کالم

قابل رشک شہادتیں

uzairahmedkhanحرم پاک میں صفہ اور مروہ کے قریب ہیوی کرین گرنے کی وجہ سے تقریباً 87کے قریب عازمین حج شہید ہو گئے جبکہ دوسو سے زائد زخمی ہو گئے ، حادثے کے وقت بارش اور سخت طوفان چل رہا تھا اس بادو باراں کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا ، اس میں کوئی شک نہیں کہ جن عازمین حجاج کو شہادت نصیب ہوئی ہے ، یقیناً ان کے لواحقین کو غم اور دکھ ہو گا، لیکن در اصل یہ غم اور دکھ کی بات نہیں مکہ مدینہ وہ شہر پاک ہیں جہاں پر ہر مسلمان کی دعا ہو تی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس وقت پورا کیا ہوا ہو تو اس کی جان مکہ مدینہ میں نکلے ، اللہ رب العزت مرنے والے کو جنت البقیع میں جگہ عطا فرمائے ، یہ خواہش لے کر ہر حاجی اور عمرہ ادا کرنے والا وہاں پر جاتا ہے اور جو بھی وہاں وفات پا جاتا ہے ، اس پر یقیناً ہر مسلمان رشک کر تا ہے اور دعا کر تا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا ہی موقع اسے بھی عطا فرمائے ، حرم پاک میں پیش آنے والے حادثے کے دوران شہید ہونے والے عازمین حج اس دنیا کے وہ خوش قسمت ترین افراد ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ براہ راست جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے گا اور پھر چونکہ وہ شہید ہوئے ہیں ، رب تعالیٰ کی ذات ہر سال ان کی روحوں کو حج کی کرنے کی سعادت بھی عطا فرمائے گا ، مکہ مکرمہ اور مدینہ شریف اللہ تعالیٰ کے محبوب رسول کریم ﷺ کے شہر ہیں اور وہاں پر تو رحمتیں ہی رحمتیں ہیں ، پھر جس شخص کی وہاں پر تدفین ہو جائے وہ کتنا خوش نصیب ہو گا ، شہید تو ویسے بھی زندہ ہو تا ہے ، لیکن ہمیں وہ شعور نہیں کہ ہم اسے دیکھ سکیں، اللہ تعالیٰ نے حرم پاک میں شہید ہونے والے حجاج کرام کو اس اعلیٰ مقام پر فائز کیا ہے جو کہ قابل رشک ہے ، راقم کو اللہ تعالیٰ کی ذات نے تقریباً 4مرتبہ حرم پاک جانے کی سعادت سے نوازا ، حج اور عمرے ادا کئے حج اکبر بھی اس میں اللہ کی ذات نے اس راقم کے نصیب میںلکھا ، ہر مرتبہ راقم یہ دعا کرتا ہوا گیا کہ اے اللہ تعالیٰ اگر تو نے میری مٹی عزیز کرنی ہے تو مکہ مدینہ میں کر اور میری آخری آرام گا ہ جنت البقیع کو بنا دے سو دیکھا جائے جن لوگوں کو اللہ نے یہ موقع فراہم کیا وہ کتنے خوش نصیب ترین لوگ ہیں ہر وقت حرم پا ک سے آذان کی آواز گونجنا اور پھر وہاں پر رحمتوں کا بارش کا ہونا یہ خوش نصیبی نہیں تو پھر اور کیا ہے ، مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں پہلی مرتبہ مدینہ منورہ پہنچا ، جنت البقیع میں جانے کی سعادت حاصل کی تو وہاں پر میرے ایک ہم نام قاری صاحب سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے کہا کے عزیر صاحب یہاں تو بس عنایات ہیں عنایات ہیں آپ مانگتے جائیں پھر آپ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اپنے محبوب پاک ﷺ± کی ذات کے صدقے آپ کو کس طریقے سے نوازتی ہے ، میں نے وہاں جا کر باقاعدہ طور پر یہ دیکھا کہ جو کچھ بھی اس ناچیز نے اللہ پاک ذات سے وہاں مانگا وہی کچھ ملا بلکہ اسے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کی ذات نے کر م کیا بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ ادھر اللہ کی بارگاہ میں درخواست پیش کی اور کچھ دیر بعد ہی اس کی نوازشات شروع ہو گئیں ، حرم پاک اور مدینہ منورہ جانے والا ہر شخص وہاں پر رحمتوں کا طلب گا ر ہوتا ہے ، جنت الفردوس کا سوالی ہوتا ہے ، آپ ﷺ کی قربت کا متلاشی ہوتا ہے ، جھولیاں پھیلا پھیلا کر انتہائی عاجزی سے گڑ گڑا کر رب تعالیٰ کے حضور خیر مانگتا ہے وہاں پر تو اللہ کی ذات کسی کو واپس ہی نہیں کرتی ہے خاص کر میدان عرفات میں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اے فرشتو دیکھو میرے یہ لوگ سب کچھ چھوڑ کر میرے حضور حاضر ہوئے ہیں اور جو کچھ بھی مانگ رہے ہیں ان کو عطا کیا جائے ، اللہ تعالیٰ کی ذات دیکھ کر بے انتہا خوش ہو تی ہے کس عجز و انکساری سے مسلمان اس کی ذات سے رحمتوں کے طلب گار ہیں ، آج جو حجاج کرام وہاں پر شہید ہوئے ہیں کیا انہوں نے اسی عجز و انکساری سے وہاںکی مٹی میں دفن ہونے کے بار ے میں دعا نہیں مانگی ہو گئی یقیناً مانگی ہو گی اور اللہ کی ذات نے اسے قبول بھی فرمایا ، لہذا یہ لوگ خو ش نصیب ہیں ، اللہ کی ذات ہر مسلمان کو مکہ مدینہ میں مدفن ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور جب وقت نزع آ ن پہچے تو اللہ کی ذات ایسا سلسلہ کرے کہ دعا کرنے والا شخص کسی نہ کسی صورت وہاں موجود ہو ، راقم کی بھی اس ذات بابرکات کی بارگاہ میں یہ ہی دعا ہے کہ جب بھی آخری وقت آئے تو اللہ کی ذات جنت البقیع میں دفن ہونے کی توفیق عطا فرمائے اٰمین ثم اٰمین ، اس سے بڑی دنیا میں اور کوئی خوش نصیبی نہیں ہے دنیا بھی سنور گئی آخرت بھی سنور گئی جو لوگ وہاں پر شہید ہو گئے ہیں ان کی نماز جنازہ بھی حرم پاک میں ہی ادا کی جائے گی ، یہ تمام عازمین حج قابل رشک ہیں ، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا ، جن افراد کو وہاں پر شہادتیں نصیب ہوئیں ان پر اس ذات بابرکات کی خاص عنایات تھیں اور اللہ کی ذات نے انہیں اپنے خاص لوگوں میں منتخب کر لیا تھا

بھارت کے برے دن

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے جس طرح بھارت کو واضح پیغام دیکر آڑے ہاتھوں لیا ہے اس پر پوری قوم انہیں سلیوٹ پیش کررہی ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری مسلح افواج دنیا کی بہترین افواج ہیں اورانہوں نے ایسے بین الاقوامی ریکارڈ قائم کیے ہیں جو رہتی دنیا تک قائم رہیں گے ۔پاک فوج کی بھارت پر اتنی زبردست دہشت ہے کہ وہ ان کے سامنے سانس تک نہیں لے سکتے چونکہ ہندو ایک بزدل قوم ہے اورپھر کفار نے ہمیشہ سے کمر پر ہی وار کیا لیکن وہ منہ پر آکر کبھی بھی مسلمان کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔پاک فوج نے دنیا بھر کی بہترین فوجوں میں پیشہ وارانہ اعتبار سے اپنی صلاحیتوں کالوہا منوایا ۔جب چیف آف آرمی سٹاف نے یوم دفاع کے موقع پر بھارت کو واضح اوردوٹوک پیغام دیا کہ پاک فوج اس دھرتی کا تحفظ کرنے کی بھرپور صلا حیت رکھتی ہے پھر گذشتہ روز کورکمانڈرز کا نفر نس میں بھی عسکر ی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہر بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا ۔بھارت کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے کہ وہ جو آئے دن لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کرتا رہتا ہے ۔پہلے ہی اسے اس کا بھرپور جواب مل رہا ہے اب کے قطعی طور پر دانت توڑ دئیے جائیں گے ۔بھارت کو یہ بات واضح طور پر سمجھ لینا چاہیے کہ پاک افواج سرد یا گرم جنگ ہاٹ یا کولڈ سٹارٹ دونوں کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔پھر پاکستان نے جو ایٹم بم بنایا ہے وہ کھیلنے کیلئے نہیں بنایا اورنہ ہی کہیں اسے سجانے کیلئے بنایا گیا ہے ۔اگر ملکی سالمیت پر کسی طرح کی بھی آنچ آئی تو پاکستان بھارت کو چند منٹوں کے اندر صفحہ ہستی سے نیست ونابود کردے گا ۔اس بارے میں ہمارے ایٹمی سائنسدان واضح طور پر پہلے ہی آگاہ کرچکے ہیں ۔1965ءکی جنگ میں بھارت اپنی حالت دیکھ چکا ہے کہ وہ جنگ ان کیلئے ایک ڈراﺅنا خواب بن گئی ہے ۔بھارتی بنیوں نے شاید یہ سوچا تھا کہ خدانخواستہ پاکستان ان کیلئے کوئی ترنوالہ ہے اب بھی بھارت نے ایک اوربڑھک مارتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ داﺅد ابراہیم اورحافظ سعید کیخلاف کارروائی کرنے کیلئے پاکستان میں داخل ہوسکتا ہے یہ اس کی بھول ہے وہ ایسا اقدام کرکے تو دیکھے اس کے فوجی پاکستان سے واپس نہ ہی اپنے قدموں پرچل جائیں گے اورپاک فوج انہیں ایسا تاریخی سبق سکھائے گی کہ شاید پھر آنے والی نسلیں یہ سوچ بھی نہ سکیں کہ وہ پاکستان کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھیں ۔وزیراعظم نواز شریف نے بھی واضح پیغام دیا ہے کہ اگر کسی نے مملکت خداداد پاکستان کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا تو اس کو پھوڑ دیا جائیگا ۔مودی تو چونکہ پاگل ہوچکا ہے اور وہ اس خطے کے امن وامان کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کے درپے ہیں اس کے اقدام کی وجہ سے نہ صرف بھارت کی سلامتی کو خطرہ ہے بلکہ پورے خطے میں امن وامان کاقائم رہنا ممکن نہیں ہے ۔اسی طرح وہ بیوقوفانہ حرکتیں کرتا رہا تو پاکستان کی مسلح افواج اسے بہترین سبق سکھائیں گی ۔پاکستان میں جو اس نے محدود جنگ کرنے کے حوالے سے بڑھک ماری ہے اس حوالے سے ہماری عسکری قیادت نے بتا دیا ہے کہ مسلح افواج ہر بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ہماری مسلح افواج کی کارکردگی کو دیکھنے کیلئے صرف آپریشن ضرب عضب ہی کو دیکھ لیا جائے کہ انہوں نے کس طرح سے کامیابیاں حاصل کی ہیں اور آج ملک میں امن وامان کا دور دورہ ہے ۔شہر قائد جو کبھی ایک مقتل گاہ بن چکا تھا آج وہاں آپریشن کے باعث امن وامان بحال ہوتا ہوا نظرآرہا ہے ۔ٹارگٹ کلنگ میں کمی آچکی ہے ،بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ نہ ہونے کے برابر ہے تو غلط نہ ہوگا ۔وزیراعظم نے بھی کہا ہے کہ کراچی آپریشن کے حوالے سے کوئی دباﺅ قبول نہیںکیا جائیگا اور کرپشن کو بھی ختم کریں گے ان دونوںایشوز پر وزیراعظم کاواضح موقف پاکستان کی ترقی کا ثبوت ہے کیونکہ جب یہاں سے دہشتگردی ،ان کے سہولت کار،معاونت کارسب کے سب ختم ہوجائیں گے تو پھر قومی خزانہ لوٹنے والوں کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جائیگا توپھر یقینی طور پر یہ ملک دن دگنی اوررات چوگنی ترقی کرے گا ۔خدا تعالیٰ نے اس ملک کو ہر نعمت سے نوازا ہے ۔یہاں پر گرمی پانی بھی ہے ،چاروں موسم بھی ہیں ،زمین بھی زرخیز ہے ،اللہ تعالیٰ نے یہاں کی زمین کو خزانوں سے مالا مال بھی کیا ہے پھر کس چیز کمی ہے ۔صرف کمی امن وامان کی تھی جو کہ وزیراعظم نوازشریف اورعسکری قیادت کی سربراہی میں حاصل ہوتی جارہی ہے ۔چونکہ یہ امن وامان بھارت کو بھا نہیں رہا ۔پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے نے بھی اس کی رات کی نیندیں حرام کررکھی ہیں وہ بخوبی جانتا ہے کہ اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد پاکستان ترقی کی کن بلندیوں پرپہنچ جائیگا ۔اسی وجہ سے وہ اس کیخلاف باقاعدگی سے سازشیں کررہا ہے مگر پاکستان کی قوم کسی صورت بھی ان سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔اب پوری دنیا بھارت کے مکروہ چہرے کو جان چکی ہے اس کے اصل عزائم واشگاف ہوتے جارہے ہیں ۔وہ دن بہت زیادہ دور نہیں جب بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا ۔مودی کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے بھارت کے برے دن شروع ہوچکے ہیں ۔

شاہ سلیمان کادورہ امریکہ ….

سعودی عرب کے بادشاہ خادم الحرمین شریفین سلمان بن عبدالعزیز کے پہلے غیر ملکی دورہ کو دنیا بھر کے مبصرین اہم ترین دورہ قرار دے رہے ہیںاپنی تخت نشینی کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ ہے ۔ اپنے بھائی کی رحلت کے بعد دنیا بھر کے سربراہان مملکت ان سے تعزیت کرنے ریاض پہنچے انہی سربراہان میں امریکہ کے صدر بارک اوبامہ بھی تھے جنہوں نے بنفس نفیس خود سعودی عرب کے بادشاہ کودورہ امریکہ کی دعوت دی تھی سعودی بادشاہ کے دورہ امریکہ کو عالمی مبصرین دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور نئے قائم ہوئے سیاسی بلاکوںکے پس منظر میں دیکھ رہے ہیں بلا شبہ یہ نہایت اہمیت کا حامل دورہ ہے کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال سب کے سامنے ہے ۔ عالم اسلام کے سب سے بڑے مراکز بیت اللہ اور روضہ رسول سعودی عرب میں موجود ہیں اور مسلمانان عالم مکہ اور مدینہ کودنیا کے تمام بڑے شہروں سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ عالم اسلام میں سعودی عرب کے بادشاہ کو نہایت عزت اور تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور انہیں اپنا راہبر اورراہنما تسلیم کیا جاتا ہے صرف یہی وجہ سعودی حکمرانوں کی عزت کرنے پر مجبور نہیں کرتی بلکہ مملکت سعودی عرب کے وہ دفاعی کام جو اسلامی دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں اربوں ڈالر کی مدد سے پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں وہ بھی اس وجہ قرار پاتے ہیں اس وقت مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کی بدولت اس ملاقات کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے اس وقت مغربی طاقتیں اور امریکہ کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کے باعث بہت سارے شکوک و شہبات نے جنم لیا ہے چنانچہ حالیہ دورہ امریکہ دوران اس اہم ترین مسئلہ کو ایجنڈے میں سرفہرست رکھا گیااور سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلیمان بن عبدالعزیز نے بغیر لگی لپٹی رکھے امریکی صدر سے اس بابت دریافت کیا اور امریکی صدر نے اپنے نہایت ہی قابل احترام سعودی مہمان کو مفصل وضاحت پیش کی کہ جوہری معاملات پر ایران کے ساتھ اس معاہدے کی ضرورت کیوں کر محسوس کی گئی اس کے ساتھ ساتھ امریکی صدر نے سعودی بادشاہ کو یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی کہ ایران کے ساتھ کیے جانے والے جوہری معاہدے کے باوجود سعودی عرب کے ساتھ امریکی تعلقات ہرگزمتاثر نہ ہونگے ۔ دونوں سربراہان مملکت میں شام اور لیبیا کی صورتحال بھی زیر بحث لائی گئی کیونکہ اس وقت ان دونوں ممالک میں انتشار دن بدن بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ۔ عراق کی صورتحال بھی دن بہ دن خراب ہوتی چلی جارہی ہے ۔ گزشتہ دنوں سعودی عرب کے خفیہ ادارے نے ان دہشت گردوں کو گرفتارکیا تھا جنہوں نے تقریباً 20 برس قبل ایک عمارت پر حملہ کرکے درجنوں امریکیوںکو ہلاک کردیا تھا اس دورے کی بدولت سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعلقات اور دفاعی اتحاد کو مزید تقویت بخشی ہے۔ سعودی شاہ کے ہمراہ امریکہ جانے والے عمائدین کا قافلہ 4 جمبو جہازوں پر مشتمل تھا جس میںوزراءدفتر خارجہ کے ماہرین کاروباری گروپس کے سربراہان اور ممتاز شہری شامل تھے ۔ ریاض میں دفتر خارجہ نے سعودی بادشاہ اور امریکی صدر کے مابین ہونے والی ملاقات ایرانی جوہری معاہدے کے بعد امریکی وضاحت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ اس دورہ کے بعد عالمی مبصرین توقع ظاہر کررہے ہیں کہ ان دو بڑے ممالک کے راہنماﺅںکی ملاقات کے بعد دنیا میں تیزی سے پھیلی ہوئی دہشت گردی پر قابو پانے میں نہ صرف مدد ملے گی بلکہ شام عراق ،یمن اور لیبیا جیسے ممالک میں بھی امن برپا ہونے کی نوید ملے گی ۔ سعودی عرب اور امریکہ دونوں ایک دوسرے کے حلیف ہیںاور اس دوستی و قربت کا فائدہ اسلامی دنیا کو ہمیشہ ہواہے ۔ دونوںممالک کے مابین اربوں ڈالر کی تجارت ہورہی ہے اور عالمی امن کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کا نقطہ نظر ہمیشہ ایک رہا ہے ۔ اس وقت ہزاروں سعودی شہری امریکہ میںمقیم ہیں اور بہت سارے طلبہ وہاںکی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میںمصروف ہیں ۔ شاہ سلیمان کا حالیہ دورہ نہ صرف سعودی امریکہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا بلکہ اس سے یہ امید پیدا ہوچلی ہے کہ اب مشرق وسطیٰ کے ممالک سے دہشتگردی کے عنصر کوجڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا اور امن کی نئی صبح طلوع ہوگی۔

زرداری پر ہاتھ ڈالا تو۔۔۔۔۔

Asif-Mehmood

میٹر ریڈر سے اپوزیشن لیڈر ی تک آنے والے شاہ جی فرماتے ہیں :’’ زرداری پر ہاتھ ڈالا تو جنگ ہو گی‘‘
کسی بھی طاقتور ادارے کو اس کی آئینی حدود میں رکھنے کے لئے قانون کی عملداری ناگزیر ہے اوریہ وہ بھاری پتھر ہے جسے صرف کردارکی طاقت سے اٹھایا جا سکتا ہے۔ اب یہ جاننے کے لئے کسی آئن سٹائن کی ضرورت نہیں کہ ہماری سیاسی قیادت کتنی باکردار ہے۔قانون اور انصاف کی بات چلے تو اسے دم گھٹتا محسوس ہوتا ہے۔یہ اس وقت تلملا اٹھتے ہیں جب ان کی دم پر کسی ضابطے یا قانون کا پاؤں آئے۔اور اگر ان کی دم سلامت رہے تو چاہے آسمان ٹوٹ پڑے ان کا راوی چین لکھتا ہے۔بلوچستان جلتا رہا پارلیمان خاموش رہی،ڈرون حملوں پر اس کی قراردادیں پامال ہوتی رہیں اس نے چپ کا روزہ رکھے رکھا،مہنگائی آسمانوں کو چھونے لگی یہ آسودہ رہی،آمر دندناتے ہوئے ملک سے نکل گیا یہ مسکراتی رہی،ملک لہو لہو ہو گیا اس کے آنگن میں شادیانے بجتے رہے،پی اے سی کے شور مچانے کے باوجود رانا بلند اختر ملک سے فرار ہو گیا یہ گونگی بہری بنی رہی لیکن دوہری شہریت کے معاملے میں الیکشن کمیشن نے ایک حلف نامہ کیا مانگ لیا خداوندانِ سیاست برہم ہوگئے۔ارشاد ہوا ’’ پارلیمنٹ عدلیہ یا الیکشن کمیشن کی لونڈی نہیں‘‘۔استحقاقی مخلوق نے بجا ارشاد فرمایا ،پارلیمنٹ واقعی عدلیہ یا الیکشن کمیشن کی لونڈی نہیں،لیکن انہیں صرف مطلع پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے تھا کہ مطلع کے ساتھ مقطع بہت ضروری ہوتا ہے۔اس کے بغیر غزل مکمل نہیں ہو تی۔اور مقطع یہ ہے کہ پارلیمنٹ صرف اس کی لونڈی ہوتی ہے جس کے ہاتھ میں اسے دینے کے لئے ڈیڑھ فٹ کی چھڑی اور پاؤں میں دو تین کلو کے بوٹ ہوتے ہیں۔چنانچہ یہ قائدین ملت اس وقت بھی بے مزہ نہیں ہوتے جب ایک آمر تہران میں کھڑے ہو اپنی ڈیڑھ فٹ کی چھڑی ہلا کر کہتا ہے’’ سیاست دانوں کی کیا اوقات ہے،جب چاہوں اشارہ کروں یہ دم ہلاتے آ جائیں گے‘‘۔وقت بدل گیا مگر سیاست دانوں کی چھڑی اور بوٹ کے آ گے اب بھی وہی اوقات ہے،اب تو اشارہ ہو نہ ہو ،ابھی ماضی قریب کی بات ہے یار لوگ اصولی سیاست کی چادر اوڑھ کر راتوں کو حاضر ی لگوا آتے ہیں اور گنگناتے ہوئے واپس آ تے ہیں کہ’’ہم نے سیاست کو شرافت کا نیا رنگ دیا ہے‘‘۔

بلاول بھٹو،میراث میں آئی ہے جنہیں مسندِ ارشاد،بیرون ملک کھڑے ہو کر اپنی سپریم کورٹ پر برس پڑے،کہا گیا سپریم کورٹ نے حدود سے تجاوز کیا ہے،ایک صاحب نے تجویز دی سپریم دوہری شہریت کا معاملہ پارلیمنٹ کے پاس بھیج دے۔حیرت ہوتی ہے کہ سپریم کورٹ سے وہ کام کرنے کا کہا جا رہا ہے جس کا بادی النظر میں اس کے پاس اختیار ہی نہیں۔عدلیہ پارلیمنٹ کے پاس کوئی معاملہ تو تب بھیجے جب اس میں کوئی ابہام ہو۔یہاں تو آئینِ پاکستان میں صاف لکھا ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی دوسرے ملک کی شہریت اختیار کر لے تو وہ پارلیمنٹ کا رکن بننے کا اہل نہیں ہے۔اہلِ سیاست کو اگر اس فیصلے پر اعتراض ہے اور وہ کچھ خاص لوگوں کو ان کی کچھ خاص ہم نصابی سر گرمیوں کی بنیاد پرپارلیمنٹ میں رکھنا چاہتے ہیں تو وہ آئین میں ترمیم کر لیں۔جب تک ایک چیز آئین میں موجود ہو گی عدالت تو اس کے مطابق فیصلہ دینے کی پابند ہے۔بلاول زرداری کو بھٹو بنے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں انہیں 1973کے اس آئین کی کاپی اٹھا کر دیکھ لینا چاہیے جو بھٹو صاحب نے قوم کو دیا تھا۔اس میں بھی یہی بات لکھی ہے کہ کوئی فرد اگر کسی دوسرے ملک کی شہریت اختیا ر کر لے تو وہ رکن قومی اسمبلی بننے کا اہل نہیں رہے گا۔تو کیا اب یہ سمجھا جائے کہ بلاول’ بھٹو‘زرداری کا سیاسی ویژن ذوالفقار علی بھٹو سے زیادہ تھا؟

پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی میاں مٹھا یاد آ گئے،ان ہی گرمیوں کی ایک شام وہ میرے پاس تشریف لائے ،اچانک کہنے لگے’میں سیاست چھوڑنا چاہتا ہوں‘۔میں نے وجہ پو چھی تو کہنے لگے’یہ زرداریوں کی پارٹی بن گئی ہے یہ اب بھٹو والی پارٹی نہیں رہی‘۔ابھی کوئٹہ سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی ناصر علی شاہ تھوڑی دیر پہلے بتا رہے تھے حکم صرف’ شہنشاہ‘کا چلتا ہے، بے چارے وزیر اعظم کی تو اوقات تو ایک مہرے جتنی بھی نہیں۔ایک مہرہ ابھی پٹ کر ملتان پہنچا ہے تو اس کو سمجھ آئی ہے اسے کب کب کہاں کہاں اور کیسے کیسے ’شہنشاہ‘ نے ایک ٹشو کی طرح استعمال کیا اور آخر میں اپنے محل میں جانوروں کے باڑے کے پاس پھینک دیا۔ٹشو پیپر کو اب پتا چل رہا ہے کہ پارلیمنٹ بے اختیار ہے۔جب ٹشو پیپر ایم بی بی ایس تھا یعنی ’میاں بیوی بچوں سمیت‘ تھا تب اسے معلوم نہ ہو سکا کہ پارلیمنٹ کی اوقات کیا ہے۔بات وہی ہے جب تک اپنی دم سلامت تب تک ’ستے خیراں‘۔دم ہی پر پاؤں پڑنے کے خطرات کو بھانپ کر ایم بی بی ایس نے پارلیمنٹ میں کہا تھا،عدلیہ ہماری جان کو آ گئی ہے ،ہمیں اکٹھا ہونا ہو گا ۔مصیبت میں تو کوے میں بھی اکٹھے ہو جاتے ہیں تو ہم کیوں نہیں ہو سکتے؟۔۔اب کے ارشاد ہوا ہے زرداری پر ہاتھ ڈالا گیا تو کھلی جنگ ہو گی۔۔۔۔صدقے شاہ جی میٹر والے کے۔

الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ۔۔۔۔۔۔ چند سوالات

Asif-Mehmood

تو کیا اب جج حضرات فیصلہ سنانے کے بعد کسی ٹاک شو میں بیٹھ کر اس کی شرح بھی بیان کیا کریں گے؟
ن لیگ کا ردعمل ،اس میں کیا کلام ہے کہ،ناتراشیدہ تھا۔اداروں کے احترام کا درس دینے والے اپنے خلاف ایک خلاف فیصلہ برداشت نہ کرپائے۔ملک الشعراء، جن کے شہد لہجے میں آتش فشاں چھپے ہوتے ہیں، فرمانے لگے: کاظم ملک پہلے ڈوگر جج تھا اور اب تحریک انصاف کا جج ہے۔قبلہ رانا ثناء اللہ، جو جیسا قانون ویسا وزیر قانون کا استعارہ بن چکے ہیں،گل فشانی کرتے پائے گئے:’’کاظم ملک اپنے بیٹے کے لیے ن لیگ سے ٹکٹ لینا چاہتا تھا ،اب وہ ہمارے خلاف ہے،فیصلہ تو ہمارے خلاف ہی آ نا تھا‘‘۔اور جناب سپیکرکا جلالِ شاہی کچھ یوں گویا ہوا:’’ جج کے خلاف کارروائی کریں گے‘‘۔جو عمران خان کو تہذیب نفس اور شائستگی کے درس دیا کرتے تھے، وقت آنے پر اتنے کمزور نکلے کہ ایک فیصلے کا بوجھ برداشت نہ کر سکے اور ٹریبیونل جج کو سینگوں پر لے کر ان زمانوں کی یاد تازہ کر گئے جب’ دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں‘ نے شرافت کی سیاست کوسپریم کورٹ پر حملہ کرتے دیکھااور نعرے لگاتے سناتھا۔ن لیگ نے جو کیا ہمیشہ کی طرح برا کیا۔ایک عرصہ بادشاہ سلامت کی میزبانی سے لطف اندوز ہونے کے بعد اب مزاج مبارک اتنا نازک ہو گیا ہے کہ کسی عدالت کا ایک فیصلہ بھی اسے اپنے خلاف گوارا نہیں۔ان کی سماعتیں صرف باادب ، باملاحظہ ہوشیار کی صدائیں پسند کرتی ہیں۔اختلاف گوارا نہیں، نہ جماعت کے اندر، نہ سیاست میں ، نہ سماج میں۔حتی کہ ایک عدد فیصلہ اگر عدالت ان کے خلاف کر ہی دے تو ان کی خوش اخلاقیاں اور قانون پسندیاں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں اور شہد لہجے زہر اگلنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔لیکن اس سب کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ جج صاحب جواب میں ٹاک شو میں اپنے فیصلوں کا دفاع کرنا شروع کر دیں۔یہ ایک جج کے منصب سے فروتر بات ہے کہ وہ کسی ناتراشیدہ رویے کا جواب دینے کے لیے ٹاک شوز کی زینت بن جائے۔جج نہیں بولتا، اس کا فیصلہ بولتا ہے۔اس سلسلے کو یہیں روکا جانا چاہیے۔یہ بربادی کا راستہ ہے۔گاہے حیرت ہوتی ہے ہم کس راستے پر چل نکلے ہیں۔

بعض احباب کا کہنا ہے کہ ن لیگ نے کاظم ملک صاحب پر اتنی شدید تنقید کی کہ انہوں نے مجبور ہو کر ٹاک شو پر اپنا موقف دیا۔یہ ایک انتہائی کمزورعذر ہے۔عدالتی فیصلوں پر ہمارے ہاں ماضی میں بھی بہت لے دے ہوتی رہی ہے۔محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے خلاف ہونے والے فیصلوں کو ’ چمک‘ کا شاخسانہ قرار دیا کرتی تھیں۔کیا کسی جج نے جواب میں کوئی پریس کانفرنس کی؟خود عمران خان نے افتخار چودھری کی کردار کشی میں کوئی کسر چھوڑی، کنٹینر پر کھڑے ہو کر روز ان پر کیچڑ اچھالا گیا ،کیا رد عمل میں افتخار چودھری کسی ٹاک شو میں موقف دینے آ ئے؟آصف زرداری نے کہا یہ آراوز کا الیکشن تھا ،تو کیا جواب میں کسی سیشنز جج نے کسی اینکر سے کہا کہ بھائی جان آج ذرا مجھے بھی فون پر لے لینا میں نے وضاحت پیش کرنی ہے اور کہنا ہے ’’ مجھے دیوار سے لگایا گیا تو میں بھی چپ نہیں رہوں گا‘‘۔۔۔۔۔ن لیگ نے رد عمل میں بہت برا کیا،لیکن یہ برائی کسی جج کے ٹاک شو میں آ کر بات کرنے کا جواز نہیں بن سکتی۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم تعصب کی عینک پہن کر معاملات کو دیکھتے ہیں۔اس وقت جو ن لیگ کا مخالف ہے اس کے نزدیک کاظم ملک صاحب سے بڑا ولی اللہ اور ہیرو کوئی نہیں اور جو ن لیگ کا حامی ہے وہ کاظم ملک کو تحریک انصاف کا جج ثابت کرنا چواب دارین سمجھتا ہے۔ہمیں ان تعصبات سے بالاتر ہو کر چیزوں کو میرٹ پر دیکھنا ہو گا۔

جب ایک فیصلہ آ جائے تو اس پر بحث اور اختلاف کی گنجائش موجود ہوتی ہے البتہ جج کی ذات پر کیچڑ اچھالنا ایک بیمار رویہ ہے اور ن لیگ نے اسی رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔لیکن کچھ سوالات ایسے بھی ہیں جو قانون کے طالب علموں کو پریشاں کیے ہوئے ہیں۔ایک متوازن معاشرے کی تشکیل کے لیے ان سوالات پر سنجیدگی کے ساتھ بات ہونی چاہیے اور ہیجان یا کسی کی کردار کشی سے اجتناب کرنا چاہیے۔مثال کے طور پر پہلا سوال آج کل یہ اٹھ رہا ہے کہ فیصلوں میں اتنی تاخیر کیوں ہوتی ہے۔پہلے پتا چلتا ہے فیصلہ دس بجے ہوگا، پھر خبر آتی ہے فیصلہ دو بجے ہوگا، اس کے بعد پتا چلتا ہے فیصلہ چار بجے ہو گا،لیکن فیصلہ سات بج کر دس منٹ پر آتا ہے۔اس دوران سارا دن میڈیا اسی موضوع پر بات کرتا رہتا ہے، سماج ہیجان میں مبتلا کر دیا جاتا ہے،فیصلہ اگر عدالتی تائم میں نہیں سنایا جا تا تو اگلے دن سنا دیا جائے یا جس دن سنایا جانا ہو اسی دن معمول کی کارروائی کے تحت سنا دیا جائے۔لیکن اس سارے عمل کو اتنا ہیجان خیز بنا دیا گیا ہے کہ لوگ اس رویے کی مختلف تشریحات کرنا شروع ہو گئے ہیں۔حکومتی وزراء بھی دبے دبے لفظوں میں سوال اٹھا رہے ہیں کہ کہ اتنی زیادہ ’ میڈیا ہائپ‘ کیوں پیدا کی جاتی ہے۔افتخار چودھری صاحب کے دور سے پہلے شاید ایسا نہیں تھا۔ان کے دور میں فیصلوں میں اتنی تاخیر ہونا شروع ہوئی کہ سارا دن میڈیا کا رخ عدالت کی جانب رہنے لگا، ابھی فیصلہ آنے والا ہے، ابھی آنے والا ہے، ۔۔۔سارا سارا دن لائیو نشریات ہوتی تھیں کہ فیصلہ کیا ہو گا۔اس عمل سے ہیجان میں اضافہ ہوتا ہے۔عدالتوں کا کام ہی فیصلے دینا ہے ۔یہ ایک معمول کی کارروائی ہونی چاہیے نہ کہ ایک ہیجان خیز عمل بنا دیا جائے۔میڈیا کو تھوڑا غور فرمانا ہو گا۔آزاد میڈیا کچھ زیادہ ہی آزاد ہو گیا ہے۔حکمران بھی نوٹس لے لے کر اسی میڈیا میں زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں حتی کہ صدر پاکستان کو بھی میڈیا کو متوجہ کرنے کے لیے ایک آدھ نوٹس لینا پڑا ۔۔۔۔۔یہ کوئی صحت مندانہ رویہ نہیں ہے۔فیصلے لکھتے وقت ایک جج کے پیش نظر صرف قانون کا بر محل اطلاق ہونا چاہیے۔اگر کوئی معزز جج اس دوران یہ سوچتا رہے کہ کیا وہ صرف ایک جانور کی طرح ہے یا ایک درندے کی مانند ہے یا وہ صرف کھانا کے لیے پیدا کیا گیا ہے تو یہ اس کے من کا جوار بھاٹا ہو سکتا ہے ، اس کے ضمیر کے زندہ ہونے کی علامت بھی ہو سکتا ہے ،لیکن یہ ایک انفرادی واردات ہے اور یہ انفرادی واردات اگر فیصلوں میں ظہور کرنا شروع کر دے تو پھر اس پر بات تو ہو گی۔چنانچہ اب احسن اقبال کاظم ملک صاحب کے فیصلے کے اس حصے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جس میں انہوں نے کچھ ایسے ہی سوالات اٹھائے ہیں تو میرے لیے رائے قائم کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ وہ توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں یا نہیں۔

پڑھتا جا۔۔۔۔

Asif-Mehmood

ذرا پڑھیے کہ ہمارے دائیں بائیں کیا ہو رہا ہے اور وہ امت ہمارے ساتھ کیا کر رہی ہے جس کے لیے ہم ہر وقت تاؤلے ہوئے پھرتے تھے اور ہم نے اپنا ملک میدان جنگ بنا لیا۔
خبر کچھ یوں ہے ’’متحدہ عرب امارات نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دو روزہ دورے کے دوران ابو ظہبی میں ہندں کے پہلے مندر کی تعمیر کے لئے زمین کی الاٹمنٹ کر دی ہے۔اس بات کا اعلان امارات کے محکمہ بلدیات کے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں 26 لاکھ سے زائد بھارتی شہری رہائش پذیر ہیں جو یا تو کاروبار سے منسلک ہیں یا پھر مختلف کمپنیوں میں ملازم ہیں۔ان کے لئے دبئی میں تو دو مندر موجود تھے، لیکن ابو ظہبی میں کوئی بھی مندر نہیں تھا، جس کے لئے ہندو کمیونٹی طویل عرصے سے زمین کی الاٹمنٹ کی کوششیں کر رہی تھی۔
ان ہندں کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے سوا سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے دبئی جانا پڑتا تھا، جہاں دو مندر اور ایک گوردوارہ موجود ہے۔ابو ظہبی میں مندر کی تعمیر کے لئے زمین کی فراہمی ایسے وقت کی گئی ہے جب بھارتی وزیر اعظم متحدہ عرب امارات کے پہلے دورے پر ہیں، جنھوں نے یو اے ای حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔
نریندر مودی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ابو ظہبی میں مندر کی تعمیر کے لئے زمین کی الاٹمنٹ پر میں متحدہ عرب امارات کی حکومت کا شکر گزار ہوں۔ یہ ان کا ایک نمایاں قدم ہے۔
خیال رہے کہ بھارت متحدہ عرب امارات کا ایک بڑا پارٹنر ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم بڑھ کر 60 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اس ملک میں کام کرنے والے بھارتی باشندے ہر سال 13 ارب ڈالر زر مبادلہ امارات سے اپنے ملک بھیجتے ہیں۔‘‘
اب اس خبر کے بعد سوال یہ ہے کہ :’’ امت کہاں ہے‘‘
اور جواب یہ ہے کہ واعظ کے وعظ میں اور درسی کتب میں۔ان دو جگہوں کے علاوہ آپ سارا جہان چھان ماریں آپ کو امت نام کی کوئی چیز نہیں ملے گی۔ہمیں اب بطور قوم تھوڑا سا بڑا ہو جانا چاہیے اور جان لینا چاہیے کہ ریاستوں کے تعلقات مفادات کی بنیاد پر ہوتے ہیں کسی اصول کی بنیاد پر نہیں۔امت کے نام پر بھی بعض ممالک نے ہمیں صرف اپنے اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔ ان ممالک کی آپ پالیسیاں دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ ممالک اپنے مفاد کے لیے ایک مکمل نیشن سٹیٹ بن کر کام کرتے رہے اور امت کا نام بھی ان سیکولر نیشن سٹیٹس نے صرف اس لیے استعمال کیا کہ ایسا کرنا ان کے سیکولر نیشن سٹیٹ کے مفاد میں تھا۔جہاں جہاں امت ان کے مفادات کے خانے میں فٹ بیٹھتی رہی یہ امت امت کرتے رہے اور جیسے ہی ان کے مفادات کا تقاضا ہوا یہ مندر بنانے لگ گئے،یہ ممالک معروف معنوں میں سیکولر نیشن سٹیٹ ہیں اور ان کے مفادات یہ تھے کہ ہم جیسوں کو ماموں بنایا جائے اور انہوں نے اسلام کا نام لے کر یہ کارخیر انجام دیا۔
اب ان کے مفادات کا تقاضا بدل رہا ہے تو انہوں نے مندر بنا دیا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم لوگ آنکھیں کھولیں اور سوچین کہ ہم بڑے ہو کر کیا بنیں گے

سرفراز ورک۔۔۔ پولیس افسریا اللہ کامجاہد

Azam-Khan

میانوالی خیبرپختونخواہ کے بارڈر پر واقع وہ ضلع ہے جس کی سرحدیں کوہاٹ ، کرک ، لکی مروت اورڈیرہ اسماعیل خان سے ملتی ہیں جن اضلاع کی سرحدیں کے پی کے سے ملتی ہیں ان پر ان کا اثر اور رنگ بھی غالب دکھائی دیتا ہے ۔ میانوالی بھی پنجاب کا ایسا ضلع ہے جس کے رسوم و رواج اور ثقافت پر کے پی کے کا غلبہ دکھائی دیتا ہے ۔ محکمہ پولیس کی اصطلاح میں میانوالی کو کالے پانی سے تعبیر کیاجاتا ہے یہاں کوئی افسر آنے کیلئے تیار نہیں کیونکہ کمانڈ اگر پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے لوگوں پر کی جائے تو اس کا مزہ کچھ اور ہے اور اگر کم پڑھے لکھے اجڈ اور سخت گیر لوگوں پر کرنی پڑے توماحول کا رنگ تبدیل ہوجاتا ہے اس ضلعے میں عموماً شکایتی طورپر تبادلہ کیے جانے والے افسروں کو بطور سزا بھیجا جاتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے افسران بھی یہاں آئے ہیں جنہوں نے رضا کارانہ طورپر میانوالی ضلع خود مانگا یہ بے لوث خدمت اور بے خوف قیادت کے حامل پولیس افسران ہوتے ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل میانوالی کا ضلع مفروروں اور جرائم پیشہ لوگوں کی آماجگاہ سمجھا جاتا تھا ، برٹش پولیس آفیسرز میں ایس ایس پی سمتھ کا نام اچھے الفاظ میں لیا جاتا ہے کہ اس نے گھوڑے پر سوارہوکر پورے ضلع کو کنٹرول میں رکھا اور اپنے دور میں پیدا ہونے والے ایک مفرور سیدا کو اپنے انجام تک پہنچایا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد حکومت میں چیمہ نام کا ایک ایس پی یہاں آیا اور اس نے یہاں کے جرائم پیشہ افرادکو بتایا کہ اگر ایس ایس پی ایماندار، دیانتدار اور جرأت مند ہو تو علاقے کے عوام کو راتوں کو جاگنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ سکھ چین کی نیندسوتے ہیں اور ان کی حفاظت کافریضہ ان کی پولیس سرانجام دیتی ہے ۔90ء کی دہائی میں یہاں سید احسن محبوب اور امجد سلیمی نام کے ایس ایس پی تعینات ہوئے یہ دونوں افسران بھی پولیس کے محکمہ میں اچھی شہرت کے حامل ہیں۔ سید احسن محبوب نے جب جرائم پیشہ افراد اور منشیات فروشوں کے خلاف جہاد کا آغاز کیا تو واں بچھراں کے مقام پر انہوں نے منشیات سے بھرا ایک ٹرک پکڑا یہ ٹرک سدا بہار ایک صوبائی وزیر کے حمایتی کا نکلا اپنے حمایتی کو چھڑانے کیلئے اس وزیر نے پہلے تو ہائیکورٹ کے ایک جج کے گھرجاکر ضمانت کروائی اور پھر اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اس وقت کے آئی جی محمد عباس خان کو جاکر شکایت کی کہ مذکورہ ایس پی خود منشیات کا سمگلر ہے اس کی انکوائری کی جائے اس پر سرگودھا ڈویژن کے ڈی آئی جی نے شاہ جی کو بلوایا اور کہاکہ شاہ صاحب آپ میرے محکمہ کے ایک دیانتدار اور اچھے افسر ہیں مگر اس صوبائی وزیر نے آپ کے خلاف یہ شکایت کی ہے اس پر دیانتدار اور ایماندار ایس ایس پی نے کہا کہ سر میں تو ایک پرائمری سکول ٹیچر کا بیٹا ہوں اگر منشیات کا دھندہ کرنا ہوتا تو پولیس آفیسر بن کر اتنا بڑا چیلنج قبول نہ کرتا ۔ صوبائی وزیر کی وزارت ختم ہوگئی مگر وہ دیانتدار پولیس افسر آج بھی اپنے محکمے کے ماتھے کاجھومر ہے ۔ یہ بات مجھے سیداحسن محبوب نے خودبتائی تھی اتنی بڑی تمہید لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ میانوالی کے عوام خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایک بار پھر ایک دیانتدار ، ایماندار ، قابل اور پڑھا لکھا افسر سرفراز ورک کی صورت میں میسر آیا ہے ۔ ورک جٹوں کا قبیلہ ہے اور جٹ بھی وہ کہ جنہوں نے تحریک پاکستان میں اپناکردار ادا کیاورنہ بہت سارے جٹ انگریز کے ساتھ وفاداری کا دم بھر کے ان سے جاگیریں بھی لیتے رہے ۔ ورک قبیلے کو میں ذاتی طورپر جانتا ہوں۔ ہر شخص اپنے قبیلے کا ، علاقے کا، صوبے کا اور ملک کا سفیر ہوتا ہے۔ چوہدری توکل اللہ ورک کے صاحبزادے یحییٰ ورک اسلام آبادمیں کافی عرصہ تعینات رہ چکے ہیں انہیں بینظیر کے دور حکومت میں براہ راست ڈی ایس پی بھرتی کیا گیا تھا کچھ عرصہ وہ اٹک کے ڈی پی او بھی رہے ۔ ورک قبیلے کے لوگ جو بات ٹھان لیں اسے کرکے دکھاتے ہیں۔ سرفراز ورک سے میری براہ راست ملاقات تو نہیں مگراس سے غائبانہ تعارف ان دنوں کا ہے کہ جب وہ جہلم پولیس کا کمانڈر تھا۔ میرے نمائندہ شہباز بٹ نے دفتر آکرکہا کہ جہلم میں ایک ایسا پولیس افسر تعینات ہوا ہے جوسودخوروں اور منشیات فروشوں کا دشمن ہے اس کے حق میں خبریں چل سکتی ہیں کیونکہ عام طورپر پولیس کے حق میں کوئی اخبار ، کوئی ٹی وی چینل کلمہ خیر کہنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ میرے اخبار اور ہمارے روز ٹی وی چینل نے یہ حق بخوبی ادا کیا کہ اس پولیس افسر نے جہلم میں جس مگر مچھ پر ہاتھ ڈالا ہم نے اسے ایکسپوز کیا اور جس منشیات فروش اور سود خور کی نشاندہی شہباز بٹ نے کی پھر وہ حوالہ زنداں ہی ہوا۔ سننے میں آیا ہے کہ سرفراز ورک نے میانوالی کا تبادلہ اپنی خواہش پر کروایا ہے اور اسے ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے ۔ میانوالی کے عوام کیلئے یہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بن کر آیا ہے کیونکہ منشیات فروشوں نے آنے والی نسلوں کو زندہ درگور کرکے رکھ دیا مگر کوئی پولیس افسر ان کے خلاف کارروائی کرنے کی جرأت نہ کرتا اور اگر کرتا بھی تو محض خانہ پری کیلئے ۔ اینٹی نارکوٹکس فورس میں تعینات میرے ایک دوست جو لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر تعینات ہیں اکثر گلہ کرتے ہیں کہ میانوالی کی پولیس ان کے ساتھ سنجیدگی اور ایمانداری سے تعاون نہیں کرتی مگر اب ان کا گلہ اس لئے ختم ہوکر رہ گیا ہے کہ اے این ایف کی کارروائی سے قبل ہی سرفراز ورک نے منشیات فروشوں کا گلا گھونٹتانظر آتاہے۔ میری جنم بھومی میانوالی ہے مگر تعلیم اور سلسلہ ہائے روزگار کے حوالے سے نصف سے زائد زندگی اسلام آباد میں گزر گئی ۔ میانوالی سے آنے والی خبریں یہ بتاتی ہیں کہ وہاں پر کوئی ڈی پی او تعینات نہیں ہوا بلکہ اللہ کا کوئی نیک بندہ یا فرشتہ میانوالی کے ان مظلوم افراد کی آواز بن کر پہنچ گیا ہے جس نے انہیں سودخوروں اور منشیات فروشوں کے جہنم سے نکالا۔ میرا میانوالی بہت کم جانا ہوتا ہے مگر جب بھی گیا تو وہاں کے حالات دیکھ کر خوشی نہیں ہوئی۔ میں نے بہت سارے منشیات کے عادی افراد کو اپنی جوان بہنوں کے جہیز میں رکھے نئے کپڑے اور زیور محض منشیات کے ایک سگریٹ کیلئے فروخت کرتے دیکھا ہے کئی اچھے گھرانوں کے نوجوانوں کو منشیات کی لت پوری کرنے کیلئے غیر اخلاقی کام کرتے دیکھا ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی بار ایسابھی دیکھا کہ سود لے بیٹھنے والے افراد کو اپنے دروازے پر گڑگڑاتے روتے بھی دیکھا مگرکوئی ان کا پرسان حال نہ بنا اور اپنی صورتحال یہ ہے کہ میرے قلم میں شاید اتنی طاقت نہیں زنجیر عدل ہلا سکوں کیونکہ جو بھی افسران تعینات ہوتے آئے انہوں نے یا تو علاقے میں ذاتی دوستیاں بنائیں یا پھر اگلے گریڈ میں پروموشن کیلئے انہوں نے سیاسی عمائدین کو ناراض نہ کرنا چاہا۔ سرفراز ورک یقیناً ایک ایماندار اور اچھا پولیس افیسر ہے کہ اس نے اللہ کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرکے جہادکا آغاز کیا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کافرمان ہے کہ جس نے سودکا کاروبارکیا یا سود کے لین دین میں گواہ بنا یا تحریر لکھی یا تحریر کیلئے کاغذ قلم فراہم کیا یہ سب اللہ کے ساتھ جنگ کرنے والے لوگوں میں شامل ہے اور اللہ کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے خلاف جو شخص کارروائی کرتا ہے وہ اللہ کا مجاہد ہوتا ہے۔ سرفراز ورک اللہ کا مجاہد بھی ہے اور اللہ کا سپاہی بھی ہے اس نے جس بڑے جہاد کا آغازکیا ہے میانوالی کے عوام اور پوری سوسائٹی کو اس کا ساتھ دے کر اپنا نام جنت کے حق داروں میں لکھوانا چاہیے ۔ میانوالی کے اکثریتی عوام نیازی ہیں مگر سرفراز ورک اللہ کا غازی ہے۔

جنرل حمید گل

Hamid-Gul

asifہفتے کی شام آٹھ سے نو تک اپنا تاک شو کیا اور گھر آ گیا۔ بچوں سے وعدہ تھا انہیں صبح سیر پر لے جانا ہے۔صبح آنکھ کھلی

تو خبر ملی: حمید گل اس دنیا میں نہیں رہے،اور دل لہو سے بھر گیا۔چند رسمی ملاقاتیں نہیں دو عشروں پر محیط تعلق تھا، یادوں نے ہجوم کیا اور پلکیں نم ہو گئیں۔اب ایک کمرے میں بند بیٹھا ہوں، علی اور عائشہ مجھے کھینچ رہے ہیں کہ سیر پر لے چلو، میں انہیں کیا بتاؤں ؟صرف اتنا کہ پاتا ہوں : بیٹا آج نہیں کل چلیں گے۔عائشہ تین سال کی ہے، علی سے ڈیڑھ سال بڑی، میری طرف دیکھتی ہے اور علی کا بازو پکڑ کر کہتی ہے:’’ بابا کی آنکھیں خراب ہو رہی ہیں کل چلیں گے‘‘
جنرل صاحب سے میری طویل رفاقت رہی۔اکیس سال ہوتے ہیں جب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں انگریزی میں ماسٹرز کرنے میں گاؤں سے اسلام آباد آیا اور یہیں کا ہو رہا۔تب اس شہر میں ، میں ایک ہی آدمی کو جانتا تھا ، جنرل حمید گل۔سکیم تھری میں اپنی رہائش گاہ کے بالکل عقب میں ان کا دفتر تھا ،زیادہ وقت بھی ان ہی کے پاس گزرتا۔اٹھتی جوانیوں کے دن تھے اور کچھ جہاد افغانستان کا رومانس بھی تھا ، جنرل حمید گل سے قربت بڑھتی گئی۔جنرل صاحب میرے استاد بھی تھے اور انسائیکلو پیڈیا بھی۔اس وقت انٹرنیٹ اتنا عام نہ تھا ، یوں سمجھیے کہ میرے لیے جنرل صاحب ہی گوگل بھی تھے۔جب کبھی کوئی مسئلہ درپیش ہوا ، فون ملایا :جنرل صاحب یہ سمجھا دیں ، جنرل صاحب وہ سمجھا دیں۔دن رات کی تمیز نہ تھی ، ایس بھی ہوا کہ رات گئے فون کر ڈالا، اسی شائستگی سے رہنمائی ملی۔میں ایک پرلے درجے کا مردم بیزار شخص ہوں لیکن جنرل صاحب میں ایک سحر تھا جو اپنی جانب کھینچتا تھا۔ایسا بھی ہوا کہ کلاسیں بنک کیں اور افتخار سے کہا : چلو یار گل صاحب کی طرف چلتے ہیں۔بنا بتائے جا دھمکے، جنرل صاحب ایسے گلے لگاتے گویا ہمارے ہی منتظر ہوں۔اتنے شائستہ اور با اخلاق تھے کہ ان سے ملنے والا ہر شخص یہ سمجھتا کہ وہ ان سے سب سے زیادہ قریب ہے۔ہاسٹل لائف کے دوست ملتے ہیں تو آج بھی ہنستے ہیں کہ تمہارا کمرہ سب سے زیادہ بے ترتیب اور گندا ہوتا تھا۔ان کا کہنا ہے یہ کمرہ ایک ہی دن صاف پایا گیا جس روز جنرل حمید گل میرے ہاں ہاسٹل تشریف لائے۔مجھے یاد ہے جنرل صاحب کے آنے سے ایک روز پہلے میں اور افتخار سید بازار سے بہترین فروٹ لائے اور لا کر ہاسٹل کی الماری میں رکھ دیا۔جنرل صاحب کی تشریف آوری پر الماری کھولی تو آدھا خراب ہو چکا تھا۔کئی ماہ بعد میں جنرل صاحب نے ملنے گیا وہاں کچھ مہمان آئے ہوئے تھے۔جنرل حمید گل تعارف کراتے ہوئے کہنے لگے: یہ آصف ہیں ، دیگر خوبیوں کے ساتھ ساتھ یہ ” fruit preservation” کے بہت بڑے ایکسپرٹ ہیں۔
وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا۔جنرل حمید گل صاحب کے خیالات سے اب مجھے گاہے اختلاف ہونا شروع ہو گیا۔جو حریت فکر انہوں نے مجھے سکھائی تھی میں نے ان کے خیالات کو اسی فکر کی روشنی میں دیکھنا اور پرکھنا شروع کر دیا۔بہت سے سوالات اٹھنا شروع ہو گئے۔میں نے ان سوالات کو کالموں میں بھی اٹھانا شروع کر دیا۔اسلوب وہی تھا جو میں نے جنرل صاحب سے سیکھا تھا۔میرے عزیز ترین دوست افتخار سید کو بہت برا لگا۔اس نے اول اول میری سرزنش کی، پھر ایک روز جنرل صاحب سے پوچھ لیا: یہ آصف کو آج کل کیا ہو گیا ہے؟۔۔۔۔افتخار کا کہنا ہے: ’’ جنرل صاحب نے کہا:’’ اولاد جوان ہو جائے تو باپ کے برابر آن کھڑی ہوتی ہے۔آصف جوان ہو گیا ہے‘‘۔۔۔میں نے یہ سنا تو میرے اندر سے کچھ ٹوٹ سا گیا۔جس شخص سے ایک ایک دن میں ، میں بیس بیس مرتبہ چیزیں سمجھتا تھا ،اس سے اختلاف کرنا سہل کام نہ تھا لیکن میرے ذہن میں سوالات تھے اور انہیں روکے رکھنا میرے بس کی بات نہ تھی۔ مجھے وہ دن یاد آ گیا جب جناب سعود ساحر نے آئی پی ایس میں جنرل سے خاصے تلخ لہجے میں کچھ سوالات کیے، مجھے بہت برا لگا،تقریب ختم ہوئی تو میں نے پوچھ لیا: ’’ جنرل صاحب کیا وجہ ہے ایک وقت تک لوگ آپ کے ساتھ رہتے ہیں پھر فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے‘‘۔جنرل صاحب مسکرائے اور کہا : ’’ تم ایسا نہ کرنا‘‘۔۔۔میں نے ایسا نہیں کیا، لیکن ایسا ہو گیا، حالانکہ میں نے کبھی ایسا چاہا نہیں تھا لیکن ہو گیا۔
لیکن یہ خیالات کا اختلاف تھا جو زندہ انسانوں میں ہوتا ہے۔ایک شاگرد کو اپنے عالی قدر استاد کے بعض خیالات سے اختلاف ہو سکتا ہے،میں ایک معمولی سا طالب علم اور جنرل صاحب ایک تاریخی کردار، کوئی نسبت ہی نہ تھی،لیکن مجھے اختلاف ہوا اور میں نے اظہار کیا۔ایسا بھی ہوتا کہ احترام کے بوجھ تلے قلم دب کر چٹخ چٹخ جاتا لیکن میں نے سوالات اٹھائے۔احترام میں مگر کبھی کمی نہ آنے دی۔میں ایک شاگرد ہی رہا اور انہیں اپنا محسن اور استاد ہی سمجھا۔میں آج بھی یہی سمجھتا ہوں کہ حمید گل صاحب کی فکر کے بعض حصوں سے اختلاف ضرور کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی دیانت اور حب الوطنی اپنی مثال آپ تھی۔میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔انہوں نے مجھے بے پناہ پیار دیا۔ان محبتوں کی گواہ جنرل صاحب کی فیملی ہے یا میجر محبوب صاحب۔لیکن جو پیار ان سے میں نے کیا، اس کا گواہ صرف میں ہوں یا میرا رب۔
جنرل صاحب ایک انتہائی شائستہ، اور وضع دار انسان تھے۔وہ ہمارے تہذیبی ورثے کی ایک نشانی تھے۔وہ ایک مکمل مکتب فکر تھے۔وہ اپنے قبیلے کا فخر تھے۔وہ ایک دلیر ، نفیس اور اجلے آدمی تھے۔وہ ان عالی مرتبت لوگوں میں سے تھے جنہیں سیدنا مسیح ابن مریم کے الفاظ میں ’ زمین کا نمک‘ کہا جا سکتا ہے۔ایک عہد تھا جو آج تمام ہوا۔خدا ان پر رحمت فرمائے۔

Google Analytics Alternative