کالم

ایران کا انداز گفتگو کیا ہے؟

ایرانی فوج کے چیف آف سٹاف جنرل محمد حسین باقری نے ڈھکے چھپے الفاظ میں پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں بھی دہشت گرد موجود ہوں گے ایرانی فوجی وہاں حملہ کریں گے۔ ان کا اشارہ پاکستان کی جانب تھا کیوں کہ 26 اپریل کو پاکستان کے ساتھ متصل ایرانی صوبے سیستان میں حملے کے نتیجے میں 10 ایرانی گارڈز ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے کے بعد ایران اور پاکستان نے بارڈر سکیورٹی کو مزید موثر بنانے پر اتفاق کیا تھا تاہم اب ایرانی فوج کے سربراہ یہ بیان سامنے آگیا ہے۔ ایرانی عسکریت پسند گروپ جیش العدل نے مذکورہ حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ جنرل حسین باقری کا مزید کہنا تھا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ پاکستانی حکام دہشت گردوں کو گرفتار کرتے ہوئے انکے محفوظ ٹھکانے بند کرائیں گے۔ جنرل باقری نے دھمکی دی کہ اگر ایرانی سرزمین پر حملے کرنیوالے جنگجوؤں کی پاکستان میں موجود پناہ گاہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی تو ان پناہ گاہوں کو ایران سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے پچھلے ہفتے پاکستان کے دورے پر وزیراعظم نواز شریف پر زور دیا تھا کہ وہ سرحد پر سلامتی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اضافی نفری تعینات کرائیں۔ ایران کا صوبہ سیستان، منشیات سمگلروں کا اہم گڑھ سمجھا جاتا ہے جو طویل عرصے سے بدامنی کا شکار ہے۔ مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران میں دہشت گردوں کا داخلہ روکنے کیلئے اقداما ت کریں۔ افغانیوں کی جانب سے براستہ پاکستان منشیات کی سمگلنگ اور غیر قانونی کراسنگ جارہی ہے۔ ایرانی افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری کے اشتعال انگیز بیان پر پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔اس طرح کے بیانات سے دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہے، اس لیے ا یرانی حکام کو اس قسم کے بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔اس صورتحال میں خطے کے برادر مسلم ممالک افغانستان اور ایران کا تو پاکستان کے ساتھ مثالی اتحاد ہونا چاہیے تھا تاکہ مسلم دشمن پر مبنی بھارتی سازشوں اور چالوں کا توڑ ممکن ہوسکے۔ بدقسمتی سے پاکستان کو خطے کے ان دونوں برادر مسلم ممالک کی جانب سے انتہائی تلخ اور کٹھن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ افغانستان نے تو قیام پاکستان کے وقت سے ہی اسکے ساتھ خدا واسطے کا بیر شروع کردیا تھا اور اقوام متحدہ کی رکنیت کیلئے پاکستان کی مخالفت میں واحد ووٹ افغانستان کی جانب سے ہی آیا جبکہ افغانستان آج تک پاکستان مخالف پالیسیوں پر ہی کاربند ہے جو اس خطہ میں امریکہ اور بھارت کی کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کی سلامتی اور آزادی و خودمختاری کو چیلنج کرتا رہتا ہے۔ پاکستان نے برادر مسلم ملک ایران کے ساتھ بھی مسلم برادرہڈ کے تحت استوار اپنے تعلقات میں کبھی کوئی رخنہ‘ گرہ یا غلط فہمی پیدا نہیں ہونے دی اور اسکی سلامتی کو لاحق کسی بھی بیرونی خطرے کے پیش نظر پاکستان نے ہمیشہ ایران کی بے لوث حمایت کی ہے اور اسکے کندھے سے کندھا ملا کر اسکی سلامتی کے تحفظ کیلئے کردار ادا کرنے کا یقین دلایا ہے۔ ایران کے بادشاہ رضاشاہ پہلوی کے دور میں بھی ایک دوسرے سے ہم آہنگ تھے چنانچہ خطے میں بھی پاکستان اور ایران کی مثالی دوستی استوار ہوئی تاہم امام خمینی کے انقلاب کے بعد ایران کی پالیسی یکسر تبدیل ہو گئی اور امریکہ کی مخالفت اسکی پالیسی کا نکتہ اول بن گیا جبکہ پاکستان بدستور امریکہ کے کیمپ میں شامل رہا اس طرح ایران اور پاکستان کے مفادات ایک دوسرے سے متضاد نظر آئے۔ اسکے باوجود پاکستان اور ایران میں مسلم برادرہڈ والا جذبہ برقرار رہا اور اس ناطے سے پاکستان نے ایران کے ساتھ تعلقات کیلئے اس پر عائد امریکی پابندیوں کی بھی کبھی پروا نہیں کی اور عالمی و علاقائی فورموں پر کھل کر اس کا ساتھ دیا۔اس تناظر میں ہمیں ایران سے یہی توقع رہی ہے کہ وہ بھارت کی پاکستان دشمنی پر مبنی پالیسیوں کی کبھی حمایت نہیں کریگا اور پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کے وقت تک بلاشبہ خطے کے ان دونوں برادر مسلم ممالک کے مابین دوطرفہ مثالی تعلقات استوار رہے ہیں اور پاکستان کی جانب سے امریکی فرنٹ لائن اتحادی کے کردار میں جب ’’ڈومور‘‘ کے تقاضوں کی بنیاد پر اسکی امریکہ کے ساتھ سردمہری اور کشیدگی کی فضا قائم ہوتی تو برادر ایران کی جانب سے ہی ہماری سلامتی کے تحفظ کیلئے پاکستان کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونے کا اعلان کیا جاتا۔ اس وقت بھی کبھی کبھار سرحد پار سے دہشت گردی کی اکادکا وارداتوں کے باعث پاکستان اور ایران میں سرحدی کشیدگی پیدا ہو جاتی تھی جبکہ ایرانی پاسداران کی جانب سے ایک دو مواقع پر سرحد پار کرکے پاکستان کے اندر فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات بھی رونما ہوئے جس کیلئے ایران کی کالعدم تنظیم جنداللہ کے پاکستان میں مبینہ ٹھکانوں کے حوالے سے ایران کے تحفظات سامنے آتے رہے ہیں تاہم دوطرفہ مذاکرات کے تحت ایسے معاملات خوش اسلوبی سے سلجھائے جاتے رہے ہیں اور دونوں میں سے کسی بھی جانب سے ایک دوسرے کی سلامتی کے معاملہ میں کسی قسم کے جارحانہ عزائم کا اظہار نہیں کیا گیا۔یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ گزشتہ سال بھارتی دہشت گرد جاسوس کلبھوشن ایران سے بلوچستان میں غیرقانونی طور پر داخل ہوا جسے پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا تو اس پر بھی ایران نے پاکستان کے ساتھ کشیدگی کی فضا پیدا کی اور اس گرفتاری کو ایران کے صدر کے دورہ اسلام آباد کو سبوتاژ کرنے سے تعبیر کیا۔ اس حوالے سے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے بجا طور پر ایران کو باور کرایا ہے کہ اسکے پاس دہشت گردوں کے بارے میں کسی قسم کی معلومات ہیں تو ہمیں فراہم کی جائیں‘ ہم اس پر ایکشن لیں گے۔ اگر ایران اسکے باوجود پاکستان کے اندر کسی قسم کی جارحیت کا سوچ رہا ہے تو اس کیلئے کوئی قدم اٹھانے سے پہلے اسے سو بار سوچ لینا چاہیے کہ اسے اس کا کیا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

حضرت واصف علی واصف ؒ کی یاد میں

ہماری موجودہ تعلیم سے جو علم حاصل ہوتا ہے اُس کے ذریعے انسان اپنی معاشی اور سماجی ضروریات کو بہتر بنانے کے قابل ہو جاتا ہے یہ نظم سائنس آرٹس کے علاوہ مختلف ضابطوں پر مبنی ہے۔ یہ سب کچھ انسان کی ظاہری زندگی اور اسکی ظاہری حالت کو سنوارنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ پھر رہ جاتا ہے باطنی نظام یہ نظام ایک فرد کے باطن سے لیکر ایک گروہ یا قوم کے باطن کا ذمہ دار ہوتا ہے باطن کو نکھارنے اور سجانے کا علم اللہ تعالیٰ اپنے خاص نفوس کو عطا فرماتا ہے جوہر دور میں لوگوں کی باطنی مشکلات حال کرنے کیلئے نامزد کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعے اس موجودہ دور میں پیدا ہونے والی پیچیدگی کو دور کرکے باطنی زندگی کا بیڑا رواں دواں رکھیں ۔ یوں زندگی کو مکمل سکو ن، اطمینان ملتا رہتا ہے ۔ قبلہ واصف علی واصفؒ کا زمانہ جب شروع ہوا تو فرد ظاہری اور باطنی دونوں طرح کے مسائل میں جکڑا ہوا تھا ظاہری علوم کی فراوانی اور پھر مال کی بہتات اور اس کے ساتھ طرح طرح کے افکار کی بھرمارنے اس کے باطن کو مختلف انداز کی پیچیدگیوں سے دوچار کردیا اور یہ سلسلہ تو ابھی تک جاری ہے لوگ تشنہ ہیں ۔ ساقی کی تلاش میں ہیں۔ اس گھڑی انہوں نے فرد اور اجتماع سے گفتگو کا سلسلہ شروع کیا جس سے وہ ہیلنگ کا کام کرتے ۔ زیادہ تر اپنی توجہ ایک فرد کے ذاتی اور اندرونی مسئلے کے حل کیلئے مرکوز رکھتے تاکہ اسے ان مشکلات سے نجات مل سکے ۔ اپنی گفتگو کے اس سلسلے کو وہ تقریر ، مقابلہ ، خطاب اور خطبہ کے میڈیم کے ذریعے آگے بڑھاتے رہے مگر آہستہ آہستہ اس گفتگو نے ایک شخص سے انفرادی گفتگو اور پھر اشخاص سے محفل کے بیان کی گفتگو کی شکل اختیار کرلی یوں یہ محفلیں تواتر سے ہونے لگیں جن میں وہ ان لوگوں کے باطنی مسائل سے مخاطب ہوتے۔ گفتگو کا یہ وہ فن تھا کہ اس زمان میں جس کے وہ خود ہی بانی تھے اور خود ہی اس میں منفرد بھی تھے خود فرمایا کرتے تھے کہ ایک دن یہ ایک ٹرینڈ سسٹر بن جائے گا۔ ان کی اس گفتگو کے الفاظ کو کاغذ پر منتقل کرنا شروع کیا گیا تو بعد میں آنے والے لوگوں نے اسے اپنے لئے ویسے ہی شفاء کا ذریعہ سمجھا جس طرح کہ اس دور کی موجود اصحاب کا احساس اور تاثر تھا ۔ اب تک اکتیس کے قریب گفتگو کی جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں ۔ نعتیہ کلام اور انگریزی میں مضامین الگ ہیں۔ تضع اور بناوٹ سے پاک بے ساختگی اور معصومیت کے انداز میں گفتگو کا رنگ ہی اور تھا ان کی محفل میں بیٹھے یوں محسوس ہوتا کہ عرفان کی بارش ہورہی ہو ہر سوال کا سیر حاصل اور مدلل جواب عطا فرماتے اور سوال کرنے کی دعوت بھی عام تھی ۔ آپ فرماتے سوال وہ کریں جس سے ذہنی طورپر آپ نے دل ، دماغ میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوگئی ہو ۔ زندگی میں خاموش انقلاب پیدا کرنے والی شخصیت کی محفل میں سوال ، جواب کا سلسلہ چلتا بوجھل اور منتشر خیال لوگوں کو نئی منزل کا پتہ ملتا۔ اللہ اور اس کے محبوبؐ سے قلبی محبت ہر ایک کے حصے میں نہیں ایسے خشک اور بنجر زمانے میں حضورؐ کی محبت کے چراغوں کو دلوں میں روشن کرنا کوئی آسان بات نہیں۔ یہ انہی کا حصہ تھا جوہر خاص ،عوام میں بٹتا رہا۔ انہوں نے زندگی کو نئی اقدار اور سوچ کو نئے زاویے عطا فرمائے ۔ علم ، عرفان کے ابدی نور کو عہد حاضر میں ۔ اس طرح پھیلایا کہ انکی آواز طالب حق کیلئے جینے کا سہارا بن گئی۔ ان کی ذات روحانی فیض کا منبع تھ ی۔ یہ سلسلہ ان کی زندگی میں تو تھا ہی لیکن پردہ فرمانے کے بعد بھی جاری ہے۔ حضرت واصف علی واصف ؒ دنیاوی تعلیم سے بھی آراستہ تھے ۔ انگلش لٹریچر اور میتھ کے مضامین پر مکمل عبور حاصل تھا مقابلے کے امتحان میں نمایاں حیثیت لینے کے باوجود انہوں نے زندگی کو محدود نہ کیا ۔ تمام عمر درس ، تدریس کے شعبے سے منسلک رہے اور علم ، عرفان کی شمع کی روشنی پھیلاتے رہے ۔ وہ اپنے بارے میں بہت ہی کم فرماتے ایک دفعہ صرف یہ شعر سنا کر خاموش ہوگئے ۔
’’ میرا نام واصف باصفا میرا پیرسید مرتضیٰ مراورد احمد مجتبیٰ میں سدا بہار کی بات ہوں۔ ایک دفعہ یوں گویا ہوئے ۔ ازل سے بار امانت ہمیں ملاواصف ہزار بار تھے اس ایک بار سے پہلے ۔ دوسرے مصرعے میں ایک طویل اور گہری رمز ہے جو روحانیت اور تصوف کا علم جاننے والے بخوبی سمجھتے ہیں ۔ ان کی شاعری میں بھی پڑا درد ہے ۔ ان کا شعر ہے ’’ ہوں چراغ داغ بنا ہوا سرشام جلتا ہوں شوق سے ۔ میرے پاس آئیں گے وہ کبھی جنہیں اک سحر کی تلاش ہے۔ عرفان کی محفلوں میں دل میں چھپی ازلی چنگاری جو دبی ہوئی ہوتی ہے وہ سلگ جاتی ہے۔ سارے لوگ اگرچہ صاحب حال نہیں ہو جاتے لیکن ان میں بہت ساری نظامت ضرور پیدا ہو جاتی ہے واصف صاحب نماز اور قرآن کی تلاوت پر زور دیتے اور فرماتے نماز میں شوق پیدا کرو۔ ایسی نماز جسمیں صرف فارمولا ہے لیکن شوق نہیں ادب نہیں احترام نہیں پہچان نہیں اس سے توبہ کرو۔ ایمان پہچان کا نام ہے ادب اور احترام کا نام ہے۔ محبت نہ ہو تو پھر خالی فارمولا ایسے ہے جیسے حضرت اقبالؒ نے فرمایا ’’ عشق نہ ہو تیرا اگر میری نماز کا امام میرا سجود بھی حجاب میرا قیام بھی حجاب ۔ شوق سے بات بنتی ہے اس کے بغیر نہیں فرمایا جن لوگوں کو دنیاوی غم دینی شعور عطا کر گیا ان کیلئے غم عبادت سے بہت زیادہ طاقتور ہے۔ جسکی آنکھ رونے والی بن گئی جسکو اپنے آنسوؤں میں اور ہی جلوہ نظر آگیا تو وہ درد اسکو عطا ہے۔ غم اور درد انسان کو الٰہیات کی طرف لے جاتے ہیں خوشی کم ہی لے جاتی ہے اللہ سے اللہ کا فضل مانگو اسکی رضا مانگو اللہ سے اللہ مانگو اور اللہ سے اسکے محبوبؐ کی محبت مانگو ۔ علم کی فوقیت کی بجائے عمل کی فضیلت حاصل کرو۔ آجکل تعلیم یافتہ طبقہ انکی تعلیم کا اسیر نظر آتا ہے ۔ یہ سلسلہ بیرون ملک پھیل چکا ہے انکی کتب کے تراجم دوسری زبانوں میں بھی ہورہے ہیں حال ہی میں یعنی بیس اکیس اور بائیس رجب کو ان کا پچیسواں عرص مبارک تھا ۔ ملک کے ہر شہر سے لوگ آئے ہوئے تھے ۔ انتظامات بھی خوب تھے ۔ عقیدت مندوں کا ہجوم تھا اور ہر ایک کی زبان پر ان کیلئے احترام کے کلمات تھے۔ مزار شریف کی توسیع کا کام بھی جاری ہوچکا ہے آنے والے وقت میں زائرین کو مزید سہولتیں ہوں گی ۔ اللہ پاک ہمیں معرفت اور سرکارؐ مدینہ سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔ خدا رحمت کند این عاشقان پاک طیشت را
*****

ماتم۔۔۔ شوق موسوی
جو آویزش اداروں کی مٹی ہے
حکومت کے حواری چین کر لیں
یہ خورشید اعتزاز عمران و علوی
صف ماتم بچھائیں بین کر لیں

پاکستان اور ایران ، غلط فہمیاں دورکرنے کی ضرورت

پاکستان نے ایرانی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے ایرانی افواج کے چیف آف سٹاف کے سرحد پار کاروائی سے متعلق بیان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات کے منافی ہیں ، اس طرح کے بیانات سے دوطرفہ تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہے ، دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے تبادلوں سے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں ۔ایران پاکستان کو دھمکیاں دینے سے باز نہ آیا،ایرانی فوج کے لیفٹیننٹ کمانڈر بریگیڈئر جنرل احمد رضا پوردستانی نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا ایران کا ناقابل تنسیخ اور قانونی حق ہے، ایرانی سرحدی محافظوں کے خلاف دہشتگردوں کا اچانک حملہ سرحدوں کو کنٹرول کرنے میں پاکستان کی کمزوری کی طرف اشارہ کرتا ہے ،ایران کسی بھی وجہ یا کسی کیلئے بھی اپنی سیکورٹی پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔ بریگیڈئر جنرل احمد رضا پوردستانی نے حالیہ دہشتگرد حملے میں 9سرحدی محافظوں کی ہلاکت کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں دہشتگردوں کے اڈوں کو تباہ کرنا ایران کا ناقابل تنسیخ حق ہے ۔انکا کہنا تھاکہ اگر پاکستانی حکومت کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھاتی تو اس صورت میں پڑوسی ملک کی سرزمین کے کسی بھی حصے میں قانون شکن عناصر اور دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا ہمارا قانونی حق ہے ۔ بریگیڈئر جنرل احمد رضا پوردستانی نے کہا کہ ایرانی سرحدی محافظوں کے خلاف دہشتگردوں کا اچانک حملہ سرحدوں کو کنٹرول کرنے میں پاکستان کی کمزوری کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ایران کسی بھی وجہ یا کسی کیلئے بھی اپنی سیکورٹی پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ایرانی فوج کے سربراہ میجرجنرل محمد حسین باقری نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ ایران پاکستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کیلئے کاروائی کرے گا۔ ایرانی سفیر کی دھمکیوں پر پاکستان کا ردعمل اس امر کا عکاس ہے کہ پاکستان پڑوسی ملک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا حامی ہے ۔ پاکستان اس وقت خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اس کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے جس کی عالمی برادری بھی معترف ہے پاک ایران اسلامی برادر ملک ہیں ان کے درمیان کسی قسم کی خلیج و تفاوت خطے کیلئے سود مند قرار نہیں پاسکتی ۔ ایرانی سفیر کو اپنی دھمکیوں پر پاکستان سے معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے ۔ اسلامی ممالک کی یہ بدقسمتی ہے کہ یہ آپس میں الجھے رہے ہیں ۔ غیر مسلم ان پر غالب ہیں مسلمانوں میں نفاق ڈالنے کی سازش کو ناکام بنا کر ہی اسلامی ملکوں کے درمیان اتحاد کی فضا قائم کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کو ایک طرف افغانستان نے دہشت گردی کا نشانہ بنائے ہوئے ہے اور افغان بھارت گٹھ جوڑ خطے کیلئے خطرے کا باعث بن رہا ہے جبکہ دوسری طرف پاک ایران تعلقات میں خوشگواریت کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے ایران ہوش کے ناخن لے ۔ دہشت گرد مشترکہ دشمن ہیں ان کے خلاف پاکستان میں آپریشن جاری ہے جس سے دہشت گردوں کا نیٹ ورک اور ان کے ٹھکانے تباہ و برباد ہوگئے ہیں۔ پاک ایران تعلقات میں ناخوشگواریت نہیں ہونی چاہیے ۔ دوطرفہ بہتر تعلقات ہی خطے کے امن کیلئے ضروری ہیں ۔ ایران دھمکیوں سے اجتناب کرے ۔ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کے خلاف پاکستان کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔اسلامی ممالک کی تنظیم کو چاہیے کہ وہ پاک ایران تعلقات کے حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کرے اور دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے فاصلوں کو کم کرے اس وقت مسلمان دنیا میں جہاں کہیں بھی ہیں ان کا شیرازہ بکھرا ہوا دکھائی دیتا ہے اور یہ ظلم و ستم کے شکار ہیں جس کے محرکات ان کی نااتفاقی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ باہمی اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کریں تاکہ دشمن کی سازشیں کامیاب نہ ہوں۔
بھارتی وزیر داخلہ کی بڑھک
بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے بڑھک مارتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان 2016کی سرجیکل سٹرائیک کا پیغام پڑ ھ لے ، سرجیکل سٹرائیک پاکستان کیلئے ایک پیغام تھاکہ ضرورت پڑنے پر بھارت کسی بھی وقت سرحد پار کرسکتا ہے،بی ایس ایف کو پاکستا ن کی طرف سے کسی بھی جارحیت کی صورت میں منہ توڑ جواب دینے کا حکم دیا ہے ، پہلی گولی ہماری طرف سے نہیں چلنی چاہیے لیکن اگر پاکستا ن گولیاں چلائے تو پھر ہماری طرف سے چلائی جانے والی گولیوں کا شمار نہیں کیا جانا چاہیے ۔بارڈر سیکورٹی فورسز (بی ایس ایف )کو پاکستا ن کی طرف سے کسی بھی جارحیت کی صورت میں منہ توڑ جواب دینے کا حکم دیا ہے ۔ڈی جی بی ایس ایف کو میں نے حکم دیا ہے کہ پہلی گولی ہماری طرف سے نہیں چلنی چاہیے لیکن اگر پاکستا ن گولیاں چلائے تو پھر ہماری طرف سے چلائی جانے والی گولیوں کا شمار نہیں کیا جانا چاہیے۔اپنی حکومت کی کامیابیو ں کا ذکر کرتے ہوئے انکا کہنا تھاکہ ہم نے اپنے تین سالہ اقتدار میں ملک کا سر دنیا کے سامنے بلند کیا ہے کہ اب بھارت نریندر مودی کی قیادت میں کمزور ملک نہیں ہے ۔ پاکستان بھارت کی گیدڑ بھبکیوں سے مرعوب نہیں ہوتا پاکستان امن پسند ملک ہے اور اس کی خواہش ہے کہ بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کا حل مذاکرات سے نکالا جائے لیکن بھارت پاکستان کی امن کاوشوں کو سبوتاژ کرتا چلا آرہا ہے ۔ بھارت ایک طرف کشمیریوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ ڈھائے ہوئے ہے تو دوسری طرف سرحدی قوانین کی خلاف ورزی اور دہشت گردانہ کارروائیاں جس سے خطے کا امن خطرے میں ہے ۔پاکستان کی امن کوششوں کو بھارت کمزوری نہ گردانے پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا بخوبی جانتا ہے ۔ بھارت نے جارحیت کا مظاہرہ کیا تو اس کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔ پاک فوج دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ۔
دہشت گردوں کو پھانسی
فوجی عدالت سے سزا پانے والے چار دہشت گردوں قیصر خان،محمد عمر، قاری زبیر اور عزیز خان کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا یہ دہشت گرد مختلف وارداتوں میں ملوث تھے اور انہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا ۔پھانسی پانے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے تھا ۔ فوجی عدالتوں سے دہشت گرد اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہے ہیں۔ فوجی عدالتوں کی کارکردگی لائق تحسین ہے اور یہ دہشت گردی کے خاتمے میں ممدومعاون ثابت ہورہی ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اس وقت جو جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔پاک فوج دن رات دہشت گردوں کیخلاف برسرپیکار ہے اور دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔ دوسری طرف فوجی عدالتیں دہشت گردوں کو ان کے کیے کی سزا دے رہی ہیں جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاک سرزمین سے دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ ہوکر رہے گا۔ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کا کوئی دین اور کوئی مذہب نہیں ۔ دنیا کا کوئی مذہب دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام تو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہیں یہ کیسے طالبان ہیں جو معصوم شہریوں کو بموں اور دھماکوں سے اڑا رہے ہیں۔ فوجی عدالتیں جو فیصلہ دے رہی ہیں ان کے دوررس نتائج برآمد ہورہے ہیں اور ان کو سراہا جارہا ہے ۔ فوجی عدالتوں کا قیام وقت کی ضرورت تھی جس کو پورا کرنے کیلئے ان کا وجود دہشت گردی کے خاتمے کیلئے موثر ثابت ہورہا ہے ۔

اپنی روش۔۔۔۔۔!

ملک فاروق پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہیں۔وہ زیست کے زیادہ تر بہاریں دیکھ چکے ہیں۔وہ برطانیہ جیسے خوبصورت اور ترقی یافتہ ملک میں شب وروزبسر کررہے ہیں۔آپ رعنایوں میں حیات نباہیں لیکن پھر بھی آپ کو اپنی دھرتی کی جُھگی(جھونپڑی) کی یاد ستائے گی۔یہ ایمان کی علامت بھی ہے۔ملک فاروق بھی اُنھی میں سے ہیں کہ جنھیں سات سمندرپاراپنے دیس کے لوگ یاد آتے ہیں۔ان کی تکلیف اور غم والم کو فراموش نہیں کرتے ہیں۔اپنے آبائی وطن کے باسیوں کیلئے فکر مند رہتے ہیں۔چند روز قبل ایک ہوٹل میں ایک تقریب میں ملک فاروق سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔وہ برطانیہ میں ایک سماجی تنظیم کے بانی ہیں۔نجی تنظیم(UK) پاکستان میں الخدمت فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر پینے کے صاف پانی فراہمی کیلئے کام کررہے ہیں۔صوبہ بلوچستان میں روزگار کیلئے بھی پراجیکٹ پر کام کرنے کیلئے خواہاں ہیں۔اس برطانوی شہری نے ان مذکورہ بالا پراجیکٹس کے علاوہ بہت سی باتیں بتائیں۔اس نے کہا کہ برطانیہ میں سماجی تنظیم کو رجسٹرڈ کرانے میں زیادہ تگ ودو کی ضرورت نہیں کرنی پڑتی ہے۔متعلقہ ادارہ آپ کا انٹرویو کرلیں گے اور ایک ہفتہ کے اندر سماجی تنظیم رجسٹرڈ ہوجاتی ہے۔ وہاں کام سہل ہے لیکن یہاں پاکستان میں معاملہ برعکس ہے۔بہت سے پاکستانی نژاد برطانوی شہری پاکستان میں لوگوں کے بھلائی کیلئے کام کرنے کے خواہش مندہیں۔وہ اسی آس سے پاکستان کا رخ کرتے ہیں لیکن یہاں روڑے اٹکائے جاتے ہیں اور وہی شخص رواں دواں کاپننے لگتا ہے ۔حکومت سپورٹ کرے تو برطانیہ سے بہت سے این جی اوزپاکستان آسکتی ہیں۔اس برطانوی مسلمان شہری نے یہ بھی بتایا کہ برطانیہ میں بھی مسلمانوں میں فقدان ہے۔اگر ان میں اتحاد ہوتا تو مسلمانوں کے چار پانچ کے بجائے پندرہ،بیسMembers of Parliament( MPs) ہوتے ۔برطانیہ میں ہندؤوں میں اتحاد ہے اور یہودیوں میں بھی اتحاد موجود ہے البتہ برطانیہ میں مسلمانوں کو اتحاد اور اتفاق کی اشد ضرورت ہے۔قارئین کرام!وطن عزیز دنیا کا خوبصورت ترین ملک ہے۔یہ سونے کی چڑیا ہے۔معدنی دولت سے مالا مال ہے۔جغرافیائی حیثیت ایسی ہے کہ سب للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔اگرآج پاکستان ترقی پذیر ہے تو اس میں قصور کسی اور کا نہیں بلکہ ہمارا اپنا ہے۔ہم اپنے رویے میں تبدیلی کیلئے تیار نہیں جس کی باعث ہم نے بھکاریوں کا روپ دھار لیا ہے۔کرپشن کی دھتکار ہماری معیشت کودیمک کی طرح چاٹ رہی ہے ۔ہم جس شاخ پربیٹھے ہیں ،اُسی کو کاٹ رہے ہیں۔یہاں توکسی سماجی تنظیم کاسالانہ Renew کیلئے بھی رشوت دینی پڑتی ہے۔ ہمارے وسیب میں رشوت دئیے بغیرکوئی کام کروانا ممکن نہیں ہے۔کیا یہ سب رشوت خور کئی باہر سے آئے ہیں؟ قطعی باہر سے نہیں آئے ہیں۔یہی لعنتی رشوت خورہمار ے گا ؤں ، محلہ جات ،قصبہ جات اور شہروں میں رہتے ہیں۔حدیث مبارکہ ہے کہ” رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔” ہم سب کو رزق حلال کمانے کیلئے محنت کرنی چاہیے۔رزق حلال میں برکت اور تسکین ہوتی ہے۔حرام دولت میں مصنوعی خوشی تو ہوسکتی ہے لیکن دراصل دائمی پریشانی ہوتی ہے ۔قارئین کرام !ہمیں اپنی روش تبدیل کرنی چاہیے اورچھاتی پرمونگ دلنے سے پرہیز کرنا چاہیے ورنہ اپنے بھی منہ موڑ لیں گے اور باہر سے ہماری امداد کیلئے کوئی بھی نہیں آئے گااس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ فارِن سے آئے افراد اور تنظیموں کاجائزمدد کرنی چاہیے تاکہ بیرون دنیا میں ہماری امیج ٹھیک رہے ۔علاوہ ازیں ہمارا کوئی دشمن نہیں ،ہم خود اپنے دشمن بنے ہوئے ہوئے ہیں۔ہمیں اپنے آپ کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ امام غزالی ؒ کاقول ہے کہ” جانوروں میں خواہش ہوتی ہے اورعقل نہیں ہوتی ہے۔فرشتوں میں عقل ہوتی ہے مگر خواہش نہیں ہوتی ہے۔انسان میں عقل اورخواہش دونوں ہوتی ہیں۔عقل خواہش پر غالب آجائے تو انسان فرشتہ اوراگر خواہش عقل پر غالب آجائے تو انسان جانوربن جاتا ہے۔”

احسان فراموشی کی انتہا

خانہ جنگی اور دہشت گردی کے شکارافغانستان نے اپنے اقدامات سے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس کا دہشت گردی کے عفریت سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس میں شاید سب سے بڑا مسئلہ قیادت کا ہے۔ افغانستان کے پاس کوئی باشعور اور سلجھی ہوئی قیادت ہوتی اور اس کی کوئی مضبوط پارلیمنٹ ہوتی تو شاید وہ لوگ مل بیٹھ کر کوئی ایسا راستہ نکال لیتے کہ ملک کو دہشت گردی اور شدت پسندی سے کیسے نکالا جائے۔ سیاسی طور پر تو افغانستان بہت کمزور ہے ہی اوپر سے اس کے ساتھ یہ مسئلہ بھی ہے کہ اس کی افواج غیر منظم اور غیر پیشہ ور ہیں۔ جن میں اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ افغانستان سے شدت پسندی کا خاتمہ کرسکے۔ افغان فوج کے آرمی چیف نے تو حال ہی میں استعفی بھی دے دیا ہے اور جمہوری نظام کی یہ حالت ہے کہ وہ خالصتا امریکہ اور بھارت کے تیار کردہ سٹریکچر کے مطابق چلائی جارہی ہے۔ وہاں کہنے کو تو صدارتی نظام ہے اور اشرف غنی صدر ہیں لیکن ساتھ ہی عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکٹو۔ اس طرح نہ تو صدر کھل کر اپنے اختیارات استعمال کرسکتا ہے اور نہ ہی چیف ایگزیکٹو۔ گویا افغانستان ایک عجیب تماشہ کا شکار ہے۔حال ہی میں پاکستان کے عسکری حکام نے پہل کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ معاملات کو معمول پر لانے کے لئے وہاں کا دوہ کیا اور صدر اشرف غنی کو دورے کی دعوت دی۔ اشرف غنی نے پاکستان کا تو دورہ خیر کیا کرنا تھاالٹا اس کی فورسز نے چمن بارڈر سے ملحقہ دیہات میں مردم شماری کا فریضہ انجام دینے والی مردم شماری ٹیم پر حملہ کرکے ٹیم کے اراکین اور قریبی دیہات کے معصوم شہریوں کو ہلاک اور زخمی کردیا۔ اس سے قبل مردم شماری ٹیم پر لاہور میں بھارتی سرحد کے قریب حملہ کرکے مردم شماری کرنے والی ٹیم کونشانہ بنایا گیا جس میں پاکستان کے پڑوسی دشمن ملک بھارت کے ملوث ہونے کے امکان کو رد نہیں کیاجاسکتا۔ اب چمن میں افغان فورسز نے جس انداز سے مردم شماری ٹیم کو نشانہ بنایا ہے تو اس میں ان شرارتی ممالک اور عناصر کے عمل دخل کو رد نہیں کیا جاسکتا جو افغانستان میں سرگرم عمل ہیں۔نجانے افغانستان اس قسم کی حرکات کرتے ہوئے یہ کیوں فراموش کردیتا ہے کہ اس کا پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ لیکن وہ امریکہ اور بھارت کی جانب سے ملنے والی امداد اور معاونت کے نشے میں اس قدر دھت ہے کہ وہ بارڈر پارسے مغربی سرحد کے قریبی دیہات پر حملے کرنے سے نہیں چوکتا۔ حالانکہ یہ وہ دیہات ہیں جو افغانی شہریوں کو بہت احترام دیتے ہیں۔ روس کے حملے کے بعد جو لوگ افغانستان سے مہاجر بن کر آئے ان لوگوں نے ان کی بہت خاطر مدارت کی اور آج تک ان مہاجرین کی دلجوئی کرتے ہیں۔ افغانستان نے کبھی اپنے ان مہاجرین کی واپسی کے لئے سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔ افغانستان کی ساری تجارت طور خم بارڈر اور چمن بارڈر جیسے راستوں کی مرہون منت ہے۔ لیکن افغانستان نے کم ازکم پاکستان کی خدمات کا جواب جس احسان فراموشی سے دیا ہے اس سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا کہ افغانستان جس پلیٹ میں کھاتا ہے اسی میں چھید کرتا ہے۔ افغانستان کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ کوئی قوم اس کے لئے خود شدت پسندی اور انتشار کا شکار ہوگئی اور گزشتہ 15 سالوں سے اسے دہشت گردی کے عفریت کا سامنا ہے۔ شرارت اور سازش افغانستان کی سرشت میں شامل ہے۔ جب افغانستان میں داد صدر افغانستان تھا وہ بھی بھارت اور دیگر عناصر کے ساتھ ملک کر پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشوں میں شریک تھا۔ اسی لئے ذوالفقار علی بھٹو نے افغانستان میں پاکستانی سفارتخانہ بند کردیا تھا اور اس کے بعد کی حکومتیں بھی پاکستان میں موجود لالچی عناصر کو خرید کر انہیں پاکستان کے خلاف استعمال کرتی رہی ہیں۔ اے این پی کے ایک سابق رہنما جمعہ خان صوفی کی کتابفریبِ ناتمام پڑھ کر بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ افغانستان پاکستان دشمنی میں کب سے جل رہا ہے۔ جبکہ جوابا پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی خیرخواہی چاہی ہے اور افغانستان کے دفاع کے لئے یہاں کے نوجوان روس کی جارح افواج کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ بہر طور جو کچھ افغانستان کررہا ہے وہ اس میں تنہا نہیں ہے آج جو اس خطے میں صورتحال پید ا ہوچکی ہے۔ اس کے پیدا کرنے میں بیرونی طاقتوں کا بہت عمل دخل ہے اور یہ حالات تو ظاہر ہے بھارت کے لئے سنہری موقع بن کر آئے کہ اسے پہلی مرتبہ افغانستان کے اندر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف کھل کر کام کرنے کا موقع ملا لیکن اس میں اتناقصور بھارت کا نہیں جتنا افغانستان کا ہے۔ بھارت تو ہے ہی پاکستان دشمن ملک وہ تو پاکستان دشمنی میں کسی بھی حد تک جاسکتا ہے لیکن افسوس اگر ہے تو وہ افغانستان کی پاکستان دشمن پالیسیوں کا ہے کہ افغانستان بھی بھارت کی طرح منہ میں رام رام اور بغل میں چھری کی پالیسی پر گامزن ہے جو یقیناًافغانستان کے لئے بھی مناسب نہیں کیونکہ اس طرح سے وہ ایک ایسی قوم کی ہمدردیاں کھو دے گا جس نے خود کو عدمِ استحکام کا شکار کرکے افغانستان اور اس کے عوام کیلئے کردار ادا کیا۔ افغانستان کو اپنے رویے پر نظر ثانی کرکے خطے کو عدمِ استحکام سے دوچار کرنے سے روکنا ہوگا۔

کرپشن او ر وزیراعظم

اس ملک میں بہت گھپلے ہیں ! کرپشن کے اتنے بڑے بڑے سکینڈلز ہیں تحقیقات ہونی چاہئے ! لیکن ہم اگر ان ہیں لگ گئے تو ترقیاتی کام کون کریگا؟ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اسلام آباد ائرپورٹ تک میڑو بس سروس کے منصوبے کا آغاز یعنی سنگ بنیاد کی تقریب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہہ رہے تھے انہوں نے کہا کہ لوآری ٹنل ، نیلم جہلم جیسے منصوبے برسوں سے تعمیر نہ ہوئے انہوں نے اداروں کی کارکرگی پرعدم اعتماد کا بھی اظہار کیا! یہ سچ ہے کرپشن ملک کے ہر کونے میں اور ہر ادارے میں زور شور سے جاری ہے بقول وزیر اعظم کرپشن کے سکینڈلز کاشمار مشکل ہے گویا قدم قدم پر یہ بیماری قوم اور ملک کو چاٹ رہی ہے وزیراعظم جہلم نیلم یا لوآری ٹنل کے منصوبے مکمل کرائیں!یا نیو اسلام آباد ائیر پورٹ کے منصوبے کو مکمل کرائیں!جب تک کرپشن کے خلاف جنگ نہیں کرتے یہ منصوبے مکمل ہو بھی جائیں سڑکیں ،سکول، ہسپتال، موٹرویز میٹروبس سب کچھ بھی بن جائے اور کرپشن کے خلاف جنگ نہ کی جائے ملک اور قوم غریب پریشان او ر مسائل مشکلات کا شکار رہیں گے۔!امن نہیں آئے گا خوشحالی نہیں آئے گی بڑے بڑے منصوبے حکمران بروقت مکمل کرنے کے عزم تو کر کررہے ہیں اور کچھ برُے منصوبے جو ترقیاتی ہیں جن کی تعمیر میں حکمرانوں پر کرپشن کے الزامات بھی ہیں!تعمیرو مکمل ضرور ہو رہے ہیں مگر ترقی کا عمل ملک میں ہوتا نہیں دکھائی نہیں دے رہا! کیوں کہ ترقی ہوتی تو ملک میں صنعت یعنی مل فیکٹریوں کے کارخانے لگ رہے ہوتے عام لوگوں کو روز گار میسر ہوتا!پڑھے لکھے نوجوان یونیوورسٹیوں سے فارغ ہونے کے بعد روز گار کے لیے دربدردھکے کھا رہے ہیں ! زرعت کی ترقی کے لئے زرعی رقبوں اورکھیتوں کے لیے نہری پانی کی فراہمی ۔بجلی اور کھاد کی بیج کی اعلیٰ اقسام کی فراہمی زرعی مشینری زرعی ادویات کی معیاری ترسیل نا ممکن بنی ہوئی ہے سرکاری تعلیمی نظام بر باد ہو گیا ہے ۔استاذا اور پروفیسر اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں داخل کرانے سے انکاری ہیں۔ کیو ں کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں تمام سہولتیں ہونے کے باوجود تسلی بخش نتائج نکلنے مشکل ہو گئے ہیں محکمہ صحت تعلیم سے بھی زیادہ اہم محکمہ ہے ! جس میں حکومت کے اربوں روپیہ سالانہ خرچ کررہی ہے ! سالانہ اربوں روپے کی تنخوائیں محکمہ صحت کے ملازمین کو ادا کی جاتی ہیں اسی طرح اربوں روپے کی مشینری ٹرانسپورٹ اور آلات خریدے جاتے ہیں مگر اتنا کچھ خرچ کرنے کے باوجود پرائیوٹ کلینکوں اورپرائیویٹ ہسپتالوں کا کام عروج پر ہے! پرائیویٹ ڈاکٹر اور سرکاری ڈاکٹر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصرف ہیں سرکاری اور پرائیویٹ ڈاکٹر جعلی ادویات اور مہنگے آپریشنوں کے ذریعے مریضوں کا خون چوس رہے ہیں۔ محکمہ مال ہو کہ پولیس محکمہ معدنیات کہ ہائی وے لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔وزیراعظم نے کرپشن کا اقرار کرکے کم از کم سچ بولا ہے اور یہ یہی کرپشن ملک اور قوم کی جڑئیں کھوکھلی کررہی ہے!ملک کے اندر کرپشن اور لوٹ مار کے مخالف ادارے بھی خود ان بیماریوں کے خلاف لڑنے کی بجائے کرپشن اور لوٹ مار میں مصروف ہوگئے ہیں لالچ خود غرضی اور حرص نے ساری قوم کو بیماری کررکھا ہے ۔اس ساری صورت حال سے قوم کا ہر فرداشناہے ۔ مگر یقیناًوزیراعظم نواز شریف نے صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے سچ بولا ہے ۔ مگر کرپشن کے ذمہ دارن کے خلاف کاروائی کی بجائے خاموشی قوم کیلئے مایوس کن صورت حال پیش کرتی ہے ۔ میاں صاحب کرپشن کے خلاف کارروائی اور تحقیقات ہی ترقی ہے !جب تک کرپشن مافیا کا خاتمہ نہیں ہوتانہ روڈ زکام آئیں گے اور نہ بڑی بڑی عمارات نہ بندرگاہ ہیں قوم کی ترقی رہ ہموار کریں گی نہ تعلیمی ادارے ہیں۔میاں صاحب آپ روزانہ سابقہ حکومت کی کرپشن کے قصے کرتے ہیں بات قصے کہانیاں کرنے سے نہیں بنے گی۔اور اگر آپ کرپٹ لوگوں کے خلاف کام کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تو پھر عوام آپ پر ہی کرپشن کے الزام لگائیں گے۔ اورممکن ہے کہ آپ کے آس پاس کے لوگ بھی کرپشن کے ذمہ دار ہوں آپ کرپشن کے خلاف جنگ کریں ورنہ آپ کی ہر بات جھوٹی اور غیر میعاری ہوگی لوگ آپ کو کرپشن کا معاون قرار دیں گے۔اگر آ پ کرپشن کی تحقیقات نہیں کریں گے تو کرپٹ ٹولے کو کیسے پکڑ کر سزاوار کریں گے۔؟
ماہرین اُمور خارجہ سے۔۔۔ شوکت کاظمی
کسی کو زُعم کسی کو غرور بھی ہوگا
اگرچہ اُن کے دلوں میں فتور بھی ہوگا
ہمارے سارے ہی ہمسائے ہم سے بگڑے ہیں
کوئی تو اس میں ہمارا قصور بھی ہوگا

Mother of all evils

اگلے روز افغانستان کے صدر اشرف غنی نے دعوی کیا ہے کہ افغانستان میں بین الاقوامی دہشتگرد تنظیم داعش کے سربراہ عبدالحسیب صوبہ ننگرہار میں ایک خصوصی آپریشن کے دوران مارا گیا ہے۔اچھی بات ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز کو ایک اہم کامیابی ملی ہے.عبدالحسیب کو گذشتہ سال حافظ سعید خان کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد افغانستان میں داعش کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔عبدالحسیب کابل کے مرکزی ملٹری ہسپتال سمیت افغانستان میں ہونے والے کئی ہائی پروفائل حملوں میں ملوث تھا.افغانستان میں داعش کا یہ مقامی گروہ جسے داعش خراسان کا نام بھی دیا جاتا ہے، 2015 سے افغان سرزمین پر فعال ہے اور طالبان کے ساتھ ساتھ افغانی اور امریکی فورسز سے بھی لڑ کر اپنی جگہ بنانے میں مصروف ہے۔داعش خراسان کے بتایا جاتا ہے کہ اس نے عراق اور شام میں موجود گروہ سے بھی روابط جوڑ رکھے ہیں ہے تاہم بیشتر ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان یا افغانستان میں موجود ایسے گروہوں نے اپنی دہشت اور دھاک کو نمایاں کرنے کے لیے از خود یہ نام رکھ لیا ہے جبکہ حقیقت میں عراق اور شام والی داعش ان کو کنٹرول کرتی ہے نہ ہی فنانس۔ہاں البتہ یہ جس نام سے بھی کام کریں ان سب کا مدعا اور مقصد ایک ہی ہے.افغانستان میں چونکہ پہلے ہی طالبان کی وجہ سے نیٹو اور افغان فورسز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اس لیے وہاں ان کے خلاف کارروائیاں بے حد ضروری ہیں.ڈرون اور فضائی حملوں کے ذریعے امریکی اور افغان اسپیشل فورسز داعش خراسان کے خلاف متعدد آپریشنز کرچکی ہیں اور کربھی رہی ہے.امریکہ کا دعوی ہے کہ افغانستان سے اس گروہ کا صفایا اس کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، اسی مقصد کے لییگذشتہ ماہ ننگرہار میں سب سے بڑا غیر جوہری بم کے ذریعے داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 94 داعشی دہشتگردوں سمیت 4 کمانڈر ہلاک ہوئے۔ننگرہار کو داعش کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، جہاں داعش کے 600 سے 800 دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔ان چندسودہشتگردوں کے خاتمے کی خاطر امریکہ نے کسی بھی ملک میں پہلی بارسب سے بڑا غیر جوہری بم استعمال کیا۔اس بم کی ہولناکی کے قصے تو بہت سامنے آئے لیکن مارے جانے والی تعداد کا دعوی 94ہے.تاہم اہم بات جو سامنے آئی وہ مارے جانے والوں میں درجن بھر بھارتی شہری تھے.جس پر چپ سادھ لی گئی.بھارتی میڈیا کو تو سانپ سونگھنا ہی تھا کہ اس کی اپنی را کا بھانڈا پھونٹا تھا بین الاقوامی میڈیا بھی اس معاملے کو گول کر گیا کہ آخر داعش کے ٹھکانے پر ایک بڑی تعداد بھارتیوں کی کیا کررہی تھی.اگر خدانخواستہ اتنی بڑی تعداد پاکستانیوں کی نکل آتی تو اب تک کہرام مچا ہوا ہوتا.مادر آف آل بم کا اور کوئی فائدہ ہوا یا نہیں مگر مادر آف آل ایولز بھارتی ایجنسی را اور اس کے سرپرست مودی کا چہرہ ضرور بے نقاب ہوا. پاکستان ایک عرصہ سے دہائی دے رہا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کے اس پار پاکستان سے ملحقہ علاقوں میں را دہشت گردوں تربیت بھی دے رہی ہے اور فناس بھی کررہی ہے.ٹی ٹی پی ہو یا خراسان گروپ ہو ان سب کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے.اس کی گواہی سرنڈر کر جانے والے احسان اللہ احسان نے بھی دی ہے جبکہ بم حملے میں مارے جانے والے بھارتی زندہ ثبوت ہیں جنہیں بھارت عام شہری قرار دے رہا ہے وہ دراصل را کے ہی کارندے تھے جنہیں اجیت دوول نے داعش میں بھیس بدل کر داخل کروا رکھا تھا.یہ الگ بات ہے کہ نواز حکومت نے کلبھوشن یادیو کی طرح اس ایشو سے سفارتی محاذ پر فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی ورنہ مودی منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا.بات ہورہی تھی اشرف غنی کے دعوے کی کہ داعش کے سربراہ عبدالحسیب مارا گیا ہے.جیسے کہ اوپر لکھا کہ یہ ایک اہم کامیابی ہے جسکی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی تاہم اگر خود افغان صدر دعوی کررہے ہیں تو ماننا پڑے گا.لیکن سوال یہ ہے کہ ایک کمانڈر کو مارنے سے کیا فائدہ.سیانے کہتے ہیں کہ پاگل نہ مارو بلکہ پاگلوں کی ماں کو مارو کہ وہ اور پاگل نہ جنے.محترم اشرف غنی کو کوئی بتائے کہ ایک ایک کمانڈر مارنے کی بجائے ان کو جنم دینے والی ماں را کو اپنے گھر سے مار بھگائے جو ایسے دہشتگردوں کو جنم بھی دے رہی بلکہ پال پوس کر جوان بھی کررہی ہے.جب تک دہشتگرد بنانے والی فیکٹری کو آپ کے ہاں کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے امن اور استحکام آپکو بھی نصیب نہیں ہونے والا اور پاکستان تو اس کا ویسے ٹارگٹ ہے.گزشتہ روز چمن کے علاقوں میں جو کچھ ہوا اس پر مسٹر غنی آپکو کوئی پچتاوا یا افسوس ہو یا نہ تاہم پاکستان کو دکھ اور افسوس ہے کہ ایک برادر اسلامی ملک کی فورسز کو کڑا جواب دینا پڑا. جیسے کہ انسسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بلوچستان میجر جنرل ندیم انجم کا میڈیا کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم ان (افغانستان) کے ہونے والے نقصان سے خوش نہیں کیونکہ وہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں، لیکن پاکستان کی سالمیت ہمارے لیے اولین ترجیح ہے، پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی قبول نہیں کریں گے اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے.آئی جی ایف سی نے باورکرایا کہ اگر کسی نے دوبارہ یہ کارروائی کرنے کی کوشش کی تو اس سے بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹننٹ جنرل عامر ریاض نے بھی واضح کیا کہ افغان جارحیت کا جواب دینا پاکستان کی مجبوری تھی۔ہمیں افغانستان کے نقصان پر خوشی نہیں تاہم جو بھی پاکستانی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا اسے ایسا ہی جواب ملے گا۔مگر اس پار کے دماغوں میں شرارت کے سوا کچھ نہیں سوجتا.اس پار کے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار واضح کرتا ہے کہ پاکستان افغان عوام کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہے.مگر کسی کی شہ پر شرارت کو نظر انداز کرسکتا ہے نہ سمجھوتا کرے گا۔
****

ہاشم پورہ قتلِ عام اور عالمی ضمیر ۔ ۔ ۔ !

بھارتی صوبے اتر پردیش کے ہاشم پورہ قتل عام میں عدالت کا فیصلہ بالکل ایسا ہے کہ جیسے کسی کے زخموں پر نمک پاشی کردی جائے۔ سچائی یہ ہے کہ اس معاملہ کو آتی جاتی تمام بھارتی سرکاروں نے نہ صرف کمزور کیا بلکہ دانستہ طو رپر اسے مٹانے کی کوشش کی گئی۔ یاد رہے کہ اس واقعہ میں 42لوگوں کو یو پی پی اے سی( اتر پردیش پرو ونشل آرمڈ کانسٹیبلری ) کے درندوں نے اپنی بربریت کا شکار بنایا تھا لیکن دہلی کی بے حسی اور مسلم دشمنی کا شرمناک پہلو یہ ہے کہ اتنے بڑے سانحہ کے بعد بھی انتظامیہ سرگرم نہیں ہوئی ۔اور اس دوران اس ٹرک کو دھوڈالاگیا جس سے لوگوں کو قتل گاہ لے جایاگیاتھا۔ اس کے باوجود اس ٹرک سے سرخ خون ٹپکتا رہا لیکن نہ تو اس کی تفتیش ہوئی اور نہ ہی اس ٹرک کا نمبر ہی نوٹ کیاگیا۔ جن رائفلوں کو تحقیق کے لئے بھیجا گیا وہ کن لوگوں کی تھیں ان کے نام تک انتظامیہ کے علم میں نہیں ۔ نہ تو ان رائفلوں کو سیل کیاگیا اور نہ ہی اس وقت قاتلوں کی کوئی شناخت کرائی گئی۔ چند ہفتے قبل بھارتی ٹی وی چینل ’’ این ڈی ٹی وی ‘‘ پر اس سانحہ کے حوالہ سے جو بحث ہوئی اس میں اترپردیش سرکار کے سابق وزیر امبیکا جی، کانگریس کے ترجمان اکھلیش سنگھ شامل تھے ۔ قتل عام سے زندہ بچ کر بھاگ جانے والے ناصر اور غازی آباد کے اس وقت کے ایس پی وبھوتی نرائن رائے بھی اس پروگرام میں شامل تھے۔ جب یہ سانحہ ہوا ریاست میں کانگریس اقتدار میں تھی۔ دوسال تک اس کے بعد کانگریس کی سرکاررہی۔ بعد ازاں سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی کی سرکاریں قائم ہوئیں لیکن ان میں سے کسی نے بھی بھارتی مسلمانوں کو انصاف دلانے کی کوشش نہیں کی۔ بحث کے دوران کانگریس کے ترجمان کسی طرح کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں تھے حالانکہ اگر معاملہ میں ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، ثبوت ضائع کئے گئے اور قاتلوں کو بچانے کی سازش ہوئی تو اس کے لئے دہلی سرکار اور اتر پردیش کی صوبائی حکومت پوری طرح ذمہ دار تھی ۔ کانگریس ترجمان اس سوال کا بھی جواب نہیں دے سکے کہ اتنے بڑے سانحہ کے بعد اس وقت کے وزیراعظم نے وہاں کا دورہ کیوں نہیں کیا؟ سماجوادی کے وزیر بھی کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے لیکن بحث اس لئے بہت اہم رہی کہ اس میں وبھوتی نرائن شامل تھے جو سانحہ کے وقت غازی آباد میں بطور ایس پی تعینات تھے۔ انہوں نے سانحہ کے تعلق سے کچھ ایسے انکشافات کئے جنہیں بھارتی جمہوریت کے چہرے کا داغ قرار دیا جاسکتا ہے۔ یو پی کے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بعد بھارتی سرکار نے جس شرمناک بے حسی کا مظاہرہ کیا وہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان ہندوستانی سیاسی پارٹیوں کے لئے بھارتی مسلمان انسان نہیں محض ووٹ بینک ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کا خوبصورت ذریعہ۔ 22 مئی 1987 کو ہاشم پورہ میں ہونے والے مسلمانوں کے قتل عام کو تیس سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود ان بے گناہوں کو انصاف نہ مل سکا ۔ اور بھارت میں یہ کوئی نئی بات نہیں ۔

Google Analytics Alternative