کالم

ہندوستان اور پڑوسی ممالک (پہلی قسط )

ہندوستان کے تمام پڑوسی کسی نہ کسی طرح سے ہندوستانی حکومتوں سے ہمیشہ شاکی رہے ہیں کہ ہندوستان کا پڑوسی ممالک سے حاکمانہ رویہ ایسا ہی ہے جیسے زمانہ قدیم میں کسی بڑی سوپر پاورکا کسی باجگزار اور طفیلی ریاست کے ساتھ ہواکرتا تھا یہ بھی مقتدر ہندو کے نفسیاتی خلل کا ایک شاخسانہ ہے ایک طرف تو انڈیا بزعم خود سوپر پاور ہونے خواب دیکھتا ہے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ایسی رعونت کا مظاہرہ کرتا ہے کہ جیسے ہندوستان کوئی واقعی کوئی بہت بڑی سوپر پاور ہے اور خطے کے باقی ممالک اس کے باجگزار ہیں انڈیا کے جنوب مشرق میں ایک جزیرہ نما ملک سری لنکا ہے جس کی آبادی سوا دو کڑور ہے جو دنیا کے سب سے زیاد تعلیم یافتہ لوگوں کے ممالک میں سے ایک ہے جہاں ڈیڑھ صدی قبل چائے کے باغات کے برطانوی مالکان اپنے باغات کے لئے مزدور لے گئے جن کی اکثریت تامل نسل کے لوگوں پر مشتمل تھی جن کا اصل وطن تامل ناڈ (مدراس) تھا جو ہندوستان کی جنوب مشرقی ساحلی ریاست ہے جس کا سری لنکا سے دلدلی علاقے کے ذریعہ زمینی رابطہ ہے یہ لوگ چونکہ دین کلچراور رہن سہن کے معاملے مقامی لوگوں سے قطعی مختلف لوگ تھے ان کو شمالی سری لنکا کے علاقوں ٹرنکو مالی اورجافنا میں تعینات کیا گیا تھا یہ لوگ کبھی بھی اپنے آپ کو مقامی آبادی میں ضم نہیں کرسکے ان کے روابط اور رشتہ داریاں تامل ناڈ تک محدود رہے 4 فروری 1948 کو برطانیہ سے سری لنکا کی آزادی کے بعد بھی ان کے روابط انڈیا کے ساتھ رہے اور یہ لوگ مصر تھے کہ ہم اسی طرح انڈیا آنا جانا بغیرکسی پابندی کے جاری رکھیں گے کوئی سرحدی کنٹرول نہیں مانیں گے لیکن کوئی بھی خود مختیار ریاست اس طرح کی اجازت نہیں دے سکتی پہلے پہل تو ہندوستانی حکومت اس کوشش میں رہی کہ اس علاقے کو ہی ہتھیا لیا جائے لیکن سری لنکا کی شدید مزاحمت کے بعد ہندوستانی وزیراعظم اندار گاندھی نے 1980 میں سری لنکا حکومت سے معاہدہ کیا جس کی رو سے ہندوستان ان تمام لوگوں کو واپس لینے پر رضامند ہوا لیکن ابھی معاہدے کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ انڈیا نے سری لنکا میں موجود تاملوں کو فوجی تربیت دینا اور مسلح کرنا شروع کردیا اور سری لنکا میں موجود تامل لوگوں کے لئے تامل ناڈ کی ریاستی حکومت نے تامل ناڈ میں بیس اور ٹریننگ کیمپ قائم کردیا گیا جہاں تامل گوریلے نہ صرف تربیت اور پناہ لیتے بلکہ زخمیوں کا علاج ہوتا اس کے بعد سری لنکا میں جس نوع کی تخریب کاری کی گئی وہ اب بھیانک تاریخ ہے جافنا کو دارالحکومت تجویز کرتے ہوئے ایک الگ ہندوستانی طفیلی ریاست یا ہندوستان کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی اور دنیا بھر میں اس کی lobbying بھی شروع کردی اس کے بعد تشدد بڑھا دیا گیا اور بنگلہ دیش اسٹائل آپریشن تشکیل دیا گیا لیکن انڈیا کا یہ چورن بین الاقوامی بازار میں نہین بکا اس کے بعد سری لنکن حکومت کو دباؤ میں لینے کے لئے تشدد مزید بڑھا دیا گیا اور کولمبو ایرپورٹ پر کھڑے سری لنکن ایرلائنز کے 5 سے زیادہ کمرشل ہوائی جہاز تباہ کر دئے گئے یہ انڈیا کی ریاستی دہشتگردی کی اور مثال تھی کئی مرتبہ جب تامل دہشتگرد لیڈر پربھاکرن اور اس کے ساتھی سری لنکن فوج کے گھیرے آگئے اور قریب تھا کہ گرفتار کر لئے جاتے انڈین ایرفورس فورا دہشتگردوں کی مدد کو پہنچی اور ہیلی کاپٹروں سے ان کو اٹھاکربچا لیا گیا اور سری لنکن فوج منہ تکتی رہ گء اس کے علاوہ جب بھی ضرورت پڑتی ہندوستانی فوج ان کی مدد کو آ موجود ہوتی انڈین ایرفورس ہوائی جہاز سے اسلحہ drop کردیتی سری لنکن حکومت اس دہشت گردی کے سرطان سے نمٹنے کے لیے اپنے دوست ملک پاکستان سے مدد کی طالب ہوئی پاکستان نے حالات کا جائزہ لیا اور بین الاقوامی قوانین کے اندر رہتے ہوئے سری لنکن فوج کو تکنیکی معاونت اور مشاورت فراہم کی نتیجے میں کچھ سالوں میں سری لنکا دہشت گردی سے پاک ہو گیا اور انڈیا کے توسیع پسندی کے خواب چکنا چور ہو گئے جس کا انڈیا کو بہت دکھ ہے اسی طرح بحر ہند میں ہندستان کے جنوب میں 2000 کلومیٹر دور چند خوب صورت جزائر پر مشتمل مسلمان ملک مالدیپ ہے جس کا دارالحکومت مالے ہیں آبادی صرف سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے صدر وزیراعظم اور پوری کابینہ مسلمان وزیروں پر مشتمل ہے نہایت پر امن لوگ ہیں اقتصادیات کا انحصار کھیتی باڑی سیاحت اور فشنگ پر ہے انتہائی خوبصورت سیاحتی مقام ہے یہ خوبصورت اور پر امن علاقہ بھی ہندوستان کی دست برد سے محفوظ نہیں رہا آئے دن انڈین نیوی اٹھکیلیاں کرتی آ دھمکتی ہے جس کی شکایت اقوام متحدہ سے کئی مرتبہ کی جا چکی ہی انڈیا چاہتا ہے کہ مالدیپ کا سیاسی نظام انڈیا کی مرضی کا ہو اور اسی کی مرضی سے چلایا جائے جس میں باہمی تعاون کے نام پر انڈیا کے وزیروں مشیروں کے لئے گنجائش پیدا کی جائے بہ الفاظ ریگر انڈیا کو اپنا سرپرست اعلی تسلیم کیا جائے انڈین لوگوں کو نہ صرف بغیر ویزا انٹری دی جائے بلکہ ان کو مالدیپ میں جائداد خریدنے کی اجازت دی جائے حکومتی اداروں میں انڈین لوگوں کو بھرتی کیا جائے ۔(جاری ہے)

یہ گھر واپسی ۔۔۔۔۔!

اسد امانت علی خان ’’کی گائی غزل ‘‘ گھر واپس جب آؤ گے تو کون تمہیں پہچانے گا ‘‘ یقیناًایک شہرہ آفاق غزل ہے مگر پچھلے ڈیڑھ سال میں مودی سرکار کے آنے کے بعد گھر واپسی کچھ اور وجوہات سے بھی مشہور بلکہ بدنام ہو گئی ہے۔ وشو ہندو پریشد ( VHP ) کے سربراہ ’’ پروین تگوڑیا ‘‘ نے کہا ہے کہ ’’ گذشتہ دس برسوں میں ان کی پارٹی نے پانچ لاکھ عیسائیوں کو دوبارہ ہندو مذہب میں لا کر دھرم کی سیوا کی ہے جبکہ اسی عرصے کے دوران ڈھائی لاکھ سے زائد مسلمانوں کی گھر واپسی ہوئی ہے یعنی انھیں ہندو بنایا گیا ہے ۔ موصوف کے مطابق ایک سال میں اوسطاً پندرہ ہزار سے کچھ زائد غیر ہندوؤں کو ہندو مذہب اختیار کرایا جاتا ہے البتہ گذشتہ ایک برس میں یہ تعداد چالیس ہزار سے تجاوز کر گئی ہے کیونکہ BJP کے بر سرِ اقتدار آنے کے بعد سے ریاستی اور حکومتی سطح پر بھی اس مہم کو بڑی تقویت ملی ہے اور یہ سلسلہ ہنوذ پورے زور شور سے جاری ہے ۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ بھارتی حکمرانوں کے سیکولر ازم کے تمام تر دعووں کے باوجود ہر آنے والے دن کے ساتھ ہندو انتہا پسندی کے جذبات کو فروغ مل رہا ہے اور یہ انتہا پسندی دھیرے دھیرے زعفرانی دہشتگردی کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے ۔ BJP کی موجودہ حکومت کے تخت نشین ہونے کے بعد سے تو اس سلسلے میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے مثلاً بارہ جنوری کو دہلی سرکار نے سپریم کورٹ میں ا مر کا عندیہ دیا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی تشخص کے حوالے سے چل رہے مقدمے میں اب بھارتی حکومت فریق نہیں رہی لہذا اگر اس کی مسلم شناخت ختم بھی کر دی جاتی ہے تو دہلی سرکار کو کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہو گا ۔ اس کے خلاف رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتی مسلمانوں کے سبھی طبقات نے شدید غم و غصہ ظاہر کیا ہے ۔ یہاں تک کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر ’’ ضمیر الدین شاہ ‘‘ نے کہا ہے کہ ’’ یونیورسٹی کے مسلم تشخص کو کسی بھی صورت ختم نہیں ہونے دیا جائے گا اور اس مقصد کے حصول کی خاطر ہندوستانی مسلمان بھر پور مذاحمت کریں گے ۔ یاد رہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر ’’ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ ‘‘ بھارتی فلمی اداکار ’’ نصیر الدین شاہ ‘‘ کے حقیقی بھائی ہیں ۔
دوسری جانب بھارت سرکار نے مسلمان اداکاروں ’’ عامر خان ‘‘ اور شاہ رخ خان ‘‘ کو دی گئی سرکاری سیکورٹی واپس لے لی ہے کیونکہ انھوں نے چند ہفتے قبل بھارت میں بڑھ رہی مذہبی عدم برداشت کے حوالے سے تشویس ظاہر کی تھی اور اس کے ر دعمل کے طور پر BJP کی مرکزی اور مہا راشٹر میں BJP اور شیو سینا کی مخلوط حکومت نے نہ صرف ان اداکاروں کی سیکورٹی واپس لی ہے بلکہ عامر خان کو پہلے Incredible Indiaْ ‘‘ مہم کا جو برانڈ امبیسیڈر مقرر کیا گیا تھا ، ان کی وہ حیثیت بھی چھین لی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ بھارت میں سیر و سیاحت کو فروغ دینے کے حوالے سے ’’ عامر خان ‘‘ کو جو علامتی حیثیت دی گئی تھی وہ بھی ختم کر کے اب یہ رتبہ ’’ امیتابھ بچن ‘‘ کو سونپ دیا گیا ہے ۔
اعتدال پسند حلقوں نے دہلی سرکار کے ان اقدامات کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے ان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرکاری سطح پر مسلمانوں ، عیسائیوں اور سکھوں کے خلاف جاری مہم تھمی نہیں بلکہ اس میں غیر اعلانیہ طور پر مزید شدت آ گئی ہے جس کے اثرات آنے والے دنوں میں بھارتی سا لمیت کو متاثر کر سکتے ہیں ۔ اسی سرکاری رویہ کے خلاف چند روز قبل مغربی بنگال کے ’’ مالدہ ‘‘ شہر میں ہندو مسلم تناؤ فساد کی شکل اختیار کر گیاتو دوسری جانب مدھیہ پردیش صوبے کے شہر ’’ دھار ‘‘ میں بارہ جنوری کو ہندو مسلم کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی اور خدشہ ہے کہ یہ سلسلہ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں بھارت کے طول و عرض میں مسلم کش فسادات کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے اور ایسی صورتحال کے نتیجے میں دہشتگرد گروہوں کو براہ راست اور بالواسطہ دونوں طرح سے اپنی کاروائیاں جاری رکھنے میں تقویت ملنے کے خدشات غیر حقیقی قرار نہیں دیے جا سکتے ۔
عالمی برادری کو اس آنے والے خطرے کی جانب مزید سنجیدگی سے توجہ دینی ہو گی ۔ اگرچہ امریکی صدر اوبامہ نے بحیثیت صدر اپنی سٹیٹ آف دی یونین کے آخری خطاب میں پاکستان ، افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں جاری شدت پسندی کے رجحانات پر تشویش ظاہر کی ہے مگر بد قسمتی سے موصوف نے اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریز کیاہے کہ یہ ساری صورتحال در اصل امریکی پالیسیوں کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے ۔ اور پاکستان کی حکومت ، عوام اور پاک افواج ، آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے دہشتگردوں کی کمر توڑنے کے لئے جو فعال کردار ادا کر رہے ہیں ، اس کا اعتراف زیادہ واضح الفاظ میں امریکہ اور دیگر موثر طاقتوں کی جانب سے ہو نا چاہیے اور بھارت پر زور دیا جانا چاہیے کہ وہ ایسی روش سے گریز کرے جس کے نتیجے میں عالمی اور علاقائی سطح پر دہشتگرد عناصر کو تقویت ملنے کا احتمال ہو ۔

بروٹل میجارٹی اور بابری مسجد

اتوار3جنوری کو مغربی بھارت میں ڈیڑھ لاکھ سے زائدانتہا پسند ہندوو¿ں نے خاکی جانگیے، سفید کرتے اور سیاہ ٹوپیاں پہن کر ایک ریلی میں شرکت کی۔ اس ریلی کا مقصد اپنی طاقت اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا تھا۔انتہا پسند جماعت راشٹریا سوایم سیوک سنگھ کی یہ اب تک کی سب سے بڑی ریلی تھی۔اس جماعت کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی نظریاتی حلیف بھی قرار دیا جاتا ہے۔ مردوںکے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے، جب کہ بعد میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت نے ایک قلعے کی شکل کے اسٹیج پر کھڑے ہو کر اس مجمع سے خطاب کیا۔اس موقع پر آر ایس ایس کے دو ہزار رضاکاروں کا ایک بینڈ بھی ہندو مذہب کی علامتی زعفرانی رنگ کے ایک بہت بڑے جھنڈے کے ہمراہ اس ریلی میں موجود تھا۔بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے میں اس ریلی کے لیے ساڑھے چار سو ایکٹر کا علاقہ استعمال میں لایا گیا۔آر ایس ایس خود کو ایک ثقافتی تنظیم قرار دیتی ہے اور اپنا بنیادی مقصد ہندو ثقافت کا تحفظ قرار دیتی ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ بھارت میں مسلم مخالف اور اقلیتوں پرتشدد کرنے والی تنظیموں کی مدد کرتی ہے اور مذہبی کشیدگی کو ہوا دیتی ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ 2014ءمیں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے سے قبل کبھی اس تنظیم کا اثرورسوخ اس حد تک نہیں دیکھا گیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد آر ایس ایس کے کارکنان کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آر ایس ایس کا قیام1925ءمیں عمل میں آیا تھا۔ اس کے کارکنوں کی تعداد پانچ ملین بتائی جاتی ہے۔ آر ایس ایس ہی نہیں بھارت میں درجنوں ایسی جماعتیں ہیں جو ہندو تواپر گامزن ہیںاور ہندوستان کو خالص ہندو ریاست بنانا چاہتے ہیں۔یہ انہی انتہا پسند وں کا کیا دھرا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں پر زمین تنگ ہو چکی ہے،اپنی مذہبی عبادات کی ادائیگی جان جوکھوں کاکام بن چکا ہے۔ بابری مسجد 1992 میں ایسے انتہا پسندوں کے ہاتھوں ہی شہید کر دی گئی تھی۔اس جگہ اب رام مندر کی تعمیر کے لئے تیاریاں عروج پر ہیں۔پتھر اور دیگر تعمیراتی سامان وہاں پہنچانا شروع کردیا گیا ہے۔پتھر لائے جانے کے واقعے پر انتظامیہ خاموش ہے۔1992 ءمیںبابری مسجد کوشہید کرنے کے 31 دن بعد اُس وقت کی بھارتی حکومت نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے جسٹس منموہن سنگھ لبراہن کی قیادت میں یک رکنی کمیشن قائم کیا تھا، جس نے 17 سال بعد جون 2009ءمیں اپنی رپورٹ حکومت کے حوالے کردی تھی۔رپورٹ میں مسجد کے انہدام کو ایک بہت ہی منظم سازش قرار دینے کے علاوہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو مبینہ طور پر نمائشی اعتدال پسند کہا گیا تھا۔رپورٹ میں بی جے پی اور اس کی سرپرست جماعت آر ایس ایس کی قیادت کو مسجد کے انہدام کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا گیا۔ اسی طرح ایڈوانی کے علاوہ مرلی منوہرجوشی، اوما بھارتی، واجپائی اشوک سنگھل، پروین توگڑیا اور دیگر رہنماو¿ں کو شریکِ جرم قرار دیا گیا ۔ مسجد کی شہادت دنیا بھرکے مسلمانوں کےلئے اشتعال انگیز اقدام تھا ،اس وقت کی حکومت اس پر ٹس سے مس نہ ہوئی اور یہی عالم آج مودی حکومت کا بھی ہے جس میں مساجد کو گرانے کی کھلے عام دھمکی دی جاتی ہے۔گزشتہ برس مارچ میں حکمراں جماعت کے رہنما سبرا منیم سوامی کی جانب سے اسی طرح کا ایک اشتعال انگیز بیان سامنے آیا تھا، جس میں اس نے کہا تھاکہ مساجد عبادت گاہیں نہیں عام عمارتیں ہیں جسے کسی بھی وقت مسمارکیا جاسکتا ہے۔ سبرامنیم سوامی نے مسلمانوںسے نفرت کی آگ میںیہ بیان ایک ہی دن دومختلف مقامات پردیا۔ ہندوﺅں کے مکروہ فریب کے بارے میں قائداعظم محمد علی جناحؒ نے درست کہا تھا کہ یہ ایک بروٹل میجارٹی ہے ۔ دور اندیش قائد اچھی طرح جان گیا تھا کہ مسلمانوں کا ان کے ساتھ رہنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ اگر گزشتہ 68برس کے بھارتی حکمرانوں کے طرز عمل کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سچ ثابت ہوئی ہے۔ اگر صرف مودی حکومت کے دو سال کا ہی جائزہ لیا جائے تو ثابت ہوجاتا ہے کہ دو قومی نظریہ وقت کی ضرورت تھی۔ بھارت میں بروٹل میجارٹی، روز اقلیتوں کے جان کو آئی ہوتی ہے۔جبری مذہب کی تبدیلی بھی معمول کی بات ہے۔ابھی گزشتہ روز ہی جھارکنڈ میں ہونے والی ایک ایسی نمائش پر شیوسینا نے ہلہ بول دیا جسمیں پاکستانی مصنوعات کے سٹال لگے ہوئے تھے۔ شیوسینا کے دہشت گردوں نے توڑ پھوڑ کرکے اپنے وحشی پن کا ثبوت دیا۔ادھرہندو انتہا پسند تنظیم وشوا ہندو پریشد کے رہنما پراوین توگڑیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تنظیم نے گزشتہ دس برس کے دوران پانچ لاکھ سے زیادہ عیسائیوں اور اڑھائی لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو ہندو بنالیا ہے۔ بھارتی ریاست گجرات کے شہر سورت میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے توگڑیا نے بھارت میں ہندو مذہب کو بچانے کے لئے گھر واپسی کی مہم جاری رکھنے پر زور دیا۔ اس نے کہا کہ ہم ہر سال تقریباً پندرہ ہزار افراد کو ہندو مذہب میں شامل کرتے ہیں لیکن گزشتہ سال یہ تعداد چالیس ہزار افراد تک جاپہنچی ہے۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ ا گر ہندو بھارت میں اکثریت میں رہنا اور اپنے مذہب کوبچانا چاہتے ہیں تو ہمیں لاکھوں لوگوں کو ہندو مذہب میں شامل کرنے کیلئے گھر واپسی کی مہم جاری رکھنا ہوگی۔موصوف نے اپنی حکومت کو یہ مشورہ بھی دیا کہ پاکستان کے تمام ہندوﺅں کو بھارت کی شہریت دینی چاہیے۔دراصل یہی بھارت کا اصل چہرہ ہے۔

راہداری منصوبے میں ابہام ختم کئے جائیں

چین نے پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے پر فریقین کو اختلافات دوستانہ طریقے سے ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سفارتخانے کے ترجمان کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنانا اہمیت کا حامل ہے۔
اقتصادی راہداری منصوبے پر پاکستان اور چین کے مابین مثالی تعاون موجود ہے اور اسے دونوں ملکوںکے عوام کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔ یہ منصوبہ پاکستانی عوام کیلئے ترقی اور فوائد کا ضامن ہوگا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ تمام متعلقہ فریق بہتر رابطوں اور تعاون کے ذریعے موجودہ اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کرنے میں کامیاب ہونگے تاکہ اس کیلئے بہتر ماحول بنایا جاسکے۔ بیان میں کہا گیا ہے چین پاکستان کے ساتھ راہداری منصوبہ پر فعال طریقے سے کام کرنے اور تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے اور اسکے ٹھوس فوائد دونوں ممالک کے عوام تک پہنچانے کیلئے کوشاں ہے۔
اقتصادی راہداری کا منصوبہ دونوں ملکوں کے درمیان اتفاق رائے سے طے ہوا ہے اور اس منصوبے کو دونوں ملکوں کے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ یہ منصوبہ مکمل طور پر پاکستان میں ہوگا اور اس سے پاکستانی عوام ترقی حاصل کریں گے ہمیں امید ہے کہ متعلقہ فریقین اس حوالے سے اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کر کے اچھا ماحول پیدا کرنے میںکامیاب ہو جائیں گے۔
چین کے اس منصوبے کی تکمیل گوادر پورٹ سے مربوط ہونے سے مشروط ہے اس لئے چین راہداری کو اپنے اخراجات سے گوادر تک تعمیر کرنے پر تیار ہوا۔ پاکستان کے اکثر و بیشتر علاقے پسماندہ ہیں۔ چین کی طرح راہداری کو پاکستان کے نسبتاً پسماندہ علاقوں میں ترجیح کی ضرورت ہے، جس کا مرکزی حکومت وقتاً فوقتاً اعادہ بھی کرتی رہی ہے مگر پنجاب کے سوا تینوں صوبوں کے تحفظات ہنوز موجود ہیں۔ گزشتہ سال 28 مئی کو وزیر اعظم نواز شریف کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس میں تمام پارٹیوں کے تحفظات سنے۔ جس پر تمام پارٹیوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور متفقہ طور پر منصوبے کی منظوری دیدی۔ 28 مئی کی اے پی سی کے اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کی تعمیر ترجیحی بنیادوں پر مکمل کی جائے گی۔ اعلامیہ کے مطابق راہداری منصوبے کے تحت روڈ، ریل نیٹ ورکس، ائرپورٹس، سی پورٹس تعمیر کی جائیں گی۔ راہدادی کے ساتھ اقتصادی زونز اور پاور ہاﺅسز ملک بھر میں تعمیر کئے جائیں گے۔
یہ اے پی سی کامیاب رہی۔ اس میں شرکت کرنیوالی پارٹیاں مطمئن ہو کر اٹھیں مگر چند ماہ بعد ایک بار پھر تحفظات کا اظہار ہونے لگا۔ پرویز خٹک تو وفاق پر برہم نظر آئے انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ وعدے کے مطابق کوریڈور نہ بنا تو وہ خیبر پی کے سے راہداری نہیں گزرنے دیں گے۔ بلوچستان سے بھی اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر منصوبہ بندی اینڈ اور چیئرمین پلاننگ کمشن احسن اقبال نے پشاور اور کوئٹہ جا کر ان لوگوں کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی۔
7 جنوری کو پشاور میں مولانا فضل الرحمن کی طلب کردہ اے پی سی میں مسلم لیگ ن کی بھی نمائندگی تھی۔ اس میں راہداری پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ یہ صوبے کی نمائندہ جماعتوں کی کانفرنس تھی جس کی صدارت مولانا فضل الرحمان نے کی جبکہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک، سپیکر اسد قیصر، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاﺅ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، اے این پی کے میاں افتخار، پی پی پی کے فیصل کریم کنڈی اور مسلم لیگ ن کے اقبال ظفر جھگڑا سمیت دیگر رہنماﺅں نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا اقتصادی راہداری منصوبے میں صنعتوں کے لئے گیس پائپ لائن، بجلی ٹرانسمیشن لائن، فائبر آپٹیکل کیبل، ریلوے لائن اور ایل این جی مہیا کرنے کا موجودہ نقشوں میں کوئی ذکر نہیں جس سے یہ تاثر مل رہا ہے یہ محض ایک سڑک ہے اور اس کی حیثیت کوریڈور کی نہیں۔
راہداری کے تحت بلوچستان میں توانائی کے 7.1 بلین ڈالر کے توانائی کے پنجاب میں 6.9 اور سندھ میں 11.5 ارب ڈالر کے منصوبے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک نے شکوہ کیا کہ اقتصادی راہداری کے تحت ہمارے صوبے میں منصوبے کیوں نہیں لگائے جارہے ۔خواہش تھی کہ پہلی اینٹ خیبر پی کے اور بلوچستان میں رکھی جاتی ۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاءنے حکومت سے گوادر کی بندرگاہ کے منصوبے کا مکمل اختیار فوری طور پر بلوچستان کو دینے اور اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ پہلے مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بلوچستان میں ملازمتوں میں بلوچوں کو ترجیح دی جائے۔
اے پی سی میں کچھ مزید مطالبے بھی کئے گئے جن میں گوادر میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے مقامی لوگوں کی شراکت داری کو یقینی بنایا جائے۔ اقتصادی راہداری کے لئے سکیورٹی فورسز میں مقامی لوگوں کو بھرتی کیا جائے تاکہ مقامی لوگوں کے حقوق اور عزت نفس محفوظ رہے۔ وزیراعظم کی جانب سے کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں۔ گوادر اور بلوچستان کے عوام کو اس منصوبے کے ثمرات سے فیضیاب ہونے کا موقع فراہم کریں۔گوادر کے بلوچوں اور بلوچستان کے عوام کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے فوری طور پر قانون سازی کی جائے تاکہ ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والے لوگوں کو گوادر سے شناختی کارڈز، لوکل، پاسپورٹ جاری کرنے پر مکمل پابندی ہو اور انتخابی فہرستوں میں ان کے ناموں کا اندراج نہ ہوسکے۔ گوادر کے عوام کو فوری طور پر صاف انفرسٹرکچر، ہسپتال، سکول، ٹیکینکل کالجز اور پورٹ سے متعلق ہنر مند افراد کے لیے ٹیکنیکل سینٹرز اور میرین یونیورسٹیز کی جائیں اور ان میں گوادرکے مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے۔
کتنی شرمندگی کی بات ہے کہ اس منصوبے کا سرمایہ کار ملک چین پاکستان میں منصوبے کے فریقین کو راہداری پر اختلافات دوستانہ طریقے سے طے کرنے پر زور دے رہا ہے۔ منصوبے کی تعمیر کیلئے ماحول کا خوشگوار ہونا ضروری ہے۔ اگر مرکز اور صوبے میں دست و گریباں ہونے کی سی کیفیت ہوگی تو منصوبے کی خوش اسلوبی سے تکمیل مشکل ہے۔ اقتصادی راہداری کا منصوبہ انتہائی اہم ہے۔ اس پر پائے جانے والے ابہام دور کئے جائیں، اقتصادی راہداری سے متعلق 28مئی 2015ءکے اعلا میے پر عمل کیا جائے۔

راہداری منصوبے کی تکمیل بہت ضروری

صحافت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔دونوں کو ہر روز بلکہ اب تو ہر لمحے ایک نئے موضوع ایک نئی ہیڈ لائن یا نئے ٹکر کی ضرورت رہتی ہے۔اور اس میں کافی حد تک مقابلے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ ہونا بھی چاہیئے کسی نے کچھ تو بیچنا ہوتا ہے۔صحافی نے اپنی خبر کو بیچنا ہوتا ہے۔اور سیاستدان نے اپنے نئے بیان کو بیچنا اور کیش کرنا ہوتا ہے۔میڈیا کی بھی بہتات ہے۔پرنٹ میڈیا بھی ان گنت اخبار شائع کر رہا ہے۔اور الیکٹرانک میڈیا بھی ہر سیکنڈ میں نئے ٹکر اور نئی خبر کی تلاش میں ہوتا ہے۔مقابلے کے اس چکر میں بعض اوقات بڑی غیر ذمہ دارانہ بیان بھی شائع ہو جاتے ہیں۔یا خبر شائع ہو جاتی ہیں۔ہم بیان جاری کرنے یا خبر دینے میں جتنی بھی پھرتی دکھائیں قابلِ قبول ہے۔لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔پاکستان ترقی کرے گا تو ہماری آنے والی نسلیں خوشحال ہو نگی۔ہم نے شاید اس طرف توجہ ہی نہیں دی کہ دنیا اور خاص طور پر پاکستان کی آبادی کس رفتار سے بڑھ رہی ہے۔اس کے لئے ہمارے پاس وسائل بھی ہیں یا نہیں۔اور اس کے لئے وسائل پیدا کرنے کے لئے کون کون سے حربے استعمال کرنے پڑیں گے۔بعض اوقات غیر ذمہ دارانہ رویے اپنے مخالفین کو زچ کرنے یا ذہنی اذیت پہنچانے کے لئے ایسے اقدامات کر بیٹھتے ہیں جس سے ملکی ترقی برسوں، دہائیوںبلکہ صدیوں پیچھے چلی جاتی ہے۔ان میں سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا مسئلہ بھی ہے۔اس ڈیم کی تعمیر کے خلاف وہ لوگ بھی بیان بازی کرتے رہے۔جو اس خطے کے جغرافیے سے کوئی واقفیت ہی نہیں رکھتے۔ ان کو ڈیم کی اصل لوکیشن کا ہی پتہ نہیں ہے۔لیکن وہ اپنے بیان کو تین چار کالم سرخی کے ساتھ شائع کرانے کے لئے متنازعہ بیانات جاری کرتے رہے ہیں۔اس ڈیم کے نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کا ہر سال کتنا نقصان ہو رہا ہے ۔ کتنی زمینیں ، فصلیں ، مکان اور جانور سیلاب کی نذر ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کتنے ترقیاتی منصوبے رکے پڑے ہیں ۔ جو زمینیں سیراب ہو کر سونا اگل سکتی ہیں وہ بنجر اور ویران پڑی ہیں۔لیکن کچھ لوگ ذاتی انا کا مسئلہ کھڑا کر کے اس منصوبے کے خلاف بیان دئیے جا رہے ہیں۔انہوں نے روزِ اول سے اس منصوبے کی مخالفت میں بیانات جاری کئے اب اس کے حق میں بیان دینے کو اپنی ہتک سمجھ رہے ہیں۔اسی طرح جب پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے پر بات چیت شروع ہوئی ہے ۔ ہر روز کوئی نہ کوئی بیان جھاڑ دیا جاتا ہے۔لیکن اس منصوبے کا آغازکرنے سے پہلے تما م سیاسی پارٹیوں اور تمام صوبوں کی حکومتوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔اس سلسلے میں ایک سے زیادہ میٹینگز بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی ہوئیں جس دن فائنل بریفنگ لینے کے بعد تمام پارٹیاں مطمئن ہوئیں۔اس کے بعد ہر جگہ پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔پہلے یہ باتیں مشہور کی گئیں کہ گوادر سے اقتصادی راہداری کا روٹ براستہ لاہور ہوگا۔لیکن جب صوبائی حکومتیں اور سیاسی قوتیں اعتماد میں لی گئیں تو ایک فیصلہ ہو گیا ۔ بلکہ ایک سادہ سا خاکہ اور روٹ کے راستے میں آنے والے علاقہ کا نقشہ بھی شائع کیا گیا۔اس کے بعد وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف متعدد بار اس بات کا واشگاف الفاظ میں اظہار کر چکے ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے مقرر کردہ روٹ کو بالکل تبدیل نہیں کیا جائے گا۔اور یہ روٹ صرف بننے والی سڑکوں کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ صنعتی زون قائم کئے جائیں گے۔ ہوٹلز، پٹرول پمپس کے علاوہ بہت سارے تجارتی مراکز قائم کئے جائیں گے۔یہ اقتصادی راہداری صرف گوادر سے کاشغر تک نہیں بلکہ سارے سنٹرل ایشیاءتک استعمال ہوگی۔پاکستان میں سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کو ہو گا۔بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہاں ترقی کا انقلاب آئے گا۔ ابھی شاید یہ لوگ اس بات کا اندازہ نہ کر سکیں کہ یہاں کتنی بڑی ترقی ہوگی۔پاکستان بہت جلد ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔وزیراعظم پاکستان نے اس راہداری کو پہلے ہی دو رویے سے تبدیل کر کے چار رویہ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔بلکہ موٹروے جھنگ باہتر سے لے کر ڈیرہ اسمٰعیل خان تک مولانا فضل الرحمن کا آبائی شہر ہے۔لیکن اس کے باوجود اقتصادی راہداری پر مولانا صاحب کے مخالفانہ بیان سمجھ سے بالاتر ہیں۔یہاں میں ایک ذاتی قصہ سنانا چاہتا ہوں۔ذوالفقار علی بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں مجھے واپڈا میں روزگار کے سلسلے میں چند سال گزارنے کا موقع ملا۔میری پہلی پوسٹنگ سرگودہا میں تھی۔میں سرکاری جیپ لے کر فیلڈ کے ایک گاو¿ں میں گیاتو اس گاو¿ں کے بڑے کو ملنے کی ضرورت پیش آئی۔وہ بہت اخلاق سے پیش آئے ۔ میری بہت آو¿ بھگت کی۔اٹھتے ہوئے بظاہر التجا لیکن تحکمانہ لہجے میں درخواست کی کہ یہاں کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔لیکن آپ نے ایک مہربانی کرنی ہے کہ ہمارے علاقے کے کسی بھی فرد کو اپنے محکمے میں دیہاڑی دار (ڈیلی ویجز) کے طور پر بھی کام پر نہیں لگانا۔یہ میرے لئے عجیب درخواست تھی۔میرا خیال تھا کہ یہ مجھے اپنے دوچار بندے کام پر لگانے کے لئے کہیں گے ۔ لیکن وہ تو الٹا منع کر رہے تھے۔میں نے عاجزانہ انداز میں سوال کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے تو وہ چوہدری صاحب بولے کہ پھر ان لوگوں کی عادتیں خراب ہو جاتی ہیں اور ہمارے ذاتی کام نہیں کرتے۔ان کی اس وضاحت کے بعد مجھے اندازہ ہو اکہ یہ لوگ اپنے علاقے میں اچھے تعلیمی ادارے اور اچھے ہسپتال کیوں نہیں بننے دیتے۔ان کی خواہش ہوتی ہے کہ گاو¿ں کا ہر شخص ہر وقت ہر کام کے لئے ان کا محتاج رہے۔اسی قسم کی سوچ آج بھی بہت سارے علاقوں میں موجود ہے۔خاص طور پر غیر ترقی یافتہ علاقوں میں ایسی ذہنیت ہر جگہ موجود ہے۔بلوچستان تو آج تک اسی ذہنیت کا شکار رہنے کی وجہ سے تاریکی میں ڈوبا رہا۔اب جب ان لوگوں کو جگمگاتا ہوا بلوچستان اور جنوبی خبر پختونخواہ نظر آتا ہے تو ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں ۔ ان کو نظر آ رہا ہے کہ یہاں کا نوجوان ان کے تسلط سے آزاد ہو جائے گا۔اس اقتصادی راہداری کے ساتھ ارد گرد بین الاقوامی تعلیمی ادارے (کالجز ،یونیورسٹیاں ) اور ہسپتال تعمیر ہونگے۔بے روزگار اور غیر تعلیم یافتہ نوجوان جو سارا دن روٹی خرچے پر ان کے دروازوں پر پڑے رہتے ہیں وہ ہنر سیکھ کر ہزاورں روپے ماہوار کے مزدور بن جائیں گے۔یہ منفی ذہنیت انہیں ہر روز کوئی نہ کوئی نیا شوشہ چھوڑنے پر مجبور کرتی ہے۔مجھے ایک انتہائی ذمہ دار عہدے پر براجمان شخص وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک کی بیان بازی پر بڑی حیرانگی ہوئی کہ ہمارے حقوق نہ دئیے گئے تو ہم یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے۔بھائی حقوق تو آپ کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں جہاں سے اقتصادی راہداری کا روٹ ہوگا۔اس کے اردگرد ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔کیااس علاقے کی گاڑی اس روٹ پر سفر نہیں کر سکیں گی؟یا وہاں کے لوگوں کو روزگار نہیں ملے گا۔جیسا کہ کالم کے آغاز میں میں نے ذکر کیا کہ کچھ لوگ صرف بیان بازی کے لئے بیان جاری کر دیتے ہیں اور خواہ مخواہ ایک شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔اقتصادی راہداری کا روٹ باقاعدہ اور باضابطہ طے ہو گیا تھا۔اس کی تفصیل بھی جاری کر دی گئی تھی۔پھر وزیراعظم پاکستان متعدد بار اس کی یقین دہانی بھی کرا چکے ہیں کہ جو روٹ طے ہوا ہے اس پر تمام ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ یہ راہداری تعمیر کی جائے گی۔لیکن کچھ لوگ صرف سستی شہرت کے لئے کچھ نہ کچھ معاملہ کھڑا کئے رکھتے ہیں۔یہ روٹ پہلے دن سے کسی قسم کا متنازعہ نہیں تھااور نہ اب ہے۔لیکن اس کو کالا باغ ڈیم کی طرح متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جو سراسر پاکستان کے ساتھ زیادتی ہے۔اور پھر سب سے زیادہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے غریب عوام کے ساتھ زیادتی ہے جن کو بالکل ہی اندھیرے میں رکھ کر غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کی جارہی ہے۔یہ وقت ہے کہ ملک کی بنیادیں مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لئے ہر ادارہ ، ہر سیاسی قوت اور ذی شعور انسان اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنا اپنا حصہ ڈالے اور جو لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے بلاوجہ شور کرتے ہیں ۔ ان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

مودی انتظامیہ کی چالاکیاں

خبر ہے کہ 15 جنوری کو پاکستانی اور بھارتی خارجہ سیکرٹری کی سطح پر ہونے والی ملاقات منسوخ کردی گئی ہے اس خبر کو ہندوستان کے تمام کے صف اول اخبارات نے رپورٹ کیا ہے لہذا اس بات کا بہت کم امکان رہ گیا ہے کہ یہ خبر غلط ہو کم از کم ہمیں اس ملاقات کی منسوخی پر کوئی حیرت یا استعجاب نہیں ہوا پچھلے کئی کالموں میں ہم نے مقتدر ہندو لیڈروں کی نفسیاتی ساخت کے بارے میں کچھ حقائق عرض کئے تھے اور عرض کیا تھا کہ ہندوستانی مقتدر حلقےکس طرح سوچتے ہیں اور ان کے اہداف کیا ہیں مودی جی جو کچھ کرتے رہے ہیں اور آج تک کرتے چلے آرہے ہیں وہ نپی تلی اور ایک باقائدہ اسکرپٹ کے عین مطابق چلی جانے والی چالیں ہیں جو اپنے مخصوص ایجنڈے کے تناظر میں ہی چلیں گی اگر کوئی سمجھتا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں کوئی بہت بڑی تبدیلی آئے گی یا کوئی چمتکار ہوگا تو انتہائی معذرت کے ساتھ کہ ایسا سوچنے والے کسی اور ہی دنیا کے باسی ہیں حقائق اس کے بالکل بر عکس ہیں ہم نے عرض کیا تھا کہ ہندوستان کے مقتدر ہندو طبقے کا ایک اپنا ہی مائنڈ سیٹ ہے یہ اصل میں تصور کی دنیا میں کھویا ہوا خبط عظمت کے مرض میں مبتلا طبقہ ہے جس کا اپنا ایجنڈا ہے جس سے وہ سرمو انحراف پر تیار نہیں آپ سے میٹھی میٹھی باتیں بھی ہونگی جپھیاں بھی ڈلیں گی بھنگڑے بھی ڈلیں گے لیکن ہوگا وہی جو ان کے اسکرپٹ کے مطابق ہو گا یعنی ڈھاک کے وہی تین پات آپ کو آپ کی کہنی پر گڑ چپکا کر آپ کو کھلانے کی کوشش ہوگی آپ مسلمان ہیں آپ کی نیک نیتی اور بھولپن کا بھر پور فائدہ اٹھایا جائے گا جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے ماضی قریب میں نوازشریف کچھ سہولیات دے کر نتیجہ دیکھ چکے ہیں کچھ سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہوئے اور حکومت پاکستان کو اقدامات واپس لینے پڑے ایک اور مثال کنٹرول لائین پر لگنے والی باڑھ کا معاملہ ہے جس کو انڈیا مسلسل 60 سالوں کی کوششوں کے باوجود تعمیر نہیں کر سکا تھا کیونکہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے متنازعہ سرحدوں پر کوئی پختہ تعمیر خلاف قانون ہوتی ہے لیکن ہوا کیا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا مشرف کی کچھ جبلی بشری کمزوریوں کا فائدہ اٹھا تے ہوئے ان کی اجازت سے سینکڑوں کلومیٹر لمبی باڑھ 3 ماہ سے بھی کم عرصے میں مکمل کرلی گئی اور ایسی تعمیر کہ اس میں آہنی باڑھ رات کو دیکھنے والے کیمرے کسی بھی زندہ چیز کی حرکت محسوس کرنے آلات نصب کئے گئے جو شاید مسلمہ بین الاقوامی بارڈر پر بھی نہیں لگائی گئی اس باڑھ میں بجلی دوڑا دی گئی جہاں چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی یوں کشمیر کی تقسیم کو عملی شکل دے دی گئی اور سینکڑوں خاندانوں کے درمیان جدائی کو مستقل کر دیا گیا کیا اس اجازت اور صدر مشرف کی جانب سے کئے جانے والے اس کرم خاص کے بدلے میں پاکستان کو کچھ ملا سوائے آگرہ مذاکرات کی ناکامی کے ؟ جی یہی ہے چانکیائی مائنڈ سیٹ اب اگر بین الاقوامی دباﺅ کی وجہ سے مذاکرات ہوئے بھی تو فوٹو سیشن سے بات آگے نہیں برھ پائے گی اور آئندہ ملاقاتیں جاری رکھنے پر اتفاق ہوگا جو قیام پاکستان کے زمانے سے ہوتی آرہی ہیں مودی جی نے غیر اعلانیہ لاھور آمد سے اپنی دانست میں ایک سمارٹ چال چلی ہے اوراس طرح انہوں نے ایک پتھر سے کئی چڑیاں شکار کرنے کی کوشش کی ہے ایک تو ان پر پڑنے والے بین الاقوامی پریشر میں کمی واقع ہوئی اور انہوں نے دنیا کو امن کا پیغام بھیجا اور مغرب کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ان کی مطلب براری ہو گئی ساتھ ہی مذاکرات سے بھاگ نکلنے کے لئے بھونڈے انداز سے پٹھان کوٹ بیس پر حملے کا ڈرامہ رچالیا اور اسکرپٹ کے مطابق الزام پاکستان پر دھر دیا اور یہ شرط بھی عائد کردی کہ پاکستان اپنی بے گناہی ثابت کرے اب ہوگا کیا ؟آئیے ہم عرض کئے دیتے ہیں آپ کے علم میں ہوگا کہ انڈین حکومتوں کے اقلیتوں کے غیر منصفانہ سلوک کی وجہ سے پورے ہندوستان میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں انڈین پنجاب میں آزاد خالصتان کی تحریک نئے سرے سے سر اٹھا رہی ہے جسکے روح رواں 1984 دربار صاحب گولڈن ٹیمپل پر بہیمانہ حملے دربار صاحب کی مکمل تباہی اور اس میں ہلاک ہونے والے سینکڑوں خاندانوں کے لواحقین ہیں جن کو دنیا بھر میں رہنے والے سکھوں کی مکمل سیاسی اور مالی مدد حاصل ہے اور انہوں نے سال 2020ءتک آزادی کا ہدف حاصل کرنے کا عزم کر رکھا ہے لیکن مخصوص ہندو ایجنڈے کے مطابق اب پٹھان کوٹ جو پنجاب اور کشمیر کی سرحد پر واقع ہے حملے کے سلسلے میں وہاں سے تحقیق اور تفتیش کے بہانے سکھ اور کشمیری نوجوانوں کو اٹھایا جائے گا جہاں عقوبت خانوں میں ان پر تشدد اور ان کی ہلاکتیں بھی ہو نگی جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے اس طرح ان تحریکوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی جن کا سیاسی حل بہت آسانی سے نکل سکتا ہے کاش ہندوستانی قیادت خبط عظمت کا خناس دماغ سے نکال کر زمینی حقائق کا ادراک کرے اور اپنی اقلیتوں کو منصفانہ حقوق دے اور پڑوسیوں سے پر امن بقائے باہمی کی بنیاد معاملات طے کرے اس طرح نہ صرف ان کا ملک ترقی کرے گا بلکہ جنوبی ایشیا میں امن کے خواب کی تعبیر سچ ثابت ہوگی اور خوش حالی کا دور دورہ ہوگا دنیا کو ایٹمی جنگ کے خوف سے نجات ملے گی اے کاش تیرے دل میں اتر جائے مری بات

داعش موساد کا بغل بچہ

اگلے روز داعش کے حوالے سے ایک نہایت ہی قابل مذمت ، انسانیت سوز اور درندگی کی انتہاﺅں کو چھوتی ہوئی خبر نظر سے گزری تو دل دہل گیا کہ یہ وحشی نام نہاد اسلام کے نام لیوا داعشی، انسان تو کیا درندہ کہلوانے کے بھی حقدار نہیں۔ خبر یہ ہے کہ ایک وحشی داعشی نوجوان نے اپنی ماں کو اس لئے قتل کردیا کہ اس کی ماں نے اسے داعش سے دور رہنے کی نصیحت کی تھی ۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق داعشی دہشت گرد کو اس کی ماں نے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی اتحاد ”آئی ایس آئی ایس “کو ختم کردے گا، اس لئے وہ داعش کو چھوڑ دے ۔ ماں نے اسے یہ بھی کہا کہ ہم شام چھوڑ کر کہیں اور چلے جاتے ہیں۔ ماں کی اس نصیحت پر عمل کرنے کی بجائے بدبخت نے اپنی ماں کے خیالات کے بارے میں اپنے مقامی رہنما کو آگاہ کردیا مگر اس سفاک رہنما نے نوجوان کو اپنی ماں کے قتل کا حکم دے دیا ،جس پر 21 سالہ بدبخت نوجوان نے ماں کی عزت اور ممتا کی پروا کیے بغیر سر عام سفاکیت اور درندگی کا ثبوت دے دیا ۔ ایسے نظریات کی حامل جماعت داعش دراصل مکروہ اور مذموم شیاطینی چہرے کا اصل عکس ہے۔ داعش حقیقتاًنہ اسلامی گروہ ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے کوئی اسلامی ملک ہے۔ یہ بنیادی طورپر وحشیوں کا گروہ ہے جنہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے یا نہیں اڑھوایا گیا ہے۔ القاعدہ کے بعد اسرائیل اور امریکہ کو ایک نئے ہتھیار کی ضرورت تھی جسے اسلام کے خلاف استعمال کرنا تھا ۔اس لئے اسے تخلیق کیا گیا،اس گروہ میں زیادہ تر ایف بی آئی کے ایجنٹس اور بلیک واٹر کے کارندے شامل ہیں جو نو مسلم بن کر فساد برپا کررہے ہیں۔ القاعدہ جیسے فسادی گروہ کے انجام کے بعد یہ نیا سفاک گروہ 2014ءمیں شام اور عراق میں منظر عام پر آیا ۔ ابتداءمیں یہ شام میں نمودارہواجہاں اس نے اپنے آقاﺅں امریکہ اور اسرائیل کی ایما پر درندگی کا آغاز کیا لیکن شامی حکومت کا تختہ نہ الٹا جاسکا ۔ وہاں سے اسے عراق کی جانب دھکیلا گیا جہاں جون 2014ءمیںسینکڑوں عراقی شہریوںکے خون سے ہولی کھیلنے کے بعد اس نے خود ساختہ خلافت کا اعلان کردیا۔یہ تکفیری اور خوارج کا گروہ القاعدہ کے ہی وہ بھگوڑے ہیں جو اسامہ بن لادن کے ہلاک ہونے کے بعد نئے نام سے سامنے لائے گئے ہیں۔ ان کے خالقوں کا طریقہ واردات وہی پرانا تھا یعنی ان کرائے کے قاتلوں کو بھاری اسلحہ و بارود اور وسائل کے ساتھ ایک اسلامی نام سے متعارف کرایا گیا جبکہ ان کے ذمے عرب خطے میںجغرافیائی تبدیلیاں لانے کا کام سونپا گیا ہے۔یہ تکفیری دہشت گرد گروہ اس مقصد کے حصول کیلئے فرقہ وارانہ تعصب اور مذہبی جنگ کی آگ بھڑکانے کا ہتھکنڈہ استعمال کررہا ہے جبکہ غیر انسانی اقدامات کی تشہیر سوشل میڈیا پرتواتر سے کرتا ہے تاکہ دنیا بھر سے گمراہ ذہن نوجوان ان کے چنگل میں پھنستے رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان سے بھی ایسی اطلاعات سامنے آنے لگی ہیںکہ گمراہ ذہن کے درجنوں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس میں شمولیت کےلئے شام جارہے ہیںجبکہ قبل ازیں طالبان اور ٹی ٹی پی کے بھگوڑوں کے بارے میں اطلاعات تھیںکہ انہوںنے داعش کو جوائن کرناشروع کردیا ہے۔اِن دنوں قانون نافذ کرنے والے ادارے داعش سے وابستہ انتہا پسندوں کی پکڑ دھکڑ میں مصروف ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ داعش کا باقاعدہ کوئی نیٹ ورک پاکستان میں موجود نہیں صرف ذاتی حیثیت سے بعض کالعدم تنظیموں کے کارکن اس چنگل میں پھنس رہے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ کہنا درست ہے کہ ابھی تک ایسا کوئی باقاعدہ نیٹ ورک منظم نہیںہوا اور نہ ہی اسکی ابھی امید ہے کیونکہ داعش کو ابھی تک کسی عرب ملک کی حمایت حاصل ہے نہ ہی انکے نظریات کو کسی عرب نے پذیرائی دی ہے۔القاعدہ اورطالبان کے حوالے سے عرب ممالک کی رائے مختلف تھی اورو ہاں کے نان سٹیٹ ایکٹر ز القاعدہ اور طالبان کو باقاعدہ مالی مدد فراہم کرتے تھے جسکے گہرے منفی اثرات پاکستان پر پڑے ۔اب بیشتر عرب مفتیان داعش کے خلاف فتوے بھی دے رہے ہیں جبکہ القاعدہ اور طالبان کے حوالے سے ایسا نہیں کیاجاتا تھا ۔ عرب ممالک کی القاعدہ اور طالبان سے مسلکی ہم آہنگی ان کیلئے ایک بڑا سہارا تھی لیکن داعش کے معاملے چونکہ ایسا نہیں ہے۔اسی طرح ابھی پاکستان میں ٹی ٹی پی کی طرح ان کا حمایتی اور ہمدرد طبقہ بھی وجود میں نہیں آیا ہے جو انکے لئے جنت کے ٹکٹ بانٹتا پھر رہا ہو لہٰذا اسکے پاکستان میں جڑ پکڑنے کے امکانات ا بھی نہیں ہےں۔دوسری طرف قانون نافذ کرنےوالے ادارے بھی ہمہ وقت چوکس ہیں انہیں جہاں سے بھی کوئی اطلاع ملتی ہے وہ ان پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔صد شکر کہ پاکستانی عوام اس حوالے سے کسی مغالطے کا شکار نہیں رہے۔وہ جانتے ہیں کہ داعش موساد کا بغل بچہ ہے۔

دو قدرتی گیس معاہدے اور نواز حکومت

قدرتی گیس اور پٹرول اللہ کا عطیہ ہے اللہ جس قوم کو بھی چاہے عطا فرما دے۔ ہمارے ملک میں دونوں کی کمی ہے جس وجہ سے کثیر زر مبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے اور آئے دن اس کی لوڈ شیدنگ بھی ہوتی رہتی ہے۔ پاکستان کے عوام اس کے خلاف احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔ملک کی انڈسٹری گیس اور پٹرول کی کمی کی وجہ سے تقریباًبند پڑی ہے جس سے ہمارے ملک کی برآمدات نہ ہونے کے برابر ہو گئیں ہیں ملک میں اسی وجہ سے زر مبادلہ کم ہو گیا ہے گو کہ ہمارے وزیر خزانہ جو قرض لینے کے ماہر ہیں آئے روز پاکستانی قوم کو نیا قرض ملنے کی نوید سناتے رہتے ہیں اور اعلان کرتے پھرتے ہیں کہ ہمارے زر مبادلہ میں اتنے کا اضافہ ہو گیا ہے جبکہ مانگے تانگے کے پیسے سے ملک نہیں چلا کرتے۔ ویسے بھی نو نقد تیرا اُدھار کی ضرب مثل تو مشہور ہے اس ضرب مثل کے مطابق پاکستان کو ہر ڈیل پر تقریباً آدھا زیادہ دینا پڑتا ہو گا۔آئی ایم ایف کو قرضوں کی ادائیگی کے لیے ملک کے کمائی دینے والے اداروں کی نجکاری کر کے ادا کئے جا رہے ہیں۔پاکستانی آئی ایم ایف کے سودی قرضوں کے نظام میں بُری طرح پھنس گئے ہیں جس کا انجام بقول ملیشیا کے سابق وزیر اعظم تنکو عبدالرحمان کہ” جس ملک کو تباہ کرنا ہو اُسے آئی ایم ا یف کے حوالے کر دو“اب تو ن لیگ کے ایک سینیٹر صاحب نے بھی کہا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کوقرضوں کے چکر میں پھنسا کر اسے دیوالیہ کرنا چاہتا ہے تا کہ اس کے آقاﺅں کی گریٹ گیم کے تحت پاکستان کے جوہری اثاثوں سے جان چھڑا لی جائے۔خیر بات دوسری طرف نکل گئی ہم بات کرے رہے تھے پاکستان کے دو گیس معاہدوں کی جو ایک ایران کے ساتھ پہلے سے طے ہو چکا تھا اور دوسراتاپی گیس معاہدہ جوترکمانستان کے ساتھ ابھی ہواہے۔تاپی گیس معاہدہ جس میںترکمانستان،افغانستان،پاکستان اور بھارت شامل ہے ۔ پہلے معاہدے کے تحت ایران نے اپنے حصے کی گیس پائپ لین کا سارا حصہ کافی عرصے سے مکمل کر لیا ہے۔پاکستان کے حصے کی۰۸۷ کلومیٹر پائپ لین بچھانا ابھی تک باقی ہے۔ پاکستان کے لیے ایران پاکستان گیس معاہدہ تاپی معاہدے سے بہتر ہے اور اس پر عمل کرنے سے پاکستان کو فوراً گیس ملنا شروع ہو سکتی ہے جس پاکستان ترقی کی منزلیں طے کر سکتا ہے مگر ہمارے دوست نما دشمن امریکا کو پاکستان کی ترقی ایک آنکھ نہیں بھاتی اور اس نے پاکستان کو ایک ایسے منصوبے میں الجا دیا ہے جو کہ ایک تو مکمل ہونے میں کم از کم ۴ سال لگنے ہیں اور دوسرا ابھی تک طالبان جن کا افغانستان کے پیشر علاقے پر قبضہ ہے سے اجازت لینا باقی ہے۔پاکستان ایران گیس منصوبے پر امریکا کے دباﺅ کے تحت پاکستان مکمل کرنے سے جان بچاتا رہا ہے۔اب جب کہ ایران اور امریکا کے جوہری معاہدے کے تحت ایران سے اقتصادی پابندیاں ختم ہو رہی ہیں تو چاہےے تو یہ تھا کہ اس منصوبے کو مکمل کیا جاتا اور ملک کو گیس کی سپلائی فورناً شروع ہوتی تو پاکستان ترقی کے دور میں شامل ہوتا۔نواز شریف حکومت نے امریکا کے کہنے پر دوسرے گیس کے منصوبے پر ترکمانستان سے معاہدے میں شامل ہو گیا۔ ایران پاکستان معاہدے کے مطابق پاکستان کو یومیہ ۱۲ عشاریہ ۵ ملین کیوبک میٹر گیس دینے کا معاہدہ ہے۔ جس سے پاکستان میں خوشحالی آنا تھی۔ آج ہی ایران نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے نیشنل ایرانین گیس ایکسپورٹ کمپنی کے چیف ایکزکٹیو آفیسر جناب علی رضاکمیلی صاحب نے کہا ہے کہ ہم پڑوسی ملک ہیں اور قانون کے تحت کاروائی نہیں کرنا چاہتے ۔ہر ملک عوام کے اپنے مفادات ہوتے ہیںاگر پاکستان کی وجہ سے ہمارے عوام کو نقصان پہنچا تو ہم دیکھیں گے کہ ایران پاکستان گیس معاہدے کے مندرجات کیا ہیں تا کہ اس کے مطابق پاکستان سے بات کی جائے۔ معاہدے کے مطابق پاکستان کو ۴۱۰۲ءتک اپنے حصے کا کام مکمل کرنا تھا جو اس نے نہیں کیا۔تاپی گیس منصوبہ جس میں ترکمانستان،افغانستان، پاکستان اور بھارت شامل ہے۔جو ایک طرف کہیں چار سال بعد مکمل ہو گا اور ابھی تو جس افغانستان کے راستے گیس کی پائپ لین گزرنی ہے اور جس پر طالبان کا قبضہ ہے اُس سے تو اجازت لینا باقی ہے۔ ایران پاکستان گیس منصوبے سے ہمارا دوست ملک چین نے بھی فاہدہ اُٹھانا تھا۔وہ گوارد سے چین تک پائپ لین بچھا کراس منصوبے میں شامل ہو سکتا تھا ۔نواز شریف صاحب نے امریکا کے دباﺅ کے تحت ایران پاکستان گیس منصوبے کو ایک طرف رکھ کر ترکمانستان،افغانستان، پاکستان اور بھارت منصوبے پر دستخط کر کے لگتا ہے کہ چین کو ناراض کر دیا ہے۔ایک طرف تو پاکستان کہتا ہے کہ چین کے ساتھ پاکستان کی ہمالیہ اور اونچی اور سمندروں سے گہری دوستی ہے پھر امریکا کی چال میں پھنس کر اپنی صدا بہار دوست چین کوناراض کر دیا ہے۔چین کی ہمیشہ سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دینے کے اصول پر مبنی پالیسی تھی مگر اب کل ہی چین کے سفیر نے بیان دیا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے میںپاکستان اپنے سارے صوبوں کو راضی کرے۔ دوسری طرف بلوچ رہنما ﺅںکے کہنے پر اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں پاکستان کی ساری پارٹیوں نے شرکت کی۔ جس میں کہا گیا ہے کہ گوادر بندگاہ کا اختیاربلوچستان کر دیا جائے۔ چھوٹے صوبوں کو اقتصادی راہداری میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔سب سے پہلے مغربی روٹ کو مکمل کرنے کی بات کی گئی ہے ۔شک کا اظہار کیا گیا ہے کہ منصوبے میں نواز حکومت نے رد و بدل کر دیا ہے۔۸۲ مئی ۵۱۰۲ءکے منصوبے کے تحت کام شروع کرنے کا کہا گیا ہے۔ لگتا ہے کہ نواز حکومت پاکستان کے چھوٹے صوبوں کو مطمئن نہیں کر سکی ہے جس کی وجہ سے آ ل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ممکن ہوا۔ پہلے بھی یہ بات سامنے آئی تھی کی چین کو بھی مغربی روٹ پسند ہے جس میں چین سے گوادر تک کم سے کم فاصلہ ہے جب کہ دوسرے کسی بھی روٹ کا فاصلہ زیادہ ہے۔ کچھ بھی ہو مگر اس معاملے میں بھی نواز حکومت کے گورننس پر بات اُٹھتی ہے کہ ایک عظیم منصوبے کو بھی نواز حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے چین کو بھی مداخلت کرنی پڑی۔ پاکستان میںیہ بات عام ہونے لگی ہے کہ نواز حکومت کی نااہلی کی وجہ سے اس عظیم منصوبے کو بھی کالاباغ ڈیم کی طرح متنازہ بنا دیا گیا ہے۔کیوں نہ پہلے سے طے شدہ متفقہ منصوبے پر کام شروع کیا گیا؟ کیوں کم سے کم فاصلہ کے روٹ کوچھوڑ کر دوسرے روٹز کی باتیں ہونے لگیں؟ اعتراض کرنے والے حکومت کے اتحادی مولانا فضل ا لرحمان صاحب اور اختر مینگل پریس کانفرنس میں کہا کہ کسی بھی پروگرام کو سامنے نہیں لایا جاتا راہداری منصوبے سے متعلق ایم اویوز اور نقشوں کو چھپایا جا رہا ہے۔ ہر معاملے کو چھپایا جاتا ہے شفایت کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔اگراعتراض کرنے والوں کی یہ بات صحیح مان لی جائے تو حکومت کے لیے شرم کی بات ہے کہ اپنے ہی لوگوں سے کیوں معاملے چھپائے جاتے ہیں جس سے شک و شبہ پیدا ہوتا ہو ۔حکومت کو فوراً جائز باتوں کو مانتے ہوئے چھوٹے صوبوں کو مطمئن کرنا چاہے تاکہ پاکستان میں ترقی کا یہ عظیم منصوبہ احسن طریقے سے پایا تکمیل تک پہنچے۔ آج اقتصادی راہداری کے متعلق آل پارٹیز کانفرنس نے کہا کہ وفاق صوبوں کو ترقی دینی ہے یا نہیں۔ رہداری منصوبہ بلوچستان کے تشخص کا مسئلہ ہے ، اٹھارویں ترمیم پر عملدرآمد ہو تو معاملات حل ہو جائیں گے۔۔منصوبے میں مقامی سرمایہ کاروں کی شرکت یقینی بنائی جائے۔شہریوں کو نئے شناختی کارڈ جاری کرنے کی مذمت، گوادر کے لوگوں کو ملازمت اور ماہی گیروں کو متبادل روزگار فراہم کیا جائے۔ جہاں تک دو گیس معاہددوں کا تعلق ہے اگر تاپی گیس منصوبے پر چار ملکوں نے دستخط کر دیے ہیں تو ٹھیک ہے اس منصوبے کو بھی جاری رہنا چاہےے کیوں کہ یہ ملکوں میں معاہدے کی بات ہے جسے پایا تکمیل تک پہنچانا چاہےے۔ مگر جو گیس منصوبہ بل لکل تیار ہے جس کاایران سے معاہدہ بھی ہے اور معاہدے کا ایک فریق اس پر اعتراض بھی کر رہا تو نواز حکومت کو اسے بھی فوراً مکمل کرنا چاہےے۔اس سے پاکستان میں انرجی کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور معاہدے کی پاسداری بھی ہو گے جو قوموں کے وقار اور عزت کا معاملہ بھی ہے۔

Google Analytics Alternative