کالم

شیعہ اور سنی میں جھگڑا کس بات کا ہے؟

Asif-Mehmood

شیعہ اور سنی میں جھگڑا کس بات کا ہے؟لہو رنگ زمینی حقیقتوں کے باوجود میرے پیش نظر چند دنوں سے یہی ایک سوال ہے۔
میں شیعہ نہیں ہوں ۔اللہ نے مجھے دو بیٹیوں کی نعمت کے بعد بیٹے سے نوازا تو میں نے اسکا نام علی رکھا۔ہمارے گھر میں آنے والا پہلا ننھا وجود میری بھتیجی کا تھا ، اس کا نام فاطمہ ہے۔میری چھوٹی بہن کے خاوند کا نام حسن ہے۔اپنے خاندان میں ادھر ادھر نظر دوڑاﺅں تو شبیر، عباس ،حسن اور حسین کے ناموں کی ایک مالا سی پروئی نظر آتی ہے۔حسینؓ کا ذکر آئے تو دل محبت اور آنکھیں عقیدت سے بھر جاتی ہیں۔میری پہلی کتاب شائع ہوئی تو اس کا انتساب میں نے ’اپنے آئیڈیلزسیدنا عمرؓ اور سیدناحسینؓ ‘ کے نام کیا ۔یہ کتاب سی ٹی بی ٹی پر تھی اس کے صفحہِ اوُل پر میں نے یہ شعر لکھوایا:
”جب بھی کبھی ضمیر کا سودا ہو دوستو
قائم رہو حسین ؓ کے انکار کی طرح“
میری شریکِ حیات کا تعلق اعوان قبیلے سے ہے ۔وہ بھی شیعہ نہیں لیکن ان کے ہاں یہ روایت ایک فخر کے ساتھ بیان کی جاتی ہے کہ ان کی نسبت سیدنا علیؓ سے جا ملتی ہے۔خواجہ معین الدین چشتی نے کس وارفتگی سے کہا تھا:” حقاکہ بنائے لا الٰہ است حسین“۔والہانہ پن تو دیکھیے اقبال کہتے ہیں:
” اسلام کے دامن میںاور اس کے سوا کیا ہے
اک ضرب ید اللہی ،  اک سجدہِ شبیری“

۔مجھے بچپن کے وہ دن آج بھی یاد ہیں جب ہم سب مسجد میں اہتمام سے جایا کرتے تھے جہاں ہمارے خاندان کے قابل قدر بزرگ پرپروفیسر صفدر علی واقعہ کربلا سناتے ، نہ سنانے والا شیعہ تھا نہ سننے والے اہل تشیع ،لیکن دکھ اور درد ہڈیوں کے گودے میں اترتا محسوس ہوتا تھا۔دیوبندیوں کے حسین احمد مدنی ہوں یا جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد ۔۔۔۔نام ہی پکار پکار کر کہ رہے ہیں کہ ” ہمارے ہیں حسینؓ، ہم سب کے ہیں حسینؓ “۔ہمارے تو بابائے قوم ہی محمد علی جناح ہیں،سفر آخرت پہ روانہ ہوئے تو جنازہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھایا۔۔۔۔۔سوچتا ہوں پھر جھگڑا کیا ہے؟ سوائے بد گمانی کے؟ شیعہ بھائی دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا اہلِ بیت کی محبت کے یہ مظاہر کیا ہمیں ایک ما لامیں نہیں پرو سکتے؟کیا یہ بد گمانی مناسب ہے کہ ہر غیرِ شیعہ کو یزیدی سمجھا جائے؟کیاآج پاکستان میں کوئی ایک آدمی بھی ہے جس کی ماں نے اس کا نام یزید رکھا ہو؟سپاہِ صحابہ میں بھی ہمیں علی شیر حیدری کا نام ملتا ہے۔کیا اتنی نسبتوں کے صدقے ہم مل جل کر نہیں رہ سکتے؟
بات اب کہ دینی چاہیے، گھما پھرا کے بات کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔اصل مسئلہ کو زیر بحث اب لانا ہی پڑے گا۔اس کو مخاطب کیے بغیر محض امن امن کہنے سے کچھ نہیںہو گا۔نفرتوں کی آگ دہلیز تک پہنچ چکی ہے۔کیا گھر جل جانے کا انتظار ہے؟اہل تشیع بھائی کیسے ہمیں اہلِ بیت کی محبت میں خود سے پیچھے سمجھ سکتے ہیں۔وہ آئیں ، گلی محلے تو کیا ہمارے گھر میں کھڑے ہو کر میرے حسینؓ کو یاد کریں،سر آنکھوں پر کہ
حسین ؓ میرے بھی اتنے ہیں جتنے ان کے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ محبتوں کا انداز جدا جدا ہے لیکن ’ حسین مِنی وانا من الحسین‘ کے ارشاد مبارک کے بعد کونسا دل ہوگا جس میں حسین ؓ کی محبت نہ ہو گی۔رہے ان کے اختلافی معاملات تو اتنی مشترک محبتوں کے صدقے کیا ان معاملات کو اللہ پر نہیں چھوڑا جا سکتا؟کیا ایک دوسرے کی دل آزاری ضرور کرنی ہے؟زندہ معاشروں میں اختلافات ہوتے ہیں ان اختلافات کو ایک دائرے میں رہنا چاہیے اور ان اختلافات کے ساتھ زندہ رہنے کا ڈھنگ آنا چاہیے۔مسئلہ اس وقت بنتا ہے جب یہ اختلافات بد گمانی میں ڈھل جاتے ہیں۔بد گمانی پھر حادثوں کو جنم دیتی ہے۔اختلافات تو امام خمینی اوربنی صدر میں بھی ہو گئے تھے۔اور ابھی کل کی بات ہے ہم نے حسین موسوی ، ہاشمی رفسنجانی ،محسن رضائی،اور مہدی کروبی کو احمدی نژاد صاحب کے خلاف احتجاج کرتے دیکھا۔
سنی حضرات کو بھی اپنے رویوں پر غور کرنا چاہیے۔میں اکثر سوچتا ہوں شیعہ کے آئمہ کرام سے کیا ہمارا کوئی تعلق نہیں۔کیا امام زین العابدینؒ سے ہمیں کوئی نسبت نہیں؟ کیا امام جعفر صادق ؒسے ہمارا کوئی رشتہ نہیں؟۔۔۔کبھی ہم نے غور کیا یہ ہستیاں کون تھیں؟ کس عظیم اور مبارک خانوادے سے ان کا تعلق تھا؟ یہ ہمارے ہی بزرگ تھے۔یہ بھی ہماری ہی شان اور آبرو ہیں۔ہم نے انہیں کیوں بھلا دیا؟ ہم نے انہیں کیوں نظر انداز کر دیا؟ ان کے فضائل ہم کیوں بیان نہیں کرتے؟ ان کی تعلیمات ہمیں کیوں نہیں بتائی جاتیں؟ان کی دینی خدمات سے ہم محروم کیوں؟ان کے فہم دین سے ہم فیض کیوں نہیں حاصل کرتے؟ہمارے نصاب میں ان کی تعلیمات کیوں شامل نہیں؟ہم ان کے علمی کام سے اجنبی کیوں ہیں؟ یہ بیگانگی کیوں ہے؟دین کے فہم کے باب میں انہوں نے بھی تو زندگیاں صرف کر دیں، یہ بھی تو ہمارا اجتماعی اثاثہ ہیں۔کیا ہماری باہمی نفرتیں اور جھگڑے اب اتنے منہ زور ہو گئے ہیں کہ ہم نے اپنے بڑے بھی بانٹ لیے ،ہم نے ان سے بھی منہ موڑ لیا، ہم اپنے ہی چشمہ ہائے علم سے محروم ہو گئے؟
میری ہر دو اطراف کے بزرگان سے التجا ہے: آئیے اس کلمے کی طرف جو ہم سب میں مشترک ہے۔

نوازاوبامہ ملاقات،اقوام متحدہ اور قیام امن

syed-rasool-tagovi

آج 23اکتوبر ہے ،اور آج ہی وزیراعظم میاں نواز شریف امریکی صدر اوبامہ سے ملاقات کرنے جارہے ہیں۔پاکستان کے جوہری پروگرام کے پس منظر میں یہ ملاقات نہایت اہمیت اختیار کر چکی ہے۔پاکستان پر دباو¿ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ بھارت کا انتظارکئے بغیر سی ٹی بی ٹی پر دستخط کر دے۔پاکستان اس حوالے سے کیا کرتا ہے،ایک دو دن میں واضح ہو جائے گا،تاہم سیاسی قیادت پر عزم ہے کہ پاکستان کے مفادت کا سودا نہیں کیا جائے گا۔اوبامہ نواز ملاقات ایک ایسے ماحول میں ہو رہی جب پاکستان خطے میں قیام امن کےلئے کوشاں ہے توبھارت سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ہوا دی جا رہی ہے جبکہ خود اس کے اندر بھی انتہاپسندی عروج پر ہے۔پاکستان اقوام متحدہ کے منشور پر عمل پیرا ہے تو بھارت میں اقلیتوںکا جینا حرام ہوچکا ہے۔پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ایک سخت گیر آپریشن لانچ کر رکھا ہے تو بھارت آ ر ایس ایس جیسی متشد دہندو سوچ کے غلبے کے لئے ایسے عناصر کو شاباشیاں دے رہا ہے ۔مودی کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے باعث سیکولر حلقوں میں بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔اس خطرناک رجحان کے باعث جہاں اندرون بھارت عدم تحفظ کا احساس بڑھ چکا ہے وہاں خطے کے ممالک میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ماہرین کی یہ متفقہ رائے ہے کہ اگر بھارت میں انتہاپسندی کی صورتحال بے قابو ہوئی کہ جس کے امکانات آئے روز بڑھ رہے ہیںتوبھارت کے پڑوسی ممالک بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔یہ ایک بین الاقوامی نوعیت کا معاملہ ہے جس پر اقوام متحدہ کو مداخلت کرنی چاہیے۔ چونکہ کل 24اکتوبر ہے اور اقوام متحدہ اپنا عالمی دن(یونائٹڈ نیشن ڈے) منارہی ہے،تو ضروری ہے کہ وہ بھارت میں جڑ پکڑتی دہشت گردی کا نوٹس لے۔اگر مودی سرکارکی طرف سے غنڈہ گردی کی سر پرستی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو گجرات جیسے واقعات پھر رونما ہوسکتے ہیں۔تب مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو اتنا خون ِ مسلم بہا گیا تھااب خیر سے موصوف ملک کے وزیراعظم ہیں نجانے مسلمانوں پر کیا قیامت ٹوٹ پڑے۔بھارت کی بگڑتی صورتحال سے خطے کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی عدم تحفظ کا شکار ہے۔اگر مودی مزید دو سال بھارت کا وزیراعظم رہ گیا تو پھر حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اسکا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔آج اوبامہ انتظامیہ پاکستان سے جو کچھ منوانا چاہ رہی ہے اگر بھارت کے خطرناک جارحانہ عزائم نہ ہوتے تو وہ کب کا دستخط کرچکا ہوتا۔لہذا دنیا میں قیام امن کا خواب دیکھنے والی اقوام متحدہ نے اس معاملے میں پہلو تہی کی تو پھراس کی کوششیں رائیگاں جائیں گی۔ اقوام متحدہ کا قیام عالمی سطح پر امن اور بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے ہے۔ اس مقصد کے لئے اب تک امن مشنوں میں رکن ممالک ہزاروں اہلکاروں نے اپنی جان کے نذرانے پیش کیے ہیں،ایسا نہ ہو کہ ایک بھارت کی وجہ سے سب کوششوں پرپانی پھر جائے۔ جبکہ دوسری طرف قیام امن کی کوششوں میں پاکستان اقوام متحدہ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ پاک فوج سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی کے افراد امن مشن میں شریک ہیں۔دوسری جانب عالمی سطح پر طاقت کے زور پر حقوق پامال کرنے والے نام نہادجمہوریت پسندوں نے اقوام متحدہ کے امن مشن کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ اسرائیل اور بھارت اقوام متحدہ میں پاس کی گئی قرار دادوں کے برعکس فلسطین اور کشمیر میں ریاستی دہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہیں۔1947ء میں ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ہر سال 24 اکتوبر کو (یونائٹڈ نیشن ڈے) اقوام متحدہ کا دن عالمی طور پر منانے کا اعلان کیا تھا تا کہ لوگ اس ادارے کا مقصد ،اسکی سرگرمیوں اور کامیابیوں کے بارے میں جان سکیں۔ اقوام متحدہ جس کے چھ بنیادی ادارے ہیں جن میں جنرل اسمبلی،سلامتی کونسل ، اقتصادی اور سماجی کونسل،ٹرسٹی شپ کونسل،بین الاقوامی عدالت انصاف اور سیکرٹریٹ شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے بنائے گئے اصولوں میں سے دو اہم ترین یہ ہیں۔ ایک یہ کہ تمام ارکان بین الاقوامی تنازعات پرامن طور پر حل کریں گے تا کہ عالمی امن و سلامتی اور انصاف کے لئے کوئی خطرہ پیدا نہ ہو۔جبکہ دوسرا یہ کہ تمام رکن ممالک اپنے بین الاقوامی تعلقات کے سلسلے میں کسی ریاست کی علاقائی سا لمیت یا آزادی کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے یا اسے دھمکی دینے سے گریز کریں گے۔ان دونوں بنیادی نکات کی بھارت دھجیاں بکھیر رہا ہے۔قیام امن میں پاکستان کے کردارکو سراہا جاتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ یو این کے امن منشورپر عمل درآمد ہے۔گزشتہ پچپن برس سے افواج پاکستان یواین امن مشن میں ہراول دستے کا کردارادا کررہی ہیں۔پاکستان یواین امن مشن کا حصہ 1960 میں بنا تھا اب تک 41امن مشن کا حصہ بن چکا ہے۔اس وقت بھی آٹھ ہزار سے زائد اہلکار سات امن مشن میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔بین الاقوامی سطح پراس بات کا اعتراف کیا جاتا ہے کہ پاک فوج دنیا کی دس بہترین افواج میں بھی سر فہرست ہے۔امریکی ویب سائٹ دی ٹاپ ٹین کے مطابق دنیا کی بہترین افواج میں پاکستان پہلے،امریکا دوسرے،بھارت تیسرے نمبر پر ہے۔ پاکستانی فوج امریکا سے بھی بہتر ہے اور یہاں تک کہ برطانیہ سے بھی جنگی گیمز جیتے ہیں۔پاک فوج دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک نمبر پر کیوں ہے اور وہ کیسے بھارت کو شکست د ے سکتی ہے ویب سائٹ نے اس کی دس وجوہات بتائیں ہیں۔ پاکستان آرمی کمانڈوز اس کرہ ارض پر سب سے سخت ترین فورس تصور کیے جاتے ہیں۔ پہلے نمبر پر امریکی،دوسرے پر برطانوی اور تیسرے پر پاکستانی کمانڈوز ہیں۔ پاک کمانڈوز سائز بہت خاص حیثیت کا حامل ہے ،پاک فوج نے بہادری کے کئی تمغے حاصل کیے ہیں۔یواین مشن میں ابھی چند ماہ قبل پاکستان کو خصوصی ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔یہ بات دنیا جانتی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں پیش کرچکا ہے۔خود پاک فوج کا ان قربانیوں میںایک بڑا حصہ ہے اور بے مثال کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔خصوصاً آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عسکری قیادت پر عزم ہے۔

بھارت میں کرکٹ اور مسلمانوں کا مستقبل تاریک

riaz-ahmed

 بھارت میں ہندو انتہاپسند تنظیم شیوسینا نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار خان کی موجودگی میںممبئی میں بھارتی کرکٹ بورڈ کے دفتر پر دھاوا بول دیا اور پاکستان سے کرکٹ تعلقات نہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ بھارتی کرکٹ بورڈکے حکام نے انتہاءپسندوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے اور خوف زدہ ہوکر بی سی سی آئی کے صدرکی پی سی بی کے چیئرمین کے ساتھ طے شدہ ملاقات منسوخ کردی۔ دفتر پرحملے کے بعدگرفتارکئے گئے 10انتہا پسندوں کوکچھ ہی دیر بعد ضمانت پر رہا کردیاگیا۔ آئی سی سی کے صدر اور سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر ظہیر عباس نے کہا ہے کہ ’بی سی سی آئی کے دفتر پر حملہ قابل مذمت ہے لیکن آئی سی سی اس حملے کا نوٹس نہیں لے سکتی۔‘ ’اگر پاکستان بھارت کرکٹ سیریز منسوخ ہوتی ہے تو اس کے نتائج انتہائی خراب ہوں گے۔‘ یہی حالات رہے تو پاکستانی ٹیم کس طرح بھارت میں کھیلے گی۔ آئی پی ایل کے کمشنر راجیو شکلا نے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور پاک کے درمیان جب بھی کوئی سیریز ہوتی ہے تو حکومت سے صلاح مشورہ کیا جاتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے کرکٹ بورڈوں کے درمیان بات چیت چلتی ہی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ جب بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہت خراب تھے تب بھی پاکستانی کرکٹ بورڈ ہمیشہ بھارتی بورڈ کے ساتھ کھڑا رہا۔یہ کہاں کی جمہوریت ہے کہ وزیراعظم آفس تک نہیں جا سکتے۔ اس دھاوا نے مذکرات سبوتاژ کر دئیے۔ شیو سینا کے غنڈے مرکزی گیٹ توڑ کر کرکٹ ہیڈ کوارٹر کے اندر داخل ہوئے،”شہر یار واپس جاو¿“ اور پاکستان مخالف نعرے لگائے۔ بھارتی بورڈ کے صدر شاشانک منوہر کو گھیرے میں لے کر ہلڑ بازی،دفتر میں توڑ پھوڑ کی۔بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری انوراگ ٹھاکر کا کہنا ہے کہ رواں سال دسمبر میں پاکستان بھارت سیریز سے متعلق چیئرمین پی سی بی کو دورے کی دعوت دی گئی تھی۔ پی سی بی کا کہنا تھا کہ بھارت نے 8 سال کے دوران 6 دوطرفہ سیریز کا وعدہ کر رکھا ہے جس کے تحت رواں سال دسمبر میں پاکستان بھارت سیریز ہونا تھی جسے حتمی شکل دینے کے لئے بھارتی دعوت پر چیئرمین پی سی بی بھارت گئے تھے۔ انتہا پسند ہندوں کے دھاوے کے بعد خطرے کے پیش نظر پاکستان، بھارت کرکٹ سربراہوں کے درمیان ملاقات منسوخ کی گئی۔ شیو سینا کے بی سی سی آئی ہیڈکوارٹرز پر دھاوے سے بھارتی کرکٹ بورڈ کے ہیڈکوارٹر کی سکیورٹی کا پول بھی کھل گیا مہمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویئے سے بھارت میں تیزی سے پھیلتی انتہا پسندی بھی ایک بار پھر سامنے آگئی۔ بھارتی انتہاپسند تنظیم شیوسینا کی جان سے مار دینے کی دھمکیوں کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایلیٹ امپائر علیم ڈار کو جنوبی افریقہ اور بھارت کے درمیان جاری کرکٹ سیریز کے بقیہ میچوں میں امپائرنگ کے فرائص انجام دینے سے روکدیا ہے۔ امپائر علیم ڈار سیریز کے پہلے تین ایک روزہ کرکٹ میچوں میں امپائرنگ کے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ انہیں چنائی اور ممبئی میں ہونے والے چوتھے اور پانچویں میچوں میں بھی امپائرنگ کرنا تھی۔آئی سی سی نے اپنے بیان میں کہا ہے علیم ڈار کو بقیہ میچوں سے دستبردار کروانے کا فیصلہ ممبئی میں انتہاپسندوں کی جانب سے انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ کے دفاتر پر حملے کے بعد کیا گیا ہے۔ ان مظاہرین نے دھمکی دی تھی کہ وہ پاکستانی امپائر کو اتوار کو ممبئی میں ہونے والے پانچویں ایک روزہ کرکٹ میچ میں امپائرنگ نہیں کرنے دیں گے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں علیم ڈار سے بھارت سے دبئی چلے گئے ہیں۔ شیوسینا نے علیم ڈار کو بھی نہ بخشا اور کہا کہ انہیں واپس پاکستان بھیجا جائے۔ علیم ڈار کو جان کا خطرہ ہے۔ اسی لئے وسیم اکرم اور شعیب اختر بھارت اور جنوبی افریقہ کے پانچویں ون ڈے میں کمنٹری نہیں کریں گے بلکہ دونوں پاکستانی کمنٹیٹر 22 اکتوبر کو ہونے والے چوتھے ون ڈے میں کمنٹری کے بعد وطن واپس آجائیں گے۔ وسیم اکرم اور شعیب اختر کو حفظ ماتقدم کے طور پر واپس بلایا گیا ہے۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن نے شیوسینا کے حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کرکٹ کھیلنے والے ممالک میں باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہئے۔ بھارت میں پے در پے انتہا پسندی کے واقعات سے آئندہ برس ہونے والے ورلڈ ٹی ٹونٹی کے انعقاد پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ مہاراشٹر حکومت نے ٹی 20 میچز میں پاکستانی ٹیم کو ناگ پور اور ممبئی میں نہ کھلانے کی تجویز دے دی ہے۔ بھارتی انتہا پسندوں اورکرکٹ مخالف غنڈوں کی وجہ سے بھارتی سرزمین کھیل اور کھلاڑیوں کیلئے تنگ ہوگئی۔ پہلے مہمان جنوبی افریقہ کا کھیلنا دوبھرکیا، اب پاکستان بھارت کرکٹ سیریز کے حوالے سے ملاقات کے بھی مخالف بن گئے۔ 11مارچ سے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا انعقاد بھی بھارتی سرز مین پر ہوگا جس میں پاکستان سمیت دنیا کی 16ٹیمیں بھارت آئیں گی۔ اس حوالے سے آئی سی سی کے صدر ظہیر عباس کا کہناہے کہ یہی حالات رہے تو پاکستانی ٹیم کس طرح بھار ت میں کھیلے گی۔بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے انتہا پسندی کے پہ در پہ واقعات پر ایکشن نہ لیے جانے کا ذمہ دار بی جے پی کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ممبئی میں ہونے والی شیوسینا کی غنڈہ گردی کو حکمران جماعت کی آشیر باد حاصل ہے۔شیو سینا کے غنڈے آئے دن پاکستان کو لے کر ممبئی میں ادھم مچا رہے ہیں ، نہ صرف پاکستانیوں بلکہ ان سے ہاتھ ملانے والے بھارتیوں کو بھی نہیں بخشا جارہا، اس پر سینہ ٹھوک کر کہتے ہیں کہ پاکستان دشمنی میں سب جائز ہے۔ بھارتی اپوزیشن جماعت کانگرس کی جانب سے بھی شیو سینا کے حملے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مہاراشٹرا میں امن و امان مکمل طور پر مفلوج ہوکررہ گیا ہے۔ غلام علی، خورشید محمود قصوری اور اب شہریار خان کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ افسوسناک ہے۔ کیا مہمانوں کے ساتھ اس طرح پیش آیا جاتا ہے۔ بھارت میں انتہاپسندی کی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔ انتہاپسند ہندوﺅں نے نئی دہلی میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے رکن انجینئر رشید پر حملہ کر کے انکے چہرے پر سیاہی پھینک دی اور ان پر تشدد بھی کیا گیا۔انتہا پسند ہندوﺅں نے گائے کے ذبیحہ پر پابندی اٹھانے کی قرارداد پیش کرنے سے روکنے کیلئے انجینئر رشید پراسمبلی کے اندر تشدد کیا تھا۔ بقول انجینئر رشید کہ یہ مودی کا ہندوستان ہے گاندھی کا نہیں جو مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے۔ پاکستان پر طالبانائزیشن کا الزام لگانے والے دیکھیں بھارت میں کیا ہو رہا ہے۔ بھارت میں مسلمان ہونا جرم بن گیا ہے۔ بھارت اپنے آپ کو جمہوریت اور سیکولر ملک ہونے کا دعویدار سمجھتا ہے لیکن یہاں مسلمان، اقلیتیں، سیاح، اداکار، کھلاڑی اور صحافی محفوظ نہیں۔ نریندر مودی کی حکومت کے آ نے کے بعد شیوسیناکی غنڈہ گردی بڑھتی جا رہی ہے۔ بھارت اگر اپنی انتہا پسند تنظیم کو ایسی حرکتوں سے باز نہیں کرتا تو حکومت کو بھی چاہئے کہ اگلے سال بھارت میں منعقد ہونے والے آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کو نہ بھجوانے کا اعلان کیا جائے۔

اقبال کادیدہ ور

naveedkhan

چمکتی آنکھیں دمگتا چہرہ کشادہ پیشانی‘خوش گفتاروخوش لباس‘کردارکاغازی پاکستان وعالم اسلام کاچمکتا چہرہ جسے لوگ جنرل حمید گل کے نام سے جانتے ہیں ۔میری یہ خوش قسمتی ہے کہ مجھے اس عظیم انسان کوبہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اپناہویاغیرغریب ہویاامیرمیں نے ہمیشہ انہیں ہرایک کے ساتھ ملنساری‘محبت اوربھلائی کاسلوک کرتے دیکھا اسلام اورنظریہ پاکستان سے لازوال محبت ان میں کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی اورپاکستانیت ان کی روح ووجود کاحصہ تھی سچے عاشق رسول اورنبی پاک کاسپاہی ہونے کی آرزو میں ہمہ وقت ہمہ تن گوش رہتے 79سالہ اس عظیم جرنیل کی عمرکااندازہ لوگوں کوانکی موت کی خبرسن کرہوا جس میں بتایاگیا کہ جنرل حمیدگل 79سال کی عمرمیں انتقال کرگئے وہ جوانوں سے زیادہ جوان‘توانا اورہشاش بشاش لگتے تھے جس کی وجہ ان کاکرداراوراللہ اوراس کے رسولﷺ پرغیرمتزلزل ایمان تھا میں نے کبھی ان کے چہرے پرتھکاوٹ کے اثارنہیں دیکھے کسی بھی حال میں انہیں کبھی مایوس نہیں دیکھا پاکستان کے مستقبل کے بارے میں ہمیشہ پرامیدرہتے۔ اسلام کے نفاذکے بارے میں ان کایقین کامل تھا کہ باطل نے مٹ جاناہے اورحق نے آناہے میری زندگی میں بہت ایسے مواقع آئے جب مجھے کوئی فیصلہ کرناہوتا توان سے ضرور رہنمائی لیتا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے انہیں اپنے کسی فیصلے سے آگاہ کیاتوانہوں نے اس سے اختلاف کیاہو بلکہ ہمیشہ میرے فیصلے کی تائیدکی اورکہااللہ تمہاراحامی وناصرہومیری دعائیں تمہاے ساتھ ہیں صرف ایک بات کا خیال رکھنا کہ ہرفیصلے میں ا للہ اوراس کے رسول کی اطاعت کومقدم رکھنا۔ نظریہ پاکستان اورقیام پاکستان کے مقاصد کے حصول کواولین ترجیح دینا ۔جنرل حمیدگل کبھی اپنے آپ کو ریٹائرجرنل نہیں سمجھتے تھے بلکہ انہوں نے مجھے کئی دفعہ کہا بیٹادنیاوی جرنیل ریٹائرہوتے ہیں اسلامی جرنیل کبھی ریٹائرنہیںہوتے اورمیں اسلامی جرنیل ہوں جب پرویزمشرف نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کوغیرفعل اورگھروں میں قیدکیا توجنرل حمیدگل واحدجرنیل تھے جنہوں نے کھل کراس فیصلے کی مخالفت کی اوروکلاءکے ہمراہ اس وقت تک سڑکوں پررہے جب تک جج بحال نہ ہوئے وکلاءتحریک کے دوران صرف حمیدگل بلکہ ان کاتمام خاندان ان کے بیٹے عبداللہ گل‘عمرگل اوربیٹی عظمٰی گل اس تحریک میں ان کے ساتھ تھے سخت گرمی‘تپتی دھوپ بدترین تشدد کے سامنے یہ خاندان سیسہ پلائی دیوارکی مانندکھڑارہا۔ مجھے بھی ان کے شانہ بشانہ عدلیہ بحالی تحریک میں جنرل صاحب کوبہت قریب سے دیکھنے کاموقع ملاہم تھک جاتے بدھال ہوجاتے مگرجرنل حمید گل میں کبھی لرزش پانہ دیکھی پولیس والے سب پہ تشدد کرتے مگرجب جرنل صاحب کے سامنے آتے تو احترام سلوٹ کرتے اورباقیوں پرلاٹھیاں برساتے حالانکہ جرنل حمیدگل کیلئے پرویزمشرف کے سخت اقدامات تھے عدلیہ تحریک کے دوران اسلام آباد میں داخلہ منع تھا وکلاءودیگرلوگ چھپ چھپاکر‘چورراستوں سے ایک ایک کرکے سپریم کورٹ کے سامنے پہنچے تھے مگرجنرل حمید گل چکلالہ اپنے گھرسے مرکزی شاہراہ پرسے ہوتے ہوئے ہرناکے پرسلوٹ وصول کرتے ہوئے سپریم کورٹ پہنچتے تھے حالانکہ ان کیلئے احکامات باقیوں سے سخت تھے مگرڈیوٹی پرموجود پولیس والے ان سے اس قدرعشق اورعقیدت رکھتے تھے کہ انہیںروکنے کی جرات بھی نہ کرتے بلکہ اپنی نوکریاں داﺅ پرلگاتے ہوئے انہیں راستہ دیتے اس سلوک کی وجہ جرنل حمیدگل کی ملکی واسلامی خدمات تھیں جوڈیوٹی پرموجود پولیس والوں کواپنے افسران بالا کی حکم عدولی پرمجبورکردیتی تھیں۔عدلیہ تحریک کے دوران جرنل صاحب کوگرفتارکیاگیا اورانہیں اڈیالہ جیل میں رکھاگیا اوران کی گرفتاری پرویزمشرف کے براہ راست حکم پرہوئی جیل میں انہیں دوائیاں تک نہ دی گئیں جرنل صاحب نے اپنی ضمانت بھی نہ کروائی اوربلآخر انہیں بغیرضمانت جیل سے رہا کرناپڑا یہ بھی شاید پاکستان کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ کوئی جیل گیاہو اوربغیرضمانت رہاگیاگیا ہو نہ کوئی مقدمہ نہ کوئی ضمانت یہ اللہ تعالیٰ کااپنے محبوب بندے پرانعام تھا کیونکہ جرنل حمیدگل اللہ کے سوا نہ کسی سے ڈرتے تھے اورنہ جھکتے تھے وطن عزیزپرجب امریکی جارحیت اورڈرون حملے شروع ہوئے تودفاع پاکستان کونسل تشکیل دی اورملک بھرکے علماءاورجہادیوں کواکٹھا کیا میرے لئے یہ بھی اعزازکی بات ہے کہ میری نومولود جماعت پاکستان مسلم لیگ(حقیقی)کوبھی دفاع پاکستان کونسل میں شامل کیا اورمجھے موقع فراہم کیا کہ میں بھی حق کی آوازمیں آوازملاکر امریکی جارحیت وبربریت میں اپنا حقہ ڈالوں۔دفاع پاکستان کونسل کے سربراہی اجلاسوں میں مجھے دعوت دے کر میری مذہبی وسیاسی تربیت کااہتمام کیاجس سے ان کی عظمت کااندازہ لگایاجاسکتا ہے ورنہ میری جرنل حمیدگل کے سامنے کیاحیثیت اورافادیت تھی جنرل صاحب دل چاہتا جس وقت چاہتا میں بغیرکسی اطلاع ان سے ملنے ان کے گھرچلاجاتا مگرکبھی ایسانہیں ہوا کہ مجھے کہاگیا ہوکہ وہ مصروف ہیں یاآپ پھرآجائیں اگران کے پاس کوئی مہمان بھی ہوتا توجرنل صاحب پھربھی مجھے بلالیتے اورمہمانوں سے میراتعارف بھی کرواتے جب کبھی فون کیاانہوں نے ہمیشہ اٹھایا اوراگرکبھی بوجہ مصروفیت فون نہ اٹھایا توواپس فون کرکے فون نہ اٹھانے کی وجہ بھی بتائی اورمعذرت بھی کی یہ ان کا بڑاپن تھا عظمت تھی ورنہ مجھ ناچیز سے ان کاکیا لینادینا جرنل حمیدگل Selflesnessکی انتہاپرتھے اگرکبھی میں ان کی عسکری خدمات یاافغان جنگ کے حوالے سے ان کی کردارکی تعریف کرتا تومسکراکرکہتے نہیں نہیں میں نے کچھ نہیں کیاحالانکہ انہوں نے جوکارنامے سرانجام دیئے وہ ہمیشہ سنہرے الفاظ میں یادکئے جائیں گے میرے ان سے 20سالہ دیرینہ تعلق میں مجھے یادنہیں کبھی ایک باربھی انہوں نے یہ کہاہو”میں نے یہ کہامیں نے وہ کیا“لفظ ”میں“ان کی ڈکشنری میں نہیں تھا ہمیشہ کہتے میں توایک ”فرد“ہوں قائداعظم محمدعلی جناحؒ اورعلامہ اقبالؒ کیلئے بے پناہ عقیدت مند تھے پاکستان کواپنی ”لیلی“اوراپناعشق کہتے تھے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے بانیوں میں سے تھے اورجناب مجیدنظامی کے بہترین دوست‘ساتھی اوررفیق تھے بیماری کی حالت میں بھی نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی کسی تقریب کوکبھی MISSنہیں کرتے تھے ۔جرنل حمیدگل ایک نظریے کانام ہے اورنظریہ کبھی مرتا نہیں ان کے لاکھوں چاہنے والے اورآپ کے ہونہار فرزند عبداللہ گل‘عمرگل اورشیرنی بیٹی عظمٰی گل اس نظریئے کی آبیاری کرتے رہیں گے اقبالؒ نے ان ہی کی طرح لوگوں کودیدہ ورکہاایک دن میں نے جرنل صاحب سے سوال کیا کہ بینظیربھٹو نے کیوں آپ سے خطرہ محسوس کیااورکہا کہ مجھے اگرقتل کیاگیا توجنرل مشرف پرویزالہٰی اورجرنل حمیدگل اس کے ذمہ دار ہونگے جرنل حمید گل نے فوراً کہابیٹا بینظیربھٹو تو مجھے اپنے والد جیسا سمجھتی تھیں وہ مجھے اکثر تحفے تحائف اورکتب ارسال کرتی تھیں۔ محترمہ اپنے آخری ایام میں اسلام کے بہت قریب آچکی تھیں اورمجاہدین اورجہادی تنظیموں کو اسلام کا وارث سمجھتی تھیں محترمہ بینظیر بھٹو نے مجھے ڈاکٹر شاہدمسعود کے ذریعے پیغام بھجوایا کہ جب وہ پاکستان آئیں گی تو مجھے ملنے میرے گھر آئیں گی ۔جب امریکیوں کو یہ پتہ چلا کہ محترمہ اسلام اور جرنل حمید گل کے قریب آچکی ہیں تو امریکیوں نے میرا نام دیگرناموں کے ساتھ شامل کردیا۔ جرنل حمید گل نے کہامحترمہ بینظیربھٹو لیاقت باغ جلسے کے بعد میرے گھرآناچاہتی تھیں اورانہیں اس لئے شہیدکردیا گیا کہ اگر وہ حمیدگل سے مل گئیں تو پھر جہاد اوراسلامی نظام کے نفاذ سے دنیا کی کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔ جرنل حمید گل نے مجھے بتایا کہ بینظیربھٹو اندر سے بالکل تبدیل ہوچکی تھیں اور وہ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کی داعی بن چکی تھیں ۔انہوں نے کہاکہ محترمہ بینظیربھٹو کے مجھے لکھے خطوط اورتحفے میرے پاس موجود ہیں۔ جرنل صاحب مرد مومن تھے اور ان کی نگاہ محترمہ بینظیربھٹو جیسی مغربی تعلیم یافتہ ماڈرن روشن خیال خاتون کو تبدیل کرچکی تھیں۔بقول اقبال
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
جوہوذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

پاکستان میں کرپشن کا شرطیہ اور تیر بہدف علاج

naseem e sehar

قارئین، آپ نے اگر کبھی بس یا ٹرین میں سفر کیا ہے تو بہت سے ظاہری اور پوشیدہ امراض کے شرطیہ اور سو فیصد ٹھیک علاج کے دعوے اتائی حکیموں کی زبانی سنے ہوں گے۔نہیں سُنے؟ تو چلئے کہیں نہ کہیں دیواروں پر تو ضرور ایسے اشتہار دیکھے ہوں گے، اخبارات میں بھی ایسے بیشمار اشتہارات خاص طور پراُن کے سنڈے میگزین میں شائع ہوتے ہی رہتے ہیں کہ فلاں بیماری،چاہے نفسیاتی ہو، جسمانی ہوں، ذہنی ہو، یا کسی اور قسم کی ہو، کا فوری اور شرطیہ علاج کروانا ہے تو ہمارے پاس آئیں۔آپ کو خوشخبری سنائیں کہ ہمارے پاس کرپشن کی بیماری کا ایسا علاج ہے جسے اختیار کرنے سے ایک دن کے اندر اندر ملک بھر سے کرپشن کا نام و نشان مِٹ جائے گا۔ شرط لگا لیں۔ یہ علاج کیوں ضروری ہے، اِس کا اندازہ لگانے کے لئے پہلے محض نمونے کے طور پر پاکستان میں ہونے والی کرپشن کی چند مثالیں پیش ِ خدمت ہیں۔ انہیں آپ کسی طویل ترین فلم کا مختصر ترین ٹریلر سمجھئے، اور آخر میں ہم نے اِس خوفناک کرپشن کے کینسر کا جو علاج تجویز کیا ہے وہ بھی غور سے پڑھئے گا اور سوچئے گا کہ کیا اب یہ علاج کرنے کا وقت آ نہیں گیا؟اس کرپشن کی کوئی ایک نہیں، بہت سی قسمیں ہیں اور بہت سی چالاکیاں ہیں جن کے ذریعے کرپشن کرنے والے بھی معصوم دکھائی دیتے ہیں اور کرپشن پکڑنے والے بھی۔ بڑے بڑے میگا پراجیکٹس میں اربوں کی رقم اندر ہی اندر پراجیکٹ کی جگہ یوں کہیں اور پہنچ جاتی ہے جیسے کوئی ڈاک کا لفافہ غلط پتے کی وجہ سے مکتوب الیہ کی بجائے کسی اور کو پہنچ جاتا ہے۔پھر پراجیکٹ کے ٹھیکیدار ، انجینئر، کنسلٹینٹ کی باری آتی ہے، نقشے بنانے میں، مال سپلائی کرنے میں، تعمیراتی عمل میں جس قدر بچت ہو سکتی ہے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، کاغذوں میں جتنی لاگت دکھائی جاتی ہے اس سے کہیں کم میں تعمیراتی کام مکمل کیا جاتا ہے، سیمنٹ کی جگہ ریت بھی لگائی جا سکتی ہے۔اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے،میٹرو بس میں سفر کر کے تو یقیناً بڑا مزہ آتا ہے، مگر کسی دن جب بارش ہو رہی ہو تو ذرا اس کے نیچے سے بس، ویگن، کار ، بائک پر یا پیدل گزر کر دیکھئے، میٹرو پراجیکٹ کے جلد از جلد افتتاح کی خاطر اس پر بارش کے پانی کی نکاسی کا مناسب انتظام نہیں کیا گیا، جو ٹریفک اس کے نیچے والی سروس روڈ سے گزرتی ہے بارش بند بھی ہو جائے تو پُل کے اوپر سے یکایک پانی کی تیز دھار آپ پر پڑ سکتی ہے، بائک والوں اور پیدل چلنے والوں کا تو بُرا حال ہوتا ہی ہے مگر کار ڈرائیور کے لئے بھی وہ مرحلہ بیحد خطرناک ہوتا ہے جب یکایک کار کی ونڈ سکرین پر پانی کی بوچھاڑ پڑے اور ڈرائیور کو کچھ نظر نہ آئے جبکہ ٹریفک کا بہاو¿ تیز ہو۔ابھی دو تین دن پہلے مریڑ پُل کے اُوپر بننے والے پُل سے ایک بڑا پتھر نیچے گر کر ایک معصوم بائک سوار کی ہلاکت کا سبب بن گیا، سبب یہی کہ پل کی اس جگہ پر مطلوبہ میٹیریل کی جگہ پتھر بھر دئیے گئے تھے۔ کرپشن کا مطلب کیا ہے، اگر ابھی تک آپ پر واضح نہیں ہو¿ا تو گذشتہ کچھ دنوں میں اخبارات میں شائع ہونے والی یہ خبریں پڑھ لیں کہ یہ سرطان پاکستان کو کس طرح اندر سے چھلنی کر رہا ہے۔ سندھ پولیس کے افسروں نے سپریم کورٹ میں اعتراف کیا کہہمارے ۰۰۴۳ سے زائد اہلکار جرائم میں ملوّث ہیں، جن مین سے۰۰۴۱ کے خلاف کارروائی ہوئی، اور ۰۰۸ اہلکار معطل کئے گئے“ ۔کرپشن کیا ہوتی ہے۔آپ کو یاد ہو گا کہ نیب نے کچھ عرصہ پہلے ایک سو پچاس مقدمات کی فہرست عدالت عظمی میں جمع کرائی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک ایک بااختیار اور بااثرفرد نے قومی خزانے اور اثاثوں کو دس دس بارہ بارہ ارب روپے کا ٹیکہ لگایا ہے، جبکہ یہ لوگ قومی اثاثوں، اداروں اور خزانے کے محافظ مقرر کئے گئے تھے۔جن میں دیگر کیسوں میں غیر قانونی ترقیاں، ملازمین کو غیر قانونی طریقے سے مستقل کرنا، اور متروکہ املاک کے ملازمین کو غیر قانونی پلاٹوں کی الاٹمنٹ شامل ہے۔ کرپشن کے ضمن میں نندی پور پاور پراجیکٹ اور قائد اعظم سولر پارک کے منصوبوں کے بارے میں اخبارات میں جو کچھ آتا رہتا ہے وہ بھی آپ نے پڑھا ہو گا۔ گزشتہ دنوں جب راولپنڈی اسلام آباد میں طوفانی بارشیں ہوئیں تو اخبارات میں موٹی موٹی سرخیوں کے ساتھ یہ خبریں شائع ہوئیں کہ اےکسپریس واے پراجیکٹ تالاب کا منظر پیش کرنے لگا۔ سی ڈی اے کی پلاننگ کا پول کھل گیا۔ جڑواں شہروں میں ہونے والی بارشوں کے باعث زیرو پوائنٹ تا روات سگنل فری اربوں روپے کی لاگت سے بنانے جانے والا پراجیکٹ تالاب کی شکل اختیار کر گیا۔ ایکسپریس وے کی ایک سائیڈ پوری طرح تالاب بن گئی۔انتظامیہ کی جانب سے گاڑیوں کو بچانے کے لئے ایکسپریس وے کے کناروں پر پلاسٹک کے ڈرم رکھ دئیے گئے۔ قارئین۔ ہم کوئی اتائی حکیم یا ڈاکٹر نہیں ہیں،آج کل چین سے دوستی اور چین کی پاکستان کے بڑے بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کا بڑا چرچا ہے، چنانچہ ہم بھی اس سرطان کے علاج کے لئے وہ علاج لے کر آئے ہیں جو چین نے اپنے ملک سے کرپشن ختم کرنے کے لئے اختیار کیا تھا۔ یہ علاج بتانے سے پہلے ہم ایک سچا واقعہ بیان کرنا چاہتے ہیں جس کے بعدکرپشن کے علاج کے لئے شائد آپ کو مزید کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ پڑے ۔صدر ایوب خان کے دور ِ اقتدار میں واہ آرڈینینس کمپلیکس کی تعمیر کی گئی ۔ ہمارے دوست ملک (آجکل تو نواز شریف کی وجہ سے بہت ہی زیادہ دوست !) چین کا ایک وفد پاکستان کے دورے پر آیا تو اس نے اس کمپلیکس کا دورہ بھی کیا۔اتفاق سے انہی دنوں بارشیں ہوئی تھیں۔ جب چینی وفد ایک کمرے میں داخل ہو¿ا تو اس کی چھت ٹپکتے دیکھ کر اس کے اراکین نے اوپر کی طرف دیکھا۔اس پر ان کے افسر مہمانداری نے معذرت خواہانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا :معاف کیجئے گا، یہ عمارت ابھی نئی نئی بنی ہے اس لئے ٹپک رہی ہے۔ یہ عذر سُن کر وفد کے ایک رکن نے استہزائیہ انداز میں کہا : شروع شروع میں ہماری عمارتیں بھی ایسے ہی ٹپکا کرتی تھیں“۔ اِس پر پاکستانی افسر نے پوچھا: ”تو پھر آپ نے اِس مسئلے کا کیا حل نکالا؟“۔ چینی رکن نے جواب دیا: ”ہم نے بدعنوانی کے مرتکب ایک کنٹریکٹر کو سرِ عام گولی سے اُڑا دیا، اس دن کے بعد ہماری کوئی عمارت پُرانی ہو یا نئی، کبھی نہیں ٹپکی“۔
ہَے کوئی ہمارے ہاں چھتوں کے ٹپکنے کا علاج کرنے والا؟

اسلام کا مطلب ہی سلامتی ہے، سلامتی سب کے لیے

اسلام امن اور بھائی چارے کا مذہب ہے۔ یہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ بھی نرمی اور امن سے رہنے کا سبق دیتا ہے یہ کسی بے ضرر انسان کو چھیڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ جو مذہب تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹا نےخود تفرقہ اُس دین میں اب آکے پڑا ہے یوں تو کسی بھی وقت کوئی بھی ایسی نا خوشگوار خبر آجاتی ہے کہ کہیں مسلمانوں کے دو فرقوں کا ٹکراﺅ ہوا ہے لیکن محرم الحرام کے پہلے عشرے میں ذہن مسلسل اس خوف میں مبتلاءرہتا ہے کہ معلوم نہیں حالات پُر سکون رہیں گے یا نہیں آخری دو دنوں میںخدانخواستہ دہشت گردی کا کوئی واقعہ تو نہیں ہوگا۔ دہشت گردی میں جہاں بیرونی ہاتھ ملوث ہے وہاں اس میں ہمارے شدت پسند رویوں کا بھی بڑا عمل دخل ہے ۔ فرقہ پرستی نے اسلام کو جس بری طرح نقصان پہنچایا ہے اُتنا کسی اور چیز نے نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ مسئلہ پہلے موجود نہیں تھا چھوٹے موٹے واقعات پہلے بھی ہو جاتے تھے لیکن جب سے دہشت گردی کی لہر چلی ہے تب سے معاشرے میں موجود اس تکلیف دہ خلیج کو بھی وسیع کر دیا گیا ہے،دشمن قوتوں نے اس سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور اپنے ایجنڈے کو بڑی آسانی سے آگے بڑھایا۔ میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ دشمن تو دشمن ہے وہ تو اپنا کام کرے گا لیکن کیا اپنے فرائض سے سبکدوشی کے لیے یہ تو جیہہ کافی ہے کہ اس سارے معاملے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ کیاہمیں اپنی ذمہ داریوں کا تعین نہیں کرنا چاہیے کہ اگر دشمن ہم پر اس سمت سے حملہ آور ہے تو ہم اس کا مقابلہ کیسے کریں گے یاپھر ہم حالات سے سمجھوتہ کر لیں کہ جیسا چل رہا ہے چلنے دیں۔ محر م الحرام ہر مسلمان کے لیے قابل احترام ہے چاہے وہ سنی ہوں یا شعیہ۔ پھر آخر ایسی کونسی وجوہات ہیں کہ مسلمان آپس میں الجھا دیے جاتے ہیں۔ ماہ محرم میں منا فرت پھیلانے کی دانستہ کو ششیں کی جاتی ہیں۔ کم علم لوگ سامنے آتے ہیں اور ایک دوسرے کے فقہے اور فرقوں کے بارے میں ایسی زبان اور الفاظ ادا کرتے ہیں کہ دوسری طرف کے جذبات بھڑک جاتے ہیں یہاں تک کہ اسلام کی محترم ہستیوں کے خلاف نازیبا کلمات اور الفاظ استعمال کیے جاتے ہیںجو کہ ظاہر ہے کہ دوسرے فرقے کے لوگوں کے لیے سننا نا ممکن ہو جاتا ہے ۔ قابل اعتراض تقاریر کی جاتیں ہیں بلکہ ایسی تقاریر کہ جو دوسرے فرقے پر براہ راست حملہ ہوتا ہے اور ایسی صورت حال جان بُوجھ کر پیدا کر دی جاتی ہے کہ جس کا اختتام کئی جانوں کے ضیاع پر ہو تا ہے ۔ اسلام کے نام یہ صورت حال پیدا کرتے ہوئے خود کو بہترین مسلمان کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام کا تو مطلب ہی سلامتی ہے، سلامتی سب کے لیے یہاں تک کہ اگر دشمن بھی نہ چھیڑے تو اُس کو نہ چھیڑو، ہاں اس کے خلاف اپنی صفیں درست اور اپنے گھوڑے تیار رکھنے کی نہ صرف ہدایت بلکہ حکم ہے تاکہ اگر وہ حملہ کرے تو اس کو سخت ترین جواب دیا جا سکے لیکن ہو یہ رہا ہے کہ مسلمان دشمن کے خلاف تو کیا منصوبہ بندی اور کیا عمل کرے گا وہ تو اپنو ں ہی کا گلا کاٹنے میں مصروف ہے۔ یہاں سب سے بڑی ذمہ داری علماءپر عائد ہوتی ہے جو اختلافی مسائل کو تو ہوا دے دیتے ہیں لیکن جہاں اتفاق ہے وہاں یہ لوگ چپ ہو جاتے ہیں۔ ہمارا ملک عرصہ دراز سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور اگر ہم سب کم از کم اس نکتے پر متفق ہیں کہ دشمن ہمارے ملک میں کُھل کر کھیل رہا ہے تو اس کے خلاف ہم سب متحد کیوں نہیں ہو جاتے۔ اگر ہم ہر محاذ پر تفرقہ پھیلانے والوں کے خلاف متحد ہو جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس مسئلے پر قابونہ پا سکیں۔ مذہبی ہم آہنگی اور اتفاق پیدا کرنے کے لیے سب سے بڑا کر دار علماءکو ادا کرنا ہوگا انہیں دونوں طرف جذبات کو نہ صرف ٹھنڈا رکھنا ہوگا بلکہ انہیں مثبت راہ پر ڈالنا ہوگا اور خود علماءبھی اپنے الفاظ کا استعمال اور خیالات کا اظہار انتہائی احتیاط اور اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھ کر کریں۔ انہیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کسی بھی صورت ہماری رائے زنی سے مبراءاور بالا ہیں لہٰذا ان کے بارے میں کسی بھی تنقید کا کسی کو کوئی حق نہیں علماءخود بھی اور عوام کو بھی سختی سے اس قسم کی کاروائیوں سے باز رکھیں۔ میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہوگا وہ مسلسل ایسے پروگرام اور نظریات پیش کرے جو مذہبی رواداری کو فروغ دے۔ عام آدمی کے ذہن پر میڈیا کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ عمومی خیالات بدلنے کے لیے ایک انتہائی طاقتور ذریعہ ہے اس کا مثبت استعمال اس سلسلے میں بے حد اہم ہے ۔ملک کا پڑھا لکھا طبقہ بھی آگے آئے اور اسلام کی اصل روح یعنی محبت اور امن کا پیغام عام کرے ۔ ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت کو سیکیورٹی کے سخت ترین اقدامات کرنے چاہیے، مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھنی چاہیے اور امن قائم کرنے پر کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے ۔ اللہ ہمارے ملک کو حقیقی معنوں میں امن اور سلامتی کا گہوارہ بنا دے، آمین۔
٭٭٭٭

یو این سالگرہ، کشمیر اور پاکستان.

asghar-ali

چوبیس اکتوبر کو اقوام متحدہ اپنے قیام کے ستر سال مکمل ہونے پر اپنی ستر ویں سالگرہ منا رہی ہے کیونکہ 1945ءمیں اسی روز اس عالمی ادارے کا قیام عمل میں آیا تھا ۔ اس کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو اگرچہ اس کے کریڈٹ پر کافی اچھے کام بھی ہیں مگر بد قسمتی سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود سب سے پرانا مسئلہ یعنی تنازعہ کشمیر تا حال حل طلب ہے اور اسی کی وجہ سے جنوبی ایشیاءمستقل کشیدگی کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور بجا طور پر کشمیر کے مسئلے کو دنیا بھر میں ” نیو کلیئر فلیش پوائنٹ “ کے طور پر جانا جاتا ہے ۔
یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہونے کی بنیادی وجہ ایک جانب بھارتی ہٹ دھرمی ہے تو دوسری طرف عالمی برادری کی موثر قوتوں کی بے حسی ۔ مگر اسے تاریخ کی ستم ظریفی ہی کہا جا سکتا ہے کہ دہلی سرکار کی جانب سے کشمیر کے مسئلے سے توجہ ہٹانے کی جتنی بھی کوششیں کی جا رہی ہے ، ان کے بر عکس یہ تنازعہ حالیہ دنوں میں بین الاقوامی توجہ کا موکز بنتا جا رہا ہے ۔ گذشتہ ماہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران وزیر اعظم پاکستان نے عالمی برادری پر واضح کیا کہ کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیے بغیر علاقائی اور عالمی امن کسی صورت قائم نہیں ہو سکتا اور اسی امر کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز امریکہ کے دورے پر پہنچنے کے فوراً بعد بھی پاکستانی کمیونٹی سے اپنی گفتگو کے دوران کیا ۔
اسی کے ساتھ پچیس اکتوبر کو نیو یارک میں گرینڈ کشمیر مارچ کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں توقع ہے کہ پاکستانیوں ، کشمیریوں اور سکھوں کے علاوہ انصاف پسند عالمی شخصیات بہت بھارتی تعداد میں شرکت کریں گے ۔ اس کے علاوہ ستائیس اکتوبر کو کشمیر پر بھارتی قبضے کے حوالے سے یومِ سیاہ بھی منایا جائے گا ۔ ویسے بھی پچھلے کئی دنوں سے مقبوضہ ریاست میں بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج اور مکمل ہڑتال جاری ہے ۔
اسی پس منظر میں انسان دوست حلقوں نے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی امن کے قیام کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں بھر پور انداز میں ادا کی ہیں جس کا ثبوت اقوامِ متحدہ کی امن فوج میں شامل پاکستانی دستوں کی شاندار کارگردگی ہے ۔
مبصرین نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی فوج میں دنیا کے مختلف حصوں میں امن قائم کے حوالے سے پاکستان کا شمار پہلے نمبر پر کیا جاتا ہے جس کا اعتراف 13 اگست 2013 کو اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل ”بانکی مون “نے کیا جب وہ اسلام آباد اپنے دو روزہ دورے پر آئے اور ” Center For International Peace And Stability(CIPS) کا افتتاح کیا ۔واضح رہے کہ یہ تحقیقی مرکز NUST سے ملحقہ ہے اور اس کا اجراءاقوامِ متحدہ نے عالمی امن کے قیام میں پاک فوج کے کردار کے اعتراف کے طور پر کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق 1960ءسے اب تلک افواجِ پاکستان کے 151505 افسروں اور اہلکاروں نے 23 مختلف ممالک میں 41 مشن انجام دیئے ہیں اور اس وقت بھی 8247 پاک افواج کے افسر اور جوان 7 UN Missions میں3 مختلف براعظموں میں عالمی امن کے قیام کے لئے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
پاک افواج نے اس ضمن میں پہلا مشن 1960ءمیں کانگو میں انجام دیا تھا (اگست 1960ءتا مئی 1964 ئ)۔ کمبوڈیا (مارچ 1992 تانومبر1993ئ)،ایسٹ تیمور، انگولا(فروری1995ءتاجون 1997ئ)، ہیٹی(1993ءتا1996ء)، لائیبیریا(2003ءتا تاحال)،ایسٹرن سلووینیا (مئی 1996ءتا اگست 1997 ئ)،آئیوری کوسٹ،روانڈا(اکتوبر1993ءتا مارچ 1996ء)،صومالیہ(مارچ1992ءتا فروری1996ء)،سوڈان(2005 تا تاحال)،سیرا لیون (اکتوبر 1999 ءتا دسمبر 2005 ئ) ،کویت(دسمبر1991ءتا اکتوبر1993ء)،بوسنیا(مارچ 1992 ءتا فروری1996ء)،برونڈی (2004 ءتا تاحال)،کوٹے ڈی لورے(2004 ءتا تاحال)، نانمبیا(اپریل1989 تا مارچ 1990ئ)،ویسٹ نیو گیانا (اکتوبر 1962ءتا اپریل 1963ء)اور دیگر کئی ملکوں اور مختلف براعظموں میں پاک فوج عالمی امن کی بحالی کے لئے خدمات انجام دیتی رہی ہے،ان خدمات کے دوران136 اہلکار اور 22 افسر شہید بھی ہوئے۔
بہرکیف ایسے میں بجا طور پر توقع کی جا سکتی ہے کہ یو این اپنی ستر ویں سالگرہ کے موقع پر اس امر کا ادراک کرے گی تنازعہ کشمیر منصفانہ ڈھنگ سے حل کر کے اپنے قیام کا جواز ثابت کرے ۔

بھارت کیلئے واضح پیغام

uzair-column

اب توپورے سیکولربھارت کا منہ کالا سیاہ ہوچکا ہے مودی نے جو حرکتیں شروع کررکھی ہیں اس کے بعد تو اس کو غرقاب ہی ہوجانا چاہیے ۔پوری دنیا میں اس پر تھوتھو ہورہی ہے ۔کوئی بھی قوم اس وقت نام نہاد سیکولر بھارت میں محفوظ نہیں ہے ۔جہاں دیکھو وہیں پر ظلم ہے انتہا تو یہ تک ہے کہ اس گندے ملک میں اڑھائی سال کی بچی تک محفوظ نہیں ۔پھر بھلا مودی ان ہندوﺅں کو کیا دے گا ۔جب سے مودی نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے ہی شیوسینا نے انتہا کردی ہے ۔بھارت میں عنان اقتدار دراصل شیوسینا ہی چلا رہی ہے اسے مودی کا مکمل طورپرآشیرباد حاصل ہے ۔پاکستان تو اس کی آنکھوں میں شہتیر کی طرح چبھتا ہے ۔گذشتہ روز جب نوازشریف امریکی دورے پر پہنچے تو اس سے قبل سیکرٹری خارجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح طور پر بتادیا کہ پاکستان نے چھوٹے ایٹمی ہتھیار تیار کرلیے ہیں اور یہ ہتھیار بھارتی جارحیت کو روکنے کیلئے تیار کیے ہیں ۔اب بھارت کو سمجھ جانا چاہیے کہ وہ کسی خام خیالی میں نہ رہے اگر ذرا سی بھی اس نے کوئی ایسی حرکت کی تو اس کو پاکستان صفحہ ہستی سے نیست ونابود کردے گا اورشاید مودی اسی وجہ سے اقتدار میں آیا ہے کہ اب بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا وقت آن پہنچا ہے ۔امریکہ کو بھی سیکرٹری خارجہ نے واضح کردیا ہے کہ نیوکلیئر سپلائر گروپ میں پاکستان کے حوالے سے تفریق کرنا مناسب نہیں ۔پاکستان کاایٹمی پروگرام انتہائی محفوظ ہاتھوں میں ہے ۔جبکہ بھارتی ایٹمی ریکٹر میں حادثات پیش آچکے ہیں ۔چونکہ بھارت ایک شیطان ملک ہے اور اس نے ہمیشہ پاکستان میں خلفشار پیدا کرنے کی کوششیں کی ہیں ۔راءمیں باقاعدہ جو ڈیسک قائم ہے وہ پاکستان کیخلاف ہر وقت برسرپیکار رہتا ہے اس کیلئے بھارتی حکومت خصوصی فنڈز مختص کرتی ہے تو پھر بھلا پاکستان کیونکر آنکھیں بند رکھ سکتا ہے ۔شاید مودی 1965ءکی جنگ کو بھول چکا ہے وہ اس کے اب بھی نیندوں میں ڈراﺅنے خواب کی طرح موجود ہوگی کہ بھارتی گیڈروں کو پاکستانی شیروں نے کس کس طرح روند روند کر مارا بزدل ہندوﺅں کی پینٹیں گیلی ہوتی رہیں وہ پاک فوج کے جری جوانوں کا مقابلہ نہ کرپائے اور پھر وہ سکھایا کہ آج تک بھارت ماتھے پر ہاتھ رکھ کر رو رہا ہے ۔اب وہ یہ سوچتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان میں انارکی پھیلائی جائے ،دہشتگردی کی وارداتیں کرائی جائیں ،اپنے جاسوسوں کے ذریعے دھماکے کرائے جائیں لیکن شاید اس کو یہ معلوم نہیں کہ اس وقت پاکستان میں پوری قوم فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوئی ہے ۔پھر وزیراعظم نوازشریف نے بھی بھارت کو کئی دفعہ دو ٹوک لفظوں میں بتا دیا ہے کہ اگر پاکستان کی جانب کسی نے بھی میلی آنکھ سے دیکھا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا ۔راحیل شریف کی زیر قیادت پاک فوج نے دنیا بھر میں تاریخی نام پیدا کیا ہے ۔ملک میں امن وامان قائم کرنے کے سلسلے میں بھی وزیراعظم اورآرمی چیف کا کردار سنہرا ہے ۔جہاں تک سرحدوں کی حفاظت کے تعلق کا معاملہ ہے تو پاک فوج ہردم تیار ہے جب بھی بھارت نے کوئی ایسا اقدام اٹھایا تو پاک فوج نے اس کو بھرپور جواب دیا ۔بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ منہ توڑ جواب دیا ۔کچھ مسئلہ اس طرح ہے کہ بزرگ کہتے ہیں کہ جب گیڈر کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف آجاتا ہے اب اسی طرح مودی کے برے حالات آئے تو وہ اقتدار میں آگیا اورساتھ ہی اس نے شیوسینا کو کھلی چھٹی دیدی ۔اس رنگ برنگے رنگیلے کی وجہ سے خطے کا امن تباہ حال ہے ۔وہ شاید یہ سوچ رہا ہے کہ پاکستان کو زیردست کرکے خطے میں کوئی بڑی قوت بن جائیگا تو یہ اس کی خام خیالی ہے ۔پاکستان اس کو ناکوں چنے چبوا دے گا ۔مودی اب یہ جان چکا ہے کہ جہاں تک ایٹمی صلاحیت کا معاملہ ہے تو اس پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔وزیراعظم نوازشریف نے بھی واضح کردیا ہے کہ اس پر کسی قسم کاسمجھوتہ نہیں کیا جائیگا ۔ملکی مفاد کو مقدم رکھا جارہا ہے ۔جبکہ بھارت نے دہشتگردی پھیلانے پر کمر باندھ رکھی ہے ۔ابھی تو آنے والے دنوں میں بھارت کے اندر خالصتان کی تحریک زور پکڑے گی اور یہی سکھ اپنے کرپانوں سے ہندوﺅں کو ذبح کریں گے ۔چونکہ ہندو بنیاءبنیادی طور پر بزدل واقع ہوا ہے وہ سامنے کھڑا ہوکر کبھی بھی مقابلہ نہیں کرسکتا اس لیے ہمیشہ بھارت نے پیچھے ہی سے وار کیا ہے اور پھر اس کو کھٹی ہی کھانا پڑی ۔مگر چونکہ مودی کے ہاتھ میں اقتدار چڑھا ہے اس لیے وہ بندر کی مانند ادرک کا سوا ستیاناس کررہا ہے ۔اس کے دور میں بھارت کو جتنا نقصان پہنچا وہ شاید کسی اور ہندو حکمران نے نہ پہنچایا ہو۔حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ کرکٹ کے حوالے سے خود ہی پہلے پاکستان کے متعلقہ حکام کو مدعو کیا اور پھر ساتھ ہی سازش کے تحت شیوسینا سے حملہ کرا دیا ۔ہمارے کرکٹ کے ارباب اختیار کو بھی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کیا اگر وہ بھارت کے ساتھ کرکٹ نہیں کھیلیں گے تو کیا کرکٹ ہی ختم ہوجائیگی ۔اب آئندہ سے یہ فیصلہ کرلیں کہ بھارت جائے بھاڑ میں اس کے ساتھ قطعی طور پر کبھی بھی کرکٹ کا میچ نہیں کھیلنا ۔اگر وہاں کوئی ذاتی طور پر پھر بات کرنے کیلئے جانا چاہتا ہے تو اسے ذاتی حیثیت میں جانے دینا چاہیے ۔ملکی سطح پر اجازت نہیں دینا چاہیے ۔

Google Analytics Alternative