز نہیں آتا ۔ دونوں ممالک کے مابین جو بھی مسائل ہیں ان میں مسئلہ کشمیر یا دیگر معاملات ہوں سب کے سب مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیے جاسکتے ہیں ۔

پانی کے بغیر پنجاب سندھ کے زرخیز علاقے بنجر بن جائینگے

ماضی میں آبی ذخائر کی تعمیر بارے اہم منصوبوں اور سفارشات کی پروانہ کر کے مجرمانہ غفلت کی گئی اور نتیجتاً اب صاف نظر آرہا ہے کہ اگر موجودہ حکومت اور اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے بھی اس اہم مسئلہ پر فوری توجہ نہ دی تو مستقبل میں ملک کےلئے خطرناک مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں ۔ پنجاب اور سندھ کے زرخیز علاقے بنجر ہو سکتے ہیں ۔ ایک طرف ہ میں داخلی طور پرچند ناعاقبت اندیش اور ملک دشمن سیاستدانوں کی مخالفت کا سامنا ہے تو دوسری طرف ہمارا ازلی دشمن ملک بھارت ہ میں قدم بہ قدم معاشی طورپر تباہ کرنا چاہتا ہے ۔ وہ کافی عرصہ سے اسی ایجنڈہ پر کام کر رہا ہے ۔ ایک بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈیمز نہ بنانے دینا پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی بین الاقوامی سازش ہے تاکہ وہ مکمل طورعالمی مالیاتی اداروں پر انحصارکرے ۔ بھارت سندھ طاس معاہدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے ۔ اقوام متحدہ بھی کوئی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں ۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک مسئلہ کشمیر حل نہ کروانا اسی سازش کا حصہ ہے کیونکہ دریائے جہلم، چناب،نیلم، وولر جھیل اور دریائے سندھ کا پانی کشمیر سے ہی آرہا ہے ۔ اسی لئے قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا ۔ ملک اس وقت ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اس ترقی کے عمل کو جاری رکھنے کے لئے ملک میں کم از کم چار آبی ذخائر کی تعمیر انتہائی ضروری ہے ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک کے تین بڑے آبی ذخائر تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم اور چشمہ میں ریت اور مٹی جمع ہونے کی وجہ سے پانی کے ذخائر کی گنجائش کم ہوتی چلی جا رہی ہے ۔ آئندہ برسوں میں بڑے آبی ذخائر تعمیر نہ کئے گئے تو اس کا ملک کو شدید نقصان پہنچے گا ۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس وقت ملک میں زرعی پیداوار بڑھانے کی سخت ضرورت ہے ۔ پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ پاکستان کی کھیتی باڑی کا بیشتر انحصار آبپاشی پر ہے ۔ آبپاشی کا نظام سندھ طاس کے نظام سے منسلک ہے ۔ 1951ء میں آبپاشی کےلئے 5650 کیوبک میٹر پانی دستیاب تھا جو اب کم ہو کر 400 کیوبک میٹر رہ گیا ۔ جس ملک میں ایک ہزار کیوبک میٹر سے کم پانی دستیاب ہو اسے قحط زدہ ملک سمجھا جاتا ہے ۔ اس لئے نئے ڈیموں کی تعمیر انتہائی ضروری ہے ۔ اگر اس وقت نئے ڈیم تعمیر نہ کئے گئے تو آئندہ نسلوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دریاؤں اور گلیشیئرز کی دولت سے مالا مال کیا ہے ۔ ان آبی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کےلئے نئے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے ۔ اگر کالاباغ ڈیم یا بھاشا ڈیم نہ بنایا گیا تو پاکستان پانی کی قلت کے مسئلے سے دوچار ہوجائے گا ۔ آبی وسائل کی ترقیاتی کونسل نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر فوری طور پرڈیموں کی تعمیر شروع نہ ہوئی تو ملک کو آگے چل کر بجلی اور پانی کے زبردست بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اور ملک کو نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا ۔ بھاشا ڈیم کا محل وقوع تربیلا ڈیم کے شمال میں دو سو میل پر ہے ۔ دریائے سندھ کو صرف برفباری کے ذریعے 50;776570; یعنی کروڑ ایکڑ فٹ پانی کی سالانہ دستیابی ہوتی ہے یہاں پر مون سون برسات کی پہنچ نہیں ہوتی ۔ ڈیم کے ڈیزائن اور پیرا میٹر جو ماضی میں استعمال کئے گئے تھے انہیں مخصوص وجوہ کی بنا پر از سرنو تبدیل کر دیا گیا مثلاً اب ڈیم کی اونچائی 908 فٹ ہے پہلے یہ 680 فٹ تھی ۔ قابل استعمال ذخیرہ ;776570; 7;46;34 یعنی 73 اعشاریہ 4 لاکھ ایکڑ فٹ کی بجائے 5;46;7;776570; یعنی 57 لاکھ ایکڑ فٹ مکمل کرنے کی مدت سات سال کی بجائے دس سال کردی گئی ہے ۔ بجلی بنانے کی قوت 3360 ;7787; یعنی 3 ہزار 3 سو 60 میگا واٹ ہے ۔ بھاشا کنکریٹ گریویٹی ڈیم جس کی اونچائی 908 فٹ ہوگی جو ماڈرن ٹیکنالوجی کے مطابق ہوگا ۔ اس وقت پنجاب سندھ اور بلوچستان تینوں صوبے پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں ۔ جبکہ زراعت کےلئے پورا ملک پانی کی قلت کا شکار ہے اور ہماری آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس کے مطا بق اگر ہم نے اب بھی نئے آبی ذخائر بنانے کی جانب توجہ نہ کی تو آنے والے چند برسوں میں ملک قحط کا شکار ہوجائے گا اور زمینیں بنجر ہوجائیں گی ۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم نے پانی کا بحران دور کرنے کے بجائے بڑے ڈیم کی تعمیر جیسے فنی اور آبی مسئلہ کو ایک سیاسی ایشو بنا دیا ہے ۔ حالانکہ ہم بجلی اور پانی کی شدید قلت سے دوچار ہیں ۔ پانی اور بجلی کی فراہمی ہماری قومی ترقی و خوشحالی کےلئے سب سے زیادہ اہم ہے مگر ہم بذات خود اپنی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہماری یہ قومی بے حسی اور مجرمانہ غفلت دور کرے اور ہ میں صراط مستقیم پر چلنے اور قومی ترقی کےلئے اپنی ترجیحات کا صحیح تعین کرنے کی ہمت اور توفیق عطا کرے ۔ اب ڈیموں کی تعمیر میں مزید تاخیر کی قطعاً گنجائش نہیں ۔

Google Analytics Alternative