کالم

زلزلہ زدگان کی امداد

پاکستان میں سیلاب‘ زلزلوں اور فوجی آپریشنوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوکر مسائل و مشکلات کا شکار ہوئے مگر الحمداللہ کسی ایک موقع پر متاثرہ افراد کی جانب سے پاکستان کیلئے منفی جذبات کا اظہار دیکھنے میں نہیں آیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس میں ڈاکٹر آصف جاہ کے کردار کا بھی حصہ ہے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ کبھی نہیں ہوا ملک کے کسی بھی حصے میں ناگہانی صورتحال نے جنم لیا ہو اور ڈاکٹر آصف جاہ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ پہنچنے میں پہل نہ کی ہو۔ ان کی جانب سے متاثرین کی فوری خبرگیری کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ متاثرین کے کیمپ پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجنے لگتے ہیں۔ اسی طرح دیکھا جائے تو ڈاکٹر آصف جاہ کی جانب سے مصیبت زدہ بھائیوں کی امداد کیلئے تگ و دو میرے نزدیک ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا مشن بھی ہے۔
راقم الحروف سے ایک انٹرویو کے دوران ڈاکٹر آصف جاہ نے حال ہی میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں چترال اور دیگر علاقہ جات میں ریلیف کاموں کے متعلق معلومات دیں، جو پیش خدمت ہیں۔ ڈاکٹر آصف جاہ کہتے ہیں کہ شمالی علاقہ جات کی سخت سردی میں 26 اکتوبر 2015ء کے زلزلہ زدگان کا تصور کر کے دل پریشان ہو رہا ہے کہ وہ کھلے آسمان تلے کس حال میں ہونگے۔ شانگلہ اور چترال کے زلزلہ زدگان کی دوبارہ خبر گیری کے لیے لاہور سے نکلے ۔ الحمدللہ! 26 اکتوبر 2015ء سے آج تک چترال اور شانگلہ کے زلزلہ زدگان کی مسلسل خدمت جاری ہے۔ وسائل بھی مہیا ہو رہے ہیں اور اشیاء بھی۔ میڈیکل کیمپ بھی لگ رہے ہیں اور ریلیف اشیاء بھی تقسیم ہو رہی ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ چترال میں زلزلہ زدگان کے گھروں کی تعمیر بھی شروع کر دی گئی ہے۔
امدادی رقوم و سامان کی تفصیل بتاتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ کراچی سے شیخ غلام احمد نے رقم بھجوائی۔ ملک میں ٹینٹ بنانے والے بڑے ادارے کے سربراہ فرحان سرور نے اپنے نوجوان آفیسر ساجد محمود کے ذریعے شانگلہ اور چترال کے زلزلہ زدگان کے لیے اعلیٰ اور دیدہ زیب خیمے ترپالیں مہیا کیں۔ خدمت اور ایثار کے لیے ہر دم تیار اعجاز سِکا نے پانچ سو رضائیاں تیار کروا کے بھیجیں اور کیش دیا۔ عمر رسید کرنل ظفر اور اُن کی اہلیہ کلینک آئے اور کیش کے علاوہ کپڑوں کا عطیہ دیا۔ ڈاکٹر نہدیٰ اشرف کے ماموں چوہدری امین کا بھی عطیہ پہنچ گیا۔ راشن اور ادویات کا بھی انتظام ہو گیا۔ سجاد شاہ، اقبال، فائزہ نے بچوں اور بڑوں کے لیے جیکٹس خریدیں۔ علی عمر اور حافظ اشعر نے ساہیوال سے بچوں کے لیے جرسیاں، سویٹرز اور ٹوپیاں بھیجوائیں۔ سجاد شاہ نے بچوں کے لیے گفٹ پیکس تیار کروائے۔ ہسپتال میں ساری رات رونق رہی۔ سب سے پہلے خیموں اور ترپالوں سے لدا پھدا ٹرک چترال روانہ کیا۔ مینگورہ سے صبح سویرے شانگلہ پہنچے۔ الپوری سے ہوتے ہوئے ڈھیری پہنچے جہاں ہمارے کارکنان شانگلہ کے علاقہ ڈھیری میں عبدالرؤف، توفیق اور سہیل خان پہلے سے سامان کے ساتھ گاڑیوں سے اترتے ہی فوراً کیمپ کا آغاز کر دیا۔ ڈاکٹر قدرت اللہ نیازی ڈھیری میں یونیسف کے طرف سے بنے نئے مرکز میں بیٹھ گئے۔
موبائل کلینک سج گیا۔ اسلم مروت، عبدالرؤف اور اشفاق مقامی ساتھیوں سے مل کر ریلیف اشیاء کی تقسیم میں لگ گئے۔ مریضوں کی آمد شروع ہو گئی۔ بچے، بوڑھے، جوان، عورتیں، لڑکیاں سب جمع ہو گئے۔ سخت سردی میں مریضوں کا تانتا بندھ گیا۔ مریضوں کا چیک اَپ دوپہر تک جاری رہا۔ ہم اپنے علاج اور خدمت کے کام میں مگن رہے۔ 350 مریضوں کا چیک اَپ اور علاج ہوا۔ میڈیکل کیمپ میں بچے، بوڑھے، عورتیں لڑکے، لڑکیاں سب چیک اَپ اور علاج کے لیے آئے۔ پٹھان عورتیں آج بھی مرد ڈاکٹر کے پاس جانے سے پرہیز کرتی ہیں۔ یہاں کی خواتین میں زیادہ تر خون کی کمی کی وجہ سے جسم میں کمزوری اور دردوں کی شکایت تھی۔ لڑکیوں کی بہت جلد شادی کر دی جاتی ہے۔ پھر پے در پے بچے پیدا ہونے کی وجہ سے 25 سال کی لڑکی 40 سال کی بوڑھی خاتون لگتی ہے۔ مگر یہاں کی عورت بڑی سخت جان ہے۔ صبح سے رات گئے تک گھر میں کام کرے گی مگر مجال ہے حرفِ شکایت زبان پر لائے۔
زلزلہ زدگان کا احوال ڈاکٹر صاحب نے یوں بتایا کہ اسلم مروت، اشفاق اور عبدالرؤف زلزلہ زدگان کی لسٹیں بنانے میں محو ہو گئے تاکہ بلقیس سرور فاؤنڈیشن کی طرف سے عطیہ کیے گئے خوبصورت دیرپا اور دیدہ زیب ٹینٹ اور ترپالیں ایسے متاثرین کو دئیے جائیں۔ جن کے گھر زلزلہ میں تباہ ہوئے ہیں اور وہ اسی سخت سردی میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ ریلیف کی تقسیم میں ابھی خاصا وقت صرف ہونا تھا۔ ریلیف ٹیم کو چھوڑ کر آگے بڑھے۔ 5 کلو میٹر کے فاصلے پر چکٹ گاؤں میں کیمپ کا آغاز کر دیا۔ شروع میں مریض کم تھے مگر آہستہ آہستہ مریضوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی۔
چکٹ میں 100 مریضوں کا چیک اَپ اور علاج کر کے جلدی فارغ ہوگئے تو آگے کا قصد کیا۔ کہروڑہ بازار آ کر گاڑیاں خود بخود رُک گئیں۔ موبائل ہسپتال اور ہماری گاڑی کو دیکھ کر اور پہچان کر ایک دم لوگ جمع ہوگئے۔ کئی لوگ محبت سے آگے بڑھ کر ملے۔ شناسا چہرے بھی نظر آئے ایک مہینہ پہلے زلزلے کے فوراً بعد اِدھر آنا ہوا تھا۔ یہاں آ کر زلزلہ زدگان کی خدمت کی تھی۔ مزید مریض آئے۔ زرولی سپیشل بچہ بھی اپنے والد کے ساتھ آگیا۔ پچھلی دفعہ بھی اس بچے کو خصوصی طور پر دیکھا تھا۔ خدمت کی تھی۔ بچے نے خوش ہو کر ہاتھ اُٹھا کر دعا دی تھی۔ زرولی کو دیکھا چیک کیا۔ دوا دی تو اس نے پھر دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا لیے۔ بابا گل جان کے گھٹنوں میں درد تھی۔ گرم پٹی باندھی تو مسجد میں سب لوگ پوچھنے لگ گئے۔ کہروڑہ میں 250 مریضوں کا علاج کر کے آگے بڑھے۔ کیمپ کے دوران خائستہ گل نے اپنی غریبی کا رونا رویا۔ اپنی داستان غم سنائی۔ اس کا چپک اَپ کیا۔ علاج کیا۔ خدمت کی تو دُعا دیتا رخصت ہوا۔ پتاؤ کی طالب علم علیمہ خان اپنے بھائی کے ساتھ آگئی میرے گاؤں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ لوگ بے گھر ہیں۔ ان کی مدد کریں۔ اُن کو خیمے دیں۔ بیمار ہیں ان کا علاج کریں اس کا اپنے لوگوں کے لیے جذبہ ہمدردی دیکھ کر اس کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ ڈھیری میں اسلم مروت اینڈ کمپنی ریلیف اشیاء تقسیم کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ پچھلے ہفتے بھی کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیم شانگلہ آئی تھی اور شانگلہ کے سب سے زیادہ متاثرہ گاؤں پیجوبانڈہ کے متاثرین میں گرم کپڑے، رضائیاں نئے کپڑے اور بچوں میں گفٹ تقسیم کیے تھے۔ اخوت کلاتھ بنک اور کارکنان ختم نبوت کی طرف سے آئے ہوئے کپڑے اور راشن کے پیکٹس پیجو بانڈہ کے متاثرین میں بٹے تو ان کے چہروں پر رونق آگئی اور وہ خوش ہو کر دعائیں دینے لگے۔ اسلم مروت، عبدالرؤف اور پرویز نے اکیلے شانگلہ تک سفر کر کے متاثرین تک ریلیف اشیاء پہنچائیں۔
ریلیف کیمپ کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر آصف جاہ نے بتایا کہ شانگلہ ریسٹ ہاؤس کے نیچے جہاں آس پاس چند گھر آباد تھے، کیمپ کا آغاز کر دیا۔ شروع میں کیمپ میں زیادہ رش نہ تھا لیکن جونہی آس پاس کے لوگوں کو پتہ چلا کہ میڈیکل کیمپ لگا ہوا ہے۔ لاہور سے آئے ہوئے ڈاکٹر مریضوں کا مفت چیک اَپ کر کے ادویات دے رہے ہیں تو اوپر پہاڑوں سے بھی لوگ نیچے آنا شروع ہو گئے۔ راہ چلتے مسافر بھی آگئے۔ دو گھنٹے تک سخت سردی لیکن سہانے موسم میں کیمپ چلتا رہا۔ سورج نکلنے کے ساتھ ہی سردی کی شدت میں کمی آگئی۔ موبائل کلینک میں بھی دھوپ آگئی۔ جو بہت بھلی لگ رہی تھی۔ اس کیمپ میں زیادہ تر بچے کھانسی، بخار، پیٹ خراب، ڈائریا، جسم پہ دانے وغیرہ کی تکالیف کے ساتھ آئے۔ عورتیں بھی آئیں جن کو زیادہ تر سانس اُکھڑنے اور جسم میں دردوں اور معدہ خراب کی علامات تھیں۔
شانگلہ کے ساتھ چترال کے زلزلہ زدہ علاقوں میں بھی خدمت اور علاج کا سلسلہ جاری ہے۔ زلزلہ کے پہلے دن سے لے کر آج تک چترال کے تمام زلزلہ زدہ علاقوں میں کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے کارکنان گاؤں گاؤں نگر نگر پھر کر زلزلہ زدگان تک راشن اور دوسری ریلیف اشیاء پہنچاتے رہے اور تباہ شدہ گھروں میں پہنچ کر انہیں پُرسہ دیتے رہے۔ زلزلہ کے دوسرے دن کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیمیں چترال کے دور دراز علاقوں اور تباہ شدہ بستیوں میں ریلیف اشیاء اور راشن پہنچایا۔ گرم کپڑے اور رضائیاں پہنچائیں اور سب سے پہلے چترال میں اپنا گھر ہاؤسنگ پراجیکٹ شروع کیا۔ جس کے تحت زلزلہ زدگان کے تباہ شدہ گھروں کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے۔ چترال کے تباہ شدہ گاؤں ہُون کے نذیر نے گورنمنٹ سے ملی رقم اور کچھ اُدھار لے کر اپنے گھر کی دیواریں کھڑی کر لی تھیں۔ چترال میں رضائیوں کے لیے بلقیس سرور فاؤنڈیشن کی طرف سے عطیہ کیے گئے خوبصورت خیموں اور ترپالوں کی تقسیم بھی جا رہی ہے۔
پورن شہر میں ہمارا علاج اور خدمت کا سلسلہ دوپہر تک چلتا رہا۔ یہاں بھی ہر طرح کے مریض آئے۔ اپنا حالِ دل و جسم سنا کر اور دکھا کر دوائی لیتے۔ خیبرپختونخواہ کے مختلف شہروں میں کام کرتے ہوئے تو اب لگتا ہے کہ صدیاں بیت گئیں ہیں۔ شانگلہ سے خوازہ خیلہ، مینگورہ، بری کوٹ، بٹ خیلہ، مالاکنڈ ٹاپ، درگئی، مردان سے ہوئے ہوئے اگلے دن صبح سویرے واپس لاہور پہنچے اور اللہ کا شکر ادا کیا جس نے اتنی سخت سردی میں سینکڑوں میل سفر کر کے آفت زدوں کی مدد کرنے کی توفیق دی۔

حضور اکرم ﷺ بحیثیت قانون ساز

آپ جانتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے قانون کی تعلیم لنکن ان (Lincoln’s Inn)سے حاصل کی۔ایک مرتبہ انھوں نے بتایا کہ میں نے لنکن ان (Lincoln’s Inn)میں داخلہ اس لیے لیا تھا کیونکہ وہاں دنیا کے عظیم قانون دانوں کی فہرست میں نبی کریم ﷺ کانام سب سے اوپر لکھا ہے۔اللہ رب العزت قرآن مجید فرقان حمید سورت النجم میں فرماتے ہیں کہ “یہ رسول ﷺ اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وہی پیش کرتا ہے جو اس کو وحی ہوتی ہے۔”رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ کہا اور کیا، وہ خالصتاً اللہ رب العزت کی طرف سے ہی تھا۔اس لئے اس کی اطاعت قیامت تک سب پرفرض ہے۔انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین میں انسانی کمزوری عاری آجاتی ہے لیکن رسول اللہ کی قانون سازی کی بنیاد وحی اور الہام پررکھی گئی ہے اس لئے اس کو استحکام اور دوام حاصل ہے۔ انسانی تجربات اورخیالات میں خامی پائی جاسکتی ہے لیکن رسول اللہ ﷺ کے بنائے ہوئے قوانین ہر نقص اور خامی سے مبرا ہیں۔رسول اللہ ﷺ کی قانون سازی میں انسانی فطرت اور طبعی حدود کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہے۔اس میں نہ بے جا سختی اور نہ زیادہ نرمی رکھی گئی ہے۔اس میں توازن اور اعتدال ہے۔اللہ رب العزت سورۃ البقرہ میں فرماتے ہیں کہ”اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے ، تنگی اور دشواری نہیں چاہتا ہے۔اسی طرح اللہ رب العزت سورۃ المائدہ میں فرماتے ہیں کہ”اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا ہے کہ تمہیں کسی دشواری میں مبتلا کرے بلکہ اس کا اصل مقصد تمہیں پاک و صاف کرنا ہے۔”اللہ تعالی سورۃ البقرہ میں فرماتے ہیں کہ “اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔” آقاﷺ کارشاد مبارک ہے کہ” دین آسان ہے لیکن جو شخص دین میں مبالغہ کرتا ہے اس پر وہ غالب آجاتا ہے۔(بخاری شریف)۔ایک اور حدیث مبارکہ ہے کہ ” لوگوں کیلئے آسانی پیدا کرنا، انہیں مشکل میں نہ ڈالنا، انہیں رغبیت دلانا، نفرت نہ دلانا، موافقت کو ابھارنا، اختلاف نہ ڈالنا۔ ” (مسلم، بخاری)آقاﷺ کے بنائے ہوئے قوانین متعدد ممالک میں رائج رہے ہیں، ان ممالک کے آب و ہوا، معاشرتی اور تہذیبی فرق ہونے کے باجود کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں ہوا جس سے ان کو اس قانون میں ترمیم کی ضرورت محسوس ہوئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ کے بنائے ہوئے قوانین میں برابری اور مساوات ہے۔کالا اور سفید، امیر اور غریب اور عربی اور عجمی سب برابر ہیں۔ اسلام میں ذلت اور حقارت کی قطعی کوئی گنجائش ہی موجود نہیں ہے۔انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کو اس وقت قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے جب اس کو کوئی اسمبلی ، سینٹ یا عدالت یاکوئی حاکم ، صدر یا بادشاہ منظوری دے تب اس کو قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے جبکہ حضور اکرم ﷺ کے بنائے ہوئے قوانین کو تسلیم کرنے کیلئے کسی کے محتاج نہیں ہیں۔انہیں ہر حال میں قانون کی حیثیت حاصل ہے۔رسول اللہ ﷺ کے بنائے ہوئے قوانین سب مسلمان کے لئے قابل احترام ہیں ۔ان قوانین کے نفاذ سے معاشرے میں امن و سکون کی فضاپیدا ہوتی ہے۔ ظلم اور زیادتی سے روکتا ہے۔ان قوانین سے انسانوں کی بہترین تربیت ہوجاتی ہے۔ جس سے جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کی نشوونما ہوتی ہے۔رسول اللہ ﷺ کے بنائے قوانین ایک فرقے، ایک قوم ، ایک نسل، یاایک خطے کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے ہیں۔آقا ﷺ کے بنائے ہوئے فوجداری قوانین بھی بے نظیر ہیں ۔ان میں چند یہ ہیں ۔*ایک بے قصور کو سزا دینے کی نسبت نو(9)مجرموں کو بری کردینا بہتر ہے۔*قصاص اور دیت میں سب مسلمان برابر ہیں۔*جوشخص اللہ تعالیٰ کی مقررہ کردہ سزاؤں میں نرمی برتنے کی سفارش کرتا ہے وہ گویا اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے۔*اگر کسی حاملہ خاتون کو مار ڈالاجائے تو اس رحم میں مرنے والے بچے کا بھی قصاص لیا جائے گا۔* کوئی قاتل اپنے مقتول کا وارث نہیں بن سکتا۔* کافر مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا ہے اور نہ مسلمان کسی کافر کا وارث بن سکتا ہے۔*کسی وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں ۔*بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک وہ اس کی اجازت نہ دے اور کنواری کا نکاح اس وقت کا نہ کیا جائے جب تک اس کی رضا مندی نہ لے لی جائے۔آقا ﷺ نے خرید و فروخت کے بارے میں بھی واضح قوانین بنائے ہیں۔*آپﷺ نے خرید و فروخت میں نقصان اور دھوکے سے بچنے کیلئے پکنے سے پہلے پھلوں کی فروخت کو ممنوع قرار دیا ہے۔*اگر کوئی شخص اپنا مکان یا زمین فروخت کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اپنے پڑوسی کا حق ہے کہ وہ یہ مکان یا زمین لے۔اس قانون کا مقصد یہ ہے کہ کوئی ناپسندیدہ شخص ایسی جگہ نہ لے جس سے پڑوسیوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔*حضورﷺ نے فرمایا کہ فروخت کی جانے والی چیز فروخت کے وقت موجود ہونی چاہیے تاکہ خریدار اس کو دیکھ سکے۔* معاہدے میں کوئی ایسی شق نہ ہو جس سے ایک فریق کے لئے فائدہ ہو اور دوسرے کیلئے سراسرنقصان ہو۔قارئین کرام! حضور اکرم ﷺ کے بنائے ہوئے قوانین قیامت تک ہر انسان ، ہر نسل ،ہر قوم ، ہر ملک اور ہر خطے بلکہ پوری دنیا کے لئے ہیں۔ان قوانین پر عمل کرنے سے انسان فلاح اور کامیابی حاصل کرتا ہے۔اس لئے بحیثیت مسلمان ہم سب کو چاہیے کہ حضوراکرم ﷺ کے بنائے ہوئے قوانین پر من وعن عمل کریں اسی میں ہماری کامیابی ہے۔

کیا ادب زوال پذیر ہے؟

کسی بھی زندہ قوم کی پہچان اس کی تہذیب، زبان،ادب اورفلسفے سے ہوتی ہے اہلِ علم کا خیال ہے کہ تمام ذرائع ابلاغ میں شاعری موثر ترین ذریعہ ہے اور شاعری ادب کے تمام اصناف اور تمام فنونِ لطیفہ میں لطیف ترین صنف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ’’ادب‘‘ تہذیب کا چہرہ ہوتاہے اور شاعری چہرے کا حسن اور نزاکت ہوتی ہے ۔ چہرہ اور خاص کر چہرے کے حسن اور اس کی لطافت ونزاکت کے بغیر دنیا کی کسی بھی خوبصورت شے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ شاعر کے دل سے نکلی ہوئی بات قاری یا سامع کے دل تک براہ راست پہنچتی ہے اوردیر تک اپنا اثرقائم رکھتی ہے۔ شاعری سے تخریبی اور تعمیری دونوں کام لیے جا سکتے ہیں اس لیئے باشعور قومیں علم وادب کی سرپرستی کرتی ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کیوں نہ اس سے تعمیری کام لیا جائے اس لئے وہ شاعری میں کمال حاصل کرتے ہیں اور اس سے تعمیری کاموں کو انجام دینے کی ترغیب دلاتے ہیں اس لیئے جہاں بھی سماجی تبدیلی واقعہ ہوتی ہے اور یا انقلاب برپا ہوا ہے اس میں شعراٗ کا کردار کلیدی رہا ہے۔کہتے ہیں جو قومیں ماضی سے کٹ جاتی ہیں ان کا جغرافیہ مٹ جاتا ہے وہ تمام قومیں صفحہء ہستی سے مٹ جاتی ہیں جو اپنی تہذیب اور اپنے ادب کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ وہ قومیں آج بھی زندہ ہیں اور اپنے وجود کا احساس ساری دنیا کو دلاتی رہتی ہے۔جنہوں نے اپنی تہذیب اور اپنے ادب کو مٹنے نہیں دیا۔لہٰذا ادب اور شاعری قوموں کو زندہ و تابندہ رکھنے کے وسیلے ہیں اور بیان کا سب سے بہتر ین ذریعے ہیں۔
زمانہ گواہ ہے کہ مشاعرے اور ادبی و شعری محفلیں جہاں عوامی تفریح کے ذرائع تھیں وہیں تہذیب سیکھنے ،ذہنی سکون حاصل کرنے اور تصوف کی پہلے زینہ سے آخری زینہ تک کا سفر طے کرنے کے لئے شاعری کی مدد لی جاتی تھی کیونکہ جذبات و خیالات کے اظہار کے لئے اس سے بہتر اور موثر ذریعہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔شاعری کا جادو خانقاہوں سے شرفاء کی محفلوں تک اور گلی کوچوں سے طوائفوں کے کوٹھوں تک سر چڑھ کر بولتا تھا۔میر، غالب ، حالی، حسرت، اور اقبال جیسی عظیم شخصیات نے شاعری کے ذریعہ معاشرے کی اصلاح کی بات کی اور شعر ونظم لکھ کر معاشرے کی اصلاح کی تحریکات چلائیں۔ شاعری کی زبان میں اپنے جذبات و خیالات کا اظہار کیاہے۔ فارسی اور اردو کے بیشتر شعرانے صوفیوں کے نظریہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے مشکل ترین مسائل کو شاعری کی زبان میں آسان اور موثرطریقہ سے پیش کیا ہے مگر آ ج پوری دنیا کا نقشہ تبدیل ہو چکا ہے ایک ملک کی تہذیب دوسرے ملک کی تہذیب پر اثر انداز ہو رہی ہے اورنوجوان طبقہ مشاعروں اور دیگر علمی و ادبی محفلوں سے محظوظ ہونے کے بجائے دیگر خرافات کے کلچر سے محظوظ ہو رہے ہیں اورذہنی و قلبی سکون ختم ہو رہا ہے۔
ایسی صورتِ حال میں نوجوان نسل کو روحانیت اور تصوف کے راستے پر گامزن کر نے کی ضرورت ہے اور ان راستوں پر چلنے کے لئے جس راہبر کی ضرورت ہے وہ صرف صرف علم وادب ہے۔شاعری ہمیں عشق مجازی کے راستے عشق حقیقی کی منزل تک پہنچاتی ہے جہاں پہنچ کر انسان دنیا کے تمام غموں اور الجھنوں سے نجات پا لیتا ہے۔کیوں کہ اس مقام پر صرف خوشیاں ہی خوشیاں ہیں ۔اس بنا پر شاعری محض تفریح ہی نہیں بلکہ یہ ہمیں اعلیٰ اقدار اور فکر کی طرف لے جاتی ہے۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ شاعری کو کثافتوں سے بچایا جائے اور شعر وادب کی سرکاری سطح پر سرپرستی کی جائے تاکہ ہمارے قوم کے نوجوان تفریح کے ساتھ ساتھ ہماری کھوئی ہوئی تہذیب سے روشناس ہو سکیں اور قلبی وذہنی سکون پھر سے حاصل کر سکیں کیونکہ ادب سے انسان کا رشتہ اتنا گہرا ہے کہ وہ اس سے دامن نہیں چھڑا سکتا۔ پھر یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایک صحتمند معاشرے کی تشکیل کا ضامن ایک ادیب ہی ہوتا ہے جو انسان کو خوش اخلاقی و خوش کرداری کا پیکر بنانے میں اہم رول ادا کرتا ہے اور ادب کسی کے پروفیشن میں قطعاً آڑے نہیں آتاہے ایک ادیب صرف ادیب ہوتا ہے اور کچھ نہیں، وہ اپنے آپ کو فنا کر کہ تخلیقی عمل سے گزرتا ہے اور اس میں اپنی ذندگی کھپا دیتا ہے اور پھر پکار کر کہتا ہے ؂
کر چکا جب وہ مر ا ہاتھ قلم
تب اسے میر ا ہنر یاد آیا

یونیسیف کی نیپالی بچوں کے بارے تشویش

رواں سال بچوں پر بھاری رہا۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق 2015 میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد بچے جنگی علاقوں میں پیدا ہوئے ہیں۔ بچوں کیلئے کام کرنے والی اس تنظیم کے مطابق دنیا بھر میں پیدا ہونے والے ہر آٹھ بچوں میں سے ایک بچہ ایسے علاقوں میں پیدا ہو رہا ہے جہاں حالات معمول نہیں ہیں۔اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ان میں زیادہ تر بچے پانچ سال تک زندہ بھی نہ رہ پائیں گے جبکہ جو زندہ رہ جائیں گے وہ دباؤ اور ڈپریشن جیسی بیماریوں کا شکار بن جائیں گے۔ بہت سارے بچے اپنی زندگی انتہائی سخت حالات میں شروع کرتے ہیں ۔قدرتی آفات سے متاثرہ بچوں کے بارے یونیسیف ایک کی اور رپورٹ کے مطابق رواں سال ماہ اپریل میں نیپال میں زلزلے سے دس لاکھ سے زائد بچے متا ثرہوئے تھے مگر اب ان بچوں کو ایک نئی مصیبت کا سامنا ہے ۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے یونیسیف نے بھارت کو تنبیہ کی ہے کہ نیپال میں موسم سرما کے آتے ہی ایندھن، خوراک، ادویات اور ویکسینز کی قلت سے 30 لاکھ سے زائد کم عمر بچوں کو ہلاکت یا بیماریوں کا خطرہ لاحق ہے۔نیپال کے جنوبی علاقے میں دو مہینوں سے جاری سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے صورتحال بہت خراب ہو گئی ہے۔ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ’میں نے نیپال کے اپنے حالیہ دورے میں دیکھا کہ زلزلہ متاثرین انتہائی بری حالت میں زندگی گزار رہے تھے تو اب انہیں ایک اور آفت کا سامنا ہے۔شدید سردی، ناکافی خوارک اور سردی سے بچنے کیلئے محفوظ مقام میسر نہ ہونا تشویش ناک ہے۔اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نیپال کی مہیسی اقلیت نے بھارت سے ملحقہ سرحد کو گزشتہ دو ماہ سے بند کر رکھا ہے جسکی وجہ سے خوراک اور ادویات کی کمی ہو گئی ہے ۔ نیپال میں گزشتہ دنوں دارالحکومت کھٹمنڈو میں سکول کے ہزاروں بچوں نے انسانی زنجیر بنا کر مہیسی لسانی اقلیت کے خلاف مظاہرہ بھی کیا۔ مظاہرے میں بچوں نے ’سرحدی بندش ختم کرو، تعلیم ہمارا حق ہے، ہم بھارت کے سامنے نہیں جھکیں گے‘ کے نعرے لگائے گئے۔ مہیسی اقلیت کے بارے میں نیپالی حکومت کا کہنا ہے بھارت ان کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ چونکہ نیپال میں 60 فیصد ادویات کے علاوہ تیل، خوراک اور دیگر اشیا بھی بھارت ہی سے آتی ہیں لہذا سرحد کی بندش سے غذائی قلت کا شدید خطرہ ہے۔ نیپال نے حال ہی میں نیا آئین منظور کیا تو اس پر بھارت نے ناپسندیدگی کا اظہارکیا تھا جسکے بعدبھارت سے ملحقہ جنوبی علاقوں میں احتجاج شروع ہو گیا اور انڈیا نیپال کی سرحد پر ضروریات زندگی سے لدے ٹرک پھنس گئے۔مہیسی اقلیت کی طرف سے سرحد کی ناکہ بندی کو بھارتی سازش سمجھا جا رہا ہے جسکے رد عمل میں نیپالی ٹی وی کیبل آپریٹرز نے بھی احتجاجاً 42 بھارتی چینل بند کر دیے ہیں۔ ٹی وی چینل بند کرنے کا قدم نیپال میں انڈین ٹی وی چینلز اور فلموں کیخلاف سابق ماؤسٹ پارٹی کی مہم چلانے کے بعد اٹھایا گیا۔ نیپال کیبل ٹی وی ایسوسی ایشن کے صدر نے بی بی سی نیپال کو بتایا کہ یہ بلیک آؤٹ غیر معینہ مدت کیلئے ہے۔اسی طرح دارالحکومت کھٹمنڈو کے ایک سینما گھر نے بھی بھارتی فلمیں دکھانا بند کر دی ہیں۔جہاں بھارتی پالیسیوں پر تنقید اور احتجاج ہورہے ہیں وہاں نیپالی وزیر اعظم بھی ان پر برس پڑے اور نیپال کے اندرونی معاملات میں آئندہ مداخلت نہ کرنے کی وارننگ دی ہے۔ادھر نیپالی پولیس نے بھارت کو جانیوا لے سرحدی راستے پر دھرنے پر بیٹھے مظاہرین کیخلاف کریک ڈاؤن کرکے راستے کھول دیئے تو بھارت نے الزام لگایا کہ پولیس کی فائرنگ سے سرحد پر ان کا شہری ہلاک ہوگیا ہے، مودی نے رعب ڈالنے کیلئے اپنے نیپالی ہم منصب کو فون کیا تو آگے سے توقع سے ہٹ کر نیپالی وزیر اعظم نے وارننگ دی کہ آئندہ بھارت نیپال کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔نیپال کا محاصرہ ہندوتوا کا تسلسل ہے۔ دراصل یہ بیمارذہنیت کی لمبی کہانی ہے۔تقسیم ہند کے وقت جب برطانیہ برصغیرنکلا تو دو ممالک پاکستان اور بھارت نے جنم لیا، کئی دیگرریاستیں بھی وجود میں آئیں۔ شاطر انگریز سامراج نے بعض ایسے تنازعات بھی ادھورے چھوڑ ے کہ جن کا بھارت نے فائدہ اُٹھاتے ہوئے قبضہ جمالیا۔ پاکستان اور چین کے متعددعلاقے جن میں اسکائی چن، ارونا چل پردیش، جموں اینڈ کشمیر، سیاچن گلیشئر، سالتارو، سرکریک شامل ہیں پر بھارت نے قبضہ جما رکھا ہے۔ صرف یہی نہیں مالدیپ، سری لنکا، برما، نیپال اور بنگلہ دیش کے ساتھ بھی تنازعات چل رہے ہیں، جن میں کالا پانی، نیپالی پٹی، منی کوئے، کچا چٹھایو، جنوبی تل پتی جزیرہ، بنگالی انکلیو اور دیگر شامل ہیں۔ان متنازعہ علاقوں کی وجہ سے بھارت پاکستان ، چین اور سری لنکا کے ساتھ جنگیں بھی کرچکا ہے۔مالدیپ بھی اپنے پڑوسی بھارت کی مداخلت کا شکار ہے، مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین نے بھارت سے نہ صرف اس کی شکایت کی ہے بلکہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے پرسخت انتباہ بھی کرچکے ہیں۔ پڑوسی ملکوں میں مداخلت اور وہاں تنازعات کو ہوا دینا بھارت کا شیوہ رہا ہے ۔

بسمہ اور عوام

ننھی بسمہ چلی گئی۔ مگر سوچ رہا ہوں کہ روزمحشر وہ کس کا گریبان پکڑے گی؟ ان مقدس لوگوں کا، جن کے پروٹوکول کی بھینٹ وہ ننھی جان چڑھ گئی یا ایک عدد نوکری اور چند ٹکوں کے عوض اپنا خون بیچ دینے والے اپنے باپ کا؟؟حیران ہوں کہ بیٹی کا لاشہ بانہوں میں اٹھائے جو باپ زاروقطار رو رہا تھا اور بلاول بھٹو زرداری اور سندھ کے سائیں کو کوسنے دے رہا تھا اور اپنی بچی کی موت کا ذمہ دار ٹھہرا رہا تھا چند ہی گھنٹوں بعد سائیں سے ملاقات کے بعد کس طرح مطمئن ہو گیا؟کیا روپوں کے عوض کچھ بھی خریدا جا سکتا ہے؟ کچھ بھی۔۔۔؟؟پنجابی میں محاورتاً کہتے ہیں کہ فلاں نے تو فلاں کی قبر کی مٹی بھی خشک نہیں ہونے دی اور یہ کر دیا مگر یہاں تو اس محاورے کی عملی تفسیر ہمارے سامنے آ گئی ہے۔ ابھی بیٹی قبر میں پہنچی ہی تھی کہ باپ ایک نوکری لے کر ’’گواہیاں‘‘ دینے لگ گیا کہ بلاول بھٹو زرداری نہیں، قائم علی شاہ نہیں ، کوئی بھی اس کی بیٹی کی موت کا ذمہ دار نہیں، بس اللہ کی یہی مرضی تھی، اس کے ’’نصیب‘‘ میں ہی مرنا لکھا تھا، اس کی زندگی ہی اتنی تھی۔۔۔!!
ہم بھی کیا لوگ ہیں کہ اپنے کرتوتوں کا موردِ الزام خدا کو ٹھہرانے سے بھی باز نہیں آتے۔ کوئی موٹرسائیکل پر ون ویلنگ کرتا ہوا حادثے کا شکار ہو اور مر جائے تو بس خدا کی یہی مرضی تھی۔ کوئی خودکشی کر لے تو بس خدا کی یہی مرضی تھی۔ کوئی کسی کا گلہ کاٹ کر مار ڈالے تو بس خدا کی یہی مرضی تھی۔ کوئی اس ملک کے مقدس لوگوں کے پروٹوکول کی بلی چڑھ جائے تو بھی بس خدا کی یہی مرضی تھی۔ آج تک کوئی عالمِ دین میرے اس سوال کا جواب نہیں دے پایاکہ ’’اگر دنیا میں سب کچھ خدا کی طرف سے ہم پر مسلط کیا گیا ہے اور ہم جو کچھ کرتے پھر رہے ہیں خدا کی مرضی سے ہے تو پھر قیامت کے روز خداہمیں ان کاموں کی سزا کیونکر دے سکتا ہے؟‘‘ جانتا ہوں میں بھی، کہ سب تقدیر میں لکھا ہوتا ہے مگر خدا وہ تقدیر اپنے علم کی بنیاد پر لکھتا ہے، وہ عالم الغیب ہے، وہ جانتا ہے کہ فلاں شخص فلاں وقت پر کیا کرے گا، پس وہ لکھ دیتا ہے کہ فلاں وقت پر فلاں شخص یہ کام کرے گا۔ یہ سب اللہ جل شانہ اپنے علم کی بنیاد پر لکھتا ہے، اپنی طرف سے انسان پر مسلط نہیں کرتا کہ ’’تم نے فلاں وقت پر فلاں کام کرنا ہے۔‘‘یہی کچھ یہاں بھی دیکھنے کو ملا۔ ڈاکٹرز نے کہا کہ اگر بسمہ کو 10منٹ پہلے ہسپتال پہنچادیا جاتا تو شاید اس کی جان بچ جاتی حالانکہ باپ ایک گھنٹے سے اسے لے کر سڑکوں پر دوڑ رہا تھا۔ مگر بعد میں وہی باپ کہہ رہا ہے کہ بس خدا کی یہی مرضی تھی، کسی اور کا کوئی قصور نہیں۔
بسمہ کے باپ نے تو سمجھوتہ کر لیا، وجہ غربت ہو یا کچھ اور۔ مگر اس وقت سوسائٹی اور عوام کو کیا کرنا چاہیے؟ ایک بات تو طے ہے کہ جب تک عوام خود نہیں سدھریں گے اور معاملات اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے اس ملک کی بگڑی نہیں بننے والی۔ جس طرح محبت اور ہوس میں ایک باریک سا فرق ہے اسی طرح بغاوت اور عوام کے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کے درمیان بھی معمولی سا فرق ہے۔ اس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے عوام کو سرگرم ہونا ہو گا۔ کبھی بھی کوئی چوررضاکارانہ طور پر چوری سے تائب نہیں ہوتا۔ ہمارے یہ حکمران اور سیاستدان جنہیں پروٹوکول کا چسکا لگ چکا ہے کبھی بھی رضاکارانہ طور پر اس سے دستبردار نہیں ہوں گے خواہ بسمہ جیسی کتنی ہی ننھی جانیں کیوں نہ چلی جائیں۔ سڑکیں اسی طرح بند ہوتی رہیں گی۔ ایمبولینسیں اسی طرح سڑکوں پر پروٹوکول کے باعث پھنستی رہیں گی اور ان میں مریض دم توڑتے رہیں گے۔ مائیں اسی طرح بچوں کو رکشوں میں جنم دیتی رہیں گی۔ عوام ہی کو ’’اب نہیں‘‘ کہنا ہو گا۔ بڑھ کر ان حکمرانوں کا ہاتھ روکنا ہو گا اور نثار کھوڑو جیسے بے ضمیر انسان کو دکھانا ہو گا کہ عوام اپنا حق لینا جانتے ہیں، وہی نثار کھوڑو جس نے بسمہ کی ہلاکت پر لاپرواہی کے ساتھ کہا کہ ’’ہمارے لیے تو بلاول بھٹو زرداری سب سے زیادہ عزیز ہیں۔‘‘ یہ لوگ تو کھلے عام عوام کو للکارتے رہتے ہیں، آج بھی نثار کھوڑو نے للکارا کہ ہاں بسمہ کی کیا اوقات ہے، بلاول کے سامنے اس ننھی جان کی اوقات ہی کیا ہے۔ اب اگر عوام ہی بے شرمی اور بے حسی کی چادر اوڑھے دم سادھے تماشا دیکھتے رہیں تو اس میں ان حکمرانوں کا کیا قصور، کہ چور تو چور ہی ہوتا ہے اور سینہ زور، سینہ زور۔ عمران خان کو خیبرپختونخوا سے آغاز کر دیا ہے، اب وہاں کسی پروٹوکول کے باعث ٹریفک نہیں روکی جائے گی۔ مگر کیاپنجاب و دیگر صوبوں اور وفاق کے حکمرانوں میں اتنی اخلاقی جرأت ہے کہ وہ ازخود ایسا اقدام اٹھا سکیں؟ اگر ہوتی تو بسمہ ایسی بے بسی کی موت مرتی۔ فیصلہ عوام ہی کو کرنا ہے، آج کر لے یا کل کسی اور بسمہ کی لاش اٹھانے کے بعد کر لے۔ جب سڑکوں ہزاروں لوگوں پر مسدود کر دی جاتی ہے تو ان ہزاروں کو آگے بڑھ کر اس دیوار کو توڑ دینا چاہیے۔ اب ہمیں کسی کے پروٹوکول کے باعث سڑکوں پر کھڑے نہیں ہونا۔ہمیں اب سوچنا ہو گا کہ ایک بسمہ ہی کافی ہے یا ہمیں جاگنے کے لیے مزید لاشوں کی ضرورت ہو گی۔

وارث کون۔۔۔؟؟؟

بینظیربھٹو کی آٹھویں برسی کے موقع پر پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بڑے جوشیلے انداز میں تقریر کرتے ہوئے وفاق کو آڑے ہاتھوں لیا اور انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے نام پر صوبوں کیخلاف سازش ہورہی ہے اس کی نگرانی کیلئے پارلیمنٹ کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی بنائی جائے ۔پھر انہوں نے ایک بات اور بھی اہم کہی کہ سرکاری اداروں کو ماں کے زیور کی طرح سمجھ کر بیچاجارہاہے ہم یہ نہیں ہونے دیں گے ۔اب دما دم مست قلندر ہوگا،عوام کا معاشی استحصال بھی نہیں ہونے دیا جائیگا۔بلاول بھٹو کی ان باتوں میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ یہ حقیقت پسندانہ ہیں مگر جہاں تک نیشنل ایکشن پلان کا تعلق ہے تو اس کے ذریعے دہشتگردوں کی بیخ کنی کی گئی ہے اور کی جارہی ہے ۔پہلے ہی اس کے حوالے سے پارلیمنٹ میں معاملات موجود ہیں جس کی وضاحت وزیراطلاعات پرویز رشید نے بھی فی الفور کی ۔جہاں تک بلاول کا یہ کہنا کہ اداروں کو بیچا جارہا ہے ۔تو یہ بات ان کی خاصی حد تک درست ہے کہ جو بھی نفع بخش ادارے ہیں ان کی نجکاری نہ کی جائے ۔دما دم مست قلندر کی بات اورعوام کے معاشی استحصال کی بات کو لیا جائے تو یہ تو ہر دور میں ہی ظلم ہوتا رہا ہے ۔پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بھی عوام کون سے سکھ میں تھی ۔اس میں تو کبھی بھی پیپلزپارٹی نے دما دم مست قلندر کی صدا بلند نہیں کی ۔اس دور میں بھی عوام اسی طرح کسمپرسی کی زندگی بسر کرتی رہی اورپیپلزپارٹی جب بھی آئی اس نے ہمیشہ روٹی،کپڑے اور مکان کا نعرہ بلند کیامگر آج حالت یہ ہے کہ پیپلزپارٹی صرف گڑھی خدا بخش تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہے ۔آخراس کی اپنی کیا پہچان ہے ،ذوالفقار علی بھٹو ایک لیڈر تھا جو چلا گیا ،بینظیر آئی وہ بھی چلی گئی،اب پیپلزپارٹی میں کیا بچا ہے ۔اصل وارث کون ہے یہ جھگڑا تو ابھی باقی ہے ۔پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کی صدارت کیلئے زرداری کے حق میں قرارداد منظور کرلی گئی ہے ۔جبکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہیں یہ تو مصداق اس کے ہے کہ ”اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں اپنوں کو “صدر بھی خود،چیئرمین بھی خود ،باقی تو سارے مزارعے ہی ہیں ۔زرداری صاحب باہر بیٹھے ہوئے ہیں پہلے بھی جب بینظیر کی شہادت کا وقوعہ رونما ہوا اس وقت بھی موصوف باہر تھے پھر جب یہ سانحہ مکمل ہوگیا تو وہ درد لیکر پاکستان میں آگئے ۔عوام چونکہ ہماری جذباتی ہے اس لیے پیپلزپارٹی کو حکومت کا موقع ملا اس دور میں کون کون سے کیس سامنے نہیں آئے ۔پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں کو مختلف القابات ملتے رہے اور یہ خطابات کرپشن کے حوالے سے تھے مگر حکومت چلتی رہی ،عوام مرتی رہی ،حکمران عیش کرتے رہے ،اب جبکہ پیپلزپارٹی سندھ سے بھی ختم ہوتی جارہی ہے تو پھر چراغ سحری کی طرح اس کی رہنما پھڑک رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح پھر سے اس میں نئی روح پھونک دی جائے ۔کبھی رینجرز کے اختیارات کا معاملہ اٹھاتے ہیں تو کبھی کہتے ہیں کہ وفاق نے سندھ پر حملہ کردیا،کبھی کہتے ہیں کہ ایک چوہدری سندھ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ،سائیں کہتا ہے کہ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ،ایک ڈاکٹر عاصم کیا شکنجے میں پھنسا ہے کہ سب کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں ہر کوئی اس کے حق میں بیان داغنے کے چکر میں ہے کیونکہ یہ ڈانڈے کہیں دور جاکر ملتے ہیں اور کچھ ایسے لوگ اس کے چکر میں پھنسیں گے جن کے مقدر میں شاید پھر سے قید وبند آجائے اسی وجہ سے بار بار مطالبات کیے جارہے ہیں کہ ڈاکٹر عاصم کو چھوڑ دیا جائے جبکہ ڈاکٹر عاصم یہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ قصور کسی کا ہے ،غلطی کسی ہے ،سزا میں بھگت رہا ہوں،پکڑا مجھے گیا ہے ،یہ بیانات آخرکار کس چیز کی غمازی کرتے ہیں ۔بہت زیادہ تڑپنے اور دہکنے کی ضرورت نہیں وقت بہت قریب آتاجارہا ہے ۔دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائیگا جب حکومت نے ایک چیز طے کرلی ہے کہ جو امن وامان قائم کیا گیا ہے اس کو کسی طرح بھی نہیں کھویا جاسکتا اور پھر رینجرز وفا ق کا سبجیکٹ ہے ۔قبضے اورچڑھائی کی باتیں تو کرنا پھر بعید ازخیال ہیں یہاں کوئی صوبائیت نہیں ہونا چاہیے ہم سب ایک اکائی ہیں ،ہمارا وطن پاکستان ہے ،پھر کسی صوبے کی کسی صوبے پر کیسی چڑھائی ۔سب کو ملکر اس ملک کو استحکام بخشنا ہے اور اس کے دوام کیلئے ہمیں قربانیاں دینی ہیں ،پاک فوج جو آپریشن ضرب عضب کے ذریعے امن وامان قائم کررہی ہے اس کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے نہ کہ اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں اس سے کچھ بھی حاصل وصول نہیں ہوگا۔کل تک پیپلزپارٹی کے تیور کچھ اور تھے ۔شنید تھی کہ رینجرز کے معاملات کے حوالے سے پیپلزپارٹی عدالت میں جائیگی لیکن پھر اچانک فیصلہ یہ ہوا کہ وفاق کو خط لکھا جائیگا ۔خط لکھنے میں کوئی اعتراض نہیں لیکن اس میں اداروں کی ساکھ کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔کیونکہ کچھ ایسے ادارے ہیں جو اس ملک اور وطن کے قیام کیلئے اشد ضروری ہیں اور ان پر انگشت نمائی کرنے سے ملکی سرحدوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔لہذا کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے سوچ لینا چاہیے کہ اس کے نتائج کیا نکلیں گے ۔اگر کسی نے کرپشن کی ہے ،دہشتگردوں کا معاونت کار ثابت ہوا ہے ،سہولت کاروں کا سہولت کار بنا ہے تو اسے قرار واقعی سزا ضرور ملنا چاہیے ۔

حرم کی پاسبانی اورمسلم امہ کااتحاد

1968ء میں ہونیوالی عرب اسرائیل جنگ کے دوران مسلم امہ کے اتحادکے بارے میں پہلی بار سنجیدگی سے سوچاگیا کہ مسلم ممالک ایک ہوکرغیرمسلم طاقتوں کیخلاف اپنے اتحاد تشکیل دیں 1974ء میں لاہور میں ہونیوالی اسلامی سربراہی کانفرنس میں بھی اس بات پرہی زوررہا اور جب کانفرنس کے اختتام پراعلامیہ جاری کیاگیاتواس کے واضح نکات یہ تھے کہ جدہ میں ایک اسلامی مشترکہ بنک قائم کیاجائے اورمسلم ممالک آپس میں ایک مشترکہ ویزہ سسٹم رائج کریں اورآخری نکتہ مسلم ممالک کے مشترکہ دفاع کیلئے ایک اسلامی فورس کی تشکیل تھا۔ اس کانفرنس کے روح رواں ذوالفقارعلی بھٹو ،شاہ فیصل شہید اورکرنل قذافی تھے جو امت مسلمہ کے اتحاد کے زبردست داعی اورخواہش مند تھے ۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کو مانیٹرکرنیوالے یورپی ممالک نے اس اہم سربراہی کانفرنس کے فیصلوں کواپنانے کافیصلہ کیا اوراس کے نتیجے میں مشترکہ کرنسی یورو ،مشترکہ ویزا شن جن اورایک مشترکہ دفاعی فورس وجود میں آئی جبکہ اسلامی سربراہی کانفرنس کاانعقاد کرانیوالے سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل کو ان کے اپنے ایک عزیز کے ہاتھوں شہید کرالیاگیا جبکہ ذوالفقارعلی بھٹو کوبھی المناک انجام سے دوچار ہوناپڑا۔مسلم دشمن طاقتوں نے عراق کے صدرصدام اورلیبیاکے سربراہ کرنل قذافی کوبھی ایک خوفناک انجام سے دوچار کیا۔ان تمام باتوں کے باوجود مسلم امہ کااتحاد کاخواب بکھرا نہیں۔ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز آج اسلامی دنیا کے بلاشبہ متفقہ قائد کے طورپرابھرے ہیں انہوں نے سعودی عرب میں عنان اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد مسلم امہ کودرپیش نازک مسائل کوبھانپ لیاتھا۔چنانچہ انہوں نے مسلم امہ کے اتحاد کیلئے روز اول سے کوششوں شروع کردیں۔سعودی عرب کاکردار روزاول سے قائدانہ رہا ہے کیونکہ اسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ حرمین شریفین کے پاسان ہیں اوریہی اعزاز انہیں باقی مسلم دنیا سے منفردکرتا ہے ۔اقتدارسنبھالنے کے بعد فوراً بعد شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مسلم دنیا کے اہم سربراہان کوریاض میں دعوت دی اور مسلم امہ کو درپیش مسائل ان کے سامنے رکھتے ہوئے ایک مشترکہ دفاعی فورس کی تشکیل کی تجویزبھی سامنے رکھی جسے تمام مسلمان ممالک نے نہایت خوش دلی سے سراہا۔ اس وقت سعودی عرب کی قیادت میں 34اسلامی ممالک کااتحاد عمل میں آچکا ہے اورانشاء اللہ وہ وقت دورنہیں کہ جب اسلامی ممالک کے مشترکہ دفاع کیلئے بنائی جانیوالی مسلم فورس کاخواب بھی شرمندہ تعبیرہوجائیگا۔دراصل مسلم اتحادکافیصلہ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دوراندیشی کانتیجہ ہے کیونکہ جس طرح دہشتگردی کاعفریت مسلم ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیتاچلاآرہاتھا اس کی روک تھام کیلئے اس اتحاد کاتشکیل دیاجاناازحد ضروری تھا۔دہشتگرد تنظیم القاعدہ کے بعداچانک داعش کاسراٹھانا ایک لمحہ فکریہ ہے کیونکہ داعش کے پاس جوہتھیاربرآمدہوئے ہیں وہ جدید ترین ممالک کے مہیاکردہ ہیں ۔ہم کسی حد تک یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ داعش کے پیچھے کسی مسلم دشمن طاقت کاہاتھ ہے اسی سازش کو بے نقاب کرنے اوراس پرقابوپانے کیلئے شاہ عبدالعزیز نے بہت پہلے یہ بات بھانپ لی تھی اوراس کیلئے انہوں نے اسلامی اتحاد کانظریہ دیا۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو اقتدارسنبھالنے کے فوراً بعد یمن کے ساتھ نبردآزماہوناپڑاکیونکہ یمن کے اندرجاری خانہ جنگی میں ایرانی مداخلت کے ثبوت کھل کرسامنے آچکے تھے تہران میں بیٹھے ایرانی جرنیل اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ انہوں نے مکہ معظمہ اورروضہ رسولﷺ پرقبضہ کرنے جیسے بیانات دینا شروع کردیئے تھے اب ظاہرہے کہ ایران کی پشت پناہی بھی کوئی ایسا ملک کررہا ہے جس کواسلامی مفادات عزیزنہیں اوراس کی خواہش ہے کہ اگر سعودی عرب کے امن کو تہہ وبالاکردیاجائے توعالم اسلام میں خلفشاربرپاکیاجاسکتاہے۔میں اس بات کاکریڈٹ بھی سعودی بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیزکودیناچاہوں گا کہ جنہوں نے نہ صرف اپنے ملک کے اندر بلکہ پوری اسلامی دنیا میں امن کے فروغ کیلئے اسلامی اتحاد کی داغ بیل ڈالی لیکن یہاں پر افسوس اس امر کاہے کہ پاکستان کے اندرکچھ سیاسی عناصرنے اس عالم اسلامی اتحاد کوبھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے اس اتحاد کی تشکیل کی مخالفت کی اورمطالبہ کیاکہ پاکستان اس میں شامل نہ ہو اس کے علاوہ پارلیمنٹ کے اندر بھی سعودی عرب جوہمارامحسن ملک ہے کوبھی تنقیدکانشانہ بنایاگیا۔افسوس اس بات پر ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اورنظریاتی سرحدوں کومضبوط بنانے میں جوکردارسعودی عرب کے حکمرانوں اورعوام نے ادا کیا ہے وہ کسی اورملک نے نہیں کیا سعودی عرب پاکستان کی معاشی ضروریات ایک بڑے بھائی کے طورپرپورا کرتاہے اورپاکستان کے دفاعی نظام کومضبوط بنانے کیلئے اپنے پیٹ پرپتھرباندھ کرہماری ضروریات کو پوراکرتاہے۔مگرپھربھی ایک طبقہ ہے جو سعودی عرب کو برابھلاکہنے میں مصروف ہے حالانکہ پاکستانیوں کے دلوں میں جوسعودی عرب کیلئے عزت واحترام پایاجاتاہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک مخصوص طبقہ جوکسی کاآلہ کار بن کرسعودی عرب کیخلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہے انہیں یہ بات باورکرانی چاہیے کہ یہ اتحاد صرف سعودی عرب کیلئے نہیں بلکہ یہ پورے عالم اسلام اوربالخصوص حرم کی پاسبانی کیلئے ہے جس کاخواب شاعرمشرق حضرت علامہ اقبالؒ نے دیکھا تھا
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لیکرتابخاک کاشغر

یہ جنگ بھی ہم ہی جیتیں گے

میرے بچپن کی بات ہے جب پاکستان میں صرف ایک ٹی وی چینل تھا سارا گھر اسی کے پروگرام دیکھتاتھا زیادہ سے زیادہ اختلاف یہ ہوسکتا تھا کہ کوئی حالات حاضرہ کے پروگرام کے وقت اٹھ جاتا تھا کیونکہ اُسے دلچسپی نہیں ہوتی تھی یہی حال ڈرامے یا دوسرے پروگراموں کا تھا۔ اس دور کی خاص بات یہ تھی کہ ہر پروگرام ،ہر ڈرامے کو خاص احتیاط سے تیار کیا جاتا تھا اشتہارات کے علاوہ دو پروگراموں کے بیج کے دورانیے میں فلرز کے طور پر گیت ،نغمے اور قومی نغمے چلائے جاتے تھے مقبول نغمے بار بار بھی چلائے جاتے تھے اور بڑے شوق سے سنے جاتے تھے۔ یہی گیت سکولوں اور کالجوں میں بڑے شوق سے گائے جاتے تھے اور وطن کی محبت کا بھر پور اظہار کرنے والے یہ گیت لہو گرما دیا کرتے تھے ۔ جیوے جیوے پاکستان، سوہنی دھرتی، تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے، میں بھی پاکستان ہوں، وطن کی مٹی گواہ رہنا ، اپنا پرچم اپنا قائداعظم ، اور جُگ جُگ جیے اس طویل فہرست میں سے چند ایک گیت ہیں۔ ساتھ ہی وقتاََ فوقتاََ کلام اقبال بھی نشر ہوتا رہتا تھا یوں تفریح کے ساتھ ساتھ قومی جذبہ بھی فروغ پاتا تھا۔ اس کے لیے نہ کسی موقع کا انتظار کیا جاتا تھا اور نہ محل ڈھونڈا جاتا ، وطن سے محبت کسی موقع محل کی پابند نہیں ہوتی تھی۔ پھر ایک وقت آیا کہ میڈیا بے تحاشا پھل پھول گیا موضوعات بارش کی طرح برس گئے، ڈرامہ صبح سے شام تک چلنے لگا، حالات حاضرہ کے پروگرام میدان جنگ بن گئے، موسیقی بے ہنگم شور میں تبدیل ہوگئی ایسے میں جذبہء حُب الوطنی اور قومی شعور سب کچھ ایک طرف ہوکر رہ گیا اور کمرشل ازم ایک طرف ۔ اب ڈراموں ،سٹیج شوز اورمارننگ شوز میں کسی میں زبان کا احساس ہے نہ بیان کا، یہی حال قومی نغموں کے ساتھ بھی کیا گیا۔ دل دل پاکستان اور میرا پیغام پاکستان شاید آخری ایسے گیت تھے جو عوام میں ہر سطح پر مقبول ہوئے۔ ان مقبول گیتوں میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو خاص موقعوں پر ریلیز ہوئے لیکن یہ کام تسلسل سے ویسے بھی جاری رہا، جو کہ اب اس طرح سے نہیں ہو رہا۔ 16 دسمبر 2014 ء کو اے پی ایس پشاور پر دہشت گرد حملے کے بعد آئی ایس پی آر نے بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے ریلیز کیا اس نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ اس انتہائی اندوہناک حادثے کی برسی پر بھی کچھ ترانے بنائے گئے جن میں مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھاناہے اور یہ جنگ بھی ہم ہی جیتیں گے شامل ہیں ۔ اِن گیتوں نے فوج اور حکومت کے ارادوں کو دنیا تک پہنچایا اور یہ باور کرایا کہ ہم ہر محاذ پر دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں۔ بات گیتوں اور نغموں کی نہیں بات اُن جذبات اور احساسات کی ہے جو قوم میں ان سے جاگتے ہیں اے پی ایس کے شہدا کی برسی کے موقع پر یادگار شہدا کے سٹیج پر کھڑے بچے قوم اور دنیا کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ وہ دشمن سے نہیں دشمن اُن سے ڈرتا ہے اور میں سوچ رہی تھی کہ اگر الفاظ ایسے ہی قوم پر اثر کریں اور ایسے ہی جذبات دلوں میں پیدا ہوں تو کچھ بعید نہیں کہ ہم سیدھے رستوں پر چل پڑیں۔ اس پہلوپر اگر سنجیدگی سے کام کیا جائے اور ہم اس ذریعے کو بھی بھر پور طور پر استعمال کریں تو کیا ہم مثبت رویوں کو رواج نہ دے سکیں گے ۔ لیکن افسوس ہی اس بات کا ہے کہ ہم اپنے ذرائع کو استعمال کیے بغیر نتائج کی توقع رکھتے ہیں۔ ہم یہ تو ضرور کہہ رہے ہیں کہ اے پی ایس پر حملے نے پوری قوم کو یکجا کیا بالکل ایسا ہی ہے ہم نے دہشت گردی کے خلاف کم از کم ایک متفقہ موقف اپنا لیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم اب بھی بہت سارے معاملات پر ایک دوسرے کے خلاف محاذ بنا کر کھڑے ہوئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد بھی فرقے اور مذہب کے نام پر کئی فساد ہوئے ایسے میں خوش فہمی میں مبتلاء ہو جانے سے بہتر ہے کہ اس میدان میں مزید اور ہر طرح سے کام کیا جائے۔ ہمارا الیکٹرانک اور سوشل میڈیا اگر سنجیدگی دکھائے تو ہم بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بیٹھے لوگ مثبت اور موثر پیغامات دیں۔ آج کل مزاحیہ خاکوں کا ایک بخار سب کو چڑھا ہوا ہے اگر انہی کو حب الوطنی کا جذبہ ابھارنے کے لیے استعمال کیا جائے تو کچھ بعید نہیں کہ یہ چھوٹے چھوٹے خاکے چند لوگوں کو ہی سہی سیدھے راستے پر ڈال دیں۔ تاریخ میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جب لکھنے والوں نے قوموں کی سوچ کا دھارا موڑا خود ہماری تاریخ میں اقبال کی شاعری نے جو کردار ادا کیا وہ بذات خود ایک تاریخ ہے۔ آج بھی ہم اگرجنگ ستمبر کی طرح اس محاذ پر بھی ڈٹ جائیں تو ہم قومی سوچ میں تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں۔ تبدیلی کے لیے ہر ہر زاویے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی سے لے کر جہالت اور اندرونی سے لے کر بیرونی دشمن تک کے خلاف فتح میں ہی ہماری بقاء ہے اور اس فتح کے لیے ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے اپنے محاذ پر ڈٹا رہے ۔ہمیں حب الوطنی اور یگانگت و یکجہتی کے جذبے کو فروغ دینا ہوگا ۔جب ہم میں سے ہر ایک خود کو ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے ذمہ دار قرار دے گا اور اس ذمہ داری کو نبھائے گا تو ہی ہم اس مائنڈ سیٹ کو شکست دے سکیں گے جس نے ہمارے ملک کے امن اور چین کو تباہ کر رکھا ہے ۔جب حکومتی اہلکا ر سے لے کر فوجی جوان تک، ڈاکٹر انجنئیر سے لے کر مزدور تک اور ادیب اور شاعر سے لے کر فنکار اور مغنی تک ہر سُر اور ہر لے تک سب بیک آواز اس جنگ کو جیتنے کے عزم کا اظہار کریں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم کامیاب نہ ہوں۔

Google Analytics Alternative