کالم

سارک تنظیم کوفعال بنانے کی ضرورت

وزیراعظم محمد نواز شریف نے سارک وزرائے خزانہ کے آٹھویں اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان جنوبی ایشیا کے عوام کو غربت، ناخواندگی اور دیگر سماجی برائیوں سے نجات دلانے کیلئے سارک کے رکن ممالک کے ساتھ ملکر کام کرنے کیلئے تیار ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیائی خطے کی اقتصادی ترقی اور ممکنہ علاقائی ہم آہنگی کے خواب کو عملی جامہ پہنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، سارک کے پلیٹ فارم کے ذریعہ علاقائی ترقی پر یقین رکھتے ہیں، پاکستان خطے کے عوام کی امیدوں کو پورا کرنے کیلئے کردار ادا کرتا رہیگا۔ سارک تنظیم کو لوگوں کی توقعات کے مطابق مزید فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں سارک کے رکن ممالک، سیکرٹریٹ، علاقائی مراکز اور خصوصی تنظیمیں مربوط، پائیدار اور ٹھوس کوششیں کریں۔ پاکستان علاقائی مسائل کے سارک کے تحت حل پر یقین رکھتا ہے اور اس کی جانب سے کئے گئے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے، پاکستان توانائی کے مقامی وسائل کے تبادلہ کیلئے توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے علاقائی کوششوں کا بھی حامی ہے۔ روڈ، ریل اور فضائی رابطے خطے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اہم ہیں۔ تین دہائیاں قبل سارک تنظیم کا قیام سماجی بہبود کے فروغ، معیار زندگی بہتر کرنے اور ثقافتی ترقی کے عزم کے ساتھ عمل میں لایا گیا تھا۔ ایک دوسرے پر بڑھتے ہوئے انحصار اور مشترکہ مسائل سے علاقائی حل تلاش کرنے کی ضرورت بڑھی ہے، بڑھتے ہوئے رابطے، مواصلات میں آسانی، آزاد تجارت اور غربت، بھوک و غذائی تحفظ سے دنیا کو علاقائی تعاون کو بڑھانے میں مدد ملی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، بیماریوں کے پھیلاﺅ اور اقتصادی و سماجی مسائل کے اثرات پر علاقائی سطح پر مشترکہ حکمت عملیوں کے ذریعے پیشرفت ہوئی ہے۔ جنوبی ایشیا وسیع مواقع کا حامل خطہ ہے، عوام کے امن اور عوامی خوشحالی کیلئے ان وسائل کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں سارک کو کردار ادا کرنا چاہئے۔ وزیراعظم نے پاکستان کی اقتصادی بحالی کی کوششوں سے شرکا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اقتصادی استحکام لانے میں کامیاب ہوئی ہے اس سلسلے میں لیگل، ریگولیٹری اور سپروائزری فریم ورک کو مضبوط بنانے کیلئے اصلاحات جاری رکھے ہوئے ہے، اصلاحاتی حکمت عملی کا مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنا اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، مائیکرو اکنامک استحکام کے نتیجے میں عام لوگوں تک اس کے ثمرات پہنچ رہے ہیں۔ پاکستان خطے کے عوام کی امیدوں اور امنگوں کو پورا کرنے کیلئے تیار ہے۔ متعدد چیلنجز کے باوجود سارک نے جنوبی ایشیا میں وسیع تر علاقائی اتحاد کے فروغ میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ وزیراعظم نے توقع ظاہر کی کہ وزرائے خزانہ کے اجلاس سے 15ویں سارک سربراہ کانفرنس کے ایجنڈا کو تقویت ملے گی۔ پاکستان اس سربراہ اجلاس کی 9 اور 10 نومبر کو انعقاد کا منتظر ہے۔ اس تنظیم کی کارکردگی لائق تحسین ہے تاہم اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سارک وزرائے خزانہ کانفرنس میں ساﺅتھ ایشین فری ٹریڈ ایریا (سافٹا) کو ساﺅتھ ایشین اکنامک تعاون کے جانب بڑھانے، دوہرے ٹیکسوں سے بچاو، کسٹم کے معاملات آسان بنانے، ٹریڈ ان سروسز میں سارک معاہدہ کو نافذ کرنے، تجارت سے متعلق کسٹم امور پر فوکس کرنے سرمایہ کاری بڑھانے اور تحفظ فراہم کرنے کیلئے سارک معاہدہ کے ڈرافٹ کو مکمل کرنے پر رکن ممالک نے اتفاق کر لیا ہے۔ سارک ممالک کے کامرس چیمبرزکے سربراہوں کیلئے ویزا فری کی تجویز زیر غور ہے سارک وزرائے خزانہ کے گذشتہ میٹنگز کے فیصلوں پر عمل درآمد سنجیدہ مسئلہ ہے، بھارتی وزیرخزانہ کی کانفرنس میں عدم شرکت کی کوئی اہمیت نہیں، ایسی کانفرنسوں میں ملکوں کی نمائندگی اہم ہوتی ہے افراد کی نہیں سارک ممالک میں تجارت کم ہونیکی وجہ طویل منفی اشیا کی فہرست ہے، سارک ممالک میں تجارت کا حجم صرف 5 فیصد ہے نویں سارک کانفرنس کابل میں کرنے پر اتفاق کیا گیا۔سارک کے فیصلوں پر عمل درآمد سنجیدہ مسئلہ ہے سارک ممالک میں تجارت کم ہونیکی وجہ طویل منفی اشیا کی فہرست ہے۔ سارک ڈویلپمنٹ فنڈ 456ملین ڈالر تک محدود ہے اسے مزید بڑھانے کی ضرورت ہے میٹنگ میں انٹرا ریجنل تجارت بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ اجلاس میں پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ سارک ممالک کا آڈٹ عالمی کمپنی سے دو سے زائد مرتبہ نہ کروانے پر اتفاق ہو گیا۔ سارک وزرا کانفرنس میں افغانستان کے پاکستان میں سفیر ڈاکٹر حضرت عمر، بنگلہ دیش کے وزیر خزانہ ایم اے منان، بھوٹان کے وزیر خزانہ لیون پو نامگے ڈورجی، مالدیپ کے ڈپٹی منسٹر عبد الحلیم عبد الغفور، نیپال سے ڈپٹی پرائم منسٹر کریشن بہادر، سری لنکا کے وزیر خزانہ راوی، بھارت کے سیکرٹری اکنامک افیئر شکتی کانتا داس، سارک سیکرٹریٹ سے سیکریٹری جنرل ارجن بہادر تھاپا اور اسحاق ڈار نے شرکت کی۔سارک کانفرنس میں ٹیرف، نان ٹیرف رکاوٹیں دور کرنے اور ممالک میں سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ سارک ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت سماجی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ، خطے میں معاشی اور تجارتی سرگرمیاں بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اسحاق ڈار کو 8ویں سارک وزرائے خزانہ کانفرنس کا چیئرمین منتخب کیا گیا ہے۔ سارک تنظیم کو مزیدفعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ عوام کی توقعات پر پورا اتر سکیں۔حالیہ اجلاس دور رس نتائج کاحامل قرارپایا اس کے بیشترممالک پرمثبت اثرات مرتب ہونگے۔لوگوں کی فلاح وبہبو د اوران کی ترقی کیلئے منصوبہ بندی کوفعال بنانے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے ملک کے تحفظ کابھی خیال رکھناضروری ہے۔
الطاف کیخلاف شواہدبرطانیہ کے حوالے کرنے کافیصلہ
وفاقی حکومت نے ایم کیو ایم پر مکمل پابندی کیلئے تمام شواہد پر بھی مشاورت شروع کر دی ہے۔وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایم کیو ایم قائد الطاف حسین کی جانب سے پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کے فوراً بعد برطانوی ہائی کمشنر کو فون کر کے ان کو احتجاج ریکارڈ کروایا۔وزارت داخلہ اس حوالے سے برطانوی حکومت کیساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے کراچی دورہ کر کے وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کو ایم کیو ایم کے حوالے سے ایک پیج پر رہنے کا پیغام پہنچایا، جس پر وزیر اعلیٰ سند مراد علی شاہ نے وزیر داخلہ کو اس حوالے سے تمام ممکن مدد کی یقین دہانی کروائی اور ایم کیو ایم قائد کیخلاف تمام ثبوت وفاقی وزارت داخلہ کو بھیج دئےے۔وفاقی وزارت داخلہ نے اس مرتبہ ایم کیو ایم قائدالطاف حسین کیخلاف مضبوط کیس تیار کر نے کا فیصلہ کیا ہے،اس حوالے سے وزارت داخلہ کو سند ھ حکومت کی جانب سے فراہم کئے گئے تمام ثبوت برطانوی پولیس کو جلدفراہم کر دئےے جائیں گے۔الطاف حسین کے پاس پاکستانی پاسپورٹ نہیں ہے صرف برطانوی پاسپورٹ ہے ، اسلئے پاکستان کا الطاف حسین کی حوالگی کا مطالبہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ الطاف حسین کی جانب سے پارٹی کارکنوں کو میڈیا پر تشدد پر اکسانے کا جرم برطانوی قوانین پر پورا اترتا ہے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی قانونی معاونت کیلئے لیگل کونسل کی خدمات حاصل کی جا ئیںگی ۔ دوسری جانب وزارت داخلہ نے ایم کیو ایم پر مکمل پابندی کیلئے قانونی مشاورت شرو ع کر دی ہے۔وفاقی اورسندھ حکومت کایہ اقدام انتہائی مستحسن ہے حکومت کوسیاسی مصلحت کے بغیرایم کیوایم کے قائد کیخلاف قانونی چارہ جوئی کرنی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی پاکستان مخالف نعرے نہ لگائے اورعوام کو تشدد کی راہ پرنہ ڈالے۔قائدایم کیوایم کارویہ ناقابل برداشت ہے جس کیخلاف انضباطی کارروائی وقت کاتقاضا ہے

’چھو لو آسماں‘

خبر ہے کہ تجربہ کار حکومت اب سکول کی بچیوں کو برائےلر مرغیاں دے گی۔کیا ویژن ہے۔ زہے نصیب۔
ایک طرف آدمی ان کو دیکھتا ہے جو ہمارے حکمران ہیں اور دوسری طرف آدمی یہودیوں کی ترقی دیکھتا ہے حیرت ہوتی ہے۔یہ یہودی کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں؟کینسر جیسے موذی مرض کی انہوں نے ویکسین بنا لی ہے۔اس ویکسین کا کمال یہ ہے کہ اس کا کوئی سائڈ ایفیکٹ نہیں ہے۔یہ صرف کینسر کا باعث بننے والے خلیوں کو تباہ کرے گی۔یروشلم کے حداش آئن کیرم یونیورسٹی ہاسپٹل اور حیفہ کے رامبام میڈیکل سنٹر میں اس ویکسین کے کامیاب تجربات ہو چکے ہیں ۔اسرائیل کے ڈاکٹر لیور کیمرون کا کہنا ہے کہ بلڈ کینسر سمیت نوے فیصد کینسر کا کامیاب علاج اس ویکسین کے ذریعے ممکن ہے۔
اسرائیل دنیا کا واحدملک ہے جو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر اپنے جی ڈی پی کا تیس فیصد سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔آبادی کے تناسب سے اسرائیل میں سائنسدانوں کی تعداد دنیا بھر کے تناسب سے دس گنا زیادہ ہے۔بی بی سی کی 14اکتوبر 2012کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ ٹیکنالوجی کا علم رکھنے والا ملک اسرائیل ہے۔تل ابیب اس وقت دنیا بھر میں اپنا لوہا منوا رہا ہے۔نیوز ویک کا کہنا ہے تل ابیب کا شمار دنیا کے دس بڑے سائنسی مراکز میں ہوتا ہے۔گوگل کے چیئر مین ایرک شمریت کا کہنا ہے کہ اسرائیل امریکہ کے بعد دنیا کا سب سے بڑا ہائی ٹیک سنٹر ہے۔اسرائیل چونکہ صحرا پر مشتمل ہے اس لیے اسے توانائی اور پانی کے بحران کا سامنا رہا۔اس نے ہماری طرح دنیا کے آ گے دست سوال دراز نہیں کیا بلکہ اپنی خوشیاں خود تلاش کیں۔بجلی کے بحران کا حل اس نے سولر واٹر ہیٹر کی صورت میں ڈھونڈا۔آج اسرائیل کی پچھتر فی صد آبادی یہ ہیٹر استعمال کر رہی ہے اور دنیا بھر میں یہ ہیٹرز استعمال ہو رہے ہیں۔اسرائیل میں پینتیس کمپنیاں یہ ہیٹر تیار کر کے دنیا کو فروخت کر رہی ہیں اور قومی آمدن میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔صحرا میں دور تک پانی پہنچانا ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔پائپ موسم کی حدت سے لیک ہو جاتے تھے۔اسرائیل نے یہ پراجیکٹ ہیبریو یونیورسٹی کے حوالے کیا۔یونیورسٹی میں یہودیوں نے طلبہ تنظیموں کے ذریعے دنیا فتح کرنے کا ملا نصیر الدینی فارمولا لاگو نہیں کیا تھا بلکہ وہاں صرف علمی و تحقیقی کام ہوتا ہے چنانچہ دو سالوں میں یونیورسٹی نے اس کا حل نکال لیا۔اب وہاں پانی کی لیکج کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انٹر نیشنل واٹر ایسو سی ایشن نے اسرائیل کے اس کامیاب پراجیکٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: اسرائیل نے کمال کر دیا ہے۔صرف اسرائیل کے اس واٹر پراجیکٹ پر آسٹریلیا میں آٹھ پی ایچ ڈی مقالے لکھے جا چکے ہیں۔گیارہ ممالک اسرائیل سے یہ ٹیکنالوجی خرید رہے ہیں۔صحرا میں زراعت کے منصوبے پر کام کرنا انتہائی کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔بالخصوص ہم پاکستانیوں کے لیے تو یہ ایک ناممکن کام ہے کیونکہ ہم سے ابھی تک چولستان کی ویرانیاں ختم نہیں ہو رہیں۔اسرائیل نے نہ صرف اس چیلنج کو قبول کیا بلکہ اس نے کمال کر دکھایا۔اس نے 1959میں ’ڈرپ اری گیشن‘کا کامیاب تجربہ کیا اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ذرا وقت دیکھیں جب وہ یہ تجربہ کر رہا ہے۔یہ وہ دن تھے جب اسے اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔عرب دنیا ابھی اتنی کمزور نہیں ہوئی تھی اور اسرائیل کے لیے چار سو خطرات تھے کہ ایک طوفان اٹھے گا اور اس ناجائز ریاست کا وجود ختم ہو جائے گا۔لیکن ان حالات میں بھی وہ اپنی زراعت پر توجہ دے رہے تھے اور انقلابی منصوبے بنا رہے تھے۔اس سے آپ اندازہ قائم کر سکتے ہیں کہ وہ کس بلا کے منصوبہ ساز ہیں اور خود پر ان کے اعتماد کا عالم کیا ہے۔آج عالم یہ ہے کہ ڈرپ اری گیشن سے اسرائیل نے اپنے صحراﺅں کو قابل کاشت بنا لیا ہے۔صرف قابل کاشت نہیں بنایا اس کی پیداواری صلاحیتوں نے دنیا بھر کے زرعی ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔دنیا کے زرخیز ترین علاقے میں کاشت ہونے والی فصلوں سے چار گنا زیادہ فصل اسرائیل اب اپنے صحراﺅں سے اٹھا رہا ہے ۔یہ اوسط دنیا کے بہترین زرعی میدان رکھنے والے مملک بھی نہیں دے سکے۔اسرائیل کے صحراﺅں سے کاشت ہونے والے فصل پاکستان کے زرعی میدانوں سے حاصل ہونے والی فصل سے اوسطا پانچ گنا زیادہ ہے۔اس غیر معمولی کامیابی نے امریکہ اور آسٹریلیا کو مجبور کیا کہ وہ اسرائیل سے رجوع کریں چنانچہ آج امریکہ اور آسٹریلیا اسرائیل سے یہ ٹیکنالوجی اور آلات خرید رہے ہیں۔سپیس سائنس میں اسرائیل اس وقت دنیا میں دوسرے نمبر پر کھڑا ہے۔پہلا سیٹلائٹ’ اوفیق ون‘اس نے 1988ہی میں بنا لیا تھا۔سوئٹزر لینڈ کا ’ لارج ہائیڈرون کولیڈر سنٹر ‘ دنیا بھر میں ایک مقام رکھتا ہے ۔اس میں کام کرنا سائنسدانوں کے لئے ایک اعزاز ہوتا ہے۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس وقت اسرائیل کے پچاس سائنسدان اس ادارے میں کام کر رہے ہیں۔اسرائیل اس وقت دنیا میں ایرو سپیس پراڈکٹ بیچنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔
کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں بھی اسرائیل سب سے آ گے ہے۔انٹل نے ڈوئل کور کور ڈو ٹیکنالوجی حیفہ ریسرچ سینٹر میں متعارف کرائی تھی۔فلیش ڈرائیو آج ہماری زندگی کا اہم جزو بن چکی ہے یہ بھی ایک اسرائیلی نے تیار کی تھی۔اس کا نام ڈوو موون تھا۔بریسٹ کینسر کا علاج اسرائیل نے متعارف کروایا تھا۔دنیا بھر میں جتنی ادویات تیار ہو رہی ہیں،اسرائیل اس میں سرفہرست ہے۔اسرائیل کی ٹیوا فارما سوٹیکل دنیا میں سب سے زیادہ ادویات تیار کر رہی ہے۔
یروشلم پوسٹ نے چند روز قبل فخر سے یہ دعوی کیا :” ہم چنے ہوئے لوگ ہیں“۔اخبار کا کہنا تھا جن شعبوں میں ہم دوسرے نمبر ہیں وہاں امریکہ اس لیے پہلے نمبر پر ہے کہ امریکہ میں مقیم یہودی اس کی سائنسی تحقیق کو آ گے بڑھا رہے ہیں۔گویا امریکہ کی سائنسی ترقی بھی یہودیوں کی مرہون منت ہے۔
یہودیوں کی اس علمی ترقی سے جب آدمی حیرت زدہ ہو جاتا ہے تو اس کی نظر اخبار میں شائع ہونے والے ایک اشتہار پر پڑتی ہے۔حکومت پنجاب کے اس اشتہار کا عنوان ہے:” چھو لو آسماں“۔بادی النظر میں لگتا ہے قوم کی فکری اور سماجی ترقی کا کوئی غیر معمولی منصوبہ پیش کیا جا رہا ہے۔لیکن متن پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے عزیز ہم وطن گدھوں اور کتوں کی ریس لگانے والے ہیں۔نور دین کا گدھا جب جیت کر ڈھینچوں ڈھینچوں کرے گا گا تویہ زندہ اور پائندہ قوم اتنی سر بلند ہو جائے گی کہ آسماں چھو لے گی۔
یہود اور یہود کی ترقی پر لعنت بھیجیں، عزیز ہم وطنو آﺅ گدھے دوڑائیں ،آﺅ کُتے دوڑائیں،دیر نہ کریں کہ ہمیں آسماں چھونا ہے۔ہاں یاد آیا اس کے بعد ہم نے یہود کے قبضے سے فلسطین بھی آزاد کرانا ہے۔ڈھینچوں ڈھینچوں۔

وطن کی سلامتی اوروقار کے خلاف کوئی بات قابل قبول نہیں

 ایم کیو ایم کے قائد الطاف نے پارٹی قیادت ڈاکٹر فاروق ستار کو سونپنے کا اعلان کیا۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے حسب سابق قائد تحریک سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر متحدہ کے قائد الطاف حسین کی جانب سے اشتعال انگیز تقریر کے بعد کارکن مشتعل ہوگئے اور انہوں نے زینب مارکیٹ میں توڑ پھوڑ کی اور نجی ٹی وی چینلز کے دفاتر پر حملہ کردیا، توڑ پھوڑ کی اور فائرنگ بھی کی گئی۔ ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب الطاف حسین نے پاکستان کیخلاف نعرے لگائے اور کارکنوں کو ٹی وی چینلز پر حملے کا حکم دیا۔ کارکنوں نے پولیس موبائل‘ کئی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو جلا دیا جبکہ ٹریفک پولیس کی چوکی بھی جلا دی۔نجی ٹی وی کے دفتر کے مرکزی دروازے کو آگ لگا دی اور اسے توڑ کر کارکنوں کو یرغمال بنالیا۔ کارکنوں نے دکانیں بھی بند کرا دیں۔ ایم کیو ایم کے مسلح کارکنوں نے کہا ہمیں بھائی نے آرڈر دیا ہے اسی لئے یہاں آئے ہیں۔ مسلح افراد نے خواتین سٹاف کا بھی لحاظ نہیں کیا اور مار پیٹ کی۔ رینجرز کے اہلکاروں کی بھاری نفری ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو اور ایم پی اے ہاسٹل میں داخل ہو گئے اور 5 افراد کو حراست میں لے لیا۔ رینجرز کے اہلکاروں نے نائن زیرو کے اطراف پوزیشنیں سنبھال لیں۔ رینجرز اہلکاروں نے حفاظتی چوکیوں اور نائن زیرو کے دفاتر کی تلاشی لی جبکہ گھر گھر تلاشی بھی لی گئی اس دوران واکی ٹاکی اور دیگر آلات قبضہ میں لے لئے گئے۔ اہلکاروں نے چوکیوں کا کنٹرول بھی سنبھال لیا۔ رینجرز نے گاڑیوں میں سیڑھیاں بھی رکھی ہوئی تھیں۔ ایم کیو ایم کی ویب سائٹ کو بھی بند کر دیا گیا ہے جبکہ کئی دفاتر کو سیل کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ایم کیو ایم کے قائد، رہنماﺅں اور دیگر کیخلاف بغاوت اور دہشت گردی کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔ توڑ پھوڑ اور تشدد کے واقعات پر ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال نے کہا ہے جن لوگوں نے حملہ کیا ان کو ایک ایک سیکنڈ کا حساب دینا ہوگا۔ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو نہیں چھوڑیں گے جن لوگوں نے حملہ کیا ان سے حساب لیں گے۔ کراچی کا امن کسی کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ شرپسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ صورتحال کو بغور دیکھ رہے ہیں عوام اپنا کاروبار کھلا رکھیں۔ تحفظ فراہم کریں گے۔ کوئی مارکیٹ بند کرانے آئے تو رینجرز کو اطلاع دیں۔ رینجرز کی نفری نجی ٹی وی کے دفاتر پر تعینات کردی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کراچی میں پاکستان مخالف اشتعال انگیز بیانات سے مجھ سمیت ہر پاکستانی کو دلی ٹھیس پہنچی۔ ان بیانات سے جذبات بری طرح مجروح ہوئے۔ وطن کی سلامتی اور وقار پرکوئی آنچ نہیںآنے دیں گے۔ ہم اس سرزمین سے اٹھے ہیں اور اسی میں واپس جانا ہے، اس سرزمین کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ اسکی عزت و آبرو کی حفاظت ہم پر لازم ہے۔ پاکستان ہمارا گھر ہے اور ہم اپنے گھر کی حرمت کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ پاکستان کیخلاف کہے گئے ایک ایک لفظ کا حساب ہوگا، پاکستان کے خلاف نہ بات سن سکتے ہیں نہ پاکستان کے خلاف بولنے والے کو معاف کرسکتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا شہر میں امن و امان ہر صورت برقرار رکھا جائے جنہوں نے یہ آگ لگائی ان شرپسندوں کو ہر قیمت پر پکڑا جائے۔ ڈی جی رینجرز نے بتایا صورتحال کنٹرول میں ہے‘ شرپسندی پر اکسانے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ جنہوں نے حملے کا حکم دیا اس سے بھی حساب لیا جائے گا۔ ڈی جی رینجرز نے یہ اپیل بھی کی مارکٹیں بند کرانے کی اطلاع رینجرز کو دی جائے۔ ہر شہری کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائیگا۔ شہر کا امن تباہ نہیں ہونے دیں گے اور لاقانونیت کے ذمہ داروں کوکیفر کردار تک پہنچایا جائیگا۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کراچی میں ایم کیو ایم کے میڈیا پر تازہ حملے کی شدید قابل مذمت کی ہے۔ کراچی میں ایم کیو ایم کی دہشتگردی اب بھی پہلے کی طرح موجود ہے‘ موجودہ واقعہ دہشتگردی کے خلاف آپریشن پر سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کراچی میں امن قائم کرنے میں مکمل ناکام نظر آتی ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے نجی ٹی وی کے دفاتر پر حملہ اور جلاﺅ گھیراﺅ کے خلاف بیان میں کہا ہے پاکستان میں طاقت اور جبر کی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں سیاسی کارکنوں کو اشتعال دلانا انتہائی تشویش ناک ہے۔ لاٹھی اور گولی کی سیاست کرنے والوں کو قوم مسترد کرتی ہے۔ حکومت میڈیا ہاﺅسز کی سکیورٹی یقینی بنانے کا حکم دے۔ پاکستانی حکومت کو فوری طور پر برطانیہ سے رابطہ کرنا چاہئے۔ برطانیہ کو بتایا جائے آپ کا شہری یہاں سے انتشار پھیلا رہا ہے‘ کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہئے وہ انتشار پھیلائے۔ قائد ایم کیو ایم نے پہلی بار پاکستان کے خلاف باتیں نہیں کیں۔ قائد ایم کیو ایم نے بھارت میں کہا تھا پاکستان کا بننا بڑا ظلم ہے۔ ایم کیو ایم کے لوگوں کی اکثریت قائد ایم کیو ایم سے تنگ ہے۔ ایم کیو ایم میں سیاسی لوگ بھی ہیں جو ایسی سیاست نہیں چاہتے۔ پاک سرزمین پارٹی کے رہنما مصطفی کمال نے کہا متحدہ کے قائد کو نعشیں چاہئیں‘ نشے میں دھت شخص الگ وطن کی باتیں کر رہا ہے یہ شخص چاہتا ہے مہاجروں پر ٹینک چڑھ دوڑیں۔ الطاف نے نہ صرف خود پاکستان کیخلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنوں سے نعرے بھی لگوائے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا پیپلزپارٹی اظہار کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔ٹی وی چینلز پر حملے قابل مذمت عمل ہے۔ اختلاف رائے معاشرے کا ایک جزو ہے، اس کا احترام ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا میڈیا ہاﺅسز پر حملے آزادی صحافت پر حملوں کے مترادف ہیں۔ توڑپھوڑ کے واقعات اور عدم برداشت کے روئیے کسی بھی طور پر مناسب نہیں۔یہ معاملہ پاکستان کے حوالے سے ہے۔ واقعہ پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کیلئے ہے۔ ہم نے پاکستان کے سسٹم کو بچانا ہے۔ جو کچھ ہوا غیرآئینی اور غیرقانونی تھا۔ ملوث عناصر کوگرفتار کر کے کیفر کر دار تک پہنچائے گی۔

جرمنی کا کلہاڑی بردار قاتل اور ۔ ۔ ۔

مصنف نے اپنی پچھلی تحریر میں افغان مہاجرین کے متعلق بات کی ۔ مگر حال ہی میں ، ان میں سے ایک نے سفاکی کی بد ترین تاریخ رقم کرتے ہوئے دہشتگردی کے ذریعے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی ۔ ایک سترہ سالہ نوجوان افغان نے ، جو کہ کلہاڑے اور چاقو سے مسلح تھا ، ” بیواریا “ میں ایک ٹرین میں دہشتگردی کی واردات کی ، جس میں چار افراد گھائل ہوئے ۔ ہانگ کانگ کا ایک خاندان جو بد قسمتی سے وہاں سے گزر رہا تھا وہ بھی اس کا نشانہ بنا ۔ اس آدمی کو پولیس نے موقع پر ہی گولی مار دی تھی ۔ اسی پس منظر میں اسلام فوبیا سے متاثر جو لوگ مہاجرین کے استقبال سے انکاری ہیں وہ جارحانہ اوربے سر و پا افسانہ طرازیوں میں مصروف ہیں ۔ ایسے عناصر حقائق کے مقابلے میں اپنے خبط اور جنون کے عکاس ہیں ۔ اس مجرمانہ عمل سے کچھ سیکھنا تبھی ممکن ہے جب ہم جذبات سے اوپر اٹھ کر زمینی حقائق کا ادراک کرنے کی سعی کریں ۔ اسی تناظر میں غیر جانبدار مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ یہ بات پہلے سے ہی عیاں ہے کہ اگر یہ شخص واقعتاً حقائق سے مکمل آگاہی رکھتا تو ممکنہ طور پر اس صورتحال کو مختلف انداز میں بیان کیا جاتا ۔کیونکہ اس چلن نےاپنی جڑیں خاصی مضبوط کر لی ہیں کہ جس کا ثقافتی پس منظر اور رنگ و نسل مختلف ہو ، صرف اسی کو قصور وار قرار دیا جاتا ہے ۔ یہان اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ ہم ( یورپ ) دنیا میں جہادی دہشتگردی سے انکار نہیں کرتے ۔ لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ سب سے زیادہ بھگت بھی مسلمان ہی رہے ہیں ۔ اور قسم کا فوبیا اصل میں مغرب کے ایک خاص طبقے کے ساتھ منسوب کر دیا گیا ہے اور صورتحال یہ شکل اختیار کر چکی ہے کہ اسلام فوبیا داعش کا ایک غیر شعوری معاون ہے ۔ یہ دو اقسام کی انتہا پسندی دہشت کے زور پر ہمارے جیسے کھلے معاشروں کو قید اور محدود کر دینے کی غیر اعلانیہ سعی ہے ۔ جہاں تمام افراد کو مساوی انسانی حقوق اور مواقع میسر ہیں اور جن معاشروں میں فرد کو بڑی حد تک آزادی حاصل ہے ۔ یہ بات بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ یورپ کے دروازے کھٹکھٹانے والا یہ دوسرا بڑا گروہ افغان قوم کا ہے کیونکہ 2014 کی بہ نسبت 2015 میں ان کی تعداد اور تناسب چھ گنا زیادہ تھا۔ ان کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ تھی جن میں خواتین ، بچے اور بوڑھے سبھی شامل تھے کیونکہ ان کے یہاں یہ تاثر خاصا پختہ ہو چکا ہے کہ ان کو حقیقی خطرات لاحق ہیں جو ان کے نزدیک بقاکا مسئلہ بن چکا ہے انھیں حقیقی اندیشہ ہے کہ یہ صورتحال آگے چل کر ان کے لئے نا قابلِ تصور حد تک خطرات پیدا کر سکتی ہے ۔ ان طبقات کو طالبان کے علاوہ بد دیانت پولیس افسران اور دیگر جنگجو گروہوں سے بھی انتہا درجے کا خطرہ ہے ۔اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ خانہ جنگی کے تین سے زائد عشرے گزرنے کے باوجود ان کو لاحق خطرات میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی ۔ شاید ایسی ہی کسی ذہنی کیفیت میں مبتلا ایک سترہ سالہ افغان نوجوان نے تباہی ، بربادی اور دہشتگردی کے راستے کا انتخاب کیا جسے کسی بھی صورت مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ البتہ یہ امر پیش نظر رہنا اشد ضروری ہے کہ چند افراد یا کسی ایک گروہ کی وجہ سے متعلقہ پورے معاشرے کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے ۔ کچھ حلقوں کے نزدیک یہ معاملہ شاید بہت سادہ نظر آئے اور وہ یہ قرار دیں کہ داعش ، طالبان اور دیگر شدت پسند عناصر کے فروغ کے لئے وہ حلقے ذمہ دار ہے جو مذہب اور اسلامی نظریات کے خاتمے کے خواہش مند ہیں مگر در حقیقت یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں کہ یہ قرار دے دیا جائے کہ یہ سبھی مذہبی طبقات مغرب کے نو آبادیاتی نظام اور امریکی پالیسیوں کے حامی ہیں اور ان پر اعتماد کرتے ہیں ۔ در حقیقت وہ ہمارے( یورپ ) خلاف نہیں ہیں ۔ اس معاملے کی حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا بھر کے دیگر لوگوں کی مانند ان لوگوں کی بھی ایک بھاری اکثریت پر امن زندگی گزارنے کی خواہش مند ہے ۔ یہ تو صرف وہ چھوٹی اور حقیر سی ااقلیت ہے جواس قسم کے متشدد رویوں کو فروغ دیتی ہے ۔ جرمنی اور دیگر مغربی ممالک کی تہذیب اور ثقافت کی بات کرتے ہوئے ہمیں دنیا کے ہر خطے کی مانند وہاں کے مسلمانوں کے ثقافتی تحفظ کا احساس بھی کرنا ہو گا ۔ اور سبھی کو دوسرے کی قومیت ، حقیقی شہریت کی بابت بات کرتے ہوئے وہاں کے رسوم و رواج کو پوری طرح سے دھیان میں رکھنا ہو گا ۔ یہ بات ثانوی حیثیت کی حامل ہے کہ ایسا فرد پاکستانی ہے یا افغان ۔ اس سے ہمیں بڑی حد تک یہ رہنمائی ملے گی اور طالبان کے ساتھ جاری کشمکش کو شاید زیادہ موثر اور ہمہ گیر طریقے سے حل کیا جا سکے گا ۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ انتہا پسندی کے حالیہ واقعے میں ملوث شدت پسند مجرمانہ پس منظر کا حامل افغان تھا ۔ یہ بھی سبھی کو معلوم ہے کہ یہ لسانی گروہ دو ممالک کے درمیان بٹا ہوا ہے اور یہ نہ صرف افغان طالبان بلکہ پاکستانی طالبان کی طرف سے بھی نشانہ بنتا رہتا ہے جو پشتون قبائلی علاقوں میں اسلام آباد کی اتھارٹی کووقتاً فوقتاً چیلنج کرتے رہتے ہیں ۔ یہ المیہ اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ افغان کشیدگی اور محاذ آرائی اپنی جغرافیائی سرحدوں سے باہر نکل کر خطے کو بھی غیر محفوظ کرنے کی حقیقی صلاحیت کی حامل ہے ہے اور علاقائی ممالک کے لئے خطرناک حد تک نقصان دہ ہے جن میں ایران ، پاکستان ، وسطی ایشیاءبلکہ چین اور سنکیانگ سبھی شامل ہیں ۔ اس کو محض اس وجہ سے نظر انداز کرنا مناسب نہ ہو گا کہ وقتی طور پر اسے میڈیا میں خاطر خواہ توجہ کا حامل نہیں سمجھا جا رہا ۔ اس تلخ حقیقت سے کسی کو بھی انکار نہیں کہ محاجرین بھلے ہی مسلم ہوں یا غیر مسلم ، وہ نہ تو فرشتے ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر برے ۔ ان میں جرائم پیشہ افراد بھی شامل ہیں کیونکہ دنیا کے ہر معاشرے میں یہ پائے جاتے ہیں ۔ محض اس وجہ سے ان کو مطعون قرار دینا مناسب نہ ہو گا کہ وہ ان کا تعلق ناکام ریاستوں اور معاشروں سے ہے جو کہ خانہ جنگی ، ہشتگردی اور قتل عام کے نتیجے میں تباہ ہو چکے ہیں ۔ انھیں ہر طرح کی مدد کی ضرورت ہے جس میں مادی اور نفسیاتی امداد بھی شامل ہیں ۔ البتہ یہ ضرور دیکھا جانا چاہیے کہ متعلقہ افراد کن خطوں میں جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ جرائم پیشہ حلقوں کے ساتھ ان کی وابستگی مستقل نوعیت کی تو نہیں ۔ اس ضمن میں یہ اشد ضروری ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس ضمن میں اپنی تمام صلاحیتیں زیادہ فعال ڈھنگ سے بروئے کار لائیں ۔ مگر یہ بھی یاد رہے کہ تارکین ِ وطن کے اس مسئلے کا کوئی فوری اور آسان حل دستیاب نہیں ۔ ہمیں( یورپ ) اپنی اس تگ و دو کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنا ہو گا ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ بہت چوکنا رہنا ہو گا ۔ اور خصوصاً ان خد شات کے رد کرنا ہو گا جو عمومی قسم کے اسلام فوبیا کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں ۔ بہر کیف وہ طبقات جو مستقل یا پائیدار ڈھنگ سے داعش کے خاتمے کے خواہاں ہیں ؟ ۔ ان کے لئے میری تجویز یہ رہے گی کہ وہ اسلامی فوبیا جیسے منفی رویوں کی شدت سے مخالفت کریں ۔ مگر یہ امر اس حوالے سے ملحوظ خاطر رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ داعش اور القاعدہ کی مخالفت کرتے ہوئے یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ آپ تمام تارکین وطن کو اپنا مخالف اور دشمن سمجھتے ہیں کیونکہ اس قسم کا تاثر انتہائی خوفناک تنائج کا حامل ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں شدت پسندوں کو ایک نئے طرح کے موافق حالات میسر آ سکتے ہیں اور ان کے لئے ایک نئی نرسری فراہم ہو سکتی ہے ۔ تحریر: ڈیڈیئر شودت:فرانس کے صحافتی اور تحقیقی حلقوں میں یہ مغربی مصنف ایک معتبر نام کے حامل ہیں۔ وہ افغانستان، پاکستان، ایران اوروسطی ایشیائی امور کے ماہر ہیں اور ”سینٹر فار انیلے سس آف فارن افیئرز“ میں ڈائریکٹر ایڈیٹنگ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مختلف اوقات میں ”نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ساوتھ ایشین سٹڈیز سنگا پور“، ”پیرس کے انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹیکل سٹڈیز“، ”فرنچ انسٹی ٹیوٹ فار انٹر نیشنل ریلیشنز“ اور ”یالے یونیورسٹی“ میں تحقیق و تدریس کے شعبوں سے وابستہ رہے اور ”اپری“ (اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ) سے ”نان ریزیڈنٹ سکالر“ کے طور پر وابستہ ہیں۔ (ترجمعہ: اصغر علی شاد)“۔

سندھ حکومت کی ایم کیو ایم کیخلاف کارروائی

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس بڑی اہمیت کا حامل قرار پایا اس میں متحدہ قومی موومنٹ پر پابندی لگانے کیلئے اقدامات کا جائزہ اور فیصلہ کیا گیاجس کا عملی مظاہرہ شہر کے مختلف علاقوں میں متحدہ کے دفاتر مسمار کرنے اور الطاف حسین کی تصاویر ہٹانے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔پاکستان مخالف تقریر پر ایم کیو ایم کے گڑھ سے الطاف حسین کی تصاویر ہٹا کر پھاڑ دی گئیں‘ تفریحی مقامات اور تعلیمی اداروں میں قائم دفاتر جو غیر قانونی طور پر قبضہ کی گئی زمینوں پر قائم ہیں تمام کو بند کردیا گیا‘ نائن زیرو کے اطراف سے قائد ایم کیو ایم کی تصاویر ہٹا دی گئیں۔ملک مخالف تقریر پر ایم کیو ایم کے گڑھ سے الطاف حسین کی تصاویر ہٹا دی گئیں مکا چوک اور اطراف سے قائد ایم کیو ایم کی تصاویر بھی ہٹا دی گئی ہیں۔ جناح گراﺅنڈ‘ نائن زیرو کے اطراف میں قائد ایم کیو ایم کا کوئی بینر‘ کوئی تصویر موجود نہیں ہے۔ قائد ایم کیو ایم کی حیدر آباد‘ لطیف آباد اور دیگر علاقوں سے تصاویر ہٹا دی گئیں۔ گزشتہ دو روز سے کراچی میں جاری اعلیٰ سطحی اجلاس اس حوالے سے نتیجہ خیز قرار پایا ۔ ایم کیو ایم اپنے زوال کی ذمہ دار خود ہے جس نے حب الوطنی کی حدود کو توڑ دیا اور آج مقبول جماعت اپنے مذموم عزائم کی وجہ سے دیوار سے لگی دکھائی دے رہی ہے۔قائد ایم کیو ایم کی ہرزہ سرائی کے بعد جو گھمبیر صورتحال پیدا ہوئی اس کے محرکات اور تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں اور مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے الطاف حسین کی زبان سے جو زہر اگلوایا گیا جس کے منفی اثرات نے پوری قوم کو سیخ پا کردیا اور ایم کیو ایم کے مذموم عزائم بے نقاب ہوئے جو شخص حب الوطنی سے بے نیاز ہو اس سے یہی توقع کی جاسکتی ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ برطانوی حکومت سے اس ضمن میں فوری کارروائی کیلئے رجوع کرے سندھ حکومت کا حالیہ اقدام قوم کی امنگوں کا ترجمان ہے کراچی کا امن تباہ کرنے کی اجازت کسی کو نہیں ہونی چاہیے اور کراچی آپریشن اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک شہر قائد امن کا گہوارہ نہیں بن جاتا ایسی جماعت جس کا قائد پاکستان مخالف نعرے لگائے اس جماعت کے حب الوطنی پر شائبہ کیا جاسکتا ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد کو اپنے کئے کی سزا ملنی چاہیے یہی قرینہ انصاف ہے ۔ کراچی میں بدامنی کی ذمہ دار ایم کیو ایم ہے۔ حکومت کو اب کسی مصلحت پسندی کے بغیر الطاف حسین کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ واقفان حال جانتے ہیں اس جماعت کا وجود کس طرح عمل میں لایا گیا ۔ ایم کیو ایم کو اپنی پوزیشن کو سنبھالنا دینے کیلئے الطاف حسین سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ برطانیہ سے الطاف حسین کی اس ہرزہ سرائی اور بدامنی پھیلانے کا نوٹس لے ۔ حکومت الطاف حسین کو قانونی دائرے میں لانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرے۔ جب تک الطاف حسین کے خلاف انضباطی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی اس وقت تک حکومت پر سوال اٹھتے رہیں گے۔
نو منتخب صدر آزاد کشمیر نے حلف اٹھا لیا
آزاد کشمیر کے نئے صدر مسعود عبداللہ خان نے 26 ویں صدر کی حیثیت عہدے کا حلف اٹھا لیا ¾چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس محمد اعظم خان نے اسمبلی کے سبزہ زار میں ان کاحلف لیا ۔ مسعود خان آزاد کشمیر کے26 ویں صدر ہیں ۔ حلف برداری کی پروقار تقریب گزشتہ روز قانون ساز اسمبلی کے سبزہ زار میں منعقد ہوئی ۔ چیف جٹس سپریم کورٹ جسٹس سردار محمد اعظم خان نے نو منتخب صدر سے ان کے عہدے کا حلف لیا ۔ حلف سے قبل چیف سیکرٹری آزاد کشمیر سکندر سلطان راجہ نے نو منتخب صدر کے انتخاب کا نوٹیفکیشن پڑھ کر سنایا ۔اس موقع پر وفاقی وزیر برائے کشمیر افیئر و گلگت بلتستان چوہدری برجیس طاہر ،وفاقی وزیر مملکت طارق فضل چوہدری، آل پارٹی حریت کانفرنس کے رہنماوں سمیت وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان، ان کی کابینہ اور سول ملٹری کی اعلی حکام موجود تھے۔حلف کی بعد نئے صدر کو آزاد کشمیر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا اور سلامی دی۔مسعود خان آزاد کشمیرکے 26ویں صدرہیں، ان کا تعلق آزاد کشمیر کے بانی صدرسردارمحمد ابراہیم خان کے خاندان اورضلع پونچھ کے شہرراولاکوٹ کے نواحی گاﺅں کوٹ متے خان سے ہے۔ وزارت خارجہ سے کیریئر کا آغاز کرنے والے مسعودخان اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب رہنے کے ساتھ ساتھ چین میں بھی پاکستانی سفیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔صدر آزاد کشمیر مسعود خان نے حلف کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک کو کشمیریوں کی مکمل حمایت حاصل ہے بھارت کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ وادی میں قتل و غارت اور خونریزی کا بازار بند کرکے مذاکرات کی میز پر آئے کیونکہ یہی بہتر راستہ ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی اخلاقی و سفارتی مدد جاری رکھی بھارت کو مقبوضہ وادی میں معصوم کشمیریوں پر ظلم و ستم بند کرنا ہوگا ۔ بھارت کو مسئلہ کشمیر پر کشمیریوں اور پاکستان سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ آزاد کشمیر میں گڈ گورننس اور تعمیرو ترقی ہی ہمارا ایجنڈا ہے جس کی تکمیل کیلئے مل جل کر چلیں گے ۔ کشمیریوں کی آنے والی اور موجودہ نسلیں کبھی بھی بھارت کو معاف نہیں کرینگی مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم پر باعث تشویش ہے عالمی برادری کا ضمیر جگانے کیلئے انصاف کی دستک دی جائے ۔ بھارتی افواج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں80 سے زائد افراد شہید اور7000کے قریب کشمیری زخمی ہو چکے ہیں ، ان میں 500افراد و ہ شامل ہیں جن کی آنکھیں شدی متاثرہوئی ہیں ،بھارتی وزیر اعظم کا بیان مقبوضہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے سلسلے کی کڑی ہے،پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خاتمہ کے لئے اہم فورمز پر بات کر رہا ہے ،اقوام متحدہ کی کشمیر پر قراردادیں گزشتہ 6دھائیوں سے عملدرآمد کی منتظرہیں،شملہ معاہدے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی کی بات کی گئی ہے،پاکستان مسلسل بھارت سے باہمی مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل کاخواں ہے،بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث اس کا حل نہیں نکل رہا جو خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے۔
مردم شماری سے متعلق سپریم کورٹ کے ر یمارکس
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے مردم شماری میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور اس ضمن میں عدالت نے مردم شماری سے متعلق حکومتی رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کردیاعدالت نے حکومت کو مزید دستاویزات جمع کرانے کا حکم دیادیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت 31 اگست تک ملتوی کردی۔دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی ریمارکس دئیے ہیں کہ کس قانون میں لکھا ہے کہ فوج کے بغیر مردم شماری نہیں ہوسکتی ؟‘بلدیاتی انتخابات وقت پر ہوئے نہ ہی مردم شماری‘مردم شماری نہیں ہوگی تو قومی اسمبلی کے حلقے کیسے بنیں گے؟ حکومت کا یہی رویہ چلتا آ رہا ہے ، اب 2018 کے عام انتخابات سے پہلے سپریم کورٹ آجائیں گے کہ الیکشن کروانے کی پوزیشن میں نہیں۔

تحریک انصاف ایم کیو ایم سے جا ملی۔۔۔کیا بات ہے

کراچی میں یہ کیا ہو گیا۔تحریک انصاف تو نئی قدروں کی امین تھی۔اچانک یہ کیا ہوا کہ جس اتحاد کا وہ حصہ تھی اور جس کو اس نے حلف دے رکھے تھے اسے عین وقت دھوکہ دیا اور ایم کیو ایم سے جا ملی۔زرداری نے کہا تھا وعدے کون سے قرآن و حدیث ہوتے ہیں ۔اب عمران اسماعیل کہہ رہے ہیں وعدہ کیا تھا نکاح تو نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔۔سوال یہ ہے کہ اب دونوں میں فرق ہی کیا رہ گیا ہے۔ایک وقت میں ایاز امیر نے سوال کیا تھا کہ میکیاولی زندہ ہو جائے تو کس جماعت مین شریک ہونا چاہے گا۔ ن۔میرا خیال ہے اب وہ زندہ ہو جائے تو اس کا انتخٰااب تحریک انصاف ہو سکتا ہے۔میں عمران خان پر تنقید کیوں کرتا ہوں؟ کیا مجھے عمران فوبیا ہو گیا ہے؟ ۔۔۔ یہ ہے وہ سوال جو عمران خان کے وابستگان برہمی کے عالم میں تواتر سے اٹھا رہے ہیں ۔ سوال اٹھانے والوں میں سے اکثریت کا تعلق اس گروہ سے ہے جو لاہور کے غیر معمولی جلسہ عام کے بعد تحریک انصاف میں شامل ہوا۔نومولود نونہالان انقلاب گاہے بازاری زبان استعمال کر کے اس بات کا اعلان بھی کرتے پائے جاتے ہیں کہ ان کی تربیت میں کہیں کوئی کمی رہ گئی ہے اور اب وہ ایسے ٹائیگر ہیں جو اسم با مسمی ہیں۔تاہم تحریک انصاف کے پرانے وابستگان کبھی بد مزہ ہوئے نہ ہی گالیاں دیں۔عمران خان بازار سیاست کا محض ایک کردار ہوتا تو میں اس پر مسلسل تنقید نہ کرتا۔ایک دو کالم لکھ کر اسے بلاول زرداری یا حمزہ شہباز کے ساتھ کہیں رکھ چھوڑتا کہ کبھی یاد ہی نہ آتا نہ ہی اس کے کسی ارشاد تازہ کو اتنی سنجیدگی سے لیتا کہ ایک پورا کالم ضائع کر دیتا۔لیکن عمران کا معاملہ دوسرا ہے ۔عمران محض ایک سیاست دان نہیں ۔عمران ایک رومان اور ایک خواب کا نام ہے۔سیاست کے ارتقاءاور سماج کے بقاءکے لیے لازم ہے کہ رومان باقی رہے اور خواب بکھر نے نہ پائے۔میں نے اپنے تئیں اسی رومان اور اسی خواب کا پہرہ دیا ہے۔اب مگر ایک آوازمسلسل تعاقب میں ہے : ” تیرا لٹیا شہر بھنبھور نی سسیے بے خبرے “ ۔عمران خان لمحہ لمحہ ضائع ہو رہا ہے جناب انعام رانا! لمحہ لمحہ۔برف کا باٹ جیسے کوئی دھوپ میں رکھ دے۔لوگ سوال اٹھا رہے ہیں عمران کی تحریک احتساب کا انجام کیا ہو گا؟ لیکن مجھے ایک دوسرا سوال دامن گیر ہے۔عمران کی تحریک احتساب کے انجام پر سوال اٹھانا تو تجاہل عارفانہ ہو گا کہ جس تحریک کے لیے اسلام آباد کی سڑکیں راجہ ریاض صاحب جیسے نومولود قائد انقلاب کی جانب سے لگائے بینروں سے بھری پڑی ہوں اس کے انجام پرسو ال اٹھا کر وقت ضائع نہیں کرتے اس کے کفن دفن کا سامان کرتے ہیں ۔سوال ایک اور ہے۔وہ یہ کہ عمران کی ذات سے وابستہ خواب اور رومان دم توڑ گیا تو سماج پر اس کے کیا نفسیاتی اثرات مرتب ہوں گے؟ میں ایک عرصے سے لکھ رہا ہوں کہ سیاسی اور جمہوری دائرہ کار کے اندر رہ کر تبدیلی کی آخری امید کا نام عمران خان ہے۔یہ آخری رومان ہے۔جن دنوں عمران خان مقبولیت کی بلندیوں پر تھے میں نے لکھا تھا: ”عمران کی مقبولیت میں کلام نہیں۔وہ ایک امید،ایک آرزو اور ایک خواب بن کر لوگوں کے دلوںمیں یوں گھر کر چکے ہیں سورج کی کرن جیسے سیپ کے دل میں اتر جایا کرتی ہے۔یہ دور عمران خان کا دور ہے اور وقت ان کی مٹھی میںہے۔دیگر سیاسی جماعتوں کا حال اس وقت وہی ہے جو فاتح لشکر کے گذر جانے کے بعد پامال بستیوں کا ہوا کرتا ہے۔آگ،دھواں،نوحے۔۔۔۔۔۔مگرسوال ایک اور ہے۔اس نظام کو تو عمران نے بے وقعت کر دیا۔غلامی پر رضامند لوگ برف اوڑھے جی رہے تھے، عمران نے ان کے من میں خوابوں کی حدت بھر کر انہیں انگارہ بنا دیا۔اب کل کو خود عمران بھی ناکام ہو گئے تو کیا ہو گا؟عمران کے ٹائیگروں پر جب شاہ محمود قریشی،علیم خان،خان سرور خان،اسد عمر اور جہانگیر ترین کھلیں گے تو یہ ٹائیگر کہاں جائیں گے؟اسی پرانے فرسودہ نظام کی آغوش میں پناہ لیں گے یا ان انگاروں سے ایک ایسی داعش وجود میں آ جائے گی جس کی حدت سے نہ کوئی بلاول ہاﺅس اور رائے ونڈ بچے گا نہ ہی کوئی بنی گالہ“ ؟چند ماہ قبل جو ایک خطرہ موہوم تھا آج مجھے حقیقت بنتا نظر آ رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ اس عالم میں مجھے کیا کرنا چاہیے ۔ ابرار الحق کی طرح گنگناتے رہنا چاہیے کہ عمران خاں دے جلسے اچ اج میرا نچنے نوں دل کردا یا اپنا دل کھول کر سب کے سامنے رکھ دینا چاہیے۔یہ عمران ہی تھا جس نے اس جمہوری عمل کو عزت دی اور اسی کی وجہ سے جمہوری عمل کا بھرم بحال ہوا۔عوام الناس کی اکثریت جمہوری عمل سے متنفر ہو کر لاتعلق سی ہو چکی تھی۔عمران خان ہی تھا جو ان روٹھے لوگوں کو پولنگ سٹیشن تک لایا۔کتنے ہی ایسے لوگ تھے جنہوں نے پولنگ سٹیشن کا کبھی منہ نہیں دیکھا تھا اور الیکشن والے دن فیملی کے ساتھ تفریح کیا کرتے تھے یہ عمران تھا جو ان لوگوں کو پولنگ سٹیشن لایا۔عمران کا سب سے بڑا کمال نوجوانوں کو متوجہ کرنا تھا۔تعلیم یافتی نوجوانوں کی اکثریت سیاسی عمل سے بے زار تھی۔کسی بھی معاشرے کے جوانوں میں سیاسی عمل سے یہ بے زاری اور بے گانگی کسی بھی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی رویہ آ گے جا کر نوجوانوں میں رد عمل کی ایسی نفسیات بھی پیدا کر سکتا ہے کہ وہ مروجہ نظام میں تبدیلی کا کوئی امکان نہ پا کر کسی غیر جمہوری یا انتہا پسند گروہ کے ساتھ جا کر کھڑے ہو سکتے ہیں۔عمران خان ہی تھا جس نے نوجوانوں کی آنکھوں میں خواب اتار دیے ، وہ ایک خواب اور ایک رومان بن گیا اور لوگوں کو محسوس ہونے لگا کہ جمہوری سیاسی عمل کے ذریعے اس ملک کی قسمت بدلی جا سکتی ہے۔میری رائے میں جمہوریت اور سیاسی عمل سے وابستہ یہ آخری رومان تھا۔یہ رومان اگر دم توڑ گیا تو سماج پر اس کے بہت خوفناک نفسیاتی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس وقت عمران سے خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے کہ پوری شدت سے ان پر تنقید کی جائے۔جمہوری نظام کے اندر رہ کر تبدیلی کی وہ آخری امید ہیں ۔یہ امید ٹوٹنی نہیں چاہیے۔یہ امید ٹوٹ گئی تو پھر گلی کوچوں میں داعش بنے گی۔پھر ڈی چوک پر ترانے نہیں بجیں گے مقتل آباد ہوں گے،پھر رقص نہیں ہو گا گردنیں کٹیں گی۔عمران نے سماج کی صورت گری میں ایک ایسا کام کر دیا ہے جو تبدیلی اور تباہی دونوں کا نقش اول بن سکتا ہے۔انہوں نے موجودہ نظام کے خلاف نفرت کو اپنے کمال پر پہنچا دیا ہے۔مروجہ نظام سے نفرت اب نوجونوں کی رگوں میں سرایت کر چکی ہے۔اب وہ اس شعوری طور پر اس نظام کو قبول نہیں کر پائیں گے۔ لازم ہے کہ ایک متبادل اب ان کے سامنے رکھا جائے۔یا کم از کم اس متبادل کے حصول کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھی جائیں۔اگر یہ دونوں کام نہ ہو سکے تو یہ نوجوان اس سماج کے لیے ایک آتش فشاں بن سکتے ہیں۔عمران اب کیا کر رہے ہیں۔وہ اس نظام کو بدلنے کی بجائے اس کی جملہ خرابیوں کو اختیار کرتے ہوئے اس میں سے اپنا حصہ یعنی اقتدار لینا چاہتے ہیں۔ان کے ساتھ جو ٹیم اس وقت کھڑی ہے ، الا ماشاءاللہ، ان سب کی جان اس نظام کی خرابیوں میں ہے اور یہ اس نظام کو گالی دے کر اصل میں اس نظام میں سے اپنا حصہ وصول کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے صرف طریقہ واردات بدل لیا ہے۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ شیخ رشید، شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، اسد عمر، علیم خان اور خان سرور جیسوں کے ساتھ عمران خان ایک انقلابی نظام متعارف کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے تو اسے جان لینا چاہیے اس کا خواب بہت جلد چکنا چور ہونے کو ہے۔عمران خان نے اس پہلو پر سارے درد دل کے ساتھ توجہ نہ دی تو ان کی حکومت ن لیگ اور پی پی پی کی حکومتوں سے اتنی ہی اچھی اور مختلف ہو گی جتنے عامر ڈوگر جاوید ہاشمی سے، سرور خان چودھری نثار سے،علیم خان سعدرفیق سے اور شاہ محمود قریشی خواجہ آصف سے اچھے اور مختلف ہیں۔سماج کی بقاءکے لیے ضروری ہے کہ جمہوری عمل سے اگر کوئی رومان وابستہ ہوا ہے تو وہ قائم رہے۔اور اس کےلئے ضروری ہے کہ بے رحم تنقید کا عمل جاری رہے۔مکررعرض ہے کہ یہ رومان ٹوٹ گیا تو سماج پر اس کے اثرات تباہ کن ہوں گے۔بھٹو مرحوم کے بارے میں روایت ہے کہ وہ جلال الدین عبد الرحیم کے ساتھ گاڑی میں سفر کر رہے تھے ۔کار ایک ریلوے پھاٹک پر رکی تو بھٹو کو دیکھ کر لوگ اکٹھے ہو گئے اور زورزور سے نعرے لگانے شروع کر دیے ۔بھٹو نے جے رحیم کو دیکھا اور کہا ”لک رحیم! وی مے ناٹ بی سیریس بٹ پیپل آر سیریس فار چینج“ ۔بنی گالہ میں اگر کوئی صاحب فکر باقی بچا ہے تو اسے چاہیے عمران خان سے کہے”لک عمران! وی مے ناٹ بی سیریس بٹ پیپل آر سیریس فار چینج“

ایم کیو ایم اور منافقت دونوں کا محاسبہ ضروری

کراچی میں قائم متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو کو سیل کرنے کے بعد غیر قانونی طور پر قائم کئے گئے ایم کیو ایم کے دفاتر اور یونٹ آفسز سے الطاف حسین کی تصاویر اور جھنڈے اتارنے کیلئے کریک ڈاﺅن شروع کر دیا گیا ہے ۔ اسی سلسلے میں کراچی کے مختلف مقامات پر غیر قانونی طور پر قائم متحدہ کے دفاتر بھی مسمار کرنے کا سلسلہ زوروشور سے جاری ہے یہی نہیں بلکہ سرکاری املاک پر قائم سیکٹر اور یونٹ آفسز گرانے کا کام بھی عروج پر ہے۔متحدہ کے مرکز نائن زیرو کے قریب مکا چوک پر نصب ایم کیو ایم کا پرچم اتار دیا گیا جبکہ مکا چوک کا نام بھی لیاقت علی خان کے نام سے رکھ دیا گیا۔الطاف حسین اور متحدہ قومی موومنٹ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کی جانب سے پاکستان مردہ باد کے نعرے لگانے اور ان نعروں پر لبیک کہنے والوںکے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے لیکن متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جانب سے ان اقدامات کی مذمت اور مخالفت کی جا رہی ہے اور یہ عذر پیش کیا جا رہا ہے کہ اس سے بہتر ہوتے حالات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ایم کیو ایم نے آصف حسنین کی گرفتاری پر بھی برہمی کا اظہا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گرفتاری سے کراچی کے عوام میں گہری تشویش پائی جاتی ہے اور وہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ انھیں کس جانب دھکیلا جا رہا ہے۔رابطہ کمیٹی کا مزید کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانے کی بجائے غیر اعلانیہ پابندی اٹھا کر سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کا موقع دیا جائے۔ایک نجی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے باتوں باتوں میں کہا کہ ہم ناپسندیدہ ہیںدوسری جانب ایم کیو ایم کو جوائن کرنے والے عامر لیاقت حسین کی جانب سے ان حالات میں ایم کیو ایم کو چھوڑنے پر قتل کی دھمکیا دی جا رہی ہیںانھوں نے ایک قسم کی وصیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میں قتل کیا گیا تو ذمہ دار بانی متحدہ قومی موومنٹ ہوں گے ۔انھوں نے مزید کہا کہ میں مر جاﺅں تومجھے ایم کیو ایم سے میرا نام منسوب نہ کیا جائے اور مجھے پاکستان کے پرچم میں دفنایا جائے۔عامر لیاقت نے اس ملک و قوم کیلئے بہت بڑا پیغام دے دیا ہے اب اس ملک و قوم پر فرض ہے کہ اس کو سمجھے۔بغاوت کے الزام میںگرفتار ملزمان کوجب کراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیشی ہوئی تو پیشی کے بعد ان تمام ملزمان نے پاکستان زندہ باد ،پاک رینجرز زندہ باد،پاک آرمی زندہ باد کے نعرے لگائے۔اب تمام پہلوﺅں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو شائد قوم کو سمجھ آ جائے کہ کہیں ایم کیو ایم کو دوبارہ موقع دیکر غلطی تو نہیں کی جا رہی۔قومی اداروں کی جانب سے جب غدار وطن الطاف حسین کی تصاویر ہٹا ئی جا رہی ہیں تو پھر اس کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے کیا ہم اس وقت تک سانپ پالتے رہیں گے جب تک چند افراد ان کے ساتھ رہیں گے؟فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کی مخالفت اور مذمت اس بات کی غمازی ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان دراصل پرانی متحدہ ہی ہے آج بھی اس کے تانے بانے الطاف حسین سے جڑے ہیں یہ ختم ہونے والے نہیں۔ایم کیو ایم پاکستان صرف اور صرف پاکستانی عوام اور اسکے اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے اور کچھ بھی نہیں۔عامر لیاقت کو قتل کی دھمکیا بھی ایک اور ثبوت ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان بنانے والے اور الطاف حسین کو الگ کرنے والے تو بالکل محفوظ ہیں اور انکو کسی قسم کی دھمکیاں نہیں دی جا رہیں جبکہ حقیقی علیحدگی اختیار کرنے والے عامرلیاقت کو قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔عامر لیاقت نے اپنی موت کے بعد بھی میت پر سیاست کرنے سے متحدہ کو روک دیا ہے ۔جو کچھ بھی ہو رہا ہے سب کو سمجھ آ رہی ہے اب کی بار الطاف حسین اس ملک و قوم کو بے وقوف نہیں بنا سکتے اور نہ ہی بنانے دیا جائے گا۔میں آج بھی اپنی بات پر قائم ہوں کہ موجودہ ایم کیو ایم کو ختم ہونا چاہئے اور کراچی والوں کو آزادی کے ساتھ نیا سیاسی ڈھانچہ بنانے دیا جائے جس میں کسی غنڈے کو یرغمالی پوزیشن دینے کے بجائے حقیقی نمائندے از خود آگے آئیں۔عامر لیاقت حسین کو مکمل سکیورٹی فراہم کرنی چاہئے تاکہ متحدہ کی دہشت دوبارہ قائم نہ ہو سکے۔غداروں کیلئے کھیرا تنگ نہیں بلکہ جگہ ہی نہیں چھوڑنی چاہئے۔کراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر غداری کے مقدمہ میں گرفتار 37کارکنوں نے پیشی کے بعد پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا کر قوم کو بے وقوف بنانے کی ایک بھونڈی کوشش کی ہے۔پاکستان ہے ہی زندہ باد۔تو پھر جب مردہ باد کے نعرے لگ رہے تھے تو ان نعروں پر لبیک کہنے والو اس وقت کیوں الطاف کے سامنے زبان نہیں کھولی؟پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا کر کس کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی جارہی ہے….؟

مودی نے دہشت گردی کرانے کا ثبوت دیدیا

 بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں دہشت گردوں کے گن گائے جاتے ہیں۔وہاں کی حکومت (پاکستانی حکومت) دہشت گردی کے نظریہ سے متاثر ہے۔ نریندر مودی نے سفید جھوٹ سے کام لیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر (آزاد کشمیر) اور گلگت کے عوام نے اپنے لئے آواز اٹھانے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ چند روز قبل نریندر مودی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان بلوچستان اور آزاد کشمیر میں ہونے والے مبینہ زیادتیوں کا جواب دے۔ نریندر مودی کی ڈیڑھ گھنٹے سے زائد کی تقریر میں کہیں بھی بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جاری حکومت مخالف احتجاجی لہر کا براہِ راست ذکر نہیں تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’آج کہیں جنگلوں میں ماو واد کے نام پر، سرحد پر انتہا پسندی کے نام پر، پہاڑوں میں دہشت گردی کے نام پر کندھوں پر بندوقیں لیکر بے قصور لوگوں کو مارنے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے شدت پسندی میں ملوث نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ شدت پسندی کا راستہ ترک کر کے قومی دھارے میں شامل ہو جائیں۔ میں ان نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں یہ ملک تشدد کو کبھی برداشت نہیں کریگا، یہ ملک دہشت گردی کو کبھی برداشت نہیں کرے گا، یہ ملک دہشت گردوں کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا۔ میں ان نوجوانوں کو کہتا ہوں ابھی وقت ہے لوٹ آئیے۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ مودی کے خطاب نے ثبوت دیدیا کہ بھارت ”را“ کے ذریعہ بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔ را کیلئے کام کرنے والے بھارتی جاسوس کمانڈر کل بھوشن نے بھی اپنے بیان میں اس حقیقت کا اعتراف کیا ہوا ہے۔ بھارت دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے لیکن ایک بڑا ملک خود بخود عظیم ملک نہیں بن جاتا۔ خصوصاً وہ ملک جب حق خودارادیت مانگنے والے نہتے شہریوں کو اپنی سکیورٹی فورسز کے ظلم و ستم کا نشانہ بناتا ہے اور چھرے مار کر وہ کم از کم ایک سو نوجوانوں کو بینائی سے محروم کر چکا ہے۔ بھارت کو ادراک کرنا ہو گا کہ جموں و کشمیر جیسا بنیادی تنازعہ گولیوں سے بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سنجیدہ سفارتکاری کے ذریعہ ہی حل ہو گا۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بیان پر وزیراعلیٰ بلوچستان ثناءاللہ زہری نے کہا کہ بلوچستان ہمارا ہے اسے چلانے کیلئے بھارت کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ کچھ لوگ چند ٹکوں کی خاطر معصوم لوگوں کا خون بہا رہے ہیں۔ ہم بلوچستان کے وارث ہیں۔ ہمیں کوئی ڈکٹیٹ نہیں کرا سکتا ہم آخر تک لڑیں گے اور دہشت گردوں کو ختم کرکے دم لیں گے۔ بھارت ہمیں کوئی مشورہ نہیں دے سکتا۔ گلگت بلتستان پر بھارتی وزیراعظم کا بیان بوکھلاہٹ کی عملی تصویر ہے۔ مودی کے نظریات رکھنے والوں کو گلگت بلتستان کے عوام نے 1947ءمیں بزور طاقت بھگا دیا تھا ۔ گلگت بلتستان کا ایک ایک بچہ پاکستان کے نظریاتی سرحدوں کا محافظ ہے۔ پاکستان سے نظریاتی وابستگی کسی جغرافیے کی محتاج نہیں۔بھارتی وزیراعظم کی تقریر سے جہاں پاکستان کی سالمیت کیخلاف انکے عزائم اجاگر ہوئے ہیں‘ وہیں اقوام عالم کو بھی مکمل آگاہی ہو گئی ہے کہ پاکستان کے ساتھ اپنی دشمنی کی انتہاءتک جاتے ہوئے مودی ہی کے ہاتھوں علاقائی اور عالمی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے جس ڈھٹائی کے ساتھ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے اس کا بھارتی سیاست دان‘ دانشور‘ عدلیہ کے ارکان اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے نمائندگان بھی نوٹس لینے پر مجبور ہوگئے ہیں جبکہ وفاقی مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کے علاوہ بلوچستان اور گلگت بلتستان کے وزراءاعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم نے بھی مودی کی سازشی سوچ پر مبنی درفنطنیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ بلوچستان کی عوام نے کبھی بھی ہندوستان سے رابطہ اور نہ ہی کریں گے۔
٭٭٭٭٭
 بلوچستان کی عوام نے ہمیشہ پاکستان کی سلامتی کیلئے اپنی جانیں نچھاور کی ہیں۔ نریندرمودی کا بلوچستان کے بارے میں بیان مضحکہ خیز ہے۔ ہندوستان کشمیر میں اپنی شکست کی ناکامی کو چھپانے کیلئے بلوچستان اور گلگت بلتستان کا سہارا لیکر ہندوستان کی عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان اور گلگت سے متعلق مودی کا بیان اشتعال انگیز ہے۔ بلوچستان جمہوری پاکستان کا حصہ ہے۔ کشمیرمیں مظالم ڈھانیوالے مودی کوپاکستان کے اندرونی معاملات پربات کا اختیار نہیں۔وہ پہلے کشمیر میں بھارتی مظالم اور بربریت کا جواب دیں۔
 بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرنے پر نوابزدہ براہمداغ بگٹی کے خلاف سٹی پولیس سٹیشن کوئٹہ میں غداری کا مقدمہ درج کرنے کیلئے درخواست جمع کرا دی گئی۔ درخواست میں براہمداغ بگٹی کو بھارتی ایجنٹ قرار دیتے ہوئے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کے بیان اور اس کی حمایت کا مقصد بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں کو تقویت دیناہے۔ براہمداغ بگٹی نے بھارتی ایجنٹ کا کردار ادا کیا ہے۔ بلوچستان میں جاری تخریبی کارروائیوں میں بھارتی حکومت ملوث ہے، جبکہ براہمداغ بگٹی سہولت کا ر کا کردار ادا کررہے ہیں انہیں پاکستان لاکر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
 مودی کے یہ سارے عزائم اس خطہ میں ہندو جنونیت کو فروغ دے کر جنگ و جدل کا اہتمام کرنیوالے ہیں اور وہ ان عزائم کو عملی جامہ پہنانے کی جلدی میں بھی نظر آتے ہیں جس کا اندازہ انکے ایماء پر مقبوضہ کشمیر میں کشمیری حریت پسندوں کی تیسری نسل کی حق خودارادیت کیلئے بلند ہونیوالی آواز کو دبانے کیلئے بھارتی افواج کی جانب سے ان پر مظالم کے اختیار کئے گئے نئے ہتھکنڈوں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے نہتے کشمیری نوجوانوں کو بے دریغ فائرنگ اور تشدد کے دوسرے ہتھکنڈوں سے شہید کرنے اور مستقل اپاہج بنانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ چنانچہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور عالمی قیادتوں نے بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے کر بھارت پر یہ مظالم بند کرنے اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنے کیلئے دباﺅ ڈالنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔یہ سارے بھارتی اقدامات پاکستان پر نئی جنگ مسلط کرنے کے عزائم کا عندیہ دے رہے ہیں جبکہ پاکستان بھارتی پیدا کردہ کشیدگی کی اس فضا میں بھی اسکے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر اور دوسرے تنازعات کا حل چاہتا ہے جس کیلئے سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے اپنے بھارتی ہم منصب کو مراسلہ بھجوا کر باضابطہ مذاکرات کی دعوت بھی دے دی ہے جس میں باور کرایا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت پر تنازعہ کشمیر کو یواین قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ذمہ داری ہے جو ہمیں ادا کرنی چاہیے۔
Google Analytics Alternative