کالم

ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس اور افغانستان

syed-rasool-tagovi

 افغانستان میں امن کی کوششوں کو تیز کرنے کیلئے پانچویں ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس آٹھ اور نو دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے کے بعد اختتام پذیر ہوگئی ہے۔ اس دو روزہ کانفرنس کے میزبان پاکستان اور افغانستان تھے ۔ اس کانفرنس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج بھی شریک ہوئیں۔ پاک بھارت کشیدگی کے ماحول میں ان کی شرکت اہم تصور کی جارہی تھی ۔ علاوہ ازیں دس دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی شرکت کی جبکہ کل 44 ممالک کے وفود نے شریک ہوکر اس کانفرنس کی اہمیت کو دوچند کردیا ۔ کانفرنس کے اختتام پر جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس کے مطابق تمام افغان دھڑوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کومزید تیز کیاجائے گا۔ پاک افغان وزرائے خارجہ نے بھی میڈیا سے مشترکہ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان کی خودمختاری اور احترام کیاجائے جبکہ رکن ممالک امن اورمفاہمتی عمل کوآگے بڑھانے کے سلسلے میں تعاون اور اپنا بھرپور کردار اداکریں ۔ انہوں نے بتایا کہ امن کے عمل کوآگے بڑھانے اور پائیدار امن کیلئے طالبان کومذاکرات کی میز پر لاکر بات چیت کا سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا وہیں سے شروع کیا جائے ۔ یہ بھی کہا گیا کہ تمام ممالک دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خاتمے کیلئے مل کرکام کریں۔ ہارٹ آف ایشیاءاستنبول پروسیس کے سلسلے میں اب تک چار کانفرنس منعقد ہوچکی ہیں لیکن نتائج اب تک توقع کے مطابق حاصل نہیں ہو پائے تھے حالانکہ اب تک افغانستان میں امن کی کوئی نہ کوئی شکل ابھر کر سامنے آجانی چاہیے تھی۔حالیہ پانچویںکانفرنس میں جن نکات پر اتفاق رائے ہوا ہے اگر ان پر حقیقی معنوں میںعملدرآمد شروع کردیا جائے تو جلد پائیدار امن کی صورت گری ہو جائے گی۔ پاکستان کا یہ اصولی موقف ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لاکر انہیں سیاسی عمل کا حصہ بنایا جائے ۔ اگر مری بات چیت کا سلسلہ بوجوہ معطل نہ ہوتا تو یقیناً آج افغان میں بہتری کے آثار نمایاں ہوچکے ہوتے۔ پاکستان ایک عرصہ سے کوشاں ہے کہ افغانستان میں فریقین مل بیٹھ کر کوئی حل نکالیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی خواہشات کوکمزوری سمجھتے ہوئے اس پار بدنیتی کا مظاہرہ کیا جاتا رہا ہے۔خصوصاً سابق صدر حامدکرزئی جسے ذاتی سیاسی مفادات زیادہ عزیز تھے، لہذا وہ نہیں چاہتے تھے کہ طالبان سے بات چیت کرکے ان کا وجود تسلیم کرکیا۔ عبداللہ عبداللہ، حامدکرزئی اور افغان انٹیلی جنس NDS کی شیطانی مثلث پاکستان دشمنی میں بھارتی مفادات کے تابع تھی۔اب بھی یہی شیطانی مثلث بھارتی مفادات کی تابعداری میں ڈاکٹر اشرف غنی کی راہ میں روڑے اٹکانے میں مصروف ہے۔ اس بات کا اندازہ افغان انٹیلی جنس NDS کے سربراہ کے مستعفی ہونے سے لگایا جاسکتا ہے ۔ ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس کے اختتام کے اگلے روز ہی این ڈی ایس کے سربراہ رحمت اللہ نبیل نے صدر اشرف غنی کے ساتھ پالیسی اختلافات کے بعد استعفیٰ دے کر پاکستانی موقف کو خود ہی دلدیل فراہم کردی۔ پانچ برس سے این ڈی ایس کے سربراہ رہنے والے رحمت اللہ نبیل نے صدر اشرف غنی کو لکھے جانے والے خط میں لکھا کہ مجھے آپ کی پالیسیوں سے اختلافات ہے۔ رحمت اللہ نبیل کے حوالے سے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ وہ پاکستان مخالفت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ جب سے این ڈی ایس کی سربراہی ان کے ہاتھ تھی اس نے نہ صرف پاکستان سے بھاگ کر افغانستان پہنچنے والے دہشت گردوں کومحفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں بلکہ بھارتی ایجنسی ”را“ کی بھی بھرپور معاونت کی۔ پاکستان اس حوالے سے اس وقت حامد کرزئی حکومت کو باربارآگاہ کرتا رہا لیکن موصوف اسے درخور اعتنا نہیں جانتے تھے۔ڈاکٹر اشرف غنی کوبھی ٹھوس شواہد فراہم کئے گئے ہیں کہ کس طرح این ڈی ایس پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔کابل چونکہ اب تک بھارتی لابی کے زیر اثر ہے تو اس سلسلے میں ڈاکٹر غنی کو کافی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔پاکستان اور اشرف غنی حکومت ا نٹیلی جنس تعاون پر ہر وقت آمادہ رہتے ہیں بلکہ چند ماہ قبل اس سلسلے میںباقاعدہ بات چیت میں معاملات طے پا گئے تھے مگر این ڈی ایس نے اسے ناکام کردکھایا ۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارت این ڈی ایس کے ساتھ مل کر طالبان کے توڑ کیلئے داعش کی راہ ہموارکررہا ہے۔ اب اگر رحمت اللہ نبیل نے استعفیٰ دے دیا یا اسے استعفے پر مجبور کیا گیا ہے تو امید ہے کہ اس سے نمایاںبہتری آئے گی اور پاک افغان حکومتیںمل کر آگے بڑھیں گے۔ ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس کے موقع پر پاکستان ،افغانستان ، امریکہ اورچین کے اعلیٰ سطح وفود کے مشترکہ اجلاس جس میںوزیراعظم پاکستان، صدر اشرف غنی ، چینی اور امریکی نائب وزرائے خارجہ کی شرکت سے توقع ہے کہ اس کے نتیجے میںجہاں افغان امن میں اہم پیشرفت متوقع ہے وہاں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تلخیاں کم اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کا موقع بھی ملے گا۔کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر دہشت گردی کے خلاف کابل حکومت کی کوششوں کوسراہا اور افغان صدر کو یقین دلایا کہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیںجبکہ ڈاکٹر اشرف غنی نے کہاکہ دہشت گرد دونوں کے دشمن ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کاملک پاکستان سے سیاسی و سماجی تعلقات کے علاوہ ملٹری ٹو ملٹری اور انٹیلی جنس اداروں میں رابطے بڑھانے کا خواہاں ہے۔دونوں رہنماﺅں نے جس طرح خیر سگالی کا مظاہرہ کیا اور خطے کے امن کیلئے مل کرکام کرنے کا عزم کیا ہے وہ وقت کا تقاضا بھی ہے اورضرورت بھی ۔ کیونکہ پچھلے ایک عشرہ سے جاری دہشت گردی کی جنگ میں دونوںممالک بھاری جانی و مالی نقصان اٹھاچکے ہیں جبکہ بعض مفاد پرست ممالک دونوں میں دوریاں پیدا کرکے دونوںکو ہی عدم استحکام سے دوچار رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ پاکستان کا امن افغانستان سے وابستہ ہے تو افغانستان کا استحکام پاکستان سے جڑاہوا ہے۔ افغان صدر دائیں بائیں کی سازشی تھیوریوں پر کان دھرنے کی بجائے اپنی پہلے دن کی پالیسی پر گامزن رہتے ہوئے آگے بڑھیں گے تووہ پاکستان کو اپنے ساتھ ہم قدم پائیں گے۔ اسی لئے میاںنواز شریف نے کہاکہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں۔ہمسایوںسے پرامن تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے۔

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس اور سشما سوراج

rana-baqi

سشما سوراج اسلام آباد میں افغانستان کے حوالے سے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے بعد نئی دہلی واپس پہنچیں تو ہر طرف ایک ہاہاکار مچی تھی ۔ بھارتی میڈیا تجزیہ نگاروں کی فوج ظفر موج کے علاوہ کانگریس پارٹی اور خود حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی عسکریت پسند تنظیموںبشمول راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے رہنما ﺅں نے اُنہیں آڑے ہاتھ لیتے ہوئے اُن پر سوالات کی بوچھاڑ شروع کر دی کہ اُن کی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے دوران بھارتی ترنگا پرچم کس بھول بھُلیّاں میں کھو گیا تھا۔ اُن کے نقاد تسلسل سے یہ الزام دھراتے رہے کہ وہ اسلام آباد میں بھارت کا وقار قائم رکھنے میں نہ صرف ناکام رہی ہیں بلکہ توہینِ پرچم کی مرتکب بھی ہوئی ہیں ۔ چنانچہ نئی دہلی واپسی پر اُنہوں نے پریس سے خطاب کرنے کے بجائے انٹر نیٹ پر اپنے ایک ٹویٹ میں بھارتی پرچم سے متعلق الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی دوطرفہ اجلاس نہیں تھاجس میں بھارتی پرچم کی موجودگی ضروی ہوتی ۔غالباً اِس ٹویٹ میں اُنہوں نے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ وزیراعظم پاکستان سے اُن کی میٹنگ محض ایک کرٹسی کال تھی۔ محترمہ سشما سوراج ٹویٹ لکھتے وقت شاید اِس اَمر کو بھول گئیں کہ وزیراعظم نواز شریف پاکستان کے وزیر خارجہ بھی ہیں جبکہ سرتاج عزیز محض اُن کے مشیر کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔اگر یہ دوطرفہ میٹنگ نہیں تھی تو پھر اُن کے دورے کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ کیوں جاری کیا گیا ؟ یاد رہے کہ وزیراعظم پاکستان نے وزیر خارجہ کا عہدہ اپنے پاس رکھا ہوا ہے جبکہ وزیراعظم کے مشیر کی حیثیت سے سرتاج عزیز جناب نواز شریف کی جنبش اُبرو کے بغیر کسی مشترکہ اعلامیہ کو جاری کرنے کا اختیار نہیں رکھتے ہیںچنانچہ سشما سوراج کی وزیراعظم سے ملاقات کا تذکرہ مشترکہ اعلامیہ کے شروع میں ہی کیا گیا ہے۔ دریں اثنا ، یہ اَمر باعث اطمینان ہے کہ سشما سوراج کے دورے کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ملکوں کے درمیان تمام امور بشمول جموں و کشمیر، سیاچین ، وولر بیراج، سر کریک ، معاشی و تجارتی تعاون ، انسداد دہشت گردی وغیرہ پر خارجہ امور کے سیکریٹری لیول پر جامع دوطرفہ ڈائیلاگ دوبارہ شروع کرنے کی بات کی گئی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین جامع مذاکرات کا انعقاد کوئی نئی بات نہیں ہے ۔پہلے بھی دونوں ملکوں کے درمیان بشمول جموں و کشمیر جامع مذاکرات مکمل ہوتے رہے ہیں لیکن بھارت اپنے مفاد کے سوا کسی مسئلے بل خصوص کشمیر پر مذاکرات سے پہلو تہی کر لیتا ہے۔ چند ماہ قبل بھی بھارت نے کشمیر کو اٹوٹ کہتے ہوئے محض اِس لئے سیکریٹری لیول مذاکرات کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دینا اور پاکستانی ہائی کمشنر کی جانب سے نئی دہلی میں کشمیری رہنماﺅں سے بات چیت قابل قبول نہیں ہے کیونکہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کشمیر پر بات چیت کا نئے سرے سے ڈول کر دراصل بھارت افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں سے تجارت کےلئے واہگہ ، جلال آباد زمینی راستہ کھولنے کی سہولت کا متلاشی ہے اور اِسی مقصد کےلئے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شمولیت کےلئے بھارت نے نریندر مودی ، نواز شریف پیرس ملاقات میں بھارتی وزیر خارجہ کو پاکستان بھیجنے کا عندیہ دیا تھا۔
حقیقت یہی ہے کہ سشما سوراج بڑی دھڑلے والی خاتون ہیں چنانچہ سوشل میڈیا میں اُن کی جناب سرتاج عزیز سے ملاقات کی وڈیو کے چرچے اتنے پاپولر ہوئے کہ اُن کی محترمہ مریم نواز شریف اور خود جناب نواز شریف سے ملاقاتوں کی خبریں پس پشت چلی گئیں ۔ سشما سوراج جب جناب سرتاج عزیز سے ملاقات کےلئے آئیں تو اُنہوں نے تمام سفارتی پروٹوکال کو نظر انداز کرتے ہوئے دونوں ہاتھ کھول کر بڑی گرم جوشی سے جناب سرتاج عزیز کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چند سیکنڈوں تک تو پروٹوکال اور سیکیورٹی ڈیوٹی پر موجود تمام اہلکاروں کو مبہُوت کرکے رکھ دیا لیکن بات گولڈن جھپی تک نہ پہنچ سکی چنانچہ سشما سوراج نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ وڈیو کیمرے آن ہیں وہ پیچھے ہٹ گئیں اور ہاتھ جوڑ کر ہندوانہ پروٹوکال کا انداز اختیار کر لیا جبکہ جناب سرتاج عزیر ہاتھ ہلاتے ہی رہ گئے کہ یہ کیا ہوا ہے ۔ البتہ امیتاب بچن اور زینت امان کی مشہور فلم لاوارث کے ایک خوبصورت گانے کی یاد ضرور تازہ ہوگئی یعنی “کب کے بچھڑے ہوئے ہم آج کہاں آ کے ملے” ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مشترکہ اعلامیہ میں جناب سرتاج عزیز نے ممبئی حملوں سے متعلق پاکستانی عدالتوں میںمقدمات کے جلد فیصلے کرنے کا تذکرہ تو کر دیا لیکن بھارت میں سمجھوتہ ایکپریس میں پاکستانی شہریوں کے قتل عام سے متعلق تذکرہ کرنا بھول گئے جس پر کچھ سیاسی حلقوں بشمول شیریں مزاری نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ جمیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نریندر مودی سے نواز شریف کی ملاقات اور سشما سوراج کے دورہ پاکستان میں بھارت کےساتھ کیا طے پایا گیا ہے پر قوم اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔
اندریں حالات ،بھارت ایک جانب تو چین پاکستان تجارتی راہداری منصوبے کی مخالفت میں پیش پیش ہے تو دوسری جانب وہ اپنی تجارت کو زمینی روٹ کے ذریعے وسط ایشیائی ریاستوں تک پہنچانا چاہتا ہے لیکن یہ توقع رکھنا کہ جموں و کشمیر پر بات چیت کے دوران بھارت اٹوٹ انگ سے ہٹ کر کوئی اور موقف اختیار کرے گا ناقابل فہم بات ہے۔ کشمیر کنٹرول لائین کے حوالے سے جولائی 1972 میں بھارتی وزیراعظم مسز اندرا گاندہی اور پاکستانی وزیراعظم ذوافقار علی بھٹو کے درمیان ہونے والا دو طرفہ شملہ معاہدہ جس میں دونوں ملکوں کے درمیان اقوام متحدہ کے چارٹر کےمطابق مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کی بات کی گئی تھی پر سیکریٹری لیول بات چیت کے متعدد دور منعقد ہونے کے باوجود بھارت مسئلہ کشمیر حل کرنے کےلئے رضامند نہیں ہوا تھا اور ایٹمی طاقت کے زور پر پاکستان کو دبامہ چاہتا تھا۔بھارت کی ہٹ دھرمی کا تذکرہ سابق وزیراعظم پاکستان کے دورہ چین کے اختتا م پر مئی 1976 میں بیجنگ سے جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں بھی بخوبی کہا گیا ہے۔ ” وزیراعظم پاکستان نے چینی وزیراعظم کو بتایا کہ شملہ معاہدے کے تحت تمام معاملات پر مطلوبہ پراسس مکمل کر لیا گیا ہے ۔ صرف جموں و کشمیر کا تنازعہ جسے پُر امن طریقے سے اقوام متحدہ کی حق خودارادیت کی قرارداد جسے پاکستان اور بھارت دونوں نے تسلیم کیا تھا کےمطابق دونوں ملکوں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کے حوالے سے تعلقات مکمل طور پر معمول پر لانے کےلئے حل کیا جانا رہ گیا ہے ۔ مشترکیہ اعلامیہ میں چینی وزیراعظم کی جانب سے بھی کہا گیا تھا کہ چینی حکومت اور عوام پاکستان کی قومی آزادی ، علاقائی سلامتی ، اقتدارِ اعلیٰ اور جموں و کشمیر کے عوام کی جدوجہد اور حق خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے رہیں گے ۔
چنانچہ بھارت کی یہ عادت کبھی نہیں بدلے گی کہ وہ اپنی جدوجہد کے تسلسل سے اپنے مفاد کے حامل مسائل کو حل کرنے کےلئے تو پیش پیش رہتا ہے لیکن جموں و کشمیر کے عوام کو حق خوداردیت دینے گریزاں ہے ۔ بھارت کے ایک سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ یہ بات زور دیکر کہہ چکے ہیں کہ بھارت میں کوئی بھی حکومت ہو وہ کشمیر کنٹرول لائین سے ہٹ کر کشمیر پر کبھی کوئی معاہدہ نہیں کریگی۔ ہمارے اداروں کو حالات سے باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔ ختم شد

پاکستانی میڈیا میں ’استعماری آقاوں‘ کے زر خرید؟

nasir-raza-kazmi

یقین کیجئے گاذرائع ِ ابلاغ سے وابستہ کوئی بھی فرد ‘ چاہے وہ اِس اہم شعبہ میں نووارد ہو یا سینئر‘ یا پھر وہ اپنے شعبہ ¾ ِ صحافت کا ’ہیرو‘ ہو، یہاں لفظ ’ ہیرو ‘ ہم نے کیوں استعمال کیا؟ ہم یہ بھی لکھ سکتے تھے کہ ذرائع ِ ابلاغ کی وہ شخصیت ’سینئر ترین ممتاز قابل ِ احترام مقام پر فائز ہو ’ہیرو‘ یا تو فلموں کے ہوتے ہیں یا ٹی وی ڈراموں سے اُن کاتعلق ہوتا ہے، لیکن جب سے ملک میں آزادی ¾ ِ اظہار کے نام سے دی جانے والی الیکٹرونک صحافت کے ٹی وی ٹاک شوز کے جمعہ بازار وں میں طرح طرح ٹاک شوز کے” اینکر پرسنز “کی گردنوں میں آئے ہوئے ’سرئیے‘ ہم نے محسوس کیئے اور اُن کی اکڑی ہوئی گردنوں کی ’اٹھانیں ‘ دیکھیںاُن کے رنگا رنگ قیمتی لباسوں کی دل لبھانے والی تراش خراش میں اُنہیں اپنے اردگرد سے بے خبر اُن کی چال میں ایک تکبر ونخوت کا احساس نمایاں دیکھا تو معلوم ہوا کہ کیا یہ’ لوگ‘ یا ایسے’ لوگ‘ ہماری سماجی زندگیوں کے ہمارے رابطہ  ِ عامہ کے ماہرین کہلائے جانے کے مستحق ہوسکتے ہیں ؟ یعنی کیا یہ لوگ” دیانت دار“ صحافی کہلائے جانے کے مستحق ہیں؟ تقسیم ِ ہند سے قبل اور تقسیم ِ ہند کے بعد کئی دہائی تک ذرائع ِ ابلاغ سے وابستہ حقیقی ’قلمکاروں ‘ کو ہم نے ابھی 15-20 برس قبل ایسی ’لچ پچ زندگی ‘ بسر کرتے کبھی نہیں دیکھا، ٹھیک جناب! آپ صحیح کہتے ہیں کہ اب ’صحافت ‘ بڑی کمرشل از م ہوچکی ہے اور آجکل جس طرح کی صحافت ہورہی ہے تو اِن سے ایسے ہی ’لچ پچ نتائج‘ برآمد ہونگے پیسہ آجانا کوئی بُری بات نہیں صرف شرط یہ ہے کہ یہ پیسہ جائز طریقے سے کمایا جانے والا ہو،کیا یہ ایک تلخ حقیقت نہیں ہے کہ پاکستان میں الیکٹرونک میڈیا کی چکاچوند پر کوئی نگرانی چوکی بٹھلانے کا جب کوئی باضابطہ نظام ہی وضع نہیں کیا گیا تو پاکستانی کے ازلی دشمنوں یعنی بھارت بشمول امریکا‘ مغرب اور اسرائیل نے ہمارے الیکٹرونک میڈیا میں سے چند ’ایک ایسوں‘ کو (سوائے روز ٹی وی نیوز کے) اُنہیں ہر قیمت پر گود لے لیا ظاہر ہے کیمرہ نے دکھانا ہے ‘ سیٹ سامنے لگا ہوا ہے، مائیکروفونز لگے ہوئے ہیں، کیمرہ کے سامنے، جب تک کوئی نہیں آئے گا تو یہ سب کچھ بیکار ہے اِن بے جان چیزوں کو خرید کر کوئی کیا تیر مارسکتا ہے ٹی ویژن اسکرینوں پر بحیثیت ِ میزبان یا اینکرپرسنزبننے والوں کو اگر کوئی خرید لے اُس کی ذہنی ’ڈی بریفنگ ‘ کردی جائے اور اُس کو باور کردایا جائے کہ’ اندرون ِ ملک اور بیرون ِ ملک اُس کے اکاونٹس میں ’مقررہ ‘ رقوم میں کبھی کمی نہیں آئے گی دنیا بھر میں وہ جہاں اور جس پُرتعش ملک میں جانا چائے گا وہاں اُس کی مرضی ومنشا کے مطابق اُس کی آوبھگت ہوگی جس کا معاوضہ صر ف اتنا ہے کہ وہ جہاں پر بھی اُٹھے بیٹھے ‘ جس محفل میں جائے محفل پر چھا جائے دنیا کے جس اہم ملک کے سفیر سے وہ جب چاہے مل سکتا ہے اصل میںذرائع ِ ابلاغ ایک ایسا ’حساس‘ مگر ہر کس و ناکس کے نزدیک اِس قدر قابل رسائی کا شعبہ ہے جسے ہر کوئی جب اُس کا دل چاہے اپنا ’شعبہ ‘ کہہ سکتا ہے، اگر آپ پروفیسر ہیں آپ کا دل چاہا کہ کوئی مضمون یا کالم لکھنا چاہیئے لیجئے آپ بھی صحافی بن گئے ‘ انجینئر‘ ڈاکٹرز ‘ اخبارات کے مسلسل قارئین‘اسکولوں کے استاد ‘ چند ایک دن کسی نامور اور مشہور صحافی کے ساتھ وقت گزارنے والے اگر اپنے آپ کو ’صحافی ‘ کہلوانا شروع کردیں تو اُنہیں کوئی کیسے چیلنج کرئے واقعی لکھنا پڑھنا ایک معتبر کام ہے، اگر یہ اہم و حساس کام ہم سبھی لوگ ’معتبرانہ دیانت داری ‘ کے ساتھ انکسارانہ او رعاجزانہ طرز ِ عمل اپنا کر کریں جیسا چند سطروں قبل تحریر کیا گیا کہ پاکستان کی مشرف حکومت نے نجانے اِتنی جلدی میں ملک میں اظہار رائے کی آزادی کے نام پر الیکٹرونک میڈیا کو اِتنی بے لگام آزادی کیوں دیدی؟نتیجے میں پاکستان کو کیا ملا ؟ ہوش ربا دیو قامت ‘ بے تحاشا دولت و طاقت کے نشے میں بد مست چند ڈھیٹ الیکٹرونک میڈیا ہاو¿سنز؟اِسی پر بس نہیں، اُن میڈیا ہاو¿سنز کے چند ’اینکر پرسنز ‘ جو آج 10 برس ہونے کو آئے ابھی تک جنہیں اگر کسی سے کوئی پرخاش ہے تو وہ ہمارے قابل ِفخر عسکری ادارے اور خاص طور پر اُنہیں آئی ایس آئی کا وجود زہریلے کانٹوں کی طرح سے اُن کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے گزشتہ دنوں پاکستان بھر میں غالباتین مراحل میں بلدیاتی انتخابات ہوئے 2008ءمیں عام انتخابات ہوئے2013ءمیں عام انتخابات ہوئے سابقہ آرمی چیف جنرل کیانی کے دورمیں ہی اُس وقت کی عسکری قیادت نے ایک تاریخی فیصلہ کیا کہ ’پاکستانی فوج کا ملکی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ‘ اب جنرل راحیل شریف ہیں فوج اپنا آئینی کام کررہی ہے اور جمہوری ادارہ اپنا سیاسی کام کررہی ہے پاکستانی فوج اور سیاست کو ہمہ وقت ایک پیج پر لانے کی باتیں ہم اور اپنے الیکٹرونک میڈیا پر سنتے ہیں الیکٹرونیک میڈیا کو اپنا جو پیشہ ورانہ کام کرنا ہے اِس کے علاوہ وہ ہر کام کررہی ہے ملک کے ایک مشہور متنازعہ ایکٹر نما اینکر پرسنز اُن کا نام کیا لکھیں ہم نے اتناہی لکھا اور آپ کی زہانت کی داد کہ آپ اُن تک پہنچ گئے، آجکل یہ حضرت جس محفل میں بیٹھتے ہیں بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو متنازعہ بنانے کی نیت سے لفظوں کے ایسے پینترے بدل رہے ہیں، جیسے وہ یہ کہنا چاہ رہے ہوں کہ ’اِس بار بلدیاتی الیکش میں آئی ایس آئی جو کچھ کرنا چاہتی تھی وہ نہیں کرسکی، نتائج اپنی مرضی سے مرتب کرنے میں آئی ایس آئی کی ایک نہیں چلی؟ چونکہ بقول اُن ’حضرت‘ کے اِس بار ’پاپولر شخصیات کو پالولر ووٹ ملا ‘ بات ہماری بھی سمجھ میں بالکل نہیں آئی کہ اِن کے دماغ میں ہر وقت کیا چلتا رہتا ہے؟ ہمہ وقت تیکھی آنکھوں سے باتیں کرنا ‘ مبہم اشاروں کنایوں سے اپنے ’ جیسوں ‘ اپنے مطلب کی باتیں کرنا جہاں کوئی ایسا نامور اور قابل ِ احترام پاکستانی قوم پر ست صحافی کا اِن ’جیسوں ‘ کی میٹنگ پوائنٹ کے قریب سے گزر ہو تو بلا وجہ ’ قہقہہ ‘ لگادینا ہمیں ایک حوالے سے ایسوں پر ترس آتا ہے چونکہ سوسائٹی نے اِن کا بائیکاٹ کیا ہوتا ہے اور انتہائی افسوس اور دکھ کا مقام یہ ہے اِنہیں اِس عبرت انگیز بائیکاٹ کا بالکل احساس تک نہیں ہوتا ملک کی آئی ایس آئی جیسی اہم سپریم ایجنسی کا کسی بھی عام انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ،جناب ِ والہ! یہ اکیسیویں صدی کے پاکستان کا سپریم قومی سیکورٹی ادارہ ہے دفاع ِ پاکستان پر اپنی نگائیں چوکسی سے جمائے پاکستان کے دشمنوں کی نیندیں حرام کیئے ہوئے ہے ملک کے اندر بھی اور ملک سے باہر کے دشمن بھی اپنی سی بڑی کوشش کرچکے مگر ‘ ہربار ناکامی ‘ عبرت ناکامی بلکہ شرمناک ناکامی نے اُن کے ہر حربوں کو خاک نشین کیا یقینا ہمارے ملکی میڈیا کی صفوں میں (روز نیوز ٹی وی اور روزنامہ پاکستان اسلام آباد) کے علاوہ کئی بڑے نامور اداروں میں پاکستان دشمن عناصر اہم پوسٹوں پر آج بھی بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ بڑی تلخ اور کڑوی سچائی ہے ۔

شاہ صاحب! یہ قوم واقعی احمق ہے

khalid

خورشید شاہ صاحب ! یقین رکھیے ہم واقعی احمق ہیں۔ یہ پوری کی پوری قوم واقعی احمق ہے۔ یہ احمق قوم آپ کی باتوں کا مطلب قطعی نہیں سمجھ پائے گی۔ آپ بالکل بجا فرما رہے ہیں کہ وفاقی حکومت سندھ اور پیپلز پارٹی کو نشانہ بنا رہی ہے ۔ اس قوم کو آپ کی اس بات کا بھی کماحقہ یقین ہے یہ وفاقی حکومت ہی ہے جو رینجرز نے جو اچھے کام کیے ہیں ان پر بھی پانی پھیر رہی ہے۔ یہ جو رینجرز کے اختیارات ختم ہوئے اور اس کے بعد ان میں توسیع نہیں ہو کر نہیں دے رہی، اس میں آپ کی پیپلز پارٹی کا تو کوئی قصور ہی نہیں، معاملہ سندھ اسمبلی میں گھسیٹنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے یہ بھی وفاق ہی کا کیا دھرا ہے، سندھ حکومت کا اس میں کیا دوش۔ رینجرز کے اختیارات ختم ہوئے اورجو ڈاکٹر عاصم طوطے کی طرح بول رہا تھا اور ہر الزام قبول کر رہا تھا، یہی نہیں بلکہ عدالت کے سامنے بھی اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کا اعتراف کر چکا تھا، اسے راتوں رات سندھ پولیس نے بے گناہ قرار دے ڈالا، یہ احمق قوم بالکل بھی نہیں سمجھ سکتی کہ یہ کیا ہو رہا ہے، قوم جانتی ہے کہ یہ بھی وفاقی ہی کا کیا دھرا ہے، آپ کی پیپلز پارٹی کا بھلا اس میں کیا قصور۔ بالکل آپ نے بجا فرمایا کہ آپ تو چاہتے ہو کہ کرپشن کے خلاف آپریشن ہو مگر وفاقی حکومت نہیں ہونے دے رہی، رینجرز کو توسیع نہیں دے رہی، پولیس کی کالی بھیڑوں کے ذریعے ڈاکٹر عاصم کو بے گناہ قرار دلوا چکی ہے۔ وہ تو شاہ صاحب آپ کے اور اس قوم کی خوش نصیبی کہ نیب آڑے آ گیا ورنہ ڈاکٹر عاصم صاحب تو اب تک بیرون ملک پدھار چکے ہوتے اور آصف زرداری کے پہلو نشیں ہو چکے ہوتے۔ ہاں یاد آیا یہ جو آصف علی زرداری ملک واپس نہیں آ رہے اور ان کی ”بیماری“ اس قدر طویل ہوتی جا رہی ہے اس کے پیچھے بھی وفاقی حکومت ہی کا ہاتھ ہے، یہ آپ کو کہنے کی بھی ضرورت نہیں، یہ قوم پہلے ہی جانتی ہے۔ قوم جانتی ہے کہ پیپلز پارٹی کتنی معصوم ہے اور مسلم لیگ ن کتنی مکار اور چالاک۔ یہ احمق قوم جانتی ہے کہ وہ جو ایان علی پکڑی گئی تھی، لاکھوں ڈالرز کے ساتھ، وہ ڈالرز بھی وفاقی حکومت ہی کے تھے۔ اور شاہ جی آپ نے تو وفاقی حکومت کی سینہ زوری ملاحظہ فرمائی ہو گی کہ اپنی ہی پارٹی کے ایک وکیل کو اس کی وکالت پر نامزد کر دیا اور پھر انکار بھی کرتی رہی کہ ہمارا ایان علی سے کوئی تعلق نہیں۔کس طرح اس وفاقی حکومت نے راستے کے سب سے بڑے کانٹے”انسپکٹر اعجاز“ کو ہٹایا ، کس طرح اس کے معصوم بچوں کو یتیم کر دیا اور آج ایان علی آزاد ہے۔ اس وفاقی حکومت کو کون نہیں جانتا شاہ جی، یہ ہے ہی ایسی ظالم کہ فرعون و شداد کی مثالیں اس کی فتنہ گریوں کے سامنے ماند پڑ رہی ہیں۔اس وفاقی حکومت کا کیا کیا ظلم گنواﺅں۔ آصف علی زرداری سے ہوتے ہوئے براستہ محترمہ فریال تالپورجو بات لیاری کے دہشت گردوں تک پہنچ رہی ہے، اس کی بھی قوم کو کوئی سمجھ نہیں آ رہی۔ محترمہ فریال تالپور پاکستان کے نامور بدمعاشوں بلکہ دہشت گردوں کو اپنا بیٹا قرار دیتی رہی ہیں یہ بات بھی ان کے منہ میں مسلم لیگ ن ہی نے ڈالی تھی۔ یہ جو پیپلز پارٹی ہی کے چشم و چراغ اور آصف علی زرداری کے سب سے قریبی دوست ذوالفقار مرزا”بونگیاں“ مار رہے ہیں یہ بھی ان سے مسلم لیگ ن ہی کروا رہی ہے۔ شاہ صاحب! آپ کو ایک اندر کی بات بتاﺅں؟ آپ کو یقینا علم نہ ہو گا کہ یہ جو مسلم لیگ ن ہے ناں، یہ پیپلزپارٹی اور اس کے رہنماﺅں پر کالا جادو کروا رہی ہے،اسی لیے ان یہ دھڑادھڑ پیپلز پارٹی کو چھوڑ رہے ہیں اور پھر اپنی ہی پارٹی قیادت کے خلاف ایسی بونگیاں مارنے لگ جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ ناہید خان اور صفدر عباسی سے شروع ہوا تھا اور اب صمصام بخاری اور اشرف سوہنا تک آپہنچا ہے۔ آپ تو خود سید بادشاہ ہیں، اس کالے جادو کا کوئی توڑ ڈھونڈیں۔ ہاں یاد آیا، وہ آصف علی زرداری کے جو ”باواجی“ ہیں، وہی پیر اعجاز صاحب، ان سے ہی اس کا کوئی حل کروا دیکھیں، شاید بات بن جائے۔ قوم اس مشکل گھڑی میں آپ کے ساتھ کھڑی ہے، ڈٹ جائیے اس سازشی مسلم لیگ ن کے خلاف۔ یقین رکھیے یہ قوم احمق ہے، یہ بالکل بھی نہیں سمجھے گی کہ آپ آصف زرداری اور اپنے دیگر پارٹی رہنماﺅں کی کھربوں کی کرپشن، دہشت گردوں کی معاونت، چائنہ کٹنگ وغیرہ وغیرہ پر نہیں ڈٹے ہوں گے،یقین رکھیے، قوم یہی سمجھے گی کہ آپ مسلم لیگ ن کی سازشوں کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں، یہ مسلم لیگ ن ہے ہی ایسی شرپسند۔

16دسمبر۔۔۔ننھے شہیدوں کو سلام

uzair-column

آرمی پبلک سکول کے سانحے کو آج ایک سال مکمل ہونے جارہا ہے ۔گذشتہ سال کے 16دسمبر کویاد کیا جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے ۔مگر ان بہادر بچوں کو بھی خراج عقیدت اورخراج تحسین پیش کرنے کو دل چاہتا ہے کہ انہوں نے دہشتگردوں کا کس طرح مقابلہ کیا ۔جب معصوم بچوں کو سفاک بھیڑیوں نے نشانہ بنایا معصوم فرشتوں کے لہو سے زمین کو سرخ کیا ۔ایک قیامت خیز منظر تھا کہ ماؤں نے اپنے لالوں کو تیار کرکے سکول بھیجا تھا ۔مگر جب وہ انہیں واپس ملے تو وہ صاف ستھری سکول کی یونیفارم خون میں رنگی ہوئی تھی ۔کتابیں بکھڑی پڑی تھیں یوں لگ رہا تھا کہ یہ معصوم کونپلیں جن کودہشتگردوں نے مسلنے اور کچلنے کی کوشش کی وہ سورہے ہیں ۔معصوموں کا خون پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ ماں پریشان نہ ہونا ۔ہم نے تو مادر وطن کیلئے اپنا لہو قربان کیا ہے ۔آج اس وطن کی جڑوں میں ہمارا لہو ہے ۔ہم وطن کو اپنے لہو سے سینچ رہے ہیں تم خفا نہ ہونا ،تم نے تو ہمیں تیار کرکے بھیجا تھا ہاں آج ہم وطن پر قربان ہونے کیلئے تیار ہوئے تھے ۔ماں رونا نہیں ،دہشتگردوں کو پیغام دیا کہ ہمارے سپوتوں نے وطن کی آن بلند رکھنے کیلئے قربانی دی ،آج ہی سے ان وطن دشمنوں کیلئے الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔ماں ہمارا لہو رنگ لائیگا۔ملک میں امن وامان قائم ہوگا ۔وطن ترقی کرے گا ،دہشتگردوں کے گرد گھیرا تنگ کردیا جائیگا،ہمارا قیمتی لہو کسی صورت رائیگاں نہیں جائیگا ۔ماں تم بڑا دل رکھنا جب جب ہماری یاد آئے وطن میں قیام امن کیلئے دست دعا بلند کرنا ،تمہیں صبر آئیگا،تمہارا دل خوش ہوگا،آج جب وطن خوشی کا گہوارہ بن رہا ہے ان خوشیوں میں ہمارا لہو شامل ہے ۔دہشتگرد یہ نہ سمجھیں کہ وہ کامیاب ہوگئے ہیں ۔ان کے آخری دن آن پہنچے ہیں ماں بس تم صرف انتظار کرنا ۔آنکھوں میں آنسو نہ لنا ،کف افسوس نہ ملنا،ہم تمہارا نام بلند کریں گے ۔اپنے والد کی آن کی پگڑی کا شملہ بھی بلند رکھیں گے ،آج کی قربانی کل کے امن کی نوید دے رہی ہے ۔ماں دیکھنا اب دہشتگردوں پر زمین کس طرح تنگ کردی جائے گی ۔پھر کچھ اسی طرح ہوا آپریشن ضرب عضب نے دہشتگردوں کی کمر توڑ کررکھ دی ۔شمالی،جنوبی وزیرستان جو شرپسندوں کے گڑھ تھے ۔پاک فوج نے بہادرانہ کارروائیاں کرتے ہوئے وطن دشمن عناصر کا خاتمہ کردیا۔متعدد کیفر کردار تک پہنچے ،گرفتارہوئے ،تحقیقات ہوئیں ،نامعلوم کتنے ماسٹر مائنڈ پکڑے گئے ،آج اے پی ایس کے سانحہ کوجوسال مکمل ہوا اس ایک سال پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور فوج نے دہشتگردوں کے عزائم خاک میں ملادئیے پھر پوری قوم دہشتگردی اوردہشتگردوں کیخلاف متحد ہوگئی ۔پاک فوج کیساتھ کندھا سے کندھا ملاکرکھڑی ہوگئی ۔فوج اور حکومت ھبی ایک پیر نظر آئے ۔دیکھا ماں ہمارے خون کی قربانی کانتیجہ ۔اس پاک سرزمین پر اب کوئی دہشتگرد نہیں بچے گا ۔ہمارے دوست،ہمارے ساتھی ،ہمارے کلاس فیلوز اسی طرح سکول جارہے ہیں ان کے حوصلے بلند ہیں ان کے عزائم میں کوئی متزلزل نہیں آیا ۔ماں میرے کلاس فیلوز کے تو ویسے بھی حوصلے بلند ہیں ۔مگر تم انہیں اورحوصلہ دینا کہ ہم نے ان کے بہتر مستقبل کیلئے اپنی جانیں نچھاورکردی ہیں ماں تم خوش نصیب ماؤں میں سے ہو کہ تم نے ان شیر بہادروں کو جنم دیا ۔جنہوں نے وطن پر آنچ نہ آنے دی اوراپنے وطن کی مٹی کی حفاظت کیلئے جانیں قربانی کردیں ۔16دسمبر ہر سال آئیگا مگر ہر دن دہشتگردوں کیلئے ہمیشہ ایک پیغام لیکر آئے گا کہ اس وطن کے معصوم فرشتے بھی ہر لمحہ تیار ہیں ۔دہشتگردوں تم نے معصوموں کو شہید کردیا ۔مگر ان ننھے شہیدوں نے تمہارے مذموم عزائم خاک میں ملا دئیے ۔تخریب کارو تمہیں ہر جانب شرمندگی کا ہی سامنا کرنا پڑے گا ۔اس دھرتی سے تمہیں ختم کردیا جائیگا ۔ہمارے نام تاقیامت تک زندہ رہیں گے ،ہماری مائیں فخر سے سراٹھا کر زندگی گزاریں گی ۔ہمارے معاشرے میں ہمارا ایک مقام ہوگا ۔مورخ ہماری قربانیاں سنہرے حروف میں لکھے گا ۔مگر تمہارے لیے دو لفظ بھلے کے بھی نہیں بولے گا ۔ماں تم حوصلہ رکھو ۔جب تک اس وطن میں تمہاری جیسی جی دار مائیں موجود ہیں ۔کوئی دشمن بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ماں تم نے ہی تو کہا تھا کہ اصل ماں ہمارا وطن ہے ۔تو ہم نے تو اپنی ماں کی حفاظت کرنا تھی ۔ماں کی حفاظت کیلئے جان کی قربانی دینا کوئی مہنگا سودا نہیں ۔ہمارا وطن قائم ودائم رہے ۔بس ہماری قربانی کی یہی منزل ہے ۔اے وطن تجھے سلام ۔۔پاک فوج تجھے سلام ۔۔۔ماں تیری عظمت کو سلام ۔۔۔!

ایشیاءکا مسئلہ…. کشمیر یا بیروزگاری؟

sadar-adeel

 کیا دونوں ممالک اب اس بات کا شعور حاصل کرچکے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا مستقبل کسی تیسری طاقت کی شرارت کی وجہ سے حل نہیں ہوپارہا یا عوام کو پست رکھنے میں بھی اس کا ہاتھ ہے۔ اس سوال کاجواب تو آنے والے دنوں میں سامنے آئے گا۔ البتہ پانچویں ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس کا اسلام آباد میں منعقد ہونا اس کانفرنس میں شامل ہونے والوں کی طرف سے پاکستان پر اعتماد کا اظہار ہے۔ اس کانفرنس کے بنیادی مقاصدمیں سے ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ نمائندگان ایشیاءمیں ابھرتی ہوئی دہشت گردی کے نظریے پر قابو پانے کیلئے مل بیٹھیں جس کامرکز افغانستان میں موجود لاقانونیت اور غیر ملکیوں کی بدنیتی ہے۔ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام ممالک دہشت گردوں کے ٹھکانوں ، ان کے مالی روابط اور حامیوں پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاو ن کرتے ہوئے قابو پائیں گے ۔ تقریباً 43 نکاتی اعلامیہ میں جو بات سامنے آئی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایشیاءمیں موجود ممالک کی علاقائی سلامتی، آزادی ، اتحاد کی عزت کرنا جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج ہے ۔2۔ ایشیاء میں موجود ریاستوں کی داخلی معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرنا۔3۔ انسانی حقوق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اور افغانستان کی جغرافیائی حیثیت دیکھتے ہوئے پرامن افغانستان کیلئے کوششیں کرنا تاکہ اس کے اثرات پورے علاقے پر مرتب ہوں۔4۔ کانفرنس میں ایساف کی افغانستان امن بحالی کیلئے افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکورٹی فورسز کو ٹرینگ اورمدد کے حوالے سے کردار کو سراہا گیا۔5۔ پاکستان اور ایران کی کوششوں اور مہمان نوازی کو سراہا گیا کہ کثیر تعداد میں افغان مہاجرین کو ان دونوں ممالک نے جگہ دی۔ 6۔ بین الاقوامی برادری کو یاد دہانی کروائی گئی کہ 2017ءتک افغانستان میں قائم قومی اتحادی حکومت کی مالی مدد کرنا۔7۔ القاعدہ ، داعش جیسے متشدد گروپوں کا بین الاقوامی تعاون سے قلع قمع کرنا ۔8۔ پرامن افغانستان اور پرامن خطے کےلئے تمام طالبان گروپوں کا افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی خواہش ظاہر کرنا۔9۔ قومی ، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر منشیات ، غیر قانونی اسلحہ سمگلنگ سے فائدہ حاصل کرنے والے دہشت گردوں کی پہچان اور ان سے برتاﺅ کی تدابیر اختیار کرنا۔10۔ آرٹیکل 20 اور 21 کے تحت متفقہ طورپر دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے 2016 ءکے پہلے حصے میں بیجنگ میں ہارٹ آف ایشیاءسے منسلک سینئر افسروں کی ایک میٹنگ کا انعقاد ۔11۔ سرمائے کا پیدا کرنا اور اس کا استعمال علاقے میں موجود قدرتی وسائل اور افرادی قوت کو دیکھتے ہوئے تاکہ معاشی حوالے سے خطے کو فائدہ ہو۔12 افغان نوجوان اور خواتین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا اور علاقائی ممالک کا افغانستان سے باہمی تجارت کا پروان چڑھانا ۔13۔ افغانستان کو تجارتی حب سمجھتے ہوئے علاقائی تجارت پرغورکرنا اور تجارتی راستوں کی منصوبہ سازی کرنا ۔8 اور 9دسمبر کو ایک طرف ایشیاء میں موجودممالک کی افرادی قوت کے استعمال پر زور دیا گی ساتھ ہی وسائل کی پہچان اور منصفانہ تقسیم کیلئے ایک ایسا ذہن بنایا گیا کہ خطے میں بسنے والی انسانیت آج اکیسویں صدی میں رہتے ہوں۔ جسمانی و روحانی ترقیاں حاصل کرسکے۔ اگر بیروزگار افراد معاشی تنگدستی کی وجہ سے ترقی کیلئے کردار ادا نہیں کرسکتے تو کم ازکم وہ دہشت گردوں کی صفوں میں شامل ضرور ہوسکتے ہیں۔ اگر پانچویں ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس میں دہشت گردی سے نجات کیلئے منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے تو معاشی استحصال کو ترجیح بنیادوں پر حل نہ کرنا مزید دہشت گردی کاباعث بن سکتا ہے۔ اگر اس کانفرنس کے مقاصد میں سے علاقائی معاشی صورتحال پر کچھ نہ کچھ پیشرفت ہو جائے تویقیناً یہ خطہ مغربی بلاک کیلئے نفسیاتی خطرہ ضرور ہوسکتا ہے۔ ہارف آف ایشیاء کانفرنس کی اہمیت اوپر بیان کیے گئے پہرائے میں تو ایک طرف لیکن سشما سوراج کی آمد اس کی اہمیت میں مزید اضافہ کرگئی ہے۔ تحریر کے شروع میں جو سوال رکھا گیا اس کا جواب تو حقیقی بنیادوں پر آئندہ سامنے آئے گا کیونکہ جب بھی پاک بھارت مذاکرات کی بات ہونا شروع ہوئی تو ملک میں موجود سیاسی و مذہبی جماعتوں نے پاک بھارت دشمنی کے حل کیلئے مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کا اولین نقطہ بیان کیا ۔ پاکستان اوربھارت میں بسنے والی اقوام کے ہاںترجیحات میں کیا شامل ہے اس کا ادراک زمین حقائق کو سامنے رکھ کر ضرور کرناچاہیے۔ اگر دونوں طرف سے مسئلہ کشمیر لوگوں کیلئے بیروزگاری سے زیادہ اہم ہے تو دونوں طرف کی حکومتوں کوترجیح بنیادوں پر مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف جانا چاہیے اگر غربت و افلاس اہم مسئلہ ہے تو ذہنی یکسوئی کے ساتھ پاکستان اور بھارت کو اپنے عوام کو زندگیوں میں بہتری کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے نہیں تو پھر یہ بھی انسانی حقوق کی پامالی ہوگی پھر شکوہ کسی تیسری طاقت سے کیا کرنا۔

بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ اور پاکستان کے خلاف الزام تراشی

riaz-ahmed

بھارت ایک ایسا ملک ہے جس نے کبھی اپنے پڑوسی ملک پاکستان کو تسلیم نہیں کیا بلکہ کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جس میں پاکستان کے خلاف الزام تراشی نہ کی ہو اور تخریب کاری دہشت گری کی کاروائیاں نہ کی ہوں۔بھارت میں دہشت گردی کی جتنے واقعات ہوئے اس نے پاکستان کو ہی مورد الزام ٹھہرایا مگر جب تحقیقات ہوئیں تو پتہ چلا کہ ان میں تو ”ہندو دہشت گرد“ ملوث تھے۔سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس اور مالیگاو¿ں سمیت دیگر واقعات میںبھارت ملوث رہا جس کا اقرار خودبھارتی افسران نے کیا۔
کچھ عرصہ قبل بھارتی وزارت برائے داخلہ کے ایک سابق افسر نے انکشاف کیا کہ پارلیمنٹ اور ممبئی حملے حکومت نے خود کروائے تھے۔وزارت داخلہ کے سابق افسر آر وی ایس مانی نے یہ انکشاف عدالت میں جمع کرائے گئے ایک حلف نامے میں کیا۔آر وی ایس مانی نے تفتیشی ٹیم کے افسر کے حوالے سے بتایا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے کروائے گئے دونوں حملوں کا مقصد دہشت گردی کے قوانین میں سخت ترامیم کے لئے ماحول سازگار کرنا تھا۔ 2001ء میں نئی دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والا حملہ ملک میں رائج بدنام زمانہ قانون ”پوٹا“ جب کہ 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے حملے ”یو اے پی اے “ قانون میں ترامیم کرکے اسے مزید سخت بنانے کے لیے کرائے گئے تھے۔اس انکشاف کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ انڈیا نے ہمیشہ پاکستان پر الزام تراشی کی۔ممبئی حملوں میں زندہ پکڑے جانے والے اجمل قصاب کو انڈیا نے عجلت میں پھانسی کیوں دی؟حالانکہ جب پاکستانی وکیلوں کا وفد جرح کے لئے انڈیا گیا تھا تو انڈیا نے اجمل قصاب سے جرح کرنے والوں سے بھی جرح نہیں کرنے دی تھی۔
بھارت کی انسانی حقوق کی معروف کارکن اور ممتاز مصنفہ ارون دھتی رائے نے 13دسمبر 2001ءکو بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بارے میں ایک کتاب کے تعارفی نوٹ میں حکومت سے اس حملے سے متعلق 13 سوالات پوچھے ہیں۔ پہلے سوال میں کہا ہے کہ اس حملے سے 4 ماہ قبل حکومت اور پولیس نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوسکتا ہے۔ 12 دسمبر 2001ءکو اس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے باضابطہ طور پر ایک اجلاس طلب کیا تھا جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ پارلیمنٹ پر حملہ ہوسکتا ہے اور 13دسمبر کو یہ حملہ ہوگیا۔ سخت سکیورٹی حصار کے بیچ کس طرح ایک کار جس میں بم نصب تھا، پارلیمنٹ کمپلیکس کے اندر داخل ہوئی اور دھماکے سے پھٹ گئی؟ حملے کے چند دنوں بعد دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے یہ کہا تھا کہ یہ مشترکہ طور پر لشکر طیبہ اور جیش محمد نامی جنگجو تنظیموں کی کارروائی ہے۔ ارون دھتی رائے کا کہنا تھا کہ دلی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ’محمد‘ نامی شخص جو IC-814 ہوائی جہاز کو اغوا کرنے میں بھی ملوث تھا، اس حملے میں ملوث ہے جسے بعد میں سی بی آئی نے بری کر دیا تھا۔ پولیس نے ان ثبوتوںکو مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ عدالت میں بطور ثبوت کےوںپیش نہیں کی گئی اور عوام کو بھی یہ ریکارڈنگ کیوں نہیں دکھائی گئی۔ بھارتی حکومت نے پارلیمنٹ پر حملے کی آج تک سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں دکھائی، جس سے لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔بھارتی پولیس نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان اور جہادی تنظیموں پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کر دیا اور بھارتی حکومت نے پارلیمنٹ میں اس حوالے سے بحث بھی نہیں ہونے دی۔ آج تک بھارتی حکومت نے پارلیمنٹ حملے میں ملوث ان پانچ حملہ آوروں کے نام نہیں بتائے۔ ان سوالات کے بعد پارلیمنٹ کا اجلاس کیوں ملتوی کردیا گیا۔
چند دن بعد حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس اس حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ہیں اورحکومت نے 5 لاکھ بھارتی فوجیوں کو پاکستان بھارت سرحد پر تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ بھارتی فوجیوںکو 13دسمبر سے قبل ہی تعینات کر دیا گیا تھا؟ پارلیمنٹ پر حملے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا افضل گورو سابق عسکریت پسند تھا جس سے بھارتی فوجیوں خاص طور پر ٹاسک فورس کا باقاعدہ رابطہ تھا۔ سکیورٹی فورسز اس حقیقت کی کیسے وضاحت کریں گی کہ انکی زیر نگرانی ایک شخص اتنی بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کیسے کر سکتا ہے۔ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیمیں اتنی بڑی کارروائی کیلئے ایک ایسے شخص پر کیسے اعتماد کرسکتی ہیں جو بھارتی سپیشل ٹاسک فورس سے رابطے میں ہو۔ بھارتی پولیس کے کمشنر ایس ایم شنگری نے حملے کے چھ دن بعد ہلاک ہونیوالے ایک حملہ آور کی شناخت محمد یاسین فتح محمد عرف ابوحمزہ کے طور پر کی اور اس کا تعلق لشکر طیبہ سے بتایا گیا تھا۔ جبکہ یاسین کو نومبر 2000ءمیں ممبئی میں گرفتار کر کے اسے کشمیر پولیس کے حوالے کر دیا گیاتھا۔ اگر وہ پولیس کی حراست میں تھا تو وہ حملے کے دوران کیسے ہلاک ہوا۔
حقیقت یہ ہے کہ دہشت گرد ی کا مرکز پاکستان نہیں بھارت ہے جہاں مسلمانوں کے علاوہ سکھ، عیسائی اور نچلی ذات کے ہندو بھی ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔ بھارتی وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ خود اس بات کا اقرار کرچکے ہیں کہ بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کے تربیتی کیمپ موجود ہیں جہاں مسلمانوں پر حملوں کے لئے ہندووں کو بم دھماکوں اور دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے۔ بھارت اس طرح کا جھوٹا پروپیگنڈہ اور بے بنیاد الزام تراشی کرکے اپنا دہشت گردی والا مذموم چہرہ چھپانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔
ممبئی حملوں کے حوالے سے بھارت جانے والے تحقیقاتی کمیشن نے بھی پاکستان واپسی پر واضح طور پر یہ بات کہی ہے کہ انڈیا کے الزامات میں سرے سے کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس، مالیگاو¿ں اور مکہ مسجد دھماکوں سمیت دہشت گردی کی تمام وارداتوں میں خود ہندو انتہا پسند تنظیمیں ملوث رہی ہیں۔ یہ سب باتیں حقائق منظر عام پر آنے کے بعد انڈیا کس منہ سے پاکستان کے خلاف الزام تراشی کرتا ہے۔ستیش ورما کے انکشاف سے بھارت سے یکطرفہ دوستی کی پینگیں بڑھانے اور پاکستانی دریاو¿ں پر ڈیموں کی تعمیر پر خاموشی اختیار کر کے اپنی ہی دریاو¿ں سے پیدا کردہ بجلی خریدنے کی کوششیں کرنے والوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔بھارت چانکیائی سیاست پر عمل پیرا ہے۔وہ دنیا کو دکھانے کیلئے پاکستان سے دوستی کا ڈھونگ رچا رہا ہے لیکن دوسری طرف انڈیا میں سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے۔مسلم بستیوں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل اور مساجدومدارس کو شہید کیا جارہا ہے۔ بھارتی حکومت نے پارلیمنٹ اور ممبئی حملوں کے سلسلہ میں پاکستان کے خلاف پوری دنیا میں بے پناہ پروپیگنڈہ کیا اور پاکستانی حکمرانوں پر دباو¿ ڈال کر مذہبی رہنماو¿ں کو جیلوں میں قید کروا دیا جو ابھی تک سزائیں بھگت رہے ہیں لیکن اب ساری باتیں کھل کر دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔ایک بار پھر یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ بھارت خود اپنے ملک میں تخریب کاری اور دہشت گردی کرواتا ہے اور پھر پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ شروع کر دیا جاتاہے۔ حکمرانوں کو کسی قسم کے دباو¿کا شکار ہونے کی بجائے ملکی خودمختاری کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دینی چاہئی۔

بھارتی توسیع پسندی و حالیہ پیش رفت !

asghar-ali

آٹھ اور نو دسمبر کو اسلام آباد میں ہارٹ آف ایشیا ءکانفرنس منعقد ہوئی جس کا افتتاح وزیر اعظم نواز شریف اور افغانستان صدر ” اشرف غنی “ نے کیا ۔ اس کانفرنس میں چودہ ممالک کے وزرائے خارجہ اور یو این سمیت تیرہ سے زائد عالمی اداروں کے نمائندوں نے حصہ لیا ۔ اس کانفرنس میں افغانستان میں امن و سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے حوالے سے خاصی پیش رفت ہوئی البتہ ”ہارٹ آف ایشیا ءاستنبول پراسس“ کی اس پانچویں اجلاس میں جو سب سے قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی وہ پاک بھارت تعلقات میں آئی نسبتاً بہتری ہے ۔
بھارتی وزیر خارجہ ” سشما سوراج “ نے وزیر اعظم پاکستان اور خارجہ امور کے مشیر سے ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین جامع مذاکرات کا سلسلہ نئے سرے سے شروع کیا جائے گا البتہ اس بار اس کا نام ” کمپری ہینسو بائی لیٹرل ڈئیلاگ “ ہو گا ۔
یاد رہے کہ چھ جنوری 2004 ءکو واجپائی اور مشرف کے مابین اسلام آباد میں سارک سمٹ کی سائیڈ لائن پر ہونے والی بات چیت کے بعد ” کمپوزٹ ڈائیلاگ “ کے عنوان سے بات چیت شروع کی گئی تھی جو ممبئی چھبیس نومبر 2008 ءکو ممبئی میں ہونے والے شدت پسندی کے واقعات کے بعد ختم ہو گئی تھی ۔ اس کے بعد 2012 ءمیں ” ریسیومڈ ڈائیلاگ “ کے نام سے یہ بات چیت شروع کی گئی جو مودی حکومت میں ختم ہو گئی ۔ موجودہ پیش رفت اور ڈائیلاگ کے نام کی تبدیلی پر اگرچہ اکثر حلقوں کی جانب سے تحفظات بھی سامنے آئے ہیں مگر مجموعی طور پر اس کا خیر مقدم ہی کیا گیا ہے ۔
ایسے میں انسان دوست حلقوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ بھارتی حکمران اپنی دیرینہ منفی روش کو ترک کر کے اس بار تعمیری سوچ کا مظاہرہ کریں گے۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ بھارت کی پوری تاریخ اس امر کی مظہر ہے کہ اس نے اپنے ہمسایہ ملکوں کے خلاف توسیع پسندی پرمبنی پالیسیوں کو ہی اپنی بنیادی حکمتِ عملی بنا رکھا ہے ۔ تبھی تو دہلی سرکار نے سری لنکا میں خانہ جنگی کی ایسی آگ بھڑکائی جو تقریباً 30 برس تک جاری رہی اور جس میں تقریباً ایک لاکھ بے گناہ افراد ہلاک ہوئے۔
اس کے ساتھ بھوٹان ، نیپال ، بنگلہ دیش اور مالدیپ مختلف اوقات میں بھارتی ریشہ دوانیوں کا شکا ر ہوتے رہے ۔ چین کے علاقے©” جنوبی تبت“ کو تاحال بھارت نے ارونا چل پردیش کا نام دے کر اس کے او پر اپنا نا جائز تسلط جما رکھا ہے ۔ مشرقی پاکستان قو ت کے زور پر الگ کیا گیا ۔ اس کے علاوہ تقسیم ہند کے بنیادی فارمولے کو نظر انداز کرتے ہوئے جونا گڑھ ، مناور ، دکن حیدر آباد اور مقبوضہ کشمیر بھارتی حکمرانوں نے ہڑپ کر رکھے ہیں ۔ تبھی تو جون 2014 ئمیں تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ” چندر شیکھر ریڈی “ کی صاحبزادی اور لوک سبھا کی نو منتخب خاتون رکن ” کے کویتا“ نے کہا تھا کہ بھارت نے کشمیر پر قوت کے زور پر قبضہ کر رکھا ہے لہذا بھارت کی بین االاقوامی جغرافیائی سرحدوں کا نئے سرے سے تعین ہونا چاہیے ۔ علاوہ ازیں گذشتہ 8برس سے بھارت دنیا بھر میں اسلحہ خریداری کرنے والے ملکوں میں سر فہرست ہے ۔
اس صوتحال کے ممکنہ محرکات کا تجزیہ کرتے ماہرین نے کہا کہ 31 جولائی 2014ءکو ریٹائر ہوتے وقت بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے پاکستان کے خلاف انتہائی نا زیبا زبان استعمال کی اور اس کے اگلے ہی روز نئے بھارتی فوجی سربراہ ” جنرل سوہاگ “ نے بھی منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں پاکستان کی بابت شدید دھمکی آمیز لب و لہجہ اختیار کیا۔ پھر 12 اگست کو مودی نے لداخ میں بھارتی فوجیوں سے خطاب کے دوران کہا کہ پاک فوج روایتی جنگ لڑنے کی صلاحیت سے عاری ہو چکی ہے “ظاہر ہے ایسی اشتعال انگیز زبان کا تصور بھی کسی مہذب ملک کے سربراہ سے نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کے بعد 28 ستمبر کو مودی نے نیویارک میں اسرائیلی وزیر اعظم ” نیتن یاہو “ سے ملاقات کی ۔ باخبر ذرائع کے مطابق نیتن یاہو نے بھارتی وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ پاکستان کے خلاف ”اسرائیلی ماڈل“ اختیار کیا جائے ۔ علاوہ ازیں انڈیا کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ” اجیت ڈووال “ نے کئی بار کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف” جارحانہ دفاع“ کی پالیسی پر عمل کرے گا ۔ موصوف نے اس ضمن میں ”Offensive Defense “ کے الفاظ استعمال کیے ۔
گذشتہ کچھ عرصے کے حالات و اقعات پر نگاہ ڈالیں تو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے اجیت ڈووال کی جارحیت پر مبنی پالیسی پر باقاعدہ عمل شروع کر رکھا ہے جس کا اعتراف خود بعض بھارتی حلقے بھی کر رہے ہیں تبھی تو انڈین ایکسپریس کے سابق چیف ایڈیٹر ”شیکھر گپتا “ نے اپنی تحریر ” National Intrest : Disarming Kashmir “ میں کہا ہے کہ ” یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ گذشتہ ایک عشرے میں انڈین آرمی کے پاس خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کے حوالے سے ویٹو کا اختیار آ چکا ہے ۔ اسی وجہ سے نہ صرف کشمیر میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ رہی بلکہ سیاچن کا مسئلہ بھی حل نہیں ہو سکا ۔“یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ دوسری جانب وطنِ عزیز کی بعض شخصیات نے افواجِ پاکستان کو بدنام کرنے کا گویا بیڑا اٹھا رکھا ہے ۔
بہرکیف امید کی جانی چاہیے کہ امریکہ سمیت عالمی برادری اور خود پاکستانی میڈیا بھی اس ضمن میں تعمیری روش اپنائے گا تا کہ علاقائی اور عالمی امن کو تقویت مل سکے ۔

Google Analytics Alternative