کالم

مقبوضہ کشمیر ،بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی

بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجہ میں اب مقبوضہ کشمیر میں امن و امان عزت و آبرو سمیت کچھ نہیں بچا ۔ جہاں ہر وقت جنگ جاری ہو، ظلم و بربریت کی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہوں وہاں امن و امان کیسے رہ سکتا ہے ۔ جو امن و امان کے دشمن ہوتے ہیں وہ عزت و آبرو کے بھی دشمن ہوتے ہیں ۔ کسی کی عزت و آبرو پر حملہ کرنا بدترین دہشت گردی ہے مگر کوئی بھی بھارت کے خلاف کارروائی کرنے والا نہیں ۔ وہاں زندگی کی رعنائیاں ختم ہو چکی ہیں اور صرف جنگ کا قانون نافذ ہے ۔ یہ بات تو تمام دنیا جانتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں زندگی کی تمام رعنائیاں ختم ہو چکی ہیں جہاں 70 سال سے جنگ ہو رہی ہو، قتل و غارت کا ہر وقت بازار گرم ہو وہاں زندگی کی رونقیں کس طرح قائم رہ سکتی ہیں ۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ اب تک بھارتی فوج 90 سے زائد کشمیری مجاہدین کو شہید کر چکی ہے اس کے علاوہ 35 عام شہریوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے ۔ ایک مسجد کو بھی بھارتی فوج نے نقصان پہنچایا ۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے حریت رہنما سید علی گیلانی نے اپنے قتل کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے جانشین نامزد کر دیئے ہیں اور خود بھارتی فوج نے بھی مجاہدین کے خلاف آپریشن تیز کر دینے کا اعتراف کیا ہے جو دراصل کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو کچلنے اور انہیں بھارتی غلامی میں جکڑے رکھنے کی کوشش ہے ۔

بھارتی فوج پچھلے70 برسوں میں بھارتی اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہے اور فوج کے ساتھ ساتھ بھارتی حکومت بھی اس عمل میں برابر کے شریک ہیں ۔ اس وجہ سے اب تک بھارت میں ہزاروں کی تعداد میں اقلیت کش فسادات ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے ۔ ہٹ دھرمی، میں نہ مانوں اور ظلم و ستم جیسے قانون صرف جنگ کے قانون میں ملتے ہیں ورنہ کوئی اسمبلی ایسا قانون پاس کرتی ہے تو وہ بھی کسی ملک کی نہیں بلکہ جنگل کی اسمبلی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج جسے چاہتی ہے قتل کر دیتی ہے اور جب چاہتی ہے انسانیت کا جنازہ نکال دیتی ہے ۔ اس سے بڑھ کر دہشت گردی اب کیا ہوگی کہ جسے چاہا قتل کر ڈالا اور جب چاہا عزت و آبرو کو پامال کر ڈالا ۔ مگرکسی کو بھارتی فوج کی دہشت گردی نظر نہیں آتی ۔ اس لئے اب وہاں مہذب معاشرے کا تصور ہی مفقود ہو چکا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں تہذیب اس وقت آئے گی جب یہاں امن قائم ہوگا ۔ کشمیر میں آزادی کی تحریک باہر سے نہیں بلکہ خود کشمیری بھارت کے تسلط سے آزادی چاہتے ہیں ۔ ایک تو ناجائز قبضہ اور پھر کہنا کہ در اندازی، بھارت خود دراندازی کے واقعات میں ملوث ہے ۔ بھارت کے فوجی معصوم کشمیری بچوں ، بوڑھوں اور خواتین کی عزتوں کو پامال کرنے میں مصروف ہیں ۔ بھارت کے فوجی وحشیانہ طریقے سے ظلم و ستم کے واقعات میں ملوث ہیں اور انسانی حقوق کی تنظی میں بھارت کی حکومت سے احتجاج کر رہی ہیں کہ وہ بھارتی فوج کے مظالم کو روکے ۔ کچھ عرصہ قبل بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے جو بھارتی فوجی پکڑے گئے تھے بھارت کی حکومت نے انہیں باعزت بری کر دیا تھا ۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت کے وزیر خارجہ کو ایک خط کے ذریعے احتجاج کیا تھا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ ان فوجیوں کو عدالتوں کے ذریعے سزا دلوائے لیکن تاحال اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ۔ اس سارے عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ کشمیر کی تحریک دن بدن زور پکڑتی جارہی ہے جسے دبانے کیلئے بھارتی سکیورٹی فورسز مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزیوں میں مصروف ہے اور کشمیری مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کر رہی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور اندرا گاندھی کی نافذ کردہ ایمرجنسی کے علاوہ وہاں کبھی جمہوری عمل میں تعطل پیدا نہیں ہوا مگر یہ جمہوریت بھارت کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو باعزت زندگی کا حق نہیں دے سکتی ۔ یہ جمہوریت اقلیتوں کو حکومت سازی تو دور کی بات، ایک انسانی کی حیثیت سے سانس لینے کی اجازت نہیں دیتی ۔

مقبوضہ کشمیر کے علاوہ پورے بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں ، عیسائیوں اور سکھوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے ۔ بھارت میں مسلم کش فسادات اس سے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں مگر احمد آباد میں جو کچھ ہوا وہ درندگی، بربریت اور سفاکی کا بدترین مظاہرہ تھا ۔ دو ہزار سے زائد افراد کو زندہ جلا دیا گیا ۔ سات ہزار بچے یتیم کر دیئے گئے اور عورتوں کے ساتھ وہ برتاوَ کیا گیا کہ انہیں اپنے عورت ہونے پر شرم آنے لگی ۔ موت کے اس ننگے ناچ پر سارا عالم چیخ اٹھا لیکن بھارتی حکمران، فوج اور سیاستدان اس درندگی پر نازاں ہیں ۔

جنیوا میں ہونے والے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں انصاف پسند ممالک کو مظلوم قوموں کے حقوق کی پامالی روکنے اور انہیں ظلم و ستم سے نجات دلانے کےلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اس طرح انسانی حقوق کمیشن کا اعتماد بحال ہوگا ۔ آج دنیا کی کوئی ایسی ہیومن راءٹس کی تنظیم دکھائی نہیں دیتی جس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم پر طویل تبصرے شاءع نہ کئے ہوں ۔ اقوام متحدہ اور دنیا کے ہر قابل ذکر فورم میں اس حوالے سے درجنوں مباحثے ہو چکے ہیں اور متعدد مرتبہ بھارتی حکومت کی طرف سے مظلوم کشمیریوں پر ظلم و ستم اور اقوام متحدہ میں کشمیر کے حوالے سے موجود قراردادوں پر عمل پیرا نہ ہونے کا رونا رویا جاتا ہے ۔

مقبوضہ کشمیر ۔۔۔ کچھ ہونے والا ہے !

مقبوضہ کشمیر میں خوف و ہراس کی شدید لہر پائی جاتی ہے ۔ یوں تو یہ سلسلہ گذشتہ 72 سال سے ہی جاری ہے مگر پچھلے دو دنوں کے دوران مقبوضہ وادی میں صورتحال نے جو دھماکہ خیز شکل اختیار کی ہے، وہ اس سے قبل دیکھنے میں نہیں آئی ۔ جن شہریوں کے ہاں شادیوں کی تاریخیں طے تھیں ، انھیں منسوخ کیا جا چکا ہے ۔ سوشل میڈیا پر دہلی سرکار کا مقبوضہ کشمیر کے ضمن میں جو حکم نامہ وائرل ہوا اس میں ہدایات درج تھیں کہ اپنے گھروں میں راشن جمع کر رکھیں اور پیسے پاس رکھیں ۔ پیٹرول پمپ پر شہریوں کی طویل قطاریں اور راشن کی دکانوں کے باہر ایک جم غفیر جمع ہے، کیونکہ یہ حقیقی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مقبوضہ ریاست لمبے عرصے کیلئے زندگی معطل ہو کر رہ جائے گی ۔ سابق کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی، فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ سمیت ہر خاص و عام کی زبان پر یہ الفاظ ہیں ’’ 15 اگست تک یا اس کے فوراً بعد کچھ ہونے والا ہے‘‘ ۔ 2 اگست کو محبوبہ مفتی نے ساڑھے 8 بجے رات ہنگامی پریس کانفرنس کی اور کہا کہ ’’ میں نے ایسا خوفناک ماحول اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا، حالانکہ اسلام میں ہاتھ جوڑنا منع ہے‘ لیکن میں ہاتھ جوڑتی ہوں کہ ایسا کچھ نہ کیا جائے جس سے حالات ایسے بگڑیں کہ پھر سنور نہ پائیں ، مودی جی آپ تو کشمیریوں کے دل جیتنے کی بات کرتے ہیں پھر یہ کیا کیا جا رہا ہے، ہر فرد ہراس میں مبتلا ہے‘‘ ۔ بھارت کی 15 ویں کور کے کمانڈر ڈِھلوں نے سرینگر میں ایک روز قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 83 فیصد کشمیری لڑکے جو پتھر بازی کرتے ہیں وہ ’’دہشت گرد‘‘ بن جاتے ہیں ، حکومت کےخلاف ہتھیار اٹھانے والا 10 دنوں کے اندر مار دیا جاتا ہے ‘‘ ۔ یاد رہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں امر ناتھ یاترا کرنے والوں سمیت تمام سیاحوں کو فی الفور وادی سے نکل جانے کا حکم جاری کیا گیا ہے ۔ مبصرین کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا، ہمیشہ سے ;828383; اور بی جے پی کا دیرینہ ایجنڈا رہا ہے ۔ مگر مودی سرکاری تہیہ کر چکی ہے کہ 15 اگست سے قبل مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا جائے ۔ اس لئے وہاں 35 ہزار فوجی بھجوائے جا چکے ہیں اور ان کی تعداد کو مزید بڑھایا جائے گا، تا کہ آرٹیکل 35 ;65; پر حملے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں اٹھنے والی مزاحمت کی شدید لہر پر قابو پانے کی سعی کی جا سکے ۔ ممکن ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات کی سنگینی اور عوام کے غم و غصہ کو دیکھتے ہوئے دہلی کے حکمران اسے وقتی طور پر ملتوی کر دیں مگر بہرحال یہ ان کے ایجنڈے پر سرفہرست ہے اور وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے ۔ اسی وجہ سے 15 اگست سے قبل مقبوضہ کشمیر میں کسی خوفناک طوفان کی آمد محسوس کی جا رہی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دہلی کے حکمرانوں نے ہمیشہ یہ ثابت کی ہے کہ انہیں دوستانہ انداز میں کہی بات سمجھ نہیں آتی ۔ بدقسمتی سے بعض افراد اور گروہوں کی نفسیات ہی کچھ ایسی بن جاتی ہے کہ وہ محض طاقت کی زبان سمجھتے ہیں اور ولیل اور منطق کو سامنے والے کی کمزوری سے تعبیر کرتے ہیں ۔ ویسے تو یہ ایک ابدی حقیقت ہے کہ زیادہ تر لوگ قوت کو ہی سب سے بڑی دلیل قرار دیتے ہیں مگر اس ضمن میں ہندوستان کی تاریخ پر ذرا سی بھی نگاہ ڈالیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ وہاں کے حکمران طبقات ہمیشہ سے ہی قوت کے پجاری رہے ہیں ۔ اسی وجہ سے وہ ہر وہ شے جو نفع یا نقصان پہنچا سکتی ہے، کی پوجا شروع کر دیتے ہیں مثلاً آگ ، سانپ اور مختلف درندے وغیرہ، شاید ایسی وجہ سے ماضی میں سینکڑوں برس بھارت دوسری قوموں کے زیر نگیں رہا ہے ۔ مگر اب جبکہ 72 برسوں سے اسے آزادی میسر آئی ہے تو وہ اپنے چھوٹے ہمسایوں کو ڈرا دھمکا کر اور پاکستان اور چین کے خلاف بھی توسیع پسندانہ عزائم اختیار کر کے گویا اپنی صدیوں کی غلامانہ محرومیوں کی تسکین کا خواہش مند ہے ۔ مگر بھارت کے بالا دست طبقات اس تلخ حقیقت سے جانے کیوں صرف نظر کر رہے ہیں کہ اس روش کے نتاءج کبھی بھی کسی کے حق میں اچھے نہیں ہوتے ۔ اس تناظر میں موثر عالمی قوتیں بھی اپنی سطحی اور وقتی مصلحتوں کی بنا پر بھارت کی جرمانہ روش سے چشم پوشی کرتے ہوئے غالباً اجتماعی انسانی غلطیوں کی مرتکب ہو رہی ہے، اسی وجہ سے مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد خود بھارت کے اندر بھی بحرانی کیفیت پیدا ہو چکی ہے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی بھارتی تعلقات کسی طور قابل رشک نہیں ۔ اس تناظر میں غالباً ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک جانب وطن عزیز کی سول سوساءٹی سمیت تمام طبقات یک زبان ہو کر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کی جانب اپنی تمام تر صلاحتیں صرف کریں ، اس بابت محض یورپ اور امریکہ پر تکیہ نہ کیا جائے بلکہ خود بھارت کے اعتدال پسند حلقوں تک اپنی بات تسلسل اور مضبوط ڈھنگ سے پہنچائی جائے، تبھی توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ معاملہ منصفانہ ڈھنگ سے اپنے

بھارت کے مذموم عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں

پاکستان اور بھارت نے دو آزاد ممالک کی حیثیت سے برطانیہ سے آزادی حاصل کی لیکن ایک ہی آقا سے آزادی حاصل کرنے کے باوجود ان دونوں کے تعلقات کبھی خوشگوار نہ رہ سکے اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہندو لیڈرشپ کا اکھنڈ بھارت کا وہ خواب تھا جس کو اس نے آزادی کے بعد بھی نہیں توڑا اور اسی وجہ سے پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم بھی نہیں کیا، حالانکہ کہنے کو تو مسلمان اور ہندو ہزار سال سے زائد عرصے سے برصغیر میں رہ رہے تھے لیکن دونوں مذاہب میں زمین آسمان کا فرق ہونے کی وجہ سے دونوں کبھی ایک رنگ میں نہ رنگ سکے ۔ ظاہری شکل و شباہت کے علاوہ کوئی چیز دونوں میں مشترک نہ تھی اور ایساپوری دنیا میں ہوتاہے کہ بنیادی طور پر مختلف نظریات کے حامل لوگ ایک الگ اکائی ہی بناتے ہیں اور ایسا ہی بر صغیر میں ہواکہ دو الگ الگ ریاستیں بنیں ہندو چونکہ اکثریت میں تھے لہٰذا ان کی ریاست بڑی تھی لیکن دوسری طرف بھی سب سے بڑی مسلمان ریاست تھی جسے ہندوذہنیت نے کبھی قبول نہیں کیا اور اس نے اس کے خلاف سازشیں شروع کر دیں اور جو جتنا بڑا سازشی تھا اُ سے اتنا ہی بڑا عہدہ اور مقام ملا ۔ انہی سازشوں کے لئے اس ملک نے باقاعدہ ادارے بنائے جن میں سب سے بڑا ادارہ ’’را‘‘ ہے کہنے کو تو یہ بھارت کی سرا غرساں ایجنسی ہے لیکن اس کی بنیادی ذمہ داری اور منشور ہی پاکستان اور چین کے خلاف کام کرنا ہے ۔ 1962 میں چین کے ہاتھوں بد ترین شکست اور 1965 میں پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت کے رد عمل کے طور پر 1968 میں بھارت نے اپنی اس بد نام زمانہ ایجنسی کی بنیاد رکھی اور اسے جو خاص ترین مشن سونپا گیا وہ پاکستان میں مسائل پیدا کرنا تھا ۔ ’’ را ‘‘نے مشرقی پاکستان میں جو مکروہ کردار ادا کیا وہ بذات خود تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے ۔ اسی نے مکتی باہنی اور مجیب کو بنایا اور پاکستان کی سالمیت پر حملہ کیا اور آج بھی یہ پاکستان کے مختلف علاقوں خاص کر شمالی علاقوں میں براستہ افغانستان اور بلوچستان میں براستہ افغانستان اور ایران دونوں طرف سے ملوث ہے اور مسلسل سبوتاژ اور بد امنی کی کارروائیوں میں مصروف ہے جن میں اگرچہ اُسے پاکستانی اداروں کی چابکدستی کی وجہ سے وہ کامیابی حاصل نہیں ہو رہی جتنی وہ تگ و دو کر رہاہے اور نہ انشاء اللہ اُ س کی یہ خواہش پوری ہوگی ۔ دوسری طرف خود بھارت کے اندر ایک بڑے پاکستان کا خوف اسے بلا وجہ ستاتا رہتا ہے یعنی بیس کروڑ کی دنیا کی سب سے بڑی اقلیت کا خوف جو مسلمان ہے اور یہ مسلمان اسی لئے ہر وقت عوامی ہندو عتاب کا بھی نشانہ بنتے رہے ہیں اور ریاستی دہشت گردی کا بھی اور اس کے لئے اُس کا ایک اور ادارہ مسلسل بر سرپیکار رہتا ہے اور وہ ہے آئی بی یعنی انٹیلی جنس بیورو جس کا کام ملک میں اندرونی سطح پر سازشوں بلکہ حکومت مخالفوں کا خاتمہ ہے لیکن یہ بھی زیادہ تر مذہبی یا علاقائی اقلیتوں کے خلاف ہی مصروف عمل ہوتا ہے ۔ یہی آئی بی بھارت سرکار کے اہم امور میں بھی دخیل ہے اور اس کی بدنامی بھی ’’را‘‘سے کچھ کم نہیں ۔ اب اگر ان اداروں کے کام کو ذہن میں رکھا جائے تو یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ ان کے سر براہوں کے لئے کس قسم کے لوگوں کو منتخب کیا جاتا ہوگا اور اس سال بھی دو ایسے ہی اشخاص کی تعیناتی کی گئی ہے جو ان اداروں کی سربراہی میں اپنے پیشرووَں سے کسی طرح کم نہیں ۔ ان میں سے ایک اروند کمار ہے اور دوسرا سمنات گوئل ۔ اروند کمار کو آئی بی اور گوئل کو’’ را‘‘کا سربراہ بنایا گیا ہے یہ دونو ں انڈین سول سروس کے افسران ہیں ۔ ان میں گوئل جسے ’’را‘‘کے سربراہ کے طور پر تعینات کیا گیا ہے وہی شخص ہے جس نے اسی سال فروری میں پاکستان کے اندر بالاکوٹ پر ہوائی حملے کی منصوبہ سازی کی تھی یہ اور بات ہے کہ اُس کا حملہ اس بُری طرح ناکام ہوا کہ اس میں سوائے ایک کوئے کی جان کے کوئی اور جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہاں چند جلے ہوئے درخت ضرور نظر آئے جو بھارت کی ناکام منصوبہ بندی اور کاروائی کی کہانی سنا رہے تھے ۔ بہر حال گوئل پاکستان کے معاملات کا ماہر مانا جاتا ہے اور یہی اس تعیناتی کی وجہ ہے ویسے بالا کوٹ کی ناکامی کے بعد تو اُس کی نوکری کو ختم ہوجانا چاہئے تھا تاہم اُس کی حکومت شاید اُس کی مہارت کا مزید فائدہ اٹھانا چاہتی ہے یہ شخص 1990 کی دہائی میں بھارتی پنجاب میں خالصتان کی تحریک کو بے رحمی سے کچلنے میں بھی شامل تھا تو ظاہر ہے اس کے رویے میں سکھوں کے لئے اب بھی وہی سختی ہوگی جو تھی اور یوں پنجاب کیڈر کے اس افسر کا رول پنجاب میں بھی اہم رہے گا اور یہ اہمیت زیادہ تر منفی ہی ہوگی ۔ دوسری ایسی ہی تعیناتی اروند کمار کی ہے جس نے پرانے آئی بی چیف راجیو جین کی جگہ لی ہے اروند کے خصے میں کشمیر میں جو مظالم اورقتل ہوں گے وہ تو ہیں ہی ساتھ ہی نکسل باڑی تحریک کو کچلنے کے لئے اس نے کیا کیا ہوگا وہ الگ کہانی ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ علیحدگی پسند تحریکوں کی کوئی بھی حکومت پذیرائی کرے لیکن جس بر بریت کا مظاہر ہ بھارت اور خاص کر کشمیر میں ہوتا ہے اُس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ اور یہی اروند جیسے لوگ ہیں جو ان مظالم کے پیچھے ہوتے ہیں ۔ اروند نے انہی مظالم کی داد اپنی حکومت سے تمغوں کی صورت بھی پائی ہے اور اب اس عہدے کی صورت میں بھی پا لی ہے ۔ بہرحال اب دیکھیں بھارت ناکام تجربے کرنے والے ان دونوں افسروں کی سربراہی میں مزید کتنے تجربے کرتا ہے ان کے ناکام تجربوں میں ایک تو حالیہ بالاکوٹ پر حملہ تھا اور دیگر کاموں میں بھی انہیں کو ئی خاص کامیابی یوں نہیں ملی کہ نہ تو نکسل تحریک ختم ہوسکی اور کشمیر میں تو ہر نئے دن کے ساتھ آزادی کی تحریک مزید زور پکڑتی جارہی ہے، خالصتان کی راکھ میں سے بھی کوئی نہ کوئی چنگاری اٹھتی رہتی ہے تاہم ان جیسے افسر اپنی د رندگی کی تسکین کےلئے مزید اور مزید منصوبے بناتے رہتے ہیں کامیابی اور ناکامی کی پرواہ کیے بغیر اور اب بھی گوئل اور اروند دونوں سے یہی تو قع ہے بہر حال دیکھئے یہ دونوں مل کر اپنی اس تعیناتی کے دوران کیا کچھ کرتے ہیں جس کے بارے میں کسی بہتری کی توقع ہر گز نہیں ۔

مقبوضہ کشمیر بھارتی کالے قوانین کی زد میں

گزشتہ چند روز سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہیجانی کیفیت پیدا کیے رکھی جس کے تحت بھارتی حکومت نے سیاحوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا ،انٹر نیٹ سروس اور لینڈ لائن فون بند کردئیے گئے ،زمینی رابطے منقطع کرنے کیلئے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذکیا گیا،اسکولوں میں امتحانات ملتوی اور اضافی بھارتی فوج تعینات کر دی گئی،تمام حریت قیادت کیساتھ ساتھ بھارتی حکومت کی منظور نظر کشمیر قیادت کو بھی نظر بند کیا گیا ،سوائے چند بھارتی وزیر و مشیروں کے کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کیا کرنے جا رہی ہے اور غیریقینی سی صورتحال کا یہ عالم تھا کہ کانگریس سمیت اپوزیشن کے چند اراکین نے باقاعدہ ٹویٹ اور بیان جاری کیے کہ معلوم نہیں بھارتی حکومت کیا کرنے جا رہی ہے مگر جتنی صورتحال خراب ہے اس سے بھارت کو ہی نقصان ہو گا،دوسری جانب بھارتی فوج نے ایل او سی پر مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزی کا بازار گرم رکھا اور پاکستان کی سول آبادی کو کلسٹر بموں سے نشانہ بنانے کیساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی حکومت نے ریاستی دہشتگردی عروج پر رکھی اور2روز میں مزید 11معصوم کشمیریوں کو شہید کر دیا،غرض یہ کہ بھارت نے صورتحال اتنی گھمبیر بنا دی کہ انٹرنیٹ سروس بند ہونے سے قبل سوشل میڈیا پر کشمیریوں نے اقوام عالم کیلئے بیان جاری کیے کہ اگر ہم بچ نہ سکے تو ہ میں اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا،حریت رہنماسید علی گیلانی نے بھی ٹویٹ کیا کہ اگر آپ سب یونہی خاموش رہے اور ہم سب ماردئیے گئے تو اللہ کے حضورر آپ سب کو جوابدہ ہونا پڑیگاکیونکہ بھارت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی کرنے جار ہا ہے،اللہ ہ میں اپنی پناہ میں رکھے ۔ جب قابض فوج مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ سروس بند کر دے،لینڈ لائن فون سروس کو بھی بحال نہ کیا جائے،زمینی رابطے منقطع کر نے کیساتھ کرفیو نافذ کر کے 70لاکھ کی آبادی کو گھروں میں محصور کر کے رکھ دیا جائے تو پھر ایک دو نہیں بلکہ 70لاکھ افراد کے دل خوفزدہ ہونا فطری عمل ہے،یہ بات درست ہے کہ 70لاکھ کشمیری گزشتہ 72سالوں سے بھارتی ظلم و بربریت کے شکار رہے ہیں مگر صورتحال اتنی کشیدہ کبھی نہیں ہوئی کہ بھارت کے بڑے قومی اخبارات اپنے اپنے اداریوں میں بھارتی حکومت کو موجودہ صورتحال پر کشمیریوں اوربھارتی عوام کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کرتے نظر آئیں بلکہ بھارتی اخبارات کے اداریوں میں حکومت کویہاں تک کہا گیا کہ وفاق ہر سازش پر نظر ضرور رکھے مگر صورتحال غیر یقینی نہ رکھے ۔ غرض یہ کہ کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ کیا ہونے جا رہا ہے کشمیر کا ہر باشندہ ڈرا اور سہما ہوا تھا کہ پتا نہیں اب کی بار بھارت مقبوضہ کشمیر پر کونسے نئے ظلم کے پہاڑ توڑنے کی تیاری میں مصروف ہے اور پھر پیر کی صبح بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں پر ایک اور شب خون مار کر بھارتی تاریخ میں ایک اور سیاہ دن کا اضافہ کردیا کیونکہ بھارتی وزیرداخلہ امت شاہ نے راجیہ سبھا میں ایک بل پیش کیا جس کے تحت مقبوضہ کشمیر کونیم خود مختاری دینے والے آرٹیکل 370کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی جبکہ اس بل پر بھارتی صدر پہلے ہی دستخط کر چکے تھے یعنی صدارتی آرڈیننس پہلے ہی جاری کر دیا گیاتھا ۔ امت شاہ نے جو تجویز پارلیمان میں پیش کی اس کے مطابق جموں و کشمیر کی تنظیم نو کی جائے گی اور ;200;رٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر اب مرکز کے زیر انتظام ریاست یا یونین ٹیریٹری ہو گی جن کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہو گی جبکہ لداخ مرکز کے زیر انتظام ایسا علاقہ ہوگا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہو گی ۔ انڈین وزیرِ داخلہ کی جانب سے ;200;رٹیکل 370 کے خاتمے کے اعلان کے موقع پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن کی جانب سے شدید ردعمل سامنے ;200;یا ہے اور کشمیر میں بھی اس فیصلے پر سخت ردعمل کا اندیشہ ہے ۔ کشمیر سے کانگریس رہنما غلام نبی ;200;زاد نے ایوان میں کہا کہ ;39;ہم انڈیا کے ;200;ئین کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی بازی لگادیں گے ۔ ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں ۔ ;200;ج بی جے پی نے اس ;200;ئین کا قتل کیا ہے ۔ پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کیا کہ ;200;ج کا انڈیا کی جمہوریت میں سیاہ ترین دن ہے ۔ ;200;رٹیکل 370 کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا غیر قانونی اور غیر ;200;ئینی ہے جس سے انڈیا جموں و کشمیر میں قابض قوت بن جائے گا ۔ اس اقدام کے برصغیر پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے ۔ انڈیا کشمیر کے ساتھ کیے وعدوں پر ناکام ہو چکا ہے ۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ بھارتی ;200;ئین کی شق 370 عبوری انتظامی ڈھانچے کے بارے میں ہے اور یہ ;200;رٹیکل ریاست جموں و کشمیر کو انڈین یونین میں خصوصی نیم خودمختار حیثیت دیتا تھا ۔ انڈین ;200;ئین کے ;200;رٹیکل 370 کی توثیق 1947 میں ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعظم شیخ عبداللہ نے کی تھی ۔ اس کے تحت ریاست کو اپنا ;200;ئین بنانے، الگ پرچم رکھنے کا حق دیا گیا تھا اور اس ;200;رٹیکل کے تحت دفاع، مواصلات اور خارجہ امور کے علاوہ کسی اور معاملے میں مرکزی حکومت یا پارلیمان ریاست میں ریاستی حکومت کی توثیق کے بغیر انڈین قوانین کا اطلاق نہیں کر سکتی تھی ۔ اس ;200;رٹیکل کے تحت ریاست جموں و کشمیر کے شہریوں کے لیے جائیداد اور شہریت کے قوانین بھی انڈین قوانین سے مختلف تھے اور انڈیا کا کوئی بھی شہری یا انڈین کمپنیاں چاہے وہ نجی ہوں یا سرکاری ریاست جموں و کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتیں اور سرکاری ملازمتوں پر بھی غیرکشمیریوں کا حق نہیں ۔ بھارتی حکومت پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے تاہم ;200;رٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر میں اس اقدام کی اجازت نہیں تھی مگر یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ بھارتی حکومت نے کبھی بھی آرٹیکل370کا احترام نہیں کیا اور مسلسل اس کی پامالی کی ۔ بھارت نے تو اپنے کالے کرتوتوں میں ایک اور کالے کرتوت کا اضافہ کر دیا جس کا اسکے سیاہ چہرے پر کوئی اثر نہیں پڑیگا تاہم پاکستان کو چاہئے کہ وہ اس معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لیکر جائے اور فوری طور پر اقوام متحدہ سے رجوع کرے،پاکستان کشمیر پر ثالثی کی امریکی پیشکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کے حالیہ اقدام کو اقوام متحدہ میں لے جائے اور بہترین سفارتکاری کے ذریعے اس موقع کو معاملے کے حل میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے،پاکستان او آئی سی میں بھارتی باشندوں کیخلاف ایسی قانون سازی کرائے جس سے بھارت نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ پورے بھارت میں کسی مسلمان پر ظلم کرنے کی ہمت نہ کرے،پاکستان او آئی سی پر واضح کرے کہ اب عملی اقدامات کا وقت ہے محض بیان بازی سے کچھ نہیں ہو گا ۔ پاکستان کو ماضی کی طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کے بجائے اس بار معاملے کو فوری طور پر شنگھائی تعاون تنظیم میں اٹھانا چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ بغیر تاخیر سارک ممالک کا اجلاس طلب کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں ،یورپی یونین اور برطانیہ کے سامنے بھی معاملہ رکھا جائے اور انھیں باور کرایا جائے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم کا انجام دنیا کے امن کا خاتمہ ہو سکتا ہے ۔ پاکستان اپنے ہاں کشمیر کا اسٹیٹس تبدیل نہ کرے اور ایل او سی پر بھارت کو تگڑا جواب دے تاکہ اس کی نسلیں یاد رکھیں ۔ پاکستان دنیا میں بہترین سفارتکاری کا استعمال کرے اور لائن آف کنٹرول پر بہترین فوجی طاقت کو بروئے کار لائے ۔ وقت آگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے کالے قوانین سے نجات دلوائی جائے ۔

کلسٹر بموں کا استعمال ، بھارت ہوش کے ناخن لے

حالیہ دنوں میں پاکستان کے عالمی برادری کےساتھ استوار ہوتے نئے تعلقات کے بعد مودی انتظامیہ انگاروں پر لوٹنے لگی ہے ۔ اسکا ثبوت کنٹرول لائن پر اس کی وحشیانہ بمباری سے ملتا ہے جس میں اب بھارتی فورسز کلسٹر بم استعمال کرنے لگی ہیں ۔ کلسٹربموں کے ٹھوس شواہد بھی سامنے ;200; چکے ہیں ۔ بھارتی فوج نے آزاد جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک ;200;باد شہریوں کو کلسٹر بم کے ذریعے نشانہ بنایا ہے جو جنیوا اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ پاک فوج کے تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ30اور31جولائی کی درمیانی شب وادی نیلم پر بھارتی فورسز نے شیلنگ کے دوران کلسٹر بم کا استعمال کیا ۔ جسکے نتیجے میں ایک4سالہ بچے سمیت2 شہری شہید جبکہ11زخمی ہوگئے تھے، جن کی حالت تشویشناک ہے ۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ جنیوا کے کلسٹر ایمونیشن کنونشن کے تحت عام شہریوں پر کلسٹر بم کا استعمال ممنوع ہے ۔ بھارت کا جنگی جنون تمام بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے جو بھارتی فوج کے اصل کردار اور اخلاقی قدر کو کھول کر دنیا کے سامنے لاتا ہے ۔ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی پر ;200;ئی ایس پی آر نے بجا طور پر بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے کلسٹر ہتھیاروں کے استعمال کا نوٹس لے ۔ ادھر وزارت خارجہ نے بھی اس خلاف ورزی پر عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ایل او سی پر کلسٹر بم کا استعمال کرکے جینواکنونشن کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کلسٹر بم کا استعمال کرکے بہت خطرناک کھیل کھیل رہا ہے،ایسی کارروائیوں سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔ بلاشبہ جرمنی کے شہر ڈبلن میں 2008 میں منظور ہونے والے کنونشن کے تحت کلسٹر بموں کی تیاری، ذخیرہ کرنے، منتقلی اور استعمال پر پابندی عائد ہے اور دنیا کے 100 سے زائد ممالک اس کنونشن پر دستخط کر چکے ہیں ۔ کلسٹر بم ایک ایسا بڑا بم ہوتا ہے جسکے اندر مزید چھوٹے چھوٹے بم ہوتے ہیں ،اس بم کے علاقے میں گرنے کے بعد اس سے نکلنے والے چھوٹے بم وسیع علاقے میں پھیل کر تباہی و بربادی پھیلا دیتے ہیں ۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایک کلسٹر بم کے اندر مزید2000ہزار تک چھوٹے بم موجود ہو سکتے ہیں ۔ ان بموں کا استعمال1940کی دہائی میں شروع ہوا اور عام شہری ;200;بادی نے اسکی بھاری قیمت چکائی ۔ جس پر ریڈ کراس نے تشویش کا اظہار کیا اور یو این سے اس سفاکی کو روکنے کا مطالبہ کیا ۔ 2007 میں ناروے نے ’اوسلو پراسیس‘ کے نام سے کلسٹر بموں کا استعمال روکنے کی کوششوں کا ;200;غاز کیا ۔ کم و بیش ایک سال سے زائد عرصہ کی کوشش سے3 مئی 2008کو جرمنی کے شہر ڈبلن میں کنونشن ;200;ن کلسٹر امیونیشنزمنظور ہوا ۔ اب یہ عالمی برادری پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نوٹس لے ۔ وزارت خارجہ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو اقوام عالم کے سامنے رکھے گا تاہم دریں اثناء ضروری ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خصوصی مراسلہ لکھے ۔ صدر ٹرمپ پہلے ہی تنازعہ کشمیر کے حل میں اپنی دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں ، ایک نہیں دو بار انہوں نے ثالثی کی پیشکش کی ہے ۔ لوہا گرم ہے امریکی انتظامیہ کو حقائق سے پوری طرح ;200;گاہ رکھا جائے ۔ صرف یہی نہیں کہ بھارت نے پہلی بار کسی عالمی معاہدے کی ساکھ خاک میں ملائی ہے بلکہ یو این کی کشمیر پر جملہ قراردوں کو پچھلے ستر سال سے جوتی کی نوک پر رکھے ;200; رہا ہے ۔ ایل او سی پر پاکستان اور بھارت کے مابین ایک معاہدہ موجود ہے مگر شر پسند مودی حکومت وحشی پن پر اتر ;200;ئی ہے ۔ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بانڈری پر بھارتی فوج نے رواں برس اب تک ایک ہزار8سو24مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متعدد شہریوں کو شہید کیا ہے ۔ بھارت کا یہ باولا پن خطے کےلئے خطرناک ہے ۔ دو ایٹمی قوتوں میں تناوَ جنوبی ایشیا کو کسی نئے بحران سے دوچار کر سکتا ہے ۔ قبل ازیں رواں سال فروری میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے عملی طور بڑے تصادم کی صورتحال پیدا کر دی تھی ۔ ایک بار پھر مودی انتظامیہ اس بند گلی کی جانب بڑھ رہی ہے ۔ اس وقت مقبوضہ وادی میں خوف کا عالم ہے اور چند دن کے اندر تیس ہزار کے لگ بھگ مزید فوجی کشمیر اتارے جا چکے ہیں ، کشمیر مکمل طور پر غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے ۔ وادی سے ہندو یاتریوں ، سیاحوں اور غیرکشمیری طلبا کو واپس لوٹنے کے حکم سے عوام اور سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے جسکا اظہار جموں و کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ کے ٹوئیٹس سے بخوبی ہوتا ہے ۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کا کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ کشمیر کی موجودہ صورت حال کےلئے فوج اور ایئر فورس کو الرٹ کرنے کا مطلب کیا ہے ۔ یہ35 اے یا حد بندی کے متعلق نہیں ہے ۔ اگر اس طرح کا الرٹ واقعی جاری کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب کوئی بالکل ہی مختلف چیز ہے ۔ گذشتہ کئی ہفتوں سے کشمیر میں عام لوگ کسی بڑی کارروائی کے امکان سے خوف کی گرفت میں ہیں ۔ مودی حکومت کے بعض اعلانات اور جنگی پیمانے کی فوجی نقل و حرکت سے افواہوں کو تقویت مل رہی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے ;200;ئین کے تحت کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کئے جانے کا ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے،یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مودی حکومت نے ہندو اکثریت والے جموں خطے کو علیحدہ ریاست جبکہ مسلم اکثریتی علاقے نئی دہلی کے زیرانتظام خطے قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم جو بھی ہے یہ ایک خطرناک کھیل ہے ۔ سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے مودی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ نہ کرے جس سے بحران مزید پیچیدہ ہوجائے ۔ سابق بھارتی وزیراعظم کا مشورہ ہوشمندی کی علامت ہے جبکہ مودی حکومت ہوش کے ناخن لینے سے عاری محسوس ہوتی ہے ۔

حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کا فکر انگیز پیغام

مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی جدوجہد کرنے والی سب سے بڑی تنظیم آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے جھنجوڑ دینے اپنے ایک پیغام میں بھارتی حکومت کی جانب سے وادی میں پرتشدد کارروائیاں شروع کرنے کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے مسلمان برادری سے مدد کی اپیل کردی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم سب مار دئیے گئے اور آپ خاموش رہے تو اللہ کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا ۔ سماجی رابطے کی ویب ساءٹ ٹوءٹر پر اپنے پیغام میں سید علی گیلانی نے کہا کہ اس دنیا میں بسنے والے تمام مسلمان اس ٹوءٹ کو ہماری زندگیاں بچانے کے لیے پیغام کے طور پر لینا چاہیے ۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارت، انسانی تاریخ کی بدترین نسل کشی کرنے والا ہے، اللہ ہ میں محفوظ رکھے ۔ سید علی گیلانی کے پیغام نے نہایت ہی سنجیدہ سوال کو جنم دیا ہے اور اس یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ کشمیر کی صورتحال کس نہج تک جا پہنچی ہے ۔ مسلم ورلڈ کے نمائندہ پلیٹ فارم او آئی سی کو اس سے سلسلے میں آگے بڑھنا ہو گا ۔ کشمیریوں کی نسل کشی کا مودی پلان اگر عمل میں آگیا تو پھر مظلوم کشمیریوں کے خون کابوجھ پوری امت مسلمہ پر ہوگا ۔ یہی وقت ہے کہ ہم آواز ہو کر بھارت کو مشترکہ پیغام دیا جائے ۔

بھارت کشمیریوں کے بڑے قتل عام کو تیار

پلوامہ واقعہ کے بعد بھارتی فضائی شکست اور اب کلبھوشن کیس میں ناکامی کے بعد بھارتی حکومت انگاروں پر لوٹ رہی ہے ۔ اوپر سے امریکی صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کر دی جس کا واضح مطلب ہے کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضے سے ہاتھ دھونے پڑیں گے ۔ اسی لئے بھارت قانونی طورپر کشمیر کے الحاق کو دائمی بنانے اور آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کےلئے تگ و دو کر رہا ہے دوسری طرف کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کےلئے عملی اقدامات بھی کر رہا ہے ۔ وادی میں پہلے سے موجود آٹھ لاکھ فوج کے علاوہ مزید فوج بھیجی گئی ہے ۔ کشمیری نوجوانوں کو بہانے بہانے سے شہید کیا جا رہا ہے ۔ نہتے کشمیری بچوں ، بوڑھوں اور خواتین سے انتہا ئی ناروا سلوک کیا جا رہا ہے ۔ محبوبہ مفتی نے کہا وادی میں بڑی کارروائی ہونے جا رہی ہے ۔ صورتحال کے پیش نظر لوگوں نے خوراک‘ ادویات اور فیول کا ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی مزید اتنی بڑی تعداد کے قیام کیلئے سرکاری و نجی عمارتوں پر فوج نے قبضہ کر لیا ہے ۔ 3 لاکھ ہندو یاتریوں کو کشمیر سے نکل جانے کا حکم دیدیا گیا ۔ فوج کے ساتھ تمام پولیس سٹیشنوں ‘ پولیس ڈویژنوں اور پولیس پوسٹوں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ۔ جموں میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے اور ہوائی اڈوں پر فوجی تنصیبات کو تیار کھا گیا ہے ۔ سرحدی علاقوں میں فوج کی اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے ۔ صبح سے ہی ہوائی اڈے کے اوپر سے ڈرون طیاے گردش کرتے رہے ۔ وادی میں موجود ہزاروں سیاح اور طلبا میں خوف و ہراس پھیل گیا اور واپسی کے لیے قطاریں لگ گئیں ۔ ریاستی حکومت نے ایک روز قبل ہی سیاحوں کو وادی سے چلے جانے کو کہا تھا جس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی تھی کہ خفیہ اطلاعات ہیں کہ خطے میں دہشت گردی کا خطرہ ہے ۔ ریاستی حکومت کی ہدایت کے بعد غیرملکیوں سمیت ہزاروں سیاحوں نے سری نگر ایئرپورٹ کا رخ کیا جن میں سے اکثریت کے پاس ٹکٹ بھی نہیں تھے ۔ مقبوضہ کشمیر میں سالانہ مذہبی تہوار امرناتھ یاترا کے باعث ہزاروں افراد موجود تھے جبکہ حکومت کی جانب سے مذہبی تہوار کو بھی منسوخ کردیا گیا ۔ امرناتھ یاتری کے اطراف میں وارننگ سے قبل ہی سیکیورٹی کی کثیر تعداد موجود تھی، اس کے علاوہ جموں کے علاقے میں ہونےوالے ہندءووں کے ایک اور مذہبی میلہ میکائیل ماتا یاترا کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے ۔ کشمیر میں موجود غیرمقامی سینکڑوں طلباء بسوں کے ذریعے واپس جا رہے ہیں ۔ سری نگر کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ایک انتظامی عہدیدار کا کہنا تھا کہ تمام غیرمقامی طالب علم کیمپس سے واپس اپنی ریاستوں کو جاچکے ہیں ۔ کشمیر کے مقامی افراد بھی اس وارننگ سے خوف کا شکار ہیں اور اشیا خورد ونوش، پیڑول اور بینکوں سے پیسوں کے حصول کے لیے متعلقہ اسٹیشنوں کے باہر ان کی لمبی قطاریں لگ گئیں ۔ اسی پر حریت رہنما سید علی گیلانی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت پر ایس او ایس کال دی اور کشمیریوں کی نسل کشی کے خطرے کا اظہار کیا ہے ۔ سید علی گیلانی نے مسلم امہ کے نام پیغام میں کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام کرنے جا رہا ہے ۔ اگر ہم شہید اور آپ سب مسلمان خاموش رہے تو اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے ۔ مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں ‘ غیر کشمیریوں اور طلباء کو واپسی کے حکم پر سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ۔ میر واعظ نے کشمیریوں سے ایکشن کی اپیل کی ہے ۔ سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ فکر مند ہیں کہ بھارتی فوج‘ ائرفورس کو الرٹ کرنے کا مطلب کیا ہے ۔ میئر سرینگر جنید عظیم نے کہا ہم سب محصور ہیں ۔ صحافی برکھا دت نے صورتحال کو بحرانی قرار دیا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سید علی گیلانی کے بیان کے بعد او آئی سی سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے ۔ شاہ محمود قریشی جنرل سیکرٹری او آئی سی کو کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرینگے ۔ پاکستان کشمیریوں کی سفارتی اخلاقی معاونت جاری رکھے گا بھارت اس وقت بوکھلاہٹ کا شکار ہے امریکی صدر کی ثالثی کی یہ پیشکش پربھارت آگے نہیں بڑھ رہا ۔ بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشتگردی کی تازہ کارروائیوں کے دوران بارہمولہ اورشوپیاں کے اضلاع میں مزید 3 کشمیری نوجوان شہید کر دیئے ۔ جموں خطے کے علاقوں وادی چناب اور پیر پنچال میں بھارتی پیراملٹری اہلکاروں کی اضافی تعیناتی سے ان علاقوں میں خوف ودہشت کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ۔ لوگ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ کچھ برا ہونے والا ہے ۔ بھارتی پولیس نے جنوبی کشمیر کے قصبوں بیج بہاڑہ اور اسلام آبادسے غلام نبی سمجھی، مختار احمد وازہ اور منظور احمد غازی سمیت کئی حریت رہنماؤں کو گرفتار کرکے مقامی پولیس سٹیشنوں میں نظربند کردیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے 40 ہزار کے قریب اضافی فوجیوں کی تعیناتی پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے سینکڑوں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر زبردست مظاہرے کئے ۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے گولیاں اور پیلٹ چلائے اور آنسو گیس کے گولے داغے جس کے باعث متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔ قابض انتظامیہ نے ضلع شوپیاں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ۔ بھارتی فورسز نے ضلع پلوامہ کے کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپوں کے دوران متعدد نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ۔ میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم حریت فورم نے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے غیر قانونی طور پر نظربند چیئرمین محمد یاسین ملک کی نئی دلی کی تہاڑ جیل میں گرتی ہوئی صحت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جیلوں میں نظر بند دیگر کشمیریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ کشمیر یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے بیسیوں طلباء نے اپنے کیمپس میں جمع ہو کر بھارت کی طرف سے مقبوضہ وادی میں پیدا کی گئی جنگی صورتحال کے خلاف زبردست مظاہر ہ کیا ۔ جموں وکشمیر پیپلز موومنٹ کے چیئرمین میر شاہد سلیم نے بھارتی حکومت کو خبردارکیا کہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کے تباہ کن نتاءج نکلیں گے ۔ بھارتی کانگریس جموں وکشمیر پالیسی پلاننگ گروپ نے بھی وزارت داخلہ اور مقبوضہ کشمیر حکومت کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سرکار کے ارادوں سے متعلق خدشات پیدا ہو رہے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں عدم تحفظ اور خوف کا ماحول پیدا ہو رہا ہے ۔ حکومت کوئی ایسا فیصلہ نہ کرے جس سے بحران مزید پیچیدہ ہو جائے ۔ حکمران پارٹی کی غلط پالیسیوں اور جموں و کشمیر کے بارے میں بھارتی آئین کے آرٹیکل 35;65; اور آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے حکومتی ارادوں کے بارے میں جموں و کشمیر میں وسیع پیمانے پر پیدا ہونےوالے خوف و ہراس اور خدشات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تمام اقدامات جموں و کشمیر میں انتشار اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کر رہے ہیں ۔

ازاد کشمیر کے لیڈروں کی برطانیہ اور یورپ میں موج مستیا

دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ اور یورپ کا انفراسٹرکچر مکمل تباہ ہوگیا تھا ان ممالک کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لئے مزدوروں اور فیکٹری ورکروں کی ضرورت پڑی تو ہنوستان، پاکستان اور افریقی ممالک سے بڑی تعداد میں مزدور یورپین ملکوں بالخصوص برطانیہ میں لائے گئے جنھوں نے سڑکیں ، پل اور عمارتیں تعمیر کیں برطانیہ میں ;200;باد پاکستانی زیادہ تر ;200;زاد کشمیر کے دو اضلاع میرپور اور کوٹلی یا پھر راولپنڈی ڈویژن سے ;200;ئے جن کی اب چوتھی نسل یہاں پروان چڑھ رہی ہے انگریز ;200;ج بھی پاکستانی کشمیری یا دیگر ممالک سے یہاں ;200;نے والی پہلی نسل کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنھوں نے اس ملک کی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا برطانیہ نے سب سے پہلے ان مزدوروں کو شہریت دی انکی فیملیز کو برطانیہ ;200;نے کی اجازت دی انکو وہ سارے حقوق دیئے جو مقامی شہریوں کو حاصل ہیں اب یہاں ان تارکین وطن کی چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہے جبکہ دوسری اور تیسری نسل ہر شعبہ زندگی میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے ان پاکستانی کشمیری مزدوروں کی وجہ سے میرپور کوٹلی اور جہلم پوٹھوہار ریجن میں بڑے بڑے بنگلے کوٹھیاں نظر ;200;تی ہیں یہ ;200;ج بھی زرمبادلہ کی صورت میں پاکستان کی معیشت میں سب سے زیادہ کردار ادا کررہے ہیں جبکہ اپنے اپنے خاندانوں کی کفالت کی ذمہ داریاں بھی پوری کررہے ہیں ایک ریسرچ کے مطابق سپین کے انقلاب کے بعد برطانیہ اور یورپ میں اسلام کا دوبارہ ان ہی کشمیری اور پاکستانی مزدوروں کی وجہ سے پھیلا جنھوں نے یہاں مسجدیں تعمیر کیں ۔ یورپین ممالک نے تاریخ کی تلخیوں کو بالکل بھولا دیا ہے اور معاشی انقلاب کی خاطر باہم ;200;پس میں جڑ گئے اور ترقی کی جانب بڑھنے لگے پاکستان کی اج کی موجودہ سول اور عسکری قیادت بھی شاید انہی ارادوں کی تکمیل کےلئے کوشاں ہے ۔ لندن سے کسی بھی یورپین ممالک کا ہوائی جہاز کا سفر تقریبا دو گھنٹے کا ہے جبکہ فرانس، بلجیئم، ہالینڈ اور دوسرے کئی ملکوں میں لندن سے سڑک کے راستے ;200;پ تقریبا چار گھنٹوں میں یکطرفہ سفر کرسکتے ہیں کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان ممالک نے 1945 میں ایک دوسرے پر بم گرائے تھے لیکن گزشتہ ستر سالوں میں ان یورپین چھوٹے چھوٹے ممالک نے بہت ترقی کی سفری سہولیات کو ;200;سان بنایا ایک دوسرے کی مدد کی ہیومین راءٹس اور ہیومین ڈویلپمنٹ پر توجہ دی ۔ ہمارے پاکستان اور ;200;زاد کشمیر کے لوگ صرف برطانیہ میں کوئی بیس لاکھ ہیں جن میں تقریبا 13 یا 14 لاکھ کشمیری نژاد ہیں جن کے ماشا اللہ اپنے اپنے کاروبار ہیں ہزاروں کی تعداد میں مقامی حکومتوں میں پاکستانی کشمیری کونسلرز اور مئیرز ہیں کھیل کے میدانوں سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک پاکستانیوں اور کشمیریوں کی نسل نمایاں طور پر نظر ;200;تی ہیں لیکن افسوس کہ یہاں پاکستان اور ;200;زادکشمیر سے ;200;نے والے مذہبی اور سیاسی قافلے ہ میں تقسیم کررہے ہیں سب سے زیادہ ;200;زاد کشمیر سے مختلف جماعتوں کے سربراہ برطانیہ اور یورپ کے چکر کاٹتے رہتے ہیں نام نہاد پونڈز اور یورو اکھٹے کرنے والے پیر اور مسلکوں کی بنیاد پر مذہبی پیشوا یہاں ہمارے لوگوں کی تقسیم کا بڑا سبب ہیں سیاسی جماعتوں کے سربراہان کے پیش نظر سیر سپاٹے اور چندوں کا حصول ایک طرف ہے تو دوسری طرف اپنی اپنی جماعتوں کی برانچز قائم کرکے زاتی تشہیر اور چندے اکھٹے کرنا ہے ۔ جس کی وجہ سے یہاں تقسیم در تقسیم کے عمل کو فروغ دیا گیا ہے کسی جگہہ برادریوں کنبوں کی بنیاد پر تو کسی جگہہ سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر بھائی کو بھائی سے جدا کرنے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے یہ تکلیف دہ عمل ہے اس کو روکنا ہوگا ۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ ;200;زادکشمیر کی سیاست سے ماورا ہوکر برطانیہ اور یورپ میں زیادہ سے زیادہ افراد اپنے سیاسی تشخص کو قائم کریں اس سے کمیونٹی کے اندر اتحاد اور فکر و عمل کو تقویت ملے گی بلکہ مختلف مسائل حل ہونگے اور مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب ہماری بھی کوششیں رنگ لائیں گئیں جبکہ بھارت اور بنگلہ دیشی کی کسی سیاسی جماعت کا یہاں وجود نہیں ، میں ان ;200;زاد کشمیر کے لیڈروں کےلئے اتنا عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں جو یہاں اکثر ;200;تے رہتے ہیں میرے لئے سب قابل احترام ہیں لیکن سب کا کردار ;200;زادکشمیر کے خطے اور عوام کے لئے ایک ہی جیسا ہے وہ اپنی سیاست کا محور اور مرکز ;200;زادکشمیر کی دھرتی کو بنائیں وہاں ہر طرح کی بہتری لانے کے لئے اپنا رول اور وسائل استعمال کریں ;200;زادکشمیر کا نظام تعلیم، ٹوٹی نلکا، صحت کا نظام ،سڑکیں ،تھانہ کلچر اور پٹوار خانہ ان اقتداری لیڈروں کی ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں ، ایک سرکاری ہسپتال ایک سکول بتادیں جو برطانیہ اور یورپ کے معیار کے مطابق ;200;پ نے قائم کیا ہو ایک محکمہ بتادیں جہاں رشوت نہیں لی جاتی ہو ایک سیاحت کا وہ مقام بتا دیں جہاں ہم برطانیہ اور یورپ میں مقیم کشمیری بچوں کو لے جاکر سیر کرواسکیں جن کے چندوں پر ;200;پ الیکشن لڑتے ہیں ;200;پ کامیاب ہوتے ہیں جس کو ;200;پ کا یا ;200;پکی حکومت کا کارنامہ بتایا جاسکے ’’تن ہمداغ داغ شد ;34;پنبہ کجا کجا نعم ;34; (فارسی کے اس قول کا مطلب ہے کہ میرا پورا جسم زخموں سے چور ہے کس کس جگہہ پر مرہم رکھوں )وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے 11 جولائی سے 27 جولائی کے دوران پورے یورپ کا دورہ کیا 11 جولائی کو وہ سپین کے شہر بارسلونا پہنچے پتہ چلا کہ وہ 13 جولائی کو یوم شہدا کے سلسلے میں نکلنے والی ایک ریلی میں شرکت کریں گے پھر وہ 14 جولائی کو اٹلی روانہ ہوئے پھر بلجیم پھر فرانس اور پھر برطانیہ تشریف لائے اور 27 جولائی کے بعد اسلام ;200;باد واپس پہنچے یہاں مقیم ازاد کشمیر کے لوگ ٹوٹی نلکے والے اور سڑکوں کو پختہ کرنے والے اور پلاٹوں پر قبضے کی شکایتیں کرنے والے ہم سے پوچھتے رہے کہ وزیراعظم سے ملاقات کروائیں لیکن ہ میں نہیں معلوم کہ وزیراعظم صاحب کی یہاں کیا کیا مصروفیات رہیں اسی دوران لیبہ ویلی مظفر;200;باد میں سیلابی ریلے سے 24 افراد جان بحق ہوگئے لائن ;200;ف کنٹرول پر مرنے والوں کی داد رسی بھی تو چیف ایگزیکٹو کی ہی ہوتی ہے مجھے یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ ;200;زاد کشمیر کے وزیراعظم کے اس دورے پر ;200;زادکشمیر کے قومی خزانے سے کتنا پیسہ خرچ ہوا چونکہ اب جب سے مسلم لیگ ن کی حکومت ;200;زادکشمیر میں برسراقتدار ;200;ئی ہے اب یہ نوٹیفکیشن ہی نہیں جاری ہوتا کہ کون کب اور کیوں بیرون ملک دورے پر جارہا ہے اور اس کو کتنے پیسے اس دورے کےلئے دئیے گئے ہیں پیپلزپارٹی کے دور تک باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری ہوتا تھا لیکن بعد میں نوٹیفکیشن جاری ہونا بند ہوگیا ہے ۔ کشمیر سیل بھی مکمل وزیراعظم ;200;زادکشمیر کے کنٹرول میں ہے جہاں کشمیر کو ;200;زاد کروانے کے لئے صوابدیدی فنڈز کی ترسیل ہوتی ہے جہاں سے برطانیہ اور یورپ لوگوں کو مسئلہ کشمیر کو ;200;جاگر کرنے کےلئے وہاں سے بیجھا جاتا ہے اور وہ یہاں ;200;کر اپنے ہی لوگوں کے خرچے پر دعوتیں اور استقبالیے منعقد کروا کر انہیں ہی تقریریں سنا کر چلے جاتے ہیں کشمیر سیل سے ہی پھر برطانیہ سے ;200;زادکشمیر اور پاکستان کی سیر کروانے کےلئے فنڈز یہاں سے ہی سنا ہے جاری ہوتے ہیں ۔ واللہ عالم ۔ ;200;زادکشمیر کی حکومت کے وزیروں کی ایک بڑی تعداد ادہر برطانیہ میں دعوتیں ;200;ڑا رہی ہے برطانیہ اور یورپ میں ;200;نے میں کوئی قباعت نہیں لیکن ;200;نے کے مقاصد تو واضح ہوں جو مسئلہ کشمیر ;200;جاگر کرنے کی غرض سے استقبالئے اور پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں جس سے ان لیڈروں کی ذاتی اور جماعت کی تشہیر ہوتی ہے چونکہ تقریر کرنے والے، سننے والے اور میڈیا والے سارے اپنے ہی لوگ ہوتے ہیں جو سو فیصد کشمیر کے مسئلے کے ساتھ وابسطہ ہیں ابھی ;200;زادکشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق بھی برطانیہ کا دورہ کرکے واپس چلے گئے ہیں جن کی قابلیت اور اہلیت کو تو چیلنج نہیں کیا جاسکتا انکے مخالفین انہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہمیشہ ہونے کا طعنہ دیتے ہیں جبکہ ہمارے دوست عبدالرشید ترابی بھی برطانیہ کا دورہ کرکے واپس گے ہیں جو کبھی ترکی میں کبھی سعودی عرب اور کبھی یورپ میں ہوتے ہیں انہیں بھی اسٹبلشمنٹ کی بی ٹیم کا طعنہ ملتا رہتا ہے ۔ بیرسٹر سلطان محمود پی ٹی ;200;ئی کے دوبارہ صدر بن گئے ہیں انکے استقبال کی یہاں تیاریاں ہو رہی ہیں یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے سنا ہے ان پر بھی اسبشلشمٹ کی چھاپ ہے ان کی دوبارہ صدارت بھی شاید اسی کا شاخسانہ ہے سیف اللہ نیازی نے حلف لیا تو سابق وزیراعظم کسی کونے میں نظر ;200;ئے کچھ دوستوں کو ناگوار گزرا ۔ موجودہ حکومت ہو یا سابقہ حکومتیں ;200;زادکشمیر کے لوگوں کو کوئی خاطر خواہ ریلیف دینے میں سب ناکام ہیں دارلحکومت مظفر;200;باد ہے لیکن وزیراعظم صدر وزرا کی اکثریت اسلام ;200;باد میں ہی رہتی ہے اور کشمیر ہاءوس ہی ان کا مسکن ہے ;200;زاد کشمیر کے لوگ اکثر سڑکوں کی تعمیر اور اپنے حق کے لئے احتجاج کرتے رہتے ہیں 29 جولائی کو کوہالہ پل پر ٹریفک کی ;200;مد و رفت کےلئے بند کردیا گیا یہ لوگ احتجاج بھی سڑک کےلئے کررہے تھے میرے ایک دوست ;200;ٹلی سے شریف عباسی مجھے جولائی کا پورا مہینہ راجہ فاروق حیدر سے اسی سڑک کی تعمیر کےلئے ملاقات کروانے کا کہتے رہے لیکن میری رسائی بھی راجہ فاروق حیدر سے نہیں ہوسکی ۔ بشارت عباسی شہید روڈ جو 36 کلو میٹر بنتی ہے کشمیر میں سب سے پرانی سڑک ہے ہر دور حکومت میں اس سڑک کو پختہ کرنے کا وعدہ کیا گیا سابقہ حکومت کی طرح موجودہ حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا80 ہزار سے زائد عوام اس سڑک پر سفر کرتے ہیں سڑک پر کھڈے پڑے ہوئے ہیں علاقہ عوام کو سخت تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے میں نے گزشتہ سال خود اکتوبر کے مہینے میں اس سڑک پر سفر کیا تھا ۔

پاکستان،کشمیر اور خطے کی صورتحال،سینٹ میں تحریک

ملک میں معاشی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ قرضے ختم کرنے اور کسی سے قرضہ نہ لینے کے دعویداروں نے اپنے دعوءوں ،وعدوں اور بیانات سے کھلم کھلا انحراف کیا ۔ اور قرضے تو کیا ختم کرنے تھے قرضوں میں مزید اضافہ کیا ۔ عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے،مہنگائی اور بے روزگاری ختم کرنے کے بیانات اور دعوے بھی سراب ثابت ہوئے ۔ بلکہ کرے کوئی بھرے کوئی کے مصداق سارا قصور عوام کا نکلا اور ٹیکسوں کی بھرمار اور مہنگائی کی صورت میں سزا وار عوام ٹھرے ۔ جن سیاسی رہنماءوں کو گرفتار اس بنیاد پر کیا گیا کہ انھوں نے ملک کو لوٹا ہے اور اس لوٹ مار کے ثبوت موجود ہیں ان پر ابھی تک کچھ ثابت نہیں ہوا نہ ان کے خلاف کوئی ثبوت پیش کیا جا سکا ۔ اس لیئے یہ تاثر عام ہے کہ یہ تو احتساب نہیں بلکہ انتقام ہے ۔ یہ تمام باتیں اپنی جگہ لیکن اصل خرابی کی طرف نہ کوئی توجہ دیتا ہے نہ اس بیماری کا کوئی علاج سوچتا ہے اور وہ ہے نظام کی خرابی ۔ خرابی نظام کی بیماری نے پورے ملک کو معاشی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے ۔ جب تک نظام درست نہیں ہوگا ہمارے معاشی مسائل ختم نہیں ہو سکتے بلکہ ان میں اضافہ ہوتا جائے گا ۔ جس کے نتاءج بڑے خوفناک ہو سکتے ہیں ۔ سیاسی رہنما اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر غافل نظر آتے ہیں ۔ اپوزیشن کے لیڈرز اپنے آپ کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ ان کی جدوجہد کا مقصد ملک اور عوام نہیں بلکہ اپنی چمڑی بچانا ہے ۔ دوسری طرف حکومت اپنے مخالفین کو پچھاڑنے میں لگی ہوئی ہے ۔ اخباراٹھا کر دیکھیں یا ٹی وی لگا کر دیکھیں ۔ سب ایک دوسرے کو کوستے ہی نظر آئیں گے ۔ سیاست بس اب یہ رہ گئی ہے کہ ایک دوسرے کے کپڑے اتارے جائیں ۔ حزب اقتدار ہے یا حزب اختلاف سب نے ملکی سیاست کا جنازہ نکال دیا ہے ۔ معاشرتی اقدار،روایات اور بردباری کو سیاست سے یکسر خارج کر دیا گیا ۔ دونوں طرف والوں کو نہ ملک کی فکر ہے نہ عوام کی ۔ بداخلاقی،بدتمیزی،ذاتی مفادات اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا دنگل ہے ۔ یہ ہیں ہمارے رہنما ۔ عوام کو سوچنا پڑے گا ۔ پاکستان اس وقت نہ صرف معاشی بحران کا شکار ہے بلکہ ملکی سلامتی کا تحفظ کرنے والوں کی نظریں پڑوسی سرحدوں ،خطے کی صورتحال اور خصوصاً مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر ہیں ۔ مشرقی سرحد پر صورت حال تسلی بخش نہیں ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ چند دنوں میں مزید دس ہزار تازہ دم فوجی بھیجے اور گذشتہ ہفتے مزید 35 ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کیا گیا ۔ اور اطلاعات یہ ہیں کہ اس اعلان کے مطابق 35 ہزار فوجی مقبوضہ وادی میں پہنچ چکے ہیں ۔ جو جدید اسلحے اور ساز و سامان سے لیس ہیں ۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے ۔ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی میں کوئی بڑی کاروائی کرنے والا ہے ۔ اس کی تصدیق متعدد کشمیری رہنماءوں نے اپنے بیانات میں بھی کی ہے ۔ دوسری طرف بھارت کی طرف سے پاک بھارت سرحد پر بھارت کی شرارتیں اور چھیڑچھاڑ جاری ہے ۔ بھارتی فوج سرحدسے ملحقہ سول آبادیوں کو بھاری ہتھیاروں سے روزانہ نشانہ بنا رہی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ پاک فوج کے بہادر جوان ان کی ہر شرارت کا منہ توڑ جواب دے رہے ہیں ۔ یہ بات نہایت قابل توجہ ہے کہ بھارت نے امریکی صدر کی طرف سے ثالثی کی پیشکش کو دوسری بار بھی مسترد کر دیا ہے ۔ اس کے علاوہ بھارتی آئین میں مقبوضی کشمیر کو جو خصوصی حیثیت حاصل ہے اس کو بھی ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی کو بھارت کا حصہ بنایا چاہتا ہے ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے کشمیری مسلمانوں کو مکمل طور پر یرغمال بنا لیا ہے ۔ وہاں کے کالجوں میں پڑھنے اور ہاسٹلوں میں رہنے والے طلبہء کو واپس گھروں کو جانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں ۔ تعلیمی ادارے بند کر دئیے گئے ۔ تمام کاروباری مراکز اور دکانیں بند کرا دی گئی ہیں اور سیاحوں اور زائرین کو فوری طور پر مقبوضہ وادی سے نکل جانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ ان تمام اقدامات کے دو واضح مقاصد ہیں ایک یہ کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر عمل درآمد ہو نے والا ہے دوسرا یہ کہ بھارت مظلوم کشمیریوں کا قتل عام کرنے،نقص امن کے الزامات میں گرفتار کرنے اور ان کے گھروں اور دکانوں کو تباہ کرنے جیسے اقدامات کرنے جا رہا ہے ۔ یہ تما م صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے ۔ پاکستان نے اس سے اقوام متحدہ کو آگاہ کرنے کے لیئے خط بھی ارسال کر دیا ہے ۔ بھارت بلوچستان میں حالات کو خراب کرنے کی بھی کوششیں کر رہا ہے ۔ پاک افغان سرحد پر بھی بھارتی ایماء پر حملوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ یوں خطے میں صورتحال انہتائی تشویشناک ہے ۔ لیکن بہت دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ ہمارے سیاسی رہنماء ملک کے اندرونی اور بیرونی خطرناک صورتحال سے مکمل طور پر لا تعلق ہیں ۔ سینٹ کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے لے کر اپوزیشن کے بعض ضمیر فروشوں تک کے معاملات سے عام آدمی کا کوئی تعلق ہے نہ کوئی فائدہ ہے ۔ ہارنے والے امیدوار نے تو حد کر دی ہے کہ اپنی شکست کی زمہ داری ایک اہم ادارے کے سربراہ پر ڈال دی ہے ۔ ان کے خیال میں اہم ادارے کے سربراہ اتنے فارغ ہیں اور یا ان کویا اس ادارے کو کوئی فائدہ ہوا ۔ کچھ تو خیال کرناچاہیئے ۔

Google Analytics Alternative