تازہ ترین

کالم

پھر طلاق

Asif-Mehmood

جمائما بھابھی کے بعدعمران خان نے ریحام کو بھی طلاق دے دی ہے۔کل تک جنابِ عارف نظامی کی باجماعت مذمت کے ساتھ اس خبر کی تردیدکرنے والے احباب اب یہ خبر خود سنا رہے ہیں ۔ایک وعظ بھی خبر کے ہمراہ ہے:”معاملے کی سنجیدگی اور نزاکت کے پیشِ نظر میڈیا قیاس آرائیوں سے گریز کرے“۔یہ احساس گویا واعظ کو بھی ہے کہ طلاق کے اعلان کے باوجود کچھ ایسے پہلو ابھی باقی ہیں جہاں قیاس آرائیوں کا امکان موجود ہے۔رشتے ٹوٹ جائیں تو دکھ ہوتا ہے۔اخلاقیات اور وضع داری کا تقاضا بھی ہے کہ ایسے نازک مواقع پر کلمہِ خیر نہ کہا جا سکے تو خاموش رہا جائے۔مجھے یہ بھی کامل احسا س ہے کہ کسی کے نجی معاملات کو کوچہ و بازار کا موضوع نہیں بننا چاہیے۔لیکن عمران خان کا معاملہ اور ہے۔وہ ایک متبادل قیادت ہیں اور لاکھوں نوجوان ان سے غلو کی حد تک عقیدت رکھتے ہیں۔ان کے شب و روز کو محض ذاتی زندگی کا غلاف اوڑھا کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔۔۔۔چند سوالات بہت اہم ہیں۔
زندگی کی چالیس بہاریں دیکھنے کے بعد ، کہا جاتا ہے کہ، آدمی کے مزاج میں ٹھہراﺅ آ جاتا ہے اور وہ دل کی بجائے اپنے معاملات عقل کے سپرد کر دیتا ہے اوراس کے من کی دنیا میں تفکر و تدبر کے پہلو غالب آنا شروع ہو جاتے ہیں۔عمران خان باسٹھ سال کے ایک بزرگ ہیں۔زندگی کی ساٹھ سے زیادہ بہاریں دیکھنے کے بعد وہ دوسری شادی کرتے ہیں اور وہ چند ماہ نہیں چل پاتی تو یہ محض ذاتی معاملہ نہیں رہتا ۔(ویسے بھی یہ انوکھی قسم کا ’ ذاتی مسئلہ‘ ہے جس کا اعلان پارٹی کا سیکرٹری اطلاعات کر رہا ہے۔تحریک انصاف کے دستور میں کہاں لکھا ہے کہ پارٹی کا عہدیدار ذاتی قسم کی خدمات بھی بجا لائے گا، اور نکاح و طلاق کی خبریں بھی دیا کرے گا۔کیا نئے پاکستان کی لغت میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات کو ’ منیم جی‘ کہا جاے گا؟پرانے پاکستان کے دیہاتوں میں تو نکاح و طلاق کی خبروں کے ابلاغ پر مامور لوگوں کو کچھ اور کہا جاتا ہے۔)اس کے ہمراہ کچھ سنجیدہ سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔یہ عمران خان کی پہلی شادی بھی نہ تھی۔ایک شادی ان کی جمائما بھابھی کے ساتھ ناکام ہو چکی ہے۔اس شادی اور طلاق سے حاصل ہونے والا تجربہ بھی ان کے ہمراہ تھا۔دوسری شادی کرتے وقت ان کے پیشِ نظر ہو گا کہ پہلی شادی کیوں ناکام ہوئی اور کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے انہیں کیسا رفیقِ حیات چاہیے۔۔۔۔۔اس کے با وجود یہ شادی چند ماہ ہی میں ناکام ہو جاتی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کے فیصلوں میں فہم و تدبر کا کتنا عمل دخل ہے اور کمزور لمحات کے زیرِ اثر جذباتی فیصلے کرنے کا رجحان کس حد تک غالب ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنا بہت ضروری ہے کیونکہ کل عمران خان اقتدار میں آ گئے تو وہ پوری قوم کی قسمت کے فیصلے کر رہے ہوں گے۔ایک عام آدمی یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ جو شخص اپنی ذاتی زندگی کے فیصلے اس طرح کرتا ہے کیا وہ اس قابل ہے کہ اسے قوم کی اجتماعی زندگی میں فیصلہ سازی کا منصب سونپ دیا جائے؟ اور اگر سونپ دیا جائے تو اس کا انجام کیا ہو گا؟
خوب یاد ہے،دھرنے کے دنوں میں کنٹینر پر عمران خان پوری تمکنت اور احساسِ تفاخر کے ساتھ ہاتھ فضا میں بلند کرکے کہتے:” لیڈر“۔۔۔۔۔۔ اورمجمع بے اختیار پکار اٹھتا: ” کبھی جھوٹ نہیں بولتا“۔ لیڈر بزدل نہیں ہوتا۔لیڈر سچ بولتا ہے۔لیڈر جھوٹ نہیں بولتا۔یہ وہ سبق تھا جو روز کنٹینر سے دہرایا جاتا تھا۔لیکن ہوا کیا؟عارف نظامی نے شادی کی خبر دی تو لیڈر نے مان کر نہ دیا۔اور طلاق کی خبر سنائی تو اسے بھی رد کر دیا گیا۔تحریکِ انصاف نے دونوں خبروں کی تردید کی اور دونوں خبریں سچ ثابت ہوئیں۔اب سوال یہ ہے کہ لیڈر کا یہ دعوی کس حد تک درست ہے کہ وہ سچ بولتا ہے؟طلاق کی خبروں کی اہتمام کے ساتھ نفی کی گئی ،کیونکہ لاہور کا انتخابی معرکہ سر پر تھا، گھر میں کرکٹ کھیلتے ہوئے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر لیک کی گئی، قربانی کے جانور کے ساتھ تصویر بھی جاری کی گئی کہ دیکھیں یہ خبر جھوٹ ہے، ہم ایک ہیں۔اب اگر لیڈر واقعی سچ بولتا ہے تو اسے بتانا چاہیے کہ نکاح اصل میں کب ہوا تھا؟ کن حالات میں ہوا تھا؟ اور طلاق کب ہوئی؟ کیا شادی کے بعد کچھ ایسا ہوا کہ معاملات طلاق تک پہنچے یا اس شادی کا انجام طلاق ہی تھا؟بہت سے سخن ہائے گفتنی ہیں جو شخصی احترام میں ناگفتہ چھوڑ رہا ہوں۔تاہم ان سوالات کا جواب دینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ نکاح سے طلاق تک آپ کی ہر تردید غلط ثابت ہوئی اور سینہ گزٹ درست ثابت ہوا۔سینہ گزٹ کے دراز ہوتے سلسلے کو روکنے کے لیے ایک ’ سچ‘ کی ضرورت ہے۔کیا وہ سامنے آ پائے گا؟
طلاق ایک تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔طلاق کے بعد ریحام ،برادرم مبین رشید کے میڈیاپروگرام میں لندن پہنچتی ہیںجہاںمبین انہیں خوش آ مدید کہتے ہیں ۔ان کے چہرے کی مسکراہٹ میں کہیں حزن و ملال نہیں،ایک فاتحانہ مسکراہٹ اور تمکنت ہے جیسے زبانِ حال سے وہ اب بھی کسی کو چیلنج دے رہی ہوں کہ وہ تر نوالہ نہیں ایک فائٹر ہیں ۔جمائما بھابھی کا عمران سے رشتہ ٹوٹا تو کچھ کھو جانے کا احساس برسوں ان کے ساتھ پھرتا رہا۔ریحام کے ساتھ تو فتح کا احساس ہے۔معلوم نہیں ایسا کیوں ہے؟نعیم الحق بتائیں گے یا چودھری غلام حسین اور عارف نظامی صاحب سے پوچھنا پڑے گا؟
عمران ایک عام آدمی نہیں۔مقبول ترین رہنما ہیں۔ایسے آدمی کی دوسری شادی ناکام ہو جائے تو ان کی شخصیت کا توازن سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔اور قیادت کے منصب پر فائز آدمی کے لیے توازن بہت ضروری ہوتا ہے۔لیڈر توازن قائم نہ رکھ سکتا ہو تو اس کی پالیسیاں قوم کو کسی بھی حادثے سے دوچار کر سکتی ہیں۔دھرنے کے دنوں میں بھی عمران خان کی شخصیت کا عدم توازن زیرِ بحث آتا رہا۔اور جوں جوں وقت گزر رہا ہے یہ عدم توازن نمایاں ہوتا جا رہاہے۔آپ کسی وقت عمران خان کی دھرنے کے دنوں کی تقاریر اکٹھی کریں اور ان کے دعووں کو لکھنا شروع کردیں۔دس منٹ کے بعد آپ دیوار سے ٹکریں مار رہے ہوں گے۔آج اہم اعلان کروں گا، کل اہم ترین اعلان کروں گا، پرسوں ایسا اعلان کروں گا کہ حکومت ہل جائے گی، دو بجے آ جاﺅ، آٹھ بجے جشن ہو گا۔۔۔۔اتنا شورو غوغا اور آ خر میں شانِ بے نیازی سے کہ دیا : پینتیش پنکچر والی بات تو محض ایک سیاسی بیان تھا۔افتخار چودھری کے خلاف روز محاذ سجایا،سپریم کورٹ نے طلب کیا تو معذرت کر لی، باہر آ کر پھر وہی الزام، یہاں تک کہ جوڈیشل کمیشن بن گیا، وہاں پیش تو ہوئے مگر افتخار چودھری کے خلاف ایک ثبوت نہ دے سکے۔یہ سب کیا تھا؟افتادِ طبع؟
عمران خان کے بارے میں یہ تاثر راسخ ہو چکا ہے کہ وہ رشتوں یا انسانی قدروں کو کوئی بہت زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔وہ یہ سمجھتے ہیں دنیا کا محور صرف ان کی ذات ہے۔سب لوگ اس لیے پیدا ہوئے ہیں کہ ان سے محبت کریں ، ضروری نہیں کہ وہ بھی کسی سے محبت کریں۔اسی نرگسیت کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے ایک کالم لکھا تھا:” عمران خان ۔۔۔ایک نفسیاتی مطالعہ“۔اس پر میرے ایک فاضل دوست نے گرہ لگائی تھی:” غیر متوازن کالم ۔۔دلیل اور توازن دونوں ہی سے ہاتھ دھو لیے گئے“۔وہ چاہیں تو اس کالم کو ایک بار پھر پڑھ لیں۔اب کی بار انہیں شاید وہ اتنا غیر متوازن نہ لگے۔

میڈیا کیلئے طلاق کے علاوہ اور بھی مسائل ہیں

uzair-column

دین اسلام میں طلاق ایک ایسا حلال لفظ ہے جس کو نا پسندیدہ ترین قرار دیا گیا ہے ، کسی کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کے کہ اگر کوئی اس مسئلے سے کوئی گرز رہا ہے تو کسی اور کو بھی اس مسئلے سے گزر نا پڑ سکتا ہے ، بقول شاعر دشمن مرے تے خوشیاں نہ کریے ،سجناں وی مر جانا ہے ،گزشتہ روز عمران خان اور ریحام کے حوالے سے پورے میڈیا میں ایک بھونچال بر پا تھا ، لگ رہا تھا کہ اس ملک میں کوئی اور مسئلہ ہی نہیں ، عمران خان اور ریحام کی طلاق کے علاوہ کوئی چیز بھی زیر بحث نہیں آئی ، حالانکہ آج بلدیاتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں اس طلاق کی خبر نے ان انتخابات کی خبروں کو بھی دبا کر رکھ دیا ، شادی اور طلاق قطعی طور پر کسی کا ذاتی یا نجی مسئلہ ہوتا ہے ، گو کہ یہ درست ہے کہ سیاست دان پبلک پراپرٹی بن جا تا ہے ، لیکن اگر کوئی اس بات کو نا پسند کر ے کہ اس کی پرائیویٹ زندگی کے مسائل کو اچھالا نہ جائے تو ایسی خبر سے پرہیز کرنا چاہیے ، جہاں تک ہمارے میڈیا کے تعلق ہے یہاں پر تو ایک عجیب و غریب قسم کی بھیڑ چال ہے ، بس الیکٹرانک میڈیا کے آنے کے بعد تو ایک خبر ہاتھ میں آنے کی دیر ہے پھر تو اس کا حال ”ادرک “کی طرح کیا جاتا ہے ، ماورا اس سے کہ ان سارے تجزیﺅں کے کیا نتائج نکلیں گے ، الیکٹرانک میڈیا میں تو بس نئی جہت چل پڑی ہے کہ اگر ڈھول بجانا ہے تو اس کو پیٹتے ہی جانا ہے ، کسی بھی نیوز چینل کے سکرین دیکھا جائے تو اس پر عمران اور ریحام خان کی طلاق کی مسئلہ زیر بحث تھا ، ایسا لگتا تھا عمران ریحام کا کم چینلز کا مسئلہ زیادہ تھا ، مگر یہاں پر وزیر اعظم نواز شریف نے فو ری طور پر ایکشن لیتے ہوئے ن لیگ کے کارکنان کو پابند کر دیا کہ وہ اس معاملے کے حوالے سے بیان بازی نہ کریں کیونکہ یہ عمران خان اور ریحام کا نجی معاملہ ہے ، وزیر اعظم کی دیکھا دیکھی آصف علی زرداری، بلاول بھٹو اور ایم کیو ایم نے بھی اس طلاق کے معاملے پر بیان داغنے پر پابندی عائد کر دی یہ ایک اچھا اقدام تھا ، تاہم کچھ سیاسی رہنماﺅں نے موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور دوسرے کے گھر میں لگی ہوئی آگ سے خوب ہاتھ گرم کئے ، کسی نے تیسری شادی کا مشورہ دیا ، تو کسی نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ کوئی بھی گزارہ نہیں کر سکتا ، چینلز نے عوامی تبصرے بھی نشر کرنا شروع کر دیئے ، بہرحال جب بھی کسی کے ساتھ ایسا وقوعہ پیش آئے تو اسے موضوع بحث بنانے سے پہلے لاکھ مرتبہ سوچ لینا چاہیے ، کیونکہ ایک طلاق سے دو زندگیاں نہیں بلکہ اگر ان کے بچے ہوں تو آنے والی نسلیں بھی تباہ ہو جاتی ہیں ، اب بات یہ ہے کہ ان دونوں میں نباہ کیوں ہوا یہ ایک طویل ڈسکشن ہے تاہم ایک بات واضح ہے کہ عمران خان تیسری شادی کریں گے ، یہ ان کا حق ہے اوراب کپتان کی زندگی میں ایک عام فہم اور سادہ لڑکی آئے گی اب یہ شادی 2016میں ہوتی یا 2017میں اس نے ہونا ہے ، مگر ہمارے خیال کے بعد یہ تیسری شادی یا تو 2018کے انتخابات کے قریب ہو گی یا پھر اس کے بعد ہو گی ، بہت زیادہ امکانات یہ ہیں کہ تیسری شادی قائم رہے گی ، طلاق کے مسئلے پر دیگر جماعتیں اگر سیاست چمکانے کی کوشش کریں تو اچھی روایت نہیں ہے ، کیونکہ عمران خان نے بھی کہا ہے کہ یہ لمحات میرے لیے، ریحام کیلئے اور دونوں کے اہلخانہ کیلئے تکلیف دے ہیں ، لہذا میں درخواست کرتا ہوں کہ اس نجی معاملے کو زیر بحث نہ لایا جائے ، جب کوئی شخص درخواست کرے تو پھر اس کو چھوڑ دینا چاہیے ہمارے معاشرے میں طلاق کا معاملہ دیکھا جائے تو بہت حساس نوعیت کا ہوتا ہے کیونکہ یہ طلاق دو سیلےبرٹیز کے مابین ہوئی ہے اس وجہ سے پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں حتیٰ کہ سوشل میڈیا میں خبر اہم ترین حیثیت اختیار کر گئی ہے ، زندگی کے یہ اپ اینڈ ڈاﺅن آتے رہتے ہیں ، ان سے سبق سیکھنے کی ضروت ہے ، کپتان کو چاہیے کے وہ اپنی آنے والی نجی اور سیاسی زندگی میں صبر و تحمل سے کام لیں اور کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے 100مرتبہ اسکے بارے میں سوچیں بار بار طلاق کا ہو جانا کوئی اچھا شگون نہیں پھر جب ایک ہائی پروفائل سیاستدا ن ہو وہ تو قوم کیلئے ایک رہنما ہوتا ہے ، عمران خان تو شروع ہی سے ایک سیلیبرٹی رہے کرکٹ کے زمانے میں بھی لوگ ان کی تقلید کرتے تھے اور جب سیاست میں آئے تو بھی وہ ایک شخصیت کی حیثیت سے متعارف ہوئے لہذا انہیں امیج برقرار رکھنے کیلئے اپنے مزاج کی قربانی دینا پڑے گی ، یہ لااوبالی مزاج نا صرف نجی زندگی کو تہہ و بالا کرتا رہے گا ، بلکہ سیاسی زندگی کو تو ختم ہی کر دے گا ، چونکہ آج بلدیاتی انتخابات ہیں عین موقع پر دونوں کی راہیں جدا ہونے کی جو خبریں سامنے آئی ہیں یقینی طور پر اس کے مثبت اثرات مرتب نہیں ہونگے ، لہذا اب عمران خان کو شادی کے معاملے میں انتخابات تک انتظار ہی کرنا چاہیے تاکہ وہ تمام تر توجہ سیاسی زندگی پر دے سکیں ، بڑے بزرگ کہتے کہ زبان فال ، قرآن فال ، کچھ عرصے سے قبل کپتان نے کہا تھا کہ اگر میری لائف پارٹنر مجھ سے دس لاکھ مجھ سے دس لاکھ کا ہینڈ بیگ مانگے تو میں اسے طلاق دے دوں گا ، بعض اوقات قبولیت کی گھڑی ہوتی لہذا بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے پہلے تولو پھر بولو کے اصول پر کپتان کو عمل کرنا ہو گا ،پھر ہی زندگی سکھ سے گزر سکے گی۔

دھرنا سیاست سے کچھ حاصل نہ ہوگا

uzair-column

این اے 122کے انتخابات ہوئے اس میں پاکستان تحریک انصاف اورن لیگ نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ۔ملکی تاریخ کا مہنگا ترین الیکشن ہوا۔آخرکار ہوا وہی جو ہونا تھا پی ٹی آئی کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا اور ن لیگ نے میدان مار لیا ۔اس حلقے کے انتخاب میںعمران خان کے تمام مطالبات تسلیم کرلیے گئے تھے اور کپتان نے کہا تھا کہ میں جو بھی نتیجہ نکلے گا اس کو قبول کروں گا۔مگر بھلا کوئی کیسے مانے کہ یوٹرن کا بادشاہ مستقل مزاجی دکھا سکتا ہے ۔گو کہ شکست نزدیک نزدیک ہوئی ڈھاک کے وہی تین پات نکلے کہ پی ٹی آئی نے شور مچانا شروع کردیا کہ دھاندلی ہوئی ہے ،دھاندلی ہوئی ہے،ثبوت اکٹھے کرنا شروع کردئیے ۔اب این اے 154میں دوبارہ انتخابات ہونے جارہے ہیں وہاں پر بھی یہ کہتے ہیں کہ جنون ”ن“ کو لے ڈوبے گا مگر شاید اس وقت کچھ اور فیصلے کرتا جارہا ہے ۔سپریم کورٹ بار کے انتخابات ہوئے اس میں عاصمہ جہانگیر گروپ کے صدر نے فتح حاصل کرلی اور حامد خان کا صدر شکست سے دوچار ہوگیا ۔یہ بھی ایک نوشتہ دیوار ہے اب بلدیاتی انتخابات آرہے ہیں ان انتخابات میں بھی عمران خان نے کہا ہے کہ اس بار پنجاب میں ہماری باری ہوگی ۔لہذا دھاندلی سے بچنے کیلئے پولنگ اسٹیشنوں میں فوج اوررینجرز کو تعینات کیا جائے ۔سول انتظامیہ نے فوج کو طلب کرلیا ہے مگر یہ بات واضح ہے کہ ضابطہ اخلاق پر عمل کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔عمران خان بس ایک رٹ پر قائم ہیں کہ میں نہ مانوں،میںنہ مانوں ۔خدارا اب مان جائیں اگر حلقہ این اے 122میں فتح یاب ہوجاتے تو پھر شاید ان کا سیاسی گراف بلندہوجاتا لیکن اس وقت وزیراعظم نوازشریف کی سیاسی حکمت عملی بہترین جارہی ہے ۔جیت چاہے ایک ووٹ سے ہو یا ایک لاکھ ووٹ سے ۔وہ جیت جیت ہوتی ہے ۔کپتان کویہ جان لینا چاہیے کہ یہ کوئی پاک بھارت میچ نہیں یہ سیاست کا میدان ہے ۔بھارت کیخلاف میچ میں پوری قوم کی دعائیں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوتی ہیں اوراس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ فتح یاب کرتا ہے مگر جب سیاسی میدان میں سیاسی کھلاڑی اترتا ہے تو قوم تمام تر معاملات دیکھ رہی ہوتی ہے کہ گذشتہ عرصے میں کس کس نے قوم کیلئے کیا کیا کِیا ۔خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے وہاں پر ابھی تک تو دودھ کی دودھ کی نہریں نہ بہہ سکیں ۔اب کپتان کی نظر پنجاب پر ہے اور کہہ رہے ہیں کہ پنجاب میں بھی اب ہماری باری ہے پھر تو یہ کوئی ملک اور قوم کے مفاد کی سیاست نہ ہوئی یہ تو باریوں کی سیاست ہے ۔تو مسٹر کپتان آپ بھی باری لگا کر چلے جائیں گے ۔اس قوم کا کیا ہوگا۔ہاں اگر البتہ پی ٹی آئی مستقل مزاجی کی سیاست کرتی رہتی تو پھر شاید کچھ اورنتائج برآمد ہوتے ۔کبھی ڈرون حملوں کیخلاف دھرنے ،کبھی حکومت کیخلاف دھرنا ،کبھی آئی جی کیخلاف دھرنے کی دھمکی،شاید ایک وقت یہ آجائیگا کہ کپتان صاحب کہیں گے کہ میں ایک کلرک کیخلاف بھی دھرنا دوں گا تو عمران صاحب عوام کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ لمحے لمحے پر دھرنا دے ۔اس وقت دو وقت کی روٹی کیلئے قوم تگ ودو کررہی ہے پھر سڑکوں پر کیونکر نکل سکے گی اور پی ٹی آئی کا تو اب یہ وطیرہ ہی ہوگیا ہے کہ اگر کوئی چھینک بھی مار لے تو اس کیخلاف دھرنے کی کال دے دیتی ہے ۔دھرنا نہ ہوا کھیل ہوگیا ۔اب دھرنا سیاست کا وقت گزرچکا ہے ۔اگر کچھ کرنا ہے تو وہ تعمیری کریں یہ بات تو طے شدہ ہے کہ حکومت نے اپنا مقررہ وقت پورا کرنا ہے اس کو تو کپتان نے بھی تسلیم کرلیاہے ۔ایک نجی ٹی وی کے انٹرویو کے دوران انہوںنے کہا کہ لگتا ہے کہ اب انتخابات 2018ءمیں ہی ہونگے تو خدارا ملک میں امن رہنے دیں ۔دھرنے دے کر حالات کو خراب نہ کریں ۔خرافات والی سیاست سے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔تعمیری کام کریں حکومت کو بھی دیکھیں کہ اس نے جو وعدے وعید کیے ہیں وہ کس حد تک پورے کرتی ہے اگر آپ اسی طرح دھرنے دے کر رکاوٹیں ڈالتے رہے تو حکومت کے پاس واضح جواز ہوگا کہ پی ٹی آئی نے ہمیں تعمیری کام کرنے ہی نہیں دئیے جس طرح کہ اس نے چین کے صدر کا دورہ منسوخ کرایا اسی طرح اور معاملات میں بھی رخنہ اندازیاں کرتی رہی لہذا عمران صاحب آپ کے پی کے پر توجہ دیں اور صبر سے کام لیتے ہوئے تیل دیکھیں اور تیل کی دھار دیکھیں ۔آپ ابھی فی الحال اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ن لیگ کا مقابلہ کرسکیں ۔این اے 122میں پوزیشن آپ نے دیکھ لی اب لودھراں کے بھی نتائج زیادہ دور نہیں بہر حال یہ ضرور کہنا چاہیے کہ مقابلہ دل ناتواں نے خوب کیا ۔کرتے رہنا چاہیے یہی جمہوریت کا حسن ہے ۔مگر تنقید کریں تو برائے تنقید نہیں برائے تعمیر ہونی چاہیے ملک اور قوم کے مفاد کو ملحو ظ خاطر رکھیں ۔باریوں والا کھیل ختم ہوجانا چاہیے ۔عوام بہتر فیصلہ ساز ہے اس کو پتہ ہے کہ کون اس کیلئے کیا کررہا ہے اور وقت آنے پر وہ بہتر فیصلہ دیدی گی اس کا انتظار کریں اگر جمہوریت ایک صحیح پٹڑی پر گامزن ہوہی چکی ہے تو اس کو چلنے دیں ۔رکاوٹیں ڈالنے سے کسی سیاسی جماعت کا نہیں حکومت کا نقصان ہوگا۔حالات تقاضا کررہے ہیں کہ سب ایک ہوجائیں ۔اقتصادی راہداری پوری ہوجائے ،لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے ،روزگار کے مواقع نکلیں یہ سب کچھ ایک ہی صورت میں ہوسکتا ہے کہ دھرنا پروگرام ختم کردیا جائے ۔

نیویارک میں ایم کیو ایم کا احتجاج، مقاصد کیا تھے

ایک ایسے ماحول میںجب پاکستان کو مشرقی اور مغربی سرحدوں پر بھارتی سازشوں کا مقابلہ کرنا پڑرہا ہے اوربین الاقوامی سطح پر ملکی ساکھ کی بحالی کیلئے ایک مشکل سفارتی جنگ درپیش ہے، اپنے ہی ملک کے خلاف کسی سازشی سرگرمی کا حصہ بننا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شجرسایہ دارکو اپنے ہی ہاتھوں کاٹنے کی حرکت کرے۔شجرسایہ دار کوکاٹنے کی ایسی ایک حرکت متحدہ قومی موومنٹ نے گزشتہ دنوں اس وقت کی جب وزیراعظم پاکستان وائٹ ہاﺅس میں صدر اوبامہ کے ساتھ نہایت اہم ملاقات کررہے تھے ۔ وائٹ ہاﺅس کے اندر وزیراعظم نواز شریف بھارتی سازشوں سے امریکی صدر کو آگاہ کررہے تھے تو باہر ایم کیو ایم بھارتی لابی کا آلہ کاربن کر وزیراعظم اور پاکستان کے خلاف نعرہ زن تھی ۔ قبل ازیں متحدہ کے اہم رہنما فاروق ستار نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام سے خصوصی ملاقات کرکے کراچی آپریشن پرشکایات کے انبار لگا دیئے۔ فاروق نے حکام کو بتایا کہ کراچی کی صورتحال انتہائی خطرناک ہے اگر اس وقت کوئی قدم نہ اٹھایا گیا تو یہ کسی بھی وقت بے قابو ہوسکتی ہے۔فاروق ستار سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے ملاقات کے بعد پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے سامنے بھی کراچی کا رونا دھونا کرتے رہے۔انہوں نے بتایا کہ غیر منصفانہ آپریشن سے کراچی میں امن قائم نہیںہوگا۔ فاروق ستار نے اسی انٹرویو میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہم پرامن محب وطن شہری ہیں جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں لیکن ایک ہفتے بعد دیار غیر میں اپنی حب الوطنی کا عملی مظاہرہ وزیراعظم پاکستان کے خلاف مظاہرہ کرکے کیا ۔ ایم کیو ایم نے بیچ چوراہے اپنے میلے کپڑے دھونے کی روایت برقرار رکھی اور حب الوطنی کے اپنے دعوﺅںکی نفی کی ۔ مٹھی بھر مانگے تانگے کے مظاہرین عالمی توجہ تو حاصل نہ کرسکے تاہم آمدہ اطلاعات یہ ہیں کہ اس مظاہرے کیلئے بھارتی سفارتکاروں نے بھرپور محنت کی۔مظاہرے میںجہاں بھارتی پشت پناہی واضح نظر آرہی تھی وہاں کئی بھارتی نژاد شہری بھی نمایاں طورپر دکھائی دئیے۔میڈیا نے جب مظاہرین سے کراچی کے بارے میں استفسار کیا تو وہ بغلیںجھانکنے لگے۔مظاہرے میںموجودخواتین کے ماتھے پر تلک کے نشان پس پردہ کرداروں کی چغلی کھارہے تھے ۔ ایک پاکستانی رپورٹرکے مطابق ماتھے پر تلک کا نشان سجائے خواتین کی جب تصاویر لینے کی کوشش کی جاتی تو وہ بینروں کے پیچھے چہرہ چھپالیتیں تھیں۔ ایم کیو ایم کا یہ مظاہرہ اس کے ڈبل سٹینڈر کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔بیرون ملک متحدہ نے جس ایشو پر وزیراعظم پاکستان کے خلاف احتجاج کیا ۔ اسی ایشو پر گزشتہ ہفتے ہی مرکزی حکومت کے ساتھ ایک مفاہمتی معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت ایک پانچ رکنی شکایت ازالہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ کراچی میں آپریشن شروع ہونے کے بعد ایم کیو ایم کا کچا چٹھا کھلنے لگا تو اسکے ممبران قومی اسمبلی نے احتجاجاً استعفے دے دئیے ۔ گزشتہ دوتین ماہ سے حکومت انہیں اسمبلی میںواپس لانے کیلئے بات چیت کررہی تھی ،طویل بات چیت کے بعد ایک ازالہ کمیٹی بنائی گئی۔ متحدہ کے مطالبے پر تشکیل پانے والی کمیٹی کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوچکا ہے جس کے ارکان میں جسٹس(ر) ناصر اسلم زاہد،جسٹس (ر)خلیل الرحمن اور جسٹس(ر) اجمل میاں شامل ہیں۔ ایم کیو ایم کی طرف سے فروغ نسیم ایڈووکیٹ جبکہ حکومت کی طرف سے وفاقی سیکرٹری داخلہ کمیٹی کے رکن ہیں۔ اتنی بڑی پیش رفت کے باوجود متحدہ نے اپنی خواہش پر بنائی گئی کمیٹی میں جانے کی بجائے اپنے محسنین کی خوشنودی کوترجیح دی۔ ایم کیوایم کی طرف سے یہ کوئی پہلی بار عہد شکنی نہیںہوئی ہے اور نہ ہی پہلی باربیرون دنیا تماشہ لگایا گیا ہے۔ قبل ازیں کئی باراپنے مربیوں کو اعلانیہ مدد کے لئے پکارا گیا۔چند ماہ قبل متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ایم کیو ایم امریکا چیپٹر کے 19ویں سالانہ کنونشن سے خطاب کے دوارن کہا تھا کہ کارکن اقوام متحدہ اور نیٹو ہیڈ کوارٹرز جا کر ان سے کراچی میں فوج بھیجنے کا کہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کس نے قتل عام کیا اور کون کون اس کا ذمہ دار تھا۔انہوںنے یہ بھی کہا کہ جب پاکستان سمیت دنیا بھر کے کارکنان گرین سگنل دیں تو وہ پھر باقاعدہ مطالبہ کریں گے کہ مہاجروں کے لئے الگ صوبہ بنایاجائے۔اسی خطاب میںالطاف حسین نے کہاکہ انہوں نے مسلح افواج کو سلام اور سیلوٹ پیش کر کے بڑی غلطی کی تھی۔ ہندوستان کوبزدل اور ڈرپوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسمیں غیرت ہوتی تو پاکستان کی سرزمین پر مہاجروں کا خون نہیں ہونے دیتا۔انہوں نے یہ پھل جھڑی بھی چھوڑی کہ دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں آر ہی ہیں، گریٹر بلوچستان بنے گا، گریٹر پختونستان بھی بنے گا اور گریٹر پنجاب بھی ہو گا جس کا ہیڈ کوارٹر کراچی ہوگا۔ الطاف حسین نے 12 جولائی کو اسی طرح کے ایک خطاب میں رینجرز کو سیاسی جماعت قرار دیتے ہوئے آرمی چیف سے مطالبہ کیا تھا کہ فوج کے ”اندے انڈوں“کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ جب الطاف حسین نے فوج پر تنقید کا معمول بنا لیا تو پھر ملک بھر میں انکے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج ہونے لگے۔ اسی طرح جب رواں سال مارچ میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز نے چھاپہ مار کر نیٹو کا اسلحہ برآمد کیا تو الطاف حسین بھڑک اُٹھے تھے اور رینجرز کے افسران کو دھمکی دی تھی کہ وہ” ہیں اور اب تھے ہو جائیں گے“۔
الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی جانب سے پاکستان کے اندرونی سیاسی و انتظامی معاملات میں بیرونی مداخلت کےلئے فرضی اعداد و شمار کے ذریعے ڈِس انفارمیشن کو ہوا دیتے ہوئے مغربی ممالک بشمول بھارتی اداروں کو خطوط لکھنے کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ اِسی سلسلے میں ایک خط اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کو بھی بھیجا گیا ۔ الطاف حسین یہ بھی کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کےساتھ کی جانے والی زیادتیوںکےخلاف شواہد لےکر اقوام متحدہ میں جائینگے مگریہ کوشش انکی جماعت گزشتہ ماہ یواین او کے سالانہ اجلاس کے موقع پر کرچکی ہے ۔وہاں شنوائی نہ ہوئی تواب نیوےارک میں اپنی نام نہاد حب الوطنی کا مظاہرہ کیا ہے، اگر ایم کیوایم کے پاس معتبر شواہد ہیں تو بیچ چوراہے شور مچانے کی بجائے عدالت عظمیٰ کے دروازے پر دستک دی جائے ےا جو ازالہ کمیٹی تشکیل دی ہے اس میں جائیں ،انہیں کس نے روکا ہے۔یہاں دوسری طرف سیاسی جماعتوں اور حکومتوں نے الطاف حسین کے مذموم عزائم کو نہ کبھی سمجھا اور نہ کبھی سمجھنے کی کوشش کی۔الطاف حسین اور ا±نکے حواریوں کیخلاف سینکڑوں مقدمے درج ہونے کے باوجود مصلحت سے کام لیا گیا،جس سے ایم کیوایم کے پس پردہ عزائم پرگرد جمی رہی ۔اب کی بار ایک بار پھر مسلم لیگ نون کی حکومت نے ملکی وقار کو پس پشت ڈالتے ہوئے استعفوں کے معاملے میں ایم کیوایم کے ساتھ سیاسی مصلحت کا مظاہرہ کیا ہے مگر وہ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ” جس کی فطرت میں ہو ڈسنا وہ ڈسا کرتے ہیں“ کے مصداق وزیراعظم کے دورہ نیورےاک کے موقع پر ایم کیوایم نے اپنی فطر ت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔اس مظاہرے کی تفصیل جیسے کہ اوپرلکھا گیا ہے کہ بھارتی لابی نے کس طرح وزیراعظم کے اس دورے کو ناکام بنانے کی کوشش کی۔بھارت لابی نے صرف متحدہ کی پشت پناہی نہیں کی،ایک نام نہاد بلوچ کو اکسایاگیا۔ جب وزیراعظم پاکستان ”یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس“ سے خطاب کر رہے تھے تواس دوران احمر مستی خان بلوچ نامی شخص نے نعرے بازی کرکے تقریب میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے نعرے بازی شروع کر دی اور ہاتھ میں پکڑا ہوا کتبہ لہرانے کی کوشش کی۔ تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے اسے باہر نکال دیا۔ مذکورہ شخص کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے اور دیگر لابیوں سے اس کے گہرے مراسم ہیںاور شعبہ صحافت سے وابستہ ہے۔ اس طرح کی بھونڈی کوششوں سے چہرے ہی بے نقاب ہوتے ہیں پاکستان کا کچھ نہیں ہونا یہ قائم رہنے کے لئے بنا ہے ۔ایم کیو ایم کے احتجاج کی کڑیاں ملائی جائیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کھیل کے پیچھے بھارت اورامریکہ کا گٹھ جوڑ ہے جو ایم کیوایم کا کندھا استعمال کررہے ہیں۔

بھارت کا کشمیر پر68سالہ غاصبانہ قبضہ

جب ہندوستان کی تقسیم اور پاکستا ن کا قیام یقینی ہو گیا تو کانگریس اور مہاراجہ ہری سنگھ کو ریاست جموں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا خدشہ لاحق ہوگیا۔ریاست کشمیر کو ہاتھوں سے نکلنے سے بچانے کے لئے مہاراجہ نے ایک طرف پاکستان سے معاہدہ کیا اور دوسری طرف ریاست جموں کشمیرمیںبڑے پیمانے پر مسلمانوں کے قتل عام کی تیاریاں کی جانے لگیں۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنا اسلحہ چاہے وہ لائسنس یافتہ ہی کیوں نہ ہو بحق سرکار جمع کروادیں۔مہاراجہ کی ایما پر ہندو جنونی تنظیموںکے تقریباََ پچاس ہزار رضاکار ریاست پہنچے جنہوںنے جموں کو اپنا ہیڈکورٹر بناکر پوری ریاست میں کارروائیاں شروع کر دیں۔ مہاراجہ کی فوج کے افسران بلوائیوں، قاتلوں اور حملہ آوروں کوہتھیار بنانے اورچلانے، مسلمانوں کے قتل عام ،عصمتوں کی آبروریزی ا ٓگ لگانے اور املاک لوٹنے کی تربیت دینے لگے۔یوں سکھ اور ہندو بلوائیوں نے ہزاروں مسلمانوں کو شہیدکیا ،مسجدیں جلادیں، گھر لوٹ لئے، عفت ماٰب خواتین کی عصمت دری کی اوربچے ذبح کئے۔ دوسری طرف 27اکتوبر کو انگریز اور بھارتی فوج کا ریاست پر بھر پور حملہ تھا۔گویا مسلمانوں کے لئے دوہری افتاد تھی۔ وہ ریاست کے اندر محفوظ تھے اور نہ باہر ان کے لئے جائے پناہ تھی۔ڈوگرہ حکمران ہندو تھے ،اس لئے اسلام اور مسلمان دشمنی ان کی رگ رگ میں شامل تھی۔بھارت سرکار کی جانب سے اس کی فوج کی آمد کو اگرچہ مہاراجہ ہری سنگھ کی درخواست کے ساتھ جوڑا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت وہ آئینی طور پر ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے بے دخل ہوچکے تھے۔ لوگوں نے اس کے خلاف بغاوت کر رکھی تھی اور دوسرا یہ کہ ایک فردِ واحد کو کسی طرح بھی یہ حق نہیں پہنچتا تھا کہ وہ لاکھوں کشمیریوں کی تقدیر کا فیصلہ ان کی رائے جاننے کے بغیر ازخودکرتا اور ان کے حقِ خودارادیت کو کالعدم کرتا۔اس لئے بھارت کے اس فوجی قبضہ کا کوئی آئینی اور اخلاقی جواز نہیں تھا۔27 اکتوبر 1947 میں کئے جانے والے بھارتی فوجی قبضہ کے نتیجہ میں پانچ لاکھ سے زائد کشمیری شہید، ہزاروں خواتین بیوہ اور لاکھوں افراد زخمی و معذور ہو چکے ہیں۔اس دن کے بعد سے آج تک کشمیری عوام آٹھ لاکھ بھارتی فوج کے ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔ ان کی عزتیں، جانیں اور املاک کچھ محفوظ نہیں ہے۔ آئے دن نہتے کشمیریوں پر مظالم کی نئی داستانیں رقم کی جارہی ہیں۔ 67 برس گزر چکے مگرغاصب بھارتی فوج کے ظلم و دہشت گردی میں ذرہ بھر کمی نہیں آئی۔بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قراردیتا ہے مگر کشمیریوں کیلئے وہ ایک ایسے جارح ملک کی حیثیت رکھتا ہے جس نے فوجی قوت کے بل بوتے پر کشمیریوں کے حقوق سلب کر رکھے ہیں اور انہیں آزادی سے جینے کا حق نہیں دیا جارہا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ تقسیم ہند کے وقت اس بات کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کا حصہ بنیں گے۔ اس طرح کشمیر جس کی واضح اکثریت مسلمانوں کی تھی ‘ اسے پاکستان میں شامل ہوتا تھامگر بھارت نے انگریز کی ملی بھگت سے اس پر فوجی قبضہ کیا بعد ازاں جب قائداعظم کے کہنے پر جنرل گریسی نے بھارتی فو ج کا غاصبانہ قبضہ ختم کیلئے پاکستانی فوج بھیجنے سے انکار کیاتو مولانا فضل الہٰی وزیر آبادی کی قیادت میں پاکستان کے قبائل اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے مجاہدین کی بڑی تعداد نے کشمیرکار خ کرنا شروع کیا۔ اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کیلئے وہاں پہنچے ، قربانیوں و شہادتوں کی نئی تاریخ رقم کی گئی اور وہ سری نگر تک پہنچ چکے تھے کہ نہرو بھاگا ہوا اس مسئلہ کو اقوام متحدہ لے گیا اور دہائیاں دیں کہ کسی طرح ان مجاہدین کو روکا جائے وگرنہ ان کے بڑھتے ہوئے قدوںکو روکنا مشکل ہو گا اور یہ کشمیر کے بعد بھارت کیلئے سخت خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔یوں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 21 اپریل 1948 میں کشمیر کے حوالے سے ایک تاریخی قرارداد منظور کی جس میںکشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا اورواضح طور پر کہا گیا کہ کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دیا جائے گا۔ وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کریں گے کہ انہوںنے پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا بھارت کے ساتھ۔یہ قرارداد پاس کر کے کشمیری و پاکستانی قوم سمیت پوری دنیا کو دھوکہ دیا گیا اورپھر لیاقت علی خاں کے کہنے پر مجاہدین کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے جس پر نہرو نے خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے یہ معاہدہ کر کے بھارت کو بچالیا ہے۔سزا و جفا کا یہ سلسلہ 67سال سے جاری ہے۔ اس کے باوجود اہل کشمیر کی پاکستان کے ساتھ محبت میں کمی واقع نہیں ہوئی اس لئے کہ اس محبت کی بنیاد دنیوی اغراض ومفادات پر نہیں بلکہ دین اسلام پر ہے۔کشمیری عوام بھارتی عزائم کی راہ میں چٹان بنے کھڑے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگارہے ہیں۔پاکستانی پرچم لہرارہے ہیں۔ سینوں پر گولیاں کھا رہے اور عہد وفا نبھا رہے ہیں۔ان اہل وفا کی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ اب مقبوضہ جموں کشمیر کی ہائی کورٹ نے بھی فیصلہ دے دیا ہے کہ ریاست بھارت میں ضم نہیں ہوئی تھی۔

اعمال پر توجہ دینے کی ضرورت

uzair-column

8اکتوبر 2005ءکا دن قیامت صغریٰ لے کر نمودار ہوا ۔اس دن ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے ۔پورے کے پورے خاندان موت کی وادی میں چلے گئے ۔مظفرآباد میں بہت زیادہ تباہی ہوئی ،راقم کو اچھی طرح یاد ہے کہ زلزلے کے دوسرے روز جب امدادی سامان لیکر وہاں پر پہنچا تو ایک نفسا نفسی کاعالم تھا ۔قیامت کا منظر آنکھوں کے سامنے تھے ۔نہ کھانے کیلئے کچھ تھا ،نہ پینے کیلئے ،جس گھر کا دروازہ کھٹکھٹاﺅ تو وہاں پر دو چار ،دوچار لوگ زلزلے کی نظر ہوچکے تھے ۔شہر ایک قبرستان کا منظر پیش کررہا تھا ۔اس سانحے کو آج تقریباً دس سال ہوچکے ہیں ۔اس دوران اگر دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہم نے کیا کھویا اورکیا پایا ۔2005ءمیں زلزلے کی صورت میں جو نقصان برداشت کیا ۔جانی نقصان کا تو خیر کوئی متبادل ہی نہیں ،مالی نقصان کے بعد بھی آج تک ہم نے کچھ نہ سیکھا ۔غیرممالک نے مدد کی ،ان میں سعودی عرب پیش پیش رہا جو آج تک وہاں پر متاثرین کی بحالی کیلئے دن رات کوشاں ہے ۔تعلیمی میدان میں اس نے سکول بنوا کر دئیے ۔کتابیں تقسیم کیں ،ہسپتال قائم کیے ،ہم نے کیا کیا ۔دیکھنے اورسوچنے کی بات تو یہ ہے کہ آج دس سال گزرنے کے بعد بھی ہم وہاں کے وہاں ہی کھڑے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ زلزلہ ایک قدرتی آفات میں سے آفت ہے ۔اس کا قبل از وقت کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کب ،کس وقت اور کہاں پر آئیگا لیکن ایک بات تو بالکل طے شدہ ہے کہ جب انسان کے اعمال خراب ہوجائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ آفات نازل ہوتی ہیں ۔آج ہر شخص کو اپنے گریبان میںجھانک کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ اللہ اوراس کے رسولﷺ کے احکامات پر کارفرما ہے اوراگر نہیں ہے توپھر وقت تقاضا کررہا ہے کہ ہر مسلمان کو اپنی زندگی قرآن اورسنت کے مطابق گزارنا ہوگی ۔یہ ضروری نہیں کہ جب زلزلہ آئے تب ہی ہر شخص کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھر سے باہر نکل آئے ۔کیا اس کو یقین ہے کہ گھر سے باہر نکل کر وہ زندہ بچ جائیگا ۔موت تو ایسی چیز ہے کہ جو کہیں بھی جائے اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی ۔اس نے ہر جگہ پہنچنا ہے ہاں البتہ زندگی بچانے کیلئے اقدامات کرنا بہت ضروری ہے ۔گذشتہ روز جو زلزلہ آیا وہ پاکستان کی تاریخ ایک خطرناک ترین زلزلہ تھا ۔محکمہ موسمیات کے مطابق ابھی اس کے آفٹرشاکس کی بھی پشین گوئی کی گئی ہے جبکہ کراچی میں سونامی کے پیدا ہونے کے بھی پشین گوئی کردی گئی ہے ۔اگرخدانخواستہ دوبارہ آفٹرشاکس آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے عذاب سے محفوظ رکھے ۔اس کے بہت خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔جیسے ہی زلزلہ آیا آرمی چیف نے فوری طور پر امدادی کاموں کیلئے احکامات صادر کردئیے جبکہ وزیراعظم نوازشریف نے بھی لندن کا دورہ مختصر کردیا ۔ہونا تویہ چاہیے کہ حکومت اس طرح کی پالیسی اپنائے کہ اگر خدانخواستہ کوئی ناگہانی آفت آجاتی ہے تو اس سے نمٹنے کیلئے ہنگامی بنیادوںپر انتظامات ہونے چاہئیں ۔اس زلزلے سے قبل ناران،کاغان میں برفباری اوربرفانی تودوں کی وجہ سے سیاح پھنس گئے تھے جس کا حکومت نے نوٹس لیا اوراب اس زلزلے کے بعد مزید برفانی تودے راستے میں آن گرے ہیں جس کی وجہ سے اس علاقے کا دیگر ملک کے حصوں سے رابطہ کٹ چکا ہے ۔تاہم وہاں پرامدادی سرگرمیاں جاری ہیں ۔آخر کار یہ آئے دن آفات کیوں آتی رہتی ہیں ۔اس بارے میں ہمیں بیٹھ کر سوچنے کی ضرورت ہے ۔آخر ہم ایسے کون سے اعمال کررہے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند فرماتا ہے ۔چونکہ یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور محسوس یوں ہورہا ہے کہ ہم سب نے یہاں پر ہمیشہ کیلئے دل لگا لیا ہے ۔جبکہ اس گزرگاہ سے ہر ایک نے ایک نہ ایک دن چلے ہی جانا ہے بس فرق اتنا ہے کہ کوئی پہلے چلا گیا تو کوئی بعد میں مگر حالت یہ ہے کہ زمین پر رہنے والے بونے ناخداﺅں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ شاید وہ قیامت کی بوریاں سمیٹ کر آئے ہیں لہذا وہ جس کی مرضی چاہیں حق تلفی کرلیں ،جس پر مرضی ہے جتنا ظلم ڈھالیں ۔کسی کا حق چھین لیں ،مگر شاید ان کو یہ علم نہیں کہ جس دن روز جزا اورسزا کا دن ہوگا یہی حق تلفیاں ان کی گردنوں میں طوق بن کر لٹک رہی ہوں گی ۔اس دن تو ہر شخص ایک ایک نیکی کو ترسے گا ،نہ ماں بیٹے کی ہوگی،نہ بیٹا ماں کا ہوگا ،نہ بھائی بہن کا ہوگا ،نہ بہن بھائی کی ہوگی ،نہ باپ بیٹے کا ہوگا،نہ بیٹا باپ کا ہوگا ۔اگر کوئی کسی سے کوئی ایک نیکی بھی مانگے گا تو وہ اسے نہیںدے گا۔مگر اے بے خبر انسان اس دنیا میں رہتے ہوئے ابھی تیرے پاس بہت سا وقت ہے ۔حقداروں کا حق مارنے کے بجائے ان کو ان کا حق دیا جائے ،راہ چلنے نیکیاں کی جائیں ،اللہ اوراس کے رسول پاکﷺ کو راضی رکھا جائے ۔جب اللہ تعالیٰ پانچ وقت پکارتا ہے کہ آﺅ بھلائی کی طرف،آﺅ بھلائی کی طرف مگر ہم اتنے بدقسمت مسلمان ہیں کہ ان دنیاوی دھندوں میں پھنسے رہتے ہیں ،دنیاوی ناخداﺅں کو راضی کرنے کے چکر میں مصروف رہتے ہیں یہ نہیں جانتے ہیں کہ جو اصل رازق ہے اس کے احکامات پر عمل نہیں کررہے جب ایسی صورتحال ہوگی تو پھر یقینی طور پر ایسی آفات تو نازل ہونگی ۔

وزیر اعظم کا دورہِ امریکہ اور ہمارے ’ اہلِ دانش‘

Asif-Mehmood

وزیرِ اعظم کے دورہِ امریکہ پر اردو صحافت میں، اِ لّا ماشا ءاللہ، جو کچھ لکھا اور بولاگیا اسے پڑھ اور سن کر اوّل خوف آیا ، پھر ایک سوال نے جنم لیا: نیم خواندہ سماج جن حضرات کے نام ’ صاحبِ دانش‘ کی تہمت دھرتا ہے ان کا علمی، فکری اور سماجی پس ِ منظر کیا ہے؟یہ سماج کب تک اس غیر سنجیدہ اور مضحکہ خیز ’ دانش‘ کے ہاتھوں یرغمال رہے گا؟
پاکستان کا وزیر ِ اعظم امریکہ کے دورے پر جا رہا تھا۔ایسے میں ایک طالبِ علم کے طور پر میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس دورے میں’ کامیابی‘ کی باٹم لائن کیا ہے؟امریکی صدر، ظاہر ہے کہ ،وزیر اعظم کے سامنے کچھ مطالبات رکھنے والے تھے، میں سمجھنا چاہتا تھا کہ وہ مطالبات کیا ہو سکتے ہیں اور کس حد تک انہیں مانا جا سکتا ہے؟کون سا امریکی مطالبہ وزیر اعظم کو نہیں ماننا چاہیے اور نہیں ماننا چاہیے تو انکار کس پیرائے میں ہونا چاہیے، واضح انکار ہونا چاہیے یا مبہم سی بات کر کے آگے بڑھ جانا چاہیے۔پاکستان کے پاس کھیلنے کو کوئی کارڈ موجود ہے کہ نہیں؟ کہنے کو کچھ بچا ہے یا نہیں؟ ہم امریکہ کو کیا دے سکتے ہیں اور کیا لے سکتے ہیں؟۔۔۔۔۔ان سوالات کی تفہیم کے لیے جب جب میڈیا سے رجوع کیا ، مایوسی ہوئی۔اہتمام کے ساتھ کی جانے والی گفتگو میں طنز، جگت بازی،تمسخر اور نفرت جیسے عوامل غالب نظر آئے۔احباب کسی سنجیدہ تجزیے کے ذوق ہی سے محروم نہیں پائے گئے،اہلیت بھی واضح طور پر سوال بنی کھڑی رہی۔زیادہ تر وقت ان سوالات پر صرف کیا گیا کہ وزیر اعظم کے ہاتھ میں چٹ کیوں تھی، انہوں نے اوباما جیسی ٹائی کہاں سے لی اور لینے میں انہیں کتنی مشکل پیش آ ئی ہو گی، ان کی باڈی لینگوئج کا مذاق اڑایا گیا، ایوب خان مرحوم کے حوالے دیے گئے کہ وہ کس شان بے نیازی سے امریکی صدر کا گال تھپتھپا رہے تھے اور نواز شریف کیسے مرعوب کھڑے پائے گئے،امریکی صدر کے دورہ بھارت کی ایک تصویر دکھائی گئی جس میں مودی انہیں خوش آمدید کہہ رہے ہیں اور کہا گیا دیکھ لیجیے مودی کو تو اوبامہ نے خود ریسیو کیا لیکن نواز شریف کو لینے معمولی سے اہلکار آ گئے،طنزیہ لہجوں نے گرہ لگائی : چھوڑیں جی یہ دورہ تو بس ’ فِل ان دی بلینک ‘ ہے اصل دورہ تو جنرل راحیل شریف کریں گے سب کچھ اسی میں طے ہو گا وزیر اعظم بے چارہ تو بس ایسے ہی فوٹو سیشن کروا رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔سوالات اور تجزیوں کا یہ معیار میرے جیسے طالب علم کے لیے باعثِ تشویش تھا۔سوچتا ہوں،تھوڑا ساذوقِ مطالعہ اور تزویراتی اور سفارتی امور سے کچھ آگہی ہوتی تو احباب کے سامنے سنجیدہ سوالات کا دفتر کھُلا ہوتا۔
کسی بھی ملک کا وزیر اعظم جب بیرونی دورے پر جاتا ہے تو اس کے ساتھ میزبان جو معاملہ کرتا ہے اس کا تعلق مہمان کے شخصی اوصاف سے نہیں ہوتا ۔میزبان ریاست یہ نہیں دیکھتی کہ مہمان کی وجاہت کا عالم کیا ہے، اسے انگریزی میں اظہارِ رائے پر کتنی دسترس ہے،اس کے ہاتھ میں چِٹ ہے یا نہیںبلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ مہمان کے ملک کی حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ ایک طاقتور معیشت، ایک متحرک سماج اور ایک تزویراتی اہمیت کی حامل مضبوط عسکری قوت ہے؟۔۔۔۔اب ہماری جو حالت ہے وہ کسی سے چھپی نہیں۔ہم بطور قوم زوال کا شکار ہیں۔دنیا نواز شریف کو اتنی ہی اہمیت دے گی جتنی اس کی نظر میں ہم سب کی بطور قوم اہمیت ہے۔یہ اہمیت ہماری توقعات سے کم ہے تو ہمیں اس کے اسباب پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔نواز شریف کا تمسخر اڑانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ہم اجتماعی زوال کا شکار ہیں۔اب دیکھ لیجیے اس ملک میں کتنے صاحبان ِ دانش ایک عالم کی رعونتیں اوڑھے ادارتی صفحات اور ٹی وی سکرینوں پر وعظ فرما رہے ہوتے ہیں۔دنیا جہان کے موضوعات پر یہ یدِ طولی رکھتے ہیں۔لیکن ہمارے ان عالی مرتبت کالم نگاروں اور اینکر پرسنوں میں سے کوئی ایک ہے جس کی بین الاقوامی سطح پر کوئی حیثیت ہو؟دنیا کے بڑے دانشوروں میں اس کا شمار ہو؟جو نام چامسکی، رابرٹ فسک وغیرہ کی صف میں نہ سہی ان سے بہت پیچھے کہیں صفِ نعلین میں بھی کھڑا نظر آتا ہو؟جس کی رائے کا بین الاقوامی علمی حلقوں میں کوئی اعتبار ہو؟کسی ایک نے کوئی ایسی کتاب لکھ ماری ہو جو دنیا کی جامعات میں ایک معتبر حوالہ تصورکی جاتی ہو؟یہ احباب کسی بین الاقوامی علمی مجالس میں جائیں تو ان کی اور نام چامسکی کی آﺅ بھگت میں اس سے کئی گنا زیادہ فرق ہو گا جتنا فرق عالمی فورمز پر پاکستان کے وزیر اعظم اور چین کے وزیر اعظم کی آﺅ بھگت میں ہو تا ہے۔لہذا اس حوالے سے وزیر اعظم پر تنقید کا دلیل کی دنیا میں کوئی اعتبار نہیں۔
ہمارے وزیر اعظم پر دنیا جو سوال اٹھاتی ہے ، کیا وہ نواز شریف کا نامہِ اعمال ہے؟دنیا شعوری طور پر عسکریت کی ہر نجی شکل کی نفی کر رہی ہے۔ایسے میں لشکرِ طیبہ یا کچھ اور سوالات اٹھتے ہیں تو اس میں نواز شریف کا کیا قصور؟محض جگتیں مار کر ریٹنگ حاصل کرنا مقصود ہے تو لگے رہیے لیکن اگر سنجیدگی کی کوئی رمق باقی ہے تو پھر ہمیں بطور قوم اس الجھن کا حل نکالنا ہے کہ ہمیں دنیا کو کیسے مطمئن کرنا ہے۔کیا ہماری ماضی کی پرائیویٹ جہاد کی پالیسی ٹھیک تھی؟ کیا ہمیں مکمل طور پر اس سے رجوع کرنا ہے یا اس کی باقیات کو کسی نہ کسی شکل میں برقرار رکھنا ہے؟کیا ہم اس کو کسی شکل میں بر قرار رکھ کر دنیا کے ساتھ چل سکیں گے؟عالمی برادری کے تحفظات کو کیا ہم مکمل طور پر نظر انداز کرنے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟وزیر اعظم سے جب حقانی گروپ یا لشکر کا سوال اٹھے تو انہیں کیا کہنا چاہیے؟۔۔۔اور یہ کہ کیا اس باب میں ہمارا وزیر اعظم کوئی فیصلہ کرنا چاہے تو کر بھی سکتا ہے ؟۔۔۔۔اس طرح کے ڈھیروں سوالات ہماری توجہ کے طالب ہیں لیکن یہاں ’ دانش دانوں ‘ کی سوئی نواز شریف کے ہاتھ میں پکڑی ایک چٹ پر اٹک گئی ہے۔پرویز مشرف کے ہاتھ میں تو کوئی چٹ نہیں ہوتی تھی، وہ تو فر فر بولا کرتے تھے۔لیکن ان کی خارجہ پالیسی نے اس ملک کو کیا دیا؟ہاتھ میں پکڑی چٹ اتنی اہم نہیں ہوتی ، دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ آخری تجزیے میں آپ نے کیا کھویا کیا پایا۔وزیر اعظم کے دورے سے پہلے واشنگٹن پوسٹ اور نیو یارک ٹائم میں اہتمام سے ہماری ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے سوال اٹھا کر ایک ماحول بنایا گیاتا کہ پاکستان پہلے ہی سے دفاعی پوزیشن میں آ جائے۔لیکن ہوا کیا؟وزیر اعظم کے دورے سے پہلے ہی آپ کے ترجمان میں امریکہ میں باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے یہ اعلان کر دیا کہ بھارت کی کولڈ سٹارٹ پالیسی کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان نے چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنا لیے ہیں۔یہ بات پاکستان نے پہلی دفعہ کہی اور وہ بھی امریکی سرزمین پر کھڑے ہو کر۔پاکستان میں ایک شور مچا تھا کہ نواز شریف تو ایٹمی پالیسی کا سودا کرنے والے ہیں۔حیرت ہے بھٹو سے لے کر نواز شریف تک ہمارے ’ اہلِ دانش‘ کسی منتخب وزیر اعظم کی حب الوطنی کا اعتبار کرنے کو تیار ہی نہیں۔سوال وہی ہے: نیم خواندہ سماج جن حضرات کے نام ’ صاحبِ دانش‘ کی تہمت دھرتا ہے ان کا علمی، فکری اور سماجی پس ِ منظر کیا ہے؟یہ سماج کب تک اس غیر سنجیدہ اور مضحکہ خیز ’ دانش‘ کے ہاتھوں یرغمال رہے گا؟

شیعہ اور سنی میں جھگڑا کس بات کا ہے؟

Asif-Mehmood

شیعہ اور سنی میں جھگڑا کس بات کا ہے؟لہو رنگ زمینی حقیقتوں کے باوجود میرے پیش نظر چند دنوں سے یہی ایک سوال ہے۔
میں شیعہ نہیں ہوں ۔اللہ نے مجھے دو بیٹیوں کی نعمت کے بعد بیٹے سے نوازا تو میں نے اسکا نام علی رکھا۔ہمارے گھر میں آنے والا پہلا ننھا وجود میری بھتیجی کا تھا ، اس کا نام فاطمہ ہے۔میری چھوٹی بہن کے خاوند کا نام حسن ہے۔اپنے خاندان میں ادھر ادھر نظر دوڑاﺅں تو شبیر، عباس ،حسن اور حسین کے ناموں کی ایک مالا سی پروئی نظر آتی ہے۔حسینؓ کا ذکر آئے تو دل محبت اور آنکھیں عقیدت سے بھر جاتی ہیں۔میری پہلی کتاب شائع ہوئی تو اس کا انتساب میں نے ’اپنے آئیڈیلزسیدنا عمرؓ اور سیدناحسینؓ ‘ کے نام کیا ۔یہ کتاب سی ٹی بی ٹی پر تھی اس کے صفحہِ اوُل پر میں نے یہ شعر لکھوایا:
”جب بھی کبھی ضمیر کا سودا ہو دوستو
قائم رہو حسین ؓ کے انکار کی طرح“
میری شریکِ حیات کا تعلق اعوان قبیلے سے ہے ۔وہ بھی شیعہ نہیں لیکن ان کے ہاں یہ روایت ایک فخر کے ساتھ بیان کی جاتی ہے کہ ان کی نسبت سیدنا علیؓ سے جا ملتی ہے۔خواجہ معین الدین چشتی نے کس وارفتگی سے کہا تھا:” حقاکہ بنائے لا الٰہ است حسین“۔والہانہ پن تو دیکھیے اقبال کہتے ہیں:
” اسلام کے دامن میںاور اس کے سوا کیا ہے
اک ضرب ید اللہی ،  اک سجدہِ شبیری“

۔مجھے بچپن کے وہ دن آج بھی یاد ہیں جب ہم سب مسجد میں اہتمام سے جایا کرتے تھے جہاں ہمارے خاندان کے قابل قدر بزرگ پرپروفیسر صفدر علی واقعہ کربلا سناتے ، نہ سنانے والا شیعہ تھا نہ سننے والے اہل تشیع ،لیکن دکھ اور درد ہڈیوں کے گودے میں اترتا محسوس ہوتا تھا۔دیوبندیوں کے حسین احمد مدنی ہوں یا جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد ۔۔۔۔نام ہی پکار پکار کر کہ رہے ہیں کہ ” ہمارے ہیں حسینؓ، ہم سب کے ہیں حسینؓ “۔ہمارے تو بابائے قوم ہی محمد علی جناح ہیں،سفر آخرت پہ روانہ ہوئے تو جنازہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھایا۔۔۔۔۔سوچتا ہوں پھر جھگڑا کیا ہے؟ سوائے بد گمانی کے؟ شیعہ بھائی دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا اہلِ بیت کی محبت کے یہ مظاہر کیا ہمیں ایک ما لامیں نہیں پرو سکتے؟کیا یہ بد گمانی مناسب ہے کہ ہر غیرِ شیعہ کو یزیدی سمجھا جائے؟کیاآج پاکستان میں کوئی ایک آدمی بھی ہے جس کی ماں نے اس کا نام یزید رکھا ہو؟سپاہِ صحابہ میں بھی ہمیں علی شیر حیدری کا نام ملتا ہے۔کیا اتنی نسبتوں کے صدقے ہم مل جل کر نہیں رہ سکتے؟
بات اب کہ دینی چاہیے، گھما پھرا کے بات کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔اصل مسئلہ کو زیر بحث اب لانا ہی پڑے گا۔اس کو مخاطب کیے بغیر محض امن امن کہنے سے کچھ نہیںہو گا۔نفرتوں کی آگ دہلیز تک پہنچ چکی ہے۔کیا گھر جل جانے کا انتظار ہے؟اہل تشیع بھائی کیسے ہمیں اہلِ بیت کی محبت میں خود سے پیچھے سمجھ سکتے ہیں۔وہ آئیں ، گلی محلے تو کیا ہمارے گھر میں کھڑے ہو کر میرے حسینؓ کو یاد کریں،سر آنکھوں پر کہ
حسین ؓ میرے بھی اتنے ہیں جتنے ان کے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ محبتوں کا انداز جدا جدا ہے لیکن ’ حسین مِنی وانا من الحسین‘ کے ارشاد مبارک کے بعد کونسا دل ہوگا جس میں حسین ؓ کی محبت نہ ہو گی۔رہے ان کے اختلافی معاملات تو اتنی مشترک محبتوں کے صدقے کیا ان معاملات کو اللہ پر نہیں چھوڑا جا سکتا؟کیا ایک دوسرے کی دل آزاری ضرور کرنی ہے؟زندہ معاشروں میں اختلافات ہوتے ہیں ان اختلافات کو ایک دائرے میں رہنا چاہیے اور ان اختلافات کے ساتھ زندہ رہنے کا ڈھنگ آنا چاہیے۔مسئلہ اس وقت بنتا ہے جب یہ اختلافات بد گمانی میں ڈھل جاتے ہیں۔بد گمانی پھر حادثوں کو جنم دیتی ہے۔اختلافات تو امام خمینی اوربنی صدر میں بھی ہو گئے تھے۔اور ابھی کل کی بات ہے ہم نے حسین موسوی ، ہاشمی رفسنجانی ،محسن رضائی،اور مہدی کروبی کو احمدی نژاد صاحب کے خلاف احتجاج کرتے دیکھا۔
سنی حضرات کو بھی اپنے رویوں پر غور کرنا چاہیے۔میں اکثر سوچتا ہوں شیعہ کے آئمہ کرام سے کیا ہمارا کوئی تعلق نہیں۔کیا امام زین العابدینؒ سے ہمیں کوئی نسبت نہیں؟ کیا امام جعفر صادق ؒسے ہمارا کوئی رشتہ نہیں؟۔۔۔کبھی ہم نے غور کیا یہ ہستیاں کون تھیں؟ کس عظیم اور مبارک خانوادے سے ان کا تعلق تھا؟ یہ ہمارے ہی بزرگ تھے۔یہ بھی ہماری ہی شان اور آبرو ہیں۔ہم نے انہیں کیوں بھلا دیا؟ ہم نے انہیں کیوں نظر انداز کر دیا؟ ان کے فضائل ہم کیوں بیان نہیں کرتے؟ ان کی تعلیمات ہمیں کیوں نہیں بتائی جاتیں؟ان کی دینی خدمات سے ہم محروم کیوں؟ان کے فہم دین سے ہم فیض کیوں نہیں حاصل کرتے؟ہمارے نصاب میں ان کی تعلیمات کیوں شامل نہیں؟ہم ان کے علمی کام سے اجنبی کیوں ہیں؟ یہ بیگانگی کیوں ہے؟دین کے فہم کے باب میں انہوں نے بھی تو زندگیاں صرف کر دیں، یہ بھی تو ہمارا اجتماعی اثاثہ ہیں۔کیا ہماری باہمی نفرتیں اور جھگڑے اب اتنے منہ زور ہو گئے ہیں کہ ہم نے اپنے بڑے بھی بانٹ لیے ،ہم نے ان سے بھی منہ موڑ لیا، ہم اپنے ہی چشمہ ہائے علم سے محروم ہو گئے؟
میری ہر دو اطراف کے بزرگان سے التجا ہے: آئیے اس کلمے کی طرف جو ہم سب میں مشترک ہے۔

Google Analytics Alternative