کالم

سرگودھا آستانے پر 20افراد کا قتل

نہ جانے انسان وحشی کیوں بن جاتے ہیں۔ خاص کر ایسی جگہوں کے متولی جہاں سے کبھی دکھی لوگ فیض حاصل کیا کرتے تھے۔ آج کل یہ جگہیں ظلم کی آماجگائیں بن گئی ہیں۔ سرگودھا کے قریب گاؤں ۹۵ ؍شمالی میں الیکشن کمیشن کے ۱۹ گریڈ کے ریٹائرڈ افسر عبدالوحید جو درگاہ پیرمحمد علی گجر کا متولی ہے۔ اس نے اور اس کے ساتھیوں نے ۲۰ ؍مریدوں کو پہلے نشہ آور چیز کھلا کر بیہوش کیا، برہنہ کیا اور پھر ڈنڈے اور خنجر مار کے قتل کر دیا۔مقتولین میں ۴؍ خواتین،ایک خاندان کے ۷؍ افراد جن میں پیر علی محمد گجر کا اکلوتا بیٹا بھی شامل ہے۔ پیر علی محمد گجر دو سال پہلے فوت ہو گیا تھا۔ وحشی متولی عبدلواحید نے بیان دیا کہ اس نے پیر کے قتل کا بدلہ لیا ہے ۔ متولی سمیت ۷؍ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔تشدد کے بعد زخمی حالت میں درگاہ سے دو خواتین اور ایک مرد بھاگ کر ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچے۔زخموں سے چورخاتون نے اپنے اور ہونے والے تشدد کی لرزہ خیز روداد سنائی۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس حکام اور ریسکو۱۱۲۲ کے ڈسٹرک آفیر موقعہ پر پہنچے۔لاشیں پوسٹمارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دیں۔پیر علی محمد گجر کا بیٹا وزیر اعظم کے سیکورٹی اسٹاف میں بھی شامل تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے بیان دیا ہے کہ اسے شک ہے کہ اس کے پیر علی محمد گجر کو زہر دے کر مارا گیا تھا اور مجھے بھی زہر دے کر مارنے کا منصوبہ بنایا جا رہا تھا۔اس لیے میں نے اپنے پیر کا بدلہ اور اپنے آپ کو بچانے کے لیے ان تمام افراد کو قتل کر دیا۔ جبکہ مقامی لوگوں نے گدی کا جھگڑا قرار دیا ہے۔پولیس تفتیش کر رہی ہے۔ گاؤں کے لوگوں کے بیان کے مطابق متولی ہر ہفتہ درگاہ پر آکر مخصوص روحانی درس دیتا تھا۔ حسب معمول صدر اور وزیر اعظم صاحبان نے واقعہ کی بھرپورمزاحمت کی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے مرنے والوں کے لیے پانچ لاکھ اور زخمیوں کے لیے دد لاکھ کی امداد کا اعلان کیا ۔ جبکہ ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو ارسال کردی۔ صاحبو! پہلے کی طرح پھر اس کے بعد معاملہ دب جائے گا اور لوگ بھی اس سفاکیت کو بھول جائیں اور اپنے اپنے روزگاردنیا میں مشغول ہو جائیں گے۔ حکومتیں بھی یوں ہی چلتی رہیں گے ایسے واقعات بھی پھر رونماء ہوتے رہیں گے۔برصغیر کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے بزگان دین مزارات میں دفن ہیں۔ ان برزگوں کے پاس غیر مسلم سکون کی تلاش میں آتے تھے۔ یہ ان کو اسلام کی پر امن دعوت دیتے تھے۔ ان نیک لوگوں کی محنت سے لاکھوں غیر مسلم لوگ مسلمان ہوئے تھے۔ تاریخ میں مزارات پر ایسے سفاک واقعات کی کوئی بھی مثال نہیں ملتی۔ معاشرے کے دوسرے حلقوں کے ساتھ آج کل ان مزارات پر دین مخالف سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ ضعیف عقیدے ، کم علم لوگ اور خاص کر دین کا صحیح علم نہ رکھنے والے ان جعلی پیروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ اس جیسے واقعات پاکستان میں کہیں نہ کہیں رونماء ہوتے رہتے ہیں۔ صاحبو! ہماری حکومتیں جن کے فرائض منصبی میں عوام کی دینی معلومات میں اضافہ کرنا بھی شامل ہے ۔ وہ عوام کو کھیل تماشے اور فیشن شو اور دیگر غیر ضروری افعال تو بتا تے ہیں۔ نہیں بناتے تو دین کا صحیح علم نہیں بناتے۔ گو کہ میڈیا ہے آزاد ہے لیکن پھر بھی اس پر حکومت کا قانون لاگو ہوتا ہے۔ حکومت کے تحت چلنے والے الیکٹرونک پر نہیں ہوتے تو امر و نہی الامنکر کے پروگرام نہیں ہوتے۔اسی طرع ہمارے دینی علما کا بھی یہ کام ہے کہ لوگوں کے دینی عقائد قرآن اور حدیث کے علم کے ذریعے سے صحیح کریں۔ ہمارے بڑے بڑے سیاسی لیڈروں کی بھی اخبارات میں خبریں لگتی رہی ہیں کہ فلاں وزیر اعظم نے فلاں جگہ پر مزار گئیں اورپیر صاحب نے انہیں ڈنڈا مارا۔ اس سے جاہل لوگ سمجھتے ہیں کہ ڈنڈے میں کوئی کرامات ضرور ہے جو بڑے لوگ بھی ڈنڈے مروانے پیروں کے پاس جاتے ہیں۔ عوام کو یاد رکھنا چاہیے کہ سکون تو اللہ سے دل لگانے اسے یاد رکھنے اور نماز ادا کرنے سے ملتا ہے۔ پیر کے کسی مزار پر ڈنڈے کھانے سے نہیں ملتا۔ ایک بہت ہی اچھی بات کہ میڈیا پر معاشرتی برائیوں کے خلاف پر پروگرام ہو رہے ہیں حکومت میڈیا کی طرف سے کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کے خلاف مہم چل رہی ہے۔ اس سے لوگوں میں بھی آگاہی اور شعورپیدا ہوا ہے۔ اور ملاوٹ کرنے والوں کو حکومت سزائیں بھی دے رہی ہے۔ لوگ کھانے پینے کی چیزوں کی خرید میں احتیاط بھی برت رہے ہیں۔ جعلی ادویات بنانے والے انسانیت دشمن لوگوں کے پیچھے بھی الیکٹرونک میڈیا لگا ہوا ہے۔ کچھ کیسز سامنے آنے پر ایسے لو گوں کو سزائیں بھی سنائی گئی ہیں۔ حکومت نے قانون سازی بھی کی ہے اور جرمانے اور قید کی سزا بھی رکھی گئی ہے۔ اسی طرح الیکٹرونک میڈیا کی ٹیمیں قانون نافذ کرنے والے حکومتی اہل کاروں کے ساتھ جا جا کر جعلی پیروں کے آستانوں پر غریب عوام کے ساتھ ان کے غلط رویوں کے خلاف بھی پروگرام ہو رہے ہیں ۔ الیکٹرونک میڈیا کی ٹیمیں پہلے مصنوی مرید بن کر مزاروں پر جاتے ہیں۔ غریب عوام کے ساتھ جعلی پیروں کے رویہ کے خودچشم دید گواہ بن کر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ساتھ مل کر ان کو قانون کے حوالے کر رہے ہیں۔ ان کو عوام کے سامنے ننگا کر رہے ہیں تاکہ غریب عوام ان کے جھانسوں میں نہ آئیں۔ ان پروگراموں سے عوام میں جعلی پیروں کے خلاف نفرت اور آگاہی پیداہو رہی ہے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ ان کے خلاف سخت سے سخت قانون بنا کر ان کو قرار واقع سزا دیں۔ معاشرے کی اصلاح کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ حکومت کو قانون سازی اور جعلی پیروں کو قانون کی گرفت میں لانا چاہیے۔عوام کو بغیر تحقیق کے کسی جعلی پیر کی مریدی نہیں کرنا چاہیے۔علماء کا ممبر و مہراب سے عام لوگوں کے عقائد درست کرنے کی مہم شروع کرنی چاہیے۔ اس میں سب سے اہم کام ا لیکٹرونک میڈیاکا ہے جو وہ کر رہاہے۔ اس میں اسلام دشمن عناصر پر بھی حکومت کی نظر ہونی چاہیے۔ کہیں وہ تو اسلام کو بدنام کرنے کی مہم تو نہیں چلا رہا۔ کچھ بھی ہو پاکستان کے پورے معاشرے جس میں حکومت، علماء، میڈیا اور عوام شامل ہے مل کر اس عذاب سے عوام کی جان چھڑانا چاہیے۔ ساتھ ساتھ اللہ سے دعا بھی کرنی چاہیے کہ اللہ ہمارے عوام کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
*****

بھارت کی پڑوسی ملک کیخلاف سازش

یوں تو ہندوستان عرصہ دراز سے اپنے پڑوسی ممالک بشمول سری لنکا کے خلاف مختلف انواع کی سازشوں کا بچھاتا آ یا ہے ۔ جس کا سب سے بڑا مظہر سری لنکا کے علاقے ’’ جافنا ‘‘ میں ’ تقریباً پچیس تیس سالوں تک مسلسل دہشتگرد تنظیم ’ تامل ٹائیگرز ‘‘ کی سرپرستی ہے ۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ را کے زیرِ اہتمام یہ کاروائیاں ہوتی رہیں ۔ اگرچہ بعد میں کچھ عرصے کے لئے سری لنکا کے سابق صدر ’’ مہندر راج پکشے ‘‘ کے دور میں ان کی موثر پالیسیوں کے نتیجے میں اس سلسلے میں کمی آئی جب جنوری 2009 میں ’’ تامل ٹائیگرز ‘‘ کا سرغنہ ’’ پربھارکر ‘‘ مارا گیا ۔ لیکن اس سارے معاملے میں ’’ را ‘‘ اور ’’ اندرا گاندھی ‘‘ کا جو کردار رہا ، وہ بھارتی تاریخ ایک سیاہ باب ہے ۔ یہ بات بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ سابق بھارتی وزیر اعظم ’’ راجیو گاندھی ‘‘ بھی ایک مرحلے پر اسی بھارتی مہم جوئی کا شکار ہو گئے تھے ۔ یہ امر بھی پیشِ نظر رہے کہ گذشتہ دو برسوں سے بھارتی تامل باشندوں کی خاصی بڑی تعداد سیاحوں یا پناہ گزینوں کے روپ میں سری لنکا کے شمالی صوبے ’’ جافنا ‘‘ میں داخل ہو رہے ہیں ۔ یاد رہے کہ ان کو ’’ جافنا ‘‘ میں تعینات بھارتی قونصلیٹ کی بالواسطہ اور براہ راست دونوں طرح کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔ واضح رہے کہ چھ ہزار ڈالر کی رقم بھارت کی جانب سے سری لنکن اتھارٹیز کو وہاں کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ مہیا کرنے کے عوض ادا کی جاتی ہے ۔ سری لنکن پارلیمنٹ کا ایک سرگرم بھارت نواز رکن سری لنکا میں بھارت کی نمایاں ہندو شخصیات بشمول مہا تما گاندھی کے مجسمے نصب کرنے کی مکمل حمایت کر رہا ہے جس کی وجہ سے سری لنکا کی اکثریت کو بھارتی عزائم کی بابت شدید تحفظات پیدا ہو ئے ہیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی سری لنکا میں گاندھی کا مجسمہ نصب کیا گیا تھا جسے بعد ازاں کچھ نا معلوم افراد نے مسمار کر دیا ۔ اس سے سری لنکن عوام کی ذہنی کیفیت کا عمومی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ دوسری جانب سری لنکا کی سمندری حدود میں بھارتی ماہی گیروں کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت بھی سری لنکا کیلئے باعثِ تشویش ہے ۔ معتبر ذرائع کے مطابق ستائیس دسمبر 2016 کو سو کشتیاں کے ذریعے تین ہزار سے زائد بھارتی ماہی گیر بین الاقوامی سمندری حدود عبور کر کے سری لنکا کے پانیوں میں داخل ہوئے ۔ اگرچہ سری لنکا کی نیوی حتیٰ الامکان اس بھارتی روش کی حوصلہ شکنی کرتی ہے مگر اس کے باوجود یہ سلسلہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے سنجیدہ نوعیت کے کئی واقعات ہو چکے ہیں ۔ اس ضمن میں یہ امر توجہ طلب ہے کہ جب سے لنکا میں ’’ سری سینا ‘‘ کی قیادت میں نئی سرکار آئی ہے تب سے انڈیا کی اس جارحانہ روش کو کسی حد تک نئے سرے سے تقویت ملی ہے اور ماہرین کے مطابق جب سے سری لنکا اور انڈیا کے مابین ’’ فیری سروس ‘‘ کے قیام کی باتیں سنجیدہ شکل اختیار کر رہی ہیں تب سے سری لنکا کے غیر جانبدار حلقوں میں بجا طور تشویش کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ ماضی قریب میں دہلی کے حکمرانوں نے سری لنکا کے خلاف ’’ تامل ٹائیگر ز ‘‘ اور ’’ را ‘‘ کے ذریعے جو فتنہ انگیزی کی ہے وہ اتنی پرانی بات نہیں کہ لوگ اسے فراموش کر چکے ہوں ۔ اس وجہ سے معتدل حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارتی حکمران سری لنکا کے خلاف اپنی منفی روش کا سلسلہ نئے سرے سے شروع نہیں کریں گے وگرنہ اس کے اثرات جنوبی ایشیاء کیلئے بالعموم اور خود بھارت کیلئے بالخصوص اچھے نہیں ہوں گے ۔

الٹی ہانک۔۔۔ شوق موسوی
یہ سوچا تھا کہ بِن سوچ کیا ہے
ندیم الحق نے کیا فرما دیا ہے
کیانی پر لگا کر لغو الزام
لہو کیوں مفت میں گرما دیا ہے

بھارت میں گائے کے ذبح پر پابندی

بھارتی حکومت کی طرف سے پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ ملک بھر میں گائے اور اس کی نسل کے مویشیوں کی تصاویر لی جائیں اور ان کی ہر تھانے میں فائل تیار کی جائے تاکہ گائے کی ذبیح سے روکا جاسکے۔تصاویر کے ساتھ گائے کے مالک کو اس کے رنگ ،عمر، قد اور دیگر منفرد خدوخال کی تفصیلات پولیس اسٹیشن میں دینی ہوگی۔دوسری طرف بھارتی وزیر داخلہ نے بی ایس ایف جوانوں پر زور دیا ہے کہ بھارت بنگلا سرحد پر گائے کی اسمگلنگ کو روکی جائے تاکہ بنگالیوں کو گائے کا گوشت کھانے سے روکا جاسکے۔ہرسال اوسطاً25لاکھ مویشی بنگلادیش اسمگل ہو جاتے ہیں۔
بھارت گائے کے گوشت کی کھپت کے اعتبار سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ ہندو گائے کو مقدس سمجھتے ہیں۔مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے گائے کے تحفظ کی مہم چلا رکھی ہے۔ بھارت کی گیارہ ریاستوں اور دو یونین علاقہ جات میں گائے کے ذبیحے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ ان میں مقبوضہ کشمیر ،ہماچل پردیش، پنجاب،ہریانہ،اترکھنڈ،اتر پردیش، راجستھان، گجرات،مدھیا پردیش، مہارشٹرا،چیتیش گڑھ،دہلی اور چندی گڑھ ہیں۔ وسطی ریاست چتیس گڑھ میں بھینس کے ذبیحے پر بھی پابندی ہے حالانکہ وہ اسے مقدس نہیں گردانتے۔ ہریانہ میں گائے کے ذبیحے پر دس سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہے۔ آٹھ ریاستوں اور چار یونین علاقہ جات میں میں گائے اور بچھڑے کے ذبیحے پر پابندی ہے تاہم بیل، بھینس کے ذبیح کے لئے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت ہے۔آٹھ ریاستوں اور ایک یونین علاقے میں گائے کے ذبیح پر کوئی قانون سازی نہیں کی گئی۔آسام اورمغربی بنگال میں میں کسی بھی جانور کو ذبیح کرنے کی قانون اجازت دیتا ہے۔ بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے شہر مالیگاوں میں پولیس نے گائے اور بیلوں کے مالکان سے کہا ہے کہ وہ اپنے جانوروں کی تصاویر تھانے میں جمع کرائیں۔ریاست میں گائے ذبح کیے جانے پر پہلے سے پابندی تھی تاہم اب بیل یا بچھڑے ذبح کرنے پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔ گائے کے ذبیحے پر پابندی کے قانون کے تحت پہلا معاملہ مالیگاؤں میں درج ہوا تھا۔نئے قانون کے تحت اگر کوئی شخص گائے، بیل یا بچھڑے کو ذبح کرنے کا قصوروار پایا جاتا ہے تو پانچ سال تک سزا ہوسکتی ہے۔ گیارہ کروڑ آبادی کی بھارتی ریاست مہارشٹرا رقبے کے اعتبار سے اٹلی کے برابر ہے اس میں گائے، بیل اور بچھڑے کے گوشت کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ نے گائے کے ذبیح پر پابندی عائد کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ایپکس کورٹ نے اس سے قبل مویشیوں کی غیر قانونی نقل و حرکت سے متعلق اقدامات کو روکنے کا حکم دیا تھا۔ مہاراشٹرا کے آس پاس کے علاقہ جات میں گائے کے گوشت کے 36 ڈیلرز کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد سپریم کورٹ اس پابندی کو چیلنج کرنے پر مجبور ہو گئی۔اس سے قبل گذشتہ برس ہائیکورٹ نے بھی اس پابندی سے متعلق سماعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
بھارت میں گائے کے گوشت پر پابندی کے خلاف احتجاجا دلت کمیونٹی نے بنگلور شہر میں کھلے عام گوشت کھانے اہتمام کیا۔ بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں گزشتہ ماہ گائے ذبیح کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی ، جس پر مسلمانوں اور دلت ہندوؤں نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ تاہم حکومتی فیصلے سے ناراض دلت کمیونٹی نے احتجاجاً ریاست کرناٹکا کے شہر بنگلور میں گائے کا گوشت کھانے کا اہتمام کیا۔ ایونٹ میں معروف رہنماؤں اور نامور شخصیات کو بھی دعوت دی گئی تھی۔ اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی نے اسے ہندو عقائد کی بے حرمتی قرار دیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت میں گائے کے ذبیح پر صرف مسلمانوں پر ظلم کرنا اور انہیں ہی نشانہ بنانا درست نہیں۔ بھارت گائے کا گوشت فروخت کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ اب ظاہر ہے بھارت سے برآمد کیا جانے والا گائے کا گو شت گائے کاٹ کر ہی حا صل کیا جا تا ہے لیکن معاملہ کثیر زرمبادلہ کا ہے جس کے سبب بھارت کے سلاٹر ہاؤس میں دھڑا دھڑ گائے ذبحہ ہو کر بیرون ملک ایکسپورٹ کیجا رہی ہیں لیکن بھارت میں گائے کی فروخت پر پابندی اور گائے کے گو شت کھانے پر مسلمانوں کا قتل بھارتی حکومت کی تنگ نظری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پروفیسر کانچا ایلیا ہندوؤں کی نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے ہندوتوا فلسفے، ثقافت اور سیاسی اقتصادیات کے ایک تجزیہ نگار ہیں۔انہوں نے اپنی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ’’میں ایک ہندو کیوں نہیں؟‘‘ میں کہا کہ یہ خاص طور پر قبائلیوں اور دلت کی طرز کے دیہی گروہوں پر یقیناً ایک ثقافتی پابندی ہے۔ تاریخی طور پر برہمن سمیت تمام ہندو عوام ویدک اور ویدک کے بعد کے ادوار میں گائے کا گوشت کھایا کرتی تھی۔ کشمیری پنڈت آج بھی گوشت خور ہیں۔ بنگالی برہمن مچھلی بھی کھاتے ہیں اور گوشت بھی۔ گوتم بدھا نے اس روایت کے خلاف بغاوت کی تھی، اس لیے کہ ان کے دور میں پروہت طبقے میں گائے کا گوشت بہت بڑی مقدار میں استعمال کیا جاتا تھا۔ بدھا نے لوگوں سے کہا کہ گائے کو ذبیحہ کے لیے ہلاک نہ کرو، وہ استعمال کے لیے ہیں،نہ کہ ہلاک کرنے کیلئے۔پروفیسر کانچا ایلیا نے کہا کہ آر ایس ایس کی دلیل یہ ہے کہ گائے کو تحفظ دینا چاہیے اس لیے کہ یہ ہندوستانیوں کو دودھ فراہم کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان گائے کے دودھ پر زندہ نہیں ہے، بلکہ ہندوستان بھینس کے دودھ پر زندہ ہے۔ چنانچہ کیا وجہ ہے کہ آرایس ایس بھینس کے تحفظ کا سوال کیوں نہیں کھڑا کرتی۔
اگر آپ گجرات کے قانون کو دیکھیں تو اس میں گائے کے ذبیحہ کے ساتھ ساتھ بیل اور سانڈ کے ذبیحہ پر بھی پابندی عائد ہے، لیکن یہ بھینس کے گوشت کے معاملے میں خاموش ہے۔ نریندرا مودی کی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں گائے کا دودھ، دودھ پیک کرنے والی فیکٹریوں کو فراہم کرنا شروع کردیا گیا تھا، جبکہ بھینسوں کو ذبح کرکے اس کے گوشت کی برآمدات شروع کردی گئی۔
گائے بیلوں کے ذبیحہ پر پابندی کے حوالے سے پورے ہندوستان میں بحث و مباحثہ جاری ہے۔ ہندوستانی ریاست مہاراشٹر میں گائے کے ذبیحہ اور گوشت کی خریدو فروخت پر لگائی گئی۔ پابندی نے ریاست کی زرعی معیشت کو شدید بحران سے قریب کردیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ایسے ہی قدم دیگر تمام ریاستوں میں بھی اٹھائے جانے لگے تو اس طرح کی پالیسی پورے ہندوستان کی زرعی معیشت کیلئے مشکلات کھڑی کر سکتی ہے۔

کرپشن کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے تلہ گنگ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت جلد ملک بدلنے والا ہے، 21 سال سے ملک کو بدلنے کی جدوجہد کررہے ہیں، تحریک انصاف ایک صوبے کی نہیں بلکہ ملک کی جماعت ہے اور پی ٹی آئی ہی ملک کے مسائل حل کرے گی کیونکہ باقی ساری جماعتیں صرف صوبوں تک محدود ہیں لیکن تحریک انصاف پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔ ہمیں بہت کچھ ملا ہے لیکن ہم نے فائدہ نہیں اٹھایا، پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں کئی جگہ تبدیلی لائی ہے،کے پی کے کی پولیس کو ٹھیک کیا اور پولیس سے سیاسی مداخلت ختم کرکے ایماندار آئی جی لگایا کیونکہ جب آئی جی میرٹ پر آئے گا تو پولیس بھی ٹھیک کام کرے، خیبر پختونخواہ کی پولیس بین الاقوامی پولیس کا مقابلہ کرتی ہے لیکن سندھ کے آئی جی اے ڈی خواجہ کو اس لیے تبدیل کیا کیونکہ وہ غلط کام نہیں کرنے دے رہے تھے۔پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے اور اقتدار میں آکر اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کو کرپشن کہتے ہیں، شرجیل میمن نے 5 ارب کی کرپشن کی لیکن وہ پاکستان اس طرح آئے جیسے کہ ورلڈ کپ جیت کر آئے ہوں، ڈاکٹر عاصم پر 460 ارب روپیکی کرپشن کی جب کہ خیبر پختونخواہ کا صرف ترقیاتی فنڈ ہی113 ارب روپے ہے لہذا اگر اپنے بچوں اور ملک کا مستقبل بچانا ہے تو سب کو ایک ہونا پڑے گا۔منی لانڈرنگ کرنے والے ملک کو دوگنا نقصان پہنچاتے ہیں، نواز شریف کا پاناما کا کیس کرپشن اور منی لانڈرنگ کا ہے، یہاں سے پیسہ لے گئے اور لندن میں بڑے بڑے محل خریدے، جب عدالت نے نواشریف سے پوچھا کہ کدھر سے پیسہ آیا تو پھر درمیان میں قطری آگیا،نواز شریف نقل کرنے کیلئے بھی عقل چاہیے۔آصف زرداری بتائیں سرے محل کتنے پیسوں کا لیا اور سوئٹزرلینڈ میں 7 ملین ڈالر کدھر سے آئے لہٰذا آصف زرداری آپ بھی کسی قطری شہزادے کو پکڑ لو کیونکہ آپ کو بھی اس کی ضرورت پڑے گی۔ جب تک ہم مل کر کرپٹ حکمرانوں کو شکست نہیں دیں گے آگے نہیں بڑھ سکتے، زرداری اور نواز شریف کا پیسہ، جائدادیں اور کاروبار ملک سے باہر ہیں، جس کا جینا مرنا پاکستان میں ہی نہیں وہ کیسے ملک سے وفادار ہوسکتا ہے ایسے حکمران ملک سے وفاداری نہیں کرسکتے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور منی لانڈرنگ ہے لیکن اس کے خاتمے کیلئے حکومتی سطح پر ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے جس سے کرپشن نے اداروں کو کھوکھلا کردیا ہے جس سے ترقی و خوشحالی کا عمل بھی بری طرح متاثر ہورہا ہے اب وقت کا یہ تقاضا ہے کہ کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں جب تک کرپشن کو نہیں روکا جاتا اس وقت تک ملک کے اداروں کی تطہیر ناممکن ہے کرپشن کی صدائیں ہرسو سنائی دے رہی ہیں اور پانامہ کیس پر قوم کی نگاہیں لگی ہیں اور عدلیہ سے عوام کی امیدیں لگی ہیں اگر خدانخواستہ ادھر سے عوام کی امیدیں بر نہ آئیں تو یہ انتہائے یاس کا شکار ہوکر رہ جائیں گے اور ان کی امیدیں ٹوٹ جائیں گی اور کرپشن کو روکنا محال ہو جائے گا، کرپشن کی روک تھام کرکے اداروں کی تطہیر عمل میں لائی جاسکتی ہے۔کرپشن کی روک تھام کے بغیر ترقی نہیں ہوسکتی ۔ سیاست ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگاتے نہیں تھکتے لیکن عملاً اس کے انسدادکیلئے کچھ نہیں کرتے ۔اس وقت ضرورت ا س امر کی ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا کیاجائے اورمل جل کرمعاملات کو سلجھانے کی کوشش کی جائے۔
نریندر مودی کے د ورہ مقبوضہ کشمیر کے موقع پرہڑتال
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ مقبوضہ کشمیر کیخلاف حریت قیادت کی اپیل پر پوری وادی میں شٹرڈاؤن ہڑتال ، احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور یوم سیاہ منایا گیا ۔ ضلع کولگام بالخصوص فرصل کی طرف جانے والی بیشتر سڑکوں کو خاردار تار سے بند کردیا گیا تھا جبکہ ضلع میں کسی بھی احتجاجی جلوس یا ریلی کو ناکام بنانے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ جاں بحق ہونے والے شہریوں کے رسم چہارم اور حریت قیادت کی طرف سے دی گئی کولگام چلو کی کال کے پیش نظر ضلع مجسٹریٹ کولگام نے دفعہ 144سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد کردی ہے۔ کولگام کے لوگوں نے الزام لگایا کہ ان کے علاقوں میں تعینات سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے انہیں اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ ضلع میں بیشتر سڑکوں کو خاردار تاروں سے سیل کیا گیا ہے۔ پابندیوں کے بیچ ضلع کولگام میں مسلسل تیسرے دن بھی ہڑتال رہی۔ ضلع بھر میں مسلسل تیسرے دن بھی دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر متاثر رہی۔ بھارتی افواج کشمیریوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ ڈھائے ہوئے ہیں ۔ پاکستان کئی بار اس طرف عالمی برادری کی توجہ مبذول کروا چکا ہے لیکن سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ جیسے ادارے سرد مہری کا مظاہرہ کررہے ہیں جس سے بھارتی فوج کشمیریوں پر اپنے ظلم جاری رکھے ہوئے ہے ۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا اور نہ ہی کشمیریوں کو حق خودارادیت دی جارہی ہے ۔ پاکستان چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے لیکن بھارت پاکستان کی امن کوشش کو سبوتاژ کرتا چلا آرہا ہے جس سے خطے کا امن خطرے میں دکھائی دے رہا ہے ۔ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب مسئلہ کشمیر کا ادراک ہوگا۔
قتل کی لرزہ خیز واردات
سرگودھا کے نواحی علاقے چک95 شمالی میں قتل کی لرزہ خیز واردات نے عوام الناس میں اضطراب پھیلا دیا۔ اس دردناک واقعے کا شاخسانہ گدی نشینی قرار پایا۔ اس واقعے میں قتل ہونے والے تمام افراد کو جرگہ کیلئے بلایا گیا اور پھر نشہ آور چیز کھلا کر انہیں ڈنڈوں اور چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔سارا واقعہ گدی نشینی کے حوالے سے ہے ۔ملزم عبدالوحید اور پیر علی محمد گجر کے بیٹے آصف کے درمیان گدی پر قبضہ کیلئے تنازعہ چل رہا تھا۔ علی محمد گجر اسلام آباد میں رہتا تھا اور سرگودھا منتقل ہو گیا جہاں ایک تھڑے پر بیٹھ کر دم درود کیا کرتا تھا۔ علی محمد گجر کی 2 سال قبل وفات ہوئی تو اس کے بیٹے آصف نے اسی جگہ پر بیٹھ کر دم درود کرنے کا کام شروع کر دیا اور اس طرح دونوں کے درمیان گدی نشینی کا تنازعہ چل نکلا۔آصف اور ملزم عبدالوحید، دونوں کی گدی کے خواہشمند تھے اور اس تنازعہ کے حل کیلئے جرگہ بلایا اور قتل ہونے والے بیشتر افراد کا تعلق ایک ہی برادری کے ساتھ ہے جو صلح صفائی کیلئے بلائے گئے جرگے میں شرکت کیلئے آئے تھے۔جیسے جیسے لوگ جرگے میں شرکت کیلئے آتے رہے تو انہیں دربار کے ساتھ متصل مکان میں لے جا کر نشہ آور غذا کھلائی گئی اور پھر قتل کیا جاتا رہا۔ اندھا اعتقاد کا یہ واقعہ اپنے پس منظر میں ایک درد بھری کہانی رکھتا ہے ، پاکستان بھر میں جعلی پیروں کی بھرمار ہے جس سے کئی دلخراش واقعات رونما ہورہے ہیں۔ اس واقعہ کی تحقیقات کرکے سفاک قاتل کو عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ آئندہ اس طرح کا واقعہ رونما نہ ہو۔

حقانی واجد اینکسس‘کے سہولت کار وں کا تعاقب ضروری

آج کل تعجب خیز‘حیرت ناکی میں ڈوبی‘ افسوس ناک بے بسی اور انتہائی لاچاری کی کیفیتوں سے دوچار پاکستانی قوم بڑی بیتابی سے مننتظر ہے دیکھنا چاہتی ہے آخر کب تک پاکستان کے مفادات کا امریکا اور مغربی طاقتوں سے سودا کرنے والے زور آورچاہے وہ بیوروکریٹس کی شکلوں میں ہوں،با اقتدار سیاست دان ہوں،حکمران فوجی طبقے سے اُن کا تعلق ہو‘فرقہ پرست مذہبی منافرت پھیلانے والے رہنما ہوں‘اونچے تجارتی کمیونٹی سے ایسوں کا تعلق ہو،یا وہ زورآور سفارت کاروں کے لبادوں میں لپٹے حسین حقانی ٹائپ کے اور واجد شمس الحسن اِقسام کے’کٹھ پتلی ایول جینئس‘دانشور بنے پھرتے ہوں‘ جو بنا دیکھے اور بسرعت بنا پیشہ ورانہ اہلیت ودیانت داری کے پل جھپکتے ہی حکمران کلب میں گھسنے کے لئے حکمرانوں کے گھروں کی نوکری چاکری جیسے نچلے کام کرنے پر ہمہ وقت تیار بیٹھے ہوئے ہوں یہ بد نیت ذاتی مفادات کے حرص وہوس کے پجاری آخر کب تک پاکستان کو مصائب ومشکلات میں گھیرنے میں کامیاب رہیں گے اور کوئی اِن کا بال تک بیکا نہیں کرسکے گایہ ہماری قومی قیادت کی بڑی بدقسمتی ہے ہر دور کے حکمرانوں کو دیکھ لیں اُنہوں نے ہمیشہ ایسے ہی چاپلوس اور وقت پرست ’ایول جینئس‘ ٹائپ کے ’نورتنوں ‘ کو اپنے قریب ترین حلقے میں رکھااِن کے دنیاوی جاہ طلبی کے مشوروں کو ہمارے حکمرانوں نے حزرجاں سمجھ کر اُن پر اپنی آنکھیں بند کرکے حد سے زیادہ اعتماد کیا ماضی میں کون کون ایسا رہا اِس کی تفصیل میں کیا جائیے ہمارے عہد میں ’حسین حقانی اور واجد شمس الحسن ‘ ایک امریکا میں پاکستان کا سفیر بنا تو دوسرا برطانیہ میں پیپلز پارٹی کے ادوار میں ہائی کمشنر تعینات کیا گیا نہ بی بی کو سمجھ آئی کہ یہ دونوں افراد ملکی سیکورٹی کو کسی بھی قیمت پر فروخت کرنے سے قطعی باز نہیں آئیں گے اور مسٹر ایچ حقانی تو ’مذموم سوچوں اور فکری ذہانتوں میں ‘ اِس عہد کے یوں سمجھ لیں کہ ’چانکیائی کے بھی استاد ہیں‘ بہت چرب زبان ہے اِن کی ‘ دوربینی میں ’ایول افراد‘ سے بھی کئی گنا زیادہ اِن کی نظریں کام کرتی ہیں کیا جماعتِ اسلامی اور کیا جمعیتِ طلباء کے گروہوں سے ابھر کر کراچی سے لاہور اور راولپنڈی کا اِنہوں نے80 کے اوّلین دہائی میں کیا اور یہ پہلے آئی جے آئی کے توسط سے نواز شریف تک اپنی رسائی کو ممکن بنانے میں کامیاب ہوہی گئے کیل کانٹے اور دیگر فنی ہتھیار کراچی سے ہمراہ لائے بی بی کی فحش تصاویز کی ایڈیٹنگ خود کی نواز شریف اُس زمانے میں بہت ہی ناپختہ سیاست دان بنے تھے اُنہیں حقانی کی یہ انتہائی اوچھی حرکات بہت بھلی معلوم ہوئیں چنانچہ بی بی کی یہ حقانی ساختہ جھوٹی اور بے سروپا تصاویر بہت بھائیں اور پھر پنجاب بھر میں قومی الیکشن 1988 میں ہوائی جہازوں سے گرائی گئیں نتیجہ برعکس آیا قومی اسمبلی کی اکثریتی نشستیں پیپلز پارٹی نے جیت لیں چنانچہ ’جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ‘ یہ مخصوص نعرہ صوبائی الیکشن میں تیر بہدف بن گیا وفاقی اور سندھ سمیت خیبر پختونخواہ میں پی پی نے حکومت بنائی اور وفاق میں بھی ‘ حسین حقانی ہاتھ ملتا رہ گیا یہ دور ختم ہو ا پھر ا لیکشن دوسری بار نواز شریف وفاق اور اکثریت سے پنجاب میں حکمران بن گئے اِس بار حسین حقانی کو صوبائی اطلاعات کا مشیر بنا دیا گیا اور پھر پیپلز پارٹی جب دوبارہ برسر اقتدار آئی تو اِس انتہائی ایول جینئس شخص حقانی نجانے کس رابطوں سے بی بی کی پولیٹکل سکریٹری نائید خان تک اپنی پہنچ کو یقینی بنا نے سرخروئی پائی یہاں تو اُس نے اُس ’بیچاری‘ کے گھر پر ہی پہلی نظر بُری ڈالی اور اُس کی بہن سے وقتعاً شادی کرلی یہ بات سن کر بی بی کا دل بہت پسیچا اچھی انگریزی بی بی کی کمزوری تھی انگریزی ادب میں شاعرانہ طرزِ مکالمہ حقانی کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا بی بی نے اِس کی پرانی فاش غلطیوں کو نہ صرف معاف کردیا بلکہ اِس کو اُنہوں نے اطلاعات ونشریات کا وفاقی سیکریٹری بنادیا لیجئے’ نہ چونا لگا نہ کتھا ‘ حقانی بی بی کے مصائبِ خانہ کا خاص آدمی بن گیا ماضی کو حرفِ غلط کی طرح سے یکدم بھلانے میں حقانی کا کوئی ثانی تاحال ہمیں نہ مل سکا اور جب فاروق لغاری نے بی بی کی حکومت کو گھر بھیجا دیا تو پھر مسٹر حقانی کا بھی آگے بڑھنا کا راستہ مسدود ہوگیا لیکن پانچ چھ برسوں کی اِس مدت میں حقانی غیر ملکی سفار ت کاروں کے ساتھ بھی ’راہِ سلوک‘ برابر قائم رکھا ہوا تھا مگر 1997 میں ہوئے انتخابات میں نواز شریف کو دوتہائی سے زائد اکثریت ملی تھی جو کہ اکتوبر1998 تک رہی اور پھر فوج اقتدار میں آگئی اِس بار حقانی کے اندر کی مضطربانہ اور ہیجانی اقتدار کی قربت نے ایک بار پھر اِسے جنرل مشرف کی طرف دیکھنے پر مجبور کردیا وہ تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ پہلی بار جنرل مشرف نے اپنے وفاقی سیکریٹر ی اطلاعات محمود انور کی بات پر دھیان دیا اور کہہ دیا گیا کہ یہ شخص آئندہ کبھی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی کوشش نہ کرئے یوں جنابِ والہ! حقانی نے پہلے ہی نائید خان کی بہن کو طلاق دیدی تھی جبکہ اِس کی کراچی میں پہلی شادی والے بیوی اور بچے موجود تھے یعنی نائید خان کی بہن سے اِس نے دوسری شادی بطور سیڑھی کے کی تھی بی بی کے قریب ہونے کی بدنیتی سے ‘ جنرل مشرف سے جب کوئی تعلق بنتا ہوا نہ دیکھا تو مسٹر حقانی امریکا سدھار گئے جہاں کے آزاد فطرت ماحول میں اِن کی شناسائی منصور اعجاز کے توسط سے فرح ناز اصفحانی سے ہوگئی بس پھر کیا تھا امریکی شہریت اِن کی قربت بن گئی ’یہ جو ایول جینئس ٹائپ کے لوگ ہوتے ہیں‘اِن کے اندر ضمیر اور خودداری نام کی کوئی شے نہیں ہوتی ‘ بکتے ہیں تو انتہائی ناقص رقم میں بک جاتے ہیں کام جو نکالنا ہوتا ہے فرح ناز اصفحانی اور منصور اعجاز گروپس نے حسین حقانی کو امریکی اعلیٰ طبقات میں متعارف کراتو دیا فوراً اُنہیں اپنی اِس پہاڑ جیسی غلطی کا جلد انداز ہ ہوگیا منصور اعجاز کو کہنی مار کر حقانی نے اعلیٰ اور ممتاز امریکی تھنک ٹینکس میں اپنی کئی جہتی انگریزی کی مہارت سے اخبارات میں بھی جگہ بنالی۔(۔۔۔جاری ہے)

سندھ میں ہونے والے امتحانات

دو دن سے اندرون سندھ اور کراچی میں طلبا کے امتحانات اور نقل کے متعلق قومی پریس میں مسلسل خبریں آرہی ہیں اور کاپی مافیا یا بوٹی مافیا کی جانب سے بڑے منظم طریقوں سے امتحان دینے والے طلبا کو پرچوں کے حل میں مدد دی جارہی ہے جس میں جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے امتحان کے شروع ہوتے ہی امتحانی پرچے Question paperکی تصویر کو طلبا کے پاس موجود سمارٹ فونوں سے تصویر کھینچ کر واٹس ایپ کے ذریعے باہر بھیج دیا جاتاہے باہر بیٹھینام نہاد ماہرین کی جانب سے فورا پرچہ حل کرکے متعلقہ طالب علموں کو اسی ذریعے سے بھجوا دیا جاتا ہے اور یوں امیدوار باہر سے موصول شدہ مواد کو امتحانی کاپیوں میں درج کردیتے ہیں اور امتحان مکمل ہوجاتا ہے ، علم اور طالب علموں کے ساتھ اس سے بڑی دشمنی نہیں ہوسکتی جس کے سبب نسلیں تباہ ہورہی ہیں تصور کیجئے کہ اس مہنگائی کے دور میں جب والدین اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو مہنگی تعلیم دلوا رہے ہوں اور اس امید پر کہ کل کلان ہمارا بچہ اعلی تعلیم حاصل کرکے کسی اچھے عہدے پر فائز ہوگا جی ہاں عہدے ہی ہدف ہوتے ہیں کہ ہمارا لارڈ میکالے کا دیا ہوا نظام تعلیم ” تعلیم برائے اصلاح نہیں بلکہ تعلیم برائے پیٹ ” ہے جب بچے کی بیحد و حساب محنت کے باوجود امتحانی نظام میں موجود سقم کے سبب مستحق طالب علم میرٹ لسٹ میں آخری نمبروں پر ہوں اور ان با اثر والدین کی اولادیں جنہوں نے پڑھائی کا تکلف تک نہ کیا ہو اور میرٹ لسٹ میں پہلے نمبروں پر ہوں اور مستحق اور محنتی بچوں اور ان کے والدین کے دل میں چھپی اچھے عہدے اور کامیاب کیرئیر کی آرزوئیں اور خواہشیں دل میں دب کر دم توڑ جائیں اور نا لائق اور نا اہل طلبا میدان مار جائیں اور مستحقین کی حق تلفی ہو اور ان کی آرزوئیں خاک ہو جائیں اس ظلم میں بااثر لوگ، تعلیمی اداروں میں موجود کالی بھیڑوں، اور امتحانی انتظامیہ کے اعمال اور مواصلاتی اداروں کے اعمال شامل ہوتے ہیں ان کے گٹھ جوڑ کے بغیر ایسا ہونا ممکن نہیں ہے بعض اوقات امتحانی کاپیاں بورڈ کو جاتے ہوئے ریلوے اسٹیشن یا پوسٹ آفیس میں لائق طلبہ کی کاپیاں منظور نظر طلبہ کی کاپیوں سے بدل دی جاتیں یادش بخیر سندھ میں 60 کی دہائی کے آخر تک نہایت معیاری تعلیم دی جاتی تھی اساتذہ اپنی ذمہ داریاں محسوس کیا کرتے تھے اور کمزور امتحانی نتائج کوذاتی ہتک سمجھتے تھے اور والدین بھی اسکول انتظامیہ اتنا تعاون کیا کرتے تھے طالب علم کی غیر حاضری کو استاد سنجیدہ لیتے اور کسی بچے کو غیر حاضر بچے کے گھر بھجوا کر تصدیق کروا لیتے کہ کہ یہ غیر حاضری بلاسبب تو نہیں رتودیرو ہائی اسکول کے استاد عبدالحی قاضی مرحوم و مغفور آج بھی لوگوں کو یاد ہوں گے طالب علم اتنا ماں باپ سے نہیں ڈرتے تھے جتنا قاضی صاحب سے ڈرتے تھے محنتی اور جید اساتذہ میں سر عبدالوہاب سر عبدالستار ابڑو سر عبدالخالق ابڑو سر عبدالخالق مرکھیانی سر عبدالغنی سومرو سر میر محمد عاربانی سر کنہیا لال سر محمد جام کھوکھر سر دیدار حسین شاہ جو بعد ازاں سندھ کے چیف جسٹس بنے یہ لوگ طالب علموں کے لئے مینارہ نور تھے تعلیمی زوال کا یہ سلسلہ 70 کی دہائی میں شروع ہوا جب عوام کی حکومت بر سر اقتدار آئی طلبا کی آزادی مادر پدر آزادی کی حد تک پہنچ گئی طلبا اساتذہ سے الجھنے لگے جس کا اس سے پہلے تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا عام بسوں سے اسکول جانے والے طلبا بس کا کرایہ ادا کرنا توہین سمجھتے تھے اور ان رویوں کی سرپرستی ہوا کرتی تھی اس وقت کے گورنر صاحب بھی کوانٹٹی کو کوالٹی پر ترجیح دیتے تھے اور یہ سلسلہ ایسا چل نکلا کہ نقل کرنے والے گروہ باقائدہ اور منظم طور پر امیداروں کو جوابی مواد کی فوٹو کاپی جس کی قیمت 10 گنا بڑھ جاتی تھی امیدواروں کو باہر کو کھلنے والی کھڑکیوں پر بلا کر تھمادی جاتی اوپری منزل پر امتحان دینے والوں کو لمبے پتلے بانسون کے سروں سے باندھ کر پہنچائی جاتی لمبے سرکنڈوں کے سرے چیر کر اس میں کاغذ پھنساکر اوپر پہنچایا جاتا ایک مرتبہ تو ایک مواد فراہم کرنے والے کو اور کچھ نہ سوجھا تو امیدوار کو بلایا امیدوار جھانکنے لگا موصوف نے کاغذ کو ایک پتھر پر لپیٹ کر اپنے متعلقہ امیدار کی جانب اچھال دیا پتھر کے اچھالے جانے کے فورا بعد کاغذ کھل گیا اور امیدوار حسرت و یاس سے اڑتے کاغذ کودیکھ رہا تھا اور خالی پتھر اس کے ماتھے پر جا لگا اور امیدوار لہو لہان ہوگیا پولیس محض تماشا دیکھا کرتی مداخلت کی صورت میں امیدواروں کے لواحقین حملہ آور ہوجاتے دادو میں ایک اسکول کی عمارت میں امتحان ہورہا تھا اتفاق سے امن و امان کے سلسلے میں ہمارا قیام بھی وہیں تھا اطلاع آئی پہنچے تو ایسا منظر دیکھا جس کا ہم تصور تک نہیں کر سکتے تھے ہوا یوں کہ ایک اردو اسپیکنگ استاد جن کی بطور نگران کمرہ امتحان میں ڈیوٹی لگی ہوئی تھی ایک امیدوار کو نقل کرتے ہوئے دیکھ لیا اور اسے نقل کرنے سے روک دیا پھر کیا تھا با اثر والدین کی بگڑی اولاد نے اپنا پستول نکال کر اس کتاب کے ساتھ رکھ دیا جس سے شہزادے نقل فرما رہے تھے استاد کے سامنے چوائس رکھ دی ان دونوں میں ایک چیز استعمال ہوگی آپ چاہیں تو میں کتاب استعمال کروں یا پھر اس پستول کو آپ پر استعمال کروں استاد خوفزدہ ہوکر اپنے دفتر آگئے اعلی حکام کو اطلاع ہوئی ہمیں بھی بھیجا گیا پتہ چلا موصوف سیاسی خاندان کیفرزند ارجمند ہیں اور شہر بھر میں غنڈہ گردی فرماتے ہیں دھر لئے گئے امتحان تو کیا ہونا تھا انتظامیہ نے سخت ایکشن لیا پولیس کے حوالے ہوئے سخت ترین دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا اور خاصی بڑی سزا ہو گئی یہ مقام افسوس تھا کہ والدین بچوں کو کس حد تک چھوٹ دے دیتے ہیں اس سلسلے کو روکنے کے لئے تعلیمی نظام کی ترجیحی بنیادوں پر اصلاحات کی جائیں میرٹ پر استادوں کا تقرر ہو اور ان کو مناسب مشاہرہ اور سہولیات دی جائیں نصاب میں بھی نظریہ پاکستان کے تناظر میں تبدیلیاں کی جائیں استادوں کی مناسب اور مسلسل تربیت کا انتظام ہونا چاہئے اساتذہ کی ترقی کو طالب علموں کی پروگریس سے منسلک کیا جائے ان کی حاضری کو بھی یقینی بنایا جائے کمزور طالب علموں کی اضافی وقت میں کوچنگ کا بندوبست کیا جائے امتحانی طریقہ کار میں بھی جوہری تبدیلیوں کی ضرورت ہے اس میں امتحانی کاپیوں کے اصل مقام کا ممتحنوں تک کو پتہ نہیں چلنا چاہئے اور اس سلسلے میں سخت نگرانی ہونی چاہیئے اور خلاف ورزی پر سخت عقوبتی کارروائی ہو سب سے بڑھ کے تعلیم کو قومی ذمہ داری اور مشن کے طور پر لیا جائے یہی طریقہ ہے بہترین ملک اور بہترین نسل اور قوم بنانے کا اللہ ہمیں اپنے فرائض کو سمجھنے اور اس پر دل و جان سے عمل کی توفیق عطا فرمائے اللہ پاکستان اور اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین
*****

اوور بلنگ کیخلاف جماعت اسلامی کا دھرنا

جماعت اسلامی کراچی نے ک الیکٹرک کی عوام کے بجلی کے بلوں میں اوور بلنگ لوڈ شیڈنگ کے خلاف نرسری پر دھرنا دینے کا پروگرام کافی دنوں پہلے سے طے کیا ہواتھا۔اپنے پروگرام پر عمل کرنے کے لیے جماعت اسلامی کراچی کے مرکز نیشنل کالج کے نزدیک ادارہ نور حق میں کارکن اکٹھے ہوئے ۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیرانجینئرحافظ نعیم الرحمان صاحب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے میڈیا کے سوال پر کہ آپ انتظامیہ سے مزاکرات کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے کہا کہ ہمارے سے کوئی رابطہ کرے توکسی کے ساتھ مزاکرات کریں ۔ ایسے میں ہم ضرور دھرنا دیں گے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے ان کی مرکزی لیڈر شپ کے اور ن لیگ کے مفادات کے الیکٹرک سے وابسطہ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت موجودہ انتظامیہ سے پہلے ک الیکٹرک سے وابسطہ رہی ہیں۔ اُس نے اپنے دور میں کراچی میں نصب شدہ کھمبوں پر لگے کاپر کی تاروں کو اُتار کر اس کے بدلے سلور کی تاریں لگا دیں اور کاپر تاروں کو فروخت کر کے اربوں روپے کما لیے۔اس بہانے سے کہ پرانے میٹر بوسیدہ ہو گئے ہیں اس لیے انہیں نئے بجلی کے میٹروں سے تبدیل کر دیا۔ یہ میٹر بہت ہی زیادہ تیز چلتے ہیں اور عوام کے بجلی کے بلوں میں پچاس فی صد سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اس پر بھی کے الیکٹرک کا دل نہیں بھرا اور عوام کے کے بجلی کے بلوں میں اوور یونٹ درج کر کے بلوں کی قیمت بے انتہا بڑھا دی۔ اس کے ساتھ غیر اعلانیہ لوڈ شیدنگ نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ کراچی کی نمائیندہ ایم کیو ایم نے بھی نج کاری کے موقعہ پر کے الیکٹرک سے اپنا حصہ وصول کیا۔ اہم پوسٹوں پر اپنے بندے لگوائے۔ جب عوام کے الیکٹرک کے بلنگ ڈیپارٹمنٹ میں بل درست کروانے جاتے ہیں تو ان کے خلاف غنڈا گردی کی جاتی ہے۔ ان مسائل کے حل کیلئے جماعت اسلامی نے اس سے پہلے بھی ک الیکٹرک کے ہیڈ آفس کے سامنے دھرنا دیا تھا مگر ک الیکٹرک کا کراچی کے عوام کے ساتھ ظلم کا رویہ نہیں بدلہ۔ جماعت اسلامی نے ک الیکٹرک کے مظالم کے خلاف عدلیہ سے بھی رجوع کیا ہے۔ طے شدہ پروگرام کے تحت بعد نماز جمعہ جب نعیم الرحمان امیر جماعت اسلامی اپنی مرکز ادارہ نور حق سے کارکنوں کے ساتھ باہرنکلے تو پہلے سے موجود بھاری تعداد میں پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے لیے جیل سے وین بھی ساتھ لائی گئی تھی۔ پیپلز پارٹی ن لیگ اور کے الیکٹرک نے ایک دن پہلے ہی گرفتاری کا یہ پروگرام طے کیا ہوا تھا جس پر عمل کیا گیا۔پو لیس نے جمعہ کے بعد ادارہ نور حق کے چاروں طرف پولیس موبائلیں اور پانی کے ٹینکر کھڑے کر دیے کسی کو باہر نہیں آنے دیا۔ جماعت اسلامی کی لیڈر شپ کو گرفتار لر لیا۔ جس میں جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اسداللہ بھٹو ایڈوکیٹ، اُسامہ رضی، اسحاق خان ،محمد اسلام، یونس بارائی اور زاہد عسکری شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تقریباً چالیس کار کنوں کو بھی گرفتارکر لیا ۔ ان کو رات گئے رہا کر دیا گیا۔ ان کی باہر کھڑی گاڑیوں کے ٹائروں سے ہوا نکال دی۔ فرعونیت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے، ان حضرات کو پروگرام کے تحت نرسری پر دھرنے کے مقام تک نہ جانے دیا ۔ نرسری پر قائم احتجاجی کیمپ پولیس نے اُکھاڑ کر خودٹریفک معطل کی۔ کارکنوں پر تشدد کر کے گرفتار کر لیا۔ جس شہر میں غم و غصہ کی لہردورڈ گئی۔ کارکن نعرے لگا تے رہے ۔کے الیکٹرک کو سدھرنا ہو گا۔دھرنا ہو گا دھرنا ہو گا۔ کراچی کے عوام نے کے الیکٹرک کے خلاف دھرنے سے خوشی کا اظہار کیا۔ جو کارکن کسی نہ کسی طریقے سے نرسری دھرنے کے مقام پہنچ گئے ،ان کے ساتھ پولیس نے تشدد کا رویہ ا ختیار کیا اور ان کے جمہوری حق سے روکا۔ کارکنوں پر سیکڑوں آنسو کیس کے شیل پھینکے جس فضا زہر آلود ہو گئی۔ کارکنوں کو پیچھے دکھیلنے کے لیے لاٹھی چارچ کیا۔ اور کارکنوں پر پتھرپھینکے۔ کارکنوں نے چلے ہوئے آنسو گیس کے شیل اُٹھا کر واپس پولیس کی طرف پھینکے۔ سامنے موجوود رینجرز کی چوکی اور پولیس کی طرف سے کارکنوں پر فائرنگ کی گئی۔فائرنگ سے نائب امیر جماعت اسلامی کراچی محمد اسلام سمیت چار افراد زخمی ہوئے ، ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ شارع فیصل میدان جنگ بن گیا ہے۔ راقم پر بھی لاٹھی چارج کیا گیا ۔ موٹر سائیکل پر لاٹھیاں پرسا کر اسے نقصان پہنچایا گیا۔ راقم کو جماعت اسلامی کی ریلیاں، دھرنے اور احتجاج کے مشاہدے کا تقریاً پچاس سال کا تجربہ ہے۔ کراچی میں ایمپرس ماریکٹ ، ایم اے جناح روڈ،پریس کلب، اسلام آباد کے مشہورو معروف دھرنے اور جگہ جگہ جماعت کے احتجاج دیکھے ہیں۔ ہمیشہ روڈ کے ایک طرف ٹریفک چل رہی ہوتی ہے اور دوسری طرف کارکن مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں۔ صدر سے ریلی گزر رہی ہوتی ہے ۔نہ کسی ٹھیلے والے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے نہ ہی صدر کے دوکاندار اپنی دکانوں کے شٹر تک گراتے ہیں۔حسنِ اتفاق کہ راولپنڈی والے مظاہرے کے دنوں میں ہمارا قیام اسلام آباد میں تھا۔ جب لیاقت باغ راولپنڈی جہاں کے سامنے جماعت اسلامی کے پر امن کارکن مظاہرے کے لیے مرحوم قاضی حسین احمد صاحب کی لیڈر شپ میں سڑک پر جمع ہوئے تو راولپنڈی کی پولیس نے کارکنوں کے ساتھ ایسی جنگ شروع کر دی جیسے وہ دشمن کی فوج ہے۔ اس وقت جماعت اسلامی کے کئی کارکن شہیدہوئے تھے۔ جس کی رپورٹ پیپلز پارٹی کی مرکزی لیڈر شپ کے خلاف درج کرائی گئی تھی۔ اسلام آباد آپارہ مارکیٹ میں بھی پولیس اور کارکنوں کے درمیان مقابلہ جاری رہا۔ پھر ایک وقت آیا کہ پولیس آنسو گیس کے وہ شیل چلائے جو جنگل میں جانوروں کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ فائرنگ اورپتھراؤ ہو تا رہا۔ کارکن ڈٹے رہے اور بلآخر پویس پیچھے ہٹ گئی اور جماعت اسلامی کے کارکن اپنے طے شدہ ہدف پاکستان کی پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ گئے اور وہاں پہنچنے پر کسی تکبر کے مظاہرے کے بجائے دو رکعت نفل ادا کیے اور اللہ تعالی کا شکر ادا کیا۔ یہ ساری داستان سنانے کا مقصد پولیس اور پیپلز پارٹی کی سندھ کی حکومت کو باور کرانا ہے فرعونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رینجرز کو یہ احکامات د یتی ہے کہ فوراً اور ہر حالت میں کارکنوں کومنتشر کیا جائے اور سب کو گرفتار کر لیا جائے۔ اے کاش کہ ان کو اپنی مرکزی لیڈر شپ کے وہ اسلام آباد والے دن یاد ہوتے جب جماعت اسلامی کے جمہوری تربیت شدہ نظریاتی کارکن ان کی کھڑی کی ہوئی فرعونیت صفت رکاوٹیں عبور کر سکتی ہیں۔ کرپشن سے لدھی ہوئی سندھ حکومت جماعت اسلامی کے کارکنوں کا تشدد سے کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی۔ نعیم لرحمان نے اس زیادتی کے خلاف ایف آئی درج کروانے کا کہا ہے۔ ہفتے کے روز کراچی پچاس جگہوں پر احتجاجی مظاہرے کی کال دی ہے۔ جس پر عمل کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے کارکنوں نے پچاس سے زائد جگہوں پر ک الیکٹرک کے زہادتی کے خلاف مظاہرے کیے جن میں مرکزی مظاہرہ نمائش چورنگی پر جماعت اسلامی سندھ کے امیر معراج الہدایٰ صدیقی صاحب نے کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ کے الیکٹرک کرپشن کا دھرم شالہ ہے جس میں کرپشن کے بڑے بڑے پجاری موجود ہیں۔اسی دوران جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی جنر ل سیکرٹیری لیاقت بلوچ صاحب کراچی تشریف لائے اور کراچی کی مرکزی قیادت کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کی ۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہمارے پرامن احتجاج پر شب خون مارا گیا۔ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ کے الیکٹرک اوور بلنگ اور بھتہ خوری بند کرے۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے سات اپریل کو کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس پر عظیم المشان دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ اگر جمعہ کے دن کارکنوں کے ساتھ کے الیکٹرک اور پولیس گردی کے واقعہ کی ایف آئی درج نہیں کی گئی تو عدالت میں پٹیشن دائر کریں گے اور کراچی کے عوام کو کے الیکٹرک کے مظالم سے چھڑوا کر ہی دم لیں گے۔ انشاء اللہ۔
*****

گدی نشین۔۔۔ شوق موسوی
وہ خود مرغ اور پلاؤ ، حلوے ، انڈے کھاتے رہتے ہیں
تو پیروکار روکھی سوکھی گنڈے کھاتے رہتے ہیں
مدارج طے اگر کرنے ہوں روحانی ترقی کے
مرید اُس کیلئے پیروں سے ڈنڈے کھاتے رہتے ہیں

سڑکیں بنانے سے جدوجہد آزادی دبائی نہیں جا سکتی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورے کے خلاف وادی بھر میں شٹر ڈاون ہڑتال سے وادی میں حالات کشیدہ ہوگئے ۔ احتجاج روکنے کیلئے اہم مقامات پر بھارتی فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی جبکہ وادی کے مختلف شہروں میں کرفیو نافذ۔ مزید ستم یہ کہ ریاستی انتظامیہ نے حریت قیادت کو گھروں میں نظربندکردیا ۔بھارتی فوج کی مشتعل مظاہرین پر فائرنگ اور لاٹھی چارج سے درجنوں کشمیری زخمی ہوگئے۔ سری نگر میں جزوی کرفیو سے اکثر علاقوں میں لوگ گھروں میں محصور ہوگئے ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جموں سرینگر نیشنل ہائی وے پر 9.2 کلو میٹر طویل سرنگ کے افتتاح کیلئے گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا جس کے خلاف حریت قیادت کی اپیل پر پوری مقبوضہ وادی میں شٹر ڈان ہڑتال کی گئی جبکہ احتجاج روکنے کے لیے اہم سڑکوں پر بھارتی فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ ضلع کولگام بالخصوص فرصل کی طرف جانے والی بیشتر سڑکوں کو خاردار تار سے بند کردیا گیا تھا جبکہ ضلع میں کسی بھی احتجاجی جلوس یا ریلی کو ناکام بنانے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دبے لفظوں میں مقبوضہ کشمیرکے نوجوانوں سے قابض فوجیوں پرپتھراؤکاشکوہ کرتے ہوئے کہاہے کہ کشمیر میں خون خرابے نے صرف ہلاکتیں اورتباہی دی اس سے کسی کوفائدہ نہیں ہوا۔40سال اگرسیاحت پرتوجہ دیتے توآج صورتحال یکسرمختصرہوتی، ایک طرف پتھر برسانے والے ہیں اوردوسری طرف کشمیرکے مستقبل کیلئے پتھرتوڑنے والے ،سنگ باز سنگ تراشوں کودیکھیں۔ہم نے کشمیرمیں ایشیاء کی سب سے بڑی روڈٹنل بنالی،اس طرح کی مزیدنوٹنلز بنائیں گے ۔ پاکستان کے عوام کودکھائیں گے کہ ان کے سیاستدان ان کیلئے کچھ نہیں کررہے۔ پاکستانی کشمیر کے لوگ بھی دیکھ لیں ترقی کیا ہوتی ہے ؟حقیقت یہ ہے کہ نریندر مودی کا دورہ کشمیر مظلوم کشمیری مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ سڑکیں اور ٹنلیں بنا نے کی باتیں کر کے کشمیریوں کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔کشمیریوں کا احتجاج اور شدید ردعمل دیکھ کربھارت سرکار کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ بھارتی وزیر اعظم کے دورہ کشمیر پر پوری کشمیری قوم سراپا احتجاج ہے۔ شہر شہر ہزاروں کشمیریوں کے سڑکوں پر نکلنے سے یہ بات ایک مرتبہ پھر ثابت ہو گئی ہے کہ کشمیری قوم شہداء کی سرزمین پر ہزاروں مسلمانوں کے قاتل مودی کا وجود برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔بھارت سرکارنے کشمیریوں کو احتجاج میں شامل ہونے سے روکنے کیلئے پورے کشمیرکو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ سید علی گیلانی سمیت پوری حریت قیادت کو نظربندکر کے ان کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی مذموم حرکتوں سے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو سرد نہیں کیا جاسکتا۔ اقتصادی پیکج کے اعلانات سے کشمیریوں کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا۔بی جے پی کی سرپرستی میں ایک طرف نہتے مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ آٹھ لاکھ غاصب فوج نے ان کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ ان کی عزتیں اور جان و مال سمیت کوئی چیز محفوظ نہیں ہے لیکن دوسری جانب نریندر مودی کشمیر کا دورہ کر کے ان کیلئے اقتصادی پیکج کا اعلانات کر کے دنیا کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔کشمیریوں کی جدوجہد آزادی بھرپور انداز میں جاری ہے اور جاری رہے گی۔ بھارت طاقت و قوت کے بل بوتے پر کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کچلنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ہندوستانی فوج نے پورے کشمیرکو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر رکھا ہے۔ پوری حریت قیادت نظربند ہے اور لوگوں کے مساجد میں نمازوں کی ادائیگی میں بھی رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں لیکن نام نہاد انسانی حقوق کے عالمی اداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔جہاں تک مودی نے پاکستانی سیاستدانوں کو للکارا ہے تو عرض ہے کہ کرپشن اور اقربا پروری کے باوجود ہمارے حکمران، سیاستدان بھارتی سیاستدانوں اور حکمرانوں سے لاکھ درجہ بہتر ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں نے عوامی فلاح و بہبود کے لئے بہت سے کام کیے ہیں۔ موجودہ حکومت نے عوامی فلاح کیلئے میٹرو، پاور پراجیکٹس اور دیگر منصوبے شروع کئے جن میں کرپشن نہیں ہورہی۔ یہ بات ہم نہیں بلکہ دوسرے ممالک کی سروے رپورٹس کہہ رہی ہیں۔ سی پیک بھی ہمارے حکمرانوں کی وجہ سے ہی عمل پذیر ہورہا ہے۔ جس کی بھارت کو بہت تکلیف ہے ۔بھارت نے سفارتی میدان میں پاکستان کو تنہاکرنے کی جو کوششیں کیں ان پر پانی پھر گیا۔ اب بھارت خود تنہا رہ گیا ہے۔ اس کی عوام بھوکوں مر رہی ہے۔ اقلیتوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ عام انسان کا بھارت میں رہنا دوبھر ہو رہا ہے۔ کہیں گائے کشی پر فسادات، تو کہیں عیسائیوں کے خلاف جلاؤ ،گھیراؤ۔ یہ ہے مودی کا بھارت۔ اس کے مقابلے میں پاکستان الحمد اللہ بہت پرامن ملک ہے۔ ہمارے ہاں ہونے والی بھارتی دہشت گردی کو بھی اب لگام ڈالی جا چکی ہے۔ ہمارے ہاں ترقیاتی منصوبے دھڑا دھڑ شروع ہو رہے ہیں۔ سی پیک کی وجہ سے علاقائی ممالک، سنٹرل ایشیا، یورپ قریب آرہے ہیں۔ مودی کو اگر مقبوضہ کشمیر میں ترقی کا اتنا ہی شوق ہے تو وہ کشمیری عوام کی صرف ایک آواز پر کان کیوں نہیں دھرتا کہ کشمیریوں کو آزادی دو۔مودی کا خیال ہے کہ ایک سڑک اور ایک ٹنل بنا کر وہ مظلوم کشمیریوں کے دل جیت لے گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ کشمیریوں کو سڑکیں نہیں صرف آزادی چاہیے اور وہ انشااللہ آزادی حاصل کر کے ہی رہیں گے۔
*****

Google Analytics Alternative